FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

عہد نامہ قدیم

 

 

 

 

 

               کتاب  ۲۴۔یرمیاہ

 

 

               جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

 

 

 

 

کتاب  یرمیاہ

 

 

 

 

 

 

 

 

باب :  1

 

1 یہ باتیں  خلقیاہ کے  بیٹے  یرمیاہ کی ہیں۔ وہ ان کاہنوں  کے  خاندان سے  تھا جو عنتوت شہر میں  رہتے  تھے۔ یہ شہر اس علاقے  میں  تھا جہاں  بنیمین کے  خاندانی گروہ کے  لوگ رہتے  تھے۔

2 خداوند نے  یرمیاہ سے  ان دنوں  باتیں  کرنی شروع کیں  جب یوسیاہ یہوداہ ملک کا بادشاہ تھا۔ یوسیاہ امون نام کے  بادشاہ کا بیٹا تھا۔ خداوند نے  یرمیاہ سے  یوسیاہ کی دور حکومت کے  تیرہویں  سال میں  باتیں  کرنی شروع کیں۔

3 شاہ یہوداہ یہو یقیم بن یوسیاہ کی دور حکو مت میں  شاہ یہوداہ صدقیاہ بن یوسیاہ کی دور حکو مت کا جب گیارہواں  سال تھا اس وقت بھی اور یروشلم کے  لوگوں  کو اسیری میں  لے  جائے  جانے  تک جو پانچویں  مہینے  میں  تھا خداوند یرمیاہ سے  باتیں  کرنا جاری رکھا۔

4 خداوند کا پیغام یرمیاہ کو ملا خداوند کا پیغام یہ تھا:

5 تمہاری ماں  کے  رحم میں  تجھے  تخلیق کرنے  سے  قبل ہی میں  نے  تم کو جان لیا۔ تمہارے  جنم لینے  سے  قبل میں  نے  تمہیں  خاص کام کے  لئے  چُنا تھا۔ میں  نے  تمہیں  قوموں  کا نبی ہونے  کے  لئے  چُنا تھا۔”

6 تب میں  نے  یعنی یرمیاہ نے  کہا ” لیکن اے  خداوند قادر مطلق میں  تو بولنا بھی نہیں  جانتا۔ میں  تو ابھی بچّہ ہی ہوں۔”

7 لیکن خداوند نے  مجھ سے  کہا ” مت کہو ‘ میں  بچہ ہی ہوں۔’ تمہیں  ہر اس مقام پر جانا ہے  جہاں  میں  بھیجوں۔ تمہیں  وہ سب کہنا ہے  جسے  میں  کہنے  کو کہوں۔

8 کسی سے  مت ڈرو۔ میں  تمہارے  ساتھ ہوں  اور میں  تمہاری حفاظت کروں  گا۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

9 تب خداوند نے  اپنا ہاتھ بڑھا یا اور میرے  منھ کو چھو لیا۔ خداوند نے  مجھ سے  کہا ” اے  یرمیاہ! میں  نے  اپنا کلام تیرے  منھ میں  ڈال دیا۔

10 آج میں  تمہیں  قوموں  اور سلطنتوں  کی دیکھ بھال کرنے  کے  لئے   اکھاڑ پھینکنے  کے  لئے  اور تباہ کرنے  کے  لئے   نیست و نابود کرنے  کے  لئے   توڑنے  کے  لئے   بنانے  کے  لئے  اور لگانے  کے  لئے  نگراں  کار مقرر کرتا ہوں۔”

11 پھر خداوند نے  مجھ سے  کہا : ” اے  یرمیاہ! تو کیا دیکھتا ہے ؟ ” میں  نے  جواب دیا ” بادام کے  درخت کی ایک شاخ دیکھتا ہوں۔”

12 خداوند نے  مجھ سے  کہا ” تم نے  بہت ٹھیک دیکھا اور یہی دیکھنے  کے  لئے  میں  اپنے  پیغام پر غور کر رہا ہوں  کہ یہ سچ اترے۔ ”

13 پھر خداوند کا پیغام مجھے  ملا خداوند کا پیغام یہ تھا : ” اے  یرمیاہ! تم کیا دیکھتے  ہو؟ ” میں  نے  خداوند کو جواب دیا اور کہا ” میں  ابلتے  پانی کا ایک برتن دیکھ رہا ہوں۔ یہ برتن شمال کی جانب سے  ٹپک رہا ہے۔ ”

14 خداوند نے  مجھ سے  کہا ” شمال سے  کچھ بھیانک حادثہ آئے  گا۔ یہ سب ان لوگوں  کے  لئے  ہو گا جو اس ملک میں  رہتے  ہیں۔

15 کیوں  کہ خداوند فرماتا ہے  دیکھو! ” میں  شمال کی سلطنتوں  کے  تمام خاندانوں  کو بلاؤں  گا اور وہ آئیں  گے  اور ہر ایک اپنا تخت یروشلم کے  پھاٹکوں  کے  مدخل پر قائم کرے  گا۔ وہ اس کی دیواروں  پر اور یہوداہ کے  سبھی شہروں  پر حملہ کرے  گا۔ خداوند نے  یہ کہا۔

16 اور میں  اپنے  لوگوں  کے  خلاف اپنے  فیصلہ کا اعلان کروں  گا۔ میں  یہ اس لئے  کروں  گا کیوں  کہ وہ برے  لوگ ہیں  اور وہ میرے  خلاف ہو گئے  ہیں۔ میرے  لوگوں  نے  مجھے  چھوڑا انہوں  نے  غیر خداؤں  کی قربانی دی۔ انہوں  نے  اپنے  ہاتھوں  سے  بنائی ہوئی مورتیوں  کی عبادت کی۔

17 ” اے  یرمیاہ! جہاں  تک تمہاری بات ہے   اٹھو! تیار ہو جاؤ۔ جاؤ اور لوگوں  کو پیغام دو۔ وہ سب لوگوں  سے  کہو جو کہ میں  کہنے  والا ہوں۔ لوگوں  سے  مت ڈرو۔ اگر تم لوگوں  سے  ڈرے  تو میں  خود ان کے  سامنے  تمہیں  ڈراؤں  گا۔

18 میں  خود آج کے  دن تم کو ایک فصیلدار شہر لو ہے  کا ستون اور پیتل کی دیوار بنا دوں  گا۔ تم اور تمام ملک یہوداہ کے  بادشاہوں  اس کے  شریفوں  کاہنوں  اور لوگوں  کے  خلاف ہو جاؤ گے۔

19 وہ سب لوگ تمہارے  خلاف لڑیں  گے   لیکن وہ تمہیں  شکست نہیں  دیں  گے۔ کیوں ؟ کیوں  کہ میں  تمہارے  ساتھ ہوں  اور میں  تمہاری حفاظت کروں  گا۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

 

 

 

باب :  2

 

 

1 خداوند نے  مجھ سے  کہا : ۲

2 ” جاؤ اور یروشلم کے  لوگوں  کو پیغام دو اور ان سے  کہو ‘ خداوند یہ کہتا ہے  : ” جس وقت تم نو جوان قوم تھے  تم میرے  فرماں  بردار تھے۔ تم نے  میری پیر وی نئی دلہن کی جیسی کی۔ تم نے  بیابان میں  میری پیر وی کی اور اس سرزمین میں  میری پیر وی کی جسے  کبھی بھی زراعت کے  لئے  استعمال نہیں  کی گئی تھی۔

3 بنی اسرائیل خداوند کے  مقدس تھے۔ وہ خداوند کی معرفت اتارے  گئے  پہلے  پھل تھے۔ اسرائیل کو چوٹ پہنچانے  کی کو شش کرنے  والے  ہر ایک آدمی  قصور وار تصور کئے  گئے  تھے۔ ان برے  لوگوں  پر بری مصیبتیں  آئی تھیں۔” یہ پیغام خداوند کا تھا۔

4 اے  اہل یعقوب خداوند کا پیغام سنو! اے  اہل اسرائیل تم بھی پیغام سنو!

5 جو خداوند فرماتا ہے  وہ یہ ہے  : ” تمہارے  باپ دادا نے  کیا غلطی مجھ میں  پائی؟ وہ کیوں  مجھ سے  دور ہو گئے  اور بے  مول بتوں  کی پرستش کی اور اپنے  آپ  کو بے  مول بنا یا؟

6 تمہارے  باپ دادا نے  یہ نہیں  کہا ‘ خداوند نے  ہمیں  مصر سے  نکالا۔ اور بیابان اور بنجر اور گڑھوں  کی زمین میں  سے  خشکی اور موت کے  سایہ کی سر زمین میں  سے  جہاں  سے  نہ کوئی گزرتا اور نہ کوئی بود باش کرتا تھا ہم کولے  آیا۔”

7 خداوند فرماتا ہے   ” میں  تمہیں  بہت سی اچھی چیزوں  سے  بھرے  بہتر ملک میں  لا یا۔ میں  نے  یہ کیا جس سے  تم وہاں  اگے  ہوئے  پھل اور پیدا وار کو کھا سکو۔ لیکن تم آئے  اور میرے  ملک کو تم نے  ‘گندہ ‘ کیا۔ میں  نے  وہ ملک تمہیں  دیا تھا لیکن تم نے  اسے  برا مقام بنا یا۔

8 ” کاہنوں  نے  نہیں  پو چھا ‘ خداوند کہاں  ہے ؟ ‘ میری شریعت کو جاننے  والے  لوگوں  نے  مجھ کو جاننا نہیں  چاہا۔ اور چرواہوں  نے  مجھ سے  بغاوت کی اور نبیوں  نے  بعل کے  نام سے  نبوّت کی اور بتوں  کی پیروی کی جن سے  کچھ فائدہ نہیں۔”

9 خداوند فرماتا ہے   ” اس لئے  میں  اب تمہیں  پھر قصور وار قرار دوں  گا اور تمہارے  بیٹوں  کے  بیٹیوں  کو بھی قصور وار ٹھہراؤں  گا۔

10 سمندر پار کتیم کے  جزیروں  کو جاؤ اور دیکھو کسی کو قیدار بھیجو اور اسے  توجہ سے  دیکھنے  دو۔ غور سے  دیکھو کیا کبھی کسی نے  ایسا کام کیا۔

11 کیا کسی قوم کے  لوگوں  نے  کبھی اپنے  پرانے  خداؤں  کو نئے  خداؤں  سے  بد لا ہے ؟ نہیں ! اصل میں  ان کے  خدا کی حقیقت میں  خدا ہے  ہی نہیں۔ لیکن میرے  لوگوں  نے  اپنے  پر شوکت خدا کو باطل مورتیوں  سے  بدلا ہے۔

12 خداوند فرماتا ہے   ” اے  آسمانو! اس سے  حیران ہو۔ شدّت سے  تھر تھراؤ اور بالکل ویران ہو جاؤ۔”

13 ” میرے  لوگوں  نے  دو برائیاں  کیں۔ انہوں  نے  مجھ بہتے  ہوئے  پانی کے  چشمہ کو ترک کیا۔ اور اپنے  لئے  حوض بنوایا۔ وہ سب حوض دراڑوں  سے  بھرا ہوا ہے  اس میں  پانی نہیں  ٹھہر سکتا ہے۔

14 ” کیا بنی اسرائیل غلام ہو گئے  ہیں ؟ کیا وہ غلام پیدا ہوئے  تھے ؟ بنی اسرائیلیوں  کی دولت دوسرے  لوگوں  کے  پاس چلی گئی؟

15 جوان شیر اسرائیل پر غرایا تھا۔ اس نے  اس کی زمین کو بنجر بنا دیا تھا۔ اسرائیل کے  تمام شہر جلا دیئے  گئے  تھے۔ وہاں  بسنے  والا کوئی نہ تھا۔

16 بنی نوف ( ممفس ) اور بنی تحف نحیسنے  تمہاری کھو پڑی پھوڑی۔

17 یہ پریشانی تمہارے  اپنے  قصور کے  سبب ہے۔ تم نے  خداوند اپنے  خدا سے  منہ موڑ لیا جب کہ وہ تمہیں  صحیح راہ میں  لے  جا رہا تھا۔

18 یہوداہ کے  لوگو! اس کے  با رے  میں  سو چو : کیا اس نے  مصر جانے  میں  مدد کی؟ کیا اس نے  دریائے  نیل کا پانی پینے  میں  مدد کی؟ نہیں ! کیا اس نے  اسور جانے  میں  مدد کی؟ کیا اس نے  دریائے  فرات کا پانی پینے  میں  مدد کی؟ نہیں !

19 لیکن تم نے  برے  کام کئے   اور وہ بری چیزیں  تمہیں  صرف سزا دلائے  گی۔ مصیبتیں  تم پر ٹوٹ پڑے  گی اور یہ مصیبتیں  تمہیں  سبق سکھائے  گی۔ اس بارے  میں  سو چو تب تم سمجھ جاؤ گے  کہ خداوند سے  منہ موڑ لینا کتنا برا ہے۔ مجھ سے  نہ ڈرنا برا ہے  میں  تمہارا خداوند ہوں ! ” یہ پیغام میرے  مالک خداوند قادر مطلق کا تھا۔

20 ” اے  یہوداہ تم نے  اپنا جوا بہت پہلے  پھینک دیا تھا۔ تم نے  وہ رسیاں  توڑ پھینکیں  جسے  میں  تمہیں  اپنے  قابو میں  رکھنے  کے  لئے  کام میں  لاتا تھا۔ تم نے  مجھ سے  کہا ‘ میں  آپ  کی خدمت نہیں  کروں  گا! ‘ تم نے  ایک فاحشہ کی طرح ہر ایک ٹیلہ پر اور ہر ایک درخت کے  نیچے  حرام کاری کیا۔

21 اے  یہوداہ! میں  نے  تمہیں  خاص تاک ( انگور کا پودا ) کی طرح لگا یا۔تم نے  سبھی اچھے  بیج کے  مانند تھے  پھر تم کیوں  کہ میرے  لئے  بے  حقیقت جنگلی انگور کا درخت ہو گئے ؟

22 ہر چند کہ تم اپنے  کو سجی سے  دھوؤ اور بہت سا صابن استعمال کرو لیکن پھر بھی میں  تیرے  گناہ کے  داغ کو دیکھ سکتا ہوں۔” یہ خداوند خدا کا پیغام ہے۔

23 ” اے  یہوداہ! تم مجھ سے  کیسے  کہہ سکتے  ہو ‘میں  قصوروار نہیں  ہو ں۔ میں  نے  بعل کے  بتوں  کی پیروی نہیں  کی۔’ ان کاموں  کے  بارے  میں  سوچو جنہیں  تم نے  وا دی میں  کئے۔ اس بارے  میں  سوچو تم نے  کیا کر ڈالا ہے۔ تم اس تیز اونٹنی کی مانند ہو جو ایک مقام سے  دوسرے  مقام کو دوڑ تی ہے۔

24 تم اس جنگلی گدھے  کی طرح ہو جو مستی کے  جوش میں  شہوت کی تلاش میں  ہوا کو سونگھتی پھر تی ہے۔ اس کی مستی کی حالت میں  اسے  کون روک سکتا ہے ؟ ہر ایک نر جو اس کی تلاش کرتا ہے  وہ نہیں  تھکے  گا کیونکہ اس کی شہوت کے  ایام میں  وہ اسے  پا لیں  گے۔

25 اے  یہوداہ! مورتیوں  کے  پیچھے  دوڑنا بند کرو۔ان دوسرے  خداؤں  کے  لئے  پیاس کو بجھ جانے  دو۔لیکن تم کہتے  ہو ‘ یہ بیکار ہے ! میں  چھوڑ نہیں  سکتا! میں  ان دوسرے  خداؤں  سے  محبت کرتا ہو ں۔ میں  ان کی عبادت کر نا چاہتا ہوں۔’

26 چور شرمندہ ہوتا ہے  جب اسے  لوگ پکڑ لیتے  ہیں۔اسی طرح اسرائیل کا گھرانا شرمندہ ہے۔ بادشاہ اور امراء کاہن اور نبی شرمندہ ہیں۔

27 وہ لوگ لکڑی کے  ٹکڑوں  سے  باتیں  کرتے  ہیں۔ وہ کہتے  ہیں  ‘ تم میرے  باپ ہو۔ وہ لوگ چٹان سے  کہتے  ہیں  ‘ تم نے  مجھے  جنم دیا ہے۔ ‘ وہ لوگ میری جانب دھیان نہیں  دیتے۔ انہوں  نے  مجھ سے  پیٹھ پھیر لیا ہے۔ لیکن جب یہوداہ کے  لوگوں  پر مصیبت آتی ہے۔ تب وہ مجھ سے  کہتے  ہیں  آ! اور ہمیں  بچا۔’

28 لیکن تمہارے  بت کہاں  ہیں۔ جن کو تم نے  اپنے  لئے  بنایا؟ اگر وہ تمہاری مصیبت کے  وقت تمہیں  بچا سکتے  ہیں  تو وہ بچائیں۔ کیوں  کہ اے  یہوداہ! جتنے  تمہارے  شہر ہیں  اتنے  ہی تمہارے  خداوند ہیں۔

29 ” تم مجھ سے  حجت کیوں  کرتے  ہو؟ تم سبھی میرے  خلاف کیوں  بغاوت کرتے  ہو۔” یہ پیغام خداوند کی طرف سے  تھا۔

30 ” یہوداہ کے  لوگو! میں  نے  تمہارے  لوگوں  کو سزا دی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں  نکلا۔تم اب تک لوٹ کر نہیں  آئے  جب سے  سزا دی گئی۔تم نے  ان نبیوں  کو تلوار سے  ہلاک کیا جب وہ تمہارے  پاس آئے۔ تم خونخوار شیر ببر کی طرح تھے  اور تم نے  نبیوں  کو مار ڈالا۔”

31 اے  اس پشت کے  لوگو! خداوند کے  کلام کا لحاظ کرو! ” کیا میں  بنی اسرائیلیوں  کے  لئے  بیابان سا بن گیا؟ یا تاریکی کی زمین ہوا؟ میرے  لوگ کیوں  کہتے  ہیں  ‘ہم آزاد ہو گئے۔ پھر تیرے  پاس نہ آئیں  گے۔ ‘

32 کیا کنواری اپنے  زیور یا دلہن اپنی شادی کا عبا بھول سکتی ہے ؟ نہیں ! لیکن میرے  لوگ مجھے  انگنت دنوں  کے  لئے  بھول گئے  ہیں۔

33 تم نے  پیار کو پانے  کا کتنا اچھا طریقہ سیکھا ہے۔ یقیناً تو نے  سہیلی کو بھی اپنی را ہیں  سکھائی ہیں۔

34 تمہارے  ہاتھ خون سے  رنگے  ہیں۔ یہ غریب اور معصوم لوگوں  کا خون ہے۔ ان میں  سے  کوئی بھی چوری میں  پکڑے  نہیں  گئے  تھے۔

35 لیکن تم پھر بھی کہتے  رہتے  ہو ‘ ہم بے  قصور ہیں۔ خدا مجھ پر غضبناک نہیں  ہے۔ ‘اس لئے  میں  تمہیں  جھوٹ بولنے  وا لا مجرم ہونے  کا بھی فیصلہ دوں  گا۔کیوں ؟ کیوں  کہ تم کہتے  ہو ‘میں  نے  کچھ بھی برا نہیں  کیا ہے۔ ‘

36 تم اپنا راستہ بڑی آسانی سے  بدلتے  ہو۔اسورنے  تمہیں  مایوس کیا اس لئے  تم نے  اسور کو چھوڑا اور مدد کے  لئے  مصر پہنچے۔ مصر بھی تمہیں  مایوس کرے  گا۔

37 ایسا ہو گا کہ تم اپنے  سر پر ہاتھ رکھ کر مصر بھی چھوڑو گے۔ جن ملکوں  پر تم نے  بھروسہ کیا تھا ان کو خداوند نے  قبول نہیں  کیا۔اس لئے  وہ تمہیں  جینے   میں  مدد نہیں  کر سکتے۔

 

 

 

باب :  3

 

 

1 ” اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے  اور وہ بیوی اسے  چھوڑ دیتی ہے  اور دوسرے  شخص سے  شادی کر لیتی ہے  تو کیا وہ شخص اپنی بیوی کے  پاس پھر آ سکتا ہے   نہیں ! اگر وہ شخص اس عورت کے  پاس لوٹے  گا تو پو را ملک ” ناپاک ” ہو جائے  گا۔اے  یہوداہ! تم نے  بہت سے  یاروں  کے  ساتھ ( جھوٹے  خداؤں  کے  ساتھ ) بدکاری کی ہے۔ کیا تم اب بھی میری طرف واپس آنے  پر غور کرتے  ہو؟ ” یہ پیغام خداوند کا تھا۔

2 ” اے  یہوداہ! خالی پہاڑی کی چوٹی کو دیکھ۔ کیا کوئی ایسی جگہ ہے  جہاں  تمہارے  اپنے  یاروں  ( جھوٹے  خداؤں  کے  ساتھ ) کے  ساتھ تم نے  بدکاری نہیں  کی؟ تم راہ میں  ان کے  لئے  اس طرح بیٹھی ہو جس طرح بیابان میں  عرب۔ تم نے  بدکاری اور شرارت سے  زمین کو ‘ناپاک ‘ کیا۔

3 تم نے  گناہ کئے   اس لئے  بارش نہیں  آئی۔یہاں  تک کہ مو سم بہار کے  آخری بارش کا بھی نام و نشان نہیں  ہے۔ لیکن تم ابھی بھی شرمندہ ہونے  سے  انکار کر تی ہو۔تمہاری پیشانی فاحشہ کی ہے۔ تم اپنے  کئے  پر شرمندہ ہونے  سے  بھی انکار کر تی ہو۔

4 لیکن اب تم مجھے  بلاتی ہو۔’ میرا با پ! ‘ ‘ تو میرے  بچپن سے  میرا عزیز دوست رہا ہے۔ ‘

5 تم نے  یہ بھی کہا ‘ خدا مجھ پر ہمیشہ غصہ نہیں  کرے  گا۔خدا کا قہر ہمیشہ بنا نہیں  رہے  گا۔’ ” اے  یہوداہ! تم یہ سب کچھ کہتی ہو لیکن جہاں  تک تم سے  ہو سکا تم نے  برے  کام کئے۔ ”

6 اور یوسیاہ بادشاہ کی حکومت کے  ایام میں  خداوند نے  مجھ سے  فرمایا : ” کیا تم نے  وہ دیکھا جوبے  وفا اسرائیل نے  کیا ہے ؟ وہ ہر ایک اونچے  پہاڑ پر اور ہر ایک ہرے  درخت کے  نیچے  گئی اور وہاں  بتوں  سے  بدکاری کی۔

7 میں  نے  اپنے  سے  کہا ‘اسرائیل میرے  پاس سے  لوٹے  گی جب وہ ان برے  کاموں  کو کر چکے  گی۔’ لیکن وہ میرے  پاس لوٹی نہیں  اور اسرائیل کی بے  وفا بہن یہوداہ نے  دیکھا کہ اس نے  کیا کیا ہے ؟

8 پھر میں  نے  دیکھا کہ جب بے  وفا اسرائیل کی زناکاری کے  سبب سے  میں  نے  اس کو طلاق دے  دی اور اسے  طلاق نامہ لکھ دیا تو بھی اس کی بے  وفا بہن یہوداہ نہ ڈری بلکہ اس نے  بھی جا کر بدکاری کی۔

9 یہوداہ نے  اپنی بدکاری پر تھوڑا بھی خیال نہ کی۔اس لئے  اس نے  اپنے  ملک کو “گندہ ” کیا۔ اس نے  درختوں  اور چٹانوں  سے  زناکاری کی۔

10 ان تمام کے  بعد بھی اسرائیل کی بے  وفا بہن یہوداہ اپنے  پو رے  دل سے  میرے  پاس نہیں  لو ٹی۔اس نے  صرف بہانہ بنایا کہ وہ میرے  پاس لوٹی ہے۔ ” یہ پیغام خداوند کا تھا۔

11 خداوند نے  مجھ سے  کہا “اسرائیل میرا فرمانبردار نہیں  رہا لیکن اس کے  پاس بے  وفا یہوداہ کے  مقابل زیادہ قصور تھا۔

12 اے  یرمیاہ! شمال کی جانب منہ کرو اور ان کلاموں  کو کہو : ‘ اے  اسرائیل کے  بے  وفا لوگو! تم لو ٹ آؤ۔’ یہ پیغام خداوند کی طرف سے  تھا۔’میں  تم پر اب غصہ نہ ہوں  گا۔ میں  اب بھی تمہارے  ساتھ وفادار ہوں۔’ یہ پیغام خداوند کی طرف سے  تھا۔’ میں  ہمیشہ تم پر غصہ نہیں  کروں  گا۔

13 تمہیں  صرف اتنا کرنا ہو گا کہ تم اپنے  گنا ہوں  کو قبول کرو۔تم نے  خداوند اپنے  خدا کے  خلاف بغاوت کی یہ تمہارا گناہ ہے۔ تم نے  ہر ایک درخت کے  نیچے  غیر ملکی خداؤں  کو اپنے  آپ  کو سونپ دیا۔ تم نے  میری فرمانبرداری نہیں  کی۔” یہ پیغام خداوند کا تھا۔

14 خداوند فرماتا ہے۔ ” اے  بے  وفا بچو! واپس آؤ! ” کیوں  کہ “میں  خود تمہارا مالک ہوں۔ اور میں  تم کو ہر ایک شہر میں  سے  ایک اور ہر ایک گھرانے  میں  سے  دو لے  کر صیون میں  لاؤں  گا۔

15 تب میں  تمہیں  اپنے  خود کا چنا ہوا نیا چرواہوں  کو عطا کروں  گا۔ وہ تم کو عقلمندی اور دانائی سے  آگے  بڑھائیں  گے۔

16 ان دنوں  تم لوگ بڑی تعداد میں  ملک میں  ہو گے۔ ” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” تب وہ پھر نہ کہیں  گے  کہ خداوند کے  معاہدے  کا صندوق اس کا خیال بھی کبھی ان کے  دل میں  نہ آئے  گا۔ وہ ہر گز اسے  یاد نہ کریں  گے  اور اس کی زیارت کو نہ جائیں  گے  اور اس کی مرمت نہ ہو گی۔

17 اس وقت یروشلم شہر ‘خداوند کا تخت ‘ کہلائے  گا۔ سبھی قومیں  ایک ساتھ یروشلم میں  خداوند کے  نام کو اعزاز دینے  آئیں  گی اور پھر وہ اپنے  ضدی پن کے  ساتھ اپنی بری خواہشوں  کی پیروی نہ کریں  گی۔

18 ان دنوں  یہوداہ کا گھرانا اسرائیل کے  گھرانے  کے  ساتھ مل جائے  گا۔ وہ شمال میں  ایک ملک سے  ایک ساتھ آئیں  گے۔ وہ اس ملک میں  آئیں  گے  جسے  میں  نے  ان کے  باپ دادا کو دیا تھا۔

19 ” میں  خداوند نے  کہا تھا ‘میں  تم کو اپنے  فرزندوں  میں  شامل کر کے  خوشنما ملک جسے  قوم عمدہ و اعلیٰ ملک تصور کر تی ہے  دوں  گا۔’ تب تم مجھے  ‘ باپ ‘ پکارو گے  تم پھر کبھی باغی نہ ہو گے۔

20 لیکن تم اس عورت کی طرح ہوئے  جس نے  اپنے  شو ہر سے  بے  وفائی کی! ” اے  اسرائیل کے  گھرانے ! تم نے  مجھ سے  بے  وفائی کی۔ یہ پیغام خداوند کا تھا۔

21 تم سنسان پہاڑیوں  کی چوٹی پر رونا سن سکتے  ہو۔ بنی اسرائیل رحم کے  لئے  رو رہے  اور انکساری کر رہے  ہیں۔ وہ بہت برے  ہو گئے  تھے  وہ خدا اپنے  خداوند کو بھول گئے  تھے۔

22 خداوند نے  یہ بھی کہا ” اے  باغی لوگو! واپس آؤ۔ میں  تمہیں  تمہاری بغاوت سے  نجات دوں  گا۔” انہیں  کہنا چاہئے   “ہاں  ہم تیرے  پاس واپس آئیں  گے  کیوں  کہ تو خداوند ہمارا خدا ہے۔

23 ٹیلوں  پر مورتیوں  کی عبادت بے  مول تھی۔ پہاڑوں  کے  سبھی گرجنے  والے  ہجوم بے  فائدہ ثابت ہوئے۔ یقیناً خداوند ہمارے  خدا ہی میں  اسرائیل کی نجات ہے۔

24 ہمارے  باپ داداؤں  کی ہر ایک چیزوں  کو جو کہ ہم لوگوں  کے  بچپن کے  وقت سے  ان کی تھیں  :ان کے  مویشیوں  کے  جھنڈ بھیڑوں  کے  جھنڈ اور ان کے  بیٹے  بیٹیوں  کو ان شرم ناک چیزوں  نے  کھا لیا۔

25 ہم اپنی شرم میں  لیٹیں  اور رسوائی ہم کو چھپا لے۔ ہم نے  خداوند اپنے  خدا کے  خلاف گناہ کیا ہے۔ اپنے  بچپن سے  اب تک ہم لوگوں  نے  اور ہمارے  باپ دادا نے  گناہ کئے  ہیں۔ہم نے  خداوند اپنے  خدا کی فرمانبرداری نہیں  کی۔”

 

 

 

باب :  4

 

 

1 یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” اے  اسرائیل! اگر تم لوٹ آنا چا ہو تو میرے  پاس آؤ۔ اور اپنی مورتیوں  کو میری نظروں  سے  دور کرو تم تو آوارہ نہ ہو گے۔

2 اور اگر تم سچائی اور عدالت اور صداقت سے  زندہ خداوند کی قسم کھاؤ تو قو میں  اس کے  سبب سے  اپنے  آپ  کو مبارک کہیں  گی۔ اور اس پر فخر کریں  گی۔”

3 یہوداہ ملک کے  لوگوں  اور اسرائیل کے  لوگوں  سے  خداوند جو کہتا ہے  وہ یہ ہے  :” کھیتوں  میں  ہل چلاؤ لیکن کانٹوں  میں  بیج نہ بویا کرو۔

4 خداوند کے  لوگ بنو اپنے  دل کو بد لو یہوداہ اور یروشلم کے  باشندو اگر تم نہیں  بدلے  تو میں  بہت غضبناک ہوؤں  گا۔ میرا قہر آگ کی مانند پھیلے  گا۔ اور میرا غضب تمہیں  جلا دے  گا اور کوئی شخص اس آگ کو بجھا نہیں  پائے  گا۔ یہ کیوں  ہو گا؟ کیوں  کہ تم نے  برے  کام کئے  ہیں۔”

5 ” یہوداہ کے  لوگوں  میں  اس پیغام کا اظہار کرو اور یروشلم میں  رہ رہے  لوگوں  سے  کہو ‘سارے  ملک میں  بگل پھونکو۔بلند آواز سے  چلاؤ اور کہو ‘ ایک ساتھ آؤ اور اپنی حفاظت کے  لئے  قلعہ دار شہروں  میں  چلو۔’

6 تم صیون ہی میں  جھنڈا کھڑا کرو۔ اپنی زندگی کے  لئے  بھا گو دیر نہ کرو۔ یہ اس لئے  کرو کہ میں  شمال سے  تباہی اور بد نصیبی لا رہا ہو ں۔”

7 ” شیر ببر ” جھاڑیوں  سے  نکلا ہے  اور قوموں  کو ہلاک کرنے  وا لا نکل پڑا ہے۔ وہ تمہارے  ملک کو نیست و نابود کرنے  کے  لئے  اپنا گھر چھوڑ چکا ہے۔ تمہارے  شہر ویران ہوں  گے۔ ان میں  رہنے  وا لا کوئی شخص نہیں  بچے  گا۔

8 اس لئے  ٹاٹ اوڑھ کر چھاتی پیٹو اور ماتم کرو کیوں ؟ کیوں  کہ خداوند کا قہر ہم پر شدید ہے۔ ”

9 یہ پیغام خداوند کا ہے   “اس وقت یوں  ہو گا کہ بادشاہ اور امراء حوصلہ کھو بیٹھیں  گے   کاہن ڈریں  گے   نبیوں  کے  دل دہلیں  گے۔ ”

10 تب میں  نے  یعنی یرمیاہ نے  کہا ” اوہ میرے  مالک خداوند! تم نے  لوگوں  کو دھو کہ دیا اور تم نے  یروشلم سے  چالبازی کی۔ تو نے  ان سے  کہا ‘ تم سلامت رہو گے۔ ‘ حالانکہ تلوار ان کی گردن پر وار کرنے  ہی والا ہے۔ ”

11 اس وقت ایک پیغام یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  کو دیا جائے  گا : ” سنسان پہاڑیوں  کی چوٹی پر سے  گرم آندھی میرے  لوگوں  کی طرف چل رہی ہے۔ یہ ہوا اناج کو اُسانے  اور صاف کرنے  کے  لئے  نہیں  ہے۔

12 یہ اس سے  زیادہ زور دار ہوا ہے  جو میرے  لئے  بہہ رہی ہے۔ اب میں  یہوداہ کے  لوگوں  کے  خلاف اپنا فیصلہ سناؤں  گا۔”

13 دیکھو! دشمن گھٹا کی طرح اٹھ رہا ہے۔ اس کی رتھ گرد باد کی مانند ہیں۔ اس کے  گھوڑے  عقابوں  سے  تیز تر ہیں۔ یہ ہم سب کے  لئے  برا ہو گا ہم برباد ہو جائیں  گے۔

14 اے  یروشلم کے  لوگو! اپنے  دلوں  سے  برائی کو دھو ڈالو تاکہ تم بچ سکو اپنے  برے  منصوبوں  پر اڑنا بند کرو۔

15 دان کے  ایلچی کی آواز جو وہ بولتا ہے   توجہ سے  سنو۔ کوئی افرائیم کی پہاڑی سے  بری خبر لا رہا ہے۔

16 ” قوموں  کو خبر دو۔ دیکھو یروشلم کی بابت منادی کرو کہ محاصرہ کرنے  والے  دور کے  ملک سے  آتے  ہیں۔ اور یہوداہ کے  شہروں  کے  مقابل للکاریں  گے۔

17 دشمنوں  نے  یروشلم کو ایسے  گھیرا ہے  جیسے  کھیت کی حفاظت کرنے  والے  لوگ ہوں۔ اے  یہوداہ! تم میرے  خلاف گئے  اس لئے  تمہارے  خلاف دشمن آ رہے  ہیں۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

18 ” جس طرح تم رہے  اور تم نے  گناہ کیا اسی وجہ سے  تم پر یہ مصیبت آئی۔ یہ تمہارے  گناہ ہی ہیں  جس نے  زندگی کو اتنا مشکل بنا یا ہے۔ یہ تمہارا گناہ ہی ہے  جس نے  اس مصیبت کو لایا جو تمہارے  دل کو گہرا گھاؤ دیا۔”

19 آہ! میرا دکھ اور میری پریشانی میرے  پیٹ میں  درد کر رہی ہے۔ میرا دل دھڑک رہا ہے۔ ہائے ! میں  اتنا خوفزدہ ہوں  کہ میرا دل میرے  اندر تڑپ رہا ہے۔ میں  چپ نہیں  بیٹھ سکتا کیوں ؟ کیوں  کہ میں  نے  بگل کی آواز سنی ہے۔ بگل فوج کو جنگ کے  لئے  بلا رہا ہے۔

20 تباہی کے  پیچھے  تباہی آتی ہے۔ پورا ملک فنا ہو گیا ہے۔ اچانک میرے  خیمے  نیست و نابود کر دیئے  گئے  ہیں  میرے  پردے  پھاڑ دیئے  گئے  ہیں۔

21 اے  خداوند! میں  کب تک جنگ کا جھنڈا دیکھوں  گا؟ جنگ کی بگل کو کتنی بار سنوں  گا؟

22 خداوند نے  کہا ” میرے  لوگ احمق ہیں  وہ مجھے  نہیں  جانتے  وہ بے  وقوف بچے  ہیں۔ وہ سمجھتے  نہیں  وہ گناہ کرنے  میں  ماہر ہیں  لیکن وہ اچھا کرنا نہیں  جانتے۔ ”

23 میں  نے  زمین کو دیکھا۔ زمین خالی تھی اس پر کچھ بھی نہیں  تھا۔ میں  نے  آسمان کو دیکھا اور اس کی روشنی چلی گئی تھی۔

24 میں  نے  پہاڑوں  پر نظر ڈالی اور وہ کانپ رہے  تھے۔ سبھی پہاڑیاں  لڑ کھڑا رہی تھیں۔

25 میں  نے  چاروں  طرف دیکھا لیکن وہاں  کوئی بھی نہیں  تھا سارے  پرندے  اڑ چکے  تھے۔

26 پھر میں  نے  نظر کی اور کیا دیکھتا ہوں  کہ زر خیز زمین بیابان ہو گئی اور اس کے  سب شہر خداوند کی حضوری اور اس کے  قہر کی شدت سے  بر باد ہو گئے۔

27 خداوند فرماتا ہے  : ” سارا ملک غیر آباد ہو جائے  گا لیکن میں  اسے  پوری طرح بر باد نہیں  کروں  گا۔

28 اس لئے  سارے  ملک روئیں  گے  اور آسمان تاریک ہو جائے  گا۔ میں  نے  کہہ دیا ہے۔ میں  سختی کم نہیں  کروں  گا۔ میں  فیصلہ کر چکا ہوں  میں  اپنا ذہن نہیں  بدلوں  گا۔”

29 گھوڑ سواروں  اور تیر اندازوں  کے  شور سے  تمام شہری بھاگ جائیں  گے۔ وہ گھنے  جنگلوں  میں  جا گھسیں  گے  اور چٹانوں  پر چڑھ جائیں  گے۔ سب شہر ترک کئے  جائیں  گے  اور کوئی آدمی  ان میں  نہ رہے  گا۔

30 تب اے  غارت شدہ! تم کیا کرو گی؟ اگر چہ تم لال لباس کیوں  پہنے   قیمتی زیوروں  سے  آراستہ کیوں  ہوئے  تم اپنی آنکھوں  میں  سرمہ کیوں  لگائے ؟ تمہارا یہ سنگار بیکار ہے  کیوں  کہ تمہارے  عاشق تم کو رد کر دیں  گے۔ وہ تمہاری جان کے  طالب ہوں  گے۔

31 میں  ایک چیخ سنتا ہوں  جو اس عورت کی چیخ کی طرح ہے  جو بچہ پیدا کر رہی ہو۔ یہ چیخ اس عورت کی طرح ہے  جو پہلے  بچہ کو جنم دے  رہی ہو۔ یہ دخترِ صیّون کی چیخ کی طرح ہے۔ وہ اپنے  ہاتھوں  کو ہلا رہی ہے   کہہ رہی ہے   ” مدد کرو! میں  تھکی ماندی ہوں  اور میرے  قاتل میرے  چاروں  جانب ہیں۔”

 

 

 

باب :  5

 

 

1 خداوند فرماتا ہے   ” یروشلم کی سڑکوں  پر اوپر نیچے  جاؤ چاروں  جانب دیکھو اور دیکھو کہ وہاں  کون ہے۔ شہر کے  کوچوں  میں  ڈھونڈو پتا کرو کہ کیا تم کسی ایک اچھے  شخص کو پا سکتے  ہو ایسے  شخص کو جو ایمانداری سے  کام کرتا ہو ایسا جو سچائی کا طالب ہو۔ اگر تم ایک اچھے  شخص کو ڈھونڈ نکالو گے  تو میں  یروشلم کو معاف کر دوں  گا۔

2 اور اگر چہ وہ کہتے  ہیں  ‘ زندہ خدا کی قسم ‘ تو بھی یقیناً وہ جھوٹی قسم کھاتے  ہیں۔”

3 اے  خداوند! میں  جانتا ہوں  کہ تو لوگوں  میں  سچائی دیکھنا چاہتا ہے۔ تو نے  یہوداہ کے  لوگوں  کو چوٹ پہنچائی لیکن انہوں  نے  کسی مصیبت کا احساس نہیں  کیا۔ تو نے  انہیں  فنا کیا لیکن انہوں  نے  اپنا سبق سیکھنے  سے  انکار کر دیا وہ بہت ضدی ہو گئے  انہوں  نے  اپنے  گناہوں  کے  لئے  پچھتانے  سے  انکار کر دیا۔

4 تب میں  نے  خود سے  کہا ” یہ بے  چارے  غریب لوگ نا واقف ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں  جو خداوند کی راہ کو نہیں  سیکھ سکے۔ یہ لوگ اپنے  خدا کی تعلیمات کو نہیں  جانتے  ہیں۔

5 اس لئے  میں  امیر لوگوں  کے  پاس جاؤں  گا اور ان سے  باتیں  کروں  گا۔ کیوں  کہ وہ بزر گ خداوند کی ر اہ کو سمجھتے  ہیں۔ مجھے  یقین ہے  کہ وہ خدا کی شریعت کو جانتے  ہیں۔” لیکن وہ لوگ بھی خداوند کی خدمت کرنے  سے  انکار کر گئے۔ کل ملا کر وہ ان کی رکاوٹوں  کو توڑ دیئے۔

6 جنگل کا ایک شیر ببر ان پر حملہ کرے  گا۔ بیابان میں  ایک بھیڑ یا انہیں  مار ڈالے  گا۔ ایک تیندوا ان کے  شہروں  کے  پاس گھات لگائے  ہوئے  ہے۔ شہروں  کے  باہر جانے  والے  کسی کو بھی تیندوا پھاڑ ڈالے  گا۔ یہ ہو گا کیوں  کہ یہوداہ کے  لوگوں  نے  بار بار گناہ کئے  ہیں۔ وہ سب خداوند کے  خلاف ہو گئے۔

7 خدا کہتا ہے   ” اے  یہوداہ یہ کیسے  ممکن ہو سکتا ہے  کہ میں  تم کو معاف کر دوں ؟ تمہارے  فرزندوں  نے  مجھے  چھوڑ دیا ہے  اور ان بتوں  کے  نام پر وہ وعدہ کرتے  ہیں  جو کہ خدا نہیں  ہیں۔ میں  نے  تمہاری اولاد کو ہر ایک چیز عطا کی جس کی ضرورت انہیں  تھی لیکن پھر بھی وہ نافرمان رہے۔ انہوں  نے  طوا ئف خانوں  میں  اپنا زیادہ وقت گذارا۔

8 وہ ان شہوت کی خواہش رکھنے  والے  گھوڑوں  کی مانند ہیں  جو پیٹ بھرنے  کے  با وجود اپنے  پڑو سی کی بیوی پر ہنہناتے  ہیں۔

9 کیا مجھے  یہوداہ کے  لوگوں  کو یہ کام کرنے  کے  سبب سزا نہیں  دینی چاہئے ؟ ” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” ہاں ! تم جانتے  ہو کہ مجھے  اس طرح کی قوم کو سزا دینی چاہئے۔

10 ” انگور کے  بیلوں  کے  قطاروں  کے  درمیان سے  جاؤ اور انہیں  تباہ کر دو( لیکن انہیں  پوری طرح تباہ نہ کرو ) ان کی ساری شاخیں  چھانٹ دو۔کیوں  کہ یہ شاخیں  خداوند کی نہیں  ہیں۔

11 اسرائیل اور یہوداہ کے  گھرانے  ہر طرح سے  میرے  نافرمان رہے  ہیں۔” یہ پیغام خداوند کے  یہاں  سے  ہے۔

12 “ان لوگوں  کے  خداوند کے  بارے  میں  جھوٹ کہا ہے۔ انہوں  نے  کہا ہے   ‘خداوند ہمارا کچھ نہیں  کرے  گا۔ ہم لوگوں  کا کچھ بھی بُرا نہ ہو گا۔ ہم کسی فوج کا حملہ اپنے  اوپر نہیں  دیکھیں  گے۔ ہم کبھی بھو کے  نہیں  مریں  گے۔ ‘

13 ” جھوٹے  نبی محض ہوا ہے۔ خدا کا کلام ان میں  نہیں  اترا ہے۔ مصیبتیں  ان پر آئیں  گی۔”

14 خداوند قادر مطلق نے  یہ سب کہا : “ان لوگوں  نے  کہا کہ میں  انہیں  سزا نہیں  دوں  گا۔اس لئے  اے  یرمیاہ! جو کلام میں  تجھے  دے  رہا ہوں  وہ آگ جیسا ہو گا اور وہ لوگ لکڑی جیسے  ہوں  گے۔ آ گ ساری لکڑی کو جلا ڈالے  گی۔”

15 اے  اسرائیل کے  گھرانے ! یہ کلام خداوند کا ہے   “تم پر حملہ کے  لئے  میں  ایک بہت دور کی قوم کو جلدی ہی لاؤں  گا۔ یہ ایک قدیم قوم ہے۔ یہ ایک زبردست قوم ہے۔ اس قوم کے  لوگ وہ زبان بولتے  ہیں  جسے  تم نہیں  سمجھتے۔ تم یہ نہیں  جان سکو گے  کہ وہ کیا کہتے  ہیں۔

16 ان کا ترکش کھلی قبر ہے   وہ سب بہادر مرد ہیں۔

17 اور وہ تمہاری فصل کا اناج اور تمہارے  روزانہ کی روٹی کو کھا جائیں  گے۔ وہ تمہارے  بیٹوں  اور بیٹیوں  کو کھا جائیں  گے۔ تمہارے  گائے  بیل اور تمہاری بھیڑ بکریوں  کو چٹ کر جائیں  گے۔ تمہارے  انگور اور انجیر نگل جائیں  گے۔ تمہارے  مضبوط قلعہ دار شہروں  کو جن پر تمہارا بھروسہ ہے  تلوار سے  تباہ کر دیں  گے ! ”

18 یہ پیغام خداوند کا ہے   ” لیکن جب وہ بھیانک دن آتے  ہیں  ‘ اے  یہودا ہ! میں  تجھے  پوری طرح بر باد نہیں  کروں  گا۔

19 خداوند کے  لوگ تم سے  پو چھیں  گے   ‘ اے  یرمیاہ! خداوند ہمارے  خدا نے  ہمارا ایسا برا کیوں  کیا؟ انہیں  یہ جواب دو : یہوداہ کے  لوگو! تم نے  خداوند کو چھوڑ دیا ہے۔ اور تم نے  اپنے  ہی ملک میں  غیر ملکی مورتیوں  کی عبادت کی ہے۔ تم نے  وہ کام کئے   اس لئے  تم اب اس ملک میں  جو تمہارا نہیں  ہے   غیر ملکیوں  کی خدمت کرو گے۔ ”

20 خداوند فرماتا ہے  یعقوب کے  گھرانے  میں  اس بات کا اشتہار دو اور یہوداہ میں  اس کا منادی کرو اور کہو۔

21 اس پیغام کو سنو ‘تم بے  وقوف لوگو تمہیں  سمجھ نہیں  ہے۔ تم لوگوں  کی آنکھیں  ہیں  لیکن تم دیکھتے  نہیں۔تم لوگوں  کے  کان ہیں  لیکن تم سنتے  نہیں۔

22 خداوند فرماتا ہے   “کیا تم مجھ سے  نہیں  ڈرتے ؟ ” ” کیا تم میری موجودگی میں  تھر تھراؤ گے  نہیں  جس نے  سمندری ساحل کو اور سمندر کی حد کو قائم کیا تاکہ وہ اپنے  کنارے  سے  آگے  نہیں  بڑھ سکے۔ حالانکہ لہریں  اٹھتی ہیں  شور مچاتی ہیں۔ لیکن وہ اس حد کو پار نہیں  کر سکتی ہیں۔

23 لیکن خداوند کے  لوگ ضدّی ہیں۔ وہ ہمیشہ میرے  خلاف جانے  کا منصوبہ بناتے  ہیں۔ وہ مجھ سے  مڑے  ہیں  اور مجھ سے  دور چلے  گئے  ہیں۔

24 یہوداہ کے  لوگ کبھی اپنے  سے  نہیں  کہتے   ‘ہمیں  خداوند اپنے  خدا سے  ڈرنا اور اس کا احترام کرنا چاہئے  جو پہلی اور پچھلی برسات وقت پر بھیجتا ہے  اور فصل کے  مقررہ ہفتوں  کو ہمارے  لئے  موجود کر رکھتا ہے۔ ‘

25 تمہارے  برے  کارناموں  نے  بارش کو تم سے  دور کر دیا ہے۔ تمہارے  گنا ہوں  نے  تمہیں  اچھی چیزوں  کو حاصل کرنے  سے  روک دیا ہے۔

26 میرے  لوگوں  کے  بیچ شریر پائے  جاتے  ہیں۔ وہ پرندوں  کے  پھانسنے  لئے  جال بنانے  وا لوں  کی مانند ہیں۔ وہ لوگ اپنا جال بچھاتے  ہیں  لیکن وہ پرندوں  کے  بدلے  انسانوں  کو پھانستے  ہیں۔

27 ان لوگوں  کے  گھر جھو ٹ سے  ویسے  بھرے  رہتے  ہیں  جیسے  چڑیوں  سے  بھرے  پنجرے  ہوں۔ ان کے  جھوٹ نے  انہیں  دولتمند اور طاقتور بنایا ہے۔

28 جن گنا ہوں  کو انہوں  نے  کیا ہے   ان ہی سے  وہ بڑے  اور موٹے  ہوئے  ہیں  جن برے  کاموں  کو وہ کرتے  ہیں  ان کا کوئی خاتمہ نہیں۔ وہ یتیم بچوں  کے  معاملہ کی تائید میں  بحث نہیں  کریں  گے۔ وہ یتیموں  کی مدد نہیں  کریں  گے۔ اور محتاجوں  کا انصاف نہیں  کر تے۔

29 کیا مجھے  ان کاموں  کے  کرنے  کے  سبب یہوداہ کو سزا دینی چاہئے ؟ ” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” تم جانتے  ہو کہ مجھے  ایسی قوم کو سزا دینی چاہئے۔ ”

30 خداوند فرماتا ہے   “یہوداہ ملک میں  ایک بھیانک اور دل دہلانے  وا لی بات ہو رہی ہے۔

31 نبی جھوٹی نبوت کرتے  ہیں  کاہن اپنے  ہاتھ میں  قوت لئے  ہیں۔میرے  لوگ اسی طرح خوش ہیں۔ لیکن لوگو! تم کیا کرو گے  جب سزا دی جائے  گی۔”

 

 

 

باب :  6

 

 

1 اے  بنیمین کے  لوگو یروشلم سے  دور پناہ کھو جو اور تقوع میں  جنگ کا بِگل پھونکو بیت ہکرم میں  علم بلند کرو کیوں  کہ شمال کی طرف سے  بَلا اور بڑی تباہی آنے  وا لی ہے۔

2 میں  دختر صیون کو تباہ کروں  گا جو کہ بہت خوبصورت اور نازک مزاج ہے۔

3 چرواہے  اپنے  گلوں  کولے  کر اس کے  پاس آئیں  گے  اور اس کے  آس پاس اس کے  مقابل خیمے  بنائیں  گے۔ ہر ایک چروا ہا اپنے  گلہ کی حفاظت کرتا ہے۔

4 یروشلم کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  تیار ہو جاؤ ہم لوگ دو پہر کو شہر پر حملہ کریں  گے۔ لیکن پہلے  ہی دیر ہو چکی ہے۔ شام کا سایہ بڑھتا جاتا ہے۔

5 اس لئے  اٹھو! ہم شہر پر رات میں  حملہ کریں  گے۔ ہم یروشلم کی دیواروں  کو فنا کریں  گے۔ ”

6 خداوند قادر مطلق جو کہتا وہ یہی ہے  : “یروشلم کی چاروں  جانب کے  پیڑوں  کو کاٹ ڈالو اور یروشلم کے  مقابل دمدمہ باندھو اس شہر کو سزا ملنی چاہئے۔ اس شہر میں  ظلم ہی ظلم ہے۔

7 جیسے  کنواں  اپنا پانی تازہ رکھتا ہے   اسی طرح یروشلم اپنی شرارت نیا بنائے  رکھتا ہے  اس شہر میں  ظلم و ستم کی صدا سنی جا تی ہے۔ میں  ہمیشہ یروشلم کی بیماری اور چوٹوں  کو دیکھ سکتا ہو۔

8 اے  یروشلم! اس انتباہ کو سنو! اگر تم نہیں  سنو گے  تو میں  اپنی پیٹھ تمہاری جانب کر لوں  گا میں  تمہارے  ملک کو بیابان کر دوں  گا۔ کوئی بھی شخص وہاں  نہیں  رہ پائے  گا۔

9 خداوند قادر مطلق جو کہتا ہے  وہ یہ ہے  : “دشمن بنی اسرائیلیوں  کو یکجا کرے  گا جو زندہ بچے  ہوئے  ہیں۔انہیں  اس طرح اکٹھے  کیا جائے  گا۔جیسے  تم انگور کی بیل سے  آخری انگور اکٹھے  کرتے  ہو۔”

10 میں  کس سے  بات کروں ؟ میں  کیسے  انتباہ کر سکتا ہوں ؟ میری کون سنے  گا؟ بنی اسرائیلیوں  نے  اپنے  کانوں  کو بند کر لیا ہے۔ اس لئے  وہ میری تنبیہ نہیں  سن سکتے۔ لوگ خداوند کی تعلیم پسند نہیں  کر تے۔ وہ خداوند کا پیغام سننا نہیں  چاہتے۔

11 لیکن میں  ( یرمیاہ ) خداوند کے  قہر سے  لبریز ہو ں۔ میں  اسے  روکتے  روکتے  تھک گیا ہوں۔ ” سڑک پر کھیلتے  ہوئے  بچوں  پر خداوند کا قہر انڈیلو۔ ایک ساتھ جوانوں  کی جماعت پر اسے  انڈیلو۔ شو ہر اور اس کی بیوی دونوں  پکڑے  جائیں  گے۔ بوڑھے  اور بہت بوڑھے  لوگ پکڑے  جائیں  گے۔

12 ان کے  گھر دوسرے  لوگوں  کو دے  دیئے  جائیں  گے۔ ان کے  کھیت اور ان کی بیویاں  دوسروں  کو  دے دی جائیں  گی۔ میں  اپنا ہاتھ اٹھاؤں  گا اور یہوداہ ملک کے  لوگوں  کو سزا دوں  گا۔” یہ پیغام خداوند کا تھا۔

13 “اسرائیل کے  سبھی لوگ دولت اور مزید دولت چاہتے  ہیں۔ چھوٹے  سے  لے  کر بڑے  تک سبھی لالچی ہیں۔ یہاں  تک کہ کاہن اور نبی جھوٹ پر جیتے  ہیں۔

14 میرے  لوگ بہت بری طرح چوٹ کھائے  ہوئے  ہیں۔ نبی اور کاہن میرے  لوگوں  کے  زخم بھرنے  کی کوشش ایسے  کرتے  ہیں  جیسے  وہ چھوٹے  سے  زخم ہوں۔ وہ کہتے  ہیں۔ ‘ یہ سب ٹھیک ہے۔ یہ بالکل ٹھیک ہے۔ ‘ حالانکہ یہ ٹھیک نہیں  ہوا ہے۔

15 نبیوں  اور کاہنوں  کو اس پر شرمندہ ہو نا چاہئے  جو وہ بُرا کرتا ہے۔ بلکہ وہ شرمائے  تک نہیں۔ وہ تو اپنے  گنا ہوں  پر فکر کرنا تک بھی نہیں  جانتے۔ اس لئے  وہ دوسروں  کے  ساتھ سزا پائیں  گے   اب میں  سزا دوں  گا وہ زمین پر پھینک دیئے  جائیں  گے۔ ” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

16 خداوند یوں  فرماتا ہے  : ” چوراہوں  پر کھڑے  رہو اور دیکھو۔ معلوم کرو کہ پُرانی سڑک کون سی ہے ؟ اس اچھی سڑک پر جاؤ۔ اگر تم ایسا کرو گے  تو تمہیں  آرام ملے  گا۔لیکن تم لوگوں  نے  کہا ہے   ‘ ہم اچھی سڑک پر نہیں  جائیں  گے۔ ‘

17 میں  نے  تم پر نگہبان بھی مقرر کئے  اور کہا بِگل کی آواز سنو پر انہوں  نے  کہا ‘ ہم نہ سنیں  گے۔ ‘

18 اس لئے  تم سبھی قوموں  ان ملکوں  کے  تم سبھی لوگو سنو توجہ دو! وہ سب سنو جو میں  یہوداہ کے  لوگوں  کے  ساتھ کروں  گا۔

19 اے  زمین کے  لوگوسنو! میں  یہوداہ کے  لوگوں  پر مصیبت ڈھانے  جا رہا ہوں۔کیوں ؟ کیوں  کہ ان لوگوں  نے  سبھی برے  کاموں  کے  منصوبے  بنائے۔ یہ ہو گا کیوں  کہ انہوں  نے  میرے  کلام کی طرف توجہ نہیں  دی ہے۔ انہوں  نے  میری شریعت کو قبول کرنے  سے  انکار کیا ہے۔ ”

20 خداوند فرماتا ہے   “تم سبا سے  مجھے  بخور کیوں  لا کر دیتے  ہو؟ تم دور ملکوں  سے  خوشبو کیوں  لاتے  ہو؟ تمہاری جلانے  کی قربانیاں  مجھے  خوش نہیں  کریں  گی۔ تمہاری قربا نیاں  مجھے  شادماں  نہیں  کریں  گی۔”

21 اس لئے  خداوند یوں  فرماتا ہے   ” دیکھو میں  رکاوٹ پیدا کرنے  وا لی چیزیں  ان لوگوں  کی را ہوں  میں  رکھ دوں  گا کہ باپ بیٹے  با ہم ان سے  ٹھو کر کھائیں  گے۔ پڑوسی اور دوست ایک ساتھ تباہ ہو جائیں  گے۔ ”

22 خداوند جو کہتا ہے  : “شمال کے  ملک سے  ایک فوج آ رہی ہے   زمین کے  دور مقاموں  سے  ایک طاقتور قوم آ رہی ہے۔

23 وہ تیر اندازی اور نیزہ با زی میں  ماہر ہیں۔ وہ ظالم اور بے  رحم ہیں  ان کے  چلانے  کی صدا سمندر کی شور سی ہے۔ اور وہ گھوڑوں  پر سوار ہیں۔ اے  دخترِ صیون! وہ فو جوں  کی مانند تیرے  مقابل صف آرائی کرتے  ہیں۔ ”

24 ہم نے  اس فو ج کے  بارے  میں  خبر پائی ہے۔ ہم خوف سے  بے  بس ہیں۔ ہم خود کو مصیبتوں  کے  جال میں  تصور کرتے  ہیں۔ ہم ویسے  ہی مشکل میں  ہیں  جیسے  کوئی درد زہ میں  گرفتار ہو۔

25 کھیتوں  میں  مت جاؤ سڑک پر مت نکلو۔کیوں ؟ کیوں  کہ دشمن کے  ہاتھوں  میں  تلوا رہے   کیونکہ خطرہ چاروں  جانب ہے۔

26 اے  میرے  لوگو ٹاٹ پہن لو اور راکھ میں  لیٹ جاؤ۔ اور ایسے  ماتم کروجیسے  تمہارا اکلوتا بیٹا مر گیا ہو۔ ایسے  گریہ و زاری کرو جیسے  تباہ کرنے  وا لوں  نے  اچانک حملہ کر دیا ہے۔

27 ” اے  یرمیاہ! میں  نے  ( خداوند نے  ) تمہیں  اپنے  لوگوں  کے  خلاف فصیل دار برج کی طرح مقرر کیا تھا تا کہ تم ان کی نقل و حرکت کو جا نو اور پر کھو۔

28 میرے  لوگ میرے  خلاف ہو گئے  ہیں  اور وہ بہت ضدی ہیں۔ وہ لوگوں  کے  با رے  میں  بری باتیں  کہتے  پھرتے  ہیں۔ وہ تو تانبا اور لو ہا کی مانند ہیں  اور وہ اپنے  سلوک سے  تباہ کن ہیں۔

29 جب دھوکنی تپش پیدا کر تی ہے  تو سیسہ کو آ گ سے  با ہر آنا چاہئے  لیکن صاف کرنے  والے  کا صاف کرنے  کا کام بیکار ہے  کیونکہ برائی کو ہٹایا نہیں  گیا۔

30 میرے  لوگ ‘ کھوٹی چاندی’ کہلائیں  گے   ان کو یہ نام ملے  گا کیوں  کہ خداوند نے  انہیں  رد کر دیا ہے۔ ”

 

 

 

باب :  7

 

 

1 یہ وہ کلام ہے  جو خداوند کی طر ف سے  یرمیاہ پر نازل ہوا اور اس نے  فرمایا :

2 اے  یرمیاہ! خداوند کے  گھر کے  پھاٹک کے  سامنے  کھڑا ہو اور یہ پیغام کہو : ” یہوداہ قوم کے  سبھی لوگو! خداوند کی عبادت کرنے  کے  لئے  تم سبھی لوگ ان پھاٹکوں  سے  ہو کر آئے  ہو اب اس کلام کو سنو۔

3 خداوند قادر مطلق اسرائیل کا خدا یوں  فرماتا ہے   ‘ اپنی زندگی بد لو اور اچھے  کام کرو گے  تو تم اس مقام پر رہو گے۔

4 اس جھوٹ پر یقین نہ کرو جو کچھ لوگ بولتے  ہیں۔ وہ کہتے  ہیں  ” یہ خداوند کا گھر ہے۔ خداوند کی ہیکل ہے۔ ”

5 اگر تم اپنی زندگی بد لو گے  اور اچھا کام کرو گے   تو میں  تمہیں  اس مقام پر رہنے  دوں  گا۔ تمہیں  چاہئے  کہ ایک دوسرے  کے  ساتھ انصاف سے  رہو۔

6 تمہیں  اجنبیوں  کے  ساتھ بھی بہتر رہنا چاہئے  تمہیں  بیوہ اور یتیم بچوں  کے  لئے  اچھا کام کرنا چاہئے۔ بے  گناہ کا خون نہ بہاؤ۔غیر خداؤں  کی پیروی نہ کروکیوں ؟ کیونکہ وہ تمہاری زندگی کو نیست و نابود کر دیں  گے۔

7 اگر تم میرا حکم مانو گے  تو میں  تمہیں  اس مقام پر رہنے  دوں  گا۔میں  نے  یہ ملک تمہارے  با پ دادا کو اپنے  پاس رکھنے  کے  لئے  دیا۔

8 ” لیکن تم جھوٹ میں  یقین کر رہے  ہو اور وہ جھوٹ عبث ہے۔

9 کیا تم چوری اور خون کرو گے ؟ کیا تم زنا کاری کرو گے ؟ کیا تم لوگوں  پر جھوٹا الزام لگاؤ گے ؟ کیا تم بعل اور ان خداؤں  کی جن کو تم نہیں  جانتے  تھے  پیروی کرو گے ؟

10 اگر تم یہ گناہ کر رہے  ہو تو کیا تم اس گھر میں  میرے  سامنے  کھڑے  ہو سکتے  ہو جسے  میرے  نام سے  پکارا جاتا ہے ؟ کیا تم میرے  سامنے  کھڑے  ہو سکتے  ہو اور کہہ سکتے  ہو “ہم محفوظ ہیں۔ ” محفوظ اس لئے  کہ تم اس طرح کے  گناہ کرتے  رہو۔

11 یہ گھر میرے  نام سے  پکارا جاتا ہے۔ کیا یہ گھر تمہارے  لئے  ڈکیتوں  کے  چھپنے  کے  مقام کے  سوا اور کچھ نہیں  ہے ؟ میں  تمہارے  اوپر نظر رکھ رہا ہوں۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

12 “پس اب میرے  اس مکان کو جاؤ جو شیلاہ میں  تھا۔ جہاں  پر میں  نے  اپنے  نام کو قائم کیا تھا۔ اور اس پر غور کرو کہ میں  نے  شیلاہ میں  بنی اسرائیلیوں  کے  بُرے  کام کے  سبب سے  کیا کیا تھا۔

13 ” بنی اسرا ئیلیو! تم لوگ یہ سب برے  کام کرتے  رہے۔ ” یہ پیغام خداوند کا تھا۔ میں  نے  تم سے  بار بار باتیں  کیں  ” لیکن تم نے  میری ان سنی کر دی۔ میں  نے  تم لوگوں  کو پکا را مگر تم نے  جواب نہیں  دیا۔

14 اس لئے  میں  اپنے  نام سے  پکارے  جانے  والے  یروشلم کے  اس گھر کو فنا کروں  گا۔ میں  اس گھر کو ویسے  ہی فنا کروں  گا۔جیسے  میں  نے  شیلاہ میں  فنا کیا تھا۔ اور یروشلم میں  وہ گھر جو میرے  نام پر ہے  اور جس پر تم یقین کرتے  ہو۔ میں  اس جگہ کو تباہ کروں  گا جسے  میں  نے  تمہیں  اور تمہارے  باپ دادا کو دی تھی۔

15 میں  تمہیں  اپنے  پاس سے  ویسے  ہی دور پھینک دوں  گا۔ جیسے  میں  نے  تمہارے  سبھی بھا ئیوں  کو افرائیم سے  پھینکا۔”

16 ” اے  یرمیاہ! جہاں  تک تمہاری بات ہے   تم یہوداہ کے  ان لوگوں  کے  لئے  دعا مت کرو۔ نہ ان کے  لئے  التجا کرو اور نہ ہی ان کے  لئے  دعا۔ان کی مدد کے  لئے  مجھ سے  منت مت کرو ان کے  لئے  میں  تمہاری فریاد کو نہیں  سنوں  گا۔

17 ” میں  جانتا ہوں  کہ تم دیکھ رہے  ہو کہ وہ سارے  یہوداہ کے  شہر میں  کیا کر رہے  ہیں۔ تم یہ بھی دیکھ سکتے  ہو کہ وہ یروشلم کے  چوراہوں  پر کیا کر رہے  ہیں ؟

18 یہوداہ کے  لوگ جو کر رہے  ہیں  وہ یہ ہے  بچے  لکڑی جمع کرتے  ہیں  اور باپ آ گ سلگاتے  ہیں  اور عورتیں  آٹا گوندھتی ہیں تا کہ آسمان کی ملکہ کے  لئے  رو ٹیاں  پکائیں  اور غیر خداؤں  کی عبادت کرنے  کے  لئے  مئے  کا نذرانہ پیش کرتے  ہیں  وہ لوگ ایسا مجھے  غضبناک کرنے  کے  لئے  کرتے  ہیں۔

19 لیکن میں  وہ نہیں  ہوں  جسے  یہوداہ کے  لوگ سچ مچ چوٹ پہنچا رہے  ہیں۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” وہ صرف خود کو ہی چوٹ پہنچا رہے  ہیں۔ وہ خود کو شرمندہ کر رہے  ہیں۔”

20 اسی واسطے  خداوند یوں  فرماتا ہے  : ” دیکھو میرا قہر و غضب اس مکان پر انسان اور حیوان پر میدان کے  درختوں  پر اور فصل پر بر سے  گا۔ میرا قہر آ گ کی طرح ہو گا جسے  بجھا یا نہیں  جائے  گا۔”

21 اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : “اپنی قربانیوں  پر اور اپنے  جلانے  کی قربانیاں  بھی بڑھاؤ اور گوشت کھاؤ۔

22 جب میں  تمہارے  با پ دادا کو مصر سے  با ہر لا یا۔ تو میں  نے  انہیں  جلانے  کا نذرانوں  اور قربانیوں  کے  با رے  میں  کوئی حکم نہیں  دیا۔

23 میں  نے  انہیں  صرف یہ حکم دیا تھا کہ اگر تم میری آواز سنو گے  تو میں  تمہارا خدا ہوں  گا اور تم میرے  لوگ ہو گے۔ جو بھی راہ میں  تمہیں  دکھاؤں  اور جس راہ کی میں  تم کو ہدایت کروں  اس پر چلو۔ اس میں  تمہارا اپنا بھلا ہو گا۔

24 ” لیکن تمہارے  با پ دادا نے  میری ایک نہ سنی۔ انہوں  نے  مجھ پر دھیان نہیں  دیا۔ وہ ضد پر اڑے  رہے  اور انہوں  نے  ان برے  کاموں  کو کیا جو وہ کرنا چاہتے  تھے۔ وہ اپنی پیٹھ میری طرف موڑ لئے۔

25 جب سے  تمہارے  با پ دادا ملک مصر سے  نکل آئے  اس وقت سے  آج تک میں  نے  تمہارے  پاس اپنے  بہت سے  خادموں  یعنی نبیوں  کو بھیجا۔ میں  نے  ان کو ہمیشہ وقت پر بھیجا۔

26 لیکن تمہارے  باپ دادا نے  میری ان سنی کی انہوں  نے  مجھ پر دھیان نہیں  دیا۔ وہ بہت ضدی تھے  اور انہوں  نے  باپ دادا سے  بڑھ کر برائیاں  کیں۔

27 ” اے  یرمیاہ! تم یہوداہ کے  لوگوں  سے  یہ باتیں  کہو گے۔ لیکن وہ تمہاری ایک نہ سنیں  گے۔ تم ان سے  باتیں  کرو گے   لیکن وہ تمہیں  جواب بھی نہیں  دیں  گے۔

28 اس لئے  تمہیں  ان سے  یہ باتیں  کہنی چاہئے۔ یہ وہ قوم ہے  جس نے  خداوند اپنے  خدا کا حکم قبول نہیں  کیا ان لوگوں  نے  خدا کی تعلیمات کو ان سنی کیا۔ یہ لوگ صحیح تعلیم سے  نا وا قف ہیں۔

29 ” اے  یرمیاہ! اپنے  با لوں  کو کاٹ ڈالو اور اسے  پھینک دو۔ سنسان پہاڑ کی چوٹی پر چڑھو اور ماتم کرو۔ کیونکہ خداوند نے  ان لوگوں  کو جن پر اس کا قہر ہے  رد کر دیا ہے۔

30 یہ کرو کیوں  کہ یہوداہ کے  لوگ وہ کام کرتے  ہیں  جسے  میں  نے  برا تصور کیا۔” یہ خداوند کا پیغام ہے۔ ” انہوں  نے  اس گھر میں  جو میرے  نام سے  کہلاتا ہے  بتوں  کو رکھا۔ اس طرح سے  اس نے  اسے  ‘ ناپاک ‘ کیا۔

31 اور انہوں  نے  توفتک اونچی جگہوں  کو بن ہنوم کی وادی میں  بنائے  تا کہ اپنے  بیٹوں  اور بیٹیوں  کو آگ میں  جلائیں  جس کا میں  نے  حکم نہیں  دیا اور میرے  دل میں  اس کا خیال بھی نہ آیا تھا۔

32 اس لئے  خداوند فرماتا ہے   دیکھو وہ دن آ رہا ہے  کہ یہ نہ توفت کہلائے  گی نہ بن ہنوم کی وادی بلکہ قتل کی وادی کہلائے  گی اور جگہ نہ ہونے  کے  سبب سے  توفت میں  دفن کریں  گے۔

33 تب لوگوں  کی لاشیں  زمین پر پڑی رہیں  گی اور آسمانی پرندے  کی غذا ہوں  گی۔ ان لوگوں  کے  جسم کو جنگلی جانور کھائیں  گے۔ وہاں  ان پرندوں  اور درندوں  کو بھگانے  کے  لئے  کوئی شخص زندہ نہ بچے  گا۔

34 تب میں  یہوداہ کے  شہروں  میں  اور یروشلم کے  گلیوں  میں  خوشی اور شادمانی کی آواز دلہے  اور دلہن کی آواز پوری طرح موقوف کر دوں  گا۔کیونکہ یہ ملک ویران ہو جائے  گا۔”

 

 

 

باب :  8

 

 

1 یہ پیغام خداوند کا ہے  : ” اس وقت لوگ یہوداہ کے  بادشاہوں  اور سرداروں  کی ہڈیوں  کو ان کی قبروں  سے  نکالیں  گے۔ وہ کاہنوں  اور نبیوں  کی ہڈیوں  کو قبروں  سے  نکالیں  گے۔ وہ یروشلم کے  لوگوں  کی ہڈیوں  کو قبروں  سے  نکالیں  گے۔

2 وہ لوگ ان ہڈیوں  کو سورج چاند اور تاروں  کی عبادت کے  لئے  نیچے  زمین پر پھیلائیں  گے۔ یروشلم کے  لوگ سورج چاند اور تاروں  کی عبادت سے  محبت کرتے  ہیں۔کوئی بھی شخص ان ہڈیوں  کو اکٹھا نہیں  کرے  گا۔ اور نہ ہی انہیں  پھر دفنائے  گا۔اس لئے  ان لوگوں  کی ہڈیاں  روئے  زمین پر کھاد بنے  گی۔

3 ” میں  یہوداہ کے  لوگوں  کو یہ جگہ چھوڑنے  پر مجبور کروں  گا۔ اور وہ لوگ جہاں  کہیں  بھی جائیں  گے  تو اس برے  خاندان کی باقی ماندہ لوگ جو کہ جنگ میں  مارے  نہیں  گئے  تھے  یہ خواہش کریں  گے  کہ یہ بہتر ہوتا اگر وہ مار دیئے  جا تے۔ ”

4 اے  یرمیاہ! یہوداہ کے  لوگوں  سے  یہ کہو کہ خداوند یہ سب کہتا ہے  : ” تم یہ جانتے  ہو کہ جو شخص گرتا ہے  وہ پھر اٹھتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص غلط راہ چلتا ہے  تو وہ چاروں  جانب سے  گھوم کر لوٹ آتا ہے۔

5 یروشلم کے  لوگ غلط راہ پر کیوں  لگاتار چلتے  ہی جا رہے  ہیں ؟ وہ اپنے  جھوٹ میں  یقین رکھتے  ہیں۔ اور وہ مُڑنے  اور لوٹنے  سے  انکار کرتے  ہیں۔

6 میں  نے  ان کی بات کو غور سے  سنا ہے۔ لیکن وہ کبھی سچ نہیں  بولتے۔ وہ لوگ اپنے  گناہ کے  لئے  نہیں  پچھتا تے۔ ہر شخص ان بُرے  را ہوں  پر چلتا جس کی وہ خواہش کرتا۔ وہ جنگ میں  دوڑتے  ہوئے  گھوڑوں  کی مانند ہیں۔

7 لق لق بھی اپنے  مقررہ وقتوں  کو جانتا ہے۔ فاختہ ابابیل اور سارس بھی جانتے  ہیں  کہ کب نئے  گھر میں  آنا چاہئے۔ لیکن میرے  لوگ نہیں  جانتے  کہ خداوند ان سے  کیا کرانا چاہتا ہے ؟

8 تم کیسے  کہہ سکتے  ہو ‘ہمیں  خداوند کی تعلیمات ملی ہے   اس لئے  ہم دانشمند ہیں ! ‘ لیکن یہ سچ نہیں ! کیوں  کہ منشی کے  با طل قلم نے  ان پتوں  کو پیدا کی ہے۔

9 ان دانشمندوں  نے  خداوند کی تعلیم کو رد کیا۔کیسی عقلمندی ان کے  پاس ہو گی؟ اس لئے  وہ لوگ شرمندہ ہوں  گے   ڈرائے  جائیں  گے  اور وہ لوگ قید ہوں  گے۔

10 اس لئے  میں  ان کی بیویوں  کو دوسرے  لوگوں  کو دوں  گا۔ میں  ان کے  کھیت کو نئے  مالکوں  کو دوں  گا۔سبھی بنی اسرائیل زیادہ سے  زیادہ دولت چاہتے  ہیں۔ چھوٹے  سے  لے  کر بزرگ تک سبھی لوگ اسی طرح کے  ہیں۔ نبی سے  کاہن تک ہرا یک دغا باز ہے۔

11 اور وہ میری بنتِ قوم کے  زخم کو یوں  ہی سلامتی سلامتی کہہ کر اچھا کرتے  ہیں۔حالانکہ سلامتی نہیں  ہے۔

12 ان لوگوں  کو اپنے  کئے  ہوئے  بے  کاموں  کے  لئے  شرمندہ ہونا چاہئے۔ لیکن وہ بالکل شرمندہ نہیں۔انہیں  اتنا بھی علم نہیں  کہ انہیں  اپنے  گنا ہوں  کے  لئے  پچھتاوا ہو سکے۔ اس لئے  وہ دیگر سبھی سکے  ساتھ سزا پائیں  گے۔ میں  انہیں  سزا دوں  گا اور زمین پر پھینک دوں  گا۔” یہ باتیں  خداوند نے  کہیں۔

13 “میں  ان کے  پھل اور فصلیں  لے  لوں  گاتا کہ ان کے  یہاں  کوئی پکی فصل پھر سے  نہ ہو۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” نہ تاک میں  انگور لگیں  گے  اور نہ انجیر کے  درخت میں  انجیر۔ یہاں  تک کہ پتیاں  سو کھ جائیں  گی اور جھا جائیں  گی۔ میں  ان چیزوں  کولے  لوں  گا جنہیں  میں  نے  انہیں  دے  دی تھیں۔

14 ” ہم لوگوں  کو یہاں  خالی کیوں  بیٹھنا چاہئے ؟ آؤ اکٹھے  ہو کر محفوظ اور مستحکم شہروں  میں  بھاگ چلیں  اور وہاں  خاموش رہیں  کیوں  کہ خداوند ہمارے  خدا نے  ہم کو خاموش بنایا ہے  اور ہم کو زہریلے  پانی پینے  کو دیا اور اس لئے  کہ ہم خداوند کے  گنہگار ہیں۔

15 ہم سلامتی کی خوا ہش کرتے  تھے۔ لیکن کچھ بھی اچھا نہ ہوسکا۔ہم ایسے  وقت کی امید کرتے  ہیں۔ جب وہ معاف کر دے  گا۔ لیکن صرف مصیبت ہی آ پڑی ہے۔

16 اس کے  گھوڑوں  کے  نتھنوں  سے  فرانے  کی آواز ” دان ” سے  سنائی دیتی ہے۔ اس کے  جنگلی گھوڑوں  کے  ہنہنانے  کی آواز سے  تمام زمین کانپ گئی کیوں  کہ وہ زمین کو اور سب کچھ جو اس میں  ہے  اور اس کے  باشندوں  کو کھا جانے  کے  لئے  آ پہنچے۔

17 ” کیوں  کہ خداوند فرماتا ہے  دیکھو میں  تمہارے  درمیان سانپ بھیجوں  گا اور کوئی بھی جا دو اسے  قابو نہ کر سکے  گا۔

18 اے  خدا! میں  بہت دکھی اور خوفزدہ ہوں۔

19 میرے  لوگوں  کی سن! اس ملک میں  وہ مدد کے  لئے   زمین کے  لئے  اور راستے  کے  لئے  پکار رہے  ہیں۔ وہ کہتے  ہیں  ” کیا خداوند اب بھی صیون میں  ہے ؟ کیا صیون کے  بادشاہ اب بھی وہاں  ہیں ؟ ” لیکن خدا فرماتا ہے   ” یہوداہ کے  لوگ کیوں  اپنی تراشی ہوئی مورتیوں  کی بے  گانہ خداؤں  کی پرستش کر کے  مجھ کو غضبناک کرتے  ہیں ؟ ”

20 لوگ کہتے  ہیں  ” فصل کاٹنے  کا وقت گیا۔ گرمی کے  ایام تمام ہوئے  اور ہم نے  رہائی نہیں  پا ئی۔ ”

21 میرے  لوگ بیمار ہیں  اس لئے  میں  بیمار ہوں۔ میں  ان بیمار لوگوں  کی فکر میں  دکھی اور مایوس ہوں۔

22 کیا جلعاد میں  شفا بخشنے  وا لا کوئی مر ہم نہیں  ہے ؟ کیا وہاں  کوئی طبیب نہیں ؟ میری قوم کیوں  شفا نہیں  پاتی؟

 

 

 

باب :  9

 

 

1 اگر میرا سرپانی سے  بھرا ہوتا اور میری آنکھیں  آنسوؤں  کا چشمہ ہوتیں  تو میں  اپنے  برباد کئے  گئے  لوگوں  کے  لئے  دن رات روتا رہتا۔

2 اگر مجھے  صرف بیابان میں  رہنے  کا مقام مل گیا ہوتا جہاں  مسافر رات گزارتے  ہیں  تو میں  اپنے  لوگوں  کو چھوڑ سکتا تھا۔ میں  ان لوگوں  سے  دور چلا جا سکتا تھا۔ کیوں  کہ وہ سبھی خدا کے  نافرمان اور بد کار ہو گئے  ہیں  وہ سبھی اس کے  خلاف باغی ہو رہے  ہیں۔

3 ” وہ لوگ اپنی زبان کا استعمال کمان کے  جیسا کرتے  ہیں  ان کے  منھ سے  جھوٹ تیر کی مانند چھو ٹتا ہے۔ پورے  ملک میں  سچائی کا نام و نشان نہیں  ہے۔ جھوٹ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ وہ مجھے  نہیں  جانتے۔ ” خداوند نے  یہ باتیں  کہیں۔

4 ” اپنے  پڑوسیوں  سے  ہوشیار رہو اپنے  خاص بھائیوں  پر بھی اعتماد نہ کرو۔ کیوں  کہ ہر ایک بھائی دغا باز ہے۔ ہر ایک پڑوسی غلط بیانی کرتا ہے۔

5 ہر ایک شخص اپنے  پڑوسی سے  جھوٹ بولتا ہے۔ کوئی شخص سچ نہیں  بولتا۔ یہوداہ کے  لوگوں  نے  اپنی زبان کو جھوٹ بولنے  کی تعلیم دی ہے۔ انہوں  نے  اس وقت تک گناہ کئے  جب تک کہ وہ اتنا تھکے  کہ لوٹ نہ سکے۔

6 ایک برائی کے  بعد دوسری برائی آئی۔ جھوٹ کے  بعد جھوٹ آیا۔ لوگوں  نے  مجھ کو جاننے  سے  انکار کر دیا۔” خداوند نے  یہ باتیں  کہیں۔

7 اس لئے  خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  :” میں  یہوداہ کے  لوگوں  کی آزمائش ویسے  ہی کروں  گا جیسے  کوئی شخص آگ میں  تپا کر کسی دھات کی جانچ کرتا ہے  میری کوئی اور دوسری پسند نہیں  ہے۔

8 یہوداہ کے  لوگوں  کی زبان تیز تیر کی مانند ہے۔ ان کے  منھ سے  دغا کی باتیں  نکلتی ہیں۔ ہر ایک شخص اپنے  پڑوسی سے  عمدہ باتیں  کرتا ہے۔ لیکن وہ باطنی طور سے  اپنے  پڑوسی پر حملہ کرنے  کا منصوبہ بناتا ہے۔

9 کیا مجھے  یہوداہ کے  لوگوں  کو اس طرح کے  برے  کاموں  کے  کرنے  کی وجہ سے  سزا نہیں  دینی چاہئے ؟ ” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” مجھے  اس قوم کو سزا دینی چاہئے  جو ایسی حرکت کرتی ہیں۔”

10 میں  پہاڑوں  پر پھوٹ پھوٹ کر روؤں  گا۔ میں  بیابان کی چراگاہوں  میں  ماتم کروں  گا کیوں  کہ وہ اتنے  جل گئے  کہ کوئی آدمی  وہاں  جانے  کی ہمت نہیں  رکھتا۔ جانوروں  کی کوئی آواز سنائی نہیں  دیتی۔ پرندے  اور مویشی وہاں  سے  بھاگ گئے۔

11 ” میں  ( خداوند) یروشلم کو کچرے  کا ڈھیر بنا دوں  گا۔ یہ گیدڑوں  کا مسکن بنے  گا۔ میں  یہوداہ کے  شہروں  کو فنا کروں  گا۔ اس لئے  وہاں  کوئی بھی نہیں  رہے  گا۔”

12 کیا کوئی شخص ایسا دانشمند ہے  جو ان باتوں  کو سمجھ سکے ؟ کیا کوئی ایسا شخص ہے  جسے  خداوند سے  شریعت ملی ہے ؟ کیا کوئی خداوند کے  پیغام کی تشریح کر سکتا ہے ؟ ملک کیوں  فنا ہوا؟ یہ سر زمین کس لئے  ویران ہوئی اور بیابان کی مانند جل گئی کہ کوئی اس میں  قدم نہیں  رکھتا؟

13 خداوند نے  ان سوالوں  کا جواب دیا۔ اس نے  کہا ” یہ اس لئے  ہوا کہ یہوداہ کے  لوگوں  نے  میری تعلیمات پر چلنا چھوڑ دیا۔ میں  نے  انہیں  اپنی تعلیمات دی لیکن انہوں  نے  میری بات سننے  سے  انکار کیا۔ انہوں  نے  میری تعلیمات کی پیر وی نہیں  کی۔

14 یہوداہ کے  لوگ اپنی راہ چلے   وہ ضدّی ہیں۔ انہوں  نے  جھوٹے  خداوند بعل کی پیر وی کی۔ ان کے  باپ دادا نے  انہیں  جھوٹے  خداؤں  کی پیر وی کرنے  کی تعلیم دی۔”

15 اس لئے  اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” میں  جلد ہی یہوداہ کے  لوگوں  کو کڑوا پھل چکھاؤں  گا۔ میں  انہیں  زہریلا پانی پلاؤں  گا۔

16 میں  یہوداہ کے  لوگوں  کو دیگر قوموں  میں  بکھیر دوں  گا۔ وہ اجنبی قوموں  میں  رہیں  گے۔ انہوں  نے  اور ان کے  باپ دادا نے  ان ملکوں  کو کبھی نہیں  جانا۔ میں  تلوار لئے  لوگوں  کو بھیجوں  گا۔ وہ لوگ یہوداہ کے  لوگوں  کو مار ڈالیں  گے۔ وہ لوگوں  کو اس وقت تک مارتے  جائیں  گے  جب تک وہ ختم نہیں  ہو جائیں  گے۔ ”

17 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : ” اسے  سمجھو۔ ماتم کرنے  وا لی عورتوں  کو اور ان عورتوں  کو جو کہ ماہر فن ہیں  اسے  بلاؤ اور انہیں  آنے  دو۔

18 لوگ کہتے  ہیں  ” ان عورتوں  کو جلدی سے  آنے  دو اور ہمارے  لئے  سوگ کا نغمہ گانے  دو تب ہم لوگ بھی آنسو بہائیں  گے۔ ”

19 ” زور سے  رونے  کی آوازیں  صیّون سے  سنائی دے  رہی ہیں۔ یقیناً ہم برباد ہو گئے۔ بلا شک ہم شرمندہ ہیں۔ ہمیں  اپنے  ملک کو چھوڑ دینا چاہئے  کیوں  کہ ہمارے  گھر نیست و نابود اور برباد ہو گئے  ہیں۔”

20 اے  عورتو! خداوند کا پیغام سنو خداوند کے  الفاظ کو سننے  کے  لئے  اپنے  کان کھول لو۔ خداوند فرماتا ہے   ” اپنی دختروں  کو بلند آواز سے  رونا سکھاؤ۔ اور اپنے  پڑوسیوں  کو مرثیہ گانا سکھاؤ۔

21 ‘ موت صرف ہمارے  گھر میں  ہی نہیں  بلکہ ہمارے  محلوں  میں  بھی داخل ہو چکی ہے۔ سڑکوں  پر کھیل نے  والے  بچے  اور بازاروں  میں  گھوم نے  والے  جوانوں  کی موت ہو گئی ہے۔ ‘

22 ” اے  یرمیاہ کہو : جو خداوند کہتا ہے   ‘ وہ یہ ہے  آدمیوں  کی لاشیں  میدان میں  کھاد کی مانند گریں  گی اور اس مٹھی بھر اناج کی طرح ہوں  گی جو فصل کاٹنے  والے  کے  پیچھے  رہ جاتا ہے  جسے  کوئی جمع نہیں  کرتا۔”

23 خداوند فرماتا ہے  : ” صاحب حکمت کو اپنی حکمت پر فخر نہیں  کرنا چاہئے۔ کوئی اپنی قوت پر اور مالدار اپنے  مال پر فخر نہ کرے

24 لیکن اصل میں  انہیں  مجھے  جاننے  اور سمجھنے  میں  فخر کرنا چاہئے  کہ میں  ہی خداوند ہوں  جو مستحکم محبت انصاف اور صداقت لاتا ہوں۔ میں  ان اصولوں  سے  خوش بھی ہوں۔” یہ خداوند کا پیغام تھا۔

25 وہ وقت آ رہا ہے   ” یہ پیغام خداوند کا ہے   جب میں  ان لوگوں  کو سزا دوں  گا جو صرف جسم سے  ختنہ کرائے  ہیں۔

26 میں  مصر یہوداہ ادوم موآب اور عمّون کی قوموں  اور ان سبھی لوگوں  کے  بارے  میں  باتیں  کر رہا ہوں  جو بیابان میں  رہتے  ہیں  اور اپنی داڑھی کترواتے  ہیں۔ سبھی قومیں  بنا ختنہ کی ہوئی ہیں  لیکن بنی اسرائیلیوں  نے  اپنے  دلوں  کا ختنہ نہیں  کیا ہے۔ ”

 

 

 

باب :  10

 

 

1 اے  اسرائیل کے  گھرانے   خداوند کی سنو

2 جو خداوند کہتا ہے  وہ یہ ہے  : ” دیگر قوموں  کے  لوگوں  کی طرح نہ رہو آسمانی علامتوں  سے  ہراساں  نہ ہو۔ دیگر قومیں  ان علامتوں  سے  ڈر تی ہیں۔ جنہیں  وہ آسمان میں  دیکھتے  ہیں  لیکن تمہیں  ان چیزوں  سے  نہیں  ڈرنا چاہئے۔

3 دیگر لوگوں  کی شریعت بیکار ہیں۔ ان کی مورتیاں  جنگل کی لکڑی کے  سوا کچھ نہیں۔ ان کی مورتیاں  لوگوں  کے  ہاتھ کا کام ہیں۔

4 وہ اپنی مورتیوں  کو سونے  سے  چاندی سے  حسین بناتے  ہیں۔ اور اس میں  ہتھوڑوں  سے  میخیں  ٹھوک کر اسے  مضبوط کرتے  ہیں تا کہ وہ لٹکے  رہیں  گر نہ پڑیں۔

5 وہ کھجور کی مانند مخروطی ستون ہیں  پر بولتے  نہیں۔ان کو اٹھا کر لے  جانا پڑتا ہے   کیوں  کہ وہ چل نہیں  سکتے۔ ان سے  نہ ڈرو کیوں  کہ وہ نقصان نہیں  پہنچا سکتے  اور ان سے  فائدہ بھی نہیں  پہنچ سکتا۔”

6 اے  خداوند! تجھ جیسا کوئی اور نہیں  ہے۔ تو عظیم ہے  اور قدرت کے  سبب سے  تیرا نام بزرگ ہے۔

7 اے  خدا! ہر ایک شخص کو چاہئے  کہ تیرا احترام کرے۔ تو سبھی قوموں  کا بادشاہ ہے۔ یقیناً یہ تجھ ہی کو زیب دیتا ہے   کیوں  کہ قوموں  کے  سب حکیموں  میں  اور تمام مملکتوں  میں  تیری مانند کوئی نہیں۔

8 دیگر قوموں  کے  سبھی لوگ شرارتی اور احمق ہیں۔ان کے  خداؤں  کی تعلیم کیا ہے  وہ تو لکڑی ہیں۔

9 ترسیس سے  چاندی کا پیٹا ہوا پتر اور اوفاز سے  سونا آتا ہے۔ کاریگر اور سنار ان بتوں  کو بناتے  ہیں۔ اور انہیں  نیلا اور بیگنی لباس سے  سجاتے  ہیں۔ کل ملا کر یہ سب باتیں  ماہر کاریگروں  کی دستکاری ہیں۔

10 لیکن خداوند سچا خدا ہے۔ وہ زندہ خدا اور ابدی بادشاہ ہے  اس کے  قہر سے  زمین تھر تھرا تی ہے  اور قوموں  میں  اس کے  قہر کا تاب نہیں۔

11 خداوند فرماتا ہے  : “ان لوگوں  کو یہ پیغام دو ان جھوٹے  خداؤں  نے  زمین و آسمان نہیں  بنائے  اور وہ جھوٹے  خداوند فنا کر دیئے  جائیں  گے   اور زمین اور آسمان سے  نیست و نابود ہو جائیں  گے۔ ”

12 وہ خدا ایک ہی ہے  جس نے  اپنی قدرت سے  زمین بنا ئی۔ خدا نے  اپنی حکمت کا استعمال کیا اور جہاں  کو قائم کیا۔اپنی سمجھ کے  مطابق خدا نے  زمین کے  اوپر آسمان کو پھیلا یا۔

13 خدا کڑکتی بجلی بناتا ہے  اور وہ آسمان سے  آندھی بھیجتا ہے  وہ زمین کے  ہر مقام پر بادل کو اٹھاتا ہے۔ وہ بارش کے  ساتھ بجلی چمکاتا ہے  اور اپنے  خزانوں  سے  ہوا چلاتا ہے۔

14 ہر ایک آدمی  اپنا سارا علم کھو چکا ہے۔ ہر ایک سنار اپنے  بتوں  سے  شرمندہ ہے۔ کیونکہ اس کا بنایا ہوا بت باطل ہے۔ ان میں  جان نہیں  ہے۔

15 وہ مورتیاں  کسی کام کی نہیں۔ وہ کچھ ایسی ہیں  جن کا مذاق اڑا یا جا سکے۔ مقّررہ وقت کے  آنے  پر وہ مورتیاں  فنا کر دی جائیں  گی۔

16 لیکن یعقوب کا خاندان ان مورتیوں  کی مانند نہیں  ہے  کیوں  کہ بہ سب چیزوں  کا خالق ہے۔ اور اسرائیل اس کی میراث کا عصا ہے۔ خدا ” خداوند قادر مطلق ” اس کا نام ہے۔

17 اپنی سبھی چیزیں  لو اور جانے  کے  لئے  تیار ہو جاؤ۔ یہوداہ کے  لوگ تم شہر میں  پکڑے  گئے  ہو اور دشمن نے  محاصرہ کر لیا ہے۔

18 خداوند فرماتا ہے  : “اس بار سچ مُچ میں  یہوداہ کے  لوگوں  کو اس ملک سے  با ہر پھینک دوں  گا۔میں  ان لوگوں  کو تکلیف دوں  گاتا کہ ان کے  دشمن انہیں  تلاش کریں  گے۔ ”

19 ہائے  میری خستگی! میرا زخم درد ناک ہے۔ اور میں  نے  سمجھ لیا ” یقیناً مجھے  یہ دکھ برداشت کرنا ہے۔ ”

20 میرا خیمہ برباد ہو گیا خیمہ کی ساری رسیاں  ٹوٹ گئی ہیں۔ میرے  بچے  مجھے  چھوڑ دیئے  اور وہ چلے  گئے۔ میرا خیمہ کو پھر سے  لگانے  کے  لئے  کوئی بھی نہیں  ہے  اس کے  پردوں  کو ٹانگنے  کے  لئے  کوئی نہیں  ہے۔

21 چروا ہے  بے  وقوف بن گئے  اور خداوند سے  مدد نہیں  مانگتے  ہیں۔اس لئے  کہ وہ لوگ عقلمند نہیں  ہوتے  ہیں۔ اور ان کے  بھیڑوں  کے  جھنڈ بھٹک جاتے  ہیں۔

22 دیکھو! شمال کے  ملک سے  بڑے  غو غا اور ہنگامہ کی آوا ز آتی ہے  تا کہ یہوداہ کہ شہروں  کو اجاڑ کر گیدڑوں  کا مسکن بنائے۔

23 اے  خداوند میں  جانتا ہوں  کہ انسان ہر گز اپنی زندگی کا مالک نہیں  ہے۔ لوگ یقینی نہیں  ہو سکتا کہ سا کے  ساتھ مستقبل میں  کیا ہو گا یا وہ کیا کچھ کرنے  کے  قابل ہوں  گے۔

24 اے  خداوند ہمیں  سدھار! لیکن اسے  اپنے  انصاف سے  کر غصّہ میں  نہیں  ورنہ تم تو ہم سے  زیادہ تر کو تباہ کر دے  گا

25 اے  خدا! ان قوموں  پر جو تمہیں  نہیں  جانتی ہیں۔اور ان خاندانوں  پر جو تیری عبادت سے  انکار کرتے  ہیں  اپنا قہر نازل کر دے   کیوں  کہ وہ یعقوب کو کھا گئے   اسے  نگل گئے  اور اسرائیل کے  مسکن کو اجاڑ دیا۔

 

 

 

باب :  11

 

 

1 یہ وہ پیغام ہے  جو یرمیاہ کو ملا۔ خداوند کا یہ پیغام آیا :

2 ” اے  یرمیاہ! اس معاہدے  کے  لفظوں  کو سنو ان باتوں  کے  بارے  میں  یہوداہ کے  لوگوں  سے  کہو۔ یہ باتیں  یروشلم میں  رہنے  والے  لوگوں  سے  کہو۔

3 اور تم ان سے  کہو خداوند اسرائیل کا خدا یوں  فرماتا ہے  : ‘ جو شخص اس معاہدے  کو قبول نہیں  کرے  گا اس پر مصیبت آئے  گی۔’

4 میں  تمہیں  اس معاہدے  کے  با رے  میں  کہہ رہا ہوں  جسے  میں  نے  تمہارے  با پ دادا کے  ساتھ کیا تھا۔ میں  نے  وہ معاہدہ ان کے  ساتھ تب تک کیا تھا جب میں  انہیں  مصر سے  با ہر لا یا تھا۔ان لوگوں  کے  لئے  مصر لو ہے  کی دھات کو پگھلا دینے  وا لی گرم بھٹی کی طرح تھا۔ میں  نے  ان لوگوں  سے  کہا میرا حکم مانو اور وہ سب کرو جیسا میں  کہتا ہوں۔ اگر تم وہ کرو گے  تو تم میرے  لوگ رہو گے  اور میں  تمہارا خدا ہوں  گا۔

5 “تا کہ میں  اس قسم کو جو میں  نے  تمہارے  باپ دادا سے  کھائی کہ میں  ان کو ایسا ملک دوں  گا جس میں  دودھ اور شہد بہتا ہو۔جیسا کہ آج کے  دن ہے  پورا کرو ں۔” تب میں  نے  جواب میں  کہا ” اے  خداوند آمین۔”

6 خداوند نے  مجھ سے  کہا ” اے  یرمیاہ! اس پیغام کی تعلیم یہوداہ کے  شہروں  اور یروشلم کی سڑکوں  پر دو۔پیغام یہ ہے   اس معاہدے  کی باتوں  کو سنو اور ان پر عمل کرو۔

7 میں  نے  تمہارے  باپ دادا کو ملکِ مصر سے  با ہر لاتے  وقت ایک تنبیہ دی تھی آج تکتا کید کرتا اور بر وقت جتاتا اور کہتا رہا کہ میری سنو۔

8 پر انہوں  نے  میری نہیں  سنی بلکہ انہوں  نے  بُری خواہشات کی پیروی کی۔ انہوں  نے  میرے  معاہدے  پر عمل نہیں  کیا جس کا کہ میں  نے  حکم دیا تھا۔ اس لئے  میں  انہیں  معاہدے  کے  شرط کے  مطابق سزادوں  گا۔”

9 خداوند نے  مجھ سے  کہا ” اے  یرمیا ہ! میں  جانتا ہوں  کہ یہوداہ کے  لوگ اور یروشلم کے  باشندوں  نے  ایک سازش رچی ہے۔

10 وہ اپنے  با پ دادا کے  گنا ہوں  کی طرف وا پس آ گئے  جنہوں  نے  میری بات سننے  سے  انکار کیا اور غیر خداؤں  کی عبادت کی۔ اسرائیل کے  گھرانے  اور یہوداہ کے  گھرانے  نے  اس معاہدے  کو جو میں  نے  ان کے  باپ دادا سے  کہا تھا توڑ دیا۔”

11 اس لئے  خداوند فرماتا ہے  : “میں  یہوداہ کے  لوگوں  پر جلد ہی بھیانک مصیبت لاؤں  گا۔ وہ بچ کر بھاگ نہیں  پائیں  گے   اور وہ مدد کے  لئے  مجھے  پکاریں  گے  لیکن میں  ان کی ایک نہیں  سنوں  گا۔

12 یہوداہ کے  شہر اور یروشلم کے  باشندے  جانیں  گے  اور ان خداؤں  کو جن کے  آگے  وہ بخور جلاتے  ہیں  پکاریں  گے   پر وہ مصیبت کے  وقت ان کو ہر گز نہ بچائیں  گے۔

13 ” کیوں  کہ اے  یہوداہ! جتنے  تمہارے  شہر ہیں  اتنے  ہی تمہارے  بت ہیں۔ تمہارے  رسوا کن قربانگاہ کا استعمال بعل کے  لئے  بخور جلانے  کے  لئے  کیا جاتا ہے۔ اتنی ہی قربان گا ہیں  ہیں  جتنی یروشلم کی گلیاں  ہیں۔

14 اے  یرمیاہ! جہاں  تک تمہاری بات ہے   یہوداہ کے  ان لوگوں  کے  لئے  دعا نہ کرو میں  سنوں  گا نہیں۔ وہ لوگ مصیبت اٹھائیں  گے  اور تب وہ مجھے  مدد کے  لئے  پکاریں  گے   لیکن میں  سنوں  گا نہیں۔

15 ” میرا محبوب( یہودا ہ) میرے  ہیکل میں  کیوں  ہے ؟ اسے  وہاں  رہنے  کا حق نہیں  ہے۔ اس نے  بہت سے  بُرے  کام کئے  ہیں۔ اے  یہوداہ! کیا تم نے  سوچا ہے  کے  منت اور مقدس گوشت تمہاری شرارت کو دور کریں  گے ؟ ” کیا تم ان کے  ذریعہ سے  رہائی پاؤ گے ؟ تم شرارت کر کے  خوش ہو تی ہو؟

16 خداوند نے  تمہیں  ایک نام دیا تھا۔خداوند نے  تمہارانام’ اچھا پھل وا لا خوبصورت ہرا زیتون کا درخت ‘ رکھا۔ لیکن ایک تیز آندھی کی گر ج کے  ساتھ خداوند اس درخت میں  آ گ لگا دے  گا اور اس کی شاخیں  جل کر راکھ ہو جائیں  گی۔

17 کیوں  کہ خداوند قادر مطلق نے  تمہیں  لگایا۔ تم پر مصیبت کا حکم کیا۔اس بدی کے  سبب سے  جو اسرائیل کے  گھرانے  اور یہوداہ کے  گھرانے  نے  اپنے  حق میں  کی کہ بعل کے  لئے  بخور جلا کر مجھے  غضبناک کیا۔”

18 خداوند نے  مجھے  دکھا یا کہ کچھ لوگ میرے  خلاف سازش کر رہے  ہیں۔

19 خداوند نے  مجھے  دکھا یا کہ میں  اس پالتو میمنہ کی مانند تھا جسے  ذبح کرنے  کے  لئے  لے  جا یا جاتا ہے  اور میں  اس سے  بے  خبر تھا۔ وہ لوگ کہہ رہے  تھے  یہ سب باتیں  میرے  با رے  میں  کہہ رہے  تھے  : “ہم لوگ درخت کو اس کے  پھل سمیت کاٹ کر تباہ کر دیں تا کہ اس کا نام مستقل طور پر ان لوگوں  کی فہرست سے  جو کہ زندہ ہیں  ہٹ جائے۔ ”

20 لیکن اے  خداوند قادر مطلق تو صداقت سے  عدالت کرتا ہے۔ تو لوگوں  کے  دل و دماغ کی آزمائش کرنا جانتا ہے۔ برائے  مہربانی ان لوگوں  سے  بدلہ لے  کیوں  کہ میں  اپنی حفاظت کے  لئے  تم پر منحصر کرتا ہوں۔

21 عنتوت کے  لوگوں  نے  یرمیاہ سے  کہا تھا ” خداوند کے  نام نبوت نہ کرو ورن ہم تمہیں  مار ڈالیں  گے۔ ” خداوند نے  ان لوگوں  کے  بارے  میں  یہ کہا۔

22 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” میں  جلد ہی عنتوت کے  لوگوں  کو سزا دوں  گا۔ ان کے  جوان جنگ میں  مارے  جائیں  گے۔ ان کے  بیٹے  بیٹیاں  قحط سالی سے  مریں  گے۔

23 شہر عنتوت میں  کوئی بھی شخص نہیں  بچے  گا۔ کوئی شخص زندہ نہیں  رہے  گا۔ میں  انہیں  سزا دوں  گا۔ میں  ان پر آفت لاؤں  گا۔”

 

 

 

باب :  12

 

 

1 اے  خداوند اگر میں  تجھ سے  بحث کرتا ہوں  تو تُو ہمیشہ ہی صادق نکلتا ہے۔ لیکن میں  تجھ سے  ان سب کے  بارے  میں  پو چھنا چاہتا ہوں  جو صحیح راستے  پر نہیں  ہیں۔ شریر لوگ کامیاب کیوں  ہیں ؟ وہ بے  ایمان ہیں  لیکن ان کی زندگی اتنی آرام کی زندگی کیوں  ہے۔

2 تو نے  ان شریروں  کو یہاں  بسا یا ہے  اور انہوں  نے  جڑ پکڑ لی وہ بڑھ گئے  اور پھل بھی دیئے۔ تو ان کے  منہ سے  نزدیک لیکن ان کے  دلوں  سے  دور ہے۔

3 لیکن اے  میرے  خداوند! تو میرے  دل کو جانتا ہے   تو مجھے  اور میرے  دل کو دیکھتا اور پرکھتا ہے۔ میرا دل تیرے  ساتھ ہے۔ ان شریروں  کو بھیڑوں  کی مانند ذبح ہونے  کے  لئے  کھینچ کر نکال اور قربانی کے  روز کے  لئے  انہیں  چن۔

4 کتنے  زیادہ وقت تک زمین پیاسی پڑی رہے  گی؟ گھاس کب تک سوکھی اور مر جھی ہوئی رہے  گی؟ کیونکہ وہ لوگ جو اس زمین پر رہتے  ہیں  بہت شریر ہیں۔جانور اور پرندے  بھی مر چکے  ہیں۔ وہ شریر لوگ کہتے  ہیں  ” یرمیاہ نہیں  جانتا ہے  کہ کیا ہونے  جا رہا ہے۔ ”

5 ” اے  یرمیاہ! اگر تم پیادوں  کی دوڑ میں  تھک چکے  ہو تو تم سواروں  کے  مقابلہ میں  کیسے  دوڑو گے ؟ اگر تم محفوظ ملک میں  تھک جاتے  ہو تو دریائے  یردن کے  جنگل میں  کیا کرو گے ؟

6 یہ لوگ تمہارے  اپنے  بھائی ہیں۔ تمہارے  اپنے  گھرانے  کے  بڑے  لوگ تمہارے  خلاف منصوبہ بنا رہے  ہیں۔ تمہارے  اپنے  گھرانے  کے  لوگ تم پر چیخ رہے  ہیں۔ اگر چہ وہ تم سے  میٹھی میٹھی باتیں  کریں  ان پر بھروسہ نہ کرو۔”

7 میں  نے  ( خداوند ) اپنا گھر چھوڑ دیا ہے۔ میں  نے  اپنی میراث کو رد کر دیا ہے۔ میں  نے  جس سے  ( یہوداہ ) پیار کیا ہے   اسے  اس کے  دشمنوں  کے  حوالے  کر دیا ہے۔

8 میرے  اپنے  لوگ میرے  لئے  جنگلی شیر بن گئے  ہیں۔ وہ مجھ پر گرجتے  ہیں۔ اس لئے  میں  ان سے  نفرت کرتا ہوں۔

9 میری میراث شکاری پرندہ کی طرح میرے  بعد آیا ہے۔ شکاری پرندے  ان لوگوں  کو گھیر لئے  ہیں  آؤ سب دشتی درندوں  کو جمع کرو۔تا کہ وہ کھا سکیں۔

10 بہت سے  چروا ہوں  نے  میرے  تاکستان کو خراب کیا ان چرواہوں  نے  میرے  کھیت کو روندا ہے۔ ان چروا ہوں  نے  میرے  خوبصورت کھیت کو بیا بان میں  تبدیل کر دیا ہے۔

11 انہوں  نے  میرے  کھیت کو بیابان میں  بدل دیا ہے۔ یہ سو کھ گیا۔ سارا ملک بیا بان بن گیا ہے۔ لیکن کسی نے  توجہ نہیں  دی۔

12 ان کے  سپاہی ان ویران پہاڑیوں  کو روندتے  گئے  ہیں۔خداوند نے  ان سپاہیوں  کا استعمال اس ملک کو سزا دینے  کے  لئے  کیا سارے  ملک کو ایک سرے  سے  دورسے  سرے  تک سزا دی گئی تھی۔کوئی شخص محفوظ نہ رہا تھا۔

13 لوگ گیہوں  بوئیں  گے   لیکن وہ صرف کانٹے  ہی کا ٹیں  گے۔ انہوں  نے  مشقت اٹھائی لیکن فائدہ نہ اٹھا یا۔ وہ اپنی فصل پر نادم ہوں  گے۔ خداوند کے  قہرنے  یہ سب کچھ کیا۔”

14 اس طرح میں  خداوند فرماتا ہوں  : “میں  اپنے  لوگوں  کے  سارے  شریر پڑوسیوں  کے  خلاف ہو جاؤں  گا۔ میں  ان لوگوں  کو سطح زمین سے  اکھاڑ ڈالوں  گا جو موروثی زمین کے  نزدیک رہے  جسے  کہ میں  نے  اسرائیل کی قوموں  کو دی تھی۔ میں  اسرائیل کے  خاندان کو بھی ان کے  درمیان سے  نکال پھینکوں  گا۔

15 لیکن ان لوگوں  کو ان کے  ملک سے  اکھاڑ پھینکنے  کے  بعد میں  ان کے  لئے  افسوس کروں  گا۔ اور ہر ایک کو ان کی میراث میں  اور ہر ایک کو ان کی زمین میں  پھر لاؤں  گا۔

16 اور یوں  ہو گا کہ اگر وہ دل لگا کر میرے  لوگوں  کے  راستہ کو سیکھیں  گے  کہ میرے  نام کی قسم کھائیں  کہ خداوند زندہ ہے   جیسا کہ انہوں  نے  میرے  لوگوں  کو سکھا یا کہ بعل کی قسم کھائیں  تو وہ میرے  لوگوں  میں  شامل ہو کر قائم ہو جائیں  گے۔

17 لیکن اگر کوئی قوم میرے  پیغام کو اَن سنی کر تی ہے  تو میں  اسے  پوری طرح فنا کر دوں  گا۔ میں  اسے  سو کھے  پو دے  کی مانند اکھاڑ ڈالوں  گا۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

 

 

 

باب :  13

 

 

1 خداوند نے  مجھے  یوں  فرمایا : ” تم جا کر اپنے  لئے  ایک کتانی کمربند خرید لو اور اسے  اپنی کمر میں  باندھ لو۔اسے  پانی میں  مت ڈالو۔ ”

2 اس لئے  میں  نے  خداوند کے  کلام کے  موافق ایک کمر بند خرید لیا اور اپنی کمر پر باندھا۔

3 تب خداوند کا کلام میرے  پاس دو بارہ آیا۔

4 کلام یہ تھا : ” اے  یرمیاہ! اپنے  خریدے  گئے  اور پہنے  گئے  کمر بند کو لو اور دریائے  فرات کو جاؤ کمربند کو چٹانوں  کی شگاف میں  چھپا دو۔”

5 اس لئے  میں  دریائے  فرات گیا اور جیسا خداوند نے  کہا تھا۔ میں  نے  کمر بند کو وہاں  چھپا دیا۔

6 کئی دنوں  بعد خداوند نے  مجھ سے  کہا ” اے  یرمیاہ! اب تم دریائے  فرات جاؤ۔اس کمر بند کو لو جسے  میں  نے  چھپانے  کو کہا تھا۔”

7 اس لئے  میں  دریائے  فرات کو گیا اور میں  نے  کھود کر کمربند کو چٹانوں  کی شگاف سے  نکالا جہاں  میں  نے  اسے  چھپا رکھا تھا۔ لیکن اب میں  کمربند کو پہن نہیں  سکتا تھا کیوں  کہ وہ ایسا خراب ہو گیا تھا کہ کسی کام کا نہ رہا تھا۔

8 تب خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔

9 کہ خداوند یوں  فرماتا ہے  : ” اسی طرح میں  یہوداہ کے  گھمنڈ اور یروشلم کے  بڑے  غرور کو ختم کروں  گا۔

10 ” میں  یہوداہ کے  شریر لوگوں  کو فنا کروں  گا انہوں  نے  میرے  کلام کو سننے  سے  انکار کیا ہے  کیوں  کہ وہ ضدی ہیں  اور وہ صرف وہ کرتے  ہیں  جو وہ کرنا چاہتے  ہیں۔ وہ جھوٹے  خداؤں  سے  دعا مانگتے  ہیں  اور ان کی عبادت کرتے  ہیں۔ وہ اس کمر بند کی مانند ہو گئے  ہیں۔ جو کسی کام کا نہیں  ہے۔

11 خداوند فرماتا ہے   ” جیسا کہ کمر بند کمر سے  باندھا ہوا رہتا ہے  ویسا ہی میں  اسرائیل اور یہوداہ کے  لوگوں  کو کہوں  گا کہ مجھ سے  بندھے  ہوئے  رہیں تا کہ وہ میرے  لوگ ہوں  اور ان کے  سبب سے  میرا نام ہو اور میرے  جلال کے  لئے  میری ستائش ہو لیکن انہوں  نے  میری نہ سنی۔”

12 ” اے  یرمیاہ! یہوداہ کے  لوگوں  سے  کہو: ” اسرائیل کا خداوند خدا جو کہتا ہے   وہ یہ ہے  : ہر ایک مٹکے  میں  مئے  بھری جائے  گی۔ وہ لوگ ہنسیں  گے  اور تم سے  کہیں  گے۔ یقیناً ہی ہم جانتے  ہیں۔ کہ ہر ایک مٹکے  میں  مئے  بھری جائے  گی۔

13 تب تم ان سے  کہنا خداوند یوں  فرماتا ہے   ‘ دیکھو میں  اس ملک کے  سب باشندوں  کو ہاں  ان بادشاہوں  کو جو داؤد کے  تخت پر بیٹھتے  ہیں  اور کاہنوں  اور نبیوں  اور یروشلم کے  سب باشندوں  کو مستی سے  بھر دوں  گا۔

14 میں  یہوداہ کہ لوگوں  کو ٹھو کر کھا کر ایک دوسرے  پر گرنے  دوں  گا۔ یہاں  تک کہ با پ اور بیٹا ایک دوسرے  پر گریں  گے۔ ” یہ خداوند کا کلام ہے   ” میں  نہ ان کے  لئے  افسوس کروں  گا اور نہ ہی ان پر رحم کروں  گا۔ اور جب وہ برباد ہوں  گے  میں  نہ ہی ان کی مدد کروں  گا اور نہ ہی ان پر رحم کھاؤں  گا۔”

15 سنو اور توجہ دو خداوند نے  تمہیں  کلام دیا ہے   گھمنڈی مت بنو۔

16 اپنے  خداوند خدا کی تعظیم و تکریم کرو اس کی ستائش کرو نہیں  تو وہ تا ریکی لائے  گا۔تاریک پہاڑوں  پر لڑ کھڑانے  اور گرنے  سے  پہلے  اس کی ستائش کرو۔ یہوداہ کے  لوگو! تم روشنی کی امید کرتے  ہو لیکن خداوند روشنی کو گہری تاریکی میں  بدلے  گا۔خداوند روشنی کو بہت ہی زیادہ گہری تاریکی میں  بدل دے  گا۔

17 یہوداہ کے  لوگو! اگر تم خداوند کی سننے  سے  انکار کرتے  ہو تو تیرے  غرور کے  سبب سے  میں  اکیلا روؤں  گا۔ ہاں  میری آنکھیں  پھو ٹ پھو ٹ کر روئیں  گی اور آنسو بہائیں  گی۔ خداوند کا گلہ اسیری میں  چلا گیا۔

18 یہ باتیں  بادشاہ اور اس کی ماں  سے  کہنا چاہئے   “اپنے  تخت سے  اترو کیوں  کہ تمہارے  حسین تاج تمہارے  سروں  سے  گر چکے  ہیں۔”

19 جنوب کے  شہر بند ہو گئے  اور کوئی نہیں  کھولتا۔سب بنی یہوداہ اسیر ہو گئے  سب کو اسیر کر کے  لئے  گئے۔

20 اے  یروشلم! غور سے  دیکھو! دشمنوں  کو شمال سے  آتے  دیکھو۔ وہ گلہ جو تمہیں  دیا گیا تھا تمہارا خوشنما گلہ کہاں  ہے ؟

21 ماضی میں  تم نے  لوگوں  کو تعلیم دی لیکن آنے  والے  وقت وہ تمہارے  قا ئد ہوں  گے۔ تب تم کیا کرو گے ؟ تم اس عورت کی مانند ہو گے  جو دردِ زہ میں  مبتلا ہو تی ہے۔

22 تم اپنے  آپ  سے  پو چھ سکتے  ہو ” مجھے  ایسی تکلیفوں  کا سامنا کیوں  کرنا پڑے  گا۔” یہ مصیبت تمہارے  انگنت گنا ہوں  کے  سبب آئیں  گی۔ تمہارے  گنا ہوں  کے  سبب تمہیں  بے  لباس کیا گیا تمہارے  ساتھ جنسی بد سلوکی کی گئی۔

23 ایک حبشی اپنے  چمڑے  کو بدل نہیں  سکتا۔ ایک چیتا اپنے  داغوں  کو نہیں  بدل سکتا۔ اے  یروشلم! اسی طرح تم بھی بدل نہیں  سکتے   اچھا کام نہیں  کر سکتے۔ تم ہمیشہ بُرا کام کرتے  ہو۔

24 ‘ میں  تمہیں  اسی طرح تِتر بِتر کر دوں  گا جس طرح بیابان کی ہوا پیال کو اڑا لے  جا تی ہے۔

25 یہ وہ ساری باتیں  ہیں  جو تمہارے  ساتھ ساتھ ہوں  گی یہ میرے  منصوبے  ہی تیرا حصہ ہے۔ ” یہ کلام خداوند کا ہے۔ ” یہ کیوں  ہو گا؟ کیوں  کہ تم مجھے  بھول گئے   تم نے  جھوٹے  خداؤں  پر ایمان لا یا۔

26 اے  یروشلم! میں  تمہارا لباس اتاروں  گا۔ لوگ تمہاری برہنگی دیکھیں  گے۔ اور تم شرم سے  پانی پانی ہو جاؤ گے۔

27 میں  نے  تمہاری بدکاری تمہاری جنسی خواہش تمہارا گناہ سے  بھرا عمل اور تمہارے  نفرت انگیز کام جو تم نے  پہاڑیوں  پر اور میدانوں  میں  اپنے  عاشقوں  کے  ساتھ کئے  دیکھے  ہیں۔ اے  یروشلم! تمہارا برا ہو! کب تک تم ایسی گندی حرکتیں  کرتے  رہو گے ؟ ”

 

 

 

باب :  14

 

 

1 خداوند کا وہ کلام جو خشک سالی کی بابت یرمیاہ پر نازل ہوا :

2 یہوداہ ماتم کرتا ہے  کیوں  کہ ان کے  شہر کمزور ہیں  اور اندھیرا زمین کو ڈھک لیا ہے۔ یروشلم خدا سے  بلند آواز میں  چلا رہا ہے۔

3 امراء اپنے  خادموں  کو پانی لانے  کے  لئے  بھیجتے  ہیں۔ وہ کنواں  تک جاتے  ہیں  لیکن وہ پانی نہیں  پا تے۔ وہ خادم خالی گھڑے  لئے  لوٹ آتے  ہیں۔اس لئے  وہ صرف شرمندہ نہ ہوئے  بلکہ پریشان بھی ہوئے۔ وہ اپنے  سر کو شرم سے  ڈھانپ لیتے  ہیں۔

4 کوئی بھی فصل کے  لئے  زمین تیار نہیں  کرتا۔ زمین پر بارش نہیں  ہو ئی۔ کسان پریشان ہیں۔ اس لئے  انہوں  نے  اپنے  سر شرم سے  ڈھانپ لئے  ہیں۔

5 یہاں  تک کہ ہرنی بھی میدان میں  بچہ دے  کر اسے  چھوڑ دیتی ہے  کیوں  کہ گھاس نہیں  ملتی۔

6 جنگلی گدھے  سنسان ٹیلوں  پر کھڑے  ہو کر گیدڑوں  کی مانند ہانپتے  ہیں۔ لیکن ان کی آنکھوں  کو کوئی چرنے  یا کھانے  کی چیز نہیں  دکھائی پڑتی۔ چرنے  کے  قابل وہاں  کوئی پودا نہیں  ہے۔ ”

7 ” ہم جانتے  ہیں  کہ یہ سب کچھ ہمارے  قصور کے  سبب ہے۔ ہم اب اپنے  گنا ہوں  کے  سبب مصیبت اٹھا رہے  ہیں۔ اے  خداوند! اپنی شہرت حفاظت کی خاطر ہماری مدد کر۔ہم اقرار کرتے  ہیں  کہ ہم لوگوں  نے  تجھ کو کئی بار چھوڑا ہے۔ ہم لوگوں  نے  تیرے  خلاف خطا کی ہے۔

8 اے  خدا! تو ہی صرف اسرائیل کی امید ہے۔ مصیبت کے  دنوں  میں  تو نے  ہی تو اسرائیل کو بچا یا۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے  کہ تو اس ملک میں  اجنبی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے  کہ تو ایک مسافر کی مانند ہے  جو صرف ادھر سے  گذر رہا ہو۔

9 تو اس شخص کی مانند لگتا ہے  جس پر اچانک حملہ کیا گیا ہو۔ تو اس سپاہی کی طرح ہے  جس کے  پاس کسی کو بچانے  کی قوت نہ ہو۔ لیکن اے  خداوند تو ہمارے  ساتھ ہے۔ ہم تیرے  نام سے  پکارے  جاتے  ہیں  اس لئے  ہمیں  بے  سہا را نہ چھوڑو ”

10 ” یہوداہ کے  لوگوں  کے  با رے  میں  خداوند جو کہتا ہے   وہ یہ ہے  : یہوداہ کے  لوگ سچ مچ مجھے  چھوڑنے  میں  مسرور ہیں۔ وہ لوگ مجھے  چھوڑ نا اب بھی بند نہیں  کر تے۔ اس لئے  اب خداوند انہیں  نہیں  اپنائے  گا۔ اب خداوند ان کے  بُرے  کاموں  کو یاد رکھے  گا جنہیں  وہ کرتے  ہیں۔ خداوند انہیں  ان کے  گنا ہوں  کے  لئے  سزا دے  گا۔”

11 تب خداوند نے  مجھ سے  کہا ” اے  یرمیاہ! یہوداہ کے  لوگوں  کی بھلائی کے  لئے  دعا نہ کرو۔

12 میں  ان کے  رو زہ رکھنے  کے  دوران بھی ان کے  غموں  کو نہ سنوں  گا۔ اور جب وہ مجھے  جلانے  کا نذرانہ اور اناج کا نذرانہ پیش کریں  گے  تو میں  قبول نہ کروں  گا۔ بلکہ اس کے  بجائے  میں  انہیں  جنگ قحط سالی اور مہلک خوفناک بیماری سے  برباد کر دوں  گا۔”

13 لیکن میں  نے  خداوند سے  کہا ” ہمارے  مالک خداوند! نبی لوگوں  سے  کچھ اور ہی کہہ رہے  تھے۔ وہ یہوداہ کے  لوگوں  سے  کہہ رہے  تھے   تم لوگ دشمن کی تلوار سے  دکھ نہیں  اٹھاؤ گے۔ تم لوگوں  کو کبھی بھوک سے  مصیبت نہیں  ہو گی۔ خداوند تمہیں  اس ملک میں  سلامتی دے  گا۔”

14 تب خداوند نے  مجھ سے  کہا ” اے  یرمیاہ! وہ نبی میرے  نام پر جھوٹی نبوت کرتے  ہیں۔ میں  نے  ان نبیوں  کو نہیں  بھیجا اور نہ حکم دیا اور نہ ان سے  کلام کیا۔ وہ جھوٹی رو یا غیب دانی اور دھو کہ بازی سے  اپنی نبوت کو ظاہر کرتے  ہیں۔

15 وہ جھوٹے  نبی جو کہ میرے  نبی ہونے  کا دعویٰ کرتے  ہیں  حالانکہ میں  نے  ان لوگوں  کو نہیں  بھیجا ہے  کہتے  ہیں  ‘ یہ ملک نہ تو دشمنوں  کی تلوار کا سا منا کرے  گا اور نہ ہی کسی قدرتی آفت کا سامنا کرے  گا۔’ اس لئے  خداوند نے  ان نبیوں  کے  با رے  میں  یہ کہا ہے  : وہ اپنے  دشمنوں  کی تلوار سے  یا قدرتی آفت سے  پوری طرح تباہ و بر باد ہو جائیں  گے۔

16 ان لوگوں  کو جن سے  وہ نبی باتیں  کرتے  ہیں  یروشلم کی گلیوں  میں  پھینک دیئے  جائیں  گے۔ وہ لوگ یا تو بھو کے  مریں  گے  یا پھر دشمن کی تلوا رسے  ہلاک ہو جائیں  گے  کوئی شخص ان کو یا ان کی بیویوں  یا ان کے  بیٹوں  یا ان کی بیٹیوں  کو دفنانے  کے  لئے  نہیں  رہے  گا۔ میں  ان سبھوں  کو سزا دوں  گا۔

17 ” اے  یرمیاہ! یہ پیغام یہوداہ کے  لوگوں  کو دو : ‘ میری آنکھیں  آنسوؤں  سے  بھری ہوئی ہیں۔ میں  شب و روز لگاتار روؤں  گا۔ میں  اپنی کنواری دختر کے  لئے  روؤں  گا۔میں  اپنے  لوگوں  کے  لئے  روؤں  گا۔کیوں ؟ کیوں  کہ کسی نے  ان پر حملہ کیا اور انہیں  کچل ڈالا۔ وہ بُری طرح زخمی کئے  گئے  ہیں۔

18 اگر میں  با ہر میدان میں  جاؤں  تو وہاں  تلوار کے  مقتول ہیں ! اور اگر میں  شہر میں  داخل ہوؤں  تو وہاں  قحط سالی کے  مارے  ہیں ! ہاں  نبی اور کاہن دونوں  ایک ایسے  ملک کو جائیں  گے  جسے  وہ نہیں  جانتے۔ ”

19 اے  خداوند! کیا تو نے  پوری طرح سے  یہوداہ کو چھوڑ دیا ہے ؟ اے  خداوند! کیا تو صیون کو سچ مچ میں  چھوڑ دیا ہے ؟ تو نے  اسے  اس طرح سے  چوٹ پہنچائی ہے  کہ وہ پھر سے  اچھے  نہیں  بنائے  جا سکتے  ہیں۔ تو نے  ویسا کیوں  کیا؟ ہم سلامتی چاہتے  ہیں۔ لیکن کچھ بھی اچھا نہیں  ہوا۔ہم لوگ اپنے  زخموں  کو بھرنے  کی امید رکھتے  تھے  لیکن ہم لوگ زیادہ سے  زیادہ مصیبتوں  سے  گذرتے  ہیں۔

20 اے  خداوند ہم جانتے  ہیں  کہ ہم بہت برے  لوگ ہیں  ہم جانتے  ہیں  کہ ہمارے  باپ دادا نے  برے  کام کئے۔ ہاں  ہم نے  تیرے  خلاف گناہ کئے۔

21 اے  خداوند! اپنے  نام کی اچھائی کی خاطر تو ہمیں  دھکا دے  کر دور نہ کر اور اپنے  جلال کے  تخت کی تحقیر نہ کر۔ ہمارے  ساتھ کئے  گئے  معاہدے  کو یاد رکھ اور اسے  نہ توڑ۔

22 قوموں  کے  بتوں  میں  بارش لانے  کی قوت نہیں  ہے۔ وہ آسمان سے  بارش نہیں  بر سا سکتا ہے۔ اے  خداوند صرف تو ہی ہماری امید ہے  اور تو نے  ہی یہ سب کام کیا ہے۔ ”

 

 

 

باب :  15

 

 

1 خداوند نے  مجھ سے  کہا ” اے  یرمیاہ! اگر موسیٰ یا سموئیل بھی یہوداہ کے  لوگوں  کی بھلائی کے  لئے  دعا کئے  ہوتے  تو بھی وہ ان لوگوں  کے  لئے  افسوس نہیں  کرتا۔ یہوداہ کے  لوگوں  کو مجھ سے  دور بھیجو۔ ان سے  جانے  کو کہو۔

2 وہ لوگ تم سے  پوچھ سکتے  ہیں  ‘ ہم لوگ کہاں  جائیں  گے ؟ ‘ تم ان سے  کہو خداوند جو کہتا ہے  وہ یہ ہے  : ‘ میں  نے  کچھ لوگوں  کو مرنے  کے  لئے  منتخب کیا ہے۔ وہ لوگ مریں  گے   میں  نے  کچھ لوگوں  کو تلوار سے  قتل کرنے  کے  لئے  منتخب کیا ہے   وہ لوگ تلوار سے  ہلاک کئے  جائیں  گے۔ میں  نے  کچھ کو بھوک سے  مرنے  کے  لئے  منتخب کیا ہے   وہ لوگ بھوک سے  مریں  گے۔ میں  نے  کچھ لوگوں  کو اسیر ہو کر غیر ملک لے  جائے  جانے  کے  لئے  منتخب کیا ہے۔ وہ لوگ ان غیر ملکوں  میں  اسیر رہیں  گے۔

3 اور میں  چار چیزوں  کو ان پر مسلط کروں  گا۔’ خداوند فرماتا ہے   ‘ تلوار کو کہ قتل کرے  اور کتوں  کو کہ ان کے  جسموں  کو پھاڑ ڈالیں  اور آسمانی پرندوں  و زمینی درندوں  کو کہ انہیں  نگل جائیں  اور تباہ کر دیں۔

4 اور میں  ان کو شاہ یہوداہ منشّی بن حزقیاہ کے  سبب سے  اس کام کے  باعث جو اس نے  یروشلم میں  کیا ترک کر دوں  گا کہ زمین کی سب مملکتوں  میں  دھکے  کھاتے  پھریں۔’

5 ” اے  یروشلم شہر تمہارے  لئے  کوئی افسوس نہیں  کرے  گا۔ کوئی شخص تمہارے  لئے  نہ دکھی ہو گا نہ ہی روئے  گا۔ کون تمہاری طرف آئے  گا کہ تمہاری خیر و عافیت پو چھے۔ ”

6 اے  یروشلم! تم نے  مجھے  چھوڑا! اس لئے  میں  سزا دوں  گا اور تمہیں  فنا کروں  گا۔ میں  تم پر رحم کرتے  ہوئے  تھک گیا ہوں۔

7 میں  اپنے  نصب کئے  ہوئے  دو شاخہ سے  یہوداہ کے  لوگوں  کو ان کے  سبھی شہروں  میں  تِتر بتر کر دوں  گا۔ میرے  لوگ بدلے  نہیں  ہیں  اس لئے  میں  انہیں  فنا کروں  گا۔ میں  ان کے  بچوں  کولے  لوں  گا۔

8 سمندر کی ریت سے  بھی زیادہ وہاں  بیوائیں  ہوں  گی۔ میں  نے  دو پہر کے  وقت جو ان لوگوں  کی ماں  پر غارتگر کو مسلط کیا۔ میں  نے  اس پر ناگہاں  آفت و دہشت کو ڈال دیا۔

9 ایک عورت کو ہو سکتا ہے  سات بیٹے  ہوں  لیکن پھر بھی وہ کمزور ہو گی اور بے  ہو جائے  گی۔ اس کا سورج دن کے  دوران ہی ڈوب جائے  گا۔ وہ شرمندہ اور پریشان ہو گی۔ تب دشمن تلوار سے  حملہ کریں  گے  اور یہوداہ کے  باقی بچے  لوگوں  کو مار ڈالیں  گے۔ خداوند نے  یہ کہا۔”

10 اے  میری ماں  مجھ پر افسوس کہ میں  تجھ سے  تمام دنیا کے  لئے  لڑا کو آدمی  اور جھگڑالو شخص پیدا ہوا! میں  نے  تو نہ سود پر قرض دیا اور نہ قرض لیا تو پھر بھی ان میں  سے  ہر ایک مجھ پر لعنت کرتا ہے۔

11 خداوند نے  فرمایا یقیناً تجھے  قوت بخشوں  گا کہ تیری خیر ہو۔ یقیناً میں  مصیبت اور تنگی کے  وقت میں  تمہیں  تیرے  دشمنوں  سے  بچاؤں  گا۔

12 ” اے  یرمیاہ! تم جانتے  ہو کہ کوئی بھی شخص لوہے  کے   ٹکڑے  کو چکنا چور نہیں  کر سکتا میرا مطلب اس لوہے  سے  ہے  جو شمال کا ہے  اور کوئی شخص پیتل کے  ٹکڑے  کو بھی چکنا چور نہیں  کر سکتا۔

13 یہوداہ کے  لوگوں  کے  پاس مال اور خزانے  ہیں۔ میں  اس مال کو دیگر لوگوں  کو دوں  گا۔ ان دیگر لوگوں  کو وہ مال خریدنا نہیں  پڑے  گا۔ میں  انہیں  وہ مال دوں  گا۔ کیوں ؟ کیوں  کہ یہوداہ نے  بہت گناہ کئے  ہیں  یہوداہ نے  ملک کے  ہر حصہ میں  گناہ کیا ہے۔

14 اے  یہوداہ کے  لوگ! میں  تمہیں  تمہارے  دشمنوں  کے  حوالے  کروں  گا۔ اس زمین پر جسے  تم نہیں  جانتے  ہو۔ تم اس ملک میں  غلام ہو گے  جسے  تم نے  کبھی جا نا نہیں۔ میرے  غضب کی آگ بھڑ کے  گی اور تم کو جلا ڈالے  گی۔”

15 اے  خداوند! تو مجھے  سمجھتا ہے   مجھے  یاد رکھ اور میری دیکھ بھال کر لوگ مجھے  چوٹ پہنچاتے  ہیں۔ ان لوگوں  کو وہ سزا دے  جس کے  وہ مستحق ہیں۔ تیرا تحمل ان لوگوں  کے  تئیں  ہے۔ لیکن ان کے  تئیں  تحمل رکھتے  وقت مجھے  برباد نہ کر دے۔ میرے  بارے  میں  سوچ۔ اے  خداوند! اس مصیبت کو سوچ جو میں  تیرے  لئے  سہتا ہوں۔

16 تیرا کلام مجھے  ملا اور میں  نے  اسے  اپنے  میں  سما لیا۔ تیرے  کلام نے  مجھے  بہت شادمانی بخشی میں  خوش تھا کہ مجھے  تیرے  نام سے  پکارا جاتا ہے۔ تیرا نام خداوند قادر مطلق ہے۔

17 میں  نے  کبھی محفلوں  میں  دوسروں  کی طرح جی بھر کے  مزہ نہیں  لیا۔ کیوں  کہ تم میرے  آقا ہو۔ میں  تنہا رہا کیوں  کہ تو نے  مجھے  اپنے  قہر و غضب سے  بھر دیا تھا۔

18 میں  نہیں  سمجھ پا یا کیوں  کہ میرا درد لگا تار اور ہر وقت ہے ؟ میں  نہیں  سمجھ پا یا کہ میرا زخم اچھا کیوں  نہیں  ہوتا؟ اور میں  کیوں  صحت مند نہیں  ہوں ؟ اے  خداوند میں  تم سے  مایوس ہو گیا۔ تو ندی کے  اس پانی کی طرح ہے  جو سوکھ گیا ہو۔ تو اس ندی کی طرح ہے  جس کا پانی بہنے  سے  رک گیا ہو۔

19 تب خداوند نے  کہا ” اے  یرمیاہ اگر تم بدل جاتے  ہو اور میرے  پاس آتے  ہو تو میں  تمہیں  سزا نہیں  دوں  گا۔ اگر تم بدل جاتے  ہو اور میرے  پاس آتے  ہو تو تم میری خدمت کر سکتے  ہو۔ اگر تم اہم بات کہتے  ہو اور ان بیکار کی باتوں  کو نہیں  کہتے  تو تم میرے  لئے  کہہ سکتے  ہو اے  یرمیاہ! بنی یہوداہ کو بدلنا چاہئے  اور تمہارے  پاس آنا چاہئے۔ لیکن تم مت بدلو اور ان کی مانند نہ بنو۔

20 میں  تمہیں  طاقتور بناؤں  گا۔ وہ لوگ سوچیں  گے  کہ تم پیتل کی بنی دیوار جیسے  طاقتور ہو یہوداہ کے  لوگ تمہارے  خلاف لڑیں  گے۔ لیکن وہ تمہیں  نہیں  ہرائیں  گے۔ وہ تم کو نہیں  ہرائیں  گے۔ کیوں ؟ کیوں  کہ میں  تمہارے  ساتھ ہوں۔ میں  تمہاری مدد کروں  گا اور تمہیں  رہائی دوں  گا۔”

21 ” میں  تمہیں  ان بڑے  لوگوں  سے  رہائی دلاؤں  گا۔ وہ لوگ تمہیں  ڈراتے  ہیں۔ لیکن میں  تمہیں  ان لوگوں  سے  بچاؤں  گا۔”

 

 

 

باب :  16

 

 

1 تب خداوند نے  مجھ سے  فرمایا :

2 ” اے  یرمیاہ! تمہیں  بیاہ نہیں  کرنا چاہئے۔ تمہیں  اس مقام پر بیٹا یا بیٹی پیدا نہیں  کرنی چاہئے۔ ”

3 یہوداہ ملک میں  جنم لینے  والے  بیٹوں  اور بیٹیوں  کے  بارے  میں  خداوند یہ کہتا ہے   اور ان بچوں  کے  ماں  باپ کے  بارے  میں  جو خداوند کہتا ہے   وہ یہ ہے  :

4 ” وہ لوگ بھیانک موت کا شکار ہوں  گے   ان لوگوں  کے  لئے  کوئی روئے  گا نہیں۔ اور نہ وہ دفن کئے  جائیں  گے۔ ان کی لاشیں  زمین پر کھاد کی مانند پڑی رہیں  گی وہ لوگ دشمن کے  تلوار سے  ہلاک ہوں  گے  یا بھو کے  مریں  گے  اور ان کی لاشیں  ہوا کے  پرندوں  اور زمین کے  درندوں  کی خوراک ہوں  گی۔”

5 اس لئے  خداوند یوں  فرماتا ہے  : “ان کے  ماتم والے  گھر میں  داخل نہ ہو اور نہ ہی ان کے  لئے  رنجیدہ ہو۔ کیوں  کہ میں  ان مرے  ہوئے  لوگوں  پر سے  سلامتی پیار اور رحم کو اٹھا لیا ہوں۔” خداوند یہ فرماتا ہے۔

6 ” یہوداہ ملک میں  اہم اور عام لوگ مریں  گے۔ نہ وہ دفن کئے  جائیں  گے  نہ لوگ ان پر ماتم کریں  گے۔ ان لوگوں  کے  لئے  غم ظاہر کرنے  کو نہ کوئی خود کو زخمی کرے  گا اور نہ ہی اپنے  سر کے  بال صاف کرائے  گا۔

7 کوئی شخص ان لوگوں  کے  لئے  کھانا نہیں  لائے  گاتا کہ ان کو مردوں  کی بابت تسلی دیں  اور نہ ان کو دلداری کا پیالہ دیں  گے  کہ وہ اپنے  ماں  باپ کے  غم میں  پئیں۔

8 ” اے  یرمیاہ! اس گھر میں  نہ جاؤ جہاں  لوگ دعوت کھا رہے  ہو ں۔اس گھر میں  نہ جاؤ اور ان کے  ساتھ بیٹھ کر کھانا نہ کھاؤ نہ مئے  پیو۔

9 اسرائیل کا خدا قادر مطلق یوں  فرماتا ہے  :’میں  لوگوں  کی شادی کا جشن منانا خوشی منانا اور شادی میں  شرکت کرنا بند کر دوں  گا۔اس کے  لئے  بہت جلد ہی قدم اٹھا یا جا گا اور یہ تمہارے  ہی دنوں  میں  ہو گا۔’

10 ” اے  یرمیاہ! تم یہوداہ کے  لوگوں  کو یہ باتیں  بتاؤ گے  اور لوگ تم سے  پو چھیں  گے   ‘خداوند نے  ہم لوگوں  کے  لئے  اتنی بھیانک باتیں  کیوں  کہی ہیں ؟ ہم نے  کیا غلط کام کیا ہے ؟ ہم لوگوں  نے  خداوند اپنے  خدا کے  خلاف کون سا گناہ کیا ہے ؟ ‘

11 تب تم ان سے  کہنا خداوند فرماتا ہے۔ اس لئے  کہ تمہارے  با پ دادا نے  مجھے  چھوڑ دیا اور دوسرے  خداؤں  کے  طالب ہوئے  اور ان کی عبادت کی اور مجھے  ترک کیا اور میری شریعت پر عمل نہیں  کیا۔

12 لیکن تم لوگوں  نے  اپنے  با پ دادا سے  بھی زیادہ گناہ کیا ہے۔ تم میں  سے  ہر کوئی ضد میں  آ کر جو کچھ بھی بُرا کام کرنا چاہتا تھا وہ کیا۔ تم میری پیرو ی نہیں  کر رہے  ہو۔

13 اس لئے  میں  تمہیں  اس ملک سے  نکال پھینکوں  گا۔میں  تمہیں  غیر ملک جانے  پر مجبور کروں  گا۔تم ایسے  ملک میں  جاؤ گے  جسے  تم نے  اور تمہارے  باپ دادا نے  کبھی نہیں  جانا۔ اس ملک میں  تم ان جھوٹے  خداؤں  کی عبادت دن رات کر سکتے  ہو۔ میں  نہ تو تمہاری مدد کروں  گا اور نہ تمہاری طرفداری کروں  گا۔

14 ” اب لوگ جب کہ وہ وعدہ کرتے  ہیں  وہ کہتے  ہیں  ‘میں  یقیناً اسے  ویسا ہی کروں  گا۔جیسے  کہ خداوند نے  اسرائیل کو مصر سے  با ہر لایا۔’ لیکن خداوند کہتا ہے   ” وقت آ رہا ہے  کہ جب لوگ اسے  نہیں  کریں  گے۔ ”

15 بلکہ زندہ خداوند کی قسم جو بنی اسرائیل کو شمال کی سرزمین سے  اور ان سب مملکتوں  سے  جہاں  جہاں  اس نے  ان کو ہانک دیا تھا نکال لایا اور میں  ان کو  پھر اس ملک میں  لاؤں  گا جو میں  نے  ان باپ دادا کو دیا تھا۔

16 “میں  جلد ہی بہت سے  ماہی گیروں  کو اس ملک میں  آنے  کے  لئے  بلواؤں  گا۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” وہ ماہی گیر یہوداہ کے  لوگوں  کو پکڑ لیں  گے۔ یہ ہونے  کے  بعد میں  بہت سے  شکاریوں  کو اس ملک میں  آنے  کے  لئے  بلواؤں  گا۔وہ شکاری یہوداہ کے  لوگوں  کا شکار ہر ایک پہاڑ پر ٹیلے  اور چٹانوں  کی شگافوں  میں  کریں  گے۔

17 میں  یہ کروں  گا کیوں  کہ میں  وہ سب دیکھ چکا ہوں  جو وہ کئے  ہیں۔ یہوداہ کے  لوگ ان کاموں  کو مجھ سے  چھپا نہیں  سکتے  جنہیں  وہ کرتے  ہیں۔ان کے  گناہ مجھ سے  چھپے  نہیں  ہیں۔

18 یہوداہ کے  لوگوں  نے  جو برے  کام کئے  ہیں  میں  ان کا بدلہ چکاؤں  گا۔میں  ہر ایک گنا ہوں  کے  لئے  دوبارہ ان کو  سزا دوں  گا۔میں  یہ کروں  گا کیونکہ انہوں  نے  میرے  ملک کو گندہ کیا ہے۔ انہوں  نے  میرے  ملک کو بھیانک مورتیوں  سے  ناپاک کیا ہے۔ میں  ان مورتیوں  سے  نفرت کرتا ہوں۔ لیکن انہوں  نے  میرے  ملک کو اپنی مورتیوں  سے  بھر دیا ہے۔ ”

19 اے  خداوند میری قوت اور میری قلعہ اور مصیبت کے  دن میری پناہ گاہ! دنیا کے  کناروں  سے  قومیں  تیرے  پاس آ کر کہیں  گی کہ فی الحقیقت ہمارے  با پ دادا نے  محض جھوٹ کی میراث حاصل کی یعنی بطلان اور بے  سود چیزیں۔

20 کیا لوگ اپنے  لئے  سچے  خدا بنا سکتے  ہیں۔ نہیں ! وہ مورتیاں  بنا سکتے  ہیں  لیکن وہ مورتیاں  یقیناً خداوند نہیں  ہیں۔

21 خداوند فرماتا ہے   ” میں  ان لوگوں  کو سبق سکھاؤں  گا جو مورتیوں  کی پرستش کرتے  ہیں۔میں  اپنی قوت ان لوگوں  کو دکھلاؤں  گا۔ تب وہ محسوس کریں  گے  کہ میں  خداوند ہو ں۔”

 

 

 

باب :  17

 

 

1 ” گناہوں  کی فہرست جو کہ یہوداہ کے  لوگوں  نے  کئے  تھے  لوہے  کے  قلم سے  پتھروں  پر لکھے  گئے  ہیں۔ ان کے  گناہ ہیرے  کی نوک والے  قلم سے  لکھے  گئے  تھے۔ اور وہ پتھر تو کچھ نہیں  لیکن ان کا دل ہے   وہ گناہ ان کی قربان گاہ کے  پتھروں  پر کندہ کیا گیا ہے۔

2 ان کے  بچے  ان قربان گاہوں  اور ان متبرک ستونوں  کو یاد کرتے  ہیں۔ وہ قربان گاہیں  اور متبرک ستون ہرے  درختوں  اور پہاڑوں  کے  نزدیک ہے۔

3 وہ ان چیزوں  کو کھلے  مقام کے  پہاڑوں  پر یاد کرتے  ہیں  یہوداہ کے  لوگوں  کے  پاس مال اور خزانے  ہیں۔ میں  وہ چیزیں  دوسرے  لوگوں  کو دوں  گا۔ میں  تمہارے  ملک کے  سبھی بلند مقاموں  کو نیست و نابود کروں  گا۔ تم نے  ان مقاموں  پر عبادت کر کے  گناہ کیا ہے۔

4 اور تم خود اپنے  کرتوت سے  اس موروثی زمین کو جسے  کہ میں  نے  تمہیں  دی ہے  کھو دو گے۔ اور میں  اس ملک میں  جسے  تم نہیں  جانتے  لے  چلوں  گا اور تم وہاں  اپنے  دشمنوں  کی خدمت کرو گے۔ میں  اسے  کروں  گا۔ کیوں  کہ تم نے  میرے  قہر کی آگ بھڑ کا دی ہے  جو کہ میں  اب ہمیشہ غصّہ میں  ہی رہوں  گا۔”

5 خداوند یوں  فرماتا ہے  : ” جو لوگ صرف دوسرے  لوگوں  پر یقین رکھتے  ہیں  ان کا برا ہو گا۔ جو طاقت کے  لئے  صرف دوسروں  کے  سہارے  رہتے  ہیں  ان کا برا ہو گا۔ کیوں ؟ کیوں  کہ ان لوگوں  نے  خداوند پر یقین کرنا چھوڑ دیا ہے۔

6 کیوں  کہ وہ اس جھاڑی کی مانند ہوں  گے  جو بیابان میں  ہو اور کبھی بھلائی نہ دیکھا ہو۔ یہ ایسی جگہ میں  رہے  گا جہاں  پانی نہ ہو گا ایسی سنسان جگہ میں  جہاں  پر کوئی نہ رہتا ہے۔

7 لیکن جو شخص خداوند میں  یقین رکھتا ہے   شفقت پائے  گا۔ کیوں ؟ کیوں  کہ خداوند ان کو  ایسا دکھائے  گا کہ ان پر یقین کیا جا سکے۔

8 وہ شخص اس پیڑ کی طرح طاقتور ہو گا جو پانی کے  پاس لگایا گیا ہو۔ اس پیڑ کی لمبی جڑیں  ہوتی ہیں  جو پانی پاتے  ہیں۔ وہ پیڑ گرمی کے  دنوں  سے  نہیں  ڈرتا۔ اس کے  پتے  ہمیشہ سبز رہتے  ہیں۔ یہ سال کے  ان دنوں  میں  بھی پریشان نہیں  ہوتا جب بارش نہیں  ہوتی۔ اس پیڑ میں  ہمیشہ پھل آتے  ہیں۔

9 انسان کا دماغ بڑا دھوکہ باز ہے۔ یہ بہت دھوکہ باز بھی ہوسکتا ہے  اور کوئی آدمی  اسے  پوری طرح سمجھ بھی نہیں  سکتا ہے۔

10 لیکن میں  خداوند ہوں  اور انسان کے  دل کو جان سکتا ہوں۔ میں  کسی فرد کے  دماغ کی بھی جانچ کر سکتا ہوں۔ میں  ہر شخص کو اس کے  کام کے  مطابق جس کے  وہ مستحق ہیں  وہ دوں  گا۔

11 بے  انصافی سے  دولت حاصل کرنے  والا اس تیتر کی مانند ہے  جو کسی دوسروں  کے  انڈوں  پر بیٹھے۔ وہ آدھی عمر میں  اسے  کھو بیٹھے  گا اور آخر کو احمق ٹھہرے  گا۔”

12 عبادت خانہ خداوند کا پر جلال تخت ہے  جو کہ ازل ہی سے  مقرر کیا ہوا ہے۔

13 اے  خداوند! تو اسرائیل کی امید ہے۔ اے  خداوند! تو آب حیات کے  چشمہ کی مانند ہے۔ اگر کوئی تیری پیروی کرنا چھوڑے  گا تو اس کی زندگی کم ہو جائے  گی۔

14 اے  خداوند! اگر تو مجھے  شفا بخشتا ہے   میں  یقیناً شفا پاؤں  گا میری حفاظت کر اور یقیناً میری حفاظت ہو جائے  گی۔ اے  خداوند میں  تیری ستائش کرتا ہوں۔

15 یہوداہ کے  لوگ مجھ سے  سوال کرتا ہیں۔ وہ پو چھتے  رہتے  ہیں  ” اے  یرمیاہ! خداوند کا کلام کہاں  ہے ؟ اب نازل ہو۔”

16 اے  خداوند! میں  تجھ سے  دور نہیں  بھا گا میں  نے  تیری پیر وی کی ہے۔ تو نے  جیسا چاہا ویسا چرواہا میں  بنا۔ میں  نہیں  چاہتا کہ بھیانک دن آئے۔ اے  خداوند! جو کچھ میں  نے  تیرے  سامنے  کہا وہ تو جانتا ہے۔

17 اے  خداوند! تو مجھے  فنا نہ کر میں  مصیبت کے  دنوں  تیرا محتاج ہوں۔

18 لوگ مجھے  نقصان پہنچا رہے  ہیں۔ ان لوگوں  کو شرمندہ کر لیکن مجھے  مایوس نہ کر۔ ان لوگوں  کو خوفزدہ ہونے  دے   لیکن مجھے  خوفزدہ نہ کر۔میرے  دشمنوں  پر بھیانک تباہی کا دن لا انہیں  توڑ اور انہیں  پھر توڑ۔

19 خداوند نے  مجھ سے  یہ باتیں  کہیں  ” اے  یرمیاہ! جاؤ اور یروشلم کے  اس پھاٹک پر جس سے  عام لوگ آتے  جاتے  ہیں  کھڑے  ہو جاؤ۔ جہاں  سے  یہوداہ کے  بادشاہ اندر آتے  اور با ہر جاتے  ہیں۔ میرے  لوگوں  کو میرا پیغام دو اور تب یروشلم کے  دیگر پھاٹکوں  پر جاؤ اور یہی کام کرو۔

20 ” ان لوگوں  سے  کہو : ‘ خداوند کے  پیغام کو سنو۔ اے  شاہانِ یہوداہ سنو یہوداہ کے  تم سبھی لوگو۔ سنو اس پھاٹک سے  یروشلم میں  آنے  والے  سبھی لوگو میری بات سنو۔

21 خداوند یہ بات کہتا ہے  اس بات سے  خبردار رہو کہ سبت کے  دن اپنے  کندھے  پر بوجھ لے  کر یروشلم کے  پھاٹکوں  سے  نہ آؤ۔

22 سبت کے  دن اپنے  گھروں  سے  بوجھ باہر نہ لے  جاؤ۔ اس دن کوئی کام نہ کرو۔میں  نے  یہ پیغام تمہارے  باپ دادا کو دیا تھا۔

23 لیکن تمہارے  باپ دادا نے  میرے  اس پیغام کو قبول نہیں  کیا۔ انہوں  نے  میری جانب توجہ نہیں  دی۔ تمہارے  با پ دادا بہت ضدی تھے۔ میں  نے  انہیں  سزا دی لیکن اس کا کوئی اچھا پھل نہیں  نکلا۔ انہوں  نے  میری ایک نہ سنی۔

24 لیکن تمہیں  میری بات کو منظور کرتے  ہوئے  محتاط رہنا چاہئے۔ ” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” تمہیں  سبت کے  دن یروشلم کے  پھاٹکوں  سے  بوجھ نہیں  لانا چاہئے۔ تمہیں  سبت کے  دن مقدس بنانا چاہئے۔ یہاں  تک کہ اس دن کوئی کام نہ کرو۔

25 ” اگر تم میرے  حکم کو مانو گے  تو بادشاہ جو داؤد کے  تخت پر بیٹھیں  گے   یروشلم کے  پھاٹکوں  سے  آئیں  گے۔ وہ بادشاہ اپنی رتھوں  اور گھوڑوں  پر سوار ہو کر آئیں  گے۔ یہودا کے  لوگوں  کے  سردار ان بادشاہوں  اور ان لوگوں  کے  ساتھ جو یروشلم میں  رہتے  ہیں  آئیں  گے۔ اور شہر ہمیشہ ہمیشہ کے  لئے  آباد ہو گا۔

26 یہوداہ کے  شہروں  سے  لوگ یروشلم آئیں  گے۔ لوگ یروشلم کو ان بستیوں  سے  آئیں  گے  جو اس کی چاروں  جانب ہیں۔ لوگ اس ملک سے  آئیں  گے  جہاں  بنیمین کے  گھرانے  کا گروہ رہتا ہے۔ لوگ مغربی پہاڑی دامن اور پہاڑی ملکوں  سے  آئیں  گے۔ اور نیگیوں  سے  آئیں  گے۔ وہ سبھی لوگ جلانے  کا نذرانے   نذرانہ بخور اور شکر گذاری کے  نذرانہ لائیں  گے۔ وہ لوگ ان نذرانوں  اور قربانیوں  کو خداوند کے  گھر میں  لائیں  گے۔

27 ” لیکن اگر تم میری بات نہیں  سنو گے  اور میرے  حکم کو نہیں  مانو گے  تو برا ہو گا۔ اگر تم سبت کے  دن یروشلم کے  پھاٹک سے  بوجھ لے  جانے  کے  لئے  تہیہ کر لیتے  ہو تو تم اس دن کو مقدس نہیں  رکھتے۔ اس حالت میں  میں  ایسی آگ لاؤں  گا جو بجھائی نہیں  جا سکتی۔ وہ آگ یروشلم کے  پھاٹکوں  سے  شروع ہو گی۔ اور محلوں  تک کو بھی جلا دے  گی۔”

 

 

 

باب :  18

 

1 یہ خداوند کا وہ پیغام ہے  جو یرمیاہ کو ملا۔

2 ” اے  یرمیاہ! کُمہار کے  گھر جاؤ میں  اپنا پیغام تمہیں  کمہار کے  گھر پر دوں  گا۔”

3 اس لئے  میں  کمہار کے  گھر گیا۔میں  نے  کمہار کو چاک پر مٹی سے  برتن بناتے  دیکھا۔

4 وہ مٹی سے  ایک برتن بنا رہا تھا۔ لیکن برتن میں  کچھ خرابی تھی۔اس لئے  کمہار نے  اس مٹی کا استعمال پھر کیا اور اس نے  دوسرا برتن بنایا۔اس نے  اپنے  ہاتھوں  کا استعمال برتن کو شکل دینے  کے  لئے  کیا جو شکل وہ دینا چاہتا تھا۔

5 تب خداوند سے  پیغام میرے  پاس آیا۔

6 ” اے  اسرائیل کے  گھرانے ! تم جانتے  ہو کہ میں  ( خدا ) ویسا ہی تمہارے  ساتھ کر سکتا ہوں۔تم کمہار کے  ہاتھ کی مٹی کی مانند ہو اور میں  کمہار کی طرح ہوں۔

7 ایسا وقت آ سکتا ہے   جب میں  ایک قوم یا سلطنت کے  با رے  میں  باتیں  کرو ں۔ میں  یہ کہہ سکتا ہوں  کہ میں  اس قوم کو اکھاڑ پھینکوں  گا۔یا یہ بھی ہو سکتا ہے  کہ میں  یہ کہوں  کہ میں  اس قوم کو اکھاڑ گراؤں  گا اور اس قوم یا سلطنت کو نیست و نابود کر دوں  گا۔

8 لیکن اس قوم کے  لوگ بُرے  کام کرنا چھوڑ سکتے  ہیں۔ تب میں  اپنے  ارادہ کو بدل دوں  گا۔ میں  اس قوم پر مصیبت ڈھانے  کا اپنے  منصوبے  کا ارادہ چھوڑ دوں  گا۔

9 کبھی ایسا اور وقت آ سکتا ہے   جب میں  کسی قوم کے  بارے  میں  باتیں  کروں۔ تب میں  یہ کہہ سکتا ہوں  کہ میں  اس قوم کی تعمیر کروں  گا اور اسے  قائم کروں  گا۔

10 لیکن میں  یہ دیکھتا ہوں  کہ میری بات کو قبول نہ کر کے  وہ قوم بُرا کام کر رہی ہے۔ تب میں  اپنے  فیصلہ کو بدل لوں  گا اور اس قوم کے  لئے  اچھا نہ کروں  گا۔جیسا کہ میں  نے  اچھا کرنے  کا منصوبہ پہلے  بنایا تھا۔

11 ” اور اب تم جا کر یہوداہ کے  لوگوں  اور یروشلم کے  باشندوں  سے  کہہ دو کہ خداوند یوں  فرماتا ہے  کہ دیکھو! میں  تمہارے  لئے  مصیبت تجویز کرتا ہوں  اور تمہاری مخالفت میں  منصوبہ باندھتا ہوں۔اس لئے  اب تم میں  سے  ہر ایک اپنی بری چیزوں  سے  باز آئے  اور اپنی راہ اور اپنے  اعمال کو درست کرے۔

12 لیکن یہوداہ کے  لوگ جواب دیں  گے   ‘اگر ایسی کو شش کرنے  سے  کچھ نہیں  ہو گا تو ہم وہی کرتے  رہیں  گے  جو ہم کرنا چاہتے  ہیں۔ اور ہم میں  سے  ہر کوئی ضد میں  آ کر بُرائی کرے  گا۔”

13 ان باتوں  کو سنو جو خداوند کہتا ہے   ” دوسری قوم کے  لوگوں  سے  یہ سوال کرو : کیا تم نے  کبھی کسی کی وہ برائی کرتے  ہوئے  سنا ہے۔ جو اسرائیل نے  کی ہے ؟ ‘اسرائیل کی کنواری نہایت ہولناک کام کیا۔

14 کیا لبنان کا برف جو چٹان سے  میدان میں  بہتا ہے  کبھی بند ہو گا؟ کیا وہ ٹھنڈا بہتا پانی جو دور سے  آتا ہے  سو کھ جائے  گا؟

15 لیکن ہمارے  لوگ ہمیں  بھول چکے  ہیں  اور انہوں  نے  صرف بیکار کا جلانے  کا نذرانہ جلایا۔ اور وہ اپنے  باپ دادا کی را ہوں  سے  بھٹک گئے۔ اور انہوں  نے  خاص سڑک کو چھوڑ کر کنا رے  کی سڑک کو اختیار کیا۔

16ا سلئے  یہوداہ کا ملک ایک بیابان بنے  گا۔اس کے  پاس سے  گذرتے  لوگ ہر بار اپنے  سر ہلائیں  گے۔ وہ ملک کی بربادی کو دیکھ کر خوفزدہ ہوں  گے۔

17 میں  یہوداہ کے  لوگوں  کو ان کے  دشمنوں  کے  سامنے  بکھیروں  گا۔ تیز مشرقی آندھی جیسی جو چیزوں  کو چاروں  جانب اڑاتی ہے  ویسے  ہی میں  ان کو بکھیر دوں  گا۔ میں  ان لوگوں  کو نیست و نا بود کروں  گا۔ اس وقت وہ مجھے  اپنی مدد کے  لئے  آتا نہیں  دیکھیں  گے۔ نہیں ! وہ مجھے  اپنے  لوگوں  کو چھوڑتا دیکھیں  گے۔ ”

18 تب یرمیاہ کے  دشمنوں  نے  کہا “آؤ ہم یرمیاہ کے  خلاف سازش کریں  کیوں  کہ نہ تعلیم کاہن سے  اور نہ مشورہ عقلمندسے  اور نہ ہی نبوت نبی سے  رکے  گی۔آؤ ہم اس کی زبان کاٹ ڈالیں۔تب پھر ہم لوگوں  کو ان کی باتوں  کو سننا نہیں  پڑے  گا۔ ”

19 اے  خداوند! میری سن اور میرے  مخالفوں  کی سن تب طے  کر کہ کون ٹھیک ہے ؟

20 کیا اچھائی برائی سے  ادا کیا جا نا چاہئے ؟ اس کے  با وجود بھی وہ لوگ گڑھا کھو دے  ہیں  مجھے  اس میں  دفنانے  کے  لئے۔ یاد رکھو کہ میں  نے  ان لوگوں  سے  تمہارے  بدلے  میں  بات کرنا جاری رکھا۔ میں  نے  کوشش کی کہ وہ اچھا کرے۔ تا کہ تم اور زیادہ غصہ نہ رہو گے۔

21 اس لئے  ان کے  بچوں  کو قحط سالی کے  حوالے  کر اور ان کو تلوار کی دھار کے  سُپردکر۔ ان کی بیویاں  بے  اولاد اور بیوہ ہوں  اور ان کے  مرد مارے  جائیں۔ان کے  جوان میدان جنگ میں  تلوار سے  قتل ہو ں۔

22 ان کے  گھروں  میں  ماتم مچنے  دے۔ انہیں  تب رونے  دے  جب تو اچانک ان کے  خلاف دشمنوں  کو لائے۔ اسے  ہونے  دے  کیوں  کہ ہمارے  دشمنوں  نے  مجھے  دھوکہ دے  کر پھنسانے  کی کوشش کی ہے۔ انہوں  نے  مجھے  پھنسانے  کے  لئے  پوشیدہ جال بچھا یا ہے۔

23 پر اے  خداوند تو ان سب سازشوں  کو جو انہوں  نے  مجھے  قتل کرنے  کے  لئے  کئے  تھے  جانتا ہے۔ ان کی بدکرداری کو معاف نہ کر ان کے  گنا ہوں  کو نہ مٹا۔ اور اپنی موجودگی میں  اسے  دبانے  کی اجازت مت دے۔ اپنے  غصہ کے  وقت تو ایسا کر۔

 

 

 

باب :  19

 

1 خداوند نے  مجھ سے  کہا : ” اے  یرمیاہ! جاؤ اور کسی کمہار سے  ایک مٹی کی صراحی خریدو۔ اور قوم کے  بزرگوں  کاہنوں  کے  سرداروں  کو ساتھ لو۔

2 کمہاروں  کے  پھاٹک سے  بن ہنّوم کی وادی میں  نکل جاؤ۔ اور جو باتیں  میں  تم سے  کہوں  وہاں  ان کا اعلان کرو۔

3 اپنے  ساتھ کے  لوگوں  سے  کہو ‘اے  شاہانِ یہوداہ اور اسرائیل کے  باشندو! خداوند کا کلام سنو۔ بنی اسرائیلیوں  کا خدا خداوند قادر مطلق جو کہتا ہے  وہ یہ ہے  : میں  اس جگہ پر ایسی بلا نازل کروں  گا کہ جو کوئی اس کی بابت سنے  اس کے  کان بھنّا جائیں  گے۔

4 میں  یہ کام کروں  گا کیوں  کہ یہوداہ کے  لوگوں  نے  میری پیروی کرنی چھوڑ دی ہے  اور اس جگہ کو غیروں  کے  لئے  ٹھہرا یا اور اس میں  خداؤں  کے  لئے  بخور جلایا جن کو نہ وہ اور نہ ان کے  باپ دادا نہ یہوداہ کے  بادشاہ جانتے  ہیں  اور اس جگہ کو بے  گنا ہوں  کے  خون سے  بھر دیا۔

5 شاہان ِ یہوداہ نے  بعل دیوتا کے  لئے  اونچے  مقام بنائے  ہیں۔ انہوں  نے  ان مقاموں  کا استعمال اپنے  بیٹوں  کو آگ میں  جلانے  کے  لئے  کیا۔انہوں  نے  اپنے  بیٹوں  کو بعل کے  لئے  جلانے  کی قربانی کے  طور پر جلایا۔ میں  نے  انہیں  یہ کرنے  کو نہیں  کہا۔ میں  نے  ان سے  یہ نہیں  مانگا کہ تم اپنے  بیٹوں  کو قربانی کی شکل میں  پیش کرو۔ میں  نے  ان سے  کبھی اس معاملہ میں  سوچا بھی نہیں۔

6 اب لوگ اس مقام کو ہنّوم کی وادی توفت کہتے  ہیں۔ لیکن میں  تمہیں  خبردار کرتا ہوں  وہ دن آ رہے  ہیں۔ یہ پیغام خداوند کا ہے۔ جب لوگ اس مقام کو وادیِ قتل کہیں  گے۔

7 اور اسی جگہ میں  یہوداہ اور یروشلم کا منصوبہ با طل کروں  گا اور میں  ایسا کروں  گا کہ وہ اپنے  دشمنوں  کے  آگے  اور ان کے  ہاتھوں  سے  جوان کی جان کے  خواہاں  ہیں  تلوار سے  قتل ہوں  گے  اور میں  ان کی لاشیں  ہوا کے  پرندوں  کو اور زمین کے  درندوں  کو کھانے  کو دوں  گا۔

8 میں  اس شہر کو پوری طرح برباد کروں  گا۔ جب لوگ یروشلم سے  گذریں  گے  تو سیٹی بجائیں  گے  اور سر ہلائیں  گے۔ انہیں  حیرانی ہو گی جب وہ دیکھیں  گے  کہ شہر کس طرح برباد کیا گیا ہے۔

9 دشمن اپنی فوج کو شہر کے  چاروں  جانب لائے  گا۔ وہ فوج لوگوں  کو خوراک لینے  با ہر نہیں  آنے  دے  گی۔اس لئے  شہر کے  لوگ بھو کے  مرنے  لگیں  گے۔ وہ اتنے  بھو کے  ہو جائیں  گے  کہ اپنے  بیٹے  اور بیٹیوں  کے  گوشت کھانے  لگیں  گے  اور تب وہ ایک دوسرے  کو کھانے  لگیں  گے۔ ‘

10 ” اے  یرمیاہ! تم یہ باتیں  لوگوں  سے  کہو گے  اور جب وہ دیکھ رہے  ہوں  اسی وقت تم اس صراحی کو توڑنا۔

11 اور ان سے  کہنا : ” خداوند قادر مطلق یوں  فرماتا کہ میں  ان لوگوں  اور اس شہر کو ایسا توڑوں  گا جس طرح کمہار کے  برتن کو توڑ ڈالے  جو پھر سے  درست نہیں  ہو سکتا۔ لوگ تو فت میں  دفن کئے  جائیں  گے۔ اتنی لاشیں  ہوں  گی کہ انہیں  دفنانے  کے  لئے  جگہ نہ ہو گی۔

12 ” میں  یہ ان لوگوں  اور اس مقام کے  ساتھ ایسا کروں  گا۔ میں  اس شہر کو تو فت کی مانند کر دوں  گا۔ یہ پیغام خداوند کا ہے۔

13 ” اور یروشلم کے  گھر اور یہوداہ کے  بادشاہوں  کے  گھر تو فت کے  مقام کی مانند ” ناپاک ” ہو جائیں  گے۔ ہاں  وہ سب گھر جن کی چھتوں  پر انہوں  نے  تمام اجرام ِ فلک کے  لئے  بخور جلایا اور غیر خداؤں  کے  لئے  پینے  کا نذرانہ پیش کیا۔”

14 تب یرمیاہ نے  تو فت کو چھوڑا جہاں  خداوند نے  پیغام دینے  کو کہا تھا۔ یرمیاہ خداوند کے  گھر گیا اور اس کے  آنگن میں  کھڑا ہو کر تمام لوگوں  سے  کہنے  لگا۔

15 “اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق یوں  فرماتا ہے  : میں  نے  کہا ہے  کہ میں  یروشلم اور اس کے  چاروں  جانب کی بستیوں  پر مختلف مصیبتیں  ڈھاؤں  گا۔ان باتوں  کو جلد کراؤں  گا۔کیوں ؟ کیونکہ لوگ بہت ضدی ہیں  وہ میری سننے  اور میری بات کو قبول کرنے  سے  انکار کرتے  ہیں۔”

 

 

 

باب :  20

 

1 امیر کا بیٹا کاہن فشحُور جو خداوند کی ہیکل میں  سردار نا ظم تھا۔ فشحور یرمیاہ کو جو تعلیم دے  رہا تھا اس سے  سنا۔

2 اس لئے  فشحور نے  یرمیاہ کو مارا اور اسے  بنیمین کے  بالائی پھاٹک میں  جو کہ خداوند کی ہیکل میں  تھا باندھ دیا۔

3 اگلے  دن فشحور نے  یرمیاہ کو آزاد کر دیا۔ تب یرمیاہ نے  فشحور سے  کہا ” خداوند کا دیا تمہارا نام فشحور نہیں  ہے۔ اب خداوند کی جانب سے  جو نام تمہیں  دیا جائے  گا وہ ہر طرف دہشت ہو گا۔

4 یہی تمہارانام ہے   کیونکہ خداوند فرماتا ہے  : “میں  جلد ہی تم کو اپنے  آپ  کے  لئے  دہشت بناؤں  گا۔ میں  بہت جلد ہی تمہیں  تمہارے  سبھی دشمنوں  کے  لئے  دہشت کا باعث بناؤں  گا۔ تم دشمنوں  کی جانب سے  اپنے  دوستوں  کو تلوار کے  سپرد ہوتے  دیکھو گے۔ میں  یہوداہ کے  سبھی لوگوں  کو بادشاہ بابل کو دے دوں  گا۔ وہ یہوداہ کے  لوگوں  کو بابل لے  جائے  گا اور اس کی فوج یہوداہ کے  لوگوں  کو اپنی تلوار سے  قتل کرے  گی۔

5 اور میں  اس شہر کی ساری دولت اس کے  تمام حاصل شدہ اور اس کی سب نفیس چیزوں  کو اور یہوداہ کے  بادشاہوں  کے  سب خزانوں  کو دے  ڈالوں  گا۔ہاں  میں  ان کو ان کے  دشمنوں  کے  حوالہ کر دوں  گا جو ان کو لو ٹیں  گے  اور بابل کولے  جائیں  گے۔

6 اور اے  فشحور تم اور تمہارے  گھر میں  رہنے  والے  سبھی لوگ یہاں  سے  لے  جائے  جائیں  گے۔ تم کو جانے  اور بابل ملک میں  رہنے  پر مجبور کیا جائے  گا۔ تم بابل میں  مرو گے  اور وہیں  دفن کر دیئے  جاؤ گے۔ تم نے  اپنے  دوستوں  کو جھوٹا وعظ دیا۔ تم نے  کہا کہ ایسا نہیں  ہو گا۔ لیکن تمہارے  سبھی دوست بھی مریں  گے  اور بابل میں  دفن کئے  جائیں  گے۔ ”

7 اے  خداوند! تو نے  مجھے  دھوکہ دیا اور میں  یقیناً ہی احمق بنایا گیا۔ تو مجھ سے  زیادہ قدرت وا لا ہے   اس لئے  تو غالب ہوا۔ میں  مذاق بن کر رہ گیا ہوں۔ لوگ مجھ پر ہنستے  ہیں  اور سارا دن میرا مذاق اڑاتے  ہیں۔

8 جب بھی میں  کچھ بولتا ہوں  چیخ پڑتا ہوں  میں  تشدد اور تباہی کے  با رے  میں  چلا رہا ہوں۔ لیکن خداوند کا پیغام میرے  لئے  شرمندگی بن گئی ہے۔ لوگ سارا دن میرا مذاق اڑاتے  ہیں۔

9 کبھی کبھی میں  خود سے  کہتا ہوں  ” میں  خداوند کے  بارے  میں  بھول جاؤں  گا۔میں  آئندہ خداوند کے  با رے  میں  نہیں  بو لوں  گا۔” لیکن اگر میں  ایسا کہتا ہوں  تو خداوند کا کلام میرے  اندر بھڑکتے  جوا لا مکھی کی طرح ہو جاتا ہے۔ مجھے  ایسا لگتا ہے  کہ یہ اندر سے  میری ہڈیوں  کو جلا رہا ہے۔ میں  اتنا تھک چکا ہوں  کہ اسے  اب واپس پکڑ نہیں  سکتا۔

10 کیوں  کہ میں  نے  بہتوں  کی تہمت سنی۔چاروں  طرف دہشت ہے۔ اس کی شکایت کرو۔” وہ کہتے  ہیں  ہم اس کی شکایت کریں  گے۔ میرے  سب دوست میرے  ٹھو کر کھانے  کے  منتظر ہیں  اور کہتے  ہیں  شاید وہ ٹھوکر کھائے۔ تب ہم اس پر غالب آئیں  گے  اور اس سے  بدلہ لیں  گے۔ ”

11 لیکن خداوند میرے  ساتھ ہے  خداوند ایک مہیب بہادر کی مانند ہے۔ اس لئے  جو لوگ میرا پیچھا کرتے  ہیں  منہ کی کھائیں  گے۔ وہ لوگ مجھے  ہرا نہیں  سکیں  گے۔ وہ لوگ ناکام ہوں  گے۔ وہ مایوس ہوں  گے  وہ لوگ شرمندہ ہوں  گے  اور لوگ اس ندامت کو کبھی نہیں  بھو لیں  گے۔

12 اے  خداوند قادر مطلق تو اچھے  لوگوں  کا امتحان لیتا ہے۔ تو انسان کے  دل و دماغ کو گہرائی سے  دیکھتا ہے۔ میں  نے  ان لوگوں  کے  خلاف کئی مر تبہ بحث و مباحثہ کیا ہے۔ میں  پر اعتماد ہوں  کہ میں  دیکھوں  گا کہ خداوند ان لوگوں  سے  بدلہ لے  رہا ہے   کیونکہ تم میری شکایت کو جانتے  ہو۔

13 خداوند کی مدح سرائی کرو! خداوند کی ستائش کرو! خداوند مسکینوں  کی حفاظت کرتا ہے  وہ انہیں  شریروں  کی قوت سے  بچاتا ہے۔

14 اس دن پر لعنت ہے  جس دن میرا جنم ہوا۔ اس دن کو مبارک نہ کہو جس دن میں  ماں  کی کو کھ میں  آیا۔

15 اس آدمی  پر لعنت جس نے  میرے  با پ کو یہ خبر دی کہ میرا جنم ہوا ہے۔ اس نے  کہا تھا۔ “تمہیں  لڑکا ہوا ہے   ” ” وہ ایک لڑکا ہے   ” اس نے  میرے  با پ کو بہت خوش کیا تھا جب اس نے  ان سے  یہ کہا تھا۔

16 اس شخص کو ویسے  ہی ہونے  دو جیسے  وہ شہر جنہیں  خداوند نے  برباد کیا خداوند نے  ان شہروں  پر تھوڑا بھی رحم نہیں  کیا۔ وہ شخص صبح کو خوفناک شور سنا اور دو پہر کے  وقت بڑی للکار۔

17 تو نے  مجھے  ماں  کے  رحم میں  ہی کیوں  نہ مار ڈالا؟ تب ہی میری ماں  کی کو کھ قبر بن جا تی اور میں  کبھی جنم نہیں  لے  سکا ہو تا۔

18 مجھے  ماں  کے  پیٹ سے  با ہر کیوں  آنا پڑا؟ جو کچھ میں  نے  پا یا ہے  وہ پریشانی اور دکھ ہے۔ اور میری زندگی کا خاتمہ رسوائی ہو گی۔

 

 

 

باب : 21

 

1 یہ کلام جو خداوند کی طرف سے  یرمیاہ پر نازل ہوا جب صدقیاہ بادشاہ نے  فشحور بن ملکیاہ اور صفنیاہ بن معسیاہ کاہن کو اس کے  پاس یہ کہنے  کو بھیجا۔

2 فشحور اور صفنیاہ نے  یرمیاہ سے  کہا ” خداوند سے  ہم لوگوں  کے  لئے  دعا کرو اور خداوند سے  پو چھو کہ کیا ہو گا؟ ہم یہ جاننا چاہتے  ہیں  کیونکہ شاہِ بابل نبو کد نضر ہم لوگوں  پر حملہ کر رہا ہے۔ شاید یہ ممکن ہے  خداوند ہم لوگوں  کے  لئے  ویسا ہی تعجب خیز کام کرے  جیسا اس نے  گذرے  وقت میں  کیا۔۔شاید کہ خداوند نبو کد نضر کو حملہ کرنے  سے  روک دیا اسے  واپس جانے  کی ہدایت دے۔ ”

3 تب یرمیاہ نے  فشحور اور صفنیاہ کو جواب دیا اس نے  کہا “صدقیاہ بادشاہ سے  کہو۔

4 اسرائیل کا خداوند خدا کہتا ہے   یہ وہ ہے  دیکھو! “‘ بابل بادشاہ کسدیوں  نے  تمہارے  شہر کی دیواروں  کو چاروں  طرف سے  گھیر لیا ہے۔ تم نے  ان کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  ہتھیار بنائے۔ “‘لیکن میں  ان ہتھیاروں  کو پھیر دوں  گا اور اسے  شہر کے  اندر رکھوں  گا۔

5 میں  خود اے  یہوداہ تم لوگوں  کے  خلاف لڑوں  گا۔ میں  اپنی قوت بازو سے  تمہارے  خلاف لڑوں  گا۔ میں  تم پر بہت زیادہ غضبناک ہوں۔اس لئے  اپنی قوتِ بازو سے  تمہارے  خلاف لڑوں  گا میں  تمہارے  خلاف شدید جنگ کروں  گا اور دکھاؤں  گا کہ میرا قہر کتنا شدید ہے۔

6 میں  یروشلم میں  رہنے  والے  لوگوں  کو اور جانوروں  کو مار ڈالوں  گا۔ وہ اس چمڑے  کی خوفناک بیماری سے  مریں  گے  جو سارے  شہر میں  پھیلے  گی۔

7 جب یہ سب ہو گیا۔”‘ تب خداوند فرماتا ہے   ” پھر میں  شا ہِ یہوداہ صدقیاہ کو اور اس کے  ملازموں  اور عام لوگوں  کو جو اس شہر میں  رہتے  ہیں  چمڑے  کی خوفناک بیماری جنگ اور آفت سے  بچ جائیں  گے  شاہِ بابل نبو کد نضر ان مخا لفوں  اور جانی دشمنوں  کے  حوا لہ کروں  گا اور وہ ان کو تہہ تیغ کرے  گا۔نہ ان کو چھوڑے  گا نہ اس پر ترس کھائے  گا اور نہ رحم کرے  گا۔’

8 ” یروشلم کے  لوگوں  سے  یہ باتیں  بھی کہو۔ خداوند یہ باتیں  کہتا ہے   سمجھ لو کہ میں  تمہیں  جینے   اور مرنے  میں  سے  ایک چُننے  دوں  گا۔

9 جو کوئی شخص بھی یروشلم میں  ٹھہرے  گا۔ وہ شخص تلوار بھوک اور چمڑے  کی خوفناک بیماری سے  مرے  گا۔بابل کی فوج نے  پو رے  شہر کو گھیر لیا ہے۔ جو شخص شہر کے  با ہر جائے  گا اور خود سپردگی کرے  گا زندہ بچ جائے  گا۔ان کی زندگی ہی ان کا انعام ہو گا۔

10 میں  نے  یروشلم شہر میں  مصیبت ڈھانے  کا ارادہ کر لیا ہے۔ میں  شہر کی مدد نہیں  کروں  گا۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ “‘ میں  یروشلم شہر شاہ بابل کو دے  دوں  گا۔ وہ اسے  آگ سے  جلائے  گا۔’

11 ” اور شاہ یہوداہ کے  خاندان کی بابت خداوند کا کلام سنو۔

12 اے  داؤد کے  گھرانے ! خداوند یوں  فرماتا ہے  کہ تم سویرے  اٹھ کر انصاف کرو اور معصوم لوگوں  کو ظالم کے  ہاتھ سے  چھڑاؤ۔ اور تم سچائی سے  انصاف نہ کرو تو تمہارے  برے  عمل سے  ہو سکتا ہے  میرا قہر آگ کی طرح بھڑکے  اور ایسا تیز ہو جائے  کہ کوئی اسے  ٹھنڈا نہ کر سکے۔

13 ” اے  یروشلم! میں  تمہارے  خلاف ہوں۔ تم میدان کے  ایک چٹان یا پھر وادی میں  بیٹھے  ہوئے  کسی شخص کی طرح ہو۔ اے  یروشلم کے  لوگو! تم لگاتار کہتے  ہو کوئی بھی ہم پر حملہ نہیں  کر سکتا۔کوئی بھی ہمارے  مضبوط شہر میں  گھس نہیں  سکتا ‘ لیکن خداوند کے  پیغام کو سنو۔

14 ‘ تم وہ سزا پاؤ گے  جس کے  تم حقدار ہو۔ میں  تمہارے  جنگلوں  میں  آگ لگاؤں  گا اور وہ آگ تمہارے  چاروں  جانب کی ہر ایک چیز جلا دے  گی۔ یہ خداوند کا پیغام ہے۔ ”

 

 

 

باب :  22

 

1 خداوند نے  کہا : ” یرمیاہ بادشاہ کے  محل کو جاؤ۔شاہِ یہوداہ کے  پاس جاؤ اور وہاں  اسے  پیغام کا وعظ دو۔

2 ‘ اے  شاہِ یہوداہ! خداوند کے  یہاں  سے  پیغام سنو تم داؤد کے  تخت سے  حکومت کرتے  ہو۔اس لئے  سنو۔ بادشاہ تمہیں  تمہارے  ذمہ داروں  کو یہ اچھی طرح سننا چاہئے۔ یروشلم کے  پھاٹکوں  سے  آنے  والے  سبھی لوگوں  کو خداوند کے  پیغام کو سننا چاہئے۔

3 خداوند فرماتا ہے  وہ کلام کرو جو صداقت اور عدالت کے  ہوں۔ اور مظلوم کو ظالم سے  چھڑاؤ اور کسی سے  بدسلو کی نہ کرو اور مسافر و یتیم اور بیوہ پر ظلم نہ کرو۔اس جگہ بے  گناہ کا خون نہ بہاؤ۔

4 اگر تم اس پر عمل کرو گے  توداؤد کے  جانشیں  بادشاہ پھاٹکوں  سے  ہو کر یروشلم شہر میں  آنا جاری رکھیں  گے۔ وہ سب بادشاہ اپنے  افسروں  کے  ساتھ پھاٹکوں  سے  داخل ہوں  گے۔ وہ سب بادشاہ ان کے  افسر اور ان کے  لوگ رتھوں  اور گھوڑوں  پر سوار ہو کر آئیں  گے۔

5 لیکن اگر تم ان باتوں  پر عمل نہیں  کرو گے  تو خداوند فرماتا ہے  : میں  یعنی خداوند قسم کھاتا ہے  کہ بادشاہ کا محل ویران کر دیا جائے  گا۔”

6 خداوند ان لوگوں  کے  بارے  میں  یہ کہتا ہے  جن میں  شاہِ یہوداہ رہتے  ہیں  : ” جلعاد کے  جنگلوں  کی طرح یہ محل بلند ہے۔ یہ لبنان پہاڑ کی مانند اونچا ہے۔ لیکن میں  اسے  یقینی طور پر بیابان میں  بدل دوں  گا۔ یہ محل اس شہر کی طرح ویران ہو گا۔ جس میں  کوئی شخص نہ رہتا ہو۔

7 میں  لوگوں  کو محل فنا کرنے  کے  لئے  بھیجوں  گا۔ ہر ایک شخص کے  پاس وہ ہتھیار ہوں  گے  جن سے  وہ اس محفل کو فنا کریں  گے۔ وہ اس محل کی دیوار کے  شہتیروں  کو کا ٹیں  گے  اور ان کو آگ میں  ڈالیں  گے۔ ”

8 ” مختلف قوموں  سے  لوگ اس شہر سے  گذریں  گے۔ وہ ایک دوسرے  سے  پو چھیں  گے   ” خداوند نے  اس عظیم شہر کو کیوں  تباہ کر دیا۔ ‘

9 اس سوال کا جواب یہ ہو گا خدا نے  یروشلم کو فنا کیا کیوں  کہ یہوداہ کے  لوگوں  نے  خداوند اپنے  خدا کے  ساتھ کئے  گئے  معاہدے  کو توڑ دیا تھا۔ ان لوگوں  نے  غیر خداوند کی عبادت کی۔”

10 اس بادشاہ کے  لئے  ماتم نہ کرو جو مر گیا۔اس کے  لئے  ماتم مت کرو۔ لیکن اس بادشاہ کے  لئے  بلک بلک کر چلاؤ جو یہاں  سے  جا رہا ہے۔ اس کے  لئے  ماتم کرو کیوں  کہ وہ پھر کبھی واپس نہیں  آئے  گا۔ وہ اپنی جائے  پیدائش کو پھر کبھی نہیں  دیکھے  گا۔

11 کیونکہ شا ہِ یہوداہ سُلوم بن یوسیاہ کی بابت جو اپنے  با پ یوسیاہ کا جانشین ہوا اور اس جگہ سے  چلا گیا۔ خداوند یوں  فرماتا ہے   ” وہ پھر اس طرف نہ آئے  گا۔

12 بلکہ وہ اس جگہ مرے  گا جہاں  اسے  قید کر کے  لے  جا یا گیا ہے۔ وہ اس زمین کو پھر نہیں  دیکھے  گا۔”

13 اس کا برا ہو جو اپنا محل نا انصافی سے   اور اپنا با لا خانہ نا راستی سے  بناتا ہے۔ وہ اپنے  گاؤں  والوں  سے  مفت کام کراتا ہے۔ وہ اپنے  کام کرنے  وا لوں  کو اجرت نہیں  دیتا ہے۔

14 یہویقیم کہتا ہے   ” میں  اپنے  لئے  بڑے  بڑے  کمروں  وا لا ایک شاندار گھر بناؤں  گا۔” اس لئے  اس نے  بڑے  بڑے  کھڑکیوں  وا لا ایک شاندار گھر بنایا چھت کے  لئے  دیودار کی لکڑی کا استعمال کیا اور اسے  لال رنگ سے  رنگ دیا۔

15 اے  یہویقیم اپنے  گھر میں  دیودار کی لکڑی کا استعمال تمہیں  عظیم حکمران نہیں  بناتا ہے  تمہارا با پ یوسیاہ صرف کھا پی کر ہی خوش تھا۔اس نے  وے  کیا جو صداقت اور عدالت پر مبنی تھا۔ اسی لئے  اس کے  لئے  سب کچھ بہتر تھا ہوا۔

16 یو سیاہ نے  مسکینوں  اور ضرورت مندوں  کے  لئے  انصاف کیا۔یوسیاہ نے  وہ کیا اس لئے  اس کے  لئے  سب کچھ بہتر ہوا۔ مجھے  جاننے  کا مطلب یہ ہے۔ یہ پیغام خداوند کا ہے۔

17 اے  یہویقیم! تم صرف اپنے  فائدے  کے  لئے  سوچتے  ہو۔ تم ہمیشہ زیادہ سے  زیادہ حاصل کرنے  کے  لئے  سوچتے  ہو۔ تم نے  بے  گناہ لوگوں  کو مارا اور دوسرے  لوگوں  کو زیادہ سے  زیادہ ستایا۔

18 اس لئے  خداوند یہویقیم شاہِ یہوداہ بن یوسیاہ کی بابت یوں  فرماتا ہے  کہ اس پر ہائے  میرے  بھائی! یا ہائے  میری بہن! کہہ کر ماتم کرنے  وا لا کوئی نہ ہو گا۔اسی طرح سے  ہائے  میرے  آقا! یا ہائے  میرا جاہ و جلال! کہہ کر ماتم کرنے  وا لا کوئی نہ ہو گا۔

19 یروشلم کے  لوگ یہو یقیم کو ایک مرے  ہوئے  گدھے  کی طرح دفن کر دیں  گے۔ وہ اس کی لاش کو صرف دور گھسیٹلے  جائیں  گے  اور وہ اس کی لاش کو یروشلم کے  پھاٹک کے  با ہر پھینک دیں  گے۔

20 ” اے  یہوداہ! لبنان کی پہاڑوں  پر جاؤ اور چلاؤ۔بسن کی پہاڑوں  میں  اپنی آواز بلند کرو۔ عباریم پر سے  نالہ و فریاد کرو کیوں  کہ تمہارے  سب ‘چاہنے  والے  ‘ مارے  گئے۔

21 ” اے  یہوداہ! تم نے  خود کو محفوظ سمجھا لیکن میں  نے  تمہیں  خبردار کیا میں  نے  تمہیں  خبردار کیا لیکن تم نے  سننے  سے  انکار کیا۔ تم نے  یہ اس وقت سے  کیا جب تم جوان تھی اور یہوداہ جب سے  تم جوان تھی تم نے  میری بات نہیں  مانی۔

22 اے  یہوداہ! میری سزا آندھی کی طرح آئے  گی اور یہ تمہارے  سبھی چروا ہوں  کو اڑا لے  جائے  گی۔ تم نے  سوچا تھا کہ بعض دیگر قومیں  تمہاری مدد کریں  گی۔لیکن وہ قو میں  بھی شکست سے  دوچار ہوں  گی۔ تب تم یقیناً مایوس ہو گے۔ تم نے  جو سب برے  کام کئے۔ ان کے  لئے  تم شرمندہ ہو گی۔

23 ” اے  لبنان کے  باشندو! دیودار کے  درختوں  کے  درمیان اپنے  گھونسلہ کے  ساتھ تم دردِزہ میں  مبتلا عورت کی مانند کیسے  رہتے  ہو۔ ”

24 ” خداوند فرماتا ہے   ” مجھے  اپنی حیات کی قسم ” ” اگر چہ تم ایسے  شاہِ یہوداہ کو نیاہ ( یہو یاکین ) بن یہویقیم میرے  داہنے  ہاتھ کی انگوٹھی ہوتے  تو بھی میں  تمہیں  نکال پھینکتا۔

25 اے  کونیاہ میں  تمہیں  بابل کے  بادشاہ نبو کد نضر کے  حوالے  کروں  گا۔میں  تمہیں  بابل کے  لوگوں  کے  حوالے  کروں  گا۔ تم اس سے  ڈرتے  ہو۔ وہ لوگ تمہیں  مار ڈالنا چاہتے  ہیں۔

26 میں  تمہیں  اور تمہاری ماں  کو ایسے  ملک میں  پھینکوں  گا کہ جہاں  تم دونوں  میں  سے  کوئی بھی پیدا نہیں  ہوا تھا۔ تم اور تمہاری ماں  دونوں  اسی ملک میں  مریں  گے۔

27 وہ لوگ اس زمین پر لوٹنا چا ہیں  گے  لیکن وہ ایسا کبھی نہیں  کر سکیں  گے۔ ”

28 کونیاہ ( یہویاکین ) اس ٹوٹے  برتن کی طرح ہے  جسے  کسی نے  پھینک دیا ہو۔ وہ ایسے  برتن کی طرح جسے  کوئی بھی شخص نہیں  چاہتا۔ کونیاہ اور اس کی اولاد کیوں  با ہر پھینک دی جائے  گی؟ وہ جلا وطن کیوں  کئے  جائیں  گے ؟

29 اے  زمین زمین زمین! خداوند کا کلام سنو!

30 خداوند یوں  فرماتا ہے   “کونیاہ کے  با رے  میں  یہ لکھ لو : ‘ وہ ایسا شخص ہے  جو بے  اولاد ہے  کونیاہ اپنی زندگی میں  کامیاب نہیں  ہوا ہے۔ اس کی اولاد میں  سے  کوئی بھی یہوداہ پر حکومت کرنے  کے  لئے  تخت پر نہیں  بیٹھے  گا۔’

 

 

 

باب :  23

 

1 ” یہوداہ کہ چروا ہوں  کے  لئے  یہ بہت برا ہو گا۔ وہ چرواہے  بھیڑوں  کو ہلاک کر رہے  ہیں۔ وہ بھیڑوں  کو میری چراگاہ سے  چاروں  جانب بھگا رہے  ہیں۔ یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ”

2 اس لئے  خداوند اسرائیل کا خدا ان چرواہوں  کی مخالفت میں  جو میرے  بھیڑوں  کے  تئیں  برا کرتے  ہیں  یوں  فرماتا ہے   ” تم نے  میرے  گِلّہ کو تِتر بِتر کر دیا ہے  تم نے  بھیڑوں  کو بھٹکا دیا ہے  اور ان کی نگہبانی کرنے  میں  فیل ہو گیا۔ دیکھو میں  تمہارے  اس برے  کام کے  لئے  تم پر مصیبت لاؤں  گا۔” یہ خداوند کا پیغام ہے۔

3 ” میں  نے  اپنی بھیڑوں  ( لوگوں  ) کو تمام ممالک میں  بھیجا۔ لیکن میں  اپنی ان بھیڑوں  کو ایک ساتھ اکٹھا کروں  گا جو بچی رہ گئی ہیں  اور میں  انہیں  ان کی چراگاہ ( ملک ) میں  لاؤں  گا۔ جب میری بھیڑیں  ( لوگ ) اپنی چراگاہ ( ملک ) میں  وا پس آئیں  گی تو ان کو بہت بچے  ہوں  گے  اور ان کی تعداد بڑھ جائے  گی۔

4 میں  اپنی بھیڑوں  کے  لئے  نئے  چروا ہے  ( سردار ) رکھوں  گا۔ وہ چروا ہے  میری بھیڑوں  کی رکھوا لی کریں  گے  اور میری بھیڑیں  خوفزدہ یا ڈریں  گی نہیں۔ میری بھیڑوں  میں  سے  کوئی کھوئے  گی نہیں۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

5 یہ پیغام خداوند کا ہے  : ” وقت آ رہا ہے  جب میں داؤد کے  لئے  ایک صادق ‘ شاخ ‘ اگاؤں  گا۔ وہ ایسا بادشاہ ہو گا جو اقبال مندی سے  حکومت کرے  گا جس میں  عدالت اور صداقت ہو گی۔

6 اس صادق شاخ کے  دور میں  یہوداہ کے  لوگ محفوظ رہیں  گے  اور اسرائیل محفوط رہے  گا۔اس کا نام یہ ہو گا خداوند ہماری صداقت ہے۔

7 ” یہ پیغام خداوند کا ہے   “اسی لئے  دیکھو! وہ دن آتے  ہیں  کہ وہ پھر نہ کہیں  گے  کہ زندہ خداوند کی قسم جو بنی اسرائیل کو ملک مصر سے  نکال لا یا۔

8 لیکن اب لوگ کچھ نہ کہیں  گے   ہملوگ خداوند کے  نام پر وعدہ کرتے  ہیں  جس نے  بنی اسرائیلیوں  کو شمال کے  ملک سے  واپس باہر لایا جہاں  اس نے  انہیں  بھیج دیا تھا۔ تب بنی اسرائیل اپنے  ملک میں  رہیں  گے۔ ”

9 نبیوں  کی بابت۔میرا دل میرے  اندر ٹوٹ گیا۔میر ی سب ہڈیاں  تھر تھراتی ہیں۔خداوند اور اس کے  پاک کلام کے  سبب سے  میں  متوالا سا ہوں  اور اس شخص کی مانند جو مئے  میں  مغلوب ہو۔

10 یہوداہ ملک ایسے  لوگوں  سے  بھرا ہے  جو بدکاری اور گناہ کرتے  ہیں۔ وہ کئی طرح سے  نا فرمان ہیں۔ خداوند نے  زمین کو لعنت بھیجی اور وہ بہت سو کھ گئی۔ پو دے  چراگاہوں  میں  سو کھ رہے  ہیں  اور مر رہے  ہیں۔ کھیت بیابان ہو گئے  ہیں۔ نبی بدکار ہیں  وہ نبی اپنی روش اور اپنی قوت کا استعمال غلط ڈھنگ سے  کرتے  ہیں۔

11 “نبی اور کاہن تک بھی ناپاک ہیں۔میں  نے  انہیں  اپنے  گھر میں  گناہ کرتے  دیکھا ہے۔ ” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

12 “انہیں  ایسی راہ میں  چلنے  کے  لئے  مجبور کیا جائے  گا مانو کہ وہ اندھیرے  میں  پھسلن وا لی جگہ پر چل رہے  ہوں۔ وہ نبی اور کاہن ان پھسلن وا لی سڑک پر گریں  گے۔ ان لوگوں  پر آفت آئے  گی۔اس وقت میں  ان نبیوں  اور کاہنوں  کو سزادوں  گا۔” یہ خداوند کا پیغام ہے۔

13 ” میں  نے  سامر یہ کے  نبیوں  کو کچھ برا کرتے  دیکھا۔ میں  نے  ان نبیوں  کو جھوٹے  خداوند بعل کے  نام سے  نبوت کرتے  دیکھا۔ ان نبیوں  نے  بنی اسرائیلیوں  کو خداوند سے  گمراہ کیا۔

14 میں  نے  یروشلم کے  نبیوں  میں  بھی ایک ہولناک بات دیکھی۔ وہ زنا کار جھو ٹوں  کے  پیرو کار اور بدکاروں  کے  حامی ہیں۔ یہاں  تک کہ کوئی اپنی شرارت سے  باز نہیں  آتا وہ سب میرے  نزدیک سدوم کی مانند اور اس کے  باشندے  عمورہ کی مانند ہیں۔”

15 اس لئے  خداوند قادر مطلق نبیوں  کے  بارے  میں  یہ باتیں  کہتا ہے  : ” میں  ان نبیوں  کو سزا دوں  گا۔ میں  ان کو  زہریلا کھا نا کھلاؤں  گا اور انہیں  زہریلا پانی پلاؤں  گا۔ کیوں  کہ یروشلم کے  نبیوں  ہی سے  ساری زمین میں  بے  دینی پھیلی ہے۔ ”

16 خداوند قادر مطلق یوں  فرماتا ہے  : ” وہ نبی تم سے  جو کہیں  اس کی ان سنی کرو۔ وہ تمہیں  احمق بنانے  کی کو شش کر رہے  ہیں۔ وہ اپنے  دلوں  کے  الہام بیان کرتے  ہیں  نہ کہ خداوند کی منھ کی باتیں۔

17 کچھ لوگ خداوند کے  سچے  پیغام سے  نفرت کرتے  ہیں۔ اس لئے  وہ نبی ان لوگوں  سے  مختلف باتیں  کہتے  ہیں۔ وہ کہتے  ہیں  ” تم سلامتی سے  رہو گے۔ ‘ کچھ لوگ بہت ضدی ہیں۔ وہ وہی کرتے  ہیں  جو کرنا چاہتے  ہیں۔ اس لئے  وہ نبی کہتے  ہیں  ‘ تمہارا کچھ بھی برا نہیں  ہو گا۔’

18 پر ان میں  سے  کون خداوند کی مجلس میں  شامل ہوا کہ اس کا کلام سنے  اور سمجھے ؟ ان میں  سے  کسی نے  بھی خداوند کے  کلام پر سنجیدگی سے  توجہ نہیں  دی ہے۔

19 اب خداوند کے  یہاں  سے  سزا آندھی کی طرح آئے  گی بلکہ طوفان کا بگولہ شریروں  کے  سر پر ٹوٹ پڑے  گا۔

20 خداوند کا غضب اس وقت تک نہیں  رکے  گا جب تک وہ جو کرنا چاہتے  ہیں  پو را نہ کر لیں۔ جب وہ دن چلا جائے  گا تب تم اسے  ٹھیک ٹھیک سمجھو گے۔

21 میں  نے  ان نبیوں  کو نہیں  بھیجا۔ لیکن وہ اپنا پیغام دینے  دوڑ پڑے  میں  نے  ان سے  باتیں  نہیں  کیں۔ پر انہوں  نے  نبوت کی۔

22 اگر وہ میری مجلس میں  شامل ہوئے  ہوتے  تو وہ یہوداہ کے  لوگوں  کو میرا کلام دیا ہوتا اور ان کو  بری راہ سے  اور ان کو  برائی کے  کاموں  سے  باز رکھتے  ”

23 یہ پیغام خداوند کا ہے   ” میں  خدا ہوں  جو کہ میں  نزدیک بھی اور دور بھی ہوں۔”

24 کیا کوئی آدمی  پوشیدہ جگہوں  میں  چھپ سکتا ہے  کہ میں  اسے  نہ دیکھوں ؟ کیا زمین و آسمان مجھ سے  معمور نہیں  ہیں ؟ خداوند فرماتا ہے۔

25 ” یہ سارے  نبی جھوٹ بولتے  ہیں  جب وہ میرے  نام پر نبوت کرتے  ہیں۔ وہ کہتے  ہیں  میں  نے  ایک خواب دیکھا ہے  لیکن یہ صحیح نہیں  ہے۔ انہیں  ایسی باتیں  کرتے  ہوئے  میں  نے  سنا ہے۔

26 یہ کب تک چلتا رہے  گا؟ وہ نبی جھوٹ کا تصور کرتے  ہیں  اور تب وہ اس جھوٹے  وعظ کو لوگوں  میں  بیان کرتے  ہیں۔ ہاں  وہ اپنے  دل کی فریب کاری کے  نبی ہیں۔

27 یہ نبی اپنے  خوابوں  کا استعمال میرے  لوگوں  کو میرا نام بھُلانے  کے  لئے  کرتے  ہیں۔ جس طرح ان کے  با پ دادا بعل کے  سبب سے  میرا نام بھول گئے  تھے۔

28 جو گیہوں  ہے  وہ بھو سا نہیں  ہے۔ ٹھیک اسی طرح ان نبیوں  کے  خواب میرا کلام نہیں  ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے  خوابوں  کو کہنا چاہتا ہے  تو اسے  کہنے  دو۔ لیکن اس شخص کو چاہئے  کہ وہ میرے  کلام کو صداقت سے  سنائے  جو میرے  کلام کو سنتا ہے۔

29 میرا کلام آگ کی مانند ہے۔ یہ اس ہتھوڑے  کی طرح ہے  جو چٹان کو چکنا چور کر ڈالتا ہے۔ یہ کلام خداوند کا ہے۔

30 ” اے  اسرائیل میں  جھوٹے  نبیوں  کے  خلاف ہو ں۔” کیوں  کہ وہ میرے  کلام کو ایک دوسرے  سے  چڑانے  میں  لگے  رہتے  ہیں۔

31 وہ اپنی بات کہتے  ہیں  اور یہ دکھا وا کرتے  ہیں  کہ وہ خداوند کا کلام ہے۔

32 میں  ان جھوٹے  نبیوں  کے  خلاف ہوں  جو جھوٹے  خواب کا وعظ ( جھوٹی نبوت ) کرتے  ہیں۔ یہ کلام خداوند کا ہے   ” وہ اپنے  جھوٹ اور جھوٹے  وعظ سے  میرے  لوگوں  کو گمراہ کرتے  ہیں۔ میں  نے  ان نبیوں  کو لوگوں  میں  وعظ دینے  کیے  لئے  نہیں  بھیجا۔میں  نے  انہیں  اپنے  لئے  کچھ کام کرنے  کا حکم کبھی نہیں  دیا۔ وہ یہوداہ کے  لوگوں  کی مدد بالکل نہیں  کر سکتے   ” خداوند فرماتا ہے۔

33 ” یہوداہ کے  لوگ نبی یا کاہن تم سے  پو چھ سکتے  ہیں۔ اے  یرمیاہ! خداوند کی طرف سے  با رِ نبوت کیا ہے ؟ تب تم ان سے  کہنا کون سا با رِ نبوت۔ ” خداوند فرماتا ہے  میں  تم کو پھینک دوں  گا۔

34 ” اور نبی اور کاہن لوگوں  میں  سے  جو کوئی کہے  خداوند کی طرف سے  بار نبوت! میں  اس شخص کو اور اس کے  گھرانے  کو سزا دوں  گا۔

35 جو تم آپس میں  ایک دوسرے  سے  کہو گے  وہ یہ ہے۔ ‘ خداوند نے  کیا جواب دیا یا خداوند نے  کیا کہا؟ ‘

36 پر خداوند کی طرف سے  بار نبوت کا ذکر تم کبھی نہ کرنا۔ کیوں  کہ ہر ایک شخص اپنے  پیغام کو خدا کی طرف سے  آیا ہوا پیغام سمجھے  گا۔ اس طرح تم نے  زندہ خدا ہم لوگوں  کا خدا۔خداوند قادر مطلق کے  پیغام کو ردّ و بدل کر دیا ہے۔

37 ” اگر تم خدا کے  کلام کے  بارے  میں  جاننا چاہتے  ہو تب کسی نبی سے  پو چھو خداوند نے  تمہیں  کیا جواب دیا؟ خداوند نے  کیا کہا؟

38 لیکن چونکہ تم یہ کہنا پسند کرتے  ہو ” یہ خدا کا بار نبوت ہے۔ ” لیکن خداوند کہتا ہے   ” میں  نے  اس کا ذکر کرنے  سے  منع کیا تھا ‘ یہ بار نبوت ہے  ‘ لیکن تم نے  کہہ دیا ‘ یہ بار نبوت ہے۔ ‘

39 کیونکہ تم نے  یہ کہا اس لئے  میں  تمہیں  ایک وزنی بوجھ کی طرح اٹھاؤں  گا اور اپنے  سے  دور پھینک دوں  گا۔ میں  نے  تمہارے  باپ دادا کو یروشلم شہر دیا تھا لیکن اب میں  تمہیں  اور اس شہر کو اپنے  سے  دور پھینک دوں  گا۔

40 میں  ہمیشہ کے  لئے  تمہیں  مذاق اڑانے  کا نشانہ بناؤں  گا۔ کوئی بھی شخص تیری ندامت کو نہیں  بھولے  گا۔”

 

 

 

باب :  24

 

1 جب شاہ بابل نبو کد نضر کے  بعد یہوداہ کے  بادشاہ یہو یقیم کے  بیٹے  یہو یاکین کو ان کے  امراء کاریگروں  اور لوہاروں  سمیت قید کر کے  بابل کولے  گیا تو خداوند نے  مجھے  انجیر سے  بھری دو ٹوکریاں  خداوند کے  گھر کے  سامنے  دکھا یا۔

2 ایک ٹوکری میں  بہت اچھے  انجیر تھے۔ وہ ان انجیروں  کی طرح تھے  جو موسم کے  آغاز میں  پکتے  ہیں۔ لیکن دوسری ٹوکری میں  نہایت خراب انجیر تھے۔ ایسے  خراب کہ کھانے  کے  قابل نہ تھے۔

3 خداوند نے  مجھ سے  فرمایا ” اے  یرمیاہ! تم کیا دیکھتے  ہو؟ ” میں  نے  جواب دیا ” میں  انجیر دیکھتا ہوں  اچھے  انجیر بہت اچھے  ہیں۔ اور خراب انجیر بہت ہی خراب ہیں۔ وہ اتنے  خراب ہیں  کہ کھائے  نہیں  جا سکتے۔ ”

4 پھر خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا۔

5 خداوند اسرائیل کا خدا یوں  فرماتا ہے  : ” میں  نے  یہوداہ کے  کچھ لوگوں  کو قیدی بنا کر ان کے  ملک سے  بابل کی سر زمین میں  بھیجا۔ وہ لوگ اچھے  قسم کے  انجیر کی مانند تھے۔ میں  ان لوگوں  پر رحم کروں  گا۔

6 میں  ان کی حفاظت کروں  گا۔ میں  انہیں  یہوداہ ملک میں  واپس لاؤں  گا۔میں  انہیں  چیر کر نہیں  پھینکوں  گا میں  پھر ان کو  آباد کروں  گا۔ میں  ان کو لگاؤں  گا اکھاڑوں  گا نہیں۔

7 میں  انہیں  دکھاؤں  گا کہ میں  خداوند ہوں۔ وہ میرے  لوگ ہوں  گے  اور میں  ان کا خدا ہوں  گا۔ میں  یہ کروں  گا کیوں  کہ وہ پورے  دل سے  میرے  پاس واپس آئیں  گے۔

8 ” لیکن شاہ یہوداہ صدقیاہ ان انجیروں  کی طرح ہے  جو اتنے  خراب ہیں  کہ کھائے  نہیں  جا سکتے۔ صدقیاہ اس کے  امراء وہ سبھی لوگ جو یروشلم میں  بچ گئے  ہیں  اور یہوداہ کے  وہ لوگ جو مصر میں  بستے  ہیں  ان خراب انجیروں  کی مانند ہوں  گے۔

9 ” میں  ان لوگوں  کو سزا دوں  گا وہ سزا جو زمین کے  سبھی لوگوں  کا دل دہلا دے  گی۔ لوگ یہوداہ کے  لوگوں  کا مذاق اڑائیں  گے۔ لوگ ان کے  بارے  میں  ہنسی کی باتیں  کریں  گے۔ لوگ انہیں  ان سبھی مقاموں  پر لعنت بھیجیں  گے  جہاں  انہیں  میں  بکھیروں  گا۔

10 میں  ان کے  خلاف تلوار قحط سالی اور خوفناک بیماری بھیجوں  گا۔ میں  ان پر اس وقت تک حملہ کروں  گا جب کہ وہ سبھی مر نہیں  جاتے۔ تب وہ آئندہ اس زمین پر نہیں  رہیں  گے  جسے  میں  نے  ان لوگوں  کو اور ان کے  باپ دادا کو دی تھی۔”

 

 

 

باب :  25

 

1 یہ پیغام جو بادشاہ یہوداہ یہو یقیم بن یوسیاہ کی بادشاہت کے  چو تھے  برس میں  اور شاہ بابل نبو کد نضر کی بادشاہت کے  پہلے  برس میں  یہوداہ کے  لوگوں  کے  متعلق یر میاہ پر نازل ہوا۔

2 یہ وہ پیغام ہے  جسے  یرمیاہ نبی نے  یہوداہ کے  سبھی لوگوں  کو اور ان کے  سارے  لوگوں  کو جو یروشلم میں  رہتے  ہیں  دیا۔

3 کہ شاہ یہوداہ یوسیاہ بن امون کے  تیرہویں  برس سے  آج تک یہ تیئیس برس خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوتا رہا اور میں  تم کو سناتا اور بر وقت جتاتا رہا۔ اس کے  با وجود تم نے  نہ سنا۔

4 خداوند نے  اپنے  خدمت گذار نبیوں  کو تمہارے  پاس بار بار بھیجا ہے۔ لیکن تم نے  ان کی طرف تھوڑا بھی دھیان نہ دیا۔

5 ان نبیوں  نے  کہا ” اپنی زندگی کو بدلو۔ ان بُرے  کاموں  کو کرنا چھوڑ دو۔ اگر تم بدل جاؤ گے  تو تم اس زمین پر دوبارہ رہ سکو گے  جسے  خداوند نے  تمہارے  با پ دادا کو بہت پہلے  دی تھی۔ اس نے  یہ زمین تمہیں  ہمیشہ رہنے  کو دی۔

6 غیر خداؤں  کی پیروی نہ کرو۔ان کی خدمت یا ان کی عبادت نہ کرو۔ان مورتیوں  کی عبادت نہ کرو جنہیں  کچھ لوگوں  نے  بنایا ہے۔ وہ مجھے  تم پر صرف غضبناک کرتے  ہیں۔ایسا کرنے  سے  خود تمہیں  نقصان پہنچے  گا۔”

7 “لیکن تم نے  میری ان سنی کی۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” تم نے  ان مورتیوں  کی عبادت کی جنہیں  بعض لوگوں  نے  بنائی اور اس نے  مجھے  غضبناک کیا اور اس نے  صرف تمہیں  دکھ پہنچا یا۔”

8 اس لئے  خداوند قادر مطلق یوں  فرماتا ہے   ” تم نے  میری بات نہ سنی۔

9 دیکھو میں  تمام شمالی قبائل کو اور اپنے  خدمت گزار شاہ بابل نبو کد نضر کو بلاؤں  گا۔ خداوند فرماتا ہے  اور میں  ان سے  تمہارے  ملک اس کے  لوگوں  اور اس کے  آس پاس کے  تمام قوموں  پر حملہ کرواؤں  گا۔ میں  ان کو بالکل نیست و نابود کر دوں  گا۔ لوگ ان کا مذاق اڑائیں  گے  اور میں  انہیں  ہمیشہ ہمیشہ کے  لئے  تباہ و برباد کر دوں  گا۔

10 بلکہ میں  ان سے  خوشی و شادمانی کی آواز دلہے  اور دلہن کی آواز چکی کی آواز اور چراغ کی روشنی موقوف کر دوں  گا۔

11 وہ ساری سر زمین ہی بیا بان ہو گی۔ وہ سارے  لوگ شاہ بابل کے  ستّر برس تک غلام ہوں  گے۔

12 ” جب ستّر برس پورے  ہوں  گے  تو میں  شاہ بابل کو سزا دوں  گا۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” میں  بابل کے  باشندوں  کے  ملک کو ان کے  گناہوں  کی سزا دوں  گا۔ میں  اس ملک کو ہمیشہ کے  لئے  بیا بان بناؤں  گا۔

13 اور میں  اس ملک پر اپنی سب باتیں  جو میں  نے  اس کی بابت کہیں  یعنی وہ سب جو اس کتاب میں  لکھی ہیں  جو یرمیاہ نے  نبوت کر کے  سب قوموں  کو کہہ سنائیں  پوری کروں  گا۔

14 ہاں  بابل کے  لوگوں  کو کئی قوموں  اور کئی بڑے  بادشاہوں  کی خدمت کرنی پڑے  گی۔ میں  ان پر ایسا ہونے  دوں  گا۔ کیوں  کہ یہی انہوں  نے  دوسروں  کے  ساتھ کیا تھا۔”

15 چونکہ خداوند اسرائیل کے  خدا نے  فرمایا کہ غضب کی مئے  کا یہ پیالہ میرے  ہاتھ سے  لے  اور ان سب قوموں  کو جن کے  پاس میں  تجھے  بھیجتا ہوں  پلا۔

16 وہ اس مئے  کو پئیں  گے۔ تب وہ لڑ کھڑائیں  گے۔ اور پاگلوں  کی سی حرکت کریں  گے۔ وہ ان تلواروں  کے  سبب ایسا کریں  گے  جنہیں  میں  ان کے  خلاف جلد بھیجوں  گا۔

17 اس لئے  میں  نے  خداوند کے  ہاتھ سے  وہ پیالہ لیا۔ میں  ان قوموں  میں  گیا جہاں  خداوند نے  مجھے  بھیجا۔ اور ان لوگوں  کو اس پیالہ سے  پلا یا۔

18 میں  نے  شاہ یہوداہ اور امراء کو اس پیالہ سے  پلا یا۔ میں  نے  یہ اس لئے  کیا کہ ان کی زمین بیابان بن جائے۔ میں  نے  یہ اس لئے  کیا کہ زمین کا وہ پلاٹ پوری طرح نیست و نابود ہو جائے  کہ لوگ اس کے  بارے  میں  سیٹی بجائیں  اور اس پر لعنت کرے۔ یہوداہ اب اسی طرح کا ہے۔

19 میں  نے  شاہ مصر فرعون کو بھی پیالہ سے  پلا یا۔ میں  نے  اس کے  ملازموں۔ اس کے  امراء اور اس کے  سبھی لوگوں  کو خداوند کے  غضب کے  پیالہ سے  پلا یا۔

20 میں  نے  سبھی عربوں  اور اس ملک کے  عوض سبھی بادشاہوں  کو اس پیالہ سے  پلا یا۔ میں  نے  فلسطین ملک کے  سبھی بادشاہوں  کو اس پیالہ سے  پلا یا۔ وہ سارے  بادشاہ اسقلون غزّہ عقرون اور اشدود شہروں  سے  تھے۔

21 تب میں  نے  ادوم موآب اور بنی عّمون کو اس پیا لہ سے  پلا یا۔

22 میں  نے  صور اور صیدا کے  بادشاہوں  کو اس پیالہ سے  پلا یا۔ میں  نے  سمندر کے  پار کے  سبھی بادشاہوں  کو بھی اس پیالہ سے  پلا یا۔

23 میں  نے  ودان تیما اور بوز کے  لوگوں  کو اس پیالہ سے  پلا یا۔ میں  نے  ان سب لوگوں  کو اس پیالہ سے  پلا یا۔ جو کہ اپنے  بالوں  کو اپنی ہیکلوں  میں  کٹوائے۔

24 میں  نے  عرب کے  سبھی بادشاہوں  کو اس پیالہ سے  پلا یا۔ یہ بادشاہ بیابان میں  بستے  ہیں۔

25 میں  نے  زمری عیلام اور مادی کے  سبھی بادشاہوں  کو اس پیالہ سے  پلایا۔

26 میں  نے  شمال کے  سبھی قریب اور دور کے  بادشاہوں  کو اس پیالہ سے  پلا یا۔ میں  نے  ایک کے  بعد دوسرے  کو پلا یا۔ میں  نے  روئے  زمین کے  سبھی حکومتوں  کو خداوند کے  غضب کے  اس پیالہ سے  پلا یا۔ لیکن بادشاہ ” شیشک ” ان سبھی دیگر قوموں  کے  بعد آخر میں  اس پیالے  سے  پئے  گا۔

27 ” اے  یرمیاہ! ان قوموں  سے  کہو کہ بنی اسرائیل کا خداوند قادر مطلق جو کہتا ہے   وہ یہ ہے  : ‘ میرے  غضب کے  اس پیالہ کو پیو! اسے  پی کر مست ہو جاؤ اور قئے  کرو۔ گر پڑو اور پھر اٹھو۔کیوں  کہ تمہیں  مار ڈالنے  کے  لئے  میں  تلوار بھیج رہا ہو ں۔’

28 ” وہ لوگ تمہارے  ہاتھ سے  پیالہ لینے  سے  انکار کریں  گے۔ وہ اسے  پینے  سے  انکار کریں  گے۔ لیکن تم ان سے  کہو گے   ‘خداوند قادر مطلق یہ باتیں  بتاتا ہے۔ تم یقیناً ہی اس پیالہ سے  پیو گے

29 میں  اپنے  نام پر پکارے  جانے  والے  یروشلم شہر پر پہلے  ہی بری مصیبتیں  ڈھانے  جا رہا ہو ں۔ ہو سکتا ہے  کہ تم لوگ سو چو گے  کہ تمہیں  سزا نہیں  ملے  گی لیکن تم غلط سوچ رہے  ہو۔ تمہیں  سزا ملے  گی۔میں  روئے  زمین کے  لوگوں  پر حملہ کرنے  کے  لئے  تلوار مانگنے  جا رہا ہوں۔” یہ پیغام خداوند قادر مطلق کا ہے۔

30 ” اس لئے  تم یہ سب باتیں  ان کے  خلاف نبوت سے  بیان کرو۔ اور ان سے  کہہ دو : “خداوند بلندی پر سے  گر جے  گا اور اپنے  مقدس گھر سے  للکارے  گا۔ وہ اپنی بلند آوا ز سے  اپنی چراگاہ پر گرجے  گا۔ انگور لتاڑنے  وا لوں  کی مانند وہ زمین کے  سب باشندوں  کو للکا رے  گا۔

31 تباہی زمین کے  آخری سروں  پر پہنچے  گی۔ کیوں  کہ خداوند قوموں  کے  خلاف لڑے  گا۔ وہ تمام انسان کو عدالت میں  لائے  گا۔ خداوند ان تمام کو جو شریر ہیں  تلوار کے  حوالے  کرے  گا۔” یہ خداوند کا پیغام ہے۔

32 خداوند قادر مطلق یوں  فرماتا ہے  : ” ایک ملک سے  دوسرے  ملک تک جلد ہی بربادی آئے  گی۔ یہ زمین کے  دور دراز کے  علاقے  سے  آئی ہوئی آندھی کی طرح پھیل جائے  گی۔”

33 ان لوگوں  کی لاشیں  جسے  خداوند کے  ذریعہ ہلاک کیا گیا ہے  ملک کے  ایک سرے  سے  دوسرے  سرے  تک پڑی ہوں  گی۔ ان پر کوئی بھی توجہ نہ دے  گا۔ کوئی بھی خداوند کی طرف سے  ان کی لاشوں  کو اکٹھا نہیں  کرے  گا۔ اور نہ دفن کرے  گا۔ وہ کھاد کی طرح روئے  زمین پر پڑے  رہیں  گے۔

34 تم چروا ہوں  کو رونا اور چلانا چاہئے۔ اے  بھیڑو ( لوگو ) امراء! درد سے  تڑپتے  ہوئے  زمین پر لیٹو۔ کیوں  کہ تمہارے  قتل کے  ایّام آ پہنچے  ہیں۔خداوند تمہیں  تِتر بتر کر دے  گا۔تم نفیس برتن کی طرح گر جاؤ گے۔

35 چروا ہوں  کے  چھپنے  کے  لئے  کوئی جگہ نہیں  ملے  گی نہ گلّہ کے  سرداروں  کو بچ نکلنے  کی۔

36 میں  چرواہوں  ( امراء) کا شور مچانا سن رہا ہوں۔خداوند ان کی چراگاہ ( ملک ) کو نیست و نابود کر رہا ہے۔

37 اور سلامتی کے  بھیڑ خانے  خداوند کے  قہر شدید سے  بر باد ہو گئے۔

38 جوان شیر کی طرح جو اپنے  ماند کو شکار پکڑنے  کے  لئے  چھوڑتا ہے  خداوند اپنی زمین کو تباہ کر دے  گا۔خداوند بہت غضبناک ہے۔ اس کا غصہ لوگوں  کو نقصان پہنچائے  گا۔

 

 

 

باب :  26

 

1 یوسیاہ کے  بیٹے  یہویقیم کے  یہوداہ میں  حکومت کرنے  کے  پہلے  سال یہ پیغام خداوند کی طرف سے  نازل ہوا۔

2 خداوند یوں  فرماتا ہے  : ” اے  یرمیاہ! خداوند کے  گھر کے  آنگن میں  کھڑے  ہو جاؤ۔ یہوداہ کے  ان سبھی لوگوں  کو یہ پیغام دو جو خداوند کے  گھر میں  عبادت کرنے  کے  لئے  تمام یہوداہ آئے  ہیں۔ تم ان سے  وہ سب کچھ کہو جو میں  تم سے  کہنے  کو کہہ رہا ہوں۔ میرے  کلام کے  کسی بھی حصہ کو مت چھوڑو۔

3 ہو سکتا ہے  وہ میرے  کلام کو سنیں  اور اس کے  تحت چلیں۔ ہو سکتا ہے  وہ بری زندگی گذارنا چھوڑ دیں۔ اگر وہ بدل جائیں  تو میں  ان کو سزا دینے  منصوبے  کے  با رے  میں  اپنے  فیصلے  کو بدل سکتا ہوں۔ میں  ان کو سزا دینے  کا اس لئے  منصوبہ بنا رہا ہوں  کیوں  کہ انہوں  نے  بہت سے  برے  کام کئے  ہیں۔

4 تم ان سے  کہو گے   ‘خداوند جو کہتا ہے   وہ یہ ہے  : میں  نے  اپنی تعلیمات تمہیں  دی۔ تمہیں  چاہئے  کہ میری بات کو مانیں  اور میری تعلیمات پر عمل کریں۔

5 تمہیں  میرے  خدمت گذاروں  کی وہ باتیں  سننی چاہئے  جو وہ خود تم سے  کہیں۔( نبی میرے  خدمتگار ہیں  ) میں  نے  نبیوں  کو تمہارے  پاس بار بار بھیجا ہے۔ لیکن تم نے  ان کی ان سنی کی ہے۔

6 اگر تم نے  میری بات نہیں  مانی تو میں  اپنے  یروشلم کے  گھر کو شیلاہ کی مقدس خیمہ کی طرح دوں  گا۔ سادی دنیا کی دیگر قوموں  کے  لوگ مصیبت کے  دوران یروشلم کے  با رے  میں  سوچیں  گے۔ ”

7 کاہنوں  نبیوں  اور سبھی لوگوں  نے  خداوند کے  گھر میں  یرمیاہ کو یہ سب کہتے  سنا۔

8 اور یوں  ہوا کہ جب یرمیاہ وہ سب باتیں  کہہ چکا جو خداوند نے  اسے  کہنے  کا حکم دیا تھا تو کاہنوں  اور نبیوں  اور سب لوگوں  نے  اسے  پکڑا اور کہا ” تو یقیناً قتل کیا جائے  گا۔

9 خداوند کے  نام پر ایسی باتیں  کرنے  کا حوصلہ تم کیسے  کر سکتے  ہو؟ تم یہ کہنے  کا حوصلہ کیسے  کر سکتے  ہو کہ یروشلم بغیر کسی آبادی کے  بیابان بنے  گا۔” سبھی لوگ یرمیاہ کے  چاروں  جانب خداوند کی ہیکل میں  اکٹھے  ہو گئے۔

10 اس طرح یہوداہ کے  امراء نے  ان ساری باتوں  کو سنا جو ہو رہی تھی۔ اس لئے  وہ بادشاہ کے  محل سے  با ہر آئے۔ وہ خداوند کے  گھر کو گئے  وہ نئے  پھاٹک کے  مدخل پر بیٹھ گئے۔ نیا پھاٹک وہ پھاٹک ہے  جہاں  سے  خداوند کی ہیکل کو جاتے  ہیں۔

11 تب کاہنوں  اور نبیوں  نے  امراء اور سبھی لوگوں  سے  باتیں  کیں۔انہوں  نے  کہا ” یرمیاہ کو مار ڈالا جانا چاہئے۔ اس نے  یروشلم کے  خلاف نبوت کیا ہے۔ جیسا کہ تم نے  بھی اسے  وہ باتیں  کہتے  سنا۔”

12 تب یرمیاہ نے  یہوداہ کے  سبھی امراء اور دیگر سبھی لوگوں  سے  بات کی۔ اس نے  کہا “خداوند نے  مجھے  اس ہیکل اور اس کے  شہر کے  با رے  میں  باتیں  کہنے  کے  لئے  بھیجا۔ جو سب تم نے  سنا ہے  وہ خداوند کے  یہاں  سے  ہے۔

13 تم لوگوں  کو اپنی زندگی بدلنی چاہئے۔ تمہیں  اچھے  کام شروع کرنا چاہئے۔ تمہیں  خداوند اپنے  خدا کی بات ماننی چاہئے۔ اگر تم ایسا کرو گے  تو خداوند اپنا ارادہ بدل دے  گا۔ خداوند وہ بری مصیبتیں  نہیں  لائے  گا۔جن کے  ہونے  کے  با رے  میں  اس نے  کہا۔

14 جہاں  تک میری بات ہے   میں  تمہارے  قابو میں  ہو ں۔میرے  ساتھ وہ کرو جسے  تم اچھا اور ٹھیک سمجھتے  ہو۔

15 ” لیکن اگر تم مجھے  مار ڈالو گے  تو ایک بات یقینی سمجھو۔ تم ایک بے  قصور شخص کو مار نے  کے  قصوروار ہو گے۔ تم اس شہر اور اس میں  جو بھی رہتے  ہیں  انہیں  بھی قصوروار بناؤ گے۔ در حقیقت خداوند نے  مجھے  تمہارے  پاس بھیجا ہے  کہ تمہارے  کانوں  میں  یہ سب باتیں  کہوں۔”

16 تب امراء اور سبھی لوگ کاہنوں  اور نبیوں  سے  بولے   ” یرمیاہ کو نہیں  مارا جانا چاہئے۔ کیوں  کہ اس نے  خداوند ہمارے  خدا کے  نام سے  ہم لوگوں  سے  باتیں  کیں  ہیں۔”

17 تب بزرگوں  میں  سے  کچھ کھڑے  ہوئے  اور انہوں  نے  سب لوگوں  سے  باتیں  کیں۔

18 کہ میکاہ مورشتی شاہ یہوداہ حزقیاہ کے  ایام میں  نبوت کی اور یہوداہ کے  سب لوگوں  سے  مخاطب ہو کر یوں  کہا : خدا قادر مطلق یوں  فرماتا ہے  : ” صیون کھیت کی طرح جوتا جائے  گا اور یروشلم کھنڈر ہو جائے  گا اور اس گھر کا پہاڑ جنگل جھاڑی سے  بھرے  ہوئے  پہاڑی کی مانند ہو جائے  گا۔”

19 ” جب حزقیاہ شاہ یہوداہ تھا اور اس نے  میکاہ کو نہیں  مارا۔یہوداہ کے  کسی شخص نے  میکاہ کو نہیں  مارا۔ تم جانتے  ہو حزقیاہ خداوند کا احترام کرتا ہے۔ خداوند کہہ چکا تھا کہ وہ یہوداہ کا برا کرے  گا۔ لیکن حزقیاہ نے  خداوند سے  دعا کی اور خداوند نے  اپنا ارادہ بدل دیا۔ خداوند نے  اس عذاب کو آنے  نہیں  دیا۔ اگر ہم لوگ یرمیاہ کو نقصان پہنچائیں  گے  تو ہم لوگ اپنے  اوپر عظیم تباہی کو دعوت دیں  گے۔ ”

20 پھر ایک اور شخص نے  خداوند کے  نام سے  نبوت کی یعنی اور یاہ بن سمعیاہ جو قریب یعریم کا تھا۔ اس نے  اس شہر اور ملک کے  خلاف یرمیاہ کی سب باتوں  کے  مطابق نبوت کی۔

21 یہو یقم بادشاہ اس کی فوج ملازمین اور یہوداہ کے  امراء نے  اور یاہ کی باتیں  سنیں۔ بادشاہ یہویقیم اور یاہ کو مار دینا چاہتا تھا۔ لیکن اوریاہ کو پتا چلا کہ یہو یقیم اسے  ماردینا چاہتا ہے  تو اوریاہ ڈر گیا اور وہ ملک مصر کو بھاگ نکلا۔

22 لیکن بادشاہ یہویقیم نے  الناتن نامی ایک شخص اور کچھ دیگر لوگوں  کو مصر بھیجا۔النا تن عکبورنامی شخص کا بیٹا تھا۔

23 وہ لوگ اور یاہ کو مصر سے  واپس لے  آئے۔ تب وہ لوگ اوریاہ کو یہو یقیم بادشاہ کے  پاس لے  گئے۔ یہو یقیم نے  اور یاہ کو تلوار سے  قتل کر دینے  کا حکم دیا۔ اور یاہ کی لاش اس قبر ستان میں  پھینک دی گئی جہاں  غریب لوگ دفن کئے  جاتے  تھے۔

24 پر اخیقام بن سافن نے  یرمیاہ کو ان لوگوں  سے  بچا یا۔ جو کہ اسے  قتل کرنا چاہتے  تھے۔

 

 

 

باب :  27

 

1 شاہِ یہوداہ صدقیاہ بن یوسیاہ کی سلطنت کے  شروع میں  خداوند کی طرف سے  یہ کلام یرمیاہ پرنا زل ہوا۔

2 خداوند نے  مجھ سے  جو کہا وہ یہ ہے  : ” پھندے  کے  ساتھ جوئے  بنا کر اپنی گردن پر ڈال۔

3 تو ادوم موآب عمّون صور اور صیدا کے  بادشاہوں  کو پیغام بھیجو۔ یہ پیغام ان بادشاہوں  کے  قاصدوں  کی جانب سے  بھیجو جو یہوداہ کے  بادشاہ صدقیاہ سے  ملنے  یروشلم آئے  ہیں۔

4 ان بادشاہوں  سے  کہو کہ وہ پیغام اپنے  مالکوں  کو دیں۔ان سے  یہ کہو کہ اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق یوں  فرماتا ہے  کہ اپنے  مالکوں  سے  کہو کہ

5 میں  نے  زمین اور اس پر رہنے  والے  سبھی لوگوں  کو بنایا۔میں  نے  زمین کے  سبھی جانوروں  کو بنا یامیں  نے  یہ اپنی قدرت کا ملہ اور بلند باز و سے  کیا۔ میں  یہ زمین کسی کو بھی جسے  چا ہوں  دے  سکتا ہو ں۔

6 اس وقت میں  نے  شاہ بابل نبو کد نضر کو تمہاری مملکتیں  دے  دی ہیں۔ وہ میرا خادم ہے۔ میں  جنگلی جانوروں  کو بھی اس کاتا بعدار بناؤں  گا۔

7 سب قومیں  اس کی اور اس کے  بیٹے  اور اسے  کے  پوتے  کی تب تک خدمت کریں  گی جب تک کہ اس کی سلطنت قائم رہے  گی۔بہت سی قومیں  اور بڑے  بڑے  بادشاہیں  ان کی خدمت کریں  گے۔

8 اور خداوند فرماتا ہے   ” جو قوم اور جو سلطنت اس کی یعنی شاہ بابل نبو کد نضر کی خدمت نہ کرے  گی اور اپنی گردن شاہ بابل کے  جوئے  تلے  نہ جھکائے  گی تواس قوم میں  تلوار یا قحط سالی یا خوفناک بیماری سے  مار ڈالوں  گا۔” ” یہاں  تک کہ میں  اپنے  ہاتھ سے  نیست و نابود کر ڈالوں  گا۔

9 نبیوں  کی ایک نہ سنو۔ وہ آئندہ کی باتوں  کو جاننے  کے  لئے  جا دو کا استعمال کرتے  ہیں۔ان لوگوں  کی ایک بات بھی نہ سنو جو کہتے  ہیں  کہ وہ خواب کی تعبیر بتا سکتے  ہیں۔ان لوگوں  کی ایک نہ سنو جو مردوں  سے  باتیں  کرتے  ہیں  وہ سب لوگ جادوگر ہیں۔ وہ سبھی تم سے  کہتے  ہیں  “بادشاہ بابل کی خدمت کرو۔”

10 لیکن وہ لوگ جھوٹی نبوت کرتے  ہیں۔ میں  تمہیں  تمہارے  ملک سے  بہت دور جانے  پر مجبور کروں  گا۔ اور تم دوسرے  ملک میں  مرو گے۔

11 ” پر جو قوم اپنی گردن شاہ بابل کے  جوئے  تلے  رکھ دے  گی اور اس کی خدمت کرے  گی۔ اس کو میں  اس کی مملکت میں  رہنے  دوں  گا۔” خداوند فرماتا ہے  اور وہ قوم اس میں  کھیتی کرے  گی اور اس میں  بسے  گی۔

12 “میں  نے  شاہ یہوداہ صدقیاہ کو بھی یہ پیغام دیا۔ میں  نے  کہا ” اے  صدقیاہ تمہیں  اپنے  آپ  کو شاہ بابل کے  سپرد کرنا چاہئے  اور اس کی بات ماننی چاہئے۔ اگر تم شاہ بابل اور اس کے  لوگوں  کی خدمت کرو گے  تو تم زندہ رہ سکو گے۔

13 اگر تم شاہ بابل کی خدمت کر نا قبول نہیں  کرتے  تو تم اور تمہارے  لوگ دشمن کی تلوار سے  ہلاک ہوں  گے   اور بھوک اور خوفناک بیماری سے  مریں  گے۔ خداوند نے  کہا کہ یہ باتیں  ہوں  گی۔

14 لیکن جھوٹے  نبی کہہ رہے  ہیں  : “تم شاہ بابل کے  خادم کبھی نہیں  ہو گے۔ ان نبیوں  کی ایک نہ سنو۔ کیونکہ وہ جھوٹی نبوت کرتے  ہیں۔

15 میں  نے  ان نبیوں  کو نہیں  بھیجا ہے۔ ” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” وہ جھوٹی نبوت کرتے  ہیں۔ اور کہتے  ہیں  کہ وہ پیغام میرے  یہاں  سے  ہے۔ اس لئے  اے  یہوداہ کے  لوگو! میں  تمہیں  دور بھیجوں  گا تم مرو گے  اور وہ نبی بھی جو پیغام دے  رہے  ہیں  مریں  گے۔ ”

16 میں  نے  کاہنوں  سے  اور ان سب لوگوں  سے  بھی مخاطب ہو کر کہا “خداوند یوں  فرماتا ہے  کہ اپنے  نبیوں  کی باتیں  نہ سنو جو تم سے  نبوت کرتے  اور کہتے  ہیں  کہ دیکھو خداوند کی ہیکل کے  ظروف اب تھوڑی ہی دیر میں  بابل سے  وا پس آ جائیں  گے۔ کیونکہ وہ تم سے  جھوٹی نبوت کرتے  ہیں۔

17 ان نبیوں  کی ایک نہ سنو۔شاہِ با بل کی خدمت کرو اور تم زندہ رہو گے۔ اس شہر کے  لئے  یہ کوئی ضروری نہیں  کہ یہ برباد ہو جائے  گا۔

18 پر اگر وہ نبی ہیں  اور خداوند کا کلام ان کی امانت میں  ہے  تو وہ خداوند سے  شفاعت کریں تا کہ وہ ظروف جو خداوند کی ہیکل میں  اور شاہ یہوداہ کے  گھر میں  اور یروشلم میں  با قی ہیں  بابل کو نہ جائیں۔”

19 خداوند قادر مطلق ان سب چیزوں  کے  با رے  میں  یہ کہتا ہے  جو ابھی تک یروشلم میں  بچی رہ گئی ہیں۔ گھر میں  ستون پیتل کا حوض کرسیاں  اور دیگر چیز،یں  ہیں۔شا ہِ بابل نبو کد نضر نے  ان چیزوں  کو یروشلم میں  چھوڑ دیا۔

20 جب بابل کا بادشاہ نبو کد نضر نے  یہوداہ کے  بادشاہ یہو یاکین کو قیدکیا تو وہ ان چیزوں  کو اپنے  ساتھ نہیں  لے  گیا۔ یہو یاکین بادشاہ یہو یقیم کا بیٹا تھا۔نبو کد نضر یہوداہ اور یروشلم کے  دیگر بڑے  لوگوں  کو بھی لے  گیا۔

21 خداوند قادر مطلق اسرائیل کا خدا خداوند کی ہیکل میں  بچی ہوئی چیزوں  کے  با رے  میں  یہ کہتا ہے  :

22 ان چیزوں  کو بابل لے  جا یا جائے  گا۔ اور وہ بابل میں  اس وقت تک رہے  گا جب تک کہ میں  اسے  لے  نہ جاؤں  گا۔خداوند کا پیغام ہے   “میں  ان چیزوں  کو واپس ان کی جگہ پر لاؤں  گا۔

 

 

 

باب :  28

 

1 اور اسی سال شاہ یہوداہ صدقیاہ کی سلطنت کے  شروع میں  چو تھے  برس کے  پانچویں  مہینے  میں  یوں  ہوا کہ جبعون کے  عزور کے  بیٹے  حننیاہ نبی نے  خداوند کی ہیکل میں  کاہنوں  اور سب لوگوں  کے  سامنے  مجھ سے  مخاطب ہو کر کہا :

2 “خداوند قادر مطلق اسرائیل کا خدا فرماتا ہے   ‘میں  بابل کے  بادشاہ کی طاقت کو ختم کر دوں  گا۔

3 دوسال پو رے  ہونے  سے  قبل میں  ان چیزوں  کو بابل وا پس لے  آؤں  گا جنہیں  شاہ بابل نبو کد نضر خداوند کی ہیکل سے  لے  گیا ہے۔

4 میں  شاہ یہوداہ یہو یاکین کو بھی واپس لے  آؤں  گا۔ یہو یاکین یہویقیم کا بیٹا ہے۔ میں  ان سبھی یہوداہ کے  لوگوں  کو واپس لاؤں  گا جنہیں  نبو کد نضر نے  اپنے  گھر چھوڑنے  اور بابل جانے  کو مجبور کیا ‘ یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ‘اس لئے  میں  اس جوئے  کو توڑ دوں  گا جسے  شاہ بابل نے  یہوداہ کے  لوگوں  پر رکھا ہے۔ ”

5 تب یرمیاہ نبی نے  حننیاہ نبی سے  یہ کہا : وہ خداوند کی ہیکل میں  کھڑے  تھے۔ کاہن اور وہاں  کے  سبھی لوگ یرمیاہ کا کہا ہوا سن سکتے  تھے۔

6 یرمیاہ نبی نے  کہا ” آمین! خداوند ایسا ہی کرے۔ خداوند تمہاری باتوں  کو جو تم نے  نبوت سے  کہیں  پورا کرے۔ خداوند کی ہیکل کے  تمام سامانوں  کو اور سب قیدیوں  کو بابل سے  یہاں  وا پس لا یا جائے  گا۔

7 ” لیکن اے  حننیاہ وہ سنو جو مجھے  کہنا چاہئے  وہ سنو جو میں  سبھی لوگوں  سے  کہنا چاہتا ہو ں۔

8 حننیاہ ہمارے  اور تمہارے  نبی ہونے  کے  بہت پہلے  نبی تھے۔ بہت سے  ملکوں  اور بڑی بڑی سلطنتوں  کے  حق میں  جنگ اور بلا ء اور خوفناک بیماری کی نبوت کی ہے۔

9 لیکن اگر کوئی نبی امن کے  با رے  میں  نبوت کرتا ہے  تو کیا ہم لوگ جان جائیں  گے  کہ اسے  خداوند سچ مچ میں  بھیجا ہے   یہ صرف تب ہی ہو گا جب اس کا پیغام سچا ثابت ہو گا۔ ”

10 تب حننیاہ نبی نے  یرمیاہ نبی کی گردن پر سے  جوا اتارا اور اسے  توڑ ڈالا۔

11 اور حننیاہ نے  سب لوگوں  کے  سامنے  بلند آواز سے  کہا ” خداوند یوں  فرماتا ہے  کہ میں  اسی طرح سے  شاہ بابل نبو کد نضر کا جُوا جو کہ تمام قوموں  کی گردن پر رکھا گیا ہے  دو ہی برس کے  اندر توڑ ڈالوں  گا۔ تب یرمیاہ نبی نے  اپنی راہ لی۔

12 تب خداوند کا پیغام یرمیاہ کو ملا۔ یہ تب ہوا جب حننیاہ نے  یرمیاہ کی گردن سے  جوئے  کو اتار لیا تھا اور اسے  توڑ ڈالا تھا۔

13 خداوند نے  یرمیاہ سے  کہا ” جاؤ اور حننیاہ سے  کہو ‘خداوند جوکہتا ہے  وہ یہ ہے  : تم نے  ایک لکڑی کا جوا توڑ دیا ہے  لیکن تم نے  لکڑی کی جگہ ایک لو ہے  کا جوا بنا دیا ہے۔ ‘

14 اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : “میں  ان سبھی قوموں  کی گردن پر لو ہے  کا جوا رکھوں  گا۔میں  یہ شاہ بابل نبو کد نضر کی ان سے  خدمت کرانے  کے  لئے  کروں  گا اور وہ اس کے  غلام ہوں  گے۔ میں  نبو کد نضر کو جنگلی جانوروں  پر بھی حکومت کا حق دوں  گا۔ ”

15 تب یرمیاہ نبی نے  حننیاہ سے  کہا “اے  حننیاہ سنو! خداوند نے  تمہیں  نہیں  بھیجا۔ لیکن تم نے  یہوداہ کے  لوگوں  کو جھوٹی امید دلائی ہے۔

16 اس لئے  خداوند جو کہتا ہے  وہ یہ ہے   اے  حننیاہ میں  تمہیں  جلد ہی اس دنیا سے  اٹھا لوں  گا۔تم اسی سال مرو گے  کیوں ؟ کیوں  کہ تم نے  خداوند کے  خلاف فتنہ انگیز باتیں  کیں  ہیں۔ ”

17 حننیاہ اسی سال کے  ساتویں  مہینے  میں  مر گیا۔

 

 

 

باب :  29

 

1 یرمیاہ نے  بابل میں  یہودی قیدیوں  کے  نام ایک خط بھیجا۔ اس نے  ایسا ہی خط بزرگوں  کاہنوں  نبیوں  اور سبھی قیدیوں  کو بھیجا۔ یہ وہ لوگ تھے  جنہیں  نبو کد نضر نے  یروشلم میں  پکڑا تھا اور بابل لے  گیا تھا۔

2 ( یہ خط بادشاہ یہو یاکین اس کی والدہ خواجہ سراؤں  اور یہوداہ ویروشلم کے  امراء کا ریگروں  اور لو ہاروں  کے  یروشلم لے  جانے  کے  بعد بھیجا گیا تھا۔)

3 العاسہ بن سافن اور جمریہ بن خلفیاہ کے  ہاتھوں  شاہ یہوداہ صدقیاہ نے  شاہ بابل نبو کد نضر کے  پاس ایک پیغام بھیجا ان لوگوں  نے  یہ پیغام دیا اور کہا :

4 خداوند قادر مطلق اسرائیل کا خدا ان تمام لوگوں  سے  جنہیں  قید کر کے  یروشلم سے  بابل لے  جا یا گیا یہی کہتا ہے  :

5 ” گھر بناؤ اور ان میں  رہو۔ اس ملک میں  بس جاؤ۔پودے  لگاؤ اور اپنی اگائی ہوئی فصل سے  خوراک حاصل کرو۔

6 بیاہ کرو اور بیٹے  اور بیٹیاں  پیدا کرو۔ اپنے  بیٹوں  کے  لئے  بیویاں  تلاش کرو اور اپنی بیٹیوں  کی شادی کراؤ تا کہ ان سے  بیٹے  بیٹیاں  پیدا ہوں  پھلو پھو لو اور اپنی آبادی کو بڑھاؤ۔

7 میں  جس شہر میں  تمہیں  بھیجوں  اس کے  لئے  اچھا کام کرو جس شہر میں  تم رہو اس کے  لئے  خداوند سے  دعا کروکیوں ؟ کیوں  کہ اگر اس شہر میں  سلامتی رہے  گی تو تمہیں  بھی سلامتی ملے  گی۔”

8 بنی اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : “اپنے  نبیوں  اور جا دو گروں  سے  اپنے  کو بے  وقوف مت بننے  دو۔ان کے  ان خوابوں  کے  بارے  میں  نہ سنو جنہیں  وہ دیکھتے  ہیں۔

9 وہ جھوٹی نبوت کرتے  ہیں۔ اور وہ یہ کہتے  ہیں  کہ ان کا پیغام یہاں  سے  ہے۔ لیکن میں  نے  اسے  نہیں  بھیجا۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

10 خداوند جو کہتا ہے  وہ یہ ہے  : بابل ستّر برس تک طاقتور رہے  گا۔بابل میں  رہنے  والے  لوگو! اس کے  بعد میں  تمہارے  پاس آؤں  گا میں  تمہیں  اس جگہ وا پس لانے  کا اپنا قول پو را کروں  گا۔

11 میں  تمہیں  اس لئے  یہ کہہ رہا ہوں  کیونکہ میں  اپنے  منصوبوں  کو جو کہ تیرے  لئے  ہے  جانتا ہو ں۔ یہ خداوند کا پیغام ہے۔ ” میں  تمہاری بھلائی کے  لئے  منصوبہ بنا رہا ہوں  تمہارے  بدنصیبی کے  لئے  نہیں  میں  تجھے  امید دلانے  کا منصوبہ بنا رہا ہوں۔

12 تب تم لوگ میری عبادت کرو گے  تم میرے  پاس آؤ گے  اور میری عبادت کرو گے  اور میں  تمہاری باتوں  کو سنوں  گا۔

13 تم لوگ میری کھوج کرو گے  تو تم مجھے  پاؤ گے۔

14 اور ہاں  میں  کہتا ہوں  کہ تم مجھے  پاؤ گے۔ ” خداوند فرماتا ہے   ” میں  تمہارے  قید کو موقوف کراؤں  گا اور تم کو ان سب قوموں  سے  اور سب جگہوں  سے  جن میں  تم کو قید کیا گیا ہے  جمع کروں  گا۔”

15 تم لوگ یہ کہہ سکتے  ہو ” لیکن خداوند نے  ہم لوگوں  کو بابل میں  نبی دیئے  ہیں۔”

16 اس لئے  خداوند اس بادشاہ کی بابت جو داؤد کے  تخت پر بیٹھا ہے  اور ان سب لوگوں  کی بابت جو اس شہر میں  بستے  ہیں  یعنی تمہارے  بھا ئیوں  کی بابت جو تمہارے  ساتھ قید ہو کر نہیں  گئے  یوں  فرماتا ہے۔

17 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : ” میں  بہت جلد ہی تلوار قحط سالی اور چمڑے  کی خوفناک بیماری ان لوگوں  کے  خلاف بھیجوں  گا جو اب تک یروشلم میں  ہیں۔میرے  لئے  وہ خراب انجیر کی مانند ہے  جسے  کوئی بھی شخص نہیں  کھا سکتا۔

18 میں  تلوار قحط سالی اور چمڑے  کی بیماری سے  ان کا پیچھا کروں  گا اور میں  ان کو زمین کی سب قوموں  کے  حوا لہ کروں  گا کہ لعنت کا سامنا کرے  اور ہر جگہ ڈانٹ ڈپٹ کھاتے  پھریں۔

19 میں  ان سبھی باتوں  کو ہونے  دوں  گا کیوں  کہ یروشلم کے  ان لوگوں  نے  میرے  پیغام کو نظر انداز کیا ہے۔ یہ پیغام خداوند کا ہے۔ “میں  نے  اپنا پیغام ان کے  پاس بار بار بھیجا۔ میں  نے  اپنے  خدمت گذار نبیوں  کو ان لوگوں  کے  پاس اپنا پیغام دینے  کے  لئے  بھیجا۔ لیکن لوگوں  نے  میرے  پیغام کو نظراندا ز کیا ہے۔ ” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

20 ” تم لوگ قید ہو۔ میں  نے  تمہیں  یروشلم چھوڑنے  اور بابل جانے  کے  لئے  مجبور کیا۔اس لئے  خداوند کا پیغام سنو۔

21 خداوند قادر مطلق اسرائیل کا خدا اخی اب بن قولا یاہ اور صدقیاہ بن معسیاہ جو میرا نام لے  کر جھوٹی نبوت کرتے  ہیں  کے  با رے  میں  یوں  فرمایا ہے   “دیکھو میں  ان کو شاہ بابل نبو کد نضر کے  حوالے  کروں  گا اور وہ ان کو تمہاری آنکھوں  کے  سامنے  قتل کر دے  گا۔

22 سبھی یہودی جو کہ بابل میں  قید تھے  ان لوگوں  کا استعمال مثال کے  لئے  اس وقت کریں  گے۔ وہ کہیں  گے  : خداوند تمہارے  ساتھ صدقیاہ اور اخی اب کی مانند برتاؤ کرے۔ شاہ بابل نے  ان دونوں  کو آ گ میں  جلاد یا۔

23 کیوں  کہ ان دونوں  نبیوں  نے  اسرائیل میں  اپنے  پڑوسیوں  کی بیویوں  سے  زناکاری کر کے  ممانعتی کاموں  کو کیا ہے۔ اور میرا نام لے  کر جھوٹی باتیں  کی ہیں  جن کا میں  نے  ان کو حکم نہیں  دیا تھا۔” خداوند فرماتا ہے  میں  جانتا ہوں  اور میں  گواہ ہوں۔

24 سمعیاہ کو بھی ایک پیغام دو۔ سمعیاہ نخلامی خاندان سے  ہے۔

25 اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : ” اے  سمعیاہ! تم نے  یروشلم کے  سبھی لوگوں  کو خط بھیجے۔ اور تم نے  معسیاہ کے  بیٹے  کاہن صفنیاہ اور تمام کاہنوں  کو بھی خط بھیجے۔ تم نے  ان خطوں  کو اپنے  اختیار سے  بھیجا۔

26 سمعیاہ! تم نے  اپنے  خط میں  صفنیاہ کو یہ کہا “خداوند تم کو یہویدع کی جگہ پر خداوند کی ہیکل کا نگراں  کار کے  طور پر کاہن مقرر کیا ہے۔ تا کہ تم ہر اس شخص کو جو دیوانہ پن میں  نبوت کرتا ہے۔ اس کو پکڑو اور انہیں  قید کر لو۔

27 عنتوت کا یرمیاہ تم سے  نبوت کی باتیں  کر رہا ہے۔ اس لئے  تم اسے  کیوں  نہیں  ڈانٹ ڈپٹ کئے۔

28 یرمیاہ نے  ہم لوگوں  کو یہ پیغام بابل میں  دیا تھا : ” بابل میں  رہنے  والے  لوگو! تم وہاں  ایک طویل مدت تک رہو گے۔ اس لئے  اپنے  مکان بناؤ اور وہیں  بس جاؤ۔ باغ لگاؤ اور ان کا پھل کھاؤ۔”

29 کاہن صفنیاہ نے  یرمیاہ نبی کو خط سنایا۔

30 تب یرمیاہ کے  پاس خداوند کا کلام آیا۔

31 ” اے  یرمیاہ! بابل کے  سبھی قیدیوں  کو یہ پیغام بھیجو : ” خداوند سمعیاہ کے  با رے  میں  یوں  فرماتا ہے  : نخلام خاندان کا سمعیاہ تمہارے  سامنے  نبوت کرتا ہے۔ حالانکہ میں  نے  اسے  نہیں  بھیجا اور اس نے  تم کو جھوٹی امید دلا ئی۔

32 اس لئے  خداوند یوں  فرماتا ہے  کہ دیکھو میں  نخلام خاندان کے  سمعیاہ کو اور اس کی نسل کو سزا دوں  گا۔اس کا کوئی آدمی  اس کے  درمیان نہ ہو گا۔ اور وہ ان اچھی چیزوں  کو جو میں  اپنے  لوگوں  کے  لئے  کروں  گا ہر گز نہ دیکھے  گا۔خداوند فرماتا ہے   ” یہ اس لئے  کیوں  کہ اس نے  خداوند کے  خلاف فتنہ انگیز باتیں  کہی ہیں۔”

 

 

 

باب :  30

 

1 وہ کلام جو خداوند کی طرف سے  یرمیاہ پر نازل ہوا۔

2 خداوند بنی اسرائیل کے  خدا نے  یہ کہا ” اے  یرمیاہ : سبھی پیغام کو جسے  کہ میں  نے  تجھے  کہا ہے  ایک کتاب میں  لکھ ڈالو۔

3 کیونکہ دیکھو وہ دن جلد آ رہا ہے  جب اسرائیل اور یہوداہ کے  لوگوں  کے  قیدی کو ختم کر دوں  گا۔”خداوند فرماتا ہے  اور میں  ان کو اس ملک میں  وا پس لاؤں  گا جو میں  نے  ان کے  با پ دادا کو دیا تھا اور وہ اس پر اپنا قبضہ جما لیں  گے۔

4 خداوند نے  یہ پیغام اسرائیل اور یہوداہ کے  لوگوں  کے  با رے  میں  دیا۔

5 خداوند نے  جو کہا وہ یہ ہے  : ” ہم خوف سے  روتے  لوگوں  کا رونا سنتے  ہیں۔ لوگ خوفزدہ ہیں۔ کہیں  سلامتی نہیں۔

6 ” یہ سوال پو چھو اس پر خیال کرو : کیا کوئی مرد بچہ جنم دے  سکتا ہے ؟ یقیناً ہی نہیں  پھر کیا سبب ہے  کہ میں  ہر مرد کو زچّہ کی مانند اپنے  ہاتھ کمر پر رکھے  دیکھتا ہوں  اور سب کے  چہرے  زرد ہو گئے  ہیں ؟

7 ” یہ یعقوب کے  لئے  بہت ہی اہم وقت ہے۔ یہ بڑی مصیبت کا وقت ہے۔ اس طرح کا وقت پھر کبھی نہیں  آئے  گا۔ لیکن یعقوب بچ جائے  گا۔

8 ” یہ پیغام خداوند قادر مطلق کا ہے   “اس وقت ” “میں  اسرائیل اور یہودا کے  لوگوں  کی گردن سے  جوئے  کو توڑ ڈالوں  گا اور تمہیں  جکڑنے  وا لی رسیوں  کو میں  توڑ دوں  گا۔ غیر ملکی پھر کبھی میرے  لوگوں  کو غلام ہونے  کے  لئے  مجبور نہیں  کریں  گے۔

9 وہ لوگ اپنے  خداوند خدا کی مدد کریں  گے  اور وہ اپنے  بادشاہ داؤد کی بھی مدد کریں  گے۔ میں  اس بادشاہ کو ان کے  پاس بھیجوں  گا۔

10 “اس لئے  اے  میرے  خادم یعقوب ڈرو نہیں ! ” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” اے  اسرائیل! ڈرو نہیں  کیوں  کہ میں  تمہیں  دور کے  ملکوں  سے  بچاؤں  گا۔ اور تمہاری اولاد کو اسیری کی سرزمین سے  وا پس لاؤں  گا۔یعقوب وا پس آئے  گا اور آرام و راحت سے  رہے  گا اور کوئی بھی شخص اسے  نہ ڈرائے  گا۔

11 خداوند یہ فرماتا ہے   اسرائیل اور یہوداہ کے  لوگو! تمہیں  بچانے  کے  لئے  میں  تمہارے  ساتھ ہوں۔” حالانکہ میں  تمام قوموں  کو تباہ کر دوں  گا جہاں  میں  نے  تم کو ان لوگوں  کے  درمیان تِتر بتر کر دیا تھا۔ میں  تم کو برباد نہیں  کروں  گا۔لیکن میں  تمہیں  منصفانہ طریقے  سے  تربیت دوں  گا اور قصوروار کو بغیر سزا کے  جانے  نہیں  دوں  گا۔”

12 خداوند فرماتا ہے  : ” اے  اسرائیل اور یہوداہ کے  لوگو تمہیں  ایک زخم دیا گیا ہے  جو اچھا نہیں  کیا جا سکتا۔ تمہیں  ایک چو ٹ ہے  جو اچھی نہیں  کی جا سکتی۔

13 تمہارے  زخموں  کو ٹھیک کرنے  وا لا کوئی شخص نہیں  ہے۔ اس لئے  تم شفا نہیں  پا سکتے۔

14 تمہارے  سب چا ہنے  والے  تمہیں  بھول گئے۔ وہ تم سے  دلچسپی نہیں  رکھتے۔ میں  نے  تمہیں  دشمن کی طرح چو ٹ پہنچا یا اور بہت سخت سزا دی۔اس لئے  کہ تمہاری بدکرداری بڑھ گئی اور تمہارے  گناہ زیادہ ہو گئے۔

15 اے  اسرائیل اور یہوداہ تم اپنے  زخم کے  سبب کیوں  چلا رہے  ہو؟ تمہارا درد لا علاج ہے۔ میں  نے  خود یعنی خداوند نے  تمہاری بدکرداری کے  سبب تمہیں  یہ سب کیا۔ میں  نے  یہ چیزیں  تمہارے  مختلف گنا ہوں  کے  سبب کی۔

16 ان قوموں  نے  تمہیں  نیست و نابود کیا۔ لیکن اب وہ قومیں  برباد کی جائے  گی اے  اسرائیل اور یہوداہ تمہارے  دشمن قید ہوں  گے۔ ان لوگوں  نے  تمہاری چیزیں  چرائیں۔لیکن دیگر لوگ ان کی چیزیں  چرائیں  گے۔ ان لوگوں  نے  تمہاری چیزیں  جنگ میں  لے  لیں  دیگر لوگ ان سے  یہ چیزیں  جنگ میں  لیں  گے۔

17 میں  تمہاری تندرستی کو لو ٹاؤں  گا اور میں  تمہارے  زخموں  کو بھروں  گا۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” کیونکہ انہوں  نے  کہا تم ذات سے  با ہر ہو اور کہا کہ کوئی بھی شخص صیون خیال نہیں  کرتا۔”

18 خداوند فرماتا ہے  : ” یعقوب کے  لوگ اب قید میں  ہیں۔ لیکن وہ لوگ واپس آئیں  گے۔ اور میں  یعقوب کے  گھرانے  پر رحم کروں  گا۔شہر اپنے  ہی پہاڑ پر قائم کیا جائے  گا اور محل کو اسی جگہ پر قائم کیا جائے  گا۔

19 ان مقاموں  پر لوگ ستائش کے  نغمے  گائیں  گے۔ وہاں  ہنسی کی آوا زیں  سنائی پڑیں  گی۔ میں  انہیں  اولا ددوں  گا۔اسرائیل اور یہوداہ چھوٹے  نہیں  رہیں  گے۔ میں  انہیں  شان و شوکت بخشوں  گا اور وہ حقیر نہ ہوں  گے۔

20 ” یعقوب کا گھرانہ عہد قدیم کے  گھرانوں  جیسا ہو گا میں  اسرائیل اور یہوداہ کے  لوگوں  کو طاقتور بناؤں  گا اور میں  ان لوگوں  کو سزا دوں  گا جو ان پر ظلم کرتے  ہیں۔

21 ان میں  سے  ایک ان کا حاکم ہو گا۔ میں  اس کو بلاؤں  گا اور وہ میرے  نزدیک آئے  گا۔اس لئے  کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک میرے  نزدیک نہیں  آ سکتا جب تک کہ میں  اس کو نہ بلاؤں۔

22 تم میرے  لوگ ہو گے  اور میں  تمہارا خدا ہوں  گا۔”

23 ” خداوند بہت غضبناک تھا۔اس نے  لوگوں  کو سزا دی اور سزا تیز آندھی کی طرح آئی۔ یہ تیز طوفان شریروں  کی سر پر ٹوٹ پڑی۔

24 جب تک یہ سب کچھ نہ ہو جائے  اور خداوند اپنے  دل کا مقصد پورا نہ کر لے  اس کا غصہ موقوف نہ ہو گا۔ تم اس اخیر دنوں  میں  جا نو گے۔ ”

 

 

 

باب :  31

 

1 خداوند فرماتا ہے   “میں  اسرائیل کے  سب گھرانوں  کا خدا ہوں  گا اور وہ میرے  لوگ ہوں  گے۔ ”

2 خداوند فرماتا ہے  : ” جو لوگ تلوار سے  بچ جائیں  گے   وہ لوگ بیابان میں  آرام پائیں  گے۔ جب اسرائیل آرام کی تلاش کرے  گا۔”

3 بہت دور سے  خداوند اپنے  لوگوں  کے  لئے  ظاہر ہو گا۔خداوند فرماتا ہے   ” اے  لوگو! میں  تم سے  محبت کرتا ہوں  اور میری محبت ہمیشہ رہے  گی۔ میں  ہمیشہ تمہارے  لئے  سچا رہوں  گا۔

4 ” اے  اسرائیل! میری دلہن میں  تمہیں  پھر سے  بناؤں  گا۔ تم پھر ایک بار خوبصورت ملک بنو گی۔ تم اپنا دف پھر سنبھا لو گی اور خوشی کرنے  وا لوں  کے  ناچ میں  شامل ہونے  کے  لئے  نکلو گی۔

5 اے  اسرائیل کے  کسانو! تم سامریہ کے  پہاڑوں  پرتا کستان پھر لگاؤ گے۔ کسان پودا لگائیں  گے  اور اس کی پیداوار سے  خوشی منائیں  گے۔

6 وہ وقت آئے  گا جب افرائیم کی پہاڑیوں  کا نگہبان یہ پیغام چیخ کرسنائے  گا : ‘ آؤ! ہم اپنے  خداوند خدا کی عبادت کرنے  صیون چلیں۔’ افرائیم کی پہاڑی ملک کے  نگہبان بھی اسی پیغام کو سنائیں  گے۔

7 خداوند فرماتا ہے  : ” مسرور ہو جاؤ اور یعقوب کے  لئے  گاؤ۔ دوسری قوموں  کے  سامنے  بلند آواز سے  چلاؤ : ‘ اے  خداوند اپنے  لوگوں  کو بچاؤ اسرائیل کے  باقی بچے  لوگوں  کو بچاؤ! ‘

8 میں  شمالی ملک سے  اسرائیل کو لاؤں  گا۔میں  زمین کی سرحدوں  سے  بنی اسرائیلیوں  کو جمع کروں  گا۔ ان لوگوں  میں  سے  کچھ اندھے  اور لنگڑے  ہیں۔کچھ عورتیں  حاملہ ہیں  اور بچہ کو جنم دینے  وا لی ہے۔ ان لوگوں  کی بڑی تعداد یہاں  وا پس آئے  گی۔

9 وہ روتے  اور دعا کرتے  ہوئے  آئیں  گے۔ میں  ان کی رہبری کروں  گا۔ میں  ان کو  ندیوں  کے  پانی کی طرح راہ راست پر چلاؤں  گا اور وہ ٹھو کر نہ کھائیں  گے۔ کیوں  کہ میں  اسرائیل کا باپ ہوں  اور افرائیم میرا پہلوٹھا ہے۔

10 ” اے  قومو! خداوند کا یہ پیغام سنو اور دور کے  جزیروں  میں  منادی کرو اور کہو کہ جس نے  بنی اسرائیل کو بکھیرا وہی انہیں  ایک ساتھ واپس لائے  گا اور گڈریا کی طرح اپنے  گلّہ ( لوگوں  ) کی نگہبانی کرے  گا۔

11 خداوند یعقوب کو واپس لائے  گا خداوند اپنے  لوگوں  کی حفاظت ان لوگوں  سے  کرے  گا جو ان سے  زیادہ طاقتور ہیں۔

12 بنی اسرائیل صیّون کی چوٹی پر آئیں  گے  اور خوشی منائیں  گے  اور خداوند کی نعمتوں  یعنی اناج اور مئے  اور تیل بھیڑوں  اور جانوروں  سے  لطف اندوز ہوں  گے  اور ان لوگوں  کی جان کھلا ہوا باغ کی مانند ہو گی اور وہ پھر کبھی غمزدہ نہ ہوں  گے۔

13 تب اسرائیل کی کنواریاں  مسرور ہوں  گی اور ناچیں  گی۔ بوڑھے  اور جوان خوشی سے  رقص کریں  گے۔ میں  ان کے  غم کو خوشی سے  بدل دوں  گا۔ میں  بنی اسرائیلیوں  کو تسلی دوں  گا۔ میں  ان کی مایوسی کا خاتمہ کروں  گا اور انہیں  خوش کروں  گا۔

14 اور میں  کاہنوں  کو قربانی کے  چربی سے  مطمئن کروں  گا۔ اور میرے  لوگ اچھی چیزوں  سے  جسے  کہ میں  ان کے  لئے  کروں  گا آسودہ ہوں  گے۔ ” یہ خداوند کا پیغام ہے۔

15 خداوند یوں  فرماتا ہے  : ” رامہ میں  ایک آواز سنائی دے  گی۔ یہ ماتم اور زار زار رونے  کی آواز ہو گی۔ راخل اپنے  بچوں  کے  لئے  روئے  گی۔ وہ اپنے  بچوں  کی بابت تسلّی پذیر نہیں  ہو گی کیوں  کہ وہ مر چکے  ہیں۔”

16 لیکن خداوند فرماتا ہے  :” رونا بند کرو اپنی آنکھیں  آنسوؤں  سے  پر نہ کرو۔ تمہیں  اپنے  کام کی سوغات ملے  گی۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” بنی اسرائیل اپنے  دشمن کے  ملک سے  واپس آئیں  گے۔

17 اس لئے  اے  اسرائیل! تمہارے  لئے  امید ہے۔ ” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ تمہارے  بچے  اپنے  ملک میں  واپس لوٹیں  گے۔

18 میں  نے  افرائیم کو روتے  سنا ہے۔ میں  نے  افرائیم کو یہ کہتے  سنا : ‘ اے  خداوند! تو نے  یقیناً ہی مجھے  سزا دی ہے  اور میں  نے  اپنا سبق سیکھ لیا۔ اور میں  اس بچھڑے  کی مانند تھا جسے  سکھا یا نہیں  گیا۔ برائے  مہر بانی مجھے  سزا دینا بند کر میں  تیری طرف لوٹ آؤں  گا۔ سچ مچ میں  تو ہی میرا خداوند خدا ہے۔ ”

19 اے  خداوند! میں  تجھ سے  بھٹک گیا تھا۔ لیکن میں  نے  جو برا کیا اس سے  سبق لیا۔ اس لئے  میں  نے  اپنے  دل اور زندگی کو بدل ڈالا۔ جو میں  نے  جوانی میں  حماقت آمیز کام کئے  ان کے  لئے  میں  پریشان اور شرمندہ ہوں۔

20 ” کیا افرائیم میرا بیٹا ہے ؟ کیا وہ پسندیدہ فرزند ہے ؟ کیوں  کہ جب جب میں  اس کے  خلاف کچھ کہتا ہوں  تو اسے  جی جان سے  یاد کرتا ہوں۔ اس لئے  میرا دل اس کے  لئے  بیتاب ہے۔ میں  یقیناً اس پر رحم کروں  گا۔” خداوند فرماتا ہے۔

21 ” اپنے  لئے  نشان کا کھمبا کھڑا کرو۔ اس شاہراہ پر دل لگاؤ۔ ہاں  اسی راہ سے  جس سے  تم گئے  تھے  واپس آؤ۔ اے  اسرائیل کی کنواری! اپنے  شہر میں  واپس آؤ۔

22 اے  باغی بیٹی کب تک تم چاروں  جانب منڈ لاتی رہو گی؟ تم کب گھر واپس آؤ گی؟ ” خداوند ایک نئی چیز زمین پر پیدا کرتا ہے  جو کہ عورت ہے  وہ مرد کو پریشانی میں  ڈالے  گی۔

23 اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  :” میں  یہوداہ کے  لوگوں  کے  لئے  پھر اچھا کام کروں  گا۔ اس وقت یہوداہ ملک اور اس کے  شہروں  کے  لوگ ان الفاظ کا استعمال پھر کریں  گے۔ اے  صداقت کے  مسکن! اے  کوہِ مقدس خداوند تمہیں  برکت بخشے۔

24 خداوند کے  سبھی شہروں  کے  لوگ اکٹھے  سکو نت کریں  گے۔ کسان اور وہ لوگ جو اپنے  گلّے  کے  ساتھ چاروں  جانب گھومتے  ہیں  یہوداہ میں  سکون سے  ایک ساتھ رہیں  گے۔

25 میں  ان لوگوں  کو آرام اور قوت دوں  گا جو تھکے  ہوئے  اور کمزور ہیں۔”

26 یہ سننے  کے  بعد میں  ( یرمیاہ ) جاگا اور اپنے  چاروں  جانب دیکھا۔ وہ بڑی پُر سکون نیند تھی۔

27 ” وہ دن آ رہے  ہیں  ” جب میں  یہوداہ اور اسرائیل کے  گھرانوں  کو بساؤں  گا۔ یہ پیغام خداوند کا ہے۔ میں  ان کے  بچوں  اور جانوروں  کے  بڑھنے  میں بھی مدد کروں  گا۔

28 اور خداوند فرماتا ہے  جس طرح میں  نے  ان کے  گھات میں  بیٹھ کر ان کو  اکھاڑا اور ڈھا یا اور گرایا اور برباد کیا اور دُکھ دیا اسی طرح میں  نگہبانی کر کے  ان کو بناؤں  گا اور لگاؤں  گا۔”

29 ” اس وقت لوگ اس کہاوت کو کہنا بند کر دیں  گے  : باپ دادا نے  کھٹے  انگور کھائے  اور بچوں  کے  دانت کھٹے  ہو گئے۔

30 لیکن ہر ایک شخص اپنی بدکاری کے  سبب مرے  گا۔ جو شخص کھٹے  انگور کھائے  گا اسی کے  دانت کھٹے  ہوں  گے۔ ”

31 خداوند نے  یہ سب کہا ” وہ وقت آ رہا ہے  جب میں  اسرائیل کے  گھرانے  اور یہوداہ کے  گھرانے  کے  ساتھ نیا معاہدہ کروں  گا۔

32 یہ اس معاہدہ کی طرح نہیں  ہو گا جسے  میں  نے  ان کے  با پ دادا کے  ساتھ کیا تھا۔میں  نے  وہ معاہدہ تب کیا جب میں  نے  ان کے  ہاتھ پکڑے  اور انہیں  مصر سے  با ہر لا یا۔ میں  ان کا مالک تھا اور انہوں  نے  یہ معاہدہ توڑا۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

33 ” بلکہ یہ وہ معاہدہ ہے  جو میں  اسرائیل کے  گھرانے  سے  کروں  گا۔” خداوند فرماتا ہے۔ ” میں  اپنی تعلیمات ان کے  دماغ میں  رکھوں  گا اور ان کے  دل پر لکھوں  گا۔ میں  ان کا خدا ہوں  گا اور وہ میرے  لوگ ہوں  گے۔

34 لوگوں  کو خداوند کو جاننے  کے  لئے  اپنے  پڑوسیوں  اور رشتہ داروں  کو تعلیم نہیں  دینی پڑے  گی۔کیونکہ سب سے  بڑے  سے  لے  کر سب سے  چھوٹے  تک سبھی مجھے  جانیں  گے۔ ” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ میں  ان کی خلاف ورزی کو معاف کر دوں  گا۔ میں  ان کے  گنا ہوں  کو یاد نہیں  رکھوں  گا۔”

35 خدا کہتا ہے  : “خداوند جس نے  دن کی روشنی کے  لئے  سورج کو مقرر کیا اور جس نے  رات کی روشنی کے  لئے  چاند اور ستاروں  کا نظام قائم کیا جو سمندر کو موجزن کرتا ہے   جس سے  اس کی لہریں  شور کر تی ہیں۔اس کا نام خداوند قادر مطلق ہے۔ ”

36 خداوند کہتا ہے  : “اسرائیل کی نسل کبھی بھی قوم ہونے  سے  نہیں  رُ کے  گی۔ اگر یہ معاہدہ کبھی رکتا ہے  تو بنی اسرائیل بھی اس کی نظروں  سے  غائب ہو جائیں  گے۔ اور یہ قوم کے  طور پر وجود میں  نہ رہے  گا۔”

37 خداوند کہتا ہے  : “میں  اسرائیل کی نسل کو کبھی رد نہیں  کروں  گا۔ یہ اسی وقت ہو گا جب لوگ اوپر آسمان کو ناپنے  لگیں  اور نیچے  زمین کے  سارے  رازوں  کو جان جائیں۔ اگر لوگ وہ سب کر سکیں  گے  تبھی میں  اسرائیل کی نسل کو رد کر دوں  گا تب میں  ان کو جو کچھ انہوں  کیا اس کے  لئے  رد کر دوں  گا۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

38 یہ پیغام خداوند کا ہے  : ‘ وہ دن آ رہا ہے  جب شہر یروشلم خداوند کے  لئے  پھر بنے  گا۔ پو را شہر حنن ایل کے  برج سے  کونے  کے  پھاٹک تک پھر بنے  گا۔

39 ناپ کی دوری کونے  والے  پھاٹک سے  سیدھے  کوہ جا ریب تک پہنچے  گی اور تب پھر جو عاتہ نامی مقام تک پھیلے  گی۔

40 اور تمام لاشیں  اور وادی میں  پھینکے  گئے  راکھ خداوند کے  لئے  مقدس ہو گا۔ اور سب کھیت قدرون کے  نالے  تک اور گھوڑے  پھاٹک کے  کونے  تک مشرق کی طرف خداوند کے  لئے  مقدس ہوں  گے۔ اور پھر وہ کبھی اکھاڑا نہ جائے  گا اور نہ ہی وہ تباہ کیا جائے  گا۔”

 

 

 

باب :  32

 

1 وہ کلام جو شاہ یہوداہ صدقیاہ کے  دسویں  برس میں  جو نبو کد نضر کا آٹھواں  برس تھا خداوند کی طرف سے  یرمیاہ پر نازل ہوا۔

2 اس وقت شاہ بابل کی فوج یروشلم شہر کو گھرے  ہوئے  تھی اور یرمیاہ نبی شاہ یہوداہ کے  گھر میں  قید خانہ کے  آنگن میں  بند تھا۔

3 ( شاہ یہوداہ صدقیاہ نے  اس مقام پر یرمیاہ کو قیدی بنا رکھا تھا۔) صدقیاہ یرمیاہ کی نبوت کو پسند نہیں  کرتا تھا۔یرمیاہ نے  کہا “خداوند یہ کہتا ہے  : ‘میں  یروشلم کو جلد ہی شاہِ بابل کے  سپرد کر دوں  گا۔ نبو کد نضر اس شہر پر قبضہ کر لے  گا۔

4 شاہ یہوداہ صدقیاہ کسدیوں  کی فوج سے  بچ کر نکل نہیں  پائے  گا بلکہ ضرور شاہ بابل کے  حوالہ کیا جائے  گا۔ اور صدقیاہ شاہ بابل سے  آم نے  سامنے  باتیں  کرے  گا۔صدقیاہ اسے  اپنی آنکھوں  سے  دیکھے  گا۔

5 شاہ بابل صدقیاہ کو بابل لے  جائے  گا۔صدقیاہ تب تک وہاں  ٹھہرے  گا جب تک میں  اسے  سزا نہیں  دے  لیتا۔’ یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ‘ اگر تم کسدیوں  کی فوج سے  لڑو گے   تمہیں  کامیابی ملے  گی۔”

6 جس وقت یرمیاہ قیدی تھا اس نے  کہا “خداوند کا پیغام مجھے  ملا۔ وہ پیغام یہ تھا :

7 اے  یرمیاہ! دیکھو تمہارے  چچا سلوم کا بیٹا حنم ایل تمہارے  پاس آ کر کہے  گا۔ کہ میرا کھیت جو عنتوت میں  ہے  اپنے  لئے  خرید لو کیونکہ اس کا چھڑانا تمہارا حق ہے۔ ‘

8 ” تب میرے  چچا کا بیٹا حنم ایل قید خانہ کے  آنگن میں  میرے  پاس آیا اور جیسا خداوند نے  فرمایا تھا مجھ سے  کہا میرا کھیت جو عنتوت میں  بنیمین کے  علاقہ میں  ہے  خرید لے  کیوں  کہ یہ تیرا موروثی حق ہے   اور اس کا چھڑانا تیرا کام ہے۔ اسے  اپنے  لئے  خرید لے۔ ” تب میں  نے  جانا کہ یہ خداوند کا کلام ہے۔

9 میں  نے  اپنے  چچا کے  بیٹے  حنم ایل سے  عنتوت میں  وہ زمین خرید لی اور ۱۷ مثقال چاندی نقد تول کر اسے  دی۔

10 اور میں  نے  ایک قبالہ لکھا اور اس پر مہر لگائی اور گواہ ٹھہرائے  اور چاندی ترازو میں  تول کر اسے  دی۔

11 میں  نے  مہر بند دستاویز ( قبالہ ) جس میں  سبھی قانونی تفصیلات لکھے  ہوئے  تھے  کو لیا۔ وہاں  ایک بغیر مہر کا بھی دستاویز تھا۔

12 اور میں  نے  اس قبالہ کو اپنے  چچا کے  بیٹے  حنم ایل کے  سامنے  اور ان گوا ہوں  کے  روبرو جنہوں  نے  اپنا نام دستاویز ( قبالہ ) پر لکھے  تھے  ان سب یہودیوں  کے  روبرو جو قید خانہ کے  آنگن میں  بیٹھے  تھے  بار وک بن نیریاہ محسیاہ کو سونپا۔

13 ” سبھی لوگوں  کو گواہ کر کے  میں  نے  بار وک سے  کہا۔

14 ‘ اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق یوں  فرماتا ہے  : ” یہ دستاویز (قبا لہ) جو مُہربند ہے  لو اور وہ جو بغیر مہربند ہے  اس کو بھی لو اور ان کو مٹی کے  برتن میں  رکھوتا کہ بہت دنوں  تک محفوظ رہے۔

15 اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : ” میرے  لوگ ایک بار پھر گھر کھیت اور تاکستان یہوداہ کے  ملک سے  خریدیں  گے۔ ”

16 ” باروک بن نیریاہ کو قبالہ دینے  کے  بعد میں  نے  خداوند سے  دعا کی۔ میں  نے  کہا :

17 ” اے  خداوند خدا! تو نے  زمین اور آسمان بنایا۔ تو نے  انہیں  اپنی عظیم قدرت سے  بنایا۔ تیرے  لئے  کچھ بھی ایسا مشکل نہیں  ہے  جو تو نہیں  کر سکتا ہے۔

18 اے  خداوند! تو ہزاروں  لوگوں  کو وفاداری دکھاتا ہے۔ تو باپ دادا کے  کئے  ہوئے  گنا ہوں  کی سزا ان کی اولادوں  کو دیتا ہے۔ تو عظیم قدرت وا لا خدا ہے۔ جس کا نام خداوند قادر مطلق ہے۔

19 اے  خداوند! تو عظیم کاموں  کا منصوبہ بناتا اور انہیں  کرتا ہے  تو وہ سب دیکھتا ہے  جنہیں  لوگ کرتے  ہیں  اور انہیں  اجر دیتا جو اچھے  کام کرتے  ہیں  اور انہیں  سزا دیتا ہے  جو بُرے  کام کرتے  ہیں  تو انہیں  وہ دیتا جن کے  وہ حقدار ہیں۔

20 اے  خداوند! تو نے  ملک مصر میں  نشانات اور کرامات دکھائے۔ تو نے  اپنے  لئے  نام پیدا کیا جو کہ آج تک اسرائیل میں  اور سبھی لوگوں  کے  درمیان ہے۔

21 کیونکہ تو اپنی قوم اسرائیل کو ملک مصر سے  معجزے  اور قوی ہاتھ اور بلند باز و سے  اور بڑی ہیبت کے  ساتھ نکال لا یا۔

22 ” اے  خداوند! تو نے  یہ زمین بنی اسرائیلیوں  کو دی۔ یہ وہی زمین ہے  جسے  تو نے  ان کے  باپ دادا کو دینے  کا معاہدہ بہت پہلے  کیا تھا۔ یہ بہت اچھی زمین ہے۔ یہ بہت سی اچھی چیزوں  وا لی اچھی زمین ہے۔

23 بنی اسرائیل اس ملک میں  آئے  اور انہوں  نے  اسے  اپنا بنا لیا۔لیکن ان لوگوں  نے  تیری بات نہیں  مانی وہ تیری تعلیمات کے  مطابق نہ چلے۔ انہوں  نے  وہ نہیں  کیا۔جس کے  لئے  تو نے  حکم دیا۔اس لئے  تو نے  بنی اسرائیلیوں  پر وہ بھیانک مصیبت ڈھا ئی۔

24 ” یہاں  دیکھو! وہ شہر تک  آ پہنچے  ہیں  وہ اسے  فتح کر لیں  گے۔ وہ شہر بابل کے  لوگوں  کو دیا جائے  گا۔جس نے  اس کو ہرا یا ہے۔ اس لئے  خداوند جو تو نے  فرما یا تھا تلوار قحط سالی اور بیماری وہ پو را ہوا ہے۔

25 ” میرے  مالک خداوند! سبھی بری باتیں  ہو رہی ہیں  لیکن تو اب مجھ سے  کہہ رہا ہے   اے  یرمیاہ چاندی سے  کھیت خرید لے  اور کچھ لوگوں  کو گواہ ٹھہرا۔’ تو یہ اس وقت کہہ رہا ہے  جب بابل کی فوج شہر پر قبضہ کرنے  کو تیار ہے۔ ”

26 تب خداوند کا کلام یرمیاہ پر نازل ہوا :

27 ” اے  یرمیاہ! میں  خداوند ہو ں۔ میں  زمین کے  ہر ایک شخص کا خدا ہوں  اے  یرمیاہ! تم جانتے  ہو کہ میرے  لئے  کچھ بھی دشوار نہیں  ہے۔ ”

28 خداوند نے  یہ بھی کہا “میں  جلد ہی یروشلم شہر کو بابل کی فوج شاہ بابل نبو کد نضر کو دے  دوں  گا۔ وہ فوج شہر پر قبضہ کر لے  گی۔

29 بابل کی فوج پہلے  سے  یروشلم شہر پر حملہ کر رہی ہے۔ وہ جلد ہی شہر میں داخل ہوں  گے۔ وہ اس شہر کو جلا کر را کھ کر دیں  گے۔ اس شہر میں  ایسے  مکان ہیں  جن میں  یروشلم کے  لوگوں  نے  مجھے  غصہ دلانے  کے  وا سطے  جھوٹے  خداوند بعل کو خوش کرنے  کے  لئے  بخور جلائے  اور چھتوں  پر مئے  ڈالے۔

30 صرف اسرائیل اور یہوداہ کے  لوگوں  نے  ہی اسے  کیا جسے  کہ میں  نے  غلط سمجھا۔ وہ یہ برا کام تب سے  کر رہے  ہیں  جب وہ چھوٹے  تھے۔ اس نے  اپنے  ہاتھوں  سے  بنائی ہوئی مورتیوں  کی عبادت کر کے  مجھے  بہت غصہ دلا یا۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

31 ” جب سے  یروشلم شہر بسا تب سے  اب تک اس شہر کے  لوگوں  نے  مجھے  غضبناک کیا ہے   اس شہر نے  مجھے  اتنا غضبناک کیا ہے  کہ مجھے  اسے  اپنی نظر کے  سامنے  سے  دور کر دینا چاہئے۔

32 بنی اسرائیل اور بنی یہوداہ کے  تمام برے  کاموں  کے  باعث جو انہوں  نے  اور ان کے  بادشاہوں  نے  اور امراء اور کاہنوں  اور نبیوں  نے  اور یہوداہ اور یروشلم میں  رہنے  والے  سبھی لوگوں  نے  کئے۔ میں  بہت غصہ میں  آیا۔

33 ” ان لوگوں  کو مدد کے  لئے  میرے  پاس آنا چاہئے  تھا۔ لیکن انہوں  نے  مجھ سے  اپنا منہ موڑا۔ میں  نے  ان لوگوں  کو بار بار تعلیم دینی چا ہی لیکن انہوں  نے  میری ایک نہ سنی۔میں  نے  انہیں  سدھار نا چا ہا لیکن انہوں  نے  اَن سنی کی۔

34 ان لوگوں  نے  اپنی مورتیاں  بنائی ہیں  اور میں  ان مورتیوں  سے  نفرت کرتا ہوں۔ وہ ان مورتیوں  کو اس گھر میں  رکھتے  ہیں۔ جو میرے  نام پر ہے۔ اس طرح انہوں  نے  میرے  گھر کو نا پاک کیا ہے۔

35 اور انہوں  نے  بعل کے  اونچے  مقام جو بن ہنّوم کی وادی میں  ہیں  بنائے  تا کہ اپنے  بیٹے  اور بیٹیوں  کو مولک کے  لئے  آگ میں  گذاریں  جس کا میں  نے  ان کو حکم نہیں  دیا اور نہ میرے  خیال میں  آیا کہ وہ ایسا مکروہ کام کر کے  یہوداہ کو گنہگار بنائیں۔

36 ” تم سبھی لو گ کہتے  ہو شاہ بابل یروشلم پر قبضہ کر لے  گا۔ وہ تلوار قحط سالی اور بیماری کا استعمال اس شہر کو شکست دینے  کے  لئے  کرے  گا۔ لیکن خداوند اسرائیل کا خدا فرماتا ہے  :

37 ‘ میں  نے  اسرائیل اور یہوداہ کے  لوگوں  کو اس کی سرز مین سے  دور دور تِتر بتر کر دیا۔ میں  ان لوگوں  پر بہت نا راض تھا۔ لیکن میں  انہیں  اس مقام پر وا پس لاؤں  گا۔ میں  انہیں  ان ملکوں  سے  اکٹھا کروں  گا جہاں  میں  انہیں  بھیجا تھا۔ میں  انہیں  اس ملک میں  وا پس لاؤں  گا۔ اور ان کو امن سے  آباد کروں  گا۔

38 اسرائیل اور یہوداہ کے  لوگ میرے  اپنے  لوگ ہوں  گے  اور میں  ان کا خدا ہوں  گا۔

39 اور وہ با ہم وفاداری اور ایک دل ہو کر میری عبادت کریں  گے۔ وہ مجھ سے  ڈریں  گے۔ یہ ان کے  اور ان کے  بعد ان کے  بچوں  کی بھلائی کے  لئے  ہو گا۔

40 ” میں  اسرائیل اور یہوداہ کے  لوگوں  کے  ساتھ ایک معاہدہ کروں  گا۔ یہ معاہدہ ہمیشہ کے  لئے  رہے  گا۔ اس معاہدہ کے  تخت میں  لوگوں  سے  کبھی دور نہیں  جاؤں  گا۔ میں  ان کے  لئے  ہمیشہ اچھا رہوں  گا اور میں  اپنا خوف ان کے  دل میں  ڈالوں  گاتا کہ وہ مجھ سے  برگشتہ نہ ہوں۔

41 وہ مجھے  خوش کریں  گے۔ میں  ان کا بھلا کرنے  میں  خوشی محسوس کروں  گا اور میں  یقیناً ہی انہیں  اس زمین میں  بساؤں  گا اور انہیں  بڑھاؤں  گا۔ یہ میں  اپنے  پو رے  دل و جان سے  کروں  گا۔ ”

42 خداوند جو کہتا ہے   وہ یہ ہے   ” میں  نے  اسرائیل اور یہوادہ کے  لوگوں  پر یہ بڑی مصیبت ڈھائی ہے۔ اسی طرح میں  انہیں  اچھی چیزیں  دوں  گا۔ میں  انہیں  اچھی چیزیں  دینے  کا وعدہ کرتا ہوں۔

43 تم لوگ یہ کہتے  ہو ‘ یہ ملک بیابان ہے۔ یہاں  کوئی انسان اور جانور نہیں  ہے۔ بابل کی فوج نے  اس ملک کو شکست دی۔’ لیکن آگے  لوگ پھر اس ملک میں  زمین خریدیں  گے۔

44 بنیمین کے  علاقہ میں  اور یروشلم کے  نوا حی میں  اور یہوداہ کے  شہروں  میں  اور کو ہستان کے  اور وادی کے  جنوب کے  شہروں  میں  لوگ روپیہ دے  کر کھیت خریدیں  گے  اور قبالے  لکھوا کر ان پر مہر لگائیں  گے  اور گواہ ٹھہرائیں  گے   کیونکہ میں  ان کی اسیری کو موقوف کر دوں  گا۔” خداوند فرماتا ہے۔

 

 

 

باب :  33

 

1 یرمیاہ کو دوسری بار خداوند کا پیغام ملا۔اس وقت وہ پہریداروں  کے  آنگن میں  ہی قید تھا۔

2 خداوند نے  زمین کو بنایا اور اس کی وہ حفاظت کرتا ہے۔ اس کا نام خداوند ہے۔ خداوند کہتا ہے  :

3 ” اے  یہوداہ! مجھ سے  فریاد کرو اور میں  اس کا جواب دوں  گا۔ میں  تمہیں  اہم رازوں  کو بتاؤں  گا جو تم نے  پہلے  کبھی نہیں  سنا ہے۔

4 خداوند اسرائیل کا خدا ہے۔ خداوند یروشلم کے  مکانوں  اور یہوداہ کے  بادشاہوں  کے  محلوں  کے  بارے  میں  یہ کہتا ہے۔ دشمن ان مکانوں  کو گرا دے  گا۔ دشمن کی فوج ان مکانوں  کو توڑ کر تباہ کرے  گی۔ جب تک وہ ملبوں  کا ڈھیر نہ بن جائے۔

5 یروشلم کے  لوگوں  نے  بہت بُرے  کام کئے  ہیں۔ان برے  کاموں  کی وجہ سے  میں  ان لوگوں  سے  ناراض ہوں۔ میں  ان کی مدد نہیں  کروں  گا۔ بابل کی فوج یروشلم کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  آئے  گی۔ وہ لوگ شہر کو لاشوں  سے  بھر دیں  گے۔

6 ” لیکن میں  اس کے  بعد اس شہر کے  لوگوں  کو تندرست بناؤں  گا۔ میں  ان لوگوں  کو سلامتی اور حفاظت کی خو شی بخشوں  گا۔

7 میں  اسرائیل اور یہوداہ میں  پھر سے  اچھا کام کروں  گا۔ میں  ان لوگوں  کی مدد کروں  گا جیسا میں  نے  پہلے  کیا تھا۔

8 ” انہوں  نے  میرے  خلاف بدکرداری کی لیکن میں  اس گناہ کو دھو دوں  گا۔ وہ میرے  خلاف لڑے   لیکن میں  انہیں  معاف کر دوں  گا۔

9 یروشلم وہ شہر ہو گا جس کے  نام کا مطلب روئے  زمین کے  سبھی قوموں  کے  سامنے  مسرت ستائش اور ترقی ہو گا۔ جب وہ قومیں  ان اچھی چیزوں  کے  با رے  میں  جسے  میں  یہوداہ میں  کروں  گا سنیں  گے۔ اس بھلائی اور سلامتی کی وجہ کر جسے  میں  نے  ان کو دیا ڈریں  گے  اور کانپیں  گے۔

10 “خداوند یوں  فرماتا ہے  اس مقام میں  جس کی با بت تم کہتے  ہو کہ وہ ویران ہے۔ وہاں  نہ انسان ہے  نہ حیوان یعنی یہوداہ کے  شہروں  میں  اور یروشلم کے  بازاروں  میں  جو ویران ہیں۔ جہاں  نہ انسان ہیں  نہ باشندے  نہ حیوان۔

11 خوشی اور شادمانی کی آوا ز دلہے  اور دلہن کی آواز اور ان کی آواز سنی جائے  گی جو کہتے  ہیں  خداوند قادر مطلق کی ستائش کرو کیونکہ وہ اچھا ہے  اور اس کی شفقت ابدی ہے۔ وہ لوگ خداوند کے  گھر میں  شکر گذاری کی قربانی لائیں  گے۔ کیوں  کہ میں  قیدیوں  کو اس ملک میں  وا پس لاؤں  گا۔خداوند یہ فرماتا ہے۔

12 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” یہ جگہ اب ویران ہے  نہ حیوان۔ لیکن اب یہوداہ کے  سبھی شہروں  میں  لوگ رہیں  گے۔ چروا ہے  ہوں  گے  اور چراگاہیں  ہوں گی جہاں  وہ اپنے  ریوڑ کو آرام کرنے  دیں  گے۔

13 کوہستان کے  شہروں  میں  اور وادی کے  شہروں  میں  اور جنوبی علاقوں  میں  بنیمین کے  علاقہ میں  اور یروشلم کے  نوا حی میں  اور یہوداہ کے  سبھی شہروں  میں  بھیڑوں  کا جھنڈ چروا ہے  کے  ہاتھ کے  نیچے  سے  گزرے  گا جو کہ انہیں  گنیں  گے۔ ”

14 یہ پیغام خداوند کا ہے  : “میں  نے  اسرائیل اور یہوداہ کے  لوگوں  کو خاص بات بتائی ہے۔ وہ وقت آ رہا ہے  جب میں  وہ کروں  گا جسے  کرنے  کا وعدہ میں  نے  کیا ہے۔

15 اس وقت میں  داؤد کے  گھرانے  سے  ایک ‘سچی شاخ ‘ پیدا کروں  گا۔ وہ ‘ شاخ ‘ وہ سب کرے  گی جو ملک کے  لئے  اچھا اور بہتر ہو گا۔

16 اس ‘شاخ ‘ کے  وقت یہوداہ کے  لوگوں  کی حفاظت ہو جائے  گی۔ یروشلم محفوظ ہو گا۔ یروشلم کا نام ہو گا ‘خداوند ہم لوگوں  کی صداقت ہے۔ ”

17 خداوند فرماتا ہے   “اسرائیل کے  بادشاہ کے  طور پر تخت پر بیٹھنے  کے  لئے  داؤد کا خاندان بیٹے  سے  محروم نہ ہوں  گے۔

18 کاہنوں  کے  طور پر خدمت کرنے  کے  لئے  لا وی خاندان سے  ہمیشہ آدمی  ہوں  گے۔ وہ کاہن ہمیشہ میری آنکھوں  کے  سامنے  ہوں  گے۔ وہ لوگ میرے  حضور جلانے  کا نذرانہ اناج کا نذرانہ اور تحفے  پیش کریں  گے۔ وہ ہمیشہ قربانیاں  پیش کریں  گے۔ ”

19 پھر خداوند کا کلام یرمیاہ پر نازل ہو ا۔

20 خداوند فرماتا ہے   ” میں  نے  دن اور رات کے  ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔ میں  راضی ہوا کہ وہ ہمیشہ صحیح وقت پر آئیں  گے۔ تم اس معاہدے  کو تبدیل نہیں  کر سکتے  ہو۔ دن اور رات ہمیشہ صحیح وقت پر آئے  گا۔ اگر تم معاہدے  کو بدل سکتے  ہو۔

21 ” تو تم داؤد اور لاوی خاندان کے  ساتھ میرے  معاہدے  کو توڑ سکتے  ہو۔ تب پھر داؤد کے  نسلوں  میں  سے  بادشاہ نہیں  ہو گا اور نہ ہی لا وی خاندان سے  کوئی کاہن ہو گا۔

22 لیکن میں  اپنے  خادم داؤد کو اور لاوی کے  گھرانے  کے  گروہ کو بہت ساری اولاد دوں  گا۔ وہ اتنی ہوں  گی جتنے  آسمان میں  تارے  ہیں  اور آسمان کے  تاروں  کو کوئی گن نہیں  سکتا اور وہ اتنی ہوں  گی جتنی سمندر کی ریت اور اس ریت کو کوئی شمار نہیں  کر سکتا۔

23 پھر خداوند کا کلام یرمیاہ پر نازل ہوا۔

24 ” یرمیاہ کیا تم نے  سنا ہے  کہ لوگ کیا کہہ رہے  ہیں ؟ وہ لوگ کہہ رہے  ہیں  “خداوند اسرائیل اور یہوداہ کے  دو خاندانوں  سے  مُڑ گیا ہے۔ خداوند ان لوگوں  کو چُنا ہے  لیکن وہ اب انہیں  قوم کے  طور پر بھی قبول نہیں  کرتے  ہیں۔”

25 خداوند کہتا ہے   اگر میرا معاہدہ دن اور رات کے  ساتھ بنا نہیں  رہتا اور اگر میں  آسمان اور زمین کے  لئے  آئین نہیں  بناتا تبھی یہ ہو سکتا ہے  کہ میں  ان لوگوں  کو چھوڑ دوں۔

26 تبھی یہ ہو سکتا ہے  کہ میں  یعقوب کی نسل سے  دور ہو جاؤں  اور تبھی یہ ہو سکتا ہے  کہ میں  داؤد کی نسل کو ابراہیم اسحاق اور یعقوب کی نسل پر حکومت کرنے  نہ دوں  گا۔ لیکن داؤد میرا خادم ہے  اور میں  ان لوگوں  پر رحم کروں  گا اور میں  پھر ان لوگوں  کو ان کی زمین پر واپس لو ٹاؤں  گا۔”

 

 

 

باب :  34

 

1 جب شاہ بابل نبو کد نضر اور اس کی تمام فوج اور روئے  زمین کی تمام سلطنتیں  جو اس کی فرمانروائی میں  تھیں  اور سب اقوام یروشلم اور اس کی سب بستیوں  کے  خلاف جنگ کر رہی تھیں۔ تب خداوند کا یہ کلام یرمیاہ نبی پر نازل ہوا۔

2 پیغام یہ تھا : ” خداوند بنی اسرائیلیوں  کا خدا جو کہتا ہے   وہ یہ ہے  اے  یرمیاہ! شاہ یہوداہ صدقیاہ کے  پاس جاؤ اور اسے  یہ پیغام دو : ‘ اے  صدقیاہ! خداوند کا پیغام جو تیرے  لئے  ہے  وہ یہ ہے  : میں  یروشلم شہر کو شاہ بابل کے  حوالے  بہت جلد ہی کر دوں  گا۔ اور وہ اسے  جلا ڈالے  گا۔

3 اے  صدقیاہ! تم شاہ بابل سے  بچ کر نکل نہیں  پاؤ گے۔ تم یقیناً ہی پکڑے  جاؤ گے  اور اسے  دے دئیے  جاؤ گے۔ تم شاہ بابل کو اپنی آنکھوں  سے  دیکھو گے۔ وہ تم سے  آم نے  سامنے  باتیں  کرے  گا اور تم با بل جاؤ گے۔

4 لیکن اے  شاہ یہوداہ صدقیاہ خداوند کے  دیئے  وعدہ کو سنو۔خداوند تمہارے  بارے  میں  جو کہتا ہے  وہ یہ ہے  تم تلوار سے  نہیں  ہلاک ہو گے۔

5 تم امن کی حالت میں  مرو گے  اور جس طرح تمہارے  با پ دادا یعنی تم سے  پہلے  بادشاہوں  کے  لئے  خوشبو جلاتے  تھے   اسی طرح تمہارے  لئے  بھی جلائیں  گے  اور تم پر ماتم کریں  گے  اور کہیں  گے  ” ہائے  آقا! ” کیوں  کہ میں  نے  یہ بات کہی ہے۔ ” خداوند فرماتا ہے۔

6 اس لئے  یرمیاہ نبی نے  خداوند کا پیغام یروشلم میں  یہوداہ کے  بادشاہ صدقیاہ کو دیا۔

7 یہ اس وقت ہوا جب شاہ بابل کی فوج یروشلم کے  خلاف لڑ رہی تھی۔ بابل کی فوج یہوداہ کے  ان شہروں  کے  خلاف بھی لڑ رہی تھی جن پر قبضہ نہیں  ہو سکا تھا۔ وہ لکیس اور عزیقہ شہر تھے۔ کیوں  کہ یہوداہ کے  شہروں  میں  سے  یہی قلعہ دار شہر باقی تھے۔

8 صدقیاہ یروشلم کے  لوگوں  سے  یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ سبھی یہودی غلاموں  کو آزاد کر دے  گا۔ جب صدقیاہ وہ معاہدہ کر لیا تواس کے  بعد یرمیاہ کو خداوند کا پیغام ملا۔

9 ہر شخص سے  امید کی جا تی ہے  کہ وہ اپنے  عبرانی غلاموں  کو آزاد کرے۔ تمام عبرانی غلام اور خادمہ آزا د کر دیئے  جائیں۔ یہوداہ کے  گھرانے  کے  گروہ کے  کسی بھی شخص کو غلام رکھنے  کا حق نہیں  دیا جا سکتا تھا۔

10 اور جب سب امراء اور سب لوگوں  نے  جو اس معاہدہ میں  شامل تھے  سنا کہ ہر ایک کو لازم ہے  کہ اپنے  غلام اور خادمہ کو آزاد کرے  اور پھر ان سے  غلامی نہ کرائے  تو انہوں  نے  اطاعت کی اور ان کو آزاد کر دیا۔

11 لیکن اس کے  بعد وہ لوگ جن کے  پاس غلام تھے  اپنے  خیال بدل لئے۔ اس لئے  وہ لوگ ان لوگوں  کو لائے  جنہیں  انہوں  نے  آزاد کیا تھا اور پھر غلام بنا لیا۔

12 تب خداوند کا کلام یرمیاہ پر نازل ہوا۔

13 بنی اسرائیلیوں  کا خداوند خدا فرماتا ہے  : ” اے  یرمیاہ میں  تمہارے  با پ دادا کو مصر سے  با ہر لا یا جہاں  وہ غلام تھے۔ جب میں  نے  ایسا کیا تب میں  نے  ان سے  ایک معاہدہ کیا۔

14 میں  نے  تمہارے  با پ دادا سے  کہا کہ تم میں  سے  ہر ایک اپنی عبرانی بھائی کو جسے  کہ اس کے  ہاتھ بیچا گیا ہے  سات برس کے  آخر میں  یعنی جب وہ چھ برس تک خدمت کر چکے  تو آزاد کر دو۔ لیکن تمہارے  با پ دادا نے  میری نہ سنی اور کان نہ لگایا۔

15 کچھ وقت پہلے  تم نے  اپنے  دل کو جو بہتر ہے   اسے  کرنے  کے  لئے  بدلا۔ تم میں  سے  ہر ایک نے  ان عبرانی ساتھیوں  کو آزاد کیا جو غلام تھے۔ اور تم نے  میرے  سامنے  اس ہیکل میں  جو میرے  نام پر ہے  ایک معاہدہ بھی کیا۔

16 لیکن اب تم نے  اپنا ارادہ بدل دیا ہے۔ تم نے  یہ دکھا دیا ہے  کہ تم میرے  نام کی تعظیم نہیں  کر تے۔ تم نے  یہ کیسے  کیا؟ تم میں  سے  ہر ایک نے  اپنے  غلاموں  اور خادماؤں  کو واپس لے  لیا ہے  جنہیں  تم نے  آزاد کیا تھا۔ تم لوگوں  نے  انہیں  پھر غلام ہونے  کے  لئے  مجبور کیا ہے۔

17 ” اس لئے  خداوند یوں  فرماتا ہے  : ” تم نے  میری فرمانبرداری نہیں  کی۔ تم نے  اپنے  بھائی اور اپنے  ہمسایہ کو آزاد نہیں  کیا۔خداوند فرماتا ہے   ” میں  تم کو تلوار قحط سالی اور بیماری کا سامنا کرنے  کے  لئے  ” آزاد کروں  گا ” میں  تمہاری مملکتوں  میں  بلا مقصد بھٹکنے  کے  لئے  آزاد کروں  گا۔

18 اور میں  ان آدمیوں  کو جنہوں  نے  مجھ سے  عہد شکنی کی اوراس معاہدہ کی باتیں  جو انہوں  نے  میرے  حضور باندھا ہے  پوری نہیں  کی۔ جب بچھڑے  کو دو ٹکڑے  کیا اور ان دو ٹکڑوں  کے  درمیان سے  ہو کر گزرے۔

19 یہ وہ لوگ ہیں  جو بچھڑے  کے  دو ٹکڑوں  کے  بیچ سے  ہو کر گذرے  اور میرے  ساتھ معاہدہ کیا : وہ یہوداہ اور یروشلم کے  امراء اہم عہدیداران کاہن اور اس ملک کے  لوگ تھے۔

20 اس لئے  میں  ان لوگوں  کے  دشمنوں  اور ان لوگوں  کو دوں  گا جو انہیں  مار دینا چاہتے  ہیں۔ ان لوگوں  کی لاشیں  ہوا میں  اڑنے  والے  پرندوں  اور زمین پر کے  جنگلی جانوروں  کی خوراک بنیں  گی۔

21 میں  شاہ یہوداہ صدقیاہ اور اس کے  امراء کو ان کے  دشمنوں  اور ہر ایک جو انہیں  مار دینا چاہتے  ہیں  صدقیاہ اور ان کے  لوگوں  کو شاہ بابل کی فوج کو تب بھی دوں  گا جب وہ فوج یروشلم کو چھوڑ چکی ہو گی۔

22 دیکھو میں  حکم جاری کروں  گا یہ خداوند فرماتا ہے   اور میں  انہیں  پھر اس شہر میں  وا پس لاؤں  گا اور وہ اس سے  لڑیں  گے  اور اسے  فتح کر کے  آ گ سے  جلا ڈالیں  گے۔ میں  یہوداہ کے  شہروں  کو ایسا ویران کر دوں  گا کہ وہاں  کوئی آبادی نہ رہے  گی۔”

 

 

 

باب :  35

 

1 وہ کلام شاہ یہوداہ اور یہویقیم بن یوسیاہ کے  ایام میں  خداوند کی طرف سے  یرمیاہ پر نازل ہوا۔

2 ” اے  یرمیاہ! ریکاب گھرانے  کے  پاس جاؤ۔انہیں  خداوند کے  گھر کے  کمروں  میں  سے  کسی ایک میں  آنے  کے  لئے  مدعو کرو۔ انہیں  پینے  کے  لئے  مئے  دو۔”

3 اس لئے  میں  ( یرمیاہ) یاز نیاہ سے  ملنے  گیا۔ یازنیاہ اس یرمیاہ نامی ایک شخص کا بیٹا تھا۔ جو حبصِنیاہ نامی شخص کا بیٹا تھا اور میں  یازنیاہ کے  سبھی بھا ئیوں  اور بیٹوں  سے  ملا میں  نے  پو رے  ریکاب گھرانے  کو ایک ساتھ اکٹھا کیا۔

4 تب میں  ریکاب خاندان کو خداوند کی ہیکل میں  لے  آیا۔ ہم لوگ اس کمرے  میں  گئے  جو حنان کے  بیٹوں  کا سمجھا جاتا ہے۔ حنان یجد لیاہ نامی شخص کا بیٹا تھا۔ حنان مرد خدا تھا۔ وہ کمرہ اس کمرے  سے  آگے  تھا جس میں  یہوداہ کے  شہزادے  ٹھہرتے  تھے۔ یہ سلوم کے  بیٹے  معسیاہ کے  کمرے  کے  اوپر تھا۔معسیاہ ہیکل کا دربان تھا۔

5 تب میں  نے  ( یرمیاہ ) ریکا ب گھرانے  کے  سامنے  کچھ پیالوں  کے  سامنے  مئے  سے  بھرے  کچھ کٹو رے  رکھے  اور میں  نے  ان سے  کہا ” تھوڑی مئے  پیو۔”

6 لیکن ریکاب کے  لوگوں  نے  جواب دیا “ہم مئے  کبھی نہیں  پیتے  کیوں  کہ ہمارے  با پ دادا ریکاب کے  بیٹے  یوناداب نے  یہ حکم دیا تھا۔اس نے  حکم دیا تھا : ‘تمہیں  اور تمہاری نسل کو مئے  کبھی نہیں  پینا چاہئے۔

7 تمہیں  کبھی گھر بنانا پو دے  اور تاکستان لگانا نہیں  چاہئے۔ تمہیں  صرف خیموں  میں  رہنا چاہئے۔ اگر تم ایسا کرو گے  تو اس ملک میں  جہاں  بھی تم جاؤ گے  لمبے  وقت تک کے  لئے  رہ سکو گے۔ ‘

8 اس لئے  ہم ریکابی لوگ ان سب چیزوں  کو قبول کرتے  ہیں  جنہیں  ہمارے  باپ دادا یوناداب نے  ہمیں  حکم دیا ہے۔

9 ہم مئے  کبھی نہیں  پیتے  اور ہماری بیویاں  اور بیٹے  اور بیٹیاں  مئے  کبھی نہیں  پیتی۔ ہم رہنے  کے  لئے  گھر کبھی نہیں  بناتے  اور ہم لوگوں  کے  لئے  تاکستان یا کھیت کبھی نہیں  ہوتے  اور ہم فصلیں  کبھی نہیں  اگاتے۔

10 ہم خیموں  میں  رہ رہے  ہیں  اور وہ سب مانا ہے  جو ہمارے  با پ دادا یوناداب نے  حکم دیا ہے۔

11 لیکن یوں  ہوا جب شاہ بابل بنو کد نضر اس ملک پر چڑھ آیا تو ہم نے  کہا کہ آؤ ہم کسدیوں  اور ارامیوں  کی فوج کے  ڈر سے  یروشلم کو چلے  جائیں۔ یوں  ہم یروشلم میں  بسے  ہیں۔

12 تب خداوند کا  پیغام یرمیاہ کو ملا :

13 بنی اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : ” اے  یر میاہ جاؤ یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  کو یہ پیغام دو : اے  لوگو! تمہیں  سبق سکھانا چاہئے  اور میرے  حکم کو قبول کرنا چاہئے۔ ” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

14 ” جو باتیں  یوناداب بن ریکاب نے  اپنے  بیٹوں  سے  فرمایا کہ مئے  نہ پیو وہ بجا لائے  اور آج تک مئے  نہیں  پیتے   بلکہ انہوں  نے  اپنے  باپ کے  حکم کو مانا لیکن میں  نے  تم سے  کلام کیا اور بر وقت تم کو کہا اور تم نے  میری نہ سنی۔

15 اور میں  نے  اپنے  تمام خدمت گذار نبیوں  کو تمہارے  پاس بھیجا اور ان کو بر وقت یہ کہتے  ہوئے  بھیجا کہ تم ہر ایک اپنی بری راہ سے  باز آؤ اور اپنے  اعمال کو دُرست کرو اور غیر خداؤں  کی پیروی اور عبادت نہ کرو۔ اور جو ملک میں  نے  تم کو اور تمہارے  با پ دادا کو دیا ہے  تم اس میں  بسو گے۔ لیکن تم نے  کان نہ لگا یا نہ میری سنی۔

16 یوناداب کے  خاندان نے  اپنے  باپ دادا کے  حکم کو جو اس نے  دیا مانا۔ لیکن یہوداہ کے  لوگوں  نے  میرے  حکم کو قبول نہیں  کیا۔”

17 اس لئے  خداوند خدا قادر مطلق اسرائیل کا خدا یوں  فرماتا ہے۔ ” دیکھو! میں  یہوداہ پر اور یروشلم کے  تمام باشندوں  پر وہ سب مصیبت میں  جس کا میں  نے  ان کے  خلاف اعلان کیا ہے۔ لاؤں  گا کیوں  کہ میں  نے  ان سے  کلام کیا لیکن انہوں  نے  سننے  سے  انکار کیا اور میں  نے  ان کو بلا یا پر انہوں  نے  جواب نہ دیا۔”

18 اور یرمیاہ ریکابیوں  کے  گھرانے  سے  کہا “خداوند قادر مطلق اسرائیل کا خدا یوں  فرماتا ہے  کہ تم نے  اپنے  با پ یوناداب کی تعلیمات کو مانا اور اس کی سب وصیتوں  پر عمل کیا ہے  اور جو کچھ اس نے  تم کو فرمایا تم بجا لائے۔

19 اس لئے  اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق یوں  فرماتا ہے  ریکاب کے  بیٹے  یوناداب سے  ایک نسل ہمیشہ ہو گا جو میری خدمت کرے  گا۔”

 

 

 

باب :  36

 

1 شاہ یہوداہ یہو یقیم بن یوسیاہ کے  چو تھے  برس میں  یہ کلام خداوند کی طرف سے  یرمیاہ پر نازل ہوا۔

2 اس کے  مطابق ” ایک طومار لو اور وہ سب کلام جو میں  نے  اسرائیل اور یہوداہ اور تمام اقوام کے  با رے  میں  یوسیاہ کے  دنوں  سے  لے  کر آج تک کہا لکھو۔

3 ہو سکتا ہے   یہوداہ کا گھرانا یہ سنے  کہ میں  ان کے  لئے  کیا کرنے  کا منصوبہ بنا رہا ہوں۔ اور ہو سکتا ہے  وہ بُرا کام چھوڑ دیں۔ اگر وہ ایسا کریں  گے  تو میں  انہیں  جو بدکرداری انہوں  نے  کی ہے   اس کے  لئے  معاف کر دوں  گا۔”

4 اس لئے  یرمیاہ با روک نامی ایک شخص کو بلا یا۔ باروک نیریاہ کا بیٹا تھا۔ یرمیاہ ان پیغامات کو کہا جنہیں  خداوند نے  اسے  دیا تھا۔جس وقت یرمیاہ پیغام کہہ رہا تھا اسی وقت بار وک انہیں  طومار پر لکھ رہا تھا۔

5 تب یرمیاہ نے  بار وک سے  کہا ” مجھے  خداوند کی ہیکل میں  جانے  کا حکم نہیں  ہے۔

6 پر تم جاؤ اور خداوند کا وہ کلام جو تم نے  میرے  منہ سے  اس طومار میں  لکھا ہے  خداوند کی ہیکل میں  روزہ کے  دن لوگوں  کو پڑھ کر سناؤ اور تمام یہوداہ کے  لوگوں  کو جو بھی اپنے  شہروں  سے  آئے  ہوں  تم وہی کلام پڑھ کر سناؤ۔

7 شاید وہ لوگ خداوند سے  مدد کی منت کریں۔شاید ہر ایک شخص برا کام کرنا چھوڑ دے۔ کیوں  کہ خداوند کا قہر و غضب جس کا اس نے  ان لوگوں  کے  خلاف اعلان کیا ہے  شدید ہے۔ ”

8 اس لئے  نیریاہ کے  بیٹے  باروک نے  وہ سب کیا جسے  یرمیاہ نبی نے  کرنے  کو کہا۔ بار وک نے  اس طومار کو بلند آواز میں  پڑھا جس میں  خداوند کے  پیغام درج تھے۔ اس نے  اسے  خداوند کی ہیکل میں  پڑھا۔

9 اور شاہ یہوداہ یہو یقم بن یوسیاہ کے  پانچویں  برس کے  نویں  مہینے  میں  یوں  ہوا کہ یروشلم کے  سب لوگوں  نے  اور ان سبنے  جو یہوداہ کے  شہروں  سے  یروشلم میں  آئے  تھے  خداوند کے  حضور روزہ کی منا دی کر دی تھی۔

10 تب باروک نے  طومار سے  یرمیاہ کی باتیں  خداوند کی ہیکل میں  جمریاہ بن سافن منشی کی کو ٹھری میں  با لائی آنگن میں  نئے  پھاٹک پر پڑھا۔اس نے  اسے  پڑھاتا کہ سب لوگ اسے  سن سکیں۔

11 میکا یاہ نامی ایک شخص نے  خداوند کے  ان سارے  پیغامات کو سنا جنہیں  بار وک نے  طومار سے  پڑھا۔میکا یاہ اس جمریاہ کا بیٹا تھا جو سافن کا بیٹا تھا۔

12 جب میکا یاہ نے  طومار سے  پیغام کو سنا تو وہ بادشاہ کے  محل میں  منشی کے  کمرے  میں  گیا۔ اور اس وقت سب امراء یعنی الیسمع منشی دلایاہ بن سمعیاہ الناتن بن عکبور جمریاہ بن سافن اور صدقیاہ بن حننیاہ وہاں  بیٹھے  تھے۔

13 میکایاہ نے  ان ذمہ داروں  سے  وہ سب کہا جو اس نے  بار وک کو طومار سے  پڑھ کر لوگوں  کو سناتے  ہوئے  سنا تھا۔

14 اور تب تمام امراء نے  یہودی بن نتنیاہ بن سلمیاہ بن کو شی کو کہا کہ بار وک کے  پاس جاؤ اور اس سے  کہو ” وہ طومار جس سے  تم نے  پڑھ کر پیغام لوگوں  کو سنا یا لاؤ۔” اس لئے  بار وک بن نیریاہ وہ طومار لے  کر لوگوں  کے  سامنے  آیا۔

15 تب ان عہدیداروں  نے  بار وک سے  کہا ” بیٹھو جو کچھ طومار میں  لکھا ہے  پڑھو۔ اس لئے  بار وک نے  اسے  ان لوگوں  کو پڑھ کر سنا یا۔ ”

16 ان شاہی افسران نے  اس طومار سے  سبھی پیغام سنے۔ تو وہ ڈر گئے  اور ایک دوسرے  کو دیکھنے  لگے۔ انہوں  نے  بار وک سے  کہا ” ہم لوگوں  کو طومار کے  پیغام کے  با رے  میں  بادشاہ یہو یقیم سے  کہنا ہو گا۔”

17 تب افسران نے  بار وک سے  ایک سوال کیا۔ انہوں  نے  پو چھا ” بار وک یہ بتاؤ کہ تم نے  یہ پیغام کہاں  سے  پائے   جنہیں  تم نے  اس طومار پر لکھا؟ کیا تم نے  ان پیغامات کو لکھا جنہیں  یرمیاہ نے  تمہیں  بتا یا؟ ”

18 بار وک نے  جواب دیا ” ہاں ! ‘ یرمیاہ نے  کہا ” اور میں  نے  سارے  پیغامات کو سیاہی سے  اس طومار پر لکھا۔”

19 تب شا ہی افسران نے  بار وک سے  کہا تمہیں  اور یرمیاہ کو کہیں  جا کر چھپ جانا چاہئے۔ کسی سے  نہ بتاؤ کہ تم کہاں  چھپے  ہو۔

20 تب شا ہی افسران نے  الیسمع منشی کے  کمرے  میں  طومار کو رکھا۔ وہ بادشاہ یہو یقیم کے  پاس گئے  اور طومار کے  با رے  میں  اسے  سب کچھ بتا یا۔

21 اس لئے  بادشاہ یہو یقیم نے  یہودی کو طومار لینے  کو بھیجا۔ یہودی الیسمع منشی کے  کمرے  سے  طومار کو لایا۔ تب یہودی نے  بادشاہ اور اس کے  چاروں  جانب کھڑے  سبھی کو طومار پڑھ کر سنایا۔

22 یہ جس وقت ہوا نواں  مہینہ تھا۔اس لئے  بادشاہ یہو یقیم زمستانی محل میں  بیٹھا تھا۔بادشاہ کے  سامنے  انگیٹھی میں  آ گ جل رہی تھی۔

23 جب یہودی نے  اس طومار کو تین یا چار کالم پڑھا تو اس نے  اسے  لیا اور چاقو سے  جسے  کہ منشی استعمال کرتا تھا پھاڑ دیا اور اسے  انگیٹھی کی آگ میں  پھینک دیا۔اس نے  پو رے  طومار کو انگیٹھی کی آگ میں  ڈال دیا اور یہ جل کر راکھ ہو گیا۔

24 جب بادشاہ یہو یقیم اور اس کے  امراء نے  طومار سے  پیغام سنے  تو وہ ڈرے  نہیں۔ انہوں  نے  اپنے  کپڑے  یہ ظاہر کرنے  کے  لئے  نہیں  پھاڑے  کہ انہیں  اپنے  کئے  ہوئے  بُرے  کاموں  کے  لئے  دُ کھ ہے۔

25 الناتن دلا یاہ اور جمریاہ بادشاہ یہو یقیم سے  طومار کو نہ جلانے  کے  لئے  بات کرنے  کی کو شش کی۔لیکن بادشاہ نے  ان کی ایک نہ سنی۔

26 اور بادشاہ یہو یقیم نے  کچھ لوگوں  کو حکم دیا کہ وہ باروک منشی اور نبی یرمیاہ کو قید کر لیں۔ یہ لوگ تھے  : بادشاہ کا ایک بیٹا یرحمیل عزری ایل کے  بیٹے  شرایاہ اور عبدی ایل کے  بیٹے  سلمیاہ تھے۔ لیکن وہ لوگ باروک اور یرمیاہ کو نہ ڈھونڈ سکے   کیوں  کہ خداوند نے  انہیں  چھپا دیا تھا۔

27 خداوند کا پیغام یرمیاہ کو ملا یہ تب ہوا جب یہو یقیم نے  خداوند کے  ان سبھی پیغامات والے  طومار کو جلا دیا تھا۔ جنہیں  یرمیاہ نے  بار وک سے  کہا تھا اور بار وکن ے  پیغامات کو طومار پر لکھا تھا۔ خداوند کا جو پیغام یرمیاہ کو ملا وہ یہ تھا :

28 ” اے  یرمیاہ! دوسرا طومار لو اور اس پر ان سبھی پیغامات کو لکھو جو پہلے  طومار میں  تھا۔یعنی وہ طومار جسے  شاہ یہوداہ یہو یقیم نے  جلا دیا تھا۔

29 اے  یرمیاہ! شاہ یہوداہ یہو یقیم سے  یہ بھی کہو خداوند جو کہتا ہے  وہ یہ ہے  : ‘یہو یقیم تم نے  اس طومار کو جلا دیا۔ تم نے  کہا ‘ یرمیاہ نے  کیوں  لکھا کہ شاہِ بابل یقیناً ہی آئے  گا۔ اور اس ملک کو برباد کر دے  گا؟ وہ کیوں  کہتا ہے  کہ شاہ بابل اس ملک کے  لوگوں  اور جانوروں  دونوں  کو فنا کرے  گا؟ ”

30 اس لئے  شاہ یہوداہ یہو یقیم کے  بارے  میں  جو خداوند فرماتا ہے   وہ یہ ہے  : یہو یقیم کی نسل داؤد کے  تخت پر نہیں  بیٹھے  گی۔ جب یہو یقیم مرے  گا تو اس کی شا ہی تدفین نہیں  ہو گی۔بلکہ اس کی لاش زمین پر پھینک دی جائے  گی۔اس کی لاش دن کی گرمی میں  اور رات کے  پالے  میں  چھوڑ دی جائے  گی۔

31 اور میں  اس کو اور اس کی نسل کو اور اس کے  ملازموں  کو اس کی بدکرداری کی سزا دوں  گا۔میں  ان پر اور یروشلم کے  لوگوں  پر اور یہوداہ کے  لوگوں  پر مصیبت لاؤں  گا جس کا میں  نے  ان کے  خلاف اعلان کیا ہے  کیوں  کہ ان لوگوں  نے  اس پر توجہ نہیں  دی۔”

32 تب یرمیاہ نے  دوسرا طومار لیا اور بار وک بن نیریاہ منشی کو دیا اور اس نے  ان ساری باتوں  کو جسے  یرمیاہ نے  بو لا لکھا۔ یہ سب وہی الفاظ تھے  جو کہ اس طومار پر لکھے  ہوئے  تھے  جسے  یہوداہ کے  بادشاہ یہو یقیم نے  جلا دیا تھا۔اس کے  علاوہ اس نے  اس پیغام ہی کی طرح دوسرے  بہت سے  الفاظ اور جوڑ دیئے۔

 

 

 

باب :  37

 

 

1 نبو کد نضر شاہ بابل تھا۔نبو کد نضر نے  یہو یقیم کے  بیٹے  یہو یا کین کے  مقام پر صدقیاہ کو شاہ یہوداہ مقرر کیا۔ صدقیاہ بادشاہ یو سیاہ کا بیٹا تھا۔

2 لیکن صدقیاہ نے  خداوند کے  ان پیغامات پر توجہ نہیں  دی جنہیں  خداوند نے  یرمیاہ نبی کو اسے  سمجھانے  کے  لئے  دیا تھا۔ صدقیاہ کے  ملازموں  اور یہوداہ کے  لوگوں  نے  خداوند کے  پیغام پر توجہ نہیں  دی۔

3 اور صدقیاہ بادشاہ نے  یہوکل بن سلمیاہ اور صفنیاہ بن معسیاہ کاہن کی معرفت یرمیاہ نبی کو کہلا بھیجا کہ اب ہمارے  لئے  خداوند ہمارے  خدا سے  دعا کرو۔

4 اس وقت تک یرمیاہ قید خانہ میں  نہیں  ڈالا گیا تھا اس لئے  جہاں  کہیں  وہ جانا چاہتا تھا جا سکتا تھا۔

5 اس وقت فرعون کی فوج مصر سے  یہوداہ کو چ کر چکی تھی۔ بابل کی فوج نے  اسے  شکست دینے  کے  لئے  یروشلم شہر کے  چاروں  جانب گھیرا ڈال رکھی تھی۔ تب انہوں  نے  مصر سے  ان کی جانب کوچ کر چکی فوج کے  با رے  میں  سنا اس لئے  بابل کی فوج مصر سے  آنے  وا لی فوج سے  لڑنے  کے  لئے  یروشلم سے  ہٹ گئی۔

6 تب خداوند کا یہ کلام یرمیاہ نبی پر نازل ہوا۔

7 ” خداوند اسرائیل کا خدا یوں  فرماتا ہے  : ‘ اے  یہوکل صفنیاہ میں  جانتا ہوں  کہ شاہ یہوداہ صدقیاہ نے  تمہیں  میرے  پاس سوال پو چھنے  کے  لئے  بھیجا ہے۔ شاہ صدقیاہ کو یہ جواب دو فرعون کی فوج یہاں  آنے  اور بابل کی فوج کے  خلاف تمہاری مدد کے  لئے  مصر سے  کوچ کر چکی ہے۔ لیکن فرعون کی فوج مصر سے  لوٹ جائے  گی۔

8 اس کے  بعد بابل کی فوج یہاں  لوٹے  گی۔ وہ اس شہر کے  خلاف لڑے  گی۔اس پر قبضہ کرے  گی اور اسے  جلا ڈالے  گی۔’

9 خداوند جو کہتا ہے  وہ یہ ہے   ‘ یروشلم کے  لوگو! اپنے  آپ  کو فریب نہ دو! تم آپس میں  یہ مت کہو ” بابل کی فوج چلی گئی ہے۔ ” اصل میں  یہ نہیں  گئی ہے۔

10 اے  یروشلم کے  لوگو! اگر تم بابل کی اس ساری فوج کو ہی کیوں  نہ شکست دو جو تم پر حملہ کر رہی ہے۔ تو بھی ان کے  خیموں  میں  کچھ زخمی لوگ بچ جائیں  گے۔ وہ چند زخمی بھی اپنے  خیموں  سے  با ہر نکلیں  گے  اور یروشلم کو جلا کر راکھ کر دیں  گے۔ ”

11 جب بابل کی فوج نے  مصر کے  فرعون کی فوج کے  ساتھ جنگ کرنے  کے  لئے  یروشلم کو چھوڑا۔

12 تب یرمیاہ نے  بنیمین ملک جانے  کے  لئے  یروشلم چھوڑا۔ اور وہ وہاں  اپنے  خاندان کی جائیداد کے  متعلق ایک میٹنگ میں  حصہ لینے  کے  لئے  گیا۔

13 لیکن جب یرمیاہ بنیمین کے  پھاٹک پر پہنچا تو وہاں  پہریداروں  کا ایک کپتان تھا۔جس کا نام اریّاہ تھا۔اریّاہ سلمیاہ بن حننیاہ کا بیٹا تھا۔اس نے  یرمیاہ نبی کو پکڑا اور کہا ” کیا تم بابل کے  لوگوں  میں  شامل ہونے  جا رہا ہو؟ ”

14 تب یرمیاہ نے  اریّاہ سے  کہا ” یہ سچ نہیں  ہے۔ میں  بابل کے  لوگوں  کے  ساتھ ملنے  نہیں  جا رہا ہوں۔ ” لیکن اریّاہ نے  یرمیاہ کی ایک نہ سنی۔ اریّاہ نے  یرمیاہ کو قید کر لیا اور اسے  یروشلم کے  شاہی عہدیداروں  کے  پاس لے  گیا۔

15 وہ عہدیدار یرمیاہ سے  بہت ناراض تھے۔ انہوں  نے  یرمیاہ کو پیٹنے  کا حکم دیا۔ تب انہوں  نے  یرمیاہ کو قید خانہ میں  ڈال دیا۔ قید خانہ یونتن نامی شخص کے  گھر میں  تھا۔ یونتن اصل میں  شاہ یہوداہ کی منشی تھا۔ لیکن یونتن کا گھر قید خانہ بنا دیا گیا تھا۔

16 ان لوگوں  نے  یرمیاہ کو یونتن کے  گھر کی ایک کو ٹھری میں  رکھا۔ وہ کو ٹھر ی زیرِ زمین تہہ خانہ تھی یرمیاہ وہاں  ایک طویل مدت تک رہا۔

17 تب صدقیاہ بادشاہ نے  آدمی  بھیج کر اسے  کسی طرح سے  نکلوایا اور اپنے  محل میں  اسے  لا یا۔ پھر اس نے  پر اعتماد کر کے  پو چھا ” کیا خداوند کی طرف سے  کوئی پیغام ہے ؟ یرمیاہ نے  کہا ہے   ” ہاں  تم شاہ بابل کے  حوالہ کئے  جاؤ گے۔ ”

18 تب یرمیاہ نے  بادشاہ صدقیاہ سے  کہا ” میں  نے  تمہارے  خلاف تمہارے  عہدیداروں  کے  خلاف یا لوگوں  کے  خلاف کیا جرم کیا ہے ؟ تم نے  مجھے  قید خانہ میں  کیوں  پھینکا؟

19 اے  صدقیاہ بادشاہ تمہارے  نبی اب کہاں  ہیں ؟ ان نبیوں  نے  تمہیں  جھوٹا پیغام دیا۔ انہوں  نے  کہا ‘شاہ بابل تم پر یا یہوداہ ملک حملہ نہیں  کرے  گا۔’

20 لیکن اب میرے  خداوند شاہ یہوداہ کی مہربانی سے  میری سن میری درخواست قبول فرما اور مجھے  یونتن منشی کے  گھر میں  وا پس نہ بھیج ایسا نہ ہو کہ میں  وہاں  مر جاؤں۔

21 تب صدقیاہ بادشاہ نے  حکم دیا کہ ان لوگوں  کو اسے  پہریداروں  کے  آنگن میں  رکھنا چاہئے۔ اور جب تک شہر میں  روٹی ملتی ہے  اسے  نانبائیوں  کے  یہاں  سے  روٹی لا کر دینا چاہئے۔ اس لئے  یرمیاہ پہریداروں  کے  آنگن میں  رہا۔”

 

 

 

باب : 38

 

1 پھر سفطیاہ بن متّان اور جدلیاہ بن فحشور اور یوکل بن سلمیاہ اور فحشور بن ملکیاہ نے  وہ باتیں  جو یرمیاہ سب لوگوں  سے  کہتا تھا سنیں۔ وہ کہتا تھا۔

2 “خداوند یوں  فرماتا ہے  کہ جو کوئی بھی یروشلم میں  رہے  گا وہ تلوار قحط سالی اور بیماری سے  مرے  گا اور جو بابل کے  لوگوں  کے  حوالے  ہو گا زندہ رہے  گا اور اس کی قیمتی جان بچ جائے  گی۔’

3 خداوند یوں  فرماتا ہے  کہ یہ یروشلم شاہ بابل کی فوج کو یقیناً ہی مار دیا جائے  گا۔ وہ اس شہر پر قبضہ کرے  گا۔”

4 تب امراء نے  بادشاہ سے  کہا ” ہم تم سے  عرض کرتے  ہیں  کہ اس آدمی  کو قتل کرواؤ کیوں  کہ اس نے  جو کچھ کہا اس سے  سپاہیوں  کا اور لوگوں  کا حوصلہ پست ہوا ہے۔ وہ لوگوں  کے  لئے  اچھا نہیں  چاہتا ہے  بلکہ اس کی خواہش ہے  کہ ہم لوگوں  کے  ساتھ بُرا ہو۔ ”

5 اس لئے  بادشاہ صدقیاہ نے  ان افسران سے  کہا ” یرمیاہ تم لوگوں  کے  ہاتھ میں  ہے۔ میں  تمہیں  روکنے  کے  لئے  کچھ نہیں  کر سکتا۔”

6 تب ان افسران نے  یرمیاہ کو لیا اور اسے  ملکیاہ کے  حوض میں  ڈال دیا۔ ( ملکیاہ بادشاہ کے  بیٹوں  میں  سے  ایک تھا ) وہ حوض پہریداروں  کے  آنگن میں  تھا۔ ان افسران نے  یرمیاہ کو حوض میں  ڈالنے  کے  لئے  رسّے  کا استعمال کیا۔ حوض میں  پانی بالکل نہیں  تھا اس میں  صرف کیچڑ تھا۔ اور یرمیاہ کیچڑ میں  دھنس گیا۔

7 اور جب عبد ملک نے  جو شاہی محل کے  خواجہ سراؤں  میں  سے  تھا۔ سنا کہ انہوں  نے  یرمیاہ کو حوض میں  ڈال دیا ہے  جبکہ بادشاہ بنیمین کے  پھاٹک میں  بیٹھا تھا۔

8 عبد ملک کوشی بادشاہ کے  گھر سے  محل میں  گیا جہاں  بادشاہ تھا۔ اس نے  کہا ” میرے  آقا اے  بادشاہ تمہارے  عہدیداروں  نے  نہایت نا روا سلوک کیا ہے۔ انہوں  نے  یرمیاہ نبی کے  ساتھ برا کیا ہے۔ کیوں  کہ شہر میں  روٹی نہیں  ہے۔ ”

9

10 تب بادشاہ صدقیاہ نے  عبد ملک کو یہ کہتے  ہوئے  حکم دیا ” راج محل سے  ۳۰ آدمیوں  کو اپنے  ساتھ لو اور جلدی سے  وہاں  جاؤ اور اس سے  پہلے  کہ یرمیاہ مر جائے  اسے  حوض سے  باہر نکالو۔”

11 اس لئے  عبد ملک نے  اپنے  ساتھ لوگوں  کو لیا لیکن پہلے  راج محل کے  خزانے  کے  ایک کمرے  میں  گیا۔ اس نے  کچھ پرانے  کمبل اور پھٹے  پرانے  کپڑے  اس کمرے  سے  لئے  تب اس نے  ان کھمبوں  اور کپڑوں  کو رسی کے  سہارے  حوض میں  یرمیاہ کے  پاس پہنچا یا۔

12 عبد ملک کوشی نے  یر میاہ سے  کہا ” ان پرانے  کمبلوں  اور کپڑوں  کو اپنی بغل اور رسّی کے  بیچ میں  رکھو۔ تب رسّیاں  تمہیں  چبھیں  گی نہیں۔” اس لئے  یرمیاہ نے  وہی کیا جو عبد ملک نے  کہا۔

13 ان لوگوں  نے  یرمیاہ کو رسّیوں  سے  اوپر کھینچا اور حوض سے  باہر نکال لیا اور یرمیاہ گھر کے  آنگن میں  محافظوں  کی حفاظت میں  رہا۔

14 تب بادشاہ صدقیاہ نے  کسی کو یرمیاہ نبی کو لانے  کے  لئے  بھیجا۔ اس نے  خداوند کے  گھر کے  تیسرے  پھاٹک پر یرمیاہ کو بلوایا۔ تب بادشاہ نے  کہا ” اے  یرمیاہ! میں  تم سے  کچھ پوچھ رہا ہوں۔ مجھ سے  کچھ بھی نہ چھپاؤ مجھے  سب کچھ ایمانداری سے  بتاؤ۔”

15 یرمیاہ نے  صدقیاہ سے  کہا ” اگر میں  آپ  کو جواب دوں  گا تو ہو سکتا ہے  آپ  مجھے  مار دیں  اور اگر میں  آپ  کو صلاح بھی دوں  تو آپ  اسے  نہیں  مانیں  گے۔ ”

16 تب صدقیاہ بادشاہ نے  یرمیاہ کے  سامنے  تنہائی میں  کہا ” زندہ خداوند کی قسم جو ہماری جانوں  کا خالق ہے   نہ میں  تمہیں  قتل کروں  گا اور نہ ان کے  حوالے  کروں  گا جو تمہاری جان کے  خواہاں  ہیں۔”

17 تب یرمیاہ نے  بادشاہ صدقیاہ سے  کہا ” یہ وہ ہے  جسے  خداوند قادر مطلق بنی اسرائیلیوں  کا خدا کہتا ہے   ‘ اگر تم شاہ بابل کے  امراء کے  حوالے  ہو جاؤ گے  تو تمہاری جان بچ جائے  گی اور یروشلم جلا کر راکھ نہیں  کیا جائے  گا۔ تم اور تمہارا خاندان بھی زندہ رہے  گا۔

18 لیکن اگر تم شاہ بابل کے  امراء کے  حوالے  ہونے  سے  انکار کرو گے  تو یروشلم بابل فوج کے  حوالہ کر دیئے  جاؤ گے۔ وہ یروشلم کو جلا کر راکھ کر دیں  گے  اور تم خود ان سے  بچ کر نہیں  نکل پاؤ گے۔ ”

19 تب بادشاہ صدقیاہ نے  یرمیاہ سے  کہا ” لیکن میں  یہوداہ کے  ان لوگوں  سے  ڈرتا ہوں  جو پہلے  ہی بابل کی فوج سے  جا ملے  ہیں۔ مجھے  ڈر ہے  کہ سپاہی مجھے  یہوداہ کے  ان لوگوں  کو دے  دیں  گے  اور وہ میرے  ساتھ برا سلوک کریں  گے  اور چوٹ پہنچائیں  گے۔ ”

20 لیکن یرمیاہ نے  جواب دیا ” سپاہی تمہیں  یہوداہ کے  ان لوگوں  کو نہیں  دیں  گے۔ اے  بادشاہ صدقیاہ جو میں  کہہ رہا ہوں  اسے  کر کے  خداوند کے  حکم کی تعمیل کرو۔ تب سبھی کچھ تمہارے  بھلے  کے  لئے  ہو گا اور تمہاری جان بچ جائے  گی۔

21 لیکن اگر تم بابل کی فوج کے  حوالے  ہونے  سے  انکار کرتے  ہو تو خداوند نے  مجھے  بتا دیا ہے  کہ کیا ہو گا۔ یہ وہ ہے  جو خداوند نے  مجھ سے  کہا ہے۔

22 وہ سبھی عورتیں  جو یہوداہ کے  محل میں  رہ گئی ہیں  باہر لائی جائیں  گی۔ وہ شاہ بابل کے  امراء کے  سامنے  لائی جائیں  گی۔ وہ عورتیں  کہیں  گی : ‘ تمہارے  دوستوں  نے  تمہیں  فریب دیا ہے  اور تم پر غالب آئے۔ جب تمہارے  پاؤں  کیچڑ میں  دھنس گئے  تو انہوں  نے  تمہیں  چھوڑ دیا۔

23 ” تمہاری سبھی بیویاں  اور تمہارے  بچے  باہر لائے  جائیں  گے۔ وہ بابل کی فوج کو دے  دیئے  جائیں  گے۔ تم خود بابل کی فوج سے  بچ کر نکل نہیں  پاؤ گے۔ تم شاہ بابل کی معرفت پکڑے  جاؤ گے  اور یروشلم جلا کر راکھ کر دیا جائے  گا۔”

24 تب صدقیاہ نے  یرمیاہ سے  کہا ” کسی شخص سے  یہ مت کہنا کہ میں  تم سے  باتیں  کرتا رہا۔ اگر تم کہو گے  تو تم مارے  جاؤ گے۔

25 لیکن اگر امراء سن لیں  کہ میں  نے  تم سے  بات چیت کی اور وہ تمہارے  پاس آ کر کہیں  کہ جو کچھ تم نے  بادشاہ سے  کہا اور جو کچھ بادشاہ نے  تم سے  کہا اب ہم کو بتاؤ۔ ہم سے  نہ چھپاؤ اور ہم تمہیں  قتل نہ کریں  گے۔

26 تب تمہیں  ان سے  کہنا چاہئے   ‘ میں  نے  بادشاہ سے  عرض کی تھی کہ مجھے  پھر یونتن کے  گھر میں  واپس نہ بھیجو کیوں  کہ میں  وہاں  مر جاؤں  گا۔”

27 تب سب امراء یرمیاہ کے  پاس آئے  اور اس سے  سوال پوچھا۔ یرمیاہ نے  وہ سب کہا جسے  بادشاہ نے  اسے  کہا تھا۔ تب امراء نے  یرمیاہ کو تنہا چھوڑ دیا کسی کو بھی پتا نہ چلا کہ یرمیاہ اور بادشاہ کے  بیچ کیا کیا باتیں  ہوئی۔

28 اس طرح یرمیاہ محافظوں  کی حفاظت میں  ہیکل کے  آنگن میں  اس دن تک رہا جس دن یروشلم پر قبضہ کر لیا گیا۔

 

 

 

باب :  39

 

 

1 شاہِ یہوداہ صدقیاہ کے  نویں  برس دسویں  مہینے  میں  شاہ بابل نبو کد نضر اپنی تمام فوج لے  کر یروشلم پر چڑھ آیا اور اس کا محاصرہ کیا۔

2 اور صدقیاہ کی دور حکومت کے  گیارھویں  برس کے  چو تھے  مہینے  کے  نویں  دن یروشلم شہر کی دیوار توڑی گئی تھی۔

3 تب شاہ بابل کے  سبھی شاہی عہدیدار شہر کے  اندر داخل ہوئے  اور درمیانی پھاٹک پر بیٹھ گئے۔ ان کے  درمیان نیر گل شراضر سمگر نبو سر سکیم رب ساریں  نیر گل سراضر اور رب مگ تھے۔

4 شاہ یہوداہ صدقیاہ نے  بابل کے  ان سرداروں  کو دیکھا اس لئے  وہ اس کے  سپاہی وہاں  سے  بھاگ گئے۔ انہوں  نے  رات میں  یروشلم کو چھوڑا اور بادشاہ کے  باغ سے  ہو کر با ہر نکلے۔ وہ اس پھاٹک سے  گئے  جو دو دیواروں  کے  بیچ تھا۔ تب وہ بیابان کی جانب بڑھے۔

5 لیکن بابل کی فوج نے  صدقیاہ اور اس کے  ساتھ کی فوج کا پیچھا کیا۔ کسدیوں  کی فو ج نے   یریحو کے  میدان میں  صدقیاہ کو جا پکڑا۔ انہوں  نے  صدقیاہ کو پکڑا اور اسے  شاہ بابل نبو کد نضر کے  پاس لے  گئے۔ نبو کد نضر حمات کے  ملک کے  ربلہ شہر میں  تھا۔اس مقام پر نبو کد نضر نے  صدقیاہ کے  لئے  فیصلہ سنایا۔

6 وہاں  ربلہ شہر میں  شاہ بابل نے  صدقیاہ کے  بیٹوں  کو اس کی آنکھ کے  سامنے  مار ڈالا اور صدقیاہ کے  سامنے  ہی نبو کد نضر نے  یہوداہ کے  سب شرفا کو بھی قتل کر دیا۔

7 تب نبو کدنضر نے  صدقیاہ کی آنکھیں  نکال لی۔ اس نے  صدقیاہ کو پیتل کی زنجیر سے  باندھا اور اسے  بابل لے  گیا۔

8 بابل کی فوج نے  محل میں  اور یروشلم کے  لوگوں  کے  گھروں  میں  آ گ لگا دی۔ فوجوں  نے  یروشلم کی دیوار کو ڈھا دیا۔

1 عبد ملک میں  تمہیں  بچاؤں  گا۔ تم تلوار سے  ہلاک نہیں  ہو گے۔ بلکہ تمہاری جان تمہارے  لئے  غنیمت ہو گی اس لئے  کہ تم نے  مجھ پر توکل کیا ” خداوند فرماتا ہے۔

9 اس کے  بعد پہریداروں  کا کپتان سردار نبور زا دان باقی لوگوں  کو جو شہر میں  رہ گئے  تھے  اور جو اپنا پناہ تلاش کر چکے  تھے  انہیں  پکڑا اور اسے  قیدی کے  طور پر بابل لے  گیا۔

10 لیکن پہریداروں  کا کپتان نبو رزادان نے  یہوداہ کے  مسکینوں  کو تاکستان اور کھیت دیا۔

11 لیکن نبو کد نضر نے  نبورزادان کو یرمیاہ کے  بارے  میں  کچھ حکم دیا۔ نبورزادان نبو کد نضر کے  پہریداروں  کا کپتان تھا۔ حکم یہ تھا :

12 ” یرمیاہ کو ڈھونڈو اور اس کی دیکھ بھال کرو۔اسے  چو ٹ نہ پہنچاؤ۔اسے  وہ سب دو جو وہ مانگے۔ ”

13 اس لئے  بادشاہ کے  پہریداروں  کا کپتان نبورزادان نبو شز بان خواجہ سراؤں  کے  سردار نیر گل سراضر اور رب مگ اور بابل کے  بادشاہ کے  سبھی عہدیدار

14 یرمیاہ کو محافظوں  کے  آنگن سے  بلا یا۔ جہاں  وہ یہوداہ کے  بادشاہ محافظوں  کی حفاظت میں  پڑا تھا۔ بابل کی فوج کے  ان عہدیداروں  نے  یرمیاہ کو جدلیاہ کے  سپرد کیا جدلیاہ اخیقام کا بیٹا تھا۔اخیقام سافن کا بیٹا تھا۔ جدلیاہ کو حکم تھا کہ وہ یرمیاہ کو اس کے  گھر واپس لے  جائے۔ اس لئے  یرمیاہ کو اپنے  گھر پہنچا دیا گیا اور وہ اپنے  لوگوں  میں  رہنے  لگا۔

15 جس وقت یرمیاہ محافظوں  کے  آنگن میں  تھا۔ اسے  خداوند کا ایک پیغام ملا۔ پیغام یہ تھا :

16 ” اے  یرمیاہ! جاؤ اور کوش کے  عبد ملک کو یہ پیغام دو! یہ وہ پیغام ہے  جسے  خداوند قادر مطلق بنی اسرائیلیوں  کا خدا دیتا ہے  کہ دیکھو میں  اپنی باتیں  اس شہر کی بھلائی کے  لئے  نہیں  بلکہ خرابی کے  لئے  پوری کروں  گا اور وہ اس روز تمہارے  سامنے  پوری ہوں  گی۔

17 لیکن اے  عبد ملک اس دن میں  تمہیں  بچاؤں  گا – یہ خداوند کا پیغام ہے  – تم ان لوگوں  کو نہیں  دیئے  جاؤ گے  جس سے  تمہیں  خوف ہے  –

18

 

 

 

باب :  40

 

1 خداوند کا کلام یرمیاہ کو اس وقت ملا جب پہریداروں  کا کپتان نبو زرادان نے  یرمیاہ کو رامہ سے  بھیج دیا۔ وہ اسے  زنجیروں  میں  جکڑ کر یروشلم اور یہوداہ کے  دوسرے  قیدیوں  کے  ساتھ لے  جا رہا تھا۔انہیں  قیدیوں  کی طرح بابل لے  جا یا گیا۔۔

2 پہریداروں  کا کپتان یرمیاہ کو ایک کنارے  لے  گیا اور کہا ” اے  یرمیاہ! تمہارے  خداوند نے  یہ اعلان کیا تھا کہ یہ آفت اس مقام پر آئے  گی۔

3 اور اب خداوند نے  وہ سب کچھ کر دیا ہے  جسے  اس نے  کرنے  کو کہا تھا۔ یہ مصیبت اس لئے  آئے  گی کیونکہ تم یہوداہ کے  لوگوں  نے  خداوند کے  خلاف گناہ کیا۔ اور تم لوگوں  نے  اس کی نہیں  سنی۔

4 لیکن اے  یرمیاہ! اب میں  تمہیں  آزاد کرتا ہوں۔ میں  تمہاری کلائیوں  سے  زنجیر اتار رہا ہوں۔ اگر تم چاہو تو میرے  ساتھ بابل چلو اور میں  تمہاری اچھی طرح دیکھ بھال کروں  گا۔ لیکن اگر تم میرے  ساتھ چلنا نہیں  چاہتے  ہو تو نہ چلو۔ دیکھو پورا ملک تمہارے  لئے  کھلا ہے  تم جہاں  چاہو جاؤ۔

5 اگر تم نے  یہیں  ٹھہرنے  کا فیصلہ کیا ہے  تو تم جدلیاہ بن اخیقام بن سافن جسے  شاہ بابل نے  یہوداہ کے  شہروں  کا حاکم مقرر کیا ہے  اس کے  پاس واپس چلے  جاؤ۔ اور لوگوں  کے  درمیان اس کے  ساتھ رہو یا پھر جہاں  تم جانا چاہتے  ہو چلے  جاؤ۔” تب پہریداروں  کا کپتان نبور زادان نے  یرمیاہ کو خوراک اور کچھ انعام دیکر رخصت کیا۔

6 اس لئے  یرمیاہ جدلیاہ بن اخیقام کے  پاس مصفاہ چلا گیا۔ یرمیاہ جدلیاہ کے  ساتھ ان لوگوں  کے  درمیان رہنے  لگا جو کہ یہوداہ کی سر زمین میں  باقی رہ گئے  تھے۔

7 جب فوجوں  کے  سب سرداروں  نے  اور ان آدمیوں  نے  جو کہ بیرون شہر میں  رہتے  تھے  سنا کہ شاہ بابل نے  جدلیاہ بن اخیقام کو ملک کا حاکم مقرر کیا ہے  اور ان مردوں  عورتوں  اور غریب لوگوں  کے  ان بچوں  کو جو اس زمین پر رہتے  ہیں  اور جنہیں  قید کر کے  بابل نہ لے  جایا گیا تھا ان کے  حوالے  کر دیا گیا ہے۔

8 تب اسمٰعیل بن نتنیاہ یوحنان اور یونتن بن قریح اور سرایاہ بن تنحومت عیفی کے  بیٹے  اہل نطوفاط اور یزنیاہ جو کہ معکات کے  خاندان سے  تھے  اپنے  لوگوں  کے  ساتھ جدلیاہ سے  ملنے  کے  لئے  مصفاہ گیا۔

9 سافن کے  بیٹے  اخیقام کے  بیٹے  جدلیاہ سپاہیوں  اور لوگوں  کے  ساتھ ایک وعدہ کیا۔ جدلیاہ نے  جو کہا وہ یہ ہے  : ” اے  سپاہیو! تم لوگ بابل کے  لوگوں  کی مدد کرنے  سے  خوفزدہ نہ ہو۔ اس ملک میں  بسو اور شاہ بابل کی مدد کرو۔ اگر تم ایسا کرو گے  تو تمہارا بھلا یقینی ہے۔

10 میں  خود مصفاہ میں  رہوں  گا۔ میں  ان بابل کے  لوگوں  سے  تمہارے  لئے  باتیں  کروں  گا جو یہاں  آئیں  گے۔ تمہیں  مئے   خشک میوے  اور تیل پیدا کرنا چاہئے۔ جو تم پیدا کرو اسے  اپنے  مٹکوں  میں  اکٹھا کرنے  کے  لئے  بھرو اور ان شہروں  میں  رہو جس پر تم نے  قبضہ کر لیا ہے۔ ”

11 اور اسی طرح یہودیوں  نے  جو کہ موآب عمّون اور ادوم میں  اور دوسرے  ممالک میں  رہتے  تھے  سنا کہ شاہ بابل نے  یہوداہ کے  چند لوگوں  کو رہنے  دیا ہے  اور جدلیاہ بن اخیقام بن سافن کو ان پر حاکم مقرر کیا ہے۔

12 جب یہوداہ کے  لوگوں  نے  یہ خبر پائی تو وہ یہوداہ ملک میں  لوٹ آئے۔ وہ جدلیاہ کے  پاس ان سبھی ملکوں  سے  مصفاہ لوٹے  جن میں  وہ بکھر گئے  تھے  اس لئے  وہ لوٹے  اور انہوں  نے  مئے  اور تاکستانی میوے  کی بڑی فصل کاٹی۔

13 یوحنا بن قریح اور یہوداہ کی فوج کے  سب عہدیدار جو ابھی تک بیرون شہر میں  تھے  مصفاہ شہر کے  نزدیک جدلیاہ کے  پاس آئے۔

14 یوحنان اور اس کے  ساتھ کے  سرداروں  نے  جدلیاہ سے  کہا ” کیا تمہیں  معلوم ہے  کہ بنی عمون کا بادشاہ بعلیس تمہیں  مار ڈالنا چاہتا ہے۔ اس نے  اسمعیل بن نتنیاہ کو تمہیں  مار ڈالنے  کے  لئے  بھیجا ہے۔ ” لیکن جدلیاہ بن اخیقام نے  ان پر یقین نہیں  کیا۔

15 تب یوحنان بن قریح نے  مصفاہ میں  جدلیاہ سے  تنہائی میں  ملاقات کی۔ یوحنان نے  جدلیاہ سے  کہا ” مجھے  جانے  دو اور اسمٰعیل بن نتنیاہ کو مار ڈانے  دو۔ کوئی بھی شخص اس بارے  میں  نہیں  جانے  گا۔ ہم لوگ اسمٰعیل کو تمہیں  مار نے  نہیں  دیں  گے۔ وہ یہوداہ کے  ان سبھی لوگوں  کو جو تمہارے  چاروں  طرف اکٹھے  ہوئے  ہیں  مختلف ملکوں  میں  پھر سے  بکھیر دے  گا۔ اور اس کا یہ مطلب ہو گا کہ یہوداہ کے  باقی ماندہ لوگ بھی فنا ہو جائیں  گے۔ ”

16 لیکن جدلیاہ بن اخیقام نے  یوحنان بن قریح سے  کہا ” اسمٰعیل کو نہ مارو اسمٰعیل کے  بارے  میں  جو تم کہہ رہے  ہو وہ سچ نہیں  ہے۔ ”

 

 

 

باب :  41

 

 

1 اور ساتویں  مہینے  میں  یوں  ہوا کہ اسمٰعیل بن نتنیاہ بن الیسمع جو شاہی نسل سے  اور بادشاہ کے  سرداروں  میں  سے  تھا اپنے  دس آدمیوں  کو ساتھ لے  کر جدلیاہ بن اخیقام کے  پاس مصفاہ میں  آیا اور انہوں  نے  وہاں  مصفاہ میں  ایک ساتھ مل کر کھا نا کھا یا۔

2 جب وہ ساتھ کھا نا کھا رہے  تھے  اسی وقت اسمٰعیل اور اس کے  دس ساتھی اٹھے  اور جدلیاہ بن اخیقام بن سافن کو تلوار سے  مار دیا۔ جدلیاہ وہ شخص تھا جسے  شاہ بابل نے  ملک کا حاکم مقرر کیا تھا۔

3 اسمٰعیل نے  یہوداہ کے  ان سبھی لوگوں  کو بھی مار دیا جو مصفاہ میں  جدلیاہ کے  ساتھ تھے۔

4 دو دن بعد کسی کو پتا نہ چلا کہ کیا ہوا۔

5 تو اس وقت یوں  ہوا سکم شیلاہ اور سامریہ سے  ۸۰ آدمی  داڑھی منڈوائے  اور کپڑے  پھاڑ لئے  اور اپنے  آپ  کو گھائل کر لئے  اور تحفے  اور لبان ہاتھوں  میں  لئے  ہوئے  وہاں  آئے  اور خداوند کے  گھر میں  وقت گزارے۔

6 اور اسمٰعیل بن نتنیاہ مصفاہ شہر سے  ان اسّی لوگوں  سے  ملنے  گیا ان سے  ملنے  جاتے  وقت وہ رو رہا تھا۔ اسمٰعیل ان ۸۰ لوگوں  سے  ملا اور اس نے  کہا ” جدلیاہ بن اخیقام سے  ملنے  میرے  ساتھ چلو۔”

7 وہ ۸۰ لوگ مصفاہ شہر گئے۔ تب اسمٰعیل بن نتنیاہ اور اس کے  لوگوں  نے  ان میں  سے  ستر لوگوں  کو مار دیا۔ اسمٰعیل اور اس کے  لوگوں  نے  ان ستر لوگوں  کی لاشوں  کو ایک گہرے  حوض میں  ڈال دیا۔

8 لیکن بچے  ہوئے  دس لوگوں  نے  اسمٰعیل سے  کہا ” ہمیں  مت مارو کیوں  کہ ہمارے  پاس گیہوں  جو تیل اور شہد کے  ذخیرے  کھیتوں  میں  پوشیدہ ہیں۔” اس لئے  اس نے  ان کو  ان کے  بھائیوں  کے  ساتھ نہیں  مارا۔

9 اسمٰعیل نے  جن آدمیوں  کو مارا تھا ان کی لاشوں  کو حوض میں  پھینک دیا۔ وہ حوض یہوداہ کے  آسا نامی بادشاہ کے  لئے  بنا یا گیا تھا۔ بادشاہ آسانے  اسے  اسرائیل کے  بادشاہ بعشاہ سے  حفاظت کے  لئے  بنوایا تھا۔ ( اسمٰعیل بن نتنیاہ نے  اسے  بہت ساری لاشوں  سے  بھر دیا۔)

10 اسمٰعیل نے  مفاہ شہر کے  دیگر سبھی لوگوں  کو بھی پکڑا۔ ان لوگوں  میں  بادشاہ کی بیٹیوں  کے  علاوہ وہ لوگ تھے  جو وہاں  بچ گئے  تھے۔ وہ ایسے  لوگ تھے  جنہیں  بادشاہ بابل کے  پہریداروں  کے  کپتان نبوزار دان نے  جدلیاہ بن اخیقام کے  ساتھ ٹھہرنے  کے  لئے  مقرر کیا تھا۔ اس لئے  اسمٰعیل نے  ان لوگوں  کو پکڑا اور بنی عمّون کے  شہر میں  چلے  گئے۔

11 یوحنان بن قریح اور اس کے  ساتھ کے  سبھی لشکر کے  سرداروں  نے  ان سبھی شرارتوں  کو سنا جو اسمٰعیل بن نتنیاہ نے  کیا تھا۔

12 اس لئے  یوحنان اور اس کے  ساتھ کے  سبھی فوجی عہدیدار نے  اپنے  کچھ لوگوں  کو لیا اور اسمٰعیل بن نتنیاہ سے  لڑنے  گئے۔ انہوں  نے  اسمٰعیل کو بڑی جھیل کے  پاس پکڑا جو جبعون شہر میں  ہے۔

13 ان قیدیوں  نے  جنہیں  اسمٰعیل نے  قید کیا تھا جب یوحنان بن قریح اور فوجی سرداروں  کو دیکھا تو وہ لوگ بہت خوش ہوئے۔

14 تب وہ سبھی لوگ جنہیں  اسمٰعیل نے  مصفاہ میں  قیدی بنا یا تھا یوحنان بن قریح کے  پاس دوڑ کر آئے۔

15 لیکن اسمٰعیل اور اس کے  آٹھ ساتھی یوحنان سے  بچ نکلے  وہ بنی عمّون کے  پاس بھاگ گئے۔

16 اس لئے  یوحنان بن قریح اور اس کے  سبھی فوجی سرداروں  نے  قیدیوں  کو بچا لیا۔ اسمٰعیل بن نتنیاہ نے  جدلیاہ بن اخیقام کو ہلاک کیا تھا اور ان لوگوں  کو مصفاہ سے  پکڑ لایا تھا۔ ان بچے  ہوئے  لوگوں  میں  سپاہی عورتیں  بچے  اور خواجہ سراء تھے۔ یوحنان انہیں  جبعون شہر سے  واپس لایا۔

17 اور وہ روانہ ہوئے  اور سرائے  کمہام میں  جو بیت اللحم کے  نزدیک ہے  آ رہے تا کہ مصر کو جائیں۔ کیوں  کہ وہ کسدیوں  سے  ڈر گئے   اس لئے  کہ اسمٰعیل بن نتنیاہ نے  جدلیاہ بن اخیقام کو جسے  شاہ بابل نے  اس ملک پر حاکم مقرر کیا تھا قتل کر ڈالا۔

18

 

 

 

باب :  42

 

 

1 تب سب فوجی سردار اور یوحنان بن قریح اور عزریاہ بن ہوسیعاہ اور ادنیٰ و اعلیٰ سب لوگ آئے

2 ان سبھی لوگوں  نے  نبی یرمیاہ سے  کہا ” اے  یرمیاہ! مہر بانی سے  سن جو ہم کہتے  ہیں۔ خداوند اپنے  خدا سے  یہوداہ کے  گھرانے  کے  ان سبھی بچے  ہوئے  لوگوں  کے  لئے  دعا کرو۔ اے  یرمیاہ! تم خود دیکھ سکتے  ہو کہ ہم لوگ بہت زیادہ نہیں  بچے  ہیں۔ کسی وقت ہم بہت زیادہ تھے۔

3 اے  یرمیاہ! اپنے  خداوند خدا سے  دعا کرو کہ وہ بتائے  کہ ہمیں  کہاں  جانا چاہئے  اور ہمیں  کیا کرنا چاہئے۔ ”

4 تب یرمیاہ نبی نے  جواب دیا ” میں  سمجھتا ہوں  کہ تم مجھ سے  کیا کروانا چاہتے  ہو۔ میں  تمہارے  خداوند خدا سے  وہی دعا کروں  گا جو تم مجھ سے  کرنے  کو کہتے  ہو۔ میں  ہر ایک بات جو خداوند کہے  گا تم کو بتاؤں  گا۔ میں  تم سے  کچھ بھی نہیں  چھپاؤں  گا۔”

5 تب ان لوگوں  نے  یرمیاہ سے  کہا ” اگر تمہارا خداوند خدا جو کچھ کہتا ہے  ہم نہیں  کرتے  تو ہمیں  امید ہے  کہ خداوند ہی سچا اور وفا دار گواہ ہمارے  خلاف ہو گا۔ ہم جانتے  ہیں  کہ تمہارے  خداوند خدا نے  تمہیں  یہ بتانے  کو بھیجا کہ ہم کیا کریں۔

6 خواہ یہ اچھا ہو یا برا خداوند ہمارا خدا جو کہتا ہے  ہم لوگ اس پر عمل کریں  گے۔ ہم لوگ تم کو خداوند کے  پاس بھیجتے  ہیں تا کہ جب ہم لوگ خداوند کے  حکم کو مانے  تو ہمارے  ساتھ بھلائی ہو۔

7 دس دن کے  بعد خداوند کے  یہاں  سے  یرمیاہ کو پیغام ملا۔

8 تب یرمیاہ نے  یوحنان بن قریح اور اس کے  ساتھ کے  فوجی سرداروں  کو ایک ساتھ بلا یا۔ اور ادنیٰ و اعلیٰ کو بھی ایک ساتھ بلا یا۔

9 تب یرمیاہ نے  ان سے  کہا ” بنی اسرائیلیوں  کا خداوند خدا جو کہتا ہے  وہ یہ ہے  : تم نے  مجھے  اس کے  پاس بھیجا اور میں  نے  خداوند سے  کہا کہ تیرے  ساتھ اچھا سلوک کرے۔ خداوند فرماتا ہے  :

10 ‘ اگر تم لوگ یہوداہ میں  رہو گے  تو میں  تمہیں  آباد کروں  گا۔ میں  تمہیں  نہ ہی تباہ کروں  گا اور نہ ہی اکھاڑوں  گا۔ میں  یہ اس لئے  کروں  گا کیوں  میں  ان بھیانک مصیبتوں  کے  لئے  افسوس کرتا ہوں  جنہیں  میں  نے  تم پر مسلط کیا تھا۔

11 تم اس وقت تم شاہ بابل سے  خوفزدہ ہو۔ لیکن اس سے  خوفزدہ نہ ہو۔ شاہ بابل سے  خوفزدہ نہ ہو۔’ یہ خداوند کا پیغام ہے   ‘ کیوں  کہ میں  تمہارے  ساتھ ہوں  میں  تمہیں  بچاؤں  گا میں  تمہیں  خطرے  سے  نکالوں  گا۔ وہ تم پر اپنا ہاتھ نہیں  رکھ سکے  گا۔

12 میں  تم پر رحم کروں  گا اور شاہ بابل بھی تمہارے  ساتھ رحم کا برتاؤ کرے  گا اور وہ تمہیں  تمہارے  ملک واپس لائے  گا۔’

13 لیکن تم یہ کہہ سکتے  ہو ‘ ہم یہوداہ میں  نہیں  ٹھہریں  گے۔ ‘ اگر تم ایسا کہو گے  تو تم اپنے  خداوند خدا کے  حکم سے  انحراف کرو گے۔

14 رم یہ بھی کہہ سکتے  ہو نہیں  ہم لوگ جائیں  گے  اور مصر میں  رہیں  گے۔ ہمیں  اس مقام پر جنگ کی پریشانی نہیں  ہو گی۔ ہم وہاں  جنگ کی بِگل نہیں  سنیں  گے  اور مصر میں  ہم بھو کے  نہیں  رہیں  گے۔ ‘

15 اگر تم یہ سب کہتے  ہو تو یہوداہ کے  باقی ماندہ لوگو! خداوند کے  اس پیغام کو سنو۔ بنی اسرائیلیوں  کا خدا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  :’ اگر تم مصر میں  رہنے  کے  لئے  جانے  کا فیصلہ کرتے  ہو تو یہ سب ہو گا۔

16 تم جنگ کی تلوار سے  ڈرتے  ہو لیکن یہی تمہیں  وہاں  شکست دے  گی اور تم بھوک سے  پریشان ہو گے۔ لیکن تم مصر میں  بھو کے  رہو گے۔ تم وہاں  مرو گے۔

17 ہر وہ شخص تلوار قحط سالی یا بیماری سے  مرے  گا جو مصر میں  رہنے  کے  لئے  جانے  کا فیصلہ کرے  گا۔ جو لوگ مصر جائیں  گے  اس میں  سے  کوئی بھی زندہ نہ بچے  گا۔ ان میں  سے  کوئی بھی بھیانک مصیبتوں  سے  نہیں  بچے  گا جسے  میں  ان پر لاؤں  گا۔’

18 بنی اسرائیلیوں  کا خدا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : ‘ پہلے  میں  یروشلم کے  ساتھ ناراض تھا۔ میں  نے  ان لوگوں  کو سزا دی جو یروشلم میں  رہتے  تھے۔ اسی طرح میں  اپنا غضب ہر اس شخص پر ظاہر کروں  گا جو مصر جائے  گا۔ جب لوگ دوسروں  پر لعنت کریں  گے  تو وہ تیرے  نام کا استعمال کریں  گے۔ تم لعنتی رہو گے۔ تم پر جو ہوا اسے  دیکھ کر لوگ خوفزدہ ہوں  گے۔ لوگ تمہاری اہانت کریں  گے  اور تم پھر کبھی یہوداہ کو نہیں  دیکھ پاؤ گے۔ ‘

19 ” اے  یہوداہ کے  باقی ماندہ لوگو! خداوند نے  تم سے  کہا : ‘ مصر مت جاؤ۔ یقینی بنا لو کہ آج میں  تمہیں  سخت انتباہ کرتا ہوں

20 فی الحقیقت تم نے  اپنی جانوں  کو فریب دیا ہے   کیوں  کہ تم نے  مجھ کو خداوند اپنے  خدا کے  حضور بھیجا کہ اس سے  ہم لوگوں  کے  لئے  دعا کر۔ تم نے  مجھ سے  وعدہ کیا کہ خداوند جو کہے  گا تم اس پر عمل کرو گے۔ ‘

21 اس لئے  آج میں  نے  خداوند کا پیغام تمہیں  دیا ہے  لیکن تم نے  خداوند اپنے  خدا کی بات کو نہیں  مانا۔ تم نے  وہ سب نہیں  کیا جسے  کرنے  کے  لئے  اس نے  مجھے  بھیجا ہے۔

22 تم لوگ رہنے  کے  لئے  مصر جانا چاہتے  ہو اب یقیناً تم یہ سمجھ گئے  ہو گے  کہ مصر میں  تم پر یہ ہو گا۔ تم تلوار سے  یا قحط سالی سے  یا بیماری سے  مرو گے۔ ”

 

 

 

باب :  43

 

 

1 اس طرح یرمیاہ نے  لوگوں  کو خداوند اپنے  خدا کا پیغام دینا پو را کیا۔ یرمیاہ نے  لوگوں  کو وہ سب کچھ بتا دیا جسے  لوگوں  سے  کہنے  کے  لئے  خداوند نے  اسے  بھیجا تھا۔

2 تب عزریاہ بن ہوسعیاہ یو حنان بن قریح اور تمام باغی لوگوں  نے  اس سے  کہا ” اے  یرمیاہ! تم جھوٹ بو لتے  ہو۔خدا ہمارے  خداوند نے  تم سے  ہمیں  یہ کہنے  کو نہیں  بھیجا کہ تم لوگوں  کو مصر میں  رہنے  کے  لئے  نہیں  جانا چاہئے۔

3 اے  یرمیاہ! ہم سمجھتے  ہیں  کہ باروک بن نیریاہ تمہیں  ہم لوگوں  کے  خلاف ہونے  کے  لئے  اکسا رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے  کہ تم ہمیں  کسدی لوگوں  کے  ہاتھ میں  دے دو۔ وہ یہ اس لئے  چاہتا ہے تا کہ وہ ہمیں  مار ڈالیں  یا وہ تم سے  یہ اس لئے  چاہتا ہے  کہ وہ ہمیں  قید کر لیں  اور بابل لے  جائیں۔”

4 اس لئے  یوحنان فوجی سرداروں  نے  اور سبھی لوگوں  نے  خداوند کی اس حکم کو ماننے  سے  انکار کیا کہ انہیں  یہوداہ میں  رہنا چاہئے۔

5 یو حنان بن قریح فوجی سرداروں  اور یہوداہ کے  تمام زندہ بچے  لوگ جو کہ یہوداہ وا پس آنے  سے  پہلے  مختلف قوموں  میں  بکھیر دیئے  گئے  تھے  وہ مصر کو چلے  گئے۔ وہ لوگ تمام آدمیوں  کو تمام عورتوں  کو تمام بچوں  کو اور بادشاہ کی بیٹیوں  کو بھی اپنے  ساتھ لے  گئے  وہ لوگ ان تمام لوگوں  کو بھی جسے  پہریداروں  کے  کپتان نبوزرادان نے  جد لیاہ بن اخیقام بن سافن کے  ساتھ ٹھہرنے  کے  لئے  مقرر کیا تھالے  گئے۔ وہ لوگ نبی یرمیاہ اور نیر نیاہ کے  بیٹے  بار وک کو اپنے  ساتھ لے  گئے۔

6

7 ان لوگوں  نے  خداوند کی ایک نہ سنی۔ اس لئے  وہ سبھی لوگ مصر گئے۔ وہ تحف نحیس شہر کو گئے

8 تحف نحیس میں  یرمیاہ نے  خداوند سے  یہ پیغام پایا۔

9 ” اے  یرمیاہ! کچھ بڑے  پتھر جمع کرو۔ انہیں  لو اور انہیں  تحف نحیس میں  فرعون کے  محل کے  داخلی دروازے  کے  نزدیک چکنی مٹی بنے  فرش پر دفنا دو۔ اور اس بات کو یقینی بنا لو کہ اسے  کرتے  ہوئے  یہوداہ کے  لوگ دیکھیں۔

10 تب یہوداہ کے  لوگوں  سے  کہو ‘ خداوند قادر مطلق اسرائیل کا خدا یوں  فرماتا ہے  کہ دیکھو! میں  اپنے  خدمت گذار شاہ بابل نبو کد نضر کو بلاؤں  گا اور ان پتھروں  پر جن کو میں  نے  لگایا ہے  اس کا تخت رکھوں  گا نبو کد نضر ان پر اپنا شامیانہ پھیلائے  گا۔

11 نبو کد نضر یہاں  آئے  گا اور مصر پر حملہ کرے  گا۔ وہ انہیں  موت کی گھاٹ اتارے  گا جو مرنے  والے  ہیں  جو قیدی بنائے  جانے  کے  قابل ہیں  وہ انہیں  قید کرے  گا اوروہ انہیں  تلواجر سے  ہلاک کرے  گا جنہیں  تلوار سے  مارنا ہے۔

12 نبو کد نضر مصر کے  جھوٹے  خداؤں  کے  گھروں  میں  آگ لگا دے  گا۔ ان گھروں  کے  جل جانے  کے  بعد وہ ان بتوں  کولے  جائے  گا۔ جس طرح ایک چروا ہا اپنے  کپڑوں  سے  کھٹملوں  کو چن چن کر صاف کرتا ہے  اسی طرح نبو کد نضر بھی مصر کو چن کر صاف کر دے  گا۔ تب وہ مصر کو محفوظ چھوڑ دے  گا۔

13 اور وہ بیت شمس کے  ستونوں  کو جو ملک مصر میں  سورج دیوتا کی ہیکل میں  ہیں  توڑے  گا اور مصریوں  کے  بت خانوں  کو آگ سے  جلا دے  گا۔”

 

 

 

باب :  44

 

1 یرمیاہ کو خداوند کا پیغام یہوداہ کے  ان تمام لوگوں  کے  لئے  جو کہ تحف نحیس ممفیس اور جنوبی مصر میں  مجدال علاقے  میں  رہتے  تھے  ملا۔

2 اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق یوں  فرماتا ہے   ” تم لوگوں  نے  ان بھیانک مصیبتوں  کو دیکھا جنہیں  میں  یروشلم شہر اور یہوداہ کے  دیگر سبھی شہروں  پر مسلط کیا۔ وہ شہر آج صرف ملبوں  کا ڈھیر ہے  اور اب ان شہروں  میں  اور کوئی بھی نہیں  رہ رہا ہے۔

3 وہ مقام فنا کئے  گئے  کیوں  کہ ان میں  رہنے  والے  لوگوں  نے  برے  کام کئے  وہ لوگ خداؤں  کے  آگے  بخور جلانے  کو گئے  اور مجھے  غضبناک کیا۔ تمہارے  لوگ اور تمہارے  باپ دادا ماضی میں  ان خداؤں  کو نہیں  پوجتے  تھے۔

4 میں  نے  اپنے  نبی ان لوگوں  کے  پاس بار بار بھیجے۔ وہ نبی میرے  خادم تھے۔ ان نبیوں  نے  میرا پیغام دیا اور لوگوں  سے  کہا ‘ ان بھیانک کاموں  کو نہ کرو جس سے  میں  نفرت کرتا ہوں۔’

5 لیکن ان لوگوں  نے  نبیوں  کی ایک نہ سنی۔ انہوں  نے  ان نبیوں  پر توّجہ نہ دی وہ لوگ برائی سے  باز نہ آئے۔ انہوں  نے  خداؤں  کے  آگے  بخور جلائے۔

6 اس لئے  میں  نے  اپنا غضب ان لوگوں  کے  خلاف ظاہر کیا۔ میرا غضب یہوداہ اور یروشلم کی گلیوں  کے  خلاف بھڑ کا۔ میرے  غضبنے  یروشلم اور یہوداہ کے  شہروں  کو ملبوں  کے  ڈھیروں  میں  بدل دیا۔ جیسا کہ وہ آج بھی ہے۔ ”

7 اس لئے  اسرائیل کا خدا خداوند خدا قادر مطلق یوں  فرماتا ہے   ” تم کیوں  اپنی جانوں  سے  ایسی بڑی بدی کرتے  ہو کہ یہوداہ میں  سے  مرد و زن اور طفل و شیر خوار کاٹ ڈالے  جائیں  گے  اور تمہارا کوئی باقی نہ رہے۔

8 اے  لوگو! غیر خداؤں  کو بنا کر مجھے  غضبناک کیوں  کرتے  ہو؟ اب تم مصر میں  رہ رہے  ہو اور اب مصر کے  جھوٹے  خداؤں  کے  آگے  بخور جلا کر تم مجھے  غضبناک کر رہے  ہو۔ لوگو تم خود کو برباد کر ڈالو گے۔ یہ تمہارے  اپنے  قصور کے  سبب ہو گا اور روئے  زمین کی سب قوموں  کے  درمیان لعنت و ملامت کا باعث بنو گے۔

9 کیا تم اپنے  باپ دادا کی یہوداہ کے  بادشاہوں  اور مہارانیوں  کی شرارت اور خود اپنی اور اپنی بیویوں  کی شرارت جو تم نے  یہوداہ کے  ملک میں  اور یروشلم کی گلیوں  میں  کی بھول گئے ؟

10 وہ آج کے  دن تک نہ خاکسار ہوئے  نہ ڈرے  اور نہ ہی میری شریعت و آئین پر جن کو میں  نے  تیرے  اور تیرے  باپ دادا کے  سامنے  رکھا چلے۔ ”

11 اس لئے  اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق جو کہتا ہے  وہ یہ ہے  : ” میں  نے  تم پر بھیانک مصیبت ڈھانے  کا ارادہ کیا ہے۔ میں  یہوداہ کے  پورے  گھرانے  کو نیست و نابود کر دوں  گا۔

12 یہوداہ کے  چند ہی لوگ بچے  ہیں۔ وہ لوگ یہاں  مصر آئے  ہیں۔ لیکن میں  یہوداہ کے  گھرانے  کے  ان چند لوگوں  کو بھی فنا کر دوں  گا۔ ان میں  سے  سبھی چھوٹے  یا بڑے  یا تو جنگ میں  مارے  جائیں  گے  یا پھر قحط سالی کا شکار بنیں  گے۔ دوسری قوموں  میں  اسے  صرف لعنتی سمجھیں  گی۔ ان کے  پاس ان کے  لوگوں  کے  بارے  میں  کہنے  کے  لئے  صرف بری باتیں  ہوں  گی۔

13 میں  ان لوگوں  کو سزا دوں  گا جو مصر میں  رہنے  چلے  گئے  ہیں۔ میں  انہیں  سزا دینے  کے  لئے  تلوار قحط سالی اور بیماری کا استعمال کروں  گا۔ میں  ان لوگوں  کو ویسے  ہی سزا دوں  گا جیسے  میں  نے  یروشلم شہر کو سزا دی۔

14 پس یہوداہ کے  باقی لوگوں  میں  سے  جو کہ ملک مصر میں  بسنے  کو جاتے  ہیں  نہ کسی کو بچایا جائے  گا اور نہ ہی کوئی زندہ باقی رہے  گا۔ اگر کوئی واپس یہوداہ بھاگ کر جانے  کی کوشش کرے  گا۔ تو وہ کامیاب نہیں  ہو گا۔ صرف کچھ زندہ بچے  لوگوں  کو چھوڑ کر۔”

15 تب سب مردوں  نے  جو جانتے  تھے  کہ ان کی بیویوں  نے  جھوٹے  خداؤں  کے  لئے  بخور جلا یا اور سب عورتوں  نے  جو پاس کھڑی تھیں  یعنی کل ملا کر لوگوں  کی ایک بڑی جماعت جو کہ مصر میر تحف نحیس میں  جا بسے  تھے۔ یر میاہ کو یوں  جواب دیا :

16 ” ہم خداوند کا پیغام نہیں  سنیں  گے  جسے  تم کہتے  ہو کہ خداوند کے  پاس سے  آیا ہے۔

17 بلکہ ہم تو اسی بات پر عمل کریں  گے  جو ہم خود کہتے  ہیں  کہ ہم آسمان کی ملکہ کے  لئے  بخور جلائیں  گے۔ اور مئے  کے  نذرانے  پیش کریں  گے   جس طرح ہم اور ہمارے  با پ دادا ہمارے  بادشاہ اور ہمارے  سردار یہوداہ کے  شہروں  اور یروشلم کی گلیوں  میں  کیا کرتے  تھے۔ کیونکہ اس وقت ہم خوب کھاتے  پیتے  تھے  اور خوشیاں  مناتے  اور مصیبتوں  سے  محفوظ تھے۔

18 پر جب سے  ہم نے  آسمان کی ملکہ کے  لئے  عبادت کرنی چھوڑ دی ہے  اور اسے  مئے  کا نذرانہ پیش کرنا بند کر دیا ہے  تب سے  ہم لوگ صرف ہر چیز ہی نہیں  کھوئے  ہیں  بلکہ تلوار اور قحط سالی کا بھی شکار ہو گئے  ہیں۔ ”

19 جب ہم لوگ آسمان کی ملکہ کے  لئے  بخور جلاتے  تھے  اور کیک بناتے  اور اس کے  لئے  مئے  کا نذرانہ پیش کرتے  تھے  تو کیا تم سوچتے  ہو کہ اسے  ہم لوگوں  نے  اپنے  شوہر کی جانکاری میں  لائے  بغیر ہی کئے  تھے۔

20 تب یرمیاہ نے  ان سبھی عورتوں  اور مردوں  سے  باتیں  کی۔ اس نے  ان لوگوں  سے  باتیں  کی جنہوں  نے  وہ باتیں  ابھی کی تھی۔

21 یرمیاہ نے  ان لوگوں  سے  کہا “خداوند کو یاد تھا کہ تم نے  یہوداہ کے  شہر اور یروشلم کی سڑکوں  پر بخور جلا یا تھا تم نے  اور تمہارے  با پ دادا تمہارے  بادشاہوں  تمہارے  امراء اور ملک کے  لوگوں  نے  اسے  کیا۔ خداوند کو یاد تھا اور اس نے  تمہارے  کئے  گئے  کاموں  کے  با رے  میں  سو چا۔

22 اس لئے  خداوند تمہارے  تئیں  اور زیادہ چپ نہیں  رہ سکا۔خداوند نے  ان بُرے  کاموں  سے  نفرت کی جو تم نے  کئے۔ اس لئے  خداوند نے  تمہارے  ملک کو بیابان بنا دیا۔ اب وہاں  کوئی شخص نہیں  رہتا۔ دیگر لوگ اس ملک کے  با رے  میں  بری باتیں  کہتے  ہیں۔

23 چونکہ تم نے  بخور جلا یا اور خداوند کے  گنہگار ٹھہرے  اور اس کی فرمانبرداری نہ کی اور نہ اس کی شریعت اور نہ ہی ان کی تعلیمات پر چلے۔ا سلئے  تم اس طرح کی مصیبتوں  کا سامنا کرتے  ہو۔”

24 تب یرمیاہ ان سبھی مردوں  اور عورتوں  سے  بات کی۔ یرمیاہ نے   ” مصر میں  رہنے  والے  یہوداہ کے  تم سبھی لوگو خداوند کا پیغام سنو۔

25 بنی اسرائیلیوں  کا خدا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : ‘ اے  لوگو! تم اور تمہاری بیویوں  نے  وہی کیا جو تم نے  کہا کہ کریں  گے۔ تم نے  کہا ” آسمان کی ملکہ کے  لئے  بخور جلانے  اور اس کے  لئے  مئے  کے  نذرانے  پیش کرنے  کے  وعدہ کو ہم پو را کریں  گے۔ ” اور تم نے  اپنے  ہاتھوں  سے  ایسا ہی کیا۔ اور تم اپنے  وعدہ کو پو را کرنا اور ان چیزوں  کا کرنا جاری رکھو۔

26 اس لئے  اے  تمام بنی یہوداہ جو ملک مصر میں  بستے  ہو! خداوند کا کلام سنو۔دیکھو! خداوند فرماتا ہے ! میں  نے  اپنے  نام کی عظمت میں  وعدہ کرتا ہوں  کہ اب اس کے  بعد مصر میں  رہ رہے  یہوداہ کے  لوگ اب نہیں  کہیں  گے   “خداوند کی حیات کی قسم۔”

27 ” میں  یہوداہ کے  ان لوگوں  پر نظر رکھ رہا ہوں  میں  ان لوگوں  پر نظر ان کی مدد کے  لئے  نہیں  رکھ رہا ہوں  بلکہ انہیں  تکلیف دینے  کے  لئے  نظر رکھ رہا ہوں۔ مصر میں  رہنے  والے  یہوداہ کے  لوگ یا تو تلوار یا پھر قحط سالی سے  مریں  گے۔ وہ اس وقت تک مرتے  چلے  جائیں  گے  جب تک کہ وہ ختم نہیں  ہوں  گے۔

28 ” یہوداہ کے  کچھ لوگ تلوار سے  مرنے  سے  بچ نکلیں  گے۔ وہ مصر سے  یہوداہ واپس لو ٹیں  گے۔ لیکن یہوداہ کے  بہت ہی کم لوگ بچ نکلیں  گے۔ تب یہوداہ کے  بچے  ہوئے  وہ لوگ جو مصر میں  مقیم رہیں  گے  یہ سمجھیں  گے  کہ کس کا پیغام سچ ہوتا ہے۔ وہ جانیں  گے  کہ میرا پیغام یا ان کا پیغام سچ نکلتا ہے۔

29 اے  لوگو! میں  تمہیں  اس کا نشان دوں  گا ‘ یہ دکھانے  کے  لئے  کہ میں  تمہیں  سچ مچ میں  سزا دوں  گا جیسا کہ میں  نے  کہا تھا۔خداوند فر ماتا ہے۔

30 خداوند یوں  فرماتا ہے  : ‘ دیکھو! میں  شاہِ مصر فرعون حفرع کو اس کے  مخالفوں  اور جانی دشمنوں  کے  حوالہ کر دوں  گا جس طرح میں  نے  شاہ یہوداہ صدقیاہ کو شاہ بابل نبو کد نضر کے  لہ کر دیا جو اس کا مخالف اور جانی دشمن تھا۔ ”

 

 

 

باب :  45

 

 

1 بادشاہ یہویقیم بن یو سیاہ کے  یہوداہ پر حکومت کے  چو تھے  برس میں  جب باروک بن نیریاہ نے  یرمیاہ کے  بولے  ہوئے  الفاظ کو طومار پر لکھا تو اس وقت یرمیاہ نے  اس سے  کہا :

2 ” خداوند اسرائیل کا خدا جو تم سے  کہتا ہے  وہ یہ ہے  :

3 ‘ اے  بار وک! تم نے  کہا ہے  : یہ میرے  لئے  بہت بُرا ہے  کہ خداوند نے  میرے  دُکھ درد پر غم بھی بڑھا دیا! میں  کراہتے  کراہتے  تھک گیا ہوں  اور مجھے  آرام نہ ملا۔

4 یرمیاہ نے  باروک سے  کہا “خداوند جو کہتا ہے  وہ یہ ہے  : ‘ جو میں  نے  لگا یا اکھاڑ پھینک رہا ہوں۔ جسے  میں  نے  بنایا ہے  اسے  میں  تباہ کر رہا ہوں۔میں  پو رے  یہوداہ میں  اسے  کروں  گا۔

5 اے  باروک! تم اپنے  لئے  کچھ بڑی بات ہونے  کی امید کر رہے  ہو۔ لیکن ان چیزوں  کی امید نہ کرو۔ان کی جانب نظر نہ رکھو کیونکہ میں  سبھی لوگوں  کے  لئے  بلا نازل کروں  گا۔ یہ باتیں  خداوند نے  کہیں۔ لیکن جہاں  کہیں  تم جاؤ تمہاری جان تمہارے  لئے  غنیمت ٹھہراؤں  گا۔”

 

 

 

باب :  46

 

 

1 خداوند کا کلام جو یرمیاہ نبی پر قوموں  کے  لئے  نازل ہوا۔

2 مصر کی بابت : شاہ مصر فرعون نکوہ کی فوج کی بابت جو دریائے  فرات کے  کنارے  پر کر کمیس میں  تھی جس کو شاہ بابل نبو کد نضر نے  شاہ یہو یقیم بن یو سیاہ کے  چو تھے  برس میں  شکست دی۔

3 ” اپنی ڈھا لوں  کو تیار رکھو اور جنگ کے  لئے  چلو۔

4 گھوڑوں  کو تیار کرو۔ اے  سوارو! اپنے  گھوڑوں  پر سوار ہو۔ جنگ کے  لئے  اپنی جگہ جاؤ۔ اپنا خود ( ٹوپ ) پہنو۔نیزوں  کو صیقل (چمکاؤ ) کرو۔ اپنے  بکتر پہنو۔

5 میں  یہ کیا دیکھتا ہوں ؟ فوج ڈر گئی ہے  سپاہی بھاگ رہے  ہیں۔ان کے  بہادروں  نے  شکست کھا ئی۔ وہ جلدی میں  بھاگ رہے  ہیں۔ وہ پیچھے  مُڑ کر نہیں  دیکھتے۔ چاروں  طرف خوف چھا یا ہوا ہے۔ ” خداوند نے  یہ باتیں  کہیں۔

6 ” نہ تیز دوڑنے  وا لا دوڑ پائے  گا اور نہ ہی بہادر بچ نکلے  گا۔ہ سبھی ٹھو کر کھائیں  گے  اور گریں  گے۔ یہ شمال میں  دریائے  فرات کے  کنارے  ہو گا۔

7 یہ کون ہے  جو دریائے  نیل کی مانند بڑھا چلا آتا ہے  جس کا پانی سیلاب کی مانند موجزن ہے۔

8 مصر نیل کی طرح اٹھتا ہے  اوراس کا پانی سیلا ب کی مانند موجزن ہے  اور وہ کہتا ہے  کہ میں  چڑھوں  گا اور زمین کو چھپا لوں  گا۔ میں  شہروں  کو اور ان کے  باشندوں  کو نیست و نابود کر دوں  گا۔

9 اے  سوارو! جنگ میں  ٹوٹ پڑو۔ رتھ دوڑ پڑیں  اور کوش اور لوط کے  بہادر جو سپر بردار ہیں  اور لود کے  لوگ جو تیر اندازی میں  ماہر ہیں  نکلیں۔

10 ” لیکن اس دن ہمارا مالک خداوند قادر مطلق فتح مند ہو گا۔ اس دن وہ ان لوگوں  کو سزا دے  گا جنہیں  سزا ملنی ہے۔ خداوند کے  دشمن وہ سزا پائیں  گے  جو انہیں  ملنی ہے۔ تلوار اس وقت تک کا ٹے  گی جب تک کہ وہ دشمنوں  کے  خون بہا کر پوری طرح سیر نہیں  ہو جا تی۔ یہ خداوند قادر مطلق کے  لئے  دریائے  فرات کے  کنارے  قربانی ہے۔

11 ” اے  کنواری دختر مصر! جلعاد کو چڑھ جاؤ اور کچھ دوائی لو۔ تم بے  فائدہ طرح طرح کی دوائیں  استعمال کر تی ہو تم شفا نہ پاؤ گی۔

12 قومیں  تمہاری رسوائی کو سنیں  گی۔تمہاری چیخ و پکار روئے  زمین پر سنی جائے  گی۔ ایک ‘ بہا در سپاہی پر ‘ دوسرے  ‘ بہادر سپاہی ‘ ٹوٹ پڑے  گا اور دونوں  ‘ بہادر سپاہی ‘ گر پڑیں  گے۔ ”

13 یہ وہ پیغام ہے  جسے  خداوند نے  یرمیاہ کو دیا۔ یہ پیغام اس وقت کے  با رے  میں  ہے  جب نبو کد نضر بابل کا بادشاہ مصر پر حملہ کرتا ہے۔

14 ” مصر میں  اس پیغامکا اعلان کرو۔اس کا اعلان مجدال شہر میں  کرو۔اس کا اعلان نوف اور تحف نحیس شہر میں  بھی کرو۔ ‘ جنگ کے  لئے  تیار ہو جاؤ کیونکہ تمہارے  چاروں  جانب لوگ تلواروں  سے  مارے  جا رہے  ہیں۔’

15 ” اے  مصر! تمہارے  بہادر سپاہی مارے  جائیں  گے۔ وہ جنگ میں  نہیں  ٹھہریں  گے  کیوں  کہ خداوند انہیں  نیچے  پھینک دے  گا۔

16 ان سپاہیوں  میں  بہت سارے  ٹھو کر کھائیں  گے  اور وہ ایک دوسرے  پر گریں  گے۔ وہ کہیں  گے  اٹھو! ہم پھر اپنے  لوگوں  میں  چلیں۔ہم اپنے  ملک چلیں  ہمارا دشمن ہمیں  شکست دے  رہا ہے۔ ہمیں  ضرور بھاگ نکلنا چاہئے۔

17 وہ سپاہی اپنے  ملک میں  کہیں  گے   ‘ مصر کا بادشاہ فرعون صرف ایک نام کی گونج ہے۔ اس نے  مقررہ وقت کو گذر جانے  دیا۔”

18 وہ بادشاہ جس کا نام خداوند قادر مطلق ہے  یوں  فرماتا ہے  : وہ اس طرح سے  آئے  گا جیسے  وہ تبور پہاڑ اور سمندر کے  کنارے  کرمل پہاڑ کے  جیسا ہے۔ میں  ان کے  لئے  قسم کھاتا ہوں۔

19 مصر کے  لوگو! اپنی چیزوں  کو باندھو! قید ہونے  کو تیار ہو جاؤ کیوں  کہ نوف ایک صرف بیکار شہر ہی نہیں  بلکہ ویران بھی ہے۔ شہر تباہ ہو جائے  گا اور کوئی بھی شخص ان میں  نہیں  رہے  گا۔

20 ” مصر ایک خوبصورت گائے  کی مانند ہے   لیکن شمال تباہی سے  تباہی آتی ہے  بلکہ آ پہنچی ہے۔

21 اس کے  مزدور سپاہی بھی اس کے  درمیان موٹے  بچھڑوں  کی مانند ہیں  وہ بھی روگردان ہوئے  وہ اکٹھے  بھا گے۔ وہ کھڑے  نہ رہ سکے۔ کیونکہ ان کی ہلاکت کا دن ان پر آ گیا۔ ان کی سزا کا وقت آ پہنچا۔

22 مصر ایک پھنکارتے  اس سانپ جیسا ہے  جو بچ نکلنا چاہتا ہے۔ دشمن قریب سے  قریب تر آتا جا رہا ہے  اور مصری فو ج بھاگنے  کی کو شش کر رہی ہے۔ دشمن مصر کو کلہاڑیوں  کے  ساتھ آئے  گا۔ اور وہ اسے  لکڑیوں  کی مانند کاٹ ڈالے  گا۔”

23 خداوند یوں  فرماتا ہے۔ ” دشمن مصر کے  جنگل کو کاٹ گرائیں  گے۔ اگر چہ وہ ایسا گھنا ہے  کہ کوئی اس میں  سے  گذر نہیں  سکتا۔ دشمن کے  سپاہی ٹڈی دل کی مانند بے  شمار ہیں۔ وہ اتنے  زیادہ ہیں۔ کہ انہیں  کوئی شمار نہیں  کر سکتا۔

24 مصر نادم ہو گا شمال کا دشمن اسے  شکست دے  گا۔”

25 اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” دیکھو میں  تبس کے  آمون کو مصر اور اس کے  خداؤں  اور اس کے  بادشاہوں  کو یعنی فرعون کو اور ان کو  جو اس پر بھروسہ رکھتے  ہیں  سزا دوں  گا۔

26 میں  ان سبھی لوگوں  کو ان دشمنوں  سے  شکست یاب ہونے  دوں  گا اور وہ دشمن انہیں  مار دینا چاہتے  ہیں۔میں  شاہ بابل نبو کد نضر اور اس کے  خادموں  کے  ہاتھ میں  ان لوگوں  کو دوں  گا۔” ” بہت پہلے  مصر سلامتی سے  رہا اور ان سب مصیبتوں  کے  وقت کے  بعد مصر سلامتی سے  رہے  گا۔ “خداوند نے  یہ باتیں  کہیں۔

27 ” لیکن اے  میرے  خادم یعقوب! ڈرو نہیں  اور اے  اسرائیل گھبرا نہ جاؤ۔کیونکہ دیکھو میں  تمہیں  اور تمہاری اولاد کو دور کے  ملکوں  کی قیدی سے  رہائی دوں  گا اور یعقوب واپس آئے  گا اور آرام و راحت سے  رہے  گا اور کوئی اسے  نہ ڈرائے  گا۔”

28 ” اے  میرے  خادم یعقوب ڈرو نہیں  خداوند فرماتا ہے۔ ” کیوں  کہ میں  تمہارے  ساتھ ہوں۔ میں  ان تمام قوموں  کا خاتمہ کر دوں  گا۔ جہاں  میں  نے  تمہیں  ہانک دیا تھا۔ میں  تمہیں  نیست و نابود نہ کروں  گا۔ لیکن میں  تمہیں  مناسب سزا دوں  گا ان بُرے  کاموں  کے  لئے  جسے  تو نے  کیا ہے  اور تمہیں  نہیں  چھوڑوں  گا۔”

 

 

 

باب :  47

 

 

1 یہ خداوند کا پیغام جو یرمیاہ کو ملا۔ یہ پیغام فلسطینی لوگوں  کے  بارے  میں  ہے۔ یہ پیغام جب فرعون نے  غزّہ شہر پر حملہ کیا تھا اس سے  پہلے  آیا۔

2 خداوند کہتا ہے  : ” دیکھو! دشمنوں  کے  سپاہی شمال میں  ایک سا تھ مل رہے  ہیں۔ وہ لوگ اپنے  کناروں  سے  اوپر بہتے  ہوئے  تیز ندی کی طرح آئیں  گے۔ وہ لوگ سارے  ملک کو سیلاب کی طرح ڈھانک لیں  گے۔ وہ شہروں  اور اس میں  رہنے  والے  ہر باشندوں  پر قابض ہو جائیں  گے۔ ملک کا ہر ایک رہنے  وا لا باشندہ مدد کے  لئے  چلائے  گا۔

3 ” وہ لوگ دوڑتے  ہوئے  گھوڑوں  کی آواز سنیں  گے۔ وہ رتھوں  کی تھر تھرا ہٹ اور پہیوں  کی گر گراہٹ کی آواز سنیں  گے۔ با پ اپنے  بچوں  کی حفاظت نہ کر پائیں  گے۔ اور وہ کمزوری کے  باعث مدد نہ کر سکیں  گے۔

4 ” سبھی فلسطینیوں  کو برباد کرنے  کا وقت آ چکا ہے۔ خداوند بہت جلد فلسطینیوں  کو برباد کر دے  گا۔ کفتور جزیرہ میں  بچے  لوگوں  کو برباد کر دے  گا۔

5 غزّہ کے  لوگ غمزدہ ہو کر اپنے  سروں  کو منڈھوا لیں  گے۔ اسقلون کے  لوگ خاموش ہو جائیں  گے۔ گھاٹی کے  زندہ بچے  لوگ کب تک اپنے  آپ کو چوٹ پہنچاتے  رہو گے۔

6 “خداوند کی تلوار رُ کی نہیں  تو کب لڑائی لڑتی رہے  گی؟ اپنے  میان میں  واپس جاؤ رکو خاموش ہو جا۔

7 لیکن خدا کی تلوار کیسے  رک سکتی ہے ؟ خداوند نے  اسے  حکم دیا ہے۔ خداوند نے  اسے  اسقلون شہر اور اس کے  سمندری ساحل پر حملہ کرنے  کا حکم دیا ہے۔ ”

 

 

 

باب :  48

 

 

1 یہ پیغام شہر موآب کے  بارے  میں  ہے۔ بنی اسرائیلیوں  کے  خدا نے  جو کہا ہے   وہ یہ ہے  : ” کو ہِ نبو کا بُرا ہو گا کو ہِ نبو فنا ہو گا۔

2 مو آب کی دوبارہ ستائش نہیں  ہو گی۔ شہر حسبون کے  لوگ موآب کی شکست کا منصوبہ بنائیں  گے۔ وہ کہیں  گے   ‘ آؤ ہم قوم کا خاتمہ کر دیں۔’ اے  مدمین! تم بھی خاموش کر دیئے  جاؤ گے۔ تلوار تمہارا پیچھا کرے  گی۔

3 شہر حورونائم سے  چیخ و پکار سنو وہ بہت پریشانی اور تباہی کی چیخ و پکار ہے۔

4 موآب فنا کیا جائے  گا۔اس کے  چھوٹے  بچے  مدد کے  لئے  ماتم کریں  گے۔

5 لو حیت کی راہ پر وہ لوگ پھو ٹ پھو ٹ کر رو رہے  ہیں۔ حورونایم کو جانے  وا لی سڑک پر سے  موت کی چیخ پکار سنی جا تی ہے۔

6 بھا گ چلو اپنی زندگی کے  لئے  بھاگو! اور بیابان میں  اُڑتے  ہوئے  چھوٹے  جھاڑی کی مانند ہو جاؤ۔

7 ” تم اپنی دو لت اور قلعوں  پر بھروسہ کرتے  ہو۔اس لئے  تم قیدی بنائے  جاؤ گے۔ خداوند کموس اپنے  کاہنوں  اور امراء سمیت قید کر لیا جائے  گا۔

8 غارتگر ہر ایک شہر کے  خلاف آئے  گا۔ کوئی شہر نہیں  بچے  گا۔ وادی بر باد ہو گی۔ اونچے  میدان فنا ہوں  گے۔ خداوند فرماتا ہے  یہ ہو گا۔ اس لئے  ایسا ہی ہو گا۔

9 موآب کے  کھیتوں  میں  نمک پھیلاؤ۔ شہر ویران بنے  گا موآب کے  شہر خالی ہوں  گے۔ ان میں  کوئی شخص بھی نہ رہے  گا۔

10 اگر انسان وہ نہیں  کرتا جسے  خداوند فرماتا ہے۔ اگر وہ اپنی تلوار کا استعمال ان لوگوں  کو مار نے  کے  لئے  نہیں  کرتا تو اس کا بُرا ہو گا۔

11 ” موآب بچپن ہی سے  آرام میں  رہا ہے  اور اس کی تلچھٹ تہ نشیں  رہی۔ اسے  نہ تو ایک برتن سے  دوسرے  میں  انڈیلا گیا اور نہ ہی قیدی بنایا گیا۔اس لئے  اس کا مزہ اس میں  قائم ہے  اور اس کی بو نہیں  بدلی۔”

12 خداوند یہ سب کہتا ہے   ” دیکھو وہ دن جلد آئے  گا میں  انڈیل نے  وا لوں  کو اس کے  پاس بھیجوں  گا کہ وہ اسے  الٹائیں  اور اس برتنوں  کو خالی اور مٹکوں  کو چکنا چور کریں۔”

13 تب موآب کے  لوگ اپنے  جھوٹے  خداوند کموس کے  لئے  شرمندہ ہوں  گے۔ بنی اسرائیلیوں  نے  بیت ایل میں  جھوٹے  خداوند پر یقین کیا تھا اور بنی اسرائیلیوں  کو اس وقت پشیمانی ہوئی تھی جب اس جھوٹے  خداوند نے  ان کی مدد نہیں  کی تھی۔ موآب ویسا ہی ہو گا۔

14 ” تم یہ نہیں  کہہ سکتے   ‘ ہم اچھے  سپاہی ہیں۔ ہم جنگ میں  بہادر سورما ہیں۔’

15 دشمن موآب پر حملہ کرے  گا دشمن ان شہروں  میں  آئے  گا اور انہیں  فنا کرے  گا۔ ان کے  کامل جوان لوگ قتل عام میں  مارے  جائیں  گے۔ ” یہ بادشاہ فرماتا ہے  جس کا نام خداوند قادر مطلق ہے۔

16 ” موآب کا خاتمہ قریب ہے۔ مو آب جلد ہی فنا کر دیا جائے  گا۔

17 موآب کے  چاروں  جانب رہنے  والے  لوگو! تم سبھی اس ملک کے  لئے  افسوس کرو۔ اور تم میں  سے  وہ سب جو اس کے  نام سے  واقف ہو کہو ‘ موآب ایک مضبوط عصائے  شاہی ایک پُر جلال ڈنڈا تھا۔ لیکن یہ کیوں  ٹوٹ گیا ہے ! ‘

18 “دیبُون میں  رہنے  والے  لوگو! اپنی شو کت کے  مقام سے  با ہر نکلو۔ گرد آلود زمین پر بیٹھو۔ کیوں  کہ مو آب کا غار تگر تمہارے  قلعوں  کو فنا کرنے  آ رہا ہے۔

19 ” عرو عیر میں  رہنے  والے  لوگو! سڑک کے  سہا رے  کھڑے  ہو جاؤ اور دیکھو۔آدمی  کو بھاگتے  دیکھو عورت کو بھاگتے  دیکھو۔ ان سے  پو چھو کیا ہوا ہے ؟

20 ” موآب رسوا ہوا کیوں  کہ اسے  تباہ کر دیا گیا۔ تم ارنون میں  اعلان کرو کہ مو آب غارت ہو گیا۔

21 میدان حولون یہصاہ اور مفعت کو سزا دی گئی ہے۔

22 دیبون نبو اور بیت دبلتا ئم

23 قریتائم بیت جمول اور بیت معون

24 قریوت بصرہ اور موآب کے  قریب اور دور کے  سبھی شہروں  کے  ساتھ انصاف ہو چکا۔

25 موآب کی قوت کاٹ دی گئی موآب کا سینگ کاٹا گیا۔” خداوند نے  یہ سب کہا۔

26 ” موآب نے سمجھا تھا کہ وہ خداوند سے  بھی زیادہ اہم ہے۔ اس لئے  موآب کو پلا یا جانا چاہئے۔ موآب گرے  گا اور اپنی ہی قئے  میں  لوٹے  گا لوگ موآب کا مذاق ا ڑائیں  گے۔

27 ” موآب! کیا تم نے  اسرائیل کا مذاق نہیں  اُڑا یا؟ کیا اسرائیل ڈاکوؤں  کے  گروہ کے  ساتھ پکڑا نہیں  گیا تھا؟ ہر بار تم اسرائیل کے  با رے  میں  کہتے  تھے۔ اور تم اپنا سر ایسا مظاہرہ کرتے  ہوئے  ہلاتے  تھے  جیسے  تم اسرائیل سے  بہتر ہو۔

28 موآب کے  لوگو! اپنے  شہروں  کو چھوڑ و۔ جاؤ اور پہاڑوں  پر رہو اس کبوتر کی مانند بنو جو گہرے  غار کے  منہ کے  کنارے  پر آشیانہ بناتا ہے۔ ”

29 “ہم نے  موآب کے  تکبر کے  با رے  میں  سنا ہے   وہ بہت مغرور تھا۔ اس نے  سمجھا تھا کہ وہ نہایت بڑا ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے  منہ میاں  مٹھو بنتا رہا۔ وہ نہایت ہی گھمنڈی تھا۔ ”

30 خداوند فرماتا ہے   “میں  جانتا ہوں  کہ موآب ہر وقت شیخی بگھارتا ہے۔ اور اپنی ستائش کا گیت گاتا ہے۔ لیکن اس کی شیخی جھوٹی ہے۔ وہ جو کرنے  کو کہتا ہے  نہیں  کر سکتا۔

31 اس لئے  موآب کے  لئے  روتا ہوں۔ میں  موآب میں  ہر ایک کے  لئے  روتا ہوں  میں  قیر حرس کے  لئے  روتا ہوں۔

32 سبماہ کی تاک میں  یعزیر کے  رو سے  سے  زیادہ تمہارے  لئے  روؤں  گا۔ تمہاری شاخیں  سمندر تک پھیل گئیں۔ وہ یعزیر کے  راستے  تک پہنچ گئیں  غارتگر تمہارے  خشک میوؤں  پر اور تمہارے  انگوروں  پر آ پڑا ہے۔

33 موآب کے  عظیم خوشی اور شادمانی اٹھا لی گئی اور میں  نے  انگور کے  حوض میں  مئے  باقی نہیں  چھوڑی۔ اب مئے  بنانے  کے  لئے  انگوروں  پر چلنے  وا لو کے  رقص گیت نہیں  رہ گئے  ہیں۔ خوشی کا شور و غل بھی ختم ہو گیا ہے۔

34 ” حسبون کے  رونے  سے  وہ اپنی آواز کو الیعالہ اور یہض تک اورضغر سے  حورونایم تک۔ اور یہاں  تک عجلت شلیشیاہ تک بلند کرتے  ہیں۔ کیوں  کہ نمر ئم کے  چشمے  بھی خراب ہو گئے  ہیں۔

35 میں  مو آب کے  اونچے  مقاموں  پر قربانی چڑھانے  سے  روک دوں  گا۔ میں  انہیں  اپنے  خداؤں  کے  آگے  بخور جلانے  پر روکوں  گا۔” خداوند نے  یہ سب کہا۔

36 “مجھے  موآب کے  لئے  بہت افسوس ہے۔ غمزدہ نغمہ چھیڑنے  وا لی بانسری کے  ساز کی طرح میرا دل افسوس محسوس کر رہا ہے۔ اور قیر حرس کے  لوگوں  کے  لئے  میں  بانسری کی طرح ماتم کرتا ہوں  کیوں  کہ اس کا وسیع ذخیرہ تباہ ہو گیا۔

37 ہر ایک اپنا سر منڈاتے  ہیں۔ ہر ایک کی داڑھی صاف ہو گئی ہے  ہر ایک کے  ہاتھ کٹے  ہوئے  ہیں  اور ان سے  خون نکل رہا ہے۔ اور ہر ایک کی کمر پر ٹاٹ ہے۔

38 موآب میں  لوگ ہر جگہ ہر ایک چھتوں  پر اور ہر ایک چورا ہوں  پر موت کے  لئے  ماتم کرتے  ہیں۔غم کا ماحول ہے  کیوں  کہ میں  نے  موآب کو خالی برتن کی طرح توڑ دیا۔ ” خداوند فرماتا ہے۔

39 ” موآب بکھر گیا ہے۔ لوگ رو رہے  ہیں۔ مو آب نے خود سپردگی کی ہے۔ اب موآب شرمندہ ہے۔ لوگ موآب کا مذاق اڑاتے  ہیں۔ لیکن جو کچھ ہوا ہے  وہ انہیں  خوفزدہ کر دیتا ہے۔ ”

40 خداوند فرماتا ہے   دیکھو! ” ایک عقاب آسمان کے  نیچے  کو ٹوٹ پڑ رہا ہے۔ یہ اپنے  پروں  کو موآب پر پھیلا رہا ہے۔

41 موآب کے  شہروں  پر قبضہ ہو گا۔ چھپنے  کی پناہ گا ہوں  پر بھی قبضہ ہو گا۔اس وقت موآب کے  بہادروں  کے  دل بچہ پیدا کر رہی عورت کی طرح کانپیں  گے۔ ”

42 اور موآب ہلاک کیا جائے  گا اور قوم نہ کہلائے  گا۔ کیوں ؟ کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ وہ خداوند سے  بھی زیادہ اہم ہے۔

43 ” خداوند یہ فرماتا ہے  : ” اے  موآب کے  لوگو خوف گڑھا اور دام تمہارا انتظار کر رہا ہے۔

44 لوگ ڈریں  گے  اور بھا گ کھڑے  ہوں  گے  اور وہ گہرے  گڑھو میں  گریں  گے۔ اگر کوئی گہرے  گڑھے  سے  نکلے  گا تو دام میں  پھنسے  گا۔میں  موآب پر سزا کا سال لاؤں  گا۔” خداوند نے  یہ سب کہا۔

45 ” جو بھاگے  وہ حسبون کے  سایہ تلے  بیتاب کھڑے  ہیں۔ پر حسبون سے  آ گ اور سیمون کے  وسط سے  ایک شعلہ نکلا اور موآب کے  پیشانی اور فساد برپا کرنے  والے  لوگوں  کی کھوپڑی کو جلا دیا۔

46 موآب یہ تمہارے  لئے  بہت بُرا ہو گا۔ کموس کے  لوگ فنا کئے  جا رہے  ہیں۔ تمہارے  بیٹے  اور بیٹیاں  قیدیوں  کی طرح لے  جائی جا رہی ہیں۔

47 ” موآب کے  لوگ قیدی کی طرح دور پہنچائے  جائیں  گے۔ لیکن میں  آنے  والے  دنوں  میں  میں  موآب کے  لوگوں  کو واپس لاؤں  گا۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ یہ موآب کی سزا کے  با رے  میں  نبوت کو ختم کرتا ہے۔

 

 

 

باب :  49

 

 

1 بنی عمّون کی متعلق خداوند یوں  فرماتا ہے  : ” کیا اسرائیل کے  بیٹے  نہیں  ہیں۔ کیا اس کا کوئی وارث نہیں۔ پھر ملکوم نے  کیوں  جاد پر قبضہ کر لیا اور اس کے  لوگ اس کے  شہروں  میں  کیوں  بستے  ہیں ؟ ”

2 خداوند فرماتا ہے   “اس لئے  دیکھو وہ دن دور نہیں  ہے  جب میں  ربّہ عمونی کے  شہر کے  خلاف جنگ کی آواز لگاؤں  گا اور یہ تباہ ہو جائے  گا اور اس کی چاروں  طرف کے  گاؤں  آگ میں  جل جائیں  گے۔ تب اسرائیل ان کی زمین لے  لے  گا جو ان کے  لئے  تھی۔” خداوند نے  یہ کہا۔

3 ” اے  حسبون کے  لوگو! غم سے  چیخو پکار و کیوں  کہ عئی شہر تباہ ہو گیا۔ تم عمونی شہر ربّہ کے  بیٹیو روؤ! ٹاٹ پہن کر ماتم کرو۔اور اپنے  آ پ کو کوڑا مارو! کیونکہ دشمن ملکوم خداوند اور اس کے  کاہن کولے  لیں  گے  اور جلا وطن ہو جائیں  گے۔

4 تم اپنی قوت کی ڈینگ مارتے  ہو لیکن اپنی طاقت کھو رہے  ہو۔ تمہیں  یقین ہے  کہ تمہاری دو لت تمہیں  بچائے  گی۔ تم سمجھتے  ہو کہ تم پر کوئی حملہ کرنے  کی سو چ بھی نہیں  سکتا۔”

5 لیکن خداوند قادر مطلق خدا یہ کہتا ہے  : ” میں  ہر جانب سے  تم پر مصیبت ڈھاؤں  گا۔ تم سب بھاگ کھڑے  ہو گے  لیکن پھر کوئی بھی تمہیں  ایک ساتھ لانے  کے  قابل نہ ہو گا۔”

6 “بنی عمون قیدی بنا کر دور پہنچائے  جائیں  گے۔ لیکن وقت آئے  گا جب میں  بنی عمون کو وا پس لاؤں  گا۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

7 یہ پیغام ادوم کے  با رے  میں  ہے  : “خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  کیا تیمان میں  دانشمندی نہ رہی؟ کیا ادوم کے  دانشمند لوگ اچھی صلاح دینے  کے  قابل نہیں  رہے ؟ کیا وہ اپنی دانشمندی کو کھو چکے  ہیں ؟

8 اے  ددان بکے  باشندو بھا گو! کیوں ؟ کیونکہ عیساؤ کو اس کے  کاموں  کے  لئے  سزا دوں  گا۔

9 ” اگر انگور توڑنے  والے  آتے  ہیں۔ اور تاکستانوں  سے  انگور توڑتے  ہیں  تو بیلوں  پر کچھ انگور چھوڑ ہی دیتے  ہیں۔ اگر چہ رات کو آتے  ہیں  تو وہ اتنا ہی لے  جاتے  ہیں  جتنا انہیں  چاہئے  سب نہیں۔

10 لیکن میں  عیساؤ سے  ہر چیز لے  لوں  گا۔ میں  اس کے  سبھی چھپنے  کے  مقام ڈھونڈ نکالوں  گا۔ وہ مجھ سے  چھپ کر نہیں  رہ سکے  گا۔ اس کے  بچے  رشتہ دار اور پڑوسی مریں  گے۔

11 تم اپنے  یتیم فرزندوں  کو چھوڑو میں  ان کو زندہ رکھوں  گا اور تمہاری بیوائیں  مجھ پر توکل کریں ! ”

12 خداوند فرماتا ہے   “دیکھو! جو تشدد میں  مبتلا ہونے  کے  مستحق نہ تھے  وہ بہت زیادہ مبتلا ہوں  گے۔ لیکن ادوم کیا تم بغیر سزا کے  جا سکتے  ہو۔؟ یقیناً تمہیں  سزا دی جائے  گی۔”

13 خداوند فرماتا ہے   ” میں  اپنی قوت سے  یہ قسم کھاتا ہوں  میں  قسم کھاتا ہوں  کہ بصرہ شہر کو فنا کر دیا جائے  گا۔ وہ شہر بر باد چٹانوں  کا ڈھیر ہو گا۔ جب لوگ دوسرے  شہروں  کو بد دعا دینا چا ہیں  گے  تو وہ اس شہر کو مثال کے  طور پر یاد کریں  گے۔ لوگ اس شہر کی توہین کریں  گے  اور بصرہ کے  چاروں  جانب کے  شہر ہمیشہ کے  لئے  برباد ہو جائیں  گے۔ ”

14 میں  نے  ایک پیغام خداوند سے  سنا : خداوند نے  قوموں  کو پیغام بھیجا۔ پیغام یہ ہے  : ” اپنی فوجوں  کو ایک ساتھ اکٹھا کرو۔ جنگ کے  لئے  تیار ہو جاؤ ادوم قوم کے  خلاف کوچ کرو۔

15 ” اے  ادوم میں  تمہیں  سب قوموں  میں  سب سے  زیادہ بے  سہارا کر دوں  گا۔ ہر ایک شخص تم سے  نفرت کرے  گا۔

16 تمہاری خوفناک طاقت اور تمہارے  دل کے  غرور تمہیں  فریب دیں  گی۔ اے  تم جو چٹانوں  کی شگافوں  میں  رہتی ہو اور پہاڑوں  کی چوٹیوں  پر قابض ہو اگر چہ تم عقاب کی طرح اپنا آشیانہ بلندی پر بناؤ تو بھی میں  وہاں  سے  تمہیں  نیچے  اتاروں  گا۔” خداوند یہ فرماتا ہے۔

17 ” ادوم فنا کیا جائے  گا۔ لوگوں  کو برباد شہروں  کو دیکھ کر دکھ ہو گا۔ لوگ برباد شہروں  پر حیرت سے  سیٹی بجائیں  گے۔

18 ادوم سدوم عمورہ اور قریب کے  گاؤں  کے  جیسا بر باد کیا جائے  گا۔ کوئی شخص وہاں  نہیں  رہے  گا۔” یہ سب خداوند نے  کہا۔

19 ” میں  ادوم کو یردن دریا کے  جنگل سے  چرا گاہ کی طرف آتے  ہوئے  شیر کی مانند ہانک دوں  گا۔ اور میں  اپنے  چنے  ہوئے  شخص کو ادوم پر حکومت کرنے  کے  لئے  بحال کروں  گا۔ کون میری طرح ہے ؟ میرے  لئے  وقت کون مقرر کر سکتا ہے ؟ وہ چرواہا کون ہے  جو میری مخالفت کر سکتا ہے ؟ کون ہے  جو میرے  لئے  وقت مقرر کرے ؟ اور وہ چرواہا کون ہے  جو میرے  مقابل کھڑا ہو سکے۔ ”

20 پس خدا کی مصلحت جو اس نے  ادوم کے  خلاف ٹھہرائی ہے  اور اس کے  ارادہ کو جو اس نے  تیمان کے  باشندوں  کے  خلاف کیا ہے  سنو۔ ان کے  ریوڑ کے  سب سے  چھوٹے  بچوں  کو بھی گھسیٹ لئے  جائیں  گے۔ یقیناً ان کا مسکن بھی ان کے  ساتھ بر باد ہو گا۔

21 ادوم کے  گرنے  کے  دھماکے  سے  زمین کانپ اٹھے  گی۔ ان کے  چلاّنے  کا شور بحر قلزم تک سنائی دے  گا۔

22 خداوند اس عقاب کی طرح جھپٹے  گا جو اپنے  شکار پر جھپٹتا ہے۔ خداوند بصرہ شہر پر اپنا بازو عقاب کی مانند پھیلائے  گا۔ اس وقت ادوم کے  سپاہی دہشت زدہ ہوں  گے۔ وہ خوف سے  بچہ پیدا کر رہی عورت کی مانند چلاّئیں  گے۔

23 یہ پیغام دمشق شہر کے  بارے  میں  ہے  : ” حمات اور ارفاد گھبرا یا ہوا ہے۔ وہ خوفزدہ ہیں  کیوں  کہ انہوں  نے  بھیانک خبر سنی ہے۔ وہ حوصلہ کھو چکے  ہیں۔ وہ پریشان اور دہشت زدہ ہیں۔

24 شہر دمشق کمزور ہو گیا ہے۔ لوگ بھاگ جانا چاہتے  ہیں  اور تھر تھراہٹ نے  انہیں  آ لیا ہے۔ درد زہ میں  مبتلا عورت کی مانند رنج و غم نے  انہیں  آ پکڑ لیا ہے۔

25 ” دمشق مشہور اور خوشحال شہر تھا لیکن لوگوں  نے  اسے  ویران کر دیا۔

26 اس لئے  جوان اس شہر کے  بازاروں  میں  مریں  گے۔ اس وقت اس کے  سبھی سپاہی مار ڈالے  جائیں  گے۔ خداوند قادر مطلق نے  یہ سب کچھ کہا ہے۔

27 ” میں  دمشق کی دیواروں  میں  آگ لگا دوں  گا آگ بن ہدد کے  قلعوں  کو راکھ کر دے  گی۔”

28 قیدار کی بابت اور حصور کی سلطنتوں  کی بابت جن کو شاہ بابل نبو کد نضر نے  شکست دی۔ خداوند یوں  فرماتا ہے  ‘ ” اٹھو قیدار پر چڑھائی کرو اور اہل مشرق کو ہلاک کرو۔

29 ان کے  خیمہ اور گلّہ لے  لئے  جائیں  گے۔ ان کے  خیمہ اور سبھی چیزیں  لے  جائی جائیں  گی۔ ان کا شدمن اونٹوں  کولے  لے  گا۔ لوگ ان کے  سامنے  چلائیں  گے  : ‘ ہمارے  چاروں  طرف بھیانک باتیں  ہوں  گی۔’

30 جلد ہی بھاگ نکلو! اے  حصور کے  لوگو! چھپنے  کا ٹھیک مقام ڈھونڈو۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔ ” نبو کد نضر نے  تمہارے  خلاف منصوبہ بنایا ہے۔ اس نے  تمہیں  شکست دینے  کا با وقار منصوبہ بنایا ہے۔

31 ” ایک قوم ہے  جو بہت خوشحال ہے  اس قوم کو یقین ہے  کہ اسے  کوئی نہیں  ہرائے  گا۔ اس کا نہ پھاٹک ہے  اور نہ ہی سلاخیں  ہیں  وہ اکیلا ہے  ‘ اس لئے  اس پر چڑھائی کر! ‘ خداوند یہ کہتا ہے۔

32 اور ان کے  اونٹ کو لڑائی میں  لے  لیا جائے  گا اور ان کے  چوپایوں  کو لوٹ لیا جائے  گا اور میں  ان لوگوں  کو جو اپنا سر منڈھو الئے  ہیں  کچل دوں  گا۔ اور میں  ان پر ہر طرف سے  آفت لاؤں  گا۔” خداوند یہ کہتا ہے۔

33 ” حصور کا ملک جنگلی کتوں  کا مقام بنے  گا۔ یہ ہمیشہ کے  لئے  بیابان بنے  گا۔ کوئی شخص وہاں  نہیں  رہے  گا۔ کوئی شخص اس مقام پر نہیں  رہے  گا۔”

34 جب صدقیاہ یہوداہ کا بادشاہ تھا تب اس کے  دور حکومت کے  آغاز میں  یرمیاہ نبی نے  خداوند کا ایک پیغام حاصل کیا یہ پیغام عیلام قوم کے  بارے  میں  ہے۔

35 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” میں  عیلام کی کمان بہت جلد توڑوں  گا۔ کمان عیلام کا سب سے  زیادہ طاقتور ہتھیار ہے۔

36 میں  عیلام کے  خلاف چاروں  ہواؤں  کو لاؤں  گا۔ میں  اسے  آسمان کے  چاروں  کونوں  سے  لاؤں  گا۔ میں  عیلام کے  لوگوں  کو ان ہواؤں  کی طاقت سے  بکھیر دوں  گا۔ عیلام کی قیدی ہر قوم میں  پناہ تلاش کریں  گے۔

37 کیوں  کہ میں  عیلام کو ان کے  مخالفوں  اور جانی دشمنوں  کے  آگے  ہراساں  کروں  گا اور اس پر ایک بلا یعنی قہر شدید کو نازل کروں  گا۔” اور خداوند فرماتا ہے  تلوار کو ان کے  پیچھے  لگا دوں  گا۔ یہاں  تک کہ ان کو  نیست و نابود کر ڈالوں  گا۔

38 میں  عیلام کو دکھاؤں  گا کہ میں  قابض ہوں  اور میں  اس کے  بادشاہوں  اور امراء کو فنا کر دوں  گا۔ یہ پیغام خداوند کا ہے۔

39 ” لیکن آخری دنوں  میں  میں  عیلام کے  لئے  سب کچھ اچھا ہونے  دوں  گا۔” یہ پیغام خداوند کا ہے۔

 

 

 

باب :  50

 

 

1 وہ کلام جو خداوند نے  بابل اور بابل کے  لوگوں  کے  بارے  میں  یرمیاہ نبی کی معرفت فرمایا :

2 ” قوموں  میں  اعلان کرو۔ اعلان کرو جھنڈا اٹھاؤ اور پیغام سناؤ۔ پوشیدہ نہ رکھو بلکہ کہو ‘ بابل قبضہ کر لیا جائے  گا۔ جھوٹا خداوند بعل رسوا ہو گا اور جھوٹا خداوند مردوک بہت خوفزدہ ہو گا۔ بابل کی مورتیاں  رسوا ہوں  گی۔’

3 شمال سے  ایک قوم بابل پر حملہ کرے  گی۔ وہ قوم بابل کو تباہ کر دے  گی۔ کوئی شخص وہاں  نہیں  رہے  گا۔ انسان اور جانور دونوں  وہاں  سے  بھاگ جائیں  گے۔ ”

4 خداوند فرماتا ہے   ” اس وقت اسرائیل کے  اور یہوداہ کے  لوگ ایک ساتھ ہوں  گے۔ وہ ایک ساتھ برابر روتے  رہیں  گے  اور ایک ساتھ ہی وہ اپنے  خداوند خدا کو ڈھونڈتے  جائیں  گے

5 وہ لوگ وہاں  جانے  کا فیصلہ کریں  گے۔ لوگ کہیں  گے   ‘ آؤ ہم خداوند سے  جا ملیں  ہم ایک ایسا معاہدہ کریں  جسے  ہم کبھی نہ بھو لیں۔’

6 ” میرے  لوگ بھٹکی ہوئی بھیڑوں  کی مانند ہیں۔ ان کے  چرواہوں  نے  ان کو  گمراہ کر دیا۔ انہوں  نے  ان کو  پہاڑوں  پرلے  جا کر چھوڑ دیا۔ وہ پہاڑوں  سے  ٹیلوں  پر گئے  اور اپنے  آرام کا مکان بھول گئے  ہیں۔

7 جس نے  بھی میرے  لوگوں  کو پایا چوٹ پہنچائی اور ان دشمنوں  نے  کہا ” ہم نے  کچھ غلط نہیں  کیا۔’ کیوں  کہ اسرائیلیوں  نے  خداوند کے  خلاف گناہ کیا۔ خداوند ان لوگوں  کے  لئے  حقیقی چرواہا ہے۔ اور ان لوگوں  کے  باپ دادا کے  لئے  امید ہے۔

8 ‘ ‘ بابل سے  بھاگ نکلو۔ بابل کے  لوگوں  کے  ملک کو چھوڑ دو۔ ان بکروں  کی طرح بنو جو جھنڈ کو راہ دکھاتے  ہیں۔

9 میں  شمال سے  بہت سی قوموں  کو اکٹھا کروں  گا۔ ان قوموں  کا یہ گروہ بابل کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  تیار ہو جائے  گا۔ شمال کے  ان لوگوں  کی معرفت بابل کو قبضہ کر لیا جائے  گا۔ وہ قوم بابل پر بہت تیر چھوڑیں  گے  اور وہ تیر ان فوجوں  کی مانند ہوں  گے  جو جنگ سے  خالی ہاتھ واپس نہیں  آتے  ہیں۔

10 دشمن بابل کے  لوگوں  سے  ساری دولت لے  لے  گا۔ دشمن کے  سپاہی جو کچھ بھی جمع کریں  گے  اس سے  وہ مطمئن ہوں  گے۔ ” خداوند فرماتا ہے  :

11 ” اے  میری میراث کو لوٹنے  والو! تم شادماں  اور خوش ہو اور بچھڑوں  کی مانند کودتے  پھاندتے  یا طاقتور گھوڑوں  کی مانند ہنہناتے  ہو۔

12 ” اب تمہاری ماں  بہت شرمندہ ہو گی۔ تمہیں  جنم دینے  والی ماں  کو شرمندگی ہو گی۔ دیکھو وہ قوموں  میں  سب سے  آخری ٹھہرے  گی اور بیابان و خشک زمین ریگستان ہو گی۔

13 خداوند اپنا قہر ظاہر کرے  گا۔ اس لئے  کوئی شخص وہاں  رہنے  کے  قابل نہ ہو گا۔” بابل شہر پوری طرح خالی ہو گا۔ بابل سے  گزرنے  والا ہر ایک شخص ڈرے  گا اور اس کی سب آفتوں  کے  باعث سسکا رے  گا۔

14 ” بابل کے  خلاف جنگ کی تیاری کرو سبھی سپاہی اپنے  کمان سے  بابل پر تیر بر ساؤ۔ اپنے  تیروں  کو نہ بچاؤ بابل نے  خداوند کے  خلاف گناہ کیا ہے۔

15 اسے  گھیر کر تم اس پر للکارو۔اس نے  اطاعت منظور کر لی۔اس کی بنیادیں  دھنس گئیں۔اس کی دیواریں  گر گئیں۔ کیونکہ یہ خداوند کا انتظام ہے۔ اس سے  انتقام لو۔ کیوں  کہ اسے  کیا گیا ہے۔

16 بابل کے  لوگوں  کو ان کی فصلیں  نہ اگانے  دو۔ انہیں  فصلیں  نہ کا ٹنے  دو بابل کے  سپاہیوں  نے  اپنے  شہر میں  کئی قیدی لائے  تھے  اب دشمن کے  سپاہی آ گئے  ہیں  اس لئے  وہ قیدی اپنے  گھر لوٹ رہے  ہیں۔ وہ قیدی اپنے  ملکوں  کو واپس بھاگ رہے  ہیں۔

17 “اسرائیل بھیڑ کی طرح ہے  جسے  شیروں  نے  پیچھا کر کے  بھگا دیا ہے۔ اسے  کھانے  وا لا پہلا شیر اسور کا بادشاہ شاہِ بابل نبو کد نضر تھا۔”

18 اس لئے  اسرائیل کا خدا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : ” میں  جلدی ہی شاہ بابل اور اس کے  ملک کو سزا دوں  گا۔میں  اس کو اسی طرح سزا دوں  گا جس طرح میں  نے  شاہ اسور کو سزا دی تھی۔

19 لیکن اسرائیل کو میں ا سے  کے  کھیتوں  میں  وا پس لاؤں  گا۔ وہ کرمل اور بسن پہاڑی کے  کھیتوں  میں  چریں  گے۔ اور اسرائیل افرا ئیم اور جلعاد کے  پہاڑی میں  کھا کر آسو دہ ہو جائیں  گے۔ ”

20 خداوند فرماتا ہے   “اس وقت لوگ اسرائیل کے  قصور کو جاننا چا ہیں  گے۔ لیکن کوئی قصور نہیں  ہو گا۔ لوگ یہوداہ کے  گنا ہوں  کو جاننا چا ہیں  گے  لیکن کوئی گناہ نہیں  ملے  گا۔کیوں ؟ کیونکہ میں  اسرائیل اور یہوداہ کے  کچھ باقی بچے  ہوئے  کو بچا رہا ہوں  اور میں  ان کے  سبھی گنا ہوں  کومعاف کر رہا ہوں۔”

21 خداوند فرماتا ہے   “مراتائم کی سرزمین پر حملہ کرو۔ فقود کے  ملک کے  باشندوں  پر حملہ کرو انہیں  مار ڈالو اور انہیں  پوری طرح فنا کر دو۔ وہ سب کرو جس کے  لئے  میں  حکم دے  رہا ہوں۔

22 ” جنگ کی آواز سارے  ملک میں  سنی جا سکتی ہے۔ یہ بہت زیادہ تباہی کا شور ہے۔

23 بابل ” پوری دنیا کا ہتھوڑا ” تھا۔ لیکن اب ہتھوڑا ٹوٹ گیا اور بکھر گیا ہے۔ بابل قوموں  میں  سب سے  زیادہ تباہ کن ہے۔

24 اے  بابل! تم نے  اپنے  لئے  پھندا ڈالا اور اسی میں  پھنس گئے۔ پھر بھی تم نہیں  جانتے  تھے  کہ تم پر کیا کچھ ہو رہا ہے۔ تم خداوند کے  خلاف لڑے  اس لئے  تم مل گئے  اور پکڑے  گئے۔

25 خداوند نے  اپنا اسلحہ خانہ کھول دیا ہے۔ خداوند نے  اسلحہ خانہ سے  اپنے  قہر کا ہتھیار نکالا ہے۔ کیونکہ کسدیوں  کی سر زمین میں  خداوند خدا قادر مطلق کو کچھ کرنا ہے۔

26 ” بہت دور سے  بابل کے  خلاف آؤ اور اس کے  انبار خانوں  کو کھو لو۔ بابل کو پوری طرح فنا کرو اور کسی کو زندہ نہ چھوڑو۔اس کی کوئی چیز باقی نہ چھوڑ۔

27 بابل کے  سبھی بیلوں  ( جوانوں  ) کو مار ڈالو۔ ان کو ذبح ہونے  دو۔ ان کی بدقسمتی ہے  کہ ان کا دن آ گیا ان کی سزا کا وقت آ پہنچا۔

28 لوگ اپنے  آپ  کو بچانے  کے  لئے  شہر بابل بھاگ رہے  ہیں۔ وہ لوگ صیون کو جا رہے  ہیں۔ وہ لوگ سبھی سے  کہہ رہے  ہیں  کہ خداوند ہم لوگوں  کا خدا بابل کے  لوگوں  سے  جو کچھ ان لوگوں  نے  اس کے  گھر کے  لئے  کیا تھا۔اس کے  لئے  انتقام لے  رہا ہے۔

29 ” تیر اندازوں  کو بلا کر اکٹھا کرو کہ بابل کو چلیں۔تمام کمانڈروں  کو ہر طرف سے  اس کے  مقابل خیمہ زن کرو۔ بابل کے  لوگوں  کو اس کے  کام کے  موافق سزا دو۔ کیوں  کہ اس نے  غرور میں  خداوند اسرائیل کے  مقدس کی مخالفت کیا ہے۔

30 بابل کے  جوان سڑکوں  پر مارے  جائیں  گے۔ اس دن کے  سبھی سپاہی مر جائیں  گے۔ خداوند فرماتا ہے۔

31 ” اے  بابل! تم بہت مغرور ہو اور میں  تمہارے  خلاف ہوں۔” ہمارا آقا خداوند قادر مطلق یہ سب کہتا ہے۔ “میں  تمہارے  خلاف ہوں  اور تمہارے  سزا وار ہونے  کا وقت آ گیا ہے۔

32 گھمنڈی بابل ٹھو کر کھائے  گا اور گرے  گا اور کوئی شخص اسے  اٹھانے  میں  مدد نہیں  کرے  گا۔ میں  اس کے  سبھی شہروں  میں  آگ لگاؤں  گا وہ آگ اس کی چاروں  جانب سے  بھڑ کے  گی اور سب کچھ را کھ کر دے  گی۔”

33 خداوند قادر مطلق فرماتا ہے  : ” بنی اسرائیل اور بنی یہوداہ دونوں  مظلوم ہیں  دشمن انہیں  لے  گیا۔ اور دشمن اسرائیل کو نکل جانے  نہیں  دے  گا۔

34 لیکن خدا ان لوگوں  کو وا پس لائے  گا اس کا نام خداوند قادر مطلق خدا ہے۔ وہ ان لوگوں  کے  بغل میں  رہے  گا۔ وہ ان کی حفاظت کرے  گا جس سے  وہ زمین کو راحت بخش سکے۔ لیکن وہ بابل کے  باشندوں  کو راحت نہیں  دے  گا۔”

35 خداوند فرماتا ہے  : ” بابل کے  باشندوں  کو تلوار سے  ہلاک ہونے  دو۔اس کے  امراء اور حکما کو بھی تلوار سے  مار دیئے  جانے  دو۔

36 بابل کے  کاہنوں  کو تلوار سے  ہلاک ہونے  دو وہ کاہن بے  وقوف لوگوں  کی طرح ہوں  گے۔ بابل کے  سپاہیوں  کو تلوار سے  مرنے  دوتا کہ وہ تباہ ہو جائیں۔

37 بابل کے  گھوڑوں  اور رتھوں  کو تباہ ہو جانے  دو۔ دیگر ملکوں  کے  کرائے  کے  سپاہیوں  کو تلوار سے  مار دیئے  جانے  دو۔ ان سپاہیوں  کو دہشت زدہ عورت کی مانند ہونے  دو۔ بابل کے  خزانے  کے  خلاف تلوار اٹھنے  دو۔ وہ خزانے  لے  لئے  جائیں  گے۔

38 بابل کی ندیوں  کو سو کھ جانے  دو۔ بابل میں  بے  شمار تراشی ہوئی مورتیاں  ظاہر کرتی ہیں  کہ بابل کے  لوگ بے  وقوف ہیں۔

39 ” بابل دوبارہ آباد نہیں  ہو گا۔جنگلی کتّے  شتر مرغ اور دیگر جنگلی جانور وہاں  رہیں  گے۔ لیکن وہاں  کوئی انسان نہیں  رہے  گا۔

40 خدا نے  سدوم اور دیگر چاروں  جانب کے  شہروں  کو پوری طرح نیست و نابود کیا تھا۔ اب ان شہروں  میں  کوئی نہیں  رہتا۔اس طرح بابل میں  کوئی نہیں  رہے  گا اور کوئی انسان وہاں  رہنے  کبھی نہیں  جائے  گا۔

41 ” دیکھو! شمال سے  لوگ آ رہے  ہیں  وہ ایک طاقتور قوم سے  آ رہے  ہیں۔ دور دور کی جگہوں  کے  چاروں  جانب سے  ایک ساتھ تمام بادشاہ آ رہے  ہیں۔

42 وہ تیر انداز اور نیزہ باز ہیں۔ وہ سنگدل اور بے  رحم ہیں۔ ان کے  آنے  کی آواز ایسی تھی جیسے  سمندر کی گرج۔ وہ گھوڑوں  پر سوار ہیں۔ اے  دختر بابل جنگی مردوں  کی مانند تیرے  مقابل صف آرائی کرتے  ہیں۔

43 شاہ بابل نے  ان سپاہیوں  کے  با رے  میں  سنا اور وہ دہشت زدہ ہو گیا۔ وہ اتنا ڈر گیا ہے  کہ اس کے  ہاتھ جنبش نہیں  کر سکتے۔ وہ زچہ کی مانند مصیبت میں  اور درد میں  گرفتار ہے۔

44 خداوند فرماتا ہے   ” دیکھو! میں  یردن ندی کے  چاروں  طرف کے  گھنے  جھاڑیوں  سے  باہر نکلتے  ہوئے  شیر کی مانند آؤں  گا۔ جب میں  دیکھوں  گا کہ وہ وہاں  سے  دور بھاگ گیا تو میں  اپنے  کسی چنے  ہوئے  کو اس پر مقرر کروں  گا۔ کیوں  کہ مجھ سا کون ہے۔ کون ہے  جو میرے  لئے  وقت مقرر کرے ؟ اور وہ چرواہا کون ہے  جو میرے  مد مقابل کھڑا ہو سکے ؟

45 بابل کے  ساتھ خداوند نے  جو کرنے  کا منصوبہ بنا یا ہے  اسے  سنو۔ بابل کے  لوگوں  کے  لئے  خداوند نے  جو کرنے  کا ارادہ کیا ہے  اسے  سنو۔ یقیناً ان کے  گلّہ کے  سب سے  چھو ٹوں  کو بھی ان لوگوں  سے  بزور لے  لیا جائے  گا۔ ان کی چرا گاہیں  بھی اس کی وجہ سے  بر باد ہو جائیں  گی۔”

46 بابل کو شکست ہو گی۔ اور اس شکست کی وجہ سے  ساری زمین ڈر سے  کانپ جائے  گی۔ تمام قوم بابل کے  تباہ ہونے  کے  بارے  میں  سنے  گی۔

 

 

 

باب :  51

 

 

1 خداوند یوں  فرماتا ہے   ” دیکھو میں  بابل پر اور اس مخالف دارالسلطنت کے  رہنے  والوں  پر ایک مہلک ہوا چلاؤں  گا۔

2 میں  بابل کو اوسانے  ( علحٰدہ کرنے  ) کرنے  کے  لئے  لوگوں  کو بھیجوں  گا وہ بابل کو اوسا( علحٰدہ) کر دیں  گے۔ وہ لوگ با بل کو ویران بنا دیں  گے۔ فوجیں  شہر کا گھیراؤ کریں  گی اور بھیانک تباہی ہو گی۔

3 بابل کے  سپاہی اپنے  تیر و کمان کا استعمال نہیں  کر پائیں  گے۔ وہ سپاہی اپنا زرہ پوش بھی نہیں  پہن سکیں  گے۔ بابل کے  جوانوں  پر رحم نہ کرو۔ اس کی فوج کو پوری طرح فنا کرو۔

4 بابل کے  سپاہی کسدیوں  کی زمین میں  مارے  جائیں  گے۔ وہ بابل کی سڑکوں  پر بری طرح گھائل ہوں  گے۔ ”

5 خداوند قادر مطلق نے  اسرائیل اور یہوداہ کے  لوگوں  کو بیوہ کی مانند یتیم نہیں  چھوڑا ہے۔ خدا نے  ان لوگوں  کو نہیں  چھوڑا اگر چہ ان کا ملک اسرائیل کے  قدوس کی نا فرمانی سے  بھرا ہوا ہے۔

6 بابل سے  بھاگ چلو۔ اپنی زندگی بچانے  کے  لئے  بھا گو۔ بابل کے  گناہوں  کے  سبب وہاں  مت ٹھہرو اور مارے  نہ جاؤ۔ یہ وقت ہے  جب خداوند بابل کے  لوگوں  کو ان برے  کاموں  کی سزا دے  گا جو انہوں  نے  کی۔ بابل کو سزا ملے  گی جو اسے  ملنی چاہئے۔

7 بابل کے  خداوند کے  ہاتھ میں  سونے  کا پیالہ تھا جس نے  ساری دنیا کو متوالا بنا دیا۔ قوموں  نے  بابل کی مئے  کو پیا۔ اس لئے  وہ پاگل ہو گئی۔

8 بابل کا زوال ہو گا اور وہ اچانک ٹوٹ جائے  گا۔ اس پر واویلا کرو۔ اس کی مصیبت کی دوا لاؤ شا ید وہ شفا پائے  گا۔

9 ہم نے  بابل کو شفا یاب کرنے  کی کو شش کی لیکن وہ شفا یاب نہ ہوا۔ اس لئے  ہم نے  اسے  چھوڑ دیا اور اپنے  اپنے  ملکوں  کو واپس ہوئے  بابل کی سزا آسمان کا خدا مقرر کرے  گا۔ وہ فیصلہ کرے  گا کہ بابل کا کیا ہو گا۔ وہ بادلوں  کی مانند بلند ہو گیا ہے۔

10 خداوند ہم لوگوں  کے  لئے  انصافل ے  آیا۔ آؤ اس بارے  میں  صیون کو خداوند ہمارے  خدا کے  کارناموں  کے  بارے  میں  بتائیں۔

11 تیروں  کو تیز کرو! ڈھا لوں  کو تیار رکھو۔ خداوند نے  مادیوں  کے  بادشاہوں  کی روح کو ابھارا ہے  کیوں  کہ اس کا ارادہ بابل کو نیست و نابود کرنے  کا ہے۔ کیوں  کہ یہ خداوند کا یعنی اس کے  گھر کا انتقام ہے۔

12 بابل کی دیواروں  کے  مقابل جھنڈا کھڑا کرو۔ پہرے  کی چوکیاں  مضبوط کرو۔ پہریداروں  کو تعینات کر دو۔ گھات لگواؤ۔ کیوں  کہ خداوند نے  اہل بابل کے  حق میں  جو کچھ کہا ہے  وہ اس کو پورا کرے  گا۔

13 اے  بابل تمہیں  جہاں  پانی بہت زیادہ میسر ہو اس کے  قریب بسو۔ تم خزانوں  سے  معمور ہو۔ لیکن قوم کی شکل میں  تمہارا خاتمہ آ گیا ہے۔ یہ تمہیں  فنا کر دینے  کا وقت ہے۔

14 خداوند قادر مطلق نے  اپنے  نام کی قسم کھائی ہے   ” میں  بابل کو بیشمار دشمنوں  سے  بھر دوں  گا۔ وہ ٹڈی دل کی مانند ہوں  گے  وہ سپاہی تمہارے  خلاف جیتیں  گے  اور تمہارے  اوپر اپنی فتح کا اعلان کریں  گے۔ ”

15 خداوند نے  اپنی عظیم قدرت کا استعمال کیا اور زمین کو بنا یا۔ اس نے  کائنات کی تخلیق کے  لئے  اپنی حکمت کا استعمال کیا۔ اس نے  اپنی دانش کا استعمال آسمان کو پھیلانے  میں  کیا۔

16 اس کی آواز کی گرج ایسی ہے  جیسے  آسمان میں  پانی کی فرا وانی۔ وہ زمین کی انتہا سے  بخارات اٹھاتا ہے۔ وہ با رش کے  ساتھ بجلی کو بھیجتا ہے  وہ اپنے  خزانوں  سے  ہواؤں  کو لاتا ہے

17 لیکن لوگ اتنے  بے  وقوف ہیں  کہ وہ یہ نہیں  سمجھتے  ہیں  کہ ان ساری چیزوں  کو خداوند خدا نے  کیا ہے۔ سنار اپنی کھودی ہوئی مورت سے  رسوا ہے  کیوں  کہ اس کی ڈھا لی ہوئی مورت باطل ہے۔ اس میں  جان نہیں  ہے۔

18 وہ موتی بیکار ہیں۔ لوگوں  نے  ان مورتیوں  کو بنا یا ہے۔ اور وہ مذاق کے  علاوہ کچھ نہیں۔ ان کی عدالت کا وقت آئے  گا اور وہ مورتی فنا کر دی جائیں  گی۔

19 لیکن یعقوب کا خاندان ان بیکار موتیوں  کی مانند نہیں  ہے۔ لوگوں  نے  خدا کو نہیں  بنایا لیکن خدا نے  لوگوں  کو بنا یا۔ اسرائیل اس کا سب سے  اپنا قبیلہ ہے۔ اس کا نام خداوند قادر مطلق ہے۔

20 خداوند فرماتا ہے   ” اے  بابل تم میرے  جنگ کا ہتھیار ہو میں  نے  تمہارا استعمال قوموں  کو کچلنے  کے  لئے  کیا۔ میں  نے  تمہارا استعمال حکومتوں  کو فنا کرنے  کے  لئے  کیا۔

21 میں  نے  تمہارا استعمال گھوڑے  اور سواروں  کو کچلنے  کے  لئے  کیا۔میں  نے  تمہارا استعمال رتھ اور سوار کو کچلنے  کے  لئے  کیا۔

22 میں  نے  تمہارا استعمال عورتوں  اور مردوں  کو کچلنے  کے  لئے  کیا میں  نے  تمہارا استعمال بوڑھے  و جوان کو ان کو کچلنے  کے  لئے  کیا۔ میں  نے  تمہارا استعمال نو خیز لڑکوں  اور لڑکیوں  کو کچلنے  کے  لئے  کیا۔

23 میں  نے  تمہارا استعمال چروا ہے  اور گلّوں  کو کچلنے  کے  لئے  کیا۔ میں  نے  تمہارا استعمال کسان اور بیلوں  کو کچلنے  کے  لئے  کیا۔ میں  نے  تمہارا استعمال سرداروں  اور حاکموں  کو کچلنے  کے  لئے  کیا۔

24 میں  نے  بابل اور اس کے  باشندوں  کو جو غلطی انہوں  نے  صیون کے  خلاف کی ہے  اس کے  لئے  سزا دوں  گا۔ میں  یہ کروں  گاتا کہ تم دیکھ سکو گے  کہ خداوند نے  ان تمام چیزوں  کو کیا ہے۔ ” یہی خداوند نے  فرمایا ہے۔

25 خداوند فرماتا ہے   ” اے  بابل تم اس پہاڑ کی مانند جو تباہ ہو رہا ہے  اور میں  تمہارے  خلاف ہوں۔ اے  بابل تم نے  سارا ملک فنا کیا ہے  اور میں  تمہارے  خلاف ہوں  میں  تمہارے  خلاف اپنا ہاتھ اٹھاؤں  گا۔ میں  تمہیں  چٹانوں  سے  لُڑھکاؤں  گا۔میں  تمہیں  جلا ہوا پہاڑ کر دوں  گا۔

26 لوگ تم سے  کونے  کے  پتھر کے  استعمال کے  لئے  پتھر نہیں  لیں  گے  لوگ عمارتوں  کی بنیاد کے  لئے  کوئی بھی پتھر نہیں  لا سکیں  گے۔ کیوں  کہ تمہارا شہر چٹان کے  ٹکڑوں  کا شہر بن جائے  گا۔ یہ سب خداوند نے  کہا۔

27 ” ملک میں  جنگ کا جھنڈا اٹھاؤ! سبھی قوموں  میں  بِگل پھونکو۔ قوموں  کے  بابل کے  خلاف جنگ کرنے  کے  لئے  تیار کرو اورا را ط اور منّی اور اشکناز کی مملکتوں  کو بابل کے  خلاف جنگ کے  لئے  بلاؤ۔ اس کے  خلاف سپہ سالار مقرر کرو۔ فوج کو اس کے  خلاف بھیجو۔ اتنے  زیادہ گھوڑوں  کو بھیجو کہ وہ ٹَڈّی دَل جیسے  ہو جائیں۔

28 اس کے  خلاف قوموں  کو جنگ کے  لئے  تیار کرو۔ مادی کے  بادشاہوں  کو تیار کرو۔ان کے  سرداروں  اور حاکموں  کو تیار کرو۔اور ان کے  اقتدار کے  تمام ممالک کو اس کے  خلا ف جنگ لڑنے  کے  لئے  ابھارو۔

29 ملک اس طرح کانپتا ہے  جیسے  مصیبت جھیل رہا ہو۔ یہ کانپے  گا جب خداوند بابل کے  لئے  بنائے  منصوبے  کو پو را کرے  گا۔خداوند کا منصوبہ بابل کو بیابان بنانے  کا ہے۔ کوئی شخص وہاں  نہیں  رہے  گا۔

30 بابل کے  سپاہیوں  نے  لڑنا بند کر دیا ہے۔ وہ اپنے  قلعوں  میں  رہ رہے  ہیں۔ان کی طاقت گھٹ گئی ہے۔ وہ خوفزدہ عورت کی مانند ہو گئے  ہیں۔ بابل کے  گھر جل رہے  ہیں۔ ان کے  شہروں  کے  پھاٹک کی لو ہے  کی سلاخیں  ٹوٹ گئی ہیں۔

31 ایک کے  بعد دوسرا قا صد آ رہا ہے۔ قاصد کے  پیچھے  قاصد آ رہے  ہیں۔ وہ شاہ بابل کو خبر سنا رہے  ہیں  کہ اس کے  سارے  شہر پر قبضہ ہو گیا ہے۔

32 وہ مقام جہاں  سے  ندیوں  کو پار کیا جاتا ہے  قبضہ میں  کر لئے  گئے  ہیں۔ دلدلی زمین جل رہی ہے۔ بابل کے  سبھی سپاہی خوفزدہ ہیں۔”

33 بنی اسرائیلیوں  کا خدا خداوند قادر مطلق فرماتا ہے   ” اناج کو پیٹنے  ( مَلنے  ) کے  وقت بابل کھلیان کی مانند ہے۔ اور فصل کٹائی کا وقت بہت جلد آئے  گا۔”

34 شاہ بابل نبو کد نضر نے  ماضی میں  ہمیں  تباہ کیا۔ ماضی میں  نبو کد نضر نے  ہمیں  چوٹ پہنچائی ہے  ماضی میں  وہ ہمارے  لوگوں  کولے  گیا اور ہم خالی برتن کی مانند ہو گئے۔ اس نے  ہماری بہترین چیزیں  لیں  وہ بڑا عفریت کی طرح تھا جو اس وقت تک سب کچھ کھاتا گیا جب تک اس کا پیٹ نہ بھرا۔ وہ بہترین چیزیں  لے  گیا اور ہم لوگوں  کو دور پھینک دیا۔

35 بابل نے  ہمیں  چوٹ پہنچانے  کے  لئے  بھیانک کام کئے۔ اور اب میری خواہش ہے  کہ بابل کے  ساتھ ویسا ہی ہو۔صیون میں  رہنے  والے  لوگ کہیں  گے  : ” بابل کے  لوگ ہمارے  لوگوں  کو مار نے  کے  مجرم ہیں  اور اب ان کو  بدلے  میں  سزا ملے  گی۔” یروشلم شہر یہ سب کہے  گا۔

36 اس لئے  خداوند فرماتا ہے  : ” اے  یہوداہ میں  تمہار ی حفاظت کروں  گا۔ میں  یہ ضرور دیکھوں  گا کہ بابل کو سزا ملے۔ میں  بابل کے  سمندر کو خشک کر دوں  گا۔ اور میں  اس کے  پانی کے  چشمے  کو خشک کر دوں  گا۔

37 بابل تباہ شدہ عمارتوں  کا ڈھیر بن جائے  گا۔ بابل جنگلی کتوں  کے  رہنے  کا مقام بنے  گا۔ لوگ چٹانوں  کے  ڈھیر کو دیکھیں  گے۔ اور حیران ہوں  گے۔ لوگ بابل کے  با رے  میں  سسُکاریں  گے۔ بابل ایسی جگہ ہو جائے  گی جہاں  کوئی بھی نہیں  رہے  گا۔

38 ” بابل کے  لوگ گرجتے  ہوئے  جوان شیر ببر کی مانند ہیں۔ وہ شیر ببر کے  بچے  کی طرح غراتے  ہیں۔

39 جب وہ بے  چین ہو جائیں  گے  تو میں  کچھ پینے  کے  لئے  انہیں  پیش کروں  گا۔ میں  انہیں  پلا کر مست کر دوں  گا۔ وہ ہنسیں  گے  اور خوشی میں  اپنا وقت گذاریں  گے  اور تب وہ ہمیشہ کے  لئے  سو جائیں  گے  پھر وہ کبھی نہیں  جاگیں  گے۔ ” خداوند نے  یہ سب کہا۔

40 ” میں  انہیں  ان بھیڑوں  اور بکریوں  کی مانند نیچے  لاؤ گا جو ذبح ہونے  ہی وا لا ہے۔

41 “شیشک ” شکست یاب ہو گا۔ روئے  زمین کا بہترین اور فخر یہ ملک قید ہو گا۔ دیگر قوموں  کے  لوگ بابل پر نگاہ ڈالیں  گے  اور جو کچھ وہ دیکھیں  گے۔ اس سے  وہ خوفزدہ ہو اٹھیں  گے۔

42 بابل پر سمندر امڈ پڑے  گا۔ اس کی گرجتی لہریں  اسے  ڈھک لیں  گی۔

43 تب بابل کے  شہر بر باد اور ویران ہو جائیں  گے۔ بابل ایک بیابان بن جائے  گا۔ یہ ایسا ملک بنے  گا جہاں  کوئی انسان نہیں  رہے  گا۔ لوگ بابل سے  سفر بھی نہیں  کریں  گے۔

44 میں  جھوٹے  خداوند کو بابل کو بھی سزا دوں  گا اور جو کچھ نگل گیا ہے  اس کے  منھ سے  نکالوں  گا۔ دیگر قومیں  بابل نہیں  آئیں  گے  اور بابل شہر کی فصیل گر جائے  گی۔

45 اے  میرے  لوگو! بابل شہر سے  باہر نکلو۔ اپنی زندگی کو بچانے  کو بھاگ چلو۔ خداوند کے  عظیم قہر سے  اپنی جان بچاؤ۔

46 ” میرے  لوگو! افواہیں  اُڑیں  گی لیکن ڈرو نہیں۔ اس سال ایک افواہ اڑتی ہے  اگلے  سال دوسری افواہ اڑے  گی۔ ملک میں  بھیانک جنگ کے  بارے  میں  افواہیں  اڑیں  گے۔ ایک حکمراں  دوسرے  حکمراں  کے  خلاف جنگ کے  بارے  میں  افواہ اڑائیں  گے۔ اس طرح کی افواہیں  عام ہو جائیں  گی۔

47 یقیناً وہ وقت آئے  گا جب میں  بابل کے  جھوٹے  خداؤں  کو سزا دوں  گا۔ اور سارا بابل شہر ندامت کا حصہ بنے  گا۔ اس شہر کی سڑکوں  پر بے  شمار لوگ مرے  پڑے  رہیں  گے۔

48 تب زمین اور آسمان اور اس کے  اندر کی سبھی چیزیں  بابل پر خوش ہو کر گانے  لگیں  گی وہ چیخیں  گے  کیوں  کہ فوج شمال سے  آئے  گی اور بابل کے  خلاف لڑے  گی۔” یہ سب خداوند نے  کہا ہے۔

49 ” بابل نے  بنی اسرائیلیوں  کو مارا۔ بابل نے  زمین کے  ہر حصّہ میں  لوگوں  کو مارا اس لئے  بابل کا زوال ضرور ہو گا۔

50 اے  لوگو! تم تلوار سے  ہلاک ہونے  سے  بچ نکلے  تمہیں  جلدی کرنی چاہئے  اور بابل کو چھوڑ نا چاہئے۔ انتظار نہ کرو تم دور ملکوں  میں  ہو لیکن جہاں  کہیں  رہو خداوند کو یاد کرو اور یروشلم کو یاد کرو۔

51 ” ہم یہوداہ کے  لوگ شرمندہ ہیں۔ ہماری توہین ہوئی ہے۔ کیوں ؟ کیوں  کہ غیر ملکی خداوند کے  گھر کے  مقدس مقاموں  میں  داخل ہو چکے  ہیں۔”

52 خداوند فرماتا ہے   ” وقت آ رہا ہے  جب میں  بابل کی مورتیوں  کو سزا دوں  گا اس وقت اس ملک میں  ہر جگہ گھائل لوگ تکلیف سے  روئیں  گے۔

53 بابل اٹھتا چلا جائے  گا جب تک کہ وہ آسمان نہ چھولے۔ بابل اپنے  قلعوں  کو مضبوط بنائے  گا۔ لیکن میں  اس شہر کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  لوگوں  کو بھیجوں  گا اور وہ لوگ اسے  فنا کر دیں  گے۔ ” خداوند نے  یہ سب کہا۔

54 ” ہم بابل میں  لوگوں  کا رونا سن سکتے  ہیں۔ ہم کسدی لوگوں  کے  ملک میں  چیزوں  کو فنا کرنے  والے  لوگوں  کا شور سن سکتے  ہیں۔

55 خداوند بہت جلد بابل کو فنا کرے  گا۔ وہ شہر کے  شور و غل اور غضب کو روک دے  گا۔ دشمن سمندر کی شور مچا تی لہروں  کی طرح شہر پر ٹوٹ پڑیں  گے  چاروں  جانب کے  لوگ اس شور کو سنیں  گے۔

56 فوج آئے  گی اور بابل کو نیست و نابود کرے  گی۔ بابل کے  سپاہی پکڑے  جائیں  گے۔ ان کی کمانیں  ٹوٹیں  گی کیوں ؟ کیوں  کہ خداوند ان لوگوں  کو سزا دیتا ہے  جو برا کرتے  ہیں۔ خداوند انہیں  پوری سزا دیتا ہے  جس کے  وہ حق دار ہیں۔

57 بابل کے  امراء و حکماء کو مست کر دوں  گا۔ میں  اس کے  سرداروں  حاکموں  اور سپاہیوں  کو بھی پلا کر مست کر دوں  گا تب وہ ہمیشہ کے  لئے  سو جائیں  گے  وہ کبھی نہیں  جاگیں  گے۔ ” یہ وہ بادشاہ فرماتا ہے  جس کا نام خداوند قادر مطلق ہے۔

58 خداوند قادر مطلق کہتا ہے  : ” بابل کی چوڑی فصیل گرا دی جائے  گی۔ اس کے  بلند پھاٹک جلا دیئے  جائیں  گے۔ بابل کے  لوگ سخت آزمائش سے  گزریں  گے  لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ وہ شہر کو بچانے  کی کوشش میں  بہت تھک جائیں  گے   لیکن وہ شعلوں  کے  صرف ایندھن ہوں  گے۔ ”

59 یہ وہ پیغام ہے  جسے  یرمیاہ نے  سرا یاہ نامی افسر کو دیا۔ سرا یاہ نیریاہ کا بیٹا تھا۔ نیر یاہ محسیاہ کا بیٹا تھا سرایاہ شاہ یہوداہ صدقیاہ کے  ساتھ بابل گیا تھا۔ شاہ یہوداہ صدقیاہ کی دور حکو مت کے  چو تھے  برس میں  یہ ہوا۔ اس وقت یرمیاہ نے  سرا یاہ نامی افسر کو یہ پیغام دیا۔

60 یر میاہ طومار پر اس ہیبتناک باتوں  کو لکھ رکھا تھا۔ جو بابل میں  ہونے  والی تھی۔ اس نے  یہ سب بابل کے  بارے  میں  لکھ رکھا تھا۔

61 یر میاہ نے  سرایاہ سے  کہا ” اے  سرا یاہ بابل جاؤ! اور جب تم بابل پہنچ جاؤ تو اس بات کو یقینی کر لینا کہ تم اس سارے  کلاموں  کو پڑھنا۔

62 اس کے  بعد کہو ‘ اے  خداوند تو نے  کہا ہے  کہ تو اس بابل نامی جگہ کو فنا کرے  گا۔ تو اسے  ایسے  فنا کرے  گا کہ کوئی انسان یا جانور یہاں  نہیں  رہے  گا۔ یہ ہمیشہ کے  لئے  ویران اور بر باد مقام ہو جائے  گا۔ ‘

63 جب تم طومار کو پڑھ چکے  تو اس سے  ایک پتھر باندھو تب اس طومار کو دریائے  فرات میں  ڈال دو۔

64 تب کہو بابل اس طرح غرق ہو گا۔ بابل پھر کبھی نہیں  اٹھے  گا۔ بابل غرق ہو گا کیوں  کہ میں  وہاں  بھیانک مصیبتیں  ڈھاؤں  گا۔” یر میاہ کی باتیں  یہاں  ختم ہوئی۔

 

 

 

باب :  52

 

1 صدقیاہ جب شاہ یہوداہ ہوا وہ اکیس سال کا تھا۔ صدقیاہ نے  یروشلم میں  گیارہ سال تک حکو مت کی۔ اس کی ماں  کا نام حموطل تھا جو یرمیاہ کی دختر تھی۔ حموطل کا گھرا نا لبناہ شہر کا تھا۔

2 صدقیاہ نے  برے  کام کئے  ٹھیک ویسے  ہی جیسے  یہو یقیم نے  کئے  تھے۔ خداوند صدقیاہ کے  ان برے  کاموں  کا کر ناپسند نہیں  کرتا تھا۔

3 یروشلم اور یہوداہ کے  ساتھ بھیانک باتیں  ہوئیں  کیوں  کہ خداوند ان پر غضبناک تھا۔ آخر میں  خداوند نے  اپنے  سامنے  یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  کو دور پھینک دیا۔ صدقیاہ نے  شاہ بابل کے  خلاف بغاوت کیا۔

4 اس لئے  صدقیاہ کی حکومت کے  نویں  برس کے  دسویں  مہینے  کے  دسویں  دن شاہ بابل نبو کد نضر نے  فوج کے  ساتھ یروشلم کو کوچ کیا۔ نبو کد نضر اپنے  ساتھ پوری فوج لئے  ہوئے  تھا۔ بابل کی فوج یروشلم کے  باہر خیمہ زن ہوئی اور انہوں  نے  شہر کے  چاروں  طرف ڈھلوان نما دیوار بنا یا۔

5 صدقیاہ کی حکومت کے  گیارہویں  برس تک شہر کا محاصرہ رہا۔

6 اس سال کے  چو تھے  مہینے  کے  نویں  دن سخت قحط سالی آ گئی۔ شہر میں  کھانے  کے  لئے  کچھ نہیں  غذا بھی تھی۔

7 اس دن با بل کی فوج یروشلم میں  داخل ہو گئی۔ یروشلم کے  سپاہی بھاگ گئے۔ وہ رات کے  وقت کو شہر چھوڑ کر بھا گے۔ وہ دو دیواروں  کے  درمیان والے  پھاٹک سے  گئے۔ پھاٹک باد شاہ کے  باغ کے  قریب تھا۔ جبکہ بابل کی فوج نے  یروشلم شہر کو گھیر رکھا تھا تب بھی یروشلم کے  سپاہی بھاگ نکلے۔ وہ بیابان کی جانب بھا گے۔

8 لیکن بابل کی فوج نے  صدقیاہ کا پیچھا کیا۔ انہوں  نے  اسے  یریحو کے  میدان میں  پکڑا۔ صدقیاہ کے  سبھی سپاہی تِتر بِتر ہو گئے  اور انہیں  چھوڑ بھا گا۔

9 بابل کی فوج نے  شاہ صدقیاہ کو پکڑ لیا۔ وہ ربلہ شہر میں  اسے  شاہ بابل کے  پاس لے  گئے۔ ربلہ حمات ملک میں  ہے۔ ربلہ میں  شاہ بابل نے  صدقیاہ کے  بارے  میں  اپنا فیصلہ سنا یا۔

10 وہاں  ربلہ شہر میں  شاہ بابل نے  صدقیاہ کے  بیٹوں  کو مار ڈالا۔ صدقیاہ کو اپنے  بیٹوں  کو قتل کرتے  ہوئے  دیکھنے  پر مجبور کیا گیا شاہ بابل نے  یہوداہ کے  سب امراء کو بھی مار ڈالا۔

11 تب شاہ بابل نے  صدقیاہ کی آنکھیں  نکال لیں۔ اس نے  اسے  پیتل کی زنجیر پہنائی۔ تب صدقیاہ کو بابل لے  گیا۔ بابل میں  صدقیاہ کو قید خانے  میں  ڈال دیا۔ صدقیاہ اپنے  مرنے  کے  دن تک قید خانہ میں  رہا۔

12 شاہ بابل کے  پہریداروں  کا کپتان یروشلم آیا۔ نبو کد نضر کی دور حکو مت کے  انیسویں  برس کے  پانچویں  مہینے  کے  دسویں  دن یہ ہوا۔

13 نبو رزادان نے  خداوند کی ہیکل کو جلا ڈالا۔اس نے  یروشلم کے  تمام گھروں  کو بھی جلا دیا۔اس نے  یروشلم کی ہر ایک اہم عمارت کو بھی جلا ڈالا۔

14 بابل کے  ساری فوج نے  جو کہ پہریداروں  کے  کپتان کے  ساتھ تھی۔ یروشلم کے  شہر کی دیوار کو تباہ کر دیا۔

15 اور باقی لوگوں  اور محتاجوں  کو جو شہر میں  رہ گئے  تھے  اور ان کو جنہوں  نے  اپنوں  کو چھوڑ کر شاہ بابل کی پناہ لی تھی اور عوام میں  سے  جتنے  باقی رہ گئے  تھے  ان سب کو نبو رزدان جلوداروں  کا سردار قید کر کے  لے  گیا۔

16 لیکن نبورزادان نے  کچھ بہت زیادہ غریب لوگوں  کو ملک میں  پیچھے  چھوڑ دیا تھا۔ اس نے  ان لوگوں  کو تاکستانوں  اور کھیتوں  میں  کام کرنے  کے  لئے  چھوڑا تھا۔

17 بابل کی فوج نے  ہیکل کے  پیتل کے  ستونوں  کو توڑ دیا۔ انہوں  نے  کانسے  کے  شمعدان اور سلفچی کو جو خداوند کی ہیکل میں  تھا اس کو بھی توڑ دیا۔ وہ اس سارے  پیتل کو بابل لے  گئے۔

18 بابل کی فوج ان چیزوں  کو بھی ہیکل سے  لے  گئی : برتن بیلیچے   کلگیر لگن توا اور کانسے  کے  وہ سبھی چیزیں  جن کا استعمال ہیکل کے  کام میں  کئے  جاتے  تھے۔

19 بادشاہ کے  مخصوص محافظوں  کا سردار ان چیزوں  کولے  گیا : تسلا انگیٹھیاں  لگن دیگیں  شمعدان توا اور پیالے  جو مئے  کے  نذرانے  کے  لئے  استعمال کئے  جاتے  تھے۔ وہ لوگ ان سبھی چیزوں  کولے  گئے  جو سونے  اور چاندی کے  تھے۔

20 وہ کانسے  کے  دو ستونوں  اور وہ بڑا حوض اور وہ کانسے  کے  بارہ بیل جو کرسیوں  کے  نیچے  تھے  جن کو سلیمان بادشاہ نے  خداوند کی ہیکل کے  لئے  بنایا تھا۔ان سب کانسے  کی چیزوں  کا وزن اتنا زیادہ تھا کہ اسے  ناپا نہیں  جا سکتا تھا۔

21 کانسے  کا ہر ایک ستون اٹھا رہ ہاتھ اونچا تھا اور بارہ ہاتھ اس کی گولائی تھی۔ ہر ایک ستون بیچ سے  کھو کھلا تھا۔ ہر ایک ستون کی دیوار تین انچ موٹی تھی۔

22 پہلے  ستون کے  اوپر جو کانسہ کا تاج تھا وہ پانچ ہاتھ اونچا تھا۔ یہ چاروں  جانب جالیوں  کی آرائش اور کانسے  کے  انار سے  سجا تھا۔دیگر ستونوں  پر بھی انار تھے۔ یہ پہلے  ستون کی طرح تھا۔

23 ستون کی بغل میں  چھیانوے  انار تھے۔ ستون کے  جا لی کے  چاروں  طرف ایک سو انار تھے۔

24 پہریداروں  کا کپتان سرایاہ اور صفنیاہ کو قیدی کے  طور پرلے  گیا۔ سرایاہ اعلیٰ کاہن تھا اور صفنیاہ ثانی کاہن تھا۔ تین پہریدار کو بھی جو کہ دروازوں  پر پہرہ دیتے  تھے  قید کر لئے  گئے۔

25 اور اس نے  شہر میں  ایک سردار کو پکڑ لیا جو سپاہی کا اور ان لوگوں  کا جو کہ خدمت کرنے  کے  لئے  بادشاہ کے  حضور حاضر رہتے  تھے۔ ان کا نگراں  کار تھا۔اور ان سات آدمیوں  کو بھی جو کہ اب تک شہر میں  ہی تھے  پکڑا۔ اور اس نے  فوجوں  کے  کمانڈر کے  محّرر کو بھی جو کہ عام لوگوں  کو لڑائی میں  رہبری کرتا تھالے  لیا۔ اس نے  ساٹھ عام لوگوں  کو بھی لے  لیا جو کہ شہر میں  تھے۔

26 پہریداروں  کے  کپتان نبورزادان نے  ان سبھی امراء کو لیا۔ وہ انہیں  شاہ بابل کے  سامنے  لایا۔ شاہ بابل ربلہ شہر میں  تھا۔ ربلہ حمات میں  ہے۔ وہاں  اس ربلہ شہر میں  بادشاہ نے  امراء کو مار ڈالنے  کا حکم دیا۔ اس طرح یہوداہ کے  لوگ اپنے  ملک سے  لے  جائے  گئے۔

27

28 نبو کد نضر جن لوگوں  کو قید کر کے  لے  گئے  ان کی تعداد اس طرح ہے  : بادشاہ نبو کد نضر کی حکو مت کے  ساتویں  برس میں  یہوداہ سے  ۲۳ ۳۰ آدمیوں  کو قید کر کے  لے  جائے  گئے۔

29 بابل کے  بادشاہ کی حیثیت سے  نبو کد نضر کی حکو مت کے  اٹھارہویں  برس میں  ۸۳۲ لوگوں  کو یروشلم سے  قید کئے  گئے۔

30 نبو کد نضر کی حکو مت کے  ۲۳ ویں  برس میں  نبوزرادان نے  یہوداہ سے  ۴۵ ۷ لوگوں  کو قید کیا۔ نبوزرادان پہریداروں  کا کپتان تھا۔ کل ملا کر ۴۶۰۰ لوگ قید کئے  گئے  تھے۔

31 شاہ یہوداہ یہو یا کین ۳۷ برس تک بابل میں  قید رہا۔ اس کے  قید رہنے  کے  ۳۷ ویں  برس میں  شاہ بابل اویل مردوک یہو یاکین پر بہت مہر بان رہا۔ اس نے  یہو یا کین کو اس سال قید خانہ سے  باہر نکالا۔ یہ وہی سال تھا جب اویل مردوک شاہ بابل ہوا۔ اویل مردوکن ے  یہو یاکین کو بارہویں  مہینے  کے  ۲۵ ویں  دن قید سے  چھوڑ دیا۔

32 اویل مردوک نے  یہو یاکین سے  مہر بانی کی باتیں  کیں۔ اس نے  یہو یا کین کو ان دیگر بادشاہوں  سے  بلند مقام دیا جو بابل میں  اس کے  ساتھ تھے۔

33 اس لئے  یہو یاکین نے   اپنی قید کی پوشاک اتاری عمر بھر وہ لگا تار اس کے  حضور کھا نا کھاتا رہا۔

34 شاہ بابل ہر روز اسے  وظیفہ دیا کرتا تھا۔ یہ اس وقت تک چلا جب تک یہو یاکین مر نہیں  گیا۔

٭٭٭

ماخذ:

http://gospelgo.com/a/urdu_bible.htm

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید