FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

ترجمہ و تفسیر قرآن

 

حصہ ۳، مائدہ ، انعام

 

                ترجمہ: حافظ نذر احمد

 

 

 

 

اس ترجمہ قرآن میں تحت اللفظ ترجمہ حافظ نذر احمد صاحب کے ’’ترجمہ قرآن‘‘ سے لیا گیا ہے، اور ہر سورۃ کا تعارف مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا آسان ترجمہ قرآن(توضیح القرآن)سے پیش کیا گیا ہے، قرآن کریم کی جو آیتیں بغیر تشریحات کے سمجھ میں آ جاتی ہیں وہاں تشریح کے بجائے صرف ترجمہ پر اکتفا کیا گیا ہے، اور جن آیتوں کو سمجھنے کے لئے تشریحات ضروری ہیں وہاں پر توضیح القرآن، معارف القرآن اور تفسیر عثمانی سے مختصر تشریح کی گئی ہے۔

 

 

 

 

 

۵۔ سورۃ المائدۃ

 

                تعارف

 

سورت حضور نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ کے بالکل آخری دور میں نازل ہوئی ہے ،علامہ ابو حیان فرماتے ہیں کہ اس کے کچھ حصے صلح حدیبیہ ، کچھ فتح مکہ اور کچھ حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئے تھے،اس زمانے میں اسلام کی دعوت جزیرۂ عرب کے طول و عرض میں اچھی طرح پھیل چکی تھی، دشمنان اسلام بڑی حد تک شکست کھا چکے تھے اور مدینہ منورہ میں آنحضرتﷺ کی قائم کی ہوئی اسلامی ریاست مستحکم ہو چکی تھی ،لہذا اس سورت میں مسلمانوں کے سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل سے متعلق بہت سی ہدایات دی گئی ہیں، سورت کا آغاز اس بنیادی حکم سے ہوا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے عہد و پیمان پورے کرنے چاہئیں،اس بنیادی حکم میں اجمالی طور پر شریعت کے تمام احکام آ گئے ہیں، چاہے وہ اللہ تعالی کے حقوق سے متعلق ہوں یا بندوں کے حقوق سے متعلق ،اس ضمن میں یہ اصول بڑی تاکید کے ساتھ سمجھایا گیا ہے کہ دشمنوں کے ساتھ بھی ہر معاملہ انصاف کے ساتھ ہونا چاہئے ،یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ دشمنان اسلام کو اب اسلام کی پیش قدمی روکنے سے مایوسی ہو چکی ہے اور اللہ نے اپنا دین مکمل فرما دیا ہے، اسی سورت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس قسم کی غذائیں حلال ہیں اور کس قسم کی حرام، اسی سلسلے میں شکار کے احکام بھی وضاحت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں،اہل کتاب کے ذبیحے اور ان کی عورتوں سے نکاح کے احکام کا بیان آیا ہے، چوری اور ڈاکے کی شرعی سزائیں مقرر فرمائی گئی ہیں، کسی انسان کو ناحق قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے؟اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے،شراب اور جوئے کو صریح الفاظ میں حرام قرار دیا گیا ہے، وضو اور تیمم کا طریقہ بتایا گیا ہے،یہودیوں اور عیسائیوں نے کس طرح اللہ تعالی سے کئے ہوئے عہد توڑا، اس کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔

“مائدہ”عربی میں دستر خوان کو کہتے ہیں اس سورت کی آیت نمبر ۱۱۴ میں واقعہ بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے ان کے متبعین نے یہ دعا کرنے کی فرمائش کی تھی کہ اللہ تعالی ان کے لئے آسمانی غذاؤں کے ساتھ دستر خوان نازل فرمائے، اس واقعے کی مناسبت سے اس سورت کا نام مائدہ یعنی دسترخوان رکھا گیا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

مدنیہ

 

آیات:۱۲۰       رکوعات:۱۶

 

 

اللہ کے نام سے جو بہت مہربان رحم کرنے والا ہے

اے ایمان والو! اپنے عہد پورے کرو،تمہارے لئے چوپائے مویشی حلال کئے گئے سوائے ان کے جو تمہیں سنائے جائیں گے، مگر شکار کو حلال نہ جانو جب کہ تم(حالت)احرام میں ہو،بیشک اللہ جو چاہے حکم کرتا ہے۔(۱)

تشریح:چوپایہ توہر اس جانور کو کہتے ہیں جو چار ہاتھ پاؤں پر چلتا ہے ،لیکن ان میں سے صرف وہ جانور حلال ہیں جو مویشیوں میں شمار ہوتے ہیں،یعنی گائے اونٹ،اور بھیڑ بکری یا پھر ان مویشیوں کے مشابہ ہوں جیسے ہرن نیل گائے وغیرہ۔

مویشیوں کے مشابہ جانور مثلاً ہرن وغیرہ اگرچہ حلال ہیں اور ان کا شکار بھی حلال ہے لیکن جب حج یا عمرے کے لئے کسی نے احرام باندھ لیا ہو تو ان جانوروں کا شکار حرام ہو جاتا ہے۔

إِنَّ اللہ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ: بیشک اللہ جو چاہے حکم کرتا ہے:اس جملے نے ان تمام سوالات اور اعتراضات کی جڑ کاٹ دی ہے جو لوگ محض اپنی محدود عقل کے سہارے شرعی احکام پر عائد کرتے ہیں ،مثلاً یہ سوال کہ جانور بھی توآخر جان رکھتے ہیں ،ان کو ذبح کر کے کھانا کیوں جائز کیا گیا جبکہ یہ ایک جاندار کو تکلیف پہنچانا ہے یا مثلاً یہ سوال کہ فلاں جانور کو کیوں حلال کیا گیا اور فلاں جانور کو کیوں حرام قرار دیا گیا ہے؟آیت کے اس حصے نے اس کا مختصر اور جامع جواب یہ دے دیا ہے کہ اللہ تعالی پوری کائنات کا خالق ہے وہی اپنی حکمت سے جس بات کا ارادہ فرماتا ہے اس کا حکم دے دیتا ہے،ا س کا ہر حکم یقیناً حکمت پر مبنی ہے،لیکن ضروری نہیں کہ اس کے ہر حکم کی حکمت بندوں کو سمجھ میں بھی آئے ،لہذا بندوں کا کام یہ ہے کہ اس کے ہر حکم کو چون و چرا کے بغیر تسلیم کر کے اس پر عمل کریں۔

(توضیح القرآن)

 

اے ایمان والو!شعائر اللہ(اللہ کی نشانیاں) حلال نہ سمجھو اور نہ ادب والے مہینے(ذیقعدہ ، ذو الحجہ، محرم، رجب) اور نہ نیاز کعبہ(کے جانور)اور نہ گلے میں (قربانی کے)پٹہ ڈالے ہوئے اور نہ آنے والے خانہ کعبہ کو،جو اپنے رب کا فضل اور خوشنودی چاہتے ہیں ،اور جب احرام کھول دو(چاہو)تو شکار کر لو اور (اس)قوم کی دشمنی جو تم کو روکتی تھی مسجد حرام(خانہ کعبہ) سے (اس کا) باعث نہ بنے کہ تم زیادتی کرو اور ایک دوسرے کی مدد کرو نیکی اور پرہیز گاری میں اور ایک دوسرے کی مدد نہ کرو گناہ اور سرکشی میں اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے (۲)

تشریح:صلح حدیبیہ کے واقعے میں مکہ مکرمہ کے کافروں نے آنحضرتﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو حرم میں داخل ہونے اور عمرہ کرنے سے روکا تھا، مسلمانوں کو طبعی طور پر اس واقعے پر سخت غم و غصہ تھا اور یہ احتمال تھا کہ اس غم و غصہ کی وجہ سے کوئی مسلمان اپنے دشمن سے کوئی ایسی زیادتی کر بیٹھے جو شریعت کے خلاف ہو، اس آیت نے متنبہ کر دیا کہ اسلام میں ہر چیز کی حدود مقرر ہیں اور دشمن کے ساتھ بھی کوئی زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔

(توضیح القرآن)

 

حرام کر دیا گیا تم پر مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس پر پکارا گیا اللہ کے سوا (کسی اور کا نام) اور گلا گھونٹنے سے مرا ہوا اور چوٹ کھا کر مرا ہوا اور گر کر مرا ہوا اور سینگ مارا ہوا اور جس کو درندے نے کھایا ہو مگر جو تم نے ذبح کر لیا اور (حرام کیا گیا)جو تھانوں(پرستش گاہوں)پر ذبح کیا گیا اور یہ کہ تم تیروں سے (پانسے ڈال کر) تقسیم کرو،یہ گناہ ہیں،آج کافر تمہارے دین سے مایوس ہو گئے ،سو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو،آج میں نے تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا پھر جو بھوک میں لاچار ہو جائے (لیکن)مائل نہ ہو گناہ کی طرف (اس کے لئے گنجائش ہے)بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(۳)

تشریح:اس آیت سے جن چیزوں کا کھانا حرام ہوا ان میں اول میتہ (مردار جانور) ہے جو واجب الذبح جانور ذبح کئے بغیر خود اپنی موت سے مر جائے اس کا خون اور حرارت غلیظ یہ گوشت ہی میں محتقن اور جذب ہو کر رہ جاتی ہے جس کی سمیت اور گندگی سے کئی قسم کے بدنی اور دینی مضار لاحق ہوتے ہیں (ابن کثیر) شاید اسی تعلیل پر متنبہ فرمانے کے لئے میتہ (مردہ جانور) کے بعد دم (خون) کی حرمت مذکور ہوئی، اس کے بعد حیوانات کی ایک خاص نوع (خنزیر) کی تحریم کا ذکر کیا۔ جس کی بے انتہا نجاست خوری اور بے حیائی مشہور عام ہے شاید اسی لئے شریعت حقہ نے دم (خون) کی طرح اس کو نجس العین قرار دیا ان تین چیزوں کے ذکر کے بعد جن کی ذوات میں مادی گندگی اور خباثت پائی جاتی تھی، محرمات کی ایک اور قسم کا ذکر فرمایا یعنی وہ جانور جو اپنی ذات کے اعتبار سے حلال و طیب ہے، مگر مالک حقیقی کے سوا کسی اور کی نیاز کے طور پر نامزد کر دیا گیا ہو اس کا کھانا بھی نیت کی خباثت اور عقیدہ کی گندگی کی بنا پر حرام ہے۔ کسی جاندار کی جان صرف اسی مالک و خالق کے حکم اور نام پر لی جا سکتی ہے جس کے حکم اور ارادہ سے اس پر موت و حیات طاری ہوتی ہے۔ باقی ”مُنْخَنِقَہ” وغیرہ غیر مذبوح جانور سب میتہ کے حکم میں داخل ہیں جیسا کہ ”مَاذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ”، ”مَااُھِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِ” کے ساتھ ملحق ہے۔ جاہلیت میں ان سب چیزوں کے کھانے کی عادت تھی اس لئے اس قدر تفصیل سے ان کا بیان فرمایا۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ سے پوچھتے ہیں ان کے لئے کیا حلال کیا گیا؟کہہ دیں تمہارے لئے پاک چیزیں حلال کی گئی ہیں اور جو تم شکاری جانور سدھاؤ شکار پر دوڑانے کو کہ تم انہیں سکھاتے ہو اس سے جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے،پس اس میں سے کھاؤ جو وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں،اور اس پر اللہ کا نام لو(ذبح کر لو) اور اللہ سے ڈرو،بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے(۴)

تشریح:شکاری جانوروں مثلاً شکاری کتوں اور باز وغیرہ کے ذریعے حلال جانوروں کا شکار کر کے انہیں کھانا جن شرائط کے ساتھ جائز ہے ان کا بیان ہو رہا ہے، پہلی شرط یہ ہے کہ شکاری جانور کو سدھالیا گیا ہو جس کی علامت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ جس جانور کا شکار کرے خود نہ کھائے بلکہ اپنے مالک کے لئے روک رکھے، دوسری شرط یہ ہے کہ شکار کرنے والا شکاری کتے کو کسی جانور پر چھوڑتے وقت اللہ کا نام لے یعنی بسم اللہ پڑھے۔

(توضیح القرآن)

 

آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال کی گئیں،اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے،اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے ،اور پاک دامن مؤمن عورتیں اور پاک دامن عورتیں ان میں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی(حلال ہیں)جب تم انہیں ان کے مہر دے دو(قید نکاح)میں لانے کو ،نہ کہ مستی نکالنے کو،اور نہ چوری چھپے آشنائی کرنے کو،اور جو ایمان کا منکر ہوا اس کا عمل ضائع ہوا،اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہے۔(۵)

تشریح:کھانے سے یہاں مراد ذبیحہ ہے ،اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی چونکہ جانور کے ذبح میں انہی شرائط کی رعایت رکھتے تھے جو اسلامی شریعت میں مقرر ہیں اور وہ دوسرے غیر مسلموں سے اس معاملے میں ممتاز تھے کہ فی الجملہ آسمانی کتابوں کو مانتے تھے، اس لئے ان کے ذبح کئے ہوئے جانور مسلمانوں کے لئے جائز قرار دئے گئے تھے،بشرطیکہ وہ جانور صحیح شرعی طریقے سے ذبح کریں،اور اس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام نہ لیں ،آج کل کے یہودیوں اور عیسائیوں میں ایک بڑی تعداد تو ان لوگوں کی ہے جو درحقیقت دہریے ہیں،خدا ہی کے قائل نہیں ہیں،ایسے لوگوں کا ذبیحہ بالکل جائز نہیں ہے اور ان میں سےبعض اگرچہ عیسائی یا یہودی ہیں مگر اپنے مذہب کے احکام چھوڑے ہوئے ہیں اور ذبح کرنے میں شرعی شرائط کا لحاظ نہیں کرتے، اس لئے ان کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہے ۔

اہل کتاب کی دوسری خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کی عورتوں سے نکاح بھی حلال ہے؛ لیکن یہاں بھی دو اہم نکتے یاد رکھنے ضروری ہیں،ایک یہ کہ یہ حکم ان یہودی یا عیسائی خواتین کا ہے جو واقعی یہودی یا عیسائی ہوں، جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا مغربی ممالک میں بہت سے لوگ ایسے ہیں مردم شماری کے حساب سے توانہیں عیسائی یا یہودی گنا گیا ہے؛ لیکن نہ وہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں نہ کسی پیغمبر یا کسی آسمانی کتاب پر ،ایسے لوگ اہل کتاب میں شامل نہیں ہیں، نہ انکا ذبیحہ حلال ہے، اور نہ ایسی عورتوں سے نکاح حلال ہے، دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی عورت واقعی یہودی یا عیسائی ہو؛ لیکن اس بات کا قوی خطرہ ہو کہ وہ اپنے شوہر یا بچوں پر اثر ڈال کر انہیں اسلام سے دور کر دے گی توایسی عورت سے نکاح کرنا گناہ ہو گا ،یہ اور بات ہے کہ اگر کسی نے نکاح کر لیا تو نکاح منعقد ہو جائے گا اور اولاد حرام نہیں کہا جائے گا، آج کل چونکہ مسلمان عوام میں اپنے دین کی ضروری معلومات اور ان پر عمل کی بڑی کمی ہے اس لئے اس معاملہ میں بہت احتیاط لازم ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اٹھو تو دھولو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں (دھو)ٹخنوں تک،اور اگر تم ناپاک ہو(غسل کی حاجت ہو) تو خوب پاک ہو جاؤ(غسل کر لو)،اور اگر تم بیمار ہو،یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آئے، یا تم نے عورتوں سے صحبت کی،پھر نہ پاؤ پانی تو مٹی پاک سے تیمم کر لو(یعنی)اس سے اپنے منہ اور ہاتھوں کا مسح کرو، اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی کرے؛ لیکن چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور یہ کہ اپنی نعمت پوری کرے تم پر تاکہ تم احسان مانو(۶)

تشریح:امت محمدیہ پر جو عظیم الشان احسانات کئے گئے ان کا بیان سن کر ایک شریف اور حق شناس مومن کا دل شکر گزاری اور اظہار وفاداری کے جذبات سے لبریز ہو جائے گا اور فطری طور پر اس کی یہ خواہش ہو گی کہ اس منعم حقیقی کی بارگاہ رفیع میں دست بستہ حاضر ہو کر جبین نیاز خم کرے اور اپنی غلامانہ منت پذیری اور انتہائی عبودیت کا عملی ثبوت دے۔ اس لئے ارشاد ہوا کہ جب ہمارے دربار میں حاضری کا ارادہ کرو یعنی نماز کے لئے اٹھو تو پاک و صاف ہو کر آؤ۔ جن لذائذ دنیوی اور مرغوبات طبعی سے متمتع ہونے کی آیت وضو سے پہلی آیت میں اجازت دی گئی (یعنی طیبات اور محصنات) وہ ایک حد تک انسان کو ملکوتی صفات سے دور اور بہیمیت سے نزدیک کرنے والی چیزیں ہیں اور کل احداث (موجبات وضو و غسل) ان ہی کے استعمال سے لازمی نتیجہ کے طور پر پیدا ہوتے ہیں۔ لہٰذا مرغوبات نفسانی سے یکسو ہو کر جب ہماری طرف آنے کا قصد کرو تو پہلے بہیمیت کے اثرات اور ”اکل و شرب” وغیرہ کے پیدا کئے ہوئے تکدرات سے پاک ہو جاؤ، یہ پاکی ”وضو” اور ”غسل” سے حاصل ہوتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ وضو کرنے سے مومن کا بدن پاک و صاف ہو جاتا ہے بلکہ جب وضو باقاعدہ کیا جائے تو پانی کے قطرات کے ساتھ گناہ بھی جھڑتے جاتے ہیں۔

(تفسیر عثمانی)

 

بتانا یہ مقصود ہے کہ جب پانی میسر نہ ہو یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے اس کا استعمال ممکن نہ ہو تو ناپاکی چاہے چھوٹی ہو یا بڑی دونوں صورتوں میں تیمم کی اجازت ہے اور دونوں صورتوں میں ا سکا طریقہ ایک ہی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو اور اس کا عہد جو تم نے اس سے باندھا ،جب تم نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے مانا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔(۷)

تشریح: ایک شریف اور حیا دار آدمی کی گردن اپنے محسن اعظم کے سامنے جھک جانی چاہئے۔ مروت و شرافت اور آئندہ مزید احسانات کی توقع اسی کو مقتضی ہے کہ بندہ اس منعم حقیقی کا بالکل تابع فرمان بن جائے، خصوصاً جب کہ زبان سے اطاعت و وفاداری کا پختہ عہد و اقرار بھی کر چکا ہے ،ممکن ہے حق تعالیٰ کی بے انتہا مہربانیاں دیکھ کر بندہ مغرور ہو جائے ،اس کی نعمتوں کی قدر اور اپنے قول و قرار کی کوئی پروا نہ کرے ،اس لئے فرمایا ”وَاتَّقُو اللّٰہَ” یعنی خدا سے ہمیشہ ڈرتے رہو۔ وہ ایک لمحہ میں تم سے سب نعمتیں چھین سکتا ہے اور ناشکری اور بد عہدی کی سزا میں بہت سخت پکڑ سکتا ہے۔ بہرحال مروت، شرافت، امید اور خوف ہر چیز کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کی مخلصانہ اطاعت اور وفاداری میں پوری مستعدی دکھلائیں۔ آگے وہ ”عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ” ہے، ہم جو کچھ کریں گے وہ ہمارے اخلاص یا نفاق، ریاکاری یا قلبی نیاز مندی کو خوب جانتا ہے۔ فقط زبان سے ”سمعنا و اطعنا” کہنے یا شکر گزاری کی رسمی اور ظاہری نمائش سے ہم اس کو دھوکا نہیں دے سکتے۔

(تفسیر عثمانی)

 

اے ایمان والو! اللہ کے لئے کھڑے ہونے والے ہو جاؤ انصاف کی گواہی دینے کو،اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں(اس پر)نہ ابھارے کہ انصاف نہ کرو، تم انصاف کرو یہ تقوے کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو بیشک تم جو کرتے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے۔(۸)

تشریح: اس سے پہلی آیت میں مومنین کو حق تعالیٰ کے احسانات اور اپنا عہد و پیمان یاد کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہاں بتلا دیا کہ صرف زبان سے یاد کرنا نہیں بلکہ عملی رنگ میں ان سے اس کا ثبوت مطلوب ہے ،اس آیت میں اسی پر تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر تم نے خدا کے بے شمار احسانات اور اپنے عہد و اقرار کو بھلا نہیں دیا تو لازم ہے کہ اس محسن حقیقی کے حقوق ادا کرنے اور اپنے عہد کو سچا کر دکھانے کے لئے ہر وقت کمر بستہ رہو اور جب کوئی حکم اپنے آقائے ولی نعمت کی طرف سے ملے فوراً تعمیل حکم کے لئے کھڑے ہو جاؤ، اور خدا کے حقوق کے ساتھ مخلوق کے حقوق ادا کرنے میں بھی پوری جدو جہد اور اہتمام کرو۔ چنانچہ ”قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ” میں ”حقوق اللہ کی ” اور ”شُھَدَآءَ بِالْقِسْطِ” میں ”حقوق العباد” کی طرف اشارہ ہے۔

(تفسیر عثمانی)

 

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے اللہ نے وعدہ کیا کہ ان کے لئے بخشش اور بڑا اجر ہے(۹)

تشریح:نہ صرف یہ کہ ان کوتاہیوں کو معاف کر دیں گے جو بمقتضائے بشریت رہ جاتی ہیں بلکہ عظیم الشان اجر و ثواب بھی عطا فرمائیں گے۔

(تفسیر عثمانی)

 

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا یہی جہنم والے ہیں۔(۱۰)

تشریح:یہ پہلے فریق کے بالمقابل اس جماعت کی سزا ذکر کی گئی جس نے قرآن کریم کے ان صاف و صریح حقائق کو جھٹلایا ،یا ان نشانات کی تکذیب کی جو سچائی کی طرف راہنمائی کرنے کے لئے خدا کی طرف سے دکھلائے جاتے ہیں۔

(تفسیر عثمانی)

 

اے ایمان والو! اپنے اوپر اللہ کی نعمت (احسان)یاد کرو جب ایک گروہ نے ارادہ کیا کہ وہ بڑھائیں تمہاری طرف اپنے ہاتھ(دست درازی کریں)تواس نے تم سے ان کے ہاتھ روک دئے اور اللہ سے ڈرو اور چاہئے کہ اللہ پر بھروسہ کریں ایمان والے(۱۱)

تشریح:یہ ان مختلف واقعات کی طرف اشارہ ہے جن میں کفار نے مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے منصوبے بنائے ،لیکن اللہ تعالی نے ان سب کو خاک میں ملادیا، ایسے واقعات بہت سے ہیں ،ان میں سے کچھ واقعات مفسرین نے اس آیت کے تحت بھی ذکر کئے ہیں، مثلاً صحیح مسلم میں روایت ہے کہ مشرکین سے ایک جنگ کے دوران عسفان کے مقام پر آنحضرتﷺ نے ظہر کی نماز تمام صحابہ کو جماعت سے پڑھائی، مشرکین کو پتہ چلا تو ان کو حسرت ہوئی کہ جماعت کے دوران مسلمانوں پر حملہ کر کے انہیں ختم کر دینے کا یہ بہترین موقع تھا، پھر انہوں نے منصوبہ بنایا کہ جب یہ حضرات عصر کی نماز پڑھیں گے تو ان پر ایک دم حملہ کر دیں گے؛ لیکن عصر کا وقت آیا تو اللہ تعالی کے حکم سے آپ نے صلاۃ الخوف پڑھی جس میں مسلمان دو حصوں میں تقسیم ہو کر نماز پڑھتے ہیں اور ایک حصہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہتا ہے (اس نماز کا طریقہ پیچھے سورہ نساء :۱۰۲ میں گزر چکا ہے) چنانچہ مشرکین کا منصوبہ دھرا رہ گیا(روح المعانی) مزید واقعات کے لئے دیکھئے معارف القرآن۔

(توضیح القرآن)

 

اور البتہ اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا ،اور ہم نے ان میں سے مقرر کئے بارہ سردار،اور اللہ نے کہا میں تمہارے ساتھ ہوں،اگر تم نماز قائم رکھو گے اور دیتے رہو گے زکوۃ،اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ گے،اور ان کی مدد کرو گے اور اللہ کو قرض حسنہ(اچھا قرض) دو گے، میں تمہارے گناہ ضرور دور کر دوں گا اور تمہیں (ان) باغات میں ضرور داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں،پھر اس کے بعد تم میں سے جس نے کفر کیا بیشک وہ سیدھے راستہ سے گمراہ ہوا۔(۱۲)

تشریح:بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے بارہ سردار حضرت موسی علیہ السلام نے چن لئے تھے جن کے نام بھی مفسرین نے تورات سے نقل کئے ہیں، ان کا فرض یہ تھا کہ وہ اپنی قوم پر عہد پورا کرنے کی تاکید اور ان کے احوال کی نگرانی رکھیں۔ عجب اتفاق یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے جب ”انصار” نے ”لیلۃ العقبہ” میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تو ان میں سے بھی بارہ ہی ”نقیب” نامزد ہوئے۔ ان ہی بارہ آدمیوں نے اپنی قوم کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی تھی۔ جابرؓ بن سمرہ کی ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کے متعلق جو بارہ خلفاء کی پیشین گوئی فرمائی ان کا عدد بھی ”نقبائے بنی اسرائیل” کے عدد کے موافق ہے اور مفسرین نے تورات سے نقل کیا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام سے حق تعالیٰ نے فرمایا کہ ”میں تیری ذریت میں سے بارہ سردار پیدا کروں گا۔” غالباً یہ وہی ”بارہ” ہیں جن کا ذکر جابرؓ بن سمرہ کی حدیث میں ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اچھے قرض یا قرض حسن کا مطلب تووہ قرض ہے جو کوئی شخص کسی کو اللہ تعالی کی رضا جوئی کے لئے دے،لیکن اللہ تعالی کو اچھا قرض دینے کا مطلب یہ ہے کہ کسی غریب کی مدد کی جائے یا کسی اور نیک کام میں پیسے خرچ کئے جائیں۔

(توضیح القرآن)

 

سوان کے عہد توڑنے پر ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا، وہ کلام کو اس کے مواقع سے پھیر دیتے ہیں(بدل دیتے ہیں) اور وہ بھول گئے(فراموش کر بیٹھے)اس کا بڑا حصہ جس کی انہیں نصیحت کی گئی اور آپ ان میں سے تھوڑوں کے سوا ہمیشہ انکی خیانت پر خبر پاتے رہتے ہیں،سو ان کو معاف کر دیں اور درگزر کریں، بیشک اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے(۱۳)

تشریح:یعنی اس قسم کی شرارتیں تو ان کی پرانی عادت ہے؛ لیکن آپ کو فی الحال سارے بنی اسرائیل کو کوئی اجتماعی سزا دینے کا حکم نہیں ہے جب وقت آئے گا اللہ تعالی خود سزا دے گا۔

(توضیح القرآن)

 

اور ان لوگوں سے جنہوں نے کہا ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان کا عہد لیا پھر وہ اس کا بڑا حصہ بھول گئے جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی، توہم نے ان کے درمیان لگا دیا(ٹال دیا)روز قیامت تک عداوت اور بغض،اور اللہ جلد انہیں جتا دے گا جو وہ کرتے تھے۔(۱۴)

تشریح:عیسائی مذہب کے ماننے والے مختلف فرقوں میں بٹ گئے تھے اور ان کے مذہبی اختلافات نے دشمنی اور خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لی تھی یہ اس خانہ جنگی کی طرف اشارہ ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اے اہل کتاب یقیناً تمہارے پاس ہمارے رسول (محمد) آ گئے وہ تمہارے لئے(تم پر)بہت سی باتیں ظاہر کرتے ہیں جو تم کتاب میں سے چھپاتے تھے،اور وہ بہت امور سے درگزر کرتے ہیں تحقیق تمہارے پاس آ گیا اللہ کی طرف سے نور اور روشن کتاب(۱۵)

تشریح:مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ نے یوں تو اپنی آسمانی کتابوں کی بہت سی باتوں کو چھپا رکھا تھا؛ لیکن آنحضرتﷺ نے صرف ان باتوں کو ظاہر فرمایا جن کی وضاحت دینی اعتبار سے ضروری تھی، بہت سی باتیں ایسی بھی تھیں جو انہوں نے چھپائی ہوئی تھیں مگر ان کے پوشیدہ رہنے سے کوئی عملی یا اعتقادی نقصان نہیں تھا اور اگر ان کو ظاہر کیا جاتا تو یہود  و نصاریٰ کی رسوائی کے سوا کوئی خاص فائدہ نہیں تھا ،آنحضرتﷺ نے ایسی باتوں سے درگزر فرمایا ہے اور ان کی حقیقت واضح کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔

(توضیح القرآن)

 

اس سے اللہ سلامتی کی راہوں کی اسے ہدایت دیتا ہے جو اس کی رضا کی تابع ہوا اور وہ انہیں نکالتا ہے اندھیروں سے نور کی طرف اپنے حکم سے اور انہیں سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے(۱۶)

تشریح:شاید ”نور” سے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ”کتاب مبین” سے قرآن کریم مراد ہے۔ یعنی یہود و نصاریٰ جو وحی الہٰی کی روشنی کو ضائع کر کے اہواء وآراء کی تاریکیوں اور باہمی خلاف و شقاق کے گڑھوں میں پڑے دھکے کھا رہے ہیں جس سے نکلنے کا بحالت موجودہ قیامت تک امکان نہیں ان سے کہہ دو کہ خدا کی سب سے بڑی روشنی آ گئی اگر نجات ابدی کے صحیح راستہ پر چلنا چاہتے ہو تو اس روشنی میں حق تعالیٰ کی رضا کے پیچھے چل پڑو سلامتی کی راہیں کھلی پاؤ گے اور اندھیرے سے نکل کر اجالے میں بے کھٹکے چل سکو گے۔ اور جس کی رضا کے تابع ہو کر چل رہے ہو اسی کی دستگیری سے صراط مستقیم کو بے تکلف طے کر لو گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

تحقیق کافر ہو گئے جن لوگوں نے کہا اللہ وہی مسیح ابن مریم ہے،کہہ دیجئے توکس کا بس چلتا ہے؟اللہ کے آگے کچھ بھی،اگر وہ چاہے کہ مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں کو ہلاک کر دے اور جو زمین ہے سب کو،اور اللہ کے لئے ہے سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ پیدا کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور اللہ ہر شے پر قادر ہے۔(۱۷)

تشریح: یعنی مسیح کے علاوہ خدا کوئی اور چیز نہیں ،کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ نصاریٰ میں سے ”فرقہ یعقوبیہ” کا ہے جس کے نزدیک مسیح کے قالب میں خدا حلول کئے ہوئے ہے (معاذاللہ) یا یوں کہا جائے کہ جب ”نصاریٰ” حضرت مسیح کی نسبت ”الوہیت” کے قائل ہیں اور ساتھ ہی توحید کا بھی زبان سے اقرار کرتے جاتے ہیں یعنی خدا ایک ہی ہے تو ان دونوں دعووں کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک مسیح کے سوا کوئی خدا نہ ہو۔ بہرحال کوئی صورت لی جائے اس عقیدہ کے کفر صریح ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور یہود و نصاریٰ نے کہا ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہہ دیجئے پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے ؟(نہیں)بلکہ تم بھی ایک بشر ہو اس کی مخلوق میں سے،وہ جس کو چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور اللہ کے لئے سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔(۱۸)

تشریح:یہ بات یہود و نصاریٰ بھی مانتے تھے کہ وہ مختلف مواقع پر اللہ تعالی کے عذاب کا نشانہ بنے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ اس بات کے بھی قائل تھے کہ آخرت میں بھی کچھ عرصے کے لئے وہ دوزخ میں جائیں گے ،لہذا بتانا یہ منظور ہے کہ اللہ تعالی نے تمام انسان ایک جیسے پیدا فرمائے ہیں، ان میں کسی خاص نسل کے بارے میں یہ دعوی کرنا کہ وہ اللہ تعالی کی لاڈلی قوم ہے اور اس کے قوانین سے لازمی طور پر مستثنی ہے بالکل غلط دعوی ہے، اللہ تعالی کے قوانین سب کے لئے برابر ہیں، اس نے کوئی خاص نسل اپنی رحمت کے لئے مخصوص نہیں کی ہے ،البتہ وہ اپنی حکمت کے تحت جس کو چاہتا ہے بخش بھی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اپنے قانون عدل کے تحت سزا بھی دیتا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اے اہل کتاب ! تمہارےپاس ہمارے رسول (محمد)آ گئے وہ نبیوں کا سلسلہ ٹوٹ جانے کے بعد تم پر کھول کر بیان کرتے ہیں کہ کہیں تم یہ کہو ہمارے پاس کوئی خوشخبری سنانے والا نہیں آیا اور نہ ڈرانے والا ،تحقیق تمہارے پاس(محمد)خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے آ گئے،اور اللہ ہر شے پر قادر ہے۔(۱۹)

تشریح: اس رکوع کے شروع سے ”بنی اسرائیل” (یہود و نصاریٰ) کی مختلف قسم کی شرارتوں اور حماقتوں کو بیان فرما کر یہ بتلایا تھا کہ اب ہمارا رسول تمہارے پاس آچکا جو تمہاری غلط کاریوں کو واضح کرتا ہے اور تم کو ظلمت سے نکال کر نور کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ اس کے بعد اس پر متنبہ فرمایا کہ اب نور ہدایت کی طرف جانا دو چیزوں پر موقوف ہے، ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل کرو اور مخلوق و خالق کے تعلق کے متعلق غلط عقیدے مت جماؤ۔” لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ ”سے یہاں تک اسی جزو کا بیان تھا۔ دوسری چیز یہ ہے کہ نبی الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جو تمام انبیائے سابقین کے کمالات کے جامع اور شرائع الہٰیہ کے سب سے بڑے اور آخری شارح ہیں۔ اس جزو کا بیان اس آیت یَا اَھْلَ الْکِتَابِ قَدْ جَاءَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلٰی فَتْرَۃٍ الخ میں کیا گیا ہے۔

حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد تقریباً چھ سو برس سے انبیاء کی آمد کاسلسلہ منقطع ہو چکا تھا۔ ساری دنیا الا ما شاء اللہ جہل، غفلت اور اوہام و  اہواء کی تاریکیوں میں پڑی تھی،ہدایت کے چراغ گل ہو چکے تھے، ظلم و عدوان اور فساد و الحاد کی گھٹا تمام آفاق پر چھا رہی تھی، اس وقت سارے جہان کی اصلاح کے لئے خدا نے سب سے بڑا ”ہادی” اور ”نذیر” و ”بشیر” بھیجا، جو جاہلوں کو فلاح دارین کے راستے بتلائے، غافلوں کو اپنے انذار و تخویف سے بیدار کرے اور پست ہمتوں کو بشارتیں سنا کر ابھارے، اس طرح ساری مخلوق پر خدا کی حجت تمام ہو گئی، کوئی مانے یا نہ مانے۔

تم اگر اس پیغمبر کی بات نہ مانو گے تو خدا کو قدرت ہے کہ کوئی دوسری قوم کھڑی کر دے جو اس کے پیغام کو پوری طرح قبول کرے گی اور پیغمبر کا ساتھ دے گی خدا کا کام کچھ تم پر موقوف نہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب موسی نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! اپنے اوپر اللہ کی نعمت یاد کرو،جب اس نے تم میں نبی پیدا کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں دیا جو جہان میں کسی کو نہیں دیا(۲۰)

اے میری قوم! ارض مقدس میں داخل ہو جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے،اور اپنی پیٹھ پھیرتے ہوئے نہ لوٹو ورنہ تم نقصان میں جا پڑو گے(۲۱)

انہوں نے کہا اے موسی بیشک اس میں ایک زبردست قوم ہے اور ہم وہاں ہرگز داخل نہ ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں ،پھر اگر وہ اس سے نکلے تو ہم ضرور اس میں داخل ہوں گے(۲۲)

تشریح:مقدس سرزمین سے مراد شام اور فلسطین کا علاقہ ہے؛ چونکہ اللہ تعالی نے اس علاقے کو انبیاء کرام مبعوث کرنے کے لئے منتخب فرمایا تھا، اس لئے اس کو مقدس فرمایا گیا ہے، جس واقعے کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے وہ مختصراً یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصل وطن شام اور بالخصوص فلسطین کا علاقہ تھا ،فرعون نے مصر میں ان کو غلام بنا رکھا تھا ،جب اللہ تعالی کے حکم سے فرعون اور اس کا لشکر غرق ہو گیا تو اللہ تعالی کی طرف سے حکم ہوا کہ اب وہ فلسطین میں جا کر آباد ہوں،اس وقت فلسطین پر ایک کافر قوم کا قبضہ تھا جو عمالقہ کہلاتے تھے، لہذا اس حکم کا لازمی تقاضہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل فلسطین جا کر عمالقہ سے جہاد کریں مگر ساتھ ہی اللہ تعالی کی طرف سے یہ وعدہ بھی کر لیا گیا تھا کہ جہاد کے نتیجے میں تمہیں فتح ہو گی،کیونکہ سرزمین تمہارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے،حضرت موسی علیہ السلام اس حکم کی تعمیل میں فلسطین کی طرف روانہ ہوئے،جب فلسطین کے قریب پہنچے تو بنی اسرائیل کو پتہ چلا کہ عمالقہ تو بڑے طاقتور لوگ ہیں، دراصل یہ لوگ قوم عاد کی نسل سے تھے اور بڑے زبردست ڈیل ڈول کے مالک تھے، بنی اسرائیل ان کی ڈیل ڈول سے ڈر گئے اور یہ نہ سوچا کہ اللہ تعالی کی قدرت بہت بڑی ہے اور اس نے فتح کا وعدہ کر رکھا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

ڈرنے والوں میں سے دو آدمیوں نے کہا،ان دونوں پر اللہ نے انعام کیا تھا کہ تم ان پر دروازہ سے(حملہ کر کے )داخل ہو جاؤ،جب تم اس میں داخل ہو گے تو تم ہی غالب ہو گے اور اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم ایمان والے ہو۔(۲۳)

تشریح:یہ دو صاحبان حضرت یوشع اور حضرت کالب علیہما السلام تھے جو ہر مرحلے پر حضرت موسی علیہ السلام کے وفادار رہے تھے اور بعد میں اللہ تعالی نے ان کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا ،انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ پر بھروسہ کر کے آگے بڑھو تو اللہ تعالی کے وعدے کے مطابق تم ہی غالب رہو گے۔

(توضیح القرآن)

 

انہوں نے کہا اے موسی جب تک وہ اس میں ہیں ہم وہاں کبھی بھی ہرگز داخل نہ ہوں گے،سو تو جا اور تیرا رب،تم دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں(۲۴)

موسی نے کہا اے میرے رب بیشک میں اختیار نہیں رکھتا سوائے اپنی جان کے اور اپنے بھائی کے ،پس ہمارے اور ہماری نافرمان قوم کے درمیان جدائی ڈال دے (فیصلہ کر دے)(۲۵)

اللہ نے کہا پس یہ سرزمین حرام کر دی گئی ان پر چالیس سال،وہ زمین میں بھٹکتے پھریں گے، تو نافرمان قوم پر افسوس نہ کر(۲۶)

تشریح:بنی اسرائیل کی اس نافرمانی کے نتیجے میں اللہ تعالی نے ان کو یہ سزا دی کہ چالیس سال تک فلسطین میں ان کا داخلہ بند کر دیا گیا،یہ لوگ صحرائے سینا کے ایک مختصر علاقے میں بھٹکتے رہے،نہ آگے بڑھنے کا راستہ ملتا تھا نہ پیچھے مصر واپس جانے کا، حضرت موسی، حضرت ہارون، حضرت یوشع اور حضرت کالب علیہم السلام بھی ان لوگوں کے ساتھ تھے اور انہی کی برکت اور دعاؤں سے اللہ تعالی کی بہت سی نعمتیں ان پر نازل ہوئیں، جن کا ذکر پیچھے سورۂ بقرہ(آیات۵۷تا۶۰) میں گزرچکا ہے،بادل کے سائے نے انہیں دھوپ سے بچایا،کھانے کے لئے من وسلوی نازل ہوا، پینے کے لئے پتھر سے بارہ چشمے پھوٹے،بنی اسرائیل کے لئے خانہ بدوشی کی یہ زندگی ایک سزا تھی؛ لیکن ان بزرگوں کے لئے اللہ تعالی نے اس کو قلبی راحت کا سامان بنا دیا، حضرت ہارون اور حضرت موسی علیہما السلام کی یکے بعد دیگرے اسی صحرا میں وفات ہوئی، بعد میں حضرت یوشع علیہ السلام پیغمبر بنے اور شام کا کچھ علاقہ ان کی سرکردگی میں اور کچھ حضرت سموئیل علیہ السلام کے زمانے میں طالوت کی سرکردگی میں فتح ہوا جس کا واقعہ سورہ بقرہ (آیات ۱۴۲تا۱۵۲)میں گزر چکا ہے اور اس طرح اللہ تعالی نے یہ سرزمین بنی اسرائیل کے حق میں لکھنے کا جو وعدہ فرمایا تھا وہ پورا ہوا۔

(توضیح القرآن)

 

انہیں آدم کے دو بیٹوں کا حال واقعی سناؤ ،جب دونوں نے کچھ نیاز پیش کی تو ان میں سے ایک کی قبول کر لی گئی اور دوسرے سے قبول نہیں کی گئی، اس نے(دوسرے بھائی کو)کہا میں تجھے ضرور مار ڈالوں گا، اس نے کہا اللہ صرف قبول کرتا ہے پرہیز گاروں سے(۲۷)

تشریح:پیچھے بنی اسرائیل کی اس نافرمانی کا ذکر تھا کہ جہاد کا حکم آ جانے کے باوجود اس سے جان چراتے رہے، اب بتانا یہ مقصود ہے کہ ایک با مقصد جہاد میں کسی کی جان لینا تو نہ صرف جائز بلکہ واجب ہے؛ لیکن ناحق کسی کو قتل کرنا بڑا زبردست گناہ ہے، بنی اسرائیل نے جہاد سے تو جان چرائی؛ لیکن بہت سے بے گنا ہوں کو قتل کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کیا،اس سلسلے میں وہ واقعہ بیان کیا جا رہا ہے جو اس دنیا میں سب سے پہلے قتل کی واردات پر مشتمل ہے، اس واقعے میں قرآن کریم نے تو صرف اتنا بتایا ہے کہ آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں نے کچھ قربانی پیش کی تھی ایک کی قربانی قبول ہوئی دوسرے کی نہ ہوئی اس پر دوسرے کو غصہ آ گیا اور اس نے اپنے بھائی کو قتل کر ڈالا ؛ لیکن اس قربانی کا کیا پس منظر تھا قرآن کریم نے اس کی تفصیل نہیں بتائی ،البتہ مفسرین نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور کچھ دوسرے صحابہ کرام کے حوالے سے ایک واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے جن میں سے ایک کا نام قابیل تھا اور ایک کا ہابیل ،اس وقت چونکہ دنیا کی آبادی صرف حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد پر مشتمل تھی اس لئے ان کی اہلیہ کے ہر حمل میں دو جڑواں بچے پیدا ہوتے تھے ایک لڑکا اور ایک لڑکی، ان دونوں کے درمیان تو نکاح حرام تھا؛ لیکن ایک حمل میں پیدا ہونے والے لڑکے کا نکاح دوسرے حمل سے پیدا ہونے والی لڑکی سے ہو سکتا تھا،قابیل کے ساتھ جو لڑکی پیدا ہوئی وہ بڑی خوبصورت تھی؛ لیکن جڑواں بہن ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ قابیل کا نکاح جائز نہ تھا، اس کے باوجود اس کا اصرار تھا کہ اسی سے نکاح کرے ،ہابیل کے لئے وہ لڑکی حرام نہ تھی اس لئے وہ اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا تھا، جب دنوں کا یہ اختلاف بڑھا تو فیصلہ اس طرح قرار پایا کہ دونوں کچھ قربانی اللہ تعالی کے حضور پیش کریں جس کی قربانی اللہ تعالی نے قبول فرما لی اس کا دعویٰ برحق سمجھاجائے گا؛ چنانچہ دونوں نے قربانی پیش کی، روایات میں ہے کہ ہابیل نے ایک دنبہ قربان کیا اور قابیل نے کچھ زرعی پیداوار پیش کی، اس وقت قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے ایک آگ آ کر قربانی کو کھا جاتی تھی ،ہابیل کی قربانی کو آگ نے کھا لیا اور اس طرح اس کی قربانی واضح طور پر قبول ہو گئی اور قابیل کی قربانی وہیں پڑی رہے گی، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ قبول نہیں ہوئی، اس پر بجائے اس کے کہ قابیل حق کو قبول کر لیتا حسد میں مبتلا ہو کر اپنے بھائی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔

(توضیح القرآن)

 

البتہ اگر تو میری طرف اپنا ہاتھ مجھے قتل کرنے کے لئے بڑھائے گا میں(پھر بھی) اپنا ہاتھ تیری طرف بڑھانے والا نہیں کہ تجھے قتل کروں،بیشک میں سارے جہان کے پروردگار اللہ سے ڈرتا ہوں(۲۸)

بیشک میں چاہتا ہوں کہ تو حاصل کرے(ذمہ دار ہو جائے) میرے گناہ کا اور اپنے گناہ کا،پھر تو جہنم والوں میں سے ہو جائے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔(۲۹)

تشریح:اگرچہ اپنے دفاع کا اگر کوئی اور راستہ نہ ہو تو حملہ آور کو قتل کرنا جائز ہے،لیکن ہابیل نے احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اپنا یہ حق استعمال کرنے سے گریز کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنے بچاؤ کا اور ہر طریقہ اختیار کروں گا، مگر تمہیں قتل کرنے کا اقدام نہیں کروں گا، ساتھ ہی اسے یہ جتلا دیا کہ اگر تم نے قتل کا ارتکاب کیا تو مظلوم ہونے کی بنا پر میرے گناہوں کی تو معافی کی امید ہے مگر تم پر نہ صرف اپنے گناہوں کا بوجھ ہو گا بلکہ میرے قتل کرنے کی وجہ سے کچھ میرے گناہ بھی تم پر لد جائیں تو بعید نہیں کیونکہ آخرت میں مظلوم کا حق ظالم سے دلوانے کا ایک طریقہ احادیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دے دی جائیں اور نیکیاں کافی نہ ہوں تو مظلوم کے گناہ ظالم ڈال دئے جائیں۔

(توضیح القرآن)

 

پھر اس کو اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر لیا،اس نے اس کو قتل کر دیا تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گیا(۳۰)

پھر اللہ نے بھیجا ایک کوا زمین کریدتا؛ تاکہ وہ اسے دکھائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے ،اس نے کہا ہائے افسوس مجھ سے اتنا نہ ہو سکا کہ اس کوے جیسا ہو جاؤں کہ اپنے بھائی کی لاش کو چھپاؤں، پس وہ نادم(پشیمان)ہونے والوں میں سے ہو گیا۔(۳۱)

تشریح:یہ چونکہ کسی کے مرنے کا پہلا واقعہ تھا جو قابیل نے دیکھا اس لئے اسے مردوں کو دفن کرنے کا طریقہ معلوم نہیں تھا، اللہ تعالی نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھود کر کسی مردہ کو دفن کر رہا تھا، اسے دیکھ کر قابیل کو نہ صرف دفن کرنے کا طریقہ معلوم ہوا؛ بلکہ پشیمانی بھی ہوئی۔

(توضیح القرآن)

 

اس وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کسی ایک جان کو کسی جان کے (بدلے کے)بغیر یا ملک میں فساد کرنے کے بغیر قتل کیا تو گویا اس نے قتل کیا تمام لوگوں کو اور جس نے(کسی ایک کو)زندہ رکھا(بچایا)تو گویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ رکھا(بچا لیا)اور ان کے پاس آ چکے ہمارے رسول روشن دلائل کے ساتھ پھر اس کے بعد ان میں سے اکثر ملک میں حد سے بڑھ جانے والے ہیں۔(۳۲)

تشریح:مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کے خلاف قتل کا یہ جرم پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے کیونکہ کوئی شخص قتل ناحق کا ارتکاب اسی وقت کرتا ہے جب اس کے دل سے انسان کی حرمت کا حساس مٹ جائے، ایسی صورت میں اگر اس کے مفاد یا سرشت کا تقاضا ہو گا تووہ کسی اور کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہیں کرے گا، اور اس طرح پوری انسانیت اس کی مجرمانہ ذہنیت کی زد میں رہے گی،نیز جب اس ذہنیت کا چلن عام ہو جائے تو تمام انسان غیر محفوظ ہو جاتے ہیں؛ لہذا قتل ناحق کا ارتکاب چاہے کسی کے خلاف کیا گیا ہو تمام انسانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ جرم ہم سب کے خلاف کیا گیا ہے

(توضیح  القرآن)

 

یہی سزا ہے (ان کی) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور سعی کرتے ہیں ملک میں فساد بپا کرنے کی کہ وہ قتل کئے جائیں یا سولی دئے جائیں یا ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے جائیں مخالف جانب سے(ایک طرف کا ہاتھ دوسری طرف کا پاؤں)یا ملک بدر کر دئے جائیں،یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔(۳۳)

تشریح:پیچھے جہاں انسانی جان کی حرمت کا ذکر تھا وہاں یہ اشارہ بھی کر دیا گیا تھا کہ جو لوگ زمین میں فساد مچاتے ہیں ان کی جان کو یہ حرمت حاصل نہیں ہے،اب ان کی مفصل سزا بیان کی جا رہی ہے ،مفسرین اور فقہاء کا اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ اس آیت میں ان لوگوں سے مراد وہ ڈاکو ہیں جو اسلحے کے زور پر لوگوں کو لوٹتے ہیں،ان کے بارے میں یہ جو کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کرتے ہیں ،اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان قوانین کی بے حرمتی کرتے ہیں اور ان کا لوگوں سے لڑنا گویا اللہ اور اس کے رسول سے لڑنا ہے،ان لوگوں کے لئے اس آیت میں چار سزائیں بیان کی گئی ہیں ،ان سزاؤں کی تشریح امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہ فرمائی ہے کہ اگر ان لوگوں نے کسی کو قتل کیا ہو مگر مال لوٹنے کی نوبت نہ آئی ہو تو انہیں قتل کیا جائے گا ،مگر یہ قتل کرنا حد شرعی کے طور پر ہو گا قصاص کے طور پر نہیں، جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اگر مقتول کو وارث معاف بھی کرنا چاہیں تو ان کی معافی نہیں ہو گی، اور اگر ڈاکوؤں نے کسی کو قتل بھی کیا ہو اور مال بھی لوٹا ہو تو انہیں سولی پر لٹکا کر ہلاک کیا جائے گا، اور اگر مال لوٹا ہو اور کسی کو قتل نہ کیا ہو تو ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹا جائے گا ،اور اگر انہوں نے لوگوں کو صرف ڈرایا دھمکایا ہو، نہ مال لوٹنے کی نوبت آئی ہو، نہ کسی کو قتل کرنے کی، تو امام ابو حنیفہؒ نے أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ، کی تشریح یہ کی ہے کہ انہیں قید خانے میں بند کر دیا جائے گا،یہ تشریح: حضرت عمرؓ کی طرف بھی منسوب ہے، دوسرے فقہاء نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ انہیں جلا وطن کر دیا جائے گا۔ یہاں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم نے ان جرائم کی سزائیں اصولی طور پر بیان فرمائی ہیں نبی کریمﷺ نے احادیث میں تفصیل بیان فرمائی ہے کہ ان سخت سزاؤں پر عمل درآمد کے لئے کیا شرائط ہیں، فقہ کی کتابوں میں یہ ساری تفصیل آئی ہے، یہ شرائط اتنی کڑی ہیں کہ کسی مقدمے میں ان کا پورا ہونا آسان نہیں ؛ کیونکہ مقصد ہی یہ ہے کہ یہ سزائیں کم سے کم جاری ہوں، مگر جب جاری ہوں تو دوسرے مجرموں کے لئے سامان عبرت بن جائیں۔

(توضیح القرآن)

 

مگر وہ لوگ جنہوں نے اس سے پہلے توبہ کر لی کہ تم قابو پاؤ ان پر،تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(۳۴)

تشریح:مطلب یہ ہے کہ اگر وہ گرفتار ہونے سے پہلے ہی توبہ کر لیں اور اپنے آپ کو حکام کے حوالے کر دیں تو ان کی مذکورہ سزائیں معاف ہو جائیں گی، البتہ چونکہ بندوں کے حقوق صرف توبہ سے معاف نہیں ہوتے اس لئے اگر انہوں نے مال لوٹا ہے تووہ مالک کو لوٹانا ہو گا،اور اگر کسی کو قتل کیا ہے تواس کے وارثوں کو حق ملے گا کہ وہ ان کو قصاص کے طور پر قتل کرنے کا مطالبہ کریں، ہاں اگر وہ بھی معاف کر دیں یا قصاص کے بدلے خون بہا لینے پر راضی ہو جائیں تو ان کی جان بخشی ہو سکتی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اے ایمان والو!ڈرو اللہ سےاور اس کی طرف(اس کا)قرب تلاش کرو اور اس کے راستہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔(۳۵)

تشریح:وَابْتَغُوْا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ، وسیلہ سے یہاں مراد ہر وہ نیک عمل ہے جو اللہ تعالی کی خوشنودی کا ذریعہ بن سکے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لئے نیک اعمال کو وسیلہ بناؤ۔

وَجَاهِدُوْا فِي سَبِيلِهِ،جہاد کے لفظی معنی کوشش اور محنت کرنے کے ہیں، قرآنی اصطلاح میں اس کے معنی عام طور سے اللہ تعالی کی رضا جوئی کے لئے دشمنوں سے لڑنے کے آتے ہیں؛ لیکن بعض مرتبہ دین پر عمل کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش کو بھی جہاد کہا جاتا ہے، یہاں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

جن لوگوں نے کفر کیا جو کچھ زمین میں ہے اگر سب کا سب اس کے ساتھ اور اتنا ہی ان کے ساتھ ہو کہ وہ اس کو قیامت کے دن عذاب کے فدیہ(بدلہ) میں دیں تووہ ان سے قبول نہ کیا جائے گا، اور ان کے لئے عذاب ہے دردناک۔(۳۶)

وہ چاہیں کہ وہ آگ سے نکل جائیں ،حالانکہ وہ اس سے نکلنے والے نہیں اور ان کے لئے ہمیشہ رہنے والا (دائمی) عذاب ہے۔(۳۷)

تشریح: پچھلی آیت میں بتلایا تھا کہ انسان خدا سے ڈرنے، اس کا قرب حاصل کرنے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے ہی سے فلاح و کامیابی کی امید کر سکتا ہے۔ اس آیت میں متنبہ فرما دیا کہ جن لوگوں نے خدا سے روگردانی کی وہ آخرت میں اگر روئے زمین کے سارے خزانے بلکہ اس سے بھی زائد خرچ کر ڈالیں گے اور فدیہ دیکر عذاب الہٰی سے چھوٹنا چاہیں گے تو یہ ممکن نہ ہو گا۔ غرض وہاں کی کامیابی ”تقویٰ” ”ابتغائے وسیلہ” اور ”جہاد فی سبیل اللہ” سے حاصل ہوتی ہے، رشوت اور فدیہ سے نہیں ہو سکتی۔

 

چور مرد اور چور عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ دو یہ سزا ہے اس کی جو انہوں نے کیا،عبرت ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔(۳۸)

پس جس نے توبہ کی اپنے ظلم کے بعد اور اصلاح کر لی تو بیشک اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(۳۹)

تشریح:ڈاکے کی سزا میں بھی اوپر توبہ کا ذکر آیا تھا، مگر وہاں توبہ کا اثر یہ تھا کہ گرفتاری سے پہلے توبہ کر لینے سے حد کی سزا معاف ہو جاتی تھی ،یہاں اس قسم کے الفاظ نہیں ہیں، لہذا امام ابو حنیفہؒ کی تشریح کے مطابق چور کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی، چاہے وہ گرفتاری سے پہلے توبہ کر لے، یہاں صرف یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اس توبہ کا اثر آخرت میں جاری ہو گا کہ اس کا گناہ معاف کر دیا جائے گا ،اس کے لئے بھی آیت میں دو شرطیں بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ وہ دل سے شرمندہ ہو کر توبہ کرے اور دوسرے یہ کہ اپنے معاملات درست کر لے، اس میں یہ بات بھی داخل ہے کہ جن جن کا سامان چرایا تھا ان کو وہ سامان واپس کرے الا یہ کہ وہ معاف کر دیں۔

(توضیح القرآن)

 

کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ ہی کی ہے سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی، وہ جسے چاہے عذاب دے اور جس کو چاہے بخش دے اور اللہ ہر شے پر قادر ہے(۴۰)

تشریح:جب حقیقی سلطنت و حکومت اسی کی ہے تو بلاشبہ اسی کو یہ اختیار ہو گا کہ جسے مناسب جانے معاف کر دے اور جسے اپنی حکمت و عدل کے موافق سزا دینا ہے سزا دے اور نہ صرف یہ کہ اسے معاف کرنے اور سزا دینے کے کلی اختیارات حاصل ہیں بلکہ ان اختیارات کے استعمال سے کوئی روکنے والا بھی نہیں کیونکہ ہر چیز پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے رسول! آپ کو وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر میں جلدی کرتے ہیں، وہ لوگ جو اپنے منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل مؤمن نہیں ،وہ جو یہودی ہوئے وہ جھوٹ کے لئے جاسوسی کرتے ہیں، وہ جاسوس ہیں ایک دوسری جماعت کے جو آپ تک نہیں آئے ،کلام کو پھیر دیتے (بدل ڈالتے) ہیں اس کے ٹھکانے کے بعد(ٹھکانہ چھوڑ کر) ،کہتے ہیں اگر تمہیں یہ دیا جائے تواس کو قبول کر لو ،اور اگر تمہیں نہ دیا جائے تواس سے بچو ،اور جس کو اللہ گمراہ کرنا چاہے تواس کے لئے تو اللہ کے ہاں کچھ نہ کرسکے گا ،یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ نے نہیں چاہا کہ ان کے دل پاک کرے ،ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔(۴۱)

تشریح:یہاں سے آیت نمبر:۵۰ تک کی آیتیں کچھ خاص واقعات کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، جن میں کچھ یہودیوں نے اپنے کچھ جھگڑے اس امید پر آنحضرتﷺ کے پاس لانے کا ارادہ کیا تھا کہ آپ ان کا فیصلہ ان کی خواہش کے مطابق کریں گے ،ان میں سے ایک واقعہ تو یہ تھا کہ خیبر کے دو شادی شدہ یہودی مرد و عورت نے زنا کر لیا تھا، جس کی سزا خود تورات میں یہ مقرر تھی کہ ایسے مرد و عورت کو سنگسار کر کے ہلاک کیا جائے،یہ سزا موجودہ تورات میں بھی موجود ہے(دیکھئے استثناء:۲۲،۲۳،۲۴) لیکن یہودیوں نے اس کو چھوڑ کر کوڑوں اور منہ کالا کرنے کی سزا مقرر کر رکھی تھی،شاید وہ یہ چاہتے تھے کہ اس سزا میں بھی کمی ہو جائے اس لئے انہوں نہ یہ سوچا کہ آنحضرتﷺ کی شریعت میں بہت سے احکام تورات کے احکام کے مقابلے میں نرم ہیں، اس لئے اگر آپ سے فیصلہ کرایا جائے تو شاید آپ کوئی نرم فیصلہ کریں اور یہ مرد و عورت سنگساری کی سزا سے بچ جائیں، اس غرض کے لئے خیبر کے یہودیوں نے مدینہ منورہ میں رہنے والے کچھ یہودیوں کو جن میں سے کچھ منافق بھی تھے ،ان مجرموں کے ساتھ آنحضرتﷺ کی خدمت میں بھیجا، مگر ساتھ ہی انہیں یہ تاکید کی کہ اگر آپ سنگساری کے سوا کوئی اور فیصلہ کریں تواسے قبول کر لینا اور اگر سنگساری کا فیصلہ کریں تو قبول مت کرنا، چنانچہ یہ لوگ آپ کے پاس آئے ،آپ کو اللہ تعالی کی طرف سے  بتا دیا گیا تھا کہ اس کی سزا سنگساری ہے ،جسے سن کر وہ بوکھلا گئے، آپ نے انہی سے پوچھا کہ تورات میں اس کی سزا کیا ہے ،شروع میں انہوں نے چھپانے کی کوشش کی مگر آخر میں جب آپ نے ان کے ایک بڑے عالم ابن صوریا کو قسم دی اور حضرت عبداللہ بن سلام ؓ جو پہلے خود یہودی عالم تھے ان کا پول کھول دیا تووہ مجبور ہو گیا اور اس نے تورات کی وہ آیت پڑھ دی جس میں زنا کی سزا سنگساری بیان کی گئی تھی،اور یہ بھی بتایا کہ تورات کا حکم تو یہی تھا مگر ہم میں سے غریب لوگ یہ جرم کرتے تو یہ سزا ان پر جاری کی جاتی تھی اور کوئی مال دار یا با عزت گھرانے کا آدمی یہ جرم کرتا تواسے کوڑوں وغیرہ کی سزا دے دیا کرتے تھے، پھر رفتہ رفتہ سبھی کے لئے سنگساری کی سزا کو چھوڑ دیا گیا، اس قسم کا ایک دوسرا واقعہ بھی پیش آیا تھا جس کی تفصیل نیچے آیت نمبر ۴۵ کی تشریح: میں آ رہی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اُولٰئِکَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللّٰهُ أَنْ يُطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ،چونکہ یہ دنیا آزمائش ہی کے لئے بنائی گئی ہے، اس لئے اللہ تعالی کسی ایسے شخص کو زبردستی راہ راست پر لا کر اس کے دل کو پاک نہیں کرتا جو ضد پر اڑ ہوا ہو، یہ پاکیزگی انہی کو عطا ہوتی ہے جو حق کی طلب رکھتے ہوں اور خلوص کے ساتھ اسے قبول کریں۔

(توضیح القرآن)

 

جھوٹ کے لئے جاسوسی کرنے والے بڑے حرام کھانے والے ،پس اگر وہ آپ کے پاس آئیں توآپ ان کے درمیان فیصلہ کر دیں یا ان سے منہ پھیر لیں اور اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں توہر گز آپ کا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے، اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کریں، بیشک اللہ دوست رکھتا ہے انصاف کرنے والوں کو۔(۴۲)

تشریح: یہاں حرام سے مراد وہ رشوت ہے جس کی خاطر یہودی پیشوا تورات کے احکام میں تبدیلیاں کر دیتے تھے۔

جو یہودی فیصلہ کرانے آئے تھے ان سے جنگ بندی کا معاہدہ تو تھا مگر وہ باقاعدہ اسلامی حکومت کے شہری نہیں تھے، اس لئے آپ کو یہ اختیار دیا گیا کہ چاہیں تو ان کا فیصلہ کر دیں اور چاہیں تو انکار فرما دیں، ورنہ جو غیر مسلم اسلامی حکومت کے باقاعدہ شہری بن جائیں ملک کے عام قوانین میں ان کا فیصلہ بھی اسلامی شریعت کے مطابق ہی کرنا ضروری ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے البتہ ان کے خاص مذہبی قوانین جو نکاح طلاق اور وراثت وغیرہ سے متعلق ہیں ان میں انہی کے مذہب کے مطابق فیصلہ انہی کے ججوں کے ذریعے کروایا جاتا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور وہ آپ کو کیسے منصف بنائیں گے جبکہ ان کےپاس توریت ہے جس میں اللہ کا حکم ہے پھر اس کے بعد وہ پھر جاتے ہیں اور وہ ماننے والے نہیں ۔(۴۳)

تشریح:اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تورات کے احکام سے منہ موڑ لیتے ہیں اور یہ بھی کہ حضور اقدسﷺ سے فیصلے کی درخواست کرنے کے باوجود جب آپ فیصلہ سناتے ہیں تواس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

بیشک ہم نے نازل کی توریت،اس میں ہدایت ہے اور نور ہے، اس کے ذریعہ ہمارے نبی حکم دیتے تھے،جو فرماں بردار تھے،یہود کو اور درویش اور علماء(بھی)اس لئے کہ وہ اللہ کی کتاب کے نگہبان مقرر کئے گئے تھے اور اس پر نگران تھے،پس تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ(ہی) سے ڈرو اور نہ حاصل کرو میری آیتوں کے بدلے تھوڑی قیمت اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے سو یہی لوگ کافر ہیں۔(۴۴)

تشریح:تورات میں ایسا عظیم الشان دستور العمل اور عین ہدایت تھا کہ کثیر التعداد پیغمبر اور اہل اللہ اور علماء برابر اسی کے موافق حکم دیتے اور نزاعات کے فیصلے کرتے رہے۔

تورات کی حفاظت کا ان کو ذمہ دار بنایا گیا تھا۔ قرآن کریم کی طرح ”انا لہ لحافظون” کا وعدہ نہیں ہوا۔ تو جب تک علماء و احبار نے اپنی ذمہ داری کا احساس کیا، ”تورات” محفوظ و معمول رہی۔ آخر دنیا پرست علمائے سوء کے ہاتھوں سے تحریف ہو کر ضائع ہوئی۔

لوگوں کے خوف یا دنیاوی طمع کی وجہ سے آسمانی کتاب میں تبدیل و تحریف مت کرو۔ اس کے احکام و اخبار کو مت چھپاؤ اور خدا کی تعذیب و انتقام سے ڈرتے رہو۔ تورات کی عظمت شان اور مقبولیت جتلانے کے بعد یہ خطاب یا تو ان رؤسا و علمائے یہود کو کیا گیا ہے جو نزول قرآن کے وقت موجود تھے۔ کیونکہ انہوں نے حکم ”رجم” سے انکار کر دیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پیشین گوئیوں کو چھپاتے اور ان کے معنی میں عجیب طرح کے ہیر پھیر کرتے تھے اور یا درمیان میں امت مسلمہ کو نصیحت ہے کہ تم دوسری قوموں کی طرح کسی سے ڈر کر یا حب مال و جاہ میں پھنس کر اپنی آسمانی کتاب کو ضائع مت کرنا۔ چنانچہ اس امت نے بحمد اللہ ایک حرف بھی اپنی کتاب کا کم نہیں کیا اور آج تک اس کو مبطلین کی تغییر و تحریف سے محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے اور ہمیشہ رہیں گے۔

”مآ انزل اللّٰہ ”کے موافق حکم نہ کرنے سے غالباً یہ مراد ہے کہ منصوص حکم کے وجود ہی سے انکار کر دے اور اس کی جگہ دوسرے احکام اپنی رائے اور خواہش سے تصنیف کر لے۔ جیسا کہ یہود نے حکم ”رجم” کے متعلق کیا تھا۔ تو ایسے لوگوں کے کافر ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے اور اگر مراد یہ ہو کہ ”مآانزل اللّٰہ” کو عقیدۃ ثابت مان کر پھر فیصلہ عملاً اس کے خلاف کرے تو کافر سے مراد عملی کافر ہو گا۔ یعنی اس کی عملی حالت کافروں جیسی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ہم نے اس(کتاب) میں ان پر فرض کر دیا کہ جان کے بدلے جان،آنکھ کے بدلے آنکھ،اور ناک ناک کے بدلے،اور کان کے بدلے کان،اور دانت کے بدلے دانت ہے،اور زخموں کا قصاص(بدلہ)ہے،پھر جس نے اس(قصاص) کو معاف کر دیا تو وہ  اس کے لئے کفارہ ہے اور جو اس کے مطابق فیصلہ کرتا جو اللہ نے نازل کیا تو یہی لوگ ظالم ہیں۔(۴۵)

تشریح:دوسرا واقعہ ان آیات کے پس منظر میں یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے ،ایک بنو قریظہ اور دوسرے بنو نضیر،بنو نضیر کے لوگ مال دار تھے،اور بنو قریظہ کے لوگ مالی اعتبار سے ان کے مقابلے میں کمزور تھے، اگرچہ دونوں یہودی تھے مگر بنو نضیر نے ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر ان سے یہ ظالمانہ اصول طے کرا لیا تھا کہ اگر بنو نضیر کا کوئی آدمی بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کرے گا  تو قاتل سے جان کے بدلے جان کے اصول پر قصاص نہیں لیا جائے گا بلکہ وہ خوں بہا کے طور پر ستر وسق کھجوریں دے گا(وسق ایک پیمانہ تھا جو تقریباً پانچ من سیر کا ہوتا تھا)اور اگر بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کرے گا تو نہ صرف یہ کہ قاتل قصاص میں قتل کیا جائے گا بلکہ خوں بہا بھی لیا جائے گا اور وہ بھی دگنا،جب آنحضرتﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو ایک واقعہ ایسا پیش آیا کہ قریظہ کے کسی شخص نے بنو نضیر کے ایک آدمی کو قتل کر دیا،بنو نضیر نے جب اپنی سابق قرارداد کے مطابق قصاص اور خوں بہا دونوں کا مطالبہ کیا تو قریظہ کے لوگوں نے اسے انصاف کے خلاف قرار دیا اور تجویز پیش کی کہ فیصلہ آنحضرتﷺ سے کرایا جائے؛ کیونکہ اتنا وہ بھی جانتے تھے کہ آپ کا دین انصاف کا دین ہے،جب قریظہ کے لوگوں نے زیادہ اصرار کیا تو بنو نضیر نے کچھ منافقین کو مقرر کیا کہ وہ آنحضرتﷺ سے غیر رسمی طور پر آپ کا عندیہ معلوم کریں اور اگر آپ کا عندیہ بنو نضیر کے حق میں ہو تو فیصلہ ان سے کرائیں ورنہ ان سے فیصلہ نہ لیں، اس پس منظر میں یہ آیت بتا رہی ہے کہ تورات نے تو واضح طور پر فیصلہ دیا ہوا ہے کہ جان کے بدلے جان لینی ہے اور اس لحاظ سے بنو نضیر کا مطالبہ سراسر ظالمانہ اور تورات کے خلاف ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو ان کے نشان قدم پر بھیجا،اس کی تصدیق کرنے والا جو اس (عیسی)سے پہلے توریت تھی اور ہم نے اسے انجیل دی اس میں ہدایت اور نور ہے اور ا سکی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے توریت سے تھی اور پرہیز گاروں کے لئے ہدایت و نصیحت تھی(۴۶)

تشریح:  حضرت عیسی علیہ السلام خود اپنی زبان سے تورات کی تصدیق فرماتے تھے اور جو کتاب (انجیل) ان کو دی گئی تھی وہ بھی تورات کی تصدیق کرتی تھی اور انجیل کی نوعیت بھی نور و ہدایت ہونے میں تورات کی طرح تھی۔ احکام و شرائع کے اعتبار سے دونوں میں بہت ہی قلیل فرق تھا۔ جیسا کہ وَلِاُ حِّلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ اور یہ فرق تورات کی تصدیق کے منافی نہیں، جیسے آج ہم قرآن کو ماننے اور صرف اسی کے احکام کو تسلیم کرنے کے باوجود بحمد للہ تمام کتب سماویہ کے من عند اللہ ہونے کی تصدیق کرتے ہیں۔

(تفسیر عثمانی)

 

اور انجیل والے اس کے ساتھ فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا جو اللہ نے نازل کیا ہے تو یہی لوگ فاسق(نافرمان) ہیں۔(۴۷)

تشریح: یا تو عیسائی جو نزول انجیل کے وقت موجود تھے ان کو یہ حکم دیا گیا تھا اسی کو یہاں نقل فرما رہے ہیں۔ اور ہو سکتا ہے کہ نزول قرآن کے وقت جو عیسائی مخاطب تھے ان سے کہا گیا ہو کہ جو کچھ انجیل میں اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے اس کے موافق ٹھیک ٹھیک حکم کریں۔ یعنی ان پیشین گوئیوں کو چھپانے یا لغو اور مہمل تاویلات سے بدلنے کی کوشش نہ کریں جو انجیل میں پیغمبر آخر الزمان اور مقدس ”فارقلیط” کی نسبت حضرت مسیح کی زبانی کی گئی ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کی سخت نافرمانی ہو گی کہ جس ہادی جلیل اور مصلح عظیم کے متعلق حضرت مسیح یہ فرمائیں کہ ”جب وہ روح حق آئے گی تو تمہیں سچائی کی ساری راہیں بتائے گی۔ اسی کی تکذیب پر کمر بستہ ہو کر اپنے لئے ابدی خسران قبول کرو۔ کیا مقدس مسیح اور اس کے پروردگار کی فرمانبرداری کے یہی معنی ہیں۔؟

(تفسیرعثمانی)

 

اور ہم نے آپ کی طرف کتاب سچائی کے ساتھ نازل کی اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور اس پر نگہبان و محافظ، سو ان کے درمیان فیصلہ کریں اس سے جو اللہ نے نازل کیا، اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اس کے بعد (جبکہ) تمہارے پاس حق آ گیا، ہم نے مقرر کیا ہے تم میں سے ہر ایک کے لئے (الگ)دستور اور (جدا )راستہ، اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں امت واحدہ (ایک امت)کر دیتا،لیکن (وہ چاہتا ہے) تاکہ وہ تمہیں اس میں آزمائے جو اس نے تمہیں دیا ہے، پس نیکیوں میں سبقت کرو، تم سب کو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے، وہ تمہیں بتلا دے گا جس بات میں تم اختلاف کرتے تھے۔(۴۸)

تشریح:یہودی اور عیسائی آنحضرتﷺ کی دعوت قبول کرنے سے جو انکار کرتے تھے اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اسلام میں عبادت کے طریقے اور بعض دوسرے احکام حضرت موسی اور حضرت عیسی علیہماالسلام کی شریعت سے مختلف تھے اور ان لوگوں کو ان نئے احکام پر عمل کرنا بھاری معلوم ہوتا تھا، اس آیت نے واضح فرمایا کے اللہ تعالی نے اپنی حکمت کے تحت مختلف پیغمبروں کو الگ الگ شریعتیں عطا فرمائی ہیں، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ عبادت کا کوئی ایک طریقہ یا کوئی ایک قانون اپنی ذات میں کوئی تقدس نہیں رکھتا، اس میں جو کچھ تقدس پیدا ہوتا ہے وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوتا ہے، لہذا جس زمانے میں اللہ تعالی جو حکم دے دیں وہی اس زمانے میں تقدس کا حامل ہے، اب ہوتا یہ ہے کہ جو لوگ ایک طریقے کے عادی ہو جاتے ہیں وہ اسی کو ذاتی طور پر مقدس سمجھ بیٹھتے ہیں، اور جب کوئی نیا پیغمبر نئی شریعت لے کر آتا ہے تو ان کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ پرانے طریقے کو ذاتی طو رپر مقدس سمجھ کر نئے طریقے کا انکار کر بیٹھتے ہیں یا اللہ کے حکم کو اصل تقدس کا حامل سمجھ کر نئے حکم کو دل وجان سے تسلیم کرتے ہیں، آگے جو ارشاد فرمایا گیا ہے کہ لیکن(تمہیں الگ شریعتیں اس لئے دیں)تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے اس کا یہی مطلب ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور ان کے درمیان فیصلہ کریں اس سے جو نازل کیا اللہ نے اور ان کی خواہشوں پر نہ چلو اور ان سے بچتے رہو کہ تمہیں بہکا نہ دیں کسی (ایسے حکم)سے جو نازل کیا ہے اللہ نے تمہاری طرف،پھر اگر وہ منہ پھیر لیں تو جان لو کہ اللہ صرف یہی چاہتا ہے کہ انہیں (سزا)پہنچائے ان کے بعض گناہوں کے سبب ،اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔(۴۹)

تشریح:یہ حکم اس صورت میں ہے جب غیر مسلم لوگ اسلامی حکومت کے باقاعدہ شہری بن جائیں جن کو فقہی اصطلاح میں ذمی کہا جاتا ہے یا اس صورت میں جب وہ اپنی رضامندی سے اپنا فیصلہ مسلمان قاضی سے کروانا چاہیں، ایسی صورت میں مسلمان قاضی عام ملکی قوانین میں فیصلہ اسلامی شریعت کے مطابق کرے گا، البتہ ان کے خالص مذہبی معاملات عبادات، نکاح، طلاق اور وراثت میں انہیں اپنے مذہب کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہو گا مگر یہ فیصلہ انہی کے افراد کریں گے۔

(توضیح القرآن)

 

کیا وہ دور جاہلیت کا حکم (رسم و رواج) چاہتے ہیں ،اور اللہ سے بہتر حکم کس کا ہے ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں۔(۵۰)

تشریح:یعنی جو لوگ خدا کی شہنشاہیت، رحمت کاملہ اور علم محیط پر یقین کامل رکھتے ہیں، ان کے نزدیک دنیا میں کسی کا حکم خدا کے حکم کے سامنے لائق التفات نہیں ہو سکتا۔ پھر کیا یہ لوگ احکام الٰہیہ کی روشنی آ جانے کے بعد ظنون وا ہواء اور کفرو جاہلیت کے اندھیرے ہی کی طرف جانا پسند کرتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ اُن میں سے بعض دوست ہیں بعض کے(ایک دوسرے کے دوست ہیں) اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو بیشک وہ ان میں سے ہو گا،بیشک اللہ ہدایت نہیں دیتا ظالم لوگوں کو۔(۵۱)

تشریح:”اولیاء” ولی کی جمع ہے ”ولی” دوست کو بھی کہتے ہیں، قریب کو بھی، ناصر اور مددگار کو بھی۔ غرض یہ ہے کہ ”یہود و نصاریٰ” بلکہ تمام کفار سے جیسا کہ سورہ ”نسآء” میں تصریح کی گئی ہے مسلمان دوستانہ تعلقات قائم نہ کریں۔ اس موقع پر یہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ موالات، مروت و حسن سلوک، مصالحت، روا داری اور عدل و انصاف یہ سب چیزیں الگ الگ ہیں۔ اہل اسلام اگر مصلحت سمجھیں تو ہر کافر سے صلح اور عہد و پیمان مشروع طریقہ پر کر سکتے ہیں۔ وَاِنْ جَنَحُوْ الِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ (انفال،رکوع۸’آیت :۶۱) عدل و انصاف کا حکم جیسا کہ گذشتہ آیات سے معلوم ہو چکا، مسلم و کافر ہر فرد بشر کے حق میں ہے۔ ”مروت” اور ” حسن سلوک” یا ”روا داری” کا برتاؤ ان کفار کے ساتھ ہو سکتا ہے جو جماعت اسلام کے مقابلہ میں دشمنی اور عناد کا مظاہرہ نہ کریں۔ جیسا کہ سورہ ”ممتحنہ” میں تصریح ہے۔ باقی ”موالات” یعنی دوستانہ اعتماد اور برادرانہ مناصرت و معاونت، تو کسی مسلمان کا حق نہیں کہ یہ تعلق کسی غیر مسلم سے قائم کرے۔ البتہ صوری موالات جو ”اِلَّااَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقَاۃً” کے تحت میں داخل ہو، اور عام تعاون جس کا اسلام اور مسلمانوں کی پوزیشن پر کوئی برا اثر نہ پڑے اس کی اجازت ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس تو دیکھے گا جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے وہ ان (یہود و نصاریٰ) کی طرف دوڑتے ہیں،وہ کہتے ہیں ہمیں ڈر ہے کہ ہم پر گردش(زمانہ)نہ آ جائے سو قریب ہے اللہ فتح لائے یا اپنے پاس سے کوئی حکم(لائے)تووہ اپنے دلوں میں جو چھپاتے تھے اس پر پچھتاتے رہ جائیں۔(۵۲)

تشریح:یہ منافقین کا ذکر ہے جو یہود و نصاریٰ سے ہر وقت گھلے ملے رہتے ہیں اور ان کی سازشوں میں شریک رہتے ہیں اور جب ان پر اعتراض ہوتا تووہ جواب دیتے کہ اگر ہم ان سے تعلقات نہ رکھیں تو ان کی طرف سے ہمیں تنگ کیا جائے گا اور ہم کسی مصیبت میں گرفتار ہو سکتے ہیں اور ان کے دل میں یہ نیت ہوتی تھی کہ کسی وقت مسلمان ان کے ہاتھوں مغلوب ہو جائیں گے تو تمہیں بالآخر انہی سے واسطہ پڑے گا۔(۵۳)

اور مؤمن کہتے ہیں کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کی پکی قسمیں کھاتے تھے کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں،ان کے عمل اکارت گئے، پس وہ نقصان اٹھانے والے(ہو کر)رہ گئے۔(۵۳)

تشریح:اور جب زمانۂ فتح میں ان لوگوں کا نفاق بھی کھل جائے گا تو آپس میں مسلمان لوگ تعجب سے کہیں گے: کیا یہ وہی لوگ ہیں کہ بڑے مبالغہ سے ہمارے سامنے قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم دل سےتمہارے ساتھ ہیں یہ ت وکچھ اور ہی ثابت ہوا، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کی ساری کاروائیاں کے دونوں فریق سے بھلا رہنا چاہتے تھے سب غارت گئیں، جس سے وہ دونوں طرف سے ناکام رہے ؛کیونکہ کفار تو مغلوب ہو گئے ان کا ساتھ دینا محض بے کار ہے اور مسلمانوں کے سامنے قلعی کھل گئی ۔

(مختصر خلاصہ تفسیر معارف القرآن)

 

اے ایمان والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا تو عنقریب اللہ ایسی قوم لائے گا جنہیں وہ دوست رکھتا ہے اور وہ اسے دوست رکھتے ہیں ،وہ مؤمنوں پر نرم دل ہیں ،کافروں پر زبردست ہیں،اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے،یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ وسعت والا ،علم والا ہے۔(۵۴)

تشریح:  اس آیت میں اسلام کی ابدی بقا اور حفاظت کے متعلق عظیم الشان پیشین گوئی کی گئی ہے ،پچھلی آیات میں کفار کے موالات سے منع کیا گیا تھا۔ ممکن تھا کہ کوئی شخص یا قوم موالات کفار کی بدولت صریحاً اسلام سے پھر جائے۔ جیسا کہ وَ مَنْ یَّتَوَلُّھُمْ مِنْکُمْ فَاِنَّہ مِنْھُمْ میں تنبیہ کی گئی ہے۔ قرآن کریم نے نہایت قوت اور صفائی سے آگاہ کر دیا کہ ایسے لوگ اسلام سے پھر کر کچھ اپنا ہی نقصان کریں گے، اسلام کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے، حق تعالیٰ مرتدین کے بدلے میں یا ان کے مقابلہ پر ایسی قوم لے آئے گا جن کو خدا کا عشق ہو اور خدا ان سے محبت کرے وہ مسلمانوں پر شفیق و مہربان اور دشمنانِ اسلام کے مقابلہ میں غالب اور زبردست ہوں گے ،یہ پیشین گوئی بحول اللہ وقوتہ ہر قرن میں پوری ہوتی رہی، ارتداد کا فتنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صدیق اکبرؓ کے عہد میں پھیلا۔ کئی طرح کے مرتدین اسلام کے مقابلہ میں کھڑے ہو گئے۔ مگر صدیق اکبرؓ کی ایمانی جرأت اور اعلیٰ تدبر اور مخلص مسلمانوں کی سر فروشانہ اور عاشقانہ خدمات اسلام نے اس آگ کو بجھایا اور سارے عرب کو متحد کر کے از سر نو اخلاص و ایمان کے راستہ پر گامزن کر دیا۔ آج بھی ہم مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ جب کبھی چند جاہل اور طامع افراد اسلام کے حلقہ سے نکلنے لگتے ہیں تو ان سے زیادہ اور ان سے بہتر تعلیم یافتہ اور محقق غیر مسلموں کو اسلام فطری کشش سے اپنی طرف جذب کر لیتا ہے اور مرتدین کی سرکوبی کے لئے خدا ایسے وفادار اور جاں نثار مسلمانوں کو کھڑا کر دیتا ہے جنہیں خدا کے راستہ میں کسی کی ملامت اور طعن و تشنیع کی پروا نہیں ہوتی۔

(تفسیرعثمانی)

 

تمہارا رفیق تو صرف اللہ ہے اور اس کے رسول ،اور ایمان والے، اور وہ جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور (اللہ کے حضور)جھکنے والے ہیں۔(۵۵)

جو دوست رکھے اللہ اور ا سکے رسول کو اور ایمان والوں کو تو بیشک اللہ کی جماعت ہی (سب پر)غالب ہو گی۔(۵۶)

تشریح: کفار کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت عدد کو دیکھتے ہوئے ممکن تھا کہ کوئی ضعیف القلب اور ظاہر بین مسلمان اس تردد میں پڑ جاتا کہ تمام دنیا سے موالات منقطع کرنے اور چند مسلمانوں کی رفاقت پر اکتفا کر لینے کے بعد غالب ہونا تو درکنار، کفار کے حملوں سے اپنی زندگی اور بقاء کی حفاظت بھی دشوار ہے۔ ایسے لوگوں کی تسلی کے لئے فرما دیا کہ مسلمانوں کی قلت اور ظاہری بے سر و سامانی پر نظر مت کرو۔ جس طرف خدا اور اس کا رسول اور سچے وفادار مسلمان ہوں گے، و ہی پلہ بھاری رہے گا۔ یہ آیتیں خصوصیت سے حضرت عبادہ ابن صامت رضی اللہ عنہ کی منقبت میں نازل ہوئی ہیں۔ یہود بنی قینقاع سے ان کے بہت زیادہ دوستانہ تعلقات تھے۔ مگر خدا اور رسول کی موالات اور مومنین کی رفاقت کے سامنے انہوں نے اپنے سب تعلقات منقطع کر دئے۔

 

اے ایمان والو! دوست نہ بناؤ ان لوگوں کو جو تمہارے دین کو ایک مذاق اور کھیل ٹھہراتے ہیں(یعنی وہ) جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور کافروں کو دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔(۵۷)

تشریح: گذشتہ آیات میں مسلمانوں کو موالات کفار سے منع فرمایا تھا اس آیت میں ایک خاص موثر عنوان سے اسی ممانعت کی تاکید کی گئی اور موالات سے نفرت دلائی گئی ہے، ایک مسلمان کی نظر میں کوئی چیز اپنے مذہب سے زیادہ معظم و محترم نہیں ہو سکتی لہٰذا اسے بتایا گیا کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین تمہارے مذہب پر طعن و استہزاء کرتے ہیں اور شعائر اللہ (اذان وغیرہ) کا مذاق اڑاتے ہیں اور جو ان میں خاموش ہیں وہ بھی ان افعال شنیعہ کو دیکھ کر اظہار نفرت نہیں کرتے بلکہ خوش ہوتے ہیں کفار کی ان احمقانہ اور کمینہ حرکات پر مطلع ہو کر کوئی فرد مسلم جس کے دل میں خشیت الہٰی اور غیرت ایمانی کا ذرا سا شائبہ ہو کیا ایسی قوم سے موالات اور دوستانہ راہ و رسم پیدا کرنے یا قائم رکھنے کو ایک منٹ کے لئے گوارا کرے گا ،اگر ان کے کفر و عناد اور عداوت اسلام سے بھی قطع نظر کر لی جائے تو دین قیم کے ساتھ ان کا یہ تمسخر و استہزاء ہی علاوہ دوسرے اسباب کے ایک مستقل سبب ترک موالات کا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو(اذان دیتے ہو)تووہ اسے ایک مذاق اور کھیل ٹھہراتے ہیں،یہ اس لئے ہے کہ وہ لوگ عقل نہیں رکھتے ہیں۔(۵۸)

تشریح:  جب اذان کہتے ہو تو اس سے جلتے ہیں اور ٹھٹھا کرتے ہیں جو ان کی کمال حماقت اور بے عقلی کی دلیل ہے۔ کلمات اذان میں خداوند قدوس کی عظمت و کبریاء کا اظہار، توحید کا اعلان، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو تمام انبیاء سابقین اور کتب سماویہ کے مصدق ہیں، ان کی رسالت کا اقرار۔ نماز جو تمام اوضاع عبودیت کو جامع اور غایت درجہ کی بندگی پر دال ہے، اس کی طرف دعوت، فلاح دارین اور اعلیٰ سے اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے کے لئے بلاوا، ان چیزوں کے سوا اور کیا ہوتا ہے پھر اس میں کونسی چیز ہے جو ہنسی اڑانے کے قابل ہو ایسی نیکی اور حق و صداقت کی آواز پر مسخرا پن کرنا صرف اسی شخص کا کام ہو سکتا ہے جس کا دماغ عقل سے یکسر خالی ہو اور جسے نیک و بد کی قطعاً تمیز باقی نہ رہے۔ بعض روایات میں ہے کہ مدینہ میں ایک نصرانی جب اذان میں اشھد ان محمدًا رسول اللہ سنتا تو کہتا ”قد حرق الکاذب” (جھوٹا جل گیا یا جل جائے) اس کی نیت تو ان الفاظ سے جو کچھ ہو، مگر یہ بات بالکل اس کے حسب حال تھی۔ کیونکہ وہ خبیث جھوٹا تھا اور اسلام کا عروج و شیوع دیکھ کر آتش حسد میں جلا جاتا تھا۔ اتفاقاً ایک شب میں کوئی چھوکری آگ لے کر اس کے گھر میں آئی۔ وہ اور اس کے اہل و عیال سو رہے تھے، ذرا سی چنگاری نادانستہ اس کے ہاتھ سے گر گئی جس سے سارا گھر مع سونے والوں کے جل گیا اور اس طرح خدا نے دکھلا دیا کہ جھوٹے لوگ دوزخ کی آگ سے پہلے ہی دنیا کی آگ میں کس طرح جل جاتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ کہہ دیں اے اہل کتاب کیا تم ہم سے یہی ضد رکھتے ہو (انتقام لیتے ہو)کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور اس سے قبل نازل کیا گیا، اور یہ کہ تم میں سے اکثر نافرمان ہیں۔(۵۹)

تشریح:کسی کام پر طعن کرنا یا ہنسی اڑانا دو وجہ سے ہو سکتا ہے یا تو وہ کام ہی قابل استہزاء ہو یا کام کرنے والے کی حالت تمسخر کے لائق ہو پچھلی آیت میں بتلا دیا گیا کہ اذان کوئی ایسی چیز نہیں جس پر بجز پرلے درجہ کے احمق اور خفیف العقل کے کوئی شخص طعن یا استہزاء کر سکے۔ اس آیت میں اذان دینے والوں کے مقدس حالات پر بعنوان سوال متنبہ کیا گیا ہے یعنی استہزاء کرنے والے جو خیر سے اہل کتاب اور عالم شرائع ہونے کا بھی دعویٰ رکھتے ہیں وہ ذرا سوچ کر انصاف سے بتائیں کہ مسلمانوں سے ان کو اتنی ضد کیوں ہے اور کیا ایسی برائی وہ ہماری طرف دیکھتے ہیں جو ان کے زعم میں لائق استہزاء ہو بجز اس کے کہ ہم اس خدائے وحدہٗ لاشریک لہٗ، پر اور اس کی اتاری ہوئی تمام کتابوں اور اس کے بھیجے ہوئے تمام پیغمبروں پر صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں۔ اور اس کے بالمقابل استہزاء کرنے والوں کا حال یہ ہے کہ نہ خدا کی سچی اور صحیح توحید پر قائم ہیں اور نہ تمام انبیاء و رسل کی تصدیق و تکریم کرتے ہیں۔ اب تم ہی انصاف سے کہو کہ انتہا درجہ کے نافرمان کو خدا کے فرمانبردار بندوں پر آوازہ کسنے اور طعن و تشنیع کرنے کا کہاں تک حق حاصل ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ کہہ دیں کیا میں تمہیں بتلاؤں؟ اس سے بدتر جزا(کس کی ہے)اللہ کے ہاں(وہی)جس پر اللہ نے لعنت کی اور اس پر غضب کیا اور ان میں سے بنا دئے بندر اور خنزیر اور (انہوں نے)طاغوت(سرکش۔ شیطان) کی غلامی کی۔وہی لوگ بدترین درجہ میں ہیں اور سیدھے راستہ سے سب سے زیادہ بہکے ہوئے ہیں۔(۶۰)

تشریح:یعنی اگر ”ایمان باللہ” پر مستقیم ہونا اور ہر اس چیز کی جو خدا کی طرف سے کسی زمانہ میں نازل ہو سچے دل سے تصدیق کرنا ہی تمہارے زعم میں مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم اور سب سے بڑی برائی ہے اور اسی وجہ سے تم ان کو مورد طعن و ملام بناتے ہو تو آؤ کہ میں تم کو ایک ایسی قوم کا پتہ بتلاؤں جو اپنی شرارت اور گندگی کی وجہ سے بدترین خلائق ہے۔ جن پر خدا کی لعنت اور غضب کا اثر آج بھی نمایاں طور پر آشکارا ہے۔ جس کے بہت سے افراد اپنی مکاری اور بے حیائی اور حرص دنیا کی سزا میں بندر اور سور بنائے جا چکے ہیں اور جس نے خدا کی بندگی سے نکل کر شیطان کی غلامی اختیار کر لی۔ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو یہ بدترین خلائق اور گم کردہ راہ قوم ہی اصلی معنی میں تمہارے طعن و استہزاء کی مستحق ہو سکتی ہے اور وہ خود تم ہی ہو۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب تمہارے پاس آئیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ آئے تھے کفر کی حالت میں اور نکلے تو کفر کے ساتھ اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے تھے۔(۶۱)

تشریح: یہاں ان ہی استہزاء کرنے والوں کے بعض مخصوص افراد کا بیان ہے جو غائبانہ تو مذہب اسلام پر طعن و تشنیع کرتے اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے، لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا مخلص مسلمانوں سے ملتے تو از راہ نفاق اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے حالانکہ شروع سے آخر تک ایک منٹ کے لئے بھی انہیں اسلام سے تعلق نہیں ہوا نہ پیغمبر علیہ السلام کے ربانی وعظ و تذکیر کا کوئی اثر انہوں نے قبول کیا۔ کیا محض لفظ ایمان و اسلام زبان سے بول کر وہ خدا کو معاذ اللہ دھوکا دے سکتے ہیں۔ اگر اس ” عالم الغیب والشہادہ” کی نسبت جو ہر قسم کے ضمائر و سرائر پر مطلع ہے۔ ان کا گمان یہ ہو کہ محض لفظی ایمان سے اسے خوش کر لیں گے تو اس سے بڑھ کر کونسی حرکت قابل استہزاء و تمسخر ہو سکتی ہے۔ گویا اس آیت سے یہود نصاریٰ کے ان مضحکہ انگیز افعال و حرکات کا بیان شروع ہوا جن پر متنبہ کئے جانے کے بعد مسلمانوں کا استہزاء کرنے کے بجائے انہیں خود اپنا استہزاء کرنا چاہئے۔ اگلی آیات میں بھی اسی مضمون کی تتمیم و تکمیل ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور تو دیکھے گا ان میں سے بہت سے جلدی کرتے ہیں گناہ اور زیادتی میں اور حرام کھانے میں،برا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔(۶۲)

تشریح:غالباً ”اثم” سے لازمی اور ”عدوان” سے متعدی گناہ مراد ہیں۔ یعنی ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ بہت شوق اور رغبت سے ہر قسم کے گناہوں کی طرف جھپٹتے ہیں۔ خواہ ان کا اثر اپنی ذات تک محدود ہو یا دوسروں تک پہنچے۔ جن کی اخلاقی حالت ایسی زبوں ہو اور حرام خوری ان کا شیوہ ٹھر گیا ہو ان کی برائی میں کسے شبہ ہو سکتا ہے یہ تو ان کے عوام کا حال تھا آگے خواص کا بیان کیا گیا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

انہیں کیوں منع نہیں کرتے؟ درویش اور علماء گناہ (کی بات) کہنےسے،اور ان کے حرام کھانے سے ،برا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔(۶۳)

تشریح: جب خدا کسی قوم کو تباہ کرتا ہے تو اس کی عوام گناہوں اور نافرمانیوں میں غرق ہو جاتے ہیں اور اس کے خواص یعنی درویش اور علماء گونگے شیطان بن جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل کا حال یہی ہوا کہ لوگ عموماً دنیاوی لذات و شہوات میں منہمک ہو کر خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال اور اس کے قوانین و احکام کو بھلا بیٹھے۔ اور جو مشائخ اور علماء کہلاتے تھے انہوں نے ”امر بالمعروف و نہی عن المنکر” کا فریضہ ترک کر دیا۔ کیونکہ دنیا کی حرص اور اتباع شہوات میں وہ اپنے عوام سے بھی آگے تھے۔ مخلوق کا خوف یا دنیا کا لالچ حق کی آواز بلند کرنے سے مانع ہوتا تھا۔ اسی سکونت اور مداہنت سے پہلی قومیں تباہ ہوئیں۔ اسی لئے امت محمدیہ علی صاحبہا الصلٰوۃ والتسلیم کو قرآن و حدیث کی بے شمار نصوص میں بہت ہی سخت تاکید و تہدید کی گئی ہے کہ کسی وقت اور کسی شخص کے مقابلہ میں اس ”فرض امر بالمعروف” کے ادا کرنے سے تغافل نہ برتیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور یہود کہتے ہیں اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے(اللہ تنگدست ہے)باندھ دئے جائیں ان کے ہاتھ اور جو انہوں نے کہا اس سے ان پر لعنت کی گئی بلکہ اللہ کے ہاتھ کشادہ ہیں وہ خرچ کرتا ہے جیسے وہ چاہتا ہے ،اور جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا اس سے ان میں سے بہتوں کی سرکشی ضرور بڑھے گی اور کفر،اور ہم نے ان کے اندر قیامت کے دن تک کے لئے دشمنی اور بیر ڈال دیا ہے،وہ جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے اور وہ ملک میں فساد کرتے ہوئے دوڑتے ہیں(فساد بپا کرتے ہیں)اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(۶۴)

تشریح:جب مدینہ منورہ کے یہودیوں نے آنحضرتﷺ کی دعوت کو قبول نہیں کیا تو اللہ تعالی نے ان کو تنبیہ کے طور پر کچھ عرصے کے لئے معاشی تنگی میں مبتلا کر دیا، اس موقع پر بجائے اس کے کہ وہ ہوش میں آتے ان کے بعض سرداروں نے یہ گستاخانہ جملہ کہا ،ہاتھ کا بندھا ہونا عربی میں بخل اور کنجوسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لہذا ان کا مطلب یہ تھا کہ معاذاللہ اللہ تعالی نے ان کے ساتھ بخل کا معاملہ کیا ہے، حالانکہ بخل کی صفت تو خود ان کی مشہور و معروف تھی ا س لئے فرمایا گیا کہ ہاتھ تو خود ان کے بندھے ہوئے ہیں ۔

(توضیح القرآن)

 

كُلَّمَا أَوْقَدُوْا نَارًا لِلْحَرْبِ:یہ یہودیوں کی ان سازشوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ مسلمانوں کے دشمنوں کے ساتھ مل کر کرتے رہتے تھے، اگرچہ انہوں نے آنحضرتﷺ سے جنگ بندی کا معاہدہ کر رکھا تھا؛ لیکن درپردہ اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ مسلمانوں پر کوئی حملہ ہو اور وہ اس میں شکست کھائیں ،مگر اللہ تعالی ہر موقع پر ان کی سازش کو ناکام بنا دیتے تھے۔

(توضیح القرآن)

 

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو البتہ ہم ان سے ان کی برائیاں دور کر دیتے اور نعمت کے باغات میں ضرور داخل کرتے۔(۶۵)

تشریح:یعنی باوجود ایسے شدید جرائم اور سخت شرارتوں کے اگر اب بھی اہل کتاب اپنے رویہ سے تائب ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کر لیتے تو دروازہ توبہ کا بند نہیں ہوا۔ حق تعالیٰ کمال فضل و رحمت سے ان کو اخروی و دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرما دیتا اس کی رحمت بڑے سے بڑے مجرم کو بھی جب وہ شرمسار اور معترف ہو کر آئے مایوس نہیں کرتی۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اگر وہ توریت اور انجیل قائم رکھتے اور جو ان کے رب کی طرف سے ان پر نازل کیا گیا تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے ان میں سے ایک جماعت میانہ رو ہے اور ان میں سے اکثر برے کام کرتے ہیں۔(۶۶)

تشریح: قرآن کریم جو تورات و انجیل کے بعد ان کی تنبیہ اور ہدایت کے لئے نازل ہوا اس کو قائم کرتے کیونکہ اس کے تسلیم کے بدون تورات و انجیل کی بھی صحیح معنی میں اقامت نہیں ہو سکتی؛ بلکہ تورات و انجیل اور جملہ کتب سماویہ کی اقامت کا مطلب ہی اب یہ ہو سکتا ہے کہ قرآن کریم اور پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم جو کتب سابقہ کی پیشین گوئیوں کے مطابق بھیجے گئے ہیں ان کو قبول کیا جائے گویا اقامت تورات و انجیل کا حوالہ دیکر آگاہ فرما دیا کہ اگر قرآن کو انہوں نے قبول نہ کیا تو اس کے معنی یہی ہیں کہ اپنی کتابوں کے قبول کرنے سے بھی منکر ہو گئے۔

مِنْهُمْ أُمَّةٌ مُقْتَصِدَةٌ :یہ وہ معدود افراد ہیں جنہوں نے فطری سعادت سے توسط و اعتدال کی راہ اختیار کی اور حق کی آواز پر لبیک کہا۔ مثلاً عبداللہ بن سلام اور ملک حبشہ نجاشی وغیرہ رضی اللہ عنہم۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے رسول! پہنچا دو جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے،اور اگر یہ نہ کیا تو(گویا)اس کا پیغام نہیں پہنچایا، اور اللہ تمہیں لوگوں سے بچا لے گا، بیشک اللہ قوم کفار کو ہدایت نہیں دیتا۔(۶۷)

تشریح:پچھلی آیات میں اہل کتاب کی شرارت، کفر اور سیاہ کاریوں کا ذکر کر کے تورات، انجیل، قرآن اور کل کتب سماویہ کی اقامت کی ترغیب دی گئی تھی، آئندہ قُلْ یَآاَھْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیءٍ سے اہل کتاب کے مجمع میں اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ اس ”اقامت” کے بدون تمہاری مذہبی زندگی بالکل صفر اور لاشے محض ہے ”یَآ اَیُّھَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَآاُنْزِلَ اِلَیْکَ مِن رَّبِّکَ” میں اسی دو ٹوک اعلان کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تیار کیا گیا ہے۔ یعنی آپ پر جو کچھ پروردگار کی طرف سے اتارا جائے خصوصاً اس طرح کے فیصلہ کن اعلانات آپ بے خوف و خطر اور بلا تامل پہنچاتے رہیے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس بائیس سال تک جس بے نظیر اولوالعزمی، جانفشانی، مسلسل جدو جہد اور صبر و استقلال سے فرض رسالت و تبلیغ کو ادا کیا، وہ اس کی واضح دلیل تھی کہ آپ کو دنیا میں ہر چیز سے بڑھ کر اپنے فرض منصبی (رسالت وبلاغ) کی اہمیت کا احساس ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس احساس قوی اور تبلیغی جہاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے وظیفہ تبلیغ میں مزید استحکام کیلئے موثر ترین عنوان یہی ہو سکتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یٰایّھا الرسول سے خطاب کر کے صرف اتنا کہہ دیا جائے کہ اگر بفرض محال تبلیغ میں ادنیٰ سی کوتاہی ہوئی تو سمجھو کہ آپ اپنے فرض منصبی کے ادا کرنے میں کامیاب نہ ہوئے۔

عموماً یہ تجربہ ہوا ہے کہ فریضہ تبلیغ ادا کرنے میں انسان چند وجہ سے قاصر رہتا ہے۔ یا تو اسے اپنے فرض کی اہمیت کا کافی احساس اور شغف نہ ہو ،یا لوگوں کی عام مخالفت سے نقصان شدید پہنچنے یا کم از کم بعض فوائد کے فوت ہونے کا خوف ہو یا مخاطبین کے عام تمرد و طغیان کو دیکھتے ہوئے جیسا کہ پچھلی اور اگلی آیات میں اہل کتاب کی نسبت بتلایا گیا ہے، تبلیغ کے مثمر اور منتج ہونے سے مایوسی ہو ،پہلی وجہ کا جواب یآ ایھا الرسول سے فما بلغت رسالتہ تک، دوسری کا وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ میں، اور تیسری کا اِنَّ اللہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الکٰفِرِیْنَ میں دے دیا گیا۔ یعنی تم اپنا فرض ادا کئے جاؤ خدا تعالیٰ آپ کی جان اور عزت و آبرو کی حفاظت فرمانے والا ہے وہ تمام روئے زمین کے دشمنوں کو بھی آپ کے مقابلہ پر کامیابی کی راہ نہ دکھلائے گا، باقی ہدایت و ضلالت خدا کے ہاتھ میں ہے ،ایسی قوم جس نے کفر و انکار ہی پر کمر باندھ لی ہے، اگر راہ راست پر نہ آئی تو تم غم نہ کرو اور نہ مایوس ہو کر اپنے فرض کو چھوڑو۔ نبی کریم نے اس ہدایت ربانی اور آئین آسمانی کے موا فق امت کو ہر چھوٹی بڑی چیز کی تبلیغ کی۔ نوع انسانی کے عوام و خواص میں سے جو بات جس طبقہ کے لائق اور جس کی استعداد کے مطابق تھی، آپ نے بلا کم و کاست اور بے خوف و خطر پہنچا کر خدا کی حجت بندوں پر تمام کر دی، اور وفات سے دو ڈھائی مہینے پہلے حجۃ الوداع کے موقع پر، جہاں چالیس ہزار سے زائد خادمان اسلام اور عاشقان تبلیغ کا اجتماع تھا، آپ نے علیٰ رؤس الاشہاد اعلان فرمایا کہ ”اے خدا تو گواہ رہ میں (تیری امانت) پہنچا چکا”۔

( ملخص تفسیرعثمانی)

 

آپ کہہ دیں اے اہل کتاب! تم کچھ بھی نہیں ہو جب تک تم (نہ) قائم کرو توریت اور انجیل اور جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے،اور ضرور بڑھ جائے گی ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اس کی وجہ سے جو آپ پر نازل کی گیا ہے، تو آپ افسوس نہ کریں (غم نہ کھائیں) قوم کفار پر۔(۶۸)

تشریح:پچھلے رکوع میں اس آیت کی تشریح: گزر چکی

 

بیشک جو ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صابی (ستارہ پرست)اور نصاریٰ جو بھی ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور اچھے عمل کر لے تو کوئی خوف نہیں ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(۶۹)

تشریح:جو قوم مسلمان کہلاتی ہے یا یہود یا نصاریٰ یا صابی (یا اور کچھ ثمثیلاً چند مشہور مذاہب کا ذکر کیا گیا ہے) کوئی شخص ان ناموں کی بدولت یا نسل، رنگ، پیشہ، وطن وغیرہ احوال و خصائص کے لحاظ سے حقیقی فلاح اور دائمی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ کامیاب اور مامون و  مصؤن ہونے کا ایک اور صرف ایک معیار ہے یعنی ایمان و عمل صالح جس قوم کو اپنے مقرب الہٰی یا کامیاب ہونے کا دعویٰ ہو وہ اسی کسوٹی پر اپنے کو کس کر دیکھ لے۔ اگر اس میں کھری اترے تو بے خوف و خطر مفلح اور کامیاب ہے ورنہ ہر وقت اپنے خدا کے غضب و قہر کے نیچے سمجھے۔ پچھلی آیات میں خاص اہل کتاب کو تبلیغ تھی اس آیت میں تمام اقوام و ملل کے سامنے بلا رو رعایت ایسا عجیب و غریب معقول اور منصفانہ قانون پیش کیا گیا ہے جس کے بعد کسی سلیم الفطرت انسان کو اسلام کی صداقت اور ہمہ گیری میں شبہ نہیں رہ سکتا۔ ایک شخص جب تک خدا (یعنی اس کے وجود، وحدانیت، صفات کمالیہ، نشانہائے قدرت، تمام احکام و قوانین، کل نائبین وسفراء) پر اور روز جزاء پر ایمان نہ لائے اور نیکی اختیار نہ کرے، کیا عقل سلیم قبول کر سکتی ہے کہ وہ نعیم دائم، رضائے حق اور سرور ابدی سے ہمکنار ہو سکے گا۔ ”ایمان باللہ” کے تحت میں یہ سب چیزیں داخل ہیں۔ فرض کرو ایک شخص روشن دلائل نبوت کی موجودگی میں کسی پیغمبر کی توہین کرتا ہے (اور اس کو دعویٰ نبوت میں جھوٹا کہنا یہی اس کی توہین ہے) تو کیا کسی حکومت کے سفیر کی توہین اور اس کے صاف و صریح اسناد سفارت کی تکذیب اس حکومت کی توہین و تکذیب نہیں؟ اسی طرح سمجھ لو کہ جو شخص کسی ایک سچے پیغمبر کی تکذیب کرتا ہے اور اس کو قبول نہیں کرتا وہ فی الحقیقت خدا کے ان صاف و صریح نشانات و دلائل کو جھٹلا رہا ہے جو اس نے تصدیق نبوت کے لئے اتارے تھے۔

فَاِنَّھُمْ لاَ یُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظَّالِمِیْنَ بِاٰیَاتِ اللہِ یَجْحَدُوْنَ (انعام، رکوع٤’آیت ٣٣) کیا اللہ کی آیات اور صریح و اعلانیہ نشانات کو جھٹلانے کے بعد بھی ”ایمان باللہ” کا دعویٰ رہ سکے گا۔ قرآن کریم نے جن تفصیلات کی طرف ”ایمان باللہ و عمل صالح” کے اجمالی عنوان سے یہاں اشارہ فرمایا ہے۔ دوسرے مواضع میں وہ شرح و بسط سے مذکور ہیں۔ میرے نزدیک زیادہ صحیح اور قوی قول یہ ہے کہ صابئین عراق میں ایک فرقہ تھا جن کے مذہبی اصول عموماً حکمائے اشراقیین اور فلاسفہ طبیعیین کے اصول سے ماخوذ تھے۔ یہ لوگ روحانیات کے متعلق نہایت غلو رکھتے بلکہ ان کی پرستش کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ ارواح مجردہ اور مد برات فلکیہ وغیرہ کی استعانت و استمداد سے ہی ہم رب الارباب (یعنی بڑے معبود) تک پہنچ سکتے ہیں۔ اتباع انبیاء کی ضرورت نہیں۔ کواکب کی ارواح مدبرہ اور اسی طرح دوسری روحانیات کو اپنے سے خوش رکھنے کے لئے ہیاکل بناتے تھے اور انہی ارواح کے لئے نماز، روزہ اور قربانی وغیرہ کرتے تھے۔ خلاصہ یہ کہ حنفاء کے مقابلہ میں صابئین کی جماعت تھی۔ جن کا سب سے بڑا حملہ نبوت اور اس کے لوازم و خواص پر ہوتا تھا۔ حضرت ابراہیم حنیف علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے وقت نمرود کی قوم صابی العقیدہ تھی جس کے رد و ابطال میں خدا کے خلیل نے جانبازی دکھلائی۔

 

بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ہم نے ان کی طرف رسول بھیجے،جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا اس(حکم) کے ساتھ جو ان کے دل نہ چاہتے تھے تو ایک فریق کو جھٹلایا اور ایک فریق کو قتل کر ڈالتے۔(۷۰)

تشریح:غلام کی وفاداری کا امتحان اس میں ہے کہ جس بات کو دل نہ چاہے آقا کے حکم سے کر گزرے اور اپنی رائے یا خواہش کو آقا کی مرضی کے تابع بنا دے۔ ورنہ صرف ان چیزوں کا مان لینا جو مرضی اور خواہش کے موافق ہوں یہ کونسا کمال ہے۔

 

اور انہوں نے گمان کیا کہ کوئی خرابی نہ ہو گی سو وہ اندھے ہو گئے اور بہرے ہو گئے، تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کی، پھر ان میں سے اکثر اندھے اور بہرے ہو گئے، سواللہ دیکھ رہا ہے جو وہ کرتے ہیں۔(۷۱)

تشریح:یعنی پختہ عہد و پیمان توڑ کر خدا سے غداری کی اس کے سفراء میں سے کسی کو قتل کیا یہ تو ان کے ”ایمان باللہ اور عمل صالح” کا حال تھا۔ ”ایمان بالیوم الآخر” کا اندازہ اس سے کر لو کہ اس قدر شدید مظالم اور باغیانہ جرائم کا ارتکاب کر کے بالکل بے فکر ہو بیٹھے۔ گویا ان حرکات کا کوئی خمیازہ بھگتنا نہیں پڑے گا۔ اور ظلم و بغاوت کے خراب نتائج کبھی سامنے نہ آئیں گے۔ یہ خیال کر کے خدائی نشانات اور خدائی کلام کی طرف سے بالکل ہی اندھے اور بہرے ہو گئے اور جو نا کردنی کام تھے وہ کئے حتیٰ کہ بعض انبیاء کو قتل اور بعض کو قید کیا آخر خدا تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط فرمایا پھر ایک مدت دراز کے بعد بعض ملوک فارس نے بخت نصر کی قید ذلت ورسوائی سے چھڑا کر بابل سے بیت المقدس کو واپس کیا۔ اس وقت لوگوں نے توبہ کی اور اصلاح حال کی طرف متوجہ ہوئے۔ خدا نے توبہ قبول کی لیکن کچھ زمانے کے بعد پھر وہ ہی شرارتیں سوجھیں اور بالکل اندھے بہرے ہو کر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہما السلام کے قتل کی جرات کی اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے قتل پر تیار ہو گئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک وہ کافر ہوئے جنہوں نے کہا تحقیق اللہ وہی ہے مسیح ابن مریم، اور مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو جو میرا(بھی) رب ہے اور تمہارا (بھی) رب ہے،بیشک جو اللہ کا شریک ٹھہرائے تو تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں۔(۷۲)

تشریح:یہاں سے نصاریٰ کے ایمان باللہ کی کیفیت دکھلائی گئی ہے کہ وہ کہاں تک حقانیت کے اس معیار پر پورے اترے۔ ان کے ایمان باللہ کا حال یہ ہے کہ عقل کے خلاف، فطرت سلیمہ کے خلاف اور خود حضرت مسیح کی تصریحات کے خلاف مسیح ابن مریم کو خدا بنا دیا۔ ”ایک تین اور تین ایک”کی بھول بھلیاں تو محض برائے نام ہیں حقیقتہً سارا زور و قوت صرف حضرت مسیح کی الوہیت ثابت کرنے پر صرف کیا جاتا ہے۔ حالانکہ خود حضرت مسیح علیہ السلام خدا کے رب ہونے اور دوسرے آدمیوں کی طرح اپنے مربوب ہونے کا اعلانیہ اعتراف فرما رہے ہیں۔ اور جس شرک میں ان کی امت مبتلا ہونے والی تھی اس کی برائی کس زور و شور سے بیان کر رہے ہیں۔ پھر بھی ان اندھوں کی عبرت نہیں ہوتی۔

(تفسیرعثمانی)

 

البتہ وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں نے کہا بے شک اللہ تین میں کا ایک ہے اور معبود واحد کے سوا کوئی معبود نہیں،اور اگر وہ اس سے باز نہ آئے جو وہ کہتے ہیں تو ان میں سے جنہوں نے کفر کیا انہیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا۔(۷۳)

تشریح:یہ عیسائیوں کے عقیدۂ تثلیث کی طرف اشارہ ہے ،اس عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ خدا تین اقانیم (persons) کا مجموعہ ہے،ایک باپ(یعنی اللہ)ایک بیٹا(یعنی حضرت مسیح علیہ السلام) اور ایک روح القدس اور بعض فرقے اس بات کے بھائی قائل تھے کہ تیسری حضرت مریمؓ ہیں وہ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تینوں مل کر ایک ہیں،یہ تینوں مل کر ایک کس طرح ہیں ،اس معمے کا کوئی معقول جواب کسی کے پاس نہیں ہے،اس لئے ان کے متکلمین(theologians) نے اس عقیدے کی مختلف تعبیریں اختیار کی ہیں۔

بعض نے تویہ کہا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صرف خدا تھے انسان نہیں تھے، آیت نمبر۷۲ میں ان کے عقیدے کو کفر قرار دیا گیا ہے ،اور بعض لوگ یہ کہتے تھے کہ خدا تین اقانیم کا مجموعہ ہے، ان میں سے ایک باپ یعنی اللہ ہے دوسرا بیٹا ہے جو اللہ کی ایک صفت ہے جو انسانی وجود میں حلول کر کے حضرت عیسی علیہ السلام کی شکل میں آ گئی تھی، لہذا وہ انسان بھی تھے اور اپنی اصل کے اعتبار سے خدا بھی تھے ،آیت نمبر ۷۳ میں اس عقیدے کی تردید کی گئی ہے، عیسائیوں کے ان عقائد کی تفصیل اور ان کی تردید کے لئے دیکھئے راقم الحروف کی کتاب عیسائیت کیا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور وہ توبہ کیوں نہیں کرتے اللہ کے آگے اور اس سے(گناہوں کی بخشش کیوں)نہیں مانگتے؟ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(۷۴)

تشریح:یہ اسی غفور رحیم کی شان ہے کہ ایسے ایسے باغی اور گستاخ مجرم بھی جب شرمندہ ہو کر اور اصلاح کا عزم کر کے حاضر ہوں تو ایک منٹ میں عمر بھر کے جرائم معاف فرما دیتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

مسیح ابن مریم نہیں مگر رسول(وہ صرف ایک رسول ہیں)اس سے پہلے رسول گزر چکے ہیں،اور اس کی ماں صدیقہ(سچی۔ولی) ہیں ،وہ دونوں کھانا کھاتے تھے، دیکھو !ہم ان کے لئے کیسے دلائل بیان کرتے ہیں، پھر دیکھو یہ کیسے اوندھے جا رہے ہیں ؟(۷۵)

تشریح:غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جو شخص کھانے پینے کا محتاج ہے وہ تقریباً دنیا کی ہر چیز کا محتاج ہے۔ زمین، ہوا، پانی، سورج، حیوانات حتیٰ کہ میلے اور کھاد سے بھی اسے استغنا نہیں ہو سکتا۔ غلہ کے پیٹ میں پہنچنے اور ہضم ہونے تک خیال کرو بالواسطہ یا بلاواسطہ کتنی چیزوں کی ضرورت ہے۔ پھر کھانے سے جو اثرات و نتائج پیدا ہونگے ان کا سلسلہ کہاں تک جاتا ہے۔ احتیاج و افتقار کے اس طویل الذیل سلسلہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم الوہیت مسیح و مریم کے ابطال کو بشکل استدلال یوں بیان کر سکتے ہیں کہ مسیح و مریم اکل و شرب کی ضروریات سے مستغنی نہ تھے جو مشاہدہ اور تواتر سے ثابت ہے اور جو اکل و شرب سے مستغنی نہ ہو وہ دنیا کی کسی چیز سے مستغنی نہیں ہو سکتا پھر تم ہی کہو کہ جو ذات تمام انسانوں کی طرح اپنی بقاء میں عالم اسباب سے مستغنی نہ ہو وہ خدا کیونکر بن سکتی ہے یہ ایسی قوی اور واضح دلیل ہے جسے عالم و جاہل یکساں طور پر سمجھ سکتے ہیں یعنی کھانا پینا الوہیت کے منافی ہے اگرچہ نہ کھانا الوہیت کی دلیل نہیں ورنہ سارے فرشتے خدا بن جائیں معاذاللہ۔

(تفسیرعثمانی)

 

کہہ دیں کیا تم اللہ کے سوا اسے پوجتے ہو جو تمہارے لئے مالک نہیں کسی نقصان کا اور نہ نفع کا،اور اللہ ہی سننے والا جاننے والا ہے۔(۷۶)

تشریح: جب مسیح کو خدا کہا تو لازم ہے کہ معبود بھی کہو مگر معبود بننا صرف اسی ذات کے ساتھ مختص ہے جو ہر قسم کی نفع و ضرر کا مالک اور پورا با اختیار ہو کیونکہ عبادت انتہائی تذلل کا نام ہے اور انتہائی تذلل اسی کے سامنے اختیار کر سکتے ہیں جو انتہائی عزت اور غلبہ رکھنے والا ہر آن سب کی سننے والا اور سب کے احوال کا پوری طرح جاننے والا ہو اس میں تثلیث کے عقیدہ شرکیہ کے ساتھ تمام مشرکین کا رد ہو گیا۔

(تفسیرعثمانی)

 

کہہ دیں اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو اس سے قبل گمراہ ہو چکے ہیں اور انہوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور (خود بھی) بہک گئے سیدھے راستے سے۔(۷۷)

تشریح:عقیدہ کا مبالغہ یہ ہے کہ ایک مولود بشری کو خدا بنا دیا۔ اور عمل میں غلو وہ ہے جسے رہبانیت کہتے ہیں وَرَھْبَانِیَّۃنِ ابْتَدَعُوْھَا مَا کَتَبْنَاھَا عَلَیْھِمْ(الحدید، رکوع:۴آیت: ۲۸) یہود کی جو قبائح بیان کی جا چکیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیاپرستی میں غرق ہونے کی وجہ سے دین اور دینداروں کی ان کے یہاں کوئی عظمت و وقعت نہ تھی حتیٰ کہ انبیاء علیہم السلام کی اہانت و قتل وغیرہ ان کا خاص شعار تھا۔ برخلاف اس کے نصاریٰ نے تعظیم انبیاء میں اس قدر غلو کیا کہ ان میں سے بعض کو خدا یا خدا کا بیٹا کہنے لگے اور ترک دنیا کر کے رہبانیت اختیار کر لی۔

(تفسیرعثمانی)

 

بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا وہ ملعون ہوئے داؤد اور عیسی ابن مریم کی زبانی،یہ اس لئے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے بڑھتے تھے(۷۸)

تشریح:یعنی اس لعنت کا ذکر زبور میں بھی تھا جو حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی اور انجیل میں بھی تھا جو حضرت عیسی علیہ السلام پر اتری تھی۔

(توضیح القرآن)

 

وہ ایک دوسرے کو برے کام سے جو وہ کر رہے تھے نہ روکتے تھے،البتہ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔(۷۹)

تشریح:جب بدی کسی قوم میں پھیلے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا بھی نہ ہو تو عذاب عام کا اندیشہ ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ دیکھیں گے ان میں سے اکثر کافروں سے دوستی کرتے ہیں،البتہ برا ہے جو آگے بھیجا خود انہوں نے اپنے لئے کہ ان پر اللہ غضبناک ہوا،اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں۔(۸۰)

تشریح:یہ ان یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو مدینہ منورہ میں آباد تھے اور انہوں نے حضور نبی کریمﷺ سے معاہدہ بھی کیا ہوا تھا، اس کے باوجود انہوں نے درپردہ مشرکین مکہ سے دوستیاں گانٹھی ہوئی تھیں، اور ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے، بلکہ ان کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ان سے یہ تک کہہ دیتے تھے کہ ان کا مذہب مسلمانو ں کے مذہب سے اچھا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور اگر(کاش)وہ اللہ اور رسول پر ایمان لے آتے اور اس پر جو اس کی طرف نازل کیا گیا ،تو انہیں دوست نہ بناتے؛ لیکن ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔(۸۱)

تشریح:”النبی” سے بعض مفسرین نے حضرت موسی علیہ السلام کو اور بعض نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مراد لیا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر ان یہود کو واقعی یقین حضرت موسٰی علیہ السلام کی صداقت اور تعلیمات پر ہوتا تو نبی آخر الزمان کے مقابلہ میں جن کی بشارت خود موسٰی علیہ السلام دے چکے ہیں مشرکین سے دوستی نہ کرتے یا یہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مخلصانہ ایمان لے آتے تو ایسی حرکت ان سے سر زد نہ ہوتی کہ دشمنان اسلام سے ساز باز کریں۔ اس دوسری تقریر پر آیت منافقین یہود کے حق میں ہو گی۔

خدا کی اور خود اپنے تسلیم کردہ پیغمبر کی نافرمانی کرتے کرتے یہ حالت ہو گئی کہ اب موحدین پر مشرکین کو ترجیح دیتے ہیں۔ افسوس کہ آج ہم بہت سے نام نہاد مسلمانوں کی حالت بھی یہی پاتے ہیں کہ مسلمان اور کفار کے مقابلہ کے وقت کافروں کو دوست بناتے اور انہی کی حمایت و وکالت کرتے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا۔

(تفسیرعثمانی)

 

تم سب لوگوں سے زیادہ دشمن پاؤ گے اہل ایمان(مسلمانوں)کا یہود کو اور مشرکوں کو،اور البتہ تم مسلمانوں کے لئے دوستی میں سب سے قریب پاؤ گے (ان لوگوں کو) جن لوگوں نے کہا ہم نصاریٰ ہیں یہ ا س لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور یہ کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔(۸۲)

تشریح:مطلب یہ ہے کہ عیسائیوں میں چونکہ بہت سے لوگ دنیا کی محبت سے خالی ہیں، اس لئے ان میں قبول حق کا مادہ زیادہ ہے اور کم از کم انہیں مسلمانوں سے اتنی سخت دشمنی نہیں ہے،کیونکہ دنیا کی محبت وہ چیز ہے جو انسان کو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے ،اس کے برعکس یہودیوں اور مشرکین مکہ پر دنیا پرستی غالب ہے، اس لئے وہ سچے طالب حق کا طرز عمل اختیار نہیں کر پاتے،عیسائیوں کے نسبۃً نرم دل ہونے کی دوسری وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ تکبر نہیں کرتے؛ کیونکہ انسان کی انا بھی اکثر حق قبول کرنے میں رکاوٹ بن جاتی ہے،عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے محبت میں قریب تر فرمایا گیا ہے اسی کا اثر یہ تھا کہ جب مشرکین مکہ نے مسلمانوں پر ظلم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو بہت سے مسلمانوں نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس پناہ لی، اور نہ صرف نجاشی بلکہ اس کی رعایا نے بھی ان کے ساتھ بڑے اعزاز و اکرام کا معاملہ کیا؛ بلکہ جب مشرکین مکہ نے اپنا ایک وفد نجاشی کے پاس بھیجا اور اس سے درخواست کی کہ جن مسلمانوں نے اس کے ملک میں پناہ لی ہے انہیں اپنے ملک سے نکال کرواپس مکہ مکرمہ بھیج دے تاکہ مشرکین ان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا سکیں، تو نجاشی نے مسلمانوں کو بلا کر ان سے ان کا موقف سنا اور مشرکین مکہ کا مطالبہ ماننےسے انکار کر دیا اور جو تحفے انہوں نے بھیجے تھے وہ واپس کر دئے؛ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ عیسائیوں کو جو مسلمانوں سے قریب تر کہا گیا ہے یہ ان عیسائیوں کی اکثریت کے اعتبار سے کہا گیا ہے جو اپنے مذہب پر عمل کرتے ہوئے دنیا کی محبت سے دور ہوں اور ان میں تکبر نہ پایا جاتا ہو؛ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر زمانے کے عیسائیوں کا یہی حال ہے؛ چنانچہ تاریخ میں ایسی بہت مثالیں ہیں جن میں عیسائیوں نے مسلمانوں کے ساتھ بدترین معاملہ کیا۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب وہ سُنتے ہیں جو رسول ﷺ کی طرف نازل کیا گیا، تو دیکھے کہ انکی آنکھیں آنسوؤں سے بہہ پڑتی ہیں (اُبل پڑتی ہیں)اس وجہ سے کہ اُنہوں نے حق کو پہچان لیا، وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس ہمیں گواہوں (ایمان لانے والوں) کے ساتھ لکھ لے۔(۸۳)

اور ہم کو کیا ہوا کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اس حق پر جو ہمارے پاس آیا، اور ہم طمع رکھتے ہیں کہ ہمیں داخل کرے ہمارا رب نیک لوگوں کے ساتھ۔(۸۴)

پس جو اُنہوں نے کہا اس کے بدلے اللہ نے اُنہیں باغات دیئے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہ نیکوکاروں کی جزا ہے۔(۸۵)

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، یہی لوگ دوزخ والے ہیں۔(۸۶)

تشریح:جب مسلمانوں کو حبشہ سے نکالنے کا مطالبہ لے کر مشرکین مکہ کا وفد نجاشی کے پاس آیا تھا تواس نے مسلمانوں کو اپنے دربار میں بلا کر ان کا موقف سنا تھا، اس موقع پر آنحضرتﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت جعفر ابن ابی طالب نے اس کے دربار میں بڑی مؤثر تقریر کی تھی جس سے نجاشی کے دل میں مسلمانوں کی عظمت اور محبت بڑھ گئی اور اسے اندازہ ہو گیا کہ آنحضرتﷺ وہی آخری نبی ہیں جن کی پیشین گوئی تورات اور انجیل میں کی گئی تھی،چنانچہ جب آنحضرتﷺ مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو نجاشی نے اپنے علماء اور راہبوں کا ایک وفد آپ کی خدمت میں بھیجا، آنحضرتﷺ نے ان کے سامنے سورۂ یسین کی تلاوت فرمائی جسے سن کر ان لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے کہا کہ یہ کلام ا س کلام کے بہت مشابہ ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوا تھا ،چنانچہ سب لوگ مسلمان ہو گئے اور جب یہ واپس حبشہ گئے تو نجاشی نے بھی اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا، ان آیات میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اے وہ لوگو! جو ایمان لائے، پاکیزہ چیزیں جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیں وہ حرام نہ ٹھہراؤ، اور حد سے نہ بڑھو، بیشک اللہ نہیں پسند کرتا حد سے بڑھنے والوں کو۔(۸۷)

اور جو اللہ نے تمہیں دیا ہے اس میں حلال اور پاکیزہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو وہ جس کو تم مانتے ہو۔(۸۸)

تشریح:جس طرح حرام چیزوں کو حلال سمجھنا گناہ ہے، اسی طرح جو چیزیں اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام سمجھنا بھی بڑا گناہ ہے،مشرکین مکہ اور یہودیوں نے ایسی بہت سی چیزوں کو اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا جس کی تفصیل ان شاء اللہ سورۂ انعام میں آئے گی۔

(توضیح القرآن)

 

اللہ تمہارا مواخذہ نہیں کرتا (نہیں پکڑتا) تمہاری بے ہُودہ قسموں پر لیکن تمہارا مواخذہ کرتا ہے (پکڑتا ہے) جس قسم کو تم نے مضبوط باندھا (پختہ قسم پر) سو اس کا کفّارہ دس محتاجوں کو کھانا کھلانا ہےاوسط (درجہ) کا، جو تم اپنے گھر والوں‌کو کھلاتے ہو، یا انہیں کپڑے پہنانا، یا ایک گردن (غلام) آزاد کرنا، پس جو یہ نہ پائے وہ تین دن روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفّارہ ہے۔ جب تم قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنے احکام بیان کرتا ہے تاکہ تم شُکر کرو۔(۸۹)

تشریح:لغو قسموں سے مراد ایک تو وہ قسمیں ہیں جو قسم کھانے کے ارادے کے بغیر محض محاور ے اور تکیۂ کلام کے طور پر کھا لی جاتی ہیں، اور دوسرے وہ قسمیں بھی لغو کی تعریف میں داخل ہیں جو ماضی کے کسی واقعے پر سچ سمجھ کر کھا لی گئی ہوں، مگر بعد میں معلوم ہو کہ جس بات کو سچ سمجھا تھا وہ سچ نہیں تھی ،اس قسم کی قسموں پر نہ کوئی گناہ ہوتا ہے اور نہ کوئی کفارہ واجب ہوتا ہے البتہ بلا ضرورت قسم کھانا کوئی اچھی بات نہیں ہے،اس لئے ایک مسلمان کو اس سے احتیاط کرنی چاہئے۔

وَلَٰكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الْأَيْمَانَ:اس سے مراد وہ قسم ہے جس میں آئندہ زمانے میں کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کا عہد کیا گیا ہو ،ایسی قسم کو توڑنا عام حالات میں بڑا گناہ ہے،اور اگر کوئی شخص ایسی قسم توڑ دے تواس کا کفارہ بھی واجب ہے جس کی تفصیل آیت میں بیان فرمائی گئی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اول یہ کہ دس مسکینوں کو متوسط درجہ کا کھانا صبح و شام دو وقت کھلا دیا جائے یا یہ کہ دس مسکینوں کو بقدر ستر پوشی کپڑا دے دیا جائے،مثلاً ایک پاجامہ یا تہبند یا لمبا کرتہ،یا کوئی مملوک غلام آزاد کر دیا جائے،اگر کسی قسم توڑنے والے کو اس مالی کفارہ کے ادا کرنے پر قدرت نہ ہو کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلا سکے نہ کپڑا دے سکے اور نہ غلام آزاد کرسکے تو پھر اس کا کفارہ یہ ہے کہ تین دن روزے رکھے ،بعض روایات میں اس جگہ تین روزے پے در پے مسلسل رکھنے کا حکم آیا ہے اسی لئے امام اعظم ابو حنیفہؒ اور بعض دوسرے ائمہ کے نزدیک کفارۂ قسم کے تین روزے مسلسل ہونا ضروری ہیں۔

(معارف القرآن)

 

ایک تیسری قسم کی قسم وہ ہے جس میں ماضی کے کسی واقعے پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا گیا ہو اور مخاطب کو یقین دلانے کے لئے قسم کھا لی گئی ہو،ایسی قسم سخت گناہ ہے،مگر دنیا میں اس کا کوئی کفارہ سوائے توبہ اور استغفار کے کچھ نہیں۔

قسم کھا لینا کوئی مذاق نہیں ہے،اس لئے اول توقسمیں کم سے کم کھانی چاہیں اور اگر کوئی قسم کھا لی ہو تو حتی الامکان اسے پورا کرنا ضروری ہے،البتہ اگر کسی شخص نے کوئی ناجائز کام کی قسم کھا لی ہو تو اس پر واجب ہے کہ قسم کو توڑے اور کفارہ ادا کرے،اسی طرح اگر کسی جائز کام کی قسم کھائی مگر بعد میں اندازہ ہوا کہ وہ کام مصلحت کے خلاف ہے تب بھی ایک حدیث میں آنحضرتﷺ نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ایسی قسم کو  توڑ دینا چاہئے اور کفارہ ادا کرنا چاہئے۔

(توضیح القرآن)

 

اے ایمان والو! اس کے سوا نہیں کہ شراب، جؤا اور بُت اور پانسے (فال کے تِیر) ناپاک ہیں شیطانی کام ہیں، سو ان سے بچو تاکہ تم فلاح (کامیابی اور نجات) پاؤ۔(۹۰)

تشریح: اس آیت سے پہلے بھی بعض آیات خمر (شراب) کے بارے میں نازل ہو چکی تھیں۔ اول یہ آیت نازل ہوئی: یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ قُلْ فِیْھِمَا اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ اِثْمُھُمَا اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا (البقرہ، آیت نمبر:۲۱۹) گو اس سے نہایت واضح اشارہ تحریم خمر کی طرف کیا جا رہا تھا، مگر چونکہ صاف طورسے اس کے چھوڑنے کا حکم نہ تھا اس لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سن کر کہا اللھم بین لنا بیانا شافیا اس کے بعد دوسری آیت آئی: یَآیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ الاَ تَقْرَبُو الصَّلٰوۃَ وَ اَنْتُمْ سُکَارٰی الی آخر الآیۃ(نساء آیت نمبر:۴۳، رکوع۶) اس میں بھی تحریم خمر کی تصریح نہ تھی۔ گو نشہ کی حالت میں نماز کی ممانعت ہوئی اور یہ قرینہ اسی کا تھا کہ غالباً یہ چیز عنقریب کلیۃ حرام ہونے والی ہے۔ مگر چونکہ عرب میں شراب کا رواج انتہا کو پہنچ چکا تھا اور اس کا دفعتاً چھڑا دینا مخاطبین کے لحاظ سے سہل نہ تھا ،اس لئے نہایت حکیمانہ تدریج سے اولاً قلوب میں اس کی نفرت بٹھلائی گئی اور آہستہ آہستہ حکم تحریم سے مانوس کیا گیا۔ چنانچہ حضرت عمر ؓ نے اس دوسری آیت کو سن کر پھر وہی لفظ کہے اللّٰھم بین لنا بیاناً شافیاً آخرکار”مائدہ” کی یہ آیتیں جو اس وقت ہمارے سامنے ہیں ”یَآ اَیُّھَا الَّذْینَ اٰمَنُوا” سے ”فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ” تک نازل کی گئیں جس میں صاف صاف بت پرستی کی طرح اس گندی چیز سے بھی اجتناب کرنے کی ہدایت تھی۔ چنانچہ حضرت عمر”فھل انتم منتھون” سنتے ہی چلا اٹھے ”انتھینا انتھینا” لوگوں نے شراب کے مٹکے توڑ ڈالے، خم خانے برباد کر دئیے۔ مدینہ کی گلی کوچوں میں شراب پانی کی طرح بہتی پھرتی تھی۔ سارا عرب اس گندی شراب کو چھوڑ کر معرفت ربانی اور محبت و اطاعت نبوی کی شراب طہور سے مخمور ہو گیا اور ام الخبائث کے مقابلہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جہاد ایسا کامیاب ہوا جس کی نظیر تاریخ میں نہیں مل سکتی۔ خدا کی قدرت دیکھو کہ جس چیز کو قرآن کریم نے اتنا پہلے اتنی شدت سے روکا تھا، آج سب سے بڑے شراب خوار ملک امریکہ وغیرہ اس کی خرابیوں اور نقصانات کو محسوس کر کے اس کے مٹا دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ فللّٰہ الحمد والمنۃ۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس کے سوا نہیں کہ شیطان چاہتا ہے کہ وہ تمہارے درمیان شراب اور جُوئے سے دشمنی ڈالے، اور تمہیں روکے اللہ کی یاد سے، پس کیا تم باز آؤ گے ؟(۹۱)

تشریح: شراب پی کر جب عقل جاتی رہتی ہے تو بعض اوقات شرابی پاگل ہو کر آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ کہ نشہ اترنے کے بعد بھی بعض دفعہ لڑائی کا اثر باقی رہتا ہے اور باہمی عداوتیں قائم ہو جاتی ہیں، یہی حال بلکہ کچھ بڑھ کر جوئے کا ہے۔ اس میں ہار جیت پر سخت جھگڑے اور فساد برپا ہوتے ہیں جس سے شیطان کو اودھم مچانے کا خوب موقع ملتا ہے ،یہ تو ظاہری خرابی ہوئی اور باطنی نقصان یہ ہے کہ ان چیزوں میں مشغول ہو کر انسان خدا کی یاد اور عبادت الہٰی سے بالکل غافل ہو جاتا ہے۔ اس کی دلیل مشاہدہ اور تجربہ ہے۔ شطرنج کھیلنے والوں ہی کو دیکھ لو۔ نماز تو کیا، کھانے پینے اور گھر بار کی بھی خبر نہیں رہتی۔ جب یہ چیز اس قدر ظاہری و باطنی نقصانات پر مشتمل ہے تو کیا ایک مسلمان اتنا سن کر بھی باز نہ آئے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور تم اطاعت کرو اللہ کی اور رسول ﷺ کی، اور بچتے رہو، پھر اگر تم پھر جاؤ گے تو جان لو کہ ہمارے رسولﷺ کے ذمّے صِرف کھول کر (واضح طور پر) پہنچا دینا ہے۔(۹۲)

تشریح: مالک کائنات نے ساری کائنات کو انسان کی خدمت کے لئے پیدا فرمایا،اور ہر ایک چیز کو انسان کی خاص خاص خدمت پر لگا دیا ہے ،اور انسان کو مخدوم کائنات بنایا ہے ،انسان پر صرف ایک پابندی لگا دی کہ ہماری مخلوقات سے نفع اٹھانے کی جو حدود ہم نے مقرر کر دی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، جن چیزوں کو تمہارے لئے حلال طیب بنا دیا ہے ان سے احتراز کرنا بے ادبی اور ناشکری ہے، اور جن چیزوں کے کسی خاص استعمال کو حرام قرار دے دیا ہے، اس میں خلاف ورزی کرنا نافرمانی اور بغاوت ہے، بندہ کا کام یہ ہے کہ مالک کی ہدایات کے مطابق اس کی مخلوقات کا استعمال کرے اسی کا نام عبدیت ہے۔

(معارف القرآن)

 

جو لوگ ایمان لائے اور اُنہوں نے نیک عمل کئے اُن پر اس میں کوئی گناہ نہیں جو وہ کھا چکے جبکہ (آئندہ) انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے اور نیک عمل کئے، پھر وہ ڈرے اور ایمان لائے، پھر وہ ڈرے اور انہوں نے نیکو کاری کی، اور اللہ نیکوکاروں کو دوست رکھتا ہے۔(۹۳)

تشریح:جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو  بعض صحابہ کرام کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جو شراب حرمت کا حکم آنے سے پہلے پی گئی ہے کہیں وہ ہمارے لئے گناہ کا سبب نہ بنے، اس آیت نے یہ غلط فہمی دور کر دی اور یہ بتا دیا کہ چونکہ اس وقت اللہ تعالی نے شراب پینے سے صاف الفاظ میں منع نہیں کیا تھا، اس لئے اس وقت جنہوں نے شراب پی تھی اس پر ان کی کوئی پکڑ نہیں ہو گی۔

(توضیح القرآن)

 

اے ایمان والو! اللہ تمہیں ضرور آزمائے گاکسی قدر (اُس) شکار سے جس تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچتے ہیں تاکہ اللہ معلوم کر لے کون اس سے بِن دیکھے ڈرتا ہے،سو اس کے بعد جس نے زیادتی کی اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔(۹۴)

تشریح:جیسا کے اگلی آیت میں آرہا ہے جب کوئی شخص حج یا عمرے کا احرام باندھ لے تواس کے لئے خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا حرام ہو جاتا ہے، عرب کے صحراؤں میں شکار کا مل جانا مسافروں کے لئے ایک نعمت تھی، اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ احرام باندھنے والوں کی آزمائش کے لئے اللہ تعالی کچھ جانوروں کو ان کے اتنا قریب بھیج دے گا کہ وہ ان کے نیزوں کی زد میں ہوں گے،اس طرح ان کا امتحان لیا جائے گا کہ کیا وہ اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل میں اس نعمت سے پرہیز کرتے ہیں ؟اس سے معلوم ہوا کہ انسان کے ایمان کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب اس کا دل کسی ناجائز کام کے لئے مچل رہا ہو،اور وہ اس وقت اللہ تعالی سے ڈر کر اس ناجائز کام سے باز آ جائے۔

(توضیح القرآن)

 

اے ایمان والو! نہ مارو شکار جب تم حالتِ احرام میں ہو، اور تم میں سے جو اس کو جان بُوجھ کر مارے تو جو وہ مارے اس کے برابر بدلہ ہے مویشیوں میں سے جس کا تم میں سے دو معتبر فیصلہ کریں، خانہ کعبہ نیاز پہنچائے یا (اس کا) کفّارہ ہے کھانا چند محتاجوں کا، یا اس کے برابر روزے رکھنا، تاکہ وہ اپنے کئے کی سزا چکھے، اللہ نے معاف کیا جو پہلے ہو چکا اور جو پھر کرے تو اللہ اس سے بدلہ لے گا، اور اللہ غالب بدلہ لینے والا ہے۔(۹۵)

تشریح:اگر کوئی شخص احرام کی حالت میں شکار کرنے کا گناہ کر لے تواس کا کفارہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس جانور کا شکار کیا ہے اگر وہ جانور حلال ہو تو اسی علاقے کے دو تجربے کار دین دار آدمیوں سے اس جانور کی قیمت لگائی جائے،پھر چوپایوں یعنی گائے بیل بکری وغیرہ میں سے اس قیمت کے کسی جانور کی قربانی حرم میں کر دی جائے یا اس کی قیمت فقراء میں تقسم کر دی جائے، اور اگر کسی ایسے جانور کا شکار کیا تھا جو حلال نہیں ہے مثلاً بھیڑیا تواس کی قیمت ایک بکری سے زیادہ نہیں سمجھی جائے گی، اور اگر کسی شخص کو مالی اعتبار سے قربانی دینے یا قیمت فقراء میں تقسیم کرنے کی گنجائش نہ ہو تو وہ روزے رکھے روزوں کا حساب اس طرح ہو گا کہ اس جانور کی جو قیمت بنی تھی اس میں سے پونے دوسیر گندم کی قیمت کے برابر ایک روزہ سمجھا جائے گا، آیت کی یہ تشریح: امام ابو حنیفہؒ کے مذہب کے مطابق ہے، ان کے نزدیک اس جانور کے برابر چوپایوں میں سے کسی جانور کا مطلب یہ ہے کہ پہلے شکار کئے ہوئے جانور کی قیمت لگائی جائے، پھر اس قیمت کا کوئی چوپایہ حرم میں ذبح کیا جائے، تفصیل فقہ کی کتابوں میں درج ہے۔

(توضیح القرآن)

 

تمہارے لئے حلال کیا گیا دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے فائدہ کے لئے ہے، اور مسافروں کے لئے ،اور تم پر خشکی (جنگل) کا شکار حرام کیا گیا جب تک تم حالتِ احرام میں ہو۔ اور اللہ سے ڈرو، جس کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے۔(۹۶)

تشریح: حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں احرام میں دریا کا شکار یعنی مچھلی حلال اور دریا کا کھانا یعنی جو مچھلی پانی سے جدا ہو کر مر گئی اس نے نہیں پکڑی وہ بھی حلال ہے۔ فرمایا یہ تمہارے فائدہ کو رخصت دی۔ پھر کوئی نہ سمجھے کہ حج کے طفیل سے حلال ہے۔ فرمایا کہ اور سب مسافروں کے فائدہ کو مچھلی اگر تالاب میں ہو وہ بھی شکار دریا ہے۔ یہ حکم شکار کا معلوم ہوا احرام کے اندر، اور احرام میں قصد ہے مکہ کا۔ اس شہر مکہ اور گرد و پیش میں ہمیشہ شکار مارنا حرام ہے بلکہ شکار کو ڈرانا اور بھگانا بھی۔

(تفسیرعثمانی)

 

اللہ نے بنایا کعبہ احترام والا گھر، لوگوں کے لئے قیام کا باعث، اور حرمت والے مہینے اور قربانی اور گلے میں پٹہ (قربانی کی علامت) پڑے ہوئے جانور۔یہ اس لئے ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے، اور یہ کہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔(۹۷)

تشریح:کعبے شریف اور حرمت والے مہینے کا باعث امن ہونا تو ظاہر ہے کہ اس میں جنگ کرنا حرام ہے،اس کے علاوہ جو جانور نذرانے کے طور پر حرم لے جائے جاتے تھے ان کے گلے میں پٹے ڈال دئے جاتے تھے تاکہ ہر دیکھنے والے کو پتہ چل جائے کہ یہ جانور حرم جا رہے ہیں؛ چنانچہ کافر، مشرک، ڈاکو بھی ان کو چھیڑتے نہیں تھے،کعبے کے قیام امن کا باعث ہونے کے ایک معنی کچھ مفسرین نے یہ بھی بیان فرمائے ہیں کہ جب تک کعبہ شریف قائم رہے گا قیامت نہیں آئے گی،قیامت اس وقت آئے گی جب اسے اٹھا لیا جائے گا۔

(توضیح القرآن)

 

جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے، اور یہ کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(۹۸)

تشریح:یعنی جو احکام حالت احرام یا احترام کعبہ وغیرہ کے متعلق دیے گئے اگر ان کی عمداً خلاف ورزی کرو گے تو سمجھ لو کہ خدا کا عذاب بہت سخت ہے۔ اور بھول چوک سے کچھ تقصیر ہو جائے پھر کفارہ وغیرہ سے اس کی تلافی کر لو تو بیشک وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان بھی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

رسول ﷺ کے ذمّے صرف (پیغام) پہنچا دینا ہے، اور اللہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جوتم چھپاتے ہو۔(۹۹)

تشریح:پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خدا کا قانون اور پیام پہنچا کر اپنا فرض ادا کر دیا اور خدا کی حجت بندوں پر تمام ہو چکی، اب ظاہر و باطن میں جیسا عمل کرو گے وہ سب خدا کے سامنے ہے۔ حساب و جزا کے وقت ذرہ ذرہ تمہارے سامنے رکھ دیا جائے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

کہہ دیجئے! برابر نہیں ناپاک اور پاک، خواہ تمہیں ناپاک کی کثرت اچھی لگے،سو اے عقل والو! اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح (کامیابی اور نجات) پاؤ۔(۱۰۰)

تشریح:اس آیت نے بتا دیا ہے کہ دنیا میں بہت مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی ناپاک یا حرام چیز کا رواج اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ وقت کا فیشن قرار پا جاتا ہے،اور فیشن پرست لوگ اسے اچھا سمجھنے لگتے ہیں، مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ صرف کسی چیز کے عام رواج کی وجہ سے اسے اختیار نہ کریں؛ بلکہ یہ دیکھیں کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کی ہدایات کی روشنی میں وہ جائز یا پاک ہے یا نہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اے ایمان والو! نہ پوچھو ان چیزوں کے متعلق جو تمہارے لئے ظاہر کی جائیں تو تمہیں بُری لگیں، اور اگر اُن کے متعلق (ایسے وقت) پوچھو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہے تو تمہارے لئے ظاہر کر دی جائیں گی،اللہ نے اس سے درگزر کی اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے۔(۱۰۱)

اس کے متعلق تم سے قبل ایک قوم نے پوچھا پھر وہ اس سے منکر ہو گئے(۱۰۲)

تشریح: مطلب یہ ہے کہ اول تو جن باتوں کی کوئی خاص ضرورت نہ ہو ان کی کھوج میں پڑنا فضول ہے، دوسرے اللہ تعالی کی طرف سے بعض اوقات کوئی حکم مجمل طریقے سے آتا ہے اگر اس حکم پر اسی اجمال کے ساتھ عمل کر لیا جائے تو کافی ہے، اگر اللہ تعالی کو اس میں مزید تفصیل کرنی ہوتی تووہ خود قرآن کریم یا نبی کریمﷺ کی سنت کے ذریعے کر دیتا، اب اس میں بال کی کھال نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اگر نزول قرآن کے زمانے میں اس کا کوئی سخت جواب آ جائے تو خود تمہارے لئے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں،چنانچہ اس آیت کے شان نزول میں ایک واقعہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حج کا حکم آیا اور آنحضرتﷺ نے لوگوں کو بتایا تو ایک صحابی نے آپ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا حج عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے یا ہر سال کرنا فرض ہے؟آنحضرتﷺ نے اس سوال پر ناگواری کا اظہار فرمایا، وجہ یہ تھی کہ حکم کے بارے میں اصل یہی ہے کہ جب تک اللہ تعالی کی طرف سے خود یہ صراحت نہ کی جائے کہ اس پر با ر بار عمل کر نا ہو گا(جیسے نماز روزے اور زکوۃ میں یہ صراحت موجود ہے) اس وقت تک اس پر صرف ایک بار عمل کرنے سے حکم کی تعمیل ہو جاتی ہے اس لئے اس سوال کی کوئی ضرورت نہیں تھی، آپﷺ نے صحابی سے فرمایا کہ اگر میں تمہارے جواب میں یہ کہہ دیتا کہ ہاں ہر سال فرض ہے تو واقعی پوری امت پر وہ ہر سال فرض ہو جاتا۔

(توضیح القرآن)

 

اللہ نے نہیں بنایا بحیرہ اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام،لیکن جن لوگوں نے کفر کیا وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان کے اکثر عقل نہیں رکھتے۔(۱۰۳)

تشریح:یہ مختلف قسم کے نام ہیں جو زمانۂ جاہلیت کے مشرکین نے رکھے ہوئے تھے، بحیرہ اس جانور کو کہتے ہیں جس کے کان چیر کر اس کا دودھ بتوں کے نام پر وقف کر دیا جاتا تھا،سائبہ وہ جانور تھا جو بتوں کے نام کر کے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا،اس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا حرام سمجھا جاتا تھا، وصیلہ اس اونٹنی کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور حامی وہ نر اونٹ ہوتا تھا جو ایک خاص تعداد میں جفتی کر چکا ہو اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔(۱۰۵)

 

اور جب ان سے کہا جائے آؤ اس کی طرف جو اللہ نے نازل کیا اور رسول کی طرف(تو) وہ کہتے ہیں ہمارے لئے وہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا تو کیا(اس صورت میں بھی کہ) ان کے باپ دادا کچھ نہ جانتے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوں۔(۱۰۴)

تشریح:جاہلوں کی سب سے بڑی حجت یہی ہوتی ہے کہ جو کام باپ دادا سے ہوتا آیا ہے، اس کے خلاف کیسے کریں، ان کو بتلایا گیا کہ اگر تمہارے اسلاف بے عقلی یا بے راہی سے قعر ہلاکت میں جا گرے ہوں ،تو کیا پھر بھی تم ان ہی کی راہ چلو گے؟ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ”باپ کا حال معلوم ہو کہ حق کا تابع اور صاحب علم تھا تو اس کی راہ پکڑے نہیں تو عبث ہے” یعنی کیف ما اتفق ہر کسی کی کو رانہ تقلید جائز نہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے ایمان والو! تم پر اپنی جانوں( کا فکر لازم) ہے،جب تم ہدایت پر ہو ،تو جو گمراہ ہوا تمہیں نقصان نہ پہنچا سکے گا،تم سب کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں جتلا دے گا جو تم کرتے تھے۔(۱۰۵)

تشریح:کفار کی جو گمراہیاں پیچھے بیان ہوئی ہیں ان کی وجہ سے مسلمانوں کو صدمہ ہوتا تھا کہ اپنی ان گمراہیوں کے خلاف واضح دلائل آ جانے کے بعد اور آنحضرتﷺ کی طرف سے بار بار سمجھانے کے باوجود یہ لوگ اپنی گمراہیوں پر جمے ہوئے ہیں، اس آیت نے ان حضرات کو تسلی دی ہے کہ تبلیغ کا حق ادا کرنے کے بعد تمہیں ان کی گمراہیوں پر زیادہ صدمہ کرنے کی ضرورت نہیں، اور اب زیادہ فکر خود اپنی اصلاح کی کرنی چاہئے ،لیکن جس بلیغ انداز میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے اس میں ایک تو ان لوگوں کے لئے ہدایت کا سامان ہے جو ہر وقت دوسروں پر تنقید کرنے اور ان کے عیب تلاش کرنے میں تو بڑے شوق سے مشغول رہتے ہیں، مگر خود اپنے گریبان میں منہ ڈالنے کی زحمت نہیں اٹھاتے،ان کو دوسروں کا تو چھوٹے سے چھوٹا عیب آسانی سے نظر آ جاتا ہے مگر خود اپنی بڑی سے بڑی برائی کا احساس نہیں ہوتا ،ہدایت یہ دی گئی ہے کہ اگر بالفرض تمہاری تنقید صحیح بھی ہو اور دوسرے لوگ گمراہ بھی ہوں تب بھی تمہیں تو اپنے اعمال کا جواب دینا ہے، اس لئے اپنی فکر کرو اور دوسروں پر تنقید کی فکر میں نہ پڑو، اس کے علاوہ جب معاشرے میں بد عملی کا چلن عام ہو جائے تو اس وقت اصلاح کی طرف لوٹنے کا بھی بہترین نسخہ یہی ہے کہ ہر شخص دوسروں کے طرز عمل کو دیکھنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر میں لگ جائے، جب افراد میں اپنی اصلاح کی فکر پیدا ہو گی تو چراغ سے چراغ جلے گا اور رفتہ رفتہ معاشرہ بھی اصلاح کی طرف لوٹے گا۔

(توضیح القرآن)

 

اے ایمان والو! تمہارے درمیان گواہی(کا طریقہ یہ ہے) کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے، وصیت کے وقت تم میں سے دو معتبر شخص ہوں یا تمہارے سوا دو اور ،اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو پھر تمہیں موت کی مصیبت پہنچے،ان دونوں کو روک لو نماز کے بعد،اگر تمہیں شک ہو تو دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم ا سکے عوض کوئی قیمت مول نہیں لیتے خواہ رشتہ دار ہوں،اور ہم اللہ کی گواہی نہیں چھپاتے (ورنہ)ہم بیشک گنہگاروں میں سے ہیں۔(۱۰۶)

پھر اگر اس کی خبر ہو جائے کہ وہ دونوں گناہ کے سزا وار ہوئے ہیں تو ان کی جگہ ان میں سے دو اور کھڑے ہوں جن کا حق مارنا چاہا جو سب سے زیادہ (میت)کے قریب ہوں، پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ صحیح ہے اور ہم نے زیادتی نہیں کی(ورنہ)اس صورت میں ہم بیشک ظالموں میں سے ہوں گے۔(۱۰۷)

یہ قریب تر ہے کہ وہ گواہی اس کی صحیح طریقہ پر ادا کریں ،یا وہ ڈریں کہ (ہماری)قسم ان کی قسم کے بعد رد کر دی جائے گی،اور اللہ سے ڈرو اور سنو اور اللہ نہیں ہدایت دیتا نافرمان قوم کو۔(۱۰۸)

تشریح:یہ آیات ایک خاص واقعے کے پس منظر میں نازل ہوئی ہیں، واقعہ یہ ہے کہ ایک مسلمان جس کا نام بدیل تھا، تجارت کی غرض سے اپنے دو عیسائی ساتھیوں تمیم اور عدی کے ساتھ شام گیا ،وہاں پہنچ کر وہ بیمار ہو گیا اور اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ بچ نہیں سکے گا؛ چنانچہ اس نے اپنے دوساتھیوں کو وصیت کی کہ میرا سارا سامان میرے وارثوں کو پہنچا دینا ،ساتھ ہی اس نے یہ ہوشیاری کی کہ سارے سامان کی ایک فہرست بنا کر خفیہ طور سے اسی سامان کے اندر چھپا دی،عیسائی ساتھیوں کو فہرست کا پتہ نہ چل سکا، انہوں نے سامان وارثوں کو پہنچایا،مگر اس میں ایک چاندی کا پیالہ تھا جس پر سونے کا ملمع چڑھا ہوا تھا اور جس کی قیمت ایک ہزار درہم بتائی گئی ہے وہ نکال کر اپنے پاس رکھ لیا،جب وارثوں کو بدیل کی بنائی ہوئی فہرست سامان میں ہاتھ لگی تو ان کو اس پیالہ کا پتہ چلا اور انہوں نے تمیم اور عدی سے مطالبہ کیا، انہوں نے صاف قسم کھا لی کہ ہم نے سامان میں سے کوئی چیز نہ لی نہ چھپائی ہے؛ لیکن کچھ عرصے کے بعد بدیل کے وارثوں کو پتہ چلا کہ وہ پیالہ انہوں نے مکہ مکرمہ میں ایک سنار کو فروخت کیا ہے،اس پر تمیم اور عدی نے اپنا موقف بدلا اور کہا کہ دراصل یہ پیالہ ہم نے بدیل سے خرید لیا اور چونکہ خریداری کا کوئی گواہ ہمارے پاس نہیں تھا اس لئے ہم نے پہلے اس بات کا ذکر نہیں کیا تھا اب چونکہ وہ خریداری کے مدعی تھے اور مدعی پر لازم ہوتا ہے کہ وہ گواہ پیش کرے اور یہ پیش نہ کرسکے تو قاعدے کے مطابق وارثوں میں سے بدیل کے قریب ترین دو عزیزوں نے قسم کھا لی کہ پیالہ بدیل کی ملکیت تھا اور عیسائی جھوٹ بول رہا ہے اس پر آنحضرتﷺ نے ان کے حق میں فیصلہ کر دیا اور عیسائیوں کو پیالے کی قیمت دینی پڑی، یہ فیصلہ اسی آیت کریمہ کی روشنی میں ہوا جس میں اس قسم کی صورت حال کے لئے ایک عام حکم بتا دیا گیا۔

(توضیح القرآن)

 

اللہ جس دن رسولوں کو جمع کرے گا پھر کہے گا تمہیں کیا جواب ملا تھا؟وہ کہیں گے ہمیں خبر نہیں بیشک تو چھپی باتوں کو جاننے والا ہے (۱۰۹)

تشریح:محشر کے ہولناک دن میں جب خدائے قہار کی شان جلالی کا انتہائی ظہور ہو گا، اکابر و اعاظم کے بھی ہوش بجا نہ رہیں گے، اولوالعزم انبیاء کی زبان پر نفسی نفسی ہو گا۔ اسی وقت انتہائی خوف و خشیت سے حق تعالیٰ کے سوال کا جواب ”لا علم لنا” (ہمیں کچھ خبر نہیں) کے سوا نہ دے سکیں گے، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل میں سب کی طرف خدا کی نظر لطف و رحمت ہو گی تب کچھ عرض کرنے کی جرأت کریں گے۔ حسن و مجاہد وغیرہ سے ایسا ہی منقول ہے۔ لیکن ابن عباس کے نزدیک ”لا علم لنا” کا مطلب یہ ہے کہ خداوندا! تیرے علم کامل و محیط کے سامنے ہمارا علم کچھ بھی نہیں۔ گویا یہ الفاظ ” تادب مع اللہ” کے طور پر کہے۔ ابن جریج کے نزدیک ”لا علم لنا” سے یہ مراد ہے کہ ہم کو معلوم نہیں کہ ہمارے پیچھے انہوں نے کیا کچھ کیا۔ ہم صرف انہی افعال و احوال پر مطلع ہو سکتے ہیں جو ہمارے سامنے ظاہری طور پر پیش آئے تھے۔ بواطن و سرائر کا علم عالم الغیوب ہی کو ہے۔ آئندہ رکوع میں حضرت مسیح علیہ السلام کی زبانی جو جواب نقل فرمایا ہے ”وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیدًا الخ ” اس سے آخری معنی کی تائید ہوتی ہے۔ اور صحیح حدیث میں ہے کہ جب حوض پر بعض لوگوں کی نسبت حضور فرمائیں گے ”ھَولاء اصْحَابِی” تو جواب ملے گا ”لاَ تَدْرِی مَا اَحَدَثُوا بَعْدَکَ”( الحدیث)(یعنی آپ کو خبر نہیں کہ آپ کے پیچھے انہوں نے کیا حرکات کیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

جب اللہ نے کہا اے عیسی ابن مریم ! میری نعمت اپنے اوپر اور اپنی والدہ پر یاد کرو جب میں نے روح پک سے تمہاری مدد کی تم لوگوں سے پنگھوڑہ میں اور بڑھاپے میں باتیں کرتے تھے اور جب میں نے تمہیں سکھائی کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل اور جب تم میرے حکم سے مٹی سے جانور کی صورت بناتے تھے پھر اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ ہو جاتا میرے حکم سے اڑنے والا او مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے شفا دیتے تھے،اور جب تم(قبرسے)مردہ کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتے تھے اور جب میں نے بنی اسرئیل کو تم سے روکا جب تم کھلی نشانیوں کے ساتھ ان کے پاس آئے تو کافروں نے ان میں سے کہا یہ کھلا جادو ہے(۱۱۰)

تشریح: وَإِذْ کَفَفْتُ بَنِيْٓ إِسْرَآئِيْلَ عَنْکَ :یہود معجزات اور فوق العادت تصرفات کو جادو کہنے لگے اور انجام کار حضرت مسیح علیہ السلام کے قتل کے درپے ہوئے۔ حق تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے حضرت مسیح کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اس طرح یہود کو ان کے ناپاک مقصد میں کامیاب ہونے سے روک دیا گیا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب میں نے حواریوں کے دل میں ڈال دیا کہ مجھ پر میرے رسول پر ایمان لاؤ انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور آپ گواہ رہیں بیشک ہم فرمانبردار ہیں۔(۱۱۱)

جب حواریوں نے کہا اے عیسی ابن مریم ! کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے کہ ہم پر آسمان سےخوان اتارے؟اس نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔(۱۱۲)

تشریح: قَالَ اتَّقُوا اللہَ:  یعنی ایماندار بندہ کو لائق نہیں کہ ایسی غیر معمولی فرمائشیں کر کے خدا کو آزمائے خواہ اس کی طرف سے کتنی ہی مہربانی کا اظہار ہو، روزی ان ہی ذرائع سے طلب کرنا چاہیے جو قدرت نے اس کی تحصیل کے لئے مقرر فرما دیئے ہیں بندہ جب خدا سے ڈر کر تقویٰ اختیار کرے اور اسی پر ایمان و اعتماد رکھے تو حق تعالیٰ ایسی جگہ سے اس کو رزق پہنچائے گا جہاں سے وہم و گمان بھی نہ ہو گا۔ وَمَنَ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہُ مَخْرَجًا وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَّایَحْتَسِبُ : الخ

(طلاق آیت نمبر :۲۔۳رکوع۱)

 

انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے سچ کہا اور ہم اس پر گواہ رہیں۔(۱۱۳)

تشریح:یعنی آزمانے کو نہیں مانگتے بلکہ برکت کی امید پر مانگتے ہیں کہ غیب سے بے محنت روزی ملتی رہے تاکہ اطمینان قلب اور دلجمعی سے عبادت میں لگے رہیں۔ اور آپ نے جو غیبی خبریں نعمائے جنت وغیرہ کے متعلق دی ہیں، ایک چھوٹا سا نمونہ دیکھ کر ان کا بھی یقین کامل ہو جائے۔ اور ایک عینی شاہد کے طور پر ہم اس کی گواہی دیں جس سے یہ معجزہ ہمیشہ مشہور رہے۔ بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے وعدہ فرمایا تھا کہ تم خدا کے لئے تیس دن کے روزے رکھ کر جو کچھ طلب کرو گے وہ دیا جائے گا۔ حواریین نے روزے رکھ لئے اور مائدہ طلب کیا وتعلم ان قد صدقتنا سے یہ ہی مراد ہے واللہ اعلم۔

(تفسیرعثمانی)

 

عیسی ابن مریم نے کہا اے اللہ ! ہمارے رب! ہم پر آسمان سے خوان اتار کہ ہمارے پہلوں اور پچھلوں کے لئے عید ہو اور تیری طرف سے نشان ہو، اور ہمیں روزی دے توسب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔(۱۱۴)

تشریح:ایک مؤمن کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اللہ تعالی سے معجزات کی فرمائش کرے؛ کیونکہ ایسی فرمائشیں تو عام طور پر   کافر لوگ کرتے رہے ہیں،البتہ جب انہوں نے یہ وضاحت کی کہ خوانخواستہ اس فرمائش کا منشأ ایمان کا فقدان نہیں ؛بلکہ اللہ تعالی کی نعمتوں کو دیکھ کر مکمل اطمینان کا حصول اور ادائے شکر ہے ،تو حضرت عیسی علیہ السلام نے دعا فرما دی۔

(توضیح القرآن)

 

اللہ نے کہا بیشک میں اتاروں گا پھر اس کے بعد تم میں سے جو ناشکری کرے گا تو میں اس کو ایسا عذاب دوں گا جو نہ عذاب دوں گا جہان والوں میں سے کسی کو۔(۱۱۵)

تشریح:جب نعمت غیر معمولی اور نرالی ہو گی تو اس کی شکر گزاری کی تاکید بھی معمول سے بہت بڑھ کر ہونی چاہئے۔ اور ناشکری پر عذاب بھی غیر معمولی اور نرالا آئے گا۔

(تفسیر عثمانی)

 

جامع ترمذی کی ایک روایت میں حضرت عمار بن یاسر ؓ کا یہ قول مروی ہے کہ خوان اترا تھا پھر جن لوگوں نے نافرمانی کی وہ دنیا ہی میں عذاب کے شکار ہوئے.

(جامع ترمذی،کتاب التفسیر حدیث نمبر:۳۰۶۱)واللہ اعلم(توضیح القرآن)

 

اور جب اللہ نے کہا اے عیسیٰ بن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا؟کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود ٹھہرا لو، اس نے کہا تو پاک ہے میرے لئے روا نہیں کہ میں(ایسی بات)کہوں جس کا مجھے حق نہیں ،اگر میں نے یہ کہا ہوتا تو تجھے ضرور اس کا علم ہوتا تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے،اور میں نہیں جانتا جو تیرے دل میں ہے،بیشک تو چھپی باتوں کو جاننے والا ہے۔(۱۱۶)

تشریح:عیسائیوں کے بعض فرقے تو حضرت مریمؓ کو تثلیث کا ایک حصہ قرار دے کر انہیں معبود مانتے تھے اور دوسرے بعض فرقے اگرچہ انہیں تثلیث کا حصہ قرار نہیں دیتے تھے لیکن جس طرح ان کی تصویر کلیساؤں میں آویزاں کر کے اس کی پرستش کی جاتی تھی وہ بھی ایک طرح سے ان کو خدائی میں شریک قرار دینے کے مرادف تھی اس لئے یہ سوال کیا گیا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

قَالَ سُبْحَانَکَ مَا يَكُوْنُ لِيْ :یعنی میں ایسی گندی بات کیسے کہہ سکتا تھا۔ آپ کی ذات اس سے پاک ہے کہ الوہیت وغیرہ میں کسی کو اس کا شریک کیا جائے۔ اور جس کو آپ پیغمبری کا منصب جلیل عطا فرمائیں۔ اس کی یہ شان نہیں کہ کوئی ناحق بات منہ سے نکالے۔ پس آپ کی سبوحیت اور میری عصمت دونوں کا اقتضاء یہ ہے کہ میں ایسی ناپاک بات کبھی نہیں کہہ سکتا۔ اور سب دلائل کو چھوڑ کر آخری بات یہ ہے کہ آپ کے ”علم محیط” سے کوئی چیز باہر نہیں ہو سکتی، اگر فی الواقع میں ایسا کہتا تو آپ کے علم میں ضرور موجود ہوتا۔ آپ خود جانتے ہیں کہ میں نے خفیہ یا اعلانیہ کوئی ایسا حرف منہ سے نہیں نکالا۔ بلکہ میرے دل میں اس طرح کے گندے خیال کا خطور بھی نہیں ہوا۔ آپ سے میرے یا کسی کے دل کے چھپے ہوئے ہوا جس و خواطر بھی پوشیدہ نہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

میں نے انہیں نہیں کہا مگر صرف وہ جس کا تو نے مجھے حکم دیا کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے اور میں جب تک ان میں رہا ان پر خبردار(باخبر)تھا،پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو ان پر تو نگران تھا اور تو ہر شے سے باخبر ہے۔(۱۱۷)

تشریح:میں نے آپ کے حکم سے سر مو تجاوز نہیں کیا۔ اپنی الوہیت کی تعلیم تو کیسے دے سکتا تھا اس کے بالمقابل میں نے ان کو صرف تیری بندگی کی طرف بلایا اور کھول کھول کر بتلا دیا کہ میرا اور تمہارا سب کا رب (پروردگار) وہ ہی ایک خدا ہے جو تنہا عبادت کے لائق ہے۔ چنانچہ آج بھی بائیبل میں صریح نصوص اس مضمون کی بکثرت موجود ہیں۔

نہ صرف یہ کہ میں نے مخلوق کو تیری توحید اور عبودیت کی طرف دعوت دی، بلکہ جب تک ان کے اندر قیام پذیر رہا، برابر ان کے احوال کی نگرانی اور خبر گیری کرتا رہا کہ کوئی غلط عقیدہ یا بے موقع خیال قائم نہ کر لیں، البتہ ان میں قیام کرنے کی جو مدت آپ کے علم میں مقدر تھی، جب وہ پوری کر کے آپ نے مجھ کو ان میں سے اٹھا لیا (کما یظہر من مادۃ التو فی و مقابلۃ مادمت فیہم) تو پھر صرف آپ ہی ان کے احوال کے نگران اور خبردار ہو سکتے تھے، میں اس کے متعلق کچھ عرض نہیں کر سکتا ۔

(تفسیرعثمانی)

 

اگر تو انہیں عذاب دے تو بیشک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو بخش دے ان کو تو بیشک تو غالب حکمت والا ہے۔(۱۱۸)

 

اللہ نے فرمایا یہ دن ہے کہ سچوں کو نفع دے گا ان کا سچ،ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں،وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے،اللہ راضی ہوا ان سے اور وہ راضی ہوئے اس سے،یہ بڑی کامیابی ہے۔(۱۱۹)

تشریح:جو لوگ اعتقاداً اور قولاً و عملاً سچے رہے ہیں (جیسے حضرت مسیح علیہ السلام) ان کی سچائی کا پھل آج ملے گا۔

ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ :بڑی کامیابی حق تعالیٰ کی رضاء ہے اور جنت بھی اسی لئے مطلوب ہے کہ وہ محل رضائے الہٰی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اللہ کے لئے بادشاہت آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔(۱۲۰)

تشریح: یعنی ہر وفادار اور مجرم کے ساتھ وہی معاملہ ہو گا جو ایک شہنشاہ مطلق کی عظمت و جلال کے مناسب ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

 

۶۔ سورۂ الانعام

 

                تعارف

 

یہ سورت چونکہ مکہ مکرمہ کے اس دور میں نازل ہوئی تھی جب آنحضرتﷺ کی دعوت اسلام اپنے ابتدائی دور میں تھی اس لئے اس میں اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید ،رسالت اور آخرت کو مختلف دلائل کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے اور ان عقائد پر جو اعتراضات کفار کی طرف سے اٹھائے جاتے تھے ان کا جواب دیا گیا ہے،کفار مکہ اپنے مشرکانہ عقائد کے نتیجے میں جن بے ہودہ رسموں اور بے بنیاد خیالات میں مبتلا تھے ان کی تردید فرمائی گئی ہے، عربی زبان میں اَنعام چوپایوں کو کہتے ہیں، عرب کے مشرکین مویشیوں کے بارے میں بہت سے غلط عقیدے رکھتے تھے، مثلاً ان کو بتوں کے نام پر وقف کر کے ان کا کھانا حرام سمجھتے تھے؛ چونکہ اس سورت میں ان بے بنیاد عقائد کی تردید کی گئی ہے (دیکھئے آیات۱۳۶تا۱۴۶) اس لئے اس کا نام سورۃ الانعام رکھا گیا ہے ،بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ چند آیتوں کو چھوڑ کر یہ پوری سورت ایک ہی مرتبہ نازل ہوئی تھی؛ لیکن علامہ آلوسی ؒ نے اپنی تفسیر روح المعانی میں ان روایتوں پر تنقید کی ہے۔واللہ سبحانہ اعلم۔

(توضیح القرآن)

مکیہ

 

آیات:۱۶۵ رکوعات:۲۰

 

اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور اندھیرے اور روشنی کو بنایا،پھر کافر اپنے رب کے ساتھ برابر کرتے ہیں (اوروں کو برابر ٹھہراتے ہیں)(۱)

تشریح:”مجوس” دنیا کے لئے دو خالق مانتے ہیں ”یزدان” جو خالق خیر ہے اور ”اہرمن” جو خالق شر ہے۔ اور دونوں کو نور و ظلمت سے ملقب کرتے ہیں۔ ہندوستان کے مشرک تینتیس کروڑ دیوتاؤں کے قائل ہیں۔ آریہ سماج باوجود ادعائے توحید ”مادہ” اور ”روح” کو خدا کی طرح غیر مخلوق اور انادی کہتے اور خدا کو اپنی صفت تکوین و تخلیق وغیرہ میں ان دونوں کا محتاج بتلاتے ہیں۔ عیسائیوں کو باپ بیٹے کا توازن و تناسب قائم رکھنے کے لئے آخر تین ایک اور ایک تین کا مشہور عقیدہ اختیار کرنا پڑا ہے۔ یہودیوں نے خدا تعالیٰ کے لئے وہ صفات تجویز کیں کہ ایک معمولی انسان بھی نہ صرف اس کا ہمسر بلکہ اس سے برتر ہو سکتا ہے۔ عرب کے مشرکین نے تو خدائی کی تقسیم میں یہاں تک سخاوت دکھلائی کہ شاید ان کے نزدیک پہاڑ کا ہر پتھر نوعِ انسانی کا معبود بننے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ غرض آگ’ پانی’ سورج’ ستارے’ درخت’ پتھر’ حیوان کوئی چیز لوگوں نے نہ چھوڑی جسے خدائی کا کچھ حصہ نہ دیا اور عبادت و استعانت وغیرہ کے وقت اسے خدا کی برابر نہ بٹھایا ہو۔ حالانکہ وہ ذات پاک جو تمام صفات و کمال کی جامع اور ہر قسم کی خوبیوں کا منبع ہونے کی وجہ سے سب تعریفوں اور ہر طرح کی حمد و ثناء کی بلا شرکت غیر مستحق ہے۔ جس نے آسمان و زمین یعنی کل علویات و سفلیات کو پیدا کیا اور رات دن اندھیرا اجالا علم و جہل ہدایت و ضلالت موت و حیات غرض متقابل کیفیات اور متضاد احوال ظاہر فرمائے۔ اسے اپنے افعال میں نہ کسی حصہ دار یا مددگار کی ضرورت ہو سکتی ہے نہ بیوی اور اولاد کی نہ اس کی معبودیت اور الوہیت میں کوئی شریک ہو سکتا ہے اور نہ ربوبیت میں نہ اس کے ارادہ پر کوئی غالب آ سکتا ہے اور نہ اس پر کسی کا دباؤ اور زور چل سکتا ہے پھر تعجب ہے ان حقائق کو سمجھنے کے بعد بھی کس طرح لوگ کسی چیز کو خدائی کا مرتبہ دے دیتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک وقت مقرر کیا اور اس کے ہاں ایک وقت مقرر ہے پھر تم شک کرتے ہو۔(۲)

تشریح: اوپر “عالم کبیر”کی پیدائش کا ذکر تھا یہاں “عالم صغیر”(انسان) کی خلقت کو بیان فرماتے ہیں کہ دیکھو شروع میں بے جان مٹی سے آدم علیہ السلام کا پتلا تیار کر کے کس طرح حیات اور کمالات انسانی فائض کئے اور آج بھی مٹی سے غذائیں نکلتی ہیں، غذاؤں سے نطفہ اور نطفہ سے انسان بنتے رہتے ہیں۔ غرض اس طرح تم کو عدم سے وجود میں لائے۔ پھر ہر شخص کی موت کا ایک وقت مقرر کر دیا جبکہ آدمی دوبارہ اس مٹی میں جا ملتا ہے جس سے پیدا کیا گیا تھا۔ اسی پر قیاس کر سکتے ہو کہ “عالم کبیر”کی فنا کا بھی ایک وقت مقرر ہے جسے ”قیامت کُبریٰ ”کہتے ہیں۔ ” قیامت صغریٰ ”یعنی شخصی موتیں چونکہ ہمیں پیش آتی رہتی ہیں ان کا علم بھی لوگوں کو ہوتا رہتا ہے لیکن ”قیامت کبریٰ” کی ٹھیک مدت کا علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ تعجب ہے کہ ” عالم صغیر ” یعنی انسانوں میں زندگی اور فنا کا سلسلہ دیکھتے ہوئے بھی ” عالم کبیر ”کی فنا میں کوئی آدمی تردُّد کرتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور وہی ہے اللہ آسمانوں میں اور زمین میں وہ تمہارا ظاہر اور تمہارا باطن جانتا ہے جو تم کماتے ہو(کرتے ہو)(۳)

تشریح: یعنی تمام آسمانوں اور زمینوں میں تنہا وہی معبود، مالک، بادشاہ، متصرِّف اور مدبرِّ ہے اور یہ نام مبارک (اللہ) بھی صرف اسی کی ذات متعالی الصفات کیلئے مخصوص رہا ہے۔ پھر اوروں کیلئے استحقاقِ معبودیت کہاں سے آیا۔

ف٣ جب تمام زمین و آسمان میں اسی کی حکومت ہے اور وہ بلا واسطہ ہر کھلی چھپی چیز اور انسان کے ظاہر و باطن اور چھوٹے بڑے عمل پر مطلع ہے تو عابد کو اپنی عبادت و استعانت وغیرہ میں کسی غیر اللہ کو شریک ٹھہرانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ مشرکین جو ” مَا نَعْبَدُ ھُمْ اِلاَّ لِیُقَرِّ بُوْ نَآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی” کہا کرتے تھے۔ یہ ان کا اور انکے ہم نواؤں کا جواب ہوا۔ اور پہلے وَاَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَہ، سے جو قیامت کی طرف اشارہ کیا تھا۔ یہاں سلسلہ مجازات پر متنبہ فرما دیا کہ زمین و آسمان میں حکومت ہماری ہے اور تمہارے سب کھلے چھپے نیک و بد اعمال بھی ہمارے علم میں موجود ہیں۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ تم یونہی مہمل چھوڑ دیئے جاؤ۔

 

اور ان کےپاس نہیں آئی ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی،مگر وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں (۴)

پس بیشک انہوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا سوجلدی اس کی حقیقت ان کے سامنے آ جائے گی جسکا وہ مذاق اڑاتے تھے(۵)

تشریح: حق سے مراد غالباً قرآن کریم ہے جو نشانہائے قدرت سے تغافل برتنے والوں کی بد انجامی اور دنیاوی و اُخروی سزا کو بیان کرتا ہے اسے سن کر منکرین تکذیب و استہزاء کرتے تھے انھیں جتلا دیا کہ جس بات پر تم ہنستے اور آوازیں کستے ہو وہ حقیقت ثابتہ بنکر عنقریب تمہارے سامنے آ جائے گی۔ آگے ان اقوام کا حوالہ دیا ہے جو آیات اللہ کی تکذیب و استہزاء اور بد اعمالیوں کی بدولت ہلاک کی گئیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا انہوں نے نہیں دیکھا ہم نے ان سے قبل کتنی امتیں ہلاک کیں؟ہم نے انہیں ملک میں جمایا تھا (اقتدار دیا تھا) جتنا تمہیں نہیں جمایا (اقتدار دیا) اور ہم نے ان پر موسلا دھار برستا بادل بھیجا اور ہم نے نہریں بنائیں ان کے نیچے بہتی ہیں ،پھر ہم نے ان کے گناہوں کے سبب انہیں ہلاک کیا اور ان کے بعد ہم نے دوسری امتیں کھڑی کیں(پیدا کیں)(۶)

تشریح:یعنی عاد و ثمود وغیرہ جن کو تم سے بڑھ کر طاقت اور سازو سامان دیا گیا تھا۔ بارشوں اور نہروں کی وجہ سے ان کے باغ اور کھیت شاداب تھے، عیش و خوشحالی کا دور دورہ تھا۔ جب انھوں نے بغاوت اور تکذیب پر کمر باندھی اور نشانہائے قدرت کی ہنسی اڑانے لگے۔ تو ہم نے ان کے جرموں کی پاداش میں ایسا پکڑا کہ نام و نشان بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھر انکے بعد دوسری امتیں پیدا کیں اور منکرین و  مکَذِّبین کے ساتھ یہ ہی سلسلہ جاری رہا کیا۔ مجرمین تباہ ہوتے رہے اور دنیا کی آبادی میں کچھ خلل نہیں پڑا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اگر ہم اتاریں تم پر کاغذ میں لکھا ہوا پھر وہ اسے اپنے ہاتھ سے چھو(بھی)لیں،البتہ کافر کہیں گے یہ نہیں ہے مگر(صرف)کھلا جادو(۷)

اور کہتے ہیں اس پر فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ اور اگر ہم فرشتہ اتارتے تو کام تمام ہو گیا ہوتا،پھر انہیں مہلت نہ دی جاتی(۸)

تشریح: بعض مشرکین مکہ نے کہا تھا کہ اگر آپ آسمان سے ایک لکھی لکھائی کتاب لے آئیں اور اس کے ساتھ چار فرشتے بھی ہوں جو ہمارے سامنے ہو کر گواہی دیں کہ بیشک یہ کتاب خدا کی بھیجی ہوئی ہے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اس کا جواب دیا کہ جو لوگ بحالت موجودہ قرآن کو جادو اور اس کے لانے والے کو جادوگر بتلاتے ہیں اگر واقعی ہم ان پر کاغذ میں لکھی ہوئی کتاب بھی آسمان سے اتار دیں جسے یہ ہاتھوں سے چھو کر معلوم کر لیں کہ کوئی تخیل یا نظر بندی نہیں ہے۔ تب بھی یہ ہی کہیں گے کہ یہ تو صریح جادو ہے جس بدبخت کے حصہ میں ہدایت نہیں ہوتی اس کا شبہ کبھی نہیں مٹتا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اگر ہم اسے فرشتہ بناتے توہم اسے آدمی(ہی)بناتے اور  ہم ان پر شبہ ڈالتے(جس میں وہ اب)پڑرہے ہیں(۹)

تشریح:اگر فرشتہ اپنی اصلی صورت میں آئے تو یہ لوگ ایک منٹ کیلئے بھی اس کا تحمل نہ کر سکیں اس کے رعب و ہیبت سے دم نکل جائے۔ یہ صرف انبیاء علیہم السلام ہی کا ظرف ہوتا ہے جو اصلی صورت میں فرشتہ کی رویت کا تحمل کر سکتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بھر میں دو مرتبہ حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے۔ اور  کسی نبی کی نسبت ایک مرتبہ بھی ثابت نہیں۔ دوسرے اگر ان لوگوں کی ایسی عظیم الشان خارق عادت فرمائش پوری کر دی جائے اور  اس پر بھی نہ مانے جیسا کہ ان کے معاندانہ احوال واطوار سے ظاہر ہے تو سنت اللہ کے موافق پھر قطعاً مہلت نہ دی جائے گی اور ایسا عذاب آئے گا جو فرمائش کرنے والوں کو بالکل نیست ونابود کر دے گا۔ اس لحاظ سے اس طرح کی فرمائشوں کا پورا نہ کرنا بھی عین رحمت سمجھنا چاہئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور البتہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ ہنسی کی گئی تو گھیر لیا ان میں سے ہنسی کرنے والوں کو(اس چیز نے)جس پر وہ ہنسی کرتے تھے(۱۰)

تشریح:چونکہ فرشتہ کو اصلی صورت میں بھیجنے کی نفی تو پہلی آیت میں ہو چکی ہے اب دوسرے احتمال کا جواب دیتے ہیں وہ یہ کہ فرشتہ آدمی کی صورت میں بھیجا جائے، کیونکہ اسی صورت میں مجانست صوری کی بناء پر لوگ اس کے نمونہ اور تعلیم سے منتفع ہو سکتے ہیں لیکن اس تقدیر پر منکرین کے شبہات کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ جو شکوک و شبہات رسول کے بشر ہونے پر کرتے تھے وہ ملک کے بصورت بشر آنے پر بھی بدستور کرتے رہیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ کہہ دیں ملک میں سیر کرو(چل پھر کر دیکھو)پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا؟(۱۱)

تشریح:یعنی ملک کی سیر وسیاحت اور تباہ شدہ اقوام کے آثار کا ملاحظہ کرنے کے بعد اگر نظر عبرت سے واقعات ماضیہ کو دیکھو گے تو انبیاء کی تکذیب کرنے والی قوموں کا جو انجام دنیا میں ہوا وہ صاف نظر آ جائے گا۔ اسی سے قیاس کر لو کہ جب تکذیب کرنے والوں کا یہ حشر ہوا تو استہزاء کرنے والوں کا کیا حشر ہو گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ پوچھیں کس کے لئے ہے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے ؟کہہ دیں(سب)اللہ کے لئے ہے ،اللہ نے اپنے اوپر رحمت لکھ لی ہے (اپنے ذمہ لے لی ہے)قیامت کے دن تمہیں ضرور جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں، جن لوگوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا وہی ایمان نہیں لائیں گے(۱۲)

تشریح:جب تمام آسمان و زمین میں اسی خدا کی حکومت ہے جیسا کہ مشرکین کو بھی اقرار تھا تو مکذبین و مستہزئین کو فوری سزا سے کہاں پناہ مل سکتی ہے؟ یہ صرف اس کی رحمت عامہ ہے کہ جرائم کو دیکھ کر فوری سزا جاری نہیں کرتا اور قیامت کے دن بھی جو بلاشبہ آنے والا ہے محض ان ہی بدبختوں کو بے ایمانی کی سزا دے گا جو باختیار خود جان بوجھ کر اپنے کو نقصان و ہلاکت کے گڑھے میں ڈال چکے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اس کے لئے ہے جو بستا ہے رات میں اور دن میں اور وہ سننے والا جاننے والا ہے(۱۳)

آپ کہہ دیں کیا میں اللہ کے سوائے (کسی اور کو)کارساز بناؤں؟(جو)آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے وہ(سب کو)کھلاتا ہے اور وہ خود نہیں کھاتا، آپ کہہ دیں بیشک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے ہو جاؤں جس نے حکم مانا اور تم ہرگز شرک کرنے والوں سے نہ ہونا(۱۴)

تشریح:قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰ تِ وَالْاَرْضِ میں مکان کی تعمیم تھی وَلَہ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّھَارِ میں زمانہ کے اعتبار سے تعمیم ہے یعنی ہر جگہ اور ہر وقت اسی کی حکومت اور قبضہ و اقتدار ہے۔ ہر وہ چیز جو رات میں یا دن میں آرام سے زندگی بسر کرتی اور کتنے معلوم و نامعلوم دشمنوں سے مامون و محفوظ رہتی ہے۔ یہ اسی کی رحمت کاملہ کے آثار میں سے ہے قُلْ مَنْ یَّکْلَؤُکُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّھَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ (انبیاء آیت نمبر ٤٢) و ہی ہے جو دن کے شور و غل اور رات کے اندھیرے اور سناٹے میں ہر ایک کی پکار سنتا ہے اور سب کی حوائج و ضروریات کو بخوبی جانتا ہے۔ پھر تم ہی بتاؤ کہ ایسے پروردگار کو چھوڑ کر کسی اور سے مدد طلب کرنا کہاں تک موزوں ہو گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ کہہ دیں بیشک اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں(۱۵)

تشریح:یہ آپ پر رکھ کر اوروں کو سنایا گیا ہے یعنی بفرض محال اگر خدا کے معصوم و برگزیدہ ترین بندے سے بھی کسی طرح کا عصیان سرزد ہو تو عذاب الہٰی کا اندیشہ ہوتا ہے پھر کسی دوسرے کو کب لائق ہے کہ باوجود شرک و کفر اور تکذیب انبیاء وغیرہ ہزاروں طرح کے جرائم میں مبتلاء ہونے کے عذاب الہٰی سے بے فکر اور مامون ہو کر بیٹھ رہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس دن جس سے(عذاب)پھیر دیا جائے تحقیق اس پر اللہ نے رحم کیا اور یہ کھلی کامیابی ہے(۱۶)

اور اگر اللہ تمہیں کوئی سختی پہنچائے تو کوئی دور کرنے والا نہیں اس کو اس کے سوا،اور اگر وہ کوئی بھلائی پہنچائے تمہیں تووہ ہر شے پر قادر ہے(۱۷)

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ حکمت والا(سب کی)خبر رکھنے والا ہے(۱۸)

تشریح:دنیا یا آخرت میں جو تکلیف یا راحت خدا کسی کو پہنچانا چاہے نہ کوئی مقابلہ کر کے روک سکتا ہے اور نہ اس کے غلبہ و اقتدار کے نیچے سے نکل کر بھاگ سکتا ہے۔ وہ پوری طرح خبردار ہے کہ کس بندے کے کیا حالات ہیں اور ان حالات کے مناسب کس قسم کی کارروائی قرین حکمت ہو گی۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ کہیں سب سے بڑی گواہی کس کی؟آپ کہہ دیں میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے،اور مجھ پر یہ قرآن وحی کیا گیا ہے کہ میں تمہیں اس سے ڈراؤں اور جس تک یہ پہنچے کیا تم (واقعی)گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں آپ کہہ دیں میں (ایسی)گواہی نہیں دیتا آپ کہہ دیں صرف وہ معبود یکتا ہے اور میں ا سے بیزار ہوں جو تم شرک کرتے ہو(۱۹)

تشریح: جب یہ فرمایا کہ خدا ہی سب نفع و ضرر کا مالک، تمام بندوں پر غالب و قاہر اور رتی رتی سے خبردار ہے تو اس کی شہادت سے زبردست اور بے لوث شہادت کس کی ہو سکتی ہے، پس میں بھی اپنے تمہارے درمیان اسی کو گواہ ٹھہراتا ہوں۔ کیونکہ میں نے دعویٰ رسالت کر کے جو کچھ اس کے پیغامات تم کو پہنچائے اور جو کچھ تم نے اس کے جواب میں میرے ساتھ اور خود پیغام ربانی کے ساتھ برتاؤ کیا وہ سب اس کی آنکھ کے سامنے ہے۔ وہ خود اپنے علم محیط کے موافق میرا اور تمہارا فیصلہ کر دے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی وہ اس کو پہچانتے ہیں ،جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ،جن لوگوں نے خسارہ میں ڈالا اپنے آپ کو سووہ ایمان نہیں لاتے(۲۰)

تشریح:یعنی اس کے علاوہ کہ میری صداقت کا خدا گواہ ہے اور قرآن کریم اس کی ناطق اور ناقابل تردید شہادت دے رہا ہے۔ وہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) بھی جن کی طرف کتب سماویہ کا عالم سمجھ کر تم میرے معاملہ میں رجوع کرتے ہو، اپنے دلوں میں پورا یقین رکھتے ہیں کہ بلاشبہ میں ہی وہ ” نبی آخرالزماں ” ہوں جس کی بشارت انبیائے سابقین دیتے چلے آئے ہیں۔ ان کو جس طرح بہت سے بچوں میں سے اپنی اولاد کے شناخت کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی، ایسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی صداقت کے معلوم کرنے میں بھی کوئی شبہ اور دھوکہ نہیں ہے۔ البتہ حسد، کبر، تقلید آباء، اور حب جاہ و مال وغیرہ اجازت نہیں دیتے کہ مشرف بایمان ہو کر اپنی جانوں کو نقصان دائمی اور ہلاکت ابدی سے بچائیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

 

اور کون ہے سب سے بڑا ظالم اس سے جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اس کی آیتیں جھٹلائے، بلاشبہ وہ ظالم فلاح نہیں پاتے۔(۲۱)

تشریح: یعنی نبی نہ ہو اور خدا پر افتراء کر کے دعویٰ نبوت کر بیٹھے یا سچے نبی سے جس کی صداقت کے دلائل واضحہ موجود ہوں خدائی پیام سن کر تکذیب پر کمر بستہ ہو جائے۔ ان دونوں سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ہو سکتا اور سنت اللہ یہ ہے کہ ظالم کو انجام کار کامیابی اور بھلائی نصیب نہیں ہوتی۔ پس اگر فرض کرو معاذاللہ میں مفتری ہوں تو ہرگز کامیاب نہ ہوں گا اور تم مکذب ہو جیسا کہ دلائل سے ظاہر ہے تو تمہاری خیریت نہیں۔ لہٰذا حالات میں غور کر کے اور انجام سوچ کر عاقبت کی فکر کرو۔ اور اس دن سے ڈرو جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ ابن کثیر نے آیت کے یہی معنی لئے ہیں اور بعض مفسرین نے اِفتِراءً عَلیَ اﷲ سے مشرکین کا شرک مراد لیا جیسا کہ آگے ”وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّاکَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ” میں اشارہ ہے۔ واللہ اعلم

(تفسیرعثمانی)

 

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے،پھر ہم کہیں گے مشرکوں کو،کہاں ہیں تمہارے شریک؟ جن کا تم دعوی کرتے تھے(۲۲)

تشریح:جن کی نسبت تم کو دعویٰ تھا کہ وہ خدائی کے حصہ دار اور شدائد میں تمہارے شفیع و مددگار ہیں، آج ایسی سختی اور مصیبت کے وقت کہاں چلے گئے کہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آتے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پھر نہ رہی ان کی شرارت(ان کا عذر)اس کے سوا کہ وہ کہیں ہمارے رب اللہ کی قسم ہم شرک کرنے والے نہ تھے(۲۳)

تشریح: یعنی بجز انکار واقعات کے کچھ کرتے دھرتے نہ بن پڑے گی۔ باطل معبودین کی جس عقیدت و محبت میں مفتون ہو رہے تھے، اس کی حقیقت صرف اتنی رہ جائے گی کہ ساری عمر کے عقیدے اور تعلق سے بھی انکار کر بیٹھیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

دیکھو انہوں نے کیسے جھوٹ باندھا اپنی ذات پر اور وہ جو باتیں بناتے تھے ان سے کھوئی گئیں(۲۴)

تشریح: یعنی اس صریح جھوٹ سے مشرکین کی انتہائی بد حواسی اور شرکاء کی غایت بے چارگی اور درماندگی کا اظہار ہو گا۔ کاش مشرکین اس رسوا کن انجام کو دنیا ہی میں سمجھ لیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ان سے (بعض) آپ کی طرف کان لگائے رکھتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دئے ہیں کہ وہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے،اور اگر وہ دیکھیں تمام نشانیاں(پھر بھی)اس پر ایمان نہ لائیں گے یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے جھگڑتے ہیں کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا(کافر)یہ صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں (۲۵)

تشریح:یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو بغرض اعتراض و عیب جوئی قرآن کریم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کی طرف کان لگاتے تھے ہدایت سے منتفع ہونا اور حق کو قبول کرنا مقصود نہ تھا۔ نصیحت و ہدایت سے مسلسل اعراض کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ قبول حق کے وسائل و قوی انجام کار ماؤف ہو کر رہ گئے، حق کے سمجھنے سے ان کے دل محروم کر دیئے گئے۔ پیغام ہدایت کا سننا کانوں کو بھاری معلوم ہونے لگا، آنکھیں نظر عبرت سے ایسی خالی ہو گئیں کہ ہر قسم کے نشانات دیکھ کر بھی ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوتی۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور وہ اس سے دوسروں کو روکتے ہیں اور (خود بھی)اس سے بھاگتے ہیں،اور صرف اپنے آپ کو ہلاک کرتے ہیں اور شعور نہیں رکھتے(۲۶)

تشریح:یعنی ان میں نہ فہم رہا ہے نہ انصاف، ایمان لانا اور ہدایت ربانی سےفائدہ اٹھانا تو کجا، ان کی غرض تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آنے سے صرف مجادلہ (جھگڑنا) اور پھبتیاں اُڑانا ہے۔ چنانچہ قرآنی حقائق و بیانات کو معاذاللہ اساطیر الاولین کہتے ہیں۔ پھر اس تکذیب اور جدل و تمسخر پر اکتفا نہیں، کوشش یہ ہے کہ دوسروں کی طرف بھی اپنی بیماری کا تعدیہ کریں، چنانچہ لوگوں کو حق سے روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں تاکہ انھیں دیکھ کر دوسرے قبول حق سے نفور و بیزار ہو جائیں۔ مگر ان تمام ناپاک کوششوں سے نہ بحمد اللہ دین حق کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے وہ تو غالب ہو کر رہے گا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، کہ ان کی عصمت و رفعت کا تکفل حق تعالیٰ فرما چکا ہے۔ ہاں یہ احمق خود اپنے لئے ہلاکت ابدی کا سامان فراہم کر رہے ہیں۔ اور سمجھتے بھی نہیں کہ ہم اپنے ہاتھ سے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور کبھی تم دیکھو جب وہ آگ(دوزخ)پر کھڑے کئے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش!ہم واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلائیں اور ہو جائیں ایمان والوں میں سے(۲۷)

تشریح:اللہ رب العزت کے آیتوں کو جھٹلانا صرف اس وقت تک ہے جب اللہ کا عذاب و ہوش ربا منظر سامنے نہ ہو،جس وقت دوزخ کی ذرا سی بھی ہوا لگ جائے گی تو ساری شیخی کرکری ہو جائے گی اور درخوست کریں گے کہ ہم کو دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ آئندہ کبھی اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے ایمان دار بن کر رہیں؛ لیکن اس وقت کی یہ ندامت کوئی فائدہ نہیں دے گی۔

(تفسیرعثمانی)

 

بلکہ وہ اس سے قبل جو چھپاتے تھے ان پر ظاہر ہو گیا اور وہ اگر واپس بھیجے جائیں تو پھر(وہی)کرنے لگیں جس سے وہ روکے گئے اور بیشک وہ جھوٹے ہیں(۲۸)

تشریح: اب بھی جھوٹ کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں واپس ہو کر پکے ایماندار بن جائیں گے اور ہرگز آیات اللہ کی تکذیب نہ کریں گے یہ اشقیاء اگر دنیا میں واپس کر دیئے جائیں تو بدی اور شرارت کی جو قوتیں ان میں رکھی ہیں پھر انہی کو کام میں لائیں گے اور جس مصیبت سے گھبرا کر جانے کی تمنا کر رہے ہیں اسے خواب و خیال کی طرح فراموش کر دیں گے، جیسا کہ بسا اوقات دنیاوی مصائب و مہالک میں پھنس کر آدمی انابت و توبہ اختیار کر لیتا ہے پھر جہاں چند روز گزرے کچھ بھی یاد نہیں رکھتا کہ اس وقت کیا عہد و پیمان کئے تھے۔ کَاَنْ لَّمْ یَدْ عُنَا اِلٰی ضُرِّ مَّسَّہ۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور کہتے ہیں ہماری صرف یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم اٹھائے جانے والے نہیں(ہمیں پھر زندہ نہیں ہونا ہے)(۲۹)

تشریح:اللہ کی آیتوں کو جھٹلانے والے اس دنیاوی زندگی کے بارے میں کہتے ہیں کہ: خوب مزے اڑا لو۔ دنیاوی عیش کو خواہ مخواہ آخرت  کی وجہ سےمت  چھوڑو۔ یہی حال آج کل یورپ کے مادہ پرستوں کا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور کبھی تم دیکھو جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے وہ فرمائے گا کیا یہ نہیں سچ؟ وہ کہیں گے ہاں ہمارے رب کی قسم(کیوں نہیں)وہ فرمائے گا پس عذاب چکھو اس لئے کہ تم کفر کرتے تھے(۳۰)

تشریح:یعنی جب حقیقت آنکھوں کے سامنے آ جائے گی اور ”بعث بعد الموت ” وغیرہ کے اقرار سے چارہ نہ رہے گا، تب کہا جائے گا کہ انکار حقیقت اور آخرت کے دن کو جھٹلانے کا  مزہ چکھو۔

(تفسیرعثمانی)

 

تحقیق وہ لوگ گھاٹے میں پڑے جنہوں نے اللہ کے ملنے کو جھٹلایا یہاں تک کہ اچانک ان پر قیامت آپہنچی،کہنے لگے ہائے ہم پر افسوس!جو ہم نے اس میں کوتاہی کی،اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے،آگاہ رہو برا ہے جو وہ اٹھائیں گے(۳۱)

تشریح:انسان کی بڑی شقاوت اور بدبختی یہ ہے کہ ”لقاء اللہ ” سے انکار کرے اور زندگی کے اس بلند ترین مقصد کو جھوٹ سمجھے۔ یہاں تک کہ جب موت یا قیامت سر پر آ کھڑی ہو تب بے فائدہ کف افسوس ملتا رہ جائے کہ ہائے میں نے اپنی دنیاوی زندگی میں یا یوم قیامت کیلئے تیاری کرنے میں کیسی ناقابل تلافی کوتاہی کی اس وقت اس افسوس و حسرت سے کچھ نہ ہو گا۔ جرموں اور شرارتوں کے بار گراں کو جس سے اس کی پشت خمیدہ ہو گی، یہ نا وقت کا تأسف و تحسر ذرا بھی ہلکا نہ کر سکے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور دنیا کی زندگی صرف کھیل اور جی کا بہلاوا ہے،اور آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو پرہیز گاری کرتے ہیں،سو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے(۳۲)

تشریح:کفار تو یہ کہتے تھے کہ دنیاوی زندگی کے سوا کوئی زندگی ہی نہیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ فانی اور مکدر زندگانی حیات اخروی کے مقابلہ میں محض ہیچ اور بے حقیقت ہے۔ یہاں کی زندگی کے صرف انہی لمحات کو زندگی کہا جا سکتا ہے جو آخرت کی درستی میں خرچ کئے جائیں۔ بقیہ تمام اوقات جو آخرت کی فکر و تیاری سے خالی ہوں ایک عاقبت اندیش کے نزدیک لہو و لعب سے زائد وقعت نہیں رکھتے۔ پرہیز گار اور سمجھدار لوگ جانتے ہیں کہ ان کا اصلی گھر آخرت کا گھر اور انکی حقیقی زندگی آخرت کی زندگی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک ہم جانتے ہیں آپ کو وہ(بات)ضرور رنجیدہ کرتی ہے جو وہ کہتے ہیں سووہ یقیناً آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں(۳۳)

اور البتہ رسول جھٹلائے گئے آپ سے پہلے،پس انہوں  نے صبر کیا اس پر جو وہ جھٹلائے گئے اور ستائے گئے یہاں تک کہ ان پر ہماری مدد آ گئی،اور (کوئی) بدلنے والا نہیں اللہ کی باتوں کو،اور البتہ آپ کے پاس رسولوں کی کچھ خبریں پہنچ رہی ہیں(۳۴)

تشریح:خلائق کے حال پر شفقت و ہمدردی سارے جہان سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ڈالی گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان بدبختوں کی تکذیب و اعراض، مستقبل کی تباہی اور مشرکانہ و ملحدانہ کلمات سے سخت رنج اور صدمہ محسوس فرماتے تھے۔ ان آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی اور ان اشقیاء کو دھمکی دی گئی ہے کہ آپ ان کے اعراض وتکذیب سے اس قدر دلگیر اور بے چین نہ ہوں، یہ لوگ جو تکذیب کر رہے ہیں فی الحقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں جھٹلاتے کیونکہ آپ کو تو پہلے سے بالاتفاق صادق و امین سمجھتے تھے، بلکہ خدا کی آیات و نشانات کا جو پیغمبر علیہ السلام کی تصدیق و تبلیغ کیلئے بھیجی گئی ہیں، جان بوجھ کر از راہ ظلم و عناد انکار کر رہے ہیں تو آپ بھی ان ظالموں کا معاملہ خدا کے سپرد کر کے مطمئن ہو جائیے۔ وہ خود ان کے ظلم اور آپ کے صبر کا پھل دینے والا ہے۔ انبیاء سابقین کے ساتھ بھی جن کے کچھ حالات آپ کو سنائے جا چکے ہیں ان کی قوموں نے تکذیب و ایذاء رسانی کا برتاؤ کیا جس پر خدا کے معصوم پیغمبر نہایت اولوالعزمی سے صبر کرتے رہے حتی کہ حسب وعدہ خدا کی مدد پہنچی اور بڑے زبردست متکبرین کے مقابلہ میں ان کو مظفر و منصور کیا گیا۔ آپ سے جو نصر و ظفر کے وعدے کیے گئے ہیں ایک ایک کر کے پورے ہوں گے۔ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں مگر خدا کا وعدہ نہیں ٹل سکتا۔ کس کی طاقت جو خدا کی باتوں کو بدل ڈالے یعنی جو اس نے کہا ہے اسے واقع نہ ہونے دے۔ مکذبین کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی جنگ حقیقۃً محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ذات سے نہیں بلکہ رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے جس نے ان کو اپنا سفیر اعظم اور معتمد بنا کر کھلے نشانات کے ساتھ بھیجا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ان خدائی نشانات کی تکذیب ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اگر آپ پر گراں ہے ان کا منہ پھیرنا تو اگر تم سے ہو سکے تو زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈ نکالو پھر ان کے پاس کوئی نشانی لے آؤ،اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع کر دیتا،سو آپ بے خبروں میں سے نہ ہوں(۳۵)

تشریح:آنحضرتﷺ کو اللہ تعالی نے بہت سے معجزات عطا فرمائے تھے، جن میں سب سے بڑا معجزہ خود قرآنِ کریم تھا؛ کیونکہ آپ کے اُمی ہونے کے باوجود یہ فصیح و بلیغ کلام آپ پر نازل ہوا،تنہا یہی ایک معجزہ ایک حق کے طلب گار کے لئے کافی تھا؛ لیکن کفار مکہ اپنی ضد اور عناد کی وجہ سے ہر روز نت نئے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، اس سلسلے میں جس قسم کے بیہودہ مطالبات وہ کرتے تھے ان کی ایک فہرست قرآن کریم نے سوۂ بنی اسرائیل(۱۵۔۸۹) میں بیان فرمائی ہے،اس پر کبھی کبھی آنحضرتﷺ کو بھی یہ خیال ہوتا تھا کہ اگر ان کے فرمائشی معجزات میں سے کوئی معجزہ دکھا دیا جائے تو شاید یہ لوگ ایمان لا کر جہنم سے بچ جائیں،اس آیت میں آنحضرتﷺ سے مشفقانہ خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ درحقیقت ان کے یہ مطالبات محض ہٹ دھرمی پر مبنی ہیں اور جیسا کے پیچھے آیت نمبر۲۵ میں کہا گیا ہے،یہ اگر ساری نشانیاں دیکھ لیں گے تب بھی ایمان نہیں لائیں گے، اس لئے ان کے مطالبات کا پورا کرنا نہ صرف بیکار ہے بلکہ اللہ تعالی کی اس حکمت کے خلاف ہے جس کی طرف اشارہ آگے آیت نمبر:۳۷ میں آ رہا ہے ،ہاں اگر آپ خود ان کے مطالبات پورے کرنے کے لئے ان کے کہنے کے مطابق زمین کے اندر جانے کے لئے کوئی سرنگ بنا سکیں یا آسمان پر چڑھنے کے لئے سیڑھی ایجاد کرسکیں تو یہ بھی کر دیکھیں اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالی کے حکم کے بغیر آپ ایسا نہیں کرسکتے، اس لئے یہ فکر چھوڑ دیجئے کہ ان کے منہ مانگے معجزات انہیں دکھائے جائیں ،پھر اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالی اگر چاہتا توسارے انسانوں کو زبردستی ایک ہی دین کا پابند بنا دیتا ،لیکن درحقیقت انسان کو دنیا میں بھیجنے کا بنیادی مقصد امتحان ہے اور اس امتحان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان زور زبردستی سے نہیں بلکہ خود اپنی سمجھ سے کام لے کر ان دلائل پر غور کرے جو پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے توحید رسالت اور آخرت پر ایمان لائے، انبیاء کرام لوگوں کی فرمائش پر نت نئے کرشمے دکھانے کے لئے نہیں ان دلائل کی طرف متوجہ کرنے کے لئے بھیجے جاتے ہیں اور آسمانی کتابیں اس امتحان کو آسان کرنے کے لے نازل کی جاتی ہیں مگر ان سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دل میں حق کی طلب ہو،اور جو لوگ اپنی ضد پر اڑے رہنے کی قسم کھا چکے ہوں ان کے لئے نہ کوئی بڑی سے بڑی دلیل کار آمد ہو سکتی ہے نہ کوئی بڑے سے بڑا معجزہ۔

(تفسیرعثمانی)

 

مانتے صرف وہ ہیں جو سنتے ہیں،اور مردوں کو اللہ اٹھائے گا(دوبارہ زندہ کرے گا)پھر وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے(۳۶)

تشریح:یعنی سب سے توقع نہ رکھو کہ مانیں گے، جن کے دل کے کان بہرے ہو گئے وہ سنتے ہی نہیں، پھر مانیں کس طرح؟ہاں یہ کافر جو قلبی و روحانی حیثیت سے مردوں کی طرح ہیں قیامت میں دیکھ کر یقین کریں گے اور ان چیزوں کو مانیں گے جن کا انکار کرتے تھے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور وہ کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی،آپ کہہ دیں بیشک اللہ اس پر قادر ہے کہ وہ اتارے کوئی نشانی،لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے(۳۷)

تشریح:اس آیت میں فرمائشی معجزات نہ دکھانے کی ایک اور وجہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ،اللہ تعالی کی سنت یہ ہے کہ پچھلی قوموں کو جب کبھی ان کا مانگا ہوا معجزہ دکھایا گیا ہے تو یہ تنبیہ بھی کر دی گئی ہے کہ اگر اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے تو انہیں اس دنیا ہی میں ہلاک کر دیا جائے گا؛ چنانچہ کئی قومیں اس طرح ہلاک ہوئیں، چونکہ اللہ تعالی کے علم میں ہے کہ کفار مکہ میں اکثر لوگ ہٹ دھرم ہیں اور وہ فرمائشی معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے،اس لئے اللہ تعالی کی سنت کے مطابق وہ ہلاک ہوں گے اور اللہ تعالی کو ابھی یہ منظور نہیں ہے کہ انہیں عذاب عام کے ذریعے ہلاک کیا جائے؛ لہذا جو لوگ فرمائشی معجزات کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ اس کے انجام سے ناواقف ہیں، ہاں جن لوگوں کو ایمان لانا ہے وہ مطلوبہ معجزات کے بغیر دوسرے دلائل اور معجزات دیکھ کر خود ایمان لے آئیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور زمین میں کوئی چلنے والا انسان (حیوان)نہیں،اور نہ کوئی پرندہ جو اپنے دو پروں سے اڑتا ہے مگر (ان کی بھی)تمہاری طرح جماعتیں ہیں ،ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی،پھر اپنے رب کی طرف جمع کئے جائیں گے(۳۸)

تشریح:اس آیت نے یہ بتایا ہے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی صرف انسانوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے؛ بلکہ تمام جانوروں کو بھی قیامت کے بعد حشر کے دن زندہ کر کے اٹھایا جائے گا،تم جیسی ہے اصناف ہیں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تمہیں دوسری زندگی دی جائے گی اسی طرح ان کو بھی دوسری زندگی ملے گی ،ایک حدیث میں آنحضرتﷺ نے بیان فرمایا ہے کہ جانوروں نے دنیا میں ایک دوسرے پر جو ظلم کئے ہوں گے میدان حشر میں مظلوم جانور کو حق دیا جائے گا کہ وہ ظالم سے بدلہ لے، اس کے بعد چونکہ وہ حقوق اللہ کے مکلف نہیں ہیں اس لئے ان پر دوبارہ موت طاری کر دی جائے گی، یہاں اس حقیقت کو بیان فرمانے کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ کفار عرب مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو ناممکن قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ سارے کے سارے انسان جو مر کر مٹی ہو چکے ہوں گے، ان کو دوبارہ کیسے جمع کیا جا سکتا ہے، اللہ تعالی نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ صرف انسانوں ہی کو نہیں جانوروں کو بھی زندہ کیا جائے گا؛ حالانکہ جانوروں کی تعداد انسانوں سے کہیں زیادہ ہے ،رہا یہ معاملہ کہ دنیا کی ابتداء سے انتہا تک کے بے شمار انسانوں اور جانوروں کے گلے سڑے اجزاء کا کیسے پتہ لگایا جائے گا تواس کا جواب اگلے جملے میں یہ دیا گیا ہے کہ لوح محفوظ میں ہر بات درج ہے اور یہ ایسا ریکارڈ ہے جس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے، لہذا نہ انسانوں کو جمع کرنا اللہ تعالی کے لئے کچھ مشکل ہے نہ جانوروں کا۔

(توضیح القرآن)

 

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں،اندھیروں میں ہیں،جس کو اللہ چاہے گمراہ کر دے،اور جس کو چاہے سیدھے راستہ پر چلا دے۔(۳۹)

تشریح:جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے انہوں نے اپنے اختیار سے گمراہی کو اپنا کر حق سننے اور کہنے کی صلاحیت ہی ختم کر لی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ کہہ دیں بھلا دیکھو اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا تم پر قیامت آ جائے کیا تم اللہ کے سوا (کسی اور کو) پکارو گے؟اگر تم سچے ہو(۴۰)

بلکہ اس کو پکارتے ہو،پس جس(دکھ)کے لئے اسے پکارتے ہو اگر وہ چاہے تووہ اسے دور کر دیتا ہے اور تم بھول جاتے ہو جس کو تم شریک کرتے ہو(۴۱)

تشریح:عرب کے مشرکین یہ مانتے تھے کہ اس کائنات کو اللہ تعالی نے پیدا کیا ہے؛ لیکن ساتھ ہی ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس کی خدائی میں دوسرے بہت سے دیوتا اس طرح شریک ہیں کہ خدائی کے بہت سے اختیارات ان کو حاصل ہیں ،اب ہوتا یہ تھا کہ ان دیوتاؤں کو خوش رکھنے کی نیت سے ان کی پرستش کرتے رہتے تھے مگر جب کوئی ناگہانی آفت آپڑتی تھی مثلاً سمندر میں سفر کرتے ہوئے پہاڑ جیسی موجوں میں گھر جاتے تھے تو اپنے گھڑے ہوئے دیوتاؤں کے بجائے اللہ تعالی ہی کو پکارتے تھے، یہاں ان کی اس عادت کے حوالے سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ جب دنیا کی ان مصیبتوں میں تم اللہ تعالی ہی کو پکارتے ہو تو اگر کوئی بڑا عذاب آ جائے قیامت ہی آ کھڑی ہو تو یقیناً اللہ تعالی ہی کو پکارو گے۔

(توضیح القرآن)

 

تحقیق ہم نے تم سے پہلی امتوں کی طرف رسول بھیجے ،پھر ہم نے(ان کی نافرمانی کے سبب) انہیں پکڑا سختی اور تکلیف میں تاکہ وہ گڑ گڑائیں(۴۲)

پھر جب ان پر ہمارا عذاب آیا وہ کیوں نہیں گڑ گڑائے،لیکن ان کے دل سخت ہو گئے اور جو وہ کرتے تھے شیطان نے اُن کو آراستہ کر دکھایا(۴۳)

پھر جب وہ بھول گئے وہ نصیحت جو انہیں کی گئی،توہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئے،یہاں تک کہ جب وہ اس سے خوش ہو گئے جو انہیں دی گئیں توہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا(دھر لیا) پس اس وقت وہ مایوس ہو کر رہ گئے۔(۴۴)

پھر ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی اور ہر تعریف اللہ کے لئے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔(۴۵)

تشریح:اللہ تعالی نے پچھلی امتوں کے ساتھ یہ معاملہ فرمایا ہے کہ انہیں متنبہ کرنے کے لئے انہیں کچھ سختیوں میں بھی مبتلا فرمایا،تاکہ وہ لوگ جن کے دل سختی کی حالت میں نرم پڑتے ہیں سوچنے سمجھنے کی طرف مائل ہو سکیں،پھر ان کو خوب خوشحالی عطا فرمائی تاکہ جو لوگ خوشحالی میں حق قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں وہ کچھ سبق لے سکیں، جب دونوں حالتوں میں لوگ گمراہی پر قائم رہے تب ان پر عذاب نازل کیا گیا۔

(توضیح القرآن)

 

آپ کہہ دیں بھلا دیکھو،اگر اللہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے  تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تم کو یہ چیزیں لادے(واپس کر دے)دیکھو ہم کیسے بدل بدل کر آیتیں بیان کرتے ہیں پھر وہ کنارے کرتے ہیں(۴۶)

آپ کہہ دیں دیکھو توسہی اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک یا کھلم کھلا آئے کیا ظالم لوگوں کے سوا (اور کوئی) ہلاک ہو گا(۴۷)

تشریح: توبہ میں دیر نہ کرنا چاہیے شاید اس دیر میں عذاب پہنچ جائے جس کا خمیازہ صرف ظالموں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اگر پہلے ہی ظلم و عدوان سے توبہ کر چکا ہو گا تو اس عذاب سے بچ رہے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ہم رسول نہیں بھیجتے مگر خوشخبری دینے والے اور ڈر سنانے والے،پس جو ایمان لایا اور سنور گیا تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے(۴۸)

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا انہیں عذاب پہنچے گے اس لئے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔(۴۹)

تشریح:کفار مکہ آنحضرتﷺ سے یہ بھی کہتے تھے کہ اللہ کے جس عذاب سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آ جاتا؟شاید وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر عذاب آیا تو مؤمن کافر سبھی ہلاک ہو جائیں گے ،اس کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ ہلاک تووہ ہوں گے جنہوں نے شرک اور ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

آپ کہہ دیں میں نہیں کہتا تم سے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب کو جانتا ہوں،اور نہ میں تم سے کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں،میں پیروی نہیں کرتا مگر( صرف اس کی)جو میری طرف وحی کیا جاتا ہے،آپ کہہ دیں کیا نابینا اور بینا برابر ہو سکتا ہے؟سوکیا تم غور نہیں کرتے؟(۵۰)

تشریح:اس آیت میں منصب رسالت پر روشنی ڈالی گئی ہے یعنی کوئی شخص جو مدعی نبوت ہو، اس کا دعویٰ یہ نہیں ہوتا کہ تمام مقدورات الہٰیہ کے خزانے اس کے قبضہ میں ہیں کہ اس سے کسی امر کی فرمائش کی جائے وہ ضرور ہی کر دکھلائے یا تمام معلومات غیبیہ و شہادیہ پر خواہ ان کا تعلق فرائض رسالت سے ہو یا نہ ہو، اس کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ جو کچھ تم پوچھو، وہ فوراً ابتلا دیا کرے یا نوع بشر کے علاوہ وہ کوئی اور نوع ہے جو لوازم و خواص بشریہ سے اپنی برأت و نزہت کا ثبوت پیش کرے۔ جب ان باتوں میں سے وہ کسی چیز کا مدعی نہیں تو فرمائشی معجزات اس سے طلب کرنا یا از راہ تعنت و عناد اس قسم کا سوال کرنا کہ”قیامت کب آئے گی”یا یہ کہنا کہ”یہ رسول کیسے ہیں جو کھانا کھاتے اور بازاروں میں خرید و فروخت کیلئے جاتے ہیں ”اور انہی امور کو معیار تصدیق و تکذیب ٹھہرانا کہاں تک صحیح ہو سکتا ہے۔

اگرچہ پیغمبر نوع بشر سے علیحدہ کوئی دوسری نوع نہیں۔ لیکن اس کے اور باقی انسانوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ انسانی قوتیں دو قسم کی ہیں علمی و عملی۔ قوت علمیہ کے اعتبار سے نبی کے دل کی آنکھیں ہر وقت مرضیات الہٰی اور تجلّیات ربانی کے دیکھنے کیلئے کھلی رہتی ہیں، جسکے بلاواسطہ مشاہدہ سے دوسرے انسان محروم ہیں اور قوت عملیہ کا حال یہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اپنے قول و فعل اور ہر ایک حرکت و سکون میں رضائے الہٰی اور حکم خداوندی کے تابع و منقاد ہوتے ہیں، وحی سماوی اور احکام الہٰیہ کے خلاف نہ کبھی ان کا قدم اٹھ سکتا ہے نہ زبان حرکت کر سکتی ہے۔ ان کی مقدس ہستی اخلاق وا عمال اور کل واقعات زندگی میں تعلیمات ربانی اور مرضیات الہٰی کی روشن تصویر ہوتی ہے جسے دیکھ کر غور و فکر کرنے والوں کو انکی صداقت اور مامور من اللہ ہونے میں ذرا بھی شبہ نہیں رہ سکتا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اس سے ان لوگوں کو ڈراویں جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے جمع کئے جائیں گے،اس کے سوا ان کا نہ ہو گا کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارش کرنے والا تاکہ وہ بچتے رہیں(۵۱)

تشریح:یہ درحقیقت مشرکین کے اس عقیدے کی تردید ہے کہ وہ اپنے دیوتاؤں کو اپنا مستقل سفارشی سمجھتے تھے،لہذا اس سے آنحضرتﷺ کی اس شفاعت کی تردید نہیں ہوتی جو آپ اللہ تعالی کی اجازت سے مؤمنوں کے لئے کریں گے کیونکہ دوسری آیتوں میں مذکور ہے کہ اللہ تعالی کی اجازت سے شفاعت ممکن ہے.

(مثلاً دیکھئے سورۂ بقرہ آیت نمبر:۲۵۵)(توضیح القرآن)

 

اور آپ ان لوگوں کو دور نہ کریں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام وہ اس کی رضا چاہتے ہیں اور آپ پر(آپ کے ذمے)ان کے حساب میں سے کچھ نہیں ،اور نہ آپ کے حساب میں سے ان پر کچھ ہے،اگر انہیں دور کرو گے تو ظالموں سے ہو جاؤ گے(۵۲)

تشریح:قریش مکہ کے کچھ سرداروں نے یہ کہا تھا کہ آنحضرتﷺ کے ارد گرد غریب اور کم حیثیت قسم کے لوگ بکثرت رہتے ہیں،ان کے ساتھ آپ کی مجلس میں بیٹھنا ہماری توہین ہے،اگر آپ ان لوگوں کو اپنی مجلس سے اٹھا دیں توہم آپ کی بات سننے کے لئے آسکتے ہیں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔

(توضیح القرآن)

 

اور اس طرح ہم نے ان کے بعض کو بعض سے آزمایا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالی نے فضل کیا ہم میں سے؟کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب جاننے والا نہیں۔(۵۳)

تشریح:مطلب یہ ہے کہ غریب مسلمان اس حیثیت سے ان امیر کافروں کے لئے ایک آزمائش کا سبب بن گئے ہیں کہ آیا یہ لوگ اصل اہمیت حق بات کو دیتے ہیں یا صرف اس وجہ سے حق کا انکار کر دیتے ہیں کہ اس کے ماننے والے غریب لوگ ہیں۔

أَهٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ:یہ کافروں کا فقرہ ہے جو وہ غریب مسلمانو ں کے بارے میں طنزیہ انداز میں کہتے تھے، یعنی (معاذاللہ)ساری دنیا میں سے یہی کم حیثیت لوگ اللہ تعالی کو ملے تھے جن پر وہ احسان کر کے انہیں جنت کا مستحق قرار دے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ کہہ دیں تم پر سلام ہے تمہارے رب نے اپنے پر رحمت لکھ لی(لازم کر لی)ہے کہ تم میں جو کوئی برائی کرے نادانی سے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور نیک ہو جائے تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(۵۴)

اور اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیتیں اور (یہ اس لئے کہ)تاکہ گنہگاروں کا طریقہ ظاہر ہو جائے(۵۵)

تشریح: پہلے فرمایا تھا کہ پیغمبر تبشیر و انذار کے لئے آتے ہیں، چنانچہ اس رکوع کے شروع میں وانذربہ الذین یخافون الخ سے شان انذار کا استعمال تھا۔ اب مومنین کے حق میں شان تبشیر کا اظہار ہے یعنی مومنین کو کامل سلامتی اور رحمت و مغفرت کی بشارت سنا دیجئے تاکہ ان غریبوں کا دل بڑھے اور دولت مند متکبرین کے طعن و تشنیع اور تحقیر آمیز برتاؤ سے شکستہ خاطر نہ رہیں۔ اسی لئے ہم احکام و آیات تفصیل سے بیان کرتے ہیں نیز اس لئے کہ مومنین کے مقابلہ میں مجرمین کا طریقہ بھی واضح ہو جائے (تنبیہ) یہ جو فرمایا کہ ”جو کوئی کرے تم میں سے برائی ناواقفیت سے ”اس سے شاید یہ غرض ہو کہ مومن جو برائی یا معصیت کرتا ہے خواہ نادانستہ ہو یا جان بوجھ کر، وہ فی الحقیقت اس برائی اور گناہ کے انجام بد سے ایک حد تک ناواقف اور بے خبر ہی ہو کر کرتا ہے اگر گناہ کے تباہ کن نتائج کا پوری طرح اندازہ اور استحضار ہو تو کون شخص ہے جو اس اقدام کی جرأت کرے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ کہہ دیں مجھے (اس بات سے) روکا گیا ہے کہ میں ان کی بندگی کروں جنہیں تم پکارتے ہو اللہ کے سوا،آپ کہہ دیں میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا اس صورت میں بیشک میں بہک جاؤں گا اور ہدایت پانے والوں میں نہ ہوں گا(۵۶)

آپ کہہ دیں بیشک میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور تم اس کو جھٹلاتے ہو،تم جس(عذاب)کی جلدی کر رہے ہو میرے پاس نہیں،حکم صرف اللہ کے لئے ہے وہ حق بیان کرتا ہے اور سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔(۵۷)

تشریح:یہ آیات کفار کے اس مطالبے کے جواب میں نازل ہوئی ہیں کہ جس عذاب سے آنحضرتﷺ ہمیں ڈرا رہے ہیں وہ ہم پر فوراً کیوں نازل نہیں ہوتا،جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ عذاب نازل کرنے کا صحیح وقت اور مناسب طریقہ طے کرنے کا مکمل اختیار اللہ تعالی کو ہے جس کا فیصلہ وہ اپنی حکمت سے کرتا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

آپ کہہ دیں اگر میرے پاس ہوتی(وہ چیز)جس کی تم جلدی کرتے ہو تو البتہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا،اور اللہ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔(۵۸)

تشریح: یعنی جس پر چاہے جب چاہے اور جس قسم کا چاہے عذاب بھیجے یا نہ بھیجے ویسے ہی توبہ کی توفیق مرحمت فرما دے، یہ سب اللہ کے قبضہ میں ہے۔ کسی کا حکم اور زور اس کے سوا نہیں چلتا۔ وہ دلائل و براہین کے ساتھ حق کو بیان کر دیتا ہے۔ پھر جو نہ مانیں ان کے متعلق بہترین فیصلہ کرنے والا بھی وہ ہی ہے۔ اگر ان کا فیصلہ کرنا یا سزا دینا میرے قبضہ اختیار میں ہوتا اور یہ نزول عذاب میں جلدی چاہنے والے مجھ سے عذاب کا مطالبہ کرتے تو اب تک کبھی کا جھگڑا ختم ہو چکا ہوتا۔ یہ تو خدا ہی کے علم محیط، حلم عظیم، حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ کا پر تو ہے کہ بے شمار مصالح و حکم کی رعایت کرتے ہوئے باوجود پوری طرح جاننے اور قدرت رکھنے کے ظالموں پر فوراً عذاب نازل نہیں کرتا۔ آئندہ آیات میں اس کے علم محیط اور قدرت کاملہ کا ذکر ہے تاکہ ثابت ہو کہ تاخیر عذاب جہل یا عجز کی بناء پر نہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ا س کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ جانتا ہے جو خشکی اور تری میں ہے اور نہیں گرتا کوئی پتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور کوئی دانہ نہیں زمین کے اندھیروں میں اور نہ کوئی تر،نہ خشک،مگر سب روشن کتاب(لوح محفوظ)میں ہے(۵۹)

تشریح:یعنی لوح محفوظ میں ہے۔ لوح محفوظ میں جو چیز ہو گی وہ علم الٰہی میں پہلے ہو گی۔ اس اعتبار سے مضمون آیت کا حاصل یہ ہوا کہ عالم غیب و شہادت کی کوئی خشک و تر اور چھوٹی بڑی چیز حق تعالیٰ کے علم ازلی محیط سے خارج نہیں ہو سکتی۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور وہی توہے جو رات میں تمہاری (روح)قبض کر لیتا ہے اور جانتا ہے جو تم دن میں کما چکے ہو،پھر تمہیں اس(دن) میں اٹھاتا ہے تاکہ مدت مقررہ پوری ہو پھر تمہیں اسی کی طرف لوٹنا ہے پھر تمہیں جتا دے گا جو تم کرتے تھے(۶۰)

تشریح:یعنی شب میں سوتے وقت ظاہری احساس و شعور باقی نہیں رہتا اور آدمی اپنے گرد و پیش بلکہ اپنے جسم کے احوال تک سے بھی بے خبر ہو جاتا ہے گویا اس وقت یہ قوتیں اس سے لے لی گئیں، دن میں جو کچھ چلنا پھرنا، نقل و حرکت اور کسب و اکتساب واقع ہوتا ہے وہ سب کامل تفصیل کے ساتھ خدا کے علم میں موجود ہے، اگر وہ چاہتا تو تم سوتے کے سوتے رہ جاتے لیکن موت کا وعدہ پورا ہونے تک ہر نیند کے بعد تم کو بیدار کرتا رہتا ہے،دن میں کاروبار کر کے رات کو سونا، پھر سو کر اٹھنا یہ روز مرہ کا سلسلہ ایک چھوٹا سا نمونہ ہے، دنیا کی زندگی پھر موت پھر دوبارہ زندہ کئے جانے کا۔ اسی لئے نیند اور بیداری کے تذکرہ کے ساتھ ”مسئلہ معاد ” پر متنبہ کر دیا گیا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آ پہنچے تو ہمارے فرشتے اس کی (روح)قبضہ میں لے لیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے(۶۱)

تشریح:نگہبان فرشتوں سے مراد وہ فرشتے بھی ہو سکتے ہیں جوانسان کے اعمال لکھتے ہیں اور وہ بھی جو ہرانسان کی جسمانی حفاظت پر مقرر ہیں۔اور جن کا ذکر سورۂ رعد(۱۱:۱۳) میں آیا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پھر لوٹائے جائیں گے اپنے سچے مولی کی طرف،سن رکھو اسی کا حکم ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے(۶۲)

آپ کہہ دیں تمہیں خشکی اور دریا کے اندھیروں سے کون بچاتا ہے ؟(اس وقت)تم اس کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارتے ہو(اور کہتے ہو)کہ اگر ہمیں ا س سے بچا لے تو ہم شکر ادا کرنے والوں سے ہوں گے(۶۳)

آپ کہہ دیں اللہ تمہیں اس سے بچاتا ہے اور ہر سختی سے پھر تم شرک کرتے ہو(۶۴)

تشریح:یعنی حق تعالیٰ باوجود علم محیط اور قدرت کاملہ کے جس کا بیان اوپر ہوا، تمہاری بد اعمالیوں اور شرارتوں کی سزا فورا نہیں دیتا۔ بلکہ جب مصائب و شدائد کی اندھیریوں میں پھنس کر تم اس کو عاجزی سے پکارتے ہو اور پختہ وعدے کرتے ہو کہ اس مصیبت سے نکلنے کے بعد کبھی شرارت نہ کریں گے اور ہمیشہ احسان کو یا د رکھیں گے، تو بسا اوقات تمہاری دستگیری کر کے ان مہالک اور ہر قسم کی سختیوں سے نجات دے دیتا ہے لیکن تم پھر بھی اپنے وعدہ پر قائم نہیں رہتے اور مصیبت سے آزاد ہوتے ہی بغاوت شروع کر دیتے ہو۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ کہہ دیں وہ قادر ہے کہ تم پر بھیجے عذاب تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر کے بھڑا دے اور تم میں سے ایک کو چکھا دے دوسرے کی لڑائی ( کا مزا) دیکھو کس طرح آیات بیان کرتے ہیں تاکہ ہ سمجھ جائیں(۶۵)

تشریح: یعنی خدا کے امہال و درگزر کو دیکھ کر مامون اور بے فکر نہ ہونا چاہئے۔ جس طرح وہ شدائد و مصائب سے نجات دے سکتا ہے۔ اسے یہ بھی قدرت ہے کہ کسی قسم کا عذاب تم پر مسلط کر دے۔

اس میں عذاب کی تین قسمیں بیان فرمائیں(۱) جو اوپر سے آئے، جیسے پتھر برسنا یا طوفانی ہوا اور بارش (۲) جو پاؤں کے نیچے سے آئے، جیسے زلزلہ یا سیلاب وغیرہ یہ دونوں خارجی اور بیرونی عذاب ہیں۔ جو اگلی قوموں پر مسلط کئے گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے اس امت کو اس قسم کے عام عذاب سے محفوظ کر دیا گیا ہے، یعنی اس قسم کا عام عذاب جو گزشتہ اقوام کی طرح اس امت کا استیصال کر دے نازل نہ ہو گا۔ جزئی اور خصوصی واقعات اگر پیش آئیں تو اس کی نفی نہیں۔ ہاں تیسری قسم عذاب کی جسے اندرونی اور داخلی عذاب کہنا چاہیے اس امت کے حق میں باقی رہی ہے اور وہ پارٹی بندی، باہمی جنگ و جدل اور آپس کی خونریزی کا عذاب ہے۔ موضح القرآن میں ہے کہ قرآن شریف میں اکثر کافروں کو عذاب کا وعدہ دیا۔ یہاں کھول دیا کہ عذاب وہ بھی ہے جو اگلی امتوں پر آیا آسمان سے یا زمین سے اور یہ بھی ہے کہ آدمیوں کو آپس میں لڑا دے اور انکو قتل یا قید یا ذلیل کرے، حضرت نے سمجھ لیا کہ اس امت پر یہی عذاب ہو گا، اکثر ”عذاب الیم” اور ” عذاب مہین ” اور ”عذاب شدید ” اور ” عذاب عظیم ” ان ہی باتوں کو فرمایا ہے آخرت کا عذاب بھی ہے ان پر جو کافر ہی مرے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور تمہاری قوم نے اس کو جھٹلایا حالانکہ وہ حق ہے آپ کہہ دیں میں تم پر داروغہ نہیں(۶۶)

ہر خبر کے لئے ایک ٹھکانہ (مقررہ وقت)ہے اور تم جلد جان لو گے۔(۶۷)

تشریح:یعنی میرا یہ منصب نہیں کہ تمہاری تکذیب پر وہ عذاب نازل کر دوں یا اس کے وقت اور نوعیت وغیرہ کی تفصیل بتلاؤں میرا کام صرف باخبر اور متنبہ کر دینا ہے۔ آگے ہر چیز کے وقوع کا علم الٰہی میں ایک وقت مقرر ہے۔ جب وقت آ جائے گا تم خود جان لو گے کہ میں جس چیز سے ڈراتا تھا وہ کہاں تک سچ ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں تو ان سے کنارہ کر لے یہاں تک کہ وہ مشغول ہو جائیں اس کے علاوہ کسی اور بات میں،اور اگر تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد نہ بیٹھ ظالم لوگوں کے پاس (۶۸)

تشریح:یعنی جو لوگ آیات اللہ پر طعن و استہزاء اور ناحق کی نکتہ چینی میں مشغول ہو کر اپنے کو مستحق عذاب بنا رہے ہیں تم ان سے خلط ملط نہ رکھو کہیں تم بھی ان کے زمرے میں داخل ہو کر مورد عذاب نہ بن جاؤ، جیسا کہ دوسری جگہ فرما یا ہے: اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ ایک مومن کی غیرت کا تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ ایسی مجلس سے بیزار ہو کر کنارہ کرے اور کبھی بھول کر شریک ہو گیا تو یاد آنے کے بعد فوراً وہاں سے اُٹھ جائے اس میں اپنی عاقبت کی درستی ‘ دین کی سلامتی اور طعن و استہزاء کرنے والوں کے لئے عملی نصیحت اور تنبیہ ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جو لوگ پرہیز کرتے ہیں(پرہیز گار ہیں)ان پر(جھگڑنے والوں) کے حساب میں سے کوئی چیز نہیں؛ لیکن نصیحت کرنا تاکہ وہ ڈریں (باز آ جائیں)(۶۹)

تشریح: اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں یعنی اگر پرہیزگار لوگ جھگڑنے اور طعن کرنے والوں کی مجلس سے اُٹھ کر چلے آئے تو طاعنین کے گمراہی میں پڑے رہنے کا کوئی مواخذہ اور ضرر ان متقین پر عائد نہیں ہو سکتا۔ ہاں ان کے ذمے بقدر استطاعت اور حسب موقع نصیحت کرتے رہنا ہے۔ شائد وہ بدبخت نصیحت سن کر اپنے انجام سے ڈر جائیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ پرہیز گار اور محتاط لوگوں کو اگر کسی واقعی معتدبہ دینی یا دنیاوی ضرورت سے ایسی مجلس میں جانے کا اتفاق ہو جائے تو ان کے حق میں طاعنین کے گناہ اور باز پرس کا کوئی اثر نہیں پہنچتا۔ ہاں ان کے ذمہ بشرط قدرت نصیحت کر دینا ہے۔ ممکن ہے کسی وقت ان پر بھی نصیحت کا اثر پڑ جائے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ان لوگوں کو چھوڑ دے جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا لیا ہے اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکہ میں ڈال دیا ہے اور اس(قرآن)سے نصیحت کرو تا کوئی اپنے کئے(اپنے عمل)سے پکڑا نہ جائے،اس کے لئے نہیں اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارش کرنے والا اور اگر بدلے میں تمام معاوضے دے تواس سے نہ لئے جائیں(قبول نہ ہوں)یہی لوگ ہیں جو اپنے کئے پر پکڑے گئے انہیں گرم پانی پینا ہے اور دردناک عذاب ہے اس لئے کہ وہ کفر کرتے تھے(۷۰)

تشریح:گزشتہ آیت میں خاص اس مجلس سے کنارہ کشی کا حکم تھا جہاں آیات اللہ کے متعلق طعن و استہزاء اور ناحق کے جھگڑے کئے جا رہے ہوں، اس آیت میں ایسے لوگوں کی عام مجالست و صحبت ترک کر دینے کا ارشاد ہے مگر ساتھ ہی حکم ہے کہ ان کو نصیحت کر دیا کرو تاکہ وہ اپنے کئے کے انجام سے آگاہ ہو جائیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

کہہ دیں کیا ہم اللہ کے سوا اس کو پکاریں جو ہمیں نہ نفع دے سکے ،نہ ہمارا نقصان کرسکے اور ہم اپنے الٹے پاؤں پھر جائیں اس کے بعد جبکہ اللہ نے ہمیں ہدایت دیدی، اس شخص کی طرح جسے شیطان نے بھلا دیا جنگل میں، وہ حیران ہو،اس کے ساتھی اس کو ہدایت کی طرف بلاتے ہوں کہ ہمارے پاس آ،آپ کہہ دیں بیشک اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ تمام جہانوں کے پروردگار کے فرماں بردار رہیں(۷۱)

تشریح:یعنی مسلمانوں کی شان یہ ہے کہ گمراہوں کو نصیحت کر کے سیدھی راہ پر لائے اور جو خدا سے بھاگ کر غیر اللہ کی چوکھٹ پر سر رکھے ہوئے ہیں ان کو خدائے واحد کے سامنے سر بسجود کرنے کی فکر کرے۔

اگر کوئی اہل باطل کی صحبت میں رہ کر توحید و ایمان کی صاف سڑک چھوڑ دے گا اور شرک کی بھول بھلیوں کی طرف الٹے پاؤں پھرے گا تواس کی مثال اس مسافر کی سی ہو گی جو اپنے راہ جاننے والے رفقاء کے ساتھ جنگل میں سفر کر رہا تھا کہ ناگاہ غول بیابانی(خبیث جنات )نے اسے بہکا کر راستے سے الگ کر دیا وہ چاروں طرف بھٹکتا پھرتا ہے اور اس کے رفقاء از راہ خیر خواہی اسے آوازیں دے رہے ہیں کہ ادھر آؤ راستہ اس طرف ہے مگر وہ حیران و مخبوط و الخواس ہو کر نہ کچھ سمجھتا ہے اور نہ ادھر آتا ہے اسی طرح سمجھ لو کہ مسافر آخرت کے لئے سیدھی راہ اسلام و توحید کی ہے اور جن کی رفاقت اور معیت میں یہ سفر طے ہوتا ہے وہ پیغمبر اور اس کے متبعین ہیں۔ جب یہ بدبخت شیاطین و مضلین کے پنجے میں پھنس کر صحرائے ضلالت میں بھٹکتا پھرتا ہے اس کے ہادی اور رفقاء از راہ ہمدردی جادہ حق کی طرف بلا رہے ہیں مگر یہ نہ کچھ سنتا ہے نہ سمجھتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اس سے ڈرو اور وہی ہے جس کی طرف تم اکھٹے ہو گے(۷۲)

اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک ٹھیک طور پر پیدا کیا۔اور جس دن کہے گا ہو جا تووہ ہو جائے گی،اس کی بات سچی بات ہے اور ملک اسی کا ہے،جس دن صور پھونکا جائے گا،غیب اور ظاہر کا جاننے والا اور وہی ہے حکمت والا خبر رکھنے والا۔(۷۳)

تشریح:یعنی اللہ تعالی نے اس کائنات کو ایک برحق مقصد سے پیدا کیا ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ جو لوگ یہاں اچھے کام کریں انہیں انعام سے نوازا جائے اور جو لوگ بدکار اور ظالم ہوں انہیں سزا دی جائے یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب دنیوی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہو جس میں جزا اور سزا کا یہ مقصد پورا ہو اور آگے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس مقصد کے لئے قیامت میں لوگوں کو دوبارہ زندگی دینا اللہ تعالی کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے،جب وہ چاہے گا تو قیامت کو وجود میں آنے کا حکم دے گا اور وہ وجود میں آ جائے گی اور چونکہ وہ غائب و حاضر ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے اس لئے لوگوں کو مرنے کے بعد اکھٹا کرنا بھی اس کے لئے کوئی مشکل نہیں ہے البتہ چونکہ وہ حکمت والا ہے اس لئے وہ اسی وقت قیامت قائم فرمائے گا جب اس کی حکمت کا تقاضا ہو گا۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب ابراہیم نے کہا اپنے باپ آزر کو کیا تو بتوں کو معبود بناتا ہے؟بیشک میں تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں ۔(۷۴)

اور اس طرح ہم ابراہیم کوآسمانوں اور زمین کی بادشاہی(عجائبات) دکھانے لگے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔(۷۵)

پھر جب اس پر رات نے اندھیرا کر لیا تو ایک ستارہ دیکھا کہا یہ میرا رب ہے پھر جب غائب ہو گیا تو(ابراہیم)کہنے لگے میں دوست نہیں رکھتا غائب ہونے والوں کو۔(۷۶)

پھر جب چمکتا ہوا چاند دیکھا تو بولے یہ میرا رب ہے، پھر جب وہ غائب ہو گیا تو کہا اگر مجھے ہدایت نہ دے میرا رب تو میں بھٹکنے والے لوگوں میں سے ہو جاؤں۔(۷۷)

پھر جب اس نے جگمگاتا ہوا سورج دیکھا تو بولے یہ میرا رب ہے یہ سب سے بڑا ہے پھر جب وہ غائب ہو گیا تو کہا اے میری قوم!بیشک میں ان سے بیزار ہوں جن کو تم شریک کرتے ہو۔(۷۸)

بیشک میں نے اپنا منہ یک رخ ہو کر اس کی طرف موڑ لیا جس نے زمین اور آسمان بنائے اور میں شرک کرنے والوں سے نہیں(۷۹)

تشریح:حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے جس علاقے نینوا میں پیدا ہوئے تھے وہاں کے لوگ بتوں اور ستاروں کو خدا مان کر ان کی عبادت کرتے تھے، ان کا باپ آزر بھی نہ صرف اسی عقیدے کا تھا بلکہ خود بت تراشا کرتا تھا،حضرت ابراہیم علیہ السلام شروع ہی سے توحید پر ایمان رکھتے تھے اور شرک سے بیزار تھے،لیکن انہوں نے اپنی قوم کو غور و فکر کی دعوت دینے کے لئے یہ لطیف طریقہ اختیار فرمایا کہ چاند ستاروں اور سورج کو دیکھ کر پہلے اپنی قوم کی زبان میں بات کی،مقصد یہ تھا کہ یہ ستارہ تمہارے خیال میں پروردگار ہے،آؤ دیکھتے ہیں کہ یہ بات تسلیم کرنے کے قابل ہے یا نہیں؟چنانچہ جب ستارہ بھی ڈوبا اور چاند بھی اور آخر میں سورج بھی تو ہر موقع پر انہوں نے اپنی قوم کو یاد دلایا کہ یہ تو ناپائیدار اور تغیر پذیر چیزیں ہیں،جو چیز خود ناپائدار ہو اور اس پر تغیرات طاری ہوتے رہتے ہوں،اس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ پوری کائنات کی پرورش کر رہی ہے،کیسی غیر معقول بات ہے،لہذا انہوں نے چاند ستاروں یا سورج کو جو یہ کہا تھا کہ یہ میرا رب ہے وہ اپنے عقیدے کے مطابق نہیں بلکہ اپنی قوم کے عقیدے کی لغویت ظاہر کرنے کے لئے فرمایا تھا۔

(توضیح القرآن)

 

اور اس کی قوم نے اس سے جھگڑا کیا تواس نے کہا کیا تم مجھ سے اللہ کے(بارہ میں)جھگڑتے ہو؟اس نے مجھے ہدایت دیدی ہے اور میں ان سے نہیں ڈرتا جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو اس کا،مگر یہ کہ میرا رب کچھ(تکلیف) پہنچانا چاہے ،میرے رب کے علم نے ہر چیز کا احاطہ کر لیا ہے کیا تم سوچتے نہیں۔(۸۰)

اور میں تمہارے شریک سے کیونکر ڈروں اور تم(اس سے)نہیں ڈرتے کہ اللہ کا شریک کرتے ہو جس کی اس نے نہیں اتاری تم پر کوئی دلیل،سو دونوں فریق میں سے امن(دلجمعی)کا کون حقدار ہے؟(بتاؤ)اگر تم جانتے ہو۔(۸۱)

تشریح:سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے حجت کرتے ہوئے ان کی قوم نے دو باتیں کہیں،ایک یہ کہ ہم برسوں سے اپنے باپ داداؤں کو ان بتوں اور ستاروں کی پوجا کرتے دیکھ رہے تھے ،ان سب کو گمراہ سمجھنا ہمارے بس سے باہر ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کا جواب پہلے جملے میں یہ دیا ہے کہ ان باپ داداؤں کے پاس اللہ تعالی کی طرف سے کوئی وحی نہیں آئی تھی اور مذکورہ بالا عقلی دلائل کے علاوہ میرے پاس اللہ تعالی کی طرف سے وحی آئی ہے ،لہذا اللہ کی دی ہوئی ہدایت کے بعد میں شرک کو کیسے درست تسلیم کرسکتا ہوں،دوسری بات ان کی قوم نے یہ کہی ہو گی کہ اگر تم نے ہمارے بتوں اور ستاروں کی خدائی سے انکار کیا تووہ تمہیں تباہ کر ڈالیں گے، اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا کہ میں ان بے بنیاد دیوتاؤں سے نہیں ڈرتا بلکہ ڈرنا تمہیں چاہئے کہ تم اللہ تعالی کے ساتھ بے بنیاد دیوتاؤں کو اس کی خدائی میں شریک مان رہے ہو،نقصان اگر پہنچا سکتا ہے تو وہ صرف اللہ تعالی ہے کوئی اور نہیں اور جو لوگ اس کی توحید پر ایمان لاتے ہیں انہیں اللہ تعالی نے امن اور چین عطا فرمایا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا انہی لوگوں کے لئے دلجمعی ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔(۸۲)

تشریح:احادیث صحیحہ میں منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں ظلم کی تفسیر شرک سے فرمائی جیسا کہ سورہ لقمان میں ہے اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ ۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور یہ ہماری دلیل ہے جو ہم نے ابراہیمؑ کو ان کی قوم پر دی،ہم جس کے درجے چاہیں بلند کرتے ہیں بیشک تمہارا رب حکمت والا جاننے والا ہے(۸۳)

تشریح:یعنی حضرت ابراہیمؑ کو ایسے دلائل قاہرہ دیکر ان کی قوم پر غالب فرمانا اور دنیا و آخرت میں سر بلند کرنا اسی علیم و حکیم کا کام ہو سکتا ہے جو ہر شخص کی استعداد و قابلیت کو جانتا ہے اور اپنی حکمت سے ہر چیز کو اس کے مناسب موقع و مقام پر رکھتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

ہم نے ان (ابراہیم)کو بخشا اسحقؑ اور یعقوبؑ ہم نے سب کو ہدایت دی اور نوحؑ کو ہم نے ہدایت دی اس سے قبل اور ان کی اولاد میں سے داؤدؑ اور سلیمانؑ اور ایوبؑ اور یوسفؑ اور موسیؑ اور ہارونؑ کو اور اسی طری ہم نیک کام کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں(۸۴)

تشریح: یعنی نہ صرف یہ کہ ہم نے ابراہیم کو ذاتی علم و فضل سے سرفراز کیا بلکہ بڑھاپے میں اسحاق جیسا بیٹا اور یعقوب جیسا پوتا عطا فرمایا۔ یعقوب و ہی اسرائیل ہیں جن کی طرف دنیا کی ایک عظیم الشان قوم بنی اسرائیل منسوب ہے، جن میں سے ہزاروں نبی اٹھائے گئے ؛ بلکہ جیسا کہ قران میں دوسری جگہ مذکور ہے ، ابراہیم کے بعد حق تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے ان ہی کی نسل میں نبوت اور پیغمبری رکھ دی۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور زکریاؑ اور  یحییؑ اور عیسیؑ اور الیاسؑ سب نیک بندوں میں سے ہیں(۸۵)اور اسمعیلؑ اور الیسعؑ اور یونسؑ اور لوطؑ اور اور سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی(۸۶)اور کچھ ان کے باپ دادا اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں کو، اور ہم نے انہیں چنا اور سیدھے راستہ کی طرف ہدایت دی۔(۸۷)

یہ اللہ کی رہنمائی ہے اور اس سے ہدایت دیتا ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اور اگر وہ شرک کرتے تو جو کچھ وہ کرتے تھے ضائع ہو جاتا ۔(۸۸)

تشریح: یعنی خالص توحید اور معرفت و اطاعت خداوندی کا راستہ ہی وہ ہے۔ جس پر حق تعالیٰ اپنے فضل و توفیق سے مقبول بندوں کو چلاتا ہے پھر اس کے صلہ میں حسب استعداد درجات بلند کرتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے کتاب اور شریعت اور نبوت دی، پس اگر یہ لوگ اس کا انکار کریں توہم نے ان (باتوں)کے لئے مقرر کر دئیے ہیں ایسے لوگ جو اس کے انکار کرنے والے نہیں(۸۹)

تشریح:اگر مکہ کے کافر یا دوسرے منکرین ان باتوں ( کتاب، شریعت اور نبوت) سے انکار کریں تو خدا کا دین ان پر موقوف نہیں۔ ہم نے دوسری قوم یعنی مہاجرین اور انصار اور ان کے اتباع کو ان چیزوں کی تسلیم و قبول اور حفاظت و ترویج کے لئے مسلط فرما دیا ہے۔ جو ہماری کسی بات سے بھی منہ موڑنے والے نہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس میں عہد مبارک کے موجودین مہاجرین اور انصار بھی داخل ہیں اور قیامت تک آنے والے مسلمان بھی،اور یہ آیت ان سب لوگوں کے لئے مایۂ فخر ہے کہ اللہ تعالی نے ان کو مقام مدح میں ذکر فرمایا ہے، اللہم اجعلنا منہم واحشرنا فی زمرتہم۔

(معارف القرآن)

 

یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی سوان کی راہ پر چلو، آپ کہہ دیں میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا،یہ تو نہیں مگر نصیحت تمام جہان والوں کے لئے (۹۰)

تشریح: تمام انبیاء عقائد ، اصول دین اور مقاصد کلیہ میں متحد ہیں۔ سب کا دستور اساسی ایک ہے، ہر نبی کو اس پر چلنے کا حکم ہے، آپ بھی اس طریق مستقیم پر چلتے رہنے کے مامور ہیں۔ گویا اس آیت میں متنبہ کر دیا کہ اصولی طور پر آپ کا راستہ انبیائے سابقین کے راستے سے جدا نہیں۔ رہا فروع کا اختلاف وہ ہر زمانہ کی مناسبت و استعداد کے اعتبار سے پہلے بھی واقع ہوتا رہا ہے اور اب بھی واقع ہو تو مضائقہ نہیں۔

فائدہ :علمائے اصول نے اس آیت کے عموم سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی معاملہ میں شرائع سابقہ کا ذکر فرمائیں تو اس امت کے حق میں بھی سند ہے بشرطیکہ شارع نے اس پر کلی یا جزوی طور پر انکار نہ فرمایا ہو۔

قُلْ لَّآ أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا :اگر تم نہیں مانتے تو میرا کوئی نفع فوت نہیں ہوتا کیونکہ میں تم سے کسی طرح کے اجر کا طالب نہیں۔ میرا اجر تو خدا کے یہاں ثابت ہے۔ ہاں تم نصیحت سے انحراف کر کے خود اپنا نقصان کرو گے سارے جہان میں سے ایک نہیں تو دوسرا نصیحت کو قبول کرے گا’ جو انکار کرے گا اسے اپنی محرومی اور بدبختی کا ماتم کرنا چاہئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی(جیسے)اس کی قدر کا حق تھا جب انہوں نے کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری، آپ کہیں (وہ) کتاب کس نے اتاری جو موسی لے کر آئے ان کے لئے روشنی اور ہدایت، تم نے اسے ورق ورق کر دیا ہے تم اسے ظاہر کرتے ہو اور اکثر چھپا لیتے ہو اور تمہیں سکھایا جو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا،آپ کہہ دیں اللہ(نے نازل کی)پھر انہیں چھوڑ دیں اپنے بیہودہ شغل میں کھیلتے رہیں۔(۹۱)

تشریح:پچھلے رکوع میں منصب نبوت اور بہت سے انبیاء کا نام بنام تذکرہ تھا اور یہ کہ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم بھی توحید و معرفت کی اسی صراط مستقیم پر چلتے رہنے کے مامور ہیں جس پر انبیائے سابقین کو چلایا گیا تھا۔

(تفسیرعثمانی)

 

یہاں سے بعض یہودیوں کی تردید مقصود ہے،آنحضرتﷺ کی مخالفت کرتے ہوئے ایک مرتبہ ان کے ایک سردار مالک بن صیف نے غصے میں آ کر یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اللہ نے کسی انسان پر کچھ نازل نہیں کیا۔

(توضیح القرآن)

 

اور یہ (قرآن)کتاب ہے برکت والی ہم نے نازل کی اپنے سے پہلی(کتابوں) کی تصدیق کرنے والی،تاکہ تم ڈراؤ اہل مکہ کو اور جو اس کے ارد گرد ہیں (تمام آس پاس والے)اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں(۹۲)

تشریح: یعنی اگر خدا نے کوئی چیز نہیں اتاری تو یہ مبارک کتاب کہاں سے آئی جس کا نام قرآن ہے اور جو تمام پچھلی کتابوں کے مضامین کی تصدیق کرنے والی ہے۔ اگر یہ آسمانی کتاب نہیں تو بتلاؤ کس کی تصنیف ہے جس کا مثل لانے پر جن و انس قادر نہ ہوں کیا اسے ایک امی کی تصنیف کہہ سکتے ہیں۔

”اُم القریٰ” بستیوں کی اصل اور جڑ کو کہتے ہیں مکہ معظمہ تمام عرب کا دینی اور دنیاوی مرجع تھا اور جغرافیائی حیثیت میں بھی قدیم دنیا کے وسط میں مرکز کی طرف واقع ہے اور جدید دنیا (امریکہ) اس کے نیچے ہے اور روایات حدیثیہ کے موافق پانی سے زمین بنائی گئی تو اول یہی جگہ کھلی تھی۔ ان وجوہ سے مکہ کو ”ام القریٰ” فرمایا اور آس پاس سے مراد یا عرب ہے کیونکہ دنیا میں قرآن کے اول مخاطب وہی تھے۔ ان کے ذریعہ سے باقی دنیا کو خطاب ہوا اور یا سارا جہان مراد ہو جیسے فرمایا لَیَکُوْنَ لِلْعَالَمِیْنَ نَذِیْراً۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اس سے بڑا ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ(بہتان)باندھے،یا کہے میری طرف وحی کی گئی ہے اور اسے کچھ وحی نہیں کی گئی(اسی طرح وہ) جو کہے میں ابھی اتارتا ہوں اس کے مثل جو اللہ نے نازل کیا اور اگر تو دیکھے جب ظالم موت کی سختیوں میں ہوں اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوں کہ اپنی جانیں نکالو آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا اس سببب سے کہ تم اللہ کے بارے میں جھوٹی باتیں کہتے تھے اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے۔(۹۳)

تشریح:خدا پر بہتان باندھنے سے شائد یہ مراد ہے کہ خدا کی طرف ان باتوں کی نسبت کرے جو اس کی شان رفیع کے لائق نہیں، مثلاً کسی کو اس کا شریک ٹھہرائے یا بیوی بچے تجویز کرے یا یوں کہے مَآاَنْزَلَ اﷲ عَلٰی بَشَرٍمِّنْ شَیْءٍ یعنی اس نے بندوں کی ہدایت کا کوئی سامان نہیں کیا۔ ایسا کہنے والا سخت ظالم ہے اسی طرح جو شخص نبوت و پیغمبری کا جھوٹا دعویٰ کرے یا یہ ڈینگ مارے کہ خدا کے جیسا کلام تو میں لا سکتا ہوں جیسے بعض مشرکین کہتے تھے لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ھٰذا یہ سب باتیں انتہائی ظلم اور دیدہ دلیری کی ہیں جس کی سزا کا تھوڑا سا حال مذکور ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور البتہ تم ہمارے پاس اکیلے آ گئے جیسے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور جو ہم نے تمہیں (مال واسباب) دیا تھا چھوڑ آئے اپنی پیٹھ پیچھے،اور ہم تمہارے ساتھ وہ سفارش کرنے والے نہیں دیکھتے(جن کی نسبت)تم گمان کرتے تھے کہ وہ تم میں (تمہارے)ساجھی ہیں،البتہ تمہارے درمیان(رشتہ)کٹ گیا اور تم جو دعوے کرتے تھے سب جاتے رہے۔(۹۴)

تشریح: جن کو تم سمجھتے تھے کہ آڑے وقت میں ہمارا ہاتھ بٹائیں گے اور مصیبت میں ساتھ ہوں گے ، وہ کہاں چلے گئے ،آج ہم ان کو تمہاری سفارش اور حمایت پر نہیں دیکھتے۔ حمایت و نصرت کے وہ علاقے آج ٹوٹ گئے اور جو لمبے چوڑے دعوے تم کیا کرتے تھے سب رفوچکر ہوئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک اللہ چیرنے والا ہے دانے اور گٹھلی کا وہ مردہ سے زندہ نکالتا ہے اور زندہ سے مردہ نکالنے والا ہے یہ ہے اللہ پس تم کہاں بہکے جا رہے ہو؟(۹۵)

تشریح: یعنی زمین میں دبائے جانے کے بعد گٹھلی اور دانہ کو پھاڑ کر سبز پودا اگانا یا جاندار کو بے جان اور بے جان کو جاندار سے نکالنا (مثلاً آدمی کو نطفہ سے نطفہ سے آدمی کو پیدا کرنا) اسی خدا کا کام ہے۔ پھر اسے چھوڑ کر تم کدھر بہکے جا رہے ہو؟ کیا اور کوئی ہستی تمہیں ایسی مل سکتی ہے جو ان کاموں کو انجام دے سکے۔

(تفسیرعثمانی)

 

(رات کی تاریکی)چاک کر کے صبح نکالنے والا اور اس نے رات کو (ذریعہ)سکون بنایا اور سورج اور چاند کو(ذریعہ)حساب یہ اندازہ ہے غالب علم والے کا(۹۶)

وہی ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ تم ان سے خشکی اور دریا کے اندھیروں میں راستہ معلوم کرو بیشک ہم نے آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں(۹۷)

اور وہی ہے جس نے تمہیں ایک وجود سے پیدا کیا پھر تمہارا ایک ٹھکانہ ہے اور امانت رہنے کی جگہ بیشک ہم نے آیات کھول کر بیان کر دی ہیں سمجھ والوں کے لئے۔(۹۸)

تشریح:مستقر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی شخص باقاعدہ اپنا ٹھکانا بنا لے، اس کے برعکس امانت رکھنے کی جگہ پر قیام عارضی قسم کا ہوتا ہے، اس لئے وہاں رہائش کا باقاعدہ انتظام نہیں کیا جاتا،اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس آیت کی تفسیر مختلف طریقوں سے کی گئی ہے ،حضرت حسن بصریؒ سے اس کی یہ تفسیر منقول ہے کہ مستقر سے مراد دنیا ہے جہاں انسان باقاعدہ اپنی رہائش کا ٹھکانا بنا لیتا ہے، اور امانت رکھنے کی جگہ سے مراد قبر ہے جس میں انسان کو مرنے کے بعد عارضی طور سے رکھا جاتا ہے،پھر وہاں سے اسے آخرت میں جنت یا جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، البتہ حضرت عبداللہ ابن عباسؓ نے ان لفظوں کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ مستقر سے مراد ماں کا پیٹ ہے جس میں بچہ مہینوں ٹھہرا رہتا ہے اور امانت رکھنے کی جگہ سے مراد شوہر کی صلب ہے جس میں نطفہ عارضی طور سے رہتا ہے پھر ماں کے رحم میں منتقل ہو جاتا ہے، بعض مفسرین نے اس کے برعکس مستقر شوہر کی صلب کو قرار دیا ہے اور امانت رکھنے کی جگہ ماں کے رحم کو؛ کیونکہ بچہ وہاں عارضی طور پر رہتا ہے۔

(روح المعانی)

 

اور وہی ہے جس نے آسمانوں سے پانی اتارا پھر ہم نے اس سے نکالی اگنے والی ہر چیز،پھر ہم نے اس سے سبزی نکالی جس سے ایک پر ایک چڑھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجوروں کے گابھے سے جھکے ہوئے خوشے،اور انگور اور زیتون اور انار کے باغات ایک دوسرے سے ملتے جلتے اور نہیں بھی ملتے،ا سکے پھل کی طرف دیکھو جب وہ پھلتا ہے اور اس کا پکنا (دیکھو)بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔(۹۹)

تشریح:اس رکوع میں حق تعالیٰ کے جن افعال و صفات اور مظاہر قدرت کا بیان ہوا، ان سے خدا کے وجود، وحدانیت اور کامل الصفات ہونے پر استدلال تو واضح ہے؛ لیکن غور کیا جائے تو وحی و نبوت کا مسئلہ بھی بڑی حد تک حل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جب حق تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت سے ہماری دنیاوی زندگی اور مادی حوائج کے انتظام و انصرام کے لئے اس قدر اسباب ارضی و سماوی مہیا فرمائے ہیں ، تو یہ کہنا کس قدر لغو اور غلط ہو گا کہ ہماری حیات اخروی اور روحانی ضروریات کے انجام پانے کا اس نے کوئی سامان نہیں کیا، یقیناً جس رب کریم نے ہماری جسمانی غذاؤں کی نشو نما کیلئے آسمان سے پانی اتارا ہے ،ہمارے روحانی تغذیہ کے لئے بھی اسی نے سحابہائے نبوت سے وحی الہام کی بارش نازل فرمائی۔ جب وہ برو بحر کی اندھیریوں میں ستاروں کے ذریعہ سے ظاہری راہنمائی کرتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ باطنی راہنمائی کے لئے اس نے ایک ستارہ بھی آسمان روحانیت پر روشن نہ کیا ہو۔ رات کی تاریکی کے بعد اس نے صبح صادق کا اجالا کیا اور مخلوق کو موقع دیا کہ وہ اپنے دنیاوی کاروبار میں چاند اور سورج کی روشنی سے ایک معین حساب کے ماتحت منتفع و مستفید ہوتی رہے پھر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ کفر و شرک، ظلم و عدوان اور فسق و فجور کی شب دیجور میں اس کی طرف سے کوئی چاند نہ چمکا، نہ صبح صادق کا نور پھیلا، نہ رات ختم ہو کر کوئی آفتاب طلوع ہوا۔ خدا کی ساری مخلوق ابد الآباد کے لئے جہل ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں پڑی چھوڑ دی گئی۔ کیا گیہوں کے دانے اور کھجور کی گٹھلی کو پھاڑ کر خدائے کریم سر سبز درخت اگاتا ہے پر انسان کے قلب میں معرفت ربانی کا استعداد کا جو بیج فطرۃً بکھیرا گیا ہو وہ یوں ہی بیکار ضائع کر دیا گیا کہ نہ ابھرا، نہ پھیلا، نہ پکا، نہ تیار ہوا، جب جسمانی حیثیت سے دنیا میں حی و میت کا سلسلہ قائم ہے۔ خدا زندہ سے مردہ کو مردہ سے زندہ کو نکالتا رہتا ہے تو روحانی نظام میں خدا کی اس عادت کا کیوں انکار کیا جائے بیشک وہ روحانی طور پر بھی وہ بہت دفعہ ایک زندہ قوم سے مردہ اور مردہ قوم سے زندہ افراد پیدا کرتا ہے۔ اور جس طرح اس نے ہماری دنیاوی زندگی کے مستقر و مستودع کا حکیمانہ بندوبست کیا ہے حیات اخروی کے مستقر و مستودع کے سامان اس سے کہیں بڑھ کر مہیا فرمائے۔ فللہ الحمد والمنہ وبہ الثقۃ والعصمۃ یہیں سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ جس طرح ہم خدا تعالیٰ کو اس کے کاموں سے پہچانتے ہیں یعنی جو کام وہ اپنی قدرت کاملہ سے کرتا ہے کسی مخلوق کی طاقت نہیں کہ ویسا کام کر سکے۔ ٹھیک اسی طرح اس کے کلام کو بھی ہم اسی معیار پر جانچ سکتے ہیں کہ خدا کا کلام وہی ہو سکتا ہے کہ اس جیسا کلام ساری مخلوق مل کر بھی نہ بنا سکے پھر ”سانزل مثل مآ انزل اللہ ”کا ادعاء کہاں تک صحیح ہو سکتا ہے گویا اس رکوع میں حق تعالیٰ کی صفات و افعال بیان کر کے ان تمام مسائل کی حقیقت پر متنبہ کر دیا گیا جن کی تغلیط گزشتہ رکوع میں کی گئی تھی۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور انہوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا،حالانکہ اس نے انہیں پیدا کیا ہے اور وہ اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تراشتے ہیں جہالت سے،وہ پاک ہے اور اس سے بلند تر ہے جو وہ بیان کرتے ہیں۔(۱۰۰)

تشریح:جنات سے مراد شیطان ہے اور یہ ان لوگوں کے باطل عقیدے کی طرف اشارہ ہے جو یہ کہتے تھے کہ تمام مفید مخلوقات تو اللہ نے پیدا کی ہیں مگر درندے سانپ بچھو اور دوسرے موذی جانور بلکہ تمام بری چیزیں شیطان نے پیدا کی ہیں اور وہی ان کا خالق ہے، ان لوگوں نے بظاہر ان بری چیزوں کی تخلیق کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کرنے سے پرہیز کیا؛ لیکن اتنا نہ سمجھ سکے کہ شیطان خود اللہ تعالی کی مخلوق ہے اور وہ سب سے بری مخلوق ہے، اگر بری چیزیں شیطان کی پیدا کی ہوئی ہیں خود اس بری مخلوق کو کس نے پیدا کیا اس کے علاوہ جو چیزیں ہمیں بری نظر آتی ہیں ان کی تخلیق میں بھی اللہ تعالی کی بڑی حکمتیں ہیں اور ان کی تخلیق کو برا فعل نہیں کہاجا سکتا ۔

(توضیح القرآن

 

نئی طرح (نمونہ کے بغیر)آسمانوں اور زمین کا بنانے والا اس کے بیٹا کیونکر ہو سکتا ہے جبکہ اس کی بیوی نہیں،اور اس نے ہر چیز پیدا کی ہے اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے(۱۰۱)

تشریح:یعنی اس کی ذات اتنی لطیف ہے کہ کوئی نگاہ اس کو نہیں پا سکتی اور وہ اتنا باخبر ہے کہ ہر نگاہ کو پالیتا ہے اور اس کے تمام حالات سے خوب واقف ہے اس جملے کی یہ تفسیر علامہ آلوسی ؒ نے متعدد مفسرین سے نقل کی ہے اور سیاق وسباق کے لحاظ سے نہایت مناسب ہے یہاں یہ واضح رہے کہ لطافت بھی عام بول چال میں جسم ہی کی صفت ہوتی ہے، جبکہ اللہ تعالی جسم سے پاک ہے؛ لیکن لطافت کا اعلی ترین درجہ وہ ہے جو جسمیت کے ہر شائبہ سے ماور ا ہو، اللہ تعالی کی ذات کو لطیف اس معنی میں کہا گیا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

یہی اللہ تمہارا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں،ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے سوتم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا کارساز و نگہبان ہے۔(۱۰۲)

تشریح: اس کی عبادت اس لئے کرنی چاہیے کہ مذکورہ بالا صفات کی وجہ سے وہ ذاتی طور پر استحقاق معبود بننے کا رکھتا ہے اور اس لئے بھی کہ تمام مخلوق کی کارسازی اسی کے ہاتھ میں ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

(مخلوق کی) آنکھیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ آنکھوں کو پا سکتا ہے اور وہ بھید جاننے والا،خبر دار ہے۔(۱۰۳)

تشریح:حضرت شاہ صاحب نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ آنکھ میں یہ قوت نہیں کہ اس کو دیکھ لے ہاں وہ خود از راہ لطف کرم اپنے کو دکھانا چاہے تو آنکھوں میں ویسی قوت بھی فرما دے گا۔ مثلاً آخرت میں مومنین کو حسب مراتب رویت ہو گی جیسا کہ نصوص کتاب و سنت سے ثابت ہے یا بعض روایات کے موافق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلتہ الاسراء میں رویت ہوئی علی اختلاف الاقوال۔ باقی مواضع میں چونکہ کوئی نص موجود نہیں لہٰذا عام قاعدہ کی بناء پر نفی رویت ہی کا اعتقاد رکھا جائے گا۔ مفسرین سلف میں سے بعض نے ادراک کو احاطہ کے معانی میں لیا ہے یعنی نگاہیں کبھی اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں۔ آخرت میں بھی رویت ہو گی احاطہ نہ ہو گا۔ ہاں اس کی شان یہ ہے کہ وہ تمام ابصار و مبصرات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اس وقت ”لطیف” کا تعلق ”لا تدرکہ”سے اور ”خیبر کا ” ” وہو یدرک” سے ہو گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

تمہارے رب کی طرف سے نشانیاں آ چکیں،تو جس نے دیکھ لیا سواپنے واسطے،اور جو اندھا رہا(اس کا وبال) اس کی جان پر،اور میں تم پر نگہبان نہیں، (۱۰۴)

تشریح:مجھ پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ہے کہ تم میں سے ہر شخص کو زبردستی مسلمان کر کے کفر کے نقصان سے بچاؤں،میرا کام سمجھادینا ہے ماننا نہ ماننا تمہارا کام ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور اسی طرح ہم آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ وہ کہیں تو نے (کسی سے)پڑھا ہے،اور تاکہ ہم جاننے والوں کے لئے واضح کر دیں۔(۱۰۵)

تشریح:ہٹ دھرم قسم کے کافروں کو بھی یہ کہتے ہوئے شرم آتی تھی کہ یہ کلام خو آنحضرتﷺ نے گھڑ لیا ہے کیونکہ وہ آپ کے اسلوب سے اچھی طرح واقف تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ آپ امی ہیں، اور کسی کتاب سے خود پڑھ کر یہ کلام نہیں بنا سکتے، لہذا وہ قرآن کریم کے بارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ آنحضرتﷺ نے یہ کلام کسی سے سیکھا ہے اور اسے اللہ کا کلام قرار دے کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں؛ لیکن کس سے سیکھا ہے وہ بھی نہیں بتا سکتے تھے، کبھی کبھی وہ ایک لوہار کا نام لیتے تھے جس کی تردیدسورۂ نحل میں آنے والی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اس پر چلو جو وحی آئے،تمہارے رب سے تمہاری طرف،اس کے سوا کوئی معبود نہیں،اور مشرکوں سے منہ پھیر لو۔(۱۰۶)

تشریح: آپ خدائے واحد پر بھرسہ کر کے اس کے حکم پر چلتے رہیں اور مشرکین کے جہل و عناد کی طرف خیال نہ فرمائیں کہ ایسے روشن دلائل و بیانات سننے کے بعد بھی راہ راست پر نہ آئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اگر اللہ چاہتا تووہ شرک نہ کرتے اور ہم نے تمہیں ان پر نگہبان نہیں بنایا اور تم ان پر داروغہ نہیں۔(۱۰۷)

تشریح:یعنی حق تعالیٰ کی تکوینی حکمت اس کو مقتضی نہیں ہوئی کہ وہ ساری دنیا کو زبردستی مومن بنا دے، بیشک وہ چاہتا تو روئے زمین پر ایک مشرک کو باقی نہ چھوڑتا۔ لیکن شروع سے اس نے انسانی فطرت کا نظام ہی ایسا رکھا ہے کہ آدمی کوشش کرے تو یقیناً ہدایت قبول کر سکے؛ تاہم قبول کرنے میں بالکل مجبور و مضطر نہ ہو پہلے اس مسئلہ کی تقریر گزر چکی۔   آپ کا فرض تبلیغ احکام الٰہی کا اتباع ہے ان کے اعمال کے ذمہ دار اور جوابدہ آپ نہیں ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اللہ کے سوا وہ جن کی پرستش کرتے ہیں تم انہیں گالی نہ دو، پس وہ اللہ کو بے سمجھے بوجھے گستاخی سے برا کہیں گے،اسی طرح ہم نے ہر فرقہ کو اس کا عمل بھلا دکھایا،پھر انہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے وہ پھر ان کو جتادے گا جو وہ کرتے تھے۔(۱۰۸)

تشریح:اگرچہ جن دیوتاؤں کو کافر و مشرک لوگ خدا مانتے ہیں ان کی حقیقت کچھ نہیں ہے؛ لیکن اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کافروں کے سامنے ان کے لئے نازیبا الفاظ استعمال نہ کیا کریں ،اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ کافر لوگ اس کے جواب میں اللہ تعالی کی شان میں گستاخی کرسکتے ہیں ،اگر انہوں نے ایسا کیا تو اس کا سبب تم بنو گے اور جس طرح اللہ تعالی کی شان میں خود گستاخی کرنا حرام ہے اسی طرح اس کا سبب بننا بھی ناجائز ہے، اس آیت سے فقہائے کرام نے یہ اصول نکالا ہے کہ کوئی کام بذات خود تو جائز یا مستحب ہو؛ لیکن اندیشہ ہوکہ اس کے نتیجے میں کوئی دوسرا شخص گناہ کا ارتکاب کرے گا توایسی صورت میں وہ جائز یا مستحب کام چھوڑدیا چاہئے ،تاہم اس اصول کے تحت کوئی ایسا کام چھوڑنا جائز نہیں ہے جو فرض یا واجب ہو،مزید تفصیل کے لئے اس آیت کے تحت تفسیر معارف القرآن کی طرف رجوع فرمائیں ،یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اہل عرب اگرچہ اللہ تعالی کو مانتے تھے اور اصل میں تو وہ خود بھی اللہ تعالی کی شان میں گستاخی کو جائز نہیں سمجھتے تھے؛ لیکن ضد میں آکر ان سے ایسی حرکت سرزد ہو جانا کچھ بعید نہیں تھا؛ چنانچہ بعض روایات میں ہے کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے آنحضرتﷺ سے یہ بات کہی تھی کہ اگر آپ ہمارے بتوں کو برا کہو گے توہم آپ کے رب کو برا کہیں گے۔

کَذٰلِکَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ :یہ درحقیقت ایک ممکن سوال کا جواب ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کافر لوگ اللہ تعالی کی شان میں گستاخی کریں تو ان کو دنیا میں ہی میں سزا کیوں نہیں دی جاتی جواب یہ دیا گیا ہے کہ دنیا میں تو ان لوگوں کی ضد کی وجہ سے ہم نے ان کے حال پر چھوڑ رکھا ہے کہ یہ اپنے طرز عمل کو بہت اچھا سمجھ رہے ہیں لیکن آخر کار ان سب کو ہمارے پاس لوٹنا ہے اس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس کی حقیقت کیا تھی.

(توضیح القرآن)

 

اور وہ تاکید سے اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو ضرور اس پر ایمان لائیں گے،آپ کہہ دیں کہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور تمہیں کیا خبر کہ جب آئیں تو یہ ایمان نہ لائیں گے۔(۱۰۹)

تشریح: بعض مسلمانوں کو یہ خیال ہوا کہ اچھا ہو اگر ان کی یہ حجت بھی پوری کر دی جائے، اس پر فرما دیا کہ تمہیں کیا خبر ہے کہ یہ سرکش ضدی لوگ فرمائشی نشان دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے، پھر سنت اللہ کے موافق اس کے مستحق ہوں گے کہ فورا ً تباہ کر دیئے جائیں۔

 

اور ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیں گے جیسے وہ ان(نشانیوں) پر پہلی بار ایمان نہیں لائے،اور ہم انہیں چھوڑ دیں گے ،ان کی سرکشی میں کہ وہ بہکتے رہیں۔(۱۱۰)

تشریح:یعنی جب کفر و سرکشی میں تمادی ہو گی تو نتیجہ یہ ہو گا کہ ہم ان کے دل اور آنکھیں الٹ دیں گے۔ پھر حق کے سمجھنے اور دیکھنے کی توفیق نہ ملے گی۔ موضح القرآن میں ہے کہ ”اللہ جن کو ہدایت دیتا ہے اوّل ہی حق سن کر انصاف سے قبول کر تے ہیں اور جس نے پہلے ہی ضد کی اگر نشانیاں بھی دیکھ لے تو کچھ حیلہ بنا لے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے اور ہم جمع کر دیتے ان پر(ان کے ساتھ)ہر چیز تو بھی وہ ایمان نہ لاتے مگر یہ کہ اللہ چاہے اور لیکن ان میں اکثر نادان ہیں۔(۱۱۱)

تشریح:یعنی اگر ان کی فرمائش کے موافق بلکہ اس سے بھی بڑھ کر فرض کیجئے آسمان سے فرشتے اتر کر آپ کی تصدیق کریں اور مردے قبروں سے اٹھ کر ان سے باتیں کرنے لگیں اور تمام امتیں جو گزر چکی ہیں دوبارہ زندہ کر کے ان کے سامنے لا کھڑی کی جائیں تب بھی سوء استعداد اور تعنت و عناد کی وجہ سے یہ لوگ حق کو ماننے والے نہیں۔ بیشک اگر خدا چاہے تو زبردستی منوا سکتا ہے لیکن ایسا چاہنا اس کی حکمت اور تکوینی نظام کے خلاف ہے۔ جس کو ان میں کے اکثر لوگ اپنے جہل کی وجہ سے نہیں سمجھتے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے انسانوں اور جنوں کے شیاطین کو دشمن کر دیا ان کے بعض،بعض(ایک دوسرے)کی طرف ملمع کی ہوئی باتیں بہکانے کے لئے (خفیہ) ڈالتے ہیں اور اگر تمہارا رب چاہتا تووہ ایسا نہ کرتے پس انہیں چھوڑ دیں (اس کے ساتھ)جو وہ جھوٹ گھڑتے ہیں (۱۱۲)

تشریح:چونکہ خدا کی حکمت بالغہ تکویناً اسی کو مقتضی ہے کہ نظام عالم کو جب تک قائم رکھنا منظور ہے خیر و شر کی قوتوں میں سے کوئی قوت بھی بالکل مجبور اور نیست و نابود نہ ہو۔ اس لئے نیکی و بدی اور ہدایت و ضلالت کی حریفانہ جنگ ہمیشہ سے قائم رہی ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اگر اللہ تعالی چاہتا تو شیاطین کو یہ قدرت نہ دیتا اور لوگوں کو زبردستی ایمان پر مجبور کر دیتا لیکن چونکہ مقصد امتحان ہے،اس لئے زبردستی کا ایمان معتبر نہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور تاکہ ان لوگوں کے دل اس کی طرف مائل ہو جائیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور تاکہ وہ اس کو پسند کریں اور تاکہ وہ کرتے رہیں جو وہ برے کام کرتے ہیں ۔(۱۱۳)

تشریح: یعنی شیاطین ایک دوسرے کو ملمع کی ہوئی فریب کی باتیں اس لئے سکھلاتے ہیں کہ انھیں سن کر جو لوگ دنیا کی زندگی میں غرق ہیں اور دوسری زندگی کا یقین نہیں رکھتے ان ابلہ فریب باتوں کی طرف مائل ہو جائیں۔ اور ان کو دل سے پسند کرنے لگیں۔ اور پھر کبھی برے کاموں اور کفر و فسق کی دلدل سے نکلنے نہ پائیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور منصف ڈھونڈوں؟اور وہی ہے جس نے تمہاری طرف مفصل (واضح) کتاب نازل کی ہے،اور جنہیں ہم نے کتاب دی ہے (اہل کتاب)وہ جانتے ہیں کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق کے ساتھ اتاری گئی ہے،سو تم شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔(۱۱۴)

اور پوری ہے تیرے رب کی بات سچ اور انصاف کی،اس کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔(۱۱۵)

تشریح: یعنی ”شیاطین الانس و الجن” کی تلبیس و تلمیع پر بدعقیدہ اور جاہل ہی کان دھر سکتے ہیں۔ ایک پیغمبر یا اس کے متبعین جو ہر مسئلہ اور ہر معاملہ میں خدائے واحد ہی کو اپنا منصف اور حکم مان چکے ہیں کیا ان سے یہ ممکن ہے کہ وہ خدا کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی چکنی چپڑی باتوں کی طرف کان لگائیں۔ یا معاذاللہ غیر اللہ کے فیصلہ کے آگے گردن جھکا دیں، حالانکہ ان کے پاس خدا کی طرف سے ایسی معجز اور کامل کتاب آ چکی جس میں تمام اصولی چیزوں کی ضروری توضیح و تفصیل موجود ہے۔ جس کی نسبت علمائے اہل کتاب بھی کتب سابقہ کی بشارات کی بناء پر خوب جانتے ہیں کہ یقیناً یہ آسمانی کتاب ہے جس کی تمام خبریں سچی اور تمام احکام معتدل اور منصفانہ ہیں جن میں کسی کی طاقت نہیں کہ موجودگی میں کیسے کوئی مسلمان وساوس و اوہام یا محض عقلی قیاسات اور مغویانہ مغالطات کا شکار ہو سکتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ خدا تعالیٰ جس کو ہم نے اپنا حکم اور جس کی کتاب مبین کو دستور العمل تسلیم کیا ہے وہ ہماری ہر بات کو سننے والا اور ہر قسم کے مواقع و احوال اور ان کے مناسب احکام و نتائج کی موزونیت کو پوری طرح جاننے والا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور زمین میں اکثر (ایسے ہیں)اگر تم ان کا کہا مانے تو وہ تجھے اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے،وہ نہیں پیروی کرتے مگر صرف گمان کی،اور وہ صرف اٹکل دوڑاتے ہیں ۔(۱۱۶)

بیشک تیرا رب اسے خوب جانتا ہے جو بہکتا ہے اس کے رستہ سے اور وہ ہادیت یافتہ لوگوں کو خوب جانتا ہے۔(۱۱۷)

سو تم اس میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان لانے والے ہو۔(۱۱۸)

اور تمہیں کہا ہوا کہ تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہارے لئے واضح کر چکا ہے جو اس نے تم پر حرام کیا ہے،مگر جس پر تم لاچار ہو جاؤ اور بہت سے(لوگ) اپنی خواہشات سے علم(تحقیق)کے بغیر گمراہ کرتے ہیں ،بیشک تمہارا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔(۱۱۹)

تشریح:پیچھے ان لوگوں کا ذکر تھا جو محض خیالی اندازوں پر اپنے دین کی بنیاد رکھے ہوئے ہیں، ان کی اس گمراہی کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ جس چیز کو اللہ تعالی نے حلال قرار دیا ہے اس کو یہ حرام کہتے ہیں اور جس چیز کو اللہ تعالی نے حرام کہا ہے اسے حلال سمجھتے ہیں ،چنانچہ ایک مرتبہ کچھ کافروں نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا کہ جس جانور کو اللہ تعالی قتل کرے یعنی وہ اپنی طبعی موت مر جائے اس کو تو تم مردار قرار دے کر حرام سمجھتے ہو اور جس جانور کو تم خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرتے ہو اس کو حلال قرار دیتے ہو، اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حلال و حرام کا فیصلہ درحقیقت اللہ تعالی کے قبضے میں ہے اس نے واضح فرما دیا ہے کہ جس جانور پر اللہ کا نام لے کر اسے ذبح کیا جائے وہ حلال ہوتا ہے اور جو ذبح کئے بغیر مر جائے یا جسے ذبح کرتے وقت اللہ تعالی کا نام نہ لیا گیا ہو وہ حرام ہوتا ہے، اللہ تعالی کے فیصلے کے بعد اپنے من گھڑت خیالات کی بنا پر حلال و حرام کا فیصلہ کرنا ایسے شخص کا کام نہیں جو اللہ تعالی کی آیتوں پر ایمان رکھتا ہو۔

یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ کفار کے مذکورہ اعتراض کے جواب میں یہ مصلحت بھی بتائی جا سکتی ہے کہ جانور کو باقاعدہ ذبح کیا جاتا ہے اس کا خون اچھی طرح بہہ جاتا ہے،اس کے برخلاف جو جانور خود مر جاتا ہے اس کا خون جسم ہی میں رہ جاتا ہے جس سے پورا گوشت خراب ہو جاتا ہے ،لیکن اللہ تعالی نے یہ حکمت بیان فرمانے کے بجائے یہ کہنے پر اکتفا فرمایا کہ جو چیزیں حرام ہیں وہ اللہ نے خود بیان فرم ادی ہیں، لہذا اس کے احکام کے مقابلے میں خیالی گھوڑے دوڑانا مؤمن کا کام نہیں، اس طرح یہ واضح فرما دیا کہ اگرچہ اللہ تعالی کے ہر حکم میں یقیناً مصلحتیں ہوتی ہیں لیکن مسلمان کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی اطاعت کو ان مصلحتوں کے سمجھنے پر موقوف رکھے اس کا فریضہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالی کا کوئی حکم آ جائے تو بے چون و چرا اس کی تعمیل کرے چاہے اس کی مصلحت اس کی سمجھ میں آ رہی ہو یا نہ آ رہی ہو۔

(توضیح القرآن)

 

اور چھوڑ دو کھلا گناہ اور چھپا ہوا،بیشک جو لوگ گناہ کرتے ہیں عنقریب اس کی سزا پالیں گے جو وہ برا کام کرتے تھے۔(۱۲۰)

تشریح:ظاہری گناہوں میں وہ گناہ بھی داخل ہیں جو انسان اپنے ظاہری اعضاء سے کرے ،مثلاً جھوٹ ،غیبت،دھوکا،رشوت،شراب نوشی،زنا وغیرہ،اور باطنی گناہوں سے مراد وہ گناہ ہیں جن کا تعلق دل سے ہوتا ہے مثلاً حسد، ریا کاری، تکبر ،بغض، دوسروں کی بد خواہی وغیرہ، پہلی قسم کے گناہوں کا بیان فقہ کی کتابوں میں ہوتا ہے اور ان کی تعلیم و تربیت فقہاء سے حاصل کی جاتی ہے اور دوسری قسم کے گناہوں کا بیان تصوف اور احسان کی کتابوں میں ہوتا ہے اور ان کی تعلیم و  تربیت کے لئے مشائخ سے رجوع کیا جاتا ہے، تصوف کی اصل حقیقت یہی ہے کہ باطن کے ان گناہوں سے بچنے کے لئے کسی رہنما سے رجوع کیا جائے افسوس ہے کہ تصوف کی اس حقیقت کو بھلا کر بہت سے لوگوں نے بدعات و خرافات کا نام تصوف رکھ لیا ہے۔اس حقیقت کو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے اپنی بہت سی کتابوں میں خوب واضح فرمایا ہے، آسان طریقے سے اس کو سمجھنے کے لئے ملاحظہ فرمائے حضرت مولانا مفتی شفیع صاحبؒ کی کتاب‘‘ دل کی دنیا’’۔

(توضیح القرآن)

 

اور اس سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا اور بیشک یہ گناہ ہے،اور بیشک شیطان اپنے دوستوں کے(دلوں میں وسوسہ)ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم نے ان کا کہا مانا تو بے شک تم مشرک ہو گئے۔(۱۲۱)

تشریح: یعنی شرک فقط یہی نہیں کہ کسی کو سوائے خدا کے پوجے بلکہ شرک کے حکم میں یہ بھی ہے کہ کسی چیز کی تحلیل و تحریم میں مستند شرعی کو چھوڑ کر محض آراء و اہوا کا تابع ہو جائے۔ جیسا کہ ”اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَاباًمِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ کی تفسیر میں مرفوعاً منقول ہے کہ اہل کتاب نے وحی الہٰی کو چھوڑ کر صرف احبار و رہبان ہی پر تحلیل و تحریم کا مدار رکھ چھوڑا تھا۔

(تفسیرعثمانی)

کیا(وہ شخص)جو مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا اور ہم نے اس کے لئے نور بنایا،وہ چلتا ہے اس(نور کی روشنی)سے لوگوں میں (کیا) اس جیسا ہو جائے گا جو اندھیروں میں ہے؟اس سے نکلنے والا نہیں،اسی طرح کافروں کے لئے ان کے عمل زینت دئیے گئے۔(۱۲۲)

تشریح:یہاں روشنی سے مراد اسلام کی روشنی ہے اور لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا ہو فرما کر اشارہ اس طرف کر دیا گیا ہے کہ اسلام کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ انسان مذہبی عبادات کو لے کر دنیا سے ایک طرف ہو کر بیٹھ جائے اور لوگوں سے میل جول چھوڑ دے؛ بلکہ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ وہ عام انسانوں کے درمیان رہے، ان سے ضروری معاملات کرے، ان کے حقوق ادا کرے؛ لیکن جہاں بھی جائے اسلام کی روشنی ساتھ لے جائے، یعنی یہ سارے معاملات اسلامی احکام کے تحت انجام دے۔

(توضیح القرآن)

 

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں بنائے اس کے بڑے مجرم تاکہ اس میں حیلے کریں اور وہ حیلے نہیں کرتے مگر اپنی جانوں پر(اپنی ہی جانوں پر چالیں چلتے ہیں) اور وہ شعور نہیں رکھتے۔(۱۲۳)

تشریح:یہ مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ کافر لوگ ان کے خلاف جو سازشیں کر رہے ہیں ان سے گھبرائیں نہیں اس قسم کی سازشیں ہر دور میں انبیاء کرام اور ان کے ماننے والوں کے خلاف ہوتی رہی ہیں؛ لیکن بالآخر انجام اہل ایمان ہی کا بہتر ہوتا ہے اور دشمنوں کی سازشیں آخر کار خود انہی کو نقصان پہنچاتی ہیں، کبھی تواسی دنیا میں ان کا یہ نقصان ظاہر ہو جاتا ہے اور کبھی دنیا میں ظاہر نہیں ہوتا؛ لیکن آخرت میں ان کو پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے خود اپنے حق میں کانٹے بوئے تھے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک ہمیں اس جیسا نہ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا،اللہ خوب جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں بھیجے،عنقریب ان لوگوں کو پہنچے گی جنہوں نے جرم کیا اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب اس کا بدلہ کہ وہ مکر کرتے تھے ۔(۱۲۴)

تشریح:یعنی جب تک خود ہم پر ویسی وحی نازل نہیں ہو گی جیسی انبیاء کرام پر نازل ہوتی رہی ہے اور ویسے معجزات ہمیں نہیں دئے جائیں گے جیسے ان کو دئے گئے تھے اس وقت تک ہم ایمان نہیں لائیں گے، خلاصہ یہ ہے کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ہم میں سے ہر شخص کو پوری پیغمبری ملنی چاہئے ،اسی لئے اللہ تعالی نہ یہ جواب دیا کہ اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے کہ پیغمبری کس کو عطا کی جائے۔

(توضیح القرآن)

 

پس اللہ جس  کو ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کہ اسے گمراہ کرے اس کا سینہ تنگ بھینچا ہوا (نہایت تنگ)کر دیتا ہے،گویا کہ وہ زور سے(بمشکل)آسمان پر چڑھ رہا ہے، اسی طرح اللہ ان لوگوں پر عذاب ڈالے گا جو ایمان نہیں لاتے۔(۱۲۵)

تشریح:جس شخص کو اللہ تعالی ہدایت دینا چاہتے ہیں ا س کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتے ہیں،حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں بروایت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرامؓ نے رسول اللہﷺ سے شرح صدر یعنی سینہ اسلام کے لئے کھول دینے کی تفسیر دریافت کی،آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی مؤمن کے دل میں ایک روشنی ڈال دیتے ہیں جس سے اس کا دل حق بات کو دیکھنے سمجھنے اور قبول کرنے کے لئے کھل جاتا ہے(حق بات کو آسانی سے قبول کرنے لگتا ہے اور خلاف حق سے نفرت اور وحشت ہونے لگتی ہے)صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ اس کی کوئی علامت بھی ہے جس سے وہ شخص پہچانا جائے جس کو شرح صدر حاصل ہو گیا ہے، فرمایا ہاں علامت یہ ہے کہ اس شخص کی ساری رغبت آخرت اور اس کی نعمتوں کی طرف ہو جاتی ہے، دنیا کی بے جا خواہشات اور فانی لذتوں سے گھبراتا ہے اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری کرنے لگتا ہے۔

(معارف القرآن)

 

جو لوگ ایمان لانے کا ارادہ نہیں رکھتے ان پر اسی طرح عذاب اور تباہی ڈالی جاتی ہے کہ رفتہ رفتہ ان کا سینہ اس قدر تنگ کر دیا جاتا ہے کہ اس میں حق کے گھسنے کی قطعاً گنجائش نہیں رہتی۔ پھر یہ ہی ضیق صدر عذاب ہے جو قیامت میں بشکل محسوس سامنے آ جائے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

یہ راستہ ہے تمہارے رب کا سیدھا،ہم نے آیات کھول کر بیان کر دی ہیں،ان لوگوں کے لئے جو نصیحت پکڑتے ہیں۔(۱۲۶)

ان کے لئے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے اور وہ ان کا کارساز ہے اس کے صلہ میں جو وہ کرتے تھے۔(۱۲۷)

تشریح: یعنی جو اسلام و فرمانبرداری کے سیدھے راستہ پر چلے گا وہی سلامتی کے گھر پہنچے گا اور خدا اس کا ولی و مددگار ہو گا۔ یہ حال تو ان کا ہوا جن کا ولی خدا ہے (یعنی اولیاء الرحمن)۔ آگے اولیاء الشیطان کا حال بیان کیا جاتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جس دن وہ جمع کرے گا ان سب کو(فرمائے گا)اے گروہِ جنات! تم نے بہت سے آدمی اپنے تابع کر لئے ،اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے اے ہمارے رب! ہمارے بعض نے بعض سے (ایک دوسرے سے) فائدہ اٹھایا،اور ہم اس میعاد (گھڑی)کو پہنچ گئے جوتو نے مقرر کی تھی۔فرمائے گا آگ تمہارا ٹھکانا ہے اس میں ہمیشہ رہو گے مگر جسے اللہ چاہے بیشک تمہارا رب حکمت والا جاننے والا ہے۔(۱۲۸)

تشریح: دنیا میں جو انسان بت وغیرہ پوجتے ہیں وہ فی الحقیقت خبیث جن (شیاطین) کی پوجا ہے۔ اس خیال پر کہ وہ ہمارے کام نکالیں گے ان کو نیازیں چڑھاتے ہیں اور ویسے بہت سے اہل جاہلیت تشویش و اضطراب کے وقت جنوں سے استعانت کرتے تھے۔ جیسا کہ سورہ جن”میں اشارہ کیا گیا ہے اور ابن کثیر وغیرہ نے روایات نقل کی ہیں۔ جب آخرت میں وہ شیاطین الجن اور انسان برابر پکڑے جائیں گے اور حقائق کا انکشاف ہو گا تب مشرک لوگ یوں عذر کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے پوجا نہیں کی لیکن آپس میں وقتی کارروائی کر لی تھی اور موت کا وعدہ آنے سے پہلے پہلے دنیاوی کاروبار میں ہم ایک دوسرے سے کام نکالنے کی کچھ ترکیب کر لیا کرتے تھے ان کی عبادت مقصود نہ تھی۔

(تفسیرعثمانی)

 

إِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ:اس کا ٹھیک ٹھیک مطلب تو اللہ تعالی ہی کو معلوم ہے؛   لیکن بظاہر استثناء کے اس جملے سے دوحقیقتوں کی طرف اشارہ مقصود ہے: ایک یہ کہ کافروں کے عذاب وثواب کا فیصلہ کسی سفارش یا اثر ورسوخ کی وجہ سے تبدیل نہیں ہو سکتا،بلکہ اس کا تمام تر فیصلہ خود اللہ تعالی کی مشیت کی بنیاد پر ہو گا اور یہ مشیت اس کی حکمت اور علم کے مطابق ہو گی جس کا ذکر اگلے جملے میں ہے ،دوسری حقیقت جو اس استثناء سے ظاہر کی گئی ہے یہ ہے کہ کافروں کو ہمیشہ جہنم میں رکھنا(معاذاللہ)اللہ تعالی کی کوئی مجبوری نہیں ہے لہذا اگر بالفرض اس کی مشیت یہ ہو جائے کہ کسی کو باہر نکال لیا جائے تو یہ عقلی اعتبار سے ناممکن نہیں ہے؛ کیونکہ اس کی اس حیثیت کے خلاف کوئی اسے مجبور نہیں کرسکتا یہ اور بات ہے کہ اس کی مشیت اس کے علم اور حکمت کے مطابق یہی ہو کہ کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں ۔

(توضیح القرآن)

 

اور اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض پر(ایک دوسرے پر) مسلط کر دیتے ہیں ان کے اعمال کے سبب۔(۱۲۹)

تشریح:یعنی جس طرح ان کافروں پران کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے شیاطین کو مسلط کر دیا گیا جو انہیں بہکاتے رہے، اسی طرح ہم ظالموں کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر دوسرے ظالموں کو مسلط کر دیتے ہیں،چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ جب کسی ملک کے لوگ بداعمالیوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان پر ظالم حکمران مسلط کر دئے جاتے ہیں ،اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ جب کوئی شخص کسی ظالم کے ظلم میں اس کی مدد کرتا ہے تو اللہ تعالی خود اسی ظالم کو مدد کرنے والے پر مسلط کر دیتا ہے ۔ابن کثیر۔

(توضیح القرآن)

 

اے گروہِ جنات اور انسان! کیا تمہارے پاس تم میں سے ہمارے رسول نہیں آئے؟وہ تم پر ہمارے احکام بیان کرتے تھے،اور تمہیں ڈراتے تھے یہ دن دیکھنے سے،وہ کہیں گے ہم اپنی جانوں کے خلاف(اپنے خلاف) گواہی دیتے ہیں اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں ڈال  دیا اور انہوں نے اپنے خلاف گواہی دی کہ وہ کفر کرنے والے تھے۔(۱۳۰)

تشریح:انسانوں میں تو پیغمبروں کا تشریف لانا واضح ہے، اس آیت کی وجہ سے بعض علماء کا کہنا ہے کہ جنات میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پیغمبر آتے رہے اور دوسرے حضرات   کا کہنا یہ ہے کہ باقاعدہ پیغمبر تو جنات میں نہیں آئے؛ لیکن انسانوں میں جو پیغمبر بھیجے گئے وہی جنات کو تبلیغ کرتے تھے اور جو جنات مسلمان ہو جاتے وہ پھر انبیاء کرام کے نمائندے بن کر دوسرے جنات کو بھی تبلیغ کرتے تھے ،جیسا کہ سورۂ جن میں تفصیل سے مذکور ہے، آیت کی رو سے دونوں احتمال ممکن ہیں؛ کیونکہ آیت کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں اور جنات دونوں کو تبلیغ کا حق ادا کر دیا گیا اور وہ دونوں طرح ممکن ہے۔

(توضیح القرآن)

 

یہ اس لئے ہے کہ تیرا رب ظلم کی سزا میں بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں جبکہ ان کے لوگ بے خبر ہوں(۱۳۱)

اور ہر ایک لئے ان کے اعمال کے درجے ہیں اور تمہارا رب اس سے بے خبر نہیں جو وہ کرتے ہیں(۱۳۲)

تشریح: یعنی خدا کی یہ عادت نہیں کہ بدون آگاہ اور خبردار کئے کسی کو اس کے ظلم و عصیان پر دنیا یا آخرت میں پکڑ کر ہلاک کر دے۔ اسی لئے رسول اور نذیر بھیجے کہ وہ خوب کھول کر تمام جن وانس کو ان کے بھلے برے اور آغاز و انجام سے خبردار کریں۔ پھر جس درجہ کا کسی کا عمل ہو گا حق تعالیٰ اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور تمہارا رب بے نیاز ہے،رحمت والا،اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے(ہلاک کر دے)اور جس کو چاہے تمہارے بعد جانشین کر دے ،جیسے اس نے تمہیں پیدا کیا اولاد سے ایک دوسری قوم کی(۱۳۳)

بیشک جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور آنے والی ہے اور تم عاجز کرنے والے نہیں(۱۳۴)

تشریح: خدا نے رسول بھیج کر اپنی حجت تمام کر دی۔ اب اگر تم نہ مانو اور سیدھے راستہ پر نہ چلو تو وہ غنی ہے اسے تمہاری کچھ پرواہ نہیں۔ وہ چاہے تو تم کو ایک دم میں لے جائے اور اپنی رحمت سے دوسری قوم کو تمہاری جگہ کھڑا کر دے جو خدا کی مطیع و وفادار ہو اور تم کو لے جا کر دوسری قوم کا لے آنا خدا کے لئے کیا مشکل ہے۔ آج تم اپنے جن آباء و اجداد کے جانشین بنے بیٹھے ہو، آخر ان کو اٹھا کر تم کو دنیا میں اسی خدا نے جگہ دی ہے۔ بہرحال خدا کا کام رک نہیں سکتا۔ تم نہ کرو گے دوسرے کھڑے کئے جائیں گے۔ ہاں یہ سوچ رکھو کہ یہی بغاوت و شرارت رہی تو خدا کا عذاب اٹل ہے۔ تم اگر سمجھو کہ بھاگ کر یا کسی کی پناہ لے کر سزا سے بچ جاؤ گے تو یہ محض حماقت ہے۔ ساری مخلوق مل کر بھی خدا کو اس کی مشیت کے نفاذ سے عاجز نہیں کر سکتی۔

(تفسیرعثمانی)

 

آپ فرما دیں اے میری قوم تم اپنی جگہ کام کرتے رہو میں بھی کام کر رہا ہوں پس عنقریب جان لو گے کس کے لئے ہے عاقبت کا گھر،بیشک ظالم دو جہان کی کامیابی نہیں پاتے۔(۱۳۵)

تشریح:یعنی ہم سب نیک و بد اور نفع و ضرر سے آگاہ کر چکے۔ اس پر بھی اگر تم اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے باز نہیں آئے تو تم جانو۔ تم اپنا کام کئے جاؤ میں اپنا فرض ادا کرتا ہوں۔ عنقریب کھل جائے گا کہ اس دنیا کا آخری انجام کس کے ہاتھ رہتا ہے۔ بلاشبہ ظالموں کا انجام بھلا نہیں ہو سکتا۔ آگے ان کے چند اعتقادی اور عملی ظلم بیان کئے جاتے ہیں جو ان میں رائج تھے اور سب سے بڑا ظلم و ہی ہے جسے فرمایا اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور (اللہ نے)جو کھیتی اور مویشی تیار کئے ہیں اس سے انہوں نے ٹھہرایا ہے اللہ کے لئے ایک حصہ،پس انہوں نے اپنے خیال میں کہا یہ اللہ کے لئے ہے اور یہ ہمارے شریکوں کے لئے ہے،پس جو ان کے شریکوں کے لئے ہے تووہ نہیں پہنچتا اللہ کو،اور جو اللہ کے لئے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔(۱۳۶)

تشریح:یہاں سے آیت نمبر:۱۴۴ تک عرب کے مشرکین کی کچھ بے بنیاد رسموں کا بیان ہے، ان لوگوں نے کسی معقول اور علمی بنیاد کے بغیر مختلف کاموں کو من گھڑت اسباب کی بنیاد پر حلال یا حرام قرار دے رکھا تھا ،مثلاً خود اپنی اولاد کو انتہائی سنگ دلی سے قتل کر دیتے تھے ،اگر لڑکی پیدا ہوئی تواسے اپنے لئے بڑی شرم کی بات سمجھ کر اسے زندہ زمین میں دفن کر دیتے تھے، بعض لوگ اس وجہ سے بھی لڑکیوں کو دفن کر دیتے تھے کہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اس لئے انسانوں کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ لڑکیاں رکھیں، لڑکوں کو بعض اس وجہ سے قتل کر ڈالتے تھے کہ ان کو کہاں سے کھلائیں گے ،اور کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو یہ نذر مان لیتے تھے کہ ہمارا جو دسواں لڑکا ہو گا اسے اللہ یا بتوں کے نام پر ذبح کر دیں گے، اس کے علاوہ اپنے مویشیوں اور کھیتوں کی پیداوار کے بارے میں بھی عجیب و غریب عقیدے گھڑ رکھے تھے، ان میں سے ایک کا بیان اس آیت میں ہے اور وہ یہ کہ اپنے کھیتوں کی پیداوار اور مویشیوں کے دودھ یا گوشت میں سے کچھ حصہ تو اللہ کے نام رکھتے تھے (جو مہمانوں اور غریبوں میں تقسیم کیلئے ہوتا تھا)اور ایک حصہ اپنے بتوں کے نام کا نکالتے تھے جو بت خانوں پر چڑھا یا جاتا تھا اور اس سے بت خانوں کے نگراں فائدہ اٹھاتے تھے ،اول تو یہ بات ہی بیہودہ تھی کہ اللہ کے ساتھ بتوں کو شریک کر کے ان کے نام پر پیداوار کا کچھ حصہ رکھا جائے ،اوپر سے ستم ظریفی یہ تھی کہ جو حصہ اللہ کے نام کا رکھا تھا اگر اس میں سے کچھ بتوں والے حصے میں چلا جاتا تو کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، البتہ اگر بتوں کے حصے میں سے کوئی چیز اللہ کے نام کے حصے میں چلی جاتی تواسے فوراً واپس کرنے کا اہتمام کرتے تھے ۔

(توضیح القرآن)

 

اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لئے انکے شریکوں نے اولاد کا قتل آراستہ کر دیا ہے تاکہ وہ انہیں ہلاک کر دیں اور ان پر ان کا دین گڈ مڈ کر دیں اور اگر اللہ چاہتا تووہ  (ایسا) نہ کرتےسوتم انہیں چھوڑ دو اور وہ جھوٹ باندھتے ہیں (وہ جانیں اور ان کا جھوٹ)(۱۳۷)

تشریح:یہاں”شرکاء” کی تفسیر مجاہد نے ”شیاطین” سے کی ہے۔ مشرکین کی انتہائی جہالت اور سنگدلی کا ایک نمونہ یہ تھا کہ بعض اپنی بیٹیوں کو سسر بننے کے خوف سے اور بعض اس اندیشہ پر کہ کہاں سے کھلائیں گے حقیقی اولاد کو قتل کر دیتے تھے اور بعض اوقات منت مانتے تھے کہ اگر اتنے بیٹے ہو جائیں گے یا فلاں مراد پوری ہو گی تو ایک بیٹا فلاں بت کے نام پر ذبح کریں گے۔ پھر اس ظلم و بے رحمی کو بڑی عبادت اور قربت سمجھتے تھے۔ شاید یہ رسم شیطان نے سنت خلیل اللہ ہی کے جواب میں سُجھائی ہو گی۔ یہود میں بھی مدت تک قتل اولاد کی رسم بطور ایک عبادت و قربت کے جاری رہی ہے جس کا انبیائے بنی اسرائیل نے بڑی شد و مد سے رد کیا۔ بہرحال اس آیت میں قتل اولاد کی ان تمام صورتوں کی شناعت بیان فرمائی ہے جو جاہلیت میں رائج تھیں۔ یعنی شیاطین قتل اولاد کی تلقین و تزیین اس لئے کرتے ہیں کہ اس طرح لوگوں کو دنیا و آخرت دونوں جگہ تباہ و برباد کر کے چھوڑیں اور ان کے دین میں گڑ بڑی ڈال دیں کہ جو کام ملت ابراہیمی و اسماعیلی کے بالکل متضاد و منافی ہے، اسے ایک دینی کام اور قربت و عبادت باور کرائیں۔ والعیاذ باللہ! کجا سنت ابراہیمی اور کجا یہ حماقت و جہالت؟

(تفسیرعثمانی)

 

اور انہوں نے کہا یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہے،اسے کوئی نہ کھائے مگر جس کو ہم چاہیں ان کے(جھوٹے)خیال کے مطابق اور کچھ مویشی ہیں کہ ان کی پیٹھ پر (سواری )حرام کی ہے اور کچھ مویشی ہیں(ذبح کرتے وقت) ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے(یہ)جھوٹ باندھنا ہے اس پر ہم جلد انہیں سزا دیں گے اس کی جو جھوٹ باندھتے تھے(۱۳۸)

تشریح: وَقَالُوْا هٰذِهِ أَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ :یہ ایک اور رسم کا بیان ہے جس کی رو سے وہ اپنے من گھڑت دیوتاؤں کو اپنے گمان کے مطابق خوش کرنے کے لئے کسی خاص کھیتی یا مویشی پر پابندی لگا دیتے تھے کہ ان کی پیداوار سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا ،البتہ جس شخص کو چاہتے اس پابندی سے مستثنی کر دیتے تھے۔

وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا :ایک اور رسم یہ تھی کہ کسی سواری کے جانور کو کسی بت کے نام وقف کر دیتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ اس پر سواری کرنا حرام ہے۔

وَأَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللہِ عَلَيْهَا :بعض جانوروں کے بارے میں انہوں نے یہ طے کر رکھا تھا کہ ان پر اللہ کا نام نہیں لیا جا سکتا ،نہ ذبح کرتے وقت ،نہ سواری کے وقت اور نہ ان کا گوشت کھاتے وقت ،چنانچہ ان پر سوار ہو کر حج کرنے کو بھی ناجائز سمجھتے تھے۔

(توضیح القرآن)

 

پھر غضب یہ تھا کہ ان خرافات اور جہالتوں کو خدا کی طرف نسبت کرتے تھے، گویا اس نے معاذ اللہ یہ احکام دئے ہیں اور ان ہی طریقوں سے اس کی خوشنودی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ایسی بد عنوانیوں کے ساتھ یہ افتراء و بہتان۔ عنقریب ان گستاخیوں کی سزا سے ان کو دو چار ہونا پڑے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور انہوں نے کہا جو ان مویشیوں کے پیٹ میں ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر مردہ ہو تو سب اس میں شریک ہیں وہ جلد انہیں ان کے باتیں بنانے کی سزا دے گا،وہ بیشک حکمت والا جاننے والا ہے(۱۳۹)

تشریح: ایک مسئلہ یہ بنا رکھا تھا کہ بحیرہ اور سائبہ کہ اگر ذبح کیا اور اس کے پیٹ میں سے زندہ بچہ نکلا تو اسے مرد کھائیں اور عورتیں نہ کھائیں اور مردہ نکلے تو سب کھا سکتے ہیں۔ اس طرح کے بے سند مسئلے گھڑنے والوں کے جرائم سے خدا بے خبر نہیں۔ ہاں وہ اپنی حکمت کے موافق مناسب وقت میں ان کو مناسب سزا دے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

البتہ وہ لوگ گھاٹے میں پڑے جنہوں نے بے وقوفی نادانی سے اپنی اولاد کو قتل کیا اور جو اللہ نے انہیں دیا وہ حرام ٹھہرا لیا جھوٹ باندھتے ہوئے اللہ پر،یقیناً وہ گمراہ ہوئے اور وہ ہدایت پانے والے نہ تھے۔(۱۴۰)

تشریح:اس سے بڑی خرابی، گمراہی اور نقصان و خسران کیا ہو گا کہ بیٹھے بٹھائے بلاوجہ دنیا میں اپنی اولاد و اموال سے محروم اور سنگدلی، بد اخلاقی و جہل میں مشہور ہوئے اور آخرت کا دردناک عذاب سر پر رکھا، نہ عقل سے کام لیا نہ شرع کو پہچانا، پھر سیدھی راہ پر آتے تو کیسے آتے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور وہی (خالق )ہے جس نے باغات پیدا کئے (چھتریوں پر) چڑھائے ہوئے(جیسے انگور)اور چھتریوں پر نہ چڑھائے ہوئے اور کھجور دوار کھیتی اس کے پھل مختلف(قسم کے)اور زیتون اور انار ملتے جلتے اور جدا جدا،جب پھل لائے تواس کے پھل کھاؤ اور اس کے کاٹنے کے دن اس کا حق  (عشر) ادا کر دو اور بیجا خرچ نہ کرو،بیشک اللہ بیجا خرچ کرے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(۱۴۱)

تشریح:وَاٰتُوْا حَقَّهٗ يَوْمَ حَصَادِهٖ:اس سے مراد عشر ہے جو زرعی پیداوار پر واجب ہوتا ہے مکی زندگی میں اس کی کوئی خاص شرح مقرر نہیں تھی،بلکہ جب کٹائی کا وقت آتا تو کھیتی کے مالک پر فرض تھا کہ جو فقراء اس وقت موجود ہوں ان کو اپنی صوابدید کے مطابق کچھ دے دیا کرے، مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد اس کے مفصل احکام آئے اور آنحضرتﷺ نے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ بارانی زمینوں پر پیداوار کا دسواں حصہ اور نہری زمینوں پر بیسواں حصہ غریبوں کا حق ہے، آیت نے بتایا ہے کہ یہ حق کٹائی ہی کے وقت ادا کر دینا چاہئے۔

(توضیح القرآن)

 

اور چوپائیوں میں سے(پیدا کئے)بار بردار(بڑے بڑے)اور زمین پر لگے ہوئے(چھوٹے چھوٹے)جو اللہ نے تمہیں دیا ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو،بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔(۱۴۲)

تشریح: بوجھ اٹھانے والے جیسے اونٹ وغیرہ اور زمین سے لگے ہوئے چھوٹے قدو قامت کے جانور جیسے بھیڑ بکری۔

اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے منتفع ہونا چاہئے۔ شیطان کے قدموں پر چلنا یہ ہے کہ ان کو خواہی نخواہی بدون حجت شرعی کے حرام کر لیا جائے یا شرک و بت پرستی کا ذریعہ بنا لیا جائے۔ شیطان کی اس سے زیادہ کھلی ہوئی دشمنی کیا ہو گی کہ ان نعمتوں سے تم کو دنیا میں محروم رکھا اور آخرت کا عذاب رہا سو الگ۔

(تفسیرعثمانی)

 

آٹھ جوڑے(نر اور مادہ پیدا کئے)دو بھیڑ سے اور دو بکری سے،آپ پوچھیں کیا(اللہ نے)دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا جو دونوں مادہ کے رحم میں لپٹا ہوا ہے(ابھی پیٹ میں)ہو؟ مجھے کسی علم سے بتاؤ اگر تم سچے ہو۔(۱۴۳)

اور دو اونٹ سے اور دو گائے سے (پیدا کئے) آپ پوچھیں کیا اللہ نے دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا جو دونوں کے رحموں میں لپٹا ہوا ہو(ابھی پیٹ میں ہو)؟کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا ؟پس اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر بہتان باندھے جھوٹ،تاکہ لوگوں کو علم کے بغیر (جہالت سے)گمراہ کرے بیشک اللہ ظلم کرنے والے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔(۱۴۴)

تشریح:مطلب یہ ہے کہ تم لوگ کبھی نر جانور کو حرام قرار دے دیتے ہو کبھی مادہ جانور کو، حالانکہ اللہ تعالی نے یہ جوڑے پیدا کرتے وقت نہ نر کو حرام کیا تھا نہ مادہ کو،اب تم ہی بتاؤ کہ اگر نر ہونے کی وجہ سے کوئی جانور حرام ہوتا ہے تو ہمیشہ نر ہی حرام ہونا چاہئے اور اگر مادہ ہونے کی وجہ سے حرمت آتی ہے تو ہمیشہ مادہ ہی حرام ہونا چاہئے ، اور اگر کسی مادہ کے پیٹ میں ہونے کی وجہ سے حرمت آتی ہے تو پھر بچہ نر ہو یا مادہ ہر صورت میں حرام ہونا چاہئے ،لہذا تم نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ رکھے ہیں نہ ان کی کوئی علمی یا عقلی بنیاد ہے اور نہ اللہ کا کوئی حکم ایسا آیا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

آپ  فرما دیجئے جو وحی مجھے دی گئی ہے اس میں کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام نہیں پاتا ،مگر یہ کہ وہ مردار ہویا بہتا ہوا خون یا سور کا گوشت،پس وہ ناپاک  ہے یا گناہ گا(ناجائز ذبیحہ)جس پر غیراللہ کا نام پکارا گیا ہو،پس جو لاچار ہو جائے ،نہ نا فرمانی کرنے والا ہو ورنہ سرکش ہو تو بیشک آپ  رب بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔(۱۴۵)

تشریح:مطلب یہ ہے کہ جن جانوروں کو بت پرستوں نے حرام قرار دے رکھا ہے ان میں سے کسی جانور کے بارے میں مجھ پر اللہ تعالی کی طرف سے کوئی ممانعت کا حکم ان چار چیزوں کے سوا نہیں آیا ،اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے جانوروں میں بھی کوئی جانور حرام نہیں ،چنانچہ آنحضرتﷺ نے ہر قسم کے درندوں وغیرہ کے حرام ہونے کی وضاحت فرم ادی ہے۔

اگر آدمی بھوک سے بے تاب ہو اور کھانے کے لئے کوئی حلال چیز میسر نہ ہو تو جان بچانے کے لئے ان حرام چیزوں میں سے کسی چیز کا کھانا بقدر ضرورت جائز ہو جاتا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور ان لوگوں پر جو یہودی ہوئے،ہم نے حرام کر دیا ہر ناخن والا جانور اور ہم نے گائے اور بکری کی چربی ان پر حرام کر دی سوائے اس کے جو ان کی پیٹھ یا انتڑیوں سے لگی ہو یا ہڈیوں کے ساتھ ملی ہو،یہ ہم نے ان ک وبدلہ دیا ان کی سرکشی کا اور بیشک ہم سچے ہیں۔(۱۴۶)

تشریح: یعنی اصلی حرمت تو ان چیزوں میں ہے جو اوپر مذکور ہوئیں، البتہ وقتی مصلحت سے بعض چیزیں عارضی طور پر بعض اقوام پر پہلے حرام کی جا چکی ہیں۔ مثلاً یہود پر ان کی شرارتوں کی سزا میں ہر ناخن (کھر) والا جانور جس کی انگلیاں پھٹی نہ ہوں جیسے اونٹ، شتر مرغ، بطخ وغیرہ حرام کیا گیا تھا۔ نیز گائے بکری کی جو چربی پشت یا انتڑیوں پر لگی ہوئی ہو یا ہڈی کے ساتھ نہ ملی ہو ان پر حرام کر دی گئی تھی جیسے گردہ کی چربی۔ بنی اسرائیل کا دعویٰ غلط ہے کہ یہ چیزیں ابراہیم نوح کے زمانہ ہی سے مستمر طور پر حرام چلی آتی ہیں ،سچی بات یہ کہ ان میں سے کوئی چیز عہد ابراہیمی میں حرام نہ تھی یہود کی نافرمانیوں اور شرارتوں کی وجہ سے یہ سب چیزیں حرام ہوئیں جو کوئی اس کے خلاف دعویٰ کرے جھوٹا ہے، جیسے پارہ ”لَنْ تَنَالُوْا” کے شروع میں قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّو ٰرۃِ فَاتْلُوْ ھَا اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ سے ان دعویٰ کرنے والوں کو چیلنج دیا گیا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

پس اگر آپ کو جھٹلائیں تو آپ کہہ دیں تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے،اور اس کا عذاب مجرموں کی قوم سے ٹالا نہیں جاتا۔(۱۴۷)

تشریح:جھٹلانے والوں سے یہاں براہ راست تو یہودی مراد  ہیں؛ کیونکہ وہ اس بات کا انکار کرتے تھے کہ مذکورہ چیزیں ان پر ان کی سرکشی کی وجہ سے حرام کی گئی تھیں،ضمناً ا میں مشرکین عرب بھی داخل ہیں جو قرآن کریم کی ہر بات کا انکار کرتے تھے، جس میں یہ بات بھی شامل تھی،دونوں فریقوں سے یہ کہا جار ہا ہے کہ اگر ان کے قرآن کو جھٹلانے کے باوجود ان پر کوئی فوری عذاب نہیں آ رہا ہے ؛بلکہ دنیا میں انہیں خوشحالی بھی میسر ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالی ان کے عمل سے خوش ہے اس کے بجائے حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالی کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ ہ اپنے باغیوں کو بھی رزق دیتا ہے اور خوشحالی سے نوازتا ہے البتہ یہ بات طے ہے کہ ان مجرموں کو ایک نہ ایک دن عذاب ضرور ہو گا جسے کوئی ٹلا نہیں سکتا۔

(توضیح القرآن)

 

مشرک جلد کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کوئی چیز حرام ٹھہراتے، اسی طرح (ان لوگوں نے)جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھا، آپ فرمادیجئے کیا تمہارے پاس کوئی یقینی بات ہے توا س کوہ مارے سامنے ظاہر کرو، تم صرف گمان کے پیچھے چلتے ہو اور تم صرف اٹکل چلاتے ہو۔(۱۴۸)

تشریح:یہ پھر وہی بے ہودہ دلیل ہے جس کا جواب بار بار دیا جا چکا ہے یعنی یہ کہ اگر اللہ کو شرک ناگوار ہے تو وہ ہمیں شرک پر قدرت ہی کیوں دیتا ہے ؟جواب بار بار دیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالی ساری دنیا کو اپنی قدرت کے ذریعے زبردستی ایمان پر مجبور کر دے تو پھر امتحان ہی کیا ہوا؟دنیا تواسی امتحان کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ کون شخص اپنی سمجھ اور اپنے اختیار سے وہ صحیح راستہ اختیار کرتا ہے جو اللہ تعالی نے ہر انسان کی فطرت میں بھی رکھ دیا ہے اور جس کی طرف رہنمائی کے لئے اتنے سارے پیغمبر بھیجے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

آپ فرما  دیں اللہ ہی کی حجت پوری(غالب) ہے،پس اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔(۱۴۹)

تشریح:یعنی تم تو فرضی دلائل پیش کر رہے ہو لیکن اللہ تعالی نے پیغمبروں کو بھیج کر اپنی حجت پوری کر دی ہے اور ان کے بیان کئے ہوئے دلائل دلوں میں اترنے والے ہیں ان کی تصدیق اس حقیقت نے بھی کر دی ہے کہ جن لوگوں نے انہیں جھٹلایا وہ اللہ تعالی کے عذاب کے شکار ہوئے،لہذا یہ بات تو صحیح ہے کہ اگر اللہ تعالی چاہتا توسب کو زبردستی ہدایت پر لے آتا لیکن اس سے تمہاری یہ ذمہ داری ختم نہیں ہوتی تم اپنے اختیار سے پیغمبروں کے ناقال انکار دلائل کو قبول کر کے ایمان لاؤ۔

(توضیح القرآن)

 

آپ فرما دیں لاؤ اپنے گواہ  جو گواہی دیں کہ اللہ نے یہ حرام کیا ہے ،پھر اگر وہ گواہی دے دیں  تو  بھی تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرنا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور  (معبودانِ باطل کو) اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔(۱۵۰)

تشریح: یعنی دلیل عقلی کا حال تو اوپر معلوم ہو چکا۔ اب اگر اس من گھڑت تحریم پر کوئی نقلی دلیل رکھتے ہو تو وہ لاؤ۔ کیا تمہارے پاس ایسے گواہ موجود ہیں جو یہ بیان کریں کہ ہاں ان کے روبرو اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو حرام ٹھہرایا تھا؟ظاہر ہے کہ ایسے واقعی گواہ کہاں دستیاب ہو سکتے ہیں۔ اگر دو چار گستاخ جھوٹے بے حیا یہی گواہی دینے کو کھڑے ہو جائیں تو ایسوں کی بات پر تم کان نہ دھرو اور نہ ان کی خواہشات کی پ روا کرو۔ یہاں تک ان چیزوں کا بیان تھا جنہیں مشرکین نے محض اپنی رائے و ہوا سے حرام ٹھہرا رکھا تھا، پھر اس تحریم کے لئے حیلے اور باطل عذر پیش کرتے تھے۔ آگے وہ چیزیں بیان کی جاتی ہیں جنہیں خدا نے حرام کیا اور ہمیشہ سے حرام رہی ہیں لیکن یہ مشرکین ان میں مبتلا ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

 

آپ فرما دیں آؤ میں پڑھ کر سناؤں جو حرام کیا ہے تم پر تمہارے رب نے کہ اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو اور قتل نہ کرو اپنی اولاد کو مفلسی(کے ڈر)سے،ہم تمہیں رزق دیتے ہیں اور ان کو (بھی) اور بے حیائیوں کے قریب نہ جاؤ،جو ان میں کھلی ہو اور چھپی ہو،اور جس جان کو اللہ نے حرمت دی ہے اسے قتل نہ کرو ،مگر حق پریہ تمہیں حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔(۱۵۱)

تشریح:ان آیات سے پہلے تقریباً دو تین رکوع میں مسلسل یہ مضمون بیان ہو رہا ہے کہ غافل اور جاہل انسان نے زمین وآسمان کی ساری چیزوں کے پیدا کرنے والے احکم ال حاکمین کا نازل کیا ہوا قانون چھوڑ کر آبائی اور من گھڑت رسموں کو اپنا دین بنال یا ،جن چیزوں کو اللہ تعالی نے حرام کیا تھا انکو جائز سمجھ کرکرنے لگے اور بہت سی چیزیں جن کو اللہ تعالی نہ حلال قرار دیا تھا ان کو اپنے اوپر حرام کر لیا، اور بعض چیزوں کو مردوں کے لئے جائز عورتوں کے لئے حرام بعض کو عورتوں کے لئے حلال مردوں کے لئے حرام قرار دے دیا(ان آیتوں میں ان چیزوں کا بیان ہے جن کو اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہے).

(معارف القرآن)

 

عرب مفلسی کی وجہ سے بعض اوقات اولاد کو قتل کر دیتے تھے کہ خود ہی کھانے کو نہیں اولاد کو کہاں سے کھلائیں۔ اسی لئے فرمایا کہ رزق دینے والا تو خدا ہے تم کو بھی اور تمہاری اولاد کو بھی۔

‘‘اور بے حیائیوں کے قریب نہ جاؤ’’ سے شاید یہ مراد ہو کہ ایسے کاموں کے مبادی و وسائل سے بھی بچنا چاہئے، مثلاً زنا کی طرح نظر بد سے بھی اجتناب لازم ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بے حیائی کے کام جس طرح کھلم کھلا کرنا منع ہے اسی طرح چوری چھپے بھی منع ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جس جان کو اللہ نے حرمت دی ہے اسے قتل نہ کرو ،مگر حق پر۔ اِلَّا بِالْحَقِّ :کا استثناء ضروری تھا۔ جس میں قاتل عمد، زانی محصن اور مرتد عن الاسلام کا قتل داخل ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں اس کی تصریح وارد ہو چکی اور ائمۂ مجتہدین اس پر اجماع کر چکے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طرح کہ وہ بہترین ہو،یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے اور انصاف کے ساتھ ماپ تول پورا کرو،ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے(بوجھ نہیں ڈالتے) مگر اس کے مقدور کے مطابق اور جب بات کرو تو انصاف کی کرو خواہ رشتہ دار (کا معاملہ) ہو ۔اور اللہ کا عہد پورا کرو، اس نے تمہیں یہ حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔(۱۵۲)

اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ :یتیم کے مال میں بیجا تصرف کرنا حرام ہے۔ ہاں بہتر و مشروع طریقہ سے احتیاط کے ساتھ اس میں ولی یتیم تصرف کر سکتا ہے۔ جب یتیم جوان ہو جائے اور اپنے فرائض کو سنبھال سکے تو اس کے حوالہ کر دیا جائے۔

(تفسیرعثمانی)

 

خرید و فروخت کے وقت ناپ تول کا پورا لحاظ رکھنا واجب ہے لیکن اللہ تعالی نے یہ واضح فرما دیا کہ اس معاملے میں طاقت سے زیادہ میخ نکالنے کی بھی ضرورت نہیں انسان ک و پوری پوری کوشش کرنی چاہئے کہ ناپ تول ٹھیک ہو،لیکن کوشش کے باوجود تھوڑا بہت فرق رہ جائے تووہ معاف ہے۔

(توضیح القرآن)

 

ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے :یعنی اپنی طاقت کے موافق ان احکام کی بجا آوری میں کوشش کرو اسی کے تم مکلف ہو۔ خدا کسی کو اس کی قدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔

جب بات کرو تو انصاف کی کرو خواہ رشتہ دار  (کا معاملہ) ہو:یعنی حق و انصاف کی بات کہنے میں کسی کی قرابت و محبت مانع نہ ہونی چاہئے۔

اور اللہ کا عہد پورا کرو :اس کے اوامر و نواہی پر پابندی سے عمل کرو۔ خدا کے لئے جو نذر مانو یا قسم کھاؤ بشرطیکہ غیر مشروع بات کی نہ ہو اسے پورا کرنا چاہئے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اللہ کے عہد میں وہ عہد بھی داخل ہے جس میں براہ راست اللہ تعالی سے کوئی وعدہ کیا گیا ہو،اور وہ عہد بھی جوکسی انسان سے کیا گیا ہو مگر اللہ تعالی کی قسم کھا کر یا اس کو گواہ بنا کر کیا گیا ہو۔

(توضیح القرآن)

 

اور یہ کہ یہ میرا راستہ سیدھا ہے پس اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو وہ تمہیں اس راستہ سے جدا کر دیں گے،اس نے تمہیں اس کا حکم دیا تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔(۱۵۳)

تشریح:یعنی احکام مذکورہ بالا کی پابندی اور خدا کے عہد کو اعتقاداً پورا کرنا یہی صراط مستقیم (سیدھی راہ) ہے، جس کی طرف سورۂ فاتحہ میں تلقین کی گئی تھی۔ یہ راہ تم کو دکھلا دی گئی اب چلنا تمہارا کام ہے۔ جو کوئی اس کے سوا دوسرے راستہ پر چلا وہ خدا کے راستہ سے بھٹکا۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ دس چیزیں جن کی حرمت کا بیان ان آیات میں آیا ہے یہ ہیں:

(۱)اللہ تعالی کے ساتھ عبادت  و اطاعت میں کسی کو ساجھی ٹھہرانا

(۲)والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ نہ کرنا

(۳)فقر وافلاس کے خوف سے اولاد کو قتل کر دینا

(۴) بے حیائی کے کام کرنا

(۵) کسی کو ناحق قتل کرنا

(۶)یتیم کا مال ناجائز طور پر کھا جانا

(۷)ناپ تول میں کمی کرنا

(۸)شہادت یا فیصلہ یا دوسرے کلام میں بے انصافی کرنا

(۹)اللہ تعالی کے عہد کو پورا نہ کرنا

(۱۰) اللہ تعالی کے سیدھے راستہ کو چھوڑ کر دائیں بائیں دوسرے راستے اختیار کرنا۔

(معارف القرآن)

 

پھر ہم نے موسی کو کتاب دی اس پر اپنی نعمت پوری کرنے کو جو  نیکو کار ہے اور ہر چیز کی تفصیل کیلئے اور ہدایت و رحمت کے لئے،تاکہ وہ اپنے رب سے ملاقات پر ایمان لے آئیں۔(۱۵۴)

تشریح:معلوم ہوتا ہے کہ جو احکام اوپر قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ سے پڑھ کر سنائے گئے، یہ ہمیشہ سے جاری تھے۔ تمام انبیاء اور شرائع کا ان پر اتفاق رہا ، حق تعالیٰ نے حضرت موسی علیہ السلام پر تورات اتاری جس میں احکام شرع کی مزید تفصیل درج تھی۔ تورات عطا فرما کر اس زمانہ کے نیک کام کرنے والوں پر خدا نے اپنی نعمت پوری کر دی۔ ہر ضروری چیز کو شرح و بسط سے بیان فرما دیا اور ہدایت و رحمت کے ابواب مفتوح کر دیے تاکہ اسے سمجھ کر لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کا کامل یقین حاصل کریں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور ہم نے یہ کتاب اتاری ہے برکت والی، پس اس کی پیروی کرو،اور پرہیز گاری اختیار کرو ؛تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔(۱۵۵)

تشریح: یعنی تورات تو تھی ہی جیسی کچھ تھی، لیکن ایک یہ کتاب ہے (قرآن کریم) جو اپنے درخشاں اور ظاہر و باہر حسن و جمال کے ساتھ تمہارے سامنے ہے اس کی خوبصورتی اور کمال کا کیا کہنا۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب۔

اگر خدا کی رحمت سے حظ وافر لینا چاہتے ہو تو اس آخری اور مکمل کتاب پر چل پڑو اور خدا سے ڈرتے رہو کہ اس کتاب کے کسی حصہ کی خلاف ورزی ہونے نہ پائے۔

(تفسیرعثمانی)

 

کہ  (کہیں ) تم کہو کہ ہم سے پہلے دو گروہوں پر کتاب اتاری گئی،اور یہ کہ ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بے خبر تھے ۔(۱۵۶)

یا کہو کہ ہم پر کتاب اتاری جاتی توہم زیادہ ہدایت پر ہوتے ان سے، سوتمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل اور ہدایت اور رحمت آ گئی ،پس اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلا       دے اور ان سے کترائے،ہم ان لوگوں کو جلد سزا دیں گے جو کتراتے ہیں ہماری آیتوں سے برے عذاب (کے ذریعہ) اس کے بدلے کہ وہ کتراتے تھے۔(۱۵۷)

تشریح:یعنی اس مبارک کتاب (قرآن کریم) کے نزول کے بعد عرب کے امین کے لئے یہ کہنے کا بھی موقع نہیں چھوڑا گیا کہ پیشتر جو آسمانی کتابیں شرائع الہٰیہ کو لے کر اتریں وہ تو ہمارے علم کے موافق انہی دو فرقوں (یہود و نصاریٰ) پر اتریں بیشک وہ لوگ آپس میں اسے پڑھتے پڑھاتے تھے اور بعضے اس کا ترجمہ بھی عربی میں کرتے تھے مثلاً ورقہ بن نوفل وغیرہ اور بہت سے مدت تک اس دھن میں لگے رہے کہ عرب کو یہودی یا نصرانی بنا لیں لیکن ہمیں ان کی تعلیم و تدریس سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ اس سے بحث نہیں کہ یہود نصاریٰ جو کچھ پڑھتے پڑھاتے تھے وہ چیز کہاں تک اپنی اصلی سماوی صورت میں محفوظ تھی۔ مطلب صرف اس قدر ہے کہ ان شرائع و کتب کی اصلی مخاطب فقط قوم بنی اسرائیل تھی۔ خواہ اس تعلیم کے بعض اجزاء مثلاً توحید اور اصول دینیہ کی دعوت کو وسعت دے کر بنی اسرائیل کے سوا دوسری اقوام کے حق میں بھی عام کر دیا گیا ہوتا ہم جو شریعت اور کتاب سماوی بہیئات مجموعی کسی خاص قوم پر اسی کے مخصوص فائدہ کے لئے اتری ہو اس کے درس و تدریس سے اگر دوسری اقوام خصوصاً عرب جیسی غیور و خوددار قوم کو دلچسپی اور لگاؤ نہ ہو تو کچھ مستبعد نہیں، بنا بریں وہ کہہ سکتے تھے کہ کوئی آسمانی کتاب و شریعت ہماری طرف نہیں آئی اور جو کسی مخصوص قوم کے لئے آئی اس سے ہم نے چنداں واسطہ نہیں رکھا پھر ہم ترک شرائع پر کیوں ماخوذ ہوں گے۔ مگر آج ان کے لئے اس طرح کے حیلے حوالوں کا موقع نہیں رہا۔ خدا کی حجت اس کی روشن کتاب اور ہدایت و رحمت عامہ کی بارش خاص ان کے گھر میں اتاری گئی۔ تاکہ وہ اولاً اس سے مستفید ہوں، پھر اس امانت الہٰیہ کو تمام احمرو اسود اور مشرق و مغرب کے باشندوں تک حفاظت و احتیاط کے ساتھ پہنچا دیں۔ کیونکہ یہ کتاب کسی خاص قوم و ملک کے لئے نہیں اتاری گئی۔ اس کا مخاطب تو سارا جہان ہے۔ چنانچہ خدا کے فضل و توفیق سے عرب کے ذریعہ سے خدا کا یہ عام اور آخری پیغام آج دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچ گیا۔ والحمدللّٰہ علیٰ ذٰلک۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا وہ انتظار کر رہے ہیں مگر یہ کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تمہارے رب کی کوئی نشانی آئے،جس دن آئے گی تمہارے رب کی کوئی نشانی کسی کے کان نہ آئے گا اس کا ایمان لانا جو پہلے سے ایمان نہ لایا تھا یا اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی تھی،آپ فرما دیں انتظار کرو ہم (بھی )منتظر ہیں۔(۱۵۸)

تشریح:یعنی اللہ کی طرف سے ہدایت کی جو حد تھی وہ پوری ہو چکی، انبیاء تشریف لائے، شریعتیں اتریں کتابیں آئیں حتیٰ کہ اللہ کی آخری کتاب بھی آ چکی، تب بھی نہیں مانتے تو شاید اب اس کے منتظر ہیں کہ اللہ آپ آئے یا فرشتے آئیں یا قدرت کا کوئی بڑا نشان (مثلاً قیامت کی کوئی بڑی علامت) ظاہر ہو تو یاد رہے کہ قیامت کے نشانوں میں سے ایک نشان وہ بھی ہے جس کے ظاہر ہونے کے بعد نہ کافر کا ایمان لانا معتبر ہو گا نہ عاصی کی توبہ۔ صحیحین کی احادیث بتلاتی ہیں کہ یہ نشان آفتاب کا مغرب سے طلوع کرنا ہے۔ یعنی جب خدا کا ارادہ ہو گا کہ دنیا کو ختم کرے اور عالم کا موجودہ نظام درہم برہم کر دیا جائے تو موجودہ قوانین طبیعیہ کے خلاف بہت سے عظیم الشان خوارق وقوع میں آئیں گے ان میں سے ایک یہ ہے کہ آفتاب مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہو گا۔ غالباً اس حرکت مقلوبی اور رجت قہقری سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہو کہ جو قوانین قدرت اور نوامیس طبیعیہ دنیا کے موجودہ نظم و نسق میں کار فرما تھے، ان کی میعاد ختم ہونے اور نظام شمسی کے الٹ پلٹ ہو جانے کا وقت آ پہنچا ہے۔ گویا اس وقت سے عالم کبیر کے نزع اور جانکنی کے وقت کا ایمان اور توبہ مقبول نہیں کیونکہ وہ حقیقت میں اختیاری نہیں ہوتا، اسی طرح طلوع الشمس من المغرب کے بعد مجموعہ عالم کے حق میں یہ ہی حکم ہو گا کہ کسی کا ایمان و توبہ معتبر نہ ہو۔ بعض روایات میں طلوع الشمس من مغربھا کے ساتھ چند دوسرے نشانات بھی بیان ہوئے ہیں مثلاً خروج دجال، خروج دابہ وغیرہ۔ ان روایات کی مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب ان سب نشانات کا مجموعہ متحقق ہو گا اور وہ جب ہی ہو سکتا ہے کہ طلوع الشمس من المغرب بھی متحقق ہو تو دروازہ توبہ کا بند کر دیا جائے گا الگ الگ ہر نشان پر یہ حکم متفرع نہیں۔ ہمارے زمانہ کے بعض ملحدین جو ہر غیر معمولی واقعہ کو استعارہ کا رنگ دینے کے خوگر ہیں وہ طلوع الشمس من المغرب کو بھی استعارہ بنانے کی فکر میں ہیں۔ غالباً ان کے نزدیک قیامت کا آ نا بھی ایک طرح کا استعارہ ہی ہو گا۔ (تنبیہ) یہ جو کہا کہ ”آئیں فرشتے یا آئے تیرا رب ” اس کی تفسیر ”سیقول” کے نصف پر آیت ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیَھُمُ اللّٰہُ فِی ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ کے تحت میں گزر چکی وہاں دیکھ لیا جائے اور جملہ اور کَسَبَتْ فِی اِیْمَانِھَا خَیْراً کا عطف اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ پر ہے اور تقدیر عبارت کی ابن المنیر وغیرہ محققین کے نزدیک یوں ہے لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا اوکسبھا خیرا لم تکن امنت من قبل او لم تکن کسبت فی ایمانھا خیرا یعنی جو پہلے سے ایمان نہیں لای ا اس وقت اس کا ایمان نافع نہ ہو گا اور جس نے پہلے سے کسب خیر نہ کیا اس کا کسب خیر نافع نہ ہو گا۔ (یعنی توبہ قبول نہ ہو گی)۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک جن لوگوں نے تفرقہ ڈالا اپنے دین میں اور گروہ در گروہ ہو گئے ،آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ،ان کا معاملہ فقط اللہ کے حوالے ہے،پھر وہ انہیں جتلا دے گا وہ جو کچھ کرتے تھے۔(۱۵۹)

تشریح: پچھلے رکوع میں قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَاحَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ الخ سے بہت سے احکام بیان فرما کر ارشاد ہوا تھا وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ یعنی صراط مستقیم (دین کی سیدھی راہ) ہمیشہ سے ایک رہی ہے۔ اس سے ہٹ کر گمراہی کے راستے بہت ہیں۔ تمام انبیاء و مرسلین اصولی حیثیت سے اسی ایک راہ پر چلے اور لوگوں کو بلاتے رہے شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَاوَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ وَمَاوَصَّیْنَا بِہٖ اِبْرَاھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَاتَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ (شوریٰ، رکوع٢’آیت نمبر ١٣) اول دین میں ان کے باہم کوئی تفریق نہیں۔ زمان و مکان اور خارجی احوال کے اختلاف سے فروع شرعیہ میں جو تفاوت ہوا، وہ تفرق نہیں بلکہ ہر وقت کے مناسب رنگ میں ایک ہی مشترک مقصد کے ذرائع حصول کا تنوع ہے جو دین انبیائے سابقین لے کر آئے۔ موسٰی علیہ السلام کی کتاب بھی اس کی مخالفت کے لئے نہیں بلکہ اس کی تکمیل و تفصیل کی غرض سے اتاری گئی۔ سب کے آخر میں قرآن آیا جو تمام کتب سابقہ کی تتمیم وتصدیق اور ان کے علوم و معارف کی حفاظت کرنے والا ہے۔ درمیان میں ان کتب و شرائع سے اعراض کرنے والوں کا حال بیان کر کے اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوا دِیْنَھُمْ سے پھر اصل مطلب کی طرف عود کیا گیا۔ یعنی دین الہٰی کا راستہ (صراط مستقیم) ایک ہے۔ جو لوگ اصل دین میں پھوٹ ڈال کر جدا جدا راہیں نکالتے اور فرقہ بندی کی لعنت میں گرفتار ہوتے ہیں خواہ وہ یہود ہوں یا نصاریٰ یا وہ مدعیان اسلام جو مستقبل میں عقائد دینیہ کی چادر کو پھاڑ کر پارہ پارہ کرنے والے تھے، ان لوگوں سے آپ کو کچھ واسطہ اور سروکار نہیں۔ یہ سب فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ میں داخل ہیں۔ آپ ان سے بیزاری اور برأت کا اظہار کر کے خدا کے اسی ایک راستہ (صراط مستقیم) پر جمے رہیے اور ان کا انجام اللہ کے حوالہ کیجئے۔ وہ ان کو دنیا اور آخرت میں جتلا دے گا جو کچھ دین میں گڑ بڑی کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب فرقوا دینھم کی توضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”جو باتیں یقین لانے کی ہیں (اصول دین) ان میں فرق نہ چاہیے اور جو کرنے کی ہیں (فروع دین) ان کے طریقے کئی ہوں تو برا نہیں۔

 

جو شخص کوئی نیکی لائے تواس کے لئے اس کا دس برابر(دس گنا اجر)ہے،اور جو کوئی برائی لائے تووہ بدلہ نہ پائے گا مگر اس کے برابر (صرف اس کے برابر) اور وہ ظلم نہ کئے جائیں گے۔(۱۶۰)

تشریح: ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ میں ان کے افعال شنیعہ کی مجازات پر متنبہ کیا گیا تھا، ساتھ ہی ہر نیک و بد کی مجازات کا عام قانون بتلا دیا کہ بھلائی کا بدلہ کم از کم دس گنا ہے اور برائی کا زائد از زائد اس کے برابر یعنی جس نے ایک نیکی کمائی تو کم از کم ویسی دس نیکیوں کا ثواب ملے گا زائد کی حد نہیں وَاللّٰہُ یُضَاعِفُ لِمَن یَّشَآءُ اور جو ایک بدی کا مرتکب ہوا تو ویسی ایک بدی کی جس قدر سزا مقرر ہے اس سے آگے نہ بڑھیں گے، تخفیف کر دیں یا بالکل معاف فرما دیں، یہ اختیار ہے۔ پھر جہاں وفور رحمت کی یہ کیفیت ہو وہاں ظلم کا کیا امکان ہے۔

 

آپ کہہ دیجئے بیشک مجھے میرے رب نے سیدھے راستہ کی طرف راہ دکھائی ہے ،درست دین ابراہیمؑ کی ملت جو ایک (اللہ)کے ہو رہنے والے تھے،اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔(۱۶۱)

تشریح:یعنی تم دین میں جتنی چاہو راہیں نکالو اور جس قدر معبود چاہو ٹھہرا لو۔ مجھ کو تو میرا پروردگار صراط مستقیم بتلا چکا اور وہ ہی خالص توحید اور کامل تفویض و توکل کا راستہ ہے، جس پر موحد اعظم ابو الانبیاء ابراہیم خلیل اللہ بڑے زور شور سے چلے جن کا نام آج بھی تمام عرب اور کل ادیان سماویہ غایت عظمت و احترام سے لیتے ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

آپ کہہ دیں بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لئے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔(۱۶۲)

تشریح:اس میں فروع اعمال میں سے اول نماز کا ذکر کیا کیونکہ وہ تمام اعمال صالحہ کی روح اور دین کا عمود ہے اس کے بعد تمام احوال کا ذکر کیا اور آخر میں موت کا، ان سب کا ذکر کر کے فرمایا کہ ہماری یہ سب چیزیں صرف اللہ رب العلمین کے لئے ہیں جس کا کوئی شریک نہیں، اور یہی ایمان کامل اور اخلاص کامل کا نتیجہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر حال میں اور ہر کام میں اس کو پیش نظر رکھے کہ میرا اور تمام جہان کا ایک رب ہے میں اس کا بندہ اور ہر وقت اس کی نظر میں ہوں، میرا قلب، دماغ ،آنکھ، کان، زبان اور ہاتھ، پیر، قلم اور قدم اس کی مرضی کے خلاف نہ اٹھنا چاہئے، یہ وہ مراقبہ ہے کہ اگر انسان اس کو اپنے دل دماغ میں مستحضر کر لے تو صحیح معنی میں انسان اور کامل انسان ہو جائے اور گناہ و معصیت اور جرائم کا اس کے آس پاس بھی گزر نہ ہو۔

(معارف القرآن)

 

اس کا کوئی شریک نہیں مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان(فرماں بردار) ہوں۔(۱۶۳)

تشریح:مجھے اللہ تعالی کی طرف سے اسی قول  و قرار اور اخلاص کامل کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا فرمانبردار مسلمان ہوں، مراد یہ ہے کہ اس امت میں سب سے پہلا مسلمان میں ہوں کیونکہ ہر امت کا پہلا مسلمان خود وہ نبی یا رسول ہوتا ہے جس پر وحی شریعت نازل کی جاتی ہے۔

(معارف القرآن)

 

آپ کہہ دیں کیا میں اللہ کے سواکوئی رب ڈھونڈوں؟ اور وہی ہے ہر شے کا رب،ہر شخص جو کچھ کمائے گا(اس کا گناہ)صرف اس کے ذمے (ہو گا) کوئی اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا، پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے ،پس تمہیں جتلا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے۔(۱۶۴)

تشریح: کفار مسلمانوں سے توحید وغیرہ میں جھگڑتے اور کہتے تھے کہ تم توحید کی راہ چھوڑ کر ہمارے راستہ پر آ جاؤ۔ اگر اس میں کوئی گناہ ہو تو وہ ہمارے سر وَقاَلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطَایَاکُمْ (العنکبوت، گناہوں کا بار نہیں اٹھا سکتا۔ باقی تمہارے جھگڑے اور اختلافات خدا کے یہاں جا کر سب طے ہو جائیں گے۔ یہ دنیا فیصلہ کی جگہ نہیں، امتحان و آزمائش کا گھر ہے جیسا کہ اگلی آیت میں آگاہ فرمایا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں نائب بنایا اور بلند کئے تم میں سے بعض کے درجے بعض پر تاکہ وہ تمہیں اس میں آز مائے جو اس نے تمہیں دیا،بیشک تمہارا رب جلد سزا دینے والا ہے،اور وہ بیشک یقیناً بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔(۱۶۵)

تشریح: خدا نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا کہ تم اس کے دیے ہوئے اختیارات سے کام لے کر کیسے کیسے حاکمانہ تصرفات کرتے ہو، یا تم کو باہم ایک دوسرے کا نائب بنایا کہ ایک قوم جاتی ہے، تو دوسری قوم اس کی جانشین ہوتی ہے۔

تمہارے آپس میں بیحد فرق مدارج رکھا۔ چنانچہ شکل و صورت، رنگت، لہجہ، اخلاق و ملکات، محاسن و مساوی، رزق، دولت، عزت و جاہ وغیرہ میں افراد انسانی کے بے شمار درجات ہیں۔

یعنی ظاہر ہو جائے کہ ان حالات میں کون شخص کہاں تک خدا کا حکم مانتا ہے۔ ابن کثیر نے فِی مَا اٰتَاکُمْ سے وہ مختلف احوال و درجات مراد لئے ہیں جن میں حسب استعداد و لیاقت ان کو رکھا گیا ہے۔ اس تقدیر پر آزمایش کا حاصل یہ ہو گا کہ مثلاً غنی حالت غناء میں رہ کر کہاں تک شکر کرتا ہے اور فقیر حالت فقر میں کس حد تک صبر کا ثبوت دیتا ہے و قس علیٰ ہذا۔ بہرحال اس آزمائش میں جو بالکل نالائق ثابت ہوا۔ حق تعالیٰ اس کے حق میں سریع العقاب اور جس سے قدرے کوتاہی رہ گئی اس کے حق میں غفور اور جو پورا اترا اس کے لئے رحیم ہے۔

(تفسیرعثمانی)

٭٭٭

ماخذ:

http://anwar-e-islam.org

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید