FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

  تفسیرنور

 

سورۂ  الانفال

 

                شیخ محسن قرأتی

 

 

 

سورہ انفال

 

                آیت نمبر ۱ تا ۱۹

 

 بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

 

آیت۱

 

ترجمہ۔ خداوند رحمان و رحیم کے نام کے ساتھ۔ (اے پیغمبر!) یہ لوگ آپ سے، جنگی غنیمتوں اور غیر مملوکہ املاک کے بارے میں سوال کرتے ہیں (کہ کس کی ملکیت ہیں؟) تو کہہ دیجئے کہ انفال خدا اور رسول کی ملکیت ہیں۔ پس تم خدا سے ڈرو اور اپنے اندرونی حالات کی اصلاح کرو اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان رکھتے ہو!

چند نکات:

قرآن مجید میں تقریباً ۱۳۰ مرتبہ لفظ “سوال” یا اس کے مشتقات استعمال ہوئے ہیں، اور ۱۵ مرتبہ “یسئلونک” کا جملہ استعمال ہوا ہے۔

“انفال” جمع ہے “نفل” کی جس کے معنی ہیں “عطیہ” اور “اضافہ”۔ اور “نوفل” اس شخص کو کہا جاتا ہے جو صاحب عطا و بخشش ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو فرزند کا عطیہ “نافلہ” کہلایا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : ووھبنالہ اسحق و یعقوب نافلة ۔ (انبیاء/ ۷۲) فقہی اصطلاح میں مندرجہ ذیل اشیاء کو “انفال کہا جاتا ہے۔ قدرتی وسائل اور عمومی دولت، جنگی غنیمتیں، متروکہ املاک، لا وارث اموال، جنگلات، پہاڑی درے، بیشے، بنجر زمینیں ہر قسم کے معدنی ذرائع وغیرہ۔

تاریخی کتابوں میں ہے کہ جنگ بدر میں جو غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگی اس کے بارے میں مختلف سوالات ذہنوں میں گردش کرنے لگے کہ: مال غنیمت کا کیا کیا جائے؟ کسے دیا جائے کسے نہ دیا جائے؟ کن لوگوں کا حق اولیٰ بنتا ہے؟ چنانچہ اس موقع پر مال غنیمت کی تقسیم کا کام سرکار رسالت نے خود اپنے ذمہ لے لیا اور ہر ایک کا حصہ منصفانہ طور پر اسے دیا تاکہ زمانہ جاہلیت کے فرضی امتیازی سلوک کو ختم کر دیا جائے اور مستضعفین کی حمایت اور پشت پناہی کی جائے۔ ہرچند کہ کئی لوگوں نے اس مساویانہ سلوک کو سخت ناپسند بھی کیا۔ (ملاحظہ ہو کتاب “فروغ ابدیت” جلد ۱ ص ۴۲۳)

چونکہ تقریباً تمام سورت جنگ بدر کے بارے میں ہے لہٰذا یہ آیت بھی زیادہ تر جنگی غنیمت پر نظر رکھے ہوئے ہے لیکن اس کے ساتھ مخصوص نہیں ہے (ازتفسیر المیزان)

پیام:

۱۔ عمومی اموال: لوگوں کی مقدس ترین اور محبوب ترین ذات کے ہاتھوں میں ہونے چاہئیں (للہ والرسولہ)

۲۔ انفال، اسلامی نظام کی پشت پناہ ہے اور اسلامی حکومت کو اقتصادی پشت پناہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

۳۔ مسائل چاہے عمومی ہوں یا اقتصادی ان کے بیان کرنے کا اصل مرجع الٰہی رہبر ہی ہے۔ (یسئلونک۔ قل) 1

۴۔ اسلام کے پاس تو جنگلوں اور بیابانوں تک کے لئے قانون بھی ہیں۔

۵۔ حضرت رسول خدا کے تمام مصرف، اہداف الٰہی کی روشنی میں ہوتے ہیں (للہ و الرسول) 2

۶۔ عمومی اموال کی حفاظت کے لئے تقوی اور پاکیزگی قلب کی ضرورت ہوتی ہے (فاتقوا اللہ)

۷۔ اتحاد و اتفاق کی حفاظت اور لوگوں کے اندر اصلاح قائم رکھنا ہر ایک پر واجب ہے۔ (اصلحوا) 3

۸۔ ایمان کا تعلق صرف دل ہی کے ساتھ نہیں ہوتا، ظاہری جلوے اور عملی اطاعت بھی ضروری ہوتی ہے (اطیعوا، ان کنتم مومنین)

۹۔ مسلمان کو چاہئے کہ اخلاق، معاشرے اور سیاست میں پیش پیش ہو تاکہ کہیں بھی ناکام نہ ہو (اتقوااللہ، اصلحوا۔ ذات بینکم، اطیعوا)

۱۰۔ صرف محاذ پر چلے جانا ہی ایمان کی نشانی نہیں ہے، جنگی غنیمت سے بے نیازی، برادری اور بھائی چارے کی حفاظت اور رہبر اور قائد کے حکم کی بجا آوری بھی لازمی شرط ہے۔ (ان کنتم مومنین)

۱۱۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ محاذ پر جانے اور جان کی بازی میں تو کامیاب ہو جائیں، لیکن مال کی آزمائش، غنیمت اور انفال کی تقسیم کے موقع پر مار کھا جائیں اور ناکام ہو جائیں۔

۱۲۔ محاذ جنگ میں اصل اور بنیاد ہے “حق کی باطل پر فتح” غنیمت کا تو مسئلہ ہی فرعی اور اضافی ہے۔ (انفال عفی “اضافہ” کے پیش نظر)

۱۳۔ جو معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھاتا ہے اسے خود بذات متقی ہونا چاہئے۔ (اتقوا اللہ واصلحوا)

 

آیت ۲، ۳

 

َ ترجمہ۔ صحیح بات یہ ہے کہ مومن تو درحقیقت وہی لوگ ہیں کہ جب اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل (اس کی عظمت سے) لرز جاتے ہیں، اور جب ان کے سامنے خدا کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ کر دیتی ہیں، اور وہ صرف اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں۔

وہی لوگ تو ہیں جو نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو کچھ کہ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے (معاشرہ کے محروم لوگوں پر) خرچ کرتے ہیں،

ایک نکتہ:

جونہی عاشق کے سامنے معشوق کا نام لیا جاتا ہے تو اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے اور اس کے غیظ و غضب کا تصور دل کو لرزا دیتا ہے اور اس کے لطف و کرم کا احساس دل کو سکون عطا کرتا ہے، یا جس طرح بچہ اپنے ماں باپ سے ڈرتا بھی ہے اور ان سے اپنا قلبی سکون بھی حاصل کرتا ہے۔

پیام:

۱۔ ایمان، عشق اور تقویٰ کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے (المومنون۔ وجلت)

۲۔ ڈرنے والا دل ہی کمالات کی بنیاد ہے، سب سے پہلے دل میں خوف پیدا ہوتا ہے (وجلت) پھر ایمان میں اضافہ، نماز کے قیام اور خدا پر توکل کی باری آتی ہے (ایمانا، یتوکلون، یقیمون)

۳۔ ایمان کے مختلف درجات ہیں اور اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (زادتھم)

۴۔ قرآن پاک کی ہر ایک آیت، حجت، دلیل اور نور ہے جو ایمان کے اضافے کا موجب بن سکتی ہے (زادتھم)

۵۔ جس خوف کا تعلق جہالت سے ہو وہ برا ہوتا ہے، اور جس کا تعلق معرفت سے ہو قابل تحسین ہے (المومنون۔ وجلت)

۶۔ جو شخص اذان اور خدا کی آیات سننے کے باوجود بھی بے پروائی کا مظاہرہ کرے اسے اپنے ایمان کو مشکوک سمجھنا چاہئے۔

۷۔ مومن ہمیشہ دو حالتوں کے درمیان رہتا ہے۔ خوف اور امید۔ (وجلت، یتوکلون)

۸۔ راہ خدا میں حلال مال اور خدا کی عطا کردہ روزی سے ہی خرچ کیا جانا چاہئے۔ (رزقناھم)

۹۔ مومن اپنے مال و دولت کو خدائی عطیہ سمجھتا ہے، اپنے ہاتھوں کی کمائی نہیں جانتا۔ (رزقناھم)

 

آیت ۴

 

ترجمہ۔ یہی تو حقیقی مومن ہیں، جن کے لئے ان کے پروردگار کے پاس درجات ہیں، بخشش ہے اور با عظمت اور کریمانہ روزی ہے۔

ایک نکتہ: “کریم” رزق سے مراد ہمیشہ کی “کسی کے احسان کے بغیر” وسیع اور خالص روزی ہے۔

پیام:

۱۔ ایمان اس وقت کامل ہوتا ہے جب اس کے ساتھ توکل، نماز، راہ خدا میں خرچ کرنا بھی جمع ہو جائیں۔ ایمان نعرے کے ساتھ نہیں عمل کے ساتھ ہوتا ہے (حقا)

۲۔ خداوند تعالیٰ سے درجات حاصل کرنے کا راز ایمان اور نماز میں پوشیدہ ہے (لھم درجات)

۳۔ ہیں ایسے لوگ بھی جو ایک دنیوی درجے کے حصول کے لئے پوری زندگی خرچ کر دیتے ہیں لیکن الٰہی درجات سے بالکل غافل ہیں (درجات)

۴۔ اللہ تعالیٰ کے درجے بہشت کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں، اس دنیا میں بھی ہیں اور برزخ میں بھی (عندربھم) مطلق ہے۔

۵۔ چونکہ ایمان میں کمی بیشی کا امکان ہوتا ہے لہٰذا درجات بھی گھٹتے اور بڑھتے رہتے ہیں۔

 

آیت ۵

 

ترجمہ۔ جس طرح تمہارا پروردگار تمہیں (جنگ بدر کا حکم دے کر) اپنے گھر سے برحق طور پر باہر لے آیا جبکہ مومنین میں سے کچھ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے تھے۔

ایک نکتہ:

جس طرح کہ افرادی قوت اور وسائل کی کمی کی وجہ سے محاذ جنگ پر جانا اور دشمن کے ساتھ جہاد کرنا کچھ لوگوں کے لئے سخت دشوار اور بہت ہی ناگوار تھا‘ بدر میں جنگی غنیمتوں کی تقسیم بھی ان کے لئے ناگوار تھی اور سب کچھ ٹھیک ہو گیا، اسی طرح یہ ناگواری بھی گزر جائے گی۔ اللہ کے رسول کو تو بس اس بات کی فکر ہونی چاہئے کہ حقیقی مصلحت کیا ہے اور احکام خداوندی کی بجا آوری کیسے کی جاتی ہے؟ لوگوں کی ناگواری اور ناپسندیدگی تو ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے۔

پیام:

۱۔ پیغمبر اسلام کا مدینہ سے جنگ بدر کے لئے باہر نکلنا حکم خداوندی کے مطابق تھا (اخرجک)

۲۔ محاذ جنگ میں تمام امور کا محور و مرکز قائد اور رہبر ہی ہوتا ہے، اگرچہ جہاد کے لئے کئی اور لوگ بھی باہر نکلے تھے، لیکن آیت صرف پیغمبر اکرم کے نکلنے کو بیان کر رہی ہے۔ (اخرجک)

۳۔ جنگ ترقی اور تربیت کا موجب ہوتی ہے (ربک)

۴۔ مدینہ، پیغمبر اکرم کا گھر ہے۔ (بیتک) (ہر شخص کے لئے گھر وہی ہوتا ہے جہاں وہ اپنی شخصیت کو منواتا ہے، صرف جائے پیدائش ہی گھر نہیں کہلاتی)

۵۔ مسلمانوں کے رہبر اور قائد کو اپنے فریضہ کی بجا آوری کی فکر ہونی چاہئے، ورنہ ہر کام میں اور ہر حکم کے صادر ہونے پر کچھ نہ کچھ لوگ ناراض ہوتے ہی ہیں (بالحق)

۶۔ جہاد کو ناپسند کرنے سے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑتا بشرطیکہ اطاعت میں فرق نہ آنے پائے (من المومنین لکارھون)

۷۔ رہبر اور قائد کو اس بات کی توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ سب لوگ اس کی بے چون و چرا اطاعت کریں گے (فریقا)

۸۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان بڑی محبت اور خلوص کے ساتھ محاذ جنگ پر جاتا ہے، لیکن آخر میں مالی مسائل اور جنگی غنائم کی وجہ سے اس کے دل میں کئی قسم کی باتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔

۹۔ جس کے پاس مال یا مالی اختیارات ہوتے ہیں، اس کے دشمن اور مخالف بھی ہوتے ہیں خواہ وہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔

 

آیت ۶

 

ترجمہ۔ وہ لوگ حق کے بارے میں اس کے واضح ہو جانے کے بعد آپ سے لڑائی جھگڑا کرتے ہیں (اور اس قدر ڈر چکے ہیں) گویا یہ دیکھ رہے ہیں کہ موت کی طرف ہنکا کر لے جائے جا رہے ہیں۔

ایک نکتہ:

مسلمانوں کے ایک گروہ کا پیغمبر کے ساتھ جھگڑا جنگ بدر کے بارے میں تھا، اور وہ بھی اس بات پر کہ نہ تو کافی مقدار میں وسائل جنگ ہیں اور نہ ہی افرادی قوت۔ اور پھر یہ کہ قریش تاجروں کا مال لینے کے لئے باہر نکل رہے ہیں۔ لشکر قریش سے جنگ کرنے کے لئے نہیں۔

چنانچہ کچھ لوگ تو جنگ نہ کرنے کی باتیں کرتے تھے اور کچھ دوسرے (جیسے حضرت مقداد) کہتے تھے: “ہم حضرت موسیٰ کے اصحاب کی مانند نہیں ہیں کہ خود بیٹھ جائیں اور پیغمبر سے کہیں کہ آپ خود جا کر لڑیں۔ ہم جنگجو لوگ ہیں، آپ جو حکم دیں گے ہم بسرو چشم بجا لائیں گے! “لیکن جو ڈرپوک لوگ جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے، حضرت رسول خدا سے لڑائی جھگڑا کرتے تھے۔

پیام:

۱۔ پیغمبر خدا کے سارے یار عادل اور آنحضرت کے مطیع امر نہیں تھے (یجاد لونک)

۲۔ تن پرور اور ڈرپوک لوگ جنگ سے گریز کے طور پر ہمیشہ لڑائی جھگڑے، توجیہیں، تاویلیں اور بہانے تراشا کرتے تھے۔

۳۔ اگر حوصلے پست اور دل خراب ہو جائیں تو فقط علم کافی نہیں ہوتا۔ (بعد ماتبین)

۴۔ حوصلہ ہار جانے والے سپاہیوں کا میدان جنگ کی طرف جانا ایسے ہے جیسے کسی تابوت کو اٹھا کر لے جایا جا رہا ہو۔ (یساقون)

 

آیت ۷

 

ترجمہ۔ اور اس وقت کو یاد کرو کہ جب خداوند عالم تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ ان دو گروہوں (دشمن کا تجارتی قافلہ یا جنگی لشکر) میں سے ایک تمہارے لئے ہی ہو گا، اور تم اس بات کودوست رکھتے تھے کہ غیرمسلح گروہ (تجارتی قافلہ) تمہارے قابو میں آ جائے۔ جبکہ خدا چاہتا ہے کہ اپنے کلمات (اور طریقہ کار) کے ذریعہ حق کو تقویت بخشے اور کفار کی بیخ کنی کر دے۔

چند نکات:

“شوکة” کا لفظ “شوک” سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں کانٹے اور نیزے کی انیاں، اور “ذات الشوکة” سے مراد مسلح گروہ ہے جبکہ “غیر ذات الشوکة” سے مراد غیرمسلح تجارتی قافلہ ہے۔

ابو سفیان ایک تجارتی قافلہ لے کر سفر پر روانہ ہوا، حضور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کفار کی طاقت کو کمزور کرنے اور مہاجر مسلمانوں کے مال کی تلافی کے لئے جو کہ کفار مکہ نے ان سے چھین لیا تھا یا قبضہ کر لیا تھا، کچھ لوگوں کو اس تجارتی قافلے پر حملہ کرنے کے لئے تیار کیا، اس منصوبے کا ابو سفیان کو علم ہو گیا اور اس نے اس کی خبر مکہ والوں کو بھی پہنچا دی، چنانچہ مکہ سے تقریباً ایک ہزار کا لشکر اس ۴۰ افراد پر مشتمل تجارتی قافلے کی حفاظت کے لئے مکمل طور پر سنبھل کر اور مسلح ہو کر پہنچ گیا، مکہ اور مدینہ کے درمیان ان تینوں گروہوں (مسلمانوں، کفار کے لشکر اور تاجروں) کی مڈبھیڑ ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے غیبی امداد کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد فرمائی، باوجودیکہ مسلمان فوجی تیاری اور جنگ کے قصد کے بغیر باہر آئے ہوئے تھے لیکن پھر بھی دشمن پر غالب آ گئے۔ مسلمانوں کی تعداد ۳۱۳ تھی اور جنگ بدر ۱۷ رمضان ۲ ھ میں واقع ہوئی۔ اس جنگ میں ابوجہل اور ستر دوسرے کفار واصل جہنم ہوئے اور ستر آدمیوں کو قید کر لیا گیا، حالانکہ کفار کے لشکر کی تعداد مسلمانوں سے تین گناہ زیادہ تھی۔

پیام:

۱۔ خدائی امداد کی یاد آوری، ایمان کی تقویت کا موجب ہوتی ہے (واذ)

۲۔ حق کی باطل پر فتح، اقتصادی درآمد سے زیادہ اہم ہوتی ہے (تو دون ان غیر ذات الشوکة تکون لکم … یقطع دابر الکافرین)

۳۔ بعض اوقات خدائی ارادے کی تکمیل مومنین کے ہاتھوں سے بھی ہوتی ہے (یرید اللہ)

۴۔ فتح صرف افرادی قوت اور جنگی وسائل کے ذریعہ ہی حاصل نہیں ہوتی اصل اور اہم عامل ارادہ الٰہی ہے۔ (یرید اللہ)

۵۔ انسان طبعی طور پر آرام طلب ہے۔ (تودون ان غیرذات الشوکة)

۶۔ جہاد اسلامی کا اصل مقصد و مطلوب احقائق حق اور باطل کی بیخ کنی ہوتا ہے نہ کہ کشور کشائی اور زمینوں پر قبضہ!

۷۔ احقاق حق، اللہ اور اولیاء اللہ کے کلمات اور خدائی اوامر و قوانین کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اور عزت و فتح جہاد اور فدا کاری کے سایہ میں ہے، نہ کہ سیاسی مذاکرات اور مختلف سازشوں کے ذریعے۔

۸۔ کائنات میں حق کی عزت اور باطل کی ذلت کے ساتھ ہی آخری فتح حاصل ہو گی۔ (یریداللہ)

 

آیت۸

 

ترجمہ۔ تاکہ خداوند عالم حق کو پائیدار اور باطل کو نیست و نابود کر دے اگرچہ مجرمین اس بات کو ناپسند بھی کریں۔

ایک نکتہ:

یہ آیت مسلمانوں کے لئے بہترین تسلی اور دلجوئی کا باعث ہے۔

پیام:

۱۔ خداوند عالم کے وعدے کسی کے ذاتی اور مادی مفادات کے لئے نہیں بلکہ حق کے پائیدار کرنے اور باطل کی نابودی کے لئے ہوتے ہیں۔ (لیحق الحق)

۲۔ کافر دشمن کا اس بارے میں کیا رد عمل ہوتا ہے؟ اس سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے، خداوند عالم اپنے ارادے کو خود ہی عملی جامہ پہنائے گا۔ (ولوکرہ المجرمون)

 

آیت۹

 

ترجمہ۔ اس زمانے کو یاد کرو جب تم (بدر کے میدان میں) اپنے رب سے نصرت طلبی کر رہے تھے، پس اس نے تمہاری درخواست کو قبول کیا (اور فرمایا) میں ایک دوسرے کے پیچھے آنیوالے ایک ہزار فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد کرنے والا ہوں۔

چند نکات:

“مردف” کا لفظ “ارداف” سے لیا گیا ہے جو “ردیف” کے معنی میں ہے یعنی ایک دوسرے کے پیچھے ہونا گویا مقصد یہ ہے کہ اس قسم کی امدادیں جاری رہیں گی۔

سورہ آل عمران/۱۲۴ میں “ثلثة آلاف” تین ہزار فرشتوں کے ذریعہ امداد کا ذکر ہے جبکہ اس کے بعد کی آیت میں پانچ ہزار نشان زدہ فرشتوں کا تذکرہ ہے۔ اور شاید یہ اس لئے ہے کہ مسلمانوں کی مقاومت و پائیداری جتنا بڑھتی گئی غیبی امداد میں بھی اسی قدر اضافہ ہوتا گیا۔

جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کفار کی تعداد کے ایک تہائی تھی، جبکہ ان کے عسکری ذرائع اور حربی وسائل بھی کفار سے بہت ہی کم تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں ذہنی آمادگی بھی نہیں تھی، اس میں پیغمبر خدا صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور اپنے رب کے حضور ان الفاظ میں دعا مانگی:

“اللھم انجزلی ما وعدتنی، اللھم ان تھلک ھذہ العصابة لاتعبد فی الارض” خداوندا! تو نے جو مجھ سے وعدہ فرمایا تھا اسے میرے لئے پورا فرما! بار الٰہا! اگر مسلمانوں کا یہ چھوٹا سا گروہ بھی شہید ہو گیا تو پھر روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔

پیام:

۱۔ سختی اور مشکلات کے دنوں کو کبھی نہ بھلاؤ اور خداوند عالم کی نعمتوں کو کبھی فراموش نہ کرو۔ کیونکہ خداوند عالم کی نعمتوں کی یاد انسان کے شکراس کے حوصلے کو پروان چڑھاتی ہے۔ (اذ)

۲۔ محاذ جنگ میں موجود مجاہدین کی دعا اور ان کا استغاثہ موثر ہوتا ہے اور دعائیں قبول ہوتی ہیں (تستغیثون۔ فاستجاب)

۳۔ انسانی زندگی میں فرشتے بہت ہی موثر ہوتے ہیں۔ (ممدکم)

۴۔ دعا، قبولیت کی کنجی ہے (تستغیثون…فاستجاب)

۵۔ اللہ اگر چاہے تو دعا مانگے بغیر بھی عطا کر سکتا ہے، لیکن دعا، الٰہی تربیت کا ایک راستہ ہے (ربکم)

۶۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے غیبی امداد اس وقت آتی ہے جب ہم بھی ان اسباب کو کام میں لائیں جو اللہ نے ہمیں ظاہری طور پر عطا فرمائے ہیں۔ (ممد کم)

 

آیت ۱۰

 

ترجمہ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس (فتح اور فرشتوں کے نزول) کو اور کچھ بھی قرار نہیں دیا سوائے اس کے کہ تمہارے لئے خوشخبری ہو اور یہ کہ تمہارے دلوں کو اطمینان حاصل ہو جائے۔ اور نصرت و کامیابی خدا کے علاوہ کسی اور کی طرف سے نہیں ہوتی، یقیناً خداوند عالم غالب (اور) حکمت والا ہے۔

چند نکات:

قرآن مجید میں مومنین کے لئے امداد کرنے والے فرشتوں کا بارہا تذکرہ ہوا ہے۔ حتی کہ جب مومن کی روح قبض ہو رہی ہوتی ہے اور جان نکل رہی ہوتی ہے تو اس وقت بھی خداوند کریم فرشتے کو بھیجتا ہے تاکہ وہ مومن کے دل کی ڈھارس بن سکے اور حق کے کلمات اس کی زبان پر جاری کرائے اور اسے شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھے۔

خداوند عالم کی تخلیق و آفرینش میں القأ دو طرح کا ہوتا ہے ایک تو خدا کے فرشتوں کی طرف سے جو مومن لوگوں کے دلوں میں سکون و اطمینان کا القأ کرتے ہیں۔ جب کہ خداوند عالم فرماتا ہے: “اذیوحی ربک الی الملائکة انی معکم فثبتوا الذین امنوا سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب” خداوند عالم فرشتوں کی طرف وحی کرتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، پس تم مومنین کو ثابت قدم رکھو، میں کفار کے دلوں میں خوف اور وحشت ڈال دوں گا (انفال/۱۲)۔ اور ایک القأ شیطان کی طرف سے خوف اور وحشت کی صورت میں ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: “ذٰلکم الشیطان یخوف اولیائہ” یہ تو شیطان ہی ہے جو اپنے پیروکاروں کو ڈراتا ہے (آل عمران/۱۷۴)

پیام:

۱۔ امداد کرنے والے فرشتے، مومنین کا حوصلہ بڑھانے کے لئے آئے تھے، کفار کو ہلاک کرنے کے لئے نہیں آئے تھے۔ (کیونکہ تاریخی نکتہ نظر سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جنگ بدر میں کون کافر کس مسلمان مجاہد کی تیغ کا لقمہ بنا ہے جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگ بدر کے مقتولین کی زیادہ تعداد علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ہاتھوں فی النار ہوئی۔ (وما جعلہ اللہ الابشریٰ)

۲۔ اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی تھی تو اس میں نہ تو ان کی جنگی چالوں اور وسائل حرب کی وجہ سے ہوئی اور نہ ہی فرشتوں کی وجہ سے بلکہ صرف اور صرف خداوند متعال کی جانب سے ہی ہوئی (وما النصر الامن عنداللہ…)

۳۔ فتح و کامرانی نہ تو افرادی قوت سے حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی جنگی سازو سامان سے، بلکہ اس کا دارومدار رب العزت کی مرضی اور منشا پر ہے 4 (وما النصر الامن عند اللہ)

۴۔ خدا کی امداد اس کی حکمت کی بنیادوں پر ہوتی ہے (حکیم)

 

آیت ۱۱

 

 

ترجمہ۔ اس زمانے کو یاد کرو جب خداوند عالم نے اپنی طرف سے امن و سکون کی خاطر تم پر مختصر سی نیند مسلط کر دی اور تم پر آسمان سے پانی برسایا تاکہ اس سے تمہیں پاک کر دے اور تم سے شیطان (کے وسوسوں) کی پلیدی کو دور کر دے، تمہارے دلوں کو محکم کرے اور تمہیں ثابت قدم رکھے۔

ایک نکتہ:

جنگ بدر میں ابتدا میں پانی کے تمام کنویں دشمن کے قبضے میں تھے، جس کی وجہ سے مسلمان سخت تزلزل کا شکار ہو گئے، اللہ تعالیٰ نے مینہ برسایا جس سے وہ نہال نہال ہو گئے، ان کے پاؤں کی ریت بھی جم کر سخت ہو گئی کہ لڑائی کے موقع پر ان کے پاؤں پھسلنے سے بچ گئے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ ثبات قدم سے استقامت، ثابت قدمی اور پائیداری مراد ہو۔ نہ کہ بارش والی زمین پر ان کے پاؤں کا استحکام۔

پیام:

۱۔ جنگ میں ہلکی سی نیند بھی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے کہ اس سے ایک تو تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی دشمن کو شب خون مارنے کا موقع بھی نہیں مل پاتا (النعاس امنة)

۲۔ اگر خدا چاہے تو انسان کثیر تعداد میں مسلح دشمن کی موجودگی میں بھی سکون کی نیند سو سکتا ہے۔ اگر وہ نہ چاہے تو بہترین باغات میں بھی نیند نہ آئے اور اگر آئے بھی تو سکون کی نہ ہو (النعاس امنة)

۳۔ اگر مومن اور صابر رہو تو خداوند عالم تمام عوامل فطرت اور اسباب طبیعت تمہارے اختیار میں دے دے اور تمہارے مفاد میں چلا دے (ینزل علیکم…)

۴۔ محاذ جنگ میں طبعی عوامل مثلاً ہوا، بارش، نیند وغیرہ کو اتفاقی امور نہیں سمجھنا چاہئے۔

۵۔ مسلمان مجاہد کو صاف ستھرا اور پاک و پاکیزہ ہونا چاہئے اور اس کے حوصلے بھی بلند ہونے چاہئیں۔ (لیطھرکم…لیربط علی قلوبکم)

 

آیت ۱۲

 

ترجمہ۔ اس زمانے کو بھی خاطر میں لے آؤ کہ جب تمہارے رب نے فرشتوں کی طرف وحی کی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، پس تم مومن لوگوں کو ثابت قدم رکھو، اور میں بہت جلد کفار کے دلوں میں رعب اور ڈر ڈال دوں گا پس تم ان کی گردنوں کے اوپر کو مارو اور ان کی انگلیوں کو کاٹ ڈالو (تاکہ ہتھیار نہ اٹھا سکیں)

دو نکات:

“بنان” جمع ہے “بنانہ” کی، جس کے معنی ہیں ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کے سرے یا خود انگلیاں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ “فوق الاعناق” سے مراد کفار کے سرکردہ اور معروف سردار اور سربراہوں جیسا کہ ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے : “فقاتلو ائمة الکفر” کفر کے سربراہوں کے ساتھ جنگ کرو (توبہ/۱۲) یعنی دشمن کے سرداروں اور سربراہوں کو ٹھکانے لگانا چاہئے۔ (از تفسیر فرقان)

پیام:

۱۔ خداوند عالم اہل ایمان پر سکون و اطمینان نازل فرماتا ہے جبکہ کفار کے دلوں میں رعب ڈال کر انہیں وحشت زدہ کر دیتا ہے۔ (فثبتوا…سالقی)

۲۔ دل خدا کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور ان کا سکون یا اضطراب بھی اسی کی طرف سے ہوتا ہے (سالقی)

۳۔ خداوند عالم، مومنین کی حمایت اور ہدایت کا کام بعض اوقات فرشتوں سے بھی لیتا ہے۔ (الی الملائکة)

۴۔ خدا نے استقامت اور پائیداری کے لئے تشویق و ترغیب کا کام فرشتوں کے ذریعہ قرار دیا ہے، لیکن کافروں کے دلوں میں رعب و وحشت کا کام اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ (فثبتوا…سالقی)

۵۔ فرشتے از خود کسی قسم کی قدرت و طاقت کے حامل نہیں ہیں، ان کے پاس جو بھی قدرت و طاقت ہے وہ سب لطف و حمایت پروردگار کی مرہون منت ہے۔ (انی معکم فثبتوا)۔

۶۔ میدان جنگ میں اپنی رزمی توانائیوں سے بھرپور فائدہ اٹھاؤ، اور حساس مقامات پر ضربیں لگاؤ (فوق الاعناق…کل بنان)

۷۔ فقط وسائل اور توانائی آرام و سکون کا موجب نہیں ہیں، اس لئے کہ جنگ بدر میں مسلمانوں کو عددی قلت کے باوجود آرام و سکون نصیب ہوا (اور وہ بھی ایک مختصر سی نیند کے ساتھ) جبکہ دشمن کثیر تعداد میں اور ہر طرح سے منظم ہونے کے باوجود بیم ناک اور مرعوب ہو گیا (امنة…الرعب)

 

آیت ۱۳، ۱۴

 

(دشمن کے سروں اور انگلیوں کے پوروں پر مارنے کا) یہ حکم اس لئے تھا کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کے مقابلے میں سرکشی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کے ساتھ الجھتا اور ان کی مخالفت کرتا ہے تو یقیناً خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے۔ یہ تمہی تو ہو، پس اسے چکھو اور کافروں کے لئے (بہت سخت سزا) جہنم کا عذاب ہے۔

پیام:

۱۔ رسول خدا کی مخالفت، خدا کی مخالفت ہے (شاقوا اللہ و رسولہ)

۲۔ خداوند عالم کا ازل سے یہی شیوہ چلا آ رہا ہے کہ جو بھی حق کے ساتھ الجھے گا، نیست و نابود ہو جائے گا (ومن یشاقق)

۳۔ خدا کا قہر و غضب، سرکش عناصر کی سرکشی کا نتیجہ ہوتا ہے کسی پر بے وجہ عذاب نازل نہیں ہوتا۔ (ذالک بانھم…)

۴۔ کفار دنیا میں بھی خدائی انتقام اور ہلاکت کا شکار ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی عذاب الٰہی میں جکڑے جائیں گے (عذاب النار) “فوق الاعناق”)

 

آیت ۱۵

 

ترجمہ۔ اے ایماندارو! جب کافروں کے ساتھ تمہاری مڈبھیڑ ہو جائے کہ وہ میدان جنگ میں انبوہ کی صورت میں تم پر حملہ آور ہو جائیں تو تم انہیں پیٹھ دکھا کر بھاگ نہ جانا۔

ایک نکتہ:

“زحف” کے معنی ہیں گھٹنوں یا سرین کے بل زمین پر گھسٹنا ، ایک انبوہ اور جرار لشکر کی حرکت کو اس لئے “زحف” کہتے ہیں کہ وہ دور سے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر گھسٹتا چلا آ رہا ہے۔

پیام

۱۔ جنگ سے فرار حرام ہے۔ (لاتولو ھم)

۲۔ میدان جنگ میں دشمن کی عددی کثرت، میدان سے فرار کرنے کو جائز نہیں بنا دیتی ( زحفا۔لاتولو ھم)

۳۔ اس وقت فرار حرام ہے جب میدان میں دونوں فریق تیار ہو کر آئیں اور جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ مصروف ہو جائیں۔ لیکن اگر دشمن مسلح ہو کر شب خون مارے اور مسلمان اس وقت نہتے اور بے خبر ہوں تو پھر ایسی صورت میں ان کے لئے عقب نشینی اختیار کر لینے میں کوئی حرج نہیں 5 (لقیتم)

۴۔ اسلامی جنگیں مکتب اور مذہب کے لئے لڑی جاتی ہیں جن کا استعمار و استثمار اور ہوا و ہوس وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ (الذین امنوا۔ الذین کفروا)

۵۔ دین اور اس کے رہبر و رہنما پر ہزاروں جانیں قربان! ایک روایت کے مطابق حضرت امام رضا علیہ السلام نے میدان جنگ سے فرار کی حرمت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ: “فرار، رہبر برحق کی توہین، دشمن کے جری ہونے اور مذہب کے مٹنے کا موجب ہوتا ہے” 5-a (تفسیر نورالثقلین)

۶۔ میدان جنگ سے فرار نامردی پر دلالت کرتا ہے، قرآن مجید نے بھی “دبر‘ اور “ادبار” کے جیسے الفاظ استعمال کر کے دشمن کو پیٹھ دکھانے کو توہین آمیز انداز میں ذکر کیا ہے (الادبار)

 

آیت ۱۶

 

ترجمہ۔ اور ان لوگوں کے علاوہ جو جنگی ساز و سامان کے لئے دوبارہ واپس جاتے ہیں یا جو لوگ دوسرے گروہ کی مدد کو جاتے ہیں کوئی اور شخص جنگ کے دن دشمن کو پیٹھ دکھائے گا تو وہ خداوند عالم کے غیظ و غضب کا شکار ہو جائے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور جہنم بہت بری جگہ ہے۔

چند نکات:

آیت میں بتایا گیا ہے کہ میدان جنگ سے بھاگ جانا حرام ہے سوائے دو موقعوں کے۔ ایک تو جنگی تکنیک کے تحت ایک جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ پر جاگزین ہونا اور دوسرے اپنی جگہ سے فرار کر کے مسلمانوں کے دوسرے گروہ سے جا ملنا اور وہاں سے دشمن پر یکبارگی حملہ کرنا۔ البتہ تفسیر کی بعض دوسری کتابوں میں کچھ اور مواقع بھی ذکر ہوئے ہیں مثلاً مسلمانوں تک اطلاع پہنچانے کے لئے فرار کرنا یا موجودہ مورچے سے زیادہ اہم کسی اور مورچے کی حفاظت کرنے کے لئے دوڑ لگانا، (تفسیر فے ظلال القرآن) لیکن یہ سب اسی مذکورہ پہلی قسم کا مصداق ہیں۔

“متحرفا” کے معنی ہیں تکنیکی بنیادوں پر دشمن کو زچ کر کے اور دھوکہ دے کر پھر اس کو کاری ضرب لگانے کے لئے خود کو ایک طرف کر لینا۔

“متحیزا” جب مجاہد کو تنہائی اور دشمن سے مقابلے کی ناتوانی کا احساس ہونے لگے تو اس وقت دوسرے مجاہد گروہ کے ساتھ جا ملنا اور اس کے پہلو بہ پہلو دشمن کی طرف آگے بڑھنا۔

پیام:

۱۔ میدان جنگ سے فرار گناہ کبیرہ ہے اور خدا نے اس پر اپنے قہر و غضب اور عذاب کا وعدہ کیا ہے۔ 6 (باء لغضب)

۲۔ تکنیکی بنیادوں پر پیچھے ہٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (متحرفا)

۳۔ جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینا جائز ہے (متحرفا)

۴۔ صرف محاذ جنگ پر چلے جانا ہی اہم نہیں ہے وہاں سے فرار نہ کرنا بھی اہم ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ میدان جنگ میں تو تشریف لے جاتے ہیں لیکن وہاں علم چھوڑ کر واپسی پر جہنم کا پروانہ اپنے ساتھ لے آتے ہیں۔

۵۔ یقیناً فتح و نصرت خداوند تعالیٰ کی طرف سے ہے لیکن فوجی فنون اور تکنیک اور جنگی سیاست بھی ضروری ہوتی ہے، (متحرفا لقتال اور متحیزا)

۶۔ تبصرہ کرتے اور نتیجہ نکالتے وقت سب کومتہم نہ کرو اور نہ ہی جلدی میں فیصلہ دے دیا کرو، ہو سکتا ہے کہ کسی کے عمل کی تبدیلی کسی خاص نقشے اور تکنیک کے ماتحت ہو (متحرفا)

۷۔ جنگ کے میدان سے فرار دنیا میں ذلت کا اور آخرت میں عذاب کا موجب ہے (بغضب –جہنم)

۸۔ محاذ جنگ سے بھاگ جانے والوں کی پناہ گاہ سیدھی، جہنم ہے (ماواہ جہنم)

۹۔ میدان جنگ کے بھگوڑے اللہ کے ایسے غضب شدہ لوگ ہوتے ہیں جن سے ہم ہر نماز میں برأت طلب کرتے ہیں۔ یا بہ الفاظ دیگر ان سے تبرا کرتے ہیں (بغضب) سورہ فاتحہ میں ہے “غیرالمغضوب علیھم”۔

۱۰۔ نامراد بھگوڑوں کا انجام بہت ہی برا ہوتا ہے (بئس المصیر)

 

آیت ۱۷

 

ترجمہ۔ تم نے کافروں کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا ہے۔ (اے پیغمبر!) جب تم تیر پھینک رہے تھے، تم نہیں پھینک رہے تھے بلکہ خدا نے پھینکا تھا (تاکہ کافروں کو مرعوب کرے) اور تاکہ مومنین کو اپنی طرف سے اچھے طریقے سے آزمائے۔ کیونکہ اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔

پیام:

۱۔ تگ و دو اور سعی و کوشش تو انسان کی طرف سے ہوتی ہے لیکن اسے اثر خداوند متعال عطا فرماتا ہے (قتلھم ولکن اللہ قتلھم)

۲۔ غرور و تکبر، کامیابی کی آفات ہیں جس سے بچنا انتہائی ضروری ہے(ولکن اللہ قتلھم)

۳۔ کام چونکہ انسان کے اپنے اختیار کے ساتھ اسی سے سرزد ہوتا ہے لہٰذا اسی کی طرف اسے نسبت دی جاتی ہے لیکن چونکہ کام اس کی طاقت اور اثر خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور وہی اس کا حوصلہ اور قوت عطا کرتا ہے اسی لئے خدا کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ (مارمیت…ولکن اللہ رمیٰ)

۴۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کو ملنے والی فتح و نصرت خداوند عالم کے ارادہ اور امداد سے تھی اور وہ بھی صرف مادی طاقت اور فوجی فارمولوں کے ساتھ نہیں، ورنہ دو گھوڑوں پر مشتمل مختصر سا لشکر ایک منظم اور آراستہ فوج پر جو سو گھوڑوں پر مشتمل ہو کیونکر غالب آ سکتا تھا؟

۵۔ جنگیں اللہ تعالیٰ کی آزمائش و امتحان کے وسائل میں سے ایک ہوتی ہیں، جن سے ایمانداروں اور بے ایمانوں کی لیاقت، آمادگی، استعداد اور پائیداری کا پتہ چل جاتا ہے۔ (بلآء حسنا)

 

آیت ۱۸

 

ترجمہ۔ یہ (جنگ بدر میں تم پر خدا کی مہربانی تھی) اور اللہ تعالیٰ یقیناً کافروں کی چالوں کو ناکام کر دینے والا ہے۔

ایک نکتہ:

“ذالکم” کے ساتھ جنگ میں مسلمانوں کی کیفیت اور آسمان و زمین سے الٰہی امداد، پیغمبر اکرم کے نیزہ پھینکنے اور اس قسم کی دوسری مہربانیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، گویا یوں کہا جا رہا ہے “ذالکم لطف اللہ علیکم”

پیام:

۱۔ اگر تم محاذ جنگ میں اپنے فریضہ پر عمل کرو گے اور الٰہی رہبر کی اطاعت کرو گے تو خداوند عالم بھی تمہارے خلاف دشمن کے ہر قسم کے نقشوں کو ناکام بنا دے گا۔ (موھن کید الکٰفرین)

(معلوم ہونا چاہئے کہ دشمن کے دل میں رعب پڑنا، ان کے رازوں کا فاش ہونا، ان کے درمیان تفرقہ کا پیدا ہو جانا، طوفان اور رعد و برق کا انہیں اپنی لپیٹ میں لے لینا دشمن کے نقشوں کی ناکامی ہی ہے)

 

آیت ۱۹

 

ترجمہ۔ اگر تم (اے کفار) اسلام کی فتح و کامرانی کے انتظار میں تھے تو وہ فتح و کامرانی تمہارے پاس آ چکی (اور اسلام کی حقانیت آشکار ہو چکی) ہے۔ اور اگر تم گمراہی اور باطل سے باز آ جاؤ تو یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور اگر (اپنے کفر و عناد کی طرف) پلٹ جاؤ تو ہم بھی (تمہارے بارے اپنے قہر و غضب کی حالت میں) پلٹ جائیں گے۔ اور تمہارا گروہ خواہ کتنا ہی کثیر تعداد میں ہو تمہارے کچھ کام نہیں آئے گا۔ کیونکہ یقینی طور پر اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔

ایک نکتہ:

یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت کا خطاب جنگ بدر میں شکست خوردہ کفار کے ساتھ بھی ہو اور ان مسلمانوں کے ساتھ بھی جو مال غنیمت کی تقسیم پر اختلاف رکھتے تھے۔ پہلے نظریئے کی تائید سابقہ آیت سے ہوتی ہے جس کا اسی آیت کے ساتھ تعلق ہے۔ “موھن کیدالکافرین۔ ان تستفتحوا…”

اسی طرح مشرکین کے سردار ابوجہل کی وہ باتیں بھی اس کی موید ہیں جب اس نے جنگ کے لئے مکہ سے باہر آتے ہوئے خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر کہا تھا: “خدایا! ان دونوں گروہوں میں سے جو زیادہ ہدایت یافتہ ہے تو اس کو فتح و کامرانی عطا فرما! “اس لئے کہ اسے اپنی فتح پر یقین تھا لیکن شکست کھا گیا۔

اگر مسلمانوں سے خطاب ہو تو اس فتح کے بعد یہ ان کے لئے بہت بڑی تنبیہ ہے کہ اس قسم کے اعتراضات سے باز رہیں۔ اور اگر انہوں نے دوبارہ ایسی گستاخی کی تو خداوند عالم کا فضل و کرم ان سے پلٹا لیا جائے گا۔ دشمن کے مقابلے میں ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی اور وہ شکست سے دوچار ہوتے رہیں گے۔ (البتہ پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے)

پیام:

۱۔ اللہ کا قہر و غضب یا لطف و کرم ہمارے اپنے انتخاب اور کارناموں سے وابستہ ہے (ان تفتہوا۔ ان تعودوا)

۲۔ خداوند عالم نے اتمام حجت کر دی ہے اور ہر قسم کے حیلے بہانوں کے رستے بند کر دیئے ہیں۔ (فقد جاء کم الفتح)

۳۔ تشویق و ترغیب اور تنبیہ و انتباہ کو ساتھ ساتھ ہونا چاہئے (خیر لکم۔ ان تعودوا نعد)

۴۔ خلاف ورزیوں کا تدارک کرنا چاہئے اور بات دو ٹوک کرنی چاہئے (ان تعودوا نعد)

۵۔ خدا کے قہر و غضب کے آگے عددی برتری افرادی کثرت کا کوئی بس نہیں چل سکتا (لن تغنی)

۶۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کے ساتھ ہے (مع المومنین)

 

                  آیت نمبر ۲۰ تا ۴۱

 

آیت ۲۰، ۲۱

 

ترجمہ۔ اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے ہو! اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرو اور اب جبکہ اس کی باتوں کو سنتے ہو تو اس سے روگردانی نہ کرو۔

اور ان لوگوں کی مانند نہ بنو جو کہتے ہیں کہ “ہم نے سن لیا” درحقیقت وہ نہیں سن رہے ہوتے۔

ایک نکتہ:

پورے قرآن میں جہاں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم ہو وہاں اس کے رسول کی اطاعت کا حکم بھی مذکور ہے اور گیارہ مقامات پر “اتقوااللہ” کے بعد “اطیعون” کا جملہ مذکور ہے۔ اور اس آیت میں اگرچہ خدا اور رسول “دونوں کی اطاعت کا ذکر ہے لیکن صرف رسول پاک کے فرمان کی سرپیچی سے منع کیا گیا ہے نہ کہ خدا اور رسول کے فرمان کی سرپیچی سے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے (خدا کی نہیں) رسول کی اطاعت مشکل تھی اور وہ بھی خصوصی طور پرجنگ بدر میں اور فوجی مسائل کے بارے میں آنحضرت کے فرامین کی اتباع اور بھی مشکل تھی۔

پیام:

۱۔ نظام برحق کو بحال رکھنے کے لئے لوگوں کو ہمیشہ خدائی رہبری کی اطاعت کی تاکید کرتے رہنا چاہئے (اطیعوا اللہ و رسولہ)

۲۔ پیغمبر کی عدم اطاعت یا ان کی نافرمانی درحقیقت خدا کی نافرمانی ہے (ولا تولوا عنہ) ہے “عنہما” نہیں ہے۔

۳۔ سننا اور سمجھنا، ذمہ داری کا موجب بن جاتا ہے (تسمعون)

۴۔ دور سابق میں خلاف ورزی کرنے والوں کے حالات سننا اور ان سے آگاہ ہونا عبرت کا موجب ہوتا ہے (ولاتکونوا کالذین…)

۵۔ قائد اور رہبر کی اطاعت صدق دل سے کرو، صرف “ہم نے سن لیا ہے” کہہ کر جان نہ چھڑاؤ (ولاتکونوا… 7)

 

آیت ۲۲

 

ترجمہ۔ یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین چلنے والے وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔

دو نکات:

“صم” جمع ہے “اصم” کی جس کے معنی ہیں بہرا اور “بکم” جمع ہے “ابکم” کی جس کے معنی ہیں گونگا۔

جو لوگ انبیاء علیہم اسلام کی الٰہی تربیت کو قبول نہیں کرتے اور نہ ہی حق کے آگے اپنے دل و جان کو جھکاتے ہیں، قرآن کی تعبیرات میں انہیں کہیں تو:

الف: مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے جیسے: “انا لاتسمع الموتےٰ” آپ یقیناً مردوں کو نہیں سنواتے۔ (روم/۵۲)

ب: چوپایوں سے تشبیہ دی گئی ہے جیسے: “یا کل کماتا کل الانعام” ایسے کھاتے ہیں جیسے چوپائے کھائیں (محمد/۱۲)

ج: چوپایوں سے بھی بدتر کہا گیا ہے، جیسے: ” کالانعام بل ھم اضل” چوپایوں جیسے بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں (اعراف/۱۷۹)

د: روئے زمین پر چلنے والوں میں سے بدتر بھی کہا گیا ہے جیسے: “شرالدواب ” بدترین چلنے والے (انفال/۲۲)

پیام:

۱۔ انسان کی قدر و قیمت اس وجہ سے ہے کہ وہ عقل سے کام لیتا ہے، اگر ایسا نہیں کرتا تو ہر چلنے والے سے بدتر ہے (شرالدواب)

۲۔ کان اور زبان کا حامل ہونا اہم نہیں۔ اہم یہ ہے کہ ان اعضأ سے صحیح کام لیا جائے جس شخص کی زبان سے امر بالمعروف یا نہیں عن المنکر کا کلمہ نہیں نکلتا وہ گویا گونگا ہے۔

۳۔ دینی تعلیمات سے رخ موڑنے والے بے عقل ہیں (لایعقلون) 8

 

آیت ۲۳

 

ترجمہ۔ اور اگر اللہ کو ان میں کوئی اچھائی نظر آتی تو انہیں ضرور سننے والا بنا دیتا (حق بات ان کے دلوں تک پہنچاتا) اور اگر انہیں سنواتا تو بھی وہ سرکشی کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے۔

ایک نکتہ:

ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کی چند قسمیں ہیں۔

۱۔ کچھ تو وہ ہیں جو قرآن مجید کو سننے کے لئے تیار نہیں ہیں: “لاتسمعوا لھذا القرآن” اس قرآن کو نہ سنو۔ (فصلت/۲۶)

۲۔ کچھ وہ ہیں جو سنتے اور سمجھتے تو ہیں لیکن اس میں تحریف کرتے ہیں۔

۳۔ اور کچھ وہ ہیں جو اپنے شدید تعصب، حسد اور سنگدلی کی وجہ سے اپنے اندر تشخیص دینے کی قدرت نہیں رکھتے۔

پیام:

۱۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کے اسباب خود اپنے اندر تلاش کرنے چاہئیں۔ (فیھم)

۲۔ صرف آیات قرآنی کا یاد کر لینا، نور نہیں، حق کو قبول کر لینے کا نام نور ہے (ولواسمعھم لتولوا)

۳۔ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کی ہدایت سے کوئی مضائقہ نہیں، ضدی لوگ اپنا منہ پھیر لیتے ہیں (ولوعلم…لاسمعھم)

۴۔ انسان آزاد ہے اور حق کی ہر آواز کے سننے سے روگردانی کر سکتا ہے (لو اسمعھم لتولوا)

 

آیت ۲۴

 

ترجمہ۔ اے ایماندارو! تمہیں جب بھی اللہ اور اس کا رسول اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہاری زندگی کا سبب ہے تو فوراً اس کا جواب دو۔ اور جانے رہو کہ اللہ تعالیٰ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، اور یہ کہ تم کو اسی کی طرف محشور ہونا ہے۔

چند نکات:

حیات (زندگی) کی مختلف قسمیں ہیں۔

۱۔ نباتاتی حیات: جیسے “یحی الارض بعد موتھا” اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ (روم/۱۹)

۲۔ حیوانی حیات: جیسے “لمحی الموتی” اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ (روم/۵۰ فصلت/۳۹)

۳۔ فکری حیات: جیسے “من کان میتا فاحییناہ” مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کر دیا (انعام/۱۲۲)

۴۔ ابدی حیات: جیسے “قدمت لحیاتی” کاش میں اپنی زندگی کے لئے پہلے سے کچھ بھیجتا (فجر/۱۴)

جو حیات(زندگی) انبیاء کی دعوت کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے وہ “حیوانی زندگی” نہیں ہے، کیونکہ وہ تو ان کی دعوت کے بغیر بھی حاصل ہے، بلکہ مراد فکری، عقلی اور معنوی زندگی ہے۔

خدا کا انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہر جگہ پر حاضر ناظر ہے اور وہ ہر چیز کو اپنے قبضہ قدرت میں لئے ہوئے ہے۔ تمام توفیقات اسی کی طرف سے ہیں، وہ ہم سے ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ عقل اور روح کی کارکردگی بھی اسی کے دست قدرت میں ہے۔

پیام:

۱۔ پیغمبر اسلام کی دعوت کی قبولیت درحقیقت خدا کی دعوت کی پذیرائی ہے (دعا کم) فرمایا ہے، “دعواکم ” نہیں۔

۲۔ انسان کی حقیقی حیات وزندگی تو ایمان اور عمل صالح ہی میں ہے اور انبیاء بھی اسی کی دعوت دیتے ہیں 9 (لما یحییکم)

۳۔ احکام اسلام معنوی حیات عطا کرتے ہیں، جس طرح کہ دوا یا عمل جراحی (آپریشن) زندگی دیتے ہیں۔

۴۔ اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے رستوں پر چلنے سے حقیقی زندگی ملتی ہے اور ان سے ہٹ کر چلنے سے انسانیت کی موت ہے۔

۵۔ زندگی بہت قیمتی چیز ہے اور انبیاء کا راستہ انمول نعمت ہے۔

۶۔ شیعہ، سنی روایات کے مطابق “حیات طیبہ” کے مصداقوں میں سے ایک مصداق علی اور اولاد علی علیہم السلام کی ولایت کے بارے میں پیغمبر اسلام کی آواز کو سننا اور قبول کرنا ہے۔ (ملاحظہ ہو تفسیر فرقان، منقول از مناقب ترمذی)

۷۔ جس شخص کا اس بات پر ایمان ہوتا ہے کہ خدا حاضر و ناظر ہے اور وہ ہر چیز پر محیط ہے تو وہ انبیاء کی دعوت کو قبول کرنے سے روگردانی نہیں کرتا۔ (یحول بین المرٴو قلبہ۔ استجیبوا)

۸۔ جب تک اس دنیا سے رخصت نہیں ہوئے اور تمہارے پاس فرصت بھی ہے تو حق کو قبول کر لو (اس تفسیر کی بنا پر خدا کا بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہونا، موت سے کنایہ ہے)

۹۔ خدا کا انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہونے کا ایک مصداق “محو و اثبات” کا مسئلہ بھی ہے یعنی کفر کا محو کرنا اور ایمان کا اثبات کرنا، شک اور غفلت کا محو کرنا اور یاد اور یقین کا اثبات کرنا۔ (تفسیر فرقان، اسی آیت کے ذیل میں حضرت امام محمد باقر علیہ اسلام کا فرمان)

۱۰۔ مومن کو اپنے ایمان پر مغرور اور کافر کو اپنے کفر سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ دلوں کا معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہ “مقلب القلوب” (دلوں کو پھیرنے والا) ہے۔ (یحول بین المرٴو قلبہ)

۱۱۔ تم سب کو قیامت کے دن محشور ہونا ہے، لہٰذا انبیاء الٰہی کو ان کی دعوت پر مثبت جواب دو۔ (استجیبوا…الیہ تحشرون)

 

آیت ۲۵

 

ترجمہ۔ اور اس فتنے سے ڈرو جو صرف تم میں سے ظالم لوگوں ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا، اور جانے رہو کہ خداوند سخت عذاب دینے والا ہے۔

چند نکات:

سابقہ آیت میں پیغمبر اسلام کی طرف سے “حیات طیبہ” کی دعوت قبول کرنے کا حکم تھا اور اس آیت میں فرماتا ہے: “اگر تم نے اس دعوت کو قبول نہ کیا تو یاد رکھو ایسے فتنے میں گرفتار کر لئے جاؤ گے جس کی آگ سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

“فتنہ” کے کئی معنی ہیں مثلاً شرک، کفر، آزمائش، شکنجہ وغیرہ۔

سابقہ آیت میں پیغمبر اکرم کی اطاعت کا حکم تھا، اور اس آیت میں فتنے سے ڈرنے کا حکم ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فتنہ: پیغمبر اسلام کی اطاعت نہ کرنے کا نام ہے۔ اور آیت کا مفہوم وہی “واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا” ہے۔ (تفسیر المیزان)

فساد اور فحاشی ایک نظام کی چھت کو گرا دیتے ہیں جس کا نقصان سب کو پہنچتا ہے جیسے بنی امیہ کے حکام کا فساد ہے، کیونکہ جب لوگوں نے پیشوائے حق کی ولایت کا انکار کر دیاتو بنی امیہ کے فساد کی زنجیروں میں صدیوں تک ذلیل و خوار ہو کر جکڑے رہے۔ 10

پیام:

۱۔ معاشرہ کے افراد اپنے کاموں کے علاوہ دوسروں کے کاموں پر بھی نظر رکھیں، کیونکہ خلاف ورزی کے مضر اثرات سب کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ جس طرح کہ کشتی کے پیندے میں سوراخ کر دینے سے اس میں سوار تمام لوگ ڈوب سکتے ہیں۔ (لاتصیبن)

۲۔ نہ تو خود فتنہ برپا کرو، نہ دوسرے فتنہ پرور لوگوں کی ہاں میں ہاں ملاؤ اور نہ ہی ان کی فتنہ پردازیوں پر خاموشی اختیار کرو۔ (واتقوا فتنة)

۳۔ فتنے سے بچنے کا مقصد اس سے ہوشیا ر رہنا ہے نہ کہ معاشرہ سے کٹ جانا ہے۔

۴۔ زمانے میں پیدا ہونے والے آشوب اور فتنوں میں ہوشیار رہنا چاہئے کہ کہیں تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے لیں۔ 11

 

آیت ۲۶

 

ترجمہ۔ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم (تعداد میں) کم تھے اور (مکہ کی) زمین میں کمزور سمجھے جاتے تھے، تمہیں ہر وقت یہ ڈر رہتا تھا کہ (دشمن) لوگ تمہیں جلدی اچک لیں گے، پس اللہ تعالیٰ نے تمہیں (مدینہ میں) پناہ دی اور اپنی مدد کے ساتھ تمہاری تائید کی اور تمہیں ہر قسم کی پاکیزہ روزی عطا فرمائی، شاید کہ تم شکرگزار بن جاؤ۔

پیام:

۱۔ ناتوانی اور کمزوری کے دنوں اور خدائی امداد کی یاد آوری، خدا کے شکر، اس کے ساتھ عشق و محبت اور اس پر توکل کا سبب ہوتا ہے (لعلکم تشکرون)

۲۔ ناتوانی اور امداد الٰہی کے ایام کی یاد، فتنوں سے دور رہنے کا موجب ہوتی ہے (واتقوا فتنة۔ واذکروا)

۳۔ راہ حق میں افرادی قلت، کمزوری و ناتوانی اور جلاوطنی سے نہیں گھبرانا چاہئے کیونکہ تمام با وقار انقلابی اسی راہ سے گزر چکے ہیں۔

 

آیت ۲۷

 

ترجمہ۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو اور (نہ ہی) اپنی امانتوں کے ساتھ خیانت کرو، جبکہ تم جانتے ہو کہ اللہ، رسول اور امانتوں کے ساتھ خیانت نہیں کی جاتی۔

ایک نکتہ:

اس آیت کے شان نزول میں شیعہ اور سنی تفسیروں میں مذکور ہے کہ جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کے مطابق بنی قریظہ کے یہودیوں کا محاصرہ کیا گیا تو اس دوران انہوں نے صلح کی پیشکش کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اس جگہ کو چھوڑ کر شام چلے جائیں گے۔ لیکن آنحضرت نے ان کی اس پیشکش کو قبول نہ فرمایا بلکہ اس بارے میں مذاکرات کے لئے سعد بن معاذ کو مامور فرمایا۔

اس وقت “ابو لبابہ” نامی ایک مسلمان موجود تھا، اس کی یہودیوں کے ساتھ پرانی دوستی تھی، اس دوران اس نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ سعد بن معاذ کو قبول کرنے کی صورت میں سب تہ تیغ کر دیئے جاؤ گے۔ جبرائیل علیہ اسلام نے ابو لبابہ کے اس اشارے کی حضرت رسول خدا کو خبر دی۔ ابو لبابہ بہت شرمندہ ہوا کہ اس نے تو بہت بڑی خیانت کی ہے۔ اس نے اس کے پاداش کے طور پر اپنے آپ کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دیا اور سات رات دن تک کچھ نہ کھایا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ کو قبول فرمایا…(تفسیر مجمع البیان، تفسیر صافی، تفسیر نمونہ اور دوسری تفاسیر)

اس کا ایک اور شان نزول بھی بتایا گیا ہے وہ یہ کہ جنگ بدر میں ایک مسلمان شخص نے ابو سفیان کو خط لکھا جس میں اس نے حضرت پیغمبر خدا صلے اللہ و آلہ وسلم کے منصوبوں سے اسے آگاہ کیا، جس کی وجہ سے ابوسفیان نے اہل مکہ سے مدد طلب کی اور ایک ہزار آدمی اس کی مدد کے لئے بدر کی جانب چل دیا۔ (تفسیر المیزان۔ تفسیر مجمع البیان)

پیام:

۱۔ بعض اوقات دشمن کے حق میں ایک اشارہ بھی خیانت میں شمار ہوتا ہے (ابو لبابہ کا واقعہ اور آیت کا شان نزول)

۲۔ خیانت فطری طور پر بھی بری اور قابل مذمت عادت ہے (وانتم تعلمون)

۳۔ جان بوجھ کر خیانت کرنا تو اور بھی خطرناک بات ہے (وانتم تعلمون)

۴۔ فوجی رازوں کا فاش کرنا بدترین خیانت ہے (آیت کے دوسرے شان نزول کے مطابق)

البتہ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ انفال، زکوٰۃ ، خمس اور دوسرے لوگوں کے باقی اموال تمہارے ہاتھوں میں امانت ہیں۔ اسی طرح مذہب و مکتب، رہبر و قائد، قرآن مجید، اولاد، وطن کی آب و خاک سب خدائی امانتیں ہیں)

۵۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہلبیت اطہار علیہم السلام بھی اللہ کی طرف سے امانت ہیں۔ 12

۶۔ اہل، لائق، افضل اور صالح افراد کے ہوتے ہوئے نااہل، نالائق، “مفضول” اور غیرصالح افراد کو آگے لانا اور انہیں معاشرتی اجتماعی، حکومتی اور سرکاری ذمہ داریاں سونپنا خدا، رسول اور مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی خیانت اور بددیانتی ہے۔

۷۔ ایک تو ہم خود بھی اپنے لئے امانت ہیں اور اس کے ساتھ یہ معاشرہ بھی ہمارے لئے امانت ہے۔ (ایک اور آیت میں ہے “تختانون انفسکم” اپنے آپ کے ساتھ خیانت کرتے ہو (بقرہ/۱۷۸)

۸۔ اللہ اور رسول کے ساتھ خیانت دراصل تمہاری اپنے ساتھ خیانت ہے اور اس کا نقصان خود تمہیں پہنچے گا۔ 13

(ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رہے کہ جب تک ہمیں اپنی توبہ کی قبولیت کا یقین نہ ہو جائے، اس وقت تک اپنے آپ کو مطمئن نہ سمجھیں۔) 14

 

آیت ۲۸

 

ترجمہ۔ جان لو کہ تمہارے مال اور اولاد تمہاری آزمائش کا ذریعہ ہیں اور خدا کے نزدیک یقیناً بہت بڑا اجر ہے۔

ایک نکتہ:

مال اور اولاد کے ساتھ انسان کی محبت، انسان کے لئے بہت سی لغزشوں کا سبب بن سکتی ہے، حرام کا کاروبار، دروغ گوئی، ذخیرہ اندوزی، کم فروشی، راہ خدا میں خرچ نہ کرنا، خمس و زکوٰۃ کی عدم ادائیگی، حرص و لالچ، تخریب کاری، جھوٹی قسمیں، حقوق الناس کا ضیاع غرض اس قسم کی کئی دوسری خرابیوں کی اصل جڑ مال کے ساتھ بے تحاشا محبت ہے، اسی طرح میدان جنگ سے فرار، افراد خاندان سے جدا نہ ہونا، اسی طرح کی دوسری خامیوں کا اصل سبب اولاد کے ساتھ محبت ہے۔

پس یہ سب امتحان کے اسباب و عوامل ہیں، جس طرح (سابقہ آیت کی رو سے) ابو لبابہ ایک لغزش کا شکار ہو گیا تھا، تو اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اپنے مال اور اولاد کو بچانے کے لئے دشمن کے ساتھ ہمکاری پر آمادہ ہو گیا تھا۔

پیام:

۱۔ مال اور اولاد کے ساتھ حد سے زیادہ محبت انسان کو خیانت پر آمادہ کر دیتی ہے (لاتخونوا…واعلموا…) سابقہ آیت کے شان نزول کے پیش نظر 15

۲۔ مال اور اولاد دو ایسے جال ہیں جو انسان کو فریب دینے کے لئے اس کی راہوں میں بچھے ہوئے ہیں جن کے بارے میں قرآن پاک نے مختلف تعبیرات کے ساتھ ان سے خبردار رہنے کو کہا ہے (فتنة) 16

۳۔ خداوند عالم کے اجر عظیم کی طرف توجہ ہی سے انسان کے دل سے دنیا کی محبت اور خیانت جیسی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے (اجر عظیم)

 

آیت ۲۹

 

ترجمہ۔ اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے ہو! اگر خدا سے ڈرتے رہو گے اور اس کا تقویٰ اختیار کئے رہو گے تو خداوند عالم تمہارے لئے فرقان (حق اور باطل کی شناخت کی قوت) قرار دے گا اور تمہارے گناہوں کو چھپا دے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ تو بہت بڑے فضل اور بخشش والا ہے۔

چند نکات:

حق اور باطل کی شناخت کے معیار مختلف ہیں۔ مثلاً:

الف: “انبیاء اور اولیاء اللہ۔” جب کہ حدیث پیغمبر ہے” “من فارق علیا فقد فارق اللہ” جس نے علی کو چھوڑ دیا (گویا) اس نے خدا کو چھوڑ دیا۔ (ملحقات احقائق الحق جلد۴ ص ۲۶)

ب: ” آسمانی کتاب”اس کی طرف رجوع کر کے حق کو باطل سے پہچانا جا سکتا ہے۔

ج: “تقویٰ” کیونکہ بے تقوائی کے ساتھ چونکہ خواہشات کے اور حب و بغض کے طوفانوں میں حقائق کا ادراک نہیں ہو سکتا۔

فرقان یا حق و باطل کی تشخیص، ایک خداداد حکمت اور بینش ہوتی ہے جس کا تعلق پڑھنے لکھنے اور معلومات کی فراوانی کے ساتھ نہیں ہوتا۔

“تکفیر سیٴات” یا گناہوں کی پردہ پوشی اور “مغفرت” کے درمیان کیا فرق ہے؟ اس بارے میں حضرت فخر رازی فرماتے ہیں: “گناہوں کی پردہ پوشی دنیا میں ہوتی ہے اور مغفرت یعنی قہر خداوندی سے چھٹکارا آخرت میں ہوتا ہے” لیکن “تفسیر نمونہ” کے بقول: “تکفیر، گناہ کے اجتماعی، معاشرتی اور نفسیاتی آثار کے مٹانے کو کہا جاتا ہے جبکہ “مغفرت” جہنم سے نجات اور بخشش کا نام ہے”

پیام:

۱۔ تقویٰ، صحیح معرفت کا عامل (فرقان) ہے اور اسی سے انسان کی معاشرتی حیثیت اور آبرو قائم رہتی ہے۔ اور آخرت میں مغفرت نصیب ہوتی ہے (یغفر لکم)

۲۔ جو لوگ نفسانی خواہشات سے بچے رہتے ہیں وہ صحیح معنوں میں حق کو پہچان سکتے ہیں اور تقویٰ صحیح پہچان کا سبب ہوتا ہے۔ 17

 

آیت ۳۰

 

ترجمہ۔ اور (اے پیغمبر!) اس وقت کو یاد کرو جب کافر لوگ تمہارے بارے میں منصوبے بنا رہے تھے کہ تمہیں قید کر دیں یا قتل کر دیں یا بے گھر کر دیں، وہ تدبیریں سوچ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اپنی تدبیریں بنا رہا تھا اور اللہ تعالیٰ بہترین تدبیریں بنانے والا ہے۔

دو نکات:

اس آیت میں “شب ہجرت” اور کفار کے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قتل کے شیطانی منصوبوں کی طرف اشارہ ہے۔ آنحضرت صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جبرائیل علیہ اسلام کے ذریعہ اس منصوبے کا علم ہو گیا اور آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے بستر پر لٹایا اور خود راتوں رات غار ثور کی طرف چل دیئے اور وہاں سے مدینہ کی جانب ہجرت فرما گئے۔

آیت کے مطابق آنحضرت کے متعلق تین طرح کے منصوبے کفار کے پیش نظر تھے اور یہ مشرکین کے “دارالندوہ” میں ان کے مشترکہ اجلاس میں پیش ہوئے۔ بالآخر دوسری تجویز پاس ہوئی اور طے پایا کہ ہر قبیلے میں سے ایک ایک آدمی لیا جائے اور تمام افراد مل کر آپ پر حملہ کر کے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دیں۔ تاکہ اس طرح سے پیغمبر اسلام کے لواحقین کسی سے آپ کے خون کا بدلہ نہ لے سکیں۔

پیام:

۱۔ جو خطرات اللہ نے تم سے دور کئے ہیں انہیں خاطر میں لاؤ تاکہ دل کو قوت اور قلب کو سکون حاصل ہو (واذیمکر)

۲۔ انبیاء کی مشکلات صرف مشرکین کی دشمنی یا ہٹ دھرمی ہی نہیں ہوتی تھیں، ان کی طرف سے دھمکیاں اور شیطانی منصوبے بھی ہوا کرتے تھے۔ (واذیمکربک…)

۳۔ قید، قتل اور جلاوطنی تو جباران تاریخ کا قدیم سے شیوہ چلا آ رہا ہے کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کے لئے ایسے حربے ہی اختیار کیا کرتے تھے (یثتبوک او یقتلوک…)

۴۔ انسان کے تمام افکار، خدا کے سامنے ہوتے ہیں (یمکرون ویمکراللّٰہ)

۵۔ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب اور اپنے دوستوں کا حامی ہوتا ہے اور مکڑی کے جالے سے اشرف المخلوقات کی حفاظت کرتا ہے، تاریخ کی عظیم ترین سازش کو ناکام بناتا ہے اور تاریخ کے دھارے موڑ دیتا ہے۔

۶۔ جہاں ضروری ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو سازشوں سے آگاہ کر دیتا ہے۔ جس سازش کے بارے میں دشمن چاہتا ہے کسی کو اس کا علم نہ ہونے پائے اسے ساری دنیا صدیوں تک جانتی سمجھتی رہتی ہے۔

۷۔ جو حق کے طرفداروں کے خلاف سازشیں کرتا ہے درحقیقت وہ خدا کے مقابلے میں آن کھڑا ہوتا ہے۔ (یمکرون و یمکراللّٰہ)

۸۔ ضروری نہیں ہے کہ سپر طاقتیں ہمیشہ اپنے مقاصد میں کامیاب رہیں…

۹۔ دشمن کا منصوبہ جس قدر مضبوط ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اسی قدر کمزور مخلوق کے ذریعے اسے ناکام بنا دے گا…بلقیس کو ایک ہدہد کے ذریعہ دعوت پہنچتی ہے ۔ فرزند آدم ایک کوے سے سبق سیکھتا ہے ابرہہ کے اور اس کے ہاتھی سوار لشکری ابابیل کے ذریعہ نابود ہوتے ہیں، نمرود کا ایک مچھر کے ذریعہ ستیاناس ہوتا ہے، اور کفار مکہ کی سازشیں، ایک مکڑی کے ذریعہ ناکام ہوتی ہیں۔

البتہ اس بارے میں یہ بھی بتاتے ہیں کہ جب شب ہجرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اپنی جان خوشی خوشی پیغمبر اکرم پر فدا کرنے کے لئے تیار ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی:

“ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ واللہ روف بالعباد” (بقرہ/۲۰۷)

 

آیت۳۱

 

ترجمہ۔ اور جب ان پر ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم نے سن لیا ہے، اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس قرآن کی طرح کہہ سکتے ہیں، یہ تو پہلے لوگوں کے افسانوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔

چند نکات:

سابقہ آیت میں پیغمبر اکرم کو قتل کرنے کے بارے میں دشمن کے قتل کے منصوبے کی بات ہو رہی تھی اور اس آیت میں دشمن کی طرف سے ان کے مکتب اور قرآن کو سبک کرنے کی گفتگو ہو رہی ہے۔

“اساطیر” جمع ہے “اسطورہ” کی جس کے معنی ہیں خرافاتی اور خیالی قصے کہانیاں،

بعثت سے پہلے ” نضر بن حارث” ایران آیا تھا اور یہاں سے اس نے رستم اور اسفند یار کے قصے یاد کر لئے تھے، جب حجاز واپس گیا تو لوگوں سے کہنے لگا: “میں بھی محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرح قصے کہانیاں بیان کر سکتا ہوں” (تفسیر آلوسی، مجمع البیان، فی ظلال القرآن)

پیام:

۱۔ عوام فریبی، حقارت اور سبک سمجھنا دشمن کے حربوں میں شامل ہیں۔ (لو نشأ لقلنا مثل ھذا)

۲۔ دشمن ڈھول کا پول ہوتے ہیں وہ بلند بانگ دعوے کرتے ہیں (لقلنا مثل ھذا) لیکن عملی میدان میں قرآن جیسی کتاب لانے سے عاجز ہیں۔

۳۔ قدیم الایام سے مومنین کو “قدامت پرستی” کی تہمتوں سے متہم کیا جاتا رہا ہے۔ (اساطیر الاولین)

 

آیت ۳۲

 

ترجمہ۔ اور (اس وقت کو یاد کرو) جب انہوں نے (مخالفین نے دعا کے ہاتھ اٹھا کر) کہا: خداوندا! اگر یہ (اسلام اور قرآن) حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو پھر ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا یا دردناک عذاب ہم پر نازل کر،

چند نکات:

اس قسم کی نفرین یا تو ان کے شدید تعصب اور سخت ہٹ دھرمی کی بنا پر ہوتی ہے جو کہ اپنی راہوں کو حق اور اسلام کو باطل سمجھتے تھے۔ یا پھر عوام کو دھوکہ دینے کے لئے کہ اپنے لئے بددعا کریں تاکہ سادہ لوح عوام کو اس بات کا احساس دلائیں کہ اسلام (نعوذباللہ) باطل ہے۔

جب میدان غدیرخم میں پیغمبر خدا نے اللہ کے حکم سے علی بن ابی طالب کو امامت کے لئے منصوب کر کے “من کنت مولاہ…… کے ذریعہ اس کا اعلان فرمایا تو نعمان بن حارث جو کہ ایک منافق شخص تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر گستاخانہ لہجے میں کہنے لگا: تونے ہمیں توحید، نبوت، جہاد، حج، روزے۔ نماز اور زکوٰة کا حکم دیا ہم نے قبول کیا، اب اس جوان کو بھی ہمارے لئے امام مقرر کر دیا؟ اس پر آنحضرت نے فرمایا: “یہ خدا کے حکم سے تھا” اس نے غصے میں پاگل ہو کر اپنے لئے بددعا کی اور اسی آیت کے الفاظ سے اقتباس کیا۔ (الغدیر جلد اول ص ۲۳۹ تا ص ۲۶۶۔ منقول از ۳۰ علمائے اہلسنت)

پیام:

۱۔ دشمن اپنے آپ کو اہلِ حق منوانے کے لئے ہو سکتا ہے کہ اپنے اوپر لعنتیں بھی بھیجنا شروع کر دے۔

 

آیت ۳۳

 

ترجمہ۔ اور (اے پیغمبر!) جب تک تم ان لوگوں کے درمیان موجود ہو خدا انہیں عذاب نہیں دے گا اور جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے پھر بھی اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں ہے۔

دو نکات:

عذاب کی نفی سے مراد پیغمبر گرامی اسلام کے وجود مبارک کی وجہ سے مسلمانوں سے اس طرح کے عمومی عذاب اٹھا لئے گئے جن سے سابقہ اقوام ان سے دوچار ہوا کرتی تھیں، ورنہ انفرادی طور پر بہت سے افراد خصوصی مواقع پر عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے ہیں۔

احادیث شریفہ میں ہے کہ خداوند عالم بعض پاک دل افراد اور علمائے ربانی کی وجہ سے بھی لوگوں کے سروں سے عذاب کو ٹال دیتا ہے۔

پیام:

۱۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وجود گرامی اہل زمین کے لئے امان ہے (وانت فیھم)18

۲۔ استغفار، بلاؤں کو روک دیتی ہے۔ (وھم یستغفرون)18-A

 

آیت ۳۴

 

ترجمہ۔ اور کیوں نہ خدا انہیں عذاب میں مبتلا کرے حالانکہ وہ لوگوں کو مسجد الحرام سے روکتے ہیں جبکہ وہ اس جگہ کے سرپرست بھی نہیں ہیں، متقی اور پرہیزگار لوگوں کے علاوہ کسی اور کو وہاں کی تولیت اور سرپرستی کا حق حاصل نہیں ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔

ایک نکتہ:

سابقہ آیت میں یہ بات ہو رہی تھی کہ لوگوں کے درمیان پیغمبر اکرم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وجود مبارک اور ان کی استغفار کی وجہ سے قوم عاد و ثمود پر نازل ہونے والے عذابوں جیسے آسمانی عذاب اٹھا لئے گئے ہیں۔ اور اس آیت میں ان کو ملنے والے عذاب کی بات ہو رہی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ ہو سکتا ہے کہ اس عذاب سے مراد دنیوی عذاب اور زمین پر جنگ ہو۔ اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایسے لوگ عذاب کے مستحق تو ہیں لیکن یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب پیغمبر کی وجہ سے انہیں عذاب نہیں کرتا۔ یا یہ کہ انہیں دنیا میں عذاب نہیں دیا جاتا لیکن آخرت کا عذاب ان سے کبھی نہیں ٹل سکے گا۔ (از تفسیر نمونہ)

پیام:

۱۔ جو لوگوں کو مسجدالحرام میں جانے سے روکتے ہیں انہیں عذاب الٰہی کا منتظر ہونا چاہئے۔ (وما لھم الایعذبھم…) 19

۲۔ جس گھر کی تولیت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں میں رہی ہو اور جس کی بنیادیں تقویٰ پر رکھی گئی ہوں اس کی تولیت غیر متقی افراد کے ہاتھوں میں نہیں ہونی چاہئے۔ (ان اولیائہ الاالمتقون)

 

آیت ۳۵

 

ترجمہ۔ بیت اللہ (خانہ کعبہ) کے پاس ان کی (دعا اور) نماز سیٹیوں اور تالیوں کے علاوہ کچھ اور نہیں تھی۔ پس تم اپنے کفر کی وجہ سے عذاب کو چکھو۔

ایک نکتہ:

“مکاء” کے معنی ہیں سیٹی بجانا اور “تصدیہ” کے معنی ہیں تالی بجانا۔ مشرکین اس لئے سیٹیاں بجاتے تھے تاکہ خانہ کعبہ کے اندر رکھے ہوئے بتوں کو باور کرا سکیں کہ یاترا کے لئے آئے ہوئے ہیں۔

پیام:

۱۔ تاریخی طور پر مذہبی مراسم، تحریف سے دوچار چلی آ رہی ہیں (صلوٰتھم…مکاء)

۲۔ بعض اوقات مقدس ترین مرکز، خرافات کا بالا ترین محور بن جاتا ہے۔

۳۔ اس آیت میں عذاب کا مصداق، مشرکین کی جنگ بدر میں شکست ہے۔ (فذوقواالعذاب) 20

(یاد رہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں اجلاسوں اور میٹنگوں میں صلوات پڑھنے کی بجائے تالیاں بجانا اسی دور جاہلیت کی ایک تبدیل شدہ صورت ہے جبکہ لوگ دعا و نماز کی بجائے سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے۔)

 

آیت ۳۶

 

ترجمہ۔ یقیناً جو لوگ کافر ہو گئے ہیں وہ اپنے اموال کو اس لئے خرچ کرتے ہیں تاکہ خدا کی راہ سے (لوگوں کو) روکیں، پس وہ آئندہ بھی اس قسم کے خرچ کرتے رہیں گے (پھر ان کا یہ خرچ شدہ مال) ان کے لئے حسرت کا سبب بن جائے گا اور وہ شکست کھا جائیں گے۔ اور جو لوگ کافر ہو چکے ہیں وہ جہنم کی طرف جمع کر کے لائے جائیں گے۔

ایک نکتہ:

منقول ہے کہ یہ آیت کفار مکہ کی جنگ بدر کے لئے سرمایہ کاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کے تحت انہوں نے ایک عظیم بجٹ جنگ کے لئے مخصوص کر دیا تھا، لیکن آیت کی عمومیت ان ہر قسم کی سرمایہ کاریوں کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے جو دین اسلام سے مقابلہ اور نبرد آزمائی کے لئے مخصوص کی جاتی ہیں۔ (جیسا کہ آج سے کچھ عرصہ پہلے شیطان بزرگ امریکہ نے ایران کے اسلامی انقلاب کو ختم کرنے کے لئے کئی ملین ڈالر کا بجٹ مخصوص کر لیا ہے۔ از مترجم)

پیام:

۱۔ کفار تو اپنے ناپاک مقاصد کے لئے اپنا سرمایہ خرچ کریں لیکن مسلمان اپنے مقدس دین کے مقاصد کے لئے خرچ نہ کریں اور بخل سے کام لیں، کیا تعجب کی بات نہیں ہے؟

۲۔ جو مال و دولت، باطل کی راہ میں خرچ ہو گا وہ موجب حسرت بنے گا اور جو اس قدر خرچ کر کے مومنین کے مقابلے میں آئیں گے شکست سے دوچار ہوں گے۔

۳۔ وحی کے ذریعہ پیغمبر اکرم غیب کی خبر دے رہے ہیں کہ آئندہ بھی ایسے لوگ اسلام کے خلاف سرمایہ کاری کریں گے (فسینفقونھا)

(از مترجم۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے دور حاضر کی شیطانی سپر طاقت امریکہ “نیو ورلڈ آرڈر” کے تحت عالم اسلام کو زک پہنچانے کی غرض سے کئی ملین ڈالر خرچ کر رہی ہے، یہ اسی شیطانی منصوبے کا تسلسل ہے جس کی پیشین گوئی اس آیت میں کی گئی ہے)

۴۔ کفار کی کوششوں کی سزا صرف دنیوی شکست ہی نہیں، انہیں آخرت میں عذاب بھی ہو گا (یغلبون…جہنم)

۵۔ کفر، سقوط و پستی اور جہنم میں جانے کا موجب ہوتا ہے۔

۶۔ مومن چونکہ خدا کی رضا کے لئے کام کرتا ہے اور اس کی خوشنودی کی خاطر سرمایہ خرچ کرتا ہے اگر اسے بظاہر کوئی نتیجہ نہ بھی ملے پھر بھی اس پر حسرت نہیں کرتا کیونکہ خداوند عالم اسے اس کا اجر ضرور عطا کرے گا۔

۷۔ “الذین کفروا” کے جملے کا تکرار شاید اس لئے ہے کہ سرمایہ کاری کرنے والے بعض کفار بعد میں مسلمان ہو جاتے ہیں جو اپنے خرچ شدہ مال پر حسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ جبکہ بعض دوسرے کافر اپنے کفر پر باقی رہتے ہیں اور جہنم کا ایندھن بنتے ہیں اور جہنم ایسے کافروں کے لئے ہے جو کفر کی حالت میں مرتے ہیں۔

 

آیت ۳۷

 

ترجمہ۔ (یہ حسرت اور شکست) اس لئے ہے تاکہ اللہ تعالیٰ (اس جہان اور اس جہان میں) ناپاک لوگوں کو پاک و پاکیزہ لوگوں سے جدا کر دے اور ناپاک اور پلید لوگوں کو آپس میں ملا دے، اور باہم یکجا کر کے انہیں جہنم میں بھیج دے، یہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

ایک نکتہ:

“یرکمہ” کا کلمہ “رکم” سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں کئی چیزوں کو ایک دوسرے کے اوپر تہ بہ تہ رکھنا۔

پیام:

۱۔ باہمی تضادات، حد گیری اور حق و باطل کی جنگ کا نتیجہ ہوتا ہے کہ اس سے حوصلوں کا، مقاصد کا، اعمال کا پائیداری کا اور سازشوں کا پتہ چلتا ہے اور انسان کے جوہر کھلتے ہیں۔ (لیمیز اللّٰہ)

۲۔ حق اور باطل کے طرفداروں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا ابتدا ہی سے خدا کا کام چلا آ رہا ہے (لیمیز اللّٰہ)

۳۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام ناپاک لوگوں کو جمع کرے گا اور سب کو اکٹھا واصل جہنم کرے گا (فیرکمہ جمیعا)

۴۔ جگہ کی تنگی، دباؤ اور ایک دوسرے پر گرے پڑنا، جہنمیوں کی خصوصیات میں شامل ہے، اگرچہ دوزخ بہت وسیع ہے جو بھرنے میں بھی نہیں آئے گی بلکہ مسلسل “ھل من مزید” کی رٹ لگاتی رہے گی۔ اور زیادہ سے زیادہ خوراک کی طالب ہو گی لیکن دوزخی ہمیشہ دباؤ اور جگہ کی کمی کی شکایت کریں گے۔ بالکل ویسے جیسے ایک بہت بڑی دیوار ہو جس میں بہت سی میخوں کی گنجائش ہو، لیکن ہر ایک میخ تنگی میں گھٹی ہوئی ہوتی ہے۔

 

آیت ۳۸

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کفار سے کہہ دیجئے کہ اگر (گمراہی اور ناشائستہ افعال سے) باز آ جائیں تو ان کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے اور اگر (اپنی سابق کارستانیوں کی طرف) پلٹ جائیں تو خدائی طریقہ کار جو گزشتہ لوگوں کے ساتھ چلا آ رہا ہے ان کے بارے میں بھی جاری ہو گا۔

پیام:

۱۔ مسلمان ہونا، سابقہ گناہوں اور خلاف ورزیوں کو مٹا دیتا ہے (ان ینتھوایغفِرلھم ما قد سلف) 21

۲۔ اسلام میں ہمیشہ توبہ اور اصلاح کی راہیں کھلی ہیں اور اسلام کبھی بند گلی میں محدود نہیں ہوتا ۔ (ان ینتھوا)

۳۔ فیصلہ کرتے وقت یہ دیکھا جائے کہ افراد کی موجود ہ حالت کیا ہے ؟ سابقہ حالت کو نہیں دیکھا جائے گا (ان ینتھوا۔۔)

۴۔ تشویق کے ساتھ ساتھ دھمکی بھی ہوتی ہے (ان ینتھوا، ان یعودوا)

۵۔ امید کا دروازہ کھلا رکھنے سے کسی کو یہ احساس نہیں ہونا چاہئیے کہ کسی قسم کی کمزوری کی وجہ سے مجرمین کے لیے ایسا کیا گیا ہے۔ (ان ینتہوا ان یعودوا)

۶۔ لوگوں کو سوچنے کا موقع ، توبہ اور نظر ثانی کی مہلت دینی چاہئیے (ان ینتھوا۔۔۔)

۷۔ پہلے تشویق و ترغیب اور اتمام حجت پھر دھمکی ، سختی اور دباؤ (ان ینتھوا، ان یعودوا)

۸۔ کافر اور زندیق کی توبہ بھی قابل قبول ہے ۔ (قل للذین کفروا ان ینتھوا)

۹۔ اسلام جنگ کا خواہاں نہیں بلکہ اصلاح طلب دین ہے (ان ینتھوا یغفرلھم)

۱۰۔ اللہ کے عادلانہ اور حکیمانہ قوانین ہر دور میں ہر ایک کے لئے یکساں اور ناقابل تبدیلی ہیں (مضت سنت الاولین)

۱۱ سابقہ امتوں میں خدائی طریقہ کار یہ رہا ہے کہ خدا نے انبیاء کو ہی غلبہ عطا فرمایاہے ۔ 22

 

آیت ۳۹

 

ترجمہ۔ اور ان (دشمنوں ) کے ساتھ اتنی جنگ کرو کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہ جائے ، اور دین سارے کا سارااللہ کا ہو جائے ، پس اگر ان لوگوں نے (اپنے کفرسے ) دست کشی اختیار کر لی تو خداوند بھی ان کے کارناموں کو جانتا ہے۔

دو نکات:

۔ اسلام میں جنگ کشور کشائی کے لیے نہیں بلکہ دین اسلام کی وسعت و ہمہ گیری اور فتنوں سے مقابلے کے لیے ہے ۔

۔ “فتنہ ” کے وسیع معنی ہیں اور دباؤ پر مبنی ہر طرح کے اعمال کو بھی شامل ہے۔ اور قرآن مجید میں “شرک ” کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ اور یہ شا ید اس لیے ہے کہ مشرکین کی طرف سے انسانی افکار ‘ معاشرے اورحق طلب افراد پر مختلف قسم کی حد بندیاں اور طرح طرح کے دباؤ ڈالے جاتے ہیں ۔ یا پھر اس لئے کہ شرک چونکہ ابدی عذاب کا موجب ہوتا ہے اسی لئے مومنین اور پاک فطرت لوگوں پر اس کا مسلط کرنا بھی ایک فتنہ ہے۔ (از تفسیر نمونہ)

پیام:

۱۔ اسلام میں جنگ کا مقصد حق کی دعوت کے لئے فتنے اور کفار کے تسلط کا خاتمہ اور صاف ستھری فضا قائم کرے۔ 23

۲۔ تاریخی طور پر جب تک کفار فتنہ پردازی میں مشغول رہیں گے ، فتنے کے قلع قمع کرنے کا حکم بھی موجود رہے گا۔ (وقا تلوھم حتی لا تکون فتنہتہ)

۳۔ یہ آیت دین میں آزادی اور “لا اکراہ فی الدین ” کے منافی نہیں ہے ۔ اس لئے کہ طاغوت اور فتنے کو جڑ سے اکھیڑ پھینکا جائے تا کہ آزادی کے ساتھ اسلام کی اختیار کرنے کی فضا ساز گار ہو۔

۴۔ جب بھی دشمن جنگ سے ہاتھ اٹھا لے اس کے اسی وقت کو مطابق مناسب سلوک کیا جائے۔

 

آیت ۴۰

 

ترجمہ۔ اور اگر (پھر بھی ) وہ رو گردانی اور سرپیچی کریں تو معلوم کر لو کہ خدا تمہارا مولا اور سر پرست ہے کس قدر بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے ۔

پیام:

۱۔ اگر دشمن ، فتنہ پردازی سے باز نہ آئے تو تم مومنوں کو ہر گز گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس لئے کہ تمہارا مددگار اللہ ہے ۔

۲۔ فوجی مسائل پر عمل درآمد کراتے اور  سیاسی منصوبہ کرتے وقت تمام اطراف پر نگاہ ہونی چاہئیے (فان تولوا) اور درفان انتہوا”

۳۔ تم اپنے فرائض ادا کرتے جاؤ اگر دوسرے اس پر عمل نہیں کرتے یا روگردانی کرتے ہیں تو نہ گھبراؤ خدا تمہارا یار و یاور  ہے ۔

۴۔ خدا کی ولدیت ، سر پرستی اور مدد و نصرت سے کبھی غفلت نہ بر تو ۔ (فاعلموا)

۵۔ اللہ تعالی اور اس کے لطف و کرم کی یاد مومنین کے دلوں کو مشکل وقت اور ہرسازش کے موقع پر تقویت عطا کرتی اور سکون بخشتی ہے۔

۶۔ خداوند عالم بہترین مولا ہے کیونکہ نہ تو ہمیں دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہے اور نہ ہی فراموش کرتا ہے ۔ نہ ہمیں اپنے کسی ذاتی مفاد کے لئے چاہتا ہے اور نہ ہی کسی کا حق ضائع کرتا ہے ۔ (نعم المولیٰ)

۷۔ ہر یار و یاور سے خدا کی مدد و نصرت بالا تر ہے (نعم النصیر)

 

آیت ۴۱

 

ترجمہ۔ اور جان لو کہ جو بھی غنیمت حاصل کرو تو یقیناً اس کا خمس (پانچواں حصہ ) خدا ، رسول خدا اس کے قرابتداروں (اہلبیت) یتیموں ، بے نواؤں اور مسافروں کے لئے ہے ، اگر تم خدا اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر حق اور باطل کی جدائی کے دن نازل کی ، جس (جنگ بدر کے) دن دو گروہ ایماندار اور بے ایمان آپس میں گتھم گتھا ہو گئے۔ اور اللہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

چند نکات :

۔ شیعی نقطہ نظر اور روایات کی رو سے اس آیت میں “غنیمت ” جنگی غنائم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ بلکہ ہر طرح کی آمدنی کو شامل ہے خواہ وہ معدنیات ہوں ، غوطہ زنی ہو، تجارت ہو یا کوئی اور ذریعہ آمدنی۔ اور جنگ بدر کے موقع پر آیت کا نزول اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس سے مراد صرف جنگی غنیمتیں ہیں۔

۔ اس سورت کی سب سے پہلی آیت میں “انفال کو خدا اور رسول کا مال بتایا گیاہے اور اس آیت میں مال غنیمت کے صرف پانچویں حصے کو اللہ اور رسول اللہ کا مال بتایا گیا ہے۔

۔ اگر غنیمت سے مراد “جنگی غنیمت “ہی لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ خمس کا ایک موقع اور محل اسی آیت میں ہے اور دیگر موارد روایات میں بیان ہوئے ہیں ۔

۔” ذوی القربیٰ ” سے مراد بہت سی شیعی روایات اور بعض اہلسنت روایات کے مطابق پیغمبر اسلام کے تمام رشتہ دار نہیں ہیں بلکہ صرف ائمہ اہلبیت ہی ہیں جن کے پاس امت اسلامیہ کی قیادت اور رہبر ی ہے ۔ اور خمس اسلامی حکومت اور ا س کے رہبر سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ پیغمبر کے سارے رشتہ داروں سے۔

۔ خمس کا ایک اور مصرف سادات بنی ہاشم میں سے غریب و مسکین اور مسافر افراد ہیں۔ کیونکہ غریب سادات پر غیر سیدوں کی زکوة حرام ہے لہذا خمس کے ذریعہ ان کی ضروریات کو پورا کیا جائے۔

۔ روایات جو کہ ۔۔۔ذوی القربی” سے مراد معصوم امام سمجھتی ہیں ان کے علاوہ ان کا اللہ اور رسول کے ساتھ ہی ساتھ ذکر ہونا اور خاص طور پر حرف “لام” کے ساتھ آنا ا س بات کی دلیل ہے کہ ذوی القربےٰ سے مراد ائمہ اطہار ہیں جو خدا اور ا سکے رسول کے ساتھ ساتھ مذکور ہیں۔

پیام:

۱۔ اب جب کہ تم جنگ بدر میں خدا کی مدد اور نصرت سے کامیاب ہو گئے ہو لہذا غنیمت کے ما ل سے خمس کی ادائیگی کے لئے ٹال مٹول سے کام نہ لو۔ (ان کنتم آمنتم۔۔۔قدیر)

۲۔ مال غنیمت کا خمس رسالت اور مقام حکومت کے لئے ہے ۔

۳۔ حکومت اور  سر براہ حکومت راہبر اور قائد کو تبلیغ اور رسالت کے لئے اموال کی ضرورت ہوتی ہے (للہ وللرسول)

۴۔ خمس واجب ہے خواہ آمدنی اور غنیمت کم ہی کیوں نہ ہوں ، (من شییٴ)

۵۔ ایمان ‘ ایثار کا موجب ہوتا ہے۔ (للہ خمسہ۔۔۔ ان کنتم آمنتم)

۶۔ مالی قربانی اس حد تک مشکل ہوتی ہے کہ بعض موقعوں پر مجاہدین کیلئے بھی دشوار ہو جاتی ہے (ان کنتم ۔۔)

۷۔ غریب طبقہ اور حکومت ، لوگوں کے ۲۰ فیصد اموال کے مالک ہیں ۔ (للہ خمسہ و ۔۔۔)

۸۔ خداوند عالم کو مال کی ضرورت نہیں ، آیت میں خدا کے سہم (حصے) کا ذکر خدا اور رسول کی حاکمیت اور ولایت کے لئے ہے۔

۹۔ خدا کا حصہ کلمۂ حق کی بلندی ، خانہ کعبہ ، دینی تبلیغات اور قانون الہٰی کی حاکمیت اور سر بلندی کے لئے خرچ کیا جاتا ہے۔

۰۔ فقر و فاقہ اور محرومیت کو دور کرنا اسلام کے پروگراموں میں شامل ہے لہذا جہاد اور غنیمت کے ثمرات سے فقراء اور مساکین کو بہرہ ور کیا جانا چاہئیے ۔

۱۱۔ ایمان کامل کی نشانی یہ ہے کہ خدا کے تمام قوانین کے آگے سر تسلیم خم کر دیا جائے ، صرف عبادات اور جنگ ہی میں سر کو نہ جھکایا جائے۔ (ان کنتم۔۔۔۔)

۱۲۔ جنگ کا دن ، سچوں کا جھوٹوں سے جدا ہونے کا دن ہوتا ہے (یوم الفرقان)

۱۳۔ جنگ بدر میں خدائی امدادوں نے حقانیت اسلام کو روشن کر دیا۔

۱۴۔ جس طرح “غرامت ” ہر قسم کے نقصان کو کہا جاتا ہے صرف جنگی نقصان ہی کو نہیں کہا جاتا ۔ 24 اسی طرح “غنیمت ” بھی ہر گونہ منافع اور فائدوں کو کہا جاتا ہے صرف جنگی مال کو نہیں ۔

۱۵۔ خدا کا سہم (حصہ) رسول خدا کے پاس ہوتا ہے اور رسول خدا کا سہم (حصہ) امام علیہ اسلام کے اختیار میں ہوتا ہے ۔ (روایات کی رو سے ۔ تفسیر صافی )

۔ آیت میں مذکورسہم میں فیصلہ کرنا امام کا کام ہوتا ہے (حضرت امام رضا علیہ السلام کا تفسیر صافی )

۔ معاشرہ کے غریب اور محروم لوگوں کی شان بلند کرنے کے لئے ان کا نام اللہ اور رسول اللہ کے ناموں کے ساتھ ہی مذکور ہوا ہے

 

                  آیت نمبر ۴۲ تا ۶۰

 

آیت ۴۲

 

ترجمہ ۔ (وہ وقت یاد کرو)جب تم نچلی جانب تھے اور وہ (دشمن) اوپر کی طرف (اور تم پر برتری رکھتے ) تھے ا ور( ابو سفیان )کا لشکر تم سے بہت نیچے تھا۔ اگر تم جنگ کے لئے پہلے کوئی وعدہ کر لیتے تو یقیناً اس میں اختلا ف کرتے(کیونکہ ایک دشمن تو تمہارے اوپر تھا اورایک نشیب میں اور تم دو مخالف صفوں کے درمیان ہوتے اور ہر گز ایسی جنگ میں شرکت نہ کرتے ) لیکن خدا ہونے والے امر کا فیصلہ کرنا چاہتا تھا تا کہ جو ہلاک ہو تو وہ بھی دلیل اور آگاہی کے ساتھ ہلاک ہو اور جو حقیقی زندگی چاہتا ہے تو وہ بھی دلیل اور حجت کے ساتھ زندہ رہے اور خدا یقیناً سننے اور جاننے والا ہے۔

دو نکات :

۔”عدوہ” کا لفظ “عدو” سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں حد سے بڑھ جانا ۔ ہر چیز کے حاشیہ اور اطراف کو جو درمیانی حد سے بڑھ چکی ہو اسے بھی “عدوہ” کہتے ہیں ۔ اور اس آیت میں “عدوہ” سے مراد اطراف و جوانب ہے۔ “دنیا” کا لفظ “دنو ” سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں نیچے اور نزدیک تر۔ جبکہ “قصویٰ” اور اقصیٰ ” کے معنی ہیں “دور تر”۔

۔ جنگ بدر میں کفار کو صرف اسلحے ، افرادی قوت اور آمادگی کے لحاظ ہی سے برتری حاصل نہیں تھی ، بلکہ لشکر کے پڑاؤ کے اعتبار سے بھی علاقائی فوقیت رکھتے تھے۔ اور اس طرح جگہ کا انتخاب کیا ہوا تھا کہ بوقت ضرورت بحیرہ احمر کی طرف بھاگ کر جا سکتے تھے ۔ لیکن خداوند عالم نے کفار اور ان کے اموال ان کے قبضہ میں دینے کے لئے ، مسلمانوں کو کفار کے مقابل لا کھڑا کیا۔ اور جنگ کے سوا چارہ کار نہ رہا۔ اور خد اکے لطف و کرم نے انہیں سرفراز اور کامیاب و کامران کر دیا۔

سورت کی ابتدا سے ایک مرتبہ پھر جنگ بدر پر ایک نگاہ

امداد الٰہی کی بہتر پہچان

۱۔ اے مسلمانو! تم جنگ کے لئے نہیں مال ہتھیانے کی فکر میں تھے ” تودون ان غیرذات الشوکة تکون لکم ” (آیت۷)

۲۔ جب جنگ شروع ہوئی تو تم پریشان ہو گئے۔ “فریقامن المومنین لکارھون” (آیت۵)

۳۔ موت سے ڈر رہے تھے۔ “کانمایساقون الی الموت” (آیت۶)

۴۔ پریشان ہو کر نصرت طلبی کر رہے تھے” تستغیثون ربکم” (آیت۹)

۵۔ حملے کی رات شیطان نے تم پر اپنی پلیدی (جنابت) مسلط کر دی “رجز الشیطان” (آیت۱۱)

۶۔ فرمانروائے لشکر کی مکمل اطاعت نہیں کی “قالو ا سمعنا و ھم لا یسمعون” (آیت۲۱)

۷۔ تعداد میں کم تھے اور دشمن کا شکار ہونے سے پریشان تھے ۔ “انتم قلیل تخافوان یتخطفکم” (آیت۲۶)

۸۔ تم میں سے بعض لوگوں نے تو ابتداء ہی سے خیانت کا ارتکاب کیا تھا “ابولبابہ کا ماجرا” (آیت۲۷)

۹۔ تمہارا قائد اور رہبر دشمن کی سازشوں اور دھمکیوں سے دو چار ہو چکا تھا” یمکر بک” (آیت۳۰)

۱۰۔ تم پیاسے تھے اور پھر ساتھ ہی جنب بھی ہو گئے ، تمہارے پاؤں کے نیچے کی ریت بھی نرم تھی۔ ہم نے بارش برسائی۔

پیام: (آیت ۴۲)

۱۔ اگر جنگ کا مسئلہ تمہارے اختیار میں ہو تا تو ان مشکلات کی وجہ سے کسی بات پر اتفاق نہ کر پاتے (لاختلفتم)

۲۔ جب خدا چاہتا ہے تو کمزوری کے تمام اسباب بر طرف کر دیتا ہے ۔ (لیقضی اللہ)

۳۔ ایسی ہر طرح کی امداد آ جانے کے باوجود بھی جو ایمان نہیں لایا وہ بطور آگاہ ہلاک ہو گیا اور جو ایمان لے آیا وہ سوچ سمجھ کر اور آگاہ ہو کر ایمان لے آیا (لیھلک۔۔۔۔ عن بینتہ)

۴۔ جلدی میں فیصلہ نہ کر دیا کرو، ابتدا میں تو جنگ تمہیں پسند نہیں تھی لیکن بعد میں اس کی بہتری سے باخبر ہوئے۔

۵۔ اللہ تعالیٰ تمام منصوبے نا کام بنا دیتا ہے اور کیفیت کو تبدیل کر دیتا ہے ، اور یہیں سے خدا کو پہچانا جا سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جنگ بدر کے دن کو۔۔ گزشتہ آیت میں۔۔۔ “فرقان کا دن” کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس دن اس قدر غیبی امدادیں نازل ہوئیں کہ سب لوگوں پر حق واضح ہو گیا ، لیکن اس کے باوجود جس نے بے توجہی سے کام لیا اور اس پر ایمان نہیں لایا تو یہ اس کی ہٹ دھرمی ، عناد اور  ضد کا نتیجہ تھا۔ (لیھلک من ھلک عن بینتہ)۔

 

آیت۴۳

 

ترجمہ۔ اے پیغمبر! اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں دشمن کی تعداد کم کر کے دکھلائی ، اور اگر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو تمہیں زیادہ دکھلاتا تو تم سست ہو جاتے اور جنگ کے معاملہ میں لڑائی جھگڑ ا کرتے لیکن اللہ تعالی نے (تمہیں اس سے) محفوظ رکھا۔ بے شک اللہ تعالیٰ سینے کے اندر کی چیزوں کو جانتا ہے

چند نکات:

۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر اپنے لطف و کرم اور امداد و نصرت کے سلسلے میں مسلمانوں کی نگاہوں میں کفار کی تعداد کم کر کے دکھانے کی بات کر رہا ہے۔ کہ ایک نہیں کئی مرحلوں پر ایسا ہوا ہے ۔ ایک تو خود پیغمبر اکرم نے خواب میں ان کی تعداد کو بہت ہی کم دیکھا، اور یہ خواب مسلمانوں کو بتایا جس سے ان کے حوصلے بلند ہو گئے۔

دوسری صورت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کی نگاہوں میں مسلمانوں کی تعداد کو کم کر کے دکھایا۔

تاکہ اس طرح سے وہ مکہ سے تازہ دم لشکر نہ منگوائیں۔ (یہ بعد کی آیت میں ہے )

۔ حضرت رسول خد ا کی عمہ محترمہ جناب عاتکہ نے جنگ بدرسے تین دن پہلے مکہ میں خواب دیکھا کہ:

کوئی شخص بلند آواز سے کہہ رہا ہے کہ اے مکہ والو! اپنی مقتل کی طرف جانے میں جلدی کرو ، اتنے میں ایک پتھر کے ٹکڑے کو ہلایا جس سے اس کے کئی ٹکڑے ہو گئے اور  ایک ایک ٹکڑا کر کے ایک گھر میں جا گرا جس سے پورے شہر سے خون جاری ہو گیا”۔

چنانچہ یہ خواب ہر ایک کی زبان پر جاری ہو گیا جس سے کفار کے دل پر وحشت طاری ہو گئی، اور ا سطرح سے اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر میں مسلمانوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ (تفسیر نمونہ)

۔ اگرچہ انبیاء علیہم السلام کا خواب وحی کا پرتو ہو ا کرتا ہے، لیکن پیغمبر اسلام نے خواب میں کفار کی بھاری تعداد کو بہت کم تعداد میں ملاحظہ فرمایا تو یہ ان کفار کی باطنی کیفیت تھی جو ان کی ناتوانی اور کمزوری پر دلالت کر رہی تھی جو تعداد کی صور ت میں مجسم ہو کر دکھا ئی دی ، ارشاد رب العزت ہے” تحسبھم جمیعا و قلوبھم شی” (حشر ۱۴)

پیام:

۱۔ خواب اللہ تعالیٰ سے امداد حاصل کرنے ، حوصلہ پانے اور اس کی ذات کے ساتھ ربط پیدا کر نے کا ایک راستہ ہے (فی مناماک) 25

۲۔ خواب کی محیر العقول دنیا کی زبان اور نشانی ہی کچھ اور ہوتی ہے ۔ دشمن کی کمزوری اور شکست ، افرادی تعداد کی کمی کی صورت میں نظر آئی اگرچہ ان کی تعداد بہت ہی زیادہ تھی۔

۳۔ اطلاعات ، اعداد و شمار وغیرہ یا جس سے مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہو جائے یا ان کے حوصلے پست ہو جائیں ایسی چیزوں کو ظاہر کرنا ، خصوصاً محاذ جنگ میں ایسی چیزوں کا فاش کرنا ممنوع ہے (ولوا راکھم کثیرالفشلتم)

۴۔ خداوند عالم سخت ترین بحرانی لمحات میں بھی مومنین کی حفاظت فرماتا ہے۔ 26

 

آیت ۴۴

 

ترجمہ۔ اور اس وقت کو بھی یاد کرو جب تم دشمن سے دوبدو ہوئے، اس وقت خدا نے دشمن کو تمہاری نگاہ میں کم کر کے دکھایا (تاکہ تم پوری جرأت کے ساتھ ان پر حملہ کرو) اور تمہیں بھی ان کی نظروں میں کم کر کے دکھایا (تاکہ کفار مکہ سے کمک کی درخواست نہ کریں) یہ اس لئے تھا تاکہ جو کام ہونا تھا ا للہ تعالیٰ اسے پورا کر دے۔ اور تمام امور خدا کی طرف ہی لوٹائے جائیں گے (اور اس کا ارادہ پورا ہو کر رہے گا)

ایک نکتہ:

جب کفار کی نگاہ مسلمانوں پر پڑی تو انہیں اس قدر کم نظر آئے کہ کہنے لگے “ان کے ساتھ لڑنے کے لئے تو ہم اپنے نوکر غلام ہی بھیجیں گے جو ان کا مقابلہ کریں گے، ہمیں لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (تفسیر صافی) لیکن جونہی جنگ شروع ہوئی تو دوران جنگ ہی انہیں مسلمانوں کی تعداد دوگنی نظر آئی اس پر وہ سخت مرعوب ہو گئے (تفسیر صافی، نمونہ اور المیزان) “یرونھم مثثلیھم رأی العین” (آل عمران/۱۳)

پیام:

۱۔ اللہ کی مدد جنگ سے پہلے بھی مسلمانوں کے شامل حال ہوئی “فی منامک” اور جنگ کے دوران بھی (اذا لقیتم)

۲۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی امداد کے لئے ولایت تکوینی اور نگاہوں میں تصرف سے کام لیتا ہے (فی اعینکم قلیلا)

۳۔ ظاہری حواس سے بہرہ برداری بھی خدا کے ہاتھ میں ہے۔

۴۔ اگر کسی کام میں ارادہ خداوندی کارفرما ہو تو تمام رکاوٹیں برطرف ہو جاتی ہیں، (لیقضی اللہ…)

یہ کلمہ ایک مرتبہ تو ۴۲ ویں آیت اور ایک مرتبہ یہاں پر ذکر ہوا ہے۔

۵۔ کامیابی اور فتح کا دارومدار افرادی قوت اور عددی برتری پر نہیں ہے، مجاہدین کے ایمان و حوصلے اور ارادہ الٰہی پر منحصر ہے۔

 

آیت ۴۵

 

ترجمہ۔ اے ایماندارو! جب بھی میدان جنگ میں (دشمن سے) دوبدو ہونے لگو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

ایک نکتہ:

ذکر خد اسے مراد صرف، زبان اور لبوں کے ساتھ ذکر نہیں ہے، بلکہ اس کے لطف و کرم، احسان و مہربانی اور غیبی امدادوں اور وعدوں، عزت و عظمت اور اس کے احکام و فرامین کی یاد بھی مراد ہے۔

پیام:

۱۔ میدان جنگ میں ثبات قدمی، پائیداری اور خدا کی یاد ہی جنگ میں کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔

۲۔ میدان جنگ میں ہمیں حکم ہے کہ ثابت قدم رہیں، لیکن اس بات کی درخواست بھی خدا ہی سے کرنی چاہئے۔ 27 (فاثبتوا)

۳۔ ثابت قدمی، ایمان کا جزو لازم ہے )امنوا، فاثبتوا)

۴۔ مسلمانوں کے محاذ جنگ کی فضا کو یاد الٰہی سے معمور ہونا چاہئے، اور مشکلات جس قدر زیادہ ہوں گی نیاز اور یاد خدا اسی قدر زیادہ ہو گی۔

۵۔ جنگ کے بحران اور محاذ جنگ کے حوادثات میں اگر خدا کی یاد نہ ہو تو اہداف و مقاصد میں انحراف اور اعمال و افعال میں گمراہی کے پیدا ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

۶۔ محاذ جنگ میں زن و فرزند اور مال و دولت کی یادوں کی بجائے خدا کی یاد کو جاگزین ہونا چاہئے 28 (واذکروا اللہ)

۷۔ محاذ جنگ ان مقامات میں سے ہے جہاں انسان کو فلاح اور کامیابی کی سند ملتی ہے (تفلحون)

 

آیت ۴۶

 

ترجمہ۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور نزاع مت کرو کیونکہ اس سے سست ہو جاؤ گے، اور تمہاری ہیبت اور قوت جاتی رہے گی اور صبر کرو کہ اللہ تعالیٰ یقینی طور پر صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

دو نکات:

سابقہ آیت میں فتح اور کامیابی کے دو اہم عوامل “پائیداری” اور “خدا کی یاد” کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس آیت میں دو عوامل “اطاعت” اور “وحدت” کی بات ہو رہی ہے۔

“ریح” (ہوا) قدرت اور شان و شوکت سے کنایہ ہے۔ جیسا کہ ہوا، کشتی کو متحرک رکھتی ہے اور اس کے پرچم کو لہرائے رکھتی ہے جو کہ تمہاری کامیابی و کامرانی اور عزت و عظمت کی علامت ہے، اگر تمہارے اختلاف و انتشار اور لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے یہ ہوا خالی ہو جائے تو تم ذلیل و خوار اور حقیر ہو جاؤ۔

پیام:

۱۔ قانون اور رہبر وحدت کا محور و مرکز ہیں۔

۲۔ مسلمانوں کا جہاد مسلمانوں کے رہبر کی قیادت میں اور خدا و رسول (اور رسول کے برحق جانشینوں) کے حکم کے مطابق ہونا چاہئے۔

۳۔ محاذ جنگ میں اطاعت اور وحدت کے سلسلے میں ثابت قدم اور پائیدار رہو، اگر کوئی چیز تمہاری مرضی کے خلاف ہو یا تمہاری مرضی کے خلاف کوئی کام ہو تو صبر سے کام لو۔

۴۔ عقائد کا اختلاف، تمہارے اعمال و کردار کو کمزور کر دے گا (فتفشلوا)

۵۔ باہمی نزاع تمہیں اندر سے کھوکھلا اور باہر سے بے عزت و بے آبرو کر دے گا۔ (تفشلوا و تذھب ریحکم)

 

آیت ۴۷

 

ترجمہ۔ اور ان لوگوں کے مانند نہ بنو جو لوگ سرمستی، خودنمائی، غرور اور ریا کی بنا پر اپنے گھروں سے (محاذ جنگ کی طرف) نکلے ہیں اور خدا کا راستہ لوگوں کے لئے بند کر دیتے ہیں حالانکہ جو کچھ وہ کرتے ہیں خداوند عالم اسے جانتا ہے۔

دو نکات:

جب ابو سفیان کا تجارتی قافلہ مسلمانوں سے بچ کر صحیح سالم مکہ پہنچ گیا تو ابو سفیان نے ابو جہل کو پیغام بھیجا کہ “ہم خیر و عافیت کے ساتھ مکہ پہنچ گئے ہیں، تم لوگ جو کہ ہماری امداد کے لئے گئے ہوئے تھے واپس آ جاؤ! ”

ابو جہل نے نہایت مغرورانہ انداز میں کہا: “جب تک ہم مسلمانوں کو سرکوب نہیں کر لیں گے اور اس خوشی میں جام شراب نہیں پی لیں گے اور اپنی قدرت انہیں نہیں دکھا دیں گے واپس نہیں پلٹیں گے” لیکن اللہ کے فضل و کرم سے شکست سے دوچار ہوئے اور خیر سے… گھر کو آئے۔

اس آیت میں اور اس سے پہلے کی دو آیات میں محاذ جنگ میں کامیابی کے عوامل کو یوں بیان کیا گیا ہے۔ “ثبات قدم، یاد خدا، رہبر کی اطاعت، اختلافات سے دوری، صبر کی پابندی، غرور، ریا اور دنیا طلبی سے پرہیز” (بطراور ئاء الناس)

پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ یہ سورت زیادہ تر جنگ بدر کے بارے میں ہے اور اس میں فوجی اصول، عسکری تجربے، جنگی غنائم اور فتح و شکست کے اسباب کو بیان کیا گیا ہے۔

پیام:

۱۔ غرور اور ریاکاری، قدرت و طاقت، محاذ جنگ اور لشکر کشی کی آفتیں ہیں (بطرا)

۲۔ محاذ جنگ پر روانہ ہوتے وقت اپنی نیت کو خالص کر لیا کرو۔ (رئاء الناس) 29

۳۔ اسلامی محاذ جنگ کو زیب و زینت اور دکھاوے اور آرائش کی آلودگی سے پاک ہونا چاہئے۔ (تفسیرالمیزان)

۴۔ اسلامی اور غیراسلامی جنگوں کا اصولی فرق ان کے اہداف اور مقاصد میں ہوتا ہے، کیونکہ مسلمانوں کا ہدف عالم سے فتنہ کی بیخ کنی ہے (انفال/۳۸) جبکہ دوسروں کا مقصد استعمار، سامراج اور تسلط و اظہار قدرت ہوتا ہے۔ (بطرا و رئاء الناس)

 

آیت ۴۸

 

ترجمہ۔ اور اس زمانے کو یاد کرو جب شیطان نے ان (مشرکین) کے کارناموں کو ان کی نظروں میں مزین کر کے دکھایا، اور کہا: آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی شخص تم پر غالب آنے والا نہیں۔ اور میں بھی تمہارے لئے پناہ ہوں۔ لیکن جونہی دونوں لشکر آپس میں گتھم گتھا ہوئے (اور سپاہ اسلام کی امداد کے لئے فرشتے آ پہنچے) تو شیطان پیچھے ہٹ کر کہنے لگا: میں تم سے بیزار ہوں میں ایسی چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے، میں خدا سے ڈرتا ہوں اور خدا بہت سخت عذاب دینے والا ہے۔

دو نکات:

اس آیت میں بیان ہونے والی شیطان کی اپنے دوستوں سے گفتگو، ہو سکتا ہے کہ وہی شیطانی وسوسے ہوں جو ان کے دلوں میں پیدا ہوئے یا چونکہ شیطان انسانی قالب میں ڈھل کر اپنے ناپاک مقاصد کو پورا کرتا رہتا ہے لہٰذا اس موقع پر بھی اس نے انسانی شکل میں ان کے دلوں میں وسوسے ڈالے ہوں۔ (اور روایات بھی اس بارے میں موجود ہیں)

روایات کے مطابق جنگ بدر میں شیطان، قبیلہ بنی کنانہ کے ایک شخص “سراقہ بن مالک” کی صورت میں مشرکین کے پاس آیا، اور اپنی شکست کے بعد جب کفار و مشرکین مکہ واپس آئے تو اسے کہنے لگے “تو ہماری شکست کا سبب بنا” جبکہ اس نے قسمیں کھائیں کہ ” وہ تو مکہ سے باہر گیا ہی نہیں تھا” بعد میں معلوم ہوا کہ شیطان، سراقہ کی شکل میں ان کے پاس آیا انہیں فتح و نصرت کے وعدے دیئے، پھر بھاگ گیا۔

پیام:

۱۔ شیطانی فریب کاری کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ برائیوں کو اچھائی کی صورت میں پیش کرتا ہے۔

۲۔ شیطان، انسانی شکل و صورت میں ظاہر ہوتا ہے (روایات کی رو سے)

۳۔ شیطان اور شیطان صفت لوگ، دوسرے لوگوں کو فساد برپا کرنے کے لئے مختلف توجیہات کے ذریعے انہیں برائیوں پر اکساتے ہیں۔

۴۔ شیطان بے وفا ہے (جارلکم۔ بریٴ منکم)

۵۔ شیاطین فتنے کی آگ تو بھڑکاتے ہیں لیکن خود وارد معرکہ نہیں ہوتے (انی بریٴ)

۶۔ خدائی راہوں سے ہٹ کر مراسم اور روابط ہمیشہ نا پائیدار اور ابن الوقتی ہوا کرتے ہیں (انی جار لکم انی بریٴ)

۷۔ ایمان، فرشتوں کی حمایت کو اور کفر، شیطان کی حمایت کو اپنی طرف مبذول کراتا ہے۔ (جارلکم)

۸۔ غیراللہ پر توکل، انسان کو مشکلات میں پھنسا دیتا ہے۔ (انی بریٴ، انی جارلکم)

۹۔ شیطان، فرشتوں کی قدرت سے آگاہ ہے (انی اریٰ مالاترون)

 

آیت ۴۹

 

ترجمہ۔ اس وقت کو یاد کرو جب منافق اور دلوں کے بیمار لوگ کہتے تھے: “ان (مسلمانوں) کو ان کے دین نے دھوکہ دیا ہے” حالانکہ جو شخص خدا پر بھروسہ کرتا ہے تو خدابھی یقیناً ناقابل شکست اور صاحب حکمت ہے۔

دو نکات:

نصرت الٰہی پر عقیدہ نہ رکھنے والے منافقین کو تو یہ تصور تک نہیں تھا کہ مسلمان اپنے تھوڑے سے ہتھیاروں سے فتح حاصل کر لیں گے، اسی لئے وہ کہتے تھے “دین نے ان لوگوں کو دھوکہ دیا ہے”

ہو سکتا ہے “منافقین” سے مراد، مدینہ کے کچھ مسلمان نما افراد ہوں اور “فی قلوبھم مرض” سے مراد، مکہ کے ضعیف الایمان افراد ہوں (تفسیر فخر رازی) اور ممکن ہے منافقین سے مراد مدینہ کے وہ لوگ ہوں جو بظاہر ایمان کا دعویٰ کرتے تھے یا وہ لوگ مراد ہوں جو مکہ میں مسلمان تو ہوئے تھے لیکن پیغمبر کی حمایت اور مسلمانوں کے ساتھ ہجرت سے دست کش ہو گئے تھے۔

پیام:

۱۔ منافق لوگ مسلمانوں کو فریب خوردہ سمجھتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ آیا ممکن ہے کہ خالی “اللہ اکبر” کے نعرے کے ساتھ ہر قسم کے جدید اسلحہ کا مقابلہ کیا جائے؟ آیا فقط نعرہ تکبیر سے غیراسلامی طاقتوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے؟ دین نے انہیں دھوکہ دیا ہے) (غرھو لآء دینھم)

۲۔ خدا پر توکل اور ہے اور غرور کی بات اور ہے۔

۳۔ اس قدرت اور طاقت پر بھروسہ کیا جانا چاہئے جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا اور اس کی حمایت بھی حکمت پر مبنی ہے۔ (عزیز حکیم)

۴۔ جن کے حوصلے پست ہوتے ہیں وہ منافقین کے ہم نوا ہو جاتے ہیں (المنافقون والذین فے قلوبھم مرض)

۵۔ ایک ہی عمل کے متعلق مختلف نظریئے قائم کئے جا سکتے ہیں کوئی اسے “توکل” سمجھتا ہے اور کوئی “غرور” اور کوئی فریب۔

 

آیت ۵۰، ۵۱

 

ترجمہ۔ اور (اے پیغمبر!) اس وقت دیکھو جب فرشتے، کافروں کی جانوں کو لے رہے ہوتے ہیں کہ ان کے چہروں پر اور پشت پر ضربیں لگا رہے ہوتے ہیں (اور کہتے ہیں) جلانے والے عذاب کو چکھو۔ یہ تمہارے اس کئے کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ انجام دے چکے ہیں، ورنہ خدا تو اپنے بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔

ایک نکتہ: قرآن مجید میں کئی بار کفار کی سخت جانکنی کا تذکرہ آیا ہے جن میں سے سورہ محمد/۲۷ ، اور سورہ انعام ۹۳ میں بھی یہی چیز مذکور ہے۔

پیام:

۱۔ کافروں پر قہر الٰہی کا آغاز، ان کی جانکنی کے لمحہ ہی سے ہو جاتا ہے۔ (یضربون…)

۲۔ برزخ میں بھی عذاب ہے، (ذوقوا عذاب الحریق)

۳۔ خدا کی سزائیں، عدل کی بنیاد پر ہوتی ہیں (بما قدمت…)

 

آیت ۵۲

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) تمہارے زمانے کے کافرں کی عادت بھی) فرعون والوں اور ان سے پہلے کے کفار جیسی عادت ہے کہ جنہوں نے (عناد اور دشمنی کی بنا پر) آیات خداوندی کا کفر کیا، تو اللہ نے بھی انہیں ان کے گناہوں کی سزا میں اپنی گرفت میں لے لیا، یقیناً اللہ تعالیٰ طاقتور اور سخت عذاب دینے والا ہے۔

پیام:

۱۔ بعض اوقات کفر اور ہٹ دھرمی بعض لوگوں کی عادت اور خصلت ہو جاتی ہے۔ (کداْب)

۲۔ تمام اقوام خدا کے نزدیک یکساں ہیں اگر گمراہی اور کفر کی راہیں اختیار کریں گی تو سزا پائیں گی (والذین من قبلھم)

۳۔ اللہ تعالیٰ کا تو قدیم سے یہی طریقہ چلا آ رہا ہے کہ کفار کو ضرور سزا دے (جنگ بدر میں مشرکین کو سزا کوئی نئی بات نہیں تھی)

۴۔ گناہ قہر خداوندی کا سبب ہے۔ (بذنوبھم)

۵۔ خدا قطعاً عاجز نہیں ہے۔ بلکہ تمام اقوام (خواہ فرعون ور فرعونیوں جیسی طاقتور ہوں یا مشرکین جیسی کمزور ہوں) قہر الٰہی کے آگے عاجز ہیں۔ (قوی، شدید العقاب)

۶۔ جب خدا کا عذاب کسی قوم پر نازل ہوتا ہے تو گناہ اور کفر ان کی عادت اور خصلت بن جاتے ہیں (کداب)

 

آیت ۵۳

 

ترجمہ۔ یہ سزا اس وجہ سے ہے کہ جب خداوند عالم کسی قوم کو کسی نعمت سے نوازتا ہے تو اسے تبدیل نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ خود اپنے آپ کو تبدیل کر دیں، یقیناً خدا سننے اور جاننے والا ہے۔

ایک نکتہ:

احادیث میں ہے کہ بعض عوامل مثلاً ظلم اور گناہ ایسے ہیں جو نعمتوں کے تبدیل ہو جانے کا موجب بنتے ہیں، اسی طرح اقوام و ملل کا گناہوں سے توبہ تائب ہو جانا اور گمراہی کو چھوڑ کر راہ حق کو اپنا لینا اللہ کی نعمتوں کے نزول کا موجب بن جاتا ہے۔ (تفسیر فرقان) گناہ اور ظلم انسان کو خدائی نعمتوں سے بہرہ مند ہونے سے دور کر دیتے ہیں۔

حدیث شریف میں ہے کہ ظلم سے بڑھ کر اور کوئی چیز خدائی نعمتوں کے تبدیل ہونے کا موجب نہیں ہوتی۔ کیونکہ خداوند عالم مظلوم کی آہ و فریاد کو جلد شرف پذیرائی بخشتا ہے (تفسیر فرقان)

پیام:

۱۔ نعمتوں کا زوال خود ہماری اپنی طرف سے ہوتا ہے۔

۲۔ معاشرے کی تقدیر خود افراد کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

(بقول علامہ اقبال نئی سطر افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر۔ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔ از مترجم)

۳۔ خدا کی طرف سے نعمتوں کی عطا اور گرفت اس کے حکیمانہ قانون کے تحت ہوتی ہے۔

۴۔ اسلام میں شخصی سزاؤں کے علاوہ اجتماعی اور معاشرتی سزائیں بھی ہیں اور معاشروں کی تبدیلی کے لئے بھی قوانین موجود ہیں۔

۵۔ انسان ہی تاریخ کو بناتا ہے نہ کہ اقتصاد، تاریخی جبر اور ماحول !

۶۔ انسان بھی آزاد ہے اور اپنی راہیں تبدیل کرنے میں آزاد ہے اور معاشرہ بھی انقلابی بن کر اپنے اندر تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔

۷۔ اقوام و ملل کی سعادت و شقاوت ان کی اندرونی تبدیلیوں کی مرہون ہوتی ہیں۔ قدرت اور ثروت سعادت یا بدبختی پیدا نہیں کر سکتیں۔

۸۔ سیاسی، اقتصادی اور فوجی تبصروں میں محور و مرکز افراد کی روحانی کیفیت ہوتی ہے نہ کہ اتفاق اور چانس، خرافات، حکم فرما نظام (سسٹم) اور تاریخی جبر وغیرہ۔

۹۔ افراد کے اندر کی تبدیلی معاشرے کے اندر تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ اور معاشرے کی یہی اندرونی تبدیلی نعمتوں میں تبدیلی اور انقلاب کی راہیں ہموار کرتی ہے۔

۱۰۔ تم سب خدا کی نگرانی میں ہو اور خدا تمہیں دیکھ رہا ہے (سمیع علیم)

 

آیت ۵۴

 

ترجمہ۔ (تمہارے زمانے کے کافر لوگوں کی اندرونی کیفیت) فرعون والوں اور ان سے پہلے کے لوگوں کی جیسی ہے۔ انہوں نے اپنے پروردگار کی نشانیوں کو جھٹلایا۔ پس ہم نے بھی انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دیا اور فرعون والوں کو غرق کر دیا اور یہ سب لوگ ظالم تھے۔

ایک نکتہ:

اس سے دو آیات پہلے بھی “کدأب آل فرعونٴٴ کا جملہ گزر چکا ہے، چونکہ ہر ایک جملے کی نوعیت علیحدہ تھی لہٰذا اس جگہ پر اسے دوبارہ ذکر کیا گیا ہے۔ اس جگہ پر ظالم کو سزا دینے کی بات ہو رہی تھی اور یہاں لوگوں حالات کی تبدیلی کی بنا پر نعمتوں کی تبدیلی کا ذکر ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلی آیت میں آخرت کا عذاب مراد ہو اور اس آیت میں دنیوی عذاب مقصود ہو۔

پیام:

۱۔ گزشتہ لوگوں کے حالات سے درس حاصل کرو۔

۲۔ ظلم اور گناہ قہر خداوندی کا موجب ہوتے ہیں خواہ اپنے نفس پر ظلم ہو یا لوگوں پر یا انبیاء اور دین پر (اھلکنا ھم بذبوبھم)

۳۔ آیات خداوندی کا جھٹلانا، ظلم ہے، (کذبوا…کانوا ظالمین)

 

آیت ۵۵

 

ترجمہ۔ یقیناً اللہ کے نزدیک چلنے والوں میں سے بدترین وہ لوگ ہیں جو کافر ہو گئے ہیں، پس وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

چند نکات:

اسی سورت کی ۲۲ ویں آیت میں “شرالدوآب” (چلنے والوں میں سے بدترین) ان لوگوں کو قرار دیا گیا ہے جو سوچ و بچار اور عقل و فکر سے کام نہیں لیتے۔ اور اس آیت میں ان لوگوں کو قرار دیا گیا ہے جو ایمان نہیں لاتے اور کفر پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر کا سرچشمہ، صحیح معنوں میں عقل سے کام نہ لینا ہے۔

قرآن مجید انسان کی تصویر کشی عقل اور ایمان میں کرتا ہے یعنی اگر کوئی شخص عقل سے کام نہیں لیتا یا کفر کا ارتکاب کرتا ہے وہ مدار انسانیت سے خارج ہے۔ پس حقیقی انسان عاقل اور مومن ہی ہے۔

ممکن ہے کہ کافر، لوگوں کے نزدیک کسی عزت و احترام کا حامل ہو لیکن خدا کے نزدیک وہ بدترین جانور ہے۔

تفسیروں میں اس آیت کا مصداق یہودیوں کو بتایا گیا ہے: لیکن اس کے مفہوم کے کلی ہونے سے بھی کوئی چیز مانع نہیں ہے۔

پیام:

۱۔ عقل سے کام نہ لینا، کفر کی جڑ ہے۔ (اسی آیت اور اسی سورت کی ۲۲ ویں آیت کے پیش نظر)

۲۔ جو لوگ انبیاء کی آواز کو سنتے ہیں لیکن اس کی طرف توجہ نہیں دیتے وہ روئے زمین پر چلنے والوں میں سے بدترین مخلوق ہیں۔

۳۔ بعض اوقات، بعض لوگوں کے لئے کفر ملکہ بن جاتا ہے اور ان کے مستقبل کو تاریک کر دیتا ہے (کفرو۔لایومنون )

 

آیت ۵۶

 

ترجمہ۔ یہ وہی لوگ تو ہیں کہ جن سے تم نے عہد و پیمان لیا ہے لیکن پھر وہ ہر مرتبہ اسے توڑ دیتے ہیں اور (اپنے عہد و پیمان کے حفظ کرنے میں) تقویٰ سے کام نہیں لیتے۔

ایک نکتہ:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ یہودیوں کا یہ معاہدہ تھا کہ وہ مشرکین کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کریں گے اور مسلمانوں کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائیں گے۔ لیکن بد عہد یہودیوں نے اپنے اس معاہدے پر عمل درآمد نہ کر کے اپنی روایتی عہد شکنی کا ثبوت دیا اور جنگ خندق میں مشرکین کی کمک کرتے ہوئے انہیں اسلحہ بھی فروخت کیا۔

پیام:

۱۔ عہد شکنی، انسانیت سے سازگار نہیں ہے۔ (شر الدوآب…ینقضون عھدھم)

۲۔ عہدشکنی کافروں کا وطیرہ ہے۔ “کفروا” گزشتہ آیت میں (ینقضون) اسی آیت میں۔

۳۔ وفاشعاری اور جوانمردی تقویٰ کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ (ینقضون، لایتقون)

۴۔ عہد شکنی کرنے والا، جھوٹا بھی ہے اور خیانت کار بد دیانت بھی۔ 30

۵۔ زیادہ خطرہ ان لوگوں سے ہوتا ہے، پیمان شکنی اور بدعہدی جن کا شیوہ اور خصلت بن چکی ہوتی ہے اور انہیں اس بات کی کوئی پروا تک بھی نہیں ہوتی۔ (ینقضون۔ فی کل مرة، لایتقون)

 

آیت ۵۷

 

 

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) جب تم ان کے ساتھ جنگ کرو تو (دشمن کو سزا دے کر) ان کے بعد والوں کو وحشت میں ڈال کر انہیں منتشر کر دو شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (اور سازشوں سے باز آ جائیں)۔

دو نکات:

“تثقفنھم” کا جملہ “ثقف” سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں خوب غور و خوض اور بڑی تیزی کے ساتھ کسی چیز کا درک کرنا، یعنی کفار کے ساتھ جنگ کے موقع پر مکمل ہوشیاری کے ساتھ ان کا سامنا کرو تاکہ غفلت کا شکار نہ ہو جاؤ۔

“تشرید” کے معنی ہیں بدامنی اور بے چینی پیدا کر کے منتشر کر دینا، یعنی دشمن پر اس طرح حملہ کرو اور ایسے جنگی منصوبے کے ساتھ ان سے لڑو کہ ان کے پس پردہ حامی اور مددگار نیز محاذ کے پیچھے چھپے ہوئے ان کے ساتھی اس حد تک گھبرا جائیں اور وحشتناک ہو جائیں کہ تم پر حملے کا سوچ بھی نہ سکیں۔

پیام

۱۔ جو عہد شکن، قوم اور معاشرے کے امن و امان کو درہم برہم کرتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ وہ خود وحشت ناک اور غیر مطمئن ہو جائیں۔

۲۔ عہد شکنوں پر تمہارا حملہ اچانک، بڑی تیزی کے ساتھ، پورے حساب و کتاب کے تحت اور تباہ کن ہونا چاہئے (تثقفنھم۔ شردبھم)

۳۔ دشمن کو غافل کر کے مار دینا، ان میں انتشار پیدا کرنا، ان کے لشکر میں خوف اور وحشت ایجاد کرنا فوجی اصولوں میں شامل ہے۔

۴۔ عہد شکنوں سے بڑی سختی کے ساتھ پیش آؤ۔ (شردبھم)

۵۔ اگرچہ اسلام رحمت و مہربانی کا دین ہے لیکن خیانت، عہد شکنی، گڑبڑ پھیلانے اور امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے کو برداشت نہیں کرتا۔

۶۔ مسلمانوں میں ہیبت اور شان و شوکت ہونی چاہئے۔ (فشرد بھم من خلفھم)

۷۔ کفار کے حوصلے اس قدر پست کر دو کہ دوبارہ کبھی تم پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں، (فشردبھم)

۸۔ اسلام جہاں تبلیغ اور موعظے کا دین ہے وہاں قدرت و طاقت اور پیش قدمی اور حملے سے بھی بے خبر نہیں ہے۔ (فشردبھم)

 

آیت ۵۸، ۵۹

 

ترجمہ۔ اور اگر (کچھ علامتوں کی وجہ سے) ان لوگوں سے اس بات کا خوف محسوس کرو کہ وہ عہد و پیمان میں خیانت کریں گے تو تم پیمان کو یکدم ختم کر کے انہیں بتا دو کہ ان کے ساتھ انہی کے جیسا عمل کیا جائے گا، یقیناً خدا خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

اور کفار یہ خیال نہ کریں کہ وہ (مسلمانوں سے) سبقت لے گئے ہیں، یقیناً وہ (تمہیں) عاجز نہیں کر سکیں گے۔

چند نکات:

“فانبذ” کا لفظ “نبذ” سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں پھینکنا، اور یہاں پر دشمن کی طرف پیمان کے پھینکنے سے مراد یہ ہے کہ اسے ختم کر دینے کا اعلان کر دیا جائے تاکہ دشمن بھی غفلت میں نہ رہے اور تمہیں بھی یہ نہ کہا جائے کہ “انہوں نے جوانمردی کا ثبوت نہیں دیا”

“علی سواء” کے معنی یا تو “مقابلہ بہ مثل” کے ہیں یعنی جس طرح وہ دشمن سازشوں اور معاہدہ کے توڑنے کی فکر میں ہیں تم بھی انہی کی طرح معاہدہ کو ختم کر دو، یا پھر معاہدے کے خاتمے کا واضح اعلان مراد ہے۔ (تفسیر نمونہ) یا دشمن کے ساتھ عادلانہ سلوک مراد ہے (تفسیرالمیزان)

یہ آیت اس موقع کے لئے ہے جہاں دشمن کی طرف سے اس بات کے قرائن پائے جائیں کہ وہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، تو ایسے موقع پر معاہدہ کو ختم کرنے کے لئے پہل کی جا سکتی ہے۔

پیام:

۱۔ معاہدے کی پابندی اس وقت تک ہے جب تک کسی قسم کی سازش کا خطرہ نہ ہو، ورنہ اسے ختم کر دینے کا اعلان کر دیا جائے۔

۲۔ اگر تمہیں دشمن کی طرف سے خطرہ بھی درپیش ہو پھر بھی بددیانتی کا مظاہرہ نہ کرو، معاہدے کے خاتمے کا کھلم کھلا اعلان کر دو۔ (فانبذالیھم)

۳۔ دشمن کے ساتھ بھی عدل و انصاف کا سلوک کرو۔ (علی سواء) بنا بر تفسیرالمیزان “علی سوآء” کے معنی ہیں “بالعدل”

۴۔ معاہدے کا ختم کر دینا، “مقابلہ بہ مثل” کے طور پر ایک عادلانہ طریقہ کار ہے۔ (علی سوآء)

۵۔ خیانت خواہ کسی طرف سے ہو حرام اور قابل مذمت ہے، خواہ کفار کی طرف سے ہو یا مسلمین کی طرف سے (لایحب الخائنین)

۶۔ غیراعلانیہ جنگ خیانت ہے۔ (از تفسیر المیزان)

۷۔ اسلام، انسانی حقوق، اقرار ناموں اور معاہدوں کا پابند ہے۔

۸۔ خدائی طریقہ کار سے سبقت حاصل نہیں کی جا سکتی (سبقوا)

۹۔ کفار، خیانت کر کے کسی مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔ (لایعجزون)

۱۰۔ ایسا زیرکانہ طریقہ کار اپناؤ کہ کفار یہ نہ سمجھیں کہ تم سے آگے بڑھ گئے ہیں۔

 

 آیت ۶۰

 

ترجمہ۔ اور ان (دشمنوں کے ساتھ مقابلے) کے لئے جتنا کر سکتے ہو طاقت اور گھوڑے تیار رکھو، تاکہ خدا کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو اور ان کے علاوہ ان دشمنوں کو ڈراؤ جنہیں تم نہیں جانتے لیکن خدا جانتا ہے۔ اور خدا کی راہ میں جس قدر بھی خرچ کرو گے اس کاپورا پورا بدلہ تمہیں ملے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

ایک نکتہ:

یہ آیت مسلمانوں کو دشمن کے مقابلے میں ہر طرح سے خبردار کر رہی ہے اور ساتھ ہی انہیں ہر دور میں ہر قسم کے اسلحہ، وسائل، امکانات، تبلیغی طریقہ کار حتی کہ نعرے اور ترانے وغیرہ تیار رکھنے کے متعلق آمادہ رہنے کا حکم دے رہی ہے۔ کہ “اے مسلمانو! تم ہر وقت اس حد تک تیار رہو کہ کفار تمہاری جنگی صلاحیتوں سے گھبرا جائیں اور تم پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں”

حضرت رسالت مآب صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب معلوم ہوا کہ یمن میں جدید اسلحہ تیار کیا جا رہا ہے تو آپ نے کسی شخص کو بھیجا کہ وہاں سے وہ خرید کر لے آئے۔ اور آپ ہی سے روایت ہے کہ فرمایا: “ایک تیر کے ذریعہ تین آدمی بہشت میں جائیں گے، بنانے والا، تیار کرنے والا اور چلانے والا” (تفسیر فرقان، منقول از تفسیر در منثور) اسلام میں تیر اندازی اور گھڑسواری کے مقابلوں کی تاکید کی گئی ہے اور ان مقابلوں میں لگائی جانے والی بازی کو جائز قرار دیا گیا ہے تاکہ مسلمانوں میں جنگی آمادگی ہمیشہ برقرار رہے۔

“لھم” کی ضمیر کفار اور ان لوگوں کی طرف لوٹ رہی ہے جو سابقہ آیت میں مذکور ہوئے ہیں کہ جن سے خیانت کا خطرہ ہوتا ہے۔

پیام:

۱۔ مسلمانوں کو جنگ کے لئے ہمیشہ مکمل طور پر آمادہ رہنا چاہئے، افرادی قوت کے لحاظ سے، اسلحہ کے لحاظ سے اور وسائل حمل و نقل کے لحاظ سے غرض کسی بھی لحاظ سے کوئی کمی نہیں ہونی چاہئے اور اس انتظار میں نہ رہیں کہ دشمن حملہ کرے گا تو پھر تیاری کریں گے۔ (اعدوا)

۲۔ ہر مقام پر منطق اور مذاکرات بھی کارساز اور کافی نہیں ہوا کرتے کبھی قدرت اور طاقت کا مظاہرہ بھی ضروری ہو جاتا ہے (قوة)

۳۔ ہر دور میں جدید ترین اور ترقی یافتہ ترین اسلحہ کو اور دیگر وسائل جنگ کو اپنے دفاع کے لئے آمادہ رکھو اور کسی بھی چیز سے فرو گزار نہ کرو۔ اور سیاسی اور عسکری قوت سے کبھی غفلت نہ برتو، خواہ تبلیغی وسائل ضروری ہوں تو بھی اور عسکری ذرائع کی ضرورت ہو تو بھی، غافل ہرگز نہ ہونا…(من قوة)۔

۴۔ اسلام میں سب مسلمان سپاہی ہیں اور عمومی لام بندی ضروری ہے۔ (اعدوا، ترھبون، تنفقوا…)

۵۔ اگر صورت تبدیل کر لینے سے دشمن کے دل میں وحشت پیدا ہوتی ہے تو بھی ایسا کرو۔ اور رعب ڈالنے کا یہ انداز ایک فریضہ بن جاتا ہے (من قوة) 31

۶۔ جنگی گھوڑے وہ ہوتے ہیں جو اصطبل میں ہر وقت جنگ کے لئے تیار رکھے جاتے ہیں اور انہیں اصطبل ہی میں دانہ پانی دیا جاتا ہے نا کہ وہ جو کھلے ہوئے ہوتے ہیں۔

۷۔ افرادی قوت کی آمادگی بھی لازم ہے اور جنگی وسائل کی بھی، (من قوة۔ من رباط الخیل)

۸۔ موجودہ فوجی وسائل پر ہی اکتفا نہ کرو، ان وسائل میں اضافہ بھی کرو…(من قوة)

۹۔ وحدت اور قومی اتحاد بھی ایک طرح کی قوت ہے، جو فراہم رکھنا چاہئے، کیونکہ قومی انتشار کی صورت میں دشمن کو نہیں ڈرایا جا سکتا۔ (من قوة)

۱۰۔ جنگی آمادگی کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت ہوتا ہے نہ کہ لوٹ مار، غارت گری اور استعمار و استثمار (یا بالفاظ دیگر مارشل لاء)

۱۱۔ اقداراسلامی کی بھی حفاظت ہونی چاہئے اور حقوق انسانی کی بھی (عدواللہ وعدو کم)

۱۲۔ اسلام میں دین و مذہب ہی کو پیش نظر رکھا جاتا ہے ذاتی، نسلی اور قومی اغراض کو نہیں (عدواللہ وعدوکم)

۱۳۔ سارے دشمن بھی پہچانے ہوئے نہیں ہوتے (لاتعلمونھم) 32

۱۴۔ آمادہ رہنے کے بارے میں صرف جانے پہچانے دشمن کو مد نظر نہ رکھو، بلکہ ہر موقع محل پر ان جانے دشمن کو بھی ضرور مد نظر رکھا کرو۔ (لاتعلمونھم)

۱۵۔ صرف اسلحہ اور افرادی قوت ہی کافی نہیں مالی تعاون بھی ضروری ہوتا ہے (وما تنفقوا)

۱۶۔ مالی امداد، امت مسلمہ کی تقویت کا موجب ہوتی ہے جس کا فائدہ خود لوگوں ہی کو پہنچتا ہے اور اسلامی معاشرے کی اقتصادی حالت سدھر جاتی ہے جو مسلمانوں کی عزت و عظمت کا موجب ہوتی ہے (یوف الیکم)

۱۷۔ اسلام ایک نظام اور منظم حکومت کا دین ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر دشمن کو کوئی خوف و ہراس نہیں ہوتا (ترھبون)

۱۸۔ دشمن کے مقابلے میں آمادہ رہنے کے لئے تمام دفاعی بنیادوں کو خواہ وہ علمی ہوں یا ثقافتی، اقتصادی ہوں یا عقیدتی اور سیاسی اس قدر مضبوط ہونا چاہئیں کہ دشمن ہر لحاظ سے مسلمانوں سے خوف کھائے، اور ہر محاذ پر اس کے ناپاک منصوبے ناکام ہو جائیں (ترھبون بہ) بطور مطلق بیان ہوا ہے۔

۱۹۔ محاذ جنگ کی امداد صرف مالی لحا ظ ہی سے نہیں کی جاتی بلکہ ہر طرح سے کی جاتی ہے خواہ مالی ہو یا جانی، عزت کی ہو یا آبرو کی، اثر و رسوخ کی ہو یا قلم کی غرض ہر طرح سے محاذ کی امداد ضروری ہے (من شیٴ)

۲۰۔ کمک کی بہم رسانی کے لئے مالی امداد کی ضرورت ہوتی ہے خالی تقریروں اور نعروں سے کچھ نہیں بنتا۔

۲۱۔ تمہارے خرچ کرنے اور خیر و برکت کے آثار کا تمہیں اس وقت فائدہ ہو گا جب یہ انفاق خدا کی راہ میں اور خدا کی خوشنودی کے لئے ہو گا، اگر مقصود ریاکاری شہرت، خود نمائی اور شرما شرمی ہوں گے تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ (فی سبیل اللہ)

۲۲۔ جنگ کا بجٹ اور محاذ جنگ کا سنبھالنا لوگوں کے ذمہ ہے اور پھر یہ کہ یہ جنگ کے دنوں کے ساتھ بھی مخصوص نہیں (وما تنفقوا) کا حکم ہے جو مطلق طور پر ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر وقت آمادہ رہنے کے لئے رقم خرچ کریں۔

 

                  آیت نمبر ۶۱ تا ۷۵

 

آیت ۶۱

 

ترجمہ۔ اور اگر دشمن صلح کے لئے مائل ہو جائیں تو تم بھی مائل ہو جاؤ اور خدا پر توکل کرو کیونکہ وہ یقیناً سننے اور جاننے والا ہے۔

پیام:

۱۔ اسلام، جنگ کا خواہاں نہیں ہے۔

۲۔ مسلمانوں کو اس قدر طاقتور ہونا چاہئے کہ صلح کی پیشکش دشمن کی طرف سے (جنجوا)

۳۔ جنگ کا حکم ہو یا صلح کی پیشکش کی منظوری اس کا اختیار پیغمبر خدا کے ہاتھ میں ہے اور یہ رہبر کے اختیارات میں شامل ہے۔ (فاجنح) کا لفظ ہے “فاجنحوا” نہیں ہے۔

۴۔ جب قدرت مند بن جاؤ تو اپنی اس قدرتمندی سے ناجائز مفاد نہ اٹھاؤ بلکہ میلان دکھاؤ (فاجنح)

۵۔ صلح کی پیشکش منظور کرتے ہوئے خدا پر بھروسہ کرو (فاجنح لھا و توکل)

۶۔ صلح کی پیشکش کے وقت دشمن کی سازش کا بھی اندیشہ ہوتا ہے اور بعض “یار دوستوں” کی زبان کے زخم کا خطرہ بھی ہوتا ہے، لیکن ہر حالت میں خدا پر بھروسہ کیا جائے (توکل علی اللہ) 33

 

آیت ۶۲

 

ترجمہ۔ اور اگر دشمن آپ کو دھوکہ دینا چاہیں گے بھی تو یقیناً خدا آپ کے لئے کافی ہے، خدا وہی تو ہے، جس نے اپنی اور مومنین کی نصرت کے ساتھ آپ کی تائید کی ہے۔

دو نکات:

اگر رہبر مسلمین کو اس بات کا یقین ہو جائے کہ دشمن صلح کے پردے میں دھوکہ دینا چاہتا ہے تو یہ اور بات ہے، ورنہ اگر احتمال ہو کہ دھوکہ ہے یا نیک نیتی تو ایسی صورت میں مکمل ہوشیاری کے ساتھ صلح کی پیشکش کو قبول کر لینا چاہئے۔

بعض روایات میں “مومنین کے ذریعے پیغمبر اکرم کی تائید و حمایت” سے مراد حضرت علی علیہ اسلام کی تائید اور حمایت ہے، چنانچہ ابن عساکر اپنی کتاب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عرش الٰہی پر لکھا ہوا ہے:

“لا الہ الا انا لاشریک لی محمد عبدی و رسولی: ایدتہ بعلی” میرے سوا کوئی معبود نہیں، میرا کوئی شریک نہیں، حضرت محمد میرے بندے اور رسول ہیں اور میں نے علی کے ذریعہ ان کی تائید و نصرت کی ہے،

یہ وہی ہے جو اللہ نے قرآن کی اسی آیت میں فرمایا ہے (ھوالذی ایدک بنصرہ و بالمومنین)۔

(ملاحظہ ہو تفسیر فرقان منقول از در منثور جلد ۳ ص ۱۹۹ ، و ملحقات احقاق الحق جلد ۳ ص، ۱۹۴)

پیام:

۱۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ صلح کی پیشکش کو نہ ٹھکرائیں تاکہ دشمن کو ان کے خلاف اس پروپیگنڈے کا موقع نہ مل سکے کہ “مسلمان جنگ طلب ہوتے ہیں”، البتہ ہوشیاری ضروری ہے تاکہ دھوکہ نہ کھا جائیں۔

۲۔ اگر ہم اپنے فریضہ پر عمل پیرا رہیں تو مشکلات سے نہیں گھبرانا چاہئے، کیونکہ مشکل کشا خدا کی ذات ہے۔ (ایدک)

۳۔ خدائی امداد بھی، عوامی حمایت کے ساتھ ساتھ ہے (بنصرہ و بالمومنین)

۴۔ لوگ، رہبر کے دست و بازو اور حامی و مددگار ہوتے ہیں (و بالمومنین)

۵۔ اگر خدا سے غفلت برتے بغیر اس کے بندوں سے مدد مانگی جائے تو شرک نہیں ہے۔

۶۔ اگر عوام بیدار ہوں اور لطف الٰہی شامل حال ہو تو دشمن کی تمام چالیں ناکام ہو جاتی ہیں۔

۷۔ عوامی حمایت بھی اللہ کے ارادے اور منشا کے تحت حاصل ہوتی ہے۔ (حسبک اللہ)

 

آیت ۶۳

 

ترجمہ۔ اور اللہ نے ان (مومنین) کے دلوں میں الفت پیدا کر دی ہے، اگر آپ وہ سب کچھ خرچ کرتے جو کہ زمین میں ہے پھر بھی ان کے دلوں میں الفت اور محبت پیدا نہ کر سکتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان الفت پیدا کی ہے اور وہ یقینی طور پر غالب اور حکمت والا ہے۔

پیام:

۱۔ دل اور دلوں کے درمیان الفت خدا کے ہاتھ میں ہے (الف)

۲۔ مال و دولت اور جاہ و مقام ہر جگہ پر کارآمد نہیں ہوا کرتے۔ (لوانفقت…ما الفت)

۳۔ لوگوں کے دیرینہ اختلافات کا حل کرنا، پیغمبر اسلام کی نبوت کا ایک معجزہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا۔ اور ان کے درمیان الفت برقرار ہو گئی۔

۴۔ وحدت اور الفت اللہ کی نعمتیں ہیں جنہیں قرآن میں ذکر کیا گیا ہے اور ان کو لوگوں اور پیغمبر کے لئے احسان کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ 34

۵۔ ظاہری اتحاد سے زیادہ اہم، قلبی اور باطنی پیوند ہے ورنہ ظاہر میں تو کافر بھی متحد ہیں لیکن ان کے دل منتشر ہیں۔ 35

۶۔ وحدت اور اتحاد قائم کرنے کی واحد راہ، خدا پر ایمان اور “حبل اللہ” (خدائی رسی) کو مضبوطی سے تھامنا ہے اور وہ بھی خدا کی طرف سے ہے۔

۷۔ لوگ اپنے رہبر کے لئے اس وقت زور بازو ثابت ہو سکتے ہیں جب وہ باہم متحد ہوں، ورنہ رہبر کی کمر کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ (گزشتہ اور موجودہ آیت کے پیش نظر)

سوال: اس آیت میں تو یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر تمام روئے زمین کا سرمایہ بھی خرچ کر ڈالو تب بھی ان لوگوں کے دلوں میں الفت اور محبت ایجاد نہیں کر سکو گے، تو پھر زکوٰة کی مدد سے تالیف قلب کے لئے کیوں خرچ کرنے کا حکم ہے کہ “والمولفة قلوبھم”؟

جواب: لوگوں کے دلوں میں موجود کینہ اور اس کی تاریخ مختلف ہیں۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی مسکراہٹ اور مختصر سے تحفے کے ساتھ تمام رنجشیں دور ہو جاتی ہیں اور بعض دفعہ اس قدر گہرا اور پرانا ہوتا ہے کہ کسی بھی طرح سے اسے دور نہیں کیا جا سکتا۔

 

آیت ۶۴

 

 

ترجمہ۔ اے پیغمبر! آپ کے لئے اللہ اور مومنین میں سے وہ لوگ کافی ہیں جو آپ کی پیروی کر چکے ہیں۔

دو نکات:

بنی قریظہ اور بنی نضیر میں سے کچھ یہودیوں نے پیغمبر اسلام کو اپنی مدد کی جھوٹی یقین دہانی کرائی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان کی مدد کی کوئی ضرورت نہیں ہے، مومنین ہی آپ کے لئے کافی ہیں۔ اور اسی آیت کے ضمن میں اگلی آیت میں بیان ہونے والا جہاد کا حکم بھی مقدمہ کے طور پر ذکر ہو گیا ہے۔

کتاب “فضائل الصحابہ” میں حافظ ابو نعیم روایت کرتے ہیں کہ اس آیت میں مذکور “مومنین” سے مراد ذات علی بن ابی طالب علیہ اسلام ہے۔ 36

پیام:

۱۔ اسلامی نظام کا دارومدار خدا، رسول اور مومنین پر ہے۔ اسلامی معاشرے میں رہبر کا تعین خدا کی طرف سے ہوتا ہے، جس کا قانون وحی کے ذریعہ مرتب ہوتا ہے اور لوگ اس قانون اور رہبر کے فرمانبردار ہوتے ہیں۔

۲۔ اگر غیراللہ سے استمداد اور حمایت سے دلی سکون خداوند عالم کی منشا اور اس کی مرضی کے ساتھ ہو تو یہ توحید کے منافی نہیں ہے۔ شرک تو وہاں ہوتا ہے جہاں خدا کی قدرت اور مرضی کے خلاف غیراللہ پر ہی سارا تکیہ کیا جائے۔ لیکن جب تک قلوب، افکار، نظریات اور حمایتیں خدائی ارادہ کے تحت اور ا س کے نور کی روشنی میں باقی رہیں گے توحید کے مدار سے باہر نہیں نکل پائیں گے۔

۳۔ ایمان کے ساتھ ہی اطاعت سودمند ہوتی ہے نہ کہ ایمان کے بغیر اطاعت یا اطاعت کے بغیر ایمان، (من اتبعک من المومنین)

۴۔ کچھ لوگ پیغمبر کے اطاعت گزار نہیں تھے۔ (من المومنین)

 

آیت ۶۵

 

ترجمہ۔ اے پیغمبر! مومنین کو جنگ کے لئے آمادہ کرو، اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں اور اگر تم میں سے سو (صابر) لوگ ہوں تو وہ کفار کے ہزار افراد پر کامیابی حاصل کر لیں، کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں ہیں۔

دو نکات:

یہ آیت تعداد کے لحاظ سے افرادی طاقت کی نفی کر رہی ہے اور ایمان، صبر اور حوصلے ہی کو معیار قرار دے رہی ہے، آیت اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے کہ بیس آدمی دو سو پر فتح پا سکتے ہیں، اس بات کو ایک بار پھر دہراتی ہے کہ سو آدمی ہزار انسانوں پر غالب آ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ مومن اور صابر ہوں۔

زمانہ صدر اسلام کی جنگوں میں کبھی بھی اعداد و شمار کے ذریعے موازنہ نہیں کیا جاتا تھا، اور نہ کہیں پر عددی قوت کو معیار قرار دیا جاتا تھا، جنگ بدر میں ۳۱۳ مجاہد ہزار کفار کے مقابلے میں تھے، احد میں تین ہزار کفار کے مقابلے میں صرف سات سو جنگجو تھے، جنگ خندق میں تین ہزار مسلمانوں کا دس ہزار کفار سے مقابلہ تھا جبکہ جنگ موتہ میں دس ہزار مسلمان ایک لاکھ کے ساتھ نبرد آزما تھے۔

پیام:

۱۔ رہبر کے وظائف اور فرائض میں شامل ہے کہ لوگوں کو جہاد کے لئے آمادہ کرے۔ لشکر کے فرمانروا کا فرض بنتا ہے کہ جنگی کارروائی سے پہلے اپنی دلنشین باتوں سے لشکر کا دل گرما دے (حرض)

۲۔ دشوار اور مشکل کام تشویق و ترغیب اور تلقین کے ذریعہ آسان ہو جاتے ہیں اور اسی میں کامیابی کا راز ہے۔

۳۔ جنگ اور جہاد میں تبلیغات کا ہونا بہت ضروری ہے۔

۴۔ محاذ جنگ میں اصل اہمیت ایمان اور صبر کو حاصل ہے عددی قلت اور کثرت کی کوئی اہمیت نہیں۔

۵۔ ابتدائے اسلام میں دشمن کے دسویں حصے کے برابر مجاہدین کی موجودگی سے حکم جہاد صادر ہو جاتا تھا۔

۶۔ مجاہد کے لئے ان تین صفات کا حامل ہونا ضروری ہے ایمان، صبر اور معرفت و آگاہی (مومنین، صابرین) اور کفار کے بارے میں ہے “لایفقھون”۔

۷۔ اسلامی لشکر کو کم از کم بیس افراد پر مشتمل ہونا چاہئے اس سے کم پر نہیں، بلکہ بعض صورتوں میں تو ایک سو سے کم افراد پر مشتمل نہیں ہونا چاہئے۔ (از تفسیر فرقان)

۸۔ آگاہی اور معرفت کامیابی کے عوامل میں سے ہے چنانچہ اگر گہری شناخت، آگاہی پر مبنی عقائد اور مقصد و ہدف کی معرفت نہ ہو تو شکست یقینی ہو جاتی ہے (لایفقھون)

 

آیت ۶۶

 

ترجمہ۔ اب اللہ تعالیٰ نے تمہارے بوجھ کو ہلکا کر دیا اور جان لیا کہ تمہارے اندر کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے سو صابر آدمی ہوں تو وہ (کفار کے) دو سو لوگوں پر غالب آ جائیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار آدمی ہوں تو (ان کے) دو ہزار افراد پر خدا کے حکم سے کامیاب ہو جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

دو نکات:

آیت میں مذکور “ضعف” (کمزوری) سے مراد عقیدتی اور روحانی کمزوری ہے کیونکہ سپاہ اسلام میں جسمانی اور عددی کے اعتبار سے کمی نہیں ہوئی تھی۔

اس آیت میں اور اس سے پہلی آیت میں تین ایسے روحانی مسائل کی طرف اشارہ ہوا ہے جو کامیابی کے اصل عوامل ہیں۔ اور جن کے بغیر شکست یقینی ہے اور وہ ہیں صبر، ایمان اور معرفت۔

پیام:

۱۔ امور کو چلانے کے لئے بعض خصوصی احوال کی بنا پر آئین اور قوانین میں تبدیلی کرنا پڑتی ہے اور اس سے استقلال مزاجی متاثر نہیں ہوتا۔ (الان خفف)

۲۔ فرائض کی ادائیگی کا حکم بھی استطاعت کے مطابق ہوتا ہے اور قانون سازی کے موقع پر کمزور لوگوں کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔ (فیکم ضعفا)

۳۔ شکست کا اصل موجب اندر سے ہی ظاہر ہوتا ہے باہر سے نہیں (فیکم ضعفا)

۴۔ بعض اوقات ارادے کی کمزوری، جنگی توانائیوں کو دس گناہ سے دوگنا کی حد تک یعنی اسی فیصد تنزلی پر لے آتی ہے۔

۵۔ ایک گروہ کی کمزوری دوسرے لوگوں کے حوصلے بھی پست کر دیتی ہے۔ (فیکم ضعفا)

۶۔ فتح و کامرانی میں اصل شے خدا کا ارادہ اور حکم ہے (ورنہ جنگ حنین میں اس قدر زیادہ افرادی قوت کے باوجود مسلمان شکست کھا کر بھاگ نہ جاتے۔ “اعجبتکم کثرتکم…ثم ولیتم مدبرین”

۷۔ صابر، خدا کا محبوب اور اسی کی پناہ میں ہوتا ہے۔ (واللہ مع الصابرین)

۸۔ سالار لشکر کو سپاہ اسلام کے حوصلوں، ارادوں اور قوت ایمانی پر توجہ رکھنی چاہئے (علم ان فیکم ضعفا)

۹۔ “واللہ مع الصابرین” (اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) کا نعرہ اسلام کے جنگی محاذوں پر لگنا چاہئے۔

۱۰۔ اپنی فتح و کامرانی پر اتراؤ نہیں کیونکہ یہ اس ذات کی عطا کردہ ہے۔ (باذن اللہ)

 

آیت ۶۷

 

ترجمہ۔ کسی پیغمبر کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو اسیر بنائے مگر اس کے بعد جب (فوجی علاقہ اور) زمین پر پوری طرح قابو پا لے۔ تم تو جلد گزر جانے والی دنیا کو چاہتے ہو لیکن اللہ (تمہارے لئے) آخرت کو چاہتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ناقابل شکست اور صاحب حکمت ہے۔

دو نکات:

“ثخن” کے معنی ہیں ضخامت، سنگینی اور ٹھوس ہونا اور یہ کنایہ ہے کامیابی، واضح غلبہ اور اقتدار سے۔

آیت خبردار کر رہی ہے کہ قیدی بنانا، پھر فدیہ لے کر اسے آزاد کر دینا اور جنگی غنیمتوں کا سمیٹنا مسلمانوں کو اپنے اصل مقصد سے نہ ہٹا دے کہ جس سے وہ اچانک کوئی نقصان اٹھائیں۔

پیام:

۱۔ دنیا نا پائیدار اور جلد گزر جانے والی ہے۔ (عرض)

۲۔ فوجی کارروائیوں میں مرحلہ وار حکمت عملی کا اجرا کیا جاتا ہے اور حالات پر مکمل قابو پانے سے پہلے جنگی قیدی بنانے کی پالیسی صحیح نہیں ہے۔ (ما کان…حتی یثخن)

۳۔ اسلامی جنگوں کا اصل مقصد، رضائے الٰہی کا حصول، حق کی تقویت اور مستضعفین کی نجات ہے، غنیمتیں سمیٹنا، قیدی بنانا اور فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دینا اصل مقصد نہیں ہے۔

۴۔ جنگ کے بحرانی ترین لمحات میں مومنین کو بھی دنیا کی طرف رغبت و رجحان سے پرہیز کرنا چاہئے۔

۵۔ مقصد میں مرکزیت اور انتشار و افتراق سے دوری ایک ضرورت ہے (جب تک میدان جنگ میں اپنی پوزیشنیں مضبوط نہ کر لو، ہرگز قیدی نہ بناؤ)

 

آیت ۶۸۔ ۶۹

 

ترجمہ۔ اگر خداوند عالم کا پہلے سے قانون نہ ہوتا (کہ اطلاع دیئے بغیر کسی امت کو ہلاک نہیں کرتا) تو تم نے جو بے جا اسیر پکڑے تھے اس کی وجہ سے تمہیں بہت بڑا عذاب آ لیتا۔

پس جو غنیمت تم نے حاصل کی ہے اس سے کھاؤ کہ یہ حلال اور پاکیزہ ہے اور خدا سے ڈرتے رہو بلاشبہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

چند نکات:

“کتاب من اللہ” سے مراد یا تو خداوند عالم کا وہ طریقہ کار ہے کہ کسی حکم کے بیان کرنے سے پہلے کسی کو سزا نہیں دیتا، جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: “وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا”۔ جب تک رسول نہ بھیج دیں اس وقت تک ہم عذاب دینے والے نہیں (بنی اسرائیل۱۵) یا جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح کی طرف اشارہ ہے کہ اگر تقدیر الٰہی نہ ہوتی تو، پوزیشن مضبوط ہونے سے پہلے جو قیدی بنا لئے ہیں اس کی سزا میں تمہیں زبردست زک پہنچاتا۔ (تفسیر اطیب البیان)

روایات کے مطابق اس آیت میں “غنیمت ” سے مراد وہ رقم ہے جو مسلمانوں نے فدیہ کے طور پر قیدی آزاد کرنے کے بدلے میں لی تھی۔ اور وہ فدیہ ہر ایک قیدی کی طرف سے ایک ہزار سے چار ہزار درہم تک تھا ۔

فدیہ زبردستی نہیں لیا جاتا اور نہ ہی اسے انسان فروشی کے زمرے میں لے آئیں گے ، بلکہ یہ رہبر مسلمین کی صوابدید پر منحصر ہے اور مسلمانوں کے نقصان کی تلافی کے طور پر ہے۔

پیام:

۱۔ کسی چیز کے استعمال میں لانے کی شرط اس کا حلال اور پاکیزہ ہونا ہے ۔

۲۔ ہوشیار اور خبردار ہناکہیں جنگی غنیمتیں اور قیدیوں کے فدئیے تمہیں جہاد سے اعلی اور والا ترین مقصد سے نہ ہٹا دیں ۔ لہذا ہمیشہ خدا کو پیش نظر رکھے رہو۔ (اتقو االلہ)

 

آیت۷۰

 

ترجمہ ۔ اے پیغمبر! ان اسیروں سے کہہ دیجئے جو آپ کے ہاتھ میں ہیں کہ: اگر خدا کو علم ہو جائے کہ تمہارے دلوں میں خیر اور بھلائی ہے تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عطا کرے گا (اور تم مسلمان ہو جاؤ گے ) اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ اللہ تعالیٰ تو بخشنے والا مہربان ہے۔

چند نکات:

۔آیت کے شان نزول کے بارے میں منقول ہے کہ: عباس‘ عقیل اور نوفل جنگ بدر میں گرفتار ہو کر آئے تو حضرت رسول خدا نے ان سے فدیہ لے کر آزاد کر دیا، اس پر وہ بھی مسلمان ہو گئے ۔ ان کے فدیہ کی رقم انہیں واپس کر دی گئی۔ (تفسیر نور الثقلین، منقول از کافی) 37

۔ اسلامی نظام میں جنگی قیدیوں کے بارے میں تین صورتیں ہیں ۔

۱۔ فدیہ لئے بغیر انہیں آزاد کر دیا جائے جیسے فتح مکہ کے موقع پر کہ کسی کو قیدی ہی نہیں بنایا گیا۔

۲۔ فدیہ لے کر قیدی کو آزاد کر دیا جائے ، قیدی کا قیدی سے تبادلہ کیا جائے۔

۳۔ قیدیوں کو مسلمانوں کے سپرد کر دیا جائے تا کہ ایک تو دشمن کے طاقت حاصل کرنے سے رکاوٹ ہو گی اور ساتھ ہی وہ بتدریج دینی تعلیم حاصل کر کے اسلام کے بارے میں بہت کچھ سیکھ لیں گے ۔

البتہ ان تین صورتوں میں سے کسی کا بھی اختیار سربراہ کو حاصل ہے۔

پیام:

۱۔ قیدیوں سے ایسا سلوک کرو جس سے انہیں ہدایت اور ارشاد ملے (خیر ، مغفرت وغیرہ جیسے کلمات ان لوگوں کے لئے استعمال کئے جائیں جو شکست کھانے کے بعد پشیمان ہو چکے ہیں)

۲۔ جنگ کا مقصد قتل و غارت اور قیدی اور فدیہ لینا نہیں ہے بلکہ اصل مقصد لوگوں کی ہدایت اور طاغوت شکنی ہے۔

۳۔ اسراء کو تبلیغ اور ان کی رہنمائی لازم ہے ۔ ( قل لمن فی ایدیکم)

۴۔ حقیقی خیر تو ایمان ہی ہے (ان یعلم اللہ فی قلوبکم خیرا)

 

آیت ۷۱

 

ترجمہ۔ اور اگر وہ (قیدی ) آپ کے ساتھ خیانت کرنا چاہیں گے تو (کیا ہوا)وہ پہلے بھی خدا سے خیانت کر چکے ہیں ۔ پس خدا نے (آپ کو ) ان پر غلبہ اور تسلط دیا ہے اور اللہ تعالیٰ علم اور حکمت والا ہے ۔

پیام:

۱۔ دشمن طاقتوں پر نہ تو سو فیصد یقین کامل رکھو اور نہ ہی ان کے بارے میں سو فیصد بد گمانی ۔ نہ صرف سختی ا ور نہ ہی بالکل نرمی ۔ بلکہ زیر ک، خبردار ، ہوشیار اور مہربان بنے رہو، (سابقہ اور موجود آیات کا مجموعہ)

۲۔ دشمن کا کام تو ہے ہی خیانت کرنا (خانوااللہ من قبل)

۳۔ خداوند عالم حق اور حق کے طرفداروں کو غلبہ عطا کرتا ہے (امکن منھم)

۴۔ اللہ تعالیٰ دشمن کی نیتوں سے آگاہ اور حکم فرمائی میں حکیم اور مصلحت اندیش ہے۔ (علیم حکیم)

آیت ۷۲

 

ترجمہ۔ یقیناً لوگ ایمان لے آئے ، ہجرت کی ، اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ خدا کی راہ میں جہاد کیا ۔ اور جنہوں نے (مجاہدین اور مہاجر ین کو ) پناہ دی اور ان کی مدد کی وہی تو ایک دوسرے کے دوست ، حامی اور ہم پیمان ہیں ۔ اور جو لوگ ایمان لے آئے لیکن انہوں نے ہجرت نہیں کی تو تمہیں ان کے ساتھ دوستی اور ان کی حمایت کا حق نہیں ہے ۔ جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں ۔ اور  اگر( کفار میں دبے ہوئے مومنین اپنے دین کی حفاظت کے لئے ) تم سے مدد طلب کریں تو تم پر لازم ہے کہ ان کی ا مدادکرو۔ مگر ان لوگوں کے خلاف جن کا تمہارے ساتھ (جنگ نہ کرنے کا ) معاہدہ ہے۔ اور خدا وند عالم جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

دو نکات:

۔ اس آیت میں چند اہم باتیں بتائی گئی ہیں مثلا مہاجرین اور انصار کا باہمی تعلق ، ہجرت کی ضرورت ، ہجرت سے جان بچانے والے اشرافیہ سے بے اعتنائی ، مہاجرین اور کفار کے درمیان موجود معاہدے اور مسلمانوں کی نجات بشرطیکہ پہلے سے کئے ہوئے معاہدے متاثر نہ ہوں ۔

۔ وحدت و اتحاد کو مستحکم کرنے کے لئے اسلام نے تین منصوبے پیش کئے ہیں ۔ ۱۔ لوگوں کا اپنے رہبر کی بیعت کرنا ۔

۲۔ مہاجرین اور انصار کی باہمی دوستی ۔ ۳۔ مسلمانوں کی باہمی اخوت

پیام:

۱۔ سعی و کوشش کے بغیر اسلام اور ایمان پروان نہیں چڑھتے ۔ اوائل اسلام کے مسلمان یا مہاجر تھے یا مہاجرین کو پناہ دینے والے تھے یا مجاہد یا پھر مجاہدین کے حامی۔

۲۔ مہاجرین اور انصار کے درمیان گہرا رابطہ ہے ، ہر شخص کے اپنے حالات کے مطابق ہی اس پر حکم لگایا جا تا ہے اور اس پر فریضہ کی ادائیگی لازم ہوتی ہے ۔ کسی پر ہجرت واجب ہوتی تو کسی پر مہاجرین کی پناہ ضروری ۔

۳۔ اسلامی معاشرے کی طرف ہجرت ، ولایت کی ایک شرط ہے ( لم یھاجروا مالکم من ولا یتھم۔۔)

۴۔ صرف عقیدہ ہی کافی نہیں ہجرت ، جہاد ، مہاجرین اور مجاہدین کی حمایت بھی ضروری ہے۔

۵۔ ترقی کی طرف پرواز اس وقت ممکن ہوتی ہے جب اذہان و افکار ، قوت بازو ، سرمایہ، طاقت اور ہجرت یکجا ہوں (امنوا ، ھا جروا، جاھدوا، اموالھم)

۶۔ اسلامی معاشرہ میں ہجرت کرنے والوں اور مرفہ حال یا ہجرت سے گریز کرنے والے اشرافیہ کے درمیان فرق ضرور ہونا چاہیے (امنو ولم یہاجروا)

۷۔ ہجرت کرنے سے ایک تو کافر انہ نظام کو زک پہنچتی ہے اور دوسرے دین کی حفاظت اور مسلمانوں کی طاقت محفوظ رہتی ہے۔ 38

۸۔ کفار کے ساتھ بین الاقوامی معاہدوں اوربین الاقوامی حقوق کا احترام ، مسلمانوں کی حمایت سے زیادہ اہم ہے، (الاعلی قوم۔۔۔۔)

۹۔ ان لوگوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہنا چاہیے جو بعد میں مسلمانوں سے آ ملتے ہیں (حتی یھاجروا)

۱۰۔ اگرچہ مہاجرین کا فی امتیازات کے مستحق ہیں لیکن اگر رفاہ طلب اور بے حال مسلمان کفر کے دباؤ میں ہوں اور ان کے مظالم کی چکی میں پِس رہے ہوں تو ان کی امداد کرنے سے بھی قطعا گریز نہیں کرنا چاہیے (ان استنصروکم فعلیکم النصر)

 

آیت ۷۳

 

ترجمہ۔ اور جو لوگ کافر ہو گئے ہیں وہ ایک دوسرے کے یارو مددگار ہیں (تم ان سے معاہدے نہ کرو) اگر تم بھی یہ ہم بستگی نہ رکھو تو زمین میں فتنہ اور بہت بڑا فساد کھڑا ہو جائے۔

ایک نکتہ:

“الا تفعلوہ” کے تین معنی بیان ہوئے ہیں۔

۱۔ اگر ہمارے حکم کے مطابق تم مومنین کے ساتھ باہمی موالات پر عمل نہیں کرو گے اور کفار کے ساتھ تعلق رکھو گے تو اس سے بہت بڑا فساد پیدا ہو جائے گا ، کیونکہ وہ متحد ہیں اور تم متفرق ہو۔

۲۔ اگر ان مسلمانوں سے بے پرواہی برتو گے جنہیں تمہاری امداد کی ضرورت ہے اور وہ کفار کے سخت دباؤ میں ہیں تو یا تو ان کا قتل عام ہو جائے گا یا پھر وہ اسلام سے منحرف ہو جائیں گے۔

۳۔ اگر کفار کے ساتھ بین الاقوامی معاہدوں کا پاس نہیں کرو گے اور صرف چند مسلمانوں کی حمایت کرو گے تو کفار اکٹھے ہو کر تمہارے خلاف ہو جائیں گے جس سے بہت بڑے فساد کا اندیشہ ہے ،

پیام:

۱۔ دشمنوں سے محبت ۔ انہیں اپنے امور میں داخل کرنا ، ان کی ولایت و حکومت اور اثر و نفوذ کو قبول کر لینا زمین میں بہت بڑا فتنہ و فساد ہے ۔

۲۔ جب کفار ایک دوسرے کے یارو مددگار ہیں تو اگر مسلمان آپس میں دوستی اور محبت کا ثبوت نہیں دیں گے تو فتنہ و فساد میں گرفتار ہو جائیں گے ۔ (والاتفعلوہ) (ازتفسیر اطیب البیان)

۳۔ اگر تم مسلمانوں کے درمیان دوستی اور ولایت کا مستحکم رشتہ نہیں ہو گا تو کفار متحد ہو کر تمہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ (الا تفعلوہ تکن فتنتہ)

 

آیت ۷۴

 

ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لے آئے اور ہجرت کی اور راہ خدا میں جہاد کیا ، اور جنہوں نے پناہ دی اور امداد کی تو یہی لوگ حقیقی مومن ہیں انہی کے لئے بخشش اور شائستہ رزق ور ورزی ہے۔

پیام:

۱۔ ایمان ہمیشہ نیک اعمال پر مقدم ہوتا ہے۔ (امنو و ھاجروا۔۔۔۔)

۲۔ حقیقی ایمان ہجرت ، جہاد ، مجاہد مسلمانوں کو پناہ دینے اور ان کی امداد کرنے میں مضمر ہے۔ (ھم المومنون حقا)

۳۔ کسی عمل کی قدرو قیمت اسی وقت ہوتی ہے جب اس پر خدائی رنگ اور رضائے الہٰی غالب ہو۔ (فی سبیل اللہ)

۴۔ انسان ہر مرحلے پر اور ہمیشہ جواب دہ ہے اور ا س پر کوئی نہ کوئی ذمہ داری عائد رہتی ہی ہے کبھی جہاد کی صورت میں کبھی ہجرت کی صورت میں اور کبھی مجاہدین کی نصرت کی صورت میں۔

۵۔ ہجرت اور جہاد بخشش اور رزق الہٰی کے حصول کا ذریعہ ہیں۔

۶۔ اگر ہجرت اور جہاد کی خاطر معمول کے رزق ورزی سے آنکھیں بند کر لو تو خد ا کے کریم اور شائستہ رزق کو ضرور حاصل کر لو گے۔

 

آیت ۷۵

 

ترجمہ۔ اور لوگ بعد میں ایمان لائے اور تمہارے ہمراہ ہجرت بھی کی اور جہاد بھی کیا ، تو وہ لوگ بھی تم میں سے ہیں ، اور قرابت دار (خدائی قانون اور) کتاب خدا میں ایک دوسرے کی نسبت اولویت رکھتے ہیں ۔ یقیناً اللہ تعالی ہر چیز کو جانتا ہے۔

دو نکات:

۔اسلام سے پہلے وراثت کی تقسیم خاندانی اعزّہ منہ بولی اولا د اور  باہمی عہدو پیمان کی بنیادوں پر ہوا کرتی تھی۔ لیکن اسلام نے اسے صرف قرابت داری کی بنیاد پر ہی مقرر فرمایا ہے۔

۔ہمارے آئمہ اطہار اور علماء اسلام نے علی بن ابی طالب اور ان کے مقدس جانشینوں کی امامت اور خلافت کے مسئلے میں بار ہا اسی آیت سے استناد کیا ہے۔ البتہ علم ، سبقت ایمانی جہاد اور تقوی جیسی صفات اس کے علاوہ ہیں کہ جن سے امامت کے لئے استناد کیا جاتا ہے اس آیت سے علی بن ابی طالب کی پیغمبر خدا سے قرابت داری کے ذریعہ ان کی امامت اور خلافت بلا فصل پر استد لال کیا جاتا ہے۔

پیام:

۱۔ اگر اسلامی معاشرے کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہوا ہے ۔ اس نے کسی اور پر کبھی اپنا دروازہ بند نہیں کیا۔ اگرچہ اس میں بہت سے سابق الایمان اور  صاحبان فضیلت لوگ رہتے ہیں۔

۲۔ قرابت دار مومنین میں ایمانی ولایت جو کہ ہجرت اور جہاد کے سایہ میں انہیں ملی ہے اپنی قرابتداری کی ولایت کے حامل بھی ہیں۔

۳۔ باہمی رشتہ داروں میں سلسلہ مراتب موجود ہے ( اولیٰ ببعض) (صدق اللہ العلے العظیم)۔

 

 

 

 

 حوالا جات ۔ فٹ نوٹس

 

1 چونکہ اسلام سے پہلے مال غنیمت کو امتیازی سلوک کے تحت تقسیم کیا جاتا تھا، اور جنگ بدر میں جو کہ مسلمانوں کی پہلی جنگ تھی اور اس جنگ میں مال غنیمت بھی ہاتھ لگا تھا، لہٰذا مسلمانوں نے اس بارے میں پیغمبر خدا سے سوال کیا

2 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: “سہم خداوند بھی حضرت رسول خدا کی نگرانی میں خرچ ہو گا۔

3 روایات میں ان لوگوں کا اجر و ثواب عام مستحبی نماز روزے سے بھی زیادہ بیان کیا گیا ہے جو لوگوں کے درمیان صلح و صفائی اور اصلاح قائم کرتے ہیں، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے مفضل سے فرمایا: “اگر ہمارے دو پیروکاروں کے درمیان کوئی جھگڑا کھڑا ہو جائے تو میرے ذاتی مال سے خرچ کر کے بھی ان کے درمیان صلح کرا دو”

4 بعض اوقات ایک چھوٹا سا گروہ خدا کے حکم اور اس کی مرضی کے مطابق بہت بڑے گروہ پر غالب آ جاتا اور فتح پا لیتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے “کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة باذن اللہ” (بقرہ/ ۲۴۹)

5 تفسیر فرقان

5-a تفسیر نورالثقلین میں حضرت امیر علیہ السلام کے فضائل میں سے ۶۳ویں فضلیت یہ ذکر کی ہے کہ آپ نے اپنی تمام عمر میں ایک مرتبہ بھی میدان جنگ میں دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائی۔

6 البتہ یہ گناہ قابل توبہ ہے ملاحظہ ہو سورہ آل عمران/ ۱۵۵ “ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعان اغا استزلھم الشیطان ببعض ماکسبوا ولقد عفا اللہ عنھم”

7 ایک اور جگہ پر فرماتا ہے: “ولوسمعوا لا ستجابوا” (فاطر /۱۴) یعنی عملی جواب، صداقت کی علامت ہے،

8 اس بے عقلی کا وہ خود بھی اعتراف کریں گے اور کہیں گے: “لوکنا نسمع اور نقل نعقل ما کنا فی اصحاب السعید” اگر ہم سننے والے کان رکھتے ہوئے یا عقل سے کام لیتے تو جہنمی نہ ہوتے۔ (ملک / ۱۰)

9 ارشاد قدرت ہے: “من عمل صالحا من ذکر اور انثی وھو مومن فلنحینہ طیبة” جو انسان نیک عمل کرتا ہے خواہ مرد ہے یا عورت اور وہ ہے بھی مومن تو ہم اسے پاک و پاکیزہ زندگی عطا کرتے ہیں (نخل /۹۷)

10 جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور پیغمبر خدا نے فرمایا: من ظلم علیا مقعدی ھذا بعد و فاتی فکا نما حجد نبوتی و نبوة الانبیاء قبلی” جس نے میرے بعد علی پر میری جانشینی کے بارے میں ظلم کیا گویا اس نے میری اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء کی نبوت کا انکار کر دیا۔ (تفسیر فرقان، منقول الاشواہد التنزیل حسکانی جلد اول ص ۲۰۶

11 حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ حکمت اول میں فرماتے ہیں: “کن فی الفتنة کابن اطلبون، لا ظھر فیرکب ولا ضرع فیحلب” فتنہ اور فساد کے دورانیے میں اونٹ کے اس بچے کی مانند بن جاؤ کہ جس پر نہ تو بوجھ لادا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے دودھ دوہا جا سکتا ہے۔

حضرت زبیر فرماتے ہیں: “جنگ جمل میں شریک ہونے سے پہلے میں اس آیت کے معنی کو نہیں سمجھتا تھا۔‘ ‘ (تفسیر فخر رازی) حضرت پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: “جب میری امت میں فتنے ظاہر ہونے لگ جائیں تو تمہیں علی کے ساتھ رہنا چاہئے خواہ وہ اکیلے ہی کیوں نہ ہوں!” (تفسیر مجمع البیان)

12 شواہد التنزیل حاکم حسکانی جلد اول ص ۲۰۵ منقول از ملحقات احقاق الحق جلد ۱۴ ص ۵۶۴

13 اس معنی کے مطابق جو کہ آیت کے متن سے بھی مطابقت رکھتا ہے “تخونوا اماناتکم” میں “لا” نافیہ کے مقدر کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔

14 ابو لبابہ کی داستان کی طرف اشارہ ہے جس نے اپنے آپ کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ کر اس قدر گریہ کیا کہ خدا نے اس کی توبہ کو قبول فرما لیا،

15 جن لوگوں نے مدینہ سے ابوسفیان کو اطلاع دی تھی کہ مسلمان، مشرکین کے خلاف فوجیں اکٹھی کر رہے ہیں وہ ایسے مہاجر تھے مکہ میں جن کے مال و اولاد رہ گئے تھے (تفسیرالمیزان) مثلاً: الف: شیطان انسان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا ہے “شارکھم فی الاموال و الاولاد” (بنی اسرائیل/ ۶۴) ب: مال و اولاد کی کثرت طلبی لیکن اس کے منفی اثرات “تکاثرفی الاموال و الاولاد” (حدید /۲۰) ج: مال و اولاد کا یاد خدا سے روک دینا “لا تلھکم اموالکم ولا اولاد کم عن ذکر اللہ” (منافقون /۹) د: قیامت کے دن مال اور اولاد نجات نہیں دلائیں گے: “لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولادھم” (آل عمران /۱۰)

17 بقول حافظ، جمال یار ندارد حاجب و پردہ ولی، غبار رہ بنشان تا نظرتوانی کرد۔

یعنی جمال یار تو پردوں میں چھپا ہوا نہیں ہے، یہ غبار راہ ہے جس نے اسے چھپایا ہوا ہے، اسے بیٹھ جانے دو پھر اس کا دیدار کرو۔

حقیقت سرائی است آراستہ ہوا و ہوس گرد برخاستہ

بنینی کہ ہر جا کہ برخاست گرد بنیند نظر، گرچہ بنیاست مرد

ایک اور آیت میں ہے “اتقوا اللہ ویعلملکم اللہ” خدا سے ڈرتے رہو خدا تمہیں تعلیم دے گا (بقرہ /۲۸۲) گویا روح کی مثال آئینے جیسی ہے۔ تقوی جس پر پڑے ہوئے غبار کو صاف کرتا ہے اور خورشید حق کا نور اس میں جلوہ فگن ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس ہوا و ہوس اور حرص و لالچ، عقل و خرد کی لغزش کا موجب بنتے ہیں، جیسا کہ حضرت امام الاولیاء علیہ السلام فرماتے ہیں: “اکثر مصارع العقول تحت بروق المطامع” (نہج البلاغہ)

18 نہج البلاغہ میں ہے کہ حضرت امیر علیہ السلام نے جناب رسالت مآب کی رحلت کے بعد فرمایا: “ہمارے درمیان دو امانتیں تھیں جن میں سے ایک تو اٹھ چکی ہے دوسری (استغفار) کی حفاظت کرو” (حکمت صحبی صالح) دعائے کمیل میں کچھ ایسے گناہوں کا تذکرہ ہے جو عذاب نازل کرتے ہیں “الذنوب التی تنزل البلاء” سورہ ہود /۱۱۷ میں ہے “ما کان ربک لیھلک القریٰ بظلم و اھلھا مصلحون” جب تک کسی آبادی کے لوگ اصلاح کرتے رہیں گے اور صالح رہیں گے اس وقت تک تمہارا رب کسی کو ہلاک نہیں کرے گا۔

19 نہج البلاغہ میں ہے: “اللہ فی بیت ربکم فانھا ان ترکت تم تناظروا” اپنے رب کے گھر کے بارے میں خدا سے ڈرو، کہ اگر اس کا حج اور عبادت ترک کر دیئے گئے تو پھر تمہیں عذاب الٰہی مہلت دیئے بغیر اپنی لپیٹ میں لے لیگا،

20 تفسیر مجمع البیان، المیزان اور فی ضلال القرآن

21 حدیث شریف میں ہے: “الاسلام یحب ما قبلہ” اسلام سابقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے،

22 “کتب اللہ لاغبن انا و رسلی” اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب ہیں۔ (مجادلہ /۲۱)

23 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت مہدی علیہ السلام کے زمانے میں عملی جامہ پہنے گی۔

24 لسان العرب، تاج العروس، قاموس، تفسیر قرطبی، تفسیر فخر رازی اور تفسیر آلوسی کو بھی لغت کی عمومیت میں شک نہیں ہے اور قرآن مجید میں بھی “غنیمت” کا لفظ جنگی غنیمت کے علاوہ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے ملاحظہ ہو سورہ نسأ/ ۹۴، ارشاد ہوتا ہے “وعنداللہ مغانم کثیرة” نیز غنیمت کا لفظ قرآن مجید میں چھ مرتبہ استعمال ہوا ہے اسی طرح “غراست” کا لفظ بھی چھ مرتبہ ذکر ہوا ہے

25 قرآن مجید میں بارہا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رویائے صادقہ (سچے خوابوں) کا تذکرہ آیا ہے۔

26 گر نگہدار من آنست کہ من می دانم # شیشہ را در بغل سنگ نگہ می دارد

میرا بچانے والا تو وہ ہے جسے میں جانتا ہوں جو شیشے کو پتھرں کے درمیان بھی بچائے رکھتا ہے

27 سورہ بقرہ/ ۲۵۰

28 حضرت امام سجاد علیہ السلام سرحدی محافظین کے بارے میں دعا فرماتے ہیں کہ: “…خداوندا! مال و اولاد کی یاد مجاہدین کے دلوں سے نکال دے اور بہشت کو ان کی نگاہوں کے سامنے جلوہ گر کر دے۔ (صحیفہ سجادیہ دعا ۲۷)

29 اگرچہ آیت کا سیاق جنگ بدر سے تعلق رکھتا ہے، لیکن آیت کا کلی معنی ان منافقین کو بھی اپنے دامان میں لئے ہوئے ہے جو ریاکاری کے طور پر اور خود نمائی، پراپیگنڈے، افواہیں اڑانے اور حوصلے پست کرنے کے لئے محاذ جنگ پر جاتے ہیں۔ (یصدون، رئاء الناس)

30 روایات میں ہے: “جو شخص عہد شکنی کرتا ہے وہ منافق ہے خواہ نمازیں پڑھتا اور روزے رکھتا ہو۔

31 حدیث میں ہے کہ “خضاب کر کے بھی دشمن کو ڈراؤ، تاکہ وہ یہ نہ کہیں کہ اسلام کے سپاہی بوڑھے ہیں” (تفسیر فرقان، منقول از “من لا یحضرہ الفقیہ”)

32 شاید اس سے مراد منافق لوگ ہوں ا س لئے کہ اس طرح کے الفاظ انہی کے واسطے آئے ہیں مثلاً “لا تعلھم نحن نعلھم” یعنی آپ انہیں نہیں جانتے ہم جانتے ہیں (توبہ /۱۰۱)

33 مالک اشتر کے نام امیرالمومنین علیہ السلام کے مکتوب گرامی میں ہے: “لا تدفعن صلحا دعاک الیہ عدوک ولکن الحذر الحذر من عدوک بعد صلحہ فان العدو ربما قارب لیتغفل” دشمن کی صلح کی پیشکش کو نہ ٹھکراؤ، لیکن صلح کے بعد دشمن کے نیرنگ سے بہت زیادہ ہوشیار رہو کیونکہ بعض اوقات دشمن، غافل کرنے کے لئے بھی قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

34 حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے: “القیت علیک محبة منی” (طہ/ ۳۹) شادی کے بعد زن و شوہر میں باہمی محبت کے بارے میں ہے: “وجعل بینکم مودة و رحمة” (روم/۲۱)

35 ارشاد ہوتا ہے: “تحسبھم جمیعا و قلوبھم شیٴ” (حشر /۱۴)

36 الغدیر جلد ۲ ص ۵۱

37 تفسیروں میں ہے: جنگ بدر میں کچھ لوگوں نے کہا: رسول خدا کے احترام کے پیش نظر ان کے چچا حضرت عباس سے فدیہ نہ لیا جائے۔ آنحضرت نے فرمایا: “واللہ لاتذرن فیہ درھما” خدا کی قسم ان کو ایک درہم بھی معاف نہ کرو۔ پھر آپ نے خود ہی ارشاد فرمایا: “چچا! آپ مالدار شخص ہیں اپنا بھی اور اپنے بھتیجے عقیل کا بھی فدیہ ادا کرو” عباس نے کہا: “اگر میں فدیہ دوں تو میں غریب ہو جاؤں گا” آنجناب نے فرمایا: “اس رقم سے دو جو آپ کی بیوی ام الفضل مکہ میں چھوڑ آئے ہو!” اس پر عباس نے کہا: “اس رقم کا کسی کو بھی علم نہیں ہے لہٰذا میں نے سمجھ لیا کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں، اس پر میں مسلمان ہو گیا”

38 اگر تمام صاحبان عقل و خرد اور ہر علم و فن کے متخصص (سپیشلسٹ) مسلمان مغربی ممالک سے ہجرت کر کے اسلامی ملکوں میں آ جائیں تو اس سے ایک تو دشمن کو زبردست دھچکا لگے گا اور دوسرے اسلامی ملکوں کو بہت زیادہ تقویت مل جائے گی، ہماری بہت سی مصیبتوں کا سبب یہ ہے کہ ہمارے لوگ دوسروں کے نظاموں میں غرق ہو چکے ہیں اور ہجرت کو ترک کر چکے ہیں کہ جس سے اسلامی ملکوں کو فائدہ پہنچتا۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.alhassanain.com/urdu/download_zip.php?book_id=3683&link_book=holy_quran_library/quran_interpretation/tafseer_e_noor

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید