FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

عہد نامہ قدیم

 

 

                   3۔ کتاب احبار

 

 

 

 

                   جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

احبار   1

 

1 خداوند خدا نے  موسیٰ کو خیمۂ اجتماع میں بلایا اور اُس سے  کہا۔ خداوند نے  کہا،

2″ بنی اسرائیلیوں سے  کہو تم لوگوں میں سے  کوئی جب خداوند کے  لئے  نذرانہ لائے  تو تمہیں ایک جانور بھیڑ کے  ریوڑ یا مویشیوں کے  جھنڈ سے  لا نا چاہئے۔

3 اگر یہ جلانے  کا نذرانہ ہو اور یہ مویشیوں کے  جھنڈ سے  ہو تو یہ جانور بے  عیب نر ہو نا چاہئے  اور اس آدمی  کو وہ جانور خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر لانا چاہئے۔ تب خداوند اس نذرانہ کو قبول کرے  گا۔

4 اس آدمی  کو اپنا ہاتھ جانور کے  سر پر رکھنا چاہئے۔ خداوند اس کے  جلانے  کے  نذرانہ کو اس کے  کفّارہ کے  طور پر قبول کرے  گا۔

5″ آدمی  کو چاہئے  کہ وہ بچھڑے  کو خداوند کے  سامنے  مارے۔ ہارون کے  بیٹوں کو بچھڑے  کا  خون لانا چاہئے  اور اسے  خیمۂ اجتماع کے  دروازوں پر قربان گاہ کے  چاروں طرف چھڑکنا چاہئے۔

6 وہ چمڑا کو ہٹائے  گا اور جانور کے  باقی عضو کو ٹکڑے  ٹکڑے  میں کاٹے  گا۔

7 ہارون کے  کاہن بیٹوں کو قربان گاہ پر لکڑی اور آ گ تیار رکھنا چاہئے۔

8 ہارون کے  کاہن بیٹوں کو ان ٹکڑوں کو سر اور چربی کے  ساتھ لکڑی پر رکھنی چاہئے  اس لکڑی کو قربان گاہ پر آ گ کے  اوپر رکھنی چاہئے۔

9 کاہن کو  جانور کے  اندرونی حصوں اور پیروں کو پانی سے  دھو نا چاہئے۔ پھر کاہن کو جانور کے  تمام حصّوں کو قربان گاہ پر جلانا چاہئے  یہی جلانے  کی قربانی ہے۔ اس کی بو خداوند کو خوش کر تی ہے۔

10″ اور کوئی شخص بھیڑ کے  ریوڑ سے  کچھ چاہے  وہ بھیڑ ہو یا بکری جلانے  کے  نذرانہ کے  طور پر پیش کرے  تو یہ جانور نر اور بے  عیب ہونا چاہئے۔

11 اس آدمی  کو قربان گاہ کے  شمال کی جانب خداوند کے  سامنے  جانور کو ذبح کرنا چاہئے۔ ہارون کے  کاہن بیٹوں کو قربان گاہ کے  چاروں طرف اس کے  خون کو چھڑکنا چاہئے۔

12 تب کاہن کو چاہئے  کہ وہ اس جانور کو ٹکڑوں میں کاٹے  اسے  جانور کا سر اور چربی کو جلاون کے  لکڑی کے  اوپر رکھنا چاہئے  جو قربان گاہ کی جلتی ہوئی آ گ پر ہو گی۔

13 کاہن کو جانور کے  اندرونی حصّوں کو اور اس کے  پیروں کو دھونا چاہئے۔ تب ان سارے  حصّوں کو چڑھا نا اور قربان گاہ پر جلانا چاہئے۔ یہ جلانے  کا نذرانہ ہے۔ یہ تحفہ ہے  اور اس کی بو خداوند کو خوش کرے  گی۔

14″ اگر کوئی شخص ایک چڑیا کو جلانے  کا نذرانہ کے  لئے  اپنی قربانی کے  طور پر خداوند کو پیش کرے  تو چڑیا چاہے  تو فاختہ یا کبوتر کا بچّہ ہو نا چاہئے۔

15 کاہن نذر کئے  گئے  چڑیا کو قربان گاہ پرلے  آئے  گا۔ کاہن پرندے  کے  سر کو الگ کرے  گا۔ تب پرندے  کو قربان گاہ پر جلائے  گا۔ پرندے  کا خون قربان گاہ کی پہلو کی طرف بہنا چاہئے۔

16 کاہن کو پرندہ کے  دانے  کی تھیلی کو پَر کے  ساتھ الگ کر کے  قربان گاہ کے  مشرق کی جانب پھینک دینا چاہئے۔ یہ وہی جگہ ہے  جہاں وہ قربان گاہ سے  راکھ نکال کر پھینکتے  ہیں۔

17″ تب کاہن کو پروں کے  پاس سے  پرندہ کو چیرنا چاہئے  لیکن پرندہ کو دو حصّوں میں جدا جدا کرنا نہیں چاہئے۔ کاہن کو چاہئے  اسے  قربان گاہ پر رکھی ہوئی جلاون کی لکڑی پر پرندہ کو جلانا چاہئے۔ جلانے  کی قربانی ایک تحفہ ہے  اور اس کی بُو سے  خداوند کو خوشی ہوتی ہے۔

 

 

 

 

احبار   2

 

 

1″ اگر کوئی شخص خداوند کو اناج کا نذرانہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ تو یہ باریک آٹا کا ہونا چاہئے۔ آٹا میں تیل ڈالنے  کے  بعد اس میں لوبان ڈالنا چاہئے۔

2 تب اس شخص کو اسے  ہارون کے  کاہن بیٹوں کے  پاس لانا چاہئے۔ وہ شخص تیل اور لوبان سے  مِلا ہوا ایک مٹھی باریک آٹا لے۔ اور اُسے  کاہن کے  پاس اِسے  قربان گاہ پر تحفے  کے  طور پر پیش کرنا چاہئے۔ اور اُس کی بُو خداوند کو خوش کرے  گی۔

3 اناج کی قربانی کا باقی بچا ہوا حصّہ ہارون اور ان کے  بیٹوں کی ہو گی۔ خداوند کو پیش کئے  گئے  تحفوں میں سے  یہ سب سے  زیادہ مقدس ہے۔

4″ اگر تم اناج کا نذرانہ لاؤ تو تمہیں تنور میں پکی ہوئی روٹی یا تیل مِلا ہوا باریک آٹے سے  بنی ہوئی بغیر خمیری روٹی یا تیل لگائی ہوئی بغیر خمیر کی روٹی ہونی چاہئے۔

5 اگر تم تلنے  کی کڑھائی سے  اناج کی قربانی لاتے  ہو تو یہ تیل ملا ہوا بغیر خمیر کے  باریک آٹا ہونا چاہئے۔

6 پہلے  تمہیں اسے  کئی حصّوں میں بنا نا چاہئے  اور تب اس پر تیل لگا نا چاہئے۔ یہ ایک اناج کا نذرانہ ہے۔

7 اگر تم اجناس کی قربانی تلنے  کی کڑھائی سے  لاتے  ہو تو یہ تیل ملے  باریک آٹے  کی ہونی چاہئے۔

8 تم ان چیزوں سے  بنی اجناس کی قربانی خداوند کے  لئے  لاؤ گے  تم ان چیزوں کو کاہن کے  پاس لے  جاؤ گے  اور وہ اُسے  قربان گاہ پر رکھے  گا۔

9 تب کاہن کو اناج کے  نذرانے  کی یاد گار حصّہ لینا چاہئے  او اسے  قربان گاہ پر تحفے  کے  طور پر پیش کر نا چاہئے۔ اور اس کی بُو خداوند کو خوش کرے  گی۔

10 باقی اناج کی قربانی ہا رون اور اس کے  بیٹوں کی ہو گی۔ یہ قربانی خداوند کو آ گ سے  چڑھائی جانے  وا لی قربانیوں میں بہت پاک ہو گی۔

11″ تمہیں خداوند کو خمیر وا لی اناج کی کوئی قربانی نہیں چڑھانی چاہئے۔ تمہیں خداوند کے  تحفے  کو طور پر پیش کرنے  کے  لئے  خمیری یا شہد نہیں جلانا چاہئے۔

12 تم اُسے  پہلے  پھل سے  خداوند کو پیش کرنے  کے  لئے  لا سکتے  ہو۔ لیکن انہیں خداوند کو خوش کرنے  کے  لئے  نذرانہ کے  طور پر خوشبو کے  ساتھ قربان گاہ پر پیش نہیں کر نا چاہئے۔

13 تمہیں اپنی لائی ہوئی ہر ایک اناج کی قربانی پر نمک بھی رکھنا چاہئے۔ تمہیں اپنے  سارے  اناج کے  نذرانوں میں خدا کے  معاہدہ کا نمک استعمال کر نا چاہئے۔ تمہیں اپنی سب قربانیوں کے  ساتھ نمک لا نا چاہئے۔

14″ اگر تم پہلی فصل سے  خداوند کے  لئے  اناج کی قربانی لاتے  ہو تو تمہیں بھُنے  ہوئے  نذرانے  لانے  چاہئے۔ یہ نیا مَلا ہوا اناج ہو نا چاہئے۔ یہ پہلی فصل سے  اناج کی قربانی ہو گی۔

15 تمہیں اُس پر تیل ڈالنا اور لو بان رکھنا چاہئے  یہ اناج کی قربانی ہے۔

16 کاہن کو چاہئے  کہ وہ مَلے  ہوئے  اناج کا یادگاری نذرانہ اور اس کے  لوبان کے  ساتھ اس کا تیل لے۔ یہ خداوند کے  لئے  تحفہ ہے۔

 

 

 

 

احبار   3

 

 

1″ اگر ایک شخص ہمدردی کا نذرانہ پیش کرتا ہے  تو اسے  جانور کے  گلّہ سے  ایک جانور خداوند کے  سامنے  لا نا چاہئے۔ یہ نر یا مادہ ہو سکتا ہے  اور یہ بے  عیب ہونا چاہئے۔

2 اس شخص کو اپنا ہاتھ اپنے  نذرانے  کے  سر پر رکھنا چاہئے۔ اور اسے  خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر ذبح کرنا چاہئے۔ اور ہا رون کے  کاہن بیٹوں کو خون لے  کر قربان گاہ کے  چاروں طرف چھڑکنا چاہئے۔

3 اس شخص کو کچھ ہمدردی کا نذرانہ تحفے  کے  طور پر خداوند کو پیش کرنا چاہئے۔ قربانی کے  لئے  پیش کرنے  والے  سامان میں اندرونی حصّہ میں پائے  جانے  وا لی چربی اور اندرونی حصّہ کو ڈھکنے  وا لی چربی بھی شامل ہونی چاہئے

4 دونوں گردے  اور اس کو ڈھکنے  والی چربی اور وہ چر بی جو پٹھّے  پر ہے ، اور کلیجہ کو ڈھانکنے  وا لی چربی کو بھی نکال دینی چاہئے۔

5 پھر ہا رون کے  بیٹے  چربی کو قربان گاہ پر جلانے  کے  نذرانے  کے  اوپر جو کہ لکڑی کے  اوپر رکھی ہوئی ہے  جلائیں گے۔ یہ ایک تحفہ ہے  اور اس کی خوشبو خداوند کو خوش کرے  گی۔

6″ اگر کوئی ِ شخص ا پنے  ریوڑ سے  خداوند کو ہمدردی کا نذرانہ پیش کرنے  کے  لئے  لاتا ہے  چاہے  جانور نر ہو یا مادہ بے  عیب ہونا چاہئے۔

7 اگر وہ قربانی کے  لئے  ایک میمنہ لاتا ہے  تو اسے  خداوند کے  سامنے  لانا چاہئے۔

8 اسے  اپنا ہاتھ جانور کے  سر پر رکھنا چاہئے  اور خیمۂ اجتماع کے  سامنے  اسے  ذبح کرنا چاہئے۔ تب ہارون کے  بیٹے  کو قربان گاہ پر چاروں طرف اس کا خون چھڑکنا چاہئے۔

9 جب وہ شخص کچھ ہمدردی کا نذرانہ تحفے  کے  طور پر خداوند کو پیش کرتا ہے  تو اس شخص کو چربی اور چربی سے  بھری دُم اور جانور کے  اندرونی حصّوں کے  اوپر اور چاروں طرف کی چربی لانی چاہئے۔ اسے  اس دُم کو ریڑھ کی ہڈی کے  بالکل قریب سے  کاٹنا چاہئے۔

10 اس شخص کو دونوں گردوں اور انہیں ڈھکنے  والی چربی اور پٹھے  کی چربی بھی نذر میں چڑھانی چاہئے۔ اسے  کلیجہ کی جھلی کو ڈھکنے  والی چربی بھی قربانی کے  لئے  چڑھانی چاہئے۔ اسے  گردوں کے  ساتھ کلیجہ کی جھلّی کو نکال لینا چاہئے۔

11 تب کاہن قربان گاہ پر ان سب کو غذا کے  طور پر جلائے  گا۔ یہ خداوند کا تحفہ ہے۔

12″ اگر اس کی قربانی ایک بکرا ہے  تو وہ اسے  خداوند کے  سامنے  نذر کرے۔

13 اس کو بکرے  کے  سر پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہئے  اور خیمۂ اجتماع کے  سامنے  اسے  ذبح کرنا چاہئے۔ تب ہارون کے  بیٹے  اس کا خون قربان گاہ پر چاروں طرف چھڑکیں گے۔

14 تب اس کا کچھ حصّہ اندرونی حصّہ کو ڈھکنے  والی چربی کے  ساتھ خداوند کے  لئے  نذرانہ کے  طور پر لانا چاہئے۔

15 اسے  دونوں گردوں کو ڈھکنے  والی چربی، دونوں گردوں اور جانور کے  پٹھے  کی چربی نذر میں چڑھانی چاہئے۔ اسے  کلیجے  کی جھلی اور گردوں کو تحفہ کے  طور پر لانا چاہئے۔

16 کاہن کو قربان گاہ پر ان سب کو جلانا چاہئے۔ یہ خداوند کے  لئے  غذا اور تحفہ ہو گا۔ اس کی بُو خداوند کو خوش کرتی ہے۔ ساری چربی خداوند کیلئے ہے۔

17 یہ شریعت تمہاری سبھی نسلوں میں ہمیشہ چلتی رہے  گی تم جہاں کہیں بھی رہو۔ تمہیں خون یا چربی نہیں کھانی چاہئے۔”

 

 

 

 

احبار   4

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا :

2″ بنی اسرائیلیوں سے  کہو اگر کوئی شخص غیر ارادی طور پر گناہ کر لیتا ہے  جس کو خداوند کے  حکم کے  مطابق نہیں کر نا چاہئے۔ تو اُسے  یہ چیزیں کرنی چاہئے  :

3″ اگر ایک منتخب کاہن کوئی ایسا گناہ کرتا ہے  جو لوگوں کو قصوروار بنا دیتا ہے ، تب اسے  خداوند کو گناہ کے  نذرانے  کے  طور پر قربانی پیش کر نا چاہئے۔ اسے  ایک سانڈ خداوند کو پیش کرنا چاہئے  اور یہ بے  عیب ہونا چاہئے۔ یہ خداوند کے  لئے  گناہ کا نذرانہ ہو گا۔

4 منتخب کاہن کو اُس سانڈ کو خداوند کے  سامنے  خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر لانا چاہئے۔ اُسے  اپنا ہاتھ اس بچھڑے  کے  سر پر رکھنا چاہئے  اور خداوند کے  سامنے  اسے  ذبح کر نا چاہئے۔

5 تب منتخب کاہن کو بچھڑے  کا خون لینا چاہئے  اور خیمۂ اجتماع میں لے  جانا چاہئے۔

6 تب کاہن کو اپنی انگلیاں خون میں ڈبونی چاہئے  اور خداوند کے  سامنے  مقدس ترین پردے  کی جگہ کے  آگے  خون کو سات دفعہ چھڑکنا چاہئے۔

7 کاہن کو کچھ خون لوبان جلانے  کی قربان گاہ کے  کونوں پر لگانا چاہئے۔ یہ خداوند کے  خیمۂ اجتماع میں ہے۔ کاہن کو بچا ہوا خون جلانے  کے  نذرانے  کی قربان گاہ کی بنیاد پر ڈالنا چاہئے  جو کہ خیمۂ اجتماع کے  دروازوں پر ہے۔

8 اور اسے  گناہ کے  نذرانہ کے  سانڈ کی تمام چربی کو نکال لینا چاہئے۔ اسے  اندرونی حصوں کے  اوپر اور اس کے  چاروں طرف کی چربی کو بھی نکال لینی چاہئے۔

9 اسے  دونوں گردوں اور اس کے  اوپر کی چربی اور پٹھے  پر کی چربی کو بھی نکال لینا چاہئے۔ اسے  کلیجے کے اوپر کی جھلّی کو بھی گردوں کے  ساتھ نکال لینا چاہئے۔

10 جب یہ ساری چیزیں ہمدردی کے  نذرانے  کے  سانڈ سے  نکال لی جاتی ہے  تو کاہن کو انہیں جلانے  کے  نذرانے  کے  قربان گاہ پر پیش کرنا چاہئے۔

11 لیکن کاہن کو سانڈ کا چمڑا، سر سمیت اس کا تمام گوشت، پیر، اندرونی حصّہ اور گوبر،

12 یعنی کہ یہ سانڈ کا پورا جسم خیمہ کے  باہر کھلی ہوئی صاف جگہ میں جہاں پر راکھ پھینکا جاتا ہے  لانا چاہئے۔ یہ تمام چیزیں راکھ کے  ڈھیر پر جلاون کی لکڑی پر جلانا چاہئے۔

13″ ایسا ممکن ہے  کہ پورے  ملک اسرائیل سے  انجانے  میں کوئی ایسا گناہ ہو جائے  جسے  نہ کرنے  کا حکم خداوند نے  دیا ہو۔ اس طرح سے  وہ قصوروار سمجھا جائے  گا۔

14 جب اسے  بعد میں یہ محسوس ہوتا ہے  کہ وہ گناہ کیا ہے۔ تو پورے  ملک کے  لئے  ایک سانڈ گناہ کے  نذرانے  کے  طور پر قربانی کرنی چاہئے۔ انہیں اسے  خیمۂ اجتماع کے  سامنے  لانا چاہئے۔

15 بزرگوں کو خداوند کے  سامنے  سانڈ کے  سر پر اپنے  ہاتھ رکھنے  چاہئے۔ انہیں خداوند کے  سامنے  سانڈ کو ذبح کرنا چاہئے۔

16 تب منتخب کاہن کو سانڈ کا کچھ خون خیمۂ اجتماع میں لانا چاہئے۔

17 کاہن کو اپنی انگلیاں خون میں ڈبونی چاہئیں  اور پردے  کے  آگے  سات بار خون کو خداوند کے  سامنے  چھڑکنا چاہئے۔

18 تب کاہن کو کچھ خون قربان گاہ کے  کونوں پر رکھنا چاہئے  وہ قربان گاہ خیمۂ اجتماع میں خداوند کے  سامنے  ہے۔ کاہن کو بچا ہوا خون جلانے  کی قربان گاہ کی بنیاد پر ڈالنا چاہئے۔ وہ جلانے  کے  نذرانے  کی قربان گاہ ہے  جو خیمۂ اجتماع کے  دروازے  کے  سامنے  ہے۔

19 پر کاہن کو جانور کی تمام چربی نکال لینی چاہئے  اور اسے  قربان گاہ پر پیش کرنا چاہئے۔

20 اس سانڈ کے  ساتھ ویسا ہی کیا گیا ہے  جیسا کہ گناہ کے  نذرانے  کی قربانی پیش کئے  گئے  سانڈ کے  ساتھ کیا گیا تھا۔ اس سانڈ کے  ساتھ ایسا ہی کیا جائے  گا۔ اس طرح سے  کاہن ان کے  لئے  کفارہ دے۔ ان لوگوں کے  لئے  اس کو معاف کیا جائے۔

21 کاہن سانڈ کو چھاؤنی سے  باہر لے  جائے  گا اور اسے  وہاں جلائے  گا جیسا کہ اس نے  پہلے  سانڈ کو جلایا تھا۔ یہ پوری جماعت کے  گناہ کا نذرانہ ہے۔

22″ ممکن ہے  کہ کوئی حاکم انجانے  میں گناہ کر سکتا ہے  جسے  خداوند کے  حکم کے  مطابق نہیں کرنا چاہئے  تھا۔ اس حالت میں حاکم بھی قصوروار ہے۔

23 جب اسے  یہ پتا چلے  گا کہ اس نے  گناہ کیا ہے  تو اسے  ایک بکرا جو کہ بے  عیب ہو لانا چاہئے۔ اور یہ اس کا نذرانہ ہو گا۔

24 حاکم کو بکرے  کے  سرپر اپنا ہاتھ رکھنا چاہئے  اور اسے  اس جگہ پر ذبح کرنا چاہئے۔ جہاں وہ جلانے  کی قربانی کو خداوند کے  سامنے  ذبح کرتے  ہیں۔ بکرے  کی قربانی ایک گناہ کا نذرانہ ہے۔

25″ کاہن کو گناہ کے  نذرانے  کا کچھ خون اپنی انگلیوں میں لینا چاہئے  اور اسے  جلانے  کے  نذرانے  کی قربان گاہ کے  سینگوں پر رکھنا چاہئے۔ کاہن کو باقی بچے  خون جلانے  کے  نذرانے  کی قربان گاہ کی بنیاد میں ڈالنا چاہئے

26 کاہن کو پوری چربی قربان گاہ پر ہمدردی کے  نذرانے  کے  طریقے  پر جلانا چاہئے۔ اس طرح سے  کاہن اس کے  لئے  اس کے  گناہ کا کفارہ ادا کرتا ہے  اور اس کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔

27 ممکن ہے  عام رعایا میں سے  کوئی شخص انجانے  میں گناہ کر سکتا ہے  جسے  خداوند نے  نہ کرنے  کا حکم دیا ہو۔ اور وہ قصور وار ہو جاتا ہے۔

28 جب اس کو گناہ کا پتا چلے  گا۔ تو وہ ایک بے  عیب بکری لائے۔ یہ ان کے  گناہ کے  لئے  نذرانہ ہو گا۔

29 اسے  اپنا ہاتھ اس جانور کے  سر پر رکھنا چاہئے۔ اور جلانے  کی قربانی کی جگہ پر اسے  ذبح کرنا چاہئے۔

30 تب کاہن کو اس بکری کا کچھ خون اپنی انگلی پر لینا چاہئے  اور اسے  جلانے  کے  نذرانے  کے  قربان گاہ کی سینگوں پر چھڑکنا چاہئے۔ کاہن کو قربان گاہ کی بنیاد پر بکری کا باقی تمام خون اُنڈیلنا چاہئے۔

31 پھر کاہن کو بکری کی تمام چربی اسی طرح نکالنی چاہئے  جس طرح ہمدردی کے  نذرانہ سے  نکالی گئی تھی۔ تب کاہن کو اسے  قربان گاہ پر جلانا چاہئے۔ اس کی بُو خداوند کو خوش کر تی ہے۔ اس طرح کاہن اس کے  لئے  کفارہ ادا کرتا ہے۔ اور اس کے  گناہ کو معاف کیا جاتا ہے۔

32 اگر کوئی شخص گناہ کے  نذرانہ کے  طور پر ایک میمنہ لاتا ہے  تو اسے  مادہ میمنہ لانا چاہئے  جس میں کوئی عیب نہ ہو۔

33 اس شخص کو اس کے  سر پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہئے  اور اسے  اس جگہ پر گناہ کے  نذرانہ کے  طور پر ذبح کرنا چاہئے۔ جہاں وہ جلانے  کی قربانی کے  جانور کو ذبح کئے۔

34 کاہن کو اپنی انگلی پر گناہ کے  نذرانے  کا خون لینا چاہئے  اور اسے  جلانے  کی قربان گاہ کے  سینگوں پر چھڑکنا چاہئے۔ تب اسے  باقی بچے  ہوئے  تمام خون کو قربان گاہ کی بنیاد پر اُنڈیلنا چاہئے۔

35 کاہن کو تمام چربی اسی طرح لینی چاہئے  جس طرح ہمدردی کی قربانی کے  میمنہ کی چربی لی گئی تھی۔ تب کاہن ان تمام چیزوں کو خداوند کے  لئے  تحفہ کے  طور پر قربان گاہ پر جلائے۔ اس طرح کاہن اس کے  گناہوں کا جو اس نے  کیا تھا کفارہ ادا کرتا ہے  اور اس کے  گناہ کو معاف کر دیا جاتا ہے۔

 

 

 

 

احبار   5

 

 

1″ اگر کسی شخص کو عدالت میں جو کچھ اس نے  دیکھا یا سُنا ہے  اس کی گواہی دینے  کے  لئے  بلا یا جاتا ہے  لیکن وہ نہیں بتاتا ہے  تو وہ گناہ کرتا ہے۔ اور وہ قصوروار ہے۔

2 اگر کوئی شخص کسی نا پاک چیز کو چھوتا ہے ، مثال کے  طور پر وہ کسی ناپاک مخلوق کے  مردہ جسم کو چھوتا ہے  چاہے  وہ نا پاک جانور کا مردہ جسم ہو یا رینگنے  والے  نا پاک جانور کا مردہ جسم ہو اور اگر وہ شخص اس چیز کے  با رے  میں بے  خبر ہے  تو بھی وہ نا پاک اور قصوروار ہے۔

3 یا اگر وہ شخص کسی انسانی نجاست کو کوئی بھی چیز جو اسے  ناپاک کر سکتا ہے  اسے  چھوتا ہے  اور اگر وہ اس کو نہیں جانتا ہے ، لیکن جب وہ اس کے  با رے  میں جان جاتا ہے  تو وہ قصوروار ہے۔

4 یا اگر کوئی شخص جلد بازی میں کچھ بھی اچھا ہو یا بُرا، لوگوں کے  لئے  پورا کرنے  کا وعدہ کرتا ہے۔ اگر وہ اس طرح کا وعدہ کرتا ہے  اور اِسے  پو را کرنا بھول جاتا ہے  اور اگر وہ اپنے  وعدہ کو بعد میں پو را کرتا ہے  تو قصوروار ہے۔

5 اگر وہ شخص اس طرح کی حرکت کا قصور وار ہے  توا سے  اپنی بُرائی قبول کرنی چاہئے۔

6 اُس نے  جو گناہ کیا ہے  اس کے  لئے  جرم کا نذرانہ خداوند کے  لئے  ضرور لانا چاہئے۔ اپنے  جھنڈ میں سے  ایک مادہ جانور۔ یہ جھنڈ کی  بکری یا میمنہ ہو سکتا ہے۔ کاہن اس گناہ اور اس کے  لئے  کفّارہ ادا کرتا ہے۔

7″ اگر کوئی شخص جرم کے  نذرانہ کے  طور پر میمنہ پیش کرنے  کی استطاعت نہ رکھ سکتا ہو تو وہ قربانی کے  طور پر دو فاختہ یا دو کبوتر پیش کر سکتا ہے۔ ایک چڑیا گناہ کا نذرانہ اور دوسرا جلانے  کا نذرانہ ہے۔

8 اس شخص کو چاہئے  کہ وہ اُن پرندوں کو کاہن کے  پاس لائے۔ کاہن کو پہلے  گناہ کی قربانی کے  طور پر ایک پرندہ کو چڑھانا چاہئے۔ کاہن اس کے  گردن کو موڑ دے  گا لیکن کاہن اس کو دو حصّوں میں نہیں بانٹے  گا۔

9 پھر کاہن گناہ کی قربانی کے  کچھ خون کو قربان گاہ کے  کونوں پر چھڑکے  گا۔ پھر کاہن کو بچا ہوا خون قربان گاہ کی بُنیاد پر ڈالنا چاہئے۔ یہ گناہ کی قربانی ہے۔

10 پھر کاہن کو جلانے  کی قربانی کے  طور پر دوسرے  پرندے  کی قربانی چڑھانی چاہئے۔ اور کاہن اس کے  لئے  اس نے  جو گناہ کیا ہے  اس کا کفّارہ ادا کرتا ہے  اور اس کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے۔

11″ اگر کوئی شخص دو فاختہ یا دو کبوتر قربانی کے  طور پر پیش کرنے  کی استطاعت نہ رکھ سکتا ہو توا سے  آ ٹھ پیالے  باریک آٹا لا نا چاہئے۔ یہ اُس کے  گناہ کی قربانی ہو گی۔ اُس آدمی  کو آٹے  پر تیل نہیں ڈالنا چاہئے  اسے  اُس پر لوبان نہیں رکھنا چاہئے  کیونکہ یہ گناہ کی قربانی ہے۔

12 اس شخص کو باریک آٹا کاہن کے  پاس لا نا چاہئے۔ کاہن اُس میں سے  مٹھی بھر آٹا نکالے  گا۔ یہ یادگار نذرانہ ہو گا۔ کاہن خداوند کے  لئے  باریک آٹے کا تحفہ ساتھ جلائے  گا یہ گناہ کی قربانی ہے۔

13 اِس طرح کاہن اس کے  لئے  اس نے  جو گناہ کیا ہے  اس کا کفارہ ادا کرے  گا اور اس کا گناہ معاف کر دیا جائے  گا۔ گناہ کی قربانی کا بچا ہوا حصّہ کاہن کا ہو گا ویسا ہی جیسے  اجناس کی قربانی ہوتی ہے ”

14 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا

15″اگر کوئی شخص انجانے  میں خداوند کی مقدس چیزوں کے  تعلق سے  کوئی غلطی کرتا ہے  تو اس کو جھنڈ سے  ایک نر مینڈھا لانا چاہئے۔ یہ بے  عیب ہونا چاہئے۔ یہ مینڈھا خداوند کے  لئے  جرم کی قربانی کے  طور پر پیش کیا جائے  گا۔ تمہیں اس مینڈھے  کی قیمت کا تعین سرکاری ناپ کے  مطابق کرنا چاہئے۔

16 اسے  مقدس چیزوں کے  لئے  جسے  اس نے  لیا ہے  ضرور ادا کر نا چاہئے۔ اُس کو اس قیمت میں اس کی قیمت کا پانچواں حصہ ملانا چاہئے  اور اُسے  کاہن کو دینا چاہئے۔ اِس طرح کاہن جرم کی قربانی کے  مینڈھے  کے  ساتھ اُس کے  لئے  کفارہ ادا کرے  گا۔ اور وہ معاف کر دیا جائے  گا۔

17″اگر کوئی شخص گناہ کرتا ہے  اور جن چیزوں کو نہ کرنے  کا حکم خداوند نے  دیا ہے  وہ اُنہیں کرتا ہے  حالانکہ وہ اس سے  با خبر بھی نہیں ہے۔ وہ شخص قصور وار ہے  اور اپنے  گناہ کا وہ خود ذمّہ دار ہے۔

18 اس شخص کو اپنے  ریوڑ سے  ایک مینڈھا لانا چاہئے۔ مینڈھا بے  عیب اور صحیح قیمت کا ہونا چاہئے۔ اور اسے  جرم کی قربانی کے  طور پر قربانی دو۔ اسے  مینڈھا کو کاہن کے  پاس لانا چاہئے۔ اِسے  قربان کر کے کاہن اس شخص کے  اُس گناہ کے  لئے  کفّارہ ادا کرے  گا جسے  بغیر ارادہ کے  اور انجانے  میں کیا تھا۔ اور اسے  معاف کر دیا جائے  گا۔

19 یہ جرم کی قربانی ہے۔ جسے  وہ پیش کرتا ہے  جب وہ خداوند کے  سامنے  قصوروار ہے۔

 

 

 

 

احبار   6

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2″ کوئی شخص مندر جہ ذیل میں سے  کوئی بھی حرکت کر کے  خداوند کے  خلاف گناہ کرتا ہے  : وہ اپنے  پڑوسی کو اس کی امانت کی چیزوں کو خود اپنے  پاس رکھ کر کے  یا چُرا کر کے  یا اس کو واپس دینے  سے  انکار کر کے  دھوکہ دیتا ہے۔

3 یا وہ کسی بھی کھوئی ہوئی چیز پاتا ہے  اور اس سے  انکار کرتا ہے ، اور وہ ان سب چیزوں کے  بارے  میں جسے  کہ لوگ کرتے  ہیں جھوٹی قسم کھا سکتا ہے۔”

4 اگر کوئی شخص ان غلطیوں میں سے  کوئی غلطی کرتا ہے  تو وہ قضور وار ہے۔ اسے  ان چیزوں کو جسے  اس نے  چرایا ہے ، یا ان چیزوں کو جسے  کسی کو دھو کہ دیکر لیا ہے ، یا امانت جسے  اس کے  پاس رکھی گئی تھی یا گم شدہ سامان جسے  اس نے  پایا ہے  اُسے  ضرور واپس کرنا چاہئے۔

5 یا اگر وہ کسی سے  جھوٹا وعدہ کیا تھا تو اسے  ضرور ادا کرنا چاہئے  اور اسے  مالک کو نقصان کا پانچواں حصّہ اپنے  جرم کی قربانی کے  دن ادا کر نا چاہئے۔

6″اس شخص کو جرم کی قربانی خدا کے  حضور ادا کر نا چاہئے۔ یہ اس کے  ریوڑ کا ایک مینڈھا ہو نا چاہئے۔ مینڈھے  میں کوئی عیب نہیں ہونا چاہئے۔ یہ اتنی قیمت کی ہونی چاہئے  جو کاہن جرم کی قربانی کے  لئے  طے کرے۔

7 کاہن اس کے  لئے  خداوند کے  سامنے  کفّارہ ادا کرے  گا اور اسے  جو کسی بھی چیز کے  لئے  قصور کا سبب بنتا ہے  معاف کیا جائے  گا۔”

8 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا

9″ہارون اور اُس کے  بیٹوں کو یہ حکم دو :جلانے  کی قربانی کی شریعت یہ ہے  :قربانی کا سامان قربان گاہ پر ساری رات صبح تک رہنا چاہئے۔ قربان گاہ پر آ گ جلتی رہنی چاہئے۔

10 کاہن کو کتانی لباس پہننا چاہئے۔ اسے  زیر جامہ جیسا لباس بھی پہننا چاہئے۔ اسے  جلانے  کا نذرانہ پیش کرنے  کے  بعد قربان گاہ پر بچی  راکھ کو ہٹانا چاہئے۔ اسے  قربان گاہ کے  آگے  راکھ رکھنی چاہئے۔

11 پھر کاہن کو اپنے  لباس اتار نا چاہئے  اور دُوسرا لباس پہننا چاہئے۔ پھر  راکھ کو خیمہ سے  باہر صاف جگہ پرلے  جانا چاہئے۔

12 لیکن قربان گاہ کی آ گ قربان گاہ پر لگاتار جلتی رہنی چاہئے۔ اُسے  بجھنے  نہیں دینا چاہئے۔ کاہن  کوہر صبح قربان گاہ پر جلاون کی لکڑی جلانی چاہئے۔ اُسے  قربان گاہ پر جلانے  کے  نذرانہ کو رکھنا چاہئے  اور ہمدردی کی قربانی کی چربی جلانی چاہئے۔

13 قربان گاہ پر آ گ مسلسل جلتی رہنی چاہئے  بجھنی نہیں چاہئے۔

14″ اناج کی قربانی کی شریعت یہ ہے  : ہارون کی نسل کو اسے  قربان گاہ کے  آگے  خداوند کے  سامنے  لانا چاہئے۔

15 کاہن کو اناج کی قربانی میں سے  مٹھی بھر باریک آٹا کچھ تیل اور سارے  لوبان کے  ساتھ لینا چاہئے  اسے  اس کو یاد گاری نذرانہ کے  طور پر قربان گاہ پر جلانا چاہئے۔ اور اس کی بُو خداوند کو خوش کرے  گی۔

16″ ہارون اور اس کے  بیٹوں کو بچی ہوئی اناج کی قربانی کو کھانا چاہئے۔ کاہن کو بغیر خمیر کی روٹی کو کسی دوسرے  مقدس جگہ میں کھانا چاہئے۔ انہیں اسے  خیمۂ اجتماع کے  آنگن میں کھانا چاہئے۔

17 اناج کی قربانی کا یہ حصہ خمیر کے  ساتھ نہیں پکاناچاہئے۔ اپنے  کچھ تحفے  میں نے  انہیں دے دیئے۔ یہ گناہ کے  نذرانے  اور جرم کے  نذرانے  کی طرح سب سے  مقدس چیز ہے۔

18 ہارون کی نسلوں میں سے  کوئی بھی آدمی  اس سے  کھا سکتا ہے۔ تمہاری نسلوں کے  لئے  یہ اصول ہمیشہ کے  لئے  ہے۔ جو کوئی بھی اس قربانی کو چھوئے  اس کا مقدس ہونا ضروری ہے۔”

19 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

20″ ہارون اور اس کے  بیٹوں کو اس دن جس دن اسے  تیل چھڑک کر مسح کیا گیا تھا یہ سب چیزیں خداوند کو پیش کرنے  کے  لئے  لانا چاہئے۔ انہیں آٹھ پیالے  باریک آٹا اناج کے  نذرانے  کے  طور پر لینا چاہئے۔ اس کا آدھا مقدار صبح اور آدھا مقدار شام میں لانا چاہئے۔

21 اسے  ملانا چاہئے  اور پھر اسے  تلنے  کے  لئے  کڑھائی میں تیل سے  تلنا چاہئے۔ یہ ٹکڑا ٹکڑا ہو جانا چاہئے۔ اور پھر اسے  اناج کے  نذرانے  کی طرح پیش کر نا چاہئے۔ یہ خداوند کے  لئے  خوشگوار خوشبو ہے۔

22″ ہارون کی نسلوں میں سے  وہ کاہن جسے  ہارون کی جگہ مسح کیا جا رہا ہے  اناج کا نذرانہ پیش کرنا چاہئے۔ یہ ایک اصول ہمیشہ کے  لئے  ہے  کہ خداوند کے  لئے  اناج کی قربانی پوری طرح جلائی جانی چاہئے۔

23 کاہن کی ہر ایک اناج کی قربانی جلائی جانی چاہئے  اُسے  کھانا نہیں چاہئے۔”

24 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

25″ ہارون اور اس کے  بیٹوں سے  کہو : گناہ کی قربانی کے  لئے  یہ اصول ہے  کہ گناہ کی قربانی کو بھی وہیں ذبح کیا جائے  جہاں خداوند کے  سامنے  جلانے  کی قربانی کو ذبح کیا جاتا ہے۔ یہ سب سے  زیادہ مقدس ہے۔

26 جو کاہن گناہ کا نذرانہ پیش کرتا ہے  اسے  اس کو خیمۂ اجتماع کے  آنگن میں کھانا چاہئے  جو کہ مقدس جگہ ہے۔

27 اگر کوئی شخص گناہ کی قربانی کے  گوشت کو چھوتا ہے  تو اسے  اپنے  آپ  کو مقدس کرنا چاہئے۔” اگر اس کا خون کسی کے  کپڑوں پر چھڑکا جاتا ہے  تو اسے  مقدس جگہ میں دھونا چاہئے۔

28 اگر گناہ کی قربانی کسی مٹی کے  برتن میں اُبالی جائے  تو اس برتن کو پھوڑ دینا چاہئے۔ اگر گناہ کی قربانی کو کانسے  کے  برتن میں اُبالا جائے  تو بر تن کو مانجھا جائے  اور پانی میں دھویا جائے۔

29″ کاہن کے  خاندان کا سارا آدمی  گناہ کی قربانی کے  گوشت کو کھا سکتا ہے  یہ سب سے  زیادہ مقدس ہے۔

30 اگر گناہ کی قربانی کا خون مقدس جگہ میں کفارہ ادا کرنے  کے  لئے  خیمۂ اجتماع میں لے  جایا گیا ہو تو قربانی دیئے  گئے  گوشت کو آ گ میں جلا دینا چاہئے۔ کاہن اس گناہ کی قربانی کو نہیں کھا سکتا۔

 

 

 

 

احبار   7

 

 

1″ گناہ کی قربانی کے  لئے  یہ اصول ہے  یہ بہت ہی مقدس ہے۔

2 کاہن کو جرم کی قربانی کو اس جگہ پر ذبح کرنا چاہئے  جس پر وہ جلانے  والی قربانیوں کو ذبح کرتا ہے۔ کاہن کو جرم کی قربانی کا خون قربان گاہ کے  چاروں طرف چھڑکنا چاہئے۔

3″ کاہن کو گناہ کی قربانی کی تمام چربی چڑھانی چاہئے  اسے  چربی بھری دُم اندرونی حصّوں کو ڈھکنے  والی چربی،

4 دونوں گردے  اور اس کے  چاروں طرف کی چربی، پٹھے  کی چربی اور کلیجے  کی چربی قربانی کے  لئے  چڑھانی چاہئے۔

5 کاہن کو قربان گاہ پر ان تمام چیزوں کو جلانا چاہئے۔ یہ تحفہ ہے  جو کہ خداوند کو پیش کیا گیا۔ یہ جرم کی قربانی ہے۔

6″ ہر ایک مرد جو کاہن ہے  جرم کی قربانی کھا سکتا ہے۔ یہ بہت ہی مقدس ہے  اور اسے  مقدس جگہ میں کھانا چاہئے۔

7 جرم کی قربانی گناہ کی قربانی کے  برابر ہے۔ دونوں قربانی کے  لئے  ایک ہی اُصول ہیں۔ وہ کاہن جو کفّارے  کی قربانی چڑھاتا ہے  اُس کو حاصل کرے  گا۔

8 وہ کاہن جو اس جلانے  کی قربانی کو پیش کرتا ہے  چمڑا کو اس جلانے  کی قربانی سے  لے  سکتا ہے۔

9 ہر ایک اناج کی قربانی چڑھانے  والے  کاہن کی ہوتی ہے  چاہے  وہ تنور میں پکایا گیا ہے۔ یا تلنے  کی کڑھائی میں پکایا گیا ہو۔

10″ اناج کی قربانی ہارون اور اس کے  بیٹوں کی ہو گی۔ اس سے  کوئی فرق نہیں پڑے  گا کہ وہ سوکھی ہے  یا تیل میں ملی ہوئی ہے۔ ہارون کے  بیٹے  ( کاہن ) اس میں برابر کے  حصّے  دار ہوں گے۔

11″یہ اصول ہیں جس کا خداوند کو ہمدردی کے  نذرانہ کے  پیش کرتے  وقت پالن کر نا چاہئے۔

12 کوئی شخص معمول کے  مطابق ہمدردی کا نذرانہ اپنے  احسان کو ظاہر کرنے  کے  لئے  پیش کر سکتا ہے۔ اس شخص کو تیل ملی ہوئی بے  خمیری روٹی، یا تیل لگی ہوئی بے  خمیری روٹی یا تیل ملے  ہوئے  باریک آٹا سے  بنے  ہوئے  کیک بھی لانا چاہئے۔

13 تب اس شخص کو روزانہ کے  خمیری روٹی کے  ساتھ ہمدردی کا نذرانہ خداوند کی عظمت کو ظاہر کرنے  کے  لئے  پیش کرنا چاہئے۔

14 اُن روٹیوں میں سے  ایک اُس کاہن کی ہو گی جو ہمدردی کی قربانی کے  خون کو چھڑکتا ہے۔

15 ہمدردی شکر گزاری کے  نذرانہ کا گوشت پوری طرح سے  اسی دن جس دن اسے  پیش کیا جائے  کھا لینا چاہئے۔ گوشت کو کبھی بھی دوسرے  دن کے  لئے  نہیں رکھنا چاہئے۔

16″ کوئی شخص ہمدردی کا نذرانہ، خداوند کے  لئے  خاص وعدہ یا رضا کا نذرانہ لا سکتا ہے۔ اس لئے  نذرانہ اسی دن جس دن کہ پیش کیا گیا ہے  کھا لینا چاہئے۔ اگر کچھ گوشت بچ جاتا ہے  تو اسے  دوسرے  دن کھایا جا سکتا ہے۔

17 اگر کچھ گوشت تیسرے  دن کے  لئے  بچ جائے  تو اسے  آ گ میں جلا دینا چاہئے

18 اگر کوئی آدمی  ہمدردی کی قربانی کا کچھ گوشت تیسرے  دن کھاتا ہے  تو خداوند اسے  قبول نہیں کرے  گا۔ یہ نذرانہ برباد و ناقابل قبول ہو گا۔ اور اگر کوئی شخص اسے  کھاتا ہے  تو وہ گناہ کے  لئے  جواب دہ ہو گا۔

19″کسی بھی شخص کو ایسا گوشت نہیں کھانا چاہئے  جسے  کوئی نجس چیز چھولے۔ ایسے  گوشت کو آ گ میں جلا دینا چاہئے۔ وہ تمام لوگ جو پاک ہیں ہمدردی کی قربانی کا گوشت کھا سکتے  ہیں۔

20 لیکن اگر کوئی آدمی  ناپاک ہو اور وہ ہمدردی کی قربانی کا گوشت کھائے  جو خداوند کے  لئے  ہو تب اُس آدمی  کو اُس کے  لوگوں سے  الگ کر دینا چاہئے۔

21″اگر کوئی شخص کوئی ایسی چیز چھولے  جو ناپاک ہے ، چاہے  وہ جانور ہو یا انسانی ناپاکی ہو تو وہ شخص ناپاک ہو جاتا ہے۔ اور اگر وہ شخص ہمدردی کی قربانی سے  کچھ گوشت کھا لے  تو وہ شخص دوسرے  لوگوں سے  الگ ہو جائے  گا۔”

22 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا :

23″ بنی اسرائیلیوں سے  کہو، تم لوگوں کو گائے ، بھیڑ یا بکری کی چربی نہیں کھانی چاہئے۔

24 تم اُس جانور کی چربی کا استعمال کسی بھی چیز کے  لئے  کر سکتے  ہو جو خود سے  مر گیا ہو یا دُوسرے  جانوروں نے  اُسے  پھاڑ دیا ہو لیکن تمہیں اسے  کھانا نہیں چاہئے۔

25 کوئی شخص جو اس جانور کی چربی کھاتا ہے  جو خداوند کو تحفے  کے  طور پر پیش کی گئی تھی تو اُس شخص کو اُس کے  لوگوں سے  الگ کر دیا جائے  گا۔

26″ تم چاہے  جہاں بھی رہو۔ تمہیں کسی پرندہ یا جانور کا خون کبھی نہیں کھانا چاہئے۔

27 اگر کوئی شخص جو خون کھاتا ہے  تو اسے  لوگوں سے  الگ کر دیا جائے  گا۔”

28 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

29″ بنی اسرائیلیوں سے  کہو اگر کوئی شخص خداوند کے  لئے  ہمدردی کی قربانی لائے  تو اُس شخص کو اُس قربانی کا ایک حصّہ خداوند کو دینا چاہئے۔

30 اُسے  خداوند کا تحفہ اپنے  ہاتھ سے  لانا چاہئے۔ اسے  سینہ کی چربی اور سینہ لانا چاہئے  اس خداوند کے  سامنے  لہرانے  کے  نذرانے  کے  طور پر اُٹھانا چاہئے۔

31 اور کاہن کو چربی قربان گاہ پر جلانا چاہئے  لیکن سینہ ہارون اور اس کے  بیٹوں کا ہو گا۔

32 ہمدردی کی قربانی سے  داہنا ران کاہن کو دینا چاہئے۔

33 داہنا ران ہارون کے  بیٹے  کا ہو گا۔ جو ہمدردی کی قربانی کی چربی اور خون چڑھاتا ہے۔

34 میں ( خداوند) لہرانے  کی قربانی کا سینہ اور ہمدردی کی قربانی کی دائیں ران بنی اسرائیلیوں سے  لے  رہا ہوں اور میں اُن چیزوں کو کاہن ہارون اور اُس کے  بیٹوں کو دے  رہا ہوں۔ یہ ان کا اسرائیل کے  بچّوں کی طرف سے  لگاتار حصّہ ہے۔”

35 خداوند کے  تحفوں میں سے ، یہ حصّہ ہارون اور اس کے  بیٹوں کا ہو گا۔ جب تک بھی وہ لوگ خداوند کی خدمت کاہن کے  طور پر انجام دیتے  رہیں گے۔

36 جس وقت خداوند نے  ان لوگوں کو کاہن منتخب کیا اُسی وقت انہوں نے  بنی اسرائیلیوں کو وہ حصّہ ان لوگوں کو دینے  کا حکم دیا۔ یہ قانون ہمیشہ چلتا رہے  گا۔

37 یہ سب جلانے  کی قربانی، اناج کی قربانی، گناہ کی قربانی، جرم کی قربانی اور کاہنوں کا انتخاب اور ہمدردی کی قربانی کی ہدایت ہیں۔

38 خداوند نے  یہ احکام سینائی کے  پہاڑ پر موسیٰ کو دیئے۔ اس نے  یہ احکام اُس دن دیئے  جس دن اس نے  بنی اسرائیلیوں کو صحرائے  سینائی میں خداوند کے  لئے  قربانی لانے  کا حکم دیا تھا۔

 

 

 

احبار   8

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2″ ہارون اور اس کے  بیٹوں کو، اُن کے  لباسوں کو، مسح کرنے  کا تیل، گناہ کے  نذرانے  کے  سانڈ کو، دو مینڈھے  اور بغیر خمیر کی روٹی کی ایک ٹوکری لو۔

3 اور خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر لوگوں کو ایک ساتھ جمع کرو۔”

4 موسیٰ نے  وہی کیا جو خداوند نے  اسے  حکم دیا تھا۔ تمام لوگ خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر ایک ساتھ جمع ہوئے۔

5 پھر موسیٰ نے  لوگوں سے  کہا،” یہ وہی ہے  جسے  کرنے  کا خداوند نے  حکم دیا ہے۔”

6 اس لئے  موسیٰ ہارون اور اس کے  بیٹوں کو لایا اور اسے  پانی سے  دھو یا۔

7 تب موسیٰ نے  ہارون کو چغہ پہنایا۔ موسیٰ نے  ہارون کے  چاروں طرف ایک کمر بند باندھا تب موسیٰ نے  ہارون کو چغہ پہنا یا۔ اور اس کے  اوپر ایفود پہنایا۔ اور پھر ایفود کو خوبصورت کمر بند سے  باندھا۔

8 تب موسیٰ نے  اس کے  اوپر سینہ بند لگایا۔ اور سینہ بند میں اوریم اور تمیم رکھا۔

9 موسیٰ نے  ہارون کے  سرپر عمامہ بھی باندھا۔ موسیٰ نے  اس عمامہ کے  آگے  کے  حصّہ پر سونے  کی پٹّی مقدّس تاج کی طرح لگنے  کے  لئے  باندھے۔ موسیٰ نے  یہ سب کچھ خداوند کے  حکم کے  مطابق کیا تھا۔

10 تب موسیٰ نے  مسح کرنے  کا تیل لیا اور مقدس خیمہ اور اس کی تمام چیزوں پر چھڑ کا۔ اس طرح موسیٰ نے  انہیں مخصوص کیا۔

11 موسیٰ نے  اس تیل کو قربان گاہ پر سات بار چھڑ کا۔ موسیٰ نے  قربان گاہ اور اس کے  تمام سامان، سلفچی اور اس کے  پایہ کو مخصوص کرنے  کے  لئے  مسح کیا۔

12 تب موسیٰ نے  مسح کرنے  کے  کچھ تیل کو ہارون کے  سر پر ڈالا اُس طرح اُس نے  اسے  مسح کر کے  مخصوص کیا۔

13 پھر موسیٰ ہارون کے  بیٹوں کو نزدیک لایا اور انہیں خاص چغہ پہنایا۔ ان لوگوں کے  کمروں کا کمر بند باندھا۔ پھر انہوں نے  ان لوگوں کے  سروں پر عمامہ باندھی۔ موسیٰ نے  یہ سب ویسا ہی کیا جس طرح خداوند نے  انہیں حکم دیا تھا۔

14 پھر موسیٰ گناہ کی قربانی کے  لئے  سانڈ لایا۔ ہارون اور اس کے  بیٹوں نے  گناہ کی قربانی کے  سانڈ کے  سر پر اپنے  ہاتھ رکھے۔

15 پھر موسیٰ نے  بیل کو ذبح کیا اس نے  تھوڑا خون اپنی انگلیوں میں لگایا۔ اور تھوڑا خون قربان گاہ کی چاروں طرف کونوں پر لگایا۔ اس طرح سے  موسیٰ نے  قربان گاہ کو پاک کیا۔ تب پھر اس نے  بقیہ  خون قربان گاہ کی بنیاد پر ڈال دیا۔ اس طرح سے  موسیٰ نے  اس کا کفارہ ادا کرنے  لئے  قربان گاہ کو مقدس کیا۔

16 موسیٰ نے  بیل کے  اندرونی حصّے  سے  تمام چربی لی۔ موسیٰ نے  دونوں گردوں اور ان کے  اوپر کی چربی کے  ساتھ کلیجہ کو ڈھکنے  والی چربی لی۔ پھر موسیٰ نے  ان سب کو قربان گاہ پر جلایا۔

17 لیکن موسیٰ بیل کا  چمڑے  اس کا  گوشت اور جسم کے  دوسرے  اعضاء اور اندرونی حصّے  کو خیمہ کے  باہر لے  گیا۔ موسیٰ نے  اسے  خداوند کے  فرمان کے مطابق آ گ میں جلا دیا۔

18 تب وہ  جلانے  کی قربانی کا  مینڈھالایا۔ ہارون اور اس کے  بیٹوں نے  اپنے  ہاتھ مینڈھے  کے  سر پر رکھے۔

19 تب موسیٰ نے  مینڈھے  کو ذبح کیا اور قربان گاہ کے  چاروں طرف اس کے  خون کو چھڑ کا۔

20″موسیٰ نے  مینڈھے  کو ٹکڑوں میں کاٹا۔ اس نے  اندرونی حصّوں اور پیروں کو پانی سے  دھو یا۔ تب موسیٰ نے  پورے  مینڈھے  کو قربان گاہ پر جلایا۔ موسیٰ نے  اس کا سر، ٹکڑے  اور چربی جلائی۔ یہ آ گ کی جلی قربانی تھی۔ یہ خداوند کے  لئے  خوشبو تھی موسیٰ نے  خداوند کے  حکم کے  مطابق وہ سب کام کیا۔

21

22 پھر موسیٰ دوسرا  مینڈھا لایا۔ اس مینڈھے  کا استعمال ہارون اور اس کے  بیٹوں کو کاہن مقرر کرنے  کی تقریب میں کیا گیا  تھا۔ ہارون اور اس کے  بیٹوں نے  اپنے  ہاتھ مینڈھے  کے  سر پر رکھے۔

23 تب موسیٰ نے  اس مینڈھے  کو ذبح کیا۔ اس نے  اس کا تھوڑا خون ہارون کے  کان کے  نچلے  سِرے  پر، دائیں ہاتھ کے  انگوٹھے  پر اور دائیں پیر کے  انگوٹھے  پر لگا یا۔

24 تب موسیٰ ہارون کے  بیٹوں کو قربان گاہ کے  پاس لایا۔ موسیٰ نے  تھوڑا خون ان کے  دائیں کان کے  نچلے  سِرے  پر، دائیں ہاتھ کے  انگوٹھے  پر اور ان کے  دائیں پیر کے  انگوٹھے  پر لگا یا۔ تب پھر موسیٰ نے  قربان گاہ کے  چاروں طرف خون ڈالا۔

25 موسیٰ نے  چربی، دُم، اندرونی حصّہ کی تمام چربی، کلیجہ ڈھکنے  والی چربی، دونوں گردے  اور ان کی چربی اور دائیں ران کو لیا۔

26 پھر بے  خمیری روٹی سے  بھری ٹوکری سے  جو خداوند کے  سامنے  تھی موسیٰ نے  تیل میں مِلا ہوا کیک اور ایک بے  خمیری روٹی لی اور اسے  چربی اور مینڈھا کے  دائیں ران کے  اوپر رکھا۔

27 تب موسیٰ نے  ان تمام کو ہارون اور اس کے  بیٹوں کے  ہاتھوں میں رکھا۔ موسیٰ نے  اپنے  دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور ٹکڑوں کو خداوند کے  سامنے  لہرانے  کے  نذرانے  کے  طور پر پیش کیا۔

28 پھر موسیٰ نے  ان چیزوں کو ہارون اور اس کے  بیٹوں کے  ہاتھوں سے  لیا۔ موسیٰ نے  انہیں قربان گاہ پر جلانے  کی قربانی کے  اوپر جلایا۔ یہ سب کاہنوں کی تخصیص کرنے  کے  لئے  تھے۔ یہ قربانی خداوند کے  لئے  تحفہ تھا۔ اس کی بو خداوند کو خوش کر تی ہے۔

29 پھر موسیٰ نے  تخصیص کی تقریب کے  مینڈھے  کے  سینہ کو لیا اور خداوند کے  سامنے  لہرانے  کی قربانی کے  لئے  اوپر اٹھایا۔ کاہنوں کو مخصوص کرنے  کے  لئے  یہ موسیٰ کے  حصہ کا مینڈھا تھا۔ یہ ٹھیک ویسا ہی کیا گیا جیسا خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

30 موسیٰ نے  مسح کرنے  کا کچھ تیل اور کچھ خون جو قربان گاہ پر تھا، لیا اور اسے  ہارون اور اس کے  لباسوں پر، اس کے  بیٹوں اور ان کے  لباسوں پر چھڑکا۔ اس طرح سے  موسیٰ نے  ہارون اور اس کے  بیٹوں اور ان کے  لباسوں کو مخصوص کیا۔

31 تب موسیٰ نے  ہارون اور اس کے  بیٹوں سے  کہا،” خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر گوشت کو اُبالو۔ اور تخصیصی ٹوکری سے  روٹی اور گوشت اس جگہ پر کھاؤ جیسا کہ خداوند نے  مجھے  حکم دیا تھا۔

32 اگر کچھ گوشت یا روٹی بچ جائے  تو اسے  آ گ میں جلا دینا چاہئے۔

33 کاہن کے  تخصیص کی تقریب سات دن تک چلنی چاہئے۔ تمہیں سات دن تک خیمۂ اجتماع کے  دروازے  کو نہیں چھو نا چاہئے  جب تک کہ کاہنوں کے  تخصیصی کا دن پورا نہ ہو جائے۔

34 خداوند نے  حکم دیا تھا اس طرح کے  کچھ کام (سات دن تک ہر دن) کفّارہ ادا کرنے  کے  لئے  انجام دیا جائے۔

35 تمہیں خیمۂ اجتماع کے  دروازہ پر سات دن اور سات رات تک رہنا چاہئے۔ تمہیں خداوند کے  لئے  ڈیوٹی پر سونا چاہئے تا کہ تم نہیں مرو گے۔ کیونکہ خداوند نے  مجھے  یہ حکم دیا تھا۔”

36 اور ہا رون اور اُس کے  بیٹوں نے  وہ سب کچھ کیا جو  کرنے  کا خداوند نے  انہیں موسیٰ کے  ذریعے  دیا تھا۔

 

 

 

 

احبار   9

 

 

1 آٹھویں دن موسیٰ نے  ہا رون اور اس کے  بیٹوں کو بُلا یا۔ اس نے  اسرائیل کے  بزرگوں ( قائدین ) کو بھی بُلا یا۔

2 موسیٰ نے  ہا رون سے  کہا،” اپنے  جانوروں کے  جھنڈ میں سے  ایک بچھڑا گناہ کے  نذرانہ کے  لئے  اور ایک مینڈھا جلانے  کے  نذرانہ کے  لئے  لو۔ ان دونوں میں کوئی عیب نہیں ہو نا چاہئے۔ ان جانوروں کو خداوند کے  لئے  نذر کیا جائے  گا۔

3 بنی اسرائیلیوں سے  کہو، ‘ گناہ کی قربانی کے  لئے  ایک بکرا اور ایک بچھڑا اور ایک میمنہ جلانے  کی قربانی کے  لئے  لو۔ بچھڑا اور میمنہ دونوں ایک سال کا ہو نا چاہئے۔ اور ان میں کوئی عیب نہیں ہو نا چاہئے۔

4 ایک سانڈ اور ایک مینڈھا ہمدردی کی قربانی کے  لئے  لو۔ اُن جانوروں کو اور تیل ملے  اناج کی قربانی کو لو اور ان تمام چیزوں کو خداوند کے  واسطے  قربانی کے  طور پر پیش کرو۔ کیونکہ آج خداوند تمہارے  سامنے  ظاہر ہو گا۔”

5 تب تمام لوگ خیمۂ اجتماع میں آئے  اور وہ سب اُن چیزوں کو لائے  جن کے  لئے  موسیٰ نے  حکم دیا تھا۔ ان میں سے  سب لوگ خداوند کے  سامنے  کھڑے  ہوئے۔

6 موسیٰ نے  کہا،” تمہیں وہی کرنا چاہئے  جیسا کہ خداوند نے  حکم دیا ہے۔ اب تم لوگ خداوند کے  جلال کو دیکھو گے۔”

7 تب موسیٰ نے  ہا رون سے  کہا،” جاؤ اور وہی کرو جس کے  لئے  خداوند نے  حکم دیا تھا۔ قربان گاہ کے  پاس جاؤ اور اپنے  گناہ کی قربانی اور جلانے  کی قربانی چڑھاؤ۔ یہ سب تمہیں اپنے  اور اپنے  لوگوں کے  کفّارہ کی ادائیگی کے  لئے  پیش کر نا چاہئے۔ لوگوں کی لائی ہوئی قربانی کو لو اور اُسے  خداوند کو پیش کرو۔ یہ اُن کے  گنا ہوں کا کفارہ ہو گا۔”

8 اس لئے  ہا رون قربان گاہ کے  پاس گیا۔ اُس نے  بچھڑے  کو گناہ کی قربانی کے  طور پر ذبح کیا جو کہ اُس کے  لئے  تھی۔

9 اور ہا رون کے  بیٹے  اپنے  باپ کے  پاس خون لائے۔ ہارون نے  اپنی اُنگلی خون میں ڈالی اور قربان گاہ کے  کونوں پر اُسے  لگا یا۔ تب ہارون نے  قربان گاہ کی بُنیاد پر بقیہ  خون اُنڈیلا۔

10 ہارون نے  گناہ کی قربانی سے  چربی، گردے  اور کلیجے  کو ڈھکنے  وا لی چربی لی۔ اُس نے  اُنہیں قربان گاہ پر جلایا۔ اس نے  سب کچھ اسی طرح کیا جس طرح خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

11 تب ہارون نے  چھاؤنی کے  با ہر گوشت اور چمڑے  کو جلا یا۔

12 اس کے  بعد ہارون نے  جلانے  کی قربانی کے  لئے  اس جانور کو ذبح کیا۔ ہا رون کے  بیٹوں نے  خون کو ہا رون کے  پاس لا یا اور ہارون نے  اسے  قربان گاہ کے  چاروں طرف ڈالا۔

13 ہا رون کے  بیٹوں نے  جلانے  کی قربانی کے  ٹکڑوں اور سر ہارون کو دیا۔ تب ہارون نے  انہیں قربان گاہ پر جلا یا۔

14 ہارون نے  جلانے  کی قربانی کے  اندرونی حصوں اور پیروں کو دھو یا اور اُس نے  انہیں بھی جلانے  کی قربانی کے  اوپر قربان گاہ پر جلا یا۔

15 پھر ہارون   لوگوں کے  لئے  قربانی لا یا اُس نے  ان لوگوں کے  لئے  گناہ کی قربانی والے  بکرے  کو ذبح کیا۔ اس نے  بکرے  کو پہلے  کی طرح گناہ کی قربانی کے  لئے  چڑھا یا۔

16 ہا رون جلانے  کی قربانی کو لا یا اور اس نے  وہ قربانی چڑھائی ویسے  ہی جیسے  خداوند نے  حکم دیا تھا۔

17 ہا رون اناج کی قربانی کو قربان گاہ کے  پاس لا یا۔ اس نے  مٹھّی بھر اناج لیا اور صبح کی جلانے  کی قربانی کے  ساتھ اسے  قربان گاہپر رکھا۔

18 ہارون نے  لوگوں کے  لئے  ہمدردی کی قربانی کے  لئے  سانڈ اور مینڈھے  کو ذبح کیا۔ ہا رون کے  بیٹے خون ہا رون کے  پاس لا ئے۔ ہارون نے  اُس خون کو قربان گاہ کے  چاروں طرف اُنڈیلا۔

19 ہا رون کے  بیٹوں نے  سانڈ اور مینڈھے  کی چربی دُم کی چربی کے  ساتھ لائے۔ وہ اندرونی حصوں کو ڈھکنے  وا لی چربی گردوں اور کلیجہ کو ڈھکنے  وا لی چربی بھی لائے۔

20 ہا رون کے  بیٹوں نے  چربی کے  ان حصوں کو سانڈ اور مینڈھے  کے  سینوں پر رکھا۔ ہارون نے  اسے  قربان گاہ پر جلا یا۔

21 جیسا کہ خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔ ہارون نے  سینے   اور دائیں ران کو لہرانے  کی قربانی کے  لئے  خداوند کے  سامنے  ہاتھوں میں اوپر اٹھا یا۔

22 تب ہارون نے  اپنے  ہاتھ لوگوں کی طرف اٹھائے  اور اُنہیں دعا دی۔ ہارون گناہ کی قربانی، جلانے  کی قربانی اور ہمدردی کی قربانی کو چڑھانے  کے  بعد قربان گاہ سے  نیچے  اُتر آئے۔

23 موسیٰ اور ہارون خیمۂ اجتماع میں گئے  اور پھر باہر آ کر انہوں نے  لوگوں کو دعائیں دیں۔ تب خداوند کا جلال سب لوگوں کے  سامنے  ظاہر ہوا۔

24 خداوند سے  آ گ باہر نکلی اور قربان گاہ پر کی جلانے  کی قربانی اور چربی کو جلا دیا۔ جب تمام لوگوں نے  یہ دیکھا تو وہ  چلّا ئے اور اپنے  چہروں کو زمین پر جھُکا لیا۔

 

 

 

 

احبار

10

 

 

1 تب ہارون کے  بیٹے  ناداب اور ابیہو، ان میں سے  ہر ایک نے  لوبان جلانے  کے  لئے  اپنے  اپنے  برتن لئے۔ انہوں نے  آ گ سے  لوبان کو جلایا۔ انہوں نے  غیر ملکی آ گ کا استعمال کیا جس کا موسیٰ نے  استعمال کرنے  کا حکم نہیں دیا تھا۔

2 اس لئے  خداوند سے  آ گ آئی اور اس نے  ناداب اور ابیہو کو تباہ کر دیا اس طرح وہ خداوند کے  سامنے  مرے

3 تب موسیٰ نے  ہارون سے  کہا،” خداوند کہتا ہے ، ‘ ان میں سے  جو میرے  نزدیک آئے  میں خود کو مقدّس دکھاؤں گا۔ اور سب لوگوں کے  سامنے  میری تعظیم کی جائے  گی۔” اس لئے  ہارون اپنے  مرے  ہوئے  بیٹوں کے  سامنے  خاموش رہا۔

4 ہارون کے  چچا عُزّیل کے  دو بیٹے  تھے  وہ میسائیل اور الصفن تھے۔ موسیٰ نے  ان دونوں کو بلا کر کہا،” اپنے  بھائیوں کی لاشوں کو جو کہ مقدس جگہ کے  سامنے  ہے  اٹھاؤ اور اسے  چھاؤنی سے  باہر لے  جاؤ۔”

5 اس لئے  میسائیل اور الصفن موسیٰ کا حکم بجا لائے۔ وہ گئے  اور ناداب اور ابیہو کی لاشوں کو چھاؤنی سے  باہر لائے۔ اس وقت تک ناداب اور ابیہو مخصوص لباس پہنے  ہوئے  تھے۔

6 اور موسیٰ نے  ہارون کے  دوسرے  بیٹوں الیعزر اور اتامر سے  کہا،” اپنے  کپڑوں کو پھاڑ کر یا اپنے  بالوں کو کھلا چھوڑ کر غم کو ظاہر نہ کرو۔ ورنہ تم مر جاؤ گے۔ اور خداوند سارے  لوگوں سے  ناراض ہو جائے  گا۔ سارا اسرائیلی ملک تم لوگوں سے  جڑا ہوا ہے۔ وہ لوگ ماتم کریں گے  کیونکہ خداوند نے  ناداب اور ابیہود کو جلا ڈالا۔

7 لیکن تم لوگوں کو خیمۂ اجتماع کے  دروازے  کو نہیں چھوڑنا چاہئے  ورنہ تم لوگ مر جاؤ گے۔ کیونکہ مسح کرنے  کا تیل تم لوگوں پر ہے۔” ہارون، الیعزر اور اتامر نے  موسیٰ کا حکم بجا لایا۔

8 تب خداوند نے  ہارون سے  کہا،

9″تمہیں اور تمہارے  بیٹوں کو خیمۂ اجتماع میں آنے  سے  پہلے  مئے  یا شراب نہیں پینا چاہئے۔ اگر تم ایسا کرو گے  تو مر جاؤ گے  یہ شریعت تمہاری ساری نسلوں میں ہمیشہ جاری رہے  گی۔

10 تمہیں جو چیزیں مقدس ہے  اور جو مقدس نہیں ہے  جو پاک ہے  اور جو پاک نہیں ہے  ان میں فرق کرنا چاہئے۔

11 تمہیں اس شریعت کے  بارے  میں لوگوں کو سکھانا چاہئے  جو  خداوند نے  موسیٰ کو دی۔ اور اسی طرح اس نے  اسے  لوگوں کو دیا تھا۔”

12 موسیٰ نے  ہارون اور اس کے  بچے  ہوئے  دونوں بیٹوں، الیعزر اور اتامر سے  بات کی اور کہا،” اناج کی قربانی کا وہ حصہ جو ان قربانیوں میں سے  بچی ہے  جو آ گ میں جلائی گئی تھی۔ اس قربانی کے  حصّے  کولے  اور کھا، لیکن تمہیں اسے  بغیر خمیر کے  کھانا چاہئے  اسے  قربان گاہ کے  پاس کھانا چاہئے ، کیونکہ یہ قربانی سب سے  مقدس ہے۔

13 وہ اس قربانی کا حصہ ہے  جو خداوند کے  لئے  آ گ میں جلائی گئی تھی۔ اور جو اصول میں نے  تم کو بتایا وہ سکھاتا ہے  کہ وہ حصّہ تمہارا اور تمہارے  بیٹوں کا ہے  لیکن تمہیں اسے  مقدس جگہ پر ہی کھانا چاہئے۔

14″ تم، تمہارے  بیٹے  اور تمہاری بیٹیاں لہرانے  کی قربانی کا سینہ اور ہمدردی کی قربانی سے  ران کو کھا سکتے  ہیں۔ انہیں تمہیں صاف جگہ پر ہی کھا نا چاہئے۔ یہ اسرائیل کے  بچّوں کی ہمدردی کی نذرانوں میں سے  تم اور تمہارے  بچّوں کے  لئے  تمہارے  حصّے  ہیں۔

15 لوگوں کو چربی تحفے  کی طرح لانی چاہئے۔ انہیں ہمدردی کی قربانی کی ران اور لہرانے  کی قربانی کا سینہ بھی لانا چاہئے  اور اسے  خداوند کے  سامنے  اٹھانا چاہئے۔ یہ قربانی تمہارے اور تمہارے  بچّوں کی ہو جائے  گی۔ خداوند کے  حکم کے  مطابق قربانی کا وہ حصہ ہمیشہ کے  لئے  تمہارا ہو گا۔”

16 موسیٰ نے  گناہ کی قربانی کے  بکرے  کے  متعلق پوچھا، جسے  کہ پہلے  ہی جلا دیا گیا تھا۔ موسیٰ ہارون کے  بیٹوں، الیعزر اور اتامر پر بہت غصہ ہوا اور کہا،

17″ تم لوگوں نے  گناہ کی قربانی کو مقدس جگہ پر کیوں نہیں کھا یا۔ وہ سب سے  مقدس تھا اور خداوند نے  یہ تمہیں جماعت کے  گناہوں کی ذمہ داری، خداوند کے  سامنے  ان لوگوں کا کفارہ ادا کرنے  کے  لئے  دیا تھا۔

18 دیکھو تم اس بکرے  کا خون مقدس جگہ کے  اندر نہیں لائے۔ تمہیں اس بکرے  کو مقدس جگہ پر کھانا چاہئے  تھا جیسا کہ میں نے  حکم دیا ہے۔”

19 لیکن ہارون نے  موسیٰ سے  کہا،” سنو! آج وہ اپنی گناہ کی قربانی اور جلانے  کی قربانی خداوند کے  سامنے  لائے۔ میرے  ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ ہو چکا ہے۔ کیا تم یہ سمجھتے  ہو کہ اگر میں گناہ کی قربانی آ ج کے  دن کھا یا ہوتا تو کیا خداوند خوش ہوتا؟” نہیں!”

20 جب موسیٰ نے  یہ سُنا تو وہ متفق ہو گئے۔

 

 

 

 

احبار   11

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ اور ہا رون سے  کہا،

2 بنی اسرائیلیوں سے  کہو،” یہ سب جانور ہیں جنہیں تم زمین کے  سبھی جانوروں میں سے  کھا سکتے  ہو۔”

3 اگر جانور کے  کھُر دو حصّوں میں بٹے  ہوں اور وہ جانور جُگالی بھی کرتا ہو تو تم اس جانور کا گوشت کھا سکتے  ہو۔

4″جو جانور جُگالی کرتے  ہیں لیکن اُن کے  کھُر پھٹے  نہ ہو تو ایسے  جانور کا گوشت مت کھاؤ۔ جیسے  اُونٹ، سمندری چٹان کا بجّو اور خرگوش تمہارے  لئے  ناپاک ہے۔

5  6  7 دوسرے  جانوروں کے  کھُر جو دو حصوں میں بٹے  ہوئے  ہیں لیکن وہ جُگالی نہیں کرتے  اس لئے  ان جانوروں کو مت کھاؤ۔ سُوّر ویسا ہی ہے  اس لئے  وہ تمہارے  لئے  ناپاک ہے۔

8 اُن جانوروں کا گوشت مت کھاؤ حتیٰ کہ ان کے  مُردہ جسم کو بھی مت چھونا۔ وہ تمہارے  لئے  ناپاک ہیں۔

9″ اگر پانی کا جانور ہے  اور اس کے  جسم پر پَر اور چھلکے  ہیں تو اس جانور کا گوشت کھایا جا سکتا ہے۔

10 لیکن اگر جانور سمندر یا دریا میں رہتا ہے  اور اس کے  پَر اور چھلکے  دونوں نہ ہوں تو اس جانور کو تمہیں نہیں کھانا چاہئے۔ وہ گندے  جانوروں میں سے  مانے  جاتے  ہیں۔ اس جانور کا گوشت نہیں کھانا چاہئے۔ اس کے  مردہ جسم کو بھی نہیں چھُونا چاہئے۔

11  12 پانی کے  ہر اس جانور کو جس کے  پَر اور چھلکے  نہیں ہوتے  ہیں تمہارے  لئے  نفرت انگیز ہے۔

13″ تمہیں نفرت انگیز جانوروں کو بھی نہیں کھانا چاہئے  جیسے  : عقاب، گدھ اور شکاری چڑیاں،

14 چیل، اور تمام طرح کے  عقاب،

15 تمام قسم کے  کالے  پرندے ،

16 شتر مُرغ، اُلّو، سمندری مُرغ، تمام قسم کے  با ز،

17 اُلّو سمندری کا غ،

18 پانی کی مُرغی، مچھلی کھانے  والے  پلیکن، سمندری گدھ،

19 ہنس، بگلے ، ہُد ہُد اور چمگادڑ۔

20″ وہ تمام کیڑے  جو اُڑتے  ہیں اور تمام جو گھٹنوں کے  بل رینگ کر چلتے  ہیں گھناؤنے  ہیں۔

21 لیکن وہ کیڑے  جو اُڑتے  ہیں اور رینگتے  ہیں تو صرف اُن کیڑوں کو جو کہ پچھلی  ٹانگوں پر کودتے  ہیں کھائے  جا سکتے  ہیں۔

22 وہ یہ ہیں :ہر قسم کے  ٹڈے ، جھینگر اور گھاس چٹ کرنے  وا لا۔

23 لیکن دوسرے  تمام وہ کیڑے  جن کے  پَر ہوں اور جو رینگ بھی سکتے  ہیں وہ گھناؤنے  ہیں تمہارے  لئے  ممنوع ہیں۔

24 وہ کیڑے  تمہیں شام تک نجس کر دیں گے۔ کوئی بھی شخص جو اس طرح مرے  ہوئے  کیڑے  کو چھوئے  گا نا پاک ہو جائے  گا۔

25 اگر کوئی شخص ان مرے  ہوئے  کیڑوں میں سے  کسی کو بھی لے  کر چلتا ہے  تو اسے  اپنے  کپڑوں کو دھو نا چاہئے۔ وہ شام تک نجس رہے  گا۔

26″کچھ جانوروں کے  کھُر ہو سکتے  ہیں، لیکن وہ کھُر دو حصوں میں بٹے  نہیں ہوتے  ہیں۔ کچھ جانور جگا لی نہیں کرتے  ہیں اور کچھ چوپائے  جانوروں کے  کھُر نہیں ہوتے  ہیں اور وہ اپنے  پنجوں پر چلتے  ہیں۔ اس طرح سے  سبھی جانور نا پاک ہیں۔ اگر کوئی ان کے  مُردہ جسموں کو چھُو لیتا ہے  تو وہ شام تک نا پاک رہے  گا۔

27

28 اگر کوئی شخص ان کے  مرے  جسم کو اٹھاتا ہے  تو اُس آدمی  کو اپنے  کپڑے  دھونے چاہئیں  وہ آدمی  شام تک نجس رہے  گا۔ وہ جانور تمہارے  لئے  نجس ہے۔

29″کترنے  والے  جانور تمہارے  لئے  گھناؤنے  ہیں۔ وہ یہ ہیں :چھچھوندر، چوہا، ہر قسم کے  بڑے  گرگٹ

30 چھپکلی، مگر مچھ، ریگستانی رینگنے  والے  گرگٹ اور رنگ بدلتا گرگٹ۔

31 یہ رینگنے  والے  جانور تمہارے  لئے  گھناؤنے  ہیں کوئی آدمی  جو چاہے مرے  ہوئے  کو چھوئے  گا۔ شام تک نجس رہے  گا۔

32″ اگر کسی قسم کا مرا ہوا نا پاک جانور کسی چیز پر گِرے  تو وہ چیز بھی نجس ہو جائے  گی۔ چاہے  وہ لکڑی، چمڑا، کپڑا، ٹاٹ یا کوئی کام کرنے  کا اوزار جو کچھ بھی ہو اس کو پانی سے  دھو نا چاہئے۔ یہ شام تک نجس رہے  گا۔ تب پھر دوبارہ یہ پاک ہو گا۔

33 اگر اُن گندے  جانوروں میں سے  کوئی مرا ہوا مٹی کے  کٹورے  میں گِرے  تو کٹورے  کی کوئی بھی چیز جو کہ اس میں ہے  نجس ہو جائے  گی۔ تمہیں کٹو را ضرور توڑ دینا چاہئے۔

34 کسی بھی طرح کی غذا جو بھیگ جا تی ہے  نا پاک ہو جائے  گی اگر نا پاک چیز اُس سے  چھُو جائے۔ اسی طرح سے  کسی بھی طرح کا رقیق جو کسی بھی برتن سے  پیا جائے  نا پاک ہو جا تی ہے۔

35 اگر کسی مرے  ہوئے  گھناؤنے  جانور کا کوئی حصّہ کسی چیز پر آ پڑے  تو وہ چیز نا پاک ہو جا تی ہے۔ اِسے  ٹکڑے  ٹکڑے  کر دینا چاہئے۔ چا ہے  وہ تنور ہو یا اسٹوو۔ وہ تمہارے  لئے  نا پاک رہے  گا۔

36″ کسی بھی کنویں کا پانی، گڑھا، یا جمع کیا ہوا پانی میں اگر کوئی مرا ہوا جانور گرجاتا ہے  تو بھی یہ پاک رہے  گا۔ لیکن وہ شخص جو مرے  ہوئے  جانور کا ڈھانچہ چھوتا ہے  تو وہ نا پاک ہو جاتا ہے۔

37 اگر اُن گھناؤنے  مرے  ہوئے  جانوروں کا کوئی حصّہ بوئے  جانے  والے  بیج پر آ پڑے  تو بھی وہ پاک ہی رہے  گا۔

38 لیکن بھِگونے  کے  لئے  اگر تم کچھ بیجوں پر پانی ڈالتے  ہو اور اگر اسی دوران مرے  ہوئے  گھِناؤنے  جانور کا کوئی حصّہ ان بیجوں پر آ پڑے  تو وہ نا پاک ہو جائے  گا۔

39″اور اگر کھانے  کا کوئی جانور اپنے  آپ  مر جائے  تو جو آدمی  اس کے  مرے  ہوئے  جسم کو چھُوئے  گا تو شام تک نجس رہے  گا۔

40 کوئی بھی شخص جو اس مرے  ہوئے  جانور کا گوشت کھائے  اسے  اپنے  کپڑوں کو دھو نا چاہئے۔ وہ شخص شام تک نجس رہے  گا۔ اگر کوئی شخص جو اس مرے  جانور کے  جسم کو اُٹھائے  تو اسے  بھی اپنے  کپڑوں کو دھونا چاہئے۔ وہ شخص بھی شام تک نجس رہے  گا۔

41 ہر وہ جانور جو زمین پر رینگتا ہے  وہ ان جانوروں میں سے  ایک ہے  جو تیرے  کھانے  کے  لئے  ممانعت ہے

42 تمہیں ایسے  کسی بھی جانور کو نہیں کھانا چاہئے  جو پیٹ کے  بَل رینگتے  ہیں یا چاروں پیروں پر چلتے  ہیں یا جس کے  بہت سے  پیر ہیں یہ سب تمہارے  لئے  نفرت انگیز ہے۔ انہیں مت کھاؤ!

43 اُن گھِناؤنے  جانوروں سے  خود کو نجس مت بناؤ۔ تمہیں اُن سے خود کو نجس نہیں بنا نا چاہئے۔”

44 کیونکہ میں تمہارا خداوند خدا ہوں! میں مقدس ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ تم بھی مقدس رہو۔ رینگنے  والے  ان نفرت انگیز جانوروں کی وجہ سے  اپنے  آپ  کو نا پاک مت بناؤ۔

45 میں تم لوگوں کو مصر سے  با ہر لا یا تا کہ میں تمہارا ہو سکوں۔ میں مقدس ہوں اس لئے  تمہیں مقدس رہنا چاہئے۔”

46 وہ اُصول تمام مویشیوں پرندوں اور زمین کے  دوسرے  جانوروں کے  لئے  ہیں۔ وہ اُصول سمندر میں رہنے  والے  سبھی جانوروں اور زمین پر رینگنے  والے  سبھی جانوروں کے  لئے  ہیں۔

47 اور یہ اس لئے  ہے  کہ لوگ پاک جانوروں اور گھِناؤنے  جانوروں میں فرق کر سکیں۔ اس طرح لوگوں کو معلوم ہو گا کہ کون سا جانور انہیں کھانا چاہئے  اور کون سا نہیں کھانا چاہئے۔

 

 

 

 

احبار   12

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا :

2″بنی اسرائیلیوں سے  کہو: اگر کوئی عورت حاملہ رہتی ہے  اور ایک لڑکا  جنم دیتی ہے  تو عورت سات دن تک نجس رہے  گی۔ یہ ناپاکی کی مدت حیض کی مدت کے  برابر ہے۔

3 آٹھویں دن لڑ کے  کا ختنہ ہونا چاہئے۔

4 پھر اس کے  بعد وہ ۳۳دن تک حالتِ طہارت میں رہے۔ اسے  کوئی مقدّس چیز نہیں چھونا چاہئے۔ اسے  مقدس جگہ میں نہیں جانا چاہئے  جب تک اس کی طہارت کا ایام پورا نہ ہو جائے۔

5 لیکن عورت اگر لڑکی کو جنم دیتی ہے  تو وہ حیض کے  ایام کی طرح دو ہفتہ تک ناپاک رہتی ہے۔ اُس کے  بعد وہ ۶۶ دن تک حالت طہارت میں رہے۔

6″نئی ماں جو ابھی لڑکی یا لڑ کے  کو جنم دیتی ہے  اور جب وہ پاک ہو جاتی ہے  تو اسے  یہ نذرانہ خیمۂ اجتماع میں لانا چاہئے۔ اُسے  وہ نذرانہ  خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر کاہن کے  سامنے  پیش کرنا چاہئے۔ اُسے  ایک سال کا میمنہ جلانے  کی قربانی کے  لئے  اور گناہ کی قربانی کے  لئے  ایک فاختہ یا کبوتر کا بچّہ لانا چاہئے۔

7 اگر وہ میمنہ دینے  کی استطاعت نہ رکھتی ہو تو وہ دو فاختے  یا دو کبوتر کے  بچّے  لا سکتی ہے۔ ایک پرندہ جلانے  کی قربانی کے  لئے  ہو گا اور دوسرا گناہ کی قربانی کے  لئے۔ کاہن خداوند کے  سامنے  انہیں پیش کرے  گا۔ اس طرح سے  کاہن اس کے  لئے  کفّارہ ادا کرے  گا اور پھر وہ اپنے  ماہواری خون سے  پاک ہو جائے  گی۔ یہ قانون اُن عورتوں کے  لئے  ہے  جو ایک لڑکا یا لڑکی جنم دیتی ہیں۔”

 

 

 

 

احبار   13

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ اور ہارون سے  کہا،

2″ کسی شخص کو اُس کی جِلد پر کوئی بھیانک سوجن ہو سکتی ہے۔ اسے  کھجلی یا سفید داغ ہو سکتا ہے۔ اور اگر یہ جلد کی بیماری کی علامت ہو تو اس آدمی  کو کاہن ہارون یا اُس کے  کسی ایک کاہن بیٹے  کے  پاس لانا چاہئے۔

3 کاہن کو جِلد کے  زخم دیکھنا چاہئے۔ اگر زخم کے  بال سفید ہو گئے  ہوں اور اگر زخم جِلد سے  گہرا ہو گیا ہو تو یہ ایک چھوت کی جِلد کی بیماری ہے۔ کاہن کو کہہ دینا چاہئے  کہ یہ شخص ناپاک ہے۔

4″ اگر سفید داغ جِلد سے  زیادہ گہرا معلوم نہ پڑے  اور اس کا بال بھی سفید نہ ہوا ہو تو کاہن اس شخص کو سات دن کے  لئے  دُوسرے  لوگوں سے  الگ کرے۔

5 ساتویں دن کاہن کو اس شخص کے  متاثرہ حصّہ کی جانچ کرنی چاہئے۔ اگر وہ محسوس کرتا ہے  کہ کوئی ظاہری فرق نہیں ہے  اور بیماری زیادہ نہیں پھیلی ہے  تو کاہن اس شخص کو دوسرے  لوگوں سے  اور سات دن کے  لئے  الگ کر دے۔

6 سات دن بعد کاہن کو اُس آدمی  کی دوبارہ جانچ کرنی چاہئے۔ اگر زخم پھیکا پڑ گیا ہو اور پھیلا بھی نہیں ہو تو کاہن کو کہنا چاہئے  کہ یہ شخص پاک ہے۔ یہ صرف ایک سرخ داغ ہے۔ اسے  اپنے  کپڑے  دھونے  چاہئے  اور پھر سے  پاک ہونا چاہئے۔

7″لیکن اگر جلد کی بیماری اس شخص کو کاہن کے  سامنے  پاکی ظاہر کرنے  کے  لئے  حاضر ہونے  کے  بعد اور زیادہ پھیل جاتی ہے  تو اسے  دوبارہ جانچ کر وانی چاہئے  کہ یہ شخص جِلد کی چھوت کی بیماری میں مبتلا ہے۔

8

9″ اگر آدمی  کو چھوت کی جِلدی بیماری ہوئی ہو تو اسے  کاہن کے  پاس لانا چاہئے۔

10 کاہن کو اس آدمی  کی جانچ کر کے  دیکھنا چاہئے  اگر جِلد پر سفید داغ ہو اور اس جگہ کے  بال سفید ہو گئے  ہوں اور اگر وہاں کھلا ہوا پھوڑا ہو،

11 تو یہ کوئی پرانی جلدی بیماری ہے۔ تب پھر کاہن کو یہ بتا نا چاہئے  کہ وہ آدمی  ناپاک ہے۔ اور اسے  دوسرے  لوگوں سے  الگ کرنے  کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے  کہ وہ شخص ناپاک ہے۔

12″ اگر کاہن کے  جانچ کرنے  کے  بعد جِلدی بیماری اس شخص کے  جسم پر پھیل جائے  اور پورے  جسم پر سر سے  پاؤں تک ڈھک لے ،

13 اور کاہن جب یہ دیکھے  کہ جِلدی بیماری پورے  جسم کو اس طرح ڈھکے  ہوئے  ہے  کہ اُس آدمی  کا پورا جسم ہی سفید ہو گیا ہے  تو کاہن کو اسے  پاک ہونے  کا اعلان کر دینا چاہئے۔

14″ لیکن اگر اس شخص کی جلد پر کھلا ہوا پھوڑا ہو تو وہ پاک نہیں ہے۔

15 جب کاہن جسم پر کھلا ہوا پھوڑا دیکھے  تب اسے  اعلان کرنا چاہئے  کہ وہ شخص ناپاک ہے۔ اور کھلا ہوا پھوڑا جلد کی چھوت کی بیماری ہے۔

16″ اگر اس شخص کی جلد پھر سے  بہتر ہو تی ہے  اور سفید ہو جاتی ہے  تو اس شخص کو کاہن کے  پاس آنا چاہئے۔

17 کاہن کو اس آدمی  کی جانچ کر کے  دیکھنا چاہئے  کہ اگر وبائی بیماری سفید ہو گئی ہے  تو کاہن کو اعلان کر نا چاہئے  کہ وہ شخص پاک ہے۔

18 اگر اس شخص کے  جسم کی جِلد پر کوئی پھوڑا پھنسی ہو اور وہ بھر رہا ہو،

19 لیکن اگر پھوڑے  کی جگہ پر سوجن یا گہری لالی لئے  سفید اور چمکیلا داغ رہ جائے  تب اسے  کاہن کو دیکھنا چاہئے۔

20 کاہن کو اسے  جانچ کر نا چاہئے  اگر وہ دیکھے  کہ وہ جلد سے  گہرا ہے  اور اس کے  بال سفید ہو گئے  ہیں تو کاہن کو کہنا چاہئے  کہ وہ آ دمی نا پاک ہے۔ وہ پھوڑا پھنسی جِلد کی چھوت کی بیماری ہو چکی ہے۔

21 لیکن اگر کاہن پھوڑا پھنسی کو دیکھتا ہے  اور پاتا ہے  کہ اس پر سفید بال نہیں ہے  اور داغ جلد پر گہرا نہیں ہے  یہ دھندلا سا ہو گیا ہے  تو کاہن کو اس شخص کو سات دن کے  لئے  الگ کر دینا چاہئے۔

22 اگر متاثرہ حصّہ جلد پر پھیلتا ہے  تو کاہن کو کہنا چاہئے  کہ وہ شخص ناپاک ہے  یہ جلدی چھوت کی بیماری ہے۔

23 لیکن اگر سفید داغ اپنی جگہ بنا رہتا ہے  پھیلتا نہیں ہے  تو وہ صرف پرانے  پھوڑے  کا معمولی داغ ہے۔ کاہن کو بتانا چاہئے  کہ وہ شخص پاک ہے۔

24″اگر کوئی شخص جل جاتا ہے  اور جلد پر سفید یا سرخ مائل داغ ہوتا ہے  تو ایسے  شخص کو کاہن کو دکھانا چاہئے۔ اگر کاہن محسوس کرتا ہے  کہ جِلد کا وہ حصّہ گہرا ہے۔ اور اس جگہ کے  بال سفید ہیں تو یہ جلد کی چھوت کی بیماری ہے۔ جو جلے  ہوئے  جلد میں سے  پھوٹ پڑا ہے۔ اس طرح کا شخص ناپاک ہے۔

25

26 لیکن کاہن اگر اس جگہ کو دیکھتا ہے  کہ سفید داغ میں سفید بال نہیں ہے  اور جِلد میں بیماری زیادہ گہری نہیں ہے  اور یہ دھند لا سا ہو گیا ہے  تو کاہن کو اُسے  سات دن کے  لئے  ہی الگ کرنا چاہئے۔

27 ساتویں دن کاہن کو اُس کو پھر سے  جانچ کرنا چاہئے  اگر بیماری جِلد پر پھیلتی ہے  تو کاہن کو کہنا چاہئے  کہ وہ شخص نا پاک ہے۔ یہ جلد کی چھوت کی بیماری ہے۔

28 لیکن اگر داغ جِلد پر نہ پھیلا ہو اور دھند لا رہتا ہے  تو یہ صرف جلنے  کا داغ ہے۔ کاہن کو اس شخص کو پاک قرار دینا چاہئے۔

29″ کسی آدمی  کے  سر کی کھال پر یا داڑھی میں کوئی وبائی بیماری ہو سکتی ہے۔

30 کاہن کو وبائی مرض کو دیکھنا چاہئے  اگر یہ بیماری چمڑے  سے  گہری ہو اور اس کے  اطراف کے  بال باریک اور پیلے  ہوں تو کاہن کو کہنا چاہئے  کہ وہ شخص ناپاک ہے۔ یہ سر یا داڑھی کی بہت بُری جِلدی بیماری ہے۔

31 اگر بیماری جِلد سے  گہری نہ معلوم ہو اور اُس میں کوئی کالا بال نہ ہو تو اُسے  سات دن کے  لئے  الگ کر دینا چاہئے۔

32 ساتویں دن کاہن کو وبائی بیماری کو دیکھنا چاہئے  اگر بیماری پھیلی نہیں ہے  یا اس میں پیلے  بال نہیں اُگ رہے  ہیں اور بیماری جِلد سے  گہری نہیں ہے۔

33 تو اس شخص کو تمام بال منڈا لینا چاہئے۔ لیکن اسے  بیماری کی جگہ پر اُگے  ہوئے  بال نہیں منڈانے چاہئیں۔ کاہن کو اس شخص کو اور سات دن کے  لئے  الگ کر نا چاہئے۔

34 ساتویں دن کاہن کو داغ کی جانچ کرنی چاہئے  اور اگر مرض جِلد میں نہیں پھیلا ہے  اور یہ جلد سے  گہرا نہیں معلوم ہوتا ہے  تو کاہن کو کہنا چاہئے  کہ وہ شخص پاک ہے۔ اس شخص کوا پنے  کپڑے  دھونے  چاہئیں  اور وہ پاک ہو جائے  گا۔

35 لیکن اگر اس شخص کے  پاک ہو جانے  کے  بعد اس کے  جلد میں مرض پھیلتا ہے ،

36 تو کاہن کو پھر اس شخص کو جانچ کر نا چاہئے  اگر بیماری جلد میں پھیلی ہو تو کاہن کو پیلے  بالوں کو دیکھنے  کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ شخص ناپاک ہے۔

37 لیکن کاہن اگر یہ سمجھتا ہے  کہ بیماری کا بڑھنا رک گیا ہے  اور اس میں کالے  بال اُگ رہے  ہیں تو وہ بیماری اچھی ہو گئی ہے  اور تب وہ شخص پاک ہے۔ کاہن کو کہنا چاہئے  کہ وہ شخص پاک ہے۔

38″ جب کسی مرد یا عورت کے  جِلد پر سفید داغ ہوں،

39 تو کاہن کو ان داغوں کو دیکھنا چاہئے۔ اگر اس شخص کی جِلد کے  داغ دھندلے  سفید ہیں تو یہ صرف بے  ضرر سرخ داغ ہے  اور وہ شخص پاک ہے۔

40″ کسی شخص کے  سر کے  بال جھڑ سکتے  ہیں لیکن وہ پاک ہے  یہ صرفگنجا پن ہے۔

41 کسی آدمی  کی سر کی پیشانی کا بال جھڑ سکتا ہے ، لیکن وہ پاک ہے۔ یہ دوسری طرح کا گنجا پن ہے۔

42 لیکن اگر کسی شخص کے  پیشانی کے  جِلد کے  سامنے  یا پیچھے  سرخ یا سفید وبائی بیماری دکھائی دے  تو یہ خطرناک جلدی بیماری ہے۔

43 کاہن کو اس شخص کی جانچ کرنی چاہئے  اور اگر اس شخص کے  جِلد میں وبائی مر ض کے  چاروں طرف سوجن ہے  جو کہ لال پن میں بدل چکا ہے  لیکن سفید ہو اور کوڑھ جیسا معلوم پڑتا ہو، چا ہے  کھوپڑی کے  سامنے  ہو یا پیچھے  ہو تو یہ سمجھا جاتا ہے  اس کی  جلد پر خطرناک جلدی بیماری ہے۔ وہ شخص ناپاک ہے۔ کاہن کو اسے  ناپاک کہنا چاہئے۔

44  45″ اگر کسی آدمی  کو جلد کی چھوت کی بیماری ہو تب اُس شخص کو پھٹا ہوا لباس پہننا چاہئے  اسے  اپنے  بالوں کو ٹھیک سے  سنوارنا نہیں چاہئے۔ اسے  اپنا چہرہڈھانک کر رکھنا چاہئے۔ اسے  چلّا کر کہنا چاہئے ” ناپاک، ناپاک” جب تک وہ شخص اس خطرناک جِلدی بیماری سے  ناپاک رہے  گا اسے  چھاؤنی سے  باہر رہنا چاہئے۔

46 جب تک کہ اس شخص کو وبائی بیماری رہے  گی وہ شخص ناپاک رہے  گا وہ شخص ناپاک ہے  اس کی جگہ خیمہ کے  باہر ہونی چاہئے۔

47″کچھ کپڑوں پر پھپھوندی ہو سکتی ہے  چاہے  وہ اون کا بنا ہو یا کتان کا بنا ہو۔ چاہے  کپڑا بُن کر بنایا گیا ہو یا چمڑے  کا بنا ہوا ہو۔

48  49 اگر پھپھوندی کسی بھی کپڑا یا چمڑا پر ہری یا لال ہو تو یہ پھپھوندی ہے ، اور کاہن کو اسے  جانچ کرنی چاہئے۔

50 کاہن کو پھپھوندی دکھانی چاہئے  اسے  اس وبائی چیز کو سات دن تک الگ جگہ پر رکھنا چاہئے۔

51 ساتویں دن پھپھوندی کی جانچ کرنی چاہئے۔ چاہے  پھپھوندی چمڑا پر ہو یا کپڑا پر ہو، چاہے  کپڑا بُنا ہوا ہو یا کسی اور طریقے  سے  بنا یا گیا ہو۔ اگر پھپھوندی پھیلتی ہے  تو وہ کپڑا یا چمڑا نا پاک ہو جاتا ہے۔ وہ پھپھوندی وبائی ہے۔ کاہن کو اس کپڑے  یا چمڑے  کو جلا دینا چاہئے۔

52  53″ اگر کاہن دیکھے  کہ پھپھوندی اس کپڑے  یا چمڑے  پر نہیں پھیلی ہے ،

54 تو کاہن کو لوگوں کو یہ حکم دینا چاہئے  کہ وہ اس وبائی کپڑے  یا چمڑے  کو دھوئے  تب کاہن کو اسے  اور سات دنوں کے  لئے  الگ کر دینا چاہئے۔

55 تب پھر کاہن کو ان کپڑوں کو دھونے  کے  بعد جانچ کرنی چاہئے۔ اگر پھپھوندی اب تک ہے  اگر چہ وہ وبائی بیماری پھیلی نہیں ہے  تب بھی وہ کپڑے  ناپاک ہیں۔ ان چیزوں کو جلا دینا چاہئے۔ یہ ضروری نہیں کہ کپڑے  کے  کس طرف وبا ہوا تھا۔

56″ لیکن اگر کاہن دیکھتا ہے  کہ دھونے  کے  بعد پھپھوندی پھیکی پڑ گئی ہے۔ تو کاہن کو چمڑے  یا کپڑے  کی پھپھوندی سے  متاثرہ اس حصہ کو پھاڑ دینا چاہئے۔

57 لیکن پھپھوندی اُس چمڑے  یا کپڑے  میں سے  کسی پر بھی پھر سے  پھیل سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے  تو پھپھوندی بڑھ رہی ہے۔ تب اس متاثرہ سامان کو جلا دینا چاہئے۔

58 لیکن اگر دھونے  کے  بعد پھپھوندی اس سامان پر نہ پھیلتی ہو تو اسے  پھر سے  دھونا چاہئے۔”

59 کپڑا یا چمڑا پر ہونے  والی پھپھوندی سے  متعلق، چاہے  وہ کپڑا بُنا ہوا ہو یا کسی اور طریقے  سے  بنایا گیا ہو، یہ اعلان کرنے  کے  لئے  کہ پاک ہے  یا ناپاک ہے  یہی قانون ہے۔

 

 

 

 

احبار   14

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2″ یہ قانون ان لوگوں کے  لئے  ہے  جو جلد کی خطرناک بیماری میں مبتلاء ہیں، ان لوگوں کے  لئے  جو پاک قرار دیئے  گئے  ہیں۔” انہیں کاہن کے  پاس لانا چاہئے۔

3 کاہن کو چھاؤنی کے  باہر جانچ کرنے  کے  لئے  جانا چاہئے۔ اگر وبا میں مبتلا شخص جِلدی بیماری سے  اچھا ہو گیا ہے۔

4 اگر ایسا ہوا ہے  تو کاہن کو وبا سے  مبتلا شخص کو یہ حکم دینا چاہئے  : اسے  دو چڑیا جو کہ زندہ اور رسماً پاک ہونا چاہئے ، دیودار کی لکڑی، لال دھاگے  کا ایک ٹکڑا اور زوفا کا پودا لانا چاہئے  اس شخص کی پاکی کے  لئے  جو اچھا ہوا ہے۔

5 کاہن کو بہتے ہوئے پانی کے  اوپر مٹی کے  کٹورہ میں ایک چڑیا ذبح کرنے  کا حکم دینا چاہئے۔

6 پھر کاہن دوسرے  چڑیا کو جو کہ ابھی زندہ ہے ، دیودار کی لکڑی کا ٹکڑا، لال دھا گے  کا ٹکڑا اور زوفا کا پودا لے  گا۔ کاہن کو اس چڑیا کو جو کہ زندہ ہے۔ دیودار کی لکڑی، لال دھاگے  کا ٹکڑا اور زوفا کا پودا اس چڑیا کے  خون میں ڈ بونا چاہئے  جسے  بہتے  ہوئے پانی کے  اوپر ذبح کیا گیا ہے۔

7 کاہن کو اِس شخص کے  اوپر جسے  جِلد کی چھوت کی بیماری سے  پاک کیا گیا ہے  سات مرتبہ خون کو چھڑکنا چاہئے۔ تب کاہن کو کہنا چاہئے  کہ وہ شخص پاک ہے۔ تب پھر کاہن کو اس چڑیا کو جو کہ زندہ ہے  کھلے  میدان میں اڑا دینا چاہئے۔

8″تب اس شخص کو جو کہ اچھا ہوا ہے  اپنا کپڑا دھونا چاہئے ، اپنے  سارے  بال کاٹنے  چاہئے  اور غسل کرنا چاہئے  تب وہ پاک ہو جائے  گا۔ اس کے  بعد وہ چھاؤنی میں داخل ہو سکتا لیکن اُسے  اپنے  خیمہ کے  باہر سات دن تک رہنا چاہئے۔

9 ساتویں دن اُسے  اپنے  تمام بال کاٹ ڈالنے  چاہئے  اُسے  اپنے  سر، داڑھی اور بھنویں کے  سب بال بھی کٹوا لینا چاہئے۔ پھر اُسے  اپنے  کپڑے  دھونا چاہئے  اور غسل کرنا چاہئے  جب کہیں وہ آدمی  پاک ہو گا۔

10″ آٹھویں دن ہر پاک شخص کو دو نر میمنے لینا چاہئیں  جن میں کوئی عیب نہ ہو۔ اُسے  ایک سال کی ایک مادہ میمنہ بھی لینی چاہئے  جس میں کوئی عیب نہ ہو۔ اس کے  علاوہ اسے  ۲۴ پیالے  عمدہ تیل ملا آٹا اناج کی قربانی کے  لئے  لانا چاہئے۔ اسے  ۳/۲پِنٹ زیتون کا تیل بھی لانا چاہئے۔

11 پاک قرار دینے والے کاہن کو اس شخص اور اُس کی قربانی کو خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر خداوند کے  سامنے  رکھنا چاہئے۔

12″ کاہن ایک نر میمنہ کو جرم کی قربانی کے  طور پر تیل کے  ساتھ پیش کرے  گا۔ اسے  وہ سب لہرانے  کے  نذرانے  کے  طور پر خداوند کے  سامنے  پیش کرنا چاہئے۔

13 تب کاہن اس نر میمنہ کو اس مقدس جگہ میں ذبح کرے  گا جہاں پر جلانے  کی قربانی کو ذبح کیا گیا تھا۔ جرم کی قربانی پیش کئے  گئے  گناہ کی قربانی کی مانند ہے۔ یہ قربانی جرم کی قربانی کی طرح کاہن کی ہو گی۔ اور یہ سب سے  مقدّس نذرانہ ہے۔

14″ کاہن جرم کی قربانی کا تھوڑا خون لے  گا اور پھر اسے  پاک کئے  گئے  آدمی  کے  دائیں کان کی لَو پر لگائے  گا۔ کاہن تھوڑا خون اُس آدمی  کے  دائیں ہاتھ کے  انگوٹھے  اور دائیں پیر کے  انگوٹھے  پر لگائے  گا۔

15 کاہن زیتون کا کچھ تیل بھی لے  کر اپنی بائیں ہتھیلی پر ڈالے  گا۔

16 پھر کاہن اپنے  دائیں ہاتھ کی انگلی اپنے  بائیں ہاتھ کی ہتھیلی میں رکھے  ہوئے  تیل میں ڈبوئے  گا۔ وہ اپنی انگلی کا استعمال اس تیل کو خداوند کے  سامنے  سات بار چھڑکنے  کے  لئے  کرے  گا۔

17 تب کاہن تھوڑا تیل اپنے  بائیں ہتھیلی سے  لے  گا اور اسے  اس شخص کے  داہنے  کان کے  لَو، داہنے  ہاتھ کے  انگوٹھا اور داہنے  پیر کے  انگوٹھے  پر لگائے  گا جسے  کہ پاک کر نا ہے۔ وہ اس تیل کو خون کے  اوپر ڈالے  گا جیسا کہ اس نے  جرم کی قربانی کے  ساتھ کیا تھا۔

18 کاہن اپنی ہتھیلی میں بچا ہوا تیل پاک کئے  جانے  والے  آدمی  کے  سر پر لگائے  گا۔ اس طرح کاہن اس آدمی  کے  گناہ کا خداوند کے  سامنے  کفّارہ ادا کرے  گا۔

19″ اس کے  بعد کاہن کو گناہ کی قربانی پیش کرنا چاہئے۔ اس طرح سے  وہ اس کے  لئے  جسے  نا پاکی سے  پاک کیا جا رہا ہے  کفّارہ ادا کراتا ہے۔ اس کے  بعد کاہن جلانے  کی قربانی کے  لئے  جانور ذبح کرے  گا،

20 جلانے  کی قربانی اور اناج کی قربانی کو قربان گاہ پر پیش کرے  گا۔ اس طرح کاہن اس شخص کا کفّارہ ادا کرے  گا اور وہ پاک ہے۔

21″ لیکن اگر کوئی شخص غریب ہے  اور وہ مالی اعتبار سے  ان قربانیوں کو دینے  کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے ، تو اسے  ایک نر میمنہ جرم کی قربانی کے  لئے ، لہرانے  کی قربانی کے  لئے ، اپنا کفّارہ دینے  کے  لئے  اور تیل ملا ہوا آٹھ پیالہ باریک آٹا جو اناج کی قربانی کے  لئے  ہے ، اس کے  ساتھ لانا چاہئے ، اسے  دو تہائی پِنٹ زیتون کا تیل بھی لینا چاہئے۔

22 اور پاک کیے گئے شخص کو  چاہئے کہ دو کبوتر کے  بچّے  یا دو فاختہ کے  بچّے  جس کی بھی استطاعت وہ رکھتا ہو لائے۔ ایک چڑیا گناہ کی قربانی اور دوسری چڑیا جلانے  کی قربانی کے  لئے  ہو گی۔

23″ آٹھویں دن پاک کیا ہوا شخص پاکی کی  ان چیزوں کو خداوند کے  سامنے  خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر کاہن کے  آگے  لائے  گا۔

24 کاہن تیل اور میمنہ کو جرم کی قربانی کے  لئے  اٹھائے  گا۔ اور اسے  خداوند کے  سامنے  لہرانے  کے  نذرانے  کے  طور پر پیش کرے  گا۔

25 کاہن جرم کی قربانی کے  میمنہ کو ذبح کرے  گا وہ اس کا تھوڑا خون لے  گا اور اسے  پاک کئے  گئے  شخص کے  کان کے  لَو میں لگائے  گا۔ اور اس میں سے  کچھ داہنے  ہاتھ کے  انگوٹھے  پر اور داہنے  پیر کے  انگوٹھے  پر بھی لگائے  گا۔

26″ کاہن اس تیل میں سے  کچھ اپنی بائیں ہتھیلی میں بھی ڈالے  گا۔

27 کاہن اپنے  دائیں ہاتھ کی انگلی سے  اپنی بائیں ہاتھ کے  ہتھیلی سے  کچھ تیل لے  کر خداوند کے  سامنے  سات بار چھڑ کے  گا۔

28 تب کاہن اپنی ہتھیلی سے  کچھ تیللے  کر انہیں جگہوں پر لگائے  جہاں اس نے  جرم کی قربانی کا خون لگایا تھا وہ تیل پاک کئے  جانے  والے  شخص کے  دائیں کان کے  لَو پر، کچھ تیل اس کے  دائیں ہاتھ کے  انگوٹھے  اور دائیں پیر کے  انگوٹھے  پر بھی لگائے  گا۔

29 کاہن کو اپنی ہتھیلی کے  بچے  ہوئے  تیل کو پاک کئے  جانے  والے  شخص کے  سر پر اس شخص کے  لئے  خداوند کے  سامنے  کفّارہ ادا کرنے  کے  لئے  ڈالنا چاہئے۔

30″ تب اس شخص کو فاختاؤں میں سے  ایک فاختہ یا کبوتر میں سے  ایک کبوتر، جس کی بھی وہ استطاعت رکھتا ہو پیش کرنا چاہئے۔

31 اُسے  پرندوں میں سے  ایک کو گناہ کی قربانی کے  طور پر پیش کرنی چاہئے  اور دوسرے  پرندہ کو جلانے  کی قربانی کے  طور پر پیش کرنا چاہئے۔ اُسے  پرندوں کو اناج کی قربانی کے  ساتھ پیش کرنا چاہئے۔ اس طرح کاہن خداوند کے  سامنے  پاک کئے  گئے  شخص کے  گناہ کا کفّارہ ادا کرے  گا۔”

32 جلد کی خطرناک بیماری سے  اچھا ہونے  کے  بعد کسی شخص کو پاک کرنے  کے  لئے  یہ قانون ہے۔ یہ قوانین ان لوگوں کے  لئے  ہے  جو پاک ہونے  کے  لئے  معمول کے  مطابق قربانی پیش کرنے  کی استطاعت نہیں رکھتے  ہیں۔

33 خداوند نے  موسیٰ اور ہارون سے  یہ بھی کہا،

34″ میں تمہارے  لوگوں کو ملک کنعان دے  رہا ہوں۔ جب تمہارے  لوگ پہنچیں گے ، اور اگر میں گھروں میں سے  ایک میں پھپھوندی پھیلا دوں،

35 تو اُس گھر کے  مالک کو کاہن کے  پاس آ کر کہنا چاہئے ، ‘ میں نے  اپنے  گھر میں پھپھوندی جیسی کوئی چیز دیکھی ہے۔ ‘

36″ گھر کے  مالک کو کاہن کے  دیکھے  جانے  سے  پہلے  ہی گھر کو خالی کر دینا چاہئے تا کہ گھر کا سارا سامان ناپاک نہ ہو جائے۔ تب کاہن اس کا گھر جانچ کرنے  کے  لئے  جائے  گا۔

37 کاہن پھپھوندی کی جانچ کرے  گا۔ اگر پھپھوندی نے  گھر کی دیواروں پر ہرے  یا لال رنگ کے  چکتے  بنا دیئے  ہوں اور پھپھوندی دیوار کی سطح کے  نیچے  بڑھ رہی ہو،

38 تو کاہن کو گھر سے  باہر نکل آنا چاہئے  اور سات دن کے  لئے  گھر کو تالا لگا کر بند کر دینا چاہئے۔

39″ساتویں دن کاہن کو وہاں پھر جانا چاہئے  اور اس کی جانچ کرنا چاہئے۔ اگر گھر کی دیواروں پر پھپھوندی پھیل گئی ہے ،

40 تو کاہن کو پھپھوندی کو پتھّر سمیت جس پر کہ یہ ہے  باہر نکال لینے  کا حکم دینا چاہئے  اور اسے  شہر سے  باہر دور ناپاک جگہ میں پھینک دینا چاہئے۔

41 تب کاہن کو دیواروں کے  پلستر کو کھُرچنے  کا کا حکم دینا چاہئے۔ اور اسے  کھُرچے  ہوئے  پلستر کو شہر کے  باہر دور ناپاک جگہ میں پھینک دینا چاہئے۔

42 تب لوگوں کو نئے  پتھر دیواروں میں لگانے  چاہئے  اور اُسے  اُن دیواروں میں نئے  سِرے  سے  پلستر کرنا چاہئے۔

43″ اگر کوئی شخص پرانے  پتھروں اور پلستر کو نکال کر اس جگہ پر نئے  پتھروں اور پلستر کو لگائے ، اور پھپھوندی اس گھر میں پھر سے  ظاہر ہو جائے۔

44 تب کاہن کو آ کر اس گھر کی جانچ کرنی چاہئے  اگر پھپھوندی گھر میں پھیل گئی ہے  تو یہ بیماری گھر میں سرایت کر چکی ہے  اور ناپاک ہو چکا ہے۔

45 اس حالت میں پورا گھر گرا دینا چاہئے۔ اور انہیں پتھروں کو، پلستروں کو اور لکڑی کے  ٹکڑوں کو شہر کے  باہر ناپاک جگہ پرلے  جانا چاہئے۔

46 اور اگر کوئی شخص ناپاک گھر میں داخل ہوتا ہے  جب وہ گھر بند رہتا ہے  تو وہ شخص بھی شام تک نا پاک ہو جائے  گا۔

47 اگر کوئی شخص اس میں کھانا کھاتا ہے  یا اُس میں سوتا ہے  تو اس شخص کو اپنے  کپڑے  دھونے  چاہئے۔

48 گھر کو نئے  پتھر سے  پھر سے  بنانے  اور نئے  سِرے  سے  پلستر کرنے  کے  بعد کاہن کو گھر کی جانچ کرنی چاہئے۔ اگر پھپھوندی نہیں پھیلی ہے  تو کاہن اعلان کرے  گا کہ گھر پاک ہے  کیونکہ پھپھوندی ختم ہو گئی ہے۔

49″ تب گھر کو پاک کرنے  کے  لئے  دو پرندے  ایک دیودار کی لکڑی کا ٹکڑا ایک لال دھاگے  کا ٹکڑا اور زوفا کا پودا لینا چاہئے۔

50 کاہن بہتے  ہوئے  پانی کے  اوپر مٹّی کے  کٹورے  میں ایک چڑیا کو ذبح کرے  گا۔

51 تب کاہن کو دیودار کی لکڑی کا ٹکڑا، لال رنگ کے  دھا گے  کا ایک ٹکڑا اور زندہ چڑیا کو لینا چاہئے  اور اُسے  اور ان چیزوں کو بہتے  ہوئے  پانی کے  اوپر ذبح کی  گئی  چڑیا کے  خون میں ڈبونا چاہئے۔ تب وہ اس خون کو اُس گھر میں سات مرتبہ چھڑ کے  گا۔

52 اس طرح سے  کاہن چڑیا کے  خون اور پانی سے ، زندہ چڑیا سے ، دیودار کی لکڑی سے  اور زوفا کے  پودا سے  گھر کو پاک کرے  گا۔

53 تب کاہن دوسری چڑیا کو شہر کے  باہر میدان میں اُڑا دے  گا۔ اس طرح وہ گھر کا کفّارہ ادا کرے  گا اور یہ پاک ہو جائے  گا۔”

54 پھپھوندی اور کوڑھ کی بیماری کے  لئے ،

55 چاہے  گھر میں ہوں یا کپڑوں میں،

56 چمڑے  کی سوجن کے  لئے ، چمڑے  پر سرخ داغ یا چمکیلے  دھبّے  کے  لئے  یہ سب اُصول ہیں۔

57 یہ سب اصول ہمیں سکھاتے  ہیں کہ چیزیں کب ناپاک ہیں اور کب پاک ہیں۔ یہ سب اصول اس طرح کی خطرناک بیماریوں سے  متعلق ہیں۔

 

 

 

 

احبار   15

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ اور ہا رون سے  کہا،

2″ بنی اسرائیلیوں سے  کہو : جب کسی شخص کو تولیدی اخراج ہوتا ہے  تو وہ نا پاک ہے۔

3 اس سے  کوئی فرق نہیں پڑتا ہے  اخراج رُک گیا ہو یا اخراج جاری ہو۔ دونوں حالت میں وہ نا پاک ہے۔

4″ اگر کسی شخص کو اخراج ہوتا ہے  اور وہ کسی چیز پر سوتا ہے  یا بیٹھتا ہے  تو وہ نا پاک ہو جاتا ہے۔

5 اگر کوئی شخص اُس کے  بستر کو چھُوتا ہے  تو اُسے  کپڑوں کو دھونا چاہئے  اور پانی سے  نہا نا چاہئے۔ وہ شام تک نا پاک رہے  گا۔

6 اگر کوئی شخص اس شخص کی نشست پر بیٹھتا ہے  جس شخص کا اخراج ہوا ہے  تو اُسے  اپنے  کپڑوں کو دھونا اور پانی سے  نہا نا چاہئے۔ وہ شام تک نا پاک رہے  گا۔

7 اگر کوئی شخص اس شخص کی جِلد کو چھُوتا ہے  جس کو خارج ہوا ہے  تو اسے  اپنے  کپڑوں کو دھو نا اور پانی سے  نہانا چاہئے۔ وہ شام تک نا پاک رہے  گا۔

8 اگر وہ شخص جسے  خارج ہوا ہے  کسی شخص پر تھوکتا ہے  تو اسے  بعد میں اپنے  کپڑے  دھونے  چاہئے  اور نہا نا چاہئے۔ یہ اس طرح کا شخص شام تک ناپاک رہے  گا۔

9 اگر کوئی شخص جس کا خارج ہوا ہے  سواری کرتے  وقت کسی بھی چیز پر بیٹھتا ہے  تو نا پاک ہو جاتا ہے۔

10 اگر کوئی شخص کسی چیز کو جو کہ اس کے  نیچے  ہو چھوتا ہے  تو وہ شام تک نا پاک رہے  گا۔ کوئی شخص جو ان چیزوں میں سے  کسی بھی چیز کولے  جاتا ہے  تو اسے  اپنے  کپڑے  دھونا چاہئے  اور پانی سے  نہانا چاہئے۔ وہ شام تک نا پاک رہے  گا۔

11″ اگر کسی شخص کو اخراج ہو جاتا ہے  اور وہ بغیر ہاتھ دھو ئے  کسی چیز کو چھُو لیتا ہے  تو اسے  اپنے  کپڑوں کو دھونا چاہئے  اور اسے  پانی سے  غسل کرنا چاہئے۔ وہ شام تک نا پاک ر ہے  گا۔

12 وہ شخص اگر کوئی مٹّی کا کٹورا چھُو لے  تو وہ کٹورا پھوڑ دینا چاہئے۔ اگر وہ شخص کوئی لکڑی کا برتن چھوئے  تو اس کٹورے  کو پانی میں اچھی طرح دھونا چاہئے۔

13 اگر کسی شخص کا خارج بند ہو جائے  تو اسے  سات دن تک انتظار کرنا چاہئے  اور ہر ایک دن اسے  یہ جانچ کرنی چاہئے  کہ اسے  اور خارج نہیں ہوتا ہے۔ تب پھر اسے  کپڑوں کو دھونا چاہئے  اور بہتے  ہوئے  پانی میں غسل کرنا چاہئے ، وہ پاک ہو جائے  گا۔

14″ آٹھویں دن اس شخص کو دو فاختے  یا دو کبوتر کے  بچے  لینا چاہئے۔ اُسے  خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر خداوند کے  سامنے  لانا چاہئے۔ اسے  ان سب کو کاہن کو دینا چاہئے۔

15 کاہن ان کی قربانی چڑھائے  گا۔ ایک کو گناہ کی قربانی کے  لئے  اور دوسرے  کو جلانے  کی قربانی کے  لئے۔ اس طرح کاہن اُس شخص کے  لئے  خداوند کے  سامنے  اس کے اخراج کے  لئے  کفارہ دے  گا۔

16″ اگر کسی شخص کی منی بہتی ہے  تو اس کو اپنے  پو رے  جسم کو پانی سے  دھو نا چاہئے۔ وہ شام تک نا پاک رہے  گا۔

17 اگر منی کسی کپڑے  یا چمڑے  پر ہو تو وہ کپڑا یا چمڑا پانی سے  دھونا چاہئے۔ وہ شام تک نا پاک ہے  گا۔

18 اگر کوئی آدمی  کسی عورت کے  ساتھ سوتا ہے  اور منی نکلتی ہے  تو وہ عورت و مرد دونوں کو بہتے  ہوئے  پانی میں نہانا چاہئے۔ وہ شام تک نا پاک رہیں گے۔

19″ اگر کوئی عورت کو ماہواری خون بہتا ہے  تو وہ سات دن تک نا پاک رہے  گی۔ اگر کوئی شخص اسے  چھُوتا ہے  تو وہ آ دمی شام تک نا پاک رہے  گا۔

20 اپنی ماہواری کے  ایّام کے  دوران عورت جس کسی چیز پر لیٹے  گی یا بیٹھے  گی وہ نا پاک ہو جائے  گی۔

21 اگر کوئی شخص اس عورت کے  بستر کو چھُوتا ہے  تو اسے  اپنے  کپڑوں کو پانی میں دھو نا اور نہانا چاہئے۔ وہ شام تک نا پاک رہے  گا۔

22 اگر کوئی شخص کسی چیز کو چھُوتا ہے  جس پر وہ عورت بیٹھی تھی تب اسے  اپنے  کپڑے  دھونا چاہئے  اور پانی میں نہانا چاہئے۔ وہ شام تک نا پاک رہے  گا۔

23 یہ اس کے  بستر یا کسی بھی چیز جس پر کہ وہ بیٹھتی ہے  اس کو چھونے  سے  متعلق ہے۔ وہ شام تک نا پاک رہے  گا۔

24″ اگر کوئی آدمی  کسی عورت کے  ساتھ ایام ماہواری کے  وقت جنسی تعلق کرتا ہے  تو اس کی ماہواری کی نا پا کی اس میں چلی جاتی ہے  اور وہ آدمی  سات دن تک نا پاک رہے  گا۔ اور جس بستر پر بھی وہ سوتا ہے  نا پاک ہو جاتا ہے۔

25″ اگر کسی عورت کو ایّام ماہواری چھوڑ کر بہت دنوں تک ماہواری کا خون بہتا ہے ، یا اگر یہ اس کی ماہواری کا ایّام نہیں ہے  اور اس کو ایّام ماہواری کے  دوران کی طرح خون کا بہنا مسلسل جاری رہتا ہے  تو وہ اس وقت تک نا پاک رہے  گی جب تک کہ خون کا بہنا رُک نہ جائے۔

26 جب اسے  ماہواری کا خون بہتا ہے  اور اس دوران وہ کسی بھی بستر پر سوتی ہے  یا کسی بھی جگہ پر بیٹھتی ہے  تو یہ نا پاک ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سے  جس طرح کے  معمول کے  مطابق ہونے  والے  ماہواری کے  ایّام کے  دوران ہوتا ہے۔

27″ اگر کوئی شخص ان چیزوں کو چھُوتا ہے  تو وہ نا پاک ہو جاتا ہے۔ اس آدمی  کو پانی سے  اپنے  کپڑے  دھونا چاہئے  اور نہانا چاہئے۔ وہ شام تک نا پاک رہے  گا۔

28″ اس کے  بعد جب عورت ایّام ماہواری سے  فارغ ہو جا تی ہے  تب اسے  سات دن گِننے  چاہئیں۔ اس کے  بعد وہ پاک ہو گی۔

29 پھر آٹھویں دن اسے  دو فاختے  یا دو کبوتر کے  بچے  لینے  چاہئے۔ اور اسے  خیمۂ اجتماع کے  دروازہ پر کاہن کے  پاس لا نا چاہئے۔

30 پھر کاہن کو ایک چڑیا کو گناہ کی قربانی کے  طور پر اور دوسرے  کو جلانے  کی قربانی کے  طور پر چڑھانا چاہئے۔ اس طرح وہ کاہن خداوند کے  سامنے  اس کے  ایّام کی نا پاکی کے  لئے  کفّارہ ادا کرے  گا۔

31″ اس لئے  تم بنی اسرائیلیوں کو نا پاک ہونے  اور ان کی نا پاکی سے  دور رہنے  کے  متعلق ہوشیار کرنا۔ اگر تم لوگوں کو ہوشیار نہیں کرتے  تو وہ میرے  مقدس خیمہ کو نا پاک کر سکتے  ہیں اور پھر انہیں مرنا ہو گا۔”

32 یہ اُصول ان لوگوں کے  لئے  ہے  جس کا تولیدی اخراج ہوا ہو یا ان لوگوں کے  لئے  ہے  جو منی کے  نکلنے  سے  نا پاک ہوتے  ہیں،

33 ان عورتوں کے  لئے  ہے  جو اپنے  ایّام ماہواری کے  بہنے  سے  نا پاک ہو جا تی ہے ، اور کسی بھی مرد یا عورت کے  لئے  جس کا اخراج ہو، ان آدمیوں کے  لئے  جو کہ کسی بھی نا پاک عورت کے  ساتھ سونے  کی وجہ سے  نا پاک ہو جاتا ہے۔

 

 

 

احبار   16

 

 

1 ہا رون کے  دو بیٹے  خداوند کو نذرانہ پیش کرتے  وقت مر گئے  تھے  تب اس کے  بعد موسیٰ نے  خداوند سے  کہا،”

2 خداوند نے  کہا”اپنے  بھائی ہارون سے  بات کرو کہ وہ جب چاہے  پردہ کے  پیچھے  مقّدس ترین جگہ میں مقدّس صندوق کے  سرپوش (ڈھکن) کے  سامنے  نہیں جا سکتا۔ ورنہ وہ مر جائے  گا۔ یہ اس لئے  کہ میں بادل میں اس رحم کی  نشست کے  اوپر ظاہر ہوتا ہوں۔

3 ہارون جب مقدّس ترین جگہ میں جاتا ہے  تو اسے  گناہ کی قربانی کے  طور پر ایک بچھڑا اور جلانے  کی قربانی کے  لئے  ایک مینڈھا قربانی دینا چاہئے۔

4 ہارون اپنے  پورے  جسم کو پانی ڈال کر دھوئے  گا۔ پھر ہارون ان سب کپڑوں کو پہنے  گا : ہارون پٹ سن سے  بنی  مقدس قمیض کو پہنے  گا۔ پٹ سن سے  بنے  اندرونی لباس جسم سے  لگے  ہوں گے۔ وہ پٹ سن سے  بنے  کمر بند کو پہنے  گا۔ ہارون سن کی پگڑی باندھے  گا یہ سب مقدّس لباس ہے۔

5″ ہارون کو بنی اسرائیلیوں کے  لئے  دو بکرے  گناہ کی قربانی کے  طور پر اور ایک مینڈھا جلانے  کی قربانی کے  لئے  لینا چاہئے۔

6 اس لئے  ہارون ایک بیل کو اپنے  گناہ کی قربانی کے  لئے  اپنے  اور اپنے  خاندان کے  کفّارے  کے  لئے  قربانی کے  طور پر پیش کرے  گا۔

7″ اُس کے  بعد ہارون دو بکرے  کولے  گا اور اسے  خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر خداوند کے  سامنے  لائے  گا۔

8 پھر ہارون دونوں بکروں کے  لئے  قرعہ ڈالے  گا۔ ایک خداوند کے  لئے  اور دوسرے  عزازیل کے  لئے

9″ تب ہارون قرعہ ڈال کر چُنے  گئے  بکرے  کو خداوند کے  لئے  گناہ کی قربانی کے  طور پر قربانی دے  گا۔

10 لیکن قرعہ ڈال کر عزازیل کے  لئے  چُنا گیا بکرا خداوند کے  سامنے  زندہ لایا جانا چاہئے۔ تب یہ بکرا ریگستان میں عزازیل کے  پاس کفّارہ دینے  کے  لئے  بھیجا جائے  گا۔

11 تب ہارون اپنے  لائے  ہوئے  بیل کو گناہ کی قربانی کے  طور سے  چڑھائے  گا۔ اس طرح سے  ہارون اپنے  اور اپنے  خاندان کے  لئے  کفّارہ ادا کرے  گا۔ ہارون بیل کو اپنے  لئے  گناہ کی قربانی کے  طور پر ذبح کرے  گا۔

12 تب ایک بخور دان کو خدا کے  سامنے  کے  قربان گاہ کے  کوئلے  کے  آگ سے  بھر کر لانا چاہئے۔ ہارون کو ایک مٹھی خوشبودار بخور لانا چاہئے  اور یہ اسے  پردہ کے  پیچھے  کے  کمرہ میں لانا چاہئے۔

13 تب ہارون کو بخور آ گ میں ڈالنا چاہئے  اور میٹھی خوشبو جو کہ اس سے  نکلتی ہے  سر پوش کو جو کہ معاہدہ کے  صندوق پر ہے  ڈھک لے  گا۔

14 ساتھ ہی ساتھ ہارون کو بیل کا کچھ خون لینا چاہئے  اور اُسے  اپنی انگلی سے  مشرق کی طرف سر پوش پر چھڑکنا چاہئے۔ اس طرح سے  ہارون خون اپنی انگلی سے  سات بار چھڑ کے  گا۔

15″تب ہارون کو لوگوں کے  لئے  گناہ کے  نذرانے  کے  طور پر بکراذبح کرنا چاہئے۔ ہارون کو اس بکرے  کا خون پر دہ کے  پیچھے  لانا چاہئے۔ ہارون کو بکرے  کے  خون کو چھڑکنے  کا وہی عمل کرنا چاہئے  جیسا بیل کے  خون سے  اس نے  کیا۔ ہارون کو سر پوش اور اس کے  سامنے  بکرے  کا خون چھڑکنا چاہئے۔

16 اس لئے  ہارون مقدس جگہ کے  لئے ، اور اسرائیلیوں کے  ناپاکی اور جرم کے  لئے  اور ان کے  تمام گناہوں کے  لئے  کفّارہ ادا کرے  گا۔ اسے  یہ پورے  خیمۂ اجتماع کے  لئے  کرنا چاہئے  جو کہ ان لوگوں کے  ساتھ ان کے  ناپاکی میں رہا۔

17 جس وقت ہارون مقدس ترین جگہ میں داخل ہو اس وقت کوئی آدمی  خیمۂ اجتماع میں نہیں ہونا چاہئے۔ کسی شخص کو اس کے  اندر اس وقت تک نہیں جانا چاہئے  جب تک کہ ہارون باہر نہ آ جائے۔ اس طرح ہارون اپنے  آپ  اور اپنے  خاندان کے  لئے  اور سبھی بنی اسرائیلیوں کے  لئے  کفارہ دے  گا۔۔

18 اس کے  بعد ہارون قربان گاہ کے  پاس جائے  گا اور اس کے  لئے  خداوند کے  سامنے  کفارہ ادا کرے  گا۔ ہارون کو بیل کا اور بکرے  کا بھی تھوڑا سا خون لینا چاہئے  اور اسے  قربان گاہ کے  چاروں کونوں میں لگانا چاہئے۔

19 پھر ہارون تھوڑا خون اپنی انگلی سے  قربان گاہ پر سات بار چھڑ کے  گا اس طرح ہارون بنی اسرائیلیوں کے  نا پاکی سے  قربان گاہ کو پاک اور مقدّس کرے  گا۔

20″ جب ہارون مقدس ترین جگہ، خیمۂ اجتماع اور قربان گاہ کو پاک کر دے  گا۔ تب وہ خداوند کے  پاس بکرے  کو زندہ لائے  گا۔

21 ہارون اپنے  دونوں ہاتھوں کو زندہ بکرے  کے  سر پر رکھے  گا۔ تب ہارون بکرے  کے  اوپر بنی اسرائیلیوں کے  قصور اور گناہ کا اقرار کرے  گا۔ اس طرح ہارون بنی اسرائیلیوں کے  گناہوں کے  بوجھ کو بکرے  کے  سر پر ڈالے  گا تب وہ بکرے  کو دور ریگستان میں بھیجے  گا۔ ایک چُنا ہوا شخص اسے  وہاں لے  جائے  گا۔

22 اس طرح سے  بکرا سبھی بنی اسرائیلیوں کے  گناہ اپنے  اوپر ریگستان میں لے  جائے  گا۔ جو شخص بکرے  کو ہانکتا ہے  وہ اسے  ریگستان میں چھوڑ دے  گا۔

23″ تب ہارون خیمۂ اجتماع میں جائے  گا۔ وہ پٹ سن کے  ان کپڑوں کو اتارے  گا جنہیں اس نے  مقدس ترین جگہ میں جاتے  وقت پہنا تھا۔ اُسے  اُن کپڑوں کو وہیں چھوڑنا چاہئے۔

24 وہ اپنے  پورے  جسم کو مقدس جگہ میں پانی سے  دھوئے  گا۔ تب وہ اپنے  دوسرے  کپڑوں کو پہنے  گا۔ وہ باہر آ کر اپنے  لئے  جلانے  کی قربانی اور دوسرے  جلانے  کی قربانی لوگوں کے  لئے  پیش کرے  گا۔ وہ اپنے  لئے  اور لوگوں کے  لئے  کفّارہ دے  گا۔

25 تب وہ قربان گاہ پر گناہ کی قربانی کی چربی کو جلائے  گا۔

26″ جو شخص بکرے  کو عزازیل کے  پاس لے  جائے  اسے  اپنے  کپڑے  اور اپنے  تمام جسم کو پانی سے  دھونا چاہئے۔ اس کے  بعد وہ چھاؤنی میں آ سکتا ہے۔

27″ تب گناہ کی قربانی کے  بیل اور بکرے  کو جس کے  خون کو مقدس جگہ میں کفّارہ کے  لئے  پیش کیا گیا تھا چھاؤنی سے  باہر لانا چاہئے۔ وہاں پر وہ لوگ ان جانوروں کا چمڑا گوشت اور جسم کے  بیکار حصّوں کو آ گ میں جلائیں گے۔

28 تب ان چیزوں کے  جلانے  والے  شخص کو اپنے  کپڑے  اور پورے  جسم کو پانی سے  دھونا چاہئے۔ اس کے  بعد وہ شخص چھاؤنی میں آ سکتا ہے۔

29 یہ اُصول تمہارے  لئے  ہمیشہ لاگو رہے  گا۔ ساتویں مہینے  کے  دسویں دن تمہیں روزہ رکھنا چاہئے۔ تمہیں کوئی کام نہیں کرنا چاہئے۔ شہریوں اور غیر ملکیوں دونوں کو تمہارے  ساتھ رہنا چاہئے۔

30 کیونکہ اس دن تمہارے  لئے  کفارہ ادا کیا جائے  گا اور تم اپنے  گناہوں سے  پاک ہو جاؤ گے۔ تب تم خداوند کے  سامنے  پاک ہو گے۔

31 یہ دن تمہارے  لئے  پورا آرام کرنے  کے  لئے  بنایا گیا ہے۔ تمہیں اس دن روزہ رکھنا چاہئے  یہ اُصول ہمیشہ رہے  گا۔

32″ وہ شخص جو اعلیٰ کاہن کے  لئے  چُنا جائے  گا جو اپنے  باپ ہارون کا جانشیں ہو گا کفّارہ دے  گا۔ اسے  مقدس کتانی لباس پہننا چاہئے ،

33 اور اسے  مقدس خیمۂ اجتماع، قربان گاہ، کاہن اور تمام بنی اسرائیلیوں کے  لئے  کفّارہ دینا چاہئے۔

34 بنی اسرائیلیوں کے  لئے  کفارہ دینے  کا یہ اُصول ہمیشہ رہے  گا۔ بنی اسرائیل اپنے  گناہوں کے  لئے  کفارہ کے  لئے  سال میں ایک بار اس رسم کو ادا کریں گے۔” اس لئے  انہوں نے  وہی کیا جو خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

 

 

 

احبار   17

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا!

2″ ہارون، اس کے  بیٹوں اور سبھی بنی اسرائیلیوں سے  کہو کہ خداوند نے  یہ حکم دیا ہے  :

3 اگر کوئی اسرائیلی شخص کسی بیل یا میمنہ یا بکرے  کو چھاؤنی میں یا چھاؤنی کے  باہر ذبح کرتا ہے ،

4 تو اس شخص کو اُس جانور کو خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر خداوند کو تحفہ کے  طور پر پیش کرنے  کے  لئے  لانا چاہئے  ورنہ وہ شخص جانور کا خون بہانے  کا قصور وار تصوّر کیا جائے  گا۔ اس کو اپنے  لوگوں سے  الگ کر دیا جائے  گا۔

5 یہ شریعت اس لئے  ہے  کہ لوگ اپنا ہمدردی کا نذرانہ خداوند کو پیش کریں۔ اسرائیلیوں کو ان جانوروں کو جنہیں انہوں نے  کھیت میں ذبح کئے  خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر کاہنوں کے  پاس لانا چاہئے  اور انہیں امن و امان کے  نذرانے  کے  طور پر خداوند کو پیش کرنا چاہئے۔

6 تب کاہن کو ان جانوروں کے  خون کو خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر خداوند کی قربان گاہ پر اُنڈیلنا چاہئے۔ اور اس لئے  وہ ان جانوروں کی چربی کو قربان گاہ پر خداوند کو خوش کرنے  والی خوشبو کے  طور پر پیش کر سکتا ہے۔

7 انہیں آئندہ کبھی ان، بکرے  کے  مورتیوں، کی جن پر توکّل کرتے  ہیں قربانی نہیں کرنی چاہئے۔ جن کے  پیچھے  وہ لوگ طوائفوں کی طرح بھاگتے  ہیں۔ یہ اصول ہمیشہ ان کی نسل در نسل رہے  گا۔

8″ لوگوں سے  کہو : اسرائیل کا کوئی شہری یا کوئی غیر ملکی جو تم لوگوں کے  درمیان رہتا ہے  جلانے  کی قربانی یا کوئی دوسری قربانی پیش کرتا ہے ،

9 اور خیمۂ اجتماع کے  دروازہ پرلے  جا کر خداوند کو پیش کرتا ہے  تو اسے  اس کے  لوگوں میں سے  الگ کر دیا جائے  گا۔

10″ میں (خدا ) ہر ایسے  شخص کے  خلاف ہوں گا۔ جو خون کھاتا ہے  چاہے  وہ اسرائیل کا شہری ہو یا وہ تمہارے  درمیان رہنے  والا کوئی غیر ملکی ہو۔ میں اس شخص کو اس کے  لوگوں سے  الگ کر دوں گا۔

11 کیونکہ جانداروں کی زندگی کے  لئے  خون ضروری ہے۔ میں نے  تم سے  کہا ہے  کہ اپنا کفّارہ ادا کرنے  کے  لئے  اسے  قربان گاہ پر چھڑکنے  کے  اصول کا پالن کرو۔ یہ زندگی دینے  والا خون ہے  جو کفّارہ دیتا ہے۔

12 اس لئے  میں نے  بنی اسرائیلیوں سے  کہا کہ نہ تو تم لوگوں میں سے  کسی کو اور نہ ہی تمہارے  درمیان رہنے  والے  کسی غیر ملکی کو خون کبھی کھا نا چاہئے۔

13 اگر کوئی آدمی  کسی جنگلی جانور یا چڑیا کا جسے  کہ کھا یا جا سکتا ہے  شکار کرتا ہے  اور اسے  ذبح کرتا ہے ، تو اُس آدمی  کو خون زمین پر بہا دینا چاہئے  اور مٹی سے  اُسے  ڈھک دینا چاہئے۔ چاہے  وہ آدمی  اسرائیل کا شہری ہو یا تمہارے  درمیان رہنے  والا غیر مُلکی۔

14 تمہیں یہ کیوں کرنا چاہئے ؟ کیونکہ اگر خون اب بھی گوشت میں ہے۔ اِس لئے  میں بنی اسرائیلیوں کو حکم دیتا ہوں اُس گوشت کو مت کھاؤ جس میں خون ہو۔ کوئی بھی آدمی  جو خون کھاتا ہے  اسے  اپنے  لوگوں سے  الگ کر دیا جائے  گا۔

15″ اگر کوئی شخص خود سے  مرے  ہوئے  جانور یا کسی دوسرے  جانور کے  ذریعہ مارے  گئے  جانور کو کھاتا ہے ، چاہے  وہ شخص اسرائیلی ہو یا ان لوگوں کے  درمیان رہنے  والا غیر ملکی، اس طرح کے  آدمی  کو اپنے  کپڑوں اور اپنے  پورے  جسم کو پانی سے  دھونا چاہئے  تب وہ شام تک نا پاک رہے  گا۔ تب وہ پاک ہو گا۔

16 اگر کوئی آدمی  اپنے  کپڑوں کو نہیں دھوتا اور نہ ہی نہاتا ہے  تو وہ گناہ کرنے  کا قصور وار ہو گا۔”

 

 

 

احبار   18

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا ‘

2″ بنی اسرائیلیوں سے  کہو میں تمہارا خداوند ہوں۔

3 یہاں آنے  کے  پہلے  تم لوگ مصر میں تھے۔ تمہیں وہ نہیں کرنا چاہئے  جو وہ لوگ وہاں کرتے  ہیں۔ میں تم لوگوں کو کنعان لے  جا رہا ہوں۔ تم لوگوں کو وہ نہیں کرنا چاہئے  جو تم لوگوں نے  اس ملک میں کئے۔ اور تم لوگوں کو ان کی شریعت پر عمل نہیں کرنا چاہئے۔

4 تمہیں میری شریعت پر عمل کرنا چاہئے  اور میرے  اصولوں پر رہ کر اس کے  مطابق سلوک کر نا چاہئے۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔

5 اس لئے  تمہیں میرے  اصولوں اور فیصلوں پر عمل کرنا چاہئے۔ اور اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے  تو وہ ان کے  بدولت جئے  گا۔ میں خداوند ہوں۔

6″ تمہیں تمہارے  اپنے  قریبی رشتہ داروں سے  کبھی جنسی تعلقات نہ رکھنے چاہئیں۔ میں خداوند تمہارا خدا۔

7″ تمہیں کبھی اپنے  باپ اور ماں سے  جنسی تعلقات نہ کرنا چاہئے۔ تمہیں اپنی ماں سے  جنسی تعلق قائم  نہیں کرنا چاہئے  کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے

8 تمہیں اپنے  باپ کی بیوی سے  بھی جنسی تعلق قائم نہیں کرنا چاہئے ، کیونکہ اس کا برہنہ پن صرف تمہارے  باپ کا ہے۔

9″ تمہیں اپنی بہن سے  جنسی تعلق قائم نہیں کرنا چاہئے۔ چاہے  وہ تمہارے  باپ کی بیٹی ہو یا تمہاری ماں کی بیٹی۔ اس سے  کوئی فرق نہیں پڑتا ہے  کہ تمہاری اس بہن کی پرورش تمہارے  گھر میں ہوئی یا کسی دوسری جگہ۔

10″ تمہیں اپنی پوتیوں، نواسیوں سے  بھی جنسی تعلق  قائم نہیں کرنا چاہئے۔ ان کے  برہنہ پن کی حفاظت کرنا تمہاری ذمہ داری ہے  ( جب تک وہ شادی نہ کر لے  )۔

11″ اگر تمہارے  باپ اور ان کی بیوی کی کوئی بیٹی ہو تو وہ تمہاری بہن ہے۔ تمہیں اس کے  ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کرنا چاہئے۔

12 اپنے  باپ کی بہن کے  ساتھ تمہیں جنسی تعلق قائم  نہیں  کرنا چاہئے۔ کیونکہ وہ تمہارے  باپ کے  قریبی رشتہ دار ہے۔

13″ تمہیں اپنی ماں کی بہن کے  ساتھ جنسی تعلق  قائم نہیں  کر نا چاہئے۔ کیونکہ وہ تمہاری ماں کی قریبی رشتہ دار ہے۔

14″ تمہیں اپنے  باپ کے  بھائی کی بے  عزتی نہیں کرنی چاہئے۔ اور اُس کی بیوی کے  ساتھ جنسی تعلق  قائم نہیں کر نا چاہئے  وہ تمہاری چچی ہے۔

15″ تمہیں اپنی بہو کے  ساتھ جنسی تعلق قائم  نہیں کرنا چاہئے۔ وہ تمہارے  بیٹے  کی بیوی ہے۔ تمہیں اس کے  ساتھ جنسی تعلق قائم  نہیں کرنا چاہئے۔

16 تمہیں اپنے  بھائی کی بیوی کے  ساتھ جنسی تعلق قائم  نہیں کرنا چاہئے۔ اس کا برہنہ پن صرف تمہارے  بھائی کا ہے۔

17 تمہیں کسی عورت اور اس کی بیٹی یا اس کی پو تی یا نواسی کے  ساتھ جنسی تعلق قائم  نہیں کر نا چاہئے۔ وہ اس کے  بیٹے  کی یا اس کی بیٹی کی بیٹی ہے۔ وہ لوگ اس کے  قریبی رشتے  دار ہیں۔ اس لئے  اُن کے  ساتھ جنسی تعلقات رکھنا دہشت ناک ہے۔

18 جب تک تمہاری بیوی زندہ ہے  تمہیں اس کی بہن کو دُوسری بیوی نہیں بنا نا چاہئے۔ یہ بہنوں کو ایک دوسرے  کا دُشمن بنا دے  گا۔ تمہیں اپنی بیوی کی بہن کے  ساتھ جنسی تعلق قائم  نہیں کرنا چاہئے۔

19″ تمہیں کسی عورت کے  ساتھ اس کے  ایّام ماہواری کے  دوران جنسی تعلق قائم  نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ اُن دنوں کے  دوران وہ نا پاک رہتی ہے۔

20 تمہیں اپنی پڑوسی کی بیوی سے  جنسی تعلق قائم  نہیں کرنا چاہئے۔ یہ تمہیں صرف نا پاک بنائے  گی۔

21″ تمہیں اپنے  بچوں میں سے  کسی کو ملک کے  لئے  قربانی کے  طور پر پیش نہیں کرنا چاہئے۔ اگر تم ایسا کرتے  ہو تو تم اپنے  خدا کے  نام کی رسوائی کرو گے۔ میں خداوند ہوں۔

22 تمہیں کسی آدمی  کے  ساتھ اُس طرح جنسی تعلق قائم  نہیں کرنا چاہئے  جیسا کسی عورت کے  ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ بھیانک گناہ ہے۔

23″ کسی جانور کے  ساتھ تمہارا جنسی تعلق نہیں ہو نا چاہئے۔ یہ صرف نا پاک کرے  گا۔ عورت کو بھی کسی جانور کے  ساتھ جنسی تعلق قائم  نہیں کرنا چاہئے  یہ بھیانک اوندھی بات ہے۔

24″ اِن بُرے  کاموں میں سے  کسی سے  بھی اپنے  آپ  کو نا پاک نہ کرو۔ میں قوموں کو تمہارے  سامنے  ہٹاتا ہوں کیونکہ ان لوگوں نے  یہ بھیانک گناہ کئے  ہیں۔

25 اُنہوں نے  پُورے  ملک کو نا پاک کیا ان کے  ملک کو ان کے  اعمال کی وجہ سے  سزا دی گئی تھی۔ اور وہ ملک اُس میں رہنے  وا لوں کو اُگل کر با ہر کر دے  گا۔

26″ اس لئے  تم میری شریعت اور اُصولوں کی تعمیل کرو۔ تمہیں اُن میں سے  کوئی بھیانک گنا ہوں کو نہیں کر نا چاہئے۔ یہ شریعت اسرائیل کے  شہریوں اور جو غیر ملکی تمہارے  درمیان رہتے  ہیں اُن کے  لئے  ہیں۔

27 جو لوگ تم سے  پہلے  اس سر زمین پر تھے  اُنہوں نے  یہ سبھی بھیانک کام کئے  جس سے  وہ سر زمین گندی ہو گئی تھی۔

28 اگر تم بھی وہی کام کرو گے  تو تم زمین کو ایک نا پاک جگہ بنا دو گے  اور یہ تم لوگوں کو بھی ویسے  ہی اُگل کر با ہر کرے  گی جیسے  تم سے  پہلے  رہنے  وا لی قوموں کو کیا گیا۔

29 جو کوئی بھی ان بھیانک گنا ہوں کو کرتا ہے  تو ان لوگوں کو اپنے  لوگوں سے  الگ کر دیا جائے  گا۔

30 ان بھیانک گنا ہوں کو کرنے  سے  باز رہنے  میں تمہیں ہوشیار رہنا چاہئے  جن گنا ہوں کو تم سے  پہلے  لوگوں نے  کیا۔ اس لئے  ان گنا ہوں کو کر کے  نا پاک مت ہو جاؤ۔ میں تمہارا خداوند خدا ہوں۔”

 

 

 

احبار   19

 

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا

2″بنی اسرائیلیوں کی  تمام جماعتوں کو کہو کہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں میں پاک ہوں اس لئے  تمہیں بھی پاک ہو نا چاہئے۔

3″ تم میں سے  ہر ایک کو اپنے  ماں باپ کی تعظیم کرنی چاہئے  اور میرے  سبت کے  دنوں پر عمل کرنا چاہئے۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔

4″ بُتوں کی پرستش مدد کے  لئے  مت کرو اپنے  لئے  گلا کر دھات کی مورتیاں مت بناؤ۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔

5 جب تم خداوند کو ہمدردی کی قربانی چڑھاؤ تو اسے  اس طریقے  سے  پیش کرو کہ یہ قبول کی جائے  گی۔

6 ہو سکتا ہے  تم قربانی کے  گوشت قربانی پیش کرنے  کے  دن اور دوسرے  دن بھی کھاؤ۔ اگر اس کا کوئی بھی حصّہ تیسرے  دن تک رکھا جاتا ہے  تو اسے  آ گ میں جلا دینا چاہئے۔

7 اگر کسی بھی قربانی کو تیسرے  دن کھا یا جاتا ہے  تو وہ برباد ہے  اور نا قبول ہے۔

8 اگر کوئی شخص اسے  کھاتا ہے  تو وہ اپنا گناہ خود اپنے  سر اٹھائے  گا۔ کیونکہ اُس نے  خداوند کی مقدس چیزوں کی تعظیم نہیں کی۔ اس طرح کے  شخص کو اپنے  لوگوں سے  الگ کر دیا جائے  گا۔

9″ جب فصل کٹنے  کے  لئے  تیار ہو جائے  تو فصل کو کھیت کے  چاروں طرف کونوں تک مت کا ٹو۔ اور جو اناج زمین پر گِر چُکا ہے  اسے  جمع مت کرو۔

10 اپنے  انگور کے  باغ کے  سبھی انگوروں کو مت توڑو اور جو انگور زمین پر گر گیا ہے  اسے  جمع مت کرو۔ اسے  غریب لوگوں اور غیر ملکیوں کے  لئے  جو کہ تمہارے  درمیان رہتے  ہیں چھوڑ دو۔ میں خداوند تمہارا خدا ہو ں۔

11″ تمہیں چوری نہیں کرنی چاہئے۔ تمہیں لوگوں کو نہیں ٹھگنا چاہئے۔ تمہیں اپنے  گاؤں وا لوں کے  با رے  میں جھو ٹ نہیں بولنا چاہئے۔

12 تمہیں میرے  نام پر جھوٹی قسم نہیں کھانی چاہئے۔ کیونکہ یہ میرے  نام کو رُسوا کرتا ہے۔ تمہیں اپنے  خداوند کے  نام کی تعظیم کرنی چاہئے  میں خداوند ہو ں۔

13″ تمہیں اپنے  پڑوسی کو دھو کہ نہیں دینا چاہئے۔ تمہیں اُسے  لو ٹنا نہیں چاہئے۔ تمہیں مزدوروں کی مزدوری دوسرے  دن صبح تک نہیں روکنی چاہئے۔

14 تمہیں کسی بہرے  آدمی  کو بد دُعا نہیں دینی چاہئے۔ تمہیں کسی اَندھے  کو گِرانے  کے  لئے  اُس کے  سامنے  رُکاوٹ کی کوئی چیز نہیں رکھنی چاہئے۔ لیکن تمہیں اپنے  خداوند کا خوف کرنا چاہئے  میں خداوند ہوں۔

15″الٹا انصاف نہ کرو۔ تمہیں نہ غریب کی طرفداری اور نہ ہی دولتمندوں کی ہمدردی کرنی چاہئے۔ تمہیں اپنے  پڑوسی کے  ساتھ انصاف کرتے  وقت ایماندار ہو نا چاہئے۔

16 تمہیں اپنے  لوگوں کے  بیچ افواہیں نہیں پھیلانی چاہئیں۔ کا ہل کے  جیسے  کھڑے  مت رہو جب تمہارے  پڑوسی کی زندگی خطرے  میں ہو۔ میں خداوند ہوں۔

17″ تم اپنے  دل میں اپنے  بھا ئیوں سے  نفرت نہ کرو۔ اگر تمہارا پڑوسی کچھ بُرا کرتا ہے  تو اُس کی غلطی کے  متعلق اُس کے  رو برو بات کرو۔ تا کہ تم اس کے  گناہ کا ذمّہ دار نہ ہو گے۔

18 اگر لوگ تمہارا بُرا کریں  تو ان کے  خلا ف بدلہ لینے  کی کو شش نہ کرو۔ اور نہ ہی بغض رکھو۔ اپنے  پڑوسی سے  اُسی طرح محبت کرو جیسے  اپنے  آپ  سے  کرتے  ہو۔ میں خداوند ہو ں۔

19″ تمہیں میری شریعت کی تعمیل کرنی چاہئے۔ دو قسم کے  جانوروں کا آپس میں تولید کے  لئے  اختلاط نہ کراؤ۔ تمہیں ایک ہی کھیت میں دو قسم کے  بیج نہیں بونے چاہئیں۔ تمہیں دو قسم کی چیزوں کی ملاوٹ سے  بنے  لباس کو نہیں پہننا چاہئے۔

20″ اگر کوئی شخص کسی غلام لڑکی سے  جو کسی شخص کی منگیتر ہو اس سے  جنسی تعلق قائم کرتا ہے ، لیکن وہ غلام لڑکی نہ تو کبھی خریدی گئی ہو اور نہ ہی آزاد کی گئی ہو تو انہیں سزا ملنی چاہئے۔ لیکن وہ ماری نہیں جائے  گی کیونکہ وہ ایک آزاد عورت نہیں ہے۔

21 اس آدمی  کو گناہ کے  نذرانہ کے  طور پر خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر خداوند کے  لئے  ایک مینڈھا قربانی دینی چاہئے۔

22 کاہن اس کے  لئے ، اس کے  گنا ہوں کا کفارہ ادا کرے

23″مستقبل میں جب تم اپنے  ملک میں دا خل ہو گے۔ اس وقت تم اپنے  کھانے  کے  لئے  درخت لگاؤ گے۔ تب ان کے  پھلوں کو کھانے  کے  لئے  تمہیں تین سال تک انتظار کرنا چاہئے۔ تمہیں اُس مدّت سے  پہلے  ان کے  پھلوں کو نہیں کھا نا چاہئے۔ اسے  تمہیں بیکار کا پھل تصور کرنا چاہئے۔

24 چوتھے  سال سارے  پھل جو اس درخت پر ہو گا اسے  خداوند کے  لئے  حمد کا نذرانہ سمجھنا چاہئے۔

25 تب پانچویں سال تم اُس درخت کا پھل کھا سکتے  ہوتا کہ پیداوار بڑھے۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔

26″ تمہیں گوشت کو اُس میں خون رہنے  تک نہیں کھانا چاہئے۔” تمہیں کا لا جا دو یا جا دو گری کا مشق نہیں کر نا چاہئے۔

27″ تمہیں اپنے  سر کے  بغل کے  بڑے  بالوں کو نہیں کٹوا نا چاہئے۔ تمہیں اپنی داڑھی کے  کنا رے  نہیں کٹوا نے چاہئیں۔

28 کسی مرے  ہوئے  شخص کے  لئے  ماتم کرنے  کے  لئے  تمہیں اپنے  جسم کے  حصّوں کو نہیں کاٹنا چاہئے۔ تمہیں اپنے  جسم پر کوئی نشان کھودنا نہیں چاہئے۔ میں خداوند ہوں

29″تم اپنی بیٹیوں کو طوائف مت بناؤ اس لئے  کہ تم ان کو ناپاک کر دو گے۔ تمہارا ملک طوائف گردی میں بدل جائے  گا اور دہشت سے  بھر جائے  گا۔

30″تمہیں میرے  سبت کے  دنوں میں کام نہیں کرنا چاہئے۔ تمہیں میری مقدس جگہ کی تعظیم کرنا چاہئے۔”میں خداوند ہوں۔”

31″ساحروں اور بد روحوں سے  کام لینے  والوں کے  پاس مشورہ کے  لئے  نہیں جانا چاہئے  ورنہ تم ان کی وجہ سے  ناپاک ہو جاؤ گے "میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔”

32″بوڑھے  لوگوں کی عزت کرو۔ جب وہ کمرے  میں آئیں تو تمہیں کھڑے  ہو جانا چاہئے۔ اپنے  خدا کی تعظیم کرو۔”میں خداوند ہوں۔”

33″اپنے  ملک میں رہنے  والے  غیر ملکیوں کے  ساتھ بُرا سلوک نہ کرو۔

34 تمہیں غیر ملکیوں کے  ساتھ اسی طرح برتاؤ کرنا چاہئے  جیسا تم اپنے  شہریوں کے  ساتھ کرتے  ہو۔ تم غیر ملکیوں سے  اسی طرح پیار کرو جیسا خود  سے  کرتے  ہو۔ کیونکہ تم بھی ایک وقت مصر میں غیر ملکی تھے۔”میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔”

35″ تمہیں چیزوں کی لمبائی، وزن اور جسامت ناپتے  وقت بے  ایمان نہیں ہونا چاہئے۔

36 تمہارے  ترازو، باٹ اور ٹوکریاں خشک چیزوں کو ناپنے  کے  لئے  ٹھیک ہونا چاہئے۔ اور رقیق کو ناپنے  کے  لئے  ناپ ٹھیک ہونا چاہئے۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں جو تم کو ملک مصر سے  باہر لایا۔

37″ تمہیں میرے  تمام اصولوں اور انصاف کو یاد رکھنا چاہئے  اور تمہیں ان کی تعمیل کرنی چاہئے۔”میں خداوند ہوں!”

 

 

 

 

احبار   20

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2″ تمہیں بنی اسرائیلیوں سے  یہ بھی کہنا چاہئے  : تمہارے  ملک میں اگر کوئی شخص اپنے  بچوں میں سے  کسی کو جھوٹے  خداوند مولک کو نذر چڑھاتا ہے۔ تو اسے  موت کے  گھاٹ اتار دینا چاہئے۔ اس سے  فرق نہیں پڑتا کہ وہ اسرائیل کا شہری ہے  یا اسرائیل میں رہنے  والا کوئی غیر ملکی ہے۔ مولک کے  لوگوں کے  ذریعہ اسے  پتھر پھینک پھینک کر مار ڈالنا چاہئے۔

3 میں اس شخص کے  خلاف ہوں گا۔ اُسے  اس کے  لوگوں سے  الگ کر دوں گا کیونکہ اس نے  اپنے  بچوں کو جھوٹے خداوند مولک کو میری  مقدس جگہ کو ناپاک کرنے  کے  لئے  دیا۔ اس نے  میرے  مقدس نام کی رسوائی کی ہے۔

4 اگر کوئی معمولی شخص اس معاملہ کو نظر انداز کرے  اور اس شخص کو نہیں مارے  جس نے  اپنابچہ مولک کو پیش کیا ہے ،

5 تو میں صرف اس آدمی  سے  اپنا منہ ہی نہ پھیروں گا بلکہ اس کے  خاندان کا بھی مخالف ہو جاؤں گا۔ میں اسے  ان تمام لوگوں کے  ساتھ جو اس کی پیروی کرتے  ہیں اور مولک کے  ساتھ روحانی طوائف گردی کا مزا لیتے  ہیں اس کے  لوگوں سے  الگ کروں گا۔

6″ میں ہر اس شخص کے  خلاف ہوں گا جو مشورہ کے  لئے  جادوگروں اور نجومی کی طرف رخ کرتا ہے۔ ویسا شخص ان لوگوں کے  لئے  طوائف ہے۔ میں اسے  اس کے  لوگوں سے  الگ کروں گا۔

7″ خاص بنو اپنے  آپ  کو مقدس بناؤ۔ کیونکہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔

8 میری شریعت کے  مطابق چلو اور ان کی تعمیل کرو۔ میں خداوند ہوں اور میں تمہیں مقدس بناؤں گا۔

9″ اگر کوئی شخص اپنے  ماں باپ کو بد دعا دیتا ہے  تو اسے  مار ڈالنا چاہئے۔ کیونکہ اس نے  اپنے  ماں باپ کو بد دعا دی ہے۔ اسے  موت کی سزا ہونی چاہئے۔

10″ اگر کوئی شخص اپنے  پڑوسی کی بیوی سے  جنسی تعلق قائم  کرے  تو عورت اور مرد دونوں حرام کاری کے  قصور وار ہیں۔ اس لئے  دونوں کو مار ڈالنا چاہئے۔

11 اگر کوئی شخص اپنے  باپ کی بیوی سے  جنسی تعلق قائم  کرے  تو مرد اور عورت دونوں کو مار ڈالنا چاہئے۔ وہ لوگ موت کے  جرم کے  خود ذمہ دار ہوں گے۔ اس نے  وہ کیا ہے  جو صرف اس کے  باپ کا ہے۔

12″ اگر کوئی آدمی  اپنی بہو کے  ساتھ جنسی تعلق  قائم کرے  تو دونوں کو مار ڈالنا چاہئے۔ انہوں نے  بہت بڑا گناہ کیا وہ اپنی موت کے  خود ذمہ دار ہوں گے۔

13 اگر کوئی آدمی  کسی مرد کے  ساتھ عورت جیسا جنسی فعل  کرے  تو دونوں کو مار ڈالنا چاہئے۔ انہوں نے  نفرت انگیز گناہ کیا ہے  اس لئے  وہ اپنی موت کے  خود ذمہ دار ہیں۔

14″ اگر کوئی شخص کسی عورت اور اس کی ماں کے  ساتھ بھی جنسی فعل کرے  تو یہ ایک بھیانک گناہ ہے۔ تب اس شخص اور دونوں عورتوں کو آ گ میں جلا دینا چاہئے۔ ایسے بھیانک گناہ  اپنے  لوگوں میں مت ہونے  دو۔

15″ اگر کوئی آدمی  کسی جانور سے  جنسی فعل کرے  تو اس آدمی  کو مار ڈالنا چاہئے  اور تمہیں اس جانور کو بھی مادینا چاہئے۔

16 اگر کوئی عورت کسی جانور سے  جنسی فعل کرے  تو تمہیں اس عورت اور اس جانور کو مار ڈالنا چاہئے۔ انہیں یقیناً مار ڈالنا چاہئے  کیونکہ انہوں نے  موت کا جرم کیا ہے۔

17″ یہ بہت شرم کی بات ہے  کہ ایک بھائی اور بہن یا سوتیلی بہن جنسی گناہ کرتے  ہیں۔ ان میں سے  دونوں کو سر عام ان کے  لوگوں سے  الگ کر دیا جانا چاہئے۔ اگر کوئی شخص اپنی بہن کے  ساتھ مباشرت کرے  تو اسے  اپنے  قصور کا انجام بھگتنا چاہئے۔

18″ اگر کوئی آدمی  کسی عورت سے  اس کے  ایام ماہواری خون کے  بہنے  کے  دوران مباشرت کرے  تو دونوں عورت اور مرد کو اس کے  لوگوں سے  الگ کر دیا جائے  گا۔ انہوں نے  گناہ کیا کیونکہ انہوں نے  خون کے  بہاؤ کے  منبع کو بے  نقاب کیا ہے۔

19″ تمہیں اپنی ماں کی بہن یا باپ کی بہن کے  ساتھ مباشرت نہیں کرنا چاہئے۔ یہ ممنوع ہے  کیونکہ وہ قریبی رشتہ دار ہے  اسے  اپنے  قصور کا انجام بھگتنا پڑے  گا۔

20″ ایک آدمی  اپنے  چچا کی بیوی کے  ساتھ مباشرت کرتا ہے  تو اس نے  وہ کیا ہے  جو صرف اس کے  چچا کا ہے۔ اس آدمی  اور اس کی چچی کو اپنے  گناہ کا انجام بھگتنا پڑے  گا۔ وہ بے  اولاد مریں گے۔

21 کسی آدمی  کے  لئے  یہ برا ہے  کہ وہ اپنے  بھائی کی بیوی کے  ساتھ شادی کرے۔ اس آدمی نے  وہ لیا ہے  جو صرف اس کے  بھائی کا ہے۔ اس لئے  وہ بے  اولاد رہیں گے۔

22″ تمہیں میری تمام شریعت اور اصول کو یاد رکھنا چاہئے۔ تمہیں اس کی تعمیل کرنی چاہئے۔ اگر تم ان کی تعمیل کرو گے  اور اس پر عمل کرو گے  تو وہ زمین جن میں رہنے  کے  لئے  میں تجھے  بھیج رہا ہوں تمہیں باہر نہیں اُگلے  گی۔

23″ میں دوسرے  لوگوں کو اس ملک کے  چھوڑنے  پر مجبور کر رہا ہوں کیونکہ ان لوگوں نے  وہ سب گناہ کئے ، جن گناہوں سے  میں نفرت کرتا ہوں۔ اس لئے  تمہیں ان لوگوں کے  بعد ان دستور پر عمل نہیں کرنا چاہئے۔

24″ میں نے  کہا ہے  کہ تم ان کا ملک حاصل کرو گے۔ در اصل ان لوگوں کا ملک تم کو وراثت میں دوں گا۔ اس میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ میں تمہارا خداوند خدا ہوں۔” میں نے  تمہیں دوسری قوموں سے  الگ کر کے  خاص لوگوں میں سے  بنایا ہے۔

25 اس لئے  تمہیں پاک اور ناپاک جانوروں کے  بیچ، پاک اور ناپاک پرندوں کے  بیچ فرق کرنا چاہئے۔ اس لئے  اپنی روح کو ان کے  درمیان میں سے  کسی سے  ناپاک نہ کرو۔ نا پاک پرندہ، ناپاک جانور اور ناپاک رینگنے  والے  جانور جسے  تم نے  ناپاکی کے  طور پر الگ کیا ہے  مت کھاؤ۔

26 تمہیں پاک رہنا چاہئے  کیونکہ میں خداوند ہوں اور میں پاک ہوں۔ میں نے  تمہیں دوسری قوموں سے  اپنا بنانے  کے  لئے  الگ کیا ہے۔

27 تمہارے  درمیان میں سے  کوئی شخص چاہے ، وہ مرد ہو یا عورت اگر جادو گر یا نجومی ہے  تو اسے  مار دیا جانا چاہئے۔ اسے  پتھر مار مار کر موت کے  گھاٹ اتار دینا چاہئے  کیونکہ وہ موت کے  جرم کا قصور وار ہے۔

 

 

 

 

احبار   21

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،” یہ تمام باتیں ہا رون کے  کاہن بیٹوں سے  کہو : کاہن کو مرے  ہوئے  شخص کو چھو کر نا پاک نہیں ہو نا چاہئے۔

2 اگر ایک مردہ شخص اس کا قریبی رشتہ دار ہے  تو وہ اس کا مردہ جسم چھو سکتا ہے۔ کاہن ایسا کر کے  اپنے  آپ  کو نا پاک کر سکتا ہے  اگر مرا ہوا شخص اس کی ماں ہے  یا اس کا باپ یا اس کی بیٹی ہے  یا اس کا بیٹا ہے ،

3 یا اُس کی غیر شادی شُدہ بہن ہے  ( یہ بہن اس کی قریبی ہے  کیونکہ اس کا شوہر نہیں ہے۔ ) اس لئے  کاہن خود  کو نا پاک کر سکتا ہے  اگر وہ مرتی ہے۔

4 لیکن کاہن کو دوسری حا لت میں نا پا کی کا خطرہ نہیں مول لینا چاہئے۔ کیونکہ وہ اپنے  لوگوں کے  درمیان قائد ہے۔

5″ کاہن کو سوگ ظاہر کرنے  کے  لئے  اپنے  سر کو نہیں مونڈنا چاہئے۔ کاہن کو اپنی داڑھی کے  سرے  نہیں کٹوانا چاہئیں۔ کاہن کو اپنے  جسم کو کہیں بھی نہیں کاٹنا چاہئے۔

6 کاہن کو اپنے  خدا کے  لئے  مقدس ہو نا چاہئے۔ اور انہیں اپنے  خدا کے  نام کی رسوائی نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ وہ لوگ خداوند کو اپنے  تحفے  جو کہ ان کے  خدا کی غذا ہے  پیش کرتے  ہیں۔ انہیں مقدس رہنا چاہئے۔

7″ کاہن کو خدا کے  لئے  مخصوص کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے  کاہن کو ایسی عورت سے  شادی نہیں کرنی چاہئے  جو کہ فاحشہ پن کی وجہ سے  نا پاک ہو چکی ہو یا جو طلاق شُدہ ہو۔

8 تمہیں اسے  مخصوص ضرور کر نا چاہئے  کیونکہ وہ تمہارے  خدا کی روٹی کو پیش کرتا ہے۔ تمہیں اسے  ایک مقدس آدمی  ضرور سمجھنا چاہئے۔ میں پاک ہوں میں خداوند ہوں جو تم کو مقدس کرتا ہوں۔

9 اگر کاہن کی بیٹی فاحشہ گری کرتی ہے  تو وہ اپنے  باپ کی بے  حرمتی کرتی ہے  اس لئے  اسے  جلا دینا چاہئے۔

10 اعلیٰ کاہن اپنے  بھائیوں میں سے  چُنا جاتا تھا۔ مسح کرنے  کا تیل اس کے  سر پر ڈالا جاتا تھا۔ اس سے  وہ اعلیٰ کاہن چُنا جاتا ہے۔ اس لئے  اسے  خاص لباس پہنا پڑتا تھا۔ اسے  اپنے  بال نہیں بکھیرنے  چاہئے  اسے  اپنے  کپڑے  نہیں پھاڑنے  چاہئے۔

11 اسے  مردے  کو چھو کر خود  کو ناپاک نہیں بنانا چاہئے۔ چاہے  وہ اس کے  اپنے  ماں باپ کا ہی جسم کیوں نہ ہو۔

12 اعلیٰ کاہن کو خدا کی  مقدس جگہ کے  باہر نہیں جانا چاہئے  ورنہ وہ اپنے  خدا کی  مقدس جگہ کو ناپاک کر دے  گا۔ کیونکہ وہ خدا کے  تیل سے  مسح کر کے  مخصوص کیا گیا ہے۔” میں خداوند ہوں۔”

13″ اعلیٰ کاہن کو کنواری سے  شادی کرنی چاہئے۔

14 اعلیٰ کاہن کو ایسی عورت سے  شادی نہیں کرنی چاہئے  جس نے  کبھی کسی دوسرے  آدمی  سے  جنسی تعلقات  قائم کئے  ہوں۔ اسے  کسی فاحشہ سے  شادی نہیں کرنی چاہئے  اور نہ ہی طلاق شدہ یا بیوہ سے۔ اعلیٰ کاہن کو کنواری سے  جو اس کے  لوگوں میں سے  ہو شادی کرنی چاہئے۔

15″ اس طرح وہ اپنی نسل اپنے  لوگوں کے  درمیان آلودہ نہیں کرے  گا۔ میں خداوند  نے اسے  مقدس کیا ہے۔”

16 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا

17″ہارون سے  کہو اگر اس کی نسلوں میں سے  کسی بچے  کا جسمانی عیب ہے  تو اسے  خداوند کو خاص روٹی پیش نہیں کرنا چاہئے۔

18″اگر کسی شخص کا کوئی عیب ہو تو اسے  میرے  نزدیک نہیں آنا چاہئے۔ یہ لوگ کاہن کے  طور پر خدمت انجام نہیں دے  سکتے  ہیں : اندھا، لنگڑا، بگڑی شکل و صورت والا، زائد الاعضا۔

19 یا وہ جن کے  ہاتھ یا پیر ٹوٹے  ہوئے  ہوں۔

20 کبڑا، بونا، وہ جس کی آنکھ کی روشنی کمزور ہو، وہ جن کو کھجلی یا دوسرے  چمڑے  کی بیماری ہو اور وہ آدمی  جس کے  خصیے  کچلے  ہوئے  ہوں۔

21″ اگر ہارون کی نسلوں میں سے  کسی کو کوئی عیب ہو تو وہ تحفے  یا اپنے  خدا کی خاص روٹی خداوند کو پیش کرنے  کے  لئے  نہیں آ سکتا ہے۔

22 وہ شخص خدا کا مقدس کھانا کھا سکتا ہے  وہ سب سے  مقدس روٹی بھی کھا سکتا ہے۔

23 لیکن وہ مقدس ترین جگہ میں پردہ سے  ہو کر نہیں جا سکتا اور وہ قربان گاہ کے  نزدیک نہیں جا سکتا۔ کیونکہ اس میں عیب ہے  اور اسے  میرے  مقدس جگہ کی بے  حرمتی نہیں کرنی چاہئے۔”میں خداوند ان تمام جگہوں کو مقدس رکھتا ہوں۔”

24 اس لئے  موسیٰ نے  یہ باتیں ہارون سے ، ہارون کے  بیٹوں اور سبھی بنی اسرائیلیوں سے  کہا۔

 

 

 

احبار   22

 

 

1 خداوند خدا نے  موسیٰ سے  کہا،

2″ ہارون اور اس کے  بیٹوں سے  کہو۔ بنی اسرائیل جو مقدس چیزیں مجھے  دیں گے۔ وہ میری ہیں۔ اِس لئے  تم کاہنوں کو ان لوگوں سے  ہوشیار رہنا چاہئے۔ تم کو میرے  نام کی رسوائی نہیں کرنی چاہئے۔ میں خداوند ہوں۔

3 اگر تمہاری نسلوں میں سے  کوئی بھی جو کہ ناپاک ہے  اُن چیزوں کو چھوتا ہے  تو اس آدمی  کو مجھ سے  الگ کر دیا جائے  گا۔ بنی اسرائیلیوں نے  وہ چیزیں میرے  لئے  مخصوص کئے  ہیں۔ میں خداوند ہوں۔

4″ اگر ہارون کی نسلوں میں سے  کوئی بھی جلدی بیماری میں مبتلاء ہو یا اس کو تولیدی اخراج ہوا ہو تو وہ اس وقت تک مقدس کھانا نہیں کھا سکتا جب تک وہ اپنے  آپ  کو پاک نہیں کرتا ہے۔ یہ شریعت ایسے  کسی بھی شخص کے  لئے  لاگو ہے  جو ناپاک ہے۔ چاہے  وہ مردہ جسم کو چھونے  سے  یا تولیدی اخراج ہونے  سے  نا پاک ہوا ہو،

5 یا کسی نا پاک رینگنے  والے  جانور کو چھونے  سے  یا کسی نا پاک شخص کو چھونے  سے  یا کسی اور طریقے  سے  نا پاک ہو گیا ہو۔

6 اگر کوئی شخص ان چیزوں کو چھوئے  گا تو وہ شام تک ناپاک رہے  گا۔ اُس آدمی  کو مقدس کھانے  میں سے  کچھ بھی نہیں کھانا چاہئے۔ جب تک کہ پانی سے  غسل نہ کرے۔

7 وہ سورج کے  غروب ہونے  پر ہی پاک ہو گا۔ پھر وہ مقدس کھانا کھا سکتا ہے  کیوں؟ کیونکہ وہ کھانا اس کا ہے۔

8″ کاہن کو اس جانور کو نہیں کھانا چاہئے  جو اپنے  آپ  مر گیا ہو یا کسی دوسرے  جانور نے  مار دیا ہو۔ اور اسے  اس کا گوشت نہیں کھانا چاہئے  کیونکہ مردہ جانور کا گوشت تیرے  لئے  ممنوع ہے۔ اگر کوئی شخص اس جانور کو کھاتا ہے  تو وہ ناپاک ہو جائے  گا۔”

9″ انہیں میری ہدایت پر ہوشیاری سے  عمل کرنا چاہئے تا کہ وہ لوگ اسے  توڑنے  کی سزا نہ اٹھائیں۔ کیونکہ ان لوگوں نے  اس کی رسوائی کی۔ میں خداوند ہوں جس نے  انہیں دوسروں سے  اس خاص کام کو کرنے  کے  لئے  الگ کیا۔

10 کوئی اجنبی مقدس کھانا نہیں کھا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ کاہن کا مہمان بھی یا کرائے  پر لئے  ہوئے  کام کرنے  والے  بھی یہ مقدس کھا نا نہیں کھا سکتے۔

11 لیکن اگر کاہن اپنے  پیسے سے  کسی غلام کو خریدتا ہے  تو وہ غلام پاک چیزوں میں سے  کچھ کو کھا سکتا ہے  اور اسی طرح سے  کاہن کے  گھر میں پیدا ہونے  والا غلام بھی اُس پاک کھانے  کو کھا سکتا ہے۔

12 کاہن کی بیٹی ایسے  آدمی  سے  شادی کر سکتی ہے  جو کاہن نہ ہو اگر وہ ایسا کر تی ہے  تو مُقدس نذر میں سے  کچھ نہیں کھا سکتی۔

13 اگر کاہن کی بیٹی طلاق شدہ ہے  یا وہ اگر بیوہ ہے  اور اس کی کوئی اولاد نہیں ہے ، اگر ایسی عورت اپنے  باپ کے  گھر واپس آتی ہے  جہاں وہ اپنے  بچپن میں رہا کر تی تھی وہ اپنے  باپ کے  کھانے  میں سے  کھا سکتی ہے  لیکن غیر ملکی شخص اسے  نہیں کھا سکتا ہے۔

14″ کسی شخص  نے بھول سے  مقدس کھانا کھا لیا ہو تو اُس آدمی  کو وہ مُقدس کھانا کاہن کو واپس دینا چاہئے  اور اُس کے  علاوہ اُس کھانے  کی قیمت کا پانچواں حصّہ اسے  کاہن کو دینا ہو گا۔

15″ کسی بھی شخص کو اسرائیلیوں کے  کسی بھی نذرانہ کو جسے  وہ خداوند کو پیش کرتے  ہیں کھا کر اس کی بے  حرمتی نہیں کرنا چاہئے ،

16 اور اسی طرح سے  جرم کو اپنے  سرلے  کر، میں خداوند ہوں جو ان کو  مقدس بناتا ہوں۔”

17 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

18″ ہارون، ان کے  بیٹوں اور سبھی بنی اسرائیلیوں سے  کہو : اگر اسرائیل کا کوئی بھی شخص یا تمہارے  درمیان رہنے  والے  کوئی غیر ملکی جلانے  کا نذرانہ چاہے  وہ وعدہ کے  طور پر ہو یا رضا کے  نذرانہ کے  طور پر ہوتا ہے ،

19 تو تمہیں بے  عیب نر جانور مویشیوں سے ، بھیڑ سے ، یا بکریوں سے  لانا چاہئے  یہ سب قابل قبول ہے۔ تمہیں ایسی کوئی قربانی نہیں لانا چاہئے  جس میں کوئی عیب ہو۔ یہ تمہارے  طرف سے  قبول نہیں ہو گا۔

20

21″ اگر کوئی شخص ہمدردی کا نذرانہ اپنے  کئے  گئے  وعدہ کو پورا کرنے  کے  لئے  یا رضا کے  نذرانے  کے  طور پر پیش کرتا ہے  تو ایسی قربانی مویشیوں یا بھیڑوں یا بکریوں کے  جھنڈ سے  ہونی چاہئے  اور وہ جانور قبول ہونے  کے  لئے  بے  عیب ہونا چاہئے۔ اس کے  ساتھ کچھ عیب نہیں ہونا چاہئے۔

22″ تمہیں خداوند کو ایسے  کسی جانور کی قربانی نہیں دینی چاہئے  جو اندھا ہو یا جس کی ہڈیاں ٹوٹی ہوں یا جو لنگڑا ہو یا جو زخمی ہو یا جس کو جِلد کی بیماری ہو۔ اس طرح کی قربانی خداوند کو پیش کرنا یا تحفہ کے  طور پر خداوند کی قربان گاہ پر چڑھانا نہیں چاہئے۔

23″ کبھی کسی حالت میں ہو سکتا ہے  کوئی بیل یا کوئی مینڈھا پوری طرح سے  بڑھا نہیں ہو یا ہو سکتا ہے  اس کی نشو و نما رک گئی ہو۔ اگر کوئی شخص اس طرح کے  جانور کو رضا کے  نذرانہ کے  طور پر خداوند کو پیش کرنا چاہتا ہو تو یہ قربانی قبول ہو گی لیکن اگر کئے  گئے  وعدہ کے  طور پر قربان کیا گیا ہو تو یہ جانور قبول نہیں ہو گا۔

24″ اگر جانور کے  خصیے  کچلے  ہوئے  ہوں یا اس کے  خصیے  خراب ہوں تو تمہیں اس طرح کے  جانور کی قربانی خداوند کو نہیں چڑھانی چاہئے۔ تمہیں یہ اپنی سر زمین پر کبھی نہیں کرنا چاہئے۔

25 تمہیں غیر ملکیوں سے  حاصل کئے  ہوئے  جانوروں کی قربانی پیش نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ وہ جانور بگڑے  ہوئے  شکل و صورت کے  یا عیب دار ہیں اور یہ تمہاری طرف سے  قبول نہیں ہوں گے۔

26 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا”

27″ اگر کوئی بچھڑا یا بکری کا بچہ یا بھیڑ کا بچہ پیدا ہو تو اپنی ماں کے  ساتھ اسے  سات دن رہنے  دینا چاہئے۔ پھر اس کے  بعد آٹھویں دن اور خداوند کو دی جانے  والی قربانی کے  تحفہ کے  طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔

28 لیکن تمہیں اسی دن اس جانور اور اس کی ماں کو نہیں ذبح کرنا چاہئے  یہی اُصول گائے  اور بھیڑوں کے  لئے  ہے۔

29″ لیکن اگر تم خداوند کو کوئی خاص شکرانہ کی قربانی دیتے  ہو تو تمہیں اسے  پوری طرح سے  کرنا چاہئے۔

30 تمہیں پورا جانور اسی دن کھا لینا چاہئے۔ دوسرے  دن صبح تک کوئی گوشت بچا رہنا نہیں چاہئے۔” میں خداوند ہوں۔”

31″ میرے  احکام کو یاد رکھو اور ان کی تعمیل کرو۔” میں خداوند ہوں۔”

32 تمہیں میرے  مقدس نام کی بے  حرمتی نہیں کرنا چاہئے۔ مجھے  بنی اسرائیلیوں کے  درمیان مقدس کیا جانا چاہئے  وہ میں ہی ہوں جو تم کو مقدس بناتا ہوں،

33 جو تم کو مصر سے  باہر لایا تاکہ تمہارا خدا بنا رہوں۔” میں خداوند ہوں۔”

 

 

 

 

احبار   23

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا

2″بنی اسرائیلیوں سے  خداوند کی   خاص تقریب کا اعلان کرنے  کو کہو جسے  تم کو مقدس اجتماع کہنا چاہئے۔ یہ میرے  خاص وقت ہیں۔”

3″چھ دن کام کرو اور ساتواں دن سبت کا ہے ، آرام کا خاص دن ہے۔ یہ آرام کا دن ایک خاص دن یا مقدس اجتماع کا دن ہو گا۔ اس دن تمہیں کوئی کام نہیں کرنا چاہئے۔ ہر جگہ جہاں تم رہو یہ خداوند کا سبت ہے۔

4″یہ خداوند کے  خاص وقت، چُنے  ہوئے  مقدس اجتماع ہیں۔ جن کا تمہیں ان کے  مناسب وقت پر انعقاد کرنا چاہئے۔

5 خداوند کی فسح کی تقریب پہلے  مہینے  کے چودھویں دن کو غروب آفتاب کے  بعد شروع ہوتی ہے۔

6″اس مہینہ کے  پندرھویں دن کو خداوند کے  لئے  بغیر خمیری روٹی کی تقریب ہو گی۔ تم سات دن کے  لئے  بغیر خمیری روٹی کھاؤ گے۔

7 اس تقریب کے  پہلے  دن تم ایک مقدس اجتماع کرو گے۔ اس دن سے

8 سات دن تک تم خداوند کو تحفے  پیش کرو گے۔ اور ساتویں دن ایک مقدس اجتماع ہو گا اس دن تمہیں کوئی کام نہیں کرنا چاہئے۔”

9 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا :

10″بنی اسرائیلیوں سے  کہو : جب تم اس زمین میں جاؤ جو  میں تمہیں دے  رہا ہوں تو اس کی فصل کاٹو۔ اس وقت تمہیں اس فصل کی پہلی پولی( مٹھا) کاہن کے  پاس لانا چاہئے۔

11 کاہن پو لی کو خداوند کے  سامنے  لہرائے  گا تب وہ تمہارے  لئے  قبول کر لی جائے  گی۔ کاہن ان سب پو لیوں کو سبت کے  دن کے  بعد لہرائے  گا۔

12″جس دن وہ پو لیوں کو لہراتا ہے  اس دن تم کو ایک سال کا ایک نر میمنہ خداوند کے  لئے  جلانے  کی قربانی دینی چاہئے۔ یہ جانور بے  عیب ہو نا چاہئے۔

13 تمہیں ۱۶ پیالے  زیتون تیل سے  ملے  ہوئے  اچھے  آٹے  کی اناج کی قربانی ایک کوارٹ مئے  کے  ساتھ پینے  کے  نذرانے  کے  طور پر دینی چاہئے۔ یہ خداوند کے  لئے  ایک تحفہ، ایک میٹھی خوشبو ہے۔

14 جب تک تم اپنے  خدا کو قربانی نہیں چڑھاتے  تب تک تم کوئی نیا اناج، پھل یا نئے  اناج سے  بنی روٹی نہیں کھا سکتے۔ وہ جہاں کہیں بھی رہیں یہ شریعت نسل در نسل چلتی رہے  گی۔

15″ سبت کے  دن کے  بعد اس دن کی صبح سے  جس دن تم   لہرانے  کا نذرانہ لا ئے تھے پو رے  سات ہفتہ گِنو۔

16 ساتویں ہفتے  کے  بعد کے  دن ( یعنی ۵۰ دن بعد ) تم خداوند کے  لئے  نئے  اناج کی قربانی لاؤ گے۔

17 اس دن تم اپنے  گھروں سے  دو دو روٹیاں لاؤ یہ روٹیاں لہرانے  کی قربانی ہو گی۔ سولہ پیالے  اچھے  آٹے  سے  اس روٹی کو بناؤ اور اسے  خمیر کے  ساتھ پکاؤ۔ یہ تمہاری فصل کے  پہلے  پھلوں سے  خداوند کے  لئے  قربانی ہو گی۔

18″اناج کی قربانی کے  ساتھ ایک بچھڑا دو مینڈھے  اور ایک ایک سال کے  سات نر میمنے قربان کرو۔ ان جانوروں میں کوئی عیب نہیں ہو نا چاہئے۔ یہ خداوند کے  لئے  جلانے  کی قربانی ہو گی۔ یہ سب ان کے  اناج کی قربانی پینے  کی قربانی اس کے  خوشبودار مہک کے  ساتھ خداوند کے  لئے  تحفہ ہو گا۔

19 تم ایک بکرے  کی قربانی گناہ کی قربانی کے  طور پر اور دو ایک سالہ میمنہ ہمدردی کے  طور پر بھی دو گے۔

20″ کاہن ان سب کو فصل کے  پہلے  پھلوں سے  دیئے  گئے  روٹی کے  نذرانے  کے  ساتھ خداوند کے  سامنے  اوپر اٹھائے  گا۔ یہ سب خداوند کے  لئے  مقدس تھے۔

21 اسی دن تم ایک مقدس اجتماع منعقد کرو گے  تم اس دن کوئی کام نہیں کرو گے۔ تم جہاں کہیں بھی رہو گے  یہ شریعت تمہاری نسل در نسل کے  لئے  لا گو رہے  گی۔

22″ جب تم اپنے  کھیتوں کی فصل کاٹو تو تمہیں کھیت کے  کونوں تک فصل نہیں کاٹنی چاہئے۔ اور جو اناج زمین میں گِرے  اُسے  مت اٹھاؤ۔ اسے  تم غریب لوگوں اپنے  ملک میں رہنے  والے  غیر ملکیوں کے  لئے  چھوڑ دو۔”میں تمہارا خداوند خدا ہوں۔”

23 خداوند نے  موسیٰ سے  پھر کہا۔

24″ بنی اسرائیلیوں سے  کہو : ساتویں مہینے  کے  پہلے  دن تمہیں آرام کا خاص دن اور یادگاری کے  دن کے  طور پر منا نا چاہئے۔ اس مقدس اجتماع کے  دن تمہیں بِگل پھونکنا چاہئے۔

25 تمہیں اس دن کوئی کام نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن تمہیں خداوند کے  لئے  تحفہ لا نا ہو گا۔”

26 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا۔

27″ دھیان رکھو کہ ساتویں مہینے  کا  دسواں دن کفارہ کا دن ہے ، تمہارے  لئے  ایک مقدس اجتماع ہے۔ اس دن تمہیں خاکسار ہو نا چاہئے  اور خداوند کو تحفہ پیش کرنا چاہئے۔

28 تم اس دن کوئی کام نہیں کرو گے  کیونکہ یہ کفارہ کا دن ہے ، خداوند تمہارے  خدا کے  سامنے  اپنے  لئے  کفّارہ دینے  کا دن ہے۔

29 اگر کوئی آدمی  اس دن اپنے  کو خاکسار کرنے  سے  انکار کرتا ہے۔ تو اسے  اپنے  لوگوں سے  الگ کر دیا جائے  گا۔

30 اگر کوئی آدمی  اس دن کام کرے  گا تو اسے  میں ( خدا ) اُس کے  لوگوں میں سے  اس کو تباہ کر دوں گا۔

31 تمہیں کوئی بھی کام نہیں کرنا چاہئے  یہ شریعت تم جہاں کہیں بھی رہو تمہاری تمام نسلوں کے  لئے  ہمیشہ لا گو رہے  گی۔

32 یہ دن خاص کر کے  تمہارے  لئے  پو رے  آرام کا دن ہے  تمہیں اپنے  آپ  میں خاکسار ہو نا چاہئے۔ تمہیں آرام کا یہ خاص دن مہینے  کے  نویں دن کے  شام سے  شروع کرنا چاہئے  اور یہ پو رے  آرام کے  دن کے  طور پر اگلے  دن شام تک رہے  گا۔”

33 خداوند نے  موسیٰ سے  پھر کہا،

34″ بنی اسرائیلیوں سے  کہو : ساتویں مہینے  کے  پندرھویں دن پناہ کی تقریب کا دن ہو گا۔ خداوند کے  لئے  یہ مقدس تقریب سات دن تک چلے  گی۔

35 پہلے  دن ایک مقدس اجتماع ہو گا۔ اس دن تمہیں کوئی کام نہیں کرنا چاہئے۔

36 تم سات دنوں تک خداوند کو تحفہ پیش کرو گے۔ آٹھویں دن تم دوسرا مقدس اجتماع منعقد کرو گے۔ تم خداوند کو تحفہ پیش کرو گے۔ یہ تقریب کا دن ہے۔ تمہیں کوئی کام نہیں کر نا چاہئے۔

37″ یہ سب خداوند کے  خاص مقررہ تقریب ہیں جسے

38 یہ سب خداوند کے  سبت کے  دن کے  علا وہ، تحفہ کے  علا وہ اور تیرے  کئے  گئے  کسی وعدہ کو پو را کرنے  کے  لئے  پیش کئے  گئے  قربانی کے  علا وہ، اور کسی رضا کا نذرانہ جسے  تمہیں خداوند کو پیش کر نا ہو گا، کے  علا وہ ہیں۔

39″ دھیان رکھو ساتویں مہینے  کے  پندرھویں دن جب تم زمین کی فصل کا ٹو گے  تو تم خداوند کی اس تقریب کو سات دن تک مناؤ گے  پہلا دن آرام کا دن اور آٹھواں دن بھی آرام کا دن ہے۔

40 پہلے  دن تم اپنے  لئے  درختوں سے  تازہ پھل لاؤ گے۔ اور تم کھجور کے  درخت، پتّے  دار درخت اور بید کے  درخت کی شاخیں بھی لاؤ گے۔ تم اپنے  خداوند خدا کے  سامنے  سات دن تک جشن مناؤ گے۔

41″ تم اس مقدس تقریب کو ہر سال خداوند کے  لئے  سات دن تک مناؤ گے۔ یہ شریعت تمہاری تمام نسلوں کے  لئے  ہمیشہ رہے  گی۔ یہ تقریب ساتویں مہینے  میں منائی جائے  گی۔

42 اس تقریب کے  لئے  تم سات دن تک عارضی پناہ گا ہوں میں رہو گے۔ اسرائیل کے  تمام شہری ان پناہ گا ہوں میں رہیں گے۔

43 تمہاری نسلوں کو معلوم کرانے  کے  لئے  جب میں بنی اسرائیلیوں کو مصر سے  با ہر لایا تو انہیں میں نے  عارضی پناہ گا ہوں میں بسایا تھا۔ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔”

44 اس طرح موسیٰ نے  بنی اسرائیلیوں کو خداوند کے  خاص مقررہ تقریب کے  با رے  میں بتا یا۔

 

 

 

احبار   24

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2″ بنی اسرائیلیوں کو حکم دو کہ زیتون سے  نکالا ہوا خالص تیل لائے۔ وہ تیل چراغوں میں جلا یا جائے  گا۔ یہ چراغ بغیر بجھے  لگا تار جلتے  رہنا چاہئے۔

3 ہا رون خیمۂ اجتماع میں خداوند کے  سامنے  پردہ کے  آگے  چراغوں کو ترتیب دے  گا اور اسے  شام سے  صبح تک لگا تار جلائے  رکھے  گا۔ یہ اصول تمہاری تمام نسلوں کے  لئے  ہمیشہ رہے  گا۔

4 ہا رون کو سونے  کا شمعدان پر خداوند کے  سامنے  چراغوں کو ہمیشہ ترتیب دے  کر رکھنا چاہئے۔

5″ اچھا باریک آٹا اور اس کی ۱۲ روٹیاں بناؤ۔ ہر ایک روٹی کے  لئے  سولہ پیالے  آٹا کا استعمال کر نا چاہئے۔

6 اُنہیں دو قطاروں میں سنہرے  میز پر خداوند کے  سامنے  رکھو۔ ہر قطار میں ۶ روٹیاں ہونی چاہئے۔

7″ ہر ایک قطار پر خالص لوبان رکھو۔ یہ روٹی کو تحفہ کے  طور پر خداوند کو پیش کرنے  میں مدد کرے  گی۔

8 ہر سبت کے  دن ہا رون روٹیوں کو خدا کے  سامنے  رکھے  گا۔ اسے  وہ ہمیشہ کے  لئے  کرنا چاہئے۔ بنی اسرائیلیوں کے  ساتھ یہ معاہدہ ہمیشہ بنا رہے  گا۔

9 وہ روٹی ہا رون

10 ایک اسرائیلی عورت کا بیٹا تھا اُس کا با پ مصری تھا۔ وہ اسرائیلی لوگوں کے  درمیان گھوم رہا تھا اور اس نے  چھاؤنی میں لڑنا شروع کیا۔

11 اِسرائیلی عورت کے  لڑکے  نے  خداوند کے  نام کے  با رے  میں بُری باتیں کہنی شروع کیں۔ اِس لئے  لوگ اُس لڑکے  کو موسیٰ کے  سامنے  لائے۔ (لڑکے  کی ماں کا نام شیلو مت تھا۔ جو دان کے  خاندانی گروہ کے  دیبری کی بیٹی تھی )۔

12 لوگوں نے  لڑ کے  کو قیدی کی طرح اس وقت تک رکھا جب تک کہ صاف طور پر حکم معّین نہ کیا گیا۔

13 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

14″خدا پر لعنت کرنے  والے  کو چھاؤنی سے  با ہر لاؤ۔ جن لوگوں نے  لعنت کرتے  سُنا انہیں اس کے  سر پر ہاتھ رکھنا چاہئے۔ ساری جماعت اسے  موت کے  گھاٹ اتار نے  کے  لئے  سنگسار کرے  گی۔

15 تمہیں بنی اسرائیلیوں سے  کہنا چاہئے  :اگر کوئی آدمی  اپنے  خدا کی شان میں گستاخی کرتا ہے  تو اسے  اپنے  گناہ کی سزا بھگتنی چاہئے۔

16 کوئی شخص جو خداوند کے  نام پر لعنت کرتا ہے  تو اسے  یقیناً مار ڈا لنا چاہئے۔ ساری جماعت کو اسے  سنگسار کر کے  مار ڈالنا چاہئے۔ جب کوئی اسرائیلی شہری یا کوئی غیر ملکی جو کہ تمہارے  درمیان رہتا ہو خداوند کے  نام کے  خلاف خدا کی شان میں گستاخی کرے  تو اسے  مار ڈالنا چاہئے

17″اور اگر کوئی آدمی  کسی دوسرے  آدمی  کو مار ڈالتا ہے  تو اسے  ضرور مار ڈالنا چاہئے۔

18 اگر کوئی شخص کسی دوسرے  شخص کے  جانور کو مار ڈالتا ہے  تو اس کے  بدلے  میں اسے  دوسرا زندہ جانور اس کو دینا چاہئے۔

19″اگر کوئی شخص اپنے  پڑوس میں کسی کو چوٹ پہنچاتا ہے  تو اس شخص کو بھی اُسی طرح کی چوٹ پہنچانی چاہئے۔

20 کوئی شخص کسی دوسرے  شخص کی ہڈی توڑ دیتا ہے  تو اس کی بھی ہڈی کے  بدلے  میں ہڈی توڑی جا سکتی ہے ، آنکھ کے  بدلے  میں آنکھ، دانت کے  بدلے  میں دانت۔ جیسا اس نے  دوسرے  کو زخمی کیا ہے  اس لئے  اسے  بھی ویسا ہی زخمی کیا جا سکتا ہے۔

21 اِس لئے  اگر کوئی شخص کسی دوسرے  شخص کے  جانور کو مارے  تو اُس کے  بدلے  میں اُسے  ویسا ہی دُوسرا جانور دینا چاہئے۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی دوسرے  شخص کو مار ڈالتا ہے  تو اسے  ضرور مادیا جانا چاہئے۔

22″تم سب کے  لئے  برابر انصاف ہو گا۔ غیر ملکی باشندے  کے  ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیا جانا چاہئے  جیسا کہ اپنے  شہری کے  ساتھ کیا جاتا ہے  کیونکہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔”

23 تب موسیٰ نے  بنی اسرائیلیوں سے  بات کی اور وہ لوگ اس آدمی  جس نے  لعنت کی تھی کو خیمہ کے  باہر ایک جگہ پر لائے۔ تب انہوں نے  اسے  پتھروں سے  مار ڈالا۔ اسی طرح بنی اسرائیلیوں نے  وہ  کیا جس کا حکم  خداوند نے  موسیٰ کو دیا۔

 

 

 

 

احبار   25

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  سینائی کے  پہاڑ پر کہا،

2″ بنی اسرائیلیوں سے  کہو :جب تم لوگ اس زمین پر جاؤ گے  جسے  میں تم کو دے  رہا ہوں۔ تمہیں خداوند کے  لئے  زمین کو سبت ( آرام) کی اجازت دینی چاہئے۔

3 تم چھ سال تک اپنے  کھیتوں میں بیج بوؤ گے۔ اسی طرح سے  تم اپنے  انگور کے  باغوں میں چھ سال تک کھیتی کرو گے  اور اس کا پھل پاؤ گے۔

4 لیکن ساتویں سال تم اس زمین کو آرام کرنے  دو گے  یہ خداوند کو عزت دینے  کے  لئے  آرام کا خاص وقت ہو گا۔ تمہیں اپنے  کھیتوں میں بیج نہیں بونی چاہئے  اور انگور کے  باغوں میں بیلوں کی کٹائی نہیں کرنی چاہئے۔

5 تمہیں ان فصلوں کی کٹائی نہیں کرنی چاہئے  جو فصل کٹنے  کے  بعد اپنے  آپ ا ُ گتی ہیں۔ تمہیں اپنے  ان انگور کی بیلوں سے  انگور نہیں توڑ نا چاہئے  جن کی تم نے  کٹائی نہیں کی ہو۔ یہ سال زمین کے  لئے  سبت کا سال ہے۔

6″یہ زمین کے  لئے  سبت کا سال ہے  اور اس سے  جو پیدا وار ہو گی وہ تمہارے  اور تمہارے  غلام آدمیوں اور عورتوں کے  لئے  ہو گی۔ تمہارے  کرائے  کے  مزدوروں اور تمہارے  ساتھ رہنے  والے  غیر ملکیوں کے  لئے  ہو گی۔

7 تمہارے  مویشیوں اور دوسرے  جنگلی جانوروں کے  لئے  چارہ ہو گا۔

8″تم سات سال سالوں کے  سات سبتوں کو سات گُنا گِنو۔ یہ ۴۹ سال ہوں گے۔

9 کفّارہ کے  دن تمہیں مینڈھے  کا سینگ بجانا چاہئے۔ وہ ساتویں مہینے  کے  دسویں دن ہو گا تمہیں پورے  ملک میں مینڈھے  کا سینگ بجانا چاہئے۔

10 تم پچاسویں سال کو خاص سال مناؤ گے  تم اس سال تمام لوگوں کے  لئے  جو کہ اس ملک میں رہتے  ہیں آزادی کا اعلان کرو گے۔ وہ سال”جوبلی”سال کے  نام سے  جانا جائے  گا۔ تم میں سے  ہر ایک اپنی زمین میں واپس آئے  گا اور تم میں سے  ہر ایک اپنے  خاندان میں واپس جائے  گا۔

11 پچاسویں سال تمہارے  لئے  خاص جوبلی تقریب کا سال ہو گا۔ اس سال تم بیج مت بوؤ۔ خود سے  اُگی فصل کو نہ کاٹو۔ انگور کی ان بیلوں سے  انگور نہ توڑو۔

12 وہ جوبلی سال ہے  اور اس لئے  یہ تمہارے  لئے  مقدس ہو گا۔ تم اس فصل کو کھاؤ گے  جو اپنے  کھیتوں سے  کاٹو گے۔

13 جوبلی سال میں ہر ایک آدمی  اپنے  آباء و  اجداد کی جائیداد میں واپس ہو جائے  گا۔

14″اپنی زمین فروخت کرنے  میں یا پھر اسے  خریدنے  میں کسی آدمی  کو دھوکہ مت دو۔

15 اگر تم کسی کی زمین خریدنا چاہئے  ہو تو آخری جوبلی سال سے  سالوں کے  تعداد کا حساب کرو۔ اور اس کی صحیح قیمت کا تعین فصل کٹائی کے  سالوں کی تعداد پر غور کرتے  ہوئے  کرو۔

16 اگر سالوں کی تعداد زیادہ ہو تو اس کی قیمت زیادہ ہو گی اور اگر سالوں کی تعداد کم ہو تو اس کی قیمت بھی کم ہونی چاہئے۔ کیونکہ حقیقت میں وہ سالوں کی فصلیں فروخت کر رہا ہے۔

17 تمہیں ایک دوسرے  کو دھوکہ نہیں دینا چاہئے۔ تب تم اپنے  خدا سے  خوف کرو گے۔” میں تمہارا خداوند خدا ہوں۔”

18 میرے  اصولوں اور شریعت پر دھیان دو اور ان کی تعمیل کرو تب ہی تم اپنے  ملک میں محفوظ رہو گے۔

19 زمین تمہارے  لئے  عمدہ فصل پیدا کرے  گی۔ پھر تمہارے  پاس بہت زیادہ کھانے  کے  لئے  ہو گا۔ اور تم اپنے  ملک میں محفوظ رہو گے۔

20″لیکن تم یہ کہہ سکتے  ہو، ‘ اگر ہم بیج نہ بوئیں یا اپنی فصلوں کو اکٹھا نہ کریں، تو ساتویں سال ہم لوگوں کے  پاس کھانے  کے  لئے  کیا رہے  گا؟ ‘

21 چھٹے  سال میں تم پر برکت نازل کروں گا اس سال کی پیداوار تین سال کے  پیدا وار کے  برابر ہو گی۔

22 آٹھویں سال جب تم بوؤ گے  تو اس وقت تک تم اپنی بیرونی فصل ہی کاٹو گے  دراصل جب تک نویں سال میں فصل کٹائی نہیں آ جاتی ہے  تم اپنی پرانی فصل ہی کھاتے  رہو گے۔

23″ زمین در حقیقت میری ہے  اس لئے  تم اسے  کبھی نہیں بیچ سکتے۔ تم غیر ملکی ہو اور میرے  ساتھ عارضی طور پر رہ رہے  ہو۔

24 کوئی شخص اپنی زمین بیچ سکتا ہے  لیکن اس کا خاندان ہمیشہ اپنی زمین واپس لینے  کے  اہل ہو گا چاہے  یہ جہاں کہیں بھی ہو۔

25 کوئی شخص تمہارے  ملک میں بہت غریب ہو سکتا ہے  وہ اتنا غریب ہو سکتا ہے  کہ اسے  اپنی جائیداد فروخت کرنا پڑے۔ ایسی حالت میں اس کے  قریبی رشتہ داروں کو آگے  آنا چاہئے  اس جائیداد کو واپس خریدنا چاہئے۔

26 اگر اس شخص کا کوئی قریبی رشتہ دار نہ ہو جو کہ اس کی زمین خریدے  لیکن اس کے  پاس اتنی دولت ہو کہ خود سے  اپنی زمین واپس خرید سکتا ہے ،

27 تو جب سے  زمین خریدی گئی تھی زمین کی قیمت طے  کرنے  کے  لئے  تمہیں سالوں کو گننا چاہئے۔ تب وہ شخص زمین کو پھر سے  واپس خرید سکتا ہے۔ وہ اپنے  قبضہ کو واپس پا سکتا ہے۔

28 لیکن اگر اس شخص کے  پاس زمین کو واپس خریدنے  کے  لئے  کافی دولت نہیں ہو تی ہے۔ تو خریدنے  وا لا زمین کو اپنے  ساتھ جوبلی سال کے  آنے  تک زمین کو رکھے  گا۔ اور اس وقت زمین کے  پہلے  مالک کے  خاندان کو وہ زمین لوٹائی جائے  گی۔

29 اگر کوئی شخص اپنے  مکان کو فصیل دار شہر میں جہاں وہ رہتا ہو بیچتا ہے  تو ایک سال کا وقفہ گذرنے  سے  پہلے  وا پس خریدنے  کا اختیار ہو گا۔

30 لیکن اگر گھر کا مالک پورے  ایک سال گذرنے  کے  پہلے  اپنا گھر وا پس نہیں خریدتا فصیل دار شہر کے  اندر کا گھر جو آدمی  خریدتا ہے  اُس کا اور اس کی نسلوں کا ہو جاتا ہے۔ جوبلی سال کے  وقت پہلے  کے  مالک کو جائیداد وا پس نہیں کی جائے  گی۔

31 وہ گھر جو بغیر فصیل دار شہروں میں ہو کھلے  میدان مانے  جائیں گے۔ اسے  وا پس خریدا بھی جا سکتا ہے  اور جو بلی سال کے  وقت وا پس بھی دیا جا سکتا ہے

32 لیکن لاویوں کے  شہروں اور ان کے  شہروں کے  گھروں کے  متعلق یہ ہے  :اسے  ان لوگوں کے  ذریعے  کسی بھی وقت وا پس خریدا جا سکتا ہے۔

33 اگر کوئی شخص لاویوں کی  کسی بھی چیز کو خریدنے کا  اہل ہے  تو اسے  ان چیزوں کو جو بلی سال کے  وقت لاویوں کو لوٹا دینا چاہئے۔ کیونکہ لاویوں کی جائیداد سارے  اسرائیلیوں کے  در میان لا وی خاندانی گروہ کا ہے۔

34 لا وی شہروں کے  چاروں طرف کے  کھیت اور چرا گا ہیں فروخت نہیں کئے  جا سکتے۔ وہ کھیت ہمیشہ کے  لئے  لاویوں کے  ہیں۔

35″ممکن ہے  تمہارے  ملک کا کوئی شخص اتنا زیادہ غریب ہو جائے  کہ اپنے  آپ  کی مدد نہ کر سکے  تو تم اس کی مدد کرنا اور وہ تیرے  ساتھ غیر ملکی یا عارضی باشندے  کی طرح رہے  گا۔

36 کسی شخص کے  اس قرض پر جو کہ وہ تم سے  لیا ہے  کسی بھی طرح کا سود مت لو۔ یہ دکھانا کہ تم اپنے  خدا کا خوف کرتے  ہو۔ اور اپنے  بھائی کو اپنے  ساتھ جینے   دو۔

37 اسے  سود پر پیسہ ا ُ دھار مت دو۔ جو کھانا وہ کھائے  اُس سے  نفع مت لو۔

38 میں خداوند تمہارا خدا ہوں جو تم کو ملک کنعان دینے  کے  لئے  اور تمہارا خدا بنے  رہنے  کے  لئے  ملک مصر سے  با ہر لا یا۔

39″ ممکن ہے  تمہارے  ملک کا کوئی شخص اِتنا غریب ہو جائے  کہ وہ غلام کے  طور پر اپنے  آپ  کو تمہارے  پاس بیچے  تو تمہیں اس سے  غلام کی طرح کام نہیں لینا چاہئے۔

40 وہ جو بلی سال تک کرائے  کے  مزدور اور ایک عارضی باشندہ کی طرح تمہارے  ساتھ رہے  گا۔

41 تب وہ اپنے  بچوں اور اپنے  خاندانوں کے  ساتھ اپنے  آباء و  اجداد میں وا پس جا سکتا ہے۔

42 کیونکہ انہوں نے  میری خدمت کی، میں انہیں ملک مصر سے  با ہر لا یا اور وہ پھر سے  اپنے  آپ  کو مجھے  غلام کے  طور پر فروخت نہیں کر سکتا ہے۔

43 تمہیں ایسے  آدمی  پر ظالم آقا نہ ہو نا چاہئے۔ تمہیں اپنے  خدا سے  خوف کرنا چاہئے۔

44″ تمہارے  غلام اور باندیوں کے  متعلق: تم اپنے  اطراف و اکناف کے  دوسرے  ملکوں سے  غلام اور باندیاں خرید سکتے  ہو۔

45 تمہارے  ملک میں رہنے  والے  غیر ملکیوں کے  خاندانوں کے  بچوں کو تم غلام کے  طور پر بھی خرید سکتے  ہو۔ وہ بچے  تمہاری جائیداد ہوں گے۔

46 تم ان غیر ملکی غلاموں کو اپنے  بچوں کو وراثت کے  طور پر دے  سکتے  ہو جو تمہارے  مرنے  کے  بعد تمہارے  بچوں کے  ہوں گے۔ وہ ہمیشہ کے  لئے  تمہارے  غلام رہیں گے۔ تم ان غیر ملکیوں کو اپنے  غلام بنا سکتے  ہوں لیکن تم اپنے  اسرائیلی ساتھیوں پر ظلم سے  حکومت نہیں کر سکتے  ہو۔

47″ اگر کوئی غیر ملکی یا کوئی عارضی باشندے  جو کہ تمہارے  ساتھ رہتے  ہیں دولت مند ہو جائیں اور تمہارے  اپنے  ملک کے  لوگ اتنے  غریب ہو جائیں کہ وہ اپنے  آپ  کو غلام کے  طور پر غیر ملکی خاندان کے

48 تو اس طرح کے  غلام کو اپنے  آپ  کو وا پس خریدنے  اور آزاد ہونے  کا اختیار ہے۔ اس کا کوئی بھی بھائی اسے  وا پس خرید سکتا ہے ،

49 یا اس کا چچا یا اس کا چچیرا بھائی یا اس کا کوئی قریبی رشتے  دار اسے  واپس خرید سکتا ہے۔ یا وہ آدمی  خود سے  کافی پیسہ ادا کر کے  جسے  کہ اس نے  حاصل کیا تھا اپنے  آپ  کو آزاد کر سکتا ہے۔

50″ تم اس شخص کی قیمت کیسے  مقرر کرو گے ؟ غیر ملکی کے  پاس جب سے  اس نے  خود کو بیچا ہے۔ اس وقت سے  جوبلی سالوں تک کے  سالوں کو تم گنو گے  اس تعداد کا استعمال قیمت مقرّر کرنے  میں کرو۔ کوئی شخص ایک کرائے  کے  مزدور کو جتنا ادا کرے  گا اس پر خیال کرتے  ہوئے  تم کو قیمت طے  کرنی ہو گی۔

51 اگر جوبلی سال دور ہو تو اس شخص کو اس کی قیمت کا بڑا حصّہ واپس کرنا چاہئے۔

52 اگر جوبلی سال آنے  میں کچھ ہی سال رہ جائے  تو اسی کے  مطابق قیمت طے  کرنی چاہئے۔ اس کی قیمت اس کے  سالوں پر منحصر ہو گی۔

53 کسی حالت میں اگر وہ شخص اس غیر ملکی کے  ساتھ رہتا ہے  تو اس کے  ساتھ کرائے  کے  مزدور جیسا سلوک کیا جانا چاہئے۔ اور اس غیر ملکی کو اس پر ظالمانہ طور پر حکومت نہیں کرنی چاہئے۔

54″ وہ آدمی  کسی کے  ساتھ واپس نہ خریدے  جانے  پر بھی چھوٹ جائے  گا۔ جوبلی کے  سال وہ اور اس کے  بچّے  چھوٹ جائیں گے۔

55 کیونکہ بنی اسرائیل میرے  غلام ہیں وہ میرے  خادم ہیں۔ جنہیں میں نے  مصر کی غلامی سے  باہر نکالا۔ میں تمہارا خداوند خدا ہوں۔”

 

 

 

 

احبار   26

 

 

1″ اپنے  لئے  مورتیاں مت بناؤ۔ تراشی ہوئی مورتیاں یا متبرک ستون مت کھڑے کرو۔ عبادت کرنے  کے  لئے  پتھر کی مورتیاں نصب نہ کرو۔ کیونکہ میں تمہارا خداوند خدا ہوں۔

2″ تمہیں میرے  سبت کے  دنوں کو ماننا چاہئے  اور میری مقدس جگہ کی تعظیم کرنی چاہئے۔ میں خداوند ہوں۔

3″ اگر تم میرے  احکام پر چلو اور میری شریعتوں کی پاسداری کرو اور اس کی تعمیل کرو،

4 تو میں تمہارے  لئے  وقت پر پانی برساؤں گا اور زمین فصل اُگائے  گی اور درخت میوہ دے  گا۔

5 تیرا اناج کے  مَلنے  کا کام انگور جمع کرنے  تک چلے  گا۔ اور تیرے  انگور کو جمع کرنے  کا کام بیج بونے  کے  وقت تک چلے  گا۔ تب تمہارے  پاس کافی مقدار میں کھانا ہو گا۔ اور تم اپنے  ملک میں محفوظ رہو گے۔

6 تمہارے  ملک کو امن دوں گا۔ تم امن سے  سو سکو گے۔ کوئی آدمی  ڈرانے  نہیں آئے  گا۔ میں تباہ کن جانوروں کو تمہارے  ملک سے  باہر رکھوں گا اور فوجیں تمہارے  ملک سے  نہیں گزریں گی۔

7 تم اپنے  دشمنوں کو پیچھا کر کے  بھگاؤ گے  اور انہیں شکست دو گے  تم انہیں اپنی تلوار سے  مار ڈالو گے۔

8 تمہارے  پانچ آدمی  دشمنوں کے  سو آدمیوں کا پیچھا کر کے  انہیں بھگائیں گے۔ اور تمہارے  سو آدمی  ان کے  ہزار آدمیوں کا پیچھا کریں گے۔ اور تمہارے  دشمن تمہارے  سامنے  تلوار سے

9″ تب میں تمہاری طرف پلٹوں گا میں تمہیں بہت بچّوں والا بناؤں گا۔ میں تمہارے  ساتھ اپنا معاہدہ پورا کروں گا۔

10″ تم گودام کے  اناج کو کھاؤ گے۔ اور اسی وقت تم جمع کئے  ہوئے  پرانے  اناج کو پھینکو گے۔

11 تم لوگوں کے  درمیان اپنا مقدس خیمہ رکھوں گا۔ میں تم لوگوں سے  نفرت نہیں کروں گا۔

12″ میں تمہارے  ساتھ چلوں گا اور تمہارا خدا رہوں گا۔ تم میرے  لوگ رہو گے۔

13 میں تمہارا خداوند خدا ہوں۔ تم مصر میں غلام تھے  لیکن میں تمہیں وہاں سے  باہر لایا۔ میں نے  تمہارے  کندھوں کے  بھاری جواؤں کو توڑ پھینکا۔ میں نے  تمہیں سماج میں فخر سے  چلنے  والا بنایا۔

14″ لیکن اگر تم میری مرضی کی تعمیل نہیں کرو گے  اور میرے  یہ سب احکام نہیں مانو گے ”

15 اور اگر تم میرے  اصولوں اور احکامات کو میرے  حکم کے  مطابق ماننے  سے  انکار کرتے  ہو، تو تم نے  میرے  معاہدہ کو توڑ دیا ہے ،

16 تو میں تمہارے  ساتھ ایسا کروں گا کہ تم پر بھیانک مصیبت نازل کروں گا۔ میں تم کو بخار اور دوسری بیماری میں مبتلا کروں گا جو تمہاری آنکھوں کو تباہ کرے  گی اور تمہاری زندگی لے  لے  گی۔ اگر تم اپنے  بیج بوؤ گے  تو تمہیں فصل نہیں ملے  گی۔ تمہاری پیدا وار تمہارے  دشمن کھائیں گے۔

17 میں تمہارے  خلاف ہوں گا۔ تمہارے  دشمن تم کو شکست دیں گے  تم پھر بھی بھا گو گے  جب تمہارا کوئی پیچھا نہ کر رہا ہو گا۔

18″ اگر اس کے  بعد بھی تم میری نہ سنو گے  تو میں تمہارے  گناہوں کے  لئے  تمہیں سات گنا زیادہ سزا دوں گا۔

19 میں تمہارے  زور آور فخر کو برباد کر دوں گا۔ میں تمہارے  آسمان کو لوہا اور زمین کو کانسہ بنا دوں گا۔

20 تم سخت محنت کرو گے۔ لیکن یہ تمہاری کوئی مدد نہیں کرے  گا۔ تمہاری زمین میں کوئی پیدا وار نہیں ہو گی اور تمہارے  درختوں پر پھل نہیں آئیں گے۔

21″ اگر پھر بھی تم میرے  خلاف جاتے  ہو اور میری نہیں سنتے  ہو تو میں سخت سزا دوں گا، جو گناہ تم کرو گے  اس کا سات گنا زیادہ سزا دوں گا۔

22 میں تمہارے  خلاف جنگلی جانوروں کو بھیجوں گا وہ تمہارے  بچّوں کو تم سے  چھین لے  جائیں گے۔ وہ تمہارے  مویشیوں کو تباہ کر دیں گے  وہ تمہاری تعداد بہت کم کر دیں گے۔ اور تمہاری سڑکیں خالی ہو جائیں گی۔

23″ اگر پھر بھی تم میرا سبق نہ سیکھے  اور میری مخالفت کرنا جاری رکھے ،

24 تو میں بھی تمہارے  خلاف ہو جاؤں گا۔ میں خداوند ہوں اور میں تمہارے  گناہوں کے  لئے  تمہیں سات گنا سزا دوں گا۔

25 تم نے  میرے  معاہدہ کو توڑا ہے  اس کے  لئے  میں تیرے  خلاف فوجوں کو بھیج کر تجھے  سزا دوں گا۔ اگر تم اپنے  شہروں میں واپس چلے  جاؤ گے  تو میں وہاں بیماری پھیلا دوں گا اور تب تمہارے  دشمن تجھے  شکست دیں گے۔

26 میں تیرے  روزانہ کی غذا کو پوری طرح سے  بند کر دوں گا۔ تب عورتیں ایک ہی تنور میں تمہاری  ساری روٹیاں پکائیں گی۔ وہ ہر ایک روٹی

27″ اگر تب بھی تم میری باتیں سننے  سے  انکار کرتے  ہو اور میرے  خلاف ہی کرتے  ہو،

28 تو میں تمہارے  خلا ف اپنا غصّہ ظاہر کروں گا۔ میں خود تمہارے  گناہ کے  لئے  سات گنا سزا دوں گا۔

29 تم اپنے  بیٹے  اور بیٹیوں کے  گوشت کو کھاؤ گے۔

30 میں تمہاری کُفر کی اُونچی جگہوں کو تباہ کروں گا۔ میں تمہاری خوشبوؤں کی قربان گا ہوں کو کاٹ ڈالوں گا۔ میں تمہاری لا شوں کو تمہارے  بے  جان بتوں پر ڈال دوں گا میں تم سے  نفرت کروں گا۔

31 میں تمہارے  شہروں کو تباہ کروں گا۔ میں تمہاری اونچی مُقدس جگہوں کو خالی کر دوں گا۔ میں تمہاری قربانیوں کی راحت افزاء خوشبوؤں کو قبول نہیں کروں گا۔

32 میں تمہارے  ملک کو اتنا خالی کر دوں گا کہ تمہارے  دُشمن تک جو اس میں رہنے  آئیں گے  وہ اس پر حیران ہوں گے۔

33 اور میں تمہیں قوموں کے  درمیان منتشر کر دوں گا۔ میں اپنی تلوار کھینچوں گا اور تم پر حملہ کروں گا۔ تمہاری زمین خالی ہو جائے  گی۔ اور تمہارے  شہر نیست و نابود ہو جائیں گے۔

34″ تم اپنے  دُشمنوں کے  ملکوں میں لے  جائے  جاؤ گے۔ تمہاری زمین خالی ہو جائے  گی اور آخر میں یہ سبت کو پائے  گی۔

35 جیسا کہ تم نے  اسے  کوئی آرام نہیں دیا حالانکہ تم اس میں رہتے  تھے۔ جب یہ ویران ہو جائے  گی تب یہ آرام کے  لئے  اپنے  سبت کو پائے  گی۔

36 باقی بچے  ہوئے  لوگ اپنے  دُشمنوں کے  ملک میں اپنی ہمت کھو دیں گے  وہ ہر چیز سے  ڈریں گے۔ وہ ہوا میں اُڑتے  ہوئے  پتّے  کی آواز سنیں گے  تو وہ اِدھر اُدھر بھاگنے  لگیں گے۔ ایسے  بھاگیں گے  جیسے  کوئی تلوار لئے  ان کا پیچھا کر رہا ہو۔ لوگ گِر پڑیں گے  حالانکہ کوئی ان کا پیچھا نہ کرتا ہو گا۔

37 وہ ایک دوسرے  پر گریں گے ، جبکہ کوئی ان کا پیچھا نہیں کر رہا ہو گا۔

38 تم دوسری قوموں کے  درمیان کھو جاؤ گے۔ تم اپنے  دشمنوں کے  ملک کے  ذریعہ کھا لئے  جاؤ گے۔

39 تم میں سے  جو باقی بچیں گے  تمہارے  دشمنوں کے  ملک میں اپنے  گنا ہوں کی وجہ سے  سڑیں گے۔ وہ اپنے  آباء و  اجداد کے  گنا ہوں کے  سبب سے  بھی سڑیں گے۔

40″ ممکن ہے  کہ لوگ اپنے  گنا ہوں کا اِقرار کریں اور وہ اپنے  با پ دادا کے  بھی گنا ہوں کو قبول کریں کہ وہ میرے  خلا ف تھے  اور میری مخالفت کئے  تھے۔

41 میں جب سچ مچ میں ان لوگوں کے  خلاف جاؤں اور انہیں دشمنوں کے  ملک میں لاؤں، تو ان کا نا مختون دل خاکسار ہو جائے  گا اور اپنے  گنا ہوں کو قبول کرے  گا۔

42 تو میں یعقوب کے  ساتھ کئے  گئے  اپنے  معاہدہ کو، اسحاق کے  ساتھ اپنے  معاہدہ کو اور ابراہیم کے

43″ زمین خالی رہے  گی اور وہ اپنے  سبت کے  سال سے  خوشی منائیں گے۔ پھر بچے  ہوئے  لوگ اپنے  گناہ کے  لئے  سزا کو قبول کریں گے۔ کیونکہ انہوں نے  میری شریعت سے  نفرت کی تھی اور میرے  احکام کو ماننے  سے  انکار کیا تھا۔

44 لیکن تب بھی وہ جب اپنے  دشمنوں کے  ملک میں ہوں گے  میں انہیں پوری طرح تباہ نہیں کروں گا۔ میں ان کے  ساتھ اپنے  معاہدہ کو نہیں توڑوں گا۔” کیونکہ میں خداوند ان کا خدا ہوں۔”

45 میں ان کے  با پ دادا کے  ساتھ کئے  گئے  پہلے  معاہدہ کو یاد رکھوں گا۔ میں ان کے  با پ دادا کو ان کے  دشمنوں کی موجودگی میں مصر سے  با ہر لا یا کہ میں ان کا خدا ہو سکوں۔ میں خداوند ہوں۔”

46 یہ وہ شریعت، اُصول اور تعلیمات ہیں جو خداوند نے  بنی اسرائیلیوں کو دیئے۔ وہ شریعت بنی اسرائیلیوں اور خداوند کے  درمیان معاہدہ ہے۔ وہ شریعت موسیٰ کے  ذریعہ سینائی پہاڑ پر دیا گیا۔

 

 

 

 

احبار   27

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2″ بنی اسرائیلیوں سے  کہو :کوئی آدمی  خداوند سے  خاص وعدہ کر سکتا ہے  وہ خداوند کے  لئے  کسی شخص کو پیش کرنے  کا وعدہ کر سکتا ہے  وہ آدمی  خداوند کی خدمت خاص طریقے  سے  کرے  گا۔ کاہن اس کے  لئے  خاص قیمت مقرّر کرے  گا۔ اگر لوگ اُسے  واپس خریدنا چاہتے  ہیں تو اسے  اس کی قیمت ادا کرنی ہو گی۔

3 بیس سے  ۶۰ سال تک کی عمر کے  مرد کی قیمت سرکاری حساب کے  مطابق ۵۰ چاندی کے  مثقال ہو گی۔

4 بیس سے  ۶۰ سال کی عمر کی عورت کی قیمت تیس مثقال ہے۔

5 پانچ سے  بیس سال کی عمر کے  مرد کی قیمت ۱۰ مثقال ہے۔

6 ایک مہینے  سے  ۵ سال تک کے  بچے  کی قیمت ۵ مثقال ہے  اسی طرح سے  ایک مہینے  سے  پانچ سال تک کی بچّی کی قیمت ۳ مثقال ہو گی۔

7 ساٹھ یا ساٹھ سے  زیادہ عمر کے  مرد کی قیمت پندرہ مثقال ہے۔ ایک عورت کی قیمت ۱۰ مثقال ہے۔

8″اگر آدمی  اتنا غریب ہے  کہ وہ طے  شدہ قیت ادا نہ کر سکے  تو اُس آدمی  کو کاہن کے  سامنے  لاؤ۔ کاہن یہ طے  کرے  گا کہ وہ آدمی  کتنی قیمت ادائیگی میں دے  سکتا ہے۔

9″ کچھ جانوروں کو خداوند کو قربانی پیش کرنے  کے  لئے  استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص اُن جانوروں میں سے  کسی کو لاتا ہے  تو وہ جانور مقدس ہو جائے  گا۔

10 اگر وہ شخص خداوند کو اُس جانور کے  دینے  کا وعدہ کرتا ہے۔ تو اس شخص کو اُس جانور کی جگہ پر دُوسرا رکھنے  کا خیال نہیں کرنا چاہئے۔ اُسے  اچھے  جانور کو بُرے  جانور سے  اور بُرے  جانور کو اچھے  جانور سے  نہیں بدلنا چاہئے۔ اگر وہ شخص جانور کو بدلتا ہے  تو دونوں مقدس ہو جائیں گے۔

11″ کچھ جانور خداوند کو قربانی کے  طور پر پیش نہیں کئے  جا سکتے۔ اگر کوئی آدمی  ان ناپاک جانوروں میں سے  کسی کو خداوند کے  لئے  لاتا ہے  تو وہ جانور کاہن کے  سامنے  لایا جانا چاہئے۔

12 کاہن اس جانور کی قیمت مُقرّر کرے  گا اور اس میں سے  کسی جانور کو یہ نہیں کہا جائے  گا کہ جانور اچھا ہے  یا بُرا۔ اگر کاہن قیمت مقرّر کر دیتا ہے  تو جانور کی وہی قیمت ہو گی۔

13 اگر آدمی  جانور کو واپس خریدنا چاہتا ہے  تو اُسے  قیمت کا پانچواں حصّہ اور مِلانا چاہئے۔

14″ اگر کوئی شخص اپنے  مکان کو مقدس مکان کے  طور پر خداوند کو پیش کرتا ہے  تو کاہن کو اس کی قیمت مقرر کرنی چاہئے  چا ہے  وہ اچھا ہو یا بُرا۔ اگر قیمت مقرر کرتا ہے  تو وہی مکان کی قیمت ہے۔

15 لیکن اگر وہ شخص جو مکان پیش کرتا ہے  اسے  اور وا پس خریدنا چاہتا ہے  تو اسے  اس کی قیمت میں پانچواں حصّہ مِلنا چاہئے۔ تب وہ اس مکان کو واپس خرید سکتا ہے۔

16″ اگر کوئی آدمی  اپنے  کھیت کا کوئی حصّہ خداوند کو پیش کرتا ہے  تو اس کھیت کی قیمت اسی میں بونے  کے  لئے  بیج کی قیمت منحصر کرے  گی۔ ایک مربع فیٹ کے  لئے  ایک ہو مر کی ضرورت ہے  جس کی قیمت ۵۰ مثقال چاندی ہو گی۔

17 اگر آدمی  جو بلی کے  سال کھیت کا عطیہ دیتا ہے  تب قیمت وہ ہو گی جو کاہن مقرر کرے  گا۔

18 لیکن اگر آدمی  جو بلی سال کے  بعد کھیت کا عطیہ دیتا ہے  تو کاہن اس کی صحیح قیمت کا تعین کرے  گا جو کہ اگلے  جو بلی سال تک اور سالوں کی تعداد پر منحصر کرے  گا۔ اس کی قیمت کم ہونی چاہئے۔

19 اگر کھیت عطیہ کرنے  وا لا شخص کھیت کو وا پس خریدنا چا ہے  تو اس کو اس کی قیمت میں پانچواں حصّہ اور ملانا چاہئے۔

20 اگر وہ شخص کھیت کو وا پس نہیں خریدنا چاہتا یا پھر کاہنوں کے  ذریعہ دوسرے  شخص کو بیچا جاتا ہے  تو پہلا آدمی  وا پس نہیں خرید سکتا۔

21 جو بلی کے  سال کھیت خداوند کے  لئے  مقدس رہے  گا۔ یہ ہمیشہ کاہنوں کا رہے  گا یہ اس زمین کی طرح ہو گا۔ جو پوری طرح خداوند کو وقف کر دی گئی ہو۔

22 اگر کوئی اپنے  خریدے  ہوئے  کھیت کو خداوند کو پیش کرتا ہے  جو اس کی خاندانی جائیداد کا حصّہ نہیں ہے ،

23 تب کاہن کو جوبلی کے  سال تک سالوں کو گِننا چاہئے  اور کھیت کی قیمت مقرر کرنی چاہئے  اور اس دن وہ شخص کچھ مقدس چیز جو کہ خداوند کا ہو گا ادا کرے  گا۔

24 جو بلی کے  سال وہ کھیت جائیداد کے  مالک کے  پاس وا پس آ جائے  گا۔

25″تمہیں ہر ایک مقرر قیمت کو سرکاری مثقال کے  حساب سے  ادا کرنا چاہئے۔ ایک مثقال بیس جیرہ کے  برا بر ہے۔

26″تم پہلوٹھے  مویشی اور مینڈھوں کو خداوند کو عطیہ کے  طور پر پیش نہیں کر سکتے  ہو کیونکہ یہ خداوند کا پہلے  ہی سے  ہے۔

27 اگر پہلو ٹھا جانور نا پاک ہے  تو اس شخص کو اس جانور کو وا پس خریدنا چاہئے۔ کاہن اس جانور کی قیمت مقرر کرے  گا اور اس شخص کو اُس کی قیمت کا پانچواں حصّہ اُس میں ملانا چاہئے۔ اگر وہ شخص جانور کو وا پس نہیں خریدتا تو کاہن کو اپنے  مقرر کی ہوئی قیمت پر اسے  بیچ دینا چاہئے۔

28″ لوگوں کا یا مویشیوں کا یا کھیتوں کا ایک خاص قسم کا عطیہ جسے  لوگ خداوند کو پیش کرتے  ہیں۔ یہ عطیہ پوری طرح سے  خداوند کا ہے  اسے  نہ تو وا پس خریدا جا سکتا ہے  اور نہ ہی بیچا جا سکتا ہے۔ یہ خاص عطیہ خداوند کا ہے  اور یہ سب سے  مقدس ہے۔

29″ اگر وہ خاص قسم کا عطیہ کسی شخص کا ہے  تو اسے  وا پس نہیں خریدا جا سکتا ہے۔ اسے  بالکل مار دیا جانا چاہئے۔

30″ تمام پیدا واروں کا دسواں حصّہ خداوند کا ہے  اِس میں درخت، فصلیں اور درختوں کے  پھل شامل ہیں۔ وہ دسواں حصّہ مقدس ہے  اور خداوند کا ہے۔

31 اگر کوئی شخص خداوند کا دسواں حصّہ وا پس خریدنا چاہتا ہے  تو اسے  اس کی قیمت کا پانچواں حصّہ ملانا چاہئے  اور تبھی وہ اسے  وا پس خرید سکتا ہے۔

32″ دس بھیڑ میں سے  ایک اور دوسرے  مویشی جو چروا ہے  کی لا ٹھی کے  نیچے  سے  گذر جاتا ہے  تو وہ ہر دسواں جانور خداوند کا ہے۔

33 مالک کو یہ فکر نہیں کرنی چاہئے  کہ وہ جانور اچھا ہے  یا بُرا۔ اسے  جانور کو دوسرے  جانور سے  نہیں بدلنا چاہئے۔ اگر وہ بدلنے  کا ہی طے کرتا ہے  تو دونوں جانور خداوند کے  ہوں گے۔ وہ جانور وا پس نہیں خریدے  جا سکتے۔”

34 یہ وہ احکام ہیں جو خداوند نے  سینائی کے  پہاڑ پر موسیٰ کو بنی اسرائیلیوں کے  لئے  دیئے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://gospelgo.com/a/urdu_bible.htm

پروف ریڈنگ: اویس قرنی، اعجاز عبید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید