FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

عہد نامہ قدیم

 

 

             2۔ کتابِ خروج

 

 

 

 

                   جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

 

 

 

کتابِ خروج

 

 

 

 

 

 

باب:   1

 

 

1یعقوب نے  اپنے  بیٹوں کے  ساتھ مصر کا سفر کیا تھا۔ ہر ایک بیٹے  کے  ساتھ اس کا اپنا خاندان تھا۔ اسرائیل کے  بیٹوں کے  نام یہ ہیں :

2 رُو بن، شمعون، لاوی، یہوداہ،

3 اشکار، زبولون، بنیمین،

4 دان، نفتالی، جاد، آشر،۔

5 کل ملا کر ستّر لوگ تھے  جو کہ یعقوب کی اپنی نسل سے  تھے۔ (یوسف جو کہ بیٹوں میں سے  بارہواں بیٹا تھا لیکن وہ پہلے  ہی مصر میں تھا)۔

6 بعد میں یوسف،  اس کے  سب بھائی اور اس کی نسل کے  سب لوگ مر گئے۔

7 لیکن بنی اسرائیلیوں کی بہت ساری اولا دیں تھیں اور ان کی تعداد بڑھتی ہی گئی۔ اور یہ لوگ طاقتور ہو گئے  اور ملک ان لوگوں سے  بھر گیا۔

8 تب ایک نیا بادشاہ مصر پر حکو مت کرنے  لگا۔ یہ شخص یوسف کو نہیں جانتا تھا۔

9 اس بادشاہ نے  اپنے  لوگوں سے  کہا، “بنی اسرائیلیوں کو دیکھو اِن کی تعداد بہت زیادہ ہے  اور ہم لوگوں سے  زیادہ طاقتور ہیں۔

10 ہم لوگوں کو ایسا منصوبہ بنا نا چاہئے  کہ اسرائیل اور زیادہ طاقتور نہ ہوں۔ اگر جنگ ہو تو بنی اسرائیل ہمارے  دشمنوں میں شامل ہو سکتے  ہیں۔ پھر وہ ہم کو شکست دے  سکتے  ہیں اور ہمارے  ملک سے  بچ نکل سکتے  ہیں۔ ”

11 مصر کے  لوگوں نے  طے  کیا کہ بنی اسرائیلیوں کی زندگی کو مشکل بنا دیں۔ اس  لئے  انہوں نے  اسرائیل کے  لوگوں پر غلام آقاؤں کو مقرر کیا۔ ان آقاؤں نے  اسرائیلیوں پر دباؤ ڈالا کہ بادشاہ کے   لئے  شہر پتوم اور رعمیس بنائیں۔ فرعون ان شہروں کو اناج کے  ذخیرہ اور دوسری چیزوں کے   لئے  استعمال کرتا تھا۔

12 مصر کے  لوگوں نے  اسرائیلیوں کو سخت سے  سخت کام کرنے  پر مجبور کیا۔ لیکن جتنا زیادہ سخت کام کرنے  کے   لئے  اسرائیلیوں کو مجبور کیا گیا ان کی تعداد اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اور مصری لوگ اسرائیلی لوگوں سے  دہشت کھانے  لگے۔

13 اس  لئے  مصریوں نے  اسرائیلیوں کو اور زیادہ سخت محنت کرنے  پر مجبور کیا۔

14 مصری لوگوں نے  بنی اسرائیلیوں کی زندگی کو دوبھر کر دیا تھا۔ انہوں نے  اسرائیلی لوگوں کو اینٹ اور گارا بنانے  جیسے  سخت کام کرنے  کے   لئے  مجبور کیا۔ انہوں نے  انہیں کھیتوں میں بھی بہت سخت محنت کرنے  کے   لئے  دباؤ ڈالا۔ وہ جو کچھ بھی کرتے  تھے  ان کے  ساتھ مصری لوگ اور زیادہ سختی کرتے  تھے۔

15 وہاں دو دائیاں تھیں جن کے  نام سِفرہ اور فوعہ تھے۔ یہ دو دائیاں عبرانی عورتوں کو وضع حمل کے  دوران مددکرتی  تھیں۔ مصر کے  بادشاہ نے  دائیوں سے  بات کی۔

16 بادشاہ نے  کہا، ” تم عبرانی عورتوں کو وضع حمل میں مدد کر تی رہو گی اگر لڑ کی پیدا ہو تو اسے  زندہ رہنے  دینا لیکن اگر لڑ کا پیدا ہو تو تمہیں اس کو مار ڈالنا چاہئے۔ ”

17 لیکن دائیوں نے  خدا پر بھروسہ کیا۔ اس  لئے  انہوں نے  بادشاہ کے  حکم کو نہیں مانا انہوں نے  تمام لڑکوں کو زندہ رہنے  دیا۔

18 مصر کے  بادشاہ نے  دائیوں کو بلایا اور ان سے  کہا، ” تم لوگوں نے  ایسا کیوں کیا۔ تم لوگوں نے  لڑکوں کو کیوں زندہ رہنے  دیا؟ ”

19 دائیوں نے  بادشاہ سے  کہا”عبرانی عورتیں مصری عورتوں سے  زیادہ طاقتور ہیں۔ وہ ہمارے  جانے  سے  پہلے  جَن کر فارغ ہو جاتی ہیں۔ ”

20خدا دائیوں سے  خوش تھا کیونکہ وہ خدا سے  ڈر تی تھیں اس  لئے  خدا ان کے  ساتھ اچھا رہا۔ اور ان کو  اپنا خاندان بڑھاتے  رہنے  دیا۔ اس طرح سے  عبرانی لوگوں کی تعداد کافی بڑھ گئی اور وہ بہت زیادہ طاقتور ہو گئے۔

21  22 اس  لئے  فرعون نے  اپنے  تمام لوگوں کو یہ حکم دیا :”جب کبھی لڑ کا پیدا ہو تب تم اسے  دریائے  نیل میں پھینک دو لیکن تمام لڑ کیوں کو زندہ رہنے  دو۔ ”

 

 

 

 

 

باب:   2

 

 

 

1 لاوی کے  خاندان کا ایک آدمی  وہاں تھا۔ اس نے  لاوی کے  خاندان کی عورت سے  شادی کی تھی۔

2 عورت حاملہ ہوئی اور اس نے  ایک لڑ کے  کو پیدا کیا۔ ماں نے  دیکھا کہ لڑ کا بہت خوبصورت ہے  اس  لئے  اس نے  اسے  تین ماہ تک چھپا کر رکھا۔

3 جب وہ اس کو اور زیادہ چھپا نہ سکی تو اس نے  ایک ٹوکری بنائی اور اس پر تارکول کا لیپ اس طرح چڑھا یا کہ وہ تیر سکے۔ اس نے  بچے  کو ٹوکری میں رکھ دیا اور ٹوکری کو ندی کے  کنارے  لمبی گھاس میں رکھ دیا۔

4 بچے  کی بہن کچھ دور کھڑی ہو گئی کیونکہ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ بچّہ کے  ساتھ کیا واقعہ ہو گا۔

5 اسی وقت فرعون کی بیٹی نہانے  کے   لئے  ندی پر گئی اس کی خادمہ عورتیں ندی کے  کنارے  ٹہل رہی تھیں اس نے  لمبی گھاس میں ٹوکری دیکھی اور اس نے  خادماؤں میں سے  ایک کو ٹوکری لانے  کے   لئے  کہا۔

6 بادشاہ کی بیٹی نے  ٹوکری کو کھو لا اور چھوٹے  بچّے  کو دیکھا بچّہ رو رہا تھا اور اُس کو دیکھکر دُکھ ہوا۔ اُس نے  کہا یہ عبرانی بچّوں میں سے  ایک ہے۔

7 بچّے کی بہن ابھی تک چھپی ہوئی تھی تب وہ کھڑی ہوئی اور فرعون کی بیٹی سے  بولی، ” کیا آپ  چاہتی ہیں کہ میں بچّے  کی نگہداشت کرنے  کے   لئے  ایک عبرانی عورت ڈھونڈ لاؤں؟ ”

8 فرعون کی بیٹی نے  کہا، ” ہاں مہر بانی ہو گی “اِس  لئے  لڑ کی گئی اور بچّے کی حقیقی ماں کولے  آئی۔

9 فرعون کی بیٹی نے  ماں سے  کہا، ” اِس بچّے  کولے  جاؤ اورمیرے   لئے  پالو۔ اِسبچّے کو اپنا دودھ پِلاؤ میں تمہیں اِس کا معاوضہ دوں گی۔ ” اِس عورت نے  اپنے  بچّے  کولے  لیا اور اُس کی نگہداشت کی۔

10 بچّہ بڑا ہوا اور کچھ عرصے  بعد وہ عورت اُس بچّے  کو فرعون کی بیٹی کے  پاس لا ئی۔ فرعون کی بیٹی نے  اسبچّے کو اپنے  بچّے  کی طرح اپنا لیا۔ فرعون کی بیٹی نے  اس کا نام موسیٰ رکھا کیونکہ اُس نے  اُس کو پانی سے  حاصل کیا تھا۔

11 موسیٰ بڑا ہوا اور جوان آدمی  ہو گیا۔ اس نے  دیکھا کہ ان کے  لوگوں کو اتنا سخت کام کرنے  کے   لئے  مجبور کیا جا رہا ہے۔ ایک دن موسیٰ نے  ایک مصری آدمی  کو اپنے  ایک عبرانی آدمی  کو مارتے  دیکھا۔

12 اس  لئے  موسیٰ نے  چاروں طرف نظر ڈالی اور دیکھا کہ کوئی نہیں دیکھ رہا ہے  تو موسیٰ نے  مصری کو مار ڈالا اور اُس کو ریت میں دفن کر دیا۔

13 اگلے  روز موسیٰ نے  دیکھا کہ دو عبرانی آدمی  ایک دوسرے  سے  لڑ رہے  تھے  موسیٰ نے  دیکھا کہ ایک آدمی  غلطی پر تھا موسیٰ نے  اُس آدمی  سے  کہا، ” تم اپنے  پڑوسی کو کیوں مار رہے  ہو؟ ”

14 اُس آدمی نے  جواب دیا، ” کیا کسی نے  کہا ہے  کہ تم ہما رے  حاکم اور منصف بنو؟ نہیں! مجھے  کہو کیا تم مجھے  بھی اسی طرح مار ڈالو گے  جس طرح کل تم نے  مصری کو مار ڈالا؟ ” تب موسیٰ ڈر گیا موسیٰ نے ا پنے  آپ  ہی سوچا، ” ہر ایک آدمی  جانتا ہے  کہ میں نے  کیا کیا۔ ”

15 فرعون نے  سُنا کہ موسیٰ نے  ایک مصری کو مار ڈالا۔ اِس  لئے  اُس نے  موسیٰ کو مار ڈالنے  کا فیصلہ کیا لیکن موسیٰ فرعون کی پہنچ سے  نکل گئے  اور ملک مدیان چلے  گئے۔

16 مدیان میں ایک کاہن تھا جس کی سات بیٹیاں تھیں۔ وہ لڑکیاں ایک دن اپنے  باپ کی بھیڑوں کے   لئے  پانی لینے  اسی کنویں پر گئیں۔ وہ ڈول سے  پانی بھرنے  کی کوشش کر رہی تھیں۔

17 لیکن کُچھ چرواہوں نے  ان لڑ کیوں کو بھگا دیا اور پانی لینے  نہیں دیا۔ اِس  لئے  موسیٰ نے  لڑکیوں کو چرواہوں سے  بچا یا۔ اور اُن کے  جانوروں کو پانی دیا۔

18 تب وہ اپنے  باپ رعوایل کے  پاس وا پس گئیں اُن کے  باپ نے  اُن سے  پو چھا، ” آج تم لوگ گھر جلدی کیوں آ گئیں؟ ”

19 لڑکیوں نے  جواب دیا ” چرواہوں نے  ہم لوگوں کو بھگا نا چاہا لیکن ایک مصری آ دمی نے  ہم لوگوں کو اُن لوگوں سے  بچایا اور ہمارے  جانوروں کو پانی دیا۔ ”

20 اِس  لئے  رعوایل نے  اپنی لڑ کیوں سے  کہا، ” کہاں ہے  وہ آدمی ؟ تم نے  اُس کو کیوں چھوڑ دیا؟ اُس کو یہاں بُلاؤ اُس کو ہما رے  ساتھ کھا نا کھانے  دو۔ ”

21 موسیٰ اُس آدمی  کے  ساتھ ٹھہرنے  سے  خوش ہوئے  اور اُس آدمی نے  اپنی بیٹی صفورہ کو موسیٰ کی بیوی بنا کر اُسے  دے  دیا۔

22 صفورہ حاملہ ہوئی اور ایک لڑ کے  کو جنم دیا۔ موسیٰ نے  اپنے  بیٹے  کا نام جیر سوم رکھا۔ موسیٰ نے  اپنے  بیٹے  کا یہ نام رکھا کیونکہ اُس نے  کہا، ” میں اس غیر ملک میں ایک اجنبی تھا۔ ”

23 کافی عرصہ گذرا اور مصر کا بادشاہ مر گیا۔ بنی اِسرائیلیوں کو پھر بھی سخت محنت کرنے  کے   لئے  مجبور کیا جاتا تھا۔ وہ مدد کے   لئے  پُکا رتے  تھے  اور خدا نے  اُن کی پکار سُن لی۔

24 خدا نے  اُن کی دُعائیں سنیں اور اُس نے ا ُس معاہدہ کو یاد کیا جو اُس نے  ابراہیم، اِسحاق اور یعقوب سے  کیا تھا۔

25 خدا نے  بنی اِسرائیلیوں کی تکلیف کو دیکھا اُس نے  سوچا کہ وہ جلد ہی ان کی مدد کرے  گا۔

 

 

 

 

 

باب:   3

 

 

1 موسیٰ کا سُسر یترو مدیان کا کاہن تھا۔ موسیٰ یترو کی بھیڑوں کی نگہبانی کرتا تھا۔ ایک دن موسیٰ بھیڑوں کو ریگستان کے  مغربی جانب لے  گیا۔ اور حورِب نام کے  پہاڑ کو گیا جو خدا کا پہاڑ تھا۔

2 خداوند کا فرشتہ موسیٰ پر آ گ کی شعلہ کی طرح ایک جھاڑی میں ظاہر ہوا۔ جھاڑی جل رہی تھی لیکن وہ جل کر بھسم نہیں ہو رہی تھی۔

3 اِس  لئے  موسیٰ نے  فرما یا کہ جھاڑی کے  قریب جاؤں گا اور دیکھوں گا کہ بغیر راکھ ہوئے  کوئی جھاڑی کیسے  جلتی رہ سکتی ہے۔

4 خداوند نے  دیکھا کہ موسیٰ جھاڑی کو دیکھنے  جا رہا ہے  اِس  لئے  خدا نے  جھاڑی سے  موسیٰ کو پُکا را خدا نے  کہا ” موسیٰ، موسیٰ!” اور موسیٰ نے  فرما یا، ” ہاں میں یہاں ہوں۔ ”

5 تب خداوند نے  کہا، ” قریب مت آؤ اپنی جوتیاں اُتار لو تم مقدّس زمین پر کھڑے  ہو۔

6 میں تمہارے  باپ دادا کا خدا ہوں۔ میں ابراہیم کا خدا، اِسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں۔ ” موسیٰ نے  اپنا منہ ڈھانک لیا کیونکہ وہ خدا کو دیکھنے  سے  ڈرتا تھا۔

7 تب خداوند نے  کہا، ” میں نے  اُن تکالیف کو دیکھا ہے  جنہیں مصر میں ہمارے  لوگوں نے  سہا ہے۔ اور میں نے  اُن کے  رونے  کو بھی سُنا ہے  جب مصری لوگ انہیں ضرر پہنچاتے  ہیں۔ میں اُن کے  دُکھ کے  متعلق جانتا ہوں۔

8 میں اب نیچے  جاؤں گا اور مصریوں سے  اپنے  لوگوں کو بچاؤں گا۔ میں اُنہیں اُس ملک سے  نکالوں گا اور اُنہیں میں ایک اچھے  وسیع ملک میں لے  جاؤں گا ایسا ملک جہاں دودھ اور شہد بہتا ہوں۔ اس ملک میں مختلف لوگ جیسے  کنعانی، حتّی، عموری، فرزّی، حوّی، اور یبوسی رہتے  ہیں۔

9 میں نے  بنی اسرائیلیوں کی پکار سنی ہے۔ میں نے  دیکھا ہے  کہ مصریوں نے  کس طرح اُن کی زندگیوں کو دو بھر کر دیا ہے۔

10 اس  لئے  اب میں تم کو فرعون کے  پاس اپنے  لوگوں کو، بنی اسرائیلیوں کو مصر سے  با ہر لانے  کے   لئے  بھیج رہا ہوں۔ ”

11 لیکن موسیٰ نے  خدا سے  کہا، ” میں کوئی عظیم آدمی  نہیں ہوں! میں وہ آدمی  کیسے  ہو سکتا ہوں جو فرعون کے  پاس جائے  اور بنی اسرائیلیوں کو مصر سے  با ہر نکال لائے ؟ ”

12 خدا نے  کہا، ” تم یہ کر سکتے  ہو کیونکہ میں تمہارے  ساتھ رہوں گا۔ میں تم کو بھیج رہا ہوں بس یہی ثبوت ہو گا۔ لوگوں کو مصر کے  با ہر نکال لانے  کے  بعد تم آؤ گے  اور اس پہاڑ پر میری عبادت کرو گے۔ ”

13 تب موسیٰ نے  خدا سے  کہا، ” اگر میں بنی اسرائیلیوں کے  پاس جاؤں گا اور اُن سے  کہوں گا ‘ تم لوگوں کے  باپ دادا کے  خدا نے  مجھے  تمہارے  پاس بھیجا ہے ، ‘ تب لوگ پو چھیں گے ، اُس کا کیا نام ہے ؟ میں اُن سے  کیا کہوں گا؟ ”

14 تب خدا نے  موسیٰ سے  کہا، ” تب ان سے  کہو، ‘ میں جو ہوں سو میں ہوں۔ ‘ جب تم بنی اسرائیلیوں کے  پاس جاؤ تو اُن سے  کہو، ‘ میں جو ہوں ‘ خداوند نے  مجھے  تم لوگوں کے  پاس بھیجا ہے۔ ”

15 خدا نے  موسیٰ سے  یہ بھی کہا، ” لوگوں سے  تم جو کچھ کہوں گے  وہ یہ ہے  :” یہواہ( خداوند )” تمہارے  باپ دادا کا خدا، ابراہیم کا خدا، اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہے۔ میرا نام ہمیشہ یہواہ( خداوند ) رہے  گا۔ اسی طرح لوگ مجھے  صرف اسی نام کے  ساتھ نسل در نسل یاد رکھیں گے۔ لوگوں سے  کہو خداوند نے  مجھے  تمہارے  پاس بھیجا ہے۔ ”

16 خداوند نے  یہ بھی کہا، ” جاؤ اور اسرائیل کے  بزرگوں کو جمع کرو اور اُن سے  کہو، ” یہواہ تمہارے  باپ دادا کا خدا، ابراہیم کا خدا، اسحاق کا خدا، اور یعقوب کے  خدا نے  مجھ سے  باتیں کیں۔ خداوند نے  کہا ہے ، ” میں نے  تم لوگوں کو مصر میں تمہارے  ساتھ ہونے  وا لی ہر چیز سے  بچانے  کا فیصلہ کیا ہے۔ ”

17 میں نے  طے  کیا ہے  کہ مصر میں تم  لوگ جو مصیبت اٹھاتے  رہے  ہو اس مصیبت سے  تم لوگوں کو باہر نکالوں گا۔ اور تم لوگوں کو کنعانی، حتّی، عموری، فرزّی، حوّیوں اور یبوسیوں کے  ملک میں لے  جاؤں گا۔ میں تم لوگوں کو ایسے  اچھے  ملک میں لے  جاؤں گا جو اچھی چیزوں سے  بھرا پڑا ہے۔

18 ” بزرگ تمہاری باتیں سنیں گے  اور پھر تم اور اسرائیلی بزرگ مصر کے  بادشاہ کے  پاس جاؤ گے۔ تم اُس سے  کہو گے   ‘ عبرانی لوگوں کا خدا، خداوند ہے۔ ہما را خدا ہم لوگوں کے  پاس آیا تھا اُس نے  ہم لوگوں سے  تین دن ریگستان میں سفر کرنے  کے   لئے  کہا تھا۔ وہاں ہم لوگ اپنے  خداوند خدا کے   لئے  ضرور قربانی چڑھائیں گے۔ ‘

19 “لیکن میں جانتا ہوں کہ مصر کا بادشاہ تم لوگوں کو مصر چھوڑ کر جانے  نہیں دے  گا جب تک کہ ایک عظیم طاقت اسے  ایسا کرنے  پر مجبور نہ کرے۔

20 اِس  لئے  میں اپنی عظیم طاقت کا استعمال مصر کے  خلاف کروں گا میں اُس ملک میں معجزے  ہونے  دوں گا۔ جب میں ایسا کروں گا تو وہ تم لوگوں کو جانے  دے  گا۔

21 اور میں مصری لوگوں کو اسرائیلی لوگوں کے  ساتھ مہربان بناؤں گا اِس  لئے  جب تم لوگ رخصت ہو گے  تو وہ تمہیں تحفہ دیں گے۔

22 ہر ایک عبرانی عورت اپنے  مصری پڑوسی سے  اور اپنے  گھر میں رہنے  والی مصری عورتوں سے  مانگے  گی اور وہ لوگ اسے  تحفہ دیں گے۔ تمہارے  لوگ تحفہ میں چاندی سونا اور خوبصورت کپڑے  پائیں گے۔ جب تم لوگ مصر کو چھوڑ دو گے  تو تُم لوگ اُن تحفوں کو اپنے  بچوں کو پہناؤ گے  اس طرح تم لوگ مصریوں کو لوٹو گے۔ ”

 

 

 

 

باب:   4

 

 

1 تب موسیٰ نے  فرما یا”لیکن بنی اسرائیلیوں کو مجھ پر بھروسہ نہیں ہو گا۔ جب میں ان سے  کہوں گا کہ تُو نے  مجھے  بھیجا ہے۔ تو وہ کہیں گے ، خداوند نے  تم سے  باتیں نہیں کیں۔ ”

2 لیکن خداوند نے  موسیٰ سے  کہا”تم نے  اپنے  ہاتھ میں کیا لے  رکھا ہے ؟ ” موسیٰ نے  جواب دیا”یہ میری چروا ہی کی لا ٹھی ہے۔ ”

3 تب خداوند نے  کہا”اپنی لا ٹھی کو زمین پر پھینکو۔ “اس  لئے  موسیٰ نے  اپنی لا ٹھی کو زمین پر پھینکا۔ اور لا ٹھی ایک سانپ بن گئی موسیٰ اس سے  دور بھا گ گیا۔

4 لیکن خداوند نے  موسیٰ سے  کہا”آگے  بڑھو اور سانپ کی دُم پکڑ لو۔ “اس  لئے  موسیٰ آگے  بڑھا اور سانپ کی دُم پکڑ لیا جب موسیٰ نے  ایسا کیا تو سانپ پھر لا ٹھی بن گیا۔

5 پھر خدا نے  کہا، “اپنی لا ٹھی کا اسی طرح استعمال کرو۔ اور لوگ یقین کریں گے  کہ تم نے  اپنے  باپ دادا کے  خداوند خدا، ابراہیم کے  خدا، اسحاق کے  خدا اور یعقوب کے  خدا کو دیکھا ہے۔ ”

6 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا”میں تم کو دوسرا ثبوت دوں گا تم اپنے  ہاتھ کو اپنے  جبّہ کے  اندر کرو۔ “اس  لئے  موسیٰ نے  اپنے  جبّہ کو کھو لا اور ہاتھ کو اندر کیا پھر موسیٰ نے  اپنے  ہاتھ کو جبّہ کے  با ہر نکالا اس میں جِلدی بیماری ہو گئی تھی۔ یہ برف کی مانند سفید تھا۔

7 تب خداوند نے  کہا، ” اب تم اپنا ہاتھ پھر جبّہ کے  اندر رکھو اس  لئے  موسیٰ نے  پھر اپنا ہاتھ جبّہ کے  اندر کیا۔ “تب پھر موسیٰ نے  ہاتھ با ہر نکالا اور یہ پہلے  جیسا ہو گیا۔

8 تب خداوند نے  کہا، ” اگر لوگ تمہارا یقین لا ٹھی کے  معجزہ سے  نہ کریں تب انہیں اس کو دکھاؤ، یقیناً وہ لوگ اس دوسرے  معجزہ پر یقین کریں گے۔

9 اگر پھر بھی وہ تمہارے  ان دو چیزوں کے  دیکھنے  کے  بعد یقین نہ کریں تب دریائے  نیل سے  تھوڑا پانی لینا پانی کو زمین پر گرانا شروع کرنا اور جیسے  ہییہ زمین چھوئے  گا خون بن جائے  گا۔ ”

10 لیکن موسیٰ نے  خداوند سے  کہا، “اے  خداوند میں تجھے  سچ کہتا ہوں۔ میں اچھا مُقرّر نہیں ہوں اور نہ میں کبھی تھا۔ ابھی تجھ سے  بات کرنے  کے  بعد بھی میں صاف صاف بول نہیں سکتا ہوں۔ اور تو جانتا ہے  کہ میں رُک رُک کے  بولتا ہوں الفاظ  ٹھیک طرح ادا نہیں کر سکتا۔

11 تب خداوند نے  اُس سے  کہا، ” انسان کا مُنہ کس نے  بنا یا؟ اور ایک انسان کو گونگا اور بہرہ کون بناتا ہے ؟ انسان کو کون دیکھنے  وا لا اور اندھا بنا سکتا ہے ؟ ” وہ میں ہوں جو سبھی چیزوں کو کر سکتا ہوں۔

12 اس  لئے  جاؤ جب تم بولو گے  تو میں تمہارے  ساتھ رہوں گا میں تمہیں بولنے  کے   لئے  الفاظ دوں گا۔ ”

13 لیکن موسیٰ نے  کہا، ” میرے  خداوند میں تجھ سے  التجا کرتا ہوں کہ دوسرے  آدمی  کو بھیج مجھے  نہ بھیج۔ ”

14 خداوند نے  موسیٰ پر غصّہ کیا۔ خداوند نے  کہا، ” میں تم کو ایک آدمی  تمہاری مدد کے   لئے  دوں گا۔ میں تمہارے  بھائی ہا رون لا وی کا استعمال کروں گا۔ وہ ایک اچھا مُقرّر ہے۔ ہا رون تم سے  ملنے  آ رہا ہے۔ وہ تم سے  مل کر بہت خوش ہو گا۔

15 وہ تمہارے  ساتھ فرعون کے  پاس جائے  گا میں تمہیں بتاؤں گا کہ کیا کہنا ہے۔ تب تم ہا رون کو کہو گے  اور ہا رون فرعون سے  بات کرنے  کے   لئے  صحیح الفا ظ چُنے  گا۔

16 ہا رون تمہارے   لئے  لوگوں سے  بھی بات کرے  گا۔ تم اس کے   لئے  خدا کی طرح ہو گے۔ اور وہ تمہارا مُقرّر ہو گا۔

17 اپنی لا ٹھی لو اور اسی لا ٹھی سے  معجزاتی نشانات دکھاؤ۔ ”

18 تب موسیٰ اپنے  سُسر یترو کے  پاس وا پس ہوا۔ موسیٰ نے  یترو سے  کہا، ” میں آپ  سے  التجا کرتا ہوں کہ مجھے  مصر میں اپنے  لوگوں کے  پاس جانے  دو میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ ابھی تک زندہ ہیں۔ ” یترو نے  موسیٰ سے  کہا، ” تُم سلامتی کے  ساتھ جا سکتے  ہو”۔

19 اس وقت جب موسیٰ مدیان میں تھا۔ خداوند نے  اُس سے  کہا، ” اس وقت تمہارا مصر کو جا نا محفوظ ہے۔ جو آدمی  تم کو مارنا چاہتے  تھے  وہ مر چکے  ہیں۔ ”

20 اس  لئے  موسیٰ اپنی بیوی اور اپنے  بیٹوں کو لیا اور انہیں گدھوں پر بٹھا دیا۔ تب موسیٰ نے  ملک مصر وا پسی کا سفر کیا۔ موسیٰ نے  خدا کی لا ٹھی اپنے  ساتھ لی۔

21 جس وقت موسیٰ مصر کی واپسی کے  سفر پر تھے  تو خداوند نے  اُن سے  کہا، ” جب تم مصر وا پس جاتے  ہو تو ان تمام معجزوں کو اسے  دکھانا جس کو دکھانے  کی طاقت میں نے  تمہیں دی ہے۔ لیکن فرعون کو میں بہت ضدّی بنا دوں گا وہ لوگوں کو جانے  کی اجازت نہیں دے  گا۔ ”

22 تم فرعون سے  کہنا :

23 خداوند کہتا ہے  اسرائیل میرا پہلو ٹھا بیٹا ہے  اور میں تم سے  کہتا ہوں کہ میرے  بیٹے  کو جانے  دو۔ اور میری عبادت کرنے  دو۔ اگر تم میرے  پہلوٹھے  بیٹے  کو جانے  سے  منع کرتے  ہو تو میں تمہارے  پہلوٹھے  بیٹے  کو مار ڈالوں گا۔ ”

24 موسیٰ اپنا مصر کا سفر کرتے  رہے۔ مسافروں کے   لئے  بنی ایک جگہ پر وہ سونے  کے   لئے  ٹھہرے۔ خداوند اس جگہ موسیٰ سے  ملا اور اسے  مار ڈالنے  کی کوشش کی۔

25 لیکن صفورہ نے  پتھروں کا ایک تیز چاقو لیا اور اپنے  بیٹے  کا ختنہ کیا۔ اس نے  چمڑے  کو لیا اور اُس کے  پیر چھوئے۔ تب اُس نے  موسیٰ سے  کہا، ” تم میرے   لئے  اپنا خونی دولہا ہو۔ ”

26 صفورہ نے  یہ اس  لئے  کہا کیونکہ اُسے  اپنے  بیٹے  کا ختنہ کرنا پڑا تھا۔ اس  لئے  خدا نے  موسیٰ کو نہیں مارا۔

27 خداوند نے  ہا رون سے  بات کی، ” ریگستان میں جاؤ اور موسیٰ سے  ملو۔ ” اس  لئے  ہا رون گیا اور خدا کے  پہاڑ پر موسیٰ سے  ملا۔ جب ہارون نے  موسیٰ کو دیکھا اُس نے  اُسے  چوم لیا۔

28 موسیٰ نے  ہا رون کو خداوند کے  ذریعے  بھیجے  جانے  کا سبب بتایا اور موسیٰ نے  ہا رون کو ان معجزوں اور ان نشانیوں کو بھی سمجھا یا جسے  اسے  ثبوت کے  طور پر پیش کرنا تھا۔ موسیٰ نے  ہارون کو وہ سب کچھ بتایا جو خداوند نے  کہا تھا۔

29 اس طرح موسیٰ اور ہا رون گئے  اور انہوں نے  بنی اسرائیلیوں کے  تمام بزرگوں کو جمع کیا۔

30 تب ہا رون نے  لوگوں سے  بات کی اور اس نے  وہ ساری باتیں بتائیں جو خداوند نے  موسیٰ سے  کہی تھیں۔ تب موسیٰ نے  تمام ثبوت لوگوں کو دکھائے۔

31 تب لوگوں نے  یقین کیا کہ خدا نے  موسیٰ کو بھیجا ہے۔ انہوں نے  محسوس کیا کہ خدا نے  ان کی مصیبتوں کو دیکھا ہے  اور ان لوگوں کی مدد کرنے  کے   لئے  آیا ہے۔ اس  لئے  انہوں نے  جھک کر سجدہ کیا اور خداوند کی عبادت کی۔

 

 

 

 

 

باب:   5

 

 

1 لوگوں سے  بات کرنے  کے  بعد موسیٰ اور ہا رون فرعون کے  پاس گئے  اُنہوں نے  کہا، ” اسرائیل کا خداوند خدا کہتا ہے ، ‘میرے  لوگوں کو ریگستان میں جانے  دو جس سے  وہ میرے   لئے  تقریب منا سکیں۔ ”

2 لیکن فرعون نے  کہا، ” خداوند کون ہے ؟ میں اِس کا حکم کیوں مانوں؟ میں اِسرائیلیوں کو کیوں جانے  دوں؟ میں اسے  نہیں جانتا جسے  تم خداوند کہتے  ہوں۔ اس  لئے  میں اِسرائیلیوں کو جانے  سے  منع کرتا ہوں۔ ”

3 تب ہا رون اور موسیٰ نے  کہا، ” عبرانیوں کا خدا ہم لوگوں پر ظاہر ہوا تھا۔ اس  لئے  ہم آپ  سے  التجا کرتے  ہیں کہ آپ  ہم لوگوں کو تین دن تک ریگستان میں سفر کرنے  دیں۔ وہاں ہم لوگ خداوند اپنے  خدا کو قربانی پیش کریں گے۔ اگر ہم لوگ ایسا نہیں کریں گے  تو وہ غصّہ میں آ جائے  گا اور ہمیں تباہ کر دے  گا۔ وہ ہم لوگوں کو بیماری یا تلوار سے  مار سکتا ہے۔ ”

4 لیکن مصر کے  بادشاہ نے  ان لوگوں سے  کہا، ” اے  موسیٰ اور ہا رون، کیوں تم لوگوں کو ان کے  کام پر جانے  سے  روک رہے  ہو؟ اپنا کام کرو!

5 اور فرعون نے  کہا، ” یہاں بہت سے  کام کرنے  والے  ہیں تم لوگ انہیں اپنا کام کرنے  سے  روک رہے  ہو۔ ”

6 اسی دن فرعون نے  بنی اسرائیلیوں کے  کام کو اور زیادہ سخت کرنے  کا حکم دیا فرعون نے  غلاموں کے  آقاؤں سے  کہا۔

7 ” تم نے  لوگوں کو ہمیشہ بھُوسا دیا جس کو وہ لوگ اینٹ بنانے  میں استعمال کرتے  ہیں۔ لیکن اب ان سے  کہو کہ وہ اینٹ بنانے  کے   لئے  بھُوسا خود جمع کریں۔

8 لیکن وہ اب بھی اتنی ہی اینٹیں بنائیں جتنی وہ پہلے  بناتے  تھے۔ وہ کا ہل ہو گئے  ہیں یہی وجہ ہے  کہ وہ جانے  کا مطالبہ کر رہے  ہیں ان کے  پاس کرنے  کے   لئے  کافی کام نہیں ہے۔ اِس  لئے  وہ مجھ سے  مطالبہ کر رہے  ہیں کہ میں انہیں ان کے  خدا کے   لئے  قربانی پیش کرنے  دوں۔

9 اِس  لئے  ان لوگوں سے  اور زیادہ سخت کام کراؤ۔ انہیں کام میں لگائے  رکھو۔ اب ان کے  پاس اتنا وقت ہی نہیں ہو گا کہ وہ جھوٹی باتیں سُنیں۔ ”

10 تب غلاموں کے  آقا اور فرعون کے  عہدیدار ان لوگوں کے  پاس گئے  اور کہا، ” فرعون نے  فیصلہ کیا ہے  کہ تم لوگوں کو بھو سا نہ دیا جائے۔

11 تُم لوگوں کو بھو سا خود جمع کرنا ہو گا اس  لئے  جاؤ اور بھو سا دیکھو لیکن تم لوگ اتنی ہی اینٹیں بناؤ جتنی پہلے  بناتے  تھے۔ ”

12 اس  لئے  لوگ مصر بھر میں بھو سا کی کھوج میں گئے۔

13 غلاموں کے  آقا لوگوں پر زیادہ سخت کام کرنے  کے   لئے  دباؤ ڈالتے  رہے۔ وہ انہیں اتنی ہی اینٹیں بنانے  کے   لئے  جتنی پہلے  بنا یا کرتے  تھے  دباؤ ڈالتے  تھے۔

14 مصری غلاموں کے  آقاؤں نے  اسرائیلی لوگوں کے  کا رندے  چُن رکھے  تھے۔ اور انہی لوگوں کو کام کا ذمّہ دار بنا رکھا تھا۔ مصری غلام کے  آقا ان کارندوں کو پیٹتے  تھے  اور ان سے  کہتے  تھے  ” تم اتنی ہی اینٹیں کیوں نہیں بناتے  جتنی پہلے  بنا رہے  تھے۔ جب یہ کام تم پہلے  کر سکتے  تھے  تو تم اسے  اب بھی کر سکتے  ہو۔ ”

15 تب اسرائیلی لوگوں کے  کارندے  فرعون کے  پاس گئے  انہوں نے  شکایت کی اور کہا، ” آپ  اپنے  خادموں ہم لوگوں کے  ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہے  ہیں؟ ”

16 آپ  نے  ہم لوگوں کو بھو سا نہیں دیا لیکن ہم لوگوں کو حکم دیا گیا کہ اتنی ہی اینٹیں بنائیں جتنی پہلے  بناتے  تھے۔ اور اب ہم لوگوں کے  آقا ہمیں پیٹتے  ہیں۔ ایسا کرنے  میں آپ  کے  لوگوں کی غلطی ہے۔ ”

17 فرعون نے  جواب دیا، ” تم لوگ کاہل ہو تم لوگ کام کرنا نہیں چاہتے۔ اس  لئے  تم لوگ یہ جگہ چھوڑ نا چاہتے  ہو۔ اور خداوند کو قربانی پیش کر نا چاہتے  ہو۔

18 اب کام پر واپس جاؤ۔ ہم تم لوگوں کو کوئی بھو سا نہیں دیں گے۔ لیکن تم لوگ اتنی ہی اینٹیں بناؤ جتنی پہلے  بنا یا کرتے  تھے۔ ”

19 اسرائیلی لوگوں کے  کارندوں نے  ان کے  بُرے  ارادے  کو سمجھ لیا جب انہوں نے  کہا، اپنے  روزانہ کے  مقرّرہ اینٹوں سے  کم اینٹیں مت بناؤ!

20 فرعون سے  ملنے  کے  بعد جب وہ جا رہے  تھے  تو وہ موسیٰ اور ہارون کے  پاس سے  نکلے  موسیٰ اور ہارون ان کا انتظار کر رہے  تھے۔

21 اس  لئے  انہوں نے  موسیٰ اور ہارون سے  کہا”تم لوگوں نے  بُرا کیا تم نے  فرعون سے  ہم لوگوں کو جانے  دینے  کے   لئے  کہا خداوند تم کو سزا دے  کیونکہ تم لوگوں نے  فرعون اور اس کے  حاکموں میں ہم لوگوں کی طرف سے  نفرت پیدا کی۔ تم نے  ہم لوگوں کو مار نے  کا ایک بہانہ انہیں دیا ہے۔ ”

22 تب موسیٰ خداوند کے  پاس واپس آیا اور کہا “اے  آقا تو نے  اپنے  لوگوں کے   لئے  ایسا بُرا کام کیوں کیا ہے ؟ تُو نے  ہمیں یہاں کیوں بھیجا ہے ؟

23 میں فرعون کے  پاس گیا اور جو تُو نے  کہنے  کو کہا وہ میں نے  اُس سے  کہا لیکن اس وقت سے  وہ لوگوں کے  اور زیادہ خلاف ہو گیا اور تُو نے  ان کی مدد کے   لئے  کچھ نہیں کیا ہے۔ ”

 

 

 

 

 

باب:   6

 

 

1 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” اب تم دیکھو گے  کہ فرعون کا میں کیا کرتا ہوں۔ میں اپنی عظیم قدرت کا استعمال اس کے  خلاف کروں گا۔ اس کے  بعد وہ نہ صرف میرے  لوگوں کو جانے  دے  گا بلکہ وہ انہیں جانے  کے   لئے  مجبور کرے  گا۔ ”

2 تب خدا نے  موسیٰ سے  کہا، ”

3 میں خداوند ہوں۔ میں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے  سامنے  ظاہر ہوا تھا۔ اُنہوں نے  مجھے  ایل شدائی ( خدا قادر مطلق ) کہا۔ میں نے  ان کو یہ نہیں بتا یا کہ میرا نام یہواہ (خدا ) ہے۔

4 میں نے  ان کے  ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ میں نے  وعدہ کیا کہ اُن کو کنعان کی زمین دوں گا۔ وہ اس ملک میں رہتے  تھے۔ لیکن وہ ان کا اپنا ملک نہیں تھا۔

5 اب میں بنی اسرائیلیوں کی مصیبت کے  متعلق جانتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ مصر کے  غلام ہیں۔ اور مجھے  اپنا معاہدہ یاد ہے۔

6 میں تمہیں مصر میں تمہاری مصیبتوں سے  دور لے  جانے  اور ان کی غلامی سے  بچانے  جا رہا ہوں اور میں تمہیں آزاد کروں گا جب میں ان لوگوں کے   لئے  عظیم سزا لاؤں گا۔

7 میں تم لوگوں کو اپنے  لوگوں کی طرح لے  لوں گا اور میں تم لوگوں کا خدا ہوں گا۔ تب تم لوگ جانو گے  کہ میں خداوند تم لوگوں کا خدا ہوں جو تم لوگوں کو مصر میں تمہاری مصیبتوں سے  آزاد کیا۔

8 میں نے  ابراہیم، اسحاق اور یعقوب سے  معاہدہ کیا تھا۔ میں نے  انہیں ایک خاص ملک دینے  کا وعدہ کیا تھا۔ اس  لئے  میں تم لوگوں کو اس ملک تک لے  جاؤں گا۔ میں وہ ملک تم لوگوں کو دوں گا وہ تم لوگوں کا ہو گا۔ میں تمہارا خداوند ہوں۔ ”

9 اِس  لئے  موسیٰ نے  یہ بات بنی اسرائیلیوں کو بتائی۔ لیکن ان لوگوں نے  اس کی بات نہیں سُنی۔ کیونکہ وہ لوگ بہت سخت محنت کر رہے  تھے ، وہ لوگ صبر کرنے  والے  نہیں تھے۔

10 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

11 “جاؤ اور مصر کے  بادشاہ فرعون سے  کہو کہ وہ بنی اسرائیل کے  لوگوں کو اس ملک سے  یقیناً جانے  دے۔ ”

12 لیکن موسیٰ نے  خداوند کو جواب دیا، “بنی اسرائیل میری بات سننا نہیں چاہتے  ہیں تو یقیناً فرعون بھی سننا نہیں چاہے  گا۔ میں بہت خراب مقُرِّر ہوں۔ ”

13 لیکن خداوند نے  موسیٰ اور ہارون سے  بات کی اور انہیں جانے  اور بنی اسرائیلیوں سے  باتیں کرنے  کا حکم دیا۔ اور یہ بھی حکم دیا کہ وہ جائیں اور مصر کے  بادشاہ فرعون سے  باتیں کریں اور بنی اسرائیلیوں کو مصر سے  باہر لے  جائیں۔

14 اسرائیل کے  خاندان کے  قائدین کے  نام یہ ہیں :اِسرائیل کے  پہلے  بیٹے  روبن کے  بیٹے  تھے  : حنوک، فلّو، حسرون اور کرمی۔ یہ سب روبن کے  قبیلے  تھے۔

15 شمعون کے  بیٹے  یہ تھے  : یمو ئیل، یمین، اُہد، یکین، صُحر اور ساؤل۔ ساؤل کنعانی عورت سے  پیدا ہوا تھا۔ یہ سب شمعون کے  قبیلے  تھے۔

16 لا وی ایک سو سینتیس سال تک رہا۔ لا وی کے  بیٹے  ان کی نسل کے  مطا بق، جیر سون، قہات اور مراری تھے۔

17 جیر سون کے  بیٹے  ان کے  خاندانوں کے  حساب سے  تھے  لبنی اور سمعی۔

18 قہات ایک سو تینتیس سال تک رہا۔ قہات کے  بیٹے  عمرام، اضہار، حبرون اور عُزّئیل تھے۔

19 مراری کے  بیٹے  محلی اور موشی تھے۔ ان کی نسل کے  مطابق یہ سارے  قبیلے  لا وی سے  تھے۔

20 عمرام ایک سو سینتیس سال تک رہا۔ عمرام  نے  اپنے  باپ کی بہن یو کبد سے  شادی کی۔ عمرام اور یوکبد سے  ہا رون ا ور موسیٰ پیدا ہوئے۔

21 اضہار کے  بیٹے  قورح، نفج اور زکری تھے۔

22 عُزّئیل کے  بیٹے  میسا ئیل، الصفن اور ستری تھے۔

23 ہارون نے  الیسبع سے  شادی کی ( الیسبع عمّینداب کی بیٹی اور نحسون کی بہن تھی ) ہا رون اور الیسبع سے  ناداب، ابیہو، الیعزر، اور اتمر پیدا ہوئے۔

24 قورح کے  بیٹے  ( قورچیوں کے  آباء  و اجداد) اسیر، القنہ، ابیاسف تھے

25 ہا رون کے  بیٹے  الیعزر نے  فوطیل کی بیٹیوں میں سے  ایک بیٹی سے  شادی کی۔ اس سے  فینحاس پیدا ہوا۔ یہ تمام لوگ لا وی کے  مختلف قبیلے  سے  تھے۔

26 ہا رون اور موسیٰ وہ آدمی  تھے  جن سے  خداوند نے  بات کی اور کہا، ” میرے  لوگوں کو گروہوں میں بانٹ کر مصر سے  نکالو۔ ”

27 ہا رون اور موسیٰ نے  ہی مصر کے  بادشاہ فرعون سے  بات چیت کی۔ اُنہوں نے  فرعون سے  کہا کہ وہ بنی اسرائیلیوں کو مصر سے  جانے  دے۔

28 ملک مصر میں خدا نے  موسیٰ سے  بات چیت کی۔

29 اُس نے  کہا، ” میں خداوند ہوں۔ مصر کے  بادشاہ فرعون سے  وہ تمام باتیں کہو جو میں تُم سے  کہا ہوں۔ ”

30 لیکن موسیٰ نے  خداوند کو جواب دیا، ” میں اچھا مُقرّر نہیں ہوں۔ فرعون میری بات نہیں سُنے  گا۔ ”

 

 

 

باب:   7

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” میں تمہیں فرعون کے   لئے  خدا کی مانند بنا دوں گا۔ اور ہا رون تمہارا پیغام رساں ہو گا۔

2 جو حکم میں تمہیں دے  رہا ہوں وہ سب کچھ اپنے  بھائی ہا رون سے  کہو۔ تب وہ اِن باتوں کو جو میں کہہ رہا ہوں فرعون سے  کہے  گا۔ اور فرعون بنی اسرائیلیوں کو اس ملک سے  جانے  دے  گا

3 لیکن میں فرعون کو ضدّی بناؤں گا۔ تا کہ میں مصر میں کئی معجزے  اور نشانات دکھاؤں گا۔

4 اِس  لئے  تب میں مصر کو سخت سزا دوں گا۔ اور میں اپنے  لوگوں کو قبیلوں میں بانٹ کر اِس ملک سے  باہر لے  چلوں گا۔

5 تب مصر کے  لوگوں کو معلوم ہو گا کہ میں خداوند ہو ں، جب میں اپنی طاقت کو ان لوگوں کے  خلاف استعمال کروں گا اور اپنے  لوگوں کو اُن کے  ملک سے  باہر لے  جاؤں گا۔ ”

6 موسیٰ اور ہا رون نے  ان باتوں کی اطاعت کی جو خداوند نے  ان سے  کہی تھی۔

7 جب انہوں نے  فرعون سے  بات کی اُس وقت موسیٰ اسّی سال کے  اور ہا رون تراسی سال کے  تھے۔

8 خداوند نے  موسیٰ اور ہا رون سے  کہا،

9 ” فرعون تم سے  معجزہ دکھانے  کو کہے  گا۔ ہا رون سے  اُس کا عصا زمین پر پھینکنے  کو کہنا۔ جس وقت فرعون دیکھ رہا ہو گا اُسی وقت عصا سانپ بن جائے  گا۔ ”

10 اِس  لئے  موسیٰ اور ہا رون فرعون کے  پاس گئے  اور خداوند کے  حکم کی تعمیل کی۔ ہا رون نے  اپنا عصا نیچے  پھینکا۔ فرعون اور اُس کے  عہدیداروں کے  دیکھتے  ہی دیکھتے  عصا سانپ بن گیا۔

11 اِس  لئے  فرعون نے  اپنے  عالموں اور جادوگروں کو بُلا یا۔ اُن لوگوں نے  بھی اپنے  جا دو سے  ہارون کی  طرح ہی کیا۔

12 اُنہوں نے  اپنی لاٹھیاں زمین پرپھینکیں اور وہ سانپ بن گئیں۔ لیکن ہا رون کی لا ٹھی نے  اُن لاٹھیوں کو کھا لیا۔

13 فرعون ضدّی ہو گیا۔ یہ ویسا ہی ہوا جیسا خداوند نے  کہا تھا۔ فرعون نے  موسیٰ اور ہا رون کی بات سننے  سے  انکار کر دیا۔

14 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” فرعون ضد پر ہے۔ فرعون لوگوں کو مصر چھوڑنے  سے  منع کرتا ہے۔

15 صبح سویرے  فرعون دریا پر جائے  گا۔ اُس کے  ساتھ دریائے  نیل کے  کنا رے  جاؤ۔ اس عصا کو اپنے  ساتھ لے  لو جو سانپ بنا تھا۔

16 اُس سے  یہ کہو : عبرانی لوگوں کے  خداوند نے  ہم کو تمہارے  پاس بھیجا ہے۔ خداوند نے  مجھے  تم سے  یہ کہنے  کے   لئے  کہا ہے۔ میرے  لوگوں کو میری عبادت کرنے  کے   لئے  ریگستان میں جانے  دو۔ تُم نے  ابھی تک خداوند کی بات پر کان نہیں دھرا ہے۔

17 اس  لئے  خداوند کہتا ہے  کہ میں ایسا کروں گا جس سے  تم جان لو گے  کہ میں خداوند ہوں۔ میں اپنے  ہاتھ کی اِس لا ٹھی کولے  کر دریائے  نیل کے  پانی میں ماروں گا اور دریائے  نیل خون میں بدل جائے  گا۔

18 تب دریائے  نیل کی مچھلیاں مر جائیں گی اور دریا سے  بد بو آنا شروع ہو جائے  گی اور مصری لو گ دریا سے  پانی نہیں پی سکیں گے۔ ”

19 خداوند نے  موسیٰ کو یہ حکم دیا : ” ہا رون سے  کہو وہ ندیوں، نہروں، جھیلوں اور تالابوں اور تمام جگہوں پر جہاں مصر کے  لوگ پانی حاصل کرتے  ہیں اپنے  ہاتھ کے  عصا کو بڑھائے  جب وہ ایسا کرے  گا تو سارا پانی خون میں بدل جائے  گا۔ سارا پانی یہاں تک کہ لکڑی اور پتھر کے  گھڑوں کا بھی پانی خون میں بدل جائے  گا۔ ”

20 اس  لئے  موسیٰ اور ہا رون نے  خداوند کا جیسا حکم تھا ویسا کیا۔ اُس نے  لا ٹھی اُٹھائی اور دریائے  نیل کے  پانی پر مارا۔ اُس نے  یہ فرعون اور اُس کے  عہدیداروں کے  سامنے  کیا۔ پھر دریا کا سارا پانی خون میں تبدیل ہو گیا۔

21 دریا میں مچھلیاں مر گئیں اور دریا سے  بدبو آنے  لگی۔ اِس  لئے  مصری دریا سے  پانی نہیں پی سکتے  تھے۔ مصر میں ہر طرف خون تھا۔

22 جا دو گروں نے  اپنی جا دو گری دکھائی اور اُنہوں نے  بھی ویسا ہی کیا۔ اِس  لئے  فرعون ضدّی ہو گیا اور موسیٰ اور ہا رون کی سننے  سے  انکار کیا۔ یہ ٹھیک ویسا ہی ہوا جیسا خداوند نے  کہا تھا۔

23 فرعون پلٹا اور اپنے  گھر چلا گیا۔ جو کچھ موسیٰ اور ہارون نے  کیا فرعون نے  اُس کو نظر انداز کیا۔

24 مصری دریا سے  پانی نہیں پی سکتے  تھے۔ اِس  لئے  پینے  کے  پانی کے   لئے  اُنہوں نے  دریا کے  چاروں طرف کنویں کھو دے۔

25 خداوند کی طرف سے  دریائے  نیل کے  بدلے  جانے  کے  بعد سات دن گذر گئے۔

 

 

 

باب:   8

 

 

1 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” فرعون کے  پاس جاؤ اور اُس کو کہو کہ خداوند یہ کہتا ہے ، ‘ میرے  آدمیوں کو میری عبادت کرنے  کے   لئے  جانے  دو۔

2 اگر فرعون ان کو جانے  سے  روکتا ہے  تو میں مصر کو مینڈکوں سے  بھر دوں گا۔

3 دریائے  نیل مینڈکوں سے  بھر جائے  گا وہ دریا سے  نکلیں گے  اور تمہارے  گھروں میں گھُسیں گے۔ وہ تمہارے  سونے  کے  کمروں اور تمہارے  بستروں میں ہوں گے۔ مینڈک تمہارے  عہدیداروں کے  گھروں میں اور تمہارے  لوگوں کے  گھروں میں، باورچی خانہ میں اور تمہارے  پانی کے  گھڑوں میں ہوں گے۔

4 مینڈک پوری طرح تمہارے  اوپر تمہارے  لوگوں پر اور تمہارے  عہدیداروں پر ہوں گے۔ ”

5 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” ہارون سے  کہو وہ اپنے  عصا کو نہروں دریاؤں اور جھیلوں کے  اُوپر اُٹھائے  اور مینڈک با ہر نکل کر مصر کے  ملک میں بھر جائیں گے۔ ”

6 تب ہا رون نے  ملک مصر میں جہاں بھی پانی تھا اُس کے  اُوپر ہاتھ اُٹھا یا اور مینڈک پانی سے  باہر آنے  شروع ہو گئے  اور پو رے  ملک مصر کو ڈھک دیا۔

7 جا دو گروں نے  بھی اپنے  جادو سے  ایسا ہی کیا وہ بھی ملک مصر میں مینڈک لے  آئے۔

8 فرعون نے  موسیٰ اور ہا رون کو بُلا یا۔ فرعون نے  کہا، ” خداوند سے  کہو کہ وہ مجھ پر اور میرے  لوگوں پر سے  مینڈکوں کو ہٹائے  تب میں لوگوں کو خداوند کے   لئے  قربانی دینے  کو جانے  دوں گا۔ ”

9 موسیٰ نے  فرعون سے  کہا، ” مجھے  یہ بتائیں کہ آپ  کب چاہتے  ہیں کہ مینڈک چلے  جائیں۔ میں آپ  کے   لئے  آپ  کے  لوگوں کے   لئے  اور آپ  کے  عہدیداروں کے   لئے  دُعا کروں گا۔ تب مینڈک آپ  کو اور آپ  کے  گھروں کو چھوڑ دیں گے۔ مینڈک صرف دریا میں رہ جائیں گے۔ ”

10 فرعون نے  کہا، “کل ” موسیٰ نے  کہا، ” جیسا آپ  چاہتے  ہیں ویسا ہی ہو گا۔ اس طرح آپ  کو معلوم ہو گا کہ خداوند کے  جیسا دوسرا کوئی خدا نہیں ہے۔

11 مینڈک آپ  کو آپ  کے  گھر کو عہدیداروں کو آپ  کے  لوگوں کو چھوڑ دیں گے۔ مینڈک صرف دریا میں رہ جائیں گے۔ ”

12 موسیٰ اور ہا رون فرعون سے  رخصت ہوئے۔ موسیٰ نے  ان مینڈکوں کے   لئے  جنہیں فرعون کے  خلاف خداوند نے  بھیجا تھا خداوند کو پُکارا۔

13 اور خداوند نے  وہ کیا جو موسیٰ نے  کہا تھا۔ مینڈک گھروں میں گھر کے  آنگن میں اور کھیتوں میں مر گئے۔

14 ان لوگوں نے  مینڈکوں کو جمع کر کے  کئی ڈھیر لگا دیئے۔ اور پو را ملک بد بو سے  بھر گیا۔

15 جب فرعون نے  دیکھا کہ وہ مینڈکوں سے  نجات پا گئے  ہیں تو وہ پھر ضدّی ہو گیا۔ فرعون نے  ویسا نہیں کیا جیسا کہ موسیٰ اور ہا رون نے  اس سے  کرنے  کو کہا تھا یہ بالکل اُسی طرح ہوا جیسا خداوند نے  کہا تھا۔

16 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” ہا رون سے  کہو کہ وہ اپنا عصا اٹھائے  اور اسے  زمین کی گرد وغبار پر مارے  تب مصر میں ہر جگہ سارے  گرد جوئیں بن جائیں گے۔ ”

17 اُنہوں نے  یہ کیا۔ ہا رون نے  اپنے  ہاتھ کے  عصا کو اُٹھا یا اور زمین پر دھول میں مارا اور مصر میں ہر طرف دھول جوئیں بن گئیں۔ جوئیں جانوروں اور آدمیوں پر چھا گئیں۔

18 جا دو گروں نے  اپنے  جادو کا استعمال کیا اور ویسا ہی کر نا چا ہا لیکن جادو گر زمین کی گرد سے  جوئیں نہ بنا سکے۔ جوئیں آدمیوں اور جانوروں پر چھائی رہیں۔

19 اسی لئے  جادوگروں نے  فرعون سے  کہا کہ خدا کی طاقت نے  ہی یہ کیا ہے  لیکن فرعون ان کی سننے  سے  انکار کر دیا۔ یہ ٹھیک ویسا ہی ہوا جیسا خداوند نے  کہا تھا۔

20 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” صبح اُٹھو اور فرعون کے  پاس جاؤ۔ فرعون دریا پر جائے  گا۔ اُس سے  کہو کہ خداوند کہہ رہا ہے ، ‘ میرے  لوگوں کو میری عبادت کے   لئے  بھیجو۔

21 اگر تم میرے  لوگوں کو نہیں جانے  دو گے  تو تمہارے  گھروں میں مکھّیاں ہوں گی، مکھیاں تمہارے  اوپر اور تمہارے  عہدیداروں کے  اُوپر اور تمہارے  لوگوں کے  اوپر چھا جائیں گی۔ مصر کے  گھر مکھیوں سے  بھر جائیں گے۔ زمین بھی مکھیوں سے  بھر جائے  گی۔

22 لیکن میں آج جشن کے  لوگوں کے  ساتھ ویسا سلوک نہیں کروں گا۔ وہاں کوئی مکھی نہیں ہو گی۔ اس طرح تم کو معلوم ہو گا کہ میں خداوند یہاں اس ملک میں ہوں۔

23 میں کل اپنے  لوگوں کے  ساتھ تمہارے  لوگوں سے  مختلف برتاؤ کروں گا یہی میرا ثبوت ہو گا “۔

24 خداوند نے ، وہی کیا جو اُس نے  کہا۔ جھنڈ کے  جھنڈ مکھیاں مصر میں آئیں مکھیاں فرعون کے  گھر اور اُس کے  تمام عہدیداروں کے  گھر میں بھر گئیں۔ مکھیاں پو رے  ملک مصر میں بھر گئیں۔ مکھیاں ملک کو تباہ کر رہی تھیں۔

25 اس  لئے  فرعون نے  موسیٰ اور ہا رون کو بُلا یا، فرعون نے  ان لوگوں سے  کہا، ” تُم لوگ اپنے  خداوند خدا کو اسی ملک میں قربانی پیش کرو۔ ”

26 لیکن موسیٰ نے  فرما یا، ” ویسا کر نا ٹھیک نہیں ہو گا۔ مصری سوچتے  ہیں کہ ہما رے  خداوند خدا کو جانوروں کو مار کر قُربانی پیش کر نا ایک بھیانک بات ہے۔ اس  لئے  اگر ہم لوگ یہاں ایسا کرتے  ہیں تو مصری ہمیں دیکھیں گے۔ وہ ہم لوگوں پر پتھر پھینکیں گے  اور ہمیں مار ڈالیں گے۔

27 ہم لوگوں کو تین دن تک ریگستان میں جا نے  دو اور ہمیں اپنے  خداوند خدا کو قربانی پیش کرنے  دو۔ یہی بات ہے  جو خداوند نے  ہم لوگوں سے  کرنے  کو کہا ہے۔ ”

28 اس  لئے  فرعون نے  کہا، ” میں تم لوگوں کو جانے  دوں گا۔ اور ریگستان میں خداوند تمہارے  خدا کو قربانی پیش کرنے  دوں گا۔ لیکن تم لوگوں کو زیادہ دور نہیں جانا چاہئے  اب تم جاؤ اور میرے   لئے  دعا کرو۔ ”

29 موسیٰ نے  کہا، ” دیکھو میں جاؤں گا اور خداوند سے  دعا کروں گا کہ شاید کل وہ تم سے  تمہارے  لوگوں سے  اور تمہارے  عہدیداروں سے  مکھیوں کو ہٹا لے۔ لیکن تم لوگ خداوند کے   لئے  قربانیاں پیش کرنے  سے  مت روکو۔”

30 اس  لئے  موسیٰ فرعون کے  پاس سے  گیا اور خداوند سے  دعا کی۔

31 اور خداوند نے  وہی کیا جو موسیٰ نے  کہا۔ خداوند نے  مکھیوں کو فرعون، اُس کے  عہدیداروں اور اُس کے  لوگوں سے  ہٹا لیا۔ کوئی مکھی نہیں رہی۔

32 لیکن فرعون پھر ضدّی ہو گیا اور اُس نے  لوگوں کو نہیں جانے  دیا۔

 

 

 

باب:   9

 

 

1 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، فرعون کے  پاس جاؤ اور اُس سے  کہو : ” عبرانی لوگوں کا خداوند خدا کہتا ہے ، میری عبادت کے   لئے  میرے  لوگوں کو جانے  دو۔ ‘

2 اگر تم انہیں روکتے  رہے  اور ان کو جانے  سے  منع کرتے  رہے۔

3 پھر خداوند اپنی طاقت سے  تمہارے  کھیتوں کے  جانوروں پر یعنی گھوڑے ، گدھے ، اُونٹ، گائے ، بیل، بکریاں اور مینڈھوں پر بھیانک بیماریاں لائے  گا۔

4 خداوند بنی اسرائیل کے  جانوروں کے  ساتھ مصر کے  جانوروں سے  الگ برتاؤ کرے  گا۔ بنی اسرائیلیوں کا کوئی جانور نہیں مرے  گا۔

5 خداوند نے  وقت طے  کر دیا ہے۔ کل خداوند اس ملک میں واقعہ ہونے  دے  گا۔ “‘

6 خداوند نے  ویسا ہی کیا جیسا اس نے  کہا تھا۔ دوسری صبح مصر کے  کھیت کے  تمام جانور مر گئے۔ لیکن بنی اسرائیلیوں کے  جانور میں سے  کوئی نہیں مرا۔

7 فرعون نے  لوگوں کو یہ دیکھنے  کے   لئے  بھیجا کہ کیا بنی اسرائیلیوں کا کوئی جانور مرا یا نہیں۔ فرعون ضد پر قائم رہا اس نے  لوگوں کو نہیں جانے  دیا۔

8 خداوند نے  موسیٰ اور ہا رون سے  کہا “اپنی مٹھی میں بھٹی کی راکھ لو اور موسیٰ تم فرعون کے  سامنے  راکھ کو ہوا میں پھینکنا۔

9 یہ دھول بن جائے  گی اور پو رے  ملک مصر میں پھیل جائے  گی۔ یہ دھُول جب بھی کسی آدمی  یا جانور پر مصر میں پڑے  گی چمڑی پر پھوڑے  پھنسی ( زخم )پھوٹ نکلیں گے۔ ”

10 اس  لئے  موسیٰ اور ہارون نے  راکھ لی۔ تب وہ گئے  اور فرعون کے  سامنے  کھڑے  ہو گئے  اور موسیٰ نے  راکھ کو ہوا میں پھینکی اور انسانوں اور جانوروں کو پھوڑے  شروع ہونے  لگے۔

11 جادو گر موسیٰ کو ایسا کرنے  سے  نہ روک سکے  کیونکہ جا دو گروں کو بھی پھوڑے  ہو گئے  تھے۔ سارے  مصر میں ایسا ہی ہوا تھا۔

12 لیکن خداوند نے  فرعون کو ضدّی بنائے  رکھا۔ اس  لئے  فرعون نے  موسیٰ اور ہا رون کو سننے  سے  انکار کر دیا۔ یہ ویسا ہی ہوا جیسا خداوند نے  موسیٰ سے  کہا تھا۔

13 تب خداوند نے  موسی ٰ سے  کہا، ” صبح اُٹھو اور فرعون کے  پاس جاؤ۔ اس سے  کہو کہ عبرانی لوگوں کا خداوند خدا کہتا ہے ، ‘ میرے  لوگوں کو میری عبادت کے   لئے  جانے  دو۔

14 اب میں اپنی ساری قدرت، تمہارے  عہدیداروں اور تمہارے  لوگوں کے  خلاف استعمال کروں گا۔ تب تمہیں معلوم ہو گا کہ میرے  جیسا دُنیا میں دُوسرا کوئی خدا نہیں ہے۔

15 میں اپنی طاقت کا استعمال کر سکتا ہوں اور میں ایسی بیمار ی پھیلا سکتا ہوں جو تمہیں اور تمہارے  لوگوں کو زمین سے  ختم کر دے  گی۔

16 ہاں، اس لئے  میں نے  تمہیں طاقت دی،تا کہ میں تمہیں اپنی طاقت دکھا سکوں۔ اس  لئے  ساری زمین کے  لوگ میرا نام جانیں گے۔

17 تم اب بھی میرے  لوگوں کے  خلاف ہو۔ تم انہیں نہیں جانے  دے  رہے  ہو۔

18 اِس  لئے  کل میں اسی وقت بھیانک قسم کے  اولے  کی بارش برساؤں گا۔ جب سے  ملک مصر بنا آج تک مصر میں ایسے  اولے  کی بارش کبھی نہیں آئی ہو گی۔

19 اپنے  جانوروں کو محفوظ جگہ میں رکھنا۔ جو کچھ تمہارا کھیتوں میں ہے  اسے  ضرور محفوظ جگہوں پر رکھ لینا۔ کیونکہ کوئی بھی انسان یا جانور جو میدانوں میں ہو گا مارا جائے  گا۔ جو کچھ تمہارے  گھروں کے  اندر نہیں رکھا ہو گا ان سب پر اولے  پڑیں گے۔ “‘

20 فرعون کے  کچھ عہدیداروں نے  خداوند کے  پیغام پر کچھ دھیان دیا۔ اُن لوگوں نے  جلدی جلدی اپنے  جانوروں اور غلاموں کو گھر میں رکھ لیا۔

21 لیکن دوسرے  لوگوں نے  خداوند کے  پیغام کی پرواہ نہیں کی ان لوگوں کے  جانور اور غلام جو باہر میدانوں میں تھے  تباہ ہو گئے۔

22 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” اپنے  بازوؤں کو ہوا میں اوپر اُٹھاؤ۔ تب سارے  مصر کے  انسانوں، جانوروں اور کھیتوں کے  پودوں پر اولے  گرنا شروع ہو جائیں گے۔ ”

23 موسیٰ نے  اپنے  عصا کو ہوا میں اٹھا یا تب خداوند نے  گرج اور بجلیاں بھیجیں۔ اور خداوند نے  زمین پر اولے  بر سائے۔

24 اولے  پڑ رہے  تھے  اور اولوں کے  ساتھ بجلی چمک رہی تھی۔ جب سے  ملک مصر بنا تھا اس وقت سے  اب تک ایسے  خطرناک اولے  نہیں پڑے  تھے۔

25 انسانوں سے  لے  کر جانوروں تک کھیتوں میں جو کچھ بھی تھا اولے  سے  برباد ہو گیا تھا۔ اور اولوں نے  کھیتوں میں تمام درختوں کو بھی توڑ دیا۔

26 جشن کا علاقہ ہی ایسا تھا جہاں بنی اسرائیل رہتے  تھے  وہاں اولے  نہیں پڑے۔

27 فرعون نے  موسیٰ اور ہا رون کو بُلا یا فرعون نے  ان سے  کہا، ” اس دفعہ میں نے  گناہ کیا ہے۔ خداوند سچا ہے۔ میں اور میرے  لوگ غلط ہیں۔

28 اولے  اور خدا کی گرجتی آوا زیں بہت زیادہ ہیں۔ خداوند سے  اولے  روکنے  کو کہو۔ میں تم لوگوں کو جانے  دوں گا۔ تم لوگوں کو اب یہاں رہنا نہیں پڑے  گا۔ ”

29 موسیٰ نے  فرعون سے  کہا، ” جب میں شہر کو چھوڑوں گا تب میں اپنے  دونوں ہاتھوں کو خداوند کے  سامنے  دعا کے   لئے  اٹھاؤں گا۔ تب گرج اور اولے  رک جائیں گے۔ تب تمہیں معلوم ہو گا کہ پوری دنیا خداوند کی ہے۔

30 لیکن میں جانتا ہوں کہ تم اور تمہارے  عہدیدار اب بھی خداوند خدا سے  نہیں ڈرتے  اور نہ ہی اُس کی تعظیم کرتے  ہو۔ ”

31 جُوٹ( پٹ سن ) میں دانے  پڑ چکے  تھے۔ اور جو پہلے  ہی پھٹ چکا تھا۔ اس  لئے  یہ فصلیں تباہ ہو گئیں تھیں۔

32 لیکن گیہوں کی فصل دوسری فصلوں کے  بعد پکتے  ہیں اس  لئے  یہ فصل تباہ نہیں ہوئی تھیں۔

33 موسیٰ نے  فرعون کو چھوڑا اور شہر کے  با ہر چلا گیا۔ اُس نے  خداوند کے  سامنے  اپنے  بازو پھیلائے  تو بجلی اور اولے  بند ہو گئی۔ بارش بھی بند ہو گئی۔

34 جب فرعون نے  دیکھا کہ بارش اولے  اور بجلی کا گرج بند ہو گئے  تو پھر وہ ا ور اس کے  عہدے  دار ضدی ہو گئے  اور غلط کام کئے۔

35 چونکہ فرعون ضدی تھا اس  لئے  اس نے  بنی اسرائیلیوں کو آزادانہ جانے  سے  روک دیا۔ یہ بالکل اسی طرح ہوا جیسا خداوند نے  موسیٰ سے  کہا تھا۔

 

 

 

باب:  10

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” فرعون کے  پاس جاؤ میں نے  اُسے  اور اُس کے  عہدے  داروں کو ضدّی بنا دیا ہے۔ میں نے  ایسا اس  لئے  کیا ہے  کہ میں انہیں اپنے  طاقتور معجزے  دکھا سکوں۔

2 میں نے  یہ اِس  لئے  بھی کیا کہ تم اپنے  بیٹے ، بیٹیوں اور پوتے  پوتیوں سے  اِن معجزوں اور عجیب نشانیوں کو بتا سکو جو میں نے  مصر میں دکھا یا ہے۔ تب تم سب کو معلوم ہو گا کہ میں خداوند ہوں۔

3 اِس  لئے  موسیٰ اور ہا رون فرعون کے  پاس گئے۔ اُنہوں نے  اُس سے  کہا، ” عبرانی لوگوں کا خداوند خدا کہتا ہے ، ‘ تم میرے  احکام کی تعمیل کرنے  سے  کب تک انکار کرو گے ؟ میرے  لوگوں کو میری عبادت کرنے  کے   لئے  جانے  دو۔

4 اگر تم میرے  لوگوں کو جانے  سے  منع کرتے  ہو تو میں کل تمہارے  ملک میں ٹڈیوں کو لاؤں گا۔

5 ٹڈیاں پوری زمین کو ڈھانک لیں گی۔ ٹڈیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو گی کہ تم زمین نہیں دیکھ سکو گے۔ جو کچھ بھی اولے  بھرے  آندھی سے  بچ گئی ہے  اسے  ٹڈیاں کھا جائیں گی۔ ٹڈیاں کھیتوں میں درختوں کی ساری پتیاں کھا جائیں گی۔

6 ٹڈیاں تمہارے  تمام گھروں تمہارے  تمام عہدیداروں کے  گھروں اور مصر کے  تمام گھروں میں بھر جائیں گی۔ کسی نے  بھی پہلے  کبھی جتنی ٹڈیاں مصر میں دیکھی ہوں گی  اس سے  بھی زیادہ ٹڈیاں تم دیکھو گے۔ “‘ تب موسیٰ پلٹا اور فرعون کو چھوڑ دیا۔

7 فرعون کے  عہدیداروں نے  اس سے  پو چھا، ” ہم لوگ کب تک ان لوگوں کے  جال میں پھنسے  رہیں گے۔ لوگوں کو ان کے  خداوند خدا کی عبادت کرنے  کے   لئے  جانے  دو۔ کیا تجھے  اب تک معلوم نہیں کہ مصر برباد ہو چکا ہے۔ ”

8 فرعون کے  عہدیداروں نے  موسیٰ اور ہا رون کو اپنے  پاس واپس بُلانے  کو کہا۔ فرعون نے  اُن سے  کہا، ” جاؤ اور اپنے  خداوند خدا کی عبادت کرو۔ لیکن مجھے  بتاؤ کہ دراصل کون کون جا رہا ہے ؟ ”

9 موسیٰ نے  جواب دیا، ” ہمارے  جوان اور بوڑھے  لوگ جائیں گے۔ اور ہم لوگ اپنے  ساتھ اپنے  بیٹوں اور بیٹیوں اور مینڈھے  اور جانوروں کو بھی لے  جائیں گے  ِ۔ ہم سبھی جائیں گے۔ کیونکہ یہ ہم سب لوگوں کے   لئے  خداوند کی تقریب ہو گی۔ ”

10 فرعون نے  ان لوگوں سے  کہا، ” اس سے  پہلے  کہ میں تمہیں اور تمہارے  تمام بچوں کو مصر چھوڑ کر جانے  دوں یقیناً خداوند کو تمہارے  ساتھ ہو نا ہو گا۔ دیکھو تم لوگ بہت بُرا منصوبہ بنا رہے  ہو۔

11 صرف مرد جا سکتے  ہیں اور خداوند کی عبادت کر سکتے  ہیں۔ تُم نے  ابتدا میں صرف یہی مطالبہ کیا تھا۔ ” تب فرعون نے  موسیٰ اور ہا رون کو بھیج دیا۔

12 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” مصر کی زمین کے  اوپر اپنا ہاتھ اُٹھاؤ۔ ٹڈیاں آ جائیں گی اور ٹڈیاں مصر کی تمام زمین پر پھیل جائیں گی۔ ٹڈیاں اولوں سے  بچے  ہوئے  اس زمین کے  تمام درختوں کو کھا جائیں گی۔ ”

13 موسیٰ نے  اپنے  عصا کو ملک مصر کے  اوپر اٹھا یا اور خداوند نے  مشرق سے  خوفناک آندھی چلا ئی۔ آندھی سارا دن اور ساری رات چلتی رہی جب صبح ہوئی تو آندھی ٹڈیوں کو لا چکی تھی۔

14 ٹڈیاں ملک مصر میں اُڑ کر آئیں اور زمین پر بیٹھ گئیں۔ مصر میں پہلے  کبھی جتنی ٹڈیاں ہوئی تھیں ان سے  بھی زیادہ ٹڈیاں اس وقت تھیں اور اتنی تعداد میں وہاں ٹڈیاں پھر کبھی نہیں ہوں گی۔

15 ٹڈیوں نے  زمین کو ڈھانک لیا اور سارے  ملک میں اندھیرا چھا گیا۔ ٹڈیوں نے  کھیتوں میں سارے  پودوں کو کھا لیا۔ مصر میں ایک بھی درخت یا پودا نہیں تھا جس میں کوئی پتہ بچا ہوا ہو۔

16 فرعون نے  موسیٰ اور ہارون کو جلدی بُلا یا۔ فرعون نے  کہا، ” میں نے  تمہارے  اور تمہارے  خداوند کے  خلاف گناہ کیا ہے۔

17 صرف اس وقت میرے  گناہ کو معاف کرو اور خداوند اپنے  خدا سے  دعا کروتا کہ یہ ‘موت ‘ ( ٹڈیوں ) ہم سے  دور جا سکے۔ ”

18 موسیٰ فرعون کو چھوڑ کر چلے  گئے  اور اُس نے  خداوند خدا سے  دعا کی۔

19 اِس  لئے  خداوند نے  ہوا کا رُخ بدل دیا۔ خداوند نے  مغرب سے  تیز آندھی چلائی اور اُس نے  ٹڈیوں کو دور بحیرہ احمر میں اڑا دیا۔ ایک بھی ٹڈی مصر میں نہیں بچی۔

20 لیکن خداوند نے  فرعون کو پھر ضدّی کر دیا اور فرعون نے  بنی اسرائیلیوں کو جانے  نہیں دیا۔

21 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” اپنے  ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاؤ اور اندھیرا مصر پر چھا جائے  گا۔ یہ اندھیرا اتنا ہو گا جسے  تم محسوس کر سکو گے ! ”

22 اس  لئے  موسیٰ نے  ہوا میں اپنے  ہاتھ اٹھائے  اور گہرے  اندھیرے  نے  مصر کو ڈھک لیا۔ مصر میں تین دن تک اندھیرا رہا۔

23 کوئی کسی دوسرے  کو نہیں دیکھ سکتا تھا اور تین دن تک کوئی اپنی جگہ سے  نہیں اٹھ سکا۔ لیکن ان تمام جگہوں پر جہاں بنی اسرائیل رہتے  تھے  روشنی تھی۔

24 فرعون نے  موسیٰ کو پھر بُلا یا اور کہا، ” جاؤ اور خداوند کی عبادت کرو! تم اپنے  ساتھ اپنے  بچوں کولے  جا سکتے  ہو۔ صرف اپنی بھیڑیں اور جانور یہاں چھوڑ دینا۔ ”

25 موسیٰ نے  فرمایا، ” تم ہم لوگوں کو نذرانے  اور قربانی کے   لئے  جانور بھی دو گے  اور ہم لوگ ان کو خداوند اپنے  خدا کی عبادت میں استعمال کریں گے۔

26 ہم لوگ اپنے  جانور اپنے  ساتھ خداوند کی عبادت کے  لئے  لے  جائیں گے۔ ایک جانور بھی پیچھے  نہیں چھوڑا جائے  گا۔ اب تک ہمیں نہیں معلوم کہ خداوند کی عبادت کے   لئے  کن چیزوں کی ضرورت ہو گی۔ یہ ہم لوگوں کو اُسی وقت معلوم ہو گا جب ہم لوگ وہاں پہنچیں گے  جہاں ہم جا رہے  ہیں۔ اس  لئے  ہم لوگ ان تمام چیزوں کو اپنے  ساتھ لے  جائیں گے۔ ”

27 خداوند نے  فرعون کو ضدّی بنا یا۔ اس  لئے  فرعون اُن کو جانے  سے  منع کر دیا۔

28 تب فرعون نے  موسیٰ سے  کہا، ” مجھ سے  دور ہو جاؤ۔ میں نہیں چاہتا کہ تم پھر یہاں آؤ۔ اِس کے  بعد اگر تم مجھ سے  ملنے  آؤ گے  تو مارے  جاؤ گے۔ ”

29 تب موسیٰ نے  فرعون سے  کہا، ” تم جو کہتے  ہو صحیح ہے۔ میں تم سے  ملنے  پھر کبھی نہیں آؤں گا۔ ”

 

 

 

 

باب:   11

 

 

1 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، “فرعون اور مصر کے  خلاف میں ایک آفت لاؤں گا اس کے  بعد وہ تم لوگوں کو مصر سے  بھیج دے  گا:وہ تم لو گوں کو یہ ملک چھوڑنے  کے   لئے  دباؤ ڈالے  گا۔

2 تم بنی اسرائیلیوں کو یہ پیغام ضرور دینا:تم سب مرد اور عورتیں اپنے  پڑوسیوں سے  چاندی اور سونے  کی چیزیں مانگنا۔

3 خداوند مصریوں کو تم لوگوں پر مہربان بنائے  گا۔ مصری لوگ یہاں تک کہ فرعون کے  عہدیدار بھی پہلے  سے  موسیٰ کوعظیم شخصیت سمجھتے  ہیں۔ ”

4 موسیٰ نے  کہا”خداوند کہتا ہے ، آج تقریباً آدھی رات کے  وقت میں مصر سے  ہو کر گذروں گا،

5 اور مصر کا ہر ایک پہلو ٹھا بیٹا مصر کے  حاکم فرعون کے  پہلوٹھے  بیٹے  سے  لے  کر چکّی چلانے  وا لی خادمہ تک کا پہلا بیٹا مر جائے  گا۔ پہلوٹھے  نر جانور بھی مریں گے۔

6 مصر کی سر زمین پر رونا پیٹنا ہو گا۔ جیسا نہ ماضی میں ہوا ہے  نہ کبھی مستقبل میں ہو گا۔ لیکن کسی بھی اسرائیلی کوچوٹ نہیں پہنچائی جائے  گی۔

7 یہاں تک کہ اسرائیلی لوگوں کے  کسی شخص یا جانور پر کتّا بھی نہیں بھونکے  گا۔ اس طرح تم جان جاؤ گے  کہ میں نے  بنی اسرائیلیوں کے  ساتھ مصری لوگوں سے  مختلف سلوک کیا۔

8 تب تمہارے  تمام عہدیدار آئیں گے  اور وہ مجھے  سجدہ کریں گے۔ وہ لوگ کہیں گے  ” جاؤ اور اپنے  سبھی لوگوں کو اپنے  ساتھ لے  جاؤ۔ تب میں نے  فرعون کو غصّہ میں چھوڑ دیا۔ ”

9 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا “فرعون نے  تمہاری بات نہیں سنی۔ کیوں؟ تاکہ میں اپنی عظیم طاقت مصر میں دکھا سکوں “۔

10 یہی وجہ تھی کہ موسیٰ اور ہا رون نے  فرعون کے  سامنے  یہ بڑے  بڑے  معجزے  دکھائے۔ اور یہی وجہ ہے  کہ خداوند نے  فرعون کو اتنا ضدّی بنا یا۔ کہ وہ بنی اسرائیلیوں کو اپنا ملک نہ چھوڑنے  دے۔

 

 

 

باب:   12

 

 

1 موسیٰ اور ہا رون جب مصر میں تھے۔ خداوند نے  ان سے  کہا :

2 یہ ” مہینہ تم لوگوں کے   لئے  سال کا پہلا مہینہ ہو گا۔

3 بنی اسرائیل کی پوری قوم کے   لئے  یہ حکم ہے  : اس مہینہ کے  دسویں دن ہر ایک آدمی  اپنے  خاندان کے  لوگوں کے   لئے  ایک میمنہ ضرور حاصل کرے  گا۔

4 اگر پو را میمنہ کھانے  والے  آدمی  اپنے  خاندان میں نہ ہوں تو اُس کھانے  میں اپنے  پڑوسیوں کو ملا لینا چاہئے۔ ہر ایک کے  کھانے  کے   لئے  کافی میمنہ ہو نا چاہئے۔

5 ایک سال کا یہ نر میمنہ بالکل صحت مند ہو نا چاہئے۔ یہ جانور یا تو ایک مینڈھے  کا بچہ یا بکری کا بچہ ہو سکتا ہے۔

6 تمہیں اُس جانور کو مہینہ کے  چودھویں دن تک بہت ہوشیاری کے  ساتھ رکھنا چاہئے۔ اس دن اسرائیل کی قوم کے  تمام لوگوں کو شام ہونے  پر اس جانور کو ذبح کر نا چاہئے۔

7 ان جانوروں کا خون تمہیں جمع کر نا چاہئے۔ کچھ خون ان گھروں کے  دروازوں کی چوکھٹوں کے  اوپری حصہ اور دونوں کناروں پر جن گھروں میں لوگ یہ کھا نا کھاتے  ہیں لگانا چاہئے۔

8 ” اس رات تم میمنہ کو ضرور بھون لینا اور گوشت کھانا۔ تمہیں کڑوی جڑ ی بوٹیاں اور بے  خمیری روٹیاں بھی کھانی چاہئے۔

9 تم کو میمنہ کو کچا نہیں کھانا چاہئے۔ میمنہ کو پانی میں نہیں اُبالنا چاہئے۔ تمہیں پو رے  میمنہ کو آ گ پر بھوننا چاہئے۔ میمنہ کا سر اس کے  پیر اور اس کا اندرونی حصہ پہلے  جیسا ہی رہنا چاہئے۔

10 اسی رات کو تمہیں پو را گوشت ضرور کھا لینا چاہئے۔ اگر تھوڑا گوشت صبح تک بچ جائے  تو اسے  آ گ میں ضرور جلا دینا چاہئے۔

11 ” جب تم کھانا کھاؤ تو ایسا لباس پہنو جیسے  تم سفر پر جا رہے  ہو۔ تم کو پوری طرح سے  ملبوس ہو نا چاہئے۔ تم لوگ اپنے  جوتے  پہنے  رہنا اور اپنے  سفر کی چھڑی کو اپنے  ہاتھوں میں رکھنا۔ تم لوگوں کو کھانا جلدی کھانا چاہئے  کیونکہ یہ خداوند کے  فسح کی تقریب ہے

12 ” میں آج رات مصر سے  ہو کر گزروں گا۔ اور مصر میں ہر پہلوٹھے  کو مار ڈالوں گا۔ میں مصر کے  تمام خداؤں کو سزا دوں گا۔ اور دکھاؤں گا کہ میں خداوند ہوں۔

13 لیکن تم لوگوں کے  گھروں پر لگا ہوا خون ایک خاص نشان ہو گا جب میں دیکھوں گا توتم لوگوں کے  گھروں کو چھوڑتا ہوا گذر جاؤں گا۔ میں مصری لوگوں کو مار ڈالوں گا۔ لیکن تم میں سے  کسی کو بھی نہیں ماروں گا۔

14 “تم لوگ آج کی رات کو ہمیشہ یاد رکھو گے۔ کیونکہ تم لوگوں کے   لئے  یہ ایک خاص تقریب ہو گی۔ تمہاری نسل ہمیشہ اس مقدس تقریب سے  خداوند کو تعظیم دیا کرے  گی۔

15 اس مقدس تقریب پر تم بے  خمیری آٹے  کی روٹیاں سات دنوں تک کھاؤ گے۔ اس مقدس تقریب کے  آنے  پر تم لوگ پہلے  دن اپنے  گھروں سے  سارے  خمیر کو با ہر ہٹا دو گے۔ اس مقدّس تقریب کے  پو رے  سات دن تک اگر کوئی بھی شخص خمیر کھائے  تو اُسے  تم اسرائیل کے  دوسرے  لوگوں سے  بالکل الگ کر دینا۔

16 اس مقدس تقریب کے  پہلے  اور آخری دنوں میں مقدس اِجلاس منعقد ہو گی۔ ان دنوں تمہیں کوئی کام نہیں کرنا چاہئے۔ ان دنوں صرف ایک کام جو کیا جا سکتا ہے  وہ اپنا کھانا تیار کر نا۔

17 ” تم لوگوں کو بے  خمیری روٹی کی تقریب کو ضرور یاد رکھنا چاہئے۔ کیوں؟ کیونکہ اس دن ہی میں نے  تمہارے  لوگوں کو گروہوں میں مصر سے  با ہر نکال لا یا۔ اس  لئے  تم لوگوں کی تمام نسلوں کو یہ دن یاد رکھنا چاہئے۔ یہ قانون ایسا ہے  جو ہمیشہ رہے  گا۔

18 اس  لئے  پہلے  مہینے  کے  چودھویں دن کی شام سے  تم لوگ بے  خمیری روٹی کھانا شروع کرو گے۔ اسی مہینے  کے  اکیسویں دن کی شام تک تم ایسی روٹی کھاؤ گے۔

19 سات دن تک تم لوگوں کے  گھروں میں کوئی خمیر نہیں ہونا چاہئے۔ کوئی بھی آدمی  چا ہے  وہ اِسرائیل کا شہری ہو یا اجنبی جو اس وقت خمیر کھائے  گا دوسرے  اسرائیلیوں سے  اسے  ضرور علیٰحدہ کر دیا جائے  گا۔

20 اس مقدس تقریب میں تم لوگوں کو خمیر نہیں کھانا چاہئے۔ تم جہاں بھی رہو، بے  خمیری روٹی ہی کھا نا۔ ”

21 اس  لئے  موسیٰ نے  تمام اسرائیلی بزرگوں کو ایک جگہ پر بُلا یا۔ موسیٰ نے  ان سے  کہا، ” اپنے  خاندانوں کے   لئے  میمنے  حاصل کرو فسح کی تقریب کے   لئے  میمنے ذبح کرو۔

22 زوفا کے  گچھوں کو لے  کر خون سے  بھرے  برتن میں انہیں ڈباؤ۔ خون سے  چوکھٹوں کے  دونوں کناروں اور اوپری حصّوں کو رنگ دو۔ کوئی بھی آدمی  صبح ہونے  سے  پہلے  اپنا گھر نہ چھوڑے۔

23 اس وقت جب خداوند پہلوٹھی  اولادوں کو مار نے  کے   لئے  مصر سے  ہو کر جائے  گا تو وہ چو کھٹ کے  دونوں کنارے  اور اوپری سروں پر خون دیکھے  گا۔ تب خداوند اس گھر کی حفاظت کرے  گا۔ خداوند تباہ کرنے  والے  اور نقصان پہنچانے  والے  کو تمہارے  گھروں میں نہیں آنے  دے  گا۔

24 تم لوگ اس حکم کو ضرور یاد رکھنا۔ یہ قانون تم لوگوں اور تم لوگوں کی نسلوں کے   لئے  ہمیشہ کے   لئے  ہے۔

25 تم لوگوں کو یہ کام کر نا تب بھی یاد رکھنا ہو گا جب تم لوگ اس ملک میں پہنچو گے  جو خداوند تم لوگوں کو دے  گا۔

26 جب تم لوگوں کے  بچّے  تم سے  پو چھیں گے ، ‘ ہم لوگ یہ تقریب کیوں مناتے  ہیں؟ ‘

27 تم لوگ کہو گے ، ‘یہ فسح کی تقریب خداوند کی تعظیم کے   لئے  ہے۔ کیونکہ جب ہم لوگ مصر میں تھے ، تب خداوند ہم لوگوں کے  گھروں سے  ہو کر گزرا تھا۔ خداوند نے  مصریوں کو مار ڈالا۔ لیکن اس نے  ہم لوگوں کے  گھروں میں ہم لوگوں کو بچا یا۔ اِس  لئے  لوگ اب خداوند کی جھک کر تعظیم اور عبادت کرتے  ہیں۔ ”

28 خداوند نے  یہ حکم موسیٰ ا ور ہارون کو دیا تھا۔ اِس  لئے  بنی اسرائیلیوں نے  وہی کیا جو خداوند کا حکم تھا۔

29 آدھی رات کو خداوند نے  مصر کے  تمام پہلوٹھے  بیٹوں، فرعون کے  پہلوٹھے  بیٹے  ( جو مصر کا حاکم تھا ) سے  لے  کر قید خانے  میں بیٹھے  قیدی کے  بیٹے  تک کو مار ڈالا۔ پہلوٹھے  جانور بھی مر گئے۔

30 مصر میں اُس رات ہر گھر میں کوئی نہ کوئی مرا۔ اس رات فرعون اُس کے  عہدیدار اور مصر کے  تمام لوگ زور سے  رونے  اور چیخنے  لگے۔

31 اس  لئے  اُس رات فرعون نے  موسیٰ اور ہا رون کو بُلا یا۔ فرعون نے  اُن سے  کہا، ” تیار ہو جاؤ اور ہما رے  لوگوں کو چھوڑ کر چلے  جاؤ۔ تم اور تمہارے  لوگ ویسا ہی کر سکتے  ہو جیسا تم کہتے  ہو۔ جاؤ اور خداوند کی عبادت کرو۔

32 اور جیسا تم نے  کہا ہے  کہ تم اپنی بھیڑیں اور مویشی اپنے  ساتھ لے  جانا چاہتے  ہولے  جاؤ اور مجھے  بھی دُعا دو۔ ”

33 مصر کے  لوگوں نے  بھی کہا، ” ہم لوگ بھی مر جائیں گے  اگر تم نہیں جاؤ گے۔ ” اور ان لوگوں نے  بنی اسرائیلیوں کو جلدی جانے  کے   لئے  مجبور کیا! ”

34 لوگوں کے  پاس اتنا وقت نہیں ہے  کہ وہ اپنی روٹی پھلنے  دے۔ اُنہوں نے  گوندھے  آٹے  کے  پراٹھوں کو اپنے  کپڑوں میں لپیٹا اور اسے  اپنے  کندھوں پر رکھ کر لے  گئے۔

35 تب بنی اسرائیلیوں نے  وہی کیا جو موسیٰ نے  کرنے  کو کہا۔ وہ اپنے  مصری پڑوسیوں کے  پاس گئے  اور اُن سے  لباس اور سونے  چاندی کی بنی چیزیں مانگیں۔

36 خداوند نے  مصریوں کو بنی اسرائیلیوں کے  تئیں رحم دل بنا یا۔ اِس  طرح بنی اسرائیلیوں نے  مصری لوگوں سے  دولت حاصل کی۔

37 بنی اسرائیلیوں نے  رعمیس سے  سکات تک سفر کیا۔ وہ تقریباً چھ لا کھ آدمی  تھے۔ اس میں بچے  شامل نہیں تھے۔

38 اُن کے  ساتھ اُن کی بھیڑیں، گائے ، بکریاں اور دوسری کئی چیزیں تھیں۔ اُن کے  ساتھ کچھ ایسے  دوسرے  لوگ بھی سفر کر رہے  تھے  جو اسرائیلی نہیں تھے۔ لیکن وہ بنی اسرائیلیوں کے  ساتھ گئے۔

39 لیکن لو گوں کو روٹی پھُلنے  دینے  کا وقت نہ ملا کیونکہ وہ مصر سے  بہت تیزی سے  نکال دیئے  گئے  تھے  اور اُنہوں نے  اپنے  سفر کے   لئے  کوئی خاص کھانا نہیں بنا یا۔ اس  لئے  اُن کو گوندھے  ہوئے  آٹے  سے  بغیر خمیر کے  ہی روٹیاں بنانی پڑی جسے  کہ وہ مصر سے  لائے  تھے۔

40 بنی اسرائیل مصر میں  430 سال تک رہے۔

41 چار سو تیس سال بعد بالکل اُسی دن خداوند کی ساری فوج مصر سے  نکل گئی۔

42 کیونکہ اس خاص رات کو خداوند نے  ان لوگوں کو مصر سے  باہرنگاہِ کرم کرنے  کے   لئے  رکھا تھا۔ اسی طرح اس رات کو نسل در نسل سبھی بنی اسرائیلیوں کو خداوند کو تعظیم دینے  کے   لئے  ہمیشہ ہمیشہ چوکسی برتنا چاہئے۔

43 خداوند نے  موسیٰ اور ہا رون سے  کہا فسح کی تقریب کے  اُصول یہ ہیں : کوئی اجنبی فسح کی تقریب میں سے  نہیں کھائے  گا۔

44 لیکن اگر کوئی آدمی  غلام کو خرید لے  گا اور اگر اُس کا ختنہ کرے  گا تو وہ غلام اُس فسح میں سے  کھا سکتا ہے۔

45 لیکن اگر کوئی آدمی  صرف تم لو گوں کے  ملک میں رہتا ہے  یا تمہارے   لئے  کسی آدمی  کو مزدوری پر رکھا گیا ہے  تو اُس آدمی  کو اُس فسح میں سے  نہیں کھانا چاہئے۔

46 ” اسے  ایک گھر کے  اندر ہی کھا نا کھانا چاہئے۔ کوئی بھی کھانا گھر کے  با ہر نہیں لے  جانا چاہئے۔ میمنے کی کسی ہڈی کو نہ توڑو۔

47 پوری اسرائیلی قوم اس تقریب کو ضرور منائے۔

48 اگر کوئی ایسا آدمی  تم لوگوں کے  ساتھ رہتا ہے  جو بنی اِسرائیل کی قوم کا نہیں ہے  لیکن وہ فسح کی تقریب میں شامل ہو نا چاہتا ہے  تو ہر مرد کا ختنہ کیا ہوا ہو نا چاہئے۔ تب پھر وہ اسرائیل کے  مساوی ہو گا اور وہ کھانے  میں حصّہ لے  سکتا ہے۔ اگر اُس آدمی  کا ختنہ نہیں ہوا ہے  تو وہ اس فسح کی تقریب کے  کھانے  میں سے  نہیں کھا سکتا۔

49 یہی اُصول ہر ایک پر لا گو ہوں گے۔ اُصولوں کے  لا گو ہونے  میں اُس بات کا کوئی امتیاز نہیں ہو گا کہ وہ آدمی  تمہارے  ملک کا شہری ہے  یا غیر ملکی ہے۔ ”

50 اس  لئے  سبھی بنی اسرائیلیوں نے  احکام کی تعمیل کی جنہیںخداوند نے  موسیٰ اور ہا رون کو دیا تھا۔

51 اس طرح خداوند اسی دن سبھی بنی اسرائیلیوں کو مصر سے  با ہر لے  گیا۔ لوگ گروہوں میں نکلے۔

 

 

 

 

 

باب:   13

 

 

1 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2 ” تمہیں اسرائیلیوں میں سے  ہر پہلوٹھے  مرد کو مجھے  دینا چاہئے۔ ہر ایک عورت کا پہلا نر بچہ اور ہر جانور کا پہلا نر بچہ میرا ہو گا۔ ”

3 موسیٰ نے  لوگوں سے  کہا، ” اس دن کو یاد رکھو جب تم لوگ مصر میں غلام تھے  لیکن اُس دن خداوند نے  اپنی عظیم قدرت کا استعمال کیا اور تم لوگوں کو آزاد کیا تم لوگ خمیر کے  ساتھ روٹی مت کھا نا۔

4 آج ہی کے  دن ابیب کے  مہینے  میں تم لوگوں نے مصر چھوڑا  ہے۔

5 خداوند نے  تم لوگوں کے  باپ دادا سے  خاص وعدہ کیا تھا۔ خداوند نے  تم لوگوں کو کنعانی، حتّی، عموری، حوّی، اور یبوسی لوگوں کی زمیندینے  کا وعدہ کیا تھا۔ خداوند جب تم لوگوں کو اچھّی چیزوں سے  بھرے ہوئے ملک میں پہنچا دے  تب تم لوگ اس دن کو ضرور یاد رکھنا۔ تم لوگ ہر سال کے  پہلے  مہینے  میں اِس دن کو خاص عبادت کا دن رکھنا۔

6 ” سات دن تک تم لوگ وہی روٹی کھا نا جس میں خمیر نہ ہو۔ ساتویں دن خداوند کے   لئے  ایک دعوت ہو گی یہ دعوت خداوند کی تعظیم کے  اہتمام کے   لئے  ہو گی۔

7 سات دن تک لوگوں کو خمیر کے  ساتھ بنی روٹی نہیں کھا نا چاہئے۔ تمہارے  ملک میں خمیر کی کوئی روٹی نہیں ہونی چاہئے  یہاں تک کے  کسی بھی جگہ خمیر نہیں ہونی چاہئے۔

8 اُس دن تم کو اپنے  بچّوں سے  کہنا چاہئے  یہ اس لئے  کیونکہ خداوند نے  مجھے  مصر سے  باہر نکالا۔ ‘

9 “یہ مُقدس دن تم لوگوں کو یاد رکھنے  میں مدد کرے  گا۔ یہ تم لوگوں کے  ہاتھ پر باندھے  دھا گے  کا کام کرے  گا۔ یہ مقدس دن خداوند کی تعلیمات کو یاد کرنے  میں تمہاری مدد کرے  گا۔ تمہیں یہ یاد دلانے  میں مدد کرے  گا کہ خداوند نے  تم لوگوں کو مصر سے  باہر نکالنے  کے   لئے  اپنی عظیم قدرت کو استعمال کیا۔

10 اِس  لئے  ہر سال اُس دن کو ٹھیک وقت پر یاد رکھو۔

11 ” خداوند تم لوگوں کو اُس ملک میں لے  چلے  گا جسے  تم لوگوں کو اور تمہارے  آباء و  اجداد کو دینے  کے   لئے  اس نے  وعدہ کیا تھا۔ اِس وقت وہاں کنعانی لوگ رہتے  ہیں۔

12 تم لوگ اپنے  ہر ایک پہلوٹھے  بیٹے  کو دینا یاد رکھنا۔ اور ہر نر جانور جو پہلو ٹھا ہو خداوند کو دینا ہو گا۔

13 ہر پہلو ٹھا گدھا خداوند سے  واپس خریدا جا سکتا ہے۔ تم لوگ اس کے  بدلے میمنے کو پیش کر کے  گدھے  کو رکھ سکتے  ہو۔ اگر تم خداوند سے  گدھا خرید نا نہیں چاہتے۔ تب تم کو اس کی گردن توڑ ڈالنی چاہئے۔ ہر ایک پہلو ٹھا لڑ کا ضرور خداوند سے  لا یا جانا چاہئے۔

14 “مستقبل میں تمہارے  بچّے  پو چھیں گے  کہ تم کیا کرتے  ہو۔ وہ کہیں گے  ‘ان سب کا کیا مطلب ہے ؟ ‘اور تم جواب دو گے   ‘خداوند نے  ہم لوگوں کو مصر سے  بچانے  کے   لئے  عظیم قدرت کا استعمال کیا جب ہم لوگ وہاں غلام تھے۔ لیکن خداوند نے  ہم لوگوں کو باہر نکالا اور یہاں لا یا۔

15 مصر میں فرعون ضدّی تھا اس نے  ہم لوگوں کو جانے  نہیں دیا تھا۔ لیکن خداوند نے  اس ملک کے  تمام نر پہلو ٹھی اولادوں کو مار ڈالا تھا۔ خداوند نے  پہلوٹھے  نر جانوروں اور پہلوٹھے  بیٹوں کو مار ڈالا۔ اس  لئے  ہم لوگ انسان اور جانور دونوں کے  ہر ایک پہلوٹھا خداوند کو پیش کرتے  ہیں۔ اور یہی وجہ ہے  کہ ہم پہلوٹھے  بیٹوں کو پھر خداوند سے  واپس خریدتے  ہیں۔ ‘

16 یہ تمہارے  ہاتھ پر بندھے  دھا گے  کی طرح ہے  اور یہ تمہاری آنکھوں کے  سامنے  ایک نشان کی طرح ہے۔ یہ اُسے  یاد کرنے  میں مدد کرتا ہے  کہ خداوند اپنی عظیم قدرت سے  ہم لوگوں کو مصر سے  باہر لا یا۔ ”

17 فرعون نے  لوگوں کو مصر چھوڑنے  کے   لئے  مجبور کیا۔ خداوند نے  لوگوں کو فلسطین جانے  والی سڑک پکڑنے  کی اجازت نہیں دی، جو کہ سب سے  نزدیک پڑتا ہے۔ لیکن خدا نے  کہا “اگر لوگ اس راستہ سے  جائیں گے  تو انہیں لڑ نا پڑے  گا پھر وہ اپنا دل بدل سکتے  ہیں اور مصر کو واپس ہو سکتے  ہیں۔ ”

18 اس  لئے  خدا انہیں دوسرے  راستہ سے  لے  گیا وہ بحیرہ قلزم کے  کنارے  ریگستان سے  لے  گیا۔ لیکن بنی اسرائیل جنگ کے   لئے  لباس پہنے  تیار تھے۔

19 موسیٰ یوسف کی ہڈیوں کو اپنے  ساتھ لے  گیا۔ مرنے  سے  پہلے  یوسف نے  اسرائیل کی اولاد سے  یہ کرنے  کا وعدہ کر لیا تھا۔ یوسف نے  کہا” جب خدا تم لوگوں کو بچائے  میری ہڈیوں کو مصر کے  باہر اپنے  ساتھ لے  جانا یاد رکھنا۔ ”

20 بنی اسرائیلیوں نے  سکات شہر کو چھوڑا اور ایتام میں خیمہ ڈالا ایتام ریگستان کے  کونے  پر تھا۔

21 خداوند نے  راستہ دکھا یا۔ دن کے  وقت خداوند بادل کے  ستون میں ان لوگوں کو راستہ دکھانے  کے   لئے  تھا۔ اور رات میں خداوند آ گ کے  ستون میں تھا روشنی دینے  کے  لئے۔ تاکہ وہ دن اور رات میں بھی سفر کر سکیں۔

22 بادل کا ستون ہمیشہ دن میں اُن کے  ساتھ رہا۔ اور رات کو آ گ کا ستون ہمیشہ ان کے  ساتھ رہا۔

 

 

 

 

باب:   14

 

 

1 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2 “لوگوں سے  کہو وا پس جائیں اور بعل صفون کے  نزدیک مجدول اور بحیرہ  قلزم کے  بیچ فی ہخیروت سے  پہلے  خیمہ لگائیں۔

3 فرعون سوچے  گا کہ بنی اسرائیل ریگستان میں بھٹک گئے  ہیں اور وہ سوچے  گا کہ لوگوں کو کوئی جگہ نہیں ملے  گی جہاں وہ جائیں گے۔

4 میں فرعون کی ہمت بڑھاؤں گاتا کہ وہ تم لوگوں کا پیچھا کرے  لیکن میں فرعون اور اُس کی فوج کو شکست دوں گا۔ اس  لئے  مجھے  فخر حاصل ہو گا۔ تب مصر کے  لوگوں کو معلوم ہو گا کہ میں ہی خداوند ہوں۔ بنی اسرائیلیوں نے  وہی کیا جو خدا نے  اسے  کرنے  کے   لئے  کہا تھا۔

5 جب مصر کے  بادشاہ نے  یہ جانا کہ بنی اسرائیل بھا گ گئے  ہیں تو اُس نے  اور اُس کے  عہدیداروں نے  ان لوگوں کے  با رے  میں اپنا خیال بدل دیا۔ فرعون نے  کہا “ہم لوگوں نے  ایسا کیوں کیا؟ ہم لوگوں نے  انہیں بھا گنے  کی اجازت کیوں دی؟ اب ہمارے  غلام ہما رے  ہاتھوں سے  نکل گئے  ہیں۔ ”

6 اس  لئے  فرعون نے  جنگی رتھ کو تیار کیا اور اپنی فوج کو ساتھ لیا۔

7 فرعون نے  اپنے  لوگوں میں سے  ۶۰۰ سب سے  اچھے  آدمی  اور مصر کے  تمام رتھوں کو لیا۔ ہر ایک رتھ میں ایک عہدے  دار بیٹھا تھا۔

8 بنی اسرائیل فتح کی خواہش میں اپنے  رتھوں کو اوپر اٹھائے  جا رہے  تھے۔ لیکن خداوند نے  مصر کے  بادشاہ فرعون کو با ہمت بنا یا اور فرعون نے  بنی اسرائیلیوں کا پیچھا کر نا شروع کیا۔

9 مصری فوج کے  پاس بہت سے  گھوڑے ، سپاہی اور رتھ تھے۔ اُنہوں نے  بنی اسرائیلیوں کا پیچھا کیا اور اُس وقت جب وہ بحیرہ قلزم کے  کنا رے  بعل صفون کے  نزدیک فی ہخیروت میں خیمہ لگا رہے  تھے  تو پکڑے  گئے۔

10 بنی اسرائیلیوں نے  فرعون اور اس کی فوج کو اپنی طرف آتے  دیکھا تو وہ لوگ بے  حد ڈر گئے  انہوں نے  مدد کے   لئے  خداوند کو پکا را۔

11 انہوں نے  موسیٰ سے  کہا”تم ہم لوگوں کو مصر سے  باہر کیوں لائے ؟ تم ہم لوگوں کو اس ریگستان میں مرنے  کے   لئے  کیوں لائے ؟ کیا مصر میں قبریں نہیں تھیں؟۔

12 ہم لوگوں نے  کہا تھا کہ ایسا ہو گا۔ مصر میں ہم لوگوں نے  کہا تھا’مہر بانی کر کے  ہم لوگوں کو پریشان نہ کرو۔ ہم لوگوں کو یہاں ٹھہرنے  اور مصریوں کی خد مت کرنے  دو۔ ‘یہاں آ کر ریگستان میں مرنے  سے  اچھا ہوتا کہ ہم لوگ وہاں مصریوں کے  غلام بن کر رہتے۔ ”

13 لیکن موسیٰ نے  جواب دیا، “ڈرو نہیں! بھا گو مت! ذرا ٹھہرو اور دیکھو کہ آج تم لوگوں کو خداوند کیسے  بچاتا ہے۔ آج کے  بعد تم لوگ اِن مصریوں کو کبھی نہیں دیکھو گے۔

14 تم لوگوں کو پُر امن رہنے  کے  علا وہ اور کچھ نہیں کر نا ہے۔ خداوند تم لوگوں کے   لئے  لڑے  گا۔ ”

15 پھر خداوند نے  موسیٰ سے  کہا “تم مجھے  کیوں پکار رہے  ہو۔ بنی اسرائیلیوں کو آگے  بڑھنے  کا حکم دو۔

16 اپنے  ہاتھ کے  عصا کو بحیرہ قلزم کے  اوپر اٹھاؤ اور بحیرہ قلزم دو حصّوں میں بٹ جائے  گا۔ بنی اسرائیل سمندر کے  بیچ خشک زمین سے  ہو کر پار کر جائیں گے۔

17 میں نے  مصریوں کو با ہمت بنایا ہے۔ اس طرح وہ تمہارا پیچھا کریں گے  لیکن میں بتاؤں گا کہ میں فرعون اور اس کے  سبھی عہدیداروں اور رتھوں سے  زیادہ طاقتور ہوں۔

18 تب مصری سمجھیں گے  کہ میں خداوند ہوں۔ جب میں فرعون اور اس کے  عہدے  داروں اور رتھوں کو شکست دوں گا تب وہ میری تعظیم کریں گے۔ ”

19 اُس وقت خداوند کا فرشتہ اسرائیلی خیمہ کے  پیچھے  گیا۔ اس  لئے  بادل کا ستون لوگوں کے  آگے  سے  ہٹ گیا اور اُن کے  پیچھے  آ گیا۔

20 اس طرح بادل مصریوں کے  خیمہ اور اِسرائیلیوں کے  خیمہ کے  درمیان کھڑا ہو گیا۔ بنی اسرائیلیوں کے   لئے  روشنی تھی لیکن مصریوں کے   لئے  اندھیرا۔ اِس  لئے  مصری اس رات اِسرائیلیوں کے  قریب نہ آ سکے۔

21 موسیٰ نے  اپنا ہاتھ بحیرہ قلزم کے  اوپر اٹھایا اور خداوند نے  مشرق سے  تیز آندھی چلا ئی۔ آندھی تمام رات چلتی رہی سمندر پھٹا اور ہوا نے  زمین کو خشک کیا۔

22 بنی اسرائیل سوکھی زمین پر چل کر سمندر کے  پار گئے۔ ان کے  دائیں طرف اور بائیں طرف پانی دیوار کی طرح تھا۔

23 تب فرعون کے  تمام رتھ اور گھڑ سواروں نے  سمندر میں ان کا پیچھا کیا۔

24 صبح سویرے  ہی خداوند بادل کے  ستون اور آ گ کے  ستون پر سے  مصر کی فوج کو نیچے  دیکھا اور خداوند نے  مصریوں کو بہت زیادہ گھبرا دیا۔

25 رتھوں کے  پہیے  دھنس گئے۔ رتھوں کا قابو کر نا مشکل ہو گیا۔ مصری چلّائے ، “ہم لوگوں کو یہاں سے  چلنا چاہئے۔ خداوند ہم لوگوں کے  خلاف لڑ رہا ہے  خداوند بنی اسرائیلیوں کے   لئے  لڑ رہا ہے۔ ‘

26 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا اپنے  ہاتھ کو سمندر کے  اوپر اٹھاؤ۔ پھر پانی گرے  گا اور مصریوں کے  رتھوں اور گھوڑ سواروں کو ڈبو دے  گا۔ ”

27 اس  لئے  دن نکلنے  سے  پہلے  موسیٰ نے  اپنا ہاتھ سمندر کے  اوپر اُٹھا یا اور پانی اپنی اصلی جگہ پر واپس آ گیا۔ مصری بھا گنے  کی تیّاری کر رہے  تھے۔ لیکن خداوند نے  مصریوں کو سمندر میں بہا کر ڈبو دیا۔

28 پانی اپنی اصلی جگہ پر واپس آ گیا اور اس نے  رتھوں اور گھڑ سواروں کو ڈھانک لیا۔ فرعون کی پوری فوج جو اسرائیلی لوگوں کا پیچھا کر رہی تھی ڈوب کر تباہ ہو گئی۔ ان میں سے  کوئی بھی نہیں بچا۔

29 لیکن بنی اسرائیلیوں نے  سوکھی زمین پر چل کر سمندر پار کیا ان کے  دائیں اور بائیں طرف پانی دیوار کی طرح کھڑا تھا۔

30 اِس  لئے  اُس دن خداوند نے  بنی اسرائیلیوں کو مصریوں سے  بچا یا اور بنی اسرائیلیوں نے  مصریوں کی لاشوں کو بحیرہ قلزم کے  کنارے  پر دیکھا۔

31 بنی اسرائیلیوں نے  خداوند کی عظیم قدرت کو دیکھا۔ جب اس نے  مصریوں کو شکست دی تو لوگ خداوند سے  ڈرے  اور اُس کی عزت کی اور انہوں نے  خداوند اور اُس کے  خادم موسیٰ پر یقین کیا۔

 

 

 

 

باب:   15

 

 

1 تب موسیٰ اور بنی اسرائیل خداوند کے   لئے  یہ نغمہ گانے  لگے  :

2 خداوند ہی میری طاقت ہے۔ وہ ہمیں بچاتا ہے  اور میں اس کی تعریف کے  گیت گاتا ہوں۔ خداوند خدا میرے  آباء و  اجداد کا خدا ہے  اور میں اس کی تعظیم کرتا ہوں۔

3 خداوند عظیم جنگجو (صاحب جنگ) ہے۔ اس کا نام یہواہ ہے۔

4 اُس نے  فرعون کے  رتھوں اور سپاہیوں کو سمندر میں پھینکا۔ فرعون کے  بہترین سپاہی بحیر ہ قلزم میں ڈوب گئے۔

5 گہرے  پانی نے  انہیں ڈھک لیا وہ چٹانوں کی طرح گہرے  پانی میں ڈوبے۔

6 تیرا داہنا ہاتھ عجیب و غریب طاقت کا حامل ہے۔ خداوند تیرے  داہنے  ہاتھ نے  دشمن کو پا مال کر دیا۔

7 تو نے  اپنی عظمت کے  زور سے  انہیں تباہ کیا۔ جو تیرے  خلاف کھڑے  ہوئے  تو نے  اپنے  غصّہ کو بھیجا اور انہیں بر باد کیا اسی طرح جس طرح کہ آ گ پیال کو جلاتا ہے۔

8 تو نے  زور دار ہوا چلا ئی۔ تو نے  پانی کو اونچا اٹھا یا۔ تو نے  بہتے  ہوئے  پانی کو ٹھوس دیوار بنا دیا۔ سمندر اپنا گہرائی تک ٹھوس بن گیا۔

9 دشمن نے  کہا”میں ان کا پیچھا کروں گا اور ان کو پکڑوں گا۔ میں ان کی ساری دولت لے  لوں گا۔ میں اپنی تلوار نکالوں گا۔ اور میرا ہاتھ ان کو  تباہ کر دے  گا۔ ”

10 لیکن تُو نے  ان پر پھونک ماری اور انہیں سمندر سے  ڈھک دیا۔ وہ سیسے  کی طرح زور آور سمندر میں ڈوب گئے۔

11 ” کیا کوئی دیوتا خداوند کے  جیسا ہے ؟ نہیں کوئی دیوتا تیرے  جیسا نہیں۔ تو عجیب و غریب ہے  اپنے  تقدس میں بے  مثال ہے۔ تو حیران کرنے  والی قدرت رکھتا ہے  تو عظیم معجزے  کرتا ہے۔

12 تُو نے  اپنا دایاں ہاتھ اٹھا یا اس  لئے  زمین اس کو نگل گئی۔

13 لیکن تُو مہر بانی سے  ان لوگوں کولے  چلا جنہیں تُو نے  بچا یا ہے۔ تُو اپنی طاقت سے  اُن لوگوں کو اپنے  مقدّس اور سہانے  ملک کولے  جاتا ہے۔

14 دوسرے  ممالک ان قصّوں کو سنیں گے۔ اور خوف زدہ ہوں گے۔ فلسطینی لوگ ڈر سے  کانپیں گے۔

15 تب ایدوم کے  قائدین ڈر سے  کانپیں گے۔ موآب کے  قائدین ڈر سے  کانپیں گے۔ کنعان کے  لوگ اپنی ہمّت کھو دیں گے۔

16 وہ لوگ دہشت اور خوف زدہ ہو جائیں گے۔ جب تیرے  زور آور بازو کو دیکھیں گے۔ وہ لوگ چٹّان کی طرح بے  حس و حر کت ہو جائیں گے  جب تک تیرے  لوگ گزر نہ جائیں۔

17 خداوند تو اپنے  لوگوں کو ضرور لے  جائے  گا۔ اپنے  پہاڑ پر اُس جگہ تک جسے  تُو نے  اپنے  تخت کے   لئے  بنایا ہے۔ اے  آقا! تُو اپنا گھر اپنے  ہاتھوں بنائے  گا!

18 خداوند ہمیشہ ہمیشہ حکو مت کرتا رہے  گا۔ ”

19 ہاں فرعون کے  گھوڑے ، گھوڑ سوار اور رتھ سمندر میں ڈوب گئے  اور خداوند نے  انہیں سمندر کے  پانی سے  ڈھک دیا۔ لیکن بنی اسرائیل سوکھی زمین پر چل کر سمندر کو پار کر گئے۔

20 تب ہارون کی بہن نبیہ مریم نے  ایک دف لیا۔ مریم اور عورتوں نے  ناچ گانا شروع کیا۔ مریم نے  الفاظ کو دُہرایا۔

21 “خداوند کے   لئے  گاؤ۔ کیونکہ اُس نے  عظیم کام کیا ہے۔ اُس نے  گھوڑے  کو اور گھوڑ سوار کو سمندر میں ڈبو دیا۔ ”

22 موسیٰ بنی اسرائیلیوں کو بحیرہ قلزم سے  دور لے  چلا۔ لوگ ریگستان میں پہنچے۔ وہ تین دن تک شور ریگستان میں سفر کرتے  رہے۔ لوگ پانی بھی نہ پا سکے۔

23 لوگ مارہ پہنچے۔ مارہ میں پانی تھا لیکن پانی اتنا کڑوا تھا کہ لوگ پی نہیں سکتے  تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اس جگہ کا نام مارہ پڑا۔

24 لوگوں نے  موسیٰ سے  شکایت کر نا شروع کی لوگوں نے  کہا، ” اب ہم لوگ کیا پئیں؟ ”

25 موسیٰ نے  خداوند کو پکا را اِس  لئے  خداوند نے  اسے  ایک درخت دِکھا یا۔ موسیٰ نے  درخت کو پانی میں ڈالا جب اُس نے  ایسا کیا تو پانی پینے  کے  قابل ہو گیا۔ اُس مقام پر خداوند نے  لوگوں کا امتحان لیا اور اُنہیں ایک شریعت دی۔

26 خداوند نے  کہا، ” تم لوگوں کو اپنے  خداوند خدا کا حکم ضرور ماننا چاہئے۔ تم لوگوں کو وہ کر نا چاہئے  جسے  وہ ٹھیک کہے  اگر تم خداوند کے  حکم اور شریعت کی تعمیل کرو گے  تو تم لوگ مصریوں کی طرح بیمار نہیں ہو گے۔ میں خداوند تم لوگوں کو کوئی ایسی بیماری نہیں دوں گاجیسے  میں نے  مصریوں کو دی۔ میں خداوند ہوں۔ میں ہی وہ ہوں جو تمہیں تندرست بناتا ہوں۔ ”

27 تب لوگوں نے  ایلیم تک سفر کیا۔ ایلیم میں پانی کے  بارہ چشمے  تھے۔ اور وہاں ستّر کھجور کے  درخت تھے  اس  لئے  لوگوں نے  وہاں پانی کے  قریب خیمے  ڈالے۔

 

 

 

 

 

باب:   16

 

 

1 تب لوگوں نے  ایلیم سے  سفر کر کے  سینائی کے  ریگستان پہنچے۔ یہ جگہ ایلیم اور سینائی کے  درمیان تھی۔ وہ اُس جگہ پر مصر سے  نکلنے  کے  بعد دُوسرے  مہینے  کے  پندرھویں دن پہنچے۔

2 تب بنی اسرائیلیوں نے  پھر شکایت کرنی شروع کی۔ اُنہوں نے  موسیٰ اور ہا رون سے  ریگستان میں شکایت کی۔

3 لوگوں نے  موسیٰ اور ہا رون سے  کہا”یہ ہما رے   لئے  اچھا ہوتا کہ خداوند ہم لوگوں کو مصر میں مار ڈالتا۔ مصر میں ہم لوگوں کے  پاس کھانے  کو بہت کچھ تھا۔ ہم لوگوں کے  پاس بہت سارے  کھانے  تھے  جس کی ہمیں ضرورت تھی۔ لیکن اب تم ہمیں ریگستان میں لے  آئے  ہو۔ ہم سب یہاں بھوک سے  مر جائیں گے۔ ”

4 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” میں آسمان سے  کھا نا گراؤں گا۔ یہ غذا تم لوگوں کے  کھانے  کے   لئے  ہو گی۔ ہر روز لوگ با ہر جائیں اور اُس دن کے  کھانے  کی ضرورت کے  مطابق کھانا جمع کریں۔ میں یہ اس  لئے  گراؤں گا کہ میں دیکھوں کیا لوگ وہی کریں گے  جو میں کرنے  کو کہوں گا۔

5 ہر روز لوگ صرف اتنا کھانا جمع کریں گے  جتنا کہ ایک دن کے   لئے  کافی ہے۔ لیکن چھٹے  دن جب وہ کھانا تیار کریں گے  تو وہ پائیں گے  کہ یہ دو دن کے   لئے  کافی ہے۔

6 اِس لئے  موسیٰ اور ہا رون بنی اسرائیلیوں سے  کہا، ” آج کی رات تم لوگ جا نو گے  کہ وہ خداوند ہی ہے  جو تم لوگوں کو ملک مصر سے  با ہر لا یا۔

7 کل صبح تم لوگ خداوند کا جلال دیکھو گے۔ کیونکہ تم لوگ خداوند کے  خلاف بڑ بڑاتے  ہو اور اس نے  یہ سُن لیا ہے  تم لوگ خداوند کے  خلاف کیوں بڑ بڑاتے  ہو؟ تم لوگ ہم لوگوں سے  شکایت ہی شکایت کر رہے  ہو ممکن ہے  کہ ہم لوگ اب کچھ آرام کر سکیں۔ ”

8 اور موسیٰ نے  کہا، ” تم لوگوں نے  شکایت کی اور خداوند نے  تم لوگوں کی شکایتیں سُن لی ہیں۔ اِس  لئے  رات کو خداوند تم لوگوں کو گوشت دے  گا۔ اور ہر صبح تم وہ سب کھانا پاؤ گے  جس کی تمہیں ضرورت ہے۔ تم لوگ مجھ سے  اور ہا رون سے  شکایت کرتے  رہے  ہو۔ یاد رکھو تم لوگ میرے  اور ہا رون کے  خلا ف شکایت نہیں کر رہے  ہو تم لوگ خداوند کے  خلاف شکایت کر رہے  ہوں۔ ”

9 تب موسیٰ نے  ہا رون سے  کہا، ” بنی اسرائیلیوں کے  ساتھ بات کرو۔ ان سے  کہو، خداوند کے  سامنے  جمع ہو، کیونکہ اُس نے  تمہاری شکایتیں سُنی ہیں۔ ”

10 ہا رون نے  سبھی بنی اسرائیلیوں سے  بولا وہ تمام ایک جگہ پر جمع تھے  جب ہا رون باتیں کر رہا تھا۔ اُسی وقت لوگ پلٹے  اور اُنہوں نے  ریگستان کی طرف دیکھا اور انہوں نے  خداوند کے  جلال کو بادل میں ظاہر ہوتے  دیکھا۔

11 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

12 ” میں نے  بنی اسرائیلیوں کی شکایت سُنی ہے  اِس  لئے  ان سے  میری باتیں کہو، ‘ آج شام کو تم گوشت کھاؤ گے  اور کل صبح تم لوگ پیٹ بھر کر رو ٹیاں کھاؤ گے۔ پھر تم لوگ جان جاؤ گے  کہ تم خداوند اپنے  خدا پر بھروسہ کر سکتے  ہو۔ ”

13 اس رات بہت سارے  بٹیر ( پرندے  ) آئے  اور خیمہ کو ڈھک لیا۔ صبح میں خیمہ کے  چاروں طرف شبنم پڑی رہتی تھی۔

14 سورج نکلنے  پر شبنم سوکھ جاتی اور پالے  کی پتلی تہہ کی طرح زمین پر کچھ رہ جاتا تھا۔

15 بنی اسرائیلیوں نے  اسے  دیکھا۔ اور ایک دوسرے  سے  پو چھا، ” وہ کیا ہے ؟ ” انہوں نے  یہ سوال اس  لئے  کیا کہ وہ نہیں جانتے  تھے  کہ وہ کیا چیز ہے۔ اس  لئے  موسیٰ نے  ان سے  کہا، ” یہ کھا نا ہے  جسے  خداوند تمہیں کھانے  کو دے  رہا ہے۔

16 خداوند کہتا ہے   ‘ ہر آدمی  اتنا جمع کرے  جتنی اس کو ضرورت ہے۔ تم لوگوں میں سے  ہر ایک آٹھ پیالے  اپنے  خاندان کے  ہر آدمی  کے   لئے  جمع کرے  گا۔ ”

17 اس  لئے  بنی اسرائیلیوں نے  ایسا ہی کیا۔ ہر آدمی نے  اس کھانے  کو جمع کیا۔ کچھ آدمیوں نے  دوسرے  لوگوں سے  زیادہ جمع کیا۔

18 ان لوگوں نے  اپنے  خاندان کے  ہر ایک آدمی  کو کھا نا دیا۔ جب کھا نا ناپا گیا تو ہر ایک آدمی  کے   لئے  یہ کافی تھا، لیکن کبھی بھی ضرورت سے  زیادہ نہیں ہوا۔ جس نے  بھی زیادہ جمع کیا اس کے  پاس بھی کچھ نہیں بچا۔ لیکن جو کوئی تھوڑا جمع کیا تب بھی وہ اس کے   لئے  کافی تھا۔

19 موسیٰ نے  ان سے  کہا، ” اگلے  دن کھانے  کے   لئے  وہ کھا نا نہ بچائیں۔ ”

20 لیکن لوگوں نے  موسیٰ کی بات نہیں مانی۔ کچھ لوگوں نے  اپنا کھا نا بچا یا جس کو وہ دوسرے  دن کھا سکیں۔ لیکن جو کھا نا بچایا گیا تھا اس میں کیڑے  پڑ گئے  اور بد بو آنے  لگی۔ موسیٰ ان لوگوں پر غصّہ ہوا جنہوں نے  ایسا کیا تھا۔

21 ہر صبح لوگ کھا نا جمع کرتے  تھے  ہر ایک آدمی  اتنا جمع کرتا تھا۔ جتنا وہ کھا سکے   لیکن جب دھوپ تیز ہو تی تھی کھا نا گل جاتا تھا اور ختم ہو جاتا تھا۔

22 چھٹے  دن کو لوگوں نے  دو گُنا کھا نا جمع کیا۔ انہوں نے  سولہ پیالے  ہر آدمی  کے   لئے  جمع کیا۔ اس  لئے  لوگوں کے  تمام قائدین آئے  اور انہوں نے  یہ بات موسیٰ سے  کہی۔

23 موسیٰ نے  ان سے  کہا، ” یہ ویسا ہی ہے  جیسا خداوند نے  بتا یا تھا کیونکہ کل خداوند کے  آرام کا مقدس دن سبت ہے۔ تم جو پکانا چاہتے  ہو پکا لو جو ابالنا چاہتے  ہو ابال لو۔ اور بچے  ہوئے  کو کل کے   لئے  محفوظ رکھو۔ ”

24 لوگوں نے  موسیٰ کے  حکم کے  مطابق دوسرے  دن کے   لئے  بچے  ہوئے  کھانے  کو دیکھا اور کھا نا خراب نہیں ہوا اور نہ ہی اس میں کوئی کیڑا لگا۔

25 موسیٰ نے  کہا، ” آج سبت کا دن ہے ، خداوند کو تعظیم دینے  کے   لئے  خاص آرام کا دن ہے۔ اس  لئے  تم لوگوں میں سے  کوئی بھی کل کھیت میں نہیں جائے  گا۔ جو تم نے  کل جمع کیا ہے  کھاؤ۔

26 تم لوگوں کو چھ دن کا کھا نا جمع کر نا چاہئے  لیکن ساتواں دن آرام کا دن ہے  اس  لئے  زمین پر کوئی خاص کھا نا نہیں ہو گا۔ ”

27 ہفتہ کو کچھ لوگ کچھ کھا نا جمع کرنے  گئے  لیکن وہ وہاں تھوڑا سا بھی کھا نا نہیں پا سکے۔

28 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا ” تمہارے  لوگ میرے  حکم کی تعمیل اور نصیحتوں پر عمل کرنے  سے  کب تک باز رہیں گے ؟۔

29 دیکھو، جمعہ کو خداوند دو دن کے   لئے  کافی کھا نا دے  گا۔ اس  لئے  سبت کے  دن ہر ایک کو بیٹھنا اور آرام کر نا چاہئے  وہیں ٹھہرے  رہو جہاں ہو۔ ”

30 اس  لئے  لوگوں نے  سبت کو آرام کیا۔

31 اسرائیلی لوگوں نے  اس خاص غذا کو ” من” کہنا شروع کیا۔ منّ سفید چھوٹے  دھنیا کے  بیجوں کی طرح تھے  اور اس کا ذائقہ شہد سے  بنے  کیک کی طرح تھا۔

32 تب موسیٰ نے  فرمایا” خداوند نے  نصیحت کی کہ اس کھانے  کے آٹھ پیالے  اپنی نسل کے   لئے  بچاؤ۔ تب وہ اس کھانے  کو دیکھ سکیں گے  جسے  میں نے  تم لوگوں کو ریگستان میں اس وقت دیا تھا جب میں نے  تم لوگوں کو مصر سے  نکالا تھا۔ ”

33 اس  لئے  موسیٰ نے  ہارون سے  کہا ” ایک مرتبان لو اور اسے  آٹھ پیالے  منّ سے  بھرو اور اس منّ کو خداوند کے  سامنے  رکھو اور اسے  اپنی نسلوں کے   لئے  بچاؤ۔ ”

34 ( اس  لئے  ہارون نے  ویسا ہی کیا جیسا خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا ہارون نے  آگے  چل کر منّ کے  مرتبان کو معاہدہ کے  صندوق کے  سامنے  رکھا۔ )

35 لوگوں نے  چالیس سال تک منّ کھا یا۔ وہ منّ اس وقت تک کھاتے  رہے  جب تک وہ اس ملک میں نہیں آئے  جہاں انہیں رہنا تھا۔ وہ اسے  اس وقت تک کھاتے  رہے  جب تک وہ کنعان کے  قریب نہیں آ گئے۔

36 ( وہ منّ کے   لئے  جس تول کا استعمال کرتے  تھے  وہ عومر تھا۔ ایک عومر تقریباً آٹھ پیالوں کے  برابر تھا)

 

 

 

 

 

باب:   17

 

 

1 سبھی بنی اسرائیل صین کے  ریگستان سے  ایک ساتھ سفر کئے۔ خداوند جس طرح حکم دیتا رہا وہ ایک جگہ سے  دوسری جگہ سفر کرتے  رہے۔ لوگوں نے  رفیدیم کا سفر کیا اور وہاں انہوں نے  قیام کیا خیمہ ڈالا۔ وہاں لوگوں کو پینے  کے   لئے  پانی نہیں تھا۔

2 اس  لئے  وہ موسیٰ کے  خلاف ہو گئے  اور اس سے  بحث کرنے  لگے۔ لوگوں نے  کہا، ” ہمیں پینے  کے   لئے  پانی دو۔ ” لیکن موسیٰ نے  ان سے  کہا، ” تم لوگ میرے  خلاف کیوں ہو رہے  ہو؟ تم لوگ خداوند کا امتحان کیوں لے  رہے  ہو؟ ”

3 لیکن لوگ بہت پیاسے  تھے۔ اس  لئے  انہوں نے  موسیٰ سے  شکایت کرنی جاری رکھی۔ لوگوں نے  کہا، ” ہم لوگوں کو تم مصر سے  باہر کیوں لائے ؟ کیا تم ہم لوگوں کو یہاں اس  لئے  لائے تا کہ ہم لوگ ہمارے  بچّے ، ہماری مویشی اور بھیڑ پانی کے  بغیر مر جائے۔ ”

4 اس  لئے  موسیٰ نے  خداوند کو پکارا، ” میں ان لوگوں کے  ساتھ کیا کروں؟ یہ مجھے  مار ڈالنے  کو پتھّر مار نے  کے   لئے  تیار ہیں۔ ”

5 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” بنی اسرائیلیوں کے  پاس جاؤ اور ان کے  کچھ بزر گوں کو اپنے  ساتھ لو اپنا عصا اپنے  ساتھ لے  جاؤ۔ یہ وہی عصا ہے  جسے  تم اس وقت استعمال میں لائے تھے جب دریائے  نیل پر اس سے  چوٹ کی تھی۔

6 حوریب (سینائی) پہاڑ میں تمہارے  سامنے  ایک چٹان پر کھڑا ہو گا۔ عصا کو چٹان پر مارو اس سے  پانی باہر آ جائے  گا۔ تب لوگ پانی پی سکتے  ہیں۔ “موسیٰ نے  وہ باتیں کیں اور اسرائیل کے  بزر گوں نے  اسے  دیکھا۔

7 موسیٰ نے  اس جگہ کا نام’ مریبہ اور مسّہ’ رکھا، کیونکہ یہ وہ جگہ تھی جہاں بنی اسرائیل بڑبڑائے  اور خداوند کا امتحان لیا یہ پو چھ کر، خداوند ہمارے  ساتھ ہے  یا نہیں۔

8 عمالیقی لوگ رفیدیم آئے  اور بنی اسرائیلیوں کے  خلاف لڑے۔

9 اس  لئے  موسیٰ نے  یشوع سے  کہا، ” کچھ لوگوں کو چُنو اور اگلے  دن عمالیقیوں سے  جا کر لڑو۔ میں پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا رہوں گا۔ میں خدا کی طرف سے  دیئے  گئے  عصا کو پکڑے  رہوں گا۔ ”

10 یشوع نے  موسیٰ کی ہدایت مانی اور دوسرے  دن عمالیقی لوگوں سے  لڑنے  گیا۔ اسی وقت موسیٰ، ہارون اور حور پہاڑ کی چوٹی پر گئے۔

11 جب کبھی موسیٰ اپنے  ہاتھ کو ہوا میں اٹھاتا تو بنی اسرائیل جنگ جیت لیتے  لیکن جب موسیٰ اپنے  ہاتھ کو نیچے  کرتا تو بنی اسرائیل جنگ میں ہار نے  لگتے۔

12 کچھ وقت کے  بعد موسیٰ کے  بازو تھک (چڑھ) گئے۔ اس  لئے  انہوں نے  ایک بڑی چٹان موسیٰ کے  نیچے بیٹھنے  کے   لئے  رکھی اور ہارون اور حور نے  موسیٰ کے  بازوؤں کو ہوا میں پکڑے  رکھا۔ ہارون موسیٰ کے  ایک طرف تھے  اور حور دوسری طرف۔ وہ اس کے  ہاتھوں کو اسی طرح اوپر اس وقت تک پکڑے  رہے  جب تک سورج نہیں غروب ہوا۔

13 اس  لئے  یشوع اور اس کی فوجوں نے  عمالیقیوں کو اس جنگ میں شکست دی۔

14 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” اس جنگ کے  بارے  میں لکھو۔ اس جنگ کے  واقعات ایک کتاب میں لکھو جس سے  لوگ یاد کریں گے  کہ یہاں کیا ہوا تھا اور یشوع سے  کہو کہ میں عمالیقی لوگوں کو زمین سے  مکمل طور پر تباہ کر دوں گا۔ ”

15 تب موسیٰ نے  ایک قربان گاہ بنائی۔ موسیٰ نے  قربان گاہ کا نام ” خداوند میرا پرچم ” رکھا۔

16 موسیٰ نے  فرمایا ” میں  نے خداوند کے  تخت کی طرف اپنے  ہاتھ پھیلائے  اس  لئے  خداوند عمالیقی لوگوں سے  لڑا جیسا کہ اس نے  ہمیشہ کیا ہے۔ ”

 

 

 

 

 

 

باب:   18

 

 

1 موسیٰ کا سُسر یترو مدیان میں کاہن تھا۔ خدا نے  موسیٰ اور بنی اسرائیلیوں کی کی طرح سے  مدد کی اس کے  بارے  میں یترو نے  سنا۔ یترو نے  بنی اسرائیلیوں کو خداوند کے  ذریعہ مصر سے  باہر لے  جائے  جانے  کے  متعلق سنا۔

2 اس  لئے  یترو موسیٰ کے  پاس گئے  جب وہ خدا کے  پہاڑ کے  پاس خیمہ ڈالے  تھے۔ وہ موسیٰ کی بیوی صفورہ کو اپنے  ساتھ لا یا ( صفورہ موسیٰ کے  ساتھ نہیں تھیں کیونکہ موسیٰ نے  ان کو ان کے  گھر بھیج دیاتھا۔ )

3 یترو موسیٰ کے  دونوں بیٹوں کو بھی ساتھ لا یا۔ پہلے  بیٹے  کا نام جیر سوم رکھا کیونکہ جب وہ پیدا ہوا۔ موسیٰ نے  فرمایا “میں غیر ملک میں اجنبی ہوں۔ ”

4 دوسرے  بیٹے  کا نام الیعزر رکھا کیونکہ جب وہ پیدا ہوا تو موسیٰ نے  فرما یا، ” میرے  باپ کے  خدا نے  میری مدد کی اور فرعون کی تلوار سے  مجھے  بچا یا ہے۔ ”

5 اس  لئے  یترو ریگستان میں موسیٰ کے  پاس تب گیا۔ جب وہ خدا کے  پہاڑ( سینائی کا پہاڑ) کے  قریب خیمہ ڈالے  تھے۔ موسیٰ کی بیوی اور اُس کے  دو بیٹے  یترو کے  ساتھ تھے۔

6 یترو نے  موسیٰ کو ایک پیغام بھیجا” میں تمہارا سُسر یترو ہو ں۔ اور میں تمہاری بیوی اور اس کے  دونوں بیٹوں کو تمہارے  پاس لا رہا ہوں۔ ”

7 اس  لئے  موسیٰ اپنے  سُسر سے  ملنے  گئے۔ موسیٰ ان کے  سامنے  جھکے  اور ان کو بوسہ دیا۔ دونوں نے  ایک دوسرے  کا حال پو چھا خیمہ میں چلے  گئے۔

8 موسیٰ نے  یترو کو ہر ایک بات بتائی جو خداوند نے  بنی اسرائیلیوں کے   لئے  کی تھی۔ موسیٰ نے  وہ باتیں بھی بتائیں جو خدا نے  فرعون اور مصر کے  لوگوں کے   لئے  کیں تھیں۔ موسیٰ نے  راستے  میں پیش آئے  تمام مشکلات اس کے  متعلق اور کس طرح خداوند نے  اِسرائیلی لوگوں کو بچا یا جب بھی وہ تکلیف میں تھے  اس کے  متعلق بتا یا۔

9 یترو اُس وقت بہت خوش ہوا جب اُس نے  خداوند کی طرف سے  بنی اسرائیلیوں سے  کی گئی سب اچھی باتوں کو سُنا۔ یترو اس  لئے  خوش تھا کہ خداوند نے  بنی اسرائیلیوں کو مصر یوں سے  آزاد کر دیا تھا۔

10 یترو نے  کہا” خداوند کی تمجید کرو! اُس نے  تمہیں مصر کے  لوگوں سے  آزاد کر وایا۔ خداوند نے  تمہیں فرعون سے  بچا یا ہے۔

11 اب میں جانتا ہوں کہ خداوند تمام دیوتاؤں سے  زیادہ عظیم ہے۔ اُنہوں نے  سوچا کہ سب کچھ اُن کے  قابو میں ہے  لیکن دیکھو خدا نے  کیا کیا! ”

12 تب یترو نے  خدا کی عظمت اور تعظیم کے   لئے  قربانی پیش کی۔ تب ہا رون اور تمام بزرگ موسیٰ کے  سُسر یترو کے  ساتھ خدا کے  حضور کھانا کھانے  بیٹھے۔

13 دوسرے  دن موسیٰ لوگوں کا انصاف کرنے  والے  تھے۔ وہاں لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اس وجہ سے  لو گوں کو موسیٰ کے  سامنے  سارا دن کھڑا رہنا پڑا۔

14 یترو نے  موسیٰ کو انصاف کرتے  دیکھا اس نے  پو چھا، ” تم ہی یہ کیوں کر رہے  ہو؟” کیا صرف تم ہی منصف ہو؟ اور لوگ صرف تمہارے  پاس ہی سارا دن کیوں آتے  ہیں؟ ”

15 تب موسیٰ نے  اپنے  سُسر سے  کہا، ” لوگ میرے  پاس آتے  ہیں اور اپنی مشکلات کے  بارے  میں خدا کے  حکم پو چھتے  ہیں۔

16 اگر ان لوگوں کا کوئی مسئلہ ہو تو میرے  پاس آتے  ہیں میں فیصلہ کرتا ہوں کہ کون صحیح ہے  اس طرح میں لوگوں کو خدا کی شریعت اور تعلیمات کو سکھاتا ہوں۔ ”

17 لیکن موسیٰ کے  سُسر نے  اُن سے  کہا، ” جس طرح تم یہ کر رہے  ہو ٹھیک نہیں ہے۔

18 تمہارے  اکیلے  کے   لئے  یہ کام بہت زیادہ ہے۔ اس سے  تم تھک جاتے  ہو اور اس سے  لوگ بھی تھک جاتے  ہیں تم یہ کام یقیناً اکیلے  نہیں کر سکتے۔

19 میں تمہیں کچھ مشورہ دوں گا میں تمہیں بتاؤں گا کہ تمہیں کیا کرنا چاہئے  میری دُعا ہے  کہ خدا تمہارا ساتھ دے۔ جو تمہیں کرنا چاہئے  وہ یہ ہے۔ تمہیں خدا کے  سامنے  لوگوں کے  مسائل سنتے  رہنا چاہئے  اور اُن چیزوں کے  متعلق خدا سے  کہتے  رہنا چاہئے۔

20 تمہیں خدا کی شریعتوں اور تعلیمات لوگوں کو بتانی بھی چاہئے۔ لوگوں کو انتباہ دو کہ وہ اُصولوں کو نہ توڑیں لوگوں کو جینے   کا صحیح راستہ بتاؤ انہیں بتاؤ کہ وہ کیا کریں۔

21 لیکن تمہیں لوگوں میں سے  اچھے  لوگوں کو چُننا چاہئے۔ ” تمہیں ایسے  آدمیوں کا انتخاب کر نا چاہئے  جسے  خدا کا خوف ہو، اور بھروسہ مند ہو، جو دولت کے   لئے  اپنے  فیصلے  نہ بدلے۔ ان آدمیوں کو لوگوں حاکم کا بناؤ۔ ہزار، سو پچاس اور یہاں تک کہ دس لوگوں پر بھی حاکم ہونے  چاہئے۔

22 اِن حاکموں کو ہر وقت لوگوں کا انصاف کرنے  دو۔ اگر کوئی بہت ہی پیچیدہ معاملہ ہو تو وہ حاکم فیصلہ کے   لئے  تمہارے  پاس آ سکتے  ہیں۔ لیکن دوسرے  معاملوں کا فیصلہ وہ یقیناً نہیں کر سکتے  ہیں۔ اس طرح یہ تمہارے   لئے  زیادہ آسان ہو گا۔ اور وہ لوگ تمہارے  کام میں ہاتھ بٹا سکیں گے۔

23 اگر تم خداوند کے  حکم سے  ایسا کرتے  ہو تب تم اپنا کام کرتے  رہنے  کے  قابل ہو سکو گے۔ اور اُس کے  ساتھ ہی ساتھ تمام لوگ اپنے  مسائل کے  حل ہو جانے  سے  سلامتی سے  گھر جا سکیں گے۔ ”

24 اس  لئے  موسیٰ نے  ویسا ہی کیا۔ جیسا یترو نے  کہا تھا۔

25 موسیٰ نے  سارے  بنی اسرائیلیوں میں سے  کچھ قابل مردوں کو چُنا اور انہیں قائد بنا یا۔ وہاں ہر ۱۰۰۰ لوگوں پر، ۱۰۰ لوگوں، ۵۰ لوگوں اور ۱۰ لوگوں پر حاکم تھے۔

26 یہ حا کم لوگوں کے   لئے  منصف تھے۔ یہ حاکم آسان مسئلوں کا فیصلہ خود کرتے  تھے  اور مشکل معاملے  کو موسیٰ کے  پاس لاتے  تھے۔

27 کچھ عرصہ بعد موسیٰ نے  اپنے  سُسر یترو سے  وِداع ہوا۔ اور یترو اپنے  گھر وا پس ہوا۔

 

 

 

 

 

باب:  19

 

 

1 مصر سے  اپنے  سفر کے  تیسرے  مہینے  میں سب سے  پہلے  دن بنی اسرائیل سینائی کے  ریگستان میں پہنچے۔

2 لوگوں نے  رفیدیم کو چھوڑ دیا تھا اور سینائی کے  صحرا میں آ پہنچے  تھے۔ بنی اسرائیلیوں نے  ریگستان میں پہاڑ کے  قریب ڈیرا ڈالا۔

3 تب موسیٰ پہاڑ پر خدا کے  پاس گیا۔ پہاڑ پر خدا نے  موسیٰ سے  کہا۔، ” یہ باتیں بنی اسرائیلیوں، یعقوب کے  خاندانوں سے  کہو :

4 اور تم لوگوں نے  دیکھا کہ میں نے  مصر کے  ساتھ کیا کیا۔ تم نے  دیکھا کہ میں نے  تم کو مصر سے  باہر ایک عقاب کی طرح اپنے  پروں پر اٹھا کر نکالا اور یہاں اپنے  پاس لا یا۔

5 اس  لئے  اب میں کہتا ہوں کہ تم لوگ اب میرا حکم مانو، میرے  معاہدہ کی تعمیل کرو۔ اگر تم میرا حکم مانو گے  تو تم میرے  خاص لوگ بنو گے۔ ساری دنیا میری ہے۔

6 تم میرے   لئے  ایک مقدّس قوم اور کاہنوں کی سلطنت ہو۔ ‘ ” موسیٰ! جو باتیں میں نے  تمہیں بتائی ہیں انہیں بنی اسرائیلیوں سے  ضرور کہہ دینا۔ ”

7 اس  لئے  موسیٰ پہاڑ سے  نیچے  آیا اور لوگوں کے  بزر گوں کو ایک ساتھ بلایا۔ موسیٰ نے  بزرگوں سے  وہ باتیں کہیں جنہیں کہنے  کے   لئے  خداوند نے  اسے  حکم دیا تھا۔

8 پھر تمام لوگ ایک ساتھ بولے ، ” ہم لوگ خدا کی کہی ہر بات مانیں گے۔ ” تب موسیٰ خدا کے  پاس پہاڑ پر لوٹ آیا۔ موسیٰ نے  فرمایا کہ لوگ اس کے  حکم کی تعمیل کریں گے۔

9 اور خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” میں گھنے  بادل میں تمہارے  پاس آؤں گا میں تم سے  بات کروں گا۔ سب لوگ مجھے  تم سے  باتیں کرتے  ہوئے  سنیں گے۔ میں یہ اس لئے  کر رہا ہوںتا کہ لوگ تم پر بھی ہمیشہ یقین کریں گے۔ ” تب موسیٰ نے  خداوند کو وہ تمام باتیں بتائی جو لوگوں نے  کہی  تھیں۔

10 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” آج اور کل تم خاص مجلس کے   لئے  لوگوں کو ضرور تیار کرو۔ لوگوں کو اپنے  لباس دھو لینے  چاہئیں۔

11 اور تیسرے  دن میرے   لئے  تیار رہنا چاہئے۔ تیسرے  دن میں ( خداوند ) سینا کے  پہاڑ سے  نیچے  آؤں گا اور تمام لوگ مجھے  (خداوند کو ) دیکھیں گے۔

12 لیکن ان لوگوں سے  ضرور کہہ دینا کہ وہ پہاڑ سے  دور ہی ٹھہریں۔ زمین پر ایک لکیر کھینچنا اور لوگوں کو اس سے  پار نہ ہونے  دینا۔ اگر کوئی آدمی  یا جانور پہاڑ کو چھوئے  گا تو اسے  یقیناً مار دیا جائے  گا۔ وہ پتھّروں سے  یا تیروں سے  مارا جائے  گا۔ لیکن کسی بھی آدمی  کو لکیر کو چھونے  کی اجازت نہیں دی جائے  گی۔ لوگوں کو بِگل بجنے  تک انتظار کر نا چاہئے  اور صرف اسی وقت جب بگل بجے  انہیں پہاڑ پر جانے  دیا جائے  گا۔ ”

13  14 موسیٰ پہاڑ سے  نیچے  اُترے  وہ لوگوں کے  پاس گئے  اور خاص نشست کے   لئے  انہیں تیار کیا۔ لوگوں نے  اپنے  لباس دھوئے۔

15 تب موسیٰ نے  لوگوں سے  کہا، ” خدا سے  ملنے  کے   لئے  تین دن میں تیار ہو جاؤ۔ اس وقت مردوں کو عورت نہیں چھونا چاہئے۔ ”

16 تیسرے  دن صبح پہاڑ پر گہرا بادل چھا یا۔ بجلی کی چمک اور بادل کی گرج اور بگل کی تیز آواز ہو ئی۔ چھاؤنی کے  سب لوگ ڈر گئے۔

17 تب موسیٰ لوگوں کو پہاڑ کی طرف خدا سے  ملنے  کے   لئے  چھاؤنی کے  باہر لے  گئے۔

18 سینائی پہاڑ دھوئیں سے  ڈھکا ہوا تھا۔ پہاڑ سے  دھواں اس طرح اٹھا جیسے  کسی بھٹی سے  اٹھتا ہو۔ ایسا تب ہوا جیسے  ہی خداوند آ گ میں پہاڑ پر اترے  اور ساتھ ہی سارا پہاڑ بھی کانپنے  لگا۔

19 بگل کی آواز تیز سے  تیز تر ہو گئی۔ جب بھی موسیٰ نے  خدا سے  بات کی گرج میں خدا نے  اسے  جواب دیا۔

20 خداوند سینائی پہاڑ کی چوٹی پر اترا اور موسیٰ کو اوپر آنے  کے   لئے  کہا۔ اس  لئے  موسیٰ پہاڑ کے  اوپر گیا۔

21 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” جاؤ اور لوگوں کو انتباہ دو کہ وہ میرے  پاس نہ آئیں نہ ہی مجھے  دیکھیں اگر وہ ایسا کریں گے  تو وہ مر جائیں گے  اور اسی طرح بہت سی موت ہو جائیں گی۔

22 ان کاہنوں سے  بھی کہو جو میرے  پاس آئیں گے  کہ وہ اس خاص ملاقات کے   لئے  خود کو تیار کریں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو میں انہیں سزا دوں گا۔ ”

23 موسیٰ نے  خداوند سے  کہا، ” لیکن لوگ پہاڑ پر نہیں آ سکتے۔ تو نے  بالکل ہی ایک لکیر کھینچ کر پہاڑ کو مقدس سمجھنے  اور اسے  پار نہ کرنے  کے   لئے  کہا تھا۔ ”

24 خداوند نے  اس سے  کہا، ” لوگوں کے  پاس جاؤ اور ہارون کو لاؤ اپنے  ساتھ واپس لاؤ لیکن کاہنوں اور لوگوں کو مت آنے  دو اگر وہ میرے  پاس آئیں گے  تو میں انہیں سزا دوں گا۔

25 اس  لئے  موسیٰ لوگوں کے  پاس گئے  اور ان سے  یہ باتیں کہیں۔

 

 

 

 

باب:   20

 

 

1 تب خدا نے  یہ ساری باتیں کہیں،

2 ” میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔ میں تمہیں ملک مصر سے  باہر لایا جہاں تم غُلام تھے۔

3 ” تمہیں میرے  علا وہدوسرے  خداؤں کی عبادت نہیں کرنی چاہئے۔

4 ” تمہیں کوئی بھی مورتی نہیں بنا نا چاہئے۔ کسی بھی اس چیز کی تصویر یا بُت مت بناؤ جو اوپر آسمان میں یا نیچے  زمین میں ہو یا پانی کے  نیچے  ہو۔

5 بُتوں کی پرستش یا کسی قسم کی خدمت نہ کرو کیوں؟ کیونکہ میں خداوند تمہارا خدا ہوں۔ میرے  لوگ جو دوسرے  خداؤں کی عبادت کرتے  ہیں۔ میں ان سے  نفرت کرتا ہوں۔ اگر کوئی آدمی  میرے  خلاف گناہ کرتا ہے  تو میں اس کا دشمن ہو جاتا ہوں۔ میں اس آدمی  کی اولادوں کی تیسری اور چوتھی نسل تک کو سزا دوں گا۔

6 لیکن میں ان آدمیوں پر بہت مہر بان رہوں گا جو مجھ سے  محبت کریں گے  اور میرے  احکامات کو مانیں گے۔ میں ان کے  خاندانوں کے  سا تھ اور ان کی ہزاروں نسلوں تک مہربان رہوں گا۔

7 ” تمہارے  خداوند خدا کے  نام کا استعمال تمہیں غلط طریقے  سے  نہیں کر نا چاہئے۔ اگر کوئی آدمی  خداوند کے  نام کا استعمال غلط طریقے  پر کرتا ہے  تو وہ قصور وار ہے  اور خداوند اسے  کبھی بے  گناہ نہیں مانے  گا۔

8 ” سبت کے  ایک خاص دن کے  طور پر منانے  کا خیال رکھنا۔

9 تم ہفتے  میں چھ دن اپنا کام کرو۔

10 لیکن ساتویں دن تمہارے  خداوند خدا کے  آرام کا دن ہے۔ اس دن کوئی بھی آدمی  چاہے تم، بیٹے  اور بیٹیاں تمہارے  غلام اور داشتائیں، جانور اور تمہارے  شہر میں رہنے  والے  سب غیر ملکی کام نہیں کریں گے۔

11 کیونکہ خداوند نے  چھ دن کام کیا اور آسمان، زمین، سمندر اور ان کی ہر چیز بنائی اور ساتویں دن خدا نے  آرام کیا۔ اس  لئے  خداوند نے  سبت کے  دن کو برکت بخشی اور اسے  بہت ہی خاص دن کے  طور پر بنایا۔

12 “اپنے  ماں باپ کی عزت کرو۔ یہ اس  لئے  کرو کہ تمہارا  خداوند خدا جس زمین کو تمہیں دے  رہا ہے  اس میں تم ساری زندگی گزار سکو۔

13 ” تمہیں کسی آدمی  کو قتل نہیں کر نا چاہئے۔

14 ” تمہیں بد کاریکا  گناہ نہیں کر نا چاہئے۔

15 “تمہیں چوری نہیں کرنی چاہئے۔

16 “تمہیں اپنے  پڑوسیوں کے  خلاف جھوٹی گواہی نہیں دینی چاہئے۔

17 ” دوسرے  لوگوں کی چیزوں کو لینے  کی خواہش نہیں کرنی چاہئے۔ تمہیں اپنے  پڑوسی کا گھر، اس کی بیوی، اس کے  خادم اور خادمائیں، اس کی گائیں اس کے  گدھوں کو لینے  کی خواہش نہیں کرنی چاہئے۔ تمہیں  اس کی کوئی بھیچیز لینے  کی خواہش نہیں کرنی چاہئے۔ ”

18 اس دوران ان لوگوں نے  گرج کی آواز سُنی، بجلی کی چمک دیکھی، بِگل کی آواز سنی۔ انہوں نے  پہاڑ سے  اٹھتے  ہوئے  دھوئیں کو دیکھا۔ لوگ ڈرے  ہوئے  تھے  اور خوف سے  کانپ رہے  تھے۔ وہ پہاڑ سے  دور کھڑے  ہو کر اسے  دیکھ رہے  تھے۔

19 تب لوگوں نے  موسیٰ سے  کہا، ” اگر تم ہم لوگوں سے  کچھ کہنا چاہو تو ہم لوگ سنیں گے۔ لیکن خدا کو ہم لوگوں سے  بات نہ کرنے  دو اگر یہ ہو گا تو ہم لوگ مر جائیں گے۔ ”

20 تب موسیٰ نے  لوگوں سے  کہا، ” ڈرو مت۔ خداوند تمہیں جانچ کر رہا ہے۔ یہ جاننے  کے   لئے  کہ تمہیں اس کا خوف ہے  یا نہیں تا کہ تم گناہ نہیں کرو گے۔ ”

21 تب لوگ اس وقت اٹھ کر پہاڑ سے  دور چلے  آئے۔ جب کہ موسیٰ اس گہرے  بادل میں گئے  جہاں خدا تھا۔

22 تب خداوند نے  موسیٰ سے  اسرائیلیوں کو بتانے  کے   لئے  یہ باتیں کہیں : تم لوگوں نے  دیکھا کہ میں نے  تم سے  آسمان سے  باتیں کیں۔

23 اس  لئے  تم لوگ میرے  خلاف سونے  یا چاندی کی مورتیاں نہ بنانا تمہیں ان جھوٹے  خداؤں کی مورتیاں کبھی نہیں بنانیچاہئیں۔

24 “میرے   لئے  ایک خاص قربان گاہ بناؤ۔ اس قربان گاہ کو بنانے  کے   لئے  مٹی کا استعمال کرو۔ تم جلانے  کے  نذرانہ کو، اپنے  ہمدردی کے  نذرانہ کو، بھیڑوں کو اور اپنے  بیلوں کو ہر اس جگہ پر جہاں میں چاہتا ہوں کہ میرا نام یاد کیا جائے  قربانی کر سکتے  ہو۔ تب میں آؤں گا اور تمہیں خیر و برکت دوں گا۔

25 اگر تم لوگ قربان گاہ بنانے  کے   لئے  چٹانوں کو استعمال کرو تو تم لوگ ان چٹانوں کا استعمال نہ کرو جنہیں تم لوگوں نے  اپنے  لوہے  کے  اوزاروں سے  چکنا کیا ہو۔ اگر تم لوگ چٹانوں پر کسی لوہے  کے  اوزاروں کا استعمال کئے  ہو تو میں قربان گاہ کو قبول نہیں کروں گا۔

26 تم لوگ قربان گاہ تک پہنچنے  والی سیڑھیاں بھی نہ بنانا اگر سیڑھیاں ہوں گی تو لوگ اوپر قربان گاہ کو دیکھیں گے  تو وہ تمہارے  لباس کے  اندر نیچے  سے  دیکھ لیں گے۔ ”

 

 

 

باب:    21

 

 

1 ” یہ سارے  اُصول ہیں جسے  تم لوگوں کو ضرور بتاؤ گے  :

2 ” اگر تم ایک عبرانی غلام خریدتے  ہو، تو اسے  تمہاری خدمت صرف چھ سال کرنی ہو گی۔ چھ سال بعد وہ غلام آزاد ہو جائے  گا۔ اور تم کو یعنی مالک کو غلام کی آزادی کے  لئے  کچھ نہیں دیا جائے  گا۔

3 تمہارا غلام ہونے  کے  پہلے  اگر اس کی شادی نہیں ہوئی ہو تو وہ بیوی کے  بغیر ہی آزاد ہو کر چلا جائے  گا۔ لیکن اگر غلام ہونے  کے  وقت وہ آدمی  شادی شدہ ہو گا تو آزاد ہونے  کے  وقت وہ اپنی بیوی کو اپنے  ساتھ لے  جائے  گا۔

4 اگر غلام شادی شدہ نہ ہو تو آقا اس کے  لئے  بیوی لا سکتا ہے۔ اگر وہ بیوی آقا کے  لئے  بیٹا یا بیٹی کو جنم دیتی ہے  تو وہ عورت اور اس کے  بچّے  آقا کے  ہو جائیں گے۔ جب غلام کے  کام کی مدت پوری ہو جائے  گی تب غلام کو آزاد کر دیا جائے  گا۔

5 ” لیکن اگر غلام کہتا ہے ، ‘ میں آقا سے  محبت کرتا ہوں، میں اپنی بیوی بچّوں سے  محبت کرتا ہوں، میں آزاد نہیں ہوں گا۔

6 اگر ایسا ہو تو غلام کا آقا اسے  خدا کے  سامنے  لائے  گا۔ غلام کا آقا اسے  دروازے  تک یا اس کی چوکھٹ تک لے  جائے  گا اور غلام کا آقا ایک تیز اوزار سے  غلام کے  کان میں ایک سوراخ کرے  گا۔ تب غلام اس آقا کی خدمت زندگی بھر کرے  گا۔

7 ہو سکتا ہے  کوئی بھی آدمی  اپنی بیٹی کو باندی کی طرح فروخت کرنے  کے  لئے  فیصلہ کرے۔ اگر ایسا ہو تو اسے  آزاد کرنے  کے  لئے  وہی اصول نہیں ہیں جو مرد غلام کے  آزاد کرنے  کے  لئے  ہیں۔

8 اگر آقا اس عورت سے  جسے  اس نے  پسند کیا ہے  خوش نہیں ہے  تو وہ اس کے  باپ کو واپس بیچ سکتا ہے۔ آقا کو اسے  غیر ملکیوں کے  پاس بیچنے  کا اختیار نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اس کے  ساتھ نا انصافی ہے۔

9 اگر باندی کا آقا اس باندی سے  اپنے  بیٹے  کی شادی کرنے  کا وعدہ کرے  تو اس سے  باندی جیسا سلوک نہیں کیا جائے  گا۔ اس کے  ساتھ بیٹی جیسا سلوک کرنا ہو گا۔

10 ” اگر باندی کا آقا کسی دوسری عورت سے  بھی شادی کرے  تو اُسے  چاہئے  کہ وہ پہلی بیوی کو کھا نا یا لباس کم نہ دے  اور اُسے  چاہئے  کہ ان چیزوں کو مسلسل دیتا رہے  جنہیں حاصل کرنے  کا اُسے  اختیار شادی سے  ملا ہے۔

11 اس آدمی  کو یہ تین چیزیں اُس کے  لئے  کرنی چاہئے۔ اگر وہ انہیں نہیں کرتا تو عورت آزاد کر دی جائے  گی۔ اور اسے  کچھ ادا کرنے  کی ضرورت نہیں پڑے  گی۔

12 ” اگر کوئی آدمی  کسی کو ضرر پہنچائے  اور اُسے  مار ڈالے  تو اس آدمی کو بھی مار دیا جائے۔

13 لیکن اگر کوئی شخص کسی کو بغیر کسی ارادہ کے  مارتا ہے  اور وہ مر جاتا ہے  تو یہ سمجھا جائے  گا کہ یہ خدا کی مرضی سے  ہوا ہے۔ اس لئے  اسے  اسی خاص محفوظ جگہ میں بھاگ جانا چاہئے  جسے  کہ میں نے  مقّرر کیا ہے۔

14 لیکن کوئی آدمی  اگر کسی آدمی  کو غصّہ یا نفرت کے  سبب  مار ڈالے  تو اس قاتل کو میری قربان گاہ سے  دورلے  جاؤ اور اُسے  موت کی سزا دو۔

15 ” کوئی آدمی  جو اپنے  ماں باپ کو ضرر پہنچائے  تو اسے  ضرور مار دیا جائے۔

16 ” اگر کوئی آدمی  کسی کو غلام کی طرح بیچنے  یا اپنا غلام بنانے  کے  لئے  چُرائے  تو اُسے  ضرور مار دیا جائے۔

17 ” جب دو آدمی  بحث کرتے  ہوں تو ہو سکتا ہے  کہ ان میں سے  ایک آدمی  دوسرے  کو پتھّر یا گھونسہ مارے  تو اگر وہ شخص جو گھائل ہو گیا ہے  نہیں مرتا   تو اس آدمی  کو نہیں مارنا چاہئے  جس نے اسے  چوٹ پہنچا ئی ہے۔

18

19 اگر چوٹ کھائے  ہوئے  آدمی  کو کچھ عرصے  کے  لئے  بستر پر رہنا پڑے  اور وہ چلنے  کے  لئے  لا ٹھی کا استعمال کرے  تو چوٹ پہنچانے  والے  آدمی  کو اس کے  بر باد ہوئے  وقت کے  لئے  ہرجانہ دینا چاہئے۔ اور وہ آدمی  اس کے  علاج کا بھی خرچ اس وقت تک ضرور ادا کرے  گا جب تک کہ وہ پوری طرح سے  صحت یاب نہ ہو جائے۔

20 ” کبھی کبھی لوگ اپنے  غلام اور باندیوں کو پیٹتے  ہیں اگر پٹائی کے  بعد غلام مر جائے  تو قاتل کو ضرور سزا دی جائے۔

21 لیکن غلام اگر نہیں مرتا اور کچھ دنوں بعد وہ صحت مند ہو تو اس آدمی  کو سزا نہیں دی جائے  گی۔ کیوں؟ کیونکہ غلام کے  آقا نے  غلام کے  لئے  رقم ادا کی ہے  اور غلام اُس کا ہے۔

22 ہو سکتا ہے  کہ دو آدمی  آپس میں لڑیں  اور ہو سکتا ہے  کہ کسی حاملہ عورت کو چوٹ پہنچائے  اور اسے  اسقاط حمل ہو جائے  لیکن ماں کو کوئی نقصان نہ پہنچے  تو چوٹ پہنچانے  والا آدمی  اسے  ضرور جرمانہ ادا کرے۔ اس عورت کا شوہر یہ طے  کرے  گا کہ وہ آدمی  کتنا جرمانہ دے  گا۔ منصف اس آدمی  کو طے  کرنے  میں مدد کرے  گا کہ جرمانہ کتنا ہو گا۔

23 لیکن اگر عورت یا بچّہ بُری طرح زخمی ہوا تو وہ آدمی  جس نے  اسے  چوٹ پہنچا ئی ہے  سزا پائے  گا۔ تم ایک زندگی کے  بدلے  دوسری زندگی ضرور لو۔

24 تم آنکھ کے  بدلے  آنکھ، دانت کے  بدلے  دانت، ہاتھ کے  بدلے  ہاتھ، پیر کے  بدلے  پیر۔

25 جلانے  کے  بدلے  جلانا، کھرچنے  کے  بدلے  کھرچنا اور زخم کے  بدلے  زخم۔

26 اگر کوئی آدمی  کسی غلام کی آنکھ پر مارے  اور غلام اس آنکھ سے  اندھا ہو جائے  تو اس غلام کو ہر جانے  کے  طور پر آزاد کر دیا جائے۔ یہ قانون مرد اور عورت دونوں غلام کے  لئے  لاگو ہو گا۔

27 اگر غلام کا آقا غلام کے  منھ پر مارے  اور غلام کا کوئی دانت ٹوٹ جائے  تو غلام کو آزاد کر دیا جائے  گا۔ غلام کا دانت اس کی آزادی کی قیمت ہے۔ یہ غلام اور آقا دونوں کے  لئے  برابر ہے۔

28 ” اگر کسی آدمی  کا کوئی بیل کسی مرد یا عورت کو مارتا ہے  اور وہ شخص مر جاتا ہے  تو پتھّرمار کر اس بیل کو مار ڈالو۔ تمہیں اس بیل کا گوشت نہیں کھا نا چاہئے  لیکن بیل کا مالک قصور وار نہیں ہے۔

29 ” لیکن اگر بیل نے  پہلے  لوگوں کو ضرر پہنچا یا ہے  اور مالک کو انتباہ دیا گیا ہے  تو وہ مالک قصور وار ہے۔ کیونکہ اس نے  بیل کو نہیں باندھا یا بند نہیں رکھا۔ اگر بیل آزاد چھوڑا گیا ہے  اور کسی کو مار دیا تو مالک قصور وار ہے۔ تم پتھّروں سے  بیل کو مار ڈالو اور اس کے  مالک کو بھی موت کے  گھاٹ اُتار دو۔

30 لیکن مرنے  والے  کا خاندان رقم لے  سکتا ہے ، اگر وہ رقم قبول کرے  تب وہ آدمی  جو مالک ہے  اس کو مارنا نہیں چاہئے۔ لیکن اس کو اتنی رقم دینا چاہئے  جو منصف مقّرر کرے۔

31 ” یہی قانون اس وقت بھی لا گو ہو گا جب بیل کسی آدمی  کے  بیٹے  یا بیٹی کو مارتا ہے۔

32 لیکن اگر کوئی بیل غلام کو مار دے  تو بیل کا مالک غلام کے  مالک کو ہر جانے  کے  طور پر چاندی کے  تیس سکّے  دے  اور بیل کو بھی پتھّروں سے  مار ڈالا جائے۔ یہ قانون مرد اور عورت دونوں غلام کے  لئے  لاگو ہو گا۔

33 ” کوئی آدمی  کوئی گڑھا یا کنواں کھو دے  اور اسے  نہیں ڈھا نکے  اگر کسی آدمی  کا جانور آئے  اور اس میں گر جائے  تو گڑھے  کا مالک قصور وار ہے۔

34 گڑھے  کا مالک جانور کے  لئے  ہر جانے  ادا کرے  گا۔ لیکن ہر جانے  ادا کرنے  کے  بعد مرا ہوا جانور اس کا ہو جائے  گا۔

35 ” اگر کسی کا بیل کسی دوسرے  آدمی  کے  بیل کو مار ڈالے  تو وہ دونوں اس زندہ بیل کو بیچ دیں۔ دونوں آدمی  بیچنے  سے  ملنے  والی رقم کا آدھا آدھا اور مردہ بیل کا آدھا آدھا حصّہ لے  لے۔

36 لیکن اگر بیل کو سینگ مار نے  کی عادت تھی تو اس بیل کے  مالک اپنے  بیل کا جوابدہ ہو گا۔ اگر وہ بیل دوسرے  بیل کو مار ڈالتا ہے  تو اس بیل کا مالک قصور وار ہے  کیونکہ اس نے  بیل کو آزاد چھوڑا۔ اسے  ہر جانے  کے  طور پر مرے  ہوئے  بیل کے  مالک کو نیا بیل دینا ہو گا۔ اور مرا ہوا بیل اس کا ہو جائے  گا۔

 

 

 

 

باب:  22

 

 

1 ” جو آدمی  کسی بیل یا بھیڑ کو چُراتا ہے  اُسے  تم کس طرح سزا دو گے ، اگر وہ آدمی  جانور کو مار ڈالے  یا بیچ دے  تو وہ اسے  وا پس نہیں کر سکتا۔ اس لئے  وہ چُرائے  ہوئے  بیل کے  بدلے  پانچ بیل دے۔ یا چُرائی گئی بھیڑ کے  بدلے  چار بھیڑ دے۔ وہ چوری کے  لئے  کچھ رقم بھی ادا کرے

2 لیکن اُس کے  پاس اُس کا اپنا کچھ بھی نہیں ہے  تو چوری کے  لئے  غلام کے  طور پر اسے  بیچا جائے  گا۔ لیکن اگر اس کے  پاس چوری کا جانور پا یا جائے  تو وہ آدمی  جانور کے  مالک کو ہر ایک چرائے  گئے  جانور کے  بدلے  دو جانور دے  گا۔ اُس بات کی کوئی تخصیص نہیں کہ وہ جانور بیل تھا یا گدھا یا بھیڑ۔ ” اگر کوئی چور رات کو گھر میں نقب ( سیندھ) لگانے  کے  وقت مارا جائے  تو اسے  مار نے  کا قصوروار کوئی نہیں ہو گا۔

3  4  5 ” اگر کوئی آدمی  اپنے  کھیت یا انگور کے  باغ میں اپنی مویشیوں کو چرنے  دے  اور اگر وہ مویشی دوسرے  کے  کھیت یا انگور کے  باغ میں چلی جائے  اور اسے  بر باد کر دیں تو اس شخص کو جس نے  اپنی مویشی کو چھوڑ دیا اپنی بہترین فصل سے  اس کے  نقصان کا ہرجانہ ادا کر نا ہو گا۔

6 ” اگر کوئی شخص آ گ جلاتا ہے  اور آ گ خاردار جھاڑیوں میں پھیل جا تی ہے  اور یہ آ گ پڑوسی کی فصل کو یا اناج کو یا پودے  دار کھیت کوبرباد کر دیتی ہے  تو وہ شخص جو آ گ لگاتا ہے  اسے  جلی ہوئی چیزوں کے  لئے  ہر جا نہ ادا کر نا ہو گا۔

7 ” کوئی آدمی  اپنے  پڑوسی سے  اُس کے  گھر میں کُچھ دولت یا کچھ دوسری چیزیں رکھنے  کو کہے  اگر وہ دولت یا وہ چیزیں پڑوسی کے  گھر سے  چوری ہو جائیں تو تم کیا کرو گے ؟ ” تمہیں چور کا پتہ لگانے  کی کو شش کرنی ہو گی۔ اگر تم نے  چور کو پکڑ لیا تو وہ چیزوں کی قیمت کا دو گنا دے  گا۔

8 لیکن اگر تم چور کا پتہ نہ لگاس کے   تب گھر کا مالک منصفوں کے  سامنے  ضرور حاضر ہو اور یہ کہتے  ہوئے  حلف لے  کہ اس نے  اپنے  پڑوسی کی چیزوں کو نہیں لیا ہے۔

9 ” اگر وہ آدمی  کسی کھوئے  ہوئے  بیل یا گائے  یا بھیڑ یا لباس یا کسی دوسری کھوئی ہوئی چیز کے  متعلق متفق نہ ہوں تو تم کیا کرو گے ؟ ایک آدمی  کہتا ہے ، ‘ یہ میری ہے  ‘ اور دُوسرا کہتا ہے  ‘ نہیں، یہ میری ہے۔ ‘ دونوں آدمی  خدا کے  سامنے  جائیں۔ خدا طے  کرے  گا کہ قصور وار کون ہے۔ جس آدمی  کو خدا قصوروار پائے  گا وہ اُس چیز کی قیمت سے  دو گنا ادا کرے۔

10 ” کوئی اپنے  پڑوسی سے  کچھ وقت کے  لئے  اپنے  جانور کی دیکھ بھال کے  لئے  کہے  یہ جانور بیل، بھیڑ، گدھا یا کوئی دوسرا جانور ہو اور اگر وہ جانور مر جائے  اسے  چوٹ آ جائے۔ یا کوئی اسے  اس وقت ہانک لے  جائے  جب کوئی دیکھ نہ رہا ہو تو تم کیا کرو گے ؟ ”

11 وہ پڑوسی وضاحت کرے  کہ اُس نے  جانور کو نہیں چُرایا ہے  اگر یہ سچ ہے  تو پڑوسی خداوند کی قسم لے  کہ اُس نے  اُسے  نہیں چُرا یا ہے۔ جانور کا مالک اس قسم کو ضرور قبول کرے۔ مالک کے  جانور کے  لئے  پڑوسی کو ہرجانہ ادا نہیں کر نا ہو گا۔

12 لیکن اگر پڑوسی نے  جانور کو چرایا ہے  تو وہ مالک کے  جانور کے  لئے  ہرجانہ ضرور ادا کرے۔

13 اگر جنگلی جانوروں نے  جانور کو مارا ہے  تو ثبوت کے  لئے  پڑوسی اُس کے  جسم کو لائے  پڑوسی مارے  گئے  جانور کے  لئے  مالک کو ہرجانہ ادا نہیں کرے  گا۔

14 ” اگر کوئی آدمی  اپنے  پڑوسی سے  کسی جانور کو مانگ کر لے  جائے  اور اگر اُس جانور کو چوٹ پہنچے  یا وہ مر جائے  اور اس کا مالک یقیناً وہاں نہ تھا تو مانگ کر لے  جانے  وا لا اُس جانور کے  لئے  ہرجانہ ادا کرے۔

15 لیکن اگر مالک جانور کے  ساتھ وہاں تھا تب مانگ کر لے  جانے  والے  کو ہرجانہ ادا نہیں کرنا پڑے  گا۔ یا اگر یہ کرا یہ کا جانور تھا تو اُدھار لینے  والے  کو ادائے  گی نہیں کرنی پڑے  گی اگر جانور کو چوٹ پہنچے  یا مر جائے  تو جانور کے  استعمال کے  لئے  دی گئی رقم ہی کافی ہے۔

16 “اگر کوئی مرد کوئی منسوب شدہ کنواری لڑکی سے  جنسی تعلقات قائم کرے تو وہ اُس سے  ضرور شادی کرے  اور وہ اُس لڑکی کے  باپ کو پو را جہیز دے۔

17 اگر باپ اپنی بیٹی کی شادی کرنے  کی اجازت دینے  سے  انکار کرے  تو بھی آدمی  کو رقم ادا کرنی چاہئے۔ اُس کو پوری رقم ادا کرنی چاہئے۔

18 “تم کسی عورت کو جادو ٹونا نہ کرنے  دو۔ اگر وہ ایسا کرے  تو تم اُسے  زندہ رہنے  نہ دو۔

19 ” کوئی شخص کسی جانور کے  ساتھ جنسی تعلقات رکھے  تو اسے  ضرور موت کی سزا دینی چاہئے۔

20 “اگر کوئی شخص خداوند کے  علا وہ دوسرے  خداؤں کو قربانی پیش کرے  تو اُس شخص کو ضرور پوری طرح سے  تباہ کر دیا جائے۔

21 “یاد رکھو اس سے  پہلے  تم لوگ مصر کے  ملک میں غیر ملکی تھے  تم لوگ اُس آدمی  کو نہ ٹھگو نہ چوٹ پہنچاؤ جو تمہارے  ملک میں غیر ملکی ہے۔

22 “تم لوگ ایسی عورتوں کے  لئے  کبھی بُرا نہیں کرو گے  جن کے  شوہر مر چکے  ہیں۔ یا اُن بچوں کا جن کے  ماں باپ نہ ہوں۔

23 اگر تم لوگ ان بیواؤں یا یتیم بچوں کا کچھ بھی بُرا کرو گے  تو وہ میرے  سامنے  روئیں گے  اور میں اُن کی مصیبتوں کو سنوں گا۔

24 اور مجھے  بہت غصہ آئے  گا۔ میں تمہیں تلوار سے  مار ڈالوں گا۔ تب تمہاری بیویاں بیوہ ہو جائیں گی اور تمہارے  بچے  یتیم ہو جائیں گے۔

25 ” اگر میرے  لوگوں میں سے  کوئی غریب ہو اور تم اُسے  قرض دو تو اُس رقم کے  لئے  تمہیں سود نہیں لینا چاہئے۔

26 اگر تم کسی شخص کا جبّہ لو، تو سورج ڈوبنے  سے  پہلے  وا پس کر دو۔

27 کیونکہ اگر وہ آدمی  اپنا جبّہ نہیں پائے  تو اُس کے  پاس تن ڈھانکنے  کو کچھ بھی نہیں رہے  گا۔ جب وہ سوئے  گا تو اُسے  سردی لگے  گی۔ اگر وہ مجھے  رو رو کر پکا رے  گا تو میں اُس کی سنوں گا۔ میں اُس کی فریاد سنوں گا کیونکہ میں رحم دل ہوں۔

28 ” تمہیں خدا یا اپنے  لوگوں کے  قائدین کو بد دُعا نہیں دینی چاہئے۔

29 “فصل کٹنے  کے  وقت تمہیں اپنا پہلا اناج اور پہلے  پھل کا رس دینا چاہئے۔ اُسے  مت ٹالو۔ “مجھے  اپنے  پہلوٹھے  بیٹے دو۔

30 اپنی پہلو ٹھی گائیں اور بھیڑیں بھی مجھے  دینا۔ پہلوٹھے  کو اُس کی ماں کے  ساتھ سات دن رہنے  دینا۔ اس کے  بعد آٹھویں دن اُسے  مجھ کو دینا۔

31 ” تم لو گ میرے  خاص لوگ ہو۔ اِس لئے  ایسے  کسی جانور کا گوشت مت کھانا جسے  کسی جنگلی جانور نے  مارا ہو۔ اُس مرے  ہوئے  جانور کو کتّوں کو کھانے  دو۔

 

 

 

 

باب:   23

 

 

1 ” لوگوں کے  خلا ف جھو ٹ نہ بو لو۔ اگر تم عدالت میں گواہ ہو تو بُرے  آدمی  کی مدد کے  لئے  جھوٹ مت بو لو۔

2 اس مجمع کی تقلید نہ کرو جو غلط کر رہا ہو۔ جب تم عدالت میں شہادت دو تو انصاف کا خون کرنے  کے  لئے  اکثریت میں شامل نہ ہو۔

3 ” عدالت میں کسی غریب کی طرفداری نہ کرو کہ وہ غریب ہے۔ اگر وہ صحیح ہے  تب ہی اُس کی طرفداری کرو۔

4 ” اگر تمہیں دُشمن کا کوئی کھو یا ہوا بیل یا گدھا ملے  تو تمہیں اُسے  اس کو واپس دینا چاہئے۔

5 ” اگر تم دیکھو کہ کوئی جانور اس لئے  نہیں چل سکتا کہ اُس کو زیادہ بوجھ ڈھونا پڑ رہا ہے  تو تمہیں اُسے  روکنا چاہئے  اور اُس جانور کی مدد کرنی چاہئے  جب وہ جانور تمہارے  دُشمنوں میں سے  کسی کا ہو۔

6 ” تمہیں لوگوں کو غریبوں کے  ساتھ نا انصافی نہیں کرنے  دینی چاہئے۔

7 ” تم کسی کو کسی بات کے  لئے  قصور وار کہتے  وقت بہت ہوشیار رہو۔ کسی آدمی  پر جھوٹے  الزام نہ لگاؤ۔ کسی بے  گناہ شخص کو اُس کے  قصور کی سزا کے  لئے  نہ مارو جو اس نے  کیا ہی نہیں ہے۔ میں قصور وار شخص کو معاف نہیں کروں گا۔

8 ” اگر کوئی غلط آدمی  اپنے  سے  متّفق ہونے  کے  لئے  رشوت دینے  کا ارادہ کرے  تو اُسے  مت لو۔ ایسی رشوت منصفوں کو اندھا کر دے  گی جس سے  وہ سچ کو نہیں دیکھ سکیں گے۔ رشوت اچھے  لوگوں کو جھوٹ بولنا سکھائے  گی۔

9 ” تم کسی غیر ملکی کے  ساتھ کبھی بُرا سلوک نہ کرو یاد رکھو جب تم ملک مصر میں رہتے  تھے  تب تم غیر ملکی تھے۔

10 ” چھ سال تک بیج بوؤ اپنی فصلوں کو کا ٹو اور کھیت کو تیار کرو۔

11 لیکن ساتویں سال اپنی زمین کا استعمال نہ کرو ساتویں سال زمین کے  آرام کا خاص وقت ہو گا۔ اپنے  کھیتوں میں کچھ بھی نہ بوؤ۔ اگر کوئی فصل وہاں اگتی ہے  تو اُسے  غریب لوگوں کولے  لینے  دو جو بھی کھانے  کی چیزیں بچ جائیں اُنہیں جنگلی جانوروں کو کھا لینے  دو۔ یہی معاملہ تمہیں اپنے  انگور اور زیتون کے  با غوں کے متعلق  بھی کر نا چاہئے۔

12 “چھ دن تک کام کرو تب ساتویں دن آرام کرو۔ اُس سے  تمہارے  غلاموں اور تمہارے  غیر ملکیوں کو بھی آرام کا وقت ملے  گا۔ اور تمہارے  بیل اور گدھے  بھی آرام کر سکیں گے۔

13 ” یقینی طور پر تم تمام شریعت کی پابندی کرو گے  جھوٹے  خداؤں کی پرستش مت کرو۔ تمہیں اُن کا نام بھی نہیں لینا چاہئے۔

14 ” ہر سال تمہاری تین خاص مقدّس تقریب ہوں گی۔ اُن دنوں تم لوگ میری عبادت کے  لئے  میری خاص جگہ پر آؤ گے۔

15 پہلی مقدس تقریب بے  خمیری روٹی کی تقریب ہو گی۔ یہ ویسا ہی ہو گا جیسا میں نے  حکم دیا ہے  اس دن تم لوگ ایسی روٹی کھاؤ گے  جس میں خمیر نہ ہو۔ یہ سات دن تک چلے  گا۔ یہ تم لوگ ابیب کے  مہینے  میں کرو گے۔ کیونکہ یہی وہ وقت ہے  جب تم لوگ مصر سے  آئے  تھے۔ اُن دنوں کوئی بھی شخص میرے  سامنے  خالی ہاتھ نہیں آئے  گا۔

16 ” دُوسری مقدس تقریب فصل کاٹنے  کی تقریب ہو گی۔ یہ تب شروع ہو گی جب تم اپنے  کھیت میں بوئی ہوئی فصل کاٹنا شروع کر و گے۔ ” وہ تیسری تقریب تک ہو گی جب تم فصل اِکٹھا کرو گے۔ یہ پت جھڑ میں ہو گی۔

17 ” اِس طرح ہر سال تین مر تبہ تمہارے  تمام آدمی  خداوند خدا کے  سامنے  ہوں گے۔

18 جب تم کسی جانور کو ذبح کرو اور اُس کا خون قربانی کے  طور پر پیش کرو پھر ایسی روٹی نذر نہ کرو جس میں خمیر ہو۔ میری تقریب پر پیش کئے  گئے  جانور کے  چربی کو صبح تک نہ رکھو۔

19 ” فصل کٹنے  کے  وقت جب تم اپنی فصلوں کو جمع کرو، تب اپنی کاٹی ہوئی فصل کا پہلا اناج خداوند اپنے  خدا کے  گھر میں لاؤ۔ ” اور بکری کے  بچہ کو اس کی ماں کے دودھ میں نہ ابا لو۔ ”

20 ” میں تمہارے  سامنے  ایک فرشتہ بھیج رہا ہوں یہ فرشتہ تمہیں اُس جگہ تک لے  جائے  گا جسے  میں نے  تمہارے  لئے  تیار کیا ہے۔ یہ فرشتہ تمہاری حفاظت کرے  گا۔

21 فرشتہ کی اطاعت کرو اور اس کے  ساتھ جاؤ اُس کے  خلاف مت رہو فرشتہ تمہیں معاف نہیں کرے  گا اگر تم اس کے  ساتھ بُرا کرو گے۔ وہ میری نمائندگی کرتا ہے۔

22 وہ جو کچھ کہے  اس کی تعمیل کرو تمہیں ہر وہ کام کرنا چاہئے  جو میں تمہیں کہتا ہوں اگر تم یہ کرو گے  تو میں تمہارے  تمام دشمنوں کے  خلاف ہوں گا اور میں اس کا دشمن ہوں گا جو تمہارے  خلاف ہو گا۔ ”

23 ” میرا فرشتہ تمہیں اُس ملک سے  ہو کر لے  جائے  گا۔ وہ تمہیں کئی مختلف لوگوں عموری، حتّی، فریزی، کنعانی، حوّی، اور یبوسی لوگوں میں پہنچائے  گا۔ لیکن میں ان تمام لوگوں کو ہرا دوں گا۔

24 “ان لوگوں کے  خداؤں کی پرستش نہ کرو۔ کبھی بھی ان کے  خداؤں کے  سامنے  نہ جھکو۔ تم ہر گز ان لوگوں کی طرح نہ رہو جس طرح وہ رہتے  ہیں۔ تمہیں ان کے  بُتوں کو تباہ کر نا چاہئے  اور تمہیں اُن کی پرستش کے  پتھّروں کو توڑ دینا چاہئے  جو اُنہیں ان کے  دیوتاؤں کی یاد دلانے  میں مدد کرتے  ہیں۔

25 تمہیں اپنے  خدا خداوند کی خدمت کرنی چاہئے  اگر تم ایسا کرو گے  تو میں تمہیں پوری روٹی اور پانی کی برکت دوں گا۔ میں تمہاری ساری بیماریوں کو دور کروں گا۔

26 تمہاری تمام عورتیں بچّے  پیدا کرنے  کے  لائق ہوں گی۔ باب:   کے  وقت ان کا کوئی بچّہ نہیں مرے  گا۔ اور میں تم لوگوں کو طویل زندگی عطا کروں گا۔

27 ” جب تم اپنے  دُشمنوں سے  لڑو گے  میں اپنی عظیم طاقت کو تم سے  پہلے  وہاں بھیج دوں گا۔ میں تمہارے  سب دشمنوں کو شکست دینے  میں تمہاری مدد کروں گا وہ لوگ جو تمہارے  خلاف ہوں گے  وہ جنگ میں گھبرا کر بھاگ جائیں گے۔

28 میں تمہارے  آگے  زنبوروں (بھڑوں ) کو بھیجوں گا۔ وہ حوّی، کنعانی اور حتّی لوگوں کو تمہارے  ملک کو چھوڑ کر بھا گنے  پر مجبور کریں گے۔

29 لیکن میں اُن لوگوں کو تمہارے  ملک سے  جلدی جانے  کے  لئے  دباؤ نہیں ڈالوں گا۔ میں یہ صرف ایک سال میں نہیں کروں گا اگر میں لوگوں کو بہت جلدی سے  باہر جانے  کے  لئے  دباؤ ڈالوں تو ملک ہی خالی ہو جائے  گا۔ پھر سب طرح کے  جنگلی جانور بڑھیں گے  اور وہ تمہارے  لئے  تکلیف دہ ہوں گے۔

30 میں انہیں آہستگی سے  انہیں زمین سے  باہر کرنے  کے  لئے  اُس وقت تک دباؤ ڈالتا رہوں گا۔ جب تک تم زمین پر پھیل نہ جاؤ اور اُس پر قبضہ نہ کر لو۔

31 ” میں تم لوگوں کو بحیرہ قلزم سے  لے  کر دریائے  فرات تک سارا ملک دوں گا مغربی سرحد فلسطینی سمندر ہو گی اور مشرقی سرحد صحرائے  عرب ہو گی میں ایسا کروں گا کہ وہاں کے  رہنے  والوں کو تم شکست دو اور تم ان تمام لوگوں کو وہاں سے  چلے  جانے  کے  لئے  دباؤ ڈالو گے۔

32 ” تم ان کے  خداؤں یا اُن میں سے  کسی کے  ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرو گے۔

33 اُنہیں اپنے  ملک میں مت رہنے  دو اگر تُم انہیں رہنے  دو گے  تو تم ان کے  جال میں پھنس جاؤ گے۔ وہ تم سے  میرے  خلاف گناہ کروائیں گے  اور تم ان کے  خداؤں کی پرستش شروع کر دو گے  ”

 

 

 

 

باب:   24

 

 

1 خدا نے  موسیٰ سے  کہا، ” تم ہارون، ناداب، ابیہو اور بنی اسرائیل کے  ۷۰ بزرگ پہاڑ پر آؤ۔ اور کچھ دور سے  میری عبادت کرو۔

2 تب موسیٰ تنہا ہی خداوند کے  نزدیک آئے  گا۔ دُوسرے  لوگ خداوند کے  قریب نہ آئیں اور باقی لوگ پہاڑ تک بھی نہ آئیں۔ ”

3 اس طرح موسیٰ نے  خداوند کے  تمام اصولوں اور احکام کو بتا یا تب تمام لوگوں نے  کہا، ” خداوند نے  جو تمام احکامات ہم کو دیئے  ہیں ہم اُن کی تعمیل کریں گے۔ ”

4 اِس لئے  موسیٰ نے  خداوند کے  تمام احکامات کو لکھ لیا دوسری صبح موسیٰ اٹھا اور پہاڑ کی ترائی کے  قریب ایک قربان گاہ بنائی اور اس نے  بارہ پتھّر کی تختیاں اسرائیل کے  بارہ قبیلوں کے  لئے  رکھیں۔

5 تب موسیٰ نے  اسرائیل کے  نو جوانوں کو قربانی پیش کرنے  کے  لئے  بُلا یا۔ اُن آدمیوں نے  خداوند کو جلانے  کی قربانی اور ہمدردی کی قربانی کے  طور پر بیل کی قربانی دی۔

6 موسیٰ نے  ان جانوروں کے  خون کو جمع کیا موسیٰ نے  آدھا خون پیالہ میں رکھا اور اس نے  باقی آدھا خون قربان گاہ پر چھڑ کا۔

7 موسیٰ نے  لپٹے  ہوئے  خط میں لکھے  معاہدہ کو پڑھا کہ تمام لوگ اُسے  سُن سکیں اور لوگوں نے  کہا، ” ہم لوگوں نے  اُن شریعتوں کو جو خداوند نے  ہمیں دی ہیں سُن لیا ہے اور ہم سب لوگ ان کی تعمیل کرنے  کا وعدہ کرتے  ہیں۔ ”

8 تب موسیٰ نے  خون کو لیا اور اسے  لوگوں پر چھڑ کا اُس نے  کہا، ” یہ خون بتاتا ہے  کہ خداوند نے  تمہارے  ساتھ خاص معاہدہ کیا ہے  یہ شریعت معاہدہ کی وضاحت کر تی ہے۔ ”

9 ” تب موسیٰ، ہارون، ناداب، ابیہو اور بنی اسرائیل کے  بزرگ اوپر پہاڑ پر چڑھے۔

10 پہاڑ پر ان لوگوں نے  اسرائیل کے  خدا کو دیکھا۔ اس کے  پیڑ کے  نیچے  کچھ ایسی چیزیں تھیں جو نیلم سے  بنے  چبوترے  جیسی دکھائی پڑ تی تھیں۔ ایسا شفاف تھا جیسے  آسمان۔

11 ” بنی اِسرائیل کے  تمام قائدین نے  خدا کو دیکھا لیکن خدا نے  انہیں تباہ نہیں کیا تب انہوں نے  ایک ساتھ کھا یا پیا۔ ”

12 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا”میرے  پاس پہاڑ پر آؤ۔ میں نے  اپنی تعلیمات اور احکامات کو پتھّر کی تختیوں پر لکھی ہیں۔ یہ تعلیمات اور شریعت لوگوں کے  لئے  ہیں۔ میں یہ پتھر کی تختیاں تمہیں دوں گا۔ ”

13 اس لئے  موسیٰ اور اُس کا مدد گار یشوع خدا کے  پہاڑ پر گئے۔

14 موسیٰ نے  بزر گوں سے  کہا” یہاں ہمارا انتظار کرو ہم واپس تمہارے  پاس آئیں گے۔ جب میں یہاں سے  جاؤں تو ہارون اور حُر تم لوگوں کے  حاکم ہوں گے۔ اگر کسی کا کوئی مسئلہ ہو تو وہ اُن کے  پاس جائے۔ ”

15 تب موسیٰ پہاڑ پر چڑھا اور بادل نے  پہاڑ کو ڈھک لیا۔

16 خداوند کا جلال سینائی پہاڑ پر آیا۔ بادل نے  چھ دن تک پہاڑ کو ڈھکے  رکھا۔ ساتویں دن خدا نے  بادلوں میں سے  موسیٰ سے  بات کی۔

17 بنی اسرائیل خداوند کے  جلال کو دیکھ سکتے  تھے۔ یہ پہاڑ کی چوٹی پر جلتی ہوئی روشنی کی طرح تھی۔

18 تب موسیٰ بادلوں اور اوپر پہاڑ پر چڑھا۔ موسیٰ پہاڑ پر چالیس دن اور چالیس رات رہا۔

 

 

 

 

 

باب:   25

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2 ” بنی اسرائیلیوں سے  میرے  لئے  تحفہ لانے  کو کہو ہر ایک شخص اپنے  دل میں طے  کرے  کہ وہ مجھے  اُن چیزوں میں سے  کیا پیش کر نا چاہتا ہے۔ ان تحفوں کو میرے  لئے  قبول کرو۔

3 یہ ان چیزوں کی فہرست ہے  جنہیں تم لوگوں سے  قبول کر و گے  : سونا، چاندی، کانسہ،

4 نیلا بینگنی اور لال سوت، خوبصورت ریشمی کپڑے ، بکریوں کے  بال،

5 رنگ سے  رنگا بھیڑ کا چمڑا اور عمدہ چمڑے ، ببول کی لکڑی،

6 چراغ جلانے  کے  لئے  تیل، مسح کرنے  کے  لئے  اور جلانے  کے  لئے  عمدہ خوشبو وا لا مصالحہ دار تیل،

7 سنگ سلیمانی اور دوسرے  جواہرات جو کاہنوں کے  پہننے کے  لباس ایفود اور عدل کا سینہ بند”

8 لوگ میرے  لئے  ایک مقدس جگہ بنائیں گے  تب میں اُن کے  ساتھ رہ سکوں گا۔

9 میں تمہیں دکھاؤں گا کہ مقدس خیمہ کس طرح دکھائی دینا چاہئے۔ میں تمہیں دکھاؤں گا کہ اُس میں تمام چیزیں کیسی دکھائی دینی چاہئے۔ جیسا میں نے  دکھا یا ویسا ہی ہر چیز کو بناؤ۔

10 ببول کی لکڑی استعمال کر کے  ایک خاص صندوق بناؤ یہ مقدس صندوق ۲/ ۲۱ کیو بٹ لمبا ۲/۱۱ کیو بٹ چوڑا اور ۲/ ۱۱ کیو بٹ اونچا ہو نا چاہئے۔

11 صندوق کو اندر اور با ہر سے  ڈھکنے  کے  لئے  خالص سونے  کا استعمال کرو صندوق کے  کونوں کو سونے  سے  مڑھو۔

12 صندوق کو اٹھانے  کے  لئے  سونے  کے  چار کڑے  بناؤ۔ سونے  کے  کڑوں کو چاروں کونوں پر لگاؤ دونوں طرف دو دو کڑے  ہونے  چاہئے۔

13 کھمبے  ببول کی لکڑی کے  بنے  ہوئے  اور سونے  سے  مڑھے  ہوئے  ہو نا چاہئے۔

14 صندوق کے  بازو کے  کونوں پر لگے  کڑوں میں ان کھمبوں کو ڈال دینا۔ ان کھمبوں کا استعمال صندوق کولے  جانے  کے  لئے  کرو۔

15 یہ کھمبے  صندوق کے  کڑوں میں ہمیشہ پڑے  رہنا چاہئے۔ کھمبوں کو باہر نہ نکالو۔

16 خدا نے  کہا، ” میں تمہیں معاہدہ دوں گا۔ معاہدہ کو اس صندوق میں رکھو۔

17 پھر ایک سر پوش (ڈھکن ) بناؤ اُسے  خالص سونے  کا بناؤ یہ ۲/۲۱ کیو بٹ لمبا اور ۲/ ۱۱ کیو بٹ چوڑا۔

18 تب دو کروبی فرشتے  بناؤ اور انہیں سر پوش کے  دونوں سِروں پر لگاؤ۔ ان فرشتوں کو بنانے  کے  لئے  سونے  کے  پتروں کا استعمال کرو۔

19 ایک کروبی کو سر پوش کے  ایک سِرے  پر لگاؤ اور دوسرے  کو دوسرے  سِرے  پر، کروبیوں اور سر پوش کو ایک بنانے  کے  لئے  ایک ساتھ جوڑ دو۔

20 کرو بی فرشتے  ایک دوسرے  کے  آمنے  سامنے  ہو نا چاہئے۔ کروبیوں کا مُنہ سر پوش کی طرف دیکھتے  ہوئے  ہو نا چاہئے۔ کروبیوں کے  پروں کو سر پوش پر پھیلے  ہوئے  ہو نا چاہئے۔

21 “میں تم کو جو عہد نامہ دوں گا اُسے  معاہدہ کے  صندوق میں رکھنا اور خاص سر پوش کو صندوق کے  اوپر رکھنا۔

22 جب میں تم سے  ملوں گا تب کروبی فرشتوں کے  بیچ سے  جو معاہدہ کے  صندوق کے  خاص سر پوش پر ہے  بات کروں گا۔ میں اپنے  تمام احکام بنی اسرائیلیوں کو اُسی جگہ سے  دوں گا۔

23 “ببول کی لکڑی سے  میز بناؤ۔ میز ۲ کیو بٹ لمبا ایک کیو بٹ چوڑا اور ۲/۱۱ کیو بٹ اونچا ہو نا چاہئے۔

24 میز کو خالص سونے  سے  مڑھو اور اُس کے  چاروں طرف سونے  کی جھالر لگاؤ۔

25 تب تین اِنچ چوڑا سونے  کا چو کھٹا ( فریم ) میز کے  اُوپر چاروں طرف مڑھ دو اور اُس کے  چاروں طرف سونے  کی جھالر لگاؤ۔

26 تب سونے  کے  چار کڑے  بناؤ اور میز کے  چاروں کونوں پر پا یوں کے  پاس لگاؤ۔

27 ہر ایک پائے  پر پٹی کے  نزدیک ایک ایک سونے  کا کڑا لگا دو۔ اُن کڑوں میں میز کولے  جانے  کے  لئے  بنے  کھمبے  پھنسے  ہوں گے۔

28 کھمبوں کے  بنانے  کے  لئے  ببول کی لکڑ ی استعمال کرو اور انہیں سونے  سے  مڑھو۔ کھمبے  میز کولے  جانے  کے  لئے  ہیں۔

29 طباق، چمچے  اور آفتابے  اور اُنڈیلنے کے  کٹورے  ان سب کو خالص سونے  سے  بنانا۔

30 خاص روٹی میز پر میرے  سامنے  رکھو۔ یہ سب چیزیں ہمیشہ میرے  سامنے  وہاں رہنی چاہئیں۔

31 ” تب تمہیں ایک شمعدان بنانا چاہئے  شمعدان کا ہرایک حصّہ خالص سونے  کے  پتر کا بنا ہو نا چاہئے۔ خوبصورت دکھائی دینے  کے  لئے  شمع پر پھول بناؤ۔ یہ پھول ان کی کلیاں اور پنکھڑیاں خالص سونے  کی بنی ہونی چاہئیں اور یہ سب چیزیں ایک میں ہی جڑی ہوئی ہونی چاہئیں۔

32 ” شمعدان کی چھ شاخیں ہونی چاہئیں۔ تین شاخیں ایک طرف اور تین شاخیں دوسری طرف ہونی چاہئیں۔

33 ہر شاخ پر بادام کی طرح کے  تین پیالے  ہو نا چاہئیں۔ ہر پیالے  کے  ساتھ ایک ایک کلی اور ایک پھول ہو نا چاہئے۔

34 اور شمعدان پر بادام کے  پھول کی طرح چار طرف پیالے  ہو نے چاہئیں ان پیالوں کے  ساتھ بھی کلی اور پھول ہو نے چاہئیں۔

35 شمعدان سے  نکلنے  والی چھ شاخیں دو دو کے  تین حصوں میں بٹی ہونی چاہئیں۔ ہر ایک دو شاخوں کے  جوڑوں کے  نیچے  ایک ایک کلی بناؤ جو شمعدان سے  نکلتی ہو۔

36 یہ سب شاخیں اور کلیاں شمعدان کے  ساتھ ایک اکائی میں ہونی چاہئیں  اور ہر ایک چیز سونے  کے  پتّر سے  تیار کی جانی چاہئے۔

37 تب سات چھوٹی شمعیں شمعدان پر رکھے  جانے  کے  لئے  بناؤ۔ یہ شمعیں شمعدان کے  سامنے  کی جگہ پر روشنی دیں گے۔

38 شمع کی بتیاں بُجھانے  کے  اوزار اور طشتریاں خالص سونے  کے  بنانے  چاہئیں۔

39 پچھتّر پاؤنڈ خالص سونے  کا استعمال شمعدان اور اس کے  ساتھ کی تمام چیزیں بنانے  میں کرو۔

40 ہوشیاری کے  ساتھ ہر ایک چیز ٹھیک ٹھیک اسی طریقے  سے  بنائی جائے  جیسا میں نے  پہاڑ پر تمہیں دکھائی ہے۔”

 

 

 

 

 

باب:   26

 

 

1 ” مقّدس خیمہ دس پردوں سے  بناؤ۔ ان پردوں کو اچھے  کتانی کے  نیلے  لال اور بینگنی کپڑوں سے  بناؤ۔ کسی ماہر کاریگر کو چاہئے  کہ وہ پر سمیت کروبی فرشتوں کی تصویروں کو پر دوں پر بنائیں۔

2 ہر ایک پر دہ کو ایک مساوی بناؤ۔ ہر ایک پردہ ۲۸ کیوبٹ لمبی اور چار کیوبٹ چوڑی ہونی چاہئے۔

3 سب پردوں کو دو حصوں میں سِی لو۔ ایک حصّے  میں پانچ پر دوں کو ایک ساتھ سِی لو۔ اور دوسرے  حصّے  میں پانچ کو ایک ساتھ۔

4 آخری پر دہ کے  سرے  کے  نیچے  چھلے  بناؤ۔ ان چھلّوں کو بنانے  کے  لئے  نیلا کپڑا استعمال کرو۔ پردوں کے  دونوں حصّوں میں ایک طرف چھلّے  ہوں گے۔

5 پہلے  حصّے  کے  آخری پر دہ میں پچاس چھلّے  ہوں گے  اور دوسرے  حصّے  کی آخری پردہ میں ۵۰۔

6 تب ۵۰ سونے  کے  کڑے  چھلّوں کو ایک ساتھ ملانے  کے  لئے  بناؤ۔ یہ مقدس خیمہ کو ایک ساتھ جوڑ کر ایک ٹکڑا بنا دے  گا۔

7 ” تب تم دوسرا خیمہ بناؤ گے  جو مقدّس خیمہ کو ڈھکے  گا۔ اس خیمہ کو بنانے  کے  لئے  بکریوں کے  بال سے  بُنی ۱۱ پردوں کا استعمال کرو۔

8 یہ سب پردے  ایک ساتھ برابر ہو نے چاہئیں  وہ ۳۰ کیوبٹ لمبی اور چار کیوبٹ چوڑی ہو نے چاہئیں۔

9 ایک حصّے  میں پانچ پردوں کو ایک ساتھ سی کر ایک ٹکڑا بنا لو۔ تب باقی چھ پردوں کو ایک ساتھ سی کر ایک اور ٹکڑا بنا لو۔ چھٹے  پردہ کو خیمہ کے  سامنے  ٹانگنے  کے  لئے  آدھا موڑ کر دہرا کر دو۔

10 ایک حصہ کے  آخری پردے  کے  سرے  پر ۵۰ چھلے  بناؤ۔ ایسا ہی دوسرے  حصے  کے  آخری پر دے  کے  لئے  کرو۔

11 تب ۵۰ کانسے  کے  کڑے  بناؤ۔ ان کانسے  کے  کڑوں کا استعمال پردوں کو ایک ساتھ جوڑنے  کے  لئے  کرو۔ یہ پردوں کو ایک ساتھ خیمے  کی طرح جوڑیں گے۔

12 یہ پردے  مقدس خیمے  سے  زیادہ لمبے  ہوں گے  اس طرح آخری پردہ کا آدھا حصہ خیمے  کے  پیچھے  کناروں کے  نیچے  لٹکا رہے  گا۔

13 خیمے  کے  دونوں طرف پردہ ایک کیوبٹ لمبا رہے  گا۔ یہ ایک کیوبٹ لمبا پردہ خیمے  کے  دونوں طرف لٹکا رہے  گا۔

14 بیرونی خیمے  کے  حصّہ کو ڈھکنے  کے  لئے  دو اور  پردے  بناؤ۔ ایک لال رنگ مینڈھے  کے  چمڑے  سے  بنا نا چاہئے  اور دوسرا پردہ عمدہ چمڑے  کا بنا ہوا ہو نا چاہئے۔

15 ” مقّدس خیمے  کو سہارا دینے  کے  لئے  ببول کی لکڑی کے  ڈھانچے  ( فریم ) بناؤ۔

16 فریم ۱۰ کیوبٹ اونچے  اور ۲/۱۱ کیوبٹ چوڑا ہونا چاہئے۔

17 ہر ایک فریم ایک جیسا ہونا چاہئے۔ ہر ایک فریم کے  تلے  میں انہیں جوڑنے  کے  لے  ساتھ ہی ساتھ دو کھونٹیاں ہونی چاہئیں۔

18 مقدّس خیمہ کے  جنوبی حصّہ کے  لئے  بیس فریم بناؤ۔

19 فریم ( ڈھانچے  یا چوکھٹا ) کے  ٹھیک نیچے  چاندی کی دو بنیادیں ہر ایک فریم کے  لئے  ہونی چاہئیں۔ ہر ایک مِلانے  والے  ٹکڑے  کے  لئے  ایک چاندی کی بنیاد ہو گی۔ اس لئے  تمہیں فریموں (ڈھانچے  ) کے  لئے  چاندی کی ۴۰ بنیادیں بنانی چاہئیں۔

20 مقدّس خیمہ کے  شمالی حصہ کے  لئے  بیس فریم (چوکھٹے  ) اور بناؤ۔

21 ان فریموں کے  لئے  بھی چاندی کی چالیس بنیادیں بناؤ۔ ایک فریم کے  لئے  دو چاندی کیبنیادیں۔

22 تمہیں مقّدس خیمہ کے  مغربی کونے  کے  لئے  ۶ اور فریم بنانا چاہئیں۔

23 دو فریم پچھلے  کونوں کے  لئے  بناؤ۔

24 کونے  کے  دونوں فریم کو ایک ساتھ جوڑ دینا چاہئے۔ دونوں فریموں کے  کھمبے کے   نیچے  پیندے میں جوڑا رہنا چاہئے  اور اوپر ایک چھلّہ فریموں کو ایک ساتھ پکڑے  ہوئے  رہے  گا۔

25 اس طرح کُل ملا کر ۸ فریم خیمے  کے  لئے  ہوں گے۔ اور ہر فریم کے  نیچے  دو بنیادیں ہوں گی۔ اس طرح کے  ۱۶ چاندی کی بنیادیں مغربی کونے  کے  لئے  ہوں گے۔

26 ” ببول کی لکڑی کا استعمال کرو اور مقدس خیمہ کے  فریموں کے  لئے  کُنڈیاں بناؤ۔ مقدس خیمہ کے  پہلے  حصّے  کے  لئے  ۵ کنڈیاں ہوں گی۔

27 اور مقدس خیمہ کے  دوسرے  حصّے  کے  فریم کے  لئے  ۵ کنڈیاں ہوں گی اور مقدس خیمہ کے  مغربی حصے  کے  فریم کے  لئے  ۵ کنڈیاں ہوں گی بالکل مقدس خیمہ کے  پیچھے۔

28 پانچوں کنڈیوں کے  بیچ کی کنڈی فریموں کے  درمیان میں ہونی چاہئے۔ یہ کنڈی فریموں کے  ایک سرے  سے  دوسرے  سرے  تک پہنچ جانی چاہئے۔

29 فریموں کو سونے  سے  مڑھو اور فریموں کی کنڈیوں کو پھنسانے  کے  لئے  کڑے  بناؤ۔ یہ کڑے  بھی سونے  کے  ہی بننا چاہئیں۔ کُنڈیوں کو بھی سونے  سے  مڑھو۔

30 مقدّس خیمہ کو تم اسی طرح بناؤ جیسا میں نے  تمہیں پہاڑ پر دکھا یا تھا۔

31 ” جوٹ(پٹسن) کے  اچھے  ریشوں کا استعمال کرو اور مقدس خیمہ کے  اندرونی حصہ کے  لئے  ایک خاص پردہ بناؤ۔ اس پردہ کو نیلے ، بیگنی اور لال رنگ کے  کپڑے  سے  بناؤ۔ کروبی فرشتے  کی تصویر کو کپڑے  میں نقش کرو۔

32 ببول کی لکڑی کے  چار کھمبے  بناؤ۔ چاروں کھمبوں پر سونے  کی بنی ہوئی کھونٹیاں لگاؤ۔ کھمبوں کو سونے  سے  مڑھ دو۔ کھمبوں کے  نیچے  چاندی کے  چار پائے  رکھو۔ تب سونے  کی کھونٹیوں میں پردہ لٹکاؤ۔

33 کھونٹیوں پر پردہ لٹکانے  کے  بعد معاہدہ کے  صندوق کو پردہ کے  پیچھے  رکھو یہ پردہ مقدس جگہ کو مقدس ترین جگہ سے  علیٰحدہ کرے  گا۔

34 مقدس ترین جگہ میں معاہدہ کے  صندوق پر سر پوش رکھو۔

35 ” مقدس جگہ میں پردہ کے  دوسری طرف خاص میز کو رکھو۔ میز مقدس خیمہ کے  شمال میں ہونی چاہئے  پھر شمعدان کو جنوب میں رکھو شمعدان میز کے  بالکل سامنے  ہو گا۔

36 ” تب خیمہ کے  داخلے  کے  لئے  ایک پردہ بناؤ اس پردے  کو بنانے  کے  لئے  نیلے ، بیگنی، لال کپڑے  اور جوٹ ( پٹ سن ) کے  ریشوں کا استعمال کرو اور کپڑے  میں تصویروں کی کڑھائی کرو۔

37 دروازے  کے  پردے  کے  لئے  سونے  کے  چھلّے  بنواؤ۔ سونے  سے  مڑھے  ببول کی لکڑی کے  پانچ کھمبے  بناؤ اور پانچوں کھمبوں کے  لئے  کانسے  کے  پانچ پائے  بناؤ۔ ”

 

 

 

 

باب:    27

 

 

1 ” ببول کی لکڑی کو استعمال کرو اور ایک قربان گاہ بناؤ۔ قربان گاہ مربع نُما ہو نا چاہئے۔ اُس کو ۵ کیوبٹ لمبی، ۵ کیوبٹ چوڑی اور تین کیوبٹ اُونچی ہونی چاہئے۔

2 قربان گاہ کے  چاروں کونوں کے  ہر کونے  پر ایک ایک سینگ بناؤ ہر سینگ کو اس کے  کونے  سے  ایسے  جوڑو کہ سب ایک ہو جائیں تب قربان گاہ کو کانسے  سے  مڑھو۔

3 ” قربان گاہ پر کام آنے  والے  تمام اوزاروں کو بنانے  میں کانسہ کا استعمال کرو۔ برتن، بیلچے ، کٹورے ، کانٹے  اور کڑھائیاں بناؤ۔ یہ سب برتن قربان گاہ سے  راکھ کو نکالنے  کے  کام آئیں گے۔

4 جال کی طرح کانسے  کی ایک بڑی جالی بناؤ۔ جالی کے  چاروں کونوں کے  لئے  کانسے  کے  کڑے  بناؤ۔

5 جالی کو قربان گاہ کی پرت کے  نیچے  رکھو۔ تا کہ یہ قربان گاہ کی آدھے  اُونچائی تک چلی جائیں۔

6 ” قربان گاہ کے  لئے  ببول کی لکڑی کے  بھالے  بناؤ اور اُنہیں کانسے  سے  مڑھو۔

7 قربان گاہ کے  دونوں طرف کڑوں میں ان بھا لوں کو ڈالو اِن بھا لوں کو قربان گاہ کولے  جانے  کے  لئے  کام میں لو۔

8 قربان گاہ اندر سے  کھوکھلی رہے  گی اور اُس کے  پہلو تختوں کے  بنے  ہوں گے۔ قربان گاہ ویسی ہی بناؤ جیسا میں نے  تم کو پہاڑ پر دکھائی تھی۔

9 مقدّس خیمہ کے  لئے  ایک آنگن بناؤ۔ اس آنگن کی جنوبی جانب پر دوں کی ۱۰۰ کیوبٹ لمبی دیوار بناؤ۔ یہ پردہ پٹ سن کے  ریشوں سے  بنا ہو نا چاہئے۔

10 بیس کھمبے  اور اُس کے  نیچے  ۲۰ کانسے  کے  پائے  کا استعمال کرو۔ کھمبے  کے  چھلّوں اور پردے  کی چھڑی چاندی کی بننی چاہئے۔

11 شمال کی طرف پر دے  کے  دیوار ۱۰۰ کیوبٹ لمبی ہونی چاہئے  اس کے  بیس کھمبے  ہونا چاہئیں  اور ۲۰ کانسہ کے  پائے۔ کھمبوں کے  چھلّے  اور پردہ کی چھڑی چاندی کی بننی چاہئے۔

12 ” آنگن کے  مغربی جانب پردوں کی ایک دیوار ۵۰ کیوبٹ لمبی ہونی چاہئے۔ وہاں اُس دیوار کے  ساتھ ۱۰ کھمبے  اور ۱۰ پائے  ہونے  چاہئیں۔

13 آنگن کا مشرقی سِرا ۵۰ کیوبٹ لمبا ہو نا چاہئے۔

14 داخلے  کے  دروازے  کی ہر ایک جانب کا پردہ ۱۵ کیوبٹ لمبا ہو نا چاہئے۔ ہر جانب ۳ کھمبے  اور ۳ بنیادی پا ئے ہونے  چاہئیں۔

15

16 ایک پردہ ۲۰ کیوبٹ لمبا آنگن کے  داخلہ کے  دروازے  کو ڈھانکنے  کے  لئے  بناؤ۔ اس پردہ کو پٹ سن کے  عمدہ ریشوں اور نیلے  اور لال اور بیگنی کپڑے  سے  بناؤ۔ ان پر دوں پر تصویروں کو کاڑھو۔ اُس پر دہ کے  لئے  ۴ کھمبے  اور ۴ سہارے  ہو نے چاہئیں۔

17 آنگن کے  چاروں طرف کے  سب کھمبے  چاندی کے  پردوں کی چھڑوں سے  ہی جوڑا جانا چاہئے۔ کھمبوں کے  ہُک چاندی کے بنے ہو نے چاہئیں  بنیاد چاندی کی بنی ہونی چاہئے۔

18 آنگن ۱۰۰ کیوبٹ لمبا اور ۵۰ کیوبٹ چوڑا ہو نا چاہئے۔ آنگن کے  چاروں طرف کے  پر دہ کی دیوار ۵ کیوبٹ اُونچی ہونی چاہئے۔ پردہ پٹ سن کے  عمدہ ریشوں کا بنا ہونا چاہئے۔ سب کھمبوں کے  نیچے  کے  سہارے  کانسے  کے  ہو نا چاہئیں۔

19 تمام اوزار، خیمے  کی کھونٹیاں اور مقدس خیمے  میں لگی ہر ایک چیز کانسے  کی ہی ہونی چاہئے  اور آنگن کے  چاروں طرف کے  پردے  کے  لئے  کھونٹیاں کانسے  کی ہی ہونی چاہئیں۔

20 “بنی اسرائیلیوں کو حکم دو کہ بہترین زیتون کا تیل لائیں۔ اس تیل کا استعمال چراغ کو لگا تار جلتے  رہنے  کے  لئے  کرنا چاہئے۔

21 ہارون اور اس کے  بیٹے  روشنی کا کام سنبھالیں گے۔ وہ خیمہ اجتماع کے  پہلے  کمرے  کے  باہر اس پردہ کے  سامنے  ہے  جو دونوں کمروں کو الگ کرتا ہے  وہ اس کا دھیان رکھیں گے  کہ اس جگہ پر خداوند کے  سامنے  چراغ شام سے  صبح تک مسلسل جلتے  رہیں گے  بنی اسرائیل اور ان کی نسلیں اس شریعت کی تعمیل ہمیشہ کریں گے۔ ”

 

 

 

 

 

باب:   28

 

 

1 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، “اپنے  بھائی ہارون اور اس کے  بیٹوں ناداب، ابیہو، الیعزر اور اتا مر کو بنی اسرائیلیوں میں سے  اپنے  پاس آنے  کو کہو۔ یہ آدمی  میری خدمت کاہنوں کی حیثیت سے  کریں گے۔

2 ” اپنے  بھائی ہارون کے  لئے  خاص لباس بناؤ۔ یہ لباس اُسے  اعزاز اور عزت بخشیں گے۔

3 تمہارے  بیچ ماہر آدمی  جسے  ہم نے  ہارون کے  لباس بنانے  کے  لئے  خاص دانشمندی دی ہے۔ اسے  ہارون کے  لئے  لباس بنانے  کے  لئے  کہو۔ جو یہ ظاہر کرے  کہ وہ کاہن کے  طور پر میری خدمت کے  لئے  مخصوص ہو گیا ہے۔

4 ماہر آدمی  کو وہ لباس کو بنا نا چاہئے  : عدل کا سینہ بند، ایفود، جبّہ، ایک کشیدہ کی ہوئی قمیص، سر بند اور ایک کمر بند۔ اس ماہر آدمی  کو وہ لباسوں کو ہارون اور اس کے  بیٹے  کے  لئے  بنانا چاہئے۔ ہارون اور اس کا بیٹا کاہنوں کی طرح میری خدمت کریں گے۔

5 لوگوں سے  کہو کہ وہ سنہری دھا گوں اور پٹ سن کے  عمدہ ریشوں اور نیلے ، لال اور بیگنی کپڑے  استعمال کریں۔

6 ” ایفود بنانے  کے  لئے  سنہرے  دھا گے ،   پٹ سن کے  عمدہ ریشوں اور نیلی لال بیگنی کپڑوں کا استعمال کرو۔ اس خالص ایفود کو صرف ماہر کاریگر ہی بنائیں گے۔

7 ایفود کے  ہر ایک کندھے  پر پٹی لگی ہو گی۔ کندھے  کییہ پٹیاں ایفود کے  دونوں کونوں پر بندھی ہوں گی۔

8 ” کاریگر بڑی ہوشیاری سے  ایفود پر باندھنے  کے  لئے  ایک کمر بند بنائیں گے۔ یہ کمر بند انہی چیزوں کا ہو گا۔ جن کا ایفود سنہرے  دھا گے  پٹ سن کے  عمدہ ریشوں نیلی لال اور بیگنی کپڑوں کا ہو۔

9 “تمہیں دو سنگ سلیمانی لینے چاہئیں۔ اس سنگ سلیمانی پر اسرائیل کے  بیٹوں کے  نام کندہ کرو۔

10 چھ نام ایک پتھّر پر اور چھ نام دوسرے  پتھّر پر، ناموں کو سب سے  بڑے  سے  سب سے  چھوٹے  کی ترتیب سے  لکھو۔

11 اسرائیل کے  بیٹوں کے  ناموں کو اُن پتھّروں پر کندہ کرواؤ۔ یہ اسی طرح کرو جس طرح وہ آدمی  جو مہریں بناتا ہے۔ پتھّروں کے  چاروں طرف سونا لگاؤ جس سے  ان پتھّروں کو ایفود کے  کندھے  کی پٹی پر ان دونوں پتھروں کو جڑ دو۔ ہارون جب خداوند کے  سامنے  کھڑا ہو گا۔ تو یہ خاص چغہ پہنے  گاتا کہ وہ بنی اسرائیلیوں کو یاد رکھے۔ اور اسرائیل کے  بیٹوں کے  نام والے  دونوں پتھّر ایفود پر ہوں گے۔ یہ بنی اسرائیلیوں کو یاد رکھنے  میں خداوند کی مدد کریں گے۔

12

13 “اچھا سونا ہی پتھر کو ایفود پر ڈھانکنے  کے  لئے  استعمال کرو۔

14 اسی طرح ایک میں بٹی ہوئی سونے  کی زنجیر لو سونے  کی ایسی دو زنجیریں بناؤ اور سونے  کے  جڑاؤ کے  ساتھ انہیں باندھو۔

15 ” ایک عدل کا سینہ بند بناؤ۔ ماہر کاریگر اس سینہ بند کو ویسا ہی بنائیں جیسا وہ ایفود کو بنایا تھا۔ ان سنہرے  دھا گے ، پٹ سن کے  عمدہ ریشے  اور نیلی لال اور بیگنی کپڑے  کا استعمال کرو۔

16 عدل کا سینہ بند ۹ اِنچ لمبا اور ۹ اِنچ چوڑا ہونا چاہئے۔ چوکور جیب بنانے  کے  لئے  اُس کی دو تہہ کرنی چاہئیں۔

17 عدل کے  سینہ بند پر خوبصورت نگوں کی چار قطاریں جڑو۔ نگوں کی پہلی قطار میں ایک یاقوت سرخ ایک پکھراج اور ایک گوہر شب ہونی چاہئے

18 دوسری قطار میں فیروزہ، نیلم اور زمرد ہو نا چاہئے۔

19 تیسری قطار میں یشب، عقیق اور یاقوت لگانا چاہئے۔

20 چو تھی قطار میں سنگ سلیمانی، لعل، اور زبرجد لگانی چاہئے۔ ۲۱ عدل کے  سینہ بند پر بارہ جواہر ہوں گے  جو اِسرائیل کے

21 بیٹوں کی ایک نمائندگی کرے  گا۔ ہر ایک جواہر پر اسرائیل کے  بیٹوں میں سے  ہر ایک کا نام لکھو۔ ہر ایک جواہر پر مہر کی طرح اسرائیل کے  بارہ قبیلوں کے  نام کندہ کرواؤ۔

22 ” عدل کے  سینہ بند میں خالص سونے  کی زنجیر ہو گی۔ یہ زنجیریں بٹی ہوئی رسّی کی طرح ہوں گی۔

23 دو سونے  کے  چھلّے  بناؤ اور اُنہیں عدل کے  سینہ بند کے  دونوں کونوں پر لگاؤ۔

24 دونوں سنہری زنجیروں کو عدل کے  سینہ بند کے  دونوں کونوں میں لگے  چھلّوں میں ڈالو۔

25 سونے  کی زنجیروں کو دوسرے  سِرے  کے  کندھے  کی پٹیوں کے  جڑاؤ میں لگاؤ جس سے  وہ ایفود کے  ساتھ سینے   پر کسے  رہیں۔

26 دو اور سونے  کے  چھلّے  بناؤ اور انہیں عدل کے  سینہ بند کے  دوسرے  کونوں پر لگاؤ۔ یہ سینہ بند کے  اندرونی حصّہ میں ایفود کے  سامنے  ہو گا۔

27 دو اور سونے  کے  چھلّے  بناؤ اور انہیں کندھے  کی پٹّی کے  نیچے  ایفود کے  سامنے  لگاؤ۔ سونے  کے  چھلّوں کو ایفود کی پٹّی کی بغل اُو پر کی جگہ پر لگاؤ۔

28 عدل کے  سینہ بند کے  چھلّوں کو ایفود کے  چھلّوں سے  جوڑو۔ انہیں پٹی سے  ایک ساتھ جوڑنے  کے  لئے  نیلی پٹیوں کا استعمال کرو۔ اس طرح عدل کے  سینہ بند ایفود سے  علحدٰہ نہیں ہو گا۔

29 ہارون جب مقدس جگہ میں داخل ہو تو اُسے  اُس عدل کے  سینہ بند کو پہنے  رہنا چاہئے۔ اس طرح اسرائیل کے  بارہ بیٹوں کے  نام اُس کے  دل میں رہیں گے۔ اور خداوند کو ہمیشہ ہی ان لوگوں کی یاد دلائی جاتی رہے  گی۔

30 اور یم اور تمیّم کو عدل کے  سینہ بند میں رکھو۔ تا کہ وہ ہارون کے  دل کے  اوپر ہو گا۔ ہارون جب خداوند کے  سامنے  جائے  گا تب یہ تمام چیزیں اسے  یاد ہوں گی۔ اس لئے  جب ہارون خداوند کے  سامنے  ہو گا تب وہ بنی اسرائیلیوں کے  انصاف کرنے  کا طریقہ ہمیشہ اپنے  ساتھ لئے  ہوئے  رہے  گا۔

31 یفود کے  نیچے  پہننے  کے  لئے  چغہ بناؤ۔ چغہ صرف نیلے  کپڑے  کا بناؤ۔

32 سر کے  لئے  اس کپڑے  کے  بیچ میں ایک سوراخ بناؤ اُس سوراخ کے  چاروں طرف گوٹ لگاؤتا کہ یہ پھٹے  نہیں۔

33 نیلے  لال اور بیگنی کپڑے  کو پھندنا بناؤ جو انار کی طرح ہو ان اناروں کو چغہ کے  نچلے  سِرے  کے  چاروں طرف ایک انار اور ایک سونے  کی گھنٹی ہو گی۔

34  35 تب ہارون اس چغہ کو پہنے  گا جب وہ کاہن کی طرح خدمت کرے  گا اور خداوند کے  سامنے  مقدّس جگہ میں جائے  گا۔ جب وہ مقدّس جگہ میں داخل ہو گا اور وہاں سے  نکلے  گا تب یہ گھنٹیاں بجیں گی اس طرح ہارون نہیں مرے  گا۔

36 ” خالص سونے  کا ایک پتّر بناؤ اس سونے  کے  پتّر پر مہر کی طرح الفاظ کندہ کرو۔ اس پر اِن الفاظ کو کندہ کرو : ” خداوند کے  لئے  مقّدس۔ ”

37 سونے  کے  پتّر کو پگڑی کے  سامنے  لگاؤ۔ اس پگڑی سے  سونے  کے  پتّر کو باندھنے  کے  لئے  نیلے  کپڑے  کی پٹّی کا استعمال کرو۔

38 ” ہارون اسے  اپنے  سر پر پہنے  گا۔ اس طرح وہ بنی اسرائیلیوں کے  ذریعہ پیش کئے  گئے  مقّدس تحفوں کو دیکھنے  کا بھی ذمے  دار ہو گا کہ وہ شریعت کے  مطابق ہے۔ ہارون جب بھی خداوند کے  سامنے  جائے  گا وہ اسے  ہمیشہ پہنے  رہے  گاتا کہ خداوند انہیں قبول کر لے۔

39 “چغہ بنانے  کے  لئے  پٹ سن کے  عمدہ ریشوں کو استعمال میں لاؤ اور اُس کپڑے  کو بنانے  کے  لئے  بھی پٹ سن کے  عمدہ ریشوں کو استعمال میں لاؤ جو سر کو ڈھکتا ہے  اس میں کڑھائی کی جانی چاہئے۔

40 لبادہ، کمر بند اور پگڑیاں ہارون کے  بیٹوں کے  لئے  بھی بناؤ۔ یہ انہیں اعزاز اور تعظیم دے  گا۔

41 یہ پوشاک اپنے  بھائی ہارون اور اس کے  بیٹوں کو پہناؤ اس کے  بعد زیتون کا تیل ان کے  سر پر ڈالو اور کاہنوں کے  طور پر ان کی تصدیق کرو۔ انہیں پاک بناؤ۔ تب وہ میری خدمت کاہن کی حیثیت سے  کریں گے۔

42 ان کے  لباسوں کو بنانے  کے  لئے  پٹ سن کے  عمدہ ریشوں کا استعمال کرو جو خاص کاہنوں کے  لباس کے  نیچے  پہن نے  کے  لئے  ہوں گے۔ یہ لباس کمر سے  رانوں تک پہنے  جائیں گے۔

43 ہارون اور اس کے  بیٹوں کو ان لباسوں کو ہی پہننا چاہئے  جب کبھی وہ خیمۂ اجتماع میں جائیں۔ انہیں انہی لباسوں کو پہنا چاہئے  جب کبھی وہ مقدس جگہ میں کاہنوں کی طرح خدمت کے  لئے  قربان گاہ کے  قریب آئیں۔ اگر وہ ان پوشاکوں کو نہیں پہنیں گے  تو وہ قصور وار ہوں گے۔ اور انہیں مر نا ہو گا۔ یہ ایسا قانون ہو نا چاہئے  جو ہارون اور اس کے  بعد اس کی نسل کے  لوگوں کے  لئے  ہمیشہ کے  لئے  بنا رہے  گا۔ ”

 

 

 

 

 

باب:   29

 

 

1 ” تم اس طرح سے  ہا رون اور ان کے  بیٹوں کو کاہنوں کے  طور پر میری خدمت کرنے  کے  لئے  مخصوص کرو۔ ایک جوان بیل اور دوبے  داغ مینڈھے  لاؤ۔

2 جس میں خمیر نہ ملا یا گیا ہو ایسا باریک آٹا لو اور اس سے  تین طرح کی روٹیاں بناؤ۔ پہلی بغیر خمیر کی سادہ روٹی دوسری تیل ڈالی ہوئی روٹی اور تیسری ویسے  ہی آٹے  کی چھوٹی پتلی روٹی بنا کر اُس پر تیل لگاؤ۔

3 ان روٹیوں کو ایک ٹوکری میں رکھو اور پھرا ُس ٹوکری کو ہا رون اور اُس کے  بیٹوں کو بچھڑوں اور دو مینڈھوں کے  ساتھ دو۔

4 ” تب ہا رون اور اُس کے  بیٹوں کو خیمۂ اجتماع کے  دروازہ کے  سامنے  لاؤ پھر انہیں پانی سے  نہلاؤ۔

5 ہا رون کی خاص پو شاک اسے  پہناؤ۔ سفید اور نیلا چوغہ اور ایفود پھر اُس پر عدل کا سینہ بند پھر خاص کمر بند باندھو۔

6 اور پھر اُس کے  سر پر پگڑی باندھو سونے  کی پٹی کی جو ایک خاص تاج کے  جیسی ہے  پگڑی کے  چاروں طرف باندھو۔

7 اور اس کے  سر پر زیتون کا تیل ڈالو جو ظاہر کرے  گا کہ ہا رون اُس کام کے  لئے  چُنا گیا ہے۔

8 ” تب اُس کے  بیٹوں کو اُس جگہ پر لاؤ اور انہیں چغے  پہناؤ۔

9 تب اُن کی کمر کے  اطراف کمر بند باندھو انہیں پہننے  کو پگڑی دو اس وقت سے  وہ کاہنوں کی طرح کام کر نا شروع کریں گے۔ اُس قانون کے  مطابق جو ہمیشہ رہے  گا وہ کاہن ہوں گے۔ اسی طریقے  سے  تم ہا رون اور اس کے  بیٹوں کو کاہن بناؤ گے۔

10 ” تب خیمۂ اجتماع کے  سامنے  کی جگہ پر بچھڑے  کو لاؤ ہا رون اور اُسے  بیٹوں کو چاہئے  کہ وہ بچھڑے  کے  سر پر ہاتھ رکھیں۔

11 پھر اُس بچھڑے  کو خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر خداوند کے  سامنے  ذبح کردیں۔

12 تب بچھڑے  کا خون لو اور قربان گاہ تک جاؤ اپنی انگلی سے  قربان گاہ پر لگے  سینگوں میں خون لگاؤ۔ سارے  خون کو قربان کی بنیاد پر ضرور ڈالنا چاہئے۔

13 تب بچھڑے  سے  ساری چربی نکالو پھر کلیجہ کے  چاروں طرف کی چربی اور دونوں گردوں اور اُس کے  اطراف کی چربی لو اور اس چربی کو قربان گاہ پر جلاؤ۔

14 تب بچھڑے  کا گوشت اس کے  چمڑے  اور اس کے  دوسرے  اعضاء کو لو اور اپنے  خیمہ سے  با ہر جاؤ۔ ان چیزوں کو خیمہ کے  با ہر جلاؤ یہ نذرانے  ہیں جو کاہنوں کے  گنا ہوں کو دور کرنے  کے  لئے  چڑھائے  جاتے  ہیں۔

15 “تب ہارون اور اس کے  بیٹوں کو کسی ایک مینڈھے  کے  سر پر ہاتھ رکھنے  کو کہو۔

16 تب اس مینڈھے  کو ذبح کرو اور اس کے  خون کو لو خون کو قربان گاہ کے  چاروں طرف چھڑ کو۔

17 تب مینڈھے  کو کئی ٹکڑوں میں کاٹو۔ مینڈھے  کے  اندر کے  سب اعضا ء اور پیروں کو صاف کرو۔ ان چیزوں کو سر اور مینڈھے  کے  دوسرے  ٹکڑوں کے  ساتھ رکھو۔

18 تب قربان گاہ پر پو رے  مینڈھے کو جلاؤ یہ جلانے  کا نذرانہ ہے  جو خداوند کے  لئے  تحفہ کی طرح ہے۔ اس کی بو خداوند کو خوش کرے  گی۔

19 ” ہارون اور اس کے  بیٹوں کو دوسرے  مینڈھے  پر ہاتھ رکھنے  کو کہو۔

20 اس مینڈھے  کو ذبح کرو اور اس کا تھوڑا خون لو اس خون کو ہارون اور اس کے  بیٹوں کے  دائیں کان کے  نچلے  حصّے  میں، ان کے  دائیں ہاتھ کے  انگوٹھے  پر اور ان کے  دائیں پیر کے  انگوٹھے  پر لگاؤ۔ باقی خون کو قربان گاہ کے  اطراف چھڑ کو۔

21 تب قربان گاہ سے  تھوڑا خون لو۔ اور اسے  مخصوص تیل میں ملاؤ اور اس کو ہارون اور اس کے  بیٹوں اور ان کے  لباس پر چھڑکو۔ یہ اُن تمام لوگوں کو ہارون کے  ساتھ مقدس بنائے  گا۔

22 ” تب اس مینڈھے  سے  چربی لو یہ وہی مینڈھا ہے  جس کا استعمال ہارون کو اعلیٰ کاہن بنانے  کے  لئے  ہو گا۔ دُم کے  چاروں طرف کی چربی اور اس چربی کو لو جو جسم کے  اندر کے  اعضاء کو ڈھانکتی ہے  کلیجہ ڈھانکنے  والی چربی کو لو دونوں گردوں اور دائیں پیر کو لو۔

23 تب اس روٹی کی ٹوکری کو لو جس میں تم نے  بے  خمیری روٹیاں رکھیں تھی۔ یہی وہ ٹوکری ہے  جسے  تمہیں خداوند کے  سامنے  رکھنا ہے  ان روٹیوں کو ٹوکری سے  باہر نکالو، ایک سادی روٹی، ایک تیل سے  بنی اور ایک چھوٹی پتلی چپڑی ہو ئی۔

24 تب اس کو ہارون اور اس کے  بیٹوں کو دو۔ پھر ان سے  کہو کہ وہ خداوند کے  سامنے  انہیں اپنے  ہاتھوں میں اٹھائیں یہ خداوند کے  لئے  خاص نذر ہو گی۔

25 تب ان روٹیوں کو ہارون اور اس کے  بیٹوں سے  لو اور انہیں قربان گاہ پر مینڈھے  کے  ساتھ رکھو۔ یہ ایک جلائی ہوئی قربانی ہے  یہ خداوند کے  لئے  ایسی نذر ہو گی جو آ گ کے  ساتھ دی جاتی ہے۔ اس کی بُو خداوند کو خوش کرے  گی۔

26 ” تب اس مینڈھے  سے  اس کے  سینہ کو نکالو۔ یہی وہ مینڈھا ہے  جس کا استعمال ہارون کو اعلیٰ کاہن بنانے  کے  تقریب میں کیا جائے  گا۔ مینڈھے  کے  سینہ کو خاص نذر کی شکل میں خداوند کے  سامنے  پکڑو۔ پھر واپس لا کر اسے  رکھ دو۔ جانور کا یہ حصّہ تمہارا ہو گا۔

27 تب مینڈھے  کے  اس سینہ اور ٹانگ کو لو جو ہارون کو اعلیٰ کاہن بنانے  کے  لئے  استعمال میں آئے  تھے۔ انہیں پاک بناؤ اور انہیں ہارون اور اس کے  بیٹوں کو دو یہ نذر کا خاص حصّہ ہو گا۔

28 بنی اسرائیل ان حصوں کو ہارون اور اس کے  بیٹوں کو ہمیشہ دیں گے۔ جب کبھی بنی اسرائیل خداوند کو قر بانی دیں گے  تو یہ حصہ ہمیشہ کاہنوں کا ہو گا جب وہ ان حصوں کو کاہنوں کو دیں گے  تو یہ خداوند کو دینے  کے  برابر ہو گا۔

29 ” ان خاص لباسوں کو محفوظ رکھو جو ہارون کے  لئے  بنے  تھے۔ لباس اس کے  ان تمام نسلوں کے  لوگوں کے  لئے  ہوں گے۔ جو اس کے  بعد رہیں گے  وہ ان لباس کو اس وقت پہنیں  گے  جب کاہن چُنے  جائیں گے۔

30 ہارون کا جو بیٹا اس کے  بعد اعلیٰ کاہن ہو گا وہ سات دن تک اس لباس کو پہنے  گا جب وہ خیمۂ اجتماع کے  مقدس جگہ میں خدمت کرنے  آئے  گا۔

31 ” اس مینڈھے  کے  گوشت کو پکاؤ جو ہارون کو اعلیٰ کاہن بنانے  کے  لئے  استعمال میں آیا تھا۔ اس گوشت کو مقدس جگہ پر پکاؤ۔

32 تب ہارون اور اس کے  بیٹے  خیمۂ اجتماع کے  دروازے  پر مینڈھے  کا گوشت کھائیں گے۔

33 ان نذروں کااستعمال ان کے  گناہ کو ختم کرنے  کے  لئے  اس وقت ہوا تھا جب وہ کاہن بنے  تھے۔ یہ مینڈھے  صرف انہیں کھا نا چاہئے  کسی دوسرے  کو نہیں کیونکہ یہ پاک ہیں۔

34 اگر اس مینڈھے  کا کچھ گوشت یا روٹی دوسرے  دن کے  لئے  بچ جائے  تو اسے  جلا دینا چاہئے۔ تمہیں وہ روٹی یا گوشت نہیں کھا نا چاہئے۔ کیونکہ اسے  صرف خاص طرح سے  خاص وقت پر ہی کھا یا جانا چاہئے۔

35 ویسا ہی کرو جیسا میں نے  تمہیں ہارون اور اس کے  بیٹوں کے  لئے  کرنے  کا حکم دیا ہے۔ یہ تقریب مقرّر کاہنوں کی تقریب کے  لئے  سات دن تک چلے  گی۔

36 سات دن تک ہر روز ایک ایک بچھڑے  کو ذبح کرو یہ ہارون اور اس کے  بیٹوں کے  گناہ کے  لئے  قربانی ہو گی۔ تم ان دنوں میں دی گئی قربانی کا استعمال قربان گاہ کو پاک کرنے  کے  لئے  کر نا اور قربان گاہ کو مقدس بنانے  کے  لئے  زیتون کا تیل اس پر ڈالنا۔

37 تم سات دن تک قربان گاہ کو خالص اور پاک کر نا تب قربان گاہ پاک ہو جائے  گی۔ کوئی بھی چیز جو قربان گاہ کو چھوئے  وہ پاک ہو جائے  گی۔

38 ” ہر روز قربان گاہ پر تمہیں ایک قربانی دینی چاہئے۔ تم کو ایک ایک سال کے  دو میمنے کی قربانی دینی چاہئے۔

39 ایک میمنہ کی قربانی صبح اور دوسرے  کی شام میں دو۔

40 جب تم پہلے  میمنہ کا نذرانہ پیش کرو تو آٹھ پیالے  گیہوں کا باریک آٹا چار پیالے  مئے  کے  ساتھ ملاؤ اور اسے  پیش کرو۔ جب تم دوسرے  میمنہ کو شام کے  وقت پیش کرو تو آٹھ پیالے  باریک آٹا چار پیالے  زیتون کا تیل اور چار پیالے  مئے  بھی صبح کی طرح پیش کرو۔ یہ ایک تحفہ ہے ، خداوند کے  لئے  ایک میٹھی خوشگوار خوشبو ہے۔

41   42 تمہیں ان چیزوں کو خداوند کی قربانی پیش کرنے  میں روز جلانی چاہئے۔ یہ خداوند کے  سامنے  خیمۂ اجتماع کے  دروازہ پر کرو یہ ہمیشہ کرتے  رہو۔ جب تم قربانی پیش کرو گے  تب میں خداوند سے  ملوں گا اور وہاں تم سے  باتیں کروں گا۔

43 میں بنی اسرائیلیوں سے  اس جگہ پر ملوں گا اور وہ جگہ میرے  جلال سے  مقدس ہو گی۔

44 اس طرح میں خیمۂ اجتماع کو پاک بناؤں گا۔ اور میں قربان گاہ کو بھی مقدس بناؤں گا اور میں ہارون اور اس کے  بیٹوں کو مقدس کروں گا جس سے  وہ میری خدمت کاہن کے  طور پر کریں گے۔

45 میں بنی اسرائیلیوں کے  ساتھ رہوں گا میں ان کا خدا ہوں گا۔

46 لوگ یہ جان جائیں گے  کہ میں ان کا خدا خداوند ہو ں۔ انہیں معلوم ہو گا کہ میں ہی وہ ہوں جو انہیں مصر سے  باہر لایا تا کہ میں ان کے  ساتھ رہ سکوں میں ان کا خداوند خدا ہوں۔ ”

 

 

 

 

 

باب:   30

 

 

1 ” ببول کی لکڑی کی ایک قربان گاہ بناؤ تم اس قربان گاہ کا استعمال بخور جلانے  کے  لئے  کرو گے۔

2 تمہیں قربان گاہ کو ایک مربع کی شکل میں ایک کیو بٹ لمبی اور ایک کیو بٹ چوڑی بنانی چاہئے۔ یہ دو کیو بٹ اُونچی ہونی چاہئے۔ چاروں کونوں پر سینگ لگے  ہونے  چاہئے۔ یہ سینگ قربان گاہ کے  ساتھ ایک اکائی کی شکل میں قربان گاہ کے  ساتھ جڑے  جانے  چاہئے۔

3 قربان گاہ کے  اُوپری سِرے  اور اُس کے  تمام کناروں اور اس کے  سینگوں پر خالص سونا مڑھو۔ اور قربان گاہ کے  اطراف سونے  کی پٹی لگاؤ۔

4 اُس پٹی کے  نیچے  سونے  کے  دو چھّلے  ہونے  چاہئیں۔ یہ قربان گاہ کی دوسری جانب بھی سونے  کے  دو چھلّے  ہونے چاہئیں  یہ چھّلے  قربان گاہ کولے  جانے  کے  لئے  کھمبوں کو پھنسانے  کے  لئے  ہوں گے۔

5 کھمبوں کو بھی ببول کی لکڑی سے  بناؤ۔ ان کھمبوں کو سونے  سے  مڑھو۔

6 قربان گاہ کو خاص پر دہ کے  سامنے  رکھو۔ معاہدہ کا صندوق اُس پر دہ کے  دوسری جانب ہے۔ اس صندوق کو ڈھانکنے  والے  سر پوش کے  سامنے  قربان گاہ رہے  گی۔ یہی وہ جگہ ہے  جہاں میں تم سے  ملوں گا۔

7 ہا رون ہر صبح بھینی خوشبو کے  بخور جلائے  گا وہ یہ اُس وقت کرے  گا جب وہ چراغوں کی نگرانی کرنے  آئے  گا۔

8 شام کو جب وہ چراغ جلانے  کے  لئے  آئے  تو اسے  پھر بخور جلا نا چاہئے۔ تا کہ خداوند کے  سامنے  صبح و شام ہمیشہ بخور جلتا رہے۔

9 اُس قربان گاہ کا استعمال کسی دوسری قسم کے  بخور جلانے  کی قربانی کے  لئے  نہ کر نا۔ اُس قربان گاہ کا استعمال اناج کی قربانی یا مئے  کی قربانی کے  لئے  نہ کر نا۔

10 ہر سال ایک بار ہا رون گناہ کے  کفارے  کے  نذرانے  سے  تھوڑا خون بخور جلانے  کے  قربان گاہ کے  سینگوں کا کفارہ دینے  کے  لئے  استعمال کرے  گا۔ قربان گاہ خداوند کے  لئے  سب سے  مقدس چیز ہے۔ ”

11 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

12 ” بنی اسرائیلیوں کی گنتی کرو جس سے  تمہیں معلوم ہو گا کہ وہاں کتنے  لوگ ہیں۔ جب کبھی یہ کیا جائے  گا ہر ایک آدمی  اپنی زندگی کے  لئے  خداوند کو دولت دے  گا اگر ہر آدمی ایسا کرے  گا تو لوگوں کے  ساتھ کوئی بھی بھیانک حادثہ پیش نہیں آئے  گا۔

13 ہر آدمی  وہ جسے  گِنا گیا ہو وہ آدھا مِثقال ( یعنی حکو مت کا منظور شدہ پیمانہ۔ ایک مِثقال بیس جرہ کی ہو تی ہے  ) چاندی ضرور پیش کرے۔

14 ہر ایک مرد جِسے  گِنا گیا ہو اور جو ۲۰ سال یا اُس سے  زیادہ عمر کا ہو وہ خداوند کو یہ نذرانہ پیش کرے۔

15 دولتمند لوگ آدھے  مِثقال سے  زیادہ نہیں دیں گے  اور نہ غریب لوگ آدھے  مثقال سے  کم دیں گے  سب لوگ خداوند کو مساوی نذر پیش کریں گے  یہ تمہاری زندگی کی قیمت ہے۔

16 بنی اسرائیلیوں سے  یہ پیسہ جمع کرو اور خیمۂ اجتماع میں خدمت کے  لئے  اس کا استعمال کرو۔ یہ ادائیگی لوگوں کے  لئے  خداوند کے  حضور ان کی زندگی کا کفارہ ادا کرنے  کے  لئے  یاد اشت ہو گی۔ ”

17 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

18 ” ایک کانسے  کی سلفچی بناؤ اور اُسے  کانسے  کی بنیاد پر رکھو تم اُس کا استعمال ہاتھ پیر دھونے  کے  لئے  کرو گے۔ سلفچی کو خیمۂ اجتماع اور قربان گاہ کے  درمیان رکھو۔ سلفچی کو پانی سے  بھرو۔

19 ” ہا رون اُس کے  بیٹے  اُس سلفچی کے  پانی سے  اپنے  ہاتھ پیر دھوئیں گے۔

20 ” ہر بار جب وہ خیمۂ اجتماع میں آئیں یا اس کے  پاس آئیں تو پانی سے  ہاتھ پیر ضرور دھوئیں اس سے  وہ نہیں مریں گے۔

21 تو وہ اپنے  ہاتھ پیر ضرور دھوئیں اُس سے  نہیں مریں گے۔ یہ ایسا قانون ہو گا جو ہا رون اُس کے  لوگوں کے  لئے  ہمیشہ بنا رہے  گا۔ یہ اصول ہا رون کے  ان تمام لوگوں کے  لئے  بنے  رہیں گے  جو مستقبل میں ہوں گے۔ ”

22 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

23 ” عمدہ مصالحے  لاؤ بارہ پاؤنڈ مُر، اُس کا آدھا ( یعنی ۶ پاؤنڈ) بھینی خوشبو کے  دار چینی اور بارہ پاؤنڈ خوشبو کی چھال،

24 اور بارہ پاؤنڈ تیج پات انہیں وزن کرنے  کے  لئے  سرکاری ناپ کا استعمال کرو۔ ایک گیلن زیتون کا تیل بھی لاؤ۔

25 ” خوشبو دار مسحکرنے  کا خاص تیل بنانے  کے  لئے  ان سب چیزوں کو ملاؤ۔

26 خیمۂ اجتماع اور معاہدہ کے  صندوق پر اس تیل کو ڈالو یہ اس بات کا اشارہ کرے  گا کہ ان چیزوں کا خاص مقصد ہے۔

27 میز اور میز پر کی تمام طشتریوں پر تیل ڈالو، اُس تیل کو شمع اور تمام برتنوں پر ڈالو۔ اس تیلکو  بخور کے  قربان گاہ پر ڈالو۔

28 دھوئیں وا لی قربان گاہ پر تیل ڈالو خداوند کے  لئے  جلانے  کی قربان گاہ میں بھی تیل ڈالو۔ اُس قربان گاہ کی تمام چیزوں پر یہ تیل ڈالو۔ کٹوروں اور اُس کے  نیچے  سامان پر یہ تیل ڈالو۔

29 تم اُن سب چیزوں کو پیش کرو گے  وہ بالکل پاک ہوں گے۔ کوئی بھی چیز جو اُنہیں چھوئے  گی وہ بھی پاک ہو جائے  گی۔

30 ” ہا رون اور اُس کے  بیٹوں پر تیل ڈالو۔ یہ ظاہر کرے  گا کہ وہ میری خدمت خاص طریقے  سے  کرتے  ہیں۔ تب یہ میری خدمت کاہنوں کی طرح کر سکتے  ہیں۔

31 بنی اسرائیلیوں سے  کہو کہ مسح کرنے  کا تیل میرے  لئے  ہمیشہ بہت خاص ہو گا۔

32 معمولی خوشبو کی طرح کوئی بھی اُس تیل کا استعمال نہیں کرے  گا۔ اس طرح کوئی خوشبو نہ بناؤ جس طرح تم نے  یہ خاص تیل بنا یا یہ تیل پاک ہے  اور یہ تمہارے  لئے  بہت خاص ہو نا چاہئے۔

33 اگر کوئی شخص اس مقدّس تیل کی طرح خوشبو بنائے  اور اُسے  کسی کو دے  دے  جو کاہن نہ ہو تو اُس شخص کو اپنے  لوگوں سے  ضرور الگ کر دیا جائے  گا۔

34 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” اُن خوشبودار مصالحوں کو لو : مُڑ، مُشک، لونگ اور خالص لو بان لو۔ ہوشیاری سے  خیال کرو کہ تمہارے  پاس مصالحوں کی مساوی مقدار ہو۔

35 مصالحوں کا خوشبودار بخور بنانے  کے  لئے  آپس میں ملاؤ۔ اسے  اسی طرح کرو جیسا خوشبو بنانے  وا لا آدمی  کرتا ہے۔ اُس بخور میں نمک بھی ملاؤ یہ اُسے  خالص اور پاک بنائے  گا۔

36 کچھ مصالحوں کو اُس وقت تک پیستے  رہو جب تک دوبارہ پاؤڈر نہ ہو جائے۔ خیمۂ اجتماع میں معاہدہ کے  صندوق کے  سامنے  اُس پاؤڈر کو رکھو۔ یہی وہ جگہ ہے  جہاں میں تم سے  ملوں گا۔ تمہیں اس کا احترام سب سے  مقدس طور پر کرنا چاہئے۔

37 تمہیں اُس پاؤڈر کا استعمال صرف خاص طریقے  سے  خداوند کے  لئے  ہی کر نا چاہئے۔ تم اُس بخور کو خاص طریقے  سے  بناؤ گے۔ اُس طرح دوسرا بخور بنانے  کے  لئے  مت کرو۔

38 ہو سکتا ہے  کوئی آدمی  اپنے  لئے  کچھ ایسا بخور بناتا ہے  جس سے  وہ خوشبو کا مزہ لے  سکے۔ لیکن وہ اگر ایسا کرے  تو اُسے  اپنے  لوگوں سے  ضرور الگ کر دیا جائے۔ ”

 

 

 

 

باب:   31

 

 

1 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2 ” میں نے  یہوداہ کے  قبیلے  سے  اوری کے  بیٹے  بضل ایل کو چُنا ہے۔ اوری حُور کا بیٹا تھا۔

3 میں نے  بضل ایل کو خدا کی رُوح سے  بھر دیا ہے۔ میں نے  اُسے  اس طرح کے  سب فنکاری کے  کاموں کو کرنے  کی حکمت اور علم دے  دیا ہے۔

4 بضل ایل بہت اچھا ہُنر مند ہے۔ اور وہ سونا چاندی اور کانسے  کی چیزیں بنا سکتا ہے۔

5 بضل ایل خوبصورت جواہر کو کاٹ اور جوڑ سکتا ہے۔ وہ لکڑی کا بھی کام کر سکتا ہے۔ بضل ایل سب طرح کا کام کر سکتا ہے۔

6 میں اہلیاب کو بھی اس کے  ساتھ کام کرنے  کو چُنا ہے۔ اہلیاب دان قبیلہ کے  اخی سامک کا بیٹا ہے  اور میں نے  دوسرے  سب ہُنر مندوں کو بھی ایسی حکمت دے  دی ہے  کہ وہ اُن سبھی چیزوں کو بنا سکتے  ہیں۔ جن چیزوں کو میں نے  تم کو بنانے  کا حکم دیا ہے  :

7 خیمۂ اجتماع، معاہدہ کا صندوق، صندوق کو ڈھکنے  وا لا سر پوش اور خیمہ کا سارا سازو سامان،

8 میز اور اُس پر کی تمام چیزیں، خالص سونے  کا شمعدان اور اس کے  سارے  ساز و سامان، بخور جلانے  کی قربان گاہ،

9 جلانے  کا نذرانہ جلانے  کی قربان گاہ اور قربان گاہ کے  استعمال کی چیزیں، سلفچی اور اُس کے  نیچے  کی بنیاد،

10 کاہن ہا رون کے  لئے  سبھی خاص لباس اور اس کے  بیٹوں کے  لئے  سبھی خاص لباس جنہیں وہ کاہن کے  طور پر خدمت کرتے  وقت پہنیں گے ،

11 مسح کرنے  کے  لئے  خوشبو کا تیل اور مقدس جگہ کے  لئے  خوشبودار بخور۔ ان سبھی چیزوں کو اُسی طرح بنائیں گے  جیسا میں نے  تم کو حکم دیا۔ ”

12 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

13 ” بنی اسرائیلیوں سے  یہ کہو : ‘ تم لوگ میرے  خاص سبت کے  دن والے  اُصولوں کی پا بندی کرو گے  تمہیں یہ یقیناً کر نا چاہئے۔ کیونکہ یہ میرے  اور تمہارے  درمیان سبھی نسلوں کے  لئے  نشان ہو گا یہ تمہیں بتائے  گا میں خداوند نے  تمہیں خاص لوگوں میں بنا یا ہے۔

14 ” سبت کے  دن کو خاص دن مناؤ۔ اگر کوئی آدمی  سبت کے  دن کو دوسرے  عام دنوں کی طرح مناتا ہے  تو وہ شخص ضرور مار دیا جانا چاہئے۔ کوئی شخص جو سبت کے  دن کام کرتا ہے  اسے  اپنے  لوگوں سے  ضرور الگ کر دیا جانا چاہئے۔

15 ہفتہ میں چھ

16 ” بنی اسرائیلیوں کو سبت کے  دن پر عمل کر نا چاہئے  اور اُسے  ہمیشہ خاص دن کی طرح منائیں۔ یہ میرے  اور اُن کے  درمیان معاہدہ ہے  جو ہمیشہ قائم رہے  گا۔

17 سبت کا دن میرے  اور بنی اسرائیلیوں کے  درمیان ہمیشہ کے  لئے  ایک نشانی ہے۔ خداوند نے  چھ دن کام کیا اور آسمان و زمین کو بنا یا ساتویں دن اس نے  خود کو آرام دیا اور سستایا۔ ”

18 اُس طرح خداوند نے  موسیٰ سے  سینا کے  پہاڑ پر بات کر نا ختم کی تب خداوند نے  اُسے  احکام لکھے  ہوئے  دو شفاف پتھر دیئے۔ خدا نے  اپنی انگلیوں کو استعمال کیا اور پتھر پر اُن اُصولوں کو لکھا۔

 

 

 

 

باب:    32

 

 

1 لوگوں نے  دیکھا کہ طویل عرصہ ہو گیا ہے  اور موسیٰ پہاڑ سے  نیچے  نہیں اُترا اِس لئے  لوگ ہا رون کے  اطراف جمع ہوئے۔ اُنہوں نے  کہا، ” دیکھو موسیٰ نے  ملک مصر سے  با ہر نکالا لیکن ہم یہ نہیں جانتے  کہ اُس کے  ساتھ کیا حادثہ ہوا ہے۔ اس لئے  کوئی دیوتا ہما رے  آگے  چلنے  اور ہم لوگوں کی رہبری کرنے  وا لا بناؤ۔ ”

2 ہارون نے  لوگوں سے  کہا، ” اپنی بیویوں، بیٹیوں بیٹوں کے  ناکوں کی سونے  کی بالیاں میرے  پاس لاؤ۔ ”

3 اِس لئے  سبھی لوگوں نے  ناک کی سونے  کی بالیاں جمع کئے  اور وہ اُنہیں ہا رون کے  پاس لائے۔

4 ہارون نے  لوگوں سے  سونا لیا اور ایک بچھڑے  کی مورتی بنانے  کے  لئے  اس کا استعمال کیا۔ ہارون نے  مورتی بنانے  کے  لئے  مورتی کو شکل دینے  کے  لئے  چھینی کا استعمال کیا تب اُسے  اُس نے  سونے  سے  مڑھ دیا۔ تب لوگوں نے  کہا، ” بنی اسرائیلیو! یہ تمہارے  جھوٹے  خداوند ہیں جو تمہیں مصر سے  با ہر لے  آئے۔ ”

5 ہارون نے  اُن چیزوں کو دیکھا اِس لئے  اُس نے  بچھڑے  کے  سامنے  ایک قربان گاہ بنا ئی۔ تب ہارون نے  اعلان کیا، ” کل خداوند کے  لئے  خاص دعوت ہو گی۔ ”

6 اگلے  دن صبح لوگ اُٹھے۔ اُنہوں نے  جانوروں کو ذبح کیا اور جلانے  کی قربانی اور ہمدردی کی قربانی دی۔ لوگ کھانے  اور پینے  کے  لئے  بیٹھے  پھر وہ کھڑے  ہوئے  اور اُن کی ایک شاندار دعوت ہو ئی۔

7 اُسی وقت خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” اس پہاڑ سے  فوراً نیچے  اُترو تمہارے  لوگوں نے  جنہیں تم مصر سے  لائے  ہو بھیانک گناہ کئے  ہیں۔

8 اُنہوں نے  اُن چیزوں کو کرنے  سے  بڑی جلدی سے  انکار کر دیا ہے  جنہیں کرنے  کا حکم میں نے  دیا تھا۔ اُنہوں نے  پگھلے  سونے  سے  اپنے  لئے  ایک بچھڑا بنا یا ہے۔ وہ اُس بچھڑے  کی پو جا کر رہے  ہیں اور اُسے  قربانی پیش کر رہے  ہیں۔ لوگ کہتے  ہیں، ‘ اسرائیل یہ سب تمہارے  خداوند ہیں جو تمہیں مصر سے  با ہر لا یا ہے۔ ”

9 خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” میں نے  اُن لوگوں کو دیکھا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ بڑے  ضدّی لوگ ہیں جو ہمیشہ میرے  خلا ف جائیں گے۔

10 اس لئے  اب مجھے  اُنہیں غصّہ میں تباہ کرنے  دو۔ تب میں تجھ سے  ایک عظیم ملک بناؤں گا۔ ”

11 لیکن موسیٰ نے  خداوند اپنے  خدا کو مطمئن کیا۔ موسیٰ نے  فرما یا، ” اے  خداوند! تُو اپنے  غصّہ سے  اپنے  لوگوں کو تباہ نہ کر تو اپنی بڑی طاقت اور قدرت سے  اُنہیں مصر سے  با ہر لے  آیا۔

12 لیکن تو اپنے  لوگوں کو تباہ کرے  گا، تب مصر کے  لوگ کہہ سکتے  ہیں کہ، خداوند نے اپنے  لوگوں کے  ساتھ بُرا کرنے  کا منصوبہ بنا یا۔ یہی وجہ ہے  کہ اس نے  اُن کو مصر سے  با ہر نکالا وہ انہیں پہاڑوں میں مار ڈالنا چاہتا تھا۔ ‘اِس لئے  تُو لوگوں پر غصّہ نہ کر۔ اپنا غصّہ چھوڑ دے  اپنے  لوگوں کو تباہ نہ کر۔

13 تُو اپنے  خادم ابراہیم، اسحاق اور اِسرائیل ( یعقوب ) کو یاد کر۔ تو نے  اپنے  نام کا استعمال کیا اور تُو نے  اُن لوگوں سے  وعدہ کیا۔ تُو نے  کہا : ‘ میں تمہارے  لوگوں کو اِتنا ان گنت بناؤں گا جتنے  آسمان میں تا رے  ہیں میں تمہارے  لوگوں کو وہ ساری زمین دوں گا جسے  میں نے  اُن کو دینے  کا وعدہ کیا ہے۔ یہ زمین ہمیشہ کے  لئے  اُن کی ہو گی۔ “‘

14 خداوند نے  اس کے  با رے  میں نرمی برتی جو کہ اُس نے  کہا کہ وہ کرے  گا۔ اور اس نے  لوگوں کو تباہ نہیں کیا۔

15 تب موسی ٰ پہاڑ سے  نیچے  اُترا۔ موسیٰ کے  پاس معاہدے  کے  دو پتھر تھے۔ یہ احکام پتھر کے  سامنے  اور پیچھے  دونوں طرف لکھے  ہوئے  تھے۔

16 خدا نے  یقیناً اُن پتھروں کو بنا یا تھا اور خدا نے  ہی اُن احکام کو اُن پتھروں پر لکھا تھا۔

17 جب وہ پہاڑ سے  اتر رہے  تھے  تو یشوع نے  لوگوں کا شور سُنا۔ یشوع نے  موسیٰ سے  کہا، ” نیچے  خیموں میں جنگ کی طرح شور ہے ! ”

18 موسیٰ نے  جواب دیا، ” یہ فوج کی فتح کا شور نہیں ہے  یہ ہار سے  چیخ پکار نے  وا لی فوج کا شور بھی نہیں ہے۔ میں جو آوا ز سُن رہا ہوں وہ موسیقی کی ہے۔ ”

19 جب موسیٰ چھاؤنی کے  قریب آیا تو انہوں نے  سونے  کے  بچھڑے  اور گاتے  ہوئے  لوگوں کو دیکھا۔ موسیٰ بہت غصّے  میں آ گئے  اور اُس نے  اُن خاص پتھروں کو زمین پر پھینک دیا۔ پہاڑ کی ترائی میں پتھر کے  تختوں کے  کئی ٹکڑے  ہو گئے۔

20 تب موسیٰ نے  لوگوں کے  بنائے  ہوئے  بچھڑے  کو تباہ کر دیا۔ اُسے  آگ میں گلا دیا۔ سونے  کو اُس وقت تک پیسا جب تک وہ چُور نہ ہو گیا۔ اور اُس چو رے  ہوئے  سونے  کو پانی میں پھینک دیا۔ بنی اسرائیلیوں کو وہ پانی پینے  پر مجبور کیا۔

21 موسیٰ نے  ہا رون سے  کہا، ” اُن لوگوں نے  تمہارے  ساتھ کیا کیا؟ تم انہیں اتنا بڑا گناہ کرنے  کی طرف کیوں لے  گئے ؟ ”

22 ہارون نے  جواب دیا، ” جناب غصّہ مت کیجئے۔ آپ  جانتے  ہیں کہ یہ لوگ ہمیشہ غلط کام کرنے  کو تیار رہتے  ہیں۔

23 لوگوں نے  مجھ سے  کہا، ” موسیٰ ہم لوگوں کو مصر سے  باہر لے  آیا۔ لیکن ہم لوگ نہیں جانتے  کہ اُس کے  ساتھ کیا واقعہ ہو ا۔ اِس لئے  ہم لوگوں کا راستہ بتانے  وا لا کوئی دیوتا بناؤ۔ ‘

24 اِس لئے  میں نے  لوگوں سے  کہا، ‘ اگر تمہارے  پاس سونے  کی انگوٹھیاں ہو تو انہیں مجھے  دے  دو۔ ‘ لوگوں نے  مجھے  اپنا سونا دیا، میں نے  اُس سونے  کو آ گ میں پھینکا اور اُس آ گ سے  یہ بچھڑا آ یا۔ ”

25 موسیٰ نے  دیکھا کہ ہا رون نے  لوگوں کو قابو سے  با ہر کر دیا۔ لوگ اپنے  تمام دشمنوں کے  لئے  جنگلی اور بے  حیا بن گئے  ہیں۔

26 اِس لئے  موسیٰ خیمہ کے  دروازے  پر کھڑے  ہوئے۔ موسیٰ نے  فرما یا، ” کوئی بھی آدمی  جو خداوند کے  راستے  پر چلنا چاہتا ہے  اُس کو میرے  پاس آنا ہو گا۔ ” تب لا وی کے  خاندان کے  سبھی لوگ ڈر کر موسیٰ کے  پاس آئے۔

27 تب موسیٰ نے  اُن سے  کہا، ” میں تمہیں بتاؤں گا کہ بنی اسرائیل کا خداوند کیا کہتا ہے۔ ہر آدمی  اپنی تلوار ضرور اٹھا لے  اور خیمہ کے  ایک سِرے  سے  دوسرے  سِرے  تک جائے۔ تم لوگ ان لوگوں کو ضرور سزاد و گے  چاہے  کسی آدمی  کو اپنے  بھا ئی، بیٹے ، دوست یا پڑوسی کو ہی کیوں نہ مار نا پڑے۔ “‘

28 لا وی کے  خاندان کے  لوگوں نے  موسیٰ کا حکم مانا اُس دن اسرائیل کے  تقریباً تین ہزار لوگ مرے۔

29 تب موسیٰ نے  فرما یا، ” لا ویو آج خداوند کے  لئے  کاہن کے  طور پر اپنے  آ پکو مخصوص کرو۔ خداوند نے  تمہیں خیر و برکت دی ہے  کیونکہ تم میں سے  ہر ایک لڑا یہاں تک کہ اپنے  بیٹے  اور اپنے  بھائی کے  خلا ف بھی۔ ”

30 دُوسری صبح موسیٰ نے  لوگوں سے  کہا، ” تم لوگوں نے  بھیانک گناہ کیا ہے۔ لیکن اب میں خداوند کے  پاس اُوپر جاؤں گا۔ اور ایسا کچھ کروں گا جس سے  وہ تمہارے  گنا ہوں کو معاف کر دے۔ ”

31 اِس لئے  موسیٰ وا پس خداوند کے  پاس گئے  اور انہوں نے  کہا، ” مہربانی سے  سُن ان لوگوں نے  بڑا بُرا گناہ کیا ہے  اور سونے  کا ایک دیوتا بنا یا ہے۔

32 اب انہیں اُس گناہ کے  لئے  معاف کر۔ اگر تو معاف نہیں کرے  گا تو میرا نام اُس کتاب سے  مٹا دے  جسے  تو نے  لکھا ہے۔ ”

33 لیکن خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” جو میرے  خلا ف گناہ کرتے  ہوں صرف وہی ایسے  لوگ ہیں جن کا نام میں اپنی کتاب سے  مٹاتا ہوں۔

34 اِس لئے  جاؤ اور لوگوں کو وہاں لے  جاؤ جہاں میں کہتا ہوں۔ میرا فرشتہ تمہارے  آ گے  آگے  چلے  گا اور تمہیں راستہ دکھائے  گا۔۔ جب اُن لوگوں کو سزا دینے  کا وقت آئے  گا۔ جنہوں نے  گناہ کئے  ہیں تب انہیں سزا دی جائے  گی۔ ”

35 اِس لئے  خداوند نے  لوگوں میں ایک بھیانک بیماری شروع کی اُنہوں نے  یہ اِس لئے  کیا کہ ان لوگوں نے  ہا رون سے  سونے  کا بچھڑا بنانے  کو کہا تھا۔

 

 

 

 

باب:  33

 

 

1 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، “تم اور تمہارے  وہ لوگ جنہیں تم مصر سے  لائے  ہو۔ اس جگہ کو بالکل چھوڑ دو اور اُس ملک میں جاؤ جسے  میں نے  ابراہیم اسحاق اور یعقوب کو دینے  کا وعدہ کیا تھا۔ میں نے  اُن سے  وعدہ کیا۔ میں نے  کہا، ” میں وہ ملک تمہاری نسلوں کو دوں گا۔

2 میں ایک فرشتہ تمہارے  آگے  چلنے  کے  لئے  بھیجوں گا۔ اور میں کنعانی، عموری، حتّی، فرزّی، حوّی، اور یبوسی لوگوں کو شکست دوں گا۔ میں ان لوگوں کو تمہارا ملک چھوڑنے  پر مجبور کروں گا۔

3 اس لئے  اُس ملک کو جاؤ جو بہت ہی اچھی چیزوں سے  بھرا ہے۔ لیکن میں تمہارے  ساتھ نہیں جاؤں گا۔ تم لوگ بہت ضدّی ہو۔ اگر میں تمہارے  ساتھ گیا تو میں شاید تمہیں راستے  میں ہی تباہ کر دوں۔ ”

4 جب لوگوں نے  یہ سخت کلامی خبر سُنی تو وہ بہت رنجیدہ ہوئے  اس کے  بعد لوگوں نے  جواہرات نہیں پہنے۔

5 کیونکہ خداوند نے  موسیٰ سے  کہا تھا، ” بنی اسرائیلیوں سے  کہو، ‘ تم ضدّی لوگ ہو۔ اگر میں تم لوگوں کے  ساتھ تھوڑے  وقت کے  لئے  بھی سفر کروں تو میں تم لوگوں کو تباہ کر دوں گا۔ اس لئے  اپنے  تمام زیورات اُتار لو، تب میں طے  کروں گا کہ تمہارے  ساتھ کیا کروں۔ ”

6 اس لئے  بنی اسرائیلیوں نے  حورب ( سینائی) پہاڑ پر اپنے  تمام زیورات اتار لئے۔

7 موسیٰ خیمۂ کو چھاؤنی سے  باہر کچھ دور لے  گئے  وہاں انہوں نے  اسے  لگایا اس کا نام ” خیمۂ اجتماع رکھا۔ ” اگر کوئی بھی شخص خداوند سے  کچھ پو چھنا چاہتا تھا تو اسے  چھاؤنی سے  باہر خیمۂ اجتماع تک جانا ہوتا تھا۔

8 جب کبھی موسیٰ باہر خیمہ میں جاتے  تو لوگ ان کو دیکھتے  رہتے  لوگ اپنے  خیموں کے  دروازوں پر کھڑے  رہتے  اور موسیٰ کو اس وقت تک دیکھتے  رہتے  جب تک وہ خیمۂ اجتماع میں نہ چلے  جاتے۔

9 جب موسیٰ خیمہ میں جاتے  تو ایک لمبا بادل کا ستون نیچے  اُترتا تھا۔ وہ بادل خیمہ کے  دروازے  پر ٹھہرتا اس طرح خداوند موسیٰ سے  بات کرتا تھا۔

10 جب لوگ خیمہ کے  دروازے  پر بادل کو دیکھتے  تو وہ اپنے  خیمہ کے  دروازے  پر جاتے  تھے  اور عبادت کرنے  کے  لئے  جھکتے  تھے۔

11 خداوند موسیٰ سے  روبرو بات کرتا تھا۔ جس طرح کوئی آدمی  اپنے  دوست سے  بات کرتا ہو۔ خداوند سے  بات کرنے  کے  بعد موسیٰ اپنے  خیمہ میں واپس جاتے  تھے۔ لیکن یشوع اس کا مدد گار ہمیشہ خیمہ میں ٹھہر تا۔ یہ جوان آدمی  یشوع نون کا بیٹا تھا۔

12 موسیٰ نے  خداوند سے  کہا، ” تو نے  مجھے  ان لوگوں کولے  چلنے  کو کہا لیکن تُو نے  یہ نہیں بتا یا کہ میرے  ساتھ کسے  بھیجے  گا۔ تُو نے  مجھ سے  کہا، ‘ میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں اور میں تم سے  خوش ہوں۔ ‘

13 اگر تجھے  میں نے  حقیقت میں خوش کیا ہے  تو مجھے  اپنے  راستے  بتا۔ تجھے  میں حقیقت میں جاننا چاہتا ہوں تب میں تجھے  مسلسل خو ش ر کھ سکتا ہوں یاد رکھ کہ سب تیرے  لوگ ہیں۔ ”

14 خداوند نے  جواب دیا، ” میں یقیناً تمہارے  ساتھ چلوں گا اور تمہاری رہبری کروں گا۔ ”

15 تب موسیٰ نے  ان سے  کہا، ” اگر تُو ہم لوگوں کے  ساتھ نہ چلے  تو تُو اس جگہ سے  ہم لوگوں کو دور مت بھیج۔ ”

16 ہم یہ بھی کس طرح جانیں گے  کہ تُو مجھ سے  اور اپنے  لوگوں سے  خوش ہے ؟ اگر تُو ہمارے  ساتھ جائے  گا تو میں اور یہ لوگ زمین کے  دوسرے  لوگوں سے  مختلف ہوں گے۔

17 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” میں وہ کروں گا جو تُو کہتا ہے  میں یہ کروں گا۔ کیونکہ میں تجھ سے  خوش ہوں میں تجھے  اچھی طرح جانتا ہوں۔ ”

18 تب موسیٰ نے  فرمایا، ” اب مہر بانی کر کے  مجھے  اپنا جلال دکھا۔ ”

19 تب خداوند نے  جواب دیا، ” میں اپنی مکمل بھلائی کو تم تک جانے  دوں گا۔ میں خداوند ہوں اور میں اپنے  نام کا اعلان کروں گا تاکہ تم اُسے  سُن سکو میں اُن لوگوں پر مہربانی اور محبّت دکھاؤں گا جنہیں میں چُنوں گا۔

20 لیکن تم میرا منھ نہیں دیکھ سکتے۔ کوئی بھی آدمی  مجھے  نہیں دیکھ سکتا اور اگردیکھ لے  تو زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔

21 ” میرے  قریب کی جگہ پر ایک چٹّان ہے  تم اس چٹّان پر کھڑے  رہو۔

22 میرا جلال اس جگہ سے  ہو کر گزرے  گا۔ اس چٹّان کی بڑی دراڑ میں تم کو رکھوں گا اورگزرتے  وقت میں تمہیں اپنے  ہاتھ سے  ڈھانپوں گا۔

23 تب میں اپنا ہاتھ ہٹا لوں گا اور تم میری پشت کو دیکھو گے  لیکن تم میرا منھ نہیں دیکھ پاؤ گے۔ ”

 

 

 

 

باب:    34

 

 

1 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” دو اور پتھر کی تختی بالکل ویسی ہی بناؤ جیسی پہلے  دو تھی جو کہ ٹوٹ گئی۔ میں ان پر انہی الفاظ کو لکھوں گا جو پہلے  دونوں پر لکھے  تھے۔

2 کل صبح تیار رہنا سینا پہاڑ پر آنا وہاں میرے  سامنے  پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے  رہنا۔

3 کسی آدمی  کو تمہارے  ساتھ نہیں آنے  دیا جائے  گا پہاڑ کی کسی بھی جگہ پر کوئی بھی آدمی  دکھائی تک نہیں پڑنا چاہئے  یہاں تک کہ تمہارے  جانوروں کا جھنڈ اور مینڈھوں کے  ریوڑ بھی پہاڑ کی ترائی میں گھاس نہیں چریں گے۔”

4 اِس لئے  موسیٰ نے  پہلے  پتھروں کی طرح پتھر کی دو صاف تختیاں بنائیں۔ تب دُوسری صبح ہی وہ سینا پہاڑ پر گئے۔ اُس نے  ہر ایک چیز خداوند کے  حکم کے  مطابق کئے۔ موسیٰ اپنے  ساتھ پتھر کی دو تختیاں لے  گئے۔

5 خداوند ان کے  پاس نیچے  پہاڑ پر آیا۔ موسیٰ وہاں خداوند کے  ساتھ کھڑے  رہے  اور اُس نے  خداوند کا نام لیا۔

6 خداوند موسیٰ کے  سامنے  سے  گزرا اور اُس نے  کہا، ” یہواہ خداوند، رحمدل اور مہربان خدا ہے۔ خداوند جلدی غصّہ میں نہیں آتا ہے۔ خداوند عظیم محبت سے  بھرا ہے۔ خداوند بھروسہ کرنے  کے  لئے  ہے۔

7 خداوند ہزاروں نسلوں پر مہربانی کرتا ہے۔ خداوند لوگوں کو ان غلطیوں کے  لئے  جو وہ کرتے  ہیں معاف کرتا ہے۔ لیکن خداوند قصور واروں کو سزا دینا نہیں بھو لتا۔ خداوند صرف قصوروار کو ہی سزا نہیں دے  گا بلکہ اُن کے  بچّوں اُن کے  بیٹوں اور بیٹیوں کو بھی اُس بُری بات کے  لئے  تکلیف برداشت کرنا ہو گا جو وہ لوگ کرتے  ہیں۔ ”

8 تب اُسی وقت موسیٰ زمین پر جھکے  اور اس نے  خداوند کی عبادت کی۔ موسیٰ نے  فرمایا،

9 ” خداوند اگر تو مجھ سے  خوش ہے  تو میرے  ساتھ چل میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ ضدی ہیں تو ہمیں اُن گناہوں اور قصورواروں کے  لئے  معاف کر جو ہم نے  کئے  ہیں۔ اپنے  لوگوں کی طرح ہمیں قبول کر۔ ”

10 تب خداوند نے  کہا، ” میں تمہارے  سب لوگوں کے  ساتھ یہ معاہدہ کر رہا ہوں۔ میں ایسا عجیب و غریب کام کروں گا جیسے  اس زمین پر پہلے  کبھی کسی بھی دوسرے  ملک کے  لئے  نہیں کیا۔ تمہارے  ساتھ سبھی لوگ دیکھیں گے  کہ میں خداوند بہت عظیم ہوں۔ لوگ اُن عجیب و غریب کاموں کو دیکھیں گے  جو میں تمہارے  لئے  کروں گا۔

11 آج میں جو حکم دیتا ہوں اس کی تعمیل کرو۔ اور میں تمہارے  دشمنوں کو تمہارا ملک چھوڑنے  پر مجبور کروں گا۔ میں عموری، کنعانی، حتّی، فرزّی، حوّی اور یبوسیوں کو باہر نکل جانے  کے  لئے  دباؤ ڈالوں گا۔

12 ہوشیار رہو ان لوگوں کے  ساتھ کوئی معاہدہ نہ کرو جو اس سرزمین پر رہتے  ہیں جہاں تم جا رہے  ہو۔ اگر تم ان کے  ساتھ معاہدہ کرو گے  تو تم اس میں پھنس جاؤ گے۔

13 ان کی قربان گاہوں کو تباہ کر دو ان پتھّروں کو توڑ دو جن کی وہ پرستش کرتے  ہیں ان کی مورتیوں کو کاٹ گراؤ۔

14 کسی دوسرے  دیوتا کی پرستش نہ کرو۔ خداوند جس کا نام غیور، غیور خدا ہے۔

15 ” ہوشیار رہو اس ملک میں جو لوگ رہتے  ہیں ان سے  کوئی معاہدہ نہ کرو۔ اگر تم یہ کرو گے  تو ہو سکتا ہے  کہ تم بھی ان کے  ساتھ شامل ہو جاؤ گے  جب وہ اپنے  آپ  کو اپنے  دیوتاؤں کے  پاس طوائف کی طرح بیچ دیتے  ہیں۔ وہ لوگ تمہیں اپنے  میں شامل ہونے  کے  لئے  بُلائیں گے  اور تم ان کی قربانیوں کو کھاؤ گے۔

16 اگر تم ان کی کچھ بیٹیوں کو اپنے  بیٹوں کی بیویاں بننے  کے  لئے  چُنو تو وہ لڑ کیاں اپنے  جھوٹے  خداؤں کی پرستش کے  بعد طوائفوں کی طرح زنا کریں گی وہ تمہارے  بیٹوں سے  بھی وہی کروا سکتی ہیں۔

17 ” مورتیاں مت بناؤ۔

18 ” بے  خمیری روٹی کی تقریب مناؤ۔ ابیب کے  مہینہ میں جسے  کہ میں نے  چُنا ہے  میرے  حکم کے  مطابق بغیر خمیر کی روٹی سات دن تک کھاؤ۔ کیونکہ اس مہینہ میں تم مصر سے  باہر آئے  تھے۔

19 ” کسی بھی عورت کا پہلوٹھا بچہ ہمیشہ میرا ہے۔ پہلوٹھا جانور بھی جو تمہاری گائے  بکریاں یا مینڈھے  سے  پیدا ہوتے  ہیں میرا ہے۔

20 اگر تم پہلوٹھے  گدھے  کو رکھنا چاہتے  ہو تو تم اسے  ایک میمنے  کے  بدلے  خرید سکتے  ہو۔ لیکن اگر تم نے  اس گدھے  کو میمنے  کے  بدلے  میں خریدا تو اس گدھے  کی گردن توڑ دو۔ تمہیں اپنے  تمام پہلوٹھے  بیٹے  مجھ سے  واپس خریدنے  ہوں گے۔ کوئی آدمی  بغیر نذر کے  میرے  سامنے  نہیں آئے  گا۔

21 “تم چھ دن کام کرو گے  لیکن ساتویں دن ضرور آرام کرنا۔ پودے  لگانے  اور فصل کاٹنے  کے  دوران بھی تمہیں آرام کرنا ہو گا۔

22 ” ہفتوں کی تقریب کو مناؤ۔ گیہوں کی فصل کے  پہلے  اناج کا استعمال اس دعوت میں کرو اور سال کے  آخر میں فصل کے  کٹنے  کی تقریب مناؤ۔

23 ہر سال تمہارے  تمام مرد تین بار اپنے  آقا خداوند بنی اسرائیل کے  خدا کے  پاس آئیں گے۔

24 ” جب تم اپنے  ملک میں پہنچو گے  تو میں تمہارے  دُشمنوں کو اس ملک سے  باہر جانے  کے  لئے  مجبور کروں گا۔ میں تمہاری سرحدوں کو بڑھاؤں گا۔ تم خداوند اپنے  خدا کے  سامنے  سال میں تین بار جاؤ گے  اور ان دنوں کے  دوران تمہارا ملک تم سے  لینے  کا کوئی خیال بھی نہیں کرے  گا۔

25 ” اگر تم قربانی سے  خون نذر کرو تو اسی وقت مجھے  خمیر مت نذر کرو۔ “اور فسح کی تقریب کا کچھ بھی گوشت دوسری صبح تک کے  لئے  نہیں چھوڑا جانا چاہئے۔

26 خداوند کو اپنی پہلی کاٹی ہوئی فصلیں دو۔ ان چیزوں کو خداوند اپنے  خدا کے  گھر پر لاؤ۔ ” کبھی بکری کے  بچے  کو اس کی ماں کے  دودھ میں نہ پکاؤ۔ ”

27 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا، ” جو باتیں میں نے  بتائی ہیں انہیں لکھ لو۔ یہ باتیں ہمارے  تمہارے  اور بنی اسرائیلیوں کے  درمیان معاہدہ ہیں۔ ”

28 موسیٰ وہاں خداوند کے  ساتھ چالیس دن اور چالیس رات رہے۔ اس پورے  وقت اس نے  نہ تو کھا نا کھائے  نہ ہی پانی پیئے  اور موسیٰ نے  دس احکامات، معاہدے  کی باتیں دو پتھّر کے  تختوں پر لکھا۔ ”

29 تب موسیٰ سینائی پہاڑ سے  نیچے  اُترے  وہ خداوند کی دونوں پتھروں کی صاف تختیوں کو ساتھ لائے  جن پر خداوند کے  معاہدے  لکھے  تھے  موسیٰ کا چہرہ چمک رہا تھا کیونکہ انہوں نے  خدا سے  باتیں کیں تھیں۔ لیکن موسیٰ یہ نہیں جانتا تھا کہ ان کے  چہرہ پر چمک ہے۔

30 ہارون اور سبھی بنی اسرائیلیوں نے  دیکھا کہ موسیٰ کا چہرہ چمک رہا تھا اس لئے  وہ ان کے  پاس جانے  سے  ڈر گئے۔

31 لیکن موسیٰ نے  انہیں بُلایا اس لئے  ہارون اور تمام لوگوں کے  قائدین موسیٰ کے  قریب گئے۔ موسیٰ نے  ان سے  باتیں کیں۔

32 اس کے  بعد سبھی بنی اسرائیل موسیٰ کے  پاس گئے۔ اور موسیٰ نے  انہیں وہ حکم دیا جو خداوند نے  سینا کے  پہاڑ پر اسے  دیا تھا۔

33 جب موسیٰ نے  باتیں کر نا ختم کیا تب انہوں نے  اپنے  چہرہ کو ایک کپڑے  سے  ڈھک لیا۔

34 جب کبھی موسیٰ خداوند کے  سامنے  باتیں کرنے  جاتے  تو کپڑے  کو ہٹا لیتے  تھے  تب موسیٰ باہر آتے  اور بنی اسرائیلیوں کو وہ بتاتے  جو خداوند کا حکم ہوتا تھا۔

35 بنی اسرائیل دیکھتے  تھے  کہ موسیٰ کا چہرہ چمک رہا ہے  اس لئے  موسیٰ اپنا چہرہ پھر ڈھک لیتے  تھے  موسیٰ اپنے  چہرہ کو اس وقت تک ڈھکے  رکھتے  تھے  جب تک وہ خداوند کے  ساتھ بات کرنے  دوسری بار نہیں جاتے۔

 

 

 

 

 

باب:   35

 

1 موسیٰ نے  سبھی بنی اسرائیلیوں کو ایک ساتھ جمع کیا۔ موسیٰ نے  ان سے  کہا، ” میں وہ باتیں بتاؤں گا جو خداوند نے  تم لوگوں کو کرنے  کے  لئے  کہی ہیں۔

2 کام کرنے  کے  چھ دن ہیں لیکن ساتویں دن تم لوگوں کے  لئے  آرام کا خاص دن ہو گا۔ اس خاص دن کو آرام کر کے  تم لوگ خداوند کو تعظیم پیش کرو گے۔ کوئی اگر ساتویں دن کام کرے  گا تو یقیناً اسے  مار دیا جائے  گا۔

3 سبت کے  دن تمہیں کسی جگہ پر آ گ تک نہیں جلانی چاہئے  جہاں بھی تم رہتے  ہو۔ ”

4 موسیٰ نے  سبھی بنی اسرائیلیوں سے  کہا، ” یہی ہے  جو خداوند نے  حکم دیا ہے۔

5 خداوند کے  لئے  خاص نذرانے  جمع کرو۔ تمہیں اپنے  دل میں طے  کرنا چاہئے  کہ تم کیا نذر پیش کرو گے  اور پھر تم وہ نذر خداوند کے  پاس لاؤ۔ سونا چاندی اور کانسہ۔

6 نیلا بیگنی اور لال کپڑا، پٹ سن کا عمدہ ریشہ، بکری کے  بال،

7 لال رنگ کی کھال، عمدہ چمڑا اور ببول کی لکڑی۔

8 چراغوں کے  لئے  زیتون کا تیل، مسح کرنے  کے  تیل کے  لئے  اور خوشبو کے  بخور کے  لئے  مصالحے۔

9 سنگ سلیمانی اور دوسرے  تراشے  ہوئے  گو ہر ایفود اور عدل کے  سینہ بند پر لگائے  جائیں گے۔

10 تم سبھی ماہر کاریگروں کو چاہئے  کہ خداوند نے  جن چیزوں کا حکم دیا ہے  اُنہیں بنائیں یہ وہ چیزیں ہیں جن کے  لئے  خداوند نے  حکم دیا ہے۔

11 مقدّس خیمہ اس کا بیرونی خیمہ اور اُس کے  ڈھانکنے  کا ڈھکن، چھّلے ، تختے ، پیٹیاں، ستون اور سہا رے ،

12 مقدّس صندوق اور اُس کی لکڑیاں اور صندوق کا ڈھکن اور صندوق رکھے  جانے  کی جگہ کو ڈھکنے  کے  لئے  پردہ،

13 میز اور اُس کے  پائے ، میز پر رہنے  وا لی سب چیزیں اور میز پر رکھی جانے  وا لی خاص روٹی،

14 روشنی کے  استعمال میں آنے  وا لا شمعدان اور وہ تمام چیزیں جو شمعدان کے  ساتھ ہو تی ہیں۔ شمعدان اور روشنی کے  لئے  تیل،

15 بخور جلانے  کے  لئے  قربان گاہ اور اُس کی لکڑیاں، مسح کرنے  کا تیل اور خوشبو کے  بخور، خیمۂ اجتماع کے  داخل ہونے  کے  دروازہ کو ڈھکنے  وا لا پر دہ۔

16 جلانے  کی قربانی دینے  کے  لئے  قربان گاہ اور اُس کی کانسہ کی جا لی، لکڑیاں اور قربان گاہ پر استعمال میں آنے  وا لی سب چیزیں کانسہ کی سلفچی اور اُس کا اسٹینڈ،

17 آنگن کے  اطراف کے  پر دے  اور ان کے  کھمبے  اور اسٹینڈ اور آنگن کے  داخل دروازہ کو ڈھکنے  وا لا پر دہ،

18 آنگن اور خیمہ کے  سہا رے  استعمال میں آنے  وا لی کھونٹیاں اور کھونٹیوں سے  بندھنے  وا لی رسیاں،

19 اور خاص بُنے  لباس جنہیں کاہن مقدس جگہ میں پہنتے  ہیں یہ خاص لباس کاہن ہا رون اور اُس کے  بیٹوں کے  پہن نے  کے  لئے  ہیں وہ ان لباسوں کو اُس وقت پہنیں گے  جب وہ کاہن کے  طور پر خدمت کا کام کریں گے۔ ”

20 تب سبھی بنی اسرائیل موسیٰ سے  دور چلے  گئے۔

21 سب لوگ جو نذر چڑھانا چاہتے  تھے  آئے ا ور خداوند کے  لئے  نذر لائے۔ یہ نذر خیمۂ اجتماع کو بنانے ، خیمہ کی سب چیزیں اور خاص لباس بنانے  کے  کام میں لائی گئیں۔

22 سبھی مرد عورت جو کہ چڑھانا چاہتے  تھے  ہر قسم کے  اپنے  سونے  کے  زیورات لائے  وہ چمٹی کان کی با لیاں، انگوٹھیاں دوسرے  گہنے  لے  کر آئے۔ انہوں نے  اپنے  سبھی سونے  کے  گہنے  خداوند کو پیش کئے  یہ خداوند کے  لئے  خاص نذر تھی۔

23 ہر شخص جس کے  پاس پٹ سن کے  عمدہ ریشے  نیلا، بیگنی اور لال کپڑا تھا وہ انہیں خداوند کے  پاس لا یا۔ ہر وہ شخص جس کے  پاس بکری کے  بال، لال رنگ سے  رنگی بھیڑ کی کھال اور عمدہ چمڑا تھا اُسے  وہ خداوند کے  پاس لا یا۔

24 ہر ایک آدمی  جو چاندی، کانسہ چڑھانا چاہتا تھا خداوند کے  لئے  نذر کی طرح اُس کو لا یا ہر وہ شخص جس کے  پاس ببول کی لکڑی تھی اسے  تعمیر کے  لئے  لا یا۔

25 ہر ایک بُنائی کے  کام میں ماہرعورت نے  عمدہ ریشے  اور نیلا، بیگنی اور لال کپڑا بنا یا۔

26 ان سب عورتوں نے  جو ماہر تھیں اور ہاتھ بٹانا چاہتی تھیں انہوں نے  بکری کے  بالوں سے  کپڑا بنا یا۔

27 قائدین لوگ سنگ سلیمانی اور دوسرے  جواہرات لائے۔ ان پتھروں اور جواہرات کو کاہن کے  ایفود اور عدل کے  سینہ میں بند میں لگائے  گئے۔

28 لوگ مصالحے  اور زیتون کا تیل بھی لائے  یہ چیزیں خوشبو کے  بخور مسح کرنے  کا تیل چراغوں کے  تیل کے  لئے  استعمال کی گئیں۔

29 اسرائیل کے  لوگ، سارے  مرد اور عورت جن کے  دل میں مدد کرنے  کا خیال تھا خداوند کے  لئے  نذرانہ لائے  یہ نذرانے  دل سے  دئیے  گئے  تھے  کیونکہ وہ ایسا کرنا چاہتے  تھے۔ یہ نذرانے  ان سب چیزوں کے  بنانے  کے  لئے  استعمال میں آئے  جنہیں خداوند نے  موسیٰ اور لوگوں کو بنانے  کا حکم دیا تھا۔

30 تب موسیٰ نے  بنی اسرائیلیوں سے  کہا، ” دیکھو خداوند نے  بضل ایل کو چُنا ہے  جو اوری کا بیٹا اور یہوداہ کی خاندانی گروہ کا ہے۔ ( اوری حور کا بیٹا تھا )۔

31 خداوند نے  بضل ایل کو خدا کی روح سے  معمور کر دیا۔ اُس نے  بضل ایل کو خاص حکمت اور علم دیا تا کہ وہ ہر کام کرے۔

32 وہ ڈیزائن کر سکتا ہے  اور سونے  چاندی اور کانسہ سے  چیزیں بنا سکتا ہے۔

33 وہ نگ اور سنگ سلیمانی کو کاٹ کر جوڑ سکتا ہے۔ بضل ایل لکڑی کا کام کر سکتا ہے  اور سب قسم کی چیزیں بنا سکتا ہے۔

34 خداوند نے  بضل ایل اور اہلیاب کو دوسرے  لوگوں کو سکھانے  کی خاص تربیت دے  رکھی ہے۔ ( اہلیاب دان کے  خاندانی گروہ سے  اخیسمک کا بیٹا تھا )

35 خداوند نے  ان دونوں آدمیوں کو سبھی قسم کے  کام کرنے  کی خاص صلاحیت دی تھی۔ وہ بڑھئی اور لوہار کا کام کرنے  کی صلاحیت رکھتے  ہیں۔ وہ نیلے ، بیگنی اور لال کپڑے  اور پٹ سن کے  عمدہ ریشوں میں تصویریں کاڑھ کر اُنہیں سِی سکتے  ہیں۔ اور وہ اُون سے  بھی چیزوں کو بُن سکتے  ہیں۔

 

 

 

 

 

باب:    36

 

 

1 ” اِس لئے  بضل ایل، اہلیاب اور تمام ہُنر مند آدمیوں کو کام کرنا چاہئے  جس کا خداوند نے  حکم دیا ہے۔ خداوند نے  ان آدمیوں کو اُن سبھی صنعت کے  کام کرنے  کی حکمت اور سمجھ دے  رکھی ہے۔ جن کی ضرورت اُس مُقدس جگہ کو بنانے  کے  لئے  ہے۔ ”

2 تب موسیٰ نے  بضل ایل، اہلیاب اور سب دوسرے  ماہر لوگوں کو بُلایا جنہیں خداوند نے  خاص صلاحیت دی تھی اور یہ لوگ آئے  کیونکہ یہ کام میں مدد کرنا چاہتے  تھے۔

3 موسیٰ نے  ان سبھی بنی اسرائیلیوں کو ان تمام چیزوں کو دے  دیا۔ جنہیں بنی اسرائیل نذر کی شکل میں لائے  تھے۔ اور انہوں نے  ان چیزوں کا استعمال مقدس جگہ بنانے  میں کیا۔ لوگ ہر صبح نذر لاتے  رہے۔

4 آخر میں ہر ماہر کاریگر نے  اس کام کو چھوڑ دیا جسے  وہ مقدس جگہ پر کر رہے  تھے۔ اور وہ موسیٰ سے  باتیں کرنے  گئے۔

5 ” لوگ بہت کچھ لائے  ہیں اور ہم لوگوں کے  پاس اس سے  بہت زیادہ ہے  جتنا کہ اس کام کو سر انجام تک پہنچانے  کے  لئے  جس کا کہ خداوند نے  حکم دیا ہے ! ”

6 تب موسیٰ نے  پورے  چھاؤنی میں یہ خبر بھیجی :” کوئی مرد یا عورت اب کچھ بھی نذرانہ مقدس جگہ کے  لئے  نہ لائے۔ ” اس لئے  لوگوں نے  نذرانہ لانا بند کر دیا۔ ”

7 لوگضرورت سے  زیادہ چیزیں خدا کے  مقدس جگہ کو بنانے  کے  لئے  لائے  تھے۔

8 تب ماہر کاریگروں نے  مقدس خیمہ بنانا شروع کیا انہوں نے  نیلے  بینگنی اور لال کپڑے  اور پٹ سن کے  عمدہ ریشوںکے دس پردے  بنائے۔ اور انہوں نے  کروبی فرشتوں کی تصویروں کو پر دہ پر کاڑھا۔

9 ہر ایک پردہ ایک ہی ناپ کا تھا یہ ۲۸ کیوبٹ لمبا اور ۴ کیوبٹ چوڑا تھا۔

10 پانچ پردے  ایک ساتھ آپس میں جوڑے  گئے  جس سے  وہ ایک گروہ بن گئے۔ دوسرے  گروہ کو بنانے  کے  لئے  دوسرے  پانچ پردے  آپس میں جوڑے  گئے۔

11 ایک گروہ کے  پردوں کے  آخری کنارے  میں پھندا بنانے  کے  لئے  انہوں نے  نیلے  کپڑے  کا استعمال کیا۔ انہوں نے  وہی کام دوسرے  گروہ کے  پردوں کے  ساتھ بھی کیا۔

12 ایک میں پچاس سوراخ تھے  اور دوسری میں بھی پچاس سوراخ تھے۔ سوراخ ایک دوسرے  کے  روبرو تھے۔

13 اور انہوں نے  پچاس سونے  کے  چھلّے  بنائے  انہوں نے  ان چھلّوں کا استعمال دو پر دوں کو جوڑنے  کے  لئے  کیا۔ اس طرح مقدس خیمہ ایک ساتھ جڑ کر ایک ہو گیا۔

14 تب کاریگروں نے  بکری کے  بالوں کا استعمال خیمہ کے  ڈھکنے  والے  گیارہ پردوں کے  بنانے  کے  لئے  کیا۔

15 تمام گیارہ پردے  ایک ہی ناپ کے  تھے۔ ۳۰ کیوبٹ لمبی اور ۴ کیوبٹ چوڑی۔

16 کاریگروں نے  ۵ پردوں کو ایک ساتھ سِی کر ایک ٹکڑا بنایا۔ اور پھر چھ پردوں کو سِی کر دوسرا ٹکڑا بنایا۔

17 انہوں نے  پہلے  گروہ کے  آخر پردہ کے  سِرے  میں ۵۰ پھندے  بنائے  اور دوسرے  گروہ کے  آخر سِرے  میں بھی ۵۰ پھندے  بنائے۔

18 کاریگروں نے  دونوں ٹکڑوں کو ایک ساتھ جوڑ کر ایک ٹکڑا بنانے  کے  لئے  ۵۰ کانسے  کے  چھلّے  بنائے۔

19 تب انہوں نے  خیمہ کے  ۲ اور ڈھکن بنائے  ایک ڈھکن لال رنگے  ہوئے  مینڈھے  کی کھال سے  بنا یا گیا۔ دوسرا ڈھکن عمدہ چمڑے  کا بنایا گیا۔

20 تب بضل ایل نے  ببول کی لکڑی کے  فریم مقدس خیمہ کو سہارا دینے  کے  لئے  بنائے۔

21 ہر ایک فریم ۱۰ کیوبٹ لمبا اور ۲ /۱۱ کیوبٹ چوڑا تھا۔

22 ہر ایک فریم میں دو کھونٹیاں دو فریموں کو جوڑنے  کے  لئے  ہونا چاہئیں۔ مقدس خیمہ کا ہر ایک فریم اس طریقے  سے  بنایا گیا تھا۔

23 بضل ایل نے  خیمہ کے  جنوبی حصہ کے  لئے  ۲۰ فریم بنائے۔

24 تب اس نے  ۴۰ چاندی کی بنیادیں بنائیں۔ دو بنیادیں ہر ایک فریم کے  لئے  تھیں اِس طرح ہر فریم کی ہر چول کے  لئے  ایک بنیاد۔

25 اُس نے  ۲۰ فریم مقدس خیمہ کی دوسری طرف شمال کی جانب بھی بنایا۔

26 اس نے  چاندی کی ۴۰بنیادیں بنائی ہر ایک فریم کے  لئے  دو بنیادیں۔

27 اس نے  خیمہ کے  پچھلے  حصہ میں مغرب کی طرف ۶ فریم جوڑے۔

28 اس نے  مقدس خیمہ کے  پچھلے  حصّے  کے  کونوں کے  لئے  ۲ فریم بنائے۔

29 یہ فریم نیچے  ایک دوسرے  سے  جوڑے  گئے  تھے۔ اور یہ ایسے  چھلّوں میں لگے  تھے  جو انہیں اوپر میں جوڑتے  تھے۔ اس نے  ہر سِرے  کے  لئے  ایسا کیا۔

30 اس طرح وہاں ۸ فریم مقدس خیمہ کے  مغرب جانب تھے۔ اور ہر ایک فریم کے  لئے  ۲ بنیاد کے  حساب سے  ۱۶ چاندی کی بنیاد تھیں۔

31 تب اس نے  خیمہ کے  پہلے  بازو کے  لئے  ۵ اور مقدس خیمہ کے  دوسرے  بازو کے  لئے  ۵ اور مقدس خیمہ کے  مغربی ( پچھمی) جانب کے  لئے  ببول کی کڑیاں بنائیں۔

32   33 اس میں درمیان کی کڑیاں ایسی بنائیں جو فریم میں اس سے  ایک دوسرے  سے  ہو کر ایک دوسرے  تک جاتی تھیں۔

34 اس نے  ان فریموں کو سونے  سے  مڑھا۔ اس نے  کڑیوں کو بھی سونے  سے  مڑھا اور اس نے  کڑیوں کو پکڑے  رکھنے  کے  لئے  سونے  کے  چھّلے  بنائے۔

35 تب اس نے  پر دہ بنا یا۔ اس نے  پٹ سن کے  عمدہ ریشوں اور نیلے  لال اور بینگنی کپڑے  کا استعمال کیا۔ اس نے  پٹ سن کے  عمدہ ریشوں پر کروبی فرشتوں کے  تصویروں کو کاڑھا۔

36 اس نے  ببول کی لکڑی کے  چار کھمبے  بنائے  اور انہیں سونے  سے  مڑھا تب اس نے  کھمبوں کے  سونے  کے  چھلّے  بنائے  اور اس نے  کھمبوں کے  لئے  چار چاندی کی بنیاد بنائیں۔

37 تب اس نے  خیمہ کے  دروازے  کے  لئے  پردہ بنایا۔ اس نے  نیلے  بینگنی اور لال کپڑے  اور پٹ سن کے  عمدہ ریشوں کو استعمال کیا۔ اس نے  کپڑے  میں تصویر کو کا ڑھا۔

38 تب اس نے  اس پردہ کے  لئے  ۵ کھمبے  اور ان کے  لئے  چھلّے  بنائے۔ اس نے  کھمبوں کے  سِروں اور پردہ کی چھڑی کو سونے  سے  مڑھا۔ اور اس نے  کانسے  کی ۵ بنیاد کھمبوں کے  لئے  بنائے۔

 

 

 

 

باب:    37

 

 

1 بضل ایل نے  ببول کی لکڑی کا مُقدس صندوق بنا یا۔ صندوق۲/ ۲۱ کیو بٹ لمبا اور ۲/۱۱ کیو بٹ چوڑا اور ۲/۱۱ کیو بٹ اونچا تھا۔

2 اُس نے  صندوق کے  اندرونی اور بیرونی حصّہ کو خالص سونے  سے  مڑھ دیا۔ تب اُس نے  سونے  کی پٹی صندوق کے  چاروں طرف لگا ئی۔

3 پھر اُس نے  سونے  کے  ۴ کڑے  بنائے  اور انہیں نیچے  کے  چاروں کونوں پر لگا یا۔ دونوں طرف دو دو کڑے  تھے۔

4 تب اُس نے  کھمبوں کو بنا یا۔ کھمبے  کے  لئے  اُس نے  ببول کی لکڑی کو استعمال کیا اور ان کو خالص سونے  سے  مڑھا۔

5 اُس نے  صندوق کولے  جانے  کے  لئے  صندوق کے  ہر ایک سِرے  پر بنے  کڑوں میں کھمبوں کو ڈالا۔

6 تب اُس نے  خالص سونے  سے  سر پوش کو بنا یا یہ ۲/۲۱ کیو بٹ لمبا اور ۲/۱۱ کیو بٹ چوڑا تھا۔

7 تب بضل ایل نے  سونے  کو پیٹ کردو کروبی فرشتے  بنائے  اُس نے  سر پوش کے  دونوں سِروں پر کرو بی فرشتوں کو رکھا۔

8 اس نے  ایک کروبی فرشتے  کو ایک طرف اور دوسرے  کو دوسری طرف لگا یا۔ کرو بی فرشتوں کو سر پوش سے  ایک بنانے  کے  لئے  جوڑ دیا گیا۔

9 کروبی فرشتوں کے  پروں کو آسمان کی طرف اُٹھا دیا گیا۔ فرشتوں نے  صندوق کو اپنے  پروں سے  ڈھک لیا۔ فرشتے  ایک دوسرے  کے  رو برو سر پوش کو دیکھ رہے  تھے۔

10 تب بضل ایل نے  ببول کی لکڑی کی میز بنا ئی۔ میز ۲ کیو بٹ لمبی اور ایک کیو بٹ چوڑی۔ اور ۲/۱۱ کیو بٹ اُونچی تھی۔

11 اس نے  میز کو خالص سونے  سے  مڑ ھا اُس نے  سونے  کی سجا وٹ میز کے  چاروں طرف کی۔

12 تب اس نے  میز کے  اطراف ایک تین اِنچ چوڑا فریم بنا یا اُس نے  کنا رے  پر سونے  کی جھا لر لگا ئی۔

13 تب اُس نے  میز کے  لئے  ۴ سونے  کے  کڑے  بنائے۔ اس نے  نیچے  کے  چاروں کونوں پر سونے  کے  چار کڑے  لگائے  یہ وہاں تھے  جہاں چار پیر تھے۔

14 کڑے  کنا رے  کے  قریب تھے۔ کڑوں میں وہ کھمبے  تھے  جو میز کولے  جانے  میں کام آتے  تھے۔

15 تب اس نے  میز کولے  جانے  کے  لئے  کھمبے  بنائے  کھمبوں کو بنانے  کے  لئے  اس نے  ببول کی لکڑ ی کا استعمال کیا۔ اس نے  کھمبوں کو خالص سونے  سے  مڑھا۔

16 تب اس نے  اُن چیزوں کو بنا یا جو میز پر کام آتی تھیں۔ اس نے  طشتری، چمچے  کٹو رے  گھڑا خالص سونے  سے  بنائے۔ کٹورے  اور گھڑے  نذروں کے  استعمال میں آتے  تھے۔ نذروں میں استعمال میں آنے  والے  گھڑے  بنائے  یہ سب چیزیں خالص سونے  سے  بنائی گئی تھیں۔

17 تب اس نے  شمعدان بنا یا اُس کے  لئے  اُس نے  خالص سونے  کا استعمال کیا۔ اور اُسے  پیٹ کر بنیاد اور اس کے  ڈنڈے  کو بنا یا۔ تب اُس نے  پھو لوں جیسے  دکھائی دینے  والے  پیالے  بنائے۔ پیالوں کے  ساتھ کلیاں اور کھِلے  ہوئے  غنچے  تھے۔ ہر ایک چیز خالص سونے  کی بنی تھی۔ یہ تمام چیزیں ایک ہی اِکائی بنانے  کی شکل میں جوڑی تھی۔

18 شمعدان میں ۶ شاخیں تھیں ایک طرف تین شاخیں تھیں اور تین شاخیں دوسری طرف۔

19 ہر ایک شاخ پر سونے  کے  تین پھول تھے  یہ پھول بادام کے  پھول کی طرح بنے  تھے۔ اُن میں کلیاں اور پنکھڑیاں تھیں۔

20 شمعدان کی ڈنڈی پر سونے  کے  چار پھول تھے۔ وہ بھی کلی اور پنکھڑیاں والے  با دام کے  پھول کی طرح بنے  تھے۔

21 چھ شاخیں دو دو کر کے  تین حصّوں میں تھیں ہر ایک حصّے  کی شاخوں کے  نیچے  ایک کلی تھی۔

22 یہ سبھی کلیاں شاخیں اور شمعدان خالص سونے  کے  بنے  تھے  ان سارے  سونے  کو پیٹ کر ایک ہی میں ملا دیا گیا تھا۔

23 اُس نے  اس شمعدان کے  لئے  سات شمعیں بنائیں تب اُس نے  طشتریاں اور چمٹے  بنائے  ہر ایک چیز کو خالص سونے  سے  بنا یا۔

24 اُس نے  تقریباً ۷۵ پاؤنڈ خالص سونا شمعدان اور اس کے  اشیاء کے  بنانے  میں لگائے۔

25 تب اس نے  بخور جلانے  کے  لئے  ایک قربان گاہ بنائی اس نے  اسے  ببول کی لکڑی کا بنا یا۔ قربان گاہ مربع نُما تھی۔ یہ ایک کیوبٹ لمبی اور ایک کیوبٹ چوڑی اور ۲ کیو بٹ اُونچی تھی۔ قربان گاہ پر ۴ سینگیں بنائیں گئی تھی۔ ہر کونے  کے  لئے  ایک سینگ۔ یہ سینگیں قربان گاہ کے  ساتھ ایک اِکائی میں جوڑ دی گئیں تھی۔

26 اُس نے  سِر سے  سبھی بازوؤں  اور سینگوں کو خالص سونے  کے  پتروں سے  مڑھا تب اس نے  قربان گاہ کے  چاروں طرف سونے  کی جھالر لگا ئی۔

27 اُس نے  سونے  کے  ۲ کڑے  قربان گاہ کے  لئے  بنائے  اس نے  سونے  کے  کڑوں کو قربان گاہ کے  ہر طرف کے  جھالر کے  نیچے  رکھا۔ ان کڑوں میں قربان گاہ کولے  جانے  کے  لئے  ڈنڈے  ڈالے  جاتے  تھے۔

28 تب اس نے  ببول کی لکڑی کے  ڈنڈے  بنائے  اور انہیں سونے  سے  مڑھا۔

29 تب اس نے  مسح کرنے  کے  لئے  مقدس تیل بنا یا۔ اس نے  خالص خوشبو دار بخور بھی بنا یا یہ چیزیں اُسی طرح بنائی گئی جس طرح کوئی عطر بنانے  والے  بناتے  ہیں۔

 

 

 

 

 

باب:   38

 

 

1 تب اس نے  جلانے  کی قربانی دینے  کی قربان گاہ بنا ئی۔ یہ قربان گاہ جلانے  کی قربانی کے  لئے  استعمال میں آنے  وا لی تھی۔ اُس نے  ببول کی لکڑی سے  اُسے  بنا یا قربان گاہ مربع نُما تھی۔ یہ ۵ کیو بٹ لمبی ۵ کیو بٹ چوڑی اور ۳ کیو بٹ اُونچی تھی۔

2 اس نے  ہر ایک کونے  پر ایک سینگ بنا یا اس نے  سینگوں کو قربان گاہ کے  ساتھ جوڑ دیا۔ تب اس نے  ہر چیز کو کانسے  سے  ڈھک لیا۔

3 تب اس نے  قربان گاہ پر استعمال ہونے  والے  تمام اشیاء کو کانسے  سے  بنا یا۔ اس نے  برتن، بیلچے ، کٹورے ، کانٹے  اور کڑھا ئیاں بنائیں۔

4 تب اس نے  قربان گاہ کے  لئے  کانسے  کی ایک جھنجری بنائی یہ قربان گاہ کی  جالی کی طرح تھی۔ جالی کو قربان گاہ کے  پا ئیدان سے  لگا یا۔ یہ قربان گاہ کے   نیچے  تھی۔

5 تب اس نے  کانسے  کے  ۴ کڑے  بنائے  یہ کڑے  کھمبوں کو پکڑنے  کے  لئے  جھنجروں کے  چاروں کونوں میں تھے۔

6 تب اُس نے  ببول کی لکڑی کے  ڈنڈے  بنائے  اور انہیں کانسہ سے  مڑھا۔

7 اُس نے  ڈنڈوں کو کڑوں میں ڈالا۔ ڈنڈے  قربان گاہ کے  کنا رے  میں تھے  وہ قربان گاہ کولے  جانے  کے  کام میں آتے  تھے۔ اُس نے  قربان گاہ کو بنانے  کے  لئے  تختوں کا استعمال کیا۔ قربان گاہ اندر سے  ایک خالی صندوق کی طرح خالی تھی۔

8 اس نے  ہاتھ دھونے  کے  لئے  خیمۂ اجتماع کے  دروازوں پر خدمت کرنے  وا لی عورتوں کے  آئینوں کے  کانسوں سے  کانسے  کے  کٹوری اور کانسے  ہی کی بنیاد بنائیں۔

9 تب اس نے  آنگن کے  چاروں طرف پردہ کی دیوار بنا ئی۔ جنوب کی طرف کے  پردہ کی دیوار۱۰۰ کیو بٹ لمبی تھی۔ یہ پردہ پٹسن کے  عمدہ ریشوں سے  بنے  تھے۔

10 جنوب کی طرف کے  پردہ کو ۲۰ کھمبوں سے  سہا را دیا گیا تھا یہ کھمبے  کانسے  کے  ۲۰ بنیاد پر تھے۔ کھمبوں اور ڈنڈوں کے  لئے  چاندی کے  چھلّے  بنے  تھے۔

11 شمالی جانب کا آنگن بھی ۱۰۰ کیوبٹ لمبا تھا۔ اور اُس میں ۲۰ کانسے  کے  کھمبے  ۲۰ کانسوں کی بنیادوں کے  ساتھ تھے۔ کھمبوں اور چھڑوں کے  لئے  چھلّے  چاندی کے  بنائے  گئے  تھے۔

12 آنگن کے  مغربی جانب کے  پر دے  ۵۰ کیوبٹ لمبے  تھے۔ اس کے  ۱۰ ستون اور ۱۰ بنیاد تھے۔ کھمبوں کے  لئے  چھلّے  اور کنڈے  چاندی کے  بنائے  گئے  تھے۔

13 آنگن کی مشرقی دیوار ۵۰ کیوبٹ چوڑی تھی۔ آنگن کا داخلے  کا دروازہ اُسی طرف تھا۔

14 داخلے  کے  دروازے  کی ایک جانب پردہ کی دیوار ۱۵ کیوبٹ لمبی تھی۔ اُس طرف تین کھمبے  اور تین بنیاد تھے۔

15 داخلہ کے  دروازے  کے  دُوسری طرف پردہ کی دیوار کی لمبائی بھی ۱۵ کیوبٹ تھی۔ وہاں بھی تین کھمبے  اور تین بنیاد تھیں۔

16 آنگن کے  اطراف کے  پر دے  پٹ سن کے  عمدہ ریشوں سے  بنے  تھے۔

17 کھمبوں کی بنیاد کانسے  کی بنی ہوئی تھی۔ چھلّے  اور پردوں کے  چھڑے  چاندی کے  بنے  تھے۔ کھمبوں کے  سِرے  بھی چاندی سے  مڑھے  ہوئے  تھے  آنگن کے  تمام کھمبے  پر دہ کی چاندی کی چھڑوں سے  جڑے  تھے۔

18 آنگن کے  داخل دروازے  کا پردہ پٹ سن کے  عمدہ ریشوں اور نیلے  لال اور بیگنی کپڑے  کا بُنا ہوا تھا۔ اُس پر کڑھائی کا کام کیا ہوا تھا۔ پردہ ۲۰ کیوبٹ لمبا اور ۵ کیوبٹ اُونچا تھا۔ یہ اُونچائی اتنی ہی تھی جتنی کہ آنگن کے  اطراف کے  پردوں کی اُونچائی۔

19 پردہ چار کھمبوں اور چار کانسے  کی بنیاد پر کھڑا تھا۔ کھمبوں کے  چھلّے  چاندی کے  بنے  تھے۔ کھمبے  کے  سِرے  چاندی سے  مڑھے  تھے۔ اور پردے  کے  چھڑے  بھی چاندی کے  بنے  تھے۔

20 مقدّس خیمہ اور آنگن کے  اطراف کے  پردوں کی کھونٹیاں کانسے  کی بنی تھیں۔

21 موسیٰ نے  تمام لاوی لوگوں کو حکم دیا کہ وہ مقدس خیمہ کو بنانے  میں استعمال ہوئی چیزوں کو لکھ لے۔ ہارون کا بیٹا اِتامر اُس فہرست کے  رکھنے  کا نگراں کار تھا۔

22 یہوداہ کے  خاندانی گروہ سے  حُور کے  بیٹے  اوری کے  بیٹے  بضل ایل نے  بھی تمام چیزیں بنائیں جن کے  لئے  خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

23 دان کے  قبیلوں سے  اخیسمک کے  بیٹے  اہلیاب نے  بھی اُس کی مدد کی۔ اہلیاب ایک ماہر کندہ کار اور نمونہ ساز تھا۔ وہ پٹ سن کے  عمدہ ریشوں اور نیلا بیگنی اور لال کپڑے بُننے  میں ماہر تھا۔

24 دو ٹن سے  زیادہ سونا مُقدّس خیمہ کے  لئے  خداوند کو نذر کیا گیا تھا۔ ( یہ سرکار کے  خاص باٹوں سے  تو لا گیا تھا )

25 لوگوں نے  ۴/۳۳ٹن سے  زیادہ چاندی دی۔ (یہ سرکاری ناپ سے  تولی گئی تھی )۔

26 یہ چاندی ان کے  ہاں محصول وصول کرنے  سے  آئی۔ لاوی مردوں نے  بیس سال یا اس سے  زیادہ عمر کے  لوگوں کی گنتی کی ۶۰۳۵۵۰ لوگ تھے  اور ہر مرد کو ایک بیکا چاندی محصول کی شکل میں دینی تھی۔ ( سرکاری ناپ کے  مطابق ایک بیکا آدھا مثقال کے  برابر ہوتا تھا )

27 سوا تین ٹن چاندی کا استعمال مُقدّس خیمہ کے  ۱۰۰ بنیادوں اور پر دوں کو بنانے  میں ہوا تھا۔ اُنہوں نے  ۷۵ پاؤنڈ چاندی ہر ایک بنیاد میں لگائی۔

28 دُوسرے  ۵۰ پاؤنڈ چاندی کا استعمال کھونٹیوں، پردوں کی چھڑ یوں اور کھمبوں کے  سِروں کو بنانے  میں ہوا تھا۔

29 لگ بھگ ۲۵۰۰ کیلو گرام کانسہ خداوند کو نذرانہ میں پیش کیا گیا۔

30 اُس کانسے  کا استعمال خیمہ اجتماع کے  داخل دروازہ کی بنیادوں کو بنانے  میں ہوا۔ اُنہوں نے  کانسے  کا استعمال قربان گاہ اور کانسے  کا جال بنانے  میں بھی کیا۔ اور وہ کانسے  تمام چیزوں اور قربان گاہ کی طشتریاں بنانے  کے  کام میں آیا۔

31 اُس کا استعمال آنگن کے  اطراف  والے کھمبوں کی بنیاد بنانے  کے  لئے  بھی ہوا۔ اور کانسے  کا استعمال خیمہ کے  لئے  کھونٹیوں کو بنانے  اور آنگن کے  چاروں طرف کے  پردوں کو بنانے  کے  لئے  ہوا۔

 

 

 

 

 

باب:   39

 

 

1 کاریگروں نے  نیلے ، لال اور بیگنی کپڑوں کے  خاص لباس کاہنوں کے  لئے  بنائے  جنہیں وہ مقدس جگہ میں خدمت کے  وقت پہنتے  تھے  اُنہوں نے  ہا رون کے  لئے  بھی ویسے  ہی خاص لباس بنائے  جیسا خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

2 انہوں نے  ایفود پٹ سن کے  عمدہ ریشوں اور نیلے ، لال اور بیگنی کپڑے  سے  بنا یا۔

3 ( انہوں نے  سونے  کو پتلا پتر کی شکل میں پیٹا اور تب انہوں نے  اس سونے  کو لمبے  دھا گوں کی شکل میں کاٹا۔ انہوں نے  سونے  کو نیلے  بیگنی لال کپڑے  اور پٹ سن کے  عمدہ ریشوں میں جڑ دیا۔ یہ کام بہت ہی ماہر آدمی  کا تھا جو کیا گیا )۔

4 انہوں نے  ایفود کے  کندھوں کی پیٹیاں بنائیں اور کندھے  کی ان پیٹیوں کو کندھے  پر ٹانکا۔

5 انہوں نے  کمر بند اسی طرح بنا یا۔ یہ ایفود سے  جڑا ہوا تھا۔ یہ سونے  کے  تار، پٹ سن کے  عمدہ ریشے ، نیلا، لال، اور بیگنی کپڑے  سے  ویسا ہی بنا جیسا خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

6 کاریگروں نے  پتھروں کو سونے  کی پٹی میں جڑا۔ انہوں نے  اسرائیل کے  بیٹوں کے  نام ان پتھروں پر لکھے۔

7 تب انہوں نے  جواہرات ایفود کے  کندھے  کی پٹی پر لگا یا۔ دونوں پتھر اسرائیل کے  تمام بیٹوں کی یادگار تھے۔ یہ ویسا ہی کیا گیا جیسا خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

8 تب انہوں نے  عدل کا سینہ بند بنایا۔ یہ اسی ماہر کاریگر کا کام تھا جو عدل کا سینہ بند ایفود کی طرح بنا یا گیا تھا۔ یہ سونے  کے  تار، پٹ سن کے  عمدہ ریشوں نیلا، لال اور بیگنی کپڑے  کا بنا یا گیا تھا۔

9 عدل کا سینہ بند مربع نُما شکل میں دہرا تہہ کیا ہوا تھا۔ یہ ۹ اِنچ لمبا اور ۹ اِنچ چوڑا تھا۔

10 تب کاریگر نے  اس پر خوبصورت نگوں کو چار قطاروں میں جوڑا۔ پہلی قطار میں ایک لال ایک ایک پُکھراج اور ایک زمرد تھا۔

11 دُوسری قطار میں ایک فیروزہ ایک نیلم اور ایک پنّا تھا۔

12 تیسری قطار میں لشم، عقیق اور ایک یاقوت تھا۔

13 چوتھی قطار میں ایک زبر جد ایک سنگ سلیمانی اور یشم تھے۔ یہ سب قیمتی پتھر سونے  میں جڑے  تھے۔

14 ان بارہ قیمتی پتھروں پر اسرائیل کے  بارہ بیٹوں کے  نام اُسی طرح لکھے  گئے  تھے  جس طرح ایک کاریگر مہر پر کھودتا ہے۔ اسرائیل کے  بیٹوں کے  ہر ایک پتھر پر بارہ قبیلوں میں سے  ایک ایک کا نام اس پر لکھا تھا۔

15 عدل کے  سینہ بند کے  لئے  خالص سونے  کی ایک زنجیر بنا لی گئی یہ رسّی کی طرح گتھی ہوئی تھی۔

16 کاریگروں نے  سونے  کی دو پٹیاں اور ۲ سونے  کے  چھلّے  بنائے۔ انہوں نے  دونوں چھلّوں کو عدل کے  سینہ بند کے  کونوں پر لگا یا۔

17 تب انہوں نے  دونوں سونے  کی زنجیروں کو عدل کے  سینہ بند کے  دونوں چھلوں میں باندھا۔

18 انہوں نے  سونے  کی زنجیروں کے  دوسرے  سروں کو ایفود کی پٹیوں پر باندھا۔

19 تب انہوں نے  دو اور سونے  کے  چھلے  بنائے  اور عدل کے  سینہ بند کے  نچلے  کونوں پر انہیں لگا یا۔ انہوں نے  چھلوں کو چغہ کے  اندر ایفود کے  روبرو لگا یا۔

20 انہوں نے  ایفود کے  سامنے  کی طرف کندھے  کی پٹی کے  نیچے  سونے  کے  دو چھلے  لگائے  یہ چلّے  بالکل کمر بند کے  اوپر تھے۔

21 تب انہوں نے  ایک نیلی پٹی کا استعمال کیا اور عدل کے  سینہ بند کے  چھلّوں کو ایفود کے  چھلّوں سے  باندھا۔ اس طرح عدل کے  سینہ بند پٹی کے  نزدیک لگا رہا یہ گِر نہیں سکتا تھا۔ انہوں نے  یہ سب چیزیں ویسا ہی کیا جیسا کہ خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

22 تب انہوں نے  ایفود کے  نیچے  کا چغّہ بنا یا۔ انہوں نے  اُسے  نیلے  کپڑے  سے  بنا یا یہ ایک ماہر آدمی  کا کام تھا۔

23 کپڑے  کے  ٹھیک بیچ میں سر کے  لئے  ایک سوراخ بناؤ۔ اس کے  چاروں طرف کپڑے  کا ایک ٹکڑا سی کر لگا دوتا کہ وہ پھٹ نہ سکے۔

24 تب اُنہوں نے  پٹ سن کے  عمدہ ریشوں نیلے ، لال اور بیگنی کپڑے  سے  پھُندنے  بنائے  جو انار کی مانند نیچے  لٹکے  تھے۔ انہوں نے  ان اناروں کو چغّہ کے  نیچے  کے  سِرے  پر چاروں طرف باندھا۔

25 تب انہوں نے  خالص سونے  کی گھنٹیاں بنائیں۔ انہوں نے  اناروں کے  بیچ چغے  کے  نیچے  کے  سِرے  کے  چاروں طرف اُنہیں باندھا۔

26 چغّہ کے  نیچے  کے  سِرے  کے  چاروں طرف انار اور گھنٹیاں لٹک رہی تھی۔ ہر ایک انار کے  ساتھ ایک گھنٹی تھی۔ کاہن اُس چغہ کو اس وقت پہنتا تھا جب وہ خداوند کی خدمت کرتا تھا۔ جیسا کہ خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

27 کاریگروں نے  ہا رون اور اُس کے  بیٹوں کے  لئے  چغہ بنائے۔ یہ چغہ پٹ سن کے  عمدہ ریشوں سے  بنے  گئے  تھے۔

28 اور کاریگروں نے  پٹ سن کے  عمدہ ریشوں کے  صافے  انہوں نے  سر کی پگڑیاں اور اندرونی لباس بھی بنائے۔ انہوں نے  ان چیزوں کو پٹ سن کے  عمدہ ریشوں سے  بنا یا۔

29 تب انہوں نے  کمر بند کو پٹ سن کے  عمدہ ریشوں، نیلے ، بیگنی اور لال کپڑے  سے  بنایا۔ کپڑوں پر کڑھائی کا کام کیا گیا تھا۔ یہ چیزیں اُسی طرح بنائی گئیں جیسا کہ خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

30 تب انہوں نے  مقدس پگڑی کے  لئے  سونے  کا پتّر بنا یا۔ انہوں نے  اُس سونے  کے  پتّر پر یہ الفاظ لکھے  : ” خداوند کے  لئے  مقدس ”

31 تب انہوں نے  پتّر سے  ایک نیلی پٹّی باندھی اور اُسے  پگڑی پر اُس طرح باندھا جیسے  خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

32 اس طرح خیمۂ اجتماع کا تمام کام پو را ہو گیا۔ بنی اسرائیلیوں نے  ہر چیز ٹھیک اسی طرح بنائی جس طرح خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

33 تب انہوں نے  خیمۂ اجتماع موسیٰ کو دکھا یا۔ اُنہوں نے  اُسے  خیمہ اور اس کے  اندر کی تمام چیزیں دکھائیں۔ انہوں نے  اسے  چھلے ، چھڑے ، تختے ، کھمبے  اور بنیا دیں دکھائے۔

34 انہوں نے  اس خیمہ کا عمدہ چمڑے  سے  بنا یا ہوا غِلاف دکھا یا جو لال رنگ سے  رنگی ہوئی مینڈھے  کی کھال سے  بنا تھا۔ اور انہوں نے  وہ غِلاف دکھا یا جو عمدہ چمڑے  کا بنا تھا اور انہوں نے  وہ پر دہ دکھا یا جو داخلہ کے  دروازے  سے  سب سے  زیاد مقدس جگہ کو ڈھانکتا تھا۔

35 انہوں نے  موسیٰ کو معاہدہ کا صندوق دکھا یا۔ انہوں نے  صندوق کولے  جانے  وا لی لکڑیاں اور صندوق کے  ڈھکنے  والے  سرپوش کو دکھا یا۔

36 انہوں نے  مخصوص روٹی کی میز اور اُس پر رہنے  وا لی تمام چیزیں اور ساتھ میں خاص روٹی موسیٰ کو دکھا ئی۔

37 انہوں نے  موسیٰ کو خالص سونے  کا شمعدان اور اُس پر رکھے  ہوئے  شمع کو دکھا یا۔ انہوں نے  نیلی اور دوسری تمام چیزیں موسیٰ کو دکھائیں جن کا استعمال شمعوں کے  ساتھ ہوتا تھا۔

38 انہوں نے  اسے  سونے  کی قربان گا ہ، مسح کرنے  کا تیل، خوشبو اور بخور اور خیمہ کے  داخلی دروازہ کو ڈھانکنے  والے  پر دہ کو دکھا یا۔

39 انہوں کانسہ کی قربان گاہ اور کانسہ کی جا لی کو دکھا یا۔ انہوں نے  قربان گاہ کولے  جانے  کے  لئے  بنے  ڈنڈوں کو بھی موسیٰ کو دکھا یا ِ۔ اور انہوں نے  ان تمام چیزوں کو دکھا یا جو قربان گاہ پر کام میں آتی تھیں۔ انہوں نے  سلفچی اور اُس کے  نیچے  کی بنیاد دکھا ئی۔

40 انہوں نے  آنگن کے  چاروں طرف پردوں کو کھمبوں، بنیادوں کے  ساتھ موسیٰ کو دکھا یا۔ اُنہوں نے  اُس کووہ پردہ  دکھا یا جو آنگن کے  داخلی دروازہ کو ڈھکتا تھا۔ انہوں نے  اسے  رسیوں اور کانسہ کی خیمہ وا لی کھونٹیاں دکھائیں۔ انہوں نے  خیمہ اجتماع میں تمام چیزیں دکھائیں۔

41 تب انہوں نے  موسیٰ کو مقدس جگہ میں خدمت کرنے  والے  کاہنوں کے  لئے  بنے  لباس کو دکھا یا۔ کاہن ہا رون اور اس کا بیٹا اس لباس کو اس وقت پہنتے  تھے  جب وہ کاہن کے  طور پر خدمت کرتے  تھے۔

42 خداوند نے  موسیٰ کو جیسا حکم دیا تھا بنی اسرائیلیوں نے  تمام کام بالکل اسی طرح کئے۔

43 موسیٰ نے  تمام کاموں کو غور سے  دیکھا کہ سب کام ٹھیک اُسی طرح ہوئے  جیسا خداوند نے  حکم دیا تھا۔ اس لئے  موسیٰ نے  اُن کو دُعا دی۔

 

 

 

 

 

باب:   40

 

 

1 تب خداوند نے  موسیٰ سے  کہا،

2 “پہلے  مہینے  کے  پہلے  دن مُقدّس خیمہ جو خیمہ ٴ اجتماع ہے  کھڑا کرو۔ ”

3 معاہدہ کا  صندوق خیمۂ اجتماع رکھو۔ صندوق کو پردہ سے  ڈھانک دو۔

4 تب خاص روٹی کی میز کو اندر لاؤ جو سامان میز پر ہونا چاہئے  اُنہیں اُس پر رکھو تم شمعدان کو خیمہ میں رکھو۔ شمعدان پر چراغوں کو ٹھیک جگہ پر رکھو۔

5 سونے  کی قربان گاہ کو بخور کی نذر کے  لئے  خیمہ میں رکھو۔ قربان گاہ کو معاہدہ کے  صندوق کے  سامنے  رکھو تب پر دہ کو مُقدّس خیمہ کے  داخل دروازہ پر لگاؤ۔

6 ” جلانے  کی قربانی کی قربان گاہ خیمۂ اجتماع کی مُقدّس خیمہ کے  داخلی دروازہ پر رکھو۔

7 سلفچی کو قربان گاہ اور خیمۂ اجتماع کے  بیچ میں رکھو۔ سلفچی میں پانی بھرو۔

8 آنگن کے  چاروں طرف پردے  لگاؤ تب آنگن کے  داخلہ کے  دروازہ پر پردہ لگاؤ۔

9 ” مسح کرنے  کے  تیل کو ڈال کر مُقدس خیمہ اور اُس کی ہر چیز پر چھڑ کو اور اُسے  پاک کرو۔ جب تم ان چیزوں پر تیل ڈالو گے  تو تم انہیں پاک بناؤ گے۔

10 جلانے  کا نذرانہ کے  لئے  قربان گاہ اور اس کے  سارے  برتنوں پر تیل چھڑکو۔ پھر قربان گاہ کو مخصوص کرو، اور یہ سب مقدّس بنا دیا جائے  گا۔

11 تب سلفچی اور اس کے  نیچے  کی بنیاد پر تیل چھڑک کر رسم ادا کرو۔ ایسا اُن چیزوں کو پاک کرنے  کے  لئے  کرو۔

12 ” ہارون اور اس کے  بیٹوں کو خیمۂ اجتماع کے  داخلے  کے  دروازے  پر لاؤ انہیں پانی سے  نہلاؤ۔

13 تب ہارون کو خاص لباس پہناؤ۔ اس پرتیل چھڑک کر رسم ادا کرو اور اُسے  پاک کرو تب وہ کاہن کے  طور پر میری خدمت کر سکتا ہے۔

14 تب اس کے  بیٹوں کو لباس پہناؤ۔

15 بیٹوں کو ویسا ہی مسح کرو جیسا کہ اس تیل سے  مسح کیا تھا۔ تب وہ بھی میری خدمت کاہن کے  طور سے  کر سکتے  ہیں۔ جب تم تیل سے  ان کا مسح کرو گے  وہ کاہن ہو جائیں گے۔ اس طرح سے  ان کا خاندان ہمیشہ کے  لئے  کاہن ہو گا۔ ”

16 موسیٰ نے  خداوند کے  حکم کو مانا۔ اس نے  وہ سب کیا جس کا خداوند نے  حکم دیا تھا۔

17 اسی طرح ہی مقدس خیمہ مصر چھوڑنے  کے  دوسرے  سال کے  پہلے  مہینے  کے  پہلے  دن کھڑا کیا گیا۔

18 موسیٰ نے  مقدس خیمہ کو خداوند کے  حکم کے  مطابق کھڑا کیا۔ پہلے  اس نے  بنیادوں کو رکھا تب بنیادوں پر تختوں کو رکھا پھر اس نے  ڈنڈے  لگائے  اور کھمبوں کو کھڑا کیا۔

19 اُس کے  بعد موسیٰ نے  مقدس خیمہ کے  اوپر غلاف رکھا اس کے  بعد انہوں نے  خیمہ کے  غلاف پر دُوسرا غلاف رکھا اُس نے  یہ خداوند کے  حکم کے  مطابق کیا۔

20 موسیٰ نے  معاہدہ کے  اُن پتھّروں کے  تختوں کو جن پر خداوند نے  احکام لکھے  تھے  صندوق میں رکھا۔ موسیٰ نے  ڈنڈوں کو صندوق کے  چھلّوں میں لگایا تب اس نے  سر پوش کو صندوق کے  اوپر رکھا۔

21 تب موسیٰ صندوق کو مقدس خیمہ کے  اندر لایا اور اس نے  پردہ کو ٹھیک جگہ پر لٹکایا اس نے  مقدس خیمہ میں معاہدہ کے  صندوق کو ڈھانک دیا۔ موسیٰ نے  یہ چیزیں خداوند کے  احکام کے  مطابق کیں۔

22 تب موسیٰ نے  خاص روٹی کی میز کو خیمۂ اجتماع میں رکھا۔ اس نے  اسے  مقدس خیمہ کے  شمال کی طرف رکھا اُس نے  اسے  پردہ کے  سامنے  رکھا۔

23 تب انہوں نے  خداوند کے  سامنے  میز پر روٹی رکھی اُس نے  ویسا ہی کیا جیسا خداوند نے  حکم دیا تھا۔

24 پھر موسیٰ نے  شمعدان کو خیمۂ اجتماع میں رکھا۔ اس نے  شمعدان کو مقدس خیمہ کے  جنوبی جانب میز کے  پار رکھا۔

25 تب خداوند کے  سامنے  موسیٰ نے  شمعدان پر چراغ رکھے  انہوں نے  یہ خداوند کے  حکم کے  مطابق کیا۔

26 تب موسیٰ نے  سونے  کی قربان گاہ کو خیمۂ اجتماع میں رکھا اس نے  سونے  کی قربان گاہ کو پردہ کے  سامنے  رکھا۔

27 پھر اس نے  سونے  کی قربان گاہ پر خوشبودار بخور جلایا۔ اس نے  یہ خداوند کے  حکم کے  مطابق کیا۔

28 تب موسیٰ نے  مقدس خیمہ کے  داخلی دروازہ پر پردہ لگایا۔

29 موسیٰ نے  جلانے  کی قربان گاہ کو خیمۂ اجتماع کے  داخلی دروازہ پر رکھا۔ پھر موسیٰ نے  ایک جلانے  کی قربانی اُس قربان گاہ پر چڑھائی اس نے  اجناس کی قربانی بھی خداوند کو چڑھائی اس نے  یہ چیزیں خداوند کے  حکم کے  مطابق کئے۔

30 پھر موسیٰ نے  خیمۂ اجتماع اور قربان گاہ کے  بیچ سلفچی کو رکھا اور اس میں دھونے  کے  لئے  پانی بھرا۔

31 موسیٰ، ہارون اور ہارون کے  بیٹوں نے  اپنے  ہاتھ اور پیر دھونے  کے  لئے  اُس سلفچی کا استعمال کیا۔

32 وہ ہر دفعہ جب خیمۂ اجتماع میں جاتے  تو اپنے  ہاتھ اور پیر دھوتے  تھے۔ جب وہ قربان گاہ کے  قریب جاتے  تھے  اس وقت بھی وہ ہاتھ اور پیر دھوتے  تھے۔ وہ اسے  ویسا ہی کرتے  تھے  جیسا خداوند نے  موسیٰ کو حکم دیا تھا۔

33 پھر موسیٰ نے  مقدس خیمہ کے  آنگن کے  اطراف پر دہ لگایا۔ موسیٰ نے  قربان گاہ کو آنگن میں رکھا تب اس نے  آنگن کے  داخلی دروازہ پر پردہ لگا یا۔ اُسی طرح موسیٰ نے  وہ تمام کام پورے  کئے۔

34 پھر بادل خیمۂ اجتماع پر چھا گیا اور خداوند کے  جلال سے  خیمۂ اجتماع معمور ہو گیا۔

35 موسیٰ مقدس خیمہ میں اندر نہ جا سکا کیونکہ خدا کے  جلال سے  مقدس خیمہ بھر گیا تھا اور بادل نے  اس کو ڈھک لیا تھا۔

36 اُس بادل نے  لوگوں کو بتا یا کہ اُنہیں کب چلنا ہے  جب بادل مقدس خیمہ سے  اٹھتا تو بنی اسرائیل چلنا شروع کر دیتے  تھے۔

37 لیکن جب بادل مقدس خیمہ پر ٹھہرا رہتا تھا تو لوگ چلنے  کی کوشش نہیں کرتے  تھے۔ وہ اُسی جگہ پر ٹھہرے  رہتے  تھے  جب تک بادل مقدس خیمہ سے  اٹھ نہیں جاتا تھا۔

38 اِس لئے  دن کے  دوران خداوند کا بادل مقدس خیمہ کے  اوپر رہتا تھا۔ اور رات کے  دوران بادل میں آ گ ہو تی تھی۔ اِس لئے  سبھی بنی اسرائیل سفر کرتے  وقت بادل کو دیکھ سکتے  تھے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://gospelgo.com/a/urdu_bible.htm

پروف ریڈنگ: اویس قرنی، اعجاز عبید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید