FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

عہد نامہ قدیم

 

 

 

 

             7۔کتابِ قضاۃ

 

 

 

                   جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

 

 

 

 

باب: 1

 

 

1 یشوع انتقال کر گئے۔ تب بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند سے  دُعا کی انہوں  نے  کہا،” ہمارے  کون سا خاندانی گروہ کو پہلے  ہم لوگوں  کی خاطر کنعانی لوگوں  سے  جنگ لڑنے  کے  لئے  جانا چاہئے ؟”

2 خداوند نے  اسرائیلی لوگوں  سے  کہا،” یہوداہ کا خاندانی گروہ ضرور جائے۔ میں  وہ زمین ان گروہ کو دے  رہا ہوں۔”

3 یہوداہ کے  آدمیوں  نے  شمعون خاندانی گروہ کے  اپنے  بھا ئیوں  سے  مدد مانگی۔ ان لوگوں  نے  اپنے  بھا ئیوں  سے  کہا،” آؤ اور کنعانی لوگوں  کے  خلاف جنگ لڑنے  میں  ہماری مدد کرو جو کہ اب تک اس زمین میں  ہیں  جسے  کہ ( خداوند کے  ذریعہ ) ہم لوگوں  کے  لئے  نامزد کی گئی۔ ہم بھی کنعانی کے  خلاف جنگ لڑنے  میں  تمہاری مدد کریں  گے  جو کہ تمہاری نامزد کی گئی زمین میں  ہیں۔” تب شمعون کے  آدمی  یہوداہ کے  آدمیوں  کے  ساتھ گئے۔

4 جب یہوداہ کے  آدمیوں  نے  حملہ کیا تو خداوند نے  کنعانیوں  اور فرّزی لوگوں  کو شکست دینے  میں  ان لوگوں  کی مدد کی۔ یہوداہ کے  آدمیوں  نے  بزق شہر میں  ۰۰۰,۱۰ ہزار آدمیوں  کو مار ڈالا۔

5 بزق شہر میں  ان لوگوں  نے  اس کے  حکمراں  کو ڈھونڈ نکالا اور اس سے  جنگ کی۔ ان لوگوں  نے  کنعانیوں  اور فرزی لوگوں  کو شکست دی۔

6 بزق کے  حاکم نے  فرار ہونے  کی کوشش کی لیکن یہوداہ کے  آدمیوں  نے  پیچھا کیا اور اُس کو پکڑ لیا۔ جب انہوں  نے  اس کو پکڑا تو انہوں  نے  اس کے  ہاتھ اور پیر کے  انگوٹھوں  کو کاٹ ڈالا۔

7 تب بزق کے  حاکم نے  کہا،” میں  نے  ۷۰ بادشاہوں  کے  انگوٹھے  کاٹے  اور ان بادشاہوں  کو وہی کھانا پڑا جو میری میز سے  نیچے  گِرا۔ اب خدا نے  مجھ کو اس کا بدلہ دیا ہے  جو میں  نے  اُن بادشاہوں  کے  ساتھ کیا۔” یہوداہ کے  لوگ بزق کے  حاکم کو یروشلم لے  گئے  اور وہ وہیں  مرا۔

8 یہوداہ کے  آدمی  یروشلم کے  خلاف لڑے  اور اس پر قبضہ کر لئے۔ یہوداہ کے  آدمیوں  نے  یروشلم کے  لوگوں  کو مار نے  کے  لئے  تلوار کا استعمال نہیں  کیا انہوں  نے  شہر کو جلا دیا۔

9 اس کے  بعد یہوداہ کے  آدمی  کچھ اور دوسرے  کنعانی لوگوں  سے  جنگ کرنے  کے  لئے  گئے۔ جو کہ نیگیو میں  پہاڑی ملکوں  اور مغربی پہاڑی دامنوں  میں  رہتے  تھے۔

10 تب یہوداہ کے  آدمی  ان کنعانی لوگوں  کے  خلاف لڑنے  گئے  جو حبرون شہر میں  رہتے  تھے۔ ( حبرون کو قریت اربع کہا جاتا تھا ) یہوداہ کے  آدمیوں  نے  سیسی، اخیمان اور تلمی کہلانے  والے  لوگوں  کو شکست دی۔

11 یہوداہ کے  لوگوں  نے  اس جگہ کو چھوڑا وہ دبیر شہر، وہاں  کے  لوگوں  کے  خلاف جنگ کرنے  گئے۔ ( دبیر کو قریت سِفر کہا جاتا تھا )۔

12 یہوداہ کے  لوگوں  کے  جنگ کرنے  سے  پہلے  کا لب نے  لوگوں  سے  ایک وعدہ کیا۔ اس نے  کہا تھا،” میں  اپنی بیٹی عکسہ کی اس آدمی  سے  شادی کراؤں  گا جو قریت سِفر پر حملہ کرے  اور اس پر قبضہ کر لے۔”

13 کا لب کا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کا نام قنز تھا۔ قنز کا ایک بیٹا غتنی ایل تھا۔ ( غتنی ایل کا لب کا بھتیجا تھا ) غتنی ایل قریت سِفر کے  شہر کو فتح کر لیا۔ اس لئے  کا لب نے  اپنی بیٹی عکسہ کوغتنی ایل کو اس کی بیوی کے  طور پر دیا۔

14 عکسہ جب غتنی ایل کے  پاس آئی تو غتنی ایل نے  عکسہ سے  کہا کہ وہ اپنے  باپ سے  کچھ زمین مانگے۔ عکسہ اپنے  باپ کے  پاس گئی وہ اپنے  گدھے  سے  اُتری اور کا لب نے  پوچھا،” کیا تکلیف ہے ؟”

15 عکسہ نے  کہا،” مجھے  دُعا دو میں  تم سے  اسے  اس لئے  مانگ رہی ہوں  کیونکہ تم نے  ریگستان میں  زمین کا ایک ٹکڑا مجھے  دیا تھا۔ اب مجھے  کچھ جھرنا بھی دو۔” اس لئے  کا لب نے  اس کے  لئے  زمین کے  اوپری اور نچلی حصے  میں  جھرنے  کا انتظام کر وایا۔

16 قینی لوگوں  نے  تاڑ کے  درختوں  کا شہر ( یریحو ) کو چھوڑا اور یہوداہ کے  آدمیوں  کے  ساتھ گئے  وہ لوگ یہوداہ کے  ریگستان میں  ان آدمیوں  کے  ساتھ رہنے  کے  لئے  گئے۔ یہ نیگیو میں  تھا جو عراد شہر کے  قریب تھا ( قینی لوگ موسیٰ کے  سُسرال کے  خاندانی لوگوں  میں  سے  تھے  )۔

17 یہوداہ کے  آدمی  شمعون کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ کنعانی لوگوں  پر جو کہ صفت میں  رہتے  تھے  حملہ کیا۔ انہوں  نے  شہر کو مکمل طور پر تباہ کیا اور اس کا نام حرمہ رکھا۔

18 یہوداہ کے  لوگوں  نے  غازہ کے  شہر پر قبضہ کر لیا اور اس کے  اطراف کے  چھوٹے  قصبات پر بھی قبضہ کیا اور یہوداہ کے  لوگوں  نے  اسقلون اور عقرون کے  شہروں  اور اس کے  اطراف کے  چھوئے  قصبات پر بھی قبضہ کیا۔”

19 خداوند اس وقت یہوداہ کے  آدمیوں  کے  ساتھ تھا جب وہ جنگ کر رہے  تھے۔ انہوں  نے  پہاڑی ملک کی زمین کو فتح کیا لیکن یہوداہ کے  آدمی  وادیوں  کی زمین لینے  میں  ناکام رہے  کیوں  کہ وہاں  کے  رہنے  وا لوں  کے  پاس لو ہے  کی رتھ تھیں۔

20 یہوداہ کے  آدمیوں  نے  حبرون کو کا لب کے  خاندانی گروہ کو دیا جیسا کہ موسیٰ نے  ان لوگوں  کو کہا تھا۔ کا لب کے  آدمیوں  نے  عناق کے  تینوں  بیٹوں  کو وہ جگہ چھوڑنے  پر مجبور کیا۔

21 بنیمین کے  خاندان کے  لوگ یبوسی لوگوں  کو یروشلم چھوڑنے  کے  لئے  دباؤ نہ ڈال سکے۔ اسی دن سے  یبوسی لوگ یروشلم میں  بنیمین لوگوں  کے  ساتھ رہتے  آئے  ہیں۔

22 یوسف کے  خاندانی گروہ کے  لوگ بھی بیت ایل شہر کے  خلاف لڑنے  گئے۔ ( بیت ایل کا نام لُوز بھی تھا )۔ خداوند یوسف کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں  کے  ساتھ تھا یوسف کے  خاندان کے  لوگوں  نے  کچھ جا سوسوں  کو بیت ایل شہر کو بھیجا۔ ( ان جاسوسوں  نے  بیت ایل شہر کو شکست دینے  کی ترکیب کا پتہ لگا یا )۔

23  24 جب وہ جا سوس بیت ایل شہر کو دیکھ رہے  تھے  تب انہوں  نے  ایک آدمی  کو شہر سے  باہر آتے  دیکھا۔ جا سو سوں  نے  اس آدمی  سے  کہا،” ہم لوگوں  کو شہر میں  جانے  کا خُفیہ راستہ بتاؤ۔ ہم لوگ شہر پر حملہ کریں  گے  اگر تم ہماری مدد کرو گے  تو ہم تمہیں  چوٹ نہیں  پہنچائیں  گے۔”

25 اس آدمی نے  جاسو سوں  کو شہر میں  جانے  کا خُفیہ را ستہ بتا یا۔ یوسف کے  آدمیوں  نے  بیت ایل کے  لوگوں  کو مار نے  کے  لئے  اپنی تلواروں  کا استعمال کیا لیکن انہوں  نے  اس آدمی  کو چوٹ نہیں  پہنچا ئی۔ کیونکہ اس نے  ان کی مدد کی تھی۔ اور انہوں  نے  اس کو اس کے  خاندان کے  لوگوں  کو آزادانہ جانے  دیا۔

26 وہ آدمی  اس زمین میں  گیا جہاں  حتّی لوگ رہتے  تھے۔ اور وہاں  اس نے  ایک شہر بسایا۔ اس نے  اس شہر کا نام لُو ز رکھا اور آج تک وہ شہر لُو ز کہلاتا ہے۔

27 کنعانی لوگ بیت شان، تعناک، دور، ابلیعا م، مُجّدو اور اس کے  اطراف کے  چھوٹے  گاؤں  میں  رہتے  تھے۔ منسی کے  خاندانی گروہ کے  لوگ ان لوگوں  کو اُن شہروں  کے  چھوڑنے  کے  لئے  دباؤ نہیں  ڈال سکے۔ کنعانی لوگوں  نے  اپنا گھر چھوڑنے  سے  انکار کر دیا۔

28 اس کے  بعد جب بنی اسرائیل بہت زیادہ طاقتور ہوئے  تو انہوں  نے  کنعانی لوگوں  کو غلاموں  کی طرح اپنی خدمت کے  لئے  مجبور کیا۔ لیکن اسرائیلی پوری زمین کو کنعانیوں  سے  خالی کرانے  میں  ناکام رہے۔

29 یہی بات افرا ئیم کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ ہو ئی۔ کنعانی لوگ جزر میں  رہتے  تھے۔ اور افرا ئیم کے  لوگ ان لوگوں  کو باہر نہیں  بھگاس کے۔  اس لئے  کنعانی لوگ افرائیم کے  لوگوں  کے  ساتھ جزر میں  رہتے  آئے  تھے۔

30 زبولون کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ بھی یہی بات ہو ئی۔ کچھ کنعانی لوگ قطرون اور نہلال کے  شہروں  میں  رہتے  تھے۔ زبولون کے  لوگ ان لوگوں  کو ان کی زمین چھوڑنے  کے  لئے  دباؤ نہ ڈال سکے۔ وہ کنعانی لوگ وہاں  بسنے  والے  زبولون کے  لوگوں  کے  ساتھ رہتے  چلے  آئے۔ لیکن زبولون کے  لوگوں  نے  ان لوگوں  کو غلاموں  کی طرح کام کرنے  کے  لئے  دباؤ ڈالا۔

31 آشر کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ بھی یہی بات ہو ئی۔ آشر کے  لوگ ان لوگوں  سے  عکو، صیدا، احلاب، اکزیب، جلبہ، افیق، اور رحوب کے  شہروں  کو چھوڑنے  کے  لئے  دباؤ نہ ڈال سکے۔

32 آشر کے  لوگ کنعانی لوگوں  سے  اپنا ملک سے  چھڑوا نہ سکے  اس لئے  کنعانی لوگ آشر کے  لوگوں  کے  ساتھ رہتے  ہوئے  آئے  تھے۔

33 نفتالی کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ بھی یہی بات ہو ئی۔ نفتا لی خاندان کے  لوگ ان لوگوں  سے  بیت شمس اور بیت عنات شہروں  کو چھڑوا نہ سکے۔ اس لئے  نفتا لی کے  لوگ ان شہروں  میں  ان لوگوں  کے  ساتھ رہتے  چلے  آئے۔ وہ کنعانی لوگ نفتالی لوگوں  کے  لئے  غلاموں  کی طرح کام کرتے  رہے۔

34 عموری لوگوں  نے  دان کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں  کو پہاڑی ملک میں  رہنے  کے  لئے  مجبور کیا۔ دان کے  لوگوں  کو پہاڑیوں  میں  ٹھہرنا پڑا کیوں  کہ عموری لوگ انہیں  وادیوں  میں  اتر کر نہیں  رہنے  دیتے  تھے۔

35 عموری لوگوں  نے  حرس کی پہاڑی، ایاّ لون، اور سعلبیم، میں  رہنا متعین کیا۔ بعد میں  یوسف کے  خاندانی گروہ طاقتور ہوئے۔ تب انہوں  نے  عموری لوگوں  کو ان کے  لئے  غلاموں  کی طرح کام کرنے  پر دباؤ ڈالے۔

36 عموری لوگوں  کی زمین بچھو کے  درہ سے  سیلا اور سیلا سے  مڑ کر آگے  اوپر تک پھیل گئی

 

 

 

 

باب: 2

 

 

1 خداوند کا فرشتہ جلجال شہر سے  بوکیم گیا۔ فرشتہ نے  خداوند کا ایک پیغام بنی اسرائیلیوں  کو دیا۔ پیغام یہ تھا :” تم مصر میں  غلام تھے۔ لیکن میں  نے  تمہیں  آزاد کیا اور میں  تمہیں  مصر سے  باہر لا یا۔ میں  تمہیں  اس ملک میں  لا یا جسے  تمہارے  باپ دادا کو دینے  کے  لئے  میں  نے  وعدہ کیا تھا میں  نے  کہا، میں  تم سے  کبھی اپنا معاہدہ نہیں  توڑوں  گا۔

2 لیکن اس کے  بدلے  تمہیں  اس زمین پر رہنے  والے  لوگوں  کے  ساتھ کوئی معاہدہ نہیں  کرنا ہے۔ تم ان لوگوں  کی قربان گا ہوں  کو ضرور تباہ کرو۔ پھر بھی تم نے  میری نہیں  سنی تم ایسا کیسے  کر سکتے  ہو؟

3″ میں  نے  بھی کہا، ‘ میں  اس ملک سے  لوگوں  کو اور باہر نہیں  ہٹاؤں  گا۔ یہ لوگ تمہارے  لئے  مسئلہ بنیں  گے  وہ تمہارے  لئے  پھندا بنیں  گے۔ ان کے  جھوٹے  دیوتا تمہیں  پھنسانے  کے  لئے  جال کی مانند بن جائیں  گے۔”‘

4 اور تب جب خداوند کا پیغام فرشتہ نے  بنی اسرائیلیوں  کو دیا تو لوگ زار و قطار روئے۔

5 اس لئے  بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند کے  لئے  قربانیاں  پیش کیں۔

6 تب یشوع نے  لوگوں  سے  کہا کہ وہ اپنے  گھر واپس جا سکتے  ہیں  اس لئے  ہر ایک خاندانی گروہ اپنی زمین کا علاقہ لینے  گیا اور اس میں  رہے۔

7 بنی اسرائیلیوں  نے  اس وقت تک خداوند کی خدمت کی جب تک یشوع زندہ تھے۔ اُن بزرگوں  کی زندگی میں  بھی وہ خداوند کی خدمت کرتے  رہے  جو یشوع کے  بعد بھی زندہ رہے۔ وہ قائدین تھے  جنہوں  نے  خداوند کے  اس عظیم کارنامے  دیکھے  تھے۔ جسے  انہوں  نے  بنی اسرائیلیوں  کے  لئے  کیا تھا۔

8 نون کے  بیٹے  یشوع جو خداوند کا خادم تھا ۱۱۰ سال کی عمر میں  انتقال کیا۔

9 بنی اسرائیلیوں  نے  یشوع کو دفنا یا۔ یشوع کو زمین کے  اس علاقے  میں  دفنا یا گیا جو اسے  دی گئی تھی۔ وہ زمین تمنت حرس میں  تھی جو افرا ئیم کے  پہاڑی علاقہ میں  جعس پہاڑی کے  شمال میں  تھی۔

10 وہ نسل بھی مر گئی اور دفنا دی گئی۔ اور نئی نسل نے  جو اس کی جگہ لی نہ تو خداوند کو جانا اور نہ ہی خداوند کے  عظیم کارنامے  کو جسے  وہ اسرائیلیوں  کے  لئے  کیا تھا۔

11 اس لئے  بنی اسرائیلیوں  نے  ان کاموں  کو کیا جسے  خداوند نے  بُرا سمجھا تھا۔ ان لوگوں  نے  بعل کی مورتی کی خدمت کرنی شروع کر دی تھی۔

12 خداوند بنی اسرائیلیوں  کو مصر سے  باہر لا یا تھا اور ان لوگوں  کے  اجداد نے  خداوند کی عبادت اور خدمت کی تھی۔ لیکن بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند کو چھوڑ دیا۔ انہوں  نے  اطراف کے  لوگوں  کے  جھوٹے  دیوتاؤں  کی پیر وی کرنی اور پرستش کرنی شروع کی۔ ان لوگوں  نے  ان دیوتاؤں  کی پرستش کی اس لئے  خداوند کو غصّہ آیا۔

13 بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند کے  راستے  پر چلنا چھوڑ دیا۔ اور بعل اور عستارات کی پرستش کرنے  لگے۔

14 خداوند بنی اسرائیلیوں  پر بہت غصّہ کیا اس لئے  خداوند نے  دشمنوں  کو بنی اسرائیلیوں  پر حملہ کرنے  دیا۔ اور ان کی جگہ لینے  دی۔ ان کے  اطراف رہنے  والے  دشمنوں  کو خداوند نے  انہیں  شکست دینے  دی۔ بنی اسرائیل اپنی حفاظت اپنے  دشمنوں  سے  نہیں  کر سکے۔

15 جب بھی بنی اسرائیل جنگ لڑنے  کے  لئے  نکلے  تو وہ ہار گئے  وہ اس لئے  ہار گئے  کیوں  کہ خداوند ان کے  ساتھ نہیں  تھا۔ خداوند نے  پہلے  ہی خبردار کر دیا تھا کہ وہ شکست کھائیں  گے۔ اگر وہ اطراف کے  اپنے  لوگوں  کے  جھوٹے  خداؤں  کی خدمت کریں  گے  تو وہ لوگ بہت زیادہ پریشانی جھیلے۔

16 تب خداوند نے  قائدین کو چنا جو کہ قاضی کہلائے۔ ان قاضیوں  نے  بنی اسرائیلیوں  کو اُن دشمنوں  سے  بچا یا جنہوں  نے  ان کی ملکیت کو ہڑپ لئے  تھے۔

17تا ہم اسرائیلی لوگوں  نے  بھی اپنے  قاضیوں  کی ایک نہ سنی۔ بنی اسرائیل خدا کے  ساتھ وفادار نہیں  تھے۔ وہ جھوٹے  خداؤں  کی راہ پر چل رہے  تھے۔ ماضی میں  بنی اسرائیلیوں  کے  باپ دادا خدا کے  حکم کی تعمیل کرتے  تھے۔ لیکن اب بنی اسرائیل اپنے  باپ دادا کے  راستوں  سے  مُڑ گئے  تھے  اور انہوں  نے  خداوند کے  حکم کی تعمیل کرنی چھوڑ دی تھی۔

18 جب بھی خداوند نے  بنی اسرائیلیوں  کی حفاظت کے  لئے  منصف کو بھیجا اس نے  اس منصف کی مدد کی۔ تب منصف نے  ان لوگوں  کی ان کے  دشمنوں  سے  اس وقت تک حفاظت کی جب تک وہ زندہ رہے۔ خداوند نے  ایسا اس لئے  کیا کیونکہ اس کو بنی اسرائیلیوں  پر افسوس ہوا جب ان کے  دشمن ان کو نقصان پہنچاتے  تو وہ سب مدد کے  لئے  چلاّتے  تھے۔

19 لیکن جب سارے  منصف مر گئے  تو بنی اسرائیلیوں  نے  پھر گناہ کئے  اور جھوٹے  خداؤں  کی پرستش شروع کی۔ بنی اسرائیل بہت ضدّی تھے۔ انہوں  نے  اپنے  گنا ہوں  کے  راستے  بدلنے  سے  انکار کئے۔

20 اس طرح بنی اسرائیلیوں  پر خداوند بہت غصّہ ہوا اور اس نے  کہا،” اس ملک کے  لوگوں  نے  معاہدہ کو توڑا ہے  جسے  میں  نے  ان کے  باپ دادا کے  ساتھ کیا تھا۔ انہوں  نے  میری نہیں  سنی۔

21 اس لئے  میں  ان لوگوں  کے  لئے ، اب اور اس ملک کے  قوموں  میں  سے  کسی کو بھی جسے  یشوع چھوڑ کر مرے  شکست نہیں  دوں  گا۔

22 میں  ان قوموں  کا استعمال بنی اسرائیلیوں  کی جانچ کے  لئے  کروں  گا میں  یہ دیکھوں  گا کہ بنی اسرائیل اپنے  خداوند کا حکم ویسا ہی مانتے  ہیں  یا نہیں  جیسا کہ اُن کے  باپ دادا مانتے  تھے۔”

23 گزرے  وقتوں  میں  خداوند نے  ان قوموں  کو ان ملکوں  میں  رہنے  دیا تھا۔ خداوند نے  جلدی سے  ان قوموں  کو اپنا ملک نہیں  چھوڑنے  دیا۔ اس نے  انہیں  شکست دینے  میں  یشوع کی فوج کی مدد نہیں  کی۔

 

 

 

باب: 3

 

 

1 خداوند اسرائیل کے  ان لوگوں  کا امتحان لینا چاہتا تھا جو کہ اس جنگ میں  حصّہ نہیں  لئے  تھے  جس میں  کنعان کو قبضہ کر لیا گیا تھا۔ اس لئے  اس نے  دوسری قوموں  کے  لوگوں  کو اپنی زمین میں  رہنے  کی اجازت دی۔ (خدا کی طرف سے  یہ کرنے  کا سبب صرف یہ تھا کہ جو جنگ میں  حصّہ نہیں  لئے  تھے  انہیں  جنگ کے  بارے  میں  سکھانا۔ ) یہاں  ان قوموں  کے  نام ہیں  جنہیں  خداوند نے  اسرائیل کی سر زمین کو چھوڑنے  کے  لئے  مجبور نہیں  کیا :

2  3 فلسطینی لوگوں  کے  ۵ حاکم، سب کنعانی لوگ، صیدون کے  لوگ اور حوّی لوگ جو لبنان کے  پہاڑوں  میں  بعل حرمون کے  پہاڑوں  سے  حمات تک رہتے  تھے۔

4 خداوند نے  ان قوموں  کو بنی اسرائیلیوں  کے  امتحان کے  لئے  اس ملک میں  رہنے  دیا۔ وہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آیا بنی اسرائیل خداوند کے  ان احکام کی تعمیل کرنے  میں  کتنے  پابند ہیں  جو اس نے  ان کے  باپ دادا کو موسیٰ کے  ذریعہ دیئے  تھے۔

5 بنی اسرائیل کنعانی، حتّی، عموری، فرزّی، حوّی اور یبوسی لوگوں  کے  ساتھ رہتے  تھے۔

6 بنی اسرائیلیوں  نے  ان لوگوں  کی لڑکیوں  کے  ساتھ شادی کرنی شروع کر دی۔ بنی اسرائیلیوں  نے  اپنی لڑکیوں  کی اُن کے  لڑکوں  کے  ساتھ شادی کر دی اور اسرائیل ان لوگوں  کے  خداؤں  کی عبادت کی۔

7 بنی اسرائیل نے  ان کاموں  کو کیا جسے  خداوند نے  بُرا سمجھا۔ بنی اسرائیل خداوند اپنے  خدا کو بھول گئے  اور جھوٹے  دیوتا بعل اور یسیرت کی خدمت کرنے  لگے۔

8 خداوند نے  بنی اسرائیلیوں  پر غصّہ کیا۔ خداوند نے  آرم نہارم کے  کوشن رسعتیم کو ان لوگوں  کو شکست دینے  اور ان پر حکومت کرنے  کے  لئے  بادشاہ بنایا۔ بنی اسرائیل اس بادشاہ کی حکومت میں  ۸ سال تک رہے۔

9 لیکن بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند کو رو رو کر پکارا۔ خداوند نے  ایک آدمی  کو اُن کی حفاظت کے  لئے  بھیجا۔ اس آدمی  کا نام غتنی ایل تھا وہ قنز کا بیٹا تھا۔ قنز قالب کا چھوٹا بھائی تھا۔ غتنی ایل نے  بنی اسرائیلیوں  کو بچایا۔

10 خداوند کی روح غتنی ایل پر اُتری اور وہ بنی اسرائیلیوں  کا قائد ہو گیا۔ غتنی ایل بنی اسرائیلیوں  کا جنگ میں  رہنما رہا۔ خداوند نے  غتنیا یل کو آرم کے  بادشاہ کوشن رسعتیم کو شکست دینے  میں  مدد کی۔

11 اس طرح وہ ریاست ۴۰ سال تک پُر امن رہی جب تک کہ قنز نام کے  آدمی  کا بیٹا غتنی ایل نہیں  مرا۔

12 پھر سے  بنی اسرائیلیوں  نے  ان کاموں  کو کیا جسے  کہ خداوند نے  بُرا سمجھا۔ اس لئے  خداوند نے  موآب کے  بادشاہ عجلون کو بنی اسرائیلیوں  کو شکست دینے  کی طاقت دی۔

13 عجلون اپنی قیادت میں  عمّونیوں  اور عمالیقیوں  کو ایک ساتھ لایا۔ اور تب بنی اسرائیلیوں  پر حملہ کیا۔ عجلون اور اس کی فوج نے  بنی اسرائیلیوں  کو شکست دی اور تاڑ کے  درخت والے  شہر ( یریحو) سے  نکال باہر کیا۔

14 بنی اسرائیل ۱۸ سال تک موآب کے  بادشاہ عجلون کی حکومت میں  رہے

15 تب لوگوں  نے  خداوند کو پکارا۔ خداوند نے  بنی اسرائیلیوں  کی حفاظت کے  لئے  ایک آدمی  کو بھیجا۔ اُس آدمی  کا نام اہُود تھا۔ اہود بنیمین کے  خاندانی گروہ کے  جیرا نامی آدمی  کا بیٹا تھا۔ اہود بایاں  ہتھا تھا۔ بنی اسرائیلیوں  نے  اہود کو تحفہ کے  ساتھ موآب کے  بادشاہ عجلون کے  پاس بھیجا۔

16 اہودنے  اپنے  لئے  ایک تلوار بنائی۔ وہ تلوار دو دھاری تھی اور تقریباً ۱۸ انچ لمبی تھی۔ اہودنے  تلوار کو اپنی داہنی جانگھ سے  باندھا اور اپنے  لباس میں  چھپا لیا۔

17 اس طرحا ہود موآب کے  بادشاہ عجلون کے  پاس آیا اور اسے  تحسین کے  طور پر نذرانہ پیش کیا عجلون بہت موٹا تھا۔

18 جونہی اس نے  نذرانہ پیش کیا عجلون نے  ان لوگوں  کو واپس بھیج دیا جو نذرانہ لائے  تھے۔

19 جب اہود، جلجال شہر کی مورتیوں  کے  پاس پہنچا تب اہود بادشاہ سے  ملنے  کے  لئے  واپس گیا۔ عجلون سے  کہا،” بادشاہ میں  آپ  کے  لئے  ایک خفیہ پیغام لایا ہوں۔” بادشاہ نے  کہا، خاموش رہو تب اس نے  تمام نوکروں  کو کمرے  سے  باہر بھیج دیا۔

20 اہود بادشاہ عجلون کے  پاس گیا۔ عجلون اپنے  محل کے  اوپری منزل کے  ایک کمرہ میں  اکیلا بیٹھا ہوا تھا۔ تب اُہودنے  کہا،” میں  خداوند کے  پاس سے  آپ  کے  لئے  ایک پیغام لایا ہوں۔” بادشاہ اپنے  تخت سے  اٹھا وہ اہود کے  بہت قریب تھا۔

21 جیسے  ہی بادشاہ اپنے  تخت سے  اٹھا۔ اہود نے  اپنے  بائیں  ہاتھ سے  تلوار کو اپنی داہنی جانگھ سے  لی اور اسے  بادشاہ کے  پیٹ میں  گھونپ دی۔

22 تلوار عجلون کے  پیٹ میں  اتنی اندر چلی گئی کہ اس کا دستہ بھی اس میں  سما گیا۔ اور بادشاہ کی چربی نے  پوری تلوار کو ڈھک لیا۔ اس لئے  اہود نے  تلوار کو عجلون کے  پیٹ کے  اندر چھوڑ دیا۔

23 اہود کمرے  سے  باہر گیا اور اس نے  بالا خانہ کے  کمرہ میں  بادشاہ کو بند کر کے  دروازوں  میں  تالا لگا دیا۔

24 اہود کے  چلے  جانے  کے  بعد فوراً نوکر آئے۔ کمرہ میں  تالا لگا ہوا دیکھ کر وہ لوگ تعجب میں  پڑ گئے۔ تب نوکروں  نے  کہا،” وہ یقیناً اپنے  بیت الخلاء میں  رفع حاجت کر رہے  ہوں  گے۔”

25 اس لئے  نوکروں  نے  بادشاہ کے  لئے  کافی دیر تک انتظار کیا۔ آخر کار جب بالا خانہ کے  کمرہ کے  دروازوں  کو نہیں  کھولا تو ان لوگوں  نے  چابی لی اور اسے  کھولا۔ اور وہاں  ان لوگوں  نے  بادشاہ کو صحن پر مردہ پڑا ہوا پایا۔

26 جب نوکر بادشاہ کا انتظار کر رہے  تھے  تب اہود کو بھاگنے  کا موقع مل گیا۔ اہود مورتیوں  کے  پاس سے  ہو کر سعیرت نامی جگہ کو چلا گیا۔

27 اہود سعیرت نامی جگہ پر پہنچا تب اس نے  افرائیم کے  پہاڑی علاقہ میں  بگل بجائی۔ بنی اسرائیلیوں  نے  بگل کی آواز سنی اور پہاڑیوں  سے  اترے۔ اہود ان کا رہنما تھا۔

28 اہود نے  بنی اسرائیلیوں  سے  کہا،” میرے  پیچھے  چلو۔ خداوند نے  موآب کے  لوگوں  اور ہمارے  دشمنوں  کو شکست دینے  میں  مدد کی ہے۔” اس لئے  بنی اسرائیل اہود کے  پیچھے  چلے  انہوں  نے  یردن ندی کے  گھاٹ پر قبضہ جما لیا جو موآب کی طرف جاتی ہے۔ اور وہ لوگ کسی کو بھی موآب کی طرف جانے  کے  لئے  گھاٹ پار کرنے  نہیں  دیا۔

29 بنی اسرائیلیوں  نے  موآب کے  تقریباً ۰۰۰، ۱۰ ہزار بہادر طاقتور آدمیوں  کو مار ڈالا۔ ایک بھی موآبی آدمی  فرار نہیں  ہوا۔

30 اس لئے  اس دن بنی اسرائیلیوں  نے  موآب کے  لوگوں  پر حکومت کرنی شروع کی اور ۸۰ سال تک وہ زمین پر امن رہی۔

31 اہود کے  بنی اسرائیلیوں  کو بچانے  کے  بعد دوسرے  آدمی نے  اسرائیل کو بچایا۔ اس آدمی  کا نام عنات کا بیٹا شمجر تھا۔ شمجر نے  چابک کا استعمال کر کے  ۶۰۰ فلسطینیوں  کو مار ڈالا۔

 

 

 

باب: 4

 

 

1 اُہود کے  مرنے  کے  بعد پھر بنی اسرائیلیوں  نے  وہی کام کیا جسے  خداوند نے  بُرا سمجھا۔

2 اس لئے  خداوند نے  کنعانی بادشاہ یابین کو بنی اسرائیلیوں  کو شکست دینے  دیا۔ یا بین حصور نامی شہر پر حکومت کرتا تھا۔ سیسرا نامی ایک آدمی  بادشاہ یا بین کی فوج کا سپہ سالار تھا۔ سیسرا حُروست یگوئم نامی قصبہ میں  رہتا تھا۔

3 سیسرا کے  پاس ۹۰۰ لو ہے  کی رتھ تھیں  اور وہ بیس سال تک بنی اسرائیلیوں  پر ظلم ڈھاتا رہا۔ اس لئے  بنی اسرائیلیوں

4 ایک عورت نبیّہ دبورہ نام کی تھی وہ لفیدوت نامی آدمی  کی بیوی تھی۔ اس وقت وہ اسرائیل کی منصف تھی۔

5 دبورہتا  ڑکے  درخت کے  نیچے  بیٹھی تھی جو کہ دبورہ کے  تاڑ کے  درخت کے  نام سے  جانا جاتا تھا۔ وہ دبورہ کا تاڑ کا درخت افرا ئیم کے  پہاڑی ملک میں  را مہ اور بیت ایل شہروں  کے  درمیان تھی۔ ایک دن جب وہ وہاں  بیٹھی تھی تو بنی اسرائیل یہ پو چھنے  کے  لئے  آئے  کہ سیسرا کے  معاملہ کا کیا کیا جا نا چاہئے۔

6 دبورہ نے  برق نامی آدمی  کو ایک پیغام بھیجا اس نے  اسے  ملنے  کو کہا۔ برق ابی نوعم نامی آدمی  کا بیٹا تھا۔ برق قادِس شہر میں  رہتا تھا جو نفتالی کے  علاقہ میں  تھا۔ دبورہ نے  برق سے  کہا،” خداوند اسرائیل کا خدا تم کو حکم دیتا ہے  جاؤ ‘ اور ۱۰۰۰۰ آدمیوں  کو نفتا لی اور ز بولون کے  خاندانی گروہ سے  جمع کرو ان آدمیوں  کو تبور کی پہاڑی پرلے  جاؤ۔

7 میں  بادشاہ یابین کی فوج کے  سپہ سالار سیسرا کو تمہارے  پاس بھیجوں  گا۔ میں  اسے ، اس کی رتھوں  اور اس کی فوج کو دریائے  قیسون پر پہنچاؤں  گا۔ میں  سیسرا کو شکست دینے  کے  لئے  تمہاری مدد کروں  گا۔”

8 تب برق نے  دبورہ سے  کہا،” اگر تم میرے  ساتھ چلو گی تو میں  جاؤں  گا اور یہ کروں  گا۔ لیکن اگر تم نہیں  چلو گی تو میں  نہیں  جاؤں  گا۔”

9 دبورہ نے  جواب دیا،” میں  بالکل تمہارے  ساتھ چلوں  گی،” لیکن تمہارے  برتاؤ کی وجہ سے  جب سیسرا کو شکست دی جائے  گی تو تمہیں  عزت نہیں  ملے  گی۔ خداوند ایک عورت کے  ذریعہ سیسرا کو شکست دلوائے  گا۔” اس لئے  دبورہ برق کے  ساتھ شہر قادس کو گئی۔

10 قادس شہر میں  برق نے  زبولون اور نفتا لی کے  خاندانی گروہوں  کو ایک ساتھ بلا یا۔ برق نے  اُن خاندانی گروہوں  سے  اپنے  ساتھ چلنے  کے  لئے  ۰۰۰, ۱۰ آدمیوں  کو جمع کیا دبورہ بھی برق کے  ساتھ گئی۔

11 وہاں  حیبر نامی ایسا آدمی  تھا جو قینی لوگوں  میں  سے  تھا۔ حیبر دوسرے  قینی لوگوں  کو چھوڑ چکا تھا ( قینی لوگ حباب کی نسل سے  تھے۔ حباب موسیٰ کا سسر تھا ) حیبر نے  اپنا خیمہ ضعنیم نامی جگہ پر عظیم بلوط کے  درخت تک لگایا۔ ضعنیم قادس شہر کے  قریب ہے۔

12 تب سیسرا سے  یہ کسی نے  کہا کہ ابینوعم کا بیٹا برق تبور کی پہاڑی تک پہنچ گیا ہے۔

13 سیسرانے  اپنے  تمام رتھوں  کو جمع کیا، ۹۰۰ رتھوں  کو لو ہے  سے  مضبوط بنا یا اور تمام فو جی دستہ جو کہ اس کے  ساتھ تھے  حروست ہگوئم سے  قیسون ندی تک اس کے  ساتھ گئے۔

14 تب دبورہ نے  برق سے  کہا،” آج کا دن وہ دن ہے  کہ خداوند سیسرا کو شکست دینے  میں  تمہاری مدد کرے  گا۔ یقیناً تم جانتے  ہو کہ خداوند نے  پہلے  سے  ہی تمہارے  لئے  راستہ صاف کر رکھا ہے۔” اس لئے  برق نے  ۱۰۰۰۰ فوجوں  کو تبور پہاڑی سے  اتار لا یا۔

15 برق اور اس کے  آدمیوں  نے  سیسرا پر حملہ کیا۔ دوران جنگ خداوند نے  سیسرا، اس کی فوج اور رتھوں  کو الجھن میں  ڈال دیا اور وہ نہیں  جان پائے  کہ کیا کرنا چاہئے۔ اس لئے  برق اور اس کے  آدمیوں  نے  سیسرا کی فوج کو شکست دی لیکن سیسرا اپنی رتھ کو چھوڑ کر پیدل بھاگ گیا۔

16 برق اور اس کے  آدمیوں  نے  سیسرا کی فوج سے  لڑائی جاری رکھی۔ برق اور اس کے  آدمیوں  نے  سیسرا کے  رتھوں  کا اور فوج کا حروست بگوئم کے  راستہ پر پیچھا کیا۔ برق اور اس کے  آدمیوں  نے  سیسرا کے  آدمیوں  کو مار نے  میں  تلوار کا استعمال کیا۔ سیسرا کی فوج کا کوئی بھی آدمی  زندہ نہیں  بچا تھا۔

17 لیکن سیسرا بھاگ گیا۔ وہ ایک خیمہ میں  آیا جہاں  یا عیل نامی عورت رہتی تھی۔ یا عیل حیبر نامی آدمی  کی بیوی تھی۔ وہ قینی لوگوں  میں  سے  ایک تھا حیبر کے  خاندان نے  حصور کے  بادشاہ یا بین سے  امن معاہدہ کیا تھا۔ اس لئے  سیسرا یا عیل کے  خیمہ کو بھا گ گیا۔

18 یا عیل نے  دیکھا کہ سیسرا آ رہا ہے  اس لئے  وہ باہر اس سے  ملنے  گئی۔ اس نے  سیسرا سے  کہا،” جناب میرے  خیمہ میں  آیئے  میرے  آقا! مت ڈریئے۔” اس لئے  سیسرا یاعیل کے  خیمہ میں  گیا اور اس نے  اس کو کمبل سے  ڈھانک دیا۔

19 سیسرانے  یاعیل سے  کہا،” میں  پیاسا ہوں  براہ کرم مجھے  تھوڑا پانی پینے  کے  لئے  دو۔ یا عیل کے  پاس ایک تھیلی تھی جو جانور کے  چمڑے  سے  بنی تھی۔” یا عیل نے  اس تھیلی میں  دودھ رکھا تھا۔ یا عیل نے  وہ دودھ سیسرا کو پینے  کے  لئے  دیا۔ تب اس نے  دوبارہ سیسرا کو ڈھانک دیا۔

20 تب سیسرا یا عیل سے  کہا،” خیمہ کے  دروازہ پر جاؤ اور کھڑی رہو اگر کوئی یہاں  سے  گزرے  اور تم سے  پو چھے  کہ یہاں  کوئی ہے ؟ اُن سے  کہنا، ‘ نہیں۔”‘

21 تب حیبر کی بیوی یا عیل نے  خیمہ کی کھونٹی اور ہتھوڑی لی۔ یا عیل خاموشی سے  سیسرا کے  پاس گئی۔ سیسرا بہت تھکا ہوا تھا اس لئے  وہ سو رہا تھا۔ یا عیل نے  خیمہ کی کھونٹی کو سیسرا کی کنپٹیوں  پر رکھا اور اس پر ہتھوڑی سے  ضرب لگا ئی۔ خیمہ کی کھو نٹی سیسرا کے  سر کے  کنپٹیوں  کے  پار ہو کر زمین میں  دھنس گئی اور اس طرح سیسرا مر گیا۔

22 جیسے  ہی برق سیسرا کا تعاقب کرتے  ہوئے  یا عیل کے  خیمہ کے  پاس آیا تو یا عیل باہر برق سے  ملنے  گئی اور کہا،” یہاں  اندر آؤ میں  اس آدمی  کو دکھاؤں  گی جسے  تم ڈھونڈ رہے  ہو۔” برق خیمہ کے  اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ سیسرا وہاں  زمین پر مردہ پڑا ہے  خیمہ کی کھونٹی اس کے  سر کے  آر پار گھسی ہوئی ہے۔

23 اس دن خدا نے  کنعان کے  بادشاہ یا بین کو بنی اسرائیلیوں  کے  لئے  شکست دی۔

24 اس لئے  بنی اسرائیل اور زیادہ طاقتور ہو گئے  اور انہوں  نے  کنعان کے  بادشاہ یا بین کو شکست دی۔ بنی اسرائیلیوں  نے  آخر کار کنعان کے  بادشاہ یابین کو تباہ کیا۔

 

 

 

باب: 5

 

 

1 جس دن بنی اسرائیلیوں  نے  سیسرا کو شکست دی اس دن دبورہ اور ابی نوعم کے  بیٹے  برق نے  اس نغمہ کو گا یا :

2 کیونکہ لوگوں  نے  اپنے  کو جنگ کے  لئے  تیار کیا۔ وہ جنگ میں  حصہ لینے  کے  لئے  آگے  آئے۔ خداوند کی حمد کرو۔

3 بادشاہو سنو! حاکمو! دھیان دو، میں  گاؤں گی۔ میں  یقیناً خداوند کے  ساتھ گاؤں  گی۔ میں  خداوند اسرائیل کے  خدا کی حمد کروں  گی۔

4 اے  خداوند! جب تو شعیر ملک سے  گیا، جب تو ادوم کے  ملک سے  چلا تو زمین کانپ اٹھی، آسمان سے  بارش ہونے  لگی اور با دل سے  پانی برسنے  لگا۔

5 پہاڑ خداوند سینائی کے  خدا، خداوند اسرائیل کے  خدا کے  سامنے  کانپ گئے۔

6 عنات کے  بیٹے  شمجر کے  زمانے  میں  اور یا عیل کے  وقت میں  بڑی شاہراہیں  ویران تھیں۔ قافلے  اور مسافر پگڈنڈیوں  پر چلتے  تھے۔

7 جب تک کہ میں  دبورہ کھڑی نہ ہو ئی، جب تک کہ میں  اسرائیل کی ماں  بن کر کھڑی نہ ہو ئی۔ اسرائیل میں  کوئی سپاہی نہیں  تھا اور نہ ہی کوئی جنگجو تھا۔

8 اسرائیل نے  نئے  خداؤں  کو چنا۔ ان کے  شہروں  کے  پھاٹک پر لڑائی شروع ہو ئی۔ تا ہم ۰۰۰,۴۰ سپاہیوں  میں  سے  کسی کے  پاس بھی ایک ڈھال یا ایک بھالا نہیں  تھا۔

9 میرا دل اسرائیل کے  سپہ سالاروں  کے  ساتھ ہے۔ جو اسرائیل کے  لوگوں  میں  سے  آئے  ہیں، خداوند کی حمد کرو۔

10 سفید گدھوں  پر سوار ہونے  والے  لوگو! تم لوگ جو کمبل کی زین پر بیٹھتے  ہو، تم لوگ جو سڑک کے  کنا رے  کنارے  چلتے  ہو ذرا غور کرو کہ کیا ہو رہا ہے۔ گھنگروؤں  کی جھنکار جانوروں  کے  لئے  پانی کا منبع یہ سبھی خداوند کے  فتحوں  اور اسرائیل کے  بہا در سپاہیوں  کے  قصّے  کہتے۔ یہ فتح اس وقت حاصل ہوئی جب خداوند کے  لوگوں  نے  شہروں  کے  پھاٹک پر لڑائی لڑی اور فتح حاصل کی۔

11  12 دبورہ! جا گو، جا گو اور گا نا گاؤ۔ برق! اٹھو۔ اے  ابی نوعم کے  بیٹے  جاؤ اور اپنے  دشمنوں  کو قیدی بناؤ۔

13 اس وقت کے  بچے  ہوئے  اے  لوگو! قائدین کے  پاس جاؤ۔ خداوند کے  لوگو میرے  ساتھ اور سپاہیوں  کے  ساتھ آؤ۔

14 کچھ لوگ افرا ئیم سے  آئے  جن کی جڑیں  عمالیق میں  تھی۔ اے  بنیمین تمہارے  بعد وہ لوگ اور تمہار لوگ آئے۔ اور مکیر کے  خاندانی گروہ سے  سپہ سالار آگے  آئے۔ زبولون خاندان کے  گروہ سے  قائدین اپنے  کانسے  کے  ڈنڈا کے  ساتھ آئے۔

15 اشکار کے  قائد دبورہ کے  ساتھ تھے ، اِشکار برق کے  ساتھ تھا۔ وہ لوگ وادی کی طرف ٹھیک ان کے  پیچھے  دوڑے۔ تا ہم روبن کے  خاندانی گروہ کے  بیچ صرف سنجیدگی کی بات چیت ہوئی تھی۔

16 تو ان سیٹیوں  کو سننے  کے  لئے  جو ان بھیڑوں  کے  جھنڈ کے  لئے  بجائے  جاتے  ہیں  بھیڑ شالہ کی دیوار سے  لگ کر کیوں  بیٹھے ؟ روبن کے  خاندانی گروہ میں  صرف سنجیدگی کی بات ہوئی تھی۔

17 دریائے  یردن کی دوسری جانب جلعاد کے  لوگ اپنے  خیموں  میں  ٹھہرے۔ اے  دان کے  لوگو جہاں  تک تمہاری بات ہے  تم جہا زوں  کے  ساتھ کیوں  چپکے  رہے۔ آشر کے  لوگ سمندر کے  کنا رے  پڑے  رہے۔ انہوں  نے  اپنی محفوظ بندرگاہوں  میں  خیمہ ڈالا۔

18 لیکن زبولون کے  لوگوں  نے  اور نفتا لی کے  لوگوں  نے  میدان کے  اونچے  علاقوں  میں  جنگ کے  خطرات میں  زندگی بتا ئی۔

19 بادشاہ آئے  وہ لڑے  اس وقت کنعان کا بادشاہ تعناک شہر میں  مجدّو کے  پانی پر لڑا۔ لیکن وہ بنی اسرائیلیوں  کی کوئی دولت نہ لے  جاس کے۔

20 جنّت سے  ستاروں  نے  اُن سے  لڑا۔ آسمانوں  کے  پار ان کے  راستوں  سے  انہوں  نے  سیسرا کے  خلاف لڑا۔

21 دریائے  قیسون سیسرا کے  آدمیوں  کو بہا لے  گئی، اے  ابھرتی ہوئی قیسون دریا! میری روح کو طاقت کے  ساتھ آگے  بڑھنے  دے۔

22 تب گھوڑوں  کی کھرنے  زمین کو پیٹا۔ سیسرا کے  طاقتور گھوڑے  بھگتے  چلے  گئے۔

23 خداوند کے  فرشتہ نے  کہا،” میروز شہر کو بد دعا دو۔ اس کے  لوگوں  کو بد دُعا دو کہ وہ فو جوں  کے  ساتھ خداوند کی مدد کو نہیں  آئے۔”

24 یا عیل قینی حیبر کی بیوی خیمہ میں  رہ رہی تمام عورتوں  میں  سب سے  زیادہ با فضل ہے۔

25 سیسرانے  پانی مانگا یا عیل نے  دوددھ دیا۔ وہ ایسے  کٹو رے  میں  ملا ئیلے  آئی جو حکمراں  کے  لئے  موزوں  تھا۔

26 وہ اپنے  ایک ہاتھ میں  خیمہ کی کھونٹی لی اور دوسرے  ہاتھ میں  ہتھوڑا تب وہ اس نے  سیسرا پر چلا یا اور اس کا سر چُور چُور کر دیا۔ اس نے  اس کا سر اس کے  کنپٹیوں  سے  ہو کر چھید دیا۔

27 وہ جھکا اور اس کے  قدموں  میں  گر گیا۔ جہاں  وہ گرا وہیں  لیٹا، اور مر گیا۔

28 سیسرا کی ماں  کھڑکی سے  دیکھتی اور پردوں  سے  جھانکتی ہوئی رو رہی تھی۔ سیسرا کی رتھ کو اتنی دیر کیوں  ہوئی؟”سیسرا کی رتھ کے  گھوڑے  کو ہنہنانے  میں  دیر کیوں  ہو ئی۔”

29 اس کی سب سے  عقلمند خادمہ نے  جواب دیا۔ اور وہ اس سے  راضی بھی ہو گئی۔

30″ یقیناً انہوں  نے  فتح پائی ہے۔ یقیناً ہی وہ شکست خوردہ لوگوں  کی چیزیں  لے  رہے  ہوں  گے۔ یقیناً وہ چیزوں  کو آپس میں  بانٹ رہے  ہوں  گے۔ ہر ایک سپاہی ایک یا دو لڑکی کولے  رہے  ہوں  گے۔ ممکن ہے  سیسرا رنگین لباسلے  رہے  ہوں  گے۔ ممکن ہو ایک یا دو عمدہ کپڑے  لے  رہے  ہوں  گے۔”

31 اے  خداوند اس طرح تیرے  سارے  دشمن مر مٹ جائیں۔ لیکن وہ سب لوگ جو تجھکو پیار کرتے  ہیں  طلوع ہوتا ہوا سورج کی طرح طاقتور بنے۔

 

 

 

 

باب: 6

 

 

1 خداوند نے  پھر دیکھا کہ بنی اسرائیل گناہ کر رہے  ہیں۔ اس لئے  ۷ سال تک خداوند نے  مدیانی لوگوں  کو بنی اسرائیلیوں  کو شکست دینے  دی۔

2 مدیانی لوگ بہت طاقتور تھے  اور بنی اسرائیلیوں  کے  ساتھ بہت سخت تھے۔ اس لئے  بنی اسرائیلیوں  نے  پہاڑوں  میں  بہت سی چھپنے  کی جگہیں  بنائیں۔ انہوں  نے  اپنا کھانا بھی غاروں  میں  مشکل سے  پتہ لگائے  جانے  والی  جگہوں  پر چھپایا۔

3 انہوں  نے  ایسا کیا کیونکہ جب بھی وہ لوگ زمین میں  کچھ بوتے  تو مدیانی، عمالیقی اور اہل مشرق کے  لوگ ان کی زمین پر چڑھ آتے  تھے۔

4 وہ لوگ اس زمین میں  خیمے  ڈالتے  اور اس فصل کو تباہ کرتے  تھے  جو بنی اسرائیل لگاتے  تھے۔ غزّہ شہر کے  قریب کی زمین میں  بنی اسرائیلیوں  کی فصل کو وہ لوگ تباہ کرتے  تھے۔ وہ لوگ بنی اسرائیلیوں  کے  کھانے  کیلئے  کچھ بھی نہیں  چھوڑتے  تھے۔ وہ ان کے  سبھی بھیڑ گدھے  اور مویشی بھی لے  گئے  تھے۔

5 مدیانی لوگ آئے  اور انہوں  نے  اس ملک میں  خیمے  ڈالے۔ وہ اپنے  ساتھ اپنے  خاندان اور جانوروں  کو بھی لائے۔ وہ اتنے  زیادہ تھے  جتنے  ٹڈیوں  کے  جھنڈ۔ ان لوگوں  اور ان کے  اونٹوں  کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ان کو گننا ممکن نہ تھا۔ یہ تمام لوگ اس ملک میں  آئے  اور اسے  روند ڈالا۔

6 بنی اسرائیل مدیانی لوگوں  کی وجہ سے  بہت غریب ہو گئے۔ اس لئے  بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند کو مدد کیلئے رو رو کر پکا را۔

7 اور جب مدیانیوں  کے  ستانے  کی وجہ سے  بنی اسرائیل روئے  اور خداوند سے  مدد چا ہی۔

8 تو خداوند نے  ان کے  پاس ایک نبی بھیجا۔ نبی نے  بنی اسرائیلیوں  سے  کہا،”خداوند اسرائیل کے  خدا نے  کہا ہے  کہ تم لوگ ملک مصر میں  غلام تھے۔ میں  نے  تم لوگوں  کو آزاد کیا اور میں  اس ملک سے  تمہیں  باہر لا یا۔

9 میں  نے  مصر کے  طاقتور لوگوں  سے  تمہاری حفاظت کی۔ تب پھر کنعان کے  لوگوں  نے  تمہیں  تکلیف پہنچائی۔ اس لئے  میں  نے  ان لوگوں  سے  بھی تمہاری حفاظت کی۔ میں  نے  ان لوگوں  کو ان کی زمین سے  بھگایا۔ اور میں  نے  ان کی زمین کو تمہیں  دے  دی۔

10″ تب میں  نے  تم سے  کہا”میں  خداوند تمہارا خدا ہوں۔ تم لوگ عموری لوگوں  کے  ملک میں  رہو گے۔ لیکن تمہیں  ان کے  جھوٹے  خداؤں  کی پرستش نہیں  کرنی چاہئے۔ ‘لیکن تم لوگوں  نے  میرے  حکم کی تعمیل نہیں  کی۔”

11 اس وقت خداوند کا ایک فرشتہ آیا۔ اور عُفرہ نامی جگہ پر بلوط کے  درخت کے  نیچے  بیٹھا۔ وہ بلوط کا درخت یوآس نامی آدمی  کا تھا۔ یوآس ابیعزری خاندان سے  تھا۔ یوآس جِد عون کا باپ تھا۔ جِد عون مئے  کے  کو لہو پر گیہوں  جھاڑ ( پیٹ) رہا تھا۔ وہ مدیانی لوگوں  سے  اپنا گیہوں  چھپانے  کی کوشش کر رہا تھا۔

12 خداوند کا فرشتہ جِدعون کے  سامنے  ظاہر ہوا اور کہا”خداوند تمہارے  ساتھ ہے  تم بہا در آدمی  ہو۔”

13 تب جِدعون نے  کہا”جناب میں  وعدہ کرتا ہوں  اگر خداوند ہمارے  ساتھ ہے۔ تو مجھے  بتاؤ کہ ہم لوگ اتنی تکلیف میں  کیوں  مبتلا ہیں ؟ ہم لوگوں  نے  سنا ہے  کہ اس نے  ہمارے  باپ دادا کیلئے بہت سارے  تعجب خیز کام کئے  تھے۔ ہمارے  آباؤاجدا دنے  ہم لوگوں  سے  کہا کہ خداوند ہم لوگوں  کو مصر سے  باہر لا یا۔ لیکن اب خداوند نے  ہم لوگوں  کو چھوڑ دیا ہے۔ خداوند نے  مدیانی لوگوں  کو ہمیں  شکست دینے  دی ہے۔”

14 خداوند جِدعون کی طرف مُڑا اور اس سے  کہا”اپنی طاقت کا استعمال کرو۔ جاؤ اور مدیانی لوگوں  سے  بنی اسرائیلیوں  کی حفاظت کرو۔ کیا تم یہ نہیں  سمجھتے  کہ وہ میں  خداوند ہوں  جو تمہیں  بھیج رہا ہوں ؟”

15 لیکن جدعون نے  جواب دیا”جناب معاف کیجئے  میں  اسرائیل کی حفاظت کیسے  کر سکتا ہوں ؟”میرا خاندان منسی کے  خاندانی گروہ میں  سب سے  کمزور ہے۔ اور میں  اپنے  خاندان میں  سب سے  چھوٹا ہوں۔”

16 خداوند نے  جدعون کو جوا ب دیا اور کہا”تم انہیں  ضرور شکست دو گے  کیونکہ میں  تمہارے  ساتھ ہوں  گا اور مدیانی لوگوں  کو ہرانے  میں  تمہاری مدد کروں  گا اور ایسا معلوم ہو گا کہ تم ایک آدمی  کے  خلاف لڑ رہے  ہو۔”

17 تب جدعون نے  خداوند سے  کہا”اگر تو مجھ سے  خوش ہے  تو مجھے اس کا ثبوت دے  کہ تو سچ مُچ میں  خداوند ہے۔

18 مہربانی کر کے  تو یہاں  ٹھہر جب تک میں  واپس نہ آؤں  تب تک نہ جانا۔ مجھے  میری نذر لانے  اورتیرے  سامنے  رکھنے  دے۔”خداوند نے  کہا”میں  اس وقت تک انتظار کروں  گا جب تک تم واپس نہیں  آتے۔”

19 اس لئے  جدعون گیا اور اس نے  بکری کا ایک بچہ کھولتے  پانی میں  پکا یا۔ جدعون نے  تقریباً بیس پاؤنڈ آٹا بھی لا یا اور بغیر خمیری روٹیاں  بنائیں۔ تب جدعون نے  گوشت کے  ٹکڑے  ایک ٹوکری میں  پکے  ہوئے  گوشت کا  شوربہ ایک برتن میں  لا یا۔ اور اس میں  گوشت کے  ٹکڑے ڈالے۔ وہ ہر چیز کو باہر لا یا اور بلوط کے  درخت کے  نیچے  خداوند کے  پاس رکھا۔

20 خدا کے  فرشتہ نے  جدعون سے  کہا”گوشت اور غیر خمیری روٹیوں  کو وہاں  چٹان پر رکھو۔ تب شوربے  کو گراؤ” جدعون نے  ویسا ہی کیا جیسا کرنے  کو کہا گیا تھا۔

21 خداوند کے  فرشتہ نے  ڈنڈا لیا جو کہ اس کے  ہاتھ میں  تھا اور گوشت اور روٹیوں  کو اس ڈنڈے  کے  سرے  سے  چھُوا تب چٹان سے  آ گ بھڑک اٹھی، گوشت اور روٹیاں  پوری طرح جل گئیں۔ تب خداوند کا فرشتہ غائب ہو گیا۔

22 تب جدعون نے  سمجھا کہ وہ خداوند کے  فرشتہ سے  باتیں  کر رہا تھا۔ اس لئے  وہ پکار اٹھا اے  خداوند قادرِ مطلق میری مدد کر۔ میں  نے  خداوند کے  فرشتہ کو رُو برو دیکھا ہے۔

23 خداوند نے  جدعون سے  کہا”تیری سلامتی ہو! بالکل نہ ڈرو! تم نہیں  مرو گے۔”

24 اس لئے  جد عون نے  خداوند کی عبادت کیلئے اس جگہ پر ایک قربان گاہ بنائی جِد عون نے  اس قربان گاہ کا نام”خداوند سلامتی ہے “رکھا۔ وہ قربان گاہ اب تک عُفرہ میں  ہے  جہاں  ابیعزر کا خاندان رہتا ہے۔

25 اُسی خداوند نے  جِدعون سے  باتیں  کیں۔ اورکہا”اپنے  باپ کے  اس موٹے  بیل کو لو جو سات سال کا ہو۔ تمہارے  باپ کے  جھوٹے  دیوتا بعل کی ایک قربان گاہ ہے  اُس قربان گاہ کے  پاس ایک لکڑی کا ستون بھی ہے۔ ستون جھوٹی دیوی یسیرت کی تعظیم کے  لئے  بنایا گیا ہے۔ بیل کا استعمال بعل کی قربان گاہ کو کھینچنے  کیلئے کرو اور اسے  ٹکڑوں  میں  کاٹ دو۔

26 تب ایک قاعدے  کی قربان گاہ اونچی جگہ پر بناؤ۔ تب مکمل جوان بیل کو ذبح کرو اور اس قربان گاہ پر اس کو جلاؤ۔ یسیرت کے  ستون کی لکڑی کا استعمال اپنی قربانی  جلانے  کیلئے کرو۔”

27 اس لئے  جِدعون نے  اپنے  دس نوکروں  کو لیا اور وہی کیا جو خداوند نے  کرنے  کو کہا تھا۔ لیکن وہ اِسے  دن میں  کرنے  سے  اپنے  خاندان اور شہر کے  لوگوں  سے  ڈر رہے  تھے۔ اس لئے  جو خداوند نے  کرنے  کیلئے کہا تھا رات میں  کیا۔ جب شہر کے  لوگ صبح اٹھے  تو یہ دیکھ کر تعجب میں  پڑ گئے  کہ بعل کی قربان گاہ ٹوٹی ہوئی تھی۔ یسیرت کی قربان گاہ کٹی پڑی تھی اور اس کے  باپ کے سات سالہ بیل کی نئی بنی قربان گاہ پر قربانی دے  دی گئی تھی۔

28 اگلی صبح شہر کے  لوگ سو کر اٹھے  اور انہوں  نے  دیکھا کہ بعل کی قربان گاہ تباہ کر دی گئی ہے  انہوں  نے  یہ بھی دیکھا کہ یسیرت کا ستون کاٹ دیا گیا ہے۔ یسیرت کا ستون بعل کی قربان گاہ کے  بالکل پیچھے  گِرا پڑا تھا۔ ان لوگوں  نے  اس قربان گاہ کو بھی دیکھا۔ جسے  جِد عون نے  بنایا تھا۔ اور اس قربان گاہ پر دی گئی قربانی کے  بیل کو بھی دیکھا۔

29 شہر کے  لوگوں  نے  ایک دوسرے  سے  پوچھا”ہماری قربان گاہ کس نے  گرائی؟یسیرت کے  ستون کو کس نے  کاٹا؟ اس نئی قربان گاہ پر کس نے  اس بیل کی قربانی دی؟”انہوں  نے  کئی سوالات کئے  اور یہ پتہ لگانا چاہا کہ وہ کام کس نے  کئے۔ کسی نے  کہا”یوآس کے  بیٹے  جِد عون نے  یہ کام کیا۔”

30 اس لئے  شہر کے  لوگ یوآس کے  پاس آئے  انہوں  نے  یوآس سے  کہا”تمہیں  اپنے  بیٹے  کو باہر لانا چاہئے۔ اس نے  بعل کی قربان گاہ کو گرایا ہے  اور اس نے  یسیرت کے  ستون کو کاٹا ہے  جو اس قربان گاہ کے  پاس تھا اس لئے  تمہارے  بیٹے  کو مارا جانا چاہئے۔”

31 تب یوآس نے  مجمع سے  کہا جو اس کے  اطراف کھڑا تھا۔”کیا تم بعل کی جانبداری کر رہے  ہو؟ کیا تم بعل کی حفاظت کرنے  جا رہے  ہو؟ اگر کوئی بعل کی طرفداری کرتا ہے  تو اسے  سویرے  تک موت کے  گھاٹ اتار دیا جائے۔ اگر بعل حقیقت میں  خداوند ہے  تو اسے  اپنی حفاظت ضرور کرنے  دو۔ اگر کوئی اس قربان گاہ کو گراتا ہے۔”

32 اس دن یوآس نے  جدعون کا نام یر بعل رکھا یوآس نے  ایسا کیا کیونکہ اس نے  کہا :”بعل کو جد عون سے  بحث کرنے  دو کیوں  کہ اس نے  بعل کی قربان گاہ کو ڈھا دیا ہے۔

33 مدیانی، عمالیقی اور مشرق کے  دوسرے  لوگ بنی اسرائیلیوں  کے  خلاف جنگ کرنے  کیلئے ایک ساتھ ملے۔ وہ لوگ دریائے  یردن کے  پار گئے۔ اور انہوں  نے  یزر عیل کی وادی میں  خیمے  ڈالے۔

34 لیکن جدعون پر خداوند کی روح اتری اور اسے  بڑی طاقت عطا کی جِد عون نے ابیعزر لوگوں  اپنے  ساتھ  لے چلنے  کیلئے بگل بجایا۔

35 اسی دوران جدعون نے  منسّی خاندانی گروہ کے  تمام لوگوں  کے  پاس قاصد بھیجے۔ ان قاصدوں  نے  منسی کے  لوگوں  سے  اپنے  ہتھیار نکالنے  اور جنگ کیلئے تیار ہونے  کو کہا۔ جد عون نے  آشر، زبولون اور نفتالی کے  خاندانی گروہوں  کے  لوگوں  کے  پاس بھی وہی پیغام بھیجے۔ قاصد یہ پیغام ان لوگوں  کے  پاس لے  گئے۔ اس لئے  وہ خاندانی گروہ بھی جِد عون اور اس کے  آدمیوں  سے  ملنے  گئے۔

36 تب جد عون نے  خداوند سے  کہا” تو نے  مجھ سے  کہا کہ تو بنی اسرائیلیوں  کی حفاظت کرنے  میں  میری مدد کرے  گا مجھے  ثبوت دے۔

37 میں  کھلیان کے  فرش پر بھیڑ کا اون رکھتا ہوں  اگر صرف بھیڑ کے  اون پر شبنم کی بوند ہو گی جبکہ ساری زمین سوکھی ہے  تب سمجھوں  گا کہ تو اپنے  کہنے  کے  مطابق میرا استعمال اِسرائیل کی حفاظت کرنے  میں  کرے  گا۔”

38 اور یہ بالکل ویسا ہی ہوا۔ جِدعون اگلی صبح اٹھا اور بھیڑ کے  اون کو نچوڑا۔ وہ بھیڑ کے  اون سے  پیالہ بھر پانی نچوڑ سکا۔

39 تب جِد عون نے  خدا سے  کہا”مجھ پر غصّہ نہ ہو مجھے  صرف ایک اور سوال کرنے  دے۔ مجھے  بھیڑ کے  اون سے  ایک بار اور آزمانے  دے۔ اس مرتبہ بھیڑ کے  اون کو خشک رہنے  دے  جبکہ اطراف ساری زمین شبنم سے  بھیگی ہو۔”

40 اس رات خداوند نے  وہی کیا صرف بھیڑ کی اون ہی سوکھی تھی لیکن چاروں  طرف کی زمین شبنم سے  بھیگی ہوئی تھی۔

 

 

 

باب: 7

 

 

1 صبح یرُبعل ( جدعون ) اور اس کے  سب لوگوں  نے  اپنے  خیمے  حرود کے  چشمہ پر ڈالے۔ مدیانی لوگ جدعون اور اس کے  آدمیوں  کے  جواب میں  ڈیرہ ڈالے  تھے۔ مدیانی لوگ مورہ نامی پہاڑوں  کے  نیچے  وادی میں  ڈیرے  ڈالے  تھے  یہ جدعون اور اس کے  آدمیوں  کے  شمال میں  تھے۔

2 تب خداوند نے  جدعون سے  کہا”میں  تمہارے  آدمیوں  کی مدد مدیانی لوگوں  کو شکست دینے  کیلئے کرنے  جا رہا ہوں  لیکن تمہارے  پاس اس کام کیلئے ضرورت سے  زیادہ آدمی  ہیں۔ میں  نہیں  چاہتا کہ بنی اسرائیل مجھے  بھول جائیں  اور شیخی کریں  کہ انہوں  نے  صرف اپنی حفاظت کی۔

3 اس لئے  اپنے  لوگوں  میں  اعلان کرو کہ جو بھی جنگ سے  ڈر رہا ہے  اپنے  گھر واپس جا سکتا ہے۔”اس وقت ۲۲۰۰۰ آدمیوں  نے  جِدعون کو چھوڑا اور وہ اپنے  گھر لوٹ گئے۔ لیکن پھر بھی ۰۰۰,۱۰ آدمی  جنگ کا سامنا کرنے  کیلئے تیار تھے۔

4 تب خداوند نے  جدعون سے  کہا”اب بھی ضرورت سے  زیادہ لوگ ہیں  ان لوگوں  کو پانی کے  پاس لے  آؤ اور وہاں  میں  ان کی آزمائش تمہارے  لئے  کروں  گا۔ اگر میں  کہوں  گا یہ آدمی  تمہارے  ساتھ جائے  گا تو وہ جائے  گا۔ اگر میں  کہوں  گا کہ یہ آدمی  تمہارے  ساتھ نہیں  جائے  گا تو وہ نہیں  جائے  گا۔”

5 اس لئے  جدعون لوگوں  کو پانی کے  پاس لے  گیا۔ اس پانی کے  پاس خداوند نے  جدعون سے  کہا”اس طرح لوگوں  کو الگ کرو: جو آدمی  کتے  کی طرح لپ لپ کر کے  پانی پئیں  گے  وہ ایک قطار میں  ہوں  گے  جو پانی کیلئے جھکیں  گے  دوسری قطار میں  ہوں  گے۔”

6 وہاں  ۳۰۰ آدمی  ایسے  تھے  جنہوں  نے  پانی منہ تک لانے  کیلئے اپنے  ہاتھوں  کا استعمال کیا اور اسے  کتے  کی طرح لپ لپ کر کے  پیا۔ باقی لوگ گھٹنوں  کے  بل جھکے  اور انہوں  نے  پانی پیا۔

7 تب خداوند نے  جدعون سے  کہا،” میں  ۳۰۰ آدمیوں  کا استعمال کروں  گا جنہوں  نے  کتے  کی طرح لپ لپ کر کے  پانی پیا۔ میں  انہی لوگوں  کا استعمال تمہاری حفاظت کرنے  کیلئے کروں  گا۔ اور میں  تمہیں  مدیانی لوگوں  کو شکست دینے  دوں  گا۔ دوسرے  لوگوں  کو اپنے  گھر واپس جانے  دو۔”

8 اس لئے  جدعون اسرائیل کے  باقی لوگوں  کو گھر بھیج دیا۔ لیکن جدعون نے  ۳۰۰ آدمیوں  کو اپنے  ساتھ رکھا۔ اُن ۳۰۰ آدمیوں  نے  دوسرے  جانے  والے  آدمیوں  کی  کھانے  کی اشیاء اور بگل کو رکھ لیا۔ مدیانی لوگ جدعون کی خیمے  کے  نیچے  وادی میں  ڈیرے  ڈالے  تھے۔

9 تب اس رات خداوند نے  جدعون سے  باتیں  کیں۔ خداوند نے  اس سے  کہا”اٹھو جدعون!مدیانی لوگوں  کی چھاؤنی میں  جاؤ۔ میں  تمہیں ان لوگوں  کو شکست دینے  دوں  گا۔

10 لیکن تم اکیلے  وہاں  جانے  سے  ڈرتے  ہو تو اپنے  نوکر فوراہ کو اپنے  ساتھ لے  لو۔

11 مدیانی لوگوں  کے  خیمہ میں  جاؤ اور سنو کہ وہ لوگ کیا باتیں  کر رہے  ہیں۔ جب تم یہ سن لو کہ وہ کیا کہہ ر ہے  ہیں۔ تب تم اس خیمہ پر حملہ کرنے  سے  نہیں  ڈرو گے۔”اس لئے  جدعون اور اس کا نوکر فوراہ دونوں  دشمن کے  خیمہ کے  کونے  پر پہنچے۔

12 مدیانی، عمالیقی اور مشرق کے  دوسرے  سب لوگ اس وادی میں  ڈیرہ ڈالے  تھے۔ وہاں  وہ اتنی بڑی تعداد        میں  تھے  جیسا کہ ٹڈّی جھنڈ۔ ایسا ہوا کہ ان لوگوں  کے  پاس اتنے  اونٹ تھے  جتنے  سمندر کے  کنا رے  ریت کے  ذرّات۔

13 جب جدعون دشمنوں  کے  خیموں  میں  پہنچا اس نے  ایک آدمی  کو باتیں  کرتے  سنا۔ وہ آدمی  اپنا  دیکھا ہوا  خواب بتا رہا تھا۔ وہ آدمی  کہہ رہا تھا” میں  نے  یہ خواب دیکھا کہ مدیان کے  لوگوں  کے  خیمہ میں  ایک گول روٹی چکر کھا تی ہوئی آئی اس رو ٹی نے  خیمہ پر اتنی بڑی چوٹ کی کہ خیمہ پلٹ گیا اور گر کر بچھ گیا۔

14 اس آدمی  کا دوست اس خواب کی تعبیر جانتا تھا۔ اس نے  کہا”تمہارے  خواب کی صرف ایک ہی تعبیر ہے  تمہارا خواب یو آس کے  بیٹے  جدعون بنی اسرائیلی کی طاقت کے  بارے  میں  ہے۔ خدا جدعون کو مدیانی کی تمام فوج کو شکست دینے  دے  گا۔”

15 جس وقت جدعون نے  خواب کے  بارے  میں  سنا اور اس کی تعبیر سمجھا تو وہ خدا کے  سامنے  جھکا تب جدعون بنی اسرائیل کے  خیمے  میں  واپس ہوا۔ جدعون نے  لوگوں  کو باہر بلا یا” تیار ہو جاؤ۔ خداوند مدیانی لوگوں  کو شکست دینے  میں  ہماری مدد کرے  گا۔”

16 پھر جِد عون نے  ۳۰۰ آدمیوں  کو تین گروہوں  میں  تقسیم کیا۔ جِدعون نے  ہر آدمی  کو ایک بگل دی اور ایک خالی مرتبان دیا ہر ایک مرتبان میں  ایک جلتی مشعل تھی۔

17 جب جِد عون نے  لوگوں  سے  کہا”مجھے  دیکھتے  رہو اور جو میں  کروں  وہی کرو۔ میرے  پیچھے  پیچھے  دشمن کے  خیموں  کے  کونے  تک چلو جب میں  خیمہ کے  کونے  پر پہنچ جاؤں  ٹھیک وہی کرو جو میں  کروں۔

18 تم سبھی خیموں  کو گھیر لو۔ میں  اور میرے  ساتھ کے  سب لوگ اپنی بِگل بجائیں  گے  تو تم لوگ بھی اپنی بگل بجانا۔ تب ان الفاظ کے  ساتھ خداوند کیلئے اور جدعون کیلئے زور سے  چلاؤ۔”

19 اس طرح جدعون اور اس کے  ساتھ کے  ۱۰۰ آدمی  دشمن کے  کونے  پر آئے  وہ دشمن کے  خیمہ میں  ان کے  پہریداروں  کی تبدیلی کے  بالکل بعد آئے۔ یہ آدھی رات کو ہوا جِدعون اور اس کے  آدمیوں  نے  بِگل بجایا اور اپنے  گھڑوں  کو پھوڑا۔

20 تب جدعون کے  تین گروہوں  نے  اپنے بگل بجائے  اور اپنے  مرتبانوں  کو پھوڑا اُس کے  لوگ اپنے  بائیں  ہاتھ میں  مشعل لئے  ہوئے  اور دائیں  ہاتھ میں  بگل لئے  ہوئے  تھے۔ جب انہوں نے بگل بجائے  تو چلائے “ایک تلوار خداوند کیلئے اور ایک تلوار جِدعون کیلئے۔

21 جِد عون کا ہر ایک آدمی  خیمہ کے  چاروں  طرف اپنی جگہ پر کھڑا رہا لیکن خیموں  کے  اندر مدیانی لوگ چلاّنے  اور بھاگنے  لگے۔

22 جب جِدعون کے  ۳۰۰ آدمیوں  نے  اپنے بگل بجائے  تو خداوند نے  مدیانی لوگوں  کو آپس میں  ایک دوسرے  کو تلواروں  سے  مار نے  دیا۔ دُشمن کی فوج بیت سطّہ کے  شہر کو بھا گ گئی جو صریرات شہر کی طرف ہے۔ وہ  ابیل محولہ شہر کی سرحد تک بھا گے  جو طبّات شہر کے  قریب ہے۔

23 تب نفتالی، آشر اورمنسّی کے  خاندانوں  کی فوجوں  نے  مدیانی لوگوں  کا پیچھا کیا۔

24 جِدعون نے  افرائیم کے  تمام پہاڑی علاقے  میں  قاصد بھیجے  قاصدوں  نے  کہا”آگے  آؤ اور مدیانی لوگوں  پر حملہ کرو بیت برّہ تک دریا پر قبضہ کرو اور دریائے  یردن پر ان مدیانی لوگوں  کے  وہاں  پہنچنے  سے  پہلے  کرو۔”اس لئے  انہوں  نے  افرائیم کے  خاندانی گروہ کے  سبھی لوگوں  کو بلایا۔ انہوں  نے  بیت برّہ تک دریا پر قبضہ کیا۔

25 افرائیم کے  لوگوں  نے  مدیانی لوگوں  کے  دو قائدین کو پکڑا ان دونوں  قائدین کا نام عوریب اور زئیب تھا۔ افرائیم کے  لوگوں  نے  عوریب کو عوریب کی چٹان نامی جگہ پر مار ڈالا اور زئیب کو زئیب کی مئے  کی کولہو نامی جگہ پر مار ڈالا۔ افرائیم کے  لوگوں  نے  مدیانی لوگوں  کا پیچھا جاری رکھا۔ لیکن پہلے  انہوں  نے  عوریب اور زئیب کے  سروں  کو کاٹا اور سروں  کو جِد عون کے  پاس لے  گئے۔ جدعون دریائے  یردن کو پار کرنے  والے  گھاٹ پر تھا۔

 

 

 

باب: 8

 

 

1 افرا ئیم کے  لوگ جدعون پر غصہ میں  تھے۔ جب افرا ئیم کے  لوگ جدعون سے  ملے  تو انہوں  نے  جدعون سے  پوچھا”تم نے  ہم لوگوں  کے  ساتھ ایسا سلوک کیوں  کیا؟”جب تم مدیانی لوگوں  کے  خلاف لڑنے  گئے  تو ہم لوگوں  کو کیوں  نہیں  بُلا یا؟ افرائیم کے  لوگ جدعون پر غصے  میں  تھے۔”

2 لیکن جدعون نے  یہ کہتے  ہوئے  جواب دیا،” میں  نے  اتنا اچھا نہیں  کیا جتنا اچھا تم لوگوں  نے  کیا ہے۔ یہ بھی سچ نہیں  ہے  کہ تمہاری فصل کی آخری انگور میرے  پو رے  خاندان کے  پوری فصل سے  بڑھ کر ہے۔

3 اسی طرح اس بار بھی تمہاری فصل اچھی ہوئی ہے۔ خدا نے  تم لوگوں  کو مدیانی لوگوں  کے  شہزا دوں  عوریب اور زئیب کو پکڑنے  دیا۔ میں  اپنی کامیابی کو تم لوگوں  کی جانب سے  کئے  گئے  کام سے  کیسے  برابری کر سکتا ہوں ؟”جب افرا ئیم کے  لوگوں  نے  جدعون کا جواب سنا تو وہ اتنے  غصے  میں نہیں  رہے  جتنے  وہ تھے۔

4 تب جدعون اوراس کے   ۳۰۰ آدمی  دریائے  یردن پر آئے  اور اس کے  دوسری جانب گئے۔ وہ تھکے ہوئے  اور بھو کے  تھے۔

5 جِدعون نے  سکات شہر کے  آدمیوں  سے  کہا”مہربانی کر کے  میری فوجوں  کو کچھ روٹی دو۔ میں  اپنی فوجوں  کیلئے مانگ رہا ہوں  کیونکہ وہ لوگ بہت تھک گئے  ہیں۔ میں  مدیان کے  بادشاہ زبح اور ضلمنع کا پیچھا کر رہا ہوں۔

6 لیکن سکات شہر کے  قائدین نے   جدعون سے  کہا”ہم تمہاری فوجوں  کو کھانے  کو کیوں  دیں ؟ تم نے  اب تک زبح اور ضلمنع کو نہیں  پکڑا۔”

7 تب جدعون نے  کہا” تم لوگ ہمیں  کھانے  کو نہیں  دو گے  خداوند مجھے  زبح اور ضلمنع کو پکڑنے  میں  مدد کرے  گا۔ اس کے  بعد میں  یہاں  واپس آؤں  گا اور ریگستان کے  کانٹوں  سے  اور ٹہنیوں  سے  تمہاری چمڑی ادھیڑ دوں  گا۔”

8 جدعون نے  سکات شہر کو چھوڑا اور فنُو ایل شہر کو گیا۔ جدعون نے  جس طرح سکاّت کے  لوگوں  سے  کھانا مانگا تھا ویسا ہی فنوایل کے  لوگوں  سے  بھی کھانا مانگا لیکن فنوایل کے  لوگوں  نے  اسے  وہی جواب دیا جو سکات کے  لوگوں  نے  دیا تھا۔

9 اس لئے  جدعون نے  فنوایل کے  لوگوں  سے  کہا”جب میں  فتح حاصل کروں  گا تب میں  یہاں  آؤں  گا اور تمہارے  اس مینار کو گرا دوں  گا۔”

10 زبح اور ضلمنع اور ان کی فوج قر قُور شہر میں  تھی ان کی فوج میں  ۰۰۰،۱۵ سپاہی تھے۔ یہ تمام سپاہی مشرق کی فوج میں  سے  صرف یہی بچے  تھے۔ اس طاقتور فوج کے  ۱۲۰۰۰۰ بہادر فوجی پہلے  ہی مارے  جا چکے  تھے۔

11 جدعون اور اس کی فوجوں  نے  خانہ بدوشوں  کے  راستے  کو اپنا یا وہ راستہ نُبح اور یگبہاہ شہروں  کے  مشرق میں  تھا۔ جِدعون قر قور کے  شہر میں  آیا اور دشمن پر حملہ کیا۔ دشمن کی فوج کو حملہ کی توقع نہیں تھی۔

12 مدیانی لوگوں  کے  بادشاہ زبح اور ضلمنع وہاں  سے  بھا گے  لیکن جدعون نے  پیچھا کیا اور آ خر کار ان بادشاہوں  کو پکڑا اور ان کی تمام فوج کو پریشان کر دیا۔

13 تب یوآس کا بیٹا جِدعون جنگ سے  واپس آیا۔ جدعون اور اس کے  آدمی  حرس درہ نامی سے  ہو کر لوٹے۔

14 جدعون نے  سکات کے  ایک نوجوان کو پکڑا۔ جدعون نے  نوجوان سے  سکاّت کے  بزرگوں  کا نام پو چھا۔ اور اس نے  ان لوگوں  کا نام جدعون کیلئے لکھ ڈالا۔ اس نے  ۷۷ آدمیوں  کے  نام دیئے۔

15 جدعون سکّات کے  شہر کو آیا اُس نے  اس شہر کے  آدمیوں  سے  بولا”زبح اور ضلمنع یہاں  ہے۔ تم نے  یہ کہہ کر میرا مذاق اُڑا یا۔ ہم تمہارے  تھکے  ہوئے  سپاہی کو روٹی کیوں  دیں ؟ تم نے  اب تک زبح اور ضلمنع کو نہیں  پکڑا۔”

16 جدعون نے  سکات شہر کے  بزرگوں  کو لیا اور انہیں  سزا دینے  کیلئے ریگستان کی کانٹوں  بھری ڈالیوں  اور جھاڑیوں  سے  پیٹا۔

17 جدعون نے  فنوایل شہر کے  مینار کو بھی گرا دیا۔ تب اس نے  ان لوگوں  کو مار ڈالا جو اس شہر میں  رہتے  تھے۔

18 اب جدعون نے  زبح اور ضلمنع سے  کہا”تم نے  تبور کی پہاڑی پر کچھ آدمیوں  کو مارا۔ وہ آدمی  کس طرح کے  تھے ؟” زبح اور ضلمنع نے  جواب دیا”وہ آدمی  تمہاری طرح تھے  اُن میں  سے  ہر ایک شہزادے  کی طرح تھا۔”

19 جدعون نے  کہا”وہ آدمی  میرے  بھائی اور میری ماں  کے  بیٹے  تھے۔ خداوند کی زندگی کی قسم اگر تم انہیں  نہیں  مارتے  تو اب میں  بھی تمہیں  نہیں  مارتا۔”

20 تب جدعون یتر کی طرف مُڑا۔ یتر  جدعون کا سب سے  بڑا بیٹا تھا جدعون نے  اس سے  کہا”ان بادشاہوں  کو مار ڈالو” لیکن یترا بھی ایک لڑکا ہی تھا اور ڈرتا تھا اس لئے  اس نے  اپنی تلوار نہیں  نکالی۔

21 تب زبح اور ضلمنع نے  جدعون سے  کہا”آ گے  بڑھو اور ہمیں  ضرور مارو۔ تم ایک آدمی  ہو اور ہم لوگوں  کو مار نے  کی کافی ہمت رکھتے  ہو۔”اس لئے  جدعون اٹھا اور زبح اور ضلمنع کو مار ڈالا۔ تب جدعون نے  چاند کی طرح بنی سجاوٹ کو ان کے  اونٹوں  کی گردن سے  اتار دیا۔

22 بنی اسرائیلیوں  نے  جدعون سے  کہا”تم نے  ہم لوگوں  کو مدیانی لوگوں  سے  بچا یا۔ اس لئے  ہم لوگوں  پر حکومت کرو۔ ہم چاہتے  ہیں  کہ تم اور تمہارا بیٹا بھی ہم لوگوں  پر حکومت کرے۔

23 لیکن جدعون نے  بنی اسرائیلیوں  سے  کہا”نہ تو میں  اور نہ ہی میرا بیٹا تم لوگوں  پر حکومت کریں  گے۔ وہ خداوند ہے  جو تم پر حکومت کرے  گا۔

24 جدعون نے  ان سے  کہا”میں  تم سے  کچھ پو چھنا چاہتا ہوں۔ تم میں  سے  ہر ایک مجھے  ایک کان کی بالی دو جو تم نے  جنگ میں  لی ہے۔ (کیونکہ بنی اسرائیلیوں  کے  ذریعہ شکست کھائے  ہوئے  کچھ دشمن جو کہ اسمٰعیلی تھے اور کان میں  سونے  کے  بالیاں  پہنے  تھے  )۔”

25 بنی اسرائیلیوں  نے  جدعون سے  کہا”جو تم چاہتے  ہو اسے  ہم خوشی سے  دیں  گے ” اس لئے  انہوں  نے  زمین پر ایک چادر بچھائی ہر ایک آدمی نے  چادر پر ایک ایک کان کی بالی پھینکی۔

26 جب وہ بالیاں  جمع کر کے  تو لی گئیں  تو وہ تقریباً ۴۳ پاؤنڈ تھا۔ اس میں  وہ تحفے  شامل نہیں  تھے  جو  اسرائیل نے  پیش کئے  تھے۔ انہوں  نے  چاند اور آنسو کی بوند کی طرح کے  جواہر بھی دیئے۔ یہ وہ چیزیں  تھیں  جنہیں  مدیانی لوگوں  کے  بادشاہوں  نے  پہنا تھا۔ انہوں  نے  اونٹوں  کی زنجیریں  بھی انہیں  دیں۔

27 جدعون نے  سونے  کا استعمال افود بنانے  کے  لئے  کیا۔ اس نے  افود کو اپنے ر ہنے  کی جگہ کے  قصبے  میں  رکھا۔ وہ قصبہ عفُرہ کہلاتا تھا۔ تمام بنی اسرائیل افود کی عبادت کرتے  تھے۔ اس طرح بنی اسرائیل خدا پر یقین کرنے  والے  نہیں  تھے۔ وہ افود کی عبادت کرتے  تھے  وہ افود ایک جال بن گیا جس نے  جدعون اور اس کے  خاندان سے  گناہ کر وایا۔

28 اس طرح مدیانی لوگوں  اسرائیل کی حکومت میں  رہنے  کیلئے مجبور کیا گیا۔ مدیانی لوگوں  نے  اب مزید کوئی تکلیف نہیں  دی۔ اس طرح جدعون کی زندگی میں  ۴۰ سال تک پو رے  ملک میں  امن تھا۔

29 یو آس کا بیٹا یُر بعل اپنے  گھر گیا۔

30 جدِعون کے  ۷۰ بیٹے  تھے۔ اس کے  بہت سے  بیٹے  تھے  اس لئے  کہ اس کی بہت ساری بیویاں  تھیں۔

31 جدعون کی ا یک داشتہ بھی تھی جو سِکم شہر میں  رہتی تھی۔ اُس داشتہ سے  بھی اسے  ایک بیٹا تھا اس نے  اس بیٹے  کا نام ابی ملک رکھا۔

32 یو آس کا بیٹا جدعون کافی عمر رسیدہ ہو کر مرا۔ جدعون اس قبر میں  دفنا یا گیا جو اس کے  باپ یو آس کے  قبضے  میں  تھی۔ وہ قبر عفُرہ شہر میں  ہے  جہاں  ابیعزری لوگ رہتے  ہیں۔

33 جدعون کے  مرنے  کے  بعد بنی اسرائیل پھر سے  خداوند کے  نافرمان ہو گئے  تھے  وہ جھوٹے  دیوتا بعل کے  راستے  پر چلے۔ انہوں  نے  بعل بریت کو اپنا خداوند سمجھا۔

34 بنی اسرائیل خداوند اپنے  خدا کو یاد نہیں  کرتے  تھے  جبکہ اس نے  انہیں  تمام دشمنوں  سے  بچایا جو بنی اسرائیلیوں  کے  اطراف میں  رہتے  تھے۔

35 بنی اسرائیلیوں  نے  یرُ بعّل ( جدعون ) کے  خاندان کے  ساتھ کوئی وفاداری نہیں  دکھائی جبکہ اس نے  اُن کے  لئے  کئی اچھے  کام کئے۔

 

 

 

باب: 9

 

 

1 ابی ملک یُر بعّل(جدعون ) کا بیٹا تھا۔ ابی ملک اپنے  چچاؤں  کے  پاس گیا جو شہر سکم میں  رہتے  تھے۔ اس نے  اپنے  چچاؤں  سے  اور اس کی ماں  کے  خاندان سے  کہا

2″سکم شہر کے  قائدین سے  یہ سوال پو چھو ‘یرُ بعّل کے  ۷۰ بیٹوں  کی حکومت ہو نا اچھا ہے  یا کسی ایک آدمی  کی حکومت ہو نا بہتر ہے ؟ ‘یاد رکھو میں  تمہارا رشتے  دار ہوں۔ ‘

3 ابی ملک کے  چچاؤں  نے  سِکم کے  قائدین سے  بات کی اور ان سے  وہ سوال کیا سِکم کے  قائدین نے   ابی ملک کے  ساتھ چلنا طے  کیا۔ قائدین نے   کہا”آخر کار وہ ہمارا بھائی ہے۔”

4 اس لئے  سکم کے  قائدین نے   ابی ملک کو ۷۰ چاندی کے  ٹکڑے  دیئے  وہ چاندی بعل بریت دیوتا کی ہیکل کی تھی۔ ابی ملک نے  چاندی کا استعمال ان آدمیوں  کو کام پر لگانے  کیلئے  کیا جو کہ جنگلی اور بے  کار تھے۔ یہ آدمی  ابی ملک کے  پیچھے  چلتے  رہتے  جہاں  وہ جا تا۔

5 ابی ملک عفُرہ شہر کو گیا جو اس کے  باپ کی جگہ تھی۔ اس شہر میں  ابی ملک نے  اپنے  ۷۰ بھا ئیوں  کو مار ڈالا وہ ۷۰ بھائی ابی ملک کے  باپ یرُ بعل کے  بیٹے  تھے۔ اس نے  سب کو ایک ہی وقت مار ڈالا لیکن یرُ بعل کا سب سے  چھوٹا بیٹا ابی ملک سے  دور چھپ گیا اور بھاگ نکلا سب سے  چھوٹے  بیٹے  کا نام یُوتام تھا۔

6 تب سکم شہر کے  تمام قائدین اور مِلّو محل کے  سب لوگ ایک ساتھ آئے۔ وہ تمام لوگ بڑے  درخت کے  پاس جو ستون کے  قریب تھا جمع ہوئے  ابی ملک کو اپنا بادشاہ بنا یا۔

7 یو تام نے  سنا کہ شہر سکم کے  قائدین نے   ابی ملک کو بادشاہ بنا یا۔ جب اس نے  یہ سُنا تو وہ گیا اور گرزیم پہاڑی کی چوٹی پر کھڑا ہوا۔ یو تام نے  لوگوں  کو یہ کہانی چلا کر سُنائی :” سِکم کے  لوگو میری بات سُنو! اور تب آپ  کی بات خداسنے  گا۔

8 ایک دن درختوں  نے  اپنے  اوپر حکومت کرنے  کیلئے ایک بادشاہ چننے  کا تہیہ کیا۔ درختوں  نے  زیتون کے  درخت سے  کہا

9 لیکن زیتون کے  درخت نے  کہا” آدمی  اور دیوتا میری تعریف میرے  تیل کیلئے کرتے  ہیں  کیا میں  جا کر دوسرے  درختوں  پر حکومت کرنے  کیلئے اپنا تیل بنا نا بند کر دوں ؟”

10 تب درختوں  نے  انجیر کے  درخت سے  کہا” آؤ اور ہمارے  بادشاہ بنو”

11 لیکن انجیر کے  درخت نے  جواب دیا”کیا میں  صرف جا کر دوسرے  پیڑوں  پر حکومت کرنے  کیلئے اپنے  میٹھے  اور اچھے  پھل پیدا کرنا بند کر دوں ؟”

12 تب درختوں  نے  انگور کی بیل سے  کہا “آؤ اور ہمارے  بادشاہ بنو۔”

13 لیکن انگور کی بیل نے  جواب دیا”میرے  انگور کا رس آدمیوں  اور بادشاہوں  کو خوش کرتا ہے  کیا مجھے  دوسرے  درختوں  پر حکومت کرنے  کیلئے رس پیدا کرنا بند کر دینا چاہئے ؟”

14 آ خر میں  درختوں  نے  کانٹے  دار جھاڑی سے  کہا”آؤ اور ہمارے  بادشاہ بنو۔”

15 لیکن کانٹے  دار جھاڑی نے  درختوں  سے  کہا” اگر تم حقیقت میں  اپنے  اوپر بادشاہ بنا نا چاہتے  ہو تو آؤ اور میرے  ساتھ میں  پناہ لو۔ لیکن اگر تم ایسا نہیں  کرنا چاہتے  تو اس کانٹے  دار جھاڑی سے  آ گ نکلنے  دو اور اس آ گ کو لبنان کے  بلوط کے  درخت جلانے  دو۔”

16″اس کہانی کی روشنی میں  اگر تم کو سچ مچ اس وقت پورا اعتماد تھا جب تم لوگوں  نے  ابی ملک کو اپنا بادشاہ بنا یا تھا تو شاید کہ اس وقت تم اس سے  خوش تھے۔ اور اگر اس کو بادشاہ بنا کر تم یرُ بعّل اور اس کے  خاندان کیلئے منصف ہو اور تم بعّل کے  ساتھ وہی سلوک کرتے  ہو جس کا وہ حقدار ہے  تو ٹھیک ہے !

17 لیکن سو چیں  کہ میرے  باپ نے  آ پ لوگوں  کیلئے کیا کیا ہے ؟ میرا باپ آپ  لوگوں  کیلئے لڑا۔ انہوں  نے  اپنی زندگی کو اس وقت خطروں میں  ڈالا جب انہوں  نے  آپ  لوگوں  کو مدیانی لوگوں  سے  بچایا۔

18″لیکن اب آپ  لوگ میرے  باپ کے  خاندان سے  مُڑ گئے  ہیں۔ آپ  لوگوں  نے  میرے  باپ کے  ۷۰ بیٹوں  کو ہی پتھر پر مار ڈالا ہے۔ آ پ لوگوں  نے  ابی ملک کو سِکم کا بادشاہ بنا یا ہے  وہ میرے  باپ کی باندی (غلام ) لڑکی کا بیٹا ہے۔ آپ  لوگوں  نے  ابی ملک کو صرف اس لئے  بادشاہ بنا یا ہے  کہ وہ آپ  کا رشتہ دار ہے۔

19 اس لئے  اگر آج کے  دن آپ  یر بعل اور اس کے  خاندان کے  ساتھ راستبازی و صداقت رکھتے  ہیں  تو تب ابی ملک کو اپنا بادشاہ بنا کر شاید آپ  خوشی محسوس کرتے  ہیں۔ اور شاید وہ بھی آپ  لوگوں  سے  خوش ہے۔

20 لیکن اگر یہ ایسا نہیں  ہے  تو ابی ملک کے  یہاں  سے  آ گ آئے  اور سکم شہر کے  تمام قائدین اور ملّو کے  محل کو اور ابی ملک کو تباہ کر دے۔ اور سکم شہر کے  تمام قائدین اور ملّو کے  محل سے  آئے  اور بی ملک کو تباہ کر دے۔”

21 یو تام اتنا کہنے  کے  بعد بھاگ کھڑا ہوا وہ بھاگ کر بیر شہر کو گیا۔ یو تام اس شہر میں  رہتا تھا کیوں  کہ وہ اپنے  بھائی ابی ملک سے  خوف زدہ تھا۔

22 ابی ملک نے  بنی اسرائیلیوں  پر تین سال حکومت کی۔

23 ابی ملک نے  یُربعل کے  ۷۰ بیٹوں  کو مار ڈالا۔ اور وہ سب ابی ملک کے  اپنے  بھائی تھے۔ سکم شہر کے  قائدین نے   یہ بری حرکت کرنے  میں  اُس کی مدد کی تھی۔ اس لئے  خداوند نے  ابی ملک اور سِکم کے  قائدین کے  درمیان جھگڑا شروع کر وایا اور سکم کے  قائدین نے   ابی ملک کو نقصان پہنچانے  کیلئے منصوبے  بنائے۔

24  25 اس سے  دشمنی میں  آ کر سِکم کے  قائدین نے   پہاڑوں  کی چوٹیوں  پر آدمیوں  کو حملہ کرنے  کیلئے رکھا۔ تب ان لوگوں  نے  ادھر سے  گزرنے  والے  سبھی لوگوں  پر حملہ کیا اور انہیں  لوٹا۔ ابی ملک کو ان حملوں  کے  بارے  میں  معلوم ہوا۔

26 جعل نامی ایک آدمی  اوراُس کے  بھائی سکم شہر آئے۔ جعل عبد نا می آدمی  کا بیٹا تھا۔ سِکم کے  قائدین نے   جعل پر یقین کرنے  اور اس کے  ساتھ چلنے  کا تہیہ کیا۔

27 ایک دن سکم کے  لوگ اپنے  باغوں  میں  انگور توڑنے  گئے۔ لوگوں  نے  مئے  بنانے  کیلئے انگور نچوڑے اور اپنے  دیوتا کی ہیکل پر ایک دعوت دی۔ لوگوں  نے  کھا یا اور انگور کا رس پیا۔ تب ابی ملک کو بد دعا دی۔

28 تب عبد کے  بیٹے  جعل نے  کہا”ابی ملک آخر کون ہے  کہ ہم سبھی سِکم کے  لوگوں  کو اس کی خدمت کرنی چاہئے ؟ ہم سب جانتے  ہیں  کہ ابی ملک یر بعل کے  بیٹوں  میں  سے  ایک ہے۔ اور ابی ملک نے  زبول کو اپنا عہدے  دار بنایا۔ ہمیں  ابی ملک کی خدمت نہیں  کرنی چاہئے۔ ہمیں  حمور کے  لوگوں  کی خدمت کرنی چاہئے  ( حمور سِکم کا باپ تھا )۔

29 اگر آپ  مجھے  ان لوگوں  کا سپہ سالار بناتے  ہیں  تو میں  ابی ملک سے  نجات دلاؤں  گا۔ میں  اُس سے  کہوں  گا اپنی فوج کو تیار کرو اور جنگ کیلئے آؤ۔”

30 زبول سکم شہر کا صوبیدار تھا۔ زبُول نے سنا جو عبد کے  بیٹے  جعل نے  کہا اور زبول بہت غصّے  میں  آیا۔

31 زبُول نے  ابی ملک کے  پاس ارومہ شہر میں  خبر رساں  بھیجے۔ پیغام یہ ہے  :عبد کا بیٹا جعل اور جعل کے  بھائی سِکم شہر کو آئے  ہیں  اور تمہارے  لئے  مشکلات پیدا کر رہے  ہیں۔ جعل پورے  شہر کو تمہارے  خلاف کر رہا ہے۔

32 اس لئے  اب تمہیں  اور تمہارے  لوگوں  کو رات میں  اُٹھنا چاہئے  اور شہر سے  دور کھیتوں  میں  گھات لگانا چاہئے۔

33 جب صبح سورج نکلے  تو شہر پر حملہ کر دو۔ جب وہ اور وہ لوگ جو اس کے  ساتھ ہیں  جنگ لڑنے  کیلئے باہر آئیں  تو تم اس کے  ساتھ جو کرنا چاہتے  ہو وہ کرو۔

34 اس لئے  ابی ملک اور تمام فوجی رات کو اٹھے  اور شہر کو گئے  وہ فوجی چار گروہوں  میں  بٹ گئے۔ وہ سِکم شہر کے  پاس چھپ گئے۔

35 عبد کا بیٹا جعل باہر نکلا اور سِکم شہر کے  داخلہ کے  دروازہ پر تھا جب جعل وہاں  کھڑا تھا اُسی وقت ابی ملک اور اُس کے  فوجی اپنی چھپنے  کی جگہوں  سے  باہر آئے۔

36 جعل نے  فوجوں  کو دیکھا جعل نے  زبُول سے  کہا دھیان دو پہاڑوں  سے  لوگ نیچے  اُتر رہے  ہیں۔ لیکن زبول نے  کہا”تم صرف پہاڑوں  کے  سائے  دیکھ رہے  ہو سائے  لوگوں  کی طرح دکھائی دے  رہے  ہیں۔”

37 لیکن جعل نے  پھر کہا”دھیان رکھو ملک کی معونینم نامی جگہ سے  لوگ بڑھ رہے  ہیں  اور جادو گر کے  درخت سے  ایک گروہ آ رہا ہے۔”

38 تب زبول نے  اس سے  کہا”اب تمہاری وہ بڑی بڑی باتیں  کہاں  گئیں  جو تم کہتے  تھے۔”ابی ملک کون ہوتا ہے  جس کی اطاعت میں  ہم رہیں ؟ کیا وہ وہی لوگ نہیں  ہیں  جن کا تم مذاق اڑاتے  تھے ؟ جاؤ اور ان سے  لڑو۔”

39 اس لئے  جعل سکم کے  قائدین کو ابی ملک سے  جنگ کرنے  کیلئے لے  گیا۔

40 ابی ملک اور اس کی فوجوں  نے  جعل اور اس کے  آدمیوں  کا پیچھا کیا جعل کے  لوگ سکم شہر کے  پھا ٹک کی طرف پیچھے  بھا گے۔ جعل کے  بہت سے  لوگ شہر کے  پھا ٹک پر پہنچنے  سے  پہلے  مار دیئے  گئے۔

41 تب ابی ملک ارومہ شہر کو واپس آ گیا۔ زبول نے  جعل اور اس کے  بھا ئیوں  کو سِکم شہر چھوڑنے  کے  لئے  دباؤ ڈالا۔

42 اگلے  دن سِکم کے  لوگ اپنے  کھیتوں  میں  کام کرنے  گئے۔ ابی ملک نے  اس کے  بارے  میں  معلوم کیا۔

43 اس لئے  ابی ملک نے  اپنی فوجوں  کو تین گروہوں  میں  بانٹا وہ سکم کے  لوگوں  پر اچانک حملہ کر نا چاہتا تھا۔ اس لئے  اس نے  اپنے  آدمیوں  کو کھیتوں  میں  چھپا یا۔ جب اس نے  لوگوں  کو شہر سے  باہر آتے  دیکھا تو وہ ٹوٹ پڑا اور اُن پر حملہ کر دیا۔

44 ابی ملک اور لوگ شہر کے  پھا ٹک کی طرف دوڑے  اور پوزیشن لے  لی۔ دوسرا اور تیسرا گروہ کھیت میں  لوگوں  کے  پاس دوڑ کر گئے  اور اُنہیں  مار ڈالا۔

45 ابی ملک اور اس کے  فوجی سِکم شہر کے  ساتھ تمام دن لڑے۔ ابی ملک اور اس کے  فوجوں  نے  سِکم شہر پر قبضہ کر لیا۔ اور اُس شہر کے  لوگوں  کو مار ڈالا۔ تب ابی ملک نے  اس شہر کو مسمار کیا اور اس پر نمک چھڑکوا دیا۔

46 جب سِکم کے  مینار کے  کچھ قائدین نے جو کچھ شہر میں  ہوا اس کے  بارے  میں  سنا تو وہ لوگ دیوتا بعل بریت کی ہیکل کے  سب سے  زیادہ محفوظ کمرے  میں  جمع ہو گئے۔

47 جب ابی ملک نے  سنا سکم کے  مینار کے  تمام قائدین ایک ساتھ جمع ہو گئے  ہیں

48 وہ اور اس کے  آدمی  ضلمون کی پہاڑی پر گئے۔ ابی ملک نے  ایک کلہاڑی لی اور اس نے  کچھ شاخیں  کاٹی اس نے  ان شاخوں  کو اپنے  کندھے  پر رکھا۔ تب اس نے  اپنے  ساتھ کے  آدمیوں  سے  کہا”جلدی کرو جو میں  کر رہا ہوں۔”

49 اس لئے  ان لوگوں  نے  شاخیں  کا ٹیں  اور ابی ملک کے  کہنے  کے  مطابق کیا۔ اُنہوں  نے  سبھی شاخوں  کا بعل بریت دیوتا کی ہیکل کے  سب سے  زیادہ محفوظ کمرے  کے  بر خلاف ڈھیر لگا دیا۔ تب انہوں  نے  شاخوں  میں  آ گ لگا دی اور کمرے  میں  لوگوں  کو جلا دیا  اس طرح تقریباً سِکم کے  مینار کے  رہنے  والے  ایک ہزار عورتیں  اور مرد مر گئے۔

50 تب ابی ملک اور اس کے  ساتھی تیبِض شہر کو گئے۔ ابی ملک اور اس کے  ساتھیوں  نے  تیبِض شہر پر قبضہ کر لیا۔

51 لیکن تیبض شہر میں  ایک مضبوط مینار تھا۔ اس شہر کی تمام عورتیں  اور مرد اور اس شہر کے  قائد اس مینار کے  پاس بھاگ کر پہنچے۔ جب شہر کے  لوگ مینار کے  اندر گھس گئے  تو انہوں  نے  اپنے  پیچھے  مینار کا دروازہ بند کر دیا۔ تب وہ مینار کی چھت پر چڑھ گئے۔

52 ابی ملک اور اس کے  ساتھی مینار کے  پاس اس پر حملہ کرنے پہنچے۔ ابی ملک مینار کی دیوار تک گیا وہ مینار کو آ گ لگانا چاہتا تھا۔

53 جب ابی ملک دروازہ پر کھڑا تھا اسی وقت ایک عورت نے  ایک چکّی کا پتھر اس کے  سر پر پھینکا۔ چکّی کے  پاٹ نے  ابی ملک کی کھوپڑی کو چور چور کر ڈالا۔

54 ابی ملک نے  جلدی سے  اپنے  اس نو کر سے  کہا جو اس کے  ہتھیار لئے  چل رہا تھا”اپنی تلوار نکالو اور مجھے  مار ڈالو میں  چاہتا ہوں  کہ تم مجھے  مار ڈالو جس سے  لوگ یہ نہ کہیں  کہ ایک عورت نے  ابی ملک کو مار ڈالا۔”اس لئے  نو کرنے  ابی ملک کو تلوار گھونپ دی اور ابی ملک مر گیا۔

55 بنی اسرائیلیوں  نے  دیکھا کہ ابی ملک مر گیا اس لئے  وہ سبھی اپنے  گھروں  کو واپس ہو گئے۔

56 اس طرح خدا نے  ابی ملک کو اس کے  تمام گناہوں  کے  لئے  سزا دی۔ ابی ملک نے  اپنے  ۷۰ بھا ئیوں  کو مار کر اپنے  باپ کے  خلاف گناہ کیا تھا۔

57 خدا نے  سکم شہر کے  لوگوں  کو بھی ان کے  کئے    شرارتی کاموں  کیلئے سزا دی۔ اس لئے  سب کچھ ویسا ہی ہوا جیسا یربعّل کے بیٹے یوتام نے  اپنی بد دعا میں  کہا تھا۔

 

 

 

باب: 10

 

 

1 ابی ملک کے  مرنے  کے  بعد بنی اسرائیلیوں  کی حفاظت کیلئے خدا کی جانب سے  دوسرا منصف بھیجا گیا۔ اُس آدمی  کا نام تولع تھا۔ تو لع فوّہ نامی آدمی  کا بیٹا تھا۔ فوّہ دو دو نامی آدمی  کا بیٹا تھا۔ تو لع اِشکار کے  خاندانی گروہ سے  تھا۔ تو لع سمیر شہر میں  رہتا تھا۔ سمیر شہر افرا ئیم کے  پہاڑی ملک میں  تھا۔

2 تو لع بنی اسرائیلیوں  کیلئے تیئس سال تک منصف رہا۔ تولع مر گیا اور سمیر شہر میں  دفنا یا گیا۔

3 تو لع کے  مرنے  کے  بعد خدا کی طرف سے  ایک اور منصف بھیجا گیا۔ اُس آدمی  کا نام یا ئیر تھا۔ یا ئیر جِلعاد کے  علاقے  میں  رہتا تھا۔ یائیر بنی اسرائیلیوں  کیلئے بائیس سال تک منصف رہا۔

4 یا ئیر کے  تیس بیٹے  تھے  وہ تیس بیٹے  تیس گدھوں  پر سوار ہوتے  تھے  وہ تیس بیٹے  جلعاد کے  علاقے  میں  تیس قصبوں  پر اقتدار رکھتے  تھے۔ آج بھی وہ یا ئیر کا قصبہ کہلاتا ہے۔

5 یا ئیر مر گیا اور قامون شہر میں  دفنا یا گیا۔

6 بنی اسرائیلیوں  نے  ایک بار پھر وہی کیا جسے  خداوند نے  بُرا سمجھا۔ وہ بعّل اور عستارات کی مورتیوں  کی پرستش کرتے  تھے۔ وہ ارام صیدا موآب عمّون اور فلسطینیوں  کے  دیوتاؤں  کی پرستش کرتے  تھے۔ بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند کو چھوڑ دیا اور اس کی خدمت بند کر دی۔

7 اس لئے  خداوند نے  بنی اسرائیلیوں  پر غصّہ کیا۔ خداوند نے  فلسطینیوں  اور عمّونیوں  کو انہیں  شکست دینے  دی۔

8 اسی سال ان لوگوں  نے  بنی اسرائیلیوں  کو تباہ کیا جو جلعاد کے  علاقے  میں  دریائے  یردن کے  مشرق میں  رہتے  تھے۔ یہ وہی ملک ہے  جہاں  عمّونی لوگ رہ چکے  تھے۔ اسرائیل کے  لوگ اٹھا رہ سال  تکلیفیں  اٹھاتے  رہے۔

9 تب عموّنی لوگ دریائے  یردن کے  پار گئے۔ وہ لوگ یہوداہ بنیمین اور افرا ئیم کے  لوگوں  کے  خلاف لڑنے  گئے۔ عموّنی لوگوں  نے  بنی اسرائیلیوں  کی زندگی تکلیف دہ بنا دی۔

10 اس لئے  بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند کو پکا را اور کہا”اے  خدا ہم لوگوں  نے  تیرے  خلاف گناہ کئے  ہیں۔ ہم لوگوں  نے  اپنے  خدا کو چھوڑا اور بعل کی مورتیوں  کی پرستش کی۔”

11 خداوند نے  بنی اسرائیلیوں  کو جواب دیا”تم لوگوں  نے  مجھے  اس وقت رو کر پکارا جب مصری عموری اور فلسطینی لوگوں  نے  تم پر ظلم کیا میں  نے  تمہیں  ان لوگوں  سے  بچا یا۔

12 تم لوگ تب چلاّئے  جب صیدون کے عمالیقوں  اور مدیانیوں  نے  تم پر ظلم کیا میں  نے  ان لوگوں  سے  بھی تمہیں  بچا یا۔

13 لیکن تم نے  مجھ کو چھوڑا ہے  تم نے  دوسرے  خداؤں  کی عبادت کی ہے  اس لئے  میں  نے  تمہیں  پھر بچانے  سے  انکار کیا ہے۔

14 تم ان خداؤں  کے  پاس جاؤ اور روؤ جنہیں  تم نے  اپنے  لئے  چنا ہے۔ یہ وہی ہیں  جو تمہیں  تمہاری پریشانی سے  بچائیں  گے۔”

15 لیکن بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند سے  کہا”ہم لوگوں  نے  گناہ کئے  ہیں  تو ہم لوگوں  کے  ساتھ جو چاہتا ہے  کر لیکن آج ہماری حفاظت کر۔”

16 تب بنی اسرائیلیوں  نے  غیر ملکی دیوتاؤں  کو پھینک دیا انہوں  نے  پھر سے  خداوند کی عبادت شروع کی۔ اس لئے  خداوند انہیں  اور تکلیف اٹھاتے  نہیں  دیکھ سکا۔

17 عمونی لوگ جنگ کرنے  کیلئے ایک ساتھ جمع ہوئے  ان کا خیمہ جلعاد کے  علاقے  میں  تھا۔ بنی اسرائیل ایک ساتھ جمع ہوئے۔ ان کا خیمہ مصفاہ شہر میں  تھا۔

18 جلعاد کے  علاقے  میں  رہنے  والے  لوگوں  کے  قائدین نے   کہا”جو کوئی عمّونی  لوگوں  کے  خلاف حملہ کرنے  میں  رہنمائی کرے  گا وہی جلعاد کے  تمام باشندوں  کا قائد ہو گا۔

 

 

باب: 11

 

 

1 اِفتاح جلعاد کے  خاندانی گروہ سے  تھا وہ ایک طاقتور سپاہی تھا۔ لیکن اِفتاح ایک فاحشہ کا بیٹا تھا۔ اس کا باپ جلعاد نام کا آدمی  تھا۔

2 جلعاد اور اس کی بیوی کے کئی بیٹے  تھے۔ جب وہ لوگ بڑے  ہو گئے  تو ان لوگوں  نے  افتاح کو اس کی پیدائشی جگہ چھوڑنے  کیلئے مجبور کیا۔ انہوں  نے  کہا”تم ہمارے  باپ کی جائیداد میں  سے  کچھ بھی نہیں  پا سکتے  تم دوسری عورت کے  بیٹے  ہو۔

3 اس لئے  افتاح وہاں سے  بھاگ گیا۔ وہ طوب کی سر زمین میں  رہتا تھا۔ طوب کی سر زمین میں  کچھ رہزنوں نے  افتاح کے  ساتھ رہنا شروع کیا۔

4 کچھ عرصے  کے  بعد عمونی لوگ بنی اسرائیلیوں  سے  لڑے۔

5 عمونی لوگ بنی اسرائیلیوں  کے  خلاف لڑ رہے  تھے۔ اس لئے  جلعاد ملک کے  بزرگ (قائد ) افتاح کے  پاس آئے  وہ چاہتے  تھے  کہ افتاح طوب سر زمین کو چھوڑ دے  اور جلعاد سر زمین کو لوٹ آئے۔

6 قائدین نے   افتاح سے  کہا”آؤ ہمارے  قائد بنوتا کہ ہم لوگ عمونیوں  کے  ساتھ لڑ سکیں۔”

7 لیکن افتاح نے  جلعاد کے  قائدین سے  کہا”کیا یہ سچ نہیں  کہ وہ تم ہی ہو جو مجھ سے  نفرت کرتے  ہو۔ تم لوگوں  نے  مجھے  میرے  باپ کا گھر چھوڑنے  کیلئے دباؤ ڈالا۔ اس لئے  جب تم تکلیف میں  ہو تو اب میرے  پاس کیوں  آئے  ہو؟”

8 جلعاد ملک کے  بزرگوں  نے  افتاح سے  کہا”یہی وجہ ہے  کہ اب ہم تمہارے  پاس آئے  ہیں۔ مہربانی کر کے  ہم لوگوں  کے  ساتھ آؤ اور عمونی لوگوں  کے  خلاف لڑو۔ تم ان سب لوگوں  کے  سپہ سالار ہو گے  جو جلعاد میں  رہتے  ہیں۔”

9 تب افتاح نے  جلعاد کی سر زمین کے  لوگوں  سے  کہا”اگر تم لوگ چاہتے  ہو کہ میں  جلعاد کو واپس آؤں  اور عمونی لوگوں  کے  خلاف لڑوں  اور اگر خداوند جیت حاصل کرنے  میں  میری مدد کرتا ہے  تو میں  تم لوگوں  کا نیا قائد ہوں  گا۔”

10 جلعاد کی سرزمین کے  بزرگوں  نے  اِفتاح سے  کہا”ہم لوگ جو باتیں  کر رہے  ہیں۔ خداوند وہ سب سن رہا ہے  ہم لوگ یہ سب کرنے  کی کوشش میں  ہیں۔ جو تم ہمیں  کرنے  کیلئے کہہ رہے  ہو۔”

11 اس لئے  اِفتاح جلعاد کے  لوگوں  کے  ساتھ گیا۔ ان لوگوں  نے  افتاح کو اپنا قا ئد اور سپہ سالار بنا یا۔ اِفتاح نے  مِصفاہ شہر میں  خداوند کے  سامنے  اپنی تمام باتیں  دُہرائیں۔

12 افتاح نے  عمونی بادشاہ کے  پاس قاصدوں  کو بھیجا قاصدوں  نے  بادشاہ کو یہ پیغام دیا: عمونی اور بنی اسرائیلیوں  کے  بیچ مسئلہ کیا ہے ؟ تم ہمارے  لوگوں  کے  خلاف جنگ کیوں لڑنا چاہتے  ہو؟”

13 عمونی لوگوں  کے  بادشاہ  نے افتاح کے  قاصد سے  کہا”ہم لوگ بنی اسرائیلیوں  سے  اس لئے  لڑ رہے  ہیں  کیونکہ بنی اسرائیلیوں  نے  ہماری زمین اس وقت لے  لی تھی جب وہ مصر سے  آئے  تھے۔ انہوں  نے  ہماری زمین ارنون دریا سے  دریائے  یبّوق اور دریائے  یردن تک لے  لی تھی اور اب بنی اسرائیلیوں  سے  کہو کہ وہ ہماری زمین پُر امن طور پر واپس دے  دیں۔”

14 افتاح کا قاصد یہ پیغام افتاح کے  پاس واپس لے  گیا تب افتاح نے  عمونی لوگوں  کے  بادشاہ کے  پاس پھر قاصد بھیجے۔

15 وہ یہ پیغام لے  گئے  :

16 جب بنی اسرائیل ملک مصر سے  باہر آئے  تو بنی اسرائیل ریگستان میں  گئے  تھے۔ بنی اسرائیل بحیرہ قلزم تک گئے  تھے  تب وہ اس جگہ پر گئے جسے  قادس کہا جاتا ہے۔

17 بنی اسرائیلیوں  نے  ادوم ملک کے  بادشاہ کے  پاس قاصد بھیجے  تھے۔ قاصدوں  نے  مہربانی کی خواہش کی انہوں  نے  کہا تھا کہ بنی اسرائیلیوں  کو اپنے  ملک سے  گزر جانے  دو۔ لیکن ادوم کے  بادشاہ نے  اپنے  ملک سے  ہمیں  گزرنے  نہیں  دیا ہم لوگوں  نے  وہی پیغام موآب کے  بادشاہ کے  پاس بھیجا لیکن موآب کے  بادشاہ نے  بھی اپنے  ملک سے  ہو کر گزرنے  نہیں  دیا اس لئے  بنی اسرائیل قادس میں  ٹھہرے  رہے۔

18 اس کے  بعد بنی اسرائیلیوں  نے  ریگستان سے  ہوتے  ہوئے  سفر کیا۔ اور ادوم و موآب کی سر زمین کے  چاروں  طرف گئے۔ بنی اسرائیلیوں  نے  موآب کی سر زمین مشرق کی طرف سے  سفر کیا۔ انہوں  نے  اپنا خیمہ ارنون دریا کے  دوسری طرف ڈالا۔ انہوں  نے  موآب کی سر حد کو پار نہیں  کیا ( دریائے  ارنون موآب کی سر زمین کی سر حد تھی )۔

19 تب بنی اسرائیلیوں  نے  قاصدوں  کو عموریوں  کے  بادشاہ سیحون جو کہ حسبون میں  حکومت کیا کرتا  تھا  اس کے  پاس بھیجا۔ تب اسرائیل کے  قاصدوں  نے  سیحون سے  پو چھا”برائے  مہربانی ہم اسرائیلیوں  کو اپنی زمین سے  جانے  دو ہم لوگ اپنی زمین میں  واپس جانا چاہتے  ہیں۔”

20 لیکن عموری لوگوں  کے  بادشاہ سیحون نے  بنی اسرائیلیوں  کو اپنی سرحد پار نہیں  کرنے  دی۔ سیحون نے  اپنے  تمام لوگوں  کو جمع کیا اور یہص پر اپنا خیمہ ڈالا۔ تب عموری لوگ بنی اسرائیلیوں  کے  ساتھ لڑے۔

21 لیکن خداوند بنی اسرائیل کے  خدا نے  بنی اسرائیلیوں  کی مدد سیحون اور اس کی فوج کو شکست دینے  میں  کی۔ عموری لوگوں  کی ساری زمین بنی اسرائیلیوں  کی جائیداد بن گئی۔

22 اس طرح بنی اسرائیلیوں  نے  عموری لوگوں  کا سارا ملک پایا یہ ملک دریائے  ارنون سے  دریائے  یبّوق تک تھا۔ یہ ملک ریگستان سے  دریائے  یردن تک تھا۔

23 یہ خداوند اسرائیل کا خدا ہی تھا جس نے  عموری لوگوں  کو ان کی زمین سے  بھگا یاتا کہ اس کے  لوگ  قبضہ کر سکیں  اور تم!ان لوگوں  کو اس زمین سے  بھگا کر اسے  قبضہ کر نا چاہتے  ہو؟

24 ٹھیک جیسا کہ تم اس زمین پر رہتے  ہو جو  تیرے  دیوتا کموس نے  تجھے  دی ہے۔ اسی طرح سے  ہر وہ جگہ جو  خداوند ہمارے  خدا نے  ہم کو دی ہے  ہم لوگ رہیں  گے۔

25 کیا تم صفور کے  بیٹے  بلق سے  زیادہ اچھے  ہو؟ یہ موآب ملک کا بادشاہ تھا۔ کیا اس نے  بنی اسرائیلیوں  سے  بحث کی؟ کیا وہ حقیت میں  بنی اسرائیلیوں  سے  لڑا؟

26 بنی اسرائیل حسبون اور اس کے  نزدیک کے  چاروں  طرف کے  شہروں  میں  عرو عیر شہر اور اس کے  نزدیک کے  چاروں  طرف کے  شہر میں  دریائے  ارنون کے  کنارے  کے  تمام شہروں  میں  ۳۰۰ سال تک رہ چکے  ہیں۔ تم نے  اسی مدت کے  دوران میں  ان شہروں  کو واپس لینے  کی کوشش کیوں  نہیں  کی؟

27 بنی اسرائیلیوں  نے  تمہارے  خلاف کوئی گناہ نہیں  کیا تھا۔ لیکن تم بنی اسرائیلیوں  کے  خلاف جنگ شروع کر کے  اسے  نقصان پہنچانا چاہتے  ہو۔ خداوند کو جو کہ سچا منصف ہے  فیصلہ کرنے  دو کہ بنی اسرائیل صحیح ہیں  یا عمّونی لوگ۔

28 عمّونی لوگوں  کے  بادشاہ نے  افتاح کے  بھیجے  ہوئے  پیغام کو سننے  سے  انکار کیا۔

29 تب خداوند کی روح اِفتاح پر آئی۔ افتاح جلعاد کی سر زمین اور منسّی کی سر زمین سے  گزرا۔ وہ جلعاد سر زمین میں  مصفاہ شہر کو گیا۔ جلعاد کی سر زمین کے  مصفاہ شہر کو پار کرتا ہوا افتاح عمونی لوگوں  کی سر زمین میں  گیا۔

30 افتاح نے  خداوند سے  وعدہ کیا اس نے  کہا”اگر تو عموری لوگوں  کو مجھے  مکمل طور پر شکست دینے  دیتا ہے۔

31 تو میں  پہلی چیز کو جو میری فتح سے  واپس آنے  کے  وقت مجھ سے  ملنے  کیلئے گھر سے  باہر آئے  گی اسے  خداوند کو جلانے  کی نذر کے  طور پر نذر کروں  گا۔”

32 تب افتاح عموّنی لوگوں  کی سر زمین میں  گیا۔ افتاح عموّنی لوگوں  سے  لڑا خداوند نے  عمونی لوگوں  کو شکست دینے  میں  اس کی مدد کی۔

33 اس نے  ان کے  عروعیر شہر سے  مِنّیت کے  علاقے  تک بیس شہروں  کو تباہ کیا۔ اس نے  عمونی لوگوں  سے  ابیل کرامیم شہر تک جنگ کی۔ یہ عمّونی لوگوں  کیلئے بہت بڑی شکست تھی۔ اور اس طرح عموّنی لوگ بنی اسرائیلیوں  کے  ذریعہ مغلوب کئے  گئے۔

34 افتاح مصفاہ کو واپس ہوا اور اپنے  گھر گیا تو اس کی بیٹی اس سے  ملنے  باہر آ رہی تھی۔ وہ ایک ستار بجا رہی تھی اور ناچ رہی تھی وہ اس کی اکلوتی بیٹی تھی۔ افتاح اسے  بہت چاہتا تھا۔ افتاح کی کوئی دوسری بیٹی یا بیٹا نہیں  تھا۔

35 اور جب اس وقت افتاح نے  اسے دیکھا تو اپنے  کپڑے پھاڑ کر اپنے  غم کا اظہار کیا۔ اور کہا”آہ میری بیٹی تو نے  مجھے  بر باد کر دیا تو نے  مجھے  بہت رنجیدہ کر دیا۔ میں  نے  خداوند سے  وعدہ کیا تھا میں  اسے  واپس نہیں  لے  سکتا۔”

36 تب اس کی بیٹی نے  افتاح سے  کہا”ابّا جان! آپ  نے  خداوند سے  وعدہ کیا ہے۔ اس لئے  آپ  اپنا  وعدہ پورا کریں  آپ  وہی کریں  جو آپ  نے  کرنے کا  وعدہ کیا ہے۔ آخر خداوند نے  آپ کے  دشمن عمّونی لوگوں  کو شکست دینے  میں  مدد کی۔”

37 تب اس کی بیٹی نے  اپنے  باپ افتاح سے  کہا”اے  ابّا جان! میں  آپ  سے  صرف ایک بات پوچھتی ہوں !مجھے  دو مہینے  اکیلی رہنے  دوتا کہ میں  پہاڑی پر جا سکوں  اور اس بات پر رو سکوں  کہ میں  ابھی بھی کنواری ہوں  اور میں  ضرور مر جاؤں۔ مجھے  اور میری سہیلیوں  کو ایک ساتھ رونے  اور چلانے  دو۔”

38 افتاح نے  کہا”جاؤ اور اسے  کرو۔” تب افتاح نے  اپنی بیٹی کو دو مہینے  کیلئے بھیج دیا۔ وہ اور اس کی سہیلیاں  پہاڑیوں  میں  رہنے  کیلئے گئیں  اور اس نے  اپنے  کنواری پن پر مرنے  کا ماتم کیا۔

39 دو مہینے  کے  بعد افتاح کی بیٹی اپنے  باپ کے  پاس واپس آئی۔ افتاح نے  وہی کیا جو اس نے  خداوند سے  وعدہ کیا تھا۔ افتاح کی بیٹی کا کبھی کسی کے  ساتھ جنسی تعلق نہیں  رہا اس لئے  اسرائیل میں  یہ رواج بن گیا۔

40 اسرائیل کی عورتیں  ہر سال افتاح کی بیٹی کو یاد کر تی تھیں۔ عورتیں  افتاح کی بیٹی کیلئے ہر سال چار دن تک روتی تھیں۔

 

 

 

باب: 12

 

 

1 افرائیم کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں  نے  اپنے  سپاہیوں  کو جمع کیا۔ دریا کو پار کیا  اور صافون کے  طرف مڑے۔ انہوں  نے  افتاح سے  کہا”تم نے  عمونی لوگوں  کے  خلاف جنگ کیوں  کی؟ اور اپنے  ساتھ جانے  کیلئے ہم لو گوں  کو کیوں  نہیں  بلایا؟ اب ہم لوگ تم کو اور تمہارے  گھروں  کو جلانا چاہتے  ہیں۔”

2 افتاح نے  انہیں  جواب دیا”عمونی لوگ میرے  اور میرے  لوگوں  کیلئے بہت زیادہ مسئلے  پیدا کر رہے  ہیں۔ میں  نے  تمہیں  ان لوگوں  کے  خلاف لڑنے  میں  مدد کرنے  کیلئے بلایا۔ لیکن تم لوگ ہماری مدد کرنے  نہیں  آئے۔

3 میں  نے  دیکھا کہ تم لوگ مدد نہیں  کرو گے۔ اس لئے  میں  نے  اپنی زندگی خطرے  میں  ڈالی میں  عموّنی لوگوں  سے  لڑنے  دریا کے  پار گیا۔ خداوند نے  انہیں  شکست دینے  میں  میری مدد کی اب آج تم میرے  خلاف کیوں  لڑنے  آئے  ہو؟”

4 تب افتاح نے  جلعاد کے  لوگوں  کو ایک ساتھ بلایا۔ وہ افرائیم کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں  کے  ساتھ لڑے۔ وہ افرائیم کے  لوگوں  کے  خلاف اس لئے  لڑے  کیونکہ ان لوگوں  نے  جلعاد کے  لوگوں  کی بے  عزتی کی تھی۔ انہوں  نے  کہا تھا جلعاد کے  لوگو! تم لوگ افرائیم کے  بچے  ہوئے  لوگوں  سے  زیادہ کچھ نہیں  ہو۔ تم لوگوں  کا ایک حصّہ افرائیم میں  سے  ہے  اور دوسراحصہ منسی میں  سے  ہے۔ جلعاد کے  لوگوں  نے  افرائیم کے  لوگوں  کو شکست دی ہے۔

5 جلعاد کے  لوگوں  نے  دریائے  یردن کے  گھا ٹوں  پر قبضہ کر لیا جو کہ ملک افرائیم تک جاتی ہے۔ اگر افرائیم کے  لوگوں  میں  سے  کوئی بھی جو کہ جلعاد میں  رہا ہے   جلعاد کے  لوگوں  کے  پاس یہ کہتے  ہوئے  جاتے  “مجھے  پار ہونے  دو”تو جلعاد کے  لوگ پوچھتے  “کیا تم افرائیمی ہو؟”اگر اس کا جواب ہوتا” نہیں ” تو

6 وہ کہتے  ‘ شِبلت ‘ لفظ کو بولو۔” افرائیم کے  لوگ اس لفظ کو نہیں  بول سکتے  تھے  وہ اسے  ‘سبلت ‘ لفظ کہتے  تھے۔ اس لئے  جب بھی افرائیم کے  لوگ جو جلعاد میں  رہا ہے  اگر اس لفظ کا تلفظ ‘ سبلت ‘ کرتا تو جلعاد کے  لوگ اسے  گھاٹ پر مار دیتے  تھے۔ اس طرح اس وقت افرائیم کے  لوگوں  میں  سے  ۰۰۰،۴۲ آدی مارے  گئے  تھے۔

7 افتاح بنی اسرائیلیوں  کا ۶ سال تک منصف رہا۔ تب جلعاد کا رہنے  والا افتاح مر گیا۔ اسے  جلعاد میں  اس کے  اپنے  شہر میں  دفنا یا گیا۔

8 افتاح کے  بعد ابصان نامی ایک آدمی  بنی اسرائیلیوں  کا قائد تھا۔ ابصان شہر بیت اللحم کا رہنے  وا لا تھا۔

9 ابصان کے  ۳۰ بیٹے  اور تیس بیٹیاں  تھیں۔ اس نے  اپنی بیٹیوں  کو ان لوگوں  کے  ساتھ شادی کرنے  دی جو اس کے  رشتے  دار نہیں  تھے۔ وہ ایسی تیس عورتوں  کو اپنے  بیٹوں  کی بیویوں  کی طرح لے  آیا جو اس کے  رشتے  دار نہیں  تھیں۔ ابصان بنی اسرائیلیوں  کا منصف ۷سال تک رہا۔

10 تب ابصان مر گیا وہ شہر بیت اللحم میں  دفنا یا گیا۔

11 ابصان کے  بعد ایلون نامی آدمی  بنی اسرائیلیوں  کا منصف ہوا۔ ایلون زبولون کے  خاندانی گروہ سے  تھا۔ وہ بنی اسرائیلیوں  کا دس سال تک منصف رہا۔

12 تب زبولون خاندانی گروہ کا ایلون مر گیا۔ وہ ز بولون کی سر زمین میں  ایاّ لون شہر میں  دفنا یا گیا۔

13 ایلون کے  مرنے  کے  بعد ایک آدمی  ہِلیل کا بیٹا عبدون بنی اسرائیلیوں  کا منصف ہوا۔ عبدون شہر فرحاتون کا رہنے  وا لا تھا۔

14 عبد ون کے  ۴۰ بیٹے  اور ۳۰ پوتے  تھے  وہ ۷۰ گدھوں  پر سوار ہوتے  تھے۔ عبدون آٹھ سال تک بنی اسرائیلیوں  کا منصف رہا۔

15 تب ہِلیل کا بیٹا عبدون مر گیا اور اسے  شہر فرحاتون میں  دفنا یا گیا۔ فرحاتون افرا ئیم کی زمین میں  تھا یہ پہاڑی ملک میں  ہے  جہاں  عمالیقی لو گ رہتے  تھے۔

 

 

 

باب: 13

 

 

1 بنی اسرائیلیوں  نے  ایک بار پھر وہی کام کیا جسے  خداوند نے  بُرا سمجھا۔ اس لئے  خداوند نے  فلسطینی لوگوں  کو ان پر ۴۰ سال تک حکومت کرنے  دی۔

2 صُر عہ شہر کا ایک آدمی  وہاں  تھا۔ اُس آدمی  کا نام منوحہ تھا۔ وہ دان کے  خاندانی گروہ کا تھا منوحہ کی ایک بیوی تھی۔ لیکن وہ بانجھ تھی۔

3 خداوند کا فرشتہ منوحہ کی بیوی کے  سامنے  ظاہر ہوا اور اس نے  کہا”تم اولاد پیدا نہیں  کر سکتی ہو۔ لیکن تم حاملہ ہو گی اور تمہیں  ایک بیٹا ہو گا۔

4 جب تم حاملہ رہو تو ہوشیار رہنا شراب نہ پینا یا کوئی نشیلی چیز نہ پینا اور نہ ہی کوئی ناپاک غذا کھانا۔

5 ہاں  تم حاملہ ہونے  وا لی ہو۔ تمہیں  ایک لڑ کا ہو گا۔ وہ ایک خاص طریقے  سے  خدا کیلئے وقف ہو گا۔ وہ ایک نذیری ہو گا اور تم اس کے  بال مت کاٹنا۔ وہ پیدا ہونے  سے  پہلے  خدا کا خاص شخص ہو گا۔ وہ بنی اسرائیلیوں  کو فلسطینی لوگوں  کی طاقت سے  نجات دلائے  گا۔”

6 تب وہ عورت اپنے  شوہر کے  پاس گئی اور جو کچھ ہوا تھا بتا یا۔ اس نے  کہا”خدا کے  پاس سے  ایک آدمی  میرے  پاس آیا وہ خدا کے  فرشتہ کی طرح معلوم ہوتا تھا۔ وہ بہت بھیانک دکھائی دیتا تھا۔ میں  اسے  یہ پو چھنے  سے  بھی ڈری ہوئی تھی کہ تم کہاں  سے  آئے  ہو؟ اس نے  مجھے  اپنا نام نہیں  بتا یا۔

7 لیکن اس نے  مجھ سے  کہا”تم حاملہ ہو اور تمہیں  ایک بیٹا ہو گا۔ اس لئے  شراب یا کوئی نشیلی پینے  کی چیز مت پیو۔ کوئی ایسا کھانا نہ کھاؤ جو نا پاک ہو کیونکہ وہ لڑ کا اپنی باب:   سے  اپنی موت تک خدا کا خاص شخص ہو گا۔

8 تب منو حہ نے  خداوند سے  دعا کی اس نے  کہا”اے  خداوند میں  تجھ سے  دعا کرتا ہوں  کہ تو خدا کے  آدمی  کو ہم لوگوں  کے  پاس دوبارہ بھیج۔ ہم چاہتے  ہیں  کہ وہ ہمیں  سکھائے  کہ ہم لوگوں  کو پیدا ہونے  والے  اس بچے  کے  ساتھ کیا کرنا چاہئے۔”

9 خدا نے  منو حہ کی دعا سنی خدا کا فرشتہ پھر اُس عورت کے  پاس اُس وقت آیا جب وہ کھیت میں  بیٹھی تھی۔ لیکن اس کا شوہر منوحہ اُس کے  ساتھ نہیں  تھا۔

10 اس لئے  وہ عورت اپنے  شو ہر سے  یہ کہنے  کیلئے دوڑی”وہ آدمی  واپس آیا ہے !جو پچھلے  دن میرے  پاس آیا تھا وہ یہاں  ہے۔”

11 منو حہ اٹھا اور اپنی بیوی کے  پیچھے  چلا جب وہ اس آدمی  کے  پاس پہنچا تو اس نے  کہا” کیا تم وہی آدمی  ہو جس نے  میری بیوی سے  باتیں  کی تھی۔ فرشتہ نے  کہا ہاں !وہ میں  ہی ہوں

12 منو حہ نے  کہا” مجھے  امید ہے  کہ جو تم کہتے  ہو وہ ہو گا یہ بتاؤ کہ وہ بچّہ کیسی زندگی گذ ارے  گا؟ وہ کیا کرے  گا؟”

13 خداوند کے  فرشتہ نے  منوحہ سے  کہا”تمہاری بیوی کو وہ سب کر نا چاہئے  جو میں  نے  اسے  کرنے  کیلئے کہا ہے۔

14 اُسے  انگور کی بیل پر اُگی ہوئی چیز نہیں  کھانی چاہئے۔ اسے  شراب یا کوئی نشیلی چیز نہیں  پینی چاہئے۔ اور اسے  کوئی ناپاک غذا نہیں  کھانی چاہئے۔ اُسے  وہ سب کرنا چاہئے  جو کرنے  کا حکم میں  نے    دیا ہے۔”

15 تب منوحہ نے  خداوند کے  فرشتہ سے  کہا”برائے  مہربانی ہم لوگوں  کے  ساتھ کچھ دیر ٹھہر یئے  ہم لوگ آپ  کیلئے بکری کے  بچّہ کا گوشت بنائیں  گے۔”

16 تب خداوند کے  فرشتہ نے  منوحہ سے  کہا”اگر تم مجھے  یہاں  سے  جانے  سے  روکو گے  تو بھی میں  تمہارا کھا نا نہیں  کھاؤں  گا لیکن تم اگر کچھ تیار کر نا چاہتے  ہو تو خداوند کو جلانے  کی قربانی پیش کرو۔ ( منوحہ نہیں  سمجھا کہ حقیقت میں  وہ آدمی  خداوند کا فرشتہ تھا۔ )

17 تب منوحہ نے  خداوند کے  فرشتہ سے  پو چھا” تمہارا نام کیا ہے ؟ تا کہ تیری کہی ہوئی ہر ایک بات سچ ہو تو ہم لوگ تیری تعظیم کر سکیں۔”

18 خداوند کے  فرشتہ نے  کہا”تم میرا نام کیوں ؟ پو چھتے  ہو؟ یہ اتنا حیرت انگیز اور اتنا تعجب خیز ہے  کہ تم یقین نہیں  کر سکتے  ہو۔”

19 تب منوحہ نے  ایک بکری کا بچہ اور اناج لیا اور چٹان پر خداوند کو نذر کر دی۔ جب منوحہ اور اس کی بیوی اسے  دیکھ رہے  تھے  تو خداوند نے  ایک تعجب خیز کام انجام دیا۔

20 جیسے  ہی قربان گاہ سے  شعلوں  کی لپٹیں  آسمان تک اٹھیں  ویسے  ہی خداوند کا فرشتہ آ گ میں  سے  آسمان میں  چلا گیا۔ جب منوحہ اور اس کی بیوی نے  یہ دیکھا تو وہ زمین پر گر گئے۔ انہوں  نے  اپنے  سروں  کو زمین سے  لگا یا۔

21 منوحہ آخر میں  سمجھا کہ وہ آدمی  حقیقت میں  خداوند کا فرشتہ تھا۔ خداوند کا فرشتہ پھر سے  منوحہ کے  سامنے  ظاہر نہیں  ہوا۔

22 منوحہ نے  اپنی بیوی سے  کہا”ہم لوگوں  نے  خدا کو دیکھا ہے  اور یقیناً ہم اسی وجہ سے  مریں  گے۔”

23 لیکن اس کی بیوی نے  اس سے  کہا”اگر خداوند ہم لوگوں  کو مارنا چاہتا ہے  تو وہ ہم لوگوں  کی جلانے  کی قربانی اور اجناس کی قربانی قبول نہ کرتا۔ اس نے  ہم لوگوں  کو وہ سب نہ دکھا یا ہوتا اور ہم لوگوں  سے  یہ باتیں  نہ کیں  ہوتیں۔”

24 عورت کو ایک بیٹا پیدا ہوا اس نے  اس کا نام سمسون رکھا۔ سمسون بڑا ہوا اور خداوند نے  اس پر فضل کیا۔

25 خداوند کی روح نے اس وقت سمسون میں  کام کرنا شروع کیا جب وہ محنے  دان شہر میں  تھا۔ وہ شہر صرعہ اور اِستال کے  درمیان میں  ہے۔

 

 

 

باب: 14

 

 

1 سمسُون تِمنت شہر کو گیا۔ اس نے  وہاں  ایک جوان فلسطینی عورت کو دیکھا۔

2 جب وہ واپس آیا تو اس نے  اپنے  ماں  باپ سے  کہا”میں  نے  ایک فلسطینی لڑکی کو تمنت میں  دیکھا ہے۔”میں  چاہتا ہوں  کہ تم اسے  میرے  لئے  لے  آؤ۔ میں  اس سے  شادی کر نا چاہتا ہوں۔”

3 لیکن اس کے  والدین نے   جواب دیا”کیا تمہارے  رشتے  داروں  یا تمہارے  لوگوں  میں  سے  کوئی عورت نہیں  ہے  جس سے  تم شادی کر سکو؟ کیا تمہیں  ان نا مختون فلسطینیوں  کے  پاس بیوی حاصل کرنے  کیلئے جانا چاہئے ؟ لیکن سمسون نے  کہا”اس عورت کو میرے  لئے  حاصل کرو! وہ میرے  لئے  ٹھیک ہے۔”

4 (سمسون کے  ماں  باپ نہیں  سمجھے  تھے  کہ خداوند ایسا ہی چاہتا ہے۔ خداوند کوئی راستہ ڈھونڈ رہا تھا تاکہ وہ فلسطینی لوگوں  کے  خلاف کچھ کر سکے۔ اس وقت فلسطینی لوگ بنی اسرائیل  پر حکومت کر رہے  تھے  )۔

5 سمسون اپنے  ماں  باپ کے  ساتھ تمنت گیا۔ وہ شہر کے  قریب انگور کے  کھیتوں  تک گیا۔ اس جگہ پر ایک جوان شیر ببر دہاڑا اور سمسون پر جھپٹا۔

6 خداوند کی روح بڑی طاقت سے  سمسون پر اتری اس نے  صرف اپنے  ہاتھوں  سے  ہی شیر ببر کو چیر ڈالا۔ یہ اس کو ایسا ہی آسان معلوم ہوا جیسا کہ بکری کے  بچے  کو چیرنا۔ لیکن سمسون نے  اپنے  ماں  باپ کو نہیں  بتایا کہ اس نے  کیا کیا ہے۔

7 اس لئے  سمسون شہر گیا اور اس نے  فلسطینی لڑ کی سے  باتیں  کیں۔ سمسون نے  اسے  سچ مچ میں  پسند کیا۔

8 کئی دن بعد سمسون اس فلسطینی لڑکی کے  ساتھ شادی کرنے  کیلئے واپس آیا۔ آتے  وقت راستے  میں  وہ مرے  ہوئے  شیر ببر کو دیکھنے  گیا۔ اس نے  شیر ببر کے  ڈھانچے  میں  شہد کی مکھی کا چھتّا دیکھا جس سے  وہ بڑا متعجب ہوا۔ شیر کے  ڈھانچے  میں  شہد بھی تھا۔

9 سمسون نے  اپنے  ہاتھ سے  بھی تھوڑا شہد نکالا وہ شہد چاٹتا ہوا راستے  پر چل پڑا۔ جب وہ اپنے  ماں  باپ کے  پاس آیا تو اس نے  انہیں  تھوڑا شہد دیا۔ انہوں  نے  بھی اسے  کھا یا لیکن سمسون نے  اپنے  ماں  باپ کو نہیں  بتا یا کہ اس نے  مرے  ہوئے  شیر ببر کے  ڈھانچے  سے  شہد لیا ہے۔

10 سمسون کا باپ فلسطینی لڑ کی کو دیکھنے  گیا۔ دولہے  کیلئے یہ رواج تھا کہ اسے  ایک دعوت دینی پڑ تی تھی۔ اس لئے  سمسون نے  دعوت دی۔

11 جب لوگوں  نے  دیکھا کہ وہ ایک دعوت دے  رہا ہے  تو انہوں  نے  اس کے  ساتھ ہونے  کیلئے ۳۰ آدمی  بھیجے۔

12 تب سمسون نے  ان ۳۰ آدمیوں  سے  کہا” میں  تمہیں  ایک پہیلی سنانا چاہتا ہوں  یہ دعوت سات دن تک چلے  گی۔ تم اس عرصے  کے  دوران اس پہیلی کا جواب تلاش کرو۔ اگر تم پہیلی کا جواب اس وقت کے  اندر دے  سکے  تو میں  تمہیں  تیس سوتی کُرتے  اور تیس لباس دوں  گا۔

13 لیکن تم اگر اس کا جواب نہ نکال سکے  تو تیس سوتی کرتے  اور تیس کپڑوں  کے  جوڑے  مجھے  دینے  ہوں  گے۔”تیس آدمیوں  نے  کہا”پہلے  اپنی پہیلی سناؤ ہم اسے  سننا چاہتے  ہیں۔”

14 سمسون نے  یہ پہیلی سنائی:کھانے  والے  میں  سے  کھانے  کیلئے کچھ کھانے  آئے  اور طاقتور میں  سے  کچھ میٹھی چیز نکلیں۔ تیس آدمیوں  نے  تین دن تک جواب پانے  کی کو شش کی لیکن پا نہ سکے۔

15 چوتھے  دن وہ سب آدمی  سمسون کی بیوی کے  پاس آئے  انہوں  نے  کہا”کیا تم نے  ہمیں  غریب بنانے  کیلئے بلایا ہے ؟ تم اپنے  شوہر کو ہم لوگوں  کے  پہیلی کا جواب دینے  کیلئے پھسلاؤ اگر تم ہم لوگوں  کیلئے جواب معلوم نہیں  کر پاتی ہو تو ہم لوگ تمہیں  اور تمہارے  باپ کے  گھر میں  رہنے  والے  سب لوگوں  کو جلا دیں  گے۔”

16 اس لئے  سمسون کی بیوی اس کے  پاس گئی اور زور زور سے  رونے  چلانے  لگی اس نے  کہا تم مجھ سے  نفرت کرتے  ہو تم مجھ سے  سچی محبت نہیں  کرتے  ہو۔ تم نے  میرے  لوگوں  کو ایک پہیلی سنائی ہے  اور تم مجھے  اس کا جواب نہیں  بتا سکتے۔ اس نے  کہا”دیکھو میں  اپنے  ماں  باپ کو بھی نہیں  بتا یا تو میں  تمہیں  کیوں  بتاؤں ؟”

17 سمسون کی بیوی دعوت کے  پورے  ۷ دنوں  تک روتی رہی آخر میں  اس نے  ساتویں  دن پہیلی کا جواب دے  دیا۔ اس نے بتا دیا کیونکہ وہ مسلسل پریشان کر رہی تھی۔ تب وہ اپنے  لوگوں  کے  پاس گئی اور انہیں  اس کا جواب بتا دیا۔

18 اس طرح دعوت والے  ساتویں  دن سورج غروب ہونے  سے  پہلے  فلسطینی لوگوں  کے  پاس اس پہیلی کا جواب تھا وہ سمسون کے  پاس آئے  اور کہا”شہد سے  میٹھا کیا ہے ؟ اور شیر ببر سے  زیادہ طاقتور کون ہے ؟”” تب سمسون نے  ان سے  کہا”اگر تم نے  میری گائے  کو نہ جوتا ہوتا تو میری پہیلی کا حل نہ نکال پاتے۔”

19 سمسون بہت غصہ میں  تھا۔ خداوند کی روح سمسون پر بہت طاقت کے  ساتھ آئی وہ نیچے  شہر اسقلون کو گیا۔ اس شہر میں  اس نے  ۳۰ فلسطینی آدمیوں  کو مار ڈالا۔ پھر اس نے  لاشوں  سے  تمام کپڑے  اور ان کی جائیدادلے  لی وہ ان کپڑوں  کو لے  کر گھر واپس ہوا اور اسے  ان آدمیوں  کو دیا جنہوں  نے  اس پہیلی کا جواب دیا تھا۔ تب وہ اپنے  باپ کے  گھر واپس ہوا۔

20 سمسون  نے اپنی بیوی کو نہیں  لیا۔ اس کی شادی اس کے سب سے  اچھے  دوست سے  کرا دی گئی۔

 

 

 

باب: 15

 

 

1 گیہوں  کی فصل تیار ہونے  کے  وقت سمسون اپنی بیوی سے  ملنے  گیا۔ وہ اپنے  ساتھ ایک جوان بکرا لے  گیا۔ اس نے  کہا”میں  اپنی بیوی کے  کمرہ میں  جا رہا ہوں۔”لیکن اس کے باپ نے اسے  کمرے  کے  اندر نہیں  جانے  دیا۔

2 اس کے  باپ نے  سمسون سے  کہا”میں  نے  صحیح سوچا کہ تم اپنی بیوی سے  نفرت کرتے  ہو اس لئے  میں  نے  اس کی شادی تیرے  سب سے  اچھے  دوست سے  کرا دی۔ اس کی چھوٹی بہن بہت زیادہ خوبصورت ہے  برائے  مہربانی اس کی   بجائے  اسے  اپنی بیوی کے  طور پرلے۔”

3 لیکن سمسون نے  کہا”تم فلسطینی لوگوں  کو نقصان پہنچانے  کا اچھا موقع ہے۔ اب کوئی بھی مجھے  قصور وار نہیں  بتائے  گا۔”

4 اس لئے  سمسون باہر گیا اور ۳۰۰ لو مڑیوں  کو پکڑا اس نے  دو دو لو مڑیوں  کو ایک ساتھ لیا اور ان کا جوڑا بنانے  کیلئے اُن کی دُموں  کو ایک ساتھ باندھ دیا۔ تب اس نے  لومڑیوں  کے ہر جوڑے  کی دُم کے  بیچ ایک مشعل باندھی۔

5 سمسون نے  لومڑیوں  کی دُم کے  بیچ کی مشعلوں  کو جلا یا تب اس نے  فلسطینی لوگوں  کے  کھیتوں  میں  لومڑیوں  کو چھوڑ دیا اس طرح اس نے  ان کی کھڑی فصلوں  اور اناج کے  ڈھیروں  کو جلا دیا۔ اس نے  ان کے  انگور کے  کھیتوں  اور زیتون کے  باغوں  کو بھی جلا دیا۔

6 فلسطینی لوگوں  نے  پو چھا” یہ کِس نے  کیا ہے ؟” کسی نے  کہا”تِمنت کے  آدمی  کے  داماد سمسون نے  یہ کیا۔ اس نے  ایسا اس لئے  کیا کیونکہ سمسون کے  سُسرنے  سمسون کی  بیوی کی شادی اس کے  سب سے  اچھے  دوست سے  کرا دی۔”فلسطینی لوگوں  نے  سمسون کی بیوی اور اس کے  سُسر کو جلا دیا۔

7 تب سمسون نے فلسطینیوں سے  کہا”کیونکہ تم نے  اتنا نقصان پہنچایا اس لئے  میں  بھی اپنا بدلہ لئے  بغیر نہیں  رہوں  گا۔”

8 سمسون نے  فلسطینی لوگوں  پر حملہ کیا اس نے  ان کے  کئی لوگوں  کو مار ڈالا پھر جا کر غار میں  ٹھہرا وہ غار ایتام نامی چٹان پر تھا۔

9 تب فلسطینی لوگ یہوداہ کی سر زمین میں  گئے  وہ لحی نامی جگہ پر ٹھہرے  ان کی فوج نے  وہاں  خیمے  ڈالے  اور جنگ کیلئے تیاری کی۔

10 یہوداہ کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں  نے  ان سے  پو چھا” تم ہم لوگوں  سے  جنگ کیوں  کرنا چاہتے  ہو؟” انہوں  نے  جواب دیا”ہم لوگ سمسون کو پکڑنے  آئے  ہیں۔ ہم لوگ اسے  اپنا قیدی بنا نا چاہتے  ہیں۔ ہم لوگ اس سے  اس چیز کا بدلہ لینا چاہتے  ہیں  جو اس نے  ہمارے  لوگوں  کے  خلاف کیا ہے۔”

11 تب یہوداہ کے  خاندانی گروہ کے  تین ہزار آدمی  سمسون کے  پاس ایتام کی چٹان کے  غار میں  گئے۔ انہوں  نے  اس سے  کہا”تم نے  ہم لوگوں  کیلئے کیا مصیبت کھڑی کی ہے ؟ کیا تمہیں  معلوم نہیں  ہے  فلسطینی وہ لوگ ہیں  جو ہم پر حکومت کرتے  ہیں ؟۔ سمسون نے  جواب دیا”میں  نے  ان لوگوں  کے  ساتھ وہی کیا جو کچھ ان لوگوں  نے  میرے  ساتھ کیا۔”

12 تب انہوں  نے  سمسون سے  کہا”ہم لوگ تمہیں  قید کر کے  فلسطینیوں  کے  حوالے  کرنا چاہتے  ہیں۔”سمسون نے  یہوداہ کے  لوگوں  سے  کہا”وعدہ کر و کہ تم لوگ مجھے  نقصان نہیں  پہنچاؤ گے۔”

13 تب یہوداہ کے  آدمیوں  نے  کہا”ہم قبول کرتے  ہیں  ہم لوگ صرف تم کو باندھیں  گے  اور تم کو فلسطینیوں  کے  حوالے  کر دیں  گے۔ ہم وعدہ کرتے  ہیں  کہ تم کو جان سے  نہیں  ماریں  گے۔”انہوں  نے  سمسون کو دو نئی رسیوں  سے  باندھاا ور اسے  چٹان کے  غار سے  باہرلے  گئے۔

14 جب سمسون لحی نامی جگہ پر پہنچا تو فلسطینی لوگ اس سے  ملنے  آئے  وہ خوشی سے  شور مچا رہے  تھے۔ تب خداوندکی روح بڑی طاقت سے  سمسون میں  آئی اور اس پر رسّیاں  ایسی کمزور ہو گئیں  جیسے  وہ جل گئی ہوں  رسّیاں  اس کے  ہاتھوں  سے  ایسے  گریں  جیسے  وہ گل گئی ہوں۔

15 سمسون کو  مرے  ہوئے  گدھے  کے  جبڑے  کی ہڈّی ملی۔ اس نے  جبڑے  کی ہڈّی لی اور اس سے  ایک ہزار فلسطینی لوگوں  کو مار ڈالا۔

16 تب سمسون نے  کہا”ایک گدھے  کے  جبڑے  کی ہڈی سے   میں  نے  ایک ہزار آدمیوں  کو مارا۔ ایک گدھے  کی جبڑے  کی ہڈی سے   میں  نے  ان لوگوں  کو ڈھیر کر دیا۔”

17 جیسے  ہی سمسون نے  بات ختم کی تو اس نے  جبڑے  کی ہڈی پھینک دی اس لئے  اس جگہ کا نام رامت لحی پڑا۔

18 سمسون کو بہت پیاس لگی تھی اس لئے  اس نے  خداوند کو پکا را۔ اس نے  کہا”میں  تیرا خادم ہوں  تُو نے  مجھے  یہ بڑی فتح دی ہے  کیا اب مجھے  پیاس سے  مرنا پڑے  گا؟ کیا مجھے  ان کی  گرفت میں  جانا ہو گا جن کا ختنہ نہیں  ہوا ہے ؟”

19 لحی میں  ایک کھوکھلی جگہ ہے۔ خدا نے  اس کھو کھلی جگہ کو پھوڑ کر کھول دیا ہے  اور اس سے  پانی باہر آ گیا۔ سمسون نے  پانی پیا اور خود  کو بہتر محسوس کیا۔ اس نے  پھر خود کو طاقتور محسوس کیا۔ اس لئے  اس نے  اس پانی کے  چشمے  کا نام”عین ہقورے”  رکھا۔ یہ آج بھی لحی شہر میں  ہے۔

20 اس طرح سمسون بنی اسرائیلیوں  کا ۲۰ سال تک منصف رہا وہ فلسطینی لوگوں  کے  زمانے  میں  تھا۔

 

 

 

باب: 16

 

 

1 ایک دن سمسون غزہ شہر کو گیا۔ اس نے  وہاں  ایک فاحشہ کو دیکھا۔ وہ اس کے  ساتھ رات گزار نے  کیلئے اندر گیا۔

2 کسی نے  غزّہ کے  لوگوں  سے  کہا”سمسون یہاں  آیا ہے۔”وہ لوگ اسے  جان سے  مار ڈالنا چاہتے  تھے۔ اس لئے  انہوں  نے  شہر کو گھیر لیا۔ وہ چھپے  رہے  اور شہر کے  پھا ٹک کے  پاس چھپ گئے  اور ساری رات سمسون کا انتظار کیا وہ ساری رات خاموش رہے۔ انہوں  نے  آپس میں  فیصلہ کیا”ہم لوگ صبح تک انتظار کریں  گے  اور تب پھر صبح اسے  مار ڈالیں  گے۔”

3 لیکن سمسون فاحشہ کے  ساتھ آدھی رات تک رہا۔ سمسون آدھی رات میں  اٹھا اور شہر کے  پھاٹک کے  دروازوں  کو پکڑا اور انہیں  کھینچ کر دیوار سے  الگ کر دیا۔ سمسون نے  دروازے میں   دو کھڑی چوکھٹیں  اور سلاخوں  کو جو دروازوں  کو بند کرتے  تھے  پکڑ کر اکھاڑ لیا۔ تب سمسون نے  انہیں  اپنے  کندھوں  پر لیا اور پہاڑی کی چوٹی پرلے  گیا جو حبرون شہر کے  قریب ہے۔

4 اس کے  بعد سمسون دلیلہ نامی عورت سے  محبت کرنے  لگا وہ سورق وادی کی تھی۔

5 فلسطینی لوگوں  کے  حاکم دلیلہ کے  پاس گئے  انہوں  نے  کہا”ہم جاننا چاہتے  ہیں  کہ سمسون کو اتنا زیادہ طاقتور کس چیز نے  بنایا؟ تم اسے  پھسلاؤ اور معلوم کرنے  کی کوشش کرو کہ آخر اس کا راز کیا ہے۔ تب ہم لوگوں  کو معلوم ہو گا کہ اسے  کس طرح پکڑیں  اور اسے  کیسے  باندھیں۔ تب ہم اس پر قابو پا سکتے  ہیں۔ تب ہم میں  سے  ہر ایک تم کو ۱۱۰۰ مثقال دے  گا۔”

6 دلیلہ نے  سمسون سے  کہا”مجھے  بتاؤ کہ تمہیں  کس چیز نے  اتنا طاقتور بنا دیا ہے۔ تمہیں  کوئی کیسے  باندھ سکتا ہے  اور بے  سہارا کر سکتا ہے۔ ؟”

7 سمسون نے  جواب دیا”اگر کوئی مجھے  کمان کی سات نئی بنائی ہوئی ڈوریوں  سے  باندھے  جو کہ اب تک سوکھا نہیں  ہے  تو میں  دوسرے  آدمیوں  کی طرح کمزور ہو جاؤں  گا۔”

8 تب فلسطینی لوگوں  کے  حاکم  سات نئی کمانوں  کی ڈوریاں  دلیلہ کے  پاس لائے  دلیلہ نے  سمسون کو ان ڈوریوں  سے  باندھا۔

9 کچھ آدمی  دوسرے  کمرے  میں  چھپے  تھے۔ دلیلہ نے  سمسون سے  کہا”سمسون فلسطینی تم پر حملہ کر رہے  ہیں !”لیکن سمسون نے  اس کمان کی ڈوریوں  کو آسانی سے  توڑ دیا۔ اسے  اس ڈوری کی طرح توڑ دیا جو چراغ کی لو َکے  بہت نزدیک بہت کمزور ہو گیا ہو۔ اس طرح فلسطینی لوگ سمسون کی طاقت کا راز نہ پا سکے۔

10 تب دلیلہ نے  سمسون سے  کہا ‘تم نے  مجھے  بے  وقوف بنا یا تم نے  مجھے  دھو کہ دیا۔ تم نے  مجھ سے  جھوٹ بولا۔ براہ کرم اب مجھے  بتاؤ تجھے  کیسے  باندھا جائے  گا؟”

11 سمسون نے  کہا”اگر کوئی آدمی  مجھے  نئی رسیوں  سے  اچھی طرح باندھ دے  جو پہلے  کبھی استعمال نہیں  ہوئیں تو میں  دوسرے  آدمیوں  کی طرح کمزور ہو جاؤں  گا۔

12 اس لئے  دلیلہ نے  کچھ نئی رسّیاں  لیں  اور سمسون کو باندھ دیا کچھ آدمی  اگلے  کمرے  میں  چھپے  تھے۔ تب دلیلہ نے  اسے  آواز دی”سمسون فلسطینی لوگ تم پر حملہ کر رہے  ہیں !”لیکن اس نے  رسّیوں  کو آسانی سے  دھا گے  کی طرح توڑ دیا۔

13 تب دلیلہ نے  سمسون سے  کہا” تم نے  مجھے  اب تک بے  وقوف بنایا تم نے  مجھے  دھو کہ دیا تم نے  مجھ سے  جھوٹ بولا!اب تم مجھے  بتاؤ کہ کوئی تمہیں  کیسے  باندھ سکتا ہے ؟”اس نے  کہا”اگر تم کرگھے  کا استعمال کر کے  میرے  سر کے  بالوں  سے  سات چوٹی بُن لو اور تب اسے  ایک پِن سے  جکڑ دو تو میں  اتنا کمزور ہو جاؤں  گا جتنا کوئی دوسرا آدمی  ہوتا ہو۔”تب سمسون سونے  چلا گیا اس لئے  دلیلہ نے  کرگھے  کا استعمال اس کے  سر کے  بال سے  سات چوٹی بننے  کیلئے کیا۔

14 تب دلیلہ نے  زمین میں  خیمہ کی کھونٹی گاڑ کر کرگھے  کو اس سے  باندھ دیا۔ پھر اس نے  سمسون کو آواز دی”سمسون فلسطینی لوگ تم پر حملہ کر رہے  ہیں !”سمسون نے  خیمہ کی کھونٹی کرگھا اور پھر کی( شٹل) کو اکھاڑ دیا۔

15 تب دلیلہ نے  سمسون سے  کہا”تم مجھ سے  کیسے  کہہ سکتے  ہو کہ تم مجھ سے  محبت کرتے  ہو جب مجھ پر بھروسہ نہیں  کرتے  تم اپنا راز بتانے  سے  انکار کرتے  ہو۔ یہ تیسری بار تم نے  مجھے  بے  وقوف بنایا ہے  تم نے  اپنی عظیم طاقت کا راز نہیں  بتایا۔

16 وہ سمسون کو دن بدن پریشان کر تی گئی۔ اس کے  راز کے  بارے  میں  پوچھنے  سے  وہ اتنا تھک گیا کہ اسے  ایسا معلوم ہوا کہ وہ مر جائے  گا۔

17 اس لئے  اس نے  دلیلہ کو سب کچھ بتا دیا۔ اس نے  کہا”میں  نے  اپنے  بال کبھی نہیں  کٹوائے  تھے  میں  باب:   سے  پہلے  ہی الله کو نذر کر دیا گیا تھا اگر کوئی میرے  بالوں  کو کاٹ دے  تو میری طاقت چلی جائے  گی۔ میں  اتنا ہی کمزور ہو جاؤں  گا۔ جتنا کوئی دوسرا آدمی  ہوتا ہے۔”

18 دلیلہ نے  دیکھا کہ سمسون نے  اپنی ہر بات ظاہر کر دی ہے۔ اس نے  فلسطینی لوگوں  کے  حاکموں  کے  پاس پیغام بھیجا”میری جگہ پھر واپس آؤ سمسون نے  مجھ پر  ہر بات ظاہر کر دی ہے۔”فلسطینی حاکم دلیلہ کے  پاس واپس آئے  وہ لوگ پیسے  ساتھ لائے  جو انہوں نے  دینے  کا وعدہ کیا تھا۔

19 دلیلہ نے  سمسون کو اپنی گود میں  سلایا۔ تب اس نے  ایک آدمی  کو اندر بلایا اور سمسون کے  بالوں  کی ساتوں  چوٹیوں  کو کٹوا دیا۔ اس طرح اس نے  اسے  کمزور بنا دیا سمسون کی طاقت نے  اس کو چھوڑ دیا۔

20 تب دلیلہ نے  اسے  آواز دی”سمسون فلسطینی لوگ تم پر حملہ کر رہے  ہیں “وہ جاگ پڑا اور سوچا کہ پہلے  کی طرح میں  بھاگ نکلوں  اور خود کو آزاد رکھوں  لیکن سمسون کو یہ نہیں  معلوم تھا کہ خداوند نے  اسے  چھوڑ دیا ہے۔

21 فلسطینی لوگوں  نے  سمسون کو پکڑ لیا انہوں  نے  اس کی آنکھیں  نکال لیں  اور اسے  غزّہ شہر کولے  گئے۔ تب اسے  بھاگنے  سے  روکنے  کیلئے انہوں  نے  اس کے  پیروں  میں  بیڑیاں  ڈال دیں  انہوں  نے  اسے  جیل میں  ڈال دیا اور اس سے  چکّی چلوائی۔

22 لیکن سمسون کے  بال پھر بڑھنے  شروع ہو گئے۔

23 فلسطینی لوگوں  کے  حاکم تقریب منانے  کیلئے ایک جگہ پر جمع ہوئے۔ وہ اپنے  دیوتا دجون کو ایک بڑی قربانی پیش کرنے  جا رہے  تھے۔ انہوں  نے  کہا”ہم لوگوں  کے  دیوتا نے  ہمارے  دشمن سمسون کو شکست دینے  میں  مدد کی ہے۔”

24 جب فلسطینی لوگوں  نے  سمسون کو دیکھا تب انہوں  نے  اپنے  دیوتا کی تعریف کی۔ انہوں  نے  کہا”اس آدمی نے  ہمارے  ملک کو تباہ کیا۔ اس آدمی نے  ہمارے  کئی لوگوں  کو مارا لیکن ہمارے  دیوتا نے  ہمارے  دشمن کو پکڑوانے  میں  ہماری مدد کی۔”

25 جب لوگ تقریب میں  خوشی منا رہے  تھے۔ تو انہوں  نے  کہا”سمسون کو باہر لاؤ ہم اس کا مذاق اُڑانا چاہتے  ہیں۔”اس لئے  وہ سمسون کو جیل  سے  باہر لائے  اور اس کا مذاق اُڑا یا۔ انہوں  نے  سمسون کو دجون دیوتا کی ہیکل کے  ستونوں  کے  درمیان کھڑا کیا۔۔

26 ایک نوکر سمسون کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ سمسون نے  اس سے  کہا” مجھے  وہاں  رکھو جہاں  سے  میں  اُن ستونوں  کو چھُو سکوں  جو اس ہیکل کو تھامے  ہوئے  ہیں  میں  ان کا سہا را لینا چاہتا ہوں۔”

27 ہیکل میں  عورتوں  مردوں  کی بھیڑ تھی۔ فلسطینی لوگوں  کے  تمام حاکم وہاں  تھے۔ وہاں  تقریباً ۳۰۰۰ عورتیں  اور مرد ہیکل کی چھت پر تھے۔ وہ ہنس رہے  تھے  اور سمسون کا مذاق اُڑا رہے  تھے۔

28 تب سمسون نے  خداوند سے  دعا کی اس نے  کہا”اے  میرے  خداوند قادِر مطلق مجھے  یاد رکھ اے  خدا صرف ایک بار اور طاقت دے۔ مجھے  صرف ایک کام کرنے  دے  کہ فلسطینیوں  سے  اپنی آنکھیں  نکالنے  کا بدلہ چکا لوں۔”

29 تب سمسون نے  ہیکل کے دونوں  ستونوں  کو پکڑا یہ دونوں  ستون پوری ہیکل کو تھامے  ہوئے  تھے اس نے  دونوں  ستونوں  کے  بیچ میں خود  کو جمایا۔ ایک ستون اس کے  دائیں  طرف اور دوسرا اس کے  بائیں  طرف تھا۔

30 سمسون نے  کہا”ان فلسطینیوں  کے  ساتھ مجھے  مرنے  دو۔”تب اس نے  اپنی پوری طاقت سے  ستونوں  کو دھکیلا اور ہیکل حاکموں  کے  ساتھ اس میں  آئے  ہوئے  لوگوں  پر گر پڑا۔ اس طرح سمسون نے  اپنی زندگی میں  جتنے  فلسطینی لوگوں  کو مارا اس سے  کہیں  زیادہ لوگوں  کو اس نے  اس وقت مارا جب وہ مرا۔

31 سمسون کے  بھائی اور اس کے  باپ کا پو را خاندان اس کی لاش کو لینے  گیا۔ وہ اسے  واپس لائے  اور اس کے  باپ منوحہ کی قبر میں  دفنا یا۔ یہ قبر صُرعہ اور اِستال شہروں  کے  درمیان ہے۔ سمسون بنی اسرائیلیوں  کا منصف ۲۰ سال تک رہا۔

 

 

 

باب: 17

 

 

1 وہاں  ایک میکاہ نامی آدمی  تھا۔ جو افرا ئیم کے  پہاڑی ملک میں  رہتا تھا۔

2 میکاہ نے  اپنی ماں  سے  کہا”کیا تمہیں  چاندی کے  ۱۱۰۰ سِکّے  یاد ہیں  جو تم سے  چُرا لئے  گئے  تھے۔ میں  نے  اس کے  بارے  میں  بد دعا دیتے  سنا ہے۔ وہ چاندی میرے  پاس ہے  میں  نے  اسے  لیا ہے۔”اس کی ماں  نے  کہا”میرے  بیٹے  خداوند تمہیں  اپنا فضل دے۔

3 میکاہ نے  اپنی ماں  کو ۱۱۰۰ سکّے  واپس دیئے  تب اس نے  کہا”میں  یہ سکّے  خداوند کو خاص نذرانے  کے  طور پر پیش کروں  گی میں  یہ چاندی اپنے  بیٹے  کو دوں  گی اور وہ ایک مورتی بنائے  گا اور اسے  چاندی سے  ڈھک دے  گا۔ اس لئے  بیٹے  اب یہ چاندی میں  تمہیں  واپس کر تی ہوں۔”

4 لیکن میکاہ  نے وہ چاندی اپنی ماں  کو واپس کر دی۔ اس لئے  اس نے  ۲۰۰ مثقال چاندی لی اور ایک سنار کو دے  دی۔ سنار نے  اس چاندی کا استعمال ایک بُت اور ایک کندہ کی ہوئی مورتی بنانے  میں  کیا۔ یہ سب میکاہ کے  گھر میں  رکھی گئی تھی۔

5 میکاہ کی ایک ہیکل مورتیوں  کی پرستش کیلئے تھی۔ اس نے  افود اور کچھ گھریلو بُت بنائے۔ تب میکاہ نے  اپنے  بیٹوں  میں  سے  ایک کو اپنا کاہن بحال کیا۔

6 (اس وقت بنی اسرائیلیوں  کا کوئی بادشاہ نہیں  تھا۔ اسرائیل کا ہر ایک آدمی  وہ کرتا تھا جو  ٹھیک سمجھتا تھا )۔

7 بیت اللحم شہر کا ایک نو جوان تھا۔ وہ لاوی تھا اور عارضی طور پر وہاں  قیام کیا۔

8 اس نوجوان نے  یہوداہ میں  بیت اللحم کو چھوڑ دیا اور عارضی قیام کیلئے ایک جگہ کی تلاش کر رہا تھا۔ جب وہ سفر کر رہا تھا وہ میکاہ کے  گھر آیا میکاہ کا گھر افرائیم کی پہاڑی علاقے  میں  تھا۔

9 میکاہ نے  اس سے  پوچھا”تم کہاں  سے  آئے  ہو؟ نوجوان نے  جواب دیا”میں  یہوداہ کے  بیت اللحم شہر کا ایک لاوی ہوں۔ میں  عارضی قیام کے  لئے  جگہ ڈھونڈ رہا ہوں۔”

10 تب میکاہ نے  اس سے  کہا”میرے  ساتھ رہو میرا باپ اور کاہن بنو۔ میں  سالانہ تمہیں  دس چاندی کے  سکّے  دوں  گا۔ میں  تمہیں  لباس اور کھانا بھی دوں  گا۔”جوان لاوی میکاہ کے  ساتھ ٹھہرا۔

11 لاوی کے  خاندانی گروہ کا وہ نو جوان میکاہ کے  ساتھ رہنے  کو راضی ہو گیا۔ وہ میکاہ کا ایک بیٹا جیسا ہو گیا۔

12 میکاہ نے  لاوی کو اپنا کاہن بنایا اور وہ میکاہ کے  ساتھ رہا۔

13 میکاہ نے  کہا ‘اب میں  سمجھتا ہوں  کہ خداوند میرے  ساتھ بھلا کرے  گا۔ میں  اس لئے  یہ جانتا ہوں  کہ میں  نے  لا وی نسل کے  خاندان کے  ایک آدمی  کو کاہن رکھا ہے۔”

 

 

باب: 18

 

 

1 اس وقت بنی اسرائیلیوں  کا کوئی بادشاہ نہیں  تھا۔ اور اس وقت دان کا خاندانی گروہ اپنی  کہے  جانے  کے  لائق رہنے  کیلئے زمین کی تلاش میں  تھا۔ اسرائیل کے  دوسرے  خاندانی گروہوں نے  پہلے  ہی اپنی زمین حاصل کر لی تھی۔ لیکن دان کا خاندانی گروہ ابھی تک اپنی زمین نہیں  پا سکا تھا۔

2 اس لئے  دان کے  خاندانی گروہ نے  پانچ فوجیوں  کو کچھ زمین تلاش کرنے  بھیجا۔ وہ رہنے  کیلئے اچھی جگہ ڈھونڈنے  گئے۔ وہ پانچوں  آدمی  صُرعہ اور اِستال شہروں  کے  تھے۔ وہ اس لئے  چُنے  گئے  تھے  کہ وہ دان کے  سبھی خاندانی گروہوں میں  سے  تھے۔ اُن سے  کہا گیا تھا”جاؤ اور کسی زمین کو ڈھونڈو۔”جب پانچوں  آدمی  افرا ئیم کے  پہاڑی ملک میں  آئے۔ تو وہ میکاہ کے  گھر آئے  اور وہاں  رات گزاری۔

3 جب وہ لوگ میکاہ کے  گھر آئے  تو ان لوگوں  نے  نوجوان لاوی کی آواز سنی اور پہچان لیا۔ تب وہ لوگ اس سے  ملے۔ ان لوگوں  نے  اس سے  پوچھا”تمہیں  یہاں  کون لا یا ہے ؟ تم یہاں  کیا کر رہے  ہو؟ تمہارا یہاں  کیا کام ہے ؟”

4 تب اس جوان نے  ان لوگوں  کو وہ بتا یا جو میکاہ نے  اس کے  ساتھ کیا تھا اس نے  کہا”میکاہ نے مجھے  کرایہ پر رکھا اور میں  اس کا کاہن ہو گیا ہوں۔”

5 تب انہوں  نے  کہا”برائے  مہربانی ذرا ہم لوگوں  کی خاطر خدا سے  لگاؤ پیدا کر۔ ہم لوگ جاننا چاہتے  ہیں  کہ ہم لوگوں  کا سفر کامیاب ہو گا یا نہیں ؟”

6 کاہن نے  جواب دیا”سلامتی سے  آگے  بڑھ خداوند تم لوگوں  کو جانے  کا راستہ دکھائے  گا۔”

7 اس لئے  پانچوں  آدمی  وہاں  سے  چلے  اور لیس شہر کو آئے۔ انہوں  نے  دیکھا کہ اس شہر کے  آدمی  محفوظ رہتے  ہیں۔ وہ لوگ صیدون کے  لوگوں  کی طرح رہتے۔ (صیدون سمندر کے  کنا رے  ایک خاص غیر معمولی اور طاقتور شہر تھا )۔ وہ امن اور سلامتی کے  ساتھ رہتے  تھے۔ لوگوں  کے  پاس ہر چیز بہت زیادہ تھی۔ اور ان پر حملہ کرنے  وا لا نزدیک میں  کوئی دشمن نہیں  تھا۔ اور وہ صیدون شہر کے  لوگوں  سے  بہت زیادہ دور رہتے  تھے۔ اور ارام کے  لوگوں  سے  بھی ان کی کوئی تجارت نہیں  تھی۔

8 پانچوں  آدمی  صُرعہ اور استال کو واپس ہوئے  ان کے  رشتہ داروں  نے  پو چھا” تم نے  کیا پتہ لگا یا؟”

9 انہوں نے جواب دیا:”ہم نے ان لوگوں  کی زمین کو دیکھا ہے۔ وہ بہت اچھی ہے۔ آؤ ان لوگوں  پر حملہ کریں۔ تم ہم لوگوں  پر یقین کر سکتے  ہو انتظار نہ کرو ہم چلیں  اور اس زمین کولے  لیں۔

10 اگر تم وہاں  چلو تو ایسے  لوگوں  کے  پاس پہنچو گے  جو ایک وسیع ملک میں  رہتے  ہیں  اور کسی خِطّہ سے  کسی حملہ کی امید نہ کرو۔ ہاں  خدا نے  یہ زمین ہم لوگوں  کو دی ہے  یہ ایسی زمین ہے  جہاں  کسی چیز کی کمی نہیں  ہے۔”

11 اس لئے  دان کے  خاندانی گروہ کے  ۶۰۰ آدمیوں  نے  صُرعہ اور استال کے  شہروں  کو چھوڑا اور وہ جنگ کیلئے تیار تھے۔

12 لیس شہر سے  سفر کرتے  وقت وہ یہوداہ قریت یعریم خیمہ ڈالے۔ انہوں  نے  وہاں  خیمے  ڈالے  یہی وجہ ہے  کہ قریت یعریم کے  مغرب کی زمین آج تک محنے  دان کہلاتی ہے۔

13 اس جگہ سے  ۶۰۰ آدمیوں  نے  افرا ئیم کی پہاڑی ملک کا سفر کیا۔ وہ میکاہ کے  گھر آئے۔

14 تب ان پانچوں  آدمیوں  نے  جنہوں  نے  لیس میں  جاسوسی کرنے  گئے  تھے   اپنے  بھا ئیوں  سے  کہا”کیا تمہیں  معلوم ہے  کہ اس گھر میں  ایک ایفود دوسرے  خاندانی دیوتا ایک کھودی ہوئی مورتی اور ایک چاندی کا بت ہے۔ اب تم سمجھتے  ہو کہ تمہیں  کیا کرنا ہے  جاؤ اور انہیں  لے  آؤ۔”

15 وہ لوگ میکاہ کے  گھر گئے  جہاں  پر نوجوان لا وی رہتا تھا۔ ان لوگوں  نے  اس سے  دوستانہ سلوک کیا۔

16 دان کے  خاندانی گروہ کے  ۶۰۰ لوگ پھاٹک کے  دروازہ پر کھڑے  رہے  اُن کے  پاس سبھی ہتھیار تھے  اور وہ جنگ کیلئے تیار تھے۔

17 پانچوں  جاسوس گھر میں  گئے   اور کھودی ہوئی مورتی ایفود خاندانی دیوتاؤں  اور چاندی کے  بت کو جمع کیا۔ جب وہ ایسا کر رہے  تھے  تب لا وی خاندانی گروہ کا نو جوان کاہن اور جنگ کیلئے تیار ۶۰۰ آدمی  پھا ٹک کے  دروازے  کے  ساتھ کھڑے  تھے۔ لا وی خاندانی گروہ کے نو جوان کاہن نے  ان سے  پو چھا”تم کیا کر رہے  ہو؟”

18 19 پانچوں  آدمیوں  نے  کہا”چُپ رہو ایک لفظ بھی نہ کہو۔ ہم لوگوں  کے  ساتھ چلو ہمارا باپ اور کاہن رہو۔ تمہیں  یہ ضرور طے  کرنا چاہئے  کہ تم کِسے  زیادہ اچھا سمجھتے  ہو؟ کیا تمہارے  لئے  یہ زیادہ اچھا ہے  کہ تم ایک آدمی  کا کاہن رہو؟ یا اس سے  کہیں  زیادہ یہ اچھا ہے  کہ تم بنی اسرائیلیوں  کے  پورے  خاندانی گروہ کا کاہن بنو؟”

20 نوجوان لا وی کو ان لوگوں  کی تجویز اچھی لگی اس نے  ایفود خاندانی دیوتاؤں  اور کھُدائی وا لی مورتی کو لیا اور وہ دان کے  خاندانی گروہ کے  ساتھ گیا۔

21 تب دان خاندانی گروہ کے  ۶۰۰ آدمی  لا وی کے  ساتھ مُڑے  اور انہوں  نے  میکاہ کے  گھر کو چھوڑا۔ انہوں  نے  اپنے  چھوٹے  بچوں  جانوروں  اور اپنی تمام چیزوں  کو اپنے  سامنے  رکھا۔

22 جب دان کے  خاندانی گروہ کے  لوگ اس جگہ سے  کچھ دور گئے   تب میکاہ کے  ساتھ رہنے  والے  آدمی  جمع ہوئے۔ ان لوگوں  نے  دان کے  لوگوں  کا پیچھا کیا اور انہیں  پکڑ لیا۔

23 میکاہ کے  لوگ دان کے  لوگوں  پر برس پڑ ے۔ دان کے  لوگ مُڑے  انہوں  نے  میکاہ سے  کہا”کیا مسئلہ ہے ؟ تم کیوں  پکار رہے  ہو؟”

24 میکاہ نے  جواب دیا”دان کے  لوگو! تم نے  میری مورتیاں  لی ہیں  میں  نے  ان مورتیوں  کو اپنے  لئے  بنا یا ہے۔ تم نے  ہمارے  کاہن کو بھی لے  لیا ہے۔ تم نے  میرے  لئے  چھوڑا ہی کیا ہے ؟ تم مجھ سے  کیسے  پو چھ سکتے  ہو ‘کیا مسئلہ ہے ؟”

25 دان کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں  نے  جواب دیا اچھا ہوتا کہ تم ہم سے  بحث نہ کرتے  ہم میں  سے  کچھ آدمی  گرم طبیعت کے  ہیں۔ اگر تم ہم پر چلاؤ گے  تو وہ گرم مزاج  لوگ تم پر حملہ کر سکتے  ہیں  تم اور تمہاراخاندان مار ڈالا جا سکتا ہے۔

26 تب دان کے  لوگ مُڑے  اور اپنے  راستے  پر آگے  بڑھ گئے۔ میکاہ جانتا تھا کہ وہ لوگ اس سے  اور اس کے  آدمیوں  سے  زیادہ طاقتور ہیں  اس لئے  وہ گھر واپس ہو گیا۔

27 اس طرح دان کے  لوگوں  نے  وہ مورتیاں  لے  لیں  جو میکاہ نے  بنائی تھیں۔ انہوں  نے  میکاہ کے  ساتھ رہنے  والے  کاہن کو بھی لے  لیا۔ تب وہ لوگ لیس پہنچے  اور ان لوگوں  پر حملہ کیا جو امن وامان سے  رہتے  تھے  اور یہ امید نہ تھی کہ کوئی ان پر حملہ کرے  گا۔ دان کے  لوگوں  نے  انہیں  اپنی تلواروں  کے  گھاٹ اُتارا پھر انہوں  نے  شہر کو جلا ڈالا۔

28 لیس میں  رہنے  وا لوں  کی حفاظت کرنے  وا لا کوئی نہ تھا۔ وہ صیدون کے  شہر سے  اتنے  زیادہ دور تھے  کہ لوگ ان کی مدد نہیں  کر سکتے  تھے۔ اس لئے  لیس کے  لوگوں  کا کسی سے  کوئی سروکار نہیں  تھا۔ لیس شہر بیت رحوب کے  قصبہ کے  ایک وادی میں  تھا۔ دان کے  لوگوں  نے  اس جگہ پر اپنا نیا شہر بسایا۔ اور وہ شہر ان کے  رہنے  کی جگہ بنا۔

29 دان کے  لوگوں  نے  لیس شہر کا نام رکھا انہوں  نے  اس شہر کا نام دان رکھا۔ انہوں  نے  اپنے  آباء و  اجداد کے  نام پر شہر کا نام دان رکھا۔ دان اسرائیل نامی آدمی  کا بیٹا تھا۔ پُرانے  زمانے  میں  اس شہر کا نام لیس تھا۔

30 دان کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں  نے  شہر میں  مورتیوں  کی جگہ بنائی انہوں  نے  جیر سوم کے  بیٹے  یونتن کو ان کا کاہن بنا یا۔ جیرسوم موسیٰ کا بیٹا تھا۔ یونتن اور اس کے  بیٹے  دان کے  خاندانی گروہ کے  اس وقت تک کاہن رہے  جب تک بنی اسرائیلیوں  کو قیدی بنا کر با بل نہیں  لے  جا یا گیا۔

31 دان کے  لوگوں  نے  ان مورتیوں  کی پرستش کی جومیکاہ نے  بنائی تھیں۔ وہ پو رے  وقت ان مورتیوں  کی عبادت کرتے  رہے  جب تک شیلاہ میں  خدا کا گھر رہا۔

 

 

 

باب: 19

 

 

1 اُن دنوں  بنی اسرائیلیوں  کا کوئی بادشاہ نہیں  تھا۔ ایک لا وی خاندانی گروہ کا آدمی  افرا ئیم کے  پہاڑی ملک میں  بہت دور کے  علاقے  میں  رہتا تھا۔ اس آدمی نے  ایک عورت کو اپنی داشتہ بنا رکھا تھا۔ جویہوداہ کے  بیت اللحم شہر کی رہنے  وا لی تھی۔

2 لیکن اس کی داشتہ اس سے  بے  وفا ہو گئی تھی۔ وہ یہوداہ کے  شہر بیت اللحم میں  اپنے  باپ کے  گھر چلی گئی۔ وہ وہاں  چار مہینے  رہی۔

3 تب اس کا شوہر اس کے  پاس گیا وہ اس سے  محبت سے  بات کرنا چاہتا تھا کہ وہ اس کے  پاس لو ٹ جائے۔ وہ اپنے  ساتھ اپنے  نوکروں  اور دو گدھوں  کولے  گیا۔ لا وی نسل کا آدمی  اس عورت کے  باپ کے  گھر آیا۔ اس کے  باپ نے  لا وی نسل کے  آدمی  کو دیکھا اور اس کا استقبال کرنے  کیلئے خوشی سے  باہر آیا۔

4 عورت کا باپ نے اسے  ٹھہرنے  کیلئے مدعو کیا اس لئے  لاوی تین دن ٹھہرا اس نے  کھایا پیا اور وہ اپنے  سُسر کے  گھر سو یا۔

5 چوتھے  دن بہت صبح وہ اٹھا اور جانے  کی تیاری کرلی۔ لیکن عورت کے  باپ نے  اپنے  داماد سے  کہا”پہلے  تم کچھ کھا لو تب تم جا سکتے  ہو۔”

6 لا وی خاندانی گروہ کا آدمی  اور اس کا سُسر ایک ساتھ کھانے  اور پینے  کیلئے بیٹھے۔ اس کے  بعد عورت کے  باپ نے  اس لاوی آدمی  سے  کہا”مہربانی کر کے  ایک رات اور ٹھہرو سُستاؤ اور خوشیاں  مناؤ۔”

7 جب لاوی آدمی  بعد میں  جانے  کو تیار ہوا تو اس کے  سُسرنے  اسے  ایک رات اور ٹھہرنے  کیلئے زور دیا۔ اس لئے  وہ ایک رات اور ٹھہر گیا۔

8 لا وی مرد پانچویں  دن جانے  کیلئے صبح سویرے  اٹھا تو اس جوان لڑکی کے  باپ نے  کہا” پہلے  کچھ کھا پی لو پھر آرام کرو اور دوپہر تک رُک جاؤ۔” دونوں  نے  پھر سے  ایک ساتھ کھانا کھا یا۔

9 تب لا وی نسل کا آدمی  اس کی داشتہ اور اس کا نوکر چلنے  کیلئے اٹھے  لیکن اس کے  سُسرنے  کہا” تقریباً اندھیرا ہو گیا ہے  اور دن تقریباً گزر چکا ہے  رات یہاں  گزارو اور خوشیاں  مناؤ۔ کل بہت صبح تم اٹھ سکتے  ہو اور اپنا راستہ لے  سکتے  ہو۔”

10 لیکن لا وی نسل کا آدمی  ایک اور رات وہاں  نہیں  ٹھہرنا چاہتا تھا۔ اس نے ا پنے  دو گدھوں  کو لیا زین کسے  اور اپنی داشتہ کو بھی لیا اور وہ یبوس شہر تک گیا۔ (یبوس یروشلم ہی کا دوسرا نام ہے  )

11 دن تقریباً چھُپ گیا وہ یبوس شہر کے  نزدیک تھے۔ اس لئے  نوکر نے  اپنے  آقا لاوی سے  کہا ہم لوگ اس شہر میں  ٹھہر جائیں  یہ یبوسی لوگوں  کا شہر ہے  ہم لوگ یہاں  رات گذاریں۔

12 لیکن اس کے  آقا لاوی نے  کہا”نہیں !ہم لوگ اجنبی شہر میں  نہیں  ٹھہریں  گے۔ وہ لوگ بنی اسرائیلیوں  میں  سے  نہیں  ہیں  ہمیں  جبعہ جانے  دو۔”

13 لا وی خاندانی گروہ کے  آدمی نے  کہا آگے  بڑھو ہم جبعہ یا رامہ تک پہنچنے  کی کوشش کریں  ہم ان شہروں  میں  سے  کسی ایک میں  رات گزار سکتے  ہیں۔”

14 اس لئے  لا وی اور اس کے  ساتھ کے  لوگ آگے  بڑھے  جب جبعہ شہر کے  قریب آئے  تو سورج غروب ہو رہا تھا۔ جبعہ بنیمین کے  خاندانی گروہ کی سر زمین میں  ہے۔

15 تب وہ لوگ رات ٹھہرنے  کیلئے جبعہ گئے۔ وہ لوگ شہر میں  گئے  اور شہر کے  چوراہے  میں  بیٹھ گئے۔ لیکن کسی نے  انہیں  رات گزار نے  کیلئے اپنے  گھر مدعو نہیں  کیا۔

16 تب ایسا ہوا کہ شام کو ایک بوڑھا آدمی  کھیتوں  سے  شہر میں  آیا اس کا گھر افرا ئیم کی پہاڑی ملک میں  تھا لیکن وہ شہر جبعہ میں  رہتا تھا۔

17 بوڑھے  آدمی نے  مسافروں  کو شہر کے  چوراہے  پر بیٹھا ہوا دیکھا اس نے  پو چھا” تم کہاں  جا رہے  ہو؟ تم کہاں  سے  آئے  ہو؟

18 لاوی آدمی نے  جواب دیا”ہم یہوداہ کے  بیت اللحم سے  سفر کر رہے  ہیں  ہم گھر جا رہے  ہیں۔ میں  افرا ئیم کے  پہاڑی ملک کا ہوں  میں  یہوداہ کے  بیت اللحم کو گیا تھا اور اب میں  اپنے  گھر کو جانے  والے  اپنے  راستہ پر ہوں۔ تا ہم آج رات کسی نے  بھی مجھے  اپنے  گھر مدعو نہیں  کیا۔

19 ہم لوگوں  کے  پاس اپنے  جانوروں  کا چارا ہے  اور اپنے  لئے  روٹی اور مئے  بھی ہے۔ ہم لوگوں  میں  سے  یہ میری بیوی اور یہ نو کر ہے  ہمیں  کسی چیز کی ضرورت نہیں  ہے۔”

20 بوڑھے  نے  کہا”تمہارا استقبال ہے  تم میرے  پاس ٹھہرو۔ تمہیں  ضرورت کی سب چیزیں  میں  دوں  گا۔ تم شہر کے  چو راہے  پر رات گزارنے  کی کو شش مت کر نا۔”

21 تب بوڑھا،  لاوی آدمی  اور اس کے  لوگوں  کو اپنے  گھر لے  گیا۔ اُس نے  گدھوں  کو چارا دیا انہوں  نے  اپنے  پیر دھوئے  پھر اس نے  ان کو کچھ کھانے  اور پینے  کیلئے مئے  دی۔

22 جب لا وی نسل کا آدمی  اور اس کے  ساتھ کے  لوگ مزے  لے  رہے  تھے  تو اسی وقت شہر کے  کچھ لوگوں  نے  اس گھر کو گھیر لیا۔ وہ بہت برے  آدمی  تھے  وہ زور سے  دروازہ پیٹنے  لگے  وہ اس بوڑھے  آدمی  سے  جس کا گھر تھا پکار کر بولے  “اس آدمی  کو اپنے  گھر سے  باہر کرو ہم اس کے  ساتھ جنسی تعلقات  قائم کر نا چاہتے  ہیں۔”

23 بوڑھا آدمی  باہر گیا اور ان برے  آدمیوں  سے  کہا”نہیں ” میرے  بھا ئیو! ایسا برا کام نہ کرو اس لئے  کہ یہ آدمی  میرے  گھر میں  مہمان بن کر آیا ایسا بھیانک گناہ نہ کرو۔

24 دیکھو یہاں  میری بیٹی ہے  جس نے  کبھی کسی سے  جنسی تعلق قائم نہیں  کیا ہے  اور اس کی داشتہ بھی اس کے  ساتھ ہے۔ میں  انہیں  تمہارے  لئے  لاؤں  گا۔ تم جو چا ہو اس کے  ساتھ کرو لیکن اس آدمی  کے  ساتھ اتنا بھیانک گناہ نہ کرو۔”

25 لیکن ان برے  آدمیوں  نے  بوڑھے  آدمی  کی بات نہ سنی اس لئے  لاوی آدمی نے  اپنی داشتہ کو لیا اور اس کو ان بدکار لوگوں  کے  سامنے  کیا۔ ان بد کاروں  نے  اس کے  ساتھ پوری رات زنا کیا پھر سویرے  اسے  جانے  دیا۔

26 سویرے  عورت گھر کو واپس آئی جہاں  اس کا آقا ٹھہرا ہوا تھا۔ وہ گھر کے  سامنے  دروازے  پر گر گئی وہ اس وقت تک پڑی رہی جب تک پورا دن نہ نکلا۔

27 لاوی آدمی  دوسرے  دن صبح سویرے  اٹھا اس نے  گھر کا دروازہ کھو لا وہ اپنے  راستے  جانے  کیلئے باہر نکلا لیکن وہاں  اس کی داشتہ گھر کی چو کھٹ پر پڑی تھی۔ اس کے  ہاتھ دروازہ کی چو کھٹ پر تھے۔

28 تب لاوی نے  اس سے  کہا  اٹھو ہم لوگ چلیں۔”لیکن اس نے  کوئی جواب نہیں  دیا۔ تب اس نے  اسے  اپنے  گدھے  پر رکھا اور گھر گیا۔

29 جب لاوی اپنے  گھر آیا تب اس نے  ایک چھُری نکالی اور اپنی داشتہ کو بارہ ٹکڑوں  میں  کاٹا تب اس نے  عورت کے  ان بارہ حصّوں  کو ان سب شہروں  میں  بھیجا جہاں  بنی اسرائیل رہتے  تھے۔

30 جس نے  یہ دیکھا ان سب نے  کہا”اس سے  پہلے  ایسا کبھی نہیں  ہوا تھا۔ جب سے  بنی اسرائیل مصر سے  آئے  ہیں  تب سے  اب تک ایسا کبھی نہیں  ہوا طے  کرو کہ کیا کرنا ہے  اور ہمیں  بتاؤ؟”

 

 

 

باب: 20

 

 

1 اسرائیل کے  تمام لوگ ایک ساتھ شا مل ہوئے۔ دان سے  بیر سبع تک کے  لوگ خداوند کے  سامنے  مصفاہ شہر میں  جمع ہوئے۔ اسرائیل کے  تمام لوگ ملک میں  آئے۔ یہاں  تک جلعاد خطّہ کے  تمام اسرائیلی لوگ بھی وہاں  تھے۔

2 اسرائیل کے  خاندانی گروہ کے  تمام قائدین بھی وہاں  تھے۔ وہ خدا کے  تمام لوگوں  کی مجلس میں  اپنی اپنی جگہوں  پر بیٹھے  تھے۔ وہاں  ۰۰۰،۴۰۰ سپاہی بھی اپنی تلواروں  کے  ساتھ تھے۔

3 بنیمین کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں  نے  سنا کہ بنی اسرائیل مصفاہ شہر میں  پہنچے  ہیں۔ بنی اسرائیلیوں  نے  کہا”یہ بتاؤ کہ یہ گناہ کیسے  ہوا۔”

4 جس عورت کا قتل ہوا تھا اس کے  شوہر لا وی نے  کہا” میری داشتہ اور میں  بنیمین کے خطّہ میں  جبعہ شہر پہنچے  ہم لوگوں  نے  وہاں  رات گزاری۔

5 لیکن رات کو جبعہ شہر کے  قائدین اس گھر پر آئے  جس میں  میں  ٹھہرا تھا انہوں  نے  گھر کو گھیر لیا۔ اور مجھے  مار ڈالنا چاہا۔ انہوں  نے  میری داشتہ کے  ساتھ زنا کیا اور وہ مر گئی۔

6 اس لئے  میں  اپنی داشتہ کولے  گیا اور اس کے  ٹکڑے  کر ڈالے  تب میں  نے  ہر ایک ٹکڑا اسرائیل کے  ہر ایک خاندانی گروہ کو بھیجا میں  نے  بارہ ٹکڑے  ان ملکوں  کو بھیجے  جنہیں  ہم نے  پایا۔ میں  نے  یہ اس لئے  کیا کہ بنیمین کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں  نے  اسرائیل کے  ملک میں  یہ ظلم اور یہ بھیانک کام کیا ہے۔

7 اب سبھی بنی اسرائیل آپ  کہیں۔ آپ  اپنا فیصلہ دیں  کہ ہمیں  کیا کرنا چاہئے ؟”

8 تب سبھی لوگ ایک ساتھ اٹھ کھڑے  ہوئے۔ ان لوگوں  نے  حالات پر آپس میں  گفتگو کی اور فیصلہ کیا کہ کوئی گھر نہیں  جائے  گا۔

9 ہم لوگ جبعہ شہر کے  ساتھ یہ کریں  گے  :ہم قرعہ ڈالیں  گے تا کہ خدا بتائے  گا کہ ہم لوگ ان لوگوں  کے  ساتھ کیا سلوک کریں۔

10 ہم لوگ اسرائیل کے  تمام خاندانوں  کے  ہر ایک سو میں  سے  دس آدمی  چنیں  گے۔ اور ہم لوگ ایک ہزار میں  سے  ایک سو آدمی  چُنیں  گے  ہم لوگ ہر دس ہزار میں  سے  ہزار چنیں  گے۔ جن لوگوں  کو ہم چن لیں  گے  وہ فوج کیلئے چیزیں  مہیا کریں  گے  پھر فوج شہر جبعہ کو جائے  گی جو بنیمین کے  علاقے  میں  ہے۔ فوج ان لوگوں  کو سزا دے  گی جنہوں  نے  بنی اسرائیلیوں  کے  ساتھ بھیانک کام کیا ہے۔

11 اس لئے  سبھی بنی اسرائیل جِبعہ شہر میں  یکجا ہوئے  وہ سب اس بات سے  متفق تھے  جو وہ کر رہے  تھے۔

12 اسرائیل کے  خاندانی گروہ نے  ایک پیغام کے  ساتھ لوگوں  کو بنیمین کے  خاندانی گروہ کے  پاس بھیجا پیغام یہ تھا :”اس گناہ کے  بارے  میں  کیا کہتے  ہیں  آپ  لوگوں  نے  جو کیا ہے ؟

13 جو ہوا اس کی روشنی میں  ان جبعہ کے  گنہگار آدمیوں  کو ہمارے  پاس بھیجئے۔ ان لوگوں  کو ہمیں  دوتا کہ ہم انہیں  جان سے  مار سکیں۔ ہمیں  بنی اسرائیلیوں  کے  بیچ سے  برائی کو ہٹا نا چاہئے۔” لیکن بنیمین کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں  نے  اپنے  رشتہ دار بنی اسرائیلیوں  کے  قاصدوں  کی ایک نہ سنی۔

14 بنیمین کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں  نے  اپنے  شہروں  کو چھوڑا اور وہ جبعہ شہر میں  پہنچے۔ وہ جِبعہ میں  اِسرائیل کے  دوسرے  خاندانی گروہ کے  خلاف لڑنے  گئے۔

15 بنیمین کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں  نے  ۲۶۰۰۰ فوجوں  کو جمع کیا۔ وہ تمام فوجی جنگ کیلئے تربیت یافتہ تھے۔ ان کے  پاس ۷۰۰ تربیت یافتہ فوجی شہر جبعہ شہر کے  بھی تھے۔

16 وہاں  تربیت یافتہ ۷۰۰ فوجی تھے  جو بائیں  ہاتھ سے  لڑنے  میں  تربیت یافتہ تھے۔ ان میں  سے  ہر ایک غلیل بھی استعمال کر سکتا تھا۔ وہ سبھی ایک بال پر بھی پتھّر مار سکتے  تھے  اور نشانہ نہیں  چوکتا تھا۔

17 اسرائیل کے  خاندانی گروہ نے  ۰۰۰،۴۰۰ آدمیوں  کو جمع کیا۔ یہ سب سپاہی بنیمین خاندانی گروہ کے  علاوہ تھے۔ ان ۰۰۰،۴۰۰ آدمیوں  کے  پاس تلواریں  تھیں  ہر ایک تربیت یافتہ سپاہی تھا۔

18 بنی اسرائیل شہر بیت ایل تک گئے۔ بیت ایل میں  انہوں  نے  خدا سے  پو چھا کہ کونسا خاندانی گروہ بنیمین کے  خاندانی گروہ پر حملہ کرے  گا؟ خداوند نے  جواب دیا”یہوداہ کا خاندانی گروہ پہلے  جائے  گا۔”

19 اگلی صبح بنی اسرائیل اٹھے  انہوں  نے  جبعہ کے  قریب خیمہ ڈالا۔

20 تب اسرائیل کی فوج بنیمین کی فوج کے  خلاف جنگ کیلئے نکل پڑی۔ وہ لوگ ان لوگوں  کے  خلاف جِبعہ میں  لڑائی کیلئے صف آرا ہوئے۔

21 تب بنیمین کی فوج جبعہ شہر کے  باہر نکلی اُس دن کی لڑائی میں  انہوں  نے  اسرائیل کی فوج کے  ۲۲۰۰۰ ہزار سپاہیوں  کو مار ڈالا۔

22 بنی اسرائیل خداوند کے  سامنے  گئے  وہ شام تک رو رو کر چلّاتے  رہے۔ انہوں  نے  خداوند سے  پو چھا”کیا ہم لوگوں  کو بنیمین کے  آدمیوں  کے  خلاف پھر لڑ نا چاہئے ؟” وہ لوگ ہمارے  رشتے  دار ہیں۔ خداوند نے  جواب دیا”جاؤ اور ان کے  خلاف لڑو۔”بنی اسرائیلیوں  نے  ایک دوسرے  کی ہمّت بڑھائی اس لئے  وہ پہلے  دن کی طرح پھر لڑنے  لگے۔

23   24 تب اسرائیل کی فوج بنیمین کی فوج کے  پاس آئی یہ جنگ کا دوسرا دن تھا۔

25 بنیمین کی فوج دوسرے  دن اسرائیل کی فوج پر حملہ کرنے  کیلئے جِبعہ شہر سے  باہر آئی اس دن بنیمین کی فوج نے  اسرائیل کے  اور ۱۸۰۰۰ سپاہی مار ڈالے  جو مارے  گئے  تھے  وہ سب اسرائیل کی فوج کے  تربیت یافتہ سپاہی تھے۔

26 تب سبھی بنی اسرائیل بیت ایل شہر تک گئے۔ اس جگہ پر وہ بیٹھے  اور خداوند کو رو کر پکارا انہوں  نے  سارا دن شام تک کچھ نہیں  کھا یا وہ جلانے  کی قربانی اور اجناس کے  نذ رانے  کی قربانی بھی خداوند کیلئے لائے۔

27 بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند سے  رجوع کیا (ان دنوں  خدا کے  معاہدہ کاصندوق بیت ایل میں  تھا )۔

28 فنیحاس نامی ایک کاہن تھا جومعاہدہ کے  صندوق کے  سامنے  خدمت کرتا تھا۔ ( فنیحاس الیعزر نامی آدمی  کا بیٹا تھا الیعزر ہارون کا بیٹا تھا ) بنی اسرائیلیوں  نے  پو چھا”کیا ہمیں  بنیمین کے  لوگوں  کے  خلاف پھر لڑنے  جانا چاہئے ؟ وہ لوگ ہمارے  رشتے  دار ہیں۔ یا ہم جنگ کرنا بند کر دیں ؟”خداوند نے  جواب دیا”جاؤ اور لڑو! کل میں  انہیں  شکست دینے  میں  تمہاری مدد کروں  گا۔”

29 تب بنی اسرائیلیوں  نے  جبعہ شہر کے  چاروں  طرف اپنے  آدمیوں  کو چھپا دیا۔

30 اسرائیل کی فوج تیسرے  دن جبعہ شہر کے  خلاف جنگ لڑنے  گئی۔ انہوں  نے  جیسا پہلے  کیا تھا ویسے ہی وہ لڑائی کیلئے صف آرا ہوئے۔

31 بنیمین کی فوج اسرائیل کی فو ج سے  جنگ کرنے  کیلئے جِبعہ شہر کے  باہر نکل آئی۔ اسرائیل کی فوج پیچھے  ہٹی اور اس نے  بنیمین کی فوج کو پیچھا کرنے  دیا۔ اس طرح سے  بنیمین کی فوج کو شہر کو پیچھے  چھوڑ دینے  کیلئے دھو کہ دیا۔ بنیمین کی فوج نے  اسرائیل کی فوج کے  کچھ لوگوں  کو ویسے  ہی مارنا شروع کیا جیسے انہوں  نے  پہلے  مارا تھا۔ اسرائیل کے  تقریباً ۳۰ آدمی  مارے  گئے۔ ان میں  سے  کچھ لوگ میدانوں  میں  مارے  گئے  تھے۔ ان میں  سے  کچھ آدمی  سڑکوں  پر مارے  گئے  تھے۔ ایک سڑک بیت ایل کو جا تی تھی۔ دوسری سڑک جبعہ کو جاتی تھی

32 بنیمین کے  لوگوں  نے  کہا” ہم پہلے  کی طرح جیت رہے  ہیں۔”اس وقت بنی اسرائیل پیچھے  بھا گ رہے  تھے۔ لیکن یہ ایک چال تھی۔ وہ بنیمین کے  لوگوں  کو باہر سڑکوں  پر لانا چاہتے  تھے۔

33 اسرائیل کی فوج کے  تمام آدمی  اپنی جگہوں  سے  بڑھے  اور بعل تمر جگہ پر لڑائی کیلئے صف آرائی کی۔ تب جو لوگ جبعہ شہر کی طرف چھپے  تھے۔ وہ اپنے  چھپنے  کی جگہوں  سے  جبعہ کے  مغرب کو دوڑے۔

34 اسرائیل کے  پو رے  تربیت یافتہ ۱۰۰۰۰ فوجوں  نے  جبعہ شہر پر حملہ کیا۔ جنگ بڑی گھمسان کی تھی۔ لیکن بنیمین کی فوج نہیں  جانتی تھی کہ ان کے  ساتھ کون سی بھیانک آفت ہونے  جا رہی تھی؟

35 خداوند نے  اسرائیل کی فوج کو استعمال کیا اور بنیمین کی فوج کو شکست دی۔ اس دن اسرائیل کی فوج نے  بنیمین کے  ۲۵۱۰۰ فو جیوں  کو مار ڈالا وہ تمام فوجی جنگ کیلئے تربیت یا فتہ تھے۔

36 اس طرح بنیمین کے  لوگوں  نے  دیکھا کہ وہ شکست کھا گئے۔ اسرائیل کی فوج پیچھے  ہٹی  کیونکہ انہیں اپنے  آدمیوں  پر بھروسہ تھا کہ وہ جبعہ کے  نزدیک چھپ کر جبعہ کے  لوگوں  پر اچانک حملہ کریں  گے۔

37 جو آدمی  جبعہ کے  چاروں  طرف چھپے  تھے  وہ اچانک جبعہ شہر پرحملہ آور ہوئے اور انہوں  نے  اپنی تلواروں  سے  شہر کے  ہر ایک فرد کو مار ڈالا۔

38 اسرائیلی فوجی دستہ اور چھپ کر گھات لگانے  والے  دستے  کے  درمیان یہ منصوبہ بنا یا گیا تھا کہ چھپ کر گھات لگانے  وا لا دستہ شہر سے  دھوئیں  کا بڑا بادل اُڑائے  گا۔

39 اس لئے  جنگ کے  دوران اسرائیل کی فوج پیچھے  مُڑی اور بنیمین کی فوج نے  اسرائیل کی فوج کے  سپاہیوں  کو مارنا شروع کیا انہوں  نے  کم و بیش تیس سپاہیوں  کو مارا۔ ان لوگوں  نے  سو چا پہلے  جنگ کی طرح ہم لوگوں  نے  انہیں  پوری طرح ہرا دیا ہے۔ لیکن اسی وقت دھوئیں  کا بڑا بادل شہر سے  اٹھنا شروع ہوا بنیمین کے  فوجی مُڑے  اور دھوئیں  کو دیکھا۔ پو را شہر آگ کی لپیٹوں  میں  تھا۔ اسرائیل کی فوج  نے دوڑنا بند کر دیا۔ وہ لوگ مُڑے ا ور لڑنا شروع کر دیا۔ بنیمین کے  لوگ ڈر گئے  تھے۔ اب وہ سمجھ گئے  تھے  کہ ان پر ایک بھیانک آفت آ چکی ہے۔

40۔41۔ 42  اس لئے  بنیمین کی فوج اسرائیل کی فوج کے  سامنے  سے  بھا گ کھڑی ہوئی وہ ریگستان کی طرف بھا گے  لیکن وہ جنگ سے  بچ نہ سکے  اسرائیل کے  جو سپاہی شہر سے  باہر آئے  تھے  انہوں نے بھی ان میں  سے  کچھ کو مار ڈالا۔

43 بنی اسرائیلیوں  نے  بنیمین کے  لوگوں  کو گھیر لیا۔ اور انہوں  نے  ان لوگوں  کا پیچھا کیا۔ انہیں  آرام نہیں  کرنے  دیا۔ انہوں  نے  انہیں  جبعہ شہر کے  مشرق کے  علاقے  میں  مار ڈالا۔

44 اسی طرح ۱۸۰۰۰ بہا در اور طاقتور بنیمین کی فوج کے  سپاہی مارے  گئے۔

45 بنیمین کی فوج مُڑی اور ریگستان کی طرف بھا گی وہ رمّون کی چٹان نامی جگہ پر بھا گ گئیں  لیکن اسرائیل کی فوج نے  سڑک کے  سہا رے  بنیمین کی فوج کے  ۵۰۰۰ فوجوں  کو مار ڈالا۔ وہ بنیمین کے  لوگوں  کا پیچھا کرتے  رہے۔ انہوں  نے  ان کا پیچھا جدوم نامی جگہ تک کیا۔ اسرائیل کی فوج نے  اس جگہ پر بنیمین کی فوج کے  ۲۰۰۰ اور فوجیوں  کو مار ڈالا۔

46 اس دن بنیمین کی فوج کے  ۲۵۰۰۰ فوجی مارے  گئے۔ وہ سبھی تربیت یا فتہ سپاہی تھے۔ بنیمین کے  لوگ بہا در جنگجو تھے۔

47 لیکن بنیمین کے  ۶۰۰ آدمی  مُڑے  اور ریگستان میں  بھا گ گئے  وہ رِمّون کی چٹان نامی جگہ پر گئے  وہ وہاں  چار مہینے  تک ٹھہرے  رہے۔

48 بنی اسرائیل بنیمین کی سر زمین میں  واپس گئے۔ جن شہروں  میں  وہ پہنچے  ان شہروں  کے  آدمیوں  کو انہوں  نے  مار ڈالا وہ جو کچھ ان کے  پاس   تھا  اسے  تباہ کر دیا وہ جس شہر میں  گئے  اسے  جلا ڈالا۔

 

 

 

 

باب: 21

 

 

1 مِصفاہ میں  بنی اسرائیلیوں  نے  وعدہ کیا ان کا وعدہ یہ تھا”ہم لوگوں  میں  سے  کوئی اپنی بیٹی کو بنیمین کے  خاندانی گروہ کے  کسی آدمی  سے  شادی کرنے  نہیں  دے  گا۔”

2 بنی اسرائیل بیت ایل شہر کو گئے  اور خدا کے  سامنے  شام تک بیٹھے  اور زار و قطار روئے۔

3 انہوں  نے  خدا سے  کہا”خداوند تو بنی اسرائیلیوں  کا خدا ہے  پھر یہ ہم لوگوں  کے  ساتھ کیوں  ہوا؟ اسرائیل کے  خاندانی گروہوں  میں  سے  ایک خاندانی گروہ کیوں  غائب ہو گیا۔”

4 اگلے  دن سویرے  بنی اسرائیلیوں  نے  ایک قربان گاہ بنائی انہوں  نے  اس قربان گاہ پر خدا کیلئے جلانے  کی قربانی اور اجناس کی قربانی چڑھا ئی۔

5 تب بنی اسرائیلیوں  نے  کہا”کیا اسرائیل کا کوئی ایسا خاندانی گروہ ہے  جو خداوند کے  سامنے  ہم لوگوں  کے  ساتھ ملنے  نہیں  آیا ہے ؟”انہوں  نے  یہ سوال اس لئے  پو چھا کہ انہوں  نے  سنجیدہ وعدہ کیا تھا۔ انہوں  نے  وعدہ کیا تھا کہ جو کوئی مصفاہ میں  دوسرے  خاندانی گروہ کے  ساتھ نہیں  آئے  گا۔ مار ڈالا جائے  گا۔

6 بنی اسرائیل اپنے  رشتہ داروں  بنیمین کے  خاندانی گروہ کے  لوگوں  کیلئے بہت زیادہ رنجیدہ تھے۔ انہوں  نے  کہا” آج بنی اسرائیلیوں  سے  ایک خاندانی گروہ کٹ گیا ہے۔

7 ہم لوگوں  نے  خداوند کے  سامنے  وعدہ کیا تھا کہ ہم اپنی بیٹیوں  کو بنیمین خاندان کے  کسی آدمی  سے  شادی کرنے  نہیں  دیں  گے۔ ہم لوگ کیا کریں  تاکہ بنیمین کے  گروہ کے  باقی آدمیوں  کو بیوی حاصل ہو سکے۔”

8 تب بنی اسرائیلیوں  نے  پو چھا”اسرائیل کے  خاندانی گروہوں  میں  سے  کون مصفاہ میں  یہاں  نہیں  آیا ہے ؟ ہم لوگ خداوند کے  سامنے  ایک ساتھ آئے  ہیں۔ لیکن ایک خاندانی گروہ یہاں  نہیں  ہے۔”تب انہیں  پتہ لگا کہ اسرائیل کے  دوسرے  لوگوں  کے  ساتھ یبیس جلعاد شہر کا کوئی آدمی  وہاں  نہیں  تھا۔

9 بنی اسرائیلیوں  نے  یہ جاننے  کیلئے کہ وہاں  کون تھا اور کون نہیں  تھا ہر ایک کو گِنا۔ انہوں  نے  دیکھا کہ یبیس جلعاد کا وہاں  کوئی نہیں  تھا۔

10 اس لئے  بنی اسرائیلیوں  نے  اپنے  ۰۰۰۱۲ سب سے  بہا در سپاہیوں  کو یبیس جلعاد شہر کو بھیجا۔ انہوں  نے  ان فوجوں  سے  کہا”جاؤ اور یبیس جلعاد لوگوں  کو عورتوں  اور بچوں  سمیت اپنی تلوار کے  گھاٹ اتار دو۔

11 تمہیں  یہ ضرور کرنا ہو گا۔ یبیس جلعاد میں  ہر ایک مرد کو مار ڈالو۔ ہر اس عورت کو بھی مار ڈالو جو کسی مرد کے  ساتھ جنسی تعلق قائم کر چکی ہے۔ لیکن اس عورت کو نہ مارو جس نے  کبھی کسی مرد کے  ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کیا ہے۔” فوجوں  نے  یہی کیا۔

12 ان بارہ ہزار سپاہیوں  نے  یبیس جلعاد میں  ۴۰۰ ایسی عورتوں  کو پایا جنہوں  نے  کسی مرد کے  ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں  کیا تھا۔ سپاہی ان عورتوں  کو کنعان کے  شیلاہ کے  خیمہ میں  لے  گئے۔

13 تب بنی اسرائیلیوں  نے  بنیمین کے  لوگوں  کے  پاس ایک پیغام بھیجا۔ انہوں  نے  بنیمین کے  لوگوں  کے  ساتھ پُر امن رہنے  کی پیشکش کی۔ بنیمین کے  لوگ رمّون چٹان نامی جگہ پر تھے۔

14 اس لئے  بنیمین کے  آدمی  اسرائیل واپس آئے۔ بنی اسرائیلیوں  نے  انہیں  یبیس جِلعاد کی عورتیں  دیں  جن کو انہوں  نے  نہیں  مارا تھا۔ لیکن بنیمین کے  آدمیوں  کیلئے عورتیں  کافی نہیں  تھیں۔

15 بنی اسرائیلیوں  نے  دکھ محسوس کیا۔ بنیمین کے  آدمیوں  کیلئے وہ دکھی تھے  کیونکہ خداوند نے  انہیں  اسرائیل کے  دوسرے  خاندانی گروہ سے  علیٰحدہ کیا تھا۔

16 بنی اسرائیل کے  بزرگوں  نے  کہا”ہم لوگ بنیمین کے  بچے  ہوئے  آدمیوں  کیلئے بیوی کیسے  پا سکتے  ہیں۔ اس لئے  کہ بنیمین خاندانی گروہ کی سبھی عورتوں  کو مار دیا گیا ہے۔

17 بنیمین کے  لوگ جو کہ اب تک زندہ بچ گئے  تھے  ان کو بچّے  کی ضرورت ہے۔ یہ اس لئے  کرنا ہو گا کہ اسرائیل کے  خاندانی گروہ میں  سے  ہر ایک خاندانی گروہ تباہ نہ ہو۔

18 لیکن ہم لوگ اپنی بیٹیوں  کو بنیمین کے  لوگوں  کے  ساتھ شادی کرنے  کی اجازت نہیں  دے  سکتے  ہم لوگوں  نے  یہ وعدہ کیا ہے۔ کوئی آدمی  جو بنیمین کے  آدمی  کو بیوی دے  گا اس کا بُرا ہو گا۔

19 ہم لوگوں  کے  سامنے  ایک ترکیب ہے  یہ شیلاہ شہر میں  خداوند کی تقریب کا وقت ہے  یہ تقریب یہاں  ہر سال منائی جاتی ہے۔”(شیلاہ شہر بیت ایل کے  شہر کے  شمال میں  ہے  اور اس سڑک کے  مشرق میں  ہے  جو بیت ایل سے  سِکم کو جاتی ہے  اور یہ لیبونہ شہر کے  جنوب میں  بھی ہے۔ )

20 اس لئے  بزرگوں  نے  بنیمین لوگوں  کو اپنا خیال بتایا۔ انہوں  نے  کہا”جاؤ اور انگور کے  کھیت میں  چھپ جاؤ۔

21 تم ہوشیاری سے نگاہ رکھو جب شیلاہ کی نوجوان لڑ کیاں  ناچ میں  حصّہ لینے  کیلئے باہر آئیں  تو تم انگور کے  کھیتوں  سے  باہر آؤ۔ تم میں  سے  ہر ایک، ایک نوجوان عورت کو شیلاہ شہر سے  بنیمین کی سر زمین کولے  جائے اور اس کے  ساتھ شادی کر لے۔

22 ان نو جوان عورتوں  کے  باپ اور بھائی ہم لوگوں  کے  پاس آئیں  گے  اور شکایت کریں  گے۔ لیکن ہم لوگ انہیں  اس طرح جواب دیں  گے۔ :بنیمین کے  لوگوں  پر مہر بانی کرو۔ وہ اپنے  لئے  بیویاں  اس لئے  نہیں  حاصل کر پا رہے  ہیں  کیونکہ وہ لوگ تم سے  لڑے  اور وہ اس طرح سے  عورتوں  کولے  گئے  ہیں۔ تم نے  اپنے  خدا کے  سامنے  کئے  گئے  وعدہ کو نہیں  توڑا تم نے  وعدہ کیا تھا کہ تم انہیں  عورتیں  نہیں  دو گے۔ تم نے  بنیمین کے  لوگوں  کو عورتیں  نہیں  دیں  لیکن انہوں  نے  تم سے  عورتیں  لے  لیں۔ اس لئے  تم نے  وعدہ کو نہیں  توڑا۔”اس لئے  بنیمین کے  خاندانی گروہ کے  آدمیوں  نے  وہی کیا۔ جب جوان عورتیں  ناچ رہی تھیں  تو ہر ایک آ دمی نے  ان میں  سے  ایک ایک کو پکڑ لیا وہ ان عورتوں  کو دور لے  گئے  اور ان کے  ساتھ شادی کی۔ وہ اپنے  علاقے  میں  لوٹ آئے۔ ان لوگوں  نے  دوبارہ شہروں  کو بنا یا اور وہ ان شہروں  میں  رہنے  لگے۔

23 24 تب بنی اسرائیل گھروں  کو گئے۔ وہ اپنی زمین اور خاندانی گروہ کو گئے۔

25 ان دنوں  بنی اسرائیلیوں  کا کوئی بادشاہ نہیں  تھا ہر ایک آدمی  وہی کرتا تھا جو  وہ صحیح سمجھتا تھا۔

٭٭٭

ماخذ:

http://gospelgo.com/a/urdu_bible.htm

پروف ریڈنگ: اویس قرنی، اعجاز عبید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید