FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

فہرست مضامین

ستیہ پال آنند

 

 

 

آن لائن جریدے  ’سمت‘ کے شمارہ   ۳۳ کے ’گوشہ ستیہ پال آنند‘ سے ماخوذ

 

                   مدیر اعلیٰ: اعجاز عبید

 

 

کوائف ستیہ پال آنند

 

نام :            ستیہ پال آنند

پیدائش:          24 اپریل 1931ء

موضع کوٹ سارنگ، تحصیل تلہ گنگ، ضلع چکوال، پنجاب، پاکستان

والدین:        والد : رام نارائن آنند

والدہ: ودیا ونتی، پنجابی شاعرہ اور سکھ اسکالر

تعلیم :          مارچ 1947ء میں میٹرک مشن ہائی اسکول، راولپنڈی سے کیا۔

1951ء میں ادیب فاضل (آنرز اِن اردو)

1952ء میں انٹر میڈیٹ، 1954ء میں بی اے (آنرز اِن فلاسفی)

1960ء میں ایم اے (انگلش) پنجاب یونیورسٹی، چنڈی گڑھ

1967ء میں ڈاکٹریٹ، (انگریزی ادب) پنجاب یونیورسٹی، چنڈی گڑھ

1986ء میں دوسری ڈاکٹریٹ (فلسفہ) : ٹرنٹی یونیورسٹی، امریکا

ادب سے وابستگی:شعر گوئی کا آغاز تیرہ برس کی عمر میں۔ حب الوطنی پر پہلی نظم ’’سرحدی سماچار‘‘ ویکلی پشاور میں شامل اشاعت ہوئی۔ راولپنڈی میں منشی تلوک چند محروم کی شفقت پائی۔ افسانہ نگاری کا آغاز۔ ۔ ۔ ۔ نظمیں اور افسانے لاہور سے شائع ہونے والے اوسط درجے کے نیم ادبی نیم فلمی رسائل ’’لطف شباب‘‘، ’’مست قلندر‘‘، ’’مستانہ جو گی‘‘ وغیرہ میں شامل اشاعت ہوئے۔ اگست 1947ء میں آبائی وطن سے ہندوستان کو ہجرت، راستے میں والد کا قتل۔ ۔ ۔ ۔ لدھیانہ (مشرقی پنجاب) میں سکونت، چھوٹی موٹی نوکریاں، افسانہ نگاری اور ناول نویسی کل وقتی پیشہ اپنایا۔ ان برسوں میں ایک سو کے لگ بھگ افسانے لکھے۔ ’’بیسویں صدی‘‘، ’’شمع‘‘، سے خاطر خواہ معاوضے پر انحصار، ghost writing میں جاسوسی ناول لکھے۔ ہندی کی طرف مراجعت۔ کئی افسانے ہندی رسائل میں پہلے شائع ہوئے۔ ہندی میں معاوضے کی شرح اردو سے کئی گُنا زیادہ ہوا کرتی تھی۔ 1954ء میں دہلی سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’’راہی‘‘ (مدیر: بلدیو متر بجلی) کے ساتھ معاون مدیر کے طور پر ادبی اور تجارتی انسلاک۔ -1955 1957 ء تک ادبی ’’آوارگی‘‘ کا دو برسوں پر محیط دورانیہ۔ دہلی، بمبئی اور دیگر شہروں میں اردو اہل قلم سے میل جول۔

 

ازدواجی زندگی: 24نومبر1957ء کو شادی ہوئی۔ اہلیہ پروملا آنند (پشاور کی پیدائش)۔ شادی کے پہلے پانچ برسوں میں تین بچوں (دو بیٹوں اور ایک بیٹی )کی پیدائش۔ تینوں اب امریکا اور کینیڈا میں بفضل خدا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور بر سر روزگار ہیں۔

 

ملازمتیں، درس و تدریس و تحقیق کا لیکھا جوکھا: 1960ء میں پہلے ڈی اے وی کالج اور پھر اسی برس پنجاب یونیورسٹی چنڈی گڑھ میں بطور لیکچرر اِن انگلش تعیناتی۔ 1964ء میں سینٹرل انسٹیٹیوٹ آف انگلش اینڈ فارن لینگویجز، حیدر آباد دکن سے ایک تربیتی کورس پاس کیا۔ حیدر آباد قیام کے دوران ڈاکٹر محی الدین قادری زور کی شفقت پائی۔ ہم عمر لکھنے والوں، شاذ تمکنت، وحید اختر، مغنی تبسم اور کئی دوسروں سے رابطہ اور مستحکم دوستی۔ 1967ء میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ ملازمت کے ان سات برسوں میں تیس سے کچھ اوپر ریسرچ پیپر انگریزی ادب کے عالمی جرائد میں شامل اشاعت ہوئے۔ دہلی، ممبئی، کولکاتہ، بنگلور وغیرہ یونیورسٹیوں میں سیمیناروں میں شرکت۔ 1971ء میں ریڈر؍ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر ترقی 1971ء میں جواہر لال نہرو کی مطبوعہ کتب اور غیر مطبوعہ مخطوطات پر نہرو میوزیم دہلی میں ریسرچ، جس کا نتیجہ پنجاب یونیورسٹی، چنڈی گڑھ کے پبلیکیشنز بیوریو سے انگریزی کتاب پرامسز ٹو کیپ  Promises To Keepشائع ہوئی۔ اس پر نہرو فیلو شپ ایوارڈ ملا، ۔ 1972-74ء میں برٹش اوپن یونیورسٹی، ملٹن کیینز، انگلینڈ میں تین برسوں کے لیے بطور ریزیڈنٹ اسکالر قیام۔ وزیٹنگ پروفیسر شپ متعدد یونیورسٹیوں میں، بشمولیت برٹش کولمبیا یونیورسٹی، وین کوور، ٹرنٹی یونیورسٹی، واٹرلو یونیورسٹی اور نیو بارسیلونا کالج آف اورینٹل اسٹڈیز۔ ۔ ۔ ۔ مختلف برسوں میں۔ 1982ء میں پنجاب یونیورسٹی میں ڈائریکٹر کاریسپا نڈنس کورسز کے طور پر تقرر۔ طویل المدتی چھٹی کے دوران امریکا میں ساؤتھ ایسٹرن یونیورسٹی، واشنگٹن ڈی سی میں World Poetry Project پر کام۔ 1988ء میں پنجاب یونیورسٹی سے باقاعدہ ریٹائرمنٹ اور امریکا کو ہجرت۔ ایک بار پھر ساؤتھ ایسٹرن یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف دی ڈسٹرکٹ آف کولمبیا سے تدریسی الحاق۔ اس دوران میں دو برسوں کے لیے سعودی عرب میں تربیتی کالج ریاض میں تقرر۔ 2007ء میں مکمل ریٹائرمنٹ اور کل وقتی شعر و ادب کی خدمت۔ ۔ ۔ جو تا حال جاری ہے۔

 

تصانیف۔

اردو

شعری مجموعے

۱۔ جائزے (۱۹۵۲ء)،

۲۔ دست برگ (۱۹۸۸ء)،

۳۔ وقت لا وقت (۱۹۹۳)، ۔

۴۔ آنے والی سحر بند کھڑکی ہے۔ (۱۹۹۳ء)

۵۔ لہو بولتا ہے (۱۹۹۷ء)۔

۶۔ مستقبل، آ مجھ سے مل (۱۹۹۹ء)۔

۷۔ آخری چٹان تک (۲۰۰۰ء)

۔ ۸۔ مجھے نہ کر وداع (۲۰۰۴ء)

۔ ۹۔ میرے اندر ایک سمندر (۲۰۰۷ء)۔

۱۰۔ میری منتخب نظمیں (۲۰۰۹ء)

۔ ۱۱۔ بیاض عمر کھولی ہے (۲۰۱۲)

۔ ۱۲۔ جو نسیم خندہ چلے، مرتبہ گلزار۔ (۲۰۱۳ء)

، ۱۳۔ ستیہ پال آنند کی ساٹھ نظمیں، مرتبہ فاطمہ حسن۔ (۲۰۱۴)

، ۱۴۔ تتھا گت نظمیں (۲۰۱۵)

۔ ۱۵۔ ترکال کی بیلا (۲۰۱۵)۔

کل تعداد۔ شعری مجموعے۔ پندرہ

 

افسانوی مجموعے

۱۔ جینے کے لیے (۱۹۵۳ء)

۲۔ اپنے مرکز کی طرف (۱۹۵۶ء)

۳۔ اپنی اپنی زنجیر (۱۹۸۸ء)

۴۔ پتھر کی صلیب (۱۹۸۹ء)

۵۔ میرے منتخب افسانے (۲۰۱۰)

 

ناول

۱۔ عشق، موت اور زندگی (۱۹۵۴ء)

۲۔ آہٹ (۱۹۵۷ء)

۳۔ چوک گھنٹہ گھر (۱۹۵۸ء)

۴۔ شہر کا ایک دن (چوک گھنٹہ گھر کا ترمیم شدہ ایڈیشن) (۱۹۹۰ء)

 

ہندی

کہانیاں

۱۔ یُگ کی آواز (۱۹۵۴ء)

۲۔ پینٹر باؤری (۱۹۵۶ء)،

۔ ۳۔ آزادی کی پکار (دو حصے ) ۱۹۵۷ء

ٍٍٍ                                        ناول

اردو کے سبھی ناول ساتھ ساتھ ہندی میں بھی شائع ہوئے۔

شاعری

۱۔ پھول پھول پر نظم (۲۰۱۳)۔ ۲

تتھاگت نظمیں (۲۰۱۵)

 

پنجابی: گورمکھی رسم الخط

شعری مجموعے

۱۔ غزل غزل دریا (۱۹۸۳ء)

۲۔ غزل غزل ساگر (۱۹۸۵ء)

۳۔ غزل غزل اک لہر (۱۹۸۶ء)

دیگر

بھارت دے سوتنترتا سنگرام دی اک جھلک (نثر) ۱۹۸۸ء

 

ستیہ پال آنند کے فن کے بارے میں کتب:

اردو

۱۔ ستیہ پال آنند کی تیس نظمیں۔ مرتبہ بلراج کومل۔

۲۔ ستیہ پال آنند کی نظم نگاری : مرتبہ ڈاکٹر عبداللہ

English

A Unique Amalgam of Indian and British Traditions in Poetry, sub-titled: “Satyapal Anand’s English and Urdu poetry in relation to Indo-Anglian Tradition of twentieth century poets”.  A Ph.D. thesis in Comparative Literature for Gottschild University)

انگریزی کتب

نو (۹) شعری مجموعے، کلکتہ (انڈیا)، دہلی (انڈیا) اور امریکا سے شائع شدہ

تعلیم، تنقید، فلسفہ اور تاریخ پر آٹھ کتابیں انڈیا سے شائع شدہ۔

کل تعداد : سترہ۔

 

ستیہ پال آنند کی کتابوں کی تعداد پچاس سے تجاوز کر چکی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

ستیہ پال آنند کی شاعری میں عورت ۔ ایک منفی استعارہ ۔۔۔ ڈاکٹر اے عبداللہ

 

 

یہ امر تو مسلم ہے کہ ستیہ پال آنند جیسے ہمہ جہت شاعر کے ہاں، جس نے چھ سو سے کچھ اوپر نظمیں لکھی ہوں، First Person Pronoun یعنی ’’میں ‘‘ کی شخصیت ذاتی یا وارداتی نہیں ہو سکتی۔ ’’میں ‘‘ وہ ’’متکلم یا موجود راوی‘‘ کا نطق ہے جس کے توسط سے شاعر ایک عندیہ اپنے شعری اظہار میں ڈھالتا ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ منشا یا عندیہ اس کا ذاتی ہو۔ اس لیے یہ باور کر لینا کہ فلاں نظم میں شاعر بنفس نفیس خود محو کلام ہے اور آپ بیتی بیان کر رہا ہے، کلیتاً غلط ہے۔ ستیہ پال آنند کا طریق کار، بقول بلراج کومل کچھ اس طرح ہے :

وہ (ستیہ پال آنند) خیال کو جذبے میں بدلنے کے فن میں مکمل طور پر قادر ہیں جو عام طور پر اپنی نظم میں بیانیہ اور کہانی (کہیں کہیں فیبل) کے سے انداز کو بروئے کار لاتے ہیں اور نظم کو مربوط متناسب اکائی کے روپ میں بعض اوقات واحد متکلم موجود راوی، بعض اوقات غیر شخصی راوی یا منظر نامے سے غائب راوی کے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔

(پیش لفظ۔ ’’ستیہ پال آنند کی تیس نظمیں ‘‘)

 

یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ انیسویں صدی کے آخر تک انگریزی تنقید میں بھی شاعر کی ذات، اس کی زندگی کے حالات، اس کی نفسیاتی، سماجی یا معاشی آسودگی یا نا آسودگی کا ذکر ایک تنقید نگار کے لیے ایک اہم فریضہ تھا، لیکن بیسویں صدی کے شروع میں یورپی تنقید میں شعری یا نثری تخلیق کو اس کے خالق سے آزاد کر کے ایک منفرد اکائی مان لیا گیا، اور تبھی یہ بات واضح ہوئی کہ ’’میں ‘‘ کے صیغہ ’ واحد متکلم موجود راوی ‘ میں بھی ایک سے زیادہ کرداروں کی موجودگی ممکن ہے۔

ستیہ پال آنند کی وہ نظمیں جن میں مرد اور عورت کے باہمی تعلقات کو (زیادہ تر ازدواجی رشتے کے حوالے سے، یا خال خال غیر ازدواجی رشتے کے جزر و مد میں ) دیکھا گیا ہے، تعداد میں بہت زیادہ نہیں ہیں۔ پانچ صد نظموں کے خالق کے ہاں دس یا بارہ نظموں کی موجودگی موضوعاتی سطح پر اہم نہیں ہے۔ ایک وجہ تو یہی ہے کہ ڈاکٹر آنند نے اپنی تحصیل علم میں، جامعات کی سطح پر تحقیق اور تدریس میں، سیاحت اور ہجرتوں کے ایک لا اختتام سلسلے میں، جو کچھ پایا، وہ عورت مرد کے باہمی تعلقات سے کہیں زیادہ اہم تھا، اور یوں بھی ’’عشق و محبت‘‘ تو، ان کے قول کے مطابق، ’’نا پختہ ذہنوں اور لڑکپن کی پہلی کچی بلوغت کا پسندیدہ موضوع ہے۔ ‘‘

حیرت کی بات یہ ہے کہ جہاں شاعر کا واحد متکلم اس کا اپنا ذاتی تشخص نہیں ہے، وہاں ڈاکٹر آنند کی ان نظموں کو چالیس برسوں کے احاطے میں رکھ کر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یعنی وہ نظمیں جو ۱۹۹۰ء سے پہلے لکھی گئیں، اور وہ جو ۱۹۹۱ ء کے بعد لکھی گئیں۔

 

 

                   پہلے دور کی نظمیں

________________________________________

 

پہلے دور کی نظموں میں باہمی اعتماد، محبت اور شفقت ہے۔ ایک دوسرے پر انحصار ہے۔ ہوس اور جسمانی تعلق سے کہیں اوپر اٹھ کر روح کی سطح پر ملن، یا ایک جنم سے تجاوز کر کے آنے والے جنموں تک ساتھ نبھانے کا قول ہے۔ زوال عمر کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس بات کا اعادہ ہے کہ جسم ایک فروعی شے ہے، انسانی خواہشات سے اونچا اٹھ کر، جسم اور اس کی کمزوریوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے، میاں بیوی روح کی بالیدگی کا سامان مہیا کر سکتے ہیں۔ بر خلاف اس کے دوسرے دور کی نظموں میں بد اعتمادی، رنجش، الزام گردانی کا ماحول ہے اور اس کا ذمہ دار عورت کو ٹھہرایا گیا ہے۔ ۔ ۔ پہلے دور کی نظموں میں سر فہرست ’’جُگل بندی‘‘ ہے، جو ۱۹۷۸ء میں لکھی گئی۔ جُگل بندی سنگیت ودیا کی اصطلاح ہے۔ جس میں دو مغّنی یا ایک مغّنی اور دوسری مغنّیہ، آلاپ کے بعد مُکھڑا اور اس کے بعد آنے والے ’بولوں ’ کو، یکے بعد دیگرے، یا باہم دگر یعنی آواز کے ساتھ آواز ملا کر، ایک دوسرے کی آواز کی ’’پورتی‘‘ کرتے ہیں۔ مرد عورت یا پتی پتنی کے ملن کو سنگیت کی بھاشا میں ’جُگل بندی‘ کا لقب دے کر شاعر اسے جسموں کی جُگل بندی کہتا ہے۔

 

یہ جسموں کی جگل بندی

جسے چالیس برسوں سے

ہر اک سُر تال میں ہم نے

ستھر رکھا ہوا ہے اس طرح مدھّم سے پنچم تک

کہ یک آہنگ اب جسموں کے سُر سنگیت کی لہریں

بہم مل کر

ہماری زندگی کے راگ کی تکمیل کرتی ہیں۔

 

’ستھر‘ رکھنے سے مراد قائم رکھنا، بغیر کسی رد و بدل کے ایک ہی سطح پر مستحکم رکھنا ہے۔  ’مدھم‘ سے ’پنچم‘ تک مرد اور عورت نے اپنی زندگی کے راگ کو یک آہنگ ہو کر گاتے ہوئے پہنچایا ہے، تو اب اسے آگے بھی ایسے ہی بڑھنا چاہئے۔ پہلا بند جسموں کی سطح پر جگل بندی کا تھا، تو دوسرا بند درون جسم خون کی گردش اور دل کی دھڑکن تک لے جاتا ہے۔

 

یہ موسیقی

درون جسم ’’ان ہد ناد‘‘ بن کر

بس گئی ہے یوں ہمارے دل کی دھڑکن میں

کہ اب آلاپ کی ہلکی سی میٹھی گنگناہٹ

بِین کی بیکل سی ہلکی تھرتھراہٹ

چھیڑ دیتی ہے سہانا راگ

دونوں جسم سرگم کے نشے میں چور

دو ناگوں

سے، راگوں کی بغلگیری میں جُڑ کر

جھومنے لگتے ہیں مستی میں !

سنگیت ودیا کے رسیا جانتے ہیں کہ ’ان ہد ناد‘ سپیروں کا راگ ہے، جسے دو سپیرے جُگل بندی میں مل کر اپنے بینوں پر بجاتے ہیں۔ یہ وہ مسحور کن راگ ہے، جس سے ناگ اور ناگنیاں مست ہو کر بغلگیری، یعنی اختلاط کی حالت میں، ناچنے لگتے ہیں۔ یہ استعارہ نہایت چابکدستی سے، جسم کی سطح پر مرد اور عورت کے جنسی سمبندھوں کی تصویر کشی کرتا ہے۔ تیسرا اور آخری بند واحد متکلم حاضر کا اپنی جیون سنگنی کو یہ پیغام دیتا ہے کہ جسم کی بات تو بہت ہو گئی، ہم نے جسم کو تو سیر ہو کر جی لیا، اب جسم کی حد سے دور نیچے روح کی گہرائیوں میں اتریں۔

چلو آؤ، یہ امرت رس میں بھیگا سُر ملن

اب اپنے جسموں کی حدوں سے دور نیچے

روح کی گہرائیوں میں ڈوب کر

اک ایسے ابدی راگ میں ڈھالیں

کہ یہ سمبندھ سرگم کا

یہ سنگت پریم بندھن میں بندھی دو آتماؤں کی رہے قائم

جُگل بندی میں آنے والے جنموں تک !

یہ بند بہت اہم ہے۔ مرد عورت کا ملن ہندو عقیدے کے مطابق ایک جنم کا نہیں، بلکہ ’’جنم جنمانتر‘‘ کا ہے۔ نظم کی پہلی سطر میں  ’’جُگل بندی‘‘ کی اصطلاح کا echo ہمیں آخری سطر میں بھی ملتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

INCEST کے موضوع پر دو نظمیں ۔۔۔  ڈاکٹر سید خالد حسین

 

 

ؓ        بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ اردو نظمیہ شاعری میں ایک ہی غیر مسلوک جنسی موضوع پر دو ہمعصر شاعروں نے بیک وقت طبع آزمائی کی ہو اور نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی دو نظمیں صرف تین چار برسوں کے وقفے میں ان کے شعری مجموعوں میں شامل کی گئی ہوں۔ یہ عنوان صرف انگریزی میں ہی لکھا جا سکتا ہے کہ راقم الحروف بسیار مغز پچی اور مختلف لغات کی ورق گردانی کے باوجود اس لفظ یعنی Incest کا اردو نعم البدل نہیں پا سکا۔ ’’انسیسٹ‘‘، اپنے وسیع تر معانی میں محرّمات (بیٹی، بہن، ماں ) کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرنا ہے۔ ان دو نظموں کے سیاق و سباق میں البتّہ یہ باپ کا بیٹی کے ساتھ ایسا زنا ہے، جسے ’بالجبر‘ نہ کہتے ہوئے بھی consensualیعنی ’رضا مندانہ‘ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں نظموں میں باپ ہی بیٹی کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتا ہے۔

یہ نظمیں دو مقتدر شعرا ساقی فاروقی اور ستیہ پال آنند کی ہیں۔

یہ مضمون اضافی حیثیت سے تصحیفی ہوتے ہوئے بھی ایک value-oriented تقابلی مطالعہ نہیں ہے، یعنی اس میں راقم الحروف کا پیمانہ اخلاق پروری یا اخلاق سوزی کا نہیں ہے، جس سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ ایک نظم مذہب کی رو سے یا معاشرے کی اقدار کی رو سے دیکھی جا سکتی ہے یا نہیں۔ دونوں نظمیں کامیاب ہیں اور دونوں شعرا کے الگ الگ اور منفرد اسلوبیاتی طرز نگارش کے پیمانے پر پوری اترتی ہیں۔ بیانیہ کی جزویات، زبان کا رکھ رکھاؤ، استعاروں اور علامتوں کا استعمال، بنیادی اسٹرکچر کی نامیاتی وحدت، دو کرداروں (باپ اور بیٹی) کا حاضر اور موجود یا غیر حاضر اور غائبانہ ذکر، ’کہانی‘ کے فارمیٹ میں ان کی پیوستگی، مرکزی واقعہ یعنی جنسی فعل کی تفصیلات کی عینی شہادت ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ( وقائع نگاری یا عبارت آرائی؟) یا۔ ۔ ۔ (۔ ایک تخلیقی لمحے کا شعری اظہار ) کس طرح ہو، یہ امور یقیناً زیر بحث رہیں گے۔ ارسطو کی بوطیقا سے لے کر آج تک متعدد اہل فکر و نظر نے کہا ہے کہ کوئی بھی شعری کاوش اس وقت تک شعری نہیں ہوتی جب تک کہ وہ جذبے کو کانسیپٹ میں تبدیل کرتے ہوئے شعری اظہار کی مختلف جہتوں کو بروئے کار نہ لائے۔ اس میں لفظیات کی سطح پر موزوں الفاظ کا استعمال، پیکر تراشی اور تصویر سازی کی سطح پر استعارہ اور امیج پیٹرن، اور علامت و رمز کی سطح پر symbolic relevance کچھ شرائط ہیں جن سے فرار ممکن نہیں ہے۔

تقابلی مطالعے کے دو معروضی طریق کار ہیں جو جامعات کی سطح پر ادبی تنقید و تحقیق کے طلبہ کے لیے سیکھنے لازمی ہیں ۔ ایک item by item comparison/contrast ہے۔ دوسرا block by block comparison/contrast کی اصطلاح کے زیر آتا ہے۔ چونکہ یہ مضمون، تحقیق کے حوالے سے نہیں، بلکہ صرف تنقید یا تجزیہ کے طور پر تحریر کیا جانا مقصود ہے، میں حسب ضرورت دونوں طریقوں کو استعمال میں لانے کی کوشش کروں گا۔ لیکن پہلے دونوں نظموں کو قارئین کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔ بسم اللہ کے طور پر ستیہ پال آنند کی نظم پہلے پڑھیں۔

 

                   سینگ

________________________________________

(مشمولہ ’’میرے اندر ایک سمندر‘‘، مطبوعہ 2007ء)

 

کیا ہوا تھا رات کو؟ کچھ کچھ تو اس کو یاد آیا

دھند تھی ہر سمت، لا محدود، گہری

گرم کمبل سا اندھیرا جسم کو اوڑھے ہوئے تھا

خون کی گردش میں جیسے آگ بہتی جا رہی تھی

پھر یکایک اک دہانہ

آگ اگلتے، کھولتے آتش فشاں کا کھُل گیا تھا

اور اندر سے اُبلتا

آتشیں لاوا اُمڈتا آ رہا تھا

ذہن اس کا

ماورا اپنے بدن سے

اونچا اُٹھ کر دیکھتا تھا

نیچے کیا کچھ ہو رہا ہے !

اس کی بیٹی اپنے بیڈ پر نیم عریاں، خون میں لتھ پتھ پڑی ہے

اور وہ مدہوش سا بیٹی کے بستر سے اتر کر جا رہا ہے

تشنگی، لذت پرستی سے تشفّی تک کا جادہ طے ہوا ہے۔

یہ اندھیری رات کا قصّہ تھا، اور اَب

روشنی ہے صبح کی۔ ۔ ۔ آتش فشاں بے سُدھ پڑا ہے

جسم اپنی آگ میں خود جل چکا ہے !

کیساhang-over ہے یہ؟ وہ سر پکڑ کر پوچھتا ہے

کیا ہوا تھا رات کو؟

کچھ تو ہوا تھا!

اور پھر جیسے یکایک

ذہن نے سب کچھ اگل ڈالا اچانک

اس کو متلی آ گئی، اور تھرتھرا کراس نے آنکھیں بند کر لیں

چونک کر پھر کھول دیں۔ خود سے کہا

’’میں جانتا ہوں

میں نشے میں تھا، مگر جو کام مجھ سے ہو گیا ہے

وہ فقط شیطان کا خاصہ ہے، آدم کا نہیں ہے !‘‘

حرف اوّل کی طرح

شیطان کا جب نام اس کے منہ سے نکلا، تو یکایک

دھند بالکل چھٹ گئی، اور چین کا اک سانس لے کر

اس نے سوچا

ایسے قصّے روز کا معمول ہیں سوسائٹی میں

کیا ملے گا مجھ کو اب افسوس کر کے ؟

آج دفتر دیر سے پہنچوں گا، لیکن

اب اُٹھوں، تیّار ہو لوں !

شیو کرنے کے لیے آخر اٹھا، تو

اپنا چہرہ آئینے میں دیکھ کر گھبرا گیا وہ

اس کی کنپٹیوں پہ اس کی جلد کچھ اکھڑی ہوئی تھی

اور اندر سے کوئی اک کھُردری سی چیز۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شاید سینگ اُگتے آ رہے تھے !

 

اب ساقی فاروقی کی نظم دیکھیں۔ نظم بمعہ درون قوسین، سرخط  ’’نوٹ‘‘ ءسمندر‘‘، مطبوعہ 2007ئکے بجنسہ پیش کی جا رہی ہے۔

 

                   شہناز بانو دختر شہباز حسین

________________________________________

 

(مشمولہ ’’شاہ دولہ کا چوہا اور دوسری نظمیں۔ مطبوعہ 2009ء)

 

(یوں ہے کہ مغرب کی طرح مشرق میں بھی محرم کے ساتھ زنا کی شرم ناک وبا عام ہے۔ یہ نظم لاکھوں کروڑوں بے زبانوں کو زبان دینے کی ایک کوشش ہے۔ ساقی)

 

وہ غصّہ کی سُرخ شال میں

طرح طرح کے اندیشوں میں گھِری ہوئی

کسی بھڑکتے شعلے کے مانند

لرز رہی تھی

دھیان کے دھُندلے بائسکوپ میں

رات کی خونیں تصویریں متحرک تھیں :

وہ دزدانہ کمرے میں آئے تھے

بتّی اُجال کے

آہستہ آہستہ

اُس کی شلوار اُتاری تھی

ننگی پنڈلیاں تہہ کر کر کے

جانگھوں کے متوازی کر دی تھیں

دونوں گھُٹنے ڈھال ڈھکیل کے

ناف کے اوپر

ننھے مُنّے پستانوں کے برابر

تک لے آئے تھے

پھر اس کے ممنوعہ گُتھّے علاقے میں

جبراً سما گئے تھے

 

وہ رانوں کی زنجیروں میں قید

سولہہ سالہ تنگ عمودی

شرمیلی سی بیر بہوٹی

رنگ چھوڑ کے

بلبلا کے بِلک پڑی تھی۔ ۔ ۔ ۔

 

(اس افسردہ فلیش بیک میں

بقیہ

صرف بلیک آؤٹ کا پہرہ تھا

اب تک بے ہوشی طاری تھی

یاد معطّل ہوتی جاتی تھی)

سوچتے سوچتے

سبز آنکھوں میں خون اتر آیا

 

اور بارہ گھنٹوں میں بارہ صدیاں بیت گئیں

اپنی آگ میں لوٹ پوٹ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اچانک اُٹھ کر

باپ کے کمرے میں درّانا چلی گئی

ڈری ڈری سی باہر آئی

دائیں ہاتھ میں لال چھری تھی

بائیں ہاتھ میں ایک مردہ سا

ختنہ شدہ ساچوہا تھا

اور ابّا جی

بھَل بھَل بہتے خون میں لَت پَت

پڑے ہوئے تھے

 

مجھے اگر واحد متکلم ’’مَیں ‘‘ کی سمیہ کنیت میں بات کرنے کی اجازت دی جائے تو میں کہوں گا کہ یہ دو نظمیں ایک ہی موضوع، یعنی اپنی ہی دختر سے زنا کاری کے موضوع کو شعری گرفت میں لیتے ہوئے بھی بُعد المشرقین ہیں۔ مجھے حسب ذیل نکتہ ہائے اختلاف و مغائرت نظر آئے۔ پہلے point by point comparison/contrast کے طریق کار سے کچھ نکتوں کو دیکھتے ہیں۔

(۱)    موضوع ایک ہوتے ہوئے بھی مضمون اور (اگر کوئی moral یا اخلاقی پیغام اخذ کیا جا سکتا ہے، تو)، جزویات سے گریز کرتے ہوئے، یعنی مجموعی طور پر، ستیہ پال آنند اور ساقی فاروقی کی نظموں میں ایک ہی ہے۔ ساقی فاروقی تو صریحاً، بلکہ ببانگ دہل، اپنے سر خط نوٹ میں اس کا اعلامیہ پیش کرتے ہیں۔ اس فعل کو ’’شرمناک وبا‘‘ کہتے ہیں اور اپنی نظم کو اخلاقی اور تبلیغی رتبہ دیتے ہوئے کہتے ہیں         : ’’یہ نظم لاکھوں کروڑوں بے زبانوں کو زبان دینے کی ایک کوشش ہے۔ ‘‘

بر خلاف اس کے ستیہ پال آنند ایسا کچھ نہیں کہتے لیکن مقدس انجیل کے قول کے مطابق محرم کے ساتھ زنا کے فعل کو شیطان کا فعل گردانتے ہوئے زانی باپ کی کنپٹیوں پر سینگوں کو

مطبوعہ 2009ئاُگتے ہوئے دکھا کر اپنی مقصد برآری کی تکمیل کر لیتے ہیں۔

(۲)    اس مقصد کے حصول کے لیے ساقی فاروقی صراحت اور صاف بیانی سے کام لیتے ہوئے رمز، اشارہ، کنایہ، علامت وغیرہ پر مکمل تکیہ نہیں کرتے، اور ابہام کو ایک ہاتھ کی دوری پر رکھتے ہیں، ۔ دوسری طرف ستیہ پال آنند، انجیل کی تعلیمات پر استوار (مذہبی؟ دیومالائی؟)قصّے fable کو مثالی داستان parableکے چوکھٹے میں رکھ کر ایک پینٹنگ کی طرح آویزاں کرتے ہیں۔

(۳)    ساقی فاروقی اور ستیہ پال آنند، دونوں کی، زمان اور مکان کے بارے میں نشاندہی صاف اور غیر مبہم ہے۔ ساقی اس کو پاکستان یا ہندوستان کی سر زمین میں پیوست کرتے ہیں۔ مسلم معاشرے میں حسب و نسب کی شناخت کے ساتھ منسوب کرتے ہیں۔ (نظم کا عنوان ’’شہناز بانو دختر شہباز حسین ‘‘ ہے ) معاشی یا معاشرتی لحاظ سے یہ کنبہ متوسط طبقے کی نچلی، وسطی یا اوپری سطح ہو سکتا ہے۔ زمانہ حال کی کہانی تصور کرتے ہوئے بھی قاری کو کوئی تردّد نہیں کرنا پڑتا۔ دوسری طرف ستیہ پال آنند کی نظم مغرب کی سوسائٹی کے نسبتاً اونچے درجے کے کنبے کی کہانی ہے (باپ، شام کو شراب پیتا ہے، رات کو دیر سے گھر آتا ہے، صبح اُٹھ کر شیو کرتا ہے، دفتر جاتا ہے، وغیرہ)۔ مسلم یا عیسائی مذہب کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی، لیکن انجیل کے حوالے سے شیطان کا استعارہ اس کنبے کو عیسائی تسلیم کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔

(۴)    ستیہ پال آنند کی نظم میں ناظر کا کیمرہ زنا کا مرتکب ہونے والے والد پر مرکوز ہے۔ صبح اُٹھ کر والد کیا کرتا ہے، کیا سوچتا ہے، کیسے اپنے فعل کو ’’جائز‘‘ ٹھہراتا ہے اورکیسے اسے سوسائٹی کا ایک عام واقعہ سمجھ کر اس سے قطع تعلق کرنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھتا ہے۔ ساقی فاروقی کی نظم میں یہ کیمرہ بیٹی پر مرکوز ہے۔ وہ کیا سوچتی ہے اس امر کی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی، وہ کیا کرتی ہے، اس کا ذکر البتہ تفصیل سے موجود ہے۔ دونوں نظموں میں کنبے کے دیگر افراد یعنی ماں، بھائیوں، بہنوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

(۵)    ستیہ پال آنند کی نظم واقعے کی، یعنی زنا کی چشم دید شہادت نہیں دیتی۔ یہاں تک کہ لفظ ’’زنا‘‘، ’’مباشرت‘‘ سے پرہیز کیا گیا ہے۔ ساقی فاروقی کی نظم میں کیمرہ یا کیمکارڈر بیٹی پر مرکوز ہونے کے باوجود، کیمرہ مین یا فلم فوٹوگرافر اپنی طرف سے اس کے جسم کو مختلف زاویوں کو پیش کرتا ہے۔ (ظاہر ہے کہ بیٹی نہ ہی اپنے جسم کو خود دیکھ سکتی ہے نہ ہی اس سین کی اتنی گرافک ڈیٹیل graphic detailفلم بندی کر سکتی ہے، جتنی کہ ایک ناظر یعنی کیمرہ مین کر سکتا ہے۔

ساقی فاروقی اورستیہ پال آنند جدید نظم کے معتبر نام ہیں۔ دونوں حسب ضرورت، کفایت شعاری سے یا فراخدلی سے امیجری کی سطح پر ساکن یا متحرک امیجز پیش کرتے ہیں۔ ، مختلف ہوتے ہوئے بھی اس امیج پیٹرن کا سوتا ایک ہی سر چشمے سے پھوٹتا ہے۔ یعنی دونوں تصویری مفاہیم پر قادر ہیں اور معانی کی ترسیل کے لیے تمثال نگاری کا سہارا لیتے ہیں۔ اس لیے اب ہمیں دونوں منظر ناموں کے تصویری مفاہیم کو دیکھنا ہو گا۔

(۱)    واقعے کی باز آفرینی سے متعلق ستیہ پال آنند نے بے حد کفایت سے کام لیا ہے۔ صرف تین سطریں ہیں۔ ان میں بیٹی کے جسم کے بارے میں کوئی خاکہ نہیں کھینچا گیا، جس سے اس کی عمر، باکرہ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا۔

اس کی بیٹی اپنے بیڈ پر نیم عریاں، خون میں لتھ پتھ پڑی ہے

اور وہ مدہوش سا بیٹی کے بستر سے اتر کر جا رہا ہے

تشنگی، لذّت پرستی سے تشفّی تک کا جادہ طے ہوا ہے

 

ان سطروں میں بیٹی کی تصویر صرف دو الفاظ یعنی ’’نیم عریاں ‘‘، ’’خون میں لتھ پتھ‘‘ سے عبارت ہے۔ یہ تصویر اس سے آگے، یعنی جسم کی جیومیٹری کے زاویوں، قوسوں، ابھاروں تک نہیں بڑھی۔ راقم الحروف کے لیے یہ بات قبول کرنا مشکل ہے۔ کیونکہ ستیہ پال آنند اپنی جزویات نگاری کے لیے معروف ہیں۔ تو انہیں کیا مشکل پیش آ گئی کہ اس موقعے کو، جہاں وہ اپنی تصویر سازی کی قدرت کا مظاہرہ کر سکتے تھے، انہوں نے ہاتھ سے جانے دیا اور صرف تین سطروں میں ہی یہ فرض ادا کرنے کے بعد، اس سے ہاتھ کھینچ لیا؟ اس سوال کا جواب اس میں مضمر ہے کہ وہ بیٹی کے ساتھ زنا بالجبر کے فعل بد پر نہیں، بلکہ اس فعل کے خمیازے پر اپنی پوری قوّت صرف کرنا چاہتے تھے۔ زنا کی تصویر سازی ان کا نصب العین نہیں تھا۔ اس گناہ کبیرہ کی سزا کیا ہے، یعنی مقدس انجیل کے قول کے مطابق، اس کی تشریح و توضیح کے شعری اظہار کو وہ اپنا فرض سمجھتے تھے، نہ کہ زنا کے دورانیے میں بستر پر بے سہارا پڑی ہوئی بیٹی کی ’تصویر نگاری‘ کو۔

برخلاف اس کے زنا کے واقعے سے متعلق ساقی فاروقی کی نظم میں بیٹی کی یادداشت کا لوٹ آنا، جسے ساقی ’’فلیش بیک‘‘ کی سِنماٹوگرافی کی اصطلاح سے واضح کرتے ہیں، تفصیل اور پراگندگی کا ایک نادر نمونہ ہے۔ یہ بیانیہ باصری پیکر سازی کا ایک جامع مرقع ہے۔ جو الفاظ استعمال میں لائے گئے ہیں ان سے ایک واضح تصویر ابھرتی ہے، جو دو سطحوں پر دیکھی جا سکتی ہے۔ جسم کی جیومیٹری پہلی سطح ہے اور باپ کی نفسانی خواہش کی تکمیل کے واقعے کے بعد بیٹی کا رّد عمل یعنی اس کے ہاتھوں سے باپ کے عضو تناسل کے کاٹ لیے جانے کا عمل دوسری سطح ہے جس سے تصویر مکمل ہوتی ہے۔ زنا کا منظر نامہ یہ ہے

 

وہ دزدانہ کمرے میں آئے تھے

بتّی اُجال کے

آہستہ آہستہ

اس کی شلوار اُتاری تھی

ننگی پنڈلیاں تہہ کر کر کے

جانگھوں کے متوازی کر دی تھیں

دونوں گھُٹنے ڈھال ڈھکیل کے

ناف کے اوپر

ننھے منے پستانوں کے برابر

تک لے آئے تھے

پھر اس کے ممنوعہ گُتھّے علاقے میں

جبراً سما گئے تھے۔

وہ رانوں کی زنجیروں میں قید

سولہ سالہ تنگ عمودی

شرمیلی سی بیر بہوٹی

رنگ چھوڑ کے

بلبلا کے بلک پڑی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

(۲)    میں ہر سطر کی تشریح کو ایک اضافی فعل سمجھتا ہوں۔ اس کی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ ہر سطر خود کفیل ہے۔ دزدانہ کمرے میں آنا، بتی اجالنا، آہستہ آہستہ اس کی شلوار اتارنا، ننگی پنڈلیاں تہہ کر کے جانگھوں کے متوازی کرنا، دونوں گھُٹنوں کو ناف کے اوپر ’’ننھے مُنے پستانوں ‘‘ کے برابر کرنا اور پھر دخول کا عمل ’’اس کے ممنوعہ گُتھّے علاقے میں ‘‘ جبراً سما جانا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ frame by frame slidesہیں جو کیمرہ مین یعنی the all-seeing poetکی چابکدستی کا ثبوت کا جیتا جاگتا ہیں۔ اسلوب کی سطح پر الفاظ کا استعمال سونے پر سہاگے کا کام دیتا ہے۔ ’’ننھے مُنے پستان‘‘ بیٹی کی عمر کا پتہ دیتے ہیں۔ وہ ایک باکرہ ہے، اس کا اندازہ ’’سولہہ سالہ، تنگ عمودی‘‘ جیسے الفاظ سے ہوتا ہے باکرہ سے عورت میں تبدیل ہونے کا عمل وہ ’’خونی تصویر‘‘ ہے جس میں اس عمل کی مماثلت ایک بیر بہوٹی کو ہاتھ میں لے کر مسلنے سے ہے۔ سب جانتے ہیں کہ بیر بہوٹی اپنا گہر اسرخ رنگ انگلیوں پر چھوڑ جاتی ہے۔ ’بیر بہوٹی‘ سے عورت کے اندام نہانی کی مماثلت بھی تصویری مفہوم کی حامل ہے۔

الفاظ کے استعمال میں ساقی فاروقی کو یدّ طولیٰ حاصل ہے۔ ’ٹانگوں ‘ کی جگہ ’جانگھوں ‘، ’ کھینچنے ‘ کی جگہ ’ڈھال ڈھکیل‘ اور ایسے چھ سات دیگر الفاظ یا اصطلاحات اس پر داعی ہیں۔ جسم کے نچلے حصے کو ’ممنوعہ گُتھّا علاقہ‘ کہنا بھی ساقی کا ہی کمال اظہار ہے۔ ’بائسکوپ‘ کی انگریزی اصطلاح جو ساقی نے استعمال کی ہے، دو الگ الگ الفاظ سے مل کر بنی ہے۔ ’بائی‘ اور ’سکوپ‘، یعنی دو آنکھوں سے دیکھا جا سکنے والا فلم بند منظر۔ ’سِنیما‘ بھی’ سنیما سکوپ ‘کا ہی مخفف ہے۔ مختصراً یہ کہ ساقی فاروقی زنا کے منظر کی فلم بندی میں s minutest detail باریک ترین جزئیات تک نہیں بھولتے۔

 

(۳)    دوسری طرف ستیہ پال آنند یا تو اخلاقی قدروں کی بھول بھلّیاں میں پھنس کر اظہاریہ کی سطح پر ایسی تصویر سازی یا تمثال نگاری نہیں کر سکے جیسی کہ ساقی فاروقی نے کی ہے، یا کوئی اور وجہ مانع آ گئی تھی۔ میرے خیال میں ستیہ پال آنند جیسے منجھے ہوئے فنکار (وہ ساقی فاروقی سے اپنی طبیعی اور ادبی عمر میں تین چار برس بڑے ہیں ) سے قطعاً یہ سہو نہیں ہوا۔ ان کی نظم بیٹی کے ساتھ زنا بالجبر کے بارے میں ہوتے ہوئے بھی جب اصل موضوع کی علاقہ بندی کرتی ہے تو ظاہر ہوتا ہے کہ شاعر کا مطمع نظر تو ’’شیطان کا انسانی قالب میں حلول ‘‘ ہے اور یہ خود ساختہ داستان جو ایک پیرابل parable ہے، صرف اس مفروضے کو شعری اظہار میں ڈھالنے کے لیے گھڑی گئی ہے۔ یاد رہے کہ معروف اسکالر ڈاکٹر اے عبد اللہ نے ستیہ پال آنند کی اس نظم پر عملی تنقید کے اپنے ایک مضمون (مشمولہ ’’ستیہ پال آنند کی تیس نظمیں ‘‘ مرتبہ بلراج کومل) میں یہ انکشاف کیا تھا کہ ستیہ پال آنند کی یہ نظم مارمن عیسائی فرقے Marmon Christian Sect کی تعلیمات سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔ اس فرقے کی انجیل مختلف ہے اور جنسی بے راہ روی کو گناہ کبیرہ قرار دیتے ہوئے موت کی سزا تجویز کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی اسی فرقے کی تعلیمات میں شامل ہے کہ شیطان کا ایسے گناہگار کی روح پر قبضہ موت سے بھی بد تر ہے کیونکہ اب یہ گنہگار نار جہنم میں قرنوں تک جلتا رہے گا۔ سینگوں کا ایسے شخص کی کنپٹیوں پر اُگنا بھی ایک مفروضہ نہیں ہے کیونکہ مارمن بایئبل اس کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ امر بھی یاد رکھنے   کے قابل ہے کہ پروفیسر آنند مدّت المدید تک عالمی کمپیریٹِو لٹریچر یعنی تقابلی ادب پڑھاتے ہیں اور تقابلی مذہبیات کو اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

(۴) اب دونوں منظومات کی دوسری movement کو دیکھنے کا وقت آ گیا ہے۔ ستیہ پال آنند اور ساقی فاروقی دونوں کی نظموں میں یہ تکنیک ’’گریز‘‘ کی خصوصیت رکھتی ہے۔ ساقی کے ہاں یہ شہباز بانو کے رد عمل پر مبنی ہے، جس میں وہ agent of the crime یعنی اپنے باپ شہباز حسین کو قابل گرفت نہ سمجھ کر اس کے عضو تناسل کو مجرم گردانتی ہے اور اسے ’’سر کاٹنے ‘‘ کی سزا کا مستحق قرار دیتے ہوئے یہ فعل ایک ’’لال چھُری‘‘ سے سر انجام دیتی ہے اور جب باپ کے کمرے سے باہر نکلتی ہے تو اس کے ہاتھ میں ’’ایک مردہ سا ختنہ شدہ چوہا‘‘ ہوتا ہے۔ ساقی جس مردم خیز علاقے کے سپوت ہیں اس میں ’’مونڈی کاٹے ‘‘ ایک عام گالی ہے ( ’’مونڈی‘‘ کا مطلب ’’مونڈا ہوا سر ہے !‘‘ )۔ ’’لال چھُری‘‘ میں بھی افسانوی اور دیومالائی جہات مخفی ہیں، مزید برآں، سامنے کے الفاظ میں یہ ’’خون سے تر بتر چھُری‘‘ ہے۔ مضمون کے اس مرحلے پریہ ضروری دکھائی دیتا ہے کہ ہم ایک بار پھر ساقی فاروقی کی نظم کی دوسری موومنٹ کو سطر بر سطر دیکھ لیں۔

 

(اس افسردہ فلیش بیک میں

بقیہ

صرف بلیک آؤٹ کا پہرہ تھا

اب تک بے ہوشی طاری تھی

یاد معطّل ہوتی جاتی تھی)

سوچتے سوچتے

سبز آنکھوں میں خون اتر آیا

اور بارہ گھنٹوں میں بارہ صدیاں بیت گئیں

اپنی آگ میں لوٹ پوٹ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اچانک اُٹھ کر

باپ کے کمرے میں درّانا چلی گئی

ڈری ڈری سی باہر آئی

دائیں ہاتھ میں لال چھری تھی

بائیں ہاتھ میں ایک مردہ سا

ختنہ شدہ ساچوہا تھا

اور ابّا جی

بھَل بھَل بہتے خون میں لَت پَت

پڑے ہوئے تھے !

 

(۵)    منظر نامہ مکمل ہے۔ کچھ الفاظ انگریزی میں ہیں۔ فلیش بیک‘‘ سینماٹوگرافی کی اصطلاح ہے۔ ’’بلیک آؤٹ‘‘ کا مطلب ہم سب سمجھتے ہیں لیکن یہاں استعارے کے طور پر بیٹی کے ذہن کے عارضی طور پر ماؤف ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ کچھ الفاظ روز مرہ کی زبان سے لیے گئے ہیں۔ ان میں تابع فعل کی طرح دہرائے گئے الفاظ ’’بھل بھَل‘‘، ’’لَت پَت‘‘، ’’لوٹ پوٹ‘‘ شامل ہیں جو ساقی فاروقی کے

پیدایشی وطن یعنی ہندوستان کے صوبے یو ۔ پی کے گلے کوچوں میں عام سُننے کو ملتے ہیں۔ یہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ ساقی فاروقی کی نظم کا زمان اور مکان، عصر حاضر کا ہندوستان یا پاکستان کا اسلامی معاشرہ ہے۔ اس کو تقویت دینے کے لیے ہی ایک اور باصری امیج پیش کیا گیا ہے۔ یہ ہے، ’’ختنہ شدہ چوہا‘‘ یعنی ’’ ختنہ کیا ہوا مردہ چوہے کی طرح بے جان گوشت کا لوتھڑا‘‘۔

(۶)    ہمیں علم ہے کہ ساقی فاروقی ما بعد الطبعیاتی مضامین کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ انہیں کتمان کی سطح پر ان مضامین سے جو ورائے چشم و ہوش ہیں، کوئی علاقہ نہیں ہے۔ اس لیے یہ ضروری تھا کہ وہ کہانی کی کڑیاں گنواتے ہوئے، شہود و کشف کی سطح پر نُمائش exhibitionism سے کام لیتے۔ لیکن وہ استعارے اور علامت سے اس کا آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کا ہنر جانتے ہیں اور غیر منکشف کو مفقود نہیں ہونے دیتے۔ اسی لیے ان کے امیج ’سامنے کے الفاظ‘ سے عبارت ہوتے ہوئے بھی ’پیچھے کے الفاظ‘ کا اشارہ دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے نظم کی یہ دوسری موومینٹ خود کفیل بھی ہے اور اس سے پہلے کی موومینٹ پر انحصار بھی رکھتی ہے۔

(۷)   ستیہ پال آنند کی نظم کی دوسری موومینٹ، ساقی فاروقی کی طرح ہی، اپنا فوکس نظم کے مرکزی کردار پر مرکوز رکھتی ہے۔ ساقی فاروقی کے یہاں مرکزی کردار بیٹی تھا جب کہ ستیہ پال آنند کی نظم میں مرکزی کردار باپ ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ستیہ پال آنند، بغیر کسی سرخط ’’ نوٹ‘‘ کے، اپنی نظم کو مارمن کرسچین Morman Christian اخلاقی جامہ اوڑھا دیتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں کسی معذرت کے سہارے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ دنیا کے تین بڑے مذاہب، صیہونی، عیسائی اور اسلام میں، چند ایک غیر اہم جزویات کے فرق کے باوجود، شیطان کا تصور ایک جیسا ہے۔ وہ اہرمن ہے، ابلیس ہے، شیطان الرجیم ہے، افعی ہے، اس کے مزاج میں شیطنت ہے، خباثت ہے، زُشتی ہے۔ ۔ ۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر معصیت اور بدکاری ہے، غیر فطری شہوت کی طلب ہے، لواطت ہے، بد فعلی ہے، یعنی وہ سب کچھ ہے جس کا تعلق جنسی بے راہ روی سے ہے۔ اس لحاظ سے ستیہ پال آنند صرف ایک لفظ ’’شیطان‘‘سے اپنا مطلب اخذ کر لیتے ہیں۔ ساقی فاروقی کی طرح انہیں باکرہ لڑکی کے اعضا کی تصویر کشی اور زنا بالجبر کا ’’کوک شاستر (با تصویر) نہیں لکھنا پڑتا۔ اپنی داخلی خود کلامی میں باپ کہتا ہے۔

 

’’میں جانتا ہوں

میں نشے میں تھا، مگر جو کام مجھ سے ہو گیا ہے

وہ فقط شیطان کا خاصہ ہے، آدم کا نہیں ہے !‘‘

 

(۸)    اس اقبال جرم اور اس کی وجہ تسمیہ (میں نشے میں تھا) کے بعد بد فعلی کا مرتکب باپ، بقول شاعر، ’’کار بد تو خود کرے، لعنت کرے شیطان پر!‘‘کا سہارا لیتے ہوئے آدم اور شیطان کے مابین ایسے ہی تعلق کا اظہار کرتا ہے جو آدم اور اس کے خالق خدا کے مابین ہے، اور نتیجتاً وہ شیطان کو طلسمی چراغ کی لو کے دھوئیں سے ابھرتے ہوئے جِنّ کی طرح طلب کر لیتا ہے۔

 

حرف اوّل کی طرح

شیطان کا جب نام اس کے منہ سے نکلا، تو یکایک

دھند بالکل چھٹ گئی، اور چین کا اک سانس لے کر

اس نے سوچا

 

ایسے قصّے روز کا معمول ہیں سوسائٹی میں

کیا ملے گا مجھ کو اب افسوس کر کے ؟

آج دفتر دیر سے پہنچوں گا، لیکن

اب اُٹھوں، تیّار ہو لوں !

 

شیو کرنے کے لیے آخر اٹھا، تو

اپنا چہرہ آئینے میں دیکھ کر گھبرا گیا وہ

اس کی کنپٹیوں پہ اس کی جلد کچھ اکھڑی ہوئی تھی

 

اور اندر سے کوئی اک کھُردری سی چیز۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شاید سینگ اُگتے آ رہے تھے !

 

(۹)    سینگ؟ مذہبی امور میں غیر تربیت یافتہ قاری خود سے پوچھ سکتا ہے، یہ بھی بھلا کوئی بات ہوئی؟ سینگ تو جانوروں کے بھی ہوتے ہیں۔ شیطان کا ان سے براہ راست کیا تعلق ہے ؟ مارمن بائیبل میں شیطان کی ظاہری صورت کے بارے میں لکھا گیا ہے :

Be sober, be vigilant; because your adversary the devil,

as a beast with horns, walketh about

seeking whom he may enslave.

زمانہ قبل از مسیح کی غاروں اور مندروں میں کندہ میخی یا پیکانی تصویروں میں بھی ارواح خبیثہ کے سروں پر سینگ دکھائے گئے ہیں۔ اطالوی شاعر دانتےؔ نے بھی سینگ کو شیطان کے سر کا ’’تاج‘‘ قرار دیا ہے۔ اس لیے قاری کے لیے یہ باور کرنے میں کوئی دشواری نظر نہیں آتی، کہ جانوروں کے سروں پر سینگوں کا ہونا ان کی حیوانیت کا مظہر ہے۔ کئی درجن مادہ جانوروں کے گلّے میں ’’نر‘‘ کو (جسے گلہ بان انگریزی میں stud کہتے ہیں )، بیٹی، بہن یا ماں کے ساتھ مباشرت کرنے میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی کیونکہ ’ یہ تمیز روا رکھنا تو ’’انسان کا خاصہ ہے، شیطان کا نہیں ‘‘۔

(۱۰)   یہ شاعر کی ذہنی اپج ہے کہ زنا کاری میں ملوث باپ کو خود ہی صبح شیو کرتے ہوئے اپنی کنپٹیوں پر سینگ اُگتے نظر آئے۔ لیکن کیا یہ شاعرانہ یا افسانوی ضمیمہ ضروری ہے ؟ جی ہاں، اشد ضروری ہے، کیونکہ کسی بھی خود ساختہ مثالی داستان parable کو کسی حتمی نتیجے تک پہنچ کر ہی ختم ہونا چاہیے۔

میرا جائزہ ختم ہوا۔ میں نے حتیٰ المقدور کسی value judgment سے پرہیز کیا ہے۔ ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ کونسی نظم بہتر ہے۔ در اصل بہتر یا کمتر تو ادبی تنقید میں لا یعنی الفاظ ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

ستیہ پال آنند سے  مصاحبہ ۔۔۔ٕ مصاحبہ کار علامہ ضیاء حسن ضیاء

 

٭     پرانا سوال سہی مگر اپنی ’’تجریدی مفہومیت‘‘ کو بر انگیخت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ ’’ غزل کی ولایت ‘‘ سے منکر ہو جائیں ؟

آنند:   جی نہیں، ’’تجریدی مفہومیت کو بر انگیخت‘‘ کرنے سے اگر آپ کی مراد تعقل پرستی یا عمق فکر کی بِنا پر میرا کسی بھی شعری تخلیق میں مفہوم کھوجنے کی حس کو محرک کرنا ہے، تو یہ جواز میرا غزل کی ولایت سے ’ منکر‘‘ ہو جانے کا بالکل نہیں ہے۔

یہ عرض کر دوں کہ میں غزل کی ولایت سے per se (لاطینی، بمعنیin itself, یا intrinsically ) بالکل منکر نہیں ہوں لیکن میں اس کو ایک الگ ولایت کا سب سے اہم شہری سمجھتا ہوں۔ یہ الگ ولایت Oral Literature یا میری خود ساختہ اصطلاح Orature کی ہے۔ اس اقلیم کے دیگر شہریوں میں ماہیا، ٹپہ، بیت بندی، کبِت، تک بندی، کافی، بارہ ماسہ، لوری، مقفیٰ اکھان وغیرہ کی ہے، جو زبانی سنانے یا گائی جانے والی اصناف ہیں، نہ کہ تحریر شدہ ادبی نگارشات۔ اسی لیے اسے ’کلام‘، ’سخن‘ کی اُپادھی دی گئی ہے۔ ’تحریر‘ نہیں کہا گیا۔ اسی لیے ہم ’شعر کہا ہے ‘، ’غزل کہی ہے ‘ وغیرہ کو درست تسلیم کرتے ہیں۔ ’’غزل لکھی ہے یا شعر لکھا ہے، ‘‘ اس جملے کو بھونڈا سمجھا جائے گا۔

چونکہ مغرب میں ’سنانے ‘ کی کوئی روایت نہیں ہے۔ ’لکھنے ‘ یا ’پڑھنے ‘ کی ہی ہے، اس لیے لفظ ’سنانا‘ کا انگریزی ترجمہ نہیں ہو سکتا۔ یہ کانسیپٹ ہی مغرب کے ذہن سے عنقا ہے۔ اس نے ایک شعر سنایا یا غزل سنائی کا کیا ترجمہ ہو گا ؟ He read out his poem OR He recited his poem.یہ جملے تو یک طرفہ پڑھنے کا عمل ظاہر کرتے ہیں۔ ’سنانا‘ میں جو دو طرفہ عمل ہے وہ ان سے ظاہر نہیں ہوتا۔ ہلکی پھلکی سی بات ہے، لیکن لفظ’سنانا‘ میں کچھ اس طرح کا عمل موجود ہے، جیسے کہ اپنے شعر یا غزل کو ایک پڑیا میں لپیٹا اور سامع کے کان میں جا کر انڈیل دیا۔ ’’وہ مجھے یہ بات خصوصی طور پر سنا کر گیا ہے ‘‘ جیسے کسی بھی جملے کا انگریزی ترجمہ یا تو بالکل ہو ہی نہیں سکے گا یا تشنہ رہ جائے گا۔ اس لحاظ سے غزل سنی سنائی جانے والی یا گائی جانے والی صنف کے طور پر Oral Literature ہے۔ چبھتا ہوا سوال ہے لیکن آپ سے پوچھنا ضروری ہے، کیا آپ فلمی گانوں کو لٹریچر کہیں گے ؟

کلاسیکی غزل، ایران میں بھی اور ہندوستان میں بھی، گا کر نہیں سنائی جاتی تھی، جب یہ دربار سے نکل کر، پہلے تو قلعے کی چار دیواری کے اندر اور پھر اس کے بعد یہ چار دیواری پھلانگ کر باہر پہنچی تو اس کی جائے عافیت طوائفوں کے کوٹھے تھے۔ آپ کیا تصور کر سکتے ہیں کہ میر، غالب، ذوق اور داغ اپنی غزلیں گا کر پڑھتے ہوں گے، ہاں، یہ درست ہے کہ ان کی غزلیں طوائفیں اپنی محفلوں میں گا کر سناتی تھیں۔ اب آج کا منظر نامہ دیکھ کر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ غزل گو شعرا (خصوصی طور پر شاعرات اور خصوصی طور پر انڈیا میں ) صرف ترنم پر ہی اکتفا نہیں کرتے، اپنی body language (بدن بولی) سے، اسٹیج پر گھوم پھر کر ایکٹنگ کرتے ہوئے، کسی بھی شعر کے مصرع اولیٰ کو تین بار اُٹھا کر اور پھر مصرع ثانی کو ادا کرتے ہوئے جیسے سامعین کے کانوں میں پڑیا میں باندھ کر پہنچاتے ہیں۔

اب لوٹ کر ’’تجریدی مفہومیت‘‘ کی طرف آئیں۔ آپ کے سوال میں، قبلہ، یہ ایک inherent اقبالیہ بیان بھی ہے کہ مفہومیت کے حوالے سے صنف غزل شاید نادار ہے اور میں یعنی یہ خاکسار ستیہ پال آنند چونکہ شاعری میں معنی و مفہوم کے خزانے کی تلاش میں سرگرداں ہے، اس لیے اس نے غزل کی مملکت سے راہ فرار اختیار کر کے نظم کی بدیسی اقلیم میں ہجرت کی ہے۔ چلئے، میں آپ کے در پردہ کئے ہوئے اس قیاس پر ایمان لے آتا ہوں کہ غزل اس حوالے سے نادار ہے، لیکن میری ہجرت کی وجہ یہ نہیں ہے۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔

عصر حاضر کی غزل میں دو اڑھائی صدیاں ایک ساتھ کندھے سے کندھا ملائے ہوئے چل رہی ہیں۔ جہاں کلاسیکی غزل ہے، جس کی مثال (کم کم ہی سہی) لیکن گاہے بگاہے کچھ اشعار میں مل ہی جاتی ہے، وہاں نیم کلاسیکی غزل اور روایتی غزل ڈھیروں کی تعداد میں رسالوں اور شعری مجموعوں میں گروہ در گروہ موجود ہے۔ ’’جدید غزل‘‘ تو شاید ایک غلط nomenclature ہو لیکن اس کے تحت بھی، کانوں کو کچھ نا شنیدہ سے محسوس ہونے والے اشعار مل ہی جاتے ہیں۔ پھر موضوع، مضمون، ماحول، مالہ و ماعلیہ کے حوالے سے روایت سے بالکل کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے ایسے غزل گو شاعر بھی ہیں، جو گلی محلے، گھر گرہستی، پریوار (ماں، بیوی، بچوں ) کو جیسے ناٹک میں کردار کی حیثیت دے کر اشعار میں انہیں اسٹیج پر مرکزی نشست دیتے ہیں۔ اور پھر (آخر میں ) ایسے شاعر بھی ہیں جو ٹنوں tonnes کے حساب سے ایسی غزلیں کہہ رہے ہیں، جن کا سر پیر، گردن، چہرہ، دھڑ کچھ بھی نہیں ہے۔ صرف الفاظ کا ہیر پھیر ہے ۔ (نام نہیں لوں گا، لیکن آپ پہچان جائیں گے کہ میرا اشارہ کس محترم شاعر کی طرف ہے !)

 

٭     نظم میں لایعنیت کی جتنی گنجائش ہے، غزل تو اس کا عشر عشیر بھی برداشت نہیں کرتی ؟

آنند:   اس مفروضے سے صنف نظم کی سبکی ہوتی ہے، نہ صنف غزل کی عزت بڑھتی ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ غزل میں پیش پا افتادہ، چبے چبائے ہوئے الفاظ، مصطلحات، عبارت آرائی، عذب البیانی، استعارہ، تمثال، علامت، اور سب سے بڑھ کر، ہزاروں بلکہ لاکھوں بار پہلے استعمال میں لائے گئے مضامین کی جتنی گنجائش ہے، نظم تو اس کا عشر عشیر بھی برداشت نہیں کرتی (آپ کے الفاظ دہرا رہا ہوں )، تو آپ کیا جواب دیں گے ؟

 

٭     نظم گوئی علمی طریق اور اسِتدلالی طرز عمل مانگتی ہے جب کہ غزل خالص جذباتی منطق کو دہرا کر بھی اپنا مقصد حاصل کر لیتی ہے ؟

 

آنند:   حضور، فیض گنجور ضیاؔ صاحب، آپ میرے دل کی بات کہتے کہتے، نصف جملہ کہنے کے بعد، پس آگاہی ملتے ہی، رُک گئے۔ یہاں تک تو آپ درست فرماتے ہیں کہ ’’۔ نظم گوئی علمی طریق اور اسِتدلالی طرز عمل مانگتی ہے۔ ۔ ۔ ‘‘اس کے بعد پس آگاہی میں آپ کچھ کچھ کہتے کہتے ایک اصطلاح برت گئے، جو میرے لیے contradiction in terms ہے، یعنی اصطلاحی تضاد بیانی ہے۔ ’’جذباتی منطق‘‘ یعنی emotional logic، ان دو الفاظ میں قطبینی تضاد ہے۔ جی نہیں، اگر غزل منطق کی اپج ہے، تو غزل غزل ہونے سے رہی۔ کیونکہ منطق تو جیومیٹری کی تھیوریم کی طرح ہے۔ مثال:

(Given : To Prove : and Proof. Therefore the triangles are congruent ) یا الجبرا کی طرح ہے )

to re-unite parts : Al (Arabic) meaning “the”, plus

gebera (Hebrew) meaning “to unite “۔

 

٭     غزل کے معروف ارکان موسوم بہ ہیں جب کہ نظم کے مختلف حصوں کے نام ابھی محتاج تعارف ہیں۔ ۔ ۔ کوئی تبصرہ ؟

آنند:   ضروری نہیں ہے کہ ہم نئے نام، فارسی لغت یا عربی قابوس سے نکال نکال کر ہی انہیں اردو نظم پر چسپاں کر دیں۔ انگریزی کے ارکان بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ہم اب آسانی سے ایسی اصطلاحات استعمال کر ہی رہے ہیں۔ سمبل، مونتاژ، (لٹریچر)بیک فلیش، فاسٹ فارورڈ، ٹیگ کرنا وغیرہ (فوٹو گرافی، کمپیوٹر)۔ ۔ ۔ اس گلوبل ولیج (عالمی گاؤں ) میں اب اپنی زبانوں کا ناموس بچانے کے لیے حجاب یا برقع ضروری نہیں ہے۔

 

٭     نظم شاعر کے کردار کی کڑی مشقت ہے جب کہ غزل شاعر کے اخلاص کی ۔ ۔ ۔ ؟

آنند:   کردار اور اخلاص۔ ۔ ۔ دو کلیدی الفاظ کو کیسے آپ نے ’فساد قبل الذکر‘ کی فہرست میں شامل کر لیا؟ ان میں تو کوئی تضاد نہیں، کوئی مغائرت نہیں ہے۔ غزل بھی شاعر کے کردار کی کڑی مشقت ہے۔ شاعر کیا کہتا ہے، وہ کب ایک ’مصرع تر‘ کی صورت دیکھتا ہے ؟ کتنا خون جلتا ہے ایک مصرع تر کی صورت دیکھنے میں ؟ میر تقی میرؔ کا شعر کی تلاوت ہی فرمائیے کہ اس نے ایک ’دیوان جمع کرنے ‘میں کتنا خون جلایا تھا۔ میرؔ کی ہی باز گشت میری ایک پنجابی غزل کے شعر میں ہے :

انگلی انگلی، پوٹا پوٹا ، تُپکا تُپکا چویا خون

تاں جا کہ اک دو شعراں دی زلف سنواری کل راتی

تخلیقی قوت کی کارکردگی دونوں اصناف سخن میں یکساں ہے۔ البتہ غزل کی صنف میں کچھ موضوعات (جیسے کہ خود ترحمی self pity ) اور کچھ مضامین استعاروں، تمثالوں، اصطلاحات کی اس قدر فراوانی ہے کہ تخلیقی قوت میں جس طرح ہر انگلی سے قطرہ قطرہ خون ٹپکتا ہے، شعرا ء اس کے درد زہ birth tangs سے بچنے کے لیے ایک موٹر مکینک کی طرح اس شعری گودام سے ضرورت کے فاضل پرزے spare parts (جو بین المتونیت inter-textuality کی تھیوری کی رو سے ان کے ذہن میں پہلے ہی موجود ہوتے ہیں )ایک ایک کر کے اٹھاتے ہوئے جڑتے چلے جاتے ہیں، انہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ ’آمد‘ در اصل ’آورد‘ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری طرح نظم کے شاعر بھی (جن کی تربیت غزل کی مشق سخن میں ہوئی ہے ) اس سے بچ نہیں پاتے۔ ۔ ۔

۔ آپ کے لیے یہ شاید ایک دلچسپ لطیفہ ہی ہو، لیکن اس بدعت سے بچنے کے لیے کوئی چالیس برس پہلے میں نے ایک ترکیب یہ نکالی، کہ ایسے الفاظ کی ایک فہرست بنائی اور ہر نظم کے مکمل ہونے سے پہلے اس کی فائنل قطع و برید میں بغور یہ دیکھنا شروع کیا کہ اس فہرست کا کوئی لفظ کہیں لا شعوری طور پر استعمال میں تو نہیں آ گیا ہے۔ اور پھر ایک ماہر جرّاح کی طرح اسے کاٹ کر پھینک دیا۔ یہ امر آپ کے لیے باعث تفریح ہو گا کہ اس جدول بندی میں لفظ ’دل‘ سر فہرست تھا۔ جو درجنوں مختلف النوع معانی میں (گوشت کے لوتھڑے سے لے کر لطیف جذبات کی آماجگاہ تک) غزلیہ شاعری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا لطیفہ در لطیفہ یہ ہے کہ ایک عزیز مسمی بہ زیف سید سے (جو اس وقت یہاں واشنگٹن ڈی سی میں وائس آف امریکا کے عملے میں ایک ممتاز جگہ پر تھے اور آجکل اسلام آباد میں بی بی سی سے منسلک ہیں ) اور جو تقریباً ہر ہفتے اتوار کو مجھ سے ملنے غریب خانے پر تشریف لاتے تھے اور کچھ گھنٹے میرے ساتھ گذارتے تھے، اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے میں نے ان کے ساتھ ایک شرط بد دی کہ اگر وہ میری چھ سو نظموں میں سے کسی ایک میں بھی لفظ ’’دل‘‘ نکال کر دکھا دیں، تو فی لفظ دس ڈالر کے حساب سے میں ادائی کروں گا۔ حسنِ اتفاق دیکھیے کہ انہوں نے میری شاعری کے دس مجموعوں کے لگ بھگ پندرہ سو صفحات (اور تیس ہزار سطور ) کو چھانتے ہوئے ایک نظم میں لفظ ’دل‘ دیکھ ہی لیا۔ اور دس ڈالر جیت لیے۔ (اگر موصوف یہ تحریر پڑھیں گے تو انہیں یاد آ ہی جائے گا!)

 

٭     استحضاریت شعر کا خاصہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر نام نہاد آمد کا غوغا کیسا ؟

آنند:   اسی ’’استحضاریت‘‘ ( مستحضر، یاد کیا ہوا، مرتسم کیا ہوا، نوک بر زبان ہونا، یاد میں محفوظ ہونا) کو تو انگریزی میں inter-textuality اور اردو میں بین المتونیت کہا جاتا ہے۔ اور یقیناً یہ شعر کا خاصہ ہے، لیکن بھائی جان، صنف غزل کا تو مکمل انحصار ہی اسی بات پر ہے۔ زندگی اس قدر تیزی سے بدل رہی ہے کہ ہم عالمی گاؤں بن چکے ہیں۔ اگر آج بھی ہم ڈھیروں کے حساب سے وہی پرانی تشبیہیں اور استعارات برتیں گے جو بطور خیرات فارسی نے ہمارے کشکول میں تین صدیاں پہلے ڈال دیے تھے، تو پھر اللہ اللہ، خیر صلّیٰ۔ اس سلسلے میں اپنی ایک نظم جو لگ بھگ نصف صدی پہلے یعنی 1957ء میں لکھی گئی، پیش کرتا ہوں۔ شاید اس میں آپ کو جواب مل سکے۔

ہماری آنے والی نسل کو کیسے خبر ہو گی؟

بہت سے رت جگے جھیلے

بہت آہ  و بکا میں وقت گذرا

غم پرستی کے سیہ حُجرے میں پہروں بیٹھ کر روئے

صنم پوجے ملال و حُزن کے ان بُت کدوں میں، جو

سخن کے بُت تراشوں اور غزل کے آذروں نے

اپنے وقتوں میں تراشے تھے

بہت غزلیں کہیں، شعروں میں حُسن و عشق کے پیکر تراشے

خود سے باتیں کیں

بڑے ہی خوبصورت استعاروں کی زباں میں بات کہنے کا ہنر سیکھا

بزرگوں کے وہ گُر ازبر کیے

جو شعر کہنے میں معاون تھے

بہت کچھ کر لیا، دیوان چھاپے، محفلوں میں داد حاصل کی

 

مگر آخر کِیا کیا؟

کون سی سچائیوں کے نخل کی یہ آبیاری تھی؟

یہ کیسی شاعری تھی، انفعالیت، شکست ذات، خود ترسی کی قدریں تھیں

جنہیں معصوم ذہنوں میں سمویا تھا

سمجھ کر جوہر فن، حسنِ روح، شاعری ہم نے ؟

کبھی اس حُزن کے حجرے سے نکلیں تو!

کبھی تازہ ہوا میں سانس لینے کو تو راضی ہوں

کبھی سوچیں کہ ہم نے کیا دیا ہے

آنے والی نسل کو اس کی وراثت میں ؟

 

کوئی ایسا صحیفہ، جس میں پورے دور کی تاریخ لکھی ہو؟

صحیفہ جو تدّبر کی علامت ہو، تعقل سے عبارت ہو

صحیفہ جس میں مخفی ہو کسی گُذرے ہوئے کل کی کہانی

عصرِ حاضر کے معانی کے تناظر میں ؟

صحیفہ، فلسفے کا، عشق کا، راز طریقت کا؟

صحیفہ، صاف پانی کا وہ چشمہ

عکس جس میں جھلملاتا ہو سبھی روشن مناروں کا

شبیہیں قوم کے معمار فنکاروں کی

جو ہر دور میں تاریخ سازی میں معاون تھے ؟؟؟؟

 

اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں کچھ سوچنا ہو گا

بہت سی اور راتیں جاگ کر ہی کاٹنا ہوں گی

انہی شعری صحیفوں کی عبادت میں

اگر خون رگ جاں سے نہ لکھ پائے یہ فن پارے

ہماری آنے والی نسل کو کیسے خبر ہو گی؟

 

اگر آپ اجازت دیں تو میں ان سطروں کو دہرا دوں جو آپ کے سوال (یعنی یاد کے دفینوں سے کھود کر نکالی ہوئی شاعری کا بعینہ یا کچھ تبدل و اشتراک کے ساتھ روپ) کے بارے میں ہے۔

یہ کیسی شاعری تھی، انفعالیت، شکست ذات، خود ترسی کی قدریں تھیں

جی ہاں، آورد کا غوغا کیوں، مائی باپ؟۔ اسی پر شاکر رہیں۔ انفعالیت، شکست ذات اور خود ترحمی کے اشعار کہے جائیں اور داد وصول کرتے جائیں۔ لیکن میں، جنم جنمانتر کا باغی کیسے اس پر شاکر رہ سکتا تھا۔ اس کے بعد میں نے پے در پے اور نظمیں لکھیں جن میں اس بات کا اعادہ تھا کہ میں یہ ’شعری صحیفے ‘ لکھ کر اپنا فرض پورا کروں گا۔ اس کا اعلان میں نے دو برسوں کے بعد ایک اور نظم میں کیا، جو ممبئی سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’شاعر‘ میں چھپی۔ اور اس پر بحث میں نامور اہل قلم (بشمولیت مرحوم سردارؔ جعفری نے حصہ لیا) آپ بھی دیکھیں اور داد دیں کہ میرا اعلان جنگ خالی خولی دھمکی ہی نہیں تھا، میں اس پر ایک عمر سے عمل کرتا چلا آ رہا ہوں۔ نظم کا عنوان ہے

میں خوابوں، خیالوں کا دریوزہ گر

میں خوابوں خیالوں کا دریوزہ گر

اپنا کشکول پھیلائے پھرتا رہا ہوں

ہمہ تن سوال و تجسس، کہ شاید

مجھے کوئی خیرات مل جائے، درویش شیراز، مُلّائے رومی سے

………

تو میں پرو لوں

خیالوں کو، خوابوں کو الفاظ کی جھالروں میں !

کہوں خود سے، میرے تہی شکم کشکول کی بھوک

اب مٹ گئی ہے

اسے سیر حاصل تشفی کا احساس ہونے لگا ہے

میں کم مایہ، محتاج، اردو کا شاعر تھا

جب بھی کبھی میں نے ان دو تونگر فقیروں کا در کھٹکھٹایا

فقیری کو دیکھا

تونگر کو پرکھا

تو جو کچھ بھی پایا۔ ۔ ۔ ۔ فقط ایک ہی لفظ

یا اس کی تفسیر سلک بیاں میں

فقط ’عشق‘ اور ’عشق‘ اور ’عشق‘ اور ’عشق

کہیں عشق، ’عشق ازل گیر‘ دیکھا

کہیں عشق، ’عشق ابد تاب‘ پایا

تعشق سے لے کر پرستش تلک

ایک ہی لفظ کی منقبت، مدح خوانی!

 

میں کب ڈھونڈھ سکتا تھا اس عنکبوتی جھمیلے میں

کچھ ایک سلجھے ہوئے تار، جو عصر حاضر میں

مجھ جیسے دریوزہ گر کی تشفی کا سامان بنتے ؟

یہ مانا کہ اپنے حکیمانہ افکار میں

اپنے وقتوں میں ملّائے رومیؔ

فرشتہ صفت ایک ہاتف تھا، جس کا

ہر اک لفظ سر بستہ راز طریقت تھا

تفسیر میں جس کی یزدانیت تھی

یہ مانا کہ درویش شیراز اپنے سخن کے

نمود و تناظر میں کاہن بھی تھا اور درویش بھی، پر

غزل گفتنی کو فقط مے پرستی

’لب، لعل‘، ’چشم فسوں ساز‘، ’یار طرحدار‘ کے دائروں میں

ہی رکھ کر پرکھنا طریقت نہیں ہے

تصوف کا پہلو جھلکتا بھی ہو، تو

یہ عشق حقیقی و عشق مجازی کی سوزن

مرا کون سا چاک سیتی؟

 

میں دریوزہ گر لفظ و معنی کا

نادار اردو زباں کا گدائے سخن

فارسی کی حلاوت سے اپنا تہی کاسۂ ذہن

صدیوں تلک تو

بڑے شوق سے بھرتا آیا ہوں، لیکن

مجھے اپنی کم مائے گی سے بھی بڑھ کر

حقیقت کا واضح نشاں مل چکا ہے

کہ میں چار صدیوں سے

اپنی ہی مرضی سے

گمراہ ہوتا چلا آ رہا ہوں !

 

میں ’’ عشق ازل گیر‘‘، ’’عشق ابد تاب‘‘ کا سست رفتار

ذہنی سفر چھوڑنا چاہتا ہوں

مجھ اب ضرورت ہے اس فلسفے کی

محرک رہا ہے جو صدیوں سے مغرب کی سبقت، ترقی پسندی

قدم زن قیادت کا ہر مسئلے میں !

مجھے اب ضرورت ہے اس کاوش فکر کے نظریے کی

کہ جس سے میں صدیوں کی غفلت کی زنجیر توڑوں

اندھیرے سے نکلوں، جہالت کو چھوڑوں !

 

میں اردو کا شاعر۔ ۔ ۔ خیالوں کا، خوابوں کا دریوزہ گر اب

اجازت کا طالب ہوں

ملائے رومیؔ سے، درویش شیراز سے

اے بزرگو

مجھے اب مرے حال پر چھوڑ دو!

میں نئے دور کی اس صدی میں ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ تمہارے

’سبو‘، ’ جام‘، ’ساغر‘، ’لب لعل‘، ’عیش و طرب‘، ’شمع عارض‘

گل و بلبل و گلشن و آشیانہ و برق تپاں

رہبر و راہزن، دشت پیمائی، مجنون و لیلے و محمل

سفینہ و ساحل و گرداب۔ ۔ ۔ ۔ دیوار و در۔ ۔ ۔

منصف و قاضی ٔ شہر، زندان و دار و رسن

۔ ۔ ۔ غزل گفتنی کے سبھی استعاروں

اشاروں، کنایوں کی اس بزم سے رخصتی چاہتا ہوں۔

1980ء

۰۰۰ (ہر دو اصطلاحات ن م راشدؔ سے مستعار)

 

٭     غزل میں نئے مضامین کی معدومیت کا رونا رونا کیا انسانی دماغ کی ’’ عبقری فعالیت ‘‘پر چیلنج اور تحدی نہیں۔ ؟

آنند:   غزل گو شاعر کے ہاں، افسوس، صد افسوس، اس دماغ کو بیدار کرنے کا وقت ہی نہیں ہے جس میں ایک قدر معتبر کے طور پر ’عبقری فعلیت‘ یعنی ذہین، فطین، ہونے کی سطح پر فعال ہونا موجود ہو۔ وہ تو ذہن کے گودام کے شیلفوں پر رکھے ہوئے ان spare parts کو اٹھا اٹھا کر جب اپنی غزل میں فِٹ کرتا ہے تو اسے یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ ’ آمد‘ ہے، کیونکہ ذہن نے براہ راست ایک استعارے، یا ایک تشبیہ پر استوارسلک بیان میں، من و عن، جچے تُلے الفاظ میں ایک خوبصورت جملہ اسے فراہم کر دیا ہے۔ ؎ ہر کہ خیانت کند، البتہ بترسد ۔ ۔ بیچارہ شاعر نہ کرے ہے نہ ڈرے ہے : بیچارے شاعر کو تو یہ بھی علم نہیں کہ اس سے پہلے اس نے اساتذہ کے کلام میں یا اپنے ہمعصروں کے کام میں کتنی بار اس کو دیکھا ہو گا اور عادت ثانیہ کے طور پر اسے اٹھا کر اپنی یادداشت کے گودام کے ذخیرے میں ایک شیلف پر سجا دیا ہو گا۔

 

٭     نظم گو شاعر اور غزل گو شاعر کے فکری جذباتی تنوع اور معاشرتی برتاؤ پر بات ہو سکتی ہے ؟ یا اسے فطری ساختیات اوراسلوبیاتی دِساتیر میں ہی دیکھنا ہو گا۔ ۔ ۔ ؟

آنند:   جی ہاں، بالکل ہو سکتی ہے۔ پہلے اگر ’’فکری، جذباتی تنوع‘‘ کو ہی لیں، تو سوال در سوال اور جواب در جواب کی ضرورت نہیں پڑے گی اور بر سبیل تذکرہ ’’معاشرتی برتاؤ‘‘ کا ذکر بھی آ جائے گا۔

’’فکری، جذباتی، تنوع‘‘۔ ۔ ۔ آپ نے، محترم، ’فکری ‘ اور ’جذباتی‘ کے مابین commaیعنی سکتہ روا نہیں رکھا، اس لئے میں اب ’’فکری اور جذباتی تنوع‘‘ کے سیاق و سباق میں دیکھ کر جواب لکھ رہا ہوں۔ ساسیئر سے مجھے کچھ قرض لینا پڑے گا۔ وہ کہتا ہے کہ قاری یا سامع کو’ تنوع‘ اس وقت مسحور کرتا ہے جب لسانی عمل میں کوئی تخلیق اپنے عناصر میں congruity اور incongruity یعنی ارتباط و تضاد کے ذو جہتی تفاعل کے ہونے کے باوجود معنویت کو قائم رکھ سکنے کی اہل ہو۔ اسی وسیلے سے ابلاغ اور تنوع باہم بغلگیر ہو جاتے ہیں۔ فکر اور جذبہ( اس ترتیب سے ) یا جذبہ اور فکر (اس ترتیب سے ) بہم دگر اگر منسلک ہوتے چلے جائیں تو معنی خیزی اپنے عروج پر رہتی ہے۔ نظم گو شاعر سہولیت کے ساتھ یہ قول اپنے فعل میں نبھاتا چلا جاتا ہے کیونکہ اسے پیچھے مڑ کر دیکھنے اور اپنی یادداشت کے شیلفوں سے فاضل پرزے اٹھا کر جڑنے کی ضرورت پیش نہیں آتی جبکہ غزل گو شاعر (میں نوّے فیصد نہیں کہوں گا!)آخری ممکنہ حد فاصل تک اصطلاحات، جملے، استعارے، ’مفت موسوم مصطلحات‘ جوں کے توں اٹھا کر جڑتا چلا جاتا ہے کہ فکر اور جذبہ نام کی دو بے تصنع اور بے آمیز ذہنی کیفیات پس پشت پڑتی چلی جاتی ہیں۔

اب فطری ساختیات اور اسلوبیاتی دساتیر کی طرف متوجہ ہوں۔ مجھے پھر ساسیئر اور بلوم فیلڈ Leonard Bloomfield کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ فطری ساختیات پر زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم سب نہ صرف ساسیئر کے کام سے واقف ہیں، بلکہ پس ساختیات کے حوالے سے دریداؔ کے افکار کے بارے میں بھی کماحقہ آگاہی رکھتے ہیں۔ البتہ اسلوبیاتی دساتیر (یعنی اسلوب کے بارے میں وضع کیے گئے دستور، نقول، نمونے، آئین وغیرہ) کے بارے میں بات کو آگے بڑھائیں۔ غزل کا چلن ہی کوزے میں دریا کو بند کرنے یعنی مختصر ترین عبارت آرائی میں زیادہ سے زیادہ مفہوم کو فِٹ کرنا ہے۔ اس مسئلے کو اردو شعرا نے (بہ نسبت فارسی شعرا کے، کہ فارسی شعرا کے پاس فارسی کے علاوہ کوئی بیرونی ماڈل موجود ہی نہیں تھا، جبکہ اردو کے پاس فارسی کے دساتیر موجود تھے ) حل کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ میرؔ تو خدائے سخن تھا، اس نے سہل پسندی میں ہی روزمرہ کی زبان کا اختلاط کلاسیکی اسلوب سے کیا اور خوب کیا۔ شاید اس لیے بھی کہ ولی دکنی اور امیر خسرو کی مثالیں اس کے سامنے موجود تھیں۔ غالبؔ نے اپنی مدوریت اور ملفوفیت سے حتیٰ الوسع، حتیٰ الشعور (اور حتیٰ الامکان ) تک فایدہ اٹھایا۔ ترقی پسند تحریک کے آنے کے بعد بھی (اور اس کے اختتام تک) یہ اصول و ضوابط جاری رہے۔ ( یہاں میں نہ صرف صنف غزل کی بات کر رہا ہوں  بلکہ اختر شیرانی کے رومانی دور کے بعد اور اقبال کے pro-Islamicدور کے بعد بھی ترقی پسند تحریک کے وقتوں میں صنف نظم نے بھی اسلوب کی سطح پر کوئی انقلابی رد و قدح یا رد و بدل نہیں کیا، اس کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہوں۔ )

جدیدیت کی نام نہاد so-called تحریک کے سالوں میں (یہ تحریک جو انڈیا میں زیادہ اور پاکستان میں کم، ایک برساتی نالے کی باڑھ کی طرح آئی اور خس و خاشاک چھوڑ کر اتر گئی) میں البتہ نہ صرف زبان کی شکست و ریخت ہوئی بلکہ de-construction کے آزمودۂ کار اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر زبان سے ایسی کھلواڑ کی گئی کہ خدا پناہ ! اس میں ملوث کچھ شعرا نے تو ایسے شعر موزوں کر کے نہ صرف اس تحریک کو ہی نقصان پہنچایا بلکہ اپنی کھلّی بھی اڑائی۔ ؎ سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا ۔ ۔ ۔ اور ؎ بکری میں میں کرتی ہے : بکرا منمناتا ہے یا شاید اس کے الٹ، بکرا منمناتا ہے، بکری میں میں کرتی ہے۔ یہاں میں، نظم اور غزل، دونوں کے حوالے سے اپنے لکھے ہوئے ایک مضمون سے ایک اقتباس پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ یہ مضمون بجنسہ میری کتاب ’’کتھا چار جنموں کی‘‘ میں موجود ہے۔ ایک مقالہ جو میں نے لکھا وہ تخلیقی قوت کی اس کارکردگی کے بارے میں تھا، جو فنکار کے ذہن میں پہلے ایک موہوم سی اور بعد میں ایک بہت شدید ’’ٹینشن‘‘ کی شکل میں وارد ہوتی ہے، اور فن پارہ مکمل ہونے کے بعد کتھارسس سے تحلیل ہو کر ایک قسم کی آسودگی کا احساس چھوڑ جاتی ہے۔ یہ مقالہ اس سوال کے جواب کے فٹ نوٹ کے طور پر پیش کر رہا ہوں۔

انگریزی لفظ tension یونانی لفظtensio اور اس کی اسمِ جامد شکل tensus سے آیا ہے۔ ارسطو نے اپنی بوطیقا میں اس ہیجان کی سی کیفیت کے لیے جس کا علاج اس نے کتھارسس catharsis فرض کیا، یہی دو الفاظ استعمال کیے ہیں۔ میں نے اس لفظ کے ممکنہ اردو نعم البدل الفاظ، ہیجان، کھچاؤ، تناؤ (ذہنی اور جسمانی) پر ارسطو کی اصطلاح کے حوالے سے غور کیا تو مجھے یہ تینوں نا کافی محسوس ہوئے۔ بہر حال 1964ء میں تحریر کردہ ایک ریسرچ پیپر جو P.E.N. کی کانفرنس کے لیے مجھے لکھنا تھا، میں نے یہ سوچ کر کہ ’’کتھارسس‘‘ پر توہزاروں صفحے لکھے جا چکے ہیں، لیکن ’’ٹینشن‘‘ پر جو ایک آرٹسٹ تخلیق کے عمل سے پہلے محسوس کرتا ہے، بہت کم کام ہوا ہے، اس موضوع کا انتخاب کیا اور چونکہ میں انگریزی کے علاوہ سنسکرت میں بھی شد بد رکھتا تھا، سنسکرت کاویہ شاستر کو کھنگالنے سے مجھے جو موتی ملے، انہیں میں نے بقدر ظرف اس مقالے میں استعمال کیا۔

یہ درست ہے کہ جذباتی اور نفسیاتی کھینچا تانی سے ہمارے دل و دماغ میں جو ہلچل پیدا ہوتی ہے اگر اسے بڑھنے دیا جائے اور اس کا سدِباب نہ کیا جائے تو اس کا اخراج فساد، مار پیٹ، قتل اور خود کشی میں نمایاں ہو سکتا ہے۔ اس لیے اگر حیاتیاتی اور نفسیاتی علوم کی مدد سے اس کو خارج کیا جا سکے تو ’مریض‘ اپنی نارمل حالت میں واپس آ سکتا ہے۔ یونانی اطباء کو بھی اس کا علم تھا، اس لیے جب ارسطو نے یہ کہا کہ ایک ٹریجڈی اسٹیج پر کھیلے گئے واقعات کی بنا پر تماشائیوں کے ایسے جذبات کو رحم اور خوف سے خارج کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، اس لیے افلاطون کی ’’ ری پبلک‘‘ میں جہاں دیگر پیشہ وروں کو مناسب جگہ اور رتبہ دیا گیا ہے، وہاں ڈرامہ نویسوں کو بھی دیا جانا ضروری ہے۔ یہاں تک تو طلبہ کو سمجھانا آسان تھا، لیکن میں نے اس مقالے میں مثالوں سے یہ واضح کیا کہ جب تک ہم عصری حوالوں سے، جن میں نسل، قومیت، مذہب اور رنگ کی بنیاد پر فسادات کا ایک لا اختتام سلسلہ جاری ہے، ان حالات کو ارسطو کے نظریے میں کچھ توسیع کر کے نہ بتائیں، ہم طلبہ کو نہیں سمجھا پائیں گے، کہ ارسطو کا نظریہ کس حد تک نا مکمل ہے۔ اسی طرح نصاب کی متنی تدریس سے تجاوز کر کے میں اپنے طلبہ سے جو باتیں کرتا تھا، ( اور میں نے جس کے بارے میں اپنے مقالے میں تفصیل سے لکھا )، ان میں یہ باریک نکتہ بھی شامل تھا کہ حقیقت نگاری اور سماجی حقیقت نگاری Realism & Social Realismمیں کیا فرق ہے۔ اوّل الذکر صدیوں سے قابل قبول اس چلن سے انحراف تھا جسے ہم رومانی اور تخیلی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن روسی انقلاب سے کچھ قبل اور پھر اس کے بعد شد و مد سے موخر الذکر کا دور شروع ہوا جس میں مقصدیت اور مروجہ جمالیاتی اسلوب سے بغاوت تھی، یہاں تک کہ سیاسی اور سماجی تشکیل نو کے لیے بھی ادب کو آلۂ کار بنا لیا گیا۔ ترقی پسند مصنفین کی تگ و دو بھی دونوں ممالک، یعنی ہندوستان اور پاکستان میں اسی کے زیر اثر شروع ہوئی۔ ان برسوں میں عقیدہ، جاگیردارانہ تکلف، روحانی اقدار کی پابندی، بورژوا اخلاقیات کی بھرپور مخالفت کی گئی۔ پھر وہ دور آیا، جب روس کی دیکھا دیکھی ہماری زبانوں میں بھی ادیبوں اور قارئین، دونوں نے یہ محسوس کیا کہ وہ بھٹک گئے ہیں۔ یورپ میں تو جنگ عظیم کے ختم ہوتے ہوتے جدیدیت کی تحاریک شروع ہو چکی تھیں، لیکن ہمارے ہاں قدرے دیر سے پہنچیں۔ ہم لوگ بہت پیچھے تھے، یعنی جب بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ژاں پال سارترؔ کے وجودیت کے فلسفے کی بحث زوروں پر تھی ہم ابھی انجمن ترقی پسند مصنفین کی داغ بیل ڈال رہے تھے۔ جیمز جوائس کا ناول ’’یولیسیِس‘‘ انگلینڈ میں 1922ء میں چھپا جب کہ اردو والوں نے اس کے بارے میں بات چیت کرنا تیس چالیس برس بعد شروع کیا۔ سارترؔ کے فلسفۂ وجودیت کے حوالے سے یہ بات لکھنا ضروری ہے کہ کہیں کہیں اس میں ادبی روایات سے بغاوت کا چلن مختلف نہیں تھا، تہذیبی بیڑیوں کو کاٹنے کی باتا س میں بھی کہی جاتی تھی، بورژوا اخلاقیات اور مادیت سے بچ کر چلنے کی ہدایت اس میں بھی دی جاتی تھی۔ جنسی موضوعات سے پردہ پوشی کی روایت سے انحراف اس میں بھی تھا، لیکن ہوا یہ کہ مایوسی، تکان، مستقبل کے بارے میں بد اعتمادی، جہد لا حاصل جب ادبی موضوعات میں رواج پا گئے تو انسان کی افضل تریں حیثیت کے بارے میں ’’ڈی ٹراپ‘‘ de-trop یعنی بیکار، فضول کا نظریہ پنپنے لگا۔ اسلوب کی سطح پر علامت کے ابہام، استعارے کی ملفوفیت اور مدوریت کے اجزا در آئے اور شعری تخلیقات تو ایک معّمہ بن کر رہ گئیں۔

جہاں یورپ میں اشتراکی حقیقت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر جدیدیت کو اپنا لیا گیا تھا وہاں ہمارے ہاں یہ دونوں تحاریک کچھ برسوں تک ساتھ ساتھ چلتی رہیں، لیکن آخر روایت سے کلیتاً بغاوت نہ کئے بغیر بھی جدیدیت کے اجزائے ترکیبی ہمارے ادب میں رواج پا گئے۔ ’’حقیقت نگاری کے غیر جمالیاتی اور صحافتی اسلوب کی جگہ پر ما فوق الفطرت اور فطرت کی علامتوں سے مادی اور زمینی حقیقت کی ترجمانی رواج پا گئی۔ اردو ادب کے جزیروں میں ہی سہی، لیکن پاکستان میں کم اور ہندوستان میں زیادہ یہ امور دیکھنے میں آئے کہ defamiliarization یعنی غیر مانوسیت اور anachronism یعنی سہو زمانی کے طریق کار سے جمالیات اور معنویت کہ تہہ داری پیدا کی گئی۔ مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں ہے، اور میں اسے hindsight سے دیکھ سکتا ہوں، (کیونکہ ان میں بیشتر قلمکار ذاتی سطح پر میرے واقف تھے !) کہ یہ لوگ غیر منطقی اور ابسرڈ absurd تحریریں ارادتاً لکھ رہے تھے۔ یورپ میں بھی سَرریئلسٹوں Surrealists کے بارے میں یہ بات اب غلط نہیں سمجھی جاتی کہ وہ گراف بنا کر، اس کیچ یا نقشہ بنا کر، اپنی تحریر کو خلط ملط کرنے اور متن کی ’’آنکھ ناک کان کو اس کے جسم کی کسی بھی جگہ پر ٹرانسپلانٹ کرنے ‘‘ کی کوشش جان بوجھ کر کیا کرتے تھے۔ ان کی تحریروں میں جنس و جبلت بطور موضوع یا مضمون نہ بھی ہوں تو بھی ان کا ذکر برملا ہوتا تھا۔ لیکن گفتگو میں یورپ کے معروف دانشوروں کا نام لینے تک ہی ان کیے مطالعہ کی سد سکندری تھی۔ اگر ان سے پوچھے جائے کہ ییک لاکاں، جس کا نام وہ لے رہے ہیں، کون سے ملک سے یا کس زبان سے یا کس دور سے تعلق رکھتا تھا، تو انہیں کچھ پتہ نہ تھا۔ اگر یہ کلید بھی دے دی جائے کہ اس نے نشاۃ ثانیہ Renaissance کی تحریک کو جدید دور اور قرون وسطی کی کڑی بتایا ہے تو بھی انہیں کوئی سراغ نہیں مل سکتا تھا۔ ایک بار میں نے کوئی پچیس برس پہلے دہلی کے اردو دانشوروں کے ایسے ہی ایک گروپ میں سوئٹزرلینڈ کے مورخ جیکب برک ہارٹ Jacob Berchart کا ذکر کیا اور کہا کہ موجودہ جدیدیت سے بہت پہلے اس نے نشاۃ ثانیہ کی اصطلاح کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی نشاندہی کر دی تھی جنہیں آج ہم جدیدیت کے بنیادی عناصر کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ اور یہ تھے، فردیت کے نظریہ کا فن پر اطلاق، دنیا اور فرد کی باہمی کشمکش کی نئے سرے سے دریافت، فرد اور حکومت کے تعلق باہمی کا ادب سے اخراج۔ ۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ سب خاموش بیٹھے تھے۔ ان میں وہ بھی تھے جو بزعم خود اپنے آپ کو اردو میں جدیدیت کے قائد کے بعداس کا سب سے بڑا ideologue سمجھتے تھے۔

٭٭٭یااہر جرآove : and Proof. There ءماخوذ)_

 

 

 

ستیہ پال آنند کی دو  نظموں کے تجزیاتی مطالعے ۔۔۔ نصیر احمد ناصر/ لطف الرحمٰن

 

                   ۱۔ ’’سیپیاں‘‘ ۔۔۔ ستیہ پال آنند

________________________________________

 

سیپیاں، شفّا ف، پاکیزہ، عفیفہ

سیپیاں، عزت مآب و پارسا ناکتخدائیں

سیپیں مریم

بہت سی سیپیاں

چاروں طرف لیٹی ہوئی ہیں ریت پر

ساحل کی ہلکی دھوپ میں

پہلو بدلتی، کسمساتی!

 

کسمساتی سیپیاں

کھولے ہوئے رمز و رضائے وصل کے بند قبا

سارے دریچے

جو ابھی تک بند تھے

اب نیم وا ہیں

منتظر ہیں

نیم وا ہیں، منتظر ہیں

خالقِ ارض و سما کی

خاص شفقت کے

کہ جو ابر کرم سے

موتیوں کی بخششیں پیاسی زمیں پر بھیجتا ہے

سیپیاں ساحل کی پیاسی ریت پر

لیٹی ہوئی ان رحمتوں کی منتظر ہیں !

 

رحمتوں کی منتظر ہیں

جن سے شاید جاگ اٹھے

کوئی خوابیدہ کرن تاریکیوں میں

یا ہویدا ہو کوئی موتی منّور

بطن مادر میں کھِلے تخلیق کی پہلی کلی سا

ایک دُرِّ نجف و نذرۃ ؎۱

 

سیپیاں

ناکتخدا، مریم سی پاکیزہ

بہت سی سیپیاں

لیٹی ہوئی ہیں ریت پر!!

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

۰۰۰۰ اصلی عبرانی تلفظ روا رکھا گیا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

                   مطالعہ ۔۔۔ نصیر احمد ناصر

________________________________________

 

 

                   Immaculate Conception

________________________________________

 

ستیہ پال آنند کی نظم ’’سیپیاں ‘‘ ایک بالائی یعنی ظاہری سطح پر اور تین زیریں سطحوں پر متحرک ہے اور ہلکی لہروں میں چلتی ہوئی، پہلو بدلتی ہوئی، سیپیوں کی طرح ہی ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔

(۱) بالائی یعنی ظاہری سطح پر لا تعداد ’’شفاف‘‘ سیپیاں ہیں جو ساحل کی ’’پیاسی‘‘ ریت پر جہاں تہاں پڑی ہوئی ہیں۔

(۲) پہلی زیریں سطح پر سیپیاں ساحل سمندر یعنی Beach پر آفتابی غسل Sun bathing میں لیٹی ہوئی ہیں۔ اپنے برہنہ اعضا کی چمک دمک سے آنکھوں کی خیرہ کر دینے والی لڑکیاں ہیں یا نوجوان عورتیں ہیں، ’شفاف‘ سے عیاں ہے کہ یہ شاید گوری نسل سے ہیں۔

(۳) دوسری زیریں سطح پر یہ لڑکیاں، جو ’پاکیزہ ‘۔ ۔ ۔ ’عفیفہ‘ ۔ ۔ ۔ ناکتخدائیں ہیں، رمز و رضائے وصل کے بند قبا کھولے ہوئے، کسمساتی ہوئی، جذباتی یا شہوانی انگیخت کے ظاہری شواہد پیش کرتی ہوئی، کسی حادثے، سانحے یا آنے والے واقعے کی منتظر ہیں۔ اس سطح پر ان کا منظر نامہ ساحل سمندر پر دراز یا نیم دراز عورتوں کی مناسبت سے طبیعی یا جنسی جہت تک ہی محدود رہتا ہے۔

(۴)تیسری زیریں سطح پر یہ تصور عفت آب پارسا سیپیوں کو مریم کے روپ کا حامل بنا دیتا ہے۔ اس سطح پر سیپیاں خالق ارض و سما کی خاص شفقت کی منتظر ہیں جس سے ان کے بطن میں ایک ’’ دُر، نجف و نذرۃ ‘‘کا ظہو رہو اور وہ ’’حمل پاکیزہ‘‘ Immaculate Conception کے عقیدے کے مطابق حاملہ ہو جائیں۔

صرف پانچ بندوں اور تیس سطروں پر مشتمل اس نظم میں ان چار جہتوں کو نبھانا ایک نہایت مشکل امر ہے۔ کوئی اور شاعر شاید ان mutually inclusive ’باہم مشمولہ‘ زاویوں کو بہم دگر جوڑ کر مضبوطی سے پہوست رکھنے میں دقّت محسوس کرتا لیکن ستیہ پال آنند کی دوسری نظموں کی طرح اس میں بھی بیک وقت بقائے باہمی اور ہمہ جہتی سے عبارت Linear Progression (جو بیشتر نظموں کا خاصہ ہے ) کی جگہ پر coexistional ترتیب سے کام لیا ہے اور چاروں جہتیں ہمہ وقت موجود و حاضر رہتی ہیں اور آہستہ آہستہ ایک سے دوسری میں ضم ہوتی چلی جاتی ہیں۔ یہ جہتیں جو بقائے باہمی کی حامل بھی ہیں اور Linear Progression کا ساتھ بھی نہیں چھوڑتیں، کچھ اس طرح ہیں۔ ۔ ۔ ۔

سیپیاں۔ ۔ ۔ ۔ غسل آفتاب میں لیٹی ہوئی لڑکیاں (quantification-1)۔ ۔ ۔ ۔ پاکیزہ، عفیفہ، ناکتخدائیں، لیکن رمز و رضا کے وصل کے لیے بند قبا کھولے ہوئے (quantification-2)۔ ۔ ۔ ۔ مریم یعنی immaculate Conceptionکی مادر اصل و شہود و وجود (quantification-3)۔

اب آئیے، دیکھیں کہ Linear Progression کس طرح coexistional progression میں ضم ہو جاتی ہے۔

 

                   نظم کا پہلا سنگ میل

________________________________________

 

۱۔ سیپیاں (صنف نازک، بے جان) لیکن موتی سے حاملہ

/

۲۔ کنار آب پر آفتابی غسل میں لیٹی ہوئی لڑکیاں (صنف نازک، جاندار)

/

۳۔ پاکیزہ، عفیفہ (صاف) نا کتخدائیں (اسم اشارہ)

/

۴۔ رمز و رضائے وصل کے بند قبا کھولے ہوئے (حرکت الایجاد، اشارہ)

 

آخری عدد یعنی حرکت الایجاد، ایک مبہم اشارہ immaculate conception کی طرف ہے جو آگے چل کر صاف ہوتا چلا جائے گا۔

یہاں تک نظم کی پہلی موومنٹ پہنچ کر رُک جاتی ہے۔ یہ موومنٹ یک سمتی ہے۔ اس یک سمت حرکت میں بھی ہم سیپیوں (جو ایک حد brittle، نازک، شفاف، موتی سے حاملہ، architypal نسوانی سمبل ہے، ) کو اس حوالے سے پہچان سکتے ہیں۔ یعنی سیپیاں ’’ بمعنی لڑکیاں، سنِ بلوغت تک پہنچی ہوئی لڑکیاں۔ ۔ ۔ ‘‘ اب یہ لفظ ’’سیپیاں ‘‘مجاز مرسل کی سطح پر ’’لڑکیاں ‘‘ میں ضم ہو جاتا ہے اور نظم کے اس پڑاؤ کے بعد ’سیپیاں ‘ اور ’لڑکیاں ‘ ایک ہی معنی میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ یعنی جسے شاعری کی گرائمر میں One-to-one metaphorical equation کہا جاتا ہے، وہ منزل آ جاتی ہے۔ لیکن شاعر ایک منجھا ہوا فنکار ہے اور وہ ان دو الفاظ (سیپیاں، لڑکیاں ) کو یکجا کرنے کے بعد بھی اسم جمع صفت noun-plus-adjective کے ایک پیہم سلسلے کو بروئے کار لاتا ہے، جو انہیں Maculate یعنی “کثیف یا غیر مصفیٰ “سے immaculate، صاف، شفاف (پاکیزہ)کی طرف لے جاتا ہے۔ مادر عیسیٰ کا حاملہ ہونا انسائکلوپیڈیا میں اس طرح درج ہے۔

Immaculate conception

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ..۔ “Conception in which the off-spring is preserved free from original sin by divine grace held in Roman Catholic dogma to be the manner۔ ..۔ .. of the conception of Virgin Mary.

اسم (جمع) صفات کا جو ایک لمبا سلسلہ نظم کے پہلے بند میں ہے، ان میں ہمیں ’‘شفاف‘‘، ’’پاکیزہ‘‘، ’’عفیفہ‘‘، ‘‘عفت مآب‘‘، ’’پارسا‘‘، ’’ناکتخدا‘‘ جیسے الفاظ ملتے ہیں۔ اور یہ ہمہ صفات الفاظ ایک زنجیر میں پروئے ہوئے ایک اسم کی کڑی تک پہنچ کر رُک جاتے ہیں۔ یعنی مریم۔ ۔ ۔ ’’مادر عیسیٰ‘‘۔ انہی الفاظ کی linear progression غیر مصفیٰ (maculate) سے چلتی ہوئی مندرجہ بالا الفاظ کی صفاتی روح اصل، یعنی صاف، شفاف immaculate) تک پہنچتی ہے۔

جونہی ہم نظم کے دوسرے بند تک پہنچتے ہیں، سیپیاں لڑکیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ الفاظ کا استعمال جو اس بند میں ہے، تشبیہ واستعارہ کے باعث صراحت سے مملو ہونے کے باوجود اکہرا نہیں ہے۔ یہاں ’’سیپیاں ہی ہیں، جو کسمسا رہی ہیں ‘‘ کسمسانا اعضا کی اینٹھن کا ظاہری روپ ہے اور ایک متحرک فعل ہونے کی وجہ سے ایک متحرک تصویر ابھارتا ہے۔ اس بند میں سیپییاں رموز کے ملبوس میں۔ رمز و رضائے وصل کے ’بند قبا ‘کھلتے ہیں، یعنی سیپیاں اپنے بطن میں ایک موتی پانے کے لیے راضی بہ رضا ہیں۔ ان کے دریچے نیم وا ہیں۔ انہیں اگر انتظار ہے تو صرف ایک دُرِ نایاب کا!

لیکن، ایک دُرِ نایاب، جس کے لیے سیپیاں ’نیم وا ہیں، منتظر ہیں ‘، ۔ ۔ ۔ خالق ارض و سما کی خاص شفقت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یعنی حاملہ ہونا تو ایک امرِ عام ہے (مادہ جانور بھی حاملہ ہوتی ہے ) لیکن خالق ارض و سما کی خاص شفقت (یہاں ’خاص‘ غور طلب ہے )۔ ۔ ۔ ۔ Immaculate Conception کے لیے ضروری ہے کہ پیاسی زمین پر یہ موتی ابر کرم یعنی آسمان سے اترے۔ ابر نیساں کی طرح زمین جو ’پیاسی ہے ‘، اسے سیراب کرے۔ دو الفاظ کا مکرر استعمال ’خاص شفقت‘ اور ’موتیوں کی بخشش‘ اس منظر نامے کو ایک عام ’حمل‘ conception سے اُٹھا کر اس پاکیزہ بلندی کی طرف لے جاتا ہے، جسے immaculate conception کہا جاتا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اہلِ انجیل ’خدا کا بیٹا‘ تسلیم کرتے ہیں۔ لفظ ’بیٹا‘ کی استعارتی فہم و فراست سے قطع نظر (ہم سب خدا کے بیٹے ہیں، اس سے کسی مذہب کو کیا اختلاف ہو سکتا ہے ؟)، Immaculate Conception کا اپنا بھی ایک فلسفہ ہے، جسے اہلِ انجیل کے علاوہ اہل زبور بھی تسلیم کرتے ہیں۔

تیسرا بند اپنی see-saw تحریک میں ایک بار پھر دہرانے کے عمل میں، جسے ارسطو نے ڈرامے کی اصطلاح میں ’’پس آہنگ‘‘ کہا ہے، پہلی سطر، یعنی ’’نیم وا ہیں، منتظر ہیں ‘‘، جو ایک طبیعاتی (خارجی) منظر ’’نیم وا‘‘ اور ایک ذہنی، بطنی خواہش ’’منتظر ‘‘ ہیں، سے شروع ہوتا ہے، اور اس بار غیر مبہم طریقے سے ’’خالق ارض و سما‘‘ یعنی خداوند دو جہاں کی ’’خاص شفقت‘‘ کا ملتجی ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے، لفظ ’’خاص‘‘ خصوصی طور پر قابلِ غور ہے۔ یعنی حاملہ ہونا ’’conception‘‘ تو ایک عام بات ہے، لیکن Immaculate Conception ایک خصوصی امر ہے۔

اب پہلی بار نظم میں دو استعاراتی زاویے آپس میں congruent یعنی موافق اور یکساں ہو گئے ہیں۔ اردو شعری ادب میں ’ابر کرم‘ اور ’پیاسی‘ زمین یا ریت کا استعارہ بارہا استعمال ہوا ہے۔ اس میں دو صفات قابل غور ہیں۔ یعنی ’ابر‘ کے ساتھ ’کرم‘ اور ’ریت‘ کے ساتھ ’پیاسی‘۔ ۔ ۔ ۔ طوالت میں ایک مرکب استعارے Elongated metaphor کی شکل کو اب Linear کی خط راست اور مستحکم کی رواں خاصیت سے آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ خدا خالق ہے، ارض کا بھی، اور سما کا بھی۔ خدا ابرِ کرم سے موتیوں کی بخششیں پیاسی زمیں پر بھیجتا ہے۔ اور یہ موتی سیپیوں کے بطون میں سما جاتے ہیں۔ ۔ ۔ حمل کے پروسس کی سائنسی سچائی کے علاوہ الفاظ کے ہمہ صفت معانی کے استعمال سے ستیہ پال آنند صاحب نے کمال خوبی سے ایک اور جہت کو نمایاں کر دیا ہے۔ یعنی ’’ابر کرم‘‘، ’’ابر نیساں ‘‘، ’’لیٹی ہوئی‘‘ (یعنی کھڑی یا بیٹھی ہوئی نہیں، بلکہ ’لیٹی ہوئی‘) ان کے فنکارانہ استعمال سے شاعر قاری کو personification کی اس جہت تک لے جاتا ہے جہاں بے جان چیز (سیپ) اپنی صفات اور حرکت سے جاندار (حاملہ عورت) بن جاتی ہے۔ اس تیسرے بند میں کھلے بندوں ساحل پر پڑی سیپیاں دھوپ کا غسل کرتی ہوئی لڑکیاں بن کر قاری کے ذہن میں جلوہ گر ہو جاتی ہیں۔ واقعہ نگاری کی وہ جہت جیسے تمثال نگاری اور پیکر سازی کے عمل میں congruence کہتے ہیں، جو در اصل جیومیٹری کی ایک اصطلاح ہے، یہاں بالمقابلہ ایک چسپاں شدہ، خط بر خط اور زاویہ بر زاویہ نہ رکھ کر، بلکہ اشارے، علامتیں اور کنائیے بروئے کار لا کر لائی گئی ہے۔ جو لوگ شاعر یعنی ستیہ پال آنند کے طریق کار سے واقف ہیں اور جنہیں ان کی کثیر الجہت علمی اور ادبی شخصیت کا اندازہ ہے، جانتے ہیں کہ وہ کس طرح دیگر علوم سے استعارے اخذ کرتے ہیں۔

چوتھا بند ایک بار پھر ڈرامے کی اصطلاحی لُغت میں صدائے باز گشت یعنی Echo سے شروع ہوتا ہے۔ یعنی ایک سطر ’’رحمتوں کے منتظر ہیں ‘‘ کے دہرانے سے جو عمل پیدا ہوا، اس سے لپٹ کر بالیدگی، نشو و نما پانے، بیدار ہونے اور چمکنے یا چمک اُٹھنے کی طبیعی کیفیت معرضِ وجود میں آئی۔ یہاں سنسکرت شعریات کا بارہا آزمودہ نسخہ شاعر کامیابی کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ کسی بھی دوہے کی دوسری مقفیٰ سطر کے آخری ٹکڑے اور دوسرے دوہے کی پہلی سطر کے پہلے ٹکڑے کے آپس میں جُڑ کر تسلس کا قائم ہونا تو ایک عام بات ہے، لیکن سنسکرت نا ٹیہ شاستر میں یہ صفت دو کرداروں کے مابین مکالمے سے اس طرح مترشح ہوتی ہے کہ ایک کردار کا مکالمہ اپنے آخری ادا شدہ جملے کو دوسرے کردار کے مکالمے کے پہلے جملے میں ضم کر دیتا ہے۔

جن سے شاید جاگ اٹھے

کوئی خوابیدہ کرن تاریکیوں میں

یا ہویدا ہو کوئی موتی منور

بطن مادر میں کھلے

تخلیق کی پہلی کرن سا !

لیکن وہ کیا ہے، جسے ’’جاگ اٹھنا ‘‘ہے، ’’ہویدا ہونا ‘‘ہے ؟ اس بند کی آخری سطر اور سطر کا مقصد چشم حیرت کے واشگاف ہونے کی طرح یکا یک وارد ہوتا ہے۔

ایک دُر نجف و نذرۃ !

’’دُر نجف‘‘ کی اصطلاح تو عرب کی یعنی عراق کی دین ہے، جس میں نجف کے ہیروں کی چمک دمک پوشیدہ ہے۔ نذرۃ (Nazarath) البتہ عیسیٰ مسیح کے بچپن اور لڑکپن کی یاد دلاتا ہے۔ ستیہ پال آنند ’’ نذرۃ‘‘ کے اصلی تلفظ (کلاسیکی، عبرانی) کو برقرار رکھتے ہیں اور اس طرح عیسیٰ کی جائے پیدائش کی یاد دلا کر عیسیٰ کو ہی ’’دُر نذرۃ‘‘ کہتے ہیں۔ اب پورا استعارہ جو (۱)بے جان سیپیوں کے ساحل سمندر پر پڑا ہونے کے منظر سے چلتا ہوا، (۲)غسل آفتابی میں لیٹی ہوئی گوری نسل کی لڑکیوں سے ہوتا ہوا، (۳) اپنے بطون میں موتی سمو لینے کی خواہش اور حمل میں آ چکنے کے بعد اس کی پیدائش، پرورش و پرداخت کے مراحل طے کرتا ہوا یہاں تک پہنچا تھا، (۴) مریم اور اس کے بیٹے عیسیٰ تک آ کر اپنے چاروں زاویے مکمل کر گیا۔ ۔ ۔ ۔ Immaculate Conception  ’’دُر نذرۃ‘‘ میں آنے کا اسمِ مبارک تھا۔ اب یہ استعارے کی جیومیٹری کی ’’پرکار‘‘ کی طرح دائرے میں گھماتے ہوئے واپس اسی نقطہ آغاز تک لے آیا جہاں سیپیاں ساحل کی ریت پر پڑی ہوئی تھی۔ لیکن اب یہ سیپیاں محض سیپیاں نہیں ہیں، صرف لڑکیاں بھی نہیں ہیں۔ صرف بطون میں حمل رکھنے والے مائیں بھی نہیں ہیں، بلکہ مریم کی مظہر ہیں، جو حمل کے باوجود ’’ناکتخدا‘‘ ہے، ’’عفیفہ ‘‘ ہے، اپنے نقطۂ آغاز تک پہنچ کر ہمیں آواز باز گشت یعنی echo کی تکنیک سے دگنی شدت سے ملتا ہے۔

بہت سی سیپیاں لیٹی ہوئی ہیں، ریت، پیاسی ریت پر

تو کیا ستیہ پال آنند صرف ایک سیپ (مریم)، ایک بچے (عیسیٰ) کی بات کر رہے ہیں ؟ جی نہیں، سیپیاں، بہت سی ہیں، لاکھوں، کروڑوں کی تعداد میں ہیں، اور سبھی پیاسی ریت transferred epithit from thirsty women to thirsty sand پر اس امید اور اس انتظار میں لیٹی ہوئی ہیں کہ جب ابر نیساں برسے گا، تو ایک چمکیلا موتی ان کے بطن میں بھی آ جائے گا۔ تو طے ہوا کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ Extended meaning کے طور پر ستیہ پال آنند کے ’’کاویہ گیان‘‘ میں دنیا کی ہر ہونے والی ماں مریم ہے اور ہر ہونے والا بچہ عیسیٰ ہے۔

ستیہ پال آنند نے اس نظم میں سنسکرت اور یونانی ڈراموں کی تکنیک کے ایک سے زیادہ عملی قاعدوں کے استعمال سے نظم کو ظاہری حسن تو عطا کیا ہی ہے، اسے معنوی پُر کاری سے بھی مملو کر دیا ہے۔

٭٭٭

 

 

                   ۲۔ یہ میری آنکھ ہے  ۔۔۔ ستیہ پال آنند

________________________________________

 

(ایک فینٹسی۔ ۔ نیوکلائی جنگ کے تیس برس بعد کا منظر نامہ)

________________________________________

 

 

نظر اوپر اٹھائیں، تو بھی دیکھیں کیا؟

کہ بادل کے تھنوں کی تھیلیوں میں

شیر مادر ایک قطرہ بھی نہیں

سوکھی ہوا ہے

خشک آہیں، امتلا، اکراہ کی اک گھن گرج سی ہے

منغض ناگواری ہے !

کڑکتی بجلیوں کی شعلہ سامانی

پریدہ رنگ ہے، ان کی کڑک جیسے

کسی گونگے کی ہکلاہٹ، گلو گیری سی رِیں رِیں ہے۔

کہاں سے پانی برسائیں، ’’گھٹا گھنگھور‘‘ کی آنکھوں میں کانٹے ہیں !

نظر نیچے جھکائیں تو بھی دیکھیں کیا؟

کہ اس تشنہ دہاں دھرتی کے جوف و جوع کے مابین اب کچھ بھی نہیں باقی

یہی لگتا ہے کوئی راکھ کے نیچے پھنسا ہو موت کے منہ میں

نفس واپسیں کی کھڑ کھڑ اتی ہچکیوں میں مر رہا ہو وقت سے پہلے

نمو سے سر بسرعاری خرابہ

راکھ کے اڑتے بگولے

دور تک اک روہڑی، سنسان ویرانہ

مخنث، بے نمو، لا ولد دھرتی، نسل کش ناکارگی۔ ۔ ۔

 

اور میں !

 

یہ میری آنکھ ہے کیا جو

زمان و وقت کے جریان سے آگے پہنچ کر

نیچے اوپر دیکھتی ہے ؟ راکھ کے اڑتے بگولے ارض پر

بادل کے بنجر بانجھ ٹکڑے آسماں میں۔ ۔ ۔

ہاں، یہ میری آنکھ ہے جو پیش بیں ہے، غیب کے احوال کی واقف!

نہفتہ داں میں سب کچھ دیکھتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔

آنے والے دور میں کیا ہونے والا ہے

میں سب کچھ جانتا ہوں !!

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 2008ء

 

                   مخنث، بے نمو، لا ولد دھرتی

________________________________________

 

نوٹ

ڈاکٹر ستیہ پال آنند صاحب اور

٭٭یہ ناچیز دہلی میں ساہیتہ اکاڈمی کے منٹو سے متعلق سیمینار کے   مو قع پر جامعہ ملیہ کے نہرو گیسٹ ہاؤس میں آمنے سامنے کمروں میں ٹھہرے ہوئے تھے  اور شام کو جب ان کے کمرے میں محفل جمتی تھی تو کچھ اور دوست بھی شامل ہو جاتے تھے۔  اردو شاعری کے بارے میں جب ایک باراس موضوع پر بات چیت ہوئی کہ غزل سے  نظم آج تک اپنا دامن بچا نہیں پائی۔ غزل کی طرح اس میں بھی ماضی ہی ماضی ہے۔   زمانۂ حال کبھی کبھی اپنی شکل دکھاتا ہے لیکن مستقبل تو بالکل ہی عنقا ہے، تب ڈاکٹر آنند   نے اپنی یہ نظم سنائی اور کہا کہ مستقبل عموماً اطوپیا کی ممکنہ صورت ہی پیش کرے گا لیکن ان   کی یہ نظم آلڈس ہکسلے Aldous Huxley کے مشہورِ زماں انگریزی ناول   Brave New World کی طرح Anti-Utopia ہے۔ میں نے اسی وقت ان   سے ’’کتاب نما‘‘ کا وہ شمارہ لے لیا، جس میں یہ نظم شامل تھی۔ اور وعدہ کیا کہ دہلی سے    واپس امریکا جانے سے پیشتر اس پر لکھا ہوا عملی تنقید کا مضمون آپ کے ہاتھوں میں    ہو گا۔ یہ مضمون اسی رات لکھا گیا اور دوسری صبح آنند صاحب کے لیَپ ٹاپ پرہی    انسائکلوپیڈیا سے حوالہ جات چیک کرنے کے بعد ان کے ہاتھوں میں تھما دیا گیا۔

۔ لطف الرحمن۔ (دہلی، نومبر 2012ء)

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

اطوپیا (Utopia)اردو کے لیے نیا لفظ ہے۔ اس کا اردو نعم البدل نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک ناول کا عنوان ہے جو1516ء میں سرٹامس مور Sir Thomas More نے تحریر کیا۔ اس میں ایک فرضی جزیرے کے سماجی، معاشی، معاشرتی نظام کا نقشہ کھینچا گیا ہے جو سیاسی اور سماجی مساوات پر مبنی ہے۔ یہ ایک ایسی فلاحی ریاست ہے، جہاں سب لوگ امن سے رہتے ہیں۔ اس کے بعد یورپ کی مختلف زبانوں میں کئی اور کتابیں ایسی لکھی گئیں، جن میں اسی موضوع پر مبنی خیالی مملکتوں کا نقشہ تھا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے وسطی برسوں میں البتہ Anti-Utopia کا تصور بھی پیش ہوا اور ہکسلے کے علاوہ جارج آرویل نے Animal Farm اور 1984، دو ناول لکھ کر اس صنف کو فروغ دیا۔

ڈاکٹر ستیہ پال آنند صاحب کی نظم مختصر ہے، لیکن اجزائے ترکیبی کے آپس میں مضبوطی سے جُڑے ہوئے ہونے کی وجہ سے compact جسامت رکھتی ہے۔ صرف ستائیس سطروں میں شاعر نے نہ صرف ایک منظر نامہ ترتیب دیا ہے، جو قاری کے سامنے ایک مکمل graphic تصویر پیش کرتا ہے، بلکہ نظم کے عین وسط میں گریز کی سطر تک پہنچتے ہی شاعر خود اعلانیہ بنفس نفیس جیسے نظم کے میدان میں کود کر وارد ہو جاتا ہے، اور اس دعویٰ کے ساتھ کہ شاعر ہونے کی وجہ سے وہ ’’نہفتہ دان‘‘ ہے اور مستقبل میں کیا ہونے والا ہے، پہلے ہی بتا سکتا ہے، اس تصویر میں مزید رنگ بھر دیتا ہے۔

نقشہ نویسی خطوط میں کی جاتی ہے، لیکن الفاظ میں عمل اقلیدس کا در آنا ایک ایسی تکنیک ہے، جس سے ستیہ پال آنند جیسا ہی کوئی ’’لینڈ اس کیپ‘‘ یا ٹیبلیو Tableau بنانے والا شاعر کامیابی سے عہدہ برا ہو سکتا ہے۔ پہلی کچھ سطروں میں ’زمین‘، ’ آسمان‘ اور اِن دو حدود کے درمیان ’ہوا‘ کی آؤٹ لاین ترتیب دی جاتی ہے، اسے تمثیلی اور ناقلانہ ماڈل میں تبدیل کیا جاتا ہے، اور پھر اس سے معانی اخذ کئے جاتے ہیں۔ شروع کا یہ ’’بلیک اینڈ وہائٹ‘‘ خاکہ ہر نئی سطر کے ساتھ elevation and projectionکی تکنیک استعمال کرتے ہوئے کیمرے اور کیمکارڈر کی مدد سے تصویری بیانیہ میں ڈھلتا جاتا ہے، اور miniature (تصغیریہ) سے طائرانہ اسکایا گرافی panaoramic skiagraphy تک پہنچتے ہوئے ایک cosmic picture آفاقی تصویر پیش کرتا ہے۔

 

نظر نیچے جھکائیں تو بھی دیکھیں کیا؟

کہ اس تشنہ دہاں دھرتی کے جوف و جوع کے مابین اب کچھ بھی نہیں باقی

یہی لگتا ہے کوئی راکھ کے نیچے پھنسا ہو موت کے منہ میں

نفس واپسیں کی کھڑ کھڑ اتی ہچکیوں میں مر رہا ہو وقت سے پہلے

نمو سے سر بسرعاری خرابہ

راکھ کے اڑتے بگولے

دور تک اک روہڑی، سنسان ویرانہ

مخنث، بے نمو، لا ولد دھرتی، نسل کش ناکارگی۔ ۔ ۔

یہ تو اس اُجاڑ خرابے کا ذکر ہے جس میں جوہری ہتھیاروں کی جنگ ہنستے بستے شہروں کو انہدام کی آخری حد تک پہنچا گئی ہے، جہاں نباتات اور حیوانات کا تُخم تک مٹ گیا ہے۔ زندگی بیخ و بُن سے اکھڑ گئی ہے۔ نیستی اور فنا کا منظر نامہ ’’روہڑی، سنسان ویرانہ‘‘ سے تو ظاہر ہے ہی، لیکن تخم ریزی کے نام پر اس ویرانے کے پاس کیا ہے، اس کا مذکور ان الفاظ میں مستور ہے۔ ’’مخنث، بے نمو، لا ولد، نس کش، ناکارہ‘‘۔ ۔ ۔ ایک وقت ایسا تھا جب زمین کی گود بھی حیوانی اور نباتاتی Life forms سے ایسے ہی آباد و شاداب تھی، جیسے کہ انسان کی، لیکن اس منظر نامے میں تو زمین ایک مخنث کی طرح ہے جو اولاد پیدا کرنے کے نا قابل ہو، لا ولد ہے، اس میں نمو نہیں ہو سکتا۔ ہر طرف نسل کشی کا دور دورہ ہے۔

اس سے پہلے آفاقی منظر نامہ ہے۔ جیسے کہ پہلے کہا جا چکا ہے۔ شاعر کا کیمرہ (تصویر اور آواز۔ دونوں کو ریکارڈ کرتے ہوئے ) elevation and projection کے زاویوں سے کام لیتا ہے، اور projectionکا یہ زاویہ upward ہے، زمین سے آسمان کی جانب ہے۔

نظر اوپر اٹھائیں، تو بھی دیکھیں کیا؟

کہ بادل کے تھنوں کی تھیلیوں میں

شیر مادر ایک قطرہ بھی نہیں

سوکھی ہوا ہے

خشک آہیں، امتلا، اکراہ کی اک گھن گرج سی ہے

منغض ناگواری ہے !

کڑکتی بجلیوں کی شعلہ سامانی

پریدہ رنگ ہے، ان کی کڑک جیسے

کسی گونگے کی ہکلاہٹ، گلو گیری سی رِیں رِیں ہے۔

تین مظاہر قدرت ہیں، جن کا تعلق زمین و آسمان کے درمیانی ’’علاقے ‘‘ سے ہے۔ یہ ہیں بادل، ہوا، اور کڑکتی بجلیاں۔ ۔ ۔ بادل مینہ برساتا ہے، جو شیر مادر سا ہے۔ دھرتی کے لیے امرت ہے۔ زمین کی ساری ہریالی اس کے دم سے ہے۔ لیکن بادل کو ’ماں ‘ کے استعارے کے ساتھ منسلک کر تے ہی یہ کہہ دیا گیا کہ اس کے ’’تھنوں کی تھیلیوں میں شیر مادر ایک قطرہ بھی نہیں۔ ‘‘ تھنوں کی تھیلیاں ‘‘ کم از کم میری نگاہ سے دیکھیں تو اردو شاعری میں پہلی بار استعمال میں لایا گیا ہے۔ صوتی یک آہنگی، تصویری یگانگت (تھ، تھ کی صوتیات، اور تھن اور تھیلیاں کی ہم شکل تصویر) کے علاوہ ’’شیر مادر کا ایک قطرہ‘‘ تک نہ ہونا، اور سوکھی ہو اکا اُس کی کرخت، درشت۔ کھرکھرے پن کی کریہہ الصوت آوازوں سے یہ تصویر باصری اور سمعی دونوں سطحوں پر قاری کو گرفت میں لے لیتی ہے۔

خشک آہیں، امتلا، اکراہ کی اک گھن گرج سی ہے

 

تیسرا قدرتی عنصر ’’کڑکتی بجلیاں ‘‘ ہیں، لیکن ’’کڑکتی ‘‘ کہہ چکنے کے بعد شاعر فوراً اس بات کی تردید کر دیتا ہے، کہ بجلیوں کی ’’شعلہ سامانی‘‘ اور ’’بجلیوں کی کڑک‘‘، ’’پریدہ رنگ ‘‘ہوتے ہوتے صرف گونگے کی ہکلاہٹ اور رونے کی آواز( ’’ریں، ریں ‘‘) ہے۔ گویا وہی بجلی جو چمک کر اور کڑک کر دھرتی کے باسیوں کے دلوں میں خوف بھر دیتی تھی، اب خود خوف زدہ ہے، گونگے کی طرح ہکلا رہی ہے، بے بس بچے کی طرح ریں ریں کر رہی ہے۔

اس مرکزی نقطۂ ارتکاز تک پہنچنے کے بعد گریز کا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کے بارے میں پہلے کہا جا چکا ہے کہ نظم کا واحد متکلم، بیان کنندہ یا شاعر یکدم اپنے first person pronoun ’’میَں ‘‘ کے ساتھ نظم میں وارد ہو جاتا ہے۔ یہ سیناریو اس قدر ڈرامائی ہے کہ دیکھتے ہی بن پڑتا ہے۔ صرف ایک نعرۂ مستانہ سا سنائی دیتا ہے

اور میَں !

یعنی بربادی اور تحس نحس کے اس منظر کو دیکھنے والا، یا اس کا تصور کرنے والا مَیں یعنی شاعر ہوں۔ پھر فوراً ہی اس بات کا اعلامیہ ہمارے سامنے آتا ہے کہ شاعر ہونے کی وجہ سے مَیں پیش بین ہوں، نہفتہ دان ہوں، غیب کے احوال کا واقف ہوں۔ اس لیے اکیلا مَیں ہی یہ احوال نامہ لکھ سکتا ہوں جو ابھی ظہور پذیر نہیں ہوا ہے، یعنی وہ سیناریو جو نیوکلائی یا جوہری بموں والی جنگ کے تیس برسوں کے بعد ہونے والا ہے۔ اس کا نقشہ صرف (اور صرف) میں ہی کھینچ سکتا ہوں۔ اس بند کے مخفی معانی یہ ہیں کہ دنیا کے سیاست دان شاید اس خطرے سے آگاہ نہیں ہیں، لیکن ایک شاعر ہونے کی حیثیت سے میرا یہ فرض ہے کہ انہیں اس سے آگاہ کروں۔

یہ میری آنکھ ہے کیا جو

زمان و وقت کے جریان سے آگے پہنچ کر

نیچے اوپر دیکھتی ہے ؟ راکھ کے اڑتے بگولے ارض پر

بادل کے بنجر بانجھ ٹکڑے آسماں میں۔ ۔ ۔

ہاں، یہ میری آنکھ ہے جو پیش بیں ہے، غیب کے احوال کی واقف!

نہفتہ داں میں سب کچھ دیکھتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔

آنے والے دور میں کیا ہونے والا ہے

میں سب کچھ جانتا ہوں !!

’’نیچے، اوپر ‘‘ دیکھ کر اس کی عکاسی کرنے والا شاعر ’’زمان و وقت ‘‘ کے ’’جریان‘‘ کا ذکر کرتا ہے۔ ان دو اصطلاحات پر، خصوصی طور پر لفظ ’’جریان‘‘ کے استعمال پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ زمان و وقت کا اشارہ براہ راست اس طرف ہے۔ زمان کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ ہر پانچ سات برس کے بعد، کبھی مشرق وسطیٰ میں، کبھی جنوبی ایشیا میں، کبھی جزیرہ نمائے کوریا میں، کبھی یورپ میں جوہری جنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

’’جریان‘‘، اشتہاری طبیبوں کی وجہ سے ایک خاص قسم کے جنسی مرض کا سکہ بند نام تسلیم کر لیا گیا ہے، لیکن اس کے معنی لغت میں یہ ہیں (۔ ’’پانی کا رُک رُک کر بہاؤ، رواں ہونا ) یہ معنی عربی میں مستعمل ہے جبکہ منی کے خارج ہونے کے معنی یونانی طب سے وارد ہوئے ہیں ) یہاں شاعر نے شاید ذو جہتی معنویت کو زیادہ جِلا دینے کے لیے اردو تنقید کے لیے اس غیر مستعمل لفظ کا استعمال کیا ہے۔ (گستاخی نہ ہو، تو یہ عرض کر دوں کہ ستیہ پال آنند سے الفاظ کے استعمال میں ذو جہتی، سہ جہتی، بسیار جہتی معانی۔ ۔ ۔ ۔ کچھ بھی بعید نہیں ہے، کہ وہ کئی زبانوں کے عالم ہونے کے علاوہ مشرقی اور مغربی علوم کے ماہر ہیں ) ۔

یہ نظم، جیسے کہ میں پہلے تحریر کر چکا ہوں، anti-utopia کے قماش کی ہے اور اردو میں ایک نئی قسم کا باب کھولتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

ایک ہندی نظم اور اس کا تجزیہ ۔۔۔ ستیہ پال آنند/ کالکا پرساد ترپاٹھی

 

(یہ نظم ہندی کے سوَیا چھند میں، ماتراؤں کی کمی بیشی اور دوہوں کے امتزاج سے، پہلے ناگری رسم الخط میں لکھی گئی)

                   گونگے سفر سے واپسی۔۔۔ ستیہ پال آنند

________________________________________

 

کوکھ میں تھا جب

میِں سُنتا تھا

اپنے دل کی دھڑکن

ماں کے خون کی گردش کی موسیقی

جیسے بانس کی جنگل میں اُڑتی آوازیں

سُر سنگیت

ہوا کے سانسوں کی شہنائی

بانس کی میٹھی دھُن سے لپٹی پُروائی

راگ کے ٹھاٹ*

(* پہلے راگ کے بہتّر (۷۲) ٹھاٹ تھے۔ بھات کھنڈےؔ  نے انہیں دس بڑے ٹھاٹوں میں تقسیم کیا۔ )

جو اُترے ننھے دِل کے گھاٹ

۔ ۔ ۔ ۔ مدھُر گیتوں کو رچتے تھے

نہ بجنے پر بھی بجتے تھے !

کوکھ میں تھا جب

میَں سُنتا تھا

بھور سمے کا راگ للِت

مالکونس، سانجھ بیلا کا

آدھی رات کا مہماں، یعنی درباری

اور بھیروی، سدا سہاگن نار

مچلتی بوندوں کا ملہار

گل و گلزار

بسنتی چولا پہلے راگ بہار

تین تال، سولہ سنگھار

(*تین تال میں سولہہ beats ہوتی ہیں۔ ایک تال میں بارہ کا التزام ہے۔ )

ایک تال *کے بارہ روپ

راگ انوکھے، روپ انوپ

رات دن، موسم بہروپ   *

( راگ، سمے، موسم کے اعتبار سے گائے جاتے ہیں)

سُر سنگیت کی ہلکی دھوپ

اُترے تھے سب دیو لوک* سے

( *دیوتاؤں کی نگری۔ سورگ لوک)

ننھے دل کے گھاٹ

لیے ہاتھوں میں اپنے ٹھاٹ

سبھی “ڈگ ڈگ ” میں شامل تھے

(*۔ شِو جی کے ڈمرو (ڈگڈگی) کی آواز، جس سے مختلف صوتوں کی ترتیب ہوئی۔ )

مری تخلیق کا حاصل تھے !

 

(۲)

 

ننھا سا، اک گوشت کا پُتلا

بال سُنہرے، رنگ کھِلا سا

میَں دنیا میں آیا

تو چکرایا

اَنجانا، اَن دیکھا تھا سب

سُر سنگیت نہیں تھا

کوئی میِت نہیں تھا

لیکن جنم دِوَس سے پہلے

دیو لوک میں سیکھی وِدیا

ماں کے خون کی گردِش کا جانا پہچانا

سُر لہری کا گیان ابھی تازہ تھا

راگوں کا ور دان ابھی تازہ تھا!

رویا پہلی بار تو سُر میں

بولا پہلی بار تو بج اٹھّے سازوں کے تار

بڑا ہوا جب

بولنا سیکھا

چلنا سیکھا

کھیلنا سیکھا

لڑنا سیکھا

بڑا ہوا جب

بھول گیا سب!

کس دنیا سے آیا؟ کس دنیا کا باسی؟

دنیا والو، میں پردیسی، میں پرواسی ؟*

(* پرواسی بمعنی ملک بدر، مہاجر، غریب الوطن)

اِس دنیا کا

اُس دنیا سے رشتہ کیا ہے ؟

بھول گیا سب

بڑا ہوا جب

منطق کی بھاشا میں سیکھا

باتیں کرنا

کرِت کِریا*ٌکا حاصل ہو گا

(*کام کرنے کا عمل)

فعل سے پہلے فاعل ہو گا

سیدھے ہاتھ چلو گے، بھیا

تو سب رستہ سمتل * ہو گا۔

(*سیدھا، صاف )

 

سب کچھ سیکھا

سیدھا، تیِکھا

خون کی گردش، تین تال بِسرا *کر روئی

(*بسرا کر، یعنی بھول کر)

جو بھاشا لے کر جنما تھا، وہ بھی کھوئی

 

(اس بند میں دوہے کی صنف کے وزن کا التزام ہے۔ )

سُدھ بُدھ کھوئی راگ کی

سُرلہری ’’ متی ہِین‘‘ * ہوئی

(* متی ہیِن، بمعنی ’’عقل سے عاری‘‘(

ایک جیبھ تھی، وہ کلٹا * بھی

(* ’’جیبھ‘ بمعنی زبان، ’’ کُلٹا‘ ‘بمعنی بُری بدکار عورت)

جگ بھاشا میں لیِن* ہوئی۔

ٌ*لیِن، بمعنی مدغم ہو جانا، گھُل مِل جانا)

 

ناچ کی مُدرائیں، سنواد*

(*سنگیت ودیا کی اصطلاحیں)

راگ کے ماپ، تول، ڈنڈ ماپ*

(*پیمانے)

چکر، آلاپ*

(*سنگیت ودیا کی اصطلاحیں)

دھڑکتے ٹھاٹ

جو اُترے تھے کچھ پہلے

ننھے دل کے گھاٹ

کھو گئے سارے

سو گئے سارے

ترک *کی بھاشا میں وہ سب

(*’ترک‘ بمعنی منطق)

الجھ گئے جب

کیا ملتا تبَ؟

کیسا تھا یہ مانو جنم *میں آ جانا

(*آدمی کا جنم )

سب کچھ کھونا، کچھ بھی نہ پانا!!

 

(۳)

 

صدیاں بیتیں

عمریں گذریں

جب میَں سب کچھ بھول گیا تو

یاد آیا

دنیا کا باسی ہوں، مَیں پرواسی

اپنے دیس کو لوٹوں گا، تو کیا ہو گا؟

میں اپنی بھاشا، چِنہہ، چکر، آلاپ

(چِنہہ:۔ خد و خال۔ چکر آلاپ:راگ ودیا کی اصطلاحیں )

بھری سُر لہری کے دنڈ ماپ

بھاو، سنواد *

(*راگ ودیا کی اصطلاحیں)

سپیرے ’’نیل کنٹھ‘‘ *کا ڈمرو

(* شِو کا لقب جو نیلے گلے میں سانپوں کے ہار پہنتا ہے۔ )

’’اَن ہد ‘‘ ناد*

(*لمبی تان کے ایک راگ کا نام)

تو سب کچھ بھول چکا ہوں

لوٹوں گا تو کیا ہو گا؟

کیا بھولے بھٹکے گونگے سُر کو

مُکھرِت *ہو کر بجنے کا وردان ملے گا۔ ؟

(*زبان سے ادا ہونے کی کیفیت)

پھر سے گیان ملے گا؟

 

(۴)

 

تب میَں نے اپنائے

بچپن کی یادوں کے پردے کے پیچھے سے

سِرک رہے کچھ سائے

خون کی گردِش میں کھوئی آوارہ

سُر کی نہریں

پردے کی دھڑکن کے دھول اٹے سازوں میں

سوئی ہوئی سنگیت کی لہریں

تب ان سب کو چھُو کر دیکھا

جاگرت* تھیں سب

(*بیدار، جاگی ہوئی)

پھر سے اپنی رکت چاپ* میں شامل کر لیں

(* خون کی گردش)

دل میں بھر لیں

۔ ۔ ۔ مری کھوئی ہوئی دولت تھی

مرے ہونے کی علامت تھی۔

 

(۵)

 

اب میری رگ رگ میں، نس نس میں

جسم کے ریشوں، پٹھوں، رکت کے رس میں

پھر سے سُر سنگیت رواں ہے

اب اُونچے پربت سے گرتی یہ جل دھارا

کوئی کنارہ

کیا کھوجے گی؟

پاٹ گھاٹ پر نہیں رُکے گی

طوفانوں سے تیزی لے کر ہی اُمڈے گی

جسم میں بہتی

دل سے گُزرتی

خون کی گنگا کو اپنے سب گھاٹ اُتر کر

سمتل* میدانوں کے سارے پاٹ گزر کر

(*سیدھا، ہموار)

پھر اُس ساگر کے انتم* درشن کرنے ہیں۔

(* آخری)

اپنے پِتروں * کے جنموں کے پِنڈ* بھرنے ہیں۔

(*پِتر بمعنی پُرکھے۔ ہندو گنگا میں اسنان کے وقت اپنے پرکھوں کے پِنڈ  بھرتے ہیں، پوجا پاٹھ کے بعد ان کے نام سے دان پُن کرتے ہیں۔ )

جب ہی سارے

راگ ناگ اپنی پھنیوں سے لہرائیں گے

’’ان ہد ناد‘‘ کے بہتے تال

حال سے ماضی

ورتمان *سے بھوت کال*

(*ورتمان بمعنی حال، بھوت کال بمعنی ماضی)

پھر بھوت کال سے ورتمان

ماضی سے واپس پھر حال کی اور*

)* ’’اور‘‘ بمعنی سمت، طرف)

مستقبل کی طغیانی میں بہہ جائیں گے !

 

سب کچھ جو کھویا تھا، پھر سے پایا

میَں اس جنم کی کریڑا *کر کے اپنے گھر واپس آیا

(* کریِڑا بمعنی کھیل کود)

 

(۶)

 

میں اَن جنما میٹھا گیت تھا

سُر سنگیت تھا

اب تک تو سب کچھ کھو کر میَں

اک گونگا سُر بن پایا تھا

لیکن پھر سے

سُر ساگر میں مِل جاؤں گا، پُشپ کی بھانتی کھِل جاؤں گا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 1990ء

 

 

 

                   گونگا سفر، بولتا ہوا سفر ۔۔۔ ڈاکٹر کالکا پرساد ترِپاٹھی

________________________________________

 

(ہندی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا)

 

بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی اردو شاعر نے ہندی چھندوں کا استعمال اس کامیابی سے کیا ہو۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ اردو چھند، جسے ’’عروض‘‘ کہتے ہیں، اور جو عربی فارسی بھاشاؤں کی دین ہے، اردو شاعر کا اٹوٹ انگ ہے۔ مجھ بہت خوشی ہوئی جب میَں نے ستیہ پال آنند جی کی یہ کویِتا پڑھی۔ یہ شاید ’’ساہتیہ درپن‘‘ میں 1990 ء کے لگ بھگ شائع ہوئی تھی۔ مجھ سے جب تعلق کیا گیا (میں واراناسی سے اب دہرہ دون میں شِفٹ ہو چکا ہوں ) کہ میں اس پر تنقیدی مضمون لکھوں تو میَں نے ہاں کر دی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ کیسے ایک اُردو شاعر ایک مشکل چھند کو نبھا سکتا ہے۔ لیکن آنند جی نے برسوں تک ہندی میں لکھا ہے اور وہ ہندی چھندوں سے نا واقف نہیں ہیں۔ پھر یہ کوِیتا ایک ایسے دلچسپ موضوع پر ہے، جس پر آج تک پہلے ہندی میں کوئی کویتا نہیں لکھی گئی۔ (اردو کا مجھے کچھ زیادہ علم نہیں ہے ) اس کے علاوہ اس کا عنوان ’’گونگے سُر کی واپسی‘‘ سیدھے ہی دل میں اتر جاتا ہے۔

موضوع اور مضمون کو جس استعارے سے ابھارا گیا ہے، وہ سنگیت ہے۔ لیکن مضمون ہے کیا؟ اس سوال کا جواب بالکل آسان ہے۔ انگریزی میں اُنیسویں صدی کے مشہور شاعر ورڈزورتھ Wordsworth نے بچپن کے بارے میں اپنی نظموں میں ایک تھیوری کا تعارف دیا تھا کہ جنم سے پہلے بچہ ماں کے پیٹ میں، یا اُس سے بھی بہت پہلے، ایک الگ دنیا کا باسی ہوتا ہے۔ وہاں کی بولی جانتا ہے۔ وہاں کا رہن سہن ہماری دنیا سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ ’’پر لوک‘‘، یعنی مرنے کے بعد کا نہیں، جنم سے پہلے کا ’’پُورو لوک‘‘ ہے۔ اس دنیا میں آنے کے بعد بچے کو یاد رہتا ہے۔ وہ جتنی ’’غوں غاں ‘‘ کرتا ہے، اُس میں وہی پرانی بھاشا ملی جُلی ہوئی ہوتی ہے۔ دھیرے دھیرے اس پر یہاں کا نیا لوک اپنا رنگ چڑھاتا جاتا ہے۔ جیسے جیسے وہ نئی زبان سیکھتا ہے، پرانی زبان غائب ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہر نیا لفظ پُرانے لفظ کی جگہ غصب کر لیتا ہے۔ اور پھر ایک ایسا وقت آتا ہے، جو وہ پُرانی یادیں بالکل بھول کر، نئی زبان بولتا ہوا، اس نئی دنیا کا باسی ہو کر ہی رہ جاتا ہے۔

اس تھیوری پر آنند جی نے دو رنگ چڑھائے۔ ایک تو یہ کہ بچے کی پرانی زبان، جو وہ ساتھ لایا تھا، اس کا صاف و صریح نقشہ موسیقی اور رقص کی مُدراؤں کی زبان میں کھینچا۔ یعنی منہ سے بولی جانے والی زبان اور جسم کی بولی body language کو یکجا کر کے کلاسیکی موسیقی اور رقص کی مدراؤں، چہرے اور بھووں کے اُتار چڑھاؤ، وغیرہ (جو بچہ عموماً دکھلاتا رہتا ہے ) ان سب کو ایک باقاعدہ بھاشا (زبان) تسلیم کر لیا گیا۔ نظم کی طویل جسامت میں کہیں بھی آنند جی اس استعارے سے باز گام نہیں ہوتے ہیں، اور لگاتاراسے ساتھ لیے ہوئے چلتے ہیں۔ موسیقی اور رقص، راگ راگنیوں، ہاتھوں کے کنگنوں اور پاؤں کی پازیبوں اور گھنگھروؤں کی زبان میں نظم کو آگے بڑھاتے ہیں۔        دوسرا رنگ جو ورڈزورتھؔ کی تھیوری پر آنند جی نے چڑھایا وہ زیادہ اہم ہے۔ ورڈزورتھ نے تو یہاں تک پہنچ کر اپنی تھیوری ختم کر دی تھی کہ بچہ ’’پر لوک‘‘ سے لائی ہوئی اپنی پرانی زبان بھول جاتا ہے اور نئی بھاشا سیکھ لیتا ہے۔ آنند جی اُس سے ایک قدم آگے بڑھ گئے اور کہاں، ’’نہیں، میں تو شاعر ہوں، جونہی مجھے یہ احساس ہوا کہ اس نئی دنیا کے چکر میں پڑ کر مَیں اپنی پرانی زبان بھول گیا ہوں، میں نے پیچھے کو طرف ایک جست بھر لی، اور پھر سے اپنی پرانی بھاشا کو جا پکڑا۔

نظم کا پہلا حصہ جیسے کسی تمثیل کے پہلے سین سے پردہ اٹھاتا ہے۔

 

کوکھ میں تھا جب

میں سُنتا تھا

اپنے دل کی دھڑکن

ا       ماں کے خون کی گردش کی موسیقی

جیسے بانس کی جنگل میں اُڑتی آوازیں

سُر سنگیت

ہوا کے سانسوں کی شہنائی

بانس کی میٹھی دھُن سے لپٹی پُروائی

راگ کے ٹھاٹ

جو اُترے ننھے دِل کے گھاٹ

۔ ۔ ۔ ۔ مدھُر گیتوں کو رچتے تھے

نہ بجنے پر بھی بجتے تھے !

 

ان سطروں میں موسیقی کے فن کو صرف ’’بانسری‘‘ کی حدود میں رکھ کر اس پر ہی قناعت کر لی گئی۔ اور یہ سچ بھی ہے کہ بانس سے کاٹی ہوئی، اندر سے کھوکھلی ’’پوری‘‘ (شاخ) میں جا بجا سوراخ کر کے اُسے بجانا دنیا کا سب سے قدیم ساز ہے۔ ہوا کے چلنے کے ساتھ ساتھ یہ ساز خود بخود بجتا رہتا ہے۔ کوکھ کا بچہ یقیناً ماں کی رگوں اور نسوں میں خون کی گردش سے کچھ ایسا ہی سنگیت سنتا ہے۔ اس طرح راگ کے ’’ٹھا ٹ‘‘ پہلی بار ہی اسے یاد ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد راگوں کی مختلف اقسام گنوائی گئی ہیں۔ ’’بھور سمے کا راگ للت، ‘‘ ’’سانجھ بیلا کا مالکونس‘‘، ’’آدھی رات کا راگ درباری‘‘، اور ’’سدا سہاگن نار، بھیروی‘‘۔

آنند جی کی راگوں کے لیے عقیدت اور راگوں کی واقفیت ان سطروں سے ابھرتے ہیں۔

 

بھور سمے کا راگ للِت

مالکونس، سانجھ بیلا کا

آدھی رات کا مہماں، یعنی درباری

اور بھیروی، سدا سہاگن نار

مچلتی بوندوں کا ملہار

گل و گلزار

بسنتی چولا پہلے راگ بہار

تین تال، سولہ سنگھار

 

ایک تال کے بارہ روپ

راگ انوکھے، روپ انوپ

رات دن، موسم بہروپ

 

سُر سنگیت کی ہلکی دھوپ

اُترے تھے سب دیو لوک سے

ننھے دل کے گھاٹ

لیے ہاتھوں میں اپنے ٹھاٹ

سبھی “ڈگ ڈگ ” میں شامل تھے

یہ سبھی راگ     ماں کی کوکھ کے اندر پل رہے بچے کے دِل کے گھاٹ پر ’’دیو لوک ‘‘ (فرشتوں کی دنیا) سے آ کر اُترتے تھے۔ اُس کے ننھے سے دل کی دھڑکن میں شِو جی کے ڈمرُو کی ڈگ ڈگ کی آواز تھی۔ یعنی جنم لینے سے پہلے وہ سنگیت کی زبان جانتا تھا۔

 

یہاں سے نظم کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔ بچہ نئی دنیا میں آتا ہے تو سب کچھ اجنبی ہے، دیکھا ہوا نہیں ہے۔ سُر سنگیت غائب ہے۔ بچہ چکرا جاتا ہے، ہائے، یہ کیا ہو گیا میرے ساتھ؟ لیکن ابھی پرانی یادیں تازہ ہیں، اس لیے جب بچہ ہنستا ہے تو بھی سُر میں، روتا ہے، تو بھی سُر میں، ’’بولا پہلی بار، تو بج اٹھے سازوں کے تار!‘‘

یہ حالت کب تک چل سکتی تھی؟ زیادہ دیر نہیں۔ آخر خارجی، طبیعی دنیا اندر کی دنیا پر غالب آ گئی۔ شاعر کہتا ہے۔ ’’بڑا ہوا جب ؍ بھول گیا سب!‘‘۔ ۔ ۔ ۔ تب وہ منطق کی زبان سیکھتا ہے۔ ’’کرِت کِریا کا حاصل ہو گا ؍ فعل سے پہلے فاعل ہو گا‘‘۔ ۔ ۔ اور نتیجہ یہ نکلتا ہے، کہ

’’سُدھ بُدھ کھوئی راگ کی، سُر لہری متی ہِین ہوئی

ایک جیبھ تھی، وہ کلٹا بھی جگ بھاشا میں لین ہوئی (دوہڑا)

شاعر کہتا ہے کہ جیسے جیسے وہ بڑا ہوا، ناٹک کی مُدرائیں، مکالمے، اور ’’راگ کے باٹ، تول، دنڈ ماپ، چکر آلاپ، دھڑکتے ٹھاٹ۔ ۔ ۔ ‘‘ یعنی وہ سب کچھ جو وہ ماں کے پیٹ سے سیکھ کر آیا تھا، اس دنیا میں آ کر آہستہ آہستہ بھولتا  گیا، پھر سب کچھ کھو دیا۔ اور کچھ بھی نہیں ملا اس کے عوض!

نظم کا تیسرا حصہ وہ ہے، جس کی طرف میں نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ ورڈزورتھؔ کی تھیوری سے ایک قدم آگے جانے والی بات پیدا کی ہے آنند جی نے۔ !۔ ۔ ۔ سب کچھ بھول جانے کے بعد ایک دن بچے کو (جو شاعر کا ہی روپ ہے ) ایک دن یہ پچھتاوا ہوتا ہے کہ ہائے، میں تو سب کچھ بھول گیا۔ بڑھاپا آ گیا ہے، موت نزدیک آتی جا رہی ہے، مرنے کے بعد ’’اپنے دیس کو لوٹوں گا تو کیا ہو گا؟ ‘‘ کیا وہاں جا کر دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی دولت پا سکوں گا؟

 

جب میَں سب کچھ بھول گیا تو

یاد آیا

اَس دنیا کا باسی، مَیں پرواسی

ا       پنے دیس کو لوٹوں گا، تو کیا ہو گا؟

اپنی بھاشا، چِنہہ، چکر، آلاپ

بھاو، سنواد

سپیرے ’’نیل کنٹھ‘‘ کا ڈمرو

’’اَن ہد ‘‘ ناد

تو سب کچھ بھول چکا ہوں

لوٹوں گا تو کیا ہو گا؟

کیا بھولے بھٹکے گونگے سُر کو

مُکھرِت ہو کر بجنے کا وردان ملے گا۔ ؟

پھر سے گیان ملے گا؟

 

نظم کا چوتھا حصہ واپس جانے، پلٹنے، کھوئی ہوئی دولت کو ڈھونڈنے کی کہانی ہے۔ شاعر اُلٹے پاؤں چلتا ہے۔

دیکھتا ہے کہ اس کے بچپن کی یادوں کے پردے کے پیچھے کہیں سائے سرک رہے ہیں۔ یہ کھوئی ہوئی ’’سُر لہری‘‘ ہے۔ ساز دھول سے اٹے ہوئے ہیں۔ لیکن صاف کرنے پر بج بھی سکتے ہیں۔ سب بیدار ہیں، سب بول سکنے کے قابل ہیں۔ گویا آج کی زبان میں وہ یہ کہتا ہے۔ ’’تب میں نے پھر ایک بار ان کو اپنے خون کی رگوں کے سنگیت میں سمو لیا، اپنے دل میں بھر لیا۔

 

تب میَں نے اپنائے

بچپن کی یادوں کے پردے کے پیچھے سے

سِرک رہے کچھ سائے

خون کی گردِش میں کھوئی آوارہ

سُر کی نہریں

پردے کی دھڑکن کے دھول اٹے سازوں میں

سوئی ہوئی سنگیت کی لہریں

تب ان سب کو چھُو کر دیکھا

جاگرت تھیں سب

پھر سے اپنی رکت چاپ میں شامل کر لیں

دل میں بھر لیں !

 

اسی طرح پانچواں حصہ اس کہانی کو دہراتا ہے کہ کیسے اُس نے ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی دولت پا لی۔ موت سے پہلے وہ اپنی اصلی بولی پھر سیکھنا چاہتا ہے۔ یہاں آنند جی اپنی تشبیہات اس طرح کام میں لاتے ہیں، کہ حیرت ہوتی ہے۔

 

اب میری رگ رگ میں، نس نس میں

جسم کے ریشوں، پٹھوں، رکت کے رس میں

پھر سے سُر سنگیت رواں ہے !

نیچے کی تشبیہات کی لڑی وار مالا دیکھ کر میرا دل خوشی سے بھر اُٹھا، اور میں نے کہا، ’’واہ آنند جی، اگر میرے سامنے ہوتے آپ، تو ہاتھ چوم لیتا!‘‘

 

جسم میں بہتی

دل سے گُزرتی

خون کی گنگا کو اپنے سب گھاٹ اُتر کر

سمتل میدانوں کے سارے پاٹ گزر کر

پھر اُس ساگر کے انتم درشن کرنے ہیں۔

اپنے پِتروں کے جنموں کے پِنڈ بھرنے ہیں۔

جب ہی سارے

راگ ناگ اپنی پھنیوں سے لہرائیں گے !

 

اور چھٹے باب کی آخری سطریں گونگے سُروں کی واپسی کا یقین دلاتی ہیں، یہ کہہ کر کہ جب میَں سُر ساگر میں ملوں گا تو ’’ان ہد ناد‘‘ سا کھِل اٹھوں گا، آنند جی نے معانی کی ایک اور پرت کھول دی ہے۔ ’’ان ہد ناد‘‘، کچھ دیگر سازوں کے

علاوہ، سپیروں کے منہ سے بجنے والی بین پر بخوبی بجایا جاتا ہے۔ جب دس بارہ سپیرے اکٹھے ہو کر اسے بجاتے ہیں تو ایک سمے بندھ جاتا ہے۔ آوازوں کا کھِلنا پھولوں کے کھِلنے کا استعارہ ہے، اور اسی پر یہ نظم ختم ہو جاتی ہے۔

ستیہ پال آنند اُردو سے ہندی میں آئے، دس بارہ برسوں میں بہت نام کمایا، اور پھر واپس بھی چلے گئے۔ یہ نظم ’سویا‘ چھند کی ماتراؤں کو کچھ تغیر و تبدل کے ساتھ استعمال کرتی ہے۔ اس میں دوہڑوں کے انضمام اور انسلاک سے آنند جی نے اس میں لوک سنگیت کا رس گھول دیا ہے۔ آج کل ہندی میں جو کویتا لکھی جا رہی ہے، ایسی کویتا کون لکھے گا؟ یہ  آنند جی ہی کر سکتے ہیں، جنہیں اردو عروض کی بھی اتنی ہی سمجھ ہے، جتنا کہ ہندی چھندوں کا گیان ہے۔ اس لیے وہ میری مبارکباد کے اہل ہیں۔

(1997ء)

٭٭٭

 

 

 

ستیہ پال آنند کی کچھ نظمیں

 

 

                   حاضری

________________________________________

 

حضورؐ اکرم

فقیر اک پائے لنگ لے کر

سعادت حاضری کی خاطر

ہزاروں کوسوں سے آپؐ کے در پہ آ گیا ہے

نبیؐ بر حق

یہ حاضری گرچہ نا مکمل ہے

پھر بھی اس کو قبول کیجے

حضورؐ، آقائے محترم

یہ فقیر اتنا تو جانتا ہے

کہ قبلۂ دید صرف اک فاصلے سے اس کو روا ہے

اس کے نصیب میں مصطفیٰؐ کے در کی تجلیاں دور سے لکھی ہیں

نبیؐ ٔاکرم

وہ سایۂ رحمت پیمبرؐ

جو صف بہ صف سب نمازیوں کے سروں پہ ہے

اس کا ایک پرتو

ذرا سی بخشش

ذرا سا فیضان عفو و رحمت

اُسے بھی مل جائے

جو شہِ مرسلینؐ

دست دعا اٹھائے کھڑا ہے اک فاصلے پہ، لیکن

نمازیوں کی صفوں میں شامل نہیں ہے، آقاؐ!

٭٭٭

 

                   اے حَسَن کوزہ گر

________________________________________

 

Reductio ad absurdumکے طریق کار سے ن۔م راشد کی چار نظموں کے سلسلے کو سمجھنے کی ایک شعری کوشش۔ ۔ راشد کی نیک روح سے معذرت کے ساتھ)

 

اے ’’ حَسن کوزہ گر‘‘

کون ہے تُو؟ بتا

اور ’’ تُو ‘‘ میں بھی شامل ہے، ۔ ۔ ’’ہاں ‘‘، اور ’’نہیں ‘‘

تو جو خود کوزہ گر بھی ہے، کوزہ بھی ہے

اور شہر حلب کے گڑھوں سے نکالے ہوئے

آب و گل کا ہی گوندھا ہوا ایک تودہ بھی ہے

جو کبھی چاک پر تو چڑھایا گیا تھا، مگر

خشک کیچڑ سا اب سوکھتے سوکھتے

اپنی صورت گری کی توقع بھی از یاد رفتہ کیے

چاہ نیساں کی گہرائی میں

خواب آلودہ ہے

اے حسن ؔکوزہ گر

کیا جہاں زاد بھی (جو کہ ’’نادان‘‘ تھی )

باکرہ تھی جسے تو نے نو سال پہلے

’’گل و رنگ و روغن کی مخلوق‘‘ سمجھا؟

چڑھایا نہیں چاک پر ( جس کمی کا تجھے آج بھی ہے قلق!)

تیری لگتی تھی کچھ؟

کیا جہاں زاد عطّار یوسف کا مال تجارت تھی، اسباب تھی؟

یا کہ بیٹی تھی، بیوی تھی؟یا داشتہ۔ ۔ ۔

یا طوائف کی اولاد تھی، جو ابھی

سیکھ پائی نہ تھی سودا بازی کا فن؟

پیش کرتی تھی ہر آتے جاتے کو اپنی ہنسی

نفع و سودا بازی کا فن سیکھتی تھی ابھی

آج نو سال کے بعد وہ نا شگفتہ کلی

پھول ہے، کیف و مستی میں ڈوبا ہوا

آج نو سال کے بعد وہ باکرہ

انشراحی بشاشت کے اطوار سب سیکھ کر

مال و اسباب، سودا گری کا ہنر جانتی ہے کسی بیسوا کی طرح!

 

اے حسنؔ، علم ہے تجھ کو کیا؟

ایک عطّار یوسف کی دکّاں نہیں

اغلباً ہر گلی اس کے قدموں کی آہٹ سے واقف تھی، جو

خود ’’جہاں زاد‘‘ تھی یا کہ ’’زادی‘‘ تھی۔ ۔ ۔ ۔

کس اجنبی کی؟ اسے خود بھی کیا علم ہے !

پوچھتے تو ذرا

سب پڑوسی تمہیں یک زباں یہ بتاتے، ’’ جہاں زاد‘‘ اور

’’دخت زر‘‘ ایک ہی نام ہوتا ہے کسبی کی اولاد کا!

 

اب مری بات سُن

میں کہ اک جسم میں تین روحیں لیے لکھ رہا ہوں یہ قصّہ جہاں زاد کا!

میں جہاں زاد بھی ہوں، حسن کوزہ گر بھی مرا نام ہے

اور قصہ بھی میرا قلم لکھتا جاتا ہے جیسے کوئی

عالم غیب سے اس کے نوک قلم پر ہے بیٹھا ہوا

اے حسنؔ یہ بتا

تو نے پہلی کنواری بلوغت کے سالوں سے بھی پیش تر

میرے ’’ نوخاستہ ‘‘ کورے، کچّے، کنوارے بدن کو

’’ خزاں اور کہولت ‘‘سے کیوں آشنا کر دیا؟

جسم میرا تو شیشہ نہیں تھا جو پھونکوں سے بھرتی ہوا

کے سہارے کسی کوزہ گر کے تخیل کے شیشے کے کوزے میں تبدیل ہو کر

جہاں ؔ زاد بنتا!

 

اے حسنؔ کوزہ گر

شہر کوزہ گروں کا، حلب کی سرائے، سفر کی امیں

جس میں سب کوزہ گر، شیشہ گر شب بسر ہیں تمہاری طرح

یہ بھٹکتے ہوئے کاروانوں کی مٹی میں ڈوبی ہوئی

اک سرائے کہ جس میں نہانے کا اک حوض ہے تو سہی

پر نہانے کا یہ ’’حوض‘‘ اک ’’بسترِ وصل ‘‘ ہے

اور بستر سرائے کے اس بند کمرے میں ہے

جس میں ہم ’’ دائرے میں بندھے حلقہ زن‘‘

رات بھر

(یعنی اک رات بھر، صرف اک رات بھر)

گرم، مرطوب، ’’آبی ‘‘، ’’عرق ریز جسموں ‘‘ میں داخل رہے

اور پھر ’’ہم کنار و نفس‘‘، تیرتے تیرتے جیسے گُم ہو گئے !

ہاں، حلب کی سرائے کے اس حوض میں

اپنے نو عمر، کچے، کنوارے بدن کو ڈبوتے ہوئے

’’خشک و تر مرحلوں ‘‘سے تجرد کی چادر بھگوتے ہوئے

خوف یہ تھا مجھے اس تر و تازہ غوطہ زنی میں

کہ نکلوں گا باہر تو اپنی یہ مریل سی ’’انگشت جاں ‘‘

اپنی مٹھی میں پکڑے ہوئے جاؤں گا میں کہاں ؟

 

اے حَسنؔ کوزہ گر

بات کر مجھ سے، یعنی خود اپنے ہی ہمزاد سے

اور ڈر مت حقیقت سے اپنے بدن کی

کہ ڈر ہی ترے جسم و جاں کو ہے جکڑے ہوئے !

’’تشنگی جاں ‘‘کی، یعنی خود اپنی ہی مٹھی میں پکڑی ہوئی

ادھ مری خشک جاں

العطش العطش ہی پکارے گی اب آخری سانس تک

کیوں کہ تو جسم اپنا تو اس ’حوض بستر‘ میں ہی چھوڑ آیا تھا

جس میں جہاں ؔ زاد کے جسم کی

گرم، مرطوب دلداریوں کی تمازت

ابھی تک تڑپتی ہے لیٹی ہوئی

اور جنّت کے موذی سی بل کھاتی چادر کے بد رنگ دھبوں میں

لپٹی ہوئی!

 

ایک شب ہی حسنؔ صرف کافی تھی تیرے

ہنر کی نمائش کی یا امتحاں کی، مگر

تیری پسپائی تیرا مقدر بنی

اور کرتا بھی کیا؟

سب بنے، ادھ بنے

’’سارے مینا و جام و سبو اور فانوس و گلدان‘‘ تُو

بس وہیں چاک پر ’’اَن جنی ‘‘ اپنی مخلوق کو ترک کر کے

حلب چھوڑ کر

سوئے بغداد کیوں گامزن ہو گیا؟

پیچھے مُڑ کر اگر دیکھتا تو حسنؔ

تجھ کو احساس ہوتا کہ یہ آل تو کوکھ میں ہے تری

تیرے کوزے، سبو، جام و ساغر سبھی

’’ ادھ جنے ‘‘ تھے ابھی

اور تو اس ’’ ولادت‘‘ کے فرض کفالت سے آزاد بھی کیا ہوا

جیسے ہر فرض سے دست کش ہو گیا

ہاں، ترا اس سفر پر نکلنا ضروری تھا

بغداد تھی جس کی منزل، (سکونت فقط نو برس کے لیے !)

(ہندسہ ’نو‘ کا گنتی میں اک رکن ہے، اک مفرد عدد!)

اے حَسن ؔکوزہ گر

تو بھی ’’الجھن‘‘ ہے ان عورتوں کی طرح

جن کو سلجھا کے کہنا کہ ہم نے انہیں پا لیا

واہمہ ہے فقط

کیوں کہ میرا بدن (جو کہ تیرا بھی تھا اور کوزوں کا بھی)

تو وہیں حوض میں ڈوب کر رہ گیا تھا اسی رات

جب ہم بچھڑنے سے پہلے ملے اور گم ہو گئے !

تجھ کو اتنا تو شاید پتہ ہے کہ شب جوترے ذہن میں

ڈائنوں سی کھڑی (ایک عشرے سے اک سال کم)

تجھ کو کیوں، اے حسنؔ، پورے نو سال دھوکے میں رکھ کر

بلاتی رہی ہے حلب کی طرف!

وہ تو اب ایک ’’لب خند‘‘ عورت ہے، لڑکی نہیں

تم نے تو، اے حسن (اپنے نا تجربہ کار، کم فہم ادراک میں )

جس کو ’’نادان‘‘ سمجھا تھا تب

اب وہ دریا کا ساحل ہے بھیگا ہوا

وہ کنارہ جسے بوسہ دینے کو آ کر

پلٹتی ہوئی ساری موجیں ہمیشہ وہیں لوٹتی ہیں

جہاں اک برس، دو برس، نو برس قبل ٹھہریں تھیں بس ایک پل

عین ممکن ہے تم نے یہ سوچا بھی ہو

( ’’تم‘‘ بھی تو اے حسنؔ، ’’میں ‘‘ کا ہی روپ ہو!)

اب ذرا ’’میں ‘‘ کو بھی بولنے دو، حسنؔ

ہر طرف نا صبوری کے کانٹے اُگے تھے مرے حلق میں

میں یہ کہہ بھی نہ پایا تھا تجھ کو ’’جہاں کی جنی‘‘

ہاں، یہی نام اب زیب دیتا ہے سب کسبیوں کے لیے

بھولتا ہوں کہ شاید پکارا بھی ہو

میں نے پہلے کبھی تجھ کو اس نام سے

میرے کوزے جو نو سال پہلے تلک

تھے ہر اک ’’شہر و قریہ‘‘، ہر اک ’’کاخ و کو‘‘ کا تکبر یہاں

آج آواز دے کر بلاتے ہیں، ’’آ،  اے حسنؔ

اور ہم بد نما پیکروں کو کوئی شکل دے !‘‘

اور میں، اے ’’جہاں کی جنی‘‘، لوٹ آیا تو ہوں

صرف تیری ’’تمنا کی وسعت‘‘ کو پھر ماپنا چاہتا ہوں

پھر اک بار ’’آنکھوں کی تابندہ شوخی‘‘ کے پیغام کو

جاننا چاہتا ہوں۔ ۔ اگر

میری خفت، خجالت کا رد عمل

تیرا فدیہ ہے، تو میں یقیناً رکوں گا یہاں

تا کہ پھر ’’رنگ و روغن سے ایسے شرارے نکالوں ‘‘

جنھیں دیکھ کر ’’تیری آنکھوں کی تابندہ شوخی‘‘

مرے واسطے (ہاں، فقط میرے ہی واسطے )

چاندنی سی چمکتی رہے عمر بھر!

اور، تو اے حسنؔ، یہ سمجھ (بولتا ہے ترا قصہ گو)

اپنی تنہائی میں

جھونپڑے کی تعفن سے بوجھل فضا کی

عفونت، جسے تم ’’ بغل گندھ‘‘ کا عطر سمجھے ہوئے ہو

فقط ایک حیلہ ہے

یادوں کے جوہڑ میں

ڈبکی لگا نے کی خو ہے حسنؔ!

عشق بالکل نہیں !

عشق بالکل نہیں !!

 

اے حسنؔ کوزہ گر!

یہ مثلث ہے کیا؟

ایک تم

ایک وہ جو جہاں ؔ زاد ہے

اور وہ تیسرا؟

کون ہے وہ لبیبؔ، اس کا عاشق (کہ گاہک؟)

ہوس کار جو اس کے ’’ لب نوچ کر‘‘

زلف کو اپنی انگشت سے باندھ کر

اس کے نازک بدن سے فقط ایک شب کھیل کر چل دیا

اور وہ نائکہ

جس کی ریشم سی، مخمل سی، صیقل شدہ جلد پر

اس کے ہاتھوں کی، ہونٹوں کی ایذا دہی کے نشاں

اب بھی باقی ہیں، وہ یہ کہانی تمہیں

یوں سناتی رہی

مسکراتی رہی

جیسے شہوانیت بے حیائی نہ ہو

بلکہ لذت، حلاوت سے بھرپور

خوش ذائقہ ہو کوئی دعوت ما حضر !

اور تم، اے حسنؔ

صرف اس ’’عشق‘‘ کی بات کرتے رہے

جو فقط ایک ہی بار صدق و وفا سے کسی کوزہ گر کے

تصنع سے عاری، کھرے دل میں ڈھلتا ہے تو

چاک پر اس کے جام و سبو، ساغر و طشت میں

ایک ہی گلبدن کی نزاکت، لطافت، نفاست کے ہی رنگ کھلتے ہیں

تخلیق کی ساحری سے !

 

آ، حسن کوزہ گر

آ، کہیں پھر حکایت اسی رات کی

پی رہے تھے مئے ارغواں شام سے

اور میرا نشہ اس قدر بڑھ گیا

ریزہ ریزہ ہوا جام گر کر مرے کانپتے ہاتھ سے

کچھ اچنبھا نہ تھا یہ ترے واسطے

پر سکوں سی کھڑی دیکھتی ہی رہی

کیونکہ عادی تھی تُو

(ایسے بیکار سے حادثے محفلوں کی بلا نوشیوں کا ہی معمول ہیں )

گھر کے شیشوں کی درزیں سناتی رہیں

گنگ آواز میں

داستانیں کئی حادثوں کی یہاں

رنگ رلیوں کے قصے، خرابات کے تذکرے !

قصہ گو کی زباں کو کوئی کیا کہے

(اور اس کو یہ حق ہے کہ کچھ بھی کہے !)

’’مالزادی‘‘ کہے یا ’’جہاں زاد‘‘ کو ہی مونث کرے

قصّہ گو رال ٹپکاتی اپنی زباں سے بہت کچھ سنانے کو تیار ہے !

داستانوں کی سچائی کے اس مورخ کا اعلان ہے

میں، کہ اک قصّہ گو

ایک ثالث بھی ہوں اور منصف بھی ہوں

فیصلہ میری نوک قلم پر سیاہی کے قطرے سا ٹھہرا ہوا

منتظر ہے کہ کب اس کو لکھ کر سناؤں حسنؔ کو، جہاں ؔ زاد کو

یا کسی تیسرے کو جو سچائی کی کھوج میں غرق ہو!

اے حسن کوزہ گر

نو برس بعد بغداد سے لوٹ کر

گر تجھے دل کے عدسے میں اپنی ہی صورت

نظر آتی ہو

اور دہشت زدہ خود سے، تنہائی میں

لکھ رہے ہو اگر آنسوؤں سے وہ خط

جس میں اشکوں کے قطروں کے الفاظ یوں جُڑ گئے ہیں

کہ گریہ کناں چشم بس ایک صورت کو ہی دیکھتی ہے

تو تقصیر کس کی ہے، مجرم کا کیا نام ہے ؟

آؤ، راشدؔ سے پوچھیں، حقیقت ہے کیا

ؔ ’’عشق ہو، کام ہو، وقت ہو، رنگ ہو‘‘۔ ہے تو مجرم کوئی

اب خطا کار کس کو کہیں اے حسن؟

معصیت کار، مجھ کو یہ کہنا ہے، تم خود نہیں ہو حسنؔ

بد چلن تم نہیں، اے حسن کوزہ گر

ہاں، تجھے ایک عورت کے ’’ عشق ہوس ناک‘‘ نے

(صرف اک رات کی لغزش بے ریا کے لیے

باندھ کر رکھ دیا ہے سدا کے لیے !)

اور عورت بھی کیا؟

بد چلن، فاحشہ، کنچنی، رال ٹپکاتی چھنّال، اک بیسوا!

(دیکھ گالی نہ بک، اے مورخ، یہ قصہ سناتے ہوئے

زیب دیتی نہیں تجھ کو ایسی زباں !)

 

خیر، چھوڑو نصیحت کی یہ گفتگو

آؤ، لوٹیں حلب کی طرف

اس سرائے کو دیکھیں جہاں حوض تھا

بند کمرے تھے اور ان میں آرام کے واسطے

ایسے بستر لگے تھے کہ ان پر بچھی چادریں                                      [

پسینے کی بو سے شرابور تھیں !

آؤ ڈھونڈیں، کہاں تھا یہ شہر حلب؟

اور حسنؔ نام کا کوزہ گر تھا کوئی

اور جہاں ؔزاد تھی کیف و رنگ و  دلآرائی کی مورتی

جس کی رعنائی کی سحر کاری کا نقش ہنر

اس کے کو زوں سے ایسے چھلکتا تھا جیسے مئے ارغواں !

 

اے مورخ، بتا کب کی ہے داستاں

آج سے سینکڑوں یا ہزاروں برس پیشتر کی کہانی کہیں اور سنیں

آؤ ڈھونڈیں انہیں

سالہا سال کی چکنی مٹی کے نیچے جو دب تو گئے

’’پا شکستہ‘‘ بھی تھے ’’سر بریدہ‘‘ بھی تھے

لوک قصّوں میں لیکن وہ ’’با دست و سر‘‘

قصّہ گویوں کے مرغوب کردار ہیں

آؤ دیکھیں کہیں خاکنائے بر آورد میں ایک تھل

جس میں ٹیلے بھی ہوں اور مٹّی کے انبار بھی

اور کوزہ گروں کی بنائی ہوئی

بھٹّیوں کے کچھ آثار شاید نظر آ رہے ہوں کہیں

’’یہ تاریخ ہے ازدحام رواں ‘‘

در گذر اس کو کرنا ہمیں زیب دیتا نہیں

’’یہ دبے ہیں ‘‘ اگر، تو انہیں کھود کر

’’رہزن وقت‘‘ سے ہے بچانا ہمیں

کوئی کوزہ، کوئی جام ہوسالم و معتبہ

تو اسے کاوش و اعتنا سے نکالیں کہ شاید

کسی ’’رنگ کی کوئی جھنکار‘‘، ’’خوابوں کی خوشبو‘‘

’’لب کاسۂ جاں ‘‘ میں خوابیدہ ہو!

 

عین ممکن ہے یہ چاک، بھٹّی، طباخ اور تسلہ

یہ بوتل، یہ لوٹا، یہ ساغر، سبو

آبگینہ، صراحی، یہ بط، سب اسی ہاتھ کے ہی کرشمے تھے تب

جس کے فن کے لیے بس جہاں زاد کا حسن موجود تھا

اس لیے کہنہ تاریخ کی جستجو میں لگے دوستو

غور و پرداخت سے کام لو

اور سوچو کہ ان ٹھیکروں میں نہاں ہے وہ فن

جس میں مخفی ہے قصّہ حسنؔ اور جہاں زادؔ  کا

اور میں کیا کہوں

میں تو شاعر ہوں، اک قصّہ خواں ہوں جسے

’’تتلیوں کے پروں ‘‘ اور جہاں زاد کے اس ’’ دھنک رنگ‘‘ چہرے

کے سب خال و خد کا(بغیر اس کو دیکھے ہوئے ہی) پتہ ہے

کوزہ گرؔ نے ’’جو کوزوں کے چہرے اتارے ‘‘

ا نہیں بھی یہی قصّہ خواں جانتا ہے

کہ خود بھی وہ شاید اسی قافلے کا جہاں گرد ہے !

فن تو وہ آنکھ ہے جو کھلی ہے زماں کے تواتر میں اے راشد کوزہ گر!

تو ’’ ہمہ عشق ہے، تو ہمہ کوزہ گر، تو ہمہ تن خبر‘‘

لیکن اک بات کہنے کو جی چاہتا ہے کہ میں

خود تمہاری طرح ہوں حسن کوزہ گر

آب و گل بھی نہیں، رنگ و روغن نہیں

کوئی بھٹّی نہیں

لفظ ہی لفظ ہیں

اور انہی سے میں کوزے بنانے کے فن میں ہنر مند ہوں

ہاں، جہاں زاد سے میری بھی رسم و رہ ایک مدّت سے ہے

اور فن کے تجاذب کی تحریک بھی مجھ کو دی ہے کسی ایک ’’نادان‘‘ نے

اپنی کچی جوانی کی نا پختہ پہلی بلوغت کے دن

جب وہ ’’نادان‘‘ تھی

میں بھی نادان تھا

نا رسا آس تھی

بے طلب پیاس تھی

چار سو یاس تھی

اس زمانے میں تو

بس ’’گماں ‘‘ ہی ’’گماں ‘‘ تھی مری زندگی

کچھ بھی ’’ممکن‘‘ نہ تھا

ما سوا اک گزرتی ہوئی رات کے

صبح آئی تو پھر یوں لگا

جیسے خورشید اپنے افق سے فقط ایک لمحہ اٹھا

اور سارے ’’طلوعوں ‘‘ کی دیرینہ تاریخ کو بھول کر

پھر افق میں وہیں غوطہ زن ہو گیا

ہاں اگر نونؔ میمؔ آج یک جا کریں

اور راشدؔ کو اس میں ملائیں، تو پھر

ہم اکیلے نہیں

راکھ میں اب بھی کچھ کچھ سلگتی، دھواں دیتی چنگاریاں

اک صراحی کی گردن کے ریزے، تراشے لب جام کے

خول بط کا، کسی آبگینے کا ٹوٹا ہوا

ایک خردہ، ’’گل و خاک کے رنگ روغن‘‘ ہیں سوکھے ہوئے

سب تبرکات جو ’’ اک جواں کوزہ گر‘‘

’’اپنے کوزے بناتا ہوا، عشق کرتا ہوا‘‘

’’اپنے ماضی کے تاروں میں ‘‘ راشدؔ سے بھی اور مورخ سے بھی

عشق اور فن کے بندھن میں باندھا گیا!

الٹو پلٹو، کہ یہ ’’رنگ و روغن کی مخلوق‘‘ شاید تمہارے لیے

کوزہ گر اور جہاں زاد کے عشق کی

ما بقیٰ داستاں میں اضافہ کرے

اور تاریخ داں، تو اگر داستاں یہ سمجھ جائے، تو

کوزہ گر کے خیالوں کی، خوابوں کی مورت بنا

’’عشق کے معبدوں پر ‘‘ عقیدت سے جا کر چڑھا

وہ ’’پسینے کے قطرے ‘‘، وہ ’’ فن کی تجلّی‘‘

رسالت کا وہ درد، جو کاروانوں کی مٹّی سا جیسے

’’ رواں ہے زماں سے زماں تک‘‘

جسے ہفت خواں شاعروں نے

محبت کے قصوں میں گھڑ کر امر کر دیا

کیا یہی ایک مقصد تھا راشدؔ تمہارا

کہ کوزے پکانے کی

یخ بستہ سوئی ہوئی راکھ میں کچھ سلگتے ہوئے کوئلے

گر ملیں

تو کہانی گھڑیں

اور ثابت کریں، عشق ’’ سریاب‘‘ بھی ہے تو ’’ پایاب ‘‘بھی

اور حسن کوزہ گر، قیس و فرہاد سب

اپنی اپنی جگہ

کامراں بھی ہوئے اور ناکام بھی

اور ہم داستانیں جو لکھتے رہے

اپنے اپنے دلوں میں کہیں

برگ گل کی طرح

ایک چہرہ سجا کر اسی کی پرستش میں غلطاں رہے !

اپنے اپنے دلوں میں سجائے ہوئے

ایک چہرے میں لیلیٰ بھی مستور ہے

اور شیریں بھی ہے

ہاں، حسنؔ کوزہ گر کی جہاں زادؔ کو

وہ رسائی نہ مل پائی جس کی وہ حقدار تھی

اور راشدؔ کا فن

لوک قصّوں، اساطیر یا عشق کی

داستانوں کے فن سے بہت دور تھا

یہ بھی سچ ہے کہ راشد کی یہ چار نظمیں بہت خوب ہیں

پر مورخ کی یا قصّہ گو کی نہیں !

٭٭٭

(2006)ء

 

 

 

                   آسماں کی چھت کہاں ہے ؟

________________________________________

 

وَجَعَلنَا اُلسََمَاء سَقَّفَا مَحفوظا (سورۃ النبا:۲۳)

 

اپنے گھر کے صحن میں یوں ششدر و حیراں کھڑا ہوں

جیسے رستہ کھو گیا ہو

دھیرے دھیرے پاؤں میرے

صحن کے کیچڑ میں دھنستے جا رہے ہیں

جسم کے کیچڑ میں دھنسنے کا تصور روح فرسا توہے، لیکن

اس سے بچنے کا کوئی چارہ نہیں ہے

سر کھجاتا، نیچے اوپر، دائیں بائیں دیکھتا ہوں

دائیں بائیں کچھ نہیں ہے

نیچے کیچڑ ہے، زمیں ہے

اور اوپر؟

ایک لمحے کے لیے یہ یاد آتا ہے کہ شاید میرے اوپر

انت سے بے انت، یعنی اِس افق سے اُس افق تک

آسماں پر

چارپائیاں سلسلہ در سلسلہ رکھی ہوئی ہیں

جن پہ میرے

پچھلے جنموں کی تکانیں سو رہی ہیں۔

 

بد حواسی میں زمیں سے پوچھتا ہوں

آسماں کی چھت کبھی گرتی نہیں ہے

پر مجھے اتنا بتاؤ

آسماں کی چھت کہاں ہے ؟

٭٭٭

 

 

 

 

                   خانۂ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا

________________________________________

 

کوئی دروازہ نہیں تھا قفل جس کا کھولتا

سر نکالے کوئی سمت الراس بھی ایسی نہیں تھی جس سے رستہ پوچھتا

ایک قوس آسماں حّدِ نظر تک لا تعلق سی کہیں قطبین تک پھیلی ہوئی تھی

دھند تھی چاروں یُگوں ۰ کے تا بقائے دہر تک۔ ۔ ۔ (۰ یُگ : قرن)

اور میں تھا!

 

اور میں تھا

لاکھ جنموں کی مسافت سے ہراساں بھاگ کر

اعراف کے لا سمت صحرا میں بھٹکتا

کوئی روزن، کوئی در، کوئی دریچہ ڈھونڈتا، پر

یہ بھٹکنا خود میں ہی بے انت، ابد الدہر تھا

ایسی سناتن ۰، قائم و دائم حقیقت (۰سناتن : قدیم ترین)

جس سے چھٹکارہ فقط اک اور قالب میں دخول عارضی تھا

اس جنم میں جو نئی زنجیر میں پہلی کڑی تھی

ان گنت کڑیوں کی صف بستہ قطاروں سے مرتب!

 

اور میں خود سے ہراساں

یہ کہاں برداشت کر سکتا تھا

جس زنجیر سے میں، تسمہ پا، اک لاکھ جنموں کی مسافت سے صیانت پا چکا ہوں

اس میں پھر اک بار بستہ بند ہو کر چل پڑوں

بے انت جنموں کے نئے پیدل سفر پر؟

 

ہاں مجھے تسلیم ہے یہ

خانۂ مجنونِ صحرا گرد کی بے در مسافت!

میرے ’ہونے ‘اور ’بننے ‘کے گزرتے وقت کا دورانیہ

برزخ کے باب و در سے عاری دشت میں ہی

تا بقائے دہر تک

جنموں کے دوزخ سے رہائی کے لیے !

٭٭٭

 

 

 

 

                   گذر گیا ہے کوئی راستہ بتاتا ہوا

________________________________________

 

 

جو تیز تیز چلا جا رہا تھا رستے پر

وہ کس قبیل سے تھا، کس سے یہ سوال کروں ؟

رکا تھا صرف اک لمحے کو مرے پاس وہ شخص

کہ جس کے ماتھے پہ روشن تھے نقش را ہوں کے

ہزار برسوں کی لمبی مسافتوں کے نشاں

ابھرتی، پھیلتی، مٹتی ہوئی وہ ریکھائیں

جنہیں نہ دیکھ کر دیکھیں، تو چلتی پھرتی ہوئی

نشانیاں نظر آتی تھیں گذرے وقتوں کی!

 

رکا تھا، اور اشارے سے کچھ کہا تھا مجھے

’’وہ راستہ توہے، پر خط مستقیم نہیں

اسی پر چلتے چلو، قوت ارادی سے

تلاش کرتے چلو سب نشانیاں اپنی

وہ موڑ جن پہ تمہیں مڑ کے آگے بڑھنا ہے۔ ‘‘

 

کہاں گیا ہے مرا ایک پل کا رہبر زیست

میں جانتا نہیں، پر پھر بھی چلتا جاتا ہوں

ہر ایک موڑ ہدایات کا پلندہ ہے

کہیں پہ ’داخلہ ممنوع ہے ‘ کا سگنل ہے

کہیں پہ تیروں سے، انگشت نما قوسوں سے

نشان زد ہیں سبھی راستے، ٹھہر جاؤ

بنظر غور پڑھو، کس طرف کو جانا ہے

میں ایک لمحہ توقف کے بعد چلتا ہوں

ہدایتوں کا پلندہ، معّمہ رستوں کا

یہ کیسی بھول بھلّیاں ہے مذہبوں کی کہ میں

پھنسا ہوا ہوں مومنات و دینیات کے بیچ

تمام عمر گنوائی ہے یوں بھٹکتے ہوئے !

 

سکندروں کے قبیلے سے میں نہیں تھا مگر

مجھے بھی خضر نے رستے میں لا کے چھوڑ دیا!

٭٭٭

 

 

 

 

                   نہیں، نہیں، مجھے جانا نہیں ابھی۔ اے مرگ

________________________________________

 

نہیں، نہیں، مجھے جانا نہیں ابھی، اے مرگ

ابھی سراپا عمل ہوں، مجھے ہیں کام بہت

ابھی تو میری رگوں میں ہے تیز گام لہو

ابھی تو معرکہ آرا ہوں، بر سر پیکار

یہ ذوق و شوق، یہ تاب و تواں، یہ بے چینی

ابھی تو میرے تمتع پہ منحصر ہے یہ جنگ!

 

نہیں، نہیں، مجھے جانا نہیں ابھی، اے مرگ

یہ رزمیہ جو مری زیست کا مقدر ہے

یہ حرف حرف تحارب، یہ لفظ لفظ جہاد

مرا یہ نعرۂ تکبیر، صف شکن ’رن بیر ‘

اسے تو ظلم و تشدد کی جڑ کو کاٹنا ہے

اسے تو زشت خُو دشمن سے جنگ جیتنی ہے

 

نہیں، نہیں، مجھے جلدی نہیں کوئی، اے مرگ

کہ اب یہ لفظ مرے گل نہیں ہیں، کانٹے ہیں

مجھے پرونا نہیں کتخداؤں کے سہرے

مجھے سجانا نہیں باکرہ بتولوں کو

مجھے تو تیغ زن غازی کی طرح لڑنا ہے

مری قضا، مجھے کچھ وقت دے کہ مجھ کو ابھی

جہاں کے فرض کفایہ کو پورا کرنا ہے !

٭٭٭

 

 

 

 

 

                   اٹھائی گیر تھا، وہ عزرائیل تھا ہی نہیں

________________________________________

 

میں نصف جان لیے جی رہا ہوں مدّت سے

کہاں تو ربط تھا، ادغام تھا رگ و پے میں

کہاں یہ حال ہے اب بکھرا بکھرا رہتا ہوں

وہ کاملیت و وحدت، سواد اعظم کُل

نہیں رہے کہ میں اب لخت لخت پھرتا ہوں

میں لِیر لِیر سا، اک قطع دائرہ سا جزو

پرَخچوں میں بٹا ہوں، ورَق ورَق سا کیوں ؟

کچھ ایک سال ہوئے، میں بھی تھا تمام و کمال

کہ اپنے آپ میں کامل تھا، ثابت و سالم

اٹُوٹ، اَن بٹا، اک شخص، خود میں واحد و کُل

پھر ایک دن کسی رہزن نے میرا نصف وجود

جھپٹ کے چھین لیا مجھ سے ایک لمحے میں

کہا کہ اس کو تو مُلک عدم کو جانا ہے

تم اپنے آپ میں زندہ رہو، رہو نہ رہو!!

کہاں کی مرگ مفاجات، کیسا صدمۂ جاں ؟

یہ کیسا کوُچ، کہاں کا بلاوا، کیسا وصال؟

بھلا کبھی کسی انساں کا نصف حصّہ بھی

غریق رحمت پروردگار ہوتا ہے ؟

اٹھائی گیر تھا، وہ عزرائیل تھا ہی نہیں !

جو نصف جان مری لے گیا ہے دھوکے سے !!

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(اپنی اہلیہ کی پانچویں برسی کے دن لکھی گئی نظم)

٭٭٭

 

 

 

 

                   الصبر تا الظفر

________________________________________

 

وقل من جد فی امر بطالبہ

فلستصحب الصبر الا فاز با الظفر

(حضرت علیؓ)

 

علیؓ مشکل کشا سے پوچھنا مشکل تو تھا، لیکن

مرا علم الیقیں رکھتے ہوئے یہ پوچھنا بے حد ضروری تھا

کہا، مشکل کشا اتنا بتائیں اس سوالی کو

اگر صبر و رضا کے بند حجرے میں مقید، کلمہ خواں بیٹھا رہوں میں

معتصم ایقان پر

یہ سوچ کر، اللہ سب کچھ دیکھتا ہے، جانتا ہے

کیا وہ میرے حال سے یوں بے خبر ہو گا؟

کہا میں نے ( ذرا گستاخ بن کر)

مجھ سے ہو سکتا تھا جو کچھ، کر چکا ہوں

فقر و فاقہ سہہ لیا ہے

زندگی بھر محنت و ایمانداری ’’ہیچ مقداری‘‘ ۰ مرا ایماں رہا ہے۔

اور وہ کیسا خدائے عزّ و جل ہے

دیکھتا سب کچھ ہے، لیکن لاتعلق، اجنبی سا

وہ سدا خاموش رہتا ہے ؟

کہاں اخفائے حق ممکن ہے اس اللہ سے جو

حاضر و ناظر ہمہ جا ہے

وہ ربّ العرض ہے، منعم حقیقی ہے

وہ سب کچھ دیکھتا ہے، پھر بھی کیوں خاموش رہتا ہے ؟

 

کہا میں نے یہ سب کچھ؟

کب کہا؟

کس کو کہا؟

مشکل کشا کو؟

 

جی نہیں، اے ستیہ پال آنند صاحب

آپ نے شاید

بدن سے ماورا بودھی بصیرت کی زباں سے

ذہن کی گہرائی میں ڈوبے ہوئے کل شب

یہ استفسار خود سے ہی کیا ہو گا ۔ ۔ ۔

لبادہ اوڑھ کر سوچوں کا

استغراق کے عالم میں شاید سو گئے ہو گے۔

 

جواباً کیا کہا حضرت علیؓ نے ؟

پوچھتا ہوں ذہن سے، بیدار ہونے پر

تو میرا ذہن اک پرچی تھما دیتا ہے میرے ہاتھ میں

جس پر کوئی نسخہ لکھا ہے صاف اردو میں

’’بہت کم ایسے ہوتا ہے، حصول آرزو میں کچھ نہ کچھ تاخیر ہوتی ہے

کد و کاوش سے، لیکن

جہد کرنا، مستعد رہنا حصول آرزو میں

صبر کو قوت بنا لینا ۔ ۔ ۔ ۔ یہی کچھ تو کہا تھا میں نے پہلے بھی۔ ‘‘

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ترجمہ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی نے کسی کام کے حصول کی کوشش کی ہو اور صبر کو نہ چھوڑا ہو، پھر بھی کامیاب نہ ہوا ہو ۰۰علامہ اقبال

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

٭٭٭

 

 

                   کیسا پیراہن یوسُف ہے یہ؟

________________________________________

 

کیسی چادر یہ چڑھائی ہے مری قبر پہ آج؟

میری آنکھوں کے لیے کون سا سرپوش ہے یہ؟

کیسا پیراہن یوسُف ہے جو تم لائے ہو؟

میں تو تابوت کے اندر سے بھی

دیکھ سکتا ہوں کہ میرا ذہن ہے بیدار ابھی !

 

تم جو صدیوں سے بزر جمہروؤں، داناؤں کے ساتھ

کرتے آئے ہو، وہ میرے علم میں ہے

عارفوں اور حکیموں سے تمہیں بَیر ہے، میں جانتا ہوں

ان کی تقدیس سے، تہذیب نفس سے تم کو

کچھ علاقہ ہی نہیں، کوئی تعلق ہی نہیں

ان کی قبروں کو مزاروں میں بدل کر تم نے

روضہ و تربت و اہرام سجا ڈالے ہیں

مسخرہ پن کی کوئی حد بھی تو ہوتی ہو گی!

تم نے ان روضوں کو جاگیر سمجھ کر ان کو

محفلوں، میلوں کے منڈووں میں بدل ڈالا ہے

میں تو بینا ہوں، مرا ذہن ہے زندہ اب تک

جانتا ہوں کہ یہ با زندگی، یہ دھوکا دھڑی

مجھ سے بھی ہو گی۔ ۔ ۔ مجھے پیر بنا کر تم خود

ایک سجادہ نشیں، ایک مجاور کا لباس

تاج، کفتان، اک پا پاغ کلاہ زر بفت

زیب و زینت سے پہن کر، بہمہ عزت سے

اک نئی پھولوں کی چادر مجھے اوڑھاؤ گے

 

اور میں، لحد کے اندر ہی پڑا تڑپوں گا

استخواں ہوں، مگر یہ ذہن ہے بیدار ابھی

اندھے یعقوب سے لائی گئی اس چادر کو

پیرہن یوسف کنعان سمجھ کر، اپنے

ذہن کو بھی سلا دوں گا دم محشر تک!

٭٭٭

 

 

 

 

                   پھکّڑ تماشہ A Farce

________________________________________

 

(نوٹ) اردو شاعری کی مروجہ اصناف میں، ڈرامہ کے تحت، جہاں طربیہ تمثیل کا ذکر آتا ہے، وہاں Farce کا ذکر مفقود ہے۔ یہاں تک کہ ’ریختی‘ کے دور انحطاط میں، یا ’زٹلیؔکے تتبع میں تحریر کردہ شاعری یا چرکیں ؔ کے بول و براز سے لتھڑے ہوئے غلیظ کلام کو بروئے کار لا کر بھی اردو میں اس صنف کی طرف کسی نے توجہ مبذول نہیں کی۔ ہندی میں ’ناٹک‘ کی صنف کے تحت جہاں  ’پھکڑ تماشا‘ ملتا ہے، وہاں دیگر لوک اصناف بھی موجود ہیں جو میلوں ٹھیلوں میں مقامی بولیوں سے عبارت تھیں اور ہندی ادب کی تاریخ میں ان کا ذکر ’’ لوک ساہیتہ‘‘ کے تحت کیا جاتا ہے۔ یورپ کی زبانوں میں (بشمولیت انگریزی) farce ڈرامے ہمیشہ مقبول رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ لیکن جہاں فارسی میں ڈرامہ کا نہ ہونا اردو میں اس صنف کے مفقود ہونے کی ایک وجہ تھی وہاں دوسری یہ تھی کہ اردو کا highbrow یعنی ’نک چڑھا‘ شاعر ہمیشہ آس پڑوس کی مقامی لسانی اکائیوں کو اردو سے کمتر سمجھتے ہوئے ان کی طرف توجہ دینے کی بابت سوچنے سے ہی قاصر تھا۔

“The elements of absurdity, comical, ludicrousness, ridiculousness, droll and funny have always been present in English drama,” writes Dr. Johnson, the first historian of English literature.

________________________________________

 

کوچہ و بازار میں، سڑکوں پہ محو رقص لوگ

سیدھے، ٹیڑھے، پستہ قد، لمبے تڑنگے مرد و زن

کانسٹیبل، پیش کار و منشی و عرضی نویس

خوانچے والے، چھابڑی والے، دکانوں کے ملازم

جوتے پہنے، ننگے پاؤں

میلی شلواروں کو، ٹخنوں تک لٹکتی دھوتیوں کو

پتلی ٹانگوں پر سجائے

کوچہ و بازار میں سڑکوں پہ محو رقص لوگ!

 

رقص میں غلطاں، ٹھہاکے اور بڑھکیں مارتے

گاتے، اچھلتے، صد ہزار و صد ہزار و صد ہزار

لوگوں کا سیلاب، اک ہڑبونگ، ریلا۔ ۔ ۔ ۔

آگے بڑھتا، پیچھے ہٹتا، پھر پلٹتا، آگے بڑھتا

مست، مست و مست، مست

کون ہیں یہ لوگ، بھائی؟

کون ہیں یہ لوگ، بھیا؟

شہر میں وارد ہوا مَیں۔ ۔ ۔ اجنبی خود سے ہی شاید پوچھتا ہوں

کوئی بھی مجذوب، ’’می رقصم‘‘ قبیلے کا نظر آتا نہیں ہے

کس سے پوچھوں ؟

سب ہی تو ہیں مست، مست و مست، مست!

 

ایک کبڑا، چلتے چلتے

اپنی نا ہموار سانسوں کو ذرا معمول پر لانے کو جیسے رُک گیا، تو۔ ۔

میں نے پوچھا

کیا کوئی تقریب ہے، تہوار ہے، ؟یہ جشن، حضرت

کس خوشی میں ہے ؟کوئی شہزادہ کیا پیدا ہوا ہے ؟

ہاں، کہا کبڑے نے اپنی ڈیڑھ دو ٹانگوں پہ مینڈک سا پھدک کر

ہاں، ہمارے نوے سالہ بادشہ کے ہاں ولادت کی خوشی ہے

سولہہ سالہ ان کی بیوی کے بطن سے

کل ہی اک گل گوتھڑا پیدا ہوا ہے

تخت کا وارث، ہمارے شہر کا یہ شہزادہ

کل ہمارا حکمراں ہو گا !کہا کبڑے نے اور پھر

ڈیڑھ دو ٹانگوں پہ مینڈک کی طرح اچھلا۔ ۔ ۔ ۔ تو میں بھی

لا محالہ پوچھ ہی بیٹھا۔ ۔ ۔ ۔ یہ سارے لوگ آخر

کس لیے خوش ہیں، کوئی کیا اور بھی تقریب ہے، بھائی بتاؤ

 

ہاں، کہا کبڑے نے، ہم سب کو

ہمارے بادشہ نے تین دن تک مفت کھانا۔ ۔ ۔

روٹی، کپڑا اور مکاں دینے کی گارنٹی بھی دی ہے !

٭٭٭

 

 

 

ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ/ترجمہ ستیہ پال آنند

 

  1. S. Eliot

             The Hollow Men

________________________________________

 

Mistah Kurtz – he dead—1

penny for the Old Guy–2

 

We are the hollow men

We are the stuffed men

Leaning together

Headpiece filled with straw. Alas!

Our dried voices, when

We are quiet and meaningless

As wind in dry grass

Our rats’ feet over broken glass

In our dry cellar

 

Shape without form, shade without colour,

Paralysed force, gesture without motion;

 

Those who crossed

With direct eyes, to death’s other kingdom

Remember us — if at all — not as lost

Violent souls, but only

As the hollow men

The stuffed men.

 

              II

________________________________________

 

Eyes I dare not meet in dreams

In death’s dream kingdom

These do not appear:

There, the eyes are

Sunlight on a broken column

There, is a tree swinging

And voices are

In the wind’s singing

More distant and more solemn

Than a fading star.

Let me be no nearer

in death’s dream kingdom

Let me also wear

Such deliberate disguises

Rat’s coat, crow’s skin, crossed staves

In a field

Behaving as the wind behaves

No nearer —

 

Not the final meeting

In the twilight kingdom

 

              III

________________________________________

 

This is the dead land

Here is cactus land

Here the stone images

are raised, here they receive

The supplication of a dead man’s hand

Under the twinkle of a fading star.

Is it like this

In death’s other kingdom

Waking alone

At the hour when we are

Trembling with tenderness

Lips that would kiss

Form prayers to broken stone.

 

              IV

________________________________________

 

The eyes are not here

There are no eyes here

In this valley of dying stars

In this hollow valley

This broken jaw of our lost kingdoms.

 

In this last of meeting places

We grope together

And avoid speech

Gathered on this beach of the tumid river

 

Sightless, unless

The eyes reappear

As the perpetual star

Multifoliate rose 9

Of death’s twilight kingdom

The hope only

Of empty men.

 

             V

________________________________________

 

How we go round the prickly pear

Prickly pear prickly pear

Here we go round the prickly pear

As five o’ clock in the morning. 10

 

Between the idea

And the reality

Between the motion

And the act

Falls the Shadow

For Thine is the Kingdom 11

Between the conception

And the creation

Between the emotion

And the response

Falls the shadow

Between the desire

And the spasm

Between the potency

And the existence

Between the essence

And the descent

Falls the shadow

For Thine is the Kingdom.

For Thine is

Life is

For Thine is the

 

This is the way the world ends

This is the way the world ends

This us the way the world ends

Not with a bang but a whimper.

٭٭٭

 

1925

 

                   کھوکھلے انساں  ۔۔۔ منظوم ترجمہ : ستیہ پال آنند

________________________________________

 

[ حوالہ جات کے علاوہ مترجم کا تحریر کردہ ایک وضاحتی نوٹ آخر میں ملحق کیا گیا ہے ]

 

Mistah Kurtz — he dead. [1]

A penny for the Old Guy.[2]

 

کھوکھلے انساں ہیں ہم

بھُس بھرے پتلے ہیں ہم

(کھڑے ہیں ) اک دوجے سے سٹ کر

اپنے کنٹوپوں میں بھوسہ بھرے ہوئے، افسوس!

اور جب ہم آپس میں

کھسر پسر کرتے ہیں

ہم سب کی سوکھی آوازیں

ایسے ہی لا یعنی اور لا صوت ہیں جیسے

سوکھے گھاس میں چلتی ہوا (کا اک جھونکا)ہو                         ۸

 

یا اپنے سوکھے تہہ خانے میں

ریزہ ریزہ شیشے پر چلتے چوہوں کے پاؤں

خاکے ہیں قالب کے بغیر، سایے ہیں رنگوں سے خالی

فالج مارا جسم (ہو جیسے )، یا حرکت سے تہی اشارہ؛

 

سیدھی ٹِکی ہوئی آنکھوں سے (دیکھتے دیکھتے )

وہ سب جو اُس پار گئے ہیں

ملک عدم کو

ان کی ہم سب یاد ہیں، لیکن

(ان کی، اپنی جیسی) ، متشدد گم گشتہ روح کی طرح نہیں

(ان کے لیے تو)

صرف کھوکھلے انساں ہیں ہم

بھوسہ بھرے ہوئے پُتلے ہیں۔                                      ۱۸

 

                   II

________________________________________

 

آنکھیں، مجھ میں سکت نہیں ہے جن کو خواب میں بھی ملنے کی

خوابوں جیسی ملک عدم کی قلمرو میں

ان آنکھوں کا دخل نہیں ہے ؛

وہاں تو یہ

اک خستہ حال ستون پہ دھوپ سی ٹکی ہوئی ہیں

اسی جگہ پر پیڑ کوئی اک جھوم رہا ہے

اور آوازیں ہوا کے سرگم میں مدغم

ایسے لگتی ہیں

جیسے اک مدھم پڑتے تارے کی دوری سے بھی زیادہ

دور بھی ہوں اور سنجیدہ بھی                                                ۲۸

 

موت کے خواب آسا اس ملک کے

پاس پھٹکنے سے میں باز رہوں تو بہتر

سوچ سمجھ کر

پہنوں گا میں بھیس بدلنے کی خاطر

چوہے کا چوغا، زاغ کی چمڑی، اور صلیب کی صورت جیسے

کھیت میں گاڑے چوبی تختے

ہو کی جیسے عادت ہے، میں (دور اڑوں گا )

پاس نہیں پھٹکوں گا اس کے ۔ ۔

 

کبھی نہیں (ہو گا) شام کے کہرے جیسے ملک میں اپنا

(فیصلہ کن) بالآخر ملنا              ۳۸

 

                   III

________________________________________

 

مردہ ہے یہ دھرتی

تھور (اگاتی) مردہ ہے یہ دھرتی

اس پر پتھر کے کتبے گاڑے جاتے ہیں

اور اک مدھم تارے کی جھلمل چھایا میں

اک مردہ انسان کے اٹھے ہوئے ہاتھوں سے وہ

لیتے ہیں منتیں اور مرادیں

کیا ایسا ہی اہتمام ہے

موت کی اس دوجی اقلیم میں

ایک اکیلا صبح جاگنا

اس لمحے میں ہونٹ ہمارے                                                ۴۸

کانپ رہے ہوتے ہیں شفقت، نرم دلی سے

خستہ کتبے کو ہم

ان ہونٹوں سے بوسہ دے کر

دعا کی قرات دہراتے ہیں

 

                   IV

________________________________________

 

یہاں پہ آنکھیں کوئی نہیں ہیں

کوئی نہیں ہیں یہاں پہ آنکھیں

مرگ آسا تاروں کی اس وادی میں

کھوکھلی اس وادی میں

اپنی گم گشتہ اقلیموں کے اس ٹوٹے حلق کے اندر

کیا یہ باقی بچی ہوئی وہ قطعہ ارض ہے، جس میں

ہم (اندھوں کی طرح سے )چھو چھو کر ہی اک دوجے کو                ۵۸

بات چیت سے اجتناب (کرتے ہیں )

مل بیٹھے ہیں چڑھے ہوئے اس دریا کے ساحل پر

 

نا بینا، اس لمحے تک

جب آنکھیں لوٹ آئیں گی

جیسے یہ لافانی تارا

متعدد پتّیوں والا اک گل[۳ ]

موت کی اس دھندلی اقلیم میں

اک امید فقط ہے (باقی)

خالی خولی انسانوں کی۔

 

                   V

________________________________________

 

Here we go round the prickly pear                  ۶۸

Prickly pear prickly pear

Here we go round the prickly pear

At five o’ clock in the morning۔ [ایک]

 

سوچ، حقیقت۔ دونوں کے مابین

اک حرکت اور پورے عمل کے بیچ

(اگر کچھ ہے تو)

اک سایہ یا پرتو ہی ہے

For thine is the Kingdom [دو]

(کیونکہ تمہاری ہی اقلیم ہے )

حمل ٹھہرنے                                             ۷۸

اور ولادت کے مابین(ہمیشہ)

جذبہ اور ( اس کے ) اقدام

کے درمیان (اک)

سایہ پڑتا رہتا ہے۔

Life is very long      [تین]                                                                                  ( جیون اک لمبا عرصہ ہے )

(شہوت) کے ہیجان سے

انزالی لمحے (تک)

اپنے ’ہونے ‘

اور اس کے ’جوہر ‘کے بیچوں بیچ

گراوٹ (کے لمحے تک)                           ۸۸

سایہ ہی پڑتا ہے

For Thine is the Kingdom

(کیونکہ تمہاری ہی اقلیم ہے )

(صرف) تمہاری ہی ہے

زیست ہے

کیونکہ تمہاری ہی ہے (مولا)

 

دنیا اسی طرح سے اپنی موت مرے گی

دنیا اسی طرح سے اپنی موت مرے گی

دنیا اسی طرح سے اپنی موت مرے گی

نہیں دھماکے سے، بس رِیں رِیں کی سُبکی سے۔        ۹۸

۔۔۔۔۔

 

۱۔ جوزف کانراڈ (1857-1924) Joseph Conradکے ناول ’دی ہارٹ آف ڈارک نیس‘The Heart of Darkness کے ایک منظر کی باز گشت۔ مسٹر کُرٹز Mr. Kurtz کے دم نزع الفاظ ہیں۔ “The horror! The horror!”۔ مسٹر کُرٹز ایک بین الاقوامی کمپنی کے کارکن کے طور پر افریقہ کے جنگلوں میں جاتا ہے اور وہاں شیطان صفت بد کردار ہو جاتا ہے۔ یہ الفاظ ایک افریقی ملازم کے ہیں۔

 

۲۔ انگلستان میں گائی فاکس Guy Fawkes کا دن ایسے منایا جاتا ہے کہ بچے راہ چلتے لوگوں اور آس پڑوس کے گھروں سے ایک ایک پنس مانگ کر اور پیسے اکٹھے کر کے آتش بازی کا سامان خریدتے ہیں۔ گائی فاکس کا پُتلا بنا کر اسے نذر آتش کرتے ہیں اور گاتے ناچتے ہیں۔ 1605ء میں گائی فاکس نے انگلستان کی پالیمینٹ کو بارود سے اڑانے کی سعی کی تھی جو ناکام ہو گئی تھی۔ یہ دن اس کی یاد میں منا یا جاتا ہے۔ بچے راہگیروں یا گھروں سے پیسہ مانگتے ہوئے عموماً یہ جملہ دہراتے ہیں۔ A penny for the Old Guy.

 

۳۔ [ اطالوی شاعر دانتے ؔ کی پیرا ڈائیزو (Dante’s Paradiso) جو اس کے ایپک Divine Comedy  ’’ڈیواین کامیڈی‘‘ کا تیسرا باب ہے ]کا ایک منظر جس میں (دوزخ سے رہائی کے بعد) روحیں خدا کے آس پاس جھکی ہوئی کچھ کہہ نہیں پاتیں لیکن رقص کی سی حرکات کر رہی ہیں۔

 

ایک:            بچوں کی گائی جانے والی ایک نرسری راِیم Nursery Rhyme جسے طنزیہ لہجے میں بدل دیا گیا ہے۔ اصل سطر یوں ہے۔ Here we go round the Mulberry bush.مترجم نے اس کا اردو ترجمہ مناسب نہیں سمجھا کیونکہ اردو میں یہ ایک لا یعنی سعی تھی۔

دو اور تین:     یہ اقتباسات مسیحی دعا کے کچھ الفاظ ہیں۔ دعائیہ سطر یہ ہے۔

“For Thine is the Kingdom, and the power, and the

glory, forever and ever. Amen.”

٭٭٭

 

 

 

تحقیقی اور تنقیدی حاشیہ آرائی

 

 

ایلیٹ نے خود تحریر کیا تھا کہ اس نے اپنی اس نظم کا عنوان یعنی The Hollow Men ولیم مورِس William Morris (1834-96)کی نظمThe Hollow Land اور رڈیارڈ کپلنگ Rudyard Kipling (1865-1936)کی نظم The Broken Men کو آپس میں ضم کر کے لیا ہے۔ ایلیٹ اکثر اپنی تلمیحوں اور کنایوں کی تشریح کر دیتا ہے لیکن نقّادوں کے مطابق اس نظم کے عنوان میں شیکسپییِر کے  ڈرامے ’’جولیس سیزر‘‘ کا حوالہ بھی موجود ہے۔ جوزف کانریڈ Joserph Conrad (1857-1924)کے ناول Heart of Darknessکے کردار کُرٹز(Kurtz) جس کو Hollow sham اور Hollow at the core کہا گیا ہے، کو بھی اس عنوان کا سرچشمہ کہا جا سکتا ہے۔

 

انگریزی میں ایلیٹ پر اس قدر تنقیدی مواد موجود ہے کہ مندرجہ ذیل حواشی کو شاید غیر ضروری قرار دیا جائے لیکن راقم الحروف کو، انگریزی کا استاد اور اردو کا قاری ہونے کے حوالے سے اس بات کا تجربہ ہے کہ اردو قاری عموماً انگریزی تنقید پڑھنے کی زحمت نہیں اٹھاتا، اس لیے یہ حوالہ جاتی مواد پیش کیا جا رہا ہے۔

 

اس نظم کی آخری سطر This is the way the world endsاس سطر کی تین بار قرات اور پھر اختتامی سطر Not with a band but a whimper کیا اس کی کلیدی سطور ہیں ؟ جب ایلیٹ سے یہ سوال پوچھا گیا تو اس نے  اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ ان کا براہ راست تعلق صرف اور صرف گائی فاکس کے گن پاؤڈر پلاٹGun Powder Plot  سے تھا اور گائی فاکس کو جب پھانسی کے پھندے کی جانب کھینچ کر لے جایا جا رہا تھا تو وہ واقعی whimper یعنی ریں ریں کر  رہا تھا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس کے ذہن میں ہائیڈروجن بم کا تصور تھا جس کے ایک دھماکے سے پوری دنیا تباہ ہو سکتی ہے، اس  کا جواب نفی میں تھا۔ اس سوال کے جواب میں کہ اگر وہ یہ نظم آج (یعنی ۱۹۵۰ء میں ) لکھتا تو کیا وہ یہ سطور شامل کرتا، اس کا جواب تھا،   نہیں ۔    ۰کچھ تنقید نگار اس نظم کو تین مختلف نکتہ ہائے نظر سے دیکھتے ہیں۔ دانتےؔ کے اور قدیم عیسائی مفروضوں کے مطابق ’روح  کے تین میں سے موت کی کسی ایک قلمرو میں داخل ہونے ‘ کے بارے میں یہ تین صوبہ جات ہیں۔ یہ ہیں۔ (۱) موت کی   خوابناک قلمرو dream kingdom، (۲) موت کی کہر آلود اقلیمkingdom twilight اور (۳) اصلی   ملک عدم۔ ایلیٹ کا منشا، بادی النظر میں، قاری کو یہ بتانے کا ہے، کہ ہمیں، یعنی زندہ لوگوں کو، وہ لوگ جو پہلے ہی موت  کی سرحد میں داخل ہو چکے ہیں، کن نظروں سے دیکھیں گے۔ (سطر 10-18اردو میں ) اس بات کی غمازی کرتی  ہیں۔ ان سطروں میں ’’آنکھوں ‘‘ کا استعارہ بار بار آیا ہے۔ Eyes I dare not meet in dreams  (اردو ترجمہ) ’’آنکھیں۔ ۔ ۔ جن میں سکت نہیں ہے خواب میں بھی مجھ کو ملنے کی‘‘ (سطر۔ ۔ 19 ) ان چھیدتی ہوئی،   سوراخ کرتی ہوئی نظروں کی طرف اشارہ ہے جو دانتے ؔ کی بی ایٹرِسؔ Beatrice کی یاد دلاتی ہیں۔

سطر (58 سے ) آگے Gathered on this beach of the tumid river، اردو ترجمہ ’’مل بیٹھے ہیں چڑھے ہوئے دریا کے اس ساحل پر‘‘ میں دانتے ؔ کی Inferno کے تیسرے اور چوتھے ابواب سے منظر کشی کشید کی گئی ہے۔ تیسرے باب میں Inferno کے اندر موجود ایک دائرے کا ذکر آتا ہے، جسے Limbo (بمعنی: اعراف) کہا گیا ہے۔ اس میں روحیں بے بس سی چاروں طرف ایک دوسرے کو ٹٹولتے ہوئے پھر رہی ہیں۔

نہ تو دوزخ کے اندر جانے کا سیدھا راستہ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی اللہ سے عفو و معافی کی کوئی سبیل نظر آتی ہے۔ اللہ سے براہ راست کلام سے عاری یہ روحیں around the prickly pear رقص کرتی ہیں۔ (اردو ترجمہ نہیں دیا گیا ہے اور بچوں کی اس نرسری رائم کو یونہی رہنے دیا گیا ہے )۔ خار دار جھاڑیوں کے ارد گرد رقص سے مراد ان باطل خداؤں کی پرستش ہے، جس میں لوگ مصروف رہتے ہیں۔

 

اختتامیہ نوٹ

________________________________________

 

1926ء میں ایلیٹ کے نئے مجموعے پر (جس میں یہ نظم بھی شامل تھی) تبصرہ کرتے ہوئے Allen Tate نے ایک نکتہ یہ پیش کیا کہ ان نظموں میں عموماً اور Hollow Men میں خصوصاً ایلیٹ کی شاعری سے اساطیری عناصر غائب ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ صرف ایک حد تک صحیح ہے کیونکہ اس نظم میں بھی دانتے ؔ سے مستعار شدہ علائم اور گائی فاکس کے براہ راست حوالہ جاتی جملوں کے علاوہ Conrad اور Frazer سے استفادہ بھی موجود ہے۔ یہ استفادہ بڑی حد تک بین المتونیت (intertextuality)کا ہے، نہ کہ دیو مالائی عناصر کی فی زمانہ جدید تفسیر کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایلیٹ نے ایذرا پاؤنڈ Ezra Pound سے یہ بھی کہا تھا کہ اس کی یہ نظم post-Waste ہے، یعنی ’’ما بعد ویسٹ لینڈ‘‘ ہے۔ یہ بھی صرف ایک حد تک ہی صحیح ہے، کیونکہ بچوں کی نرسری رایم کا ’کورس‘ chorus اور بھٹکتی ہوئی روحوں کا اعراف میں رقص نما طواف اسی تکنیک کے کل پرزے ہیں جو ویسٹ لینڈ میں اپنے عروج پر تھی۔

٭٭٭

 

 

 

 

کتھا پہلے جنم کی ۔۔۔ستیہ پال آنند

 

(ستیہ پال آنند کی ’چار جنموں کی کتھا‘ سے مقتبس) ۔۔۔ستیہ پال آنند’چار نموں کی کتھا‘ سے مقتبس)

 

                   ۱۹۳۶ء

________________________________________

 

میں اپنے گھر کی ڈیوڑھی سے نکلتا ہوں۔ میری عمر پانچ برس ہے۔ میرے ہاتھوں میں بڑھئی کا بنایا ہوا ایک نیا ڈنڈا ہے اور بے حد پتلی، ہلکی پھلکی گلی ہے جسے بڑی محنت سے تراشا گیا ہے۔ صحن میں کھیلتے ہوئے میری گٍلی دالان میں چرخہ کاتتی ہوئی دادی ماں ’’بے بے ‘‘ کو لگتے لگتے بچ گئی تھی، اس لیے مجھے ڈانٹ پلائی گئی تھی کہ اگر مجھے گلی ڈنڈا کھیلنا ہے تو باہر گلی میں جا کر کھیلوں۔

ڈیوڑھی سے باہر نکلتے ہی میں دیکھتا ہوں کہ تنگ پتھریلی گلی کے ایک کونے پر پھلوؔ لکھّے ( تیلی) کے گھر کے سامنے اپنے گھر کی ڈیوڑھی سے جھانکتا ہوا ڈّبا کھڑا ہے اور دوسرے کونے پر رام چند بھسین کے گھر کے دروازے کی اوٹ میں، بظاہر اس سے بے پروا کالوؔ کھڑا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ ان کو للکاروں کیونکہ مجھے علم ہے وہ مجھ سے گلی ڈنڈا چھیننے کی تاک میں ہیں۔ وہ دونوں مجھ سے دو تین برس بڑے ہیں اور انہیں للکارنے کے ارادے کے باوجود مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے۔ روہانسا سا ہو کر میں اندرواپس آ جاتا ہوں، اور گلی ڈنڈے کو صحن میں پھینک کر خود سے تین برس بڑی بہن کی طرف لاچاری سے دیکھتا ہوں اور بے اختیار میرے منہ سے نکلتا ہے :

کتھّے ونجاں ڈاڈھیاربّا     اندر کالو، باہر ڈبّا

میری بہن چونک کر میری طرف دیکھتی ہے اور کہتی ہے :

واہ او ست پا لیا           توں تاں ہک بیت بنا لیا

گاؤں کی اکھڑ زبان میں بیت بازی کی یہ شروعات ہے !

٭٭

 

                   ۱۹۳۷ء

________________________________________

 

مجھے چاچا بیلی رام اسکول داخل کروانے کے لیے لے جا رہے ہیں۔ میں نے سفید قمیض اور خاکی رنگ کا نیکر پہنے ہوئے ہیں۔ ایک ہاتھ میں پُچی ہوئی تختی ہے، دوسرے میں ایک پیسے میں خریدا ہوا نیا اردو کا قاعدہ ہے۔ سلیٹ کی پڑھائی دوسری جماعت سے شروع ہوتی ہے، اس لیے مجھے سلیٹ اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کرنی پڑی۔ مجھے شاید زکام ہے، کیونکہ میں بار بار رو مال سے اپنی ناک پونچھ رہا ہوں۔

چاچا بیلی رام کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے میں ان منے دل سے یاد کر رہا ہوں کہ اگر مجھے اس دن اسکول نہ جانا ہوتا تو میں گلی ڈنڈا کھیل رہا ہوتا۔

چاچا بیلی رام کی کریانے کی دکان ہے۔ وہ در اصل میرے مرحوم دادا کے بھائی ہیں۔ لیکن گاؤں میں سبھی ان کو چاچا بیلیؔ ہی کہہ کر پکارتے ہیں۔ نکھٹو سمجھ کر کوئی بھی اپنی لڑکی ان کے ساتھ بیاہنے کو تیار نہیں ہوا۔ اب پچاس کے پیٹے میں ہیں۔ ساری عمر اسی طرح گذار دی۔ دو بار راولپنڈی جا کر خدا جانے کس جات کی یا کس مذہب کی’ ادھ کھڑ ‘ عورتیں خرید لائے، شاید دو دو سو روپے میں۔ لیکن دونوں کچھ دن ان کے ساتھ رہنے کے بعد بھاگ گئیں۔ ایک تو ان کے کان میں ڈالی ہوئی سونے کی مُرکی بھی کھینچ کر اتار لے گئی۔ کہا جاتا تھا کہ وہ مونچھوں والے ہٹے کٹے نورےؔ  نائی کے ساتھ بھاگی تھی۔ نورا تو کچھ دن کے بعد گاؤں لوٹ آیا لیکن اس عورت کا کچھ پتہ نہ چلا۔ اس کے بعد چاچا بیلی رام نے شادی کے نام سے توبہ کر لی۔ کہا جاتا تھا کہ پنڈی گھیب میں کوئی چمارن ہے جو ایک روپے کے عوض اپنے ساتھ رات گذارنے دیتی ہے۔ ایسا کچھ ساتھی لڑکوں سے سنا تھا کہ چاچا بیلی رام بھی مہینے میں ایک آدھ بار وہاں جاتے ہیں۔ تب میں نے ایک بیت بھی موزوں کیا تھا، جو گھر والوں یا چاچا بیلی رام کو تو نہیں، لیکن اپنے کھیل کے سب ساتھیوں کو سنایا تھا۔

۰؎ خرچیا ہک روپّیہ سارا : چاچا بیلی ہجے کنوارا

(ایک روپیہ، پورے کا پورا خرچ بھی کر لیا : چاچا بیلی پھر بھی کنوارے کا کنوارا ہی رہا)

 

میں نے اسکول میں نے پہلی بار منشی رستم خان صاحب کو چمڑے کی منڈھی ہوئی کرسی پر بیٹھے دیکھا۔ ان کے بارے میں باتیں ضرور سنی تھیں کہ جب لڑکوں کو بید سے مارتے ہیں تو ہاتھ سوج جاتے ہیں۔ مرنجان مرنج آدمی تھے اور ڈھلتی عمر نے انہیں کچھ اور بھی ضعیف بنا دیا تھا، لیکن اس ٍ الجثہ شخص کے سامنے میز پر ایک ڈنڈا رکھا ہوا تھا، جو اس کی طاقت کا اصلی مظہر تھا۔ میں اسکول جانے والے ساتھی لڑکوں سے سن چکا تھا کہ اس ڈنڈے کا نام مولا بخش ہے۔ یہ بھی افواہ تھی کہ رستم خان صاحب نہ بھی دیکھیں تو ڈنڈا خود بخود ہلنے لگتا ہے۔ یعنی ڈنڈے کی ایک آنکھ ہمیشہ کھلی رہتی تھی اور وہ منشی صاحب کو بتا دیتا تھا کہ کس لڑکے نے شرارت کی ہے۔ میں نے ایک بیت مولا بخش کی کارکردگی پر بھی موزوں کیا تھا۔

۰ڈنڈا ویکھے اکھ اگھروڑ: دل کردا ے، جاواں دوڑ۔ (اگر ڈنڈا ذرا سی بھی آنکھ کھول کر دیکھے : تو جی چاہتا ہے میں بھاگ جاؤں )

 

اسکول کی پڑھائی چلتی رہی۔ مجھے ابجد سیکھنے میں تو دو دن لگے کیونکہ میں پہلے ہی گھر میں اپنی ماں سے نہ صرف اردو ابجد سیکھ چکا تھا بلکہ تختی پوچ کر خوشخط لکھ بھی سکتا تھا۔ میری ماتا جی اردو پڑھ لکھ لیتی تھیں اور نوشہرہ چھاؤنی میں میرے بابو جی اور کوٹ سارنگ میں میری ماتا جی کے درمیان خط و کتابت اردو میں ہی ہوتی تھی۔ منشی رستم علی خاں خوش تو بہت ہوئے لیکن جب ’’پہاڑے ‘‘ سیکھنے کا وقت آیا تو جیسے مجھے سانپ سونگھ گیا۔ میں تختی پر یا سلیٹ پر بغیر کسی تردد کے پہاڑے لکھ سکتا تھا لیکن دوسرے لڑکوں کے ساتھ سر میں سر ملا کر گا نہیں سکتا تھا۔ اس لیے جب دوسرے لڑکے ایک ساتھ آواز ملا کر اونچی آواز میں کہتے : ’’دو دُونے چار‘‘ تو میں چپکا بیٹھا رہتا۔ منشی جی تو اونگھ رہے ہوتے لیکن مجھے لگتا جیسے مولا بخش میری جانب ایک ٹک دیکھ رہا ہے اور ہل رہا ہے، تب میں بھی ہونٹوں ہونٹوں میں ہی بدبدانے لگتا، ’ دو دوُنے چار، تین دُونے چھ، چار دوُنے اٹّھ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

پڑھائی چلتی رہی۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے، جب تختی پر صحیح املا لکھنے اور ایک بھی غلطی نہ کرنے پر منشی صاحب نے میری پیٹھ ٹھونکی تھی۔ لیکن جب حساب کے سیدھے سادے، یعنی جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم کے سوالوں کا وقت آتا تو سارے پہاڑے یاد ہونے کے باوجود میں غلطیاں کرتا اور شرمندگی سے میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے، میں حساب میں کبھی اچھے نمبر نہ لے سکا اور کورے کا کورا ہی رہا۔ ساری جماعت میں ایک میں ہی تھا جو اردو کی دوسری، تیسری، حتیٰ کہ چوتھی جماعت کی اردو کتاب بھی روانی سے پڑھ سکتا تھا، لیکن حساب کے مضمون میں کوئی ایسی گانٹھ تھی جو میری سمجھ اور لیاقت کی رسی پر بندھی ہوئی تھی، یعنی سمجھ آ جانے کے باوجود سوال حل کرتے ہوئے میں غلطی کر جاتا تھا۔

چھُٹّی ہونے پر سارے لڑکے اپنے اپنے بستے باندھ کر دوڑتے ہوئے گھروں کو روانہ ہو جاتے۔ کچھ لڑکے گاؤں کی ساتھ والی ڈھوک سے آتے تھے، لیکن زیادہ کوٹ سارنگ کے ہی ہوتے تھے۔ میں بھی بستہ باندھ کر دوڑتا لیکن سیدھا گھر جانے کے بجائے سناروں کی دکانوں کے ساتھ والی گلی میں مڑ جاتا۔ وہاں میری پھوپی بخت بی کا گھر تھا۔ گھر کے اندر داخل ہوتے ہی میں بستہ چارپائی پر پھینکتا اور ایسے زور زور سے سانس لیتا جیسے دوڑ دوڑ کر تھک گیا ہوں۔ میری پھوپی چھاچھ کا بھرا ہوا پیتل کا گلاس، جس میں مکھن کی ڈلی تیر رہی ہوتی، میرے ہاتھ میں پکڑاتی اور کہتی، ’’لے پُتر، لسّی پی لے، تھوڑا دم لے، پھر گھر چلے جانا!‘‘ گھر کا ہے کا؟ میں لسّی کا گلاس ختم کرتے ہی گلی ڈنڈا اٹھاتا اور اکیلے ہی صحن میں کھیلنے لگ جاتا۔ کئی بار پڑوس کا ایک ہم عمر لڑکا فضلوؔ بھی میرے ساتھ کھیلنے آ جاتا۔

گھنٹہ، دو گھنٹے۔ ۔ ۔ ۔ جب شام ڈھلنے لگتی، تو میری پھوپی جو اندر کمرے میں دوپہر کی نیند پوری کر رہی ہوتی، آنکھیں ملتی ہوئی باہر نکلتی۔ ’’اللہ کی مار اس گلی ڈنڈے پر!‘‘ وہ کوسنے دیتی۔ ’’اوئے نا مراد، تو ابھی تک اپنے گھر نہیں گیا؟ تیری ماں تیرا راستہ دیکھتی ہو گی، جا جلدی سے، نہیں تو مجھے گلے گلامے ملیں گے کہ میں راستے میں تم کو روک لیتی ہوں۔ تیرے بابو جی بھی گھر نہیں ہیں۔ تو ہی تو بڑا بیٹا ہے۔ ماں کا خیال رکھا کر۔ قرآن مجید میں آیا ہے کہ جو ماں کا کہنا نہیں مانتا، وہ نہ اس جہان کا نہ اگلے جہان کا!‘‘ اور وہ جلدی سے مجھے میرا بستہ پکڑا کر دروازے سے باہر کر دیتی۔ سن سن کر میرے کان پک گئے۔ قرآن شریف میں یہ آیا ہے، وہ آیا ہے۔ ایک دن میں نے اپنی ماتا جی سے پوچھا،  ’’ماں، یہ قرآن کیا ہے ؟‘‘ ماتا جی نے دلار سے کہا، ’’ارے ست پال۔ تو نہیں جانتا ہے، جیسے سکھوں کی متبرک کتاب گُرو گرنتھ صاحب ہے، یا ہم ہندوؤں کی بھگوت گیتا ہے، ویسے ہی مسلمانوں کی قرآن ہے، جس میں بہت اچھی اچھی باتیں لکھی ہوئی ہیں۔ ‘‘ میں پھر بھی نہ سمجھ سکا، اور میں نے پوچھا، ’’ہندو کیا ہوتا ہے ؟‘‘ ماں نے کہا، ’’جیسے کہ ہم ہیں۔ ہم ہندو ہیں، اور تیرے ننھیال سکھ ہیں، جو بال نہیں کاٹتے اور داڑھی بھی رکھتے ہیں اور پگڑی باندھتے ہیں۔ ‘‘ ’’اور مسلمان کون ہیں ؟‘‘ میں نے پھر پوچھا۔ ’’جیسے تیری پھوپی بخت بی ہے۔ ‘‘ میری ماں نے کہا۔ میرے ذہن میں منطق نے جیسے پہلی بار انگڑائی لی، میں نے ماں سے پوچھا، ’’اچھا، اگر پھوپی مسلمان ہے، تو وہ میری پھوپی کیسے ہوئی؟ ‘‘ ماں نے دلار سے میرا ما تھا چوما، ’’وہ اس لیے کہ وہ تیرے بابو جی کی منہ بولی بہن ہے۔ بابو جی تو اکیلے ہیں نا؟ ان کا بھائی بہن کوئی نہیں ہے، اس لیے انہوں نے بخت بی بی کو اپنی بہن مانا ہوا ہے، اس سے راکھی بھی بندھواتے ہیں۔ یوں بھی ہماری زمینوں کی کاشت ان کا خاندان ہی کرتا ہے۔ دیکھتے نہیں تم، جب وہ نوشہرہ سے آتے ہیں تو تیری پھوپی کے لیے کتنے تحفے لاتے ہیں !‘‘

مجھ آٹھ برس کے بچے کے ذہن میں ہندو، مسلمان، سکھ کا خیال اس سے پہلے کبھی نہیں آیا تھا، لیکن میں نے اس بات کا ذکر بخت بی پھوپی سے کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ البتہ یہ بات میرے ذہن میں کھلبلی مچاتی رہی کہ میرے گھر میں بھگوت گیتا بھی ہے، گرو گرنتھ صاحب بھی میں ماں کے ساتھ گوردوارے میں جا کر دیکھ چکا ہوں، لیکن میں نے قرآن نہیں دیکھا۔ تو قرآن، جس میں اتنی اچھی باتیں لکھی گئی ہیں، دیکھنا اور پڑھنا بے حد ضروری ہے۔ اور میں تو اردو بخوبی پڑھ لیتا ہوں، قرآن پڑھنا کون سا مشکل ہو گا؟

٭٭

 

                   ۱۹۳۹ء

________________________________________

 

گاؤں کے باہر مائی مولے والی بنھ (پانی کے باندھ کا پنجابی لفظ)۔ ایک جھیل سی، جس میں آبی پرندے تیرتے ہیں۔ میں کنارے کے ایک پتھر پر پانی میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہوں۔ مرغابیاں بولتی ہیں، تو میں ان کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملاتا ہوں۔ گاؤں کی عورتیں بڑے بڑے پتھروں پر اپنے میلے کپڑے قینچی مارکہ صابن سے رگڑ رگڑ کر دھو رہی ہیں۔ یہ سبھی اس کی موسیاں، چاچیاں، بھابھیاں، پھوپھیاں اور تائیاں ہیں۔ کچھ ہندو یا سکھ ہیں، لیکن مذہب کے حوالے سے انہیں کوئی نہیں پہچانتا، کیونکہ سبھی گوردوارے میں بھی جاتی ہیں اور جو گیوں کی درگاہ میں بھی شو لنگ پر جل اور پرشاد چڑھانے کے لیے حاضری دیتی ہیں۔ ۔ ۔ میری کتابوں کا بستہ ایک طرف رکھا ہوا ہے۔ گاؤں کے باقی سب لڑکے اس وقت اسکول میں ہیں، مگر میں اسکول سے بھاگا ہوا ہوں۔ بھائی کے ساتھ جاتے جاتے میں اس کی نظر بچا کر بخت بی پھوپی کے گھر کی طرف مڑ گیا تھا جیسے ماں کا کوئی پیغام اسے دینا ہو، اور پھر گلی کا موڑ مڑتے ہی مولے والی بنھ کی طرف کو ہو لیا تھا۔

 

مولے والی بنھ پر ایک معجزہ

________________________________________

 

دوب، کائی

سرسراتی جھاڑیاں

چڑیاں پھدکتیں، چہچہاتیں

تتلیاں رنگین، کالے ڈنک والی مکھیاں، پیلے مکوڑے

سوکھتے کیچڑ پہ بھینسوں کے کھُروں کے نقش، گوبر کی غلاظت

دھول، مٹّی سے اٹی پگڈنڈیاں۔ ۔ ۔ ۔

چیونٹے، قطار اندر قطار آتے ہوئے اک بل کی جانب

ماہیا گاتا ہوا لڑکا، گڈریا

آگے آگے بکریاں کچھ مینگنی کرتی ہوئیں

کچھ منمناتیں

پیچھے پیچھے بھیڑیے جیسا بڑا، خونخوار کتّا

 

کیسا بے ہنگم سا، بے ترتیب بکھراؤ

سرکتی، رینگتی، اڑتی، ہمکتی زندگی، جو

جھیل کے پانی کی ٹھنڈک سے، ہوا سے

سانس کا وردان لینا جانتی ہے !

 

باندھ کے اک بھُربھرے ٹیلے پہ بیٹھا

آٹھ سالہ نوجوان، وہ بھی ہمکتی زندگی کا ایک حصّہ

دور جاتے ماہیے کے دھیمے پڑتے بول کی سنگت میں اڑتا تتلیوں کی رنگ ریزی کی دھنک سے کھیلتا۔ ..۔

چڑیوں کی چوں چوں کے سُروں میں سُر ملاتا

مکھّیوں کے ڈنک سے بچتا بچاتا

اور سطح آب پر ٹھنڈی ہوا کے

ہلکے ہلکوروں پہ اڑتا

جھیل کے پانی کے چکنے جسم کو چھوتا، پھسلتا

جاتے جاتے اس جگہ پر رک گیا ہے

جس جگہ مرغابیاں اک جھنڈ کی صورت میں بیٹھی تیرتی ہیں

(لمبے رستوں کے مسافر، یہ پرندے

کچھ دنوں کے واسطے ہی یہ پڑاؤ ڈھونڈتے ہیں !)

 

یہ پرندے، اپنی لمبی گردنیں پانی میں ڈالے

غوطہ زن ہو کر ابھرتے ہیں

تو اس کو ایسے لگتا ہے کہ جیسے

جھیل کے پانی سے چاندی کے کٹورے اُگ رہے ہوں

دودھ کے ہلکے پھوارے پھوٹتے ہوں

سیم تن پریاں ’’چھُوا چھُو‘‘ کھیلتی ہوں

 

کاش اس برکاۃ کے لمحے میں، مولا

معجزہ اک رونما ہو

کاش میں چولا بدل کر (اس نے سوچا)

جھیل کے پانی میں اپنی لمبی گردن کو ڈبو دوں

اور جب ابھروں

تو میرے جسم پر سیمیں پر پرواز ہوں

برّاق برفوں کی چمک پہنے ہوئے

بے تاب اڑنے کو، مرے مولا

مرا مرغاب دل یہ چاہتا ہے !!

 

کہا تھا منشی رستم خان صاحب نے، یہ بچہ غبی الذہن ہے۔ کچھ نہیں آتا اسے۔ صرف اردو اچھی لکھ سکتا ہے۔ صرف خوشخط ہے، لیکن حساب میں نا لائق ہے۔ ڈرل کے پیریڈ سے ہمیشہ بھاگا رہتا ہے۔ کچھ نہیں بن سکے گا یہ! اپنے باپ داد اکا نام روشن نہیں کرے گا۔ اس کا دادا کابل تک تجارت کرتا تھا۔ اس کا باپ وکیل بن کر نوشہرہ میں اپنا خاص سماجی مقام بنائے ہوئے ہے۔ اس کا نانا ’’سرداربہادر‘‘ کہلاتا ہے، جو خان بہادر یا رائے صاحب کے برابر خطاب ہے۔ اس کی والدہ بھی پڑھی لکھی ہے اور جاٹ عورتیں میدان جنگ سے اپنے شوہروں کے آئے ہوئے خطوط اس سے پڑھوانے آتی ہیں۔ کچھ نہیں بن سکے گا یہ! باپ دادا کے نام کی لٹیا ڈبو دے گا۔ بس ایک آوارہ گردی ہی اس کا مشغلہ ہے۔ کاش میرا مولا بخش اسے سیدھی راہ پر لا سکتا۔ لیکن ہتھیلیوں پر ڈنڈے کھا کھا کر بھی ویسے کا ویسا بدھو ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

یہ غبی الذہن بچہ

________________________________________

 

اس غبی الذہن بچے کو تو میں پہچانتا ہوں

ناک سوں سوں، آنکھ روں روں

جب یہ پہلے بار مدرسے گیا تھا

کپکپاتے ہاتھ میں بستہ اٹھائے

دوسرے میں سوکھتی، آدھی پُچی تختی کو تھامے

صاف کپڑوں میں سجے سنورے ہوئے وہ

چاچا بیلی رام کی انگلی پکڑ کر

ڈرتے ڈرتے، ان منے قدموں سے یوں چلتا دکھائی دے رہا تھا

جیسے بکرے کو کوئی بے درد بوچڑ کھینچ کر لے جا رہا ہو

پانچ سالہ، اچھے اونچے قد کا، گورے رنگ کا لڑکا تھا یہ

لیکن پڑھائی سے اسے کچھ دشمنی تھی

یہ غبی الذہن بچہ کس قدر حسّاس تھا

کوئی نہیں یہ جانتا تھا

یہ نہیں سمجھا تھا اس کے باپ نے

بہنوں نے، ماں نے

یا مدرّس مُنشی رستم خان صاحب نے

کہ یہ بچہ

مدرسے کے دوسرے بچوں سے آخر مختلف کیوں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اسے سولہہ تلک سارے پہاڑے یاد تو رہتے ہیں، لیکن

کیوں نہیں پڑھتا بلند آواز میں

سب دوسرے لڑکوں کی لے میں لے ملا کر؟

کیوں یہ بچہ نیلگوں آکاش پر اک ٹک نظر گاڑے ہوئے

گھنٹوں تلک بادل کے ٹکڑوں کی شبیہیں دیکھتا ہے ؟

باجرے کے کھیت میں

آزاد ہرنوں کی طرح کیوں دوڑتا ہے ؟

جھاڑیوں میں اُڑ رہے رنگین ’’بھمبھیروں ‘‘ کے پیچھے

ننگے پاؤں بھاگنے کو کیوں مچلتا ہے ؟ اسے کیوں

دیووں، پریوں، ڈاکوؤں کے کارناموں کی کتابیں

ممٹیوں کی اوٹ میں چھپ چھپ کے پڑھنے کا جنوں ہے ؟

کیوں یہ پہروں باندھ کے عقبی کنارے کے سلیٹی پتھروں پر

جھیل کے پانی میں اپنے پاؤں لٹکائے ہوئے

مبہوت بیٹھا

تیرتے آبی پرندوں کی زباں میں بولتا ہے

اور کمہاروں کے گھر سے

چکنی مٹی مانگ کر

شہزادیوں، پریوں، پڑوسی لڑکیوں کی

کیسی کیسی مورتیں گھڑتا ہے ۔ جیسے جی اٹھیں گی!

آٹھ نو سالہ یہ بچہ

مختلف تھا گاؤں کے بچوں سے، لیکن

کیا غبی الذہن تھا؟

میں خود سے مڑ کر پوچھتا ہوں !

٭٭

 

                   ۱۹۴۰ء

________________________________________

 

پانچویں جماعت کا امتحان نہ جانے کیسے پاس ہوا۔ مجھے یاد تک نہیں ہے کہ میرے School Leaving Certificate پر کیا لکھا ہوا تھا۔ بس اتنا یاد ہے کہ میرے بابو جی نوشہرہ چھاؤنی سے کچھ دنوں کے لیے آئے اور سب کو تیار ہونے کے لیے کہا۔ ماں، دادی اور اس سے دو برس بڑی بہن ساتھ لے جانے والا سامان باندھنے لگ گئیں۔ میں بد حواس سا کبھی ادھر دیکھتا، کبھی اُدھر دیکھتا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔

ہم کوٹ سارنگ چھوڑ کر کیوں جائیں ؟

’’آگے پڑھنا نہیں ہے کیا؟ یہ اسکول تو صرف پانچویں جماعت تک ہے۔ ‘‘ میری بہن نے کہا۔

’’ہاں، پڑھنا ہے، ‘‘ میں نے کہا تھا، ’’ لیکن، کیا ہم یہاں اب کبھی واپس نہیں آئیں گے ؟‘‘

’’کیوں نہیں آئیں گے ؟ ہر برس گرمیوں کی چھٹیوں میں آیا کریں گے ‘‘ میری ماں نے کہا۔

امیں نے دائیں بائیں دیکھا۔ مجھے لگا جیسے میرا کنچوں سے بھرا ہوا چھوٹا سا کپڑے کا تھیلا اچک اچک کر مجھ سے کہہ رہا ہو، ’’مجھے ساتھ لے جانا نہ بھولنا۔ وہاں بھی سنگ سنگ کھیلیں گے ‘‘۔ گلی ڈنڈا دالان میں اکٹھے پڑے تھے۔ گلی جیسے تلملا رہی تھی، میری آنکھوں کو شاید دھوکہ ہوا ہو، لیکن مجھے لگا کہ ڈنڈا تو چُپکا پڑا رہا، لیکن گلی اچھل کر میرے پاؤں کے پاس آ گری۔ بولی، ’’ہونھ، ہونھ، میں بھی ساتھ چلوں گی۔ ڈنڈے تو ہر جگہ مل جاتے ہیں، وہاں کوئی ترکھان کہاں ہو گا، جو نئی گلی بنا دے گا۔ مجھے ابھی سے اپنی کتابوں میں یا کپڑوں میں چھپا دو۔ ماں نے دیکھ لیا، تو نہیں لے جانے دے گی۔ ‘‘ میں نے دیوار پر نظر دوڑائی۔ میرے پتنگ کی مانجھا لگی ڈور کی چرخڑی دیوار پر ایک کیل کے ساتھ ٹنگی ہوئی تھی۔ پتنگ نیچے زمین پر پڑا تھا۔ مجھے لگا جیسے پتنگ کو شاید ہوا کے ایک نا دیدہ جھونکے نے اڑا دیا ہو اور وہ میرے پاؤں کے پاس آ گرا ہو۔ لیکن نہیں، پتنگ تو وہیں پڑا تھا، ہوا کے جھونکے نے اسے ہلا دیا تھا اور وہ پھڑپھڑا کر کچھ کہہ رہا تھا۔ پتنگ کی بولی صرف میں ہی سمجھ سکتا تھا، کوئی اور نہیں۔ وہ کہہ رہا تھا، ’’وہاں بھی تو میں نے ہی دوسرے پتنگ بازوں کے بو کاٹے کرنے ہیں۔ مجھے کیسے نہیں لے جاؤ گے۔ نہیں لے جاؤ گے، تو میں خود اُڑ کر آ جاؤں گا۔ ‘‘

میں نے اتنی ہوشیاری ضرور کی تھی کہ گلی کو اور آدھے درجن بنٹوں کو اپنے کپڑوں والے بکس میں چھپا دیا تھا، لیکن ڈور کی چرخڑی بہت بڑی تھی اور جب مجھے اس کے لیے کوئی جگہ نہ ملی تو میں نے دادی کی منت سماجت کی، لیکن دادی۔ جس نے زندگی میں کبھی غصہ نہیں کیا تھا، کبھی اونچی بولی تک نہیں تھی، کہنے لگی، ’’مجھے یہیں چھوڑ جاؤ بیٹے، اور میری جگہ اپنی اس ڈور کو لے جاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں، قسمت کی ماری بدھوا، آج تک میں نے کوٹ سارنگ سے پاؤں باہر نہیں نکالا۔ صرف ایک بار کلر کہار کے کٹاس راج میلے پر گئی تھی، گھوڑی پر بیٹھ کر، پر تب تمہارے دادا زندہ تھے، پٹھان ڈاکوؤں نے انہیں گولی سے نہیں مارا تھا۔ اب میری مٹی کیوں خراب کر رہا ہے تمہارا باپ؟ اس سے پوچھو، مجھے نوشہرہ ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت ہے ؟ مجھے یہیں چھوڑ جاؤ۔ گھر ہے، اناج ہے، گائے ہے، ان سب کی نگہبانی کون کرے گا۔ ‘‘

اور میں نے واقعی ہمت کر کے ماں سے بات کی۔ بابو جی سے بات کرنے کی جرأ ماں نے کہا۔   jnowN ny s ki faul fraom ki

عجاز عبیدت مجھ میں نہیں تھی۔ ماں اور بابو جی کے بیچ کچھ کہا سنی بھی ہوئی، لیکن آخر یہی طے ہوا، کہ بے بے یعنی دادی ماں کو کوٹ سارنگ میں ہی رہنے دیا جائے۔ ان کی ست سنگنی دوسری عورتیں بھی ہیں، روز آ جایا کریں گی اور چرخوں کا ’’بھنڈار‘‘ لگایا کریں گی۔ یعنی مل جل کر پانچ چھ عورتیں اپنے اپنے چرخوں پر سوت کاتیں گی اور بعد میں دیکھیں گی، کس نے زیادہ سوت کاتا ہے۔

دوسرے دن انہیں لاری پر لد کر پنڈی گھیب کے لیے روانہ ہونا تھا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ پنڈی گھیب سے بس بدل کربسال جائیں گے، اور وہاں سے ریل گاڑی پکڑیں گے جو انہیں نوشہرہ تک لے جائے گی۔ میں نے ریل گاڑی کبھی دیکھی نہیں تھی، تو بھی اس کی تصویریں ضرور دیکھی تھیں۔ میں جانتا تھا کہ بھاپ سے چلتی ہے اور کوئلہ انجن میں رکھے ہوئے پانی کے ایک ٹینک کو لگاتار ابالتا رہتا ہے، جس سے بھاپ بنتی ہے۔

 

کہاں جا رہے ہو؟

________________________________________

 

’’کہاں جا رہے ہو؟‘‘

یہ آواز کس کی ہے ؟ کس نے کہا ہے ؟

وہ چاروں طرف دیکھتا ہے کہ کوئی تو ہو گا

مگر اک گھڑی دو گھڑی کے لیے وہ اکیلا ہے گھر میں

سبھی لوگ گاؤں میں سب سے بدا ئی کی خاطر گئے ہیں

’’کہاں جا رہے ہو مجھے چھوڑ کر یوں اکیلا؟‘‘

کوئی تو مخاطب ہے اس سے !

سراسیمہ، تنہا، ذرا سہما سہما، اسے اپنی گونگی زباں جیسے پھر مل گئی ہو

وہ کہتا ہے، ’’جو کوئی بھی ہو نظر آؤ، میں بھی تو دیکھوں !‘‘

’’میں چاروں طرف ہوں تمہارے

مرے دل کے ٹکڑے، مری آل اولاد، بیٹے !

تمہیں کیا مرے دل کی دھڑکن

مرے سانس کا دھیما، کومل سا سرگم

مرے جسم کی عطر آگیں مہک

جیسے صندل کی لکڑی میں بٹنا گھسا ہو۔ ۔ ۔ ۔

مرا کچھ بھی کیا تیرے احساس کو جگمگاتا نہیں، اے مرے دل کے ٹکڑے ؟

میں گھر ہوں، مکاں ہی نہیں، تیرا مسکن ہوں، بیٹے !

مری چھت کے نیچے ہی پیدا ہوا تھا

یہیں تیری نشاۃ اولیٰ نے تجھ کو جگا کر کہا تھا

ذرا آنکھ کھولو، تمہاری ولادت ہوئی ہے !

مگر آج توُ، یوں بدا ہو رہا ہے

کہ جیسے ترا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، میرے بچے ؟ ‘‘

سنا اس نے، دیکھا کہ دیوار و در بولتے ہیں

سنا اس نے، دیکھا کہ کمرے کی چھت بولتی ہے

سنا اس نے، دیکھا ہوا سنسناتی ہوئی بولتی ہے

سنا اس نے، دیکھا کہ زینہ اترتی ہوئی دھوپ بھی بولتی ہے

سنا اس نے، دیکھا کہ پنجرے کی مینا پھدکتی ہوئی چیختی ہے، کہاں جا رہے ہو؟

سنا اس نے، دیکھا کہ آنگن کی بیری کی شاخوں میں بیٹھے پرندے

چہکتے نہیں، بس خموشی سے اس کی طرف دیکھتے ہیں !

 

میں نے اپنے کان بند کر لیے۔ میں گھر سے باتیں نہیں کرنا چاہتا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ اگر میں اپنی بہن کو بتاؤں گا کہ میں نے گھر سے باتیں کی ہیں، یا دروازے، دیواروں نے میرے جانے پر اپنا غم ظاہر کیا ہے، یا ہوا نے، دھوپ نے، پنجرے کی مینا نے، پرندوں نے مجھے کوسنے دیے ہیں، تو وہ ہنسے گی، کہے گی، ’’جا، پاگل جھلّے، یہ سب تیرا وہم ہے۔ تُو ہے ہی جھلّا، بیت باز!‘‘۔ لیکن کان بند کرنے کے باوجود میں یہ باتیں اپنے دل میں سنتا رہا۔ گھر مجھ سے بولتا رہا، کبھی پیار سے، کبھی غم سے اور کبھی غصے سے، یہاں تک کہ جب ہم بے بے دادی کو گھر میں چھوڑ کر لاری کے اڈے پر پہنچے تو بھی مجھے مکان کی آوازیں آتی رہیں۔ اب ان آوازوں میں گلی کی آواز بھی شامل ہو گئی تھی، گلی میں جس میں گلی ڈنڈا کھیلتا تھا، گلی جس کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ’’چور سپاہی بھاگم بھاگ ۔ نپا گیا اے کالا ناگ‘‘ میں اپنے دوستوں کے ساتھ شام کے جھٹپٹے میں کھیلتا تھا اور ایسی ایسی چھپنے کی جگہیں تاڑ رکھی تھی کہ بہت کوشش کے بعد جب پکڑنے والا مجھے نہ پکڑ پاتا اور کہتا، ’’نکل آ چور ۔ میں نے دیا چھوڑ!‘‘ تب میں ایک فاتح کی طرح کھلکھلاتا ہوا اپنی چھپنے کی جگہ سے باہر آتا تھا۔ اس گلی کی آواز بھی اب مکان کے دروازوں، دیواروں، سیڑھیوں کی آوازوں میں شامل ہو گئی تھی۔

دوسرے دن ہم سب لاری پر لد کر پنڈی گھیب کے لیے روانہ ہوئے۔ سارا سامان بابو جی کے جان پہچان کے لوگوں نے لاری کی چھت پر اطمینان سے باندھ دیا تھا۔ پنڈی گھیب سے بس بدل کر ہمیں بسال جانا تھا، اور وہاں سے ریل گاڑی پکڑنی تھی جس میں ہمیں نوشہرہ تک جانا تھا۔ لاری چلی۔ کچی سڑک پر جھک جھک جھکولے کھاتی ہوئی لاری گھیبا بس سروس والوں کی تھی، جو دن میں ایک بار کوٹ سارنگ سے گذرتی تھی۔

بسال سے چلی ہوئی یہ ریل گاڑی راولپنڈی تک جاتی تھی، لیکن راستے میں ہی گاڑی بدل کر نوشہرہ اور پشاور تک جایا جا سکتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جوں جوں بس پنڈی گھیب کی جانب بڑھتی گئی، گھر اور گلی کی آوازیں مدھم پڑتی گئیں۔ میں بھی لاری سے باہر کے نظاروں میں کھو گیا، یہاں تک کہ آوازیں بالکل بند ہو گئیں۔ جیسے کسی نے گراموفون کے ریکارڈ سے سوئی اٹھا لی ہو۔ لگ بھگ ایک گھنٹے میں ہی لاری پنڈی گھیب پہنچ گئی اور ہم بسال جانے والی لاری کا انتظار کرنے لگے۔

تب پہلی بار دس برس کے بچے یعنی مجھے یہ غیر مرئی طور پر محسوس ہوا کہ یہ سفر ہجرتوں کے ایک لمبے سلسلے کی ابتدا ہے۔ میں کوٹ سارنگ آتا جاتا رہوں گا، لیکن اب میں پردیسی ہو چکا ہوں۔ اس گھر تک، اس گلی تک اور کوٹ سارنگ تک میرا رشتہ ایک ڈور سے بندھا ہوا ہے، جس کے آگے گانٹھ پڑی ہوئی ہے۔ اب میں کوٹ سارنگ نہیں رہ سکتا۔ مجھے آگے پڑھنا ہے۔ دسویں جماعت سے آگے کیا ہوتا ہے، اس کا مجھے علم تھا کیوں کہ میرے بابو جی بی اے، ایل ایل بی، پڑھ کر پلیڈر یعنی وکیل بن چکے تھے۔ میرے دو ماموں جان بھی وکیل تھے، اور حالانکہ میرے نانا صرف میٹرک تک پڑھے ہوئے تھے تو بھی وہ نائب تحصیلدار تھے۔ پڑھنا میرا مستقبل ہے، گلی ڈنڈا، بنٹے، پتنگ بازی، چور سپاہی کا کھیل میرا ماضی ہے۔ مستقبل، ماضی وغیرہ جبڑا توڑ لفظوں کا تو مجھے پہلے ہی پتہ تھا، کیونکہ پانچویں جماعت تک ہی میں نے گھر میں پڑی ہوئی کتابیں، جن میں کچھ ناول بھی تھے اور افقؔ لکھنوی کی راماین بھی شامل تھی، پڑھ لئے تھے اور اردو میں تو میں اپنی جماعت میں ہمیشہ اوّل آیا کرتا تھا۔ گھر چھوڑ کر دور دراز کے شہروں میں ’’کھٹّیاں کمائیاں ‘‘ کرنے کے لیے جانے والے مردوں کے فراق میں ان کی بیویوں یا محبوباؤں کے لوک گیت بھی سن رکھے تھے جو مراثی عورتیں گایا کرتی تھیں۔

’’کتھے گیوں پردیسیا، وے !‘‘ (میرے پردیسی ساجن، تم کہاں چلے گئے ہو؟‘‘)

’’چن پردیسی، ترکھی ترکھی آویں۔ ساڈی جند ڑی نا ترساویں !‘‘ (میرے پردیسی چاند، جلدی لوٹ آنا، میری جان نہ تڑپانا!‘‘)

’’چن ماہی، توں جے گیوں پشور۔ ساڈا بلدا اے ہوٹا ہور‘‘ (چن ماہی، تو اگر پشاور جائے تو میرا دل (ہجر میں )کچھ زیادہ جلتا ہے )

’’چن ماہی، توں جے گیوں کوہاٹ۔ ساڈی بلدی اے جند دی لاٹ (چن ماہی، تو اگر کوہاٹ جائے تو میری جان مشعل کی طرح جلتی ہے )

’’چن ماہی، توں جے گیوں لورا لائی۔ ساڈی جان عذابیں آئی۔ ( چن ماہی، تو اگر لورا لائی جائے تو میری جان عذاب میں آ جاتی ہے )

٭٭

 

                   ۱۹۴۷ء تک

________________________________________

 

نوشہرہ ایک برس، پھر دو برس راولپنڈی، پھر ایک برس نوشہرہ اور پھر آخری دو برس راولپنڈی۔ ۔ ۔ ۔ اس طرح یہ ہجرتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ تین برسوں کے اس عرصے کے دوران وہ کوٹ سارنگ وہ صرف دو بار جا سکا، ایک بار بابو جی کے ساتھ بے بے کو نوشہرہ لانے کے لیے، کیوں کہ اکیلی وہ بیمار پڑ گئی تھی اور دوسری بار پوری گرمیوں کی چھٹیاں گذارنے کے لیے۔ میرے دل میں ارمان تو بہت تھے کہ میں اپنے پرانے دنوں کی یاد تازہ کروں گا، گلی ڈنڈی کھیلوں گا، پتنگ اڑاؤں گا، جھیل کے کنارے پر بیٹھ کر مرغابیوں کو دیکھوں گا، اور ان کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملاؤں گا، لیکن کیا ہو گیا تھا مجھے ؟ میں ان میں سے کچھ بھی نہ کر سکا۔ ان تین چار برسوں میں شاید میں چالیس برس بڑا ہو گیا تھا۔ میں نے نوشہرہ اور راولپنڈی میں کئی نئے روگ پال لیے تھے۔ ایک تو ڈاک کی پرانی ٹکٹیں اور پرانے سکے جمع کرنے کا تھا، اور دوسرا اردو کے قسم قسم کے رسالے اور ناول پڑھنے کا۔ ایم اسلم کے رومانی اور دیگر ناول نگاروں کے سماجی ناولوں سے لے کر تیرتھ رام فیروز پوری کے جاسوسی ناولوں تک، اور رسالوں میں ’’لطف شباب‘‘، ’’مست قلندر‘‘، مستانہ جو گی‘‘ وغیرہ میرے محبوب وقت کاٹنے کے ذریعے تھے۔ ، میں خود بھی شعر کہنے لگا تھا، مختصر افسانے لکھنے لگا تھا اور کئی رسالوں میں میری نگارشات چھپنے لگی تھیں۔ میرے دوسرے پرانے دوست اسی طرح ہی گاؤں چھوڑ کر دور دراز کے شہروں میں منتقل ہو گئے تھے۔ اور مجھے اب گاؤں میں زیادہ دلچسپی اپنے آپ میں تھی۔ کئی بار بوڑھے فلسفیوں کی طرح گھنٹوں بیٹھ کر انسان کے وجود، جسم اور روح کے باہمی تعلق، پیدائش سے پہلے اور موت کے بعد کیا ہوتا ہے، آوا گون اور شہود الاصل کے ہندو فلسفے، اسلام کی وحدانیت اور ایرانی تصوف اور ہندو بھگتی تحریک میں موافقت کے پہلوؤں پر غور کرتا۔ میرے بابو جی اکثر کہتے، یہ جتنی دیر پڑھتا ہے اس کے بعد اس سے دگنی دیر بیٹھ کر ’ذہنی جگالی‘ کرتا ہے۔ میرا ایک اور مرغوب ترین مشغلہ بے بے کے پاس بیٹھ کر اس سے اپنے بزرگوں، باپ، دادا، پردادا، اور ان کے باپ دادا، پردادا کے بارے میں، جتنا مجھے یاد تھا، پوچھنا اور پھر اپنی ڈائری میں اسے نوٹ کرنے کا تھا۔ یہ کام میں بہت دلچسپی اور سائینسی ڈھنگ سے کرتا تھا، یعنی چارٹ اور گراف بنا کر سلسلہ در سلسلہ شجرہ نسب بناتا تھا۔ مجھے کچھ باتوں کا علم چاچا بیلی سے بھی ہوا، جو اس سے اخبار پڑھوا کر سنتا تھا۔ یہ اخبار لاہور یا شاید راولپنڈی سے چھپتا تھا اور گاؤں پہنچتے پہنچتے اسے پندرہ دن لگ جاتے تھے۔

چاچا بیلی کی پنساری کی دکان کے تھڑے پر بیٹھ کر اخبار میں سے دوسری جنگ عظیم کی خبریں آس پاس بیٹھے ہوئے سودا سلف خریدنے آئے ہوئے جاٹوں اور دیگر دکانداروں کو سناتا، تو سارے اس سے پوچھتے یہ فرانس کہاں ہے، نار منڈی میں کیا ناریوں کی منڈیاں لگتی ہیں، چرچل اور ہٹلر دو اچھے انسانوں کی طرح بیٹھ کر فیصلہ ہی کیوں نہیں کر لیتے۔ جنگ کی آخر نوبت ہی کیوں آئے، جیسے گاؤں میں بھی چار بزرگ اکٹھے بیٹھ کر جھگڑوں کا فیصلہ کر دیتے ہیں، جو سب کو قابل قبول ہوتا ہے۔ کیوں نہیں وہ مہاتما گاندھی سے کہتے کہ آ کر ہمارا آپس کا جھگڑا نپٹا دے۔ ۔ ۔

چاچا بیلی اپنے خاندان کے بارے میں بہت کچھ جانتا تھا، کیسے ہمارے ہی قبیلے کے پرکھوں میں ایک راجہ پورس ہوا کرتا تھا جس نے سکندر اعظم کا مقابلہ کیا تھا۔ چاچا بیلی نے ہی مجھے بتایا تھا کہ ان کے قبیلے کا نام ہندوؤں میں ’’کھُکھرائن‘‘ ہے اور مسلمانوں میں ’’ کھوکھر‘‘ ہے۔ پہلے سبھی ہندو تھے، جنہوں نے دین اسلام قبول کر لیا وہ تو کھوکھر ہی کہلاتے رہے لیکن ایک شاخ جس نے اسلام نہیں قبول کیا تھا، وہ کھُکھرائن کہلائی۔ ۔ ۔ میں بیٹھ کر اپنی میٹرک کی تاریخ کی کتابوں کو پھر کھنگالتا۔ تو میرے پرکھوں میں ہی وہ بہادر راجہ پورس تھا جس نے سکندر کو للکارا تھا اور حالانکہ شکست کھائی تھی تو بھی جب زخمی حالت میں سکندر کے سامنے پا بجولاں اس کو پیش کیا گیا تھا، تو سکندر نے اس سے پوچھا تھا، ’’بول راجہ، تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟‘‘ مورخ لکھتے ہیں کہ ایک کٹے ہوئے ہاتھ اور پھوٹی ہوئی ایک آنکھ جو بہہ کر اس کے گال تک آ گئی تھی، اور لا تعداد زخموں کے باوجود اس نے سر اٹھا کر بلند آواز میں کہا تھا، ’’وہی جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے !‘‘ کہاوت ہے کہ سکندر کو یہ جواب اور پورس کی بہادری اتنی پسند آئی تھی کہ اس نے دریائے سندھ کے جنوبی علاقے کو ایک بار پھر پورس کے حوالے کر دیا تھا۔ یونانی مورخ بوتنوسؔ لکھتا ہے، کہ اس بیچ میں سکندر کے فوجیوں نے دریائے سندھ سے آگے جانے سے انکار کر دیا تھا اور یہ بھی ایک وجہ پورس کو اس کا علاقہ لوٹانے کی تھی کہ وہ واپس بحیرہ عرب تک سندھ کے راستے نئی بنائی گئی کشتیوں میں سوار ہو کر جانے میں اس کی امداد کرے۔

مجھے گھر میں ہی پڑی ہوئی دادا جی کے وقت کے کچھ بہی کھاتے لال رنگ کے کپڑے میں مڑھے ہوئے مل گئے جن میں میرے دادا جی نے اپنے خاندان کی پوری تاریخ تا حال یعنی انیسویں صدی کے آخر تک لکھ رکھی تھی۔ ان بہی کھاتوں میں لکھا ہوا تھا کہ سکندر کے بیس ہزار فوجی تین سال تک یہ کشتیاں گھڑتے گھڑتے راجہ پورسؔ اور راجہ امبھیؔ کی سلطنتوں میں رہتے ہوئے کھوکھر قبیلے کی کئی عورتوں سے گھل مل گئے تھے اور ان میں سے نصف کی تعداد نے سکندر کے ساتھ واپس جانے سے انکار کر دیا کیونکہ اس بیچ میں وہ بچوں کے باپ بن چکے تھے اور روزانہ کی جنگ، خونریزی اور لوٹ مار سے تنگ آ کر اپنی زندگی ہندوستان میں ہی رہ کر کاٹنا چاہتے تھے۔ اس کے دادا جی نے لکھا تھا، ’’کسے علم ہے، ہم کھوکھروں یا کھُکھرائینوں کی رگوں میں کتنا خون ان یونانی فوجیوں کا ہے۔ ‘‘ ان بہی کھاتوں کے خزانے سے مجھے کئی اور باتوں کا پتہ چلا کہ سکھوں کے راج کے زمانے میں ہمارے ہی پرکھوں نے کابل تک فوج کشی کرتے ہوئے سکھوں کے فوجی دستے کی رسد کا انتظام اپنے ذمّے لیا تھا جس سے انہیں ’’امیر رسد‘‘ کا خطاب ملا تھا۔ میں بیٹھا بیٹھا اس قسم کی ذہنی جگالی کرتا رہتا۔ اور اپنے پرکھوں کے بارے میں سوچتا رہتا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ میں گاؤں کے ایک اور بزرگ منشی تیرتھ رام سبھروال سے پوچھوں، جو خود نوّے برس کا تھا اور اپنے وقتوں میں تحصیلدار تلہ گنگ کا منشی مال رہ چکا تھا۔ تیرتھ رام نے مجھے کچھ اور واقفیت دی کہ کھُکھرائن قبیلے کی ہندو ذاتوں میں آنند، سیٹھی، ساہنی، سبھروال، چڈھا، کھنہ(اس نے صحیح تلفظ ’’خناح‘‘ بتایا جو کہ ایک یونانی لفظ ہے ) پیش پیش تھیں، یہی ذاتیں مسلم کھوکھروں میں آج تک موجود ہیں۔ ایک بہی میں کوٹ سارنگ کے آس پاس کے گاؤں اور ان میں بسے ہوئے قبیلوں کی تفصیل بھی دی گئی تھی۔ ملکوال گاؤں کے بارے میں لکھا تھا کہ وہاں بسنے والے سارے کھوکھر آنند تھے لیکن جب اورنگ زیب کے زمانے میں انہوں نے مجموعی طور پر اسلام قبول کیا تو انہیں جاگیر کے طور پر آس پاس کی زمین دی گئی اور انہوں نے خود کو ’ملک‘ کہلانا پسند کیا۔ تبھی کئی ہندو’ آنند‘ بھی خود کو’ ملک‘ لکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ یہ چودہ پندرہ برس کے بچے کے لیے ایک تازیانہ تھا کہ وہ خود سے پوچھے کہ وہ کون ہے ؟ اس میں کتنا خون خالصتاً ہندوستانی ہے، کتنا یونانی ہے اور کتنا ان پٹھان حملہ آوروں کا ہے، جو فوج کشی کرنے کے بعد پہلا کام عورتوں کی عزت لوٹنے کا کیا کرتے تھے۔ میں کئی سوال خود سے ہی کرتا رہتا اور ان کے جواب سوچتا رہتا۔ بقول میرے بابو جی یعنی والد صاحبؔ ؔست پال کا کام ذہنی جگالی‘ کا ہے ‘‘، یہ درست بھی تھا کہ میری ذہنی جگالی نے مجھے شاعری، مختصر افسانہ نگاری، ناولوں، رسالوں اور متفرق کتابوں کے مطالعہ میں چار پانچ برسوں تک الجھائے رکھا۔

 

سیلف پورٹریٹ

________________________________________

 

پچاس سے ساٹھ تک؟ ذرا اس سے کم، زیادہ؟

نہیں، غلط ہے

کہ عمر تو داخلی تصوّر ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور برسوں میں ناپنا تو

حساب دانی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ دیکھنے میں اب بھی

جوان لگتا ہے، صرف چالیس کا یا اس سے

ذرا زیادہ!

 

کبھی کبھی جب وہ اپنے چہرے کو آئینے کی

صبیح نظروں سے دیکھتا ہے

تو اس کو لگتا ہے، اس کی آنکھیں

تو اس کی ماں کی ہیں، ہاں، وہی ہیں

بڑی بڑی سی، سیہ حلقے سے، رت جگوں کی

تھکاوٹوں کے دبیز پردوں

کی دھند میں نیم وا خمیدہ نظر کی خفگی

جو ڈھلتی جاتی ہے گرم اشکوں

کی شفقتوں سے کھلے گلوں میں !

 

کشادہ، روشن جبیں اسے باپ سے ملی ہے

مدبّرانہ، تعقل و ہوش کی علامت

عمیق، دانشوری کی برّاق جھیل جیسی

سیاہ، کچھ کچھ سپید، روکھے

بریدہ بالوں کا ایک گچھا

جو سر جھٹکنے سے صاف، روشن جبیں کو اپنے

بکھرتے بادل کے ایک جھرمٹ سے ڈھانپ دیتا ہے۔ ۔ ۔

تیز نظریں

دبیز شیشوں کو چیر کر جیسے پار ہوتی ہوئی نگاہیں

 

وہ اپنے چہرے کے خال و خد میں

ہزاروں چہروں کی بنتی مٹتی ہوئی شبیہوں کو دیکھتا ہے

وہ نقش جو سالہا سال سے وراثت کی بوریوں میں بندھے ہوئے تھے

جو پشتہا پشت اس کا ورثہ رہے ہیں، اس کے

وجود میں جذب ہو گئے ہیں

وہ کچھ نیا ہے، تو کچھ پرانا!

 

پچاس سے ساٹھ ؟ اور آگے ؟

نہیں، غلط ہے، وہ دیکھنے میں

جوان لگتا ہے، صرف چالیس کا، یا اس سے

ذرا زیادہ!               ٭٭٭

 

 

                   ۴۷۔ ۱۹۴۵ء

________________________________________

 

راولپنڈی۔ چوک روز سنیما کا۔ ایک سڑک راجہ بازار بنتی ہے۔ ایک سڑک ریلوے اسٹیشن کی طرف کو الٹا رخ کیے ہوئے ہے۔ تیسری سڑک سول اسپتال کی چار دیواری کے ساتھ ساتھ رینگتی ہوئی نیچے لئی نالہ کے پل کو پار کر کے ڈھوک رتّہ تک جاتی ہے، لیکن راستے میں یہ دو ہندو محلوں، نانک پورہ اور موہن پورہ کے ساتھ ساتھ گذرتی ہے۔ اس بات سے یہاں یہ مطلب نہیں کہ میں رہتا موہن پورہ میں ہوں، بلکہ اس بات سے ہے کہ میں پڑھتا مشن ہائی اسکول میں ہوں، جو چوتھی سڑک کے کنارے پر واقع ہے یہ سڑک باغ کے ساتھ ساتھ ہوتی ہوئی گورڈن کالج تک جاتی ہے۔

 

گورڈن کالج؟

________________________________________

 

جی ہاں، گورڈن کالج، جس میں دو برسوں کے بعد میں داخلے کے خواب دیکھتا ہوں۔ گورڈن کالج جس میں منشی تلوک چند محروم اسی برس اپنی ہیڈ ماسٹر کی نوکری سے ریٹائر ہو کر اردو کے پروفیسر کے طور پر تعینات ہوئے ہیں، اور جن سے ملنے کے لیے میں کئی بار وہاں جا چکا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ میں ڈی اے وی کالج کے ایک مشاعرے میں نیچے دریوں پر بیٹھے ہوئے سامعین کے ساتھ شعرا کا کلام سن رہا تھا، کہ ساتھ بیٹھے ہوئے ایک کالج طالبعلم نے کہا وہ سامنے کلاہ اور لنگی پہنے ہوئے جو صاحب صدر کی کرسی پر بیٹھے ہیں، وہ تلوک چند محروم ہیں، یعنی وہی تلوک چند محروم، جن کی نظم ’’نور جہان کے مزار پر‘‘ ہمارے نصاب کی کتاب ’’مرقع ادب‘‘ میں شامل ہے۔

مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جب کرتا شلوار اور واسکٹ پہنے ہوئے ایک نوجوان شاعر مائکروفون پر آئے تو اسی کالج طالبعلم نے کہا، ’’یہ جگن ناتھ آزاد ہیں، محروم صاحب کے بیٹے۔ ‘‘

مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جگن ناتھ آزاد کے سرائیکی لہجے کی وجہ سے مجھے بدقت ان کا کلام ہضم کرنا پڑا، یعنی نویں کلاس کا طالبعلم ہونے کے باوجود مجھے اس بات کا خاص خیال تھا کہ شاعر کے لیے اردو کا لب و لہجہ ہونا ضروری ہے۔ بہر حال میں نے اس بات کی پروا نہیں کی کہ جب میں کسی شعر پر داد دیتا تو لوگ میری کچی بلوغت کی آواز سن کر مڑ کر میری طرف دیکھتے۔

تو گورڈن کالج؟

لیکن گورڈن کالج کی بات کچھ بعد میں۔ پہلے مشن ہائی اسکول کی یادوں کا بستہ کھول لیا جائے، تا کہ راستہ ہموار ہو جائے۔

نویں کلاس کے دو سیکشن تھے اور میں سیکشن اے میں تھا۔ بنچ پرانے تھے لیکن ہر سال نئے لڑکے ان پر بیٹھتے تھے۔ کچھ پر چاقوؤں کی نوکوں سے الم غلم کھدا ہوا تھا، ایسے لگتا تھا جیسے ہر سال لڑکے بودھ غاروں میں بھکشوؤں کی طرح اپنی یادیں کندہ کر کے یہ یقینی بناتے تھے کہ آنے والے برسوں میں نئے لڑکے ان سے مستفید ہوں۔

ایک لڑکا اور تھا۔ خلیل، جسے سب خلیلا بلاتے تھے۔ خلیل اور میں دونوں دوست اس لیے بن گئے کہ دونوں کو فارسی میں بات چیت کرنے کا ہنر آتا تھا، اور یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔

’’کجا می روی؟‘‘

’’مدرسہ می روم‘‘

یہ سوال و جواب اس لیے ضروری تھے کہ سالانہ جلسۂ انعامات میں ان دو لڑکوں کو، یعنی مجھے اور خلیل کو اسٹیج پر کھڑا کر کے سوال و جواب کا تماشہ دہرایا جاتا تھا اور لڑکوں کے والدین جو خاص طور پر مدعو کیے جاتے تھے یہ دیکھ کر دانتوں میں انگلی دبا لیتے تھے کہ تیرہ چودہ برس کے دو لڑکے فارسی میں گفتگو کر رہے ہیں۔ انہیں یہ علم نہیں تھا کہ دس بارہ سوالات اور ان کے جوابات کو حفظ کر کے یہ ڈرامہ کرنا کوئی مشکل امر نہیں تھا۔

لیکن جہاں خلیل صرف اپنے حافظے کی وجہ سے اس ڈرامے میں شریک تھا، وہاں میں خود واقعی فارسی میں مہارت رکھتا تھا۔ میں نے یہ صلاحیت ان کتابوں کی وجہ سے پائی تھی جو میرے گھر میں موجود تھیں۔ میرے ایک چچا ایران میں خشک میوے کا بیوپار کرتے تھے اور جب بھی وہ واپس آتے اپنے ساتھ فارسی کی دسیوں کتابیں لے آتے، جو میری چچی سنبھال کر رکھ لیتی۔ میں نے یہ کتابیں کھنگال لی تھیں اور کئی بار جب میں اپنے فارسی کے ماسٹر نذیر احمد صاحب سے سعدی یا رومی یا شمس تبریز کے بارے میں کچھ پوچھتا تو وہ بھی حیران رہ جاتے۔

طبیعت میں روانی کا یہ عالم تھا کہ اردو میں تو عموماً ہی، لیکن فارسی میں بھی فی البدیہہ اشعار موزوں کرنے میں مجھے کوئی دشواری پیش نہیں آتی تھی۔ اس کا فائدہ خود ماسٹر نذیر احمد اٹھاتے، یعنی انسپکٹر کے آنے پر وہ مجھے کھڑا کر دیتے اور فارسی کا ایک مصرع دے کر اس پر گرہ لگانے کے لیے کہتے۔

مجھے اب تک اپنی لگائی ہوئی ایک گرہ یاد ہے۔ ماسٹر صاحب نے فارسی کا مشہور زبان زد عام مصرع دیا تھا۔ ’’عشق اول در دل معشوق پیدا می شود‘‘، اور میں نے گرہ لگائی تھی، ’’عاشقاں را بر سبیل تذکرہ رسوا مکن!‘‘، یعنی گرہ، قاعدے کے بر عکس شعر کے مصرع اولیٰ کے طور پر لگائی گئی تھی جو کہ ایک جدت تھی۔

تو مشن اسکول اور اس کی جغرافیائی قربت کی وجہ سے گورڈن کالج اور منشی تلوک چند محروم سے ملاقاتیں اور ان کی شفقت۔ ۔ ۔ ۔ ۔

٭٭٭

 

حالیؔ حال کے آئینے میں ۔۔۔ ستیہ پال آنند

 

الطاف حسین حالیؔ سے ایک اقتباس :

’’شاعری کی کل کس چیز کی بنی ہوئی ہے ؟ الفاظ کے پرزے ایسی چیز ہیں کہ اگر ہومرؔ اور ڈینیؔ جیسے صناع بھی ان کو استعمال کریں تو وہ بھی سامعین کے متخیلہ اور اشیائے خارجی کا ایسا صحیح اور ٹھیک نقشہ نہیں اتار سکتے جیسا موئے قلم اور چھینی کے کام دیکھ کر ہمارے خیال میں اترتا ہے۔ ‘‘ (مقدمہ :ص ۳۵)

آج کا ذہین قاری اگر یہ سطور پڑھے تو اس کے ذہن میں دو باتیں فوری طور پر گھر کر جائیں گی۔ ایک تو یہ کہ حالیؔ تنقید کی زبان کو احتیاط سے استعمال نہیں کرتے، اور دوسری یہ کہ ’’مقدمہ‘‘ میں خواجہ صاحب نے صنف شعر کو عموماً اور غالب کی شاعری کو خصوصاً ’’پڑھی جانے والی صنف ادب‘‘ نہ سمجھ کر ’’سنائی جانے والی اور سنی جانے والی ‘‘ صنف کی سطح پر رکھ کر دیکھا ہے۔ اسی لیے ان کے مقدمہ میں ’’سامعین‘‘ بار بار آتا ہے، ’’قارئین‘‘ کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ یعنی اس عمل میں انہیں صرف قاری کا عمل دخل قبول نہیں۔ اس میں مخاطَب اور مخاطِب (یعنی خطاب کرنے والا اور جس سے خطاب کیا جائے ) دونوں کی شرکت لازمی ہے۔ پہلا تاثر (یعنی حالیؔ کا انداز بیان قدرے غیر ناقدانہ ہے، شاید اس لیے صحیح بھی ہے کہ تنقید کی تکنیکی زبانTechnical Parlance of Criticism ابھی معرض وجود میں آئی ہی نہیں تھی) اور زمانۂ حال کے قاری کے ذہن میں یہ تاثر ابھی تک قائم ہے اور محولہ بالا مختصر اقتباس بھی اس کی شہادت دے سکتا ہے۔ دوسرا ردِ عمل یہ ہے کہ اردو کا ہر معتبر اور غیر معتبر شاعر اور ناقد اب تک شاعری کو ’’کلام‘‘، ’’سخن‘‘ وغیرہ کے القابات سے نوازتا چلا جا رہا ہے۔ غزل کے حوالے سے تواس کی معتبر ترین تعریف ہی یہ کی گئی ہے۔ ’’بازی کردن محبوب و حکایت کردن از جوانی و حدیث محبت و عشق زنان‘‘، یعنی چاہے ’’بازی کردن‘‘ ہو یا ’’حکایت کردن‘‘ ہو، بات تو گفتگو، نطق، کلمہ جنبانی تک ہی محدود رہتی ہے، لکھنے پڑھنے کے بکھیڑے میں نہیں پڑتی۔

اب یہ دیکھنا ہے کہ ادیب (بمعنی شاعر) اور سنگتراش اپنے موئے قلم اور چھینی کے استعمال سے جو چیز گھڑتے ہیں، وہ کس حد تک نقل بمطابق اصل ہے۔ ہمارے اپنے زمانے کے مبتدی تنقید نگاروں کی طرح ہی خواجہ حالیؔ انشا پردازی کے سیاق میں اپنے نکتۂ نظر کی منظوری کا پروانہ یعنی intellectual sanction ابن خلدون سے لیتے ہیں، لکھتے ہیں۔

ابن خلدون اسی الفاظ کی بحث کے متعلق کہتے ہیں کہ ’’انشا پردازی کا ہنر نظم میں ہو یا نثر میں، محض الفاظ میں ہے، معانی میں ہرگز نہیں۔ معنی صرف الفاظ کے تابع ہیں، اور اصل الفاظ ہیں۔ ‘‘

جن حضرات کی ابن خلدون کے ارشادات تک رسائی ہے، وہ بھی اس خاکسار کی طرح اس بات پر شک کریں گے کیوں کہ یہ الفاظ ابن خلدون کے فرمودات کا صحیح ترجمہ نہیں ہیں۔ ابن خلدون پر قاضی حسنین کی کتاب نکال کر اگر ان الفاظ کو نشان زد کیا جائے تو یہ دیکھ کر حیرت بھی ہو گی اور افسوس بھی کہ ابن خلدون کی عبارت میں ’’نظم میں ہو یا نثر میں ‘‘ موجود نہیں ہیں اور یہ حالیؔ کی حاشیہ آرائی ہے جو انہوں نے واوین کے استعمال کے بغیر کی ہے۔ دیگر یہ کہ اس فقرے میں ’’معانی میں ہرگز نہیں ‘‘، ’’ہرگز‘‘ یا ’’زنہار‘‘ دونوں میں سے کوئی بھی لفظ ابن خلدون نے استعمال نہیں کیا۔ گویا یہ بھی حالیؔ کے اپنے زور بیان کا حسن ہے۔

اس سے کچھ آگے بڑھیں تو صفحہ ۵۰ ؍ پر خواجہ صاحب رقم طراز ہیں۔ (گویا کہ وہ ابن خلدون کو ہی quote کر رہے ہوں )۔

’’معنی ہر شخص کے ذہن میں موجود ہیں پس ان کے لیے کسی ہنر کے اکتساب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ضرورت ہے تو اس بات کی کہ ان معانی کو کس طرح الفاظ میں ادا کیا جائے۔ ‘‘ (ص ۵۰)

ابن خلدون کے متن میں ’’معنی ہر شخص کے ذہن میں موجود ہے ‘‘ کہیں نظر نہیں آتا، اگر ہوتا تو بلا تامل یہ بات کہی جا سکتی تھی کہ قاری اساس تنقید کی بنیاد توابن خلدون نے بہت پہلے رکھ دی تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ جو عبارت ابن خلدون نے تحریر کی ہے، اس میں کہیں سے بھی یہ جملہ اختراع نہیں کیا جا سکتا : ’’معنی ہر شخص کے ذہن میں پہلے سے ہی موجود ہیں۔ ‘‘ البتہ اس سے ملتے جلتے البتہ یہ الفاظ موجود ہیں۔ ’’معنی تو ہر شخص جانتا ہے۔ ‘‘

حوالہ جاتی نا درستی کا مسئلہ اس لیے بھی پیدا ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے وسط تک انگریزی میں بھی ’’محولہ بالا‘‘ کی فہرست، نمبر وار شماریہ، فٹ نوٹس، حاشیہ نوشت عبارت، اور کتابیات کا ڈسپلن ابھی طے نہیں ہوا تھا۔ حالی کے سامنے جو ماڈل تھے، وہی ان کی رہنمائی کا باعث تھے اور اس میں لفظ بلفظ اور من و عن، کلمۃ الحق کی طرح(نقل بمطابق اصل) کا چلن ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ مندرجہ ذیل عبارات جو مقدمہ میں موجود ہیں، اپنی مسلمہ صداقت سے، کہیں کم اور کہیں زیادہ، دامن کشاں ہیں۔ ان میں اگر غلط تعبیر نہیں ہے تو غلط تاثر اور بے سلیقگی ضرور ہے۔

کلیم الدین احمد نے کہا ہے کہ ’’حالی کے خیالات ماخوذ، واقفیت محدود، نظر سطحی، فہم و ادراک معمولی، غور و فکر ناکافی، تمیز ادنیٰ، دماغ و شخصیت اوسط تھی۔ ‘‘ اس پر کلیتاً صاد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ خود کلیم الدین احمد n’th degree یعنی زیادہ سے زیادہ سخت نوعیت کے الفاظ کا استعمال کرنے کو ہی تنقید کی معراج سمجھتے ہیں چاہے وہ غزل کے بارے میں ان کا تاریخی جملہ ہو کہ ’’ غزل ایک نیم وحشی صنف سخن ہے ‘‘ یا حالی کے بارے میں، ’محدود‘، ’سطحی‘، ’معمولی‘، ’ناکافی‘ ’ادنیٰ‘، ’اوسط‘ وغیرہ صفات کا استعمال ہو۔

بہر حال یہ دیکھ کر افسوس بھی ہوتا ہے کہ حالیؔ جہاں تنقید کی سطح پر بھی غیر معمولی اور گنجلک باتیں سادہ، سلیس اور خوبصورت الفاظ میں کہہ جاتے ہیں، وہاں وہ (بقول شخصے ’اپنی انگریزی دانی کے ثبوت کے طور پر‘)    کچھ ایسے مندرجات انگریزی کے کلاسیکی یا رومانی ادوار کے شعرا کے گلے میں منڈھ دیتے ہیں، جو یا تو ان کے قلم سے رقم ہی نہیں ہوئے، یا اگر ملتے جلتے الفاظ میں کسی انگریز مدبر نے کچھ کہا بھی ہے، تو حالی ؔنے یا تو سرے سے اسے سمجھا ہی نہیں یا کسی اور بزرگ کے قول کو اس کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ زیادہ مثالیں بھی شاید مل جائیں لیکن بہر حال کچھ مثالیں ذیل میں درج ہیں۔

حالی کہتے ہیں کہ بقول ملٹن (Milton: 1608-74) شعر کی خوبی اس بات میں مضمر ہے کہ وہ سادہ ہو، جوش سے بھرا ہوا ہو، اور اصلیت پر مبنی ہو۔ ۔ ۔ ۔ حالانکہ ملٹن کے تنقیدی فرمودات اس کے عیسائی عقیدے کے عکس اور بر عکس سیاسی امور کے بارے میں مضامین میں سے ہی اختراع کیے جا سکتے ہیں، بسیار کوشش کے باوجود مجھے ملٹن کی تحریروں میں یہ جملہ یا اس سے ملتا جلتا جملہ کہیں نہیں مل سکا، (حالانکہ میں نے ملٹن کو جامعات کی سطح پر سالہا سال تک پڑھایا ہے )۔ شاید یہ فروگزاشت خاکسار کی ہی ہو، نہیں جانتا۔

حالی رقم طراز ہیں کہ ’’قوت متخیلہ کوئی شے بغیر مادہ پیدا نہیں کر سکتی بلکہ جو مسالہ اس کو خارج سے ملتا ہے اس میں وہ اپنا تصرف کر کے ایک نئی شکل تراش لیتی ہے اور جب رفتہ رفتہ اسے مطالعے کی عادت ہو جاتی ہے تو ہر ایک چیز کو غور سے دیکھنے کا ملکہ ہو جاتا ہے اور مشاہدوں کے خزانے گنجینہ خیال میں خود بخود جمع ہونے لگتے ہیں۔ ‘‘۔ اس عبارت کو کالریج Coleridge : 1782-1834)) کے خیالات سے  اخذ کرنے کا دعویٰ حق بجانب ہے بھی اور نہیں بھی۔ کالریج کے خیالات کو انگریزی تنقید نگاروں کے علاوہ ماہرین نفسیات نے بھی چھانا اور کھنگالا ہے لیکن کہیں بھی ’’مطالعے کی عادت سے چیزوں کو غور سے دیکھے جانے کا ملکہ حاصل ہو جانا‘‘ کم از کم اس کے خیالات سے ظاہر نہیں ہوتا۔

انہی لغزشوں کی وجہ سے شاید کلیم الدین احمد کو حالی کے بارے میں تضحیک آمیز الفاظ لکھنے کا موقعہ ملا، ان کی رائے میں ’’حالی کے خیالات ماخوذ، واقفیت محدود، نظر سطحی، فہم و ادراک معمولی، غور و فکر ناکافی، تمیز ادنیٰ، دماغ و شخصیت اوسط تھی۔ ‘‘

اس کے برعکس وہ لوگ بھی ہیں، جنہوں نے حالی کی عالی دماغی، فہم شناسی، غور و فکر کے آفاقی ہونے کے گن گائے ہیں۔ عبادت بریلوی نے لکھا تھا، ’’ حالی پہلے نقاد تھے جنہوں نے مادہ اور خیال کے تعلق کو محسوس کیا اور اس کے مقصدی ہونے پر زور دیا۔ ‘‘ لیکن صالحہ عابد حسین نے جو کچھ لکھا ہے، وہ حقیقت کے زیادہ قریب ہے۔ ’’مقدمہ شعر و شاعری حالی کی سب سے زیادہ مشہور، سب سے زیادہ معتوب اور سب سے زیادہ مقبول کتاب ثابت ہوئی۔ ‘‘

ان سطور کو بغور دیکھنے پر عبادت بریلوی کی رائے زیادہ معتبر لگتی ہے۔ مادہ اور خیال کا تعلق کیا ہے، اس کا تجزیہ کرنا کارے دارد والا معاملہ ہے اور اس کے لیے کسی بھی ناقد کو افلاطون سے لے کر بیسویں صدی کے آخری برسوں تک یورپی فلسفے کی تاریخ کھنگالنی پڑے گی، لیکن جس محدود تناظر میں، صرف حالی کے حوالے سے ہی، عبادت بریلوی نے یہ بات لکھی ہے، اسے دیکھنا آسان ہے۔ لیکن ایک اور مضمون کی یہ سطور اس حوالے کے لیے کافی ہیں جن میں عبادت بریلوی صاحب نے فن اور جمادات، مادہ اور خیال کے تعلق کو حالی کے زمانے کی شاعری کے سیاق و سباق میں دیکھا۔ ’’حالی نے اپنے دور کی شاعری کو جھوٹی شاعری کہا ہے۔ اس شاعری میں عاشق کا کام صرف رونا دھونا، شراب پینا، کفر بکنا اور ایک ایسی معشوقہ (امرد معشوق؟) پر جان و دل فدا کرنا تھا جو تیسری جنس کی خوبیوں اور خرابیوں کا ملغوبہ تھی۔ عاشق میاں کی ریڑھ کی ہڈی غائب تھی یا بے حد کمزور تھی اور وہ غم عشق یا عشق غم کا دائمی مریض تھا۔ ما سوا عشق کے اسے زندگی میں اور کوئی کام نہیں تھا۔ ‘‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بقول عندلیب شادانی اردو غزل کسی قصائی کی دکان لگتی تھی جو عاشقوں اور شاعروں کے دل و جگر کے ٹکڑوں سے اٹی پڑی تھی۔ حالی نے پہلی بار اردو غزل کو سماجی زندگی کی حقیقتوں کے کیف و کرب سے روشناس کیا اور اس کے لیے تازہ ہواؤں کے در کھول دیے۔ ‘‘

٭٭٭

ماخذ: سمت‘ شمارہ ۳۳  (جنوری تا مارچ ۲۰۱۷ء)

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید