FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

تفہیم القرآن

 

 

                   مولانا ابو الاعلیٰ مودودی

 

 

۲۱۔ سورۂ الانفطار ممممممممممممممممممممحتا  سورۂ القارعہ

 

 

 

 

۸۲۔سورة الانفطار

 

نام

 

پہلی ہی آیت کے لفظ اِنْفَطَرَتْ سے ماخوذ ہے۔  اِنفِطار مصدر ہے جس کے معنی پھٹ جانے کے ہیں۔  اس نام کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں  آسمان پھٹ جانے کا ذکر آیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اس کا اور سورہ تکویر کا مضمون ایک دوسرے سے نہایت مشابہ ہے۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں  سورتیں  قریب قریب ایک ہی زمانے میں  نازل ہوئی ہیں۔ موضوع اور مضمون اس کا موضوع  آخرت ہے۔  مُسند احمد، ترمذی، ابن المُنذر، طَبرانی، حاکم اور ابن مردُویہ کی روایت ہے کہ حضرت عبد اللہؓ بن عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کا یہ ارشاد بیان کیا:

مَنْ سَرَّہٗ اَن ینظر الیٰ یوم القیمٰۃ کانہ رأی عین فلیقرأ اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ، وَاِذَ السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ، وَاِذَ السَّمَآءُ انْشَقَّتْ۔

“جو شخص چاہتا ہو کہ روز قیامت کو اِس طرح دیکھ لے جیسے آنکھوں  سے دیکھا جاتا ہے تو وہ سورہ تکویر اور سورہ اِنفِطار، اور سورہ انشقاق کو پڑھ لے “۔          اس میں  سب سے پہلے روزِ قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جب وہ پیش آ جائے گا تو ہر شخص کے سامنے اس کا کیا دھرا سب آ جائے گا۔ اس کے بعد انسان کو احساس دلایا گیا ہے کہ جس رب نے تجھ کو وجود بخشا اور جس کے فضل و کرم کی وجہ سے  آج تو سب مخلوقات سے بہتر جسم اور اعضاء لیے پھرتا ہے،  اس کے بارے میں  یہ دھوکا تجھے کہاں  سے لگ گیا کہ وہ صرف کرم ہی کرنے والا ہے،  انصاف کرنے والا نہیں  ہے ؟ اُس کے کرم کے معنی یہ تو نہیں  ہیں  کہ تو اس کے انصاف سے بے خوف ہو جائے۔  پھر انسان کو خبر دار کیا گیا ہے کہ تو کسی غلط فہمی میں  مبتلا نہ رہ، تیرا  پورا نامہ اعمال کیا جا رہا ہے۔  اور نہایت معتبر کاتب ہر وقت تیری تمام حرکات و سکنات کو نوٹ کر رہے ہیں۔  آخر میں  پورے زور کے ساتھ کہا گیا ہے کہ یقیناً روز جزا برپا ہونے والا ہے جس میں  نیک لوگوں  کو جنّت کا عیش اور بد لوگوں  کو جہنم کا عذاب نصیب ہو گا۔اس روز کوئی کسی کے کام نہ آ سکے گا،  فیصلے کے اختیارات بالکل اللہ کے ہاتھ میں  ہوں گے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

جب آسمان پھٹ جائے  گا، اور جب تارے بکھر جائیں  گے،  اور جب سمندر پھاڑ دیے جائیں  گے،  ۱ اور جب قبریں  کھول دی جائیں  گی، ۲ اُس وقت ہر شخص کو اُس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہو جائے گا۔ ۳

اے انسان، کس چیز نے تجھے اپنے اُس ربِّ کریم کی طرف سے دھوکے میں  ڈال دیا  جس نے تجھے پیدا کیا، تجھے نِک سُک سے درست کیا، تجھے متناسِب بنایا، اور جس صورت میں  چاہا تجھ کو جوڑ کر تیار کیا؟ ۴ ہر گز نہیں،  ۵ بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ ) تم لوگ جزا و سزا کو جھُٹلاتے ہو، ۶ حالانکہ تم پر نگراں  مقرر ہیں،  ایسے معزز کاتب جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں۔  ۷

یقیناً نیک لوگ مزے میں  ہوں  گے اور بے شک بدکار لوگ جہنّم میں  جائیں  گے۔  جزا کے دن وہ اس میں  داخل ہوں  گے اور اُس سے ہر گز غائب نہ ہو سکیں  گے۔  اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کا دن کیا ہے ؟ ہاں،  تمہیں  کیا خبر کہ وہ جزا کا دن کیا ہے ؟ یہ وہ دن ہے جب کسی شخص کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں  نہ ہو گا، ۸ فیصلہ اُس دن بالکل اللہ کے اختیار میں  ہو گا۔  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: سورہ تکویر میں  فرمایا گیا ہے کہ سمندروں  میں  آگ بھڑکا دی جائے گی، اور یہاں  فرمایا گیا ہے کہ سمندروں  کو پھاڑ دیا جائے گا۔ دونوں  آیتوں  کو ملا کر دیکھا جائے اور یہ بات بھی نگاہ میں  رکھی جائے کہ قرآن کی رو سے  قیامت کے روز ایک ایسا زبردست زلزلہ آئے گا  جو کسی علاقے تک محدود نہ ہو گا بالکل پوری زمین بیک وقت ہلا ماری جائے گی، تو سمندروں  کے پھٹنے اور ان میں  آگ بھڑک اٹھنے کی کیفیت ہماری سمجھ میں  یہ آتی ہے کہ پہلے اُس عظیم زلزلے کی وجہ سے  سمندروں  کی تہہ پھٹ جائے گی اور ان کا پانی زمین کے اس اندرونی حصے میں  اُترنے لگے گا جہاں  ہر وقت ایک بے انتہا گرم لاوا کھولتا رہتا ہے۔  پھر اس لاوے تک پہنچ کر  پانی اپنے ان دو ابتدائی اجزا کی شکل میں  تحلیل ہو جائے گا جن میں  سے ایک،  یعنی آکسیجن جلانے والی، اور دوسری،  یعنی ہائیڈروجن بھڑک اٹھنے والی ہے،  اور یوں  تحلیل اور آتش افروزی کا  ایک ایسا مسلسل رد عمل (Chain Reaction ) شروع ہو جائے گا جس سے دنیا کے تمام سمندروں  میں  آگ لگ جائے گی۔ یہ ہمارا قیاس ہے،  باقی سہی علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں  ہے۔

۲: پہلی تین آیتوں  میں  قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر ہے اور اس آیت میں  دوسرا مرحلہ بیان کیا گیا ہے۔  قبروں  کو کھولے جانے سے مراد لوگوں  کا ازسر نو زندہ کر کے اٹھایا  جانا ہے۔

۳: اصل الفاظ ہیں  مَا قَدَّ مَتْ وَ اَخَّرَتْ۔ان الفاظ کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں   اور وہ سب کی یہاں  مراد ہیں (۱)جو اچھا یا برا عمل آدمی نے  کر کے آگے بھیج دیا وہ مَا قَدَّمَتْ ہے اور جس کے کرنے سے  وہ باز رہا وہ مَا اَخَّرَتْ۔ اس لحاظ سے یہ الفاظ تقریباً انگریزی زبان کے الفاظCommission اورOmission کے ہم معنی ہیں۔  (۲) جو کچھ پہلے کیا وہ مَاقَدَّمَتْ ہے اور جو کچھ بعد میں  کیا وہ  مَا اَخَّرَتْ، یعنی آدمی کا پورا نامہ اعمال ترتیب وار اور تاریخ دار اس کے سامنے آ جائے گا۔           (۳) جو اچھے اور برے اعمال آدمی نے اپنی زندگی میں  کیے وہ مَا قَدَّمَتْ ہیں  اور ان  اعمال کے  جو آثار و نتائج وہ انسانی معاشرے میں  اپنے پیچھے چھوڑ گیا وہ مَا اَخَّرَتْ۔

۴: یعنی اول تو اُس موسم پر پروردگار کے  احسان و کرم کا  تقاضہ یہ تھا کہ  تو شکر گزار اور احسان مند ہو کر اس کا فرمانبردار بنتا اور اس کی نا فرمانی کرتے ہوئے تجھے شرم آتی، مگر تو اس دھوکے میں  پڑ گیا کہ تو جو کچھ بھی بنا ہے خود ہی بن گیا ہے اور یہ خیال تجھے کبھی نہ آیا کہ اس وجود کے بخشنے والے کا احسان مانے۔  دوسرے،  تیرے رب کا یہ کرم ہے کہ دنیا میں  جو کچھ تو چاہتا ہے کر گزرتا ہے اور ایسا نہیں  ہوتا کہ یونہی تجھ سے کوئی خطا سرزد ہو وہ تجھ پر فالج گرا نہ لے،  یا تیری آنکھیں  اندھی کر دے،  یا تجھ پر بجلی گرا دے۔  لیکن تو نے اس کریمی کو کمزوری سمجھ لیا اور اس دھوکے میں  پڑ گیا کہ تیرے خدا کی خدائی میں  انصاف نام کی کوئی چیز نہیں  ہے۔

۵: یعنی کوئی معقول وجہ اس دھوکے میں  پڑنے کی نہیں  ہے۔  تیرا وجود خود بتا رہا ہے کہ تو خود نہیں  بن گیا ہے،  تیرے ماں  باپ نے بھی تجھے نہیں  بتایا ہے،  عناصر کے آپ سے آپ جڑ جانے سے بھی اتفاقاً تو انسان بن کر پیدا نہیں  ہو گیا ہے،  بلکہ ایک  خدائے حکیم و توانا نے تجھے اس مکمل انسانی شکل میں  ترکیب دیا ہے۔  تیرے سامنے ہر قسم کے جانور موجود ہیں  جن کے مقابلے میں  تیری بہترین ساخت اور تیری افضل و اشرف قوتیں  صاف نمایاں  ہیں۔  عقل کا تقاضہ یہ تھا کہ اس کو دیکھ کر تیرا سر بارِ احسان سے جھک جاتا اور اُس رب کریم کے مقابلے میں  تو  کبھی نا فرمانی کی جرأت نہ کرتا۔  تو یہ بھی جانتا ہے کہ تیرا رب صرف رحیم و کریم ہی نہیں  ہے،  جبار و قہار بھی ہے۔  جب اس کی طرف سے کوئی زلزلہ یا طوفان یا سیلاب آ جاتا ہے تو تیری ساری تدبیریں  اس کے مقابلہ میں    نا کام ہو جاتی  ہیں ۔  تجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تیرا رب جاہل و نادان نہیں  ہے  بلکہ حکیم و دانا ہے،  اور حکمت و دانائی کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جسے عقل دی جائے اسے اس  کے اعمال کا ذمہ دار بھی ٹھیرا یا جائے جسے اختیارات دیے جائیں  اس سے حساب بھی لیا جائے کہ اس نے اپنے اختیارات کو کیسے استعمال کیا، اور جسے اپنی ذمہ داری پر نیکی اور بدی کرنے کی طاقت دی جائے اسے نیکی پر جزا اور بدی پر سزا بھی دی جائے۔ یہ سب حقیقتیں   تیرے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں  ہیں،  اس لیے تو یہ نہیں  کہہ سکتا ہے کہ اپنے رب کریم کی طرف سے جس دھوکہ میں  تو پڑ گیا ہے اس کی کوئی معقول وجہ موجود ہے۔  تو خود جس کسی کا افسر ہوتا ہے تو اپنے اس ماتحت کو  کمینہ سمجھتا ہے جو تیری شرافت اور نرم دلی کو کمزوری سمجھ کر تیرے سر چڑھ جائے۔  اس لیے تیری اپنی یہ گواہی دینے کے لیے کافی ہے کہ مالک کا کرم ہر گز اس کا موجب نہ ہونا چاہیے کہ بندہ اس کے  مقابلے میں  جَری ہو جائے اور اس غلط فہمی میں  پڑ جائے کہ میں  جو کچھ چاہوں  کروں ،  میرا کوئی کچھ نہیں  بگاڑ سکتا۔

۶: یعنی در اصل جس چیز میں  تم لوگوں  کو دھوکے میں  ڈالا ہے وہ کوئی معقول دلیل نہیں  ہے بلکہ محض تمہارا یہ احمقانہ خیال ہے کہ دنیا کے اس دارالعمل کے پیچھے کوئی دارالجزا نہیں  ہے۔  اسی غلط اور بے بنیاد گمان نے تمہیں  خدا سے غافل،  اس کے انصاف سے بے خوف،  اور اپنے اخلاقی رویّے میں  غیر ذمہ دار بنا دیا ہے۔

۷: یعنی تم لوگ چاہے دارالجزا کا انکار کرو یا اس کو جھٹلاؤ یا اس کا مذاق اڑاؤ، اس سے حقیقت نہیں  بدلتی۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں  دنیا میں  شتر بے مہار بنا کر نہیں  چھوڑ دیا ہے بلکہ اس نے تم میں  سے ایک ایک آدمی پر نہایت راست باز نگران مقرر کر رکھے ہیں  جو بالکل بے لاگ طریقے سے تمہارے تمام اچھے اور بُرے اعمال کو  ریکارڈ کر رہے ہیں ،  اور ان سے  تمہارا کوئی کام چھپا ہوا نہیں  ہے،  خواہ تم اندھیرے میں ، خلوتوں  میں،  سنسان جنگلوں  میں ،  یا اور کسی ایسی حالت میں  اس کا ارتکاب کرو جہاں  تمہیں  اطمینان ہو کہ  جو کچھ تم نے کیا ہے وہ نگاہ خلق سے مخفی رہ گیا ہے۔  ان نگراں  فرشتوں  کے لیے اللہ تعالی ٰ کراماً کاتبین کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں ،  یعنی ایسے کاتب جو کریم(نہایت بزرگ اور معزز) ہیں۔  کسی سے نہ ذاتی محبت رکھتے ہیں  نہ عداوت کے ایک کی بے جا رعایت اور دوسرے کی ناروا مخالفت کر کے خلاف واقعہ ریکارڈ تیار کریں ۔   خائب بھی نہیں  ہیں  کہ اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہوئے بغیر بطور خود غلط سلط اندراجات کر لیں۔  رشوت خور بھی نہیں  ہیں  کہ کچھ لے دے کر کسی کے حق میں  یا کسی کے خلاف جھوٹی رپورٹیں  کر دیں  ان کا مقام ان ساری اخلاقی کمزوریوں  سے بلند ہے،  اس لیے نیک و بد دونوں  قسم کے انسانوں  کو مطمئن رکھنا چاہیے کہ ہر ایک کی نیکی بے کم وکاست ریکارڈ ہو گی، اور کسی کے ذمہ کوئی  ایسی بدی  نہ ڈال دی جائے گی جو اس نے نہ کی ہو۔ پھر ان فرشتوں  کی دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ ’’جو کچھ تم کرتے ہو اسے وہ جانتے ہیں ‘‘ یعنی ان کا حال دنیا کی  سی آئی ڈی اور اطلاعات (Intelligence )کی ایجنسیوں   جیسا نہیں  ہے کہ ساری  تگ و دو کے با وجود بہت سی باتیں  ان سے چھپی رہ جاتی ہیں ۔  وہ ہر ایک کے اعمال سے پوری طرح باخبر ہیں ،  ہر جگہ ہر حال میں  ہر شخص کے ساتھ اسطرح لگے ہوئے ہیں  کہ اسے یہ معلوم بھی نہیں  ہوتا کہ کوئی اس کی نگرانی کر رہا ہے،  اور انہیں  یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کس شخص نے کس نیت سے کوئی کام کیا ہے۔ اس لیے ان کا مرتب کر دہ ریکارڈ ایک مکمل ریکارڈ ہے جس میں  درج ہونے سے کوئی بات رہ نہیں  گئی ہے۔  اسی کے متعلق سورہ کہف آیت نمبر ۴۹ میں   فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے روز مجرمین یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں  گے کہ ان کا جو نامہ اعمال پیش کیا جا رہا ہے اس میں  کوئی چھوٹی یا بڑی بات درج ہونے سے رہ گئی ہے،  جو کچھ انہوں  نے کیا تھا وہ سب جوں  کا توں  ان کے سامنے حاضر ہے۔

۸: یعنی کسی کی وہاں  یہ طاقت نہ ہو گی کہ وہ کسی شخص کو  اس کے اعمال کے نتائج بھگتنے سے  بچا سکے۔  کوئی وہاں  ا یسا با اثر یا  زور آور یا اللہ کا چہیتا نہ ہو گا کہ عدالت خداوندی میں  اڑ کر بیٹھ جائے اور یہ کہہ سکے کہ فلاں  شخص میرا عزیز یامتوسِّل ہے،  اسے تو بخشنا ہی ہو گا خواہ یہ دنیا میں  کیسے ہی بُرے افعال کر کے آیا ہو۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

۸۳۔ سورة المطففین

 

 

نام

 

پہلی ہی آیت وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ سے ماخوذ ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اس کے اندازِ بیان اور مضامین سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ کے ابتدائی دور میں  نازل ہوئی ہے جب اہل مکہ کے ذہن میں  آخرت کا عقیدہ بٹھانے کے لیے پے در پے سورتیں  نازل ہو رہی تھیں،  اور اس کا نزول اُس زمانے میں  ہوا ہے جب اہل مکہ نے سڑکوں  پر، بازاروں  میں   اور مجلسو ں  میں  مسلمانوں  پر آوازے کسنے اور ان کی توہین و تذلیل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، مگر ظلم و ستم اور مار پیٹ کا دورا بھی شروع نہیں  ہوا تھا۔۔ بعض مفسرین نے اس سورہ کو مدنی قرار دیا ہے۔ اِس غلط فہمی کی وجہ دراصل ابن عباسؓ کی یہ روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم مدینے تشریف لائے تو یہاں  کے لوگوں  میں  کم ناپنے اور تولنے کا مرض بُری طرح پھیلا ہوا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ نازل کی اور لو گ بہت اچھی طرح ناپنے تولنے لگے (نسائی، ابن ماجہ، ابن مردویہ، ابن جریر، بیقہی فی شُعَب الایمان)۔ لیکن جیسا کہ اس سے پہلے ہم سورہ دَہر کے دیباچے میں  بیان کر چکے ہیں،  صحابہ اور تابعین کا یہ عام طریقہ تھا کہ ایک آیت جس معاملہ پر چسپاں  ہوتی ہو اس کے متعلق وہ یوں  کہا کرتے تھے کہ یہ فلاں  معاملہ میں  نازل ہوئی ہے۔  اس لیے ابن عباس کی روایت سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ جب ہجرت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے مدینہ کے لوگوں  میں  یہ بُری عادت پھیلی ہوئی پائی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے یہ سورت ان کو سنائی اور اِس سے اُن کے معاملات درست ہو گئے۔

 

موضوع اور مضمون

 

اس کا موضوع بھی آخرت ہے۔

پہلی چھ آیتوں  میں  اُس عام بے ایمانی پر گرفت کی گئی ہے جو کاروباری لوگوں  میں  بکثرت پھیلی ہوئی تھی کہ دوسروں  سے لینا ہوتا تھا تو پورا ناپ کر اور تول کر لیتے تھے،  مگر جب دوسروں  کو دینا ہوتا تو ناپ تول میں  ہر ایک کو کچھ نہ کچھ  گھاٹا دیتے تھے۔  معاشرے کی  بے شمار خرابیوں  میں  سے اِس ایک خرابی  کو، جس کی قباحت سے کوئی انکار نہ کر سکتا تھا، بطورِ مثال لے کر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ آخرت سے غفلت کا لازمی نتیجہ ہے۔  جب تک لوگوں  کو یہ احساس نہ ہو کہ ایک روز خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور کوڑی کوڑی کا حساب دینا ہے اُس وقت تک یہ ممکن ہی نہیں  ہے کہ وہ اپنے معاملات میں  کامل راستبازی اختیار کر سکیں۔  کوئی شخص دیانت داری کو ’’اچھی پالیسی‘‘سمجھ کر بعض چھوٹے چھوٹے معاملات میں  دیانت برت بھی لے تو ایسے مواقع پر وہ کبھی دیانت نہیں  برت سکتا جہاں  بے ایمانی ایک’’مفید پالیسی‘‘ثابت ہوتی ہو۔ آدمی کے اندر سچّی اور مستقل دیانت داری اگر پیدا ہو سکتی ہے تو صرف خدا کے خوف اور آخرت پر یقین ہی سے ہو سکتی ہے،  کیونکہ اِس صورت میں  دیانت ایک ’’پالیسی‘‘نہیں  بلکہ ’’فریضہ‘‘ قرار پاتی ہے اور آدمی کے اُس پر قائم رہنے یا نہ رہنے کا انحصار دنیا میں  اس کے مفید یا غیر مفید ہونے پر نہیں  رہتا۔

اس طر ح اخلاق کے ساتھ عقیدہ آخرت کا تعلق نہایت مؤثر اور دل نشین طریقہ سے واضح کرنے کے بعد آیت ۷ سے ۱۷ تک بتایا گیا ہے کہ بد کار لوگوں  کے نامہ اعمال پہلے ہی جرائم پیشہ لوگوں  کے رجسٹر(Black list ) میں  درج ہو رہے ہیں  اور آخرت میں  ان کو سخت تباہی سے  دو چار ہونا ہے۔ پھر آیت ۱۸ سے ۲۸ تک نیک لوگوں  کا بہترین انجام بیان کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے اعمال نامے بلند پایہ لوگوں  کے رجسٹر میں  درج ہو رہے ہیں  جس پر مقرب فرشتے مامور ہیں۔

آخر میں  اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے اور اس کے ساتھ کفار کو خبر دار بھی کیا گیا ہے کہ آج جو لوگ ایمان لانے والوں  کی تذلیل کر رہے ہیں،  قیامت کے روز یہی مجرم لوگ اپنی اِس روش کا بہت بُرا انجام دیکھیں  گے اور یہی ایمان لانے والے ان مجرموں  کا بُرا انجام دیکھ کر اپنی آنکھیں  ٹھنڈی کریں  گے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں  کے لیے۔  ۱ جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں  سے لیتے ہیں  تو پورا پورا لیتے ہیں،  اور جب ان کو ناپ کو یا تول کر دیتے ہیں  تو انہیں  گھاٹا دیتے ہیں۔  ۲ کیا یہ لوگ نہیں  سمجھتے کہ ایک بڑے دن ۳ یہ اُٹھا کر لائے جانے والے ہیں ؟ اُس دن  جبکہ سب لوگ ربّ العالمین کے سامنے کھڑے ہوں  گے۔

ہر گز نہیں،  ۴ یقیناً بدکاروں  کا نامۂ اعمال قید خانے کے دفتر میں  ہے۔  ۵ اور تمہیں  کیا معلوم کہ وہ قید خانے کا دفتر کیا ہے ؟ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔ تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں  کے لیے جو روزِ جزا کو جھُٹلاتے ہیں۔  اور اُسے نہیں  جھُٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا  بد عمل ہے۔  اُسے جب ہماری آیات سُنائی جاتی ہیں  ۶ تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں  کی کہانیاں  ہیں۔  ہر گز نہیں،  بلکہ دراصل اِن لوگوں  کے دلوں  پر اِن کے بُرے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔  ۷ ہر گز نہیں،  بالیقین اُس روز یہ اپنے ربّ کی دید سے محروم رکھے جائیں گے،  ۸ پھر یہ جہنّم میں  جا پڑیں  گے،  پھر اِن سے  کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھُٹلایا کرتے تھے۔

ہر گز نہیں،  ۹ بے شک نیک آدمیوں  کا نامۂ اعمال بلند پایہ لوگوں  کے دفتر میں  ہے۔  اور تمہیں  کیا خبر کہ کیا ہے وہ  بلند پایہ لوگوں   کا دفتر؟ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں۔  بے شک نیک لوگ بڑے مزے میں  ہوں  گے،  اُونچی مسندوں  پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں  گے،  ان کے چہروں  پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے۔  ان کو نفیس ترین سر بند شراب پلائی جائے گی جس پر مُشک کی مُہر لگی ہو گی۔۱۰ جو لوگ دُوسروں  پر بازی لے جانا چاہتے ہوں  وہ اِس چیز کو حاصل کرنے میں  بازی لے جانے کی کوشش کریں۔  اُس شراب میں  تسنیم کی آمیزش ہو گی، ۱۱ یہ ایک چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقَرَّب لوگ شراب پئیں  گے۔

مجرم لوگ دنیا میں  ایمان لانے والوں  کا مذاق اُڑاتے تھے،  جب اُن کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں  مار مار کر اُن کی طرف اشارے کرتے تھے،  اپنے گھروں  کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے،  ۱۲ اور جب انہیں  دیکھتے تو کہتے تھے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں،  ۱۳ حالانکہ وہ اُن پر نگراں  بنا کر نہیں  بھیجے گئے تھے۔  ۱۴ آج ایمان لانے والے کُفّار پر ہنس رہے ہیں ،  مسندوں  پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں،  مِل گیا نا کافروں  کو اُن حرکتوں  کا ثواب جو وہ کیا کرتے تھے۔  ۱۵ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اصل میں  لفظ مُطَفِّفِیْن استعمال کیا گیا ہے جو تَطْفِیْف سے مشتق ہے  عربی زبان میں  طَفَیْف چھوٹی اور حقیر چیز کے لیے بولتے ہیں  اور تطیف کا لفظ اصطلاحاً ناپ تول میں  چوری چھپے کمی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،  کیونکہ یہ کام کرنے والا ناپ کر یا تول کر چیز دیتے ہوئے کوئی بڑی مقدار نہیں  اڑاتا بلکہ ہاتھ کی صفائی دکھا کر ہر خریدار کے حصے میں  سے تھوڑا تھوڑا اڑا تا رہتا ہے اور خریدار بیچارے کو کچھ پتہ نہیں  چلتا کہ تاجر اُسے کیا اور کتنا گھاٹا دے گیا ہے۔

۲: قرآن مجید میں  جگہ جگہ ناپ تول میں  کمی کرنے کی سخت مُذمّت اور صحیح ناپنے اور تولنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔  سورہ انعام میں  فرمایا ’’انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو، ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ کا مکلّف نہیں  ٹھیراتے ‘‘(آیت۱۵۲)۔ سورہ بنی اسرائیل میں  ارشاد ہوا’’ جب ناپو تو پورا ناپو اور صحیح ترازو سے تولو‘‘ (آیت۲۵)۔ سورہ رحمان میں  تاکید کی گئی کہ ’’تولنے میں  زیادتی نہ کرو، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ وزن کرو اور ترازو میں  گھاٹا نہ دو‘‘(آیات۸۔۹)۔ قومِ  شعیب پر جس جرم کی وجہ سے عذاب نازل ہوا وہ یہی تھا کہ اُس کے اندر ناپ تول میں  کمی کرنے کا مرض عام طور پر پھیلا ہوا تھا اور حضرت شعیب کی پے در پے نصیحتوں  کے با وجود یہ قوم اِس جرم سے باز نہ آتی تھی۔

۳: روز قیامت کو بڑا دن اس بنا پر کہا گیا ہے کہ اس میں  تمام انسانوں  اور جنوں  کو حساب خدا کی عدالت میں  بیک وقت لیا جائے گا اور عذاب و ثواب کے اہم ترین فیصلے کیے جائیں  گے۔

۴: یعنی اِ ن لوگوں  کا یہ گمان غلط ہے کہ دنیا میں  اِن جرائم کا ارتکاب کرنے کے بعد یہ یونہی چھوٹ جائیں  گے اور کبھی اِن کو اپنے خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے حا ضر نہ ہونا پڑے گا۔

۵: اصل میں  لفظ سِجِّیْن استعمال ہوا ہے جو سِجْن(جیل قید خانے ) سے ماخوذ ہے اور آگے اُس کو جو تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اس سے مراد وہ رجسٹر ہے جس میں  سزا کے مستحق لوگوں  کے اعمال نامے میں  درج کیے جا رہے ہیں۔

۶: یعنی وہ آیات جن میں  روزِ جزا کی خبر دی گئی ہے۔

۷: یعنی جزا وسزا کو افسانہ قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں  ہے،  لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ کہتے ہیں  وہ یہ ہے کہ جن گناہوں  کا یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں  ان کا زنگ اِن کے دلوں   پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لیے جو بات سراسر معقول ہے وہ اِن کو افسانہ نظر آتی ہے۔  اِس زنگ کی تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے یوں  فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اُس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔  اگر وہ توبہ کر لے تو وہ نقطہ صاف ہو جاتا ہے،  لیکن اگر وہ گناہوں  کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو پورے دل پر وہ چھا جاتا ہے (مسند احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، حاکم، ابن ابی حاتم، ابن حِبّان وغیرہ)۔

۸: یعنی دیدارِ الٰہی کا جو شرف نیک لوگوں  کو نصیب ہو گا اس سے یہ لوگ محروم رہیں  گے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،  جلد ششم، القیامہ، حاشیہ۱۷)۔

۹: یعنی اِن لوگوں  کا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی جزا و سزا واقع ہونے والی نہیں  ہے۔

۱۰: اصل الفاظ ہیں  خِتٰمُہٗ مِسْکٌ۔ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں  میں  وہ شراب رکھی ہو گی اُن پر مٹی یا موم کے بجائے مشک کی مُہر ہو گی۔ اس مفہوم کے لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ شراب کی ایک نفیس ترین قسم ہو گی جو نہروں  میں   بہنے والی شراب سے اشرف و اعلیٰ ہو گی اور اسے جنّت کے خدام مشک کی مُہر لگے ہوئے برتنوں  میں  لا کر اہل جنت کو پلائیں  گے۔  دوسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ شراب جب پینے والوں  کے حلق سے اترے گی تو آخرت میں  اُن کو مشک کی خوشبو محسوس ہو گی۔ یہ کیفیت دنیا کی شرابوں   کے بالکل بر عکس ہے جن کی بوتل کھلتے ہی بو کا ایک بھپکا ناک میں  آتا ہے،  پیتے ہوئے بھی ان کی بد بو محسوس ہوتی ہے،  اور حلق سے جب وہ اترتی ہے تو دماغ تک اس کی سڑاند پہنچ جاتی ہے جس کی وجہ سے بد مزگی کے آثار ان کے چہرے پر ظاہر ہوتے ہیں۔

۱۱:  تسنیم کے معنی  بلندی کے ہیں،  اور کسی چشمے کو تسنیم کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بلندی سے بہتا ہوا نیچے آ رہا ہو۔

۱۲: یعنی یہ سوچتے ہوئے پلٹتے  تھے کہ آج تو مزا آ گیا، میں  فلاں  مسلمان کا مذاق اُڑا کر اور اس پر آوازے اور پھبتیاں  کس کو خوب لطف اٹھایا اور لوگوں  میں  بھی اس کی اچھی گت بنی۔

۱۳: یعنی اِن کی عقل ماری گئی ہے،  اپنے آپ کو دنیا کے فائدوں  اور لذتوں  سے صرف اس لیے محروم کر لیا ہے اور ہر طرح کے خطرات اور  مصائب صرف اس لیے مول لے لیے ہیں  کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم) نے انہیں  آخرت اور جنت اور دوزخ کے چکر میں  ڈال دیا ہے۔  جو کچھ حاضر ہے اسے اس مفہوم امید پر چھوڑ رہے ہیں  کہ موت کے بعد کسی جنت کے ملنے کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے،  اور جو تکلیفیں  آج پہنچ رہی ہیں  انہیں  اس خیالِ خام کی بنا پر انگیز کر رہے ہیں  کہ دوسری دنیا میں  کوئی جہنم ہو گی جس کے عذاب انہیں  ڈرایا گیا ہے۔

۱۴: اس مختصر سے فقرے میں  ان مذاق اڑانے والوں  کو بڑی سبق آموز تنبیہ کی گئی ہے۔  مطلب یہ ہے کہ بالفرض وہ سب کچھ غلط ہے جس پر مسلمان ایمان لائے ہیں  لیکن وہ تمہار کچھ نہیں  بگاڑ رہے ہیں ۔  جس چیز کوانہوں  نے حق سمجھا ہے اس کے مطابق وہ اپنی جگہ خو دہی ایک خاص اخلاقی رویّہ اختیار کر رہے ہیں۔  اب کیا خدا نے تمہیں  کوئی فوجدار بنا کر بھیجا ہے  کہ جو تمہیں  نہیں  چھڑ رہا اس کو تم چھیڑو، اور جو تمہیں  کوئی تکلیف نہیں  دے رہا ہے اسے تم خوامخواہ تکلیف دو؟۱: اصل میں  لفظ مُطَفِّفِیْن استعمال کیا گیا ہے جو تَطْفِیْف سے مشتق ہے  عربی زبان میں  طَفَیْف چھوٹی اور حقیر چیز کے لیے بولتے ہیں  اور تطیف کا لفظ اصطلاحاً ناپ تول میں  چوری چھپے کمی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،  کیونکہ یہ کام کرنے والا ناپ کر یا تول کر چیز دیتے ہوئے کوئی بڑی مقدار نہیں  اڑاتا بلکہ ہاتھ کی صفائی دکھا کر ہر خریدار کے حصے میں  سے تھوڑا تھوڑا اڑا تا رہتا ہے اور خریدار بیچارے کو کچھ پتہ نہیں  چلتا کہ تاجر اُسے کیا اور کتنا گھاٹا دے گیا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

۸۴۔سورة الانشقاق

 

نام

 

پہلی  ہی آیت کے لفظ  اِنْشَقَّتْ سے ماخوذ ہے۔  اِنْشِقاق مصدر ہے جس کے معنی پھٹ جانے کے ہیں  اور اس کا نام کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سورۃ ہے جس میں  آسمان کے پھٹنے کا ذکر آیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

یہ بھی مکّہ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں  میں  سے ہے۔  اس کے مضمون کی داخلی شہادت یہ بتا رہی ہے کہ ابھی ظلم و ستم کا دور شروع نہیں  ہوا تھا، البتہ قرآن کی دعوت کو مکّہ میں  بر ملا جھُٹلا یا جا رہا تھا اور لوگ یہ ماننے سے انکار کر رہے تھے کہ کبھی قیامت بر پا ہو گی اور اُنہیں  اپنے خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر ہونا پڑے گا۔

 

موضوع اور مضمون

 

اس کا موضوع قیامت اور آخرت ہے۔

پہلی پانچ آیتوں  میں  نہ صرف قیامت کی کیفیت بیان کی گئی ہے بلکہ اس کے بر حق ہونے کی دلیل بھی دے دی گئی ہے۔  اُس کی کیفیت یہ بتائی گئی ہے کہ اُس روز آسمان پھٹ جائے گا، زمین پھیلا کر ہموار میدان بنا دی جائے گی، جو کچھ زمین کے پیٹ میں  ہے (یعنی مردہ انسانوں  کے اجزائے بدن اور ان کے اعمال کی شہادتیں ) سب کو نکال کر وہ باہر پھینک دے گی، حتی کہ اس کے اندر کچھ باقی نہ رہے گا۔ اور اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ آسمان و زمین کے لیے اُن کے رب کا حکم یہی ہو گا اور چونکہ دونوں  اُس کی مخلوق ہیں  اس لیے وہ اس کے حکم سے سرتابی نہیں  کر سکتے،  اُن کے لیے حق یہی ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کریں۔

اس کے بعد آیت ۶ سے ۱۹ تک بتایا گیا ہے کہ انسان کو خواہ اِس کا شعور ہو یا نہ ہو،  بہرحال وہ اُس منزل کی طرف چار و ناچار چلا جا رہا ہے جہاں  اُسے اپنے رب کے آگے پیش ہونا ہے۔  پھر سب انسان دو حصوں  میں  بٹ جائیں  گے۔  ایک،  وہ جن کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں  دیا جائے گا۔ وہ کسی سخت حساب فہمی کے بغیر معاف کر دیے جائیں  گے۔  دوسرے وہ جن کا نامہ اعمال پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ وہ چاہیں  گے کہ کسی طرح انہیں  موت آ جائے،  مگر مرنے کے بجائے وہ جہنم میں  جھونک دیے جائیں  گے۔  ان کا یہ انجام اس لیے ہو گا کہ وہ دنیا میں  اِس غلط فہمی پر مگن رہے کہ کبھی خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر ہونا نہیں  ہے۔  حالانکہ ان کا رب ان کے سارے اعمال کو دیکھ رہا تھا اور کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ ان اعمال کی باز پرس سے چھوٹ جائیں۔  اُن کا دنیا کی زندگی سے آخرت کی جزا وسزا تک درجہ بدرجہ پہنچنا اُتنا ہی یقینی ہے جتنا سورج ڈوبنے کے بعد شفق کا نمودار ہونا، دن کے بعد رات کا آنا اور اس میں  انسان اور حیوانات کا اپنے اپنے بسیروں  کی طرف پلٹنا، اور چاند کا ہلال سے بڑھ کر ماہِ  کامل بننا یقینی ہے۔

آخر میں  اُن کفار کو درد ناک سزا کی خبر دے دی گئی ہے جو قرآن کو سن کر خدا کے آگے جھکنے کے بجائے الٹی تکذیب کرتے ہیں،  اور اُن لوگوں  کو بے حساب اجر کا مژدہ سنا دیا گیا ہے جو ایمان لا کر نیک عمل کرتے ہیں۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے ربّ کے فرمان کی تعمیل کرے گا ۱ اور اُس کے لیے حق یہی ہے (کہ اپنے ربّ کا حکم مانے )۔ اور جب زمین پھیلا دی جائے گی ۲ اور جو کچھ اس کے اندر ہے اُسے باہر پھینک  کر خالی ہو جائے گی ۳ اور اپنے ربّ کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اُس کے لے ا حق یہی ہے ( کہ اس کی تعمیل کرے )۔۴ اے انسان، تُو کشاں  کشاں  اپنے ربّ کی طرف چلا جا رہا ہے ۵ اور اُس سے ملنے والا ہے۔  پھر جس کا نامۂ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں  دیا گیا، اُس سے ہلکا حساب لیا جائے گا ۶ اور وہ اپنے لوگوں  کی طرف خوش خوش پلٹے گا۔ ۷ رہا  وہ شخص جس کا  نامۂ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا ۸ تو وہ موت کو پکارے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں  جا پڑے گا۔ وہ اپنے گھر والوں  میں  مگن تھا۔ ۹ اُس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں  ہے۔  پلٹناکیسے نہ تھا، اُس کا ربّ اُس کے کرتُوت دیکھ رہا تھا۔ ۱۰

پس نہیں،  میں  قسم کھاتا ہوں  شفق کی،  اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے،  اور چاند کی جب کہ وہ ماہِ کامل ہو جاتا ہے،  تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے۔  ۱۱ پھر اِن لوگوں  کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ ایمان نہیں  لاتے اور جب قرآن اِن کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں  کرتے ؟ ۱۲     السجدة

بلکہ یہ منکرین تو اُلٹا جھُٹلاتے ہیں،  حالانکہ جو کچھ یہ ( اپنے نامۂ اعمال میں ) جمع کر رہے ہیں  اللہ اُسے خوب جانتا ہے۔  ۱۳ لہٰذا اِن کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔ البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں  اور جنہوں  نے نیک عمل کیے ہیں  ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اصل میں  اَذِنَتْ لِرَبّھِاَ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں  جن کے لفظی معنی ہیں ’’وہ اپنے رب کا حکم سنے گا‘‘۔لیکن عربی زبان میں  محاورے کے طور پر اَذِنَ لَہٗ کے معنی صرف یہی نہیں  ہوتے کہ اس نے حکم سُنا بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس نے حکم سن کر ایک تابع فرمان کی طرح اس کی تعمیل کی اور ذرا سرتابی نہ کی۔

۲: زمین کے پھیلا دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ سمندر اور دریا پاٹ دیے جائے گے،  پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے بکھیر دیے جائیں  گے،  اور زمین کی ساری اونچ نیچ برابر کر کے اسے ایک ہموار میدا ن بنا دیا جائے گا۔ سورہ طٰہٰ میں  اس کیفیت  کو یوں  بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ’’اُسے چٹیل میدان بنا دے گا جس میں  تم کو ئی بَل اور سَلُوَٹ نہ پاؤ گے۔ ‘‘(آیات۱۰۶۔۱۰۷)۔ حاکم نے مُستَدْر ک میں  عمدہ سند کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ کے حوالہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’قیامت کے روز زمین ایک دسترخوان کی طرح پھیلا کر بچھا دی جائے گی، پھر انسانوں  کے لیے اس پر صرف قدم رکھنے کی جگہ ہو گی‘‘۔ اِس بات کو سمجھنے کے لیے یہ حقیقت نگاہ میں  رہنی چاہیے کہ اُس دن تمام انسانوں  کو جو ا ولِ روزِ آفر نیش سے قیامت تک پیدا ہوئے ہوں  گے،  بیک وقت زندہ کر کے عدالتِ الٰہی میں  پیش کیا جائے گا۔ اتنی بڑی آبادی کو جمع کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ سمندر، دریا، پہاڑ، جنگل،  گھاٹیاں  اور پست و بلند علاقے سب کے سب ہموار کر کے پورے کرہ زمین کو ایک میدان بنا دیا جائے تاکہ اس پر ساری نوع انسانی کے افراد کھڑے ہونے کی جگہ پا سکیں۔

۳: مطلب یہ ہے کہ جتنے مرے ہوئے انسان اس کے اندر پڑے ہوں  گے سب کو نکال کر وہ باہر ڈال دے گی، اور اسی طرح اُن کے اعمال کی جو شہادتیں  اُس کے اندر موجود ہوں  گی وہ سب بھی پوری کی پوری باہر آ جائیں  گی، کوئی چیز بھی اُس میں  چھپی اور دبی ہوئی نہ رہ جائے گی۔

۴: یہ صراحت نہیں  کی گئی کہ جب یہ  اور یہ واقعات ہوں  گے تو کیا ہو گا،  کیونکہ  بعد کا یہ مضمون اُس کو آپ سے آپ ظاہر کر دیتا ہے کہ اے انسان تو اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے،  اُس کے سامنے حاضر ہونے والا ہے،  تیرا نامہ اعمال تجھے دیا جانے والا ہے،  اور جیسا تیرا نامہ اعمال ہو گا اس کے مطابق تجھے جزا یا سزا ملنے والی ہے۔

۵: یعنی وہ ساری تگ و دَو اور دوڑ دھوپ جو تو دنیا میں  کر رہا ہے،  اُس کے متعلق چاہے تو یہی سمجھتا ہے کہ یہ صرف دنیا کی زندگی تک ہے اور دنیوی اغراض کے یے ہے،  لیکن درحقیقت تو شعوری یا غیر شعوری طور پر جا رہا ہے اپنے رب ہی کی طرف اور آخرکار وہیں  تجھے پہنچ کر رہنا ہے۔

۶: یعنی اُس سے سخت حساب فہمی نہ کی جائے گی۔ اُس سے یہ نہیں  پوچھا جائے گا کہ فلاں  فلاں  کام تونے کیوں  کیے تھے اور تیرے پاس اُن کاموں  کے لیے کیا عذر ہے۔  اُس کی بھلائیوں  کے ساتھ اُس کی برائیاں  بھی اُس کے نامہ اعمال میں  موجود ضرور ہوں  گی، مگر بس یہ دیکھ کر کہ بھلائیوں  کا پلڑا برائیوں  سے بھاری ہے،  اس کے قصوروں  سے درگزر کیا جائے گا اور اسے معاف کر دیا جائے گا۔ قرآن مجید میں  بد اعمال لوگوں  سے سخت حساب فہمی کے لیے سُوءُ الْحِسابِ (بری طرح حساب لینے ) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں  (الرعد، آیت۱۸)، اور نیک لوگوں  کے بارے میں  فرمایا گیا ہے کہ ’’یہ وہ لوگ ہیں  جن سے ہم ان کے بہتر اعمال قبول کر لیں  گے اور ان کی برائیوں  سے درگزر کریں  گے ‘‘(الاحقاف، آیت۱۶)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے اِس کی جو تشریح فرمائی ہے اُسے امام احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، نَسائی، ابو داؤد، حاکم، ابن جریر، عبد بن حُمَید اور بن مردویہ نے مختلف الفاظ  میں  حضرت عائشہؓ  نے نقل کیا ہے۔  ایک روایت میں  ہے کہ حضورؐ نے فرمایا’’جس سے بھی حساب لیا گیا وہ مارا گیا‘‘۔حضرت عائشہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں  فرمایاکہ’’جس کا نامہ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں  دیا گیا اس سے ہلکا حساب لیا جائے گا‘‘؟حضورؐ نے جواب دیا ’’وہ تو صرف اعمال کی پیشی ہے،  لیکن جس سے پوچھ گچھ کی گئی وہ مارا گیا‘‘۔ایک اور روایت میں  حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں  کہ میں  نے ایک مرتبہ حضورؐ کو نماز میں  یہ دعا مانگتے ہوئے سنا کہ ’’خدایا مجھ سے حساب لے ‘‘۔آپ نے جب سلام پھیرا تو میں  نے اس کا مطلب پوچھا۔ آپ نے فرمایا ’’ہلکے حساب سے مراد یہ ہے کہ بندے کے نامہ اعمال کو دیکھا جائے گا اور اُس سے درگزر کیا جائے گا۔ اے عائشہؓ، اُس روز جس سے حساب فہمی کی گئی وہ مارا گیا‘‘۔

۷: اپنے لوگوں  سے مراد آدمی کے وہ اہل و عیال، رشتہ دار اور ساتھی ہیں  جو اُسی کی طرح معاف کیے گئے ہوں  گے۔

۸: سورہ اَلْحَاقّہ میں  فرمایا گیا ہے کہ جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں  ہاتھ میں  دیا جائے گا۔  اور یہاں  ارشاد ہوا ہے اُ س کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ غالباً اِ س کی صورت یہ ہو گی کہ وہ شخص اِ س بات سے تو پہلے ہی مایوس ہو گا کہ اُسے دائیں  ہاتھ میں  نامہ اعمال ملے گا، کیونکہ اپنے کرتوتوں  سے وہ خوب واقف ہو گا اور اسے یقین ہو گا کہ مجھے نامہ اعمال بائیں  ہاتھ میں  ملنے والا ہے۔  البتہ سار ی خلقت کے سامنے بائیں   ہاتھ میں  نامہ اعمال لیتے ہوئے اُسے خِفّت محسوس ہو گی، اس لیے وہ اپنا ہاتھ پیچھے کر لے گا۔ مگر اِس تدابیر سے یہ ممکن نہ ہو گا کہ وہ اپنا کچّا چٹھا اپنے ہاتھ میں  لینے سے بچ جائے۔  وہ تو بہر حال اسے پکڑا یا ہی جائے گا خواہ وہ ہاتھ آگے بڑھا کر لے یا پیٹھ کے پیچھے چھپا لے۔

۹: یعنی اُس کا حال خدا کے صالح بندوں  سے مختلف تھا جن کے متعلق سورہ طور (آیت ۲۶) میں  فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں  میں  خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے،  یعنی ہر وقت اُنہیں  یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ کہیں  بال بچوں  کی محبت میں  گرفتار ہو کر ہم اُن کی دنیا بنانے کے لیے اپنی عاقبت بر باد نہ کر لیں۔  اِس کے بر عکس اُس شخص کا حال یہ تھا کہ اپنے گھر میں  وہ چین کی بنسری بجا رہا تھا اور خوب بال بچوں  کو عیش کر ا رہا تھا، خواہ وہ کتنی ہی حرام خوریاں  کر کے اور کتنے ہی لوگوں  کے حق مار کر یہ سامانِ عیش فراہم کرے،  اور اس لطف و لذت کے لیے خدا کی باندھی ہوئی حدوں  کو کتنا ہی پامال کرتا رہے۔

۱۰: یعنی یہ خدا کے انصاف اور اس کی حکمت کے خلاف تھا کہ جو کرتوت وہ کر رہا تھا ان کو وہ نظر انداز کر دیتا اور اسے اپنے سامنے بلا کر کوئی باز پرش اس سے نہ کرتا۔۱: اصل میں  اَذِنَتْ لِرَبِّھَا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں  جن کے لفظی معنی ہیں ’’وہ اپنے رب کا حکم سنے گا‘‘۔لیکن عربی زبان میں  محاورے کے طور پر اَذِنَ لَہٗ کے معنی صرف یہی نہیں  ہوتے کہ اس نے حکم سُنا بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس نے حکم سن کر ایک تابع فرمان کی طرح اس کی تعمیل کی اور ذرا سرتابی نہ کی۔

۱۲: یعنی ان کے دل میں  خدا کا خوف پیدا نہیں  ہوتا اور یہ اُس کے آگے نہیں  جھکتے۔  اِس مقام پر سجدہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے عمل سے ثابت ہے۔  امام مالک، مسلم اور نسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے  بارے میں  یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں  نے نماز میں  یہ سورہ  پڑھ کر اِس مقام پر سجدہ کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے یہاں  سجدہ کیا ہے۔  بخاری، مسلم، ابو داؤد اور نسائی نے ابورافع کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے  عشا کی نماز میں  یہ سورہ پڑھی اور سجدہ کیا۔ میں  نے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں  نے فرمایا کہ میں  نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور حضورؐ نے اس مقام پر سجدہ کیا ہے،  اس لیے میں  مرتے دم تک یہ سجدہ کرتا رہوں  گا۔ مسلم، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، اور ابن ماجہ وغیرہ ہم نے ایک اور روایت نقل کی ہے جس میں  حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں  کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے پیچھے اِس سورہ میں  اور اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ میں  سجدہ کیا ہے۔ ۱: اصل میں  اَذِنَتْ لِرَبِّھَا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں  جن کے لفظی معنی ہیں ’’وہ اپنے رب کا حکم سنے گا‘‘۔لیکن عربی زبان میں  محاورے کے طور پر اَذِنَ لَہٗ کے معنی صرف یہی نہیں  ہوتے کہ اس نے حکم سُنا بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس نے حکم سن کر ایک تابع فرمان کی طرح اس کی تعمیل کی اور ذرا سرتابی نہ کی۔

٭٭٭

 

 

 

 

۸۵۔سورة البروج

 

نام

 

پہلی آیت کے لفظ  اَلْبُرُوْج کو اس کا نام قرار دیا گیا  ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اس کا مضمون خود یہ بتا رہا ہے کہ یہ سورۃ مکہ معظمہ کے اس دور میں  نازل ہوئی ہے جب ظلم و ستم پوری شدت کے ساتھ برپا تھا اور کفار مکہ مسلمانوں  کو سخت سے سخت عذاب دے کر ایمان سے پھیر دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

 

موضوع اور مضمون

 

اس کا موضوع کفار کو اس ظلم و ستم کے بُرے انجام سے خبر دار کرنا ہے جو وہ ایمان لانے والوں  پر  توڑ رہے تھے،  اور اہلِ ایمان کو یہ تسلی دینا ہے کہ اگر وہ ان مظالم کے مقابلے میں   ثابت قدم رہیں  گے تو  ان کو اس کا بہترین اجر ملے گا اور اللہ تعالیٰ ظالموں  سے بدلہ لے گا۔

اس سلسلے میں  سب سے پہلے اصحاب الاُخدود کا  قصہ سنایا گیا ہے جنہوں  نے ایمان لانے والوں  کو آگے سے بھرے ہوئے گڑھوں  میں  پھینک پھینک کر جلا دیا تھا۔ اور اس قصے کے  پیرا ے میں  چند باتیں  مومنوں  اور کافروں  کے ذہن نشین کرائی گئی ہیں۔  ایک یہ کہ جس طرح اصحاب الاُخدود خدا کی لعنت اور  اس کی مار کے مستحق ہوئے اسی طرح سردارانِ مکہ بھی اس کے مستحق بن رہے ہیں۔  دوسرے یہ کہ جس طرح ایمان لانے والوں  نے اس وقت آگ کے گڑھوں  میں  گر کر  جان دے دینا قبول کر لیا تھا اور ایمان سے  پھرنا قبول نہیں  کیا تھا، اسی طرح اب بھی اہلِ ایمان کو چاہیے کہ ہر سخت سے سخت عذاب بھگت لیں  مگر ایمان کی راہ سے نہ ہٹیں ۔ تیسرے یہ کہ جس خدا کے ماننے پر کافر بگڑتے اور اہلِ ایمان اصرار کرتے ہیں  وہ سب پر غالب ہے،  زمین و آسمان کی سلطنت کا مالک ہے،  اپنی ذات میں  آپ  حمد کا مستحق ہے،  اور وہ دونوں  گروہوں  کے حال کو دیکھ رہا ہے،  اس لیے یہ عمل یقینی ہے کہ  کافروں  کو نہ صرف ان کے کفر کی سزا جہنم کی صورت میں  ملے،  بلکہ اس پر مزید ان کے ظلم کی سزا بھی ان  کو آگ کے چَرکے  دینے کی شکل میں  بھگتنی پڑے۔  اسی طرح یہ امر بھی یقینی ہے کہ ایمان لا کر نیک عمل کرنے والے جنت میں  جائیں ،  اور یہی بڑی کامیابی ہے۔  پھر کفار کو خبر دار کیا گیا ہے کہ خدا کی پکڑ بڑی سخت ہے،  اگر تم اپنے جتّھے کی طاقت کے زعم میں  مبتلا ہو تو تم سے بڑے جتھے فرعون اور ثمود کے پاس تھے،  ان کے لشکروں  کا جو انجام ہوا ان سے سبق حاصل کرو۔ خدا کی قدرت تم پر اس طرح محیط ہے کہ  اُس کے گھیرے سے تم نکل نہیں  سکتے،  اور قرآن، جس کی تکذیب پر تم تُلے ہوئے ہو، اس کی ہر بات اٹل ہے،  وہ اس لوحِ محفوظ میں  ثَبْت ہے،  جس کا لکھا کسی کے بدلے نہیں  بدل سکتا۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

قسم ہے مضبُوط قلعوں  والے آسمان کی، ۱ اور اُس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے،  ۲ اور دیکھنے  والے کی اور دیکھی جانے والی چیز کی ۳ کہ مارے گئے گڑھے والے،  (اُس گڑھے والے ) جس میں  خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی۔  جبکہ وہ اُس گڑھے کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں  کے ساتھ کر رہے تھے اُسے دیکھ رہے تھے۔  ۴ اور اُن اہلِ ایمان سے اُن کی دشمنی اِس کے سوا کسی وجہ سے  نہ تھی کہ وہ اُس خدا پر ایمان ے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں  آپ محمود ہے،  جو آسمانوں  اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے،  اور وہ خدا سب کچھ دیکھ  رہا ہے۔  ۵

جن لوگوں  نے مومن مردوں  اور عورتوں  پر ظلم و ستم توڑا اور پھر اس سے تائب نہ ہوئے،  یقیناً اُن کے لیے جہنّم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جَلائے جانے کی سزا ہے۔  ۶ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں  نے نیک عمل کیے،  یقیناً اُن کے لیے جنّت کے باغ ہیں  جن کے نیچے نہریں  بہتی ہوں  گی، یہ ہے بڑی کامیابی۔

درحقیقت تمہارے ربّ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔  وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور وہ بخشنے والا ہے،  محبت کرنے والا ہے،  عرش کا مالک ہے،  بزرگ و برتر ہے،  اور جو کچھ  چاہے کر ڈالنے والا ہے۔  ۷ کیا تمہیں  لشکروں  کی خبر پہنچی ہے ؟ فرعون اور ثمود (کے لشکروں  )کی؟ ۸ مگر جنہوں  نے کُفر کیا ہے وہ جھُٹلانے میں  لگے ہوئے ہیں،  حالانکہ اللہ نے اُن کو گھیرے میں  لے رکھا ہے۔  (اُن کے جھُٹلانے سے اِس قرآن کا کچھ نہیں  بگڑتا) بلکہ یہ قرآن بلند پایہ ہے،  اُس لوح میں  (نقش ہے ) جو محفوظ ہے۔  ۹ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اصل الفاظ ہیں  ذَاتِ الْبُرُوْج، یعنی بُرجوں  والے آسمان کی۔ مفسرین میں  سے  بعض نے اس سے مراد قدیم علم ہئیت کے مطابق آسمان کے ۱۲ بُرج لیے ہیں۔  اور ابن عباس،  مجاہد، قتادہ، حسن بصری، ضحاک اور سُدِّی کے نزدیک اس سے مراد آسمان کے عظیم الشان تارے اور ستارے ہیں۔

۲: یعنی روز قیامت۔

۳: دیکھنے والے اور دیکھی جانے والی چیز کے بارے میں  مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں،  مگر ہمارے نزدیک سلسلہ کلام سے  جو بات مناسبت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ دیکھنے والے سے مراد ہر وہ شخص ہے جو  قیامت کے روز حاضر ہو گا اور دیکھی جانے والی چیز سے مراد خود قیامت ہے جس کے ہولناک احوال کو  سب دیکھنے والے دیکھیں  گے۔  یہ مجاہد،  عِکْرمہ،  ضحاک، ابن نجیح اور بعض دوسرے مفسرین کا قول ہے۔

۴: گڑھے والوں  سے مراد وہ لوگ ہیں  جنہوں  نے بڑے بڑے گڑھوں  میں  آگ بھڑکا کر ایمان لانے والے لوگوں  کو ان میں  پھینکا اور اپنی آنکھوں  سے ان کے جلنے کا تماشا دیکھا تھا۔ مارے گئے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر خدا کی لعنت پڑی اور وہ  عذاب الٰہی کے مستحق ہو گئے۔  اور اس بات پر تین چیزوں  کی قسم کھائی گئی ہے۔  ایک بُرجوں  والے آسمان کی۔ دوسرے،  روز قیامت کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے تیسرے،  قیا مت کے ہولناک مناظر کی  اور اس ساری مخلوق کی جو ان مناظر کو دیکھے گی۔ پہلی چیز اس  بات پر شہادت دے رہی ہے کہ  جو قادر مطلق  ہستی کا ئنات کے عظیم الشان ستاروں  اور سیّاروں  پر حکمرانی کر رہی ہے اس کی گرفت سے  یہ حقیر و ذلیل انسان کہاں  بچ کر جا سکتے ہیں۔  دوسری چیز کی قسم اس بنا پر  کھائی گئی ہے کہ دنیا میں  ان لوگوں  نے جو ظلم کرنا چاہا کر لیا،  مگر وہ دن بہر حال آنے والا ہے جس سے انسانوں  کو خبر دار کیا جا چکا ہے کہ اس میں  ہر مضمون کی داد رسی اور ہر ظالم کی پکڑ ہو گی۔ تیسری چیز کی قسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ جس طرح ان ظالموں  نے ان بے بس اہلِ ایمان کو جلنے کا تماشا دیکھا اسی طرح قیامت کے روز ساری خلق دیکھے گی کہ ان کی خبر کس طرح لی جاتی ہے۔  گڑھوں  میں  آگ جلا کر ایمان والوں  کو ان میں   پھینکنے کے  متعدد واقعات روایات میں  بیان ہوئے ہیں  جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں  کئی مرتبہ اس طرح کے مظالم کیے گئے ہیں۔  ان میں  سے ایک واقعہ حضرت صُہیب رومی نے  رسول اللہ صلی اللہ  علیہ و سلم سے روایت کیا ہے کہ ایک بادشاہ کے پاس ایک ساحر تھا۔ اُس نے اپنے بڑھاپے میں  بادشاہ سے کہا کہ کوئی لڑکا ایسا مامور کر دیں  جو مجھ سے سحر سیکھ لے۔  بادشاہ نے ایک لڑکے کر مقرر کر دیا مگر وہ لڑکا گھر کے پاس آتے جاتے ایک راہب سے بھی( جو غالباً پیروان مسیح علیہ السلام میں  سے تھا) ملنے لگا اور اس کی باتوں  سے متاثر ہو کر ایمان لے آیا حتیٰ کہ اس کی تربیت  سے صاحب کرامت ہو گیا اور اندھوں  کو  بینا اور کوڑھیوں  کو تندرست کرنے لگا بادشاہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ لڑکا توحید پر ایمان لے آیا ہے تو  اس نے پہلے  تو راہب کو قتل کیا، پھر اس لڑکے کو قتل کرنا چاہا، مگر کوئی ہتھیار اور کوئی حربہ اس پر کار گر نہ ہوا۔ آخر کار لڑکے نے کہا اگر تو مجھے قتل کرنا ہی چاہتا ہے تو مجمع عام میں   بِاسْمِ رَبِّ الْغُلَامِ (اس لڑکے کے رب کے نام پر کہہ کر مجھے تیر مار میں  مر جاؤں  گا۔  چنانچہ بادشاہ نے  ایسا ہی کیا اور لڑکا مر گیا۔ اس لوگ پکار اٹھے کہ ہم اس لڑکے کے رب پر  ایمان لے آئے۔  بادشاہ کے مصاحبوں  نے اس سے کہا کہ   یہ تو وہی کچھ ہو گیا جس سے آپ بچنا چاہتے تھے۔  لوگ آپ کے دین کو چھوڑ کر اس لڑکے کے دین کو مان گئے۔  بادشاہ کی حالت دیکھ کر غصہ میں  بھر گیا۔ اس نے سڑکوں  کے کنارے گڑھے کھدوائے،  ان میں  آگ بھروائی، اور جس جس نے ایمان سے پھرنا قبول کیا اس کو آگ میں  پھکوا دیا( احمد، مسلم، نسائی، ترمذی، ابن جریر، عبد الرزاق، ابن ابی شیْبہ، طَبرانی، عبد بن حُمید)۔ دوسرا واقعہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔  وہ فرماتے ہیں  کہ ایران کے ایک بادشاہ نے شراب پی کر اپنی بہن سے زناہ کر ارتکاب کیا اور دونوں  کے درمیان ناجائز تعلقات استوار ہو گئے۔  بات کھلی تو بادشاہ نے لوگوں  میں  اعلان کرایا کہ خدا نے بہن سے نکاح حلال کر دیا ہے۔  لوگوں  نے اسے قبول نہ کیا تو اس نے طرح طرح کے عذاب دے کر عوام کو یہ بات ماننے پر مجبور کیا،  یہاں  تک کہ وہ آگ سے بھرے  گڑھوں  میں  ہر اس شخص کو پھکواتا چلا گیا جس نے  اسے ماننے سے انکار کیا۔ حضرت علی کا بیان ہے کہ اسی وقت سے مجوسیوں  میں  محرّمات سے نکاح کا طریقہ رائج ہوا ہے (ابن جریر)۔ تیسرا واقعہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے غالباً اسرائیلی روایات سے نقل کیا ہے کہ بابل والوں  نے بنی اسرائیل کو دین موسیٰ علیہ السلام سے پھیر جانے پر مجبور کیا تھا یہاں  تک کہ انہوں  نے آگے سے بھرے ہوئے گڑھوں  میں  ان کو پھینک دیا جو اس سے انکار کرتے تھے۔ (ابن جریر، عبد بن حمید)۔ سب سے مشہور واقعہ نَجْران کا ہے جسے ابن ہشام،  طَبری، ابن خُلدون اور صاحب مُعْجمَ البُلْدان وغیرہ اسلامی مورخین نے بیان کیا ہے۔  اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حمیر(یمن) کا بادشاہ تُبان اسعد ابو کرب ایک مرتبہ یثرب گیا جہاں  یہودیوں  سے متاثر ہو کر اس نے دین یہود قبول کر لیا اور بنی قُریظہ کے دو یہودیوں  عالموں  کو اپنے ساتھ یمن لے گیا۔ وہاں  اس نے بڑے پیمانے پر یہودیت کی اشاعت کی۔  اس کا بیٹا ذونو اس  اس کا جا نشین ہوا اور اس نے نجران پر،  جو جنوبی عرب میں  عیسائیوں  کا گڑھ تھا،  حملہ کیا تا کہ وہاں  سے عیسائیت کا خاتمہ کر دے اور اس کے باشندوں  کو یہودیت اختیار کرنے پر مجبور کر ے۔  (ابن ہشام کہتا ہے کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ کے اصل دین پر قائم تھے )۔نجران پہنچ کر اس نے لوگوں  کو دین یہود قبول کرنے کی دعوت دی مگر انہوں  نے انکار کیا۔ اس پر اس نے بکثرت لوگوں  کو آگ سے بھرے ہوئے گڑھوں  میں  پھینک کر جلوا دیا اور بہت سوں  کو قتل کر دیا، یہاں  تک کہ مجموعی طور پر بیس ہزار آدمی مارے گئے۔  اہلِ نجران میں  سے ایک شخص  دَوس  ذُ و ثَعلَبان بھاگ نکلا اور ایک  روایت کی رو سے اس نے قیصر روم کے پاس جا کر، اور دوسری روایت کی رو سے حبش کے بادشاہ نجاشی کے  ہاں  جا کر اس ظلم کی شکایت کی پہلی روایت کی رو سے قیصر نے حبش کے بادشاہ کو دیکھا، اور دوسری روایت کی رو سے نجاشی نے قیصر سے بہری بیڑا فراہم کرنے کی درخواست کی۔  بہر حال  آخر کار حبش کی ستر ہزار فوج اَریا ط نامی ایک جنرل کی قیادت میں  یمن پر حملہ آور ہوئی، ذونواس مارا گیا،  یہودی حکومت کا خاتمہ ہو گیا ،  اور یمن حبش کی عیسائی سلطنت کا ایک حصہ بن گیا۔ اسلامی مورخین کے بیانات کی نہ صرف تصدیق دوسرے تاریخی زرائع سے ہوتی ہے بلکہ  ان سے بہت سی مزید تفصیلات کا بھی پتہ چلتا ہے۔  یمن پر سب سے پہلے عیسائی حبشیوں  کا قبضہ سن ۳۴۰ میں  ہوا تھا اور ۳۷۸ تک جاری رہا تھا۔ اُس زمانے میں  عیسائی مشنری یمن میں  داخل ہونے شروع ہوئے۔  اُسی کے قریب دور میں  ایک زاہد و مجاہد اور صاحبِ کشف و کرامت عیسائی سیاح فیمیون(Faymiyun ) نامی نجران پہنچا اور اس نے وہاں  کے لوگوں  کو بت پرستی کی برائی سمجھائی اور اس کی تبلیغ سے اہلِ نجران عیسائی ہو گئے۔  ان لوگوں  کا نظام تین سردار چلاتے تھے۔  ایک سید، جو قبائلی شیوخ کی طرح بڑا سردار اور خارجی معاملات، معاہدات اور فوجوں  کی قیادت کا ذمہ دار تھا۔ دوسرا عاقبِ،  جو داخلی معاملات کا نگراں  تھا۔ اور تیسرا اُسْقُف (بِشپ) جو مذہبی پیشوا ہوتا تھا۔ جنوبی عرب میں  نجران کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ یہ ایک بڑا تجارتی اور صنعتی مرکز تھا۔ ٹسر، چمڑے اور اسلحہ کی صنعتین یہاں  چل رہی تھی۔ مشہور حُلّہ یمانی بھی یہیں  تیار ہوتا تھا۔ اِسی بنا پر محض مذہبی وجود ہی سے نہیں  بلکہ سیاسی اور معاشی وجوہ سے بھی ذونواس نے اس اہم مقام پر حملہ کیا۔ نجران کے سید حارثہ کو جسے سُریانی مورخین Arethas لکھتے ہیں،  قتل کیا، اس کی بیوی رومہ کے سامنے اس کی دوبیٹیوں  کو مار ڈالا اور اسے ان کا خون پینے پر مجبور کیا، پھر اسے بھی قتل کر دیا۔ اُسقف پال (paul ) کی ہڈیاں  قبر سے نکال کر جلا دیں۔  اور آگ سے بھر ے ہوئے گڑھوں  میں  عورت، مرد،  بچے،  بوڑھے،  پادری، راہب سب کو پھکوا دیا۔ مجموعی طور پر ۲۰ سے چالیس ہزار تک مقتولنر کی تعداد بیان کی جاتی ہے۔  یہ واقعہ اکتوبر ۵۲۳؁ میں  پیش آیا تھا۔ آخر کار ۵۲۵؁ میں  حبشیوں  نے یمن پر حملہ کر کے ذونواس اور اُس کی حمیری سلطنت کا خاتمہ  کر دیا۔ اس کی تصدیق حِصْن غُراب کے کتبے سے ہوتی ہے جو یمن موجودہ زمانہ کے محققینِ آثار قدیمہ کو ملا ہے۔  چھٹی صدی عیسوی کی متعدد عیسائی تحریرات میں  اصحاب الاخدود کے اِس واقعہ کی تفصیلات بیان ہوئی ہیں  جن میں  سے بعض عین زمانہ حادثہ کی لکھی ہوئی ہیں  اور عینی شاہدوں  سے سن کر لکھی گئی ہیں۔  ان میں  سے تین کتابوں  کے مصنف اس واقعہ کے ہم عصر ہیں۔  ایک پرو کو پیوس۔ دوسرا کوسما س اِنڈیکو پلیوسِٹس(Cosmos Indicopleustis ) جو نجاشی ایلیسبو عان (Elesboan )  کے حکم سے اس زمانے میں   بطلیموس کو یونانی کتابوں  کا ترجمہ کر رہا تھا اور حبش کے ساحلی شہر  اَدُولیس(Adolis )  میں  مقیم تھا۔ تیسرا یو حنس ملالا( Johannes Malala ) جس  سے بعد کے متعدد مورخین نے اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔  اس کے بعد یوحنس افسوسی( Johannes Ofephesus ) متوفی ۵۸۵؁ میں   اپنی تاریخ کہنیسہ میں  نصاری ٰ نجران کی تعذیب کا قصہ اس واقعہ کے معاصر راوی اُسقُف مار شمعون(Simeon ) کے ایک خط سے نقل کیا ہے جو اس نے دیرجبلہ کے رئیس(Abbot von gabula ) کے نام لکھا تھا، اور مار شمعون نے اپنے خط میں  یہ واقعہ ان اہل یمن آنکھو ں  دیکھے بیان سے روایت  کیا  ہے جو اس موقع پر موجود تھے۔  یہ خط ۱۸۸۱؁ میں  روم سے اور ۱۸۹۰؁ میں  شہدائے مسیحیت کے حالات  کے سلسلے میں  شائع ہوا ہے۔   یعقوبی طریق ڈایو نیسیوس (Patriarch Dionysius ) اور زکریا مدللی (Zacharia of Mitylene )  نے اپنی سریانی تاریخوں  میں  بھی اس واقعہ کو نقل کی اہے۔  یعقوب سَرُوجی کی کتاب دربابِ نصاریٰ نجران میں  بھِی یہ ذکر موجود ہے۔  الّرھا(Edessa ) کے اسقف پولس(Pulus ) نے نجران کے ہلاک شدگان کا مرثیہ لکھا جواب بھی دستیاب ہے۔  سریانی زبان کی تصنیف کتاب الحِمیرَ یین کا انگریزی ترجمہ( Book of the Himyarites ) ۱۹۲۴؁ میں  لندن سے شائع ہوا ہے اور وہ مسلمان مورخین کے بیان کی تصدیق کرتا ہے۔  برٹش میوزیم میں  اُس عہد اوراس سے قریبی عہد کے کچھ حبشی مخطوطات بھی موجود ہیں  جو اِس قصے کی تائید کرتے ہیں۔  ظِبی نے اپنے سفرنامے (Highlands Arabian ) میں  لکھا ہے کہ نجران کے لوگو ں  میں  اب تک وہ جگہ معروف ہے جہاں  اصحاب الاخدود کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اُمِّ خَرق کے پاس ایک جگہ چٹانوں  میں  کھدی ہوئی کچھ تصویریں  بھی پائی جاتی ہیں۔  اور کعبہ نجران جس جگہ واقع تھا اس کو بھی آج کل کے اہل نجران جانتے ہیں۔             حبشی عیسائیوں  نے نجران پر قبضہ کرنے کے بعد یہاں  کعبہ کی شکل کی ایک عمارت بنائی تھی جسے وہ مکہ کے کعبہ کی جگہ مرکزی حیثیت دینا چاہتے تھے۔  اس کے اَساقفہ عمامے باندھتے تھے اور اُس کو حرم قرار دیا گیا تھا۔ رومی سلطنت بھی اس کعبہ کے لیے مالی اعانت بھیجی تھی۔ اِسی کعبہ نجران کے پادری اپنے سید اور عاقب اور اُسقف کی قیادت میں  مناظرے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں  حاضر ہوئے تھے اور مُباہلہ کا وہ مشہور واقعہ پیش آیا تھا جس کا ذکر سورہ آل عمران آیت ۶۱ میں  کیا گیا ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول،  آل عمران حاشیہ۲۹، حاشیہ۵۵)۔

۵: ان آیات میں  اللہ تعالیٰ کے اُن اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے جن کی بنا پر وہی اس کا مستحق ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے،  اور وہ لوگ ظالم ہیں  جو اِس بات پر بگڑتے ہیں  کہ کوئی اس پر ایمان لائے۔

۶: جہنم کے عذاب سے الگ جلائے جانے کی سزا کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اُنہوں  نے مظلوم لوگوں  کو آگ کے گڑھے میں  پھینک کر زندہ جلا یا تھا۔ غالباً یہ جہنم کی عام آگ سے مختلف اور اس سے زیادہ سخت کوئی اور آگ ہو گی جس سے وہ جلائے جائیں  گے۔

۷: ’’بخشنے والا ہے ‘‘ کہہ کر یہ امید دلائی گئی ہے کہ کوئی اگر اپنے گناہوں  سے باز آ کر تو بہ کر لے تو اس کے دامنِ رحمت  میں  جگہ پا سکتا ہے۔ ’’محبت کرنے والا‘‘ کہہ کر یہ بتایا گیا ہے کہ اس کو اپنی خلق سے عداوت نہیں  ہے کہ خواہ مخواہ اس کو مبتلائے عذاب کرے،  بلکہ جس مخلوق کو اس نے پیدا کیا ہے اُس سے وہ محبت رکھتا ہے اور سزا صرف اُس وقت دیتا ہے جب وہ سر کشی سے باز ہی نہ آئے۔ ’’مالک عرش‘‘ کہہ کر انسان کو یہ احساس دلا یا گیا ہے کہ سلطنتِ کائنات کا فرمانروا وہی ہے،  اُس سے سرکشی کرنے والا اس کی پکڑ سے بچ کر کہیں  نہیں  جا سکتا۔’’بزرگ و برتر‘‘ کہہ کر انسان کو اِس کمینہ پن پر متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ  ایسی ہستی کے مقابلہ میں  گستاخی کا رویہ اختیار کرتا ہے۔  اور آخری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ ’’جو کچھ چاہے کر ڈالنے ولا ہے ‘‘، یعنی پوری کائنات میں  کسی کی بھی یہ طاقت نہیں  ہے کہ اللہ جس کام کا ارادہ کرے اس میں  وہ مانع و مزاحم ہو سکے۔

۸: روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو  اپنے طاقتور جتھوں کے زعم میں خدا کی سر زمین پر سرکشیاں کر رہے ہیں۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ کچھ تمہیں خبر بھی ہے کہ اس سے پہلے جن لوگوں نے اپنے جتھّوں کی طاقت کے بل پر یہی سرکشیاں کی تھیں، وہ کس انجام سے دوچار ہو چکے ہیں۔

۹: مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کا لکھا اَمِٹ ہے،  اٹل ہے،  خدا کی اُس لوحِ محفوظ میں  ثبت ہے جس کے اندر کوئی رد و بدل نہیں  ہو سکتا، جو بات اِس میں  لکھ دی گئی ہے وہ پوری ہو کر رہنے والی ہے،  تمام دنیا مل کر بھی اسے باطل کرنا چاہے تو نہیں  کر سکتی۔

٭٭٭

 

۸۶۔ سورة الطارق

 

نام

 

پہلی آیت کے لفظ الطّارق کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اس کے مضمون کا اندازِ بیان مکّہ معظمہ کی ابتدائی سورتوں  سے ملتا جُلتا ہے،  مگر یہ اُس زمانے کی نازل شدہ ہے جب کفار مکہ قرآن  اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی دعوت کو زک دینے کے لیے ہر طرح کی چالیں  چل رہے تھے۔ موضوع اور مضمون      اس میں  وہ مضمون بیان کیے گئے ہیں۔  ایک یہ کہ انسان کو مرنے کے بعد، خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔  دوسرے یہ کہ قرآن ایک قولِ فصیل ہے جسے کفار کی کوئی چال اور تدبیر زک نہیں  دے سکتی۔

سب سے پہلے آسمان کے  تاروں  کو اِس بات کی شہادت میں  پیش کیا گیا ہے کہ کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں  ہے جو ایک ہستی کی نگہبانی کے بغیر اپنی جگہ قائم اور باقی رہ سکتی ہو۔ پھر انسان کا خود اس  کی اپنی ذات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ کس طرح نطفے کی ایک بوند سے اُس کو وجود میں  لایا گیا  اور جیتا جاگتا انسان بنا دیا گیا۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ جو خدا  اِس طرح اُسے وجود میں  لا یا ہے وہ یقیناً اُس کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔  اور یہ دوبارہ پیدائش اِس غرض کے لیے ہو گی کہ انسان کے اُن تمام رازوں  کی جانچ پڑتال کی جائے جن پر دنیا میں  پردہ پڑا رہ گیا تھا۔ اُس وقت اپنے اعمال کے نتائج بھگتنے سے انسان نہ اپنے بل بوتے پر بچ سکے گا اور نہ کوئی اُس کی مدد کو آ سکے گا۔

خاتمہ کلام پر ارشاد ہوا ہے کہ جس طرح آسمان سے بارش کا برسنا اور زمین سے درختوں  اور فصلوں  کا اُگنا کوئی کھیل نہیں  بلکہ ایک سنجیدہ کام ہے،  اُسی طرح قرآن میں  جو حقائق بیان کیے گئے ہیں  وہ بھی کوئی ہنسی مذاق نہیں  ہیں  بلکہ پختہ اور اٹل باتیں  ہیں۔  کفار اس غلط فہمی میں  ہیں  کہ اُن کی چالیں  اِس قرآن کی دعوت کو زک دے دیں  گی، مگر انہیں  خبر نہیں  ہے کہ اللہ بھی ایک تدبیر میں  لگا ہوا ہے اور اس کی تدبیر کے آگے کفار کی چالیں سب دھری کی دھری رہ جائیں  گی۔ پھرا یک فقرے میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ تسلی اور درپردہ کفار کو یہ دھمکی دے کر بات ختم کر دی گئی ہے کہ آپؑ ذرا صبر سے کام لیں   اور کچھ مدت کفار کو اپنی سی کر لینے دیں،  زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ انہیں  خود معلوم ہو جائے گا کہ ان کی چالیں  قرآن کو زک دیتی ہیں  یا قرآن اُسی جگہ غالب آ کر رہتا ہے جہاں  یہ اُسے زک دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی۔ اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے ؟ چمکتا ہوا تارا۔ کوئی جان ایسی نہیں  ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔ ۱ پھر ذرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کِس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔  ۲  ایک اُچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں  کے درمیان سے نکلتا ہے۔  ۳ یقیناً وہ (خالق) اُسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔  ۴ جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہو گی۵ اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہو گا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہو گا۔  قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی ۶ اور (نباتات اُگتے وقت) پھَٹ جانے والی زمین کی، یہ ایک جچی تُلی بات ہے،  ہنسی مذاق نہیں  ہے۔  ۷ یہ لوگ کچھ چالیں  چل رہے ہیں  ۸ اور میں  بھی ایک چال چل رہا ہوں۔  ۹ پس چھوڑ دو اے نبیؐ،  اِن کافروں  کو اِک ذرا کی ذرا اِن کے حال پر چھوڑ دو۔ ۱۰ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: نگہبان سے مراد خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو زمین  و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کر رہی ہے،  جس کے وجود میں  لانے سے ہر شے وجود میں  آئی ہے،  جس کے باقی رکھنے سے ہر شے باقی ہے،  جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے،  اور جس نے ہر چیز کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے اور اُسے ایک مدت مقررہ تک آفات سے بچانے کا ذمّہ لے رکھا ہے۔  اس بات پر آسمان کی اور رات کی تاریکی میں  نمو دار ہونے والے ہر ستارے اور سیارے کی قسم کھائی گئی ہے (النجم الثاقب کا لفظ اگرچہ لغت کے اعتبار سے واحد ہے،  لیکن مراد اُس سے ایک ہی تارا نہیں  بلکہ تاروں  کی جنس)۔یہ قسم اِس معنی میں  ہے کہ رات کو آسمان میں  یہ بے حدوحساب تارے اُس سیارے  جو چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں  ان میں  سے ہر ایک کا وجود اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ کوئی ہے جس نے اُسے بنایا ہے،  روشن کیا ہے،  فضا میں  معلق رکھ چھوڑا ہے،  اور اس طرح اس کی حفاظت و نگہبانی کر رہا ہے کہ نہ وہ اپنے مقام سے گرتا ہے،  نہ بے شمار تاروں  کی گردش کے دوران میں  وہ کسی سے ٹکراتا ہے اور نہ کوئی دوسرا تارا  اس سے ٹکراتا ہے۔

۲: عالمِ بالا کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب انسان کو دعوت دی جا رہی ہے کہ وہ خود ذرا اپنی ہستی ہی پر غور کر لے کہ وہ کس طرح پیدا کیا گیا ہے۔  کون ہے جو باپ کے جسم سے خارج ہونے والے اربوں  جرثوموں  میں  سے ایک جرثومے اور ماں  کے اندر سے نکلنے والے بکثرت بیضوں  میں  سے ایک بیضے کا انتخاب کر کے دونوں  کو کسی وقت جوڑ دیتا ہے اور اس سے ایک خاص انسان کا استقرارِ حمل واقع ہو جاتا ہے ؟ پھر کون ہے جو استقرار حمل کے بعد سے ماں  کے پیٹ میں  درجہ بدرجہ اُسے نشو نما دے کراُسے اس حد کو پہنچاتا ہے کہ وہ ایک زندہ بچے کی شکل میں  پیدا ہوتا، پھر کون ہے جو رجم مادر ہی میں  اس کے جسم کی ساخت اور اس کی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں  کا تناسب قائم کرتا ہے ؟ پھر کون ہے جو پیدائش سے لے کر موت کے وقت تک اس کی مسلسل نگہبانی کرتا رہتا ہے ؟ اسے بیماریوں  سے بچاتا ہے۔  حادثات سے بچاتا ہے۔  طرح طرح کی آفات سے بچا تا ہے۔  اس کے لیے زندگی کے اتنے ذرائع بہم پہنچاتا ہے جن کا شمار نہیں  ہو سکتا۔ اور اس کے لیے ہر قدم پر دنیا میں  باقی رہنے کے  وہ مواقع فراہم کرتا ہے جن میں  سے اکثر کا اُسے شعور تک نہیں  ہوتا کجا کہ وہ انہیں  خود فراہم کرنے پر قادر ہو۔ کیا یہ سب کچھ ایک خدا کی تدابیر اور نگرانی کے بغیر وہ رہا ہے ؟

۳: اصل میں  صُلب اور تَرائب کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔  صُلب ریڑھ کی ہڈی کو کہتے ہیں،  اور تَرائب کے معنی ہیں  سینے کی ہڈیاں ،  یعنی پسلیاں ۔  چونکہ عورت اور مرد  دونوں  کے مادہ تولید انسا ن کے اُس دھڑ سے خارج ہوتے  ہیں  جو صُلب اور سینے کے درمیان واقع ہے،  اس لیے فرمایا گیا کہ انسان اُس پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔  یہ مادّہ اُس صورت میں  بھی پیدا ہوتا ہے جبکہ ہاتھ اور پاؤں  کٹ جائیں،  اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں  ہے کہ یہ انسان کے پورے جسم سے خارج ہوتا ہے۔  درحقیقت جسم کے اعضاء رئیسہ اِس کے ماخذ ہیں ،  اور وہ سب آدمی کے دھڑ میں  واقع ہیں۔  دماغ کا الگ ذکر اس لیے نہیں  کیا گیا کہ صُلب دماغ کا وہ حصہ ہے جس کی بدولت ہی جسم کے ساتھ دماغ کا تعلق قائم ہوتا ہے (نیز ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر۴، صفحہ نمبر۵۸۳)۔

۴: یعنی جس طرح وہ انسان کو وجود میں  لاتا ہے اور استقرارِ حمل کے وقت سے مرتے دم تک اس کی نگہبانی کرتا ہے،  یہی اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ وہ اُسے موت کے بعد پلٹا کر پھر وجود میں  لا سکتا ہے۔  اگر وہ پہلی چیز پر قادر تھا اور اُسی قدرت کی بدولت انسان دنیا میں  زندہ موجود ہے،  تو آخر کیا معقول دلیل یہ گمان کرنے کے لیے پیش کی جا سکتی ہے کہ دوسری چیز پر وہ قادر نہیں  ہے۔  اِس قدرت کا انکار کرنے کے لیے آدمی کو سرے سے  اِس بات کا انکار کرنا ہو گا کہ خدا اُسے وجود میں  لایا ہے،  اور جو شخص اس  کا انکار کرئے اس سے کچھ بعید نہیں  کہ ایک روز اُس کے دماغ کی خرابی اُس سے یہ دعویٰ بھی کرا دے کہ دنیا کی  تمام کتابیں  ایک حادثہ کے طور پر چھپ گئی ہیں،  دنیا کے تمام شہر ایک حادثہ کے طور پر بن گئے ہیں ،  اور زمین پر کوئی اتفاقی حادثہ ایسا ہو گیا تھا جس سے تمام کار خانے بن کر خود بخود چلنے لگے۔  حقیقت یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اور اس کے جسم کی بناوٹ اور اس کے اندر کام کرنے والی قوتوں  اور صلاحیتوں  کا پیدا ہونا اور اس کا ایک زندہ ہستی کی حیثیت سے باقی رہنا اُن تمام کاموں  سے بدر جہا زیادہ پیچیدہ عمل ہے جو انسان کے ہاتھوں  دنیا میں  ہوئے اور ہو رہے ہیں۔  اتنا بڑا پیچیدہ عمل اِس حکمت اور تناسُب اور تنظیم کے ساتھ اگر اتفاقی حادثہ کے طور پر ہو سکتا ہو تو پھر کون سی چیز ہے جسے ایک دماغی مریض حادثہ نہ کہہ سکے ؟

۵: پوشیدہ اُسرار سے مراد ہر شخص کے وہ اعمال بھی ہیں  جو دنیا میں  ای راز بن کر رہ گئے،  اور وہ معاملات بھی ہیں  جو اپنی ظاہری صورت میں  تو دنیا  کے سامنے آئے مگر اُن کے پیچھے جو نیتیں  اور اغراض اور خواہشات کام کر رہی تھیں،  اور ان کے جو باطنی محرکات تھے اُن کا حال لوگوں  سے چھپا رہ گیا۔ قیامت کے روز یہ سب کچھ کھل کر سامنے آ جائے گا اور جانچ پڑتال صرف اِسی بات کی نہیں  ہو گی کہ کس شخص نے کیا کچھ کیا، بلکہ اس بات کی بھی ہو گی کہ کس وجہ سے کیا، کس غرض اور کس نیت اور کس مقصد سے کیا۔ اسی طرح یہ بات بھی ساری دنیا سے،  حتیٰ کہ  خود ایک فعل کرنے والے انسان سے بھی مخفی رہ گئی ہے کہ جو فعل اس نے کیا اُس کے کیا اثرات دنیا میں  ہوئے،  کہاں  کہاں  پہنچے،  اور کتنی مدت  تک چلتے رہے۔  یہ راز بھی قیامت ہی کے روز کھُلے گا اور اِس کی پوری جانچ پڑتال ہو گی کہ جو بیج کوئی شخص دنیا میں  بو گیا تھا اس کی فصل کس کس شکل میں  کب تک کٹتی رہی اور کون کون اسے کاٹتا رہا۔

۶: آسمان کے لیے ذات الرجع کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔  رَجع کے لُغوی معنی تو پلٹنے کے ہیں،  مگر مجاز اً عربی زبان میں  یہ لفظ بارش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،  کیونکہ وہ بس ایک ہی دفعہ بر س کر نہیں  رہ جاتی بلکہ بار بار اپنے موسم میں  اور کبھی خلافِ موسم پلٹ پلٹ کر آتی ہے اور وقتاً فوقتاً برستی رہتی ہے۔  ایک اور درجہ بارش کو رجع کہنے کی یہ بھی ہے کہ زمین کے سمندروں  سے پانی بھاپ بن کر اٹھتا ہے اور پھر پلٹ کر زمین ہی پر برستا ہے۔

۷: یعنی جس طرح آسمان سے بارشوں  کا برسنا اور زمین کا شق ہو کر نباتات اپنے اندر سے اُگلنا کوئی مذاق نہیں  ہے بلکہ ایک سنجیدہ حقیقت ہے،  اُسی طرح قرآن مجید جس چیز کی خبر دے رہا ہے کہ انسان کو پھر اپنے خدا کی طرف پلٹنا ہے،  یہ بھی کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں  ہے بلکہ ایک دو ٹوک بات ہے،  ایک سنجیدہ حقیقت ہے،  ایک اٹل قولِ حق ہے جسے پورا ہو کر رہنا ہے۔

۸: یعنی یہ کفار اِ س قران کی دعوت کو شکست دینے کے لیے طرح طرح کی چالیں  چل رہے ہیں۔  اپنی پھونکوں  سے اِس چراغ کو بجھانا چاہتے ہیں۔  ہر قسم کے شبہات لوگوں  کے دلوں  میں  ڈال رہے ہیں۔  ایک سے ایک جھوٹا الزام تراش کر اِس کے پیش کرنے والے نبی پر لگا رہے ہیں  تا کہ دنیا میں  اُس کی بات چلنے نہ پائے اور کفر و جاہلیت کی وہی تاریکی چھائی رہے جسے چھانٹنے کی وہ کوشش کر رہا ہے۔

۹: یعنی میں  یہ تدبیر کر رہا ہوں  کہ اِن کی کوئی چال کامیاب نہ ہونے پائے،  اور یہ آخر کار منہ کی کھا کر رہیں،  اور وہ نور پھیل کر رہے جسے یہ  بجھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔

۱۰: نگہبان سے مراد خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو زمین  و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی مخلوق کی دیکھ بھال اور حفاظت کر رہی ہے،  جس کے وجود میں  لانے سے ہر شے وجود میں  آئی ہے،  جس کے باقی رکھنے سے ہر شے باقی ہے،  جس کے سنبھالنے سے ہر شے اپنی جگہ سنبھلی ہوئی ہے،  اور جس نے ہر چیز کو اس کی ضروریات بہم پہنچانے اور اُسے ایک مدت مقررہ تک آفات سے بچانے کا ذمّہ لے رکھا ہے۔  اس بات پر آسمان کی اور رات کی تاریکی میں  نمو دار ہونے والے ہر ستارے اور سیارے کی قسم کھائی گئی ہے (النجم الثاقب کا لفظ اگرچہ لغت کے اعتبار سے واحد ہے،  لیکن مراد اُس سے ایک ہی تارا نہیں  بلکہ تاروں  کی جنس ہے )۔یہ قسم اِس معنی میں  ہے کہ رات کو آسمان میں  یہ بے حدوحساب تارے اُس سیارے  جو چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں  ان میں  سے ہر ایک کا وجود اس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ کوئی ہے جس نے اُسے بنایا ہے،  روشن کیا ہے،  فضا میں  معلق رکھ چھوڑا ہے،  اور اس طرح اس کی حفاظت و نگہبانی کر رہا ہے کہ نہ وہ اپنے مقام سے گرتا ہے،  نہ بے شمار تاروں  کی گردش کے دوران میں  وہ کسی سے ٹکراتا ہے اور نہ کوئی دوسرا تارا  اس سے ٹکراتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

۸۷۔ سورة الاعلیٰ

 

 

نام

 

پہلی ہی آیت  سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ کے لفظ  اَلْاَعْلیٰ  کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اِس کے مضمون سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں  میں  سے ہے،  اور آیت نمبر ۶ کے یہ الفاظ بھی کہ ’’ ہم تمہیں  پڑھوا دیں  گے،  پھر تم نہیں  بھُولو گے ‘‘ یہ بتاتے ہیں  کہ یہ اُس زمانے میں  نازل ہوئی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو ابھی وحی اخذ کرنے کی اچھی طرح مشق نہیں  ہوئی تھی اور نزولِ وحی کے وقت آپ کو اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں  میں  اُس کے الفاظ بھول نہ جاؤں۔  اِس آیت کے ساتھ اگر سورۂ طٰہٰ کی آیت ۱۱۴، اور سورۂ قیامہ کی آیات ۱۹-۱۶ کو ملا کر دیکھا جائے،  اور تینوں  آیتوں  کے اندازِ بیان اور موقع و محل پر بھی غور کیا جائے تو واقعات کی ترتیب یہ معلوم ہوتی ہے کہ سب سے پہلے اِس سُورہ میں  حضور ؐ کو اطمینان دلایا گیا  کہ آپ فکر نہ کریں،  ہم یہ کلام آپ کو پڑھوا دیں  گے اور آپ اِسے نہ بھولیں  گے۔  پھر ایک مدت کے بعد،  دوسرے موقع پر جب سورۂ قیامہ نازل ہو رہی تھی، حضور بے اختیار الفاظِ وحی کو دُہرانے لگے۔  اُس وقت فرمایا گیا کہ ’’ اے نبی، اِس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی  زبان کو حرکت نہ دو، اِس کو یاد کر ا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمّہ ہے،  لہٰذا جب ہم اِسے پڑھ رہے ہوں  اُس وقت تم اِس کی قرأت  کو غور سے سنتے رہو، پھر اِس کا مطلب سمجھا دینا  بھی ہمارے ہی ذمّہ ہے۔ ‘‘ آخری مرتبہ سورۂ طٰہٰ کے نزول کے موقع پر حضور کو پھر بتقاضائے بشریت اندیشہ لاحق ہوا کہ یہ ۱۱۳ آیتیں  جو متواتر نازل ہوئی ہیں  اِن میں  سے کوئی چیز میرے حافظے سے نکل نہ جائے اور آپ اُن کو یاد کرنے کی کوشش کرنے لگے۔  اس پر فرمایا گیا ’’ اور قرآن پڑھنے میں  جلدی نہ کیا کرو جب تک تمہاری طرف اس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے۔ ‘‘ اِس کے بعد پھر کبھی اِس کی نوبت نہیں  آئی کہ حضور ؐ کو ایسا کوئی خطرہ لاحق ہوتا، کیونکہ اِن تین مقامات کے سوا کوئی چوتھا مقام قرآن میں  ایسا نہیں  ہے جہاں  اِس معاملہ کی طرف کوئی اشارہ پایا جاتا ہو۔

 

موضوع اور مضمون

 

اِس چھوٹی سی سورۃ کے تین موضوع ہیں۔  توحید۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایات۔  اور آخرت۔

پہلی آیت میں  توحید کی تعلیم کو اِس ایک فقرے میں  سمیٹ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کی تسبیح کی جائے،  یعنی اُس کو کسی ایسے نام سے یا د نہ کیا جائے جو اپنے اندر کسی قسم کے نقص، عیب، کمزوری یا مخلوقات سے تشبیہ کا کوئی پہلو رکھتا ہو۔ کیونکہ دنیا میں  جتنے بھی فاسد عقائد پیدا ہوئے ہیں  اُن سب کی جڑ اللہ تعالیٰ کے متعلق کوئی نہ کوئی غلط تصور ہے جس نے اُس ذاتِ پاک کے لیے کسی  غلط نام کی شکل اختیار کی ہے۔  لہٰذا عقیدے کی تصحیح کے لیے سب سے مقدم یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کو صرف اُن اسماء حسنیٰ ہی سے یا د کیا جائے جو اُس کے لیے موزوں  اور مناسب ہیں۔

اِس کے بعد تین آیتوں  میں  بتایا گیا ہے کہ تمہارا رب، جس کے نام کی تسبیح کا حکم دیا جا رہا ہے،  وہ ہے جس نے کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا، اُس کا تناسب قائم کیا، اُس کی تقدیر بنائی، اُسے وہ کام انجام دینے کی راہ بتائی جس کے لیے وہ پیدا کی گئی ہے،  اور تم اپنی آنکھوں  سے اُس کی قدرت کا یہ کرشمہ دیکھ رہے ہو کہ وہ زمین پر نباتات کو پیدا بھی کرتا ہے اور پھر انہیں  خس و خاشاک بھی بنا دیتا ہے۔  کوئی ہستی نہ بَہار لانے پر قادر ہے نہ خزاں  کو آنے سے روک سکتی ہے۔

پھر دو آیتوں  میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ آپ اِس فکر میں  نہ پڑیں  کہ یہ قرآن جو اپ پر نازل کیا جا رہا ہے،  یہ لفظ بلفظ آپ کو یاد کیسے رہے گا۔ اس کو آپ کے حافظے  میں  محفوظ  کر دینا ہمارا کام ہے،  اور اس کا محفوظ رہنا آپ کے کسی ذاتی کمال کا نتیجہ نہیں  بلکہ ہمارے فضل کا نتیجہ ہے،  ورنہ  ہم چاہیں  تو اسے بھُلا دیں۔

اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  سے فرمایا گیا ہے کہ آپ کے سپرد ہر ایک کو راہِ راست پر لے آنے کا کام نہیں  کیا گیا ہے بلکہ آپ کا کام بس حق کی تبلیغ کر دینا ہے،  اور تبلیغ کا سیدھا  سادھا  طریقہ یہ ہے کہ جو نصیحت سننے اور قبول کر نے کے لیے تیار ہوا اُسے نصیحت کی جائے اور جو اُس کے لیے تیار نہ ہو اُس کے پیچھے نہ پڑا جائے۔  جس کے دل میں  گمراہی کے انجامِ بد کا خوف ہو گا وہ حق بات کو سن کر قبول کر لے گا اور جو بدبخت اُسے سننے اور قبول کرنے سے گریز کرے گا وہ اپنا بُرا انجام خود دیکھ لے گا۔

آخر میں  کلام کو اِس بات پر ختم کیا گیا ہے کہ فلاح صرف اُن لوگوں  کے لیے ہے جو عقائد، اخلاق اور اعمال کی پاکیزگی اختیار کریں  اور اپنے رب کا نام یاد کر کے نماز پڑھیں۔  لیکن لوگوں  کا حال یہ ہے کہ انہیں  ساری فکر بس اِسی دنیا کے آرام و آسائش اور فائدوں  اور لذتوں  کی ہے،  حالانکہ اصل فکر آخرت کی ہونی چاہیے،  کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی، اور دنیا کی نعمتوں  سے آخرت کی نعمتیں  بدرجہا بڑھ کر ہیں۔  یہ حقیقت صرف قرآن ہی میں  نہیں  بتائی جا رہی ہے،  بلکہ حضرت ابراہیم ؑ  اور حضرت موسیٰ ؑ کے صحیفوں  میں  بھی انسان کو اِسی حقیقت سے آگاہ کیا گیا تھا۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

(اے نبیؐ )اپنے ربِّ برتر کے نام کی تسبیح کرو ۱ جس نے پیدا کیا اور تناسُب قائم کیا، ۲ جس نے تقدیر بنائی ۳ پھر راہ دکھائی، ۴ جس نے نباتات اُگائیں  ۵ پھر اُن کو سیاہ کُوڑا کرکٹ بنا دیا۔ ۶

ہم تمہیں  پڑھوا دیں  گے،  پھر تم نہیں  بھولو گے ۷ سوائے اُس کے جو اللہ چاہے،  ۸ وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جوکچھ پوشیدہ ہے اُس کو بھی۔ ۹

اور ہم تمہیں  آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں،  لہٰذا تم نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو۔ ۱۰ جو شخص ڈرتا ہے وہ نصیحت قبول کر لے گا، ۱۱ اور اس سے گریز کرے گا وہ انتہائی بد بخت جو بڑی آگ میں  جائے گا،  پھر نہ اس میں  مرے گا اور نہ جیے گا۔ ۱۲

فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی ۱۳ اور اپنے ربّ کا نام یاد کیا ۱۴ پھر نماز پڑھی۔ ۱۵ مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، ۱۶ حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔  ۱۷ یہی بات پہلے آئے ہوئے صحیفوں  میں  بھی کہی گئی تھی، ابراہیمؑ  اور موسیٰؑ کے صحیفوں  میں۔  ۱۸ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: لفظی ترجمہ ہو گا ’’اپنے ربِّ  برتر کے نام کو پاک کرو۔‘‘ اِس کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں  اور وہ سب ہی مراد ہیں۔  (۱) اللہ تعالیٰ کو اُن ناموں  سے یا د کیا جائے جو اُس کے لائق ہیں  اور ایسے نام اُن کی ذاتِ  برتر کے لیے استعمال نہ کیے جائیں  جو اپنے معنی اور مفہوم کے لحاظ سے اُس کے لیے موزوں  نہیں  ہیں،  یا جن میں  اس کے لیے نقص یا گستاخی یا شرک کا کوئی پہلو نکلتا ہے،  یا جن میں  اُس کی ذات یا صفات  یا افعال کے بارے میں  کوئی غلط  عقیدہ پایا جاتا ہے۔  اِس غرض کے لیے محفوظ ترین صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے وہی نام استعمال کیے جائیں  جو اس نے خود قرآن مجید میں  بیان فرمائے ہیں ،  یا جو دوسری زبان میں  اُن کا صحیح ترجمہ ہوں۔ (۲) اللہ کے لیے مخلوقات کے سے نام، یا مخلوقات کے لیے اللہ کے ناموں  جیسے نام استعمال نہ کیے جائیں۔  اور اگر کچھ صفاتی نام ایسے ہوں  جو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص نہیں  ہیں  بلکہ بندوں  کے لیے بھی ان کا استعمال جائز ہے،  مثلاً رؤف، رحیم، کریم، سمیع، بصیر وغیرہ،  تو ان میں  یہ  احتیاط ملحوظ رہنی چاہیے کہ بندے کے لیے ان کا استعمال اُس طریقے پر نہ ہو جس طرح اللہ کے لیے ہوتا ہے۔ (۳) اللہ کا نام ادب اور احترام کے ساتھ لیا جائے  کسی ایسے طریقے پر یا ایسی حالت میں  نہ لیا جائے جو اس کے احترام کے منافی ہو، مثلاً ہنسی مذاق میں  یا بیت الخلاء میں  یا کوئی گناہ کرتے ہوئے اس کا نام لینا، یا ایسے لوگوں  کے سامنے اس کا ذکر کرنا جو اسے سن کر گستاخی پر اُتر آئیں،  یا ایسی مجلسوں  میں  اُ س کا نام لینا جہاں  لوگ بیہودگیوں  میں  مشغول ہوں  اور اس کا ذکر سن کر مذاق میں  اڑا دیں،  یا ایسے موقع پر اس کا نام پاک زبان پر لانا جہاں  اندیشہ ہو کہ سننے والا اسے ناگواری کے ساتھ سنے گا۔ امام مالک کے حالات میں  منقول ہے کہ جب کوئی  سائل ان سے کچھ مانگتا اور وہ اس وقت اُسے کچھ نہ دے سکتے تو عام لوگوں  کی طرح اللہ دے گا نہ کہتے بلکہ کسی اور طرح معذرت کر دیتے تھے۔  لوگوں  نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں  نے کہا کہ سائل کو جب کچھ نہ دیا جائے اور اس سے معذرت کر دی جائے تو لامحالہ اسے ناگوار ہوتا ہے۔  ایسے موقع پر  میں  اللہ کا نام لینا مناسب نہیں  سمجھتا کہ کوئی شخص اسے ناگواری کے ساتھ سُنے۔  احادیث میں  حضرت عقبہ بن عامر جُہَنِی سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے سجدے میں  سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ پڑھنے کا حکم اِسی آیت کی بنا پر دیا تھا، اور رکوع میں  سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم پڑھنے کا جو طریقہ حضور ؐ نے مقرر فرمایا تھا وہ سورۂ واقعہ کی آخری آیت فَسَبِّحْ بِا سْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ پر مبنی تھا( مسند احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ، ابن حِبّان، حاکم، ابن المنذِر)

۲: یعنی زمین سے آسمانوں  تک کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا، اور جو چیز بھی پیدا کی اُسے بالکل راست  اور درست بنایا، اس کا توازُن اور تناسُب ٹھک  ٹھیک قائم کیا، اُس کو ایسی صورت پر پیدا کیا  کہ اُس جیسی چیز کے لیے اُس سے بہتر صورت کا تصور نہیں  کیا جا سکتا۔ یہی بات ہے جو سورۂ سَجدہ میں  یوں  فرمائی گئی ہے کہ اَلَّذِیْٓ اَحْسَنَ کُلَّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ (آیت۷)۔’’جس نے ہر چیز جو بنائی خوب ہی بنائی۔‘‘ اِس طرح دنیا کی تمام اشیاء کا موزوں  اور متناسِب پیدا ہونا خود اس امر کی صریح علامت ہے کہ کوئی صانِع حکیم اِن سب کا خالق ہے۔  کسی اتفاقی حادثے سے،  یا بہت سے خالقوں  کے عمل سے کائنات کے اِن بے شمار اجزاء کی تخلیق میں  یہ سلیقہ،  اور مجموعی طور پر ان سب اجزاء کے اجتماع سے کائنات  میں  یہ حسن و جمال پیدا نہ ہو سکتا تھا۔

۳: یعنی ہر چیز کے پیدا کرنے سے پہلے یہ طے کر دیا کہ اسے دنیا میں  کیا کام کرنا ہے اور اُس کام کے لیے اُس کی مِقدار کیا ہو، اُس کی شکل کیا ہو، اس کی صفات کیا ہوں،  اس کا مقام کس جگہ ہو، اس کے لیے بقاء اور قیام اور فعل کے لیے کیا مواقع اور ذرائع فراہم کیے جائیں،  کسی وقت وہ وجود میں  آئے،  کب تک اپنے حصے کا کام کرے اور کب کس طرح ختم ہو جائے۔  اِس پوری اسکیم کا مجموعی نام اُس کی  ’’تقدیر‘‘ ہے،  اور یہ تقدیر اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کے لیے اور مجموعی طور پر پوری کائنات کے لیے بنائی ہے۔  اس کے معنی یہ ہیں  کہ تخلیق کسی پیشگی منصوبے کے بغیر کچھ یونہی الل ٹپ نہیں  ہو گئی ہے بلہ اس کے لیے ایک پورا منصوبہ خالق کے پیش نظر تھا اور سب کچھ اس منصوبے کے مطابق ہو رہا ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الِحجر، حواشی ۱۴-۱۳۔ جلد سوم، الفرقان، حاشیہ۸۔ جلد پنجم، القمر، حاشیہ ۲۵۔ جلد ششم، عبس، حاشیہ ۱۲)۔

۴: یعنی کسی چیز کو بھی محض پیدا کر کے چھوڑ نہیں  دیا، بلکہ جو چیز بھی جس کام کے لیے پیدا کی اُسے اُس کام کے انجام دینے  کا طریقہ بتایا۔ بالفاظ دیگر وہ محض خالق ہی نہیں  ہے،  ھادی بھی ہے۔  اس نے یہ ذمّہ لیا ہے کہ جو چیز جس حیثیت میں  اُس نے پیدا کی ہے اس کو ویسی ہی ہدایت دے جس کے وہ لائق ہے اور اُسی طریقہ سے ہدایت دے جو اُس کے لیے موزوں  ہے۔  ایک قسم کی ہدایت زمین اور چاند اور سورج اور تاروں  اور سیّاروں  کے لیے ہے جس پر وہ سب چل رہے ہیں  اور اپنے حصے کا کام انجام دے رہے ہیں۔  ایک اور قسم کی ہدایت پانی اور ہوا اور روشنی اور جمادات  و معدنیات کے لیے جس کے مطابق وہ ٹھیک ٹھیک وہی خدمات  بجا لا رہے ہیں  جن کے لیے انہیں  پیدا کیا گیا ہے۔  ایک اور قسم کی ہدایت نباتات کے لیے ہے جس کی پیروی میں  وہ زمین کے اندر اپنی جڑیں   نکالتے اور پھیلاتے ہیں ،  اس کی تہوں  سے پھوٹ کر نکلتے ہیں،  جہاں  جہاں  اللہ نے ان کے لیے غذا پیدا کی ہے وہاں  سے اس کو حاصل کرتے ہیں ،  تنے،  شاخیں،  پتّیاں،  پھل  پھول لاتے ہیں  اور وہ کام پورا کرتے ہیں  جو ان  میں  سے  ہر ایک کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔  ایک اور قسم کی ہدایت خشکی،  تری اور ہوا کے حیوانات کی بے شمار انواع اور ان کے ہر فرد کے لیے جس کے حیرت انگیز مظاہر جانوروں  کی زندگی  اور اُن کے کاموں  میں  عَلانیہ نظر آتے ہیں،  حتیٰ کہ ایک دہریہ بھی یہ ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ مختلف قسم کے جانوروں  کو کوئی ایسا الہامی علم حاصل ہے جو انسان کو اپنے حواس تو درکنار،  اپنے آلات کے ذریعہ سے بھی حاصل نہیں  ہوتا۔ پھر انسان کے لیے دو الگ الگ نوعیتوں  کی ہدایتیں  ہیں  جو اس کی دو الگ حیثیتوں  سے مطابقت رکھتی ہیں۔  ایک وہ ہدایت جو اس کی حیوانی زندگی کے لیے ہے،  جس کی بدولت ہر بچہ پیدا ہوتے ہی دودھ پینا سیکھ لیتا ہے،  جس کے مطابق انسان کی آنکھ،  ناک،  کان،  دل،  دماغ، پھیپھڑے،  گردے،  جگر، معدہ، آنتیں،  اعصاب، رگیں  اور شریانیں،  سب اپنا  اپنا کام کیے جا رہے ہیں  بغیر اس کے کہ انسان کو اُس کا شعور  ہو یا اس کے ارادے کا اِن اعضاء کے کاموں  میں  کوئی دخل ہو۔ یہی ہدایت ہے جس کے تحت انسان کے اندر بچپن،  بلوغ، جوانی، کہولت اور بڑھاپے کے وہ سب جسمانی اور ذہنی تغیّرات ہوتے چلے جاتے ہیں  جو اس کے ارادے اور مرضی،  بلکہ  شعور کے بھی محتاج نہیں  ہیں۔  دوسری ہدایت انسان کی عقلی اور شعوری زندگی کے لیے ہے جس کی نوعیت غیر شعوری زندگی کی ہدایت سے قطعا! مختلف ہے،  کیونکہ اِس شعبۂ حیات میں  انسان کی طرف ایک قسم کا اختیار منتقل کیا گیا ہے جس کے لیے ہدایت کا وہ طریقہ موزوں  نہیں  ہے جو بے اختیارانہ زندگی  کے لیے موزوں  ہے۔  انسان اِ س آخری قسم کی ہدایت سے منہ موڑنے کے لیے خواہ کتنی ہی حجّت بازیاں  کرے،  لیکن یہ بات ماننے کے لائق  نہیں  ہے کہ جس خالق نے اِس ساری کائنات میں  ہر چیز کے لیے اس کی ساخت اور حیثیت کے مطابق ہدایت کا انتظام کیا ہے اُس نے انسان کے لیے یہ تقدیر تو بنا دی ہو گی کہ وہ اس کی دنیا میں  اپنے اختیار سے تصرُّفات کرے مگر اس کو یہ بتانے کا کوئی انتظام نہ کیا ہو گا کہ اس اختیار کے استعمال کی صحیح صورت کیا ہے  اور غلط صورت کیا (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل، حواشی ۵۶- ۱۴-۱۰-۹۔ جلد سوم،  طٰہٰ، حاشیہ ۲۳۔ جلد پنجم، الرحمٰن، حواشی ۳-۲۔ جلد ششم، الدھر، حاشیہ۵)۔

۵: اصل میں  لفظ مَرْعیٰ استعمال ہوا ہے جو جانوروں  کے چارے کے لیے بولا جاتا ہے،  لیکن سیاقِ عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں  صرف چارہ مراد نہیں  ہے بلکہ ہر قسم کی نباتات مراد ہیں  جو زمین سے اُگتی ہیں۔

۶: یعنی وہ صرف بہا رہی لانے والا نہیں  ہے،  خزاں  بھی لانے والا ہے۔  تمہاری آنکھیں  اس کی قدرت کے دونوں  کرشمے دیکھ رہی ہیں۔  ایک طرف وہ ایسی ہری بھری نباتات اُگاتا ہے جن کی تازگی و شادابی دیکھ کر دل خوش ہو جاتے ہیں،  اور دوسری طرف اُسی نباتات کو وہ زرد، خُشک اور سیاہ کر کے ایسا کوڑا کرکٹ بنا دیتا ہے جسے ہوائیں  اڑاتی پھرتی ہیں  اور سیلاب خس و خاشاک کی صورت میں  بہا لے جاتے ہیں۔  اس لیے کسی کو بھی یہاں  اِس غلط فہمی میں  نہ رہنا چاہیے کہ وہ دنیا میں  صرف بہار ہی دیکھے گا خزاں  سے اس کو سابقہ پیش نہیں  آئے گا۔ یہی مضمون قرآن مجید میں  متعدد مقامات پر  دوسرے انداز میں  بیان ہوا ہے۔  مثلاً ملاحظہ ہو سورۂ یونس، آیت ۲۴۔ سورۂ کہف، آیت ۴۵۔ سورۂ حدید، آیت ۲۰۔

۷: حاکم نے حضرت سعد ؓ  بن ابی وقاص سے اور ابن مَرْ دُوْیَہ نے حضرت عبداللہ ؓ  بن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  قرآن کے الفاظ کو اِس خوف سے دہراتے جاتے تھے کہ کہیں  بھول نہ جائیں۔  مجاہد اور کَلْبی کہتے ہیں  کہ جبریل وحی سنا کر فارغ نہ ہوتے تھے کہ حضور ؐ بھول جانے کے اندیشے سے ابتدائی حصہ دُہرانے لگتے تھے۔  اِسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو یہ اطمینان دلایا کہ وحی کے نزول کے وقت آپ خاموشی سے سُنتے رہیں،  ہم آپ کو اُسے پڑھوا دیں  گے اور وہ ہمیشہ کے لیے آپ کو یاد ہو جائے گی، اِس بات کا کوئی اندیشہ آپ نہ کریں  کہ اس کا کوئی لفظ بھی آپ بھول جائیں  گے۔  یہ تیسرا موقع ہے جہاں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو وحی اخذ کرنے کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔  اس سے پہلے دو مواقع سورۂ طٰہٰ آیت ۱۱۴، اور سورۂ قیامہ آیات ۱۶ تا ۱۹ میں  گزر چکے ہیں۔  اِس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن جس طرح معجزے کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل کیا گیا تھا اُسی طرح معجزے کے طور پر  ہی اس کا لفظ لفظ آپ کے حافظے میں   بھی محفوظ کر دیا گیا تھا اور اس بات کا کوئی امکان باقی  نہیں  رہنے دیا گیا  تھا کہ آپ اس میں  سے کوئی چیز بھول جائیں،   یا اس کے کسی  لفظ کی جگہ کوئی دوسرا ہم معنی لفظ آپ کی زبان مبارک سے ادا ہو جائے۔

۸: اس فقرے کے د و مطلب ہو سکتے ہیں۔  ایک یہ کہ پورے قرآن کا لفظ بلفظ آپ کے حافظے میں  محفوظ ہو جانا آپ کی اپنی قوّت کا کرشمہ نہیں  ہے بلکہ اللہ کے فضل اور اس کی توفیق کا نتیجہ ہے،  ورنہ اللہ چاہے تو اسے بھُلا سکتا ہے۔  یہ وہی مضمون ہے جو دوسری جگہ قرآن مجید میں  یوں  بیان کیا گیا ہے : وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْھَبَنَّ بِا لَّذِیْٓ اَوْ حَیْنَآ اِلَیْکَ (بنی اسرائیل، ۸۶)۔ ’’اگر ہم چاہیں  تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں  جو ہم نے وحی کے ذریعہ سے تمہیں  عطا کیا ہے۔ ‘‘ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کبھی وقتی طور پر آپ کو نسسیان لاحق ہو جانا اور  آپ کا کسی آیت یا لفظ کو کسی وقت بھول جانا اس وعدے سے مستثنیٰ ہے۔  وعدہ جس بات کا کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ آپ مستقل طور  پر قرآن کے کسی لفظ کو نہیں  بھول جائیں  گے۔  اِس مفہوم کی تائید صحیح بخاری کی اِس روایت  سے ہوتی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم قرأت کے دوران میں  ایک آیت چھوڑ گئے۔  نماز کے بعد حضرت اُبَیّ بن کَعب نے پوچھا کیا یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے ؟ حضور ؐ نے فرمایا نہیں،  میں  بھول گیا تھا۔

۹: ویسے تو یہ الفاظ عام ہیں  اور ان کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے خواہ وہ ظاہر ہو یا مخفی۔ لیکن جس سلسلۂ کلام میں  یہ بات ارشاد ہوئی ہے اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ جو قرآن کو جبریل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ پڑھتے جا رہے ہیں  اِس کا بھی اللہ کو علم ہے،  اور بھول جانے کے جس خوف  کی بنا پر آپ ایسا کر رہے ہیں  وہ بھی اللہ کے علم میں  ہے۔  اس لیے آپ کو یہ اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ آپ اسے بھولیں  گے نہیں۔

۱۰: عام طور پر مفسّرین نے اِن دو فقروں  کو الگ الگ سمجھا ہے۔  پہلے فقرے کا مطلب انہوں  نے یہ لیا ہے کہ ہم تمہیں  ایک آسان شریعت دے رہے ہیں  جس پر عمل کرنا سہل ہے،  اور دوسرے فقرے کا یہ مطلب لیا ہے کہ نصیحت  کرو اگر وہ نافع ہو۔ لیکن ہمارے نزدیک  فَذَکِّرْ  کا لفظ دونوں  فقروں  کو باہم مربوط کرتا ہے اور بعد کے فقرے کا مضمون پہلے فقرے کے مضمون پر مترتّب ہوتا ہے۔  اس لیے ہم اس ارشاد الٰہی کا مطلب یہ سمجھتے ہیں  کہ اے نبی ؐ ہم تبلیغِ دین کے معاملہ میں  تم کو کسی مشکل میں  نہیں  ڈالنا چاہتے کہ تم بہروں  کو سناؤ اور اندھوں  کو راہ دکھاؤ، بلکہ ایک آسان طریقہ تمہارے لیے میسّر کیے دیتے ہیں ،  اور وہ یہ ہے کہ نصیحت کرو جہاں  تمہیں  یہ محسوس ہو کہ کوئی اُس سے فائدہ اُٹھا نے کے لیے تیار ہے۔  اب رہی یہ بات کہ کون اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے اور کون نہیں  ہے،  تو ظاہر ہے کہ ا س کا پتہ تبلیغِ عام ہی سے چل سکتا ہے۔  اس لیے عام تبلیغ تو جاری رکھنی چاہیے،  مگر اس سے تمہارا مقصود یہ ہونا چاہیے کہ اللہ کے بندوں  میں  سے اُن لوگوں    کو تلاش کرو جو اس سے فائدہ اٹھا کر راہِ راست  اختیار کر لیں۔  یہی لوگ تمہاری نگاہِ التفات کے مستحق ہیں  اور انہی کی تعلیم و تربیت پر تمہیں  توجہ صرف کرنا چاہیے۔  اِن کو چھوڑ کر ایسے لوگوں  کے پیچھے پڑنے کے تمہیں  کوئی ضرورت نہیں  ہے جن کے متعلق تجربے سے تمہیں  معلوم ہو جائے کہ وہ کوئی نصیحت قبول نہیں  کرنا چاہتے۔  یہ قریب قریب وہی مضمون ہے جو سورۂ عَبَس میں  دوسرے طریقے سے یوں  بیان فرمایا گیا ہے کہ ’’جو شخص بے پروائی برتتا ہے اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو،  حالانکہ اگر وہ نہ سُدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمّہ داری ہے ؟ اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے اُس سے تم بے رخی برتتے ہو۔ ہر گز نہیں۔  یہ تو ایک نصیحت ہے،  جس کا جی چاہے اسے قبول کرے۔ ‘‘(آیات ۵ تا ۱۲)۔

۱۱:  یعنی جس شخص کے دل میں  خدا کا خوف اور انجامِ بد کا اندیشہ ہو گا اُسی کو  یہ فکر  ہو گی کہ کہیں  میں  غلط راستے پر تو نہیں  جا رہا ہوں،  اور وہی اللہ کے اُس بندے کی نصیحت کو توجہ سے  سُنے گا جو اسے ہدایت اور گمراہی کا فرق اور فلاح و سعادت کا راستہ بتا رہا ہو۔

۱۲: یعنی نہ اُسے موت ہی آئے گی کہ عذاب سے چھوٹ جائے اور نہ جینے کی طرح جیے گا کہ زندگی کا کوئی لطف اسے حاصل ہو۔ یہ سزا اُن لوگوں  کے لیے  ہے جو سِرے سے اللہ اور اس کے رسول ؐ  کی نصیحت کو قبول ہی نہ کریں  اور مرتے دم تک کفر و شرک یا دہریت پر قائم رہیں۔  رہے وہ لوگ جو دل میں  ایمان رکھتے ہوں  مگر اپنے برے اعمال کی بنا پر جہنم میں  ڈالے جائیں  تو ان کے متعلق احادیث میں  آیا ہے کہ جب وہ اپنی سزا بھگت لیں  گے تو اللہ تعالیٰ انہیں  موت دے  دے گا، پھر ان کے حق میں  شفاعت قبول کی جائے گی اور ان کی جلی ہوئی لاشیں  جنت کی لہروں  پر لا کر ڈالی جائیں  گی اور اہلِ جنت سے کہا جائے گا کہ ان پر پانی ڈالو اور اس پانی سے وہ اس طرح جی اُٹھیں  گے جیسے نباتات پانی پڑ نے سے اُگ جاتی ہیں۔  یہ مضمون رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے مسلم  میں  حضرت ابو سعید خُدری اور بَزّار میں  حضرت ابو ہریرہ کے حوالہ سے منقول ہوا ہے۔

۱۳: پاکیزگی سے مراد ہے کفر و شرک چھوڑ کر ایمان لانا، برے اخلاق چھوڑ کر اچھے اخلاق اختیار کرنا اور برے اعمال چھوڑ کر نیک اعمال کرنا۔ فلاح سے مراد  دنیوی خوشحالی نہیں  ہے بلکہ حقیقی کامیابی ہے،  خواہ دنیا کی خوشحالی اس کے ساتھ میسّر ہو یا نہ ہو(تشریح کے  لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، یونس، حاشیہ نمبر۲۳۔ جلد سوم، المومنون، حواشی نمبر ۵۰-۱۱-۱۔ جلد چہارم، لقمان، حاشیہ نمبر ۴)۔

۱۴: یاد سے مراد دل میں بھی اللہ کو یاد کرنا اور زبان سے اس کا ذکر کرنا ہے۔ دونوں چیزیں ذکرِ الٰہی کی تعریف میں آتی ہیں۔

۱۵: یعنی صرف یاد کر کے نہیں رہ گیا بلکہ نماز کی پابندی اختیار کر کے  اس نے  ثابت کر دیا کہ جس خدا کو وہ اپنا خدا مان رہا ہے،  اس کی اطاعت کے لئے وہ عملاً تیار ہے۔ اور اس کو ہمیشہ یاد کرتے رہنے کا اہتمام کر رہا ہے۔ اس آیت میں علی الترتیب دو باتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلے اللہ کو یاد کرنا، پھر نماز پڑھنا۔ اسی کے مطابق یہ طریقہ مقرر کیا گیا ہے کہ اللہ اکبر کہہ کر نماز کی ابتدا کی جائے۔ یہ من جملہ ان شواہد کے ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کا جو طریقہ رسول الہ صلی اللہ و علیہ و سلم نے بتایا ہے، اُس کے تمام اجزاء قرآنی اشارات پر مبنی ہیں۔ مگر اللہ کے رسول کے سوا اِن اشارات کو جمع کر کے کوئی شخص بھی نماز کی یہ ہیئت ترتیب نہیں دے سکتا تھا۔

۱۶: یعنی تم لوگوں  کی ساری فکر بس دنیا اور اس کی راحت و آسائش اور اس کے فائدوں  اور لذّتوں  کے لیے ہے۔  یہاں   جو کچھ حاصل ہو جائے تم سمجھتے ہو کہ بس وہی اصل فائدہ ہے جو تمہیں  حاصل ہو گیا، اور یہاں  جس چیز سے محروم رہے تمہارا خیال ہے کہ بس وہی اصل نقصان ہے جو تمہیں  پہنچ گیا۔

۱۷۔ یعنی آخرت دو حیثیتوں سے دنیا کے مقابلے میں قابلِ ترجیح ہے۔ ایک یہ کہ اس کی راحتیں اور لذتیں دنیا کی نعمتوں سے بڑھ کر ہیں، اور دوسرے یہ کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی۔

۱۸: یہ دوسرا مقام ہے جہاں  قرآن میں  حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت موسیٰ ؑ  کے صحیفوں  کی تعلیم کا حوالہ دیا گیا ہے۔  اس سے پہلے سورۂ نجم رکوع۳ میں  ایک حوالہ گزر چکا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

۸۸۔سورۃ الغاشیۃ

 

نام

 

پہلی ہی آیت کے لفظ الغاشیۃ کو اس سُورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

سورۃ کا پورا مضمون اِس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ بھی ابتدائی زمانہ کی نازل شدہ سورتوں  میں  سے ہے،  مگر یہ وہ زمانہ تھا جب حضور ؐ تبلیغِ  عام شروع کر چکے تھے اور مکّہ کے لوگ بالعموم اُسے سُن سُن کر نظر انداز کیے جا رہے تھے۔

 

موضوع اور مضمون

 

اِس کے موضوع کو سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں  رہنی چاہیے کہ ابتدائی زمانہ میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی تبلیغ زیادہ تر دو ہی باتیں  لوگوں  کے ذہن نشین کرنے پر مرکوز تھی۔ ایک توحید، دوسرے آخرت۔ اور اہلِ مکہ اِن دونوں  باتوں  کو قبول کرنے سے انکار کر رہے تھے۔  اِس پس منظر کو سمجھ لینے کے بعد اب  اِس سورہ کے مضمون اور اندازِ بیان  پر غور کیجیے۔

اس میں  سب سے پہلے غفلت میں  پڑے ہوئے لوگوں  کو چَونکانے کے لیے اچانک اُن کے سامنے یہ سوال پیش کیا گیا ہے کہ تمہیں  اُ س وقت کی بھی کچھ خبر ہے جب سارے عالَم پر چھا جانے والی ایک آفت نازل ہو گی؟ اِس کے بعد فوراً ہی یہ تفصیل بیان کرنی شروع کر دی گئی ہے کہ اُس وقت سارے انسان دو مختلف گروہوں  میں  تقسیم ہو کر دو مختلف انجام دیکھیں  گے۔  ایک وہ جو جہنّم میں  جائیں  گے اور اُنہیں  ایسے اور ایسے سخت عذاب جھیلنے ہوں  گے۔  دوسرے وہ جو عالی مقام جنّت میں  جائیں  گے اور اُن کو ایسی اور ایسی نعمتیں  میسّر ہوں  گی۔

اس طرح لوگوں  کو چونکانے کے بعد یکلخت مضمون تبدیل ہوتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جو قرآن کی تعلیمِ  توحید اور خبرِ آخرت کو سُن کر نا ک بھوں  چڑھا رہے ہیں،  اپنے سامنے کی اُن چیزوں  کو نہیں  دیکھتے جن سے ہر وقت انہیں  سابقہ پیش آتا ہے ؟ عرب کے سحرا میں  جن اُونٹوں  پر ان کی ساری زندگی کا انحصار ہے،  کبھی یہ لوگ غور نہیں  کرتے کہ یہ کیسے ٹھیک اُنہی خصوصیات کے مطابق بن گئے جیسی خصوصیات کے جانور کی ضرورت ان کی صحرائی زندگی کے لیے تھی؟ اپنے سفروں  میں  جب یہ چلتے ہیں  تو انہیں  یا آسمان نظر آتا ہے،  یا پہاڑ، یا زمین۔  انہی تین چیزوں  پر یہ غور کریں۔  اوپر یہ آسمان کیسے چھا گیا؟ سامنے یہ پہاڑ کیسے کھڑے ہو گئے ؟ نیچے یہ زمین کیسے بِچھ گئی؟ کیا یہ سب کسی قادرِ مطلق صانعِ حکیم کی کاریگری کے بغیر ہو گیا ہے ؟ اگر یہ مانتے ہیں  کہ ایک خالق نے بڑی حکمت اور بڑی قدرت کے ساتھ ان چیزوں  کو بنایا ہے،  اور کوئی دوسرا ان کی تخلیق میں  شریک نہیں  ہے،  تو اسی کو اکیلا ربّ ماننے سے انہیں  کیوں  انکار ہے ؟ اور اگر یہ مانتے ہیں  کہ وہ خدا یہ سب کچھ پیدا کرنے پر قادر تھا،  تو آخر کس معقول دلیل سے انہیں  یہ ماننے میں  تأمُّل ہے کہ وہی خدا قیامت  لانے پر بھی قادر ہے ؟ انسانوں  کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے ؟ جنت اور دوزخ بنانے پر بھی قادر ہے ؟

اس مختصر اور نہایت معقول استدلال سے بات سمجھانے کے بعد کفّار کی طرف سے رُخ پھیر کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو مخاطب کیا جاتا ہے اور آپ ؐ سے ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ نہیں  مانتے تو نہ مانیں ،  تم اِن پر تو جبّار بنا کر تو مسلط کیے گئے نہیں  ہو کہ زبردستی ان سے منوا کر ہی چھوڑو۔ تمہارا کام نصیحت کرنا ہے،  سو تم نصیحت کیے جاؤ۔ آخر کار انہیں  آنا ہمارے ہی پاس ہے۔  اُس وقت ہم ان سے پورا پورا حساب لے لیں  گے اور نہ ماننے والوں  کو بھاری سزا دیں  گے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

کیا تمہیں  اُس چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے ؟ ۱ کچھ چہرے ۲ اُس روز خوف زدہ ہوں  گے،  سخت مشقت کر رہے ہوں  گے،  تھکے جاتے ہوں  گے،  شدید آگ میں  جھُلس رہے ہوں  گے،  کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں  پینے کو دیا جائے گا، خاردار سُوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا اُن کے لےن نہ ہو گا، ۳ جو نہ موٹا کرے نہ بھُوک مٹائے۔  کچھ چہرے اُس روز با رونق ہوں  گے،  اپنی کار گزاری پر خوش ہوں  گے،  ۴ عالی مقام جنّت میں  ہوں  گے،  کوئی بے ہودہ بات وہاں  نہ سُنیں  گے،  ۵ اُس میں  چشمے رواں  ہوں  گے،  اُس کے اندر اُونچی مسندیں  ہوں  گی، ساغر رکھے ہوئے ہوں  گے،  ۶ گاؤ تکیوں  کی قطاریں  لگی ہوں  گی اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں  گے۔

(یہ لوگ نہیں  مانتے )تو کیا یہ اُونٹوں  کو نہیں  دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے ؟ آسمان کو نہیں  دیکھتے کہ کیسے اُٹھایا گیا؟ پہاڑوں  کو نہیں  دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے ؟ اور زمین کو نہیں  دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟ ۷

اچھا تو (اے نبی ؐ )نصیحت کیے جاؤ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو، کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں  ہو۔ ۸ البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا تو اللہ اس کی بھاری سزا دے گا۔ اِن لوگوں  کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے،  پھر اِن کا حساب لینا ہمارے ہی ذمّہ ہے۔   ؏۱

 

تفسیر

 

۱: مراد ہے قیامت،  یعنی وہ آفت جو سارے جہان پر چھا جائے گی۔ اِس مقام پر یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ یہاں  بحیثیت مجموعی پورے عالمِ آخرت کا ذکر ہو رہا ہے  جو نظامِ  عالم کے درہم برہم ہونے سے شروع ہو کر تمام انسانوں  کے دوبارہ اُٹھنے اور اللہ تعالیٰ کی عدالت سے جزا و سزا پانے تک تمام مراحل پر حاوی ہے۔

۲: چہروں  کا لفظ یہاں  اشخاص کے معنی میں  استعمال ہوا ہے۔  چونکہ انسان کے جسم کی نمایاں  ترین چیز اُس کا چہرہ ہے جس سے اُس کی شخصیت پہچانی جاتی ہے،  اور انسان پر اچھی یا بُری جو کیفیات بھی گزرتی ہیں  ان کا اظہار اس کے چہرے سے ہی ہوتا ہے اِس لیے  ’’کچھ لوگ‘‘ کہنے کے بجائے  ’’کچھ چہرے ‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔

۳: قرآن مجید میں   کہیں  فرمایا گیا ہے کہ جہنّم کے لوگوں  کو زقّوم کھانے کے لیے دیا جائے گا، کہیں  ارشاد ہوا ہے کہ اُن کے لیے غِسْلین (زخموں  کے دھوون) کے سوا کوئی کھانا نہ ہو گا،  اور یہاں  فرمایا جا رہا ہے کہ انہیں  خاردار سوکھی گھاس کے سوا کچھ کھانے کو  نہ ملے گا۔ ان بیانات میں  درحقیقت کوئی تضاد نہیں  ہے۔  ان کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جہنّم کے بہت سے درجے ہوں  گے جن میں  مختلف قسم کے مجرمین اپنے جرائم کے لحاظ سے ڈالے جائیں  گے اور مختلف قسم کے عذاب ان کو دیے جائیں  گے۔  اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ زقّوم کھانے سے بچنا چاہیں  گے تو غسْلین ان کو ملے گا، اس سے بھی بچنا چاہیں  گے تو خاردار گھاس کے سوا کچھ نہ پائیں  گے،  غرض کوئی مرغوب غذا بہرحال انہیں  نصیب نہ ہو گی۔

۴: یعنی  دنیا میں  جو سعی و عمل کر کے وہ آئے ہوں  گے اس کے بہترین نتائج آخرت میں  دیکھ کر خوش ہو جائیں  گے۔  انہیں  اطمینان ہو جائے گا کہ دنیا میں  ایمان اور صلا ح  و تقویٰ کی زندگی اختیار کر کے انہوں  نے نفس اور اس کی خواہشات  کی جو قربانیاں  کیں،   فرائض کو ادا کرنے میں  جو تکلیفیں  اُٹھائیں،  احکامِ الٰہی کی اطاعت میں  جو زحمتیں  برداشت کیں ،  معصیتوں  سے بچنے کی کوشش میں  جو نقصانات اُٹھائے اور جن فائدوں  اور لذّتوں  سے اپنے آپ کو محروم کر لیا،  یہ سب کچھ فی الواقع بڑے نفع کا سودا تھا۔

۵: یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن مجید میں  جگہ جگہ جنّت کی نعمتوں  میں  سے ایک بڑی نعمت کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔  (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، مریم، حاشیہ ۳۸۔ جلد پنجم، الطور، حاشیہ ۱۸۔ الواقع، حاشیہ۱۳۔ جلد ششم، النباء،  حاشیہ ۲۱)۔

۶: یعنی ساغر بھرے ہوئے ہر وقت اُن کے سامنے موجود ہوں  گے۔   اِس کی حاجت ہی نہ ہو گی کہ وہ طلب کر کے انہیں  منگوائیں۔

۷: یعنی اگر یہ لوگ آخرت کی یہ باتیں  سُن کر کہتے ہیں  کہ آخر یہ سب کچھ کیسے ہو سکتا ہے،  تو کیا خود اپنے گرد و پیش کی دنیا  پر نظر ڈال کر انہوں  نے کبھی بھی نہ سوچا کہ یہ اُونٹ کیسے بن گئے ؟ یہ آسمان کیسے بلند ہو گیا؟ یہ پہاڑ کسے  قائم ہو گئے ؟ یہ زمین کیسے بِچھ گئی؟ یہ ساری چیزیں  اگر بن سکتی تھیں  تو اور بنی ہوئی ان کے سامنے موجود ہیں  تو قیامت کیوں  نہیں  آ سکتی؟ آخرت میں  ایک دوسری دُنیا کیوں  نہیں  بن سکتی؟ دوزخ اور جنت کیوں  نہیں  ہو سکتیں ؟ یہ تو ای بے عقل اور  بے فکر آدمی کا کام ہے کہ دنیا میں  آنکھیں  کھولتے ہی جن چیزوں  کو اس نے موجود پایا ہے ان کے متعلق تو وہ یہ سمجھ لے کہ ان کا وجود میں  آنا تو ممکن ہے کیونکہ یہ وجود میں  آئی ہوئی ہیں  ،  مگر جو چیزیں  اس کے مشاہدے اور تجربے میں  ابھی نہیں  آئی ہیں  ان کے بارے میں  وہ بے تکلف یہ فیصلہ  کر دے کہ اُن کا ہونا ممکن نہیں  ہے۔  اس کے دماغ میں  اگر عقل ہے تو اسے سوچنا چاہیے کہ جو کچھ موجود ہے یہ آخر کیسے وجود میں  آ گیا ؟ یہ اُونٹ ٹھیک اُن خصوصیات کے مطابق کیسے بن گئی جن خصوصیات کے جانور  کی عرب کے صحرا میں  رہنے والے انسانوں  کو ضرورت تھی؟ یہ آسمان کیسے بن گیا جس کی فضا میں  سانس لینے کے لیے ہوا بھری ہوئی ہے،  جس کے بادل بارش لے کر آتے ہیں،  جس کا سورج دن کو روشنی اور گرمی فراہم کرتا ہے،  جس کے چاند اور تارے رات کو چمکتے ہیں ؟  یہ زمین کیسے بِچھ گئی جس پر انسان رہتا اور بَستا ہے،  جس کی پیداوار سے اس کی تمام ضروریات پوری ہوتی ہیں،  جس کے چشموں  اور کنوؤں  پر اس کی زندگی کا انحصار ہے ؟ یہ پہاڑ زمین کی سطح پر کیسے اُبھر آئے جو رنگ برنگ کی مٹی اور پتھر اور طرح طرح کی معدنیات لیے ہوئے جمّے کھڑے ہیں ؟ کیا یہ سب کچھ کسی قادرِ مطلق صانع حکیم کی کاری گری کے بغیر ہو گیا ہے ؟ کوئی سوچنے اور سمجھنے والا دماغ اس سوال کا جواب نفی  میں  نہیں  دے سکتا۔  وہ اگر ضدّی اور ہٹ دھرم نہیں  ہے تو اسے ماننا پڑے گا کہ ان میں  سے ہر چیز نا ممکن تھی اگر کسی زبردست قدرت  اور حکمت والے نے  اسے ممکن نہ بنایا ہوتا۔  اور جب ایک قادر کی قدرت سے  دنیا کی ان چیزوں  کا بننا ممکن ہے تو  کوئی وجہ نہیں  کہ جن چیزوں  کے آئندہ وجود میں  آنے کی خبر دی جا رہی ہے اُن کو بعید از امکان سمجھا جائے۔

۸: یعنی اگر معقول دلیل سے کوئی شخص بات نہیں  مانتا تو نہ مانے۔  تمہارے سُپرد یہ کام تو نہیں  کیا گیا ہے کہ نہ ماننے والوں  سے زبردستی منواؤ۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں  کو صحیح اور غلط کا فرق بتا دو اور غلط راہ پر چلنے کے انجام سے خبردار کر دو۔ سو یہ فرض تم انجام دیتے رہو۔

٭٭٭

 

 

 

۸۹۔سورۃ الفجر

 

 

نام

 

پہلے ہی لفظ   وَالْفَجْر  کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اِس کے مضامین سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اُس زمانے میں  نازل ہوئی تھی جب مکّۂ معظمہ میں  اسلام قبول کرنے والوں  کے خلاف ظلم کی چکّی چلنی شروع ہو چکی تھی۔ اس بنا پر اہلِ مکّہ کو عاد اور ثمود اور فرعون کے انجام سے خبردار کیا گیا ہے۔

 

موضوع اور مضمون

 

اِس کا موضوع آخرت کی جزا اور سزا کا اثبات ہے جس کا اہلِ مکہ انکار کر رہے تھے۔  اِس مقصد کے لیے جس طرح ترتیب وار استدلال کیا گیا ہے،  اس کو اسی ترتیب کے ساتھ غور سے دیکھیے۔

سب سے پہلے فجر اور دس راتوں  اور جُفت اور طاق،  اور رخصت ہوتی ہوئی رات کی قسم کھا کر سامعین سے سوال کیا گیا ہے کہ جس بات کا تم انکار کر رہے ہو اس کے برحق ہونے کی شہادت  دینے کے لیے کیا یہ چیزیں  کافی نہیں  ہیں ؟ آگے حواشی میں  ان چاروں  چیزوں  کی جو تشریح ہم نے کی ہے اس سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ چیزیں  اُس باقاعدگی کی علامت ہیں  جو شب و روز کے نظام  میں  پائی جاتی ہیں ،  اور ان کی قسم کھا کر یہ سوال  اس معنی میں  کیا گیا ہے کہ خدا کے قائم کیے ہوئے اِس حکیمانہ نظام کو دیکھنے کے بعد بھی کیا اِس امر کی شہادت دینے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ یہ نظام جس خدا نے قائم کیا ہے اُس کی قدرت سے یہ بعید نہیں  ہے کہ وہ آخرت برپا کرے،  اور اس کی حکمت کا یہ تقاضا ہے کہ انسان سے اس کے اعمال  کی باز پُرس کرے ؟

اس کے بعد انسانی تاریخ سے استدلال کرتے ہوئے بطورِ مثال  عاد اور ثمود اور فرعون کے انجام کو پیش کیا گیا ہے کہ  جب وہ حد سے گزر گئے اور زمین میں  انہوں  نے بہت فساد مچایا تو اللہ کے عذاب کا کوڑا اُن پر برس گیا۔ یہ اِس  بات کی علامت ہے کہ کائنات کا نظام کچھ اندھی بہری طاقتیں  نہیں  چلا رہی ہیں،  نہ یہ دنیا کسی چَوپَٹ  راجا کی اندھیر نگری ہے،  بلکہ ایک فرمانروائے حکیم و دانا اس پر حکمرانی کر رہا ہے جس کی حکمت اور عدل کا یہ تقاضا خود اس دنیا میں  انسانی تاریخ کے اندر مسلسل نظر آتا ہے۔  کہ  عقل اور اخلاقی حِس دے کر  جس مخلوق کو اس نے یہاں  تصرَّف  کے اختیارات دیے ہیں  اس کا محاسبہ کرے اور اسے جزا اور سزا دے۔

اس کے بعد انسانی معاشرے کی عام اخلاقی حالت کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں  عرب جاہلیت کی حالت تو اُس وقت سب کے سامنے عملاً نمایاں  تھی، اور خصوصیت کے ساتھ اس کے دو پہلوؤں  پر تنقید کی گئی ہے۔

ایکؔ   لوگوں  کا مادّہ پرستانہ نقطۂ نظر جس کی بنا  پر وہ اخلاقی بھلائی اور برائی کو نظر انداز کر کے محض دنیا کی دولت اور جاہ و منزلت کے حصول  یا فقدان کو  عزّت و ذلّت کا معیار قرار دیے بیٹھے تھے اور اس  بات کو بھول گئے تھے کہ نہ دولت مندی کوئی انعام ہے،   نہ رزق کی تنگی کوئی سزا،  بلکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں  حالتوں  میں  انسان کا امتحان لے رہا ہے کہ  دولت پا کر وہ کیا رویّہ اختیار کرتا ہے اور تنگدستی میں  مبتلا ہو کر کس روش پر  چل پڑتا ہے۔

دوسرے ؔ ،   لوگوں  کا یہ طرزِ عمل کہ یتیم بچہ  باپ کے مرتے ہی ان کے ہاں  کس مپرسی  میں  مبتلا ہو جاتا ہے،  غریبوں  کا کوئی پرسانِ حال نہیں  ہوتا، جس کا بس چلتا ہے مُردے کی ساری میراث سمیٹ کر بیٹھ جاتا ہے اور کمزور حقداروں  کو دَھتا بتا دیتا ہے،  اور مال کی حِرص لوگوں  کو ایک ایسی  نہ بُجھنے والی پیاس  کی طرح لگی ہوئی ہے   کہ خواہ کتنا ہی مال مل جائے ان کا دل سیر نہیں  ہوتا۔ اس تنقید سے مقصود لوگوں  کو  اس بات کا قائل کرنا ہے کہ دنیا کی زندگی میں  جن انسانوں  کا یہ طرزِ عمل ہے ان کا محاسبہ آخر کیوں  کہ ہو۔

پھر کلام کو اس بات پر ختم کیا گیا ہے کہ محاسبہ ہو گا اور ضرور ہو گا اور وہ اس روز ہو گا جب اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہو گی۔ اس وقت جزا و سزا کا انکار کرنے والوں  کی سمجھ وہ بات آ جائے گی جسے آج وہ سمجھانے سے نہیں  مان رہے ہیں،  مگر اُس وقت سمجھنے کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ منکر انسان ہاتھ مَلتا رہ جائے گا کہ کاش میں  نے دنیا میں  اِس دن کے لیے کوئی سامان کیا ہوتا۔ مگر یہ ندامت اُسے خدا کی سزا  سے نہ بچا سکے گی۔ البتہ جن انسانوں  نے دنیا میں  پورے اطمینانِ قلب کے ساتھ اُس حق کو قبول کر لیا ہو گا جسے آسمانی  صحیفے اور خدا کے انبیاء پیش کر رہے تھے،  خدا اُن سے راضی ہو گا اور وہ خدا کے عطا کر دہ اجر سے راضی ہوں  گے،   انہیں  دعوت دی جائے گی کہ وہ اپنے ربّ کے پسندیدہ بندوں  میں  شامل ہوں  اور جنّت میں  داخل ہو جائیں۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں  کی،  اور جُفت اور طاق کی،  اور رات کی جبکہ وہ رخصت ہو رہی ہو۔ کیا اِس میں  کسی صاحبِ  عقل کے لیے کوئی قسم ہے ؟ ۱

۲ تم نے دیکھا نہیں  کہ تمہارے ربّ نے کیا برتاؤ کیا اُونچے ستونوں  والے عادِ اِرَم کے ساتھ، ۳ جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں  میں  پیدا نہیں  کی گئی تھی؟ ۴ اور ثمود کے ساتھ جنہوں  نے وادی میں  چٹانیں  تراشی تھیں ؟ ۵ اور میخوں  والے فرعون ۶ کے ساتھ؟ یہ وہ لوگ جنہوں  نے دنیا کے ملکوں  میں  بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں  بہت فساد پھیلا تھا۔ آخر کار تمہارے ربّ نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔  حقیقت یہ ہے کہ تمہارا ربّ گھات لگائے ہوئے ہے۔  ۷

۸ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا ربّ جب اس کو آزمائش میں  ڈالتا ہے  اور اُسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے ربّ نے مجھے عزت دار بنا دیا۔ اور جب وہ اُس کو آزمائش میں  ڈالتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے ربّ نے مجھے ذلیل کر دیا۔ ۹ ہرگز نہیں،  ۱۰ بلکہ تم یتیم سے عزّت کا سلوک نہیں  کرتے ۱۱ اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دُوسرے کو نہیں  اُکساتے،  ۱۲ اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو، ۱۳ اور مال کی محبت میں  بُری طرح گرفتار ہو۔ ۱۴ ہرگز نہیں،  ۱۵ جب زمین پے در پے کوُٹ کوُٹ کر ریگ زار بنا دی جائے گی، اور تمہارا ربّ جلوہ فرما ہو گا ۱۶ اِس حال میں  کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں  گے،  اور جہنّم اُس روز سامنے لے آئی جائے گی، اُس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت اُس کے سمجھنے کا کیا حاصل ؟ ۱۷ وہ کہے گا کہ کاش میں  نے اپنی اِس زندگی کے لیے  کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا! پھر اُس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں،  اور اللہ جیساباندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں۔

(دُوسری طرف ارشاد ہو گا)اے نفسِ مطمئن، ۱۸ چل اپنے ربّ کی طرف۱۹ اِس حال میں  کہ تُو (اپنے انجامِ نیک سے ) خوش ( اور اپنے ربّ کے نزدیک) پسندیدہ ہے۔  شامل ہو جا  میرے (نیک) بندوں  میں  اور داخل ہو جا میری جنّت میں۔  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اِن آیات کی تفسیر میں  مفسرین کے درمیان  بہت اختلاف ہوا ہے،  حتیٰ کہ ’’جُفت اور طاق‘‘ کے بارے میں  تو ۳۶  اقوال  ملتے ہیں۔  بعض روایات میں  ان کی تفسیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف بھی منسُوب کی گئی ہے،  لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی تفسیر حضور ؐ  سے ثابت نہیں  ہے،  ورنہ ممکن نہ تھا کہ صحابہ اور تابعین اور بعد کے مفسرین میں  سے کوئی بھی  آپ  ؐ کی تفسیر کے بعد خود اِن آیات کے معنی متعین کرنے کی جرأت کرتا۔ اندازِ بیان پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ پہلے سے کوئی بحث چل رہی تھی جس میں  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم ایک بات پیش فرما رہے تھے اور منکرین ان کا انکار کر رہے تھے۔  اِس پر رسول  ؐ کے قول کا اثبات  کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ  قسم ہے فلاں  اور فلاں  چیزوں  کی۔  مطلب یہ تھا کہ اِن چیزوں  کی قسم، جو کچھ محمد  صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کہہ رہے ہیں  وہ برحق ہے۔  پھر بات کو اِس سوال پر ختم کر دیا گیا  کہ  کیا کسی صاحب عقل کے لیے  اِس میں  کوئی قَسم ہے ؟ یعنی کیا اِس  حق بات پر کوئی شہادت دینے کے لیے  اس کے بعد کسی اور قَسم کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟  یہ قَسم اِس کے لیے کافی نہیں  ہے کہ ایک ہوشمند انسان اُس بات کو مان لے جسے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پیش کر  رہے ہیں ؟ اب سوال یہ ہے کہ وہ بحث  تھی کیا جس پر ان چار چیزوں  کی قسم کھائی گئی۔  اس کے لیے ہمیں  اُس پورے مضمون پر غور کرنا ہو گا جو بعد کی آیتوں  میں  ’’تم نے  دیکھا نہیں  کہ تمہارے ربّ نے عاد  کے ساتھ کیا کیا‘‘ سے شروع ہو کر سورۃ کے آخر تک چلتا ہے۔  اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ بحث جزا و سزا کے بارے میں  تھی جس کو ماننے سے اہلِ مکہ انکار کر رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  انہیں  اس کا قائل کرنے کے لیے مسلسل تبلیغ و تلقین فرما رہے تھے۔  اس پر فجر،  اور دس راتوں  اور جُفت اور طاق، اور رُخصت ہوتی ہوئی رات کی قسم کھا کر فرمایا گیا کہ اس بات کو باور کرنے کے لیے  کیا  یہ چار چیزیں  کافی  نہیں  ہیں  کہ کسی صاحبِ عقل آدمی کے سامنے اور کوئی چزا پیش کرنے کی ضرورت ہو؟ اِن قسموں  کا یہ موقع و محل متعین ہو جانے کے بعد  لامحالہ ہمیں  اِن میں  سے ہر ایک کے وہ معنی لینے ہوں  گے جو بعد کے مضمون پر دلالت کرتے ہوں۔  سب سے پہلے فرمایا  ’’فجر کی قسم۔‘‘ فَجر پَو پھٹنے کو کہتے ہیں ،  یعنی وہ وقت جب رات کی تاریکی میں  سے دن کی ابتدائی روشنی مشرق کی طرف ایک سفید دھاری کی شکل میں  نمودار ہوتی ہے۔  پھر فرمایا ’’دس راتوں  کی قَسم۔‘‘  سلسلۂ بیان کو نگاہ میں  رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مہینے کی تیس راتوں  میں  سے ہر دس راتیں  ہیں۔  پہلی دس راتیں  وہ جن میں  چاند ایک باریک ناخُن کی شکل سے شروع  ہو کر ہر رات کو بڑھتا رہتا ہے یہاں  تک کہ آدھے سے زیادہ روشن ہو جاتا ہے۔  دوسری دس راتیں  وہ جن میں  رات کا  بڑا حصّہ چاند سے روشن رہتا ہے۔  آخری دس راتیں  وہ  جن میں  چاند چھوٹے سے چھوٹا اور رات کا بیشتر  حصّہ تاریک سے تاریک تر ہو تا  جاتا ہے یہاں  تک کہ مہینے کے خاتمے  پر پوری رات تاریک ہو   جاتی ہے۔  اس کے بعد فرمایا ’’جُفت  اور طاق کی قَسم‘‘۔ جُفت اُس عدد  کو کہتے ہیں  جو دو برابر کے حصوں  میں  تقسیم ہوتا ہے،  جیسے ۲۔۴۔۶۔۸۔ اور طاق اُس عدد کو کہتے ہیں  جو تقسیم نہیں  ہوتا،  جیسے ۱۔۳۔۵۔۷۔ عمومی حیثیت سے دیکھا جائے تو  اِس سے مراد کائنات کی تمام چیزیں  ہو سکتی ہیں۔  چونکہ ہر چیز یا تو جوڑا جوڑا ہے یا تنہا۔ لیکن چونکہ یہاں  بات دن اور رات کی ہو رہی ہے،   اس لیے سلسلۂ مضمون کی مناسبت سے جُفت اور طاق کا مطلب تغیّر ایّام ہے کہ مہینے کی تاریخیں  ایک سے دو اور دو سے  تین ہوتی جاتی ہیں  اور ہر تغیُّر ایک نئی کیفیت لے کر آتا ہے۔  آخر میں  فرمایا ’’رات کی قَسم جب کہ وہ رُخصت ہو رہی ہو۔‘‘ یعنی وہ تاریکی جو سُورج غروب ہونے کے بعد سے دنیا پر چھائی ہوئی تھی،  خاتمے پر آ لگی ہو اور پَو پھٹنے والی ہو۔ اب ان چاروں  چیزوں  پر ایک مجموعی نگاہ ڈالیے جن  کی قَسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  جزا و سزا کی جو خبر دے رہے ہیں  وہ برحق ہے۔  یہ سب چیزیں  اس حقیقت پر دلالت کر رہی ہیں  کہ  ایک ربِّ قدیر  اِس کائنات پر فرمانروائی کر رہا ہے  اور  وہ جو کام بھی کر رہا ہے  وہ بے تُکا،  بے مقصد،  بے حکمت، بے مصلحت نہیں  کر رہا ہے بلکہ اُس کے ہر کام میں  صریحاً ایک حکیمانہ منصوبہ کار فرما ہے۔  اُس کی دنیا میں  تم یہ کبھی نہ دیکھو گے کہ ابھی رات ہے اور یکایک سُورج نصف النہار  پر آ کھڑا ہوا۔ یا ایک روز چاند ہلال کی شکل میں  طلوع  اور  دوسرے روز چودھویں  رات کا پورا چاند نمودار ہو جائے۔  یا رات آئی ہو تو  کسی طرح اس کے ختم ہونے کی نوبت ہی نہ آئے اور وہ مستقل طور پر ٹھہر کر رہ جائے۔  یا تغیُّرِ ایّام کا سِرے سے کوئی  باقاعدہ سلسلہ ہی  نہ ہو کہ آدمی تاریخوں  کا کوئی حساب رکھ سکے اور یہ جان سکے کہ یہ کون سا مہینہ ہے،  اِس کی کون سی تاریخ ہے،  کس تاریخ سے اُس  کا کون سا کام شروع اور کب ختم ہونا ہے،  گرمی  کے موسم کی تاریخیں  کون سی ہیں  اور برسات  یا سردی کے موسم کی تاریخیں  کون سی۔ کائنات کی دوسری بے شمار چیزوں  کو چھوڑ کر اگر آدمی شب و روز کی  اِس باقاعدگی ہی کو آنکھیں   کھول کر دیکھے  اور کچھ دماغ کو سوچنے کی  تکلیف  بھی دے تو  اسے اس امر کی شہادت ملے گی کہ یہ زبردست نظم و ضبط کسی قادرِ  مطلق کا قائم کیا ہوا ہے اور اس کے قیام سے اس مخلوق کی بے شمار  مصلحتیں  وابستہ ہیں  جسے اس نے اِس زمین پر پیدا کیا ہے۔  اب اگر ایسے حکیم و دانا اور قادر و توانا خالق کی دنیا میں  رہنے والا  کوئی شخص آخرت کی جزا و سزا کا انکار کرتا ہے تو وہ دو حماقتوں  میں  سے کسی ایک حماقت میں  لا محالہ مبتلا ہے۔  یا تو وہ اُ کی قدرت کا منکر ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ وہ اس کائنات کو ایسے بے نظیر نظم کے ساتھ پیدا کر دینے پر تو قادر ہے مگر انسان کو دوبارہ پیدا کر کے اُسے جزا و سزا دینے پر قادر  نہیں  ہے۔  یا وہ اس کی حکمت و دانائی کا منکر ہے اور اس  بات کے بارے میں  یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ  اس نے دنیا میں  انسان کو عقل اور اختیارات دے کر پیدا تو کر دیا  مگر وہ نہ تو اس  سے کبھی یہ حساب لے گا کہ اُس نے اپنی عقل اور اپنے اختیارات سے کام کیا لیا، اور نہ اچھے کام کی جزا دے گا اور نہ بُرے کام کی سزا۔ اِن دونوں  باتوں  میں  جس بات کا بھی کوئی شخص قائل ہے وہ پرلے درجے کا احمق ہے۔

۲: جز ا و سزا پر شب و روز کے نظام سے استدلال کرنے کے بعد اب اس کے ایک  یقینی حقیقت ہونے پر انسانی تاریخ سے استدلال کیا جا رہا ہے۔  تاریخ کی چند  معروف قوموں   کے طرزِ عمل اور ان کے انجام کے ذکر سے مقصود یہ بتانا ہے کہ یہ کائنات کسی اندھے بہرے قانونِ فطرت پر نہیں  چل رہی ہے  بلکہ ایک خدائے حکیم اس کو چلا رہا ہے اور اس کی خدا کی خدائی میں  صرف ایک وہی قانون  کار فرما نہیں  ہے  جسے تم قانونِ فطرت سمجھتے ہو، بلکہ ایک قانونِ اخلاق بھی کار فرما ہے جس کا لازمی تقاضا  مکافاتِ عمل اور جزا اور سزا ہے۔  اس قانون کی کارفرمائی کے آثار  خود اس دنیا میں  بھی بار بار ظاہر ہوتے رہے ہیں  جو عقل رکھنے والوں  کو یہ بتاتے ہیں  کہ سلطنتِ کائنات کا مزاج کیا ہے۔  یہاں  جن قوموں  نے بھی آخرت سے بے فکر اور خدا کی جزا و سزا سے بے خوف ہو کر اپنی زندگی کا نظام چلایا وہ آخر کار فاسد  و مُفسد بن کر رہیں،  اور جو قوم بھی اس راستے پر چلی اُس پر کائنات کے ربّ نے آخر کار عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ انسانی تاریخ کا یہ مسلسل تجربہ دو باتوں  کی واضح شہادت دے رہا ہے۔  ایک یہ کہ آخر ت کا انکار ہر قوم کو بگاڑنے اور بالآخر تباہی کے غار میں  دھکیل دینے کا موجب ہوا ہے اس لیے آخرت فی الواقع ایک حقیقت ہے جس سے ٹکرانے کا  نتیجہ وہی ہوتا ہے جو ہر حقیقت سے ٹکرانے کا ہوا کرتا ہے۔  دوسرے  یہ کہ جزائے اعمال کسی وقت مکمل طور پر بھی واقع ہونے والی ہے،  کیونکہ فساد کی آخری حد پر پہنچ کر عذاب کا کوڑا جن لوگوں  پر برسا ان سے پہلے صدیوں  تک بہت سے لوگ اس فساد کے بیج بو کر دنیا سے رخصت ہو چکے تھے اور اُن پر کوئی عذاب نہ آیا تھا۔ خدا کے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ کسی وقت اُن سب کی باز پُرس بھی ہو اور وہ بھی اپنے کیے کی سزا پائیں (قرآن مجید میں  آخرت پر یہ تاریخی اور اخلاقی استدلال جگہ جگہ کیا گیا ہے اور ہم نے ہر جگہ اس کی تشریح کی ہے۔  مثال کے طور پر حسبِ ذیل مقامات ملاحظہ ہوں : تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی ۶-۵۔ یونس، حاشیہ۱۲۔ ہُود، حواشی ۱۱۵-۱۰۵-۵۷۔ ابراہیم، حاشیہ ۹۔ جلد سوم، النمل، حواشی ۸۶-۶۶۔ الروم، حاشیہ۸۔ جلد چہارم، سبا، حاشیہ ۲۵۔ صٓ، حواشی ۳۰-۲۹۔ المومن،  حاشیہ ۸۰۔ الدُّخان، حواشی ۳۴-۳۳۔  الجاثیہ، حواشی ۲۸-۲۷۔ جلد پنجم، قٓ، حاشیہ ۱۷۔ الذّاریات، حاشیہ ۲۱)۔

۳: عادِ ارم سے مراد قدیم قومِ عاد ہے  جسے قرآن مجید اور تاریخِ عرب میں  عادِ اولیٰ کا نام دیا گیا ہے۔  سُورہ نجم میں  فرمایا گیا ہے کہ  وَاَنَّہٗ عَادَنِ الْاُوْلے ٰ (آیت نمبر ۵۰)’’اور یہ کہ اُس نے قدیم قومِ عاد کو ہلاک کیا‘‘،  یعنی اُس قومِ عاد کو جس کی طرف حضرت ھودؑ  بھیجے گئے تھے اور جس پر عذاب نازل ہوا تھا۔ اُس کے مقابلے میں  تاریخِ عرب اِس قوم کے  اُن لوگوں  کو جو عذاب سے بچ کر بعد میں  پھلے پھولے تھے عادِ اُخریٰ کے نام سے یاد کرتی ہے۔  قدیم قومِ عاد کو عادِ ارم اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ سامی نسل کی اُس شاخ سے تعلق رکھتے تھے جو ارم بن سام بن نوحؑ سے چلی تھی۔ اسی شاخ کی کئی دوسری ضمنی شاخیں  سے تاریخ میں  مشہور ہیں  جن میں  سے ایک ثمود ہیں  جن کا ذکر قرآن میں  آیا ہے اور دوسرے آرامی(Aramaeans ) ہیں  جو ابتداءً شام کے شمالی علاقوں  میں  آباد تھی اور جن کی زبان آرامی(Aramaic ) سامی زبانوں  میں  بڑا اہم مقام رکھتی ہے۔  عاد کے لیے ذات العماد (اُونچے ستونوں  والے ) کے الفاظ اس لیے استعمال کیے گئے ہیں  کہ وہ بڑی بڑی بلند عمارتیں  بناتے تھے  اور دنیا میں  اُونچے ستونوں   پر عمارتیں  کھڑی کرنے کا طریقہ سب سے پہلے اُنہی نے شروع کیا تھا۔  قرآن مجید میں  دوسری جگہ اُن کی اس خصوصیت کا ذکر اِس طرح کیا گیا ہے کہ حضرت ھُود ؑ نے اُن سے فرمایا   اَتَبْنُوْنَ بِکُلِّ دِیْعٍ آیَۃً تَعْبَثُوْنَ وَتَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُوْنَ، ’’یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اُونچے مقام پر لاحاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں  ہمیشہ یہاں  رہنا ہے۔ ‘‘ (الشعراء، آیات ۱۲۹-۱۲۸)۔

۴: یعنی وہ اپنے زمانے کی ایک بے نظیر قوم تھے،  اپنی قوت اور شان و شوکت کے اعتبار سے کوئی قوم اُس وقت دنیا میں  اُن کی ٹکّر کی نہ تھی۔  قرآن میں  دوسرے مقامات پر ان کے متعلق فرمایا گیا ہے   وَذَا دَکُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْطَۃً، ’’ تم کو جسمانی ساخت  میں  خوب تنو مند کیا ‘‘(الاعراف، آیت ۶۹)۔ فَاَمَّا عَادٌ فَا سْتَکْبَرُوْا  فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ و وَقَا لُوْ ا مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّۃً، ’’رہے عاد تو اُنہوں  نے زمین میں  کسی حق کے بغیر اپنی بڑا ئی کا گھمنڈ کیا اور کہنے لگے کون ہے ہم سے زیادہ زور آور؟‘‘(حٰم السجدہ، آیت ۱۵)۔  وَاِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ، ’’اور تم نے جب کسی پر ہاتھ ڈالا جبّار بن کر ڈالا‘‘ (الشعراء، آیت ۱۳۰)۔

۵: وادی سے مراد وادی القرُیٰ ہے جہاں  اس قوم نے پہاڑوں  کو تراش تراش کر  اُن کے اندر عمارتیں  بنائی تھیں  اور غالباً تاریخ میں  وہ پہلی قوم ہے جس نے چٹانوں  کے اندر  اس طرح کی عمارتیں  بنانے کا سلسلہ شروع کیا تھا(تفصیل کے ملاحظہ ہو،  تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی ۵۹-۵۷۔ الحجر، حاشیہ ۴۵۔ جلد سوم، الشعراء، حواشی ۹۹-۹۵ مع تصاویر)۔

۶: فرعون کے لیے ذوالْاَوْتاد(میخوں  والا) کے الفا ظ اس سے پہلے سورۂ صٔ، آیت ۱۲ میں  بھی استعمال ہوئے ہیں۔  اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔  ممکن ہے کہ اُس کی فوجوں  کو میخوں  سے تشبیہ دی گئی ہو اور میخوں  والا کا مطلب فوجوں  والا ہو۔ کیونکہ انہی کی بدولت اُس کی سلطنت اس طرح جمی ہوئی تھی جیسے خیمہ میخوں  کے ذریعے سے مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔  یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد فوجوں  کی کثرت ہو اور مطلب یہ ہو کہ اس کے لشکر جہاں  بھی جا کر ٹھہرتے تھے وہاں  ہر طرف ان کے خیموں  کی  میخیں  ہی میخیں  ٹھُکی نظر آتی تھیں۔  یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد وہ میخیں  ہوں  جن سے ٹھونک کر وہ لوگوں  کو عذاب دیتا تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اَہرامِ مصر کو میخوں  سے تشبیہ دی گئی ہو کیونکہ وہ فراعنہ کی عظمت و شوکت کے وہ آثار ہیں  جو صدیوں  سے زمین پر جمّے کھڑے ہیں۔

۷: ظالموں  اور مفسدوں  کی حرکات پر نگاہ رکھنے کے لیے گھات لگائے ہوئے ہونے کے الفاظ تمثیلی استعارے کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔  گھات اُس جگہ کو کہتے ہیں  جہاں  کوئی شخص کسی کے انتظار میں  اس غرض کے لیے چھُپا بیٹھا ہوتا ہے کہ جب وہ زَد پر آئے  اسی وقت اُس پر حملہ کر دے۔  وہ جس کے انتظار میں  بٹھا  ہوتا ہے اُسے کچھ پتہ نہیں  ہوتا کہ اُس کی خبر لینے کے لیے کون کہاں  چھُپا ہوا ہے۔  انجام سے غافل،  بے فکری کے ساتھ وہ اُس مقام سے گزرتا ہے اور اچانک شکار ہو جاتا ہے۔  یہی صورتحال اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں  اُن ظالموں  کی ہے جو دنیا میں  فساد کا طوفان برپا کیے رہتے ہیں۔  اُنہیں  اس کا کوئی احساس نہیں  ہوتا کہ خدا بھی کوئی ہے  جو ان کی حرکات کو دیکھ رہا ہے۔  وہ پوری بے خوفی کے ساتھ روز بروز زیادہ سے زیادہ شرارتیں  کرتے چلے جاتے ہیں۔  یہاں  تک کہ جب وہ حد آ جاتی ہے جس سے آگے اللہ تعالیٰ انہیں  بڑھنے نہیں  دینا چاہتا اُسی وقت اُن پر اچانک اُس کے عذاب کا کوڑا برس جاتا ہے۔

۸: اب لوگوں  کی عام اخلاقی حالت پر تنقید کر کے یہ بتایا  جا رہا ہے کہ دنیا کی زندگی میں  یہ رویّہ جن انسانوں  نے اختیار کر رکھا ہے،  آخر کیا وجہ ہے کہ ان سے کبھی باز پُرس نہ ہو، اور اس بات کو عقل  و اخلاق کا تقاضا کیسے مانا جا سکتا ہے کہ  یہ سب کچھ کر کے جب انسان دنیا سے رخصت ہو جائے تو اُسے کسی جزا اور سزا سے سابقہ پیش نہ آئے۔

۹: یعنی یہ ہے انسان کا مادّہ پرستانہ نظریۂ حیات۔  اسی دنیا کے مال و دولت اور جاہ و اقتدار    کو وہ سب کچھ سمجھتا ہے۔  یہ چیز ملے تو پھُول جاتا ہے اور کہتا ہے کہ  خدا نے مجھے عزّت دار بنا دیا،  اور یہ نہ  ملے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھے ذلیل کر دیا۔ گویا عزّت اور ذلّت کا معیار اُس کے نزدیک مال و دولت اور جاہ و اقتدار کا ملنا یا نہ ملنا ہے۔   حالانکہ اصل حقیقت جسے وہ نہیں  سمجھتا یہ ہے کہ اللہ نے جس کو دنیا کو جو کچھ بھی دیا ہے آزمائش کے لیے دیا ہے۔  دولت اور طاقت دی ہے تو امتحان کے لیے دی ہے کہ وہ اسے پا کر شکر گزار بنتا ہے یا ناشکری کرتا ہے۔  مفلس اور تنگ حال بنایا ہے کہ تو اس میں  بھی اُس کا امتحان ہے کہ صبر اور قناعت کے  ساتھ راضی برضا رہتا ہے اور جائز حدُود کے اندر رہتے ہوئے اپنی مشکلات کا مقابلہ کرتا ہے،  یا اخلاق و دیانت کی ہر حد کو پھاند جانے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور اپنے  خدا کو کوسنے لگتا ہے۔

۱۰: یعنی یہ عزت اور ذلت کا معیار ہر گز نہیں  ہے۔  تم سخت غلط فہمی میں  مبتلا ہو کہ اخلاق کی بھلائی  اور بُرائی کے بجائے تم نے اسے معیارِ عزت و ذلت بنا رکھا ہے۔

۱۱:  یعنی جب تک اس کا باپ زندہ رہتا ہے اس کے ساتھ تمہارا برتاؤ کچھ اور ہوتا ہے اور جب اُس کا باپ مر جاتا ہے تو ہمسائے اور دُور کے رشتہ دار تو درکنار چچا اور ماموں  اور بڑے بھائی تک اس سے آنکھیں  پھیر لیتے ہیں۔

۱۲: یعنی تمہارے معاشرے میں  غریبوں  کو  کھانا کھلانے کا کوئی چرچا نہیں  ہے۔  نہ کوئی خود کسی بھوکے کو کھانا کھلانے پر آمادہ ہوتا ہے،  نہ لوگوں  میں  یہ جذبہ پایا جاتا ہے کہ بھُوکوں  کی بھُوک مٹانے کے لیے کوئی فکر کریں  اور ایک دوسرے کو اس کا انتظام کر نے پر اُکسائیں۔

۱۳: عرب میں  عورتوں  اور بچوں  کو تو میراث سے ویسے ہی  محروم رکھا جاتا تھا اور لوگوں  کا نظریہ اس باب میں  یہ تھا کہ میراث کا حق صرف اُن مَردوں  کو پہنچتا ہے جو لڑنے اور کُنبے کی حفاظت کرنے کے  قابل ہوں۔  اس کے علاوہ  مَرنے والے کے وارثوں  میں  جو زیادہ طاقتور اور با اثر ہوتا تھا وہ بلا تأمل  ساری میراث سمیٹ لیتا تھا اور اُن سب لوگوں  کا حصہ مار کھاتا تھا جو اپنا حصّہ حاصل کرنے کا  بل بوتا نہ رکھتے ہوں۔  حق اور فرض کی کوئی اہمیت ان کی نگاہ میں  نہ تھی کہ ایمانداری کے ساتھ اپنا فرض سمجھ کر حقدار کو اُس کا حق دیں  خواہ وہ اسے حاصل کرنے کی طاقت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔

۱۴: یعنی جائز و ناجائز اور حلال و حرام کی تمہیں  کوئی فکر نہیں ۔  جس طریقے سے بھی مال حاصل کیا جا سکتا ہو اسے حاصل کرنے میں  تمہیں  کوئی تأمل نہیں  ہوتا۔ اور خواہ کتنا  ہی مال مل جائے تمہاری حِرص و طمع کی آگ  کبھی نہیں  بجھتی۔

۱۵: یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ تم دنیا میں  جیتے جی یہ سب کچھ کرتے رہو اور اس کی باز پُرس کا وقت کبھی نہ آئے۔  جس جزا و سزا کا انکار کر کے تم نے زندگی کا یہ  ہنجار  اختیار کر رکھا ہے وہ کوئی انہونی اور خیالی بات نہیں  ہے بلکہ وہ پیش آنی ہے اور اس وقت آنی ہے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔

۱۶: اصل الفاظ ہیں    جَآ ءَ رَبُّکَ  جن کا لفظی ترجمہ ہے ’’تیرا ربّ آئے گا۔‘‘ لیکن ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک جگہ سے  دوسری جگہ منتقل ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں  ہوتا  اس لیے لا محالہ اس کو ایک تمثیلی اندازِ  بیان ہی سمجھنا ہو گا  جس سے یہ تصوّر دلانا مقصود ہے کہ اُس وقت اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور اُس کی سلطانی و قہاری کے آثار  اس طرح ظاہر ہوں  گے جیسے دنیا میں  کسی بادشاہ کے تمام لشکروں  اور اعیانِ سلطنت کی آمد سے وہ رعب طاری نہیں  ہوتا جو بادشاہ کے بنفس نفیس  خود دربار میں  آ جانے سے طاری ہو تا ہے۔

۱۷: اصل الفاظ ہیں  یَوْمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّیٰ  لَہُ الذِّکْرٰی۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔  ایک یہ کہ اُس روز انسان یاد کرے گا کہ وہ دنیا میں  کیا کچھ کر کے آیا ہے اور اُس پر نادم ہو گا،  مگر اُس وقت یاد کرنے اور نادم ہونے کا کیا فائدہ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اُس روز انسان کو ہوش آئے گا، اُسے نصیحت حاصل ہو گی، اُس کی سمجھ  میں  یہ بات آئے گی کہ جو کچھ اُسے انبیاء نے بتایا تھا وہی صحیح تھا اور اُن کی بات نہ مان کر  اُس نے حماقت کی، مگر اُس وقت ہوش میں  آنے اور نصیحت پکڑنے  اور اپنی غلطی کو سمجھنے کا کیا فائدہ۔

۱۸: نفسِ  مطمئن سے مراد وہ انسان ہے جس نے کسی شک و شبے کے بغیر پورے اطمینان اور ٹھنڈے دل کے ساتھ اللہ وحدہ لاشریک کو اپنا ربّ اور انبیاء کے لائے ہوئے دینِ  حق کو اپنا دین قرار دیا،  جو عقیدہ اور جو حکم بھی اللہ اور اس کے رسول  ؐ  سے ملا اور اُسے سراسر حق مانا، جس چیز سے بھی اللہ کے دین نے منع کیا اُس سے بادل نا خواستہ نہیں  بلکہ اس یقین کے ساتھ رُک گیا کہ فی الواقع وہ بُری چیز ہے،  جس قربانی کی بھی حق پرستی کی راہ میں  ضرورت پیش آئی  بے دریغ اُسے پیش کر دیا،  جن مشکلات اور تکالیف اور مصائب سے  بھی اس راہ میں  سابقہ درپیش ہوا اُنہیں   سکونِ قلب کے ساتھ  برداشت کیا،  اور دوسرے راستوں  پر چلنے والوں  کو دنیا میں  جو فوائد اور منافع اور  لذائذ حاصل ہوتے نظر  آرہے تھے ان سے محروم رہ جانے پر اسے کوئی حسرت لاحق نہ ہوئی بلکہ وہ اس بات پر پوری طرح مطمئن رہا کہ دینِ  حق کی پیروی نے اسے ان گندگیوں  سے محفوظ رکھا ہے۔  اِسی کیفیت کو دوسری جگہ قرآن پاک میں  شرحِ صدر سے تعبیر کیا گیا ہے (الانعام، آیت  ۱۲۵)۔

۱۹: یہ بات اُس سے موت کے وقت بھی کہی جائے گی،  قیامت کے روز جب وہ دوبارہ اُٹھ کر میدانِ حشر کی طرف چلے گا اُس وقت بھی کہی جائے گی اور جب  اللہ کی عدالت میں  پیشی کا موقع آئے گا اُس وقت بھی کہی جائے گی۔   ہر مرحلے پر اُسے اطمینان دلایا جائے گا کہ وہ اللہ کی رحمت کی طرف جا رہا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

۹۰۔سورۃ البلد

 

نام

 

پہلی ہی آیت   لَآ اُقْسِمُ بھِٰذَا الْبَلَدِ  کے لفظ  البلد  کو اِس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اس کا مضمون اور اندازِ بیان مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی سورتوں  کا سا ہے،  مگر ایک اشارہ اس میں  ایسا موجود ہے جو پتہ دیتا ہے کہ اس کے نزول کا زمانہ وہ تھا جب کفارِ مکّہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی دشمنی پر تُل گئے تھے اور آپ ؐ کے خلاف ہر ظلم و زیادتی کو انہوں  نے اپنے لیے حلال کر لیا تھا۔

 

موضوع اور مضمون

 

اِس سورے میں  ایک بہت بڑے مضمون کو چند مختصر جملوں  میں  سمیٹ دیا گیا ہے اور یہ قرآن کا کمالِ ایجاز ہے کہ ایک پورا نظریۂ حیات ،  جسے مشکل سے ایک ضخیم کتاب میں  بیان کیا جا سکتا  تھا، اِس چھوٹی سی سورۃ کے چھوٹے چھوٹے فقروں  میں  نہایت مؤثر طریقہ سے بیان کر دیا گیا ہے۔  اس کا موضوع دنیا میں  انسان کی، اور انسان کے لیے  دنیا کی صحیح حیثیت سمجھانا اور یہ بتانا ہے کہ خدا نے انسان کے لیے سعادت اور شقاوت کے دونوں  راستے کھول کر رکھ دیے ہیں،  اُن کو دیکھنے اور اُن پر چلنے کے وسائل بھی اُسے فراہم کر دیے ہیں ،  اور اب یہ انسان کی اپنی کوشش اور محنت پر موقوف ہے کہ وہ سعادت کی راہ چل کر اچھے انجام کو پہنچتا ہے یا شقاوت کی راہ اختیار کر کے بُرے انجام سے دوچار ہوتا ہے۔

سب سے پہلے شہر مکّہ اور اس میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  پر گزرنے والے مصائب اور پوری اولادِ آدم ؑ  کی حالت کو اِس حقیقت پر گواہ کی حیثیت  سے  پیش کیا گیا ہے کہ یہ دنیا انسان کے لیے آرام گاہ نہیں  ہے جس میں  وہ مزے اڑانے کے لیے پیدا کیا گیا ہو،  بلکہ یہاں  اس کی پیدائش ہی مشقت کی حالت میں  ہوئی ہے۔  اِس مضمون کو اگر سورۂ نجم کی آیت ۳۹  لَیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعیٰ  کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اِس کارگاہ دنیا میں  انسان کے مستقبل کا انحصار اس کی سعی و کوشش  اور محنت و مشقت پر ہے۔

اِس کے بعد انسان کی وہ غلط فہمی دور کی گئی ہے کہ یہاں  بس وہی وہ ہے اور اوپر کوئی بالاتر طاقت نہیں  ہے جو اُس کے کام کی نگرانی کرنے والی اور اُس پر مواخذہ کرنے والی ہو۔

پھر انسان کے بہت جاہلانہ اخلاقی تصورات میں  سے ایک چیز کو بطور مثال لے کر بتایا گیا ہے کہ دنیا میں  اُس نے بڑائی اور فضیلت کے کیسے غلط معیار تجویز کر رکھے ہیں۔  جو شخص اپنی کبریائی کی نمائش کے لیے ڈھیروں  مال لٹاتا ہے وہ خود بھی اپنی اِن شاہ خرچیوں  پر فخر کرتا ہے اور لوگ بھی اسے خوب داد دیتے ہیں،  حالانکہ جو ہستی اُس کے کام کی نگرانی کر رہی ہے وہ یہ دیکھتی ہے کہ اُس نے یہ مال کن طریقوں  سے حاصل کیا اور کن راستوں  میں  کس نیت اور کن اغراض کے لیے خرچ کیا۔

اِس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو علم کے ذرائع اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں  دے کر اُس کے سامنے بھلائی اور بُرائی کے دونوں  راستے کھول کر رکھ دیے ہیں۔  ایک راستہ وہ ہے جو اخلاق کی پستیوں  کی طرف جاتا ہے اور اُس پر جانے کے لیے کوئی تکلیف نہیں  اٹھانی پڑتی  بلکہ  نفس کو خوب لذّت حاصل ہوتی ہے۔  دوسرا راستہ اخلاق کی بلندیوں  کی طرف جاتا ہے جو ایک دشوار گزار گھاٹی کی طرح  ہے کہ اُس پر چلنے کے لیے آدمی کو اپنے نفس پر جبر کرنا پڑتا ہے۔  یہ انسان کی کمزوری ہے کہ وہ اِس گھاٹی پر چڑھنے کے بہ نسبت کھَڈ میں  لُڑھکنے کو ترجیح دیتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ وہ گھاٹی کیا ہے جس سے گزر کر آدمی بلندیوں  کی طرف جا سکتا ہے۔  وہ یہ ہے کہ ریا اور فخر اور نمائش کے خرچ چھوڑ کر آدمی اپنا مال  یتیموں  اور مسکینوں  کی مدد پر خرچ کرے،  اللہ اور اس کے دین پر ایمان لائے،  اور ایمان لانے والوں  کے گروہ میں  شامل ہو کر ایک ایسے معاشرے کی تشکیل میں  حصہ لے جو صبر کے ساتھ حق پرستی کے تقاضوں  کو پورا کرنے والا اور خلق پر رحم کھانے والا ہو۔ اِس راستے پر چلنے والوں  کا انجام یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں  کا مستحق ہو، اور اس کے برعکس دوسرا راستہ اختیار کرنے والوں  کا انجام دوزخ کی آگ ہے جس سے نکلنے کے سارے دروازے بند ہیں۔

 

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

نہیں،  ۱ میں  قسم کھاتا ہوں  اِس شہر کی ۲ اور حال یہ ہے کہ (اے نبیؐ ) اِس شہر میں  تم کو حلال کر لیا گیا ہے،  ۳ اور قسم کھاتا ہوں  باپ کی اور اس اولاد کی جو اس سے پیدا ہوئی، ۴ درحقیقت ہم نے انسان کو مشقّت میں  پیدا کیا ہے۔  ۵ کیا اُس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اُس پر کوئی قابو نہ پا سکے گا؟ ۶ کہتا ہے کہ میں  نے ڈھیروں  مال اُڑا دیا۔ ۷ کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اُس کو نہیں  دیکھا؟ ۸ کیا ہم نے اُسے دو آنکھیں  اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں  دیے ؟ ۹ اور دونوں  نمایاں  راستے اُسے (نہیں ) دکھا دیے ؟ ۱۰ مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمّت نہ کی۔ ۱۱ اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوار گزار گھاٹی؟ کسی گردن کو غلامی سے چھُڑانا، یا فاقے کے دن کسی قریبی یتیم یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا۔ ۱۲ پھر (اِس کے ساتھ یہ کہ) آدمی اُن لوگوں  میں  شامل ہو جو ایمان لائے ۱۳ اور جنہوں  نے ایک دُوسرے کو صبر اور (خلقِ خدا پر) رحم کی تلقین کی۔ ۱۴   یہ لوگ ہیں  دائیں  بازو والے۔  اور جنہوں  نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا وہ بائیں  بازو والے ہیں،  ۱۵ ان پر آگ چھائی ہوئی ہو گی۔ ۱۶   ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اِس سے پہلے ہم سورۂ قیامہ حاشیہ نمبر ۱ میں  اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں  کہ کلام کا آغاز ’’نہیں ‘‘ سے کرنا اور پھر قسم کھا کر آگے کی بات شروع کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ لوگ کوئی غلط بات کہہ رہے  تھے جس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نہیں،   بات وہ نہیں  ہے جو تم سمجھے بیٹھے ہو، بلکہ  میں  فلاں  فلاں  چیزوں  کی قسم کھاتا ہوں  کہ اصل بات یہ ہے۔  اب رہا یہ سوال کہ وہ بات کیا تھی جس کی تردید میں  یہ کلام نازل ہوا،  تو اُس پر بعد کا مضمون خود دلالت کر رہا ہے۔  کفّارِ مکہ یہ کہتے  تھے کہ ہم جس طرزِ زندگی پر چل رہے ہیں  اس میں کوئی خرابی نہیں  ہے،  دنیا کی زندگی بس یہی کچھ ہے کہ کھاؤ  پیو، مزے اڑاؤ، اور جب وقت آئے تو مر جاؤ۔ محمد(  صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم) خواہ مخواہ ہمارے اِس طرزِ زندگی کو غلط ٹھیرا رہے ہیں  اور ہمیں  ڈرا رہے ہیں  کہ اِس پر کبھی  ہم سے باز پُرس ہو گی اور  ہمیں  جزا  و سزا سے سابقہ پیش آئے گا۔

۲: یعنی شہرِ مکّہ  کی۔ اس مقام پر یہ بات کھولنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اِس شہر کی قسم کیوں  کھائی جا رہی ہے۔  اہلِ مکّہ اپنے شہر کا پَس منظر خود جانتے تھے کہ کس طرح ایک بے آب و گیاہ وادی میں  سُنسان پہاڑوں  کے درمیان حضرت ابراہیم ؑ  نے اپنی ایک بیوی اور ایک شیر خوار بچے کو یہاں  لا کر بے سہار ا چھوڑ ا، کس طرح یہاں  ایک گھر بنا کر ایسی حالت میں  حج کی منادی کی جب کہ دور دور تک کوئی  اُس منادی کا سننے والا نہ تھا، اور پھر کس طرح یہ شہر آخر کار تمام عرب کا مرکز بنا اور ایسا حرم قرار پایا کہ صدہا برس تک عرب کی سرزمینِ بے آئین میں  اِس کے سوا امن کا کوئی مقام نہ تھا۔

۳: اصل میں  الفاظ ہیں   اَنْتَ حِلٌّمبھِٰذَ ا الْبَلَدِ۔ اِس کے تین معنی مفسرین نے بیان کیے ہیں۔  ایک یہ کہ آپ اِس شہر میں  مقیم ہیں  اور آپ کے مقیم ہونے سے اِس کی عظمت میں  اور اضافہ ہو گیا ہے۔  دوسرے یہ کہ اگرچہ یہ شہر حرم  ہے مگر ایک وقت آئے گا جب کچھ دیر کے لیے یہاں  جنگ کرنا اور دشمنانِ دین کو قتل کرنا آپ کے لیے حلال ہو جائے گا۔ تیسرے یہ کہ اِس شہر میں  جنگل کے جانوروں  تک کو مارنا  اور درختوں  تک کو کاٹنا اہلِ عرب کے نزدیک حرام ہے اور ہر ایک کو یہاں  امن میسّر ہے،  لیکن حال یہ ہو گیا ہے کہ اے نبی ؐ،  تمہیں  یہاں  کوئی امن نصیب نہیں ،  تمہیں  ستانا اور تمہارے قتل کی تدبیریں  کرنا حلال کر لیا گیا ہے۔  اگرچہ الفاظ میں  تینوں  معنوں  کی گنجائش ہے،  لیکن جب ہم آگے کے مضمون پر غور کرتے ہیں  تو محسوس ہوتا ہے کہ پہلے دو معنی اُس سے کوئی مناسبت نہیں  رکھتے اور تیسرا مفہوم ہی اُس سے میل کھاتا ہے۔

۴: چونکہ مُطقاً باپ اور  اُس سے پیدا ہونے والی اولاد کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں  اور آگے انسان کا ذکر کیا گیا ہے،  اس لیے باپ سے مراد آدم علیہ السلام ہی ہو سکتے ہیں،  اور ان سے پیدا ہونے والی اولاد سے مراد وہ تمام انسان ہیں  جو دنیا میں  پائے گئے ہیں،  اب پائے جاتے ہیں  اور آئندہ پائے جائیں  گے۔

۵: یہ ہے وہ بات جس پر قسمیں  کھائی گئی ہیں  جو اوپر مذکور ہوئیں۔  انسان کے مشقت میں  پیدا کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اِس دنیا میں  مزے کرنے اور چین کی بنسری بجانے کے لیے پیدا نہیں  کیا گیا ہے بلکہ اُس کے لیے  یہ دنیا محنت اور مشقت اور سختیاں  جھیلنے کی جگہ ہے اور کوئی انسان بھی اِس حالت سے گزرے بغیر نہیں  رہ سکتا۔  یہ شہر مکّہ گواہ ہے کہ کسی اللہ کے بندے نے اپنی جان کھپائی تھی تب یہ بسا اور عرب کا مرکز بنا۔  اِس شہر مکّہ میں  محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حالت گواہ ہے کہ وہ ایک مقصد کے لیے طرح طرح کی مصیبتیں  برداشت کر رہے ہیں،  حتیٰ کہ یہاں  جنگل کے جانوروں  کے لیے امان ہے مگر اُن کے لیے نہیں  ہے۔   اور ہر انسان کی زندگی ماں  کے پیٹ میں  نطفہ قرار پانے سے لے کر موت کے آخری سانس تک اِس بات کی گواہ ہے کہ اُس کو قدم قدم پر تکلیف، مشقّت، محنت، خطرات اور شدائد کے مرحلوں  سے گزرنا پڑتا ہے۔  جس کو تم بڑی سے بڑی قابلِ رشک حالت میں  دیکھتے ہو وہ بھی  جب ماں   کے پیٹ میں  تھا تو  ہر وقت اس خطرے میں  مبتلا تھا کہ  اندر ہی مر جائے یا اُس کا اسقاط ہو جائے۔  زچگی کے وقت اُس کی موت اور زندگی کے درمیان بال بھر سے زیادہ فاصلہ نہ تھا۔ پیدا ہوا تو اِتنا بے بس تھا کہ کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہ ہوتا تو پڑے پڑے ہی سِسک سِسک کر مر جاتا۔ چلنے کے قابل ہوا تو قدم قدم پر گِرا پڑتا تھا۔ بچپن سے جوانی اور بڑھاپے تک ایسے ایسے جسمانی تغیُّرات سے اس کو گزرنا پڑا کہ  کوئی  تغیُّر بھی اگر غلط سمت میں  ہو جاتا تو اس کی جان کے لالے پڑ جاتے۔  وہ اگر بادشاہ یا ڈکٹیٹر بھی ہے تو کسی وقت اِس اندیشے سے اُس کو چین نصیب نہیں  ہے کہ کہیں  اس کے خلاف کوئی سازش نہ ہو جائے۔  وہ اگر فاتح عالم بھی ہے تو کسی وقت اِس خطرے سے امن میں  نہیں  ہے کہ اس کے اپنے سپہ سالاروں  میں  سے کوئی بغاوت نہ کر بیٹھے۔  وہ اگر اپنے وقت کا قارون بھی ہے تو اس فکر میں  ہر وقت غلطاں  و پیچاں  ہے کہ اپنی دولت کیسے بڑھائے اور کس طرح اس کی حفاظت کرے۔  غرض کوئی شخص بھی بے غَل و غَش چَین کی نعمت سے بہرہ مند نہیں  ہے،  کیونکہ انسان پیدا ہی مشقّت میں  کیا گیا ہے۔

۶: یعنی کیا یہ انسان جو اِن حالات میں  گھرا ہوا ہے،  اِس غَرّے میں  مبتلا ہے کہ وہ دنیا میں  جو کچھ چاہے کرے،  کوئی بالاتر اقتدار اُس کو پکڑنے اور اس کا سر نیچے کر دینے والا نہیں  ہے ؟ حالانکہ آخرت سے پہلے خود اِس دنیا میں  بھی ہر آن وہ دیکھ رہا ہے کہ اُس کی تقدیر پر کسی اور کی فرمانروائی قائم ہے جس کے فیصلوں  کے آگے اس کی ساری تدبیریں  دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔  زلزلے کا ایک جھٹکا،  ہوا کا ایک طوفان، دریاؤں  اور سمندروں  کی ایک طغیانی اُسے ی بتا دینے کے لیے کافی ہے کہ خدائی طاقتوں  کے مقابلے میں  وہ کتنا بل بوتا رکھتا ہے۔  ایک اچانک حادثہ اچھے خاصے بھلے چنگے انسان کو اپاہج بنا کر رکھ دیتا ہے۔  تقدیر کا ایک پلٹا بڑے سے بڑے  با اقتدار آدمی کو عرش سے فرش پر لا گراتا ہے۔  عروج کے آسمان پر پہنچی ہوئی قوموں  کی قسمتیں  جب بدلتی ہیں  تو وہ اُسی دنیا میں  ذلیل و خوار ہو کر رہ جاتی ہیں  جہاں  کوئی اُن سے آنکھ ملانے کی ہمّت نہ رکھتا تھا۔ اِس انسان کے دماغ میں  آخر کہاں  سے یہ ہوا بھر گئی کہ کسی کا اس پر بس نہیں  چل سکتا؟

۷: اَنْفَقْتُ مَالاً لُّبَداً  ’’میں  نے ڈھیر سا مال خرچ کر دیا‘‘ نہیں  کہا بلکہ اَھْلَکْتُ مَالاً لُّبَداً کہا جس کے لفظی معنی ہیں ’’میں  نے ڈھیر سا مال ہلاک کر دیا‘‘، یعنی لُٹا دیا،  یا اڑا دیا۔ یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں  کہ کہنے والے کو اپنی مال  داری پر کتنا فخر تھا کہ جو ڈھیر سا مال اُس نے خرچ کیا وہ اُس کی مجموعی دولت کے مقابلے میں  اتنا ہیچ تھا کہ اس کے لُٹا دینے یا اڑا دینے کی اُسے کوئی  پروا نہ تھی۔ اور یہ مال اڑا دینا تھا کس مد میں ؟ کسی حقیقی نیکی کے کام میں  نہیں،  جیسا کہ آگے کی آیات سے خود بخود مترشح ہوتا ہے،  بلکہ اپنی دولت مندی کی نمائش اور اپنے فخر اور اپنی بڑائی کے اظہار میں۔  قصیدہ گو شاعروں  کو بھاری انعامات دینا۔ شادی اور غمی کی رسموں  میں  سینکڑوں  ہزاروں  آدمیوں  کی دعوت کر ڈالنا۔ جوئے میں  ڈھیروں  دولت ہار دینا۔ جُو جیت جانے پر اونٹ پر اونٹ کاٹنا اور خوب یار دوستوں  کو کھلانا۔  میلوں  میں  بڑے لاؤ لشکر کے ساتھ جانا اور دوسرے سرداروں  سے بڑھ کر شان و شوکت کا مظاہرہ کرنا۔ تقریبات میں  بے تحاشا کھانے پکوانا اور اِذن عام دے دینا کہ جس کا جی چاہے آئے اور کھائے،  یا اپنے ڈیرے پر کھُلا لنگر جاری رکھنا کہ دور دور تک یہ شہرت ہو جائے کہ فلاں  رئیس کا دستر خوان بڑا وسیع ہے۔  یہ اور ایسے ہی دوسرے نمائشی اخراجات تھے جنہیں  جاہلیت میں  آدمی کی فیاضی اور فراخ دلی کی علامت اور اس کی بڑائی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ انہی پر ان کی تعریفوں  کے ڈنکے بجتے تھے۔  انہی پر ان کی مدح کیے قصیدے پڑھے جاتے تھے۔  اور وہ خود بھی ان پر دوسروں  کے مقابلے میں  اپنا فخر جتاتے تھے۔

۸: یعنی کیا یہ فخر جتانے والا یہ نہیں  سمجھتا کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو دیکھ رہا ہے کہ کن ذرائع سے اس نے یہ دولت حاصل کی،  کن کاموں  میں  اسے کھپایا، اور کس نیت،  کن اغراض اور کن مقاصد کے لیے اس نے یہ سارے کام کیے ؟ کیا وہ سمجھتا ہے کہ خدا کے ہاں  اِس فضول خرچی، اِس شہرت طلبی اور اس تفاخُر کی کوئی قدر ہو گی؟ کیا اس کا خیال ہے کہ دنیا کی طرح خدا بھی اس سے دھوکا کھا جائے گا؟

۹: مطلب یہ ہے کہ کیا ہم  نے اُسے علم اور عقل کے ذرائع نہیں  دیے ؟ دو آنکھوں  سے مراد گائے بھینس کی آنکھیں  نہیں  بلکہ  وہ انسانی آنکھیں  ہیں   جنہیں  کھول کر آدمی دیکھے تو اُسے ہر طرف وہ نشانات نظر آئیں  جو حقیقت کا پتہ دیتے ہیں  اور صحیح و غلط کا فرق سمجھاتے ہیں۔  زبان اور ہونٹوں  سے مراد محض بولنے کے آلات نہیں  ہیں  بلکہ نفسِ ناطقہ ہے جو اِن آلات کی پشت پر سوچنے سمجھنے کا کام کرتا ہے اور پھر ان سے اظہار ما فی الضمیر کا کام لیتا ہے۔

۱۰: یعنی ہم نے محض عقل و فکر کی طاقتیں  عطا کر کے اسے چھوڑ نہیں  دیا کہ اپنا راستہ  خود تلاش کرے،  بلکہ اس کی رہنمائی بھی کی اور اس کے سامنے بھلائی اور برائی ،  نیکی اور بدی کے دونوں  راستے نمایاں  کر کے رکھ دیے تا کہ وہ خوب سوچ سمجھ کر ان میں  سے جس کو چاہے اپنے ذمہ داری پر اختیار کر لے۔  یہ وہی بات ہے جو سورۂ دَھر میں  فرمائی گئی ہے کہ’’ ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا  تا کہ اس کا امتحان لیں  اور اِس  غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا۔ ہم نے اُسے راستہ دکھا دیا خواہ شکر  کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا‘‘(آیات ۳-۲)۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، الدھر، حواشی ۳ تا ۵۔

۱۱:  اصل  الفاظ ہیں  فَلَا  اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ۔   اِقتحام کے معنی ہیں  اپنے آپ کو کسی سخت اور مشقّت طلب کام میں  ڈالنا۔ اور عَقَبَہ اُس دشوار گزار راستے کو کہتے ہیں  جو بلندی پر جانے کے لیے پہاڑوں  میں  سے گزرتا ہے۔  پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دو راستے جو ہم نے اُسے دکھائے ان میں  سے ایک بلندی کی طرف جاتا ہے مگر مشقّت طلب اور دشوار گزار ہے۔  اُس میں  آدمی کو اپنے نفس اور اس کی خواہشوں  سے اور شیطان کی ترغیبات سے لڑ کر چلنا پڑتا ہے۔  اور دوسرا آسان راستہ ہے جو کھڈوں  میں  اُترتا ہے،  مگر اس سے پستی کی طرف جانے کے لیے کسی محنت کی ضرورت نہیں  پڑتی بلکہ بس اپنے نفس کی باگیں  ڈھیلی چھوڑ  دینا کافی ہے،  پھر آدمی خود نشیب  کی طرف لڑھکتا چلا جاتا ہے۔  اب یہ آدمی جس کو ہم نے دونوں  راستے دکھا دیے  تھے،  اِس نے اُن میں  سے پستی کی جانب جانے والے راستے کو اختیار کر لیا اور اُس مشقت طلب راستے  کو چھوڑ دیا جو بلندی کی طرف جانے والا ہے۔

۱۲: اوپر چونکہ اُس کی فضول خرچیوں  کا ذکر کیا گیا ہے جو وہ اپنی بڑائی کی نمائش اور لوگوں  پر اپنا فخر جتانے کے لیے کرتا ہے،  اس لیے اب اس کے مقابلے میں  بتایا گیا ہے کہ وہ کون سا خرچ اور مال کا کون سا مصرف ہے جو اخلاق کی پستیوں  میں  گرانے کے بجائے آدمی کو بلندیوں  کی طرف لے جاتا ہے، مگر اُس میں  نفس کی کوئی لذت نہیں  ہے بلکہ آدمی کو اس کے لیے اپنے نفس پر جبر کر کے ایثار  اور قربانی سے کام لینا پڑتا ہے۔  وہ خرچ یہ ہے کہ آدمی کسی غلام کو خود آزاد کرے،  یا اس کی مالی مدد کرے تاکہ وہ اپنا فدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کر لے،  یا کسی غریب کی گردن قرض کے جال سے نکالے،  یا کوئی بے وسیلہ آدمی اگر تاوان کے بوجھ سے لد گیا ہو تو اس کی جان اُس سے چھُڑائے۔  اِسی طرح وہ خرچ یہ ہے کہ آدمی بھوک کی حالت میں  کسی قریبی یتیم (یعنی رشتہ دار یا پڑوسی یتیم) اور کسی ایسے بے کس محتاج کو کھانا کھلائے جسے غربت و افلاس کی شدّت نے خاک میں  ملا دیا ہو اور جس کی دستگیری کرنے والا کوئی نہ ہو۔  ایسے لوگوں  کی مدد  سے آدمی کی شہرت کے ڈنکے تو نہیں  بجتے اور نہ ان کو کھلا کر آدمی کی دولت مندی اور دریا دلی کے وہ چرچے ہوئے ہیں  جو ہزاروں  کھاتے پیتے لوگوں  کی شاندار دعوتیں  کرنے سے ہوا کرتے ہیں،  مگر اخلاق کی بلندیوں  کی طرف جانے کا راستہ اِسی دشوار گزار گھاٹی سے ہو کر گزرتا ہے۔  اِن آیات میں  نیکی کے جن کاموں  کا ذکر کیا گیا ہے،  ان کے بڑے فضائل رسول اللہ صلی علیہ و سلم نے اپنے ارشادات میں  بیان فرمائے ہیں۔  مثلاً فَکُّ رَقَبَۃٍ(گردن چھُڑانے ) کے بارے میں  حضور کی بکثرت احادیث روایات میں  نقل ہوئی ہیں  جن میں  سے ایک حضرت ابو ہریرہ ؓ  کی یہ روایت ہے کہ حضور ؐ  نے فرمایا جس شخص نے ایک مومن غلام کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ اُس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں  آزاد کرنے والے شخص کے ہر عضو کو دوزخ کی آگ سے بچا لے گا، ہاتھ کے بدلے میں  ہاتھ، پاؤں  کے بدلے میں  پاؤں،  شرمگاہ کے بدلے میں  شرمگاہ (مُسنَد احمد، بخاری، مسلم، تِرْمِذی، نَسائی)۔ حضرت  علی بن حسین ؓ (امام زین العابدین) نے اِس حدیث کے راوی سعد بن مَرجانہ سے پوچھا کیا تم نے ابو ہریرہ ؓ  سے یہ حدیث خود سُنی ہے ؟ انہوں  نے کہاں  ہاں۔  اس پر امام زین العابدین نے اپنے سب سے زیادہ قیمتی غلام کو بلایا اور اُسی وقت اسے آزاد کر دیا۔ مسلم میں  بیان کیا گیا ہے کہ اس غلام کے لیے اُن کو دس ہزار درہم قیمت مل رہی تھی۔ امام ابو حنیفہ اور امام شَعْبِی نے اِسی آیت کی بنا پر کہا ہے کہ غلام آزاد کرنا صدقے سے افضل ہے،  کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صدقے پر مقدّم رکھا ہے۔  مساکین کی مدد کے فضائل بھی حضور ؐ نے بکثرت احادیث میں  ارشاد فرمائے ہیں۔  ان میں  سے ایک حضرت ابوہریرہ کی یہ حدیث ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا   السّاعی علی الارملۃ والمسکین کالساعی فی سبیل اللہ و احسبہ  قال کا لقائم لا یفترو کالصائم لا یفطر ’’بیوہ اور مسکین کی مدد کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا  ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں  دوڑ دھوپ کرنے والا۔ (اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں  کہ) مجھے یہ خیال ہوتا ہے کہ حضور ؐ  نے یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ ایسا ہے جیسے وہ شخص جو نماز میں  کھڑا  رہے اور آرام نہ لے اور وہ جو پے درپے روزے رکھے اور کبھی روزہ نہ چھوڑے ‘‘ (بخاری و مسلم)۔ یتامیٰ کے بارے میں  تو حضور ؐ کے بے شمار ارشادات ہیں۔  حضرت سہل ؓ بن سعد کی روایت ہے کہ ’’رسول  اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے فرمایا میں  اور وہ شخص جو کسی رشتہ دار یا غیر رشتہ دار یتیم کی کفالت کیرے،  جنت میں  اِس طرح ہوں  گے۔  یہ فرما کر آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو اٹھا کر دکھایا اور دونوں  انگلیوں  کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا‘‘(بخاری)۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ  حضور ؐ  یا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں  کہ ’’ مسلمانوں  کے گھروں  میں  بہترین گھر وہ ہے  جس میں  کسی یتیم سے نیک سلوک ہو رہا ہو اور بدترین گھر وہ ہے  جس میں  کسی یتیم سے برا سلوک ہو رہا ہو‘‘(ابن ماجہ۔ بخاری فی الادب المفرد)۔  حضر ت ابو اُمامہ کہتے ہیں  کہ حضور ؐ  نے فرمایا ’’جس نے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور محض اللہ کی خاطر پھیر ا اُس بچے کے ہر  بال کے بدلے  جس پر اس شخص کا ہاتھ گزرا اُس کے لیے نیکیاں  لکھی جائیں  گی،  اور جس نے کسی یتیم لڑکے  یا لڑکی کے ساتھ نیک برتاؤ کیا وہ اور میں  جنت میں  اِس طرح ہوں  گے۔  اور یہ فرما کر حضور ؐ نے اپنی دونوں  انگلیاں  ملا کر بتائیں (مُسند احمد۔  تِرْمِذی)۔  ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ سرکار ؓ رسالتماب نے ارشاد فرمایا’’جس نے کسی یتیم کو اپنے کھانے اور پینے میں  شامل کیا  اللہ نے اس کے لیے جنت واجب کر دی الّا یہ کہ وہ کوئی ایسا گناہ کر بیٹھا  ہو جو معاف نہیں  کیا جا سکتا‘‘(شرح السُّنہ)۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ  فرماتے ہیں  کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  سے شکایت کی کہ میرا دل سخت ہے۔  حضور ؐ نے فرمایا ’’یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر اور مسکین کو کھانا کھلا‘‘(مُسنَد احمد)۔

۱۳: یعنی اِن اوصاف کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ آدمی مومن ہو، کیونکہ ایمان کے بغیر نہ کوئی عمل عملِ صالح ہے اور نہ اللہ کے ہاں  وہ مقبول ہو سکتا ہے۔  قرآن مجید میں  بکثرت مقامات پر اِس کی تصریح کی گئی ہے کہ نیکی وہی قابلِ قدر اور ذریعۂ نجات ہے جو ایمان کے ساتھ ہو۔ مثلاً سورۂ نساء میں  فرمایا جو نیک اعمال کرے،  خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور  ہو وہ مومن، تو ایسے لوگ جنت میں  داخل ہوں  گے ‘‘(آیت ۱۲۴)۔ سورۂ نحل میں  فرمایا ’’جو نیک عمل کرے،  خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور ہو وہ مومن، تو ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں  گے اور ایسے لوگوں  کو اُن کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق عطا کریں  گے ‘‘(آیت ۹۷)۔  سورۂ مومن میں  فرمایا ’’اور جو نیک عمل کرے،  خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور ہو وہ مومن، ایسے لوگ جنت میں  داخل ہوں  گے،  وہاں  اُن کو بے حساب رزق دیا جائے گا‘‘(آیت ۴۰)۔ قرآنِ  پاک  کا جو شخص بھی مطالعہ کرے گا وہ یہ دیکھے گا کہ اس کتاب میں  جہاں  بھی عملِ صالح کے اجر اور اس کی جزائے خیر کا ذکر کیا گیا ہے وہاں  لازماً اُس کے ساتھ ایمان کی شرط لگی ہوئی ہے۔  عمل بلا ایمان کو کہیں  بھی خدا کے ہاں  مقبول نہیں  قرار دیا گیا ہے اور نہ اس پر کسی اجر کی امید  دلائی گئی ہے۔  اس مقام پر یہ اہم نکتہ بھی نگاہ  سے مخفی نہ رہنا چاہیے کہ آیت میں  یہ نہیں  فرمایا گیا کہ  ’’پھر وہ ایمان لایا‘‘ بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ ’’پھر وہ اُن لوگوں  میں  شامل ہوا جو ایمان لائے ‘‘۔ اِس کے معنی یہ ہیں  کہ محض ایک فرد کی حیثیت سے اپنی جگہ ایمان لا کر رہ جانا مطلوب نہیں  ہے،  بلکہ یہ ہے  کہ ہر ایمان لانے والا اُن دوسرے لوگوں  کے ساتھ مل جائے جو ایمان لائے ہیں  تاکہ اِس سے اہلِ ایمان کی ایک جماعت بنے،  ایک مومن معاشرہ  وجود میں  آئے،  اور اجتماعی طور پر اُن بھلائیوں  کو قائم کیا جائے جن کا قائم کرنا، اور اُن برائیوں   کو  مٹایا جائے جن کا مٹانا ایمان کا تقاضا ہے۔

۱۴: یہ مومن معاشرے کی دو اہم خصوصیات ہیں  جن کو دو مختصر فقروں  میں  بیان کر دیا گیا ہے۔  پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اُس کے افراد ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کریں ۔  اور دوسری یہ کہ وہ ایک دوسرے کو رحم کی تلقین کریں۔  جہاں  تک صبر کا تعلق ہے،  ہم اِس سے پہلے بارہا اس امر کی  وضاحت کر چکے ہیں  کہ قرآن مجید جس وسیع مفہوم میں  اس لفظ کو استعمال کرتا ہے اُس کے لحاظ سے مومن کی پوری زندگی صبر کی زندگی ہے،  اور ایمان کے راستے پر قدم رکھتے ہی آدمی کے صبر کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔  خدا کی فرض کردہ عبادتوں  کے انجام دینے میں  صبر  درکار ہے۔  خدا کے احکام کی اطاعت  و پیروی میں  صبر کی ضرورت ہے۔  خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں  سے بچنا  صبر کے بغیر ممکن نہیں  ہے۔  اخلاق کی برائیوں  کو چھوڑنا اور پاکیزہ  اخلاق اختیار کرنا صبر چاہتا ہے۔  قدم قدم پر گناہوں  کی ترغیبات سامنے آتی ہیں  جن کا مقابلہ صبر  ہی سے ہو سکتا ہے۔  بے شمار مواقع زندگی میں  ایسے پیش آتے ہیں  جن میں  خدا کے قانون کی پیروی کی جائے تو نقصانات،  تکالیف، مصائب،  اور محرومیوں  سے سابقہ پڑتا ہے اوراس کے برعکس نافرمانی کی راہ اختیار کی جائے تو فائدے اور لذّتیں  حاصل ہوتی نظر آتی ہیں۔  صبر کے بغیر ان مواقع سے کوئی مومن بخیریت نہیں  گزر سکتا۔ پھر ایمان کی راہ اختیار کرتے ہی آدمی کو اپنے نفس اور اس کی خواہشات سے لے کر اپنے اہل و عیال، اپنے خاندان، اپنے معاشرے،  اپنے ملک و قوم، اور دنیا بھر کے شیاطینِ جنّ و انس کی مزاحمتوں  کا سامنا کرنا پڑتا ہے،  حتیٰ کہ  راہ خدا میں  ہجرت اور جہاد کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔  ان سب حالات میں  صبر ہی کی صفت آدمی کو ثابت قدم رکھ سکتی ہے۔  اب یہ ظاہر بات ہے کہ ایک ایک مومن اکیلا اکیلا  اس شدید امتحان میں  پڑ جائے تو ہر وقت شکست کھا جانے کے خطرے سے دوچار ہو گا اور مشکل ہی سے کامیاب ہو سکے گا۔ بخلاف اِس کے اگر ایک مومن معاشرہ ایسا موجود ہو جس کا ہر فرد خود بھی صابر ہو اور جس کے سارے افراد ایک دوسرے کو صبر کے اِس ہمہ گیر امتحان میں  سہارا دے رہے ہوں  تو کامرانیاں  اُس معاشرے کے قدم چومیں  گی۔ بدی کے مقابلے میں  ایک بے پناہ طاقت پیدا ہو جائے گی۔ انسانی معاشرے کو بھلائی کے راستے پر لانے کے لیے ایک زبردست لشکر تیار ہو جائے گا۔ رہا رحم،  تو اہلِ ایمان کے معاشرے کی امتیازی شان  یہی ہے کہ وہ ایک سنگدل، بے رحم اور ظالم معاشرہ نہیں  ہوتا بلکہ انسانیت کے لیے رحیم و شفیق اور آپس میں  ایک دوسرے کا ہمدرد و غمخوار معاشرہ ہوتا ہے۔  فرد کی حیثیت سے بھی ایک مومن اللہ کی شانِ  رحیمی کا مظہر ہے،  اور جماعت کی حیثیت سے بھی مومنوں  کا گروہ خدا کے اُس رسول کا نمائندہ  ہے جس کی تعریف میں  فرمایا گیا ہے کہ  وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ(الانبیاء۔۱۰۶)۔آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے سب سے بڑھ کر جس بلند اخلاقی صفت کو اپنی امّت میں  فروغ دینے کی کوشش فرمائی ہے وہ  یہی رحم کی صفت ہے۔  مثال کے طور پر آپ کے حسب ذیل ارشادات ملاحظہ  ہوں  جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی نگاہ میں  اس کی کیا اہمیت تھی۔ حضرت جَرِیر بن عبد اللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: لا یر حمُ اللہ ُ من لا یرحمُ النَّاسَ (بخاری و مسلم) اللہ اس شخص پر رحم نہیں  کرتا جو انسانوں  پر رحم نہیں  کرتا۔           حضرت عبد اللہ بن ؓ عَمْروبن العاص کہتے ہیں  کہ حضور ؐ نے فرمایا: الراحمون یرحمہم الرحمٰن۔  ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء۔ (ابوداؤد، ترمذی) رحم کرنے والوں  پر رحمان رحم کرتا ہے۔  زمین والوں  پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔           ابن عباس ؓ کہتے ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  نے فرمایا: لیس منّا من لم یر حم صغیر نا ولم یُوقِّر کبیرنا (ترمذی) وہ شخص ہم میں  سے نہیں  ہے جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کھائے اور ہمارے بڑے کی توقیر نہ کرے۔            ابو داؤد نے حضور ؐ کے اس ارشاد کو حضرت عبد ؓ اللہ بن عَمْرو کے حوالہ سے یوں  نقل کیا ہے : من لم یرحم صغیرنا و یعرف حق کبیرنا فلیس منّا۔(ابوداؤد) جس نے ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کھایا اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہچانا وہ ہم میں  سے نہیں  ہے۔            حضرت ابوہریرہ ؓ  کہتے ہیں  کہ میں  نے ابوالقاسم صاد ق و مصدق صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو یہ فرماتے سُنا ہے : لا تُنزع الرّحمۃُ الا مِن شقیٍّ (مسند احمد، ترمذی) بدبخت آدمی کے دل ہی سے رحم سلب کر لیا جاتا ہے۔            حضرت عِیاض ؓ بن حِماد کی روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا تین قسم کے آدمی جنّتی ہیں۔  ان میں  سے ایک: رجل رحیم رقیق القلب لکل ذی قربیٰ و مسلم (مسلم) وہ شخص ہے جو ہر رشتہ دار اور ہر مسلمان کے لیے رحیم اور رقیق القلب ہو۔           حضرت نعمان ؓ بن پشیر کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے فرمایا: تری المؤمنین و تراحمہم و توادّ ھم و تعا طفہم کمثل الجسد اذا اشتکیٰ عضواً تداعیٰ لہ سائر الجسد بالسَّھْر و الحمّیٰ (بخاری و مسلم)                  تم مومنوں  کو آپس  کے رحم اور محبت اور ہمدردی کے معاملہ میں  ایک جسم کی طرح  پاؤ گے کہ اگر ایک عضو میں  کوئی تکلیف ہو تو سارا جسم اس کی خاطر بے خوابی اور بخار میں  مبتلا ہو جاتا ہے۔            حضرت ابو موسیٰ ؓ اشعری کہتے ہیں  کہ حضور ؐ نے فرمایا: المؤمن للمؤمن کالبنیان یشدّ بعضہ بعضاً (بخاری و مسلم) مومن دوسرے مومن کے لیے اُس دیوار کی طرح ہے جس کا ہر حصّہ دوسرے حصّے کو مضبوط کرتا ہے۔            حضرت عبداللہ ؓ بن عُمر حضور ؐ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں : المسلم اخو المسلم لا یظلمہ ولا یُسلمہ و من کان فی حاجۃ اخیہ کان اللہ فی حاجتہ و من فرّج عن مسلم کُرْ بۃً فرّج اللہ عنہ کربۃً من کُرُبات یوم القامۃ و من ستر مسلماً سترہ اللہ یوم القیامۃ (بخاری و مسلم) مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،   نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اس کی مدد سے باز رہتا ہے۔  جو شخص اپنے بھائی کی کسی حاجت کو پورا کرنے میں  لگا ہو  گا اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں  لگ جائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کو کسی مصیبت سے نکالے گا اللہ تعالیٰ اسے روزِ قیامت کی مصیبتوں  میں  سے کسی مصیبت سے نکال دے گا،  اور جو شخص کسی مسلمان کی عیب پوشی کرے گا اللہ قیامت کے روز اس کی عیب پوشی کرے گا۔           اِن ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک اعمال کرنے والوں  کو ایمان لانے کے بعد اہلِ ایمان کے گروہ میں  شامل ہونے کی جو ہدایت قرآن مجید کی اِس آیت میں  دی گئی ہے اُس سے کس قسم کا معاشرہ بنانا مقصود ہے۔

۱۵: اِس سے پہلے ہم سورۂ قیامہ حاشیہ نمبر ۱ میں  اس بات کی وضاحت کر چکے ہیں  کہ کلام کا آغاز ’’نہیں ‘‘ سے کرنا اور پھر قسم کھا کر آگے کی بات شروع کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ لوگ کوئی غلط بات کہہ رہے  تھے جس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نہیں،   بات وہ نہیں  ہے جو تم سمجھے بیٹھے ہو، بلکہ  میں  فلاں  فلاں  چیزوں  کی قسم کھاتا ہوں  کہ اصل بات یہ ہے۔  اب رہا یہ سوال کہ وہ بات کیا تھی جس کی تردید میں  یہ کلام نازل ہوا،  تو اُس پر بعد کا مضمون خود دلالت کر رہا ہے۔  کفّارِ مکہ یہ کہتے  تھے کہ ہم جس طرزِ زندگی پر چل رہے ہیں  اس میں  کوئی خرابی نہیں  ہے،  دنیا کی زندگی بس یہی کچھ ہے کہ کھاؤ  پیو، مزے اڑاؤ، اور جب وقت آئے تو مر جاؤ۔ محمد(  صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم) خواہ مخواہ ہمارے اِس طرزِ زندگی کو غلط ٹھیرا رہے ہیں  اور ہمیں  ڈرا رہے ہیں  کہ اِس پر کبھی  ہم سے باز پُرس ہو گی اور  ہمیں  جزا  و سزا سے سابقہ پیش آئے گا۔

۱۶: یعنی آگ اِس طرح اُن کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہو گی کہ اُس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو گا۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

۹۱۔سورۃ الشمس

 

نام

 

پہلے ہی لفظ  الشمس  کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مضمون اور اندازِ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورۃ بھی مکۂ معظمہ کے ابتدائی دور میں  نازل ہوئی ہے۔  مگر اس کا نزول اُس زمانے میں  ہوا ہے جب مکّہ میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی مخالفت خوب زور پکڑ چکی تھی۔

 

موضوع اور مضمون

 

اِس کا موضوع نیکی اور بدی کا فرق سمجھانا اور اُن لوگوں  کو بُرے انجام سے ڈرانا ہے جو اس فرق کو سمجھنے سے انکار اور بدی کی راہ چلنے پر اصرار کرتے ہیں۔

مضمون کے لحاظ سے یہ سورۃ دو حصّوں  پر مشتمل ہے۔  پہلا حصّہ سورۃ کے آغاز سے شروع ہو کر آیت ۱۰ پر ختم ہوتا ہے،  اور دوسرا حصّہ آیت ۱۱ سے آخر تک چلتا ہے۔  پہلے حصّہ میں  تین باتیں  سمجھائی گئی ہیں۔  ایک یہ کہ جس طرح سورج اور چاند، دن اور رات، زمین اور آسمان ایک دوسرے سے مختلف اور اپنے آثار و نتائج میں  متضاد ہیں،  اسی طرح نیکی اور بدی بھی ایک دوسرے سے مختلف اور اپنے آثار و نتائج میں  متضاد ہیں۔  یہ دونوں  نہ اپنی شکل میں  یکساں  ہیں  اور نہ ان کے نتائج یکساں  ہو سکتے ہیں۔  دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نفسِ  انسانی کو جسم،  حواس اور ذہن کی قوتیں  دے کر دنیا میں  بالکل بے خبر نہیں  چھوڑ دیا ہے بلکہ ایک فطری الہام  کے ذریعہ سے اُس کے لاشعور میں  نیکی اور بدی کا فرق، بھلے اور بُرے کا امتیاز، اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس اُتار دیا ہے۔  تیسرے یہ کہ انسان کے مستقبل کا انحصار اِس پر ہے کہ اس کے اندر تمیز، ارادے اور فیصلے کی جو قوتیں  اللہ نے رکھ دی ہیں  ان کو استعمال کر کے وہ اپنے نفس کے اچھے اور بُرے رُجحانات میں  سے کس کو ابھارتا اور کس کو دباتا ہے۔  اگر وہ اچھے رُجحانات کو ابھارے اور بُرے رُجحانات سے اپنے نفس کو پاک کرے تو فلاح پائے گا۔ اور اس  کے برعکس اگر وہ نفس کی اچھائی کو دبائے اور بُرائی کو اُبھارے تو نامراد ہو گا۔

دوسرے حصّے میں  قومِ ثمود کی تاریخی نظیر  کو پیش کرتے ہوئے رسالت کی اہمیت سمجھائی گئی ہے۔  رسول  دنیا میں  اس لیے بھیجا جاتا ہے کہ بھلائی اور بُرائی کا جو الہامی علم اللہ نے انسان کی فطرت میں  رکھ دیا ہے وہ بجائے خود انسان کی ہدایت کے لیے کافی نہیں  ہے،  بلکہ اس کو پوری طرح نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی انسان خیر و شر کے غلط فلسفے اور معیار تجویز کر کر کے گمراہ ہوتا  رہا ہے۔  اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے اُس فطری الہام کی مدد کے لیے انبیاء علیہم السلام پر واضح اور صاف صاف وحی نازل فرمائی تاکہ وہ لوگوں  کو کھول کر  بتائیں  کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا ہے۔  ایسے ہی ایک نبی حضرت صالح علیہ السلام قومِ ثمود کی طرف بھیجے گئے تھے۔  مگر وہ اپنے نفس کی بُرائی میں  غرق ہو کر اتنی سرکش ہو گئی تھی کہ اُس نے اُن کو جھُٹلا دیا، اور اُس کا منہ مانگا معجزہ جب اُنہوں  نے ایک اونٹنی کی شکل میں  پیش کیا تو اُن کی تنبیہ کے باوجود اُس قوم کے ایک شریر ترین آدمی نے ساری قوم کی خواہش اور طلب کے مطابق اسے بھی قتل کر دیا۔ اِس کا نتیجہ آخر کار یہ ہوا کہ پوری قوم تباہ کر کے رکھ دی گئی۔

ثمود کا یہ قصہ پیش کرتے ہوئے پوری سورہ میں  کہیں  یہ نہیں  کہا گیا  ہے کہ اے قومِ قریش، اگر تم ثمود کی طرح اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو جھٹلاؤ گے تو وہی انجام دیکھو گے جو ثمود نے دیکھا ہے۔  مکّہ میں  اُس وقت حالات وہی موجود تھے جو صالح علیہ السلام کے مقابلہ میں  قومِ ثمود کے اشرار نے پیدا کر رکھے تھے۔  اس لیے اُن حالات میں  یہ قصہ سنا دینا بجائے خود اہلِ مکّہ  کو یہ سمجھا دینے کے لیے کافی تھا کہ ثمود کی یہ تاریخی نظیر اُن پر کس طرح چسپاں  ہو رہی ہے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

سُورج اور اُس کی دھُوپ ۱ کی قسم، اور چاند کی قسم جبکہ وہ اُس کے پیچھے آتا ہے،  اور دن کی قسم جبکہ وہ ( سُورج کو) نمایاں  کر دیتا ہے،  اور رات کی قسم جبکہ وہ (سُورج کو) ڈھانک لیتی ہے،  ۲ اور آسمان کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے قائم کیا، ۳ اور زمین کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے بچھایا، اور نفسِ انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیا ۴ پھر اُس کی بدی اوراُس کی پرہیزگاری اس پر الہام کر دی، ۵ یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔ ۶

۷ ثمُود نے اپنی سرکشی کی بنا پر جھُٹلایا۔ ۸ جب اُس قوم کا سب سے زیادہ شقی آدمی بِپھر کر اُٹھا تو اللہ کے رسُول نے اُن لوگوں  سے کہا کہ خبردار، اللہ کی اُونٹنی کو (ہاتھ نہ لگانا) اور اُس کے پانی پینے (میں  مانع نہ ہونا)۔ ۹   مگر انہوں  نے اُس کی بات کو جھُوٹا قرار دیا ا اور اُونٹنی کو مار ڈالا۔ ۱۰ آخر کار اُن کے گناہ کی پاداش میں  ان کے ربّ نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوندِ خاک کر دیا، اور اسے ( اپنے اس فعل کے ) کسی بُرے نتیجے کا کوئی خوف نہیں  ہے۔  ۱۱ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اصل میں  لفظ ضُحٰیاستعمال کیا گیا ہے جو سورج کی روشنی اور اس کی حرارت،  دونوں  پر دلالت کرتا ہے۔  اگرچہ عربی زبان میں  اس کے معروف معنی چاشت کے وقت کے ہیں  جبکہ سورج طلوع ہونے کے بعد خاصا بلند ہو جاتا ہے۔  لیکن جب سورج چڑھتا ہے تو صرف روشنی ہی نہیں  دیتا بلکہ گرمی بھی دیتا ہے،  اس لیے ضُحیٰ کا لفظ  جب سورج کی طرف منسوب  ہو تو اس کا پورا مفہوم  اُس کی روشنی،  یا اُس کی بدولت نکلنے والے دن کے بجائے اُس کی دھُوپ ہی سے زیادہ صحیح طور پر ادا ہوتا ہے۔

۲: یعنی رات  کی آمد پر سُورج چھُپ  جاتا ہے اور اُس کی روشنی رات بھر غائب رہتی ہے۔  اس کیفیت کو یوں  بیان کیا گیا ہے کہ رات سورج کو ڈھانک لیتی ہے،  کیونکہ رات کی اصل حقیقت سورج کا افق سے نیچے اُتر جانا ہے،  جس کی وجہ سے اُس کی روشنی زمین کے اُس حصّے تک نہیں  پہنچ سکتی جہاں  رات طاری ہو گئی ہو۔

۳: یعنی چھت کی طرح اُسے زمین پر اٹھا کھڑا کیا۔ اِس آیت اور اس کے بعد کی دو آیتوں  میں  مَا  کا لفظ استعمال  ہوا ہے یعنی مَا بَنٰھَا،  اور مَا طَحٰھَا اور مَا سَوّٰ ھَا۔  اِس لفظ مَا کو  مفسّرین کے ایک گروہ نے مصدری معنوں  میں  لیا ہے اور وہ اِن آیتوں  کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں  کہ آسمان اور اس کے قائم کیے جانے کی قسم، زمین اور اس کے بچھائے جانے کی قسم،  اور نفس اور اس کے ہموار کیے جانے کی قسم۔ لیکن یہ معنی اس لیے درست نہیں  ہیں  کہ ان تین فقروں  کے بعد یہ فقرہ کہ’’ پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیزگاری اُس پر الہام کر دی‘‘ اِس سلسلۂ کلام کے ساتھ ٹھیک نہیں  بیٹھتا۔  دوسرے مفسّرین نے یہاں  مَا کو مَنْ یا الذّی کے معنی میں  لیا ہے،  اور وہ اِن فقروں  کا مطلب یہ لیتے ہیں  کہ جس نے آسمان کو قائم کیا، جس نے زمین کو بچھایا اور جن نے نفس کو ہموار کیا۔ یہی دوسرا مطلب ہمارے نزدیک صحیح ہے،  اور اس پر یہ اعتراض نہیں  ہو سکتا کہ مَا عربی زبان میں  بے جان اشیاء اور بے عقل مخلوقات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔  خود قرآن میں  اِس کی بکثرت مثالیں  موجود ہیں   کہ مَا کو مَنْ کے معنی میں  استعمال کیا گیا ہے۔  مثلاً وَلَآ اَنْتُمْ عَابِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ ( اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں  عبادت کرتا ہوں )۔ فَا نْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ ( پس عورتوں  میں  جو تمہیں  پسند آئیں  ان سے نکاح کر لو)۔ وَلَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰ بَآ ؤُ کُمْ مِّنَ النِّسَآ ءِ ( اور  جن عورتوں  سے تمہارے باپوں  نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح نہ کرو)۔

۴: ہموار کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو ایسا جسم عطا کیا جو اپنے قامتِ راست اور اپنے ہاتھ پاؤں ،  اور اپنے دماغ کے اعتبار سے انسان کی سی زندگی بسر کرنے کے لیے موزوں  ترین تھا۔ اُس کو دیکھنے،  سننے،  چھونے،  چکھنے اور سونگھنے کے ایسے حواس عطا کیے جو اپنے تناسب اور اپنی خصوصیات کی بنا پر اس کے لیے بہترین ذریعۂ علم بن سکتے تھے۔  اس کو قوتِ عقل و فکر، قوتِ استدلال و استنباط، قوتِ خیال، قوتِ حافظہ، قوتِ تمیز، قوتِ فیصلہ، قوتِ ارادی اور دوسری ایسی ذہنی قوتیں  عطا کیں  جن کی بدولت وہ دنیا میں  اُس کام کے قابل ہوا جو انسان کے کرنے کا ہے۔  اس کے علاوہ ہموار کرنے میں  یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اُسے پیدائشی گناہ گار اور جِبِلّی بدمعاش بنا کر نہیں  بلکہ راست اور سیدھی فطرت پر پیدا کیا اور اس کی ساخت میں  کوئی خِلقی کجی نہیں  رکھ دی کہ وہ سیدھی راہ اختیار کرنا چاہے بھی تو نہ کر سکے۔  یہی بات  ہے جسے سورۂ روم میں   بایں  الفاظ  بیان کیا گیا ہے کہ فِطْرَتَ اللہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا، ’’قائم ہو جاؤ اُس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں  کو پیدا کیا ہے ‘‘(آیت ۳۰)۔ اور اسی بات کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے ایک حدیث میں  یوں  بیان فرمایا ہے کہ  ’’کوئی بچہ ایسانہیں  ہے جو فطرت کے سوا کسی اور چیز پر پیدا ہوتا ہو، پھر اس کے ماں  باپ اس کو یہودی یا  نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔  یہ ایسا ہی ہے  جیسے جانور کے پیٹ سے پورا کا پورا صحیح و سالم بچہ پیدا ہوتا ہے۔  کیا تم ان میں  کسی کا کان کٹا  ہو ا پاتے ہوں ؟‘‘(بخاری و مسلم) یعنی یہ مشرکین ہیں  جو بعد میں  اپنے اوہام جاہلیت کی بنا پر جانوروں  کے کان کاٹتے ہیں ،  ورنہ خدا کسی جانور کو ماں  کے پیٹ سے کٹے ہوئے کان لے کر پیدا نہیں  کرتا۔ ایک اور حدیث میں  حضور ؐ  کا ارشاد ہے ’’ میرا ربّ فرماتا ہے کہ میں  نے اپنے تمام بندوں  کو حنیف (صحیح الفطرت) پیدا کیا تھا، پھر شیاطین نے آ کر ان کو ان کے دین( یعنی ان کے فطری دین) سے گمراہ کر دیا اور ان پر وہ چیزیں  حرام  کر دیں  جو میں  نے ان کے لیے حلال کی تھیں  اور ان کو حکم دیا کہ میرے ساتھ اُن کو شریک کریں  جن کے شریک ہو نے پر میں  نے کوئی دلیل نازل نہیں  کی‘‘(مُسند احمد۔ مسلم نے بھی اِس سے ملتے جُلتے الفاظ میں  حضور ؐ  کا یہ ارشاد نقل کیا ہے )۔

۵: الہام کا لفظ لَہْم سے ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں۔  لَھَمَ الشَّیَٔ وَ الْتَھَمَہٗ کے معنی ہیں  فلاں  شخص نے اس چیز کو نگل لیا۔ اور اَلْھَمْتُہُ الشَّیْءَ کے معنی ہیں  میں  نے فلاں  چیز اُس کو نگلوا دی یا اس کے حلق  سے اتار دی۔ اسی بنیادی مفہوم کے لحاظ سے الہام کا لفظ اصطلاحاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی تصور یا کسی خیال کو غیر شعوری طور پر بندے کے دل و دماغ میں  اتار دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔  نفسِ انسانی پر اس کی بدی اور اس کی نیکی و پرہیز گاری الہام کر دینے کے دو مطلب ہیں ۔  ایک یہ کہ اس کے اندر خالق نے نیکی اور بدی دونوں  کے رجحانات و میلانات رکھ  دیے ہیں،  اور یہ وہ چیز ہے جس کو ہر شخص اپنے اندر محسوس کرتا ہے۔  دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے لاشعور میں  اللہ تعالیٰ نے یہ تصورات ودیعت کر دیے ہیں  کہ اخلاق میں  کوئی چیز بھلائی ہے اور کوئی چیز بُرائی، اچھے ا خلاق و اعمال اور بُرے اخلاق و اعمال یکساں  نہیں  ہیں،  فجور (بدکرداری) ایک قبیح چیز ہے اور تقویٰ (بُرائیوں  سے اجتناب) ایک اچھی چیز۔  یہ تصورات انسان کے لیے اجنبی نہیں  ہیں  بلکہ اُس کی فطرت اِن سے آشنا ہے اور خالق نے برے اور بھلے کی تمیز پیدائشی طور پر اُس کو عطا کر دی ہے۔  یہی بات سُورۂ بَلَد میں  فرمائی گئی ہے کہ وَھَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ۔’’ اور ہم نے اس کو خیر و شر کے دونوں  نمایاں  راستے دکھا دیے ‘‘ (آیت۱۰)۔ اِسی کو سورۂ دَھر میں  یوں  بیان فرمایا گیا ہے  اِنَّا ھَدَیْنٰہْ السَّبِیْلَ اِمَّا شَا کِراً وَّاِمَّا کَفُوْ راً۔’’ہم نے اس کو راستہ دکھا دیا خواہ شاکر بن کر رہے یا کفار‘‘(آیت۳)۔ اور اسی بات سورۂ قیامہ میں  اِس طرح بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے اندر ایک نفس لوّامہ (ضمیر) موجود ہے ے جو برائی کرنے پر اسے ملامت کرتا ہے (آیت ۲) اور ہر انسان خواہ کتنی ہی معذرتیں  پیش کرے مگر وہ اپنے آپ کو خوب جانتا ہے کہ وہ کیا ہے (آیات ۱۴ تا ۱۵)۔ اِس جگہ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینے چاہیے کہ فطری الہام اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق پر اُس کی حیثیت اور نوعیت کے لحاظ سے کیا ہے،  جیسا کہ سُورۂ طٰہٰ میں  ارشاد ہوا  ہے کہ اَلَّذِیْٓ اَعْطیٰ کُلَّ شَیْءٍ خَلْقَہٗ ثُمَّ ھَدٰی۔ ’’جس نے ہر چیز کو اُس کی ساخت عطا  کر پھر راہ دکھائی‘‘(آیت ۵۰)۔ مثلاً حیوانات کی ہر نوع کو اس کی ضروریات کے مطابق الہامی عالم دیا گیا ہے جس کی بنا پر مچھلی کو آپ سے آپ تیرنا، پرندے کو اُڑنا، شہد کی مکھی کو چھتّہ بنایا اور بئے کو گھونسلا تیار کرنا آ جاتا ہے۔  انسان کو بھی اُس کی مختلف حیثیتوں  کے لحاظ سے الگ الگ قسم کے الہامی علوم دیے گئے ہیں  انسان کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک حیوانی وجود ہے اور اِس حیثیت سے جو الہامی علم اُس کو دیا گیا ہے اُس کی ایک نمایاں  ترین مثال بچے کا پیدا ہوتے ہی ماں  کا دُودھ چُوسنا ہے جس کی تعلیم اگر خدا نے فطری طور پر اسے نہ دی ہوتی تو کوئی اسے یہ فن نہ سکھا سکتا تھا۔ اُس کی  دوسری حیثیت یہ ہے کہ  وہ ایک عقلی وجود ہے۔  اِس حیثیت سے خدا نے انسان کی آفرینش  کے آغاز سے مسلسل اُس کو الہامی رہنمائی دی ہے جس کی بدولت وہ پے درپے اکتشافات اور ایجادات کر کے تمدّن میں  ترقی کرتا رہا ہے۔  اِن ایجادات و اکتشافات کی تاریخ کا جو شخص بھی مطالعہ کرے گا وہ محسوس کرے گا کہ ان میں  سے شاید ہی کوئی ایسی ہو جو محض انسانی فکر و کاوش کا نتیجہ ہو، ورنہ ہر ایک ابتدا اِسی طرح ہوتی ہے کہ یکایک کسی شخص کے ذہن میں  ایک بات آ گئی اور اُس کی بدولت اُس نے کسی چیز کا اکتشاف کیا یا کوئی چیز ایجاد کر لی۔ ان دونوں  حیثیتوں  کے علاوہ انسان کی ایک اور حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک اخلاقی وجود ہے،  اور اِس ی حیثیت سے بھی اللہ تعالیٰ نے اسے خیر و شر کا امتیاز،  اور خیر کے خیر  اور شر کے شر ہونے کا احساس الہامی طور پر عطا کیا ہے۔  یہ امتیاز و احساس  ایک عالمگیر حقیقت ہے جس کی بنا پر دنیا میں  کبھی کوئی انسانی معاشرہ خیر و شر کے تصورات  سے خالی نہیں  رہا ہے،  اور کوئی ایسا معاشرہ نہ تاریخ میں  کبھی  پایا گیا ہے نہ اب پایا جاتا ہے جس کے نظام  میں  بھلائی اور بُرائی پر جزا اور سزا کی کوئی نہ کوئی صورت اختیار  نہ کی گئی ہو۔ اِس چیز کا ہر زمانے ہر جگہ اور ہر مرحلۂ تہذیب و تمدن میں  پایا جانا اِس کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے اور مزید براں  یہ اِس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ایک خالقِ حکیم و د انا نے اِسے انسان کی فطرت میں  ودیعت کیا ہے،  کیونکہ جن اجزاء سے انسان مرکب ہے اور جن قوانین کے تحت دنیا کا مادّی نظام چل رہا ہے اُن کے اندر کہیں  اخلاق کے ماخذ کی نشان دہی  نہیں  کی جا سکین۔

۶: یہ ہے وہ بات جس پر اُن چیزوں  کی قسم کھائی گئی ہے جو اوپر کی آیات میں  مذکور ہوئی ہیں ۔  اب غور کیجیے کہ وہ چیزیں  اِس پر کس طرح دلالت کرتی ہیں۔  قرآن  میں  اللہ تعالیٰ  کا قاعدہ یہ ہے کہ جن حقائق کو وہ انسان کے ذہن نشین کرا نا چاہتا ہے،  اُن کی شہادت میں  وہ سامنے کی چند ایسی نمایاں  ترین چیزوں  کو پیش کرتا ہے جو ہر آدمی کو اپنے گرد و پیش کی دنیا میں ،  یا خود اپنے وجود میں  نظر آتی ہیں۔  اِسی قاعدے کے مطابق یہاں  دو دو چیزوں  کو ایک دوسرے کے مقابلے میں  پیش کیا گیا ہے جو ایک دوسرے سے متضاد ہیں  اس لیے اُن کے آثار اور نتائج بھی یکساں  نہیں  ہیں  بلکہ لازماً ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔  ایک طرف سورج ہے اور دوسری طرف چاند۔ سورج کی روشنی نہایت تیز ہے اور اس میں  گرمی بھی ہے۔  اس کے مقابلہ میں  چاند اپنی کوئی روشنی نہیں  رکھتا۔ سورج کی موجودگی میں  وہ آسمان پر موجود ہ بھی ہو تو بے نُور ہوتا ہے۔  وہ اُس وقت چمکتا ہے جب سُورج چھُپ جائے اور اُس وقت بھی اس کی روشنی   نہ اتنی تیز ہوتی ہے  کہ رات کو دِن بنا دے،  نہ اُس  میں  کوئی گرمی ہوتی ہے کہ  وہ کام کر سکے جو سورج کی گرمی کرتی ہے۔  لیکن اُس کے اپنے کچھ اثرات ہیں  جو سورج کے  اثرات سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔  اسی طرح ایک طرف دن ہے اور دوسری طرف رات۔ دونوں  ایک دوسرے کی ضد ہیں۔  دونوں  کے اثرات اور نتائج باہم اس قدر مختلف ہیں  کہ کوئی اُن کو یکساں  نہیں  کہہ سکتا حتیٰ کہ ایک بے وقوف سے بے  وقوف آدمی کے لیے بھی یہ کہنا ممکن نہیں  ہے کہ رات ہوئی تو کیا اور دن ہوا تو کیا، کسی سے کوئی فرق نہیں  پڑتا۔ اسی طرح ایک طرف آسمان ہے جسے خالق نے بلند اٹھایا ہے اور دوسری طرح زمین ہے جسے پیدا کرنے والے نے آسمان کے نیچے فرش کی طرح بچھا دیا ہے۔  دونوں  اگرچہ ایک ہی کائنات اور اس کے نظام اور اس کی مصلحتوں  کی خدمت کر رہے ہیں ،  لیکن دونوں  کے کام اور ان کے اثرات  و نتائج میں  زمین و آسمان کا فرق ہے۔  اِن آفاقی شہادتوں  کو پیش کرنے کے بعد خود انسان کے  اپنے نفس کو لیا گیا ہے  اور بتایا گیا ہے  کہ اسے اعضا اور حواس اور ذہنی قوتوں  کے متناسب امتزاج  سے ہموار کر کے خالق نے اس کے اندر بھلائی اور بڑائی، دونوں  کے میلانات، رُجحانات اور محرکات رکھ دیے ہیں  جو ایک دوسرے کی ضد ہیں  اور الہامی طور پر اسے اِن دونوں  کا فرق سمجھا دیا ہے کہ ایک فجور ہے اور وہ بُری چیز ہے،  اور دوسرا تقویٰ ہے،  اور وہ اچھی چیز۔  اب اگر سورج اور چاند، دن اور رات، زمین اور آسمان یکساں  نہیں  ہیں  بلکہ ان کے اثرات اور نتائج ایک دوسرے سے لازماً مختلف ہیں،  تو نفس کا فجور اور تقویٰ دونوں  ایک دوسرے کی ضد ہونے کے باوجود یکساں  کیسے ہو سکتے ہیں۔  انسان  خود اِس دنیا میں  بھی نیکی اور بدی کو یکساں  نہیں  سمجھتا اور نہیں  مانتا۔ خواہ اس نے اپنے بنائے ہوئے فلسفوں  کی رو سے خیر و شر کیے کچھ بھی معیار تجویز کر لیے ہوں ،  بہر حال جس چیز کو بھی وہ نیکی سمجھتا ہے اس کے متعلق وہ یہ رائے رکھتا ہے کہ وہ قابل قدر ہے،  تعریف اور صلے اور انعام کی مستحق ہے۔  بخلاف اِس کے جس چیز کو بھی وہ بدی سمجھتا ہے،  اس کے بارے میں  اس کی اپنی بے لاگ رائے یہ ہے کہ وہ مذمت اور سزا کی مستحق ہے۔  لیکن اصل فیصلہ انسان کے ہاتھ میں  نہیں  ہے بلکہ اُس خالق کے ہاتھ میں  ہے جس نے انسانن کا فجور اور تقویٰ اُس پر الہام کیا ہے۔  فجور وہی ہے جو خالق کے نزدیک فجور ہے اور تقویٰ وہی ہے جو اس کے نزدیک تقویٰ ہے۔  اور خالق کے ہاں  اِن دونوں  کے دو الگ نتائج ہیں۔  ایک کا نتیجہ یہ ہے کہ جو اپنے نفس کا تزکیہ کرے وہ فلاح پائے،  اور دوسرے کا  نتیجہ یہ ہے کہ جو اپنے نفس کو دبا دے وہ نامراد ہو۔ تزکیہ کے معنی ہیں  پاک کرنا ابھارنا اور نشو نما دینا۔ سیاق و سباق سے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو اپنے نفس کو فجور سے پا ک کرے،  اس کو اُبھار کر تقویٰ کی بلندی پر لے جائے اور اُس کے اندر بھلائی کو نشو و نما دے وہ فلاح پائے گا۔ اس کے مقابلہ میں  دَسّٰھَا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا مصدر تَدْسِیَہ ہے۔  تدسیہ کے معنی دبانے،  چھُپانے،  اِغوا کرنے اور گمراہ کر دینے کے ہیں۔  سیاق و سباق سے اس کا مطلب بھی واضح ہو جاتا ہے کہ وہ شخص نامراد ہو گا جو اپنے نفس کے اندر پائے جانے والے نیکی کے رجحانات کو ابھارنے اور نشو و نما دینے کے بجائے اُن کو دبا دے،  اُس کو بہکا کر برائی کے رجحانات کی طرف لے جائے،  اور فجور کو اُس پر اتنا غالب کر دے کہ تقویٰ اس کے نیچے اِس طرح چھپ  کر رہ جائے جیسے ایک لاش قبر پر مٹی ڈال دینے کے بعد چھپ جاتی ہے۔  بعض مفسّرین نے اس آیت کے معنی یہ بیان کیے ہیں  کہ  قَدْ  اَفْلَحَ مَنْ  زَکَّی اللہُ نَفْسَہٗ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّی اللہُ نَفْسَہٗ، یعنی فلاح پا گیا وہ جس کے نفس کو اللہ نے پاک کر دیا اور  نا  مراد ہوا وہ جس کے نفس کو اللہ نے دبا دیا۔ لیکن یہ تفسیر اول تو زبان کے لحاظ سے قرآن کے طرزِ بیان کے خلاف ہے،  کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کو یہی بات کہنی مقصود ہوتی تو وہ یوں  فرماتا کہ قَدْ اَفْلَحَتْ مَنْ زَکّٰھَا اللہُ وَقَدْ خَابَتْ مَنْ دَسّٰھَاللہُ (فلاح پا گیا وہ نفس  جس کو اللہ  نے پاک کر دیا اور نامراد ہو گیا وہ نفس جو اللہ نے دبا دیا)۔ دوسرے یہ تفسیر اِسی موضوع پر قرآن کے دوسرے بیانات سے ٹکراتی ہے۔  سورۂ اعلیٰ میں  اللہ تعالیٰ  کا ارشاد ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی، ’’فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی‘‘(آیت ۱۴)۔ سورۂ عَبَسَ میں  اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خطاب کر کے فرمایا وَمَا عَلَیْکَ اِلَّا یَزَّکّٰی، ’’اور تم پر کیا ذمہ داری ہے اگر وہ پاکیزگی نہ اختیار کرے ‘‘۔ اِن  دونوں  آیتوں  میں  انسان کا امتحان لیا جا رہا ہے۔  مثلاً سُورۂ دہر میں  فرمایا ’’ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تا کہ اس کی آزمائش کریں  اِسی لیے اُسے ہم نے سمیع و بصیر بنایا‘‘(آیت۲)۔ اور سُورۂ مُلک میں  فرمایا’’ جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تا کہ تمہیں  آزمائے  کون تم میں  بہتر عمل کر نے والا ہے ‘‘(آیت ۲)۔ اب یہ ظاہر ہے کہ امتحان سرے سے ہی بے معنی ہو جاتا ہے اگر امتحان لینے والا پہلے ہی ایک امیدوار کو ابھار دے اور دوسرے کو   دبا دے۔  اس لیے صحیح تفسیر وہی ہے کہ جو قَتَادَہ، عِکْرِمَہ مجاہد اور سعید بن جُبَیر نے بیان کی ہے کہ زَکّٰھَا اور دَسّٰھَا کا فاعل بندہ ہے  نہ کہ خدا۔ رہی وہ حدیث جو ابن ابی حاتم نے  عن جُوَیْبِر بن سعید عن الضحّاک عن ابن عباس کی سند سے نقل کی ہے کہ  خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے اس آیت کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ اَفْلَحَتْ نَفْسٌ زَکَّا ھَا اللہُ عَزَّ وَجَلَّ ( فلاح پا گیا وہ نفس جس  کو اللہ عز و جل نے پاک کر دیا،  تو یہ ارشاد در حقیقت حضور سے ثابت نہیں  ہے کیونکہ اس کی سند  میں  جُوَ یبِر متروک الحدیث ہے اور ابن عباس  سے ضحّاک کی ملاقات نہیں  ہوئی ہے۔  البتہ وہ حدیث صحیح ہے جو امام احمد، مسلم،  نَسائی اور ابن ابی شَیْبَہ نے حضرت زید بن اَرقم سے روایت کی ہے کہ حضور ؐ یہ دُعا مانگا کرتے تھے کہ الّٰہمّ اٰتِ نفسی تقواھا و زَکّھِا انتَ خیر من زکّاھا، انت ولیّھُا و مَولا ھا۔ ’’خدایا میرے نفس کو اُس کا تقویٰ عطا کر اور اس کو پاکیزہ کر، تو ہی وہ بہتر ہستی ہے  جس اس کو پاکیزہ کر ے،  تو ہی اُس کا  سرپرست اور مولیٰ ہے ‘‘۔ اِسی سے ملتے جلتے الفاظ میں  حضور ؐ کی یہ دعا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ طَبَرانی، ابن مَرْدُوْیَہ اور ابن المُنْذِر نے اور حضرت عائشہ ؓ  سے امام احمد نے نقل کی ہے۔  اس کا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ  بندہ تو صرف تقویٰ اور تزکیہ کی خواہش اور طلب ہی کر سکتا ہے،   رہا اس کا نصیب ہو جانا، تو وہ بہر حال اللہ ہی کی توفیق پر منحصر ہے۔  اور یہی  حال تَدْسیہ کا بھی ہے کہ اللہ زبردستی کسی کے نفس کو نہیں  دباتا،  مگر جب بندہ اُس پر تُل جائے تو اللہ تعالیٰ اُسے تقویٰ اور تزکیہ کی توفیق سے محروم کر دیتا ہے اور اُسے چھوڑ دیتا ہے کہ اپنے نفس کو جس گندگی کے ڈھیر میں  دبانا چاہے دبا دے۔

۷: اوپر کی آیات میں  جن باتوں  کو اصولاً بیان کیا گیا ہے اب انہی کی وضاحت ایک تاریخی نظیر سے کی جا رہی ہے۔  یہ کس بات کی نظیر ہے اور اوپر کے بیان سے اس کا کیا تعلق ہے،  اس کو سمجھنے کے لیے قرآن مجید کے دوسرے بیانات کی روشنی میں  اُن دو بنیادی حقیقتوں  پر اچھی طرح غور کرنا چاہیے جو آیات ۷ تا ۱۰ میں  بیان کی گئی ہیں۔  اولاً ان میں   فرمایا گیا ہے کہ نفس انسانی کو ایک ہموار و مستقیم فطرت پر پیدا کر کے اللہ تعالیٰ نے اُس کا فجور اور اُس کا تقویٰ اُس پر الہام کر دیا۔ قرآن مجید اِس حقیقت کو بیان کرنے  کے ساتھ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ فجور و تقویٰ کا یہ الہامی علم اِس بات کے لیے کافی نہیں  ہے کہ ہر شخص خود ہی اُس سے تفصیلی ہدایت حاصل کر لے،  بلکہ اِس غرض کے لیے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے انبیاء علیہم السلام کو مفصّل ہدایت دی جس میں  وضاحت کے ساتھ  یہ بتا دیا گیا  کہ فجور کا اطلاق کن کن چیزوں  پر ہوتا ہے جن سے بچنا چاہیے اور تقویٰ کس چیز کا نام ہے اور  وہ کیسے حاصل ہوتا ہے۔  اگر انسان وحی کے ذریعہ سے آنے والی اِس واضح ہدایت کو قبول نہ کرے تو وہ نہ فجور سے بچ سکتا ہے نہ تقویٰ کا راستہ پا سکتا ہے۔  ثانیاً اِن آیات میں  فرمایا گیا ہے کہ جزا اور سزا وہ لازمی نتائج ہیں  جو فجور اور تقویٰ میں  سے کسی ایک کے اختیار کرنے پر مترتب ہوتے ہیں۔  نفس کو فجور سے پاک کرنے اور تقویٰ سے ترقی دینے کا نتیجہ فلاح ہے،  اور اس کے اچھے رجحانات کو دبا کر فجور میں  غرق کر دینے کا نتیجہ نا مرادی اور ہلاکت و بربادی۔  اسی بات کو سمجھانے کے لیے ایک تاریخی نظیر پیش کی  جا رہی ہے  اور اس کے لیے ثمود کی قوم کو بطور نمونہ لیا گیا ہے،  کیونکہ پچھلی تباہ شدہ قوموں  میں  سے جس قوم کا علاقہ اہلِ مکّہ سے قریب ترین تھا وہ یہی تھی۔ شمالی حجاز میں  اُس کے تاریخی آثار موجود  تھے جن سے اہلِ مکّہ شام کی طرف اپنے تجارتی  سفروں  میں   ہمیشہ گزرتے رہتے تھے،  اور جاہلیت کے اشعار میں   جس طرح اس قوم کا ذکر کثرت سے آیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ عرب میں  اس کی تباہی کا چرچا عام تھا۔

۸: یعنی حضرت صالح علیہ السلام کی نبوت کو جھُٹلا دیا جو اُن کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے تھے،  اور اِس جھُٹلانے کی وجہ اُن کی یہ سرکشی تھی کہ وہ اُس فجور کو چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے جس میں  وہ مبتلا ہو چکے تھے اور اُس تقویٰ کو قبول کرنا انہیں  گوارا نہ تھا جس کی طرف حضرت صالح انہیں  دعوت دے رہے تھے۔  اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیات ۷۳ تا ۷۶۔  ہود،  آیات ۶۲-۶۱۔ الشُّعراء، آیات ۱۴۱ تا ۱۵۳۔ النمل، آیات ۴۵ تا ۴۹۔ القمر،  آیات ۲۳ تا ۲۵۔

۹: قرآن مجید میں  دوسرے مقامات پر اس کی تفصیل  یہ بتائی گئی ہے کہ ثمود کے لوگوں  نے حضرت صالح کو چیلنج دیا تھا  کہ اگر تم سچّے ہو تو کوئی نشانی (معجزہ) پیش کرو۔ اس پر حضرت صالح نے ایک اونٹنی کو معجزے کے طور پر ان کے سامنے حاضر کر دیا اور اُن سے کہا کہ یہ اللہ کی اونٹنی ہے،  یہ زمین میں  جہاں  چاہے گی چرتی پھرے گی، ایک  دن سارا پانی اس کے لیے مخصوص ہو گا اور دوسرا دن تم سب کے لیے اور تمہارے جانوروں  کے لیے رہے گا، اگر تم نے اس کو ہاتھ لگایا تو یاد رکھو کہ تم پر سخت عذاب نازل ہو جائے گا۔ اِ س پر وہ کچھ مدّت تک ڈرتے رہے۔  پھر انہوں  نے اپنے اس سب سے زیادہ  شریر اور سرکش سردار کو  پکارا کہ اس اونٹنی کا قصہ تمام کر دے اور وہ اس  کام کا ذمہ لے کر اٹھ کھڑا ہوا (الاعراف، آیت ۷۳، الشعراء، آیات ۱۵۴ تا ۱۵۶۔ القمر، آیت ۲۹)۔

۱۰: سورۂ اعراف میں  ہے کہ اونٹنی کو مارنے کے بعد ثمود کے لوگوں  نے حضرت صالح سے کہا  اب لے آؤ وہ عذاب  جس  سے تم ہمیں  ڈراتے تھے (آیت ۷۷)۔ اور سورۂ ہود میں  ہے کہ حضرت صالح ؑ  نے اُن سے کہا تین دن اپنے گھروں  میں  اور مزے کر لو، اِس کے بعد عذاب آ جائے گا اور یہ ایسی تنبیہ ہے جو جھوٹی ثابت نہ ہو گی(آیت ۶۵)۔

۱۱:  یعنی اللہ دنیا کے بادشاہوں  اور یہاں  کی حکومتوں  کے فرمانرواؤں  کی طرح نہیں  ہے کہ وہ کسی قوم کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کے وقت یہ سوچنے پر مجبور ہو تے ہیں  کہ اِس اقدام کے نتائج کیا ہوں  گے۔  اُس کا اقتدار سب سے بالاتر ہے۔  اُسے اس امر کا کوئی اندیشہ نہیں  تھا کہ ثمود کی حامی کوئی ایسی طاقت ہے جو اس سے بدلہ لینے کے لیے آئے گی۔

٭٭٭

 

 

 

۹۲۔سورۃ الیل

 

نام

 

پہلے ہی لفظ وَالَّیْل کو اس سُورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اس کا مضمون سورۂ شمس سے اِس قدر مشابہ ہے کہ یہ دونوں  سورتیں  ایک دوسرے کی تفسیر محسوس ہوتی ہیں ۔  ایک ہی بات ہے جسے سورۂ شمس میں  ایک طریقہ سے سمجھایا گیا ہے اور اِس سورہ میں  دوسرے طریقے سے۔  اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں  قریب قریب ایک ہی زمانے میں  نازل ہو ئی ہیں۔ موضوع اور مضمون  اِس کا موضوع زندگی کے دو مختلف راستوں  کا فرق اور ان کے انجام اور نتائج کا اختلاف بیان کرنا ہے۔  مضمون کے لحاظ سے یہ سورۃ دو حصّوں  پر مشتمل ہے۔  پہلا حصّہ آغاز سے آیت ۱۱ تک ہے،  اور دوسرا حصّہ آیت ۱۲ سے آخر تک۔

پہلے حصّہ میں  سب سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ نوع انسانی کے افراد،  اقوام اور گروہ دنیا میں  جو سعی و عمل بھی کر رہے ہیں ،  وہ لازماً اپنی اخلاقی نوعیت کے لحاظ سے اُسی طرح مختلف ہیں  جس طرح دن رات سے اور نر مادہ سے مختلف ہے۔  اِس کے بعد قرآن کی مختصر سورتوں  کے عام انداز بیان کے مطابق تین اخلاقی خصوصیات ایک نوعیت کی، اور تین اخلاقی خصوصیات دوسری نوعیت کی سعی و عمل کے ایک وسیع مجموعے میں  سے لے کر بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں  جنہیں  سن کر ہر شخص بڑی آسانی  کے ساتھ یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ ایک قسم کی خصوصیات کس طرزِ زندگی کی نمائندگی کرتی ہیں  اور دوسری قسم کی خصوصیات اُس کے بر عکس کس دوسرے طرزِ زندگی کی علامات ہیں۔  یہ دونوں  نمونے ایسے چھوٹے چھوٹے خوبصورت جچے تُلے فقروں  میں  بیان کیے گئے ہیں  کہ سنتے ہی آدمی کے دل میں  اتر جائیں  اور زبان پر چڑھ جائیں۔ پہلی قسم کی خصوصیات یہ ہیں کہ آدمی مال دے،  خدا ترسی و پرہیز گاری اختیار کرے اور بھلائی کو بھلائی مانے۔  دوسری قسم کی خصوصیات یہ ہیں  کہ وہ بخل کرے،  خدا کی رضا اور ناراضی کی فکر سے بے پروا ہو جائے اور بھلی بات کو جھُٹلا دے۔  پھر بتایا گیا کہ یہ دو طرزِ عمل جو صریحاً ایک دوسرے سے مختلف ہیں،  اپنے نتائج کے اعتبار سے ہر گز یکساں  نہیں  ہیں،  بلکہ جس قدر یہ اپنی نوعیت میں  متضاد ہیں  اسی قدر اِن کے نتائج بھی متضاد ہیں۔  پہلے طرزِ عمل کو جو شخص یا گروہ اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے زندگی کے صاف اور سیدھے راستے کو سہل کر دے گا یہاں  تک کہ اس کے لیے نیکی کرنا آسان اور بدی کرنا مشکل ہو جائے گا۔  اور دوسرے طرزِ عمل کو جو بھی اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے زندگی کے بِکَٹ اور سخت راستے کو سہل کر دے گا یہاں  تک کہ اس کے لیے بد آسان اور نیکی مشکل ہو جائے گی۔ اِس بیان کو ایک نہایت مؤثر اور تیر کی طرح دل میں  پیوست ہو جانے والے جملے پر ختم کیا گیا ہے کہ دنیا کا یہ مال جس کے پیچھے آدمی جان دیے دیتا ہے،  آخر قبر میں  تو اُس کے ساتھ جانے والا نہیں  ہے،  مرنے کے بعد یہ اُس کے کس کام آئے گا؟

دوسرے حصّے میں  بھی اِسی اختصار کے ساتھ تین حقیقتیں  بیان کی گئی ہیں ۔  ایک یہ کہ اللہ نے  دنیا کی اِس امتحان گاہ میں  انسان کو بے خبر نہیں  چھوڑا ہے بلکہ اُس نے یہ بتا دینا اپنے ذمّہ لیا ہے کہ زندگی کے مختلف راستوں  میں  سے سیدھا راستہ کون سا ہے۔  اس کے ساتھ یہ کہنے کی ضرورت نہ تھی کہ اپنا رسول اور اپنی کتاب بھیج کر اُس نے اپنی یہ ذمہ داری ادا کر دی ہے،  کیونکہ رسول ؐ اور قرآن، دونوں  ہدایت دینے کے لیے سب کے سامنے موجود تھے۔  دوسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں  کا مالک اللہ ہی ہے۔  دنیا مانگو گے تو بھی اسی سے ملے گی اور آخرت مانگو گے تو اس کا دینے والا بھی وہی ہے۔  یہ فیصلہ کرنا تمہارا  اپنا کام ہے کہ تم اُس سے کیا مانگتے ہو۔ تیسری حقیقت یہ بیان کی گئی ہے کہ جو بدبخت اُس بھلائی کو جھُٹلائے گا جسے رسول اور کتاب کے ذریعہ سے پیش کیا جا رہا ہے،  اور اُس سے منہ پھیرے گا اُس کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار ہے۔  اور جو خدا ترس آدمی پوری بے غرضی کے ساتھ محض اپنے ربّ کی رضا جوئی کی خاطر اپنا مال راہِ خیر میں  صرف کرے گا اُس کا ربّ اُس سے راضی ہو گا اور اسے اتنا کچھ دے گا کہ وہ خوش ہو جائے گا۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے،  اور دن کی جبکہ وہ روشن ہو،  اور اُس ذات کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا، درحقیقت تم لوگوں  کی کوششیں  مختلف قسم کی ہیں۔  ۱ تو جس نے (راہِ خدا میں ) مال دیا اور (خدا کی نافرمانی سے ) پرہیز کیا، اور بھلائی کو سچ مانا، ۲ اس کو ہم آسان راستے کے لیے سہُولت دیں  گے۔  ۳ اور جس نے بُخل کیا اور (اپنے خدا سے ) بے نیازی برتی اور بَھلائی کو جھُٹلایا، ۴ اس کو ہم سخت راستے کے لیے سہُولت دیں  گے۔  ۵ اور اُس کا مال آخر اُس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہو جائے ؟ ۶

بے شک راستہ بتانا ہمارے ذمّہ ہے،  ۷ اور درحقیقت آخرت اور دنیا، دونوں  کے ہم ہی مالک ہیں۔  ۸ پس میں  نے تم کو خبر دار کر دیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے۔  اُس میں  نہیں  جھُلسے گا مگر وہ انتہائی بد بخت جس نے جھُٹلا یا اور مُنہ پھیرا۔ اور اُس سے دُور رکھا جائے گا وہ نہایت پرہیز گار جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے۔  ۹ اُس پر کسی کا کوئی احسان نہیں  ہے جس کا بدلہ اُسے دینا ہو۔ وہ تو صرف اپنے ربِّ برتر کی رضا جوئی کے لیے یہ کام کرتا ہے۔  ۱۰ اور ضرور وہ (اُس سے ) خوش ہو گا۔ ۱۱ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: یہ وہ بات جس پر رات اور دن اور نر و مادہ کی پیدائش کی قسم کھائی گئی ہے۔  مطلب یہ ہے کہ جس طرح رات اور دن اور نر اور مادہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں،  اور ان میں  سے  ہر دو کے آثار و نتائج باہم متضاد ہیں،  اسی طرح تم لوگ جن راہوں  اور مقاصد میں  اپنی کوششیں  صرف کر رہے ہو وہ بھی اپنی نوعیت کے لحاظ سے مختلف اور اپنے نتائج کے اعتبار سے متضاد ہیں۔  اس کے بعد کی آیات میں  بتایا گیا کہ یہ تمام مختلف کوششیں  دو بڑی اقسام  میں  تقسیم ہوتی ہیں۔

۲: یہ انسانی مساعی کی ایک قسم ہے جس میں  تین چیزیں  شمار کی گئی ہیں  اور غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام خوبیوں  کی جامع ہیں۔  ایک یہ کہ انسان زر پرستی  میں  مبتلا نہ ہو بلکہ کھلے دل سے اپنا مال، جتنا کچھ بھی اللہ نے اُسے دیا ہے،  اللہ اور اس کے بندوں  کے حقوق ادا کرنے میں ،  نیکی اور بھلائی کے کاموں  میں ،  اور خلق خدا کی مدد کرنے میں  صرف کرے۔  دوسرے یہ کہ اس کے دل میں  خدا کا خوف ہو اور وہ اخلاق،  اعمال،  معاشرت، معیشت، غرض اپنی زندگی کے ہر شعبے میں  اُن کاموں  سے پرہیز کرے جو خدا کی ناراضی کے موجب ہوں۔  تیسرے یہ کہ وہ بھلائی کی تصدیق کرے۔  بھلائی ایک وسیع المعنیٰ لفظ ہے جس میں  عقیدے،  اخلاق، اعمال،  تینوں  کی بھلائی شامل ہے۔  عقیدے میں  بھلائی  کی تصدیق یہ ہے کہ آدمی شرک اور دہریت اور کفر کو چھوڑ کر توحید، آخرت اور رسالت کو برحق مانے۔  اور اخلاق و اعمال میں  بھلائی کی تصدیق یہ ہے کہ آدمی سے بھلائیوں  کا صدور محض بے شعوری کے ساتھ کسی متعیّن نظام کے بغیر نہ ہو رہا ہو، بلکہ وہ خیر و صلاح کے اُس نظام کو صحیح تسلیم کرے جو خدا کی طرف سے دیا  گیا ہے،  جو بھلائیوں  کو اُن کی تمام اشکال اور صورتوں  کے ساتھ ایک نظم میں  منسلک کرتا ہے،  جس کا جامع نام شریعتِ الہٰیہ ہے۔

۳: یہ ہے مساعی کی اِس قسم کی نتیجہ۔  آسان راستہ  سے مراد وہ راستہ ہے جو انسان کی فرت کے مطابق ہے،  جو اُس خالق کی مرضی کے مطابق ہے جس نے انسان کو اور ساری کائنات کو بنایا ہے،  جس میں  انسان کو اپنے ضمیر سے لڑ کر نہیں  چلنا پڑتا، جس میں  انسان اپنے جسم و جان اور عقل و ذہن کی قوتوں   پر زبر دستی کر کے اُن سے وہ کام نہیں  لیتا جس کے لیے یہ طاقتیں  اُس کو  نہیں  بخشی گئی ہیں   بلکہ وہ کام لیتا ہے جس کے لیے درحقیقت  یہ اُس کو بخشی گئی ہیں،  جس میں  انسان کو ہر طرف اُس جنگ،  مزاحمت اور کشمکش سے سابقہ پیش آتا ہے جو گناہوں  سے بھری ہوئی زندگی میں  پیش آتا ہے،  بلکہ انسانی معاشرے میں  ہر قدم پر اس کو صلح و آتشی اور قدر و منزلت  میسّر آتی چلی جاتی ہے۔  ظاہر بات ہے کہ جو آدمی اپنا مال خلق خدا کی بھلائی کے لیے استعمال کر رہے ہو، جو ہر ایک سے نیک سلوک کر رہا ہو، جس کی زندگی جرائم، فسق و فجور اور بد کرداری سے پاک ہو، جو اپنے معاملات میں  کھرا اور راستباز ہو، جو کسی کے ساتھ بے ایمانی،  بد عہدی اور بے وفائی نہ کرے،  جس سے کسی کو خیانت، ظلم اور زیادتی کا اندیشہ  نہ ہو، جو ہر شخص کے ساتھ اچھے  اخلاق سے پیش آئے اور کسی کو اس کی سیرت و کردار پر انگلی رکھنے کا موقع نہ ملے،  وہ خواہ کیسے ہی بگڑے ہوئے معاشرے میں  رہتا ہو،  بہر حال اس کی قدر  ہو کر رہتی ہے،  اُس کی طرف دل کھنچتے ہیں،  نگاہوں  میں  اس کی عزت قائم ہو جاتی ہے،   اُس کا اپنا قلب و ضمیر بھی مطمئن ہوتا ہے  اور معاشرے میں  بھی اُس کو وہ وقار حاصل ہوتا ہے   جو کبھی کسی بد کردار آدمی کو حاصل نہیں  ہوتا۔  یہی بات ہے جو سورۂ نحل میں  فرمائی گئی ہے کہ مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّنْ ذَکَرٍا اَوْ اُنْثیٰ وَھُوَ مُؤمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰو ۃً طَیِّبَۃً۔ جو شخص نیک عمل کرے،  خواہ وہ مرد ہو یا عورت،  اور ہو وہ مومن، اسے ہم اچھی زندگی بسر کرائیں  گے ‘‘(آیت ۹۷)۔  اور اسی بات کو سورۂ مریم میں  یوں  بیان کیا گیا ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُو ا ا لصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّ حْمٰنُ وُدّاً۔ ’’ یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں  نے نیک عمل کیے رحمان اُن کے لیے دلوں  میں  محبت پیدا کر دے گا‘‘(آیت ۹۶)۔  پھر یہی وہ راستہ ہے جس میں  دنیا  سے لے کر آخرت تک انسان کے لیے سُرور ہی سُرور اور راحت ہی راحت ہے۔  اِس کے نتائج عارضی اور وقتی نہیں  بلکہ ابدی اور لازوال ہیں۔  اِس کے متعلق اللہ تعالیٰ  کا ارشاد ہے کہ ہم اُسے اِس راستے پر چلنے کے لیے سہولت دیں  گے۔  اس کے معنی یہ ہیں  کہ جب وہ بھلائی کی تصدیق کر کے یہ فیصلہ کر لے گا کہ یہی راستہ میرے لائق ہے اور برائی کا راستہ میرے لائق نہیں  ہے،  اور جب وہ عملاً مالی ایثار اور تقویٰ کی زندگی اختیار کر کے یہ ثابت کر دے گا کہ اُس کی یہ تصدیق سچی ہے،  تو اللہ تعالیٰ اِس راستے پر چلنا اُس کے لیے  اُس کے لیے سہل کر دے گا۔ اُس کے لیے پھر گناہ کر نا مشکل اور نیکی کرنا آسان ہو جائے گا۔ مالِ حرام اُس کے سامنے آئے گا تو وہ یہ نہیں  سمجھے گا کہ یہ نفع کا سودا ہے بلکہ اسے یوں  محسوس ہو گا کہ یہ آگ کا انگارہ ہے جسے وہ ہاتھ میں  نہیں  لے سکتا۔ بدکاری کے مواقع اس کے سامنے آئیں  گے تو وہ اُنہیں  لطف اور لذّت حاصل کرنے کے مواقع سمجھ کر ان کی طرف نہیں  لپکے گا بلکہ جہنّم کے دروازے سمجھ کر اُن سے دُور بھاگے گا۔ نماز اُس پر گراں  نہ ہوں  گی بلکہ اُسے چین نہیں  پڑے گا جب تک وقت آنے پر وہ اس کو ادا نہ کر لے۔  زکوٰۃ دیتے ہوئے اس کا دل نہیں  دُکھّے گا بلکہ اپنا مال اسے  ناپاک محسوس ہو گا جب تک وہ اس میں  سے زکوٰۃ  نکال نہ دے۔  غرض ہر قدم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کو اِس راستے پر چلنے کو توفیق و تائید ملے گی، حالات کو اُس  کے لیے سازگار بنا یا جائے گا،  اور اُس کی مدد کی جائے گی۔ یہاں  یہ سوال پیدا ہوتا  ہے کہ اِس سے پہلے سورۂ بلد میں  اِسی راستے کو دشوار گزار گھاٹی کہا گیا ہے اور یہاں  اس کو آسان راستہ قرار دیا گیا ہے۔  اِن دونوں  باتوں  میں  تطبیق کیسے ہو گی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اِس  راہ کو اختیار کر نے سے پہلے یہ آدمی کو دشوار گزار گھاٹی ہی محسوس ہوتی ہے جس پر چڑھنے کے لیے اُسے اپنے نفس کی خواہشوں  سے،  اپنے  دنیا پرست اہل و عیال سے،  اپنے رشتہ داروں  سے،  اپنے دوستوں  اور معاملہ داروں  سے،  اور سب سے بڑھ کر شیطان سے لڑنا پڑتا ہے،  کیونکہ ہر ایک اِس میں  رکاوٹیں  ڈالتا ہے اور اس کو خوفناک بنا کر دکھاتا ہے۔  لیکن جب انسان بھلائی کی تصدیق کر کے اُس پر چلنے کا عزم کر لیتا ہے اور اپنا مال راہِ خدا میں  دے کر  اور تقویٰ کا طریقہ  اختیار کر کے عملاً اِس عزم کو پختہ کر لیتا ہے  تو اِس گھاٹی پر چڑھنا اس کے لیے آسان اور اخلاقی پستیوں  کے کھڈ میں  لُڑھکنا اُس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔

۴: یہ انسانی مساعی کی دوسری قسم ہے جو اپنے ہر جُز میں  پہلی قسم کے ہر جُز سے مختلف ہے۔  بُخل سے مُراد محض وہ بخل نہیں  ہے جس کے لحاظ سے عام طور پر لوگ اُس آدمی کو بخیل کہتے ہیں  جو روپیہ  جوڑ جوڑ کر رکھتا ہے اور اسے نہ اپنے اوپر خرچ کرتا ہے نہ اپنے بال بچوں  پر، بلکہ اِس جگہ بخل سے مراد راہِ خدا میں  اور نیکی اور بھلائی کے کاموں  میں  مال صرف نہ کرنا ہے اور اس لحاظ سے وہ شخص بھی بخیل ہے جو اپنی ذات پر، اپنے عیش و آرام پر، اپنی دلچسپیوں   اور تفریحوں  پر تو خوب دل کھول کر مال لٹاتا ہے،  مگر کسی نیک کام کے لیے اس کی جیب سے کچھ نہیں  نکلتا،  یا اگر نکلتا  بھی ہے  تو یہ دیکھ  کر نکلتا ہے کہ  اس کے بدلے میں  اس کو شہرت، نام و نمود، حُکّام رسی، یا کسی اور قسم کی منفعت  حاصل ہو گی۔ بے نیازی برتنے سے مراد یہ ہے کہ  آدمی دنیا کے مادّی فائدوں  ہی کو اپنی ساری تگ و دو اور محنت و کوشش کا مقصود بنا لے اور خدا سے بالکل مستغنی ہو کر اس بات کی کچھ پروا نہ کرے کہ کس  کام سے وہ خوش اور کس کام سے وہ ناراض ہوتا ہے۔  رہا بھلائی کر جھُٹلانا،  تو وہ اپنی تمام تفصیلات میں  بھلائی کو سچ ماننے کی ضد ہے،  اس لیے اس کی تشریح کی حاجت نہیں  ہے،  کیونکہ بھلائی کی تصدیق کا مطلب ہم واضح کر چکے ہیں۔

۵: اس راستے کو سخت اس لیے کہا گیا ہے کہ اُس پر چلنے والا اگرچہ مادّی فائدوں  اور دنیوی لذّتوں  اور ظاہری کامیابیوں  کے  لالچ میں  اِس کی طرف جاتا ہے،  لیکن اِس میں  ہر وقت اپنی فطرت سے،  اپنے ضمیر سے،  خالقِ کائنات کے بنائے ہوئے قانون سے،  اور اپنے گرد و پیش کے معاشرے سے اُس کی جنگ برپا رہتی ہے۔  صداقت، دیانت، امانت،  شرافت اور عفت و عصمت کی اخلاقی حدوں  کو توڑ کر جب وہ ہر طریقے  سے اپنی اغراض اور خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے،  جب اس کی ذات سے خلق خدا کو بھلائی کے بجائے برائی ہی پہنچتی ہے،  اور جب وہ دوسروں  کے حقوق اور ان کی عزتوں  پر دست درازیاں  کرتا ہے،  تو اپنی نگاہ میں  وہ خود ذلیل و خوار ہوتا ہے اور جس معاشرے میں  وہ رہتا ہے اُس سے بھی قدم قدم پر لڑ کر اُسے آگے بڑھنا  پڑتا ہے۔  اگر وہ کمزور ہو تو اِس روش کی بدولت اُسے طرح طرح کی سزائیں  بھگتنی  ہوتی ہیں،  اور اگر وہ مال دار، طاقتور اور با اثر ہو، تو چاہے دنیا اُس کے زور کے آگے دب جائے لیکن کسی کے دل میں  اس  کے لیے خیر خواہی،  عزّت اور محبت کا کوئی جذبہ نہیں  ہوتا، حتیٰ کہ  اس کے شریک کار بھی اُس کو  خبیث آدمی ہی سمجھتے ہیں۔  اور یہ معاملہ صرف افراد ہی تک محدود نہیں  ہے۔  دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتور قومیں  بھی جب اخلاق کے حدود پھاند کر اپنی طاقت اور دولت کے زعم میں  بدکرداری کا رویّہ اختیار کرتی ہیں،  تو ایک طرف باہر کی دنیا اُن کی دشمن ہو جاتی ہے،  اور دوسری طرف خود اُن کا اپنا معاشرہ جرائم، خودکشی، نشہ بازی، امراض خبیثہ،  خاندانی زندگی کی تباہی،  نوجوان نسلوں  کی بد راہی،   طبقاتی کشمکش،  اور ظلم و جَور کی روز افزوں  و با سے دوچار ہو جاتا ہے،  یہاں  تک کہ جب وہ بامِ عروج سے گرتی ہے تو دنیا کی تاریخ میں  اپنے لیے لعنت اور پھِٹکار کے سوا کوئی مقام چھوڑ کر نہیں  جاتی۔ اور یہ جو فرمایا گیا کہ ایسے شخص کو ہم سخت راستے پر چلنے کی سہولت دیں  گے،  اس کے معنی یہ ہیں  کہ اس سے بھلائی کے راستے پر چلنے کی توفیق سلب کر لی جائے گی، برائی کے  دروازے اس کے لیے کھول دیے جائیں  گے،  اُسی کے اسباب اور وسائل اس کے لیے فراہم کر دیے جائیں  گے،  بدی کرنا اس کے لیے آسان  ہو گا اور نیکی کرنے کے خیال سے اس کو یوں  محسوس ہو گا کہ جیسے اس کی جان پر بن رہی ہے۔  یہی کیفیت ہے جسے دوسری جگہ قرآن میں  اِس طرح بیان کیا گیا ہے کہ  ’’جسے اللہ ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہی میں  ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے اور ایسا بھینچتا ہے  کہ (اسلام کا تصور کرتے ہی اسے یوں  محسوس ہونے لگتا ہے ) جیسے اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے ‘‘(الانعام، آیت ۱۲۵)۔ ایک اور جگہ ارشاد ہوا ہے  ’’بے شک نماز ایک سخت مشکل کام ہے مگر فرماں  بردار بندوں  کے لیے نہیں ‘‘(البقرہ، آیت ۴۶)۔ اور منافقین کے متعلق فرمایا ’’وہ نماز کی طرف آتے بھی ہیں  تو کَسْمَساتے ہوئے آتے ہیں  اور راہِ خدا میں  خرچ کرتے بھی ہیں  تو بادل ناخواستہ خرچ کرتے ہیں ‘‘(التوبہ، آیت۵۴)۔ اور یہ کہ  ’’ان میں  ایسے ایسے لوگ موجود ہیں  جو راہِ خدا میں  کچھ خرچ کرتے ہیں  تو اُسے اپنے  اوپر زبردستی کی چَٹّی سمجھتے ہیں ‘‘(التوبہ، آیت ۹۸)۔

۶: دوسرے الفاظ میں  مطلب یہ ہے کہ ایک روز اُسے بہر حال مرنا ہے اور وہ سب کچھ دنیا ہی میں  چھوڑ جانا ہے  جسے اُس نے یہاں  اپنے عیش کے لیے فراہم  کیا تھا۔ اگر اپنی آخرت کے لیے کچھ کما کر وہ ساتھ نہ لے گیا  تو یہ مال اس کے کس کام آئے گا؟ قبر میں  تو وہ کوئی کوٹھی، کوئی موٹر، کوئی جائداد اور کوئی  جمع پونجی  لے کر نہیں  جائے گا۔

۷: یعنی انسان کا خالق ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ نے خود اپنی حکمت، اپنے عدل اور اپنی رحمت کی بنا پر اِس بات کا ذمّہ لیا ہے کہ اُس کو دنیا میں  بے خبر نہ چھوڑے  بلکہ اسے یہ بتا دے کہ راہِ راست کون سی ہے اور غلط راہیں  کون سی، نیکی کیا ہے اور بدی کیا،  حلال کیا ہے اور حرام کیا، کون سی روش اختیار کر کے وہ فرمانبردار  بند ہ بنے گا اور کون سا رویّہ اختیار کر کے بندۂ نافرمان بن جائے گا۔  یہی بات ہے جسے سُورۂ نحل میں  یوں  بیان فرمایا گیا ہے کہ وَعَلَی اللہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ وَمِنْھَا جَآ ئِرٌ (آیت ۹)۔ ’’اور اللہ ہی کے ذمّہ ہے سیدھا راستہ بتانا جبکہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں  ‘‘۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،  جلد دوم، النحل، حاشیہ ۹)۔

۸: اس ارشاد کے کئی مفہوم ہیں  اور وہ سب صحیح ہیں۔  ایک یہ کہ دنیا سے آخرت تک تم کہیں  بھی ہماری گرفت سے باہر نہیں  ہو، کیونکہ دونوں  جہانوں  کے ہم ہی مالک ہیں۔  دوسرے یہ کہ ہماری مِلکیت دنیا اور آخرت دونوں  پر بہر حال قائم ہے خواہ تم ہماری بتائی ہوئی راہ پر چلو یا نہ چلو۔ گمراہی اختیار کرو گے تو ہمارا کچھ نہ بگاڑ و گے، ، اپنا ہی نقصان کر لو گے،  اور راہِ راست اختیار کرو گے تو ہمیں  کوئی نفع نہ پہنچاؤ گے،  خود ہی اس کا نفع اٹھاؤ گے۔  تمہاری نافرمانی سے ہماری مِلک میں  کوئی کمی نہیں  ہو سکتی اور تمہاری فرمانبرداری سے اُس میں  کوئی اضافہ نہیں  ہو سکتا۔  تیسرے یہ کہ دونوں  جہانوں  کے مالک ہم ہی ہیں۔  دنیا چاہو گے تو وہ بھی ہم ہی سے تمہیں  ملے گی اور آخرت کی بھلائی چاہو گے تو اُ س کا دینا بھی ہمارے ہی اختیار میں  ہے۔  یہی بات ہے  جو سورۂ آلِ عمران آیت ۱۴۵ میں  فرمائی گئی ہے کہ وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْ تِہٖ مِنْھَا وَمَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَۃِ نُؤْتِہ مِنْھَا۔ ’’ جو شخص ثوابِ دنیا کے ارادہ سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں  سے دیں  گے اور جو ثوابِ آخرت کے ارادہ سے کام کرے گا اس  کو ہم آخرت میں  سے دیں  گے ‘‘۔ اور اسی کو سورۂ شوریٰ آیت۲۰ میں  اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْلَہٗ فِیْ حَرثِہ o وَمَنْ  کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْ تِہ o مِنْھَا وَمَا لَہٗ فِی الْاٰ خِرَ ۃِ مِنْ نَّصِیْبٍ۔ ’’  جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے  اس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں  اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں  سے دیتے ہیں  مگر آخرت میں  اس کا کوئی حصّہ نہیں  ہے ‘‘۔( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،  جلد اوّل، آلِ عمران، حاشیہ ۱۰۵۔ جلد چہارم، الشوریٰ،  حاشیہ ۳۷)۔

۹: اس کا یہ مطلب نہیں  ہے کہ نہایت شَقی کے سوا کوئی آگ  میں  نہ جائے گا اور نہایت متّقی کے سوا کوئی اس سے نہ بچے گا۔ بلکہ یہاں  مقصود دو انتہائی متضاد کر داروں  کو ایک دوسرے کے مقابلے میں  پیش کر کے اُن کا انتہائی متضاد  انجام بیان کرنا ہے۔  ایک وہ شخص  ہے جو اللہ اور اس کے رسول ؐ کی تعلیمات کو جھُٹلا دے اور اطاعت کی راہ سے منہ پھیر ے۔  دوسرا وہ شخص ہے جو نہ صرف ایمان لائے بلکہ انتہائی خلوص کے ساتھ کسی ریاکاری اور نام و نمود کی طلب کے بغیر صرف اس  لیے اپنا مال راہِ خدا میں  صرف کرے کہ وہ اللہ کے ہاں  پاکیزہ انسان قرار پانے کا خواہاں  ہے۔  یہ دونوں  کردار اُس وقت مکّہ  کے معاشرے میں  سب کے سامنے موجود تھے۔  اس لیے کسی کا نام لیے بغیر لوگوں  کو بتایا گیا ہے کہ جہنم کی آگ میں  دوسرے کردار والا نہیں  بلکہ پہلے کردار والا ہی جھُلسے گا،  اور اُس آگ سے پہلے کردار والا نہیں  بلکہ دوسرے کردار والا ہی دُور رکھا جائے گا۔

۱۰: یہ اُس پرہیز گار آدمی کے خلوص کی مزید توضیح ہے  یہ وہ اپنا مال جن لوگوں  پر صرف کرتا ہے اُن کا کوئی احسان پہلے سے اُس پر نہ تھا  کہ وہ اُس کا بدلہ چُکانے کے لیے،  یا آئندہ اُن سے مزید فائدہ اُٹھانے کے لیے اُن  کو ہدیے اور تحفے دے رہا ہو اور اُن کی دعوتیں  کر رہا ہو، بلکہ وہ اپنے ربِّ  برتر کی رضا جوئی کے لیے ایسے لوگوں  کی مدد کر رہا ہو جن کا نہ پہلے اُس پر کوئی احسان تھا، نہ آئندہ ان سے وہ کسی احسان کی توقع رکھتا ہے۔  اِس کی بہترین مثال حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یہ فعل ہے کہ مکّۂ معظمہ میں  جن بے کس  غلاموں  اور لونڈیوں  نے اسلام قبول کیا تھا اور اِس قصور میں  جن کے مالک اُن پر بے تحاشا ظلم توڑ رہے تھے،  اُن کو خرید خرید کر وہ آزاد کر دیتے تھے تا کہ وہ اُن کے ظلم سے بچ جائیں۔  ابن جَریر اور ابن عَسا کِر نے حضرت عامر بن عبد اللہ بن زُبَیر کی یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ  کواس طرح اِن غریب غلاموں  اور لونڈیوں  کی آزادی پر روپیہ خرچ کرتے دیکھ کر اُن کے والد نے اُن سے کہا کہ بیٹا، میں  دیکھ رہا  ہوں  کہ تم کمزور لوگوں  کو آزاد کر  رہے ہو۔ اگر مضبوط جوانوں  کی آزادی پر تم یہی روپیہ خرچ کرتے تو وہ تمہارے لیے قوتِ  بازو بنتے۔  اس پر حضرت ابوبکر ؓ   نے اُن سے کہا   ای ابہ انما ارید ما عند اللہ، ’’ابا جان، میں  تو وہ اجر  چاہتا ہوں  جو  اللہ کے ہاں  ہے ‘‘۔

۱۱:  اس آیت  کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔  اور دونوں  صحیح ہیں۔  ایک یہ کہ ضرور اللہ اس سے راضی ہو جائے گا۔ دوسرے یہ کہ عنقریب اللہ اس شخص کو اِتنا کچھ دے گا کہ وہ خوش ہو جائے گا۔

٭٭٭

 

 

 

۹۳۔ سورۃ الضحٰی

 

 

نام

 

پہلے ہی لفظ وَالضُّحیٰ کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اس کا مضمون صاف بتا رہا ہے کہ یہ مکّۂ معظمہ کے بالکل ابتدائی دور میں  نازل ہوئی ہے۔  روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مدت تک وحی کے نزول کا سلسلہ بند رہا تھا جس سے حضورؐ سخت پریشان ہو گئے تھے اور بار بار آپؐ کو یہ اندیشہ لاحق ہو رہا تھا کہ کہیں  مجھ سے کوئی ایسا قصور تو نہیں  ہو گیا جس کی وجہ سے میرا ربّ مجھ سے ناراض ہو گیا ہے اور اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔  اس پر آپ ؐ کو اطمینان دلایا گیا  کہ وحی کے نزول کا سلسلہ کسی ناراضی کی بنا پر نہیں  روکا گیا تھا، بلکہ اس میں  وہی مصلحت کار فرما تھی جو روزِ روشن کے بعد رات  کا سکون طاری کرنے میں  کار فرما ہوتی ہے۔  یعنی وحی کی تیز روشنی اگر آپؐ پر برابر پڑتی رہتی تو آپؐ کے اعصاب اسے برداشت نہ کر سکتے،  اس لیے بیچ میں  وقفہ  دیا گیا تا کہ آپ ؐ کو سکون مل جائے۔  یہ کیفیت حضورؐ پر نبوت کے ابتدائی دور میں  گزرتی تھی جبکہ ابھی آپؐ کو وحی کے نزول کی شدّت برداشت کرنے کی عادت نہیں  پڑی تھی، اِس بنا پر بیچ بیچ میں  وقفہ دینا ضروری ہوتا تھا۔ اس کی وضاحت ہم سورۂ مدَّثِّر کے دیباچے میں  کر چکے ہیں۔  اور سورۂ  مُزَّمِّل حاشیہ ۵ میں  ہم یہ بھی بیان کر چکے ہیں  کہ نزولِ وحی کا کس قدر شدید بار آپ ؐ کے اعصاب پر پڑتا تھا۔ بعد میں  جب حضور ؐ کے اندر اس بار کو برداشت کرنے کا تحمُّل پیدا ہو گیا تو طویل وقفے  دینے کی ضرورت باقی نہیں  رہی۔

 

موضوع اور مضمون

 

اِس کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو تسلّی دینا ہے اور مقصد اُس پریشانی کو دور کرنا ہے جو نزولِ وحی کا سلسلہ رک جانے سے آپ ؐ کو لاحق ہو گئی تھی۔ سب سے پہلے روزِ روشن اور سکونِ شب کی قسم کھا کر آپؐ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ ؐ کے  ربّ نے آپ کو ہر گز نہیں  چھوڑا ہے اور نہ وہ آپؐ سے ناراض ہوا ہے۔  اس کے بعد آپؐ کو خوشخبری دی گئی ہے کہ دعوتِ اسلامی کے ابتدائی دور میں  جن شدید مشکلات سے آپ ؐ کو سابقہ پیش آ رہا ہے یہ تھوڑے دنوں  کی بات ہے۔  آپؐ کے لیے ہر بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہو تا چلا جائے گا اور کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ اللہ تعالیٰ آپؐ پر اپنی عطا و بخشش کی ایسی بارش کرے گا  جس سے آپ ؐ خوش ہو جائیں  گے۔  یہ قرآن کی اُن صریح پیشین گوئیوں  میں  سے ایک  ہے جو بعد میں  حرف بحرف پوری ہوئیں ،  حالانکہ جس وقت یہ پیشین گوئی کی گئی تھی اُس وقت کہیں  دُور دُور بھی اِس کے آثار نظر نہ آتے تھے کہ مکّہ میں  جو بے یار و مددگار انسان پوری قوم کی جاہلیّت کے مقابلے میں  برسر پیکار ہو گیا ہے اُسے اِتنی حیرت انگیز کامیابی نصیب ہو گی۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے فرمایا ہے کہ تمہیں  یہ پریشانی کیسے لاحق ہو گئی کہ ہم نے تمہیں  چھوڑ دیا ہے اور  ہم تم سے ناراض ہو گئے ہیں۔  ہم تو تمہارے روزِ پیدائش سے مسلسل تم پر مہربانیاں  کرتے چلے آرہے ہیں ۔  تم یتیم پیدا ہوئے تھے،  ہم نے تمہاری پرورش  اور خبر گیری کا بہترین انتظام  کر دیا۔ تم ناواقفِ  راہ تھے،  ہم نے تمہیں   راستہ بتایا۔  تم نادار تھے،  ہم نے تمہیں  مالدار بنایا۔ یہ ساری باتیں  صاف بتا رہی ہیں  کہ تم ابتداء سے ہمارے منظورِ نظر  ہو اور ہمارا فضل و کرم مستقل طور پر تمہارے شاملِ حال ہے۔  اس مقام پر سورۂ طٰہٰ،  آیات ۳۷ تا ۴۲  کو بھی نگاہ میں  رکھا جائے جہاں  حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون جیسے جبّار کے مقابلہ میں  بھیجتے وقت اللہ تعالیٰ نے اُن کی پریشانی دور کرنے کے لیے انہیں  بتایا ہے کہ کس طرح تمہاری پیدائش کے وقت سے ہماری مہربانیاں  تمہارے شامل حال رہی ہیں ،  اس لیے تم اطمینان رکھو کہ  اِس خوفناک مہم میں  تم اکیلے نہ ہو گے بلکہ ہمارا فضل  تمہارے ساتھ ہو گا۔

آخر میں  اللہ  تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو بتایا ہے کہ جو احسانات ہم نے تم پر کیے ہیں  ان کے جواب میں  خلق خدا کے ساتھ تمہارا کیا برتاؤ ہونا چاہیے،  اور ہماری نعمتوں  کا شکر تمہیں  کس طرح ادا کرنا چاہیے۔

 

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

قسم ہے روزِ روشن کی ۱ اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے ۲ (اے نبیؐ) تمہارے ربّ نے تم کو ہر گز نہیں  چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔ ۳ اور یقیناً تمہارے لیے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے،  ۴ اور عنقریب تمہارا ربّ تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔  ۵ کیا اُس نے تم کو یتیم نہیں  پایا اور پھر ٹھِکانا فراہم کیا؟ ۶ اور تمہیں  ناواقفِ راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی۔ ۷ اور تمہیں  نادار پایا اور پھر مالدار کر دیا۔ ۸ لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو، ۹ اور سائل کو نہ جھِڑکو، ۱۰ اور اپنے ربّ کی نعمت کا اظہار کرو۔ ۱۱ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: یہاں  لفظ ضُحیٰ رات کے مقابلہ میں  استعمال ہوا ہے اس لیے اِس سے مراد روزِ روشن ہے۔  اِس کی نظیر سورۂ اَعراف کی یہ آیات ہیں۔  اَفَاَ مِنَ اَھْلُ الْقُرٰیٓ اَنْ یَّاتِیَھُمْ بَاْ سُنَا بَیَا تاً وَّھُمْ نَآئِمُوْنَ، اَوَاَمِنَ اَھْلُ الْقُرٰیٓ اَنْ یَّا تِیَھُمْ بَاْسُنَا ضُحًی وَّھُمْ یَلْعَبُوْنَ(۹۸-۹۷) ’’کیا بستیوں  کے لوگ اِس سے بے خوف ہیں  کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آ جائے جبکہ وہ سورہے ہوں ؟ اور کیا بستیوں  کے لوگ اِس سے بے خوف ہیں  کہ ان پر ہمارا عذاب دن دِہاڑے آ جائے جبکہ وہ کھیل رہے ہوں ؟ ‘‘ اِن آیات میں  بھی چونکہ ضحیٰ کا لفظ رات کے مقابلہ میں  استعمال ہوا ہے اس لیے اس سے مراد  چاشت کا وقت نہیں  بلکہ دن ہے۔

۲: اصل میں  رات کے لیے لفظ سَجیٰ استعمال ہوا ہے جس میں  صرف تاریکی چھا جانے ہی کا نہیں  بلکہ سکوت اور سکون طاری ہو جانے کا مفہوم  بھی شامل ہے۔  رات کی اِس صفت کا اُس مضمون سے گہرا تعلق ہے جو آگے بیان ہو رہا ہے۔

۳: روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ مدت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر وحی کا نزول بند رہا تھا۔ مختلف روایات میں  یہ مدّت مختلف بیان کی گئی ہے۔  ابن جُرَیج نے ۱۲ روز،  کَلْبِی نے ۱۵ روز، ابن عباس ؓ نے ۲۵ روز، سُدِّی اور مُقاتِل نے ۴۰ روز اس کی مدّت بیان کی ہے۔   بہرحال یہ زمانہ اِتنا طویل تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی اِس پر سخت غمگین ہو گئے تھے اور مخالفین بھی آپ کو طعنے دینے لگے تھے،  کیونکہ حضور ؐ پر جو نئی سورت نازل ہوتی تھی اسے آپ ؐ لوگوں  کو سنایا کرتے تھے،  اس لیے جب اچھی خاصی مدت تک آپ ؐ نے کوئی نئی وحی لوگوں  کو نہیں  سُنائی  تو مخالفین نے سمجھ لیا کہ وہ سرچشمہ بند ہو گیا ہے جہاں  سے یہ کلام آتا تھا۔ جُنْدُب بن عبد اللہ البَجَلی کی روایت ہے کہ جب جبریل علیہ السلام کے آنے کا سلسلہ رک گیا تو مشرکین  نے کہنا شروع کر دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم) کو اُن کے ربّ نے چھوڑ دیا ہے ( ابن جریر،  طَبَرانی، عبد بن حُمَید، سعید بن منصور، ابن مَرْ دُوْیَہ)۔ دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو لہب کی بیوی امّ جمیل نے،  جو حضور ؐ کی چچی ہوتی تھی اور جس کا گھر حضور ؐ  کے مکان سے متصل تھا، آپ سے کہا ’’معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے شیطان نے تمہیں  چھوڑ دیا ہے ‘‘۔ عَو فی اور ابن جریر نے ابن عبار ؓ  کی روایت نقل کی ہے کہ کئی روز تک جبریل کی آمد رُک جانے سے حضور ؐ  پریشان ہو گئے اور مشرکین کہنے لگے کہ ان کا رب ان سے ناراض ہو گیا ہے اور اس نے انہیں  چھوڑ دیا ہے۔  قَتَادہ اور ضَحّاک کی مُرْسَل روایات میں  بھی قریب قریب یہی مضمون بیان ہوا ہے۔  اِس صورت حال میں  حضور ؐ کے شدید رنج  و غم کا حال بھی متعدد روایات میں  آیا ہے۔  اور ایسا کیوں  نہ ہوتا جبکہ محبوب کی طرف سے بظاہر عدمِ التفات،  کفر و ایمان کے درمیان جنگ چھڑ جانے کے بعد اُسی ذریعۂ طاقت سے بظاہر محرومی جو اس جاں  گُسِل کشمکش کے منجدھار میں  آپ ؐ  کے لیے واحد سہارا تھا، اور اُس پر مزید دشمنوں  کی شَماتَت،  یہ ساری چیزیں  مل جل کر لا محالہ حضور ؐ کے لیے سخت پریشانی کا موجب ہو رہی ہوں  گی اور آپ ؐ کو بار بار یہ شبہ گزرتا ہو گا کہ کہیں  مجھ سے کوئی ایسا قصور تو نہیں   ہو گیا ہے کہ میرا ربّ مجھ سے ناراض ہو گیا ہو اور اس نے مجھے حق و باطل کی اِس لڑائی میں  تنہا چھوڑ دیا ہو۔ اِسی کیفیت  میں  یہ سورۃ حضور ؐ کو تسلی دینے کے لیے نازل ہوئی۔ اِس میں  دن کی روشنی اور رات کے سکون کی قسم کھا کر حضور ؓ سے فرمایا گیا  کہ تمہارے  ربّ نے نہ تمہیں  چھوڑ دیا ہے اور نہ وہ تم سے ناراض ہوا ہے۔  اِس بات پر ان دونوں  چیزوں  کی قسم جس مناسبت سے کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح دن کا روشن ہونا اور رات کا تاریکی اور سکون لے  ہوئے چھا جانا کچھ اِس بنا پر نہیں  ہوتا کہ اللہ تعالیٰ دن کے وقت لوگوں  سے خوش اور رات کے وقت اُن سے ناراض ہو جاتا ہے،  بلکہ یہ دونوں  حالتیں  ایک عظیم حکمت و مصلحت کے تحت طاری ہوتی ہیں،  اُسی طرح تم پر کبھی وحی بھیجنا اور کبھی اُس کو روک لینا  بھی حکمت و مصلحت کی بنا پر ہے،  اِس کو کوئی تعلق اِس بات سے نہیں  ہے کہ جب اللہ تعالیٰ  تم سے خوش ہو تو وحی بھیجے،  اور جب وہ وحی نہ بھیجے تو اس کے معنی یہ ہوں  کہ وہ تم سے ناخوش ہے اور اس نے تمہیں  چھوڑ دیا ہے۔  اس کے علاوہ دوسری مناسبت اِس مضمون سے اِس قَسم کی یہ ہے کہ جس طرح دن کی روشنی اگر مسلسل آدمی پر طاری رہے تو وہ اسے تھکا دے،  اس لیے ایک وقتِ خاص تک دن  کے روشن رہنے کے بعد رات کا آنا ضروری ہے تاکہ اس میں  انسان کو سکون ملے،  اُسی طرح وحی کی روشنی اگر تم پر پے درپے پڑتی رہے تو تمہارے اعصاب اس کو برداشت نہ کر سکیں  گے،  اس لیے وقتاً فوقتا! فَتْرۃ (نزولِ  وحی کا سلسلہ رک جانے ) کا ایک زمانہ  بھی اللہ تعالیٰ نے مصلحت کی بنا پر رکھا ہے تاکہ وحی کے نزول سے جو بار تم پر پڑتا ہے اس کے اثرات زائل ہو جائیں  اور تمہیں  سکون حاصل ہو جائے۔  گویا آفتابِ وحی کا طلوع بمنزلۂ روز روشن ہے اور زمانۂ فَتْرۃ بمنزلۂ سکونِ شب۔

۴: یہ خوشخبری اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو ایسی حالت میں  دی تھی جبکہ چند مٹھی بھر آدمی آپ ؐ کے ساتھ تھے،  ساری قوم آپ ؐ کی مخالف تھی،  بظاہر کامیابی کے آثار دُور دُور کہیں  نظر نہ آتے تھے۔  اسلام کی شمع مکّہ ہی میں  ٹِمٹما رہی تھی اور اسے بجھا دینے کے لیے ہر طرف طوفان اٹھ رہے تھے۔  اُس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ ابتدائی دور کی مشکلات سے آپ ذرا پریشان نہ ہوں ۔  ہر بعد کا دور پہلے دور سے آپ کے لیے بہتر ثابت ہو گا۔ آپ کی قوت، آپ کی عزت و شوکت اور آپ کی قدر و منزلت برابر بڑھتی چلی جائے گی اور آپ کا نفوذ و اثر پھیلتا چلا جائے گا۔ پھر یہ وعدہ صرف دنیا ہی تک محدود نہیں  ہے،  اِس میں  یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ آخرت میں  جو مرتبہ آپ کو ملے گا وہ اُس مرتبے سے  بھی بدرجہا بڑھ کر ہو گا جو  دنیا میں  آپ کو حاصل ہو گا۔ طَبَرانی نے اَوسط میں  اور بیہقی  نے دلائی میں  ابن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا  ’’میرے سامنے وہ تمام فتوحات پیش کی گئیں  جو میرے بعد میری امت کو حاصل ہونے والی ہیں۔  اِس پر مجھے بڑی خوشی ہوئی، تب اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا کہ آخرت تمہارے لیے دنیا سے بھی بہتر ہے ‘‘۔

۵: یعنی اگرچہ دینے میں  کچھ دیر لگے گی، لیکن وہ وقت دُور نہیں  ہے جب تم پر تمہارے ربّ کی عطا و بخشش کی وہ بارش ہو گی کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔   یہ وعدہ حضور ؐ کی زندگی ہی میں  اِ س طرح پورا ہوا کہ سارا ملکِ عرب جنوب کے سوا حل سے لے کر شمال میں  سلطنت روم کی شامی اور سلطنتِ فارس کی عراقی سرحدوں  تک،  اور مشرق میں  خلیجِ فارس سے لے کر مغرب میں  بحر احمر تک آپ ؐ کے زیرِ نگیں  ہو گیا، عرب کی تاریخ میں  پہلی مرتبہ یہ سرزمین ایک قانون اور ضابطہ کی تابع ہو گئی، جو طاقت بھی اِس سے ٹکرائی وہ پاش پاش ہو کر رہ گئی، کلمہ لَآ اِلٰہٰ اِلَّا اللہ ُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ سے وہ پورا ملک گونج اٹھا جس میں  مشرکین اور اہلِ کتاب اپنے جھوٹے کلمے بلند رکھنے کے لیے آخرت دم تک ایڑی چوٹی کا زور لگا چکے تھے،  لوگوں  کے صرف سر ہی اطاعت میں  نہیں  جھک گئے بلکہ ان کے دل  بھی مسخّر ہو گئے اور عقائد، اخلاق اور اعمال  میں  ایک انقلاب عظیم برپا ہو گیا۔ پوری انسانی تاریخ میں  اِس کی نظیر نہیں  مِلتی کہ ایک جاہلیت میں  ڈوبی ہوئی قوم صرف ۲۳ سال کے اندر اتنی بدل گئی ہو۔ اِس کے بعد حضور ؐ کی برپا کی ہوئی تحریک اِس طاقت کے ساتھ اُٹھی کہ ایشیاء، افریقہ اور یورپ کے ایک بڑے حصّے پر وہ چھا گئی اور دنیا کے گوشے گوشے میں  اس کے اثرات پھیل گئے۔  یہ کچھ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول  ؐ کو دنیا میں  دیا، اور آخرت میں  جو کچھ دے گا اس کی عظمت کا تصوّر بھی کوئی نہیں  کر سکتا۔( نیز دیکھو جلد سوم، طٰہٰ، حاشیہ ۱۱۲)۔

۶: یعنی تمہیں  چھوڑ دینے اور تم سے ناراض ہو جانے کا کیا سوال، ہم تو اُس وقت سے تم پر مہربان ہیں  جب تم یتیم پدہا ہوئے تھے۔  حضور ابھی بطن مادر ہی میں  چھ مہینے کے تھے جب آپ کے والد ماجد کا انتقال ہو گیا اس لیے آپ دنیا میں  یتیم ہی  کی حیثیت سے تشریف لائے۔  مگر اللہ تعالیٰ نے ایک دن بھی آپ کو بے سہارا نہ چھوڑا۔ چھ سال کی عمر تک والدہ ماجدہ آپ کی پرورش کرتی رہیں۔  ان کی شفقت سے محروم ہوئے تو ۸ سال کی عمر تک آپ کے جد امجد نے آپ کو اس  طرح پالا کہ ان کو نہ صرف آپ سے غیر معمولی محبت تھی بلکہ اُن کو آپ پر فخر تھا اور وہ لوگوں  سے کہا کرتے تھے کہ میرا یہ بیٹا ایک دن دنیا میں  بڑا نام پیدا کرے گا۔ اُن کا بھی انتقال ہو گیا تو آپ  کے حقیقی چچا ابو طالب نے آپ کی کفالت اپنے ذمّے لی اور آپ کے ساتھ ایسی محبت کا برتاؤ کیا کہ کوئی باپ بھی اس سے زیادہ نہیں  کر سکتا،  حتیٰ کہ نبوت کے بعد جب ساری قوم آپ کی دشمن ہو گئی تھی اس وقت دس سال تک وہی آپ کی حمایت میں  سینہ سپر رہے۔

۷: اصل میں  لفظ ضَآلّاً استعمال ہوا ہے جو ضلالت سے ہے۔  عربی زبان میں  یہ لفظ کئی معنوں  میں  استعمال ہوتا ہے۔  اِس کے ایک معنی گمراہی کے ہیں ۔  دوسرے معنی یہ ہیں  کہ کوئی شخص راستہ نہ جانتا ہو اور ایک جگہ حیران کھڑا ہو کے مختلف راستے جو سامنے ہیں  ان میں  سے کِدھر جاؤں۔  ایک اور معنی کھوئے ہوئے کے ہیں،  چنانچہ عربی محاورے میں  کہتے ہیں  ضَلَّ المَآ عُ فِی اللَّبَنِ، پانی دودھ میں  گُم ہو گیا۔ اُس درخت کو بھی عربی میں  ضَالّہ کہتے ہیں  جو صحرا میں  اکیلا کھڑا ہو اور آس پاس کوئی دوسرا درخت نہ ہو۔ ضائع ہونے کے لیے بھی ضلال کا لفظ بولا جاتا ہے،  مثلاً کوئی چیز نا مواقف اور ناسازگار حالات میں  ضائع ہو رہی ہو۔ غفلت کے لیے بھی ضلال کا  لفظ استعمال ہوتا ہے،  چنانچہ خود قرآن مجید میں  اِس کی مثال موجود ہے کہ  لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی، (طٰہٰ۔۵۲)۔ ’’میرا ربّ نہ غافل ہوتا ہے نہ بھولتا ہے۔ ‘‘ اِن مختلف معنوں  میں  سے پہلے معنی  یہاں  چسپاں  نہیں  ہوتے،  کیونکہ بچپن سے قبلِ نبوّت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے جو  حالات تاریخ میں  موجود ہیں  اِن میں  کہیں  اِس بات کا شائبہ تک نہیں  پایا جاتا کہ آپ ؐ کبھی بُت پرستی،  شرک یا دُہریّت میں  مبتلا ہوئے ہوں،  یا جاہلیّت کے جو اعمال،  رسم اور طور طریقے آپ ؐ کی قوم میں  پائے جاتے تھے ان میں  سے کسی میں  آپ ؐ ملوث ہوئے ہوں۔  اِس لیے لا محالہ  وَوَجَدَ کَ  ضَآلّاً  کے یہ معنی تو نہیں  ہو سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو عقیدے یا عمل کے لحاظ سے گمراہ پایا تھا۔  البتہ باقی معنی کسی نہ کسی طور پر یہاں  مراد ہو سکتے ہیں ،  بلکہ ہو سکتا ہے کہ ایک ایک اعتبار سے سب مراد ہوں۔  نبوّت سے پہلے حضور ؐ اللہ کی ہستی اور اُس کی وحدانیت کے قائل تو ضرور تھے،   اور آپ ؐ کی زندگی گناہوں  سے پاک اور فضائل اخلاق سے آراستہ بھی تھی،  لیکن آپ ؐ کو دینِ حق اور اس کے اُصول  اور احکام کا علم نہ تھا،  جیسا کہ قرآن میں  فرمایا گیا ہے  مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ (الشوریٰ، آیت ۵۲)۔ ’’تم نہ جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور نہ ایمان کی تمہیں  کوئی خبر تھی‘‘۔ یہ معنی بھی اس آیت کے ہو سکتے ہیں  کہ حضور ؐ ایک  جاہلی معاشرے میں  گُم ہو کر رہ گئے تھے اور ایک ھادی و رہبر ہونے کی حیثیت سے آپ ؐ کی شخصیت نبوت سے پہلے نمایاں  نہیں  ہو رہی تھی۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جاہلیت کے صحراء میں  آپ ؐ  ایک  اکیلے درخت کی حیثیت سے کھڑے تھے جس میں  پھل لانے اور ایک پورا باغ کا باغ پیدا کر دینے کی صلاحیت تھی مگر نبوت سے پہلے یہ صلاحیت کام نہیں  آ رہی تھی۔ یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو غیر معمولی قوتیں  آپ ؐ  کو عطا کی تھیں  وہ جاہلیت کے ناسازگار ماحول میں  ضائع ہو رہی تھیں ۔  ضلال کو غفلت کے معنی میں  بھی لیا جا سکتا ہے،  یعنی آپ ؐ اُن حقائق اور علوم سے غافل تھے جن سے نبوت کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو آگاہ فرمایا۔  یہ بات خود قرآن میں  بھی ایک جگہ ارشاد ہوئی ہے : وَاِنْ کُنْتَ مِنْ قَبْلِہ o لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ (یوسف۳) ’’ اور اگرچہ تم  اِس سے پہلے اِن باتوں  سے غافل تھے۔ ‘‘(نیز ملاحظہ ہو البقرہ آیت ۲۸۲، اور الشعراء آیت ۲۰)۔

۸: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے لیے آپ کے والد ماجد نے میراث میں  صرف ایک اونٹنی اور ایک لونڈی چھوڑ ی تھی۔ اس طرح آپ کی زندگی کی ابتدا ء افلاس کی حالت میں  ہوئی تھی۔ پھر ایک وقت آیا کہ قریش کی سب سے زیادہ مالدار خاتون حضرت خَدَیجہ ؓ نے پہلے تجارت میں  آپ ؐ کو اپنے ساتھ شریک کیا،  اس کے  بعد انہوں  نے آپ ؐ سے شادی کر لی اور ان کے تمام تجارتی کاروبار کو آپ ؐ نے سنبھال لیا۔ اِس طرح آپ ؐ نہ صرف یہ کہ مال دار ہو گئے،   بلکہ آپ ؐ کی مالدار ی اِس نوعیت کی نہ تھی کہ محض بیوی کے مال پر آپ ؐ کا انحصار ہو۔ اُن کی تجارت کو فروغ دینے میں  آپ ؐ کی اپنی محنت و قابلیت کا بڑا حصّہ تھا۔

۹: یعنی تم چونکہ خود یتیم رہ چکے ہو، اور اللہ نے تم پر یہ فضل فرمایا کہ یتیمی کی حالت میں  بہترین طریقے سے تمہاری دستگیری کی، اس لیے اس کا شُکرانہ یہ ہے کہ تمہارے ہاتھ سے کبھی کسی یتیم  پر ظلم اور زیادتی نہ ہونے پائے۔

۱۰: اس کے دو معنی ہیں۔  اگر سائل کو مدد مانگنے والے حاجت مند کے معنی میں  لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس کی مدد کر سکتے ہو تو کر دو، نہ کر سکتے ہو تو نرمی کے ساتھ معذرت کر دو، مگر بہر حال اُسے جھِڑکو نہیں۔  اِس معنی کے لحاظ سے یہ ہدایت اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے جواب میں  ہے کہ ’’تم نادار تھے پھر اُس نے تمہیں  مالدار کر دیا۔‘‘ اور اگر سائل کو پوچھنے والے،  یعنی دین کا کوئی مسئلہ یا حکم دریافت کرنے والے کے معنی میں  لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص  خواہ کیسا ہی جاہل اور اُجڈ ہو،  اور بظاہر خواہ کتنا ہی نا معقول طریقے سے سوال کرے یا اپنے ذہن کی اُلجھن پیش کرے،  بہر حال شفقت کے ساتھ اُسے جواب دو اور علم کا زعم رکھنے والے بد مزاج لوگوں  کی طرح اُسے جھِڑک کر دُور نہ بھگا دو۔ اِس معنی کے لحاظ سے یہ ارشاد اللہ تعالیٰ  کے اِس احسان کے جواب میں  ہے کہ  ’’ تم ناواقفِ راہ تھے پھر اُس نے تمہیں  ہدایت بخشی‘‘۔ حضرت ابو الدّردا ؓ،  حسن بصری ؒ،  صفیان ؒ ثوری اور بعض دوسرے بزرگوں  نے اِسی دوسرے معنی کو ترجیح دی ہے کیونکہ ترتیبِ کلام کے لحاظ سے یہ ارشاد    وَوَجَدَ کَ  ضَآ لّاً فَھَدیٰ کے جواب میں  آتا ہے۔

۱۱:  نعمت کا لفظ عام ہے جس سے مراد وہ نعمتیں  بھی ہیں  جو اس سورہ  کے نزول کے وقت تک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولِ پاک کو عطا فرمائی تھیں ،  اور وہ نعمتیں  بھی جو بعد میں  اُس نے اپنے اُن وعدوں  کے مطابق آپ کو عطا کیں  جو اِس سورہ میں  اُس  نے کیے تھے اور جن کو اُس نے بدرجۂ  اَتم پورا کیا۔ پھر حکم یہ ہے کہ اے نبی ؐ ہر نعمت جو اللہ نے تم کو دی ہے اُس کا ذکر اور اُس کا اظہار کرو۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ نعمتوں  کے ذکر اور اظہار کی مختلف صورتیں  ہو سکتی ہیں  اور ہر نعمت اپنی نوعیت کے لحاظ سے اظہار کی ایک خاص صورت چاہتی ہے۔  مجموعی طور پر تمام نعمتوں  کے اظہار کی صورت یہ ہے کہ زبان سے اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور اس بات کا اقرار و اعتراف کیا جائے کہ جو نعمتیں  بھی مجھے حاصل ہیں  یہ سب اللہ کا فضل و احسان ہیں  ورنہ کوئی چیز بھی میرے کسی ذاتی کمال کا نتیجہ نہیں  ہے۔  نعمتِ نبوت کا اظہار اس طریقہ سے ہو سکتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کا حق ادا کیا جائے۔  نعمتِ قرآن کے اظہار کی صورت یہ ہے کہ لوگوں  میں  زیادہ سے زیادہ اُس  کی اشاعت کی جائے اور اس کی تعلیمات لوگوں  کے ذہن نشین کی جائیں۔  نعمتِ ہدایت کا اظہار اِس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ کی بھٹکی ہوئی مخلوق کو سیدھا راستہ بتایا جائے اور اس کام کی ساری تلخیوں  اور تُرشیوں  کو صبر کے ساتھ برداشت کیا جائے۔  یتیمی میں  دستگیری کا جو احسان اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اس کا تقاضا یہی ہے کہ یتیموں  کے ساتھ ویسے ہی احسان کا سلوک کیا جائے۔  نادار سے مالدار بنا دینے کا جو احسان اللہ نے کیا اُس کا اظہار یہی صورت چاہتا ہے کہ  اللہ کے محتاج بندوں  کی مدد کی جائے۔  غرض یہ ایک بڑی جامع ہدایت تھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات و احسانات بیان کرنے کے بعد  اِس مختصر سے فقرے میں  اپنے رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو دی۔

٭٭٭

 

 

 

۹۴۔سورۃ الم نشرح

 

نام

 

پہلے ہی فقرے کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اس کا مضمون سورۂ ضحیٰ  سے اس قدر ملتا جلتا ہے کہ یہ دونوں  سُورتیں  قریب قریب ایک ہی زمانے اور ایک جیسے حالات میں  نازل شدہ معلوم ہوتی ہیں۔  حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ  فرماتے ہیں  کہ یہ مکّۂ معظمہ میں  والضحیٰ کے بعد نازل ہوئی ہے۔

 

موضوع اور مضمون

 

اس کا مقصد و مدعا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو تسلّی دینا ہے۔  نبوّت سے پہلے حضور ؐ کو کبھی اُن حالات سے سابقہ پیش نہ آیا تھا جن کا سامنا نبوّت کے بعد دعوتِ اسلامی کا آغاز کرتے ہی یکایک آپؐ کو کرنا پڑا۔ یہ خود آپؐ کی زندگی میں  ایک انقلابِ عظیم تھا جس کا کوئی اندازہ آپؐ کو قبلِ نبوت کی زندگی میں  نہ تھا۔ اسلام کی تبلیغ آپؐ  نے کیا شروع کی کہ دیکھتے دیکھتے وہی معاشرہ آپ ؐ کا دشمن ہو گیا جس میں  آپ ؐ پہلے بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔  وہی رشتہ دار،  دوست،  اہلِ قبیلہ اور اہلِ محلہ آپؐ  کو گالیاں  دینے لگے جو پہلے آپ ؐ کو ہاتھو ہاتھ لیتے تھے۔  مکّہ میں  کوئی آپؐ کی بات سننے کا روادار نہ تھا۔  راہ چلتے آپ پر آوازے کسے جانے لگے۔  قدم قدم پر آپ ؐ  کے سامنے مشکلات ہی مشکلات تھیں۔  اگرچہ رفتہ رفتہ آپؐ کو اِن حالات،  بلکہ اِن سے بھی بدرجہا زیادہ سخت حالات کا مقابلہ کرنے کی عادت پڑ گئی، لیکن ابتدائی زمانہ آپ ؐ کے لیے نہایت دل شکن تھا۔ اِسی بنا پر آپ ؐ کو تسلی دینے کے لیے پہلے سُورۂ ضحیٰ نازل کی گئی اور پھر اِس سورت کا نزول ہوا۔

اِس میں  اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ ؐ کو  بتایا ہے کہ ہم نے آپ ؐ کو تین بہت بڑی نعمتیں  عطا کی ہیں  جن کی موجودگی میں  کوئی وجہ نہیں  کہ آپ ؐ دل شکستہ ہوں۔  ایک شرح صدر کی نعمت۔ دوسری نعمت کہ آپ کے اوپر سے ہم نے وہ بھاری بوجھ اتار دیا جو نبوّت سے پہلے آپ ؐ کی کمر توڑے ڈال رہا تھا۔ تیسری رفعِ ذِکر کی نعمت جو آپ ؐ سے بڑھ کر تو درکنار آپ ؐ کے برابر بھی کبھی کسی بندے کو نہیں  دی گئی۔ آگے چل کر ہم نے اپنے حواشی میں  وضاحت کر دی ہے کہ اِن تینوں  نعمتوں  سے مراد کیا ہے اور یہ کتنی بڑی نعمتیں  ہیں۔

اِس کے بعد ربِّ کائنات اپنے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ اطمینان  دلاتا ہے کہ مشکلات کا یہ دور،  جس سے آپ ؐ کو سابقہ پیش آ رہا ہے،  کوئی بہت لمبا دور نہیں  ہے بلکہ اِس تنگی کے ساتھ ہی ساتھ فراخی کا دور بھی لگا چلا آ رہا ہے۔  یہ وہی بات ہے جو سورۂ ضحیٰ میں  اِس طرح فرمائی گئی تھی کہ آپ ؐ کے لیے ہر بعد کا دور پہلے  دور سے بہتر ہو گا اور عنقریب آپ ؐ کا ربّ  آپ ؐ کو وہ کچھ دے گا جس سے آپ ؐ کا دل خوش ہو جائے گا۔

آخر میں  حضور ؐ کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ ابتدائی دور کی اِن سختیوں  کا مقابلہ کرنے کی طاقت آپ کے اندر ایک ہی چیزسے پیدا ہو گی، اور وہ یہ ہے کہ جب اپنے مشاغل سے آپ فارغ ہوں  تو عبادت کی مشقت و ریاضت میں  لگ جائیں  اور ہر چیز سے بے نیاز ہو کر صرف اپنے ربّ سے لَو لگائیں۔  یہ وہی ہدایت ہے جو زیادہ تفصیل کے ساتھ حضور ؐ کو سورۂ مزّمِّل آیات ۱ تا ۹ میں  دی گئی ہے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

(اے نبیؐ ) کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لیے کھول نہیں  دیا؟ ۱ اور تم پر سے وہ بھاری بوجھ اُتار دیا جو تمہاری کمر توڑ ڈال رہا تھا۔ ۲ اور تمہاری خاطر تمہارے ذِکر کا آوازہ بلند کر دیا۔ ۳ پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔  بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔  ۴ لہٰذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں  لگ جاؤ اور اپنے ربّ ہی کی طرف راغب ہو۔ ۵ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اِس سوال سے  کلام کا آغاز،  اور پھر بعد  کا مضمون یہ ظاہر کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اُس زمانے میں  اُن شدید مشکلات پر سخت پریشان تھے جو دعوتِ اسلامی کا کام شروع کرنے کے بعد ابتدائی دور میں  آپ کو پیش آ رہی تھیں۔  اِن حالات میں  اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو مخاطَب کر کے تسلّی دیتے ہوئے فرمایا  کہ اے نبی، کیا ہم نے یہ اور یہ عنایات تم پر نہیں  کی ہیں ؟ پھر اِن ابتدائی مشکلات پر تم پریشان کیوں  ہوتے ہو؟ سینہ کھولنے کا لفظ قرآن مجید میں  جن مواقع پر آیا ہے اُن  پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس کے دو معنی ہیں۔  (۱) سورۂ اَنعام آیت ۱۲۵ میں  فرمایا فَمَنْ یُّرِدِ اللہُ اَنْ یَّھْدِ یَہ ٗ یَشْرَحْ صَدْ رَ ہٗ لِلْاِسْلَامِ  ’’پس جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت بخشنے کا ارادہ فرماتا ہے  اُ س کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ ‘‘  اور سورۂ زُمَر آیت ۲۲ میں  فرمایا اَفَمَنْ شَرَ حَ اللہُ صَدْرَ ہٗ لَلْاِسْلَامِ فَھُوَ عَلیٰ نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہ ۔  ’’تو کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہو پھر وہ اپنے ربّ کی طرف سے ایک روشنی پر چل  رہا ہو۔ ۔۔۔۔۔‘‘۔ اِن دونوں  مقامات پر شرح صدر سے مراد ہر قسم کے ذہنی خَلْجَان اور تردُّد سے پاک ہو کر اِس بات پر پوری طرح مطمئن ہو جا نا ہے کہ اسلام کا راستہ ہی بر حق ہے اور وہی عقائد،  وہی اصولِ اخلاق و تہذیب و تمدّن، اور وہی احکام و ہدایات بالکل صحیح ہیں  جو اسلام نے انسان کو دیے ہیں۔  (۲) سورۂ شُعراء آیت ۱۳-۱۲  میں  ذکر آیا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ  کو جب اللہ تعالیٰ نبوت کے منصبِ  عظیم پر مامور کر کے فرعون اور اس کے عظیم سلطنت سے جا ٹکرا نے کا حکم دے رہا تھا تو انہوں  نے عرض کیا رَبِّ  اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یُّکَذِّبُوْنِ وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ۔ ’’میرے رب، میں  ڈرتا ہوں   کہ وہ  لوگ مجھے جھُٹلا دیں  گے اور میرا سینہ تنگ  ہو رہا ہے۔ ‘‘ اور سُورۂ طٰہٰ  آیات ۲۶-۲۵ میں  بیان کیا گیا ہے کہ اِسی موقع پر حضرت موسیٰ ؑ  نے اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگی کہ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْ لِیْٓ اَمْرِیْ۔ ’’ میرے رب میرا سینہ میرے لیے کھول دے اور میرا کام میرے  لیے آسان کر دے۔ ‘‘ یہاں  سینے کی تنگی  سے مراد یہ ہے کہ نبوّت جیسے کارِ عظیم کا بار سنبھالنے اور تن تنہا کفر کی ایک جابر و قاہر طاقت سے ٹکّر لینے کی آدمی کو ہمّت نہ پڑ رہی ہو۔ اور شرحِ صدر سے مراد یہ ہے کہ آدمی کا حوصلہ بلند ہو جائے،  کسی بڑی سے بڑی مہم  پر جانے اور کسی سخت سے سخت کام کو انجام دینے میں  بھی اسے تامُّل نہ ہو، اور  نبوّت کی عظیم ذمّہ داریاں  سنبھالینے  کی اس میں  ہمت پید اہو جائے۔  غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اِس آیت میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کا سینہ کھول دینے سے یہ دونوں  معنی مراد ہیں۔  پہلے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم مشرکین عرب، نصاریٰ، یہود، مجوس، سب کے مذہب کو غلط سمجھتے تھے،  اور حَنِیفیّت پر بھی مطمئن نہ تھے جو عرب کے بعض قائلینِ توحید میں  پائی جاتی تھی،  کیونکہ یہ ایک مبہم عقیدہ تھا  جس میں  راہِ راست کی کوئ تفصیل نہ  ملتی تھی (اس کی تشریح  ہم تفہیم القرآن، جلد چہارم، السجدہ، حاشیہ ۵ میں   کر چکے ہیں)، لیکن آپ کو چونکہ خود یہ معلوم نہ تھا کہ راہِ  راست کیا ہے،  اس لیے آپ سخت ذہنی خَلْجان میں  مبتلا تھے۔  نبوّت عطا کر کے اللہ تعالیٰ نے آپ کے اِس خلجان کو دُور کر دیا اور  وہ راہِ  راست کھول کر آپ کے سامنے رکھ دی جس سے آپ کو کامل اطمینانِ  قلب حاصل ہو گیا۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے اِ س کا مطلب یہ ہے کہ  نبوت عطا کر نے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ حوصلہ،  وہ ہمّت،  وہ اولو العزمی اور وہ وسعتِ قلب عطا فر مادی جو اِس منصبِ عظیم کی ذمّہ داریاں  سنبھالنے کے لیے درکار تھی۔ آپ اُس وسیع علم کے حامل ہو گئے جو آپ کے سوا کسی انسان کے ذہن میں  سمانہ سکتا  تھا۔ آپ کو وہ حکمت نصیب ہو گئی جو بڑے سے بڑے بگاڑ کو دُور کرنے اور سنوار دینے کی اہلیت رکھتی تھی۔ آپ اِس قابل ہو گئے کہ جاہلیت  میں  مستغرق اور جہالت کے اعتبار سے انتہائی اکھّڑ معاشرے میں  کسی سر و سامان اور ظاہراً کسی پُشت پنا ہ طاقت کی مدد کے بغیر اسلام کے علمبردار بن کر کھڑے ہو جائیں،  مخالفت اور دشمنی  کے  کسی بڑے سے بڑے طوفان کا مقابلہ کرنے سے نہ ہچکچائیں ،  اس راہ میں  جو تکلیفیں  اور مصیبتیں  بھی پیش آئیں  ان کو صبر کے ساتھ برداشت  کر لیں،  اور کوئی طاقت آپ کو اپنے موقف سے نہ ہٹا سکے۔  یہ شرحِ صدر کی بیش بہا دولت جب اللہ نے آپ کو عطا کر دی ہے تو آپ اُن مشکلات پر دل گرفتہ کیوں  ہوتے ہیں  جو آغازِ کار کے اِس مرحلے میں  پیش آ رہی ہیں۔  بعض مفسرین نے شرح صدر کو شقِّ  صدر کے معنی میں  لیا ہے اور اس آیت کو اُس معجزہْ شقِّ صدر کا ثبوت قرار دیا ہے جو احادیث کی روایات میں  بیان ہوا ہے۔  لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس معجزے کے ثبوت کا مدار احادیث کی روایات ہی پر ہے۔  قرآن سے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش صحیح نہیں  ہے۔  عربی زبان کے لحاظ سے شرحِ  صدر کو کسی طرح بھی شقِّ صدر کے معنی  میں  نہیں  لیا جا سکتا۔  علامۂ آلوسی  روح المعانی میں  فرما تے ہیں  کہ حمل الشرح فی الاٰ یۃ علیٰ شق الصدر ضعیف عند المحققین  ’’محققین کے نزدیک اس آیت میں  شرح کو شقِّ صدر پر  محمول کرنا ایک کمزور بات ہے۔ ‘‘

۲: مفسرین میں  سے بعض نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ نبوّت  سے پہلے ایّام جاہلیّت میں  نبی  صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے کچھ قصور ایسے ہو گئے تھے جن کی فکر آپ کو سخت گراں  گزر رہی تھی اور یہ آیت نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مطمءن کر دیا کہ آپ کے وہ قصور ہم نے معاف کر دیے۔  لیکن ہمارے نزدیک  یہ معنی لینا سخت غلطی ہے۔   اول تو لفظ وزْر کے معنی لازماً گناہ  ہی کے نہیں  ہیں  بلکہ یہ لفظ بھاری بوجھ کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔  اس لیے کوئی وجہ نہیں  کہ اس کو خواہ مخواہ بُرے معنی میں  لیا جائے۔  دوسرے حضور ؐ کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی اس قدر پاکیزہ تھی کہ قرآن میں  مخالفین کے سامنے اُس کو ایک چیلنج کے طور پر پیش کیا گیا تھا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کفّار  کو مخاطب کر کے یہ کہوایا گیا کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عّمْراً مِّنْ قَبْلِہ۔  ’’ میں  اِس قرآن کو پیش کرنے سے پلے تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں ‘‘(یونس آیت ۱۶)۔  اور حضور ؐ اِس کردار کے انسان بھی نہ تھے کہ لوگوں  سے چھُپ کر آپ ؐ نے کوئی گناہ کیا ہو۔ معاذ اللہ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ تو اُس سے ناواقف نہ ہو سکتا تھا کہ جو شخص کوئی چھُپا ہوا داغ اپنے دامن پر لیے ہوئے ہوتا اُس سے خلقِ خدا کے سامنے برملا وہ بات کہواتا جو سورۂ یونس کی مذکورۂ بالا آیت میں  اس نے کہوائی ہے۔  پس درحقیقت اِ س آیت میں  وِزْر کے صحیح معنی بھاری بوجھ کے ہیں  اور اس سے مراد رنج و غم اور فکر و پریشانی کا وہ بوجھ ہے جو اپنی قوم کی جہالت و جاہلیت کو دیکھ دیکھ کر آپ کی حسّاس طبیعت پر پڑ رہا تھا۔ آپ کے سامنے بُت پُوجے جا رہے تھے۔  شرک اور مشرکانہ اوہام و رسوم کا بازار گرم تھا۔ اخلا ق کی گندگی اور بے حیائی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔  معاشرت میں  ظلم اور معاملات میں  فساد عام تھا۔ زور داروں   کی زیادتیوں  سے بے زور پِس  رہے تھے۔  لڑکیاں  زندہ دفن کی جا رہی تھیں۔  قبیلوں  پر قبیلے چھاپے  مار رہے تھے اور بعض اوقات سَو سَو برس تک انتقامی لڑائیوں  کا سلسلہ چلتا رہتا تھا۔ کسی کی جان، مال اور آبرو محفوظ نہ تھی جب تک کہ اس کی پشت پر کوئی مضبوط جتّھا نہ ہو۔  یہ حالت دیکھ کر آپ کُڑھتے تھے مگر اِس بگاڑ کو دور کرنے کی کوئی صورت آپ کو نظر نہ آتی تھی۔ یہی فکر آپ کی کمر توڑ ڈال رہی تھی جس کا بارِ گراں  اللہ تعالیٰ  نے ہدایت کا راستہ دکھا کر آپ کے اوپر سے اتار دیا اور نبوّت کے منصب پر سرفراز ہوتے ہی آپ کو معلوم ہو گیا کہ توحید اور آخرت اور رسالت پر ایمان ہی وہ شاہ کلید ہے جس سے انسانی زندگی کے ہر بگاڑ کا قفل کھولا جا سکتا ہے اور سزندگی کے ہر پہلو میں  اصلاح کا راستہ صاف کیا جا سکتا ہے۔  اللہ تعالیٰ کی اِس رہنمائی نے آپ کے ذہن کا سارا بوجھ ہلکا کر دیا اور آپ پوری طرح مطمئن ہو گئے کہ اِس ذریعہ سے آپ نہ صرف عرب بلکہ پوری نوع انسانی کو اُن خرابیوں  سے نکال سکتے ہیں    جن میں  اُس وقت عرب سے باہر کی بھی ساری دنیا مبتلا تھی۔

۳: یہ بات اُس زمانہ میں  فرمائی گئی تھی جب کوئی شخص یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ جس فردِ فرید کے ساتھ گنتی کے چند آدمی ہیں  اور وہ بھی صرف شہر مکّہ تک محدود ہیں  اُس کا آوازہ دنیا بھر میں  کیسے بلند ہو گا اور کیسی ناموَری اس کو حاصل ہو گی۔  لیکن اللہ تعالیٰ نے اِن حالات میں  اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  کو یہ خوشخبری سنائی اور پھر عجیب طریقہ سے اس کو پورا کیا۔ سب سے پہلے آُ کے رفعِ ذِکر کا کام اُس نے خود آپ کے دشمنوں  سے لیا۔ کفّارِ مکّہ نے آپ کو زک دینے کے لیے جو طریقے اختیار  کیے اُن میں  سے ایک یہ تھا کہ حج کے موقع پر جب تمام عرب سے لوگ کھِنچ کھِنچ کر اُن کے شہر میں  آتے تھے،  اُس زمانہ میں  کفّار کے وفود حاجیوں  کے ایک ایک ڈیرے پر جاتے اور لوگوں  کو خبر دار کرتے کہ یہاں  ایک خطرناک شخص محمد صلی اللہ علیہ و سلم نامی ہے جو لوگوں  پر ایسا جادو کرتا ہے کہ باپ بیٹے،  بھائی بھائی اور شوہر اور بیوی میں  جدائی پڑ جاتی ہے،  اس لیے ذرا اُس سے بچ کر رہنا۔ یہی باتیں  وہ اُن سب لوگوں  سے بھی کہتے تھے جو حج کے سوا دوسرے دنوں  میں  زیارت یا کسی کاروبار کے سلسلے میں  مکّہ آتے تھے۔  اِس طرح اگرچہ وہ حضور ؐ  کو بدنام کر رہے تھے،  لیکن اِس کا نتیجہ یہ  ہوا  کہ عرب کے گوشے گو شے  میں  آپ کا نام پہنچ گیا اور مکّہ کے گوشۂ گمنامی سے نکار کر خود دشمنوں  نے آپ کو تمام ملک کے قبائل سے متعارف کرا دیا۔ اس کے بعد یہ بالکل فطری امر تھا کہ لوگ یہ معلوم کریں  کہ وہ شخص ہے کون؟ کیا کہتا ہے ؟ کیسا آدمی ہے ؟ اُس کے ’’جادو‘‘ سے متاثر ہونے والے کون لوگ ہیں  اور ان پر اس کے ’’جادو‘‘ کا آخر کیا  اثر  پڑا ہے ؟  کفّارِ مکّہ کا پروپیگنڈا جنتا جنتا بڑھتا چلا گیا لوگوں  میں  یہ جستجو بھی بڑھتی چلی گئی۔ پھر جب اِس جستجو کے نتیجے میں  لوگوں  کو آپ کے اخلاق اور آپ کی سیرت و کردار کا حال معلوم ہوا، جب لوگوں  نے قرآن سنا اور انہیں  پتہ چلا کہ وہ تعلیمات کیا ہیں  جو آپ پیش فرما رہے ہیں  ،  اور جب دیکھنے والوں  نے یہ دیکھا کہ جس چیز کو جادو کہا جا رہا ہے اس سے مُتاثر ہونے والوں  کی زندگیاں  عرب کے عام لوگوں  کی زندگیوں  سے کس قدر مختلف ہو گئی ہیں ،  تو وہی بدنامی نیک نامی سے بدلنی شروع ہو گئی، حتیٰ کہ ہجرت کا زمانہ آنے تک  نوبت یہ پہنچ گئی کہ دور و نزدیک کے عرب قبائل میں   شاید ہی کوئی قبیلہ ہو جس میں  کسی نہ کسی شخص یا کنبے نے اسلام قبول نہ کر لیا ہو، اور جس میں  کچھ نہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے اور آپ کی دعوت سے ہمدردی  و دلچسپی رکھنے والے پیدا ہو گئے ہوں۔  یہ حضور ؐ کے رفعِ ذکر کا پہلا مرحلہ تھا۔ اس کے بعد ہجرت سے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا جس میں  ایک طرف منافقین، یہود، اور تمام عرب  کے اکابر مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو بدنام کرنے میں  سرگرم تھے،  اور دوسری طرف مدینۂ طیبہ کی اسلامی ریاست خداپرستی و خدا ترسی،  زہد و تقویٰ، طہارتِ اخلاق، حسنِ معاشرت، عدل و انصاف، انسانی مساوات، مالداروں  کی فیاضی، غریبوں  کی خبر گیری، عہد و پیمان کی پاسداری اور معاملات میں  راستبازی کا وہ عملی نمونہ پیش کر رہی تھی جو لوگوں  کے دلوں  کو مسخّر کرتا چلا جا رہا تھا۔ دشمنوں  نے جنگ کے ذریعہ سے حضور ؐ کے اِس بڑھتے ہوئے اثر کو مٹانے کی کوشش کی،  مگر آپ کی قیادت میں  اہلِ ایمان کی جو جماعت تیار ہوئی تھی  اس نے اپنے نظم و ضبط، اپنی شجاعت، اپنی موت سے بے خوفی، اور حالت جنگ تک میں  اخلاقی حدود کی پابندی سے اپنی برتری اس طرح ثابت کر دی کہ سارے عرب نے ان کا لوہا مان لیا۔ ۱۰ سال  کے اندر حضور ؐ کا رفعِ ذِکر اِس طرح ہوا کہ وہی ملک جس میں  آپ کو بدنام کرنے کے لیے مخالفین نے اپنا سارا زور لگا دیا تھا، اُس کا گوشہ گوشہ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّداً ارَّسُوْلُ اللہ کی صدا سے گونج اٹھا۔ پھر تیسرے مرحلے کا افتتاح  خلافتِ  راشدہ کے دور سے ہوا جب آپ کا نامِ مبارک تمام روئے زمین میں  بلند ہونا شروع ہو گیا۔ یہ سلسلہ آج تک بڑھتا ہی جا رہا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک بڑھتا چلا جائے گا۔ دنیا میں  کوئی جگہ ایسی نہیں  ہے کہاں  مسلمانوں  کی کوئی بستی موجود ہو اور دن میں  پانچ  مرتبہ اذان  میں  بآواز بلند محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی رسالت کا اعلان نہ ہو رہا ہو، نمازوں  میں  حضور ؐ پر درود نہ بھیجا جا رہا ہو، جمعہ کے خطبوں  میں  آپ کا ذکرِ خیر نہ کیا جا رہا ہو، اور سال کے بارہ مہینوں  میں  سے  کوئی دن اور دن کے ۲۴ گھنٹوں   میں  سے کوئی وقت ایسا نہیں  ہے جب روئے زمین میں  کسی نہ کسی جگہ حضور ؐ کا ذکر مبارک نہ ہو رہا ہو۔ یہ قرآن کی صداقت کا ایک کھلا ہوا ثبوت ہے کہ جس وقت نبوت کے ابتدائی دور میں  اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ اُس وقت کوئی شخص بھی یہ اندازہ نہ کر سکتا تھا کہ یہ رفعِ ذِکر اس شان سے اور اِتنے بڑے پیمانے پر ہو گا۔ حدیث میں  حضرت ابو سعید خُدرِی کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے فرمایا، ’’ جبریل ؑ میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا میرا ربّ اور آپ کا رب پوچھتا ہے کہ میں  نے کس طرح تمہارا رفعِ ذِکر کیا؟ میں  عرض کیا اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔  انہوں  نے کہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے گا تو میرے ساتھ تمہارا بھی ذکر کیا جائے گا‘‘(ابن جریر، ابن ابی حاتم، مُسند ابو یعلیٰ، ابن المُنذِر، ابن حِبّان، ابن مردویہ، ابو نُعَیم)۔ بعد کی پوری تاریخ شہادت  دے رہی ہے کہ یہ بات حرف بحرف پوری ہوئی۔

۴: اس بات کو دو مرتبہ دُہرایا گیا ہے تا کہ حضور ؐ کو پوری طرح تسلی دے دی جائے کہ جن سخت حالات سے آپ اِس وقت گزر رہے ہیں  یہ زیادہ دیر رہنے والے نہیں  ہیں  بلکہ ان کے بعد قریب ہی میں  اچھے حالات آنے والے ہیں ۔  بظاہر یہ بات متناقض معلوم ہوتی ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی ہو، کیونکہ یہ دونوں  چیزیں  بیک وقت جمع نہیں   ہوتیں ۔  لیکن تنگی کے بعد فراخی کہنے کے بجائے تنگی کے ساتھ فراخی کے الفاظ اس معنی میں  استعمال کیے گئے ہیں  کہ فراخی کا دور اِس قدر قریب ہے کہ گویا  وہ اس کے ساتھ ہی چلا آ رہا ہے۔

۵: فارغ ہونے سے مراد اپنے مشاغل سے فارغ ہونا ہے،  خواہ وہ دعوت  و تبلیغ کے مشاغل ہوں  یا اسلام قبول کرنے والوں  کی تعلیم و تربیت کے مشاغل، یا اپنے گھر بار اور دنیوی کاموں  کے مشاغل۔  حکم کا  منشا یہ ہے کہ جب کوئی اور مشغولیت نہ رہے تو اپنا فارغ وقت عبادت کی ریاضت و مشقت میں  صرف کرو اور ہر طرف سے توجہ ہٹا کر صرف اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔

٭٭٭

 

 

 

 

۹۵۔ سورۃ التین

 

 

نام

 

پہلے ہی لفظ  اَلتِّیْن  کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

قَتَادَہ کہتے ہیں  کہ یہ سورۃ مدنی ہے۔  ابن عباس ؓ سے دو قول منقول ہیں ۔  ایک یہ کہ یہ مکّی ہے اور دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔  لیکن جمہور علماء اسے  مکّی ہی قرار دیتے ہیں  اور اس کے مکّی ہونے کی کھلی ہوئی علامت یہ ہے کہ اِس میں  شہرِ مکّہ کے لیے ھٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْن (یہ پرامن شہر) کے الفاظ استعمال  کیے گئے ہیں ۔  ظاہر ہے کہ اگر اس کا نزول مدینہ یں  ہوا ہوتا تو مکّہ کے لیے ’’یہ شہر‘‘ کہنا صحیح نہیں  ہو سکتا تھا۔ علاوہ بریں  سورت کے مضمون پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مکّۂ معظمہ کے بھی ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں  میں  سے ہے،  کیونکہ اِس میں  کوئی نشان اِس امر کا نہیں   پایا جاتا کہ اس کے نزول کے وقت کفر و اسلام کی کشمکش برپا ہو چکی تھی، اور اِس کے اندر مکّی دور کی ابتدائی سورتوں  کا وہی اندازِ بیان پایا جاتا ہے جس میں  نہایت مختصر اور دل نشین طریقہ سے لوگوں  کو سمجھایا گیا ہے کہ آخرت کی جزا و سزا ضروری اور سراسر معقول ہے۔

 

 

موضوع اور مضمون

 

اس کا موضوع ہے جزا و سزا کا اِثبات۔ اِس غرض کے لیے سب سے پہلے جلیل القدر انبیاء کے مقاماتِ ظہور کی قَسم کھا کر فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین ساخت سے پیدا کیا ہے۔  اگرچہ اِس حقیقت کو دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں  مختلف طریقوں  سے بیان کیا گیا ہے۔  مثلاً کہیں  فرمایا  کہ انسان کو خدا نے زمین میں  اپنا خلیفہ بنایا اور فرشتوں  کو اس کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیا (البقرہ، ۳۴-۳۰۔ الاَنعام، ۱۶۵۔ الاَعراف، ۱۱۔  الحِجْر، ۲۹-۲۸۔ النَّمل، ۶۲۔ صٓ۷۱ تا ۷۳)۔ کہیں  فرمایا  کہ انسان اُس اَمانتِ الٰہی کا حامل ہوا ہے جسے  اٹھانے کی طاقت زمین و آسمان اور پہاڑوں  میں  بھی نہ تھی (الاَحزاب، ۷۲)۔ کہیں  فرمایا کہ ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سے مخلوقات پر فضیلت عطا کی(بنی اسرائیل، ۷۰)۔ لیکن یہاں  خاص طور پر انبیاء کے مقامات ظہور کی قسم کھا کر یہ فرمانا کہ انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا گیا ہے،  یہ معنی رکھتا ہے کہ نوعِ انسانی کو اِتنی بہتر ساخت عطا کی گئی  کہ اس کے اندر نبوّت جیسے بلند ترین منصب کے حامل لوگ پیدا ہوئے جس سے اونچا  منصب خدا کی کسی دوسری مخلوق کو نصیب نہیں  ہوا۔

اس کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ انسانوں  میں  دو قِسمیں  پائی جاتی ہیں،  ایک وہ جو اس بہترین ساخت پر پیدا ہونے کے بعد بُرائی کی طرف مائل ہوتے ہیں  اور اخلاقی پستی میں  گرتے گرتے اُس انتہا کو پہنچ جاتے ہیں  جہاں  اُن سے زیادہ نیچ کوئی دوسری مخلوق نہیں  ہوتی، دوسرے وہ جو ایمان و عملِ صالح کا راستہ اختیار کر کے اس گراوٹ سے بچ جاتے ہیں  اور اُس مقامِ بلند پر قائم رہتے ہیں  جو اُن کے بہترین ساخت پر پیدا ہونے کا لازمی تقاضا ہے۔  نوعِ انسانی میں  اِن دونوں  قسموں  کے لوگوں  کا پایا جانا ایک ایسا امرِ واقعی ہے جس سے انکار نہیں  کیا جا سکتا، کیونکہ اس کا مشاہدہ انسانی معاشرے میں  ہر جگہ ہر وقت ہو رہا ہے۔

آخر اِس امرِ واقعی سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جب انسانوں  میں  یہ دو الگ الگ اور ایک دوسرے سے قطعی مختلف قسمیں  پائی جاتی ہیں  تو پھر جزائے اعمال کا کیسے انکار کیا جا سکتا ہے۔  اگر پستی میں  گرنے والوں  کو کوئی سزا اور بلندی پر چڑھنے والوں  کو کوئی اجر نہ ملے،  اور انجامِ  کار دونوں  کا یکساں  ہو،  تو اِس کے معنی یہ ہیں  کہ خدا کی خدائی میں  کوئی انصاف نہیں  ہے۔  حالانکہ انسانی فطرت اور انسان کی عقلِ عام یہ تقاضا کرتی ہے کہ جو شخص بھی حاکم ہو وہ انصاف کرے۔  پھر یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ اللہ،  جو سب حاکموں  سے بڑا  حاکم ہے وہ انصاف نہیں  کرے گا۔

 

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

قسم ہے انجیر اور زیتون کی ۱ اور طورِ سینا ۲ اور اِس پُر امن شہر (مکّہ)کی، ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، ۳ پھر اُسے اُلٹا پھیر کر ہم نے سب نِیچوں  سے نیچ کر دیا، ۴ سوائے اُن لوگوں   کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے  کہ ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔  ۵ پس (اے نبیؐ )اِس کے بعد کون جزا و سزا کے معاملہ میں  تم کو جھُٹلا سکتا ہے ؟ ۶ کیا اللہ سب حاکموں  سے بڑا حاکم نہیں  ہے ؟ ۷ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اِس کی تفسیر میں  مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہوا ہے۔  حسن بصری، عِکْرِمہ، عطا ء بن ابی رَبَاح، جابر بن زید، مجاہد اور ابراہیم نَخَعی رحمہم اللہ کے انجیر سے مراد یہی انجیر ہے جسے لوگ کھاتے ہیں  اور زیتون بھی یہی زیتون ہے جس سے تیل نکالا جاتا ہے۔  ابنِ ابی حاتم اور حاکم نے ایک قول حضرت عبداللہ ؓ  بن عباس سے بھی اس کی تائید میں  نقل کیا ہے اور جن مفسرین نے اس تفسیر کو قبول کیا ہے انہوں  نے انجیر اور زیتون کے خواص اور فوائد بیان کر کے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی خوبیوں  کی وجہ سے اِن دونوں  پھلوں  کی قسم کھائی ہے۔  اِس میں  شک نہیں  کہ ایک عام عربی داں  تین اور  زیتون کے الفاظ سُن کر وہی معنی لے گا جو عربی زبان میں  معروف ہیں۔  لیکن دو وجوہ ایسے ہیں  جو یہ معنی لینے میں  مانع ہیں۔  ایک یہ کہ آگے طورِ سینا اور شہرِ مکّہ کی قسم کھائی گئی ہے،  اور دو پھلوں  کے ساتھ دو مقامات کی قسم کھانے میں  کوئی مناسبت نظر نہیں  آتی۔ دوسرے اِن چار چیزوں  کی قسم کھا کر آگے جو مضمون بیان کیا گیا ہے اُس پر طورِ سینا اور شہرِ مکّہ تو دلالت کرتے ہیں،  لیکن یہ دو پھل اُس پر دلالت نہیں  کرتے۔  اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں  جہاں  بھی کسی چیز کی قسم کھائی ہے،  اُس کی عظمت یا اُس کے منافع کی بنا پر نہیں  کھائی، بلکہ ہر قسم اُس مضمون پر دلالت کرتی ہے جو قسم کھانے کے بعد بیان کیا گیا ہے۔  اِس لیے اِن دونوں  پھلوں  کے خواص کی وجہ قسم قرار نہیں  دیا جا سکتا۔ بعض دوسرے مفسرین نے تین اور زیتون سے مراد بعض مقامات لیے ہیں ۔  کَعْبِ اَحبار، قَتادہ اور ابنِ زید کہتے ہیں  تین سے مراد دمشق ہے اور زیتون سے مراد بیت المقدس۔ ابنِ عباس ؓ کا ایک قول  ابن جریر، ابنِ ابی حاتم اور ابنِ مردویہ نے یہ نقل کیا ہے کہ تین سے مراد حضرت نوح ؑ کی وہ مسجد ہے جو انہوں  نے جُودی پہاڑ پر بنائی تھی اور زیتون سے مراد بیت المقدس ہے۔  لیکن وَالتِّیْنِ و َالزَّیْتُوْنِ کے الفاظ سُن کر یہ معنی ایک عام عرب کے ذہن میں  نہیں  آ سکتے تھے اور نہ یہ بات قرآن کے مخاطب اہلِ عرب میں  معروف تھی کہ تین اور زیتون اِن مقامات کے نام ہیں۔  البتہ یہ طریقہ اہلِ عرب میں  رائج تھا کہ جو پھل کسی علاقے میں  کثرت پیدا ہوتا ہے اُس علاقے کو وہ بسا اوقات اُس پھل کے نام سے موسوم کر دیتے تھے۔  اِس محاورے کے لحاظ سے تین اور زیتون کے الفاظ کا مطلب مَنابتِ تین و زیتون،  یعنی اِن پھلوں  کی پیداوار کا علاقہ ہو سکتا ہے،  اور شام و  فلسطین کا علاقہ ہے،  کیونکہ اُس زمانے کے اہلِ عرب میں  یہی علاقہ انجیر و زیتون کی پیداوار کے لیے مشہور تھا۔ ابنِ تیمیہ،  ابنِ القَیِّم، زَمَحْشَری اور آلُوسی رحمہم اللہ نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے۔  اور ابن جریر نے بھی اگرچہ پہلے قول کو ترجیح دی ہے،  مگر اِس کے ساتھ یہ بات تسلیم کی ہے کہ تین اور زیتون سے مراد ان پھلوں  کی پیداوار  کا علاقہ بھی ہو سکتا ہے۔  حافظ ابنِ کثیر نے بھی اِس تفسیر کو قابل لحاظ سمجھا ہے۔

۲: اصل میں  طُوْرِ سِیْنِیْن فرمایا گیا ہے۔  سینین جزیرہ نمائے سینا کا دوسرا نام ہے۔  اِس  کو سَینا یا سِینا بھی کہتے ہیں  اور سینین بھی۔ خود قرآن میں  ایک جگہ طُوْرِ سَیْنَآء  کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔  اب چونکہ وہ علاقہ جس میں  کوہِ طور واقع ہے سینا ہی کے نام سے مشہور ہے اِس لیے ہم نے ترجمہ میں  اِس کا یہی مشہور نام درج کیا ہے۔

۳: یہ ہے وہ بات جس پر انجیر و زیتون کے علاقے یعنی شام و فلسطین اور کوہِ طور اور مکّہ کے پُر امن شہر کی قسم کھائی گئی ہے۔  انسان کے بہترین ساخت پر پیدا کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اُس کو وہ اعلیٰ درجہ کا جِسم عطا کیا گیا ہے جو کسی دوسری جاندار مخلوق کو نہیں  دیا گیا، اور اُسے فکر و فہم اور علم و عقل وہ بلند پایہ قابلیتیں  بخشی گئی ہیں  جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں  بخشی گئیں۔  پھر چونکہ نوعِ انسانی کے اس فضل و کما ل  کا سب سے زیادہ بلند نمونہ انبیاء علیہم السلام ہیں  اور کسی مخلوق کے لیے اس سے اونچا کوئی مرتبہ نہیں  ہو سکتا  کہ اللہ تعالیٰ اُسے منصبِ نبوّت عطا کرنے کے لیے منتخب فرمائے،  اِس لیے انسان کے احسنِ تقویم ہونے کی شہادت میں  اُن مقامات کی قسمیں  کھائی گئی ہیں  جو خدا کے پیغمبروں  سے نسبت رکھتے ہیں۔  شام و فلسطین کا علاقہ وہ علاقہ ہے جہاں  حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ ؑ تک بکثرت انبیاء مبعوث ہوئے۔  کوہِ طور وہ مقام ہے جہاں  حضرت موسیٰ ؑ کو نبوّت عطا کی گئی۔ رہا مکّہ معظمہ تو اس بنا ہی حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کے ہاتھوں  پڑی، انہی کی بدولت وہ عرب کا مقدس ترین مرکزی شہر بنا، حضرت ابراہیم ؑ ہی نے یہ دعا مانگی تھی کہ رَبِّ اجْعَل ھٰذَا بَلَداً اٰمِناً،  ’’اے میرے ربّ،  اِس کو ایک پُر امن شہر بنا‘‘ (البقرہ۔ ۱۲۶)۔ اور اسی دعا کی یہ برکت تھی کہ ربّ نے ہر طرف پھیلی ہوئی بد امنی کے درمیان کے صرف یہی ایک شہر  ڈھائی ہزار سال سے امن کا گہوارہ بنا ہوا تھا۔ پس کلام کا مقصود یہ ہے کہ ہم نے نوعِ انسانی کو ایسی بہترین ساخت پر بنایا کہ اِس میں  نبوت  جیسے عظیم مرتبے  کے حامل انسان  پیدا ہوئے۔

۴: مفسرین نے بالعموم اس کے دو معنی بیان کیے ہیں۔  ایک یہ کہ ہم نے اُسے اَرْذَلُ العُمر، یعنی بُڑھاپے کی ایسی حالت کی طرف پھیر دیا جس میں  وہ کچھ سوچنے سمجھنے اور کام کرنے کے قابل نہ رہا۔  دوسرے یہ کہ ہم نے اُسے جہنّم کے سب سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا۔ لیکن یہ دونوں  معنی اُس مقصودِ کلام کے لیے دلیل نہیں  بن سکتے جسے ثابت کرنے کے لیے یہ سُورۃ نازل ہوئی ہے۔  سُورۃ کا مقصود جزا و سزا کا برحق ہونے پر استدلال کرنا ہے۔  اِس پر نہ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں  میں  سے بعض لو گ بڑھاپے کی انتہائی کمزور حالت کو پہنچا دیے جاتے ہیں،  اور نہ یہی بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں  کا ایک گروہ جہنّم میں  ڈالا جائے گا۔ پہلی بات اس لیے جزا و سزا کی دلیل نہیں  بن سکتی کہ بُڑھاپے کی حالت اچھے اور بُرے،  دونوں  قسم کے لوگوں  پر طاری ہوتی ہے،  اور کسی کا اِس حالت کو پہنچنا کوئی سزا نہیں  ہے جو اُسے اس کے اعمال پر دی جاتی ہو۔ رہی دوسری بات،  تو وہ آخرت میں  پیش آنے والا معاملہ ہے۔  اُسے اُن لوگوں  کے سامنے دلیل کے طور پر کیسے پیش کیا جا سکتا ہے جنہیں  آخرت ہی کی جزا و سزا   کا قائل کرنے کے لیے یہ سارا استدلال کیا جا رہا ہے ؟ اِس لیے ہمارے نزدیک آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے  کہ بہترین ساخت پر پیدا کیے جانے کے بعد  جب انسان اپنے جسم اور ذہن کی طاقتوں  کو  بُرائی کے راستے میں  استعمال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے بُرائی ہی کو توفیق دیتا ہے اور گِراتے گِراتے اُسے گراوٹ کی اُس انتہا  تک پہنچا دیتا ہے کہ  کوئی مخلوق گِراوٹ میں  اُس حد کو پہنچی ہوئی نہیں  ہوتی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسانی معاشرے کے اندر بکثرت مشاہدے میں  آتی ہے۔  حِرص، طمع، خود غرضی، شہوت پرستی،  نشہ بازی، کمینہ پن،  غیض و غضب اور ایسی ہی دوسری خصلتوں  میں  جو لوگ غرق ہو جاتے ہیں  وہ اخلاقی حیثیت سے فی الواقع سب نیچوں  سے نیچ ہو کر رہ جاتے ہیں۔  مثال کے طور پر صرف اِسی ایک بات کو لے لیجیے کہ  ایک قوم جب دوسری قوم کی دشمنی میں   اندھی ہو جاتی ہے تو  کس طرح درندگی میں  تمام درندوں  کو  مات کر دیتی ہے۔  درندہ تو صرف اپنی غذا کے لیے کسی جانور کا شکار کرتا ہے۔  جانوروں  کا قتلِ عام نہیں  کرتا۔ مگر انسان خود اپنے ہی ہم جِنس انسانوں  کا قتلِ عام کرتا ہے۔  درندہ صرف اپنے پنجوں  اور دانتوں  سے کام لیتا ہے۔  مگر یہ احسنِ تقویم پر پیدا ہونے والا انسان اپنی عقل سے کام لے کر تو،  بندوق،  ٹینک، ہوائی جہاز، ایٹم بم،  ہائیڈروجن بم اور دوسرے بے شمار ہتھیار ایجاد کرتا ہے تا کہ آن کی آن میں  پوری پوری بستیوں  کو تباہ کر کے رکھ دے۔  درندہ صرف زخمی یا ہلاک کرتا ہے۔  مگر انسان اپنے ہی جیسے انسانوں  کو اذیّت دینے کے ایسے ایسے دردناک طریقے اختراع کرتا ہے جن کا تصوّر بھی کبھی کسی درندے کے دماغ میں  نہیں  آ سکتا۔ پھر یہ اپنی دشمنی اور انتقام کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے کمینہ پن کی اِس انتہا کو  پہنچتا ہے کہ عورتوں  کے ننگے جلوس نکالتا ہے،  ایک ایک عورت کو دس دس بیس بیس آدمی اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں،  باپوں  اور بھائیوں  اور شوہروں  کے سامنے اُن کے گھر کی عورتوں  کی عصمت لوٹتے ہیں، بچوں  کو اُن کے ماں  باپ کے سامنے قتل کرتے ہیں،  ماؤں  کو اپنے بچوں  کا خون پینے پر مجبور کرتے ہیں،  انسانوں  کو زندہ جلاتے اور زندہ دفن کرتے ہیں۔  دنیا میں  وحشی سے وحشی جانوروں  کی بھی کوئی قسم ایسی نہیں  ہے جو انسان کی اس وحشت کا کسی درجہ  میں  بھی مقابلہ کر سکیح ہو۔ یہی حال دوسری بُری صفات کا بھی ہے کہ اُن میں  سے جس کی طرف بھی انسن رخ کرتا ہے،  اپنے آپ کو ارذلُ المخلوقات ثابت کر دیتا ہے۔  حتیٰ کہ مذہب،  جو انسان کے لیے مقدس ترین شے ہے،  اُس کو بھی اِتنا گرا دیتا ہے کہ درختوں  اور جانوروں  اور پتھروں  کو پوجتے پوجتے پستی کی انتہا کو پہنچ کر مرد و عورت کے اعضائے جنسی تک کو پُوج ڈالتا ہے،  اور دیوتاؤں  کی خوشنودی کے لیے عبادت گاہوں  میں  دیو داسیاں  رکھتا ہے جن سے زنا کا ارتکاب کارِ ثواب سمجھ کر کیا جاتا ہے۔  جن ہستیوں  کو وہ دیوتا اور معبود کا درجہ دیتا ہے ان کی طرف اس کی دیومالا میں  ایسے ایسے گندے قصّے منسوب ہوتے ہیں  جو ذلیل ترین انسان کے لیے بھی باعثِ شرم ہیں۔

۵: جن مفسّرین نے اَسْفَلَ سَافِلِیْن سے مراد بُڑھاپے کی وہ حالت لی ہے  جس میں  انسان اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے وہ اِس آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں  کہ  ’’مگر جن  لوگوں  نے اپنی جوانی اور تندرستی کی حالت میں  ایمان لا کر نیک اعمال کیے ہوں  اُن کے لیے بُڑھاپے کی اِس حالت میں  بھی وہی نیکیاں  لکھی جائیں  گی اور اُنہی کے مطابق وی اجر پائیں  گے۔  اُن کے اجر میں  اِس بنا پر کوئی کمی نہ کی جائے گی کہ عمر کے اِس  دور میں  اُن سے وہ نیکیاں   صادر نہیں  ہوئیں۔ ‘‘ اور  جو مفسّرین اسفل سافلین کی طرف پھیر ے جانے کا مطلب جہنّم کے ادنیٰ ترین درجہ میں  پھینک دیا جانا لیتے ہیں  ان کے نزدیک اِس آیت کے معنی یہ ہیں  کہ ’’ ایمان لا کر عملِ صالح کرنے والے لوگ اِس سے مستثنیٰ ہیں،  وہ اس درجہ کی طرف نہیں  پھیرے جائیں  گے،  بلکہ اُن کو وہ اجر ملے گا جس  کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہو گا۔‘‘ لیکن یہ دونوں  معنی اُس استدلال سے مناسبت نہیں  رکھتے جو جزا و سزا کے برحق ہونے پر اِس سورت میں  کیا گیا ہے۔  ہمارے نزدیک آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ جس طرح انسانی معاشرے میں  یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ اخلاقی پستی میں  گرنے والے لوگ گِرتے گِرتے سب نیچوں  سے نیچ ہو جاتے ہیں،  اُسی طرح یہ بھی ہر زمانے کا عام مشاہدہ ہے کہ جو لوگ  خدا اور آخرت اور رسالت پر ایمان لائے اور جنہوں  نے اپنی زندگی عملِ صالح کے سانچے میں  ڈھال لی وہ اِس پستی میں  گرنے سے بچ گئے اور اُسی احسنِ تقویم پر قائم رہے جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا تھا، اس لیے وہ اجرِ غیر ممنون کے مستحق ہیں،  یعنی ایسے  اجر کے جو نہ اُن کے استحقاق سے کم دیا جائے گا،  اور نہ اُس کا سلسلہ کبھی منقطع ہو گا۔

۶: دوسرا ترجمہ اس آیت کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’پس(اے انسان) اِس کے بعد کیا چیز تجھے جزا و سزا کو جھُٹلانے پر آمادہ کرتی ہے۔ ‘‘ دونوں  صورتوں  میں  مدّعا ایک ہی رہتا ہے۔  یعنی جب یہ بات عَلانیہ انسانی معاشرے میں  نظر آتی ہے کہ بہترین ساخت پر پیدا کی ہوئی نوعِ انسانی میں  سے ایک گروہ اخلاقی پستی میں  گِرتے گِرتے سب نیچوں  سے نیچ ہو جاتا ہے،  اور دوسرا گروہ ایمان و عملِ صالح اختیار کر کے اِس گِراوٹ سے بچا رہتا ہے اور اُسی حالت  پر قائم رہتا ہے جو بہترین ساخت پر انسان کے لیے پیدا کیے جانے سے مطلوب تھی، تو اِس کے بعد جزا و سزا کو کیسے جھُٹلایا جا سکتا ہے ؟ کیا عقل  یہ کہتی ہے کہ دونوں  قسم کے انسانوں  کا انجام یکساں  ہو؟ کیا انصاف یہی چاہتا ہے کہ نہ اَسْفَلَ السَّافِلین میں  گرنے والوں  کو کوئی سزا دی جائے اور نہ اُس سے بچ کر پاکیزہ زندگی اختیار کرنے والوں  کو کوئی جزا ؟ یہی بات دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں  اِس طرح فرمائی گئی ہے کہ اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَا لْمُجْرِمِیْنَ، مَالَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ۔ ’’ کیا ہم فرمانبرداروں  کو مجرموں  کی طرح کر دیں ؟ تمہیں  کیا ہو گیا  ہے،  تم کیسے حکم لگاتے ہو؟‘‘(القلم، ۳۶-۳۵)۔ اَمْ حِسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَ حُوْا السَّیِّاٰتِ اَنْ تَجْعَلَہُمْ کَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْ ا الصّٰلِحٰتِ سَوَآ ءٌ مَّحْیَا ھُمْ وَمَمَا تُہُمْ، سَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ۔ ’’کیا برائیوں  کا ارتکاب کرنے والوں  نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم  اُنہیں  اُن لوگوں  کی طرح کر دیں  گے جو ایمان لائے اور جنہوں  نے نیک عمل کیے ؟ دونوں  کی زندگی اور موت یکساں  ہو؟ بہت بُرے  حکم ہیں  جو یہ  لوگ لگاتے ہیں ‘‘(الجاثیہ۔ ۲۱)۔

۷: یعنی جب دنیا کے چھوٹے چھوٹے حاکموں  سے بھی تم یہ چاہتے ہو اور یہی توقع رکھتے ہو کہ وہ انصاف کر یں،  مجرموں  کو سزا دیں  اور اچھے کام کرنے والوں  کو صلہ و انعام دیں،  تو خدا کے متعلق تمہارا کیا خیا ل ہے ؟ کیا وہ سب حاکموں  سے بڑا حاکم نہیں  ہے ؟ اگر تم اس کو سب سے بڑا حاکم مانتے ہو تو کیا اس کے بارے میں  تمہارا یہ خیال  ہے کہ وہ کوئی انصاف نہ کرے گا؟ کیا اُس سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ وہ بُرے اور بھلے کو  ایک جیسا کر دے گا؟ کیا اس کی دنیا میں  بد ترین افعال کرنے والے اور بہترین کام کرنے والے،  دونوں  مر کر خاک ہو جائیں  گے،  اور کسی کو نہ بد اعمالیوں  کی سزا ملے گی نہ حسنِ عمل کی جزا؟ امام احمد، تِرْمِذی، ابو داؤد، ابن المُنْذِر، بَیْہَقِی، حاکم اور ابن مَرْدُوْیَہ نے حضرت ابو ہریرہ  ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب تم میں  سے کوئی سورۂ والتین و الزیتون پڑھے اور اَلَیْسَ اللہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ پر پہنچے تو کہے بَلیٰ وَاَنَا عَلیٰ ذٰلِکَ مِنَ الشَّاھِدِیْنَ (ہاں ،  اور میں  اس پر شہادت دینے والوں  میں  سے ہوں )۔ بعض روایات  میں  آیا ہے کہ حضور ؐ  جب یہ آیت پڑھتے تو فرماتے سُبْحٰنَکَ فَبَلیٰ۔

٭٭٭

 

 

 

 

۹۶۔سورۃ العلق

 

 

نام

 

دوسری آیت کے لفظ عَلَقَ کو اس سورۃ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اس سورۃ کے دو حصّے ہیں ۔  پہلا حصّہ اِقْراْ سے شروع ہو کر پانچویں  آیت کے الفاظ  مَا لَمْ یَعْلَمْ  پر ختم ہوتا ہے اور دوسرا حصّہ کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغیٰ سے شروع ہو کر آخر سُورۃ تک چلتا ہے۔  پہلے حصّے کے متعلق علمائے امّت کی عظیم اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ  یہ سب سے پہلے وحی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر نازل ہوئی۔ اِس معاملہ میں  حضرت عائشہؓ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم  سے سُن کر آغازِ وحی کا پورا قصہ بیان کیا ہے۔  اِس کے علاوہ ابن عباسؓ،  ابو موسیٰ اشعریؓ اور صحابہ کی ایک جماعت سے یہی بات منقول ہے کہ قرآن کی سب سے پہلی آیات جو حضور ؐ پر نازل ہوئیں   وہ یہی تھیں۔  دوسرا حصّہ بعد میں  اُس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے حَرَم میں  نماز پڑھنی شروع کی اور ابو جہل نے آپ کو دھمکیاں  دے کر اس سے روکنے کی کوشش کی۔

 

 

آغازِ وحی

 

محدّثین نے آغازِ وحی کا قصّہ اپنی اپنی سندوں   کے ساتھ امام زُہْری سے،  اور انہوں  نے حضرت عُروَہ بن زُبَیر سے اور انہوں  نے اپنی خالہ حضرت عائشہؓ سے نقل کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر وحی کی ابتدا سچّے (اور بعض روایات میں  ہے اچھے ) خوابوں  کی شکل میں  ہوئی۔ آپ جو خواب بھی دیکھتے وہ ایسا ہوتا کہ جیسے آپ دن کی روشنی میں  دیکھ رہے ہیں۔  پھر آپ تنہائی پسند ہو گئے اور کئی کئی شب و روز غارِ حرا میں  رہ کر عبادت کرنے لگے (حضرت عائشہؓ نے تَحَنُّث کا لفظ استعمال کیا ہے جس کی تشریح امام زُہْرِی نے تعبُّد سے کی ہے۔  یہ کسی طرح کی عبادت تھی جو آپ کرتے تھے،  کیونکہ اُس وقت تک اللہ تعالیٰ  کی طرف سے آپ کو عبادت کا طریقہ نہیں  بتایا گیا تھا)۔ آپ کھانے پینے کا سامان گھر سے لے  جا کر وہاں  چند روز گزارتے،  پھر حضرت خَدِیجہؓ کے پاس واپس آتے اور وہ مزید چند روز کے لیے سامان آپ کے لیے مہیا کر دیتی تھیں۔  ایک روز جبکہ آپ غارِ حرا میں  تھے،  یکایک آپ پر وحی نازل ہوئی اور فرشتے نے آ کر آپ سے کہا پڑھو۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کا قول نقل کرتی ہیں  کہ میں  نے کہا’’ میں  تو پڑھا ہو انہیں  ہوں۔ ‘‘ اس پر فرشتے  نے مجھے پکر کر بھینچا یہاں  تک کہ میری قوتِ  برداشت جواب دیے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ میں  نے کہا ’’میں  تو پڑھا ہوا نہیں  ہوں۔ ‘‘ اس نے دوبارہ مجھے بھینچا اور میری قوتِ  برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھو۔ میں  نے پھر کہا ’’میں   تو پڑھا ہوا نہیں  ہوں۔ ‘‘ اس نے تیسری بار مجھے بھینچا یہاں  تک کہ میری قوتِ برداشت جواب دینے لگی۔ پھر اُس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا اِقْرَاْ بِا سْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ (پڑھو اپنے ربّ کے نام سے جس نے پیدا کیا) یہاں  تک کہ مَا لَمْ یَعْلَمْ ( جسے وہ نہ جانتا تھا) تک پہنچ گیا۔ حضرت  عائشہ ؓ  فرماتی ہیں  کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کانپتے  لرزتے ہوئے وہاں  سے پلٹے اور حضرت خَدِیجہؓ کے پاس پہنچ کر کہا’’ مُجھے اُڑھاؤ،  مجھے اُڑھاؤ ‘‘۔ چنانچہ آپ کو اڑھا دیا گیا۔ جب آپ پر سے خوفزدگی کی کیفیت دور ہو گئی تو  آپ نے فرمایا ’’اے خدیجہؓ،  یہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔ ‘‘ پھر سارا قصّہ آپ نے اُن کو سنایا اور کہا ’’مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ ‘‘ انہوں  نے کہا’’ ہر گز نہیں،  آپ خوش ہو جائیے،  خدا کی قسم، آپ کو خدا کبھی رسوا نہ کرے گا۔ آپ رشتہ داروں  سے نیک سلوک کرتے ہیں،  سچ بولتے ہیں ،  (ایک روایت میں  یہ اضافہ ہے کہ امانتیں  ادا کرتے ہیں )، بے سہارا لوگوں   کا بار برداشت کرتے ہیں،  نادار لوگوں  کو کما کر دیتے ہیں،  مہمان نوازی کرتے ہیں،  اور نیک کاموں  میں  مدد کرتے ہیں۔ ‘‘  پھر وہ حضورؐ کو ساتھ لے کر وَرَقَہ بن نَوفَل کے پاس گئیں   جو اُن کے چچا زاد بھائی تھے،  زمانۂ جاہلیت میں  عیسائی ہو گئے تھے،  عربی اور عبرانی میں  انجیل لکھتے تھے،  بہت بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔  حضرت خدیجہؓ نے اُن سے کہا  بھائی جان،  ذرا اپنے بھتیجے کا قصّہ سُنیے۔  وَرَقَہ نے حضورؐ سے کہا بھتیجے  تم کو کیا نظر آیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کچھ دیکھا تھا وہ بیان کیا۔ وَرَقَہ نے کہا ’’یہ وہی ناموس (وحی لانے والا فرشتہ) ہے جو اللہ نے موسیٰؑ پر نازل کیا تھا۔ کاش میں  آپ کے زمانۂ نبوت میں  قوی جوان ہوتا۔ کاش میں  اُس وقت زندہ رہوں  جب آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے فرمایا ’’کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں  گے ؟‘‘ وَرَقَہ نے کہا ’’ہاں،  کبھی ایسا نہیں  ہوا کہ کوئی شخص وہ چیز لے کر آیا ہو جو آپ لائے ہیں  اور اُس سے دشمنی نہ کی گئی ہو۔ اگر میں  نے آپ کا وہ زمانہ پایا تو میں  آپ کی پُر زور مدد کروں  گا۔‘‘  مگر زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ   ورقہ کا انتقال ہو گیا۔

یہ قصّہ خود اپنے منہ سے بول رہا ہے کہ فرشتے کی آمد سے ایک لمحہ پہلے تک بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اس بات سے خالی الذہن تھے کہ آپ نبی بنائے جانے والے ہیں۔  اِس چیز کا طالب یا مُتَوَقِّع ہونا تو درکنار، آپ کے وہم و گمان میں  بھی یہ نہ تھا کہ ایسا کوئی معاملہ  آپ کے ساتھ پیش آئے گا۔ وحی کا نزول اور فرشتے کا اِس طرح سامنے آنا آپ کے لیے اچانک ایک حادثہ تھا جس کا پہلا تاثُر آپ کے اوپر  وہی ہوا جو ایک بے خبر انسان پر اِتنے بڑے ایک حادثہ کے پیش آنے سے فطری طور پر ہو سکتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ جب آپ اسلام کی دعوت لے کر اُٹھے تو مکّہ کے لوگوں  نے آپ  پر ہر طرح کے  اعتراضات کیے،  مگر اُن میں  کوئی یہ کہنے والا نہ تھا کہ ہم کو تو پہلے ہی یہ خطرہ تھا کہ آپ کوئی دعویٰ کرنے والے ہیں  کیونکہ آپ ایک مدت سے نبی بننے کی تیاریاں  کر رہے تھے۔

اس قصّے سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ  نبوّت سے پہلے آپ کی زندگی کیسی پاکیزہ تھی اور آپ کا کردار کتنا بلند تھا۔ حضرت خدیجہ ؓ کوئی کم سن خاتون نہ تھیں  بلکہ اِس واقعہ کے وقت اُن کی عمر ۵۵ سال تھی اور پندرہ سال سے وہ حضورؐ کی شریکِ زندگی تھیں۔  بیوی سے شوہر کی کوئی کمزوری چھپی نہیں  رہ سکتی۔ انہوں  نے اِس طویل ازدواجی زندگی میں  آپ کو اِتنا عالی مرتبہ انسان پایا تھا کہ جب حضورؐ نے اُن کو غارِ حراء میں  پیش آنے والا واقعہ سنایا تو بلا تامُل انہوں  نے یہ تسلیم کر لیا کہ فی الواقع  اللہ کا فرشتہ ہی آپ کے پاس وحی لے کر آیا تھا۔ اِسی طرح وَرَقہ بن نَوفَل بھی مکّہ کے ایک بوڑھے باشندے تھے،  بچپن سے حضورؐ کی زندگی دیکھتے چلے آرہے تھے،  اور پندرہ سال کی قریبی رشتہ داری کی بنا پر تو وہ آپ کے حالات سے اور بھی زیادہ گہری واقفیت رکھتے تھے۔  اُنہوں  نے بھی جب یہ واقعہ سُنا تو اِسے کوئی وَسْوَسہ نہیں  سمجھا بلکہ سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ وہی ناموس ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔ اِس کے  معنی یہ ہیں  کہ ان کے نزدیک بھی آپ اِتنے بلند پایہ انسان تھے کہ آپ کا نبوت کے منصب پر سرفراز ہونا کوئی قابلِ تعجب امر نہ تھا۔

 

دوسرے حصہ کا شانِ نزول

 

اِس سُورہ کا دوسرا حصّہ اُس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  نے حَرَم میں  اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی اور ابو جہل نے آپ کو ڈرا دھمکا کر اِس سے روکنا چاہا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ نبی ہونے کے بعد قبل اِس کے کہ حضورؐ اسلام کی عَلانیہ تبلیغ کا آغاز کرتے،  آپ نے حَرَم میں  اُ س طریقے پر نماز ادا کرنی شروع کر دی جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی تھی،  اور یہی وہ چیز تھی جس سے قریش نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ آپ کسی نئے دین کے پیرو ہو گئے ہیں۔  دوسرے لوگ تو اِسے حیرت ہی کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے،  مگر ابو جہل کی رگِ جاہلیت اِس پر پھڑک اُٹھی اور اس نے آپ کو دھمکانا شروع کر دیا کہ اِس طریقے پر حرم میں  عبادت نہ کریں۔  چنانچہ اس سلسلے میں  کئی احادیث حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہیں  جن میں  ابو جہل کی اِن بیہودگیوں  کا ذکر کیا گیا ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ کا بیان ہے کہ ابو جہل نے قریش کے لوگوں  سے پوچھا ’’کیا محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹِکاتے ہیں ؟‘‘ لوگوں  نے کہا ہاں۔  اس نے کہا’’ لات اور عُزّیٰ کی قسم، اگر میں  نے ان کو اِس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پاؤں  رکھ دوں  گا اور ان کا منہ زمین میں  رگڑ دوں  گا۔‘‘ پھر ایسا ہوا کہ حضورؐ کو نماز پڑھتے  دیکھ کر وہ آگے بڑھا  تاکہ آپ کی گردن پر پاؤں  رکھے،  مگر یکایک لوگوں  نے دیکھا کہ وہ پیچھے ہٹ رہا ہے اور اپنا منہ کسی چیز سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔  اُس سے پوچھا گیا کہ یہ تجھے کیا ہو گیا؟ اس نے کہا میرے اور اُن کے درمیان آگ کی ایک خندق اور ایک ہولناک چیز تھی اور کچھ پَر تھے۔  رسول اللہ صلی اللہ  علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر وہ میرے قریب پھٹکتا تو ملائکہ اُس کے چیتھڑے اڑا دیتے (احمد، مسلم، نَسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن المُنْذِر، ابن مَرْدُویَہ، ابو نُعَیم اصفہانی، بَیْہَقی)۔

ابن عبارؓ کی روایت ہے کہ ابو جہل نے کہا اگر میں  نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم) کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھ لیا تو اُن کی گردن پاؤں  تلے دبا دوں  گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو ملائکہ علانیہ اُسے آپکڑیں  گے (بخاری، تِرْمِذِی، نَسائی، ابن جریر، عبد الرزاق، عبد بن حُمَید، ابن المُنذِر، ابن مَرْدُوْیَہ)۔

ابن عباسؓ کی ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مقام ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔  ابو جہل کا اُدھر سے گزر ہوا تو اس نے کہا  اے محمدؐ، کیا میں  نے تم کو اِس سے منع نہیں  کیا تھا؟ اور اس نے آپ کو دھمکیاں  دینی شروع کیں ۔  جواب میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے اس کو سختی کے ساتھ جھڑک دیا۔ اِس پر اس نے کہا اے محمدؐ، تم کس بل پر مجھے ڈرا رہے ہو۔ خدا کی قسم، اِس وادی میں  میرے حمایتی سب سے زیادہ ہیں۔  (احمد، تِرْمِذی، نَسائی، ابن جریر، ابن ابی شَیْبَہ، ابن المُنذِر، طَبرَانی، ابن مَرْدُوْیَہ)۔

انہی واقعات پر اِس سورہ کا وہ حصّہ نازل ہوا جو کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغیٰ سے شروع ہو تا ہے۔  قدرتی طور پر اِس حصّے کا مقام وہی ہونا چاہیے تھا جو قرآن کی اِس سورۃ میں  رکھا گیا ہے۔  کیونکہ پہلی وحی نازل ہونے کے بعد اِسلام کا اوّلین اظہار حضورؐ نے غار ہی سے کیا تھا، اور کفّارِ  سے آپ کی مُڈبھیڑ کا آغاز بھی اِسی واقعہ سے ہوا تھا۔

 

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

پڑھو ۱ (اے نبیؐ) اپنے ربّ کے نام کے ساتھ ۲ جس نے پیدا کیا، ۳ جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ ۴ پڑھو، اور تمہارا ربّ بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا، ۵ انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا۔ ۶

ہرگز نہیں،  ۷ انسان سرکشی کرتا ہے اِس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے ۸ (حالانکہ) پلٹنا یقیناً تیرے ربّ ہی کی طرف ہے۔  ۹ تم نے دیکھا اُس شخص کو جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ  وہ نماز پڑھتا ہو؟ ۱۰ تمہارا  کیا خیال ہے اگر (وہ بندہ) راہِ راست پر ہو یا پرہیز گاری کی تلقین کرتا ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا شخص حق کو) جھُٹلاتا اور مُنہ موڑتا ہو؟ کیا وہ نہیں  جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے ؟ ۱۱ ہرگز نہیں،  ۱۲ اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر اُسے کھینچیں  گے،  اُس پیشانی کو جو جھُوٹی اور سخت خطاکار ہے۔  ۱۳ وہ بُلا لے اپنے حامیوں  کی ٹولی کو، ۱۴ ہم بھی عذاب کے فرشتوں  کو بُلا لیں  گے۔  ۱۵ہرگزنہیں،  اُس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو اور (اپنے ربّ کا) قرب حاصل کرو۔ ۱۶ ؏۱  السجدۃ

 

تفسیر

 

۱: جیسا کہ  ہم نے دیباچہ میں  بیان کیا ہے،  فرشتے نے جب حضور ؑ سے کہا کہ پڑھو، تو حضورؐ نے جواب دیا کہ میں  پڑھا ہوا نہیں  ہوں۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے نے وحی کے یہ الفاظ لکھی ہوئی صورت میں  آپ کے سامنے پیش کیے تھے اور اُنہیں  پڑھنے کے لیے کہا تھا۔  کیونکہ اگر فرشتے کی بات کا مطلب یہ ہوتا کہ جس طرح میں  بولتا جاؤں  آپ اسی طرح پڑھتے جائیں،  تو حضورؐ  کو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی کہ میں  پڑھا ہوا نہیں  ہوں۔

۲: یعنی اپنے رب کا نام لے کر پڑھو، یا بالفاظ دیگر بسم اللہ کہو اور پڑھو۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اِس وحی کے آنے سے پہلے ہی صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا رب جانتے  اور مانتے تھے۔  اسی لیے یہ کہنے کی کوئی ضرورت پیش نہیں  آئی کہ آپ کا رب کون ہے،  بلکہ یہ کہا گیا کہ اپنے رب کا نام لے کر پڑھو۔

۳: مطلقاً ’’پیدا کیا‘‘ فرمایا گیا ہے،  یہ نہیں   کیا گیا کہ کس کو پیدا کیا۔ اِس سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اُس رب کا نام لے کر پڑھو جو خالق ہے،  جس نے ساری کائنات  اور کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔

۴: کائنات کی عام تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد خاص طور پر انسان کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کس حقیر حالت سے اُس کی تخلیق کی ابتدا کر کے اُسے پورا انسان بنایا۔ عَلَق جمع ہے عَلَقَہ کی جس کے معنی جمے ہوئے  خون کے ہیں۔  یہ وہ ابتدائی حالت ہے جو استقرارِ حمل کے بعد پہلے چند دنوں  میں  رونما ہوتی ہے،  پھر وہ گوشت کی شکل اختیار کرتی ہے اور اس کے بعد بتدریج اس میں  انسانی صورت بننے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الحج، آیت۵ حواشی ۵ تا ۷)۔

۵: یعنی یہ اُس کا انتہائی کرم ہے کہ اِس حقیر ترین حالت سے ابتدا کر کے اُس نے انسان کو صاحبِ علم بنا یا جو مخلوقات کی بلند ترین صفت ہے،  اور صرف صاحبِ علم ہی نہیں  بنایا، بلکہ اُس کو قلم کے استعمال سے لکھنے کا فن سکھایا جو بڑے پیمانے پر علم کی اشاعت، ترقی اور نسلا ًبعد نسل اُس کے بقا اور تحفظ کا ذریعہ بنا۔ اگر وہ الہامی طور پر انسان کو قلم اور کتابت کے فن کا یہ علم نہ دیتا تو انسان کی علمی قابلیت ٹھٹھر کر رہ جاتی اور اُسے نشو نما پانے،  پھیلنے اور ایک نسل کے علوم دوسری نسل تک پہنچنے اور آگے مزید ترقی کرتے چلے جانے کا موقع ہی نہ ملتا۔

۶: یعنی انسان اصل میں  بالکل بے علم تھا۔ اُسے جو کچھ بھی علم حاصل ہو ا اللہ کے دینے سے حاصل ہوا۔ اللہ ہی نے جس مرحلے پر انسان کے لیے علم کے جو دروازے کھولنے چاہے وہ اُس پر کھُلتے چلے گئے۔  یہی بات ہے جو آیۃ الکرسی میں  اِس طرح فرمائی گئی ہے کہ وَلاَ یُحِیْطُوْنَ بِشَیْ ءٍ مِنْ عِلْمِہٖٓ اِلّا بِمَاشَآءَ۔’’اور لوگ اُس کے علم میں  سے کسی چیز کا احاطہ نہیں  کر سکتے سوائے اُس کے جو وہ خود چاہے ‘‘(البقرہ۔۲۵۵) جن جن چیزوں  کو بھی انسان اپنی علمی دریافت سمجھتا ہے،  درحقیقت وہ پہلے اس کے علم نہیں  نہ تھیں،  اللہ تعالیٰ ہی نے جب چاہا اُن کا علم اُسے دیا بغیر اس کے کہ انسان یہ محسوس کرتا کہ یہ علم اللہ اُسے دے رہا ہے۔  یہاں  تک وہ آیات ہیں  جو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پر نازل کی گئی۔  جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ  کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے،  یہ پہلا تجربہ اتنا سخت تھا کہ حضور ؑ اِس سے زیادہ کے متحمّل نہ ہو سکتے تھے۔  اس لیے اس وقت صرف یہ بتا نے پر اکتفا کیا گیا کہ وہ رب جس کو آپ پہلے سے جانتے اور مانتے ہیں،  آپ سے براہ راست مخاطب ہے،  اس کی طرف سے آپ پر وحی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے،  اور آپ کو اس نے اپنا نبی بنا لیا ہے۔  اِس کے ایک مدت بعد سورہ مدّثِّر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں  جن میں  آپ کو بتایا گیا کہ نبّوت پر مامور ہونے کے بعد اب آپ کو کام کیا کرنا ہے۔  (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، المدّثِّر، دیباچہ)

۷: یعنی ایسا ہر گز نہ ہونا چاہیے کہ جس خدائے کریم نے انسان پر اتنا بڑا کرم فرمایا ہے اس کے مقابلہ میں  وہ جہالت برت کر وہ رویّہ اختیار کرے جو آگے بیان ہو رہا ہے۔

۸: یعنی یہ دیکھ کر کہ مال، دولت، عزّت و جاہ اور جو کچھ بھی دنیا  میں  وہ چاہتا تھا وہ اسے حاصل ہو گیا ہے،  شکر گزار ہونے کے بجائے وہ سرکشی پر اتر آتا ہے اور حدّ بندگی سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔

۹: یعنی خواہ کچھ بھی اس نے دنیا میں  حاصل کر لیا ہو جس کے بل پر وہ تمُّرد اور سرکشی کر رہا ہے،  آخر کار اسے جان تو تیرے رب ہی کے پاس ہے۔  پھر اسے معلوم ہو جائے گا کہ اِس روش کا انجام کیا ہوتا ہے۔

۱۰: بندے سے مراد خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم ہیں۔  اس طریقے سے حضور ؑ کا ذکر قرآن مجید میں  متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔  مثلاً سُبْحٰنَ الّذیٰ اَسْریٰ بِعَبْدِہ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاقْصٰے (بنی اسرائیل۔۱)’’پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو ایک رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف‘‘۔اَلْحَمْدُ لِلّہِ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلیٰ عَبْدِہِ الکِتٰبَ(الکہف۔۱)’’تعریف ہے اُس خدا کے لیے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی‘‘۔وَاِنَّہُ لَمَا قَامَ عَبْدُ اللہِ یَدْعُوْہُ کَادُوْ ا یَکُوْ نُوْنَ عَلَیْہِ لِبَداً(الجن۔۱۹) ’’اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اُس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہو ا تو  لوگ اس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیّار ہو گئے۔ ‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خاص محبت کا انداز ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنی آناب میں  اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر فرماتا ہے۔  علاوہ بریں  اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کے منصب پر سرفراز فرمانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو نماز پڑھنے کا طریقہ سکھا دیا تھا۔ اُس طریقے کا  ذکر قرآن مجید میں  کہیں  نہیں  ہے کہ اے نبی تم اِس طرح نماز پڑھا کرو۔ لہٰذا یہ اِس امر کا ایک  اور ثبوت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر صرف وہی  وحی نازل نہیں  ہوتی  تھی جو قرآن مجید میں  درج ہے،  بلکہ اس کے علاوہ بھی وحی کے ذریعہ سے آپ کو ایسی باتوں  کی تعلیم دی جاتی تھی جو قرآن مجید میں  درج نہیں  ہیں۔

۱۱:  بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں  ہر انصاف پسند شخص مخاطب ہے۔  اُس سے پو چھا جا رہا ہے کہ تم نے دیکھی اُس شخص کی حرکت جو خدا کی عبادت کرنے سے ایک بندے کو روکتا ہے ؟ تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ بندہ راہ راست پر ہو، یا لوگوں  کو خدا سے ڈرنے اور برے کاموں  سے روکنے کی کوشش کرتا ہو، اور یہ منع کرنے والا حق کو جھٹلاتا اور اُس سے منہ موڑتا ہو، تو اُس کی یہ حرکت کیسی ہے ؟ کیا یہ شخص یہ روش اختیار کر سکتا تھا اگر اِسے یہ معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اُس بندے کو بھی دیکھ رہا ہے جو نیکی کا کام کرتا ہے اور اِس کو بھی دیکھ رہا ہے جو حق کو جھُٹلانے اور اُس سے روگردانی کرنے میں  لگا ہوا ہے ؟ ظالم کے ظلم کے اور مظلوم کی مظلومی کو اللہ تعالیٰ کا دیکھنا خود اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ ظالم کو سزا دے گا اور مظلوم کی دادرسی کرے گا۔

۱۲: یعنی یہ شخص جو دھمکی دیتا ہے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نماز پڑھیں  گے تو وہ ان کی گردن کو پا ؤں  سے دبا دے گا، یہ ہر گز ایسا نہ کر سکے گا۔

۱۳: پیشانی سے مراد یہاں  پیشانی والا شخص۔

۱۴: جیسا کہ ہم نے دیباچہ میں  بیان کیا ہے ابو جہل کے دھمکی دینے پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کو جھِڑک دیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ اے محمدؐ، تم کس بل پر مجھے ڈراتے ہو،  خدا کی قسم  اس وادی میں  میرے حمایتی سب سے زیادہ ہیں۔  اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ یہ بلا لے اپنے حمایتیوں  کو۔

۱۵: اصل میں   زَبانیہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو قتادہ کی تشریح کے مطابق کلامِ عرب میں  پولیس کے لیے بولا جاتا ہے۔  اور زَیَن کے اصل معنی دھکا دینے کے ہیں۔  بادشاہوں  کے ہاں  چوبدار بھی اِسی غرض کے لیے ہوتے تھے کہ جس پر بادشاہ ناراض ہوا سے وہ دھکّے دے کر نکال دیں۔  پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ یہ اپنے حمایتیوں  کو بلا لے،  ہم اپنی پولیس، یعنی ملائکہ عذاب کو بلا لیں  گے کہ وہ اِس کی اور اس کے حمایتیوں  کی خبر لیں۔ ۱: جیسا کہ  ہم نے دیباچہ میں  بیان کیا ہے،  فرشتے نے جب حضور ؑ سے کہا کہ پڑھو، تو حضورؐ نے جواب دیا کہ میں  پڑھا ہوا نہیں  ہوں۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے نے وحی کے یہ الفاظ لکھی ہوئی صورت میں  آپ کے سامنے پیش کیے تھے اور اُنہیں  پڑھنے کے لیے کہا تھا۔  کیونکہ اگر فرشتے کی بات کا مطلب یہ ہوتا کہ جس طرح میں  بولتا جاؤں  آپ اسی طرح پڑھتے جائیں،  تو حضورؐ  کو یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہ ہوتی کہ میں  پڑھا ہوا نہیں  ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

۹۷۔سورۃ القدر

 

نام

 

پہلی ہی آیت کے لفظ اَلقدر کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اس کے مکّی اور مدنی ہونے میں  اختلاف ہے۔  ابو حَیّان نے البحر المحیط میں  دعویٰ کیا ہے کہ اکثر اہلِ علم کے نزدیک یہ مدنی ہے۔  علی بن احمد الواحدی اپنی تفسیر میں  کہتے ہیں  کہ یہ پہلی سورۃ جو مدینہ میں  نازل ہوئی ہے۔  بخلاف اس کے الماوَرْدِی کہتے ہیں کہ اکثر اہلِ علم کے نزدیک یہ مکّی ہے،  اور یہی بات امام سیُوطِی نے اِتْقان میں  لکھی ہے۔  ابن مَرْدُویَہ نے ابن عباس،  ابن الزُّبَیر اور حضرت عائشہ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ یہ سورۃ مکّہ میں  نازل ہوئی تھی۔ سورۃ کے مضمون پر غور کرنے سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کو مکّہ  ہی میں  نازل ہونا چاہیے تھا، جیسا کہ ہم آگے واضح کریں  گے۔

 

موضوع اور مضمون

 

اس کا موضوع لوگوں  کو قرآن کی قدر و قیمت اور اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔  قرآن مجید کی ترتیب میں  اِسے سورۂ عَلَق کے بعد رکھنے سے خود یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس کتاب پاک کے نزول کا آغاز سورۂ عَلَق کی ابتدائی پانچ آیات سے ہوا تھا اُسی کے متعلق اِس سورہ میں  لوگوں  کو بتایا گیا ہے کہ وہ کس تقدیر ساز رات میں  نازل ہوئی ہے۔  کیسی جلیل القدر کتاب ہے اور اس کا نزول کیا معنی رکھتا ہے۔

سب سے پہلے اس میں  اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے اِسے نازل کیا ہے۔ یعنی  یہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی اپنی تصنیف نہیں  ہے بلکہ اِس کے نازل کرنے والے ہم ہیں۔

اس کے بعد فرمایا کہ اِس کا نزول ہماری طرف سے شبِ قدر میں  ہوا ہے۔  شبِ قدر کے دو معنی ہیں  اور دونوں  ہی یہاں  مقصود ہیں۔  ایک یہ کہ  یہ وہ رات ہے کہ جس میں  تقدیروں  کے فیصلے کر دیے جاتے ہیں،  یا بالفاظِ دیگر یہ کوئی معمولی رات عام راتوں  جیسی نہیں  ہے،  بلکہ یہ قسمتوں  کے بنانے اور بگاڑنے کی رات ہے۔  اِس میں  اِس کتاب کا نزول محض ایک کتاب کا نزول نہیں  ہے بلکہ یہ وہ کام ہے  جو نہ صرف قریش،  نہ صرف عرب، بلکہ دنیا کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا۔ یہی بات سورۂ دُخان میں  بھی فرمائی گئی ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، سورۂ دُخان کا دیباچہ اور حاشیہ ۳)۔ دوسرے معنی یہ ہیں  کہ یہ بڑی قدر و منزلت اور عظمت و شرف رکھنے والی رات ہے،  اور آگے اس کی تشریح یہ کی گئی ہے کہ یہ ہزار مہینوں  سے زیادہ بہتر ہے۔  اِس سے کفّارِ مکّہ کو گویا متنبہ کیا گیا ہے کہ تم اپنی نادانی سے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی پیش کی ہوئی اِس کتاب کو اپنی لیے ایک مصیبت سمجھ رہے ہو اور کوس رہے ہو کہ یہ کیا بلا ہم پر نازل ہو ئی ہے،  حالانکہ جس رات کو اِس کے نزول کا فیصلہ صادر کیا گیا وہ اِتنی خیر و برکت والی  رات تھی کہ کبھی انسانی تاریخ کے ہزار مہینوں  میں  بھی انسان کی بھلائی کے لیے وہ کام نہیں  ہوا تھا جو اِس رات میں  کر دیا گیا۔ یہ بات بھی سُورۂ دُخان آیت ۳ میں  ایک دوسرے طریقے سے بیان کی گئی ہے اور اُس سورہ کے دیباچے میں  ہم اس کی وضاحت کر چکے ہیں۔

آخر میں  بتایا گیا ہے کہ اِس رات کو فرشتے اور جبریل ؑ اپنے ربّ کے اِذن سے ہر حکم لے کر نازل ہوتے ہیں  (جسے سورۂ دخان،  آیت۴ میں  امرِ حکیم کہا گیا ہے ) اور وہ شام سے صبح تک سراسر سلامتی کی رات ہوتی ہے،  یعنی اس میں  کسی شر کا دخل نہیں  ہوتا،  کیونکہ اللہ تعالیٰ کے تمام فیصلے بالآخر بھلائی کے لیے ہوتے ہیں،  ان میں  کوئی بُرائی مقصود نہیں  ہوتی، حتیٰ کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنے کا فیصلہ بھی ہوتا ہے تو خیر کے لیے ہوتا ہے نہ کہ شر کے لیے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

ہم نے اِس (قرآن )کو شبِ قدر میں  نازل کیا ہے۔  ۱ اور تم کیا جانو کہ شبِ قدر کیا ہے ؟ شبِ قدر ہزار مہینوں  سے زیادہ بہتر ہے۔  ۲ فرشتے اور رُوح ۳ اُس میں  اپنے ربّ کے اِذن سے ہر حکم لے کر اُترتے ہیں۔  ۴ وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوعِ فجر تک۔ ۵  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اصل میں  الفاظ ہیں   اَنْزَ لْنٰہُ، ’’ہم نے نازل کیا ہے۔ ‘‘ لیکن بغری اس کے کہ پہلے قرآن کا کوئی ذکر ہو،  اشارہ قرآن ہی کی طرف ہے،  اس لیے کہ ’’نازل کرنا‘‘ خود بخود اس پر دلالت کرتا ہے کہ مراد قرآن ہے۔  اور قرآن مجید میں  اِس امر کی بکثرت مثالیں  موجود ہیں  کہ اگر سیاق کلام  یا اندازِ  بیان سے ضمیر کا مرجع خود ظاہر  ہو رہا ہو تو ضمیر ایسی حالت میں  بھی استعمال کر لی جاتی ہے جب کہ اُس کے مرجع کا ذکر پہلے یا بعد میں  کہیں  نہ کیا گیا ہو (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، النجم، حاشیہ۹)۔ یہاں  فرمایا گیا ہے کہ ہم نے قرآن کو شبِ قدر میں  نازل کیا ہے،  اور سورۂ بقرہ میں  ارشاد ہوا ہے شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہۃ الْقُرْآنُ۔ ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں  قرآن نازل کیا گیا ہے ‘‘(البقرہ۔ ۱۸۵)۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ رات جس میں  پہلی مرتبہ خدا کا فرشتہ غارِ حرا ء میں  نبی صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے پاس وحی لے کر آیا تھا وہ  ماہِ رمضان کی ایک رات تھی۔ اِس رات کو یہاں  شبِ قدر کہا گیا ہے اور سورۂ دُخان میں  اِسی کو مبار ک رات فرمایا گیا ہے : اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ۔’’ہم نے اسے ایک برکت والی رات میں  نازل کیا ہے ‘‘(آیت۳)۔ اِس رات میں  قرآن نازل کرنے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ۔  ایک یہ کہ اِس رات پورا قرآن حاملِ وحی فرشتوں  کے حوالہ کر دیا گیا، اور پھر واقعات اور حالات کے مطابق وقتاً فوقتاً ۲۳ سال کے دوران میں  جبریل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی آیات اور سورتیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل کرتے رہے۔  یہ مطلب ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے (ابن جریر، ابن المُنْذِر، ابن ابی حاتم، حاکم، ابن مَرْدُوْیَہ، بَیْہقِی)۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزول کی ابتدا اِس رات سے ہوئی۔ یہ امام شَعْبِی کا قول ہے،  اگرچہ اُن سے بھی دوسرا قول وہی منقول ہے  جو ابن عباس کا اوپر گزر ا ہے۔  (ابن جریر) بہرحال دونوں  صورتوں  میں  بات ایک ہی رہتی ہے کہ رسول اللہ صلی  اللہ علیہ و سلم پر قرآن کے نزول کا سلسلہ اسی رات کو شروع ہوا اور یہی رات تھی جس میں  سورۂ عَلَق کی ابتدائی پانچ آیات نازل کی گئیں۔  تاہم یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کی آیات اور سورتیں  اللہ تعالیٰ اُسی وقت تصنیف نہیں  فرماتا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم اور آپ کی دعوتِ اسلامی کو کسی واقعہ یا معاملہ میں  ہدایت کی ضرورت پیش آتی تھی،  بلکہ کائنات کی تخلیق سے بھی پہلے ازل میں  اللہ تعالیٰ کے ہاں  زمین پر نوعِ انسانی کی پیدائش، اس میں  انبیاء کی بعثت، انبیاء  پر نازل کی جانے والی کتابوں ،  اور تمام انبیاء کے بعد آخر میں  محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو مبعوث فرمانے اور آپ پر  قرآن نازل کرنے کا پورا منصوبہ موجود تھا۔ شبِ قدر میں  صرف یہ  کام ہوا کہ اس منصوبے کے آخری  حصّے پر عملدر آمد شروع ہو گیا۔ اُس وقت اگر پورا قرآن حاملین وحی کے حوالہ کر دیا گیا ہو تو کوئی قابلِ تعجب امر نہیں  ہے۔  قدْر کے معنی بعض مفسّرین نے تقدیر کے لیے ہیں،  یعنی یہ وہ رات ہے کہ جس میں  اللہ تعالیٰ تقدیر کے فیصلے نافذ کرنے  کے لیے فرشتوں  کے سپرد کر دیتا ہے۔  اس کی تائید سُورۂ دُخان کی یہ آیت کرتی ہے  فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ، ’’ اُس رات میں  حر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے ‘‘(آیت ۵)۔ بخلاف اس کے امام زُہری کہتے ہیں  قدْر کے معنی عضمت و شرف کے ہیں،  یعنی وہ بڑی عظمت والی رات ہے۔  اِس معنی کی تائید اِسی سورۃ کے اِن الفاظ سے ہوتی ہے کہ ’’شبِ قدر ہزار مہینوں  سے زیادہ بہتر ہے۔ ‘‘ اب رہا یہ سوال کہ یہ کون سی رات تھی،  تو اس میں   اتنا اختلا ف ہوا ہے  کہ قریب قریب، ۴۰ مختلف اقوال اِس کے بارے میں  ملتے ہیں۔  لیکن علماء امت کی بڑی اکثریت  یہ رائے رکھتی ہے کہ رمضان کی آخری دس تاریخوں  میں  سے کوئی ایک طاق رات شبِْ قدر ہے،  اور ان میں  بھی زیادہ تر لوگوں  کی رائے یہ ہے کہ ستائیسویں  رات ہے۔  اِس معاملہ میں  جو معتبر  احادیث منقول ہوئی ہیں  انہیں  ہم ذیل میں  درج کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے لیلۃ القدر کے بارے میں  فرمایا کہ وہ ستائیسویں  یا انتیسویں  رات ہے (ابوداؤد طَیَا لِسی)۔ دوسری روایت حضرت ابو ہریرہ ؓ سے یہ ہے کہ وہ رمضان کی آخری رات ہے (مُسند احمد)۔ حضرت اُبَیّ بن کَعب سے زِرّبن حُبَیش نے شب قدر کے متعلق پوچھا  تو انہوں  نے حلفاً کہا اور استثنا ء نہ کیا کہ وہ ستائیسویں  رات ہے ( احمد، مسلم، ابو داؤد، تِرْمِذی، نَسائی، ابن حِبّان)۔ حضرت ابو ذر سے سے اس کے بارے میں  دریافت کیا گیا تو انہوں  نے کہا کہ حضرت عمر ؓ، حضرت حُذَیْفَہ ؓ اور اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم میں  سے بہت سے لوگوں  کو اس میں  کوئی شک نہ تھا کہ وہ رمضان کی ستائیسویں  رات ہے (ابن ابی شَیْبَہ)۔ حضرت عُبادہ بن صامِت ؓ  کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے فرمایا کہ شبِ قدر رمضان کی آخری دس راتوں  میں  سے طاق رات ہے،  اکیسویں،  یا تئیسویں،  یا پچیسویں،  یا ستائیسویں،  یا انتیسویں،  یا آخری(مُسند احمد)۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ  کہتے  ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے فرمایا اُسے رمضان کی آخری دس راتوں  میں  تلاش کرو جب کہ مہینہ ختم ہونے میں  ۹ دن باقی ہوں،  یا سات دن باقی ہوں،  یا پانچ دن باقی ہوں (بخاری)۔ اکثر اہلِ علم نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ حضور ؐ  کی مراد طاق راتوں  سے تھی۔ حضرت ابو بکرہ کی روایت ہے کہ ۹ دن باقی ہوں،  یا سات دن،  یا پانچ دن،  یا تین دن، یا آخری رات، مراد یہ تھی کہ اِن تاریخوں  میں  لیلۃ القدر کو تلاش کرو (ترمذی،  نسائی)۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے فرمایا کہ شب قدر کو رمضان کی آخری دس راتوں  میں  سے طاق رات میں  تلاش کرو(بخاری، مسلم، احمد،  ترمذی)۔ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے تازیست رمضان کی آخری دس راتوں  میں  اعتکاف فرمایا ہے۔  اس معاملہ میں  جو روایات حضرت معاویہ ؓ، حضرت ابن عمر ؓ، حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ بزرگوں  سے مروی ہیں  اُن کی بنا پر علمائے سلف کی بڑی تعداد ستائیسویں  رمضان ہی کو شبِ قدر سمجھتی ہے۔  غالباً کسی رات کا تعیُّن اللہ اور اس کے رسول ؐ کی طرف سے اس لیے نہیں  کیا گیا ہے کہ شب قدر کی فضیلت سے فیض اُٹھانے کے شوق میں  لوگ زیادہ سے زیادہ راتیں  عبادت میں  گزاریں  اور کسی ایک رات پر اکتفا نہ کریں۔  یہاں  یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس  وقت مکّۂ معظمہ میں  رات ہوتی ہے اُس وقت دنیا کے ایک بہت بڑے حصّے میں  دن ہوتا ہے،  اس لیے اُن علاقوں  کے لوگ تو کبھی شبِ قدر کو پاہی نہیں  سکتے۔  اس کا جواب یہ ہے کہ عربی زبان میں  اکثر رات کا لفظ دن اور رات  کے مجموعے کے لیے بولا جاتا ہے۔  اس لیے رمضان کی اِن تاریخوں  میں  سے جو تاریخ بھی دنیا کے کسی حصّہ میں  ہو اُس کے دن سے پہلے والی رات وہاں  کے لیے شبِ قدر ہو سکتی ہے۔

۲: مفسّرین نے بالعموم اس کے یہ معنی بیان کیے ہیں  کہ  اس رات کا عملِ خیر ہزار مہینوں  کے عملِ خیر سے افضل ہے جن میں  سے شب قدر شمار نہ ہو۔ اِس میں  شک نہیں   کہ یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے اِس رات کے عمل کی بڑی فضیلت بیان کی ہے۔  چنانچہ بخاری و مسلم میں  حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ حضور ؐ  نے فرمایا من قام لیلۃ القدر ایماناً واحتساباً غفر لہ ماتقدم من ذنبہ ،  ’’جو شخص شبِ قدر میں  ایمان کے ساتھ اور اللہ کے اجر کی خاطر عبادت کے لیے کھڑا رہا اس کے تمام پچھلے گنا ہ معاف ہو گئے۔ ‘‘ اور مُسند احمد میں  حضرت عُبادہ بن صامِت کی روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا کہ ’’شب قدر رمضان کی آخری  دس راتوں  میں  ہے،  جو شخص ان کے اجر کی  طلب میں  عبادت کے لیے کھڑا رہا اللہ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے گا۔‘‘ لیکن آیت کے الفاظ یہ نہیں  ہیں  کہ العمل فی  لیلۃ القدر خیر من العمل فی الف شھر (شب قدر میں  عمل کرنا ہزار مہینوں  میں  عمل کرنے سے بہتر ہے ) بلکہ فرمایا یہ گیا ہے کہ ’’شب قدر ہزار مہینوں  سے بہتر ہے۔ ‘‘ اور ہزار مہینوں  سے مراد گِنے ہوئے ۸۳ سال چار مہینے نہیں  ہیں  بلکہ اہلِ عرب کا قاعدہ تھا کہ بری کثیر تعداد کا تصور دلانے کے لیے وہ ہزار کا لفظ بولتے تھے۔  اس لیے آیت کا مطلب یہ ہے کہ اِس ایک رات میں  خیر اور بھلائی کا اتنا  بڑا کام ہوا کہ کبھی انسانی تاریخ کے کسی طویل زمانے میں  بھی ایسا کام نہیں  ہوا تھا۔

۳: روح سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں  جن کے فضل و شرف کی بنا پر ان کا ذکر فرشتوں  سے الگ کیا گیا ہے۔

۴: یعنی وہ بطورِ  خود نہی آتے بلکہ اپنے ربّ کے اِذن سے آتے ہیں۔  اور ہر حکم سے مراد وہی ہے جسے سورۂ دُخان، آیت ۵ میں  امرِ حکیم (حکیمانہ  کام) کہا گیا ہے۔

۵: یعنی شام سے صبح تک وہ پوری رات خیر ہی خیر ہے،  ہر شر اور فتنے سے پاک۔

٭٭٭

 

 

 

۹۸۔سورۃ البینۃ

 

نام

 

پہلی آیت کے لفظ البیّنہ کو اس سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اس کے بھی مکّی اور مدنی ہونے میں  اختلاف ہے۔  بعض مفسّرین کہتے ہیں  کہ جمہور کے نزدیک یہ مکّی ہے اور بعض دوسرے مفسرّین کہتے ہیں  کہ  جمہور کے نزدیک مدنی ہے۔  ابن الزُّبیر اور عطاء بن یَسار کا قول ہے کہ یہ مدنی ہے۔  ابن عباس اور قَتَادہ کے دو قول منقول ہیں۔  ایک یہ کہ یہ مکّی ہے،   دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔  حضرت عائشہ ؓ اِسے مکّی قرار دیتی ہیں۔  ابو حَیّان صاحبِ  بحر المحیط اور عبد المنعم ابن الفَرَس صاحبِ احکام القرآن اِس کے مکّی ہونے ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔  جہاں  تک اِس کے مضمون کا تعلق ہے،  اُس میں  کوئی علامت ایسی  نہیں  پائی جاتی جو اِس کے مکّی  یا مدنی ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہو۔

 

موضوع اور مضمون

 

قرآن مجید کی ترتیب میں  اِس کو سورۂ علق اور سورۂ قدر کے بعد رکھنا بہت معنی خیز ہے۔  سورۂ عَلَق میں  پہلی وحی درج کی گئی ہے۔  سورۂ قدر میں  بتایا گیا ہے کہ وہ کب نازل ہوئی۔ اور اِس  سورہ میں  بتایا گیا ہے کہ اِس کتابِ  پاک کے ساتھ ایک رسول بھیجنا کیوں  ضروری تھا۔

سب سے پہلے رسول بھیجنے کی ضرورت بیان کی گئی ہے،  اور وہ یہ کہ  دنیا کے لوگ، خواہ وہ اہلِ  کتاب  میں  سے ہوں  یا مشرکین میں  سے،  جس کفر کی حالت میں  مبتلا تھے اُس سے اُن کا نکلنا اِس کے بغیر ممکن نہ تھا کہ ایسا رسول بھیجا جائے جس کا وجود خود اپنی رسالت پر دلیلِ  روشن ہو، اور وہ لوگوں  کے سامنے خدا کی کتاب  کو اس کی اصلی صورت میں  پیش کرے جو باطل کی اُن تمام آمیزشوں  سے پاک ہو جن سے پچھلی کتبِ آسمانی کو آلودہ کر دیا گیا ہے اور بالکلراست اور درست تعلیمات پر مشتمل ہو۔

اِس کے بعد  اہلِ کتاب کی گمراہیوں  کے متعلق وضاحت کی گئی ہے کہ  اُن کے اِن مختلف راستوں  میں  بھٹکنے  کی وجہ یہ نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کی کوئی رہنمائی نہ کی تھی، بلکہ وہ اِس کے بعد بھٹکے کہ راہِ راست کا بیانِ واضح اُن کے پاس آچکا تھا۔ اِس سے خود بخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اپنی گمراہیوں  کے وہ خود ذمّہ دار ہیں،  اور اب  پھر اللہ کے اِس رسول کے ذریعہ سے بیانِ واضح آ جانے کے بعد بھی اگر وہ بھٹکتے ہی رہیں  گے تو اُن کی ذمّہ داری اور زیادہ بڑھ جائے گی۔

اِسی سلسلے میں  یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انبیاء بھی آئے تھے،  اور جو کتابیں  بھی بھیجی گئی تھیں ،  اُنہوں  نے اِس کے سوا کوئی حکم نہیں  دیا تھا کہ سب طریقوں  کو چھوڑ کر خالص اللہ کی بندگی  کا طریقہ اختیار کیا جائے،  کسی اور کی عبادت و بندگی اور اطاعت و پرستش کو اس کے ساتھ شامل نہ کیا جائے،  نماز قائم کی جائے اور زکوٰۃ ادا کی جائے۔  یہی ہمیشہ سے ایک صحیح دین رہا ہے۔  اِس سے بھی یہ نتیجہ خود بخود برآمد ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب نے اِس اصل دین سے ہٹ کر اپنے مذہبوں  میں  جن نئی نئی باتوں  کا اضافہ کر لیا ہے وہ سب باطل ہیں ،  اور اللہ کا یہ رسول جو اَب آیا ہے اُسی اصل دین کی طرف پلٹنے کی اُنہیں  دعوت دے رہا ہے۔

آخر میں  صاف صاف ارشاد ہوا ہے کہ جو اہلِ کتاب اور مشرکین اِس رسول کو ماننے سے انکار کریں  گے وہ بدترینِ خلائق ہیں،  اُن کی سزا اَبَدِی جہنّم ہے،  اور جو لوگ ایمان لا کر عملِ صالح کا طریقہ اختیار کر لیں  گے اور دنیا میں  خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کریں  گے وہ بہترین خلائق ہیں،  اُن کی جزا یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنّم میں  رہیں  گے،  اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

اہلِ کتاب اور مشرکین ۱ میں  سے جو لوگ کافر تھے ۲ (وہ اپنے کُفر سے ) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیلِ روشن نہ آ جائے ۳ (یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسُول ۴ جو پاک صحیفے پڑھ کر سُنائے ۵ جن میں  بالکل راست اور درست تحریریں  لکھی ہوئی ہوں۔

پہلے جن لوگوں  کو کتاب دی گئی تھی اُن میں  تفرقہ برپا نہیں  ہوا مگر اِس کے بعد کہ اُن کے پاس  (راہِ راست کا ) بیانِ واضح آ چکا تھا۔ ۶ اور اُن کو اِس کے سوا کوئی حکم نہیں  دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں  اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے،  بالکل یَکسُو ہو کر، اور نماز قائم کریں  اور زکوٰۃ دیں ۔  یہی نہایت صحیح و درست دین ہے۔  ۷

اہلِ کتاب اور مشرکین میں  سے جن لوگوں  نے کُفر کیا ہے ۸ وہ یقیناً جہنّم کی آگ میں  جائیں  گے اور ہمیشہ اس میں  رہیں  گے،  یہ لوگ بدترینِ خلائق ہیں۔  ۹ جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں  نے نیک عمل کیے،  وہ یقیناً بہترین خلائق ہیں۔  ۱۰ اُن کی جزا اُن کے ربّ کے ہاں  دائمی قیام کی جنّتیں  ہیں  جن کے نیچے نہریں  بہ رہی ہوں  گی، وہ ان میں  ہمیشہ ہمیشہ رہیں  گے۔  اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔  یہ کچھ ہے اُس شخص کے لے  جس نے اپنے ربّ کا خوف کیا ہو۔ ۱۱  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: کفر میں  مشترک ہونے کے باوجود ان دونوں  گروہوں  کو دو الگ الگ ناموں  سے یاد کیا گیا ہے۔  اہلِ کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں  جن کے پاس پہلے انبیاء کی لائی ہوئی کتابوں  میں  سے کوئی کتاب، خواہ تحریف شدہ شکل ہی میں  سہی، موجود تھی اور وہ اُسے مانتے تھے۔  اور مشرکین سے مراد وہ لوگ ہیں  جو کسی نبی  کے پیرو اور کسی کتاب کے ماننے والے نہ تھے۔  قرآن مجید میں  اگرچہ اہلِ کتاب کے شِرک کا ذکر بہت سے مقامات پر کیا گیا ہے۔  مثلاً عیسائیوں  کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں  اللہ تین خداؤں  میں کا ایک ہے (المائدہ، ۷۳)۔ وہ مسیح ہی کو خدا کہتے ہیں  (المائدہ، ۱۷)۔ وہ مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں  (التوبہ، ۳۰)۔ اور یہود کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ وہ عُزَیر کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں ( التوبہ، ۳۰)۔  لیکن اس کے باوجود قرآن مجید میں  کہیں  اُن کے لیے  ’’مشرک‘‘ کی اصطلاح استعمال نہیں  کی گئی بلکہ ان کا ذکر اہلِ کتاب یا  اَلَّذِیْنَ اُوْتُوْ الْکِتٰبَ (جن کو کتاب دی گئی تھی)، یا یہود اور نصاریٰ کے الفاظ سے کیا گیا ہے،  کیونکہ وہ اصلِ دین توحید ہی کو مانتے تھے اور پھر شرک کرتے تھے۔  بخلاف اِس کے غیر اہلِ  کتاب کے لیے ’’مشرک‘‘ کا لفظ بطور اصطلاح استعمال کال گیا ہے۔  کیونکہ وہ اصلِ دین شرک ہی کو قرار دیتے  تھے اور توحید کے ماننے سے اُن کو قطعی انکار تھا۔ یہ فرق اِن دونوں  گروہوں  کے درمیان صرف اصطلاح ہی میں  نہیں  بلکہ شریعت  کے احکام میں  بھی ہے۔  اہلِ کتاب کا ذبیحہ مسلمانوں  کے لیے حلال کیا گیا ہے اگر وہ اللہ کا نام لے کر حلال جانور کو صحیح طریقہ سے ذبح کریں،  اور ان کی عورتوں  سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے۔  اس کے برعکس مشرکین کا نہ ذبیحہ حلال ہے اور نہ ان کی عورتوں  سے نکاح حلال۔

۲: یہاں  کفر اپنے وسیع معنوں  میں  استعمال کیا گیا ہے جن میں  کافرانہ رویّہ کی مختلف صورتیں  شامل ہیں۔  مثلاً کوئی اِس معنی میں  کافر تھا کہ سرے سے اللہ ہی کو نہ مانتا تھا۔ کوئی اللہ کو مانتا تھا مگر اسے واحد معبود نہ مانتا تھا بلکہ خدا کی ذات، یا خدائ کی صفات و اختیارات میں  کسی نہ کسی طور پر دوسروں  کو شریک ٹھیرا کر اُن کی عبادت بھی کرتا تھا۔ کوئی اللہ کی وحدانیت بھی مانتا تھا مگر اس کے باوجود کسی نوعیت کا شرک بھی کرتا تھا۔ کوئی خدا کو مانتا تھا مگر اس کے نبیوں  کو نہیں  مانتا تھا اور اُس ہدایت کو قبول کرنے کا قائل نہ تھا  جو انبیاء کے ذریعہ سے آئی ہے۔  کوئی کسی نبی کو مانتا تھا  اور کسی دوسرے نبی کا انکار کرتا  تھا۔ خوئی آخرت کا منکر تھا۔ غرض مختلف قسم کے کفر تھے جن میں  لوگ مبتلا تھے۔  اور  یہ جو فرمایا   کہ   ’’ اہلِ کتاب اور مشرکین  میں  سے جو لوگ  کافر تھے ‘‘ اِس  کا مطلب یہ نہیں  ہے کہ ان میں  سے کچھ لوگ کفر میں  مبتلا  نہ تھے،  بلکہ مطلب یہ ہے کہ کفر میں  مبتلا ہونے والے دو گروہ تھے۔  ایک اہلِ کتاب،  دوسرے مشرکین۔  یہاں  مِنْ  تبعیض کے لیے نہیں  بلکہ بیان کے لیے ہے۔  جس طرح سورۂ حج آیت ۳۰ میں  فرمایا گیا فَا جْتَنِبُوْ ا ا لرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ بتوں  کی گندگی سے بچو، نہ یہ کہ بتوں  میں  جو گندگی ہے اُس سے بچو۔ ا سی طرح اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ کا مطب  بھی یہ ہے کہ کفر کرنے والے جو اہلِ کتاب اور مشرکین میں  سے ہیں،  نہ یہ کہ اِن دونوں  گروہوں  میں  سے جو لوگ کفر کرنے والے ہیں۔

۳: یعنی اُن کے اِس حالتِ کفر سے نکلنے کی کوئی صورت اِس کے سوا نہ تھی کہ ایک دلیلِ روشن آ کر اُنہیں  کفر کی ہر صورت کا غلط اور خلافِ حق ہونا سمجھائے اور راہِ راست کو واضح اور مدلّل طریقے سے ان کے سامنے پیش کر دے۔  اِس کا یہ مطلب نہیں  ہے کہ اُس دلیلِ  روشن کے آ جانے کے بعد وہ سب کفر سے باز آ جانے والے تھے۔  بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دلیل کی غیر موجودگی میں  تو ان کا اِس حالت سے نکلنا ممکن ہی نہ تھا۔ البتہ اس کے آنے کے بعد بھی اُن میں  سے جو لوگ اپنے کفر پر قائم رہیں  اُس کی ذمہ داری پھر اُنہی پر ہے،  اس کے بعد وہ اللہ سے یہ شکایت نہیں  کر سکتے کہ آپ نے ہماری ہدایت کے لیے کوئی انتظام نہیں  کیا۔  یہ وہی بات ہے جو قرآن مجید میں  مختلف مقامات پر مختلف طریقوں  سے بیان کی گئی ہے۔  مثلاً سُورۂ نحل میں  فرمایا وَعَلَی اللہِ قَصْدُ السَّبِیْلِ، ’’سیدھا راستہ بتانا اللہ کے ذمّہ ہے ‘‘(آیت۹)۔ سُورۂ  لَیل میں  فرمایا اِنَّ عَلَیْنَا لَلْھُدٰی، ’’راستہ بتانا ہمارے ذمّہ ہے ‘‘(آیت۱۲)۔ اِنَّآ اَوْ حَیْنَآ اَلَیْکَ کَمَآ اَوْحَیْنَآ اِلیٰ نُوْحٍ وَّ النَّبِیِّیْنَ مِنْم بَعْدِہ ۔ ۔۔۔۔۔ رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِ رِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ، ’’(اے نبی )  ہم نے تمہاری طرف اُسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور اُس کے بعد کے نبیوں  کی طرف بھیجی تھی۔ ۔۔۔۔ اِن رسولوں  کو بشارت دینے والا  اور خبردار کرنے والا بنایا گیا تا کہ رسولوں  کے بعد لوگوں  کے لیے اللہ پر کوئی حجّت نہ رہے ‘‘(النساء، ۱۶۵-۱۶۴)۔ یٰٓاَ ھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآ ءَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلیٰ فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآ ءَ نَا مِنْم بَشِیْرٍ وَّلَا نَذِیْرٍ، فَقَدْ جَآءَکُمْ بَشِیْرٌ وَّنَذِیْرٌ، ’’ اے اہلِ کتاب تا کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے والا آیا  نہ خبردار کرنے والا۔ سو لو اب تمہارے پاس بشارت دینے والا اور  خبردار کرنے والا آ گیا‘‘(المائدہ۔۱۹)۔

۴: یہاں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو بذاتِ خود ایک دلیلِ  روشن کہا گیا ہے،  اس لیے کہ آپ کی نبوّت سے پہلے کی اور بعد کی زندگی، آپ کا اُمّی ہونے کے باوجود قرآن جیسی کتاب پیش کرنا، آپ کی تعلیم اور صحبت کے اثر سے ایمان لانے والوں  کی زندگیوں  میں  غیر معمولی انقلاب رونما ہو جانا،  آپ کا بالکل معقول عقائد، نہایت سُتھری عبادات،  کمال درجہ کے پاکیزہ اخلاق، اور انسانی زندگی کے لیے بہترین اصول و احکام کی تعلیم دینا،  آپ کے قول اور عمل میں  پوری پوری مطابقت  کا پایا جانا، اور آپ کا ہر قسم کی مزاحمتوں  اور مخالفتوں  کے مقابلے میں  انتہائی اولو العزمی کے ساتھ اپنی دعوت پر ثابت قدم رہنا، یہ ساری باتیں  اس بات کی کھلی علامات تھیں  کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔

۵: لغت کے اعتبار سے تو صحیفوں  کے معنی ہیں  ’’لکھے ہوئے ‘‘، لیکن قرآن مجید میں  اصطلاحاً یہ لفظ انبیاء  علیہم السلام پر نازل ہونے والی کتابوں  کے لیے استعمال ہوتا ہے۔  اور پاک صحیفوں  سے مراد ہیں  ایسے صحیفے جن میں  کسی قسم کے باطل، کسی طرح کی گمراہی و ضلالت، اور کسی اخلاقی گندگی کی آمیزش نہ ہو۔ اِن الفاظ  کی پوری اہمیت اُس وقت واضح ہو تی ہے جب انسان قرآن مجید کے مقابلے میں  بائیبل (اور دوسرے مذاہب کی کتابوں  کا بھی) مطالعہ کرتا ہے اور ان میں  صحیح باتوں  کے ساتھ ایسی باتیں  لکھی ہوئی  دیکھتا ہے جو حق و صداقت اور عقلِ سلیم کے بھی خلاف ہیں  اور اخلاقی اعتبار سے بھی بہت گِری ہوئی ہیں۔  اُن کو پڑھنے کے بعد جب آدمی قرآن  کو دیکھتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتنی پاک اور مطہَّر کتا ب ہے۔

۶: یعنی اِس سے پہلے اہلِ کتاب جو مختلف گمراہیوں  میں  بھٹک کر بے شمار فرقوں  میں  بٹ گئے  اُس کی وجہ یہ نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے اُن کی رہنمائی کے لیے دلیلِ روشن بھیجنے میں  کوئی کَسر اٹھا  رکھی تھی، بلکہ یہ روِش اُنہوں  نے اللہ کی جانب سے رہنمائی آ جانے کے بعد اختیار کی تھی، اس لیے اپنی گمراہی کے وہ خود ذمہ دار تھے،  کیونکہ ان پر حجّت تمام کی جا چکی تھی۔ اِسی طرح اب چونکہ اُن کے صحیفے پاک نہیں  رہے ہیں   اور ان کی کتابیں  بالکل راست اور درست تعلیمات پر مشتمل نہیں  رہی ہیں ،  اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک دلیلِ روشن کی حیثیت سے اپنا ایک رسول بھیج کر اور اس کے ذریعہ سے پاک صحیفے بالکل راست اور درست تعلیمات پر مشتمل پیش کر کے ان پر پھر حجت تمام کر تی ہے،  تاکہ اس کے بعد بھی اگر وہ متفرِّق رہیں  تو اس کی ذمہ داری اُنہی پر ہو، اللہ کے مقابلہ میں  وہ کوئی حجّت پیش  نہ کر سکیں۔  یہ بات قرآن مجید میں  بکثرت مقامات پر فرمائی گئی ہے۔  مثال کے طور پر ملاحظہ ہو، البقرہ، آیات ۲۵۳-۲۱۳۔ آلِ عمران، ۱۹۔ المائدہ، ۴۴ تا ۵۰۔ یونس، ۹۳۔ الشوریٰ، ۱۳ تا ۱۵۔ الجاثیہ، ۱۶ تا ۱۸۔ اس کے ساتھ اگر وہ حوا شی بھی پیشِ نظر رکھے جائیں  جو تفہیم القرآن میں  اِن آیات پر ہم نے لکھے ہیں  تو بات  سمجھنے میں  مزید آسانی ہو گی۔

۷: یعنی جس دین کو اب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم پیش کر رہے ہیں ،  اِسی دین کی تعلیم اہلِ کتاب کو اُن کے ہاں  آنے والے انبیاء اور ان کے ہاں  نازل ہونے والی کتابوں  نے دی تھی، اور اُن عقائدِ  باطلہ اور اعمالِ فاسدہ میں  سے کسی چیز کا اُنہیں  حکم نہیں  دیا گیا تھا جنہیں  اُنہوں  نے بعد میں  اختیار کر کے مختلف مذاہب بنا ڈالے۔  صحیح اور درست دین ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ خالص اللہ بندگی کی جائے،  اُس کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی کی آمیزش نہ کی جائے،  ہر طرف سے رُخ پھیر کر انسان صرف ایک اللہ کا پرستار اور تابعِ فرمان بن جائے،  نماز قائم کی جائے،  زکوٰۃ ادا کی جائے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم،  الاعراف، حاشیہ ۱۹۔ یونس، حواشی ۱۰۹-۱۰۸۔ جلد سوم، الروم، حواشی ۴۳ تا ۴۷۔ جلد چہارم، الزُّمر، حواشی ۴-۳)۔ اس آیت میں  دین القیّمۃ کے جو الفاظ آئے ہیں  ان کو بعض مفسرین نے دِیْن الملّۃ القیّمۃ یعنی ’’راست رو ملّت کا دین‘‘ کے معنی میں  لیا ہے اور بعض  اسے اضافتِ صفت الی الموصوف قرار دیتے ہیں  اور قیّمۃ کی   ہ  کو علّامہ اور فہّامَہ کی طرح مبالغہ کی ہ قرار دیتے ہیں۔  ان کے نزدیک اس کے معنی وہی ہیں  جو ہم نے ترجمہ میں  اختیار کیے ہیں۔

۸: یہاں  کفر سے مراد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کو ماننے سے انکار  کرنا ہے۔  مطلب یہ ہے کہ مشرکین اور اہلِ کتاب میں  سے جن لوگوں  نے اُس رسول کے آ جانے کے بعد اُ کو نہیں  مانا جس کا وجود خود ایک دلیلِ روشن ہے اور جو بالکل درست تحریروں  پر مشتمل پاک صحیفے  اُن کو پڑھ کر سنا رہا ہے،  اُن کا  انجام وہ ہے جو آگے بیان کیا جا رہا ہے۔

۹: یعنی خدا کی مخلوقات میں  اُن سے بد تر کوئی مخلوق نہیں  ہے حتیٰ کہ جانوروں  سے بھی گئے گزرے ہیں ،  کیونکہ جانور عقل  اور اختیار نہیں  رکھے،  اور یہ عقل اور اختیار رکھتے ہوئے حق سے منہ موڑتے ہیں۔

۱۰: یعنی وہ خدا کی مخلوقات میں  سے سے،  حتیٰ کے ملائکہ سے بھی افضل و اشرف ہیں،  کیونکہ فرشتے نافرمانی کا اختیار نہیں  رکھتے اور یہ اُس کا اختیار رکھنے کے باوجود فرمانبرداری اختیار کرتے ہیں۔ ۱۱:  بالفاظِ دیگر جو شخص خد ا سے بے خوف اور اس کے مقابلہ میں  جری و بے باک بن کر نہیں  رہا بلکہ دنیا میں  قدم قدم پر اِس بات سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتا رہا کہ کہیں  مجھ سے ایسا کوئی کام نہ ہو جائے جو خدا کے ہاں  میری پکڑ کا موجب ہو، اس کے لیے خدا کے پاس یہ جزا ہے۔

٭٭مہ وہے۔  اِ احزاب کی تفسیر کا ضمیمہ)

 

 

 

۹۹۔سورۃ الزلزال

 

نام

 

پہلی آیت کے لفظ  زِلْزَالَھَا سے ماخوذ ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اس کے مکّی اور مدنی ہونے میں  اختلاف ہے۔  ابن مسعودؓ،  عطاء،  جابر اور مجاہد کہتے ہیں  کہ یہ مکّی ہے اور ابن عباس ؓ  کا بھی ایک قول اس کی تائید میں  منقول ہے۔  بخلاف اِس کے قَتَادہ اور  مُقاتِل کہتے ہیں  کہ یہ مدنی ہے اور ابن عباس ؓ سے بھی دوسرا قول اِس کے مدنی ہونے کی تائید میں  نقل ہوا ہے۔ اِس کے  مدنی ہونے پر حضرت ابو سعیدؓ خُدْرِی کی اُس روایت سے استدلال کیا جاتا ہے کہ جو ابن ابی حاتم نے اُن سے نقل کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ  فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَۃٍ خَیْراً یَّرَہٗ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَۃٍ شَراً یَّرَہٗ  تو میں  نے عرض کیا،  یا رسول ؐ اللہ کیا میں  اپنا عمل دیکھنے والا ہوں ؟ حضور ؐ نے فرمایا ہاں۔  میں  نے عرض کیا یہ بڑے بڑے گناہ؟ آپ ؐ نے جواب دیا ہاں۔  میں  عرض کیا اور یہ چھوٹے چھوٹے گنا ہ بھی؟ حضور ؓ نے فرمایا ہاں۔  اس پر میں  نے کہا پھر تو میں  مارا گیا۔ حضور ؐ نے فرمایا خوش ہو جاؤ اے ابو سعید، کیونکہ ہر نیکی اپنی جیسی دس نیکیوں  کے برابر ہو گی۔ اِس حدیث سے اِس سورہ کے مدنی ہونے پر استدلال کی بِنا  یہ ہے کہ حضرت ابو سعید خُدریؓ  مدینے کے رہنے والے تھے اور غَزْوۂ اُحد کے بعد سنّ بلوغ کو پہنچے۔  اس لیے اگر یہ سورۃ ان کی موجودگی میں  نازل ہو ئی تھی، جیسا کہ ان کے بیان سے ظاہر ہے،  تو اسے مدنی ہونا چاہیے۔  لیکن صحابہ اور تابعین کا جو طریقہ آیات اور سورتوں  کی شان نزول کے بارے میں  تھا، اس کی تشریح اس سے پہلے ہم سورۂ دہر کے دیباچے میں  کر چکے ہیں ۔ اس لیے کسی صحابی کا یہ کہنا کہ یہ آیت فلاں  موقع  پر نازل ہوئی، اس بات کا قطعی ثبوت نہیں  ہے کہ اس کا نزول اُسی وقت ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت ابو سعید نے ہوش سنبھالنے کے بعد جب پہلی مرتبہ حضور ؐ کی زبان مبارک سے یہ سورۃ سنی ہو اس وقت اِس کے آخرت حصّے  سے خوف زدہ ہو کر انہوں  نے حضور ؐ سے وہ سوالات کیے ہوں  جو اوپر درج کیے گئے ہیں،  اور اس واقعہ کو انہوں  نے اس طرح بیان کیا ہو کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو  میں  نے حضور ؐ سے یہ عرض کیا۔  اگر یہ روایت سامنے نہ ہو تو قرآن کو سمجھ کر پڑھنے والا ہر شخص یہی محسوس کرے گا کہ یہ مکّی سورۃ ہے،  بلکہ اس کے مضمون اور اندازِ بیان سے تو اس کو  محسوس ہو گا کہ یہ مکّہ کے بھی اُس ابتدائی دور میں  نازل ہوئی ہو گی جب نہایت مختصر اور انتہائی دل نشین طریقہ سے اسلام کے بنیادی عقائد لوگوں  کے سامنے پیش کیے جا رہے تھے۔

 

موضوع اور مضمون

 

اِس کا موضوع  ہے موت کے بعد دوسری زندگی اور اُس میں  اُن سب اعمال کا پورا کچا چِٹّھا انسان کے سامنے آ جانا جو اُس نے دنیا میں  کیے تھے۔  سب سے پہلے تین مختصر فقروں  میں  یہ بتایا گیا ہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی کس طرح واقع ہو گی اور وہ انسان کے لیے کیسی حیران کُن ہو گی۔ پھر دو فقروں  میں  بتایا گیا ہے کہ یہی زمین جس پر رہ کر انسان نے بے فکری کے ساتھ ہر طرح کے اعمال کیے ہیں ،  اور جس کے متعلق کبھی اس کے وہم و گمان میں  بھی یہ بات نہیں  آئی کہ یہ بے جان چیز کسی وقت اُس کے افعال کی گواہی دے گی، اُس روز اللہ تعالیٰ کے حکم سے بول  پڑے گی اور ایک ایک انسان کے متعلق یہ بیان کر دے گی کہ کس وقت کہاں  اُس نے کیا کام کیا تھا۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اُس دن زمین کے گوشے گوشے سے انسان گروہ در گروہ اپنے مرقدوں  سے نکل نکل کر آئیں  گے تا کہ اُن کے اعمال اُن کو دکھا دیے جائیں،  اور اعمال کی یہ پیشی ایسی مکمّل ہو گی اور مفصّل ہو گی کہ کوئی ذرّہ برابر نیکی یا بدی بھی ایسی نہ رہ جائے گی جو سامنے نہ آ جائے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

جب زمین اپنی پُوری شدّت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی، ۱ اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی، ۲ اور انسان کہے گا کہ یہ اِس کو کیا ہو رہا ہے،  ۳ اُس روز وہ اپنے (اُوپر گزرے ہوئے ) حالات بیان کرے گی، ۴ کیونکہ تیرے ربّ نے اُسے (ایسا کرنے کا) حکم دیا ہو گا۔ اُس روز لوگ متفرق حالت میں  پلٹیں  گے ۵ تاکہ اُن کے اعمال اُن کو دکھائے جائیں۔  ۶ پھر جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا، اور جس نے ذرّہ برابر بدی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ ۷  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اصل الفاظ ہیں  زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَا لَھَا۔  زلزلہ کے معنی پے در پے زور زور سے حرکت کرنے کے ہیں۔  پس زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ کا مطلب یہ ہے کہ زمین کو جھٹکے  پر جھٹکے دے کر شدّت کے ساتھ ہلا ڈالا جائے گا۔ اور چونکہ زمین کو ہلانے کا ذکر کیا گیا ہے  ا س لیے اِس سے خود بخود یہ مطلب نکلتا ہے کہ زمین کا کوئی مقام یا کوئی حصہ یا علاقہ نہیں  بلکہ پوری  کی پوری زمین ہلا ماری جائے گی۔ پھر اس زلزلے کی مزید شدّت کو ظاہر کرنے کے لیے زِلْزَالَھَا کا اُس پر اضافہ  کیا گیا ہے جس کے لفظی معنی ہیں  ’’ اُس کا ہلایا جانا۔‘‘ اِس کا مطلب یہ ے کہ اُس کو ایسا ہلایا جائے گا جیسا اُس جیسے عظیم کُرے  کو ہلانے کا حق ہے،  یا جو اُس کے ہلائے جانے کی انتہائی ممکن شدّت  ہو سکتی ہے۔  بعض مفسّرین نے اِس زلزلے سے مراد وہ پہلا زلزلہ لیا جس سے قیامت کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو گا یعنی جب ساری مخلوق ہلاک ہو جائے گی اور دنیا کا یہ نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ لیکن مفسّرین کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک اِس سے مراد وہ زلزلہ ہے جس سے قیامت کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گا،  یعنی جب تمام اگلے پچھلے انسان دوبارہ زندہ ہو کر اُٹھیں  گے۔  یہی دوسری تفسیر زیادہ صحیح ہے کیونکہ بعد کا سارا مضمون اِسی پر دلالت کرتا ہے۔

۲: یہ وہی مضمون ہے جو سورۂ اِنشقاق آیت ۴ میں  اِس طرح بیان کیا گیا ہے کہ وَاَلْقَتْ مَا فِیْھَا وَتَخَلَّتْ  ’’اور جو کچھ اس کے اندر ہے اُسے باہر پھینک  کر خالی ہو جائے گی‘‘۔ اِس کے کئی مطلب ہیں ۔  ایک یہ کہ مرے ہوئے انسان زمین کے اندر جہاں  جس شکل  اور جس حالت میں  بھی پڑے ہوں  گے اُن سب کو وہ نکال کر باہر ڈال دے گی، اور بعد کا فقرہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اُس وقت اُن کے جسم کے تمام بکھرے ہوئے اجزاء جمع ہو کر ازسرِ نو اُسی شکل و صورت میں  زندہ ہو جائیں  گے جس میں   وہ پہلی زندگی کی حالت میں  تھے،  کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو وہ یہ کیسے کہیں  گے کہ زمین کو یہ کیا ہو رہا ہے۔  دوسرا مطلب یہ ہے کہ صرف مرے ہوئے انسانوں  ہی کو وہ باہر نکال کر پھینکنے پر اکتفا نہ کرے گی،  بلکہ ان کی پہلی زندگی کے افعال و اقوال اور حرکات و سکنات کی شہادتوں  کا جو اَنبار اُس کی تہوں  میں  دبا پڑا ہے اُس سب کو بھی وہ نکال کر باہر ڈال دے گی۔ اِس پر بعد کا یہ فقرہ دلالت کرتا  ہے کہ زمین اپنے اوپر گزرے ہوئے حالات بیان کرے گی۔ تیسرا مطلب بعض مفسرین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ سونا، چاندی،  جواہر، اور ہر قسم کی دولت جو زمین کے پیٹ میں  ہے اس کے بھی ڈھیر کے ڈھیر وہ باہر نکال کر رکھ دے گی اور انسان دیکھے گا کہ یہی  ہیں  وہ چیزیں  جن پر وہ  دنیامیں  مرا جاتا تھا،  جن کی خاطر اُس نے قتل کیے،  حق داروں  کے حقوق مارے،  چوریاں  کیں ،  ڈاکے ڈالے،  خشکی اور تری میں  قزّاقیاں  کیں،  جنگ کے معرکے برپا کیے اور پوری پوری قوموں  کو تباہ کر ڈالا۔ آج وہ سب کچھ سامنے موجود ہے اور اُس کے کسی کام کا نہیں  ہے بلکہ الٹا اس کے لیے عذاب کا سامان بنا ہوا ہے۔

۳: انسان سے مراد  ہر انسان بھی ہو سکتا ہے ،  کیونکہ زندہ ہو کر ہوش میں  آتے ہی پہلا تاثر ہر شخص پر یہی ہو گا کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے،  بعد میں  اُس پر یہ بات کھلے گی کہ یہ روزِ حشر ہے۔  اور انسان سے مراد آخرت کا منکر انسان بھی ہو سکتا ہے،  کیونکہ جس چیز کو وہ غیر ممکن سمجھتا تھا وہ اس کے سامنے برپا ہو رہی ہو گی اور وہ اس پر حیران و پریشان ہو گا۔ رہے  اہلِ ایمان تو ان پر یہ حیرانی و پریشانی طاری نہ ہو گی، اس لیے کہ سب کچھ ان کے عقیدہ و یقین کے مطابق ہو رہا  ہو گا۔ ایک حد تک اِس دوسرے معنی کی تائید سورۂ یٰسین کی آیت ۵۲ کرتی ہے جس میں  ذکر آیا ہے کہ اُس وقت منکرین آخرت کہیں  گے کہ مَنْم بَعَثَنَا مِنْ مَّرْ قَدِ نَا ’’  کس نے ہماری خواب گاہ سے ہمیں  اٹھا دیا؟ اور جواب ملے گا ھٰذَا مَا وَعَدَ الرَّ حْمٰنُ وَصَدَ قَ الْمُرْسَلُوْنَ ’’ یہ وہی چیز ہے جس  کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں  نے سچ کہا تھا۔‘‘ یہ آیت اِس معاملہ میں  صریح نہیں  ہے کہ کافروں  کو یہ جواب اہلِ ایمان ہی دیں  گے،  کیونکہ آیت میں  اس کی تصریح نہیں  ہے،  لیکن اس امر کا احتمال ضرور ہے کہ اہلِ ایمان کی طرف سے اُن کو یہ جواب ملے گا۔

۴: حضرت ابو ہریرہ ؓ    کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے یہ آیت پڑھ کر پوچھا ’’ جانتے ہو  اس کے وہ حالات کیا ہیں ؟ لوگوں  نے عرض کیا  اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔  فرمایا ’’ وہ حالات یہ ہیں  کہ زمین پر بندے اور بندی کے بارے میں  اُس عمل کی گواہی دے  گی جو اس کی پیٹھ پر اس نے کہا ہو گا۔ وہ کہے گی کہ اِ س نے فلاں  دن فلاں  کام کیا تھا۔ یہ ہیں  وہ حالات جو زمین بیان کرے گی۔‘‘(مُسند احمد،  تِرْمِذی، نَسائی، ابن جریر، عبد بن حُمید، ابن المُنْذر، حاکم، ابن مَرْدُوْیَہ، بِیْہَقی فی الشعب)۔  حضرت رَبیعۃ الخَرشی کی روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا ’’ ذرا زمین سے بچ کر رہنا  کیونکہ یہ تمہاری جڑ بنیا ہے اور اِس پر عمل کرنے والا کوئی شخص ایسا نہیں  ہے جس کے عمل کی یہ خبر نہ دے خواہ اچھا ہو یا بُرا‘‘(مُعْجَم الطّبرَانی)۔ حضرت انس  بیان کر تے ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے فرمایا ’’قیامت کے روز زمین ہر اُس عمل کو لے آئے گی جو اس کی پیٹھ پر کیا گیا ہو‘‘ پھر آپ نے یہی آیات تلاوت فرمائیں (ابن مَرْدُوْیَہ۔  بیہقی)۔ حضرت علی  کے حالات میں  لکھا ہے کہ جب آپ بیت المال  کا سب روپیہ اہلِ حقوق میں  تقسیم کر کے اُسے خالی کر دیتے تو اس میں  دو رکعت نماز پڑھتے اور پھر فرماتے ’’تجھے گواہی دینی ہو گی کہ میں  نے تجھ کو حق کے ساتھ بھرا اور حق ہی  کے ساتھ خالی کر دیا‘‘۔ زمین کے متعلق یہ بات کہ وہ قیامت کے راز اپنے اوپر گزرے ہوئے سب حالات اور واقعات بیان کر دے گی،  قدیم زمانے کے آدمی کے لیے تو بڑی حیران کُن ہو گی کہ آخر کیسے بولنے لگے گی، لیکن آج علومِ طبیعی کے اکتشافات اور سینما، لاؤڈاسپیکر، ریڈیو، ٹیلیویژن، ٹیپ ریکارڈر، الکٹرانِکس وغیرہ ایجادات کے اِس دور میں  یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں  کہ زمین اپنے حالات کیسے بیان کرے گی۔ انسان  اپنی زبان سے جو کچھ بولتا ہے اُس کے نقوش ہوا میں،  ریڈیائی لہروں  میں ،  گھروں  کی دیواروں  اور اُن کے فرش اور چھت کے ذرّے ذرّے میں،  اور اگر کسی سڑک یا میدان یا کھیت میں  آدمی نے بات کی ہو تو اُن سب کے ذرّات میں  ثبت ہیں۔  اللہ تعالیٰ  جس وقت چاہے ان ساری آوازوں  کو ٹھیک اسی طرح ان چیزوں  سے دُہر وا سکتا ہے جس طرح کبھی وہ انسان کے منہ سے نکلی تھیں۔  انسان اپنے کانوں  اُس وقت سن لے گا کہ یہ اُس کی اپنی ہی آواز یں  ہیں۔  اور اس کے ساب جاننے والے پہچان لیں  گے کہ جو کچھ وہ سُن رہے ہیں  وہ اسی شخص کی آواز اور اسی کا لہجہ ہے۔  پھر انسان نے زمین پر جہاں  جس حالت میں  بھی کوئی کام کیا ہے اس کی ایک ایک حرکت کا عکس اُس کے گردو پیش کی تمام چیزوں  پر پڑا ہے اور اس کی تصویر اُن پر نقش ہو چکی ہے۔  بالکل گھُپ اندھیرے میں  بھی اُس نے کوئی فعل کیا ہو تو خدا کی خدائی میں  ایسی شُعاعیں  موجود ہیں  جن کے لیے اندھیرا اور اُجالا کوئی معنی نہیں  رکھتا، وہ ہر حالت میں  اس کی تصویر لے سکتی ہیں۔  یہ ساری تصویریں  قیامت کے روز ایک متحرّک فلم کی طرح انسان کے سامنے آ جائیں  گی اور یہ دکھا دیں  گی کہ وہ زندگی بھر کس وقت، کہاں  کہاں  کیا کچھ کرتا رہا ہے۔  حقیقت  یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال کو براہِ راست خود جانتا ہے،  مگر آخرت میں  جب وہ عدالت قائم  کرے گا  تو جس کو بھی سزا دے گا، انصاف کے تمام تقاضے پورے کر کے دے گا۔  اُس کی عدالت میں  ہر مجرم انسان کے خلاف جو مقدّمہ قائم کیا جائے گا اُس کو ایسی مکمّل شہادتوں  سے ثابت کر دیا جائے گا کہ اس  کے مجرم ہونے میں  کسی کلام کی گنجائش باقی نہ رہے گی۔ سب سے پہلے تو وہ نامۂ اعمال ہے جس میں  ہر وقت اُس کے ساتھ لگے ہوئے کراما! کاتبین اس کے ایک ایک قول اور فعل کا ریکارڈ درج کر رہے ہیں (قٓ، آیات ۱۸-۱۷۔ الانفِطار، آیات ۱۰ تا ۱۲)۔ یہ نامۂ اعمال  اس کے ہاتھ میں  دے دیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ پڑھ اپنا  کارنامۂ حیات،  اپنا حساب لینے کے لیے تو خود کافی ہے (بنی اسرائیل۔۱۴)۔ انسان اسے پڑھ کر حیران رہ جائے گا کہ کوئی چھوٹی  یا بڑی چیز ایسی نہیں  ہے جو اس میں  ٹھیک ٹھیک درج نہ ہو (الکہف۔ ۴۹)۔  اِس کے بعد انسان کا  اپنا جسم ہے جس سے اُس نے دنیا میں  کام لیا ہے۔   اللہ کی عدالت میں  اُس کی اپنی زبان شہادت دے گی کہ اُس سے وہ کیا کچھ بولتا رہا ہے،   اس کے اپنے ہاتھ پاؤں  شہادت دیں  گے کہ ان سے سے کیا کیا کام اُس نے لیے (النور۔۲۴)۔ اس کی آنکھیں  شہادت دیں  گی، اس کے کان شہادت دیں  گے کہ ان سے اس نے کیا کچھ سُنا۔ اس کے جسم کی پوری  کھال اس کے افعال کی شہادت دے گی۔ وہ حیران ہو کر اپنے اعضا سے کہے گا کہ تم بھی میرے خلاف گواہی دے رہے ہو؟ اس کے اعضا جواب دیں  گے کہ آج جس خدا کے حکم سے ہر چیز بول رہی ہے اسی کے حکم سے ہم بھی بول رہے ہیں (حٰم السجدہ۔۲۰ تا ۲۲)۔ اس پر مزید وہ شہادتیں  ہیں  جو زمین اوراس کے پورے ماحول سے پیش کی جائیں  گی جن میں  آدمی اپنی آوازیں  خود اپنے کانوں  سے،  اور اپنی حرکات کی ہو بہو تصویریں  خود اپنی آنکھوں  سے دیکھ لے گا۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہ انسان کے دل میں  جو خیالات،  ارادے اور مقاصد چھپے ہوئے تھے،  اور جن نیتوں  کے ساتھ اس نے سارے اعمال کیے تھے وہ بھی نکال کر سامنے رکھ دیے جائیں  گے،  جیسا کہ آگے سُورۂ عادیات میں  آ رہا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ اِتنے قطعی اور صریح اور ناقابلِ انکار ثبوت سامنے آ جانے کے بعد انسان دم بخود رہ جائے گا اور اُس کے لیے اپنی معذرت میں  کچھ کہنے کا موقع باقی نہ رہے گا( المرسلٰت، آیات ۳۶- ۳۵)۔

۵: اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔  ایک یہ کہ ہر  ایک اکیلا اپنی انفرادی حیثیت میں  ہو گا، خاندان،  جتھّے،  پارٹیاں،  قومیں،  سب بکھر جائیں  گی۔ یہ بات قرآن مجید میں  دوسرے مقامات پر بھی فرمائی گئی ہے۔  مثلاً سورۂ انعام میں  ہے کہ اللہ تعالیٰ اُس روز لوگوں  سے فرمائے گا کہ  ’’ لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہو گئے جیسا ہم نے پہلی مرتبہ تمہیں  پیدا کیا تھا‘‘(آیت۹۴)۔ اور سورۂ مریم میں  فرمایا  ’’یہ اکیلا ہمارے پس آئے گا‘‘(آیت۸۰) اور یہ کہ ’’اِن میں  سے ہر ایک قیامت کے روز اللہ کے حضور اکیلا حاضر ہو گا‘‘(آیت ۹۵)۔ دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں  کہ وہ تمام لوگ جو ہزار ہا برس کے دوران میں  جگہ جگہ مرے تھے،  زمین کے گوشے گوشے سے گروہ در گروہ چلے آرہے ہوں  گے،  جیسا کہ سورۂ نباء میں  فرمایا گیا ’’جس روز صور میں  پھونک مار دی  جائے گی تم فوج در فوج آ جاؤ گے ‘‘(آیت ۱۸)۔ اس کے علاوہ جو مطلب مختلف مفسّرین نے بیان کیے ہیں  اُن کی گنجائش لفظ اَشْتَا تاً میں  نہیں  ہے،  اس لیے ہمارے نزدیک وہ اِس لفظ کے معنوی حدود سے باہر ہیں،  اگرچہ بجائے خود صحیح ہیں  اور قرآن  و حدیث  کے بیان کردہ احوالِ قیامت سے مطابقت رکھتے ہیں۔

۶: ا س کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔  ایک یہ کہ اُن کو اُن کے اَعمال دکھائے جائیں ،  یعنی ہر ایک کو بتا یا جائے کہ وہ دنیا میں  کیا کر کے آیا ہے۔  دوسرے یہ کہ اُن کو ان کے اعمال کی جزا دکھائی جائے۔  اگرچہ یہ دوسرے معنی بھی لِیُرَوْا اَعْمَالَہُمْ کے لیے جا سکتے ہیں ،  لیکن اللہ تعالیٰ نے لِیُرَوْ ا  جَزَآءَ اَعْمَالِہِمْ (تاکہ انہیں  ان کے اعمال کی جزا دکھائی جائے ) نہیں  فرمایا ہے لِیُرَوْ ا اَعْمَا لَہُمْ (تاکہ ان کے اعمال ان کو دکھائے جائیں ) فرمایا ہے۔  اس لیے پہلے معنی ہی قابل ترجیح ہیں ،  خصوصاً جبکہ قرآن مجید میں  متعدد مقامات پر اِس کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ کافر و مومن،  صالح و فاسق، تابعِ فرمان اور نافرمان، سب کو اُن کے نامۂ اعمال ضرور دیے جائیں  گے (مثال کے طور پر ملاحظہ ہو  الحاقَّہ، آیات۱۹ و ۲۵،  اور الانشقاق، آیات ۷ و ۱۰)۔ ظاہر ہے کہ کسی کو اُس کے اعمال دکھانے،  اور اس کا نامۂ اعمال اس کے حوالہ کرنے میں  کوئی فرق نہیں  ہے۔  علاوہ بریں  زمین جب اپنے اوپر گزرے ہوئے حالات پیش کرے گی تو حق و باطل کی وہ کشمکش جو ابتدا سے برپا ہے اور قیامت تک برپا رہے گی، اُس کا پورا نقشہ بھی سب سے سامنے  آ جائے گا، اور اس میں  سب ہی دیکھ لیں  گے کہ حق کے لیے کام کرنے والوں  نے کیا کچھ کیا،  اور باطل کی حمایت کرنے والوں  نے ان کے مقابلہ میں  کیا کیا حرکتیں  کیں۔  بعید نہیں  کہ ہدایت کی طرف بلانے والوں  اور ضلالت پھیلانے والوں  کی ساری تقریریں  اور گفتگوئیں  لوگ اپنے کانوں  سے سن لیں۔  دونوں  طرف کی تحریروں  اور لٹریچر کا پورا ریکارڈ جوں  کا توں  سب کے سامنے لا کر رکھ دیا جائے۔  حق پرستوں  پر باطل پرستوں  کے ظلم، اور دونوں  گروہوں  کے درمیان برپا ہونے والے معرکوں  کے سارے مناظر میدانِ حشر کے حاضرین اپنی آنکھوں  سے دیکھ لیں۔

۷: اِس ارشاد کا ایک سیدھا سادھا مطلب تو یہ  ہے اور یہ بالکل صحیح ہے کہ آدمی کی کوئی ذرّہ برابر نیکی یا بدی بھی ایسی نہیں  ہو گی جو اُس کے نامۂ اعمال میں  درج ہونے سے رہ گئی ہو، اُسے وہ بہرحال دیکھ لے گا۔ لیکن اگر دیکھنے سے مراد اُس کی جزا و سزا دیکھنا لیا جائے تو اس کا یہ مطلب لینا بالکل غلط ہے کہ آخرت میں  ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی جزا اور ہر چھوٹی سے چھوٹی بدی کی سزا ہر شخص کو دی جائے گی،   اور کوئی شخص بھی وہاں  اپنی کسی نیکی کی جزا اور کسی بدی کی سزا پانے سے نہ بچے گا۔ کیونکہ اوّل تو اس کے معنی یہ ہوں  گے کہ ایک ایک بُرے عمل کی سزا،  اور ایک ایک اچھے عمل کی جزا الگ الگ دی  جائے گی۔ دوسرے اس کے معنی یہ بھی ہیں  کہ  کوئی بڑے سے بڑا صالح مومن بھی کسی چھوٹے سے چھوٹے قصور کی سزا پانے سے نہ بچے گا اور کوئی بدترین کافر و ظالم اور بدکار انسان بھی کسی چھوٹے  سے چھوٹے اچھے فعل کا اجر پائے بغیر نہ رہے گا۔ یہ دونوں  معنی قرآن اور حدیث کی تصریحات کے بھی خلا ف ہیں ،  اور عقل بھی اِسے نہیں  مانتی کہ یہ تقاضائے انصاف ہے۔  عقل کے لحاظ سے دیکھیے تو یہ بات آخر کیسے سمجھ میں  آنے کے قابل ہے کہ آپ کا کوئی خادم نہایت وفادار اور خدمت گزار ہو،   لیکن آپ اس کے کسی چھوٹے سے قصور کو بھی معاف نہ کریں،  اور اس  کی ایک ایک خدمت کا اجر و انعام دینے کے  ساتھ اس کے ایک ایک قصور کو گِن گِن کر ہر ایک کی سزا بھی اُسے دے ڈالیں۔  اِسی طرح یہ بھی عقلاً ناقابلِ فہم ہے کہ آپ کا پروردہ کوئی شخص جس پر آپ کے بے شمار احسانات ہوں ،  وہ آپ سے غدّاری اور بے وفائی کرے اور آپ کے احسانات کا جواب ہمیشہ نمک حرامی ہی سے دیتا رہے،  مگر آپ  اس کے مجموعی رویّے کو نظر انداز کر کے اس کی ایک ایک غدّاری کی الگ سزا اور اس کی ایک ایک خدمت کی،  خواہ وہ کسی وقت پانی لا کر دے دینے یا پنکھا جھل دینے ہی کی خدمت ہو، الگ جزا دیں۔  اب رہے قرآن و حدیث، تو وہ وضاحت  کے ساتھ مومن، منافق، کافر، مومنِ صالح، مومنِ خطاکار، مومنِ ظالم و فاسق، محض کافر، اور کافرِ مفسد و ظالم وغیرہ مختلف قسم کے لوگوں  کی جزا و سزا کا ایک مفصل قانون بیان کرتے ہیں  اور یہ جزا و سزا دنیا سے آخرت تک انسان کی پوری زندگی پر حاوی ہے۔  اس سلسلے میں  قرآن مجید اصولی طور پر چند باتیں  بالکل وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے : اوّل یہ کہ کافر و مشرک اور منافق کے اعمال (یعنی وہ اعمال جن کو نیکی سمجھا جاتا ہے ) ضائع کر دیے گئے،  آخرت میں  وہ ان کا کوئی اجر نہیں  پا سکیں  گے۔  اُن کا اگر کوئی اجر ہے  بھی تو وہ دنیا ہی میں  اُن کو مل جائے گا۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو الاعراف ۱۴۷۔ التوبہ ۶۷-۱۷ تا ۶۹۔ ہود ۱۶- ۱۵۔ ابراہیم۱۸۔ الکہف ۱۰۵-۱۰۴۔  النور ۳۹۔ الفرقان ۲۳۔ الاحزاب ۱۹۔ الزُّمَر ۶۵۔  الاحقاف ۲۰۔ دوم یہ کہ بدی کی سزا اُتنی ہی دے جائے گی جتنی بدی ہے،  مگر نیکیوں  کی جزا اصل فعل سے زیادہ دی جائے گی، بلکہ کہیں  تشریح ہے کہ ہر نیکی کا اجر اس سے ۱۰ گنا ہے،  اور کہیں  یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اللہ جتنا چاہے نیکی  کا اجر بڑھا کر دے۔  ملاحظہ ہو البقرہ ۲۶۱۔ الاَنعام ۱۶۰۔ یونس ۲۷-۲۶۔ النور ۳۸۔ القصص ۸۴۔ سبا ۳۷۔ المومن ۴۰۔  سوم یہ کہ مومن اگر بڑے بڑے گناہوں  سے پرہیز کریں  گے تو اُن کے چھوٹے گنا ہ معاف کر دیے جائیں  گے۔  النساء ۳۱۔ الشوریٰ۳۷۔ النجم ۳۲۔ چہارم یہ کہ مومن صالح سے ہلکاحساب لیا جائے گا، اس کی برائیوں  سے درگزر کیا جائے گا اور اس کے بہترین اعمال کے لحاظ سے اس کو اجر دیا جائے گا۔ عنکبوت۷۔ الزمر۳۵۔ الاحقاف۱۶۔ الانشقاق ۸۔ احادیث بھی اِس معاملہ کو بالکل  صاف کر دیتی ہیں۔  اس سے پہلے ہم سورۂ انشقاق کی تفسیر میں  وہ احادیث نقل کر چکے ہیں  جو قیامت کے روز ہلکے حساب اور سخت حساب فہمی کی تشریح  کرتے ہوئے حضور ؐ ے فرمائی ہیں ( تفہیم القرآن، جلد ششم،  الانشقاق، حاشیہ۶)۔ حضرت اَنَس کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کے ساتھ کھانا کھار ہے تھے۔  اتنے میں  یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا  اور عرض کیا کہ  ’’یا رسول اللہ کیا میں   اُس ذرّہ برابر بُرائی کا نتیجہ دیکھوں گا جو مجھ سے سرزد ہوئی؟‘‘ حضور  ؐ نے فرمایا ’’اے ابوبکر دنیا میں  جو معاملہ بھی تمہیں  ایسا پیش آتا ہے جو تمہیں  ناگوار ہو وہ اُن ذرّہ برابر برائیوں  کا بدلہ ہے جو تم سے صادر ہوں،  اور جو ذرّہ برابر نیکیاں  بھی تمہاری ہیں  انہیں  اللہ آخرت میں  تمہارے لیے محفوظ رکھ رہا ہے ‘‘(ابن جریر، ابن ابی حاتم، طَبرَانی فی الاوسط، بیہقی فی الشعب، ابن المُنذِر، حاکم، ابن مَرْدُوْیَہ، عبد بن حُمَید)۔ حضرت ابو ایوب انصاری سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس آیت  کے بارے میں  ارشاد فرمایا تھا کہ  ’’ تم میں  سے جو شخص نیکی کرے گا  اس کی جزاء آخرت میں  ہے اور جو کسی قسم کی برائی کرے گا وہ اِسی دنیا  میں  اُس کی سزا مصائب اور امراض کی شکل میں  بھگت لے گا ‘‘(ابن مَرْدُوْیَہ)۔ قَتَادہ نے حضرت اَنَس کے حوالہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کا یہ ارشان نقل کیا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ مومن پر ظلم نہیں  کرتا۔ دنیا میں  اس کی نیکیوں  کے بدلے وہ رزق دیتا ہے اور آخرت میں  ان کی جزا دے گا۔ رہا کافر، تو دنیا میں  اس کی بھلائیوں  کا بدلہ چُکا دیا جاتا ہے،   پھر جب قیامت ہو گی تو اس کے حساب میں  کوئی نیکی نہ ہو گی‘‘ (ابن جریر)۔ مسروق حضرت عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں  کہ اُنہوں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم سے پوچھا کہ عبداللہ بن جُدْعان جاہلیت کے زمانہ میں  صلۂ رحمی کرتا تھا،  مسکین کو کھانا کھلاتا تھا،  مہمان نواز تھا، اسیروں  کو رہائی دلواتا تھا۔ کیا آخرت میں  یہ اس کے لیے نافع ہو گا؟ حضور ؐ نے فرمایا نہیں،  اس نے مرتے وقت تک کبھی یہ نہیں  کہا کہ رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ، ’’ میرے پروردگار، روزِ جزا میں  میری خطا معاف کیجیو‘‘(ابن جریر)۔ اِسی طرح کے جوابات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے بعض اور لوگوں  کے بارے میں  بھی دیے ہیں  جو جاہلیت کے زمانہ میں  نیک کام کرتے تھے،  مگر مرے کفر و شرک ہی کی حالت میں   تھے۔  لیکن حضور ؐ کے بعض ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر کی نیکی اُسے جہنم کے عذاب سے تو نہیں  بچا سکتی، البتّہ جہنّم میں  اُس کو وہ سخت سزا نہ دی جائے گی جو ظالم اور فاسق اور بدکار کافروں  کو دی جائے گی۔ مثلاً حدیث میں  آیا ہے کہ حاتم طائی کی سخاوت کی وجہ سے اُس کو ہلکا عذاب دیا جائے گا (رُوح المعانی)۔ تاہم یہ آیت  انسان کو ایک بہت اہم حقیقت پر متنبہ کرتی ہے،  اور وہ یہ ہے کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی اپنا ایک وزن اور اپنی ایک قدر  رکھتی ہے،  اور یہی حال بدی کا بھی ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی بدی بھی حساب میں  آنے والی چیز ہے،  یونہی نظر انداز کر دینے والی چیز نہیں  ہے۔  اس لیے کسی چھوٹی نیکی  کو چھوٹا سمجھ کر اسے چھوڑنا نہیں  چاہیے،  کیونکہ ایسی بہت سی نیکیاں  مل کر اللہ تعالیٰ کے حساب میں  ایک بہت بڑی نیکی قرار پا سکتی  ہیں ،  اور  کسی چھوٹی سے چھوٹی بدی کا ارتکاب بھی نہ کرنا چاہے کیونکہ اس طرح کے بہت سے چھوٹے گناہ مل کر گناہوں  کا ایک انبار بن سکتے  ہیں ۔  یہی بات ہے جس کو متعدد احادیث میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم نے ارشاد فرمایا ہے۔  بخاری و مسلم میں  حضرت عَدی بن حاتم سے یہ روایت  منقول ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا ’’دوزخ کی آگ سے بچو خواہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا دینے یا ایک اچھی بات کہنے ہی کے ذریعہ سے ہو۔‘‘ اِنہی حضرت عَدِی سے صحیح روایت میں  حضور  ؐ کا یہ قول نقل ہو ا ہے کہ  ’’ کسی نیک کام کو بھی حقیر نہ سمجھو،  خواہ وہ کسی  پانی مانگنے والے کے برتن میں  ایک ڈول ڈال دینا ہو، یا یہی نیکی ہو کہ تم اپنے کسی بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملو۔‘‘ بخاری میں  حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ حضور ؐ  نے عورتوں  کو  خطاب کر کے فرمایا ’’ اے مسلمان عورتو، کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے ہاں  کوئی چیز بھیجنے کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا  ایک کھُر ہی کیوں  نہ ہو۔‘‘ مُسند احمد، نَسائی اور ابن ماجہ میں  حضرت عائشہ ؓ کی روایت  ہے کہ حضور ؐ فرمایا کرتے تھے ’’ اے عائشہ،  اُن گناہوں  سے بچی رہنا جن کو چھوٹا سمجھا جاتا ہے کیونکہ اللہ کے ہاں  ان کی پرسش  بھی ہونی ہے۔ ‘‘ مسند احمد میں  حضرت  عبداللہ بن مسعود کا بیان  ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا  ’’خبردار، چھوٹے گناہوں  سے بچ کر رہنا،  کیونکہ وہ سب آدمی پر جمع ہو جائیں  گے یہاں  تک کہ اسے ہلاک کر دیں  گے۔ ‘‘ (گناہ کبیرہ اور صغیرہ کے فرق کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ تفہیم القرآن، جدل اوّل، النساء، حاشیہ ۵۳۔ جلد پنجم، النجم، حاشیہ ۳۲)۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

۱۰۰۔سورۃ العٰدیٰت

 

نام

 

پہلے ہی لفظ اَلْعٰدِیٰت کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اِس کے مکی اور مدنی ہونے میں  اختلاف ہے۔  حضرت عبداللہ بن مسعود، جابر،  حسن بصری، عِکْرِمہ اور  عطاء کہتے ہیں  کہ یہ مکّی ہے۔  حضرت اَنَس بن مالک اور قتادہ کہتے ہیں  کہ مدنی ہے۔  اور حضرت ابن عباس سے دو قول منقول ہوئے ہیں۔  ایک یہ کہ یہ سورۃ مکی ہے اور دوسرا یہ کہ مدنی ہے۔  لیکن سورۃ کا مضمون اور اندازِ بیان صاف بتا رہا ہے کہ یہ نہ صرف مکّی ہے،  بلکہ مکّہ کے بھی ابتدائی دور میں  نازل ہوئی ہے۔

 

موضوع اور مضمون

 

اِس کا مقصود لوگوں  کو یہ سمجھانا ہے کہ انسان آخرت کا منکر یا اُس سے غافل ہو کر کیسی اخلاقی پستی میں  گر جاتا ہے،  اور ساتھ ساتھ لوگوں  کو اس بات سے خبردار بھی کرنا ہے کہ آخرت میں  صرف اُن کے ظاہری افعال ہی کی نہیں  بلکہ ان کے دلوں  میں  چھُپے ہوئے اَسرار تک کی جانچ پڑتا ہو گی۔

اِس مقصد کے لیے عرب میں  پھیلی ہوئی اُس عام بد امنی کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس سے سارا ملک تنگ آیا ہوا تھا۔ ہر طرف کشت و خون برپا تھا۔ لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ قبیلوں  پر قبیلے چھاپے مار رہے تھے اور کوئی شخص بھی رات چین سے نہیں  گزار سکتا تھا کیونکہ ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتا تھا کہ کب کوئی دشمن صبح سویرے اس کی بستی پر ٹوٹ پڑے۔  یہ ایک ایسی حالت تھی جسے عرب کے سارے ہی لوگ جانتے تھے اور اس کی قباحت کو محسوس کرتے تھے۔  اگرچہ  لُٹنے والا اس پر ماتم کرتا تھا اور لوٹنے والا اس پر خوش ہوتا تھا، لیکن جب کسی وقت لوٹنے والے کی اپنی شامت آ جاتی تھی تو وہ بھی محسوس کر لیتا تھا کہ یہ کیسی بُری حالت ہے جس میں  ہم لوگ مبتلا ہیں۔  اِس صورت حال  کی طرف اشارہ کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی اور اپس میں  خدا کے حضور جواب دہی سے ناواقف ہو کر انسان اپنے ربّ کا ناشکرا ہو گیا ہے،  وہ خدا کی دی ہوئی قوتوں  کو ظلم و ستم اور غارت گری کے لیے استعمال کر رہا ہے،  وہ مال و دولت کی محبت میں  اندھا ہو کر ہر طریقے سے اُسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے،  خواہ وہ کیسا ہی ناپاک اور گھِناؤنا طریقہ ہو، اور اُس کی حالت خود اِس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ وہ اپنے ربّ کی عطا کی ہوئی قوتوں  کا غلط استعمال کر کے اس کی ناشکری کر رہا ہے۔  اُس کی یہ روش ہر گز نہ ہوتی اگر وہ اُس وقت کو جانتا ہوتا جب قبروں  سے زندہ ہو کر اُٹھنا ہو گا، اور جب وہ ارادے اور وہ اغراض و مقاصد تک  دلوں  سے نکال کر سامنے رکھ دیے جائیں  گے جن کی تحریک سے اُس نے دنیا میں  طرح طرح کے کام کیے تھے۔  اُس وقت انسانوں  کے ربّ کو خوب معلوم ہو گا کہ کون کیا کر کے آیا ہے،  اور کس کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جانا چاہیے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

قسم ہے اُن (گھوڑوں ) کی جو پھُنکارے مارتے ہوئے دَوڑتے ہیں، ۱ پھر (اپنی ٹاپوں  سے ) چِنگاریاں  جھاڑتے ہیں، ۲ پھر صبح سویرے چھاپہ مارتے ہیں،  ۳ پھر اس موقع پر گَرد و غبار اُڑاتے ہیں،  پھر اِسی حالت میں  کسی مجمع کے اندر جا گھُستے ہیں۔  حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے ربّ  کا بڑا ناشکرا ہے،  ۴ اور وہ خود اِس پر گواہ ہے،  ۵ اور وہ مال و دولت کی محبت میں  بُری طرح مُبتلا ہے۔  ۶ تو کیا وہ اُس وقت کو نہیں جانتا جب قبروں  میں  جو کچھ (مدفون) ہے اُسے نکال لیا جائے گا، ۷ اور سینوں  میں  جو کچھ (مخفی) ہے اُسے بر آمد کر کے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟ ۸ یقیناً اُن کا ربّ اُس روز اُن سے خوب باخبر ہو گا۔ ۹ ؏۱

 

تفسیر

 

۱: آیت کے الفاظ  میں  یہ تصریح نہیں  ہے کہ دَوڑنے والوں  سے مراد گھوڑے ہیں ،  بلکہ صرف وَالْعٰدِیٰت (قسم ہے دوڑنے والوں  کی) فرمایا گیا ہے۔  اسی لیے مفسّرین کے درمیان اس باب میں  اختلاف ہوا ہے کہ دوڑنے والوں  سے مراد کیا ہے۔  صحابہ و تابعین کا ایک گروہ اِس طرف گیا ہے کہ اس سے مراد گھوڑے ہیں ، اور ایک دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ ا س سے مراد اونٹ ہیں ۔  لیکن چونکہ دوڑتے ہوئے وہ خاص قسم کی آواز جسے ضَبْح کہتے ہیں،  گھوڑوں  ہی کی شدّتِ تنفُّس سے نکلتی ہے،  اور بعد کی آیات بھی جن میں  چنگاریاں  جھاڑنے اور صبح سویرے کسی بستی پر چھاپہ مارنے اور وہاں  گرد اُڑانے کا ذکر آیا ہے،  گھوڑوں  ہی پر راست آتی ہیں،  اس لیے اکثر محققین نے اس سے مراد گھوڑے  ہی لیے ہیں۔  ابن جریر کہتے ہیں  کہ ’’دونوں  اقوال میں  سے یہ قول ہی قابل ترجیح ہے کہ دوڑنے والوں  سے مراد گھوڑے ہیں ،  کیونکہ اونٹ ضَبح نہیں  کرتا، گھوڑا ہی ضَبْح کیا کرتا ہے،  اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اُن  دوڑنے والوں  کی قسم جو  دوڑتے ہوئے ضَبْح کرتے ہیں۔ ‘‘ امام رازی  کہتے ہیں  کہ ’’اِن آیا ت کے الفاظ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں  کہ مراد گھوڑے ہیں ،  کیونکہ ضَبْح کی آواز گھوڑے کے سوا کسی سے نہیں  نکلتی،  اور آگ جھاڑنے کا فعل بھی پتھروں  پر سُموں  کی ٹاپ پڑنے کے سوا کسی اور طرح کے دوڑنے سے نہیں  ہوتا، اور اسی طرح سویرے چھاپہ مارنا بھی دوسرے جانوروں  کی بہ نسبت گھوڑوں  ہی کے ذریعہ  سے سہل ہوتا ہے۔ ‘‘

۲: چنگاریاں  جھاڑنے کے الفاظ اس پات پر دلالت کرتے ہیں  کہ یہ گھوڑے رات کے وقت دوڑتے ہیں،  کیونکہ رات ہی کو ان  کی ٹاپوں  سے جھَڑنے والے شرارے نظر آتے ہیں۔

۳: اہلِ عرب کا قاعدہ تھا کہ جب کسی بستی پر اُنہیں  چھاپہ مارنا ہوتا تو رات کے اندھیرے میں  چل کر جاتے تا کہ دشمن خبردار نہ ہو سکتے،  اور صبح سویرے اچانک اُس پر ٹوٹ پڑتے تھے تا کہ صبح کی روشنی میں  ہر چیز نظر آ سکے،  اور دن اتنا زیادہ روشن بھی نہ ہو کہ دشمن دور سے ان کو آتا دیکھ لے اور مقابلہ کے لیے تیار ہو جائے۔

۴:  یہ ہے وہ بات جس پر اُن گھوڑوں  کی قسم کھائی گئی ہے جو رات کو پھُنکارے مارتے اور چنگاریاں  جھاڑتے ہوئے دوڑتے ہیں،  پھر صبح سویرے غبار اُڑاتے ہوئے کسی بستی پر جا پڑتے ہیں  اور مدافعت کرنے والوں  کی جماعت میں  گھُس جاتے ہیں۔  تعجب اِس پر ہوتا ہے کہ اکثر مفسرین نے ان گھوڑوں  سے مراد غازیوں  کے گھوڑے لیے ہیں  اور جس مجمع میں  ان کے جا گھسنے کا ذکر کیا گیا ہے اُس سے مراد اُن کے نزدیک کفار کا مجمع ہے۔  حالانکہ یہ قَسَم اِس بات پر کھائی گئی ہے کہ  ’’ انسان اپنے ربّ کا بڑا نا شکرا ہے۔ ‘‘ اب یہ ظاہر ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ میں  غازیوں  کے گھوڑوں  کی دوڑ دھوپ اور کفار کے کسی مجمع پر اُن کا ٹوٹ پڑنا اِس امر پر کوئی دلالت نہیں  کرتا کہ انسان اپنے ربّ کا ناشکرا ہے،  اور نہ بعد کے یہ فقرے کہ انسان اپنی ناشکری  پر خود گواہ ہے اور وہ مال و دولت کی محبت میں  بری طرح مبتلا ہے،  اُن لوگوں  پر چسپاں  ہوتے ہیں  کہ جو خدا کی راہ میں  جہاد کرنے کے لیے نکلتے ہیں۔  اس لیے لا محالہ یہ ماننا پڑے گا کہ اس سورہ کی ابتدائی پانچ آیات میں  جو قسمیں  کھائی گئی ہیں  اُن کا  اشارہ دراصل اُس عام کشت و خون اور غارت گری کی طرف ہے جو عرب میں  اُس وقت برپا تھی۔ جاہلیت کے زمانے میں  رات ایک بہت خوفناک چیز ہوتی تھی جس میں  ہر قبیلے اور بستی کے لوگ یہ خطرہ محسوس کرتے تھے کہ نہ معلوم کون سا دشمن اُن پر چڑھائی  کرنے کے لیے آ رہا ہو، اور دن کی روشنی نمودار ہونے پر وہ اطمینان کا سانس لیتے تھے کہ رات خیریت سے گزر گئی۔ وہاں  قبیلوں  کے درمیان محض انتقامی لڑائیاں  ہی نہیں  ہوتی تھیں ،  بلکہ مختلف قبیلے ایک دوسرے پر اِس غرض کے لیے بھی چھاپے مارتے رہتے تھے کہ ان کی دولت لوٹ لیں،  ان کے مال مویشی  ہانک لے جائیں ،  اور ان کی عورتوں  اور بچوں  کو غلام بنا لیں۔  اس ظلم و ستم اور غارت گری کو،  جو زیادہ تر گھوڑوں  پر سوار ہو کر ہی کی جاتی تھی، اللہ تعالیٰ اِس امر کی دلیل کے طور پر پیش کر رہا ہے کہ انسان اپنے ربّ کا بڑا نا شکرا ہے۔  یعنی جس طاقت کو وہ جنگ و جدل اور غارت گری  میں  استعمال کر رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ نے اُسے اِس لیے تو نہیں  دی تھی کہ اس سے  یہ کام لیا جائے۔  پس درحقیقت یہ بہت بڑی ناشکری ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے اِن وسائل اور اس کی بخشی ہوئی اِن طاقتوں  کو اُس فساد فی الارض میں  استعمال کیا جائے جو اللہ کو سب سے زیادہ  ناپسند ہے

۵: یعنی اُس کا ضمیر اِس پر گواہ ہے،  اُس کے اعمال اِس پر گواہ ہیں،  اور بہت سے کافر انسان خود اپنی زبان سے عَلانیہ نا شکری کا اظہار کرتے ہیں ،  کیونکہ ان کے نزدیک خدا ہی سرے سے موجود نہیں  کجا کہ وہ اپنے اوپر اس کی کسی نعمت کا اعتراف کریں  اور اس کا شکر اپنے ذمّے لازم سمجھیں۔

۶: اصل الفاظ ہیں  وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ۔ اس فقرے  کا لفظی ترجمہ یہ ہو گا کہ ’’ وہ خیر کی محبت میں  بہت سخت ہے۔ ‘‘ لیکن عربی زبان میں  خیر کا لفظ نیکی اور بھلائی کے لیے مخصوص نہیں  ہے بلکہ مال و دولت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔  چنانچہ سورۂ بقرہ آیت ۱۸۰ میں  خیر بمعنی مال و دولت ہی استعمال ہوا ہے۔  یہ بات کلام کے موقع و محل سے معلوم ہوتی ہے کہ کہاں  خیر کا لفظ نیکی کے  معنی میں  ہے اور کہاں  مال و دولت کے معنی میں۔  اِس آیت کے سِیاق و سَباق سے خود ہی یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ اِس میں  خیر مال و دولت کے معنی میں  ہے نہ کہ بھلائی اور نیکی کے معنی میں،  کیونکہ جو انسان اپنے ربّ کا ناشکرا ہے اور اپنے طرزِ عمل سے خود اپنی ناشکری پر شہادت دے رہا ہے،  اُس کے بارے میں  یہ نہیں   کہا جا سکتا کہ وہ نیکی اور بھلائی کی محبت میں  بہت سخت ہے۔

۷: یعنی مرے ہوئے انسان جہاں  جس حالت میں  بھی پڑے ہوں  گے وہاں  سے اُن کو نکال کر زندہ انسانوں  کی شکل میں  اٹھایا جائے گا۔

۸: یعنی دلوں  میں  جو ارادے اور نیّتیں ،  جو اغراض و مقاصد، جو خیالات و افکار،  اور ظاہری افعال کے پیچھے جو باطنی محرّکات (Motives ) چھُپے ہوئے ہیں  وہ سب کھول کر رکھ دیے جائیں  گے اور ان کی جانچ پڑتا ل کر کے اچھائی کو الگ اور بُرائی کو الگ چھانٹ دیا جائے گا۔ بالفاظِ دیگر فیصلہ صرف ظاہر ہی کو دیکھ کر نہیں  کیا جائے گا کہ انسان نے عملاً کیا کچھ کیا، بلکہ دلوں  میں  چھُپے ہوئے رازوں  کو بھی نکال کر یہ دیکھا جائے گا کہ جو جو کام انسان نے کیے وہ کس نیت سے اور کس غرض سے کیے۔  اس بات پر اگر انسان غور کرے تو وہ یہ تسلیم کیے بغیر نہیں  رہ سکتا  کہ اصلی اور مکمّل انصاف خدا کی عدالت کے سوا اور کہیں  نہیں  ہو سکتا۔ دنیا کے لادینی قوانین بھی اصولی حیثیت سے یہ ضروری سمجھتے ہیں  کہ کسی شخص کے محض ظاہری فعل کی بنا پر اُسے سز ا نہ دی جائے بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ اُس نے کس نیت سے وہ فعل کیا ہے۔  لیکن دنیا کی کسی عدالت کے پاس بھی وہ ذرائع نہیں  ہیں  جن سے وہ نیت کی ٹھیک ٹھیک تحقیق کر سکے۔  یہ صرف اور صرف خدا ہی کر سکتا ہے کہ انسان کے ہر ظاہری فعل کے پیچھے جو باطنی محرِّکات کار فرما رہے ہیں  ان کی بھی جانچ پڑتا کر ے اور اس کے بعد یہ فیصلہ کرے کہ وہ کس جزا یا سزا کا مستحق ہے۔  پھر آیت کے الفاظ یہ ظاہر کرتے ہیں  کہ یہ فیصلہ محض اللہ کے اُس علم کی بنا پر نہیں  ہو گا جو وہ دلوں  کے ارادوں  اور نیّتوں  کے بارے میں  پہلے ہی سے رکھتا ہے،  بلکہ قیامت کے روز اِن رازوں  کو کھول کر علانیہ سامنے رکھ دیا جائے گا  اور کھلی عدالت میں  جانچ پڑتال کر کے یہ دکھا دیا جائے گا کہ ان میں  خیر کیا تھی اور شر کیا تھا۔ اِسی لیے حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔  تحصیل کے معنی کسی چیز کو نکال کر باہر لانے کے بھی ہیں،  مثلاً چھلکا اتار کر مغز نکالنا، اور مختلف قسم کی چیزوں  کو چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کرنے کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔  لہٰذا دلوں  میں  چھُپے ہوئے اسرار کی تحصیل میں  یہ دونوں  باتیں  شامل ہیں۔  اُن کو کھول کر ظاہر کر دینا بھی،  اور ان کو چھانٹ کر بُرائی  اور بھلائی کو الگ  کر دینا بھی۔ یہی مضمون سُورۂ طارق میں  اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآ ئِرُ۔’’ جس روز پوشیدہ  اَسرار کی جانچ پڑتا ہو گی۔‘‘(آیت۹)۔

۹: یعنی اُس کو خوب معلوم ہو گا کہ کون کیا ہے اور کس سزا  یا جزا کا مستحق ہے۔

 

 

 

۱۰۱۔سورۃ القارعۃ

 

 

نام

 

پہلے لفظ اَلْقَارِعَۃِ کو اس کا نام قرار دیا گیا ہے۔  یہ صرف نام ہی نہیں  ہے بلکہ اس کے مضمون کا عنوان بھی ہے،  کیونکہ اس میں  ساراذکر قیامت ہی کا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

اس  کے مکّی ہونے میں  کوئی اختلاف نہیں  ہے۔  بلکہ اس کے مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بھی مکّۂ معظمہ کے ابتدائی دور کی نازل شدہ سورتوں  میں  سے ہے۔

 

موضوع اور مضمون

 

اس کا موضوع ہے قیامت اور آخرت۔ سب سے پہلے لوگوں  کو یہ کہہ کر چَونکا یا گیا ہے کہ عظیم حادثہ ! کیا ہے وہ عظیم حادثہ؟ تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے ؟ اِس طرح سامعین کو کسی ہولناک واقعہ کے پیش آنے کی خبر سننے کے لیے تیار کرنے کے بعد دو فقروں  میں  ان کے سامنے قیامت کا نقشہ پیش کر دیا گیا ہے کہ اُس روز لوگ گھبراہٹ کے عالم میں  اِس طرح ہر طرف بھاگے بھاگے پھر یں  گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے بِکھرے ہوئے ہوتے ہیں،  اور پہاڑوں  کا حال یہ ہو گا کہ وہ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں  گے،  ان کی بندش ختم ہو جائے گی اور وہ دھُنکے ہوئے اون کی طرح ہو کر رہ جائیں  گے۔  پھر بتایا گیا ہے کہ آخرت میں  جب لوگوں  کا حساب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی  عدالت قائم ہو گی تو اُس میں  فیصلہ اِس بنیاد پر ہو گا کہ کس شخص کوے نیک اعمال بُرے اعمال سے زیادہ وزنی ہیں ،  اور کس کے نیک اعمال کا وزن اس کے بُرے اعمال کی بہ نسبت ہلکا ہے۔  پہلی قسم کے لوگوں  کو وہ عیش نصیب  ہو گا  جس سے وہ خوش ہو جائیں  گے،  اور دوسری قسم کے لوگوں  کو اُس گہری کھائی میں  پھینک دیا جائے گا جو آگ سے بھری ہوئی ہو گی۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

 

عظیم حادثہ! ۱ کیا ہے وہ عظیم حادثہ؟ تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے ؟ وہ دن جب لوگ بِکھرے ہوئے پروانوں  کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھُنکے ہوئے اُون کی طرح ہوں  گے۔  ۲ پھر ۳ جس کے پلڑے بھاری ہوں  گے وہ دل پسند عیش میں  ہو گا، اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں  گے ۴ اس کی جائے قرار گہری کھائی ہو گی۔ ۵ اور تمہیں  کیا خبر کہ وہ کیا چیز ہے ؟ بھڑکتی ہوئی آگ۔ ۶  ؏۱

 

تفسیر

 

۱: اصل میں  لفظ قارِعہ استعمال ہو  ا ہے جس کا لفظی ترجمہ ہے  ’’ٹھونکنے والی‘‘۔ قَرع کے معنی کسی چیز کو کسی چیز پر زور سے مانے کے ہیں  جس سے سخت آواز نکلے۔  اس لغوی معنی کی مناسبت سے قارعہ کا لفظ ہولناک حادثے اور بڑی بھاری آفت کے لیے بولا جاتا ہے۔  مثلاً عرب کہتے ہیں  فَزَعَتْہُم القَارعَۃ  یعنی فلاں  قبیلے یا قوم کے لوگوں   پر سخت آفت آ گئی ہے۔  قرآن مجید میں  بھی ایک جگہ یہ لفظ کسی قوم پر بڑی مصیبت نازل ہونے کے لیے استعمال ہوا ہے۔  سُورۂ رعد میں  ہے وَلَا یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا تُصِیْبھُُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَۃٌ۔ ’’جن لوگوں  نے کفر کیا ہے ان پر ان کے کرتوتوں  کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت نازل ہوتی رہتی ہے۔ ‘‘(آیت ۳۱) لیکن یہاں  القارعہ کا لفظ قیامت کے لیے استعمال کیا گیا ہے،  اور سورۂ الحاقّہ میں  بھی قیامت کو اسی نام سے موسوم کیا گیا ہے۔  (آیت ۴)۔ اس مقام پر یہ بات نگاہ میں  رہنی چاہیے کہ یہاں  قیامت  کے پہلے مرحلے سے لے کر عذاب و ثواب کے آخرت مرحلے تک پورے عالمِ آخرت کا ایک جا ذکر ہو رہا ہے۔

۲: یہاں  تک قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر ہے۔  یعنی جب وہ حادثۂ عظیم برپا ہو گا جس کے نتیجے میں  دنیا کا سارا  نظام درہم برہم ہو جائے گا اُس وقت لوگ گھبرا ہٹ کی حالت میں  اِس طرح بھاگے بھاگے پھریں  گے جیسے روشنی  پر آنے والے پروانے ہر طرف پراگندہ و منتشر ہوتے ہیں،  اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھُنکے ہوئے اون کی طرح اڑنے لگیں  گے۔  رنگ برنگ کے اون سے پہاڑوں  کو تشبیہ اس لیے دی گئی ہے کہ اُن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔

۳: یہاں  سے قیامت کے دوسرے مرحلے کا ذکر  شروع ہوتا ہے جب  دوبارہ زندہ ہو کر لوگ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں  پیش ہوں  گے۔

۴: اصل میں  لفظ مَوَازِیْن استعمال ہوا ہے جو موزون کی جمع بھی ہو سکتا ہے اور میزان کی جمع بھی۔ اگر اس کو موزون کی جمع قرار دیا جائے تو موازین  سے مراد وہ اعمال ہوں  گے جن کا اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں  کوئی وزن ہو، جو اس کے ہاں  کسی قدر کے مستحق ہوں۔  اور اگر اسے میزان کی جمع قرار دیا جائے تو موازین سے مراد ترازو کے پلڑے ہوں  گے۔  پہلی صورت میں  مَوازین کے بھاری اور ہلکے ہونے کا مطلب نیک اعمال کا برے اعمال کے مقابلے میں  بھاری  یا ہلکا ہونا ہے،  کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں  صرف نیکیاں  ہی وزنی اور قابلِ قدر ہیں۔  دوسری صورت میں  موازین کے بھاری ہونے کا مطلب  اللہ جلّ شانہ، کی میزانِ عدل میں  نیکیوں  کے پلڑے کا برائیوں  کی بہ نسبت زیادہ بھاری ہونا ہے،  اور اُن کا ہلکا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بھلائیوں  کا پلڑا برائیوں   کے پلڑے کی بہ نسبت ہلکا ہو۔  اس کے علاوہ عربی زبان کے محاورے میں  میزان کا لفظ وزن کے معنی مییں  بھی استعمال ہوتا ہے،  اور اِس معنی کے لحاظ سے وزن کے بھاری اور ہلکا ہونے سے مراد  بھلائیوں  کا وزن بھاری یا ہلکا ہونا ہے۔  بہر حال موازین کو خواہ موزون کے معنی میں  لیا جائے،  یا میزان کے معنی میں،  یا وزن کے معنی میں،  مدّعا ایک ہی رہتا ہے،  اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں  فیصلہ اِس بنای د پر ہو گا کہ آدمی اعمال  کی جو پونجی لے کر آیا ہے وہ وزنی ہے،  یا بے وزن، یا اس کی بھلائیوں  کا وزن اُس کی برائیوں  کے وزن سے زیادہ ہے یا کم۔ یہ مضمون قرآن مجید میں  متعدد مقامات پر آیا ہے کہ جن کو نگاہ میں  رکھا جائے تو اس کا مطلب پوری طرح واضح ہو جاتا ہے۔  سورۂ اَعراف میں  ہے ’’اور وزن اُس روز حق ہو گا، پھر جن کے پلڑے بھاری ہوں  گے وہی  فلاح پائیں  گے،  اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں  گے وہی اپنے آپ کو خسارے  میں  مبتلا کرنے والے ہوں  گے ‘‘(آیات ۹-۸)۔ سورۂ کہف میں  ارشاد ہوا’’ اے نبی اِن لوگوں  سے کہو، کیا ہم تمہیں  بتائیں  کہ اپنے اعمال میں  سب سے زیادہ ناکام و  نا مراد  لوگ کون ہیں ؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں  جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔  یہ وہ لوگ ہیں  جنہوں  نے اپنے ربّ کی آیا ت کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لیے ان کے سارے  اعمال ضائع ہو گئے،  قیامت کے روز ہم انہیں  کوئی وزن نہ دیں  گے ‘‘ (آیات ۱۰۵-۱۰۴)۔ سورۂ انبیاء میں  فرمایا ’’قیامت کے روز ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو رکھ دیں  گے،  پھر کسی شخص پر ذرّہ برابر ظلم نہ ہو گا۔ جس کا رائی کے دانے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہو گا وہ ہم لے آئیں  گے اور حساب لگانے کے لیے ہم کافی ہیں ‘‘(آیت۴۷)۔ اِن آیات سے معلوم ہوا کہ کفر اور حق سے انکار بجائے خود اتنی بُرائی ہے کہ وہ برائیوں  کے پلڑے کو لازماً جھُکا دے گی اور کافر کی کوئی نیکی ایسی  نہ ہو گی کہ بھلائیوں  کے پلڑے میں  اُس کا کوئی وزن ہو جس سے اُس کی نیکی کا پلڑا جھُک سکے۔  البتہ مومن کے پلڑے میں  ایمان کا وزن بھی ہو گا اور اس کے ساتھ اُن نیکیوں  کا وزن بھی جو اس نے دنیا میں   کیں ۔  دوسری طرف اُس کی جو بَدی بھی ہو گی وہ بدی کے پلڑے میں  رکھ دی جائے گی۔ پھر دیکھا جائے گا کہ آیا نیکی کا پلڑا جھُکا ہوا ہے یا بدی کا۔

۵: اصل الفاظ ہیں  اُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ ’’ اُس کی ماں  ھاویہ ہو گی۔‘‘ھاوِیَہ ھویٰ سے ہے جس کے معنی اونچی جگہ سے نیچی جگہ گرنے کے ہیں،  اور ھاوِیہ اُس گہرے گڑھے کے لیے بولا جاتا ہے جس میں  کوئی چیز گرے۔  جہنّم کو ھاویہ کے نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ وہ بہت عَمِیق ہو گی اور اہلِ جہنّم اس میں  اوپر سے پھینکے جائیں  گے۔  رہا یہ ارشاد کہ اس کی ماں  جہنّم ہو گی،  اِس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ماں  کی گود بچے کا ٹھکانا ہوتی ہے،  اسی طرح آخرت میں  اہلِ جہنّم کے لیے جہنّم کے سوا کوئی ٹھکانا نہ ہو گا۔

۶: یعنی وہ محض ایک گہری کھائی ہی نہ ہو گی بلکہ بھڑکتی ہوئی آگ سے بھری ہوئی ہو  گی۔

٭٭٭

 

 

ماخذ:

http://www.urduquran.net

http://www.tafheemonline.com/tafheem.asp

http://ur.wikipedia.org

تشکر: سبط الحسین

جمع و ترتیب: سبط الحسین، اعجاز عبید

مزید ٹائپنگ: مخدوم محی الدین، کلیم محی الدین،  عبد الحمید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید