FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

سنت کی آئینی حیثیت

 

 

حصہ سوم

 

               سید ابوالاعلیٰ مودودی

 

ٹائپنگ:       قسیم حیدر، فہد کیہر، خاور بلال، ماوراء، محمد شمشاد خاں، محب علوی

تصحیح:          جویریہ مسعود، اعجاز عبید

 

 

عدالت عالیہ مغربی پاکستان کا ایک اہم فیصلہ

 

               (ترجمہ از ملک غلام علی صاحب)

 

(جناب جسٹس محمد شفیع صاحب، جج مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے جس فیصلے کے بیشتر حصے کا ترجمہ ذیل میں دیا جا رہا ہے، یہ دراصل ایک اپیل کا فیصلہ ہے جس میں اصل مسئلہ زیر بحث یہ تھا کہ ایک بیوہ اپنی نابالغ اولاد کی موجودگی میں اگر ایسے مرد سے نکاحِ ثانی کر لے جو اولاد کے لیے غیر محرم ہو، تو ایسی صورت میں آیا اس بیوہ کے لیے اس اولاد کی حضانت کا حق باقی رہتا ہے یا نہیں؟ اس امرِ متنازعہ فیہ کا فیصلہ کرتے ہوئے فاضل جج نے بڑی تفصیل کے ساتھ ان اصولی مسائل پر بھی اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے کہ اسلام میں قانون کا تصور اور قانون سازی کا طریق کیا ہے، قرآن کے ساتھ حدیث کو بھی مسلمانوں کے لیے مآخذ قانون تسلیم کیا جا سکتا ہے یا نہیں اور بالخصوص پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت کہاں تک فقہِ حنفی کے قواعد و ضوابط کی پابند سمجھی جا سکتی ہے؟ اس لحاظ سے یہ فیصلہ اسلامی قانون کے اساسی اور اہم ترین مسائل کو اپنے دائرۂ بحث میں لے آیا ہے۔

اس فیصلے کے جو حصے اصل مقدمے سے متعلق ہیں ان کو چھوڑ کر صرف اس کے اصولی مباحث کا ترجمہ یہاں دیا جا رہا ہے۔ بعض مقامات پر فیصلے میں جو قرآنی آیات نقل کی گئی ہیں انہیں معہ ترجمہ درج کرنے کے بجائے صرف سورہ اور آیات کا نمبر دے دیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ پی ایل ڈی ۱۹۶۰ء لاہور (صفحہ ۱۱۴۲ تا ۱۱۷۹)کے مطبوعہ متن کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔ اصل اور مکمل فیصلہ وہیں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے (غلام علی)

 

۴۔  بالفرض اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ولی کا تقرر ضروری تھا اور گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ نمبر ۱۷ کا اطلاق اس مقدمے پر ہوتا تھا، تب ایک بڑا فیصلہ طلب سوال جو ہمارے سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ قانون کیا ہے جس کا ایک نابالغ پابند ہے۔ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ نا بالغان اور ان کے والدین مسلمان ہیں اور مسلم لا کے تابع ہیں لیکن اس سوال کا جواب آسان نہیں ہے کہ ولایتِ نابالغ کے معاملے میں وہ کون سا قانون ہے جس کی پابندی لازم ہے۔ تقریباً تمام کی تمام کتابیں، جن میں سے بعض انتہائی مشہور و معروف اور قابل احترام قانون دانوں اور ججوں کی تصانیف ہیں، ایسے قواعد و ضوابط پر مشتمل ہیں جن کی پابندی نا بالغان کی ذات اور جائیداد کی ولایت کے معاملے میں ایک عرصۂ دراز سے ہند و پاکستان میں کی جا رہی ہے۔ درحقیقت ہندوستان کی جملہ عدالتیں بشمول سپریم کورٹ، برطانوی عہدِ قبلِ تقسیم سے لے کر اب تک ان قواعد کی سختی سے پابندی کرتی رہی ہیں۔ اس امر کا امکان موجود ہے کہ برطانوی حکومت سے پہلے کے قاضی اور ماہرین قانون بھی ان قواعد و ضوابط کی پیروی کرتے رہے ہوں اور بعد میں بھی ان کی پابندی کی جاتی رہی ہو، کیونکہ مسلمان قانون دان یہ نہیں چاہتے تھے کہ انگریز یا دوسرے غیر مسلم اپنے مقصد کے مطابق قرآن پاک کی تفسیر و تعبیر کریں اور قوانین بنائیں۔ فتاویِٰ عالمگیری کو مسلم قانون سے تعلق رکھنے والے تمام معاملات میں جو اہمیت حاصل ہے وہ اس حقیقت کی صاف نشاندہی کرتی ہے لیکن اب حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ یہ قواعد و ضوابط مختصراً درج ذیل ہیں:

 

(اس کے بعد پیرا گراف ۴ کے بقیہ حصے اور پیراگراف ۵ اور ۶ میں فاضل جج نے مسئلۂ حضانت کے بارے میں حنفی، شافعی اور شیعہ فقہ کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں۔)

 

۷۔  جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، اصل تصفیہ طلب سوال یہ ہے کہ کیا کسی درجے کی قطعیت کے ساتھ ان قواعد کو اسلامی قانون کہا جا سکتا ہے، جسے وہی لزوم کا مرتبہ حاصل ہو جو ایک کتابِ آئین میں درج شدہ قانون کو حاصل ہوتا ہے؟ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ آیا یہ وہی قانون ہے جس کی پابندی گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ نمبر ۱۷ کی منشاء کے مطابق ایک مسلم نابالغ پر واجب ہے؟

 

۸۔  مسلمان کے عقیدے کی رو سے، قطع نظر اس کے کہ وہ کس فرقے سے تعلق رکھتا ہے، جو قانون اس کی زندگی کے ہر شعبے میں حکمران ہونا چاہیے، خواہ وہ اس کی زندگی کا مذہبی شعبہ ہو یا سیاسی یا معاشرتی یا معاشی، وہ صرف خدا کا قانون ہے۔ اللہ ہی حاکم اعلیٰ ہے، علیم و حکیم ہے اور قادرِ مطلق ہے۔ اسلام میں خدا اور بندے کے مابین تعلق سادہ اور بلا واسطہ ہے۔ کوئی پیشوا، امام، پیر یا کوئی دوسرا شخص (خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ، قبر میں ہو یا قبر سے باہر ہو) اس تعلق کے مابین وسیلہ بن کر حائل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ہاں پیشہ ورانہ پیشواؤں کا کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو اپنی لعنت کی دھمکی دے کر اور خدا کے غضب کا اجارہ دار بن کر، اپنے مزعومات کو تحکمانہ انداز میں ہم پر ٹھونسے۔ قرآن نے جو حدود مقرر کر دیے ہیں، ان کے اندر مسلمانوں کو سوچنے اور عمل کرنے کی پوری آزادی ہے۔ اسلام میں ذہنی اور روحانی حریت کی فضا موجود ہے۔ چونکہ قانون انسانی آزادی پر پابندیاں عائد کرنے والی طاقت ہے اس لیے خدا نے قانون سازی کے اختیارات پوری طرح اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔ اسلام میں کسی شخص کو اس طرح کام کرنے کا اختیار نہیں ہے گویا کہ وہ دوسروں سے بالاتر ہے۔ قرآن انفرادیت پسندی کو ختم کر دینا چاہتا ہے۔ اسلام نے عالمگیر اخوت اور کامل مساوات کا سبق دے کر اپنے اخلاقی نظام کے اندر انسان پر سے انسان کے تفوق اور برتری کو بالکلیہ ختم کر دیا ہے، خواہ وہ برتری علمی دائرے میں ہو یا زندگی کے دوسرے دوائر میں۔ دنیا بھر کے مسلمان نہیں تو کم از کم ایک ملک کے مسلمانوں کا ایک ہی لڑی میں پرویا جانا ضروری ہے۔ اسلامی ریاست میں ایسے شخص کا وجود ناممکن ہے جو مطلق العنانی اور شہنشاہانہ اختیارات کا مدعی ہو۔ ایک اسلامی ریاست کے صدر کا کام بھی صحیح معنوں میں یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام و فرامین پر عمل درآمد کرے۔ قرآن بلکہ اسلام اس تصور سے قطعاً نا آشنا ہے کہ ایک آدمی تمام مسلمانوں کے لیے قانون وضع کرے۔ قرآن مجید بتکرار اور باصرار اس امر کا اعلان کرتا ہے کہ اللہ اور صرف اللہ ہی اس دنیا و آخرت کا بادشاہ ہے اور اس کے احکام آخری اور قطعی ہیں۔ سورہ ۶ آیت ۷، سورہ ۱۲ آیت ۴۰ و ۶۷ میں فرمایا گیا ہے کہ حکمران صرف اللہ ہے۔ اسی طرح سورہ ۴۰ آیت ۱۲ میں فرمایا گیا ہے:

فالحکم للہ العلی الکبیر

پس فیصلہ اللہ کے لیے ہے جو برتر و بزرگ ہے۔

 

یہ بات سورہ ۵۹: ۲۴-۲۳ سے بھی واضح ہے کہ حاکم اعلیٰ اللہ کی ذات ہے۔

ھو الذی لا الہ الا ھو۔ الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر۔ سبحان اللہ عما یشرکون۔ ھو اللہ الخالق الباری المصور لہ الاسمآء الحسنٰی یسبح لہ ما فی السمٰوٰت والارض وھو العزیز الحکیم

وہی اللہ ہے۔ نہیں کوئی الٰہ سوا اس کے، بادشاہ ہے، پاک ہے، سلامتی والا ہے، امن دینے والا ہے، نگہبان ہے، زبردست ہے، غالب ہے اور بڑائی والا ہے۔ پاک ہے اس سے جسے وہ شریک کرتے ہیں۔ وہی اللہ ہے، خالق ہے، بنانے والا ہے، صورت گری کرتا ہے، اس کے لیے ہیں بہت اچھے نام۔ پاکیزگی بیان کرتی ہے اس کی ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہ زبردست دانا ہے۔

 

۹۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے چاروں خلفاء کا عمل اس بات کی واضح شہادت فراہم کرتا ہے کہ بادشاہت اسلام کے قطعاً منافی ہے، ورنہ ان کے لیے اس سے آسان تر بات کوئی نہیں تھی کہ وہ مسلمان قوم کے بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیتے۔ اگر وہ ایسا کر دیتے تو ان کے دعوے کو فوراً تسلیم کر لیا جاتا، کیونکہ ان کی صلاحیت، دیانت اور استقامت شک و شبہ سے بالاتر تھی۔ یہ بات بھی پورے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ وہ نہ یہ یقین رکھتے تھے اور نہ اس کا اعلان ہی کرتے تھے کہ وہ اسلامی دنیا کے خود مختار اور مطلق العنان فرمانروا ہیں۔ وہ جو کام بھی کرتے تھے، دوسرے مسلمانوں کے باہمی مشورے سے کرتے تھے۔ تمام مسلمان ایک ہی برادری میں شریک تھے جو ان کے یا دوسرے لفظوں میں اسلامی عقیدے کا لازمی تقاضا تھا۔ اس عقیدے کا عین مزاج یہ تھا کہ انسان پر سے انسان کی فوقیت کا خاتمہ ہو گیا اور اجتماعی فکر اور اجتماعی عمل کے لیے دروازہ کھل گیا۔ نہ کوئی حاکم تھا، نہ کوئی محکوم، نہ کوئی پروہت تھا نہ کوئی پیر۔ ہر شخص امام بن سکتا تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ اسے ان لوگوں کی پیروی کرنی پڑتی تھی جو تقویٰ یا کسی دوسرے لحاظ سے اس پر فایق تھے۔ امیر معاویہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اخوت اسلام پر ایک کاری ضرب لگائی اور اپنے لڑکے کو ریاست کا جانشیں نامزد کر کے پوری قوم کو اپنے خاندان کے عوض گرو کر دیا۔ ہمارے جمہوریت پسند رسولﷺ کی وفات کے جلد ہی بعد اسلام کی لائی ہوئی جمہوریت کو امپیریلزم میں تبدیل کر دیا گیا۔ معاویہ نے نسلی خلافت کا آغاز کر کے اسلام کی جڑ میں تیشہ رکھ دیا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اگرچہ اپنے بعض قرابت داروں سے بڑی محبت رکھتے تھے، لیکن انہوں نے ان میں سے کسی کو بھی اپنے بعد امت مسلمہ کا سربراہ مقرر نہیں کیا۔ ہمیشہ آپ کی روش نمایاں طور پر جمہوری رہی۔ معاویہ کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے نے ان کے حسب منشاء خلافت پر غاصبانہ قبضہ جما لیا اور خود نبی کے نواسے نے یزید کی اس خلاف ورزیِ قرآن کا سدباب کرنے کے لیے اپنی اور اپنے عزیزوں کی جانوں کو قربان کر دیا۔ یہ بنو امیہ کا پروپیگنڈہ تھا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان اس لیے دی تاکہ وہ خلافت کے حق کو اہل بیت کے لیے محفوظ کر سکیں۔ یہ پروپیگنڈا بالکل جھوٹا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ شیعہ حضرات بھی اسی پروپیگنڈے کا ارتکاب کیے جا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے امام حسین کو کامیابی حاصل نہ ہو سکی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بادشاہت اور استبداد مسلمانوں کے اندر ایک مسلم قاعدے کی حیثیت اختیار کر گئے۔ اس کے بعد مسلمانوں کے لیے اپنے امیر کے انتخاب میں کوئی اختیار باقی نہ رہا اور اپنے معاملات کے کنٹرول میں ان کا کوئی دخل نہ رہا۔ معاویہ نے جس کام کا آغاز کیا اس کا شاید کوئی فوری خراب نتیجہ برآمد نہ ہوا، لیکن آخر کار اس نے مسلم سوسائٹی کے صحت مندانہ ارتقا اور نشوونما کو ناگزیر طور پر متاثر کیا اور آج اقوام عالم کی برادری میں اس کی حیثیت ثانوی بن کر رہ گئی ہے۔

 

۱۰۔  قرآن مجید کی رو سے مسلمانوں کا امیر صرف وہ شخص ہو سکتا ہے جو علمی اور جسمانی حیثیت سے اس منصب کے لیے موزوں ہے۔ اس سے صاف طور پر امارت کی نسلی بنیاد کی نفی ہو جاتی ہے۔ اس معاملے میں مندرجہ ذیل آیات کا نقل کرنا مفید ہو گا۔

 

وقال لھم نبیھم ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکا قالو انّٰی یکون لہ الملک علینا و نحن احق بالملک منہ ولم یوت سعۃ من المال قال ان اللہ اصطفہ علیکم و زادہ بسطۃ فی العلم و الجسم واللہ یوتی ملکہ من یشآء واللہ واسع علیم۔

 

ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے۔ وہ بولے “ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حقدار ہو گیا۔ حالانکہ اس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں۔ وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے۔” نبی نے کہا “اللہ نے تمہارے مقابلے میں اس کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی اور جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے۔ اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے۔”

 

۱۱۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے اسلامی قانون کے ٹھیک ٹھیک مطابق قانون سازی اللہ اور صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے۔ آدم سے لے کر اب تک اللہ تعالیٰ نے اپنے قوانین اپنے انبیاء اور رسولوں کے ذریعے سے نافذ فرمائے ہیں۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اللہ کی حکمت بالغہ اس امر کی مقتضی ہوئی کہ لوگوں کو آخری شریعت عطا کی جائے۔ یہ قانون شریعت انسانوں کی طرف محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) پر وحی کی شکل میں نازل ہوا۔ یہ وحی لکھ لی گئی، زبانی یاد کر لی گئی اور بعد میں اسے ایک کتاب کی شکل میں جمع کر دیا گیا جو قرآن مجید کے نام سے معروف ہے۔ اس کے بعد نسل انسانی کے تمام مردوں، عورتوں اور بچوں کے معاملات کا تصفیہ ان احکام کی روشنی میں کیا جانا تھا جو اللہ نے قرآن میں ارشاد فرمائے۔ یہی احکام بتاتے ہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے، کیا پسندیدہ ہے اور کیا غیر پسندیدہ ہے، کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے، کیا مستحب ہے اور کیا مکروہ ہے۔ غرض قرآن مجید مسلم معاشرے کی ایک لازمی بنیاد ہے۔ یہ وہ مرکز و محور ہے جس کے گرد پورا اسلامی قانون گردش کرتا ہے۔

 

۱۱(الف)۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ انسانوں پر مشتمل سوسائٹی ایک نہایت پیچیدہ شے ہے۔ اگرچہ فطرت ابدی و ازلی ارادے کے اظہار کا نام ہے اور یہ ایک ابدی قانون کے تابع ہے لیکن انسانی احوال و کوائف ہر زمانے اور ہر مقام کے لحاظ سے یکساں نہیں ہیں۔ شخصیات اور مادی حالات کا اجتماع مستقبل کے واقعات کے لیے کوئی نمونہ نہیں رکھتا۔ انسان کے ہزار گونہ معاملات ہیں جن میں ہزار گونہ حالات و کوائف سے سابقہ پیش آتا ہے۔ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ ہر بچہ جو دنیا میں آئے، اپنے ساتھ خیالات کی ایک نئی دنیا لائے۔ ہر طلوع ہونے والا دن نئے اور غیر متوقع تغیرات کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اس دنیا میں چونکہ انسانی حالات اور مسائل بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اس بدلتی ہوئی دنیا کے اندر مستقل، ناقابل تغیر و تبدل احکام و قوانین نہیں چل سکتے۔ قرآن مجید بھی اس عام قاعدے سے مستثنٰی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے مختلف معاملات میں چند وسیع اور عام قاعدے انسانی ہدایت کے لیے دے دیے ہیں۔ یہ ہمیں مجرد قواعد کا ایک کامل ترین نظام اور خیر و صلاح پر مبنی ایک ضابطۂ اخلاق دیتا ہے۔ بعض خاص معاملات (مثلاً وراثت) میں یہ زیادہ واضح اور مفصل ہے۔ بعض امور ایسے ہیں جن کا ذکر تمثیل و تلمیح کے انداز میں کیا گیا ہے۔ بعض معاملات ایسے ہیں جن میں قرآن نے مکمل سکوت اختیار کیا ہے تاکہ ان معاملات میں انسان اپنا طرز عمل زمانے کے حالات کے مطابق متعین کرے۔ قرآن مجید میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ نہایت سادہ زبان میں نازل کیا گیا ہے تاکہ ہر ایک اسے سمجھ سکے۔ بعض آیات جن میں اس بات پر زور دیا گیا ان کا یہاں نقل کر دینا مفید ثابت ہو گا۔

 

(اس کے بعد جج نے سورہ ۲ آیت ۲۴۲، سورہ ۶ آیت ۹۹، سورہ ۶ آیت ۱۰۶، سورہ ۶ آیت ۱۲۷، سورہ ۱۱ آیت ۱، سورہ ۱۲ آیت ۲، سورہ ۱۵ آیت ۱، سورہ ۱۷ آیت ۸۹، سورہ ۱۷ آیت ۱۰۶، سورہ ۳۸ آیت ۲۹، سورہ ۵۴ آیت ۱۷، سورہ ۵۷ آیت ۲۵، سورہ ۳ آیت ۵۸، سورہ ۴۱:۴۴ نقل کی ہیں، اور ان کا ترجمہ بھی ساتھ دیا ہے۔)

 

پس یہ امر بالکل واضح ہے کہ قرآن کا پڑھنا اور سمجھا ایک دو آدمیوں کا مخصوص حق نہیں ہے۔ قرآن سادہ اور آسان زبان میں ہے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے، تاکہ تمام مسلمان اگر چاہیں تو اسے سمجھ سکیں اور اس کے مطابق عمل کر سکیں۔ یہ ایک ایسا حق ہے جو ہر مسلمان کو دیا گیا ہے اور کوئی شخص، خواہ وہ کتنا ہی فاضل اور عالی مقام کیوں نہ ہو، وہ مسلمان سے قرآن پڑھنے اور سمجھنے کا حق نہیں چھین سکتا۔ قرآن مجید کو سمجھتے ہوئے ایک آدمی پرانے زمانے کے لائق مفسرین کی تفاسیر سے قیمتی امداد حاصل کر سکتا ہے لیکن اس معاملے کو بس یہیں تک رہنا چاہیے۔ ان تفسیروں کو اپنے موضوع پر حرف آخر نہیں قرار دیا جا سکتا۔ قرآن مجید کا پڑھنا اور سمجھا خود اس امر کا متضمن ہے کہ آدمی اس کی تعبیر کرے اور اس کی تعبیر کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آدمی اس کو وقت کے حالات پر اور دنیا کی بدلتی ہوئی ضرورت پر منطبق کرے۔ اس مقدس کتاب کی جو تعبیریں قدیم مفسرین، مثلاً امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی وغیرہ نے کی ہیں، جن کا تمام مسلمان اور میں خود بھی انتہائی احترام کرتا ہوں، وہ آج کے زمانے میں جوں کی توں نہیں مانی جا سکتیں۔ ان کی تعبیرات کو در حقیقت دوسرے بہت سے فضلاء نے بھی تسلیم نہیں کیا ہے جن میں ان کے اپنے شاگرد بھی شامل ہیں۔ قرآن مجید کے مختلف ارشادات کا جو غائر مطالعہ ان حضرات نے کیا تھا، وہ ہم پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ ان گرد و  پیش کے حالات اور واقعات سے متاثر ہوئے ہیں جو اس زمانے کے ماحول پر طاری تھے۔ وہ ان مسائل کے بارے میں ایک خاص نتیجے تک پہنچے ہیں جو ان کے اپنے ملک یا زمانے میں درپیش تھے۔ آج سے بارہ یا تیرہ سو برس پہلے کے مفسرین کے اقوال کو حرف آخر مان لیا جائے تو اسلامی سوسائٹی ایک آہنی قفس میں بند ہو کر رہ جائے گی اور زمانے کے ساتھ ساتھ نشوونما کا اسے موقع نہیں ملے گا۔ یہ پھر ایک ابدی اور عالمگیر دین نہیں رہے گا بلکہ جس زمان و مکان میں اس کا نزول ہوا تھا، یہ اسی تک محدود رہے گا۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے، اگر قرآن کوئی لگے بندھے ضوابط مقرر نہیں کرتا تو امام ابو حنیفہ وغیرہ کی تشریحات کو بھی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ بالواسطہ اسی نتیجے کا باعث بنیں۔ بدقسمتی سے حالات جدیدہ کی روشنی میں قرآن مجید کی تفسیر کا دروازہ چند صدیوں سے بالکل بند کر دیا گیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان مذہبی جمود، تہذیبی انحطاط، سیاسی پژمردگی اور معاشی زوال کا شکار ہو چکے ہیں۔ سائنٹیفک ریسرچ اور ترقی جو ایک زمانے میں مسلمانوں کا اجارہ تھی وہ دوسروں کے ہاتھوں جا چکی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان ہمیشہ کی نیند سوگئے ہیں۔ اس صورت حال کا خاتمہ لازمی ہے۔ مسلمانوں کو بیدار ہو کر زمانے کے ساتھ چلنا ہو گا۔ اجتماعی، معاشی اور سیاسی حیثیت سے جو بے حسی اور بے عملی مسلمانوں کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے اس سے نجات حاصل کرنی پڑے گی۔ قرآن مجید کے عام اصولوں کو سوسائٹی کے بدلتے ہوئے تقاضوں پر منطبق کرنے کے لیے ان کی ایسی معقول اور دانشمندانہ تعبیر کرنی ہو گی کہ لوگ اپنی تقدیر اور اپنے خیالات اور اخلاقی تصورات کی تشکیل اس کے مطابق کر سکیں اور اپنے ملک اور زمانے کے لیے موزوں طریقے پر کام کر سکیں۔ دوسرے انسانوں کی طرح مسلمان بھی عقل اور ذہانت رکھتے ہیں اور یہ طاقت استعمال کرنے ہی کے لیے یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اس بات پر غور و خوض اور تحقیق کریں کہ نصوص قرآنی کا مدعا اور مفہوم عند اللہ کیا ہے اور اسے اپنے مخصوص احوال پر کس طرح چسپاں کیا جا سکتا ہے۔ پس تمام مسلمانوں کو قرآن پڑھنا، سمجھنا اور اس کی تعبیر کرنا ہو گا۔

 

و منھم من یستمع الیک حتٰی اذا خرجو من عندک قالو اللذین اوتو العلم ماذا قال اٰنفا اولئک الذین طبع اللہ علیٰ قلوبھم واتبعو اھواءھم

(اور ان میں سے وہ ہیں جو تمہاری بات بہ تکلف سنتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ تمہارے پاس سے نکل جاتے ہیں تو وہ ان لوگوں سے جنہیں علم دیا گیا ہے، کہتے ہیں “کیا کہا ہے اس نے ابھی؟” یہی لوگ ہیں جن کے دل پر اللہ نے ٹھپا لگا دیا ہے اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے)۔

 

ھو الذی بعث فی الامیین رسولاً منھم یتلو علیھم آیتہ و یزکیھم ویعلمھم الکتب والحکمۃ و ان کانو من قبل لفی ضلال مبین

(وہی ہے جس نے پیدا کیا امیوں میں ایک رسول ان میں سے، جو تلاوت کرتا ہے اور ان پر اس کی آیات اور انہیں پاک کرتا ہے اور سکھاتا ہے انہیں کتاب اور حکمت حالانکہ وہ پہلے یقیناً کھلی ہوئی گمراہی میں تھے)۔

 

لوگوں پر لازم ہے کہ وہ قرآن میں تدبر کریں اور اپنے دلوں پر قفل نہ لگا دیں۔

 

کتاب انزلنہ الیک مبٰرک لیدبر و اٰیٰتہ ولیتذکر اولو الالباب

(یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے، برکت والی ہے، تاکہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں)

 

لوگوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ قرآن میں غور و فکر کریں اور اسے سمجھنے کی کوشش کریں جس طرح دنیا میں دیگر مقاصد کے حصول کی خاطر سخت جدوجہد کی ضرورت ہے، اسی طرح قرآن کو سمجھنے اور اس کے مدعا کو پانے کی سخت کوشش ہی کا نام اجتہاد ہے۔

 

و من جاھد فانما یجاھد لفنسہ ان اللہ لغنی عن العالمین

(جو کوئی سخت جدوجہد کرتا ہے، وہ اپنی جان کے لیے جدوجہد کرتا ہے، یقیناً اللہ بے نیاز ہے جہان والوں سے)۔

 

دوبارہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ لوگ قرآن مجید کا مکمل اور صحیح علم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

 

حتٰی اذا جاءوا قال اکذبتم بایٰتی ولم تحیطوا بھا علما امّاذا کنتم تعلمون

(یہاں تک کہ جب وہ آ جائیں گے وہ کہے گا: کیا تم نے میری آیات کو جھٹلایا، حالانکہ تم نے علم سے ان کا احاطہ نہیں کیا، یا تم کیا کر رہے تھے؟)

 

و جاھدو فی اللہ حق جھادہٖ ھو اجتبکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج ملۃ ابیکم ابراھیم ھو سمّٰکم المسلمین من قبل و فی ھذا لِیکون الرسول شھیدا علیکم و تکونو شھدآء علی الناس فاقیمو الصلوۃ و اٰتو الزکوۃ و اعتصمو باللہ ھو مولٰکم فنعم المولیٰ و نعم النصیر

(اور سخت کوشش کرو اللہ (کی راہ) میں جیسا کہ اس کے لیے کوشش کا حق ہے۔ اس نے تمہیں چنا ہے اور نہیں بنائی تم پر دین کے معاملے میں تنگی، طریقہ تمہارے باپ ابراہیم کا، اس نے نام رکھا تمہارا مسلمین پہلے اور اس میں، تاکہ رسول تم پر گواہ بنے اور تم لوگوں پر گواہ بنو، پس نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو مضبوط پکڑو۔ وہ تمہارا حامی و نگہبان ہے پس کیا ہی اچھا حامی اور کیا ہی اچھا مددگار ہے

 

فتعالیٰ اللہ الملک الحق ولا تجعل بالقرآن من قبل ان یُقضٰی الیک و حیُہ و قل رب زدنی علماً (پس بہت بلند و برتر ہے اللہ، بادشاہِ حقیقی اور نہ جلدی کرو قرآن کے ساتھ اس کے کہ پوری ہو جائے تمہاری طرف وحی اس کی اور کہو اے رب میرے، بڑھا مجھے علم میں)

 

یہ تمام آیات اس امر کی وضاحت کرتی ہیں کہ تمام مسلمانوں سے، نہ کہ ان کے کسی خاص طبقے سے، یہ توقع کی جاتی ہے کہ قرآن کا علم حاصل کریں، اسے اچھی طرح سمجھیں اور اس کی تعبیر کریں۔ تشریح و تعبیر کے لیے چند مسلم اصولوں کی پابندی لازم ہے۔ ان اصولوں میں چند ایک یہ ہو سکتے ہیں:

 

(۱)قرآن مجید کے بعض احکام اہم اور بنیادی ہیں۔ ان کی خلاف ورزی ہرگز نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان پر جوں کا توں عمل کرنا چاہیے۔

 

(۲)  کچھ اور آیات ایسی ہیں جن کی نوعیت ہدایات کی ہے اور جن کی پیروی کرنا کم و بیش ضروری ہے۔

 

( ۳)جہاں الفاظ بالکل سادہ اور واضح ہوں، جو متعین اور غیر مبہم مفہوم پر دلالت کرتے ہوں، وہاں الفاظ کے وہی معانی مراد لینے چاہئیں جو لغت اور گرامر کی رو سے صحیح اور متبادر ہوں۔ دوسرے لفظوں میں اس مقدس کتاب کے الفاظ کے ساتھ کسی طرح کی کھینچ تان روا نہیں ہے۔

 

(۴)  اس بات کو تسلیم کیا جانا چاہیے کہ قرآن مجید کا کوئی حصہ بے معنی، متناقض یا زائد ضرورت نہیں ہے۔

 

(۵) سیاق و سباق سے الگ کر کے کوئی معنی نہیں نکالنے چاہئیں۔

 

(۶) شان نزول کے مطابق یعنی نزول قرآن کے وقت جو حالات درپیش تھے، ان کے پس منظر میں رکھ کر قرآن کے معانی کی تشریح کرنا خطرناک ہے۔

 

(۷)قرآن کی تعبیر معقول (Rational) ہونی چاہیے۔ اس سے مدعا یہ ہے کہ اسے گرد و پیش کے احوال سے متاثر ہونے والے انسانی رویے سے مطابق ہونا چاہیے۔ یہ امر قابل لحاظ ہے کہ نئے اور غیر متوقع حالات ہمیشہ رونما ہوتے رہتے ہیں۔ سوسائٹی کی ضروریات میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے، اور تشریح ان حالات و متقضیات کی روشنی میں کی جانی ضروری ہے۔

 

(۱۱) زمان و مکان کے اختلاف کی بنا پر جو مختلف صورتیں پیدا ہوتی ہیں، ان میں مشابہت و عدم مشابہت کا باہمی موازنہ ہونا چاہیے۔ تقابل کرتے ہوئے ہمیں حالات و درجات کی رعایت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے اور بعید و قریب کے حقائق کو جانچتے ہوئے ماضی سے حال کی جانب اس طرح پیش قدمی کرنی چاہیے کہ مفروضات اور قیاسات اور غیر مطلق و قابل ترک اعتقادات سب ہماری نگاہ کے سامنے رہیں۔

 

(۱۲) بدقسمتی سے اس دنیا میں کم از کم خلافت راشدہ کے بعد، کوئی ایسی صحیح اسلامی ریاست وجود میں نہیں آئی جس میں لوگوں نے پورے شعور و ارادہ اور باہمی تعاون کے ساتھ قرآن مجید کی تعبیر کا کام کیا ہو۔ قرآن مجید کے مقرر کردہ اصول ابدی ہیں لیکن ان کا انطباق ابدی نہیں ہے کیونکہ انطباق ایسے حقائق و مقاصد کا مرہون منت ہے جو مسلسل تغیر پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ اب اگر قرآن مجید کی ایک خاص نص کی ایک سے زائد تعبیرات ممکن ہوں اور ہر مسلمان کو اس بات کا حق دے دیا جائے کہ وہ اپنے فہم و ذوق کے مطابق تشریح کر دے، تو اس کے نتیجے میں بے شمار تعبیرات وجود میں آ کر ایک بد نظمی کا موجب بن جائیں گی۔ اسی طرح جن معاملات میں قرآن مجید ساکت ہے۔ ان میں بھی اگر ہر شخص کو اس کے نقطۂ نظر کے موافق ایک ضابطہ بنانے کا اختیار دے دیا جائے تو ایک پراگندہ اور غیر مربوط سوسائٹی پیدا ہو جائے گی۔ ہر دوسری سوسائٹی کی طرح اسلامی سوسائٹی بھی کم سے کم زحمت دہی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ افراد کو زیادہ سے زیادہ راحت و مسرت پیش کرتی ہے۔ اس لیے غلبہ اکثریت ہی کی رائے کو حاصل ہو گا۔

 

(۱۳) ایک آدمی یا چند آدمی فطرتاً عقل اور قوت میں ناقص ہوتے ہیں۔ کوئی شخص خواہ کتنا ہی طاقتور اور ذہین ہو، اس کے کامل ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ایک اعلیٰ درجے کا حساس اور صاحب نظر انسان بھی اپنے مشاہدے میں آنے والے جملہ امور کی اہمیت کا کماحقہ اندازہ نہیں کر سکتا۔ لاکھوں کروڑوں آدمی جو اجتماعی زندگی ایک نظم کے ساتھ بسر کر رہے ہیں، اپنی اجتماعی حیثیت میں افراد کی بہ نسبت زیادہ عقل اور طاقت رکھتے ہیں۔ ان کی قوت مشاہدہ اور قوت متخیلہ مقابلتاً بہتر اور برتر ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی رو سے بھی کتاب اللہ کی تعبیر اور حالات پر اس کے عام اصولوں کا انطباق ایک آدمی یا چند آدمیوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ بلکہ یہ کام مسلمانوں کے باہمی مشورے سے ہونا چاہیے۔

 

والذین استجابوا لربھم و اقامو الصلوۃ و امرھم شوریٰ بینھم و مما رزقنھم ینفقون

(وہ جنہوں نے اپنے رب کے بلاوے کا جواب دیا اور نماز قائم کی اور ان کا کام باہمی مشورے سے ہوتا ہے اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں وہ خرچ کرتے ہیں)

 

واعتصمو بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقو واذکرو نعمۃ اللہ علیکم اذ کنتم اعداء فالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہٖ اخواناً۔ و کنتم علیٰ شفا حفرۃ من النار فانقذکم منھا کذالک یبین اللہ لکم اٰیٰتہ لعلم تھتدون

(اور اللہ کی رسی کو مضبوط تھامو سب، اور تفرقہ مت پیدا کرو اور یاد کرو اللہ کی نعمت کو جو تم پر ہوئی جب تھے تم دشمن، پس اس نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور ہو گئے تم اس کے فضل سے بھائی بھائی۔ اور تھے تم آگ کے گڑھے کے کنارے پس بچایا اس نے تم کو اس سے، اس طرح واضح کرتا ہے اللہ تمہارے لیے اپنی آیات، شاید کہ تم ہدایت پاؤ)

 

اور بہت سی آیات میں بھی مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کی آیات پر غور و فکر کرنے کی کوشش کریں۔ اور اس سے مراد یہ ہے کہ یہ کام انفرادی طور پر نہیں بلکہ اجتماعی طور پر سر انجام دیا جانا چاہیے۔

 

(۱۴) اس سیاق و سباق کے اندر یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ “قانون” کے لفظ کے معنی کیا ہیں؟ میرے رائے میں قانون سے مراد وہ ضابطہ ہے جس کے متعلق لوگوں کی اکثریت یہ خیال کرتی ہے کہ ان کے معاملات اس کے مطابق ہونے چاہئیں۔

 

(۱۵) ابتدا میں نسل انسانی کی تعداد بہت قلیل اور منتشر تھی اور ان میں سے ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کر سکتا تھا۔ بعد میں جب انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور انہیں گروہوں کی شکل میں بسنے کی ضرورت پیش آئی،  اس وقت ان کے لیے ایک مشترک ضابطۂ اخلاق کی حاجت بھی رونما ہوئی۔ مثال کے طور پر پچاس آدمیوں کی ایک جماعت میں قتل کا ارتکاب کیا گیا۔ اکثریت کے خیال کے مطابق یہ ایک غلط اور ناجائز کام تھا۔ چند افراد کے نزدیک شاید ایسا نہیں تھا چونکہ اکثریت کے پاس طاقت تھی، اس لیے انہوں نے اپنی مرضی کو اقلیت پر بہ جبر نافذ کر دیا اور اسی کو قانون کا درجہ حاصل ہو گیا، گویا ان پچاس آدمیوں میں سے کوئی بھی قتل کا مرتکب نہیں ہو گا۔ یہ استدلال آج کل کے حالات کے لحاظ سے بھی صحیح ہے۔ کئی کروڑ باشندوں کے ایک ملک میں باشندوں کی اکثریت کو قرآن کی ان آیات کی جن کے اندر دو یا زائد تعبیروں کی گنجائش ہو، ایسی تعبیر کرنی چاہیے جو ان کے حالات کے لیے موزوں ترین ہو اور اسی طرح قرآن کے عام اصولوں کو حالاتِ موجودہ پر منطبق کرنا چاہیے تاکہ فکر و عمل میں یکسانی و وحدت پیدا ہو سکے۔ اسی طرح یہ اکثریت کا کام ہے کہ ان مسائل و معاملات میں جن پر قرآن ساکت ہے، کوئی قانون بنائے۔ اس کے بعد جو سوال بحث طلب ہے وہ یہ ہے کہ کروڑوں انسان قرآن مجید کی تعبیر و انطباق اور مسکوت عنہا معاملات میں قانون سازی کے حق کو کس طرح استعمال کریں گے؟ ایک ملک کے حالات کو دیکھ کر اس امر کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ وہاں کے باشندوں کے لیے اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے کی بہترین صورت کیا ہے جنہیں وہ اعتماد کے ساتھ اپنے اختیارات اور اظہار رائے کے حقوق تفویض کر سکیں۔ وہ فرد واحد کو بھی اپنا نمائندہ منتخب کر سکتے ہیں لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایک شخص کو مختار مطلق بنا دینے کے نتائج ہمیشہ مہلک ثابت ہوئے ہیں۔ اقتدار کا نشہ فرد، جماعت اور قانون کی حکمرانی میں اختلال اور بگاڑ کا موجب ہوتا ہے اور جہاں اقتدار بلا قید اور مطلق ہو، وہاں یہ سہ گونہ فساد بھی اپنی آخری حد کو پہنچ جاتا ہے۔ ایک ملک کی تاریخ میں ایسے حالات پیش آ سکتے ہیں جو ایک شخص کو مجبور کر دیں کہ وہ اصلاح احوال اور ملک کو تباہی سے بچانے کی خاطر عنان اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لے لیکن یہ ایک ہنگامی صورت ہے جو جمہوریت کو بحال کرنے اور اختیارات کی امانت کو عوام کی طرف لوٹانے کے لیے قطعی طور پر جائز ہے۔ اس لیے صحیح اسلامی قانون کے مطابق اس امر کی بڑی اہمیت ہے کہ اختیارات متعدد افراد کے اندر منقسم ہوں تاکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے روک تھام اور احتساب کا باعث ہو اور سب مل جل کر پوری قوم کی رہنمائی کے لیے قوانین و ضوابط وضع کر سکیں۔ حالات کا قدرتی اقتضاء یہ ہے کہ یہ جملہ بااختیار افراد عوام الناس کے سامنے مسئول اور جوابدہ ہوں۔ صرف اسی صورت میں ہی ایک منظم طریق کار کے ساتھ کسی پروگرام کو کامیابی کے مراحل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اسلام میں سارے مسلمان اقتدار کے یکساں طور پر حامل ہیں اور ان میں صرف اللہ کی بالادستی ہے۔ ان کے فیصلے آزاد شہریوں کی حیثیت سے اجتماعی اور مشترک طور پر کیے جاتے ہیں، اسی کا نام “اجماع” ہے۔

 

“اجتہاد” قانون کا ایک مسلم مآخذ ہے۔ اس سے مراد کسی مشتبہ یا مشکل قانونی مسئلے میں رائے قائم کرنے کے لیے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر مصروف کار کرنا ہے۔ امام ابو حنیفہ نے بڑے وسیع پیمانے پر “اجتہاد” کا استعمال کیا ہے۔ “اجتہاد” کی جن مختلف صورتوں کو امام ابو حنیفہ اور دوسرے فقہاء کام میں لائے ہیں وہ یہ ہیں: قیاس، استحسان، استصلاح اور استدلال۔ مسلمان فقیہ فرد واحد اور چند افراد کے لیے “اجتہاد” کو خطرناک سمجھتے تھے۔ اس لیے وہ اس بات کو قابل ترجیح خیال کرتے تھے کہ کسی خاص قانونی مسئلے میں فقہاء اور مجتہدین کے اجماع یا کثرت رائے سے فیصلہ ہو۔ قدیم زمانے میں تو شاید یہ درست تھا کہ اجتہاد کو چند فقہاء تک محدود کر دیا جائے، کیونکہ لوگوں میں آزادانہ اور عمومیت کے ساتھ علم نہیں پھیلایا جاتا تھا لیکن موجودہ زمانے میں یہ فریضہ باشندوں کے نمائندوں کو انجام دینا چاہیے، کیونکہ جیسا کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، قرآن مجید اور پڑھنا اور سمجھنا اور اس کے عام اصولوں کو حالات پر منطبق کرنا ایک یا دو اشخاص کا مخصوص استحقاق نہیں ہے بلکہ تمام مسلمانوں کا حق اور فرض ہے اور یہ کام ان لوگوں کو انجام دینا چاہیے جنہیں تمام مسلمانوں نے اس مقصد کے لیے منتخب کیا ہو۔ لہٰذا یہ بات آپ سے آپ لازم آتی ہے کہ جن معاملات میں قرآن مجید کا حکم واضح ہو، وہ مسلمانوں کے لیے قانون کا درجہ رکھتا ہے اور جہاں تک قرآن مجید کی تعبیر اور اس کے کلیات کو جزئیات پر چسپاں کرنے کا تعلق ہے، ان میں جو کچھ عوام کے منتخب نمائندے طے کریں گے، اسے بھی قانون کا درجہ حاصل ہو گا۔

 

(۱۶) اوپر جو نقطۂ نظر بیان کیا گیا ہے اسے چند مثالوں سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ میں پہلے قرآن مجید کی سورۂ نسا کی تیسری آیت کو لوں گا، جسے اکثر غلط استعمال کیا گیا ہے۔

 

و ان خفتم الا تقسطو فی الیمتمٰی فانکحو ما طاب لکم من النسآء مثنٰی و ثلث و ربٰع فان خفتم الا تعدلو فواحدۃ او ما ملکت ایمانکم ذالک ادنٰی الا تعولوا

(اور اگر تم ڈرو کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف نہیں کرو گے تو نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں، عورتوں سے دو دو، تین تین، چار چار۔ پھر اگر تم ڈرو کہ تم عدل نہیں کر سکو گے تو ایک ہی سہی یا جن کے مالک ہیں تمہارے سیدھے ہاتھ۔ اس سے اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ تم بے انصافی نہ کرو گے)

 

جیسا کہ اپنے فیصلے کے ابتدائی حصے میں بیان کر چکا ہوں، قرآن مجید کے کسی حکم کا کوئی جز بھی فضول یا بے معنی نہ سمجھا جانا چاہیے۔ لوگوں کے منتخب نمائندوں کا کام ہے کہ وہ اس بارے میں ایک قانون بنائیں کہ آیا ایک مسلمان ایک سے زائد بیویاں کر سکتا ہے یا نہیں اور اگر کر سکتا ہے تو کن حالات میں اور کن شرائط کے ساتھ۔ از راہِ قیاس ایسی شادی کو یتیموں کے فائدے کے لیے ہونا چاہیے۔

 

(۱۷) بہرکیف اس آیت سے صرف جواز ثابت ہوتا ہے نہ کہ لزوم اور میری دانست میں ریاست اس اجازت کو محدود کر سکتی ہے۔ اگر پچاس آدمیوں کی جماعت میں سے اکثر یہ قانون بنا سکتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی قتل کا ارتکاب نہیں کرے گا، تو اس مثال پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ایک مسلمان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ کہے کہ “میں ایک سے زیادہ بیویاں نہیں کروں گا، کیونکہ میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو آٹھ کروڑ مسلمانوں کی اکثریت بھی ساری قوم کے لیے قانون بنا سکتی ہے کہ قوم کی معاشی، تمدنی یا سیاسی حالت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ اس کا کوئی فرد ایک سے زیادہ بیویاں کرے۔ اس آیت کو قرآن مجید کی دو دوسری آیات کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے۔ پہلی آیت سورہ ۲۴ کی آیت ۳۳ ہے جس میں یہ طے کیا گیا ہے کہ جو لوگ شادی کرنے کے ذرائع نہ رکھتے ہوں، ان کو شادی نہ کرنی چاہیے۔ اگر ذرائع کی کمی کے باعث ایک شخص کو ایک بیوی کرنے سے روکا جا سکتا ہے تو انہی وجوہ یا ایسے ہی وجوہ کی بنا پر اسے ایک سے زیادہ بیویاں کرنے سے روک دیا جانا چاہیے۔ شادی بیوی اور بچوں کے وجود پر متضمن ہے۔ اگر خاندان کی عدم کفالت کی صورت میں ایک شخص کے لیے نکاح ممنوع ہو سکتا ہے تو اسے اس امر پر بھی مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ اتنے ہی بچے پیدا کرے جتنے پال سکے۔ اگر وہ خود تحدید نسل نہ کر سکے تو ریاست کو اس کے لیے یہ کام کرنا چاہیے۔ اس اصول کا وسیع پیمانے پر اطلاق کرتے ہوئے، مثلاً اگر کسی ملک کی غذائی حالت خراب ہو اور برتھ کنٹرول کی حاجت ہو تو ریاست کے لیے یہ قانون بنانا بالکل جائز ہو گا کہ کوئی شخص ایک سے زائد بیویاں نہ رکھے اور ایک بھی صرف اس صورت میں رکھے جبکہ وہ اپنے کنبے کو ضروریات فراہم کر سکتا ہو اور بچے بھی ایک خاص حد تک رکھے۔ مزید برآں آیت مذکورہ بالا میں خاص طور پر یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر ایک مسلمان ڈرا ہو کہ وہ دو بیویوں کے درمیان عدل نہیں کر سکے گا، تو وہ صرف ایک بیوی سے شادی کرے۔ آگے سورہ ۴، آیت ۱۲۹ میں اللہ نے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ بیویوں کے درمیان عدل کرنا انسانی ہستیوں کے بس میں نہیں ہے۔

 

ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النسآء ولو حرصتم فلا تمیلو کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ و ان تصلحو او تتقوا فان اللہ کان غفوراً رحیماً

(تم ہر گز یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ عدل کر سکو، عورتوں کے درمیان خواہ تم اس کے کیسے ہی خواہشمند ہو۔ پس ایک سے کامل بے رخی اختیار نہ کرو کہ اسے ایسا چھوڑو جیسے وہ لٹکی ہوئی ہو اور اگر تم اصلاح کرو اور بچو (برائی سے)  تو یقیناً اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے)

 

یہ ریاست کا کام ہے کہ ان دونوں آیتوں میں تطبیق دینے کے لیے ایک قانون بنائے اور ایک سے زیادہ بیویاں کرنے پر پابندیاں عائد کرے۔

 

(۱۸)  ریاست یہ کہہ سکتی ہے کہ دو بیویاں کرنے کی صورت میں چونکہ سالہا سال کے تجربات سے یہ بات ظاہر ہو چکی ہے اور قرآن میں بھی یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ دونوں بیویوں کے ساتھ یکساں برتاؤ ناممکن ہے، لہٰذا یہ طریقہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا جاتا ہے۔ یہ تین آیات عام اصول بیان کرتی ہیں۔ ان عام اصولوں کا انطباق ریاست کو اپنی نگرانی میں کرنا چاہیے۔ ریاست لوگوں کو ایک سے زیادہ شادی کر کے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو تباہ کرنے سے بچا سکتی ہے۔ قومی اور ملکی مفاد کا تقاضا یہ ہے کہ جب کبھی ضرورت محسوس ہو، شادی پر پابندی عائد کی جائے۔

 

(۱۹) چوری کے معاملے میں سورہ ۵ آیت ۳۸ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ چور مردوں اور چور عورتوں کے ہاتھ کاٹ ڈالے جائیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کے جرم کی عبرت ناک سزا ہے۔ اس سورہ کی آیت ۳۹ یہ بتاتی ہے “جو کوئی اپنے ظلم کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کر لے، تو یقیناً اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے” پس عام اصول یہ ہے کہ چوری کی زیادہ سے زیادہ سزا قطع ید ہے لیکن یہ طے کرنا ریاست کا کام ہے کہ چوری کیا ہے اور کون سی چوری کی کیا سزا ہے؟ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ریاست کو لوگوں کے لیے قرآنی احکام پر مبنی قواعد و ضوابط بنانے کا اختیار حاصل ہے۔ یہ اختیارات بہت وسیع ہیں اور منظم عملی پروگرام نافذ کرنے کے لیے ان کا آزادانہ استعمال ہونا چاہیے۔

 

(۲۰)  ہند و پاکستان میں جتنی کتابیں بھی قانونی لحاظ سے مستند تسلیم کی جاتی ہیں، ان میں اولاد صغار کے متعلق بیان کردہ اصول قرآن مجید پر مبنی نہیں ہیں۔ اس مقدس کتاب میں جو احکام نابالغ بچوں سے متعلق ہیں ان میں سے چند یہاں نقل کیے جا رہے ہیں:

 

والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین لمن اراد ان یتم الرضاعۃ وعلیٰ المولود رزقھن و کسوتھن بالمعروف لاتکلف نفس الا وسعھا لا تضار والدۃ بولدھا ولا مولود بولدہ وعلیٰ الوارث مثل ذالک فان اراد فصالاً عن تراض منھما و تشاور فلا جناح علیھا وان اردتم ان تسترضعوا اولادکم فلا جناح علیکم اذا سلمتم ما اتیتم بالمعروف واتقو اللہ واعلمو ان اللہ بما تعملون

(اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال اس کے لیے جو رضاعت کو پورا کرنا چاہے اور باپ کے ذمے ہے ان (ماؤں) کا کھانا اور کپڑا معروف طریق پر۔ کسی جان کو تکلیف نہ دی جائے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ نہ والدہ کو ضرر پہنچایا جائے اس کے بچے کی وجہ سے اور نہ والد کو اور وارث کے ذمے بھی اس کی مانند ہے۔ پس اگر دونوں دودھ چھڑانا چاہیں باہمی رضامندی اور مشورے سے تو کوئی گناہ نہیں ان پر اور اگر تم چاہو کہ دوسری عورت سے دودھ پلاؤ اپنے بچے کو تو کوئی گناہ نہیں تم پر جب کہ تم نے جو کچھ طے کیا ہے وہ معروف طریقے پر حوالے کر دو اور اللہ سے ڈرو اور جان لو اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، اسے دیکھنے والا ہے)

اسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم ولا تضار وھن لتضیقوا علیھن وان کن اولات حمل فانفقو علیھن حتی یضعن حملھن فان ارضعن لکم فاتوھن اجورھن واتمروا بینکم بمعروف وان تعاسرتم فسترضع لہ اخریٰ

(ٹھہراؤ انہیں جہاں تم ٹھہرے ہو اپنے وسائل کے مطابق اور انہیں نقصان نہ پہنچاؤ تاکہ ان پر تنگی کرو اور اگر حمل والی ہوں تو ان پر خرچ کرو یہاں تک کہ وضع حمل ہو جائے۔ پھر اگر وہ تمہارے لیے دودھ پلائیں تو دو انہیں ان کے معاوضے اور مشورہ کرو آپس میں معروف کے مطابق اور اگر باہمی اختلاف ہو تو دوسری عورت اسے دودھ پلائے)

 

ان آیات کی رو سے ماؤں کو پورے دو سال تک بچوں کو دودھ پلانا ہو گا۔ باپ کو سارے اخراجات برداشت کرنا ہوں گے جن میں نظر بظاہر بچے اور والدہ دونوں کے اخراجات شامل ہیں۔ اس سے شیعہ قانون کی تائید ہوتی ہے جس کی رو سے لڑکے کے معاملے میں والدہ کا حق حضانت دو سال ہے لیکن حضانت کے مسئلے میں لڑکے اور لڑکی کے مابین جو تمیز قائم کی جاتی ہے، اس کے حق میں مجھے قرآن سے کوئی وجہِ جواز فراہم نہیں ہو سکی۔ قرآن مجید والدین میں سے ہر دو پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ بچے کی پرورش کریں۔ بچے سے محروم نہ والد کو کیا جا سکتا ہے اور نہ والدہ کو۔ بہرکیف قرآن مجید میں ایسی کوئی ہدایت نہیں کہ ایک عورت طلاق پا کر اگر دوسری شادی کر لے تو پہلا شوہر اس سے اپنا بچہ لے سکتا ہے۔اگر محض اس بنا پر کہ اس نے دوسری شادی کر لی ہے، وہ بچہ سے محروم ہو سکتی ہے تو میں کوئی وجہ نہیں سمجھتا کہ ایک مرد دوسری شادی کر لینے کی صورت میں کیوں نہ اپنے بچے سے محروم ہو۔ سوتیلی ماں اگر سوتیلے باپ سے زیادہ نہیں تو کم از کم اس کے برابر تکلیف دہ اور خطرناک ضرور ہے۔ بہرحال نابالغوں کے متعلق قانون بنانا ریاست کا کام ہے کیونکہ قرآن اس بارے میں قطعاً ساکت ہے۔ گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کے بارے میں یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ نابالغان کے معاملات اس کے تابع ہیں۔ پاکستان کی اسلامی ریاست وجود میں آنے کے بعد ملک کے منتخب نمائندوں نے اس قانون کو منظور کیا تھا۔ لیکن اس قانون میں بھی اس بارے میں کوئی واضح اور متعین ضابطہ نہیں ہے کہ والدہ کے نکاح ثانی کے بعد نابالغ بچے کا حق حضانت کسے حاصل ہو گا۔ قرآن اور اس ایکٹ دونوں کے مطابق واحد قابل لحاظ امر بچے کی فلاح و بہبود ہے۔ اگر بچے کی فلاح و بہبود کا تقاضا یہ ہو کہ بچہ والدہ کے پاس رہے، تو والدہ کے نکاح ثانی کے باوجود بچہ اسی کی تحویل میں رہنا چاہیے۔ ہر مقدمے کا فیصلہ اس کے خاص حالات و کوائف کی بنا پر ہو گا۔

 

(۲۱)  قرآن کے علاوہ حدیث یا سنت کو بھی مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے اسلامی قانون کا ایک اتنا ہی اہم مآخذ سمجھ لیا ہے۔ متعین مفہوم کے مطابق حدیث سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا قول ہے لیکن عام طور پر حدیث سے مراد رسول کا قول و عمل لیا جاتا ہے جسے آپ نے پسند یا ناپسند فرمایا، یا ناپسند نہیں فرمایا۔ اسلامی قانون کا مآخذ ہونے کی حیثیت سے حدیث کی قدر و قیمت کیا ہے، اس کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ہمیں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ رسول پاکﷺ کا مرتبہ و مقام اسلامی دنیا میں کیا ہے؟ میں اس فیصلے کے ابتدائی حصے میں یہ بتا چکا ہوں کہ اسلام ایک خدائی دین ہے۔ یہ اپنی سند خدا اور صرف خدا ہی سے حاصل کرتا ہے۔ اگر یہ اسلام کا صحیح تصور ہے تو اس سے لازماً یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نبی کے اقوال و اعمال اور کردار کو خدا کی طرف سے آئی ہوئی وحی کی سی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ زیادہ سے زیادہ ان سے یہ معلوم کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے کہ مخصوص حالات میں قرآن کی تعبیر کس طرح کی گئی تھی یا ایک خاص معاملہ میں قرآن کے عام اصولوں کو خاص واقعات پر کس طرح منطبق کیا گیا تھا۔ کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللہ ایک کامل انسان تھے۔ نہ کوئی شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ جس عزت و تکریم کے مستحق ہیں یا جس عزت و تکریم کا ہم ان کے لیے اظہار کرنا چاہتے ہیں، اس کے اظہار کی قوت و قابلیت وہ رکھتا ہے لیکن با ایں ہمہ وہ خدا نہ تھے، نہ خدا سمجھے جا سکتے ہیں۔ دوسرے تمام رسولوں کی طرح وہ بھی انسان ہی ہیں۔ (اس کے بعد فاضل جج نے سورہ ۱۲: آیت ۱۰۹، سورہ ۱۴: آیت ۱۰-۱۱، سورہ ۳: آیت ۱۴۳، سورہ ۷: آیت ۱۸۸، سورہ ۴۱: آیت ۶، سورہ ۵۱: آیت ۵۱ مع ترجمہ نقل کی ہیں۔ ان میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بشریت کا ذکر ہے۔ اس کے بعد فاضل جج فرماتے ہیں):

 

ان کو اللہ کے احکام کی پابندی اسی طرح کرنی پڑتی تھی جس طرح ہمیں کرنی پڑتی ہے، بلکہ شاید ان کی ذمہ داریاں قرآن مجید کی رو سے ہماری ذمہ داریوں سے بہ نسبت کہیں زیادہ تھیں۔ وہ مسلمانوں کو اس سے زیادہ کچھ نہیں دے سکتے تھے جتنا کچھ کہ ان پر نازل ہوا تھا۔

 

یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک و ان لم تفعل فما بلغت رسلتہ اللہ یعصمک من الناس۔ ان اللہ یھدی القوم الکافرین (اے رسول! پہنچا دو جو کچھ نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تم نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ تمہیں بچائے گا لوگوں سے یقیناً اللہ نہیں ہدایت دیتا کافروں کی قوم کو)

 

(۲۲)  میرے لیے اس بات پر زور دینے کی خاطر قرآن مجید کی آیات نقل کرتے جانا غیر ضروری ہے کہ محمد رسول اللہ اگرچہ بڑ ے عالی مرتبہ انسان تھے مگر ان کو خدا کے بعد دوسرا درجہ ہی دیا جا سکتا ہے۔ انسان ہونے کی حیثیت سے، ماسوا اس وحی کے جو ان کے پاس خدا کی طرف سے آئی تھی، وہ خود اپنے بھی کچھ خیالات رکھتے تھے اور اپنے ان خیالات کے زیر اثر وہ کام کرتے تھے۔ یہ صحیح ہے کہ محمد رسول اللہ نے کوئی گناہ نہیں کیا، مگر وہ غلطیاں تو کر سکتے تھے اور یہ حقیقت خود قرآن میں تسلیم کی گئی ہے:

 

لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک و ما تاَخّر ویتم نعمتہ علیک و یھدیک صراطاً مستقیماً

(تاکہ اللہ بخش دے تیری اگلی پچھلی خطاؤں کو اور اپنی نعمت تمام کرے تم پر اور راہنمائی کرے تمہاری سیدھے راستے کی طرف)

 

ایک سے زیادہ مقامات پر قرآن میں یہ بیان ہوا ہے کہ محمد رسول اللہ دنیا کے لیے ایک بہت اچھا نمونہ ہیں، مگر اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایک آدمی کو ویسا ہی ایماندار، ویسا ہی راست باز، ویسا ہی سرگرم اور ویسا ہی دیندار اور متقی ہونا چاہیے جیسے وہ تھے، نہ کہ ہم بھی بعینہ اسی طرح سوچیں اور عمل کریں جس طرح وہ سوچتے اور عمل کرتے تھے، کیونکہ یہ تو غیر فطری بات ہو گی اور ایسا کرنا انسان کے بس میں نہیں ہے اور اگر ہم ایسا کرنے کی کوشش کریں تو زندگی بالکل ہی مشکل ہو جائے گی۔

 

)۲۳)  یہ بھی صحیح ہے کہ قرآن پاک اس کی تاکید کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ کی اطاعت کی جائے مگر اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جہاں انہوں نے ہم کو ایک خاص کام ایک خاص طرح کرنے کا حکم دیا ہے، ہم وہ کام اسی طرح کریں۔ اطاعت تو ایک حکم ہی ہو سکتی ہے۔ جہاں کوئی حکم نہ ہو، وہاں نہ اطاعت ہو سکتی ہے نہ عدم اطاعت۔ قرآن کے ان ارشادات سے یہ مطلب اخذ کرنا بہت مشکل ہے کہ ہم ٹھیک وہی کچھ کریں جو رسول نے کیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ایک فرد واحد کے زمانۂ حیات کا تجربہ واقعات کی ایک محدود تعداد سے زیادہ کے لیے نظائر فراہم نہیں کر سکتا، اگرچہ وہ فرد واحد نبی ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ بات پورے زور کے ساتھ کہی جانی چاہیے کہ اسلام نے نبی کو کبھی خدا نہیں سمجھا ہے۔ یہ بالکل واضح بات ہے کہ قرآن اور حدیث میں جوہری اور حقیقی فرق ہے۔ جہاں تک ان سوالات کا تعلق ہے کہ ایک قوم کے لیے خاص معاملات میں ضابطۂ اخلاق کیا ہو اور ایک خاص مقدمے کا فیصلہ کس طرح ہو، انہیں انصاف اور موجودہ حالات کے تقاضوں ہی کے مطابق طے کیا جا سکتا ہے

 

ان اللہ یامر کم ان تودو الامانات الیٰ اھلھا و اذا حکمتم بین الناس ان تحکمو بالعدل ان اللہ نعما یعظکم بہ ان اللہ کان سمیعاً بصیراً

(یقیناً اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں اور جب تم فیصلہ کرو لوگوں کے درمیان تو فیصلہ کرو عدل کے ساتھ۔ یقیناً اللہ بہت اچھی بات کی نصیحت کرتا ہے تمہیں۔ اللہ سننے والا، دیکھنے والا ہے)۔

 

سمعون للکذب اکلون للسحت فان جآءک فاحکم بینھم او اعرض عنھم و ان تعرض عنھم فلن یضروک شیئاً و ان حکمت فاحکم بینھم بالقسط ان اللہ یحب المقسطین

(بہت جھوٹ سننے والے اور حرام خور ہیں، پس اگر تمہارے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کرو یا اعراض کرو ان سے اور اگر تم ان سے منہ پھیر لو تو تمہارا کچھ بگاڑ نہیں لیں گے اور اگر تم فیصلہ کرو تو فیصلہ کرو ان کے درمیان عدل سے۔ اللہ عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے)

 

فلذالک فادع واستقم کما امرت ولا تتبع اھواءھم وقل امنت بما انزل اللہ من کتب و امرت لِاَعدل بینکم اللہ ربنا و ربکم لنا اعمالنا ولکم اعمالکم لا حجۃ بیننا و بینکم اللہ یجمع بیننا و الیہ المصیر

(پس اس طرح بلاؤ اور سیدھے رہو جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اور مت پیروی کرو ان کی خواہشات کی اور کہو ایمان لایا میں اس پر جو کچھ اللہ نے نازل کیا کتاب سے اور حکم دیا گیا ہے مجھے کہ میں عدل کروں تمہارے مابین۔ اللہ رب ہے ہمارا اور تمہارا۔ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں۔ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ جمع کرے گا ہمیں اور اسی کی طرح پلٹنا ہے)

 

انفرادی اور قومی معاملات کا تصفیہ کرنے کے لیے ہم زمان و مکان کے اختلافات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

 

(۲۴)  کوئی مستند شہادت ایسی موجود نہیں ہے جس سے معلوم ہو کہ خلفائے اربعہ محمد رسول اللہ کے اقوال و افعال اور کردار کو کیا اہمیت دیتے تھے؟ لیکن بحث کی خاطر اگر یہ مان لیا جائے کہ وہ افراد کے معاملات اور قومی اہمیت رکھنے والے مسائل کا فیصلہ کرنے میں حدیث کا بڑے پیمانے پر استعمال کرتے تھے، تو وہ ایسا کرنے میں حق بجانب تھے کیونکہ وہ ہماری بہ نسبت بلحاظ زمانہ بھی اور بلحاظ مقام بھی محمد رسول اللہ سے قریب تر تھے۔ مگر ابو حنیفہ نے جو ۸۰ھ میں پیدا ہوئے اور ستر سال بعد فوت ہوئے، تقریباً ۱۷ یا ۱۸ حدیثیں ان مسائل کا فیصلہ کرنے میں استعمال کیں جو ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ غالباً اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ رسول اللہ کے زمانے سے اس قدر قریب نہیں تھے جتنے پہلے چار خلفاء تھے۔ انہوں نے اپنے تمام فیصلوں کی بنیاد قرآن کی مکتوب ہدایات پر رکھی اور متن قرآن کے الفاظ کے پیچھے ان محرکات کو تلاش کرنے کی کوشش کی جو ان ہدایات کے موجب تھے۔ وہ استدلال واستنباط کی بڑی قوت رکھتے تھے انہوں نے عملی حقائق کی روشنی میں قیاس کی بنیاد پر قانون کے اصول و نظریات مرتب کیے۔ اگر ابو حنیفہ یہ حق رکھتے تھے کہ حدیث کی مدد کے بغیر قرآن کی تعبیر موجود الوقت حالات کی روشنی میں کریں تو دوسرے مسلمانوں کو یہ حق دینے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن مجید کی تفسیر اور مقدمات کے فیصلے میں ابو حنیفہ کے اقوال کو حرف آخر ان کے شاگردوں اور پیروؤں نے بھی نہ مانا۔ وہ بہرحال ایک انسان تھے اور غلطی کر سکتے تھے۔ اسی وجہ سے فرد واحد کی رائے پر انحصار صحیح نہیں ہے۔ ایک قوم کے لیے صرف ان آراء و قوانین کی پابندی لازمی ہو سکتی ہے جو اس کے منتخب نمائندوں نے بالاجماع طے کیے ہوں۔ ابو حنیفہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سوسائٹی کو جن قواعد و قوانین کی حاجت ہے وہ سب نہیں بلکہ ان میں سے چند ایک ہی قرآن میں موجود ہیں۔ اس کے برعکس بعد میں آنے والوں میں بعض کی رائے یہ تھی کہ ہر مستنبط قانون قرآن میں مضمر تھا اور ان کے استنباط کی حیثیت سوائے ان کے اور کچھ نہیں ہے کہ جو کچھ قرآن کے اندر مخفی تھا اسے وہ منظر عام پر لے آئے۔ میں اس معاملے میں جو بڑا متنازع فیہ ہے، اپنی کوئی رائے ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔ آج کل جبکہ ہم ایک منظم اور منضبط دنیا میں جی رہے ہیں اور ہر طرح کی حکیمانہ تحقیق کی سہولتیں ہمیں حاصل ہیں۔ یہ ٹھیک وقت ہے کہ ہم حدیث کے مآخذ قانون ہونے کی حیثیت کا جائزہ لیں، نیز اس مسئلے پر بھی غور کریں کہ آیا امام ابو حنیفہ یا ان جیسے دیگر عالی مرتب فقہاء کے اقوال کی پابندی ہم پر لازم ہے یا حاضر و واقعی حالات کی روشنی میں ہمارے لیے بھی قیاس و استنباط کا حق بحال کیا جا سکتا ہے؟

 

(۲۵) تمام فقہائے اسلام اس بات کو بالاتفاق مانتے ہیں کہ جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا، جعلی حدیثوں کا ایک جم غفیر اسلامی قوانین کا جائز و مسلم مآخذ بنتا چلا گیا۔ جھوٹی حدیثیں خود محمد رسول اللہ کے زمانے میں ظاہر ہونی شروع ہو گئی تھیں۔ جھوٹی اور غلط حدیثیں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے دور میں روایت حدیث پر پابندیاں لگا دیں بلکہ اس کی ممانعت کر دی۔ امام بخاری نے چھ لاکھ حدیثوں میں سے صرف نو ہزار کو صحیح احادیث کی حیثیت سے منتخب کیا۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص اس بات سے انکار کرے گا کہ جس طرح قرآن کو محفوظ کیا گیا اس طرح کی کوئی کوشش رسول اللہ کے اپنے عہد میں احادیث کو محفوظ کرنے کے لیے نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس جو شہادت موجود ہے وہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ نے سختی کے ساتھ احادیث کو محفوظ کرنے سے منع کیا تھا۔ اگر مسلم کی روایات صحیح ہیں تو محمد رسول اللہ نے پوری قطعیت کے ساتھ لوگوں کو اس بات سے منع کر دیا تھا کہ وہ ان کے اقوال و افعال کو دیکھیں۔ انہوں نے حکم دیا تھا کہ جس کسی نے ان کی احادیث کو محفوظ رکھا ہو، وہ انہیں فوراً ضائع کر دے۔ لا تکتبو عنی و من کتب عنی غیر القرآن فلیمحہ و حدثوا ولا حرج۔ اسی حدیث یا ایسی ہی ایک حدیث کا ترجمہ مولانا محمد علی نے اپنی کتاب “دین اسلام” کے ایڈیشن ۱۹۲۶ء میں صفحہ ۶۲ پر ان الفاظ میں دیا ہے:

 

“روایت ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے پاس آئے اس حال میں کہ ہم حدیث لکھ رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا تم لوگ کیا لکھ رہے ہو؟ ہم نے کہا حدیث جو ہم آپﷺ سے سنتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا یہ کیا! اللہ کی کتاب کے سوا ایک اور کتاب؟”

 

اس امر کی بھی کوئی شہادت موجود نہیں ہے کہ محمد رسول اللہ کے فوراً بعد جو چار خلیفہ ہوئے ان کے زمانے میں احادیث محفوظ یا مرتب کی گئی ہوں۔ اس امر واقعہ کا کیا مطلب لیا جانا چاہیے؟ یہ گہری تحقیق کا طالب ہے۔ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ اور ان کے بعد آنے والے چاروں خلفاء نے احادیث کو محفوظ کرنے کی کوشش اس لیے نہیں کی کہ یہ احادیث عام انطباق کے لیے نہیں تھیں؟ مسلمانوں کی بڑی اکثریت نے قرآن کو حفظ کر لیا۔ وہ جس وقت وحی آتی تھی، اس کے فوراً بعد کتابت کا جو سامان بھی میسر آتا تھا اس پر لکھ لیا جاتا تھا اور اس غرض کے لیے رسول کریمﷺ نے متعدد تعلیم یافتہ اصحاب کی خدمات حاصل کر رکھی تھیں۔ لیکن جہاں تک احادیث کا تعلق ہے وہ نہ یاد کی گئیں، نہ محفوظ کی گئیں۔ وہ ان لوگوں کے ذہنوں میں چھپی پڑی رہیں جو اتفاقاً کبھی دوسروں کے سامنے ان کا ذکر کرنے کے بعد مر گئے، یہاں تک کہ رسولﷺ کی وفات کے چند سو برس بعد ان کو جمع اور مرتب کیا گیا۔ میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ یہ معلوم کرنے کے لیے ایک مکمل اور منظم ریسرچ کی جائے کہ عربوں کے حیرت انگیز حافظے اور زبردست قوت یادداشت کے باوجود آیا احادیث کی موجودہ شکل میں قابل اعتماد اور صحیح تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ یہ اعتراف کیا جاتا ہے کہ بعد میں پہلی مرتبہ رسول اللہ کے تقریباً ایک سو سال بعد احادیث کو جمع کیا گیا مگر ان کا ریکارڈ اب قابل حصول نہیں ہے۔ اس کے بعد ان کو حسب ذیل اصحاب نے جمع کیا: امام بخاری (متوفی ۲۵۶ھ)، امام مسلم (متوفی ۲۶۱ھ)، ابو داؤد (متوفی ۲۷۵ھ)، جامع ترمذی (متوفی ۲۷۹ھ)، سنن نسائی (متوفی ۳۰۳ھ)، سنن ابن ماجہ (متوفی ۲۸۳ھ)، سنن الدریبی (متوفی ۱۸۱ھ)، بیہقی (ولادت ۳۸۴ھ)، امام احمد (پیدائش ۱۶۴ھ)۔ شیعہ حضرات جن جامعین حدیث کے مجموعوں کو مستند سمجھتے ہیں وہ یہ ہیں: ابو جعفر (۳۲۹ھ)، شیخ علی(۳۸۱ھ)، شیخ ابو جعفر محمد بن علی بن حسین (۴۶۶ھ)، سید الرضی (۴۰۶ھ)۔ ظاہر ہے کہ یہ مجموعے امام بخاری وغیرہ کے مجموعوں سے بھی بعد میں مرتب کیے گئے۔ ایسی بہت کم احادیث ہیں جن میں یہ جامعین حدیث متفق ہوں۔ کیا یہ چیز احادیث کو انتہائی مشکوک نہیں بنا دیتی کہ ان پر اعتماد کیا جا سکے؟ جن لوگوں کو تحقیقات کا کام سپرد کیا گیا ہو وہ ضرور اس بات پر نگاہ رکھیں گے کہ ہزار دو ہزار جعلی حدیثیں پھیلائی گئی ہیں تاکہ اسلام اور محمد رسول اللہ کو بد نام کیا جائے۔ انہیں اس بات کو بھی نگاہ میں رکھنا ہو گا کہ عربوں کا حافظہ خواہ کتنا ہی قوی ہو، کیا صرف حافظہ سے نقل کی ہوئی باتیں قابل اعتماد سمجھی جا سکتی ہیں؟ آخر آج کے عربوں کا حافظہ بھی تو ویسا ہی ہے جیسے تیرہ سو برس ان کا حافظہ رہا ہو گا۔ آج کل عربوں کا حافظہ جیسا کچھ ہے وہ ہمیں رائے قائم کرنے کے لیے ایک اہم سراغ کا کام دے سکتا ہے؟ عربوں کے مبالغے نے اور جن راویوں کے ذریعے یہ روایات ہم تک پہنچی ہیں، ان کے اپنے معتقدات اور تعصبات نے بھی ضرور بڑی حد تک نقل روایت کو مسخ کیا ہو گا۔ جب الفاظ ایک ذہن سے دوسرے ذہن تک پہنچتے ہیں، وہ ذہن خواہ عرب کا ہو یا کسی اور کا بہرحال ان الفاظ میں ایسے تغیرات ہو جاتے ہیں جو ہر ذہن کی اپنی ساخت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ہر ذہن ان کو اپنے طرز پر موڑتا توڑتا ہے، اور جبکہ الفاظ بہت سے ذہنوں سے گزر کر آئے ہوں تو ایک شخص تصور کر سکتا ہے کہ ان میں کتنا بڑا تغیر ہو جائے گا۔ ہمیں اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے کہ فطرت انسانی ہر جگہ یکساں ہے۔ اللہ نے انسان کو ناقص بنایا ہے اور بشری مشاہدہ انتہائی خام اور کمزور ہے۔

 

(۲۶)  ایک شخص اگر حدیث کے مجموعوں کا مطالعہ کرے تو ان میں کم از کم بعض حدیثیں ایسی بھی موجود ہیں جنہیں داخلی شہادت کی بنا پر صحیح ماننا مشکل ہے۔[1]

 

عن عطاء انہ قال دخلت علیٰ عائشۃ فقلت اخبرینا باعجب مارایت من رسول اللہ صلعم فبکت وقالت وای شانہ لم یکن عجباً۔ اتانی فی لیلۃ فدخل معی فی فراشی (او قالت فی لحافی) حتی مس جلدی جلدہ ثم قال یا ابنۃ ابی بکر ذریتی اتعبد لربی قلت انی احب قربک لکن اوثر ھواک فاذنت لہ فقام الیٰ قربۃ فتوضاء فلم یکثر صب الماء ثم قام یصلی فبکی حتی سالت دموعہ علی صدرہ ثم رکع فبکٰی ثم سجد فبکٰی ثم رفع رأسہ فبکٰی فلم یزل کذالک یبکی حتٰی جاء بلال فاذنہ باصلوۃ فقلت یا رسول اللہ ما یکبیک وقد غفر اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر قال افلا اکون عبداً شکوراً

(عطاء سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی جو سب سے زیادہ پسندیدہ اور عجیب بات دیکھی ہو، وہ بتائیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رو دیں اور فرمایا: آنحضورﷺ کی کون سی حالت عجیب اور خوش کن نہیں تھی[2]۔ ایک رات آپ تشریف لائے اور میرے ساتھ میرے بستر یا لحاف میں داخل ہو گئے حتیٰ کہ میرے بدن نے آپﷺ کے بدن کو چھو لیا۔ پھر فرمایا اے ابو بکر کی بیٹی، مجھے اپنے رب کی عبادت کرنے دو [3]۔ میں نے عرض کیا: مجھے آپ کا قرب پسند ہے لیکن میں آپ کی خواہش کو قابل ترجیح سمجھتی ہوں۔ پس میں نے آپﷺ کو اجازت دے دی۔ آپﷺ پانی کے ایک مشکیزے کے پاس تشریف لے گئے۔ پھر آپﷺ نے وضو کیا اور زیادہ پانی نہیں بہایا۔ پھر آپﷺ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور اتنے روئے کہ آپﷺ کے آنسو آپﷺ کے سینۂ مبارک پر بہہ نکلے۔ پھر آپﷺ نے روتے ہوئے رکوع کیا پھر روتے ہوئے سجدہ کیا، پھر روتے ہوئے سر اٹھایا۔ آپﷺ مسلسل اسی طرح روتے رہے یہاں تک کہ بلال آئے اور انہوں نے نماز (کا وقت ہو جانے)کی خبر دی۔ میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول، آپ کیوں روتے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے؟ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تو کیا میں ایک شکر گذار بندہ نہ بنوں؟”

 

عن عائشۃ قالت کان النبی صلی اللہ علیہ و سلم یقبل ازواجہ ثم یصلی ولا یتوضا

(حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیتے تھے اور پھر وضو کیے بغیر نماز پڑھ لیتے تھے)

 

عن ام سلمۃ قالت قالت ام سلیم یا رسول اللہ! ان اللہ لایستحی من الحق فھل علی المراۃ غسل اذا احتلمت قال نعم اذا رات الماء فغطت ام سلمۃ و جھہا وقالت یا رسول اللہ او تحتلم المراۃ قال نعم تربت یمینک فبم یشبھھا ولدھا (متفق علیہ) و زاد  مسلم بروایۃ ام سلیم ان ماء الرجل غلیظ و ما المراۃ رقیق اصفر فمن ایھما علا او سبق یکون منہ الشبہ

 

(حضرت ام سلمہ رضیاللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام سلیم نے کہا: اے اللہ کے رسول!  اللہ حق (بات) سے شرمروا نہیں رکھتا۔ پس کیا عورت پر غسل ہے جب اسے احتلام ہو؟ آنحضور صلی اللہ علیہو سلم نے فرمایا، ہاں، جب وہ پانی دیکھے (یعنی جبکہ فی الواقع خواب میں اسے انزال ہوگیا ہو)۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور کہا: اے اللہ کےرسول، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں، تیرا سیدھا ہاتھ خاکآلود ہو، آخر اس کا بچہ اس سے کیسے مشابہ ہوتا ہے۔ اور مسلم نے ام سلیم کی روایتمیں یہ اضافہ کیا کہ مرد کا مادہ گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پتلا اور پیلا۔ پسان میں سے جو بھی غلبہ حاصل کرے اسی سے مشابہت ہوتی ہے۔

 

عن معاذۃ قالت، قالتعائشۃ کنت اغتسل انا و رسول اللہ صلعم من اناء واحد بیننی و بینہ فیبادرنی حتی اقولدع لی قالت و ھما جنبان

(معاذہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایاکہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے جو میرے اورآپﷺ کے درمیان ہوتا تھا۔ آپﷺ مجھ سے زیادہ جلدی کرتے تھے یہاں تک میں کہتی تھی میرےلیے (پانی) چھوڑ دیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ وہ اس وقت دونوں حالت جنابت میں ہوتےتھے۔

 

عن عائشۃ قالت سئل رسول اللہ صلعم عن الرجل یجد البلل ولا یذکر احتلاما قالیغتسل و عن الرجل الذی یرٰی انہ قد احتلم ولا یجد بللّا قال غسل علیہ۔ قالت ام سلیم ھلعلی المراۃ تری ذالک غسلاً قال نعم ان النساء شقائق الرجال

(حضرت عائشہ رضی اللہعنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ایسے شخص کےبارے میں پوچھا گیا جو تری[4] دیکھے لیکن احتلام اسے یاد نہ ہو۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ غسلکرے اور ایسے شخص کے بارے میں (بھی پوچھا گیا) جسے احتلام یاد ہو لیکن وہ تری نہپائے۔ آپﷺ نے فرمایا: (اس پر غسل) نہیں ہے۔ ام سلیم نے کہا کہ: اگر عورت اس طرح (رطوبت) دیکھے، تو اس پر بھی غسل ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں، عورتیں مردوں کا آدھا حصہہیں)۔

 

عنھا قالت رسول اللہﷺ اذا جاوز الختان الختان و جب الغسل فعلتہ انا ورسول اللہﷺ فاغستلنا

(انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نےفرمایا کہ جب شرم گاہوں کے اگلے حصے باہم متجاوز ہو جائیں تو غسل واجب ہے۔ میں نےاور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا کیا اور غسل کیا)

 

عن عائشۃ قالت کانرسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یغتسل من الجنابۃ ثم یستد فی بی قبل ان اغتسل

(حضرتعائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلمغسل جنابت کر لینے کے بعد (سردی دور کرنے کے لیے) مجھ سے گرمی حاصل کرتے تھے، قبلاس کے کہ میں غسل کروں)۔

 

عن عائشۃ قالت کنت اغتسل انا و النبیﷺ من اناء واحدو کلانا جنب و کان یامرنی فاتزر فیباشرنی و انا حائض و یخرج راسہ الی و ھو معتکففاغسلہ و انا حائض

(حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہنبی صلی اللہ علیہ و سلم اور میں ایک ہی برتن میں نہاتے تھے، در آں حالیکہ ہم دونوںجنبی ہوتے تھے اور آپ مجھے حالت حیض میں ازار باندھنے کا حکم دیتے تھے اور مجھ سےبغل گیر ہوتے تھے اور آپ اعتکاف کی حالت میں اپنا سر (مسجد سے) باہر کرتے تھے اورمیں حیض کی حالت میں اسے دھوتی تھی)

 

عن عائشۃ کنت اشرب و انا حائض ثم انا و لہالنبیﷺ فیضع فاہ علیٰ موضع فی فیشرب واتعرق العرق و انا حائض ثم انا ولہ النبیﷺ فیضع فاہ علیٰ موضع فی

(حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں حیضکی حالت میں برتن سے پانی پیتی تھی اور پھر اسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی جانببڑھا دیتی تھی۔ پس آپﷺ وہاں منہ رکھتے تھے جہاں میں نے منہ رکھا ہوتا تھا اورآپ پیتے تھے۔ اور میں بحالت حیض ہڈی پر سے گوشت کھاتی تھی اور پھر اسے نبی صلی اللہعلیہ و سلم کو دے دیتی تھی اور آپﷺ اس جگہ اپنا منہ رکھتے تھے جہاں میں نے رکھا ہوتاتھا)۔

 

عن عائشۃ قالت کنت اذا حضت نزلت عن المثال علی الحصیر فلم نقرب رسول اللہﷺ  ولم ندن منہ حتی تطھر

(حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نےفرمایا: جب میں حائضہ ہوتی تو میں بستر چھوڑ کر چٹائی پر لیٹتی تھی پس ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ و سلم سے مقاربت نہیں کرتے تھے جب تک کہ پاکیزگی حاصل نہیں کر لیتےتھے۔)[5]

 

عنھا قالت قال لی النبیﷺ ناولینی الخمرۃ من المسجد فقلت انی حائض فقالان حیضتک لیست فی یدک

(انہی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سےفرمایا: مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا کر دے دو۔ میں نے عرض کیا کہ میں حیض کی حالت میںہوں آپﷺ نے فرمایا: حیض (کا اثر) تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے (یعنی تم ہاتھ بڑھا کرمسجد سے چٹائی لے سکتی ہو)۔

 

(۲۷) مذکورہ بالا احادیث میں جو مضامین بیان کیے گئےہیں، ان کی روایت حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ام سلمہ کی طرف منسوب ہیں۔ میں یہ باورکرنے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ یہ دونوں ازواج ہر لحاظ سے کامل تھیں۔ انہوں نے اسیعریانی کے ساتھ اپنی ان پرائیویٹ باتوں کو ظاہر کر دیا ہو گا جو ان کے اور محمد رسولاللہ کے درمیان میاں بیوی کی صورت میں ہوئی ہوں گی۔

 

(۲۸)میں اپنے آپ کو یہیقین کرنے کے ناقابل پاتا ہوں کہ محمد رسول اللہ نے یہ باتیں کہی ہوں گی کہ دوزخمیں اکثریت عورتوں پر مشتمل ہو گی اور جنت کی اکثریت غرباء پر مشتمل ہو گی۔

 

عناسامۃ بن زید قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قمت علی باب الجنۃ فکان عامۃ مندخلھا المساکین و اصحاب الجد محبوسون غیر ان[6] اصحاب النار قد امر بھم الی النار و قمتعلیٰ باب النار فاذا عامۃ من دخلھا النساء

(اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ انہوںنے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوااور (میں نے دیکھا) کہ اکثریت جو اس میں داخل ہو رہی تھی، وہ مساکین کی تھی اور دولتمند لوگ روک لیے گئے، سوائے اس کے کہ جو لوگ آگ کے لائق تھے انہیں آگ میں ڈالے جانےکا حکم دے دیا گیا اور میں آگ کے دروازے پر کھڑا ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میںداخل ہونے والی بالعموم عورتیں ہیں)

 

عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہعلیہ و سلم اطلعت فی الجنۃ فرایت[7]اکثر اھلھا الفقراء و اطلعت فی النار فرایت اکثراھلھا النساء

(ابن عباس سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہو سلم نے فرمایا: میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثریت فقراء کی ہے اورمیں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو اس میں اکثریت عورتوں کی ہے)۔

 

(۲۹) کیا اس کامطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو دولت کمانے سے بالواسطہ طریق سے منع کر دیا گیا ہے، کیونکہ اگر وہ دولت حاصل کریں گے تو ان کے جنت میں داخلے کے امکانات کم ہو جائیںگے؟ اگر سارے مسلمان غریب ہو جائیں تو ان کا کیا بنے گا؟ کیا ان کا کلی طور پرخاتمہ نہیں ہو جائے گا؟ کیا اس طرح زندگی کے ہر میدان میں ترقی رک نہیں جائے گی؟مزید برآں کیا یہ قابل یقین ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ باتفرمائی ہو گی جو حدیث بخاری کے صفحہ ۸۵۲ پر روایت نمبر ۶۰۲:۷۴ میں عبد اللہ بن قیسسے مروی ہے کہ “مسلمان جنت میں ان عورتوں نے مباشرت کریں گے جو ایک خیمے کے مختلفگوشوں میں بیٹھی ہوں گی”۔ حدیثوں اور قرآن مجید کی پرانی تفسیروں نے اسلام کا دائرہبہت تنگ کر دیا ہے اور اس کی وسعت بہت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ کیا ہمیں ان حالات کوبرقرار رہنے دینا چاہیے؟

 

(۳۰) بحث کی خاطر اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ جواحادیث محدثین نے جمع کی ہیں وہ صحیح ہیں، تب بھی اس امر کی شہادت موجود ہے کہ اگران احادیث کا تعلق دین سے نہ ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم انہیں حرفِ آخر کادرجہ نہیں دینا چاہتے تھے۔ مسلم میں یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔

 

عن رافع بن خدیجقال قدم النبی صلی اللہ علیہ و سلم المدینۃ وھم یابرون النخل فقال ما تصنعون قالواکنا نصنعہ قال لعلکم لو لم تفعلو کان خیراً۔ ترکوہ فنقصت فذکروا ذالک لہ فقال انابشر اذا امرتکم بشئی من امر دینکم فخذوا بہ و اذا امرتکم بشئی من رای فانما انابشر

(رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینے تشریف لائے توآپﷺ نے دیکھا کہ مدینے کے لوگ کھجوروں میں پیوند لگاتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم لوگ یہکیا کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ہم پہلے سے ایسا کرتے آئے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: شایدتم ایسا نہ کرتے تو بہتر ہوتا۔ پس لوگوں نے یہ عمل چھوڑ دیا اور پیداوار کم ہوئی۔انہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کا ذکر کیا آپﷺ نے فرمایا: میں انسان ہوں، جب میں تمہارے دین کے معاملے میں تمہیں کوئی حکم دوں تو اس کی پیروی کرو اور جب میںاپنی رائے سے کچھ کہوں تو میں بس ایک بشر ہی ہوں”۔

 

اس کے علاوہ ایک سے زائداحادیث میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صرف قرآنہی وہ ایک کتاب ہے جو تمام شعبہ ہائے زندگی میں مسلمانوں کی رہنما ہونی چاہیے۔

 

(۳۱) یہ بات کہ محدثین خود اپنی جمع کردہ احادیث کی صحت سے مطمئن نہ تھے صرفاسی ایک امر واقعہ سے واضح ہو جاتی ہے کہ وہ مسلمانوں سے یہ نہیں کہتے کہ ہماری جمع کردہاحادیث کو صحیح مان لو بلکہ یہ کہتے ہیں کہ انہیں ہمارے معیار صحت پر جانچ کر اپنااطمینان کر لو۔ اگر انہیں ان احادیث کی صحت کا یقین ہوتا تو یہ جانچنے کا سوالبالکل غیر ضروری تھا۔

 

(۳۲) بعض احادیث ایسی ہیں جو انسان کی توجہ اس دنیا سےہٹا دیتی ہیں۔ روحانیت ایک اچھی چیز ہے لیکن اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم اسےبیہودہ انتہاء تک پہنچا دیں۔ بنیادی طور پر اللہ نے ہمیں انسان بنایا ہے اور وہچاہتا ہے کہ ہم اسی حیثیت سے زندگی بسر کریں۔ اگر وہ چاہتا کہ ہم روحانی مخلوق یافرشتے بن جائیں، تو اس کے لیے اس سے زیادہ آسان بات کوئی اور نہیں تھی کہ وہ ہمیںایسا ہی بنا دیتا۔ حقیقی اسلامی قانون کے مطابق مسلمانوں کو اپنی توانائیاں اس مقصدکے لیے صرف کرنی چاہئیں کہ وہ زندگی کو مفید تر، حسین تر اور مکمل طور پر پُر لطفبنا سکیں۔

 

(۳۳)  اگر ہم احادیث کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اکثراحادیث مختصر اور بے ربط ہیں جنہیں سیاق و سباق اور موقع محل سے الگ کر کے بیان کردیا گیا ہے۔ ان کو ٹھیک ٹھاک سمجھنا اور ان کا صحیح مفہوم و مدعا مشخص کرنا ممکننہیں ہے جب تک ان کا سیاق و سباق سامنے نہ ہو اور وہ حالات معلوم نہ ہوں جن میںرسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی بات کہی ہے یا کوئی کام کیا ہے۔ بہرحال احادیثکی بالکل نئے سرے سے پوری چھان بین اور تحقیق کی ضرورت ہے۔ یہ کہا گیا ہے اوربجا طور پر کہا گیا ہے کہ حدیث قرآن کے احکام منسوخ نہیں کر سکتی، مگر کم از کم ایکمسئلے میں تو احادیث نے قرآن پاک میں ترمیم کر دی ہے اور وہ وصیت کا مسئلہ ہے۔احادیث کے بارے میں پورا غور و تامل کرنے کے بعد میں یہ رائے قائم کرنے پر مجبورہوں کہ انہیں اپنی موجودہ شکل میں قرآن کے برابر درجہ نہیں دینا چاہیے اور نہ ہی انکے اطلاق کا عام خیال کرنا چاہیے۔ میں اس بات کے حق میں نہیں ہوں کہ مختلف محدثینکی جمع کردہ احادیث کو اسلامی قانون کے سرچشموں میں سے ایک سرچشمہ تسلیم کیا جائےجب تک ان کی دوبارہ جانچ پڑتال نہ کی جائے اور یہ پڑتال بھی کسی تنگ نظری اور تعصبپر مبنی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان تمام قواعد و شرائط کو بھی از سر نو استعمال کیاجانا چاہیے جنہیں امام بخاری وغیرہ نے بے شمار جھوٹی، موضوع اور جعلی حدیثوں میں سےصحیح احادیث کو الگ کرنے کے لیے مقرر کیا تھا، نیز ان معیارات کو بھی کام میں لاناچاہیے جو نئے حقائق و تجربات نے ہمارے لیے فراہم کیے ہیں۔ میری یہ بھی رائے ہے کہحقائقِ موجودہ کی روشنی میں قیاس و استدلال کے نازک اور لطیفطریقوں کو عمل میں لاتےہوئے ججوں اور عوام کے منتخب نمائندوں کو قرآن پاک کی تفسیر کرنی چاہیے۔ ابو حنیفہاور اس طرح کے دوسرے فقہاء نے جو فیصلے کیے ہیں اور جو بعض کتابوں میں مذکور ہیںانہیں نظائر کی حیثیت میں وہی درجہ استناد دیا جانا چاہیے جو عام عدالتی فیصلوں کوحاصل ہوتا ہے۔ قرآن مجید کے اندر مندرج قانون جامد نہیں بلکہ متحرک و منظم ہے۔ قرآنمجید کی تعبیر کو اس انسانی طرز عمل سے ہم آہنگ ہونا چاہیے جو حالات حاضرہ سے متاثراور مختلف عناصر سے متعین ہوتا ہے۔ ابو حنیفہ کی طرح دنیوی معاملات کی تحقیقات میںعقل کو استعمال میں لانا چاہیے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق بر عظیم ہند و پاکستان کےمسلمانوں کا قانون وسیع تغیرات کا محتاج ہے اور اسے ملک کے موجودہ حالات کے مطابقڈھالنے کی ضرورت ہے۔

 

(اس کے بعد پیرا نمبر ۳۴ سے لے کر آخری پیراگراف نمبر ۴۱تک فاضل جج نے اپیل کے اصل تصفیہ طلب مسئلہ، یعنی مسئلہ حضانت پر بحث کی ہے اور یہرائے ظاہر کی ہے کہ اگر جامعین حدیث کی روایات کو صحیح اور قرآن کی طرح واجبالاتباع تسلیم کر بھی لیا جائے، تب بھی ان سے حضانت کے معاملے میں مسلمانوں کے مروجشخصی قانون کی تائید نہیں ہوتی۔ اگرچہ فیصلے کا یہ حصہ بھی بہت غور طلب اور لائقتوجہ ہے، تاہم یہ چونکہ اصل موضوع فیصلہ سے تعلق رکھتا ہے اور اسے زیر بحث لانامقصود نہیں ہے، اس لیے اس کا ترجمہ نہیں کیا جا رہا ہے، اس حصے کو اصل انگریزیفیصلے میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

 

 

 

تبصرہ

 

کچھ مدت سے ہمارے بعض حاکمانعدالت کی تقریروں اور تحریروں میں سنت کی صحت پر شکوک کے اظہار اور اس کو اسلامیقانون کی بنیاد تسلیم کرنے سے انکار کا رجحان بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ حتیٰ کہ بعضعدالتی فیصلوں تک میں یہ خیالات نمایاں ہونے لگے تھے۔ مثال کے طور پر اب سے تین چارسال قبل مغربی پاکستان ہائی کورٹ کے ایک فیصلے میں لکھا گیا تھا:

 

“اصل مشکل سےسابقہ حدیث کے معاملہ میں پیش آتا ہے جو سنت یا عملِ رسول کی خبر دیتی ہے۔ اول تو یہامر واقعہ ہے کہ کسی خاص مسئلے سے متعلق ایک حدیث کی صحت مختلف فیہ ہونے سے کم ہیمحفوظ ہوتی ہے، پھر مزید برآں چند معاملات میں تو نبی کی ثابت شدہ سنت سے بھی بعضخلفائے راشدین اور خصوصاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انحراف کیا ہے۔ اس کی متعددمثالیں اردو کے ایک عمدہ رسالے میں جمع کی گئی ہیں’ جس کو ادارۂ طلوع اسلام کراچینے “اسلام میں قانون سازی کے اصول” کے نام سے شائع کیا ہے اور میں نے اس سے بہتفائدہ اٹھایا ہے۔ یہاں میرے لیے یہ کہنا ضروری نہیں ہے کہ سنت کے مبنی بر وحی ہونےکی دلیل کچھ مضبوط نہیں ہے۔” (پی۔ ایل۔ ڈی، نومبر ۱۹۵۷ء، صفحہ ۱۳-۱۰۱۲)

 

یہرجحان بڑھتے بڑھتے اب جسٹس محمد شفیع صاحب کے زیرِ تبصرہ فیصلے میں ایک قطعی واضحاور انتہائی صورت تک پہنچ گیا ہے اور منکرینِ حدیث کا گروہ اس کا پورا پورا فائدہاٹھا رہا ہے۔ اس لیے ہم ناگزیر سمجھتے ہیں کہ تفصیل کے ساتھ اس فیصلے کا علمی جائزہلیا جائے اور ملک کے حکام عدالت اور قانون دان اصحاب کو اس طرز فکر کی کمزوریوں سےآگاہ کر دیا جائے۔ جس مقدمے میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے واقعات سے ہمیں قطعاًکوئی بحث نہیں ہے اور اس میں جو حکم فاضل جج نے صادر کیا ہے، اس پر بھی ہم کوئیگفتگو نہیں کرنا چاہتے۔ ہماری بحث صرف ان اصولی مسائل تک محدود ہے جو اس فیصلے میںقرآن اور سنت اور فقہ کی پوزیشن کے متعلق چھیڑے گئے ہیں۔

 

               دو اصولی سوالات

 

اسسلسلے میں قبل اس کے کہ ہم اصل فیصلے پر تبصرہ شروع کریں، دو اصولی سوالات ہمارےسامنے آتے ہیں:

 

پہلا سوال عدالت کے اختیارات سے تعلق رکھتا ہے۔ اسلامی قانون سےمتعلق چودہ صدیوں سے یہ بات تمام دنیا کے مسلمانوں میں مسلّم چلی آ رہی ہے کہ قرآنکے بعد اس کا دوسرا مآخذ سنت رسول ہے۔ ان طویل صدیوں کے دوران میں اس قانون پر جسقابل ذکر مصنف نے بھی کچھ لکھا ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس نے اس حقیقتکو تسلیم کیا ہے۔ مسلمانوں کے اندر کسی ایسے مذہب فکر (School of thought) کسی ایسےفقیہ (Jurist) کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا جس کی پیروی مسلمانوں کی کسی قابل لحاظتعداد نے اختیار کی ہو اور وہ سنت کے مآخذ قانون ہونے کا انکار کرتا ہو۔ متحدہہندوستان میں جو اینگلو محمڈن لاء رائج رہا ہے، اس کے اصولوں میں بھی ہمیشہ یہ چیزمسلم رہی ہے اور ہمارے علم میں آج تک کسی مجلس قانون ساز کا بھی کوئی ایسا فیصلہنہیں آیا ہے جس کی رو سے اسلامی قانون کے اصولوں میں یہ بنیادی رد و بدل کیا گیاہو۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں کوئی منفرد جج، یا کوئی ہائی کورٹ، بلکہ خودسپریم کورٹ بھی قانون میں یہ اصول تبدیلی کر دینے کا مجاز ہے؟ جہاں تک ہمیں معلومہے عدالت کوئی مستقل بالذات قانون ساز ادارہ نہیں ہے۔ جن اصولوں پر ہمارے ملک کانظام عدل و آئین مبنی ہے، ان کی رو سے عدالتیں اس قانون پر کام کرنے کی پابند ہیںجو ان کو قانون ساز ادارے کی طرف سے دیا جائے۔ وہ قانون کی تعبیر ضرور کر سکتی ہیںاور اس نظام میں ان کی تعبیر کو بلا شبہ قانونی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن ہمارے علم میںآج تک یہ بات نہیں آئی ہے کہ انہیں بجائے خود قانون یا اس کے مسلمہ اصولوں میں رد وبدل کر دینے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ یہ اختیارعدالتوں کو کب اور کہاں سے حاصل ہوا ہے؟

 

دوسرا سوال یہ ہے کہ قانون میں اس طرحکی اصولی تبدیلی کا مجاز آخر ہے کون؟ اس وقت مملکت پاکستان کے متعلق دعویٰ یہی ہےکہ یہ مملکت جمہوریت کے اصول پر قائم ہوئی ہے اور جمہوریت کے کوئی معنی نہیں ہیںاگر اس میں باشندوں کی اکثریت کا منشا حکمران نہ ہو۔ اب اگر پاکستان کے مسلمانباشندوں سے کوئی استصواب عام کرایا جائے تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی۹۹۹۹فی دس ہزار سے بھی زیادہ اکثریت اس عقیدے کا اظہار کرے گی کہ قرآن کے بعد سنترسول اسلامی قانون کی لازمی بنیاد ہے اور وہ لوگ شاید پوری طرح دس ہزار میں ایکبھی نہ ہوں گے جو اس سے اختلاف رکھتے ہوں۔ یہ صورت حال جب تک موجود ہے، کیا اسلامیقانون کے مآخذ میں سے کسی سنت کا اسقاط کر دینا کسی حاکم عدالت کے اختیار میں ہے؟یا کوئی حکومت ایسا کر سکتی ہے؟ یا کوئی قانون ساز ادارہ اس کا مجاز ہے؟ ان سوالاتکا جواب اثبات میں دیا جا سکتا تھا اگر یہاں کسی خاص طبقے کی آمریت قائم ہوتی لیکنجمہوری اصول پر ہم نہیں کہہ سکتے کہ کوئی شخص ان کا جواب اثبات میں کیسے دے سکتاہے۔ جس وقت تک یہاں جمہوریت کی قطعی نفی نہیں ہو جاتی، کسی ذی اختیار شخص کو اپنےاختیارات اپنی ذاتی آراء کے مطابق استعمال کرنے کا حق نہیں ہے بلکہ وہ انہیں قانونہی کے مطابق استعمال کر سکتا ہے جو یہاں اکثریت کی مرضی سے نافذ ہے۔ حکام میں جواصحاب اپنے کچھ زیادہ پر زور خیالات رکھتے ہوں، ان کے لیے سیدھا راستہ یہ کھلا ہواہے کہ مستعفی ہو کر اپنی پوری علمی قابلیت عامہ مسلمین کا عقیدہ تبدیل کرنے میں صرفکریں لیکن جب تک وہ کسی با اختیار منصب پر فائز ہیں، وہ اس تبدیلی کے لیے اپنےاختیارات استعمال نہیں کر سکتے۔ یہ جمہوریت کا کھلا ہوا منطقی تقاضا ہے۔ اس سےانکار کے لیے کسی کے پاس اگر کچھ دلائل ہوں تو ہم انہیں معلوم کرنا چاہتے ہیں۔

 

مذکورہ بالا اصولی مسائل کے متعلق جو نقطۂ نظر ہم نے اوپر پیش کیا ہے، اس کواگر درست تسلیم کر لیا جائے تو عدالت کا پورا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے ہم یہ گزارشکریں گے کہ فاضل جج کے لیے اپنے ان مخصوص خیالات کو اپنے ایک عدالتی فیصلے میں بیانکرنا مناسب نہ تھا۔ وہ ان کو اپنی شخصی حیثیت میں ایک مضمون کے طور پر تحریر فرماتےاور کسی رسالے میں شائع کرا دیتے تو چنداں قابل اعتراض نہ ہوتا۔اس صورت میں زیادہآزادی کے ساتھ ان پر بحث ہو سکتی تھی بغیر اس کے کہ احترام عدالت کسی شخص کے لیےآزادی تنقید میں مانع ہو۔

 

               فقہِ حنفی کی اصل حیثیت

 

اب ہم اس فیصلے کے اصولیمباحث پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں جیسا کہ اس کے مطالعہ سے ناظرین کے سامنے آ چکا ہے۔ یہحضانت کے ایک مقدمے کا فیصلہ ہے۔ اس سلسلے میں حضانت کے متعلق فقہِ حنفی کے قواعد کاحوالہ دیتے ہوئے فاضل جج یہ فرماتے ہیں کہ انگریزی حکومت کے دور میں پریوی کونسلتک تمام عدالتیں ان قواعد کی پوری پابندی کرتی رہی ہیں، اور اس کی وجہ ان کی رائےمیں یہ ہے کہ:

 

“مسلمان قانون دان یہ نہیں چاہتے تھے کہ انگریز یا دوسرے غیر مسلماپنے مقصد کے مطابق قرآن پاک کی تفسیر و تعبیر کریں اور قوانین بنائیں۔ مسلم قانونسے تعلق رکھنے والے تمام معاملات میں فتاوائے عالمگیری کو جو اہمیت دی گئی ہے وہاسی حقیقت کی صاف نشاندہی کرتی ہے لیکن اب حالات بالکل بدل چکے ہیں”۔ (پیراگرافنمبر ۴)

 

پھر حضانت کے حنفی قانون کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد وہ دوبارہ یہ سوالاٹھاتے ہیں کہ:

“کیا کسی درجہ کی قطعیت کے ساتھ ان قواعد کو اسلامی قانون کہاجا سکتا ہے جسے وہی لزوم کا مرتبہ حاصل ہو جو ایک کتاب آئین میں درج شدہ قانون کوحاصل ہوتا ہے؟” (پیراگراف نمبر ۷)

 

ہمارے خیال میں یہ رائے ظاہر کرتے وقت فاضل ججکی نگاہ ان تمام اسباب پر نہیں تھی جن کی بنا پر حنفی قانون نہ صرف انگریزی دور میںاور نہ صرف ہمارے ملک میں بلکہ تیسری صدی ہجری سے دنیائے اسلام کے ایک بڑے حصے میںاسلامی قانون مانا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے اس کے ایک بہت ہی خفیف سے جزوی سبب کا نوٹسلیا ہے اور اسی بنا پر ان کا یہ ارشاد بھی صحیح صورت واقعہ کی ترجمانی نہیں کرتاکہ “اب حالات بالکل بدل چکے ہیں”۔

 

اسلامی قانون کی تاریخ سے جو لوگ واقف ہیں انسے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ خلافت راشدہ کی جگہ شاہی طرز حکومت قائم ہو جانے سےاسلامی نظام قانون میں ایک بڑا خلا رونما ہو گیا تھا جو ایک صدی سے زیادہ مدت تکموجود رہا۔ خلافت راشدہ میں “شوریٰ” ٹھیک وہی کام کرتی تھی جو موجودہ زمانہ میں ایکمجلس قانون ساز کا کام ہوتا ہے۔ مسلم مملکت میں جو جو مسائل بھی ایسے پیش آتے تھےجن پر ایک واضح قانونی حکم کی ضرورت ہوتی تھی، خلیفہ کی مجلس شوریٰ ان پر کتاب اللہاور سنت رسول اللہ کی روشنی میں اجتماعی فکر و اجتہاد سے کام لے کر فیصلے کرتی تھیاور وہی فیصلے پوری مملکت میں قانون کی حیثیت سے نافذ ہوتے تھے۔ قرآن مجید کے کسیفرمان کی تعبیر میں اختلاف ہو یا سنت رسول کی تحقیق میں یا کسی نئے پیش آمدہمسئلے پر اصولی شریعت کی تطبیق میں، مجلس شوریٰ کے سامنے ایسا ہر اختلاف ہر وقت پیشہو جاتا تھا۔ خلافت راشدہ کی اس مجلس کو یہ حیثیت محض سیاسی طاقت کے بل پر حاصل نہتھی، بلکہ اس کی اصل وجہ وہ اعتماد تھا جو عام مسلمان خلیفہ اوراس کے اہل شوریٰ کیخدا ترسی، دیانت، خلوص اور علم دین پر رکھتے تھے۔

 

جب یہ نظام باقی نہ رہا اورشاہی حکومتوں نے اس کی جگہ لے لی تو فرمانروا اگرچہ مسلمان تھے اور ان کے اعیانحکومت اور اہل دربار بھی مسلمان تھے، لیکن ان میں سے کوئی بھی یہ جرأت نہ کر سکا کہمسائل و معاملات میں خلفائے راشدین کی طرح فیصلے دیتا، کیونکہ وہ خود جانتے تھے کہانہیں عام مسلمانوں کا اعتماد حاصل نہیں ہے اور ان کے فیصلے قانون اسلام کا جز نہیںبن سکتے۔ وہ اگر خلفائے راشدین کی شوریٰ کی مانند عام مسلمانوں کے معتمد اہل علم وتقویٰ کی ایک مجلس بناتے اور اس کو وہی آئینی حیثیت دیتے جو اس شوریٰ کو حاصل تھی، تو ان کی بادشاہی نہ چل سکتی تھی اور اگر وہ اپنے مطلب کے لوگوں کی مجلس شوریٰ بناکر فیصلے صادر کرنے شروع کر دیتے تو مسلمان ان فیصلوں کو شرعی فیصلے ماننے کے لیےتیار نہ تھے۔ ایسے فیصلے طاقت کے ذریعہ مسلط کیے جا سکتے تھے، لیکن انہیں مسلط کرنےوالی طاقت جب بھی ہٹتی وہ فیصلے اسی جگہ پھینک دیے جاتے جہاں ان کے نافذ کرنے والےگئے تھے۔ ان کا ایک مستقل جزو شریعت بن کر رہنا کسی طرح ممکن نہ تھا۔

 

اس حالتمیں اسلامی نظام قانون کے اندر ایک خلا پیدا ہو گیا۔ خلافت راشدہ کے زمانے میں مسائلو معاملات کے جو فیصلے اجماعی طور پر ہو گئے تھے، وہ تو پوری مملکت کا قانون رہے، لیکن اس کے بعد پیش آنے والے مسائل و معاملات میں ایسا کوئی ادارہ موجود نہ رہا جوقرآن کی تعبیر اور سنت کی تحقیق اور قوت اجتہادیہ کے استعمال سے ایک فیصلہ دیتا اوروہ مملکت کا قانون قرار پاتا۔ اس دور میں مختلف قاضی اور مفتی اپنے اپنے طور پر جوفتوے اور فیصلے دیتے رہے، وہ ان کے دائرۂ اختیار میں نافذ ہوتے رہے۔ ان متفرقفتاویٰ اور فیصلوں سے مملکت میں ایک قانونی طوائف الملوکی پیدا ہو گئی۔ کوئی ایکقانون نہ رہا جو یکسانی کے ساتھ تمام عدالتوں میں نافذ ہوتا اور جس کے تمام انتظامیمحکمے کام کرتے۔ منصور عباسی کے عہد میں ابن المقنع نے اس طوائف الملوکی کو شدت کےساتھ محسوس کیا اور خلیفہ کو مشورہ دیا کہ وہ خود اس خلا کو بھرنے کی کوشش کرے لیکنخلیفہ اپنی حیثیت خود جانتا تھا۔ وہ کم از کم اتنا بر خود غلط نہ تھا جتنے آج کل کےڈکٹیٹر حضرات ہیں۔ اسے معلوم تھا کہ جو قانون اس کی صدارت میں اس کے نامزد کیے ہوئےلوگوں کے ہاتھوں بنیں گے اور اس کے امضاء (Sanction) سے نافذ ہوں گے انہیں مسلمانشریعت کے احکام مان لیں گے۔

 

قریب قریب ایک صدی اس حالت پر گزر چکی تھی کہ امامابو حنیفہ اس خلا کو بھرنے کے لیے آگے بڑھے۔ انہوں نے کسی سیاسی طاقت اور کسی آئینیحیثیت کے بغیر اپنے تربیت کردہ شاگردوں کی ایک غیر سرکاری مجلس قانون ساز (Private Legislature) بنائی۔ اس میں قرآن کے احکام کی تعبیر، سنتوں کی تحقیق، سلف کے اجماعیفیصلوں کی تلاش و جستجو، صحابہ و تابعین اور تبع تابعین کے فتاویٰ کی جانچ پڑتالاور معاملات و مسائل پر اصول شریعت کی تطبیق کا کام بڑے وسیع پیمانے پر کیا گیا اورپچیس تیس سال کی مدت میں اسلام کا پورا قانون مدون کر کے رکھ دیا گیا۔ یہ قانون کسیبادشاہ کی رضا سے مدون نہیں کیا گیا تھا۔ کوئی طاقت اس کی پشت پر نہیں تھی جس کےزور سے یہ نافذ ہوتا لیکن پچاس برس بھی نہ گزرے تھے کہ یہ سلطنت عباسیہ کا قانون بنگیا۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اس کو ان لوگوں نے مرتب کیا تھا جن کے متعلق عاممسلمانوں کو یہ اعتماد تھا کہ وہ عالم بھی ہیں اور متقی اور محتاط بھی، وہ قرآن اورسنت کو ٹھیک ٹھاک سمجھتے اور جانتے ہیں، صحیح اسلامی ذہن رکھتے ہیں، غیر اسلامیافکار و نظریات سے متاثر نہیں ہیں اور اسلامی قانون کی تدوین میں اپنے یا کسی کےذاتی مفادات، رجحانات یا خواہشات کو ذرہ برابر دخل دینے والے نہیں ہیں۔ مسلمان انپر پورا اطمینان رکھتے تھے کہ یہ تحقیق و اجتہاد کے بعد شریعت کا جو حکم بھی بیانکریں گے، ان میں بشری غلطی تو ہو سکتی ہے، مگر بے ڈھب اور بے لگام اجتہاد یا اسلاممیں غیر اسلام کی آمیزش کا ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس خالص اخلاقی طاقت کا یہکرشمہ تھا کہ پہلے بلاد مشرق کے عام مسلمانوں نے آپ سے آپ اس کو اسلام کا قانون مانلیا اور اپنے معاملات میں بطور خود اس کی پیروی شروع کر دی۔ پھر سلطنت عباسیہ کواسے تسلیم کر کے ملک کا قانون قرار دینا پڑا۔ اس کے بعد وہی قانون اپنی اسی طاقت سےمغرب میں ترکی سلطنت کا اور مشرق میں ہندوستان کی مسلم حکومت کا قانون بنا۔[8]

 

بعدکی بہت سی صدیوں میں یہ قانون اسی مقام پر کھڑا نہیں رہا۔ جہاں امام ابو حنیفہ نےاسے چھوڑا تھا، بلکہ ہر صدی میں اس کے اندر بہت سی ترمیمات بھی ہوئی ہیں اور بہتسے نئے مسائل کے فیصلے بھی اس میں ہوتے رہے ہیں، جیسا کہ کتب ظاہر الروایہ اور بعدکی کتب فتاویٰ کے تقابل سے معلوم ہو سکتا ہے لیکن یہ بعد کا سارا کام بھی حکومت کےایوانوں سے باہر مدرسوں اور دار الافتاؤں میں ہی ہوتا رہا کیونکہ مسلمان بادشاہوںاور ان کے مسلمان امراء و حکام کے علم و تقویٰ پر مسلمان عوام کوئی اعتماد نہ رکھتےتھے، انہیں صرف خدا ترس علماء پر ہی اعتماد تھا اس لیے انہی کے فتوے اس قانون کے جزبنتے رہے اور انہی کے ہاتھوں اس کا ارتقاء ہوتا رہا۔ ایک دو مثالوں کو چھوڑ کر اسپورے زمانے میں کسی بد دماغ سے بد دماغ بادشاہ کو بھی اپنے متعلق یہ غلط فہمی نہیںہوئی کہ میں ایک قانون بناؤں گا اور مسلمان اسے شریعت مان لیں گے۔ اورنگ زیب جیسےپرہیز گار فرمانروا نے بھی وقت کے نامور علماء ہی کو جمع کیا جنہیں مسلمان دینیحیثیت سے بھروسے کے قابل سمجھتے تھے اور ان کے ذریعہ سے اس نے فقہائے حنفیہ ہی کےفتاویٰ کا مجموعہ مرتب کرا کے اس کو قانون قرار دیا۔

 

اس بحث میں تین باتیںبخوبی واضح ہو جاتی ہیں:

 

ایک یہ کہ فقہِ حنفی، جو انگریزوں کی آمد سے صدیوں پہلےسے مشرقی مسلمان مملکتوں کا قانون تھی اور جسے آ کر انگریز بھی اپنے پورے دور میںکم از کم مسلم پرسنل لاء کی حد تک مسلمانوں کا قانون تسلیم کرتے رہے، دراصلمسلمانوں کی عام رضا اور پسند سے قانون قرار پائی تھی۔ اس کو کسی سیاسی طاقت نےنافذ (Enforce)  نہیں کیا تھا بلکہ ان ممالک کے جمہور مسلمین اسی کو اسلامی قانونمان کر اس کی پیروی کرتے تھے اور حکومتوں نے اسے اس لیے قانون مانا کہ ان ملکوں کےعام مسلمان اس کے سوا کسی دوسری چیز کی پیروی قلب و ضمیر کے اطمینان کے ساتھ نہ کرسکتے تھے۔

 

دوسرے یہ کہ مسلمان جس طرح انگریزی دور میں اپنا دین اور اپنی شریعتانگریزوں اور دوسرے غیر مسلموں کے ہاتھ میں دینے کے لیے تیار نہ تھے، اسی طرح وہبنی امیہ کے زمانے سے لے کر آج تک کبھی ایسے مسلمانوں کے ہاتھ میں دینے کے لیے تیارنہیں رہے ہیں جن کے علم دین اور تقویٰ اور احتیاط پر ان کو اطمینان نہ ہو۔

 

تیسرےیہ کہ اب حالات بالکل کیا معنی، بالجز بھی نہیں بدلے ہیں۔ انگریزوں کی جگہ بسمسلمانوں کا کرسی نشین ہو جانا بجائے خود اپنے اندر کوئی جوہری فرق نہیں رکھتا۔خلافت راشدہ کے بعد جو خلا پیدا ہوا تھا، مسلمان حکومتوں کی حد تک وہ اب بھی جوںکا توں باقی ہے، افت راشدہ کے بعد جو خلاءر جسے آ مانوں نے اپنی زندگی کا قانون اپنی مرضی سے بنایا بغیر اس کے کہ کوئی جبر ان کی پشت پر ہوتا (مودودی اور وہ اس وقت تک باقی رہے گا جب تک ہمارا نظام تعلیم ایسے خدا ترسفقیہ پیدا نہ کرنے لگے جن کے علم و تقویٰ پر مسلمان اعتماد کر سکیں اور ہمارا نظامسیاست ایسا نہ بن جائے کہ اس طرح کے معتمد علیہ اصحاب ہی ملک میں قانون سازی کےمنصب پر فائز ہونے لگیں۔ اگر اس ملک میں ہمیں قوم کے ضمیر اور قانون کے درمیان تضاداور تصادم پیدا کرنا نہیں ہے تو جب تک یہ خلا واقعی صحیح طریقے سے بھر نہ جائے، اسے خام مواد سے بھرنے کی کوئی کوشش نہ کرنی چاہیے۔

 

فاضل جج کے بنیادی تصورات

 

اس کے بعد پیراگراف ۸ سے ۱۶ تک فاضل جج نے اسلامی قانون کے متعلق اپنے کچھتصورات بیان فرمائے جو علی الترتیب حسب ذیل ہیں:

 

(۱) اسلام کی رو سے جو قانونایک مسلمان پر اس کی زندگی کے ہر شعبے میں حکمران ہونا چاہیے، خواہ وہ اس کی زندگیکا مذہبی شعبہ ہو یا سیاسی، یا معاشرتی یا معاشی، وہ صرف خدا کا قانون ہے۔

 

(۲) قرآن نے جو حدود مقرر کر دیے ہیں ان کے اندر مسلمانوں کو سوچنے اور عمل کرنے کیپوری آزادی ہے۔

 

(۳)  چونکہ قانون انسانی آزادی پر پابندی عائد کرنے والی طاقت ہےاس لیے خدا نے قانون سازی کے اختیارات پوری طرح اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔ اسلاممیں کسی شخص کو اس طرح کام کرنے کا اختیار نہیں ہے کہ گویا وہ دوسروں سے بالاترہے۔

 

(۴) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین کا طرزِ عمل یہ تھا کہجو کچھ وہ کرتے تھے مسلمانوں کے مشورے سے کرتے تھے۔ اسلام کا عقیدہ عین اپنے مزاجکے اعتبار سے ایک انسان کی دوسرے انسانوں پر برتری کی نفی کرتا ہے، وہ اجتماعی فکراور اجتماعی عمل کی راہ دکھاتا ہے۔

 

(۵) اس دنیا میں چونکہ انسانی حالات اورمسائل بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اس بدلتی ہوئی دنیا کے اندر مستقل، ناقابل تغیر وتبدل احکام و قوانین نہیں چل سکتے۔ خود قرآن بھی اس عام قاعدے سے مستثنٰی نہیں ہے۔اسی وجہ سے قرآن نے مختلف معاملات میں چند وسیع اور عام قاعدے انسانی ہدایت کے لیےدے دیے ہیں۔

 

(۶) قرآن سادہ اور آسان زبان میں ہے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ اسکا پڑھنا اور سمجھنا ایک دو آدمیوں کا مخصوص حق نہیں ہے۔ تمام مسلمان اگر چاہیں تواسے سمجھ سکتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کر سکتے ہیں۔ یہ حق تمام مسلمانوں کو دیاگیا ہے اور کوئی اسے ان سے سلب نہیں کر سکتا، خواہ وہ کیسا ہی عالی مرتبہ اور کیساہی فاضل کیوں نہ ہو۔

 

(۷) قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے میں یہ بات خود متضمن ہے کہآدمی اس کی تعبیر کرے اور اس کی تعبیر کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آدمی اس کووقت کے حالات پر اور دنیا کی بدلتی ہوئی ضروریات پر منطبق کرے۔

 

(۸)  امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور قدیم زمانے کے دوسرے مفسرین نے قرآن کیجو تعبیریں کی تھیں وہ آج کے زمانے میں جوں کی توں نہیں مانی جانی جا سکتیں۔سوسائٹی کے بدلتے ہوئے حالات پر قرآن کے عام اصولوں کو منطبق کرنے کے لیے ان کیدانشمندانہ تعبیر کرنی ہو گی، اور ایسے طریقے سے تعبیر کرنی ہو گی کہ لوگ اپنی تقدیراور اپنے خیالات اور اخلاقی تصورات کی تشکیل اس کے مطابق کر سکیں اور اپنے ملک اورزمانے کے لیے موزوں ترین طریقے پر کام کر سکیں۔ دوسرے انسانوں کی طرح مسلمان بھیعقل اور ذہانت رکھتے ہیں اور یہ طاقت استعمال کرنے ہی کے لیے دی گئی ہے۔ تماممسلمانوں کو قرآن پڑھنا اور اس کی تعبیر کرنا ہو گا۔

 

(۹) قرآن کو سمجھنے اور اسکے مدعا کو پانے کی سخت کوشش ہی کا نام اجتہاد ہے۔ قرآن سب مسلمانوں سے، نہ کہ انکے کسی خاص طبقے سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ اس کا علم حاصل کریں، اسے اچھی طرحسمجھیں اور اس کی تعبیر کریں۔

 

(۱۰) اگر ہر شخص انفرادی طور پر بطور خود قرآن کیتعبیر کرے تو بے شمار مختلف تعبیرات وجود میں آ جائیں گی جن سے سخت بد نظمی کی حالتپیدا ہو جائے گی۔ اسی طرح جن معاملات میں قرآن ساکت ہے، اگر ان کے بارے میں ہر شخصکو ایک قاعدہ بنا لینے اور ایک طرز عمل طے کر لینے کا اختیار ہو تو ایک پراگندہ اورغیر مربوط سوسائٹی پیدا ہو جائے گی۔ اس لیے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ بڑی تعداد کیرائے کو نافذ ہونا چاہیے۔

 

(۱۱) ایک آدمی یا چند آدمی فطرتاً عقل اور قوت میںناقص ہوتے ہیں۔ کوئی شخص خواہ کتنا ہی طاقتور اور ذہین ہو، اس کے کامل ہونے کی توقعنہیں کی جا سکتی۔ لاکھوں کروڑوں آدمی، جو اجتماعی زندگی ایک نظم کے ساتھ بسر کر رہےہیں، اپنی اجتماعی ہیئت میں افراد کی بہ نسبت زیادہ عقل اور طاقت رکھتے ہیں۔ قرآنکی رو سے بھی کتاب اللہ کی تعبیر اور حالات پر اس کے عام اصولوں کا انطباق ایک آدمییا چند آدمیوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا بلکہ یہ کام مسلمانوں کے باہمی مشورے سے ہوناچاہیے۔

 

(۱۲) قانون سے مراد وہ ضابطہ ہوتا ہے جس کے متعلق لوگوں کی اکثریت یہخیال کرتی ہو کہ لوگوں کے معاملات اس کے مطابق چلنے چاہئیں۔ کئی کروڑ باشندوں کےایک ملک میں باشندوں کی اکثریت کو قرآن کی ان آیات کی، جن کے اندر یا زائد تعبیروںکی گنجائش ہو، ایک ایسی تعبیر کرنی چاہیے جو ان کے حالات کے لیے موزوں ترین ہو اوراسی طرح انہیں قرآن کے عام اصولوں کو حالاتِ موجودہ پر منطبق کرنا چاہیے تاکہ فکر وعمل میں یکسانی و وحدت پیدا ہو سکے۔ اسی طرح یہ اکثریت کا کام ہے کہ ان مسائل ومعاملات میں، جن پر قرآن ساکت ہے، کوئی قانون بنائے۔

 

(۱۳) قدیم زمانے میں توشاید یہ درست تھا کہ اجتہاد کو چند فقہاء تک محدود کر دیا جائے کیونکہ لوگوں میںآزادانہ اور عمومیت کے ساتھ علم نہیں پھیلایا جاتا تھا۔ لیکن موجودہ زمانے میں یہفریضہ باشندوں کے نمائندوں کو انجام دینا چاہیے کیونکہ قرآن کا پڑھنا اور سمجھنااور اس کے عام اصولوں کو حالات پر منطبق کرنا ایک یا دو اشخاص کا مخصوص استحقاقنہیں ہے بلکہ تمام مسلمانوں کا فرض اور حق ہے اور یہ کام ان لوگوں کو انجام دیناچاہیے جنہیں عام مسلمانوں نے اس مقصد کے لیے منتخب کیا ہو۔

 

تصوراتِ مذکورہ پر تنقید

 

اوپر کے تیرہ فقروں میں ہم نے اپنی حد تک پوری کوشش کی ہے کہ فاضل جج کے تمام بنیادی نظریات کا ایک صحیح خلاصہ بیان کر دیں۔ ان کی زبان اور سلسلہ وار ترتیب میں بھی ہم نے موصوف کی اپنی زبان اور منطقی ترتیب کو ملحوظ رکھا ہے تاکہ ناظرین کے سامنے ان خیالات کی صحیح صورت آ جائے جن پر آگے وہ اپنے فیصلے کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ ان بنیادی نظریات میں چند باتیں قابل غور اور لائق تنقید ہیں۔

 

اولاً، فاضل جج کی نگاہ میں خدا کے قانون سے مراد صرف وہ قانون ہے جو قرآن میں بیان ہوا ہے۔ سنت جو احکام و ہدایات دیتی ہے، انہیں وہ خدا کے قانون میں شمار نہیں کرتے۔ اوپر کے فقروں میں یہ بات مخفی ہے، لیکن آگے چل کر اپنے فیصلے میں وہ اس کی صراحت کرتے ہیں اور اسی مقام پر ہم اس نقطۂ نظر کی غلطی واضح کریں گے۔

 

ثانیاً، وہ جب کہتے ہیں کہ کسی انسان کو بھی دوسرے انسانوں پر برتری حاصل نہیں ہے اور یہ کہ قرآن کو سمجھنا اور اس کی تعبیر کرنا چند انسانوں کا مخصوص حق نہیں ہے تو اس میں وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی شامل سمجھتے ہیں۔ یہ چیز بھی مذکورہ بالا فقرات میں نمایاں نہیں ہے لیکن آگے چل کر اس کی تصریح انہوں نے خود کر دی ہے، لہٰذا ان کا یہ قاعدۂ کلیہ بھی محتاج تنقید ہے۔

 

ثالثاً، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفائے راشدین کو ایک درجہ میں رکھ کر یہ فرمایا ہے کہ “جو کچھ وہ کرتے تھے مسلمانوں کے مشورے سے کرتے تھے”۔ یہ بات قطعاً خلافِ واقعہ ہے۔ رسول کی حیثیت اپنی نوعیت میں خلفائے راشدین سمیت تمام امراءِ مسلمین کی حیثیت سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ حضورﷺ کو ان کے زمرے میں رکھنا خود اس قرآن کے خلاف ہے جسے فاضل جج نے خدا کا قانون تسلیم کیا ہے۔ پھر ان کا یہ دعویٰ بھی صحیح نہیں ہے کہ خلفائے راشدین کی طرح حضور صلی اللہ علیہ و سلم بھی جو کچھ کرتے تھے مسلمانوں کے مشورے سے کرتے تھے جن امور میں حضورﷺ کو خدا کی طرف سے ہدایت ملتی تھی، ان میں آپﷺ کا کام صرف حکم دینا اور مسلمانوں کا کام صرف اطاعت کرنا تھا۔ ان کے اندر مشورے کا کیا سوال، کسی مسلمان کو بولنے کا حق بھی نہ تھا اور خدا کی ہدایات حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لازماً قرآنی آیات ہی کی شکل میں نہیں آتی تھیں بلکہ وہ وحیِ غیر متلو کی شکل میں بھی آتی تھیں۔

 

رابعاً، فاضل جج نے عام مسلمانوں کے حقِ اجتہاد پر زور دینے کے بعد خود اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ایک منظم معاشرے میں انفرادی اجتہاد نہیں چل سکتا، قانون صرف وہی اجتہاد بنے گا جو اکثریت کے نمائندوں نے کیا ہو۔ سوال یہ ہے کہ اکثریت کا چند آدمیوں کا منتخب کر کے اجتہاد کا اختیار دینا اور اس کا چند آدمیوں پر اعتماد کر کے ان کے اجتہاد کے قبول کر لینا، ان دونوں میں آخر اصولاً فرق کیا ہے؟ اس ملک کی عظیم اکثریت نے اگر فقہائے حنفیہ پر اعتماد کر کے ان کی تعبیرِ قرآن و سنت اور ان کے اجتہاد کو اسلامی قانون مانا ہے تو فاضل جج خود اپنے بیان کردہ اصول کی رو سے اس پر کیا اعتراض کر سکتے ہیں اور کیسے کر سکتے ہیں؟ ان پر تو مسلمانوں کے اعتماد کا یہ حال رہا ہے کہ جب اس قانون کو نافذ کرنے والی کوئی طاقت نہ رہی تھی اور غیر مسلم برسر اقتدار آ چکے تھے، اس وقت بھی مسلمان اپنے گھروں میں اور اپنی شخصی و معاشرتی زندگی کے معاملات میں ان کے بیان کردہ قانون ہی کی پیروی کرتے رہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عام مسلمان کسی جبر کے بغیر خلوصِ دل کے ساتھ اور قلب و ضمیر کے پورے اطمینان کے ساتھ اس کو صحیح قانون سمجھتے ہیں۔ کیا دنیا کی کسی پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قانون کو اس قدر زبردست جمہوری تائید حاصل ہونے کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟ اس کے مقابلے میں کسی ایک شخص کا، خواہ وہ ایک فاضل جج ہی کیوں نہ ہو، استدلال کیا وزن رکھتا ہے کہ ان فقہاء کی تعبیریں آج کے زمانے میں نہیں مانی جا سکتیں؟ جسٹس محمد شفیع صاحب خود فرماتے ہیں کہ قانون وہ ہے جسے اکثریت مانے۔ سو اکثریت اس قانون کو مان رہی ہے۔ آخر کس دلیل سے ان کی انفرادی رائے اسے رد کر سکتی ہے؟

 

خامساً، فاضل جج ایک طرف خود تسلیم کرتے ہیں کہ قانون بنانا اور اس میں رد و بدل کرنا اکثریت کے نمائندوں کا کام ہے، افراد کا کام نہیں ہے، خواہ وہ بجائے خود کیسے ہی طاقتور اور ذہین ہوں۔ لیکن دوسری طرف انہوں نے خود ہی اکثریت کے تسلیم کردہ اصول قانون میں ترمیم بھی کی ہے اور حضانت کے متعلق اکثریت کے مسلمہ قانون کو رد بھی کیا ہے۔ اگر یہ تضاد نہیں ہے تو ہمیں یہ معلوم کر کے بڑی مسرت ہو گی کہ ان دونوں باتوں میں کس طرح تطبیق دی جا سکتی ہے۔

 

اجتہاد کے چند نمونے

 

اس کے بعد پیراگراف ۱۶ تا ۲۰ میں فاضل جج نے خود قرآن مجید کی بعض آیات کی تعبیر کر کے اپنے اجتہاد کے چند نمونے پیش فرمائے ہیں جن سے وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس زمانے میں قوتِ اجتہادیہ کو استعمال کر کے قرآن سے کس طرح احکام نکالے جانے چاہئیں۔

 

تعدادِ ازواج کے مسئلے میں فاضل جج کا اجتہاد

 

اس سلسلے میں وہ سب سے پہلے سورۂ نسا کی تیسری آیت: و ان خفتم الا تقسطو فی الیتمیٰ فانکحوا ما طاب لکم من النسآء مثنٰی و ثلاث و رباع کو لیتے ہیں جس کے متعلق ان کا ارشاد ہے کہ “اسے اکثر غلط استعمال کیا گیا ہے” اس آیت پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے وہ پہلی بات یہ فرماتے ہیں کہ:

 

“قرآن پاک کے کسی حکم کا کوئی جزء بھی فضول یا بے معنی نہ سمجھا جانا چاہیے”۔

 

لیکن اس کے فوراً بعد دوسرا فقرہ یہ ارشاد فرماتے ہیں:

 

“یہ لوگوں کے منتخب نمائندوں کا کام ہے کہ وہ اس بارے میں قانون بنائیں کہ آیا ایک مسلمان ایک سے زیادہ بیویاں کر سکتا ہے اور اگر کر سکتا ہے تو کن حالات میں اور کن شرائط کے ساتھ”۔

 

اس اجتہاد کی پہلی غلطی

 

تعجب ہے کہ فاضل جج کو اپنے ان دونوں فقروں میں تضاد کیوں نہ محسوس ہوا۔ پہلے فقرے میں جو اصولی بات انہوں نے خود بیان فرمائی ہے اس کی رو سے زیرِ بحث آیت کا کوئی لفظ زائد از ضرورت یا بے معنی نہیں ہے۔ اب دیکھیے، آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ اس کے مخاطب افراد مسلمین ہیں۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ “اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیموں کے معاملہ میں تم انصاف نہ کر سکوں گے تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کر لو، دو دو سے، تین تین سے اور چار چار سے، لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی سہی۔۔۔۔۔۔”

 

ظاہر ہے کہ عورتوں کو پسند کرنا، ان سے نکاح کرنا اور اپنی بیویوں سے عدل کرنا یا نہ کرنا افراد کا کام ہے نہ کہ پوری قوم یا سوسائٹی کا۔ لہٰذا باقی تمام فقرے بھی جو بصیغۂ جمع مخاطب ارشاد ہوئے ہیں، ان کا خطاب بھی لامحالہ افراد ہی سے ماننا پڑے گا۔ اس طرح پوری آیت اول سے لے کر آخر تک دراصل افراد کو ان کی انفرادی حیثیت میں مخاطب کر رہی ہے اور یہ بات انہی کی مرضی پر چھوڑ رہی ہے کہ اگر عدل کر سکیں تو چار کی حد تک جتنی عورتوں کو پسند کریں، ان سے نکاح کر لیں اور اگر یہ خطرہ محسوس کریں کہ عدل نہ کر سکیں گے تو ایک ہی پر اکتفا کریں۔ سوال یہ ہے کہ جب تک فانکحوا ما طاب لکم اور فان خفتم الّا تعدلوا کے صیغۂ خطاب کو فضول اور بے معنی نہ سمجھ لیا جائے، اس آیت کے ڈھانچے میں نمائندگانِ قوم کس راستے سے داخل ہو سکتے ہیں؟ آیت کا کون سا لفظ ان کے لیے مداخلت کا دروازہ کھولتا ہے؟ اور مداخلت بھی اس حد تک کہ وہی اس امر کا فیصلہ بھی کریں کہ ایک مسلمان دوسری بیوی کر بھی سکتا ہے یا نہیں، حالانکہ کر سکنے کا مجاز اسے اللہ تعالیٰ نے خود بالفاظ صریح کر دیا ہے، اور پھر “کر سکنے” کا فیصلہ کرنے کے بعد وہی یہ بھی طے کریں کہ “کن حالات میں اور کن شرائط کے مطابق کر سکتا ہے”۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ چیز فرد کے اپنے انفرادی فیصلے پر چھوڑی ہے کہ اگر وہ عدل کی طاقت اپنے اندر پاتا ہو تو ایک سے زائد کرے ورنہ ایک ہی پر اکتفا کرے۔

 

دوسری غلطی

 

دوسری بات وہ یہ فرماتے ہیں کہ “از راہِ قیاس ایسی شادی کو (یعنی ایک سے زائد بیویوں کے ساتھ شادی کو) یتیموں کے فائدے کے لیے ہونا چاہیے” وہی عام غلطی ہے جو اس آیت کا مطلب لینے میں جدید زمانے کے بعض لوگ کر رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ آیت میں چونکہ یتامٰی کے ساتھ انصاف کا ذکر آ گیا ہے، اس لیے لا محالہ ایک سے زائد بیویاں کرنے کے معاملہ میں کسی نہ کسی طرح یتامٰی کا معاملہ بطور ایک لازمی شرط کے شامل ہونا چاہیے حالانکہ اگر اس بات کو ایک قاعدۂ کلیہ بنا لیا جائے کہ قرآن میں کسی خاص موقع پر جو حکم دیا گیا ہو اور اس موقع کا ذکر بھی ساتھ ساتھ کر دیا گیا ہو، وہ حکم صرف اسی موقع کے لیے خاص ہو گا، تو اس سی بڑی قباحتیں لازم آئیں گی۔ مثلاً عرب کے لوگ اپنی لونڈیوں کو پیشہ کمانے پر زبردستی مجبور کرتے تھے۔ قرآن میں اس کی ممانعت ان الفاظ میں فرمائی کہ: لا تکرھوافتیٰتکم علی البغآء ان اردن تحصناً[9] (النور: ۳۳) “اپنی لونڈیوں کو بد کاری پر مجبور نہ کرو اگر وہ بچی رہنا چاہتی ہوں”۔ کیا یہاں از قیاس یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ حکم صرف لونڈیوں سے متعلق ہے، اور یہ کہ لونڈی اگر خود بدکار رہنا چاہتی ہو تو اس سے پیشہ کرایا جا سکتا ہے؟

 

دراصل اس طرح کی قیود کا واقعاتی پس منظر جب تک نگاہ میں نہ ہو، آدمی قرآن مجید کی ایسی آیات کو، جن میں کوئی حکم بیان کرتے ہوئے خاص حالت کا ذکر کیا گیا ہے، ٹھیک نہیں سمجھ سکتا۔ آیت و ان خفتم الا تقسطو فی الیتٰمٰی کا واقعاتی پس منظر یہ ہے کہ عرب میں اور قدیم زمانے کی پوری سوسائٹی میں، صد ہا برس سے تعداد ازواج مطلقاً مباح تھا۔ اس کے لیے کوئی نئی اجازت دینے کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہ تھی، کیونکہ قرآن کا کسی رواج عام سے منع کرنا خود ہی اس رواج کی اجازت کا ہم معنی تھا۔ اس لیے فی الحقیقت یہ آیت تعدد ازواج کی اجازت دینے کے لیے نازل نہیں ہوئی تھی بلکہ جنگ احد کے بعد جو بہت سی عورتیں کئی کئی بچوں کےساتھ بیوہ رہ گئی تھیں، ان کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے نازل ہوئی تھی۔ اس میں مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی تھی کہ اگر شہدائے احد کے یتیم بچوں کے ساتھ تم یوں انصاف نہیں کر سکتے تو تمہارے لیے ایک سے زائد بیویاں کرنے کا دروازہ پہلے ہی کھلا ہوا ہے، ان کی بیوہ عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں ان کے ساتھ نکاح کر لو تاکہ ان کے بچے تمہارے اپنے بچے بن جائیں اور تمہیں ان کے مفاد سے ذاتی دلچسپی پیدا ہو جائے۔ اس سے یہ نتیجہ کسی منطق کی رو سے بھی نہیں نکالا جا سکتا کہ تعدد ازواج صرف اسی حالت میں جائز ہے جبکہ یتیم بچوں کی پرورش کا مسئلہ درپیش ہو۔ اس آیت نے اگر کوئی نیا قانون بنایا ہے تو وہ تعدد ازواج کی اجازت دینا نہیں ہے، کیونکہ اس کی اجازت تو پہلے ہی تھی اور معاشرے میں ہزاروں برس سے اس کا رواج موجود تھا، بلکہ دراصل اس میں جو نیا قانون دیا گیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ بیویوں کی تعداد پر چار کی قید لگا دی گئی جو پہلے نہ تھی۔

 

تیسری غلطی

 

تیسری بات فاضل جج یہ فرماتے ہیں کہ “اگر ایک مسلمان یہ کہہ سکتا ہے کہ میں ایک سے زیادہ بیویاں نہیں کروں گا کیونکہ اس کی استطاعت نہیں رکھتا، تو ۸کروڑ مسلمانوں کی اکثریت بھی ساری قوم کے لیے یہ قانون بنا سکتی ہے کہ قوم کی معاشی، تمدنی اور سیاسی حالت اس کی اجازت نہیں دیتی کہ اس کا کوئی فرد ایک سے زیادہ بیویاں کرے”۔ اس عجیب طرز استدلال کے متعلق ہم عرض کریں گے کہ ایک مسلمان جب یہ کہتا ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں نہ کرے گا تو وہ اس آزادی کو استعمال کرتا ہے جو اس کی خانگی زندگی کے بارے میں خدا نے اسے دی ہے۔ وہ اس آزادی کو شادی نہ کرنے کے بارے میں بھی استعمال کر سکتا ہے، ایک ہی بیوی پر اکتفا کرنے میں استعمال کر سکتا ہے اور کسی وقت اس کی رائے بدل جائے تو ایک سے زائد بیویاں کرنے کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے لیکن جب قوم تمام افراد کے بارے میں کوئی مستقل قانون بنا دے گی تو فرد سے اس کی وہ آزادی سلب کر لے گی جو خدا نے اسے دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسی قیاس پر کیا قوم کسی وقت یہ فیصلہ کرنے کی بھی مجاز ہے کہ اس کے آدھے افراد شادی کریں اور آدھے نہ کریں؟ جس کی بیوی یا شوہر مر جائے وہ نکاحِ ثانی نہ کرے؟ ہر آزادی جو افراد کو دی گئی ہے اسے بنائے استدلال بنا کر قوم کو یہ آزادی دینا کہ وہ افراد سے ان کی آزادی سلب کرے، ایک منطقی مغالطہ تو ہو سکتا ہے، مگر ہمیں یہ نہیں معلوم کہ قانون میں یہ طرز استدلال کب سے مقبول ہوا ہے۔

 

تاہم تھوڑی دیر کے لیے ہم یہ مان لیتے ہیں کہ آٹھ کروڑ مسلمانوں کی اکثریت مثلاً ان میں سے ۴ کروڑ ایک ہزار مل کر ایسا کوئی فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آٹھ کروڑ مسلمانوں میں سے صرف چند ہزار مل کر اپنی ذاتی رائے سے اس طرح کا کوئی قانون تجویز کریں اور اکثریت کی رائے کے خلاف اسے مسلط کر دیں تو فاضل جج کے بیان کردہ اصول کی رو سے اس کا کیا جواز ہو گا؟ آٹھ کروڑ مسلمانوں کی آبادی میں سے ایک لاکھ بلکہ پچاس ہزار کا بھی نقطۂ نظر یہ نہیں ہے کہ قوم کی معاشی، تمدنی اور سیاسی حالت اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک مسلمان کے لیے ایک سے زائد بیویاں رکھنا تو قانوناً ممنوع ہو، البتہ اس کا “گرل فرینڈس” سے آزادانہ تعلق، یا طوائفوں سے ربط و ضبط، یا مستقل داشتہ رکھنا از روئے قانون جائز رہے۔ خود وہ عورتیں بھی، جن کے لیے سوکن کا تصور ہی تکلیف دہ ہے، کم ہی ایسی ہوں گی جن کے نزدیک ایک عورت سے ان کے شوہر کا نکاح ہو جائے تو ان کی زندگی ستی سے بدتر ہو جائے گی، لیکن اسی عورت سے ان کے شوہر کا نا جائز تعلق رہے تو ان کی زندگی جنت کا نمونہ بنی رہے گی۔

 

چوتھی غلطی

 

پھر فاضل جج فرماتے ہیں:

“اس آیت کو قرآن کی دوسری دو آیتوں کے ساتھ ملا کر پڑھنا چاہیے۔ ان میں سے پہلی آیت سورۂ نور نمبر ۳۳ ہے جس میں طے کیا گیا ہے کہ جو لوگ شادی کرنے کے ذرائع نہ رکھتے ہوں، ان کو شادی نہ کرنی چاہیے۔ اگر ذرائع کی کمی کے باعث ایک شخص کو ایک بیوی کرنے سے روکا جا سکتا ہے تو انہی وجوہ یا ایسے ہی وجوہ کی بنا پر اسے ایک سے زیادہ بیویاں کرنے سے روک دیا جانا چاہیے۔”

 

یہاں پھر موصوف نے خود اپنے بیان کردہ اصول کو توڑ دیا ہے۔ آیت کے اصل الفاظ یہ ہیں:

ولیستعفف الذین لا یجدون نکاحاً حتٰی یغنیھم اللہ من فضلہ

“اور عفت مآبی سے کام لیں وہ لوگ جو نکاح کا موقع نہیں پاتے یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے”۔

 

ان الفاظ میں یہ مفہوم کہاں سے نکلتا ہے کہ ایسے لوگوں کو نکاح نہ کرنا چاہیے؟ اگر قرآن کی کسی آیت کے الفاظ کو “فضول و بے معنی” سمجھنا درست نہیں ہے تو نکاح سے منع کر دینے کا تصور اس آیت میں کسی طرح داخل نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں تو صرف یہ کہا گیا ہے کہ جب تک اللہ نکاح کے ذرائع فراہم نہ کر دے اس وقت تک مجرد لوگ عفت مآب بن کر رہیں۔ بد کاریاں کر کے نفس کی تسکین نہ کرتے پھریں۔ تاہم اگر کسی نہ کسی طرح نکاح سے منع کر دینے کا مفہوم ان الفاظ میں داخل کر بھی دیا جائے، پھر بھی اس کا روئے سخن فرد کی طرف ہے، نہ کہ قوم یا ریاست کی طرف۔ یہ بات فرد کی اپنی صوابدید پر چھوڑ دی گئی ہے کہ کب وہ اپنے آپ کو شادی کر لینے کے قابل پاتا ہے اور کب نہیں پاتا اور اسی کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ (اگر فی الواقع ایسی کوئی ہدایت کی بھی گئی ہے) کہ جب تک وہ نکاح کے ذرائع نہ پائے، نکاح نہ کرے۔ اس میں ریاست کو یہ حق کہاں دیا گیا ہے کہ وہ فرد کے اس ذاتی معاملہ میں دخل دے اور یہ قانون بنا دے کہ کوئی شخص اس وقت تک نکاح نہ کرنے پائے جب تک وہ ایک عدالت کے سامنے اپنے آپ کو ایک بیوی اور گنتی کے چند بچوں (جن کی تعداد مقرر کر دینے کا حق بھی فاضل جج کی رائے میں یہی آیت ریاست کو عطا کرتی ہے) پرورش کے قابل ثابت نہ کر دے؟ آیت کے الفاظ اگر “فضول اور بے معنی” نہیں ہیں تو اس معاملے میں ریاست کی قانون سازی کا جواز ہمیں بتایا جائے کہ اس کے کس لفظ سے نکلتا ہے؟ اور اگر نہیں نکلتا تو اس آیت کی بنیاد پر مزید پیش قدمی کر کے ایک سے زائد بیویوں اور مقررہ تعداد سے زائد بچوں کے معاملہ میں ریاست کو قانون بنانے کا حق کیسے دیا جا سکتاہے؟

 

پانچویں غلطی

 

دوسری آیت جسے سورۂ نساء کی آیت نمبر ۳ کے ساتھ ملا کر پڑھنے اور اس سے ایک حکم نکالنے کی فاضل جج نے کوشش فرمائی ہے وہ سورۂ نساء کی آیت ۱۲۹ ہے۔ اس کا صرف حوالہ دینے پر انہوں نے اکتفاء نہیں فرمایا ہے، بلکہ اس کے الفاظ انہوں نے خود نقل کر دیے ہیں، اور وہ یہ ہیں:

 

ولا تستطیعوا ان تعدلو بین النسآء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقہ و ان تصلحو۱ و تتقوا فان اللہ کان غفوراً رحیماً

 

“اور تم ہر گز یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ عدل کرو عورتوں (یعنی بیویوں) کے درمیان، خواہ تم اس کے کیسے ہی خواہش مند ہو لہٰذا (ایک بیوی کی طرف) بالکل نہ جھک پڑو کہ (دوسری کو) معلق چھوڑ دو اور اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ یقیناً درگزر کرنے والا اور رحیم ہے”۔

 

ان الفاظ کی بنیاد پر فاضل جج پہلے تو یہ فرماتے ہیں کہ “اللہ تعالیٰ نے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ بیویوں کے درمیان عدل کرنا انسان ہستیوں کے بس میں نہیں ہے” پھر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ “یہ ریاست کا کام ہے کہ وہ ان دونوں آیتوں میں تطبیق دینے کے لیے ایک قانون بنائے، اور ایک سے زیادہ بیویاں کرنے پر پابندیاں عائد کرے۔ وہ کہہ سکتی ہے کہ دو بیویاں کرنے کی صورت میں چونکہ سالہا سال کے تجربات سے یہ بات ظاہر ہو چکی ہے اور قرآن میں بھی یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ دونوں بیویوں کے ساتھ یکساں برتاؤ نہیں ہو سکتا، لہٰذا یہ طریقہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا جاتا ہے”۔

 

ہمیں سخت حیرت ہے کہ اس آیت میں سے اتنا بڑا مضمون کس طرح اور کہاں سے نکل آیا۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ تو ضرور فرمایا ہے کہ انسان دو یا زائد بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل اگر کرنا چاہے بھی تو نہیں کر سکتا، مگر کیا اس بنیاد پر اس نے تعدد ازواج کی وہ اجازت واپس لے لی جو عدل کی شرط کے ساتھ اس نے خود ہی سورۂ نساء کی آیت نمبر ۳ میں دی تھی؟ آیت کے الفاظ بتا رہے تھے کہ اس فطری حقیقت کو صریح لفظوں میں بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دو یا زائد بیویوں کے شوہر سے صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایک بیوی کی طرف اس طرح ہمہ تن نہ مائل ہو جائے کہ دوسری بیوی یا بیویوں کو معلق چھوڑ دے۔ بالفاظ دیگر پورا پورا عدل نہ کر سکنے کا حاصل قرآن کی رو سے یہ نہیں ہے کہ تعدد ازواج کی اجازت ہی سرے سے منسوخ ہو جائے بلکہ اس کے برعکس اس کا حاصل صرف یہ ہے کہ شوہر ازدواجی تعلق کے لیے ایک بیوی کو مخصوص کر لینے سے پرہیز کرے اور ربط و تعلق سب بیویوں سے رکھے خواہ اس کا دلی میلان ایک ہی کیطرف ہو۔ یہ حکم ریاست کو مداخلت کا موقع صرف اس صورت میں دیتا ہے جبکہ ایک شوہر نے اپنی دوسری بیوی یا بیویوں کو معلق کر کے رکھ دیا ہو۔ اسی صورت میں وہ بے انصافی واقع ہو گی جس کے ساتھ تعدد ازواج کی اجازت سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا لیکن منطق کی رو سے بھی اس آیت کے الفاظ اور اس کی ترکیب اور فحویٰ سے یہ گنجائش نہیں نکالی جا سکتی کہ معلق نہ رکھنے کی صورت میں ایک ہی شخص کے لیے تعدد ازواج کو از روئے قانون ممنوع ٹھہرایا جا سکے، کجا کہ اس میں سے اتنا بڑا مضمون نکال لیا جائے کہ ریاست تمام لوگوں کے لیے ایک سے زائد بیویاں رکھنے کو مستقل طور پر ممنوع ٹھہرا دے۔ قرآن کی جتنی آیتوں کو بھی آدمی چاہے، ملا کر پڑھے، لیکن قرآن کے الفاظ میں قرآن ہی کا مفہوم پڑھنا چاہیے، کوئی دوسرا مفہوم کہیں سے لا کر قرآن پڑھنا اور پھر یہ کہنا کہ یہ مفہوم قرآن سے نکل رہا ہے، کسی طرح بھی درست طریقِ مطالعہ نہیں ہے کجا کہ اسے درست طریق اجتہاد مان لیا جائے۔

 

آگے بڑھنے سے پہلے ہم فاضل جج کو اور ان کا سا طرزِ فکر رکھنے والے دوسرے حضرات کو بھی، ایک سوال پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی جن آیات پر وہ کلام فرما رہے ہیں، ان کو نازل ہوئے ۱۳۷۸ سال گزر چکے ہیں۔ اس پوری مدت میں مسلم معاشرہ دنیا کے ایک بڑے حصے میں مسلسل موجود رہا ہے۔ آج کسی ایسی معاشی یا تمدنی یا سیاسی حالت کی نشاندہی نہیں کی جا سکتی جو پہلے کسی دور میں بھی مسلم معاشرے کو پیش نہ آئی ہو لیکن آخر کیا وجہ ہے کہ پچھلی صدی کے نصف آخر سے پہلے پورے دنیائے اسلام میں کبھی یہ تخیل پیدا نہ ہوا کہ تعدد ازواج کو روکنے یا اس پر سخت پابندیاں لگانے کی ضرورت ہے؟ کیا اس کی کوئی معقول توجیہ اس کے سوا کی جا سکتی ہے کہ اب ہمارے ہاں یہ تخیل ان مغربی قوموں کے غلبہ کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جو ایک سے زائد بیوی رکھنے کو ایک قبیح و شنیع فعل، خارج از نکاح تعلقات کو (بشرط تراضی طرفین) حلال و طیب، یا کم از کم قابل در گزر سمجھتی ہیں؟ جن کے ہاں داشتہ رکھنے کا طریقہ قریب قریب مسلم ہو چکا ہے مگر اسی داشتہ سے نکاح کر لینا حرام ہے؟ اگر صداقت کے ساتھ فی الواقع اس کے سوا اس تخیل کے پیدا ہونے کی کوئی توجیہ نہیں کی جا سکتی تو ہم پوچھتے ہیں کہ اس طرح خارجی اثرات سے متاثر ہو کر قرآن آیات کی تعبیریں کرنا کیا کوئی صحیح طریق اجتہاد ہے؟ اور کیا عام مسلمانوں کے ضمیر کو ایسے اجتہاد پر مطمئن کیا جا سکتا ہے؟

 

دوسرا اجتہاد، حدِ سرقہ کے بارے میں

 

اس کے بعد فاضل جج نے سورۂ مائدہ کی آیت ۳۹-۳۸ کو لیا ہے اور اس میں بطور نمونہ یہ اجتہاد کر کے بتایا ہے کہ اس مقام پر قرآن نے چوری کی انتہائی سزا قطع ید بتائی ہے۔ حالانکہ قرآن اس جرم کی انتہائی سزا (Maximum Punishment)  نہیں بلکہ ایک ہی سزا (Only Punishment) قطع ید قرار دے رہا ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں:

 

والسارق و السارقۃ فاقطعوا ایدیھما جزآء بما کسبا نکالا من اللہ

 

“اور چور مرد اور چور عورت، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ان کے کیے کرتوت کے بدلے میں عبرت ناک سزا کے طور پر اللہ کی طرف سے۔”

 

اگر قرآن فضول اور بے معنی الفاظ استعمال نہیں کرتا ہے تو اس جملے میں ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ چور مرد اور چور عورت کے لیے بالفاظ صریح ایک ہی سزا بیان کی گئی ہے اور وہ ہاتھ کاٹ دینا ہے۔ اس میں “انتہائی سزا” کا تصور کس راستے سے داخل ہو سکتا ہے؟

 

تیسرا اجتہاد، حضانت کے مسئلے میں

 

آخری نمونۂ اجتہاد فاضل جج نے ایسے بچوں کی حضانت کے مسئلے میں کر کے بتایا ہے جن کی مائیں اپنے شوہروں سے جدا ہو چکی ہیں۔ اس معاملہ میں وہ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۳۳ اور سورۂ طلاق کی آیت ۶ نقل کر کے حسب ذیل دو باتیں ارشاد فرماتے ہیں اور دونوں قرآنی الفاظ کے حدود سے صریحاً خارج ہیں:

 

پہلی بات وہ یہ فرماتے ہیں کہ “ان آیات کی رو سے ماؤں کو پورے دو سال اپنے بچوں کو دودھ پلانا ہو گا”۔ حالانکہ جو آیات انہوں نے نقل کی ہیں ان کی رو سے پورے دو سال تو درکنار، بجائے خود دودھ پلانا بھی لازم نہیں کیا گیا ہے۔ سورۂ بقرہ کی آیت میں فرمایا گیا ہے: والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین لمن اراد ان یتم الرضاعۃ “اور مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں پورے دو سال اس شخص کے لیے جو رضاعت پوری کرانا چاہتا ہو”۔ اور سورۂ طلاق والی آیت میں فرمایا گیا ہے فان ارضعن لکم فاتوھن اجورھن “پھر اگر وہ تمہارے لیے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کی اجرت انہیں دو”۔

 

دوسری بات وہ یہ فرماتے ہیں کہ “قرآن میں ایسی کوئی ہدایت نہیں ہے کہ ایک عورت اگر طلاق پا کر دوسری شادی کر لے تو پہلا شوہر اس سے اپنا بچہ لے سکتا ہے”۔ اگر محض اس بنا پر کہ اس نے دوسری شادی کر لی ہے وہ بچہ سے محروم ہو سکتی ہے تو میں کوئی وجہ نہیں سمجھتا کہ ایک مرد دوسری شادی کر لینے کی صورت میں کیوں نہ اپنے بچے سے محروم ہو”۔ یہ بات ارشاد فرماتے وقت فاضل جج کو غالباً یہ خیال نہ رہا کہ چند سطر اوپر جو آیات انہوں نے خود نقل کی ہیں، ان میں بچے کو باپ کا قرار دیا گیا ہے اور اول سے آخر تک ان میں سارے احکام اسی بنیاد پر دیے گئے ہیں کہ بچہ باپ کا ہے۔ علی المولود لہ رزقھن و کسوتھن “جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ دودھ پلانے والی (ماں) کے کھانے کپڑے کا خرچ ہے”۔ و ان اردتم ان تسترضعوا اولادکم فلا جناح علیکم “اور اگر تم (کسی دوسری عورت سے) اپنے بچے کو دودھ پلوانا چاہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے”۔ فان ارضعن لکم فاتوھن اجورھن “پھر اگر وہ تمہارے لیے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کی اجرت ان کو دو”۔ ہائی کورٹ کے ایک فاضل جج سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی کہ قرآن کے یہ الفاظ بچے کے معاملے میں باپ اور ماں کی پوزیشن کے درمیان کیا فرق ظاہر کر رہے ہیں۔

 

بنیادی غلطی

 

ان تینوں مسائل میں فاضل جج نے اس انداز میں بحث کی ہے کہ گویا قرآن خلا میں سفر کرتا ہوا سیدھا ہمارے پاس پہنچ گیا ہے۔ مسلم معاشرے کا کوئی ماضی نہیں ہے جس میں اس کتاب کے احکام کو سمجھنے سمجھانے اور اس پر عمل کرنے کا کوئی کام کبھی ہوا ہو اور جس سے ہمیں کسی قسم کے نظائر کہیں ملتے ہوں۔ کوئی نبی نہ تھا جس پر یہ قرآن اترا ہو اور اس نے اس کے کسی حکم کا مطلب بیان کیا ہو یا اس پر عمل کر کے بتایا ہو۔ کوئی خلفاء، کوئی صحابہ، کوئی تابعین، کوئی فقہاء، کوئی قاضی اور حکام عدالت اس امت میں نہیں گزرے ہیں۔ ہمیشہ پہلی مرتبہ ان مسائل سے سابقہ پیش آ گیا ہے کہ یہ قرآن جو تعددِ ازواج کی اجازت دیتا ہے، یا چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر کرتا ہے یا بچوں کی حضانت کے متعلق کچھ ہدایات دیتا ہے، ان پر ہم کیا قواعد و ضوابط بنائیں۔ اس طرح کے تمام معاملات میں تیرہ چودہ سو برس کا اسلامی معاشرہ ہمارے لیے گویا معدومِ محض ہے، سب کچھ ہمیں قرآن ہاتھ میں لے کر نئے سرے سے کرنا ہے اور وہ بھی اس طرح جس کے چند نمونے اوپر ہمارے سامنے آتے ہیں۔

 

سنت کے متعلق فاضل جج کا نقطۂ نظر

 

یہ انداز بحث محض اتفاقی نہیں ہے بلکہ پیراگراف ۲۱ سے جو بحث شروع ہوتی ہے اس کو پڑھ کر معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ فاضل جج کی سوچی سمجھی رائے کا نتیجہ ہے۔ یہ چونکہ ان کے فیصلے کا اہم ترین حصہ ہے اس لیے ہم اس کے ایک ایک نکتے کو نمبر وار نقل کر کے ساتھ ساتھ اس پر تنقید کرتے چلے جائیں گے تاکہ ہر نکتے کی بحث صاف ہوتی چلی جائے۔

 

سنت کے بارے میں امت کا رویہ

 

وہ فرماتے ہیں کہ:

“قرآن کے علاوہ حدیث یا سنت کو بھی مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے اسلامی قانون کا اتنا ہی اہم مآخذ سمجھ لیا ہے” (پیراگراف ۲۱)

 

کوئی شخص جس نے اسلامی قانون اور اس کی تاریخ کا کچھ بھی حصہ مطالعہ کیا ہو یہ ہرگز تسلیم نہیں کر سکتا کہ اس فقرے میں صحیح صورت واقعہ بیان کی گئی ہے۔ صحیح صورت واقعہ یہ ہے کہ عہد رسالت سے لے کر آج تک پوری امت، تمام دنیائے اسلام میں سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو قرآن کے بعد قانون کا بنیادی مآخذ اور حدیث کو سنت کے معلوم کرنے کا ذریعہ مانتی چلی آ رہی ہے اور آج بھی مان رہی ہے۔ جیسا کہ ہم اس کتاب کے مقدمہ میں بیان کر چکے ہیں، تاریخ اسلام میں پہلی مرتبہ ایک مختصر سا گروہ دوسری صدی ہجری میں ظاہر ہوا تھا۔ جس نے اس کا انکار کیا تھا اور اس کی تعداد مسلمانوں میں بڑے مبالغہ کے ساتھ بیان کی جائے تو دس ہزار میں ایک سے زیادہ نہ تھی۔ تیسری صدی کے آخر تک پہنچتے پہنچتے یہ گروہ ناپید ہو گیا، کیونکہ سنت کے مآخذ قانون ہونے کے حق میں ایسے مضبوط علمی دلائل و شواہد موجود تھے کہ اس گمراہانہ خیال کا زیادہ دیر تک ٹھہرنا ممکن نہ تھا۔ پھر ۹ صدیوں تک دنیائے اسلام اس طرح کے کسی گروہ کے وجود سے بالکل خالی رہی، حتیٰ کہ اسلامی تاریخ میں کسی ایک شخص کا ذکر بھی نہیں ملتا جس نے یہ خیال ظاہر کیا ہو۔ اب اس طرز خیال کے لوگ از سرِ نو پچھلی صدی سے ظاہر ہونے شروع ہوئے ہیں لیکن اگر دیکھا جائے کہ ایسے افراد کے پیرو دنیائے اسلام میں کتنے ہیں، تو ان کا اوسط ایک لاکھ میں ایک سے زیادہ نہ نکلے گا۔ کیا اس امرِ واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کرنا کہ “مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے سنت کو مآخذ قانون سمجھ لیا ہے” حقیقت کی صحیح ترجمانی ہے؟ اس کے بجائے یہ کہنا صحیح تر ہو گا کہ “مسلمانوں کی ایک بالکل ناقابل لحاظ تعداد سنت کے مآخذ ہونے سے انکار کرنے لگی ہے”۔

 

فاضل جج کے نزدیک دین میں نبی کی حیثیت

 

اس کے بعد فاضل جج نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ دین میں نبی کی حیثیت کیا ہے۔ اس سوال پر بحث کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں:

 

“اسلامی قانون کا مآخذ ہونے کی حیثیت سے حدیث کی قدر و قیمت کیا ہے، اس کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ہمیں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ اسلامیدنیا میں رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کا مرتبہ و مقام کیا ہے۔ میں اس فیصلے کے ابتدائی حصے میں یہ بتا چکا ہوں کہ اسلام ایک خدائی دین ہے۔ یہ اپنی سند خدا سے اور صرف خدا ہی سے لیتا ہے۔ اگر یہ اسلام کا صحیح تصور ہے تو اس سے لازماً یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ محمد رسول اللہ کے اقوال و افعال اور کردار کو خدا کی طرف سے آئی ہوئی وحی کی سی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ زیادہ سے زیادہ ان سے یہ معلوم کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے کہ مخصوص حالات میں قرآن کی تعبیر کس طرح کی گئی تھی یا ایک خاص معاملہ میں قرآن کے عام اصولوں کو واقعات پر کس طرح منطبق کیا گیا تھا۔ کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللہ ایک کامل انسان تھے۔ نہ کوئی شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ جس عزت اور تکریم کے مستحق ہیں یا جس عزت و تکریم کا ہم ان کے لیے اظہار کرنا چاہتے ہیں، اس کے اظہار کی قوت و قابلیت وہ رکھتا ہے۔ لیکن با ایں ہمہ وہ خدا نہ تھے، نہ خدا سمجھے جا سکتے ہیں۔ دوسرے تمام رسولوں کی طرح وہ بھی انسان ہی ہیں”۔ (پیراگراف ۲۱)

 

“وہ ہماری طرح فانی تھے۔۔ وہ ایک نذیر تھے مگر یقیناً خدا نہ تھے۔۔۔۔۔ ان کو بھی اسی طرح خدا کے احکام کی پیروی کرنی پڑتی تھی جس طرح ہمیں، بلکہ شاید قرآن کی رو سے ان کی ذمہ داریاں اور مسئولیتیں ہماری بہ نسبت بہت زیادہ تھیں۔ وہ مسلمانوں کو اس سے زیادہ کوئی چیز نہ دے سکتے تھے جو خدا کی طرف سے بذریعۂ وحی ان کو دی گئی تھی”۔ (پیراگراف ۲۱)

 

ان باتوں کے حق میں قرآن مجید کی چند آیات کے استدلال کرنے کے بعد وہ پھر فرماتے ہیں:

 

“محمد رسول اللہ اگرچہ بڑے عالی مرتبت انسان تھے، مگر ان کو خدا کے بعد دوسرا درجہ ہی دیا جا سکتا ہے۔ انسان ہونے کی حیثیت سے، ماسوا اس وحی کے جو ان کے پاس خدا کی طرف سے آئی تھی، وہ خود اپنے بھی کچھ خیالات رکھتے تھے اور اپنے ان خیالات کے زیر اثر وہ کام کرتے تھے، یہ صحیح ہے کہ محمد رسول اللہ نے کوئی گناہ نہیں کیا مگر وہ غلطیاں تو کر سکتے تھے اور یہ حقیقت خود قرآن میں تسلیم کی گئی ہے لیغفر لک اللہ ما تقدم من ذنبک و ما تاخر۔۔۔۔۔۔ ”

 

“ایک سے زیادہ مقامات پر قرآن میں یہ بیان ہوا ہے کہ محمد رسول اللہ دنیا کے لیے ایک بہت اچھا نمونہ ہیں، مگر اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایک آدمی کو ویسا ہی ایماندار، ویسا ہی راست باز، ویسا ہی سرگرم اور ویسا ہی دیندار اور متقی ہونا چاہیے جیسے وہ تھے، نہ یہ کہ ہم بھی بعینہ اسی طرح سوچیں اور عمل کریں، جس طرح وہ سوچتے اور عمل کرتے تھے، کیونکہ یہ تو غیر فطری بات ہو گی اور ایسا کرنا انسان کے بس میں نہیں ہے اور اگر ہم ایسا کرنے کی کوشش کریں تو زندگی بالکل ہی مشکل ہو جائے گی”۔ (پیراگراف ۲۲)

 

یہ بھی صحیح ہے کہ قرآن پاک اس کی تاکید کرتا ہے کہ محمد رسول اللہ کی اطاعت کی جائے مگر اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جہاں انہوں نے ہم کو ایک خاص کام ایک خاص طرح کرنے کا حکم دیا ہے، ہم وہ کام اسی طرح کریں۔ اطاعت تو ایک حکم ہی کی ہو سکتی ہے، جہاں کوئی حکم نہ ہو وہاں نہ اطاعت ہو سکتی ہے، نہ عدم اطاعت۔ قرآن کے ان ارشادات سے یہ مطلب اخذ کرنا بہت مشکل ہے کہ ہم ٹھیک وہی کچھ کریں جو رسول نے کیا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ ایک فرد واحد کے زمانۂ حیات کا تجربہ واقعات کی ایک محدود تعداد سے زیادہ کے لیے نظائر فراہم نہیں کر سکتا، اگرچہ وہ فرد واحد نبی ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ بات پورے زور کے ساتھ کہی جانی چاہیے کہ اسلام نے نبی کو کبھی خدا نہیں سمجھا ہے یہ بالکل واضح بات ہے کہ قرآن اور حدیث میں جوہری اور حقیقی فرق ہے”۔ (پیراگراف: ۲۳)

 

نبی کی اصل حیثیت از روئے قرآن

 

ہم بڑے ادب کے ساتھ عرض کریں گے کہ در حقیقت ان تمام عبارتوں میں خلط مبحث زیادہ اور اصل مسئلۂ زیر بحث سے تعرض بہت کم ہے۔ اصل مسئلہ جس کی تحقیق اس مقام پر مطلب تھی وہ یہ نہیں تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم معاذ اللہ خدا ہیں یا نہیں اور وہ انسان ہیں یا کچھ اور دین کے احکام میں سند مرجع خدا کا حکم ہے یا کسی اور کا بلکہ تحقیق جس چیز کی کرنی چاہیے تھی وہ یہ تھی کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ نے کس کام کے لیے مقرر کیا ہے، دین میں ان کی حیثیت اور اختیارات کیا ہیں اور خدا کے احکام آیا صرف وہی ہیں جو قرآن کی آیات میں بیان ہوئے ہیں یا وہ بھی ہیں جو رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کے علاوہ ہم کو دیے۔ ان سوالات کی تحقیق ان آیات سے نہیں ہو سکتی تھی جنہیں فاضل جج نے نقل کیا ہے، کیونکہ ان میں سرے سے ان سوالات کا جواب دیا ہی نہیں گیا ہے۔ ان کا جواب تو حسب ذیل آیات سے ملتا ہے جن کی طرف فاضل جج نے سرے سے توجہ ہی نہیں کی۔

 

۱۔ لقد من اللہ علی المومنین اذ بعث فیھم رسولاً من انفسھم یتلوا علیکھم اٰیاتہ ویزکیھم و یعلمھم الکتاب و الحکمۃ (آل عمران: ۱۶۴)

اللہ نے احسان کیا مومنوں پر جبکہ بھیجا ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک رسول جو تلاوت کرتا ہے ان پر اس کی آیات، اور تزکیہ کرتا ہے ان کا، اور تعلیم دیتا ہے ان کو کتاب کی اور دانائی کی۔

 

۲۔ و انزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نُزّل الیھم (النمل: ۴۴)

اور ہم نے یہ ذکر (یعنی قرآن) نازل کیا ہے تیری طرف تاکہ تو تشریح کر دے لوگوں کے لیے اس (کتاب) کی جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے۔

 

۳۔ یامرھم بالمعروف و ینھٰھم عن المنکر و یحل لھم الطیبت و یحرم علیھم الخبٰئث (الاعراف: ۱۵۷)

وہ (نبی) حکم دیتا ہے ان کو نیکی کا اور منع کرتا ہے ان کو برائی سے اور حلال کرتا ہے ان کے لیے پاک چیزیں اور حرام کرتا ہے ان کے لیے ناپاک چیزیں۔

 

۴۔ و ما اتٰکم الرسول فخذوہ و ما نھکم عنہ فانتھوا (الحشر ۷)

جو کچھ رسول تمہیں دے اسے لے لو اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ۔

 

۵۔ وما ارسلنا من رسول الّا لیطاع باذن اللہ (النسا: ۶۴)

اور ہم نے کوئی رسول بھی نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے اذن سے۔

 

۶۔ و من یطع الرسول فقد اطاع اللہ (النسا: ۸۰)

جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

 

۷۔ و ان تطیعوہُ تھتدوا (النور: ۵۴)

اور اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پاؤ گے۔

 

۸۔ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (الاحزاب: ۲۱)

تمہارے لیے رسول کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے۔

 

۹۔ فلا و ربک لا یومنون حتٰی یحکموک فی ما شجر بینھم ثم لا یجدو فی انفسھم حرجاً مما قَضَیت و یسلموا تسلیماً (النساء: ۶۵)

پس نہیں، تیرے رب کی قسم، وہ ہر گز مومن نہیں ہوں گے جب تک تجھے اس معاملہ میں فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں جس میں ان کے درمیان اختلاف ہے، پھر جو فیصلہ تُو کرے اس پر اپنے دل میں کوئی تنگی تک محسوس نہ کریں اور اسے سر بسر تسلیم کر لیں۔

 

۱۰۔ یا ایھا الذین امنوا اطیعو اللہ و اطیعو الرسول و اولی للامر منکم فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ و الرسول ان کنتم تومنون باللہ و الیوم الاٰخر (النساء: ۵۹)

اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرو اللہ کی، اور اطاعت کرو رسول کی، اور ان لوگوں کی جو تم میں سے اولی الامر ہوں۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو پھیر دو اس کو اللہ اور رسول کی طرف، اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ اور روز آخرت پر۔

 

۱۱۔ قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران: ۳۱)

(اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم) ان سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت رکھے گا۔

 

ان گیارہ آیات کو اگر ملا کر پڑھا جائے تو دین اسلام میںرسول پاک کی حقیقی حیثیت بالکل قطعی طور پر ہمارے سامنے آ جاتی ہے۔ بلا شبہ وہ خداتو نہیں ہیں، انسان ہی ہیں، مگر وہ ایسے انسان ہیں جن کو خدا نے اپنا نمائندۂ مجازبنا کر بھیجا ہے۔ خدا کے احکام براہ راست ہمارے پاس نہیں آئے بلکہ ان کے واسطے سےآئے ہیں۔ وہ محض اس لیے مقرر نہیں کیے گئے کہ خدا کی کتاب کی آیات جو ان پر نازلہوں، بس وہ پڑھ کر ہمیں سنا دیں بلکہ ان کے تقرر کا مقصد یہ ہے کہ وہ کتا ب کیتشریح کریں۔

 

ایک مربی کی حیثیت سے ہمارے افراد اور معاشرے کا تزکیہ[10] کریں  اور ہمیں کتاب اللہ کی اور دانائی کی تعلیم دیں۔ آیت نمبر ۳تصریح کرتی ہے کہ ان کو تشریعی اختیارات (Legislature Powers) بھی اللہ تعالیٰ نےتفویض کیے ہیں اور اس میں کوئی قید ان کے اختیارات کو صرف قرآنی احکام کی تشریح تکمحدود کرنے والی نہیں ہے۔ آیت نمبر ۴ علی الاطلاق یہ حکم دیتی ہے کہ جو کچھ وہ دیںاسے لے لو اور جس چیز سے بھی روک دیں اس سے رک جاؤ۔ اس میں بھی کوئی قید ایسی نہیںہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہو کہ جو کچھ وہ آیات قرآنی کی شکل میں دیں صرف اسی کو لو۔آیت نمبر ۸ اس کی سیرت و کردار اور ان کے عمل کو ہمارے لیے نمونہ قرار دیتی ہے۔ اسمقام پر بھی یہ شرط نہیں لگائی گئی ہے کہ اپنے جس قول اور عمل کی سند وہ قرآن سے دےدیں صرف اسی کو اپنے لیے نمونہ سمجھو بلکہ اس کے برعکس مطلقاً ان کو معیار حق کیحیثیت سے ہمارے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔ آیات نمبر ۵، ۶ اور ۷ ہمیں ان کی اطاعت کاحکم دیتی ہیں اور یہاں بھی قطعاً کوئی اشارہ اس امر کی طرف نہیں ہے کہ یہ اطاعت صرفان احکام کی حد تک ہے جو آیات قرآنی کی شکل میں وہ ہمیں دیں۔ آیت نمبر ۹ ان کو ایکایسا جج بناتی ہے جس کی طرف فیصلے کے لیے رجوع کرنا اور جس کا فیصلہ بظاہر ہی نہیںبلکہ دل سے ماننا شرط ایمان ہے۔ یہ وہ حیثیت ہے جو دنیا کی کسی عدالت اور کسی جج کوبھی حاصل نہیں ہے۔ آیت نمبر ۱۰ ان کی حیثیت کو مسلمانوں کے تمام دوسرے اولی الامرکی حیثیت سے الگ کر دیتی ہے۔ اولی الامر جن میں صدرِ  ریاست، اس کے وزرا، اس کے اہلشوریٰ، اس کی حکومت کے جملہ منتظمیناور عدلیہ کے حکام، سب شامل ہیں، اطاعت کے لحاظسے تیسرے نمبر پر آتے ہیں اور اللہ کی اطاعت پہلے نمبر پر ہے۔ ان دونوں کے درمیانرسول کا مقام ہے۔ اور اس مقام پر رسول کی حیثیت یہ ہے کہ اولی الامر سے تو مسلمانوںکی نزاع ہو سکتی ہے مگر رسول سے نہیں ہو سکتی بلکہ ہر نزاع جو پیدا ہو، اس میںفیصلے کے لیے رجوع اللہ اور اس کے رسول کی طرف کیا جائے گا۔ اس پوزیشن کو تسلیمکرنا بھی ایمان قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ آیت کے آخری الفاظ ان کنتم تومنون باللہوالیوم الاخر سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ پھر آخری آیت اللہ کی محبت کا ایک ہی تقاضا اوراس کی محبت حاصل ہونے کا ایک ہی راستہ بتاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی اللہ کے رسولکا اتباع کرے۔

 

یہ ہے دین اسلام میں رسول کی اصل حیثیت جسے قرآن اتنی وضاحتکے ساتھ پیش کرتا ہے۔ کیا اس کو ملاحظہ فرمانے کے بعد فاضل جج اپنی اس رائے پرنظر ثانی فرمائیں گے جو انہوں نے پیراگراف نمبر ۲۱ میں بیان کی ہے؟ کیا دونوںتصویروں کو بالمقابل رکھ  کر یہ صاف نظر نہیں آتا کہ انہوں نے رسول پاک کی حیثیت کاتخمینہ حضور کی اصل حیثیت سے بہت کم بلکہ بنیادی طور پر مختلف لگایاہے؟

 

کیا وحی صرف قرآن تک محدود ہے؟

 

فاضل جج کا یہ ارشاد لفظاً بالکلصحیح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم “مسلمانوں کو اس سے زیادہ کوئی چیز نہ دےسکتے تھے جو خدا کی طرف سے بذریعۂ وحی ان کو دی گئی تھی۔” مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہےاور یہ سوال بڑا اہم ہے کہ آں محترم کے نزدیک حضورﷺ پر آیا صرف وہی وحی آتی تھی جوقرآن میں درج ہے، یا اس کے علاوہ بھی آپ کو وحی کے ذریعہ سے ہدایات ملتی تھیں۔ اگرپہلی بات ہے تو اس کی صحت قابل تسلیم نہیں ہے۔ قرآن میں کہیں یہ نہیں کہا گیا ہے کہنبی پر کتاب اللہ کی آیات کے سوا اور کوئی وحی نہیں آتی۔ بلکہ اس کے برعکس اس سے یہثابت ہوتا ہے کہ آیات کتاب کے علاوہ بھی نبی کو خدا کی طرف سے ہدایات ملتی ہیں اوراگر دوسری بات ہے تو قرآن کے ساتھ سنت کو بھی مآخذ قانون ماننے کے سوا چارہ نہیںہے، کیونکہ وہ بھی اسی خدا کی طرف سے ہے جس کی طرف سے قرآن نازل ہوا ہے۔

 

کیاحضورﷺ اپنے خیالات کی پیروی کے لیے آزاد تھے؟

 

پھر فاضل موصوف کا یہ ارشاد شدتکے ساتھ نظر ثانی کا محتاج ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم “ماسوا اس وحی کے جوان کے پاس خدا کی طرف سے آئی تھی، خود اپنے بھی کچھ خیالات رکھتے تھے اور ان خیالاتکے زیر اثر کام کرتے تھے” یہ بات نہ قرآن سے مطابقت رکھتی ہے اور نہ عقل اس کو باورکر سکتی ہے۔ قرآن مجید بار بار اس امر کی صراحت کرتا ہے کہ رسول ہونے کی حیثیت سےجو فرائض حضورﷺ پر عائد کیے گئے تھے اور جو خدمات اپ کے سپرد کی گئی تھیں، ان کیانجام دہی میں آپ اپنے ذاتی خیالات و خواہشات کے مطابق کام کرنے کے لیے آزاد نہیںچھوڑ دیئے گئے تھے بلکہ آپ وحی کی رہنمائی کے پابند تھے۔ ان اتبع لا ما یوحی الی(الانعام : ۵۰) قل انما اتباع ما یوحی الی من ربی (الاعراف : ۲۰۳) ماضل صاحبکموما غویٰ، وما ینطق عن الھویٰ، ان ھو الا وحی یوحیٰ (النجم : ۲، ۳، ۴)۔ رہی عقل، تو وہ کسی طرح یہ نہیں مان سکتی کہ ایک شخص کو خدا کی طرف سے رسول بھی مقرر کیاجائے اور پھر اسے رسالت کا کام اپنی خواہشات و رجحانات اور ذاتی آرا کے مطابق انجامدینے کے لیے آزاد بھی چھوڑ دیا جائے۔ ایک معمولی حکومت بھی اگر کسی شخص کو کسیعلاقے میں وائسرائے یا گورنر یا کسی ملک میں اپنا سفیر مقرر کرتی ہے تو وہ اسے اپنیسرکاری ڈیوٹی انجام دینے میں خود اپنی مرضی سے کوئی پالیسی بنا لینے اور اپنے ذاتیخیالات کی بنا پر بولنے اور کام کرنے کے لیے آزاد نہیں چھوڑ دیتی۔ اتنی بڑی ذمہداری کا منصب دینے کے بعد اس کو سختی کے ساتھ حکومتِ بالادست کی پالیسی اور اس کیہدایات کا پابند کیا جاتا ہے۔ اس کی سخت نگرانی رکھی جاتی ہے کہ وہ کوئی کام سرکاریپالیسی اور ہدایات کے خلاف نہ کرنے پائے۔ جو معاملات اس کی صوابدید پر چھوڑے جاتےہیں ان میں بھی گہری نگاہ سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنی صوابدید کو ٹھیک استعمالکر رہا ہے یا غلط۔ اس کو صرف وہی ہدایات نہیں دی جاتیں جو پبلک میں پیش کرنے کےلیے، یا جس قوم کی طرف وہ سفیر بنایا گیا ہے، اسے سنانے کے لیے ہوں بلکہ اسے خفیہہدایات بھی دی جاتی ہیں جو اس کی اپنی رہنمائی کے لیے ہوں۔ اگر وہ کوئی بات حکومتبالادست کے منشا کے خلاف کر دے تو اس کی فوراً اصلاح کی جاتی ہے یا اسے واپس بلا لیاجاتا ہے۔ دنیا اس کے اقوال و افعال کے لیے اس حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے جس کی وہنمائندگی کر رہا ہے اور اس کے قول و افعال کے متعلق لازماً یہی سمجھا جاتا ہے کہاسے اس کی مقرر کرنے والی حکومت کی منظوری حاصل ہے، یا کم از کم یہ کہ حکومت اس کوناپسند نہیں کرتی۔ حد یہ ہے کہ اس کی پرائیویٹ زندگی تک کی برائی اور بھلائی اسحکومت کی ناموری پر اثر انداز ہوتی ہے جس کا وہ نمائندہ ہے۔ اب کیا خدا ہی سے اس بےاحتیاطی کی امید کی جائے کہ وہ ایک شخص کو اپنا رسول مقرر کرتا ہے، دنیا بھر کو اسپر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے، اسے اپنی طرف سے نمونے کا آدمی ٹھہراتا ہے، اس کیبے چون و چرا اطاعت اور اس کے اتباع کا بار بار بتاکید حکم دیتا ہے اور یہ سب کچھکرنے کے بعد اسے چھوڑ دیتا ہے کہ اپنے ذاتی خیالات کے مطابق جس طرح چاہے، رسالت کی خدماتانجام دے؟

 

حضورﷺ کی سنت غلطیوں سے پاک ہے یا نہیں؟

 

فاضل ججفرماتے ہیں : “یہ صحیح ہے کہ محمد رسول اللہ نے کوئی گناہ نہیں کیا مگر وہ غلطیاںکر سکتے تھے اور یہ حقیقت خود قرآن میں تسلیم کی گئی ہے۔” اس کے متعلق اگر قرآن کاتتبع کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف پانچ مواقع پر نبی صلیاللہ علیہ و سلم کو غلطی پر تنبیہ فرمائی ہے۔ ایک سورۂ انفال آیت ۶۷ – ۶۸ میں، دوسرے سورۂ توبہ آیت ۴۳ میں، تیسرے سورۂ احزاب آیت ۳۷ میں، چوتھے سورۂ تحریم آیت ۱میں، پانچویں سورۂ عبس آیت ۱ – ۱۰ میں، چھٹا مقام جہاں گمان کیا جا سکتا ہے کہ شایدیہاں کسی غلطی پر تنبیہ کی گئی ہے۔ وہ سورۂ توبہ آیت ۸۴ ہے۔ پورے ۲۳ سال کے زمانۂنبوت میں ان پانچ یا چھ مواقع کے سوا قرآن مجید میں نہ حضورﷺ کی کسی غلطی کا ذکر آیاہے، نہ اس کی اصلاح کا۔ اس سے جو بات ثابت ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس پورے زمانے میںحضورﷺ براہ راست اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں فرائض نبوت انجام دیتے رہے ہیں، اللہتعالیٰ اس بات پر نگاہ رکھتا رہا ہے کہ اس کا نمائندۂ مجاز کہیں اس کی غلط نمائندگیاور لوگوں کی غلط رہنمائی نہ کرنے پائے اور ان پانچ یا چھ مواقع پر حضورﷺ سے جو ذراسی چوک ہو گئی ہے اس پر فوراً ٹوک کر اس کی اصلاح کر دی گئی ہے۔ اگر ان چند مواقع کےسوا کوئی اور غلطی آپ سے ہو جاتی تو اس کی بھی اسی طرح اصلاح کر دی جاتی جس طرح انغلطیوں کی کر دی گئی ہے۔ لہٰذا یہ چیز حضورﷺ کی رہنمائی پر ہمارا اطمینان رخصت کردینے کی بجائے اس کو اور زیادہ مضبوط کر دینے والی ہے۔ ہم اب یقین کے ساتھ کہہ سکتےہیں کہ حضورﷺ کی ۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی کا پورا کارنامہ خطا اور لغزش سے بالکل پاکہے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا (Approval) حاصل ہے۔

 

اتباع رسول کا حقیقیمفہوم

 

حضورﷺ کے اتباع کا جو حکم قرآن میں دیا گیا ہے اس کو فاضل جج اس معنیمیں لیتے ہیں کہ “ہم بھی ویسے ہی ایماندار اور راست باز اور ویسے ہی سرگرم اوردیندار و متقی بنیں جیسے حضورﷺ تھے۔” ان کے نزدیک اتباع کا یہ مفہوم “غیر فطری اورناقابل عمل ہے کہ ہم بھی اسی طرح سوچیں اور عمل کریں جس طرح حضورﷺ سوچتے اور عمل کرتےتھے۔” وہ فرماتے ہیں کہ یہ مفہوم اگر لیا جائے تو زندگی اجیرن ہو جائے گی۔ اس کےمتعلق ہم عرض کریں گے کہ اتنے بڑے بنیادی مسئلے کو بہت ہی سطحی انداز میں لے لیاگیا ہے۔ اتباع کے معنی محض صفات میں ہم رنگ ہونے کے نہیں ہیں بلکہ طرز فکر، معیاراقدار، اصول و نظریات، اخلاق و معاملات اور سیرت و کردار میں پیرویکرنا بھی لازماًاس میں شامل ہے اور سب سے زیادہ یہ کہ جہاں حضورﷺ نے استاد کی حیثیت سے دین کے کسیحکم پر عمل کر کے بتایا ہو، وہاں شاگرد کی طرح اس عمل میں آپ کی پیروی کرنا ہمارےلیے ضروری ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جس تراش خراش کا لباس آپ پہنتے تھے، وہی ہم پہنیں، جس طرح کے کھانے آپ کھاتے تھے وہی ہم کھائیں، جس قسم کی سواریاں آپاستعمال فرماتے تھے انہیں پر ہم بیٹھیں، یا جن اسلحہ سے آپ جنگ کرتے تھے ان کے سواہم کوئی ہتھیار استعمال نہ کریں۔ اتباع کا یہ مفہوم اگر لیا جائے تو بے شک زندگیاجیرن ہو جائے، مگر امت میں آج تک کوئی ذی علم آدمی ایسا نہیں گزرا ہے جو اس معنیمیں اتباع کے وجوب کا قائل ہو۔ اس کا مطلب ابتدا سے تمام مسلمانوں نے یہ سمجھا ہےکہ حضورﷺ نے اپنے قول و عمل سے اسلامی انداز فکر اور دین کے اصول و احکام کی جوتشریح فرمائی ہے، اس میں ہم آپ کی پیروی کریں۔

 

مثال کے طور پر اسی تعددازواج کے مسئلے کو لے لیجیئے جس پر فاضل جج نے اس سے پہلے شرح و بسط کے ساتھ اظہارخیال کیا ہے۔ اس میں حضورﷺ کے قول و فعل سے قطعی طور پر یہ انداز فکر ظاہر ہوتا ہےکہ تعدد ازواج فی الاصل کوئی برائی نہیں ہے جس پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہو اور یک زوجی درحقیقت کوئی قدرِ مطلوب نہیں ہے جسے معیار کے طور پر نگاہ میں رکھ کرقانون سازی کی جائے۔ لہٰذا حضورﷺ کے اتباع کا تقاضہ یہ ہے کہ یہی اس مسئلے میں ہماراطرز فکر بھی ہو۔ پھر اس سلسلے میں قرآن کی ہدایات پر حضورﷺ اپنی حکومت میں جس طرحعمل کیا گیا وہ ان ہدایات کی صحیح ترین شرح ہے جس کی پیروی ہم کو کرنی چاہیے۔ آپﷺ کےزمانہ میں لوگوں کے معاشی حالات ہمارے موجودہ حالات سے بدرجہا زیادہ خراب تھے۔ مگرآپ نے کبھی اشارتاً بھی ان وجوہ سے تعدد ازواج پر پابندی نہیں لگائی۔ آپ نے کسی سےنہیں پوچھا کہ کس یتیم بچے کی پرورش کے لیے تم دوسرا نکاح کرنا چاہتے ہو۔ آپ نے کسیسے نہیں کہا کہ پہلے اپنی پہلی بیوی کو راضی کرو۔ آپ کی حکومت میں یہ بات بالکلکھلے طور پر جائز تھی کہ ایک شخص اپنی مرضی کے مطابق چار تک جتنی چاہے شادیاں کرے۔مداخلت آپﷺ کے زمانے میں اگر کبھی ہوئی ہے تو صرف اس وقت جبکہ کسی نے بیویوں کےدرمیان انصاف نہیں کیا ہے۔ اب اگر ہم رسول پاک کے متبع ہیں تو ہمارا کام یہ نہیںہونا چاہیے کہ دو تین آیتیں لے کر خود اجتہاد کرنے بیٹھ جائیں بلکہ ہمیں لازماً یہبھی دیکھنا چاہیے کہ جس رسول پر یہ آیتیں نازل ہوئی تھیں اس نے ان کا منشا کیاسمجھا تھا اور اسے کس طرح عملی جامہ پہنایا تھا۔

 

کیا حضورﷺکی رہنمائی صرفاپنے زمانے کے لیے تھی؟

 

فاضل جج کا ارشاد ہے کہ زیادہ سے زیادہ جو فائدہحضورﷺ کے اقوال و افعال اور کردار سے اٹھایا جا سکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ان سے “یہمعلوم کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے کہ مخصوص حالات میں قرآن کی تعبیر کس طرح کی گئیتھی، یا ایک خاص معاملہ میں قرآن کے عام اصولوں کو کس طرح منطبق کیا گیا تھا۔” یہارشاد پڑھنے والے کو یہ تاثر دیتا ہے کہ موصوف کے نزدیک حضورﷺ کی رہنمائی دنیا بھرکے لیے اور ہمیشہ کے لیے نہیں تھی بلکہ اپنے زمانے کی ایک مخصوس سوسائٹی کے لیےتھی۔ یہی تاثر ان کے یہ الفاظ بھی دیتے ہیں کہ “ایک فرد واحد کے زمانۂ حیات کاتجربہ واقعات کی ایک محدود تعداد سے زیادہ کے لیے نظائر فراہم نہیں کرسکتا۔”

 

اس مسئلے پر چونکہ انہوں نے اپنے نقطۂ نظر پوری طرح واضح نہیں کیا ہےاس لیے اس پر مفصل بحث تو نہیں کی جا سکتی، لیکن مجملاً جو تاثر ان کے یہ الفاظ دےرہے ہیں، اس کے بارے میں چند کلمات عرض کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں۔

 

قرآن مجیداس بات پر شاہد ہے کہ جس طرح وہ خود ایک خاص زمانے میں ایک خاص قوم کو خطاب کرنے کےباوجود ایک عالمگیر اور دائمی ہدایت ہے، اسی طرح اس کا لانے والا رسول بھی ایکمعاشرے کے اندر چند سال تک فرائضِ رسالتِ انجام دینے کے باوجود تمام انسانوں کے لیےابد تک ہادی و رہنما ہے۔ جس طرح قرآن کے متعلق یہ فرمایا گیا ہے:

 

و او حیالی ھذا القرآن لانذرکم بہ و من بلغ (الانعام : ۱۹)

اور یہ قرآن میری طرف وحیکیا گیا ہے تا کہ میں اس کے ذریعہ سے متنبہ کروں تم کو اور جس جس کو بھی یہپہنچے۔

 

ٹھیک اسی طرح قرآن کے لانے والے رسول کے متعلق بھی یہ فرمایا گیا ہےکہ:

 

قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً (الاعراف : ۵۸)

(اےمحمد) کہہ دو کہ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

 

وما ارسلنٰکالا کافۃ للناس بشیراً  و نذیراً (سبا: ۲۸)

اور (اے محمد) نہیں بھیجا ہم نے تم کومگر تمام انسانوں کی طرف بشارت دینے والا متنبہ کرنے والا بنا کر۔

 

ما کانمحمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین (الاحزاب: ۴۱)

محمدتمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول ہیں اور نبیوں کےخاتم ہیں۔

 

اس لحاظ سے قرآن اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کیرہنمائی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر وقتی اور محدود ہیں تو دونوں ہیں، اگر دائمی اورعالمگیر ہیں تو دونوں ہیں۔ آخر کون نہیں جانتا کہ قرآن کا نزول ۶۱۰عیسوی میں شروعہوا تھا اور  ۶۳۲عیسوی میں اس کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ آخر کس سے یہ بات چھپی ہوئی ہےکہ اس قرآن کے مخاطب اس زمانے کے اہل عرب تھے اور انہی کے حالات کو سامنے رکھ کر اسمیں ہدایات دی گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر کس بنا پر ہم ان ہدایات کو ہمیشہ کے لیےاور تمام انسانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ مانتے ہیں؟ جو جواب اس سوال کا ہے، بعینہ وہی جواب اس سوال کا بھی ہے کہ ایک فرد واحد کی پیغمبرانہ زندگی جو ساتویںصدی عیسوی میں صر ف ۲۲ شمسی سالوں تک بسر ہوئی تھی، اس کا تجربہ تمام زمانوں اورتمام انسانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ کیسے بن سکتا ہے۔ یہاں اس تفصیل کا موقع نہیںہے کہ ہدایت کے یہ دونوں ذریعے زمان و مکان سے محدود ہونے کے باوجود کس کس طرح ابدیاور عالمگیر رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ہم یہاں صرف یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ جولوگ قرآن کی عالمگیری اور ابدیت کے قائل ہیں وہ خدا کی کتاب اور خدا کے رسول کےدرمیان فرق کس بنیاد پر کرتے ہیں؟ آخر کس دلیل سے ایک کی رہنمائی عام ہے اور دوسرےکی رہنمائی محدود و مخصوص؟

 

 

خلفائے راشدین کے اتباع سنت کی وجہ

 

اساصولی بحث کے بعد پیراگراف ۲۴ میں فاضل جج یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ خلفائے راشدین نےاگر اپنے دور حکومت میں سنت کا اتباع کیا بھی ہے تو اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کے متعلقوہ فرماتے ہیں:

 

“کوئی معتبر شہادت ایسی نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ محمدرسول اللہ کے بعد جو چار خلیفہ ہوئے وہ ان کے اقوال، افعال اور کردار کو کیا اہمیتدیتے تھے، لیکن اگر بحث کی خاطر یہ مان بھی لیا جائے کہ وہ افراد کے معاملات اورقومی اہمیت رکھنے والے مسائل کا فیصلہ کرنے میں بڑے وسیع پیمانے پر حدیث کو استعمالکرتے تھے تو وہ ایسا کرنے میں حق بجانب تھے کیونکہ وہ ہماری بہ نسبت بلحاظ زمانہبھی اور بلحاظ مقام بھی محمد رسول اللہ سے قریب تر تھے۔”

 

ہم عرض کرتے ہیں کہزمانۂ گزشتہ کے کسی واقعہ کے متعلق جو شہادت زیادہ سے زیادہ معتبر ہونی ممکن ہے، اتنی ہی معتبر شہادت اس امر کی موجود ہے کہ چاروں خلفائے راشدین سختی کے ساتھ سنترسول کی پابندی کرتے تھے اور اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کے زمانے کے حالات حضورﷺ کے زمانے کے حالات سے مشابہ تھے بلکہ اس کی وجہ تھی کہ قرآن کے بعد ان کے نزدیکاسلامی قانون کا آئینی مرجع سنت تھی جس سے تجاوز کرنے کا وہ اپنے آپ کو قطعاً مجازنہ سمجھتے تھے۔ اس باب میں ان کے اپنے صریح اقوال ہم اسی کتاب کے صفحات ۱۳ تا ۱۱۸پر نقل کر چکے ہیں۔ نیز اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ دوسری صدی ہجری سے اسچودھویں صدی تک ہر صدی کا فقہی لٹریچر علی التواتر خلفائے راشدین کا یہی مسلک بیانکر رہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں بعض لوگ ان کے سنت سے تجاوز کی جو نظیریں پیش کر رہےہیں ان میں سے ایک بھی فی الحقیقت اس بات کی نظیر نہیں ہے کہ کسی خلیفۂ راشد نےکبھی عملاً سنت سے تجاوز کیا ہے، یا اصولاً اپنے آپ کو ایسے تجاوز کا مجاز سمجھا ہے۔ان میں سے بعض نظائر کی حقیقت بھی ہم اسی کتاب کے صفحات ۱۹۲ تا ۱۹۶ پر ظاہر کر چکےہیں۔

 

امام ابو حنیفہ کا علم حدیث اور اتباع سنت

 

اس کے بعد فاضل ججامام ابو حنیفہ کے مسلک سے استناد فرماتے ہیں۔ ان کا ارشاد ہے:

 

” مگر ابوحنیفہ نے جو ۸۰ھ میں پیدا ہوئے اور جن کا انتقال ۷۰ سال بعد ہوا، تقریبا ۱۷ یا ۱۸حدیثیں ان مسائل کا فیصلہ کرنے میں استعمال کیں جو ان کے سامنے پیش کیے گئے۔ غالباًاس کی وجہ یہ تھی کہ وہ رسول اللہ کے زمانہ سے اس قدر قریب نہ تھے جس قدر پہلے چارخلفا تھے۔ انہوں نے تمام فیصلوں کی بنا قرآن کی مکتوب ہدایات پر رکھی اور متن قرآنکے الفاظ کے پیچھے ان محرکات کو تلاش کرنے کی کوشش کی جو ان ہدایات کے موجب تھے۔ وہاستدلال و استنباط کی بڑی قوت رکھتے تھے۔ انہوں نے عملی حقائق کی روشنی میں قیاس کیبنیاد پر قانون کے اصول اور نظریات مرتب کیے۔ اگر ابو حنیفہ یہ حق رکھتے تھے کہحدیث کی مدد کے بغیر قرآن کی تعبیر موجود الوقت حالات کی روشنی میں کریں، تو دوسرےمسلمانوں کو یہ حق دینے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔”

 

یہ ارشاد تمام تر غلطروایات اور مفروضات پر مبنی ہے۔ امام ابو حنیفہ کے متعلق ابن خلدون نے نہ معلوم کسسند پر یہ بات لکھ دی کہ “حدیث قبول کرنے میں ابو حنیفہ اس قدر متشدد تھے کہ ان کےنزدیک ۱۷ سے زیادہ حدیثیں صحیح نہ تھیں۔” یہ بات چلتے چلتے لوگوں میں اس طرح مشہورہوئی کہ امام ابو حنیفہ کو صرف ۱۷ حدیثوں کا علم تھا، یا یہ کہ انہوں نے صرف ۱۷حدیثوں سے مسائل اخذ کیےہیں حالانکہ یہ بالکل ایک خلافِ واقعہ افسانہ ہے۔ آج امامابو حنیفہ کے سب سے بڑے شاگرد امام ابو یوسف کی مرتب کردہ کتاب الاثار شائع شدہموجود ہے جس میں انہوں نے اپنے استاد کی روایت کردہ ایک ہزار احادیث جمع کی ہیں۔ اسکے علاوہ امام کے دوسرے دو نامور شاگردوں، امام محمد اور امام حسن بن زیاد اللؤلوینے امام کے صاحبزادے حماد بن ابی حنیفہ نے بھی ان کی روایت کر دہ احادیث کے مجموعےمرتب کیے تھے۔ پھر مسلسل کئی صدیوں تک بکثرت علما ان کی مرویات کو “مسند ابی حنیفہ[11]”  کے نام سے جمع کرتے رہے۔ ان میں سے ۱۵ مسانید کاایک جامع نسخہ قاضی القضاۃ محمد بن محمود الخوارزمی نے “جامع مسانید الامام الاعظم” کے نام سے مرتب کیا جسے دائرۃ المعارف حیدر آباد نے دو جلدوں میں شائع کیا ہے۔ یہکتابیں اس دعوے کی تردید میں قاطع ہیں کہ امام ابو حنیفہ صرف ۱۷ حدیثیں جانتے تھے، یا انہوں نے صرف ۱۷ حدیثوں سے استدلال کر کے فقہی مسائل نکالے ہیں۔ علم حدیث میںامام کے استادوں کی تعداد (جن سے انہوں نے روایات لی ہیں) چار ہزار تک پہنچتی ہے۔ان کا شمار اکابر حفاظ حدیث میں کیا گیا ہے۔ ان کی مسانید جمع کرنے والوں میں دارقطنی، ابن شاہین اور ابن عقدہ جیسے نامور علمائے حدیث شامل ہیں۔ کوئی شخص فقہِ حنفیکی معتبر کتابوں میں سے اگر صرف امام طحاوی کی “شرح معانی الاثار”، ابوبکر جصاص کی “احکام القرآن” اور امام سرخسی کی “المبسوط” ہی کو دیکھ لے تو اسے یہ غلط فہمی کبھینہ لاحق ہو کہ امام ابو حنیفہ نے حدیث سے بے نیاز ہو کر صرف قیاس اور قرآن پر اپنیفقہ کی بنیاد رکھی تھی۔

 

پھر حدیث سے استناد کے معاملہ میں امام ابو حنیفہ کاجو مسلک تھا اسے انہوں نے خود ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

 

“مجھے جب کوئی حکمخدا کی کتاب میں مل جاتا ہے تو میں اسی کو تھام لیتا ہوں۔ اور جب اس میں نہیں ملتاتو رسول اللہ کی سنت اور آپ کے ان صحیح آثار کو لیتا ہوں جو ثقہ لوگوں کے ہاں ثقہلوگوں کے واسطے سے معروف ہیں۔ پھر جب یہ (نہ) کتاب اللہ میں حکم ملتا ہے نہ سنت رسولاللہ میں تو میں اصحاب رسول کے قول (یعنی ان کے اجماع) کی پیروی کرتا ہوں اور انکے اختلاف کی صورت میں جس صحابی کا قول چاہتا ہوں، قبول کرتا ہوں اور جس کا چاہتاہوں، چھوڑ دیتا ہوں۔ مگر ان سب کے اقوال سے باہر جا کر کسی کا قول نہیں لیتا۔ رہےدوسرے لوگ تو جس طرح اجتہاد کا حق انہیں ہے، مجھے بھی ہے۔” (تاریخ بغداد للخطیب جلد  ۱۳، صفحہ ۳۶۸ – مناقب امام اعظم للموفق المکی، ج ا، ص ۷۹، مناقب امام ابو حنیفہ وصاحین للذہبی، ص ۲۰)۔

 

امام ابو حنیفہ کے سامنے ایک مرتبہ ان پر یہ الزاملگایا گیا کہ وہ قیاس کو نص پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس پر انہوں نے فرمایا:

 

“بخدا اس شخص نے جھوٹ کہا اور ہم پر افترا کیا جس نے کہا کہ ہم قیاس کو نصپر ترجیح دیتے ہیں، بھلا نص کے بعد بھی قیاس کی کوئی حاجت رہتی ہے؟” (کتاب المیزانللشعرانی، ج ا، ص ۶۱)

 

خلیفہ منصور نے ایک مرتبہ امام کو لکھا کہ میں نے سناہے آپ قیاس کو حدیث پر مقدم رکھتے ہیں، جواب میں انہوں نے لکھا:

 

امیرالمومنین، جو بات آپ کو پہنچی ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ میں سب سے پہلے کتاب اللہ پر عملکرتا ہوں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر، پھر ابو بکر و عمر اورعثمان و علی رضی اللہ عنہم کے فیصلوں پر، پھر باقی صحابہ کے فیصلوں پر، البتہ جبصحابہ میں اختلاف ہو تو قیاس کرتا ہوں۔” (کتاب المیزان للشعرانی، ج ا، ص ۶۲)

 

علامہ ابن حزم نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ:

 

“تمام اصحابِ ابی حنیفہاس بات پر متفق ہیں کہ ابو حنیفہ کا مذہب یہ تھا کہ ضعیف حدیث بھی اگر مل جائے تواس کے مقابلے میں قیاس اور رائے کو چھوڑ دیا جائے[12]۔” (مناقب امام ابو حنیفہ وصحاحسین للذہبی، ص ۲۱)

 

فاضل جج کے نزدیک احادیث پر اعتماد نہ کرنے کےوجوہ

 

اس کے بعد پیراگراف ۲۵ میں فاضل جج وہ وجوہ بیان کرتے ہیں جن کی بنا پران کے نزدیک احادیث ناقابل اعتماد بھی ہیں اور بجائے خود حجت و سند بھی نہیں ہیں۔اس سلسلہ میں ان کی بحث کے نکات حسبِ ذیل ہیں:

 

۱۔  تمام فقہائے اسلام اس بات کو بالاتفاق مانتے ہیں کہ جیسے جیسے زمانہ گزرتاگیا، جعلی حدیثوں کا ایک جمِ غفیر اسلامی قوانین کا ایک جائز و مسلّم مآخذ بنتا چلاگیا۔ جھوٹی حدیثیں خود محمد رسول اللہ کے زمانے میں ظاہر ہونی شروع ہو گئی تھیں۔جھوٹی اور غلط حدیثیں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ حضرت عمر نے اپنی خلافت میں روایت حدیثپر پابندیاں لگا دیں بلکہ اسے منع تک کر دیا۔ امام بخاری نے ۶ لاکھ حدیثوں میں سےصرف ۹ہزار کو صحیح احادیث کی حیثیت سے منتخب کیا۔”

 

۲۔  میں نہیںسمجھتا کہ کوئی شخص اس بات سے انکار کرے گا کہ جس طرح قرآن کو محفوظ کیا گیا اسطرح کی کوئی کوشش رسول اللہ کے اپنے عہد میں احادیث کو محفوظ کرنے کے لیے نہیں کیگئی۔ اس کے برعکس جو شہادت موجود ہے وہ یہ کہ محمد رسول اللہ نے پوری قطعیت کے ساتھلوگوں کو اس بات سے منع کر دیا تھا کہ وہ ان کے اقوال اور افعال کو لکھ لیں۔ انہوںنے حکم دیا تھا کہ جس کسی نے ان احادیث کو محفوظ کر رکھا ہو، وہ انہیں فوراً ضائع کردے۔ لا تکتبوا عنی و من کتب عنی غیر القرآن فلیمحہ و حدثوا ولا حرج[13]  اسی حدیث یاایسی ہی ایک حدیث کا ترجمہ مولانا محمد علی[14]  نے اپنی کتاب “دین اسلام” کے ایڈیشن ۱۹۳۶ عیسویمیں صفحہ ۶۲ پر ان الفاظ میں دیا ہے۔ روایت ہے کہ ابو ہریرہ نے کہا رسولِ خدا ہمارےپاس آئے اس حال میں کہ ہم حدیث لکھ رہے تھے۔ انہوں نے پوچھا تم لوگ کیا لکھ رہے ہو۔ہم نے کہا حدیث جو ہم آپ سے سنتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا یہ کیا! اللہ کی کتاب کے سواایک اور کتاب!”

 

۳۔اس امر کی بھی کوئی شہادت موجودنہیں ہے کہ محمد رسولاللہ کے فوراً بعد جو چار خلیفہ ہوئے ان کے زمانے میں احادیث محفوظ یا مرتب کی گئیہوں۔ اس امرِ واقعہ کا کیا مطلب لیا جانا چاہیے؟ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو گہریتحقیقات کا طالب ہے۔ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ اور ان کے بعد آنےوالے چاروں خلفا نے احادیث کو محفوظ کرنے کی کوئی کوشش اس لیے نہیں کی کہ یہ احادیثعام انطباق کے لیے نہ تھیں؟”

 

۴۔ “مسلمانوں کی بڑی اکثریت نے قرآن حفظ کر لیا۔وہ جس وقت وحی آتی تھی، اس کے فوراً بعد کتابت کا جو سامان بھی میسر آتا تھا اس پرلکھ لیا جاتا تھا اور اس غرض کے لیے رسول کریم نے متعدد تعلیم یافتہ اصحاب کیخدمات حاصل کر رکھی تھیں۔ لیکن جہاں تک احادیث کا تعلق ہے، وہ نہ یاد کی گئیں، نہمحفوظ کی گئیں۔ وہ ان لوگوں کے ذہنوں میں چھپی پڑی ہیں جو اتفاقاً کبھی دوسروں کےسامنے ان کا ذکر کرنے کے بعد مر گئے۔ یہاں تک کہ رسول کی وفات کے چند سو برس بعد انکو جمع اور مرتب کیا گیا۔”

 

۵۔  یہ اعتراف کیا جاتا ہے کہ بعد میں پہلی مرتبہرسول اللہ کے تقریباً ایک سو سال بعد احادیث کو جمع کیا گیا، مگر ان کا ریکارڈ ابقابل حصول نہیں ہے۔ اس کے بعد ان کو حسب ذیل اصحاب نے جمع کیا : امام بخاری (متوفی۲۵۶ھ)، امام مسلم (متوفی ۲۶۱ھ)، ابو داؤد (متوفی ۲۷۵ھ) جامع ترمذی[15]، (متوفی ۲۷۹ھ)، سنن النسائی (متوفی ۳۰۳ھ)، سننابو ماجہ[16]، (متوفی ۲۸۳ھ)، سنن الدریبی[17]، (متوفی۱۸۱ھ)، بیہقی (پیدائش ۲۹۴ھ) اور امام احمد (پیدائش ۱۶۴ھ)۔ فاضل جج نے اس کے بعدشیعہ محدثین کا ذکر کیا ہے جسے ہم اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ اس کے متعلق کچھ کہناشیعہ علما کا کام ہے۔

 

۶۔  “بہت کم احادیث ہیں جن میں یہ جامعین حدیث متفقہوں۔ کیا یہ چیز احادیث کو انتہائی مشکوک نہیں بنا دیتی کہ ان پر اعتماد کیاجا سکے؟”

 

۷۔  “جن لوگوں کو تحقیقات کا کام سپرد کیا گیا ہو، وہ ضرور اس بات پرنگاہ رکھیں گے کہ ہزار دو ہزار جعلی حدیثیں پھیلائی گئی ہیں تا کہ اسلام اور محمدرسول اللہ کو بدنام کیا جائے۔”

 

۸۔  “انہیں اس بات کو بھی نگاہ میں رکھنا ہوگا کہ عربوں کا حافظہ خواہ کتنا ہی قوی ہو، کیا صرف حافظہ سے نقل کی ہوئی باتیںقابل اعتماد سمجھی جا سکتی ہیں؟ آخر آج کے عربوں کا حافظہ بھی تو ویسا ہی ہے، جیسا۱۳سو برس پہلے ان کا حافظہ رہا ہو گا۔ آج کل عربوں کا حافظہ جیسا کچھ ہے، وہ ہمیںیہ رائے قائم کرنے کے لیے ایک اہم سراغ کا کام دے سکتا ہے کہ جو روایات ہم تک پہنچیہیں کیا ان کے صحیح اور حقیقی ہونے پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟”

 

۹۔  عربوں کےمبالغے نے اور جن راویوں کے ذریعہ سے یہ روایات ہم تک پہنچی ہیں، ان کے اپنےمعتقدات اور تعصبات نے بھی ضرور بڑی حد تک نقل روایت کو مسخ کیا ہو گا۔ جب الفاظایک ذہن سے دوسرے ذہن تک پہنچتے ہیں۔ وہ ذہن خواہ عرب کا ہو یا کسی اور کا، بہر حالان الفاظ میں ایسے تغیرات ہو جاتے ہیں جو ہر ذہن کی اپنی ساخت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ہر ذہن ان کو اپنے طرز پر موڑتا توڑتا ہے اور جب کہ الفاظ بہت سے ذہنوں سے گزر کرآئے ہوں تو ایک شخص تصور کر سکتا ہے کہ ان میں کتنا بڑا تغیر ہو جائےگا۔”

 

وجوہِ مذکورہ پر تنقید

 

یہ ۹ نکات ہم نے فاضل جج کے اپنے الفاظمیں، ان کی اپنی ترتیب کے ساتھ نقل کر دیئے ہیں۔ اب ہم ان کا علمی جائزہ لے کردیکھیں گے کہ یہ کہاں تک صحیح ہیں اور ان کو احادیث پر اعتماد نہ کرنے اور سنت کوحجت نہ ماننے کے لیے کس حد تک دلیل بنایا جا سکتا ہے۔

 

کیا جھوٹی حدیثیںاسلامی قانون کا مآخذ بنی ہیں؟

 

سب سے پہلے ان کے نکتہ نمبر ایک اور سات کولیجئے۔ یہ بات بالکل خلاف واقع ہے کہ جعلی حدیثوں کے ایک جم غفیر کا اسلامی قانونکے مآخذ میں داخل ہو جانا تمام فقہائے اسلام بالاتفاق تسلیم کرتے ہیں۔ فقہائے اسلاماس بات کو تو بے شک تسلیم کرتے ہیں کہ جعلی حدیثیں کثرت سے گھڑی گئیں، لیکن ان میںسے کسی نے اگر یہ تسلیم کیا ہو کہ یہ حدیثیں اسلامی قانون کا مآخذ بھی بن گئیں، توایسے ایک ہی فقیہ، یا محدث یا معتبر عالم دین کا نام ہمیں بتایا جائے۔ واقعہ یہ ہےکہ جس وقت سے جعلی احادیث ظاہر ہونی شروع ہوئیں اسی وقت سے محدثین اور ائمۂ مجتہدیناور فقہا نے اپنی تمام کوششیں اس بات پر مرکوز کر دیں کہ یہ گندا نالہ اسلامیقوانین کے سوتوں میں نفوذ نہ کرنے پائے۔ ان کوششوں کا زیادہ تر زور ان احادیث کیتحقیقات پر صرف ہوا ہے جن سے کوئی حکمِ شرعی ثابت ہوتا تھا اور اسلامی عدالتوں کےقاضی بھی اس معاملے میں سخت چوکنے رہے ہیں کہ محض “قال رسول اللہ” سن کر وہ کسیفوجداری یا دیوانی مقدمے کا فیصلہ نہ کر دیں بلکہ اس قول کی پوری چھان بین کریں جسکی رو سے کوئی ملزم چھوٹتا یا سزا پا سکتا ہو، یا کوئی مدعی کے معاملے میں اپنا حقثابت کر سکتا ہو یا اس سے محروم ہو سکتا ہو۔ آغاز اسلام کے حاکمانِ عدالت انصاف کےمعاملے میں ہمارے فاضل جج اور ان کے رفقا سے کچھ کم محتاط تو نہ ہو سکتے تھے۔ آخران کے لیے یہ کیسے ممکن تھا کہ ضروری تحقیقات کے بغیر کسی چیز کو قانونی حکم تسلیمکر کے فیصلے کر ڈالتے؟ اور مقدمات کے فریقین آخر کس طرح ٹھنڈے دل سے یہ برداشت کرسکتے تھے کہ ایک قانونی حکم کا ثبوت بہم پہنچے بغیر کسی کچی پکی روایت پر ان کےخلاف فیصلہ ہو جائے؟ اس لیے درحقیقت نہ یہ بات صحیح ہے کہ اسلامی قوانین کے مآخذ میں جعلی حدیثیں داخل ہوئی ہیں اور نہ یہی بات درست ہے کہ فقہائے اسلام نے ان کےداخل ہو جانے کو “بالاتفاق” مانا ہے۔

 

کیا جھوٹی حدیثیں حضورﷺ کے زمانے ہی میں رواج پانے لگیتھیں؟

 

فاضل جج کا یہ ارشاد بھی سخت غلط فہمی میں ڈالنے والا ہے کہ جھوٹیحدیثیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں ظاہر ہونی شروع ہو گئی تھیں۔دراصل اس کی حقیقت یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانے میں ایک شخص مضافاتِ مدینہ کے ایک قبیلےکی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا، مگر لڑکی والوں نے انکار کر دیا تھا۔ ہجرت کے بعدشروع زمانے میں وہی شخص ایک حلہ پہنے ہوئے اس قبیلے میں پہنچا اور جا کر اس نے لڑکیوالوں سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے یہ حلہ پہنایا ہے اور مجھکو اس قبیلے کا حاکم بنا دیا ہے۔ قبیلے والوں نے اسے اتار لیا اور خاموشی کے ساتھحضورﷺ کو اس معاملے کی اطلاع دی۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ “جھوٹ کہا اس دشمن خدا نے۔” پھرایک آدمی کو حکم دیا کہ جاؤ، اگر اسے زندہ پاؤ تو قتل کر دو اور اگر مردہ پاؤ تواس کی لاش جلا ڈالو۔ وہ شخص وہاں پہنچا تو دیکھا کہ مجرم کو سانپ نے کاٹا ہے اور وہمر چکا ہے۔ چنانچہ حکم کے مطابق اس کی لاش جلا ڈالی گئی۔ اس کے بعد حضورﷺ نے اعلانعام فرمایا اور بعد میں بھی بار بار بتاکید آپ یہ اعلان فرماتے رہے کہ جو شخص میرانام لے کر جھوٹی بات کہے وہ جہنم میں جانے کے لیے تیار ہو جائے[18]۔  اس شدید احتیاطی کاروائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ تقریبا ً۳۰، ۴۰ سال تک جھوٹیحدیث گھڑ کر پھیلانے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

 

حضرت عمر نے کثرت روایت سےکیوں منع کیا؟

 

ان کا یہ ارشاد بھی ایک دعویِ بلا ثبوت ہے کہ حضرت عمر کےزمانے تک پہنچتے پہنچتے جھوٹی حدیثیں اتنی بڑھ گئی تھیں کہ حضرت عمر کو روایت حدیثپر پابندی لگا دینی پڑی بلکہ اسے بالکل روک دینا پڑا۔ اگر اس کے بیان کے لیے کوئیتاریخی سند موجود ہو تو براہِ کرم اس کا حوالہ دیا جائے۔ فی الواقع اس زمانے میں وضعحدیث کا کوئی فتنہ رونما نہیں ہوا تھا۔ تاریخ اس کے ذکر سے بالکل خالی ہے۔ حضرت عمرجس وجہ سے کثرت روایت کو پسند نہ کرتے تھے وہ دراصل یہ تھی کہ جنوبی حجاز کے مختصرخطے کے سوا اس وقت تک عرب میں قرآن مجید کی عام اشاعت نہ ہوئی تھی۔ عرب کا بیشترحصہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات طیبہ کے آخری حصے میں اسلام کے زیر نگیں آیاتھا اور عام باشندگان عرب کی تعلیم کا انتظام ابھی پوری طرح شروع بھی نہ ہوا تھا کہحضورﷺ کی وفات اور پھر خلافت صدیقی میں فتنۂ ارتداد کے رونما ہونے سے یہ کام درہمبرہم ہو گیا تھا۔ حضرت عمر کا عہد وہ تھا جس میں مسلمانوں کو اطمینان کے ساتھ عوامکی تعلیم کے لیے کام کرنے کا موقع ملا۔ اس وقت یہ ضروری تھا کہ پہلے ساری قوم کوقرآن کے علم سے روشناس کرا دیا جائے اور ایسا کوئی کام نہ کیا جائے جس سے قرآن کےساتھ کوئی دوسری چیز خلط ملط ہو جانے کا اندیشہ ہو۔ اگر دین صحابہ جو حضورﷺ کی طرفسے لوگوں کو قرآن پہنچا رہے تھے، ساتھ ساتھ حضورﷺ کی احادیث بھی بیان کرتے جاتے توسخت خطرہ تھا کہ بدویوں کی ایک بڑی تعداد آیات قرآنی کو احادیث نبوی کے ساتھ گڈمڈکر کے یاد کر لیتی۔ اس مصلحت کو حضرت عمر نے ایک موقع پر خود بیان فرمایا ہے۔ عروہبن زبیر کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک مرتبہ ارادہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہو سلم کی سنتیں قلم بند کر لی جائیں۔ اس کے متعلق صحابہ سے انہوں نے مشورہ لیا۔ سبنے رائے دی کہ یہ کام ضرور کرنا چاہیے مگر حضرت عمر اسے شروع کرتے ہوئے ایک مہینےتک جھجکتے رہے اور اللہ سے دعا کرتے رہے کہ جس چیز میں خیر ہو اس کی طرف وہ آپ کیرہنمائی کر دے۔ آخر کار ایک مہینے کے بعد ایک روز انہوں نے فرمایا کہ “میں سنتیںلکھوانے کا ارادہ رکھتا تھا، مگر مجھے خیال آیا کہ تم سے پہلے ایک قوم گزر چکی ہےجس نے دوسری کتابیں لکھیں اور کتاب اللہ کو چھوڑ بیٹھی۔ لہٰذا خدا کی قسم، میں کتاباللہ کے ساتھ دوسری چیز ہرگز شامل نہ کروں گا۔” (تدریب الراوی، ص ۱۵۱، بحوالہالمدخل للبیہقی)۔

 

امام بخاری کی چھ لاکھ حدیثوں کا افسانہ

 

فاضل جج کیایک اور بات جو سخت غلط فہمی پیدا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ “امام بخاری نے چھ لاکھحدیثوں میں سے صرف ۹ ہزار کو صحیح احادیث کی حیثیت سے منتخب کیا۔” اس سے ایک شخص یہتاثر لیتا ہے کہ چھ لاکھ میں سے بس وہ ۹ ہزار تو صحیح تھیں جو امام بخاری نے لیںاور باقی ۵ لاکھ ۹۱ ہزار جھوٹی حدیثیں قوم میں پھیلی ہوئی تھیں حالانکہ اصل حقیقتاس سے بہت مختلف ہے۔ دراصل محدثین کی اصطلاح میں ایک واقعہ اگر سلسلۂ سند سے نقل ہوتو وہ ایک حدیث ہے اور وہ ایک واقعہ مثلاً دس، بیس یا پچاس مختلف سندوں سے نقل ہوکر آئے تو وہ اسے دس، بیس یا پچاس حدیثیں کہتے ہیں۔ امام بخاری کے زمانہ تک پہنچتےپہنچتے حضورﷺ کے ایک ایک ارشاد اور آپ کی زندگی کے ایک ایک واقعہ کو بکثرت راوی بہتہی مختلف سندوں سے روایت کرتے تھے اوراس طرح چند حدیثیں کئی لاکھ حدیثوں کی شکل اختیار کر گئی تھیں۔ امام بخاری کا طریقہیہ تھا کہ جتنی سندوں سے کوئی واقعہ انہیں پہنچا تھا انہیں وہ اپنی شرائطِ صحت (یعنیسند کی صحت نہ کہ اصل واقعہ کی صحت) کے مطابق جانچتے تھے اور ان میں سے جس سند یاجن سندوں کو وہ سب سے زیادہ معتبر سمجھتے تھے ان کا انتخاب کر لیتے تھے مگر انہوںنے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ جو حدیثیں انہوں نے منتخب کی ہیں بس وہی صحیح ہیں اورباقی تمام روایات غیر صحیح ہیں[19]۔  ان کا اپنا قول یہ ہے کہ “میں نے اپنی کتاب میں کوئی ایسی حدیث داخل نہیں کیہے جو صحیح نہ ہو، مگر بہت سی صحیح حدیثیں چھوڑ دی ہیں تا کہ کتاب طویل نہ ہو جائے۔ (تاریخ بغداد، ج ۲ ص ۸ – ۹، تہذیب النووی ج ۱، ص ۷۴، طبقات السبکی ج ۲ ص ۷) بلکہایک اور موقع پر وہ اس کی تصریح بھی کرتے ہیں کہ “میں نے جو صحیح حدیثیں چھوڑ دیہیں وہ میری منتخب کردہ حدیثوں سے زیادہ ہیں۔” اور یہ کہ “مجھے ایک لاکھ صحیححدیثیں یاد ہیں۔” (شروط الائمۃ الخمسہ، ص ۴۹) قریب قریب یہی بات امام مسلم نے بھیکہی ہے۔ ان کا قول ہے “میں نے اپنی کتاب میں جو روایتیں جمع کی ہیں ان کو میں صحاحکہتا ہوں مگر یہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ جو روایت میں نے لی ہے وہ ضعیف ہے۔” (توجیہ النظر، ص ۹۱)

 

جھوٹی حدیثیں آخر گھڑی کیوں گئیں؟

 

فاضل جج نےاس بات کو بڑی اہمت دی ہے کہ ہزار دو ہزار حدیثیں گھڑی گئیں اور اس بات پر بڑا زوردیا ہے کہ تحقیق کرنے والے اس پر خصوصیت کے ساتھ غور کریں۔ لیکن ہم عرض کرتے ہیں کہتحقیق کرنے والوں کو ساتھ ساتھ اس سوال پر بھی غور کرنا چاہیے کہ یہ ہزار دو ہزارحدیثیں اس زمانے میں آخر گھڑی کیوں گئیں؟ ان کے گھڑے جانے کی وجہ یہی تو تھی کہحضورؐ کا قول و فعل حجت تھا اور آپؐ کی طرف ایک غلط بات منسوب کر کے جھوٹے لوگ کوئینہ کوئی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے۔ اگر وہ حجت نہ ہوتا اور کسی شخص کے لیے اپنے کسیدعوے کے حق میں حدیث لانا اور نہ لانا یکساں بے فائدہ ہوتا تو کسی کو کیا پڑی تھیکہ ایک بات تصنیف کرنے کی تکلیف اٹھاتا۔ دنیا میں ایک جعل ساز وہی نوٹ تو بناتا ہےجو بازار میں قدر و قیمت رکھتا ہو۔ جس نوٹ کی کوئی قیمت نہ ہو اسے آخر کون احمقجعلی بنائے گا؟ اب اگر فرض کیجیئے کہ کسی وقت جعل سازوں کا کوئی گروہ پاکستان کےہزاروں جعلی نوٹ بنا ڈالے تو کیا اس پر کسی کا یہ استدلال کرنا صحیح ہو گا کہپاکستان کے سارے نوٹوں کو اٹھا کر پھینک دینا چاہئے کیونکہ جعلی نوٹوں کی موجودگیمیں سرے سے اس کرنسی کا ہی کوئی اعتبار نہیں ہے؟ ملک کا ہر خیر اندیش آدمی فوراً اسفکر میں لگ جائے گا کہ ایسے جعل سازوں کو پکڑا جائے اور ملک کی کرنسی کو اس خطرے سےبچا لیا جائے۔ ٹھیک یہی اثر آغاز اسلام میں جھوٹی احادیث کا فتنہ رونما ہونے سےاسلام کے خیر اندیش لوگوں نے لیا تھا۔ وہ فورا اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک ایکواضح حدیث کا پتہ چلا کر اس کا نام رجال کی کتابوں میں ثبت کر دیا، ایک ایک جھوٹیحدیث کی تحقیق کر کے احادیث موضوعہ کے مجموعے مرتب[20] کر دیئے، احادیث کی صحت و سقمجانچنے کے لیے بڑے سخت اصول قائم کر کے لوگوں کو اس قابل بنا دیا کہ صحیح اور جعلیحدیثوں میں امتیاز کر سکیں اور کسی وقت بھی کوئی جھوٹی حدیث اسلامی قانون کے مآخذ میں راہ نہ پا سکے۔ البتہ منکرین سنت کا طرز فکر اس زمانے میں بھی یہی تھا کہ غلطاحادیث کے پھیل جانے سے سارا ذخیرۂ حدیث مشتبہ ہو گیا ہے، لہٰذا تمام احادیث کواٹھا کر پھینک دینا چاہیے۔ انہیں اس کی پرواہ نہ تھی کہ سنت رسول کو ساقط کر دینےسے اسلامی قانون پر کس قدر تباہ کن اثر پڑے گا اور خود اسلام کی صورت کس بری طرحمسخ ہو کر رہ جائے گی۔

 

استدلال کی تین غلط بنیادیں

 

اب ہم فاضل جج کےنکات نمبر ۲، ۳ اور ۴ کو لیتے ہیں۔ ان نکات میں ان کے استدلال کا سارا انحصار تینباتوں پر ہے جو بجائے خود غلط یا اصل حقیقت سے بہت مختلف ہیں۔ ایک یہ کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ و سلم نے احادیث کو لکھنے سے منع کر دیا تھا۔ دوسرے یہ کہ حضورﷺ کےزمانے میں اور آپؐ کے بعد خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی قرآن کو محفوظ کرنے کا تواہتمام کیا گیا، مگر احادیث کے محفوظ کرنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا۔ تیسرے یہکہ احادیث صحابہ اور تابعین کے ذہنوں میں چھپی پڑی تھیں، وہ کبھی کبھار اتفاقاً کسیکے سامنے انکا ذکر کر دیا کرتے تھے اور ان روایات کو جمع کرنے کا کام حضورﷺ کی وفاتکے چند سو برس بعد کیا گیا۔ ان تین خلاف واقعہ بنیادوں پر فاضل جج سوالیہ انداز میںاس نتیجے کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں کہ احادیث کے ساتھ یہ برتاؤ اس لیے کیا گیاکہ دراصل وہ محض ایک وقتی حیثیت رکھتی تھیں، دنیا بھر کے لیے اور ہمیشہ کے لیے ان کومآخذ قانون بنانا سرے سے مطلوب ہی نہ تھا۔

 

سطور ذیل میں ہم اس بات کا جائزہلیں گے کہ ان تینوں باتوں میں، جن پر اس نتیجے کی بنا رکھی گئی ہے، صداقت کا جوہرکس قدر ہے اور خود وہ نتیجہ جو ان سے برآمد کیا گیا ہے، بجائے خود کہاں تک صحیحہے۔

 

کتابت حدیث کی ابتدائی ممانعت اور اس کے وجوہ

 

رسول اللہ صلی اللہعلیہ و سلم کی جن دو حدیثوں کا فاضل مصنف نے حوالہ دیا ہے ان میں صرف احادیث لکھنےسے منع کیا گیا ہے، ان کو زبانی روایت کرنے سے منع نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان میں سےایک حدیث میں تو بالفاظ صریح حضورﷺ نے فرمایا ہے وحدثوا عنی ولا حرج “میری باتیںزبانی بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔”

 

لیکن دراصل یہ بات سرے سے ہی غلطہے کہ صرف ان دو حدیثوں کو لے کر ان سے نتائج اخذ کر ڈالے جائیں اور اس سلسلے کےتمام دوسرے متعلقہ واقعات کو نظر انداز کر دیا جائے۔ پہلی بات جو اس باب میں جاننیضروری ہے وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جس زمانے میں مبعوث ہوئے ہیں، اس وقتعرب کی پوری قوم ان پڑھ تھی اور اپنے معاملات حافظے اور زبان سے چلاتی تھی۔ قریشجیسے ترقی یافتہ قبیلے کا حال مورخ بلاذری کی ایک روایت کے مطابق یہ تھا کہ اس میںصرف ۱۷ آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ مدینہ کے انصار میں بلاذری ہی کے بقول ۱۱ سےزیادہ آدمیوں کو لکھنا پڑھنا نہ آتا تھا۔ کتابت کے لیے کاغذ ناپید تھا۔ جھلیوں اورہڈیوں اور کھجور کے پتوں پر تحریریں لکھی جاتی تھیں۔ ان حالات میں جب حضورﷺ مبعوثہوئے تو آپ کے سامنے اولین کام یہ تھا کہ قرآن مجید کو اس طرح محفوظ کریں کہ اس میںکسی دوسری چیز کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ لکھنے والے چونکہ گنے چنے آدمی تھے، اس لیےآپﷺ کو خطرہ تھا کہ جو لوگ وحی کے الفاظ اور آیات لکھ رہے ہیں، وہی لوگ اگر آپ ہی سےسن کر آپ کے حوالہ سے دوسرے چیزیں بھی لکھیں گے تو قرآن آمیزش سے نہ بچ سکے گا۔آمیزش نہ ہو گی تو کم از کم شک پڑ جائے گا کہ ایک چیز آیت قرآنی ہے یا حدیث رسول۔ اسبنا پر ابتدائی دور میں حضورﷺ نے احادیث لکھنے سے منع فرما دیا تھا۔

 

کتابتحدیث کی عام اجازت

 

مگر یہ حالت زیادہ دیر تک باقی نہیں رہی۔ مدینہ طیبہپہنچنے کے تھوڑی مدت بعد آپﷺ نے اصحاب اور ان کے بچوں کو لکھنے پڑھنے کی تعلیمدلوانے کا خود اہتمام فرمایا اور جب ایک اچھی خاصی تعداد پڑھی لکھی ہو گئی تواحادیث لکھنے کی آپ نے اجازت دے دی۔ اس سلسلے میں متعدد روایات یہ ہیں:

 

(۱) عبد اللہ بن عمرو بن عاص کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے جو کچھسنتا تھا، وہ لکھ لیتا تھا۔ لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا رسول اللہ ایکانسان ہیں، کبھی رضا کی حالت میں بولتے ہیں اور کبھی غضب کی حالت میں۔ تم سب کچھلکھ ڈالتے ہو؟ اس پر میں نے فیصلہ کیا کہ جب تک حضورﷺ سے پوچھ نہ لوں، آپ کی کوئیبات نہ لکھوں گا۔ پھر جب حضورﷺ سے میں نے پوچھا تو آپ نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا : اکتب فوالذی نفسی بیدہ ما یخرج منہ الا حق۔ ” لکھو، اس خدا کی قسم جسکے ہاتھ میں میری جان ہے، اس منہ سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔” (ابو داؤد، مسنداحمد، داری، حاکم، بیہقی فی المدخل)۔

 

(۲) ابو ہریرہ کہتے ہیں انصار میں سےایک شخص نے عرض کیا، “میں آپ سے بہت سی باتیں سنتا ہوں مگر یاد نہیں رکھ سکتا۔” حضورﷺ نے فرمایا استعن بیمینک و او ما بیدہ الی الخط۔ “اپنے ہاتھ سے مدد لو” اور پھرہاتھ کے اشارہ سے بتایا کہ لکھ لیا کرو۔ (ترمذی)

 

(۳) ابو ہریرہ کی روایتہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک خطبہ دیا۔ بعد میں (یمن کے ایک صاحب) ابو شاہنے عرض کیا کہ میرے لیے اسے لکھوا دیجیئے۔ حضورﷺ نے فرمایا اکتبو الا بی شاہ۔ “ابوشاہ کو لکھ کر دے دو۔” (بخاری، احمد، ترمذی)۔ اسی واقعہ کی تفصیل ہے جو حضرت ابوہریرہ کی ایک دوسری روایت میں یوں بیان ہوئی ہے کہ فتح مکہ کے بعد حضورﷺ نے ایک خطبہدیا جس میں حرم مکہ کے احکام اور قتل کے معاملہ میں چند قوانین بیان فرمائے۔ اہلیمن میں سے ایک شخص (ابو شاہ) نے اٹھ کر عرض کیا کہ یہ احکام مجھے لکھوا دیں۔ آپؐ نےفرمایا اسے یہ احکام لکھ کر دے دیئے جائیں۔ (بخاری)

 

(۴)  ابو ہریرہ کا بیانہے کہ صحابہ میں کوئی مجھ سے زیادہ حدیثیں (یاد) نہ رکھتا تھا، مگر عبد اللہ بنعمرو بن عاص اس سے مستثنیٰ ہیں اس لیے کہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں نہ لکھتا تھا۔(بخاری، مسلم، ترمذی، ابو داؤد اور نسائی)۔

 

(۵) حضرت علی رضی اللہ عنہ سےمختلف لوگوں نے پوچھا اور ایک مرتبہ برسر منبر بھی آپ سے پوچھا گیا کہ آیا آپ کےپاس کوئی ایسا علم بھی ہے جو خاص طور پر آپ ہی کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دیاہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں میرے پاس صرف کتاب اللہ ہے اور یہ چند احکام ہیں جومیں نے حضورﷺ سے سن کر لکھ لیے تھے۔ پھر وہ تحریر آپ نے نکال کر دکھائی۔ اس میںزکوٰۃ اور قانون تعزیرات اور حرم مدینہ اور ایسے ہی بعض اور معاملات کے متعلق چنداحکام تھے (بخاری، مسلم، احمد اور نسائی نے اس مضمون کی متعدد روایات مختلف سندوںکے ساتھ نقل کی ہیں)۔

 

اس کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے حکام کومختلف علاقوں کی طرف بھیجتے وقت متعدد مواقع پر فوجداری اور دیوانی قوانین اورزکوٰۃ اور میراث کے احکام لکھوا کر دیئے تھے جن کو ابو داؤد، نسائی، دار قطنی، دارمی، طبقات ابن سعد، کتاب الاموال لابی عبید، کتاب الخراج لابی یوسف اور المحلیلابن حزم وغیرہ کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

 

احادیث کو زبانی روایت کرنے کی ہمت افزائی بلکہتاکید

 

یہ تو ہے معاملہ کتابت حدیث کا۔ لیکن جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکےہیں، اہل عرب ہزاروں برس سے اپنے کام کتابت کے بجائے حفظ و روایت اور زبانی کلام سےچلانے کے عادی تھے اور یہی عادت ان کو اسلام کے ابتدائی دور میں بھی برسوں تک رہی۔ان حالات میں قرآن کو محفوظ کرنے کے لیے تو کتابت ضروری سمجھی گئی، کیونکہ اس کالفظ لفظ آیات اور سورتوں کو ٹھیک اسی ترتیب کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائیتھی، محفوظ کرنا مطلوب تھا لیکن حدیث کے معاملہ میں اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، کیونکہ اس میں مخصوص الفاظ اور ان کی خاص ترتیب کے وحی ہونے کا نہ دعویٰ تھا نہتصور بلکہ مقصود صرف ان احکام اور تعلیمات و ہدایات کو یاد رکھنا اور پہنچانا تھاجو صحابہ کو حضورﷺ سے ملی تھیں۔ اس باب میں زبانی نقل و روایت کی محض کھلی اجازت ہینہ تھی بلکہ بکثرت احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نےلوگوں کو بار بار اور بکثرت اس کی تاکید فرمائی تھی۔ مثال کے طور پر چند احادیثملاحظہ ہوں:

 

(۱) زید بن ثابت، عبد اللہ بن مسعود، جبیر بن مطعم اور ابوالدردا رضی اللہ عنہم حضورﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں : نضر اللہ امرأ سمع منا حدیثامحفظہ حتی یبلغہ فرب حامل فقہ الی من ھوا فقہ و رب حامل فقہ لیس بفقیہ۔ “اللہ اسشخص کو خوش و خرم رکھے جو ہم سے کوئی بات سنے اور دوسروں تک پہنچائے۔ کبھی ایساہوتا ہے کہ ایک شخص سمجھ کی بات کسی ایسے شخص کو پہنچا دیتا ہے، جو اس سے زیادہفقیہ ہو اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص خود فقیہ نہیں ہوتا مگر فقہ پہنچانےوالا بن جاتا ہے۔” (ابو داؤد، ترمذی، احمد، ابن ماجہ، داری)۔

 

(۲)  ابوبکرہکہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا لیبلغ الغائت الشاھد عسیٰ ان یبلغ من ھو او عی منہ۔ “جوحاضر ہے وہ ان لوگوں تک پہنچا دے جو حاضر نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی ایسے آدمیتک پہنچا دے جو اس سے زیادہ سمائی رکھتا ہو۔” (بخاری و مسلم)۔

 

(۳) ابوشریح کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دوسرے دن حضورﷺ نے خطبہ دیا جسے میں نے اپنے کانوں سےسنا ہے اور خوب یاد رکھا ہے اور وہ موقع اب میری آنکھوں میں سمایا ہوا ہے۔ خطبہ ختمکر کے حضورﷺ نے فرمایا ولیبلغ الشاھد الغائب۔ “جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں تک پہنچا دیںجو حاضر نہیں ہیں۔” (بخاری)۔

 

(۴)  حجۃ الوداع کے موقع پر بھی تقریر ختم کرکے آپ نے قریب قریب وہی بات فرمائی تھی جو اوپروالی دونوں حدیثوں میں منقول ہوئیہے۔” (بخاری)

 

(۵) بنی عبد القیس کا وفد جب بحرین سے نبی صلی اللہ علیہو سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے چلتے وقت عرض کیا کہ ہم بہت دور دراز کے باشندےہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان کفار حائل ہیں۔ ہم صرف حرام مہینوں میں ہی حاضر خدمت ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا آپ ہمیں کچھ ایسی ہدایات دیں جو ہم واپس جا کر اپنی قوم کےلوگوں کو بتائیں اور جنت کے مستحق ہوں۔ حضورﷺ نے جواب میں ان کو دین کے چند احکامبتائے اور فرمایا احفظوہ و اخبروہ من وراکم “ان باتوں کو یاد کر لو اور وہاں کےلوگوں کو بتا دو۔” (بخاری و مسلم)۔

 

کیا یہ ہدایات اور بار بار کی تاکیدیںیہی ظاہر کرتی ہیں کہ حضورﷺ روایت حدیث کی حوصلہ افزائی نہ کرنا چاہتے تھے؟ یا یہ کہآپ اپنے احکام کو وقتی احکام سمجھتے تھے اور یہ نہ چاہتے تھے کہ لوگوں میں وہپھیلیں اور عام حالات پر ان کا انطباق کیا جانے لگے؟

 

جھوٹی حدیث روایت کرنےپر سخت وعید

 

اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنیحدیث کی نشر و اشاعت کے لیے تاکید فرماتے تھے بلکہ اس کے ساتھ آپ نے ان کی حفاظتاور ان میں جھوٹ کی آمیزش سے احتراز کی بھی سخت تاکید فرمائی ہے۔ اس سلسلے میں چنداحادیث ملاحظہ ہوں:

 

عبد اللہ بن عمرو بن عاص، ابو ہریرہ، حضرت زبیر اورحضرت انس رضی اللہ عنھم کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا من کذب علیّ متعمداً فلیتبوا مقعدہ من النار۔ “جو شخص میرا نام لے کر قصداً جھوٹی بات میری طرف منسوب کرے وہ اپنا ٹھکانہ جہنممیں بنا لے۔” (بخاری و ترمذی)

 

ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ نےفرمایا : حدثوا عنی ولا حرج  و من کذب علیّ متعمداً فلیتبوا قعدہ من النار۔ “میری باتیںروایت کرو، ان میں کوئی حرج نہیں، مگر جو میری طرف جان بوجھ کر جھوٹی بات منسوبکرے گا، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے گا۔” (مسلم)

 

ابن عباس، ابن مسعوداور جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا : اتقوا الحدیث عنی الا ما علمتمو من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار۔ “میری طرف سے کوئی بات بیان نہ کرو جبتک کہ تمہیں یہ علم نہ ہو کہ میں وہ کہی ہے، کیونکہ جو میری طرف جھوٹی بات منسوبکرے گا، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے گا۔” (ترمذی، ابن ماجہ)

 

حضرت علیفرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا لا تکذبوا علیّ فانہ من کذب علیّ فلیلج النار۔ “میرا نام لے کر جھوٹ نہ بولو، کیونکہ جو شخص میرا نام لے کر جھوٹ بولے گا وہ آگمیں داخل ہو گا۔” (بخاری)

 

حضرت سلمہ کہتے ہیں سمعت النبی صلی اللہ علیہو سلم یقول من یقل علی مالم اقل فلیتبوا مقعدہ من النار۔ “میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتےسنا ہے کہ جو شخص میرا نام لے کر وہ بات کہے جو میں نے نہیں کہی وہ اپنا ٹھکاناجہنم میں بنا لے۔” (بخاری)

 

کیا یہ بار بار کی سخت وعید یہی ظاہر کرتی ہے کہحضورﷺ کے ارشادات کی دین میں کوئی اہمیت نہ تھی؟ اگر آپﷺ کی سنت کی کوئی قانونی حیثیتدین میں نہ ہوتی اور اس سے احکام دین کے متاثر ہونے کا خطرہ نہ ہوتا تو کیا ضرورتپڑی تھی کہ جہنم کی وعید سنا سنا کر لوگوں کو جھوٹی حدیث روایت کرنے سے روکا جاتا؟بادشاہوں اور رئیسوں کی طرف تاریخوں میں بہت سی غلط باتیں منسوب ہو جاتی ہیں۔ ان سےآخر دین پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اگر حضورﷺ کی سنت کی بھی یہی حیثیت ہے تو آپ کی تاریخکو مسخ کر دینے کی یہ سزا کیوں ہو کہ آدمی کو واصل جہنم کر دیا جائے؟

 

 

سنت رسول کے حجت ہونے صریح دلیل

 

اس سلسلے میںسب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب ایک مسئلے میں اللہ اور اس کے رسول کی صاف صاف تصریحاتموجود ہوں تو اس کے بارے میں غیر متعلق چیزوں سے نتائج نکالنے کی ضرورت ہی کیا باقیرہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں اپنے رسول کو تشریح کتاب اللہ کےاختیارات بھی دیئے ہیں اور تشریعی اختیارات بھی۔ سورۂ نحل کی آیت ۴۴، سورۂ اعراف کیآیت ۱۵۷ اور سورۂ حشر کی آیت ۷، جنہیں اس سے پہلے ہم نقول کر چکے ہیں، اس معاملےمیں بالکل واضح ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی صاف صاف اپنے ان اختیاراتکو بیان کیا ہے:

 

ابو رافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نےفرمایا لا الفین احدکم متکئا علیٰ اریکتہ یاتیہ الامر من امری مما امرت بہ او نھیتفیقول لا ادری، ما وجدنا فی کتاب اللہ ابتعناہ۔ “میں ہر گز نہ پاؤں تم میں سے کسیشخص کو کہ وہ اپنی مسند پر تکیہ لگائے بیٹھا ہو اور اس کو میرے احکام میں سے کوئیحکم پہنچے، خواہ میں نے کسی چیز سے منع کیا ہو یا کسی کام کے کرنے کا حکم دیا ہواور وہ سن کر کہے کہ میں نہیں جانتا، جو کچھ ہم کتاب اللہ میں پائیں گے اس کی پیرویکریں گے۔” (احمد، شافعی، ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ، بیہقی فی دلائلالنبوۃ)۔

 

مقدام بن معدیکرب کی روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا الا انی اوتیتالقرآن و مثلہ معہ الا یوشک رجل شبعان علیٰ اریکنہ یقول علیکم بھذا القرآن فما وجدتمفیہ من حلال فاحلوہ و ما وجدتم فیہ من حرام فحرموہ، وان ما حرم رسول اللہ کما حرماللہ، الا لا یحل لکم الحمار الا ھلی، ولا کل ذی ناب من السباع۔۔۔۔۔” “خبردار رہو، مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ویسی ہی ایک اور چیز بھی۔ خبردار ایسا نہ ہوکہ کوئی پیٹ بھرا شخص اپنی مسند پر بیٹھا ہوا یہ کہنے لگے کہ بس تم قرآن کی پیرویکرو، جو کچھ اس میں حلال پاؤ، اسے حلال سمجھو اور جو کچھ اس میں حرام پاؤ اسے حرامسمجھو۔ حالانکہ دراصل جو کچھ اللہ کا رسول حرام قرار دے وہ ویسا ہی حرام ہے جیسےاللہ کا حرام کیا ہوا۔ خبردار رہو، تمہارے لیے پالتو گدھا حلال نہیں ہے اور نہ کوئیکچلیوں والا درندہ حلال ہے[21] (ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی، حاکم)۔

 

عرباض بن ساریہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہعلیہ و سلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور اس میں فرمایا ایحسب احدکم متکئا علیٰ اریکتہ یظنان الہ لم یحرم شیئاً الا ما فی القرآن الا و انی واللہ قد امرت و وعظت ونھیت عن اشیاءانھا لمثل القرآن او اکثر و ان اللہ لم یحل لکم ان تدخلو ا بیوت اھل الکتب الا باذنولا ضرب نساءھم ولا اکل ثمار ھم اذا اعطوکم الذی علیھم۔ “کیا تم میں سے کوئی شخصاپنی مسند پر تکیہ لگائے یہ سمجھے بیٹھا ہے کہ اللہ نے کوئی چیز حرام نہیں کی سوائےان چیزوں کے جو قرآن میں بیان کر دی گئی ہیں؟ خبردار رہو، خدا کی قسم میں نے جنباتوں کا حکم دیا ہے اور جو نصیحتیں کی ہیں اور جن کاموں سے منع کیا ہے وہ بھی قرآنہی کی طرح ہیں بلکہ کچھ زیادہ۔ اللہ نے تمہارے لیے ہرگز یہ حلال نہیں کیا ہے کہ اہلکتاب کے گھروں میں اجازت کے بغیر گھس جاؤ، یا ان کی عورتوں کو مارو پیٹو، یا ان کےپھل کھا جاؤ جبکہ وہ اپنے واجبات ادا کر چکے ہوں۔”[22]  (ابو داؤد)۔

 

حضرت انس کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا فمن رغب عن سنتی فلیسمنی “جو شخص میری سنت سے منہ پھیرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔” (بخاری ومسلم)۔

 

اللہ اور رسول کے ان صاف صاف ارشادات کے بعد آخر اس استدلال میں کیاوزن رہ جاتا ہے کہ حدیثیں چونکہ لکھوائی نہیں گئیں اس لیے وہ عام انطباق کے لیے نہتھیں۔

 

کیا قابل اعتماد صرف لکھی ہوئی چیز ہی ہوتی ہے؟

 

فاضل جج باربار لکھنے کے مسئلے کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے نزدیکلکھنا اور محفوظ کرنا گویا ہم معنی نہیں ہیں۔ ان کے استدلال کا بڑا انحصار اس خیالپر ہے کہ قرآن اس لیے قابل اعتماد استناد ہے کہ وہ لکھوا لیا گیا اور احادیث اسلیے قابل اعتماد و استناد نہیں ہیں کہ وہ عہد رسالت اور عہد خلافت میں نہیں لکھوائیگئیں۔

 

اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ سمجھ لینی چاہیے کہ قرآن کو جس وجہ سےلکھوا لیا گیا تھا وہ یہ تھی کہ اس کے الفاظ اور معانی دونوں من جانب اللہ تھے۔ اسکے الفاظ کی ترتیب ہی نہیں، اس کی آیتوں کی ترتیب اور سورتوں کی ترتیب بھی خدا کیطرف سے تھی۔ اس کے الفاظ کو دوسرے الفاظ کے ساتھ بدلنا بھی جائز نہ تھا۔ اور وہ اسلیے نازل ہوا تھا کہ لوگ ان ہی الفاظ میں اسی ترتیب کے ساتھ اس کی تلاوت کریں۔ اسکے مقابلہ میں سنت کی نوعیت بالکل مختلف تھی۔ وہ محض لفظی نہ تھی بلکہ عملی بھی تھیاور جو لفظی تھی اس کے الفاظ قرآن کے الفاظ کی طرح بذریعۂ وحی نازل نہیں ہوئے تھےبلکہ حضورﷺ نے اس کو اپنی زبان میں ادا کیا تھا۔ پھر اس کا ایک بڑا حصہ ایسا تھا جسےحضورﷺ کے ہم عصروں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا تھا، مثلاً یہ کہ حضورﷺ کے اخلاق ایسےتھے، حضورﷺ کی زندگی ایسی بھی اور فلاں موقع پر حضورﷺ نے یوں عمل کیا۔ حضورﷺ کے اقوالاور تقریریں نقل کرنے کے بارے میں بھی یہ پابندی نہ تھی کہ سننے والے انہیں لفظبلفظ نقل کریں بلکہ اہل زبان سامعین کے لیے یہ جائز تھا اور وہ اس پر قادر بھی تھےکہ آپ سے ایک بات سن کر معنی و مفہوم بدلے بغیر اسے اپنے الفاظ میں بیان کر دیں۔حضورﷺ کے الفاظ کی تلاوت مقصود نہ تھی بلکہ اس تعلیم کی پیروی مقصود تھی جو آپ نے دیہو۔ احادیث میں قرآن کی آیتوں اور سورتوں کی طرح یہ ترتیب محفوظ کرنا بھی ضروری نہتھا کہ فلاں حدیث پہلے ہو اور فلاں اس کے بعد۔ اس بنا پر احادیث کے معاملے میں یہبالکل کافی تھا کہ لوگ انہیں یاد رکھیں اور دیانت کے ساتھ انہیں لوگوں تک پہنچائیں۔ان کے معاملے میں کتابت کی وہ اہمیت نہ تھی جو قرآن کے معاملے میںتھی۔

 

دوسری بات جسے خوب سمجھ لینا چاہیے، یہ ہے کہ کسی چیز کے سند اور حجتہونے کے لیے اس کا لکھا ہوا ہونا قطعاً ضروری نہیں ہے۔ اعتماد کی اصل بنیاد اس شخصیا ان اشخاص کا بھروسے کے قابل ہونا ہے جس کے یا جن کے ذریعہ سے کوئی بات دوسروں تکپہنچے، خواہ وہ مکتوب ہو یا غیر مکتوب۔ خود قرآن کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے لکھواکر نہیں بھیجا بلکہ نبی کی زبان سے اس کو بندوں تک پہنچایا۔ اللہ نے پورا انحصار اسبات پر کیا کہ جو لوگ نبی کو سچا مانیں گے وہ نبی کے اعتماد پر قرآن کو بھی ہماراکلام مان لیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی قرآن کی جتنی تبلیغ و اشاعت کی، زبانی ہی کی۔ آپﷺ کے جو صحابہ مختلف علاقوں میں جا کر تبلیغ کرتے تھے وہ قرآن کیسورتیں لکھی ہوئی نہ لے جاتے تھے۔ لکھی ہوئی آیات اور سورتیں تو اس تھیلے میں پڑیرہتی تھیں جس کے اندر آپ انہیں کاتبان وحی سے لکھوا کر ڈال دیا کرتے تھے۔ باقی ساریتبلیغ و اشاعت زبان سے ہوتی تھی اور ایمان لانے والے اس ایک صحابی کے اعتماد پر یہبات تسلیم کرتے تھے کہ جو کچھ وہ سنا رہا ہے، وہ حضورﷺ ہی کا حکم ہے۔

 

تیسرااہم نکتہ اس سلسلے میں یہ ہے کہ لکھی ہوئی چیز بجائے خود کبھی قابل اعتماد نہیںہوتی جب تک کہ زندہ اور قابل اعتماد انسانوں کی شہادت اس کی توثیق نہ کرے۔ محضلکھی ہوئی کوئی چیز اگر ہمیں ملے اور ہم اصل لکھنے والے کا خط نہ پہچانتے ہوں، یالکھنے والا خود نہ بتائے کہ یہ اسی کی تحریر ہے، یا ایسے شاہد موجود نہ ہوں جو اسامر کی تصدیق کریں کہ یہ تحریر اسی شخص کی ہے جس کی طرف منسوب کی گئی ہے تو ہمارےلیے محض وہ تحریر یقینی کیا معنی ظنی حجت بھی نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک ایسی اصولیحقیقت ہے جسے موجودہ زمانے کا قانون شہادت بھی تسلیم کرتا ہے اور فاضل جج خود اپنیعدالت میں اس پر عمل فرماتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ قرآن مجید کے محفوظ ہونے پر جویقین ہم رکھتے ہیں کیا اس کی بنیاد یہی ہے کہ وہ لکھا گیا تھا۔ کاتبین وحی کے ہاتھکے لکھے ہوئے صحیفے جو حضورﷺ نے املا کرائے تھے آج دنیا میں کہیں موجود نہیں ہیں۔اگر وہ موجود ہوتے تو بھی آج کون یہ تصدیق کرتا کہ یہ وہی صحیفے ہیں جو حضورﷺ نےلکھوائے تھے۔ خود یہ بات بھی کہ حضورﷺ اس قرآن کو نزول وحی کے ساتھ لکھ لیا کرتےتھے، زبانی روایات ہی سے معلوم ہوئی ہے، ورنہ اس کے جاننے کا کوئی دوسرا ذریعہ نہتھا۔ پس قرآن کے محفوظ ہونے پر ہمارے یقین کی اصل وجہ اس کا لکھا ہوا ہونا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ زندہ انسان زندہ انسانوں سے مسلسل اس کو سنتے اور آگے زندہ انسانوںتک اسے پہنچاتے چلے آ رہے ہیں۔ لہٰذا یہ غلط خیال ذہن سے نکال دینا چاہیے کہ کسیچیز کے محفوظ ہونے کی واحد سبیل بس اسی کا لکھا ہوا ہونا ہے۔

 

ان امور پر اگرفاضل جج اور ان کی طرح سوچنے والے حضرات غور فرمائیں تو انہیں یہ تسلیم کرنے میںانشاء اللہ کوئی زحمت نہ پیش آئے گی کہ اگر معتبر ذرائع سے کوئی چیز پہنچے تو وہ سندبننے کی پوری قابلیت رکھتی ہے، خواہ وہ لکھی نہ گئی ہو۔

 

کیا احادیث ڈھائی سو برس تک گوشہ خمول میں پڑیرہیں؟

 

پھر نکتہ نمبر ۴ کے آخر میں فاضل جج کا یہ ارشاد کہ “احادیث نہ یاد کیگئیں، نہ محفوظ کی گئیں بلکہ وہ ان لوگوں کے ذہنوں میں چھپی پڑی رہیں جو اتفاقاًکبھی دوسرں کے سامنے ان کا ذکر کر کے مر گئے۔ یہاں تک کہ ان کی وفات کے کئی سو برسبعد ان کو جمع اور مرتب کیا گیا۔” یہ نہ صرف واقعہ کے خلاف ہے بلکہ درحقیقت یہ نبیصلی اللہ علیہ و سلم کی شخصیت کا اور آپﷺ کے ساتھ ابتدائی دور کے مسلمانوں کی عقیدتکا بہت ہی حقیر اندازہ ہے۔ واقعات سے قطع نظر ایک شخص محض اپنی عقل ہی پر زور ڈالکر صحیح صورت حال کا تصور کرے تو وہ کبھی یہ باور نہیں کر سکتا کہ جس عظیم الشانشخصیت نے عرب کے لوگوں کو اخلاق و تہذیب اور عقائد و اعمال کی انتہائی پستیوں سےنکال کر بلند ترین مقام تک پہنچا دیا تھا، اس کی باتوں اور اس کے کاموں کو وہی لوگاس قدر ناقابل التفات سمجھتے تھے کہ انہوں نے اس کی کوئی بات یاد رکھنے کی کوشش نہ کینہ دوسروں کے سامنے اتفاقاً ذکر آ جانے سے بڑھ کر کبھی اس کا چرچا کیا، نہ بعد کیآنے والی نسلوں نے اس کو کوئی اہمیت دی کہ اس کے دیکھنے والوں سے کبھی اس کے حالاتپوچھتے۔ ایک معمولی لیڈر تک سے جس کسی کو شرف صحبت نصیب ہو جاتا ہے تو وہ اس سےاپنی ملاقاتوں کی ایک ایک بات یاد رکھتا ہے اور دوسروں کے سامنے اس کا ذکر کرتا ہےاور اس کے مرنے کے بعد نئی آنے والی نسلوں کے لوگ جا جا کر اس کے ملنے والوں سے اسکے حالات دریافت کرتے ہیں۔ آخر جسٹس محمد شفیع صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلمکو کیا سمجھ لیا ہے کہ حضورﷺ کو آپﷺ کے ہم عصر اور آپﷺ سے متصل زمانے کے لوگ اتنےالتفات کا بھی مستحق نہ سمجھتے تھے؟

 

اب ذرا اصل صورتِ واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام کے لیے ایک ایسے پیشوا تھے جس سے وہ ہروقت عقائد اور عبادات اور اخلاق اور تہذیب و شائستگی کا سبق حاصل کرتے تھے۔ آپﷺ کیزندگی کے ایک ایک رخ اور ایک ایک پہلو کو دیکھ کر وہ پاکیزہ انسانوں کی طرح رہناسیکھتے تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ آپﷺ کی بعثت سے پہلے ہم کیا تھے اور آپﷺ نے ہمیں کیاکچھ بنا دیا ہے۔ ان کے لیے ہر پیش آنے والے مسئلے میں مفتی بھی آپ ہی تھے اور قاضیبھی آپ۔ آپﷺ ہی کی قیادت میں وہ لڑتے بھی تھے اور صلح بھی کرتے تھے۔ ان کو تجربہ تھاکہ اس قیادت کی پیروی میں ہم کہاں سے چلے تھے اور بالآخر کہاں پہنچ کر رہے۔ اس بناپر وہ آپﷺ کی ایک ایک بات کو یاد رکھتے تھے جو قریب رہتے تھے وہ بالالتزام آپﷺ کیصحبتوں میں بیٹھتے تھے، جنہیں کسی وقت آپ کی مجلس سے غیر حاضر رہنا ہوتا تو وہدوسروں سے پوچھ کر معلوم کرتے تھے کہ آج آپﷺ نے کیا کیا اور کیا کہا۔ دور دور سے آنےوالے لوگ اپنے اوقات کو جو آپ کے ساتھ بسر ہو جاتے تھے، اپنا حاصلِ زندگی سمجھتے تھےاور عمر بھر ان کی یاد دل سے نہ نکلتی تھی۔ جنہیں حاضر ہونے کا موقع نصیب نہ ہوتاتھا، وہ ہر اس شخص کے گرد اکٹھے ہو جاتے تھے جو آپ سے مل کر آتا تھا اور کرید کریدکر ایک ایک بات اس سے پوچھتے تھے۔ جنہوں نے آپ کو دور سے کبھی دیکھا تھا یا کسی بڑے مجمعمیں صرف آپﷺ کی تقریر سن لی تھی وہ جیتے جی اس موقع کو نہ بھولتے تھے اور فخریہ  اپنےاس شرف کو بیان کرتے تھے کہ ہماری آنکھوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کودیکھا ہے اور ہمارے کان آپ کی تقریر سن چکے ہیں۔ پھر حضورﷺ کے بعد جو نسلیں پیداہوئیں، ان کے لیے تو دنیا میں سب سے اہم اگر کوئی چیز تھی تو وہ اس رسول عظیم کیسیرت تھی جس کی قیادت کے معجزے نے عرب کے شتربانوں کو اٹھا کر سندھ سے اسپین تک کافرمانروا بنا دیا تھا۔ وہ ایک ایک ایسے شخص کے پاس پہنچتے تھے جس نے آپﷺ کی صحبتپائی تھی یا آپ کو کبھی دیکھا تھا، یا آپ کی کوئی تقریر سنی تھی اور جوں جوں صحابہدنیا سے اٹھتے چلے گئے، یہ اشتیاق بڑھتا گیا، حتیٰ کہ تابعین کے گروہ نے وہ ساراعلم نچوڑ لیا جو سیرت پاک کے متعلق صحابہ سے ان کو مل سکتا تھا۔

 

صحابہ کیروایت حدیث

 

عقل گواہی دیتی ہے کہ ایسا ضرور ہوا ہو گا اور تاریخ گواہی دیتیہے کہ فی الواقع ایسا ہی ہوا ہے۔ آج حدیث کا جو علم دنیا میں موجود ہے وہ تقریباً دسہزار صحابہ سے حاصل کیا گیا ہے۔ تابعین نے صرف ان کی احادیث ہی نہیں لی ہیں بلکہ انسب صحابیوں کے حالات بھی بیان کر دیئے ہیں اور یہ بھی بتا دیا ہے کہ کس نے حضورﷺ کیکتنی صحبت پائی ہے یا کب اور کہاں آپ کو دیکھا ہے اور کن کن مواقع پر آپ کی خدمتمیں حاضری دی ہے۔ فاضل جج تو یہ فرماتے ہیں کہ احادیث ابتدائی دور کے مسلمانوں کےذہن میں دفن پڑی رہیں اور دو ڈھائی صدی بعد امام بخاری اور ان کے ہم عصروں نے انہیںکھود کر نکالا۔ لیکن تاریخ ہمارے سامنے جو نقشہ پیش کرتی ہے، وہ اس کے بالکل برعکسہے۔ صحابہ میں سے جن حضرات نے سب سے زیادہ روایات بیان کی ہیں، ان کی اور ان کےمرویات کی فہرست ملاحظہ ہو:

 

ابو ہریرہ۔۔۔ متوفی ۵۷ ھ۔ تعداد احادیث ۵۳۷۴

(ان کے شاگردوں کی تعداد ۸۰۰ کے لگ بھگ تھی اوران کے بکثرت شاگردوں نے ان کی احادیث کو قلمبند کیا تھا۔)

ابو سعید خدری، ۔۔متوفی ۴۶ ھ۔۔۱۱۷۰

جابر بن عبد اللہ، ۔۔۔متوفی ۷۴ ھ۔۔۱۵۴۰

انس بن مالک، ۔۔متوفی  ۹۳ ھ۔۔۱۲۸۶

ام المومنین عائشہ صدیقہ، متوفیہ ۵۹  ھ۔۲۲۱۰

عبد اللہ بن عباس، ۔۔متوفی ۶۸ ھ۔۔۱۶۶۰

عبد اللہ بن عمر، ۔۔متوفی ۷۰ ھ۔ ۱۶۳۰

عبد اللہ بن عمرو بن عاص، ۔۔متوفی ۶۳  ھ۔۔ ۷۰۰

عبد اللہ بن مسعود۔۔۔۔۔۔۔متوفی ۳۲ ھ۔۔ ۸۴۸

 

کیا یہ اسی بات کا ثبوت ہے کہ صحابہ کرام نبیصلی اللہ علیہ و سلم کے حالات کو اپنے سینوں میں دفن کر کے یونہی اپنے ساتھ دنیا سےلے گئے؟

 

دور صحابہ سے امام بخاری کے دور تک علم حدیث کی مسلسل تاریخ

 

اس کے بعد ان تابعینکو دیکھئے جنہوں نے صحابہ کرام سے سیرت پاک کا علم حاصل کیا اور بعد کی نسلوں تکاس کو منتقل کیا۔ ان کی تعداد کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ صرف طبقات ابن سعدمیں چند مرکزی شہروں کے جن تابعین کے حالت ملتے ہیں، وہ حسب ذیل ہیں:

 

مدینہ۔۔ ۴۸۴

مکہ۔۔ ۱۳۱

کوفہ۔ ۴۱۳

بصرہ۔ ۱۶۴

 

ان میں سے جن اکابر تابعین نے حدیث کے علم کو حاصل کرنے، محفوظ کرنے اور آگے پہنچانے کا سب سے بڑھ کر کام کیا ہے، وہ یہ ہیں:

 

نام۔۔۔۔۔ پیدائش۔۔۔۔۔۔۔ وفات

سعید بن المسیب۔۔۔۔۔ ۱۴ ھ۔۔ ۹۳ ھ

حسن بصری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۱ ھ۔۔ ۱۱۰ ھ

ابن سیرین۔۔۔۔۔۔ ۳۳ ھ۔۔ ۱۱۰ ھ

عروہ بن زبیر۔۔۔۔۔ ۲۲ ھ۔۔ ۹۴ ھ

(انہوں نے سیرت رسول پرپہلی کتاب لکھی)۔

 

علی بن حسین (زین العابدین)۔۔۔ ۳۸ ھ۔۔۹۴ ھ

مجاہد۔۔۔۔۔۔ ۲۱ ھ۔۔۱۰۴ھ

قاسم بن محمد بن ابی بکر۔ ۳۷ ھ۔۔ ۱۰۶ ھ

شریح(حضرت عمر کے زمانے میں قاضی مقرر ہوئے)۔۔ ۳۷ ھ۔۔ ۷۸ ھ

مسروق (حضرتابوبکر کے زمانہ میں مدینہ آئے)۔۔۔۔ ۳۷ ھ۔۔ ۶۳ ھ

اسود بن یزید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۳۷ ھ۔۔ ۷۵ ھ

مکحول۔۔۔۔۔۔ ۳۷ ھ۔۔۔ ۱۱۲ ھ

رجاء بن حیوہ۔۔۔۔۔ ۳۷ ھ۔۔ ۱۰۳ ھ

ہمام بن منبہ۔۔۔۔۔۔ ۴۰ ھ۔۔ ۱۳۱ ھ

(انہوں نے احادیثکا ایک مجموعہ مرتب کیا جو صحیفۂ ہمام بن منبہ کے نام سے آج بھی موجود ہے اور شائعہو چکا ہے)۔

 

سالم بن عبد اللہ بن عمر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱۰۶ ھ

نافع مولیٰ عبد اللہ بن عمر۔۔۔۔۔۔۔ ۱۱۷ ھ

سعید بن جبیر۔۔۔۔۔ ۴۵ ھ۔ ۹۵ ھ

سلیمان الاعمش۔۔۔۔۔۔۔۔ ۶۱ ھ۔ ۱۴۹ ھ

ایوب المستحتیاتی۔۔۔۔۔۔۔ ۶۶ ھ۔ ۱۳۱ ھ

محمد بن المنکدر۔۔۔۔۔۔۔۔ ۵۴ ھ۔ ۱۳۰ ھ

ابن شہاب زہری۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۵۸ ھ۔ ۱۲۴ ھ

(انہوں نے حدیث کا بہت بڑا تحریری ذخیرہ چھوڑا)

 

سلیمان بنیسار۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۳۴ ھ۔ ۱۰۷ ھ

عکرمہ مولیٰ ابنعباس۔۔۔۔ ۲۲ ھ۔ ۱۰۵ ھ

عطا بن ابی رباح۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۷ ھ۔ ۱۱۵ ھ

قتادہ بن وعامہ۔۔۔۔۔ ۶۱ ھ۔ ۱۱۷ ھ

عامر الشعبی۔۔۔۔۔ ۱۷ ھ۔ ۱۰۴ ھ

علقمہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۶۲ ھ

(یہ رسولاللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں جوان تھے مگر حضورﷺ سے ملے نہیں۔)

 

ابراہیمالنخعی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۴۶ ھ۔ ۹۶ ھ

زید بن ابیحبیب۔۔۔۔۔۔۔۔ ۵۳ ھ۔ ۱۲۸ ھ

 

ان حضرات کیتواریخ پیدائش و وفات پر ایک نگاہ ڈالنے سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ ان لوگوں نےصحابہ کے عہد کا بہت بڑا حصہ دیکھا ہے۔ ان میں سے بیشتر وہ تھے جنہوں نے صحابہ کے گھروں میںاور صحابیات کی گودوں میں پرورش پائی ہے اور بعض وہ تھے جن کی عمر کسی نہ کسیصحابی کی خدمت میں بسر ہوئی ہے۔ ان کے حالات پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے ایکایک شخص نے بکثرت صحابہ سے مل کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حالات معلوم کیے ہیںاور آپﷺ کے ارشادات اور فیصلوں کے متعلق وسیع واقفیت بہم پہنچائی ہے۔ اسی وجہ سےروایت حدیث کا بہت بڑا ذخیرہ انہی لوگوں سے بعد کی نسلوں کو پہنچا ہے۔ تاوقتیکہکوئی شخص یہ فرض نہ کر لے کہ پہلی صدی ہجری کے تمام مسلمان منافق تھے، اس بات کاتصور تک نہیں کیا جا سکتا کہ ان لوگوں نے گھر بیٹھے حدیثیں گھڑ لی ہوں گی اور پھربھی پوری امت نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا ہو گا اور ان کو اپنے اکابر علما میںشمار کیا ہو گا۔

 

اس کے بعد اصاغر تابعین اور تبع تابعین کا وہ گروہ ہمارےسامنے آتا ہے جو ہزارہا کی تعداد میں تمام دنیائے اسلام میں پھیلا ہوا تھا۔ انلوگوں نے بہت بڑے پیمانے پر تابعین سے احادیث لیں اور دور دور کے سفر کر کے ایک ایکعلاقے کے صحابہ اور ان کے شاگردوں کا علم جمع کیا، ان کی چند نمایاں شخصیتیں یہ ہیں:

 

نام۔۔۔۔۔ پیدائش۔۔۔ وفات

جعفر بنمحمد بن علی (جعفر الصادق)۔ ۸۰ ھ۔۔ ۱۴۸ ھ

ابو حنیفہ النعمان (اماماعظم)۔۔ ۸۰ ھ۔۔ ۱۵۰ ھ

شعبہ بن الحجاج۔۔۔ ۸۳ ھ۔۔ ۱۶۰ ھ

لیث بن سعد۔۔۔۔۔۔۔ ۹۳ ھ۔۔ ۱۶۵ ھ

ربیعہ الرائے (استاذ اماممالک)۔۔؟؟۔۔ ۱۳۶ ھ

سعید بن عروبہ۔۔۔۔۔۔؟؟۔۔ ۱۵۶ ھ

مسعر بن کدام۔۔۔۔۔۔۔؟؟۔۔۔ ۱۲۶ ھ

عبد الرحمٰن بن قاسم بن محمدبن ابی بکر۔۔ ۹۷ ھ۔۔ ۱۶۱ ھ

حماد بن زید۔۔۔ ۹۸ھ۔۔ ۱۷۹ ھ

 

دوسری صدی ہجری کے جامعینحدیث

 

یہی دور تھا جس میں حدیث کے مجموعے لکھنے اور مرتبکرنے کا کام باقاعدگی کے ساتھ شروع ہوا۔ اس زمانے میں جن لوگوں نے احادیث کے مجموعےمرتب کیے، وہ حسب ذیل ہیں:

نام پیدائش وفات کارنامہ
ربیع بن صبیح   ۱۶۰ھ انہوں نے ایک ایک فقہی عنوان پر الگ الگ رسائل مرتب کیے
سعید بن عروبہ   ۱۵۶ھ ۔۔۔ ایضاً۔۔۔
موسیٰ بن عقبہ   ۱۴۱ھ انہوں نے بنی صلی اللہ علیہ و سلم کے غزوات کی تاریخ مرتب کی
امام مالک ۹۳ھ ۱۷۹ھ انہوں نے احکام شرعی کے متعلق احادیث و آثار کو جمع کیا
ابن جریج ۸۰ھ ۱۸۰ھ — ایضا ً—
امام اوزاعی ۸۸ھ ۱۸۶ھ — ایضاً —
سفیان ثوری ۹۷ھ ۱۶۱ھ — ایضاً —
حماد بن سلمہ بن دینار   ۱۷۶ھ — ایضاً —
امام ابو یوسف ۱۱۳ھ ۱۸۳ھ — ایضاً —
امام محمد ۱۳۱ھ ۱۸۹ھ — ایضاً —
محمد بن اسحاق   ۱۵۱ھ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت پاک مرتب کی۔  
ابن سعد ۱۶۸ھ ۲۲۰ھ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ و تابعین کے حالات جمع کیے  
عبید اللہ بن موسیٰ العبسی   ۲۱۳ھ انہوں نے ایک ایک صحابی کی روایات الگ الگ جمع کیں۔  
مسدو بن مسرحد البصری   ۲۱۸ھ — ایضاً —  
اسد بن موسی   ۲۱۲ھ — ایضا ً—  
نعیم بن حماد الخراعی   ۲۱۸ھ — ایضا ً—  
امام احمد بن حنبل ۱۶۴ھ ۲۴۱ھ — ایضا ً—  
اسحاق بن راہویہ ۱۶۱ھ ۲۳۰ھ — ایضا ً—  
عثمان بن ابی شیبہ ۱۵۶ھ ۲۳۱ھ — ایضا ً—  
ابوبکر بن ابی شیبہ ۱۵۹ھ ۲۳۵ھ انہوں نے فقہی ابواب اور صحابہؓ کی جداگانہ مرویات دونوں کے لحاظ سے احادیث جمع کیں۔  

 

ان میں سےامام مالک، امام ابو یوسف، امام محمد، محمد بن اسحاق، ابن سعد، امام احمد بن حنبلاور ابوبکر ابن ابی شیبہ کی کتابیں آج تک موجود ہیں اور شائع ہو چکی ہیں۔ نیز موسیٰبن عقبہ کی کتاب المغازی کا ایک حصہ بھی شائع ہو چکا ہے اور جن حضرات کی کتابیں آجنہیں ملتیں وہ بھی حقیقت میں ضائع نہیں ہوئی ہیں بلکہ انکا پورا مواد بخاری و مسلم اوران کے ہم عصروں نے اور ان کے بعد آنے والوں نے اپنی کتابوں میں شامل کر لیا ہے۔ اسلیے لوگ ان سے بے نیاز ہوتے چلے گئے۔

 

امام بخاری کے دور تک علم حدیث کی اس مسلسل تاریخ کو دیکھنے کے بعد کوئی شخص فاضلجج کے ان ارشادات کو آخر کیا وزن دے سکتا ہے، کہ “احادیث نہ یاد کی گئیں نہ محفوظکی گئیں بلکہ وہ ان لوگوں کے ذہنوں میں چھپی پڑی رہیں جو اتفاقاً کبھی دوسروں کےسامنے ان کا ذکر کر کے مر گئے یہاں تک کہ ان کی وفات کے چند سو برس بعد ان کو جمعاور مرتب کیا گیا۔” اور یہ کہ “بعد میں پہلی مرتبہ رسول اللہ کے تقریباً ایک سو برسبعد احادیث کو جمع کیا گیا مگر ان کا ریکارڈ اب محفوظ نہیں ہے۔” اس موقع پر ہم یہعرض کرنے کے لیے مجبور ہیں کہ ہائی کورٹ جیسی بلند پایہ عدالت کے ججوں کو علمیمسائل پر اظہار خیال کرنے میں اس سے زیادہ محتاط اور باخبر ہوناچاہیے۔

 

احادیث میں اختلاف کی حقیقت

 

آگے چل کر فاضل جج نے اپنے نکتۂششم میں احادیث کے “انتہائی مشکوک” اور “ناقابل اعتماد” ہونے کی ایک وجہ یہ بیانفرمائی ہے کہ “بہت کم احادیث ہیں جن میں یہ جامعین حدیث متفق ہوں۔” یہ ایک ایسادعویٰ ہے جو سرسری طور پر چند مختلف احادیث پر ایک نگاہ ڈال کر تو کیا جا سکتا ہے۔لیکن اگر تفصیل کے ساتھ کتب حدیث کا متقابل مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انکے درمیان اتفاق بہت زیادہ اور اختلاف بہت کم ہے۔ پھر جن میں اختلاف ہے، ان کاجائزہ لیا جائے تو زیادہ تر اختلافات حسب ذیل چار نوعیتوں میں سے کسی نوعیت کے پائےجاتے ہیں:

 

ایک یہ کہ مختلف راویوں نے ایک ہی بات یا واقعہ کو مختلف الفاظمیں بیان کیا ہے اور ان کے درمیان معانی میں کوئی اختلاف نہیں ہے  یا مختلف راویوںنے ایک ہی واقعہ یا تقریر کے مختلف اجزا نقل کیے ہیں۔

 

دوسرے یہ کہ خود حضورﷺ نے ایک مضمون کو مختلف الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔

 

تیسرے یہ کہ خود حضورﷺ نےمختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے عمل فرمایا ہے۔

 

چوتھے یہ کہ ایک حدیث پہلےکی ہے اور دوسرے حدیث بعد کی اور اس نے پہلی کو منسوخ کر دیا ہے۔

 

ان چاراقسام کو چھوڑ کر جن احادیث کا باہمی اختلاف رفع کرنے میں واقعی مشکل پیش آتی ہے انکی تعداد پورے ذخیرۂ حدیث میں ایک فی صدی سے بھی بہت کم ہے۔ کیا چند روایات میں اسخرابی کا پایا جانا یہ فیصلہ کر دینے کے لیے کافی ہے کہ پورا ذخیرۂ حدیث مشکوک اورناقابل اعتماد ہے؟ روایات کسی ایک ناقابل تقسیم کِل کا نام نہیں ہے، جس کے کسی جز کےساقط ہو جانے سے کِل کا ساقط[23] ہو جانا لازم آئے۔ ہر روایت اپنی ایک منفرد حیثیت رکھتیہے اور اپنی جداگانہ سند کے ساتھ آتی ہے۔ اس بنا پر ایک دو نہیں، دوچار سو روایتوںکے ساقط ہو جانے سے بھی بقیہ روایات کا سقوط لازم نہیں آ سکتا۔ علمی تنقید پر جو جوروایات بھی پوری اتریں انہیں ماننا ہی ہو گا۔

 

محدثین کے درمیان اختلاف کیایک اور صورت یہ ہے کہ کسی روایت کی سند کو ایک محدث اپنی تنقید کے اعتبار سے درستسمجھتا ہے اور دوسرا محدث اسے کمزور قرار دیتا ہے۔ یہ رائے اور تحقیق کا اختلاف ہےجس سے پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ کیا عدالتوں میں کسی شہادت کو قبول کرنے اورنہ قبول کرنے پر اختلاف کبھی نہیں ہوتا؟

 

کیا حافظہ سے نقل کی ہوئی روایاتناقابل اعتماد ہیں؟

 

اب ہمیں فاضل جج کے آخری دو نکتوں کو لینا ہے۔ وہ کہتےہیں کہ” آج کے عربوں کا حافظہ جیسا کچھ قوی ہے، پہلی صدی ہجری کے عربوں کا حافظہ بھیاتنا ہی قوی ہو گا۔ تاہم اسے خواہ کتنا ہی قوی مان لیا جائے، کیا صرف حافظہ سے نقلکی ہوئی باتیں قابل اعتماد سمجھی جا سکتی ہیں”؟ پھر ان کا ارشاد ہے کہ “ایک ذہن سےدوسرے ذہن تک پہنچتے پہچتے بات کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے اور ہر ذہن کے اپنے خیالاتاور تعصبات اس کو موڑتے توڑتے چلے جاتے ہیں۔” یہ دو مزید وجہیں ہیں جن کی بنا پروہ احادیث کو اعتماد و استناد کے قابل نہیں سمجھتے۔

 

جہاں تک پہلی بات کاتعلق ہے وہ تجربے اور مشاہدے کے خلاف ہے۔ تجربے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ آدمیاپنی جس قوت سے زیادہ کام لیتا ہے، وہ ترقی کرتی ہے اور جس سےکم کام لیتا ہے وہ کمزورہو جاتی ہے۔ یہ بات جس طرح تمام انسانی قوتوں کے معاملے میں صحیح ہے، حافظہ کے بارےمیں بھی صحیح ہے۔ اہل عرب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے ہزاروں برس سے اپنا کامتحریر کے بجائے یاد اور حافظے سے چلانے کے خوگر تھے۔ ان کے تاجر لاکھوں روپے کا لیندین کرتے تھے اور کوئی لکھا پڑھی نہ ہوتی تھی۔ پائی پائی کا حساب اور بیسیوںگاہکوں کا تفصیلی حساب وہ نوک زبان پر رکھتے تھے۔ ان کی قبائلی زندگی میں نسب اورخونی رشتوں کی بڑی اہمیت تھی۔ وہ سب کچھ بھی حافظے میں محفوظ رہتا اور زبانی روایتسے ایک نسل کے بعد دوسرے نسل تک پہنچتا تھا۔ ان کا سارا لٹریچر بھی کاغذ پر نہیںبلکہ لوح قلب پر لکھا ہوا تھا۔ ان کی یہی عادت تحریر کا رواج ہو جانے کے بعد بھیتقریباً ایک صدی تک جاری رہی۔ اس لیے کہ قومی عادتیں بدلتے بدلتے ہی بدلتی ہیں۔ وہکاغذ کی تحریر پر اعتماد کرنے کے بجائے اپنے حافظے پر اعتماد کرنا زیادہ پسند کرتےتھے۔ انہیں اس پر فخر تھا اور ان کی نگاہ سے وہ شخص گر جاتا تھا جس سے کوئی باتپوچھی جائے اور وہ زبانی بتانے کے بجائے گھر سے کتاب لا کر اس کا جواب دے۔ ایک مدتِدراز تک وہ لکھنے کے باوجود یاد کرتے تھے اور تحریر پڑھ کر سنانے کے بجائے نوک زبانسے سنانا نہ صرف باعث عزت سمجھتے تھے بلکہ ان کے نزدیک آدمی کے علم پر اعتماد بھی اسیطریقے سے قائم ہوتا تھا۔

 

کوئی وجہ نہیں کہ حافظے کی یہ کیفیت آج کے عربوںمیں باقی رہے۔ صدیوں سے کتابت پر اعتماد کرتے رہنے اور حافظے سے کام کم لینے کےباعث اب کسی طرح بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ ان کی یادداشت قدیم عربوں کی سی رہ جائےلیکن عربوں اور غیر عربوں، سب میں آج بھی اس امر کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ انپڑھ لوگ اور اندھے آدمی پڑھے لکھے اور بینا انسانوں کی بہ نسبت زیادہ یادداشت رکھتےہیں۔ ناخواندہ تاجروں میں بکثرت لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں جنہیں بہت سے گاہکوں کےساتھ اپنا ہزارہا روپے کا لین دین پوری تفصیل کے ساتھ یاد رہتا ہے۔ بے شمار اندھےایسے موجود ہیں جن کی قوتِ حافظہ آدمی کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ یہ اس بات کا قطعیثبوت ہے کہ تحریر پر اعتماد کر لینے کے بعد ایک قوم کے حافظے کی وہ حالت باقی نہیںرہ سکتی جو ناخواندگی کے دور میں اس کی تھی۔

 

احادیث کے محفوظ رہنے کی اصل علت

 

یہ اس معاملےکا ایک پہلو ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ صحابہ کے لیے خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہو سلم کی احادیث کو ٹھیک ٹھیک یاد رکھنے اور انہیں صحیح صحیح بیان کرنے کے کچھ مزیدمحرکات بھی تھے جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

اولاً، وہ سچے دل سے آپ کوخدا کا نبی اور دنیا کا سب سے بڑا انسان سمجھتے تھے۔ ان کے دلوں پر آپﷺ کی شخصیت کابڑا گہرا اثر تھا۔ ان کے لیے آپ کی بات اور آپ کے واقعات و حالات کی حیثیت عامانسانی وقائع جیسی نہ تھی کہ وہ ان کو اپنے معمولی حافظے کے حوالے کر دیتے۔ ان کےلیے تو ایک ایک لمحہ جو انہوں نے آپﷺ کی معیت میں گزارا، ان کی زندگی کا سب سے زیادہقیمتی لمحہ تھا اور اس کی یاد کو وہ اپنا سب سے بڑا سرمایہ سمجھتےتھے۔

 

ثانیاً، وہ آپ کی ایک ایک تقریر، ایک ایک گفتگو اور آپ کی زندگی کے ایکایک عمل سے وہ علم حاصل کر رہے تھے جو انہیں اس سے پہلے کبھی حاصل نہ ہوا تھا۔ وہخود جانتے تھے کہ ہم اس سے پہلے سخت جاہل اور گمراہ تھے اور یہ پاکیزہ ترین انساناب ہم کو صحیح علم دے رہا ہے اور مہذب انسان کی طرح جینا سکھا رہا ہے۔ اس لیے وہپوری توجہ کے ساتھ ہر بات سنتے اور ہر فعل کو دیکھتے تھے، کیونکہ انہیں اپنی زندگیمیں عملاً اسی کا نقش پیوست کرنا تھا، اسی کی نقل اتارنی تھی اور اسی کی راہنمائیمیں کام کرنا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس شعور و احساس کے ساتھ آدمی جو کچھ دیکھتا اور سنتاہے اسے یاد رکھنے میں وہ اتنا سہل انگار نہیں ہو سکتا جتنا وہ کسی میلے یا کسیبازار میں سنی اور دیکھی ہوئی باتیں یاد رکھنے میں ہو سکتا ہے۔

 

ثالثاً : وہقرآن کی رو سے بھی یہ جانتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بار بار متنبہ کرنےسے بھی ان کو شدت کے ساتھ اس بات کا احساس تھا کہ خدا کے نبی پر افترا کرنا بہت بڑاگناہ ہے جس کی سزا ابدی جہنم ہو گی۔ اس بنا پر وہ حضورﷺ کی طرف منسوب کر کے کوئی باتبیان کرنے میں سخت محتاط تھے۔ صحابہ کرام میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہکسی صحابی نے اپنی کسی ذاتی غرض سے یا اپنا کوئی کام نکالنے کے لیے حضورﷺ کے نام سےکبھی ناجائز فائدہ اٹھایا ہو، حتیٰ کہ ان کے درمیان جب اختلافات برپا ہوئے اور دوخونریز لڑائیاں تک ہو گئیں، اس وقت بھی فریقین میں سے کسی ایک شخص نے بھی کوئی حدیثگھڑ کر دوسرے کے خلاف استعمال نہیں کی۔ اس قسم کی حدیثیں بعد کے ناخدا ترس لوگوں نےتو ضرور تصنیف کیں مگر صحابہ کے واقعات میں اس کی مثال ناپید ہے۔

 

رابعاً وہاپنے اوپر اس بات کی بہت بڑی ذمہ داری محسوس کرتے تھے کہ بعد کے آنے والوں کو حضورﷺ کے حالات اور آپ کی ہدایات و تعلیمات بالکل صحیح صورت میں پہنچائیں اور اس میں کسیقسم کا مبالغہ یا آمیزش نہ کریں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ دین تھا اور اس میں اپنیطرف سے تغیر کر دینا کوئی معمولی جرم نہیں بلکہ ایک عظیم خیانت تھا۔ اسی وجہ سےصحابہ کے حالات میں اس قسم کے بکثرت واقعات ملتے ہیں کہ حدیث بیان کرتے ہوئے وہکانپ جاتے تھے، ان کے چہرے کا رنگ اڑ جاتا تھا، جہاں ذرہ برابر بھی خدشہ ہوتا تھاکہ شاید حضورﷺ کے الفاظ کچھ اور ہوں وہاں بات نقل کر کے “اؤ کما قال” کہہ دیتے تھے تاکہ سننے والا ان کے الفاظ کو بعینہٖ حضورﷺ کے الفاظ نہ سمجھ لے۔

 

خامستاً: اکابر صحابہ خاص طور پر عام صحابیوں کو احادیث روایت کرنے میں احتیاط کی تلقین کرتےرہتے تھے۔ اس معاملے میں سہل نگاری[24] برتنے سے شدت کے ساتھ روکتے تھے اور بعض اوقاتان سے حضورﷺ کا کوئی ارشاد سن کر شہادت طلب کرتے تھے تا کہ یہ اطمینان ہو جائے کہدوسروں نے بھی یہ بات سنی ہے۔ اسی اطمینان کے لیے صحابیوں نے ایک دوسرے کے حافظے کاامتحان بھی لیا ہے۔ مثلاً ایک مرتبہ حضرت عائشہ کو حج کے موقع پر حضرت عبد اللہ بنعمرو بن عاص سے ایک حدیث پہنچی۔ دوسرے سال حج میں اُم المومنین نے پھر اسی حدیث کودریافت کرنے کے لیے ان کے پاس آدمی بھیجا۔ دونوں مرتبہ حضرت عبد اللہ کے بیان میںایک حرف کا فرق بھی نہ تھا۔ اس پر حضرت عائشہ نے فرمایا: “واقعی عبد اللہ کو بات ٹھیکیاد ہے”۔ (بخاری و مسلم)

 

سادساً : حضورﷺ کی ہدایات و تعلیمات کا بہت بڑا حصہ وہتھا جس کی حیثیت محض زبانی روایات ہی کی نہ تھی بلکہ صحابہ کے معاشرے میں، ان کیشخصی زندگیوں میں، ان کے گھروں میں، ان کی معیشت اور حکومت اور عدالت میں اس کاپورا ٹھپہ لگا ہوا تھا جس کے آثار و نقوش ہر طرف لوگوں کو چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔ایسی ایک چیز کے متعلق کوئی شخص حافظے کی غلطی، یا اپنے ذاتی خیالات و تعصبات کیبنا پر کوئی نرالی بات لا کر پیش کرتا بھی تو وہ چل کہاں سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہاگر کوئی نرالی حدیث آئی بھی ہے تو وہ الگ پہچان لی گئی ہے اور محدثین نے اس کینشاندہی کر دی ہے کہ اس خاص راوی کے سوا یہ بات کسی اور نے بیان نہیں کی ہے، یا اسپر عمل درآمد کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

 

احادیث کی صحت کا ایک ثبوت

 

انسب کے علاوہ ایک نہایت اہم بات اور بھی ہے جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو عربی زبانجانتے ہیں اور جنہوں نے محض سرسری طور پر کبھی کبھار متفرق احادیث کا مطالعہ نہیںکر لیا ہے بلکہ گہری نگاہ سے حدیث کی پوری پوری کتابوں کو، یا کم از کم ایک ہی کتاب(مثلاً بخاری یا مسلم) کو از اول تا آخر پڑھا ہے۔ ان سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہرسول اللہ صلی اللہ علی و سلم کی اپنی ایک خاص زبان اور آپ کا اپنا ایک مخصوص اندازِبیان ہے جو تمام صحیح احادیث میں بالکل یکسانیت اور یک رنگی کے ساتھ نظر آتا ہے۔قرآن کی طرح آپ کا لٹریچر اور اسٹائل اپنی ایسی انفرادیت رکھتا ہے کہ اس کی نقلکوئی دوسرا شخص نہیں کر سکتا۔ اس میں آپ کی شخصیت بولتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اس میںآپﷺ کا بلند منصب و مقام جھلکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے آدمی کا دل یہگواہی دینے لگتا ہے کہ یہ باتیں محمد رسول اللہ کے سوا کوئی دوسرا شخص کہہ نہیںسکتا۔ جن لوگوں نے کثرت سے احادیث کو پڑھ کر حضورﷺ کی زبان اور طرزِ بیان کو اچھی طرحسمجھ لیا ہے، وہ حدیث کی سند کو دیکھے بغیر محض متن کو پڑھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہیہ حدیث صحیح ہے یا موضوع، کیونکہ موضوع کی زبان ہی بتا دیتی ہے کہ یہ رسول اللہصلی اللہ علیہ و سلم کی زبان نہیں ہے حتیٰ کہ صحیح احادیث تک میں روایت باللفظ اورروایت بالمعنی کا فرق صاف محسوس ہو جاتا ہے، کیونکہ جہاں راوی نے حضور کے بات کواپنے الفاظ میں بیان کیا ہے، وہاں آپﷺ کے اسٹائل سے واقفیت رکھنے والا یہ بات پالیتا ہے کہ یہ خیال اور بیان تو حضورﷺ ہی کا ہے لیکن زبان میں فرق ہے۔ یہ انفرادیخصوصیت احادیث میں کبھی نہ پائی جا سکتی اگر بہت سے کمزور حافظوں نے ان کو غلططریقوں سے نقل کیا ہوتا اور بہت سے ذہنوں کی کارفرمائی نے ان کو اپنے اپنے خیالات وتعصبات کے مطابق توڑا مروڑا ہوتا۔ کیا یہ بات عقل میں سماتی ہے کہ بہت سے ذہن مل کرایک یک رنگ لٹریچر اور ایک انفرادی اسٹائل پیدا کر سکتے ہیں؟

 

اور یہ معاملہصرف زبان و ادب کی حد تک ہی نہیں ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر دیکھیے تو نظر آتا ہے کہطہارت جسم و لباس سے لے کر صلح و جنگ اور بین الاقوامی معاملات تک زندگی کے تمامشعبوں اور ایمان و اخلاق سے لے کر علامات قیامت اور احوال آخرت تک تمام فکری اوراعتقادی مسائل میں صحیح احادیث ایک ایسا نظام فکر و عمل پیش کرتی ہیں جو اول سے آخرتک اپنا ایک ہی مزاج رکھتا ہے اور جس کے تمام اجزا میں پورا پورا منطقی ربط ہے۔ایسا مربوط اور ہم رنگ نظام اور اتنا مکمل وحدانی نظام لازماً ایک ہی فکر سے بن سکتاہے، بہت سے مختلف ذہن مل کر اسے نہیں بنا سکتے۔ یہ ایک اور اہم ذریعہ ہے جس سےموضوع احادیث ہی نہیں مشکوک احادیث تک پہچانی جاتی ہیں۔ سند کو دیکھنے سے پہلے ایکبصیرت رکھنے والا آدمی اس طرح کی کسی حدیث کے مضمون ہی کو دیکھ کر یہ بات صاف محسوسکر لیتا ہے کہ صحیح احادیث اور قرآن مجید نے مل کر اسلام کا جو نظام فکر اور نظامحیات بنایا ہے اس کے اندر یہ مضمون کسی طرح ٹھیک نہیں بیٹھتا کیونکہ اس کا مزاجپورے نظام کے مزاج سے مختلف نظر آتا ہے۔

 

چند احادیث پر فاضل جج کے اعتراضات

 

آگے چل کر فاضل جج فرماتے ہیں کہ احادیثکے مجموعوں میں ایسی حدیثیں بھی موجود ہیں جن کو صحیح ماننا سخت مشکل ہے۔ اس کے لیےمثال کے طور پر وہ ۱۳ حدیثیں مشکوٰۃ کے اس انگریزی ترجمے سے نقل فرماتے ہیں جوالحاج مولوی فضل الکریم صاحب ایم اے بی ایل نے کیا ہے اور کلکتہ سے ۱۹۳۹ عیسوی میںشائع ہوا ہے۔ قبل اس کے کہ ہم ان احادیث پر محترم جج صاحب کے اعتراضات کے بارے میںکچھ عرض کریں، ہمیں بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ مشکوٰۃ کے اس ترجمےمیں مترجم نے ایسی فاش غلطیاں کی ہیں جو علم حدیث ہی سے نہیں، عربی زبان سے بھی انکی ناواقفیت کا ثبوت دیتی ہیں اور بد قسمتی سے فاضل جج نے ان تمام غلطیوں سمیت اسکی عبارتیں نقل کر دی ہیں۔ اگرچہ اس کا مسئلۂ زیر بحث سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن ہمیہاں صرف اس بات کی طرف توجہ دلانے کے لیے اس معاملے کا ذکر کرتے ہیں کہ پاکستان اسوقت دنیا کی سب سے بڑی مسلم ریاست ہے۔ اس کی عدالت عالیہ کے فیصلے میں حدیث کیقانونی حیثیت پر اس قدر دور رس بحث کی جائے اور پھر حدیث کے علم و فن سے اتنیسرسری بلکہ ناقص واقفیت کا کھلا کھلا ثبوت بہم پہنچایا جائے۔ یہ چیز آخر دنیا کےاہل علم پر کیا اثر ڈالے گی اور ہماری عدالتوں کے وقار میں کیا اضافہ کرے گی؟مثال کے طور پر پہلی ہی حدیث کے دو فقرے ملاحظہ ہوں : وای شاند لم یکن عجبا کاترجمہ ” اور اس سے زیادہ عجیب بات اور کیا ہو سکتی ہے” کیا گیا ہے، حالانکہ اس کاصحیح ترجمہ یہ ہے : “ان کی کون سے بات عجیب نہ تھی۔” ذرینی اتعبد لربی کو مترجم نےذرینی انعبد لربی پڑھا اور اس کا ترجمہ یوں کر دیا “چھوڑ دے مجھ کو، کیا تو میرے ربکی عبادت کرے گی؟” حالانکہ صرف یہ ترجمہ ہی مہمل نہیں ہے بلکہ اصل عبارت کو پڑھنےمیں مترجم نے وہ غلطی کی ہے جو عربی گرامر کی ابجد سے واقفیت رکھنے والا آدمی بھینہیں کر سکتا۔ تعبد صیغہ مذکر ہے اور سیاق عبارت بتا رہا ہے کہ مخاطب عورت ہے۔ عورتکو خطاب کر کے تعبدین کہا جاتا نہ کہ تعبد۔ صحیح ترجمہ اس فقرے کا یہ ہے کہ “مجھےچھوڑ دے تا کہ میں اپنے رب کی عبادت کروں” اس طرح کی غلطیوں کو دیکھ کر آخر کونصاحب علم یہ باور کرے گا کہ فاضل جج حدیث کے علم میں کم از کم اتنا درک رکھتے ہیںجتنا کسی فن پر ماہرانہ رائے دینے کے لیے ناگزیر ہے۔

 

بعض احادیث میں عریاںمضامین کیوں ہیں؟

 

اب ہم اصل بحث کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ پیراگراف ۲۶ میں فاضلجج یکے بعد دیگرے ۹ حدیثیں نقل کرتے چلے گئے ہیں اور کسیجگہ انہوں نے یہ نہیںبتایا ہے کہ کس حدیث کے مضمون پر انہیں کیا اعتراض ہے۔ البتہ پیرا گراف ۲۷ میں وہاختصار کے ساتھ اس خیال کا اظہار فرماتے ہیں کہ ان احادیث میں جو “عریانی” پائیجاتی ہے اس کی بنا پر وہ یہ باور نہیں کر سکتے کہ واقعی یہ احادیث سچی ہوں گی۔غالباً ان کا خیال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور خواتین کے درمیان اور پھرازواج مطہرات اور ان کے شاگردوں کے درمیان ایسی کھلی کھلی گفتگو آخر کیسے ہو سکتیہے۔ اس سلسلے میں فاضل جج کی پیش کردہ احادیث پر فرداً فرداً کلام کرنے سے پہلے چنداصولی باتیں بیان کر دینی ضروری ہیں، کیونکہ موجودہ زمانے کے “تعلیم یافتہ” اصحاببالعموم انہی باتوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اسے اس طرح کی احادیث پر الجھتےہیں۔

 

اول یہ کہ انسان کی داخلی زندگی کے چند گوشے ایسے ہیں جن کے متعلق اسکو ضروری تعلیم و تربیت اور ہدایات دینے میں شرم کا بے جا احساس اکثر مانع ہوتا رہاہے اور اسی وجہ سے اعلیٰ ترقی یافتہ قومیں تک ان کے بارے میں طہارت و نظافت کےابتدائی اصولوں تک سے ناواقف رہی ہیں۔ شریعت الہٰی کا یہ احسان ہے کہ اس نے انگوشوں کے بارے میں بھی ہم کو ہدایات دیں اور ان کے متعلق قواعد و ضوابط بتا کر ہمیںغلطیوں سے بچایا۔ غیر قوموں کے صاحب فکر لوگ اس چیز کی قدر کرتے ہیں، کیونکہ ان کیقومیں اس خاص شعبۂ زندگی کی تعلیم و تربیت سے محروم ہیں۔ مگر مسلمان جن کو گھربیٹھے یہ ضابطے مل گئے، آج اس تعلیم کی ناقدری کر رہے ہیں اور عجیب لطیفہ ہے کہ انناقدری کے اظہار میں وہ لوگ بھی شریک ہو جاتے ہیں جو اہل مغرب کی تقلید میں (Sex Education) تک مدارس میں رائج کرنے کے قائل ہیں۔

 

دوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نےجس نبی پاک کو ہماری تعلیم کے لیے مامور فرمایا تھا، اسی کے ذمہ یہ خدمت بھی کی تھیکہ اس خاص شعبۂ زندگی کی تعلیم و تربیت بھی ہمیں دے۔ اہل عرب اس معاملہ میں ابتدائیضابطوں تک سے ناواقف تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو ان کے مردوں کو بھی اورعورتوں کو بھی طہارت، استنجا اور غسل وغیرہ کے مسائل، نیز ایسے ہی دوسرے مسائل نہصرف زبان سے سمجھائے بلکہ اپنی ازواج مطہرات کو بھی اجازت دی کہ آپ کی خانگی زندگیکے ان گوشوں کو بے نقاب کریں اور عام لوگوں کو بتائیں کہ حضورﷺ خود کن ضابطوں پر عملفرماتے تھے۔

 

سوم یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسی ضرورت کی خاطر حضورﷺ کی ازواجمطہرات کو مومنین کے لیے ماں کا درجہ عطا فرمایا تھا تا کہ مسلمان ان کی خدمت میںحاضر ہو کر زندگی کے ان گوشوں کے متعلق رہنمائی حاصل کر سکیں اور جانبین میں انمسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کسی قسم کے ناپاک جذبہ کی دخل اندازی کا خطرہ نہ رہے۔ یہیوجہ ہے کہ حدیث کے پورے ذخیرہ میں کوئی ایک نظیر بھی اس بات کی نہیں ملتی کہ جوباتیں امہات المومنین سے پوچھی گئی ہیں وہ خلفائے راشدین یا دوسرے صحابیوں کیبیگمات سے بھی کبھی پوچھی گئی ہوں اور انہوں نے مردوں سے اس نوعیت کی گفتگو کیہو۔

 

چہارم یہ کہ لوگ اپنے گمان سے، یا یہود و نصاریٰ کے اثر سے جن چیزوںکو حرام یا مکروہ اور ناپسندیدہ سمجھ بیٹھے تھے، ان کے متعلق صرف یہ سن کر ان کااطمینان نہیں ہوتا تھا کہ شریعت میں وہ جائز ہیں۔ حکم جواز کے باوجود ان کے دلوںمیں یہ شک باقی رہ جاتا تھا کہ شاید یہ کراہت سے خالی نہ ہو اس لیے وہ اپنے اطمینانکی خاطر یہ معلوم کرنا ضروری سمجھتے تھے کہ حضورﷺ کا اپنا طرز عمل کیا تھا۔ جب وہ یہجان لیتے تھے کہ حضورﷺ نے خود فلاں عمل کیا ہے، تب ان کے دلوں سے کراہت کا خیال نکلجاتا تھا، کیونکہ وہ حضورﷺ کو ایک مثالی انسان سمجھتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ جوکام آپ نے کیا ہو وہ مکروہ یا پایۂ ثقاہت سے گرا ہوا نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک اہم درجہہے جس کی بنا پر ازواج مطہرات کو حضورﷺ کی خانگی زندگی کے بعض ایسے معاملات کو بیانکرنا پڑا جو دوسری خواتین نہ بیان کر سکتی ہیں، نہ ان کو بیان کرناچاہیے۔

 

پنجم یہ کہ احادیث کا یہ حصہ درحقیقت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کیعظمت اور ان کی نبوت کے بڑے اہم شواہد میں شمار کرنے کے لائق ہے۔ محمد رسول اللہ کےسوا دنیا میں کون یہ ہمت کر سکتا تھا اور پوری تاریخ انسانی میں کس نے یہ ہمت کیہے ۲۳ سال تک شب و روز کے ہر لمحے اپنے آپ کو منظر عام پر رکھ دے، اپنی پرائیویٹزندگی کو بھی پبلک بنا دے اور اپنی بیویوں تک کو اجازت دے دے کہ میری گھر کی زندگیکا حال بھی لوگوں کو صاف صاف بتا دو۔

 

اعتراضات کا تفصیلی جائزہ

 

ان امور کو نگاہ میںرکھ کر فرداً فرداً ان احادیث کو ملاحظہ فرمائیے جو فاضل جج نے پیش کیہیں۔

 

پہلی حدیث میں حضرت عائشہ دراصل یہ بتانا چاہتی ہیں کہ نبی صلی اللہعلیہ و سلم اگرچہ رہبانیت سے بالکل دور تھے اور اپنی بیویوں سے وہی ربط و تعلقرکھتے تھے جو دنیا کے ہر شوہر کا اپنی بیوی سے ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اللہتعالیٰ سے آپ کا ایسا گہرا تعلق تھا کہ بستر میں بیوی کے ساتھ لیٹ جانے کے بعد بھیبسا اوقات یکایک آپ پر عبادت کا شوق غالب آ جاتا تھا اور آپ دنیا کا لطف و عیش چھوڑکر اس طرح اٹھ جاتے تھے کہ گویا آپ کو خدا کی بندگی کے سوا کسی چیز سے دلچسپی نہیںہے۔ سوال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات طیبہ کا یہ مخفی گوشہ آپ کیاہلیہ کے سوا اور کون بتا سکتا تھا؟ اور اگر یہ روشنی میں نہ آتا تو آپ کے اخلاصلِلہ کی صحیح کیفیت دنیا کیسے جانتی؟ مجلس وعظ میں خدا کی محبت اور خشیت کا مظاہرہکون نہیں کرتا۔ سچی اور گہری محبت و خشیت کا حال تو اسی وقت کھلتا ہے جب معلوم ہو کہگوشۂ تنہائی میں آدمی کا رنگِ زندگی کیا ہوتا ہے۔

 

دوسری حدیث میں دراصلبتانے کا مقصود یہ ہے کہ بوسہ بجائے خود وضو توڑنے والے چیز نہیں ہے جب تک کہ غلبۂجذبات سے کوئی رطوبت خارج نہ ہو جائے۔ عام طور پر لوگ خود بوسے ہی کو ناقصِ وضوسمجھتے تھے اور ان کا خیال یہ تھا کہ اس اگر وضو ٹوٹتا نہیں ہے تو کم از کم طہارتمیں فرق ضرور آ جاتا ہے۔ حضرت عائشہ کو ان کا شک دور کرنے کے لیے یہ بتانا پڑا کہحضورﷺ نے خود اس کے بعد وضو کیے بغیر نماز پڑھی ہے۔ یہ مسئلہ دوسرے لوگوں کے لیےچاہے کوئی اہمیت نہ رکھتا ہو، مگر جنہیں نماز پڑھنی ہو، ان کو تو یہ معلوم ہونے کیبہرحال ضرورت ہے کہ کس حالت میں وہ نماز پڑھنے کے قابل ہوتے ہیں اور کس حالت میںنہیں ہوتے۔

 

تیسری حدیث میں ایک خاتون کو اس مسئلے سے سابقہ پیش آ جاتا ہے کہاگر ایک عورت اسی طرح کا خواب دیکھے جیسا عام طور پر بالغ مرد دیکھا کرتے ہیں تو وہکیا کرے۔ یہ صورت چونکہ عورتوں کو بہت کم پیش آتی ہے اس لیے عورتیں اس کے شرعی حکمسے ناواقف تھیں۔ ان خاتون نے جا کر مسئلہ پوچھ لیا اور حضورﷺ نے یہ بتا کر عورت کوبھی مرد ہی طرح غسل کرنا چاہیے، نہ صرف ان کو بلکہ تمام عورتوں کو ایک ضروری تعلیمدے دی۔ اس پر اگر کسی کو اعتراض ہے تو گویا وہ یہ چاہتا ہے کہ عورتیں اپنی زندگی کےمسائل کسی سے نہ پوچھیں اور شرم کے مارے خود ہی جو کچھ اپنی سمجھ میں آئے، کرتیرہیں۔ رہا حدیث کا دوسراٹکڑا تو اس میں ایک خاتون کے اظہار تعجب پر حضورﷺ نے یہعلمی حقیقت بیان فرمائی ہے کہ عورت سے بھی اسی طرح مادہ خارج ہوتا ہے، جس طرح مردسے ہوتا ہے۔ اولاد ان دونوں کے ملنے سے پیدا ہوتی ہے اور دونوں میں سے جس کا نطفہغالب رہتا ہے بچے میں اسی کی خصوصیت زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔ اس حدیث کی جو تفصیلاتبخاری و مسلم کے مختلف ابواب میں آئی ہیں ان کو ملا کر دیکھیے۔ ایک روایت میں حضورﷺ کے الفاظ یہ ہیں:

 

و ھل یکون الشبہ الا من قبل ذالک؟ اذا علا ماٰء ھا ما الرجلاشبہ الولدا خوالہ و اذا علماء  الرجل مارھا اشبہ الولد اعمامہ۔

“اور کیا اولاد کیمشابہت اس کے سوا کسی اور وجہ سے ہوتی ہے؟ جب عورت کا نطفہ مرد کے نطفے پر غالبرہتا ہے تو ننھیال پر جاتا ہے اور جب مرد کا نطفہ اس کے نطفے پر غالب رہتا ہے توبچہ ددھیال پر جاتا ہے”۔

 

منکرین حدیث نے جہالت یا شرارت سے ان احادیث کو یہمعنی پہنائے ہیں کہ مجامعت میں اگر مرد کا انزال عورت سے پہلے ہو تو بچہ باپ پرجاتا ہے ورنہ ماں پر۔ ہم اس ملک کی حالت پر حیران ہیں کہ یہاں جہلا اور اشراراعلانیہ اس قسم کی علمی دغا بازی کر رہے ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تک تحقیق کےبغیر اس سے متاثر ہو کر اس غلط فہمی میں پڑ رہے ہیں کہ احادیث ناقابل یقین باتوں سےلبریز ہیں۔

 

چوتھی حدیث میں حضرت عائشہ نے یہ بتایا ہے کہ زوجین ایک ساتھ غسلکر سکتے ہیں اور حضورﷺ نے خود ایسا کیا ہے۔ اس مسئلے کے معلوم کرنے کی ضرورت دراصلان لوگوں کو پیش آئی تھی جن کے ہاں بیویاں اور شوہر سب نماز کے پابند تھے۔ فجر کےوقت ان کو بارہا اس صورت حال سے سابقہ پیش آتا تھا کہ وقت کی تنگی کے باعث یکے بعددیگرے غسل کرنے سے ایک کی جماعت چھوٹ جاتی تھی۔ ایسی حالت میں ان کو یہ بتانا ضروریتھا تا کہ دونوں کا ایک ساتھ غسل کر لینا نہ صرف جائز ہے بلکہ اس میں کوئی قباحتبھی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ مدینے میں اس وقت بجلی کیروشنی والے غسل خانے نہیں تھے اور فجر کی نماز اس زمانے میں اول وقت ہوا کرتی تھی اور عورتیں بھی صبح اور عشا کی نمازوں میں مسجد جایا کرتی تھیں۔ ان باتوں کو نگاہمیں رکھ کر ہمیں بتایا جائے کہ اس حدیث میں کیا چیز ماننے کے لائق نہیںہے۔

 

پانچویں حدیث میں حضرت عائشہ نے بتایا ہے کہ خواب سے غسل کس حالت میںواجب ہوتا ہے اورکس حالت میں واجب نہیں ہوتا۔ اور چھٹی حدیث میں انہوں نے یہ بتایاہے کہ بیداری کی حالت میں غسل کب واجب ہو جاتا ہے۔ ان دونوں حدیثوں کو آدمی اس وقتتک پوری طرح نہیں سمجھ سکتا جب تک اسے یہ نہ معلوم ہو کہ وجوب غسل کے معاملہ میں اسوقت صحابہ کرام اور تابعین کے درمیان ایک اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔ بعض صحابہ اور انکے شاگرد اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ غسل صرف اس وقت واجب ہوتا ہے جب مادہ خارجہو۔ اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے حضرت عائشہ کو یہ بتانا پڑا کہ یہ حکم صرف خوابکی حالت کے لیے ہے، بیداری میں مجرد دخول موجبِ غسل ہو جاتا ہے اور نبی صلی اللہعلیہ و سلم کا اپنا عمل اسی طریقے پر تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ معاملہ نماز پڑھنے والوں کےلیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔کیونکہ جو شخص صرف خروج مادہ پر غسل واجب ہونے کا قائل ہوتاوہ مباشرت بلا اخراجِ مادہ کے بعد نماز پڑھے کی غلطی کر سکتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہو سلم کا اپنا عمل بتانے ہی سے اس مسئلے کا قطعی فیصلہ ہوا۔

 

احادیث نمبر۷، ۸، ۹، ۱۰اور ۱۱ کو سمجھے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ جنابت اور حیض کی حالت میںانسان کے ناپاک ہونے کا تصور قدیم شریعتوں میں بھی تھا اور شریعت محمدیہ میں بھیپیش کیا گیا۔ لیکن قدیم شریعتوں میں یہودیوں اور عیسائی راہبوں کی مبالغہ آرائی نےاس تصور کو حد اعتدال سے اتنا بڑھا دیا تھا کہ وہ اس حالت میں انسان کے وجود ہی کوناپاک سمجھنے لگے تھے اور ان کے اثر سے حجاز کے اور خصوصاً مدینے کے باشندوں میںبھی یہ تصور حدِ مبالغہ کو پہنچ گیا تھا۔ خصوصاً حائضہ عورت کا تو اس معاشرے میں گویاپورا مقاطعہ ہو جاتا تھا۔ چنانچہ اسی کتاب مشکوٰۃ میں، جس سے فاضل جج نے یہ حدیثنقل کی ہیں، باب الحیض کی پہلی حدیث یہ ہے کہ “جب عورت کو حیض آتا تھا تو یہودی اسکے ساتھ کھانا پینا اور اس کے ساتھ رہنا سہنا چھوڑ دیتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہو سلم نے لوگوں کو بتایا کہ اس حالت میں صرف فعل مباشرت ناجائز ہے، باقی ساری معاشرتاسی طرح رہنی چاہیے جیسی عام حالت میں ہوتی ہے۔” لیکن اس کے باوجود ایک مدت تکلوگوں میں قدیم تعصبات باقی رہے اور لوگ یہ سمجھتے رہے کہ جنابت اور حیض کی حالتمیں انسان کا وجود کچھ نہ کچھ گندا تو رہتا ہی ہے اور اس حالت میں اس کا ہاتھ جسچیز کو لگ جائے وہ بھی کم از کم مکروہ تو ضرور ہو جاتی ہے۔ ان تصورات کو اعتدال پرلانے کے لیے حضرت عائشہ کو یہ بتانا پڑا کہ حضورﷺ خود اس حالت میں کوئی اجتناب نہیںفرماتے تھے۔ آپﷺ کے نزدیک نہ پانی گندا ہوتا تھا، نہ بستر، نہ جانماز۔ نیز یہ بھیانہوں نے ہی بتایا کہ حائضہ بیوی کے ساتھ اس کا شوہر صرف ایک فعل نہیں کر سکتا، باقی ہر قسم کا اختلاط جائز ہے۔ ان تعصبات کو حضورﷺ کا اپنا فعل بتا کر حضرت عائشہاور دوسری ازواج مطہرات نے نہ توڑ دیا ہوتا تو آج ہمیں اپنی گھریلو معاشرت میں جنتنگیوں سے سابقہ پیش آ سکتا تھا ان کا اندازہ کیا جا سکتا ہے لیکن اپنے ان محسنوںکا شکریہ ادا کرنے کے بجائے ہم اب بیٹھے یہ سوچ رہے ہیں کہ بھلا نبی کی بیوی اورایسی باتیں بیان کرے!

 

دو مزید حدیثوں پر اعتراض

 

پھر پیراگراف ۲۹ میںفاضل جج دو حدیثیں نقل فرماتے ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہآپﷺ نے جنت کو دیکھا اور اس کے اکثر باشندے فقرا و مساکین تھے اور آپﷺ نے دوزخ کودیکھا اور اس میں کثرت عورتوں کی تھی۔ ان احادیث کے متعلق وہ نہ صرف یہ خیال فرماتےہیں کہ “میں اپنے آپ کو یہ یقین کرنے کے ناقابل پاتا ہوں کہ محمد رسول اللہ نے یہباتیں کہی ہوں گی۔” بلکہ وہ ان احادیث کے پہلے حصے پر رائے زنی بھی کرتے ہیں کہ “اسکا مطلب کیا یہ ہے کہ مسلمانوں کو دولت حاصل کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔”

 

اسطرح کی کوئی حدیث اگر سرسری طور پر کبھی آدمی کی نظر سے گزر جائے تو وہی غلط فہمیلاحق ہوتی ہے جس کا ذکر فاضل جج نے کیا ہے۔ لیکن جن لوگوں نے احادیث کا وسیع مطالعہکیا ہے اور جن کی نگاہ سے اس نوعیت کی بیشتر احادیث گزری ہیں، ان سے یہ بات پوشیدہنہیں ہے کہ حضورﷺ نے اپنے یہ مشاہدات محض بیان واقعہ کی خاطر بیان نہیں کیے ہیں بلکہمختلف انسانی گروہوں کی اصلاح کے لیے بیان فرمائے ہیں۔ آپﷺ نے صرف یہی نہیں بتایا کہغریب آدمیوں کی بہ نسبت دولت مند لوگ جہنم کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں بلکہ دولت مندوںکو یہ بھی بتایا ہے کہ ان کی وہ کیا برائیاں ہیں جو آخرت میں ان کا مستقبل خرابکرتی ہیں اور انہیں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے جس سے وہ دنیا کی طرح آخرت میںبھی خوشحال رہیں۔ اسی طرح آپﷺ نے اپنے مختلف ارشادات میں عورتوں کو یہ بھی بتایا ہےکہ ان کے کون سے عیوب انہیں جہنم کے خطرے میں مبتلا کرتے ہیں جن سے انہیں بچناچاہیے اور کون سی بھلائیاں اختیار کر کے وہ جنت کی مستحق ہو سکتی ہیں۔ جن اصحاب کوایک مسئلے کے تمام متعلقات کا مطالعہ کرنے کی فرصت نہ ہو، انہیں کیا ضرورت ہے کہجزوی معلومات پر اعتماد کر کے اظہار رائے فرمائیں۔

 

ایک اور حدیث پراعتراض

 

اس کے بعد پیراگراف ۲۹ میں فاضل جج فرماتے ہیں:

 

“مزید برآںکیا یہ قابل یقین ہے کہ محمد رسول اللہ نے وہ بات فرمائی ہو گی جو حدیث بخاری کےصفحہ ۹۵۲ پر روایت نمبر ۷۴/۶۰۲ میں عبد اللہ بن قیس سےمروی ہے کہ مسلمان جنت میں انعورتوں سے مباشرت کریں گے جو ایک خیمے کے مختلف گوشوں میں بیٹھی ہوں گی۔”

 

ہمحیران تھے کہ یہ “حدیث بخاری” آخر کون سی کتاب ہے جس کے صفحہ ۹۵۲ کا حوالہ دیا گیاہے۔ آخر شبہ گزرا کہ شاید اس سے مراد تجرید البخاری کا اردو ترجمہ ہو جو ملک دینمحمد اینڈ سنز نے شائع کیا ہے۔ اسے نکال کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ واقعی حوالہاسیکا ہے۔ اب ذرا اس ستم کو ملاحظہ کیجئے کہ فاضل جج علم حدیث پر ایک عدالتی فیصلےمیں ماہرانہ اظہار رائے فرما رہے ہیں اور حوالہ ایک ایسے غلط سلط ترجمے کا دے رہےہیں جس کے مترجم کا نام تک کتاب میں ظاہر نہیں کیا گیا ہے، پھر اس پر مزید ستم یہکہ اصل حدیث کے الفاظ پڑھنے کے بجائے ترجمے کے الفاظ پڑھ کر رائے قائم فرما رہے ہیںاور یہ تک محسوس نہیں فرماتے کہ ترجمے میں کیا غلطی ہے۔ حدیث کے اصل الفاظ اور انکا صحیح ترجمہ یہ ہے:

 

ان فی الجنۃ خیمۃ من لؤلوۃ مجوفۃ، عرضھا ستون میلاً وفی کل زاویۃ منھا اھل ما یرون الآخرین۔یطوفون  علیھم المومنون[25]

جنت میں ایک خیمہ ہے جو کھوکھلے موتی سےبنا ہوا ہے اس کا عرض ۶۰ میل ہے۔ اس کے ہر گوشے میں رہنے والے دوسرے گوشوں میں رہنےوالوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ مومن ان پر گشت کریں گے۔ (یعنی وقتاً فوقتاً ہر ایک گوشےوالوں کے پاس جاتے رہیں گے۔)

 

خط کشیدہ فقرے میں یطوفون علیھم کا ترجمہ مترجمنے “ان سے مباشرت کریں گے” کر دیا ہے اور فاضل جج نے اسی پر اپنی رائے کا مدار رکھدیا ہے۔ حالانکہ “طاف علیہ” کے معنی وقتا فوقتا کسی کے پاس جاتے رہنے کے ہیں نہ کہمباشرت کرنے کے۔ قرآن مجید میں جنت ہی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:

 

یطوفون علیھم ولدان مخلدون “ان پر ایسے لڑکے گشت کرتے ہوں گے جو ہمیشہلڑکے ہی رہنے والے ہیں۔” کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لڑکے ان سےمباشرت کریں گے؟سورۂ نور میں لونڈی غلاموں اور بالغ لڑکیوں کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ وہ تیناوقات میں تو صاحبِ خانہ کی خلوت گاہ میں اجازت لیے بغیر داخل نہ ہوں، البتہ باقیاوقات میں وہ بلااجازت آ سکتے ہیں اور اس حکم کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ “طوافونعلیکم” “وہ تم پر گشت کرنے والے ہیں”۔ کیا یہاں بھی اس طواف کے معنی مباشرت ہی کےہوں گے؟ زیربحث حدیث میں “اہل” سے مراد اگر ایک مومن کی بیویاں ہی ہوں جو اس ۶۰ میلچوڑے خیمے کے مختلف حصوں میں رہیں گی، تب بھی کسی شخص کو اپنی مختلف بیویوں کےگھروں میں جانا کیا لازماً مباشرت ہی کا ہم معنی ہے؟ کیا کوئی بھلا آدمی اس ایک کامکے سوا اپنی بیوی سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا؟ طواف کا یہ ترجمہ تو صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس کے ذہن پر جنس بری طرح سوار ہو۔

 

سنت کے حجت نہ ہونے پر دو مزیددلیلیں

 

پیراگراف ۳۰ میں فاضل جج دو اور دلیلیں پیش فرماتے ہیں۔ اول یہ کہرافع بن خدیج والی روایت میں (جس کا حوالہ انہوں نے دیا ہے) حضورﷺ نے خود یہ فرمایاہے کہ جو معاملات دین سے تعلق نہیں رکھتے، ان میں آپ کی بات کو حرف آخر نہ سمجھ لیاجائے۔ دوم یہ کہ حضورﷺ نے خود اس پر زور دیا ہے (اور یہاں کوئی حوالہ انہوں نے نہیںدیا) کہ قرآن ہی وہ ایک کتاب ہے جو تمام شعبہ ہائے زندگی میں مسلمانوں کی رہنماہونی چاہیے۔

 

ان میں سے پہلی دلیل خود اس حدیث ہی سے ٹوٹ جاتی ہے جس کا حوالہانہوں نے دیا ہے۔ اس میں واقعہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضورﷺ نے اہل مدینہ کو کھجوروںکی باغبانی کے معاملے میں ایک مشورہ دیا تھا جس پر عمل کیا گیا تو پیداوار کم ہوگئی۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ “میں جب تمہارے دین کے معاملہ میں تمہیں کوئی حکم دوںتو اس کی پیروی کرو اور جب اپنی رائے سے کچھ کہوں تو میں بس ایک بشر ہی ہوں۔” اس سےیہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جن معاملات کو دین اسلام نے اپنے دائرۂ رہنمائی میں لیاہے ان میں تو حضورﷺ کے ارشاد گرامی کی پیروی لازم ہے، البتہ جن معاملات کو دین نےاپنے دائرے میں نہیں لیا ہے ان میں آپ کی رائے واجب الاتباع نہیں ہے۔ اب ہر شخص خوددیکھ سکتا ہے کہ دین نے کن معاملات کو اپنے دائرے میں لیا ہے اور کن کو نہیں لیا۔ظاہر ہے کہ لوگوں کو باغبانی، یا درزی کا کام یا باورچی کا کام سکھانا دین نے اپنےذمہ نہیں لیا ہے۔ لیکن خود قرآن ہی اس بات پر شاہد ہے کہ دیوانی اور فوجداریقوانین، عائلی قوانین، معاشی قوانین اور اسی طرح اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کےمتعلق احکام قوانین بیان کرنے کو دین اسلام نے اپنے دائرۂ عمل میں لیا ہے۔ ان امورکے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایات کو رد کر دینے کے لیے مذکورہ بالا حدیثکو دلیل کیسے بنایا جا سکتا ہے۔

 

رہی دوسری دلیل، تو براہ کرم ہمیں بتایاجائے کہ حضورﷺ کی کسی حدیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ مسلمانوں کو رہنمائی کے لیے صرفقرآن کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ حضورﷺ نے تو اس کے برعکس یہ فرمایا ہے کہ:

 

ترکت فیکم امرین لن تصلوا ما تمسکتم بھما، کتاب اللہ و سنۃ رسولہ(موطا)

میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں تھامے رہو، ہرگز گمراہ نہ ہو گے۔ ایک خدا کی کتاب، دوسرا اس کے رسول کی سنت۔

 

کیا محدثین کو خود احادیث پر اعتماد نہ تھا

 

پیرا گراف ۳۱ میں فاضل جج ایکاور دلیل لاتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں : “یہ بات کہ محدثین خود اپنی جمع کردہ احادیث کیصحت پر مطمئن نہ تھے، صرف اسی ایک امر واقعہ سے واضح ہو جاتی ہے کہ وہ مسلمانوں سےیہ نہیں کہتے کہ ہماری جمع کردہ احادیث کو صحیح مان لو بلکہ یہ کہتی ہیں کہ انہیںہمارے معیار صحت سے جانچ کر اپنا اطمینان کر لو۔ اگر انہیں ان احادیث کی صحت کایقین ہوتا تو یہ جانچنے کا سوال بالکل غیر ضروری تھا۔” درحقیقت یہ ایک عجیب استدلالہے۔ دنیا کا کوئی محقق آدمی کسی چیز کو اس وقت تک صحیح نہیں کہتا جب تک اسے اپنیجگہ اس کی صحت کا اطمینان نہیں ہو جاتا لیکن آپ کسی ایماندار محقق سے یہ توقع نہیںکر سکتے کہ وہ اپنی تحقیق پر ایمان لے آنے کا دنیا بھر سے مطالبہ کرے گا اور دھڑلےکے ساتھ لوگوں سے کہے گا کہ میں اسے صحیح سمجھتا ہوں، لہٰذا تم کو بھی اسے صحیح مانلینا چاہیے۔ وہ تو یہی کرے گا کہ اپنی تحقیقات کے دوران میں جو مواد بھی اس کےسامنے آیا ہے، وہ سب کا سب لوگوں کے سامنے رکھ دے گا اور بتا دے گا کہ اس مواد کیبنیاد پر میں ان نتائج تک پہنچا ہوں۔ تم بھی انہیں جانچ لو، اگر تمہارا اطمینانمیرے اخذ کردہ نتائج پر ہو تو انہیں قبول کر لو، ورنہ یہ مواد حاضر ہے، اس کے ذریعہسے خود تحقیق کر لو۔ محدثین نے یہی کام کیا ہے۔ انہیں حضورﷺ کا جو فعل یا قول بھیپہنچا ہے اس کی پوری سند انہوں نے بیان کر دی ہے۔ ہر سند میں جتنے راوی آئے ہیں انمیں سے ایک ایک کر کے حالات بیان کر دیئے ہیں، مختلف سندوں سے آنے والی روایات میںجن جن پہلوؤں سے ضعف یا قوت کا کوئی پہلو نکلتا ہے، اسے بھی صاف صاف بتا دیتا ہےاور ہر حدیث کے متعلق اپنی رائے دے دی ہے کہ ہم فلاں فلاں دلائل کی بنا پر اس کوصحت یا کمزوری کے اعتبار سے یہ درجہ دیتے ہیں۔ اب یہ ظاہر ہے کہ جن حدیثوں کو وہ اسمدلل طریقے سے صحیح کہتے ہیں وہ ان کے نزدیک صحیح ہی ہیں۔ ان کی صحت کا انہیں یقیننہ ہوتا تو وہ آخر انہیں صحیح کہتے ہی کیوں۔ مگر کیا اس کے بعد انہیں یہ بھی کہناچاہیے تھا کہ اے مسلمانو! تم بھی ان کی صحت پر ایمان لاؤکیونکہ ہم انہیں صحیح قراردے رہے ہیں؟

 

احادیث میں اجمال اور بے ربطی کی شکایت

 

پیرا گراف ۳۳ میںفاضل جج دو باتیں اور ارشاد فرماتے ہیں جن پر ان کے دلائل کا خاتمہ ہوتا ہے۔ ان میںسے پہلی بات یہ ہے کہ “بہت سی احادیث بہت مختصر اور بے ربط ہیں جنہیں پڑھ کر صافمحسوس ہوتا ہے کہ ان کو سیاق و سباق اور موقع ومحل سے الگ کر کے بیان کیا گیا ہے۔ان کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا اور ان کا صحیح مفہوم و مدعا مشخص کرنا ممکن نہیں ہے۔ جب تکان کا سیاق سامنے نہ ہو اور وہ حالات معلوم نہ ہوں جن میں رسول پاک نے کوئی بات کہیہے یا کوئی کام کیا ہے۔” دوسری بات وہ فرماتے ہیں کہ “یہ کہا گیا ہے اور بجا طور پرکہا گیا ہے کہ حدیث قرآن کے احکام کو منسوخ نہیں کر سکتی، مگر کم از کم ایک مسئلےمیں تو احادیث نے قرآن پاک میں ترمیم کر دی ہے اور وہ وصیت کا مسئلہ ہے۔”

 

اندونوں باتوں کے متعلق بھی چند کلمات عرض کر کے ہم اس تنقید کو ختم کرتےہیں۔

 

پہلی بات دراصل ایک ایسا تاثر ہے جو حدیث کی ملخص کتابوں میں سے کسی کوسرسری طور پر پڑھنے سے ایک عام ناظر لیتا ہے۔ لیکن ذخیرۂ احادیث کی وسیع علمیمطالعہ کے بعد آدمی کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اکثر و بیشتر احادیث جو کسی جگہ مختصراور بے ربط ہیں، کسی دوسری جگہ ان کا پورا سیاق و سباق، تمام متعلقہ واقعات کے ساتھمل جاتا ہے۔ پھر جن احادیث کے معاملہ میں تفصیلات نہیں ملتیں، ان پر بھی اگر غورکیا جائے تو ان کے الفاظ خود ان کے پس منظر کی طرف اشارہ کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن انکے پس منظر کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے حدیث اور سیرت کی کتابوں کا کثرتسے مطالعہ کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد اور اس وقت کے معاشرےکی کیفیت کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔ وہ ایک مختصر حدیث میں اچانک کسی قول یا کسیواقعہ کا ذکر دیکھ کر با آسانی یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ بات کن حالات میں اور کسمحل پر کہی گئی ہے اور یہ واقعہ کس سلسلۂ واقعات میں پیش آیا ہے۔ اس کی کچھ مثالیںاس سے پہلے تنقید کے سلسلے میں بعض احادیث کی تشریح کرتے ہوئے ہم پیش کر چکےہیں۔

 

کیا حدیث، قرآن میں ترمیم کرتی ہے؟

 

دوسرے بات کے متعلق ہم عرضکریں گے کہ وصیت کے متعلق جن احادیث کو فاضل جج قرآن میں ترمیم کا ہم معنی قرار دےرہے ہیں، ان کو اگر سورۂ نسا کے احکام میراث کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو صاف معلومہوتا ہے کہ ان میں حکم قرآن کے ترمیم نہیں بلکہ توضیح کی گئی ہے۔ اس سورۃ کے دوسرےرکوع میں چند رشتہ داروں کے حصے مقرر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ حصے مورث کیوصیت پوری کرنے کے بعد اور اس کا قرض ادا کرنے کے بعد نکالے جائیں۔ اب اگر فرضکیجئے کہ ایک شخص یہ وصیت کرے کہ کسی وارث کو قرآن کے مقرر کردہ حصے سے کم دیاجائے اور کسی کو اس سے زیادہ دیا جائے اور کسی کو کچھ نہ دیا جائے، تو دراصل وہوصیت کے ذریعہ سے قرآن کے حکم میں ترمیم کا مرتکب ہو گا۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہو سلم نے فرمایا کہ لا وصیۃ لوارث “وارث کے بارے میں کوئی وصیت نہیں کی جا سکتی” یعنی اس کا جو حصہ قرآن میں مقرر کر دیا گیا ہے، اسے وصیت کے ذریعہ سے نہ ساقط کیاجا سکتا ہے، نہ گھٹایا جا سکتا ہے، نہ بڑھایا جا سکتا ہے بلکہ لازماً قرآن ہی کےمطابق وارثوں میں ترکہ تقسیم کرنا ہو گا۔ البتہ غیر وارث لوگوں کے حق میں، یااجتماعی مفاد کے لیے یا راہ خدا میں صرف کرنے کے لیے ایک شخص وصیت کر سکتا ہے لیکناس صورت میں یہ امکان بھی تھا کہ ایک شخص کسی وجہ سے اپنا تمام مال یا اس کا بڑاحصہ غیر وارثوں ہی کو دے دینے کی وصیت کر بیٹھے اور وارثوں کو محروم کر دے۔ اس لیےحضورﷺ نے مورث کے اختیارات پر ایک اور پابندی یہ عاید کر دی کہ وہ صرف  ۳/۱ (ایک بٹہ تین) مال کی حدتک ہی وصیت کر سکتا ہے، باقی ۳/۲ لازماً اسے ان حق داروں کے لیے چھوڑنا ہو گا جن کوقرآن نے قریب ترین حق دار قرار دیا ہے اور تنبیہ کر دی ہے کہ لا تدرون ایھم اقربلکم نفعا۔ قرآنی حکم پر عمل کرنے کے لیے یہ قواعد و ضوابط جو قرآن کے لانے والے رسولنے بنا دیئے ہیں، ان کو اچھی طرح سمجھ کر ہمیں بتایا جائے کہ آخر کس معقول دلیل سےان کو “ترمیم” کی تعریف میں لایا جا سکتا ہے۔ اس طرح کی باتیں کرنے سے پہلے آخر کچھتو سوچنا چاہیے کہ قرآن مجید کے احکام کی توضیح و تشریح اگر اس کا لانے والا ہی نہکرے گا تو اور کون کرے گا۔ اور اگر یہ تشریح اس وقت نہ کر دی جاتی تو وصیت کےاختیارات استعمال کرنے میں لوگ قرآن کے قانون وراثت کا کس طرح حلیہ بگاڑ کر رکھدیتے۔ پھر اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ اس صحیح تشریح کو تو فاضل جج “ترمیم”  قرار دیتے ہیں، لیکن خود اپنے اسی فیصلے میں انہوں نے بطور نمونہ قرآن کے تین احکامکی جو مجتہدانہ تعبیریں فرمائی ہیں ان کے متعلق وہ بالکل محسوس نہیں فرماتے کہدراصل ترمیم کی تعریف میں تو ان کی اپنی یہ تعبیرات آتی ہیں۔

 

               آخریگزارش

 

یہ ہیں وہ جملہدلائل جو فاضل جج نے حدیث و سنت کے متعلق اپنی رائے کے حق میں پیش کیے ہیں۔ ہم نےان میں سے ایک ایک دلیل کا تفصیلی جائزہ لے کر جو بحث کی ہے اسے پڑھ کر ہر صاحب علمآدمی خود یہ رائے قائم کر سکتا ہے کہ ان دلائل میں کتنا وزن ہے اور ان کے مقابلےمیں سنت کے مآخذ قانون اور احادیث کے قابل استناد ہونے پر جو دلیلیں ہم نے قائم کیہیں وہ کس حد تک وزنی ہیں۔ ہم خاص طور پر خود فاضل جج سے اور مغربی پاکستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور ان کے رفقا سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ پورے غور کے ساتھ ہماریاس تنقید کو ملاحظہ فرمائیں اور اگر ان کی بے لاگ رائے میں، جیسی کہ ایک عدالتعالیہ کے فاضل ججوں کے رائے بے لاگ ہونی چاہیے، یہ تنقید فی الواقع مضبوط دلائل پرمبنی ہو تو وہ قانون کے مطابق کوئی ایسی تدبیر عمل میں لائیں جس سے یہ فیصلہ آئندہکے لیے نظیر نہ بن سکے۔ عدالتوں کا وقار ہر ملک کے نظامِ عدل و انصاف کی جان ہوتا ہےاور بہت بڑی حد تک اسی پر ایک مملکت کے استحکام کا انحصار ہوتا ہے۔ اس وقار کے لیےکوئی چیز اس سے بڑھ کر نقصان دہ نہیں ہے کہ ملک کی بلند ترین عدالتوں کے فیصلے علمیحیثیت سے کمزور دلائل اور ناکافی معلومات پر مشتمل ہوں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جبایمان دارانہ تنقید سے ایسی کسی غلطی کی نشان دہی ہو جائے تو اولین فرصت میں خودحاکمان عدالت ہی اس کی تلافی کی طرف توجہ فرمائیں۔

٭٭٭

پروف ریڈنگ: جویریہ مسعود، اعجاز عبید

ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

 

 

حواشی

 

 

[1] اس سے آگے فاضل جج نے جو احادیث مع ترجمہ درج کی ہیں وہ فضل الکریم صاحب کے انگریزی ترجمۂ مشکوٰۃ “الحدیث” جلد اول طبع ۱۹۳۹ سے جوں کی توں نقل کر دی گئی ہیں۔ ان احادیث کی عبارت اور ان کے ترجمے میں متعدد مقامات پر سخت غلطیاں موجود ہیں۔ اصل مشکوٰۃ سے مراجعت کے بعد ہم نے حتی الوسع ان غلطیوں کی اصلاح کر دی ہے (ملک غلام علی)

[2] اس فقرے کا ترجمہ اصل فیصلے کے متن میں یوں کیا گیا ہے: “اس سے زیادہ عجیب اور پسندیدہ بات کونسی ہو گی”۔ یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے (ملک غلام علی)

[3] اس فقرے کا ترجمہ فیصلے میں یوں ہے: “مجھے چھوڑ دو۔ کیا تم اپنے رب کی عبادت کرو گی؟” (ملک غلام علی)

[4] تری: رطوبت (جویریہ مسعود)

[5] اصل فیصلے میں اس حدیث کے نقل کردہ الفاظ اور ترجمے میں بعض غلطیاں تھیں جن سے مطلب خلط ہو جاتا تھا، انہیں یہاں درست کیا گیا ہے (ملک غلام علی)

[6]غیرا انّ کا ترجمہ فیصلے میں (in addition to) درج ہے۔ یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے۔ (ملک غلام علی)

[7] اصل متن میں غلطی سے  ایت درج ہے جس کی تصحیح ۱۹۶۳ کے نسخے کے مطابق کر دی ہے (جویریہ مسعود)

[8] امام ابو حنیفہ کے بعد تدوین قانان اسلامی کا دوسرا کارنامہ امام مالک نے انجام دیا اور وہ بھی محض اخلاقی طاقت کے زور سے اندلس اور شمالی افریقہ کی مسلم ریاستوں کا قانون بن گیا۔ پھر امام شافعی اور ان کے بعد امام حمد بن حنبل نے خالص غیر سرکاری حیثیت میں قوانین اسلامی کی تدوین کی اور یہ دونوں بھی محض عام مسلمانوں کی رضا سے متعدد مسلمان ریاستوں کے قوانین قرار پاگئے۔ اسی طرح زیدی اور جعفری فقہیں بھی اشخاص نے اپنی پرائیویٹ حیثیت میں مرتب کیں  اور وہ بھی صرف اپنی اخلاقی طاقت سے شیعہ ریاستوں کا قانون بنیں۔ پھر اہل حدیث کے مسلک پر جو فقہی احکام مرتب ہوئے ان کو بھی کسی سیاسی اثر کے بغیر لاکھوں مسلمانوں نے اپنی زندگی کا قانون اپنی مرضی سے بنایا بغیر اس کے کہ کوئی جبر ان کی پشت پر ہوتا (مودودی)

[9] اصل متن کتاب میں آیت کریمہ کا کلمہ “تحصناً” کو غلطی سے تحضا لکھا گیا ہے۔ غلطی کی تصحیح کر دی ہے۔ (جویریہ مسعود)

[10] “تزکیہ” کے معنی “برائیوں سے پاک کرنا اور بھلائیوں کو نشو و نما دینا” ہیں۔ اس لفظ میں آپ سے یہ معنیبھی متضمن ہیں کہ تزکیہ کرنے والا ہی ان برائیوں کو مشخص کرے گا جن سے افراد اورمعاشرے کو پاک کرنا ہے اور ان بھلائیوں کا تعین کرے گا جنہیں افراد اور معاشرے میںنشو و نما دینا ہے۔(مودودی)

[11] علم حدیث کی اصطلاح میں مسند سے مراد وہ کتاب ہے جس میں ایک شخص کی روایت کردہاحادیث یکجا جمع کر دی گئی ہیں۔ (مودودی)

[12] واضح رہے کہ ضعیف حدیث کے معنی جھوٹی حدیث کے نہیں ہیں۔ اسجگہ ضعیف سے مراد وہ حدیث ہے جس کی سند تو قوی نہ ہو، مگر جس سے یہ گمان کیا جا سکےکہ یہ حضور ہی کا قول ہو گا (مودودی)

[13] یہ عجیب بات ہے، شاید اتفاقاً ہی ایسا ہوا ہو کہ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں جتنی آیات اور احادیث کاحوالہ دیا ہے، ان کا ترجمہ بھی ساتھ ہی دے دیا ہے، لیکن اس حدیث کا ترجمہ انہوں نےنہیں دیا۔ اس کا ترجمہ یہ ہے۔ “مجھ سے کوئی چیز نہ لکھو اور جس مجھ سے قرآن کے سواکچھ لکھا ہو وہ اسے مٹا دے، البتہ زبانی روایت بیان کرو، اس میں کوئی مضائقہ نہیں” اس حدیث کا خط کشیدہ فقرہ فاضل جج کے مدعا کے بالکل خلاف پڑتا ہے۔(مودودی)

[14] اس سے مراد لاہوری احمدیوں کے امیرہیں، مولانا محمد علی جوہر نہیں ہیں (مودودی)

[15] فاضل جج نے یہنام اسی طرح لکھا ہے۔ حالانکہ جامع ترمذی مصنف کا نام نہیں بلکہ کتاب کا نام ہے۔مصنف صرف ترمذی کے نام سے مشہور ہیں (مودودی)

[16] یہ بھی مصنفین کے نہیں، کتابوں کے نام ہیں، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہکی تو ابھی وفات نہیں ہوئی ہے (مودودی)

[17] ہمارے علم میں اس نام کاکوئی مصنف نہیں گزرا ہے، نہ کسی ایسی کتاب سے ہم واقف ہیں جس کا یہ نام ہو (مودودی)

[18] اس واقعہ کو مشہورمحدث عبد اللہ بن عدی نے اپنی کتاب ” الکامل فی معرفتہ الضعفا والمترکین” میں بیانکیا ہے۔(مودودی)

[19] (اس مقام پر ایک اور غلط فہمی رفع کر دینی ضروریہے۔ علم حدیث کی اصطلاح میں “صحیح” سے مراد وہ حدیث ہے جس کی سند میں صحت کی مخصوصشرائط پائی جاتی ہوں۔ اس سے کم تر درجے کی سندوں کے لیے وہ دوسری اصطلاحات استعمالکرتے ہیں۔ مگر علم حدیث سے ناواقف لوگ “صحیح” کے لفظ کو سچی حدیث کے معنی میں لےلیتے ہیں اور یہ گمان کر لیتے ہیں کہ اس کے ماسوا جتنی حدیثیں ہیں، سب جھوٹیہیں۔(مودودی)

[20] اصل متن کتاب میں لفظ “قریب” غلط ہے۔  نسخہ مطبوعہ ۱۹۶۳ میں لفظ “مرتب” ہے۔ درستگی کی گئی ہے۔ (جویریہ مسعود)

[21] یہ آخری جملے واضح کر رہے ہیں کہ کچھ لوگوں نے گدھے اورکتے اور دوسرے درندوں کو اس دلیل سے حلال ٹھہرانے کی کوشش کی ہو گی کہ قرآن میں انکی حرمت کا کوئی حکم نہیں آیا ہے۔ اس پر حضورﷺ نے یہ تقریر فرمائی ہو گی۔ (مودودی)

[22] حدیث کا یہ آخری ٹکڑا صاف بتارہا ہے کہ کچھ منافقین نے ذمیوں پر دست درازیاں کی ہوں گی اور قرآن کا سہارا لے کرکہا ہو گا کہ بتاؤ قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ اہل کتاب کے گھروں میں داخل ہونے کےلیے بھی اجازت کی ضرورت ہے۔ اور قرآن میں کہاں ان کی عورتوں پر ہاتھ ڈالنے اور انکے باغوں کے پھل کھا لینے سے منع کیا گیا ہے۔ اس پر حضورﷺ نے یہ تقریر فرمائی ہوگی۔(مودودی)

[23] اصل متنِ کتاب میں غلطی سے “ساتھ” درج ہے۔ سیاق و سباق سے ظاہر ہے کہ لفظ “ساقط” ہی درست ہے۔ (جویریہ مسعود)

[24] اصل متن کتاب میں ” سہل انگاری” درج ہے جو کہ کتابت کی غلطی ہے۔ صحیح ترکیب “سہل نگاری” ہے۔ (جویریہ مسعود)

[25] سنت کی آئینی حیثیت  مطبوعہ مئی ۱۹۹۷ (جس سے یہ کتاب سکین کی گئی ہے) میں حدیث کا یہ ٹکڑا  “یطوفون  علیھم المومنون” شائع ہونے سے رہ گیا ہے۔ البتہ  اکتوبر ۱۹۶۳ کے مطبوعہ نسخے میں یہ  حصہ موجود ہے۔ درستگی بمطابق نسخہ مطبوعہ ۱۹۶۳ کی گئی ہے۔ (جویریہ مسعود)

٭٭٭