FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

سچائی کی تلاش میں

 

 

                عبدالعزیز گپتا

ممبئی

 

 

 

 

پیش لفظ

 

نحمدہ و ن صلی علی رسولہ الکریم

اما بعد!  کتاب ہذا’’ سچائی کی تلاش میں ‘‘کی تالیف کا مقصد غیر مسلموں تک اپنی بات کو پہنچانا ہے۔ جس ایمان کی دولت عظمیٰ سے اللہ رب العزت نے مجھ کو نوازا دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ اس کو کسی طرح ان تک پہنچایا جائے جو اب تک اس عظیم دولت سے محروم ہیں۔ مجھے اس نعمت کو پا کر تقریباً بارہ سال کا عرصہ گزر چکا، اسی وقت سے میرے دل میں غیر مسلموں کواسلام کی دعوت دینے کا جذبہ پیدا ہو گیا لیکن اپنی کم ہمتی اور کم علمی کے احساس کی بناء پر اس جانب کوئی پیش قدمی نہ ہوسکی۔ اب بہت ہمت جٹا کر اپنی بات کو اس کتاب کے ذریعہ آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ دورانِ تالیف بار بار یہ احساس ہوتا کہ مجھ جیسے کم پڑھے لکھے آدمی کو کیا حق ہے کہ وہ کوئی کتاب لکھے، اس احساس پر ہمت پھر کچھ پست ہونے لگتی لیکن اپنی اہلیہ کے شدید اصرار کے ساتھ ساتھ اس خوف سے پھر ہمت بندھ جاتی کہ مرنے کے بعد اگر اللہ رب العزت نے یہ سوال کر دیا کہ جس ایمان کی دولت ہم نے تمہیں بغیر مانگے عطا کی تھی وہ دولت تم نے دوسروں تک کیوں نہیں پہنچائی۔ امت محمدیہ کا کام ہی حق پر عمل کرتے ہوئے دوسروں تک حق کو پہنچانا ہے چنانچہ اہلیہ کے اصرار و حوصلہ افزائی اور اس سوال کے خوف نے اس کتاب کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا۔

اس کتاب میں توحید، رسالت اور آخرت کو قرآن، وید اور مثالوں سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ایمان کی اہم ترین بنیاد یں ہیں۔ اس کتاب کو اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں لکھا گیا ہے۔ اردو میں اس لئے کہ مسلمان اسے پڑھنے کے بعد اپنے ذمہ عائد شدہ غیروں کو اسلام کی دعوت دینے کے فریضہ کی ادائیگی کریں۔ اور ہندی میں اس لئے کہ غیر مسلم حضرات اس کو پڑھنے کے بعد اپنے عقائد پر نظر ثانی کریں اور اسلام کی دعوت و حقانیت کو قبول کر کے دنیا اور آخرت میں سرخ رو ہوں۔ خوشی کی بات ہے کہ اس کتاب کا انگریزی زبان میں ہو چکا ہے۔

یہ دوسرا ایڈیشن جو آپ کے ہاتھوں میں ہے، اس میں ویدوں کے حوالوں میں اصل سنسکرت متن کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جس سے دعوت دینے میں پختگی پیدا ہو گی۔ میں اس ایڈیشن کے سلسلے میں چند لوگوں کا تہہ دل سے شکر گذار ہوں جن کی خاص توجہ کی وجہ سے یہ کام میرے لیے آسان ہوا بالخصوص مفتی (اچاریہ)محمد سرور صاحب لکھنؤ، جنہوں نے اپنی مصروفیات کے باوجود وقت نکال کر حوالے فراہم کرنے میں میری کافی حد تک مدد کی۔ اور حضرت مولانا عبداللہ حسنی صاحب دامت برکاتہم جن کے ایماء پر (پنڈت )معظم حسین صاحب لکھنؤ نے سنسکرت کے حوالوں کی تصحیح میں مدد کی۔ اور آخر میں عبدالرشید باغا (مقیم گرانڈ ہوٹل ممبئی)جنہوں نے تصحیح کے ساتھ مفید مشوروں سے نوازا۔

اس دوسرے ایڈیشن میں دو نئے عنوانوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ایک ’آنکھوں کا دھوکہ‘اوردوسرا’مورتی پوجا کیوں ؟‘۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ یہ کتاب میری اور میرے اہل خانہ کی نجات کا ذریعہ نیز میرے والدین اور خاندان سمیت تمام غیر مسلموں کی ہدایت کا ذریعہ بن جائے۔ آمین!

عبدالعزیز گپتا، بمبئی

abdulazizgupta@yahoo.com

 

 

 

کچھ اپنے بارے میں

 

۸؍ جون ۱۹۷۵ء کو ایک ہندو بنیا خاندان میں میری پیدائش ہوئی، بچپن سے میں اپنی والدہ کا لاڈلا رہا انہوں نے ایک کانوینٹ (Convent)  اسکول میں میرا ایڈمیشن کرایا۔ دسویں جماعت تک میں نے اسی اسکول میں تعلیم حاصل کی، والدہ صاحبہ کو یہ توقع تھی کہ میں بڑا ہو کر انجینئر بنوں گا، دسویں جماعت میں اچھے نمبرات سے کامیاب تو ہو گیا لیکن ڈپلومہ میں ایڈمیشن کے لئے درکار نمبرات پورے نہ ہونے کی وجہ سے ڈپلومہ میں داخلہ نہ مل سکا۔چونکہ مجھے ڈپلومہ میں داخلہ مل جانے کی پوری امید تھی اس لیے میں نے کسی دوسرے کالج میں داخلہ کی کوئی کوشش نہیں کی حتیٰ کہ جولائی کی آخری تاریخیں آ گئیں۔ مجبوراً  مجھے ایک جونئیر کالج کے اندر سائنس میں ایڈمیشن لینا پڑا۔ وہیں عزیر نامی ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی جو میرے گھر کے قریب ہی رہتا تھا، نہایت سیدھا سادا اور با اخلاق لڑکا تھا۔ اسی کے ساتھ کالج آنا جانا رہا۔ بہت جلد ہم جگری دوست بن گئے۔ اس کے اچھے اخلاق سے متاثر ہو کر ایک دن میں نے اس سے کہا کہ ’’میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں ‘‘اس نے پوچھا کیا تمہارے پنڈت نے تمہیں مسلمان بننے کے لئے کہا ہے ؟ میں نے کہا ’’نہیں ‘‘ وہ بہت پریشان ہوا کیونکہ میں اس وقت قانوناً نابالغ تھا۔ میری عمر صرف ساڑھے سولہ سال تھی۔ سترہ سال کی عمر میں پہلی مرتبہ عید الاضحی کی نماز پڑھی اس کے بعد جمعہ کی نمازیں پڑھنا شروع کر دیں۔ ڈیڑھ سا ل کا عرصہ اسی طرح گزرا۔ اس کے بعد میں پانچوں نمازیں پابندی سے پڑھنے لگا۔ رمضان کے روزے بھی رکھنے شروع کر دیئے۔ والدہ کو میرے متعلق شک ہونے لگا اس کے باوجود شاید انہوں نے نظر انداز کر دیا۔ بارہویں کے بعد ایک سال تعلیم کا سلسلہ منقطع رہا پھر ایلفسٹن کالج میں ہم دونوں دوستوں نے آرٹس میں داخلہ لیا۔  وہیں پریتی مہاجن نامی ایک لڑکی سے میری ملاقات ہوئی جس نے بعد میں اسلام قبول کر لیا پھر اسی کے ساتھ میرا نکاح ہوا۔

جب میں نے اپنے دوستوں کو اس سے نکاح کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو میرے دوستوں نے مجھے سمجھایاکہ ابھی نکاح کرنا مناسب نہیں کیوں کہ نہ تمہارا کوئی کاروبار ہے اور نہ ہی تمہارا ذاتی گھر اور جب تم نکاح کرو گے تو تمہارے گھر والوں کو تمہارے قبول اسلام کا بھی پتہ چل جائے گا جس سے تم کو گھر بھی چھوڑنا پڑے گا اس وقت میرے استاذ مفتی عبدالحمید صاحب نے مجھے ہمت دلائی اور کہا :تم نکاح کر لو، آگے اللہ مالک ہے ‘‘ نکاح بروز جمعہ ۱۹۹۶ء جامع مسجد میں ہوا۔ نکاح کے وقت میری عمر ساڑھے اکیس سال اور اس کی عمر ساڑھے اٹھارہ سال تھی۔ نکاح کے بعد جب شام میں سمیہ ؔ کے گھر والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا، سمیہ کے والد اس کی سہیلیوں کے ساتھ میرے دوست عزیر کے آفس اور گھر پر پہنچ کر پورے گھر کی تلاشی لی۔ اللہ کا کرنا کہ کچھ ہی دیر پہلے ہم گھر سے نکلے تھے، عزیر کے گھر والوں کو بہت پریشان کیا لیکن وہ لوگوں کو اپنے مقصد میں کامیابی نہیں ملی۔ نکاح کے وقت میرے والدین سفر میں تھے دو روز بعد جب وہ لوٹے تو ان کو ساری باتوں کا پتہ چلا۔ ویسے میں نے اپنی والدہ کو نکاح سے کچھ روز پہلے سمیہؔ سے ملاقات کرا کر آگاہ کر دیا تھا کہ میرا نکاح اسی لڑکی سے ہو گی۔ یہ بات والدہ کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ میں اتنی جلدی یہ قدم اٹھاؤں گا۔ بہرحال جب والدہ کو میں نے کھنڈالا سے فون کیا تو زار و قطار رونے لگی اور فوراً آنے کو کہا اگلے دن جب میں گھر پہنچا توسارے گھر والے جمع ہو گئے اور رونے لگے اور مجھ سے کہا کہ تم کو ہمارے ساتھ ہی رہنا ہے۔ میں نے بہت کہا کہ یہ ممکن نہیں لیکن ان لوگوں نے کہا کہ جس طرح رہنا چاہتے ہو رہو لیکن ہمارے ساتھ رہو۔

کچھ دنوں بعد میرے چچا زاد بھائیوں نے مسجد میں نماز پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن میں نے صاف کہہ دیا کہ یہ نہیں ہوسکتا، میری اہلیہ کو میرے رشتے داروں نے بہت ورغلانے کی کوشش کی اور کہا اگر تو چاہے تو اجئے ابھی بھی پلٹ سکتا ہے۔ لیکن وہ مجھے ان ساری باتوں کی اطلاع دیتی رہی ۔کچھ دنوں بعد جب اہلیہ کے ساتھ زیادتی بڑھ گئی تو مجبوراً ہمیں گھر چھوڑنا پڑا۔ تقریباً پانچ مہینے ہم لوگ گھر والوں کے ساتھ رہے۔ چونکہ گھر سے اچانک نکلنا ہوا اس لیے کہاں جاتے ۔پھر میں نے عزیر کو میں نے فون کر کے کہا کہ میں گھر چھوڑ رہا ہوں۔ عزیر نے فوراً اپنے گھر آنے کو کہا۔

عزیر اور اس کے اہل خانہ نے ہمارا ہر وقت ساتھ دیا۔ نکاح کے وقت بہت سے لوگ ڈر کے مارے بھاگ گئے لیکن عزیر کے گھر والے ڈٹے رہے۔ جس میں قابلِ ذکر عزیر کے والد مولانا جنید احمد صاحب بنارسی(ابو)اور عزیر کے بڑے بھائی زبیر احمد ہیں۔ تقریباً ہم لوگ عزیر کے گھر ایک ماہ تک رہے۔ پھر ایک کرایہ کا مکان مدن پورہ کے علاقہ میں لیا۔ میں نے ایک کمپنی میں تین مہینے تک ملازمت کی۔ اسی درمیان میرے پھوپھا نے مجھے ملنے کے لیے کہا۔ جب میں ان سے ملنے گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ نوکری میں کتنی تنخواہ ملتی ہے تو انہیں جواب دیا کہ ۵۰۰۰مل جاتا ہے۔ انہوں نے متعجب ہو کر کہا کہ اتنا تو تم ایک مشین بیچ کر کما سکتے ہو۔ کیوں نہ تم مشینوں کا کاروبار شروع کر دو۔ بس اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے میں نے ملازمت چھوڑ دی اور اپنا کاروبار شروع کر دیا۔

اس وقت میری عمر ۳۴ سال ہے۔ الحمد للہ دو بچیاں ہیں۔ اپنا گھر اور کاروبار ہے۔ والدین اور سسر ال والوں کے ساتھ بھی تعلقات استوار ہیں۔ وہ آج بھی ہم سے محبت کرتے اور ہمارے گھر آتے جاتے ہیں۔ یہ ہے میری اب تک زندگی کا اجمالی خاکہ جسے میں نے بہت اختصار کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔

مجھ پہ یہ لطفِ فراواں میں تواس قابل نہ تھا

تیری اس رحمت پہ قرباں میں تو اس قابل نہ تھا

یہ تھی تیرے دستِ اجل تیرے در سے اے کریم

لیئے چلا بھر کے دامن میں تو اس قابل نہ تھا     (مجذوب)

٭٭٭

 

 

 

پرمیشور کون؟

 

اس دنیا میں تین قسم کے لوگ ہیں :

ایک تو وہ ہیں جو خدا کو مانتے ہی نہیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو ایک سے زیادہ خدا کو مانتے ہیں۔ تیسرے وہ لوگ ہیں جو صرف ایک خدا کو مانتے ہیں۔

ذیل میں قرآن، وید، حکایات اور مثالوں کی روشنی میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ ان تین مختلف عقائد و نظریات کے حامل لوگوں میں کس عقیدہ اور نظریہ کے لوگ حق پر ہیں۔

پرمیشور یعنی خدا کے بارے میں قرآن مجید کی آیات دیکھئے :

ترجمہ:’’کہو وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ(اس نے ) کسی کو جنا اور نہ (وہ)کسی سے جنا گیا، اس کے جوڑ کا کوئی نہیں۔ ‘‘(سورہ اخلاص)

اب ویدوں میں کچھ شلوک دیکھئے

1- ترجمہ:پرمیشور کے علاوہ  (اترکت )کسی کو مت پوجو(رگ وید  ۱۔ ۱۔ ۸)

2- ترجمہ: تمہارے جیسا کوئی اور نہیں ہو گا کوئی ظاہر بھی نہیں ہوا نہ حال میں کوئی ہے۔

3-  ترجمہ: وہ پرمیشور نہ دوسرا ہے نہ تیسرا اور نہ چوتھا ہی اسے کہا جا سکتا ہے، وہ پانچواں چھٹا اور ساتواں بھی نہیں ہے، وہ آٹھواں، نواں اور دسواں بھی نہیں وہ اکیلا ہے وہ ان سب کو الگ الگ دیکھتا ہے جوسانس لیتے ہیں یا نہیں لیتے، تمام طاقتیں اسی کی ہیں وہ بڑی طاقت والا ہے جس کے قبضۂ قدرت میں پوری کائنات ہے، وہ ایک ہے اس کی طرح کوئی دوسرا نہیں اور یقینی طور پر وہ ایک ہی ہے۔ (اتھروید۱۳:۴:۱۶)

یہاں آپ قرآن کی آیات اور وید کے شلوکوں کا موازنہ کر کے دیکھیں کہ دونوں کی تعلیمات میں کتنی یکسانیت ہے۔ دونوں جگہوں پر خالص توحید کا پیغام ملتا ہے جو اتنا واضح ہے کہ اور کسی تشریح کا محتاج نہیں۔

ایک مثال:

یہ حقیقت اس مثال سے بھی واضح ہوتی ہے کہ ایک  غیرت مند شوہر ہر گز یہ برداشت نہیں کرسکتاکہ اس کی بیوی اپنے شوہر کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی اپنا شوہر بنائے، جب ایک آدمی یہ گوارہ نہیں کر سکتا کہ اس کی بیوی اس کے سوا کسی اور کو چاہے تو اس پوری دنیا ( سنسار )کو بنانے والا ایک پرمیشور یہ  کیسے برداشت کرسکتا ہے کہ اس کے بندے جن کو اس نے ماں کے پیٹ میں ایک ناپاک نطفہ سے بنایا اور پھر جب وہ پیدا ہوئے تو ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا اور جب وہ بڑے ہو کر اپنے خالق و مالک کی پرستش کے مکلف ہو جائیں تواسی کو بھلا کر دوسروں کی پرستش شروع کر دیں۔ ایک شوہر اپنی بیوی کے ہر قصور کو معاف کرسکتا ہے لیکن کسی دوسرے آدمی کے ساتھ اس کے ناجائز تعلقات ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ ایسے ہی پرمیشور اپنے بندوں کے تمام گناہوں کو معاف کر دے گا لیکن جس نے اس کے ساتھ کسی کو ساجھی اور شریک ٹھہرایا ہو گا اس کو ہرگز معاف نہیں کرے گا۔

یہاں دو واقعات ملاحظہ فرمائیں جس سے بہت ساری گتھیاں سلجھیں گی:

پہلا واقعہ: ایک بزرگ جو امام ابوحنیفہ کے نام سے مشہور ہیں، ایک مرتبہ ان کا ایک دہریہ کے ساتھ مناظرہ طے ہوا جب مناظرہ کا وقت ہوا تو سارے لوگ جمع ہو گئے، دہریہ بھی آ گیا لیکن امام صاحب نہیں آئے۔ دہریہ یہ سمجھا کہ امام صاحب ڈر کر نہیں آئے۔ کچھ دیر بعد جب اما م صاحب پہنچے تو دہریہ بہت ناراض ہوا۔ امام صاحب نے کہا بھئی ناراض مت ہو دراصل میں آ رہا تھا راستے میں ایک دریا پڑ  گئی جب اس کے قریب پہنچا تو وہاں کوئی کشتی نہ تھی تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد میں نے دیکھا کہ اچانک ایک پیڑ کٹا اور اس سے تختے خود بخود کٹ کر تیار ہو گئے جب کشتی بن کر تیار ہو گئی تومیں اس پر سوار ہو کر پار ہو گیا۔ یہ سن کر وہ دہریہ ہنسا اور کہنے لگا امام صاحب!آپ اتنے بڑے امام ہو کر بیوقوفوں جیسی باتیں کر رہے ہیں۔ ’’کیا کہیں درخت بھی اپنے آپ کٹ کر کشتی بن سکتا ہے؟‘‘۔ امام صاحب نے کہا ’’بس !بس! مناظرہ ختم ہو گیا یہی تو میں سمجھاناچاہتا تھا ارے بھائی ! جب ایک کشتی اپنے آپ نہیں بن سکتی تو بھلا بتاؤ اتنی بڑی دنیا اپنے آپ کیسے بن سکتی ہے ‘‘۔

دوسراواقعہ:مامون رشید ایک مشہور بادشاہ گزرا ہے اس کے دربار میں علامہ شعبی نامی ایک بزرگ تھے ایک دن بادشاہ نے ان سے تین سوال کئے :

پہلا سوال: اللہ کیا کرتا ہے ؟

علامہ نے کہا اس وقت آپ کو میری ضرورت ہے آپ تخت سے اترئیے اور خود علاّمہ تخت پر بیٹھ گئے۔ پھر آپ نے کہا دیکھو پہلے تم تخت پر بیٹھے تھے اب میں تخت پر بیٹھا ہوں ایسے ہی اللہ کبھی کسی کو کبھی کسی کو ملک وسلطنت عطا کرتا ہے۔

دوسرا سوال:اللہ کہاں ہے ؟

اس کے جواب میں علاّمہ شعبی نے دودھ منگوایا اور بادشاہ سے دریافت کیا ’’ کیا اس میں مکھن ہے ؟ ‘‘ بادشاہ نے جواب دیا ’’ہاں ‘‘آپ نے دریافت کیا ہاتھ رکھ  بتاؤ کہاں ہے ؟بادشاہ بتا نہ سکا تو آپ نے فرمایا جس طرح تم دودھ میں ہاتھ رکھ کر نہیں بتا سکتے کہ مکھن کہاں ہے۔ اسی طرح اللہ کی ذات بھی ہر جگہ موجو دہے لیکن تم ہاتھ رکھ کر نہیں بتا سکتے کہ کہاں ہے۔

تیسرا سوال: اللہ سے پہلے کیا تھا؟

آپ نے بادشاہ سے دریافت کیا کہ’’ ایک سے پہلے کیا ہے ؟‘‘بادشاہ نے جواب دیا ’’کچھ نہیں ‘‘برملا آپ نے فرمایا ایسے ہی اللہ سے پہلے بھی کچھ نہیں۔

 

 

 

آنکھوں کا دھوکہ

 

حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے۔ جناتوں کو ایک بڑا شیشے کا محل بنانے کو کہا جس کے نیچے پانی بہہ رہا ہوتا کہ ملکۂ سباؔ جب محل میں آئے تو یہ سمجھے کہ پانی بہہ رہا ہے۔ جس سے ملکہ کو یہ دھوکہ ہو کہ پانی ہے اور جب وہ اس پر چلنے لگے تو کپڑوں کے بھیگنے کے ڈرسے اپنے کپڑوں کو پنڈلیوں تک اٹھا لے، یہی اس کی غلطی ہو گی اور اس کی آنکھوں کا دھوکہ ہو گا۔

وہ اور اس کی قوم سورج کی پوجا صرف اس لیے کرتی ہے کہ سورج بڑا اور روشن ہے حالانکہ یہ اللہ پاک کی نشانی ہے۔ اس وقت اس کو سچائی کا علم ہو گا اوراس کی آنکھوں سے پردہ اٹھ جائے گا اور وہ جان لے گی کہ شیشے اور پانی کے معاملے میں اس سے کتنی بڑی غلطی ہوئی ہے اور اس نے کتنا بڑا دھوکہ کھایا ہے اور ایسا ہی ہوا اس نے پانی سمجھ کر پنڈلیاں کھولی اس نے ایسی ہی غلطی کی جیسے اس نے سورج کو خدا بنانے میں کی تھی اسی لیے وہ اللہ کی عبادت کی جگہ سورج کی پوجا کرتی تھی۔ اس کو اگر یہ بات ہزار بار سمجھائی جاتی تو شاید سمجھ میں نہ آتی۔ لیکن اس غلطی نے اس کو سیدھا راستہ دکھلا دیا۔

 

ایک روپ انیک نام

 

کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ہم تو ایک ہی خدا (پرمیشور)کو مانتے ہیں لیکن اس کے مختلف رو پ ہیں جیسے ایک آدمی باپ بھی ہے، بیٹا بھی ہے، چچا بھی ہے، بھائی بھی ہے، ایسے ہی پرمیشور تو ایک ہے لیکن اس کے مختلف روپ ہیں۔

سو ان کا یہ کہنا درست نہیں ہے بے شک ایک آدمی ایک وقت میں باپ، بیٹا، شوہر، چچا، سبھی کچھ ہے لیکن  یہ اس کے الگ الگ روپ نہیں بلکہ الگ الگ نام ہے روپ حقیقتاً ایک ہی ہے ایسے ہی پرمیشور کا بھی ایک ہی روپ ہے، لیکن نام مختلف ہیں۔ جیسے الرحمن (بڑا مہربان)، الرحیم(نہایت رحم والا)، الملک (بادشاہ) القدوس(پاک)السّلام (سلامت رکھنے والا)۔ انہیں مختلف ناموں کا تذکرہ وید میں ان الفاظ کے ساتھ کیا گیا۔ اندر، وایو، برہما، اگنی، سوریہ، پرچا پتی، پرماتما، پُرُش، ویشوکرمی، سرسٹی کرتا وغیرہ۔

چنانچہ رگ وید کے شلوک ملاحظہ فرمائیں :

1- ترجمہ:ایک ہی صادق ذات اللہ کا علماء(مختلف صفات کی بنیاد پر) مختلف طرح سے بیان کرتے ہیں اسی (اللہ)کو(قدرت والا ہونے پر)قادر(اندر)، (نافع ہونے سے )صدیق(متر)، (افضل ہونے سے )(ورونڈ)، (نورانی ہونے سے )نور(اگنی)کہا گیا ہے۔ (رگ وید سنہیتا ۴۶:۱۶۴:۲)

2- ترجمہ:اس پرمیشور کو کوئی اگنی کہتے ہیں، کوئی منو کہتے ہیں، کوئی پرجاپتی کہتے ہیں، کوئی اندر کہتے ہیں اور کوئی پران کہتے ہیں۔ اور کوئی شاشوت بھرمہ کہتے ہیں۔

 

خدا کی پہچان

 

خدا کی پہچان کے لئے ایک مثال دیکھئے :

اگر کسی راستے پر اونٹ کی مینگنی پڑی ہو تو اسے دیکھ کر پتہ چل جاتا ہے کہ  اس راستہ سے اونٹ گزرا ہے۔ حالانکہ اونٹ کو گزرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا۔ صرف اس کی مینگنی دیکھ کر پتہ چل گیا کہ یہاں سے اونٹ گزرا ہے۔ جب اونٹ کی معمولی مینگنی کو دیکھ کر اونٹ کے گزرنے کا یقین کر لیا جاتا ہے تو کیا پرمیشور (خدا)کی ان عظیم مخلوقات آسمان، زمین، چاند سورج، ستارے، پہاڑ، سمندر وغیرہ کو دیکھ کر یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ ان کا بھی کوئی پیدا کرنے والا ہے ؟

خدا کی پہچان سے متعلق ا س مثال کو قرآن مجید میں کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے :

بھلا کیا نظر نہیں کرتے اونٹوں پر کہ کیسے بنائے ہیں اور آسمان پر کہ کیسا اس کو بلند کیا ہے اور پہاڑوں پر کیسے کھڑے کر دیئے اور زمین پر کہ کیسے صاف بچھائی۔ (الغاشیہ )

بے شک آسمان اور زمین کا بنانا اور رات اور دن کا آنا جانا اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لئے۔ (آل عمران۱۹۰)

ترجمہ:اس نے دن کو ظاہر کیا، رات کو ظاہر کیا جو کچھ آسمانوں میں ہے ظاہر کیا ہوا کو ظاہر کیا آسمان کو ظاہر کیا، سمتوں کو ظاہر کیا، زمین، آگ اور پانی کو اسی نے ظاہر کیا۔ اور ان سب کو ظاہر کرنے سے (مانو)وہ (خود)ظاہر ہوا۔

(اتھروید۳۷۔ ۲۹:۴:۱۳)

لیکن جو لوگ پرمیشور کی ان نشانیوں کو ہی پوجنے لگے تو خود وید میں ان کے بارے یوں لکھا ہے :

ترجمہ : وہ لوگ تاریک گہرائیوں کے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں جو (سمبھوتی) مادہ(اپنی بنیادی شکل میں جیسے )آگ، مٹی، پانی وغیرہ کے پجاری ہیں وہ اس سے بھی گہری تاریکیوں میں ڈوبتے ہیں جوسمبھوتی سے مرکب اشیاء مثلاً پیڑ پودے مورتیاں وغیرہ میں ملوث ہیں۔ (یجروید۔ ۴۰:۹)

یہ ساری نشانیاں ہی اللہ کی پہچان کرانے کے لئے کافی تھی لیکن اس کے باوجود اللہ نے اپنے برگزیدہ بندوں کو ہماری ہدایت کے لئے دنیا میں بھیج کر ہم پر احسانِ عظیم کیا۔

 

 

 

 

اوتار کا مطلب

 

لفظ اوتار کا معنی ہے زمین پر آنا، نازل ہونا اور پیغمبر خدا کا معنی ہے اللہ کی طرف سے پیغام لانے والا۔

اللہ کی ذات چونکہ ہر جگہ حاضرو ناظر اور لامحدود ہے اس لئے اس کا کسی خاص شکل و ہیئت میں روپ اختیار کرنا یا کہیں آنا جانا، یہ بات اس کی لامحدود ذات کو محدود بنا دیتی ہے، وہ ملک زمانہ اور شکل و صورت سے پرے ہے اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اوتار کا لفظی معنی اللہ کی ذات پر تو صادق نہیں آتا بلکہ کسی ایسی ذات پر صادق آتا ہے جو محدود ہو، مخصوص شکل و ہیئت کے ساتھ ہو اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوسکے۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ اوتار خدا نہیں ہوتا بلکہ خدا کے پیدا کردہ انسانوں ہی میں سے ہوتا ہے جسے وہ خود منتخب کرتا ہے اور اسے اپنی جانب سے بہت سے علوم سکھاتا ہے جس سے وہ تمام انسانوں کو اللہ کا فرمانبردار بننے کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اللہ کا پیغمبر ہوں۔

اسی علم الٰہی کے حامل پیغمبر کو سنسکرت زبان میں ’’اوتار‘‘ انگریزی میں ’’پروفیٹ‘‘ اور عربی میں ’’رسول‘‘ کہتے ہیں۔ اور سب کی نسبت اللہ کے رسول کی طرف ہوتی ہے۔ اس وقت لوگوں میں اوتار کاجو معنی و مطلب مشہور ہے کہ ’’پرمیشور‘‘ یا ’’بھگوان‘‘ کسی کے روپ میں آ جاتا ہے یہ خیال بالکل غلط ہے بلکہ اوتار کے معنی ’’اوترت‘‘ ہونے یا نازل ہونے  (یعنی بھیجے جانے کے ہیں ) جیسا کہ ابھی ذکر کیا گیا۔

پروفیسر پنڈت شری رام شرما جی نے بھی لفظ اوتار کا یہی معنی اور مطلب بیان کیا ہے۔ اس لفظ کی تفسیر کرتے ہوئے وہ اپنے کتاب کلکی پرانڈ کے صفحہ۲۷۸ پر لکھتے ہیں جس کا خلاصہ اس طرح ہے :

لفظ اوتار کا مطلب اگر اس طرح بیا ن کیا جائے تو نامناسب نہ ہو گا کہ سماج کی گری ہوئی حالت کو ترقی کی طرف لے جانے والا ’’عظیم رہنما‘‘۔

 

 

 

 

اوتار کون تھے ؟

 

اس دنیا میں انسان کی آمد کے ساتھ ہی خدا  (پرمیشور)نے اس کی ہدایت کے لئے دنیا میں اپنے رسولوں اور اتاروں کو بھیجنا شروع کر دیا تھا اس کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر ہمارے آخری رسول حضرت محمد مصطفی ﷺ پر ختم ہوا۔ یہ سلسلہ ہر قوم اور ہر زمانہ میں جاری رہا اسی کو قرآن مجید نے اس طرح بیان کیا ہے :

رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بََعْدَ الرُّسُلِ(النساء)

بھیجے پیغمبر خوشخبری اور ڈرسنانے والے تاکہ باقی نہ رہے لوگوں کو اللہ پر الزام کا موقعہ رسولوں کے بعد۔

وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلاَّ خَلاَ فِیْھَا نَذِیْرٍ(فاطر)

اور نہیں ہے کوئی قوم لیکن یہ کہ اس میں گزر چکا ایک خبردار کرنے والا۔

وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ (رعد)  ’’ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہے ‘‘

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَامِنْ قَبْلِکَ رُسُلاً اِلٰی قَوْمِھِمْ(روم)

اور ہم نے تجھ سے پہلے کتنے رسول ان کی اپنی اپنی قوم کے پاس بھیجے۔

اس بارے میں سناتن دھرم کی کتابیں کیا کہتی ہیں :

ترجمہ:پیغمبر اس وقت آتا ہے جس وقت دین کا خاتمہ  ہونے لگتا ہے ا وربے دینی بڑھ جاتی ہے۔ (بھرم پران ۲۷:۲۶:۱۸۰)

ترجمہ:جس وقت دین کا خاتمہ ہوتا ہے اور بے دینی پھیل جاتی ہے یعنی لوگوں کی بے دینی میں دلچسپی زیادہ بڑ ھ جاتی ہے دین کے نام پر بے دینی ہوتی رہتی ہے۔ دین کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تب پرمیشور انسانوں کے لیے پیغمبر بھیجتے ہیں۔

ترجمہ:  لوگوں کی حفاظت کرنے، ترقی دینے کے لیے دینداروں کو ترقی کی نئی راہ دکھانے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ (رگ وید سہینتا   ۱:۱۱:۵)

رسول اور اوتار خدا کے منتخب کردہ اور پسندیدہ بندے تھے جن کو خدا نے دنیا کے مختلف حصوں اور مختلف زمانوں میں بھیجا۔ کسی بھی قوم میں جب بگاڑ ہوتا تواس کی اصلاح کے لئے کسی رسول کو بھیجا جاتا۔ ان سبھی رسولوں نے ایک خدا کی عبادت کی دعوت دی لیکن جب یہ رسول دنیا سے چلے جاتے تو لو گ خدا کی عبادت کرنے کے بجائے ان کی عبادت کرنا شروع کر دیتے۔ حالانکہ انہوں نے کبھی بھی اپنی عبادت کرنے کو نہیں کہا لیکن ان کے پیرو ان کی محبت میں انہیں کی عبادت شروع کر دیا کرتے تھے۔ اور صحیح راستے سے بھٹک جاتے تھے۔ لوگوں کے لئے رسولوں کو ایک نمونہ بنا کر بھیجا گیا تھا کہ جس طرح یہ کہیں اسی طرح تم عمل کرو۔ لیکن لوگوں نے انہیں کو پوجنا شروع کر دیا۔ کرشن جی نے خود کہا تھا

ترجمہ:’’میں دیوتا، دانو، گندھرو نہیں ہوں مجھے آپ اپنا بندھو سمجھیں ‘‘

(وشنو پران:۵؍۱۳؍۱۲)

ترجمہ:اے ارجن تم سب طرح کے جذبات سے صرف ان کی (پرمیشور) پناہ میں جاؤ، انہیں کے کرم کے ذریعہ تم سکون پا سکتے ہو۔

یہاں پر کرشن جی نے صاف صاف بتایا کہ وہ ایشور نہیں ہیں لیکن اس کے بعد انہیں اشور کہا گیا یہ کرشن جی کی غلطی نہیں ہے بلکہ جس نے ان کے بارے میں اس طر ح کی غلط بیانی کی ہے اس کی غلطی ہے۔ یہ تو ایک مثال تھی ایساہی تمام انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوا۔

ویدوں میں منو کا اوتار ہونا معلوم ہوتا ہے یہ وہی منو ہے جس کو عیسائی اور یہودی نوح (Noah) اور مسلمان نوح علیہ السلام کہتے ہیں۔ طوفانِ نوح کا تذکرہ قرآن کے علاوہ ویدوں میں بھی ہے۔ پُران میں چوبیس اوتاروں کے نام ملتے ہیں بقیہ کو ان گنت کہہ کر چھوڑ دیا گیا۔ اس میں آخری نبی جن کو کلکی ؔ اور نراشنسؔ کہا گیا ہے کیا یہ آخری نبی اب تک نہیں آئے ہیں ؟یا آ چکے ہیں لیکن ہم اب تک ان سے بے خبر ہیں۔ اس آخری نبی کے کچھ اوصاف بھی بیان کئے گئے ہیں جن کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نراشنس (عربی میں جس کا مطلب محمد ہوتا ہے ) وہی محمد ﷺ ہیں جو مکہ مکرمہ میں تقریباً چودہ سوسال پہلے پیدا ہوئے۔

آپ ﷺ کا تذکرہ ویدوں میں دیکھئے :

ترجمہ:نراشنس کی بہت تعریف کی جائے گی اور وہ سب کو محبوب ہو گا۔

2- ترجمہ:اس کی سواری اونٹ ہو گی، بارہ ان کی بیویاں ہوں گی اس کی سواری آسمانوں تک پہنچ جائے گی۔ (اتھروید ۲۔ ۱۲۷۔ ۲۰)

3- ترجمہ: اس (نراشنس) مامہ رِشی کو سودیناردس ہار تین سو گھوڑے اور دس ہزار گایوں کا انعام دیا جائے گا۔

4- ترجمہ:نراشنس کو علم الٰہی دیا جائے گا۔ (ریگ وید سنہیتا ۳:۱۳:۱)

5-  ترجمہ: نراشنس لوگوں کو گناہوں سے نکالے گا۔ (ریگ وید۴:۱۰۶:۱)

6- ترجمہ:وید احمد عظیم شخص ہے سورج کے  مانند اندھیرے کو ختم کرنے والے، انہیں کو جان کر آخرت میں کامیاب ہوا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کامیابی تک پہنچنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ ( یجروید ۱۸۔ ۳۱)

کی محمد سے وفا تو نے توہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں

علامہ اقبالؔ

 

 

 

 

رجال اللہ کے ساتھ کتاب اللہ

 

ان نبیوں اور اوتاروں کے ساتھ خدا نے صحیفے اور کتابیں بھی اتاریں جس کے مطابق عمل کرنے کی لوگوں کو تاکید کی گئی، آج دنیا میں جوسب سے پرانی آسمانی کتاب موجود ہے وہ وید ہے اور آخری آسمانی کتاب قرآن ہے۔ قرآن سے پہلے جتنی آسمانی کتابیں نازل ہوئیں، سبھی کتابوں میں کچھ نہ کچھ تحریف ہوئی۔ لوگوں نے ان میں بہت سی باتیں اپنی جانب سے ملا دیں اب وہ اپنی اصلی حالت پر باقی نہیں ہیں لیکن قرآن کی حفاظت کا وعدہ خود خدا نے قرآن مجید میں کیا۔

’’ہم نے آپ(خود) اتاری ہے یہ نصیحت (قرآن)اور ہم (آپ) اس کے نگہبان ہیں ‘‘(سورہ حجر)

چنانچہ چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا لیکن قرآن میں ذرہ برابر بھی رد و بدل نہیں ہوا اور نہ ہوسکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قرآن آخری آسمانی کتاب ہے اب رہتی دنیا تک آنے والے تمام انسانوں کو اسی کے مطابق عمل کرنا ہے اس لئے یہ محفوظ ہے۔

مثال:اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جب ہمارے پاس وید موجود ہے تو پھر ہم قرآن کو کیوں مانیں اور کیوں اس کے مطابق عمل کریں ؟تو اس کے جواب کو ایک مثال سے سمجھیں کہ ہمارے ملک ہندوستان کا قانون ۱۹۵۰ ؁ء میں  بنایا گیا۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں آج بھی ۱۹۵۰ء؁ میں بنائے گئے قانون ہی کا پالن کروں گا تو ظاہر ہے کہ اس کی بات کو رد کر دیا جائے گا بلکہ اسے اور ہندستان کے سبھی باشندوں کو آج کے نئے اور موجودہ قانون ہی پر عمل کرنا ہو گا۔

اسی بات کو ایک دوسری مثال سے سمجھیں کہ اگر کوئی طالب علم پرانے زمانہ کے نصابِ تعلیم کے مطابق امتحان کی تیاری کرے جبکہ امتحان موجودہ نصابِ تعلیم کے مطابق لیا جا رہا ہو تو یقیناً وہ طالب علم محنت کے باوجود فیل ہو جائے گا۔ اسے امتحان میں کامیاب ہونے کے لئے نئے نصابِ تعلیم کے مطابق ہی تیاری کرنی ہو گی۔

ٹھیک اسی طرح پچھلے زمانوں کی تمام آسمانی کتابیں اس زمانہ اور اس وقت کے حالات کے لئے تو مناسب تھیں لیکن آج کے زمانہ اور حالات میں وہ ہمارے لئے راہ نما نہیں بن سکتیں۔ کیونکہ ان کتابوں میں ایک مخصوص قوم کے لئے ان کے مخصوص احوال کی رہنمائی ایک خاص مدت تک کے لئے کی گئی تھی۔ اسی لئے ان کتابوں پر عمل کا مطالبہ بھی ایک خاص مدت تک ہی رہا اس کے بعد ان کتابوں کی ہدایات اور احکام نا قابلِ عمل قرار دیئے گئے جبکہ قرآن کی تعلیمات و ہدایات کسی ایک زمانہ یا کسی ایک قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر زمانہ کے لئے اور دنیا کے تمام خطوں میں بسنے والے انسانوں بلکہ رہتی دنیا تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے ہے جس میں ہر زمانہ کے حالات کے مطابق ان کی رہنمائی کی گئی ہے اور مختلف زمانوں میں بدلتے حالات اور لوگوں کو درپیش نت نئے مسائل کا حل عین فطرت کے اصولوں اور تقاضوں کے مطابق بتا یا گیا ہے۔ اس لئے اب ہم کو صرف اور صرف قرآن کے مطابق عمل کرنا ہو گا یہی ہمارا دستورِ زندگی اور نظامِ حیات ہو گا۔

اسی طرح اگر کوئی شخص انبیاء سابقین کے بارے میں یہ کہے کہ میں آج بھی منو جی یا کرشن جی کو ہی اپنا نبی مانوں گا تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ میں آج کے پردھان منتری کو نہیں بلکہ پنڈت جی کو ہی اپنا پردھان منتری مانوں گا۔ پس جس طرح پردھان منتری سے متعلق اس شخص کا قول صحت اور حقیقت سے پرے ہے اسی طرح آج کے دور میں منو جی یا کرشن جی کو ہی اپنا نبی ماننا بھی صحت اور حقیقت سے بہت دور ہو گا۔ لہٰذا ہم کو نراشنس (محمدﷺ) کو جو کہ آخری نبی ہیں اپنا رسول مان کر ان کے بتلائے ہوئے راستہ پر ہی چلنا ہو گا۔ ان کی اتباع کے بغیر ہم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ اسی بات کو کرشن جی نے اس پرکار کہا:

ترجمہ: سبھی دھرموں کو چھوڑ دو صرف میری اتباع کرو۔ (گیتا:۶۶:۱۸)

یہ پیغام ہر نبی نے دیا کیوں کہ پہلے مذاہب  میں بے دینی داخل ہو گئی اس لیے پیغمبر بھیج کر صحیح دین کی بنیاد ڈالی جاتی ہے۔

اب رہا یہ سوال کہ جب خدا (پرمیشور)نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے آسمانی کتابیں نازل کی تو فقط یہ کتابیں ہی انسانوں کی ہدایت کے لئے کافی تھیں پھر ان کتابوں کے ساتھ کسی رسول اور اوتار کو بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟تو اس کا جواب بھی ایک مثال کے ذریعہ سمجھیں :

جب ہم کوئی مشین خریدتے ہیں تو کمپنی اس مشین کے ساتھ ایک کیٹلاگ (Catalogue)بھی دیتی ہے جس میں اس مشین کے استعمال کا طریقہ لکھا ہوتا ہے کہ مشین کو کس طرح استعمال کرنا چاہئے۔ اسی طرح خدا نے انسانی مشین کو بنانے کے بعد اس کے استعمال کا طریقہ مختلف زمانوں میں مختلف آسمانی کتابوں کے ذریعہ بتلایا یہ آسمانی کتابیں اس انسانی مشین کا کیٹلاگ تھیں۔ اور اگر مشین بہت مہنگی اور بیش قیمت ہوتی ہے اور کمپنی یہ سمجھتی ہے کہ ممکن ہے کہ خریدار صرف کیٹلاگ کو پڑھ کر اس کا آپریٹنگ سسٹم پوری طرح نہ سمجھ سکے تو اس کیٹلاگ کے ساتھ اپنا ایک انجینئر بھی بھیجتی ہے جو کچھ وقت خریدار کے ساتھ رہ کر اسے مشین کا آپریٹنگ سسٹم سمجھاتا ہے۔ چونکہ خدا(پرمیشور)کے نزدیک بھی یہ انسانی مشین بہت قیمتی ہے اس لیے اس نے اپنے کیٹلاگ یعنی آسمانی کتابوں کے ساتھ ساتھ اپنا ایک انجینئر یعنی اوتار اور رسول بھی بھیجا جو لوگوں کو اس انسانی مشین کے استعمال کا طریقہ خود انہیں کے درمیان رہ کر بتلاوے چنانچہ جب کبھی پرمیشور نے آسمانی کتابیں نازل کی تو ان کتابوں کے ساتھ اوتار کو ضرور بھیجا۔

 

موت اور حیات کیوں ؟

 

اس دنیا میں آپ کو ایسے لوگ تو ملیں گے جنہوں نے خدا کے وجود کا انکا ر کیا ہو لیکن ایسا کوئی نہیں ملے گا جس نے موت کا انکار کیا ہو موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ جس طرح خدا نے کسی چیز کو بے کار پیدا نہیں کیا اسی طرح خدا نے موت کو بھی بے کار پیدا نہیں کیا۔

اب موت اور حیات کے پیدا کرنے کی کیا وجہ ہے تواس کو پہلے قرآن کی آیت میں دیکھیں۔

ترجمہ:جس نے بنایا موت اور حیات تاکہ تم کو جانچے کون تم میں اچھا کرتا ہے کام۔ (سورہ ملک  ۲:۶۷)

انسانوں کی پیدائش اور نجات کے سلسلے میں شُکل یجروید کا شلوک دیکھئے :

ترجمہ:کس نے تم کو بنایا، خالق نے تم کو کیوں بنایا؟اللہ کے لیے نیک کام کرنے کے لیے اور اس کے احکاموں کے مطابق عمل کرنے کے لیے تم کو پیدا کیا۔

(شکل یجروید سہینتا ۶:۱)

ترجمہ:تمہیں نجات کون دے گا؟وہی خالق ہی تم کو نجات دے گا، وہ تمہیں کیوں نجات دے گا؟اس کے مشہور دین کی اتباع کی وجہ سے۔ اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو تم نافرمانوں میں سے ہو جاؤ گے۔ (شکل یجروید سہینتا ۲۳:۲)

اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ انسان کو دنیا میں یوں ہی پیدا نہیں کیا گیا بلکہ پرمیشور کے حکم کے مطابق عمل کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اور جب انسان پرمیشور کے حکم کے مطابق عمل کرے گا تو اس کواس کے بدلہ میں جنت ملے گی اور اگر پرمیشور کے حکم کی نافرمانی کرے گا تو جہنم اس کا ٹھکانا ہو گا۔

پرلوک واد کیا ہے ؟

وید میں ’’ اِیْ ہی کال‘‘ اور ’’ پَرْکاَل ‘‘یعنی سنسار کے جیون اور پرلوک کے جیون کا تذکرہ آیا ہے۔ اسی کو قرآن میں دنیاوی زندگی اور آخرت کی زندگی کہا گیا ہے اور پرلوک میں سورگ یعنی جنت اور نَرک یعنی دوزخ دونوں ہے۔ نیک اعمال کا بدلہ سورگ اور برے اعمال کا بدلہ نرک ہے۔

ویدوں میں بار بار جنم کا تذکرہ کہیں نہیں ملتا بلکہ پُنر جنم کا تذکرہ ملتا ہے جس کا مطلب بھی دوبارہ زندگی پانا ہے نہ کہ بار بار زندگی پانا۔ یہ سبھی مانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے پہلے ایک مرد اور ایک عورت آئے اور پھر ان سے نسلِ انسانی چلی تواب بتائیے کہ جب دنیا میں صرف ایک مرد اور ایک عورت تھے تو ان کی اولاد کیسے ہوئی ؟ کیوں کہ وہ دونوں تو زندہ تھے اور آج دنیا کی آبادی چھ سو کروڑ سے زیادہ ہے۔ تو ایک مرد اور ایک عورت سے اتنے لوگ دنیا میں کیسے آئے ؟کیوں کہ ایک کے مرنے پر ایک ہی پیدا ہو گا۔ اور اگر مرنے کے بعد اسی دنیا میں اپنے نیکی اور بدی کا بدلہ مل جائے تو جنت اور جہنم بنانے کا کیا مطلب؟

 

مرنے کے بعد زندگی کیسے ملے گی؟

 

اگر کوئی یہ سوچے کہ انسان مرنے کے بعد کیسے زندہ ہو گا؟تو آپ بتائیے کہ انسان پہلے کیا تھا ؟ایک ناپاک نطفہ اور بے جان ہی تو تھا اس میں کس نے جان ڈالی؟جس خدا نے پہلی بار زندگی دی کیا وہ دوبارہ زندگی نہیں دے سکتا؟

ایک مثال دیکھئے :

برسات سے پہلے ہر جگہ پت جھڑ نظر آتے ہیں لیکن برسات کے آتے ہی وہ ہرے بھرے ہو جاتے ہیں۔ جس کو قرآن اس طرح بیان کرتا ہے :

ترجمہ: نکالتا ہے زندہ کو مردے سے اور نکالتا ہے مردے کو زندہ سے اور زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مرنے کے پیچھے اور اسی طرح تم نکالے جاؤ گے۔ (سورہ روم:۱۹:۳۰)

ترجمہ: اور وہی ہے جو پہلی بار بناتا ہے پھراس کو دہرائے گا اور وہ  آسان ہے اس پر۔ اور اس کی نشانی میں سے اوپر آسمان اور زمین ہے۔ اور وہی زبردست حکمت والا ہے۔ (سورہ روم :۳۰:۲۷)

ایک مرتبہ ایک دہریہ نے حضرت علی کرّ م اللہ وجہہ سے کہا کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں، آدمی مر کے مٹی ہو جاتا ہے تو آپ نے جواب دیا کہ اگر تیری بات کو صحیح مان لیں توہم دونوں بچ جائیں گے۔ لیکن جیسامیں کہتا ہوں کہ اس زندگی کے بعد بھی ایک زندگی ہے جو کبھی ختم نہیں ہو گی اور اُس زندگی میں اِس دنیا کی زندگی کاحساب لیا جائے گا تو تیرا کیا ہو گا؟

ایک اور مثال دیکھئے :

جب کوئی آدمی ساحلِ سمندر پر کھڑا ہوتا ہے تو اس کو بہت دور آسمان زمین سے ملا ہوا نظر آتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ یہ اس کی آنکھوں کا دھوکہ ہے۔ ایسے ہی ہم دیکھتے ہیں کہ انسان مر کر مٹی ہو جاتا ہے تو ہم سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے یہ بھی ہماری آنکھوں کا دھوکہ ہے۔

قرآن نے اس کو اس طرح بیان کیا:

ترجمہ: کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمھیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں۔ (سورۂمؤمن :۱۱۵)

رہ کے دنیا میں بشر کو نہیں زیبا غفلت

موت کا دھیان بھی لازم ہے کہ ہر آن رہے

جو بشر آتا ہے دنیا میں یہ کہتی ہے قضا

میں بھی پیچھے چلی آتی ہوں ذرا دھیان رہے

(مجذوب)

 

 

 

جنت کا تصور ویدوں کی دنیا میں

 

1- ترجمہ: پاک کرنے والے کے ذریعہ پاک ہو کر ایسے جسم کے ساتھ جس میں ہڈیاں نہ ہوں گی وہ درخشاں ہو کر روشنیوں کی دنیا میں پہنچتے ہیں اس کے مسرور جسموں کوآگ نہیں جلاتی ہے جنت کی دنیا میں ان کے لئے بڑی لذتیں ہیں۔

(اتھروید ۲۔ ۳۴۔ ۴)

2- ترجمہ:شہد کے کناروں اور مکھن سے بھری نہریں جو شراب، دودھ، دہی اور پانی سے لبریز ہوں گی بے پناہ شیریں، ان سے ابلی پڑتی ہو گی، یہ چشمے جنت کی دنیا میں تجھ تک پہنچیں گے، کنول کے پھولوں سے بھری ہوئی پوری پوری جھیلیں تیرے پاس آئیں گی۔      (اتھروید ۶۔ ۳۴۔ ۴)

 

دوزخ کا تصور ویدوں کی دنیا میں

 

1- ترجمہ: جو گنہگار ہیں (خداسے وعدہ میں جھوٹے ہیں اور )خدا کے وفادار نہیں ان کے لئے یہ ا تھاہ گہرائی والا مقام وجود میں آیا ہے۔ (رگ وید۵۔ ۵۔ ۴)

2- ترجمہ: وہاں اس کے جسم کو بھڑکتی ہوئی لکڑیوں کے بیچ میں ڈال کر جلایا جاتا ہے کہیں خود اور کہیں دوسروں کے ذریعہ کاٹ کاٹ کراسے اپنا ہی گوشت کھلایا جاتا ہے …سانپ بچھو وغیرہ ڈسنے والے اور ڈنک مارنے والے ہیں… پہاڑ کی چوٹیوں سے گرایا جاتا ہے ‘‘…یہ سب سزائیں اور رورو نامی دوزخ میں اور بھی بہت سی عقو بتیں عورت ہو یا مرد اس روح کی زندگی میں ہونے والے گناہ کے باعث بھگتنا پڑتا ہے۔ (شری مد بھاگور پران۲۸۔ ۲۳؍۳۰؍۳)

جیسی کرنی ویسی بھرنی نہ مانے تو کر کے دیکھ

جنت بھی ہے جہنم بھی ہے نہ مانے تو مر کے دیکھ

 

ہندوؤں کی پوتر کتابوں میں مورتی پوجا کی ممانعت

 

اس سے قبل قرآن کی آیتوں اور وید کے مختلف شلوکوں کے حوالہ سے یہ بات گزر چکی کہ پرمیشور ایک ہی ہے اسی نے تنہا پوری کائنات کو پیدا کیا ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق بھی ہے چنانچہ جب سے دنیا آباد ہوئی ہے پرمیشور نے اپنے اوتاروں اور اپنی نازل کردہ کتابوں کے ذریعہ اپنے بندوں کو یہی تعلیم دی کہ جب ساری کائنات کا پیدا کرنے والا تنہا میں ہوں تو عبادت بھی صرف میری ہی کی جائے گی تم میرے علاوہ کسی اور کی پرستش نہ کرنا ورنہ سیدھی راہ سے بھٹک جاؤ گے۔ میرا روپ ایک ہی ہے جسے لوگ انیک ناموں سے جانتے ہیں تم ان مختلف ناموں سے یہ دھوکہ مت کھا جانا کہ میرے علاوہ کوئی اور بھی عبادت میں میرا شریک ہے اسی بات کو ویدوں کے مختلف شلوکوں کے حوالوں کے ساتھ قدرے تفصیل سے یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔

 

                 ویدوں میں مورتی پوجا کی ممانعت

ویدوں میں مورتی پوجا کی ممانعت سے متعلق شلوک اس طرح ذکر کئے گئے ہیں :

۱۔ ترجمہ:اسی سے آسمان میں مضبوطی اور زمین میں استحکام ہے اس کی وجہ سے روشنیوں کی بادشاہت ہے اور آسمان محراب(کی شکل )میں ٹکا ہوا ہے۔ فضا کے پیمانے بھی اسی کے لئے ہیں (اسے چھوڑ کر)ہم کس خدا کی حمد کرتے ہیں اور نذرانے چڑھاتے ہیں ؟(رگ وید۔ ۵:۱۲۱:۱۰)

۲۔ ترجمہ:اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو(رگ وید۔ ۱:۱:۸)

۳۔ ترجمہ:وہ تمام جاندار اور بے جان دنیا کا بڑی شان و شوکت کے ساتھ اکیلا حکمراں ہے وہی تمام انسانوں اور جانوروں کا رب ہے، اسے چھوڑ کر ہم کس خدا کی حمد کرتے ہیں اور نذرانے چڑھاتے ہیں۔ (رگ وید۔ ۳:۱۲۱:۱۰)

۴۔ ترجمہ: اسی نے رات اور دن کو درست کیا وہ ان کا بھی مالک ہے جس کی آنکھیں بند ہیں عظیم خالق نے پھر مناسب ترتیب میں سورج اور چاند بنائے اور اس نے ترتیب کے ساتھ آسمان و زمین بھی بنائے، اور اس نے فضا کے مراحل، ہوا اور روشنی کو پیدا کیا۔ (رگ وید۔ ۳۔ ۲:۱۹۰:۱۰)

۵۔ ترجمہ:اس تمام کائنات کا بادشاہ ایک ہی ہے۔ (رگ وید۔ ۴۔ ۳۶۔ ۶)

۶۔ ترجمہ:نہ زمین اور آسمان اس خدا کے محیط ہونے کی حد کو پا سکتے ہیں نہ آسمان کے کرّے۔ نہ آسمان سے برسنے والا مینھ، سوائے اس خدا کے کوئی اور دوسرا اس خلقت پر قدرت نہیں رکھ سکتا۔ (رگ وید ۱۴: ۵۲:۱)

۷۔ ترجمہ:علماء اس ذات کو اپنے دل میں دیکھتے ہیں۔ (ریگ وید۲۰:۲۲:۱)

۸۔ ترجمہ: اس کی کوئی شبیہ(یا صورت)نہیں ہے اس کی شان عظیم ہے۔

(یجروید ۳  :  ۳۲)

۹۔ ترجمہ: اوپر، اطراف میں، درمیان میں کہیں کسی نے اس (خدا)کا احاطہ نہیں کیا۔ (یجروید ۲  :  ۳۲)

۱۰۔ ترجمہ: وہ لوگ تاریک گہرائیوں کے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں جو (اسمبھوتی)مادہ(اپنی بنیادی شکل میں جیسے )آگ، مٹی، پانی وغیرہ کے پجاری ہیں وہ اس سے بھی گہری تاریکیوں میں ڈوبتے ہیں جو اسمبھوتی سے مرکب اشیاء مثلاً پیڑ پودے مورتیاں وغیرہ میں ملوث ہیں۔ (یجروید۔ ۹:۴۰)

۱۱۔ ترجمہ: وہ ہی ہر چیز کا نگہبان ہے اور وہ جسم سے پاک ہے۔

(یجروید۔ ۸:۴۰)

۱۲۔ ترجمہ: (اے مالک)تیرے جیسا نہ کوئی دونوں عالم میں ہے اور نہ زمین کے ذرات میں اور نہ تیرے جیسا کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہو گا۔

(یجروید۔ ۳۶:۲۷)

۱۳۔ ترجمہ: توہر جگہ موجود رہنے والا ہے۔ (یجروید۔ ۳۵:۵)

۱۴۔ ترجمہ: یہ سب اسی کو حاصل ہوتا ہے وہ واحد صرف ایک ہے۔

(اتھروید ۱۲:۴:۱۳)

۱۵۔ ترجمہ: اس نے سورج کو روشن کیا رات کو بنایا۔ آسمان کو بنایا، ہوا کو بنایا جہتوں کو تخلیق دی، زمین، اگنی، پانی کو اسی نے تخلیق دی اور وہ خود ہی سے ہے اسے کسی نے پیدا نہیں کیا۔ (اتھروید۔ ۹۔ ۱:۷:۱۳)

۱۶۔ ترجمہ: اے تعریف کرنے والو!تم اور کسی خدا کی پناہ نہ لواورکسی خدا کی تعریف نہ کرو۔ (اتھروید ۱:۸۵:۲۰)

۱۷۔ ترجمہ: وہ پرمیشور نہ دوسرا ہے نہ تیسرا اور نہ چوتھا ہی اسے کہا جا سکتا ہے، وہ پانچواں چھٹا اور ساتواں بھی نہیں ہے، وہ آٹھواں، نواں اور دسواں بھی نہیں وہ اکیلا ہے وہ ان سب کو الگ الگ دیکھتا ہے جوسانس لیتے ہیں یا نہیں لیتے، تمام طاقتیں اسی کی ہیں وہ بڑی طاقت والا ہے جس کے قبضۂ قدرت میں پوری کائنات ہے، وہ ایک ہے اس کی طرح کا کوئی دوسرا نہیں اور یقینی طور پر وہ ایک ہی ہے۔ (اتھروید۸۔ ۳:۵:۱۳)

 

پُران، گیتا اور اپنشدوں میں مورتی پوجا کی ممانعت

 

                گیتاکے مطابق مورتی پوجا کی ممانعت

 

۱۔ ترجمہ:اس کے لطیف ہونے کے باعث اس کا احاطہ نہیں کیاجا سکتا وہ تودور بھی ہے اور قریب بھی۔ (گیتا۔ ۱۵:۱۳)

۲۔ ترجمہ:خدا ہی اکیلے پہلے تھا۔ (برہداڑیک اپنشد۔ ۱۴:۴:۱)

۳۔ ترجمہ:کائنات کو پیدا کرنے اور تباہ کرنے کے اوصا ف سے متصف ہونے کی وجہ سے میرے ہی بھرہما، وِشنو اور شیو حصے ہوئے ہیں حقیقت میں میری ذات جسم سے پاک ہے۔ (وشنوپرانڈ  ۲۸:۹:۱:۲)

۴۔ ترجمہ:ایک ہی اللہ ہے دوسرا نہیں، نہیں ہے۔ (چھاندو گیہ اپنشد۶:۲۱)

۵۔ ترجمہ:میرے صفات کونہ جاننے والے بے وقوف لوگ مجھے جسم والا سمجھ کر میری بے عزتی کرتے ہیں۔ (گیتا۔ ۱۱:۹)

۶۔ ترجمہ:اپنی غیر ظہور پذیر شکل میں تمام کائنات میں سرائت کئے ہوئے سبھی جاندار مجھ میں ہیں لیکن میں ان میں رہتا نہیں۔ (گیتا ۴:۹)

 

مورتی پوجا کیوں ؟

 

مورتی پوجا کرنے والے سے کہو کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ مورتی بھگوان ہو جو کہ مٹی یا دھات سے بنی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم اس کو بھگوان نہیں مانتے بلکہ ہم تو دھیان لگانے کے لیے یہ کرتے ہیں یہ شیطان کا دھوکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات لا محدود ہے وہ محدود نہیں ہوسکتی وہ بغیر جسم کے ہے جسم والی نہیں ہوسکتی ہے اور جب اس کو مورتی کا روپ دیکر اس کی پوجا کریں گے تو لامحدود کو محدود بنا دیا اور بغیر جسم والے کو جسم والا بنا دیا۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو چیز دِکھتی نہیں اس کی طرف توجہ کیسے ممکن ہے۔ یہاں پر ایک مثال دی جاتی ہے جس سے یہ بات سمجھنا آسان ہو جائے گا۔

ایک دن ایک بچہ اسکول سے گھر آیا اور اس نے اپنی ماں سے کہا کہ امی آج اسکول میں استاذ نے ہم کو بتایا کہ ہوا ہر جگہ پائی جاتی ہے لیکن میں سوچنے لگا کہ ہم کو ہوا دکھتی نہیں تو وہ ہر جگہ کیسے ہوسکتی ہے۔ ماں نے کہا بیٹا دیکھو !ہر چیز کا وجود ہونے کے لیے اس کا دِکھنا ضروری نہیں ہوتا اور ہر چیز کو دیکھ کر نہیں سمجھا جا سکتا۔

جس طرح جو چیز دیکھ کر سمجھی جا سکتی ہے اس کو سن کر سمجھا نہیں جا سکتا۔ جیسے پیڑ پودے، سورج، چاند، ستارے وغیرہ۔ ان کو تم دیکھ کر ہی سمجھ سکتے ہو اور جو چیز سن کر سمجھی جا سکتی ہے وہ دیکھ کر نہیں سمجھی جا سکتی۔ جیسے میری یہ باتیں اگر تم نہیں سنو اور تم صرف مجھے دیکھو تو میری بات نہیں سمجھ سکتے ایسے ہی جو چیز چھوکر سمجھی جا سکتی ہے اس کو دیکھ کر اور سن کر نہیں سمجھا جا سکتا۔ جیسے کوئی چیز نرم ہویا سخت اور اسی طرح جو چیز زبان سے چکھ کر سمجھی جا سکتی ہے وہ نہ دیکھ کر، نہ سن کر، نہ چھو کر سمجھی جا سکتی ہے۔ جیسے کوئی چیز میٹھی یا کھٹی اور جو چیز عقل سے سمجھنے کی ہے وہ اور کسی طرح نہیں سمجھی جا سکتی ہے۔ جیسے دو اور دو چار۔ اسی طرح ہم کو ہوا دکھتی نہیں لیکن ہم اس کو محسوس کرتے ہیں اب ایک ایسی چیز بتاتی ہوں جس کو ہم محسوس بھی نہیں کرتے۔ بیٹا! تم دیکھتے ہو مواصلاتی نظام یعنی موبائل، انٹرنیٹ وغیرہ یہ سب سیٹلائٹ سے نکلنے والی شعاعوں سے چلتے ہیں دیکھو نہ ہم سیٹلائٹ کو دیکھ سکتے ہیں نہ ہی ان شعاعوں کو لیکن مواصلاتی نظام کو دیکھ کر ہم مانتے ہیں کہ یہ نظام ان شعاعوں سے جو سیٹلائٹ سے آتی ہیں جسے ہم نہیں دیکھتے ہیں چل رہی ہے۔

مندرجہ بالا باتوں میں جس چیز کا تعلق جسم سے نہیں کوئی بھی نہیں کہتا کہ ان کو جسم دیا جائے تبھی ہم اس کو سمجھیں گے یہ بات کوئی بھی سمجھدار انسان سمجھ سکتا ہے۔ اسی طرح پرمیشور جو نراکار(بغیر جسم کے )ہے جو خود اپنی صفتوں میں سے ایک صفت نراکار ہونے کو بتاتا ہے پھر اگراس نراکار کو آکار دے کر(جسم دے کر)اس لامحدود کو مورتی کے ذریعہ محدود بنا دیا جائے تو یہ ناسمجھی کی بات ہو گی۔ اس نے اپنا تعارف کرانے کے لیے انسانوں کی تخلیق کی، ساری دنیا کی تخلیق کی جس طرح مواصلاتی نظام کو دیکھ کر ہم سمجھ جاتے ہیں کہ کسی چیز کے ذریعہ بھیجی جا رہی شعاعوں سے چل رہا ہے کیا یہ اس کائنات کے نظام، دن رات کا آنا جانا، سورج کا نکلنا ڈھلنا، مختلف موسموں کا آنا جانا اور سینکڑوں نشانیاں اس دنیا میں ہیں جس کو دیکھ کر ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کوئی اس دنیا کی تخلیق کرنے والا ہے۔ جس کو ہم تو دیکھ نہیں سکتے لیکن ہم اس کے نظام کو دیکھ کر اس کے وجود کو سمجھ سکتے ہیں۔ جب یہ کائنات اتنی بڑی ہے جس کا پتہ آج تک سائنسداں نہیں لگا سکے تو بتائیں اس کا بنانے والا کتنا بڑا ہو گا؟جب سورج کی روشنی اتنی ہے تو اس کے بنانے والا کتنا روشن ہو گا؟بس ہم تو اتنا ہی کہتے ہیں کہ اس کے جیسا کوئی نہیں۔ لیس کمثل شئی۔

وہ زندہ، غموں کو دور کرنے والا، افضل،

نورانی، گناہوں کو معاف کرنے والا،

پرماتما کو ہم اپنے دل میں بسائے۔

وہ پرماتما ہماری سیدھے راستے کی طرف رہبری کرے۔

(رگ وید ۱۰:۲۶:۳)

 

 

 

 سائنس دانوں کی تحقیق

 

                قرآن اور سائنس

 

اس باب کے لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ آج کا دور سائنس کا دور ہے مذہب کو  پرکھنے کے لئے بھی کسوٹی بنائی جاتی ہے۔ چنانچہ اس باب میں قرآن کی کچھ آیتوں کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے کہ سائنس نے جن چیزوں کی تلاش کچھ دہائی پہلے کی ہے قرآن نے انہیں چودہ سوسال پہلے بتا دیا تھا۔

اسی بات سے یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہو گیا کہ قرآن کسی انسان کی لکھی ہوئی کتاب نہیں ہے کیونکہ سائنس دانوں نے آج جو باتیں جدید ٹکنالوجی کے استعمال کے بعد دریافت کی ہیں یہ باتیں کوئی اَن پڑھ آدمی یعنی حضرت محمد ﷺ  آج سے چودہ سوسال پہلے کیسے بتا سکتے تھے۔ اس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن یقیناً پرمیشور کی کتاب ہے۔ سائنس دانوں نے قرآن پاک کی مختلف آیتوں کی تحقیق کرنے کے بعد حضرت محمد ﷺ کے بارے میں اپنے جو خیالات پیش کئے ہیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کا کچھ تذکرہ یہاں کر دیا جائے۔ چنانچہ مشہور سائنسداں پروفیسر کیتھ مور جوکنیڈا کی ٹورنٹو یونیورسٹی میں اناٹومی(Anatomy)اور امبریولوجی (Embryology)کے پروفیسر ہیں۔ جن کی کتاب “The Human Development ” (IIIrd edition, W.B. Saunders Co. 1982)۔ امبریولوجی کی ایک اہم کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے قرآن کی آیتوں اور سائنس دانوں کی تحقیق کا اس طرح موازنہ کیا ہے۔

پروفیسرمورکے مطابق حضرت محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن میں انسانی جنین (Embryo) کی ترقی کے مختلف حالات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

اور ہم نے بنایا آدمی کو چُنی ہوئی مٹی سے، ہم نے رکھا اس کو پانی کی بوند کر کے ایک جمے ہوئے ٹھکانے میں، پھر بنایا اس بوندسے لہو جما ہوا، پھر بنایا اس لہو کو جمے ہوئے گوشت کی بوٹی، پھر بنائے اس بوٹی سے ہڈیاں، پھر بنایا ان ہڈیوں پر گوشت، پھر اٹھا کھڑا کیا اس کو ایک نئی صورت میں۔ (قرآن :۱۴۔ ۱۲ :۲۳)

پروفیسر مور نے ان آیتوں کے متعلق یہ لکھا ہے :

کہ بے حد تحقیق کے بعد جو حقائق ہمیں قرآن اور حدیث سے حاصل ہوئے ہیں حقیقت میں وہ بہت چونکانے والے ہیں کیونکہ یہ معلومات ساتویں عیسوی کی ہیں جب جنین کے بارے میں بہت کم تحقیق ہوئی تھی۔ جنین کے متعلق سب سے پہلی تحقیق جو ایریک اسٹیٹ(Eric State)کے ذریعہ مرغی کے انڈے پر کی گئی اس میں بھی ان حالتوں کا بالکل تذکرہ نہیں ہے۔ آخر میں پروفیسر مور نے اپنا حتمی فیصلہ اس طرح لیا۔

“it is clear to me that these statements must have come to Muhammed (SAW) from God, Allah, because almost all of this knowledge was not discovered until many centuries later. This proves me to that Muhammed (SAW) must have been a Messenger of God, Allah”

یہ ہمارے لئے واضح ہے کہ یہ حقیقت محمد ﷺ پر اللہ ہی کی طرف سے آئی ہے۔ کیونکہ اس ( جنین)سے متعلق تحقیق حضرت محمد ﷺ کے انتقال کے بہت بعد میں ہوئی۔ یہ ہمارے لئے واضح کرتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں۔

حضرت محمد ﷺ سے متعلق پروفیسرتیجاتت تیجاسین (Tejatat Tejasen) کا اظہارِ خیال:

۱۹۹۵؁ء  میں ریاض میں ہونے والے اجلاس میں شیخ زندانی جو اسلامی اسکالر ہیں انہوں نے قرآنی آیتوں سے متعلق سائنس کی تحقیق جاننے کے لئے پروفیسر تیجاتت تیجاسین کے سامنے قرآن کی یہ آیتیں پیش کیں۔

’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا انہیں ہم جلد ہی آگ میں جھوکیں گے جب ان کی کھالیں پک جائیں گی تو ہم انہیں دوسری کھالوں سے بدل دیا کریں گے وہ تکلیفوں کا مزہ چکتے رہیں گے۔ ‘‘(القرآن)

اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ اس سے متفق ہیں کہ چودہ سوسال پہلے یہ آیت نیوراینڈنگ (Never ending) کی اہمیت کو بتلاتی ہے ؟

پروفیسرتیجاتت تیجاسین کی وضاحت انہیں کی لفظوں میں :

“Yes I agree. This knowledge about sensation had been skin and then Allah puts a new skin on him, covers him, to make him know that the taste is painful again. That means they knew many years ago that the receptor of pain sensation must be on the skin, so they put a new skin on.”

ترجمہ  ر اٹھا ہاں میں متفق ہوں احساسات کے بارے میں یہ علم (آج کی ایجاد) بہت پہلے ہی سے واضح ہو چکا تھا کیونکہ قرآن میں کہا گیا ہے گنہگاروں کو آگ میں جلا کر سزادی جائے گی اور جب ان کی کھال جل جائے گی تو اللہ تعالیٰ انہیں کھال عطا کرے گا۔ جس سے وہ گناہ کا مزا چکھیں گے اس سے واضح ہے کہ وہ بہت پہلے جانتے تھے کہ درد کے احساس کرنے کا ریسپٹر (Receptor) کھال ہی میں ہونا چاہئے اس لئے اس (اللہ)نے نئی کھال کو چڑھا دیا ہے۔ ‘‘

آخر میں پروفیسر صاحب نے اپنا خیال اس طرح پیش کیا :

¼I believe that everything that has been recorded in the Quraan 1400 years ago must be truth, that can be proved by scientific means. Since the prophet, Muhammed (SAW), could neither read nor write, Muhammad(SAW), must be a  messenger of God who relayed this truth which was revealed to him (SAW), as on enlightenment by the one who is the Eligible creator; This creator must be God, Allah. Therefore I think this is the time to say. “there is no God (to worship) but Allah (one) and Muhmmad (SAW), is the last messenger of Allah”.

ترجمہ:’’مجھے یقین ہے کہ قرآن میں جو کچھ بھی چودہ سوسال پہلے لکھا جا چکا ہے وہ سچ ہے جو آج بہت سے سائنٹیفک طریقوں کے ذریعہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ حضرت محمد ﷺ پڑھے لکھے نہ تھے اس لئے وہ اللہ کے رسول ہی ہیں اور انہوں نے خالق کی طرف سے عطا کردہ علم کوہی تمام انسانوں تک پہنچایا۔ وہ خالق اللہ ہی ہے۔

اسلئے لگتا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میں حضرت محمد ﷺ کے لائے ہوئے کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسو ل اللہ کی گواہی دوں کہ نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

حضرت محمد ﷺسے متعلق پروفیسر کارنر کا اظہارِ خیال:

ان کا پور انام الفرڈ کارنر ہے ان کا شمار علمِ ارضیات (Geology)کے ماہرین میں ہوتا ہے یہ دنیا کے اہم ترین سائنسدانوں میں سے ایک ہیں۔

انہوں نے علمِ ارضیات کی روشنی میں قرآن کی اس آیت کی وضاحت اس طرح لکھی ہے۔

ترجمہ ’’کیا ان لوگوں نے جنہوں نے انکار کیا دیکھا نہیں کہ یہ آسمان اور زمین بند تھے پھر ہم نے انہیں کھول دیا۔ اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز بنائی۔

اس آیات میں ایک لفظ ’رتقان‘ آیا ہے جو یہ بتلا رہا ہے کہ  پہلے زمین اور آسمان ایک ساتھ ملے ہوئے تھے۔ بعد میں وہ الگ ہو گئے۔ پروفیسر کارنراس آیت کے متعلق کہتے ہیں کہ قرآن چودہ سو سال پہلے یہ بات اس آدمی کے ذریعہ بتا رہا ہے جو اَن پڑھ تھا۔ اس لئے یہ بات واضح ہے کہ یہ معلومات انسان کے ذریعہ تو ہو ہی نہیں سکتی۔

ان کی بات خود انہیں کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں :

“Thinking of many of these questions and thinking where Muhammd (SAW) came from, he was after all a Bedouin. He could have not known about things like the common origin of the universe, because scientists have only found out within the last few years with very complicated and advance technological methods that this is the case.” (Press F. and Siever, R. “EARTH”, 3rd W. H. Freeman and co. 1982)

ان جیسے سوالوں کے بارے میں سوچنا اور یہ سوچنا کہ محمد ﷺ کہاں سے آئے تھے آخر کار وہ ایک ریگستان کے رہنے والے تھے وہ کیسے ان باتوں کو جان سکتے تھے، جیسے کہ کائنات کی پیدائش کے بارے میں، کیوں کہ سائنس دانوں نے کچھ سال پہلے ہی اس کا پتا لگایا ہے اور وہ بھی جدید ٹکنالوجی کے ساتھ۔

حضرت محمد ﷺ سے متعلق پروفیسر ’’ہے ‘‘کا اظہارِ خیال:

یہ امریکہ کے بحری سائنس دانوں (Marine Scientist) میں  ایک عظیم سائنس داں ہیں۔ انہوں نے قرآن کی مندرجہ ذیل آیتوں کی روشنی میں جدید سائنسی تحقیق اس طرح پیش کی ہے۔

ترجمہ:’’چلائے دو دریا مل کر چلنے والے ان دونوں میں ایک پردہ جو ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرے۔ (۲۰، ۱۹:۵۵)

قرآن میں دوسری جگہ پر ہے :

ترجمہ:’’اور وہی ہے جس نے ملے ہوئے چلائے دو دریا یہ میٹھا پیاس بچھانے والا اور یہ کھاری ہے کڑوا۔ اور کھڑا ان دونوں کے بیچ پردہ اور آڑ روکی ہوئی۔ ‘‘(۵۳:۲۵)

پروفیسر’ہے ‘ان آیتوں سے متعلق کہتے ہیں کہ پانی کی یہ دونوں دھاریں جس طرح ہمیں باہر سے یکساں دکھائی دیتی ہیں حقیقت میں وہ ویسی نہیں ہیں بلکہ وہ بہت سی قدرتی حالتوں میں مختلف ہیں جیسے کثافت درجۂ حرارت، کھارا پَن میں اختلاف ہے۔ سائنس دانوں نے بہت سے مرین اسٹیشن (Marine Station) بنانے کے بعد اس بات کو 1942میں معلوم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر مختلف رنگوں میں دکھائی پڑتے ہیں کہیں کالا تو کہیں گہرا نیلا وغیرہ۔ رنگوں کا اختلاف درجۂ حرارت میں اختلاف کی وجہ سے ہوتا ہے۔

کھارے اور میٹھے پانی کی کثافت مختلف ہونے کی وجہ سے ان کا کشش ثقل (Gravitational Force)بھی مختلف ہوتا ہے اور وہ دونوں آپس میں نہیں ملتے ہیں۔

(Kennett. J, P; “Marine Geology”, Prentice-Hall, Inc; 1982 “OCEAN” Elder, D. and Pernatta, J. editor, world conservation Atlas, Mitchell Beazley publishers. 1991)

آخر میں پروفیسر صاحب لکھتے ہیں :

ان تحقیقات کا قرآن میں مذکور ہونا جب کہ وہ ایک ایسے بندہ پر نازل ہوا جو اَن پڑھ تھا یقیناً اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور  حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ چودہ سوسال قبل سمندروں سے متعلق یہ تحقیق منکشف نہیں ہوئی تھی اس سائنسی تحقیق کا انکشاف تو انیسویں صدی کے آخر میں ہوا ہے۔

یہ حالیہ دور کے چند سائنسدانوں کے خیالات اور ان کی تحقیقات تھیں جو انہوں نے قرآن مجید کی آیتوں اور حضرت محمد ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں پر ریسرچ کرنے کے بعد پیش کی ہیں۔ اس قسم کی تحقیقات کی سینکڑوں مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ سائنسی تحقیقات پر ایمان والوں اور انہیں حرف آخر سمجھنے والوں کو مذکورہ سائنسدانوں کی تحقیقات غور و فکر کی دعوت دے رہی ہیں کہ وہ کم از کم ایک مرتبہ سنجیدگی کے ساتھ حضرت محمد ﷺ کے لائے ہوئے دین اور ان پر نازل کی ہوئی پرمیشور کی آخری کتاب قرآن مجید پر غور کریں اور اپنے لئے صحیح راستے کا انتخاب کریں۔ مجھے پرمیشور کی ذات پر پورا یقین ہے کہ وہ ضرور سیدھے راستہ کی طرف ان کی رہنمائی کرے گا۔ یاد رکھیں ! جس دن آپ کھلے دل و دماغ کے ساتھ حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات پر غور کرنا شروع کریں گے اسی دن آپ کو محسوس ہو گا کہ ظلمت و جہالت کی تاریکیاں چھٹتی چلی جا رہی ہیں اور روشنی کی ایک نئی صبح باہیں پھیلائے آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ ایک بار پھر کہتا ہوں کہ ان گذارشات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور جہالت کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں بھٹکنے کے بجائے علم و ہدایت کی روشنی میں زندگی گزاریں۔

 

 

 

اسلام کیوں ؟

 

پرمیشور کی آخری کتاب قرآن اور آخری رسول محمد ﷺ ہیں اب اس کے بعد نہ کوئی کتاب آنے والی ہے اور نہ ہی کوئی نبی۔ قیامت تک یہی شریعت چلے گی۔ اس لئے ہر انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کے احکامات اور حضرت محمد ﷺ کی ہدایات کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔ اسلام کوئی نیا مذہب نہیں ہے جیسا کہ اس کے متعلق پروپیگنڈہ کیا گیا کہ چودہ سو سال قبل ہی اس کا وجود ہوا ہے بلکہ دنیا میں سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کی تشریف آوری کے زمانے ہی سے اس مذہب کا وجود ہے۔ اس مذہب کو  ویدوں میں ’’ سناتن دھرم ‘‘ کہا گیا جس کا مطلب ہے ’’ہمیشہ سے سیدھا چلا آیا ہوا‘‘ اور ’’شاشوات دھر م ‘‘ کہا گیا جس کا مطلب ہے آسمان سے زمین تک سیدھا چلا آیا ہوا۔ اور اسی کو قرآن میں دینِ قیم کہا گیا ہے۔

کسی بھی انسان کو دھرم پالن کرنے کے لئے اس مذہب کے آدرش یعنی رہنما کے بارے میں معلومات ہونا ضروری ہے کیونکہ مختلف شعبہائے زندگی سے متعلق اس کی عملی زندگی جس قدر تفصیل و وضاحت کے ساتھ لوگوں کے سامنے ہو گی اسی قدر انہیں ان شعبوں میں اپنے آدرش کی ہدایات پر عمل کرنا اور ان کی عملی زندگی کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا آسان ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ سے متعلق جتنی باتیں محفوظ و معلوم ہیں اتنی کسی اوتار یا نبی سے متعلق محفوظ نہیں ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی پوری زندگی کی ہر ہر ادا اور ہر ہر بات معتبر کتابوں میں موجود ہے۔

پیدائش، شیر خوارگی، بچپن، ہوش و تمیز، جوانی، تجارتی اسفار، نکاح،  نبوت ملنے سے قبل آپ کے دوست احباب، قریش کی لڑائی اور قریش کے معاہدے میں شرکت۔ امین بننا اور خانۂ کعبہ میں پتھر نصب کرنا، رفتہ رفتہ تنہائی پسندی، غارِ حرا کی گوشہ نشینی، وحی، اسلام کا ظہور، دعوت و تبلیغ، مخالفت، سفرِ طائف، معراج، ہجرت، غزوات، حدیبیہ کی صُلح، دعوتِ اسلام کے نامہ و پیغام، اسلام کی اشاعت، تکمیلِ دین، حجۃ الوداع، کون سی حالت ہے جس سے اہلِ تاریخ ناواقف ہیں۔

اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، شادی بیاہ، اہل و عیال، دوست احباب، نماز روزہ، دن رات کی عبادت، صُلح و جنگ، آمد و رفت، سفر و حضر، نہانا دھونا، کھانا پینا، ہنسنا رونا، پہننا اوڑھنا، چلنا پھرنا، ہنسی مذاق، بول چال، خلوت جلوت، ملنا جلنا، تعلقات اور ہم خوابی و طہارت کے واقعات ہر چیز پوری وضاحت سے معتبر کتابوں میں مذکور اور محفوظ ہے۔

ہمارے پیغمبر علیہ السلام کے جزئی جزئی واقعات بھی کس طرح قلمبند کئے گئے ہیں ملاحظہ فرمائیں :

آں حضرت ﷺ کے حلیہ اور صورت و شکل، بالوں، پکے ہوئے بالوں، کنگھی، خضاب، سرمہ لگانے، لباس، موزوں، پاپوش، خاتم (انگوٹھی)، تلوار، زرہ، خود، عمامہ، پائجامہ، رفتار، منہ پر کپڑا ڈالنے، نشست،  تکیہ وبستر، تکیہ لگانے، کھانے، روٹی، کے گوشت اور سالن، وضو کرنے، کھانے سے پہلے اور بعد دعا پڑھنے، پیالہ، میوہ، مشروبات، پینے کی کیفیت، خوشبو لگانے، گفتگو، شعر، عشا، سونے، کی عبادت، کے خندہ وتبسم، کے مزاح، چاشت کی نماز، اپنے گھر میں نفل پڑھنے، روزہ کا بیان، قرآن پڑھنے، ، گریہ و زاری، زر، تواضع، اخلاق، حجامت، اسمائے گرامی، زندگی کی صورتِ حال، سن و سال اور عمر، وفات، میراثِ متروکہ کا بیان۔

یہ تمام آپ ﷺ کے ذاتی حالات ہیں۔ ان میں سے ہر ایک عنوان کے متعلق کہیں چند تو کہیں بکثرت واقعات ہیں اور ان واقعات کا ہر پہلو نہایت واضح اور روشن ہے۔ آنحضرت ﷺ کی زندگی کا کوئی لمحہ پوشیدہ نہ تھا۔ گھر میں آپ ﷺ اہل و عیال کے مجمع میں ہوتے تھے اور باہر معتقدوں اور دوستوں کی محفل میں۔

حضرت محمد ﷺ کی سچائی، عاجزی، مسکنت و بے چارگی اور ان کے اخلاقِ کریمانہ کا مشاہدہ کرنا ہو تو ان کی دعاؤں کے مضامین کو دیکھئے کہ وہ اپنے رب سے کیا کیا دعا مانگا کرتے تھے اور کس طرح گڑ گڑا کر اور رو رو کر دعائیں کیا کرتے تھے۔ صرف اپنے اور اپنے ماننے والوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے مخالفین اور دشمنوں کے حق میں بھی وہ اسی طرح رویا اور تڑپا کرتے تھے۔ ان کے دل میں دشمنوں کے لئے بھی ہمدردی تھی، وہ ان کے حق میں بھی ہمیشہ رحمت و عافیت ہی کی دعا کیا کرتے تھے۔ یہاں ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے جس سے آپ ﷺ کی ذات عالی اور آپ کے اخلاقِ کریمانہ کا پتہ چلتا ہے۔

مکہ کے کفار و مشرکین نے جب حضرت محمد ﷺ کی جانب سے پیش کی گئی اسلام کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کیا تو آپ مکہ سے طائف تشریف لے گئے جو مکہ سے تقریباً نوے کیلومیٹر کی دوری پر ہے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے طائف کے تین سرداروں کو اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے آپ پر طنز کرنا اور آپ کا مذاق اڑانا شروع کر دیا ایک نے کہا ’’اوہ ہو‘‘ اللہ نے آپ ہی کو نبی بنا کر بھیجا ہے ‘‘دوسرے نے کہا ’’اللہ کو تمہارے سوا کوئی اور ملتا ہی نہیں تھا‘‘تیسرے نے کہا ’’اگر تو واقعی نبی ہے تو تیری بات کا انکار کرنا مصیبت سے خالی نہیں اور اگر تو جھوٹا ہے تو میں ایسے شخص سے بات نہیں کرنا چاہتا۔ ان لوگو ں سے نا امید ہو کر آپﷺ نے دوسرے لوگوں کو دعوت دی، مگر کسی نے بھی آپ کی دعوت قبول نہ کیا بلکہ قبول کرنے کے بجائے آپ ﷺسے کہا کہ تم ہمارے شہر سے فوراً نکل جاؤ، اور جہاں تمہاری چاہت کی جگہ ہو وہاں چلے جاؤ۔ حضور ﷺ جب ان سے مایوس ہو کر واپس ہونے لگے تو ان لوگوں نے شہر کے لڑکوں کو پیچھے لگا دیا تاکہ آپ کا مذاق اڑائیں، تالیاں پیٹیں، پتھر ماریں، ان ظالموں نے اس قدر آپ کو پتھر مارے کہ آپ کے دونوں جوتے خون کے جاری ہونے سے رنگین ہو گئے۔ حضور اکرم  ﷺ اسی حالت میں واپس ہوئے جب راستے میں ایک جگہ ان شریروں سے اطمینان ہوا، تو حضور ﷺ نے یہ دعا مانگی:

’’اے اللہ! تجھی سے شکایت کرتا ہوں میں اپنی کمزوری اور بے کسی کی اور لوگوں میں ذلت ورسوائی کی۔ اے ارحم الراحمین ! تو ہی ضعفاء کا رب ہے اور تو ہی میرا پروردگار ہے۔ تو مجھ کو کس کے حوالے کرتا ہے کسی اجنبی بیگانے کے جو مجھے دیکھ کر ترش رو ہوتا ہے اور منہ چڑھاتا ہے یا کہ کسی دشمن کے جس کو تو نے مجھ پر قابو دے دیا۔ اے اللہ! اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں ہے تیری حفاظت مجھے کافی ہے۔ میں تیرے چہرہ کے اس نور کے طفیل جس سے تمام اندھیریاں روشن ہو گئیں اور جس سے دنیا اور آخرت کے سارے کام درست ہو جاتے ہیں، اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ پر تیرا غصہ ہو یا تو مجھ سے ناراض ہو تیری ناراضگی کا اس وقت تک دور کرنا ضروری ہے جب تک تو راضی نہ ہو۔ تیرے سواکوئی طاقت ہے نہ قوت۔

پرمیشور کی شانِ  قہاری کو اس پر جوش آنا ہی تھا اس نے فوراً اپنے ایک مقرب فرشتہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو آپ کی تسلی اور نصرت کے لئے آپ کی خدمت میں بھیجا، انہوں نے آ کر سلام کیا اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی وہ گفتگو جو آپ سے ہوئی سنی اور ان کے جوابات بھی سنے اور اپنے ایک فرشتہ کو جس کے متعلق پہاڑوں کی خدمت ہے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ جو چاہیں حکم دیں۔ اس کے بعد اس فرشتہ نے سلام کیا اور عرض کیا کہ جو ارشاد ہو میں اس کی تعمیل کروں۔ اگر ارشاد ہو تو دونوں جانب کے پہاڑوں کوآپس میں ملا دوں تاکہ یہ سب درمیان میں کچل جائیں یا اس کے علاوہ کوئی اور سز ا آپ تجویز فرمائیں۔ حضور ﷺ کی رحیم و کریم ذات نے جواب دیا کہ میں اللہ سے اس کی امید رکھتا ہوں کہ اگر یہ مسلمان نہیں ہوئے تو ان کی اولادوں میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی بندگی اور اس کی عبادت کریں گے۔

یہ ہیں پرمیشور کے آخری اوتار اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی اعلیٰ ظرفی اور بلند اخلاق کہ انتقام کی پوری قدرت ہونے کے باوجود دشمنوں سے انتقام نہیں لیا بلکہ ان کی نسلوں کے حق میں ہدایت کی دعا مانگی۔

جس نے امت کو کبھی نہ بھلایا اس پہ لاکھوں درودو سلام

جس نے امت کو دعاؤں میں بھی نہ بھلایا اس پہ لاکھوں درودو سلام

جس نے عرش پہ جا کے بھی امت کو نہ بھلایا اس پہ لاکھوں درودو سلام

جس نے رحلت کے وقت بھی امت کو نہ بھلایا اس پہ لاکھوں درودو سلام

جس نے امت کو محشر میں بھی نہ بھلایا اس پہ لاکھوں درودو سلام

جس امت نے ان کو بھلایا اس پہ لاکھوں درودو سلام

پھر بھی انہوں نے نہ بھلایا اس پہ لاکھوں درودو سلام

 

اسلام کا لفظی معنی

 

اسلام کا لفظی معنی ہوتا ہے ’’سپردگی، اللہ کے سامنے گردن جھکانا‘‘۔

 

                اسلام کی کچھ بنیادی باتیں :

۱}توحید(ایک پرمیشور کی پوجا)

اسلام میں سب سے اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ اللہ پر ایمان لائے یہ یقین کرتے ہوئے کہ اللہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی ساجھی نہیں اس کے ملک، اس کی صفات اور اس کے عمل میں اس کے برابر کوئی نہیں۔ اسی نے پوری کائنات کو بنا یا وہ زندہ، سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ نہ کوئی اس کی طرح ہے اور نہ کوئی اس کے برابر۔ وہ پوری طاقت اور قدرت والا ہے اور تمام صفات کا حامل ہے۔ وہ کسی کام کے لئے کسی کا محتاج نہیں، دنیا و آخرت کی ہر چیز کواسی نے پیدا کیا، اسی نے زمین، آسمان، چاند سورج، ستارے، انسان، جن اور تمام جانداروں کو پیدا کیا اور وہی روزی دینے والا تمام دنیا کا مالک ہے وہی مارتا اور جلاتا ہے اسی کے حکم کے مطابق سب کچھ ہوتا ہے وہ نہ کھاتا ہے نہ سوتا ہے نہ پیتا ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اسی طرح وہ ہاتھ پیر، ناک کان اور ہر طرح کی جسم وجسمانیت سے پاک ہے۔ سبھی اس کے محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں اور نہ اسے کسی چیز کی ضرورت ہے وہی اکیلا عبادت کامستحق ہے باقی سب اس کے بندے ہیں چاہے وہ کیسی ہی صفات و خوبیوں کے حامل ہوں۔ اللہ کی ذات شوہر، بیٹا، بیوی وغیرہ سے پاک ہے۔ ایسا تعلق اس کی پاکی کے خلاف ہے۔ وہ کسی کام کے کرنے کے لئے مجبور نہیں ہے، اسی طرح وہ کسی شکل و صورت کے اختیار کرنے سے بھی پاک ہے۔ اس نے جب صرف اپنے قوتِ ارادہ سے اتنی بڑی کائنات کو بنا دیاتو اسے کسی کام کے کرنے کے لئے کسی شکل کو اختیار کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہی بیماروں کو اچھا کرتا اور تکلیفوں کو دور کرتا ہے وہی نگہبانی کرنے والا اور ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے اس جیسا کوئی دوسرا نہیں ہے۔

۲}رسالت پر ایمان

اپنے اور ساری کائنات کے پیدا کرنے والے مالک پر ایمان لانے کے بعد اس کے بھیجے گئے تمام پیغمبروں (اوتاروں ) پر ایمان لانا اور ان سے متعلق یہ یقین رکھنا کہ وہ خدا (پرمیشور)کے بندے اور رسول ہیں جنہیں وہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے بھیجتا رہا تاکہ وہ لوگوں کو بھلائی کی تلقین کریں اور برائی سے روکیں۔ اس سلسلہ کی آخری کڑی حضرت محمد ﷺ ہیں ان کے بعد قیامت تک نہ کوئی نبی آئے گا نہ رسول، آپ ﷺ ہی آخری رسول ہیں اور آپ پر نازل کردہ قرآن پاک آخری شریعت ہے۔

۳}کتابوں پر ایمان

پرمیشور نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لئے مختلف زبانوں میں جو کتابیں اور صحیفے اپنے پیغمبروں (اتاروں )پر نازل کیں ان تمام کتابوں اور صحیفوں پر ایمان لانا، ساتھ ہی یہ یقین رکھنا کہ قرآن پرمیشور کی جانب سے بھیجی گئی آخری کتاب ہے جو دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کے لئے بلکہ رہتی دنیا تک آنے والے تمام لوگوں کے لئے مشعل ہدایت ہے۔ یہ کتاب ایک مکمل دستورالعمل اور ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی اتباع اور پیروی دنیا کے تمام لوگوں کے لئے واجب العمل ہے۔ پرمیشور کے اس فرمان اور پیغام کو حضرت محمد ﷺ نے کماحقہٗ تمام انسانوں تک پہنچا دیا۔

۴}فرشتوں پر ایمان

اس بات پر ایمان رکھنا کہ جس طرح پرمیشور نے انسانوں اور جنوں کو پیدا کیا ہے اسی طرح اس نے ایک نورانی مخلوق فرشتوں کو بھی اپنی قدرت سے پیدا کیا ہے اور ان کے ذمہ کچھ کام لگا دیئے ہیں فرشتوں کو جس کام میں لگا دیا گیا ہے وہ اس کے خلا ف کبھی نہیں کرتے۔

۵}تقدیر پر ایمان

اس بات پر ایمان رکھنا کہ اچھی بری تقدیر اللہ(پرمیشور) کی طرف سے ہوتی ہے وہ آنے والے سبھی واقعات کو جانتا ہے اور وہی جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔

۶}قیامت اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان

اس بات پر ایمان لانا کہ یہ دنیا لامتناہی نہیں ہے اسے ایک دن ختم کر دیا جائے گا اسی کو قرآن پاک میں ’’قیامت‘‘ کہا گیا ہے۔ پھر اللہ کے حکم سے دوبارہ تمام جاندار کو اٹھایا جائے گا اور ان کے اعمال کا حساب ہو گا پھر ان کے اعمال کے مطابق انہیں جنت یا جہنم میں ڈالا جائے گا۔

 

اسلام کے پانچ ستون

 

ایمان، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج یہ اسلام کے پانچ ستون ہیں۔

ایمان(وشواس) :سچے دل سے پرمیشور(خدا)کو ماننا، اس کے بھیجے ہوئے تمام رسولوں، نبیوں، کتابوں، فرشتوں، آخرت، تقدیر اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لانا۔ یہ چند باتیں ہیں جس پر ایمان لائے بغیر انسان مومن نہیں ہوسکتا۔

نماز :  ہر مسلمان مرد اور عورت، عاقل اور بالغ پر پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں۔ وہ پانچ وقت کی نمازیں یہ ہیں۔

فجر (سورج نکلنے سے پہلے )ظہر(سورج ڈھلنے کے بعد ) عصر (دوپہر  کے بعد)مغرب(سورج ڈوبنے کے بعد)  عشاء  (رات میں )

مردوں کو یہ پانچوں نمازیں مسجد میں با جماعت پڑھنی ہوتی ہیں اور عورتوں کے لئے جماعت نہیں ہے وہ گھر ہی میں پڑھتی ہیں۔ نماز اپنے رب سے ملنے کا بہت ہی آسان ذریعہ ہے۔ نما ز پڑھنے کے لئے کسی سازو سامان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سارے مسلمان چاہے وہ غریب ہویا امیر، چھوٹا ہو یا بڑا، کالا ہو یا گورا۔ ہر کوئی مسجد میں کاندھے سے کاندھا ملا کر ایک ہی صف میں کھڑا ہوتا ہے۔

اسی منظر سے متعلق شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے   ؎

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز

نماز جنت کی کنجی ہے، نماز دین کا ستون ہے، ایمان کے بعد نماز سب سے بڑا فرض ہے

روزہ: صبح صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور جماع سے رکنے کا نام روزہ ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ روزہ کا مہینہ ہے، یہ چاند کے اعتبار سے کبھی انتیس اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے روزہ بھی ہر مرد، عورت، عاقل اور بالغ پر فرض ہے۔

سحری : صبح صادق سے پہلے جو کھایا پیا جاتا ہے اس کو سحری کہتے ہیں

افطار: غروبِ آفتاب کے بعد کھانے پینے کو افطار کہتے ہیں۔

تراویح:اس مہینہ میں عشاء کی نماز کے بعد مزید بیس رکعات پڑھی جاتی ہیں جسے تراویح کہتے ہیں۔

رمضان کا مہینہ بہت برکت، رحمت اور مغفرت والا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ غریبوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کا مہینہ ہے۔ رمضان صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غمخواری کرنے کا ہے اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہو گا اور روزہ دار کے ثواب کے مانند اس کو بھی ثواب ملے گا اور اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔ کوئی ایک کھجور سے کسی کو افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی پلا دے یا ایک گھونٹ لسّی پلا دے اس پر بھی اللہ تعالیٰ یہ ثواب مرحمت فرما دیتے ہیں۔ روزہ رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی متقی بن جائے یعنی گناہوں کو چھوڑ دے۔ اور ایک دوسرا مقصد یہ بھی ہے کہ مالدار آدمی کو یہ احساس پیدا ہو کہ  ایک غریب بھوکا انسان کیسے اپنے ایام گزارتا ہے۔

زکوٰۃ:جس مرد یا عورت کے پا س ساڑھے سات تولہ سونا یاساڑھے باو ن تولہ چاندی ہویا اس کے برابر پیسہ یا کاروبار کا مال ہو اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس پر ڈھائی فیصد یعنی کل مال کا چالسواں حصہ زکوٰۃ نکالنا ضروری ہے۔ مثلاً کسی کے پاس دس ہزار روپئے ہوں اور وہ اس کے پاس ایک سال تک رہیں تو اس کو ڈھائی سو روپئے زکوٰۃ نکالنا ضروری ہے۔ زکوٰۃ کا مستحق وہ شخص ہو گا جس کے پاس مذکورہ چیزوں میں سے کوئی چیز نہ ہو۔ زکوٰۃ کوئی ٹیکس نہیں بلکہ امیروں کے مال کی صفائی اور غریبوں کے لئے اللہ کی طرف سے مدد کا ایک نظام ہے۔ زکوٰۃ اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے ایک طرح کی مالی عبادت بھی ہے۔ اسلام پونجی واد کا مخالف اور دھن ووبھاجن کا حامی ہے۔

حج  :اسلام کا پانچواں ستون حج ہے جو صاحبِ استطاعت مسلمان مرد و عورت پر عمر بھرمیں ایک مرتبہ فرض ہے۔ حج ایک خاص جگہ یعنی مکہ مکرمہ میں اور ایک خاص مہینہ یعنی ذی الحجہ میں ہوتا ہے۔

حج پانچ دنوں میں ہوتا ہے ذی الحجہ کی ۸؍تاریخ سے ۱۲؍تاریخ تک تمام مرد اپنے بدن پر صرف دو بغیر سلی چادر اوڑھے رہتے ہیں جس میں سر کھلا ہوتا ہے اس کو احرام کہتے ہیں۔ جب کہ عورتیں اپنے گھر کے کپڑے ہی پہنتی ہیں،۔ تمام حاجی ۸؍تاریخ کو مکہ سے منیٰ جاتے ہیں جو مکہ سے تقریباً پانچ میل کی دوری پر ہے وہاں ایک دن رہ کر ۹؍تاریخ کی صبح کو عرفات جاتے ہیں۔ جو مکہ سے تقریباً دس میل کی دوری پر ہے۔ عرفات میں سارے حاجیوں کا حاضر ہونا ضروری ہے۔ اس روز اللہ تعالیٰ حاجیوں کے تمام گناہوں کو معاف کر دیتے ہیں، حاجی گناہوں سے ایسا پاک صاف ہو جاتا ہے جیسے آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ غروبِ آفتاب کے بعد تمام حاجی مزدلفہ روانہ ہوتے ہیں جو منیٰ اور عرفات کے درمیان واقع ہے۔ جہاں کھلے میدان میں رات گزار تے ہیں پھر فجر کی نماز پڑھ کر منیٰ کے لئے روانہ ہوتے ہیں۔ دس ذی الحجہ کو شیطان کو کنکری مارتے ہیں، پھر قربانی کر کے مر د اپنے سرکے بال ترشواتے ہیں اور عورتیں اپنے کچھ بال کاٹ لیتی ہیں۔ بس اس کے بعد وہ دو بغیر سلی چادریں اتار دی جاتی ہیں تمام حاجی اپنے گھر کے کپڑے پہن لیتے ہیں۔ ۱۱؍اور ۱۲؍ذی الحجہ کو منیٰ میں رہ کر پانچ وقت کی نماز ادا کرتے ہیں اور شیطان کو کنکری مارتے ہیں۔ ۱۲؍ذی الحجہ کو غروبِ آفتاب سے پہلے پہلے خانۂ کعبہ کے گرد سات چکر لگانا ضروری ہے جسے طواف کہتے ہیں اس طواف کو طوافِ زیارت کہا جاتا ہے۔ ۱۲؍ذی الحجہ کو شیطان کو کنکری مار کر مکہ مکرمہ واپس آ جاتے ہیں حج جانی اور مالی دونوں قسم کی عبادت ہے۔

٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید