FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

تفسیر

احسن البیان

جلد ششم (قٓ تا ناس)

               مولانا صلاح الدین یوسف

 

 

سورۃ قٓ

نبی صلی اللہ علیہ و سلم عید کی نماز میں سورہ ق اور اقتربت الساعۃ پڑھا کرتے تھے (صحیح مسلم) ہر جمعے کے خطبے میں بھی پڑھتے تھے (صحیح مسلم) امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ عیدین اور جمعے میں پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ بڑے مجمعوں میں یہ سورۃ پڑھا کرتے تھے کیونکہ اس میں ابتدائے خلق، بعث و نشور، معاد و قیام، حساب، جنت دوزخ، ثواب و عتاب اور ترغیب و ترہیب دلانے کا بیان ہے۔

١۔ اس کا جواب قسم محذوف ہے لَتُبْعَثنَّ (تم ضرور قیامت والے دن اٹھائے جاؤ گے ) بعض کہتے ہیں اس کا جواب ما بعد کا مضمون کلام ہے جس میں نبوت اور معاد کا اثبات ہے (فتح القدیر و ابن کثیر)

٢۔ حالانکہ اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں ہے، ہر نبی اسی قوم کا ایک فرد ہوتا تھا جس میں اسے مبعوث کیا جاتا تھا۔ اسی حساب سے قریش مکہ کو ڈرانے کے لئے قریش ہی میں سے ایک شخص کو نبوت کے لئے چن لیا گیا۔

٣۔ حالانکہ عقلی طور پر اس میں بھی کوئی استحالہ نہیں ہے۔ آگے اس کی کچھ وضاحت ہے

٤۔ یعنی زمین انسان کے گوشت، ہڈی اور بال وغیرہ بوسیدہ کر کے کھا جاتی ہے یعنی اسے ریزہ ریزہ کر دیتی ہے وہ نہ صرف ہمارے علم میں ہے بلکہ لوح محفوظ میں بھی درج ہے اس لئے ان تمام اجزا کو جمع کر کے انہیں دوبارہ زندہ کر دینا ہمارے لئے قطعاً مشکل امر نہیں ہے۔

٥۔ یعنی ایسا معاملہ جو ان پر مشتبہ ہو گیا ہے، جس سے وہ ایک الجھاؤ میں پڑ گئے ہیں، کبھی اسے جادوگر کہتے ہیں، کبھی شاعر اور کبھی غیب کی خبریں بتانے والا۔

٦۔ (۱)  یعنی بغیر ستون کے، جن کا اسے کوئی سہارا ہو۔

٦۔ (۲)  یعنی ستاروں سے مزین کیا۔

٦۔ (۳)  اسی طرح کوئی فرق و تفاوت بھی نہیں ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا “الذی خلق سبع سموٰت طباقا، ماتری فی خلق الرحمٰن من تفاوت، فارجع البصر ھل تری من فتور۔ ثم ارجع البصر کرتین ینقلب الیک البصر خاسئا وھو حصیر

٧۔ اور بعض نے زوج کے معنی جوڑا کیا ہے یعنی ہر قسم کی نباتات اور اشیا کو جوڑا جوڑا (نر مادہ) بنایا ہے بھیج کے معنی خوش منظر شاداب اور حسین

٨۔ یعنی آسمان و زمین کی تخلیق اور دیگر اشیا کا مشاہدہ اور ان کی معرفت ہر اس شخص کے لئے بصیرت و دانائی اور عبرت و نصیحت کا باعث ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔

۹۔ کٹنے والے غلے سے مراد وہ کھیتیاں مراد ہیں جن سے گندم مکڑی جوار باجرہ دالیں اور چاول وغیرہ پیدا ہوتے ہیں۔ اور پھر ان کا ذخیرہ کر لیا جاتا ہے۔

۱۰۔ باسقات کے معنی طوالاً شاھقات، بلند و بالا طلع کھجور کا وہ گدرا گدرا پھل، جو پہلے پہل نکلتا ہے۔ نضید کے معنی تہ بہ تہ۔ باغات میں کھجور کا پھل بھی آ جاتا ہے۔ لیکن اسے الگ سے بطور خاص ذکر کیا، جس سے کھجور کی وہ اہمیت واضح ہے جو اسے عرب میں حاصل ہے۔

١١۔ یعنی جس طرح بارش سے مردہ زمین کو شاداب کر دیتے ہیں، اسی طرح قیامت والے دن ہم قبروں سے انسانوں کو زندہ کر کے نکال لیں گے۔

١٢۔ اصحاب الرس کی تعیین میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ امام ابن جریر طبری نے اس قول کو ترجیح دی ہے جس میں انہیں اصحاب اخدود قرار دیا گیا ہے، جس کا ذکر سورہ بروج میں ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے ابن کثیر و فتح القدیر، سورہ الفرقان آیت۔٣٨)

١٤۔ (۱)  اَصْحَابُ الاءَیْکَۃِ کے لئے دیکھئے سورۃ الشعراء آیت ١٧٦ کا حاشیہ۔

 ١٤۔ (۲)  قَوْمُ تُبَعِ کے لئے دیکھئے سورۃ الدخان، آیت ٣٧ کا حاشیہ۔

١٤۔ (۳) یعنی ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے تسلی ہے گویا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو کہا جا رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی قوم کی طرف سے تکذیب پر غمگین نہ، اس لیے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے یہی معاملہ کیا دوسرے اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ پچھلی قوموں نے انبیاء علیہم السلام کی تکذیب کی تو دیکھ لو ان کا انجام کیا ہوا؟ کیا تم بھی اپنے لیے یہی انجام چاہتے ہو اگر یہ انجام پسند نہیں کرتے تو تکذیب کا راستہ چھوڑو اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لے آؤ۔

١٥۔ (۱)  کہ قیامت والے دن دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لیے مشکل ہو گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب پہلی مرتبہ پیدا کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں تھا تو دوبارہ زندہ کرنا تو پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وھو الذی یبدأو الخلق ثم یعیدہ وہو اھون علیہ۔ الروم۲۷، سورہ یٰسین آیت ۷۸، ۷۹ میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ اور حدیث قدسی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “ابن آدم مجھے یہ کہہ کر ایذا پہنچاتا ہے کہ اللہ مجھے ہرگز دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے جس طرح اس نے پہلی مرتبہ مجھے پیدا کیا۔ حالانکہ پہلی مرتبہ پیدا کرنا دوسری مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں ہے ” یعنی اگر مشکل ہے پہلی مرتبہ پیدا کرنا نہ کہ دوسری (صحیح البخاری)

١٥۔ (۲)  یعنی یہ اللہ کی قدرت ہے کہ منکر نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انہیں قیامت کے وقوع اور اس میں دوبارہ زندگی کے بارے میں ہی شک ہے۔

۱۶۔ (۱)  یعنی انسان جو کچھ چھپاتا اور دل میں مستور رکھتا ہے وہ سب ہم جانتے ہیں وسوسہ دل میں گزرنے والے خیالات کو کہا جاتا ہے جس کا علم اس انسان کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا لیکن اللہ ان وسوسوں کو بھی جانتا ہے اسی لیے حدیث میں آتا ہے اللہ تعالیٰ نے میری امت سے دل میں گزرنے والے خیالات کو معاف فرما دیا ہے یعنی ان پر گرفت نہیں فرمائے گا جب تک وہ زبان سے ان کا اظہار یا ان پر عمل نہ کرے۔ البخاری کتاب الایمان۔

١٦۔ (۲)  ورید شہ رگ یا رگ جان کو کہا جاتا ہے جس کے کٹنے سے موت واقع ہو جاتی ہے یہ رگ حلق کے ایک کنارے سے انسان کے کندھے تک ہوتی ہے ہم انسان کے بالکل بلکہ اتنے قریب ہیں کہ اس کے نفس کی باتوں کو بھی جانتے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ نَحْنُ سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی ہمارے فرشتے انسان کی رگ جان سے بھی قریب ہیں۔ کیونکہ انسان کے دائیں بائیں دو فرشتے ہر وقت موجود رہتے ہیں، وہ انسان کی ہر بات اور عمل کو نوٹ کرتے ہیں۔ اور بعض کے نزدیک رات اور دن کے فرشتے مراد ہیں۔ رات کے دو فرشتے الگ اور دن کے دو فرشتے الگ (فتح القدیر)

١٨۔ رَقِیْب محافظ، نگران اور انسان کے قول اور عمل کا انتظار کرنے والا عَتِیْد حاضر اور تیار۔

١٩۔ تَحِیْدُ، تَمِیْلُ عَنْہُ وَتَفِرُّتو اس موت سے بدکتا اور بھاگتا تھا۔

٢١۔ سَائِق(ہانکنے والا) اور شَھید (گواہ) کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام طبری کے نزدیک دو فرشتے ہیں۔ ایک انسان کو محشر تک ہانک کر لانے والا اور دوسرا گواہی دینے والا۔

٢٣۔ یعنی فرشتہ انسان کا سارا ریکارڈ سامنے رکھ دے گا اور کہے گا کہ یہ تیری فرد عمل ہے کو جو میرے پاس تھی۔

۲۶۔ اللہ تعالیٰ اس فرد عمل کی روشنی میں انصاف اور فیصلہ فرمائے گا القیا سے الشدید تک اللہ کا قول ہے۔

٢٧۔ اس لئے اس نے فوراً میری بات مان لی، اگر یہ تیرا مخلص بندہ ہوتا تو میرے بہکاوے میں ہی نہ آتا۔ یہاں قرین سے مراد شیطان ہے۔

٢٨۔ یعنی اللہ تعالیٰ کافروں اور ان کے ہم نشین شیطانوں کو کہے گا کہ یہاں موقف حساب یا عدالت انصاف میں لڑنے جھگڑنے کی ضرورت نہیں نہ اس کا کوئی فائدہ ہی ہے، میں نے پہلے ہی رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے وعیدوں سے تم کو آگاہ کر دیا تھا۔

٢٩۔ یعنی جو وعدے میں نے کئے تھے، ان کے خلاف نہیں ہو گا بلکہ ہر صورت میں پورے ہو نگے اور اسی اصول کے مطابق تمہارے لئے عذاب کا فیصلہ میری طرف سے ہوا ہے جس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

٣٠۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ لاملئن جھنم من الجنتہ والناس اجمعین۔ الم السجدہ۔ میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دوں گا اس وعدے کا جب ایفا ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ کافر جن و انس کو جہنم میں ڈال دے گا، تو جہنم سے پوچھے گا کہ تو بھر گئی ہے یا نہیں ؟ وہ جواب دے گی، کیا کچھ اور بھی ہے ؟ یعنی اگرچہ بھر گئی ہوں لیکن یا اللہ تیرے دشمنوں کے لئے میرے دامن اب بھی گنجائش ہے۔

۳۱۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قیامت جس روز جنت قریب کر دی جائے گے دور نہیں ہے کیونکہ وہ لامحالہ واقع ہو کر رہے گی اور کل ما ہوات فھو قریب اور جو بھی آنے والی چیز ہے وہ قریب ہی ہے دور نہیں (ابن کثیر)

٣٢۔ یعنی اہل ایمان جب جنت کا اور اس کی نعمتوں کا قریب سے مشاہدہ کریں گے تو کہا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کا وعدہ ہر اواب اور حفیظ سے کیا گیا تھا اواب، بہت رجوع کرنے والا یعنی اللہ کی (طرف کثرت سے توبہ استغفار اور تسبیح و ذکر الٰہی کرنے والا خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے ان سے توبہ کرنے والا، یا اللہ کے حقوق اور اس کی نعمتوں کو یاد رکھنے والا یا اللہ کے اوامر نواہی کو یاد رکھنے والا گیا تھا۔ فتح القدیر

٣٣۔ مُنِیْبِ، اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور اس کا اطاعت گزار دل۔ یا بمعی سَلیمِ، شرک و  معصیت کی نجاستوں سے پاک دل۔

٣٥۔ اس سے مراد رب تعالیٰ کا دیدار ہے جو اہل جنت کو نصیب ہو گا۔ للذین احسنو الحسنی وزیادۃ۔ یونس۔

٣٦۔ (فَنقبُوْفِی الْبِلَادِ) (شہروں میں چلے پھرے ) کا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اہل مکہ سے زیادہ تجارت و کاروبار کے لئے مختلف شہروں میں پھرتے تھے۔ لیکن ہمارا عذاب آیا تو انہیں کہیں پناہ اور راہ فرار نہ ملی۔

٣٧۔ (۱)  یعنی دل بیدار، جو غور و فکر کر کے حقائق کا ادراک کر لے۔

٣٧۔ (۲)  یعنی توجہ سے وہ وحی الٰہی سنے جس میں گزشتہ امتوں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔

٣٧۔ (۳) یعنی قلب اور دماغ کے لحاظ سے حاضر ہو۔ اس لئے کہ جو بات ہی کو نہ سمجھے، وہ موجود ہوتے ہوئے بھی ایسے ہے جیسے نہیں۔

٣٩۔ یعنی صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرو یا عصر اور فجر کی نماز پڑھنے کی تاکید ہے۔

٤٠۔ یعنی رات کے کچھ حصے میں بھی اللہ کی تسبیح کریں یا رات کی نماز (تہجد) پڑھیں جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ” رات کو اٹھ کر نماز پڑھیں جو آپ کے لئے مزید ثواب کا باعث ہے۔ ٤٠۔ (۲)  یعنی اللہ کی تسبیح کریں بعض نے اس سے تسبیحات مراد لی ہے، جن کے پڑھنے کی تاکید نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرض نمازوں کے بعد فرمائی ہے مثلاً ٣٣ مرتبہ سُبْحَان اللّٰہ ٣٣ مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰلہِ اور٣٤ مرتبہ اَللّٰہ اَکْبَرْ وغیرہ

٤١۔ (۱)  یعنی قیامت کے جو احوال وحی کے ذریعے سے بیان کئے جا رہے ہیں، انہیں توجہ سے سنیں۔

٤۱۔ (۲)  یہ پکارنے والا اسرافیل فرشتہ ہو گا یا جبرائیل اور یہ ندا وہ ہو گی جس سے لوگ میدان محشر میں جمع ہو جائیں گے۔ یعنی نفخہ ثانیہ۔

٤١۔ (۳)  اس سے بعض نے صخرہ بیت المقدس مراد لیا ہے، کہتے ہیں یہ آسمان کے قریب ترین جگہ ہے اور بعض کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص یہ آوازیں اس طرح سنے گا جیسے اس کے قریب سے ہی آواز آ رہی ہے (فتح القدیر)

٤٢۔ یعنی یہ چیخ یعنی نفخہ قیامت یقیناً ہو گا جس میں یہ دنیا میں شک کرتے تھے۔ اور یہی دن قبروں سے زندہ ہو کر نکلنے کا ہو گا۔

٤٣۔ (۱)  یعنی دنیا میں موت سے ہمکنار کرنا اور آخرت میں زندہ کر دینا، یہ ہمارا ہی کام ہے، اس میں کوئی ہمارا شریک نہیں ہے۔

٤۳۔ (۲)  وہاں ہم ہر شخص کو اس کے عملوں کے مطابق جزا دیں گے۔

٤٤۔ یعنی اس آواز دینے والے کی طرف دوڑیں گے، جس نے آواز دی ہو گی، نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، جب زمین پھٹے گی تو سب سے پہلے زندہ ہو کر نکلنے والا میں ہوں گا۔ انا اول من تشق عنہ الارض۔

٤٥۔ (۱)  یعنی آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ایمان لانے پر مجبور کریں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا کام صرف تبلیغ و دعوت ہے، وہ کرتے رہیں۔

٤٥۔ (۲)  یعنی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت ذکر سے وہی نصیحت حاصل کرے گا جو اللہ سے اور اس کی سزا کی دھمکیوں سے ڈرتا اور اس کے وعدوں پر یقین رکھتا ہو گا اسی لئے حضرت قتادہ یہ دعا فرماتے ” اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے کر جو تیری وعیدوں سے ڈرتے اور تیرے وعدوں کی امید رکھتے ہیں۔ اے احسان کرنے والے رحم فرما نے والے۔

٭٭٭

 

سورۃ الذٰریٰت

١۔ اس سے مراد ہوائیں جو مٹی کو اڑا کر بکھیر دیتی ہیں۔

٢۔ وقر، ہر وہ بوجھ جسے کوئی جاندار لے کر چلے، حاملات، وہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو اٹھائے ہوئے ہیں یا پھر وہ بادل ہیں جو پانی کا بوجھ اٹھائے ہوتے ہیں جیسے چوپائے، حمل کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔

٣۔ جاریات، پانی میں چلنے والی کشتیاں، یُسْرا آسانی سے۔

٤۔ مقسمات، اس سے مراد فرشتے ہیں جو کام کو تقسیم کر لیتے ہیں، کوئی رحمت کا فرشتہ ہے تو کوئی عذاب کا، کوئی پانی کا ہے تو کوئی سختی کا، کوئی ہواؤں کا فرشتہ ہے تو کوئی موت اور حوادث کا۔ بعض نے ان سب سے صرف ہوائیں مراد لی ہیں اور ان سب کو ہواؤں کی صفت بتایا ہے۔ جیسے کہ فاضل مترجم نے بھی اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ لیکن ہم نے امام ابن کثیر اور امام شوکانی کی تفسیر کے مطابق تشریح کی ہے۔ قسم سے مقصد مقسم علیہ کی سچائی کو بیان کرنا ہوتا ہے یا بعض دفعہ صرف تاکید مقصود ہوتی ہے اور بعض دفعہ مقسم علیہ کو دلیل کے طور پر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یہاں قسم کی یہی تیسری قسم ہے۔ آگے جواب قسم یہ بیان کیا گیا ہے کہ تمک سے جو وعدے کیے جاتے ہیں یقیناً وہ سچے ہیں اور قیامت برپا ہو کر رہے گی جس میں انصاف کیا جائے گا۔ یہ ہواؤں کا چلنا، بادلوں کا پانی کو اٹھانا، سمندروں میں کشتیوں کا چلنا اور فرشتوں کا مختلف امور کو سر انجام دینا، قیامت کے وقوع پر دلیل ہے، کیونکہ جو ذات یہ سارے کام کرتی ہے جو بظاہر نہایت مشکل اور اسباب عادیہ کے خلاف ہیں، وہی ذات قیامت والے دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ بھی کر سکتی ہے۔

٧۔ دوسرا ترجمہ، حسن جمال اور زینت و رونق والا کیا گیا ہے چاند، سورج ستارے و سیارے، روشن ستارے، اس کی بلندی اور وسعت، یہ سب چیزیں آسمان کی رونق و زینت اور خوب صورتی کا باعث ہیں

٨۔ یعنی اے اہل مکہ! تمہارا کسی بات میں آپس میں اتفاق نہیں ہے۔ ہمارے پیغمبر کو تم میں سے کوئی جادو گر، کوئی شاعر، کوئی کاہن اور کوئی جھوٹا کہتا ہے۔ اسی طرح کوئی قیامت کی بالکل نفی کرتا ہے، کوئی شک کا اظہار، علاوہ ازیں ایک طرف اللہ کے خالق اور رازق ہونے کا اعتراف کرتے ہو، دوسری طرف دوسروں کو بھی معبود بنا رکھا ہے۔

٩۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانے سے، یا حق سے یعنی بعث و توحید سے یا مطلب ہے مذکورہ اختلاف سے وہ شخص پھیر دیا گیا جسے اللہ نے اپنی توفیق سے پھیر دیا، پہلے مفہوم میں ذم ہے اور دوسرے میں مدح۔

١٣۔ یفتنون کے معنی ہیں یحرقون ویعذبون جس طرح سونے کو آگ میں ڈال کر پرکھا جاتا ہے، اسی طرح یہ ڈالے جائیں گے۔

١٤۔ فِتْنَۃ بمعنی عذاب یا آگ میں جلنا۔

١٧۔ ھجوع کے معنی ہیں رات کو سونا۔ ما یھجعون میں ما تاکید کے لیے ہے۔ وہ رات کو کم سوتے تھے، مطلب ہے ساری رات سو کر غفلت اور عیش و عشرت میں نہیں گزار دیتے تھے۔ بلکہ رات کا کچھ حصہ اللہ کی یاد میں اور اس کی بارگاہ میں گڑگڑاتے ہوئے گزارتے تھے۔ جیسا کہ حدیث بھی قیام اللیل کی تاکید ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں فرمایا ” لوگو! لوگوں کو کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو، سلام پھیلاؤ اور رات کو اٹھ کر نماز پڑھو، جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ” (مسند احمد ٥۔(۴)٥١)۔

۱۸۔ وقت سحر قبولیت دعا کے بہترین اوقات میں سے ہے حدیث میں آتا ہے کہ جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ندا دیتا ہے کہ کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ میں اس کی توبہ قبول کروں ؟ کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں کوئی سائل ہے کہ میں اس کے سوال کو پورا کر دوں۔ یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ّصحیح مسلم)

١٩۔ محروم سے مراد، وہ ضرورت مند ہے جو سوال سے اجتناب کرتا ہے۔ چنانچہ مستحق ہونے کے باوجود لوگ اسے نہیں دیتے۔ یا وہ شخص ہے جس کا سب کچھ، آفت ارضی و سماوی میں، تباہ ہو جائے۔

٢٢۔ یعنی بارش بھی آسمان سے ہوتی ہے جس سے تمہارا رزق پیدا ہوتا ہے اور جنت دوزخ ثواب و عتاب بھی آسمانوں میں ہے جن کا وعدہ کیا جاتا ہے۔

٢٣۔ اِنہ میں ضمیر کا مرجع (یہ) وہ امور و آیات ہیں جو مذکور ہوئیں۔

٢٤۔ ھَلْ استفہام کے لئے ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو تنبیہ ہے کہ اس قصے کا تجھے علم نہیں، بلکہ ہم تجھے وحی کے ذریعے سے مطلع کر رہے ہیں۔

٢٥۔ یہ اپنے جی میں کہا، ان سے خطاب کر کے نہیں کہا۔

۲۷۔ یعنی سامنے رکھنے کے باوجود انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ ہی نہیں بڑھایا تو پوچھا

٢٨۔(۱)   ڈر اس لئے محسوس کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سمجھے، یہ کھانا نہیں کھا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آنے والے کسی خیر کی نیت سے نہیں بلکہ شر کی نیت سے آئے ہیں۔

٢٨۔ (۲)  حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چہرے پر خوف کے آثار دیکھ کر فرشتوں نے کہا۔

۲۹۔ صرۃ کے دوسرے معنی ہیں چیخ و پکار، یعنی چیختے ہوئے کہا۔

٣٠۔ یعنی جس طرح ہم نے تجھے کہا ہے، یہ ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہا ہے، بلکہ تیرے رب نے اسی طرح کہا ہے جس کی ہم تجھے اطلاع دے رہے ہیں، اس لئے اس پر تعجب کی ضرورت ہے نہ کہ شک کرنے کی، اس لئے کہ اللہ جو چاہتا ہے وہ لا محالہ ہو کر رہتا ہے۔

٣١۔ یعنی اس بشارت کے علاوہ تمہارا اور کیا کام اور مقصد ہے جس کے لئے تمہیں بھیجا گیا ہے۔

٣٢۔ اس سے مراد قوم لوط ہے جن کا سب سے بڑا جرم لواطت تھا۔

٣۳۔برسائیں کا مطلب ہے، ان کنکریوں سے انہیں رجم کر دیں۔ یہ کنکریاں خالص پتھر کی تھیں نہ آسمانی اولے تھے، بلکہ مٹی کی بنی ہوئی تھیں۔

٣٤۔١مسومۃ (نامزد یا نشان زدہ) ان کی مخصوص علامت تھی جن سے انہیں پہچان لیا جاتا تھا یا وہ عذاب کے لیے مخصوص تھیں، بعض کہتے ہیں کہ جس کنکری سے موت جس کی موت واقع ہوئی تھی اس پر اسی کا نام لکھا ہوا تھا، مسرفین جو شرک و ضلالت میں بہت بڑھے ہوئے تھے اور فسق و فجور میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔

٣٥۔ یعنی عذاب آنے سے پہلے ہم ان کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دے دیا تاکہ وہ عذاب سے محفوظ رہیں۔

٣٦۔ اور یہ اللہ کے پیغمبر حضرت لوط علیہ السلام کا گھر تھا جس میں دو بیٹیاں اور کچھ ایمان لانے والے تھے، کہتے ہیں کہ کل تیرہ آدمی تھے۔ ان میں حضرت لوط علیہ السلام کا گھر تھا، جس میں ان کی دو بیٹیاں اور کچھ ایمان لانے والے تھے ان میں حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی شامل نہ تھی بلکہ وہ اپنی قوم کے ساتھ عذاب سے ہلاک ہونے والوں میں سے تھی۔ (ایسر التفاسیر) اسلام کے معنی ہیں اطاعت انقیاد اللہ کے حکموں پر سر اطاعت خم کر دینے والا مسلم ہے اس اعتبار سے ہر مومن مسلمان ہے اسی لیے پہلے ان کے لیے مومن کا لفظ استعمال کیا، اور پھر ان ہی کے لیے مسلم کا لفظ بولا گیا ہے اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ ان کے مصداق میں کوئی فرق نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگ مومن اور مسلم کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ قرآن نے جو کہیں مومن اور مسلم کا لفظ استعمال کیا ہے۔ تو وہ ان معانی کے اعتبار سے ہے جو عربی لغت کی رو سے ان کے درمیان ہے اس لیے لغوی استعمال کے مقابلے میں حقیقت شرعیہ کا اعتبار زیادہ ضروری ہے اور حقیقت شرعیہ کے اعتبار سے ان کے درمیان صرف وہی فرق ہے حدیث جبرائیل علیہ السلام سے ثابت ہے جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ اسلام کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا لا الہ الا اللہ کی شہادت، اقامت صلوۃ، ایتائے  زکوٰۃ، حج اور صیام رمضان۔ اور جب ایمان کی بابت پوچھا گیا تو فرمایا، اللہ پر ایمان لانا، اس کے ملائکہ، کتابوں، رسولوں اور تقدیر (خیر و شر کے من جانب اللہ ہونے ) پر ایمان رکھنا، یعنی دل سے ان چیزوں پر یقین رکھنا ایمان اور احکام و فرائض کی ادائیگی اسلام ہے۔ اس لحاظ سے ہر مومن مسلمان اور ہر مسلمان مومن ہے (فتح القدیر) اور جو مومن اور مسلمان کے درمیان میں فرق کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے کہ یہاں قرآن نے ایک ہی گروہ کے لیے مومن اور مسلمان کے الفاظ استعمال کیے ہیں لیکن ان کے درمیان جو فرق ہے اس کی رو سے ہر مومن مسلم بھی ہے تاہم ہر مسلم کا مومن ہونا ضروری نہیں (ابن کثیر) بہرحال یہ ایک علمی بحث ہے فریقین کے پاس اپنے اپنے موقف پر استدلال کے لیے دلائل موجود ہیں۔

٣٧۔ یہ آیت یا کامل علامت وہ آثار عذاب ہیں جو ان ہلاک شدہ بستیوں میں ایک عرصے تک باقی رہے۔ اور یہ علامت بھی انہی کے لئے ہے جو عذاب الٰہی سے ڈرنے والے ہیں، کیونکہ وعظ و نصیحت کا اثر بھی وہی قبول کرتے ہیں اور آیات میں غور و فکر بھی وہی کرتے ہیں۔

٣٩۔ جانب اقویٰ کو رکن کہتے ہیں۔ یہاں مراد اس کی اپنی قوت اور لشکر ہے۔

٤٠۔ یعنی اس کے کام ہی ایسے تھے کہ جن پر وہ ملامت ہی کا مستحق تھا

٤١۔١(۱)  ای ترکنا فی قصۃ عاد آیۃ عاد کے قصے میں بھی ہم نے نشانی چھوڑی۔

٤١۔ (۲)  الریح العقیم (بانجھ ہوا) جس میں خیر و برکت نہیں تھی، وہ ہوا درختوں کو ثمر آور کرنے والی تھی نہ بارش کی پیامبر، بلکہ صرف ہلاکت اور عذاب کی ہوا تھی۔

٤۲۔ یہ اس ہوا کی تاثیر تھی جو قوم عاد پر بطور عذاب بھیجی گئی تھی۔ یہ تند تیز ہوا، سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی (الحاقہ)

٤٣۔ یعنی جب انہوں نے اپنے ہی طلب کردہ معجزے اونٹنی کو قتل کر دیا، تو ان سے کہہ دیا گیا کہ اب تین دن اور تم دنیا کے مزے لوٹ لو، تین دن کے بعد تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے۔ یہ اسی طرف اشارہ ہے بعض نے اسے حضرت صالح علیہ السلام کی ابتدائے نبوت کا قول قرار دیا ہے۔ الفاظ اس مفہوم کے بھی متحمل ہیں بلکہ سیاق سے یہی معنی زیادہ قریب ہے۔

٤٤۔ (کڑاکا) آسمانی چیخ تھی اور اس کے ساتھ (زلزلہ) تھا جیسا کہ سورہ اعراف ٧٨ میں ہے۔

٤٥۔ (۱)  چہ جائیکہ وہ بھاگ سکیں۔

٤٥۔ (۲)  یعنی اللہ کے عذاب سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکے۔

٤٦۔ قوم نوح، عاد، فرعون اور ثمود وغیرہ بہت پہلے گزر چکی ہے اس نے بھی اطاعت الٰہی کی بجائے اسکی بغاوت کا راستہ اختیار کیا تھا۔ بالآخر اسے طوفان میں ڈبو دیا گیا۔

٤۷۔ (۱)  السماء منصوب ہے بنینا محذوف کی وجہ سے بنینا السماء بنیناھا

٤٧۔ (۲)  یعنی پہلے ہی بہت وسیع ہے لیکن ہم نے اس کو اور بھی زیادہ وسیع کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یا آسمان سے بارش برسا کر روزی کشادہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں وُسْع (طاقت و قدرت رکھنے والے ) تو مطلب ہو گا ہمارے اندر اس جیسے اور آسمان بنانے کی بھی طاقت و قدرت موجود ہے۔ ہم آسمان و زمین بنا کر تھک نہیں گئے ہیں بلکہ ہماری قدرت طاقت کی کوئی انتہا ہی نہیں ہے۔

٤٨۔ یعنی فرش کی طرح اسے بچھا دیا ہے۔

٤۹۔ (۱)  یعنی ہر چیز کو جوڑا جوڑا، نر اور مادہ یا اس کی مقابل اور ضد کو بھی پیدا کیا ہے۔ جیسے روشنی اور اندھیرا، خشکی اور تری، چاند اور سورج، میٹھا اور کڑوا رات اور دن خیر اور شر زندگی اور موت ایمان اور کفر شقاوت اور سعادت جنت اور دوزخ جن وانس وغیرہ حتی کہ حیوانات کے مقابل جمادات اس لیے ضروری ہے کہ دنیا کا بھی جوڑا ہو یعنی آخرت، دنیا کے بالمقابل دوسری زندگی۔

 ٤٩۔ (۲)  یہ جان لو کہ ان سب کا پیدا کرنے والا صرف ایک اللہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

٥٠۔ یعنی کفر و معصیت سے توبہ کر کے فوراً بارگاہ الٰہی میں جھک جاؤ، اس میں تاخیر مت کرو۔

۵۱۔ یعنی میں تمہیں کھول کھول کر ڈرا رہا اور تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں کہ صرف ایک اللہ کی طرف رجوع کرو، اسی پر اعتماد اور بھروسہ کر اور صرف اسی ایک کی عبادت کرو، اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک مت کرو، ایسا کرو گے تو یاد رکھنا جنت کی نعمتوں سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیئے جاؤ گے۔

٥٣۔ یعنی ہر بعد میں آنے والی قوم نے اس طرح رسولوں کو جھٹلایا اور انہیں جادوگر اور دیوانہ قرار دیا، جیسے پچھلی قومیں بعد میں آنے والی قوم کیلئے وصیت کر کے جاتی رہی ہیں۔ یکے بعد دیگرے ہر قوم نے یہی تکذیب کا راستہ اختیار کیا۔

٥٤۔ یعنی ایک دوسرے کو وصیت تو نہیں کی بلکہ ہر قوم ہی اپنی اپنی جگہ سرکش ہے، اس لئے ان سب کے دل بھی متشابہ ہیں اور ان کے طور اطوار بھی ملتے جلتے ہیں۔

۵۵۔ اس لیے کہ نصیحت سے فائدہ انہیں کو پہنچتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ آپ نصیحت کرتے رہیں اس نصیحت سے وہ لوگ یقیناً فائدہ اٹھائیں گے جن کی بابت اللہ کے علم میں ہے کہ وہ ایمان لائیں گے۔

۵ ٦۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے اس ارادہ شرعیہ تکلیفیہ کا اظہار ہے جو اس کو محبوب و مطلوب ہے کہ تمام انس و جن صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اطاعت بھی اسی ایک کی کریں۔ اگر اس کا تعلق ارادہ تکوینی سے ہوتا، پھر تو کوئی انس و جن اللہ کی عبادت و اطاعت سے انحراف کی طاقت ہی نہ رکھتا۔ یعنی اس میں انسانوں اور جنوں کو اس مقصد زندگی کی یاد دہانی کرائی گئی ہے، جسے اگر انہوں نے فراموش کیے رکھا تو آخرت میں سخت باز پرس ہو گی اور وہ اس امتحان میں ناکام قرار پائیں گے جس میں اللہ نے ان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دے کر ڈالا ہے۔

٥٧۔ یعنی میری عبادت و اطاعت سے میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ مجھے کما کر کھلائیں، جیسا کہ دوسرے آقاؤں کا مقصود ہوتا ہے، بلکہ رزق کے سارے خزانے تو خود میرے ہی پاس ہیں میری عبادت و اطاعت سے تو خود ان ہی کا فائدہ ہو گا کہ ان کی آخرت سنور جائے گی نہ کہ مجھے کوئی فائدہ ہو گا۔

٥٩۔(۱)   ذنوب کے معنی بھرے ڈول کے ہیں۔ کنویں سے ڈول میں پانی نکال کر تقسیم کیا جاتا ہے اس اعتبار سے یہاں ڈول کو حصے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ مطلب ہے کہ ظالموں کو عذاب سے حصہ پہنچے گا، جس طرح اس سے پہلے کفر و شرک کا ارتکاب کرنے والوں کو ان کے عذاب کا حصہ ملا تھا۔

٥٩۔ (۲) لیکن یہ حصہ عذاب انہیں کب پہنچے گا، یہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، اس لئے طلب عذاب میں جلدی نہ کریں۔

٭٭٭

 

سورۃ الطُور

١۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ ہم کلام ہوئے۔ اسے طور سینا بھی کہا جاتا ہے۔ اللہ نے اس کے اس شرف کی بنا پر اس کی قسم کھائی۔

٢۔ مَسْطُوْرِ کے معنی ہیں مکتوب، لکھی ہوئی چیز۔ اس کا مصداق مختلف بیان کئے گئے ہیں۔ قرآن مجید، لوح محفوظ، تمام کتب منزلہ یا انسانی اعمال نامے جو فرشتے لکھتے ہیں۔

٣۔١رق یہ متعلق ہے مَسْطُورِ کے۔ رَقِ وہ باریک چمڑا جس پر لکھا جاتا تھا۔ منشور بمعنی مبسوط پھیلا یا کھلا ہوا۔

٤۔ یہ بیت معمور، ساتویں آسمان پر وہ عبادت خانہ ہے جس میں فرشتے عبادت کرتے ہیں، یہ عبادت خانہ فرشتوں سے اس طرح بھرا ہوتا ہے کہ روزانہ اس میں ستر ہزار فرشتے عبادت کے لئے آتے ہیں جن کی پھر دوبارہ قیامت تک باری نہیں آتی۔ جیسا کہ احادیث معراج میں بیان کیا گیا۔ بعض بیت معمور سے خانہ کعبہ مراد لیتے ہیں۔ جو عبادت کے لیے آنے والے انسانوں سے ہر وقت بھرا رہتا ہے معمور کے معنی ہی آباد اور بھرے ہوئے کے ہیں۔

٥۔ اس سے مراد آسمان ہے جو زمین کے لئے بمنزلہ چھت کے ہے۔ قرآن نے دوسرے مقام پر اسے ” محفوظ چھت ” کہا ہے، بعض نے اس سے عرش مراد لیا ہے جو تمام مخلوقات کے لئے چھت ہے۔ وجعلنا السماء سقفا محفوظا۔ بعض نے اس سے عرش مراد لیا ہے جو تمام مخلوقات کے لیے چھت ہے۔

٦۔ مسجور کے معنی ہیں بھڑکے ہوئے۔ بعض کہتے ہیں، اس سے وہ پانی مراد ہے جو زیر عرش ہے جس سے قیامت والے دن بارش نازل ہو گی، اس سے مردہ جسم زندہ ہو جائیں گے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد سمندر ہیں ان میں قیامت والے دن آگ بھڑک اٹھے گی۔ جیسے فرمایا واذا البحار سجرت اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے امام شوکانی نے اسی مفہوم کو اولی قرار دیا ہے اور بعض نے مسجور کے معنی مملوء بھرے ہوئے کے لیے ہیں یعنی فی الحال سمندروں میں آگ تو نہیں ہے البتہ وہ پانی سے بھرے ہوئے ہیں امام طبری نے اس قول کو اختیار کیا ہے اس کے اور بھی کئی معنی بیان کیے گئے ہیں۔(تفسیر ابن کثیر)

۸۔ یہ مذکورہ قسموں کا جواب ہے یعنی یہ تمام چیزیں جو اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کی مظہر ہیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ کا وہ عذاب بھی یقیناً واقع ہو کر رہے گا جس کا اس نے وعدہ کیا ہے اسے کوئے ٹالنے پر قادر نہیں ہو گا۔

٩۔ مور کے معنی ہیں حرکت و اضطراب، قیامت والے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور ستارے و سیاروں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہو گا، اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اور یہ مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔ یعنی عذاب اس روز واقع ہو گا جب آسمان تھر تھرائے گا اور پہاڑ اپنی جگہ چھوڑ کر روئی کے گالوں اور ریت کے ذروں کی طرح اڑ جائیں گے۔

١٢۔ یعنی اپنے کفر و باطل میں مصروف اور حق کی تکذیب استہزاء میں لگے ہوئے ہیں۔

١٣۔ الدَّعُّ کے معنی ہیں نہایت سختی کے ساتھ دھکیلنا۔

١٤۔ یہ جہنم پر مقرر فرشتے انہیں کہیں گے۔

١٥۔ (۱)   جس طرح تم دنیا میں پیغمبروں کو جادوگر کہا کرتے تھے، بتلاؤ! کیا یہ بھی کوئی جادو کا کرتب ہے ؟

١٥۔ (۲) یا جس طرح تم دنیا میں حق کے دیکھنے سے اندھے تھے یہ عذاب بھی تمہیں نظر نہیں آ رہا ہے ؟ یہ تقریع و توبیخ کے لیے انہیں کہا جائے گا ورنہ ہر چیز ان کے مشاہدے میں آ چکی ہو گی۔

١٧۔ اہل کفر و اہل شقاوت کے بعد اہل ایمان و اہل سعادت کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

١٨۔ یعنی جنت کے گھر، لباس، کھانے، سواریاں، حسین جمیل بیویاں (حور عین) اور دیگر نعمتیں، ان سب پر وہ خوش ہوں گے، کیونکہ یہ نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے بدرجہا بڑھ کر ہوں گی۔ اور ما لا عین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر کا مصداق۔

١٩۔ دوسرے مقام پر فرمایا (کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا ھَنِیئاً بِمَا اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَاْلِیَۃِ) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت حاصل کرنے کے لئے ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بہت ضروری ہیں۔

٢٠۔ مَصْفُوفَۃِ، ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے، گویا ایک صف میں ہیں۔ بعض نے مفہوم بیان کیا ہے، کہ چہرے ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔ جیسے میدان جنگ میں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے ہوتی ہیں اس مفہوم کو قرآن میں دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے “علی سرر متقابلین” ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر فروکش ہوں گے۔

٢١۔ (۱)   یعنی جن کے باپ اپنے اخلاص و تقویٰ اور عمل و کردار کی بنیاد پر جنت کے اعلیٰ درجوں پر فائز ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان کی ایماندار اولاد کے بھی درجے بلند کر کے، ان کو ان کے باپوں کے ساتھ ملا دے گا یہ نہیں کرے گا کہ ان کے باپوں کے درجے کم کر کے ان کی اولاد والے کمتر درجوں میں انہیں لے آئے یعنی اہل ایمان پر دو گونہ احسان فرمائے گا۔ ایک تو باپ بیٹوں کو آپس میں ملا دے گا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، بشرطیکہ دونوں ایماندار ہوں دوسرا یہ کہ کم درجے والوں کو اٹھا کر اونچے درجوں پر فائز فرما دے گا۔ ورنہ دونوں کے ملاپ کا یہ طریقہ بھی ہو سکتا ہے کہ اے کلاس والوں کو بی کلاس دے دے، یہ بات چونکہ اس کے فضل و احسان سے فروتر ہو گی اس لیے وہ ایسا نہیں کرے گا بلکہ بی کلاس والوں کا اے کلاس عطا فرمائے گا۔ یہ تو اللہ کا وہ احسان ہے جو اولاد پر آبا کے عملوں کی برکت سے ہو گا اور حدیث میں آتا ہے کہ اولاد کی دعا و استغفار سے آبا کے درجات میں بھی اضافہ ہوتا ہے ایک شخص کے جب جنت میں درجے بلند ہوتے ہیں تو وہ اللہ سے اس کا سبب پوچھتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تیری اولاد کی تیرے لیے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے (مسند احمد) اس کی تأیید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے البتہ تین چیزوں کا ثواب موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے ایک صدقہ جاریہ دوسرا وہ علم جس سے لوگ فیض یاب ہوتے رہیں اور تیسری نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہو۔(صحیح مسلم)

٢١۔ (۲) رھین بمعنی مرھون (گروی شدہ چیز) ہر شخص اپنے عمل کا گروی ہو گا۔ یہ عام ہے۔ مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور مطلب ہے کہ جو جیسا اچھا یا برا عمل کرے گا۔ اس کے مطابق اچھی یا بری جزاء پائے گا۔ یا اس سے مراد صرف کافر ہیں کہ وہ اپنے اعمال میں گرفتار ہوں گے، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا “کل نفس بماکسبت رھینۃ” ہر شخص اپنے اعمال میں گرفتار ہو گا۔

٢٢۔ زِدْنَاہُمْ، یعنی خوب دیں گے

٢٣۔ (۱)   یتنازعون یتعاطون ویتناولون ایک دوسرے سے لیں گے۔ یا پھر وہ معنی ہیں جو فاضل مترجم نے کیے ہیں، کاس اس پیالے اور جام کو کہتے ہیں جو شراب یا کسی اور مشروب سے بھرا ہوا ہو خالی برتن کو کاس نہیں کہتے۔

٢٣۔ (۲) اس شراب میں دنیا کی شراب کی تاثیر نہیں ہو گی اسے پی کر نہ کوئی بہکے گا اور نہ اتنا مدہوش ہو گا۔

٢٤۔ یعنی جنتیوں کی خدمت کے لئے انہیں نو عمر خادم بھی دیئے جائیں گے جو ان کی خدمت کے لئے پھر رہے ہوں گے اور حسن و جمال اور صفائی و رعنائی میں وہ ایسے ہوں گے جیسے موتی، جسے ڈھک کر رکھا گیا ہو، تاکہ ہاتھ لگنے سے اس کی چمک دمک ماند نہ پڑ ے۔

٢٥۔ ایک دوسرے سے دنیا کے حالات پوچھیں گے کہ دنیا میں وہ کن حالات میں زندگی گزارتے اور ایمان و عمل کے تقاضے کس طرح پورے کرتے رہے۔

٢٦۔ یعنی اللہ کے عذاب سے۔ اس لئے اس عذاب سے بچنے کا اہتمام بھی کرتے رہے، اس لئے کہ انسان کو جس چیز کا ڈر ہوتا ہے، اس سے بچنے کے لئے وہ تگ و دو کرتا ہے۔

٢٧۔ سَمُوم لو، جھلس ڈالنے والی گرم ہوا کو کہتے ہیں، جہنم کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے۔

۲۸۔ یعنی صرف اسی ایک کی عبادت کرتے تھے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، یا یہ مطلب ہے کہ اس سے عذاب جہنم سے بچنے کے لیے دعا کرتے تھے۔

٢٩۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ وعظ و تبلیغ اور نصیحت کا کام کرتے رہیں اور یہ آپ کی بابت جو کچھ کہتے رہتے ہیں، ان کی طرف کان نہ دھریں، اس لئے کہ آپ اللہ کے فضل سے کاہن ہیں نہ دیوانہ (جیسا کہ یہ کہتے ہیں ) بلکہ آپ پر باقاعدہ ہماری طرف سے وحی آتی ہے جو کہ کاہن پر نہیں آتی آپ جو کلام لوگوں کو سناتے ہیں وہ دانش و بصیرت کا آئینہ دار ہوتا ہے ایک دیوانے سے اس طرح گفتگو کیوں کر ممکن ہے۔

٣٠۔ ١ رَیْب کے معنی ہیں حوادث، موت کے ناموں سے ایک نام۔ مطلب ہے قریش مکہ اس انتظار میں ہیں کہ زمانے کے حوادث سے شاید اس (محمد صلی اللہ علیہ و سلم) کو موت آ جائے اور ہمیں چین نصیب ہو جائے، جو اس کی دعوت توحید نے ہم سے چھین لیا ہے۔

٣١۔ یعنی دیکھو! موت پہلے کسے آتی ہے ؟ اور ہلاکت کس کا مقدر ہے۔

٣٢۔ (۱)   یعنی یہ تیرے بارے میں جو اناپ شناپ جھوٹ اور غلط سلط باتیں کرتے رہتے ہیں، کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سجھاتی ہیں۔

٣٢۔ (۲)  نہیں بلکہ یہ سرکش اور گمراہ لوگ ہیں، اور یہی سرکشی اور گمراہی انہیں ان باتوں پر بڑھکاتی ہے۔

۳۳۔ یعنی قرآن گھڑنے کے الزام پر ان کو آمادہ کرنے والا بھی ان کا کفر ہی ہے۔

٣٤۔ یعنی اگر یہ اپنے دعوے میں سچے ہیں کہ یہ قرآن محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کا اپنا گھڑا ہوا ہے تو پھر یہ بھی اس جیسی کتاب بنا کر پیش کر دیں جو نظم، اعجاز، حسن بیان، حقائق کے مسائل میں اس کا مقابلہ کر سکیں۔

٣٥۔ (۱)   یعنی اگر واقعی ایسا ہے تو پھر کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ انہیں کسی بات کا حکم دے یا کسی بات سے منع کرے۔ لیکن جب ایسا نہیں ہے بلکہ انہیں ایک پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے تو ظاہر ہے اس کا انہیں پیدا کرنے کا ایک خاص مقصد ہے، وہ انہیں پیدا کر کے یوں کس طرح چھوڑ دے گا۔

٣٥۔ (۲)  یعنی یہ خود بھی اپنے خالق نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ کے خالق ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔

٣٦۔ بلکہ اللہ کے وعدوں اور وعیدوں کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔

٣٧۔ (۱)   کہ یہ جس کو چاہیں روزی دیں جس کو چاہیں نہ دیں یا جس کو چاہیں نبوت سے نوازیں۔

٣٧۔ (۲)  مصیطر یا مسیطر سَطْرً سے ہے، لکھنے والا، جو محافظ و نگران ہو، وہ چونکہ ساری تفصیلات لکھتا ہے، اس لئے یہ محافظ اور نگران کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی کیا اللہ کے خزانوں یا اس کی رحمتوں پر ان کا تسلط ہے کہ جس کو چاہیں دیں یا نہ دیں۔

٣٨۔ یعنی کیا ان کا دعویٰ ہے کہ سیڑھی کے ذریعے سے یہ بھی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی طرح آسمانوں پر جا کر ملائکہ کی باتیں یا ان کی طرف جو وحی کی جاتی ہے، وہ سن آئے ہیں۔

٤٠۔ یعنی اس کی ادائیگی ان کے لئے مشکل ہو۔

٤١۔ کہ ضرور ان سے پہلے محمد صلی اللہ علیہ و سلم مر جائیں گے اور ان کو موت اس کے بعد آئیگی

٤٢۔ (۱)   یعنی ہمارے پیغمبر کے ساتھ، جس سے اس کی ہلاکت واقع ہو جائے۔

٤٢۔ (۲)   یعنی کید و مکر ان پر ہی الٹ پڑے گا اور سارا نقصان انہیں کو ہو گا جیسے فرمایا ولا یحیق المکر السیء الا باھلہ چنانچہ بدر میں یہ کافر مارے گئے اور بھی بہت سی جگہوں پر ذلت ورسوائی سے دوچار ہوئے۔

٤٤۔ مطلب ہے کہ اپنے کفر و عناد سے پھر بھی باز نہ آئیں گے، بلکہ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ عذاب نہیں، بلکہ ایک پر ایک بادل چڑھا آ رہا ہے، جیسا کہ بعض موقعوں پر ایسا ہوتا ہے۔

۴۷۔ (۱)   یعنی دنیا میں، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (ولنذیقنہم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلہم یرجعون) (الم السجدہ۲۱

 ٤٧۔ (۲)  اس بات سے کہ دنیا کے یہ عذاب اور مصائب، اس لئے ہیں تاکہ انسان اللہ کی طرف رجوع کریں یہ نکتہ چونکہ نہیں سمجھتے اس لئے گناہوں سے تائب نہیں ہوتے بلکہ بعض دفعہ پہلے سے بھی زیادہ گناہ کرنے لگ جاتے ہیں۔ جس طرح ایک حدیث میں فرمایا کہ ” منافق جب بیمار ہو کر صحت مند ہو جاتا ہے تو اسکی مثال اونٹ کی سی ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اسے کیوں رسیوں سے باندھا گیا۔ اور کیوں کھلا چھوڑ دیا گیا؟” (ابوداؤد کتاب الجنائز نمبر۳۰۸۹)

٤٨۔ اس کھڑے ہونے سے کونسا کھڑا ہونا مراد ہے ؟ بعض کہتے ہیں جب نماز کے لئے کھڑے ہوں جیسے آغاز نماز میں سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ پڑھی جاتی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جب کسی مجلس میں کھڑے ہوں جیسے حدیث میں آتا ہے جو شخص کسی مجلس سے اٹھتے وقت یہ دعا پڑھ لے تو یہ اسکی مجلس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔ سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لا الہ انت أستغفرک واتوب الیک۔

٤٩۔ اس سے مراد قیام اللیل۔ یعنی نماز تہجد، جو عمر بھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول رہا۔

٭٭٭

 

سورۃ النَجم

 یہ پہلی سورت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کفار کے مجمع عام میں تلاوت کیا، تلاوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے جتنے لوگ تھے، سب نے سجدہ کیا، ماسوائے امیہ بن خلف کے، اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اس پر سجدہ کیا۔ چنانچہ یہ کفر کی حالت میں ہی مارا گیا (صحیح بخاری، تفسیر سورہ نجم) بعض طریق میں اس شخص کا نام عتبہ بن ربیعہ بتلایا گیا ہے (تفسیر ابن کثیر) واللہ اعلم۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس سورت کی تلاوت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے کی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس میں سجدہ نہیں کیا (صحیح بخاری، باب مذکور) اس کا مطلب یہ ہوا کہ سجدہ کرنا مستحب ہے، فرض نہیں۔ اگر کبھی چھوڑ بھی دیا جائے تو جائز ہے۔

١۔ بعض مفسرین نے ستارے سے ثریا ستارہ اور بعض نے زہرہ ستارہ مراد لیا ہے، یعنی جب رات کے اختتام پر فجر کے وقت وہ گرتا ہے، یا شیاطین کو مارنے کے لئے گرتا ہے یا بقول بعض قیامت والے دن گریں گے۔

٢۔ یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبِکُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعوی کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہو سکتا ہے ؟ چنانچہ واقعہ یہ کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوابت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کی گمراہیوں سے اپنے پیغمبر کی تنزیہ بیان فرمائی۔

١١۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جبرائیل علیہ السلام کو اصل شکل میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ ایک پر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلے جتنا تھا، اس کو آپ کے دل نے جھٹلایا نہیں، بلکہ اللہ کی اس عظیم قدرت کو تسلیم کیا۔

١٤۔ یہ لیلۃ المعراج کو جب اصل شکل میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، اس کا بیان ہے۔ یہ سدرۃ المنتہیٰ، ایک بیری کا درخت ہے جو چھٹے یا ساتویں آسمان پر ہے اور یہ آخری حد ہے، اس کے اوپر کوئی فرشتہ نہیں جا سکتا۔ فرشتے اللہ کے احکام بھی یہیں سے وصول کرتے ہیں

١٥۔ اسے جنت الماویٰ، اس لئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کا ماویٰ و مسکن یہی تھا، بعض کہتے ہیں کہ روحیں یہاں آ کر جمع ہوتی ہیں (فتح القدیر)

١٦۔ سدرۃ المنتہیٰ کی اس کیفیت کا بیان ہے جب شب معراج میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا مشاہدہ کیا، سونے کے پروانے اس کے گرد منڈلا رہے تھے، فرشتوں کا عکس اس پر پڑ رہا تھا، اور رب کی تجلیات کا مظہر بھی وہی تھا (ابن کثیر) اس مقام پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو تین چیزوں سے نوازا گیا، پانچ وقت کی نمازیں، سورہ بقرہ کی آخری آیات اور اس مسلمان کی مغفرت کا وعدہ جو شرک کی آلودگیوں سے پاک ہو گا۔

١٧۔ یعنی نبی کی نگاہیں دائیں بائیں ہوئیں اور نہ حد سے بلند اور متجاوز ہوئیں جو آپ کے لئے مقرر کر دی گئی تھی۔ (ایسر التفاسیر)

١٨۔ جن میں جبرائیل علیہ السلام اور سدرۃ المنتہیٰ کا دیکھنا اور دیگر مظاہر قدرت کا مشاہدہ ہے جس کی کچھ تفصیل احادیث معراج میں بیان کی گئی ہے۔

٢٠۔ یہ مشرکین کی توبیخ کے لئے کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی یہ تو شان ہے جو مذکور ہوئی کہ جبرائیل علیہ السلام جیسے عظیم فرشتوں کا وہ خالق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جیسے اس کے رسول ہیں، جنہیں اس نے آسمان پر بلا کر بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ بھی کرایا اور وحی بھی ان پر نازل فرماتا ہے۔ کیا تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو، ان کے اندر بھی یہ یا اس قسم کی خوبیاں ہیں ؟ اس ضمن میں عرب کے تین مشہور بتوں کے نام بطور مثال لیے۔ لات، بعض کے نزدیک یہ لفظ اللہ سے ماخوذ ہے، بعض کے نزدیک لات یلیت سے ہے، جس کے معنی موڑنے کے ہیں، پجاری اپنی گردنیں اس کی طرف موڑتے اور اس کا طواف کرتے تھے۔ اس لیے یہ نام پڑ گیا۔ بعض کہتے ہیں، کہ لات میں تا مشدد ہے لت یلت سے اسم فاعل (ستو گھولنے والا) یہ ایک نیک آدمی تھا، حاجیوں کو ستو گھول کر پلایا کرتا تھا، جب یہ مر گیا تو لوگوں نے اس کی قبر کو عبادت گاہ بنا لیا، پھر اس کے مجسمے اور بت بن گئے۔ یہ طائف میں بنو ثقیف کا سب سے بڑا بت تھا۔ عزی کہتے ہیں یہ اللہ کے صفاتی نام عزیز سے ماخوذ ہے، اور یہ أعز کی تانیث ہے بمعنی عزیزت بعض کہتے ہیں کہ یہ غطفان میں ایک درخت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی، بعض کہتے ہیں کہ شیطاننی (بھوتنی) تھی جو بعض درختوں میں ظاہر ہوتی تھی۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سنگ ابیض تھا جس کو پوجتے تھے۔ یہ قریش اور بنو کنانہ کا خاص معبود تھا۔ منوت، منی یمنی سے ہے جس کے معنی صب (بہانے ) کے ہیں۔ اس کا تقرب حاصل کرنے کے لئے لوگ کثرت سے اس کے پاس جانور ذبح کرتے اور ان کا خون بہاتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک بت تھا (فتح القدیر) یہ قدید کے بالمقابل مشلل جگہ میں تھا، بنوخزاعہ کا یہ خاص بت تھا۔زمانہ جاہلیت میں اوس اور خزرج یہیں سے احرام باندھتے تھے اور اس بت کا طواف بھی کرتے تھے۔(ایسر التفاسیر وابن کثیر) ان کے علاوہ مختلف اطراف میں اور بھی بہت سے بت اور بت خانے پھیلے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فتح مکہ کے بعد اور دیگر مواقع پر ان بتوں اور دیگر تمام بتوں کا خاتمہ فرما دیا ان پر جو قبے اور عمارتیں بنی ہوئی تھیں، وہ مسمار کروا دیں، ان درختوں کو کٹوا دیا، جن کی تعظیم کی جاتی تھی اور وہ تمام آثار و مظاہر مٹا ڈالے گئے جو بت پرستی کی یادگار تھے، اس کام کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت خالد، حضرت علی، حضرت عمرو بن عاص اور حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین کو، جہاں جہاں یہ بت تھے، بھیجا اور انہوں نے جا کر ان سب کو ڈھا کر سرزمین عرب سے شرک کا نام مٹا دیا۔(ابن کثیر)

٢١۔ مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، یہ اس کی تردید ہے، جیسا کہ متعدد جگہ یہ مضمون گزر چکا ہے۔

٢٢۔ ضِیْزیٰ، حق و صواب سے ہٹی ہوئی۔

٢٤۔ یعنی یہ جو چاہتے ہیں کہ ان کے یہ معبود انہیں فائدہ پہنچائیں اور ان کی سفارش کریں یہ ممکن ہی نہیں۔

٢٥۔ یعنی وہی ہو گا، جو وہ چاہے گا، کیونکہ تمام اختیارات اسی کے پاس ہیں۔

٢٦۔ یعنی فرشتے، جو اللہ کے مقرب ترین مخلوق ہے ان کو بھی شفاعت کا حق صرف انہی لوگوں کے لئے ملے گا جن کے لئے اللہ پسند کرے گا، جب یہ بات ہے تو پھر یہ پتھر کی مورتیاں کس طرح کسی کی سفارش کر سکیں گی؟ جن سے تم آس لگائے بیٹھے ہو، نیز اللہ تعالیٰ مشرکوں کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کا حق بھی کب دے گا، جب کہ شرک اس کے نزدیک ناقابل معافی ہے ؟

٣١۔ یعنی ہدایت اور گمراہی اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے، گمراہی کے گڑھے میں ڈال دیتا ہے، تاکہ نیکوکار اس کی نیکیوں کا صلہ اور بدکار کو اس کی برائیوں کا بدلہ دے۔

٣٢۔ (۱)   کبائر، کبیرت کی جمع ہے۔ کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے۔زیادہ اہل علم کے نزدیک ہر وہ گناہ کبیرہ ہے جس پر جہنم کی وعید ہے، یا جس کے مرتکب کی سخت مذمت قرآن و حدیث میں مذکور ہے اور اہل علم یہ بھی کہتے ہیں کہ چھوٹے گناہ پر اصرار و دوام بھی اسی کبیرہ گناہ بنا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے معنی اور ماہیت کی تحقیق میں اختلاف کی طرح، اس کی تعداد میں بھی اختلاف ہے، بعض علماء نے انہیں کتابوں میں جمع بھی کیا ہے۔ جیسے کتاب الکبائر للذہبی اور الزواجر وغیرہ۔فواحش، فاحشت کی جمع ہے، بے حیائی کے مظاہر چونکہ بہت عام ہو گئے ہیں، اس لیے بے حیائی کو، تہذیب، سمجھ لیا گیا، حتی کہ اب مسلمانوں نے بہی اس، تہذیب بے حیائی، کو اپنا لیا ہے۔چنانچہ گھروں میں ٹی وی، وی سی آر وغیرہ عام ہیں، عورتوں نے نہ صرف پردے کو خیرباد کہہ دیا، بلکہ بن سنور کر اور حسن و جمال کا مجسم اشتہار بن کر باہر نکلنے کو اپنا شعار اور وطیرہ بنالیا ہے۔ مخلوط تعلیم، مخلوط ادارے، مخلوط مجلسیں اور دیگر بہت سے موقعوں پر مرد و زن کا بے باکانہ اختلاط اور بے محابا گفتگو روز افزوں ہے، در آں حالیکہ یہ سب، فواحش، میں داخل ہیں، جن کی بابت یہاں بتلایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کی مغفرت ہونی ہے، وہ کبائر فواحش سے اجتناب کرنے والے ہوں گے نہ کہ ان میں مبتلا۔

۳۲ (۲) اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بڑے گناہ کے آغاز کا ارتکاب، لیکن بڑے گناہ سے پر ہیز کرنا یا کسی گناہ کا ایک دو مرتبہ کرنا پھر ہمیشہ کے لئے اسے چھوڑ دینا، یا کسی گناہ کا محض دل میں خیال کرنا لیکن عملاً اس کے قریب نہ جانا، یہ سارے صغیرہ گناہ ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ کبائر سے اجتناب کی برکت سے معاف فرما دے گا۔

۳۳۔ (۱)   جنین کی جمع ہے جو پیٹ کے بچے کو کہاجاتا ہے، اس لیے کہ یہ لوگوں کی نظروں سے مستور ہوتا ہے۔

۳۳۔ (۲)    یعنی اس سے جب تمہاری کوئی کیفیت اور حرکت مخفی نہیں، حتی کہ جب تم ماں کے پیٹ میں تھے، جہاں تمہیں کوئی دیکھنے پر قادر نہیں تھا، وہاں بھی تمہارے تمام احوال سے واقف تھا، تو بھر اپنی پاکیزگی بیان کرنے کی اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی کیا ضرورت ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرو۔ تاکہ ریاکاری سے تم بچو۔

٣٤۔ یعنی تھوڑا سا دیکر ہاتھ روک لیا۔ یا تھوڑی سی اطاعت کی اور پیچھ ہٹ گیا، یعنی کوئی کام شروع کرے لیکن اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچائے۔

٣٥۔ یعنی کیا وہ دیکھ رہا ہے کہ اس نے فی سبیل اللہ خرچ کیا تو اس کا مال ختم ہو جائے گا؟ نہیں، غیب کا یہ علم اس کے پاس نہیں ہے بلکہ وہ خرچ کرنے سے گریز محض بخل، دنیا کی محبت اور آخرت پر عدم یقین کی وجہ سے کر رہا ہے اور اطاعت الٰہی سے انحراف کی وجوہات بھی یہی ہیں۔

٣٩۔ یعنی جس طرح کوئی کسی دوسرے کے گناہ کا ذمے دار نہیں ہو گا، اسی طرح اسے آخرت میں اجر بھی انہی چیزوں کا ملے گا، جن میں اس کی اپنی محنت ہو گی۔

٤٠۔ یعنی دنیا میں اس نے اچھا یا برا جو بھی کیا، چھپ کر کیا یا اعلانیہ کیا، قیامت والے دن سامنے آ جائے گا اور اس پر اسے پوری جزا دی جائے گی۔

٤٨۔ یعنی کسی کو اتنی تونگری دیتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہوتا اور اسکی تمام حاجتیں پوری ہو جاتی ہیں اور کسی کو اتنا سرمایا دے دیتا ہے کہ اس کے پاس ضرورت سے زائد بچ رہتا ہے اور وہ اس کو جمع کر کے رکھتا ہے۔

٤٩۔ رب تو وہ ہر چیز کا ہے، یہاں ستارے کا نام اس لئے لیا ہے کہ بعض عرب قبائل اس کی پوجا کرتے ہیں۔

٥٠۔ قوم عاد اول اس لئے کہا کہ یہ ثمود سے پہلے ہوئی، یا اس لئے کہ قوم نوح کے بعد سب سے پہلے یہ قوم ہلاک کی گئی۔ بعض کہتے ہیں، عاد نامی دو قومیں گزری ہیں، یہ پہلی ہے جسے باد تند سے ہلاک کیا گیا جب کہ دوسری زمانے کی گردشوں کے ساتھ مختلف ناموں سے چلتی اور بکھرتی ہوئی موجود رہی۔

٥٣۔ اس سے مراد حضرت لوط علیہ السلام کی بستیاں ہیں، جن کو الٹ دیا گیا۔

٥٤۔ یعنی اس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔

٥٥۔ یا شک کرے گا اور ان کو جھٹلائے گا، جب کہ وہ اتنی عام اور واضح ہیں کہ ان کا انکار ممکن ہے اور نہ چھپانا ہی۔

٥٩۔ بات سے مراد قرآن کریم ہے، یعنی اس سے تم تعجب کرتے اور اس کا مذاق کرتے ہو، حالانکہ اس میں نہ تعجب والی کوئی بات ہے نہ مذاق اور جھٹلانے والی۔

٦٢۔ یہ مشرکین اور مکذبین کی توبیخ کے لئے حکم دیا۔ یعنی جب ان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ قرآن کو ماننے کی بجائے، اس کا مذاق و استخفاف کرتے ہیں اور ہمارے پیغمبر کے وعظ و نصیحت کا کوئی اثر ان پر نہیں ہو رہا ہے، تو اے مسلمانو! تم اللہ کی بارگاہ میں جھک کر اور اس کی عبادت و اطاعت کا مظاہرہ کر کے قرآن کی تعظیم و توقیر کا اہتمام کرو۔چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اور صحابہ نے سجدہ کیا، حتی کہ اس وقت مجلس میں موجود کفار نے بھی سجدہ کیا۔ جیسا کہ احادیث میں ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ  القمر

 یہ بھی ان سورتوں میں ہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نماز عید میں پڑھا کرتے تھے،

١۔ ایک تو بہ اعتبار اس زمانے کے جو گزر گیا، کیونکہ جو باقی ہے، وہ تھوڑا ہے۔ دوسرے ہر آنے والی چیز قریب ہی ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بابت فرمایا کہ میرا وجود قیامت سے متصل ہے، یعنی میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نبی نہیں آئے گا۔

۲۔ (۱)   یہ وہ معجزہ ہے جو اہل مکہ کے مطالبے پر دکھایا گیا،چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے حتی کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا۔ یعنی اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اس طرف اور ایک ٹکڑا اس طرف ہو گیا۔ جمہور سلف و خلف کا یہی مسلک ہے (فتح القدیر) امام ابن کثیر لکھتے ہیں علماء کے درمیان یہ بات متفق علیہ ہے کہ انشقاق قمر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں ہوا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے واضح معجزات میں سے ہے، صحیح سند سے ثابت احادیث متواترہ اس پر دلالت کرتی ہیں۔

٢۔ (۲)   یعنی قریش نے، ایمان لانے کی بجائے، اسے جادو قرار دے کر اپنے اعراض کی روش جاری رکھی۔

٣۔ یہ کفار مکہ کی تکذیب اور اتباع کی تردید کے لئے فرمایا کہ ہر کام کی ایک انتہا ہوتی ہے، وہ کام اچھا ہو یا برا۔ یعنی بالآخر اس کا نتیجہ نکلے گا، اچھے کام کا نتیجہ اچھا اور برے کام کا نتیجہ برا۔ اس نتیجے کا ظہور دنیا میں بھی ہو سکتا ہے اگر اللہ کی مشیت مقتضی ہو، ورنہ آخرت میں تو یقینی ہے۔

٤۔ یعنی گذشتہ امتوں کی ہلاکت کی، جب انہوں نے جھٹلایا۔

٥۔ یعنی ایسی بات جو تباہی سے پھیر دینے والی ہے یا قرآن حکمت بالغہ ہے جس میں کوئی نقص یا خلل نہیں ہے۔ یا اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے اور یا اسے گمراہ کرے، اس میں بڑی حکمت ہے جس کو وہی جانتا ہے۔

٦۔ یعنی اس دن کو یاد کرو، نہایت ہولناک اور دہشت ناک مراد میدان محشر اور موقف حساب کے آزمائشیں ہیں۔

٧۔ یعنی قبروں سے نکل کر وہ اس طرح پھیلیں گے اور موقف حساب کی طرف اس طرح نہایت تیزی سے جائیں گے، گویا ٹڈی دل ہے جو آنا فانا میں کشادہ فضا میں پھیل جاتا ہے۔

٩۔ یعنی قوم نوح نے نوح علیہ السلام کی تکذیب ہی نہیں کی، بلکہ انہیں جھڑکا اور ڈرایا دھمکایا بھی گیا تھا۔

١١۔ کہتے ہیں کہ چالیس دن تک مسلسل خوب زور سے پانی برستا رہا۔

١٥۔ مُدَّکِرٍ معنی ہیں عبرت پکڑنے اور نصیحت حاصل کرنے والا (فتح القدیر)

١٧۔ یعنی اس کے مطلب اور معانی کو سمجھنا، اس سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا اور اسے زبانی یاد کرنا ہم نے آسان کر دیا، اسی طرح یہ دنیا کی واحد کتاب ہے، جو لفظ بہ لفظ یاد کر لی جاتی ہے ورنہ چھوٹی سی کتاب کو بھی اس طرح یاد کر لینا اور اسے یاد رکھنا نہایت مشکل ہے

١٩۔ کہتے ہیں یہ بدھ کی شام تھی، جب اس تند، یخ اور شاں شاں کرتی ہوئی ہوا کا آغاز ہوا، پھر مسلسل ٧ راتیں اور ٨ دن چلتی رہی۔ یہ ہوا گھروں اور قلعوں میں بند انسانوں کو بھی وہاں سے اٹھاتی اور اس طرح زور سے انہیں زمین پر پٹختی کہ ان کے سر ان کے دھڑوں سے الگ ہو جاتے۔ یہ دن ان کے لیے عذاب کے اعتبار سے منحوس ثابت ہوا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بدھ کے دن میں یا کسی اور دن میں نحوست ہے، جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں۔ مستمر کا مطلب، یہ عذاب اس وقت تک جاری رہا جب تک سب ہلاک نہیں ہو گئے۔

٢٤۔ یعنی ایک بشر کو رسول مان لینا، ان کے نزدیک گمراہی اور دیوانگی تھی۔

٢٥۔ یعنی اس نے جھوٹ بھی بولا تو بہت بڑا۔ کہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ بھلا ہم میں سے صرف اسی پر وحی آنی تھی؟ یا اس کے ذریعے سے ہم پر اپنی بڑائی جتانا اس کا مقصد تھا۔

٢٦۔ یہ خود، پیغمبر پر الزام تراشی کرنے والے۔ یا حضرت صالح علیہ السلام، جن کو اللہ نے وحی و رسالت سے نوازا۔ غَداً یعنی کل سے مراد قیامت کا دن یا دنیا میں ان کے لئے عذاب کا مقررہ دن۔

٢٧۔ کہ یہ ایمان لاتے ہیں یا نہیں وہی اونٹنی ہے جو اللہ نے خود ان کے کہنے پر پتھر کی ایک چٹان ظاہر فرمائی تھی۔

٢٨۔ (۱)   یعنی ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لئے اور ایک دن قوم کے پانی پینے کے لئے۔

٢٨۔ (۲)  مطلب ہے ہر ایک کا حصہ اس کے ساتھ ہی خاص ہے جو اپنی اپنی باری پر حاضر ہو کر وصول کرے دوسرا اس روز نہ آئے شُرَب حصہ آب۔

٢٩۔ (۱)   یعنی جس کو انہوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے آمادہ کیا تھا، جس کا نام قدار بن سالف بتلایا جاتا ہے، اس کو پکارا کہ وہ اپنا کام کرے۔

٢٩۔ (۲)  یا تلوار یا اونٹنی کو پکڑا اور اس کی ٹانگیں کاٹ دیں اور پھر اسے ذبح کر دیا۔ بعض نے فَتَعَاطَیٰ کے معنی فَجَسَرَ کئے ہیں، پس اس نے جسارت کی۔

٣١۔ باڑ جو خشک جھاڑیوں اور لکڑیوں سے جانوروں کی حفاظت کے لئے بنائی جاتی ہے، خشک لکڑیاں اور جھاڑیاں مسلسل روندے جانے کی وجہ سے چورا چورا ہو جاتی ہیں وہ بھی اس باڑ کی ماند ہمارے عذاب سے چورا ہو گئے۔

٣٤۔ یعنی ایسی ہوا بھیجی جو ان کو کنکریاں مارتی تھی، یعنی ان کی بستیوں کو ان پر الٹا کر دیا گیا، اس طرح کہ ان کا اوپر والا حصہ نیچے اور نیچے والا حصہ اوپر، اس کے بعد ان پر کھنگر پتھروں کی بارش ہوئی جیسا کہ سورہ ہود وغیرہ میں تفصیل گزری۔

٣٥۔ یعنی ان کو عذاب سے بچانا، یہ ہماری رحمت اور احسان تھا جو ان پر ہوا۔

٣٦۔ (۱)   یعنی عذاب آنے سے پہلے سخت گرفت سے ڈرایا تھا۔

٣٦۔ (۲)  لیکن انہوں نے اس کی پروا نہ کی بلکہ شک کیا اور ڈرانے والوں سے جھگڑتے رہے۔

٣٧۔(۱)   یا بہلایا یا مانگا لوط علیہ السلام سے ان کے مہمانوں کو۔ مطلب یہ ہے کہ جب لوط علیہ السلام کی قوم کو معلوم ہوا کہ چند خوبرو نوجوان لوط علیہ السلام کے ہاں آئے ہیں۔(جو دراصل فرشتے تھے اور ان کو عذاب دینے کے لیے آئے تھے ) تو انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے سپرد کر دیں تاکہ ہم اپنے بگڑے ہوئے ذوق کی ان سے تسکین کریں۔

۳۷۔ (۲) کہتے ہیں کہ یہ فرشتے جبرائیل میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام تھے۔ جب انہوں نے بد فعلی کی نیت سے فرشتوں (مہمانو) کو لینے پر زیادہ اصرار کیا تو جبرائیل علیہ السلام نے اپنے پر کا ایک حصہ انہیں مارا، جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے ہی باہر نکل آئے، بعض کہتے ہیں، صرف آنکھوں کی بصارت زائل ہوئی، بہرحال عذاب عام سے پہلے یہ عذاب خاص ان لوگوں کو پہنچا جو حضرت لوط علیہ السلام کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ اور آنکھوں سے یا بینائی سے محروم ہو کر گھر پہنچے۔ اور صبح اس عذاب عام میں تباہ ہو گئے جو پوری قوم کے لئے آیا۔(تفسیر ابن کثیر)

٣٨۔ یعنی صبح ان پر نازل ہونے والا عذاب آگیا، جو انہیں ہلاک کئے بغیر نہ چھوڑے۔

٤٠۔ قرآن کا اس سورت میں بار بار ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ قرآن اور اس کے فہم و حفظ کو آسان کر دینا، اللہ کا احسان عظیم ہے، اس کے شکر سے انسان کو کبھی غافل نہیں ہونا چاہیئے۔

٤٢۔ وہ نشانیاں، جن کے ذریعے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور فرعونیوں کو ڈرایا، یہ نشانیاں تھیں جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔

٤٣۔ یہ استفہام انکار یعنی نفی کے لئے ہے، یعنی اے اہل عرب! تمہارے کافر، گذشتہ کافروں سے بہتر نہیں ہیں، جب وہ اپنے کفر کی وجہ سے ہلاک کر دیئے گئے، تو تم جب کہ تم ان سے بدتر ہو، عذاب سے سلامتی کی امید کیوں رکھتے ہو

٤٤۔ تعداد کی کثرت اور وسائل قوت کی وجہ سے، ہم دشمن سے انتقام لینے پر قادر ہیں۔

٤٥۔ جماعت سے مراد کفار مکہ ہیں۔ چنانچہ بدر میں انہیں شکست ہوئی اور یہ پیٹھ دے کر بھاگے۔

٤٦۔ یعنی دنیا میں جو یہ قتل کئے گئے، قیدی بنائے گئے وغیرہ، یہ ان کی آخری سزا نہیں ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت سزائیں ان کو قیامت والے دن دی جائیں گی جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

٤٨۔ سَقَرً بھی جہنم کا نام ہے یعنی اس کی حرارت اور شدت عذاب کا مزہ چکھو۔

٥١۔ یعنی گذشتہ امتوں کے کافروں کو، جو کفر میں تمہارے ہی جیسے تھے۔

٥٢۔ یا دوسرے معنی میں، لوح محفوظ میں درج ہیں۔

٥٣۔ یعنی مخلوق کے تمام اعمال، اقوال و افعال لکھے ہوئے ہیں، چھوٹے ہوں یا بڑے، حقیر ہوں یا جلیل۔

٥٤۔ یعنی مختلف اور قسم قسم کے باغات میں ہوں گے، بطور جنس کے ہے جو جنت کی تمام نہروں کو شامل ہے۔

٥٥۔ مَقْعَدِ صِدْقٍ عزت کی بیٹھک یا مجلس حق، جس میں گناہ کی بات ہو گی نہ لغویات کا ارتکاب۔ مراد جنت ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ الرَّحمٰن

٢۔ کہتے ہیں کہ اہل مکہ کے جواب میں ہے جو کہتے رہتے یہ قرآن محمد کو کوئی انسان سکھاتا ہے بعض کہتے ہیں ان کے اس قول کے جواب میں ہے کہ رحمٰن کیا ہے ؟ قرآن سکھانے کا مطلب ہے، اسے آسان کر دیا، یا اللہ نے اپنے پیغمبر کو سکھایا اور پیغمبر نے امت کو سکھلایا۔ اس سورت میں اللہ نے اپنی بہت سی نعمتیں گنوائی ہیں۔چونکہ تعلیم قرآن ان میں قدر و منزلت اور اہمیت و افادیت کے لحاظ سے سب سے نمایاں ہے، اس لیے پہلے اسی نعمت کا ذکر فرمایا۔(فتح القدیر)

٣۔ (۲)  یعنی یہ بندر وغیرہ جانوروں سے ترقی کرتے کرتے انسان نہیں بن گئے۔ جیسا کہ ڈارون کا فلسفہ ارتقا ہے۔ بلکہ انسان کو اسی شکل و صورت میں اللہ نے پیدا فرمایا ہے جو جانوروں سے الگ ایک مستقل مخلوق ہے۔ انسان کا لفظ بطور جنس کے ہے۔

٤۔ (۳) اس بیان سے مراد ہر شخص کی اپنی مادری بولی ہے جو بغیر سیکھے از خود ہر شخص بول لیتا اور اس میں اپنے مافی الضمیر کا اظہار کر لیتا ہے، حتیٰ کے وہ چھوٹا بچہ بھی بول لیتا ہے، جس کو کسی بات کا علم اور شعور نہیں ہوتا۔ یہ تعلیم الٰہی کا نتیجہ ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔

٥۔ یعنی اللہ کے ٹھہرائے ہوئے حساب سے اپنی اپنی منزلوں پر رواں دواں رہتے ہیں، ان سے تجاوز نہیں کرتے۔

٦۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ یَسْجُدُ لَہُ مَن فِی السَّمَاوَاتِ وَمَن فِی الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ) (سورت ۲۲ آیت ۱۸)

٧۔ یعنی زمین میں انصاف رکھا، جس کا اس نے لوگوں کو حکم دیا۔

٨۔ یعنی انصاف سے تجاوز نہ کرو۔

١٢۔ حُب سے مراد وہ خوراک ہے جو انسان اور جانور کھاتے ہیں۔ خشک ہو کر اس کا پودا بھی بھس بن جاتا ہے جو جانوروں کے کام آتا ہے۔

١٣۔ یہ انسانوں اور جنوں دونوں سے خطاب ہے اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں گنوا کر ان سے پوچھ رہا ہے یہ تکرار اس شخص کی طرح ہے جو کسی پر مسلسل احسان کرے لیکن وہ اس کے احسان کا منکر ہو، جیسے کہے، میں نے تیرا فلاں کام کیا، کیا تو انکار کرتا ہے ؟ فلاں چیز تجھے دی، کیا تجھے یاد نہیں ؟ تجھ پر فلاں احسان کیا، کیا تجھے ہمارا ذرا خیال نہیں ؟ (فتح القدیر)

١٤۔ صَلصَالٍ خشک مٹی جس میں آواز ہو۔ فَخَّار آگ میں پکی ہوئی مٹی، جسے ٹھیکری کہتے ہیں۔ انسان سے مراد حضرت آدم علیہ السلام ہیں، جن کا پہلے مٹی کا پتلا بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ پھر حضرت آدم علیہ السلام کی بائیں پسلی سے حوا کو پیدا فرمایا، اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی چلی۔

١٥۔ اس سے مراد پہلا جن جو ابوالجن ہے، یا جن بطور جنس کے ہے جیسا کہ ترجمہ جنس کے اعتبار سے ہی کیا گیا مَارِجٍ آگ کے بلند ہونے والے شعلے کو کہتے ہیں۔

١٦۔ یعنی تمہاری یہ پیدائش بھی اور پھر تم سے مزید نسلوں کی تخلیق و افزائش، یہ اللہ کی نعمتوں میں سے ہے۔ کیا تم اس نعمت کا انکار کرو گے۔

١٧۔ ایک گرمی کا مشرق اور ایک سردی کا مشرق اسی طرح مغرب ہے۔ اس لئے دونوں کو دوگنا ذکر کیا ہے، موسموں کے اعتبار سے مشرق و مغرب کا مختلف ہونا اس میں بھی انس و جن کی بہت سی مصلحتیں ہیں، اس لئے اسے بھی نعمت قرار دیا گیا ہے۔

٢٠۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ دو دریاؤں سے مراد بعض کے نزدیک ان کے الگ الگ وجود ہیں، جیسے میٹھے پانی کے دریا ہیں، جن سے کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں اور انسان ان کا پانی اپنی دیگر ضروریات میں بھی استعمال کرتا ہے۔ دوسری قسم سمندروں کا پانی جو کھارا ہے جس کے کچھ اور فوائد ہیں۔ یہ دونوں آپس میں نہیں ملتے۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ کھارے سمندروں میں ہی میٹھے پانی کی لہریں چلتی ہیں اور یہ دونوں لہریں آپس میں نہیں ملتیں، بلکہ ایک دوسرے سے جدا اور ممتاز ہی رہتی ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کھارے سمندروں میں ہی کئی مقامات پر میٹھے پانی کی لہریں بھی جاری کی ہوئی ہیں اور وہ کھارے پانی سے الگ ہی رہتی ہیں۔ دوسری صورت یہ بھی ہے کہ اوپر کھارا پانی ہو اور اس کی تہ میں نیچے چشمہ آب شیریں۔ جیسا کہ واقعتاً بعض مقامات پر ایسا ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ جن مقامات پر میٹھے پانی کے دریا کا پانی سمندر میں جا کر گرتا ہے، وہاں کئی لوگوں کا مشاہدہ ہے کہ دونوں پانی میلوں دور تک اس طرح ساتھ ساتھ چلتے ہیں کہ ایک طرف میٹھا دریائی پانی اور دوسری طرف وسیع و عریض سمندر کا کھارا پانی، ان کے درمیان اگرچہ کوئی آڑ نہیں۔ لیکن یہ باہم نہیں ملتے۔ دونوں کے درمیان یہ وہ برزخ (آڑ) ہے جو اللہ نے رکھ دی ہے، دونوں اس سے تجاوز نہیں کرتے۔

٢٢۔ مَرْجَان سے چھوٹے موتی یا پھر مونگے مراد ہیں کہتے ہیں آسمان سے بارش ہوتی ہے تو سیپیاں اپنے منہ کھول دیتی ہیں، جو قطرہ ان کے منہ کے اندر پڑ جاتا ہے، وہ موتی بن جاتا ہے۔

٢٤۔ یعنی بلندی ہوئیں، مراد بادبان ہیں، جو بادبانی کشتیوں میں جھنڈوں کی طرح اونچے اور بلند بنائے جاتے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی مصنوعات کے کئے ہیں، یعنی اللہ کی بنائی ہوئی جو سمندر میں چلتی ہیں۔

٢٩۔ (۱)   یعنی سب اس کے محتاج اور اس کے در کے سوالی ہیں۔

٢٩۔ (۲)  ہر روز کا مطلب، ہر وقت۔ شان کے معنی امر یا معاملہ، یعنی ہر وقت وہ کسی نہ کسی کام میں مصروف ہے، کسی کو بیمار کر رہا ہے، کسی کو شفا یاب، کسی کو تونگر کسی کو فقیر، کسی کو گدا سے شاہ اور شاہ سے گدا، کسی کو بلندیوں پر فائز کر رہا ہے، کسی کو پستی میں گرا رہا ہے کسی کو ہست سے نیست اور نیست کو ہست کر رہا ہے وغیرہ۔ الغرض کائنات میں یہ سارے تصرف اسی کے امرو مشیت سے ہو رہے ہیں اور شب و روز کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جو اس کی کارگزاری سے خالی ہو۔

٣١۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کو فراغت نہیں ہے بلکہ یہ محاورۃً بولا گیا ہے جس کا مقصد وعید و تہید ہے (جن و انس کو) اس لئے کہا گیا کہ ان کو تکلیف شرعیہ کا پابند کیا گیا ہے، اس پابندی یا بوجھ سے دوسری مخلوق مستثنیٰ ہے

٣٣۔(۱)    یہ تہدید بھی نعمت ہے کہ اس سے بدکار، بدیوں کے ارتکاب سے باز آ جائے اور محسن زیادہ نیکیاں کمائے۔

(۲) یعنی اگر اللہ کی تقدیر اور قضا سے تم بھاگ کر کہیں جا سکتے ہو تو چلے جاؤ لیکن یہ طاقت کس میں ہے ؟ اور بھاگ کر آخر کہاں جائے گا کون سی جگہ ایسی ہے، جو اللہ کے اختیار سے باہر ہو، بعض نے کہا کہ یہ میدان محشر میں کہا جائے گا، جبکہ فرشتے ہر طرف سے لوگوں کو گھیر رکھے ہوں گے۔ دونوں ہی مفہوم اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔

٣٥۔ (۱)   مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت والے دن کہیں بھاگ کر گئے، تو فرشتے آگ کے شعلے اور دھواں تم پر چھوڑ کر یا پگھلا ہوا تانبہ تمہارے سروں پر ڈال کر تمہیں واپس لے آئیں گے۔ نحاس کے دوسرے معنی پگھلے ہوئے تانبے کے کئے گئے ہیں۔

 ٣٥۔ (۲)  یعنی اللہ کے عذاب کو ٹالنے کی تم قدرت نہیں رکھو گے۔

٣٧۔ قیامت والے دن آسمان پھٹ پڑے گا، فرشتے زمین پر اتر آئیں گے، اس دن یہ نار جہنم کی شدت حرارت سے پگھل کر سرخ چمڑے کی طرح ہو جائے گا۔ دِھَان سرخ چمڑا۔

٣٩۔ یعنی جس وقت وہ قبروں سے باہر نکلیں گے۔ ورنہ بعد میں موقف حساب میں ان سے باز پرس کی جائے گی، بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ گناہوں کی بابت نہیں پوچھا جائے گا، کیونکہ ان کا تو پورا ریکارڈ فرشتوں کے پاس بھی ہو گا اور اللہ کے علم میں بھی۔ البتہ پوچھا جائے گا کہ تم نے یہ کیوں کیے ؟، یا یہ مطلب ہے، ان سے نہیں پوچھا جائے گا بلکہ انسانی اعضا خود بول کر بتلائیں گے۔

٤١۔ (۱)   یعنی جس طرح اہل ایمان کی علامت ہو گی کہ ان کے اعضائے وضو چمکتے ہوں گے، اسی طرح گنہگاروں کے چہرے سیاہ، آنکھیں نیلگوں اور وہ دہشت زدہ ہوں گے۔

٤١۔ (۲)  فرشتے ان کی پیشانیاں اور ان کے قدموں کے ساتھ ملا کر پکڑیں گے اور جہنم میں ڈال دیں گے، یا کبھی پیشانیوں سے اور کبھی قدموں سے انہیں پکڑیں گے۔

٤٤۔ یعنی کبھی انہیں دکھتی ہوئی آگ کا عذاب دیا جائے گا اور کبھی کھولتے ہوئے گرم پانی، جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ دے گا (ابن کثیر)

٤٦۔ جیسے حدیث میں آتا ہے ” دو باغ چاندی کے ہیں، جن میں برتن اور جو کچھ ان میں ہے، سب چاندی کے ہوں گے۔ دو باغ سونے کے ہیں اور ان کے برتن اور جو کچھ ان میں ہے سونے کے ہی ہوں گے “( صحیح بخاری تفسیر رحمن) بعض آثار میں ہے کہ سونے کے باغ خواص مومنین مقربین اور چاندی کے باغ عام مومنین اصحاب الیمین کے لیے ہوں گے۔ (ابن کثیر)

٤٨۔ یہ اشارہ ہے اس طرف کہ اس میں سایہ گنجان اور گہرا ہو گا، نیز پھلوں کی کثرت ہو گی، کیونکہ کہتے ہیں ہر شاخ ٹہنی پھلوں سے لدی ہو گی (ابن کثیر)

٥٠۔ ایک کا نام تَسْنِیْم اور دوسرے کا نام سَلْسَبِیْل ہے۔

۵۲۔ یعنی ذائقے اور لذت کے اعتبار سے ہر پھل دو قسم کا ہو گا، مزید فضل خاص کی ایک صورت ہے، بعض نے کہا کہ ایک قسم خشک میوے اور دوسری تازہ میوے کی ہو گی۔

٥٤۔ (۱)   ابری یعنی اوپر کا کپڑا ہمیشہ استر سے بہتر اور خوبصورت ہوتا ہے، یہاں صرف استر کا بیان ہے، جس کا مطلب ہے کہ اوپر (ابری) کا کپڑا اس سے کہیں زیادہ عمدہ ہو گا۔

٥٤۔ (۲)  اتنے قریب ہوں گے کہ بیٹھے بیٹھے بلکہ لیٹے لیٹے بھی توڑ سکیں گے۔

٥٦۔ (۱)   جن کی نگاہیں اپنے خاوندوں کے علاوہ کسی پر نہیں پڑیں گی اور ان کے اپنے خاوند ہی سب سے زیادہ حسین اور اچھے معلوم ہوں گے۔

٥٦۔ (۲)  یعنی باکرہ اور نئی نویلی ہوں گی۔ اس سے قبل وہ کسی کے نکاح میں نہیں رہی ہوں گی۔ یہ آیت اور اس سے ما قبل کی بعض آیات سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جو جن مومن ہوں گے وہ بھی مومن انسانوں کی طرح جنت میں جائیں گے اور ان کے لیے بھی وہی کچھ ہو گا جو دیگر اہل ایمان کے لیے ہو گا۔

٥٨۔ یعنی صفائی میں یاقوت اور سفیدی و سرخی میں موتی یا مونگے کی طرح ہوں گی جس طرح صحیح حدیث میں بھی ان کے حسن و جمال کو ان الفاظ میں فرمایا گیا ہے ” ان کے حسن و جمال کی وجہ سے ان کی پنڈلی کا گودا، گوشت اور ہڈی کے باہر نظر آئے گا، ایک دوسری روایت میں فرمایا کہ جنتیوں کی بیویاں اتنی حسین و جمیل ہوں گی کہ اگر ان میں سے ایک عورت اہل ارض کی طرف جھانک لے تو آسمان و زمین کے درمیان کا سارا حصہ چمک اٹھے اور خوشبو سے بھر جائے۔ اور اس کے سر کا دوپٹہ اتنا قیمتی ہو گا کہ وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔(صحیح البخاری کتاب الجہاد باب الحورالعین)

٦٠۔ پہلے احسان سے مراد نیکی اور اطاعت الٰہی اور دوسرے احسان سے اس کا صلہ، یعنی جنت اور اس کی نعمتیں ہیں۔

٦٢۔ دُوْنِھِمَا سے یہ ثابت بھی کیا گیا ہے کہ یہ دو باغ شان اور فضیلت میں پچھلے دو باغوں سے، جن کا ذکر آیت ٢٦ میں گزرا، کم تر ہوں گے۔

٦٤۔ کثرت سیرابی اور سبزے کی فراوانی کی وجہ سے وہ مائل بہ سیاہی ہوں گے۔

٦٦۔ یہ صفت تَجْرِیَانِ سے ہلکی ہے اَلْجَرْیءِ اَقْوَیٰ مِنَ النَّفْخِ (ابن کثیر)

٦٨۔ جب کہ پہلی دو جنتوں (باغوں ) کی صفت میں بتلایا گیا ہے کہ ہر پھل دو قسم کا ہو گا۔ ظاہر ہے اس میں شرف و فضل کی جو زیادتی ہے، وہ دوسری بات میں نہیں ہے

٧٠۔ خَیْرَات سے مراد اخلاق و کردار کی خوبیاں ہیں اور حِسَان کا مطلب ہے حسن و جمال میں یکتا۔

٧٢۔ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ” جنت میں موتیوں کے خیمے ہوں گے، ان کا عرض ساٹھ میل ہو گا، اس کے ہر کونے میں جنتی کے اہل ہوں گے، جس کو دوسرے کونے والے نہیں دیکھ سکیں گے۔ مومن اس میں گھومے گا ” (صحیح بخاری)۔

٧٦۔ مطلب یہ ہے کہ جنتی ایسے تختوں پر بیٹھے ہوں گے جس پر سبز رنگ کی مسندیں، غالیچے اور اعلیٰ قسم کے خوب صورت منقش فرش بچھے ہوں گے۔

٧٨۔ تَبَارَکَ، برکت سے ہے جس کے معنی دوام و ثبات کے ہیں۔ مطلب یہ ہے اس کا نام ہمیشہ رہنے والا ہے، یا اس کے پاس ہمیشہ خیر کے خزانے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی بلندی اور علو شان کے کئے ہیں اور جب اس کا نام اتنا بابرکت یعنی خیر اور بلندی کا حامل ہے تو اس کی ذات کتنی برکت اور عظمت و رفعت والی ہو گی۔

٭٭٭

 

سورۃ  الواقعۃ

١۔ واقعہ بھی قیامت کے ناموں سے ہے، کیونکہ یہ لامحالہ واقع ہونے والی ہے، اس لئے اس کا نام بھی ہے۔

٣۔ پستی اور بلندی سے مطلب ذلت اور عزت ہے۔ یعنی اللہ کے اطاعت گزار بندوں کو یہ بلند اور نافرمانوں کو پست کرے گی، چاہے دنیا میں معاملہ اس سے برعکس ہو،۔

٥۔ رَجاً کے معنی حرکت و اضطراب (زلزلہ) اور بس کے معنی ریزہ ریزہ ہو جانے کے ہیں۔

٨۔ اس سے عام مومنین مراد ہیں جن کو ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھوں میں دیئے جائیں گے جو ان کی خوش بختی کی نشانی ہو گی۔

٩۔ اس سے مراد کافر ہیں جن کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔

١٠۔ ان سے مراد خواص مومنین ہیں، یہ تیسری قسم ہے جو ایمان قبول کرنے میں سبقت کرنے اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو قرب خاص سے نوازے گا، یہ ترکیب ایسے ہی ہے، جیسے کہتے ہیں، تو تو ہے اور زید زید، اس میں گویا زید کی اہمیت اور فضیلت کا بیان ہے۔

١٤۔ کہا جاتا ہے کہ اولین سے مراد حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم تک کی امت کے لوگ ہیں اور آخرین سے امت محمدیہ کے افراد مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں سابقین کا ایک بڑا گروہ ہے، کیونکہ ان کا زمانہ بہت لمبا ہے جس میں ہزاروں انبیاء کے سابقین شامل ہیں ان کے مقابلے میں امت محمدیہ کا زمانہ (قیامت تک) تھوڑا ہے، اس لیے ان میں سابقین بھی بہ نسبت گذشتہ امتوں کے تھوڑے ہوں گے۔ اور ایک حدیث میں آتا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ، مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا نصف ہو گے۔ تو یہ آیت مذکورہ مفہوم کے مخالف نہیں۔ کیونکہ امت محمدیہ کے سابقین اور عام مومنین ملا کر باقی تمام امتوں سے جنت میں جانے والوں کا نصف ہو جائیں گے، اس لیے محض سابقین کی کثرت (سابقہ امتوں میں ) سے حدیث میں بیان کردہ تعداد کی نفی نہیں ہو گی۔ مگر یہ قول محل نظر ہے اور بعض نے اولین و آخرین سے اسی امت محمدیہ کے افراد مراد لیے ہیں۔ یعنی اس کے پہلے لوگوں میں سابقین کی تعداد زیادہ اور پچھلے لوگوں میں تھوڑی ہو گی۔ امام ابن کثیر نے اسی دوسرے قول کو ترجیح دی ہے۔ اور یہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ یہ جملہ معترضہ ہے، فی جنت النعیم اور علی سرر موضونۃ کے درمیان۔

١٧۔ یعنی وہ بڑے نہیں ہوں گے کہ بوڑھے ہو جائیں نہ ان کے خدو خال اور قدو قامت میں کوئی تغیر ہو گا بلکہ ایک ہی عمر اور ایک ہی حالت پر رہیں گے، جیسے نو عمر لڑکے ہوتے ہیں۔

١٩۔ آخرت کی شراب میں سرور اور لذت تو یقیناً ہو گی لیکن یہ خرابیاں مثلاً مدہوشی عقل میں فتور نہیں ہو گا

٢٦۔ وہاں سلام ہی سلام کی آوازیں سننے میں آئیں گی، فرشتوں کی طرف سے بھی اور آپس میں اہل جنت کی طرف سے بھی۔

٢٧۔ اب تک سابقین کا ذکر تھا اب عام مومنین کا ذکر ہو رہا ہے

٣٠۔ جیسے ایک حدیث میں ہے ” کہ جنت کے ایک درخت کے سائے تلے ایک گھوڑا سوار سو سال تک چلتا رہے گا، تب بھی وہ سایہ ختم نہیں ہو گا “( صحیح بخاری)

٣٣۔ یعنی یہ پھل موسمی نہیں ہوں گے کہ موسم گزر گیا تو پھل بھی آئندہ فصل تک ناپید ہو جائیں، یہ پھل اس طرح فصل گل و لالہ کے پابند نہیں ہوں گے، بلکہ بہار و خزاں اور گرمی و سردی ہر موسم میں دستیاب ہوں گے۔ اس طرح ان کے حصول کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی۔

٣٤۔ بعض نے فرشوں سے بیویوں اور مرفوعہ سے بلند مرتبہ کا مفہوم مراد لیا ہے۔

٣٦۔ اس سے مراد اہل جنت کو ملنے والی بیویاں اور حور عین ہیں۔ حوریں، ولادت کے عام طریقے سے پیدا شدہ نہیں ہوں گی، بلکہ اللہ تعالیٰ خاص طور پر انہیں جنت میں اپنی قدرت خاص سے بنائے گا، اور جو دنیاوی عورتیں ہوں گی، تو وہ بھی حوروں کے علاوہ اہل جنت کی بیویوں کے

٣٩۔ یعنی آدم علیہ السلام سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم تک کے لوگوں میں سے یا خود امت محمدیہ کے اگلوں میں سے۔

٤٠۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی امت میں سے یا آپ کی امت کے پچھلوں میں سے۔

٤١۔ اس سے مراد اہل جہنم ہیں، جن کو ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں پکڑائے جائیں گے۔

٤٤۔ یعنی سایہ ٹھنڈا ہوتا ہے، لیکن یہ جس کا سایہ سمجھ رہے ہوں گے، وہ سایہ ہی نہیں ہو گا، جو ٹھنڈا ہو، وہ تو جہنم کا دھواں ہو گا جس میں کوئی حسن منظر یا خیر نہیں۔ یا مٹھاس نہیں۔

٤٥۔ یعنی دنیا اور آخرت سے غافل ہو کر عیش و عشرت کی زندگی میں ڈوبے ہوئے تھے۔

٥٧۔ یعنی تم جانتے ہو کہ تمہیں پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے، پھر تم اس کو مانتے کیوں نہیں ہو؟ یا دوبارہ زندہ کرنے پر یقین کیوں نہیں کرتے۔

٥٩۔ یعنی تمہارے بیویوں سے مباشرت کرنے کے نتیجے میں تمہارے جو قطرات منی عورتوں کے رحموں میں جاتے ہیں، ان سے انسانی شکل و صورت بنانے والے ہم ہیں یا تم؟

٦٠۔ (۱)   یعنی ہر شخص کی موت کا وقت مقرر کر دیا ہے، جس سے کوئی تجاوز نہیں کر سکتا، چنانچہ کوئی بچپن میں، کوئی جوانی میں اور کوئی بڑھاپے میں فوت ہوتا ہے

٦٠۔ (۲)  یا مغلوب اور عاجز نہیں ہیں، بلکہ قادر ہیں۔

٦١۔ یعنی تمہاری صورتیں مسخ کر کے بندر اور خنزیر بنا دیں اور تمہاری جگہ تمہاری شکل و صورت کی کوئی اور مخلوق پیدا کر دیں۔

٦٢۔ یعنی کیوں نہیں سمجھتے کہ جس طرح اس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا (جس کا تمہیں علم ہے ) وہ دوبارہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔

٦٦۔ یعنی ہم نے پہلے زمین پر ہل چلا کر اسے ٹھیک کیا پھر بیج ڈالا، پھر اسے پانی دیتے رہے۔ لیکن جب فصل کے پکنے کا وقت آیا تو وہ خشک ہو گئی، اور ہمیں کچھ بھی نہ ملا یعنی یہ سارا خرچ اور محنت کا معاوضہ نہ ملے، بلکہ یوں ہی ضائع ہو جائے یا زبردستی اس سے کچھ وصول کر لیا جائے اور اسکے بدلے میں اسے کچھ نہ دیا جائے۔

٧٠۔ یعنی اس احسان پر ہماری اطاعت کر کے ہمارا عملی شکر ادا کیوں نہیں کرتے ؟

٧٢۔ کہتے ہیں عرب میں دو درخت ہیں، مرخ اور عفار، ان دونوں سے ٹہنیاں لے کر، ان کو آپس میں رگڑا جائے تو اس سے آگ کے شرارے نکلتے ہیں۔

٧٣۔ (۱)   کہ اس کے اثرات اور فوائد حیرت انگیز ہیں اور دنیا کی بے شمار چیزوں کی تیاری کے لئے اسے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ جو ہماری قدرت عظیمہ کی نشانی ہے، پھر ہم نے جس طرح دنیا میں یہ آگ پیدا کی ہے، ہم آخرت میں بھی پیدا کرنے پر قادر ہیں جو اس سے ٦٩ درجہ حرارت میں زیادہ ہو گی۔

۷۳۔(۲) مقوین، مقوی کی جمع ہے، قواء یعنی خالی صحراء میں داخل ہونے والا، مراد مسافر ہے، یعنی مسافر صحراؤں اور جنگلوں میں ان درختوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس سے روشنی، گرمی اور ایندھن حاصل کرتے ہیں۔ بعض نے مقوی سے وہ فقراء مراد لیے ہیں جو بھوک کی وجہ سے خالی پیٹ ہوں۔ بعض نے اس کے معنی مستمعین (فائدہ اٹھانے والے ) کیے ہیں۔ اس میں امیر غریب، مقیم اور مسافر سب آ جاتے ہیں اور سب ہی آگ سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی لیے حدیث میں جن تین چیزوں کو عام رکھنے کا اور ان سے کسی کو نہ روکنے کا حکم دیا گیا ہے، ان میں پانی اور گھاس کے علاوہ آگ بھی ہے، امام ابن کثیر نے اس مفہوم کو زیادہ پسند کیا ہے۔

٧٥۔ یعنی یہ قرآن کی کہانت یا شاعری نہیں ہے بلکہ میں ستاروں کے گرنے کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ قرآن عزت والا ہے۔

٧٧۔ یہ جواب قسم ہے۔

٧٨۔ یعنی لوح محفوظ ہیں۔

٧٩۔ یعنی اس قرآن کو فرشتے ہی چھوتے ہیں، یعنی آسمانوں پر فرشتوں کے علاوہ کسی کی بھی رسائی اس قرآن تک نہیں ہوتی۔ مطلب مشرکین کی تردید ہے جو کہتے تھے کہ قرآن شیاطین لے کر اترتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا یہ کیوں کر ممکن ہے یہ قرآن تو شیطانی اثرات سے بالکل محفوظ ہے۔

٨٤۔ یعنی روح نکلتے ہوئے دیکھتے ہو لیکن ٹال سکنے کی یا اسے کوئی فائدہ پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتے۔

٨٥۔ یعنی مرنے والے کے ہم، تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ اپنے علم، قدرت کے اعتبار سے۔ یا ہم سے مراد اللہ کے کارندے یعنی موت کے فرشتے ہیں جو اس کی روح قبض کرتے ہیں۔

٨٧۔ یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ کوئی تمہارا آقا اور مالک نہیں جس کے تم زیر فرمان اور ما تحت ہو یا کوئی جزا سزا کا دن نہیں آئے گا، تو اس قبض کی ہوئی روح کو اپنی جگہ پر واپس لوٹا کر دکھاؤ اور اگر تم ایسا نہیں کر سکتے اس کا مطلب تمہارا گمان باطل ہے۔ یقیناً تمہارا ایک آقا ہے اور یقیناً ایک دن آئے گا جس میں وہ آقا ہر ایک کو اسکے عمل کی جزا دے گا۔

٩٠۔ یہ دوسری قسم ہے، عام مومنین۔ یہ بھی جہنم سے بچ کر جنت میں جائیں گے، تاہم درجات میں سابقین سے کمتر ہوں گے۔ موت کا فرشتے ان کو بھی سلامتی کی خوشخبری دیتے ہیں۔

٩۲۔ یہ تیسری قسم ہے جنہیں آغاز سورت میں کہا گیا تھا، بائیں ہاتھ والے یا حاملین نحوست۔ یہ اپنے کفر و نفاق کی سزا یاس اس کی نحوست عذاب جہنم کی صورت میں بھگتیں گے۔

٩٦۔ ١ حدیث میں آتا ہے کہ دو کلمے اللہ کو بہت محبوب ہیں، زبان پر ہلکے اور وزن میں بھاری۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ (صحیح بخاری)۔

٭٭٭

 

سورۃ  الحدید

١۔ یہ تسبیح زبان حال سے نہیں، بلکہ زبان کی بات چیت سے ہے اسی لئے فرمایا گیا “کہ تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے ساتھ پہاڑ بھی تسبیح کرتے تھے۔

٣۔ وہی اول ہے یعنی اس سے پہلے کچھ نہ تھا، وہی آخر ہے، اس کے بعد کوئی چیز نہ ہو گی، وہی ظاہر ہے۔ یعنی وہ سب پر غالب ہے، اس پر کوئی غالب نہیں، وہی باطن ہے، یعنی باطن کی ساری باتوں کو صرف وہی جانتا ہے۔

٤۔(۱)   اس مفہوم کی آیات سورہ اعراف، ٥٤، سورہ یونس،۳، اور الم السجدہ،٤ وغیرھا من الآیات میں گزر چکی ہیں، ان کے حواشی ملاحظہ فرما لیے جائیں۔

٤۔ (۲)  یعنی زمین میں بارش کے جو قطرے اور غلہ جات و میوہ جات کے جو بیج داخل ہوتے ہیں کی کیفیت کو وہ جانتا ہے۔

۴۔ (۳) جو درخت، چاہے وہ پھلوں کے ہوں یا غلوں کے یا زینت اور آرائش کے اور خوشبو والے پھولوں یہ جتنے بھی اور جیسے بھی باہر نکلتے ہیں۔ سب اللہ کے علم میں ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں تمام مخفی اشیاء کے خزانے، ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ کے، اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں اور جو کچھ دریاؤں میں ہیں۔ کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسکو بھی جانتا ہے، اور کوئی دانہ کوئی زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے، مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں۔

۴۔ (٤) بارش، اولے، برف تقدیر اور وہ احکام، جو فرشتے لے کر اترتے ہیں۔

۴۔ (٥) فرشتے انسانوں کے جو عمل لے کر چڑھتے ہیں جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کی طرف رات کے عمل دن سے پہلے اور دن کے عمل رات سے پہلے چڑھتے ہیں۔

٦۔  یعنی تم خشکی میں ہو یا تری میں، رات ہو یا دن، گھروں میں ہو یا صحراؤں میں، ہر جگہ ہر وقت وہ اپنے علم و بصر کے لحاظ سے تمہارے ساتھ ہے یعنی تمہارے ایک ایک عمل کو دیکھتا ہے، تمہاری ایک ایک بات کو جانتا اور سنتا ہے۔ یہی مضمون سورہ ہود، ۳۔ سورہ رعد۱۰ اور دیگر آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

٨۔ ابن کثیر نے اخذ کا فاعل الرسول کو بنایا ہے اور مراد وہ بیعت لی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کرام سے لیتے تھے کہ خوشی اور ناخوشی ہر حالت میں اطاعت کرنی ہے اور امام ابن جریر کے نزدیک اس کا فاعل اللہ ہے اور مراد وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے اس وقت لیا تھا جب انہیں آدم علیہ السلام کی پشت سے نکالا تھا، جو عہد الست کہلاتا ہے، جس کا ذکر سورہ الاعراف، ۱۷۲ میں ہے۔

١٠۔ (۱)   فتح سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک فتح مکہ ہے۔ بعض نے صلح حدیبیہ کو فتح مبین کا مصداق سمجھ کر اسے مراد لیا ہے۔ بہر حال صلح حدیبیہ یا فتح مکہ سے قبل مسلمان تعداد اور قوت کے لحاظ سے بھی کم تر تھے اور مسلمانوں کی مالی حالت بھی بہت کمزور تھی۔ ان حالات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور جہاد میں حصہ لینا، دونوں کام نہایت مشکل اور بڑے دل گردے کا کام تھا، جب کہ فتح مکہ کے بعد یہ صورت حال بدل گئی۔ مسلمان قوت و تعداد میں بھی بڑھتے چلے گئے اور ان کی مالی حالت بھی پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہو گئی۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے دونوں ادوار کے مسلمانوں کی بابت فرمایا کہ یہ اجر میں برابر نہیں ہو سکتے۔

۱۰۔ (۲) کیونکہ پہلوں کا انفاق اور جہاد، دونوں کام نہایت کٹھن حالات میں ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل فضل و عزم کو دیگر لوگوں کے مقابلے میں مقدم رکھنا چاہیے۔ اسی لیے اہل سنت کے نزدیک شرف و فضل میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سب سے مقدم ہیں، کیونکہ مومن اول بھی وہی ہیں اور منفق اول اور مجاہد اول بھی وہی۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو اپنی زندگی اور موجودگی میں نماز کے لیے آگے کیا، اور اسی بنیاد پر مومنوں (صحابہ کرام) نے انہیں استحقاق خلافت میں مقدم رکھا۔ رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ۔

۱۰۔ (۳) اس میں وضاحت فرما دی ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان شرف و فضل میں فرق تو ضرور ہے لیکن فرق درجات کا مطلب یہ نہیں کہ بعد میں مسلمان ہونے والے صحابہ کرام ایمان اور اخلاق کے اعتبار سے بالکل ہی گئے گزرے تھے، جیسا کہ بعض حضرات، حضرت معاویہ ان کے والد حضرت ابوسفیان اور دیگر بعض ایسے ہی جلیل القدر صحابہ کے بارے میں ہرزہ سرائی یا انہیں طلقاء کہہ کر ان کی تنقیص و اہانت کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں فرمایا ہے کہ لا تسبوا اصحابی میرے صحابہ پر سب و شتم نہ کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دے تو وہ میرے صحابی کے خرچ کیے ہوئے ایک مد بلکہ نصف مد کے بھی برابر نہیں۔

۱۱۔ اللہ کو قرض حسن دینے کا مطلب ہے، اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کرنا، یہ مال، جو انسان اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ ہی کا دیا ہوا ہے، اس کے باوجود اسے قرض قرار دینا، یہ اللہ کا فضل و احسان ہے کہ وہ اس انفاق پر اسی طرح اجر دے گا جس طرح قرض کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔

١٢۔ (۱)   یہ عرصہ محشر میں پل صراط میں ہو گا، یہ نور ان کے ایمان اور عمل صالح کا صلہ ہو گا، جس کی روشنی میں وہ جنت کا راستہ آسانی سے طے کر لیں گے۔ امام ابن کثیر اور امام ابن جریر وغیرہما نے وَ بِاَیْمَانِھِمْ کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ ان کے دائیں ہاتھوں میں ان کے اعمال نامے ہوں گے۔

۱۲۔ (۲) یہ وہ فرشتے کہیں گے جو ان کے استقبال اور پیشوائی کے لیے وہاں ہوں گے۔

١٣۔ (۱)   یہ منافقین کچھ فاصلے تک اہل ایمان کے ساتھ ان کی روشنی میں چلیں گے، پھر اللہ تعالیٰ منافقین پر اندھیر مسلط فرما دے گا، اس وقت وہ اہل ایمان سے یہ کہیں گے۔

١٣۔ (۲)  اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جا کر اسی طرح ایمان اور عمل صالح کی پونجی لے کر آؤ، جس طرح ہم لائے ہیں یا مذاق کے طور پر اہل ایمان کہیں گے کہ پیچھے جہاں سے ہم نور لائے تھے وہی جا کر تلاش کرو۔

١٣۔ (۳) یعنی مومنین اور منافقین کے درمیان۔

۱۳۔ (٤) اس سے مراد جنت ہے جس میں اہل ایمان داخل ہو چکے ہوں گے۔

۱۳۔ (٥) یعنی وہ حصہ ہے جس میں جہنم ہو گی۔

١٤۔ (۱)   یعنی دیوار حائل ہونے پر منافقین مسلمانوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمھارے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے تھے اور جہاد وغیرہ میں حصہ نہیں لیتے تھے۔

١٤۔ (۲)  تم نے اپنے دلوں میں کفر اور نفاق چھپا رکھا تھا۔

١٤۔ (۳) کہ شاید مسلمان کسی گردش کا شکار ہو جائیں

١٤۔(۴) دین کے معاملے میں، اسی لیے قرآن کو مانا نہ دلائل و معجزات کو۔

۱٤۔(۵) جس میں تمہیں شیطان نے مبتلا کیے رکھا۔

۱٤۔ (٦)  یعنی تمہیں موت آ گئی، یا مسلمان بالآخر غالب رہے اور تمہاری آرزوؤں پر پانی پھر گیا۔

۱٤۔(۷) یعنی اللہ کے حلم اور اس کے قانون امہال کی وجہ سے تمہیں شیطان نے دھوکے میں ڈالے رکھا۔

۱۵۔مولیٰ اسے کہتے ہیں جو کسی کے کاموں کا متولی یعنی ذمے دار بنے گویا اب جہنم ہی اس بات کی ذمہ دار ہے کہ انہیں سخت سے سخت تر عذاب کا مزا چکھائے بعض کہتے ہیں کہ ہمیشہ ساتھ رہنے والے کو بھی مولیٰ کہہ لیتے ہیں یعنی اب جہنم کی آگ ہی ان کی ہمیشہ کی ساتھی اور رفیق ہو گی، بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جہنم کو بھی عقل و شعور عطا فرمائے گا پس وہ کافروں کے خلاف غیظ و غضب کا اظہار کرے گی، یعنی ان کی والی بنے گی اور انہیں عذاب الیم سے دوچار کرے گی۔

۱۶۔ خطاب اہل ایمان کو ہے اور مطلب ان کو اللہ کی یاد کی طرف مزید متوجہ اور قرآن کریم سے کسب ہدایت کی تلقین کرنا ہے خشوع کے معنی ہیں دلوں کا نرم ہو کر اللہ کی طرف جھک جانا حق سے مراد قرآن کریم ہے۔

١٦۔ (۲)  جیسے یہود و نصاریٰ ہیں، یعنی تم ان کی طرح نہ ہو جانا۔

۱۶۔ (۳)  چنانچہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف اور تبدیلی کر دی اس کے عوض دنیا کا ثمن قلیل حاصل کرنے کو انہوں نے شعار بنا لیا، اس کے احکام کو پس پشت ڈال دیا اللہ کے دین میں لوگوں کی تقلید اختیار کر لی۔

۱۶۔(۴) یعنی ان کے دل فاسد اور اعمال باطل ہیں۔

۱۸۔ (۱)   یعنی ایک کے بدلے میں کم از کم دس گنا اور اس سے زیادہ سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ تک۔ اور یہ زیادتی اخلاص نیت، حاجت و ضرورت اور مکان کی بنیاد پر ہو سکتی ہے۔

۱۸۔ (۲)  یعنی جنت اور اس کی نعمتیں، جن کو کبھی زوال اور فنا نہیں۔

٢٠۔ (۱)   یعنی اہل کفر کے لئے جو دنیا کے کھیل کود میں ہی مصروف رہے اور اسی کو انہوں نے حاصل زندگی سمجھا۔

 ٢٠۔ (۲)  یعنی اہل ایمان و طاعت کے لئے، جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ نہیں سمجھا، بلکہ اسے عارضی، فانی اور دارالا متحان سمجھتے ہوئے اللہ کی ہدایات کے مطابق اس میں زندگی گزاری۔

۲۱۔(۱)   یعنی اعمال صالحہ اور توبۃ النصوح کی طرف کیونکہ یہی چیزیں مغفرت رب کا ذریعہ ہیں۔

٢١۔ (۲)  اور جس کا عرض اتنا ہو، اس کا طول کتنا ہو گا؟ کیونکہ طول عرض سے زیادہ ہی ہوتا ہے

۲۱۔ (۳)  ظاہر ہے اس کی چاہت اسی کے لیے ہوتی ہے جو کفر و معصیت سے توبہ کر کے ایمان وعمل صالح کی زندگی اختیار کر لیتا ہے اسی لیے وہ ایسے لوگوں کو ایمان صالحہ کی توفیق سے بھی نوازتا دیتا ہے۔

۲۱۔(۴) وہ جس پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے جس کو وہ کچھ دے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لے اسے کوئی نہیں دے سکتا۔ تمام خیر اسی کے ہاتھ میں ہے۔

٢٢۔ (۱)   مثلاً قحط، سیلاب اور دیگر آفات زمینی اور آسمانی۔

٢٢۔ (۲)  مثلاً بیماریاں، تعب و تکان اور تنگ دستی وغیرہ۔

۲۲۔ (۳)  یعنی اللہ نے اپنے علم کے مطابق تمام مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی باتیں لکھ دی ہیں جیسے حدیث میں آتا ہے کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار پہلے ہی ساری تقدیریں لکھ دی تھیں۔

۲۳۔ یہاں جس حزن اور فرح سے روکا گیا ہے وہ غم اور خوشی ہے جو انسان کو ناجائز کاموں تک پہنچا دیتی ہے ورنہ تکلیف پر رنجیدہ اور راحت پر خوش ہونا یہ ایک فطری عمل ہے لیکن مومن تکلیف پر صبر کرتا ہے کہ اللہ کی مشیت اور تقدیر ہے جزع فزع کرنے سے کوئی اس میں تبدیلی نہیں آسکتی اور راحت پر اتراتا نہیں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔

٢٤۔ یعنی انفاق فی سبیل اللہ سے، کیونکہ اصل بخل یہی ہے۔

٢٥۔ (۱)   میزان سے مراد انصاف ہے اور مطلب ہے کہ ہم نے لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ بعض نے اس کا ترجمہ ترازو کیا ہے ترازو کے اتارنے کا مطلب ہے کہ ہم نے ترازو کی طرف لوگوں کی رہنمائی کی کہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو تول کر پورا پورا حق دو۔

 ٢٥۔ (۲)  یہاں بھی اتارا، پیدا کرنے اور اس کی صنعت سکھانے کے معنی میں ہے۔ لوہے سے بے شمار چیزیں بنتی ہیں یہ سب اللہ کے الہام و ارشاد کا نتیجہ ہے جو اس نے انسان کو کیا ہے۔

۲۵۔ (۳)  یعنی لوہے سے جنگی ہتھیار بنتے ہیں جیسے تلوار، نیزہ، بندوق وغیرہ جن سے دشمن پر وار کیا جا سکتا ہے اور اپنا دفاع بھی۔

۲۵۔(۴) یعنی جنگی ہتھیاروں کے علاوہ بھی لوہے سے اور بھی بہت سی چیزیں بنتی ہیں جو گھروں میں اور مختلف صنعتوں میں کام آتی ہیں جیسے چھریاں، چاقو، قینچی، سوئی اور عمارت وغیرہ کا سامان اور چھوٹی بڑی مشینیں اور سازو سامان۔

۲۵۔(۵) یعنی رسولوں کو اس لیے بھیجا ہے تاکہ وہ جان لے کہ کون اس کے رسولوں پر اللہ کو دیکھے بغیر ایمان لاتا اور ان کی مدد کرتا ہے۔

۲۵۔ (٦)  اس کو اس بات کی حاجت نہیں کہ لوگ اس کے دین کی اور اس کے رسول کی مدد کریں بلکہ وہ چاہے تو اس کے بغیر ہی ان کو غالب فرما دے لوگوں کو تو ان کی مدد کرنے کا حکم ان کی اپنی بھلائی کے لیے دیا گیا ہے تاکہ وہ اس طرح اپنے اللہ کو راضی کر کے اس کی مغفرت کے مستحق بن جائیں۔

٢٧۔ (۱)   رَأْفَةً، کے معنی نرمی اور رحمت کے معنی شفقت کے ہیں۔ پیروکاروں سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری ہیں، یعنی ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے پیار اور محبت کے جذبات پیدا کر دئیے۔ جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ایک دوسرے کے لیے رحیم و شفیق تھے۔ رحماء بینہم۔ یہود، آپس میں اس طرح ایک دوسرے کی ہمدر اور غم خوار نہیں، جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکار تھے۔

٢٧۔ (۲)  رَہْبَانِیَّةً رھب (خوف) سے ہے یا رھبان (درویش) کی طرف منسوب ہے اس صورت میں رے پر پیش رہے گا، یا اسے رہبنہ کی طرف منسوب مانا جائے تو اس صورت میں رے پر زبر ہو گا۔ رہبانیت کا مفہوم ترک دنیا ہے یعنی دنیا اور علائق دنیا سے منقطع ہو کر کسی جنگل، صحرا میں جا کر اللہ کی عبادت کرنا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد ایسے بادشاہ ہوئے جنہوں نے تورات اور انجیل میں تبدیلی کر دی، جسے ایک جماعت نے قبول نہیں کیا۔ انہوں نے بادشاہوں کے ڈر سے پہاڑوں اور غاروں میں پناہ حاصل کر لی۔ یہ اس کا آغاز تھا، جس کی بنیاد اضطرار پر تھی۔ لیکن انکے بعد آنے والے بہت سے لوگوں نے اپنے بزرگوں کی اندھی تقلید میں اس شہر بدری کو عبادت کا ایک طریقہ بنا لیا اور اپنے آپ کو گر جاؤں اور معبودوں میں محبوس کر لیا اور اسکے لیے علائق دنیا سے انقطاع کو ضروری قرار دے لیا۔ اسی کو اللہ نے ابتداع (خود گھڑنے ) سے تعبیر فرمایا ہے۔

۲۷۔ (۳) یہ پچھلی بات کی تاکید ہے کہ یہ رہبانیت ان کی اپنی ایجاد تھی، اللہ نے اس کا حکم نہیں دیا تھا۔

٢٧۔(۴) یعنی ہم نے تو ان پر صرف اپنی رضا جوئی فرض کی تھی۔ دوسرا ترجمہ اس کا ہے کہ انہوں نے یہ کام اللہ کی رضا تلاش کرنے کے لئے کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمادی کہ اللہ کی رضا، دین میں اپنی طرف سے بدعات ایجاد کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتی، چاہے وہ کتنی ہی خوش نما ہو۔ اللہ کی رضا تو اس کی اطاعت سے ہی حاصل ہو گی۔

۲۷۔ (٥) یعنی گو انہوں نے مقصد اللہ کی رضا جوئی بتلایا، لیکن اس کی انہوں نے پوری رعایت نہیں کی، ورنہ وہ ابتداع (بدعت ایجاد کرنے ) کے بجائے اتباع کا راستہ اختیار کرتے۔

۲۷۔ (٦) یہ وہ لوگ ہیں جو دین عیسیٰ پر قائم رہے تھے۔

٢٨۔ یہ دگنا اجر اہل ایمان کو ملے گا جو نبی سے قبل پہلے کسی رسول پر ایمان رکھتے تھے پھر نبی پر بھی ایمان لے آئے جیسا کہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے (صحیح بخاری) ایک دوسری تفسیر کے مطابق جب اہل کتاب نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ انہیں دوگنا اجر ملے گا، تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی۔(تفصیل کیلئے دیکھئے، تفسیر ابن کثیر)

٭٭٭

 

سورۃ  المجادلۃ

۱۔ یہ اشارہ ہے حضرت خولہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کی طرف جن کے خاوند حضرت اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان سے ظہار کر لیا تھا ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا حضرت خولہ رضی اللہ عنہا سخت پریشان ہوئیں اس وقت تک اس کی بابت کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لیے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی کچھ توقف فرمایا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے بحث و تکرار کرتی رہیں جس پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں مسئلہ ظہار اور اس کا حکم و کفارہ بیان فرما دیا گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح لوگوں کی باتیں سننے والا ہے کہ یہ عورت گھر کے ایک کونے میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے مجادلہ کرتی اور اپنے خاوند کی شکایت کرتی رہی مگر میں اس کی باتیں نہیں سنتی تھی لیکن اللہ نے آسمانوں پر سے اس کی بات سن لی، سنن ابن ماجہ المقدمہ۔ صحیح بخاری میں بھی تعلیقاً اس کا مختصر ذکر ہے۔ کتاب التوحید۔

۲۔ (۱)   یہ اظہار کا حکم بیان فرمایا ہے کہ تمہارے کہہ دینے سے تمہاری بیوی تمہاری ماں نہیں بن جائے گی اگر ماں کے بجائے کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن وغیرہ کی پیٹھ کی طرح اپنی بیوی کو کہہ دے تو یہ ظہار ہے یا نہیں ؟ امام مالک اور امام ابو حنیفہ رحمہما اللہ اسے بھی ظہار قرار دیتے ہیں جب کہ دوسرے علماء اسے ظہار تسلیم نہیں کرتے پہلا قول ہی صحیح معلوم ہوتا ہے اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ پیٹھ کی جگہ اگر کوئی یہ کہے کہ تو میری ماں کی طرح ہے پیٹھ کا نام نہ لے تو علماء کہتے ہیں کہ اگر ظہار کی نیت سے وہ مذکورہ الفاظ کہے گا تو ظہار ہو گا بصورت دیگر نہیں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر ایسے عضو کے ساتھ تشبیہ دے گا جس کا دیکھنا جائز ہے تو یہ ظہار نہیں ہو گا امام شافعی رحمہ اللہ بھی کہتے ہیں کہ ظہار صرف پیٹھ کی طرح کہنے سے ہی ہو گا۔ فتح القدیر۔

 ۲۔ (۲)  اسی لیے اس نے کفار کو اس قول منکر اور جھوٹ کی معافی کا ذریعہ بنا دیا۔

٣۔ (۱)   اب اس حکم کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔ رجوع کا مطلب، بیوی سے ہم بستری کرنا چاہیں۔

٣۔ (۲)  یعنی ہم بستری سے پہلے وہ کفارہ ادا کریں ١۔ ایک غلام آزاد کرنا ٢۔ اس کی طاقت نہ ہو تو پے درپے دو مہینے کے روزے رکھنے پڑیں گے۔ عذر شرعی سے مراد بیماری یا سفر ہے، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کہتے ہیں کہ بیماری وغیرہ کی وجہ سے روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ بعض کہتے ہیں کہ ہر مسکین کو دو مد نصف صاع یعنی سوا کلو اور بعض کہتے ہیں ایک مد کافی ہے لیکن قرآن کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانا اس طرح کھلایا جائے کہ وہ شکم سیر ہو جائیں یا اتنی مقدار میں ان کو کھانا دیا جائے ایک مرتبہ ہی سب کو کھلانا بھی ضروری نہیں بلکہ متعدد اقساط میں یہ تعداد پوری کی جا سکتی ہے۔ فتح القدیر۔ تاہم یہ ضروری ہے جب تک یہ تعداد پوری نہ ہو جائے اس وقت تک بیوی سے ہم بستری جائز نہیں۔

۵۔ (۱)   کتبوا، ماضی مجہول کا صیغہ ہے مستقبل میں ہونے والے واقعے کو ماضی سے تعبیر کر کے واضح کر دیا کہ اس کا وقوع اور تحقق اسی طرح یقینی ہے جیسے کہ وہ ہو چکا ہے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ یہ مشرکین مکہ بدر والے دن ذلیل کیے گئے کچھ مارے گئے کچھ قیدی ہو گئے اور مسلمان ان پر غالب رہے مسلمانوں کا غلبہ بھی ان کے حق میں نہایت ذلت تھا۔

 ٥۔ (۲)  اس سے مراد گزشتہ امتیں ہیں جو اسی مخالفت کی وجہ سے ہلاک ہوئیں

 ٦۔ (۱)   یہ ذہنوں میں پیدا ہونے والے اشکال کا جواب ہے کہ گناہوں کی اتنی کثرت اور ان کا اتنا تنوع ہے کہ ان کا احصار بظاہر ناممکن ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہارے لیے یقیناً ناممکن ہے بلکہ تمہیں تو خود اپنے کیے ہوئے سارے کام بھی یاد نہیں ہوں گے لیکن اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں اس نے ایک ایک کا عمل محفوظ کیا ہوا ہے۔

 ٦۔ (۲)  اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں آگے اس کی مزید تاکید ہے کہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے

٧۔ (۱)   یعنی مذکورہ تعداد کا خصوصی طور پر ذکر اس لئے نہیں ہے کہ اس میں کم یا اس سے زیادہ تعداد کے درمیان ہونے والی گفتگو سے بے خبر رہتا ہے بلکہ یہ تعداد بطور مثال ہے، مقصد یہ بتلانا ہے کہ تعداد تھوڑی ہو یا زیادہ وہ ہر ایک کے ساتھ ہے اور ہر ظاہر اور پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔

٧۔ (۲)  خلوت میں ہوں یا جلوت میں، شہروں میں ہوں یا جنگلوں صحراؤں میں، آبادیوں میں ہوں یا بے آباد پہاڑوں بیابانوں میں، جہاں بھی ہوں، اس سے چھپے نہیں رہ سکتے۔

۷۔ (۳)  یعنی اس کے مطابق ہر ایک کو جزا دے گا نیک کو اس کی نیکیوں کی جزا اور بد کو اس کی بدیوں کی سزا۔

۸۔ (۱)   اس سے مدینے کے یہودی اور منافقین مراد ہیں جب مسلمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ باہم سر جوڑ کر اس طرح سرگوشیاں اور کانا پھوسی کرتے کہ مسلمان یہ سمجھتے کہ شاید ان کے خلاف یہ کوئی سازش کر رہے ہیں یا مسلمانوں کے کسی لشکر پر دشمن نے حملہ کر کے انہیں نقصان پہنچایا ہے جس کی خبر ان کے پاس پہنچ گئی ہے مسلمان ان چیزوں سے خوف زدہ ہو جاتے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح سرگوشیاں کرنے سے منع فرما دیا لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد انہوں نے پھر یہ مذموم سلسلہ شروع کر دیا آیت میں ان کے اسی کردار کو بیان کیا جا رہا ہے۔

٨۔ (۲)  یعنی ان کی سرگوشیاں نیکی اور تقویٰ کی باتوں میں نہیں ہوتیں، بلکہ گناہ، زیادتی اور معصیت رسول پر مبنی ہوتی ہیں مثلاً کسی کی غیبت، الزام تراشی، بے ہودہ گوئی ایک دوسرے کو رسول اللہ کی نافرمانی پر اکسانا وغیرہ۔

٨۔ (۳)  یعنی اللہ نے سلام کا طریقہ یہ بتلایا ہے کہ تم السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہو، لیکن یہودی نبی کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اس کی بجائے کہتے السام علیکم یا علیکَ(تم پر موت وارد ہو) اس لئے رسول اللہ ان کے جواب میں صرف یہ فرمایا کرتے تھے، و علیکم یا و علیکَ(اور تم پر ہی ہو) اور مسلمانوں کو بھی آپ نے تاکید فرمائی کہ جب کوئی اہل کتاب تمہیں سلام کرے تو جواب میں و علیکَ کہا کرو یعنی علیکَ ما قلتَ(تو نے جو کہا ہے وہ تجھ پر ہی وارد ہو (صحیح بخاری)

۸۔(۴) یعنی وہ آپس میں یا اپنے دلوں میں کہتے کہ اگر یہ سچا نبی ہوتا تو اللہ تعالیٰ یقیناً ہماری اس قبیح حرکت پر ہماری گرفت ضرور فرماتا۔

 ۸۔(۵) اللہ نے فرمایا کہ اگر اللہ نے اپنی مشیت اور حکمت بالغہ کے تحت دنیا میں ان کی فوری گرفت نہیں فرمائی تو کیا وہ آخرت میں جہنم کے عذاب سے بھی بچ جائیں گے ؟ نہیں یقیناً نہیں جہنم ان کی منتظر ہے جس میں وہ داخل ہوں گے۔

۹۔ (۱)   جس طرح یہود اور منافقین کا شیوہ ہے یہ گویا اہل ایمان کو تربیت اور کردار سازی کے لیے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہو تو تمہاری سرگوشیاں یہود اور اہل نفاق کی طرح اثم وعدوان پر نہیں ہونی چاہئیں۔

٩۔ (۲)  یعنی جس میں خیر ہی خیر ہو اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر مبنی ہو، کیونکہ یہی نیکی اور تقویٰ ہے

١٠۔ (۱)   یعنی اثم و عدوان اور معصیت رسول پر مبنی سرگوشیاں یہ شیطانی کام ہیں، کیونکہ شیطان ہی ان پر آمادہ کرتا ہے، تاکہ وہ اس کے ذریعے سے مومنوں کو غم میں مبتلا کرے۔

۱۰۔ (۲)  لیکن یہ سرگوشیاں اور شیطانی حرکتیں مومنوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں الا یہ کہ اللہ کی مشیت ہو اس لیے تم اپنے دشمنوں کی ان اوچھی حرکتوں سے پریشان نہ ہوا کرو بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھو اس لیے کہ تمام معاملات کا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے نہ کہ یہود اور منافقین جو تمہیں تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں سرگوشی کے سلسلے میں ہی مسلمانوں کو ایک اخلاقی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ جب تم تین آدمی اکٹھے ہو تو اپنے میں سے ایک کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ طریقہ اس ایک آدمی کو غم ڈال دے گا۔صحیح بخاری۔ البتہ اس کی رضامندی اور اجازت سے ایسا کرنا جا‏ئز ہے کیونکہ اس صورت میں دو آدمیوں کا سرگوشی کرنا کسی کے لیے تشویش کا باعث نہیں ہو گا۔

۱۱۔ (۱)   اس میں مسلمانوں کو مجلس کے آداب بتلائے جا رہے ہیں مجلس کا لفظ عام ہے جو ہر اس مجلس کو شامل ہے جس میں مسلمان خیر اور اجر کے حصول کے لیے جمع ہوں وعظ و نصیحت کی مجلس ہو یا جمعہ کی مجلس ہو تفسیر القرطبی کھل کر بیٹھو کا مطلب ہے کہ مجلس کا دائرہ وسیع رکھو تاکہ بعد میں آنے والوں کے لے بیٹھنے کی جگہ رہے دائرہ تنگ مت رکھو کہ بعد میں آنے والے کو کھڑا رہنا پڑھے یا کسی بیٹھے ہوئے کو اٹھا کر اس کی جگہ وہ بیٹھے کہ یہ دونوں باتیں ناشائستہ ہیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود نہ بیٹھے اس لیے مجلس کے دائرے کو فراخ اور وسیع کر لو۔صحیح بخاری۔

 ١١۔ (۲)  یعنی اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں وسعت عطا فرمائے گا یا جہاں بھی تم وسعت و فراخی کے طالب ہو گے، مثلاً مکان میں، رزق میں، قبر میں، ہر جگہ تمہیں فراخی عطا فرمائے گا۔

١١۔ (۳)  یعنی جہاد کے لئے، نماز کے لئے یا کسی بھی عمل خیر کے لئے۔ یا مطلب ہے کہ جب مجلس سے اٹھ کر جانے کو کہا جائے تو فوراً چلے جاؤ۔ مسلمانوں کو یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ صحابہ کرام نبی کی مجلس سے اٹھ کر جانا پسند نہیں کرتے تھے لیکن اس طرح بعض دفعہ ان لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی جو نبی سے خلوت میں کوئی گفتگو کرنا چاہتے تھے۔

۱۱۔(۴) یعنی اہل ایمان کے درجے غیر اہل ایمان پر اور اہل علم کے درجے اہل ایمان پر بلند فرمائے گا جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایمان کے ساتھ علوم دین سے واقفیت مزید رفع درجات کا باعث ہے۔

١٢۔ (۱)   ہر مسلمان نبی سے مناجات اور خلوت میں گفتگو کرنے کی خواہش رکھتا تھا، جس سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خاصی تکلیف ہوتی، بعض کہتے ہیں کہ منافقین یوں ہی بلا وجہ نبی سے مناجات میں مصروف رہتے تھے، جس سے مسلمان تکلیف محسوس کرتے تھے، اس لئے اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا، تاکہ آپ سے گفتگو کرنے کے رجحان عام کی حوصلہ شکنی ہو

۱۲۔ (۲)  بہتر اس لیے کہ صدقے سے تمہارے ہی دوسرے غریب مسلمان بھائیوں کو فائدہ ہو گا اور پاکیزہ تر اس لیے کہ یہ ایک عمل صالح اور اطاعت الہی ہے جس سے نفوس انسانی کی تطہیر ہوتی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ امر بطور استحباب کے تھا وجوب کے لیے نہیں۔

١٣۔ (۱)   یہ امر گو استحاباً تھا، پھر بھی مسلمانوں کے لئے شاق تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے جلدی اسے منسوخ فرما دیا۔

١٣۔ (۲)  یعنی فرائض و احکام کی پابندی، اس صدقے کا بدل بن جائے گی، جسے اللہ نے تمہاری تکلیف کے لئے معاف فرما دیا۔

۱٤۔ (۱)   جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا وہ قرآن کریم کی صراحت کے مطابق یہود ہیں اور ان سے دوستی کرنے والے منافقین یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مدینے میں منافقین کا بھی زور تھا اور یہودیوں کی سازشیں بھی عروج پر تھیں ابھی یہود کو جلا وطن نہیں کیا گیا تھا۔

١٤۔ (۲)  یعنی یہ منافقین مسلمان ہیں اور نہ دین کے لحاظ سے یہودی ہیں۔ پھر یہ کیوں یہودیوں سے دوستی کرتے ہیں۔؟ صرف اس لیے کہ ان کے اور یہود کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور اسلام کی عداوت قدر مشترک ہے۔

۱٤۔ (۳)  یعنی قسمیں کھا کر مسلمانوں کو باور کراتے ہیں کہ ہم تمہاری طرح مسلمان ہیں یا یہودیوں سے انکے رابطے نہیں ہیں۔

١٥۔ یعنی یہودیوں سے دوستانہ تعلق رکھنے اور جھوٹی قسمیں کھانے کی وجہ سے۔

۱۶۔ (۱)   ایمان، یمین، کی جمع ہے بمعنی قسم۔ یعنی قسم جس طرح ڈھال سے دشمن کے وار کو روک کر اپنا بچاؤ کر لیا جاتا ہے اسی طرح انہوں نے اپنی قسموں کو مسلمانوں کی تلواروں سے بچنے کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے۔

۱۶۔  (۲)  یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر یہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ان کے بارے میں حقیقت واقعہ کا علم نہیں ہوتا اور وہ ان کے غرے میں آ کر قبول اسلام سے محروم رہتے ہیں اور یوں یہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کا جرم بھی کرتے ہیں۔

١٨۔ (۱)   یعنی ان کی بد بختی اور سنگ دلی کی انتہا ہے کہ قیامت والے دن، جہاں کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہے گی، وہاں بھی اللہ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھانے کی شوخ چشمانہ جسارت کریں گے

۱۸۔ (۲)  یعنی جس طرح دنیا میں وہ وقتی طور پر جھوٹی قسمیں کھا کر کچھ فائدے اٹھا لیتے تھے وہاں بھی سمجھیں گے کہ یہ جھوٹی قسمیں ان کے لیے مفید رہیں گی۔

۱۹۔ (۱)   استحوذ کے معنی ہیں گھیر لیا احاطہ کر لیا جمع کر لیا اسی کا ترجمہ غلبہ حاصل کر لیا کیا جاتا ہے کہ غلبے میں یہ سارے مفہوم آ جاتے ہیں۔

١٩۔ (۲)  یعنی اس نے جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے، ان سے شیطان نے ان کو غافل کر دیا ہے اور جن چیزوں سے اس نے منع کیا ہے، ان کا وہ ارتکاب کرواتا ہے، انہیں خوبصورت دکھلا کر یا مغالطوں میں ڈال کر یا تمناؤں اور آرزوؤں میں مبتلا کر کے۔

١٩۔ (۳)  یعنی مکمل خسارا انہی کے حصے میں آئے گا۔ گویا دوسرے ان کی نسبت خسارے میں نہیں ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے جنت کا سودا گمراہی لے کر کر لیا، اللہ پر جھوٹ بولا اور دنیا و آخرت میں جھوٹی قسمیں کھاتے رہے۔

۲۰۔ (۱)   محادۃ، ایسی شدید مخالفت عناد اور جھگڑے کو کہتے ہیں کہ فریقین کا باہم ملنا نہایت مشکل ہو گویا دونوں دو کناروں پر ہیں جو ایک دوسرے کے مخالف ہیں اسی سے یہ ممانعت کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اسی لیے دربان اور پہرے دار کو بھی حداد کہا جاتا ہے۔ فتح القدیر۔

۲۰۔ (۲)  یعنی جس طرح گزشتہ امتوں میں سے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے مخالفوں کو ذلیل اور تباہ کیا گیا ان کا شمار بھی انہیں اہل ذلت میں ہو گا اور ان کے حصے میں بھی دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔

۲۱۔ (۱)   یعنی تقدیر اور لوح محفوظ میں جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی یہ مضمون سورہ مومن میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

 ٢١۔ (۲)  جب یہ بات لکھنے والا، سب پر غالب اور نہایت زورآور ہے تو پھر اور کون ہے جو اس فیصلے میں تبدیلی کر سکے۔؟ مطلب یہ ہوا کہ یہ فیصلہ قدر محکم اور امر مبرم ہے۔

۲۲۔ (۱)   اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمائی کہ جو ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت میں کامل ہوتے ہیں وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے دشمنوں سے محبت اور تعلق خاطر نہیں رکھتے گویا ایمان اور اللہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے دشمنوں کی محبت و نصرت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے یہ مضمون قرآن مجید میں اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے مثلاً آل عمران۔ (۲) ۸ سورہ توبہ ۲٤۔ وغیرہ۔

 ۲۲۔ (۲)  اس لیے کہ ان کا ایمان ان کو ان کی محبت سے روکتا ہے اور ایمان کی رعایت ابوت نبوت اخوت اور خاندان و برادری کی محبت و رعایت سے زیادہ اہم اور ضروری ہے چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عملاً ایسا کر کے دکھایا ایک مسلمان صحابی نے اپنے باپ اپنے بیٹے اپنے بھائی اور اپنے چچا ماموں اور دیگر رشتے داروں کو قتل کرنے سے گریز نہیں کیا اگر وہ کفر کی حمایت میں کافروں کے ساتھ لڑنے والوں میں شامل ہوتے سیر و تواریخ کی کتابوں میں یہ مثالیں درج ہیں اسی ضمن میں جنگ بدر کا واقعہ بھی قابل ذکر ہے جب اسیران بدر کے بارے میں مشورہ ہوا کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا قتل کر دیا جائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا تھا کہ ان کافر قیدیوں میں سے ہر قیدی کو اس کے رشتے دار کے سپرد کر دیا جائے جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرے اور اللہ تعالیٰ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہی مشورہ پسند آیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورہ انفال ۷٦ کا حاشیہ۔

۲۲۔ (۳)  یعنی راسخ اور مضبوط کر دیا ہے۔

۲۲۔(۴) روح سے مراد اپنی نصرت خاص، یا نور ایمان ہے جو انہیں ان کی مذکورہ خوبی کی وجہ سے حاصل ہوا۔

 ۲۲۔(۵) یعنی جب یہ اولین مسلمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایمان کی بنیاد پر اپنے عزیز و اقارب سے ناراض ہو گئے حتی کہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل تک کرنے میں تامل نہیں کیا تو اس کے بدلے میں اللہ نے ان کو اپنی رضامندی سے نواز دیا اور ان پر اس طرح اپنے انعامات کی بارش فرمائی کہ وہ بھی اللہ سے راضی ہو گئے اس لیے آیت میں بیان کردہ اعزاز رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ۔ اگرچہ خاص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازل نہیں ہوا ہے تاہم وہ اس کا مصداق اولین اور مصداق اتم ہیں اسی لیے اس کے لغوی مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے مذکورہ صفات سے متصف ہر مسلمان رضی اللہ عنہ کا مستحق بن سکتا ہے جیسے لغوی معنی کے لحاظ سے ہر مسلمان شخص پر علیہ الصلوۃ والسلام کا دعائیہ جملے کے طور پر اطلاق کیا جا سکتا ہے لیکن اہل سنت نے ان کے مفہوم لغوی سے ہٹ کر ان کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی اور کے لیے بولنا لکھنا جائز قرار نہیں دیا ہے۔ یہ گویا شعار ہیں رضی اللہ عنہم صحابہ کے لیے اور علیہم الصلواۃ والسلام انبیائے کرام کے لیے یہ ایسے ہی ہے جیسے رحمۃ اللہ علیہ اللہ کی رحمت اس پر ہو یا اللہ اس پر رحم فرمائے کا اطلاق لغوی مفہوم کی رو سے زندہ اور مردہ دونوں پر ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ایک دعائیہ کلمہ ہے جس کے ضرورت مند زندہ اور مردہ دونوں ہی ہیں لیکن ان کا استعمال مردوں کے لیے خاص ہو چکا ہے اس لیے اسے زندہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔

۲۲۔ (۶) یعنی یہی گروہ مومنین فلاح سے ہمکنار ہو گا دوسرے ان کی بہ نسبت ایسے ہی ہوں گے جیسے وہ فلاح سے بالکل محروم ہیں جیسا کہ واقعی وہ آخرت میں محروم ہوں گے۔

٭٭٭

 

سورۃ  الحشر

 یہ سورت یہود کے ایک قبیلے بنو نضیر کے بارے میں نازل ہوئی، اس لئے اسے سورۃ النضیر بھی کہتے ہیں۔ صحیح بخاری۔

٢۔ (۱)   مدینے کے اطراف میں یہودیوں کے تین قبیلے آباد تھے، بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع، ہجرت مدینہ کے بعد نبی نے ان سے معاہدہ بھی کیا لیکن یہ لوگ درپردہ سازشیں کرتے رہے اور کفار مکہ سے بھی مسلمانوں کے خلاف رابطہ رکھا، حتیٰ کے ایک موقع پر جب کہ آپ ان کے پاس گئے ہوئے تھے، بنو نضیر نے رسول اللہ پر اوپر سے پتھر پھینک کر آپ کو مار ڈالنے کی سازش تیار کی، جس سے وحی کے ذریعے سے آپ بروقت اطلاع کر دی گئی، اور آپ وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔ ان کی اس عہد شکنی کی وجہ سے رسول اللہ ان پر لشکر کشی کی، یہ چند دن اپنے قلعوں میں محصور رہے، بالآخر انہوں نے جان بخشی کی صورت میں جلا وطنی پر آمادگی کا اظہار کیا جسے رسول اللہ نے قبول فرما لیا، یہاں سے یہ خیبر میں جا کر مقیم ہو گئے، وہاں سے حضرت عمر نے اپنے دور میں انہیں دوبارہ جلا وطن کیا اور شام کی طرف دھکیل دیا جہاں کہتے ہیں کہ تمام انسانوں کا آخری حشر ہو گا۔

٢۔ (۲)  اس لئے انہوں نے نہایت مضبوط قلعے تعمیر کر رکھے تھے جس پر انہیں گھمنڈ تھا اور مسلمان بھی سمجھتے تھے کہ اتنی آسانی سے یہ قلعے فتح نہیں ہو سکیں گے۔

٢۔ (۳) اور وہ یہی تھا کہ رسول اللہ نے ان کا محاصرہ کر لیا تھا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔

۲۔(۴) اس رعب کی وجہ سے ہی انہوں نے جلا وطنی پر آمادگی کا اظہار کیا ورنہ عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین اور دیگر لوگوں نے انہیں پیغامات بھیجے تھے کہ تم مسلمانوں کے سامنے جھکنا نہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ خصوصی وصف عطا فرمایا تھا کہ دشمن ایک مہینے کی مسافت پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے مرعوب ہو جاتا تھا اس لیے سخت دہشت اور گھبراہٹ ان پر طاری ہو گئی اور تمام تر اسباب و وسائل کے باوجود انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور صرف یہ شرط مسلمانوں سے منوائی کہ جتنا سامان وہ لاد کر لے جا سکتے ہیں انہیں لے جانے کی اجازت ہو، چنانچہ اس اجازت کی وجہ سے انہوں نے اپنے گھروں کے دروازے اور شہتیر تک اکھیڑ ڈالے تاکہ انہیں اپنے ساتھ لے جائیں

٢۔(۵) یعنی جب انہیں یقین ہو گیا کہ اب جلا وطنی ناگزیر ہے تو انہوں نے دوران محاصرہ اندر سے اپنے گھروں کو برباد کرنا شروع کر دیا تاکہ وہ مسلمانوں کے بھی کام نہ رہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ سامان لے جانے کی اجازت سے پورا فائدہ اٹھانے کے لئے وہ اپنے اپنے اونٹوں پر جتنا سامان لاد کر لے جا سکتے تھے اپنے گھر ادھیڑ ادھیڑ کر وہ سامان انہوں نے اونٹوں پر رکھ لیا۔

۲۔ (٦) باہر سے مسلمان ان کے گھروں کو برباد کرتے رہے تاکہ ان پر گرفت آسان ہو جائے یا یہ مطلب ہے کہ ان کے ادھیڑے ہوئے گھروں سے بقیہ سامان نکالنے اور حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کو مزید تخریب سے کام لینا پڑا۔

 ۲۔(۷) کہ کس طرح اللہ نے ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈالا در آں حالیکہ وہ ایک نہایت طاقتور اور با وسائل قبیلہ تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہلت عمل ختم ہو گئی اور اللہ نے اپنے مواخذے کے شکنجے میں کسنے کا فیصلہ کر لیا تو پھر ان کی اپنی طاقت اور وسائل ان کے کام آئے نہ دیگر اعوان و انصار ان کی کچھ مدد کر سکے۔

۳۔ یعنی اللہ کی تقدیر میں پہلے سے ہی اس طرح ان کی جلاوطنی لکھی ہوئی نہ ہوتی تو ان کو دنیا میں ہی سخت عذاب سے دوچار کر دیا جاتا جیسا کہ بعد میں ان کے بھائی یہود کے ایک دوسرے قبیلے بنو قریظہ کو ایسے ہی عذاب میں مبتلا کیا گیا کہ ان کے جوان مردوں کو قتل کر دیا گیا دوسروں کو قیدی بنا لیا گیا اور ان کا مال مسلمانوں کے لیے غنیمت بنا دیا گیا۔

٥۔ لینۃ۔ کھجور کی ایک قسم ہے جیسے عجوہ برنی وغیرہ کھجوروں کی قسمیں ہیں یا عام کھجور کا درخت مراد ہے۔ دوران محاصرہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم سے مسلمانوں نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درختوں کو آگ لگا دی، کچھ کاٹ ڈالے اور کچھ چھوڑ دیئے۔ جس سے مقصود دشمن کی آڑ کو ختم کرنا۔ اور یہ واضح کرنا تھا کہ اب مسلمان تم پر غالب ہیں، وہ تمہارے اموال و جائیداد میں جس طرح چاہے، تصرف کرنے پر قادر ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی مسلمانوں کی اس حکمت عملی کی تصویب فرمائی اور اسے یہود کی رسوائی کا ذریعہ قرار دیا۔

٦۔ بنو نضیر کا یہ علاقہ، جو مسلمانوں کے قبضے میں آیا، مدینے سے تین چار میل کے فاصلے پر تھا، یعنی مسلمانوں کو اس کے لئے لمبا سفر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ یعنی اس میں مسلمانوں کو اونٹ اور گھوڑے دوڑانے نہیں پڑے۔ اسطرح لڑنے کی بھی نوبت نہیں آئی اور صلح کے ذریعے سے یہ علاقہ فتح ہو گیا، یعنی اللہ نے اپنے رسول کو بغیر لڑے ان پر غالب فرما دیا۔ اس لئے یہاں سے حاصل ہونے والے مال کو فَیْء قرار دیا گیا، جس کا حکم غنیمت سے مختلف ہے یعنی جو مال بغیر لڑے دشمن چھوڑ کر بھاگ جائے یا صلح کے ذریعے سے حاصل ہو، اور جو مال باقاعدہ لڑائی اور غلبہ حاصل کرنے کے بعد ملے، وہ غنیمت ہے۔

٨۔ اس میں مال فیء کا ایک صحیح ترین مصرف بیان کیا گیا ہے۔ اور ساتھ ہی مہاجرین کی فضیلت، ان کے اخلاص اور ان کی راست بازی کی وضاحت ہے، جس کے بعد ان کے ایمان میں شک کرنا، گویا قرآن کا انکار ہے۔

۹۔ (۱)   ان سے انصار مدینہ مراد ہیں جو مہاجرین کے مدینہ آنے سے قبل مدینے میں آباد تھے اور مہاجرین کے ہجرت کر کے آنے سے قبل امین بھی ان کے دلوں میں قرار پکڑ چکا تھا یہ مطلب نہیں ہے کہ مہاجرین کے ایمان لانے سے پہلے یہ انصار ایمان لا چکے تھے کیونکہ ان کی اکثریت مہاجرین کے ایمان لانے کے بعد ایمان لائی ہے یعنی من قبلھم کا مطلب من قبل ھجرتھم ہے اور دار سے دار الھجرۃ یعنی مدینہ مراد ہے۔

٩۔ (۲)  یعنی مہاجرین کو اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ و سلم جو کچھ دے، اس پر حسد محسوس نہیں کرتے، جیسے فیء کا اولین مستحق بھی ان کو قرار دیا گیا۔ لیکن انصار نے برا نہیں منایا۔

۹۔ (۳)  یعنی اپنے مقابلے میں مہاجرین کی ضرورت کو ترجیح دیتے ہیں خود بھوکا رہتے ہیں لیکن مہاجرین کو کھلاتے ہیں جیسے حدیث میں ایک واقعہ آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک مہمان آیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر میں کچھ نہ تھا چنانچہ ایک انصاری اسے اپنے گھر لے گیا گھر جا کر بیوی کو بتلایا تو بیوی نے کہا کہ گھر میں تو صرف بچوں کی خوراک ہے انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ بچوں کو تو آج بھوکا سلا دیں اور ہم خود بھی ایسے ہی کچھ کھائے بغیر سو جائیں گے البتہ مہمان کو کھلاتے وقت چراغ بجھا دینا تاکہ اسے ہماری بابت علم نہ ہو کہ ہم اس کے ساتھ کھانا نہیں کھا رہے ہیں صبح جب وہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم دونوں میاں بیوی کی شان میں یہ آیات نازل فرمائی ہے۔ ویوثرون علی انفسھم۔ الایۃ صحیح بخاری۔ ان کے ایثار کی یہ بھی ایک نہایت عجیب مثال ہے کہ ایک انصاری کے پاس دو بیویاں تھیں تو اس نے ایک بیوی کو اس لیے طلاق دینے کی پیشکش کی کہ عدت گزرنے کے بعد اس سے اس کا دوسرا مہاجر بھائی نکاح کر لے۔صحیح بخاری۔ کتاب النکاح۔

 ٩۔(۴) حدیث میں ہے ” شح سے بچو، اس حرص نفس نے ہی پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، اسی نے خون ریزی پر آمادہ کیا اور انہوں نے محارم کو حلال کر لیا ” (صحیح مسلم)

۱۰۔ یہ مال فئی کے مستحقین کی تیسری قسم ہے یعنی صحابہ رضی اللہ عنھم کے بعد آنے والے اور صحابہ کے نقش قدم پر چلنے والے اس میں تابعین اور تبع تابعین اور قیامت تک ہونے والے اہل ایمان و تقویٰ آ گئے لیکن شرط یہی ہے کہ وہ انصار و مہاجرین کو مومن ماننے اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرنے والے ہوں نہ کہ ان کے ایمان میں شک کرنے اور ان پر سب و شتم کرنے اور ان کے خلاف اپنے دلوں میں بغض و عناد رکھنے والے امام مالک رحمۃ اللہ نے اس آیت سے استنباط کرتے ہوئے یہی بات ارشاد فرمائی ہے ان الرافضی الذی یسب الصحابۃ لیس لہ فی مال الفی نصیب لعدم اتصافہ بما مدح اللہ بہ ھولا ء فی قولھم رافضی کو جو صحابہ کرام رضوان علیھم اجمعین پر سب و شتم کرتے ہیں مال فیء سے حصہ نہیں ملے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مدح کی ہے اور رافضی ان کی مذمت کرتے ہیں (ابن کثیر)۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ فرماتی ہیں۔ امرتم بالاستغفار لاصحاب محمد صلی اللہ علیہ و سلم فسببتموھم سمعت نبیکم یقول :لا تذھب ھذہ الامۃ حتی یلعن آخرھا اولھا۔ رواہ البغوی۔ تم لوگوں اصحاب محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے استغفار کا حکم دیا گیا مگر تم نے ان پر لعن طعن کی میں نے تمہارے نبی کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ امت اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک کہ اس کے آخرین اولین پر لعنت نہ کریں۔ حوالہ مذکور۔

١١۔ (۱)   جیسے پہلے گزر چکا ہے کہ منافقین نے بنو نضیر کو یہ پیغام بھیجا تھا۔

١١۔ (۲)  چنانچہ ان کا جھوٹ واضح ہو کر سامنے آگیا کہ بنو نضیر جلا وطن کر دیئے گئے، لیکن یہ ان کی مدد کو پہنچے نہ ان کی حمایت میں مدینہ چھوڑنے پر آمادہ ہوئے۔

١٢۔ (۱)   یہ منافقین کے گذشتہ جھوٹے وعدوں ہی کی مزید تفصیل ہے، چنانچہ ایسا ہی ہوا، بنو قضیر، جلا وطن اور بنو قریظہ قتل اور اسیر کئے گئے، لیکن منافقین کسی کی مدد کو نہ پہنچے۔

١٢۔ (۲)  یہ بطور فرض، بات کی جا رہی ہے، ورنہ جس چیز کی نفی اللہ فرما دے، اس کا وجود کیوں کر ممکن ہے، مطلب ہے کہ اگر یہود کی مدد کرنے کا ارادہ کریں۔

١٢۔ (۳) یعنی شکست کھا کر۔

١٣۔ (۱)   یہود کے یا منافقین کے یا سب کے ہی دلوں میں۔

١٣۔ (۲)  یعنی تمہارا یہ خوف ان کے دلوں میں ان کی نا سمجھی کی وجہ سے ہے، ورنہ اگر سمجھدار ہوتے تو سمجھ جاتے کہ مسلمانوں کا غلبہ و تسلط، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اس لئے ڈرنا اللہ تعالیٰ سے چاہیے نہ کہ مسلمانوں سے۔

۱٤۔ (۱)   یعنی یہ منافقین اور یہودی مل کر بھی کھلے میدان میں تم سے لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے البتہ قلعوں میں محصور ہو کر یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر تم پر وار کر سکتے ہیں جس سے یہ واضح ہے کہ یہ نہایت بزدل ہیں اور تمہاری ہیبت سے لرزاں و ترساں ہیں۔

١٤۔ (۲)  یعنی آپس میں یہ ایک دوسرے کے سخت خلاف ہیں۔ اس لئے ان میں باہم تو تکار اور تھکا فضیحتی عام ہے۔

۱٤۔ (۳)  یہ منافقین کا آپس میں دلوں کا حال ہے یا یہود اور منافقین کا یا مشرکین اور اہل کتاب کا مطلب یہ ہے کہ حق کے مقابلے میں یہ ایک نظر آتے ہیں لیکن ان کے دل ایک نہیں ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف بغض و عناد سے بھرے ہوئے۔

١٤۔(۴) یعنی یہ اختلاف ان کی بے عقلی کی وجہ سے ہے، اگر ان کے پاس سمجھنے والی عقل ہوتی تو یہ حق کو پہچان لیتے اور اسے اپنا لیتے۔

۱۵۔ (۱)   اس سے بعض نے مشرکین مکہ مراد لیے ہیں جنہیں غزوہ بنی نصیر سے کچھ عرصہ قبل جنگ بدر میں عبرت ناک شکست ہوئی تھی یعنی یہ بھی مغلوبیت اور ذلت میں مشرکین ہی کی طرح ہیں جن کا زمانہ قریب ہی ہے بعض نے یہود کے دوسرے قبیلے بنو قینقاع کو مراد لیا ہے جنہیں بنو نضیر سے قبل جلا وطن کیا جا چکا تھا جو زمان ومکان دونوں لحاظ سے ان کے قریب تھے۔ ابن کثیر۔

١٥۔ (۲)  یعنی یہ وبال جو انہوں نے چکھا، یہ تو دنیا کی سزا ہے، آخرت کی سزا اس کے علاوہ ہے جو نہایت دردناک ہو گی۔

۱۶۔  یہ یہود اور منافقین کی ایک اور مثال بیان فرمائی کہ منافقین نے یہودیوں کو اسی طرح بے یار و مددگار چھوڑ دیا جس طرح شیطان انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے پہلے وہ انسان کو گمراہ کرتا ہے اور جب انسان شیطان کے پیچھے لگ کر کفر کا ارتکاب کر لیتا ہے تو شیطان اس سے براءت کا اظہار کر دیتا ہے۔١٦۔ (۲)  شیطان اپنے اس قول میں سچا نہیں ہے، مقصد صرف اس کفر سے علیحدگی اور چھٹکارا حاصل کرتا ہے جو انسان شیطان کے گمراہ کرنے سے کرتا ہے۔

١٧۔ یعنی جہنم کی دائمی سزا۔

۱۸۔(۱)    اہل ایمان کو خطاب کر کے انہیں وعظ کیا جا رہا ہے اللہ سے ڈرنے کا مطلب ہے اس نے جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے انہیں بجا لاؤ جن سے روکا ہے ان سے رک جاؤ آیت میں یہ بطور تاکید دو مرتبہ فرمایا کیونکہ یہ تقویٰ اللہ کا خوف ہی انسان کو نیکی کرنے پر اور برائی سے اجتناب پر آمادہ کرتا ہے۔

١٨۔ (۲)  اسے کل سے تعبیر کر کے اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ اس کا وقوع زیادہ دور نہیں، قریب ہے۔

١٨۔ (۳)  چنانچہ وہ ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا، نیک کو نیکی کی جزا اور بد کو بدی کی جزا۔

١٩۔ یعنی اللہ نے بطور جزا انہیں ایسا کر دیا کہ وہ ایسے عملوں سے غافل ہو گئے جن میں ان کا فائدہ تھا اور جن کے ذریعے سے وہ اپنے نفسوں کو عذاب الٰہی سے بچا سکتے تھے یوں انسان خدا فراموشی سے خود فراموشی تک پہنچ جاتا ہے۔

۲۰۔ (۱)   جنہوں نے اللہ کو بھول کریہ بات بھی بھلائے رکھی کہ اس طرح وہ خود اپنے ہی نفسوں پر ظلم کر رہے ہیں اور ایک دن آئے گا کہ اس کے نتیجے میں ان کے یہ جسم جن کے لیے دنیا میں وہ بڑے بڑے پاپڑ بیلتے تھے جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے اور ان کے مقابلے میں دوسرے وہ لوگ تھے جنہوں نے اللہ کو یاد رکھا اس کے احکام کے مطابق زندگی گزاری ایک وقت آئے گا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے گا اور اپنی جنت میں انہیں داخل فرمائے گا جہاں ان کے آرام و راحت کے لیے ہر طرح کی نعمتیں اور سہولتیں ہوں گی یہ دونوں فریق یعنی جنتی اور جہنمی برابر نہیں ہوں گے بھلا یہ برابر ہو بھی کس طرح سکتے ہیں ایک نے اپنے انجام کو یاد رکھا اور اس کے لیے تیاری کرتا رہا دوسرا اپنے انجام سے غافل رہا اس لیے اس کے لیے تیاری میں بھی مجرمانہ غفلت برتی۔

٢٠۔ (۲)   جس طرح امتحان کی تیاری کرنے والا کامیاب اور دوسرا ناکام ہوتا ہے۔ اسی طرح اہل ایمان و تقویٰ جنت کے حصول میں کامیاب ہو جائیں گے، کیونکہ اس کے لئے کہ وہ دنیا میں نیک عمل کر کے تیاری کرتے رہے گویا دنیا دار العمل اور دار الامتحان ہے۔ جس نے اس حقیقت کو سمجھ لیا اور اس نے انجام سے بے خبر ہو کر زندگی نہیں گزاری وہ کامیاب ہو گا اور جو دنیا کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر اور انجام سے غافل، فسق و فجور میں مبتلا رہا وہ خاسر و ناکام ہو گا۔

٢١۔ (۱)   اور پہاڑ میں فہم و ادراک کی صلاحیت پیدا کر دیتے جو ہم نے انسان کے اندر رکھی ہے۔

٢١۔ (۲)  یعنی قرآن کریم میں ہم نے بلاغت و فصاحت، قوت و استدلال اور وعظ تذکرہ کے ایسے پہلو بیان کئے ہیں کہ انہیں سن کر پہاڑ بھی باوجود اتنی سختی اور وسعت و بلندی کے خوف الٰہی سے ریزہ ریزہ ہو جاتا۔ یہ انسان کو سمجھایا اور ڈرایا جا رہا ہے کہ تجھے عقل و فہم کی صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ لیکن قرآن سن کر تیرا دل کوئی اثر قبول نہیں کرتا تو تیرا انجام اچھا نہیں ہو گا۔

۲۱۔ (۳)  تاکہ قرآن کے مواعظ سے وہ نصیحت حاصل کریں اور زواجر کو سن کر نافرمانیوں سے اجتناب کریں بعض کہتے ہیں کہ اس آیت میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے خطاب ہے کہ ہم نے آپ پر یہ قرآن مجید نازل کیا جو ایسی عظمت شان کا حامل ہے کہ اگر ہم اسے کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو وہ ریزہ ریزہ ہو جاتا لیکن یہ آپ پر ہمارا احسان ہے کہ ہم نے آپ کو اتنا قوی اور مضبوط کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس چیز کو برداشت کر لیا جس کو برداشت کرنے کی طاقت پہاڑوں میں بھی نہیں ہے۔فتح القدیر اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی صفات بیان فرما رہا ہے جس سے مقصود توحید کا اثبات اور شرک کی تردید ہے۔

۲۲۔ غیب مخلوقات کے اعتبار سے ہے ورنہ اللہ کے لیے تو کوئی چیز غیب نہیں مطلب یہ ہے کہ وہ کائنات کی ہر چیز کو جانتا ہے چاہے وہ ہمارے سامنے ہو یا ہم سے غائب ہو حتی کہ وہ تاریکیوں میں چلنے والی چیونٹی کو بھی جانتا ہے۔

٢٤۔ (۱)   کہتے ہیں کہ خلق کا مطلب ہے اپنے ارادہ و مشیت کے مطابق اندازہ کرنا اور براَ کے معنی ہیں اسے پیدا کرنا، گھڑنا، وجود میں لانا۔

٢٤۔ (۲)  اسمائے حسنیٰ کی بحث سورہ اعراف۔ ١٨٠ میں گزر چکی ہے۔

٢٤۔ (۳) زبان حال سے بھی اور زبان مقال سے بھی، جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔

٢٤۔(۴) جس چیز کا بھی فیصلہ کرتا ہے، وہ حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔

٭٭٭

 

سورۃ الممتحنۃ

۱۔ (۱)   کفار مکہ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے درمیان حدیبیہ میں جو معاہدہ ہوا تھا اہل مکہ نے اس کی خلاف ورزی کی اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی مسلمانوں کو خفیہ طور پر لڑائی کی تیاری کا حکم دے دیا حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ ایک مہاجر بدری صحابی تھے جن کی قریش کے ساتھ کوئی رشتے داری نہیں تھی لیکن ان کے بیوی بچے مکے میں ہی تھے انہوں نے سوچا کہ میں قریش مکہ کو آپ کی تیاری کی اطلاع کر دوں تاکہ اس احسان کے بدلے وہ میرے بال بچوں کا خیال رکھیں چنانچہ انہوں نے ایک عورت کے ذریعے سے یہ پیغام تحریری طور پر اہل مکہ کی طرف روانہ کر دیا جس کی اطلاع بذریعہ وحی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کر دی گئی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت علی حضرت مقداد اور حضرت زبیر رضی اللہ عنھم کو فرمایا کہ جاؤ روضہ خاخ پر ایک عورت ہو گی جو مکہ جا رہی ہو گی اس کے پاس ایک رقعہ ہے وہ لے آؤ چنانچہ وہ حضرات گئے اور اس سے یہ رقعہ لے آئے جو اس نے سر کے بالوں میں چھپا رکھا تھا آپ نے حضرت حاطب رضی اللہ سے پوچھا یہ تم نے کیا کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ کام کفر و ارتداد کی بنا پر نہیں کیا بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ دیگر مہاجرین کے رشتے دار مکے میں موجود ہیں جو ان کے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہیں میرا وہاں کوئی رشتے دار نہیں ہے تو میں نے یہ سوچا کہ میں اہل مکہ کو کچھ اطلاع کر دوں تاکہ وہ میرے احسان مند رہیں اور میرے بچوں کی حفاظت کریں آپ نے ان کی سچائی کی وجہ سے انہیں کچھ نہیں کہا تاہم اللہ نے تنبیہ کے طور پپر یہ آیات نازل فرما دیں تاکہ آئندہ کوئی مومن کسی کافر کے ساتھ اس طرح کا تعلق مودت قائم نہ کرے صحیح بخاری۔

١۔ (۲)  مطلب ہے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خبریں ان تک پہنچا کر ان سے دوستانہ تعلق قائم کرنا چاہتے ہو؟

١۔ (۳)  جب ان کا تمہارے ساتھ اور حق کے ساتھ یہ معاملہ ہے تو تمہارے لئے کیا یہ مناسب ہے کہ تم ان سے محبت اور ہمدردی کا رویہ اختیار کرو؟

١۔(۴) یہ جواب شرط، جو محذوف ہے، کا ترجمہ ہے۔

١۔(۵) یعنی میرے اور اپنے دشمنوں سے محبت کا تعلق جوڑنا اور انہیں خفیہ نام و پیام بھیجنا، یہ گمراہی کا راستہ ہے، جو کسی مسلمان کے شایان شان نہیں۔

٢۔ یعنی تمہارے خلاف ان کے دلوں میں تو اس طرح بغض و عناد ہے اور تم ہو کہ ان کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہے ہو۔

٣۔ (۱)   یعنی جس اولاد کے لئے تم کفار کے ساتھ محبت کا اظہار کر رہے ہو، یہ تمہارے کچھ کام نہ آئے گی، پھر اس کی وجہ سے تم کافروں سے دوستی کر کے کیوں اللہ کو ناراض کرتے ہو۔ قیامت والے دن جو چیز کام آئے گی، وہ تو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت ہے، اس کا اہتمام کرو۔

٣۔ (۲)  دوسرے معنی ہیں تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا۔ یعنی اہل اطاعت کو جنت میں اور اہل معصیت کو جہنم میں داخل کرے گا، بعض کہتے ہیں آپس میں جدائی کا مطلب کہ ایک دوسرے سے بھا گی گے۔

٤۔(۱)   کفار سے عدم اتحاد کے مسئلے کی وضاحت کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال دی جا رہی ہے کہ ایسا نمونہ جس کی پیروی کی جائے

٤۔ (۲)  یعنی شرک کی وجہ سے ہمارا اور تمہارا کوئی تعلق نہیں، اللہ کے پرستاروں کا بھلا غیر اللہ کے پجاریوں سے کیا تعلق۔

٤۔ (۳) یعنی علیحدگی اور بیزاری اس وقت تک رہے گی جب تک کفر و شرک چھوڑ کر توحید کو نہیں اپنا لو گے۔

٤۔(۴) مطلب یہ حضرت ابراہیم کی پوری زندگی ایک قابل تقلید نمونہ ہے، البتہ ان کے باپ کے لئے مغفرت کی دعا کرنا ایک ایسا عمل ہے جس میں ان کی پیروی نہیں کرنی چاہیئے، کیونکہ ان کا یہ فعل اس وقت ہے جب ان کو اپنے باپ کی بابت علم نہیں تھا، چنانچہ جب ان پر واضح ہو گیا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اپنے باپ سے بھی اظہار نجات کر دیا، جیسا کہ سورہ براءت۔ ١١٤ میں ہے۔

٤۔(۵) توکل کا مطلب ہے امکانی حد تک ظاہری اسباب و وسائل اختیار کرنے کے بعد معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا جائے یہ ہے اس لیے توکل کا یہ مفہوم بھی غلط ہو گا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور اونٹ کو باہر کھڑا کر کے اندر آگیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا تو کہا میں اونٹ اللہ کے سپرد کر آیا ہوں آپ نے فرمایا یہ توکل نہیں ہے۔ اعقل و توکل۔ پہلے اسے کسی چیز سے باندھ پھر اللہ پر بھروسہ کر۔ ترمذی۔ انابت کا مطلب ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا

۵۔ یعنی کافروں کو ہم پر غلبہ و تسلط عطا نہ فرما اس طرح وہ سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور یوں ہم ان کے لیے فتنے کا باعث بن جائیں گے یا یہ مطلب ہے کہ ان کے ہاتھوں یا اپنی طرف سے ہمیں کسی سزا سے دو چار نہ کرنا اس طرح بھی ہمارا وجود ان کے لیے فتنہ بن جائے گا وہ کہیں گے کہ اگر یہ حق پر ہوتے تو ان کو یہ تکلیف کیوں پہنچتی؟

٦۔ (۱)   یعنی ابراہیم علیہ السلام کے اور ان کے ساتھی اہل ایمان میں۔ یہ تکرار تاکید کے لئے ہے۔

٦۔ (۲)  کیونکہ ایسے ہی لوگ اللہ سے اور عذاب آخرت سے ڈرتے ہیں، یہی لوگ حالات و واقعات سے عبرت پکڑتے اور نصیحت حاصل کرتے ہیں۔

 ٦۔ (۳)  یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوے کو اپنانے سے گریز کرے۔

٧۔ یعنی ان کو مسلمان کر کے تمہارا بھائی اور ساتھی بنا دے، جس سے تمہارے مابین عداوت، دوستی اور محبت میں تبدیل ہو جائے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، فتح مکہ کے بعد لوگ فوج در فوج مسلمان ہونا شروع ہو گئے اور ان کے مسلمان ہوتے ہی نفرتیں، محبت میں تبدیل ہو گئیں، جو مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے، وہ دست و بازو بن گئے۔

٨۔ (۱)   یہ ان کافروں کے بارے میں ہدایت دی جا رہی ہے جو مسلمانوں سے محض دین السلام کی وجہ سے بغض و عداوت نہیں رکھتے اور اس بنیاد پر مسلمانوں سے نہیں لڑتے، یہ پہلی شرط ہے

 ٨۔ (۲)  یعنی تمہارے ساتھ ایسا رویہ بھی اختیار نہیں کیا کہ تم ہجرت پر مجبور ہو جاؤ، یہ دوسری شرط ہے۔ ایک تیسری شرط یہ ہے جو اگلی آیت سے واضح ہوتی ہے، کہ وہ مسلمانوں کے خلاف دوسرے کافروں کو کسی قسم کی مدد بھی نہ پہنچائیں مشورے اور رائے سے اور نہ ہتھیار وغیرہ کے ذریعے سے۔

۸۔ (۳)  یعنی ایسے کافروں سے احسان اور انصاف کا معاملہ کرنا ممنوع نہیں ہے جیسے حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اپنی مشرکہ ماں کی بابت صلہ رحمی یعنی حسن سلوک کرنے کا پوچھا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :صلی امک۔ صحیح مسلم۔ اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔

۸۔(۴) اس میں انصاف کرنے کی ترغیب ہے حتی کہ کافروں کے ساتھ بھی حدیث میں انصاف کرنے والوں کی فضیلت یوں بیان ہوئی ہے۔ ان المقسطین عند اللہ علی منبر من نور عن یمین الرحمن عز وجل وکلتا یدیہ یمین الذین یعدلون فی حکمھم واھلیھم وماولوا۔صحیح مسلم کتاب الامارہ۔ انصاف کرنے والے نور کے منبروں پر ہوں گے جو رحمن کے دائیں جانب ہوں گے اور رحمن کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں جو اپنے فیصلوں میں اپنے اہل میں اور اپنی رعایا میں انصاف کا اہتمام کرتے ہیں۔

٩۔ (۱)   یعنی ارشاد الٰہی اور امر ربانی سے اعراض کرتے ہوئے۔

٩۔ (۲)  کیوں کہ انہوں نے ایسے لوگوں سے محبت کی ہے جو محبت کے اہل نہیں تھے، یوں انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انہیں اللہ کے عذاب کے لئے پیش کر دیا۔

۱۰۔ (۱)   معاہدہ حدیبیہ میں ایک شق یہ تھی کہ مکے سے کوئی مسلمانوں کے پاس چلا جائے گا تو اس کو واپس کرنا پڑے گا لیکن اس میں مرد و عورت کی صراحت نہیں تھی بظاہر کوئی احد میں دونوں ہی شامل تھے چنانچہ بعد میں بعض عورتیں مکے سے ہجرت کر کے مسلمانوں کے پاس چلی گئیں تو کفار نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا جس پر اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی اور یہ حکم دیا امتحان لینے کا مطلب ہے اس امر کی تحقیق کرو کہ ہجرت کر کے آنے والی عورت جو ایمان کا اظہار کر رہی ہے اپنے کافر خاوند سے ناراض ہو کر یا کسی مسلمان کے عشق میں یا کسی اور غرض سے تو نہیں آئی ہے اور صرف یہاں پناہ لینے کی خاطر ایمان کا دعوی کر رہی ہے۔

١٠۔ (۲)  یعنی تم اپنی تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچو اور تمہیں گمان غالب حاصل ہو جائے کہ یہ واقعی مومنہ ہیں۔

۱۰۔ (۳)  یہ انہیں ان کے کافر خاوندوں کے پاس واپس نہ کرنے کی علت ہے کہ اب کوئی مومن عورت کسی کافر کے لیے حلال نہیں جیسا کہ ابتدائے اسلام میں یہ جائز تھا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح ابو العاص ابن ربیع کے ساتھ ہوا تھا جب کہ وہ مسلمان نہیں تھے لیکن اس آیت نے آئندہ کے لیے ایسا کرنے سے منع کر دیا اسی لیے یہاں فرمایا گیا کہ وہ ایک دوسرے کے لیے حلال نہیں اس لیے انہیں کافروں کے پاس مت لوٹاؤ ہاں اگر شوہر بھی مسلمان ہو جائے تو پھر ان کا نکاح برقرار رہ سکتا ہے چاہے خاوند عورت کے بعد ہجرت کر کے آئے۔

١٠۔(۴) یعنی ان کے کافر خاوندوں نے ان کو جو مہر ادا کیا ہے، وہ تم انہیں ادا کر دو۔

۱۰۔(۵) یہ مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے کہ یہ عورتیں جو ایمان کی خاطر اپنے کافر خاوندوں کو چھوڑ کر تمہارے پاس آ گئی ہیں تم ان سے نکاح کر سکتے ہو بشرطیکہ ان کا حق مہر تم ادا کرو تاہم یہ نکاح مسنون طریقے سے ہی ہو گا یعنی ایک تو انقضائے عدت (استبراء رحم) کے بعد ہو گا دوسرے اس میں ولی کی اجازت اور دو عادل گواہوں کی موجودگی بھی ضروری ہے البتہ عورت مدخول بہا نہیں ہے تو پھر بلا عدت فوری نکاح جائز ہے

۱۰۔ (٦)  عصم عصمۃ کی جمع ہے یہاں اس سے مراد عصمت عقد نکاح ہے مطلب یہ ہے کہ اگر خاوند مسلمان ہو جائے اور بیوی بدستور کافر اور مشرک رہے تو ایسی مشرک عورت کو اپنے نکاح میں رکھنا جائز نہیں ہے اسے فورا طلاق دے کر اپنے سے علیحدہ کر دیا جائے چنانچہ اس حکم کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی دو مشرک بیویوں کو اور حضرت طلحہ ابن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ابن کثیر۔ البتہ اگر بیوی کتابیہ ہو تو اسے طلاق دینا ضروری نہیں ہے کیونکہ ان سے نکاح جائز ہے اس لیے اگر وہ پہلے سے ہی بیوی کی حیثیت سے تمہارے پاس موجود ہے تو قبول اسلام کے بعد اسے علیحدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

 ١٠۔(۷) یعنی ان عورتوں پر جو کفر پر برقرار رہنے کی وجہ سے کافروں کے پاس چلی گئی ہیں

 ١٠۔(۸) یعنی ان عورتوں پر جو مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مدینے آ گئی ہیں۔

۱۰۔(۹) یعنی یہ حکم مذکور کہ دونوں ایک دوسرے کو حق مہر ادا کریں بلکہ مانگ کر لیں اللہ کا حکم ہے امام قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ حکم اس دور کے ساتھ ہی خاص تھا اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے فتح القدیر۔ اس کی وجہ وہ معاہدہ ہے جو اس وقت فریقین کے درمیان تھا اس قسم کے معاہدے کی صورت میں آئندہ بھی اس پر عمل کرنا ضروری ہو گا بصورت دیگر نہیں۔

١١۔ فعاقبتم۔ پس تم سزا دو یا بدلہ لو۔ کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ مسلمان ہو کر آنے والی عورتوں کے حق مہر، جو تمہیں ان کے کافر شوہروں کو ادا کرنے تھے، وہ تم ان مسلمانوں کو دے دو، جن کی عورتیں کافر ہونے کی وجہ سے کافروں کے پاس چلی گئی ہیں اور انہوں نے مسلمانوں کو مہر ادا نہیں کیا (یعنی یہ بھی سزا کی ایک صورت ہے ) دوسرا مفہوم یہ ہے کہ تم کافروں سے جہاد کرو اور جو مال غنیمت حاصل ہو اس میں تقسیم سے پہلے ان مسلمانوں کو، جن کی بیویاں دار الکفر چلی گئی ہیں، ان کے خرچ کے بقدر ادا کر دو، گویا مال غنیمت سے مسلمانوں کے نقصان کا (ازالہ) یہ بھی سزا ہے (ایسر التفاسیر و ابن کثیر) اگر مال غنیمت سے بھی ازالہ کی صورت نہ ہو تو بیت المال سے تعاون کیا جائے۔

۱۲۔ یہ بیعت اس وقت لیتے جب عورتیں ہجرت کر کے آتیں جیسا کہ صحیح بخاری تفسیر سورہ ممتحنہ میں ہے علاوہ ازیں فتح مکہ والے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریش کی عورتوں سے بیعت لی بیعت لیتے وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم صرف زبان سے عہد لیتے کسی عورت کے ہاتھ کو آپ نہیں چھوتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اللہ کی قسم بیعت میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا بیعت کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم صرف یہ فرماتے کہ میں نے ان باتوں پر تجھ سے بیعت لے لی۔صحیح بخاری۔ بیعت میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ عہد بھی عورتوں سے لیتے تھے کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی گریبان چاک نہیں کریں گی سر کے بال نہیں نوچیں گی اور جاہلیت کی طرح بین نہیں کریں گی۔صحیح بخاری۔ اس بیعت میں نماز روزہ حج اور زکوٰۃ وغیرہ کا ذکر نہیں ہے اس لیے کہ یہ ارکان دین اور شعائر اسلام ہونے کے اعتبار سے محتاج وضاحت نہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بطور خاص ان چیزوں کی بیعت لی جن کا عام ارتکاب عورتوں سے ہوتا تھا تاکہ وہ ارکان دین کی پابندی کے ساتھ ان چیزوں سے بھی اجتناب کریں اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ علما و دعاۃ اور واعظین حضرات اپنا زور خطابت ارکان دین کے بیان کرنے میں ہی صرف نہ کریں جو پہلے ہی واضح ہیں بلکہ ان خرابیوں اور رسموں کی بھی پر زور انداز میں تردید کیا کریں جو معاشرے میں عام ہیں اور نماز روزے کے پابند حضرات بھی ان سے اجتناب نہیں کرتے۔

١٣۔ (۱)   اس سے بعض یہود، بعض منافقین اور بعض نے تمام کافر مراد لئے ہیں۔ یہ آخری قول ہی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اس میں یہود و منافقین بھی آ جاتے ہیں، علاوہ ازیں سارے کفار ہی غضب الٰہی کے مستحق ہیں، اس لئے مطلب یہ ہو گا کہ کسی بھی کافر سے دوستانہ تعلق مت رکھو، جیسا کہ یہ مضمون قرآن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔

١٣۔ (۲)  آخرت سے مایوس ہونے کا مطلب، قیامت کے برپا ہونے سے انکار ہے۔ ایک دوسرے معنی اس کے یہ کئے گئے ہیں کہ قبروں میں مدفون کافر، ہر قسم کی خیر سے مایوس ہو گئے۔ کیوں کہ مر کر انہوں نے اپنے کفر کا انجام دیکھ لیا، اب وہ خیر کی کیا توقع کر سکتے ہیں (ابن جریر طبری)۔

٭٭٭

 

سورۃ  الصّٰفّ

اس کی شان نزول میں آتا ہے کہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم آپس میں بیٹھے کہہ رہے تھے کہ اللہ کو جو سب سے زیادہ پسندیدہ عمل ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھنے چاہییں تاکہ ان پر عمل کیا جا سکے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جا کر پوچھنے کی جرات کوئی نہیں کر رہا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرما دی (مسند احمد)

٢۔ یہاں ندا اگرچہ عام ہے لیکن اصل خطاب ان مومنوں سے ہے جو کہہ رہے تھے کہ اللہ کو جو سب سے زیادہ پسند عمل ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھنے چاہئیں تاکہ ان پر عمل کیا جا سکے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جا کر پوچھنے کی جرت کوئی نہیں کر رہا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی (مسند احمد)

۳۔ یہ اسی کی مزید تاکید ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر سخت ناراض ہوتا ہے۔

٤۔ یہ جہاد کا ایک انتہائی نیک عمل بتلایا گیا جو اللہ کو بہت محبوب ہے۔

٥۔ (۱)   یہ جانتے ہوئے بھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے سچے رسول ہیں، بنی اسرائیل انہیں اپنی زبان سے ایذا پہنچاتے تھے، حتیٰ کہ بعض جسمانی عیوب ان کی طرف منسوب کرتے تھے، حالانکہ وہ بیماری ان کے اندر نہیں تھی۔

٥۔ (۲)  یعنی علم کے باوجود حق سے اعراض کیا اور حق کے مقابلے میں باطل کو خیر کے مقابلے میں شر کو اور ایمان کے مقابلے میں کفر کو اختیار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کے طور پر ان کے دلوں کو مستقل طور پر ہدایت سے پھیر دیا۔ کیونکہ یہی سنت اللہ چلی آ رہی ہے۔ کفر و ضلالات پر دوام و استمرار ہی دلوں پر مہر لگنے کا باعث ہوتا ہے پھر فسق کفر اور ظلم اس کی طبیعت اور عادت بن جاتی ہے جس کو کوئی بدلنے پر قادر نہیں ہے۔ اس لیے آگے فرمایا اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو اپنی سنت کے مطابق گمراہ کیا ہوتا ہے اب کون اسے ہدایت دے سکتا ہے جسے اس طریقے سے اللہ نے گمراہ کیا ہو۔

٦۔ (۱)   حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ اس لیے بیان فرمایا کہ بنی اسرائیل نے جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی انکار کیا، اس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ یہود آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے ساتھ اس طرح نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کی تو ساری تاریخ ہی انبیاء علیہم السلام کی تکذیب سے بھری پڑی ہے۔ تورات کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ میں جو دعوت دے رہا ہوں، وہ وہی ہے جو تورات کی بھی دعوت ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو پیغمبر مجھ سے پہلے تورات لے کر آئے اور اب میں انجیل لے کر آیا ہوں، ہم دونوں کا اصل ماخذ ایک ہی ہے۔ اس لیے جس طرح تم موسیٰ و ہارون اور داوٗد و سلیمان علیہم السلام پر ایمان لائے مجھ پر بھی ایمان لاؤ، اس لیے کہ میں تورات کی تصدیق کر رہا ہوں نہ کہ اس کی تردید و تکذیب۔

٦۔ (۲)  یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خوشخبری سنائی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ” “انا دعوۃ ابی ابراہیم وبشسارۃ عیسٰی” میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت کا مصداق ہوں۔ احمد یہ فاعل سے اگر مبالغے کا صیغہ  ہو تو معنی ہوں گے دوسرے تمام لوگوں سے اللہ کی زیادہ حمد کرنے والا۔ اور اگر یہ مفعول سے ہوں تو معنی ہوں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خوبیوں اور کمالات کی وجہ سے جتنی تعریف آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی کی گئی اتنی کسی کی بھی نہیں کی گئی۔ (فتح القدیر)

 ٦۔ (۳)  یعنی عیسیٰ علیہ السلام کے پیش کردہ معجزات کو جادو سے تعبیر کیا گیا، جس طرح گذشتہ قومیں بھی اپنے پیغمبروں کو اسی طرح کہتی رہیں۔ بعض نے اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ و سلم لئے ہیں جیسا کہ کفار مکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے تھے۔

٧۔ (۱)   یعنی اللہ کی اولاد قرار دے، یا جو جانور اس نے حرام قرار نہیں دیئے ان کو حرام باور کرائے۔

٧۔ (۲)  جو تمام دینوں میں اشرف اور اعلیٰ ہے، اس لئے جو شخص ایسا ہو، اس کو کب یہ زیب دیتا ہے یہ وہ کسی پر بھی جھوٹ گھڑے، چہ جائیکہ اللہ پر جھوٹ باندھے ؟

٨۔ (۱)   نور سے مراد قرآن، یا اسلام یا محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہے، یا دلائل و براہین ہیں ” منہ سے بجھا دیں ” کا مطلب ہے، وہ طعن کی وہ باتیں ہیں جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہیں۔

٨۔ (۲)  یعنی اس کو آفاق میں پھیلانے والا اور دوسرے تمام دینوں پر غالب کرنے والا ہے۔ دلائل کے لحاظ سے، یا مادی غلبے کے لحاظ سے یا دونوں لحاظ سے۔

٩۔ (۱)   یہ گذشتہ بات ہی کی تاکید ہے، اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے پھر دہرایا گیا ہے۔

٩۔(۲)   تاہم یہ لامحالہ ہو کر رہے گا۔

١٠۔ اس عمل (یعنی ایمان اور جہاد) کو تجارت سے تعبیر کیا، اس لئے کہ اس میں بھی انہیں تجارت کی طرح ہی نفع ہو گا وہ نفع کیا ہے ؟ جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات۔ اس سے بڑا نفع اور کیا ہو گا۔ اور وہ نفع کیا ہے اس بات کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا “ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسہم واموالھم بان الھم الجنۃ” اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کا سودا جنت کے بدلے میں کر لیا ہے۔

١٣۔ (۱)   یعنی جب تم اس کی راہ میں لڑو گے اور اس کے دین کی مدد کرو گے، تو وہ بھی تمہیں فتح و نصرت سے نوازے گا۔ “ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم“(سورہ محمد) “ولینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیز“(الحج) آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں اسے فتح قریب قرار دیا اور اس سے مراد فتح مکہ ہے اور بعض نے فارس و روم کی عظیم الشان سلطنتوں پر مسلمانوں کے غلبے کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ جو خلافت راشدہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوا۔

١٣۔ (۲)  جنت کی بھی، مرنے کے بعد اور فتح و نصرت کی بھی، دنیا میں، بشرطیکہ اہل ایمان ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہیں۔ “وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین“(ال عمران) آگے اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو اپنے دین کی نصرت کی مزید ترغیب دے رہا ہے۔

١٤۔ (۱)   تمام حالتوں میں، اپنے اقوال و افعال کے ذریعے سے بھی اور جان و مال کے ذریعے سے بھی۔ جب بھی جس وقت بھی اور جس حالت میں بھی تمہیں اللہ اور اس کا رسول اپنے دین کے لیے پکارے تم فورا ان کی پکار پر لبیک کہو، جس طرح حواریین نے عیسیٰ علیہ السلام کی پکار پر لبیک کہا۔

١٤۔ (۲)  یعنی ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس دین کی دعوت و تبلیغ میں مددگار ہیں جس کی نشر و اشاعت کا حکم اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایام حج میں فرماتے ” کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا سکوں، اس لئے کہ قریش مجھے فریضہ رسالت ادا نہیں کرنے دیتے ” حتیٰ کے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی پکار پر مدینے کے اوس اور خزرج نے لبیک کہا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی مدد کا وعدہ کیا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ پیشکش کی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو وعدے کے مطابق انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اور آپ کے تمام ساتھیوں کی مدد کی حتی کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کا نام ہی انصار رکھ دیا اور اب یہ ان کا علم بن گیا۔ رضی اللہ عنہم وارضاھم۔

١٤۔ (۳)  یہ یہود تھے جنہوں نے نبوت عیسیٰ علیہ السلام ہی کا انکار بلکہ ان پر اور ان کی ماں پر بہتان تراشی کی بعض کہتے ہیں کہ یہ اختلاف و تفرق اس وقت ہوا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ ایک نے کہا عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہی زمین پر ظہور فرمایا تھا، اب وہ پھر آسمان پر چلا گیا، یہ فرقہ یعقوبیہ کہلاتا ہے نسطوریہ فرقے نے کہا وہ اب اللہ کے بیٹے تھے، باپ نے بیٹے کو آسمان پر بلا لیا ہے، تیسرے فرقے نے کہا وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے، یہی فرقہ صحیح تھا۔

١٤۔(۴)یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو مبعوث فرما کر ہم نے اسی آخری جماعت کی دوسرے باطل گروہوں کے مقابلے میں مدد کی چنانچہ یہ صحیح عقیدے کی حامل جماعت نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لے آئی اور یوں ہم نے ان کو دلائل کے لحاظ سے بھی سب کافروں پر غلبہ عطا فرمایا اور قوت و سلطنت کے اعتبار سے بھی۔ اس غلبے کا آخری ظہور اس وقت پھر ہو گا۔ جب قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ نزول ہو گا جیسا کہ اس نزول اور غلبے کی صراحت احادیث صحیحہ میں تواتر کے ساتھ منقول ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ جُمُعَہ

 نبی صلی اللہ علیہ و سلم جمعہ کی نماز میں سورہ جمعہ اور منافقون پڑھا کرتے تھے (صحیح مسلم) تاہم ان کا جمعہ کی رات کو عشا کی نماز میں سورہ جمعہ اور کافرون کا پڑھنا صحیح روایت سے ثابت نہیں، البتہ ایک ضعیف روایت میں ایسا آتا ہے۔

٢۔ اُ مِّیِّینَ سے مراد عرب ہیں جن کی اکثریت ان پڑھ تھی۔ ان کے خصوصی ذکر کا یہ مطلب نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت دوسروں کے کے لئے نہیں تھی، لیکن چونکہ اولین مخاطب وہ تھے اس لئے اللہ کا ان پر زیادہ احسان تھا۔

٣۔ یہ امیین پر عطف ہے یعنی بَعَثَ فِیْ اَ خِرِ یْنَ مِنْھُمْ اَخَرِ یْنَ سے فارس اور دیگر غیر عرب لوگ ہیں جو قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانے والے ہوں گے، بعض کہتے ہیں کہ عرب و عجم کے وہ تمام لوگ ہیں جو عہد صحابہ کرام کے بعد قیامت تک ہوں گے چنانچہ اس میں فارس، روم، بربر، سوڈان، ترک، مغول، کرد، چینی اور اہل ہند وغیرہ سب آ جاتے ہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہم کی نبوت سب کے لیے ہے چنانچہ یہ سب ہی آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لائے۔ اور اسلام لانے کے بعد یہ بھی منہم کا مصداق یعنی اولین اسلام لانے والے امیین میں سے ہو گئے کیونکہ تمام مسلمان امت واحدہ ہیں۔ اسی ضمیر کی وجہ سے بعض کہتے ہیں کہ آخرین سے مراد بعد میں ہونے والے عرب ہیں کیونکہ منہم کی ضمیر کا مرجع امیین ہیں۔

٤۔ یہ اشارہ نبوت محمدی کی طرف ہو سکتا ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کی طرف بھی۔

٥۔ اَ سْفَار سَفْر کی جمع ہے، معنی ہیں بڑی کتاب۔ کتاب جب پڑھی جاتی ہے تو انسان اس کے معنوں میں سفر کرتا ہے اس لئے کتاب کو سفر کہا جاتا ہے (فتح القدیر) یہ بے عمل یہودیوں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ جس طرح گدھے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی کمر پر جو کتابیں لدی ہیں، ان میں کیا لکھا ہوا ہے۔ یا اس پر کتابیں لدی ہوئی ہیں یا کوڑا کرکٹ۔ اسی طرح یہ یہودی ہیں یہ تورات کو تو اٹھائے پھرتے ہیں، بلکہ اس میں تاویل و تحریف اور تغیر و تبدل سے کام لیتے ہیں۔ اس لیے یہ حقیقت میں گدھے سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ گدھا تو پیدائشی طور پر فہم و شعور سے ہی عاری ہوتا ہے، جب کہ ان کے اندر فہم و شعور ہے لیکن یہ اسے صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے۔ اسی لیے آگے فرمایا کہ ان کی بڑی بری مثال ہے۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا “الئک کالانعام بل ھم اضل”(الاعراف) یہ چوپائے کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں، یہی مثال مسلمانوں کی اور بالخصوص علماء کی ہے جو قرآن پڑھتے ہیں اسے یاد کرتے ہیں اور اس کے معانی و مطالب کو سمجھتے ہیں لیکن اس کے مقتضی پر عمل نہیں کرتے۔

٦۔ (۱)   جیسے وہ کہا کرتے تھے کہ ” ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے چہیتے ہیں (المائدہ۔١٨) اور دعویٰ کرتے تھے کہ ” جنت میں صرف وہی جائے گا جو یہودی یا نصرانی ہو گا ” (البقرۃ۔ ١١١)

٦۔ (۲)  تاکہ تمہیں وہ اعزاز و اکرام حاصل ہو جو تمہارے غرور کے مطابق تمہارے لئے ہونا چاہیئے،

٦۔ (۳)  اس لیے کہ جس کو یہ علم ہو کہ مرنے کے بعد اس کے لیے جنت ہے وہ تو وہاں جلد پہنچنے کا خواہش مند ہوتا ہے حافظ ابن کثیر نے اس کی تفسیر دعوت مباہلہ سے کی ہے۔ یعنی اس میں ان سے کہا گیا ہے کہ اگر تم نبوت محمدیہ کے انکار اور اپنے دعوائے ولایت و محبوبیت میں سچے ہو تو مسلمانوں کے ساتھ مباہلہ کر لو۔ یعنی مسلمان اور یہودی دونوں مل کر بارگاہ الہی میں دعا کریں کہ یا اللہ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہے اسے موت سے ہمکنار فرما دے۔

٧۔ یعنی کفر و معاصی اور کتاب الٰہی میں تحریف و تغیر کا جو ارتکاب یہ کرتے رہے ہیں، ان کے باعث کبھی بھی یہ موت کی آرزو نہیں کریں گے

٩۔ یہ اذان کس طرح دی جائے، اس کے الفاظ کیا ہوں ؟ یہ قرآن میں کہیں نہیں ہے۔ البتہ حدیث میں ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن ہے نہ اس پر عمل کرنا ہی۔ جمعہ کو، جمعہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ ہر چیز کی پیدائش سے فارغ ہو گیا تھا، یوں گویا تمام مخلوقات کا اس دن اجتماع ہو گیا، یا نماز کے لئے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے اس بنا پر کہتے ہیں (فتح القدیر) فَاَسْعَوْا کا مطلب یہ نہیں کہ دوڑ کر آؤ، بلکہ یہ ہے کہ اذان کے بعد فوراً کاروبار بند کر کے آ جاؤ۔ کیونکہ نماز کے لیے دوڑ کر آنا ممنوع ہے، وقار اور سکینت کے ساتھ آنے کی تاکید کی گئی ہے۔ (صحیح بخاری) بعض حضرات نے ذروا البیع (خرید و فروخت) چھوڑ دو سے استدلال کیا ہے کہ جمعہ صرف شہروں میں فرض ہے اہل دیہات پر نہیں۔ کیونکہ کاروبار اور خرید و فروخت شہروں میں ہی ہوتی ہے دیہاتوں میں نہیں۔ حالانکہ اول تو دنیا میں کوئی ایسا گاؤں نہیں جہاں خرید و فروخت اور کاروبار نہ ہوتا ہو اس لیے یہ دعویٰ خلاف واقعہ دوسرا بیع اور کاروبار سے مطلب دنیا کے مشاغل ہیں وہ جیسے بھی اور جس قسم کے بھی ہوں۔ اذان جمعہ کے بعد انہیں ترک کر دیا جائے۔ کیا اہل دیہات کے مشاغل دنیا نہیں ہوتے ؟ کیا کھتی باڑی کاروبار اور مشاغل دنیا سے مختلف چیز ہے۔

١٠۔ اس سے مراد کاروبار اور تجارت ہے۔ یعنی نماز جمعہ سے فارغ ہو کر تم اپنے اپنے کاروبار اور دنیا کے مشاغل میں مصروف ہو جاؤ۔ مقصد اس امر کی وضاحت ہے کہ جمعہ کے دن کاروبار بند رکھنے کی ضرورت نہیں۔ صرف نماز کے وقت ایسا کرنا ضروری ہے۔

١١۔ (۱)   ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جمعے کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک قافلہ آگیا، لوگوں کو پتہ چلا تو خطبہ چھوڑ کر باہر خرید و فروخت کے لئے چلے گئے کہ کہیں سامان فروخت ختم نہ ہو جائے صرف ١٢ آدمی مسجد میں رہ گئے جس پر یہ آیت نازل ہوئی (صحیح بخاری)۔ انفضاض کے معنی ہیں مائل اور متوجہ ہونا دوڑ کر منتشر ہو جانا۔ الیھا میں ضمیر کا مرجع تجارۃ ہے یہاں صرف ضمیر تجارت پر اکتفا کیا اس لیے کہ جب تجارت بھی باوجود جائز اور ضروری ہونے کے دوران خطبہ مذموم ہے تو کھیل وغیرہ کے مذموم ہونے کیا شک ہو سکتا ہے ؟ علاوہ ازیں قائما سے معلوم ہوا کہ خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر دینا سنت ہے۔ چنانچہ حدیث میں بھی آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے دو خطبے ہوتے تھے، جن کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ و سلم بیٹھتے تھے، قرآن پڑھتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرماتے۔ (صحیح مسلم)

١١۔ (۲)  یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے احکام کی اطاعت کی جو جزائے عظیم ہے

۔ ١١۔ (۳) جس کی طرف تم دوڑ کر گئے اور مسجد سے نکل گئے اور خطبہ جمعہ کی سماعت بھی نہیں کی۔

١١۔(۴) پس اسی سے روزی طلب کرو اور اطاعت کے ذریعے سے اسی کی طرف وسیلہ پکڑو۔ اس کی اطاعت اور اس کی طرف رزق حاصل کرنے کا بہت بڑا سبب ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ  المنٰفقون

١۔ (۱)   منافقین سے مراد عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ہیں۔ یہ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔

١۔ (۲)  یہ جملہ معترضہ ہے جو مضمون ما قبل کی تاکید کے لیے ہے جس کا اظہار منافقین بطور منافقت کے کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تو ویسے ہی زبان سے کہتے ہیں، ان کے دل اس یقین سے خالی ہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم واقعی اللہ کے رسول ہیں۔

 ١۔ (۳) اس بات میں کہ وہ دل سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں، یعنی دل سے گواہی نہیں دیتے صرف زبان سے دھوکا دینے کے لئے اظہار کرتے ہیں۔

٢۔ (۱)  یعنی وہ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تمہاری طرح مسلمان ہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں انہوں نے اپنی اس قسم کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ اس کے ذریعے سے وہ تم سے بچے رہتے ہیں اور کافروں کی طرح یہ تمہاری تلواروں کی زد میں نہیں آتے۔

٢۔ (۲)  دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ انہوں نے شک و شبہات پیدا کر کے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا۔

٣۔ اس سے معلوم ہوا کہ منافقین بھی صریح کافر ہیں۔

٤۔ (۱)  یعنی ان کے حسن و جمال اور رونق و شادابی کی وجہ سے۔

٤۔ (۲)  یعنی زبان کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے۔

٤۔ (۳)  یعنی اپنی درازیِ قد اور حسن و رعنائی، عدم فہم ور قلت خیر میں ایسے ہیں گویا کہ دیوار پر لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو تو بھلی لگتی ہے لیکن کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔

٤۔(۴) یعنی بزدل ایسے ہیں کہ کوئی زوردار آواز سن لیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم پر کوئی آفت نازل ہو گئی یا گھبرا اُٹھتے ہیں کہ ہمارے خلاف کسی کاروائی کا آغاز تو نہیں ہو رہا۔

٥۔ (۱)  یعنی استغفار سے اعراض کرتے ہوئے اپنے سروں کو موڑ لیتے ہیں۔

٥۔ (۲)  یعنی کہنے والے کی بات سے منہ موڑ لیں گے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اعراض کر لیں گے۔

٦۔ (۱)  اپنے نفاق پر اصرار اور کفر پر قائم رہنے کی وجہ سے وہ ایسے مقام پر پہنچ گئے جہاں استغفار اور عدم استغفار ان کے حق میں برابر ہے۔

٦۔ (۲)  اگر اسی حالت میں نفاق میں مر گئے۔ ہاں اگر وہ زندگی میں کفر و نفاق سے تائب ہو جائیں تو بات اور ہے، پھر ان کی مغفرت ممکن ہے۔

٧۔ (۱)  مطلب یہ کہ مہاجرین کا رازق اللہ تعالیٰ ہے اس لئے رزق کے خزانے اسی کے پاس ہیں، وہ جس کو جتنا چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے۔

 ٧۔ (۲)  منافق اس حقیقت کو نہیں جانتے، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ انصار اگر مہاجرین کی طرف دست تعاون دراز نہ کریں تو وہ بھوکے مر جائیں گے۔

٨۔ (۱)  اس کا کہنے والا رئیس المنافق عبد اللہ بن ابی تھا، عزت والے سے اس کی مراد تھی، وہ خود اور اس کے رفقاء اور ذلت والے سے (نعوذ باللہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمان۔

۸۔ (۲)  یعنی عزت اور غلبہ صرف ایک اللہ کے لیے ہے اور پھر وہ اپنی طرف سے جس کو چاہے عزت وغلبہ عطا فرمادے۔

۸۔ (۳)  اس لیے ایسے کام نہیں کرتے جو ان کے لیے مفید ہیں اور ان چیزوں سے نہیں بچتے جو اس کے لیے نقصان دہ ہیں۔

٩۔ یعنی مال اور اولاد کی محبت تم پر غالب آ جائے کہ تم اللہ کے بتلائے ہوئے احکام و فرائض سے غافل ہو جاؤ اور اللہ کی قائم کردہ حلال و حرام کی حدوں کی پروا نہ کرو۔

١٠۔ (۱)  خرچ کرنے سے مراد زکوٰۃ کی ادائیگی اور دیگر امور خیر میں خرچ کرنا ہے۔

۱۰۔ (۲)  اس سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ میں اور اسی طرح اگر حج کی استطاعت ہو تو اس کی ادائیگی میں قطعاً تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ موت کا کوئی پتہ نہیں کس وقت آ جائے ؟ اور یہ فرائض اس کے ذمے رہ جائیں۔

٭٭٭

 

سورۃ  التَغابُن

۱۔ (۱)  یعنی آسمان و زمین کی ہر مخلوق اللہ تعالیٰ کی ہر نقص و عیب سے تنزیہ وتقدیس بیان کرتی ہے زبان حال سے بھی اور زبان مقال سے بھی۔ جیسا کہ پہلے گزرا۔

١۔ (۲) یہ دونوں خوبیاں بھی اسی کے ساتھ خاص ہیں۔ اگر کسی کو کوئی اختیار حاصل ہے تو وہ اسی کا عطا کردہ ہے جو عارضی ہے، کسی کے پاس کچھ حسن و کمال ہے تو اسی مبدأ فیض کی کرم گستری کا نتیجہ ہے، اس لئے اصل تعریف کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔

۲۔یعنی انسان کے لیے خیر و شر، نیکی اور بدی اور کفر و ایمان کے راستوں کی وضاحت کے بعد اللہ نے انسان کو ارادہ و اختیار کی جو آزادی دی ہے اس کی رو سے کسی نے کفر کا اور کسی نے ایمان کا راستہ اپنایا ہے اس نے کسی پر جبر نہیں کیا ہے۔ اگر وہ جبر کرتا تو کوئی بھی شخص کفر کا راستہ اختیار کرنے پر قادر نہ ہوتا۔

٣۔ (۱)  اور وہ عدل و حکمت یہی ہے کہ محسن کو احسان کی اور بدکار کو اس کی بدی کی جزا دے، چنانچہ وہ اس عدل کا مکمل اہتمام قیامت والے دن فرمائے گا۔

۳۔ (۲)  تمہاری شکل و صورت، قدو قامت اور خدوخال نہایت خوبصورت بنائے۔ جس سے اللہ کی دوسری مخلوق محروم ہے۔

٣۔ (۲)  کسی اور کی طرف نہیں، کہ اللہ کے محاسبے اور مؤاخذے سے بچاؤ ہو جائے۔

٤۔ یعنی اس کا علم کائنات ارضی و سماوی سب پر محیط ہے بلکہ تمہارے سینوں کے رازوں تک سے واقف ہے، اس سے قبل جو وعدے اور وعیدیں بیان ہوئی ہیں، یہ ان کی تاکید ہے۔

٥۔ (۱)  یعنی دنیاوی عذاب کے علاوہ آخرت میں۔

۵۔ (۲)  یہ اشارہ ہے اس عذاب کی طرف جو دنیا میں انہیں ملا اور آخرت میں بھی انہیں ملے گا۔

٦۔ (۱)  چنانچہ اس بنا پر انہوں نے رسولوں کو رسول ما ننے سے اور ان پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔

٦۔ (۲)  یعنی ان سے اعراض کیا اور جو دعوت وہ پیش کرتے تھے، اس پر انہوں نے غور و تدبر ہی نہیں کیا۔

٦۔ (۳) یعنی ان کے ایمان اور ان کی عبادت سے۔

٦۔(۴) اس کو کسی کی عبادت سے کیا فائدہ اور اس کی عبادت سے انکار کرنے سے کیا نقصان؟

 ٦۔(۵) یا محمود ہے تمام مخلوقات کی طرف سے یعنی ہر مخلوق زبان حال و قال سے اس کی حمد و تعریف میں رطب اللسان ہے۔

۷۔(۱)  یعنی یہ عقیدہ کے قیامت والے دن دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے یہ کافروں کا محض گمان ہے جس کی پشت پر دلیل کوئی نہیں۔زعم کا اطلاق کذب پر بھی ہوتا ہے۔

۷۔ (۲)  قرآن مجید میں تین مقامات پر اللہ نے اپنے رسول کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر یہ اعلان کرے کہ اللہ تعالیٰ ضرور دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ ان میں سے ایک یہ مقام ہے اس سے قبل ایک مقام سورہ یونس، اور دوسرا مقام سورہ سبا ہے۔

۷۔ (۳)  یہ وقوع قیامت کی حکمت ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو کیوں دوبارہ زندہ کرے گا؟ تاکہ وہاں پر ہر ایک کو اس کے عمل کی پوری جزا دی جائے۔

٧۔(۴) یہ دوبارہ زندگی، انسانوں کو کتنی ہی مشکل نظر آتی ہو، لیکن اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔

٨۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نازل ہونے والا یہ نور قرآن مجید ہے، جس سے گمراہی کی تاریکیاں چھٹتی ہیں اور ایمان کی روشنی پھیلتی ہے۔

۹۔(۱)  قیامت کو یوم الجمع اس لیے کہا کہ اس دن اول و آخر سب ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے فرشتے کی آواز سب سنیں گے ہر ایک کی نگاہ آخر تک پہنچے گی کیونکہ درمیان میں کوئی چیز حائل نہ ہو گی۔

٩۔ (۲)  یعنی ایک گروہ جیت جائے گا اور ایک ہار جائے گا، اہل حق اہل باطن پر، ایمان والے اہل کفر پر اور اہل طاعت اہل معصیت پر جیت جائیں گے، سب سے بڑی جیت اہل ایمان کو یہ حاصل ہو گی کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے اور سب سے بڑی ہار جہنمیوں کے حصے آئے گی جو جہنم میں داخل ہوں گے۔

١١۔ (۱)  یعنی اس کی تقدیر اور مشیت سے ہی اس کا ظہور ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کے نزول کا سبب کفار کا یہ قول ہے کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے تو دنیا کی مصیبتیں انہیں نہ پہنچتیں (فتح القدیر)

۱۱۔ (۲)  یعنی وہ جان لیتا ہے کہ اسے جو کچھ پہنچا ہے اللہ کی مشیت اور اس کے حکم سے ہی پہنچا ہے پس وہ صبر اور رضا بالقضاء کا مظاہرہ کرتا ہے۔

١٢۔ یعنی ہمارے رسول کا اس سے کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ اس کا کام صرف تبلیغ ہے۔ امام زہری فرماتے ہیں، اللہ کا کام رسول بھیجنا ہے، رسول کا کام تبلیغ اور لوگوں کا کام تسلیم کرنا ہے (فتح القدیر)

۱۳۔ یعنی تمام معاملات اسی کو سونپیں، اسی پر اعتماد کریں اور صرف اسی سے دعا والتجا کریں کیونکہ اس کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہے ہی نہیں۔

١٤۔ (۱)  یعنی جو تمہیں عمل صالح اور اطاعت الٰہی سے روکیں، سمجھ لو وہ تمہارے خیر خواہ نہیں، دشمن ہیں۔

١٤۔ (۲)  یعنی ان کے پیچھے لگنے سے بچو، بلکہ انہیں اپنے پیچھے لگاؤ تاکہ وہ بھی اطاعت الٰہی اختیار کریں، نہ کہ ان کے پیچھ لگ کر اپنی عاقبت خراب کر لو۔

١٤۔ (۳) اس کا سبب نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ مکے میں مسلمان ہونے والے بعض مسلمانوں نے مکہ چھوڑ کر مدینہ آنے کا ارادہ کیا، جیسا کہ اس وقت ہجرت کا حکم نہایت تاکید کے ساتھ دیا گیا تھا۔ لیکن ان کے بیوی بچے آڑے آ گئے اور انہوں نے انہیں ہجرت نہیں کرنے دی پھر بعد میں جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آ گئے تو دیکھا کہ ان سے پہلے آنے والوں نے دین میں بہت زیادہ سمجھ حاصل کر لی تو انہیں اپنے بیوی بچوں پر غصہ آیا، جنہوں نے انہیں ہجرت سے روکا تھا، چنانچہ انہوں نے ان کو سزا دینے کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں انہیں معاف کرنے اور درگزر سے کام لینے کی تلقین فرمائی۔

۱۵۔ (۱)  جو تمہیں کسب حرام پر اکساتے ہیں اور اللہ کے حقوق ادا کرنے سے روکتے ہیں پس اس آزمائش میں تم اسی وقت سرخرو ہو سکتے ہو جب تم اللہ کی معصیت میں ان کی اطاعت نہ کرو۔ مطلب یہ ہوا کہ مال و اولاد جہاں اللہ کی نعمت ہیں وہاں انسان کی آزمائش کا ذریعہ بھی ہیں اس طرح اللہ دیکھتا ہے کہ کون میرا فرمانبردار ہے اور کون نافرمان۔

١٥۔ (۲)  یعنی اس شخص کے لئے جو مال و اولاد کی محبت کے مقابلے میں اللہ کی اطاعت کو ترجیح دیتا ہے اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کرتا ہے۔

١٦۔ یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی باتوں کو توجہ اور غور سے سنو اور ان پر عمل کرو۔ اس لئے کہ صرف سن لینا بے فائدہ ہے، جب تک عمل نہ ہو۔

١٧۔ (۱)  یعنی اخلاص نیت اور طیب نفس کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔

١٧۔ (۲)  یعنی کئی کئی گنا بڑھانے کے ساتھ وہ تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔

١٧۔ (۳) وہ اپنے اطاعت گزاروں کو اجر و ثواب سے نوازتا ہے اور گناہ گاروں کی فوری باز پرس نہیں فرماتا۔

٭٭٭

 

سورۃ  الطَلاق

١۔ (۱)  نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے خطاب آپ کے شرف و مرتب کی وجہ سے ہے، ورنہ حکم تو امت کو دیا جا رہا ہے۔ یا آپ ہی کو بطور خاص خطاب ہے۔ اور جمع کا صیغہ بطور تعظیم کے ہے اور امت کے لیے آپ کا اسوہ ہی کافی ہے۔ طَلَّقْتُمْ کا مطلب ہے جب طلاق دینے کا پختہ ارادہ کر لو۔

١۔ (۲)  اس میں طلاق دینے کا طریقہ اور وقت بتلایا ہے لعدتھن میں لام توقیت کے لیے ہے۔ یعنی لاول یا لاستقبال عدتھن (عدت کے آغاز میں طلاق دو۔ یعنی جب عورت حیض سے پاک ہو جائے تو اس سے ہم بستری کے بغیر طلاق دوحالت طہر میں اسکی عدت کا آغاز ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے حیض کی حالت میں یا طہر میں ہم بستری کرنے کے بعد طلاق دینا غلط طریقہ ہے اسکو فقہا طلاق بدعی سے اور پہلے صحیح طریقے کو طلاق سنت سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسکی تایید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حیض کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم غضبناک ہوئے اور انہیں اس سے رجوع کرنے کے ساتھ حکم دیا کہ حالت طہر میں طلاق دینا اور اسکے لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی آیت سے استدلال فرمایا۔ (صحیح بخاری) تاہم حیض میں دی گئی طلاق بھی باوجود بدعی ہونے کے واقع ہو جائے گی۔ محدثین اور جمہور علماء اسی بات کے قائل ہیں البتہ امام ابن قیم اور امام ابن تیمیہ طلاق بدعی کے وقوع کے قائل نہیں ہیں۔

 ١۔ (۳) یعنی اس کی ابتدا اور انتہا کا خیال رکھو، تاکہ عورت اس کے بعد نکاح ثانی کر سکے، یا اگر تم ہی رجوع کرنا چاہو، (پہلی اور دوسری طلاق کی صورت میں ) تو عدت کے اندر رجوع کر سکو

١۔(۴) یعنی طلاق دیتے ہی عورت کو اپنے گھر سے مت نکالو، بلکہ عدت تک اسے گھر ہی میں رہنے دو اور اس وقت تک رہائش اور نان و نفقہ تمہاری ذمہ داری ہے۔

١۔(٥) یعنی عدت کے دوران خود عورت بھی گھر سے باہر نکلنے سے احتراز کرے الا یہ کہ کوئی بہت ہی ضروری معاملہ ہو۔

١۔(٦) یعنی بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھے یا بد زبانی اور بد اخلاقی کا مظاہرہ کرے جس سے گھر والوں کو تکلیف ہو۔ دونوں صورتوں میں اس کا اخراج جائز ہو گا۔

١۔(٧) یعنی مرد کے دل میں مطلقہ عورت کی رغبت پیدا کر دے اور وہ رجوع کرنے پر آمادہ ہو جائے جیسا کہ پہلی دوسری طلاق کے بعد خاوند کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔

٢۔ (۱)  مطلقہ مدخولہ کی عدت تین حیض ہے۔ اگر رجوع کرنا مقصود ہو تو عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے رجوع کر لو۔ بصورت دیگر انہیں معروف کے مطابق اپنے سے جدا کر دو۔

٢۔ (۲)  اس رجعت اور بعض کے نزدیک طلاق پر گواہ کر لو۔ یہ امر وجوب کے لئے نہیں، استحباب کے لئے ہے، یعنی گواہ بنا لینا بہتر ہے تاہم ضروری نہیں۔

٢۔ (۳) یہ تاکید گواہوں کو ہے کہ وہ کسی کی رو رعایت اور لالچ کے بغیر صحیح صحیح گواہی دیں۔

 ٢۔(۴) یعنی شدائد اور آزمائشوں سے نکلنے کی سبیل پیدا فرما دیتا ہے

٣۔ (۱)  یعنی وہ جو چاہے۔ اسے کوئی روکنے والا نہیں۔

٣۔ (۲)  تنگیوں کے لئے بھی اور آسانیوں کے لئے بھی۔ یہ دونوں اپنے وقت پر انتہا پذیر ہو جاتے ہیں۔ بعض نے اس سے حیض اور عدت مراد لی ہے۔

٤۔ (۱)  یہ ان کی عدت ہے جن کا حیض عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے بند ہو گیا ہو، یا جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو۔ واضح رہے کہ نادر طور پر ایسا ہوتا ہے کہ عورت سن بلوغت کو پہنچ جاتی ہے اور اسے حیض ہی نہیں آتا۔

 ٤۔ (۲)  مطلقہ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے، چاہے دوسرے روز ہی وضع حمل ہو جائے، ہر حاملہ عورت کی عدت یہی ہے چاہے وہ مطلقہ ہو یا اس کا خاوند فوت ہو گیا ہو۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (صحیح بخاری) اور جن کے خاوند فوت ہو جائیں ان کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔

٦۔ (۱)  یعنی مطلقہ رجعیہ کو۔ اس لیے کہ مطلقہ بائنہ کے لیے تو رہائش اور نفقہ ضروری ہی نہیں۔ اپنی طاقت کے مطابق رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر مکان فراخ ہو اور اس میں متعدد کمرے ہوں تو ایک کمرہ اس کے لیے مخصوص کر دیا جائے۔ بصورت دیگر اپنا کمرہ اس کے لیے خالی کر دے۔ اس میں حکمت یہی ہے کہ قریب رہ کر عدت گزارے گی تو شاید خاوند کا دل پسیج جائے اور رجوع کرنے کی رغبت اس کے دل میں پیدا ہو جائے خاص طور پر اگر بچے بھی ہوں تو پھر رغبت اور رجوع کا قوی امکان ہے۔ مگر افسوس ہے کہ مسلمان اس ہدایت پر عمل نہیں کرتے جس کی وجہ سے اس حکم کے فوائد سے بھی محروم ہیں۔ ہمارے معاشرے میں طلاق کے ساتھ ہی جس طرح عورت کو فوراً چھوت بنا کر گھر سے نکال دیا جاتا ہے، یا بعض دفعہ لڑکی والے اسے اپنے گھر لے جاتے ہیں، یہ رواج قرآن کریم کی صریح تعلیم کے خلاف ہے۔

٦۔ (۲)  یعنی نان نفقہ میں یا رہائش میں اسے تنگ اور بے آبرو کرنا تاکہ وہ گھر چھوڑ جائے۔ عدت کے دوران ایسا رویہ اختیار نہ کیا جائے۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے عدت ہو جانے کے قریب ہو تو رجوع کر لے اور بار بار ایسا نہ کرے، جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں کیا جاتا تھا۔ جس کے سد باب کے لیے شریعت نے طلاق کے بعد رجوع کرنے کی حد مقرر فرما دی تاکہ کوئی شخص آئندہ اس طرح عورت کو تنگ نہ کرے، اب ایک انسان دو مرتبہ تو ایسا کر سکتا ہے یعنی طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لے۔ لیکن تیسری مرتبہ جب طلاق دے گا تو اس کے بعد اس کے رجوع کا حق بھی ختم ہو جائے گا۔

 ٦۔ (۲)  یعنی مطلقہ خواہ بائنہ ہی کیوں نہ ہو، اگر حاملہ ہے تو اس کا نفقہ و رہائش ضروری ہے، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے۔

٦۔ (۳) یعنی طلاق دینے کے بعد اگر وہ تمہارے بچے کو دودھ پلائے تو اس کی اجرت تمہارے ذمے ہے۔

٦۔(۴) یعنی باہم مشورے سے اجرت اور دیگر معاملات طے کر لئے جائیں۔ مثلاً بچے کا باپ حیثیت کے مطابق اجرت دے اور ماں، باپ کی حیثیت کے مطابق اجرت طلب کرے، وغیرہ۔

٦۔(۵) یعنی آپس میں اجرت وغیرہ کا معاملہ طے نہ ہو سکے تو کسی دوسری انا کے ساتھ معاملہ کر لے جو اسکے بچے کو دودھ پلائے

۷۔ (۱)  یعنی دودھ پلانے والی عورتوں کو اجرت اپنی طاقت کے مطابق دی جائے اگر اللہ نے مال ودولت میں فراخی عطا فرمائی ہے تو اسی فراخی کے ساتھ مرضعۃ کی خدمت ضروری ہے۔

۷۔ (۲)  یعنی مالی لحاظ سے کمزور ہو۔

۷۔ (۳)  اس لیے وہ غریب اور کمزور کو یہ حکم نہیں دیتا کہ وہ دودھ پلانے والی کو زیادہ اجرت ہی دے۔ مطلب ان ہدایات کا یہ ہے کہ بچے کی ماں اور بچے کا باپ دونوں ایسا مناسب رویہ اختیار کریں کہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے اور بچے کو دودھ پلانے کا مسئلہ سنگین نہ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا لاتضار والدۃ بولدھا ولا مولود لہ بولدہ (البقرہ) نہ ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف پہنچائی جائے اور نہ باپ کو۔

۷۔(۴)چنانچہ جو اللہ پر اعتماد و توکل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو آسانی و کشادگی سے بھی نواز دیتا ہے۔

۸۔ (۱)  عَتَتُ، ای تمردت وطغت و استکبرت عن اتباع امر اللہ تعالیٰ و متابعۃ رسلہ۔

۷۔ (۲)  نکرا، منکرا فظیعا، حساب اور عذاب، دونوں سے مراد دنیاوی مواخذہ اور سزا ہے یا پھر بقول بعض کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ عذابا نکرا، وہ عذاب ہے جو دنیا میں قحط، خسف و مسخ وغیرہ کی شکل میں انہیں پہنچا، اور حسابا شدیدا وہ ہے جو آخرت میں ہو گا۔

١١۔ (۱)  رسول، ذکر سے بدل ہے، بطور مبالغہ رسول کو ذکر سے تعبیر فرمایا، جیسے کہتے ہیں، وہ مجسم عدل ہے۔ یا ذکر سے مراد قرآن ہے اور رسولاً سے پہلے اَرْسَلْنَا محذوف ہے یعنی ذکر (قرآن) کو نازل کیا اور رسول کو ارسال کیا۔

١١۔ (۲)  یہ رسول کا منصب اور فریضہ بیان کیا گیا کہ وہ قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو اخلاقی پستیوں سے شرک و ضلالت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان و عمل صالح کی روشنی کی طرف لاتا ہے۔ رسول سے یہاں مراد الرسول یعنی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔

١١۔ (۳)  عمل صالح میں دونوں باتیں شامل ہیں احکام و فرائض کی ادائیگی اور معصیات و منہیات سے اجتناب، مطلب ہے کہ جنت میں وہی اہل ایمان داخل ہوں گے، جنہوں نے صرف زبان سے ہی ایمان کا اظہار نہیں کیا تھا، بلکہ انہوں نے ایمان کے تقاضوں کے مطابق فرائض پر عمل اور معاصی سے اجتناب کیا تھا۔

١٢۔ (۱)  ای خلق من الارض مثلھن۔ یعنی سات آسمانوں کی طرح، اللہ نے سات زمینیں بھی پیدا کی ہیں۔ بعض نے اس سے سات اقالیم مراد لیے ہیں، لیکن یہ صحیح نہیں۔ بلکہ جس طرح اوپر نیچے سات آسمان ہیں۔ اسی طرح سات زمینیں ہیں، جن کے درمیان بعد و مسافت ہے اور ہر زمین میں اللہ کی مخلوق آباد ہے۔ (القرطبی) احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ جیسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا من اخذ شبرا من الارض ظلاما فانہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع ارضین (صحیح مسلم) جس نے کسی کی ایک بالشت زمین بھی ہتھیا لی تو قیامت والے دن اس زمین کا اتنا حصہ ساتوں زمینوں سے طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔(صحیح بخاری) اور صحیح بخاری کے الفاظ ہیں خسف بہ الی سبع ارضین یعنی اس کو ساتوں زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر زمین میں اسی طرح کا پیغمبر ہے جس طرح کا پیغمبر تمہاری زمین پر آیا مثلاً آدم آدم کی طرح، نوح نوح کی طرح، ابراہیم ابراہیم کی طرح، عیسیٰ عیسیٰ کی طرح۔ لیکن یہ بات کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں۔

١٢۔ (۲)  یعنی جس طرح ہر آسمان پر اللہ کا حکم نافذ اور غالب ہے، اسی طرح ہر زمین پر اس کا حکم چلتا ہے، آسمانوں کی طرح ساتوں زمینوں کی بھی وہ تدبیر فرماتا ہے۔

 ١٢۔ (۳)  پس اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں، چاہے وہ کیسی ہی ہو۔

٭٭٭

 

سورۃ  التحریم

١۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جس چیز کو اپنے لئے حرام کر لیا تھا، وہ کیا تھی؟ جس پر اللہ نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ اس سلسلے میں ایک تو وہ مشہور واقعہ ہے جو صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں نقل ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ دیر ٹھہرتے اور وہاں شہد پیتے، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما دونوں نے وہاں معمول سے زیادہ دیر تک آپ کو ٹھہرنے سے روکنے کے لئے یہ سکیم تیار کی کہ ان میں سے جس کے پاس بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائیں تو وہ ان سے کہے کہ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے منہ سے مغافیر (ایک قسم کا پھول جس میں گوشت مچھلی کی سی بو ہوتی ہے ) کی بو آ رہی ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، میں نے تو زینب رضی اللہ کے گھر صرف شہد پیا ہے۔ اب میں قسم کھاتا ہوں کہ یہ نہیں پیوں گا، لیکن یہ بات تم کسی کو مت بتلانا۔ صحیح بخاری۔ سنن نسائی میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایک لونڈی تھی جس کو آپ نے اپنے اوپر حرام کر لیا تھا (سنن نسائی) جب کہ کچھ دوسرے علماء اسے ضعیف قرار دیتے ہیں اس کی تفصیل دوسری کتابوں میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ یہ حضرت ماریہ قبطیہ تھیں جن سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صاحبزادے ابراہیم تولد ہوئے تھے یہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ کے گھر آ گئی تھیں جب کہ حضرت حفصہ رضی اللہ موجود نہیں تھیں اتفاق سے انہی کی موجودگی میں حضرت حفصہ رضی اللہ آ گئیں انہیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ اپنے گھر میں خلوت میں دیکھنا ناگوار گزرا جسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی محسوس فرمایا جس پر آپ نے حضرت حفصہ کو راضی کرنے کے لیے قسم کھا کر ماریہ رضی اللہ کو اپنے اوپر حرام کر لیا اور حفصہ رضی اللہ کو تاکید کی کہ وہ یہ بات کسی کو نہ بتلائے امام ابن حجر ایک تو یہ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ مختلف طرق سے نقل ہوا ہے جو ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتے ہیں دوسری بات وہ یہ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے بیک وقت دونوں ہی واقعات اس آیت کے نزول کا سبب بنے ہوں۔فتح الباری۔ امام شوکانی نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا ہے اور دونوں کو صحیح قرار دیا ہے اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام کرنے کا اختیار کسی کے پاس بھی نہیں ہے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی یہ اختیار نہیں رکھتے۔

٢۔ یعنی کفارہ ادا کر کے اس کام کو کرنے کی، جس کی نہ کرنے کی قسم کھائی ہو، اجازت دے دی، قسم کا یہ کفارہ سورۃ مائد ۃ۔ ٨٩ میں بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی کفارہ ادا کیا (فتح القدیر) اس امر میں علماء کے مابین اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے تو اس کا یہ حکم ہے ؟ جمہور علماء کے نزدیک بیوی کے علاوہ کسی چیز کو حرام کرنے سے وہ چیز حرام ہو گی اور نہ اس پر کفارہ ہے، اگر بیوی کو اپنے اوپر حرام کرے گا تو اس سے اس کا مقصد اگر طلاق ہے تو طلاق ہو جائے گی اور اگر طلاق کی نیت نہیں ہے تو راجح قول کے مطابق یہ قسم ہے، اس کے لئے کفارہ کی ادائیگی ضروری ہے۔ (ایسر التفاسیر)۔

٣۔(۱)   وہ پوشیدہ بات شہد کو یا ماریہ کو حرام کرنے والی بات تھی جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت حفصہ سے کی تھی۔

٣۔ (۲)  یعنی حفصہ رضی اللہ نے وہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ کو جا کر بتلا دی۔

٣۔ (۳) یعنی حفصہ رضی اللہ کو بتلا دیا کہ تم نے میرا راز فاش کر دیا ہے۔ تاہم اپنی تکریم و عظمت کے پیش نظر ساری بات بتانے سے اعراض فرمایا۔

٣۔(۴) جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حفصہ رضی اللہ کو بتلایا کہ تم نے میرا راز ظاہر کر دیا ہے تو وہ حیران ہوئیں کیونکہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ کے علاوہ کسی کو یہ بات نہیں بتلائی تھی اور عائشہ رضی اللہ سے انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ وہ آپ کو بتلا دیں گی، کیونکہ وہ شریک معاملہ تھیں۔

٣۔(٥) اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر وحی کا نزول ہوتا تھا۔

٤۔ (۱)  یا تمہاری توبہ قبول کر لی جائے گی یہ شرط ان تتوبا کا جواب محذوف ہے۔

٤۔ (۲)  یعنی حق سے ہٹ گئے ہیں اور وہ ہے ان کا ایسی چیز پسند کرنا جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے ناگوار تھی (فتح القدیر)

 ٤۔ (۳)  یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلے میں تم جتھا بندی کرو گی تو نبی کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گی، اس لئے کہ نبی کا مددگار تو اللہ بھی ہے اور مومنین اور ملائکہ بھی۔

۵۔ (۱)  یہ تنبیہ کے طور پر ازواج مطہرات کو کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو تم سے بھی بہتر بیویاں عطا کر سکتا ہے

۵۔ (۲)  ثیبات۔ثیب کی جمع ہے (لوٹ آنے والی) بیوہ عورت کو ثیب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ خاوند سے واپس لوٹ آتی ہے اور پھر اس طرح بے خاوند رہ جاتی ہے جیسے پہلے تھی ابکار بکر کی جمع ہے کنواری عورت اسے بکر اسی لیے کہتے ہیں کہ یہ ابھی اپنی اسی پہلی حالت پر ہوتی ہے جس پر اس کی تخلیق ہوتی ہے فتح القدیر۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ثیب سے حضرت آسیہ فرعون کی بیوی اور بکر سے حضرت مریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ مراد ہیں یعنی جنت میں ان دونوں کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں بنا دیا جائے گا ممکن ہے کہ ایسا ہو لیکن ان روایات کی بنیاد پر ایسا خیال رکھنا یا بیان کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ سنداً یہ روایات پایہ اعتبار سے ساقط ہیں۔

 ٦۔ اس میں اہل ایمان کو ان کی ایک نہایت اہم ذمے داری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور وہ ہے اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح اور ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا اہتمام تاکہ یہ سب جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائیں اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ جب بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے نماز کی تلقین کرو اور دس سال عمر کے بچوں میں نماز سے تساہل دیکھو تو انہیں سرزنش کرو سنن ابی داؤد۔فقہا نے کہا ہے اسی طرح روزے ان سے رکھوائے جائیں اور دیگر احکام کے اتباع کی تلقین انہیں کی جائے تاکہ جب وہ شعور کی عمر کو پہنچیں تو اس دین حق کا شعور بھی انہیں حاصل ہو چکا ہو۔ ابن کثیر۔

٨۔ (۱)  خالص توبہ یہ ہے کہ، ١۔ جس گناہ سے توبہ کر رہا ہے، اسے ترک کر دے ٢۔ اس پر اللہ کی بارگاہ میں ندامت کا اظہار کرے، ٣۔ آئندہ اسے نہ کرنے کا عزم رکھے، ٤۔ اگر اس کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو جس کا حق غصب کیا ہے اس کا ازالہ کرے، جس کے ساتھ زیادتی کی ہے اس سے معافی مانگے، محض زبان سے توبہ توبہ کر لینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

٨۔ (۲)  یہ دعا اہل ایمان اس وقت کریں جب منافقین کا نور بجھا دیا جائے گا، جیسا سورہ حدید میں تفصیل گزری، اہل ایمان کہیں گے، جنت میں داخل ہونے تک ہمارے اس نور کو باقی رکھ اور اس کا اتمام فرما۔

٩۔ (۱)  کفار کے ساتھ جہاد، و قتال کے ساتھ اور منافقین سے، ان پر حدود الٰہی قائم کر کے، جب وہ ایسے کام کریں جو موجب حد ہوں۔

۹۔ (۲)  یعنی دعوت و تبلیغ میں سختی اور احکام شریعت میں درشتی اختیار کریں کیونکہ یہ لاتوں کے بھوت ہیں جو باتوں سے ماننے والے نہیں ہیں اس کا مطلب ہے کہ حکمت تبلیغ کبھی نرمی کی متقاضی ہوتی ہے اور کبھی سختی کی ہر جگہ نرمی بھی مناسب نہیں اور ہر جگہ سختی بھی مفید نہیں رہتی تبلیغ و دعوت میں حالات و ظروف اور اشخاص و افراد کے اعتبار سے نرمی یا سختی کرنے کی ضرورت ہے۔

۹۔ (۳)  یعنی کافروں اور منافقوں دونوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔

۱۰۔ (۱)  مثل کا مطلب ہے کسی ایسی حالت کا بیان کرنا جس میں ندرت و غرابت ہوتا کہ اس کے ذریعے سے ایک دوسری حالت کا تعارف ہو جائے جو ندرت و غرابت میں اس کے مماثل ہو مطلب یہ ہوا کہ ان کافروں کے حال کے لیے اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے جو نوح اور لوط علیہما السلام کی بیوی کی ہے۔

۱۰۔ (۲)  یہاں خیانت سے مراد ہے کہ یہ اپنے خاوندوں پر ایمان نہیں لائیں نفاق میں مبتلا رہیں اور ان کی ہمدردیاں اپنی کافر قوموں کے ساتھ رہیں چنانچہ نوح علیہ السلام کی بیوی، حضرت نوح علیہ السلام کی بابت لوگوں سے کہتی کہ یہ مجنون ہے اور لوط علیہ السلام کی بیوی اپنی قوم کو گھر میں آنے والے مہمانوں کی اطلاع پہنچاتی تھی بعض کہتے ہیں کہ یہ دونوں اپنی قوم کے لوگوں میں اپنے خاوندوں کی چغلیاں کھاتی تھیں۔

١٠۔ (۳)  یعنی نوح اور لوط علیہما السلام دونوں، باوجود اس بات کے کہ وہ اللہ کے پیغمبر تھے، جو اللہ کے مقرب ترین بندوں میں سے ہوتے ہیں، اپنی بیویوں کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکے

۱۰۔(۴) یہ انہیں قیامت والے دن کہا جائے گا یا موت کے وقت انہیں کہا گیا کافروں کی یہ مثال بطور خاص یہاں ذکر کرنے سے مقصود ازواج مظہرات کو تنبیہ کرنا ہے کہ وہ بیشک اس رسول کے حرم کی زینت ہیں جو تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہے لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر انہوں نے رسول کی مخالفت کی یا انہیں تکلیف پہنچائی تو وہ بھی اللہ کی گرفت میں آسکتی ہیں اور اگر ایسا ہو گیا تو پھر کوئی ان کو بچانے والا نہیں ہو گا۔

١١۔ یعنی ان کی ترغیب ثبات قدمی، استقامت فی الدین اور شدائد میں صبر کے لئے۔ نیز یہ بتلانے کے لئے کہ کفر کی صولت و شوکت، ایمان والوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، جیسے فرعون کی بیوی ہے جو اپنے وقت کے سب سے بڑے کافر کے تحت تھی۔ لیکن وہ اپنی بیوی کو ایمان سے نہیں روک سکا۔

١٢۔ (۱)  حضرت مریم علیہا السلام کے ذکر سے مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ باوجود اس بات کے کہ وہ ایک بگڑی ہوئی قوم کے درمیان رہتی تھی، لیکن اللہ نے انہیں دنیا و آخرت میں شرف و کرامت سے سرفراز فرمایا اور تمام جہان کی عورتوں پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔

۱۲۔ (۲)  کلمات رب سے مراد شرائع الہی ہیں۔

۱۲۔ (۳)  یعنی ایسے لوگوں میں سے یا خاندان میں سے تھیں جو فرماں بردار عبادت گزار اور صلاح و اطاعت میں ممتاز تھا حدیث میں ہے جنتی عورتوں میں سب سے افضل حضرت خدیجہ، حضرت فاطمہ، حضرت مریم اور فرعون کی بیوی آسیہ ہیں رضی اللہ عنھن۔(مسند احمد) ایک دوسری حدیث میں فرمایا مردوں میں تو کامل بہت ہوئے ہیں مگر عورتوں میں کامل صرف فرعون کی بیوی آسیہ مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنھن ہیں اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضلیت عورتوں پر ایسے ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر فضلیت حاصل ہے۔صحیح بخاری۔

٭٭٭

 

سورۃ  الملک

١۔ اسی کے ہاتھ میں بادشاہی ہے یعنی ہر طرح کی قدرت اور غلبہ اسی کو حاصل ہے، وہ کائنات میں جس طرح کا تصرف کرے، کوئی اسے روک نہیں سکتا، وہ شاہ کو گدا اور گدا کو شاہ بنا دے، امیر کو غریب اور غریب کو امیر کر دے۔ کوئی اس کی حکمت و مشیت میں دخل نہیں دے سکتا۔

۲۔ روح ایک ایسی غیر مرئی چیز ہے جس بدن سے اس کا تعلق و اتصال ہو جائے وہ زندہ کہلاتا ہے اور جس بدن سے اس کا تعلق منقطع ہو جائے وہ موت سے ہم کنار ہو جاتا ہے اس نے یہ عارضی زندگی کا سلسلہ، جس کے بعد موت ہے اس لیے قائم کیا ہے تاکہ وہ آزمائے کہ اس زندگی کا صحیح استعمال کون کرتا ہے ؟جو اسے ایماء و اطاعت کے لیے استعمال کرے گا اس کے لیے بہترین جزاء ہے اور دوسروں کے لیے عذاب۔

 ٣۔ (۱)  یعنی کوئی نقص، کوئی کجی اور کوئی خلل، بلکہ بالکل سیدھے اور برابر ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ ان سب کا پیدا کرنے والا صرف ایک ہی ہے متعدد نہیں۔

٣۔ (۲)  بعض دفعہ دوبارہ دیکھنے سے کوئی نقص اور عیب نکل آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دعوت دے رہا ہے کہ بار بار دیکھو کہ کیا تمہیں کوئی شگاف تو نظر نہیں آتا۔

٤۔ یہ مزید تاکید ہے کہ جس سے مقصد اپنی عظیم قدرت اور وحدانیت کو واضح تر کرنا ہے۔

٥۔ یہاں ستاروں کے دو مقصد بیان کئے گئے ہیں ایک آسمانوں کی زینت کیونکہ وہ چراغوں سے جلتے ہیں دوسرا کہ شیطان آسمانوں کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ شرارہ بن کر ان پر گرتے ہیں۔ تیسرا مقصد ان کا یہ ہے جسے دوسرے مقامات پر بیان فرمایا گیا ہے کہ ان سے برو بحر میں راستوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔

٧۔ شَھِیْق، اس آواز کو کہتے ہیں جو گدھا پہلی مرتبہ نکالتا ہے، یہ قبیح ترین آواز ہوتی ہے۔ جہنم بھی گدھے کی طرح چیخ اور چلا رہی اور آگ پر رکھی ہوئی ہانڈی کی طرح جوش مار رہی ہو گی۔

۸۔(۱)  یا مارے غیظ و غضب کے اس کے حصے ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گے یہ جہنم کافروں کو دیکھ کر غضب ناک ہو گی جس کا شعور اللہ تعالیٰ اس کے اندر پیدا فرما دے گا اللہ تعالیٰ کے لیے جہنم کے اندر یہ ادراک و شعور پیدا کر دینا کوئی مشکل نہیں۔

٨۔ (۲)  جس کی وجہ سے تمہیں آج جہنم کے عذاب کا مزہ چکھنا پڑا ہے۔

٩۔ یعنی ہم نے پیغمبروں کی تصدیق کرنے کی بجائے انہیں جھٹلایا، آسمانی کتابوں کا ہی سرے سے انکار کر دیا حتیٰ کہ اللہ کے پیغمبروں کو ہم نے کہا کہ تم بڑی گمراہی میں مبتلا ہو۔

١٠۔ یعنی غور اور توجہ سے سنتے اور ان کی باتوں اور نصیحتوں کو آویزہ گوش بنا لیتے، اسی طرح اللہ کی دی ہوئی عقل سے بھی سوچنے سمجھنے کا کام لیتے تو آج ہم دوزخ والوں میں شامل نہ ہوتے۔

١١۔ (۱)  جس کی بنا پر مستحق عذاب قرار پائے اور وہ ہے کفر اور انبیاء علیہم السلام کی تکذیب۔

١١۔ (۲)  یعنی اب ان کے لئے اللہ اور اس کی رحمت سے دوری ہی دوری ہے۔

۱۲۔یہ اہل کفر و تکذیب کے مقابلے میں اہل ایمان کا اور ان نعمتوں کا ذکر ہے جو انہیں قیامت والے دن اللہ کے ہاں ملیں گی۔ بالغیب کا ایک مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کو دیکھا تو نہیں لیکن پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اللہ عذاب سے ڈرتے رہے دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لوگوں کی نظروں سے غائب یعنی خلوتوں میں اللہ سے ڈرتے رہے۔

١٣۔ یہ پھر کافروں سے خطاب ہے۔ مطلب ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں چھپ کر باتیں کرو یا اعلان یہ سب اللہ کے علم میں ہے، اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں۔ وہ تو سینوں کے رازوں اور دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے تمہاری باتیں کس طرح اس سے پوشیدہ رہ سکتی ہیں۔

١٤۔ یعنی سینوں اور دلوں اور ان میں پیدا ہونے والے خیالات، سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے، تو کیا وہ اپنی مخلوق سے بے علم رہ سکتا ہے۔

١٥۔١لطیف کے معنی ہے باریک بین یعنی جس کا علم اتنا ہے کہ دلوں میں پرورش پانے والی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ذلول کے معنی مطیع۔ یعنی زمین کو تمہارے لیے نرم اور آسان کر دیا اس کو اسی طرح سخت نہیں بنایا کہ تمہارا اس پر آباد ہونا اور چلنا پھرنا مشکل ہو۔ یعنی زمین کی پیداوار سے کھاؤ پیو۔

١٦۔ یہ کافروں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ آسمانوں والی ذات جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو، جو نہایت پر سکون ہے، حرکت، جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔

۱۷۔(۱)  جیسے اس نے قوم لوط اور اصحاب فیل پر برسائے اور پتھروں کی بارش سے ان کو ہلاک کر دیا۔

١٧۔ (۲)  لیکن اس وقت یہ علم، بے فائدہ ہو گا۔

١٩۔ (۱)  پرندہ جب ہوا میں اڑتا ہے تو وہ پر پھیلاتا ہے اور کبھی دوران پرواز پروں کو سمیٹ لیتا ہے۔ یہ پھیلانا، صَف اور سمیٹ لینا قَبْض ہے۔

١٩۔ (۲)  یعنی دوران پرواز ان پرندوں کو تھامے رکھنے والا کون ہے، جو انہیں زمین پر گرنے نہیں دیتا؟ یہ اللہ رحمان ہی کی قدرت کا ایک نمونہ ہے۔

٢٠۔ جس میں انہیں شیطان نے مبتلا کر رکھا ہے۔

٢١۔ یعنی اللہ بارش نہ برسائے، یا زمین ہی کو پیداوار سے روک دے یا تیار شدہ فصلوں کو تباہ کر دے، جیسا کہ بعض بعض دفعہ وہ ایسا کرتا ہے، جس کی وجہ سے تمہاری خوراک کا سلسلہ موقوف ہو جائے، اگر اللہ تعالیٰ ایسا کر دے تو کیا کوئی اور ہے جو اللہ کی مشیت کے برعکس تمہیں روزی مہیا کر دے ؟ یعنی وعظ و نصیحت کی ان باتوں کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ حق سے سرکشی اور اعراض و نفور میں ہی بڑھتے چلے جا رہے ہیں عبرت پکڑتے ہیں اور نہ ہی غور و فکر کرتے ہیں۔

۲۲۔(۱)  منہ کے بل اوندھے چلنے والے کو دائیں بائیں کچھ نظر نہیں آتا نہ وہ ٹھوکروں سے محفوظ ہوتا ہے کیا ایسا شخص اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے ؟ یقیناً نہیں اسی طرح دنیا میں اللہ کی معصیتوں میں ڈوبا ہوا شخص آخرت کی کامیابی سے محروم رہے گا۔

۲۲۔ (۲) جس میں کوئی کجی اور انحراف نہ ہوا اور اس کو آگے اور دائیں بائیں بھی نظر آ رہا ہو ظاہر ہے یہ شخص اپنی منزل مقصود کو پہنچ جائے گا یعنی اللہ کی اطاعت کا سیدھا راستہ اپنانے والا آخرت میں سرخرو رہے گا بعض کہتے ہیں کہ مومن اور کافر دونوں کی اس کیفیت کا بیان ہے جو قیامت والے دن ان کی ہو گی کافر منہ کے بل جہنم میں جائے جائیں گے اور مومن سیدھے قدموں سے چل کر جنت میں جائیں گے۔

۲۲۔ (٣) یعنی پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔

۲۳۔ (۱) یعنی کان آنکھیں اور دل بنائیں جن سے تم سن سکو اور اللہ کی مخلوق میں غور و فکر کر کے اللہ کی معرفت حاصل کر سکو تین قوتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے انسان مسموعات، مبصرات اور معقولات کا ادراک کر سکتا ہے یہ ایک طرح سے اتمام حجت بھی ہے اور اللہ کی ان نعمتوں پر شکر نہ کرنے کی مذمت بھی اسی لیے آگے فرمایا تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو۔

٢٣۔ (۲)  یعنی شُکْراً قَلِیْلاً یا زَمْنً قَلِیلاً یا قلت شکر سے مراد ان کی طرف سے شکر کا عدم وجود ہے۔

۲۴۔ یعنی انسانوں کو پیدا کر کے زمین میں پھیلانے والا بھی وہی ہے اور قیامت والے دن سب جمع بھی اس کے پاس ہوں گے کسی اور کے پاس نہیں۔

٢٥۔ یہ کافر بطور مذاق قیامت کو دور دراز کی باتیں سمجھتے ہوئے کہتے ہیں۔

٢٦۔ یعنی میرا کام تو صرف انجام سے ڈرانا ہے جو میری تکذیب کی وجہ تمہارا ہو گا، دوسرے لفظوں میرا کام انزاز ہے، غیب کی خبریں بتانا نہیں۔ الا یہ کہ جس کی بابت خود اللہ مجھے بتلا دے۔

٢٧۔ یعنی ذلت اور ہولناکی اور دہشت سے ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہوں گی۔ جس کو دوسرے مقام پر چہروں کے سیاہ ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی یہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو وہی ہے جسے تم دنیا میں جلد طلب کرتے تھے۔

۲۸۔مطلب یہ ہے کہ کافروں کو تو اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہے چاہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کو موت یا قتل کے ذریعے ہلا کر دے یا انہیں مہلت دے دے یا یہ مطلب ہے کہ ہم باوجود ایمان کے خوف اور رجا کے درمیان پس تمہیں تمہارے کفر کے باوجود عذاب سے کون بچائے گا۔

٢٩۔ (۱)  یعنی وحدانیت پر، اسی لئے اس کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے۔

٢٩۔ (۲)  کسی اور پر نہیں۔ ہم اپنے تمام معاملات اسی کے سپرد کرتے ہیں، کسی اور کے نہیں جیسے مشرک کرتے ہیں۔ یعنی تم ہو یا ہم اس میں کافروں کے لیے سخت وعید ہے۔

٣٠۔ غَوْراً کے معنی ہیں خشک ہو جانا یا اتنی گہرائی میں چلا جانا کہ وہاں سے پانی نکالنا ناممکن ہو۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ پانی خشک فرما دے کہ اس کا وجود ہی ختم ہو جائے یا اتنی گہرائی میں کر دے کہ ساری مشینیں پانی نکالنے میں ناکام ہو جائیں تو بتلاؤ! پھر کون ہے جو تمہیں جاری، صاف اور نتھرا ہوا پانی مہیا کر دے ؟ یعنی کوئی نہیں ہے کہ تمہیں پانی سے محروم نہیں فرماتا۔

٭٭٭

 

سورۃ  قَلم

١۔    قلم کی قسم کھائی، جس کی اس لحاظ سے ایک اہمیت ہے کہ اس کے ذریعے سے کھول کر بیان لکھا جاتا ہے بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ خاص قلم ہے جسے اللہ نے سب سے پہلے پیدا فرمایا اور اسکو تقدیر لکھنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اس نے ابد تک ہونے والی ساری چیزیں لکھ دیں (سنن ترمذی)

٢۔ یہ جواب قسم ہے، جس میں کفار کے قول کا رد ہے، وہ آپ کو مجنون (دیوانہ) کہتے تھے۔

٣۔ فریضہ نبوت کی ادائیگی میں جتنی زیادہ تکلیفیں برداشت کیں اور دشمنوں کی باتیں سنی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔

٤۔خلق عظیم سے مراد اسلام، دین یا قرآن ہے مطلب ہے کہ تو اس خلق پر ہے جس کا حکم اللہ نے تجھے قرآن میں یا دین میں دیا ہے۔

۵۔یعنی جب حق واضح ہو جائے گا اور سارے پردے اٹھ جائیں گے اور یہ قیامت کے دن ہو گا بعض نے اسے جنگ بدر سے متعلق فرمایا ہے۔

٨۔ اطاعت سے مراد یہاں وہ مدارات ہے جس کا اظہار انسان نے اپنے ضمیر کے خلاف کرتا ہے۔ یعنی مشرکوں کی طرف جھکنے اور ان کی خاطر مدارت کی ضرورت نہیں۔

٩۔ وہ چاہتے ہیں کہ تو ان کے معبودوں کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرے تو وہ بھی تیرے بارے میں نرم رویہ اختیار کریں باطل پرست اپنی باطل پرستی کو چھوڑنے میں ڈھیلے ہو جائیں گے۔ اس لئے حق میں خوشامد، حکمت، تبلیغ اور کار نبوت کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔

١٣۔ یہ ان کافروں کی اخلاقی پستیوں کا ذکر ہے جن کی خاطر پیغمبر کو خوش آمد کرنے سے روکا جا رہا ہے۔

١٤۔ یعنی مذکورہ اخلاقی قباحتوں کا ارتکاب اس لئے کرتا ہے کہ اللہ نے اسے مال اور اولاد کی نعمتوں سے نوازا ہے یعنی وہ شکر کی بجائے کفران نعمت کرتا ہے، یعنی جس شخص کے اندر یہ خرابیاں ہوں، اس کی بات صرف اس لئے مان لی جائے کہ وہ مال اور اولاد رکھتا ہے۔

١٦۔ بعض کے نزدیک اس کا تعلق دنیا سے ہے، مثلاً کہا جاتا ہے کہ جنگ بدر میں ان کفروں کے ناکوں کو تلواروں کا نشانہ بنایا گیا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ قیامت والے دن جہنمیوں کی علامت ہو گی کہ ان کے ناکوں کو داغ دیا جائے گا یا اس کا مطلب چہروں کی سیاہی ہے۔ جیسا کہ کافروں کے چہرے اس دن سیاہ ہوں گے۔ بعض کہتے ہیں کہ کافروں کا یہ حشر دنیا اور آخرت دونوں جگہ ممکن ہے۔

۱۷۔ (۱) مراد اہل مکہ ہیں یعنی ہم نے ان کو مال و دولت سے نوازا تاکہ وہ اللہ کا شکر کریں نہ کہ کفر وتکبر لیکن انہوں نے کفر و استکبار کیا تو ہم نے انہیں بھوک اور قحط کی آزمائش میں ڈال دیا جس میں وہ نبی کی بددعا کی وجہ سے کچھ عرصہ مبتلا رہے۔

١٧۔ (۲)  باغ والوں کا قصہ عربوں میں مشہور تھا۔ یہ باغ (یمن) سے دو فرسخ کے فاصلے پر تھا اس کا مالک اس کی پیداوار غربا و مساکین پر بھی خرچ کرتا تھا، لیکن اس کے مرنے کے بعد جب اس کی اولاد اس کی وارث بنی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے تو اپنے اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں، ہم اس کی آمدنی میں سے مساکین اور سائلین کو کس طرح دیں ؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس باغ کو تباہ کر دیا، کہتے ہیں یہ واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھائے جانے کے تھوڑے عرصے بعد پیش آیا (فتح القدیر) یہ ساری تفصیل تفسیری روایات کی ہے۔

یعنی صبح ہوتے ہی پھل اتار لیں گے اور پیداوار کاٹ لیں گے۔

١٩۔ بعض کہتے ہیں، راتوں رات اسے آگ لگ گئی، بعض کہتے ہیں، جبرائیل علیہ السلام نے آ کر اسے تہس نہس کر دیا۔

٢٠۔ یعنی جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد خشک ہو جاتی ہے، اس طرح سارا باغ اجڑ گیا، بعض نے ترجمہ یہ کیا ہے، سیاہ رات کی طرح ہو گیا، یعنی جل کر۔

٢٣۔ یعنی باغ کی طرف جانے کے لئے ایک تو صبح صبح نکلے دوسرے آہستہ آہستہ باتیں کرتے ہوئے گئے تاکہ کسی کو ان کے جانے کا علم نہ ہو۔

٢٤۔ یعنی وہ ایک دوسرے کو کہتے رہے کہ آج کوئی باغ میں آ کر ہم سے کچھ نہ مانگے جس طرح ہمارے باپ کے زمانے میں آیا کرتے تھے اور وہ اپنا حصہ لے جاتے تھے۔

٢٥۔ یعنی اپنے معاملے کا انہوں نے اندازہ کر لیا، یا اپنے ارادے سے انہوں نے باغ پر قدرت حاصل کر لی، یا مطلب ہے مساکین پر انہوں نے قابو پا لیا۔

٢٦۔ (۱) یعنی باغ والی جگہ کو راکھ کا ڈھیر یا اسے تباہ برباد دیکھا۔

۲۶۔ (۲) یعنی پہلے پہل تو ایک دوسرے کو کہا۔

٢٧۔ پھر جب غور کیا تو جان گئے کہ یہ آفت زدہ اور تباہ شدہ باغ ہمارا ہی ہے جسے اللہ نے ہمارے طرز عمل کی پاداش میں ایسا کر دیا اور واقعی یہ ہماری بد نصیبی ہے۔

۲۸۔ بعض نے تسبیح سے مراد انشاءاللہ کہنا مراد لیا ہے۔

۲۹۔یعنی اب انہیں احساس ہوا کہ ہم نے اپنے باپ کے طرز عمل کے خلاف قدم اٹھا کر غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا اللہ نے ہمیں دی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ معصیت کا عزم اور اس کے لیے ابتدائی اقدامات بھی ارتکاب معصیت کی طرح جرم ہے جس پر مؤاخذہ ہو سکتا ہے صرف وہ ارادہ معاف ہے جو وسوسے کی حد تک ہو۔

٣٢۔ (۱) کہتے ہیں کہ انہوں نے آپس میں عہد کیا کہ اب اگر اللہ نے ہمیں مال دیا تو اپنے باپ کی طرح اس میں سے غربا اور مساکین کا حق ادا کریں گے۔ اس لئے ندامت اور توبہ کے ساتھ رب سے امیدیں بھی وابستہ کیں۔

۳۲۔ (۲) یعنی اللہ کے حکم کی مخالفت اور اللہ کے دیے مال میں بخل کرنے والوں کو ہم دنیا میں اسی طرح عذاب دیتے ہیں۔

 ٣٣۔ لیکن افسوس وہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے، اس لئے پروا نہیں کرتے۔

٣٥۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اگر قیامت ہوئی تو وہاں بھی ہم مسلمانوں سے بہتر ہی ہوں گے، جیسے دنیا میں ہم مسلمانوں سے زیادہ آسودہ حال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا، یہ کس طرح ممکن ہے ہم مسلمانوں کو یعنی اپنے فرماں برداروں کو مجرموں یعنی نافرمانوں کی طرح کر دیں گے مطلب یہ ہے کہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے خلاف دونوں کو یکساں کر دے۔

٣٧۔ جس میں یہ بات لکھی ہوئی ہے جس کا تم دعویٰ کر رہے ہو، کہ وہاں بھی تمہارے لئے وہ کچھ ہو جسے تم پسند کرتے ہو۔

٣٩۔ یا ہم نے تم سے پکا عہد کر رکھا ہے، جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے کہ تمہارے لئے وہی کچھ ہو گا جس کا تم اپنی بابت فیصلہ کرو گے۔

٤٠۔ کہ کیا وہ قیامت والے دن ان کے لئے وہی کچھ فیصلہ کروائے گا، جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے فرمائے گا۔

٤۱۔یا جن کو انہوں نے شریک ٹھہرا رکھا ہے وہ ان کی مدد کر کے ان کو اچھا مقام دلوا دیں گے ؟ اگر ان کے شریک ایسے ہیں تو ان کو سامنے لائیں تاکہ ان کی صداقت واضح ہو۔

٤٢۔١بعض نے کشف ساق سے مراد قیامت کی ہولناکیاں لی ہیں لیکن ایک صحیح حدیث اس کی تفسیر اس طرح بیان ہوئی ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا (جس طرح اس کی شان کے لائق ہے ) تو ہر مومن مرد اور عورت اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں گے البتہ وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھلاوے اور شہرت کے لئے سجدہ کرتے تھے وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی ریڑھ کی ہڈی کے منکے، تختے کی طرح ایک ہڈی بن جائیں گے جس کی وجہ سے ان کے لئے جھکنا ناممکن ہو جائے گا (صحیح بخاری) اللہ تعالیٰ کی پنڈلی کس طرح کی ہو گی؟ اسے وہ کس طرح کھولے گا؟ اس کیفیت ہم نہ جان سکتے ہیں نہ بیان کر سکتے ہیں۔ اس لئے جس طرح ہم بلا کیف و بلاشبہ اس کی آنکھوں، کان، ہاتھ وغیرہ پر ایمان رکھتے ہیں، اسی طرح پنڈلی کا ذکر بھی قرآن اور حدیث میں ہے، اس پر بلا کیف ایمان رکھنا ضروری ہے۔ یہی سلف اور محدثین کا مسلک ہے۔

٤۳۔(۱) یعنی دنیا کے برعکس ان کا معاملہ ہو گا دنیا میں تکبر و عناد کی وجہ سے ان کی گردنیں اکڑی ہوتی تھیں۔

٤٣۔ (۲)  یعنی صحت مند اور توانا تھے، اللہ کی عبادت میں کوئی چیز ان کے لئے مانع نہیں تھی۔ لیکن دنیا میں اللہ کی عبادت سے یہ دور رہے۔

٤٤۔یعنی میں ہی ان سے نمٹ لوں گا تو ان کی فکر نہ کر یہ ڈھیل دینے کا ذکر ہے۔ قرآن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے اور حدیث میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ نافرمانی کے باوجود دنیاوی مال و اسباب کی فراوانی، اللہ کا فضل نہیں ہے، اللہ کے قانون پھر جب وہ گرفت کرنے پر آتا ہے تو کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔

٤٦۔ یہ خطاب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ہے لیکن سرزنش ان کو کی جا رہی ہے جو آپ پر ایمان نہیں لا رہے تھے۔

٤۷۔یعنی کیا غیب کا علم ان کے پاس ہے لوح محفوظ ان کے تصرف میں ہے کہ اس میں سے جو بات چاہتے ہیں نقل کر لیتے ہیں اس لیے یہ تیری اطاعت اختیار کرنے اور تجھ پر ایمان لانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔

٤٨۔ جنہوں نے اپنی قوم کی روش تکذیب کو دیکھتے ہوئے عجلت سے کام لیا اور رب کے فیصلے کے بغیر ہی از خود اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ جس کے نتیجے میں انہیں مچھلی کے پیٹ میں، جب کہ وہ غم و اندوہ سے بھرے ہوئے تھے اپنے رب کو مدد کے لئے پکارنا پڑا۔ جیسے کہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے،

٤٩۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ انہیں توبہ و مناجات کی توفیق نہ دیتا اور ان کی دعا قبول نہ فرماتا تو ساحل سمندر کے بجائے جہاں ان کے سائے اور خوراک کے لئے بیلدار درخت اگا دیا گیا، کسی بنجر زمین میں پھینک دیا جاتا اور عند اللہ ان کی حیثیت بھی مذموم رہتی، جب کہ قبولیت دعا کے بعد وہ محمود ہو گئے۔

٥٠۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں توانا اور تندرست کرنے کے بعد دوبارہ رسالت سے نواز کر انہیں اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا، جیسا کہ سورت صافات۔١٤٦ سے بھی واضح ہے۔

٥١۔ یعنی اگر تجھے اللہ کی حمایت و حفاظت نہ ہوتی تو کفار کی حاسدانہ نظروں سے نظر بد کا شکار ہو جانا یعنی ان کی نظر تمہیں لگ جاتی۔ چنانچہ امام ابن کثیر نے یہ مفہوم بیان کیا، مزید لکھتے ہیں ” یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نظر کا لگ جانا اور اس کا دوسروں پر، اللہ کے حکم سے، اثر انداز ہونا، حق ہے۔ جیسا کہ متعدد احادیث سے بھی ثابت ہے۔ چنانچہ حدیث میں اس سے بچنے کے لیے دعائیں بھی بیان کی گئی ہیں اور یہ بھی تاکید کی گئی ہے کہ جب تمہیں کوئی چیز اچھی لگے تو ماشاء اللہ یا بارک اللہ کہا کرو تاکہ اسے نظر نہ لگے۔ یعنی حسد کے طور پر بھی اور اس غرض سے بھی کہ لوگ اس قرآن سے متاثر نہ ہوں بلکہ اس سے دور ہی رہیں آنکھوں کے ذریعے سے بھی یہ کفار نبی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے اور زبانوں سے بھی آپ کو دیوانہ کہہ کر ایذاء پہنچاتے اور آپ کے دل کو مجروح کرتے۔

٥٢۔ جب واقعہ یہ ہے کہ یہ قرآن جن و انس کی ہدایت و رہنمائی کے لئے آیا ہے تو پھر اس کو لانے والا اور بیان کرنے والا مجنون (دیوانہ) کس طرح ہو سکتا ہے ؟

٭٭٭

 

سورۃ الحاقۃ

١۔ یہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس میں امر الٰہی ثابت ہو گا اور خود یہ بھی بہر صورت وقوع پذیر ہونے والی ہے، اس لئے اسے الْحَاَقَّۃُ سے تعبیر فرمایا۔

٢۔ یہ لفظاً استفہام ہے لیکن اس کا مقصد قیامت کی عظمت اور شان بیان کی گئی ہے۔

٣۔ گویا کہ تجھے اس کا علم نہیں، کیوں کہ تو نے ابھی اسے دیکھا ہے اور نہ اس کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کیا ہے، گویا مخلوقات کے دائرہ علم سے باہر ہے (فتح القدیر)

٤۔ اس میں قیامت کو کھڑکا دینے والی کہا ہے، اس لئے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے لوگوں کو بیدار کر دے گی۔

٥۔ اس میں قیام کو کھڑکا دینے والی کہا ہے، اس لئے کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے لوگوں کو بیدار کر دے گی۔

٦۔ کسی کے قابو میں نہ آنے والی، یعنی نہایت تند و تیز، پالے والی اور بے قابو ہوا کے ذریعے اسے حضرت ہود علیہ السلام کی قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔

٧۔ جسم کے معنی کاٹنے اور جدا جدا کرنے کے ہیں اور بعض نے حسوما کے معنی پے درپے کیے ہیں۔ اس سے ان کی درازی کی طرف اشارہ ہے کھوکھلے بے روح جسم کو کھوکھلے تنے سے تشبیہ دی ہے۔

۹۔اس سے قوم لوط مراد ہے۔

۱۰۔یعنی ان کی ایسی گرفت کی جو دوسری قوموں کی گرفت سے زائد یعنی سب میں سخت تر تھی۔

١١۔ (۱) یعنی پانی بلندی میں تجاوز کر گیا، یعنی پانی خوب چڑھ گیا۔

 ١١۔ (۲)  کُم سے مخاطب عہد رسالت کے لوگ ہیں، مطلب ہے کہ تم جن آبا کی پشتوں سے ہو، ہم نے انہیں کشتی میں سوار کر کے بپھرے ہوئے پانی سے بچایا تھا۔ اَلْجَارِیَۃ سے مراد سفینہ نوح علیہ السلام ہے۔

۱۲۔یعنی یہ فعل کہ کافروں کو پانی میں غرق کر دیا اور مومنوں کو کشتی میں سوار کرا کے بچا لیا تمہارے لیے اس کو عبرت و نصیحت بنا دیں تاکہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو اور اللہ کی نافرمانی سے بچو۔ یعنی سننے والے اسے سن کر یاد رکھیں اور وہ بھی اس سے عبرت پکڑیں۔

۱۳۔مکذبین کا انجام بیان کرنے کے بعد اب بتلایا جا رہا ہے کہ یہ الحاقہ کس طرح واقع ہو گی اسرافیل کی ایک ہی پھونک سے یہ برپا ہو جائے گی۔

۱٤۔یعنی اپنی جگہوں سے اٹھا لیے جائیں گے اور قدرت الہی سے اپنی قرار گاہوں سے ان کو اکھیڑ لیا جائے گا۔

١٦۔ یعنی اس میں کوئی قوت اور استحکام نہیں رہے گا جو چیز پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ اس میں استحکام کس طرح رہ سکتا ہے۔

١٧۔  یعنی آسمان تو ٹکرے ٹکرے ہو جائے گا پھر فرشتے کہاں ہوں گے فرمایا کہ وہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرشتے آسمان پھٹنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم سے زمین پر آ جائیں گے۔ یعنی اب مخصوص فرشتوں نے عرش الٰہی کو اپنے سروں پر اٹھایا ہوا ہو گا، یہ بھی ممکن ہے اس عرش سے مراد وہ عرش ہو جو فیصلوں کے لئے زمین پر رکھا جائے گا، جس پر اللہ تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا (ابن کثیر)

۱۸۔یہ پیشی اس لیے نہیں ہو گی کہ جن کو اللہ نہیں جانتا ان کو جان لے گا وہ تو سب کو ہی جانتا ہے یہ پیشی خود انسانوں پر حجت قائم کرنے کے لیے ہو گی ورنہ اللہ سے تو کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔

١٩۔یعنی جو اس کی سعادت، نجات اور کامیابی کی دلیل ہو گا۔ یعنی وہ مارے خوشی کے ہر ایک کو کہے گا کہ لو، میرا اعمال نامہ پڑھ لو میرا اعمال نامہ تو مجھے مل گیا، اس لئے کہ اسے پتہ ہو گا کہ اس میں اس کی نیکیاں ہی نیکیاں ہوں گی، کچھ برائیاں ہوں گی تو اللہ نے معاف فرما دی ہوں گی۔

۲۰۔یعنی آخرت کے حساب و کتاب پر میرا کامل یقین تھا۔

۲۲۔جنت میں مختلف درجات ہیں ہر درجے کے درمیان بہت فاصلہ ہے جیسے مجاہدین کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ نے مجاہدین کے تیار کیے ہیں ان کے دو درجوں کے درمیان کا فاصلہ زمین و آسمان جتنا ہے۔ (صحیح مسلم)

٢٣۔ یعنی بالکل قریب ہوں گے کوئی لیٹے لیٹے بھی توڑنا چاہے گا تو ممکن ہو گا۔

٢٤۔ یعنی دنیا میں اعمال صالحہ کئے، یہ جنت ان کا صلہ ہے۔

٢٥۔ کیوں کہ نامہ اعمال کا بائیں ہاتھ میں ملنا بدبختی کی علامت ہو گا۔

٢٦۔ یعنی مجھے بتلایا ہی نہ جاتا کیوں کہ سارا حساب ان کے خلاف ہو گا۔

٢٧۔ یعنی موت ہی فیصلہ کن ہوتی اور دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا تاکہ یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔

٢٩۔ یعنی جس طرح مال میرے کام نہ آیا، جاہ و مرتبہ اور سلطنت و حکومت بھی میرے کام نہ آئی۔ آج میں اکیلا ہی سزا بھگت رہا ہوں۔

٣١۔ یہ اللہ ملائکہ جہنم کو حکم دے گا۔

۳۲۔ذراع (ہاتھ) یہ کتنا ہو گا اس کی وضاحت ممکن نہیں تاہم اس سے اتنا معلوم ہوا کہ زنجیر کی لمبائی ستر ذراع ہو گی۔

٣٣۔ یہ مذکورہ سزا کی علت یا مجرم کے جرم کا بیان ہے۔

٣٤۔ یعنی عبادت و اطاعت کے ذریعے سے اللہ کا حق ادا کرتا تھا اور نہ وہ حقوق ادا کرتا تھا جو بندوں کے بندوں پر ہیں۔ گویا اہل ایمان میں یہ جامعیت ہوتی ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی ادائیگی کا اہتمام کرتے ہیں۔

۳ ٦۔بعض کہتے ہیں کہ یہ جہنم میں کوئی درخت ہے بعض کہتے ہیں کہ زقوم ہی کو غسلین کہا گیا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ جہنمیوں کی پیپ یا ان کے جسموں سے نکلنے والا خون اور بدبو دار ہو گا۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔آمین۔

۳۷۔خاطئون سے مراد اہل جہنم ہیں جو کفر و شرک کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے اس لیے کہ یہ گناہ ایسے ہیں جو خلود فی النار کا سبب ہیں۔

٣٩۔ یعنی اللہ کی پیدا کردہ وہ چیزیں، جو اللہ کی ذات اور اس کی قدرت و طاقت پر دلالت کرتی ہیں، جنہیں تم دیکھتے ہو یا نہیں دیکھتے، ان سب کی قسم ہے۔ آگے جواب قسم ہے۔

٤٠۔ بزرگ رسول سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔ اور قول سے مراد تلاوت ہے یعنی رسول کریم سے مراد ایسا قول ہے جو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے تمہیں پہنچاتا ہے۔ کیونکہ قرآن، رسول یا جبرائیل علیہ السلام کا قول نہیں ہے، بلکہ اللہ کا قول ہے جو اس نے فرشتے کے ذریعے سے پیغمبر پر نازل فرمایا ہے، پھر پیغمبر اسے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔

٤۱۔جیسا کہ تم سمجھتے ہو اور کہتے ہو اس لیے کہ یہ اصناف شعر سے نہ اس کے مشابہ ہے پھر یہی کسی شاعر کا کلام کس طرح ہو سکتا ہے۔

٤۲۔جیسا کہ تم بعض دفعہ تم یہ دعوی کرتے ہو حالانکہ کہانت بھی ایک دوسری چیز ہے۔قلت دونوں جگہ نفی کے معنی میں ہے یعنی تم نہ قرآن پر ایمان لاتے ہو نہ نصیحت پر عمل کرتے ہو۔

٤۳۔یعنی رسول کی زبان سے ادا ہونے والا یہ قول رب العالمین کا اتارا ہوا کلام ہے اسے تم کبھی شاعری اور کبھی کہانت کہہ کر اس کی تکذیب کرتے ہو۔

٤٤۔ یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کر دیتا، یا اس میں کمی بیشی کر دیتا، تو ہم فوراً اس کا مؤاخذہ کرتے اور اسے ڈھیل نہ دیتے جیسا کہ اگلی آیات میں فرمایا۔

٤٥۔ یا دائیں ہاتھ کے ساتھ اس کی گرفت کرتے، اس لئے کہ دائیں ہاتھ سے گرفت زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اور اللہ کے دونوں ہاتھ ہی دائیں ہیں۔

٤٦۔ خیال رہے یہ سزا، خاص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ضمن میں بیان کی گئی ہے جس سے مقصد آپ کی صداقت کا اظہار ہے۔ اس میں یہ اصول بیان نہیں کیا گیا ہے کہ جو بھی نبوت کا جھوٹا وعدہ کرے تو جھوٹے مدعی کو ہم فورا سزا سے دوچار کر دیں گے لہذا اس سے کسی جھوٹے نبی کو اس لیے سچا باور نہیں کرایا جا سکتا کہ دنیا میں وہ مؤخذہ الہی سے بچا رہا۔

٤٧۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم سچے رسول تھے، جن کو اللہ نے سزا نہیں دی، بلکہ دلائل و معجزات اور اپنی خاص تائید و نصرت سے انہیں نوازا۔

٤۸۔کیونکہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ورنہ قرآن تو سارے ہی لوگوں کے لیے نصیحت لے کر آیا ہے۔

٥٠۔ یعنی قیامت والے دن اس پر حسرت کریں گے، کہ کاش ہم نے قرآن کی تکذیب نہ کی ہوتی۔ یا یہ قرآن بجائے خود ان کے لئے حسرت کا باعث ہو گا، جب وہ اہل ایمان کو قرآن کا اجر ملتے ہوئے دیکھیں گے۔

٥١۔ یعنی قرآن اللہ کی طرف سے ہونا بالکل یقینی ہے، اس میں قطعاً شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ یا قیامت کی بابت جو خبر دی جا رہی ہے، وہ بالکل حق اور سچ ہے۔

٥٢۔ جس نے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی۔

٭٭٭

 

سورۃ  معارج

١۔ کہتے ہیں نضر بن حارث تھا یا ابوجہل تھا جس نے کہا تھا (اللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ) (الاَنفا ل،٣٢) چنانچہ یہ شخص جنگ بدر میں مارا گیا۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔ جنہوں نے اپنی قوم کے لئے بد دعا کی تھی اور اس کے نتیجے میں اہل مکہ پر قحط سالی مسلط کی گئی تھی۔

٣۔ یا درجات والا، بلندیوں والا ہے، جس کی طرف فرشتے چڑھتے ہیں۔

٤۔ روح سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں، ان کی عظمت شان کے پیش نظر ان کا الگ خصوصی ذکر کیا گیا ہے ورنہ فرشتوں میں وہ بھی شامل ہیں۔ یا روح سے مراد انسانی روحیں ہیں جو مرنے کے بعد آسمان پر لے جاتی ہیں جیسا کہ بعض روایات میں ہے۔ اس یوم کی تعریف میں بہت اختلاف ہے جیسا کہ الم سجدہ کے آغاز میں ہم بیان کر آئے ہیں۔

٧۔ دور سے مراد ناممکن اور قریب سے اس کا یقینی واقع ہونا ہے۔ یعنی کافر قیامت کو ناممکن سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ ضرور آ کر رہے گی۔

٩۔ یعنی دھنی ہوئی روئی کی طرح، جیسے سورہ القارعۃ میں ہے۔

١١۔ لیکن سب کو اپنی اپنی پڑی ہو گی، اس لئے تعارف اور شناخت کے باوجود ایک دوسرے کو نہیں پوچھیں گے

١٤۔ یعنی اولاد، بیوی، بھائی اور خاندان یہ ساری چیزیں انسان کو نہایت عزیز ہوتی ہیں، لیکن قیامت والے دن مجرم چاہے گا کہ اس سے فدیے میں یہ عزیز چیزیں قبول کر لی جائیں اور اسے چھوڑ دیا جائے۔

١٥۔ یعنی وہ جہنم، یہ اس کی شدت حرارت کا بیان ہے۔

١٦۔ یعنی گوشت اور کھال کو جلا کر رکھ دے گی۔ انسان صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ جائے گا۔

١٨۔ یعنی دنیا میں حق سے پیٹھ پھیرتا اور منہ موڑتا تھا اور مال جمع کر کے خزانوں میں سنبھال سنبھال کر رکھتا تھا، اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا تھا نہ اس میں سے زکوٰۃ نکالتا تھا۔ اللہ تعالیٰ جہنم کو قوت گویائی عطا فرمائے گا اور جہنم بزبان قال خود ایسے لوگوں کو پکارے گی، بعض کہتے ہیں، پکارنے والے فرشتے ہی ہوں گے اسے منسوب جہنم کی طرف کر دیا گیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کوئی نہیں پکارے گا، یہ صرف تمثیل کے طور پر ایسا کہا گیا ہے۔ مطلب ہے کہ مذکورہ افراد کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔

١٩۔ سخت حریص اور بہت جزع فزع کرنے والے کو ھلوع کہا جاتا ہے۔ جس کو ترجمے میں انسان کچے دل والا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ ایسا شخص ہی بخیل و حریص اور زیادہ گریہ جاری کرنے والا ہوتا ہے۔

۲۳۔مراد ہیں مومن کامل اور اہل توحید، ان کے اندر مذکورہ اخلاقی کمزوریاں نہیں ہوتیں بلکہ اس کے برعکس وہ صفات محمودہ کے پیکر ہوتے ہیں۔ ہمیشہ نماز پڑھنے کا مطلب ہے کہ نماز میں کوتاہی نہیں کرتے ہر نماز اپنے وقت پر نہایت پابندی اور التزام سے پڑھ لیتے ہیں۔ کوئی مشغولیت انہیں نماز سے نہیں روکتی اور دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نماز سے غافل نہیں کرتا۔

٢٤۔ یعنی زکوٰۃ مفروضۃ، بعض کے نزدیک یہ عام ہے، صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں اس میں شامل ہیں۔

۲۵۔محروم میں وہ شخص بھی داخل ہے جو رزق سے ہی محروم ہے وہ بھی جو کسی آفت سماوی و ارضی کی زد میں آ کر اپنی پونجی سے محروم ہو گیا اور وہ بھی جو ضرورت مند ہونے کے باوجود اپنی صفت تعفف کی وجہ سے لوگوں کی عطا اور صدقات سے محروم رہتا ہے۔

۲ ٦۔یعنی وہ اس کا انکار کرتے ہیں نہ اس میں شک وشبہ کا اظہار۔

۲۷۔یعنی اطاعت اور اعمال صالحہ کے باوجود اللہ کی عظمت وجلالت کے پیش نظر اس کی گرفت سے لرزاں وترساں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ جب تک اللہ کی رحمت ہمیں اپنے دامن میں نہیں ڈھانک لے گی ہمارے یہ اعمال نجات کے لیے کافی نہیں ہوں گے جیسا کہ اس مفہوم کی حدیث پہلے گزر چکی ہے۔

۲۸۔یہ سابقہ مضمون ہی کی تاکید ہے کہ اللہ کے عذاب سے کسی کو بھی بے خوف نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر وقت اس سے ڈرتے رہنا اور اس سے بچاؤ کی ممکنہ تدابیر اختیار کرتے رہنا چاہیے۔

٣٠۔ یعنی انسان کے جنسی تسکین کے لئے اللہ نے دو جائز ذرائع رکھے ہیں ایک بیوی اور دوسری (لونڈی) بہرحال اہل ایمان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ جنسی خواہش کی تکمیل و تسکین کے لئے ناجائز ذریعہ اختیار نہیں کرتے۔

۳۲۔یعنی ان کے پاس جو لوگوں کی امانتیں ہیں اس میں وہ خیانت نہیں کرتے اور لوگوں سے جو عہد کرتے ہیں انہیں توڑتے نہیں بلکہ ان کی پاسداری کرتے ہیں۔

۳۳۔یعنی اسے صحیح صحیح ادا کرتے ہیں چاہے اس کی زد میں ان کے قریبی عزیز ہی آ جائیں علاوہ ازیں اسے چھپاتے بھی نہیں، نہ اس میں تبدیلی ہی کرتے ہیں۔

٣٧۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے کے کفار کا ذکر ہے کہ وہ آپ کی مجلس میں دوڑتے دوڑتے آتے، لیکن آپ کی باتیں سن کر عمل کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑاتے اور ٹولیوں میں بٹ جاتے۔ اور دعویٰ یہ کرتے کہ اگر مسلمان جنت میں گئے تو ہم ان سے پہلے جنت میں جائیں گے۔ اللہ نے اگلی آیت میں ان کے اس زعم باطل کی تردید فرمائی۔

٣٩۔ایسا کیسا ممکن ہے کہ مومن اور کافر دونوں جنت میں جائیں رسول کو ماننے والے اور اس کی تکذیب کرنے والے دونوں کو اخروی نعمتیں ملیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ یعنی (حقیر قطرے ) سے۔ جب یہ بات ہے تو کیا تکبر اس انسان کو زیب دیتا ہے ؟ جس تکبر کی وجہ سے ہی یہ اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب بھی کرتا ہے۔

٤٠۔ تفصیل کے لئے سورہ صافات۔ ٥ دیکھئے۔

٤١۔ یعنی ان کو ختم کر کے ایک نئی مخلوق آباد کر دینے پر ہم پوری طرح قادر ہیں۔ جب ایسا ہے تو کیا ہم قیامت والے دن ان کو دوبارہ نہیں اٹھا سکیں گے۔

٤۲۔یعنی فضول اور لایعنی بحثوں میں پھنسے اور اپنی دنیا میں مگن رہیں تاہم آپ اپنی تبلیغ کا کام جاری رکھیں ان کا رویہ آپ کو اپنے منصب سے غافل یا بد دل نہ کر دے۔

٤۳۔جدث کے معنی ہیں قبر۔ جہاں بتوں کے نام پر جانور ذبح کیے جاتے ہیں اور بتوں کے معنی میں بھی استعمال ہے۔ بتوں کے پجاری جب سورج طلوع ہوتا تھا تو نہایت تیزی سے اپنے بتوں کی طرف دوڑتے کہ کون پہلے اسے بوسہ دیتا ہے۔ اسی طرح قیامت والے دن اپنی قبروں سے برق رفتاری سے نکلیں گے۔

٤٤۔ (۱) جس طرح مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے کرتوتوں کا علم ہوتا ہے۔

٤٤۔ (۲)  یعنی سخت ذلت انہیں اپنی لپیٹ میں لے رہی ہو گی اور ان کے چہرے مارے خوف کے سیاہ ہوں گے۔

٤٤۔ (۳) یعنی رسولوں کی زبانی اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے۔

٭٭٭

 

سورۃ نُوح

١۔ (۱) حضرت نوح علیہ السلام جلیل القدر پیغمبروں میں سے ہیں، صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث شفاعت میں ہے کہ یہ پہلے رسول ہیں، نیز کہا جاتا ہے کہ انہی کی قوم سے شرک کا آغاز ہوا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قوم کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔

 ١۔ (۲)  قیامت کے دن عذاب یا دنیا میں عذاب آنے سے قبل، جیسے اس قوم پر طوفان آیا۔

۲۔اللہ کے عذاب سے اگر تم ایمان نہ لائے اسی لیے عذاب سے نجات کا نسخہ تمہیں بتلانے آیا ہوں جو آگے بیان ہو رہا ہے۔

٢۔ (۱) اور شرک چھوڑ دو، صرف اسی کی عبادت کرو۔

 ٢۔ (۲)  اللہ کی نافرمانیوں سے اجتناب کرو، جن سے تم عذاب الٰہی کے مستحق قرار پا سکتے ہو،

٢۔ (۳) یعنی میں تمہیں جن باتوں کا حکم دوں اس میں میری اطاعت کرو، اس لئے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول اور اس کا نمائندہ بن کر آیا ہوں۔

٤۔اس کے معنی یہ کیے گیے ہیں کہ ایمان لانے کی صورت میں تمہاری موت کی جو مدت مقرر ہے اس کو مؤخر کر کے تمہیں مزید مہلت عمر عطا فرمائے گا اور وہ عذاب تم سے دور کر دے گا جو عدم ایمان کی صورت میں تمہارے لیے مقدر تھا۔ بلکہ لامحالہ واقع ہو کر رہنا ہے اسی لیے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ ایمان و اطاعت کا راستہ فورا اپنا لو تاخیر خطرہ ہے کہ وعدہ عذاب الہی کی لپیٹ میں نہ آ جاؤ۔

٥۔ یعنی تیرے حکم کی تعمیل میں، بغیر کسی کوتاہی کے رات دن میں نے تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچایا ہے۔

٦۔ یعنی میری پکار سے یہ ایمان سے اور زیادہ دور ہو گئے ہیں۔ جب کوئی قوم گمراہی کے آخری کنارے پر پہنچ جائے تو پھر اس کا یہی حال ہوتا ہے، اسے جتنا اللہ کی طرف بلاؤ، وہ اتنا ہی دور بھاگتی ہے۔

٧۔ (۱) یعنی ایمان اور اطاعت کی طرف، جو سبب مغفرت ہے۔

٧۔ (۲)  تاکہ میری آواز سن سکیں۔ تاکہ میرا چہرہ نہ دیکھ سکیں یا اپنے سروں پر کپڑے ڈال دیے تاکہ میرا کلام نہ سن سکیں

٧۔ (۳) یعنی کفر پر مصر رہے، اس سے باز نہ آئے اور توبہ نہیں کی۔

٧۔(۴) قبول حق اور امتثال امر سے انہوں نے سخت تکبر کیا۔

٩۔ یعنی مختلف انداز اور طریقوں سے انہیں دعوت دی۔ بعض کہتے ہیں، کہ اجتماعات اور مجلسوں میں بھی انہیں دعوت دی اور گھروں میں فرداً فرداً بھی تیرا پیغام پہنچایا۔

١٠۔ (۱) یعنی ایمان اور اطاعت کا راستہ اپنا لو، اور اپنے رب سے گزشتہ گناہوں کی معافی مانگ لو۔

١٠۔ (۲)  وہ توبہ کرنے والوں کے لئے بڑا رحیم و غفار ہے۔

١١۔ بعض علماء اسی آیت کی وجہ سے نماز استسقاء میں سورہ نوح کے پڑھنے کو مستحب سمجھتے ہیں۔ مروی ہے کہ حضرت عمر بھی ایک مرتبہ نماز استسقاء کے لئے منبر پر چڑھے تو صرف آیات استغفار (جن میں یہ آیت بھی تھی) پڑھ کر منبر سے اتر آئے۔ اور فرمایا کہ میں نے بارش کو، بارش کے ان راستوں سے طلب کیا ہے جو آسمانوں میں ہیں جن سے بارش زمین پر اترتی ہے (ابن کثیر)

۱۲۔یعنی ایمان و اطاعت سے تمہیں اخروی نعمتیں ملیں گی بلکہ دنیاوی مال و دولت اور بیٹوں کی کثرت سے بھی نوازے جاؤ گے۔

۱۳۔یعنی جس طرح اس کی عظمت کا حق ہے تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں ؟ اور اس کو ایک کیوں نہیں مانتے اور اس کی اطاعت کیوں نہیں کرتے۔

١٤۔ پہلے نطفہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر عظام اور لحم اور پھر خلق تام، جیسا کہ سورہ انبیا۔ ٥، المو منین۔ ١٤،٦٧ وغیرھا میں تفصیل گزری۔

۱۵۔جو اس کی قدرت اور کمال صناعت پر دلالت کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عبادت کے لائق صرف وہی ایک اللہ ہے۔

١٦۔ جو روئے زمین کو منور کرنے والا اور اس کے ماتھے کا جھومر ہے۔ تاکہ اس کی روشنی میں انسان معاش کے لیے جو انسانوں کی انتہائی ناگزیر ضرورت ہے کسب و محنت کر سکے۔

١٧۔ یعنی تمہارے باپ آدم علیہ السلام کو، جنہیں مٹی سے بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ یا اگر تمام انسانوں کو مخاطب سمجھا جائے، تو مطلب ہو گا کہ تم جس نطفے سے پیدا ہوتے ہو وہ اسی خوراک سے بنتا ہے جو زمین سے حاصل ہوتی ہے، اس اعتبار سے سب کی پیدائش کی اصل زمین ہی قرار پائی ہے۔

١٨۔ یعنی، مر کر پھر اسی مٹی میں دفن ہونا ہے اور پھر قیامت والے دن اسی زمین سے تمہیں زندہ کر کے نکالا جائے گا۔

۱۹۔یعنی اسے فرش کی طرح بچھا دیا ہے تم اس پر اسی طرح چلتے پھرتے ہو جیسے اپنے گھر میں بچھے ہوئے فرش پر چلتے اور اٹھتے بیٹھتے ہو۔

۲۰۔یعنی اس زمین پر اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے کشادہ راستے بنا دیے ہیں تاکہ انسان آسانی کے ساتھ ایک دوسری جگہ، ایک شہر سے دوسرے شہر یا ایک ملک سے دوسرے ملک میں جا سکے اس لیے یہ راستے بھی انسان کی کاروباری اور تمدنی ضرورت ہے جس کا انتظام کر کے اللہ نے انسانوں پر احسان عظیم کیا ہے۔

٢١۔ لوگ میری نافرمانی پر اڑے ہوئے ہیں اور میری دعوت پر لبیک نہیں کہہ رہے۔ یعنی ان کے اپنے بڑوں اور صاحب ثروت ہی کی پیروی کی جن کے مال و اولاد نے انہیں دنیا اور آخرت کے خسارے میں ہی بڑھایا ہے۔

۲۲۔یہ مکر یا فریب کیا تھا بعض کہتے ہیں ان کا بعض لوگوں کو حضرت نوح علیہ السلام کے قتل پر ابھارنا تھا بعض کہتے ہیں کہ مال و اولاد کی وجہ سے جس فریب نفس کا وہ شکار ہوئے حتی کہ بعض نے کہا کہ اگر یہ حق پر نہ ہوتے تو ان کو یہ نعمتیں میسر کیوں آتیں ؟ بعض کے نزدیک ان کا کفر ہی بڑا مکر تھا۔

٢٣۔ یہ قوم نوح علیہ السلام کے وہ لوگ تھے جن کی عبادت کرتے تھے اور ان کی اتنی شہرت ہوئی کہ عرب میں بھی ان کی پوجا ہوتی رہی، یہ پانچوں قوم نوح علیہ السلام کے نیک آدمیوں کے نام تھے، جب یہ مر گئے تو شیطان نے ان کے عقیدت مندوں کو کہا کہ ان کی تصویریں بنا کر تم اپنے گھروں اور دکانوں میں رکھ لو تاکہ ان کی یاد تازہ رہے اور ان کے تصور سے تم بھی ان کی طرح نیکیاں کرتے رہو، جب یہ تصویریں رکھنے والے فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کی نسلوں کو یہ کہہ کر کہ شرک میں ملوث کر دیا کہ تمہارے آباء تو ان کی عبادت کرتے تھے جن کی تصویریں تمہارے گھروں میں لٹک رہی ہیں چنانچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کر دی (صحیح بخاری)

٢٤۔ انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا اور اس کا مرجع یہی مذکورہ پانچ بت ہیں، اس کا مطلب ہو گا کہ ان کے سبب بہت سے لوگ گمراہی میں مبتلا ہوئے۔ جیسے ابراہیم علیہ السلام نے بھی کہا تھا۔

٢٦۔ یہ بددعا اس وقت کی جب حضرت نوح علیہ السلام ان کے ایمان لانے سے بالکل نا امید ہو گئے اور اللہ نے بھی اطلاع کر دی کہ اب ان میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا (ہود۔٣٦) مطلب ہے کسی کو باقی نہ چھوڑ۔

۲۸۔(۱) کافروں کے لیے بد دعا کی تو مومنین کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔

٢٨۔ (۲)  یہ بددعا قیامت تک آنے والے ظالموں کے لئے ہے جس طرح مذکورہ دعا تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں کے لئے ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ الجنّ

١۔ یہ واقعہ سورہ احقاف۔ (۲) ٩ کے حاشیہ میں گزر چکا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم وادی نخلہ صحابہ کرام کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے کہ کچھ جنوں کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا قرآن سنا۔ جس سے وہ متاثر ہوئے۔ یہاں بتلایا جا رہا ہے کہ اس وقت جنوں کا قرآن سننا، آپ کے علم میں نہیں آیا، بلکہ وحی کے ذریعے سے ان کو اس سے آگاہ فرمایا گیا،

٢۔ یہ قرآن کی دوسری صفت ہے کہ وہ راہ راست یعنی حق کو واضح کرتا ہے یا اللہ کی معرفت عطا کرتا ہے۔ یعنی ہم نے سن کر اس بات کی تصدیق کر دی کہ واقعی یہ اللہ کا کلام ہے کسی انسان کا نہیں اس میں کفار کو توبیخ و تنبیہ ہے کہ جن تو ایک مرتبہ ہی سن کر قرآن پر ایمان لے آئے لیکن انسانوں کو خاص کر ان کے سرداروں کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ کی زبان سے متعدد بار انہوں نے قرآن سنا۔ ہم کسی کو بھی اس کا شریک نہ بنائیں گے نہ مخلوق میں سے نہ کسی اور معبود کو اس لیے کہ وہ اپنی ربوبیت میں منفرد ہے۔

٣۔ یعنی ہمارے رب کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اس کی اولاد یا بیوی ہو۔ گویا جنوں نے ان مشرکوں کی غلطی کو واضح کیا جو اللہ کی طرف بیوی یا اولاد کی نسبت کرتے تھے، انہوں نے ان دونوں کمزوریوں سے رب کی پاکی بیان کی۔

٤۔ (ہمارے بے وقوف) سے بعض نے شیطان مراد لیا ہے اور بعض نے ان کے ساتھی جن اور بعض نے بطور جنس، یعنی ہر وہ شخص جو یہ گمان باطل رکھتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے۔ شَطَطاً کے کئ معنی کئے گئے ہیں، ظلم، جھوٹ، باطل، کفر میں مبالغہ وغیرہ۔ مقصد، راہ اعتدال سے دوری اور حد سے تجاوز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بات کہ اللہ کی اولاد ہے ان بے وقوفوں کی بات ہے جو راہ اعتدال سے دور، حد متجاوز اور کاذب و افترا پرداز ہیں۔

٥۔ اسی لئے ہم اس کی تصدیق کرتے رہے اور اللہ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے رہے۔ حتیٰ کہ ہم نے قرآن سنا تو پھر ہم پر اس عقیدے کا باطل ہونا واضع ہوا۔

٦۔ یعنی جب جنات نے یہ دیکھا کہ انسان ہم سے ڈرتے ہیں اور ہماری پناہ طلب کرتے ہیں تو ان کی سرکشی اور تکبر میں اضافہ ہو گیا۔

٨۔ یعنی آسمانوں پر فرشتے چوکیداری کرتے ہیں کہ آسمانوں کی کوئی بات کوئی اور نہ سن لے اور یہ ستارے آسمان پر جانے والے شیاطین پر شعلہ بن کر گرتے ہیں۔

۹۔(۱) اور آسمانی باتوں کی کچھ گن سن پا کر کاہنوں کو بتلا دیا کرتے تھے جس میں وہ اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا دیا کرتے تھے۔

٩۔ (۲)  لیکن بعثت محمدیہ کے بعد یہ سلسلہ بند کر دیا گیا، اب جو بھی اس نیت سے اوپر جاتا ہے، شعلہ اس کی تاک میں ہوتا ہے اور ٹوٹ کر اس پر گرتا ہے۔

١٠۔ یعنی اس حراست آسمانی سے مقصد اہل زمین کے لئے کسی شر کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہچانا یعنی ان پر عذاب نازل کرنا یا بھلائی کا ارادہ یعنی رسول کا بھیجنا ہے۔

١١۔ مطلب یہ ہے کہ ہم مختلف جماعتوں میں بٹے ہوئے ہیں مطلب یہ کہ جنات میں بھی مسلمان، کافر، یہودی، عیسائی، مجوسی وغیرہ ہیں، بعض کہتے ہیں ان میں بھی مسلمانوں کی طرح قدریہ، مرحبئہ اور رافضہ وغیرہ ہیں (فتح القدیر)

١٣۔ یعنی نہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ ان کی نیکیوں کے اجر و ثواب میں کوئی کمی کر دی جائے گی اور نہ اس بات کا خوف کہ ان کی برائیوں میں اضافہ ہو جائے گا۔

١٤۔ یعنی جو نبوت محمدیہ پر ایمان لائے وہ مسلمان، اور اس کے منکر بے انصاف ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ انسانوں کی طرح جنات بھی دوزخ اور جنت میں جانے والے ہوں گے ان میں جو کافر ہیں وہ جہنم میں اور مسلمان جنت میں جائیں گے یہاں تک جنات کی گفتگو ختم ہو گئی۔

١٧۔ (۱) اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب کفار قریش پر قحط سالی مسلط کر دی گئی تھی، الطَّرِیْقَۃٍ کے دوسرے معنی گمراہی کے راستے کے کئے گئے ہیں۔

١٧۔ (۲)  نہایت سخت الم ناک عذاب (ابن کثیر)

۱۸۔مسجد کے معنی ہیں سجدہ گاہ۔ سجدہ بھی ایک رکن نماز ہے اس لیے نماز پڑھنے کی جگہ مسجد کہا جاتا ہے آیت کا مطلب واضح ہے کہ مسجدوں کا مقصد صرف ایک اللہ کی عبادت ہے اس لیے مسجدوں میں کسی اور کی عبادت کسی اور سے دعا و مناجات جائز نہیں۔

١٩۔ عَبْدُاللّٰہِ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اور مطلب ہے کہ انس و جن مل کر چاہتے ہیں کہ اللہ کے اس نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں، لیکن امام ابن کثیر نے اسے رجوع کرنا قرار دیا ہے۔

۲۰۔یعنی جب سب آپ کی عداوت پر اتر آئے ہیں تو آپ کہہ دو کہ میں تو صرف اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اسی سے پناہ طلب کرتا ہوں اور اسی پر بھروسہ کرتا ہوں۔

۲۱۔یعنی مجھے تمہاری ہدایت یا گمراہی کا یا کسی اور نفع نقصان کا اختیار نہیں ہے میں تو صرف اس کا ایک بندہ ہوں جسے اللہ نے وحی و رسالت کے لیے چن لیا ہے۔

٢٢۔ اگر میں اس کی نافرمانی کروں اور وہ مجھے اس پر وہ عذاب دینا چاہے۔

٢٤۔ (۱) یا مطلب یہ ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور مومنین کی عداوت اور اپنے کفر پر مصر رہیں گے، یہاں تک کہ دنیا یا آخرت میں وہ عذاب دیکھ لیں گے، جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

٢٤۔ (۲)  یعنی اس وقت ان کو پتہ لگے گا کہ مومنوں کا مددگار کمزور ہے یا مشرکوں کا؟ اہل توحید کی تعداد کم ہے یا غیر اللہ کے پجاریوں کی۔ مطلب یہ ہے کہ پھر مشرکین کا تو سرے سے کوئی مددگار ہی نہیں ہو گا اور اللہ کے ان گنت لشکروں کے مقابلے میں ان مشرکین کی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہو گی۔

٢٥۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب یا قیامت کا علم، یہ غیب سے تعلق رکھتا ہے جس کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ قریب ہے یا دور۔

۲۶۔یعنی اپنے پیغمبر کو بعض امور غیب سے مطلع کر دیا جاتا ہے جن کا تعلق یا تو اس کے فرائض رسالت سے ہوتا ہے یا وہ اس کی رسالت کی صداقت کی دلیل ہوتے ہیں اور ظاہر بات ہے کہ اللہ کے مطلع کرنے سے پیغمبر عالم الغیب نہیں ہو جاتا۔ لہذا عالم الغیب صرف اللہ ہی کی ذات ہے جیسا کہ یہاں بھی اس کی صراحت فرمائی گئی ہے۔

٢٧۔ یعنی نزول وحی کے وقت پیغمبر کے آگے پیچھے فرشتے ہوتے ہیں اور شیاطین اور جنات کو وحی کی باتیں سننے نہیں دیتے۔

٢٨۔ (۱) لیعلم۔ میں ضمیر کا مرجع کون ہے ؟ بعض کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تاکہ آپ جان لیں کہ آپ سے پہلے رسولوں نے بھی اللہ کا پیغام اسی طرح پہنچایا جس طرح آپ نے پہنچایا۔ بعض نے فرشتوں کو بنایا ہے کہ فرشتوں نے اللہ کا پیغام نبیوں تک پہنچایا۔ اور بعض نے اللہ کو مرجع بنایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کی فرشتوں کے ذریعے حفاظت فرماتا ہے۔

۲۸۔ (۲)  فرشتوں کے پاس کی یا پیغمبروں کے پاس کی۔

٢٨۔ (۳)  کیونکہ وہی عالم الغیب ہے، جو ہو چکا اور آئندہ ہو گا، سب کا اس نے شمار کر رکھا ہے۔ یعنی اسکے علم میں ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ مزمل

۱۔جس وقت یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم چادر اوڑھے ہوئے تھے اللہ نے آپ کی اسی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا مطلب یہ ہے کہ اب چادر چھوڑ دیں اور رات کو تھوڑا قیام کریں یعنی نماز تہجد پڑھیں کہا جاتا ہے کہ اس حکم کی بناء پر تہجد آپ کے لیے واجب تھی۔ (ابن کثیر)

٤۔ (۱) یعنی یہ قیام نصف رات سے کچھ کم (ثلث) یا کچھ زیادہ (دو ثلث) ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

 ٤۔ (۲)  چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ آپ کی قرأت ترتیل کے ساتھ ہی تھی اور آپ نے اپنی امت کو بھی ترتیل کے ساتھ، یعنی ٹھہر ٹھہر پڑھنے کی تلقین کی ہے۔

٥۔ رات کا قیام چونکہ نفس انسانی کے لئے بالعموم گراں ہے، اس لئے یہ جملہ خاص طور پر فرمایا کہ ہم اس سے بھی بھاری بات تجھ پر نازل کریں گے، یعنی، قرآن، جس کے احکام و فرائض پر عمل، اس کی حدود کی پابندی اور اس کی تبلیغ اور دعوت، ایک بھاری جانفشانی کا عمل ہے۔ بعض نے ثقالت سے وہ بوجھ مراد لیا ہے جو وحی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر پڑتا تھا جس سے سخت سردی میں بھی آپ پسینے سے شرابور ہو جاتے تھے۔

٦۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دن کے مقابلے میں رات کو قرآن زیادہ واضح اور حضور قلب کے لئے زیادہ موثر ہے، اس لئے کہ اس وقت دوسری آوازیں خاموش ہوتی ہیں۔ فضا میں سکون غالب ہوتا ہے اس وقت نمازی جو پڑھتا ہے وہ آوازوں کے شور اور دنیا کے ہنگاموں کے نذر نہیں ہوتا بلکہ نمازی اس سے خوب محفوظ ہوتا اور اس کی اثر آفرینی کو محسوس کرتا ہے۔

٧۔ یعنی رات کو نماز اور تلاوت زیادہ مفید اور موثر ہے، یعنی اس پر ہمیشگی کر، دن ہو یا رات، اللہ کی تسبیح و تمحید اور تکبیر و تہلیل کرتا رہ۔

۸۔یعنی اللہ کی عبادت اور اس سے دعا و مناجات کے لیے یکسو اور ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہو جانا، یہ رہبانیت سے مختلف چیز ہے رہبانیت تو تجرد اور ترک دنیا ہے جو اسلام میں ناپسندیدہ ہے۔

١٣۔ ذَا غُصَّۃ ِ حلق میں اٹک جانے والا، نہ حلق سے نیچے اترے اور نہ باہر نکلے۔ یہ زَ قُّوْم کا کھانا ہو گا۔ ضَرِیْع ایک کانٹے دار جھاڑی ہے جو سخت بدبو دار اور زہریلی ہوتی ہے۔

۱٤۔یعنی یہ عذاب اس دن ہو گا جس دن زمین پہاڑ بھونچال سے تہ و بالا ہو جائیں گے اور بڑے بڑے پر ہیبت پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح بے حیثیت ہو جائیں گے۔ کثیب ریت کا ٹیلا، مھیلا کا معنی بھربھری پیروں کے نیچے سے نکل جانے والی ریت۔

١٥۔ جو قیامت والے دن تمہارے اعمال کی گواہی دے گا۔

١٦۔ اس میں اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ تمہارا حشر بھی وہی ہو سکتا ہے۔ جو فرعون کا موسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کی وجہ سے ہوا۔

١٧۔ قیامت والے دن کی ہولناکی بیان کی کہ واقع اس دن بچے بوڑھے ہو جائیں گے یا تمثیل کے طور پر کہا گیا۔

۱۸۔ (۱) یہ یوم کی دوسری صفت ہے اس دن ہولناکی سے آسمان پھٹ جائے گا

۱۸۔ (۲)  یعنی اللہ نے جو بعث بعد الموت، حساب کتاب اور جنت دوزخ کا وعدہ کیا ہوا ہے یہ یقیناً لامحالہ ہو کر رہنا ہے۔

٢٠۔ (۱) جب سورت کے آغاز میں نصف رات یا اس سے کم یا زیادہ قیام کا حکم دیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت رات کو قیام کرتی کبھی دو تہائی سے کم یا زیادہ کبھی نصف رات کبھی ثلث رات جیسا کہ یہاں ذکر ہے۔ لیکن ایک تو رات کا یہ قیام نہایت گراں تھا دوسرے وقت کا اندازہ لگانا مشکل تھا کہ یہ نصف رات ہوئی یا ثلث اس لیے اللہ نے اس آیت میں تخفیف کا حکم نازل فرمایا جس میں فرمایا کہ بعض کے نزدیک ترک قیام کی اجازت ہے۔

۲۰۔ (۲) یعنی اللہ تورات کی گھڑیاں گن سکتا ہے کتنی گزر گئی ہیں اور کتنی باقی ہیں تمہارے لیے یہ اندازہ لگانا ناممکن ہے۔

 ۲۰۔ (۳) جب تمہارے لئے رات کے گزرنے کا صحیح اندازہ ممکن ہی نہیں، تو تم مقررہ اوقات تک نماز تہجد میں مشغول بھی کس طرح رہ سکتے ہو۔

٢٠۔(۴) یعنی تجارت اور کاروبار کے لئے سفر کرنا اور ایک شہر سے دوسرے شہر میں یا ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانا پڑے گا۔

۲۰۔(۵) اسی طرح جہاد میں بھی پُر مشقت سفر اور مشقتیں کرنی پڑتی ہیں، اور یہ تینوں چیزیں، بیماری، سفر اور جہاد نوبت بہ نوبت ہر ایک کو لاحق ہوتی ہیں اس لیے اللہ نے قیام اللیل کے حکم میں تخفیف کر دی ہے کیوں کہ تینوں حالتوں میں یہ نہایت مشکل اور بڑا صبر آزما کام ہے۔

٢٠۔ (٦)  اسباب تخفیف کے ساتھ تخفیف کا یہ حکم دوبارہ بطور تاکید بیان کر دیا گیا۔

٢٠۔(۷) یعنی پانچوں نمازوں کی جو فرض ہیں۔

٢٠۔(۸) یعنی اللہ کی راہ میں حسب ضرورت و توفیق خرچ کرو، اسے قرض حسنہ سے اس لئے تعبیر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں سات سو گنا بلکہ اس سے زیادہ تک اجر و ثواب عطا فرمائے گا نفلی نمازیں، صدقات و خیرات اور دیگر نیکیاں جو بھی کرو گے اللہ کے ہاں ان کا بہترین اجر پاؤ گے اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا نصف حصہ مکی اور نصف حصہ مدنی ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ المُدثر

١۔ سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ (اِ قْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ) ہے اس کے بعد وحی میں وقفہ ہو گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم سخت مضطرب اور پریشان رہتے۔ ایک روز اچانک پھر وہی فرشتہ، جو غار حرا میں پہلی مرتبہ وحی لے کر آیا تھا۔ آپ نے دیکھا کہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، جس سے آپ پر ایک خوف سا طاری ہو گیا اور گھر جا کر گھر والوں سے کہا کہ مجھے کوئی کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے جسم پر ایک کپڑا ڈال دیا، اسی حالت میں وحی نازل ہوئی۔ (صحیح بخاری) اس اعتبار سے یہ دوسری وحی اور احکام کے حساب سے پہلی وحی ہے۔

٢۔ یعنی اہل مکہ کو ڈرا، اگر وہ ایمان نہ لائیں۔

٤۔ یعنی قلب اور نیت کے ساتھ کپڑے بھی پاک رکھ۔ یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ مشرکین مکہ طہارت کا اہتمام نہیں کرتے تھے۔

٥۔ یعنی بتوں کی عبادت چھوڑ دے۔ یہ دراصل لوگوں کو آپ کے ذریعے سے حکم دیا جا رہا ہے۔

٦۔ یعنی احسان کر کے یہ خواہش نہ کر کہ بدلے میں اس سے زیادہ ملے گا۔

١٠۔ یعنی قیامت کا دن کافروں پر بھاری ہو گا کیونکہ اس روز کفر کا نتیجہ انہیں بھگتنا ہو گا، جو جرم وہ دنیا میں کرتے رہے ہوں گے۔

١١۔ یہ کلمہ وعید و تہدید ہے کہ اسے، جسے میں نے ماں کے پیٹ میں اکیلا پیدا کیا، اس کے پاس مال تھا نہ اولاد، اور مجھے اکیلا چھوڑ دو، یعنی میں خود ہی اس سے نمٹ لوں گا، کہتے ہیں کہ یہ ولید بن مغیرہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہ کفر و طغیان میں بہت بڑھا ہوا تھا، اس لئے اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ واللہ عالم۔

١٣۔ اسے اللہ نے اولاد سے نوازا تھا اور وہ ہر وقت اس کے پاس ہی رہتے تھے، گھر میں دولت کی فراوانی تھی، اس لئے بیٹوں کو تجارت و کاروبار کے لئے باہر جانے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی بعض کہتے ہیں کہ اس کے تین بیٹے مسلمان ہو گئے تھے، خالد، ہشام اور ولید بن ولید (فتح القدیر)

١٤۔ یعنی مال و دولت میں ریاست و سرداری میں اور درازی عمر میں۔

۱۵۔یعنی کفرو معصیت کے باوجود، اس کی خواہش ہے کہ میں اسے زیادہ دوں۔

١٦۔ یعنی میں اسے زیادہ نہیں دونگا۔ عنید اس شخص کو کہتے ہیں جو جاننے کے باوجود حق کی مخالفت کرے اور اس کو رد کرے۔

١٧۔ یعنی ایسے عذاب میں مبتلا کروں گا جس کا برداشت کرنا نہایت سخت ہو گا، بعض کہتے ہیں، جہنم میں آگ کا پہاڑ ہو گا جس پر اس کو چڑھایا جائے گا (فتح القدیر)

١٨۔ یعنی قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا پیغام سن کر، اس نے اس امر پر غور کیا کہ میں اس کا جواب دوں ؟ اور اپنے جی میں اس نے وہ تیار کیا۔

٢٠۔ یہ اس کے حق میں بد دعائیہ کلمے ہیں، کہ ہلاک ہو، مارا جائے، کیا بات اس نے سوچی ہے ؟

٢١۔ یعنی پھر غور کیا کہ قرآن کا رد کس طرح ممکن ہے۔

٢٢۔ یعنی جواب سوچتے وقت چہرے کی سلوٹیں بدلیں، اور منہ بسورا، جیسا کہ عموماً کسی مشکل بات پر غور کرتے وقت آدمی ایسا کرتا ہے۔

٢٣۔ یعنی حق سے انکار کیا اور ایمان لانے سے تکبر کیا۔

٢٤۔ یعنی کسی سے یہ سیکھ آیا ہے اور وہاں سے نقل کر لایا ہے اور دعویٰ کر دیا کہ اللہ کا نازل کردہ ہے۔

٢٧۔ دوزخ کے ناموں یا درجات ایک کا نام سَقَرُ بھی ہے۔

٢٨۔ ان کے جسموں پر گوشت چھوڑے گی نہ ہڈی، یا مطلب ہے جہنمیوں کو زندہ چھوڑے گی نہ مردہ،

٣٠۔ یعنی جہنم پر بطور دربان ١٩ فرشتے مقرر ہیں

٣١۔ (۱) یہ مشرکین قریش کا رد ہے، جب جہنم کے دروغوں کا اللہ نے ذکر فرمایا تو ابوجہل نے جماعت قریش کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم میں سے ہر دس آدمیوں کا گروپ، ایک ایک فرشتے کے لئے کافی نہیں ہو گا، بعض کہتے ہیں کہ کالدہ نامی شخص نے اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا، کہا، تم سب صرف دو فرشتے سنبھال لینا، ١٧ فرشتوں کو تو میں اکیلا ہی کافی ہوں۔ کہتے ہیں اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو کشتی کا بھی کئی مرتبہ چیلنج دیا اور ہر مرتبہ شکست کھائی مگر ایمان نہیں لایا، کہتے ہیں اس کے علاوہ رکانہ بن عبد یزید کے ساتھ بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کشتی لڑی تھی لیکن وہ شکست کھا کر مسلمان ہو گئے تھے (ابن کثیر) مطلب یہ کہ یہ تعداد بھی ان کے مذاق یا آزمائش کا سبب بن گئی۔

٣١۔ (۲)  یعنی جان لیں کہ رسول برحق ہے اور اس نے وہی بات کی ہے جو پچھلی کتابوں میں بھی درج ہے۔

٣١۔ (۳) کہ اہل کتاب نے ان کے پیغمبر کی بات کی تصدیق کی ہے

٣١۔(۴) بیمار دلوں سے مراد منافقین ہیں یا پھر وہ جن کے دلوں میں شکوک تھے کیوں کہ مکہ میں منافقین نہیں تھے۔ یعنی یہ پوچھیں گے کہ اس تعداد کو یہاں ذکر کرنے میں اللہ کی کیا حکمت ہے ؟

٣١۔(٥) یعنی گذشتہ گمراہی کی طرح جسے چاہتا ہے گمراہ اور جسے چاہتا ہے، راہ یاب کر دیتا ہے، اس میں حکمت بالغہ ہوتی ہے اسے صرف اللہ ہی جانتا ہے۔

٣١۔(٦) یعنی کفار و مشرکین سمجھتے ہیں کہ جہنم میں ١٩ فرشتے ہی تو ہیں، جن پر قابو پانا کون سا مشکل کام ہے ؟ لیکن ان کو معلوم نہیں کہ رب کے لشکر تو اتنے ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہی نہیں۔ صرف فرشتے ہی اتنی تعداد میں ہیں کہ ٧٠ ہزار فرشتے روزانہ اللہ کی عبادت کے لئے بیت المعمور میں داخل ہوتے ہیں، پھر قیامت تک ان کی باری نہیں آئے گی۔ (صحیح بخاری)

 ٣١۔ (٧) یعنی یہ جہنم اور اس پر مقرر فرشتے، انسانوں کی پند و نصیحت کے لئے ہیں کہ شاید وہ نافرمانیوں سے باز آ جائیں۔

٣٥۔ یہ جواب قسم ہے کُبَر، کُبْرَیٰ کی جمع ہے تین نہایت اہم چیزوں کی قسموں کے بعد اللہ نے جہنم کی بڑائی اور ہولناکی کو بیان کیا ہے جس سے اس کی بڑائی میں کوئی شک نہیں رہتا۔

٣٧۔ یعنی یہ جہنم ڈرانے والی ہے یا نذیر سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہیں یا قرآن بھی اپنے بیان کردہ وعد و وعید کے اعتبار سے انسانوں کے لئے نذیر ہے۔ اور ایمان و اطاعت میں آگے بڑھنا چاہیے یا اس سے پیچھے ہٹنا چاہیے مطلب ہے کہ انداز ہر ایک کے لیے ہے جو ایمان لائے یا کفر کرے۔

٣٨۔١رہن گروی کو کہتے ہیں یعنی ہر شخص اپنے عمل کا گروی ہے، وہ عمل اسے عذاب سے چھڑا لے گا، (اگر نیک ہو گا) یا ہلاک کروا دے گا۔ (اگر برا ہے )

٣٩۔ یعنی وہ گناہوں کے اسیر نہیں ہوں گے بلکہ اپنے نیک اعمال کی وجہ سے آزاد ہوں گے۔

٤۰۔اہل جنت بالاخانوں میں بیٹھے، جہنمیوں سے سوال کریں گے۔

٤٤۔نماز حقوق اللہ میں سے اور مساکین کو کھانا کھلانا حقوق العباد میں سے ہے مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اللہ کے حقوق ادا کیے نہ بندوں کے۔

٤٥۔ یعنی کج بحثی اور گمراہی کی حمایت میں سرگرمی سے حصہ لیتے تھے۔

٤٨۔ یعنی جو صفات مذکورہ کا حامل ہو گا، اسے کسی کی شفاعت بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی، اس لئے کہ کفر کی وجہ سے محل شفاعت ہی نہیں ہو گا، شفاعت تو صرف ان کے لئے مفید ہو گی جو ایمان کی وجہ سے شفاعت کے قابل ہوں گے۔

۵۱۔یعنی یہ حق سے نفرت اور اعراض کرنے میں ایسے ہیں جیسے وحشی، خوف زدہ گدھے، شیر سے بھاگتے ہیں جب وہ ان کا شکار کرنا چاہیے۔

٥٢۔ یعنی ہر ایک کے ہاتھ میں اللہ کی طرف سے ایک ایک کتاب مفتوح نازل ہو جس میں لکھا ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ بغیر عمل کے یہ عذاب سے چھٹکارہ چاہتے ہیں، یعنی ہر ایک کو پروانہ نجات مل جائے۔ (ابن کثیر)

٥٣۔ یعنی ان کے فساد کی وجہ سے ان کا آخرت پر عدم ایمان اور اس کی تکذیب ہے جس نے انہیں بے خوف کر دیا ہے۔

٥٤۔ لیکن اس کے لئے جو اس قرآن کے واعظ اور نصیحت سے عبرت حاصل کرنا چاہے۔

٥٦۔ (۱) یعنی اس قرآن سے ہدایت اور نصیحت اسے ہی حاصل ہو گی جسے اللہ چاہے گا۔

 ٥٦۔ (۲)  یعنی وہ اللہ ہی اس لائق ہے اس سے ڈرا جائے اور وہی معاف کرنے کے اختیارات رکھتا ہے۔ اس لئے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اسکی نافرمانی سے بچا جائے تاکہ انسان اس کی مغفرت و رحمت کا سزاوار قرار پائے۔

٭٭٭

 

سورۃ القیامۃ

١۔ میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں، قیامت کے دن کی قسم کھانے کا مقصد اس کی اہمیت اور عظمت کو واضح کرنا ہے۔

٢۔ یعنی بھلائی پر بھی کرتا ہے کہ زیادہ کیوں نہیں کی۔ اور برائی پر بھی، کہ اس سے باز کیوں نہیں آتا؟ دنیا میں بھی جن کے ضمیر بیدار ہوتے ہیں ان کے نفس انہیں ملامت کرتے ہیں، تاہم آخرت میں تو سب کے ہی نفس ملامت کریں گے۔

٣۔ یہ جواب قسم ہے انسان سے مراد یہاں کافر اور بے دین انسان ہے جو قیامت کو نہیں مانتا۔ اس کا گمان غلط ہے، اللہ تعالیٰ یقیناً انسانوں کے اجزا کو جمع فرمائے گا یہاں ہڈیوں کا بطور خاص ذکر ہے، اس لیئے کہ ہڈیاں ہی پیدائش کا اصل ڈھانچہ اور قالب ہیں۔

٤۔ بَنَان(پور پور) جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ دیں گے تو بڑے حصے کو جوڑ دینا ہمارے لئے کیا مشکل ہو گا

٥۔ یعنی اس امید پر نافرمانی اور حق کا انکار کرتا ہے کہ کون سی قیامت آنی ہے۔

٦۔ یہ سوال اس لئے نہیں کرتا کہ گناہوں سے تائب ہو جائے، بلکہ قیامت کو ناممکن الوقوع سمجھتے ہوئے پوچھتا ہے۔ اسی لیے فسق و فجور سے باز نہیں آتا۔ تاہم اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ قیامت کے آنے کا وقت بیان فرما رہے ہیں۔

٧۔ دہشت اور حیرانی سے جیسے موت کے وقت عام طور پر ہوتا ہے۔

٨۔ جب چاند کو گرہن لگ جاتا ہے تو اس وقت بھی وہ بے نور ہو جاتا ہے۔ لیکن جو علامات قیامت میں سے ہے، جب ہو گا تو اس کے بعد اس میں روشنی نہیں آئے گی۔

٩۔ یعنی بے نوری میں۔ مطلب ہے کہ چاند کی طرح سورج کی روشنی بھی ختم ہو جائے گی۔

١٠۔ یعنی جب یہ واقعات ظہور پذیر ہوں گے تو پھر اللہ سے یا جہنم کے عذاب سے راہ فرار ڈھونڈے گا، لیکن اس وقت راہ فرار کہاں ہو گی۔

١١۔ وَزَرَ پہاڑ یا قلعے کو کہتے ہیں جہاں انسان پناہ حاصل کر لے۔ وہاں ایسی کوئی پناہ گاہ نہیں ہو گی۔

١٢۔ جہاں وہ بندوں کے درمیان فیصلے فرمائے گا۔ یہ ممکن نہیں ہو گا کہ کوئی اللہ کی اس عدالت سے چھپ جائے

٣ ١۔ یعنی اس کے تمام اعمال سے آگاہ کیا جائے گا قدیم ہو یا جدید، اول ہو یا آخر چھوٹا ہو یا بڑا

١٤۔ یعنی اس کے اپنے ہاتھ، پاؤں، زبان اور دیگر اعضاء گواہی دیں گے، یا یہ مطلب ہے کہ انسان اپنے عیوب خود جانتا ہے۔

١٥۔ یعنی لڑے جھگڑے، ایک سے ایک بہانہ کرے، لیکن ایسا کرنا نہ اس کے لئے مفید ہے اور نہ وہ اپنے ضمیر کو مطمئن کر سکتا ہے۔

١٦۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام جب وحی لے کر آتے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بھی ان کے ساتھ جلدی سے پڑھتے جاتے کہ کہیں کوئی لفظ بھول نہ جائے۔ اللہ نے اپنے فرشتے کے ساتھ ساتھ اس طرح پڑھنے سے منع فرمایا۔ صحیح بخاری

١٧۔ یعنی آپ کے سینے میں اس کا جمع کر دینا اور آپ کی زبان پر اس کی قرأت کو جاری کر دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ تاکہ اس کا کوئی حصہ آپ کی یادداشت سے نہ نکلے اور آپ کے ذہن سے محو نہ ہو۔

١٨۔ یعنی فرشتے کے ذریعے سے جب ہم اس کی قرأت آپ پوری کر لیں۔ یعنی اس کے شرائع و احکام لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور ان کی پیروی بھی کریں۔

۱۹۔یعنی اس کے مشکل مقامات کی تشریح اور حلال و  حرام کی توضیح یہ بھی ہمارے ذمے ہے اس کا صاف مطلب ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کے مجملات کی توضیح جو تخصیص بیان فرمائی ہے جسے حدیث کہا جاتا ہے یہ بھی اللہ کی طرف سے ہی الہام اور سمجھائی ہوئی باتیں ہیں اس لیے انہیں بھی قرآن کی طرح ماننا ضروری ہے۔

٢١۔ یعنی یوم قیامت کو جھٹلانا اور حق سے اعراض، اس لئے ہے کہ تم نے دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور آخرت تمہیں بالکل فراموش ہے۔

٢٣۔ یہ اہل ایمان کے چہرے ہوں گے جو اپنے حسن انجام کی وجہ سے مطمئن، مسرور اور منور ہوں گے۔ مزید دیدار الٰہی سے بھی لطف اندوز ہوں گی۔ جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے اور اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے۔

٢٤۔ یہ کافروں کے چہرے ہوں گے سیاہ اور بے رونق۔

۲۵۔ اور وہ یہی ہے کہ جہنم میں ان کو پھینک دیا جائے گا۔

٢٦۔ (۱) یعنی یہ ممکن نہیں کہ کافر قیامت پر ایمان لے آئیں۔

٢٦۔ (۲)  گردن کے قریب، سینے اور کندھے کے درمیان ایک ہڈی ہے، یعنی جب موت آئے گی آہنی پنجہ تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔

٢٧۔ یعنی حاضرین میں سے کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کے ذریعہ سے تمہیں موت کے پنجے سے چھڑا لے۔ بعض نے اس کا ترجمہ یہ بھی کیا ہے کہ اس کی روح کون لے کر چڑھے گا ملائکہ رحمت یا ملائکہ عذاب؟ اس صورت میں یہ قول فرشتوں کا ہے۔

٢٨۔ یعنی وہ شخص یقین کر لے گا جس کی روح ہنسلی تک پہنچ گئی ہے کہ اب، مال، اولاد اور دنیا کی ہر چیز سے جدائی کا مرحلہ آگیا ہے۔

٢٩۔ اس سے یا تو موت کے وقت پنڈلی کا پنڈلی کے ساتھ مل جانا مراد ہے یا پے درپے تکلیفیں، بہت سے مفسرین نے دوسرے معنی کئے ہیں۔ (فتح القدیر)

٣١۔ یعنی اس انسان نے رسول اور قرآن کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی یعنی اللہ کی عبادت نہیں کی۔

٣٢۔ یعنی رسول کو جھٹلایا اور ایمان و اطاعت سے روگردانی کی۔

٣٣۔ یَتَمَطَّیٰ اتراتا اور اکڑتا ہوا۔

٣٥۔ یہ کلمہ وعید سے کہا جاتا ہے کہ اس کی اصل ہے، اللہ تجھے ایسی چیز سے دو چار کرے جسے تو ناپسند کرے۔

٣٦۔ یعنی اس کو کسی چیز کا حکم دیا جائے گا، نہ کسی چیز سے منع کیا جائے گا، نہ اس کا محاسبہ ہو گا۔ یا اس کی قبر میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا جائے گا، وہاں سے اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔

٣٨۔ فَسَوَّیٰ، یعنی اسے ٹھیک ٹھاک کیا اور اس کی تکمیل کی اور اس میں روح پھونکی۔

٤٠۔ یعنی انسان کو اس طرح مختلف اطوار سے گزار کر پیدا فرماتا ہے کیا مرنے کے بعد دوبارہ اسے زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے؟

٭٭٭

 

سورۃ الدھر

١۔ یعنی انسان اول حضرت آدم ہیں اور حِیْن (ایک وقت) سے مراد، روح پھونکے جانے سے پہلے کا زمانہ ہے، جو چالیس سال ہے اور اکثر مفسرین کے نزدیک الانسان کا لفظ بطور جنس کے استعمال ہوا ہے اور حِیْن، سے مراد حمل یعنی رحم مادر کی مدت ہے جس میں وہ قابل ذکر چیز نہیں ہوتا۔ اس میں گویا انسان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایک پیکر حسن و جمال کی صورت میں جب باہر آتا ہے تو رب کے سامنے اکڑتا اور اتراتا ہے، اسے اپنی حیثیت یاد رکھنی چاہیے کہ میں تو وہی ہوں جب میں عالم نیست میں تھا، تو مجھے کون جانتا تھا۔

٢۔ (۱) ملے جلے مطلب، مرد اور عورت دونوں کے پانی کا ملنا پھر ان کا مختلف اطوار سے گزرنا ہے۔ پیدا کرنے کا مقصد انسان کی آزمائش ہے۔

 ٢۔ (۲)  یعنی اسے سماعت اور بصارت کی قوتیں عطا کیں، تاکہ وہ سب کچھ دیکھ سکے اور سن سکے اور اس کے بعد اطاعت یا انکاری دونوں راستوں میں کسی ایک کا انتخاب کر سکے۔

۳۔یعنی مذکورہ قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ ہم نے خود بھی انبیاء علیہ السلام، اپنی کتابوں اور داعیان حق کے ذریعے سے صحیح راستے کو بیان اور واضح کر دیا ہے اب یہ اس کی مرضی ہے کہ اطاعت الہی کا راستہ اختیار کر کے شکر گزار بندہ بن جائے یا معصیت کا راستہ اختیار کر کے اس کا ناشکرا بن جائے۔

٤۔یہ اللہ کی دی ہوئی آزادی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہے۔

۵۔کأس اس جام کو کہتے ہیں جو بھرا ہوا ہو اور چھلک رہا ہو کافور ٹھنڈی اور ایک مخصوص خوشبو کی حامل ہوتی ہے۔ اس کی آمیزش سے شراب کا ذائقہ دو آتشہ اور اس کی خوشبو مشام جان کو معطر کرنے والی ہو جائے گی۔

٦۔ (۱) یعنی کافور ملی شراب، دو چار صراحیوں یا مٹکوں نہیں ہو گی، بلکہ چشمہ ہو گا، یعنی ختم ہونے والی نہیں ہو گی۔

 ٦۔ (۲)  یعنی اس کو جدھر چاہیں گے، موڑ لیں گے، اپنے محلات و منازل میں، اپنی مجلسوں میں اور بیٹھکوں میں اور باہر میدانوں اور تفریح گاہوں میں۔

٧۔(۱) یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کرتے ہیں نذر بھی مانتے ہیں تو اسی کے لیے اور پھر اسے پورا کرتے ہیں۔ اس دن سے ڈرتے ہوئے محرمات اور معصیات کا ارتکاب نہیں کرتے۔ برائی پھیل جانے کا مطلب ہے کہ اس روز اللہ کی گرفت صرف وہی بچے گا جسے اللہ اپنے دامن عفو و رحمت میں ڈھانک لے گا۔ باقی سب اس کے شر کی لپیٹ میں ہوں گے۔

۸۔  یا طعام کی محبت کے باوجود وہ اللہ کی رضا کے لیے ضرورت مندوں کو کھانا کھلاتے ہیں، قیدی اگر غیر مسلم ہو تب بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے جیسے جنگ بدر کے کافر قیدیوں کی بابت نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ ان کی تکریم کرو۔ چنانچہ صحابہ پہلے ان کو کھانا کھلاتے، خود بعد میں کھاتے۔ (ابن کثیر)

١٠۔ یعنی وہ دن نہایت سخت ہو گا اور سختیوں اور ہولناکیوں کی وجہ سے کافروں پر بڑا لمبا ہو گا (ابن کثیر)

١١۔ (۱) جیسا کہ وہ اس کے شر سے ڈرتے تھے اور اس سے بچنے کے لئے اللہ کی اطاعت کرتے تھے۔

۱۱۔ (۲) تازگی چہروں پر ہو گی اور خوشی دلوں میں، جب انسان کا دل مسرت سے لبریز ہوتا ہے تو اس کا چہرہ بھی مسرت سے گلنار ہو جاتا ہے۔

۱۲۔صبر کا معنی ہے دین کے راستے میں جو تکلیفیں آئیں انہیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا اللہ کی اطاعت میں نفس کی خواہشات اور لذات کو قربان کرنا اور معصیتوں سے اجتناب کرنا۔

۱۳۔مطلب یہ ہے کہ وہاں ہمیشہ ایک ہی موسم رہے گا اور وہ ہے موسم بہار، نہ سخت گرمی اور نہ کڑاکے کی سردی۔

١٤۔ گو وہاں سورج کی حرارت نہیں ہو گی، اس کے باوجود درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے یا یہ مطلب ہے کہ ان کی شاخیں ان کے قریب ہوں گی۔ اور درختوں کے پھل، گوش بر آواز فرماں بردار کی طرح انسان کا جب کھانے کو جی چاہے گا تو وہ جھک کر اتنے قریب ہو جائیں گے کہ بیٹھے، لیٹے بھی انہیں توڑ لے۔ ابن کثیر)

١٥۔ یعنی خادم انہیں لے کر جنتیوں کے درمیان پھریں گے۔

١٦۔ (۱) یعنی یہ برتن اور آب خورے چاندی اور شیشے سے بنے ہوں گے، نہایت نفیس اور نازک۔

١٦۔ (۲)  یعنی ان میں شراب ایسے اندازے سے ڈالی گئی ہو گی کہ جس سے وہ سیراب بھی ہو جائیں، تشنگی محسوس نہ کریں اور برتنوں اور جاموں میں بھی زائد نہ بچی رہے۔ مہمان نوازی کے اس طریقے میں بھی مہمانوں کی عزت افزائی ہی کا اہتمام ہے۔

١٧۔ زَ نْجَبِیْل (سونٹھ، خشک ادرک) کو کہتے ہیں۔ یہ گرم ہوتی ہے اس کی آمیزش سے ایک خوشگوار تلخی پیدا ہو جاتی ہے۔ علاوہ ازیں عربوں کی یہ مرغوب چیز ہے۔ چنانچہ ان کے قہوہ میں بھی زنجبیل شامل ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت میں ایک وہ شراب ہو گی جو ٹھنڈی ہو گی جس میں کافور کی آمیزش ہو گی اور دوسری شراب گرم، جس میں زنجبیل کی ملاوٹ ہو گی۔

١٨۔ یعنی اس شراب زنجبیل کی بھی ایک نہر ہو گی جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔

١٩۔ (۱) شراب کی اوصاف بیان کرنے کے بعد، ساقیوں کا وصف بیان کیا جا رہا ہے ” ہمیشہ رہیں گے “کا مطلب تو یہ ہے جنتیوں کی طرح ان خادموں کو بھی موت نہیں آئے گی۔ دوسرا یہ کہ ان کا بچپن اور ان کی رعنائی ہمیشہ برقرار رہے گی۔ وہ بوڑھے نہ ہوں گے نہ ان کا حسن جمال تبدیل ہو گا۔

١٩۔ (۲)  حسن و صفائی اور تازگی و شادابی میں موتیوں کی طرح ہوں گے، بکھرے ہونے کا مطلب، خدمت کے لئے ہر طرف پھیلے ہوئے اور نہایت تیزی سے مصروف خدمت ہوں گے۔

٢١۔ جیسے ایک زمانے میں بادشاہ، سردار اور ممتاز قسم کے لوگ پہنا کرتے تھے۔

٢٣۔ یعنی ایک ہی مرتبہ نازل کرنے کی بجائے حسب ضرورت مختلف اوقات میں نازل کیا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ قرآن ہم نے نازل کیا ہے، یہ تیرا اپنا گھڑا ہوا نہیں ہے، جیسا کہ مشرکین دعویٰ کرتے ہیں۔

٢٤۔ یعنی اس کے فیصلے کا انتظار کرو وہ تیری مدد میں کچھ تاخیر کر رہا ہے تو اس میں اس کی حکمت ہے۔ اس لئے صبر اور حوصلے کی ضرورت ہے۔ اور اگر تجھے اللہ کے نازل کردہ احکام سے روکیں تو ان کا کہنا نہ مان، بلکہ تبلیغ ودعوت کا کام جاری رکھ اور اللہ پر بھروسہ رکھ، وہ لوگوں سے تیری حفاظت فرمائے گا، فاجر جو اللہ کی نافرمانی کرنے والا ہو اور کفور جو دل سے کفر کرنے والا ہو یا کفر میں حد سے بڑھ جانے والا ہو۔

۲۵۔صبح شام سے مراد تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کر، یا صبح سے مراد فجر کی نماز اور شام سے عصر کی نماز ہے۔

۲۶۔رات کو سجدہ کر سے مراد بعض نے مغرب و عشاء کی نمازیں مراد لی ہیں اور تسبیح کا مطلب جو باتیں اللہ کے لائق نہیں ہیں ان سے اس کی پاکیزگی بیان کر، بعض کے نزدیک اس سے رات کی نفلی نمازیں یعنی تہجد ہے امر ندب و استحباب کے لیے ہے۔

٢٧۔ (۱) یعنی کفار مکہ اور ان جیسے دوسرے لوگ دنیا کی محبت میں گرفتار ہیں اور ساری توجہ اسی پر ہے۔

٢٧۔ (۲)  یعنی قیامت کو، اس کی شدتوں اور ہولناکیوں کی وجہ سے اسے بھاری دن کہا اور چھوڑنے کا مطلب ہے کہ اس کے لئے تیاری نہیں کرتے اور اس کی پروا نہیں کرتے۔

٢٨۔ یعنی ان کی پیدائش کو مضبوط بنایا، یا ان کے جوڑوں کو، رگوں کو اور پٹھوں کے ذریعے سے، ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا، بلفظ دیگر، ان کا مانجھا کڑا کیا۔

٢٩۔ یعنی اس قرآن سے ہدایت حاصل کرے۔

٣٠۔ یعنی تم میں سے کوئی اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ ہدایت کی راہ لگا لے، اپنے لئے کسی نفع کو جاری کر لے، ہاں اگر اللہ چاہے تو ایسا ممکن ہے، اس کی مشیت کے بغیر تم کچھ نہیں کر سکتے۔ البتہ صحیح ارادہ نیت پر وہ اجر ضرور عطا فرماتا ہے ” اعمال کا دارو مدار، نیتوں پر ہے، ہر آدمی کے لئے وہ ہے جس کی وہ نیت کرے چوں کہ وہ علیم و حکیم ہے اس لیے اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے بنابریں ہدایت اور گمراہی کے فیصلے بھی یوں ہی نہیں ہو جاتے بلکہ جس کو ہدایت دی جاتی ہے وہ واقعی اس کا مستحق ہوتا ہے اور جس کے حصے میں گمراہی آتی ہے وہ حقیقتاً اسی کے لائق ہوتا ہے۔ “

۳۱۔والظالمین اس لیے منصوب ہے کہ اس سے پہلے یعذب محذوف ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ المرسلٰت

 یہ سورت مکی ہے جیسا کہ صحیحین میں مروی ہے۔ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ کے ایک غار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر سورہ مرسلات کا نزول ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم اس کی تلاوت فرما رہے تھے اور میں اسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے حاصل کر رہا تھا کہ اچانک ایک سانپ آگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، اسے مار دو، لیکن وہ تیزی سے غائب ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ” تم اس کے شر اور وہ تمہارے شر سے بچ گیا ” (بخاری تفسیر سورہ المرسلات)

١۔ اس مفہوم کے اعتبار سے عرفاً کے معنی پے درپے ہوں گے، بعض نے مُرسلات سے فرشتے یا انبیا مراد لئے ہیں اس صورت میں عرفاً کے معنی وحی الٰہی، یا احکام شریعت ہوں گے۔

٢۔ یا فرشتے مراد ہیں، جو بعض دفعہ ہواؤں کے عذاب کے ساتھ بھیجے جاتے ہیں۔

٣۔ یا ان فرشتوں کی قسم، جو بادلوں کو منتشر کرتے ہیں یا فضائے آسمانی میں اپنے پر پھیلاتے ہیں۔ تاہم امام ابن کثیر اور امام طبری نے ان تینوں ہوائیں مراد لی اور صحیح قرار دیا ہے، جیسے کہ ترجمے میں بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔

٤۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے احکام لے کر اترتے ہیں۔ یا مراد آیات قرآنیہ ہیں، جن سے حق و باطل اور حلال و حرام کی تمیز ہوتی ہے یا رسول مراد ہیں جو وحی الٰہی کے ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرتے ہیں۔

۵۔جو اللہ کا کلام پیغمبروں تک پہنچاتے ہیں یا رسول مراد ہیں جو اللہ کی طرف سے نازل کردہ وحی، اپنی امتوں کو پہنچاتے ہیں۔

٦۔ یعنی فرشتے وحی لے کر آتے ہیں تاکہ لوگوں پر دلیل قائم ہو جائے اور یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمارے پاس تو کوئی اللہ کا پیغام ہی لے کر نہیں آیا یا مقصد ڈرانا ہے ان کو جو انکار یا کفر کرنے والے ہوں گے۔

٧۔ (یا جواب قسم) یہ ہے کہ تم سے قیامت کا جو وعدہ کیا جاتا ہے، وہ یقیناً واضح ہونے والی ہے، یعنی اس میں شک کرنے کی نہیں بلکہ اس کے لئے تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ قیامت کب واقع ہو گی؟ اگلی سورت میں اس کو واضح کیا جا رہا ہے

٨۔ طَمْس کے معنی مٹ جانے اور بے نشان ہونے کے ہیں، یعنی جب ستاروں کی روشنی ختم بلکہ ان کا نشان تک مٹ جائے گا۔

۱۰۔یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا اور زمین بالکل صاف اور ہموار کر دی جائے گی۔

۱۱۔یعنی فصل و قضا کے لیے ان کے بیانات سن کر ان کی قوموں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

١٢۔ یعنی کیسے عظیم دن کے لئے، جس کی شدت اور ہولناکی، لوگوں کے لئے سخت تعجب انگیز ہو گی، ان پیغمبروں کے جمع ہونے کا وقت دیا گیا ہے۔

۱۳۔یعنی جس دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا کوئی جنت میں اور کوئی دوزخ میں جائے گا۔

۱۵۔یعنی ہلاکت ہے بعض کہتے ہیں جہنم کی ایک وادی کا نام ہے، یہ آیت اس سورت میں بار بار دہرائی گئی ہے۔ اس لیے کہ ہر مکذب کا جرم ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کا ہو گا اور اسی حساب سے عذاب کی نوعیتیں بھی مختلف ہوں گی، بنابریں اسی ویل کی مختلف قسمیں ہیں جسے مختلف مکذبین کے لیے الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔

١٧۔ یعنی کفار مکہ اور ان کے ہم نوا، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو جھٹلایا۔

١٨۔ یعنی سزا دیتے ہیں دنیا میں اور آخرت میں۔

٢١۔ یعنی رحم مادر میں۔

۲۲۔ یعنی مدت حمل تک نو یا چھ مہینے۔

٢٣۔ یعنی رحم مادر میں جسمانی ساخت و ترکیب و صحیح اندازہ کیا کہ دونوں آنکھوں، دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں اور دونوں کانوں کے درمیان اور دیگر اعضا کا ایک دوسرے کے درمیان کتنا فاصلہ رہنا چاہیئے۔

٢٦۔ یعنی زمین زندوں کو اپنی پشت پر اور مردوں کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔

٢٩۔ یہ فرشتے جہنمیوں کو کہیں گے

٣٠۔ جہنم سے جو دھواں آئے گا وہ بلند ہو کر تین طرفوں میں پھیل جائے گا، یعنی جس طرح دیوار یا درخت کا سایہ ہوتا ہے، یہ دھواں حقیقت میں اس طرح کا سایہ نہیں ہو گا جس میں جہنمی کچھ سکون حاصل کر لیں۔

۳۱۔ یعنی جہنم کی حرارت سے بچنا بھی ممکن نہیں ہو گا۔

۳۲۔اس کا ایک ترجمہ ہے جو لکڑی کے بوٹے یعنی بھاری ٹکڑے کے مثل ہیں۔

٣٣۔اس معنی کی بناء پر مطلب یہ ہے کہ اس کی ایک ایک چنگاری اتنی اتنی بڑی ہو گی جیسے محل یا قلعہ۔ پھر ہر چنگاری کے مزید اتنے بڑے بڑے ٹکڑے ہو جائیں گے جیسے اونٹ ہوتے ہیں۔

٣٥۔ محشر کا دن جس میں کافروں کی مختلف حالتیں ہوں گی۔ ایک وقت وہ ہو گا کہ وہ وہاں بھی جھوٹ بولیں گے پھر اللہ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا اور ان کے ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے پھر جس وقت ان کو جہنم میں لے جایا جا رہا ہو گا اس وقت عالم اضطراب و پریشانی میں ان کی زبانیں بھی گنگ ہو جائیں گی۔ بعض کہتے ہیں کہ بولیں گے تو سہی لیکن ان کے پاس حجت کوئی نہیں ہو گی۔

۳ ٦۔مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس پیش کرنے کے لیے معقول عذر ہی نہیں ہو گا جسے وہ پیش کر سکیں گے۔

٣٨۔ یہ اللہ کے بندوں سے خطاب فرمائے گا کہ ہم نے تمہیں اپنی قدرت کاملہ سے فیصلہ کرنے کے لئے ایک ہی میدان میں جمع کر لیا۔

٣٩۔ یہ سخت وعید اور تہدید ہے کہ اگر تم میری گرفت سے بچ سکتے ہو اور میرے حکم سے نکل سکتے ہو تو بچ اور نکل کے دکھاؤ۔ لیکن وہاں کس میں یہ طاقت ہو گی؟

٤١۔ یعنی درختوں اور محلات کے سائے، آگ کے دھوئیں کا سایہ نہیں ہو گا جیسے مشرکین کے لئے ہو گا۔

٤٢۔ ہر قسم کے پھل، جب بھی خواہش کریں گے، آ موجود ہوں گے۔

٤۳۔یہ بطور احسان انہیں کہا جائے گا یعنی جنت کی یہ نعمتیں ان اعمال صالحہ کی وجہ سے تمہیں ملی ہیں جو تم دنیا میں کرتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ جس کی وجہ سے انسان جنت میں داخل ہو گا اعمال صالحہ ہیں۔ جو لوگ عمل صالح کے بغیر اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں ان کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی زمین میں ہل چلائے اور بیج بوئے بغیر فصل کا امیدوار ہو یا  حنظل بو کر خوش ذائقہ پھلوں کی امید رکھے۔

٤٤۔اس میں بھی اس امر کی ترغیب و تلقین ہے کہ اگر آخرت میں حسن انجام کے طالب ہو تو دنیا میں نیکی اور بھلائی کا راستہ اپناؤ۔

٤٥۔ کہ اہل تقویٰ کے حصے میں جنت کی نعمتیں آئیں اور ان کے حصے میں بڑی بد بختی۔

٤٦۔ یہ مکذبین قیامت کو خطاب ہے اور یہ امر، تہدید و وعید کے لئے ہے، یعنی اچھا چند روز خوب عیش کر لو، تم جیسے مجرمین کے لئے شکنجہ عذاب تیار ہے۔

٤٨۔ یعنی جب ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے، تو نماز نہیں پڑھتے۔

٤۹۔یعنی ان کے لیے جو اللہ کے اوامر و نواہی کو نہیں مانتے۔

٥٠۔ یعنی جب قرآن پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس کے بعد اور کون سا کلام ہے جس پر ایمان لائیں گے۔

٭٭٭

 

سورۃ نباء

١۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خلعت نبوت سے نوازا گیا اور آپ نے توحید، قیامت وغیرہ کا بیان فرمایا اور قرآن کی تلاوت فرمائی تو کفار و مشرکین باہم ایک دوسرے سے پوچھتے کہ یہ قیامت کیا واقعی ممکن ہے، جبکہ یہ شخص دعویٰ کر رہا ہے یا یہ قرآن، واقعی اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جیسا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کہتا ہے استفہام کے ذریعے سے اللہ نے پہلے ان چیزوں کی وہ حیثیت نمایاں کی جو ان کی ہے۔ پھر خود ہی جواب دیا کہ۔

٣۔ یعنی جس بڑی خبر کی بابت ان کے درمیان اختلاف ہے اس کے متعلق استفسار ہے۔ اس بڑی خبر سے بعض نے قرآن مجید مراد لیا ہے کافر اس کے بارے میں مختلف باتیں کرتے تھے، کوئی اسے جادو، کوئی کہانت، کوئی شعرا اور کوئی پہلوں کی کہانیاں بتلاتا تھا۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد قیامت کا برپا ہونا اور دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ اسکا ان کے درمیان کچھ اختلاف تھا کوئی بالکل انکار کرتا تھا کوئی صرف شک کا اظہار بعض کہتے تھے کہ سوال کرنے والے مومن و کافر دونوں ہی تھے، مومنین کا سوال تو اضافہ یقین یا بصیرت کے لئے تھا اور کافروں کا جھٹلانا اور مذاق کے طور پر۔

۶۔ اللہ تعالیٰ اپنی کاریگری اور عظیم قدرت کا تذکرہ فرما رہا ہے تاکہ توحید کی حقیقت ان کے سامنے واضح ہو اور اللہ کا رسول انہیں جس چیز کی دعوت دے رہا تھا، اس پر ایمان لانا ان کے لئے آسان ہو جائے۔

٧۔ یعنی پہاڑوں کو زمین کے لئے میخیں بنایا تاکہ ساکن رہے، حرکت نہ کرے۔

١٠۔ یعنی رات کا اندھیرا اور سیاہی ہر چیز کو اپنے دامن میں چھپا لیتی ہے، جس طرح لباس انسان کے جسم کو چھپا لیتا ہے۔

١١۔ مطلب ہے کہ دن روشن بنایا تاکہ لوگ کسب معاش کے لئے جدو جہد کر سکیں۔

١٤۔ مُعْصِرَات،ُ وہ بدلیاں جو پانی سے بھری ہوئی ہوں لیکن ابھی برسی نہ ہوں جیسے اَلْمَرْاَۃُ الْمُعْتَصِرَۃُ اس عورت کو کہتے ہیں جس کی ماہواری قریب ہو ثَجَّاجاً کثرت سے بہنے والا پانی۔

١٦۔ شاخوں کی کثرت کی وجہ سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے درخت یعنی گھنے باغ۔

١٨۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ ہر امت اپنے رسول کے ساتھ میدان حشر میں آئے گی۔ یہ دوسرا نفخہ ہو گا، جس میں سب لوگ قبروں سے زندہ اٹھ کر نکل آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائیے گا، جس سے انسان کھیتی کی طرح اگ آئے گا۔ انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہو جائے گی، سوائے ریڑھ کی ہڈی کے آخری سرے کے، اس سے قیامت والے دن تمام مخلوقات کی دوبارہ ترکیب ہو گی۔ (صحیح بخاری)

١٩۔ یعنی فرشتوں کے نزول کے لئے راستے بن جائیں گے اور وہ زمین پر اتر آئیں گے۔

٢٠۔ وہ ریت جو دور سے پانی محسوس ہوتی ہو، پہاڑ بھی دور سے نظر آنے والی چیز بن کر رہ جائیں گے۔

٢١۔ گھات ایسی جگہ کو کہتے ہیں، جہاں چھپ کر دشمن کا انتظار کیا جاتا ہے تاکہ وہاں سے گزرے تو فوراً حملہ کر دیا جائے، جہنم کے دروغے بھی جہنمیوں کے انتظار میں اسی طرح بیٹھے ہیں یا خود جہنم اللہ کے حکم سے کفار کے لئے گھات لگائے بیٹھی ہے۔

 جو جہنمیوں کے جسموں سے نکلے گی۔

٢٦۔ یعنی یہ سزا ان کے اعمال کے مطابق ہے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔

٢٩۔ یعنی لوح محفوظ میں۔ یا وہ ریکارڈ مراد ہے جو فرشتے لکھتے رہے۔ پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔

٣٣۔ کَوَاعِبَ کَاعِبَۃً کی جمع ہے، یہ کَعْبً (ٹخنہ) سے ہے، ابھرا ہوا ہوتا ہے، ان کی چھاتیوں میں بھی ایسا ہی ابھار ہو گا، جو ان کے حسن و جمال کا ایک مظہر ہے۔ اَتْرَاب،ُ ہم عمر۔

٣٥۔ یعنی کوئی بے فائدہ اور بے ہودہ بات وہاں نہیں ہو گی، نہ ایک دوسرے سے جھوٹ بولیں گے۔

٣٦۔ یعنی اللہ کی دادو دہشت کی وہاں فراوانی ہو گی۔

٣٧۔ یعنی اس کی عظمت، ہیبت اور جلالت اتنی ہو گی کہ ابتداء اس سے کسی کو بات کرنے کی ہمت نہ ہو گی، اسی لئے اس کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت کے لئے لب کشائی نہیں کر سکے گا۔

٣٨۔ یہ اجازت اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو اور اپنے پیغمبروں کو عطا فرمائے گا اور وہ جو بات کریں گے حق و صواب ہی ہو گی، یا یہ مفہوم ہے کہ اجازت صرف اس کے بارے میں دی جائے گی جس نے درست بات کہی ہو، یعنی کلمہ توحید کا اقراری رہا ہو۔

٣٩۔ اس آنے والے دن کو سامنے رکھتے ہوئے ایمان و تقویٰ کی زندگی اختیار کرے تاکہ اس روز وہاں اس کو اچھا ٹھکانا مل جائے۔

٤٠۔ یعنی جب وہ اپنے لئے ہولناک عذاب دیکھے گا تو یہ آرزو کرے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ اللہ حیوانات کے درمیان بھی عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا، حتیٰ کہ ایک سینگ والی بکری نے بے سینگ والی پر کوئی زیادتی کی ہو گی، تو اس کا بھی بدلہ دلائے گا اس سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ جانوروں کو حکم دے گا کہ مٹی ہو جاؤ۔ چنانچہ وہ مٹی ہو جائیں گے۔ اس وقت کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی حیوان ہوتے اور آج مٹی بن جاتے (تفسیر ابن کثیر)

٭٭٭

 

سورۃ نٰزِعٰت

١۔ نَزْع کے معنی سختی سے کھنچنا، غَرْقاً ڈوب کر، یہ جان نکالنے والے فرشتوں کی صفت ہے فرشتے کافروں کی جان، نہایت سختی سے نکالتے ہیں اور جسم کے اندر ڈوب کر۔

٢۔ نَشْط کے معنی گرہ کھول دینا، یعنی مومنوں کی جان فرشتے بہ سہولت سے نکالتے ہیں جیسے کسی چیز کی گرہ کھول دی جائے۔

٣۔ سَبْح کے معنی تیرنا، فرشتے روح نکالنے کے لئے انسان کے بدن میں اس طرح تیرتے پھرتے ہیں جیسے سمندر سے موتی نکالنے کے لئے سمندر کی گہرائیوں میں تیرتے ہیں یا مطلب ہے کہ نہایت تیزی سے اللہ کا حکم لے کر آسمان سے اترتے ہیں۔

٤۔ یہ فرشتے اللہ کی وحی، انبیاء تک، دوڑ کر پہنچاتے ہیں تاکہ شیطان کو اس کی کوئی خبر نہ لگے۔ یا مومنوں کی روحیں جنت کی طرف لے جانے میں نہایت سرعت سے کام لیتے ہیں۔

٥۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو کام سپرد کرتا ہے، وہ اس کی تدبیر کرتے ہیں اصل مدبر تو اللہ ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ کے تحت فرشتوں کے ذریعے سے کام کرواتا ہے تو انہیں بھی مدبر کہا جاتا ہے۔

٦۔ یہ نفخئہ اولیٰ ہے جسے نفخئہ فنا کہتے ہیں، جس سے ساری کائنات کانپ اور لرز اٹھے گی اور ہر چیز فنا ہو جائے گی۔

٧۔ یہ دوسرا نفخہ ہو گا، جس سے سب لوگ زندہ ہو کر قبروں سے نکل آئیں گے۔ یہ دوسرا نفخہ پہلے نفخہ سے چالیس سال بعد ہو گا۔

٨۔ قیامت کے ہول اور شدائد سے۔

٩۔ دہشت زدہ لوگوں کی نظریں بھی (مجرموں کی طرح) جھکی ہوئی ہوں گی۔

١٠۔ حافِرَۃ، پہلی حالت کو کہتے ہیں۔ منکرین قیامت کا قول ہے کہ کیا ہم پھر اس طرح زندہ کر دیئے جائیں گے جس طرح مرنے سے پیشتر تھے۔

١١۔ یہ انکار قیامت کی مزید تاکید ہے کہ ہم کس طرح زندہ کر دیئے جائیں گے جب کہ ہماری ہڈیاں بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔

١٢۔ یعنی اگر واقعی ایسا ہوا جیسا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کہتے ہیں، پھر دوبارہ زندگی ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہو گی

١٤۔ یہ قیامت کی منظر کشی ہے کہ ایک ہی نفخے سے سب لوگ ایک میدان میں جمع ہو جائیں گے۔

١٦۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین سے واپسی پر آگ کی تلاش میں کوہ طور پر پہنچ گئے تھے تو وہاں ایک درخت کی اوٹ سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا تھا، جیسا کہ تفصیل سورہ طٰہٰ کے آغاز میں گزری۔

١٧۔ یعنی کفر و معصیت اور تکبر میں حد سے تجاوز کر گیا ہے۔

١٨۔ یعنی کیا ایسا راستہ اور طریقہ تو پسند کرتا ہے جس سے تیری اصلاح ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اور مطیع ہو جا۔

١٩۔ یعنی اس کی توحید اور عبادت کا راستہ، تاکہ تو اس کے عقاب سے ڈرے۔ اس لئے کہ اللہ کا خوف اسی دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہدایت پر چلنے والا ہوتا ہے۔

٢٠۔ یعنی اپنی صداقت کے وہ دلائل پیش کئے جو اللہ کی طرف سے انہیں عطا کئے گئے تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیئے گئے تھے۔ مثلاً ید بیضا اور عصا اور بعض کے نزدیک آیات تسعہ۔

٢٢۔ یعنی اس نے ایمان و اطاعت سے انکار ہی نہیں کیا بلکہ زمین میں فساد پھیلائے اور موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کی سعی کرتا رہا،چنانچہ جادوگروں کو جمع کر کے ان کا مقابلہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کرایا تاکہ موسیٰ علیہ السلام کو جھوٹا ثابت کیا جا سکے۔

٢٥۔ یعنی اللہ نے اس کی ایسی گرفت فرمائی کہ اسے دنیا میں آئندہ آنے والے فرمانوں کے لئے نشان عبرت بنا دیا اور قیامت کا عذاب اس کے علاوہ ہے، جو اسے وہاں ملے گا

٢٦۔ یا میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے تسلی اور کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے گزشتہ لوگوں کے واقعات سے عبرت نہ پکڑی تو ان کا انجام بھی فرعون کی طرح ہو سکتا ہے۔

٢٧۔ یہ کفار مکہ کو خطاب ہے اور مقصود تنبیہ ہے کہ جو اللہ اتنے بڑے آسمانوں اور ان کے عجائبات کو پیدا کر سکتا ہے، اس کے لئے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا آسمان بنانے سے زیادہ مشکل ہے۔

٢٨۔ ٹھیک ٹھاک کا مطلب اسے ایسی شکل صورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔

٣٧۔ یعنی کفر و گناہوں میں حد سے تجاوز کیا ہو گا۔

٤٠۔ کہ اگر میں نے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کی تو مجھے اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہو گا، اس لئے وہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہا ہو۔

٤٢۔ یعنی قیامت کب واقع اور قائم ہو گی؟ جس طرح کشتی اپنے آخری مقام پر پہنچ کر لنگر انداز ہوتی ہے اسی طرح قیامت کے واقع کا صحیح وقت کیا ہے ؟

٤٣۔ یعنی آپ کو اس کی بابت یقینی علم نہیں ہے، اس لئے آپ کا اس کو بیان کرنے سے کیا تعلق؟ اس کا یقینی علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔

 ٤٥۔ یعنی آپ کا کام صرف انذار (ڈرانا) ہے، نہ کہ غیب کی خبریں دینا، جن میں قیامت کا علم بھی ہے جو اللہ نے کسی کو بھی نہیں دیا۔

 ٤٦۔ یعنی دنیا میں پورا ایک دن بھی نہ رہے، دن کا پہلا حصہ یا دن کا آخری حصہ ہی صرف دنیا میں رہے ہیں یعنی دنیا کی زندگی، انہیں اتنی قلیل معلوم ہو گی۔

٭٭٭

 

سورۃ عَبَس

٢۔ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں اشراف قریش بیٹھے گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ابن ام مکثوم جو نابینا تھے، تشریف لے آئے اور آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے دین کی باتیں پوچھنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر کچھ ناگواری محسوس کی اور کچھ بے توجہی سی برتی۔ چنانچہ تنبیہ کے طور پر ان آیات کا نزول ہوا (ترمذی، تفسیر سورہ عبس)

 ٣۔ یعنی وہ نابینا تجھ سے دینی رہنمائی حاصل کر کے عمل صالح کرتا، جس سے اس کا اخلاق و کردار سنور جاتا، اس کے باطن کی اصلاح ہو جاتی اور تیری نصیحت سننے سے اس کو فائدہ ہوتا۔

٥۔ ایمان سے اور اس علم سے جو تیرے پاس اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ یا دوسرا ترجمہ جو صاحب ثروت و غنا ہے۔

٨۔ اس بات کا طالب بن کر آتا ہے کہ تو خیر کی طرف اس کی رہنمائی کرے اور اسے واعظ نصیحت سے نوازے۔

٩۔ خدا کا خوف بھی اس کے دل میں ہے۔

١٠۔ یعنی ایسے لوگوں کی قدر افزائی کی ضرورت ہے نہ کہ ان سے بے رخی برتنے کی۔ ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ دعوت و تبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہیے بلکہ صاحب حیثیت اور بے حیثیت، امیر اور غریب، آقا اور غلام مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے سب کو یکساں حیثیت دی جائے اور سب کو مشترکہ خطاب کیا جائے۔

١١۔ یعنی غریب سے یہ روگردانی اور اصحاب حیثیت کی طرف خصوصی توجہ، یہ ٹھیک نہیں۔ مطلب ہے کہ، آئندہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔

١٢۔ یعنی جو اس میں رغبت کرے، وہ اس سے نصیحت حاصل کرے، اور اسے یاد کرے اور اس پر عمل کرے اور جو اس سے منہ پھیرے، جیسے اشراف قریش نے کیا، تو ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

١٣۔ یعنی لوح محفوظ میں، کیوں کہ وہیں سے یہ قرآن اترتا ہے کہ یہ صحیفے اللہ کے ہاں بڑے محترم ہیں کیوں کہ وہ علم و حکم سے پر ہیں۔

١٥۔ یعنی اللہ اور رسول کے درمیان ایلچی کا کام کرتے ہیں۔ یہ قرآن سفیروں کے ہاتھوں میں ہے جو اسے لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں۔

١٦۔ یعنی خلق کے اعتبار سے وہ کریم یعنی شریف اور بزرگ ہیں اور افعال کے اعتبار سے وہ نیکوکار اور پاکباز ہیں۔

١٩۔ یعنی جس کی پیدائش ایسے حقیر قطرہ آب سے ہوئی ہے، کیا اسے تکبر زیب دیتا ہے۔

٢٠۔ یعنی خیر اور شر کے راستے اس کے لئے واضح کر دیئے، بعض کہتے ہیں اس سے مراد ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔

٢٣۔ یعنی معاملہ اس طرح نہیں ہے، جس طرح یہ کافر کہتا ہے۔

٢٤۔ کہ اسے اللہ نے کس طرح پیدا کیا، جو اس کی زندگی کا سبب ہے اور کس طرح اس کے لئے اسباب معاش مہیا کئے تاکہ وہ ان کے ذریعے سعادت اُخروی حاصل کر سکے۔

٣٣۔ یعنی قیامت وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہو گی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔

٣٧۔ یا اپنے اقربا اور احباب سے بے نیاز اور بے پروا کر دے گا حدیث میں آتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ سب لوگ میدان محشر میں ننگے بدن ننگے پیر، پیدل اور بغیر ختنے کئے ہوئے ہوں گے۔

٣٩۔ یہ اہل ایمان کے چہرے ہوں گے، جنہیں ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں ملیں گے، جس سے انہیں اپنی اُخروی سعادت و کامیابی کا یقین ہو جائے گا، جس سے ان کے چہرے خوشی سے ٹمٹماتے رہے ہوں گے۔

٤١۔ یعنی ذلت اور عذاب سے ان کے چہرے غبار آلود، کدورت زدہ اور سیاہ ہوں گے۔

٤٢۔ یعنی اللہ کا، رسولوں کا اور قیامت کا انکار کرنے والے بھی تھے اور بدکردار بد اطوار بھی۔

٭٭٭

 

سورۃ تَکوِیر

١۔ یعنی جس طرح سر پر پگڑی کو لپیٹا جاتا ہے، اسی طرح سورج کے وجود کو لپیٹ کر پھینک دیا جائے گا جس سے اس کی روشنی از خود ختم ہو جائے گی۔

٢۔ دوسرا ترجمہ کہ جھڑ کر گر جائیں گے یعنی آسمان پر ان کا وجود ہی نہیں رہے گا

٣۔ یعنی انہیں زمین سے اکھیڑ کر ہواؤں میں چلا دیا جائے گا اور دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑیں گے۔

٤۔ جب قیامت برپا ہو گی تو ایسا ہولناک منظر ہو گا کہ اگر کسی کے پاس اس قسم کی حاملہ اور قیمتی اونٹنی بھی ہو گی تو وہ ان کی پرواہ نہیں کرے گا اور چھوڑ دے گا۔

٥۔ یعنی انہیں بھی قیامت والے دن جمع کیا جائے گا

٧۔ اس کے کئے مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ زیادہ قرین قیاس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کو اس کے ہم مذہب وہم مشرب کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ مومنوں کو مومنوں کے ساتھ اور بد کو بدوں کے ساتھ یہودی کو یہودیوں کے ساتھ اور عیسائی کو عیسائیوں کے ساتھ۔

١٠۔ موت کے وقت یہ صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں، پھر قیامت والے دن حساب کے لئے کھول دیئے جائیں گے، جنہیں ہر شخص دیکھ لے گا بلکہ ہاتھوں میں پکڑا دیئے جائیں گے۔

١١۔ یعنی اس طرح ادھیڑ دیئے جائیں گے جس طرح چھت ادھڑی جاتی ہے۔

١٤۔ یہ جواب ہے یعنی مذکورہ امور ظہور پذیر ہوں گے، جن میں سے پہلے چھ کا تعلق دنیا سے ہے اور دوسرے چھ امور کا آخرت سے۔ اس وقت ہر ایک کے سامنے اس کی حقیقت آ جائے گی۔

١٦۔ یہ ستارے دن کے وقت اپنے منظر سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور نظر نہیں آتے اور یہ زحل، مستری، مریخ، زہرہ، عطارد ہیں، یہ خاص طور پر سورج کے رخ پر ہوتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ سارے ہی ستارے مراد ہیں، کیونکہ سب ہی اپنے غائب ہونے کی جگہ پر غائب ہو جاتے ہیں یا دن کو چھپے رہتے ہیں۔

١٩۔ اس لئے کہ وہ اسے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہے۔ مراد حضرت جبرائیل علیہ الاسلام ہیں۔

٢٢۔ یہ خطاب اہل مکہ سے ہے اور صاحب سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔ یعنی تم جو گمان رکھتے ہو کہ تمہارا ہم نسب اور ہم وطن ساتھی، (محمد صلی اللہ علیہ و سلم) دیوانہ ہے۔ نعوذ باللہ ایسا نہیں ہے، ذرا قرآن پڑھ کر تو دیکھو کہ کیا کوئی دیوانہ ایسے حقائق بیان کر سکتا ہے اور گزشتہ قوموں کے صحیح صحیح حالات بتلا سکتا ہے جو اس قرآن میں بیان کئے گئے ہیں۔

٢٣۔ یہ پہلے گزر چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دو مرتبہ ان کی اصل حالت میں دیکھا ہے، جن میں سے ایک یہاں ذکر ہے۔ یہ ابتدائے نبوت کا واقع ہے، اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام کے چھ سو پر تھے، جنہوں نے آسمان کے کناروں کو بھر دیا تھا، دوسری مرتبہ معراج کے موقعہ پر دیکھا جیسا کہ سورہ نجم میں تفصیل گزر چکی ہے۔

٢٦۔ یعنی کیوں اس سے روگردانی کرتے ہو؟ اور اس کی اطاعت نہیں کرتے۔

٢٩۔ یعنی تمہاری چاہت، اللہ کی توفیق پر منحصر ہے، جب تک تمہاری چاہت کے ساتھ اللہ کی مشیت اور اس کی توفیق بھی شامل نہیں ہو گی اس وقت تک تم سیدھا راستہ اختیار نہیں کر سکتے۔

٭٭٭

 

سورۃ انفطار

١۔ یعنی اللہ کے حکم اور اس کی ہیبت سے پھٹ جائے گا اور فرشتے نیچے اتر آئیں گے۔

٤۔ یعنی قبروں سے مردے زندہ ہو کر نکل آئیں گے یا ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی۔

٧۔ (۱) یعنی حقیر نطفے سے، جب کہ اس کے پہلے تیرا وجود نہیں تھا۔

٧۔ (۲)  یعنی تجھے ایک کامل انسان بنا دیا، تو سنتا ہے، دیکھتا ہے اور عقل فہم رکھتا ہے۔

١٥۔ یعنی جس دن جزا و سزا کے دن کا وہ انکار کرتے تھے اسی دن جہنم میں اپنے اعمال کی پاداش میں داخل ہوں گے،

١٩۔ یعنی دنیا میں تو اللہ نے عارضی طور پر، آزمانے کے لئے، انسانوں کو کم و بیش کے کچھ فرق کے ساتھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ لیکن قیامت والے دن تمام اختیارات صرف اور صرف اللہ کے پاس ہوں گے۔

٭٭٭

 

سورۃ مُطفِّفیِن

٣۔ یعنی لینے اور دینے کے الگ الگ پیمانے رکھنا اور اس طرح ڈنڈی مار کر ناپ تول میں کمی کرنا، بہت بڑی اخلاقی بیماری ہے، جس کا نتیجہ دین اور آخرت میں تباہی ہے۔ ایک حدیث ہے، جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، تو اس پر قحط سالی، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کر دیا جاتا ہے۔

٧۔ سِجِیْن بعض کہتے ہیں سِجْن(قید خانہ) سے ہے، مطلب ہے کہ قید خانہ کی طرح ایک نہایت تنگ مقام ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زمین کے سب سے نچلے حصے میں ایک جگہ ہے، جہاں کافروں، ظالموں اور مشرکوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے جمع اور محفوظ ہوتے ہیں۔ اسی لئے آگے اسے لکھی ہوئی کتاب قرار دی ہے۔

١٣۔ یعنی اس کا گناہوں میں مصروفیت اور حد سے تجاوز اتنا بڑھ گیا کہ اللہ کی آیات سن کر ان پر غور و فکر کرنے کے بجائے، انہیں اگلوں کی کہانیاں بتلاتا ہے۔

۱۳۔ (۲)یعنی یہ قرآن کہانیاں نہیں، جیسا کہ کافر کہتے اور سمجھتے ہیں۔ بلکہ یہ اللہ کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس کے رسول پر جبرائیل علیہ السلام امین کے ذریعے سے نازل ہوئی ہے۔

۱۴۔ یعنی ان کے دل اس قرآن اور وحی الٰہی پر ایمان اس لیے نہیں لاتے کہ ان کے دلوں پر گناہوں کی کثرت کی وجہ سے پردے پڑ گئے ہیں اور وہ زنگ آلود ہو گئے ہیں رین گناہوں کی وہ سیاہی ہے جو مسلسل ارتکاب گناہ کی وجہ سے اس کے دل پر چھا جاتی ہے۔ حدیث میں ہے “بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو وہ سیاہی دور کر دی جاتی ہے، اور اگر توبہ کے بجائے، گناہ کیے جاتا ہے تو وہ سیاہی پڑھتی جاتی ہے، حتیٰ کہ اس کے پورے دل پر چھا جاتی ہے۔ یہی وہ رین ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔(ترمذی، باب تفسیر سورۃ المطففین، ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکرالذنوب۔ مسند أحمد۲۹۷/۲)

١٥۔ ان کے برعکس اہل ایمان روئیت باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔

١٨۔ عِلَیِئیْنُ، (بلندی سے ہے یہ عِلَیِئیْنُ کے برعکس، آسمانوں میں یا سدرۃ المُنْتَہیٰ یا عرش کے پاس جگہ ہے جہاں نیک لوگوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے محفوظ ہوتے ہیں، جس کے پاس مقرب فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔

٢٦۔ یعنی عمل کرنے والو ایسے عملوں میں سبقت کرنی چاہیے جس کے صلے میں جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوں۔ جیسے فرمایا، (لِمِثلِ ھٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ) (الصافات۔ ٦١)

٢٧۔ اس میں تسنیم شراب کی آمیزش ہو گی جو جنت کے بلائی علاقوں سے ایک چشمے کے ذریعے سے آئے گی۔ یہ جنت کی بہترین اور اعلیٰ شراب ہو گی۔

٢٩۔ یعنی انہیں حقیر جانتے ہوئے ان کا مذاق اڑاتے تھے۔

٣١۔ یعنی اہل ایمان کا ذکر کر کے خوش ہوتے اور دل لگیاں کرتے۔ دوسرا مطلب یہ کہ جب اپنے گھروں میں لو ٹتے تو وہاں خوشحالی اور فراغت ان کا استقبال کرتی اور جو چاہتے وہ انہیں مل جاتا، اس کے باوجود انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ اہل ایمان کی تحقیر کی اور ان پر حسد کرنے میں ہی مشغول رہے (ابن کثیر)

٣٣۔ یعنی یہ کافر مسلمانوں پر نگران بنا کر تو نہیں بھیجے گئے ہیں کہ ہر وقت مسلمانوں کے اعمال و احوال ہی دیکھتے اور ان پر تبصر کرتے رہیں۔

٣٦۔ کافروں کو، جو کچھ وہ کرتے تھے، اس کا بدلہ دے دیا گیا ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ  اِنشِقاق

١۔ یعنی جب قیامت برپا ہو گی۔

٢۔ یعنی اس کے یہ لائق ہے کہ سنے اطاعت کرے، اس لئے کہ وہ سب پر غالب ہے اور سب اس کے ماتحت ہیں اس کے حکم سے سرتابی کرنے کی کس کو مجال ہے ؟

٣۔ یعنی اس کے طول و عرض میں مزید وسعت کر دی جائے گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس پر جو پہاڑ وغیرہ ہیں، سب کو ریزہ ریزہ کر کے زمین کو ہموار کر کے بچھایا جائے گا۔ اس میں میں کوئی اونچ نیچ نہیں رہے گی۔

٤۔ یعنی اس میں جو مردے دفن ہیں، سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے جو خزانے اس کے بطن میں موجود ہیں وہ انہیں ظاہر کر دے گی، اور خود بالکل خالی ہو جائے گی۔

٩۔ یعنی جو اس کے گھر والوں میں سے جنتی ہوں گے۔ یا مراد وہ حور عین اور دلدان ہیں جو جنتیوں کو ملیں گے۔

١٣۔ یعنی دنیا میں اپنی خواہشات میں مگن اور اپنے گھر والوں کے درمیان بڑا خوش تھا،

١٥۔ یعنی اس سے اس کا کوئی عمل چھپا ہوا نہیں تھا۔

١٦۔ ١ شفق جو سورج غروب ہونے پر ظاہر ہوتی ہے اور عشا کا وقت شروع ہونے تک رہتی ہے۔

١٧۔ اندھیرا ہوتے ہی ہر چیز اپنے مسکن کی طرف جمع اور سمٹ آتی ہے یعنی رات کا اندھیرا جن چیزوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔

١٩۔ یہاں مراد شدائد ہیں جو قیامت والے دن واقع ہوں گے۔ یعنی اس روز ایک سے بڑھ کر ایک حالت طاری ہو گی (یہ جواب قسم ہے )

٢١۔ احادیث سے یہاں نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام کا سجدہ کرنا ثابت ہے۔

٢٢۔ یعنی ایمان لانے کی بجائے جھٹلا رہے ہیں۔

٭٭٭

 

سورۃ بُروج

١۔بروج، برج کی جمع ہے، برج کے اصل معنی ظہور کے ہیں، یہ کواکب کی منزلیں ہیں جنہیں ان کے محل اور قصور کی حیثیت حاصل ہے ظاہر اور نمایاں ہونے کی وجہ سے انہیں برج کہا جاتا ہے تفصیل کے لیے دیکھیے الفرقان،٦۱ کا حاشیہ بعض نے بروج سے مراد ستارے لیے ہے۔ یعنی ستارے والے آسمان کی قسم، بعض کے نزدیک اس سے آسمان کے دروازے یا چاند کی منزلیں مراد ہیں (فتح القدیر)

٢۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔

٣۔ شَاھْدٍ اور مَشْھُوْدِ کی تفسیر میں بہت اختلاف ہے، امام شوکانی نے احادیث و آثار کی بنیاد پر کہا ہے کہ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے، اس دن جس نے جو بھی عمل کیا ہو گا یہ قیامت کے دن اس کی گواہی دے گا، اور مشہود سے عرفہ (٩ ذوالحجہ) کا دن ہے جہاں لوگ حج کے لئے جمع اور حاضر ہوتے ہیں۔

٤۔ یعنی جن لوگوں نے خندقیں کھود کر اس میں رب کے ماننے والوں کو ہلاک کیا، ان کے لئے ہلاکت اور بربادی ہے قتل بمعنی لعن۔

٥۔ یہ خندقیں کیا تھیں ؟ ایندھن والی آگ تھیں، جو اہل ایمان کو اس میں جھونکنے کے لئے دہکائی گئی تھی۔

٦۔ کافر بادشاہ یا اسکے کارندے، آگ کے کنارے بیٹھے اہل ایمان کے جلنے کا تماشہ دیکھ رہے تھے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔

٨۔ یعنی ان لوگوں کا جرم، جنہیں آگ میں جھونکا جا رہا تھا، یہ تھا کہ وہ اللہ غالب پر ایمان لائے تھے، اس واقع کی تفصیل جو صحیح احادیث سے ثابت ہے، مختصراً ملاحظہ فرمائیں۔

واقعہ اصحاب الا خدود :گزشتہ زمانے میں ایک بادشاہ کا جادوگر اور کاہن تھا، جب وہ کاہن بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے ایک ذہین لڑکا دو، جسے میں یہ علم سکھا دوں، چنانچہ بادشاہ نے ایک سمجھدار لڑکا تلاش کر کے اس کے سپرد کر دیا۔ لڑکے کے راستے میں ایک راہب کا بھی مکان تھا، یہ لڑکا آتے جاتے اس کے پاس بھی بیٹھتا اور اس کی باتیں سنتا، جو اسے اچھی لگتیں، اسی طرح سلسلہ چلتا رہا، ایک مرتبہ یہ لڑکا جا رہا تھا کہ راستے میں ایک بہت بڑے جانور (شیر یا سانپ وغیرہ) نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا، لڑکے نے سوچا، آج میں پتہ کرتا ہوں کہ جادوگر صحیح ہے یا راہب؟ اس نے ایک پتھر پکڑا اور کہا اے اللہ، اگر راہب کا معاملہ، تیرے نزدیک جادوگر کے معاملے سے بہتر اور پسندیدہ ہے تو اس جانور کو مار دے، تاکہ لوگوں کی آمد و رفت جاری ہو جائے یہ کہہ کر اس نے پتھر مارا اور وہ جانور مر گیا۔ لڑکے نے جا کر یہ واقعہ راہب کو بتایا راہب نے کہا، بیٹے ! اب تم فضل و کمال کو پہنچ گئے ہو اور تمہاری آزمائش شروع ہونے والی ہے۔ لیکن اس دور آزمائش میں میرا نام ظاہر نہ کرنا، یہ لڑکا مادر زاد اندھے، برص اور دیگر بیماریوں کا علاج بھی کرتا تھا لیکن ایمان باللہ کی شرط پر، اسی شرط پر اس نے بادشاہ کے ایک نابینا مصاحب کی آنکھیں بھی اللہ سے دعا کر کے صحیح کر دیں۔ یہ لڑکا یہی کہتا تھا کہ اگر تم ایمان لے آؤ گے تو میں اللہ سے دعا کروں گا، وہ شفا عطا فرما دے گا، چنانچہ اس کی دعا سے اللہ شفا یاب فرما دیتا، یہ خبر بادشاہ تک پہنچی تو وہ بہت پریشان ہوا، بعض اہل ایمان کو قتل کرا دیا۔ اس لڑکے کے بارے میں اس نے چند آدمیوں کو کہا کہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے جا کر نیچے پھینک دو، اس نے اللہ سے دعا کی پہاڑ میں لرزش پیدا ہوئی جس سے وہ سب مر گئے اور اللہ نے اسے بچا لیا۔ بادشاہ نے اسے دوسرے آدمیوں کے سپرد کر کے کہ کہا کہ ایک کشتی میں بٹھا کر سمندر کے بیچ لے جا کر اسے پھینک دو، وہاں بھی اس کی دعا سے کشتی الٹ گئی، جس سے وہ سب غرق ہو گئے اور یہ بچ گیا۔ اس لڑکے نے بادشاہ سے کہا، اگر تو مجھے ہلاک کرنا چاہتا ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک کھلے میدان میں لوگوں کو جمع کرو اور بِسْمِ اللّٰہ رَبِّ الْغُلامِ کہہ کر مجھے تیر مار، بادشاہ نے ایسے ہی کیا جس سے وہ لڑکا مر گیا لیکن سارے لوگ پکار اٹھے، کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، بادشاہ اور زیادہ پریشان ہو گیا۔ چنانچہ اس نے خندقیں کھدوائیں اور اس میں آگ جلوائی اور حکم دیا کہ جو ایمان سے انحراف نہ کرے اس کو آگ میں پھینک دو، اس طرح ایماندار آتے رہے اور آگ کے حوالے ہوتے رہے، حتیٰ کہ ایک عورت آئی، جس کے ساتھ ایک بچہ تھا وہ ذرا ٹھٹھکی، تو بچہ بول پڑا، اماں صبر کر تو حق پر ہے (صحیح مسلم) امام ابن کثیر نے اور بھی بعض واقعات نقل کئے ہیں جو اس سے مختلف ہیں اور کہا ہے، ممکن ہے اس قسم کے متعدد واقعات مختلف جگہوں پر ہوئے ہوں (تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر)

۱۲۔یعنی جب وہ اپنے ان دشمنوں کی گرفت پر آئے جو اس کے رسولوں کی تکذیب کرتے اور اس کے حکموں کی مخالفت کرتے ہیں تو پھر اس کی گرفت سے انہیں کوئی نہیں بچا سکتا

۱۳۔یعنی وہی اپنی قوت اور قدرت کاملہ سے پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور پھر قیامت والے دن دوبارہ انہیں اسی طرح پیدا کرے گا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا۔

۱۵۔یعنی تمام مخلوقات سے معظم اور بلند ہے اور عرش، جو سب سے اوپر ہے وہ اس کا مستقر ہے جیسا کہ صحابہ و تابعین اور محدثین کا عقیدہ ہے۔ المجید صاحب فضل و کرم۔

١٦۔ یعنی وہ جو چاہے، کر گزرتا ہے اس کے حکم اور مشیت کو ٹالنے والا کوئی نہیں ہے نہ اسے کوئی پوچھنے والا ہی ہے۔ حضرت ابوبکر سے ان کے مرض الموت میں کسی نے پوچھا کیا کسی طبیب نے آپ کو دیکھا ہے انہوں نے فرمایا کہ ہاں، پوچھا اس نے کیا کہا، انی فعال لما ارید، میں جو چاہوں کروں، میرے معاملے میں کوئی دخل دینے والا نہیں۔ (ابن کثیر) مطلب یہ تھا کہ معاملہ اب طبیبوں کے ہاتھ میں نہیں رہا میرا آخری وقت آ گیا ہے اور اللہ ہی اب میرا طبیب ہے جس کی مشیت کو ٹالنے کی کسی کے اندر طاقت نہیں۔

١٧۔ یعنی ان پر میرا عذاب آیا اور میں نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، جسے کوئی ٹال نہیں سکا۔

۲۰۔(ان بطش ربک لشدید) ہی کا اثبات اور اس کی تاکید ہے۔

٢٢۔ یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، جہاں فرشتے اس کی حفاظت پر مامور ہیں، اللہ تعالیٰ حسب ضرورت اسے نازل فرماتا ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ  الطارق

٣۔ طارق سے مراد؟ خود قرآن نے واضح کر دیا۔ روشن ستارہ طارق ہے جس کے لغوی معنی کھٹکھٹانے کے ہیں، لیکن طارق رات کو آنے والے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ستاروں کو بھی طارق اسی لئے کہا گیا ہے کہ یہ دن کو چھپ جاتے ہیں اور رات کو نمودار ہوتے ہیں۔

٤۔ یعنی ہر نفس پر اللہ کی طرف سے فرشتے مقرر ہیں جو اس کے اچھے یا برے سارے اعمال لکھتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ انسانوں کی حفاطت کرنے والے فرشتے ہیں۔

۵۔یعنی منی سے جو قضائے شہوت کے بعد زور سے نکلتی ہے۔ یہی قطرہ آب رحم عورت میں جر اللہ کے حکم سے حمل کا باعث بنتا ہے۔

۷۔کہا جاتا ہے کہ پیٹھ مرد کی اور سینہ عورت کا، ان دونوں کے پانی سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔ لیکن اسے ایک پانی اس لیے کہا کہ یہ دونوں مل کر ایک ہی بن جاتا ہے۔

٨۔ یعنی انسان کے مرنے کے بعد، اسے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ بعض کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ وہ اس قطرہ آب کو دوبارہ شرمگاہ کے اندر لوٹانے کی قدرت رکھتا ہے جہاں سے وہ نکلا تھا پہلے مفہوم کو امام شوکانی اور امام ابن جریر طبری نے زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔

۹۔یعنی ظاہر ہو جائیں گے کیوں کہ ان پر جزا و سزا ہو گی بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ ہر غدر (بدعہدی) کرنے والے کے سرین کے پاس جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان کر دیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے۔ (صحیح بخاری)

۱۰۔یعنی خود انسان کے پاس اتنی قوت نہ ہو گی کہ وہ خدا کے عذاب سے بچ جائے نہ کسی اور طرف اس کو کوئی ایسا مددگار مل سکے گا جو اس کو اللہ کے عذاب سے بچا دے۔

١١۔ عرب بارش کو رجع کہتے ہیں اس لئے بارش کو رَجْع کہا اور بطور شگون عرب بارش کو کہتے تھے تاکہ وہ بار بار ہوتی رہے۔

١٢۔ یعنی زمین پھٹتی ہے تو اس سے پودا باہر نکلتا ہے، زمین پھٹتی ہے تو اس سے چشمہ جاری ہوتا ہے اور اسی طرح ایک دن آئے گا کہ زمین پھٹے گی، سارے مردے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ اس لیے زمین کو پھٹنے والی اور شگاف والی کہا۔

۱۳۔یہ جواب قسم ہے، یعنی کھول کر بیان کرنے والا ہے جس سے حق اور باطل دونوں واضح ہو جاتے ہیں۔

١٤۔ یعنی کھیل کود اور مذاق والی چیز نہیں ہے (قصد اور ارادہ) کی ضد ہے، یعنی ایک واضح مقصد کی حامل کتاب ہے، لہو و لعب کی طرح بے مقصد نہیں۔

١٥۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم جو دین حق لے کر آئے ہیں، اس کو ناکام کرنے کے لئے سازشیں کرتے ہیں، یا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دھوکا اور فریب دیتے ہیں اور منہ پر ایسی باتیں کرتے ہیں کہ دل میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔

١٦۔ یعنی میں ان کی چالوں اور سازشوں سے غافل نہیں ہوں، میں بھی ان کے خلاف تدبیر کر رہا ہوں یا ان کی چالوں کا توڑ کر رہا ہوں، جو برے مقصد کے لئے ہو تو بری اور مقصد نیک تو بری نہیں۔

١٧۔ یعنی ان کے لئے جلدی عذاب کا سوال نہ کر بلکہ انہیں کچھ مہلت دے دے۔

٭٭٭

 

سورۃ اَعلیٰ

١۔ یعنی ایسی چیزوں سے اللہ کی پاکیزگی اس کے لائق نہیں ہے حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس کے جواب میں پڑھا کرتے تھے، سُبْحَانَ رَبَّیَ ا لاَّعْلَیٰ (مسند احمد ٢٣٢۔١)

۲۔دیکھیے سورۃ انفطار کا حاشیہ نمبر ۷

٣۔ یعنی نیکی اور بدی کی، ضروریات زندگی، اشیا کی جنسوں کی، ان کی انواع و صفات اور خصوصیات کا اندازہ فرما کر انسان کی بھی ان کی طرف رہنمائی فرما دی تاکہ انسان ان سے استفادہ حاصل کرے۔

٤۔جسے جانور چرتے ہیں۔

۵۔گھاس خشک ہو جائے تو اسے غثاء کہتے ہیں، احوی سیاہ کر دیا۔

٦۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آتے تو آپ جلدی جلدی پڑھتے تاکہ بھول نہ جائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس طرح جلدی نہ کریں، نازل شدہ وحی ہم آپ کو پڑھوائیں گے، یعنی آپ کی زبان پر جاری کر دیں گے۔ پس آپ بھولیں گے نہیں۔ مگر جسے اللہ چاہے گا لیکن اللہ نے ایسا نہیں چاہا، اس لیے آپ کو سب کچھ یاد ہی رہا بعض نے کہا کہ اس کا مفہوم ہے کہ جن کو اللہ منسوخ کرنا چاہے گا وہ آپ کو بھلوا دے گا (فتح القدیر)

۷۔یہ بھی عام ہے جہر قرآن کا وہ حصہ ہے جسے رسول اللہ یاد کر لیں اور جو آپ کے سینے سے محو کر دیا جائے وہ مخفی ہے۔ خفی چھپ کر عمل کرے اور جہر ظاہر ان سب کو اللہ جانتا ہے۔

٨۔ یہ بھی عام ہے۔ ہم آپ پر وحی آسان کر دیں گے تاکہ اس کو یاد کرنا اور اس پر عمل کرنا آسان ہو جائے ہم آپ کے اس طریقے سے رہنمائی کریں گے جو آسان ہو گا، ہم جنت والا عمل آپ کے لئے آسان کر دیں گے۔ ہم آپ کے لیے ایسے اقوال و افعال آسان کر دیں گے جن میں خیر ہو اور ہم آپ کے لیے ایسی شریعت مقرر کریں گے جو سہل، مستقیم، اور معتدل ہو گی جس میں کوئی کجی، عسر اور تنگی نہیں ہو گی۔

۹۔یعنی وعظ و نصیحت وہاں کریں جہاں محسوس ہو کہ فائدہ مند ہو گی، یہ وعظ و نصیحت اور تعلیم کے لیے ایک اصول اور ادب بیان فرمایا۔ امام شوکانی کے نزدیک مفہوم یہ ہے کہ آپ نصیحت کرتے رہیں،چاہے فائدہ دے یا نہ دے، کیونکہ انداز و تبلیغ دونوں صورتوں میں آپ کے لیے ضروری تھی۔

یعنی آپ کی نصیحت سے وہ یقیناً عبرت حاصل کریں گے جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہو گا، ان میں خشیت الہی اور اپنی اصلاح کا جذبہ مزید قوی ہو گا۔

۱۱۔یعنی اس نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے کیوں کہ ان کا کفر پر اصرار اللہ کی معصیتوں میں انہماک جاری رہتا ہے۔

۱۳۔ان کے برعکس جو لوگ صرف اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے عارضی طور پر جہنم میں رہ گئے ہوں گے انہیں اللہ تعالیٰ ایک طرح کی موت دے دے گا حتی کہ وہ آگ میں جل کر کوئلہ ہو جائیں گے پھیر اللہ تعالیٰ انبیاء وغیرہ کی سفارش سے ان کو گروہوں کی شکل میں نکالے گا، ان کو جنت کی نہر میں ڈالا جائے گا، جنتی بھی ان پر پانی ڈالیں گے جس سے وہ اس طرح اٹھیں گے جیسے سیلاب کے کورے سے دانہ اگ آتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان)

١٤۔ جنہوں نے اپنے نفس کو اخلاق رذیلہ سے اور دلوں کو شرک کی آلودگی سے پاک کر لیا۔

١٧۔ کیونکہ دنیا اور اس کی ہر چیز فانی ہے، جبکہ آخرت کی زندگی دائمی اور ابدی ہے، اس لئے عاقل فانی چیز کو باقی رہنے والی پر ترجیح نہیں دیتا۔

٭٭٭

 

سورۃ  غاشیہ

١۔١غاشیہ سے مراد قیامت ہے، اس لئے کہ اس کی ہولناکیاں تمام مخلوق کو ڈھانک لیں گی۔

۲۔یعنی کافروں کے چہرے، خاشعۃ جھکے ہوئے، پست اور ذلیل، جیسے نمازی، نماز کی حالت میں عاجزی سے جھکا ہوتا ہے۔

٣۔ یعنی انہیں اتنا پر مشقت عذاب ہو گا کہ اس سے ان کا سخت برا حال ہو گا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں عمل کر کے تھکے ہوئے ہوں گے یعنی بہت عمل کرتے رہے، لیکن وہ عمل باطل مذہب کے مطابق بدعات پر مبنی ہوں گے، اس لئے عبادت اور سخت اعمال کے باوجود جہنم میں جائیں گے۔ چنانچہ اس مفہوم کی روح سے حضرت ابن عباس نے (عَمِلَۃ، نَّاصِیَۃ) سے نصاریٰ مراد لئے ہیں (صحیح بخاری)

۵۔ یہاں وہ سخت کھولتا ہوا پانی مراد ہے جس کی گرمی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہو۔ (فتح القدیر)

۶۔ یہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے جسے خشک ہونے پر جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے، بہرحال یہ بھی زقوم کی طرح ایک نہایت تلخ، بدمزہ، اور ناپاک ترین کھانا ہو گا جو جزو بدن بنے گا نہ اس سے بھوک ہی مٹے گی۔

۸۔ یہ اہل جنت کا تذکرہ ہے جو جہنمیوں کے برعکس نہایت آسودہ حال اور ہر قسم کی آسائشوں سے بہرہ ور ہوں گے۔

١٧۔اونٹ عرب میں عام تھے اور ان عربوں کی غالب سواری یہ تھی، اس لیے اللہ نے اس کا تذکرہ کیا یعنی اونٹ کی خلقت پر غور کرو، اللہ نے اسے کتنا بڑا وجود عطا کیا اور کتنی قوت و طاقت اس کے اندر رکھی ہے۔ اس کے باوجود وہ تمہارے لئے نرم اور تابع ہے، تم اس پر جتنا چاہو بوجھ لاد دو وہ انکار نہیں کرے گا اور تمہارا ماتحت ہو کر رہے گا علاوہ ازیں اس کا گوشت تمہارے کھانے کے لئے، اسکا دودھ تمہارے پینے کے لئے اور اس کی اون، گرمی حاصل کرنے کے کام آتی ہے۔

۱۸۔یعنی آسمان کتنی بلندی پر ہے پانچ سو سال کی مسافت پر پھیر بھی بغیر ستون کے وہ کھڑا ہے اس میں کوئی شگاف اور کجی نہیں نیز ہم نے اسے ستاروں سے مزین کیا ہوا ہے۔

۱۹۔یعنی کس طرح اس کو زمین پر میخوں کی طرح گاڑھ دیا تاکہ زمین حرکت نہ کرے، نیز ان میں جو معدنیات اور دیگر منافع ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔

۲۰۔یعنی کس طرح اسے ہموار کر کے انسان کے رہنے کے قابل بنایا ہے وہ اس پر چلتا پھرتا ہے کاروبار کرتا ہے اور فلک بوس عمارتیں بناتا ہے۔

٢١۔ یعنی آپ کا کام صرف تبلیغ و دعوت ہے، اس کے علاوہ یا اس سے بڑھ کر نہیں۔

۲۴۔یعنی جہنم کا دائمی عذاب۔

۲۶۔مشہور ہے کہ اس کے جواب میں اللھم حاسبنا حسابا یسیرا۔ پڑھا جائے، یہ دعا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے جو آپ اپنی بعض نمازوں میں پڑھتے تھے، جیسا کہ سورۃ انشقاق میں گزرا لیکن اس کے جواب میں پڑھنا یہ آپ سے ثابت نہیں۔

٭٭٭

 

سورۃ  فجر

۱۔اس سے مراد مطلق فجر ہے، کسی خاص دن کی فجر نہیں۔

٢۔ اس سے اکثر مفسرین کے نزدیک ذو الحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ جن کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے، نبی کریم نے فرمایا عشرہ ذوالحجہ میں کیے گئے عمل صالح اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں، حتی کہ جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا پسندیدہ نہیں سوائے اس جہاد کے جس میں انسان شہید ہو جائے۔ (البخاری، کتاب العیدین، باب فضل العمل فی ایام التشریق)

۳۔اس سے مراد جفت اور طاق عدد ہیں یا وہ معدودات جو جفت اور طاق ہوتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ یہ دراصل مخلوق کی قسم ہے اس لیے کہ مخلوق جفت یا طاق ہے اس کے علاوہ نہیں۔

٤۔یعنی جب آئے اور جب جائے، کیوں کہ سیر (چلنا) آتے جاتے دونوں صورتوں میں ہوتا ہے۔

٥۔ ذٰلِکَ سے مذکورہ قسمیں بہ اشیا کی طرف اشارہ ہے یعنی کیا ان کی قسم اہل عقل و دانش کے واسطے کافی نہیں۔ حجر کے معنی ہیں روکنا، منع کرنا، انسانی عقل بھی انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے اس لیے عقل کو بھی حجر کہا جاتا ہے۔آگے بہ طریق استشہاد اللہ تعالیٰ بعض ان قوموں کا ذکر فرما رہے ہیں جو تکذیب و عناد کی بناء پر ہلاک کی گئی تھیں، مقصد اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر تم ہمارے رسول کی تکذیب سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی اسی طرح مواخذہ ہو سکتا ہے جیسے گزشتہ قوموں کا اللہ نے کیا۔

٦۔ ان کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجے گئے تھے انہوں نے جھٹلایا، بالآخر اللہ تعالیٰ نے سخت ہوا کا عذاب بھیجا۔ جو متواتر سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی اور انہیں نہس تہس کر کے رکھ دیا۔

٧۔١رم یہ قوم عاد کے دادا کا نام ہے، ان کا سلسلہ نسب ہے عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح (فتح القدیر) ذات العماد سے اشارہ ہے ان کی قوت و طاقت اور دراز قامتی کی طرف، علاوہ ازیں وہ فن تعمیر میں بھی بری مہارت رکھتے تھے اور نہایت مضبوط بنا دوں پر عظیم الشان عمارتیں تعمیر کرتے تھے۔ذات العماد میں دونوں ہی مفہوم شامل ہو سکتے ہیں۔

۸۔یعنی ان جیسی دراز قامت اور قوت و طاقت والی قوم کوئی اور پیدا نہیں ہوئی، یہ قوم کہا کرتی تھی (من اشد منا قوۃ) ہم سے زیادہ کوئی طاقتور ہے ؟

۹۔یہ حضرت صالح کی قوم تھی اللہ نے اسے پتھر تراشنے کی خاص صلاحیت و قوت عطا کی تھی، حتی کہ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر ان میں اپنی رہائش گاہیں تعمیر کر لیتے تھے، جیسا کہ قرآن نے کہا ہے (وتنحتون من الجبال بیوتا فارھین)

١٠۔ اس کا مطلب ہے کہ بڑے لشکروں والا تھا جس کے پاس خیموں کی کثرت تھی جنہیں میخیں گاڑ کر کھڑا کیا جاتا تھا۔ یا اس کے ظلم و ستم کی طرف اشارہ ہے کہ میخوں کے ذریعے وہ لوگوں کو سزائیں دیتا تھا۔

۱۳۔یعنی ان پر آسمان سے اپنا عذاب نازل فرما کر ان کو تباہ برباد یا انہیں عبرتناک انجام سے دوچار کر دیا۔

۱٤۔یعنی تمام مخلوقات کے اعمال دیکھ رہا ہے اور اس کے مطابق وہ دنیا اور آخرت میں جزا دیتا ہے۔

١٥۔ یعنی جب کسی کو عزت و دولت کی فراوانی عطا فرماتا ہے تو وہ اپنی بابت اس غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے کہ اللہ اس پر بہت مہربان ہے، حالانکہ فراوانی امتحان اور آزمائش کے طور پر ہوتی ہے۔

۱٦۔یعنی وہ تنگی میں مبتلا کر کے آزماتا ہے تو اللہ کے بارے میں بدگمانی کا اظہار کرتا ہے۔

 ١٧۔(۱)  یعنی بات اس طرح نہیں جیسے لوگ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مال اپنے محبوب بندوں کو بھی دیتا ہے اور ناپسندیدہ افراد کو بھی اور وہ اپنے اور بیگانوں دونوں کو مبتلا کرتا ہے۔ اصل مدار دونوں حالتوں میں اللہ کی اطاعت پر ہے جب اللہ مال دے تو اللہ کا شکر کرے، تنگی آئے تو صبر کرے۔

١٧۔ (۲)  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے وہ گھر سب سے بہتر ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور وہ گھر بدترین ہے جس میں اس کے ساتھ بدسلوکی کی جائے۔ پھر اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کر کے فرمایا، میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں ساتھ ملی ہوئی ہیں (ابو داؤد)

۱۹۔یعنی جس طریقے سے بھی حاصل ہو، حلال طریقے سے حرام طریقے سے۔

٢٢۔ کہا جاتا ہے کہ جب فرشتے، قیامت والے دن آسمان سے نیچے اتریں گے تو ہر آسمان کے فرشتوں کی الگ صف ہو گی اس طرح سات صفیں ہوں گی۔ جو زمین کو گھیر لیں گی۔

 ٢٣۔ (۱)  ستر ہزار لگاموں کے ساتھ جہنم جکڑی ہوئی ہو گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے (صحیح مسلم) اسے عرش کے بائیں جانب کھڑا کر دیا جائے گا پس اسے دیکھ کر تمام مقرب اور انبیاء گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے اور یارب نفسی نفسی پکاریں گے۔ (فتح القدیر)

 ٢٣۔ (۲)  یعنی یہ ہولناک منظر دیکھ کر انسان کی آنکھیں کھلیں گی اور اپنے کفر و معاصی پر نادم ہو گا، لیکن اس روز ندامت اور نصیحت کا کوئی فائدہ نہ ہو گا۔

۲٤۔یہ افسوس اور حسرت کا اظہار، اسی ندامت کا حصہ ہے جو اس روز فائدہ مند نہیں ہو گی۔

۲۵۔ اس لیے کہ اس روز تمام اختیارات صرف ایک اللہ کے پاس ہوں گے، دوسرے کسی کو اس کے سامنے رائے یادم زنی نہیں ہو گا حتی کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش تک نہیں کر سکے گا ایسے حالات میں کافروں کو جو عذاب ہو گا اور جس طرح وہ اللہ کی قید و بند میں جکڑے ہوں گے، اس کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا،چہ جائیکہ اس کا کچھ اندازہ ممکن ہو، یہ تو مجرموں اور ظالموں کا حال ہو گا لیکن اہل ایمان و طاعت کا حال اس سے بالکل مختلف ہو گا جیسا کہ اگلی آیات میں ہے۔

۲۸۔یعنی اس کے اجر و ثواب اور ان نعمتوں کی طرف جو اس نے اپنے بندوں کے لیے جنت میں تیار کی ہیں بعض کہتے ہیں قیامت والے دن کہا جائے گا بعض کہتے ہیں کہ موت کے وقت بھی فرشتے خوشخبری دیتے ہیں اسی طرح قیامت والے دن بھی اسے یہ کہا جائے گا جو یہاں مذکور ہے، حافظ ابن کثیر نے ابن عساکر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم نے ایک آدمی کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا، اللھم انی اسالک نفسا، بک مطمئنہ، تومن بلقائک، وترضی بقضائک، وتقنع بعطائک۔

٭٭٭

 

سورۃ بلد

١۔ اس شہر سے مراد مکہ مکرمہ ہے جس میں اس وقت، جب سورت کا نزول ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا قیام تھا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا جائے پیدائش بھی یہی شہر تھا۔ یعنی اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے مولد و مسکن کی قسم کھائی، جس سے اس کی عظمت کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔

٢۔ یہ اشارہ ہے اس وقت کی طرف جب مکہ فتح ہوا، اس وقت اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے اس شہر حرام میں قتال کو حلال فرما دیا تھا جب کہ اس میں لڑائی کی اجازت نہیں ہے چنانچہ حدیث میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس شہر کو اللہ نے اس وقت سے حرمت والا بنایا ہے، جب سے اس نے آسمان و زمین پیدا کئے۔ پس یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حرمت سے قیامت تک حرام ہے، نہ اس کا درخت کاٹا جائے نہ اس کے کانٹے اکھیڑے جائیں، میرے لئے اسے صرف دن کی ایک ساعت کے لئے حلال کیا گیا تھا اور آج اس کی حرمت پھر اسی طرح لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی۔ اگر کوئی یہاں قتال کے لئے دلیل میری لڑائی کو پیش کرے تو اس سے کہو کہ اللہ کے رسول کو تو اس کی اجازت اللہ نے دی تھی جب کہ تمہیں یہ اجازت اس نے نہیں دی (صحیح بخاری)

٣۔ بعض نے اس سے مراد حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد لی ہے اور بعض کے نزدیک یہ عام ہے، ہر باپ اور اس کی اولاد اس میں شامل ہے۔

٤۔ یعنی اس کی زندگی محنت و مشقت اور شدائد سے معمور ہے۔ امام طبری نے اس مفہوم کو اختیار کیا ہے، یہ جواب قسم ہے۔

٥۔ یعنی کوئی اس کی گرفت کرنے پر قادر نہیں۔

٦۔ یعنی دنیا کے معاملات اور فضولیات میں خوب پیسہ اڑاتا ہے، پھر فخر کے طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔

۷۔۔ اس طرح اللہ کی نافرمانی میں مال خرچ کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ کوئی اسے دیکھنے والا نہیں ؟ حالانکہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جس پر وہ اسے جزا دے گا، آگے اللہ تعالیٰ اپنے بعض انعامات کا تذکرہ فرما رہا ہے تاکہ ایسے لوگ عبرت پکڑیں۔

٨۔ جن سے دیکھتا ہے۔

۹۔زبان سے وہ بولتا ہے اور ما فی الضمیر کا اظہار کرتا ہے ہونٹوں سے وہ بولنے اور کھانے کے لیے مدد حاصل کرتا ہے علاوہ ازیں وہ اس کے چہرے اور منہ کے لیے خوب صورتی کا بھی باعث ہیں۔

١٠۔ یعنی خیر کی بھی شر کی بھی اور ایمان کی بھی، سعادت کی بھی اور بد بختی کی بھی، جیسے فرمایا، بعض نے یہ ترجمہ کیا ہے، ہم نے انسان کی (ماں کے ) دو پستانوں کی طرف رہنمائی کر دی یعنی وہ عالم شیر خوارگی میں ان سے خوراک حاصل کر لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔

١١۔عقبہ گھاٹی کو کہتے ہیں یعنی وہ راستہ جو پہاڑ میں ہو یہ عام طور پر نہایت دشوار گزار ہوتا ہے۔ یہ جملہ یہاں استفہام بمعنی انکار کے مفہوم میں ہے یعنی فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ کیا وہ گھاٹی میں داخل نہیں ہوا؟ مطلب ہے نہیں ہوا۔ یہ ایک مثال ہے اس محنت و مشقت کی وضاحت کے لئے جو نیکی کے کاموں کے لئے ایک انسان کو شیطان کے وسوسوں اور تقاضوں کے خلاف کرنی پڑتی ہے، جیسے گھاٹی پر چڑھنے کے لئے سخت جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے (فتح القدیر)

۱٦۔یعنی جو فقر و غربت کی وجہ سے مٹی پر پڑا ہو، اس کا گھر بار بھی نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی گردن کو آزاد کرنا، کسی بھوکے رشتے دار کو کھانا کھلا دینا، یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعے سے انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے ہی بڑے اجر کا کام ہے، لیکن اگر وہ رشتے دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقے کا، دوسرا صلہ رحمی کا، اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی بڑی فضیلت احادیث میں آئی ہے، آج کل اس کی ایک صورت کسی مقروض کو قرض کے بوجھ سے نجات دلا دینا ہو سکتی ہے، یہ بھی ایک گونہ فک رقبہ ہے۔

١٧۔ (۱)  اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ اعمال خیر، اسی وقت نافع اور اخروی سعادت کا باعث ہوں گے جب ان کا کرنے والا صاحب ایمان ہو گا۔

١٧۔ (۲)  اہل ایمان کی صفت ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کرتے ہیں۔

۲۰۔یعنی ان کو آگ میں ڈال کر چاروں طرف بند کر دیا جائے گا تاکہ ایک تو آگ کی پوری شدت وحرارت ان کو پہنچے، دوسرے وہ بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔

٭٭٭

 

سورۃ شَمس

۱۔یا اس کی روشنی کی، یا مطلب ضحیٰ سے دن ہے، یعنی سورج کی اور دن کی۔

۲۔۔ یعنی جب سورج غروب ہونے کے بعد وہ طلوع ہو، جیسا کہ پہلے نصف مہینہ میں ایسا ہوتا ہے۔

۳۔یا تاریکی کو دور کرے،ظلمت کا پہلے ذکر تو نہیں ہے لیکن سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ (فتح القدیر)

٤۔۔ یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور ہر سمت اندھیرا چھا جائے۔

۵۔یا اس ذات کی جسے اس نے بنایا۔

٦۔یا جس نے اسے ہموار کیا۔

٧۔ یا جس نے اس درست کیا۔ درست کرنے کا مطلب اسے مناسب الا عضاء بنایا بے ڈھنگا نہیں بنایا۔

۸۔الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں اچھی طرح سمجھایا اور انہیں انبیاء اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے خیر و شر کی پہچان کروا دی، یا مطلب یہ ہے کہ ان کی عقل اور فطرت میں خیر اور شر، نیکی اور بدکاری کا شور ودیعت کر دیا، تاکہ وہ نیکی کو اپنائیں اور بدی سے اجتناب کریں۔

٩۔ شرک سے، معصیت سے اور اخلاقی آلائشوں سے پاک کیا، وہ اخروی فوز و فلاح سے ہمکنار ہو گا۔

١٠۔ یعنی جس نے اسے گمراہ کر لیا وہ خسارے میں رہا جس کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز میں چھپا دینا، جس نے اپنے نفس کا چھپا دیا اور اسے بے کار چھوڑ دیا اسے اللہ کی اطاعت اور عمل صالح کے ساتھ مشہور نہیں کیا۔

۱۱۔طغیان، وہ سرکشی جو حد سے تجاوز کر جائے اسی طغیان نے انہیں تکذیب پر آمادہ کیا۔

١٢۔ جس کا نام مفسرین قدار بن سالف بتلاتے ہیں سب سے بڑا شقی اور بد بخت۔

١٣۔ یعنی اس اونٹنی کو کوئی نقصان نہ پہنچائے، اسی طرح اس کے لئے پانی پینے کا جو دن ہو، اس میں بھی گڑ بڑ نہ کی جائے، اونٹنی اور قوم ثمود دونوں کے لیے پانی کا ایک دن مقرر کر دیا گیا تھا اس کی حفاظت کی تاکید کی گئی لیکن ان ظالموں نے اس کی پروا نہ کی۔

۱٤۔(۱) یہ کام ایک شخص قدار نے کیا تھا لیکن چوں کہ اس شرارت میں قوم بھی اس کے ساتھ تھی اس لیے اس میں سب کو برابر کا مجرم قرار دیا گیا، اور تکذیب اور اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی، جس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ ایک برائی پر نکیر کرنے کے بجائے اسے پسند کرتی ہو تو اللہ کے ہاں پوری قوم اس برائی کی مرتکب قرار پائے گی اور اس جرم یا برائی میں برابر کی شریک سمجھی جائے گی۔

۱٤۔ (۲) ان کو ہلاک کر دیا اور ان پر سخت عذاب نازل کیا۔

۱٤۔ (۳)۔ یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کر دیا، کسی کو نہیں چھوڑا،چھوٹا بڑا، سب کو نیست ونابود کر دیا گیا یا زمین کو ان پر برابر کر دیا یعنی سب کو تہ خاک کر دیا۔

٭٭٭

 

سورۃ لیل

۱۔یعنی افق پر چھا جائے جس سے دن کی روشنی ختم اور اندھیرا ہو جائے۔

۲۔۔ یعنی رات کا اندھیرا ختم ہو جائے اور دن کو اجالا پھیل جائے۔

٣۔ یہ اللہ نے اپنی قسم کھائی ہے، کیونکہ مرد عورت دونوں کا خالق اللہ ہی ہے

٤۔ یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔ یہ جواب قسم ہے۔

۵۔یعنی خیر کے کاموں میں خرچ کرے گا اور محارم سے بچے گا۔

٦۔یا اچھے صلے کی تصدیق کرے گا، یعنی اس بات پر یقین رکھے گا کہ انفاق اور تقویٰ اللہ کی طرف سے عمدہ صلہ ملے گا۔

۷۔ (۲) یعنی ہم بھی اس کو اس سے نیکی اور اطاعت کی توفیق دیتے اور ان کو اس کے لیے آسان کر دیتے ہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے چھ غلام آزاد کیے، جنہیں اہل مکہ مسلمان ہونے کی وجہ سے سخت اذیت دیتے تھے۔ (فتح القدیر)

۸۔یعنی اللہ کے راہ میں خرچ نہیں کرے گا اور اللہ کے حکم سے بے پرواہی کرے گا۔

۹۔یا آخرت کی جزاء و سزا اور حساب و کتاب کا انکار کرے گا۔

۱۰۔تنگی سے مراد کفر و معصیت اور طریق شر ہے، یعنی ہم اس کے لیے نافرمانی کا راستہ آسان کر دیں گے، جس سے اس کے لیے خیر و سعادت کے راستے مشکل ہو جائیں گے، قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ جو خیر و رشد کا راستہ اپناتا ہے اس کے صلے میں اللہ اسے خیر و توفیق سے نوازتا ہے اور جو شر و معصیت کو اختیار کرتا ہے اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑتا ہے یہ اس کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے جو اللہ نے اپنے علم سے لکھ رکھی ہے۔ (ابن کثیر)

۱۱۔یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال جسے وہ خرچ نہیں کرتا تھا، کچھ کام نہ آئے گا۔

۱۲۔یعنی حلال اور حرام، خیر و شر، ہدایت و ضلالت کو واضح اور بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ (جو کہ ہم نے کر دیا)

١٣۔ یعنی دونوں کے مالک ہم ہی ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں اس لئے ان دونوں کے یا ان میں سے کسی ایک کے طالب ہم سے ہی مانگیں کیونکہ ہر طالب کو ہم اپنی مشیت کے مطابق دیتے ہیں۔

۱۷۔یعنی جہنم سے دور رہے گا اور جنت میں داخل ہو گا۔

١٨۔ یعنی جو اپنا مال اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا نفس بھی اور اس کا مال بھی پاک ہو جائے۔

٢٠۔ بلکہ اخلاص سے اللہ کی رضا اور جنت میں اس کے دیدار کے لئے خرچ کرتا ہے۔

٢١۔ یعنی جو شخص ان صفات کا حامل ہو گا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتیں اور عزت و شرف عطا فرمائے گا۔ جس سے وہ راضی ہو جائے گا، اکثر مفسرین نے کہا ہے بلکہ بعض نے اجماع تک نقل کیا ہے کہ یہ آیات حضرت ابوبکر کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ تاہم معنی و مفہوم کے اعتبار سے عام ہیں جو بھی ان صفات عالیہ سے متصف ہو گا، وہ بارگاہ الہی میں ان کا مصداق قرار پائے گا۔

٭٭٭

 

سورۃ ضُحیٰ

١۔ چاشت اس وقت کو کہتے ہیں، جب سورج بلند ہوتا ہے۔ یہاں مراد پورا دن ہے۔

۲۔جب ساکن ہو جائے، یعنی جب اندھیرا مکمل چھا جائے، کیونکہ اس وقت ہر چیز ساکن ہو جاتی ہے۔

۳۔جیسا کہ کافر سمجھ رہے ہیں۔

٤۔ یا آخرت دنیا سے بہتر ہے، دونوں مفہوم معانی کے اعتبار سے صحیح ہیں۔

٥۔ اس سے دنیا کی فتوحات اور آخرت کا اجر و ثواب مراد ہے، اس میں وہ حق شفاعت بھی داخل ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی امت کے گناہ گاروں کے لئے ملے گا۔

٦۔ یعنی باپ کے سہارے سے بھی محروم تھا، ہم نے تیری دست گیری اور چارہ سازی کی۔

٧۔ یعنی تجھے دین شریعت اور ایمان کا پتہ نہیں تھا، ہم نے تجھے راہ یاب کیا، نبوت سے نوازا اور کتاب نازل کی، ورنہ اس سے قبل تو ہدایت کے لئے سرگرداں تھا۔

۸۔تونگر کا مطلب ہے کہ اپنے سوا تجھ کو ہر ایک سے بے نیاز کر دیا، پس تو فقر میں صابر اور غنا میں شاکر رہا ہے۔ جیسے خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تونگری کثرت ساز و سامان کا نام نہیں اصل تونگری تو دل کی تونگری ہے۔ (صحیح مسلم)

۹۔بلکہ اس کے ساتھ نرمی و احسان کا معاملہ کر۔

۱۰۔یعنی اس سے سختی اور تکبر نہ کر، نہ درشت اور تلخ لہجہ اختیار کر، بلکہ جواب بھی دینا ہو تو پیار اور محبت سے دو۔

۱۱۔یعنی اللہ نے تجھ پر جو احسانات کیے ہیں، مثلاً ہدایت اور رسالت و نبوت سے نوازا، یتیمی کے باوجود تیری کفالت و سرپرستی کا انتظام کیا، تجھے قناعت و تونگری عطا کی وغیرہ۔

٭٭٭

 

سورۃ الم نشرح

١۔ گزشتہ سورت میں تین انعامات کا ذکر تھا، اس سورت میں مزید تین احسانات جتلائے جا رہے ہیں، سینہ کھول دینا ان میں پہلا ہے۔ اس کا مطلب ہے سینے کا منور اور فراخ ہو جانا، تاکہ حق واضح ہو جائے اور دل میں بھی سما جائے اسی مفہوم میں قرآن کی یہ آیت ہے (فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یُّھْدِیَہ،یَشْرَحُ صَدْرَہ، لِلْاِ سْلَامُ) (سورہ انعام، ١٢٥) جس کو اللہ ہدایت سے نوازنے کا ارادہ کرے، اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے، یعنی وہ اسلام کو دین حق کے طور پر پہچان بھی لیتا ہے اور اسے قبول بھی کر لیتا ہے اس شرح صدر میں وہ شق صدر بھی آتا ہے جو معتبر روایات کی رو سے دو مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ہوا

٢۔ یہ بوجھ نبوت سے قبل چالیس سالہ دور زندگی سے متعلق ہے۔ اس دور میں اگرچہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو گناہوں سے محفوظ رکھا، کسی بت کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سجدہ ریز نہیں ہوئے، کبھی شراب نوشی نہیں کی اور بھی دیگر برائیوں سے دامن کش رہے، تاہم معروف معنوں میں اللہ کی عبادت و اطاعت کا نہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو علم تھا نہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے احساس و شعور نے اسے بوجھ بنا رکھا تھا اللہ نے اسے اتار دینے کا اعلان فرما کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر احسان فرمایا۔

٤۔یعنی جہاں اللہ کا نام آتا ہے وہیں آپ کا نام بھی آتا ہے، مثلاً اذان، نماز، دیگر بہت سے مقامات پر، گزشتہ کتابوں میں آپ کا تذکرہ اور صفات کی تفصیل ہے۔ فرشتوں میں آپ کا ذکر خیر ہے آپ کی اطاعت کو اللہ نے اپنی اطاعت قرار دیا اور اپنی اطاعت کے ساتھ آپ کی اطاعت کا بھی حکم دیا۔

٦۔یہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے اور صحابہ کرام کے لیے خوشخبری ہے کہ تم اسلام کی راہ میں جو تکلیفیں برداشت کر رہے ہو تو گھبرانے کی ضرورت نہیں اس کے بعد ہی اللہ تمہیں فراغت وآسانی سے نوازے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا جیسے ساری دنیا جانتی ہے۔

٧۔ یعنی نماز سے، یا تبلیغ سے یا جہاد سے، تو دعا میں محنت کر، یا اتنی عبادت کر کہ تو تھک جائے۔

٨۔ یعنی اسی سے جنت کی امید رکھ، اسی سے اپنی حاجتیں طلب کر اور تمام معاملات میں اسی پر اعتماد اور بھروسہ رکھ۔

٭٭٭

 

سورۃ التین

٢۔ یہ وہی کوہ طور ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوا تھا۔

٣۔ اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جس میں قتال کی اجازت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں جو اس میں داخل ہو جائے، اسے بھی امن حاصل ہوتا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دراصل تین مقامات کی قسم ہے جن میں سے ہر ایک جگہ میں جلیل القدر پیغمبر مبعوث ہوئے، انجیر اور زیتون سے مراد وہ علاقہ ہے جہاں پر اس کی پیداوار ہوئی اور وہ ہے بیت المقدس، جہاں حضرت عیسیٰ پیغمبر بن کر آئے، سنین پر حضرت موسیٰ کو نبوت ملی، اور شہر مکہ میں سیدالرسل حضرت محمد کی بعثت ہوئی۔

٤۔ یہ جواب قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس طرح پیدا کیا کہ اس کا منہ نیچے کو جھکا ہوا ہے صرف انسان کو دراز قد، سیدھا بنایا ہے جو اپنے ہاتھوں سے کھاتا پیتا ہے، پھر اس کے اعضا کو نہایت تناسب کے ساتھ بنایا، ان میں جانوروں کی طرح بے ڈھنگا پن نہیں ہے۔

۵۔یہ اشارہ ہے انسان کی ارذل العمر کی طرف جس میں جوانی اور قوت کے بعد بڑھاپا اور ضعف آ جاتا ہے اور انسان کی عقل اور ذہن بچے کی طرح ہو جاتا ہے۔ بعض نے اس سے کردار کا وہ سفلہ پن لیا ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان انتہائی پست اور سانپ بچھو سے بھی گیا گزرا ہو جاتا ہے بعض نے اس سے ذلت و رسوائی کا وہ عذاب مراد لیا ہے جو جہنم میں کافروں کے لیے ہے، گویا انسان اللہ اور رسول کی اطاعت سے انحراف کر کے اپنے احسن تقویم کے بلند رتبہ و اعزاز سے گرا کر جہنم کے اسفل السافلین میں ڈال لیتا ہے۔

٧۔ یہ انسان سے خطاب ہے کہ اللہ نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا اور وہ تجھے اور اس کے برعکس ذلت میں گرانے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ اس کے بعد بھی تو قیامت اور جزا کا انکار کرتا ہے۔

۸۔جو کسی پر ظلم نہیں کرتا اور اس کے عدل ہی کا یہ تقاضا ہے کہ وہ قیامت برپا کرے اور ان کی داد رسی کرے جن پر دنیا میں ظلم ہوا۔

٭٭٭

 

سورۃ علق

١۔ یہ سب سے پہلی وحی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر اس وقت آئی جب آپ غار حرا میں مصروف عبادت تھے، فرشتے نے آ کر کہا، پڑھ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں، فرشتے نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو پکڑ کر زور سے بھینچا اور کہا پڑھ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پھر وہی جواب دیا۔ اس طرح تین مرتبہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو بھینچا (تفصیل کے لئے دیکھئے صحیح بخاریِ بدء الوحی، مسلم، باب بدء الوحی، اقرا) جو تیری طرف وحی کی جاتی ہے وہ پڑھ، جس نے تمام مخلوق کو پیدا کیا۔

۲۔مخلوقات میں سے بطور خاص انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا جس سے اس کا شرف واضح ہے۔

٣۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میں تو قاری ہی نہیں اللہ نے فرمایا، اللہ بہت کرم والا ہے پڑھ، یعنی انسانوں کی کوتاہیوں سے درگزر کرنا اس کا وصف خاص ہے۔

٤۔قلم کا معنی ہے قطع کرنا، تراشنا، قلم بھی پہلے زمانے میں تراش کر ہی بنائے جاتے تھے۔ اس لیے آلہ کتابت کو قلم سے تعبیر کیا۔

١٠۔ مفسرین کہتے ہیں کہ روکنے والے سے مراد ابوجہل ہے جو اسلام کا شدید دشمن تھا۔

١١۔ یعنی جس کو یہ نماز پڑھنے سے روک رہا ہے، وہ ہدایت پر ہو۔

۱۲۔یعنی اخلاص، توحید، اور عمل صالح کی تعلیم، جس سے جہنم کی آگ سے انسان بچ سکتا ہے تو کیا یہ چیزیں (نماز، روزہ وغیرہ) ایسی ہیں کہ ان کی مخالفت کی جائے اور اس پر اس کو دھمکیاں دی جائیں۔

١٣۔ یعنی یہ ابوجہل اللہ کے پیغمبر کو جھٹلاتا ہو اور ایمان منہ سے پھیرتا ہو (مجھے بتلاؤ)

۱۴۔مطلب یہ ہے کہ یہ شخص جو مذکورہ حرکتیں کر رہا ہے کیا نہیں جانتا کہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے وہ اس کو اسکی سزا دے گا۔

١٥۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت اور دشمنی سے اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے، اس سے باز نہ آیا تو میں اس کی گردن پر پاؤں رکھ دونگا۔ (یعنی اسے روندوں گا اور یوں ذلیل کرونگا) نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔ اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے پکڑ لیتے (صحیح بخاری)

۱۶۔ پیشانی کی یہ صفات بطور مجاز ہیں، جھوٹی ہے اپنی بات میں، خطاکار ہے اپنے فعل میں۔

۱۷۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابوجہل گزرا تو کہ اے محمد!(صلی اللہ علیہ و سلم ) میں نے تجھے نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا تھا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے سخت دھمکی آمیز باتیں کیں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کڑا جواب دیا تو کہنے لگا اے محمد! (صلی اللہ علیہ و سلم ) تو مجھے کس چیز سے ڈراتا ہے ؟ اللہ کی قسم، اس وادی میں سب سے زیادہ میرے حمایتی اور مجسل والے ہیں، جس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں، اگر وہ اپنے حمایتیوں کو بلاتا تو اسی وقت ملائکہ عذاب اسے پکڑ لیتے۔ (ترمذی، تفسیر سورۂ اقرأ مسند أحمد ۳۲۹/۱ و تفسیر ابن جریر) اور صحیح مسلم کے الفاظ ہیں کہ اس نے آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی گردن پر پیر رکھنے کا رادہ کیا کہ ایک دم الٹے پاؤں پیچھے ہٹا اور اپنے ہاتھوں سے اپنا بچاؤ کرنے لگا، اس سے کہا گیا، کیا بات ہے ؟ اس نے کہا کہ “میرے اور محمد (صلی اللہ علیہ و سلم ) کے درمیان آگ کی خندق، ہولناک منظر اور بہت سارے پر ہیں “رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، اگر یہ میرے قریب ہوتا تو فرشتے اس کی بوٹی بوٹی نوچ لیتے (کتاب صفۃ القیامۃ، باب ان الأنسان لیطغیٰ ) الزبانیۃ، داروغے اور پولیس۔ یعنی طاقتو لشکر، جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔

٭٭٭

 

سورۃ  قدر

اس سورت کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ میں بھی اختلاف ہے۔قدر کے معنی قدور منزلت بھی ہیں، اس لیے اسے شب قدر کہتے ہیں، اس کے معنی اندازہ اور فیصلہ کرنا بھی ہیں، اس میں سال بھر کے لیے فیصلے کیے جاتے ہیں، اسی لیے اسے لیلۃ الحکم بھی کہتے ہیں، اس کے معنی تنگی کے بھی ہیں۔ اس رات اتنی کثرت سے زمین پر فرشتے اترتے ہیں کہ زمین تنگ ہو جاتی ہے۔شب قدر یعنی تنگی کی رات، یا اس لیے یہ نام رکھا گیا کہ اس رات جو عبادت کی جاتی ہے، اللہ کے ہاں اس کی بڑی قدر ہے اور اس پر بڑا ثواب ہے۔ اس کی تعیین میں بھی شدید اختلاف ہے۔(فتح القدیر) تاہم احادیث و آثار سے واضح ہے کہ یہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوتی ہے۔ اس کو مبہم رکھنے میں یہی حکمت ہے کہ لوگ پانچوں ہی طاق راتوں میں اس کی فضیلت حاصل کرنے کے شوق میں، اللہ کی خوب عبادت کریں۔

١۔ یعنی اتار نے کا آغاز کیا، یا لوح محفوظ سے بیت العزت میں، جو آسمان دنیا پر ہے، ایک ہی مرتبہ اتار دیا، اور وہاں سے حسب واقعہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر اترتا رہا تاآنکہ ٢٣ سال میں پورا ہو گیا۔ اور لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہوتی ہے، جیسا کہ قرآن کی آیت (شَھْرُ رَمَضَا نَ الَّذِ یْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُراٰنُ) (البقرہ، ١٨٥) سے واضح ہے۔

٢۔ اس استفہام سے اس رات کی عظمت و اہمیت واضح ہے، گویا کہ مخلوق اس کی تہ تک پوری طرح نہیں پہنچ سکتی، یہ صرف ایک اللہ ہی ہے جو اس کو جانتا ہے۔

۳۔یعنی اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے اور ہزار مہینے ۸۳ سال چار مہینے بنتے ہیں یہ امت محمدیہ پر اللہ کا کتنا احسان عظیم ہے کہ مختصر عمر میں زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لیے کیسی سہولت عطا فرما دی۔

٤۔روح سے مراد حضرت جبرائیل ہیں یعنی فرشتے حضرت جبرائیل سمیت، اس رات میں زمین پر اترتے ہیں ان کاموں کو سر انجام دینے کے لیے جن کا فیصلہ اس سال میں اللہ فرماتا ہے۔

٥۔ یعنی اس میں شر نہیں۔ یا اس معنی میں سلامتی والی ہے کہ مومن اس رات کو شیطان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں یا فرشتے اہل ایمان کو سلام عرض کرتے ہیں، یا فرشتے ہی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں۔ شب قدر کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بطور خاص یہ دعا بتلائی ہے، واللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُو تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ۔

٭٭٭

 

سورۃ بیّنۃ

اس کا دوسرا نام سورۂ لم یکن بھی ہے۔ حدیث میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا، الہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں سورۂ (لم یکن الذین کفروا) تجھے پڑھ کر سناؤں۔ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا، کیا اللہ نے آپ کے سامنے میرا نام لیا ہے آپ نے فرمایا،”ہاں “جس پر(مارے خوشی کے ) حضرت ابی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔(صحیح البخاری، تفسیر سورۃ لم یکن)

 ١۔ (۱)  اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں،

۱۔ (۲) مشرک سے مراد عرب و عجم کے وہ لوگ ہیں جو بتوں اور آگ کے پجاری تھے۔ منفکّین باز آنے والے، بیّنۃ (دلیل) سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔ یعنی یہود و نصاریٰ اور عرب و عجم کے مشرکین اپنے کفرو شرک سے باز آنے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) قرآن لے کر آ جائیں اور وہ ان کی ضلالت و جہالت بیان کریں اور انہیں ایمان کی دعوت دیں۔

 ٢۔(۱)  حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم۔

۲ (۲)   یعنی قرآن مجید جو لوح محفوظ میں پاک صحیفوں میں درج ہے۔

۳۔ یہاں کتب سے مراد احکام دینیہ، قیمہ، معتدل اور سیدھے۔

٤۔ یعنی اہل کتاب، حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد سے قبل اکھٹے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعث ہو گئی، اس کے بعد یہ متفرق ہو گئے، ان میں سے کچھ مومن ہو گئے لیکن اکثریت ایمان سے محروم ہی رہی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعث و رسالت کو دلیل سے تعبیر کرنے میں یہی نقطہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت واضح تھی جس میں مجال انکار نہیں تھی۔ لیکن ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تکذیب محض حسد اور عناد کی وجہ سے کی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تفرق کا ارتکاب کرنے والوں میں صرف اہل کتاب کا نام لیا ہے، حالانکہ دوسروں نے بھی اس کا ارتکاب کیا تھا، کیونکہ یہ بہرحال علم والے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد اور صفات کا تذکرہ ان کی کتابوں میں موجود تھا۔

٥۔ (۱)  یعنی ان کی کتابوں میں انہیں حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ۔۔۔۔۔

۵۔ (۲) حنیف کے معنی ہیں، مائل ہونا، کسی ایک طرف یکسو ہونا، حنفآء جمع ہے۔ یعنی شرک سے توحید کی طرف اور تمام ادیان سے منقطع ہو کر صرف دین اسلام کی طرف مائل اور یکسو ہوتے ہوئے۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ والسلام نے کیا۔

۵۔ (۳)قیّمۃ محذوف موصوف کی صفت ہے۔ دین الملۃ القیّمۃ ائ:المستقیمۃ یا الأمّۃ المستقیمۃ المعتدلۃ، یہی اس ملت یا امت کا دین ہے جو سیدھی اور معتدل ہے۔ اکثر ائمہ نے اس آیت سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ اعمال، ایمان میں داخل ہیں (ابن کثیر)

٦۔ یہ اللہ کے رسول اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والوں کا انجام۔ نیز انہیں تمام مخلوقات میں بدترین قرار دیا گیا۔

٧۔ یعنی جو دل کے ساتھ ایمان لائے اور جنہوں نے اعضا کے ساتھ عمل کئے، وہ تمام مخلوقات سے بہتر اور افضل ہیں۔ جو اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ مومن بندے ملائکہ سے شرف فضل میں بہترین ہیں۔ ان کی ایک دلیل یہ آیت بھی ہے۔ البریۃ، یرأ (خلق) سے ہے۔ اسی سے اللہ کی صفت الباری ہے۔ اس لیے بریّہ اصل میں بریئۃ ہے، ہمزہ کو یا سے بدل کر یا کا یا میں ادغام کر دیا گیا

۸۔(۱)  ان کے ایمان و طاعت اور اعمال صالحہ کے سبب۔ اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے (ورضوان من اللہ اکبر)

٨۔ (۲)  اس لئے کہ اللہ نے انہیں ایسی نعمتوں سے نواز دیا، جن میں ان کی روح اور بدن دونوں کی سعادتیں ہیں۔

٨۔ (۳)  یعنی یہ جزا اور رضامندی ان لوگوں کے لئے ہے جو دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہے اور اس کے ڈر کی وجہ سے اللہ کی نافرمانی کے ارتکاب سے بچتے رہے۔ اگر کبھی نافرمانی کر لی بھی تو توبہ کر لی۔ اور آئندہ کے لیے اپنی اصلاح کر لی، حتیٰ کہ ان کی موت اسی اطاعت پر ہوئی نہ کہ معصیت پر۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ سے ڈرنے والا معصیت پر اصرار اور دوام نہیں کر سکتا اور جو ایسا کرتا ہے، حقیقت میں اس کا دل اللہ کے خوف سے خالی ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ زلزال

اس کے مدنی اور مکی ہونے میں اختلاف ہے، اس کی فضیلت میں متعدد روایات منقول ہیں لیکن ان میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔

١۔ اس کا مطلب ہے سخت بھونچال سے ساری زمین لرز اٹھے گی اور ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی، یہ اس وقت ہو گا جب پہلا نفخہ پھونکا جائے گا۔

٢۔ یعنی زمین میں جتنے انسان دفن ہیں، وہ زمین کا بوجھ ہیں، جنہیں زمین قیامت والے دن باہر نکال پھینکے گی اور اللہ کے حکم سے سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ یہ دوسرے نفخے میں ہو گا، اسی طرح زمین کے خزانے بھی باہر نکل آئیں گے۔

۳۔یعنی دہشت زدہ ہو کر کہے گا کہ اسے کیا ہو گیا ہے یہ کیوں اس طرح ہل رہی ہے اور اپنے خزانے اگل رہی ہے۔

٤۔حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جب یہ آیت تلاوت فرمائی اور صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو کہ اس کی خبریں کیا ہیں صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، اس کی خبریں یہ ہیں کہ جس بندے یا بندی نے زمین کی پشت پر جو کچھ کیا ہو گا، اس کی گواہی دے گی۔ کہے گی فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں عمل، فلاں فلاں دن میں کیا تھا۔

۵۔یعنی زمین کو یہ قوت گویائی اللہ تعالیٰ عطا کرے گا اس لیے اس میں تعجب بات نہیں۔، جس طرح انسانی اعضا میں اللہ تعالیٰ یہ قوت پیدا فرما دے گا، زمین کو بھی اللہ تعالیٰ متکلم بنا دے گا اور وہ اللہ کے حکم سے بولے گی۔

٦۔(۱) یصدر، یرجع (لوٹیں گے ) یہ ورود کی ضد ہے یعنی قبروں سے نکل کر موقف حساب کی طرف، یا حساب کے بعد جنت اور دوزخ کی طرف لوٹیں گے۔ اشتاتا، متفرق، یعنی ٹولیاں ٹولیاں، بعض بے خوف ہوں گے، بعض خوف زدہ، بعض کے رنگ سفید ہوں گے جیسے جنتیوں کے ہوں گے اور بعض کے رنگ سیاہ، جو ان کے جہنمی ہونے کی علامت ہو گی۔ بیض کا رخ دائیں جانب ہو گا تو بعض کا بائیں جانب۔ یا یہ مختلف گروہ ادیان و مذاہب اور اعمال و افعال کی بنیاد پر ہوں گے۔

٦۔ (۲)  یعنی زمین اپنی خبریں اس لئے بیان کرے گی تاکہ انسانوں کو ان کے اعمال دکھا دیئے جائیں۔

۷۔پس وہ اس سے خوش ہو گا۔

۸۔وہ اس پر سخت پشیمان اور مضطرب ہو گا۔ذرۃ بعض کے نزدیک چیونٹی سے بھی چھوٹی چیز ہے۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں، انسان زمین پر ہاتھ مارتا ہے، اس سے اس کے ہاتھ پر جو مٹی لگ جاتی ہے وہ ذرہ ہے۔ بعض کے نزدیک سوراخ سے آنے والی سورج کی شعاعوں میں گرد و غبار کے جو ذرات سے نظر آتے ہیں، وہ ذرہ ہے۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے معنی کو اولیٰ کہا ہے۔ امام مقاتل کہتے ہیں کہ یہ سورت ان دو آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سے ایک شخص، سائل کو تھوڑا سا صدقہ دینے میں تامل کرتا اور دوسرا شخص چھوٹا گناہ کرنے میں کوئی خوف محسوس نہ کرتا تھا۔ (فتح القدیر)

٭٭٭

سورۃ  عادیات

١۔ عادیات، عادیۃ کی جمع ہے۔ یہ عدو سے ہے جیسے غزو ہے غازیات کی طرح اس کے واؤ کو بھی یا سے بدل دیا گیا ہے۔ تیز رو گھوڑے۔ضبح کے معنی بعض کے نزدیک ہانپنا اور بعض کے نزدیک ہنہنانا ہے۔ مراد وہ گھوڑے ہیں جو ہانپتے یا ہنہناتے ہوئے جہاد میں تیزی سے دشمن کی طرف دوڑتے ہیں۔

٢۔ موریات، ایراء سے ہے آگ نکالنے والے۔قدح کے معنی ہیں۔صک چلنے میں گھٹنوں یا ایڑیوں کا ٹکرانا، یا ٹاپ مارنا۔ اسی سے قدح بالزناد ہے۔چقماق سے آگ نکالنا۔ یعنی گھوڑوں کی قسم جن کی ٹاپوں کی رگڑ سے پتھروں سے آگ نکلتی ہے جیسے چقماق سے نکلتی ہے (جو کہ ایک قسم کا پتھر ہے )

٣۔ مغیرات،أغار یعیر سے ہے، شب خون مارنے یا دھاوا بولنے والے۔صبحا صبح کے وقت، عرب میں عام طور پر حملہ اسی وقت کیا جاتا تھا، شب خون تو مارتے ہیں، جو فوجی گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں، لیکن اس کی نسبت گھوڑوں کی طرف اس لئے کی ہے کہ دھاوا بولنے میں فوجیوں کے یہ بہت زیادہ کام آتے ہیں۔

أثار، اڑانا۔ نقع، گرد و غبار۔ یعنی یہ گھوڑے جس وقت تیزی سے دوڑتے یا دھاوا بولتے ہیں تو اس جگہ پر گرد و غبار چھا جاتا ہے۔

۵۔فوسطن، درمیان میں گھس جاتے ہیں۔ اس وقت، یا حالت گرد و غبار میں۔ جمعا دشمن کے لشکر۔ مطلب ہے کہ اس وقت، یا جبکہ فضا گرد و غبار سے اٹی ہوئی ہے یہ گھوڑے دشمن کے لشکروں میں گھس جاتے ہیں اور گھمسان کی جنگ کرتے ہیں۔

٦۔ یہ جواب قسم ہے۔ انسان سے مراد کافر، یعنی بعض افراد ہیں۔کنود بمعنی کفور، ناشکرا۔

۷۔یعنی انسان خود بھی اپنی ناشکری کی گواہی دیتا ہے۔ بعض لشہید کا فاعل اللہ کو قرار دیتے ہیں۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے مفہوم کو راجح قرار دیا ہے، کیوں کہ مابعد کی آیات میں ضمیر کا مرجع انسان ہی ہے۔ اس لیے یہاں بھی انسان ہی ہونا زیادہ صحیح ہے۔

٨۔ خَیْر،ُ سے مراد مال ہے، اور ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نہایت حریص اور بخیل ہے جو مال کی شدید محبت کا لازمی نتیجہ ہے۔

٩۔١بعثر، نثر وبعث یعنی قبروں کے مردوں کو زندہ کر کے اٹھا کھڑا کر دیا جائے گا۔

حصل، میز وبین یعنی سینوں کی باتوں کو ظاہر اور کھول دیا جائے گا۔

۱۱۔یعنی جو رب ان کو قبروں سے نکال لے گا ان کے سینوں کے رازوں کو ظاہر کر دے گا اس کے متعلق ہر شخص جان سکتا ہے کہ وہ کتنا باخبر ہے ؟ اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں پھر وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔ یہ گویا ان اشخاص کو تنبیہ ہے جو رب کی نعمتیں تو استعمال کرتے ہیں لیکن اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے، اسکی ناشکری کرتے ہیں۔ اسی طرح مال کی محبت میں گرفتار ہو کر مال کے وہ حقوق ادا نہیں کرتے جو اللہ نے اس میں دوسرے لوگوں کے رکھے ہیں۔

٭٭٭

 

سورۃ قارعہ

۱۔ یہ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے جسے اس سے قبل متعدد نام گزر چکے ہیں مثلاً اَ لْحاقَّۃُ، الطَّاَمَّۃُ، صَّاَخَّہُ، اَلْغَاشِیَۃُ، الْسَّاعَہُ، الْوَاقِعَۃُ وغیرہ، اسے الْقَارِعَۃُ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ اپنی ہولناکیوں سے دلوں کو بیدار اور اللہ کے دشمنوں کو عذاب سے خبردار کر دے گی، جیسے دروازہ کھٹکھٹانے والا کرتا ہے۔

٤۔١فراش، مچھر اور شمع کے گرد منڈلانے والے پرندے وغیرہ۔ مبثوث، منتشر اور بکھرے ہوئے۔ یعنی قیامت والے دن انسان بھی پروانوں کی طرح پراگندہ اور بکھرے ہوئے ہوں گے۔

۵۔ عھن، اس اون کو کہتے ہیں جو مختلف رنگوں کے ساتھ رنگی ہوئی ہو، منفوش، دھنی ہوئی۔ یہ پہاڑوں کی وہ کیفیت بیان کی گئی ہے جو قیامت والے دن ان کی ہو گی۔قرآن کریم میں پہاڑوں کی یہ کیفیت مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے، جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اب آگے ان دو فریقوں کا اجمالی ذکر کیا جا رہا ہے جو قیامت والے دن اعمال کے اعتبار سے ہوں گے۔

٦۔ موازین، میزان کی جمع ہے۔ ترازو، جس میں صحائف اعمال تولے جائیں گے۔ جیسا کہ اس کا ذکر سورۂ أعراف۔آیت ۸ سورۂ کہف (۱۰۵) اور سورۂ انبیاء (٤۷) میں بھی گزرا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہاں یہ میزان نہیں، موزون کی جمع ہے یعنی ایسے اعمال جن کی اللہ کے ہاں کوئی اہمیت اور خاص وزن ہو گا (فتح القدیر) لیکن پہلا مفہوم ہی راجح اور صحیح ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کی نیکیاں زیادہ ہوں گی تو وزن اعمال کے وقت ان کی نیکیوں والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔

۷۔یعنی ایسی زندگی جس کو وہ صاحب زندگی پسند کرے گا۔

۸۔جس کی برائیاں نیکیوں پر غالب ہوں گی اور برائیوں کا پلڑا بھاری اور نیکیوں کا ہلکا ہو گا۔

۹۔ہاویہ جہنم کا نام ہے اس کو ہاویہ اس لیے کہتے ہیں کہ جہنمی اس کی گہرائی میں گرے گا۔ اور اس کو ام (ماں ) سے اس لیے تعبیر کیا کہ جس طرح انسان کے لیے ماں، جائے پناہ ہوتی ہے اسی طرح جہنمیوں کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔ بعض کہتے ہیں کہ ام کے معنی دماغ کے ہیں۔ جہنمی، جہنم میں سرکے بل ڈالے جائیں گے۔(ابن کثیر)

١٠۔ یہ استفہام اس کی ہولناکی اور شدت عذاب کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ انسان کے وہم و تصور سے بالا ہے انسانی علوم اس کا احاطہ نہیں کر سکتے اور اس کی کنہ نہیں جان سکتے۔

١١۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ انسان دنیا میں جو آگ جلاتا ہے، یہ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے، جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے ٦٩ درجہ زیادہ ہے (صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ لنار وأنھا مخلوقۃ مسلم، کتاب الجنۃ، باب فی شدۃ حرنار جھنم) ایک اور حدیث میں ہے کہ “آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ میرا ایک حصہ دوسرے حصے کو کھائے جا رہا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت فرما دی۔ ایک سانس گرمی میں اور ایک سانس سردی میں پس جو سخت سردی ہوتی ہے یہ اس کا ٹھنڈا سانس ہے، اور نہایت سخت گرمی جو پڑتی ہے، وہ جہنم کا گرم سانس ہے “(بخاری، کتاب و باب مذکور) ایک اور حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا”جب گرمی زیادہ سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے۔(حوالہ مذکور، مسلم، کتاب المساجد)

٭٭٭

 

سورۃ تکاثر

١۔ الھیٰ یلھی کے معنی ہیں،غافل کر دینا۔ تکاثر، زیادتی کی خواہش۔ یہ یہ عام ہے، مال، اولاد، اعوان و انصار اور خاندان و قبیلہ وغیرہ سب کو شامل ہے۔ ہر وہ چیز، جس کی کثرت انسان کو محبوب ہو اور کثرت کے حصول کی کوشش و خواش اسے اللہ کے احکام اور آخرت سے غافل کر دے۔ یہاں اللہ تعالیٰ انسان کی اس کمزوری کو بیان کر رہا ہے۔ جس میں انسانوں کی اکثریت ہر دور میں مبتلا رہی ہے۔

٢۔ اس کا مطلب ہے کہ حصول کی خاطر محنت کرتے کرتے تمہیں موت آ گئی اور تم قبروں میں جا پہنچے۔

٣۔ یعنی تم جن تکاثر و تفاخر میں ہو، یہ صحیح نہیں۔

٤۔ اس کا انجام عنقریب تم جان لو گے، یہ بطور تاکید دو مرتبہ فرمایا۔

۵۔مطلب یہ ہے کہ اگر تم اس غفلت کا انجام اسطرح یقینی طور پر جان لو جس طرح دنیا کی کسی دیکھی بھالی چیز کا تم یقین کرتے ہو تو تم یقیناً تکاثر و تفاخر میں مبتلا نہ ہو۔

٦۔یہ قسم مخذوف کا جواب ہے یعنی اللہ کی قسم تم جہنم ضرور دیکھو گے یعنی اس کی سزا بھگتو گے

۷۔پہلا دیکھنا دور سے ہو گا یہ دیکھنا قریب سے ہو گا، اسی لیے اسے عین الیقین (جس کا یقین مشاہدہ عین سے حاصل ہو) کہا گیا۔

٨۔ یہ سوال ان نعمتوں کے بارے میں ہو گا، جو اللہ نے دنیا میں عطا کی ہوں گی جیسے آنکھ، کان، دل، دماغ، امن اور صحت، مال و دولت اور اولاد وغیرہ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سوال صرف کافروں سے ہو گا بعض کہتے ہیں کہ ہر ایک سے ہو گا۔ بعض سوال مستلزم عذاب نہیں۔ جنہوں نے ان نعمتوں کا استعمال اللہ کے حکم کے مطابق کیا ہو گا وہ عذاب سے محفوظ ہوں گے اور جنہوں نے کفران نعمت کا ارتکاب کیا ہو گا وہ دھر لیے جائیں گے۔

٭٭٭

 

سورۃ  العصر

١۔ زمانے سے مراد، شب و روز کی یہ گردش اور ان کا ادل بدل کر آنا ہے، رات آتی ہے تو اندھیرا چھا جاتا ہے اور دن طلوع ہوتا ہے تو ہر چیز روشن ہو جاتی ہے۔علاوہ ازیں کبھی رات لمبی، دن چھوٹا اور کبھی دن لمبا، رات چھوٹی ہو جاتی ہے یہی مرور ایام، زمانہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور کاریگری پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لیے رب نے اس کی قسم کھائی ہے۔ یہ پہلے بتلایا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا سکتا ہے لیکن انسانوں کے لیے اللہ کی قسم کے علاوہ کسی چیز کی قسم کھانا جائز نہیں ہے۔

٢۔ یہ جواب قسم ہے۔ انسان کا خسارہ اور ہلاکت واضح ہے کہ جب تک وہ زندہ رہتا ہے، اس کے شب و روز سخت محنت کرتے ہوئے گزرتے ہیں، پھر جب موت سے ہمکنار ہوتا ہے تو موت کے بعد آرام اور راحت نہیں ہوتی، بلکہ وہ جہنم کا ایندھن بنتا ہے۔

۳۔ (۱) ہاں اس خسارے سے وہ لوگ محفوظ ہیں جو ایمان اور عمل صالح کے جامع ہیں، کیوں کہ ان کی زندگی چاہے جیسی بھی گزری ہو، موت کے بعد وہ بہر حال ابدی نعمتوں اور جنت کی پر آسائش زندگی سے بہرہ ور ہوں گے۔آگے اہل ایمان کی مزید صفات کا تذکرہ ہے۔

۳۔ (۲) یعنی اللہ کی شریعت کی پابندی اور محرمات و معاصی سے اجتناب کی تلقین۔

۳۔ (۳)  یعنی مصائب و آلام پر صبر، احکام و فرائض شریعت پر عمل کرنے میں صبر، معاصی سے اجتناب پر صبر، لذات و خواہشات کی قربانی پر صبر، صبر بھی اگرچہ تواصی بالحق میں شامل ہے، تاہم اسے خصوصیت سے الگ ذکر کیا گیا، جس سے اس کا شرف و فضل اور خصال حق میں اس کا ممتاز ہونا واضح ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ  ہُمزہ

۱۔ ھمزۃ اور لمزۃ، بعض کے نزدیک ہم معنی ہیں بعض اس میں کچھ فرق کرتے ہیں۔ھمزۃ وہ شخص ہے جو رو در رو برائی کرے اور لمزۃ وہ جو پیٹھ پیچھے غیمت کرے۔ بعض اس کے برعکس معنی کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں ھمز، آنکھوں اور ہاتھوں کے اشارے سے برائی کرنا ہے اور لمز زبان سے۔

۲۔  اس سے مراد مال جمع کرتا ہے اور اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا۔ ورنہ مطلق مال جمع کر کے رکھنا مذموم نہیں ہے۔ یہ مذموم اس وقت ہے جب اس میں زکوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ نہ کا اہتمام نہ ہو۔

٣۔اخلدہ کا زیادہ صحیح ترجمہ یہ ہے کہ”اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا” یعنی یہ مال، جسے وہ جمع کر کے رکھتا ہے، اس کی عمر میں اضافہ کر دے گا اور اسے مرنے نہیں دے گا

٤۔ (۱) یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا اس کا وہم اور گمان ہے۔

٤۔ (۲)  ایسا بخیل شخص حطمہ میں پھینک دیا جائے گا یہ بھی جہنم کا ایک نام ہے، توڑ پھوڑ دینے والی ہے۔

۵۔ یہ استفہام اس کی ہولناکی کے بیان کے لیے ہے، یعنی وہ ایسی آگ ہو گی کہ تمہاری عقلیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور تمہارا فہم و شعور اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔

۷۔یعنی اس کی حرارت دل تک پہنچ جائے گی۔ اگرچہ دنیا کی آگ کے اندر بھی یہ خاصیت ہے کہ وہ دل تک پہنچ جائے لیکن وہ پہنچتی نہیں کیوں کہ انسان کی موت اس سے پہلے ہی ہو جاتی ہے لیکن جہنم کی آگ دلوں تک پہنچے گی لیکن موت نہ آئے گی۔ باوجود آرزو کے۔

۹۔مؤصدۃ جہنم کے دروازے اور راستے بند کر دئیے جائیں گے تاکہ کوئی باہر نہ نکل سکے اور انہیں لوہے کی میخوں کے ساتھ باندھ دیا جائے گا، جو لمبے لمبے ستونوں کی طرح ہوں گی، بعض کے نزدیک عمد سے مراد بڑیاں یا طوق ہیں اور بعض کے نزدیک ستون ہیں جن میں انہیں عذاب دیا جائے گا۔(فتح القدیر)

٭٭٭

 

سورۃ فِیل

١۔ جو یمن سے خانہ کعبہ کی تخریب کے لئے آئے تھے، الم تعلم کیا تجھے معلوم نہیں ؟ استفہام تقریر کے لیے ہے، یعنی تو جانتا ہے یا وہ سب لوگ جانتے ہیں جو تیرے ہم عصر ہیں۔ یہ اس لئے فرمایا کہ عرب میں یہ واقعہ گزرے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ مشہور ترین قول کے مطابق یہ واقعہ اس سال پیش آیا جس سال نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت ہوئی تھی، اس لئے عربوں میں اس کی خبریں مشہور اور متواتر تھیں یہ واقع مختصر! حسب ذیل ہے :

واقعہ اصحاب الفیل:

 حبشہ کے بادشاہ کی طرف سے یمن میں ابرہتہ الاشرم گورنر تھا اس نے صنعاء میں ایک بہت بڑا گرجا (عبادت گھر) تعمیر کیا اور کوشش کی کہ لوگ خانہ کعبہ کی بجائے عبادت اور حج عمرہ کے لئے ادھر آیا کریں۔ یہ بات اہل مکہ اور دیگر قبائل عرب کے لئے سخت ناگوار تھی۔ چنانچہ ان میں سے ایک شخص ابرہہ کے بنائے ہوئے عبادت خانے کو غلاظت سے پلید کر دیا، جس کی اطلاع اس کو کر دی گئی کہ کسی نے اس طرح گرجا کو ناپاک کر دیا ہے، جس پر اس نے خانہ کعبہ کو ڈھانے کا عزم کر لیا اور ایک لشکر جرار لے کر مکے پر حملہ آور ہوا، کچھ ہاتھی بھی اس کے ساتھ تھے۔ جب یہ لشکر وادی محسر کے پاس پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کے غول بھیج دیئے جن کی چونچوں اور پنجوں میں کنکریاں تھیں جو چنے یا مسور کے برابر تھیں، جس فوجی کے بھی یہ کنکری لگتی وہ پگل جاتا اور اس کا گوشت جھڑ جاتا۔ خود ابرہہ کا بھی صنعاء پہنچتے پہنچتے یہی انجام ہوا۔ اسطرح اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی، مکے کے قریب پہنچ کر ابرہہ کے لشکر نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دادا کے، جو مکے کے سردار تھے، اونٹوں پر قبضہ کر لیا، جس پر عبدالمطلب نے آ کر ابرہہ سے کہا کہ تو میرے اونٹ واپس کر دے جو تیرے لشکریوں نے پکڑے ہیں۔ باقی رہا خانہ کعبہ کا مسئلہ جس کو ڈھانے کے لئے تو آیا ہے تو وہ تیرا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے، وہ اللہ کا گھر ہے، وہی محافظ ہے، تو جانے اور بیت اللہ کا مالک اللہ جانے۔ (ایسر التفاسیر)

٢۔ یعنی وہ خانہ کعبہ ڈھانے کا ارادہ لے کر آئے تھا، اس میں اس کو ناکام کر دیا۔۔ استفہام تقریری ہے۔

۳۔ابابیل پرندے کا نام نہیں بلکہ اس کے معنی غول در غول۔

٤۔سجیل مٹی کو آگ میں پکا کر اس سے بنائے ہوئے کنکر۔ ان چھوٹے چھوٹے پتھروں یا کنکروں نے توپ کے گولوں اور بندوق کی گولیوں سے زیادہ مہلک کام کیا۔

۵۔یعنی ان کے اجزائے جسم اس طرح بکھر گئے جیسے کھائی ہوئی بھوسی ہوتی ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ قریش

اسے سورۂ ایلاف بھی کہتے ہیں، اس کا تعلق بھی گزشتہ سورت سے ہے۔

۱۔ ایلاف کے معنی ہیں مانوس اور عادی بنانا، یعنی اس کام سے کلفت اور نفرت کا دور ہو جانا قریش کا گزران کا ذریعہ تجارت تھی، سال میں دو مرتبہ ان کا تجارتی قافلہ باہر جاتا اور وہاں سے اشیاء تجارت لاتا، سردیوں میں یمن، جو گرم علاقہ تھا اور گرمیوں میں شام کی طرف جو ٹھنڈا تھا خانہ کعبہ کے خدمت گزار ہونے کی وجہ سے اہل عرب ان کی عزت کرتے تھے۔ اس لیے یہ قافلے بلا روک ٹوک سفر کرتے، اللہ تعالیٰ اس سورت میں قریش کو بتلا رہا ہے کہ تم جو گرمی، سردی میں دو سفر کرتے ہو تو ہمارے اس احسان کی وجہ سے کہ ہم نے تمہیں مکے میں امن عطا کیا ہے اور اہل عرب میں معزز بنایا ہوا ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہوتی تو تمہارا سفر ممکن نہ ہوتا۔ اور اصحاب الفیل کو بھی ہم نے اسی لیے تباہ کیا ہے کہ تمہاری عزت بھی برقرار رہے اور تمہارے سفروں کا سلسلہ بھی، جس کے تم خوگر ہو، قائم رہے، اگر ابرہہ اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہو جاتا تو تمہاری عزت و سیادت بھی ختم ہو جاتی اور سلسلہ سفر بھی منقطع ہو جاتا۔ اس لیے تمہیں چاہیے کہ صرف اسی بیت اللہ کے رب کی عبادت کرو۔

٤۔ (۱)  مذکورہ تجارت اور سفر کے ذریعے سے۔

 ٤۔ (۲)  عرب میں قتل و غارت گری عام تھی لیکن قریش مکہ کو حرم مکہ کی وجہ سے جو احترام حاصل تھا، اس کی وجہ سے وہ خوف و خطرے سے محفوظ تھے۔

٭٭٭

 

سورۃ  ماعون

اس سورت کو سورۃ الدین سورۃ ارأیت اور سورۃ الیتیم بھی کہتے ہیں (فتح القدیر)

١۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو خطاب ہے اور استفہام سے مقصد اظہار تعجب ہے۔رؤیت معرفت کے مفہوم میں ہے اور دین سے مراد آخرت کا حساب اور جزا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ کلام میں حذف ہے۔ اصل عبادت ہے ” کیا تو نے اس شخص کو پہچانا جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے ؟ آیا وہ اپنی اس بات میں صحیح یا غلط۔

۲۔اس لیے کہ ایک تو بخیل ہے، دوسرا قیامت کا منکر ہے بھلا ایسا شخص یتیم کے ساتھ کیوں کر حسن سلوک کر سکتا ہے ؟ یتیم کے ساتھ وہی شخص اچھا برتاؤ کرے گا جس کے دل میں مال کے بجائے انسانی قدروں اور اخلاقی ضابطوں کی اہمیت ومحبت ہو گی۔ دوسرے اسے اس امر کا یقین ہو کہ اس کے بدلے میں مجھے قیامت والے دن اچھی جزا ملے گی۔

٣۔ یہ کام بھی وہی کرے گا جس میں مذکورہ خوبیاں ہوں گی ورنہ یتیم کی طرح مسکین کو بھی دھکا ہی دے گا۔

٥۔ اس مراد وہ لوگ ہیں نماز یا تو پڑھتے ہی نہیں یا پہلے پڑھتے رہے پھر سست ہو گئے یا نماز کو اس کے اپنے مسنوں وقت میں نہیں پڑھتے۔ جب جی چاہتا ہے پڑھ لیتے ہیں یا تاخیر سے پڑھنے کو معمول بنا لیتے ہیں یا خشوع خضوع کے ساتھ نہیں پڑھتے۔ یہ سارے ہی مفہوم اس میں آ جاتے ہیں اس لیے نماز کی مذکورہ ساری ہی کوتاہیوں سے بچنا چاہیے۔کہاں اس مقام پر ذکر کرنے سے یہ بھی واضح ہے کہ نماز میں ان کوتاہیوں کے مرتکب وہی لوگ ہوتے ہیں جو آخرت کی جزا اور حساب کتاب پر یقین نہیں رکھتے۔ اسی لیے منافقین کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے۔(واذا قاموا الی الصلوٰۃ قاموا کسالیٰ یراءون الناس ولا یذکرون اللہ الا قلیلا) (النساء)

٦۔یعنی ایسے لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ ہوئے تو نماز پڑھ لی بصورت دیگر نماز پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے، یعنی صرف نمود و نمائش اور ریا کاری کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔

٧۔معن شیء قلیل کہتے ہیں۔ بعض اس سے مراد زکوٰۃ لیتے ہیں، کیونکہ وہ بھی اصل مال کے مقابلے میں بالکل تھوڑی سی ہوتی ہے (ڈھائی فی صد) اور بعض اس سے گھروں میں برتنے والی چیزیں مراد لیتے ہیں جو پڑوسی ایک دوسرے سے عاریتا مانگ لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ گھریلو چیزیں عاریتاً دے دینا اور اس میں کبیدگی محسوس نہ کرنا اچھی صفت ہے اور اس کے برعکس بخل اور کنجوسی برتنا، یہ منکرین قیامت ہی کا شیوہ ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ کوثر

اس کا دوسرا نام سورۃ النحر بھی ہے۔

١۔ کوثر، کثرت سے ہے اس کے متعدد معنی بیان کیے گئے ہیں۔ ابن کثیر نے “خیر کثیر”کے مفہوم کو ترجیح دی ہے کیونکہ اس میں ایسا عموم ہے کہ جس میں دوسرے معانی بھی آ جاتے ہیں۔ مثلاً صحیح حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ اس سے ایک نہر مراد ہے جو جنت میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو عطا کی جائے گی۔ اس طرح بعض حدیث میں مصداق حوض بتایا گیا ہے، جس سے اہل ایمان جنت میں جانے سے قبل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک سے پانی پئیں گے۔ اس حوض میں بھی پانی اسی جنت والی نہر سے آ رہا ہو گا۔ اسی طرح دنیا کی فتوحات اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا رفع و دوام ذکر اور آخرت کا اجر و ثواب، سب ہی چیزیں “خیر کثیر”میں آ جاتی ہیں۔(ابن کثیر)

۲۔یعنی نماز بھی صرف اللہ کے لیے اور قربانی بھی صرف اللہ کے لیے ہے مشرکین کی طرح اس میں دوسروں کو شریک نہ کرو۔ نحر کے اصل معنی اونٹ کے حلقوم میں چھری یا نیزہ مار کر اسے ذبح کرنا۔ دوسرے جانوروں کو زمین پر لٹا کر ان کے گلوں پر چھری پھیری جاتی ہے اسے ذبح کرنا کہتے ہیں۔ لیکن یہاں نحر سے مراد مطلق قربانی ہے، علاوہ ازیں اس میں بطور صدقہ و خیرات جانور قربان کرنا، حج کے موقعے پر منیٰ میں اور عید الاضحیٰ کے موقعے پر قربانی کرنا، سب شامل ہیں۔

٣۔ابتر ایسے شخص کو کہتے ہیں جو مقطوع النسل یا مقطوع الذکر ہو، یعنی اس کی ذات پر ہی اس کی نسل کا خاتمہ ہو جائے یا کوئی اس کا نام لیوا نہ رہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اولاد نرینہ زندہ نہ رہی تو بعض کفار نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ابتر کہا، جس پر اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو تسلی دی کہ ابتر تو نہیں، تیرے دشمن ہی ہوں گے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی نسل کو باقی رکھا گو اس کا سلسلہ لڑکی کی طرف سے ہی ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی امت بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اولاد معنوی ہی ہے، جس کی کثرت پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم قیامت والے دن فخر کریں گے، علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر پوری دنیا میں نہایت عزت و احترام سے لیا جاتا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے بغض و عناد رکھنے والے صرف صفحات تاریخ پر ہی موجود رہ گئے ہیں لیکن کسی دل میں ان کا احترام نہیں اور کسی زبان پر ان کا ذکر نہیں۔

٭٭٭

 

سورۃ کافرون

صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم طواف کی دو رکعتوں اور فجر اور مغرب کی سنتوں میں (قل یٰٓایھا الکٰفرون) اور سورۂ اخلاص پڑھتے تھے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے بعض صحابہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ رات کو سوتے وقت، یہ سورت پڑھ کر سوؤ گے تو شرک سے بری قرار پاؤ گے۔ بعض روایت میں خود آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا عمل بھی یہ بتلایا گیا ہے۔(ابن کثیر)

١۔ الکفرون میں الف لام جنس کے لیے ہے لیکن بطور خاص صرف ان کافروں سے خطاب ہے جن کی بابت اللہ کو علم تھا کہ ان کا خاتمہ کفر و شرک پر ہو گا۔ کیونکہ اس سورت کے نزول کے بعد کئی مشرک مسلمان ہوئے اور انہوں نے اللہ کی عبادت کی (فتح القدیر)

۲۔ بعض نے پہلی آیت کو حال کے اور دوسری کو استقبال کے مفہوم میں لیا ہے، لیکن امام شوکانی نے کہا ہے کہ ان تکلفات کی ضرورت نہیں ہے۔ تاکید کے لیے تکرار، عربی زبان کا عام اسلوب ہے، جسے قرآن کریم میں کئی جگہ اختیار کیا گیا ہے۔ جیسے سورۂ رحمٰن، سورۂ مرسلات میں ہے۔ اسی طرح یہاں بھی تاکید کے لیے یہ جملہ دہرایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ کبھی ممکن نہیں کہ میں توحید کا راستہ چھوڑ کر شرک کا راستہ اختیار کر لوں، جیسا کہ تم چاہتے ہو۔ اور اگر اللہ نے تمہاری قسمت میں ہدایت نہیں لکھی ہے، تو تم بھی اس توحید اور عبادت الہی سے محروم ہی رہو گے۔ یہ بات اس وقت فرمائی گئی جب کفار نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے معبود کی اور ایک سال آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے معبودوں کی عبادت کریں۔

٦۔یعنی اگر تم اپنے دین پر راضی ہو اور اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہو، تو میں اپنے دین پر راضی ہوں میں اسے کیوں چھوڑوں۔؟(لنا اعمالنا ولکم اعمالکم)

٭٭٭

 

سورۃ  النصر

نزول کے اعتبار سے یہ اخری سورت ہے۔(صحیح مسلم، کتاب التفسیر) جس وقت یہ سورت نازل ہوئی تو بعض صحابہ رضی اللہ سمجھ گئے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری وقت آ گیا ہے، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو تسبیح وتحمید اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے جیسے حضرت ابن عباس اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کا واقعہ صحیح بخاری میں ہے۔(تفسیر سورۃ النصر)

٢۔ اللہ کی مدد کا مطلب، اسلام اور مسلمانوں کا کفر اور کافروں پر غلبہ ہے، اور فتح سے مراد فتح مکہ ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مولد و مسکن تھا، لیکن کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو صحابہ کرام کو وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔چنانچہ جب ۸ ہجری میں یہ مکہ فتح ہو گیا تو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے شروع ہو گئے، جب کہ اس سے قبل ایک ایک دو دو فرد مسلمان ہوتے تھے فتح مکہ سو لوگوں پر یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے سچے پیغمبر ہیں اور دین اسلام دین حق ہے، جس کے بغیر اب نجات اخروی ممکن نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب ایسا ہو تو۔

٣۔ یعنی یہ سمجھ لے کہ تبلیغ رسالت اور احقاق حق کا فرض، جو تیرے ذمہ تھا، پورا ہو گیا اور اب تیرا دنیا سے کوچ کرنے کا مرحلہ قریب آ گیا ہے، اس لئے حمد و تسبیح الٰہی اور استغفار کا خوب اہتمام کر۔ اس سے معلوم ہوا کہ زندگی کے آخری ایام میں ان چیزوں کا اہتمام کثرت سے کرنا چاہئے۔

٭٭٭

 

سورۃ لہب

اسے سورۃ المسد بھی کہتے ہیں۔ اس کی شان نزول میں آتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو حکم ہوا کہ اپنے رشتہ داروں کو انذار و تبلیغ کریں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر یا صباحاہ! کی آواز لگائی۔ اس طرح کی آواز خطرے کی علامت سمجھی جاتی ہے،چنانچہ اس آواز پر لوگ اکٹھے ہو گئے۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، ذرا بتلاؤ، اگر میں تمہیں خبردوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر ایک گھڑ سوار لشکر ہے جو تم پر حملہ آور ہوا چاہتا ہے، تو تم میری تصدیق کرو گے ؟ انہوں نے کہا، کیوں نہیں۔ہم نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جھوٹا نہیں پایا۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ پھر میں تمہیں ایک بڑے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں۔(اگر تم کفرو شرک میں مبتلا رہے ) یہ سن کر ابولہب نے کہا تباً لنا تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا؟جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل فرما دی۔(صحیح بخاری، تفسیر سورۃ تبت ) ابولہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا، اپنے حسن جمال اور چہرے کی سرخی کی وجہ سے اسے ابولہب (شعلہ فروزاں ) کہا جاتا تھا۔علاوہ ازیں اپنے انجام کے اعتبار سے بھی اسے جہنم کی آگ کا ایندھن بننا تھا۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا حقیقی چچا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا شدید دشمن تھا اور اس کی بیوی ام جمیل بنت حرب بھی دشمنی میں اپنے خاوند سے کم نہ تھی۔

١۔ یدا، ید (ہاتھ) کا تثنیہ ہے، مراد اس سے اس کا نفس ہے، جز بول کر کل مراد لیا گیا ہے یعنی ہلاک اور برباد ہو جائے یہ بد دعا ان الفاظ کے جواب میں ہے جو اس نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق غصے اور عداوت میں بولے تھے۔ وَ تَبَّ (اور وہ ہلاک ہو گیا) یہ خبر ہے یعنی بد دعا کے ساتھ ہی اللہ نے اس کی ہلاکت اور بربادی کی خبر دے دی،چنانچہ جنگ بدر کے چند روز بعد یہ عدسیہ بیماری میں مبتلا ہو گیا، جس میں طاعون کی طرح گلٹی سی نکلتی ہے، اسی میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ تین دن تک اسکی لاش یوں ہی پڑی رہی، حتیٰ کہ سخت بدبو دار ہو گئی۔ بالآخر اس کے لڑکوں نے بیماری کے پھیلنے اور عار کے خوف سے، اس کے جسم پر دور سے ہی پتھر اور مٹی ڈال کر اسے دفنا دیا۔(ایسر التفاسیر)

۲۔کمائی میں اس کی رئیسانہ حیثیت اور جاہ و منصب اور اس کی اولاد بھی شامل ہے یعنی جب اللہ کی گرفت آئی تو کوئی چیز اس کے کام نہ آئی۔

٤۔ یعنی جہنم میں یہ اپنے خاوند کی آگ پر لکڑیاں لا لا کر ڈالے گی، تاکہ مزید آگ بھڑکے۔ یہ اللہ کی طرف سے ہو گا۔ یعنی جس طرح یہ دنیا میں اپنے خاوند کی، اس کے کفر و عناد میں مددگار تھی آخرت میں بھی عذاب میں اس کی مددگار ہو گی۔ (ابن کثیر) بعض کہتے ہیں کہ وہ کانٹے دار جھاڑیاں ڈھو ڈھو کر لاتی اور نبی کریم کے راستے میں لا کر بچھا دیتی تھی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اس کی چغل خوری کی عادت کی طرف اشارہ ہے۔چغل خوری کے لیے یہ عربی محاورہ ہے۔ یہ کفار قریش کے پاس جا کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی غیبت کرتی اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی عداوت پر اکساتی تھی۔(فتح الباری)

جید گردن۔ مسد، مضبوط بٹی ہوئی رسی۔ وہ مونج کی یا کھجور کی پوست کی ہو یا آہنی تاروں کی۔ جیسا کہ مختلف لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ وہ دنیا میں ڈالے رکھتی تھی جسے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہنم میں اس کے گلے میں جو طوق ہو گا، وہ آہنی تاروں سے بٹا ہوا ہو گا۔ مسد سے تشبیہ اس کی شدت اور مضبوطی کو واضح کرنے کے لیے دی گئی ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ  اخلاص

یہ مختصر سی سورت بڑی فضیلت کی حامل ہے، اسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ثلث (ایک تہائی ۱/۳) قرآن قرار دیا ہے اور اسے رات کو پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔(بخاری) بعض صحابہ رضی اللہ ہر رکعت میں دیگر سورتوں کے ساتھ اسے بھی ضرور پڑھتے تھے، جس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں فرمایا”تمہاری اس کے ساتھ محبت تمہیں جنت میں داخل کر دے گی”(بخاری) اس کا سبب نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کہ اپنے رب کا نسب بیان کرو۔(مسند احمد)

٢۔ یعنی سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔

۳۔یعنی نہ کوئی چیز اس سے نکلی ہے نہ وہ کسی چیز سے نکلا ہے۔

٤۔اس کی ذات میں اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں۔(لیس کمثلہ شئی) حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “انسان مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لیے اولاد ثابت کرتا ہے، حالانکہ میں ایک ہوں بے نیاز ہوں، میں نے کسی کو جنا ہے نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے (صحیح بخاری) اس سورت میں ان کا بھی رد ہو گیا جو متعدد خداؤں کے قائل ہیں اور جو اللہ کے لیے اولاد ثابت کرتے ہیں اور جو اس کو دوسروں کا شریک گردانتے ہیں اور ان کا بھی جو سرے سے وجود باری تعالیٰ ہی کے قائل نہیں۔

٭٭٭

 

سورۃ فلق

 اس کے  بعد سورۃ الناس ہے، ان دونوں کی مشترکہ فضیلت متعدد احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا”آج کی رات مجھ پر کچھ ایسی آیات نازل ہوئی ہیں جن کی مثل میں نے کبھی نہیں دیکھی”یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ دونوں سورتیں پڑھیں (صحیح مسلم) ابوحابس جہنی رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا”اے ابوحابس! کیا میں تمہیں سب سے بہترین تعویذ نہ بتاؤں جس کے ذریعے سے پناہ طلب کرنے والے پناہ مانگتے ہیں انہیں نے عرض کیا، ہاں ضرور بتلایئے ! آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دونوں سورتوں کا ذکر کر کے فرمایا یہ دونوں معوذتان ہیں “(صحیح النسائی) نبی صلی اللہ علیہ و سلم انسانوں اور جنوں کی نظر سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب یہ دونوں سورتیں نازل لوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے پڑھنے کو معمول بنا لیا اور باقی دوسری چیزیں چھوڑ دیں (صحیح الترمذی) حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو کوئی تکلیف ہوتی تو معوذتین (قل اعوذ برب الفلق ) اور (قل اعوذ برب الناس) پڑھ کر اپنے جسم پر پھونک لیتے، جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تکلیف زیادہ ہو گئی تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھوں کو برکت کی امید سے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے جسم پر پھیرتی (بخاری) جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر جادو کیا گیا تو جبرائیل علیہ السلام یہی دو سورتیں لے کر حاضر ہوئے اور فرمایا کہ ایک یہودی نے آپ صلی اللہ علی و سلم پر جادو کیا ہے، اور یہ جادو فلاں کنویں میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت علی رضی اللہ کو بھیج کر اسے منگوایا، (یہ ایک کنگھی کے دندانوں اور بالوں کے ساتھ ایک دانتوں کے اندر گیا گرہیں پڑی ہوئی تھیں اور موم کا ایک پتلا تھا جس میں سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں ) جبرائیل علیہ السلام کے حکم مطابق آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان دونوں سورتوں میں سے ایک ایک آیت پڑھتے جاتے اور گرہ کھلتی جاتی اور سوئی نکلتی جاتی خاتمے تک پہنچتے پہنچتے ساری گرہیں بھی کھل گئیں اور سوئیاں بھی نکل گئیں آپ صل اللہ علی و سلم اس طرح صحیح ہو گئے جیسے کوئی شخص جکڑ بندی سے آزاد ہو جائے (صحیح ) آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ معمول بھی تھا کہ رات کو سوتے وقت سورۂ اخلاص اور معوذتین پڑھ کر اپنی ہتھیلیوں پر پھونکتے اور پھر انہیں پورے جسم پر ملتے، پہلے سر،چہرے اور جسم کے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرتے، اس کے بعد جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ پہنچتے تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ایسا کرتے۔(صحیح بخاری)

١۔ فلَق کے معنی صبح کے ہیں۔ صبح کی تخصیص اس لئے کی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رات کا اندھیرا ختم کر کے دن کی روشنی لا سکتا ہے، وہ اللہ اسی طرح خوف اور دہشت کو دور کر کے پناہ مانگنے والے کو امن بھی دے سکتا ہے۔ یا انسان جس طرح رات کو اس بات کا منتظر ہوتا ہے کہ صبح روشنی ہو جائے گی، اسی طرح خوف زدہ آدمی پناہ کے ذریعے سے صبح کامیابی کے طلوع کا امیدوار ہوتا ہے۔ (فتح القدیر)

۲۔یہ عام ہے اس میں شیطان اور اس کی ذریت، جہنم اور ہر اس چیز سے پناہ ہے جس سے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

۳۔رات کے اندھیرے میں خطرناک درندے اپنی کچھاروں سے اور موذی جانور اپنے بلوں سے اور اسی طرح جرائم پیشہ افراد اپنے مذموم ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نکلتے ہیں ان الفاظ کے ذریعے سے ان تمام سے پناہ طلب کی گئی۔غاسق، رات وقت داخل ہو جائے،چھا جائے۔

٤۔١نفاثات، مونث کا صیغہ ہے، جو النفوس (موصوف محذوف ) کی صفت ہے من شر النفوس النفاثات یعنی گرہوں میں پھونکنے والے نفسوں کی برائی سے پناہ اس سے مراد جادو کا کالا عمل کرنے والے مرد اور عورت دونوں ہیں یعنی اس میں جادوگروں کی شرارت سے پناہ مانگی گئی ہے، جادوگر پڑھ پڑھ کر پھونک مارتے اور گرہ لگاتے جاتے ہیں۔عام طور پر جس پر جادو کرنا ہوتا ہے اس کے بال یا کوئی چیز حاصل کر کے اس پر یہ عمل کیا جاتا ہے۔

۵۔حسد یہ ہے کہ حاسد، محسود سے زوال کی نعمت کی آرزو کرتا ہے چنانچہ اس سے بھی پناہ طلب کی گئی ہے کیونکہ حسد بھی ایک نہایت بری اخلاقی بیماری ہے جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔

٭٭٭

 

سورۃ  ناس

اس کی فضیلت گزشتہ سورت کے ساتھ بیان ہو چکی ہے۔ ایک اور حدیث جس میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو نماز میں بچھو ڈس کیا۔ نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پانی اور نمک منگوا کر اس کے اوپر ملا اور ساتھ ساتھ (قل یٰٓایھا الکفرون قل ھو اللہ احد اور قل اعوذ برب الناس) پڑھتے رہے

۱۔ رب (پروردگار) کا مطلب ہے جو ابتدا سے ہی جب کہ انسان ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہوتا ہے اس کی تدبیرو اصلاح کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ بالغ عاقل ہو جاتا ہے پھر وہ یہ تدبیر چند مخصوص افراد کے لیے نہیں، بلکہ تمام انسانوں کے لیے کرتا ہے اور تمام انسانوں کے لیے ہی نہیں، بلکہ اپنی تمام مخلوقات کے لیے کرتا ہے، یہاں صرف انسانوں کا ذکر انسان کے اس شرف افضل کے اظہار کے لیے ہے جو تمام مخلوقات پر اس کو حاصل ہے۔

٢۔ جو ذات، تمام انسانوں کی پرورش اور نگہداشت کرنے والی ہے، وہی اس لائق ہے کہ کائنات کی حکمرانی اور بادشاہی بھی اسی کے پاس ہو۔

٣۔ اور جو تمام کائنات کا پروردگار ہو، پوری کائنات پر اسی کی بادشاہی ہو، وہی ذات اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور وہی تمام لوگوں کا معبود ہو۔ چنانچہ میں اسی عظیم و برتر ہستی کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔

٤۔ الوسواس، بعض کے نزدیک اسم فاعل الموسوس کے معنی میں ہے اور بعض کے نزدیک یہ ذی الوسواس ہے۔ وسوسہ، مخفی آواز کو کہتے ہیں، شیطان بھی نہایت غیر محسوس طریقوں سے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے اسی کو وسوسہ کہتے ہیں۔ الخناس (کھسک جانے والا یہ شیطان کی صفت ہے۔ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو یہ کھسک جاتا ہے اور اللہ کی یاد سے غفلت برتی جائے تو دل پر چھا جاتا ہے )

٦۔ یہ وسوسہ ڈالنے والوں کی دو قسمیں ہیں، شیاطین الجن کو تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے علاوہ ازیں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتا ہے چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ بات فرمائی تو صحابہ کرام نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا وہ آپ کے ساتھ بھی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں ! میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے، اور میرا مطیع ہو گیا ہے مجھے خیر کے علاوہ کسی بات کا حکم نہیں دیتا (صحیح مسلم) اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اعتکاف فرما تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنھا آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے ملنے کے لیے آئیں رات کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم انہیں چھوڑنے کے لیے ان کے ساتھ گئے۔راستے میں دو انصاری صحابی وہاں سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں بلا کر فرمایا کہ یہ میری اہلیہ، صفیہ بنت حیی، ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بابت ہمیں کیا بدگمانی ہو سکتی تھی؟آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے لیکن شیطان انسان کی رگوں میں خوف کی طرح دوڑتا ہے۔ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کچھ شبہ نہ ڈال دے۔(صحیح بخاری)

دوسرے شیطان، انسانوں میں سے ہوتے ہیں جو ناصح، مشفق کے روپ میں انسانوں کو گمراہی کی تر غیب دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ شیطان جن کو گمراہ کرتا ہے یہ ان کی دو قسمیں ہیں، یعنی شیطان انسانوں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور جنات کو بھی۔صرف انسانوں کا ذکر تغلیب کے طور پر ہے، ورنہ جنات بھی شیطان کے وسوسوں سے گمراہ ہونے والوں میں شامل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جنوں پر بھی قرآن میں “رجال “کا لفظ بولا گیا ہے (سورۃ الجن،٦) اس لیے وہ بھی ناس کا مصداق ہیں۔

٭٭٭

تشکر: محمد فرقان،محمد کاشف

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید