FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

عہدِ نبوی ﷺ میں نظامِ تعلیم

 

 

                   ڈاکٹر حمید اللہ

 

خطباتِ بہاولپور، خطبہ۔۴

 

 

 

 

 

محترم صدر، محترم وائس چانسلر صاحب! محترم اساتذہ ! خواتین و حضرات!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتُہٗ!

 

آج کا موضوع یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں نظامِ تعلیم اور علوم کی سرپرستی یہ بہت اہم موضوع ہے ۔ مسلمانوں نے بعد کے زمانے میں جو علمی ترقیاں کیں اور جس کے باعث وہ ساری دنیا کے معلم بنے اور ساری دنیا کے لوگ عربی کتب کو پڑھ کر جدید ترین تحقیقات سے آگاہ ہوئے،اس کی اساس ، ظاہر ہے عہدِ نبوی کی تیار کردہ بنیاد ہی ہوسکتی تھی۔

مواد بہت ہے۔ اس کی ترتیب و تدوین کا کام بھی آسان نہیں اور مجھے دعویٰ نہیں کہ مجھے ان ساری چیزوں کا علم ہو چکا ہے۔ ایک چیز سے میں ہمیشہ متاثر ہوا ہوں اور یہ ایک نہایت ولولہ انگیز چیز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے جو خدائی حکم ملتا ہے وہ یہ کہ اقرا باسم ربک الذی خلق- خلق الانسان من علق اقرا و ربک الاکرم الذی علم بالقلم علم الانسان مالم یعلم – (1-5؛96) اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ پہلے جملے میں اللہ کی طرف سے ایک حکم آتا ہے اور پھر پڑھنے کی اہمیت بھی اسی وحی میں بیان کر دی جاتی ہے یعنی یہ کہ قلم ہی وہ واسطہ ہے جو انسانی تہذیب و تمدن کا ضامن و محافظ ہے۔ اسی ذریعہ سے انسان وہ چیزیں سیکھتا ہے جو اسے معلوم نہیں ہوتیں۔ انسانی علوم اور دیگر مخلوقات خاص کر جانوروں کے علم میں سب سے نمایاں فرق یہی ہے کہ حیوانات کا علم محض جبلی علم ہوتا ہے اسی لیے اس میں اضافہ نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف انسانی علم صرف جبلی ہی نہیں ہوتا بلکہ کسی بھی اور اس میں روزانہ اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے آباء و اجداد کے تجربوں سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور اپنے ذاتی تجربوں سے بھی اپنے علم میں اضافہ کرتے رہتے ہیں اور یہ سارا علم اپنی آئندہ نسلوں کو منتقل کر دیتے ہیں۔

پہلی ہی وحی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھانے کے بارے میں حکم دینا ایسی بات ہے، جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے نبئ امی کو کیوں پہلے ہی حکم میں اس کی طرف متوجہ کیا گیا اور اس کے بعد جو تیئس سالہ عرصہ گزرا، اس میں کچھ نہیں تو بیسیوں آیتیں ایسی ملتی ہیں جن میں علم کی تعریف اور اہمیت سمجھائی گئی ہے اور اس میں عجیب و غریب چیزیں بھی نظر آتی ہیں۔ مثلاً ایک طرف یہ کہا جائے گا۔ وما اوتیتم من العلم الا قلیلا (85:17) (اور تمھیں علم  دیا گیا ہے مگر تھوڑا) دوسری طرف یہ بھی کہا گیا۔ ‘قل رب زدنی علما‘ (114:20) (اور عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے علم میں بڑھا) اسی طرح کی شاید ایک ضرب المثل بھی مشہور ہے – اطلبوا العلم من العھد الی اللحد (گہوارے سے قبر تک یعنی پیدا ہونے سے موت آنے تک علم سیکھتے رہو) ایک اور چیز ہے جس کی صحت کے متعلق ہمارے محدثین ٹیکنیکل نقطہ نظر سے اعتراض کریں گے ، لیکن بہرحال وہ بھی اثر انگیز چیز ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ ‘علم سیکھو چاہے وہ چین ہی میں کیوں نہ ہو’ عقلی اور تاریخی نقطۂ نظر سے مجھے اس پر اعتراض کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ بہرحال اس سلسلے میں پہلا سوال ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چین کا علم کیسے ہوا؟ جب کہ عرب، ایشیا کے انتہائی مغرب میں ہے اور چین ، ایشیا کے انتہائی مشرق میں ہے اور ان دونوں ممالک میں کسی طرح کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ ان حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے علم ہوا کہ چین میں علوم و فنون پائے جاتے ہیں؟ سوال معقول ہے لیکن اگر ہمارا مطالعہ ذرا وسیع ہو او ہمیں اپنی علمی میراث سے ذرا زیادہ واقفیت ہو تو پھر یہ سوال باقی نہیں رہتا بلکہ خود بخود حل ہو جاتا ہے مثلاً ‘مسعودی’ کی کتاب ‘مروج الذھب’ کے نام سے ہمارا ہ پڑھا لکھا شخص واقف ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ اسلام سے پہلے چینی تاجر عمان تک آتے تھے۔ بلکہ عمان سے آگے ‘اہلہ یعنی بصرہ تک بھی پہنچتے تھے اور یوں یہ بات طے ہو جاتی ہے کہ اس زمانے میں عربوں کے لیے چین اور چینی اجنبی نہیں تھے۔ اس سے بھی زیادہ قابلِ غور واقعہ واقعہ ایک اور ہے کہ محمد بن حبیب البغدادی نے، جو ابنِ قیتبہ کا بھی استاد ہے’ اپنی کتاب المجر میں لکھا ہے کہ ہر سال فلاں مہینے میں ‘دبا’ نامی مقام پر ایک میلہ لگتا تھا’ جس میں شرکت کے لیے سمندر پار سے بھی لوگ آیا کرتے تھے ان لوگوں میں ایرانی بھی ہوتے تھے، چینی بھی ہوتے تھے، ہندی اور سندھی بھی ہوتے تھے، مشرقی لوگ بھی ہوتے تھے، مغربی بھی ہوتے تھے وغیرہ وغیرہ ۔ دبا کی اہمیت کے سلسلے میں ایک چھوٹا سا واقعہ آپ کو یاد دلاؤں۔ جب عمان کا علاقہ اسلام قبول کرتا ہے تو عمان میں ایک گورنر ہوتا ہے،اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمایک اور گورنر کا تقرر صرف بندرگاہ دبا کے امور کے لیے فرماتے ہیں۔ اس سے اس مقام کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ غالباً اس انٹرنیشنل میلے کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہوں گے ، تجارتی جھگڑے ، کاروباری معاملات وغیرہ ، اس لیے عہدِ نبوی میں خصوصی افسر کی ضرورت محسوس کی گئی۔ ان دو واقعات کے بعد مسند احم بن حنبل پر نظر ڈالیے۔ جس کے بعد ہمیں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان چینیوں سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں ذکر کر چکا ہوں کہ مسعودی کے بیان کے مطابق چینی تاجر اپنے جہازوں میں سمندری راستے عمان کے علاوہ ابلہ یعنی بصرہ تک جاتے تھے اس دوسری روایت میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ دبا نامی بندرگاہ میں، جو جزیرہ نمائے عرب کی دو سب سے بڑی بندر گاہوں میں سے ایک بندرگاہ تھی ، ہر سال میلا لگتا تھا، وہاں ہر سال چینی لوگ آتے تھے ۔ ان دو چیزوں کو ذہن میں رکھ کر مسند احمد بن حنبل کو پڑھیں۔ اس میں لکھا ہے کہ قبیلہ عبدلقیس کے لوگ ، جو عمان وہ بحرین میں رہتے تھے، مدینہ آئے اور اسلام قبول کیا۔ ایک چھوٹی سی چیز پر آپ کی توجہ منعطف کراتا ہوں وہ یہ کہ اس میں جو بحرین کا لفظ آیا ہے ، اس روایت میں اس سے مراد وہ جزیرہ نہیں ہے جسے ہم آج کل بحرین کہتے ہیں اور جو جزیرہ نمائے عرب میں خلیج فارس کے اندر واقع ہے۔ اس زمانے میں اس جزیرہ کا نام ‘اوال’ تھا اور بحرین کا لفظ اُس علاقے کو ظاہر کرتا ہے جسے آج کل ہم الاحساء اور القطیف کا نام دیتے ہیں۔ بہر حال اس میں لکھا ہے کہ بحرین کے لوگ جن کا نام قبیلہ عبدالقیس ہے ،اسلام لانے کے لیے مدینہ آتے ہیں۔ اس روایت میں اس بات کی بھی تفصیل ملتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کچھ سوالات کیے۔ مثلاً فلاں شخص ابھی زندہ ہے؟ کیا فلاں سردار زندہ ہے؟ فلاں مقام کا کیا حال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان سوالات کو سن کر وہ لوگ حیرت سے پوچھتے ہیں۔ یا رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہم سے بھی زیادہ ہمارے ملک کے شہروں اور باشندوں سے واقف ہیں۔ یہ کیسے ہوا؟ ان لوگوں کے اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ ‘میرے پاؤں تمہارے ملک کو بہت عرصے تک روندتے رہے ہیں۔’ دوسرے لفظوں میں میں وہاں بہت دنوں تک مقیم رہا ہوں۔ اس صراحت کے بعد ہمیں شبہ نہیں رہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غالباً شادی کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مال تجارت لے کر نا صرف شام جاتے ہیں، جس کی صراحتیں موجود ہیں بلکہ مشرقِ عرب کو بھی جاتے ہیں تاکہ دبا کے میلے میں شرکت کر سکیں اور کوئی تعجب نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہیں پر چینی تاجروں کو بھی دیکھا ہو اور ممکن ہے اُن سے کچھ گفتگو کی ہو ۔اگر چینی وہاں آیا کرتے تھے تو اُنھیں کچھ ٹوٹی پھوٹی عربی آ جانی چاہئے۔ اس کے علاوہ وہاں پر یقیناً ایسے مترجم ہوتے ہوں گے جو چینی اور عربی دونوں زبانیں جانتے ہوں۔ بہر حال اس کا امکان ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چینیوں سے ملاقات کی اور میرا گمان ہے کہ ان کے ریشمی سامان پر خاص کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ ہوئی ہو گی،کیوں کہ چین کا ریشم نہایت ہی مشہور چیز تھی، ممکن ہے کہ ان کی صنعت و حرفت کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی اچھا تاثر لیا ہو اور ان سے پوچھا ہو کہ تمھارے ملک سے یہاں تک آنے میں کتنے دن لگتے ہیں۔ اور مثلاً انھوں نے کہا ہو کہ چھ مہینے لگتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک اندازہ قائم کرنے کے لیے یہ کافی تھا اور اس کی روشنی میں اب اس حدیث کو پڑھئے ” علم سیکھو چاہے چین ہی جانا پڑے”( جو تمھارے لیے دنیا کا بعید ترین ملک ہے ) کیونکہ علم کا سیکھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ ‘ غرض ان ابتدائی چیزوں کے عرض کرنے کا منشا یہ تھا کہ قرآن مجید و حدیث شریف میں علم حاصل کرنے کی بڑی تاکید آئی ہے کیونکہ یہ انسانوں کے لیے نہایت مفید چیز ہے اور اسلام سے زیادہ فطری مذہب کون سا ہوسکتا ہے جو انسانوں کو ان کے فائدے کی چیز بتائے۔

یہ کہنا دشوار ہے کہ مکہ معظمہ میں ہجرت سے قبل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کے متعلق کیا کام کیا؟ کوئی مدرسہ قائم کیا یا مدرس مامور کیے؟ اس کا پتہ چلنا آسان نہیں ہے۔ غالباً ایسا ہوا بھی نہیں بجز قرآن کو مستند استاد سے پڑھنے کے۔ لیکن ایک چیز قابل ذکر ہے وہ یہ کہ ہمارے مورخین کے مطابق عربی زبان طویل عرصے تک بولی جانے والی زبان رہی تھی، تحریری زبان نہیں تھی۔ لکھنے کا رواج مکہ معظمہ میں ،حرب کے زمانے میں ہوا۔ یہ ابو سفیان کا باپ تھا۔ یعنی یہ دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نوجوانی کا دور ہے۔ جو لوگ آپ سے معمر تر تھے،شہر مکہ میں ان کے زمانے میں پہلی مرتبہ عربی زبان کی تحریر و کتابت ہونے لگی۔ اس کی وجہ بھی یہ بیان کی گئی ہے کہ ایک شخص عراق کے علاقے سے حیرہ سے وہاں آیا تھا۔ اُس نے مکہ معظمہ میں حرب کی بیٹی سے شادی کی اور اظہار شکر گزاری کے لیے حرب کو یہ راز بتلایا کہ ایسی کام کی باتیں ، جنھیں تم بھول جاتے ہو اور جنھیں یاد رکھنے کی ضرورت ہے، اُنھیں لکھ لیا کرو۔ یہ روایت ہمیں مختلف کتابوں میں ملتی ہے، مثلاً قدامہ بن جعفر کی کتاب الخراج اور اس کے استاد بلاذری کی فتح البلدان وغیرہ میں۔ دوسرے الفاظ میں مکہ میں لکھنے پڑھنے کا رواج عہدِ نبوی سے کچھ پہلے ہی شروع ہوا تھا اور بلاذری کو تو اصرار ہے کہ عہدِ نبوی کے آغاز پر وہاں سترہ سے زیادہ آدمی لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ ممکن ہے کہ مبالغہ ہو یا کسی خاص عہد کا ذکر ہو اور بعد میں اس صورت میں ترقی ہوئی ہو اور زیادہ لوگ لکھنا پڑھنا جان گئے ہوں لیکن اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ البتہیہ امر ضرور قابلِ ذکر ہے قبلِ اسلام مکے میں عورتیں بھی لکھنا پڑھنا جانتی تھیں چنانچہ شفاد بنت عبداللہ کو جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رشتہ دار تھی ، لکھنا پڑھنا آتا تھا اور اسی واقفیت کے سبب سے بعد میں، جب وہ ہجرت کر کے مدینہ آئیں، تو ابن حجر کے بیان کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مدینہ کے ایک بازار میں ایک عہدہ پر مامور کیا۔ چونکہ انہیں لکھنا پڑھنا آتا تھا، اس لیے کوئی ایسا ہی کام ان کے سپرد کیا گیا ہو گا جس کا تعلق لکھنے پڑھنے سے ہو۔ ایک امکان میرے ذہن میں آتا ہے کہ اس بازار میں عورتیں بھی سامانِ تجارت لاتی ہوں گی لہٰذا ان کی نگرانی ان کی مدد اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کسی عورت ہی کو مامور کیا جاسکتا تھا۔ بہر حال لکھنے پڑھنے کا رواج عہدِ نبوی کے آغاز کے زمانے میں ایک بالکل نئی چیز تھی اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ اس نے ابھی زیادہ ترقی نہیں کی تھی۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیائے عرب کی سب سے پہلی تحریر میں لائی ہوئی کتاب قرآنِ مجید ہے۔ اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں لکھی گئی تھی۔ صرف چند ایک چیزیں مثلاً سبعہ معلقات، جن کو لکھ کر کہتے ہیں کہ بطور اعزاز و احترام کعبہ میں لٹکا دیا گیا تھا۔ اسی طرح بعض معاہدے بھی لکھے گئے ہوں گے۔ ‘ الفرست’ میں ابن ندیم نے لکھا ہے کہ خلیفہ مامون کے خزانے میں ایک مخطوطہ یا ایک کاغذ کا پرچہ تھا جس میں ذرا بھدے خط کی کچھ عبارت تھی۔ لکھا ہے کہ عورتوں کے خط کے مشابہ تھا اور کہا کہ وہ عبدالمطلب کا خط تھا وغیرہ۔

ان چیزوں سے معلوم ہوتا ہے اس زمانے میں لکھنے پڑھنے کا آغاز ہو رہا تھا اور ابھی زیادہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو۔کہ حیرہ سے آنے والا شخص وہی خط سکھائے گا جو حیرہ میں رائج ہے۔ وہاں کی زبان میں کل چوبیس حرف ہیں جب کہ عربی میں حروف کی تعداد اٹھائیس ہے۔ ظاہر ہے حیرہ میں رائج خط اس زبان کے لیے ناکافی ہو گا۔ اسی لیے حیرہ میں رائج خط کی مدد سے عربی زبان کے حروف میں امتیاز کرنا بھی دشوار تھا۔ عربی زبان کے حروف میں امتیاز قائم کرنے کی ایک ہی صورت تھی کہ مختلف حروف کے سلسلہ میں ایک نقطہ نیچے لگا کر ‘ب’ بنائیں اور اسی حروف پر ایک نقطہ اوپر لگا کر ‘ن’ بنائیں وغیرہ وغیرہ۔ اس سلسلے میں خطب البغدادی وغیرہ وغیرہ متعدد لوگوں کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ غالباً اس کوتاہی کو دور کرنے کا کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا تھا۔ روایت ہے کہ ایک دن خلیفہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبید غسانی نامی کاتب کو بلایا اور فرمایا کہ میں تمھیں کچھ لکھواتا ہوں اسے لکھو اور رقش کرو۔ غسان کہتا ہے ‘رقش’ کیا چیز ہے؟ وہ تبسم کر کے کہتے ہیں کہ میں ایک دن مدینہ منورہ میں تھا ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کاتب کی حیثیت سے مجھے یاد فرمایا اور حکم دیا لکھو اور رقش کرو میں نے بھی پوچھا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رقش کیا چیز ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ یہ تھے کہ ‘ حروف پر جہاں ضرورت ہو نقطے لگاؤ’ اس چھوٹی سی روایت سے جو ہمیں کئی کتابوں میں ملتی ہے ، گمان ہوتا ہے کہ نقطے لگا کر حروف میں امتیاز پیدا کرنا بہت بعد کی چیز نہیں ہے بلکہ عہدِ نبوی میں اس کا آغاز ہو گیا تھا لیکن کتب رسم المصاحف (یعنی قرآنی املاء) کے مؤلفوں یا خط عربی کے عام مورخوں کے ہاں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا البتہ اس کی تائید میں اب کچھ چیزیں بھی ہمیں مل گئی ہیں۔ پہلی چیز یہ ہے کہ طائف کے مضافات میں ایک کتبہ ملا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں انہی کے حکم سے طائف کے گورنر نے ایک تالاب تعمیر کرایا تھا، اس پر ایک کتبہ لگایا گیا ۔ اس کتبے کے کئی حروف پر نقطہ ہیں۔ یہ سن 50 ھ کا واقعہ ہے ۔ ظاہر ہے بعد کی جال سازی نہیں ہوسکتی۔ اس کتبے کے سب حروف پر نقطے نہیں بلکہ صرف چند حروف پر ہیں۔ یہ ذرا پرانی دریافت تھی، اب ایک نئی چیز ہمارے سامنے آئی ہے۔ جو اس سے بھی زیادہ موثر ہے۔ مصر میں کچھ جھلیاں (پارچمنٹ)دریافت ہوئی ہیں جن پر کچھ تحریریں لکھی ہوئی ہیں۔ ان میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی خلافت بائیس ہجری کے زمانے کے دو خطوط ہیں۔ ان میں بھی نقطوں کا اہتمام نظر آتا ہے۔ یعنی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بھی ایک حد تک نقطے لگانے کا رواج تھا۔ اسے حجاج بن یوسف یا اس کے بعد کی چیز قرار دینا درست نہیں۔

بہر حال خط کے سلسلے میں ایک طرف تو یہ بنیادی اصلاح ملتی ہے کہ حروف پر نقطے لگا کر ان میں امتیاز پیدا کرو ۔ دوسری طرف کچھ اور حدیثیں بھی ملتی ہیں جو اگرچہ مسلم و بخاری جیسی کتب حدیث میں تو نہیں آئیں لیکن لائق توجہ ہیں مثلاً ایک حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب ہے جس میں آیا ہے کہ جب تم کوئی خط لکھو تو اسے فوراً تہہ نہ کرو بلکہ اس پر ریک ڈال کر پہلے اسے خشک کیا کرو۔ اس کے بعد اسے بند کرو۔ یہ ایک عقل مندی کی بات ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاہدے کی دلیل ہے۔ کیونکہ بعض وقت جلدی جلدی میں خط بند کر دیتے ہیں اور روشنائی گیلی رہتی ہے، جس کے باعث تحریر پر نشان پڑ جاتے ہیں اور وہ پڑھنے کے قابل نہیں رہتی۔ اس سے بھی زیادہ ایک اور چیز دلچسپ ہے جو ابن اثیر نے لکھی ہے ۔ وہ حدیث یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم لکھو تو ‘س’ کو ایک لمبے خط کی طرح نا لکھو بلکہ اس میں شوشہ کا اہتمام کرو ورنہ شبہ ہو سکتا ہے کہ یہ لفظ ‘بم’ ‘ب’ اور ‘م’ کا مجموعہ ہے یا ‘ب’، ‘س’ اور ‘م’ کا؟ خط کے سلسلے میں اور اس طرح دوسری حدیثیں بھی ہمیں ملتی ہیں۔ ایک ترکی فاضل نے تحریر کے متعلق ایک چہل حدیث ہی لکھ ڈالی ہے۔ ایک آخری بات پر اس بحث کو ختم کرتا ہوں کہ جب ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لاتے ہیں تو ‘صفہ’ کا مدرسہ تعمیر کیا جاتا ہے ۔ وہاں کے اور مدرسوں میں ایک مدرس لکھنا پڑھنا سکھانے پر مامور ہوئے تھے ۔ ان کا کام طالبِ علموں کو خطاطی کی مشق کرانا تھا ۔

ہجرت سے پہلے مکہ میں قیام کے دوران میں لکھنے پڑھنے کی دو تین اور مثالیں بھی ہمیں ملتی ہیں۔ ایک تو وہ مشہور صحیفہ ہے جس کے مطابق مکہ والوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان والوں کا بائیکاٹ کیا تھا کہ کوئی شخص نہ اپنی بیٹی نکاح کے لیے دے اور نہ کوئی ان سے ان کی بیٹی لے، نہ ان کے ہاتھ کچھ بیچے نہ ان سے خریدے حتیٰ کہ ان سے بات چیت تک نہ کرے۔ اس معاہدے کو لکھ کر کعبہ کے اندر لٹکایا گیا تھا تاکہ اس پر ایک مقدس فریضے کے طور پر سنجیدگی اور کامل طور سے عمل کیا جائے۔ مزید صراحت یہ بھی ہوتی ہے کہ اس معاہدے میں جو صرف مکے والوں نے کیا تھا،ایک مزید حصہ دار کے طور پر بنو کنانہ کے لوگ بھی شامل ہوئے تھے۔ اس معاہدے کی طرف اشارہ کرنے والی، بخاری وغیرہ میں ایک حدیث بھی ملتی ہے، غزوہ حنین کے وقت (جو فتح مکہ کے زمانے میں ہی ہوا تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل ہم ایک ایسے مقام سے گزریں گے جہاں ایک زمانے میں ظلم کی اعانت کی گئی تھی۔ اس سے مراد یہی تھا کہ بنو کنانہ کے لوگ اس مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کے خلاف کیے جانے والے معاہدے میں اہلِ مکہ کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیوں کہ آپ اس سے واقف ہیں کہ کس طرح، اس تحریر کے باوجود ،دیمک چاٹنے کی وجہ سے یہ معاہدہ بعد میں منسوخ ہو گیا تھا۔ ایک دوسرا واقعہ حضرت تمیم الداری کے متعلق ہے۔ وہ ایک فلسطینی تھے اور ہجرت سے پہلے مکہ آ کر مسلمان ہوئے اور اپنی بہت سی داستانیں بھی سنائیں جن کا صحیح مسلم میں ذکر ہے، جن میں جہاز رانی وغیرہ کی کہانیوں کا ذکر ہے،انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے سیاحت کے دروان میں فلاں فلاں مقامات اور چیزیں وغیرہ دیکھی ہیں۔ بہر حال انھوں نے مسلمان ہوتے ہوئے کہا کہ جب مسلم سپاہ شام فتح کر لیں،اس وقت شام کے فلاں فلاں گاؤں جاگیر کے طور مجھے دیے جائیں اور اس کے لیے آپ مجھے ابھی سے ایک پروانہ دی دیجئے۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط ملتا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ اگر بہت مرطوم، حبرون، اور فلاں فلاں مقام فتح ہوں تو وہ تمیم الداری کو دے دیئے جائیں۔یہ خط اصل ہے یا بعد میں تمیم الداری کی اولاد کی جعل سازی کا نتیجہ ہے ،اس سلسلے میں کچھ کہنا آسان نہیں۔ کیوں کہ ماخذوں میں پروانہ مبارک کی عبارت کے دو بالکل مختلف متن ملتے ہیں۔ بہر حال امام ابو یوسف کی کتاب ‘کتاب الخراج’ میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے، اور یوں یہ تحریر و کتابت کی دوسری قدیم ترین مثال ہمارے سامنے آتی ہے۔

ایک اور چیز کا ذکر کر کے میں اس بحث کو ختم کروں گا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت کے لیے روانہ ہوتے ہیں تو سراقہ بن مالک کا واقعہ پیش آتا ہے ، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گرفتار کر کے اہلِ مکہ کے سپرد کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن بعض معجزات پیش آئے جن کے باعث سراقہ بن مالک (1) نے معافی مانگی۔ معافی ملی تو اپنے علاقے سے گزر سکنے کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو احسان مندانہ کچھ سہولتوں کی پیشکش کے بعد سراقہ بن مالک نے کہا کہ ‘اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے ایک پروانہ امن دیجئے’ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہمراہیوں میں سے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیتے ہیں کہ ایک پروانہ امن لکھو، گویا سفر میں آپ کے ہمراہ اور چیزوں کے علاوہ قلم،دوات اور کاغذ بھی موجود ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مکہ میں لکھنے پڑھنے کا رواج ترقی کرنے لگا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اہمیت سے خاص کر واقف تھے۔ مدینہ آنے کے بعد آپ نے سب سے پہلا کام عبادت گاہ کی تعمیر کے سلسلے میں کیا۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ،اوس کے علاقہ ‘قباء’ میں پہنچے تو یہاں پر ایک مسجد بنائی گئی۔ جب قباء سے نکل کر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) بنی خزرج کی شاخ بنو نجار کے علاقے میں آئے تو وہاں کی پرانی مسجد کی توسیع کر کے مسجد نبوی کی تعمیر ہونے لگی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش گاہ کے کمرے بھی تھے۔ اس بڑی مسجد کی تعمیر میں کچھ عرصہ لگا۔ لیکن یہاں پر یہ بات قابلَ ذکر ہے کہ اس مسجد کا ایک حصہ تعلیم گاہ کے طور پر مخصوص کر دیا گیا۔ اسی مقام کو ہم ‘صفہ’ کا نام دیتے ہیں۔ صفہ پلیٹ فارم ‘ڈائس یا بلند مقام کو کہتے ہیں۔ یہ مقام اس غرض کے لیے مخصوص کیا گیا کہ دن کو درس گاہ کا کام دے اور رات کو ان لوگوں کے لیے جن کا کوئی گھر نہیں ہے، سونے کا کام دے۔ ایک زمانے میں سیرت النبی کی تالیف کے سلسلے میں مجھے تمنا ہوئی کہ عہد نبوی میں مسجد نبوی جیسی تھی ،اس کا نقشہ بناؤں۔ مجھے محسوس ہوا کہ اس امر میں ایک الجھن ہے وہ یہ کہ جب مسجد نبوی کی تعمیر ہوئی تو قبلہ بیت المقدس کی طرف تھا جو مدینے کے شمال میں ہے اور کچھ عرصہ شاید 17 ماہ بعد جیسا کہ تاریخ میں ذکر آتا ہے ، قبلہ کعبۃ اللہ قرار پایا جو مدینے کے جنوب میں ہے۔ اس کے لیے مسجد میں تبدیلی ضروری تھی۔ یوں اگر مسجد نبوی میں صفہ کا مقام قبلہ کے جنوب میں نظر آتا ہے تو عہدِ نبوی یعنی ہجرت کے ابتدائی ایام میں شمال میں ہونا چاہئیے اور جب قبلہ کا رخ بدلا تو صفہ جو مسجد کے پچھلے حصے میں تھا، سامنے کے حصے میں آگیا۔ اس لیے اسے ختم کر دیا گیا اور وہاں نماز پڑھی جانے لگی، جب کے وہ حصہ جہاں پہلے نماز ہوتی تھی وہ پچھلے حصہ میں آ گیا اور وہاں نئے سرے سے “صفہ’ بنا یا گیا۔ بہر حال مسجد نبوی اور مسکن نبوی کا یہ نقشہ ماہنامہ الرشاد، اعظم گڑھ میں اگست 1981 میں بھی چھپا ہے۔

یہ صفہ جیسا کہ میں نے گزشتہ لکچروں میں اشارہ کیا ، وہ مقام ہے ، جسے موجودہ زبان میں رہائشی جامعہ ‘residential university’ کہتے ہیں یعنی طلباء کے رہنے کا بھی انتظام ہے اور تعلیم کا بھی۔ رہنے کے سلسلے میں ہمیں کئی اور وضاحتیں بھی ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ واقعہ کہ اہل مدینہ اپنی انتہائی فیاضی کے باعث یہ کرتے ہیں کہ جب انصار کی کھجوروں کی فصل تیار ہوتی تو ہر شخص کھجوروں کا ایک ایک خوشہ تحفے کے طور پر لاتا اور اسے مسجدِ نبوی کے اندر صفہ میں لٹکا دیتا۔ جب کوئی کھجور پک کر گرتی تو صفہ میں رہنے والے غریب مسلمان اسے کھاتے ۔ ان خوشوں کی حفاظت کے لیے بھی ایک شخص مقرر کیا گیا تھا۔ لکھا ہے کہ حضرت معاز بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اپنی انتہائی فیاضی کے سبب مقروض ہو گئے اور قرض کی ادائیگی کے سلسلے میں انہیں اپنا مکان تک فروخت کر دینا پڑا تو انہیں بھی رہنے کے لیے صفہ میں جگہ دی گئی اور علاوہ اور چیزوں کے ان پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی کہ وہ ان خوشوں کی نگرانی کریں۔ بہر حال آپ رہائشی جامعہ (residential university) کا بھاری بھرکم لفظ قبول کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ صفہ میں تعلیم پانے والے طالب علم دو قسم کے تھے کچھ تو وہ تھے جو شہر میں رہتے تھے اور پڑھ کر چلے جاتے تھے۔لیکن کچھ ایسے تھے جن کا کوئی گھر نہیں تھا اور وہ رات بھی وہیں گزارتے تھے۔ ان کی تعداد ظاہر ہے گھٹتی بڑھتی رہی ہو گی۔ ان طالب علموں میں ہمیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی نظر آتے ہیں۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہو گا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے صفہ میں کیوں رہتے تھے؟ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے مواخاتی بھائی کے ہاں قیام کیا ہو گا اور ان کے ہاں اتنی جگہ نہ ہو گی کہ ان مواخاتی بھائی اور ان کے خاندان کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیوی کے علاوہ اپنے جوان اور بالغ بیٹے کو بھی جگہ دلا سکیں۔ اس کی ایک دوسری توجیہ یہ ہوسکتی ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود علم کے شوق کے باعث نہیں چاہتے تھے کہ قباء میں رہیں جو مدینہ سے کئی میل کے فاصلے پر ہے۔ آنے جانے میں کافی وقت لگتا ہے۔ سارا وقت وہ مدینہ میں گزارنا چاہتے ہوں گے تاکہ ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مواعظ سے استفادہ کر سکیں۔ بہر حال وہاں کچھ لوگ ایسے تھے۔ جو صرف دن کو تعلیم پاتے تھے اور کچھ ایسے تھے جو تعلیم بھی پاتے تھے اور رات کو رہتے بھی تھے۔ اس سلسلے میں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ کچھ تو ان چیزوں پر بسر اوقات کرتے تھے، جو انھیں بطور تحفہ دی جاتی تھیں، کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان سے ، کبھی مختلف صحابہ کی فیاضیوں کے باعث۔ مثلاً ایک بار کا ذکر ہے کہ اہل صفہ کے اسی آدمیوں کو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دن اپنے ہاں کھانے کی دعوت دی۔ اس سے دو چیزیں ہمیں معلوم ہوتی ہیں ایک تو وہ تعداد جو کم و بیش صفہ میں موجود ہوتی تھی، دوسری یہ کہ ان کے گزر بسر کا کیا انتظام تھا اور وہ کس طرح کھاتے پیتے تھے۔ ان دونوں باتوں کے علاوہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے سرکاری خزانے سے امداد فرماتے اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فیاضی کے سبب ان کو مختلف اشیاء ملتی ، ایک اور چیز کا بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ دوسروں پر بوجھ بننے کی بجائے خود محنت کرتے تھے۔ یہ محنت اس لیے نہیں ہوتی تھی کہ پیسے جمع کر سکیں یا مالدار بنیں بلکہ صرف اس لیے کہ اپنا سد رمق حاصل کریں اور باقی پورا وقت علم کے حصول میں صرف کریں۔ ایک واقعہ کا ذکر ملتا ہے اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ صفہ میں رہنے والے ایک طالب علم کی وفات ہوئی۔ جب اسے غسل دیا گیا تو پتہ چلا کہ اس کے پاس دو دینار ہیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ناراض ہوئے کہ ایسے شخص کو، جس کے پاس دو دینار جیسی خطیر رقم تھی، خیرات پر پرورش پانے کا کوئی حق نہ تھا۔ بہر حال انسانی فطرت کی ایسی مثالیں بھی ہمیں ملتی ہیں۔

صفہ میں جو تعلیم ہوتی تھی وہ اسلام کی ابتدائی تعلیم تھی، جس کے لیے میں پرائمری کا لفظ استعمال کرسکتا ہوں۔ مدرسہ میں جن چیزوں کی تعلیم ہوتی تھی،اس میں متعدد شعبے،متعدد لوگوں کے سپرد تھے۔کسی کے سپرد یہ کام تھا کہ وہ لکھنا پڑھنا سکھائے،کسی کے سپرد یہ کام تھا کہ جو لکھنا پڑھنا سیکھ چکے ہیں،اُنھیں اُس وقت تک کی نازل شدہ قرآنی سورتیں سکھائیں۔ شاید کسی شخص کا یہ کام بھی ہو کہ وہ فقہی احکام ،سنت رسول صلی اللہ و علیہ وسلم اور نماز عبادات وغیرہ کا درس دے۔ یہ احتمام خاص طور پر ان نو مسلم لوگوں کے لیے کیا جاتا ہو گا جو وقتاً فوقتاً کچھ عرصے کے لیے مدینے آتے ہوں گے تاکہ اپنے نئے دین کے متعلق کچھ معلومات حاصل کر سکیں۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے ایک حدیث کا ذکر کیا جو عبدالقیس کے لوگوں کی مدینہ آمد سے متعلق تھی۔ جب یہ لوگ مدینہ آئے تو آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے اُنھیں انصار کے سپرد کر دیا کہ تم ان لوگوں کی مہمان نوازی کرو۔ صبح کو اُن لوگوں سے پوچھا کہ تمھارے ساتھ تمھارے میزبانوں نے کیسا سلوک کیا؟ انھوں نے جواب دیا کہ اُن لوگوں نے ہمیں کھانے کے لیے نرم روٹی اور سونے کے لیے نرم بستر دیے اور صبح کو اُنھوں نے عبادت کے طریقے، قرآن شریف کی سورتیں اور سنت رسول صلی اللہ و علیہ وسلم سے متعلق چیزیں سکھائیں یہ اسی بنا پر تھا جو میں نے آپ سے عرض کیا کہ صفہ میں تعلیم کے مختلف شعبے تھے۔ ایک چیز کا امکان ہے اور یقیناً ایسا ہی ہو گا کہ وقتاً فوقتاً خود رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم بھی ان کو درس دیتے ہوں گے۔ اگرچہ آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کی مصروفیات بہت زیادہ تھیں۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ و علیہ وسلم کو جب بھی فرصت ملتی ،آپ صلی اللہ و علیہ وسلم وہاں درس دیا کرتے تھے اور بہت سے لوگ جنھیں فرصت ہوتی،اس درس میں شریک ہو جاتے۔ایک دلچسپ حدیث ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم اپنے حجرہ مبارک سے نکل کر مسجد کے اندر آئے اور دیکھا کہ وہاں دو گروہ ہیں۔ ایک گروہ تسبیح پڑھنے اور ذکر اذکار کرنے میں مشغول تھا ۔دوسرا گروہ علم حاصل کر رہا تھا۔ حضور صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا اگرچہ دونوں گروہ اچھا کام کر رہے ہیں۔ لیکن وہ گروہ بہتر ہے جو تعلیم کا کام کر رہا ہے۔ پھر آپ بھی اس گروہ میں شامل ہو گئے۔ اس طرح یہ بھی روایت ملتی ہے کہ صفہ کے بعد جلد ہی اور مدرسے قائم ہوئے۔ بلاذری نے لکھا ہے کہ مدینے میں عہد نبوی میں نو مساجد تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنے محلے کی مسجد میں اپنے ہمسایوں سے تعلیم حاصل کرو۔سب کے سب مرکزی مسجد میں نہ آیا کریں کیونکہ اس طرح طالب علموں کی تعداد بڑھ جانے کا اندیشہ تھا،جس سے سب کی تعلیم متاثر ہوتی اور ناکافی اساتذہ کے باعث بچوں کی تعلیم پانے کا موقع نا مل سکتا تھا شاید مسافت اور حمل و نقل کا بھی مسئلہ تھا،اسی طرح ہمیں اس کا بھی پتہ چلتا ہے کہ تعلیم دینے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو باہر بھی بھیجا کرتے تھے۔غالباً ایسا ان علاقوں کے لیے ہوتا ہو گا جہاں کے باشندے رفتہ رفتہ مسلمان ہوتے گئے اور مسلمان ہونے کے بعد مطالبہ کرتے کہ ہماری تعلیم کا بندوبست کیا جائے۔غالباً کا لفظ میں اس لیے استعمال کر رہا ہوں کہ ایسا ہی ایک واقعہ ہجرت سے قبل بھی پیش آیا تھا۔جب خود مدینہ والوں نے بیعت عقبہ میں اسلام قبول کیا تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ ہمیں ایک معلم دیا جائے تو مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا گیا اور وہ اہلِ مدینہ کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کراتے رہے۔ اس سلسلے میں ایک چھوٹی سی بات مجھے یاد آتی ہے۔ لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت عقبہ میں مسلمان ہونے والے اہلِ مدینہ کو اس وقت تک نازل شدہ قرآن شریف کا ایک تحریری نسخہ بھی دیا تھا جسے وہ اپنے محلے کی مسجد میں بآوازِ بلند پڑھا کرتے تھے۔ ہمارے مؤرخ اس مین ایہ اضافہ بھی کرتے ہیں کہ مسجد میں بآوازِ بلند قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا آغاز پہلی مرتبہ مدینہ منورہ میں بنی زریق کے ان انصار سے ہوا تھا۔

غرض ایک طرف ہمیں ایسی چیزیں ملتی ہیں جن میں علم کی اہمیت بتانے کے ساتھ ساتھ اس کو حاصل کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ دوسری طرف ایسے انتظامات بھی نظر آتے ہیں جن کے باعث علم کا حصول آسان تر ہو جائے۔ اس سلسلے میں ایک چھوٹے سے واقعہ کی جانب آپ کی توجہ منعطف کراؤں گا جس کا میں نے گزشتہ روز بھی ذکر کیا تھا۔ جنگ بدر میں بہت سے کافر قید ہوئے۔ ان قیدیوں میں سے جن کو لکھنا پڑھنا آتا تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مالی فدیہ طلب کرنے کی بجائے، یہ فرمایا کہ ان میں سے ہر شخص دس دس مسلمانوں بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے۔ تعلیم کے انتظامات کے سلسلے میں یہ واقعہ ولولہ انگیز ہے۔ اسی طرح ایک اور بات پر غور کرنے اور اس سے نتائج استنباط کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ طبری کے بیان کے مطابق جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تو ان کا فریضہ یہ تھا کہ ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں اور ایک کمشنری سے دوسری کمشنری میں جائیں اور وہاں تعلیم کا انتظام کریں۔اس کے علاوہ یمن کے گورنر عمرو بن حزم کی تقرری کے وقت ،ان کو جو ہدایت نامہ دیا گیا،اسے بھی تاریخ نے محفوظ کر لیا۔ اس میں ہمیں ٹیکس ،انتظامی معاملات اور عدل و انصاف وغیرہ کے متعلق ہدایت کے علاوہ یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ لوگوں کی تعلیم کا بندوبست کرو۔ گویا گورنر کے فرائض میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ اپنے دائرہ عمل (Jurisdiction) کے اندر رہنے والے لوگوں کی تعلیم کا انتظام کرے۔ ظاہر ہے کہ یہ تعلیم اسلامی تعلیم ہی ہو گی اور اس کا انتظام صرف مسلمانوں کے لیے ہی کیا جاتا ہو گا،کیوں کہ غیر مسلموں کی تعلیم کی بوجوہ ضرورت ہی نہیں تھی۔ قرآن مجید کے احکام کے مطابق تمام مذہبی گروہوں کو کامل داخلی خود مختاری عطا کی گئی تھی۔ جس طرح غیر مسلم اس خود مختاری کی بنا پر اپنے دیگر معاملات میں آزاد تھے اسی طرح تعلیم کی صورت بھی رہی ہو گی۔ ان حالات میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ غیر مسلموں کی تعلیم کا انتظام اسلامی حکومت کرتی تھی یا نہیں۔ اگر وہ کرتی ہو اس میں کوئی امر مانع بھی نہیں تھا لیکن چونکہ عہدِ نبوی میں ایک خصوصی نظام کے تحت ہر اقلیت کو کامل داخلی خود مختاری عطا کی گئی تھی، اس لیے انھیں اپنی تعلیم کی بھی آزادی تھی اور وہ خود اسے بہتر طور سے انجام بھی دے سکتے تھے۔ مثلاً ایک عیسائی بچے کو اسلامی مدرسہ میں قرآن کی تعلیم دینے والا عالم تو مل جائے گا لیکن انجیل پڑھانے والا استاد میسر نہیں آسکے گا۔ اس لیے ان کے حق میں یہی بات زیادہ سود مند تھی کہ ان کا مدرسہ ہی الگ ہو اور وہ خود اپنے مذہب کی تعلیم اپنے ہی اساتذہ کی مدد سے حاصل کریں۔

اس سلسلسے میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کبھی کبھی یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کسی علمی مسئلے کے سلسلے میں بھی جھگڑا کرتے۔ اس سے جو بعض نہایت کار آمد نتائج نکلتے ہیں میں ان کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ مثلاً ایک مرتبہ یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان جوڑے کو لائے اور کہا کہ ہم نے ان لوگوں کو بد کاری کرتے پایا ہے،آپ کے پاس لائے ہیں تاکہ آپ انہیں سزا دیں۔ اس سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ،بجائے اپنی صوابدید سے فیصلہ کرنے کے یا اسلامی قانون نافذ کرنے کے خود ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہاری دینی کتاب توریت میں اس کے متعلق کیا احکام ہیں؟ انھوں نے جھوٹ بات بیان کی اور کہا کہ توریت کا حکم یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ کالا کر کے انھیں اس طرح گدھے پر بٹھایا جائے کہ ان کے منہ گدھے کی دم کی طرف ہوں، پھر سارے شہر میں ان کی تشہیر کرائی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہیں ہے۔توریت کا حکم اس سے مختلف ہے۔ توریت لاؤ۔ چنانچہ توریت لائی گئی۔ اس میں رجم کی سزا نکلی اور اس کے مطابق مجرموں کو رجم کرایا گیا۔ اس کے متعلق مزید لکھا ہے کہ توریت کو پہلے ایک یہودی نے پڑھا اور اس آیت کو چھوڑ دیا جس میں رجم کا ذکر تھا۔ اس پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، جو ایک نومسلم یہودی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اس امر پر منعطف کرائی کہ یہاں یہاں کچھ اور آیات بھی ہیں جنھیں یہ چھپا رہا ہے۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہو ا کہ رسول اکرم صلی اللہ و علیہ وسلم نے اپنے خاص کاتب وحی ،حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ تم عبرانی رسم الخط سیکھو کیونکہ مجھے آئے دن یہودیوں سے خط و کتابت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اگر ایسی تحریروں کو میں یہودیوں سے پڑھوا کر سنوں تو مجھے ان پر اعتبار نہیں، اس لیے تم خود سیکھ لو۔ دوسرے لفظوں میں اجنبی زبانوں کو سیکھنے اور سکھانے کی طرف رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے توجہ فرمائی۔ دوسری زبانوں کے سیکھنے سے سیاسی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں اور علمی فوائد بھی۔ علمی فائدے کے متعلق ایک واقعہ ذہن میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما ،جو اپنے باپ سے بھی پہلے مسلمان ہوئے۔ نہایت ذہین،دیندار اور متقی نوجوان تھے۔ ساری ساری رات نفل نمازیں پڑھتے ۔ انھوں نے روزانہ روضے رکھنے کا عہد کر رکھا تھا۔ ایک مرتبہ یہ آ کر رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم سے کہنے لگے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اپنی دو انگلیاں چوس رہا ہوں۔ ایک پر شہد اور دوسری پر گھی لگا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید اور توریت دونوں سے استفادہ کر سکو گے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ بعد کے زمانے میں انھوں نے سریانی زبان کی بھی تعلیم پائی اور بائبل کا ترجمہ سریانی زبان میں پڑھتے ۔ اسی طرح ایک دن وہ قرآن کی تلاوت کیا کرتے اور دوسرے دن توریت کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ غرض اجنبی زبانیں سیکھنے کا کچھ نہ کچھ انتظام ہو چلا تھا۔ لکھا ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چار پانچ زبانیں آتیں تھیں۔ عربی تو ان کی مادری زبان تھی ہی، اس کے علاوہ انھیں عبرانی،قبطی اور فارسی زبانیں آتی تھی۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ جمل لکھا ہے کہ انھوں نے فارسی زبان بہت جلد اس وقت سیکھ لی جب ایک ایرانی وفد رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کے پاس یمن سے آیا۔ یہ وفد کچھ دن مدینہ میں مقیم رہا۔ ان لوگوں سے قریبی روابط کے باعث زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اتنی فارسی سیکھ لی کہ اس زبان میں روزمرہ کی گفتگو کر سکیں،ان کی ضرورتیں معلوم کرسکیں اور ان کے مختلف سوالوں کے جواب دے سکیں۔

بہر حال تعلیم کے متعلق ایک طرف ان انتظامات کا پتہ چلتا ہے جو دار السلطنت مدینے منورہ میں کئے گئے ، دوسرے دو انتظامات ہیں جو ان علاقوں کے لوگوں کو دین سے واقف کرانے کے لیے کئے گئے جو بہت تیزی سے اسلامی سلطنت میں شامل ہو رہے تھے۔

تعلیم کے متعلق ایک اور پہلو کی جانب آپ کی توجہ منعطف کراؤں گا۔ ویسے یہ میرا استنباط ہے،اس کے لیے میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ وہ امر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم مختلف علوم کی اہمیت سے واقف تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمان ان علوم کو سیکھیں۔ ان کے لیے الگ الگ درسی کتابوں کی بجائے ایک ہی درسی کتاب دینا پسند فرماتے اور چاہتے ہیں کہ ہر شخص اس درسی کتاب کو ہمیشہ پڑھتا رہے،چاہے اس فن کی چیزوں سے اس کو دلچسپی ہو یا نہیں۔ چنانچہ اگر کوئی شخص قرآن مجید کو بار بار پڑھے تو وہ اپنے فن کی چیزوں کو بھی پڑھے گا اور مجبور ہو گا کہ غیر فن کی چیزوں کو بھی ، خواہ سرسری نظر سے ہی سہی ،پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرے اور اس کے لیے ایسی معلومات ،جو اگر چہ اس کے لیے اپنے اختصاصی فن سے متعلق نہیں ہیں،کسی بھی وقت سودمند ثابت پوسکتی ہیں۔ قرآن مجید میں صرف دین و عقائد،عبادات اور متعلقہ اخلاقی چیزوں ہی کا ذکر نہیں ہے بلکہ اس میں بہ کثرت اور علوم بھی نظر آتے ہیں۔ اگر میں توریت کو بنی اسرائیل کی تاریخ کہوں تو اس میں پہلے تمہیدی باب کے بعد،جس میں حضرت آدم علیہ السلام سے موسیٰ علیہ السلام تک کے حالات بیان کئے گئے ہیں ، باقی سب چیز صرف بنی اسرائیل کی تاریخ سے متعلق ہے۔ اسی طرح آپ انجیل کو پڑھیں تو وہ ایک ہی شخص یعنی حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کی سوانح عمری ہے۔ اس کے برخلاف قرآن مجید نہ صرف تو عرب کی تاریخ ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کی سوانح عمری، بلکہ سارے بنی آدم کی تاریخ ہے۔ قرآن مجید میں بے شمار بادشاہوں ،نبیوں اور قوموں کے قصے بیان کئے گئے ہیں۔ ان کے ذریعے مسلمانوں کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ وہ ان گزشتہ لوگوں کے اچھے یا برے انجام کو سامنے رکھ کر ذمہ داری کے پورے احساس کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں ۔ ایک مرتبہ میں نے کوشش کی کہ ان مقامات کا شمار کروں جن کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس میں مصر،بابل اور یمن وغیرہ کے علاوہ بہت سے ملکوں کا ذکر ہے۔ اس میں ایک ایسے پیغمبر کا بھی ذکر آیا ہے جسے ہم ہندوستان سے متعلق کہہ سکتے ہیں۔ یہ پیغمبر حضرت ذوالکفل ہیں۔ان کے متعلق قرآن و حدیث میں تفصیلی صراحت موجود نہیں ہے بعض محدثین و مفسرین نے اس سلسلہ میں اگرچہ لکھا ہے، لیکن وہ قابل اعتماد نہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے استاد مولانا مناظر احسن گیلانی کہتے تھے کہ غالباً اس سے مراد گوتم بدھ ہے۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے تھے کہ ذوالکفل کے لفظی معنی کفل والے کے ہیں۔ اور کفل ‘کپل وستو ‘ کی معرب شکل ہے۔ یہ بنارس کے قریب ایک شہر ہے جس میں گوتم بدھ پیدا ہوئے تھے اس کی مزید تائید کے لیے وہ سورہ ‘والتین’ (1 تا 3: 95) کی طرف اشارہ فرماتے تھے کہ والتین والزیتونین وطور سینین وہذالبلدالامین میں تمام مفسرین  کے خیال میں چار پیغمبروں کا ذکر آیا ہے۔ زیتون سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب اشارہ کیا گیا ہے جن کو جبل زیتون سے بہت قریبی تعلق رہا اور سینا سےحضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جہاں خدا نے انہیں توریت عطا کی۔ ہذالبلدالامین یعنی محفوظ شہر سے مراد مکہ معظمہ ہے۔ لیکن پہلا لفظ ‘والتین’ کیا ہے؟ اس مین مفسرین خیال آرائی کرتے رہے۔ بعض لوگوں نے کہا،اس امر سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ بعض نے اس سے کسی اور نبی کی جانب اشارہ مراد لیا۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دوسرے نبیوں کی زندگی میں انجیر کی کوئی اہمیت حاصل نہیں رہی۔ جب کہ مولانا مناظر احسن گیلانی فرماتے تھے کہ گوتم بدھ کے ماننے والوں کا متفقہ بیان ہے کہ گوتم بدھ کو جنگلی انجیر کے نیچے نروان حاصل ہوا تھا۔ اس سے وہ استنباط کرتے تھے کہ قرآن مجید میں جہاں دنیا کے تمام بڑے مذاہب کا ذکر ہے۔ وہاں بدھ مت کا بھی ذکر ایک بہت ہی لطیف انداز میں کر دیا گیا ہے۔ گوتم بدھ کے حالات چونکہ عربوں کو تفصیل سے معلوم نہیں تھے لہٰذا اس پر زور نہیں دیا گیا۔

بہر حال ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ قرآن مجید میں مختلف علوم ہیں۔ اس میں تاریخ کا بھی ذکر ہے۔ اس میں ان علوم کا بھی ذکر ملتا ہے جنھیں ہم سائنس کا نام دیتے ہیں۔ مثلاً علم ِ نباتات، علم حیوانیات، علم حجر، علم بحر، علم ہئیت یہاں تک کہ علم جنین کا بھی ذکر ملتا ہے۔ قرآن شریف میں علم جنین کی اتنی مفصل تشریحات آئی ہیں کہ ان کا جدید ترین دور تک بھی اثر ہو رہا ہے۔میں نے کسی وقت آپ سے بیان کیا تھا کہ دو سال قبل پیرس میں ایک کتاب Bible Quran and Scienceچھپی ہے جو ایک مشہور سرجن بوکائی کی تصنیف ہے۔ بوکائی کو بچوں کی ولادت کے علم سے دلچسپی ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ علم جنین کے متعلق جو تفصیلات قرآن مجید نے دی ہیں ، ان کا علم نہ یونان کے مشہور قدیم اطباء کو تھا اور نہ زمانہ حال کے یورپی لوگوں کو ہے، جنھوں نے سالہاسال تک اس موضوع پر ریسرچ کی ۔ لیکن اب سے چودہ سو سال قبل، ایک بدوی صلی اللہ و علیہ وسلم اس کا ذکر کرتا ہے تو یقیناً یہ انسان کا کلام نہیں ہونا چاہئے۔قرآن کی اسی بات سے متاثر ہو کر اب سے کوئی دو ماہ پہلے بوکائی نے اپنے مسلمان ہونے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید میں ہمیں سمندری طوفان کا ذکر بھی ملتا ہے ، جہاز زانی ، موتی اور مرجان کا بھی خاصا ذکر ملتا ہے۔

غرض میرا گمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم چاہتے تھے کہ ہر مسلمان کو کچھ تو تعلیم بنیادی دی جائے جو لازمی ہو اور دیگر علوم کے بارے میں بھی اس کے پاس کچھ نہ کچھ معلومات ہوں جو کسی بھی وقت اس کے کام آسکتی ہیں۔ اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ قرآن مجید کو پڑھو، کیونکہ اس میں تقریباً تمام علوم کا ذکر کیا گیا ہے۔ مجھے اپنے اس لیکچر کو اب یہیں روکنا پڑے گا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس قدر معلومات عہدِ نبوی کے تعلیمی انتظامات کے متعلق کافی ہیں۔ اب صرف ایک چھوٹا سا جُز باقی ہے اور عہدِ نبوی میں علوم کی سرپرستی سے متعلق ہے، جس کے بارے میں کچھ زیادہ آپ سے عرض نہیں کر سکوں گا، صرف چند باتوں پر اکتفا کروں گا۔ اس کے بعد آپ کے سوالات ہوں گے تو ان کے ذریعہ اپنے بیان کی کوتاہیوں کی تلافی کی کوشش کروں گا۔

عہدِ نبوی میں علوم و فنون زیادہ نہیں تھے لیکن جو فنون تھے، ترقی پذیر تھے اور ان کی ضرورت بھی تھی۔ ان میں سے ایک چیز طبابت ہے۔ اس کے متعلق ہمیں بہت سی معلومات ملتی ہیں۔ عہدِ نبوی میں طبیبوں کی حالت اور جراحی کرنے والے سرجنوں کے حالات پر بھی کچھ روشنی پڑتی ہے۔ اسی طرح ایک حدیث میں ذکر ہے کہ ایک مرتبہ ایک صحابی بیمار ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کو جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تمھارے محلے یا قبیلے میں کوئی طبیب ہے؟ جواب میں دو نام بتائے جاتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم فرماتے ہیں ان میں سے جو ماہر تر ہو اسے بلاؤ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس بات کا بھی خیال رکھا کہ علم میں Specialization تخصص پیدا کریں اور ماہروں سے علاج کرائیں۔ اس لوگوں کو ماہر بننے کی ترغیب بھی ملتی ہے۔ اسی طرح اس کا بھی پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ و علیہ وسلم طبابت سے ناواقف شخص کو اس کی اجازت دینا نہیں چاہتے کہ وہ طبیب بن جائے۔ ایک حدیث کے الفاظ ہیں کہ جس شخص کو علم طب سے کوئی واقفیت نہیں، اگر وہ علاج کرے تو اسے سزا دی جائے گی کیونکہ اس کے اناڑی پن سے لوگوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس طرح کی اور مثالیں بھی ملتی ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ عہدِ نبوی میں علم طب کی کافی اہمیت سمجھی جاتی تھی اور علاج سادہ مفردات کے ذریعے ہوتا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بے شمار نسخے منسوب ہیں۔ لوگ آ کر آپ سے کہتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ تکلیف ہے تو آپ اس کے لیے تجویز فرماتے کے فلاں چیز استعمال کرو وغیرہ۔ اب طبِ نبوی کا پورے کا پورا انتظام اس طرح کی احادیث پر مشتمل ہو کر بن چکا ہے۔ زیادہ نہیں تو اس موضوع پر پندرہ بیس پرانی کتابیں میں دیکھ چکا ہوں۔

دوسرا علم جس کی بڑی اہمیت سمجھی جاتی تھی اور جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی تفصیل سے ہے، وہ علم ہئیت ہے۔ اس کے فوائد خود قرآن حکیم میں بھی بتائے گئے ہیں۔ اس علم کے ذریعے رات کے وقت مسافر اپنا راستہ معلوم کرسکتا ہے۔ اس کے ذریعے سے اوقات کا اور حج کے زمانے کا تعین ہو گا۔ علم ہئیت کی طرف بڑی توجہ کی جاتی تھی اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بڑی اچھی واقفیت تھی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ مدینہ میں ہجرت کے بعد جب مسجد نبوی کی تعمیر ہوئی یا مسجد قباء تعمیر کی گئی تو قبلہ کے رخ کے تعین کا سوال تھا۔ محض اندازے کی بنا پر قبلے کا تعین نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی علم ہئیت سے واقفیت کی بنا پر کوئی دشواری پیدا نہیں ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس سے کئی بار گزر چکے تھے۔تجارت کے لیے جب آپ بصریٰ (دمشق) تشریف لے گئے تھے تو بیت المقدس سے بھی آگے تک گئے تھے۔ یہ سارا سفر اونٹوں پر ہوتا تھا اور زیادہ تر رات کے وقت ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ اپنے تجربات کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ بیت المقدس کی جانب جانے والوں کو کس ستارے کی مدد سے آگے بڑھنا چاہئے۔ اور اسی طرح آپ کو بھی یہ معلوم تھا کہ کس ستارے کی مدد سے رات کے وقت بیت المقدس سے مکے اور مدینے جانے والوں کا اپنا سفر کرنا پڑتا ہے۔ اس علم کی بنا پر آپ نے بغیر کسی خاص دشواری کے قبلہ کے رخ کا تعین فرما لیا۔ اس طرح کی اور چیزیں بھی ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو علم سیکھنے کی ترغیب دی جاتی تھی۔ اس کا احادیث میں بھی ذکر ملتا ہے ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ لوگوں کو اپنے انساب سیکھنے چاہئیں۔ یعنی اپنے شجر ہائے نسب معلوم کرنے چاہئیں۔ان کی ایک عملی اہمیت بھی ہے کہ کوئی محرم سے نکاح نہ کرے۔ عرب کے قبائلی نظام میں جس میں فلاں بن فلاں کا بہت خیال رکھا جاتا تھا، اس بات کی خاص اہمیت تھی۔ اس طرح کی چیزیں صرف تاریخی معلومات ہی کے لیے نہیں بلکہ دیگر امور کے لیے بھی کارآمد ہوسکتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عہدِ نبوی میں کچھ علوم پائے جاتے تھے جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرپرستی فرماتے تھے اور کچھ چیزیں مثلاً عسکریات وغیرہ کے سلسلے میں لوگوں کو ترغیب و تشویق دلاتے تھے۔ اسی پر آج کا موضوع ختم کرتا ہوں۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

 

سوالات و جوابات

 

برادران کرام! خواہران محترم!السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

آج بہت سے سوالات آئے ہیں، میں کوشش کروں گا کہ پر سوال کا مختصراً جواب دوں لیکن اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنی تقریر کا کچھ حصہ مکمل کر لوں۔ دو نکتوں کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں جو ممکن ہے، آپ کے لیے دلچسپی کا باعث ہوں۔ اولاً میں نے آپ سے جو قصہ بیان کیا کہ جنگ بدر کے قیدیوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کا کام لیا تھا۔ اس واقعے کو ایک محدث نے اس عنوان کے تحت درج کیا ہے کہ کسی مشرک کو مسلمانوں کی تعلیم کے لیے استاد بنانے کا جواز (جواز المعلم المشرک) کیونکہ مکہ والے مشرک اور کافر تھے،اور مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے ان کا انتخاب کیا گیا تھا،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلموں سے بھی علم سیکھنا جائز ہے اور اس میں شرعاً کوئی امر مانع نہیں ہے۔

دوسرا نکتہ معمولی ہے ،میں آپ سے ذکر کر رہا تھا کہ قرآن مجید میں بہت سے علوم ہیں۔ اگر قرآن کو اس کی تفسیر کے ساتھ پڑھیں تو انسان کو بہت سے علوم میں شد بد حاصل ہو جاتی ہے مثلاً قرآن مجید میں مختلف مذاہب کے تقابلی مطالعے کے سلسلے میں بہت سے عقائد کا ذکر آیا ہے خواہ یہ ذکر ان کی تردید کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو لہٰذا قرآن مجید پڑھنے والے کا فریضہ یہ بھی ہو گا کہ تفسیر یا دوسرے وسائل کے ذریعہ سے ان مختلف ادیان کے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ کرے ایسی معلومات اس کے لیے تبلیغ دین کے سلسلے میں بھی کارآمد ہوسکتی ہیں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں سے مناظرے کے وقت بھی۔ مثلاً دوسرے مذاہب کے لوگ سوال یا اعتراض کریں تو ان کے مذاہب سے واقفیت بعض اوقات بڑی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ لطیفے کے طور پر عرض کروں گا کہ ایک مرتبہ ایک فرانسیسی نن نے جو الحمدللہ اب حاجی طاہرہ کے نام سے مسلمان ہو چکی ہیں ،تعداد ازدواج کے متعلق اعتراض کیا میں اسے جواب دیا کہ “اگر اور لوگ مجھ پر یہ اعتراض کریں تو قبول ،لیکن مجھے تم سے اس اعتراض کی توقع نہیں تھی کیوں کہ تمھارے اپنے عیسائی مذہب کے مطابق نن خدا کی بیوی کہلاتی ہے۔ اس طرح تمھارے شوہر کی تو لاکھوں بیویاں ہیں جب کہ تم صرف چار بیویوں کے باعث مجھ پر معترض ہو۔” اس بات کا اس کے دل پر اتنا اثر ہوا کہ دو سال کی خط و کتابت کے بعد اس نے اپنا کانونٹ چھوڑ دیا اور مسلمان ہو گئی۔ بہر حال دوسرے مذاہب سے واقفیت کے باعث بعض اوقات بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اب میں آپ کے جانب سے کئے ہوئے سوالات کا جواب دوں گا۔

 

سوال1:

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو توریت پڑھتے دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھا لیکن عبداللہ بن عمرو بن العاص کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس کی اجازت دی ۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

 

جواب:

اس سے پہلے کہ میں سوال سے متعلق اپنے خیالات ظاہر کروں، میں اس میں کچھ اضافہ کروں گا اور بھی لوگوں کو توریت پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام کو، جو پہلے یہودی تھے،پھر مسلمان ہوئے۔ ان کے متعلق صراحت سے مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اجازت دی کہ ایک دن توریت پڑھو اور ایک دن قرآن مجید تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کیوں روکا یہ بتانا قدرے مشکل ہے۔ اس سلسلے میں دو باتیں ذہن میں آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ توریت پڑھنے کی اجازت خصوصی ہوسکتی ہے جو صرف ان لوگوں کو دی جاسکتی ہے جن کی معلومات اسلام کے متعلق کافی ہوں،جن کا ایمان راسخ ہو۔اور جن کو غیر مذاہب کی کتابیں پڑھنے سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو ان حالات میں آپ پوچھیں گے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کیوں منع کیا گیا۔ اس سلسلسے میں عرض کروں گا کہ ایک تو ممانعت کا یہ واقعہ اسلام کے ابتدائی زمانے سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ عبداللہ بن عمرو کو اجازت دی گئی ہے وہ ذرا بعد کی چیز ہے۔ ان کے زمانے تک قرآن کا بڑا حصہ نازل ہو چکا تھا وہ بڑے قابل نوجوان تھے۔ ان کے متعلق یہ اطمینان تھا کہ وہ اسلام پر مستحکم ہیں۔ دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے توریت پڑھنے پر اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے تو باقی لوگ اسے اپنے لیے جواز بنا لیتے اور لوگ اسے اپنے لیے اجازت تصور کرتے حالانکہ یہ اجازت سب لوگوں کو نہیں دی جاسکتی تھی۔ اس سوال کے سلسلے میں ایک جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عہدِ نبوی میں بعض ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چیز سے منع فرماتے ہیں لیکن کچھ عرصے بعد اس کی اجازت دے دیتے ہیں۔ مثلاً ایک مشہور حدیث ہے کہ ” میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا’ اب تم زیارت کے لیے جاسکتے ہو” اس کے سوا میں کچھ عرض نہیں کرسکتا۔ ممکن ہے کوئی وجہ آپ کے ذہن میں آئی ہو۔

 

سوال 2:

بیعت عقبہ میں دیا جانے والا قرآن مجید کا نسخہ مدینے کی مسجد میں رکھا گیا تھا،کیا مدینے میں مسجدِ نبوی کے علاوہ بھی مساجد تھیں؟

 

جواب:

جی ہاں،مسجدیں تھیں اور بہت سی تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیعت عقبہ میں کوئی بارہ قبائل کے لوگ مسلمان ہوئے تھے۔ جن میں سے تین شاید اوس کے اور نو خزرج کے تھے چونکہ اوس اور خزرج میں جھگڑے تھے اس لیے کوئی توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ ان کی مسجد ایک ہی ہو شہر بڑا تھا اور اس کا پتہ بھی چلتا ہے کہ بہت سی مساجد تھیں لیکن ان کی صحیح تعداد بتانا دشوار ہے۔ ہمیں مسعودی کی تاریخ مدینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس مقام پر مسجد بنائی گئی تو وہاں دراصل ایک نئی مسجد بنانے کی بجائے حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی پرانی مسجد ہی میں توسیع کی گئی تھی اور اس پرانی مسجد میں صرف قبلہ بنو نجار کے مسلمان نماز پڑھتے تھے(1)۔ ممکن ہے ان کی تعداد پندرہ بیس رہی ہو لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد اس قبیلے کے علاوہ اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے آنے لگے تو وہ چھوٹی مسجد ناکافی ہو گئی،چنانچہ اس کی توسیع کی گئی۔ یہی مسجد نبوی کے نام سے مشہور ہے۔ بیعت عقبہ کے وقت کا قرآن مجید مسجد بنی زریق میں رہا۔

 

سوال3:

پچھلے کسی لیکچر میں آپ نے موسیقی کے بارے میں فرمایا کہ اسلام میں اس کی اجازت ہے۔ کیا ساز کی بھی اجازت ہے،جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں آلاتِ مزامیر کو توڑنے کے لیے آیا ہوں۔

 

جواب:

آپ مجھے اس حدیث کا حوالہ دیں اگر حدیث صحیح ہوئی تو میں قبول کرنے کے لیے پوری طرح آمادہ ہوں۔ باقی رہے ساز، تو میری موسیقی دانی کا یہ عالم ہے کہ مجھے علم نہیں کہ ساز کسے کہتے ہیں؟

 

سوال4:

دوسرے علوم کی طرح علم نجوم بھی ایک علم ہے اس علم کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر واضح کریں۔ فال نکالنے اور ہاتھ دکھانے وغیرہ کو بھی مد نظر رکھیں؟

 

جواب:

جس علم نجوم کا حدیث میں ذکر ہے اسے ہم Astronomyکہہ سکتے ہیں۔ یہ وہ نہیں ہے جسے Astrology کہتے ہیں ۔ اس کے متعلق صراحت کے ساتھ بعض حدیثوں میں ذکر آتا ہے جو لوگ علم نجوم کی اساس پر کچھ بیان کرتے ہیں وہ ایک سچی بات اور ہزار جھوٹی باتیں کرتے ہیں ۔ اس کی توجیہ یوں کی جاتی ہے کہ بعض جن آکر انھیں معلومات فراہم کرتے ہیں لیکن یہ ‘جن’ خود کس طرح علم حاصل کرتے ہیں؟ وہ آسمان کی طرف جاتے ہیں اور وہاں سے کبھی کبھی آسمان کی کوئی چیز ان کے کان میں پڑ جاتی ہے اور وہ زمین پر آکر اپنے معتقدین کو ایک سچ میں ہزار جھوٹ ملا کر بیان کرتے ہیں۔ غرض وجہ جو بھی ہو اس بیان کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ علم نجوم کو Astrology کے معنی میں اسلام میں کوئی مقبولیت حاصل نہیں ہے۔ فال نکال کر حوصلہ افزائی کرنا بارہا خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خاص کر قبائل کے ناموں کی اساس پر یعنی دو راستے ہوں ، ایک پر پڑنے والے قبیلے کا نام اچھے معنی رکھتا تو ادھر جاتے ، برا ہو تو اسے ترک فرما دیتے ہاتھ دکھانے (chiromancy Palmistry) میں ہتھیلی کی لکیروں کی اساس پر رائے زنی کی جاتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ کسی دو آدمیوں کی ہتھیلیوں کی لکیریں یکساں نہیں ہوتیں۔ انگوٹھے کے نشان کا بھی ہی حال ہے اور اسے مغربی ممالک میں تو شناخت کے لیے قانونی قبولیت بھی حاصل ہے۔ ہاتھ بتانا دل بہلائی کی حد تک ہو تو میری دانست میں اس کی کوئی شرعی ممانعت نہ ہو گی،ایک لطیفہ عرض کرتا چلوں۔ ایک مرتبہ پیرس میں میرا ہاتھ دیکھ کر کسی نے کہا تمھیں دو بیویاں ہونی چاہیں ۔ دوسرے نے کہا تم وزیر اعظم بنو گے۔ ان میں سے کوئی ایک بات بھی اب تک تحقیق پذیر نہیں ہوئی۔ ظاہر ہے کہ مجھے اس علم پر اعتقاد نہیں۔ یہ کم و بیش خواب کی تعبیروں کی طرح کی چیز ہے۔

 

(1) –ممکن ہے کہ یہ کوئی عمارت نہیں محض ایک احاطہ ہو۔ کود مسجد نبوی میں شروع میں چھت نہ تھی۔ جب جمعہ اور ظہر کے وقت نمازیوں کو دھوپ سے تکلیف ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھت ڈلوائی۔

 

سوال 5:

کیا وجہ ہے کہ دورِ نبوی اور اس کے بعد کے مدارس زیادہ تر دنیوی تعلیم کے لیے وقف تھے؟

 

جواب:

مجھے اس کا ثبوت چاہئے۔ میں نہیں جانتا کہ ایسا ہی تھا۔ اس کے بر خلاف جتنے بھی مدارس تھے ان میں دینی تعلیم ہی ہوتی تھی۔ مثال کے طور پر بغداد کا مدرسہ نظامیہ جس کی غزالی نے بھی صدارت کی تھی ، وہاں دنیوی تعلیم و علوم کا کوئی ذکر نہیں ملتا،دینی علوم ہی ملتے ہیں۔ دنیوی علوم کو چھوڑ دیا گیا تھا۔ مثلاً میں نانبائی ہوں یا لوہار اور سنار وغیرہ ہوں تو میں ہی اپنے بچے کو اس فن کی تعلیم دے دیتا ہوں۔ آج بھی رواج ہے کہ اگر کوئی اجنبی میرے پاس آئے تو میں اپنے فن کی ساری باتیں شائد اسے نہیں بتاؤں گا،لیکن اپنے بچے سے کچھ نہیں چھپاؤں گا۔ اسی لیے پرانے زمانے میں حکومت نے اس میں دلچسپی لینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ایسا کرنے کی کوئی ممانعت تھی۔ اگر آج کوئی اسلامی حکومت پیشہ وارانہ تعلیم کے مدارس اپنی نگرانی میں قائم کرنا چاہے تو اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے،بلکہ ایک لحاظ سے بہتر ہے کہ یہ تعلیم بھی بغیر کسی دشواری کےسارے بچوں کو حاصل ہو گی اور طالب علموں کو ایسے نامعقول اساتذہ سے نجات ملے گی جو کام کی باتیں اجنبی طالبِ علموں سے چھپاتے ہیں۔ ایسے اساتذہ کے بارے میں مجھے ایک حدیث یاد آ رہی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” جو شخص علم کو چھپائے ،قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی،لیکن ظاہر ہے کہ آخرت کے خیال کو بعض لوگ طاق میں رکھنے کے قابل سمجھتے ہیں ،عمل کرنے کے قابل نہیں۔

 

سوال6:

آپ نے ابھی فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مریض آتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حالات سن کر مرض کے مطابق کوئی دوا یا غذا علاج کے طور پر تجویز فرما دیتے ۔ ایسی دوائیں یا غذائیں چند صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم نے بھی نوٹ کیں؟

 

جواب:

یہ آخری جُز میں نے نہی کہا۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم نے اس کی روایت کی تاکہ اس کے ذریعے سے حدیث کی کتابوں میں اس کا ذکر آئے۔ لیکن صحابہ نے اس پر کتابیں نہیں لکھیں البتہ بعد کے زمانے میں بعض لوگوں نے طب نبوی کے نام سے حدیث سے حاصل ہونے والی ایسی معلومات کو جمع کر کے کتابی صورت دیدی۔ ان کتابوں کے نام آپ کو “کشف الظنون” میں مل جائیں گے اور ایسے مؤلفوں کی تعداد دس بارہ تک ہے۔ لیکن چونکہ یہ میرے فن کی چیز نہیں اس لیے میں نے یہ نام یاد نہیں رکھے۔ ایک مرتبہ جمع کیے،اور پھر بھول گیا۔ معذرت چاہتا ہوں۔

 

سوال 7:

کیا اسلام میں مخلوط تعلیم کی اجازت ہے اور اگر ہے تو اسلام کہاں تک اس کی اجازت دیتا ہے؟

 

جواب:

اسلام کے ابتدائی زمانے میں مسجد نبوی میں مرد بھی ہوتے تھے اور عورتیں بھی۔ ممکن ہے ان کے بیٹھنے کی جگہ الگ الگ ہو لیکن اس مقام پر ،جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تقریر فرماتے ، دونوں کے لیے بیک وقت استفادہ کرنے کا امکان تھا۔ اس سے استنباط کیا جاسکتا ہے کہ اسکول و کالج میں اس طرح کا انتظام کیا جاسکے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی نشستیں جدا جدا ہوں تو میرے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔ خاص طور پر اگر کسی فن کا ماہر صرف ایک عورت ہو یا صرف ایک مرد ہو تو اس سے دونوں کو استفادہ کرنا چاہئیے،لڑکوں کو بھی لڑکیوں کو بھی۔ اس کے سوا کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ دونوں کی تعلیم کا بیک وقت انتظام ہو سکے۔ مثلاً غور کیجئے کہ “کتاب الاموال” علم فینانس چیز ٹیکنکل چیز کی ایک پرانی کتاب ابو عبید قاسم کی ہے۔ اس کی روایت کرنے والوں کی فہرست میں سب سے نمایاں نام ایک عورت کا ہے۔ وہ اپنے گھر میں اس کا درس دیا کرتی اور اس درس کو سننے کے لیے مرد بھی آیا کرتے تھے۔ اس کا انتظام کہ مرد اور عورتیں اکھٹے درس میں شریک ہوں ،کیسے ہوتا تھا مجھے معلوم نہیں۔ لیکن اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک ہی استاد سے مرد اور عورت دونوں استفادہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح قرآن مجید (33:55) کا یہ فرمان کہ جب تم ازدواج مطہرات سے کوئی چیز پوچھنا چاہو تو پردے کے پیچھے سے پوچھو۔ ظاہر ہے کہ پردے کے پیچھے سے سوال کرنے کی ضرورت صرف مردوں کو ہی پیش آسکتی تھی،خواتین کے لیے اس کی ضرورت نہیں۔ ان مختلف پہلوؤں کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ ضرورت اور حالات پر منحصر ہے کہ اگر دونوں کے لیے الگ الگ مدرسے اور کالج بن سکتے ہیں تو بہت بہتر ورنہ پھر تعلیم کا انتظام ایک ہی جگہ بھی ہوسکتا ہے۔

 

سوال8:

ہمارے ملکی وسائل کے مطابق عورتوں کی اتنی یونیورسٹیاں قائم نہیں کی جاسکتیں جتنی مردوں کی ہیں۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیے علم کا حصول فرض ہے ان حالات میں اسلامی نقطہ نظر سے ان مسائل کا کیا حل ہو گا؟

جواب: میرا تاثر یہ ہے کہ لڑکیوں کی بڑی اکثریت اس قدر تعلیم پانے کی خواہشمند نہیں ہوتی جس طرح لڑکا تعلیم حاصل کرنا چاہے گا۔ اس لیے لڑکیوں کو عام طور پر مڈل اسکول یا ہائی اسکول تک تعلیم ، ان کی ضروریات کے مطابق دی جائے کیونکہ اس کے بعد ان کی شادی ہو جاتی ہے او ر انھیں اپنے گھریلو کام کاج میں مشغول ہو جانا پڑتا ہے جن لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم پانے کی ضرورت ہے ،تو میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ انتظام کو ترقی دی جاسکتی ہے۔ اور خالص زنانہ یونیورسٹیاں نہ بھی بن سکیں تو بھی ان کی تعلیم کا ایسا بندوبست کیا جاسکتا ہے کہ وہ قباحتیں پیدا نہ ہوں جو اب پیش آتی رہتی ہیں۔

 

سوال 9:

علمِ فلکیات والے کہتے ہیں کہ ستاروں کا اثر انسان کی عملی زندگی پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں مسلمان ہوتے ہوئے ہمیں نجومیوں کی باتوں پر کہاں تک یقین کرنا چاہئیے؟ اور اس طرح ہاتھوں اور زیورات میں استعمال ہونے پتھروں کے بارے میں بھی مہربانی فرما کر وضاحت کر دیں۔

 

جواب:

فلکیات کے دو پہلو ابھی ایک دوسرے سوال کے سلسلے میں عرض کر چکا ہوں ، اسٹرانومی اور اسٹرالوجی میں فرق کیجئے۔ اسٹرانومی بہت اچھی چیز ہے۔ اس کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے اور اسٹرالوجی کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اعتماد کرنے کی چیز نہیں ہے۔ کبھی کبھی اسٹرالوجی کے ماہر سچی بات ضرور کہہ دیتے ہیں لیکن وہ عام طور پر ایک من گھڑت چیز ہوتی ہے۔ خیال فرمائیے کہ یہ نجومی مجھ سے میری مستقبل کی زندگی ضرور بیان کرتے ہیں لیکن خود اپنی زندگی کے متعلق کبھی نہیں سوچتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ بیچارے تمام عمر مفلس ہی رہتے ہیں اور بھیک کی طرح لوگوں سے کچھ پیسے مانگتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ ان کی ان باتوں پر یقین نہ کریں۔ جو ہمارے سامنے ہمارے متعلق بیان کرتے ہیں ،یہ بات کہ ستاروں کا اثر انسانی زندگی پر ہوتا ہے،ممکن ہے ایسا ہوتا ہو کیونکہ ہمیں بعض اوقات مجبور ہو جانا پڑتا ہے کہ ایسی نظر نہ آنے والی چیزوں پر ایمان لائیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سب سمجھ میں نہ آنے والی باتیں ستاروں کے اثرات ہوتے ہیں بلکہ یہ کہ بعض اوقات غیر مرئی اشیاء کو ماننے پر مجبور ہو جانا پڑتا ہے ۔ ایک مثال دیتا ہوں کہ میرا منشاء واضح ہو۔ چند مہینے کی بات ہے کہ ایک عیسائی انجمن نے پیرس میں مجھے ایک جلسے میں شرکت کی دعوت دی اور وہاں ایک فرانسیسی عیسائی عورت نے مجھ سے سوال کیا کہ آج کل مسلمانوں کے ہاں دینی عبادات کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا کچھ عرصہ پہلے پیرس کے مسلمان نماز روزے پر کم توجہ دیتے تھے اب ان میں روز افزوں شوق نظر آتا ہے۔ اس نے کہا کہ ہمارے یہاں بھی یہی حال ہے۔ پہلے گرجے گھر خالی رہتے تھے،اب گرجے میں جگہ نہیں ملتی۔ اس کی کیا توجیہ کریں گے؟ اسے سوائے ستاروں کی گردش کے اثر کے اور کیا کہا جاسکتا ہے؟ اس کے سوا اور کوئی جواب میری سمجھ میں نہیں آتا۔ ہاں اسے اللہ کا فضل قرار دیا جاسکتا ہے اور اگر ہم اپنے فرائض و واجبات سے غافل ہوں تو اسے اللہ کا غضب کہا جاسکتا ہے۔

ستاروں کے اثرات کے سلسلے میں بچہ بچہ جانتا دیکھتا ہے کہ سورج کی گردش کے مطابق گرمی،سردی، بارش، خزاں، بہار کے موسم آتے ہیں ؛چاند کی گردش سے سمندر میں مد و جذر(جوار بھاٹا)آتا ہے۔ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ بعض بیماریوں جنون وغیرہ کے جوش میں اس سے شدت یا خفت بھی مشاہدے میں آتی ہے۔ دیگر کروڑوں ستاروں کے مجموعی اثرات اور ان ستاروں کے قران یعنی اجتماع کے مخلوط اثرات کیا پڑتے ہیں ،اس بارے میں ابھی ہماری معلومات صفر سے بھی کم ہیں۔ لیکن جیسا کہ حدیث شریف میں صراحت ہے” جو کہے گا کہ فلاں ستارے نے اپنے طلوع (نوء) کے باعث یہ اثر ڈالا ہے تو وہ کفر ہے’ کہنا یہ چاہیے کہ اللہ نے اس میں تاثیر پیدا کی ہے”۔ ہیرے جواہرات کے متعلق اسلام میں کوئی ممانعت نہیں،اور ان “پتھروں” پر زکات بھی نہیں ہے،ممکن ہے کہ ان پتھروں کے پہننے والے (یا والی) پر بھی ان پتھروں کے اثرات ہوتے ہوں۔

 

سوال 10:

آپ نے پہلے بھی فرمایا تھا اور آج بھی ذکر کیا ہے کہ مہاتما بدھ غالباً نبی تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ نبی بھیجے ہیں۔ یہی سوال سری کشن کے بارے میں بھی کیا جاسکتا ہے۔ ہندوؤں نے انھیں جس رنگ میں پیش کیا ہے وہ ایک الگ بات ہے۔ مگر در حقیقت سری کشن ایک اوتار تھے اور وحدانیت پر یقین رکھتے تھے۔ کسی جگہ پڑھا ہے کہ کورو و پانڈوؤں کی لڑائی سے پہلے سری کشن نے خدا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واسطہ دے کر پانڈوؤں کے لیے دعا مانگی تھی۔ بعد میں پانڈؤوں کو فتح بھی ہوئی۔ ایسی دعا جس میں بہت بعد کے نبی اور ان کے صحابی کا ذکر موجود ہو کوئی نبی ہی مانگ سکتا ہے؟ وضاحت فرمائیں۔

 

جواب:

میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واسطہ دے کر سری کشن جی نے دعا کی ہو۔ ویسے یہ بات میرے علم میں ہو بھی تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ میں نے گوتم بدھ کے نبی ہونے سے متعلق کچھ اشارے کیے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کسی اور کی نبوت سے انکار کرتا ہوں۔ سری کشن جی بھی نبی ہوسکتے ہیں۔ زردشت بھی نبی ہوسکتے ہیں،اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ لیکن ایسی تمام صورتوں میں جب تک قرآن و حدیث میں انکا نام نہ آیا ہو تو ہم یقین نہیں کر سکتے۔

 

سوال11:

جب تک عقائد صحیح نہ ہوں احکام شریعت سے آگاہی فائدہ مند نہیں۔ جب تک یہ دونوں نہ ہو تب تک قلب کی صفائی ممکن نہیں ہے۔ ہمارا اللہ ایک ،رسول ایک، قرآن ایک اور دین ایک۔ مگر ہمارے علمائے اکرام نے متعدد فرقے بنائے ہوئے ہیں مثلاً بریلوی،دیوبندی وغیرہ۔ ہر عالم ہم ان پڑھوں کو “ واعتصموا بحبل اللہ جمعیا ولا تفرقوا (قرآن 3:103) ” کی ترغیب و تبلیغ بھی کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ فرقے بھی خود عالموں نے بنائے ہیں۔ کیا اس آیت کا ان علماء پر اطلاق نہیں ہوتا؟ میرا ایک دوست ان فرقوں سے تنگ آ کر طنزیہ یہ کہا کرتا ہے کہ میں عیسائی بننا چاہتا ہوں کیونکہ عیسائیت میں کوئی فرقہ نہیں آپ یہ فرمائیں کہ فرقہ پرستی کا یہ مرض علمائے کرام کے اندر کیوں پھیل رہا ہے؟

 

جواب:

سوال کے دوسرے جُز کا میں پہلے جواب دوں گا کہ عیسائیت میں کوئی فرقہ نہیں ہے۔ میں نے جرمن زبان میں لکھی گئی ایک کتاب دیکھی ہے جس میں بارہ سو عیسائی فرقوں کا ذکر ہے۔ ظاہر ہے کہ ہمارے یہ دوست عیسائی بن کر مایوس ہی ہوں گہ کہ اسلام ہی بہتر تھا کہ وہاں شاید صرف بارہ ہی فرقہ ہیں۔ ویسے فرقہ بندی کا حل میرے نزدیک ایک ہی ہے کہ آپ دوسروں پر نہ جائیں اور اپنے پر توجہ دیں۔ آپ خود فرقہ پرستی کے مرض میں مبتلا نہ ہوں، اپنے آپ کو صد فی صد درست اور دوسروں کو بالکل غلط نہ کہیں۔ دوسروں کو ان کے خدا لے سپرد کر دیجئے۔ وہ اپنے اعمال اور عقائد کے بارے میں براہ راست خود جواب دے لیں گے۔ فرقہ بندی اسی طرح ختم ہوسکتی ہے ۔ جن لوگوں کو لکھنا پڑھنا آتا ہے ان کے لیے اپنے فرائض معلوم کرنے کے لیے آج بہت آسانی سے وسائل مہیا ہو جاتے ہیں۔ اسلام کی بنیادی چیزوں کے متعلق بے شمار کتابیں ہیں۔ قرآن مجید کے تراجم موجود ہیں۔ حدیثوں کے مجموعے موجود ہیں۔ میرے خیال میں یہ کام اب تو بہت آسانی سے ہوسکتا ہے کہ ہم فرقہ بندی میں مبتلا نہ ہوں اور آپس کی لڑائی سے محفوظ رہیں۔

 

سوال12:

کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد کسی انسان کی نجات کلمہ طیبہ پڑھے بغیر ممکن ہے؟ اگر کوئی شخص لوگوں کے ساتھ بہت زیادہ بھلائی کے ساتھ پیش آنے والا ہو تو کیا حکم ہے؟

 

جواب:

اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی (150:4) ایک آیت ہے، جس میں صراحت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول میں تفریق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ایک پر ایمان لاتے ہیں، دوسرے پر نہیں لاتے تو وہ مسلمان نہیں کافر ہیں۔ ان حالات میں ہم آپ کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ جو شخص صرف اخلاق حسنہ پر عامل ہے اس کی نجات ہو جائے اس کے بر خلاف ۔ اللہ کا ، جو نجات عطا کرنے والا ہے، حکم ہے کہ تم میرے بھیجے ہوئے نبی پر ایمان لاؤ۔ اس حکم کی تعمیل ضروری ہے ایک آدھ استثناء کی صورت موجود ہے ۔ مثلاً کسی شخص کو نبی کی بعثت کی اطلاع نہ ہوئی ہو۔ اس کا امکان آج بھی ہے ۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی اطلاع قطبِ شمالی و جنوبی کے لوگوں تک ہمارے مبلغین کی کوشش کے باوجود نہیں پہنچی۔ ایسے لوگوں کی حد تک یہ کہنا کہ ان پر اسلام لانا واجب ہے یا نہیں؟ یہ سوال حل طلب ہو جاتا ہے۔ میں یہ کہوں گا کہ اگر وہ ایسی باتوں پر یقین رکھتا ہے جنھیں عقل بھی تسلیم کرتی ہے مثلاً اللہ کا ایک ماننا وغیرہ تو شاید خدا جو رحیم و کریم اور غفار ہے ایسے لوگوں کو معاف کر دے اور انھیں دوزخ میں نہ بھیجے لیکن جن لوگوں تک اسلام کی تبلیغ پہنچ چکی ہے اور وہ ضد یا کسی اور وجہ سے اسے قبول نہیں کرنا چاہتے تو محض اخلاق حسنہ کے باعث، خدا ہی کے فرمان کے مطابق، ان کی نجات نہ ممکن ہے۔ ایسے لوگوں کا معاملہ ہمیں خدا پر ہی چھوڑ دینا چاہئیے۔ اگر بخش دے گا تو اس سے ہمیں آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

 

سوال 13:

نماز پڑھتے وقت سر پر کپڑا لینا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر نماز سر ڈھانپے بغیر پڑھی جائے ، جب کہ کپڑا موجود ہو تو کیا حکم ہے؟ دلیل دیں۔

 

جواب:

اس سوال کے دو جواب ہیں،ایک عورتوں کے متعلق اور دوسرا مردوں کے متعلق ہے۔ عورتوں کے لیے صراحت سے ذکر ملتا ہے کہ وہ اپنے سر کو ڈھانپیں اور بالوں کو بھی چھپائیں۔ لہٰذا ان کی حد تک ننگے سر نماز پڑھنا عام حالات میں مناسب نہیں ہو گا۔ بجز اس کے کہ کوئی خاص حالت پیش آئے،مثلاً عورت کے پاس کپڑے نہیں اور وہ تنہا ہے تو یہ اس کی مجبوری ہے خدا اسے معاف کرے گا۔ مرد کے متعلق سر ڈھانپنا ضروری نہیں ہے۔ میں ضروری نہیں کا لفظ استعمال کر رہا ہوں۔ ٹوپی پگڑی پہنے تو بہت اچھا ہے،نہ پہنے تو کسی کو کافر کہنے کا حق نہیں۔ چنانچہ اس قسم کا یک واقعہ صحیح بخاری کی کتاب الصلاۃ میں آیا ہے۔ ایک صحابی تھے حضرت جابر ۔ ان کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت بعد، خلافت کے زمانے میں ایک دن ان کو کچھ لوگوں نے بہت ادب سے اپنے یہاں کھانے کی دعوت دی۔ کھانے کے بعد لوگوں نے درخواست کی کہ آپ ہی نماز پڑھائیے ہم آپ کے پیچھے نماز پڑھنے کا شرف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ غالباً اس سے کچھ پہلے آپ کے سوال ہی کی قسم کی گفتگو ہوئی تھی۔ بہر حال ان صحابی نے نماز پڑھانا قبول کیا ۔ نماز سے قبل انھوں نے سجادہ کی طرف جاتے ہوئے پہلے عمامہ اتارا پھر جبہ اتار پھینکا اور پھر قمیص اتار دی۔ صرف تہمد (لنگی) کے ساتھ آگے آئے اور آگے بڑھ کر نماز شروع کی۔ لوگ حیران ہوئے۔ اس پر انھوں نے جو کچھ فرمایا وہ بخاری میں ان الفاظ میں آیا ہے، کہ ” تم جیسے جاہلوں کو بتانے کے لیے میں عمداً ایسا کیا ہے۔ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تمھارے خیال میں ہمارے پاس دو دو کپڑے ہوتے تھے؟ اس وقت ہم ننگے سر ہی نماز پڑھتے تھے۔” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سر کا ڈھانپنا بے شک اچھا ہے، ادب کا تقاضہ ہے اور اس آیت شریف (31:7) کے مطابق ہے کہ جب نماز کے لیے جاؤ تو زینت کے ساتھ جاؤ۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں کہ یہ واجب ہے۔ اگر بغیر سر ڈھانپے نماز پڑھنا چاہیں تو اس میں کوئی امر مانع نہیں۔ اصل چیز دل کا خشوع و خضوع نہ کہ ظاہری ہئیت۔

 

سوال14:

آپ نے فرمایا مسجد نبوی کے لیے پہلے والی مسجد کی توسیع ہوئی۔ پھر آپ نے فرمایا مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت تعین قبلہ کا مسئلہ پیدا ہوا۔ جب مسجد موجود تھی تو قبلہ کا تعین بھی پہلے سے موجود ہونا چاہئیے۔؟

 

جواب:

قبلہ کا تعین پہلے سے موجود ہو گا اور مدینے والوں نے بھی قبلہ (بیت المقدس) کی جہت اسی طریقے سے معین کی ہو گی جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ لیکن مجھے معلوم نہیں کہ پرانی مسجد کا رخ سو فی صد اتنا ہی درست تھا جس قدر آج کل کی مسجد کا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ آج کل مسجد جو عہدِ نبوی کے قبلہ دوم یعنی کعبۃ اللہ کی سمت میں بنائی گئی ہے وہ اتنا صحیح ہے کہ قطب نما اور جدید ترین آلات کے ذریعہ سے بنائے جانے والے رخ سے بھی زیادہ صحیح ہے یہ بات میں مذاق میں کے طور پر نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ یہ امر واقعہ ہے۔ پہلی جنگ عظیم سے کچھ پہلے ترکوں نے حجاز ریلوے کے نام سے ایک ریل بنائی جو شام اور اردن سے گزرتے ہوئے مدینے تک آ چکی تھی۔ مدینہ کا سٹیشن اب تک موجود ہے۔ اس کےسامنے ایک مسجد بھی ہے جو ریلوے کے نمازیوں کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس مسجد کے رخ کا تعین جرمن انجنئیر نے کیا تھا۔ ا س کے اندر آپ جا کر دیکھئے، چونکہ قبلہ کا رُخ غلط ہے اس لیے جائے نمازوں کو ترچھا کر کے بچھایا جاتا ہے۔

 

سوال 15:

کیا اسلامی معاشرہ کی تعمیر کے لیے اسلامی تعلیمات کا عام ہونا لازمی ہے؟

 

جواب:

میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلہ میں دو جواب نہیں ہو سکتے، ایک ہی جواب ہو گا کہ اسلامی تعلیمات کے بغیر کوئی معاشرہ مسلمان نہیں کہلا سکتا۔

 

سوال16:

کیا تغیر شدہ معاشرہ میں اسلام کو سمجھنے کے لیے مادری زبان کا عام ہونا ضروری ہے؟

 

جواب:

اگر اس کے بغیر آپ کوئی تعلیم پا سکتے ہیں تو اس میں کوئی امر مانع نہیں زبان مقصد نہیں بلکہ محض ایک وسیلہ ہے۔ ہم اسلامی معلومات جس ذریعے سے بھی حاصل کر سکیں، ہمیں حاصل کرنی چاہیئے۔اس کے لیے زبانوں کی قید نہ صرف بے معنی ہے بلکہ ضرر رساں بھی۔

 

میں آپ کا مکرر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ خاص طور پر محترم صدر کا جنھوں نے مہربانی فرما کر دیر تک اپنا وقت دیا اور یہاں موجود رہے۔ السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

٭٭٭

ٹائپنگ: عبد الحسیب

ماخذ: اردو محفل

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید