FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

بڑے نصیب کی بات ہے

 

(سفرِ حج کی روداد)

 

حصہ اول

 

 

 

               صفدر قریشی


 

وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیْلاً ط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِی۱ٌ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(۱۰،آلِ عمران)

ترجمہ:۔ لوگوں  پر اللّٰہ کا یہ حق ہے  کہ وہ جو اس گھر تک پہنچنے  کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے۔ اور جو منکر ہو تو(اللّٰہ  تعالیٰ کا کیا نقصان ہے) اللّٰہ تعالیٰ تمام جہاں  سے  غنی ہیں (ان کو کیا پرواہ)

 

صفدر قریشی

نمبر۱،نزد فیض مسجد،ٹنچ بھاٹہ،راولپنڈی

 

 

 

انتساب

 

خانہ خدا کے  گرد

محوِ طواف

وارفتگی

کے

نام

 

 

 

 لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ  لَبَّیْکَ ط لَبَّیْکَ طلَا شَرِیْکَ  لَکَ لَبَّیْکَ ط اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ط لَا شَرِیْکَ لَکَ               O

میں  حاضر ہوں،یا اللّٰہ  میں  حاضر ہوں،میں  حاضر ہوں،تیرا کوئی شریک نہیں، میں  حاضر ہوں،بے  شک تمام تعریفیں  اور نعمتیں  تیرے  لئے  ہیں  اور ملک بھی، تیرا کوئی شریک نہیں

 

 

دیباچہ

 

 

نحمد ہٗ و نصلّی علیٰ رسولہ الکریم

 

اللہ تبارک و تعالیٰ کا بے  انتہا کرم ہے  کہ اس نے  اس بندۂ نا چیز کو حج اور روضۂ رسول اللہ کی زیارت کی سعادت نصیب فرمائی۔ مزید بر آں  کہ اس کریم نے  اس سفرِ سعید کے  نورانی لمحات کو صفحۂ قرطاس پہ محفوظ کرنے  کی اہلیت بخشی۔

حج دیگر ارکان کی طرح ایک رکنِ اسلا م ہے  جس کا پورا کرنا صاحبِ اسطتاعت مسلمان کے  لئے  فرض ہے۔ دیگر ارکان کی طرح اس رکن کا ادا کرنا بھی توفیق الٰہی سے  ہے۔ جس کے  مقدر میں  قادرِ مطلق نے  یہ سعادت لکھی ہے  اسے  ہر حال میں  بلا لیتا ہے۔

زیرِ نظر کتاب ’’بڑے  نصیب کی بات ہے ‘‘ میری اور میری ہم سفر(اہلیہ)کے  سفرِ حج کی کہانی ہے۔ اس کہانی کو میں  نے  مناسک کی مناسبت سے  مرتب کرنے  کی کوشش کی ہے۔ اس ترتیب سے  میرا مقصد ضروری معلومات فراہم کرنا اور حج کا شوق پیدا کرنا ہے۔ معلومات کے  سلسلے  میں  حکومت یا دیگر اداروں  کی طرف سے  فراہم کردہ لٹریچر سے  استفادہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے  میں  کوئی غلطی کوتاہی ہو گئی ہو تو اس کے  لئی معذرت خواہ ہوں۔

میں  جناب خواجہ غلام ربانی مجال صاحب کا بے  حد ممنون ہوں  کہ انہوں  نے  پروف ریڈنگ میں  خصوصی معاونت فرمائی۔

قارئین سے  خصوصی دعاؤ ں کی درخواست ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس فقیر کی حقیر کوشش کو شرفِ قبولیت فرمائے۔

احقر صفدر قریشی

/۵ اگست  ۲۰۰۵ ؁

 

 

لَبَّیک—– حاضر جناب

 

لبیک!

حاضر ہوں

اَللّٰھُمَّ لَبَّیک

اے  اللّٰہَ  !میں  حاضر ہوں

یہ ہے  وہ وظیفہ جو ہر حاجی کے  وردِ زبان ہوتا ہے۔ مشائخ نے  لکھا ہے  کہ:۔

لبیک اس ندا کا جواب ہے  جو اللّٰہَ  جل شانہ کے  حکم سے  حضرت ابراہیمؑ نے  فرمائی تھی جس کا ذکر قرآنِ پاک کی آیت (وَاَذِّن فِی الناس)میں  گزر چکا ہے۔ اس لئے  جیساکہ حاکم کی پکار پر دربار کی حاضری میں  امید و خوف کی حالت ہوتی ہے  ایسا ہی حال ہونا چاہئے۔ اس سے  ڈرتے  رہنا چاہئے۔ ایسانہ ہو کہیں  اپنی بد اعمالیوں  سے  حاضری ہی قبول نہ ہو۔ (فضائل حج)

بیشک جس نے  بلایا ہے  وہ بہت مہربان ہے۔ رحمٰن ہے، رحیم ہے۔ وہ کریم ہے، ستار ہے،غفار ہے،بخشن ہار ہے۔ بڑے  سے  بڑا گناہ اک اشکِ ندا مت سے  بخش دیتا ہے۔ مگر__ مگر توحید کے  معاملے  میں  بہت غیور ہے۔ وہ شرک کو نہیں  بخشتا۔ بیشک اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ بلا شرکت غیرے  وہ ہر چیز کا خالق ہے،مالک ہے،رازق ہے۔ وہی معبود ہے۔ وہی حاجت روا ہے،وہی داتا ہے،وہی بادشاہوں  کا بادشاہ اور شہنشاہوں  کا شہنشاہ ہے۔ سوہر غرض کی عرض اسی کے  آگے  پیش کرنی چاہئے،اور ہر مصیبت میں  اسی کو پکارنا چاہئے۔ اور حج کے  موقع پر جو پکار اس کے  شایانِ شان ہے  وہ تلبیہ ہے۔

تلبیہ کی آواز حاضری لگوانے  کی ہے۔ جب استاد صاحب حاضری بولتے  ہیں  تو جواب میں  لبیک کہا جاتا ہے۔ کچھ طلباء لبیک کے  بجائے  حاضر جناب اور کچھ یس سَر(yes sir)کہتے  ہیں۔ مطلب تینوں  کلمات کا یہی ہے  کہ حضور ہم حاضر ہیں۔ اس وقت کچھ طلباء جسمانی طور پر حاضر اور ذہنی طور پر غیر حاضر ہوتے  ہیں۔ اگر وہ جواب نہ دیں  تو ان کی غیر حاضری لگ جاتی ہے۔ کچھ ایسی ہی صورت اس موقع پر قیاس کی جا سکتی ہے۔ اس وقت اللّٰہَ  تعالیٰ کو حاجی کی پوری موجودگی یا حضوری مطلوب ہے۔ وہ بندے  کو پوری طرح اپنی طرف متوجہ کر کے  نوازنا چاہتا ہے۔ وہ مکمل سپردگی چاہتا ہے۔

فریضہ حج جملہ عبادات کا مجموعہ اور عبودیت کی معراج ہے  کہ اس میں  اللّٰہَ  رسول کی فرمانبرداری،تسلیم و رضا اور عشق و محبت کا کامل مظاہرہ ہوتا ہے۔ اس فریضہ کی ادائیگی میں  مال،جان، وقت سبھی کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔ طواف وسعی کے  علاوہ دیگر مناسک کی ادائیگی جہاد سے  مشابہت رکھتی ہے۔ واقعی حج جہد و مشقت کا مجموعہ ہے۔

یہ شہادت گہ الفت میں  قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے  ہیں  مسلمان ہونا  اقبال

حضوراقدسﷺ نے  حضرت عائشہ ؓ سے  فرمایا۔

لٰکِن اجرک علی قدر نَصَبِکَ“تیرے  عمرہ کا ثواب بقدر تیری مشقت کے  ہے۔ “(فضائل حج)

سو حاجی کو اس حقیقت کو مدِ نظر رکھتے  ہوئے  ہر کٹھن مرحلے  پر صبر و تحمل کا دامن تھامے  رکھنے  کی ضرورت ہے:۔

“آہ نہ کر لبوں  کوسی عشق ہے  دل لگی نہیں ”

واقعی حج عشق و محبت کا والہانہ مظاہرہ ہے۔ کئی خوش قسمت ایسے  ہوتے  ہیں  جو رموزِ عشق سے  آگاہ ہوتے  ہیں  اور آدابِ حج و زیارت کا خوب خیال رکھتے  ہیں۔ مگر اکثر ہمارے  جیسے  ذرا ذرا سی بات پر بپھر جاتے  ہیں  اور تھوڑی سی آزمائش پر بلبلا اٹھتے  ہیں۔ ایسوں  کو بھی اللّٰہَ  تعالیٰ لذتِ عشق سے  آشنا فرما دیتا ہے۔ اور یہ نادان بھی اصحابِ حال کے  حال میں  رنگ جاتے  ہیں۔ سوجن کی نیت خالص ہوتی ہے  وہ جیسے  تیسے  بھی ہوں  ان کی حاضری لگ جاتی ہے۔ اور جن کی حاضری لگ جائے  وہ پاس ہو جاتے  ہیں۔

 

فضائل حج— نوازشیں  ہی نوازشیں

 

انسان ہر چیز کو نفع و نقصان کی ترازو میں  تولنے  کا فطری طور پر عادی ہے۔ عبادات کے  معاملے  میں  بھی اس کا یہی رویہ کارفرما ہے۔ کوئی مانے  یا نہ مانے  لاشعوری طور پر دل میں  یہ خیال آتا ہے  کہ نماز پڑھنے  سے  کیا ملے  گا؟روزہ رکھنے،زکوٰۃ دینے  یا حج کرنے  سے  کیا فائدہ ہو گا؟نماز روزہ تو خیر بدنی مشقت ہے  اس میں  کوئی روپیہ پیسہ خرچ نہیں  کرنا پڑتا۔ اس کے  برعکس زکوٰۃ اور حج میں  مال کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ اور جہاں  روپیہ خرچ ہو گا وہاں  اس کی واپسی کی خواہش بھی پیدا ہو گی۔ یہ خواہش فطری ہے  سوداگری یا بنیا پن نہیں۔ اس فطری تقاضے  کے  پیشِ نظر خدا اور خدا کا رسولﷺ اعمال کے  فضائل کی بشارتیں  سناتے  اور انعامات سے  نوازتے  ہیں۔

ایک حدیث میں  آپؐ نے  فرمایا ہے :۔

جس شخص نے  اللّٰہَ  کے  لئے  حج کیا(اس کے  دوران میں)اس نے  کوئی فحش گوئی کی نہ کوئی برا کام تو وہ گناہوں  سے  اس طرح پاک صاف واپس لوٹے  گا جس طرح اس کی ماں  نے  اسے  ابھی جنم دیا تھا۔

اور عمرہ کے  متعلق حضورﷺ کا فرمان ہے :۔

“ایک عمرہ کے  بعد دوسرا عمرہ درمیان کے  گناہوں  کے  لئے  کفارہ ہے۔

حضورﷺ کا یہ بھی فرمان ہے  کہ:۔

“رمضان میں  عمرہ کرنا میرے  ساتھ حج کرنے  کے  برابر ہے ”

ایک مسلمان کی حیثیت سے  تمام مومنین کی سب سے  بڑی خواہش حضورﷺ کا ساتھ ہے۔ اور پھر جنت کا ساتھ۔ اس سے  بڑی خوش بختی کیا ہو سکتی ہے !بات یقین کی ہے۔ اللّٰہَ  اور اللّٰہَ  کے  رسولﷺ پر یقینِ کامل کی۔ اصل انعام تو ماننا ہے۔ جس نے  اللّٰہَ  اور اس کے  رسولﷺ کی مانی پوری مخلوق اس کی تابعدار ہے۔ دنیا اور آخرت کی نعمتیں  اس کا انعام اور حضورﷺ،اہلِ بیعت اور صحابہ کرامؓ کی سنگت اس کا مقدر ہے۔ جنت مقامِ معصومیت ہے،یہ صلحاء اور معصوموں  کا گھر ہے۔ اور حاجی یقیناً ایسا معصوم ہے  جیسا نو زائیدہ بچہ۔ تو!

اے  خوش نصیب لوگو کہ جن کو بڑی بارگاہ سے  بلاوا آیا ہے۔ یقین رکھو کہ بادشاہوں  کے  بادشاہ نے  ان کی درخواست منظور کر لی ہے۔ وہ قبول ہو گئے  ہیں۔ اور اے  قبول ہونے  والو!

اُس بڑی بارگاہ میں  اس فقیر کی درخواست بھی دائر کر دینا۔

عرض کرنا!

رحمت دا دریا الٰہی ہر دم و گدا اے  تیرا

جے  اک قطرہ بخشیں  مینوں  کم بن جاندا ای میرا          (میاں  محمد)

(اے  ارحم الرحمین تیرا دریائے  رحمت توہر وقت رواں  ہے  اگر ایک قطرہ اس فقیر کو نصیب ہو جائے  تو اس کی بگڑی بن جائے)

اور پھر!

آقائے  دوجہاں  سے  میرا سلام کہنا۔

سوئے  حرم

جسے  چاہا اپنا بنا لیا جسے  چاہا در پہ بلا لیا

یہ بڑے  کرم کے  ہیں  فیصلے  یہ بڑے  نصیب کی بات ہے

ہاں  تو!

اے  خوش نصیبو!

اے  قبول ہونے  والو!یقین جانو یہ قبولیت کی بات ہے۔ اس میں  کسی کے  ذاتی کمال، علم و فضیلت یا  زہد و تقویٰ  کا دخل نہیں  بلکہ بلانے  والے  کی اپنی مرضی ہے،اس کی منشاء ہے،اس کی حکمت ہے۔ ہمیں  اس کی حکمت اور قدرت کا احساس و ادراک نہیں۔ یقیناً یہ ایسی نعمت ہے  جس کی طلب میں  بڑے  بڑے  تڑپتے  پھڑکتے،دعائیں  کرتے،آہیں  بھرتے  اور زاریاں  کرتے  ہیں  پھر بھی انہیں  اللّٰہ کے  گھر اور نبیﷺ کے  در کی زیارت نصیب نہیں  ہوتی۔ اللہ جانے  اس میں  اللہ کی کیا حکمت ہے۔ حکمت کا کھوج لگانا ضروری نہیں  حکم ماننا ضروری ہے۔

اے  عازمینِ حج!

یہ مبارک سفر عشق و محبت کا عملی مظاہرہ ہے۔ اور عشق میں  کیا؟کیوں ؟کیسے  جیسے  اشکالات و سوالات نہیں  ہوتے۔ یہاں  تو ایک ہی بات ہے۔

“سرِ تسلیم خم ہے  جو مزاجِ یار میں  آئے ”

سو اس سفر میں  اپنی فہم و فراست اور زہد و علم کو بھول کر صرف اللّٰہ اور  اللّٰہ  کے  رسولﷺ کے  حکم کے  تابع ہونا ہے۔ اپنے  آپ کو مکمل طور پر  اللّٰہ  اور رسولﷺ کی تحویل میں  دے  دینا ہے۔  اللّٰہ  بندے  کی خود سپردگی چاہتا ہے۔ مکمل سپردگی۔ اگرچہ انسان مکمل طور پر  اللّٰہ  کے  قبضہ قدرت میں  ہے۔ وہ زبردستی بھی منوا سکتا ہے  مگر اس کا تقاضا ہے  کہ بندہ اپنی رضامندی سے  اپنے  آپ کو میرے  حوالے  کرے۔

میں  اس کی دسترس میں  ہوں  مگر وہ

مجھے  میری رضا سے  مانگتا ہے

 

آداب

 

عازمینِ حج!

ہمیں  معلوم ہونا چاہئے  کہ جس مقدس سرزمین کی زیارت  اللّٰہ  تعالیٰ نے  مقدر کی ہے  یہ نبیوں  کی آماجگاہ ہے۔ اور اللّٰہ  کے  محبوب حضرت محمدﷺ کی بارگاہ ہے۔ اس سرزمین پہ نبیوں،اہلِ بیت اطہار اور صحابہ کرامؓ کے  مبارک قدموں  کے  نشانات ثبت ہیں۔ اس سرزمین کے  افق سے  ہدایت کا سورج طلوع ہوا تھا۔ اس سرزمین سے  اسلام کا آغاز ہوا تھا اور اسی دھرتی پر اس کی تکمیل ہوئی تھی۔ یہاں  کعبہ ہے  جو  اللّٰہ  کا گھر ہے  اور یہیں  مسجدِ نبویؐ ہے  جو دوجہاں  کے  سردار کا مسکن و مرقد ہے۔

ادب گہہ ایست زیرِ آسماں از عرش نازک تر

نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں  جا

(اس آسمان تلے  دربارِ نبیؐ ایسا ادب کا مقام ہے  جو عرشِ الٰہی سے  بھی نازک تر ہے۔ یہاں  جنید بغدادی اور با یزید بسطامی جیسے  اولیاء آتے  ہیں  تو اپنا آپ بھول جاتے  ہیں۔)

سواس سفر سے  پہلے  اس مبارک سفر کے  تقاضوں  اور نزاکتوں  کا شعور پیدا کرنے  کی ضرورت ہے۔ یاد رہے  اس سفر میں  دیوانگی و فرزانگی دونوں  کا امتحان ہے۔ عام مقولہ ہے  کہ’’ با خدا دیوانہ باش و  با محمدﷺ ہوشیار‘‘۔ سو مکہ و مدینہ دونوں  کی حرمت و نزاکت کو پیشِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس کا ایک طریقہ ہے  کہ شریعت مطہرہ کی پوری طرح پابندی کرنے  کی کوشش کی جائے۔ اور اوامر و نواہی کا خاص خیال رکھا جائے۔ اور ہر عمل میں   اللّٰہ  کی رضا اور نبیؐ کے  طریقے  کی رعایت رکھی جائے۔ اس لئے  کہ  اللّٰہ  کے  حکم کو نبیؐ کے  طریقے  کے  مطابق سرانجام دینا ہی شریعت ہے۔

 

میری کہانی میری زبانی

 

تازہ خواہی داشتن گرداغ ہائے  سینہ را

گاہے  گاہے  باز خواں  ایں  قصۂ پارینہ را

(اگر تو دل کے  داغوں  کو تازہ رکھنا چاہتا ہے  تو  قصۂ عشق و محبت کو کبھی کبھی دہرا لیا کر)

یاد گار لمحوں  کو یاد رکھنا اور ان کا تذکرہ انسانی مجبوری ہے۔ انسان اپنے  گمشدہ ماضی کے  تعاقب میں  سرگرداں  رہتا ہے۔ آدمی جب بھی لمحۂ موجود کی گرفت سے  آزاد ہوتا ہے، ماضی کی یادوں  میں  کھو جاتا ہے۔ گذرے  ہوئے  لمحوں  کا خوشگوار لمس،خوشبودار ذائقہ، ہر کس و ناقص کا سرمایہ حیات ہے  اور ہر کوئی شعوری یا غیر شعوری طور پر اس سرمایہ کو محفوظ کرنے  کی کوشش کرتا ہے  کوئی تصویروں  میں  کوئی لفظوں  میں۔ ہر ایک کا اپنا اپنا انداز اور اسلوب ہے۔ پھر ہر کسی کا اندازِ نظر اور اندازِ فکر منفرد ہے۔ کوئی دنیا کو دل میں  بسانا چاہتا ہے  کوئی دین کو دل میں  جماتا ہے۔ میں ان مبارک لمحوں  کو صفحہ قرطاس پر محفوظ کرنے  کی کوشش کر رہا ہوں  جو دین کے  حوالے  سے  زندگی کا حصہ بنے۔ اس سلسلہ میں  “جنت کی راہگذر”جو کہ میرے  تبلیغی سفر کی روداد ہے  مجھے  بڑی محبوب ہے۔ حج سے  واپسی پر میں  نے  یہ کتاب ایک دوست کو ہدیہ کی تو اس نے  بآواز بلند پڑھنا شروع کر دیا۔ اپنی تحریر کو قاری کی زبان سے  سن کر دل خوش ہوا۔ اور سفرِ حج کی مبارک ساعتوں  کو ریکارڈ کرنے  کی تحریک شروع ہوئی۔

اصل میں  جس طرح بولنا ہر مقرر کی مجبوری ہوتا ہے  اسی طرح لکھنا ہر لکھاری کی مجبوری ہے۔ اس مجبوری کی وجہ سے  رودادِ سفرِ حج کا آغاز کر رہا ہوں۔ میں  اپنے  قاری سے  یہ گذارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں  کہ میں  کوئی عالم یا ادیب نہیں۔ اس لئے  اگر کوئی غلطی کوتاہی ہو جائے  تو مہربانی کر کے  اس سے  مجھے  مطلع فرمائیں۔

 

تمنا

 

سلسلہ خیال کا آغاز کسی نہ کسی آرزو سے  ہوتا ہے۔ سفرِ حج کا آغاز بھی حج کی آرزو سے  ہونا چاہئے۔ دل میں  حج کی تمنا یا آرزو کب پیدا ہوئی؟مجھے  یاد نہیں۔ دو سال قبل میرے  وہم و گمان میں  بھی نہیں  تھا کہ میں  حج کروں  گا۔ جب میری پہلی کتاب” اللّٰہ  پناہ”شائع ہوئی تو اس کے  ٹائیٹل پر خانہ کعبہ کی تصویر بنوائی تھی۔ پھر جب نعتیہ مجموعہ”جبینِ نعت”شائع کرایا تو اس پر روضۂ رسولﷺ کی تصویر لگائی تھی۔ شاید اس عمل کے  پیچھے  حج کی سوچ کارفرما ہو…….. معلوم نہیں۔ ہاں !اہلیہ محترمہ نے  خانہ کعبہ اور روضہ مبارک کی بڑی بڑی تصویروں  سے  اپنے  کمرے  اور میری بیٹھک کو مزین کر رکھا تھا۔ شاید ان کے  لاشعور میں  بھی حج کی تمنا مچل رہی ہو۔ مجھے  معلوم نہیں۔

 

دو آنسو

 

دو قطرے   اللّٰہ  کو بہت پسند ہیں۔ ایک قطرہ جو شہید کے  بدن سے  ٹپکا ہو دوسرا جو  اللّٰہ  کی خشیت میں  چشمِ ندامت سے  نکلا ہو۔

اللّٰہ  کو رونا بہت پسند ہے۔ آنسو چاہے  مکھی کی آنکھ کے  برابر ہو اللّٰہ  کو بہت محبوب ہے۔ شرط یہ ہے  کہ یہ قطرہ صرف اسی کی نذر ہو۔ بیشک وہ بڑا مہربان اور قدردان ہے۔ وہی ان انمول موتیوں  کا مول جانتا ہے۔ وہی ان کا خریدار ہے۔

موتی سمجھ کے  شانِ کریمی نے  چن لئے

قطرے  جو تھے  مرے  عرقِ انفعال کے

بظاہر میرے  دل میں  حج کی حسرت،سوچ،خیال یا تمنا محسوس نہیں  ہوتی تھی۔ مگر جب ایک دوست نے  اپنے  حج کی نوید ٹیلیفون پر سنائی تو معاً آنکھوں  سے  بیچارگی اور بے  بسی میں  لتھڑے  ہوئے  دو موتی ٹپک پڑے۔ مجھے  محسوس ہوا میرے  لاشعور سے  حج کی تمنا مطلعِ شعور پہ ظہور پذیر ہو رہی ہے۔ مجھے  اعتراف ہے  کہ میرے  نہاں  خانہ دل میں  حج کی آرزو انجانے  زمانے  سے  چپکے  چپکے  پرورش پا رہی تھی۔ آج اس تمنا کا اظہار ہوا تو معلوم ہوا

وقت کرتا ہے  پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں  ہوتا

میرے  قدردان مولا نے  دو آنسوؤں  کے  بدلے  وہ کچھ عطا فرمایا جس کا نہ کبھی خیال کیا تھا نہ گمان۔

“جتنا دیا سرکار نے  مجھ کو اتنی میری اوقات نہیں ”

 

قبولیت

 

اللّٰہ  تعالیٰ نے  نظامِ کائنات کو اسباب کے  ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ اسباب بھی اس کی قدرت کا معجزہ ہیں۔ وہ قادرِ مطلق ہے۔ ناممکن کو بھی ممکن بناتا ہے۔ اس نے  سلسلۂ اسباب کو اس فقیر کی امداد کے  لئے  مرتب فرمانا شروع کر دیا۔ حج کے  لئے  پہلی ضرورت پیسوں  کی ہوتی ہے  تو اس نے  یہ انتظام بآسانی فرما دیا۔ درخواستیں  دینے  کا زمانہ آیا تو بروقت درخواست جمع کرا دی۔ اور بے  فکر ہو گیا۔ دل میں یہ گمان کہ پیسے  جمع کرا دئیے  ہیں۔ درخواست بھی بروقت جمع کرا دی ہے  اب ہمارے  حاجی بننے  میں  کوئی چیز مانع نہیں  ہو سکتی۔ اب رونے  دھونے،دعائیں  کرنے  اور  اللّٰہ  سے  مانگنے  کی ضرورت محسوس نہیں   ہو رہی تھی۔ مگر وہ تو مانگنا مانگتا ہے۔ رونا دھونا مانگتا ہے۔ مگر اب ہونٹوں  پہ دعا،نہ آنکھوں  میں  آنسو۔ ایک بے  فکری اور خوش گمانی تھی کہ پیسے  جمع کرا دئے،درخواست دے  دی،اب کس بات کی فکر !میری کم عقلی کہ میں  قانونِ خداوندی اور قدرت و تقدیر کو بھول گیا۔ اسی بھولپن میں  ایک روز میں  نے  اپنے  بڑے  بھائی کو بتایا کہ دل میں  حج کا کوئی شوق یا چاہت محسوس نہیں ہو رہی۔ بعد میں  انہوں  نے  بتایا کہ میں  نے  اس وقت بھانپ لیا تھا کہ اس سال آپ حج پر نہیں  جا سکیں  گے۔ سو اللّٰہ  کی تقدیر اور قدرت نے  اپنا جلوہ دکھایا اور میری خوش فہمیوں  پر پانی پھر گیا۔ وزارتِ مذہبی امور سے  قرعہ نہ نکلنے  کا کارڈ ملا تو دماغ چکرا کے  رہ گیا۔ ہیں  !یہ کیا ہو گیا!تو کیا میں  حج پر نہ جا سکوں  گا؟ارے  یہ قرعہ کیا ہوتا ہے۔ دل کے  ایک کونے  سے  صدا آئی یہ قرعہ قدرتِ خداوندی ہے۔ ارے  بے  فکر !بلاوا فکر والوں  کو آتا ہے۔ وہ فکر والے  جو اس سے  مانگتے  ہیں۔ اسباب پر تکیہ نہیں  کرتے۔ اسباب مخلوق ہیں۔ مخلوق سے  کچھ نہیں  ہوتا۔ سب کچھ  اللّٰہ  سے  ہوتا ہے۔

یہ سلسلۂ اسباب و علل اور وسائل و مال تو ظاہری نقشے  ہیں۔ ان نقشوں  سے  کچھ نہیں  ہوتا۔ ان نقشوں  کے  پیچھے  امرِ الٰہی کارفرما ہے۔ ہر چیز  اللّٰہ  کے  امر میں  جکڑی ہوئی ہے۔ اس کی مرضی و منشا ء کے  بغیر کچھ نہیں  ہوتا سو مانگنا ہے  تو اس سے  مانگ۔ اس سے  مانگ جو خالق و مالک ہے۔

 

 

لبیک— لا لبیک

 

درخواست کی نا منظوری سے  ایک قصہ یاد آ رہا ہے  جو کہ میری اس حالت سے  قدرے  مماثلت رکھتا ہے۔ اپنی تسلی کے  لئے  اس قصہ کو دہرا رہا ہوں :۔

ایک بزرگ مکہ مکرمہ میں  ستر برس رہے  اور برابر حج اور عمرے  کرتے  رہے  لیکن جب وہ حج یا عمرہ کا احرام باندھتے  اور لبیک کہتے  تو جواب لالبیک ملتا۔ ایک مرتبہ ایک نوجوان نے  ان کے  ساتھ ہی احرام باندھا اور ان کو جب لالبیک کا جواب ملا تو اس نے  بھی سنا،تو وہ کہنے  لگا چچا جان!آپ کو تو”لالبیک”کہا۔ کہنے  لگے  کہ بیٹا تو نے  بھی سنا؟اس نے  کہا میں  نے  بھی سنا ہے۔ اس پر شیخ روئے  اور کہنے  لگے  بیٹا میں  تو ستر سال سے  یہی سن رہا ہوں۔ جوان نے  کہا پھر کیوں  آپ اتنی مشقت ہمیشہ اٹھاتے  ہیں ؟شیخ نے  کہا بیٹا اس کے  بغیر اور کون سا دروازہ ہے  جس کو پکڑ لوں  اور اس کے  بغیر اور کون میرا ہے  جس کے  پاس جاؤں۔ میرا کام تو کوشش ہے  وہ چاہے  رد کرے  یا قبول کرے۔ بیٹا غلام کو یہ زیبا نہیں  کہ وہ اتنی بات کی وجہ سے  آقا کے  در کو چھوڑ دے۔ یہ کہہ کر شیخ رو پڑے  حتیٰ کہ آنسو سینے  تک بہنے  لگے۔ اس کے  بعد پھر لبیک کہی تو جوان نے  سنا کہ جواب میں  کہا گیا کہ ہم نے  تیری پکار کو قبول کر لیا اور ہم ایسا ہی کرتے  ہیں  ہر ایک شخص کے  ساتھ جو ہمارے  ساتھ حسن ظن رکھے  بخلاف اس کے  جو اپنی خواہشات کا اتباع کرے  اور ہم پر امیدیں  باندھے ”   (فضائل حج)

اس قصہ سے  بڑی تسلی ہوتی ہے۔ آدمی مایوس نہیں  ہوتا۔ میں  نے  بینک سے  حج کے  واجبات واپس نہیں  لئے۔ خدشہ تھا کہ اگر یہ رقم نکلوا لی تو کوئی نہ کوئی خرچ کرنے  کی مد نکل آئے  گی اس لئے  اس کو بینک میں  ہی رہنے  دیتے  ہیں  اگلے  سال پھر کوشش کریں  گے۔ بڑے  بیٹے  کو صورتحال کا پتہ چلا تو اس نے  کہا کہ اباجی اس سال امی جان کو بھی ساتھ لے  جانے  کا ارادہ فرمائیں  میں  نے  ان کے  نام کی کمیٹی ڈالی ہے۔ میں  نے  کہا بیٹا یہ تو تمہاری سعادت اور خوش بختی ہے۔ اللّٰہ  تعالیٰ تمہاری مراد پوری کرے۔ درخواستیں  دینے  کا وقت آیا تو اس نے  مطلوبہ رقم بھیج دی ہم نے   اللّٰہ  کا نام لے  کر دو درخواستیں  جمع کرا دیں۔ اب کی بار خوش فہمی کی بجائے  درخواست رد ہونے  کا خدشہ بھی تھا۔ اور خدشہ صحیح تھا۔ اب کی بار بھی قرعہ نہیں  نکلا۔ ایک دفعہ پھر لالبیک کا جواب ملا۔

 

منظوری

 

دوسری نا منظوری سے  سخت دھچکا لگا۔ دل ٹوٹ گیا۔ سمجھ نہیں  آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ دعائیں،التجائیں،رونا دھونا شروع ہو گیا۔ مگر دعا کیسے  کروں  ؟کیا کہوں ؟ پھر کیا کیا؟کس طرح کیا؟ کچھ یاد نہیں۔

“ہے  دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں ”

ٹوٹے  الفاظ اور گونگی زبان نے  کس طرح دردِ دروں  کی ترجمانی کی یہ وہی جانتا ہے  جو سمیع و بصیر ہے  جوہر بے  آسرا کا آسرا ہے۔ جو خود بے  انتہا ہے  اور اس کے  خزانے  بھی بے  بہا ہیں۔ بیشک وہ بے  بسوں  اور بے  کسوں  کی بہت قریب ہو کر سنتا ہے۔ اس نے  پھر سے  سلسلہ اسباب کو اس فقیر کے  حق میں  مرتب کرنا شروع کر دیا۔

میں  عالمِ یاس میں  بیٹھا تھا کہ ایک دم احباب کی تصاویر پردہ تصور پر ابھر نے  لگیں۔ میں  نے  جناب زاہد چغتائی سے  ٹیلیفون پر رابطہ کیا تو انہوں  نے  فرمایا کہ آپ مذہبی امور کے  وزیر کے  نام درخواست لکھ کر مجھے  دے  دیں۔ میں  وزیر موصوف تک آپ کی درخواست پہنچا دوں  گا۔ اس کے  ساتھ ہی انہوں  نے  بتایا کہ وزیر صاحب کے  پی۔ اے  صاحب سے  محترم رشید نثار صاحب کی یاد  اللّٰہ  ہے۔ ان سے  بھی رابطہ کریں۔ اسی دوران ماڈرن بک ڈپو اسلام آباد کے  مالک جناب سید ذاکر حسین شاہ صاحب کا خیال آ گیا۔ موصوف کی دوکان منسڑی کے  بالکل پہلو میں  ہے۔ انہوں  نے  بھی درخواست والا مشورہ دیا اور ساتھ ہی درخواست کے  مندرجات کے  متعلق بھی تفصیلات لکھوا دیں۔  انہوں  نے  یہ مشورہ بھی دیا کہ کسی ایم۔ این۔ اے  سے  سفارش بھی کروائیں۔ کسی ایم این اے  سے  ہمارا تو رابطہ نہیں  ہم نے  بغیر سفارش کے  اپنی اور اہلیہ کی طرف سے  دو درخواستیں  داخل دفتر کرا دیں۔ پی۔ اے  صاحب خود موجود نہیں  تھے۔ ان کے  قائم مقام سے  گذارش کی کہ انہیں  بتا دینا کہ یہ درخواستیں  ڈاکٹر رشید نثار اور نوائے  وقت کے  زاہد حسن چغتائی کے  دوست کی ہیں۔ موصوف نے  ہماری درخواستوں  پر دونوں  حضرات کے  نام نوٹ کر لئے۔ شاہ صاحب کے  مشورہ کے  مطابق ایک درخواست وزیر اعظم کے  نام بھی پوسٹ کر دی۔ گھر واپسی پر ٹیلیفون پر رشید نثار صاحب کو آج کی کارگذاری سنائی تو انہوں  نے  پی۔ اے  صاحب سے  رابطہ کرنے  کی کوشش کی۔ چند روز بعد ان کا ٹیلیفون پر رابطہ ہوا تو پی۔ اے  صاحب نے  فرمایا کہ تازہ درخواستیں  لکھ کے  بالمشافہ ملاقات کریں۔ دوسرے  روز میں  نے  ان سے  ملاقات کی تو انہوں  نے  ڈاکٹر رشید نثار صاحب کا نام لکھ کر درخواست وصول کر لی۔ چند روز بعد میری منظوری کا کارڈ مل گیا۔ بہت خوشی ہوئی۔ مگر یہ پوری نہیں  ادھوری خوشی تھی کہ اہلیہ کا کارڈ نہ ملا۔ اہلیہ اوپر سے  خوش مگر اندر سے  پریشان تھی۔ مجھے  خیال ہوا کہ ان کی رقم کا بینک میں  پڑے  رہنا فضول ہے۔ اس لئے  ان سے  کچھ رقم لے  کر کتابیں  چھپوا لینی چاہئیں۔ میں  نے  پچاس ہزار نکلوا کر “جنت کی راہگذر”اور”اسرارِ کائنات “چھپوا لیں۔ ایک دن خیال ہوا کہ اہلیہ کے  متعلق منسٹری سے  رابطہ تو کرنا چاہئیے۔ منسٹری میں  قرآن سیل کے  جناب ا کرام  اللّٰہ  جان سے  تازہ تازہ سلام دعا ہوئی تھی۔ ان سے  ٹیلیفون پر رابطہ کیا تو انہوں  نے  کہا اپنا اور اہلیہ کا نام اور فارم نمبر لکھوائیں۔ انہوں  نے  کمپیوٹر سے  چیک کر کے  خوشخبری سنائی کہ فکر نہ کریں  اہلیہ کا نام آ گیا ہے۔ چند روز تک کارڈ پہنچ جائے گا۔ اللّٰہ  کا شکر ادا کیا۔ بھتیجے  کا بینک میں  اکاؤنٹ تھا اس سے  پچاس ہزار لے  کر اہلیہ کے  واجبات بھی جمع کرا دئیے۔ دل مطمئن ہو گیا۔ کرب کم ہو گیا۔ آنسو تھم گئے …. پھر اللّٰہ  نے  ایک اور خوشی دی منجھلے  بیٹے  کو  اللّٰہ  نے  بیٹا عنایت فرمایا…..پھر ایک اور مہربانی ہوئی۔ بڑابیٹا دو سال بعد”صلالہ”سے  چھٹی آ گیا…….پھر

 

پھر نظر لگ گئی

 

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو

میں  ایک دریا کے  پار اترا تو میں  نے  دیکھا     (منیر نیازی)

حج کی درخواست کا منظور و نامنظور ہونا ایک امتحان تھا۔ اس امتحان کی شدت معمولی شدت تھی مگر اب کے  جو مرحلہ پیش آنے  والا تھا اس کا وہم و گمان بھی نہیں  تھا۔ کسے  خبر تھی کہ ہنستے  کھیلتے  مسکراتے  چہروں  سے  یکدم تازگی چھین لی جائے گی۔ خوشیوں  کو نظر لگ جائے گی۔ میری پھلواڑی کی کلی کلی یکدم مرجھا جائے گی۔ ہونے  والی حجن کو تقدیر اپاہج کر دے  گی۔

وہ سادہ لوح عورت جس کے  لبوں  پر” مینوں  سوہنے  نے  بلایا میں  مدینے  چلی آں “(مجھے  حضورﷺ نے  بلایا ہے  میں  مدینے  جا رہی ہوں)کا ورد جاری تھا بولتے  بولتے  تتلانے  اور ہکلانے  لگی۔ وہ جو چاق و چوبند ہرنی کی طرح بہو بیٹیوں  سے  زیادہ مستعد تھی چلتے  چلتے  لڑکھڑانے  لگی اور لڑکھڑاتے  لڑکھڑاتے  بستر پر جا پڑی۔۔۔۔۔ مدینے  جانے  والی کو مدینے  جانے  سے  پہلے  فالج ہو گیا۔ جب مرکز ٹوٹ جائے  تو نظام کیسے  درست رہ سکتا ہے۔ سارا نظام معطل ہو گیا سخت آزمائش تھی۔ اللّٰہ  ایسی آزمائش سے  ہر مسلمان کو بچائے۔ (آمین)

بیشک آزمائش امتحان ہوتا ہے۔ امتحان کے  نتیجہ میں  پاس ہونے  کی امید ہوتی ہے  اور فیل ہونے  کا کھٹکا بھی رہتا ہے۔ آدمی تھک جاتا ہے۔ مایوس ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ باغی ہو جاتا ہے۔ ناکام ہو جاتا ہے۔ یہ ناکامی کا کھٹکا دل میں  کھٹکتا رہا۔ مگر اللّٰہ  نے  امید کی شمع بجھنے  نہیں  دی۔ مایوس لمحوں  میں  اس کی رحمت مہربان ماں  کی طرح لوریاں  دیتی رہی۔ اس نے  ناتواں  حوصلوں  کو لڑکھڑانے  نہیں  دیا۔ یوں  معلوم ہوتا تھا کہ اسباب کے  سہاروں  کے  بجائے  دستِ قدرت خود سنبھالا دے  رہا ہے۔

پندرہ جنوری کو ہماری فلائٹ تھی۔ بلاوا آ چکا تھا۔ جانا بھی ضروری تھا کہ حجن تتلاتی زبان سے  کہہ رہی تھی

“اکھاں  مَل مَل کے  ایہہ دن ویکھیا اے۔ میں  ضرور جاناں  ایں ”

(اتنی انتظار کے  بعد یہ دن نصیب ہوا ہے۔ میں  رہ نہیں  سکتی ضرور جاؤں  گی)

آدمی اندر سے  بیمار ہوتا ہے  اور اندر ہی سے  تندرست ہوتا ہے۔ بیشک عزم و ارادہ اور ایمان و یقین بہت بڑی قوت ہے۔ مریضہ قوتِ ایمان کی بدولت حیرت انگیز انداز سے  رو بہ صحت  ہو رہی تھی۔ مگر ڈاکٹر حج کی اجازت نہیں  دے  رہے  تھے۔ اللّٰہ  تعالیٰ کا اپنا نظام ہے۔ اس نے  ہم دونوں  کو اپنے  دربار اور محبوب کے  دیار کی زیارت کرانا تھی اس لئے  اس نے  نظام تقویم کو اس طرح ترتیب دیا کہ جب مریضہ چلنے  کے  قابل ہو جائے  اس وقت روانگی ہو۔ یہی وجہ ہے  کہ حج کو جانے  والی پروازوں میں  ہماری آخری پرواز تھی۔

اس آزمائش کے  دوران حیران کن اسرار کا مشاہدہ ہوا۔  اللّٰہ  تعالیٰ نے  اندر کی غلاظتوں  کو دھوکر پاک کر دیا۔ دل شیشے  کی طرح چمکنے  لگے۔ ابھی سے  دعائیں  قبول اور سنی جانے  لگیں۔ لگتا تھا محترمہ رابعہ بصری بن گئی ہیں۔

پرتیں  کھلیں  تو راز کئی منکشف ہوئے

اک زلزلے  سے  ذات کی کایا پلٹ گئی       (سندیسہ)

اسی تناظر میں  علامہ اقبال کا شعر بھی دل کی تسلی کا باعث بنا

تو بچا بچا کے  نہ رکھ اسے  تیرا آئینہ ہے  وہ آئینہ

کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے  نگاہِ آئینہ ساز میں    (اقبال)

پھر میاں  صاحب کے  اس شعر نے  بھی ڈھارس بندھائی

جنہاں  دکھاں  وچ دلبر راضی سُکھ اونہاں  توں وارے

دکھ قبول محمد بخشا راضی رہن پیارے

(جن دکھوں  سے  محبوب حقیقی خوش ہوتا ہے  ہر قسم کا سکھ اس پہ صدقے  قربان۔ اے  محمد بخش  اللّٰہ  کی رضا کے  لئے  ہرقسم کی آزمائش اور دکھ تکلیف قبول ہے)

 

بَعْثِِ بَعْدَالْمَوْت——- موت کی موت

 

اللّٰہ  تعالیٰ مارے  گا۔

مار کے  جگائے  گا۔

وت(پھر) نہیں  مارے  گا۔

یہ الفاظ ایمان کی صفات میں  سے  ایک صفت بعث بعد الموت کا سادہ سا ترجمہ ہیں  جو ہم نے  بچپن میں  رٹے  تھے۔ بیشک حیات بعد الموت کا یقین کرنا ایمانیات کا اہم جزو ہے۔ ایمان نام ہے  زبان سے  ماننے  اور دل سے  اقرار کرنے  کا اور ایمان کی کیفیت یہ ہے  کہ انبیاءؑ کے  علاوہ عام انسانوں  کا ایمان گھٹتا بڑھتا رہتا ہے۔ ایمان کی باتیں  سننے  سنانے  سے  ایمان بڑھتا ہے۔ ایمان افروز مناظر و واقعات کے  مشاہدے  سے  بھی ایمان میں  ترقی ہوتی ہے۔ پھر آدمی کو جب عملی طور پر قدرتِ الٰہی کا تجربہ ہوتا ہے  تو ایمان پختہ ہو جاتا ہے۔ اہلیہ کی بیماری اور صحت یابی سے  یہ یقین پختہ ہو چکا ہے  کہ بیشک  اللّٰہ  تعالیٰ مارنے  کے  بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔ موصوفہ کو جب ہسپتال لیکر گئے  تو ڈاکٹر صاحب نے  ربڑ کی ہتھوڑی سی انکے  گھٹنوں  وغیرہ پر مار کر چیک کیا تو موصوفہ نے  کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں  کیا۔ انہوں  نے  پاؤں  میں  گدگدی کی تو وہ بھی بے  جان تھے۔ یہی حال بازوؤں  کا تھا۔ بائیں  آنکھ بھی پتھرا چکی تھی۔ یوں  سمجھیں  آدھا جسم مر چکا تھا۔ بچے  جسم پر چٹکی بھرتے،پاؤں  میں  گدگدی کرتے  مگر مردہ جسم میں  کوئی حرکت نہ ہوتی۔ اللّٰہ  کی قدرت کہ تیسرے  چوتھے  روز ڈاکٹر صاحب نے  پاؤں  میں  گدگدی کی تو پاؤں  نے  معمولی سا ردِ عمل ظاہر کیا۔ دل میں  تھوڑی سی امید پیدا ہو گئی۔ صدقہ،نوافل،دعائیں  اور دوائیں جاری رہیں۔ اللّٰہ  کے  کرم سے  دن بدن حیرت انگیز انداز سے  اعضاء نے  حرکت کرنا شروع کر دیا۔ ہم نے  اپنی آنکھوں  سے  بے  جان کو نیم جاں  اور نیم جان کو جاندار ہوتے  دیکھا ہے۔ پھر وہ دن بھی آ گیا جب آدھ موا جسم حاجی کیمپ اپنے  پاؤں  پر چل کر جا رہا تھا۔ واقعی وہ حیّ و قیّوم ہے  وہ قادر مطلق ہے۔ وہ زندہ کو مردہ اور مردہ کو زندہ کرنے  والا ہے۔

 

حاجی کیمپ

 

منسٹری کی طرف سے  وصول ہونے  والے  کارڈ میں  تیرہ جنوری کی صبح کو حاضر ہونے  کا لکھا تھا۔ ہمارا کوئی گروپ یا گروپ لیڈر نہیں  تھا۔ نہ ہمیں  کسی تربیتی پروگرام میں  شمولیت کا موقع ملا نہ کھل کر کسی سے  مشورہ کیا۔ آزمائشوں  کی الجھنوں  میں  الجھے  رہے۔ ایک دن مرکز (زکریا مسجد)والوں  نے  حج کرنے  والوں  کو بلایا تھا۔ اس پروگرام میں  بھی کافی لیٹ پہنچا۔ ایک عالم بیان فرما رہے  تھے۔ انہوں  نے  فضائل کے  علاوہ جو اہم بات بتائی وہ یہ ہے  کہ:۔

غیر مسلموں  کو جس چیز کو رواج دینا ہوتا ہے  وہ مکہ مدینہ پہنچا دیتے  ہیں۔ یہاں  سے  یہ چیز حجاج کرام یا زائرین کے  ذریعے  تمام دنیا میں  پھیل جاتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے  کہ مکہ معظمہ سے  آبِ زم زم اور حضورﷺ کی مکہ والی زندگی اور مدینہ منورہ سے  مدینہ کی کھجوریں  اور حضورﷺ والی مبارک زندگی لے  کر آنا ہے۔

گورنمنٹ کی طرف سے  ہماری راہنمائی کے  لئے  کوئی لٹریچر بھی ہمیں  نہیں  ملا۔ بس دوست احباب نے  کچھ کتابچے  عنایت فرمائے  یا زبانی کچھ راہنمائی فرمائی۔ ہم نے  تمام حج بغیر معلم اور سرکاری رہبر کے  ساتھیوں  کی مدد سے  کیا ہے۔  اللّٰہ  کا کرم ہے  کہ اس نے  ہر مرحلہ پر ہماری راہنمائی اور نصرت کے  لئے  اپنے  غیبی نظام کو ہمارے  لئے  مستعد و متحرک رکھا۔ حاجی کیمپ تک منجھلے  بیٹے  کے  ساتھ گئے  تھے۔ مگر اہلکاروں  نے  بیٹے  کو گیٹ پر روک لیا۔ اب تک اپنی والدہ کو یہی سنبھالتا رہا ہے۔ اب اس کی ذمہ داری مجھے  سنبھالنا پڑی۔ میں  خود ساٹھ سالہ بوڑھا،شوگر کا مریض،مجھے  یہ ذمہ داری بہت بوجھل لگی۔ مگر  اللّٰہ  تعالیٰ نے  حوصلہ دیا، ہمت دی اور خصوصی نصرت کی۔ اس کا لاکھ لاکھ شکر ہے  کہ اس نے  یہ ذمہ داری سنبھالنے  کی توفیق دی۔ حاجی کیمپ میں  پی آئی اے  کے  دفتر سے  ٹکٹ،احرام اور حبیب بینک سے  ریال اور ڈالر لئے،گردن توڑ بخار کا ٹیکہ لگوایا،سٹال سے  چند چیزیں  خریدیں۔ حاجی کیمپ کے  گیٹ پر بیٹھے  اہلکاروں  سے  گلے  میں  لٹکانے  والا شناختی کارڈ لیا اور گھر آ گئے۔

 

تیاری

 

حاجی کیمپ سے  واپسی پر دل بڑا مسرور تھا۔ عجیب قسم کا جوش و ولولہ اور سرشار ی تھی کہ میں  بھی گنگنانے  لگا:۔

“مینوں  سوہنے  نے  بلایا میں  مدینے  چلی آں ”

سارے  گھر میں  عید کا سا سماں  تھا۔ سامان کی لسٹیں  بن رہی ہیں۔ بیگ اور تھیلے  تیار کئے  جا رہے  ہیں۔ کوئی آ رہا ہے  کوئی جا رہا ہے۔ کسی کا کوئی مشورہ کسی کی کوئی رائے۔ ایک خاتون نے  گھر والی کو احرام ہدیہ کیا۔ میرے  ایک دوست نے  اپنی بیٹی کی طرف سے  احرام کے  لئے  پانچ سو روپے  ہدیہ کئے۔ ہماری ایک بزرگ ہیں  انہوں  نے  مکہ،مدینہ کے  کبوتروں  کے  دانے  کے  لئے  پیسے  دئیے۔ ان کی دیکھا دیکھی بڑی بیٹی نے  بھی کبوتروں  کے  دانے  کے  لئے  کچھ رقم اپنی والدہ کی مٹھی میں  دی۔ عجیب گہماگہمی تھی۔ دعاؤں  کی درخواستیں  اور سلام کے  پیغام دئے  جا رہے  تھے۔ مولانا عبدالکریم صاحب بڑی دور سے  ملنے  کے  لئے  آئے۔ بھائی اشتیاق صاحب جب بھی ملتے  مسکرا کر کہتے  بھول نہیں  جانا۔ حافظ عبد القیوم صاحب نے  ہاتھوں  کو بوسہ دیتے  ہوئے  فرمایا دربارِ رسالتﷺ میں  اس فقیر کا سلام عرض کر دینا۔ جو ملتا دعا و سلام کو کہتا۔ ایک صاحب کو میں  نے  کہا بھئی مجھے  یاد نہیں  رہتا آپ مجھے  رقعہ لکھ دیں۔ پھر میں  اپنی یادداشت کے  لئے  جو بھی پیغام دیتا اس کا نام ڈائری میں  لکھ لیتا۔ مجھے  اپنی یادداشت پہ اعتبار نہیں  لیکن عقیدت مندوں  کی دعاؤں  میں  مجھے  بوقت دعا و سلام خود بخود سب کے  نام اور پیغام یاد آ گئے۔ یہی نہیں  بلکہ ایسے  بہت سے  یاروں  اور پیاروں  کے  چہرے  سامنے  آئے  جنہیں  فوت ہوئے  یا بھولے  ہوئے  مدتیں  بیت چکی تھیں۔ ایک دن میں  نے  حدیث میں  پڑھا کہ حج کو جاتے  وقت لوگوں  سے  ملنا چاہئے۔ وقت کم تھا۔ مگر جس جس سے  ہو سکا میں  نے  اس سے  ملاقات کی اور قبولیت کے  لئے  دعا کی درخواست کی۔ گھر والی نے  بھی ہمسایوں  سے  فرداً فرداً ملاقات کی۔ ہم ملاقاتوں  میں  اور بچے  سامان تیار کرنے  میں  لگے  رہے۔

سامان کے  متعلق تو عام طور پر ضروری سامان لے  جانے  کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ مگر یہ ضروری سامان بھی اتنا ہو جاتا ہے  کہ ہم جیسے  بوڑھوں  کے  لئے  اس کا سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔ احرام،کپڑے،دریاں، چادریں،چپلیں،پلیٹیں  وغیرہ کافی بوجھ ہو جاتا ہے۔ میں  نے  بچوں  سے  کہا ایسی چیزیں  جو وہاں  سے  مل سکتی ہیں  انہیں  پیک کرنے  کی ضرورت نہیں۔ اس کے  باوجود ایک بڑا بیگ اور پی آئی اے  کی طرف سے  دئیے  گئے  دو چھوٹے  بیگ سامان سے  بھر گئے۔ ایک گلے  میں  لٹکانے  والا چھوٹا بیگ تھا جس میں  پاسپورٹ،ٹریول چیک اور دوسرے  ضروری کاغذات تھے۔ اس بوجھ کے  علاوہ بڑی ذمہ داری اس مفلوج مریضہ کی تھی جو ابھی پوری طرح صحت یاب نہیں  ہوئی تھی۔ مگر جب تک حاجی کیمپ کے  اندر داخل نہیں  ہوئے  مجھے  اس بوجھ کا احساس نہیں  ہوا کہ ابھی تک اس بوجھ کو دوسرے  سہارے  ہوئے  تھے۔

 

الوداع

 

ہماری فلائٹ کی تاریخ پندرہ جنوری اور وقت دو بج کر دس منٹ تھا۔ ہم نے  سارے  عزیز و اقارب اور دوست احباب کو یہی وقت بتایا تھا۔ پی۔ آئی۔ اے  والوں  نے  چودہ تاریخ کی شام آٹھ بجے  پہنچنے  کی تاکید کی تھی۔ ہمارا خیال تھا کہ آٹھ بجے  رپورٹ کر کے  گھر آ کر آرام سے  سو جائیں  گے۔ اور صبح آرام سے  تیار ہو کر کیمپ پہنچ جائیں  گے۔ شکر خدا کا کہ تیرہ تاریخ کو احرام لیتے  وقت کسی صاحب نے  بتا دیا تھا کہ روانگی چودہ پندرہ کی درمیانی رات کے  دو بج کر دس منٹ پر ہے۔ سوچودہ تاریخ کی شام کو کھانا کھانے  کے  بعد مع اہل و عیال آٹھ بجے  ہم حاجی کیمپ پہنچ گئے۔

حاجی کیمپ کے  باہر ایک دفعہ زادِ راہ کا جائزہ لیا تو تمام ضروری چیزیں  موجود تھیں  ایک چیز جو اصل زادِ سفر ہے  اس کا احساس نہیں  کہ وہ کس درجہ کی تھی۔ وہ چیز کیا ہے ؟وہ تقویٰ ہے۔

 

جاندار موت

 

جاندار موت یقیناً حیران کن عنوان ہے۔ مگر سچ پوچھیں  تو مجھے  اس سے  بہتر عنوان نہیں  سوجھ رہا۔

حاجی کیمپ کے  باہر سائبان کے  نیچے  میں  اپنی پوری زندگی اور  پوری دنیا کے  ساتھ کھڑا تھا۔ مگر جیسے  ہی گیٹ کے  اندر داخل ہوا میں  دنیا سے  اور دنیا مجھ سے  جدا ہو گئی۔ اور یہی تو موت ہے۔ بھائی بہنیں،بیٹے  بیٹیاں،عزیز و اقارب،دوست احباب سب سانس لیتے  رشتے  سانس لیتے  رشتوں  سے  چھوٹ جائیں  تو اسے  کیا کہیں  گے۔ جو تھوڑی سی دنیا میرے  ساتھ تھی وہ بھی مفلوج، بوجھ، ذمہ داری۔ باہر کی دنیا سے  ہمارا رابطہ بالکل کٹ چکا تھا۔ صرف گلاب کے  تازہ پھولوں کے  ہار جن میں  محبت کی مہک اور خون کا رنگ تھا ہمارے  سنگ سنگ تھے۔ مگر ایک وقت آیا کہ یہ سنگت بھی ٹوٹ گئی۔ کہ احرام باندھنے  کے  بعد مادی رشتوں  سے  کٹ کر روحانی خوشبوؤں  اور رنگوں  کی جنت کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔

مگر………….

جنت کا سفر………….

جنت کا سفر کوئی آسان سفر نہیں ہے۔ کٹھن آزمائشوں  اور مشقتوں  کا سفر ہے۔ ہم تو بوڑھے  اور ناتواں  ہیں  ہم نے  نوجوانوں  اور تواناؤں  کی توانائیوں  کو تھکتے  ہانپتے  دیکھا ہے۔

یہ شہادت گہہ الفت میں  قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے  ہیں  مسلماں  ہونا  (اقبال)

 

زادِ سفر

 

حضور پاکﷺ کے  فرمانِ مبارک کا مفہوم ہے  کہ حج کا ثواب بقدرِ مشقت ہے۔ بیشک  اللّٰہ  کی راہ میں  مشقت آتی ہے۔ اور مشقت کی صعوبت کو برداشت کرنے  کی اہلیت  اللّٰہ  تبارک و تعالیٰ عطا فرماتے  ہیں۔ اللّٰہ  کے  راستے  میں  مشکلات پیش آتی ہیں۔ مگر جو مشکلات کا خالق ہے  وہ حل المشکلات بھی ہے۔ وہ مشکلات اس لئے  پیدا کرتا ہے  کہ آدمی کو اس حقیقت کا احساس ہو جائے  کہ  اللّٰہ  مشکل کشا ہے۔ بیشک ہر مشکل کے  بعد آسانی ہے۔ ان باتوں  کا یقین ہو تو سفر آسان رہتا ہے۔ اللّٰہ  کی راہ میں  صبر،تحمل، برداشت،حلم اور تقویٰ اصل زادِ راہ ہے۔ ان امور کا تعلق ظاہر سے  نہیں  باطن سے  ہے۔ عام ماحول میں  یہ چیزیں  نایاب ہیں۔ اس لئے  حج پر روانہ ہونے  سے  پہلے  چند روز  اللّٰہ  کی راہ میں  صالحین کی صحبت میں  رہ کر گذارے  جائیں  تو ذہن صاف اور دل پاک ہو جاتا ہے۔ ذہن اور دل کو صاف کرنے  کے  لئے  چند صفات کا خیال رکھنا بہت مفید ہے۔

ہر عمل کلمے  کے  یقین،نفس کے  مجاہدے،فضائل کے  شوق،حضورﷺ کے  طریقے، اللّٰہ  کے  دھیان اور اللّٰہ  کو راضی کرنے  کے  جذبے  کے  ساتھ کیا جائے۔

کلمے  کے  یقین سے  مراد یہ ہے  کہ ہر قسم کا ہونا صرف  اللّٰہ  تعالیٰ کے  ارادے  سے  ہوتا ہے۔ ماضی حال اور مستقبل کے  حالات و واقعات کے  پیچھے   اللّٰہ  تعالیٰ کا امرِ کُن کار فرما ہے۔ اور اللّٰہ  کے  امر کے  بغیر غیر سے  کچھ نہیں  ہوتا۔ اس بات کو دل میں  بٹھانا ضروری ہے۔ اپنے  فکر و عمل کو اس فکر کے  تابع کرنا۔ ہر عمل کے  دوران اس بات کا دھیان رہے  کہ  اللّٰہ  دیکھ رہا ہے۔ اللّٰہ  سن رہا ہے۔ اللّٰہ  ہمارے  ساتھ ہے۔ کلمہ طیبہ کے  پہلے  حصے  لا الہ الا اللّٰہ  کا یہی مفہوم و تقاضا ہے۔ اور دوسرے  حصے  یعنی محمد رسول اللہ کا تقاضا یہ ہے  کہ ہر عمل میں  حضورﷺ کی اتباع کا لحاظ رکھا جائے۔ اصل میں  دین تو حضورﷺ کی اداؤں  کی نقل کا نام ہے۔ جو حضورﷺ کے  طریقے  پر چلے  گا دونوں  جہانوں  میں  کامیاب رہے  گا اور جو غیروں  کے  طریقوں  پر چلے  گا دونوں  جہانوں  میں  ناکام و نامراد رہے  گا۔

آدمی فطری طور پر حریص ہے۔ یہ وہی عمل کرتا ہے  جس میں  اسے  کچھ فائدہ نظر آتا ہے۔ دین کے  معاملے  میں  بھی اس کا یہی رویہ کارفرما ہے۔ چنانچہ ہر عمل کے  اجر و ثواب کو بار بار سن کر دل میں  اس کے  حصول کی تمنا پیدا کی جائے  اور دل کو ان فضائل پر یقین کرنے  پر مائل کیا جائے۔ دل کو مائل کرنے  کے  لئے  بار بار فضائل کا سننا سنانا ضروری ہے۔ دین کے  ہر عمل کا تقاضا و مقتضاء  اللّٰہ  کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس لئے  جو نیکی بھی کی جائے  وہ  اللّٰہ  کو راضی کرنے  کے  جذبے  سے  کی جائے۔ اس لئے  کہ  اللّٰہ  کو وہی عمل منظور ہے  جو خالص اس کی رضا کے  لئے  کیا جائے۔ اور جو عمل مخلوق کی خوشنودی کے  لئے  کیا جائے  وہ مردود ہے۔ اللّٰہ  کی رضا کے  لئے  اگر ایک کھجور بھی خرچ کی جائے  تو اس کا بڑا اجر ہے۔ مگر دنیا کو دکھانے  کے  لئے  پہاڑوں  جتنا صدقہ کر دیا جائے  تو اس کا ذرہ برابر ثواب نہیں۔ ریا کا بڑے  سے  بڑا عمل بھی رد کر دیا جاتا ہے۔

نفس کے  مجاہدے  سے  مراد ہے  کہ جہاں  تک ممکن ہو اپنے  تقاضوں  کو دبا کر صبر  و تحمل سے  مناسکِ حج ادا کئے  جائیں۔ اپنی ضروریات پر دوسروں  کی ضروریات کو ترجیح دی جائے  کہ ایثار و قربانی کا یہی تقاضا ہے۔ غصہ،حسد،کینہ وغیرہ سے  دل کو پاک رکھنے  کی کوشش کی جائے۔ نہ صرف اپنی،اپنے  اہل و عیال،ملک و قوم بلکہ پورے  عالم کے  انسانوں  کی فکر ہو۔ خاص طور پر امتِ محمدیہﷺ میں  اخوت و محبت کی دعائیں  کی جائیں۔ گروپ لیڈر کا حکم ماننے  کی اہلیت پیدا کی جائے۔ اس لئے  کہ جس نے  امیر کی مانی اس نے  نبیؐ کی مانی اور جس نے  نبیؐ کی مانی اس نے   اللّٰہ  کی مانی۔ اس کے  علاوہ ہر عمل باہمی مشورہ سے  سرانجام دینے  کی عادت ڈالی جائے۔ اپنے  نفس کو لایعنی باتوں  سے  بچانے  کی عادت ڈالنا ہے۔ لایعنی کے  ذریعے  شیطان اصل مقصد سے  ہٹا کر دوسری باتوں  میں  الجھا دیتا ہے۔ آدمی  کو ذکر و عبادت یعنی مناسک و اعمال سے  ہٹا کر فضول باتوں  یعنی گپ بازی یا غیبت جیسی باتوں  میں  لگا دیتا ہے۔ حاجی بیت الحرام سے  نکل کر بازار میں  گم ہو جاتا ہے۔ آدمی حاجی کے  بجائے  تاجر بن جاتا ہے۔ دین کا نہیں  دنیا کا تاجر۔ حج کا تقاضا تو یہ ہے  کہ دنیا سے  بے  رغبتی پیدا کی جائے  اس دنیا کے  متعلق روایت ہے  کہ”دنیا مردار ہے  اسے  چاہنے  والے  کتے  ہیں ” اس کا مفہوم پنجابی شاعر میاں  محمد صاحب نے  اس طرح بیان فرمایا ہے :۔

“ایہہ دنیا زن حیض پلیدی طالب اس دے  کتے ”

(اس دنیا کی مثال حیض و نفاس کی پلیدی کی سی ہے  اور اس کو چاہنے  والوں  کی مثال کتوں  کی سی ہے۔)

ایک اور موقع پر میاں  محمد بخش صاحب فرماتے  ہیں :۔

دانش منداں  دا کم ناہیں  دنیا تے  چت لاناں

اس و وہٹی سو خاوند کیتے  جو کیتا سو کھاناں

جس چھڈی ایہہ بچڑے  کھانی اوہو سگھڑسیاناں

ایسی ڈین دے  نال محمدؐ کاہنوں  عقد پڑھاناں

(اصحاب دانش دنیا میں  دل نہیں  لگایا کرتے۔ اس لئے  کہ دنیا کی مثال ایک بے  وفا بیوی کی ہے  جس نے  ایک کے  بجائے  لاکھوں  سے  یارانہ لگا رکھا ہو۔ سو عقل کا تقاضا یہی ہے  کہ اس کو چھوڑ دیا جائے۔ یہ تو ایک ڈائن ہے  سواس سے  عقد کرنا درست نہیں)

تقویٰ کا تقاضا ہے  کہ حرص و ہوس سے  دل کو پاک رکھا جائے۔ زبان سے   اللّٰہ  کے  سوا کسی سے  سوال نہ کیا جائے  اور نہ ہی دل میں  سوال کا خیال لایا جائے۔ اور خرچ کے  معاملے  میں  اعتدال کا راستہ اختیار کیا جائے  فضول خرچی اور کنجوسی سے  حتی الامکان بچا جائے۔ بغیر اجازت کسی کی چیز استعمال نہ کی جائے۔ نفس کے  مجاہدہ کے  لئے  کم کھانا، کم سونا، کم بولنا بہت مفید ہے۔ دل کی حضوری اور پورے  ذوق و شوق سے  مناسک ادا کرنا ضروری ہے۔ اور فارغ اوقات میں  ذکر و عبادت اور دین کے  مسائل و اعمال سیکھنا سکھانا بہت مفید ہے۔ اس کے  علاوہ دوسروں  کی خدمت کرنا بھی بہت بڑا عمل ہے۔ کہا جاتا ہے  کہ عبادت سے  جنت اور خدمت سے  خدا ملتا ہے۔ نفس کے  مجاہدہ کے  لئے  یہ عمل بہت مفید ہے۔ اس عمل سے  طبیعت میں  حلیمی اور مسکینی پیدا ہوتی ہے۔ تکبر اور بڑائی کا نشہ اتارنے  کے  لئے  خدمت اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔

یہ چند باتیں  ان باتوں  کا خلاصہ ہیں جو میں  نے  کتابوں  میں  پڑھیں،صالحین سے  سنی اور اپنی کتاب “جنت کی راہگذر”میں  تحریر کی ہیں۔ میں  نے  اپنی تربیت کے  لئے  تین امور کو پیشِ نظر رکھا ہے۔ پہلے  نمبر پر ایمان دوسرے  نمبر پر ماننا اور تیسرے  نمبر پر مرنے  کی تربیت۔

لَاکاسفر

 

سفرِ حجاز میں  ہمت،حوصلے  اور جوانمردی کی ضرورت ہے۔ یہ سفر ایمان و عمل کا امتحان ہے۔ ہمارا امتحان حاجی کیمپ میں  داخل ہوتے  ہی شروع ہو گیا۔ میرے  ایک ہاتھ میں  بڑا سا بیگ اور دوسرے  میں  بیگم کا ہاتھ تھا۔ میں  چھوٹا بیگ اٹھانے  کو تھا کہ ایک قلی نے  اٹھا کر ریڑھی پر رکھ لیا۔ اس نے  میرے  ہاتھ کا بیگ بھی لے  کر ریڑھی پہ لا دلیا۔ میں  اس کی نصرت سے  خوش ہوا۔ معاً خیال ہوا اسے  کچھ ہدیہ بھی تو دینا ہو گا۔ اب میرے  پاس پاکستانی کرنسی نہیں  تھی۔ میں  نے  باہر کھڑے  بیٹوں  کو آواز دی تینوں  کی جیبوں  میں  جتنے  جتنے  پیسے  تھے  مجھے  تھما دئیے۔ نہ انہوں  نے  گنے  نہ میں  نے  حساب کیا۔ حساب کتاب کی فرصت کہاں۔ قلی سامان لے  کر آگے  آگے  رواں  ہوا اور ہم اس کی اتباع میں  پی۔ آئی۔ اے  کے  ہال تک پہنچے۔ قلی مزدوری وصول کر کے  مزید مزدوری کے  لئے  واپس چلا گیا۔ اب میں  اور میرا بوجھ تنہا رہ گئے۔ سوائے   اللّٰہ  کے  کوئی ساتھی یا سہارا نہ رہا۔ مخلوق کی نفی اور خالق کا اثبات شروع ہو گیا۔ کلمہ کی تفہیم ہونے  لگی۔ معرفت کا سفر شروع ہو گیا۔

 

“عجب چیز ہے  لذتِ آشنائی”

 

اہلیہ محترمہ ابھی اٹھنے  بیٹھنے  کے  قابل نہیں  ہوئی۔ مجھے  پی۔ آئی۔ اے  کے  قوانین اور آداب کا علم نہیں۔ جہاز کی سواری کا تجربہ نہیں۔ اور پھر مشیر یا  راہنما بھی کوئی نہیں۔ اکیلے  کا سفر ہے۔ جیسے  موت کا سفر۔ جیسے  قبر میں  سوالات کا سلسلہ ہوتا ہے  اسطرح ہال میں  داخل ہوتے  ہی سوال و جواب اور جانچ پڑتال کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ میں  نے  کندھوں  کا بوجھ اتار کر زمین پر رکھا۔ اہلیہ کو سامان کے  پاس بٹھایا اور لائن میں  کھڑا ہو گیا۔ ایک اہلکار نے  بیگ چیک کر کے  دوسرے  طرف پھینک دیا۔ میں  نے  بیگ کو تالا لگا کر پاسپورٹ اور ٹکٹ وغیرہ چک کرایا۔ بڑا بیگ عملہ کے  سپرد کر دیا اور چھوٹا بیگ جس میں  احرام وغیرہ تھے  وہ کندھوں  پہ لٹکا کر اوپر کے  ہال میں  چلے  گئے۔ یہاں  محلے  کے  ایک ساتھی سے  ملاقات ہوئی۔ دل خوش ہوا کہ چلو کوئی تو ساتھ دے  گا۔ مگر  اللّٰہ  کی رضا کہ وہ دوسری طر ف توجہ نہیں  ہونے  دیتا۔ وہ کہتا ہے  کہ مجھ پر توکل اور بھروسہ رکھو۔ میں  ہی مددگار ہوں۔ میں  ہی ساتھی ہوں۔ چنانچہ حج کے  دوران یا اس کے  بعد ان سے  دوبارہ ملاقات نہیں  ہوئی۔ PIA نے  مستورات کے  احرام پہلے  دے  دئیے  تھے۔ مردوں  کو احرام روانگی کے  وقت دینے  کو کہا تھا۔ میں  اہلیہ کو بٹھا کر احرام لینے  گیا تو واپسی پر وہ تنہا بیٹھی میرا انتظار کر رہی تھی۔ باقی ہال خالی  ہو رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ سارے  حاجی گاڑیوں  میں  سوار  ہو رہے  ہیں۔ میں  اہلیہ کو لے  کر گاڑی میں  سوار ہوا تو سیٹیں  پُر ہو چکی تھیں۔ ہم دونوں  درمیان میں  کھڑے  ہو گئے۔ دو حاجیوں  کے  ساتھی پیچھے  رہ گئے  تھے  انہوں  نے  سیٹیں  خالی کیں  توہم ان پر بیٹھ گئے۔ ……. تھوڑی سی آزمائش آئی  اللّٰہ  نے  دور فرما دی…….آنے  والے  مرحلوں  میں  بھی یہی تجربہ ہوتا رہا۔ مسئلہ پیدا ہوا…  حل ہو گیا۔ کس نے  پیدا کیا ؟…  اللّٰہ  نے …کس نے  حل کیا؟…  اللّٰہ  نے۔

رات کے  اندھیرے  میں  کن کن مراحل سے  گذرے  صحیح یاد نہیں۔ ائرپورٹ میں  داخل ہوتے  ہی چیکنگ کا تھکا دینے  والا چکر شروع ہو گیا۔ کبھی اس گیٹ پر کبھی اس دروازے  پر۔ مختلف راستوں،دروازوں اور میزوں  پر سے  ہوتے  ہوئے  جب ائرپورٹ کے  بڑے  ہال میں  پہنچے  تو بدن تھکن سے  چور اور سر درد سے  چکرا رہا تھا۔ تھوڑی دیر کے  بعد چائے   بسکٹ سے  تواضع کی گئی۔ روانگی کے  لمحے  کی انتظار ہونے  لگی۔ تھوڑی دیر بعد مائیک پر احرام باندھنے  کی ہدایات سن کر لوگوں  نے  احرام باندھنا شروع کر دئیے۔

 

ماننا

 

حج کا آغاز احرام باندھنے  اور حج و عمرہ کی نیت کرنے  سے  ہوتا ہے۔ اس آغاز سے  مسلمان کے  ایمان کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ ایمان کیا ہے ؟ اللّٰہ  اور اس کے  رسولﷺ کے  احکام بے  سوچے  سمجھے  آنکھیں  بند کر کے  ماننا۔ ماننے  کے  بارے  میں  ایک حکایت یاد آ رہی ہے۔

ایک دن محمود غزنوی کے  دل میں  آیا کہ اپنے  مصاحبین کی آزمائش کرنا چاہئیے۔ اس نے  وفاداری کا دعویٰ کرنے  والوں  کو بلایا اور ایک قیمتی ہیرا ان کے  سامنے  رکھ کر توڑنے  کا حکم دیا۔ سب نے  عرض کیا حضور یہ قیمتی ہیرا جو کہ آپ کو محبوب ہے  ہم اسے  کیسے  توڑ سکتے  ہیں۔ آخر میں  ایاز جو کہ حقیقی وفادار تھا اسے  کہا گیا تو اس نے  بغیر کچھ سوچے  سمجھے  ہیرا توڑ دیا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا۔ اس قصہ سے  معلوم ہوتا ہے  کہ اصلی قیمتی چیز مالک کا حکم ہے۔ اس سلسلے  میں  ایک حدیث کا مفہوم عرض کرتا ہوں :۔

ایک صحابی ؓ نماز پڑھ رہے  تھے۔ حضورﷺ نے  انہیں  آواز دی۔ انہوں  نے  جواب نہ دیا۔ حضورﷺ نے  پھر پکارا پھر بھی انہوں  نے  نماز نہیں  توڑی۔ جب نماز سے  فارغ ہوئے  تو حضورﷺ نے  فرمایا میری پکار کا جواب کیوں  نہیں  دیا۔ اصحابیؓ نے  نماز کا عذر پیش کیا تو حضورﷺ نے  فرمایا کیا تجھے   اللّٰہ  کے  حکم کا پتہ نہیں  کہ جب  اللّٰہ  یا اس کا رسولﷺ بلائے  تو ہر حال میں  اس کا جواب دو۔

 

مرنا

 

احرام سفید رنگ کی دو چادریں  ہیں  ایک اڑھائی گز لمبی اور سوا گز چوڑی۔ یہ تہبند کے  طور پر ناف کے  اوپر باندھی جاتی ہے۔ اسی سائز کی دوسری چادر اوپر اوڑھ لی جاتی ہے۔ احرام باندھنے  سے  پہلے  غسل یا وضو ضروری ہے۔ احرام باندھ کر احرام کی نیت سے  سر ڈھانپ کر دو نفل پڑھنے  ہوتے  ہیں۔ نفل پڑھ کر عمرہ کی نیت کرنا ہوتی ہے۔

میں  احرام کے  لئے  وضو کرنے  لگا تو گلے  سے  لپٹے  سینے  سے  چمٹے  گلاب تڑپنے  لگے۔ اے  حاجی! کیا ہمیں  اپنے  سینے  سے  جدا کر دو گے ؟

ہاں !

کیوں ؟

مجبوری ہے !

کیا مجبوری ہے ؟

معلوم نہیں۔ بس حکم ہے !

کس کا حکم ہے ؟

اللّٰہ،رسولؐ کا۔

میں  نے  لرزتے  ہاتھوں،تڑپتے  جذبوں  سے  رنگ و بو کا قلادہ اتار کر بیگ میں  رکھ لیا اور سفید کفن زیب تن کر لیا۔ ہاں !یہ احرام کفن کی علامت ہے۔ کفن آخرت کا لباس ہے۔ تومیں  اور میرے  ساتھی آخرت کی طرف رواں  ہونے  والے  ہیں۔ تو کیا ابھی جو غسل یا وضو کیا ہے  وہ میرا آخری غسل ہے۔ یہ خوبصورت لباس جو ابھی میں  نے  تن سے  جدا کیا ہے  کیا یہ مجھے  دوبارہ نصیب نہیں  ہو گا۔ عجیب بات ہے۔ اللّٰہ  جی نے  مجھ سے  سب کچھ چھڑا دیا۔ گھر بار،اہل و عیال،دوست احباب،گلاب سب کچھ چھڑا دیا۔ آخر میں سلا ہوا سوٹ ایک پردہ تھا یہ بھی اتار دیا۔ مجھے  ننگا کر دیا۔ …… تومیں  اب ننگا ہوں۔ بالکل ننگا….. ننگا….. جیسے  سفید کپڑے  میں  لپٹا بچہ…..  ہاں  تو!….. میں  سفید لبادے  میں  لپٹا معصوم بچہ ہوں۔ ایک نوزائیدہ بچہ….. اور بچہ تو صغیرہ و کبیرہ گناہ سے  پاک ہوتا ہے۔ تومیں  پاک ہوں۔ میں  معصوم ہوں۔

عجیب محویت تھی۔ چند لمحوں  کی کیفیت کا کیف مربوط جملوں  میں  بیان نہیں  ہو سکتا۔ اس خود کلامی سے  یقین ہو گیا کہ واقعی میرا رب مجھے  پاک کرنے  جا رہا ہے۔ میرے  لئے  اہلیہ کی بیماری باقاعدہ ایک امتحان تھی۔ ان کے  لئے  اٹھنا بیٹھنا مشکل تھا۔ گھر میں  تو بچے  بچیاں  یہ فرائض ادا کر رہے  تھے۔ ان کو وضو طہارت کرانا میرے  لئے  بڑا مسئلہ تھا۔ اللّٰہ  کی مہربانی ہے  کہ وہ ہر مرحلہ  پر دستگیری فرماتا رہا۔ انہوں  نے  بڑی مشکل سے  وضو کیا۔ احرام باندھا۔ بیشک عورتوں  کا احرام سادہ ہوتا ہے۔ مگر سرکو ڈھانپنے  والے  لبادہ کی ڈوریاں  وغیرہ باندھنا تو عورتوں  کا کام ہے۔ عورتیں  بہت تھیں  مگر شرم کے  مارے  میں  کسی سے  کہہ نہیں  سکا۔ جیسے  تیسے  ہو سکا میں  نے  خود احرام پہنا دیا۔ میں  پہلے  عرض کر چکا ہوں  کہ ہمیں  ٹریننگ لینے  کا موقع نہیں  ملا۔ حالانکہ یہاں  راولپنڈی میں  بہت سی جگہوں  پر حج کی ٹریننگ کے  پروگرام  ہو رہے  تھے۔ راولپنڈی سے  ملحقہ گاؤں  سہام کے  ایک بابو شفقت قریشی صاحب ہیں۔ وہ اس سلسلے  میں  بہت متحرک ہیں۔ جب تمام حاجی احرام زیب تن کر چکے  تو بابو صاحب بھی احرام باندھ کر آ گئے  اور آتے  ہی فرمانے  لگے

اے  حاجیو!

بلند آواز سے  تلبیہ پڑھ کر اس بابے  کو خوش کر دو ساتھ ہی انہوں  نے  بلند آواز میں  پکارنا شروع کر دیا

لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ  لَبَّیْکَ ط لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ  لَکَ لَبَّیْکَ ط اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ط لَا شَرِیْکَ لَکَO

میں  حاضر ہوں،یا اللّٰہ  میں  حاضر ہوں،میں  حاضر ہوں  تیرا کوئی شریک نہیں  میں  حاضر ہوں بے  شک تمام تعریفیں  اور نعمتیں  تیرے  لئے  ہیں  اور ملک بھی، تیرا کوئی شریک نہیں

ہال لبیک کی آواز سے  گونج اٹھا۔ تھوڑی دیر بعد تمام حاجی جہاز میں  سوار ہونے  کے  لئے  قطار بنا کر کاغذات دکھا کر رن وے  کی طرف روانہ ہوئے۔ ائرپورٹ کی عمارت سے  نکلتے  ہوئے  پی۔ آئی۔ اے  نے  ہر حاجی کو ایک ایک چھتری مہیا کی۔ عمارت کے  باہر گاڑی کھڑی تھی۔ باری باری تمام حاجی گاڑیوں  کے  ذریعے  جہاز تک پہنچنے  لگے۔

 

ہوا کے  دوش پر

 

جہاز کا عملہ بڑی حکمت سے  حاجیوں  کو سیٹوں  پر بٹھا رہا تھا۔ کارڈوں پر سیٹوں  کے  نمبر لکھے  ہوئے  تھے۔ مگر زیادہ رش کی وجہ سے  جس کو جہاں  سیٹ ملی بیٹھ گیا۔ حاجیوں  کی بدنظمی کو کنٹرول کرنا بڑے  صبر و تحمل کا کام ہے۔ جہاز کے  عملے  نے  بڑی حکمت سے  پُر جوش حاجیوں  کو مطمئن کیا۔ ان کی مہارت و تجربہ کی داد دینا پڑتی ہے۔

جہاز کی روانگی سے  پہلے  اعلان ہوا کہ تمام سواریاں  حفاظتی پیٹیاں  باندھ لیں۔ ہمارے  جیسے  اکثر لوگ اس عمل سے  ناواقف تھے۔ جہاز کے  عملے  نے  تدریسی انداز میں  پیٹیاں  خود باندھیں۔ حفاظتی ہدایات کے  ساتھ ہی ٹھیک رات کے  دو بج کر دس منٹ پر جہاز نے  زمین کا ساتھ چھوڑ دیا۔ وطن بھی چھوٹ گیا۔ لو!اِک اور بت ٹوٹ گیا۔ علامہ اقبال نے  فرمایا تھا:۔

“ان تازہ خداؤں  میں  بڑا سب سے  وطن ہے ”

مگر ایک وطن ہی بت نہیں۔ کئی اور لات و منات ہیں۔ انسان کے  اندر ہر وقت بت گری و بت شکنی کا عمل جاری رہتا ہے۔ جیسے  ہی جہاز نے  اٹھتے  ہوئے  ہچکولا لیا۔ اندر سے  ایک نیا بُت نمودار ہوا۔ کریہہ،بدصورت،بہت خوفناک بت،خوف کا خوفناک عفریت۔ حادثے   کا بُت ہولناک خوف،موت کا خوف۔ خوف ہی خوف۔ میں  خوفناک ہیولوں  کے  حصار میں  مقید ہراساں  و ترساں  حفاظتی پیٹی سے  چمٹا ہوا تھا کہ بابو شفقت نے  لبیک کا نعرہ بلند کیا۔ جہاز تلبیہ کی گونج سے  بھر گیا۔ لا شریک لک کے  ساتھ لاخوف علیھم و لا ھم یحزنون کا نورانی تصور تحلیل ہونے  لگا۔ زبان تلبیہ کی حلاوت اور دل لا خوف کی تسلی سے  مطمئن ہونے  لگا۔ پھر اقبال یاد آ گیا:۔

تندیِ بادِ مخالف سے  نہ گھبرا اے  عقاب

یہ تو چلتی ہے  تجھے  اونچا اڑانے  کے  لئے

ساتھ ہی میاں  محمد کا شعر بھی یاد آ گیا:۔

مرد ونگارے  مول نہ ہارے  پھردے  نیں  شیر مریلے

مرداں  اتے  آندے  رہندے  اوکھے  سوکھے  ویلے

(مردانِ حق مصائب و آرام کو اسطرح للکارتے  ہیں  جیسے  ببر شیر شکار کرنے  کے  لئے  دھاڑتا ہے۔ مردوں  پر تو تنگی اور آسانی کے  حالات آتے  رہتے  ہیں۔ وہ ہر حال میں  راضی برضا رہتے  ہیں۔ گھبراتے  نہیں)

بڑی بیماری،چھوٹی بیماری کو بھلا دیتی ہے۔ اس طرح بڑا خوف چھوٹے  خوف کو دبا لیتا ہے۔ لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون(ان کے  لئے  کوئی خوف ہے  نہ غم) مگر کن کے  لئے  ؟وہ جو اللّٰہ  کے  دوست ہیں۔ کیا ہم  اللّٰہ  کے  دوست ہیں ؟ اللّٰہ  ہی جانے ؟ہم تو بہت ریاکار اور گناہگار ہیں۔ استغفر اللّٰہ! اللّٰہ  معافی!اے   اللّٰہ  تو ہی محافظ ہے۔ میں  نے  آیت الکرسی پڑھنا شروع کر دی۔ اب چھوٹے  خوف پر بڑا خوف حاوی ہو گیا۔ معاً اپنے  پہلو میں  بیٹھے  ہمسفر کا خیال آیا کہ وہ تو صنفِ نازک ہے۔ نہ صرف نازک بلکہ بیمار بھی ہے۔ میں  نے  اس کے  چہرے  پہ خوف و ہراس کے  آثار دیکھ کر ذکر کرنے  کا مشورہ دیا۔ اب مجھے  ذکر کے  ساتھ ہم سفر کی فکر تھی۔ اس کی دلجوئی کے  لئے  کبھی ذکر کے  اور کبھی حج کے  فضائل بتاتا۔ جب کبھی جہاز ہچکولا کھاتا بے  ساختہ  اللّٰہ  کا نام زبان پہ آ جاتا۔ دل دھک سے  رہ جاتا۔ دھچکا نیچے  کو اور دل اوپر کو آ جاتا۔ ذکر تیز ہو جاتا۔ سچ ہے  خدا اور ماں  مصیبت میں  ہی یاد آتے  ہیں۔ جہاز کے  اندر ملگجی روشنی اور باہر گھپ اندھیرا تھا۔ آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو جگمگاتے  ستارے  آنکھ مچولی کرتے  نظر آتے۔ میں  نے  ہمراہی کو جگمگاتے  جہان کی دعوت دی تو قرآن پاک کی آیت زینا السماء الدنیا بمصابیح(اور ہم نے  آسمان دنیا کو چراغوں  سے  مزین کیا)یاد آ گئی۔ اس یاد سے  خوف کا اندھیرا چھٹنے  لگا۔ جلال خداوندی کے  ساتھ ساتھ جمال خدا کا نور جگمگانے  لگا۔ ادھر جہاز کی بڑی سکرینوں  پر حج بیت  اللّٰہ  کے  مناظر روشن ہونے  لگے۔ دل ادھر متوجہ ہو گیا۔ تھوڑی دیر میں  سوندھی سوندھی خوشبو کا احساس ہوا۔ دائیں  بائیں  دیکھا تو لوگ سامنے  سیٹوں  پر لگے  ہوئے  ٹیبل سیدھے  کر رہے  ہیں۔ اور سامنے  سے  جہاز کا عملہ کھانا لا رہا ہے۔ ہم اگرچہ شام کا کھانا کھا کر گھر سے  چلے  تھے  مگر کھانوں  کی خوشبو سے  پھر سے  اشتہاء پیدا ہو گئی۔ میری بائیں  طرف اہلیہ اور دائیں  طرف ہماری طرح کا سیدھا سادا حاجی۔ نہ ہمیں  نہ اسے  کسی کو بھی سمجھ نہیں  آ رہی تھی کہ یہ جو کچھ ہمارے  سامنے  رکھا جا رہا ہے  اسے  کیسے  استعمال کریں۔ میں  دائیں  بائیں  دیکھ کر ٹرے  نما ڈبے  کو کھولا تو اندر سے  خوشبو کا بھبکا اٹھا۔ اشتہاء مزید بڑھ گئی۔ پلاسٹک کور سے  چمچے  نکال کر مزے  مزے  سے  کھانا کھایا۔ کھانے  کے  بعد ہم دوبارہ آسمان کی طرف متوجہ ہوئے۔ آسمان کا نظارہ کرتے  کرتے  دور اُفق پر زمین پر چمکتے  بجلی کے  قمقمے  دکھائی دئیے۔ روشنیوں  کے  سنگم پر زمین و آسمان گلے  ملتے  دکھائی دے  رہے  تھے۔ جہاز پوری رفتار سے  آگے  بڑھ رہا تھا۔ زمینی روشنیوں  کی کشش نے  توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ ہمارے  نیچے  پتہ نہیں  کون سا شہر تھا۔ روشنیوں  سے  جگمگ کرتا شہر۔ اس شہر کے  وسط میں  مکعب نما ایک عمارت خانہ کعبہ کی طرح دکھائی دے  رہی تھی۔ بڑی خوبصورت۔ روشنیوں  سے  جگمگاتی کعبہ جیسی عمارت۔ وہ کعبہ جو ہم نے  تصویر میں  دیکھا تھا۔ کعبہ جو تصور میں  بنا رکھا تھا۔ بالکل اسی تصور کی تصویر ہمارے  سامنے  تھی۔ میں  نے  جذباتی ہو کر اپنی ہمراہی کو انگلی سے  اشارہ کرتے  ہوئے  کہا کہ وہ دیکھو وہ کیا ہے۔ اس نے  بھی میرے  خیال کی تائید کر دی۔ ہم بڑی عقیدت سے  اس تصوراتی کعبہ کو دیکھ رہے  تھے۔ اور جہاز اپنی رفتار سے  آگے  بڑھ رہا تھا۔ چند ہی لمحوں  میں  یہ تصوراتی منظر آنکھوں  سے  اوجھل ہو گیا۔ مکہ شریف پہنچ کر جب اصلی کعبہ کی زیارت کی تو تصوراتی کعبہ نفی ہو گیا۔ مگر اس نفی کے  باوجود جو خوشی تصوراتی کعبہ کو دیکھنے  سے  ہوتی تھی وہ بھولنے  کی نہیں۔

 

سرزمین حجاز پر

 

عرب شریف توں  صدقے  جانواں  جتھے  تلیاں  حضورؐ ٹکایاں

پلکاں  نال بہاریاں  دینواں  کراں  خاک دیاں  سرم سلایاں

(سرزمینِ حجاز پر صدقے  قرباں  کہ یہاں  حضورﷺ نے  پاؤں  مبارک لگائے۔ اس زمین کی زیارت نصیب ہو تو میں  پلکوں  سے  جھاڑو دوں گا اور خاک حجاز کو سرمہ بنا کر آنکھوں  میں  لگاؤں گا۔)

 

“سنبھل اے  دل محبت میں  بڑا نازک مقام آیا”

 

جدہ پہنچنے  تک تصوراتی کعبہ کا تصور حرزِ جاں  رہا۔ طیارہ جدہ ائر پورٹ پہ  اترا تو عقیدت و محبت کا امتحان شروع ہو گیا۔

یہ وہ سرزمین ہے  جہاں   اللّٰہ  کا گھر اور  اللّٰہ  کے  محبوب کا روضۂ مقدس ہے۔ یہ نبیوں  کی سرزمین اور ولیوں  کی سجدہ گاہ ہے۔ بڑے  بڑے  قطب ابدال اس سرزمین کی زیارت کو ترستے  ہیں۔ مگر زیارت مقدر سے  ہوتی ہے۔ زہد  و تقویٰ،علم و مرتبہ سے  نہیں  ہوتی۔ بڑے  بڑے  سرمایہ دار نیکوکار  اللّٰہ  کے  گھر اور نبیؐ کے  درکی زیارت کی تمنا لئے  بیٹھے  ہیں  مگر انہیں  بلاوا نہیں  آ رہا۔ ایک ہم جیسے  بے  مایہ، بے  کس و لاچار گناہ گار فقیر ہیں  کہ بغیر وسیلوں  کے  بلائے  جا رہے  ہیں۔

یہ بڑے  کرم کے  ہیں  فیصلے  یہ بڑے  نصیب کی بات ہے

ہم نے  جیسے  ہی سرزمین حجاز پہ قدم رکھا دل بے  ساختہ پکار اٹھا   ؂

خس خس جتنا قدر نئیں  میرا خالق نوں  وڈیایاں

میں  گلیاں  دا روڑاکوڑا محل چڑھایا سائیاں

(مجھ بے  قدر کی قیمت خس و خاشاک سی بھی نہیں۔ صفت و ثنا اور بڑائی تو صرف خالق و مالک کو زیبا ہے۔ میں  تو گلیوں  کا روڑا کوڑا ہوں۔ میرے  مولا تو نے  اس کم مایہ پر کرم کمایا ہے  اور سرفرازی نصیب فرمائی۔)

میرے  مولا!میں  اس کرم کے  کہاں  تھا قابل۔ یہ تو تیری کرم نوازی ہے  کہ آج پیارے  نبی ؐ کے  پیارے  دیس کی زیارت نصیب ہوئی……

پیارے  قارئین!

یہاں  سے  آزمائش کا سفر شروع  ہو رہا ہے۔ خیال رہے  کہ میں  خود بوڑھا شوگر کا مریض ہوں اور میرے  ساتھ میری اہلیہ فالج کی مریضہ ہے۔ اس کو وضو طہارت کرانا میرے  لئے  سب سے  بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے  علاوہ بھی بہت سے  مسائل درپیش ہیں۔ مگر یہ سب مسائل  اللّٰہ  نے  اس طرح حل فرمائے  جس طرح معجزہ ہوتا ہے۔ بیشک وہ حل المشکلات ہے۔ مشکل کشا ہے۔ اس نے  ہر مرحلہ پر مشکل کشائی فرمائی۔ میں  اگر کہیں  کہیں  مشقت و مشکل کا ذکر کر رہا ہوں  تو اس کی مشکل کشائی کی یاد کے  لئے۔ شکرانِ نعمت کے  لئے،کہ اس کی مشکل کشائی کا تجربہ مجھے  لمحہ بہ لمحہ ہو تا رہا ہے۔

جدہ ائر پورٹ پر جہاز اترا تو نمازِ فجر کا وقت تنگ ہو گیا تھا۔ ہم دونوں  کو طہارت وضو اور تقاضا درپیش تھا۔ جب بیسیوں  عورت مرد فارغ ہو چکے  تومیں  نے  ایک خاتون کو تعاون کی گذارش کی۔ اس نے  میری ہمسفر کو وضو کرایا۔ ہم نے  معلوم نہیں  نماز وقت پر پڑھی یا قضا پڑھی  اللّٰہ  معاف کرے۔

جملۂ معترضہ کے  طور پر ایک بات سارے  سفر میں  مسلسل کھلتی رہی کہ انگریزی طرز کے  طہارت خانوں  میں  طہارت کیسے  کی جائے۔ کھڑی سیٹ پر تقاضا کرنا ایک توہم جیسے  ناواقف لوگوں  کے  لئے  عجیب تجربہ ہے۔ دوسرے  مجھے  آج تک یہ سمجھ نہیں  آ سکا کہ سیٹ سے  اٹھنے  کے  بعد رانیں  اور استنجا کی جگہیں  کیسے  پاک رہ سکتی ہیں۔ میں  نے  بہت سوچا،سمجھ نہیں  آئی۔ آخر شلوار اتار کر تقاضا سے  فارغ ہو کر استنجا کرتا۔ اس کے  علاوہ مجھے  بدن پاک کرنے  کا کوئی طریقہ نہیں  سوجھا۔ اگر کسی قاری کو بہتر طریقہ معلوم ہو تو وہ اس فقیر کو اس سے  ضرور مطلع فرمائے۔

خیر!

ہم نماز سے  فارغ ہوئے  تو حاجی حضرات اور عملہ والے  ہمیں  کچھ ناراضگی کے  لہجے  میں  بلا رہے  تھے۔ ویٹنگ روم کے  بغلی دروازے  سے  ملحقہ ہال میں  سارے  حاجی بیٹھے  پاسپورٹ چیک کروا رہے  تھے۔ یہاں  سے  پھر اسلام آباد ائرپورٹ کی طرح چیکنگ کا چکر شروع ہو گیا۔ اپنا بڑا بیگ جو حاجی کیمپ میں  عملہ کے  سپرد کیا تھا وہ وصول کیا۔ باہر نکلتے  وقت یہ بیگ پھر جدہ کے  عملہ نے  رکھ لیا۔

جدہ شہر کو فضا سے  دیکھا ہے۔ زمین سے  نہیں۔ فضا سے  دیکھیں  تو ایسے  لگتا ہے۔ جیسے  اسلام آباد۔ جگمگ کرتا خوبصورت روشنیوں  کا شہر۔ ائرپورٹ سیمنٹ بجری سریے  کے  بجائے  پلاسٹک کی قسم (فائر گلاس)کے  مضبوط کپڑے  کی چھتریوں  سے  بنی ہوئی ہے۔ ان چھتریوں  کی چھاؤں  میں  دفاتر ہیں۔ اور یہیں  بڑے  بڑے  دیو ہیکل جہاز کھڑے  ہوتے  ہیں۔ غالباً یہ اپنی نوعیت کی واحد ائر پورٹ ہے۔ یہاں  پاکستان ہائی کمیشن کا عملہ مصروفِ عمل ہے۔ حاجی صاحبان سیمنٹ کی کرسیوں  پر بیٹھے  ناشتہ کر رہے  ہیں۔ ہم نے  بھی بیگ سے  پی آئی اے  کی طرف سے  دئیے  گئے  سامانِ ضیافت سے  ناشتہ کیا۔ مجھے  علم نہیں  تھا کہ ٹرالیاں  سامان لا کر کہاں  رکھ رہی ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے  کہ میری طرح بہت سے  حاجیوں  کو صرف سامان کا ہی نہیں  بہت سی دوسری باتوں  کا علم نہیں۔ ہمیں  کوئی گروپ لیڈر یا معلم کا نمائندہ نظر نہیں  آیا۔ سارے  اپنی اپنی ذہانت سے  کام کر رہے  ہیں۔ ایک دوسرے  سے  پوچھ پوچھ کر اور دیکھ دیکھ کر بغیر عربی انگریزی جانے  کام چلا رہے  ہیں۔ میں  حیران ہوں  یہ پینڈو لوگ جو اردو بھی نہیں  بول سکتے  کتنے  ذہین ہیں  جو ایک اجنبی ماحول میں  اپنا کام چلا رہے  ہیں۔ …… ہم کسی فرد یا حکومت سے  گلہ نہیں  کرتے۔ اس لئے  کہ ہمارا آخری جہاز تھا۔ اور سفرِ حج میں تو

“آہ نہ کر لبوں  کو سی عشق ہے  دل لگی نہیں ”

ٹرالیوں  والے  سامان لا کر پھینک رہے  تھے۔ لوگ اپنی اپنی نشانیوں  کے  ذریعے  پہچان کر سامان لے  رہے  تھے۔ ہمارا تو ایک بیگ تھا وہ بھی مل گیا۔ اسلام آباد ائرپورٹ والوں  نے  ایک پرچہ سا دیا تھا شائد اسے  بورڈنگ کہتے  ہیں۔ یہاں  پاکستانی حلقہ کے  ایک چھوٹے  سے  دفتر میں  بھی پاسپورٹ کی چیکنگ ہوئی تھی۔ یاد نہیں  کس چیز کی چیکنگ ہوئی۔ اتنا یاد ہے  کہ یہاں  کا عملہ سعودی تھا۔ یہاں  ایک صاحب سے  میں  نے  اپنے  بیگ کے  متعلق پوچھا تو اس نے  بڑی رعونت سے  کہا۔ عربی!انگلش! لَا اردو۔ میں  اپنی قومی زبان کی توہین سن کر جذباتی سا ہو گیا۔ مگر کیا کرتا۔ قہرِ درویش بر جانِ درویش۔ اے  عربو!اگر گونگا کہنا ہے  تو انگریزی کو بھی گونگا کہو!مگر یہ جواب دینے  والا عرب نہیں  تھا۔ اس کا لباس عربی مگر لہجہ عجمی تھا۔ مکہ مدینہ میں  تو اللّٰہ  کی مہربانی سے  عملی طور پر اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ بلکہ باب فہد کے  سامنے  کا بازار تو معلوم ہوتا ہے  اردو بازار ہے۔ حرم شریف کے  اندر زیادہ تر عملہ اردو خواں  ہے۔

جدہ ائرپورٹ پر پی۔ آئی۔ اے  کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ اب کمیشن کی ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے۔ اور کمیشن نے  اپنی ذمہ داری معلمین کے  سپرد کی ہوتی ہے۔ ہمیں  تو صرف ان کارندوں  کی پہچان ہے  جو سفید رنگ کے  ایپرن پہنے  ہوئے  حجاج کی راہنمائی فرما رہے  تھے۔ ان کے  ایپرن پر پاکستان کے  جھنڈے  کا نشان دیکھ کر بڑی تسکین ہوتی ہے۔ وطن بیشک بُت ہے۔ مگر یہ محبت فطری ہے۔ حضورﷺ جب ہجرت فرما رہے  تھے  تو مڑ مڑ کر مکے  کو دیکھتے  تھے۔ حضورﷺ نے  ایک عظیم مقصد کے  لئے  وطن کی نفی کی تھی۔ اس وقت حضورﷺ کے  امتی بھی حضورؐ کی اتباع میں  وطن کی نفی کر کے   اللّٰہ  تبارک و تعالیٰ کے  گھر کی زیارت کو جا رہے  ہیں۔

 

جدہ سے  مکہ

 

کعبہ کس منہ سے  جاؤ گے  غالبؔ

شرم تم کو مگر نہیں  آتی

کیوں  نہیں   اللّٰہ  سے  شرم نبیؐ سے  حیا بھی آتی ہے۔ مگر شرم کا بھرم رکھنے  والے  نے  اپنے  کرم سے  بلایا ہے  تو آ رہے  ہیں۔ وہ ستا رہے۔ غفار ہے۔ پردہ پوش ہے۔ یہ اس کا کرم ہے  کہ اس نے  ہماری بخشش کی سبیل پیدا کر دی ورنہ

کہاں  میں کہاں  یہ مقام   اللّٰہ  ! اللّٰہ

میرے  سر پہ گناہوں  کی گٹھری مگر دل میں  حاضری کا شوق ہے۔ میں  خود نہیں  جا رہا۔ مجھے  بلایا گیا ہے۔ اللّٰہ  کے  گھر کی کشش مجھے  کشاں  کشاں  کھینچ رہی ہے۔ مجھے  ہی نہیں  اس کو بھی جس کا مستقل وظیفہ ہے۔

“مینوں  سوہنے  نے  بلایا میں  مدینے  چلی آں ”

لیکن ہمارے  عصیاں  سے  لتھڑے  ہوئے  جسم مدینے  کے  قابل نہیں۔ پہلے  وہ ہمیں  پاک کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے  وہ اس گھاٹ لئے  جا رہا ہے  جہاں  دل دھلتے  ہیں۔ مدینے  سے  پہلے  ہم مکہ جا رہے  ہیں۔ مکہ جو کہ ایک بھٹی ہے۔ کٹھالی ہے۔ کٹھالی کہ جس میں  پتھر کو لوہا اور لوہے  کو سونا بنایا جاتا ہے۔ نہیں !نہیں پارس بنایا جاتا ہے۔ پارس کہ جس سے  جو چیز مس کرے  سونا بن جائے۔ سوہماری پہلی اور اصلی منزل مکہ معظمہ ہے۔

زوال آفتاب کے  بعد جدہ سے  مکہ روانگی کی تیاری شروع ہو گئی۔ پاکستانی عملہ نے  مکاتب کی ترتیب سے  سامان بسوں  پر لدوانا شروع کر دیا۔ ہمارا مکتب نمبر۳۴ اور بلڈنگ نمبر ۴۲۲۷ تھی۔ سامان لوڈ کرنے  کے  بعد ایک صاحب نے  ہمارے  پاسپورٹ اور واپسی کے  ٹکٹ لے  لئے۔ کچھ تردد ہوا کہ یہی دو چیزیں  تو زیادہ اہم ہیں۔ یہ لوگ کہیں  گم نہ کر دیں۔ مگر تمام لوگ یہ چیزیں  جمع کروا رہے  تھے۔ اس لئے  زیادہ پریشانی نہیں  ہوئی۔ اس وجہ سے  بھی تسلی تھی کہ میں  نے  پاسپورٹ،ٹکٹ،ٹریول چیک کی رسید کی فوٹوکاپی اپنے  چھوٹے  بیگ میں  رکھی ہوئی تھی۔ اتنا ہی نہیں  بلکہ ایک ایک کاپی گھر چھوڑ آیا تھا۔ بچوں  کو مکتب نمبر اور بلڈنگ نمبر بھی لکھوا دیا تھا۔ یہ چھوٹی چھوٹی احتیاطیں  بعض موقع پر  مفید ثابت ہوتی ہیں۔

عصر کے  بعد ایک ایک کر کے  ہماری بسیں  جدہ سے  روانہ ہوئیں۔ دل میں  حضورﷺ کا پیارا دیس دیکھنے  کا بہت شوق تھا۔ جو کچھ پڑھا سنا تھا اس کی روشنی میں  دل میں  ایک نقشہ سا بنا ہوا تھا۔ سو اس تصور کی نظر سے  ارد گرد کا نظارہ کرنا شروع کیا۔ دل میں  حضورﷺ کے  زمانے  کی معاشرت اور معیشت دیکھنے  کی چاہت تھی۔ دل قدم بہ قدم خیر القرون کے  آثار کا متلاشی رہا۔ مگر نہ تو میرے  پاس دیکھنے  والی آنکھ تھی نہ نظر آنے  والا منظر میرے  تصور کی تصویر سے  مشابہت رکھتا تھا۔ گاڑی ایک صاف و شفاف سڑک پر صاف اور ہموار رفتار سے  جا رہی تھی۔ ہمارے  بائیں  ہاتھ بھی ایک کھلی اور ہموار شفاف سڑک تھی۔ اس پر بھی ٹریفک رواں  دواں  تھی۔ ہم مکہ کو جا رہے  تھے  اور وہ جدہ کی طرف آ رہی تھی۔ یہاں  ٹریفک کا اصول ہم سے  الٹ ہے۔ الٹ کا یہ مطلب ہے  کہ وہاں  کی ٹریفک کا اصول دائیں  ہاتھ چلنے  کا ہے۔ معلوم نہیں  وہ الٹ ہیں  یا ہم۔ اسلامی قانون تو راست روی ہے۔

جدہ سے  نکلتے  وقت چھوٹے  چھوٹے  کھجور کے  باغ نظر آئے  مگر کھلے  میں  جا کر سیاہ پتھریلے  ٹیلوں  اور پہاڑوں  کے  سوا کچھ نظر نہیں  آیا۔ میرے  تصور میں  عرب شریف کا زیادہ تر حصہ ریتلا اور صحرائی علاقہ ہے۔ مگر جدہ سے  مکہ یا مکہ سے  مدینہ کے  راستہ میں  مجھے  کہیں  بھی صحرا نظر نہیں  آیا۔ البتہ پہاڑیوں  اور ٹیلوں  کے  درمیان وسیع ریگزار ہیں۔ مگر ان ریگزاروں  کو صحرا نہیں  کہا جا سکتا۔ ان ریگزاروں  میں  کہیں  کہیں  جنگلی جھاڑیاں  دکھائی دیتی ہیں۔ ان جھاڑیوں  سے  چمٹے  ہوئے،سڑک کے  دونوں  طرف بکھرے  ہوئے  شاپنگ بیگوں کے  علاوہ اور کچھ نظر نہیں  آتا۔ راستے  میں  کہیں  کہیں  صنعتی کارخانے  بھی نظر آتے  ہیں۔ اس کے  علاوہ مکہ معظمہ تک کوئی قابلِ ذکر چیز نظر نہیں  آئی۔

 

مکہ—- حرم پاک

 

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دو حرمت والے  شہر ہیں۔ بہت سی احادیث سے  معلوم ہوتا ہے  کہ  اللّٰہ  تعالیٰ نے  تخلیق آسمان و زمین سے  پہلے  ہی مکہ معظمہ کو حرم قرار دے  دیا تھا۔ حضرت عبد اللّٰہ  بن عباسؓ کی روایت ہے :۔

قال رسول اللہﷺ یوم فتح مکہ اِنْ ھذا البلد حَرَمَہ اللہ یَوْم خَلق السمٰوٰت و الارض (الدلیل المختار)

سو حرمتِ حرم کی وجہ سے  حدودِ حرم میں  کسی کو قتل کرنا،شکار کرنا یا درخت کاٹنا منع ہے۔ یہ مقامِ امن ہے۔ قرآن پاک کی آیت کا مفہوم ہے ” جو شخص اس کے  (یعنی حرم کی حدود کے)اندر داخل ہو جائے  وہ امن والا ہو جاتا ہے “ایسا امن والا کہ حضرت عمرؓ فرماتے  ہیں

اگر میں  اپنے  باپ کے  قاتل کو بھی حرم میں  پاؤں  تو وہاں  اس کو ہاتھ نہ لگاؤں  یہاں  تک کہ باہر نکلے “(فضائل حج)

اس دار الامن میں  داخلے  کی صرف مسلمانوں  کو اجازت ہے۔ کفار و مشرکین کو اس پاک سرزمین پر قدم رکھنے  کی اجازت نہیں۔ کیونکہ  اللّٰہ  تعالیٰ نے  سورۃ توبہ میں  واضح حکم کے  ذریعے  حدود حرم میں  ان کے  داخلے  کو منع کر دیا ہے۔ مکہ معظمہ سے  تقریباً تئیس کلومیٹر پہلے  پولیس چوکی آتی ہے۔ یہاں  سڑک کے  اوپر بورڈ پر انگریزی میں  جلی حروف سے  لکھا ہوا ہے “صرف مسلمانوں  کے  لئے “یہاں  قرآن پاک رکھنے  والی رحل کی شکل کا پل بنا ہوا ہے۔

حرمین شریفین میں  مشرکین کے  داخلے  کی ممانعت کی وجہ یہ فرمائی کہ وہ ناپاک ہیں۔ ناپاکی سے  مراد ظاہری نہیں  بلکہ عقیدہ کی ناپاکی ہے۔ قرآن پاک میں  ہے  کہ  اللّٰہ  تعالیٰ شرک کے  علاوہ باقی تمام گناہ توبہ کے  ذریعے  معاف فرما دیتا ہے۔ اور شرک کیا ہے ؟  اللّٰہ  کے  غیر سے  توقعات باندھنا۔ اللّٰہ  کا غیر کوئی انسان یا بت ہی نہیں  بلکہ مال و دولت، جاہ و حشمت، حکومت برادری تمام مخلوق یا نقشے   اللّٰہ  کا غیر ہیں۔ شرک کا متضاد ہے  توحید۔ اور توحید کا سیدھا سادہ مفہوم ہے  کہ سب کچھ  اللّٰہ  کرتا ہے۔ اللّٰہ  کے  غیر سے  کچھ نہیں  ہوتا۔ ملک و مال،عہدہ و مرتبہ سب کچھ غیر ہے۔ سو ان سب سے  توجہ ہٹا کر صرف  اللّٰہ  تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے  کی ضرورت ہے۔ تلبیہ پڑھتے  وقت دل میں   اللّٰہ  کے  حضور حاضری کا تصور جمانے  کی کوشش کرنا چاہئے۔ بیشک حمد و ثنا، نعت اور بادشاہی  اللّٰہ  کے  لئے  ہے۔ اور اس کا کوئی شریک نہیں۔

حدودِ حرم میں  داخل ہوتے  وقت تمام حاجی مل کر تلبیہ پڑھ رہے  تھے۔ دلوں  کا معاملہ تو اللّٰہ  ہی جانتا ہے۔ زبان سے  سارے   اللّٰہ  کی یکتائی اور توحید کا اقرار کر رہے  تھے۔ سارے  پوری توجہ سے  پکار رہے  تھے۔ اے   اللّٰہ  میں  حاضر ہوں۔ اے   اللّٰہ  میں  تیری ربوبیت کا اقرار کرتا ہوں۔ بیشک تو لاشریک ہے۔ تیرا کوئی ہمسر نہیں  تو ذات و صفات میں  یکتا ہے۔ زبانیں   اللّٰہ  کی صفت و ثنا میں  مصروف تھیں  اور نگاہیں  مکہ شریف کی زیارت میں  محو تھیں۔ ہم مکہ کی عمارتوں،سڑکوں  اور پہاڑیوں کو عقیدت سے  دیکھنے  کا تکلف کر رہے  تھے  اور آنکھیں  کیمرے  کے  عدسہ کی طرح تصویر کشی کر رہی تھیں۔ دل اور آنکھوں  کی دید میں  بہت اختلاف تھا۔ دل کہہ رہا تھا یہ  اللّٰہ  کا شہر ہے۔ آنکھیں  کہہ رہی تھیں  یہ تو ہمارے  شہر جیسا ہی ایک شہر ہے۔ چند منٹ گذرے  تھے  کہ ہمارا مستقر آ گیا۔

ہمارے  مکتب کا نمبر چونتیس اور بلڈنگ کا ۴۲۲۷تھا۔ یہ بلڈنگ ایک پہاڑی ڈھلوان پر واقع ہے۔ یہاں  تک پہنچتے  پہنچتے  اچھا خاصا صحت مند آدمی بھی تھک جاتا ہے۔

اور ہم دونوں  تو بیمار تھے  اور بوڑھے  بھی۔ یہ  اللّٰہ  تعالیٰ کا احسان ہے  کہ اس نے  تمام مناسک میں  ہماری خصوصی مدد فرمائی۔

مکہ شریف پہنچنے  پر ایک اور کڑا ہاتھوں  پر پہنا دیا گیا۔ اس پر پرنٹ شدہ عبارت کا مفہوم ہے  مطوفی حجاج جنوبی ایشیا۔ مکتب نمبر۳۴،مطوف سعود احمد محمد سقطی۔ سیکٹر جرول۔

ٹیلیفون 5604161۔ اس عبارت کا کارڈ گلے  میں  آویزاں  کرنے  کو دے  دیا گیا۔ اس کے  علاوہ اس بلڈنگ کے  حدود اربعہ کی معلومات میرے  علم میں  نہیں  اس لئے  کہ میری توجہ معلومات کے  بجائے  مناسک پر مرکوز رہی ہے۔ کارڈ پر جرول،التسیر بجوار مدرسہ تحفیظ القرآن کی عبارت بھی لکھی ہوئی تھی۔ ہمارے  قریب کی مسجد سے  ملحقہ عمارت پر تحریر ہے  دار عائشہ بنت سعدؓ بن ابی وقاص۔ اس تحریر سے  عہدِ نبویؐ کے  نقوش افقِ شعور پہ ابھر نے  لگے …حضرت سعدؓبن ابی وقاص… اسلام کا عظیم سپاہی… حضورﷺ کا صحابیؓ… تاریخ اسلام کا درخشندہ ستارہ… مگر تاریخ…اسلام کی تاریخ!وہ کہاں  ہے ؟میں  تاریخ کا طالب علم نہیں۔ مگر تاریخ اسلام میری ضرورت ہے۔ اس کے  بغیر میں  قرآن سمجھ سکتا ہوں  نہ حدیث۔ میں  قرنِ اول… خیرالقرون دیکھنا چاہتا ہوں ….. مگر وہ تو ماضی کے  پردہ میں  پوشیدہ ہے۔ میں  اس پوشیدہ ورثہ کے  آثار دیکھنا چاہتا ہوں۔ مگر یہ آثار مجھے  نظر نہیں  آ رہے ……. جناب رشید نثار کہتے  ہیں  کہ آپ نے  تاریخ دیکھی ہے۔ جغرافیہ دیکھا ہے۔ ماضی دیکھی ہے۔ …… میں  کیا بتاؤں ….. مجھے  ماضی نظر نہیں  آیا…. میں  نے  حال دیکھا ہے۔ مگر خستہ حالی کی حالت میں۔ اس حال میں  مجھے  ماضی کی جھلک نظر آئی ہے  تو صرف حرمین شریفین کے  اندر…. باہر…. اور باہر سے  مجھے  غرض نہیں۔ میں  تو حج کے  لئے  آیا ہوں  اور حج احاطۂ حرمین شریفین کے  اندر ہے۔ سو حاجی کو حرم شریف کے  اندر ہی رہنا چاہئیے۔

 

عمرہ و حج

 

حج کی تین قسمیں  ہیں۔

(۱)افراد:۔ جو حج بالکل اکیلا کیا جائے،عمرہ ساتھ نہ ہو۔

(۲)قران:۔ حج اور عمرہ دونوں  کو ملا کر کیا جائے۔ دونوں  کی اکٹھی نیت کر کے  پہلے  عمرہ اور پھر حج بغیر احرام کھولے  کیا جائے۔

(۳)تمتع:۔ حج کے  ساتھ عمرے  کا فائدہ اٹھانا یعنی حج کے  مہینوں  میں  پہلے  عمرہ کیا جائے  اس کے  بعد احرام کھول دیا جائے۔ پھر اسی سال حج کا احرام باندھ کر مقررہ ایام میں  حج کیا جائے۔

ہم نے  تمتع کا احرام باندھ رکھا ہے۔ احرام کی پابندیوں  سے  نکلنے  کے  لئے  کعبہ شریف کا طواف،صفا مروہ کی سعی اور حلق و قصر جیسے  مناسک ضروری ہیں۔ ہمیں  جو کمرہ ملا ہے  اس میں  چار آدمیوں  کے  لئے  بیڈ لگے  ہوئے  ہیں۔ مگر ہمارے  علاوہ کوئی تیسرا ساتھی نہیں  آیا۔ تھکے  ہارے  سوچ رہے  ہیں  یا رب کیا کریں۔ دائیں  بائیں  کے  لوگ سامان رکھ کر طواف و سعی کے  لئے  حرم شریف چلے  گئے  ہیں۔ ہمارے  اندر بھی وہی جوش و جذبہ ہے  مگر حرم شریف جانے  کی ہمت نہیں۔ بڑا مسئلہ میرے  لئے  ہمسفر کی بیماری ہے۔ بیماری کے  باوجود ان کا جذبہ طاقتور اور ارادہ قوی ہے۔ ان کے  اصرار پر ہم دونوں  حرم شریف کی طرف چل پڑتے  ہیں۔ ہماری رہائش گاہ شارع جبل کعبہ کے  نزدیک اور حرم شریف سے  تقریباً ایک کلومیٹر کے  فاصلے  پر ہے۔ ہم پوچھتے  پچھاتے  بڑی مشکل سے  حرم شریف پہنچتے  ہیں۔ طواف شروع کرتے  ہیں  مگر دوسرے  ہی چکر میں  اہلیہ کا سر چکرا گیا۔ ٹانگیں  لڑکھڑانے  لگیں۔ گھبرا کر ملتجی نظروں  سے  ملتمس ہوئی مر جاؤں  گی۔ مجھے  ڈاکٹر کلیم  اللّٰہ  طوری کا مشورہ یاد آ گیا کہ جان بچانا فرض ہے۔ مجبوراً بغیر طواف و سعی کے  واپس آنا پڑا۔ اس وقت کی کیفیت کو الفاظ میں  بیان نہیں  کیا جا سکتا۔ ہم دونوں  میاں  بیوی احرام کی پابندیوں  میں  جکڑے  ہوئے  ہیں۔ جب تک مناسکِ عمرہ سے  فارغ نہیں  ہوتے  ایک دوسرے  سے  ہنسی مذاق بھی نہیں  کر سکتے۔ میں  سلا کپڑا نہیں  پہن سکتا۔ وہ بھی منہ نہیں  ڈھانپ سکتی۔ میں  سر پر کپڑا نہیں  لپیٹ سکتا۔ ہم خوشبو نہیں  لگا سکتے۔ بال نہیں  اکھاڑ سکتے۔ سر میں  خارش ہو تو ڈر ہے  کوئی بال نہ اکھڑ جائے  ہاتھ کے  نیچے  کوئی جوں  آ کر نہ مر جائے۔ فکر رہتی ہے  کہیں دم نہ دینا پڑے۔

ہمارے  لئے  تو سنت قربانی کے  علاوہ بھیڑ بکری یا گائے  اونٹ وغیرہ خریدنا مشکل ہے۔

انسانی ذہن بھی عجیب کمپیوٹر ہے۔ خوشی غمی۔ دکھ سکھ ہر حال میں  مصروفِ عمل رہتا ہے۔ سوچنے  اور نہ سوچنے  کی باتیں  بھی سوچتا رہتا ہے۔ وقت بے  وقت سوچتا ہی رہتا ہے۔ بھلا مشقت و آزمائش کے  وقت کیا؟کیوں ؟جیسے  سوالات میں  الجھنا کوئی ضروری ہوتا ہے۔ کوئی ضروری نہیں۔ مگر اس بے  یقین کو شکوک و شبہات کے  بغیر کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ محکم احکام اور بین دلائل میں  فلسفیانہ نکتے  اور حکمتیں  تلاش کرتا رہتا ہے۔

میرا دماغ بھی کیا؟کیوں ؟کے  چکر میں  پڑا ہوا ہے۔ میں  احکام کو نفع نقصان کی ترازو میں  تول رہا ہوں۔ عقل کہہ رہی ہے  آخر یہ ساری بھاگ دوڑ کس لئے۔ اس طواف یا سعی کا کیا فائدہ ہے۔ اور پھر حالتِ احرام میں  حلال چیزوں  کی ممانعت میں  کونسی سی حکمت ہے ؟میں  تخمین و ظن اور وہم و گمان کی دلدل میں  مسلسل دھنسا جا رہا ہوں۔ شیطان نے  وساوس کے  جال میں  جکڑ رکھا ہے ……. دفعتاً دروازے  پر دستک ہوئی۔

کون؟

ا کرم(یہ ہماری بلڈنگ کا چوکیدار ہے۔ ہمارے  لئے  یہی رہبر،یہی معلم اور یہی معاون تھا۔ اس کو خوش رکھے  اس نے  اور اس کے  بعد جلال نے  ہمارا خصوصی خیال رکھا ہے)

کیا؟آپ کے  ساتھی آ گئے۔

میں  نے  دروازہ کھولا تو ایک باریش جوان میرے  سامنے  کھڑا تھا۔ ساتھ اس کی اہلیہ تھی۔ ہم نے  ان کی آمد پر  اللّٰہ  کا شکر ادا کیا۔ اس جوان کا نام بھائی نصیر خان مروت ہے۔ یہاں  راولپنڈی میں  پراپرٹی کا کام کرتے  ہیں۔ تبلیغ سے  لگاؤ رکھتے  ہیں۔ بہت سمجھ دار ہیں۔ انہوں  نے  مشورہ دیا حاجی صاحب آپ پہلے  اپنے  مناسک ادا کر کے  فارغ ہو جائیں۔ پھر  اللّٰہ  تعالیٰ ان کے  لئے  بھی کوئی سبب بنا دے  گا۔ بھائی نصیر صاحب کے  مشورہ کے  مطابق میں  طواف و سعی اور حلق (ٹنڈ)کروا کے  احرام کی پابندیوں  سے  آزاد ہو گیا۔

احرام کھولنے  پر دل مطمئن ہوا۔ کچھ سکون ہوا۔ حرم شریف کی نورانیت سے  وسواس کی ظلمت چھٹ گئی۔ وہم و گمان اور تخمین و ظن کی نفی ہو گئی۔ سیاہی دھل گئی۔ دماغ روشن اور دل پاک ہو گیا۔ حقیقت کھل کر سامنے  آ گئی۔ اللّٰہ  والوں  کا قول یاد آ گیا کہ:۔

دین کی حکمت ہے   اللّٰہ  رسول کا حکم ماننا۔ آنکھیں  بند کر کے  ماننا۔ بغیر دلیل کے  ماننا۔ اور جب آدمی مان لیتا ہے  تو اسے  ماننے  کا جو انعام ملتا ہے  وہ تصور میں  نہیں  سما سکتا۔

اپنے  اعمال کے  دوران اہلیہ کے  متعلق بھی سوچتا رہا۔ طواف و زیارت سے  فارغ ہو کر ویل چیئر کے  متعلق معلومات کرتا رہا۔ ڈیرے  پر آ کر اہلیہ کو لے  کر حرم پاک کی طرف چل پڑا۔ میرے  پاس صرف تیس ریال تھے۔ میں  نے  ٹریول چیک بھی ساتھ لے  لئے۔ راستے  میں  بینک کا پتہ کیا تو بینک نمازِ ظہر کی وجہ سے  بند ہو چکا تھا۔ (نماز کے  وقت بینک بند ہو جاتے  ہیں۔)حرم شریف کے  باہر باب فہد کی طرف ایک صرافہ کا دروازہ بند  ہو رہا تھا۔ دوسرے  صرافے  والے  بند کرنے  کی تیاری میں  تھے  میں  نے  ٹریول چیک پیش کئے  تو انہوں  نے  کیش کرنے  سے  انکار کر دیا۔ معاً خیال آیا کہ میرے  پاس عمانی ریال بھی ہیں۔ میں  نے  عرض کیا کیا عمانی تبدیل ہوتے  ہیں  ؟انہوں  نے  میری گذارش قبول کر کے  عمانی کے  بدلے  سعودی ریال عنایت فرما دئیے۔ کی مہربانی سے  مال کا مسئلہ حل ہوا۔ مگر کام مال سے  نہیں  ہوتے  اعمال سے  ہوتے  ہیں۔ ویل چئیر کے  متعلق پوچھتے  پوچھتے  ہم صفاء پر پہنچے  یہاں  بہت سے  عربی حضرات ویل چئیر لئے  سواریوں  کی انتظار میں  کھڑے  تھے۔ میں  نے  ٹوٹے  پھوٹے  الفاظ اور اشارے  کنائے  سے  اپنی غرض عرض کی انہوں  نے  طواف کرانے  سے  انکار کر دیا۔ ہم دونوں  میاں  بیوی تھک کر ایک ستون سے  ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ دل ہی دل میں   اللّٰہ  کی طرف متوجہ ہوئے  تو اس نے  ایک فرشتہ سیرت نوجوان کو ہماری مدد کو بھیج دیا۔ اس نوجوان کا نام عامر اور ملک انڈیا ہے۔ اس کا پیشہ انجنئیرنگ اور ملازمت سعودیہ کی ہے۔ اس نے  ہمیں  پریشان دیکھ کر تسلی دی۔ اوپر کی منزل میں  لے  گیا۔ دوچار ویل چئیر والوں  سے  بات کی مگر وہ تین سو ریال سے  کم نہیں  کر رہے  تھے۔ آخر ایک نوجوان دو سو ریال پر راضی ہو گیا۔ وہ حاجن کو لے  کر روانہ ہوا تو تھوڑی دیر کے  بعد مجھے  تقاضا تنگ کرنے  لگا۔ بڑا صبر کیا۔ فکر تھی کہ میرے  بعد اگر اہلیہ آ گئی تو وہ مجھے  کہاں  تلاش کرے  گی۔ دوسرے  مجھے  ٹائلٹ کی جگہ بھی معلوم نہ تھی۔ میرے  ساتھ کوئی ہوتا تو اس کو بٹھا کر چلا جاتا۔ میرے  پاس بیٹھے  ہوئے  تمام حاجی غیر محرم تھے۔ ان کی شکل و صورت سے  معلوم ہوتا تھا کہ ایرانی ہیں۔ میں  نے  ٹوٹی پھوٹی فارسی اور اشارہ سے  اسے  صورتِ حال سے  آگاہ کرنے  کی کوشش کی۔ وہ  اللّٰہ  کے  ولی بھی سر ہلاتے  رہے  میں  سمجھا کہ میرے  مسئلہ کو حاجی صاحب سمجھ گئے  ہیں۔ بعد کے  مشاہدات سے  معلوم ہوا کہ اس حاجی سے  مشابہت رکھنے  والے  ایرانی نہیں  ترکی ہیں۔ ….. مجھے  اپنی حماقت سے  ایک دانش کا نقطہ ملا کہ غرض مند بڑا خوش فہم ہوتا ہے۔ میں  فارغ ہو کر واپس آیا تو وہ صاحب کہیں  جا چکے  تھے  اور سوار اور سواری میرے  انتظار میں  کھڑے  تھے۔ انہیں  دیکھ کر میں  اپنی ساری پریشانی بھول گیا۔ اللّٰہ  کا شکر ہے  کہ حاجن صاحبہ کا عمرہ بھی ہو گیا۔

قارئینِ کرام!

یہ داستان میں  اپنی یاد دہانی اور تقویتِ قلب کے  لئے  سنا رہا ہوں۔ بیشک سفر حج میں  مشقتیں  ہیں۔ اللّٰہ  تعالیٰ اپنی قدرت دکھانے  کے  لئے  مشکلات پیدا فرماتے  ہیں  پھر اپنے  لطف و کرم کا احساس دلانے  کے  لئے  مشکلات حل فرماتے  ہیں۔ اللّٰہ  تعالیٰ نے  جتنا ظرف بنایا ہے  اتنی ہی آزمائش ڈالتے  ہیں۔ قوتِ برداشت سے  زیادہ بوجھ نہیں  ڈالتے۔ اور یہ آزمائش انسان کا ایمان پختہ کرنے  کے  لئے  ہے۔ انسان واضح طور پر محسوس کرتا ہے  کہ  اللّٰہ   ہی مشکل پیدا کرتا ہے۔ اور وہی مشکل حل کرتا ہے۔ وہی حل المشکلات ہے۔

 

حج۔۔۔ حقیقتِ حج___داستانِ عشق

 

حج محبوبِ حقیقی کا بلاوا ہے۔ اور حج کے  راستہ میں  وہ تمام مراحل پیش آتے  ہیں۔ جو درِ حبیب تک پہنچنے  کے  لئے  ضروری ہیں۔ محبوب کا تقاضا ہے۔

انہی پتھروں  پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ

میرے  گھر کے  راستے  میں  کوئی کہکشاں  نہیں (مصطفے ٰ زیدی)

سو راہِ محبت کوئی پھولوں  کی سیج یا مخمل کا بستر نہیں۔ یہ مشقتوں  اور تکلیفوں  کا سفر ہے۔ اس سفر میں  بہت مشکل مقام آتے  ہیں۔ ان مقامات کو عبور کرنا وصالِ یار کے  لئے  ضروری ہے۔ اگر عشق و محبت کے  حوالے  سے  دیکھا جائے  تو عاشق کے  لئے  راستے  کے  پتھر مخمل اور کانٹے  پھول ہوتے  ہیں۔ شمع پہ قربان ہونے  والے  پروانے  کو شعلے  پہ جلنے  کی جلن میں  نہ جانے  کیا لذت محسوس ہوتی ہے۔ کانٹوں  کی سولی پر سوار بلبل کو نجانے  کونسا نروان حاصل ہوتا ہے۔ اللّٰہ  جانے  یا بلبل۔ غالبؔ نے  کہا تھا!

کوئی میرے  دل سے  پوچھے  تیرے  تیرِ نیم کش کو

یہ خلش کہاں  سے  ہوتی جو جگر کے  پار ہوتا

میٹھی میٹھی جلن،خلش،درد،کسک،کرب….. یہی تو عاشق کا سرمایہ ہے۔ اور یہ سرمایہ آلام و مصائب جھیل کر ہی کمایا جا سکتا ہے۔

یہ عشق نہیں  آساں  بس اتنا سمجھ لیجو

اک آگ کا دریا ہے  اور ڈوب کے  جانا ہے

حضرت ابراہیمؑ جب آگ کے  سمندر میں  ڈالے  گئے  تو خلیل کا خطاب پایا۔ ہاں !

یاریاں  نبھانا آسان نہیں۔ ……. حج آسان نہیں۔ یہ سنت خلیل ہے۔ خلیل جن کے  ایمان و عشق کے  متعلق اقبال نے  کہا ہے

بے  خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں  عشق

عقل ہے  محوِ تماشائے  لبِ باب ابھی

آٹھ ذی الحجہ سے  بارہ ذی الحجہ تک ایامِ حج ہیں۔ آٹھویں  ذی الحجہ کی ظہر سے  نویں  کی نمازِ فجر تک منیٰ میں  قیام کر کے  نویں  کو وقوفِ عرفات کے  لئے  غروب آفتاب تک عرفات میں  وقوف کرنا ہے۔ نویں  اور دسویں  کی درمیانی رات مزدلفہ میں  گذارنا ہے۔ دسویں  تاریخ کو منیٰ واپس آ کر بڑے  شیطان کو کنکر مرنے  ہیں، پھر قربانی کرنا ہے،پھر سر کے  بال کٹوانا یا کتروانا ہے،پھر طواف زیارت کے  بعد واپس منیٰ آنا ہے  اور اگلے  روز یعنی یعنی گیارھویں  تاریخ کو چھوٹے،درمیانے  اور بڑے  شیطان کو رمی کرنا ہے،گذشتہ روز طوافِ زیارت نہیں  ہو سکا تو آج کیا جا سکتا ہے۔ اگلے  روز یہی مناسک دہرانے  ہیں۔

حج کے  ان پانچ دنوں  میں  تین دن مسلسل مناسک ادا کرنے  پڑتے  ہیں۔ مسلسل سفر اور شب بیداری اور ہجوم کی دھکم پیل کی وجہ سے  اچھے  خاصے  صحت مند افراد بھی نڈھال ہو جاتے  ہیں۔ واقعی یہ پانچ دن بڑی مشقت اور امتحان کے  ہوتے  ہیں  مگر  اللّٰہ  تعالیٰ کی مدد ہر حاجی کے  ساتھ ہوتی ہے۔ ہم جیسے  بوڑھے،مریض ناتواں  کو بھی جرات و حوصلہ اور طاقت عطا فرما دیتا ہے۔

حج کے  تین فرائض ہیں  (۱)احرام باندھنا(۲)عرفات کی حاضری(۳)طوافِ زیارت۔ باقی مناسک کی حیثیت سنن و  واجبات کی ہے۔

 

حکمتِ حج

حج کی حکمت حقیقت میں  تو اللّٰہ  اور  اللّٰہ  کے  رسولؐ کے  حکم کو بے  چون و چرا عشق و عقیدت کے  جذبے  سے  تسلیم کرنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ آدمی جب اپنے  عقل و فہم کو احکام کے  تابع کر دیتا ہے   اللّٰہ  تعالیٰ حکمت کے  دروازے  وَا کر دیتا ہے۔

حضورﷺ نے  عمر شریف کے  آخری ایام میں  حج فرمایا ہے۔ اسی حج کے  موقع پر  اللّٰہ  تعالیٰ نے  تکمیل دین کی خوشخبری سنائی تھی۔ اب گر حج کے  اعمال و مناسک کو اس حوالے  سے  دیکھیں  تویوں  محسوس ہوتا ہے  جیسے  حج پورے  دین کا نمونہ ہے۔ جدید زبان میں  اسے  دین کا ریفریشر کورس یا تربیتی کیمپ کہا جا سکتا ہے۔ حج وہ رکنِ دین ہے  جس میں  باقی ارکانِ دین یعنی کلمہ،نماز، زکوٰۃ (انفاق فی سبیل  اللّٰہ)اور روزہ (احرام کی صورت میں  حلال چیزوں  کو ترک کرنے)کی بھرپور مشق کی جاتی ہے۔

کلمہ لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ (اللّٰہ  کے  سوا کوئی عبادت کے  لائق نہیں  اور حضورﷺ اللّٰہ  کے  رسول ہیں)تو دین کی بنیاد ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے  کہ دین کی مثال ایک خیمہ کی سی ہے  جو پانچ ستونوں  پر کھڑا ہوا ہے۔ یہ پانچ ستون کلمہ، نماز،زکوٰۃ،روزہ اور حج ہیں۔ ان میں  کلمہ کی مثال درمیانی ستون کی سی ہے۔ اگر یہ ستون نہ ہو تو خیمہ کھڑا نہیں  رہ سکتا۔ اس کلمہ کی تفسیر علمائے  کرام توحید و سنت اور فلاسفہ و صوفیاء نفی اثبات جیسے  عنوانات کے  تحت کرتے  ہیں۔ تبلیغ والے  سیدھے  سادھے  الفاظ میں  کہتے  ہیں  کہ کلمے  کا مفہوم ہے  اللّٰہ   ہی سے  ہوتا ہے۔ اللّٰہ  کے  امر کے  بغیر غیر(مخلوق)سے  کچھ نہیں  ہوتا۔ اور دونوں  جہانوں  کی کامیابی حضرت محمدﷺ کے  نورانی طریقوں  میں  اور دونوں  جہانوں  کی ناکامی غیروں  کے  طریقوں  میں  ہے۔ اس عقیدے  کو دل میں  بٹھانا اور اس کے  تقاضوں  کو عملی طور پر پورا کرنا کلمے  کا مقصد ہے۔

کلمہ ایمان کی اساس ہے۔ اس کا تعلق دل سے  ہے۔ کلمے  کے  مفاہیم کو سمجھنا سوچنا اور اسے  اپنی ذات میں  جذب کرنا باطن کا تقاضا ہے۔ دین کا دوسرا رکن نماز ہے۔ یہ ظاہر کا تقاضا ہے۔ اعمال میں  سب سے  زیادہ اہمیت نماز کی ہے۔ کلمہ قلبی اور نماز عملی سپردگی کا نام ہے۔ اس کی اپنی حکمتیں  اور اپنے  فائدے  ہیں۔

تیسرا رکن زکوٰۃ  ہے۔ زکوٰۃ مالی قربانی کا نام ہے۔ آدمی کو فطری طور پر مال سے  محبت ہے۔ اس محبت کو  اللّٰہ  کی محبت پہ قربان کرنے  کے  لئے  زکوٰۃ  فرض کی گئی ہے۔

مذکورہ ارکان کے  علاوہ جو زائد ارکان ہیں  ان میں  اپنی اپنی حکمتیں  اور فوائد ہیں۔ ان میں  احکام کے  مطابق زندگی گذارنے  کی مشق کرائی جاتی ہے  اور حج کے  بقیہ مناسک میں  موت کی ریہرسل کرائی جاتی ہے۔ اس مشق میں  بھی اخلاصِ نیت، عشق و محبت،خشوع و خضوع جیسے  جذبے  کی تربیت کی جاتی ہے۔ بلکہ اس موقع پر تو ان جذبات کا اظہار عروج پر ہوتا ہے۔

حج کا آغاز نیت و نوافل کے  بعد گھر سے  رخصت ہونے  سے  ہی ہو جاتا ہے۔ یہیں  سے  مخلوق کی نفی اور خالق کے  اثبات کا آغاز ہو جاتا ہے۔ آدمی کو گھر بار،مال مویشی، بال بچوں، عزیز و اقارب سے  فطری طور پر محبت ہوتی ہے۔ اب محض  اللّٰہ  کو راضی کرنے  کے  لئے  یہ سب کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔ سو گھر سے  باہر قدم رکھتے  ہی مال و متاع اور رشتہ و ناتا کا بُت ٹوٹ جاتا ہے۔ مخلوق سے  ناتا توڑ کر اللّٰہ  سے  لو لگانے  کی تربیت شروع ہو جاتی ہے۔ پھر جب آدمی احرام باندھتا ہے  تو گویا وہ اپنے  ہاتھوں  اپنے  بدن پر کفن لپیٹ رہا ہے۔ اب محرم اور مردہ میں  بس سانس کا فرق رہ گیا باقی نہ مردے  کا پس ماندگان سے  کوئی رابطہ رہتا ہے  اور نہ محرم کا۔ حاجی کا سفر سفرِ آخرت سے  مشابہت رکھتا ہے۔ پھر منیٰ سے  عرفات،عرفات سے  مزدلفہ،مزدلفہ سے  پھر منی واپسی۔ غرضیکہ تمام مراحل پر ایمان و اعمال کی مشق و مظاہرہ مرنے  اور مرنے  کے  بعد کے  مراحل کی یاد دلاتے  ہیں۔

اگر مروجہ مزاج کو مدِ نظر رکھ کر دیکھیں  تو حج مسلمانوں  کا بین الاقوامی اجتماع ہے۔ جس میں  مسلمانوں  کی جمیعت اور اخوت و محبت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ اسلام نے  نظری طور پر جن امتیازات کو ختم کرنے  کی تعلیم فرمائی ہے۔ یہاں  اس کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے۔ مختلف ملکوں، نسلوں، رنگوں  اور طبقوں والے  آپس میں  ایک کنبہ کی صورت نظر آتے  ہیں۔ اس کے  علاوہ حج کے  اعمال میں  گذشتہ نبیوں  کی شریعتوں  کا عکس بھی جھلکتا نظر آتا ہے۔

 

شریعت؟طریقِ پیغمبراں

 

حج دین اسلام کا نمونہ ہے۔ اس نمونہ میں  ایمان و اعمال کا بدرجۂ اتم اظہار ہوتا ہے۔ ان اعمال کو اگر تاریخی تناظر میں  دیکھیں  تو معلوم ہوتا ہے  کہ نہ صرف حج بلکہ تمام اعمال پیغمبروں  یا ان کے  پیاروں  کے  طریق عبادت یا یوں  کہیے  ان کی اداؤں  کی پیروی ہے۔ نماز، روزہ، حج،زکوٰۃ  سب کچھ حضورﷺ کی اداؤں  کی نقل ہے۔ رمی، طواف،قصر،حلق اور قربانی وغیرہ  اللّٰہ  کے  پیاروں  کی قربانیوں  کی یاد ہے۔ وہ پیارے  جنہوں  نے  اپنا سب کچھ  اللّٰہ  کی رضا کے  لئے  قربان کر دیا۔ جنہیں  کوئی مشکل آڑے  نہیں  آئی۔ کوئی مصیبت انہیں   اللّٰہ  کی راہ سے  روک نہیں  سکی۔ وہ ہمتوں  اور حوصلوں  کے  پہاڑ تھے۔

جو رکے  تو کوہِ گراں  تھے  ہم، جو چلے  تو جاں  سے  گذر گئے

رہِ یار ہم نے  قدم قدم تجھے  یاد گار بنا دیا    (فیض)

حج تمام پیغمبروں  کی سنت ہے۔ حضورﷺ کی ذاتِ پاک میں   اللّٰہ  تعالیٰ نے  تمام پیغمبروں  کی صفات کو مجتمع کر دیا ہے۔ آپ جامع الصفات ہیں۔ آپؐ کے  اعمال میں  ہر نبی کے  عمل کا عکس نظر آتا ہے۔

حسنِ یوسفؑ، دمِ عیسیٰؑ،یدِ بیضا داری

آنچہ خوباں  ہمہ  دارند تو تنہا داری

کا حج تمام انبیاء کے  حج کا خلاصہ ہے۔ آپؐ خاتم الانبیاء ہیں۔ آپؐ کا ایک ایک عمل نمونہ ہے۔ صحابہ  کرامؓ نے  حضورﷺ کے  حج کے  اعمال کو اپنے  قلوب میں  محفوظ کر لیا پھر انہیں  اپنے  اعمال کے  ذریعے  زندہ کیا۔ آج جو دین قرآن و حدیث کی صورت میں  ہم تک پہنچا ہے  انہی کے  وسیلے  سے  پہنچا ہے۔

 

دین اسلام؟ اللّٰہ  کا حکم،نبیؐ کا طریقہ

 

دین کیا ہے ؟

اللّٰہ  کے  حکم کو نبی پاکؐ کے  طریقے  کے  مطابق ماننا۔ سو حج بھی اصل میں   اللّٰہ  کے  حکم کو رسول ؐ کے  طریقے  کے  مطابق ماننے  کا نام ہے۔ اللّٰہ  تعالیٰ نے  قرآن پاک میں  ارشاد فرمایا ہے :۔

وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیْلاًط وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ(۱۰،آلِ عمران)

اور اللّٰہ  تعالیٰ (کے  خوش کرنے  کے)واسطے  لوگوں  کے  ذمہ اس مکان(بیت  اللّٰہ)کا حج (فرض) ہے۔ اس شخص کے  ذمہ ہے  جو وہاں  جانے  کی سبیل رکھتا ہو اور جو منکر ہو تو(اللّٰہ  تعالیٰ کا کیا نقصان ہے) اللّٰہ  تعالیٰ تمام جہانوں  سے  غنی ہیں (ان کو کیا پرواہ)

حضورﷺ کی حدیث کا مفہوم ہے :۔

“جس شخص کے  پاس اتنا خرچ ہو اور سواری کا انتظام ہو کہ بیت  اللّٰہ  شریف جا سکے  اور پھر وہ حج نہ کرے  تو کوئی فرق نہیں   اس بات میں  کہ وہ یہودی ہو کر مر جائے  یا نصرانی ہو کر”۔

قرآنِ پاک اور احادیث مبارکہ میں  صاحبِ استطاعت کے  لئے  حج کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔ حج کے  بہت سے  فضائل بتائے  گئے  ہیں۔ مگر فضائل کے  برخلاف وہ شخص جو صاحبِ استطاعت ہونے  کے  باوجود یہ فریضہ ادا نہیں  کرتا اس کے  لئے  سخت سے  سخت وعیدیں  سنائی گئی ہیں۔ دوسرے  اعمال کی طرح حج بھی وہی حج ہے  جو  اللّٰہ  کا حکم سمجھ کر  اللّٰہ  کو راضی کرنے  کے  جذبے  سے  حضورﷺ کے  طریقے  کے  مطابق کیا جائے۔

کتب احادیث میں  حضورﷺ کے  حج مبارک کی تفصیلات بکثرت ملتی ہیں۔ آپ کے  حج کو حجۃ الوداع کے  نام سے  موسوم کیا جاتا ہے۔ اس حج میں  حضورِ پاکﷺ نے  مناسکِ حج کے  مسائل تفصیل سے  تعلیم فرمائے  ہیں۔ اور مختلف خطبات میں  اسلامی تعلیمات کے  اہم امور سے  صحابہ کرام کو آگاہ کیا۔ آپؐ کا آخری خطبہ اسلامی معاشرہ کا دستور سمجھا جاتا ہے۔ اس موقع پر تکمیل دین کی آیت نازل ہوئی۔ جس سے  صحابہ  ؓ کو حضورﷺ کی رحلت فرمانے  کی فکر ہوئی۔ حضورﷺ نے  اپنے  خطبات میں  بھی کنایَۃً اس امر کی نشاندہی فرما دی تھی۔

حج کا آغاز آٹھ ذِ ی الحجہ سے  ہوتا ہے۔ “حضورﷺ اس روز چاشت کے  وقت منیٰ تشریف لے  گئے  تھے  اور سب صحابہ کرامؓ بھی حج کا احرام باندھ کر ہمرکاب تھے۔ پانچ نمازیں  منیٰ میں پڑھیں۔ اس شب سورۃ المرسلات حضورﷺ پر نازل ہوئی۔ جمعہ کی صبح کو طلوع آفتاب کے  بعد عرفات تشریف لے  گئے “(فضائل حج)

 

 

 

حج ایک نظر میں

 

 

حج کا پہلا دن۔۔ ۸  ذِی الحج

مکہ سے  منیٰ کو روانگی

منیٰ میں  نمازِ ظہر

منیٰ میں  نمازِ عصر

منیٰ میں  نمازِ مغرب

منیٰ میں  نمازِ عشاء

رات منیٰ مین قیام

 

 

حج کا دوسرا دن۔۔ ۹  ذِی الحج

نمازِ فجر کے  بعد عرفات کو روانگی

عرفات میں  نمازِ ظہر

وقوفِ عرفات

عرفات میں  نمازِ عصر

مغرب پڑھے  بغیر مزدلفہ کو روانگی

مغرب اور عشاء مزدلفہ میں

رات مزدلفہ میں  قیام

 

حج کا تیسرا دن۔۔ ۰ ۱  ذِی الحج

مزدلفہ سے  نمازِ فجر کے  بعد منیٰ کو روانگی

بڑے  شیطان کی رمی

قربانی

سر کے  بال منڈانا یا کتروانا

طوافِ زیارت کو مکہ جانا

رات منیٰ میں  قیام

 

 

حج کا چوتھا دن ۔۔۱۱  ذِی الحج

منیٰ میں  زوال کے  بعد رمی کرنا

پہلے  چھوٹے  شیطان کو

پھر درمیانے  شیطان کو

پھر بڑے  شیطان کو رمی کرنا

پھر بڑے  شیطان کو رمی کرنا

اگر کل طوافِ زیارت نہیں  کیا تو آج کیا جا سکتا ہے

 

 

 

حج کا پانچواں  دن۔۔ ۱۲  ذِی الحج

منیٰ میں  زوال کے  بعد رمی کرنا

پہلے  چھوٹے  شیطان کو

پھر درمیانے  شیطان کو

اگر کل طوافِ زیارت نہیں  کیا تو آج کیا جا سکتا ہے

رات منیٰ میں  قیام

 

 

 

پھر بیان اپنا

 

پھر بہار آئی وہی دشتِ نوردی ہو گی

پھروہی پاؤں  وہی خارِ مغیلاں  ہوں گے                      (مومن)

حج  اللّٰہ  کا حکم اور نبی ؐ کا فرمان ہے۔ حاجی کے  لئے  لازم ہے  کہ ہر حال میں  حکم کی تعمیل کرے۔ اصل میں  ماننا ہی عبادت ہے۔ مگر ماننا کوئی آسان کام نہیں۔ ماننے  کے  لئے  من مارنا پڑتا ہے۔ سرنگوں  ہونا پڑتا ہے۔ اپنا آپ حاکم کے  سپرد کرنا پڑتا ہے۔ مرنا پڑتا ہے۔

… مگر ہمیں  من مارنا اور سرنگوں  ہونا نہیں  آتا۔ ہم نے  مرنے  کی تربیت حاصل نہیں  کی۔ ہمارے  اندر کا شیطان بھی عذر اور بہانے  سجھاتا رہتا ہے۔ معمولی سی بیماری اور نقاہت بھی عذر بن جاتی ہے۔ ہم دونوں  میاں  بیوی تازہ تازہ طواف وسعی کر کے  آئے  تھے۔ ابھی عمرہ کا احرام اتارا تھا کہ حج کا احرام باندھنے  کا موقع آ گیا۔ اہلیہ کا فالج اور میرا نزلہ اچھا خاصا عذر تھا۔ ….. شیطان اپنا کام کر رہا تھا۔ وسواس کا جال بچھا رہا تھا۔ مگر جس نے  بلایا تھا وہی ہماری حفاظت کر رہا تھا۔ اس نے  اپنے  خصوصی کرم سے  ہر موقع پر معجزانہ طور پر مدد فرمائی۔

ساتویں  ذی الحجہ کو منیٰ روانگی کی باتیں  اور مشورے  شروع ہو گئے۔ معلم کے  کارندے  خیموں  کے  کارڈ تقسیم کر رہے  تھے۔ ہمیں  بھی پیلے  رنگ کا ایک کارڈ مل گیا۔ اس پر خیمے  کا خاکہ اور نمبر ۵ لکھا ہوا تھا۔ ہم نے  پی۔ آئی۔ اے  کی طرف سے  ملنے  والے  تھیلوں  میں  دو چٹائیاں۔ دو پلیٹیں  اور کمبل وغیرہ رکھ لئے۔ آٹھویں  کو دوسرے  حجاج کرام کے  ساتھ منیٰ پہنچے۔ حاجی صاحبان وقفے  وقفے  سے  تلبیہ کا ترانہ پڑھتے  جا رہے  تھے۔ میں  ذکر و فکر کے  ساتھ ساتھ باہر کا نظارہ کر رہا تھا۔ باہر کیا تھا۔ بڑی بڑی عمارتیں،کشادہ سڑکیں۔ سڑکوں  پر رواں  دواں  ٹریفک، چوکوں  پہ لگے  ہوئے  بورڈ،سائن بورڈ(کسی بورڈ پر میں  نے  عورت کی تصویر نہیں  دیکھی۔ سگریٹ کا اشتہار بھی نہیں  دیکھا۔ حرم شریف کے  باہر جو سگریٹ نوشی کی ممانعت کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ اس کا مفہوم ہے  کہ “حرم شریف کی فضا کو سگریٹ کے  دھوئیں  سے  آلودہ نہ کریں “حرم شریف کے  باہر بھی کہیں  کہیں  یہ بورڈ لگے  ہوتے  ہیں)سڑکوں  پر عجمی لوگ زیادہ اور مقامی لوگ کم نظر آ رہے  تھے۔ وجہ معلوم نہیں۔ میرا دل ان نظاروں  سے  مطمئن نہیں   ہو رہا تھا۔ سڑک کنارے  کہیں  کہیں  کھجور کے  درخت نظر آئے۔ عمارتوں  کی اوٹ سے  پہاڑ اور پہاڑیاں  نظر آ رہی ہیں۔

 

تصور کی نظر

 

(میں  ماضی کے  جھروکوں  سے  جھانک جھانک کر تھک گیا ہوں۔ تھا،تھے،تھی کی گردان میرے  حال کی ترجمان نہیں … میں  اپنے  محبوب لمحوں  کو ماضی کے  دھندلکے  سے  نکال کر حال کا حصہ بنانا چاہتا ہوں)…

ہاں  تو پہاڑ اور کھجوریں  میرے  خوابوں  کی علامت اور سوچوں  کا تلازمہ ہیں۔ بے  آب و گیاہ ریگزاروں  اور پہاڑوں  کے  درمیان گھرے  ہوئے  نخلستان میرے  خیال میں  رچے  بسے  ہیں۔ میں  مکہ، مدینہ دیکھنا چاہتا ہوں۔ مگر میرے  چہرے  پہ سجی ہوئی عینک نور نظارے  دیکھنے  کی اہل نہیں۔ میری آنکھوں  میں  بصارت توہے  بصیرت نہیں،دل میں  جذبات تو ہیں  عقیدت نہیں۔ میں  منظر کو ظاہر کے  حوالے  سے  دیکھ رہا ہوں  پس منظر کے  حوالے  سے  نہیں۔ وہ پسِ منظر جو میرے  لاشعور میں  مستور ہے۔ وہ نظارہ جو قرآن دکھاتا ہے۔ چودہ سوسال پرانا۔۔۔۔ میں  تکلفاً لاشعور کو شعور کی سطح پہ لانے  کی شعوری کوشش کر رہا ہوں۔ ہاں !یہ وہی پہاڑ ہیں  جن پر اللّٰہ  کے  محبوبﷺ کے  نقوشِ پا نقش ہیں۔ انہی پہاڑوں  میں  حرا ہے۔ حراجس کی تنہائیوں  میں  حضورﷺ پُر نور گوشہ نشیں  رہے  ہیں۔ یہیں  سے  ہدایت کاسورج طلوع ہوا تھا۔ اسی کھوہ کی کوکھ میں  بنی نوع انسان کی فلاح کا غم پلتا رہا ہے۔ اس مطلع سے  سپیدۂ سحرطلوع ہوا تھا۔ یہیں  سے  اقراء کی قرات کا آغاز ہوا۔ یہی جگہ ہے  جہاں  حضورﷺ کو نبوت کی ذمہ داری سونپی گئی۔

اے  غارِ حرا!اے  مطلعِ انوار!اے  معبدِ محمدﷺ!تجھ پر سلام! …اور انہی پہاڑوں  میں  ایک اور غار ہے  جس نے  حضورﷺ اور حضورﷺ کے  رفیقِ خاص حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو اپنی آغوش میں  پناہ دی تھی۔ ایسی حالت میں  کہ مادرِ وطن کی گود ان کے  لئے  تنگ ہو گئی تھی۔ وہ مکہ جہان حضورﷺ کے  بچپن کی معصومیاں  اور جوانی کی پاکیزگیاں  بکھری پڑیں  تھیں وہ اس کے  وجود پاک کو برداشت نہیں  کر رہا تھا……. تو اے  غارِ ثور تجھ پر سلام!تیرے  مقیم اور اس کے  یار پہ درود وسلام….. ہاں  تو اے  مکہ تو میرے  نبی ؐ کا شہر ہے۔ نبی ؐ کے  پیاروں  کا شہر ہے۔ یاروں  کا شہر ہے۔ اے  مکہ میرے  خوابوں  میں  آ جا!میری سوچوں  میں  سما جا۔ اے  مکہ تو میرا آدرش ہے۔ میرا مقصد ہے۔ میرا مطلوب ہے۔ میری منزل ہے۔ اے  میرے  مکہ۔ اے  میرے  ماضی!آ میرے  حال میں  سما جا!

میری منزل عہدِ پیمبرﷺ

دوڑ زمانے  پیچھے  دوڑ          (جبینِ نعت)

 

پھر لمحۂ موجود میں

 

ہماری گاڑی دوڑ نہیں  چل رہی ہے۔ اس لئے  کہ بھیڑ بہت ہے۔ دائیں  بائیں  آگے  پیچھے  ہر طرف گاڑیاں  ہی گاڑیاں  ہیں۔ ہمیں  ڈیرے  سے  نکلے  ہوئے  پتہ نہیں  کتنے  گھنٹے  ہوئے  ہیں۔ میں  ماضی میں  گم اور  میری ہمراہی حال کی بھیڑسے  بیزار مجھے  جھنجوڑ رہی ہے۔ میں  اسے  کہہ رہا ہوں  ان عمارتوں  اور سڑکوں  کے  بجائے  پہاڑوں  اور کھجوروں  کو دیکھتی رہو۔ کیونکہ یہ کوٹھیاں  تو راولپنڈی اور اسلام آباد میں  بھی ہیں۔ پہاڑ بھی پنڈی اسلام آباد میں  بہت ہیں۔ مگر ان پہاڑوں  اور دوسرے  پہاڑوں  میں  زمین وآسمان کا فرق ہے۔ میں  اسے  اپنے  تصور کی تصویروں  کی جھلکیاں  دکھانا شروع کر دیتا ہوں۔ تھوڑی ہی دیر میں  منیٰ آ جاتا ہے۔

یہ منیٰ کا میدان ہے۔ حاجی کی پہلی منزل۔ حدِ نظر تک پھیلے  ہوئے  خیموں  کا ایک شہر۔ میں  بڑی مشکل سے  اپنی ہمسفر کو گاڑی سے  اتارتا ہوں۔ نیچے  بھی دھکم پیل  ہو رہی ہے۔ لوگوں  کو اپنے  خیموں  کا پتہ نہیں  چل رہا۔ خیموں  کے  درمیان کے  راستے  تنگ ہیں۔ اکثر حاجی ان پڑھ ہیں۔ اور پڑھے  لکھوں  کو بھی مشکل درپیش ہے  کہ خیموں  کی پہچان نمبر اور رنگ دونوں  سے  ہے۔ راستوں  پر حاجیوں  کی راہنمائی کے  لئے  مختلف کتبے  بھی آویزاں  ہیں۔ ہمارے  کارڈ پہ خیمے  کا نمبر۵ لکھا ہوا ہے۔ راستے  میں  پانچ نمبر خیمہ آتا ہے  تو اس میں  داخل ہونے  کی کوشش کرتے  ہیں۔ اس خیمہ کے  مقیم ہمارا کارڈ دیکھ کر آگے  بھیج دیتے  ہیں۔ یہ خیمہ سرخ کارڈ والوں  کا تھا۔ ہمارے  کارڈ کا نمبر تو پانچ مگر رنگ زرد ہے۔ آخر پوچھتے  پوچھتے  اپنے  زرد رنگ کے  خیمہ نمبر پانچ میں  پہنچ جاتے  ہیں۔

خیمہ کافی وسیع ہے  چالیس،پچاس آدمی اس میں  بآسانی سماسکتے  ہیں۔ ظہر کی نماز کا وقت ہو چلا ہے۔ خیموں  کے  درمیان وضو طہارت کا انتظام موجود ہے۔ بھیڑ کی وجہ سے  تھوڑی دیر انتظار کرنا پڑتی ہے۔ قطار میں  کھڑے  ہونا پڑتا ہے۔ مگر جلد ہی باری آ جاتی ہے۔ آدمی آسانی سے  کھڑے  کھڑے  وضو کر سکتا ہے۔ ہمارے  خیمہ میں  ایک حافظ صاحب ہیں  ہم نے  ان کی اقتداء میں  ظہر، عصر،مغرب،عشا اور فجر کی پانچوں  نمازیں  ادا کیں۔ مجمع کی بدنظمی دیکھ کر میں  نے  ساتھیوں  کو ترغیب دی کہ کسی ایک ساتھی کو کیمپ کا امیر بنا لیجئے۔

چنانچہ ایک ساتھی جن کا ٹائٹل پیرزادہ ہے  (نام یاد نہیں)انہیں  امیر بنا دیا جاتا ہے۔ امیر صاحب نے  حاجی صاحبان کو گپ بازی کے  بجائے  ذکر اذکار کی ترغیب دی۔ مغرب کی نماز کے  بعد برادر نصیر خاں  صاحب نے  فضائل حج سے  کچھ حصہ پڑھ کرسنایا۔ میں  نے  بھی چند ترغیبی باتیں  بتائیں۔ عورتیں  مرد الگ الگ بیٹھے  تھے  مگر درمیان میں  حجاب نہیں  تھا۔ ایک صاحب نے  خیمہ کے  درمیان لگے  ہوئے  پردے  کی ڈوریاں  کھولیں  تو پردہ بڑے  زور سے  نیچے  گرا۔ پردے  کا پائپ میری اہلیہ کے  گھٹنے  پر لگا گھٹنا زخمی ہو گیا ہمارا امتحان مزید سخت ہو گیا۔

 

منیٰ___میدانِ جہاد

 

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے  کس نے  اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی   (اقبال)

منیٰ کے  میدان میں  شیطانوں  کو کنکریاں  مارنے  اور قربانی کرنے  کے  اعمال ہوتے  ہیں۔ یہ اعمال دو جلیل القدر پیغمبروں  کی محبوب اداؤں  کی نقل ہیں۔ یہ مقام حضرت ابراہیمؑ اور ان کے  فرزند حضرت اسماعیل ؑ کی امتحان گاہ ہے۔

حضرت ابراہیمؑ  اللّٰہ  کے  خلیل ہیں۔ خلیل کا معنی ہے  دوست،یہ دوستی کا خطاب ویسے  ہی نہیں  ملا۔ اس کے  لئے  جناب کو بڑی قربانیاں  دینا پڑیں۔ اللّٰہ  کے  دین کے  لئے  گھر بار چھوڑنا یعنی ہجرت کرنا تو تقریباً تمام نبیوں ؑ کی سنت ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے  بھی  اللّٰہ کے  کلمے  کو دنیا میں  پھیلانے  کے  لئے  دور دور کا سفرکیا۔ اللّٰہ  کے  حکم کی تعمیل میں  اپنی بیوی حضرت ہاجرہؑ اور معصوم بچہ حضرت اسماعیل ؑ کو بے  آب و گیاہ ویرانے  میں  تنہا چھوڑ دیا۔ کلمہ حق کہنے  کی پاداش میں  آگ کے  الاؤ میں  ڈالے  گئے۔ ان سارے  امتحانوں  سے  بڑا امتحان اپنے  لختِ جگر حضرت اسماعیلؑ کو اللّٰہ  تعالیٰ کے  حکم کی تعمیل میں  ذبح کرنا تھا۔

حضرت ابراہیمؑ نے  خواب میں  دیکھا کہ انہیں  اپنی سب سے  پیاری چیز قربان کرنے  کا حکم دیا جا رہا ہے۔ حکم عام ہوتا تو مال خرچ کرنے  سے  تعمیل ہو جاتی مگر حکم تھا سب سے  محبوب چیز قربان کرنے  کا۔ اور سب سے  پیاری چیز تو اولاد ہوتی ہے۔ اور اولاد بھی اسماعیلؑ جیسی۔ اسماعیل ؑ جو بڑھاپے  کا ثمر ہے۔ جو ہونے  ولا پیغمبر ہے۔ جس کی ایڑیوں  سے  زم زم پھوٹتا ہے۔ جو وفادار بیوی ہاجرہؑ کا وفادار بیٹا ہے۔ تو اسماعیل ؑ کی قربانی نہ صرف اپنی محبت بلکہ ہاجرہؑ کی مامتا کی بھی قربانی تھی…. مگر محبت میں  رشتہ ناتا کوئی اہمیت نہیں  رکھتا۔ محبت بڑا امتحان لیتی ہے۔

 

اللّٰہ  ! اللّٰہ …..  یہ کیسا امتحان ہے !

 

ایک باپ اپنے  لختِ جگر کو قربان کرنے  کے  لئے  قربان گاہ کی طرف لے  جا رہا ہے۔ پیچھے  پیچھے  شیطان لعین آ رہا ہے۔ شیطان جو کہ انسان کا ازلی دشمن ہے۔ وہ اس تاک میں  ہے  کہ موقع ملے  تو خلیل  اللّٰہ  کو  اللّٰہ  کے  حکم سے  پھیرنے  کی کوشش کرے …. یہ لعین پیغمبروں  کا زیادہ دشمن ہے۔ ابا آدمؑ اور اماں  حواؑ کو بھی اس نے  ورغلایا تھا۔ اب حضرت ابراہیمؑ کو ورغلانے  کی کوشش کر رہا ہے۔ اولاد کی محبت کو بہانہ بنا کر خلیل کو خوار کرنا چاہتا ہے۔ مگر یہ خلیل ہے۔  اللّٰہ  کا دوست۔ اس نے  صغرسنی میں  ہی اسماعیل اور ہاجرہ کو  اللّٰہ  کے  حکم کے  تحت اپنے  سے  جدا کر دیا تھا۔ اب بیٹے  کے  گلے  پہ چھری چلانا کیا مشکل ہے۔ آپؑ شیطان کو پہچان جاتے  ہیں۔ اس پر کنکر برساناشروع کر دیتے  ہیں۔ لعین بھاگ جاتا ہے۔ کچھ دور جا کر پھر ورغلانے  کی کوشش کرتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ پھر سات کنکر مارتے  ہیں۔ شیطان بھاگ جاتا ہے۔ مگر ہارتا نہیں۔ پھر تیسری بار حملہ کرتا ہے۔ آپؑ پھر سات کنکر مارتے  ہیں۔ (یہ سات کا عدد بھی عجیب عدد ہے۔ کچھ لوگ اسے  لکی سیونLucky sevenکہتے  ہیں۔)دشمن پسپا ہو جاتا ہے۔ اور امتحان کا آخری مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔

ایک باپ اپنے  پیارے  بیٹے  کو اللّٰہ  کے  حکم پر قربان کرنے  کے  لئے  زمین پر لٹا رہا ہے۔ باپ بھی مطمئن ہے  بیٹا بھی شانت۔ دل میں  موت کا کوئی خوف ہے  نہ جدائی کا غم۔ خوف کسیے  ہو؟ غم کیسے  ہو؟دونوں   اللّٰہ  کے  دوست ہیں۔ پیغمبر ہیں۔ اللّٰہ  والوں  کے  دل میں  صرف خالق کا خوف ہوتا ہے۔ یہ کسی سے  ڈرتے  ہیں  نہ کوئی غم کرتے  ہیں انہی کے  لئے  فرمایا گیا ہے

 لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُونْ

بیشک  اللّٰہ  کے  ولیوں  کو کسی قسم کا خوف یا غم نہیں۔ مگر ایک انسانی فطرت بھی ہے۔ اس حوالے  سے  دیکھا جائے  تو باپ کے  دل پر جو گذر رہی ہو گی اس کا اندازہ نہیں  کیا جا سکتا۔ انسان ہونے  کے  ناتے  شفقت پدری ضرور آڑے  آئی ہو گی۔ مگر انہیں  تو قربانی کا حکم تھا۔ اور قربانی صرف جسم کی نہیں  جذبات کی۔ عام آدمی ہوتا تو یقیناً شیطان کے  جھانسے  میں  آ جاتا۔ مگر یہ تو خلیل ہے۔ سچاپکادوست۔ ماننے  والا۔ اس نے  آنکھیں  بند کر کے  بیٹے  کے  گلے  پر چھری چلا دی۔ آنکھیں  کھولیں  تو اسماعیلؑ کے  بجائے  مینڈھا ذبح ہوا پڑا تھا۔ آج کی قربانی اس قربانی کی یاد ہے۔

بنا کر دند خوش رسمے  بخاک وخون غلطیدن

خدا رحمت کند ایں  عاشقانِ پاک طینت را

 

عرفہ ___مقام معرفت

 

قربان جاؤں  اس مہربان پر جو قربانی مانگتا ہے۔ لیتا نہیں۔ وہ امتحان لیتا ہے  مگر برداشت سے  زیادہ بوجھ نہیں  ڈالتا۔ یہ اس کا قانون ہے۔ وہ انسان کو اپنی پہچان کرانے  کے  لئے  آزمائش کے  مراحل سے  گذارتا ہے۔ حاجی کی آزمائش کا آغاز احرام باندھنے  کے  ساتھ شروع ہو جاتا ہے۔ احرام کی پابندیاں، سفر کی صعوبتیں  اور ہجرت کی مصیبتیں  سب آزمائش ہیں۔ (حج کی مثال جہاد کی سی ہے۔ اس میں بھی مال جان وقت سب کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔ اپنا جسم و جان اور جذبات و خواہشات  اللّٰہ  کی تحویل میں  دینا پڑتے  ہیں۔ اپنی نفی اور ذاتِ باری تعالیٰ کا اثبات کرنا پڑتا ہے۔ خود لا ہونا پڑتا ہے۔ اور یہی اسے  مطلوب ہے۔ مخلوق کی نفی کرنا اور خالق کی وحدانیت کا ادراک کرنا ہی تو معرفت ہے !حج اصل میں  معرفت کاسفر ہے۔ اس معرفت کے  سفر کی اگلی منزل میدانِ عرفات ہے۔

نویں  ذی الحجہ کی صبح کو نماز سے  فارغ ہو کر تمام حاجی وقوفِ عرفات کی تیاریاں  کرنے  لگے۔ تقریباً آٹھ بجے  ہم منیٰ سے  عرفات کے  لئے  روانہ ہوئے۔ عرفات کا میدان منیٰ سے  دس کلو میٹر کے  فاصلے  پر ہے۔ سڑکیں  کشادہ اور پختہ ہیں۔ ٹریفک کا مسئلہ پیدا نہیں  ہوتا۔ ابھی چاشت کا وقت نہیں  ہوا۔ ہم میدان عرفات میں  پہنچ جاتے  ہیں۔ گاڑی والے  ہمیں  میدان کے  آغاز میں  ہی اتار دیتے  ہیں۔ تھوڑی دور تک سب اکٹھے  رہتے  ہیں۔ میں  اہلیہ کو سنبھالے  ہوئے  آہستہ چلنے  پر مجبور ہوں۔ ہمارے  خیمہ کے  ساتھی ہمیں  چھوڑ کر آگے  چلے  جاتے  ہیں ….. لیجئے  یہ بلڈنگ کے  ساتھیوں  کا ساتھ بھی چھوٹ گیا۔

اک اور بُت ٹوٹ گیا۔

ساتھیوں  کا بُت۔

سہاروں  کا بت…..

عرفہ کا میداں  بھی بہت وسیع ہے۔ یہاں  بھی حدِ نظر تک خیمے  لگے  ہوئے  ہیں۔ منیٰ کے  خیمے  لوہے  کے  ستونوں  پہ استادہ چھتوں  والے  اور یہاں  کے  خیمے  بالکل عارضی اور سادہ ہیں۔ ہم دونوں  میاں  بیوی آہستہ آہستہ چلتے  ایک خیمے  میں  داخل ہو جاتے  ہیں۔ اس کا نمبر یاد نہیں۔ اتنا یاد ہے  اس کے  سامنے  ایک درخت تھا اور اس کے  آگے  ٹائیلٹ تھے۔ ٹائیلٹ میں طہارت کا صحیح انتظام ہے۔ میں  نے  خیمے  میں  چٹائی بچھا کر اپنی ہم سفر کو لٹا دیا۔ وہ لیٹتے  ہی سوگئی۔ میں  نے  لیٹنے  کی کوشش کی مگر اونچی نیچی زمین کی وجہ سے  نیند نہیں  آئی۔ تھوڑی دیر میں  چکوال کی چند خواتین اور مرد ہمارے  خیمے  میں  آ گئے۔ پھر کچھ اور لوگ آ گئے۔ رونق ہو گئی۔ تازہ بچھڑنے والے  ذہن سے  محو ہونے  لگے۔ نئے  ملنے  والوں  سے  واقفیت بڑھنے  لگی…… یہ ہجر و وصال کا عجیب تجربہ ہے۔ دونوں  حالتوں  کی اپنی کیفیتیں  اور لذتیں  ہیں۔ ان ساتھیوں  میں  ایک ادھیڑ عمر خاتون نے  میری اہلیہ کو سنبھالنے  میں  بڑی مدد کی۔ بہت نیک خاتون ہے۔ تمام وقت اس نے  تسبیح و تلاوت میں  گذارا جب کہ دوسرے  لوگ مختلف موضوعات پر بحث و مباحثہ میں  مصروف رہے۔

سنا تھا کہ حج کے  تین دن کھانے  پینے  کا انتظام گورنمنٹ کے  ذمہ ہے۔ معلم کے  کارندوں  نے  ہمیں  کھانے  کے  کارڈ بھی دینے  تھے۔ منیٰ میں  ہمیں  ایک وقت کھانا ملا۔ دوسرے  کا بڑی گورنمنٹ (اللّٰہ)نے  انتظام فرما دیا۔ یہاں  عرفات میں  بیگم صاحبہ پوچھتی ہیں  کھانے  کا کیابندوبست ہو گا۔ میں  نے  کہا جو پہلے  کھلاتا رہا ہے  وہ اب بھی بندوبست کر دے  گا۔ میں  تقاضے  کے  لئے  باہر نکلا تو لوگوں  کو چائے  کے  کیک اور بسکٹ اٹھائے  دیکھا۔ پتہ چلا کہ چوک میں  ناشتہ تقسیم  ہو رہا ہے۔ ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔ تھوڑی سی انتظار سے  ناشتہ مل گیا۔ بہت سے  لوگ مسجد نمرہ کو جا رہے  تھے۔ میں  اپنے  ہمسفر کی وجہ سے  پابند تھا۔ مجھے  بھی شوق تھا۔ اپنی ذمہ داری مذکورہ خاتون کے  سپرد کر کے  میں  بھی زیارتِ نمرہ کے  لئے  نکل کھڑا ہوا۔ سڑک پہ پہنچا تو دیکھا کہ حاجی حضرات دو دو چار چار بسکٹوں  کے  پیکٹ اٹھا کر چلے  آ رہے  ہیں۔ میں  تجسس میں  تھا کہ بر لبِ سڑک کھڑے  ٹرالے  سے  ایک شخص نے  بسکٹ کا پیکٹ میری طرف پھینک دیا۔ میں  نے  یہ پیکٹ اپنی چادر میں  لپیٹ لیا۔ آگے  گیا تو خادمین حرمین شریفین کا لنگر لگا ہوا تھا۔ میں  نے  یہاں  سے  دو ڈبے  مرغ بریانی کے  لے  لئے۔ آگے  تھوڑے  ہی فاصلے  پر ایک اور ٹرالا خادمین کا کھڑا تھا۔ وہاں  بھی لنگر بٹ رہا تھا۔ دل میں  خیال آیا میرے  خیمے  میں  کچھ اور لوگ بھی ہیں۔ چلو یہاں  سے  بھی لنگر لے  لو۔ اب بوجھ اتنا ہو گیا کہ میں  آگے  نہیں  جا سکا۔ مجبوراًواپس آنا پڑا۔ میں  نے  ڈبے  بیگم کے  سامنے  ڈھیر کر تے  ہوئے  کہا کہ لیجئے  حاجی صاحب میزبان (اللّٰہ  تعالیٰ) نے  آپ کے  کھانے  کا بندوبست بھی کر دیا… کتنا مہربان میزبان ہے۔ بڑا مہمان نواز۔ بڑا کریم۔ منہ مانگی مرادیں  پوری کرتا ہے۔ اور پھر یہ تو عرفات ہے  یہاں  وہ بہت قریب ہوتا ہے۔ اور اس کا قرب اور معرفت ہی تو اصل حج ہے۔

ابوداؤد کی روایت کے  مطابق اس جگہ نجد کی ایک جماعت براہِ راست پہنچی اور حضورﷺ سے  ایک آدمی کے  ذریعے  آواز دے  کر دریافت کرایا کہ حج کیا ہے ؟حضورﷺ نے  ایک آدمی کو حکم فرمایا کہ اعلان کر دوکہ حج عرفہ میں  ٹھہرنے  کا نام ہے۔ جو شخص دس ذی الحجہ کی صبح سے  پہلے  پہلے  یہاں  پہنچ جائے  اس کا حج ہو گیا۔ (فضائل حج)

مسجدِ نمرہ میں  ایک اذان اور دو تکبیر اقامت سے  ظہر اور عصر کی نمازیں  جمع اور قصر کر کے  امام صاحب کے  ساتھ با جماعت ادا کی جاتی ہیں۔ نمازوں  سے  پہلے  امام صاحب حج کے  دو خطبے  دیتے  ہیں  جن کا سننا سنت ہے۔ بوڑھوں،ضعیفوں  اور عورتوں  کے  لئے  یہ رعایت ہے  کہ اپنے  خیمے  میں  ظہر اور عصر کی نمازیں  اپنے  اپنے  وقت پر اپنے  امام کے  پیچھے  با جماعت پڑھ لیں (کتاب الحج)

عرفہ دعاؤں  اور استغفارکا دن ہے۔ حضورﷺ مغرب تک امت کے  لئے  دعا بہت الحاح و زاری سے  مانگتے  رہے۔ حق تعالیٰ شانہ کے  یہاں  سے  امت کے  لئے  ظالم کے  سوا اور سب چیزوں  کی مغفرت کا وعدہ ہو گیا۔ مگر حضورﷺ پھر بھی التجا فرماتے  رہے  کہ یا اللّٰہ  یہ بھی ہو سکتا ہے  کہ مظلوموں  کو تو اپنے  پاس سے  بدلہ عطا فرما دے  اور ظالموں  کو معاف فرما دے۔ اسی دوران یہ آیت نازل ہوئی(فضائل حج)

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْت لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْت عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَ رَضِیْت لَکُم الْاِسْلَامِ دِیْناً(مائدہ۔ ۱)

 

خطبہ حجۃ الوداع____ دستورِ حیات

 

میدانِ عرفات وہ مقام ہے  جہاں  سردارِ دوجہاں  نے  وہ تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جسے  خطبہ حجۃ الوداع کے  نام سے  یاد کیا جاتا ہے۔ یہ خطبہ بنی نوعِ انسان کے  لئے  مکمل ضابطۂ حیات اور جامع منشور ہے۔ خطبہ کا اردو ترجمہ مسلم کمرشل بینک کے  کتابچہ۔۔ ’’کتاب الحج‘‘ سے  درج کیا جاتا ہے۔ آپ نے   اللّٰہ  کی حمد و ثنا کرتے  ہوئے  خطبے  کی یوں  ابتداء کی:۔

اللہ کے  سواکوئی اور معبود نہیں  ہے۔ وہ یکتا ہے۔ کوئی اس کا ساجھی نہیں۔  اللّٰہ نے  اپنا وعدہ پورا کیا۔ اس نے  اپنے  بندے  (رسولﷺ) کی مدد فرمائی اور تنہا اس کی ذات نے  باطل کی ساری مجتمع قوتوں  کو زیر کیا۔ لوگو!میری بات سنو۔ میں  نہیں  سمجھتاکہ آئندہ کبھی ہم اس طرح کسی مجلس میں  یکجا ہو سکیں  گے  (اورغالبااًس سال کے  بعد میں  حج نہ کر سکوں گا)

لوگو! اللّٰہ  تعالیٰ کا ارشاد ہے “انسانو!ہم نے  تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے  پیدا کیا ہے  اور تمہیں  جماعتوں  اور قبیلوں  میں  بانٹ دیا ہے  کہ تم الگ الگ پہچانے  جا سکو۔ اللّٰہ تعالیٰ کے  ہاں  عزت و کرامت والا وہی ہے  جو زیادہ ڈرنے  والا ہے۔ چنانچہ اس آیت کی روشنی میں  نہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے  نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر،نہ کالا گورے  سے  افضل ہے  نہ گورا کالے  سے۔ ہاں  بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے  تو تقویٰ ہے۔ انسان سارے  ہی آدمؑ کی اولاد ہیں  اور آدمؑ کی حقیقت اس کے  سواکیا ہے  کہ وہ مٹی سے  بنائے گئے۔ اب فضیلت و برتری کے  سارے  دعوے، خون و مال کے  سارے  مطالبے  اور سارے  انتظام میرے  پاؤں  تلے  روندے  جا چکے  ہیں۔ بس بیت اللّٰہ کی تولیت اور حاجیوں  کو پانی پلانے  کی خدمات علی حالہ باقی رہیں  گی۔ پھر آپؐ نے  ارشاد فرمایا” قریش کے  لوگو!ایسانہ ہو کہ اللّٰہ کے  حضور تم اس طرح آؤ کہ تمہارے  گردنوں  پر تو دنیا کا بوجھ ہو اور دوسرے  لوگ سامانِ آخرت لے  کر پہنچیں  اور اگر ایسا ہوا تومیں  اللّٰہ کے  سامنے  تمہارے  کچھ کام نہ آ سکوں  گا۔

قریش کے  لوگو! اللّٰہ نے  تمہاری جھوٹی نخوت کو ختم کر ڈالا اور باپ دادا کے  کارناموں  پر تمہارے  فخر و مباحات کی کوئی گنجائش نہیں۔            لوگو!تمہارے  جان و مال اور عزتیں  ایک دوسرے  پر قطعاً حرام کر دی گئی ہیں ہمیشہ کے  لئے۔ ان چیزوں  کی اہمیت ایسی ہی ہے  جیسے  تمہارے  اس دن کی اور اس ماہِ مبارک(ذی الحجہ) کی خاص کر اس شہر میں  ہے۔ تم سب اللّٰہ کے  آگے  جاؤ گے  اور وہ تم سے  تمہارے  اعمال کی بابت باز پُرس فرمائے  گا۔

دیکھو!میرے  بعد کہیں  گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس میں  کشت و خوں  کرنے  لگو۔ اگرکسی کے  پاس امانت رکھوائی جائے  تو وہ اس بات کا پابند ہے  کہ امانت رکھوانے  والے  کو امانت پہنچا دے۔

لوگو!ہرمسلمان دوسرے  مسلمان کا بھائی ہے۔ اور سارے  مسلمان آپس میں  بھائی بھائی ہیں۔ اپنے  غلاموں  کا خیال رکھو۔ ہاں  غلاموں  کا خیال رکھو۔ انہیں  وہی کھلاؤ جو خود کھاتے  ہو۔ ایساہی پہناؤجیساتم پہنتے  ہو۔ دورِ جاہلیت کا سب کچھ میں  نے  اپنے  پیروں  سے  روند دیا۔ زمانہ جاہلیت کے  خون کے  سارے  انتقام اب کالعدم ہیں۔ پہلا انتقام جسے  میں  کالعدم قرار دیتا ہوں  میرے  اپنے  خاندان کا ہے۔ ربیعۃ بن الحارث کے  دودھ پیتے  بیٹے  کا خون جسے  بنو ہذیل نے  مار ڈالا تھا۔ اب میں  معاف کرتا ہوں۔ دورِ جاہلیت کا سوداب کوئی حیثیت نہیں  رکھتا۔ پہلاسود جسے  میں  چھوڑتا ہوں  عباسؓ بن عبدالمطلب کے  خاندان کا سود ہے۔ اب یہ ختم ہو گیا۔ لوگو!  نے  ہر حقدار کو اس کا حق خود دے  دیا ہے۔ اب کوئی کسی وارث کے  لئے  وصیت نہ کرے۔

بچہ اس کی طرف منسوب کیا جائے گاجس کے  بستر پروہ پیدا ہو گا۔ جس پر حرام کاری ثابت ہو اس کی سزاپتھرہے۔ حساب و کتاب  اللّٰہ کے  ہاں  ہو گا۔ جو کوئی اپنا نسب بدلے  گا،غلام اپنے  آقا کے  مقابلے  میں  کسی اور کو اپنا آقا  ظاہر کرے  گا اس پر اللّٰہ کی لعنت۔ قرض قابلِ ادائی ہے۔ عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کرنی چاہئے  اور جو کوئی کسی کا ضامن بنے  وہ تاوان ادا کرے۔ کسی کے  لئے  یہ جائز نہیں  ہے  کہ وہ اپنے  بھائی سے  کچھ لے۔ سوائے  اس کے  جس پر اس کا بھائی راضی ہو اور خوشی خوشی دے۔ خود پر اور ایک دوسرے  پر زیادتی نہ کرو۔

عورت کے  لئے  یہ جائز نہیں  کہ وہ اپنے  شوہر کا مال اس کی بغیر اجازت کسی کودے۔ دیکھو!تمہارے  اور تمہاری عورتوں  کے  کچھ حقوق ہیں۔ اس طرح ان پر تمہارے  حقوق واجب ہیں۔ عورتوں  پہ تمہارا یہ حق ہے  کہ وہ اپنے  پاس کسی ایسے  شخص کو نہ بلائیں  جسے  تم پسند نہیں  کرتے  اور وہ کوئی خیانت نہ کریں۔ کوئی کام کھلی بے  حیائی کا نہ کریں۔ اور اگر وہ ایسا کریں  تو اللّٰہکی طرف سے  اس کی اجازت ہے  کہ تم انہیں  معمولی جسمانی سزادواوروہ باز آ جائیں  تو انہیں  اچھی طرح کھلاؤ پہناؤ۔ عورتوں  سے  بہتر سلوک کرو کیونکہ وہ تو تمہاری پابند ہیں  اور خود اپنے  لئے  وہ کچھ نہیں  کر سکتیں۔ چنانچہ ان کے  بارے  میں  اللّٰہ کا لحاظ رکھو کہ تم نے  انہیں  اللّٰہ کے  نام پر حاصل کیا اور اسی کے  نام پر وہ تمہارے  لئے  حلال ہوئیں۔ لوگو!میری بات سمجھ لو میں  نے  حقِ تبلیغ ادا کر دیا۔ میں  تمہارے  درمیان ایک ایسی چیز چھوڑے  جاتا ہوں  کہ کبھی گمراہ نہ ہو گے  اگر اس پر قائم رہے  اور وہ  اللّٰہ کی کتاب ہے۔ اور ہاں  دیکھو اپنے معاملات میں غلوسے  بچنا کہ تم سے  پہلے  کے  لوگ انہی باتوں  کے  سبب ہلاک کر دئیے  گئے۔ شیطان کو اب اس بات کی کوئی توقع نہیں  رہ گئی کہ اب اس کی اس شہر میں  عبادت کی جائے  گی۔ لیکن اس کا امکان ہے  کہ ایسے  معاملات میں  جنہیں  تم کم اہمیت دیتے  ہو اس کی بات مان لی جائے  اور وہ اسی پر راضی ہے۔ اس لئے  تم اس سے  اپنے  دین ایمان کی حفاظت کرنا۔ لوگو!اپنے  رب کی عبادت کرو۔ پانچ وقت کی نماز ادا کرو، مہینے  بھر کے  روزے  رکھو، اپنے  مالوں  کی زکوٰۃ خوش دلی کے  ساتھ دیتے  رہو،اپنے  اللّٰہ کے  گھر کا حج کرو اور اپنے  اہلِ امر کی طاعت کرو تو اپنے  رب کی جنت میں  داخل ہو جاؤ گے۔

اب مجرم خود ہی اپنے  جرم کا ذمہ دار ہو گا اور اب نہ باپ کے  بدلے  بیٹا پکڑا جائے گا اور نہ بیٹے  کا بدلہ باپ سے  لیا جائے گا۔

سنو!جو لوگ یہاں  موجود ہیں  انہیں  چاہیے  کہ یہ احکام اور باتیں  ان لوگوں  کو بتا دیں  جو یہاں  نہیں  ہیں۔ ہو سکتا ہے  کہ کوئی غیر موجود تم سے  زیادہ سمجھنے  اور محفوظ رکھنے  والا ہو۔ اور لوگو! تم سے  میرے  بارے  میں  (اللّٰہ  کے  ہاں)سوال کیا جائے گا،بتاؤ تم  کیا جواب دو گے ؟ لوگوں  نے  کہا ہم اس بات کی شہادت دیں  گے  کہ آپ ؐ نے  امانت (دین)پہنچا دی اور آپﷺ نے  حقِ رسالتؐ ادا فرمایا اور ہماری خیر خواہی فرمائی۔ یہ سن کر حضورﷺ نے  اپنی انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں  کی جانب اشارہ کرتے  ہوئے  تین مرتبہ فرمایا” اللّٰہ گواہ رہنا! اللّٰہ گواہ رہنا! اللّٰہ گواہ رہنا!

حضورﷺ نے  اس خطبہ میں  ان تمام امور دینیہ کی نشاندہی فرما دی ہے  جن کا تعلق ایمان و اعمال سے  ہے۔ یہ خطبہ صرف مسلمانوں  بلکہ تمام انسانوں  کے  لئے  مشعلِ راہ ہے۔ اس خطبہ میں  مندرجہ ذیل اہم نکات بیان فرمائے  گئے  ہیں :۔

(۱)توحید باری تعالیٰ(۲)انسانی مساوات(۳)جان و مال اور عزت کا تحفظ(۴)امانت داری (۵)باہمی اخوت بھائی چارہ (۶)غلاموں  کے  حقوق(۷)حرمتِ سود(۸)قانونِ وراثت کی پابندی(۹)نسب کے  متعلق بدگمانی کی ممانعت(۱۰)نسب غلط بتانے  کی وعید(۱۱)بدکاری کی سزا (۱۲)باہمی لین دین کا قانون(۱۳)زن و شوہر کے  حقوق و فرائض(۱۴)قرآنی تعلیمات کی پابندی(۱۵)غلو سے  پرہیز(۱۶)ارکانِ اسلام کی پابندی(عبادات)(۱۷)مجرم صرف جرم کرنے  والا ہے (۱۸)دعوت و تبلیغ۔

بیشک یہ نکات صالح معاشرے  اور فلاحی ریاست کے  لئے  دستور و منشور کی حیثیت رکھتے  ہیں۔

 

وقوفِ مُزدلفہ

 

وقوفِ عرفات کے  بعد وقوفِ مزدلفہ کا مرحلہ آتا ہے۔ وقوفِ عرفات فرض اور وقوفِ مزدلفہ واجب ہے۔ وقوفِ عرفات کا وقت عرفہ کے  دن زوالِ آفتاب کے  وقت سے  شروع ہو کر نویں اور دسویں  ذی الحجہ کی درمیانی رات کو فجر سے  پہلے  تک ہے۔ وقوفِ مزدلفہ کا وقت صبح صادق سے  لے  کر طلوعِ آفتاب تک ہے۔

مزدلفہ میں  مغرب اور عشاء کی دونوں  نمازیں  ایک ہی وقت میں  ایک اذان اور ایک اقامت کے  ساتھ اس طرح پڑھی جاتی ہیں۔ پہلے  مغرب کے  فرض با جماعت ادا کرتے  ہیں۔ تکبیر،تشریق اور لبیک کہہ کر عشاء کی فرض نماز با جماعت ادا کرتے  ہیں۔ یہ رات شبِ جمعہ یا شبِ قدر سے  بھی زیادہ قدر کی رات ہے  اس لئے  اس رات کو جتنی عبادت کی جائے  کم ہے۔ مگر ہم جیسے  کم ہمتوں  میں  راتوں  کو جاگنے  اور  اللّٰہ  سے  مانگنے  کی ہمت کہاں۔ یہ تو اس بابرکت ماحول کا اثر ہے  کہ مالک سے  مانگنے  اور اس کے  حضور زاری کرنے  کا موقع مل گیا۔

عرفات سے  مزدلفہ جانے  کے  لئے  حاجی حضرات عصر کے  بعد سے  ہی تیار بیٹھے  تھے۔ ابھی دن کا ا جالا ہی تھا کہ خیمے  اکھڑنے  شروع ہو گئے۔ تھوڑی دیر کے  لئے  جو میلہ سالگا تھا ایک دم اجڑنے  لگا۔ شائد  اللّٰہ  کو یہی دکھانا مقصود ہے  کہ کسی ایک جگہ دل نہ لگاؤ۔ میرے  حکم کے  مطابق چلتے  رہو۔ اسی میں  برکت ہے۔ اسی میں  ثواب ہے۔ سو ہم بھی دوسروں  کی دیکھا دیکھی بس سٹینڈ کی طرف چل پڑے۔ بس سٹینڈ پر لا ہور کے  جناب محمود صاحب سے  ملاقات ہو گئی۔ یہ انجنئیر ہیں  اور لا ہور میں  ملازمت کر رہے  ہیں۔ بہت نیک آدمی ہیں۔ ان کی اہلیہ اور بہن نے  میری اہلیہ کی بڑی خدمت کی۔  اللّٰہ  تعالیٰ انہیں  جزائے  خیر دے۔

ہم بس سٹینڈ کے  فٹ پاتھ پہ بیٹھے  ہوئے  تھے  کہ یہ ساتھی بھی ہمارے  پاس آ کر بیٹھ گئے۔ معمولی سی سلام دعا ہوئی۔ میں  نے  بیوی کے  متعلق بتایا کہ فالج کی مریضہ ہیں  تو انہوں  نے  ہمیں  تسلی دی۔ میری اہلیہ کے  لئے  اٹھنا بیٹھنامسئلہ تھا۔ بیگم محمود صاحب نے  انہیں اٹھانے  بٹھانے  اور تقاضا کرانے  میں  میری بہت مدد کی۔ بس اسٹینڈ بسوں  سے  بھرا ہوا تھا۔ حجاج کرام فٹ پاتھ پر بیٹھے  اپنے  اپنے  مکتب کی بسوں  کا انتظار کر رہے  تھے۔ کچھ حضرات چٹائیاں  بچھا کر آرام کر رہے  تھے۔ کچھ بسکٹ وغیرہ کھا رہے  تھے۔ یہ بسکٹ وغیرہ مکہ والوں  نے  حاجیوں  کو ہدیہ کئے  تھے۔ بڑے  سخی لوگ ہیں۔ ہماری حاجن صاحبہ کو کسی نے  روٹیاں  ہدیہ کی تھیں۔ ہم نے  وہ روٹیاں ساتھ والوں  کو دے  دیں۔ یہاں  اتنا کچھ ہوتا ہے۔ آدمی سنبھال نہیں  سکتا۔ دو تین گھنٹے  کے  انتظار کے  بعد گاڑیوں  نے  حرکت کرنا شروع کی۔ اس اثنا ء میں  اہلیہ کو تقاضا کی حاجت ہوئی تومیں  بیگم محمود کو لے  کر واپس کیمپ گیا۔ واپس آئے  تو مکتب چونتیس کی بس جا چکی تھی۔ بھائی محمود صاحب اور ان کی ہمشیرہ بہت پریشان تھے۔ مگر پریشانی تو حج کا لازمہ ہے۔ پریشانی آتی ہے۔ مگر بہت جلد  اللّٰہ  تعالیٰ اسے  دور کر دیتے  ہیں۔

ہمارے  علاوہ مکتب نمبر ۳۴ کے  کچھ اور حاجی ہماری طرح پیچھے  رہ گئے  تھے۔ معلم کے  چند کارندے  بھی ہماری وجہ سے  ابھی بس سٹینڈ پہ موجود تھے۔ تھوڑی دیر کے  بعد ہمارے  مکتب کی ایک بس مزدلفہ سے  واپس آئی تو ہمیں  لے  کر مزدلفہ کو روانہ ہوئی۔

مزدلفہ عرفات اور منیٰ کے  درمیان منیٰ سے  مشرق کی جانب حدودِ حرم میں  داخل ہو کر ایک تین میل کا میدان ہے۔ اس میدان کی آخری حد ایک پہاڑ ہے  جسے  مشعرِ  حرام کہتے  ہیں۔ حضورﷺ نے  وقوفِ مزدلفہ کی رات اسی کے  پاس قیام فرمایا تھا۔ ہمیں  پتہ نہیں  بس والے  نے  کہاں  اتارا۔ ہم نے  گذارش بھی کی کہ بھائی کسی ایسی جگہ اتارنا جہاں  وضو استنجے  کا انتظام ہو۔ مگر وہ حضرات اپنی مرضی کے  مالک ہوتے  ہیں  ہمیں  ایسی جگہ اتار گئے  جہاں  پانی وغیرہ کا کوئی انتظام نہ تھا۔ ہم نے  پینے  کے  پانی سے  وضو کیا اور چار مقتدیوں  نے  میری اقتداء میں  نمازِ مغربین یعنی مغرب و عشاء ادا کی۔ موذن کے  فرائض محمود صاحب نے  ادا کئے۔ نماز سے  فارغ ہو کر چٹائیاں  بچھا کر لیٹ گئے۔ میری اہلیہ کا کہنا ہے  کہ عرفات اور مزدلفہ میں  مجھے  بہت سکون ملا۔ مزدلفہ کی رات میرے  لئے  یادگار  رات ہے۔ کیوں  نہ ہو یہ مقام ہی ایسا ہے۔ فطرت کی گود میں، زمین کی مخمل پر، آسمان کے  سائبان تلے  جو سکھ ملتا ہے  وہ مصنوعی ماحول میں  نصیب نہیں  ہوتا۔ مگر یہ سکھ ان دلوں  کے  لئے  ہے  جو فطرت کے  ساتھ ہم آہنگی رکھتے  ہیں۔ تکلف و تصنع کے  عادی جسم آغوشِ فطرت میں  کہاں  سکون پاتے  ہیں۔ ہم نے  رات ہی کو چاند کی چاندنی میں  کنکریاں  چن کر تھیلوں  میں  رکھ لیں۔ صبح کی نماز کے  بعد وقوف کی نیت سے  تھوڑا ساتوقف کیا۔ حاجی صاحبان اپنے  اپنے  انتظام سے  منیٰ کی طرف روانہ  ہو رہے  تھے۔ محمود صاحب مجھے  مستورات کے  پاس بٹھا کر سواری ڈھونڈنے  لگے۔ کوئی بھی تیس چالیس ریال سے  کم پر راضی نہیں   ہو رہا تھا۔ کافی انتظار کے  بعد ایک ٹرالے  والادس دس ریال پر راضی ہوا۔ ہم اس میں  سوار ہو گئے۔

 

منیٰ واپسی___ مراجعت

 

آج دسویں  ذی الحجہ ہے۔ آج کا دن بڑا مصروف دن ہے  اور اس دن ہر حاجی کو بہت سے  کام سرانجام دیتے  ہیں۔ منیٰ پہنچ کر بڑے  شیطان کو کنکریاں  مارنا ہیں،قربانی کرنا ہے،سر کے  بال منڈانے  ہیں،طواف زیارت کے  لئے  مکہ جا کر پھر منیٰ واپس آنا ہے۔ ان اعمال کی انجام دہی میں  اچھا خاصا صحت مند آدمی بھی تھک جاتا ہے  یا اکتا جاتا ہے۔ مگر یہ مجاہدہ ہی تو مقصدِ حج ہے۔ اصل میں  یہ جدوجہد اور مشقت نفس اور شیطان کے  خلاف جہاد ہے۔ اس لئے  فرمایا گیا ہے  کہ عورتوں  کے  لئے  حج کا ثواب جہاد کے  ثواب کے  برابر ہے۔ حج اور جہاد دونوں  میں  مال جان وقت تینوں  چیزوں  کی قربانی کرنا پڑتی ہے۔ جو مال  اللّٰہ  کے  راستے  میں  خرچ کیا جائے  اس کا ثواب سات لاکھ گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔

اگر جہاد کے  حوالے  سے  سوچا جائے  تو وقوفِ مزدلفہ تک کا عرصہ جہاد کی تیاری کا عرصہ ہے۔ وقوفِ عرفات میں  حاجیوں  کی ذہنی تربیت کی جاتی ہے۔ جیسا کہ حجۃ الوداع کے  خطبہ کے  مضامین سے  پتہ چلتا ہے۔ حاجی کے  ذہن میں  دین اسلام کے  پورے  احکام کا استحضار ضروری ہے۔  اللّٰہ  تعالیٰ کی ذاتِ عالی کی قدرت کا کامل یقین دل میں  بٹھانا درس عرفہ کا خاصہ ہے۔  اللّٰہ  سے  دعائیں  مانگنا، التجائیں  کرنا۔ معافیاں  مانگنا پھر میدانِ مزدلفہ کی تنہائی میں   اللّٰہ  کی یکتائی اور بڑائی کا تصور جمانا۔  اللّٰہ  سے  ہونے  اور  اللّٰہ  کے  غیر سے  کچھ نہ ہونے  کا مراقبہ کرنا۔ حضورﷺ کی سنت اور طریقے  کو دہراناسب کچھ دل بنانے  کے  اعمال ہیں۔

جب دل بن جائے  تو بدن عمل کے  لئے  تیار ہو جاتا ہے۔ جہد و مشقت کی تکالیف سہنے  کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے۔ صبر و تحمل کا ملکہ پیدا ہو جاتا ہے۔  اللّٰہ اور  نبی ؐ کی ماننے  میں  مزہ آتا ہے۔ اور یہ ماننا ہی تو حج ہے۔ مزدلفہ سے  کنکریاں  چنتے  وقت ایسے  محسوس  ہو رہا تھا جیسے  بچے  گولیاں  کھیلنے  کے  لئے  کنکر اکٹھے  کر رہے  ہیں۔ اس تصور کے  ساتھ معاً خیال آتا ہے  کہ حاجی بھی تو بچہ ہے۔ معصوم بچہ عرفات کے  بعد اس کے  ذمہ کوئی گناہ نہیں رہا۔ حاجی کی مثال اس وقت ایک بھولے  بھالے  معصوم عاشق کی سی ہے۔ جو آنکھیں  بند کر کے  بغیر سوچے  سمجھے  اپنے  محبوب حقیقی کا حکم ماننے  کے  لئے  بچوں  کی سی حرکتیں  کر رہا ہے۔ مگر یہ بچوں  کی حرکتیں  نہیں  یہ جہاد کی ٹریننگ ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی کنکریاں  شیطان مردود کو جو انسان کا سب سے  بڑا دشمن ہے  کو تباہ و برباد کرنے  کا اسلحہ ہے۔ یہ کنکریاں  نہیں  گولیاں  ہیں  اور جسے  ہم کھیل سمجھ رہے  ہیں  یہ کھیل نہیں  یہ من کو مارنے  کا عمل ہے۔ یہ جہادِ اکبر ہے۔ اس وقت کسی کا کوئی مرتبہ، پیشہ یا مسلک نہیں  سب بچے  ہیں۔ کسی کے  پاس کوئی سند نہیں، کوئی ڈگری نہیں۔ یہاں  کوئی عالم نہیں۔ کوئی فاضل نہیں۔ سب امی ہیں۔ سب بچے  ہیں۔ سب غلام ہیں   اللّٰہ  اور نبیؐ کے  غلام۔ یہاں  کسی کی کوئی اَنا نہیں،کوئی میں  نہیں۔ ہاں  تو یہ میں  مارنے  کی ٹریننگ ہے۔ اپنی اصل کی طرف لوٹنے  کی مشق ہے۔ اور آدمی کی اصل کیا ہے ؟یہی کہ سب آدمی آدم زاد ہیں۔ آدمؑ کی اولاد ہیں۔ اور آدم ؑ کون تھے۔ مٹی کے  پتلے ….. مگر یہی مٹی کا پتلا ہے  جسے   اللّٰہ  تعالیٰ نے  اپنا خلیفہ بنایا۔

 

اعادہ ____ تاریخ کی دہرائی

 

رکی نہیں  ہے  تو گردش پلٹ کے  آئے  گی

نجانے  کتنے  زمانوں  کو ساتھ لائے  گی رشید نثار

زمانہ اگر ٹھہرا نہیں  توانسان بھی رکا نہیں  یہ بھی مسلسل چل رہا ہے۔ گردش کے  ساتھ ساتھ۔ سوچا جائے  تو یہ گردش دائرے  کی گردش  ہے۔ دائرے  کی گردش میں  نقطہ آغاز و انتہا ایک ہی ہے۔ جیسے  طواف کرتے  کرتے  اسی نقطے  پر آ جاتے  ہیں  اس طرح میں  تاریخ کے  نقطہ آغاز پہ کھڑا مستقبل کی طرف رواں  ہوں۔

آج کا منیٰ چودہ صدیاں پرانے  منیٰ کی تکرار ہے۔ وہ منیٰ جس میں  کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ اپنے  پیارے  محبوب کی اداؤں  کی نقل کر رہے  ہیں۔ حضورﷺ اپنے  جدِّ امجد کی اداؤں  کی تجدید فرما رہے  ہیں۔ شیطانوں  پہ سنگ باری کر رہے  ہیں۔ جانور ذبح کر رہے  ہیں۔ اونٹ قربان ہونے  کے  لئے   اللّٰہ  کے  حبیب کی طرف دوڑے  چلے  آ رہے  ہیں …. حضرت علیؓ حضورﷺ کے  لئے  ہنڈیا پکا رہے  ہیں۔ باقی حضرات بھی شیطان کو کنکر مار رہے  ہیں۔ کوئی قربانی کر رہا ہے  اور کوئی بال کٹوا رہا ہے۔  سچ پوچھیں  تو میرا تصور حجۃ الوداع اور جسم مناسکِ حج میں  مصروف ہے۔

 

وارداتِ ہجر و وصال

 

قصہ آدم ؑ و حوا میں  میاں  بیوی کے  بچھڑنے  اور ملنے  کا واقعہ بہت مشہور ہے۔ اس کا تجربہ ہمیں  بھی ہوا ہے۔

مزدلفہ سے  منیٰ جاتے  ہوئے  ایک سرنگ سے  گذرنا پڑتا ہے۔ سرنگ کے  اختتام پر منیٰ آ جاتا ہے۔ سرنگ سے  نکلتے  ہی ڈرائیور صاحب نے  ہماری بیگم صاحبہ کو نیچے  اتار دیا۔ ہمیں  معلوم نہیں  تھا کہ یہ منیٰ ہی ہے۔ ہم شور مچاتے  رہے  کہ ہمیں  آگے  اتارو۔ ہم نے  منیٰ جانا ہے۔ ہمارے  شور مچانے  کی وجہ سے  ڈرائیور نے  تقریباً پندرہ بیس میٹر دور جا کر ہمیں اتارا۔ اب ہمیں  معلوم نہیں  کہ ہماری ہمسفر کہاں  ہے۔ بھائی محمود صاحب نے  مجھے  تسلی دی۔ اور میری اہلیہ کو ڈھونڈنے  کے  لئے  پیچھے  چلے  گئے۔ میں  بھی حیران و پریشان سڑک پر سرگرداں  ہوں۔ میری بینائی کمزور ہے۔ دور سے  کسی کو پہچاننا مشکل ہے۔ پھر پہچانوں  توکس کو پہچانوں۔ سب پردیسی سب اجنبی۔ اللّٰہ  نے  کرم کیا کہ دس پندرہ منٹ کی بھاگ دوڑ کے  بعد محترمہ سڑک کنارے  بیٹھی مل گئیں۔ معلوم ہوا کہ بھائی محمود صاحب انہیں  سڑک کنارے  بٹھا کر ہمیں  ڈھونڈنے  چلے  گئے  ہیں۔ میں  محمود صاحب کی اہلیہ اور ہمشیرہ کو سڑک کنارے  بٹھا آیا تھا۔ میں  محترمہ کو لے  کر ان کے  پاس پہنچا تو محمود صاحب بھی وہاں  پہنچ چکے  تھے۔ ہم نے   اللّٰہ  کا شکر ادا کیا کہ سارے  ساتھی دوبارہ مل گئے  ہیں۔ مگر یہ ملن بھی مستقل ملن نہ تھا بلکہ اس وصال نے  بھی ہجر کی صورت بچھڑنا تھا۔

یہ جگہ جہاں  ہم بیٹھے  ہوئے  تھے  ایک پل ہے۔ اس پل کے  نیچے  سے  انسانوں کے  ریلے  آ جا رہے  تھے  اور دور حدِ نظر تک خیموں  کا شہر آباد تھا۔ ہمیں  صرف یہ معلوم تھا کہ ہمارے  خیمے  کا نمبر پانچ اور رنگ پیلا ہے۔ اس کے  علاوہ وہاں  تک پہنچنے  کی کوئی سبیل نظر نہیں  آ رہی تھی۔ کوئی ٹیکسی رکشہ وغیرہ نہیں  کہ ڈرائیور کی مدد سے  اپنے  خیمے  میں  پہنچ جائیں۔ اور ہم دونوں  میاں  بیوی میں  اتنی سکت نہیں  کہ گھوم پھر کر اپنی سکونت تلاش کریں۔ پھر آج کے  اعمال میں  سب سے  پہلا عمل بڑے  شیطان کو کنکریاں  مارنا ہے۔ راہ گذرتے  حاجیوں  کی زبانی معلوم ہوا کہ جمرات یہاں  سے  بہت قریب ہیں۔ سو ہمارے  مہربانوں  نے  رمی والا مسئلہ حل کر دیا۔ محمود صاحب اور ان کی اہلیہ نے  ہماری طرف سے  بڑے  شیطان کو کنکریاں  مارنے  کا عمل پورا کر دیا۔ اب اس کے  بعد دوسرامسئلہ قربانی کا تھا۔ اس کی سبیل  اللّٰہ  تعالیٰ نے  پہلے  ہی پیدا کر دی تھی۔ ہماری بلڈنگ کے  چندساتھیوں  نے  اپنے  چوکیدار کے  ذریعے  ایک پاکستانی کو قربانی کے  پیسے  جمع کرا دئیے  تھے۔ اس نے  وقت پر قربانی کر دی تھی۔

قربانی کے  بعد بال منڈوا کر آدمی احرام کی پابندیوں  سے  آزاد ہو جاتا ہے۔ محمود صاحب کو ہماری بلڈنگ اور ہمیں  ان کی بلڈنگ کا نمبر معلوم نہیں۔ اتنی معلومات پوچھنے  کی فرصت ہی نہیں  ملی۔ بعد میں  پتہ چلا کہ ہماری بلڈنگ سے  ان کی بلڈنگ بمشکل چند میٹر کے  فاصلے  پر تھی۔ بہرحال اس میں  بھی  اللّٰہ  کی کوئی مصلحت ہو گی۔ رمی کرنے  کے  بعد انہوں  نے  کہا کہ ہم تواب ڈیرے  پر جا کر نہا دھو کر احرام کھولیں  گے۔ ہمیں  اپنے  خیمہ تک جانے  کا راستہ نہیں  آتا تھا۔ سوائے  حرم کے  اور کوئی مرکزی مقام معلوم نہیں تھا۔ ہم انہیں  اپنے  ساتھ لے  جانے  پر مجبور نہیں  کر سکتے  تھے۔ وہ ہمیں  خدا حافظ کہہ کر جدا ہو گئے۔ ہم ایک دفعہ پھر ہجر کی اذیت میں  مبتلا ہو جاتے  ہیں۔ اتنے  میں  ایک گاڑی سے  حرم حرم کی آواز آتی ہے  ہم بغیر کچھ سوچے  سمجھے  گاڑی میں  سوار ہو جاتے  ہیں۔ اور تھوڑی ہی دیر میں  حرم شریف پہنچ جاتے  ہیں۔

 

کعبہ___ مرکزِ کون و مکان

 

حرم شریف

اللّٰہ کا  گھر

سب کا گھر!دار الامن!

پودوں  کے  لئے،انسانوں  کے  لئے  حیوانوں کے  لئے  سب کے  لئے  دار الامن،یہاں  قاتلوں،مظلوموں،غلاموں  سب کے  لئے  اماں  ہے۔ یہ سب کا گھر ہے۔  اللّٰہ  نے  کسی انساں  کو اس گھر کا حقِ ملکیت نہیں  دیا۔ خادمِ حرم اس کے  مالک نہیں  خدمتگار ہیں۔ سب ہی خادم ہیں۔ اور یہ گھر سب کی جائے  پناہ ہے۔

حضرت عمرؓ فرماتے  ہیں  کہ اگر میں  اپنے  باپ کے  قاتل کو بھی حرم میں  پاؤں  تو وہاں  اس کو ہاتھ نہ لگاؤں  یہاں  تک کہ باہر نکلے۔ حتی کہ حضرت عمرؓ کے  صاحبزادہ حضرت عبد اللّٰہ  بن عمرؓ سے  تو یہ نقل کیا گیا ہے  کہ اگر میں  اپنے  باپ حضرت عمر کے  قاتل کو وہاں  پاؤں  تومیں  اس کو مجبور نہ کروں۔ حضرت ابنِ عباس سے  بھی یہی اپنے  والد کے  قاتل کے  متعلق نقل کیا گیا۔ (در منثور،بحوالہ فضائل حج)

مسجد حرام کے  درمیان سیاہ رنگ کے  غلاف میں  لپٹا ہوا ایک مکعب نما مکان ہے  جسے  کعبۃ اللّٰہ  کہا جاتا ہے۔ ایک مشہور قول کے  مطابق سب سے  اول اس کی تعمیر فرشتوں  نے  کی،دوسری تعمیر آدم ؑ نے،تیسری حضرت شیثؑ نے  اور چوتھی تعمیر حضرت ابراہیم ؑ نے  کی۔ مورخین کے  مطابق حضرت ابراہیم کے  تعمیر کردہ کعبۃ  اللّٰہ  کی بنیاد نو گز اونچی،تیس گز لمبی اور تئیس گز چوڑی تھی۔ یہ مسقف نہ تھی اور اس کے  اندر ایک کنواں  تھا جس میں  وہ نذر نیاز ڈال دی جاتی تھی جو کعبہ پر نثار کی جاتی تھی۔

حضورﷺ کے  عہد جوانی میں  بھی بیت  اللّٰہ  ایک دفعہ تعمیر ہوا تھا۔ آپ نے  اس تعمیر میں  خود حصہ لیا۔ بلکہ حجراسود کو اپنے  دستِ مبارک سے  ایک چادر پر رکھ کر سربراہان قریش کی مدد سے  دیوارِ کعبہ میں  نصب فرمایا۔ اس کے  بعد۲۴ھ میں  یزید کی فوج نے  حضرت عبد اللّٰہ  بن زیبرؓ کے  خلاف جنگ کرتے  ہوئے  کعبۃ  اللّٰہ  پر منجیق سے  آگ برسائی تو کعبہ کی دیواروں  کو نقصان پہنچا غلافِ کعبہ جل گیا۔ حضرت اسماعیلؑ ذبیح  اللّٰہ  کے  فدیہ میں جو مینڈھا جنت کا ذبح ہوا تھا۔ اس کے  سینگ اس وقت سے  کعبہ شریف میں  محفوظ تھے۔ وہ اس حادثہ میں  جل گئے۔ ۶۴؁ھ میں  حضرت عبد اللّٰہ  بن زبیر نے  نئے  سرے  سے  حضورﷺ کی خواہش کے  موافق حطیم کے  حصہ کو اندر داخل کیا اور دروازہ زمین کے  قریب کر دیا۔ اس کے  بعد عبدالمالک بن مروان نے  حجاج کے  بہکاوے  میں  آ کر حضرت زبیر کے  تعمیر کردہ کعبہ کو حضورﷺ کے  زمانہ کے  مطابق کر دیا۔ یہ واقعہ۷۳؁ھ کا ہے۔ اس کے  بعد مختلف اوقات میں  اس کی مرمت ہوتی رہی ہے۔ ۱۳۶۷؁ھ میں  سلطان ابنِ سعود نے  ا سکے  دروازے  کے  کواڑوں  اور چوکھٹ کی تجدید کی ہے۔ (تلخیص فضائل حج)

کعبۃ  اللّٰہ  کے  فضائل میں  ایک حدیث میں  حضورﷺ نے  ارشاد فرمایا ہے  کہ:۔

اللّٰہ  تعالیٰ کی ایک سو بیس رحمتیں  روزانہ اس گھر پر نازل ہوتی ہیں۔ جن میں  سے  ساٹھ طواف کرنے  والوں  پر اور چالیس وہاں  نماز پڑھنے  والوں  پر اور بیس بیت  اللّٰہ  کو دیکھنے  والوں  پر ہوتی ہیں “(فضائل حج)

حضرت حسن بصریؒ نے  جو خط مکہ والوں  کو لکھا ہے  اس میں  تحریر ہے  کہ وہاں  پندرہ جگہ دعا قبول ہوتی ہے۔ (۱)طواف کرتے  وقت (۲)ملتزم پر(۳) میزابِ رحمت کے  پاس(۴) کعبہ شریف کے اندر(۵)زمزم کے  کنویں  کے  پاس (۶)صفا پر(۷)مروہ پر (۸)ان کے  درمیاں  دوڑتے  ہوئے (۹)مقامِ ابراہیم کے  پاس(۱۰)عرفات کے  میدان میں  (۱۱)مزدلفہ میں (۱۲)منیٰ میں (۱۳)تینوں  شیطانوں  کو کنکریاں  مارتے  وقت۔    (حصنِ حصین بحوالہ فضائل حج)

کعبۃ  اللّٰہ  جو کہ برکتوں، فضیلتوں  اور رحمتوں  کا مرکز ہے  اس  کی موجودہ صورت کچھ اس طرح کی ہے :۔

اس کی ظاہری شکل مکعب نما سی ہے۔ اس کی تعمیر نیم سیاہ پتھر سے  کی گئی ہے۔ اس کے  غلاف کا رنگ گہراسیاہ ہے۔ غلاف کی بنائی اس کاریگری سے  کی گئی ہے  کہ تسبیح و تحمید اور تحلیل کے  مبارک کلمات واضح طور پر ابھر ے  ہوئے  دکھائی دیتے  ہیں۔ غلاف کے  اوپر کے  حصے  سے  تقریباً ایک چوتھائی حصہ چھوڑ کر حج سے  متعلقہ آیات سونے  کے  تاروں  سے  لکھ کر ایک لمبی پٹی بنا دی گئی ہے  جو کہ کعبہ شریف کو چاروں  اطراف سے  گھیرے  ہوئے  ہیں۔ اس پٹی کے  نیچے  مختلف تقطیع کی چھوٹی چھوٹی پٹیاں  ہیں  ان پر آیاتِ قرآنی لکھی ہوئی ہیں۔ دروازے  کی طرف خادمینِ حرمین شریفین کے  نام بھی لکھے  ہوئے  ہیں۔ جنہیں  یہ غلاف بنوانے  کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔

کعبۃ  اللّٰہ  کے  اہم مقامات میں  (۱)رکنِ یمانی(۲)رکنِ عراقی(۳)رکنِ شامی (۴)حجرِ اسود(۶)ملتزم(۷)حطیم (۸)میزابِ رحمت اور مقامِ ابراہیم ؑ شامل ہیں۔

رکنِ یمانی بیت  اللّٰہ  کا جنوب مغربی گوشہ ہے  جو یمن کی طرف واقع ہے۔ رکن عراقی بیت  اللّٰہ  کا شمالی گوشہ جو شام کی جانب واقع ہے۔ حجرِ اسود وہ پتھر ہے  جو جنت سے  آیا تھا۔ اس وقت اس کا رنگ دودھ کی طرح سفید تھا لیکن بنی آدم کے  گناہوں  نے  اس کو سیاہ کر دیا۔ یہ بیت  اللّٰہ  کے  مشرقی جنوبی کونہ میں  گڑا ہوا ہے۔ اس کے  چاروں  طرف چاندی کا حلقہ چڑھا ہوا ہے۔ ملتزم حجرِ اسود اور بیت  اللّٰہ  کے  دروازے  کے  مابین دیوار جس پر لپٹ کر دعا مانگنا مسنون ہے۔ حطیم بیت  اللّٰہ  سے  متصل شمالی جانب زمین کا وہ حصہ جو دیوار سے  گھرا ہوا اس کو طواف میں  شامل کرنا واجب ہے۔ میزابِ رحمت حطیم میں  کعبہ کے  اوپر سے  گرنے  والا پرنالہ جہاں  دعا قبول ہوتی ہے۔ اور مقامِ ابراہیمؑ وہ پتھر ہے  جس پر کھڑے  ہو کر حضرت ابراہیمؑ نے  بیت  اللّٰہ  کو تعمیر کیا تھا۔ (تلخیص کتاب الحج،مسلم کمرشل بینک)

 

کعبہ ___ قبلہ نما

 

مکان کی اہمیت مکین سے  اور چیزوں  کی وقعت ان کے  مصرف کے  حوالے  سے  ہوتی  ہے۔ مذکورہ اجمال سے  معلوم ہوتا ہے  کہ وہ کالا کوٹھاجسے   اللّٰہ  کا گھر کہا جاتا ہے  وہ بھی عام عمارتوں  جیسی ایک سیدھی سادھی عمارت ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے  کہ اس عمارت کی نسبت کس سے  ہے۔ نسبت اس کی اس عالی ذات سے  ہے  جو خالقِ کائنات اور مالکِ کون و مکان ہے۔ فضیلتوں  اور عزتوں  کا صرف وہی مالک ہے۔ وہ جسے  معزز کہے  وہ معزز ہے۔ جسے  ذلیل کہے  وہ ذلیل ہے۔ کیوں ؟ یہ اسے  معلوم ہے۔ اس نے  اس عمارت کو اپنا گھر فرمایا ہے۔

اور وہ….. وہ کون ہے۔ وہ  اللّٰہ  ہے۔ حکم کا مالک۔ حکومت کا مالک۔ عبادت اس کے  لئے۔ محبت اس کے  لئے۔ عقیدت اس کے  لئے۔ اس کے  علاوہ کوئی عباد ت کے  لائق نہیں۔ اس لئے  کہ وہ خالق ہے  اور کوئی خالق نہیں۔ وہ مالک ہے  اور کوئی مالک نہیں۔ وہ رازق ہے  اور کوئی رازق نہیں۔ وہ خالق ہے، وہ مالک ہے۔ وہ خالق و مالک ہے  زمین وآسمان کا۔ سارے  جہان کا۔ میرے  آپ کے  سب کے  جسم و جان کا۔ انسان کا حیوان کا ……. ہاں  تو جو خالق ہے، جو رازق ہے، جو مالک ہے، جو معبود ہے،جو مسجود ہے۔ وہ کہتا ہے  یہ میرا گھر ہے  اس کی طرف منہ کر کے  سجدہ کرو مجھے  سجدہ کرو۔ میرے  سواکسی کو سجدہ نہیں۔ میرے  سواکسی کے  آگے  سرنگوں  نہیں  ہونا۔ تم میرے  بندے  ہو، میرے  غلام ہو، میں  تمہارا مالک ہوں۔ میں  تمہاری ضرورتیں، خواہشیں، تمنائیں  سب کچھ پوری کرنے  والا ہوں۔ مانگو!مجھ سے  جو چاہتے  ہو مانگو،رزق مانگو،صحت مانگو، محبت مانگو، جنت مانگو،میری رضا مانگو جو چاہتے  ہو مانگو،جوتے  کا تسمہ ٹوٹ جائے  تو وہ بھی مجھ سے  مانگو…… مگر صرف مجھ سے، میرے  سواکسی اور کے  سامنے  دستِ سوال دراز نہ کرو۔ میری غیرت گوارا نہیں  کرتی کہ میرا غلام کسی غیر کے  آگے  دستِ سوال دراز کرے۔ نہیں  !نہیں ! میرے  سواکسی سے  نہ مانگو۔ جہاں  بھی مانگو گے  میں  دوں  گا۔ جب بھی مجھے  پکارو گے  تمہاری پکار کو پہنچوں  گا۔ اکیلے  مانگو گے  تومیں  دوں گا۔ مل کر مانگو گے  تومیں  دوں گا۔ مگر شرط یہ ہے  کہ جس طرح میرے  گھر میں  آ کر صرف مجھ سے  مانگ رہے  ہو۔ اور اکٹھے  ہو کر مانگ رہے  ہو۔ اس وقت تم فرد فرد طبقے  نہیں۔ فرقے  نہیں  برادریاں  نہیں۔ تم ایک ہو ایک ہو۔ اسی طرح اکائی بن کر مانگو گے  تو تمہیں  سب کچھ دوں گا۔ اور اگر مجھے  بھلا کر یہاں  بھی غیروں  پہ نظر رکھو گے  تومیں  تمہاری ہرگز نہ سنوں  گا۔ یاد رکھو یہ جو پتھروں  سے  تعمیر شدہ عمارت ہے  اس سے  بھی نہیں  مانگنا مجھ سے  مانگنا ہے ……. یہ میرا گھر ہے۔ یہ میں  نہیں۔

 

غیر محسوس احساس

 

واقعی کعبہ اللّٰہ  کا گھر ہے۔ گھر بھی اس وجہ سے  کہ اس نے  فرمایا ہے  کہ کعبہ میرا گھر ہے۔ اور حکم ہے  کہ مجھے  سجدہ کرتے  وقت اس کی طرف رخ کر لیا کرو۔ حالانکہ جس طرف بھی منھ کیا جائے   اللّٰہ  کی طرف ہی ہوتا ہے۔ مگر آدمی کا مزاج سمتوں، حدوں، لکیروں، دائروں  سے  بننے  والے  نقشوں  کا عادی ہے۔ انسانی عقل حیطہ احساس سے  ماورا ء کا ادراک کرنے  سے  عاری ہے۔ سو اللّٰہ  تعالیٰ نے  جو کہ وراء  الوراء الذات ہے۔ بے  جسم اسم ہے۔ جسے  ہاتھ چھوسکتا ہے  نہ کان سن سکتا ہے۔ اسے  زبان سے  چکھا نہیں  جا سکتا۔ ناک سے  سونگھا نہیں  جا سکتا۔ حواس میں  اس کے  احساس کی اہلیت نہیں۔ وہ کوئی جسم نہیں،کوئی شکل نہیں،شکل ہو تو عقل اس کا ادراک کرے۔ شکل نہ ہو تو عقل کیا کرے !…… عقل کیا کرے ؟اپنی بے  بسی اور کم ہمتی کا اعتراف کر کے  ایمان و ایقان سے  نورِ معرفت حاصل کرنے  کی کوشش کرے۔ اس لئے  کہ غیر محسوس کو محسوس کرنا۔ صرف ایمان کے  امکان میں  ہے۔

حاجی جب ایمان کی مان کر گھر سے  نکلتا ہے  تو بے  یقینی کی دھند چھٹنے  لگتی ہے۔

بصارت کے  راستے  بصیرت کا نور قلب میں  داخل ہونے  لگتا ہے۔ مشاہدہ کے  ذریعہ تجربہ کی واردات وارد ہونے  لگتی ہیں۔ معرفت کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ گھر سے  نکلتے  ہی مسائل ووسائل کے  نقشے  بننے  اور ٹوٹنے  لگتے  ہیں۔ باہر کی ٹوٹ پھوٹ سے  اندر بھی شکست و ریخت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ شکست و ریخت ہی بت شکستی ہے۔ اندر ٹوٹتے  ٹوٹتے  ٹوٹ جاتا ہے۔ خالی ہو جاتا ہے۔ صاف ہو جاتا ہے۔ اب اس خالی مکان میں  خالق کون و مکان گھر کرنے  لگتا ہے۔ کچھ کچھ محسوس ہونے  لگتا ہے۔ منیٰ میں  سرسراہٹ سی ہوتی ہے،پھر عرفات میں  عرفان ہوتا ہے۔ مزدلفہ کے  اندھیارے  میں  اجیارا جھلکتا ہے۔ پھر منیٰ میں  شوق کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ یہاں  تک کیا ہوتا ہے،کیا نہیں  ہوتا،نہ میں  صحیح طرح بیان کر سکتا ہوں  نہ آپ اس کی نقشہ کشی کر سکتے  ہیں۔ میرے  پاس سوائے  استعارے  یا اشارے  کے  اور کوئی لسانی قرینہ نہیں  جس کے  ذریعے  میں  صحیح صورتِ حال کی نقشہ کشی کر سکوں۔

مناسک منیٰ کے  بعد جب حاجی طواف زیارت کے  لئے  کعبۃ  اللّٰہ  کے  گرد طواف شروع کرتا ہے  تو پہلے  چکر میں  ہی  انا کا بت ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی بت ہے  جسے  بڑے  بڑے  پارسا بھی گوشہ دل میں  چھپائے  پھرتے  ہیں۔ کعبۃ  اللّٰہ  پر پہلی نظر پڑتے  ہی ہیبت الٰہی اور جلالِ کبریا کی دہشت سے  آدمی سب کچھ بھول جاتا ہے۔ صرف کعبہ اور کعبے  والا ہوتا ہے  جو قلب و نظر کو گرفت میں  لے  لیتا ہے۔ خدا جانے  اس کالے  کوٹھے  میں  کون سی کشش ہے۔ آدمی خود بخود کھنچا جاتا ہے۔

میں  نے  دیکھا بھی اور آزمایا بھی ہے، ضعیف، بیمار، مفلوج سبھی دیوانہ وار اس کوٹھے  کے  گرد گردش کر رہے  ہیں۔

طوافِ کعبہ یا رقصِ بسمل

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے  کہ من بودم

بہر سو رقصِ بسمل بود شب جائے  کہ من بودم            (امیرخسرو)

(معلوم نہیں  وہ کون سی منزل تھی جہاں  میں  رات کو قیام پذیر تھا۔ عجیب منظر تھا!میرے  ارد گرد تڑپتے  پھڑکتے  جسم رقص کناں  تھے)

امیرخسروکا یہ شعر میرے  جذبات کا عکاس ہے  کہ میں  نے  عشق و محبت اور عقیدت و احترام کے  نشے  سے  سرشار تڑپتے  دلوں  اور پھڑکتے  جسموں  کو اس کالے  کوٹھے  کے  در و دیوار سے  اس طرح لپٹتے  دیکھا ہے  جیسے  بچہ اپنی ماں  سے  لپٹتا ہے۔ ہجرِ اسود کو بوسہ دینے  کے  لئے  سب دیوانے  ہوتے  ہیں  مگر یہ کام ہمت اور حوصلے  والوں  کا ہے  میں  نے  تو ادھیڑ عمر مردوں  اور عورتوں  کو بھی دیوار کعبہ کے  ساتھ ساتھ لپٹتے  سرکتے  دیکھا ہے  کہ کسی طرح اس سیاہ پتھر تک رسائی ہو جائے  جس کو  اللّٰہ  کے  پیارے  محبوبﷺ نے  اپنے  لبِ مبارک سے  بوسہ دیا ہے۔ صرف یہی ایک وجہ ہے  کہ ہر کوئی اس مبارک پتھر کو بوسہ دینے  کا خواہشمند ہے۔ صرف حضورﷺ کی ادا کی نقل اور  اللّٰہ  کا حکم ہے  ورنہ اس کے  متعلق حضرت عمرؓ خطاب فرماتے  ہیں :۔

میں  یقیناً جانتا ہوں  کہ تو محض ایک پتھر ہے  جو نہ کسی کو نقصان پہنچاسکتا ہے  اور نہ نفع، اگر میں  نے  رسول ا کرمﷺ کو تجھے  بوسہ دیتے  نہ دیکھا ہوتا تو میں  بھی نہ چومتا”(کتاب الحج)

اس موقع پر جنید بغدادی جو کہ اپنے  زمانے  کے  عالم اور ولی کامل تھے  ان کا ایک واقع یاد آ رہا ہے۔

حج کے  موقع پر ان کا ایک ولیہ سے  مکالمہ ہوتا ہے۔ وہ  اللّٰہ والی پوچھتی ہے ” جنید تم  اللّٰہ کا طواف کرتے  ہویا بیت  اللّٰہ کا طواف کرتے  ہو؟”جنید کہتے  ہیں  میں  نے  جواب دیا بیت  اللّٰہ کا طواف کرتا ہوں  تو اس نے  اپنا منہ آسمان کی طرف کیا اور کہنے  لگے۔ سبحان  اللّٰہ آپ کی بھی عجیب مشیت ہے  جو مخلوق خود پتھر جیسی ہے  وہ پتھروں  ہی کا طواف کرتی ہے۔ اس کے  بعد اس نے  تین شعر پڑھے  جن کا مطلب یہ ہے۔

“پتھروں  کا طواف کر کے  آپ کا قرب ڈھونڈتے  ہیں  ان لوگوں  کے  دل بھی خود پتھروں  سے  زیادہ سخت ہیں  اور حیرانی میں  حیران  وپریشان پھر رہے  ہیں  اور اپنے  خیال میں  تقرب کے  محل میں  اترے  ہوئے  ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے  عشق میں  سچے  ہوتے  تو ان کی صفات اپنی تو غائب ہو جاتیں  اور  اللّٰہ  کی محبت کی صفات ان میں  پیدا ہو جاتیں “(روض بحوالہ فضائل حج)

یہ باتیں  تو ان اہلِ  اللّٰہ  کی ہیں  جو معرفت کے  بلند مقام پر فائز ہوتے  ہیں۔ میں  نے  طواف کرتے  ہوئے  ایک جملہ ایسا سنا ہے  جو میرے  دل پہ نقش ہو چکا ہے  ایک خاتون اپنے  محرم کا پلو پکڑے  ہوئے  سرمستی کے  عالم میں  پکار رہی تھی

’’اوہ سوہنے  گھر والیا ربا‘‘(اے  خوبصورت گھر کے  مالک)۔

اس کے  اس جملے  میں  ایسا سوز و گداز تھا کہ میں  اس کے  اس جملے  سے  ایک سرمدی سرمستی سے  سرشار ہو گیا۔ میں  نے  دل میں  کہا”اوہ کرماں  والیے  میں  نے  توایسی تاثیر کسی واعظ،عابد، عالم یا ولی کی آواز میں  نہیں  دیکھی جو تیری اس بے  ساختہ ادھوری فریاد میں  ہے۔

ایک روز سعی بسیار کے  بعد ملتزم تک رسائی ہوئی۔ دروازے  کو چھونے  کی سعادت نصیب ہوئی۔ میں  ملتزم سے  لپٹنے  کی فکر میں  تھا کہ پیچھے  سے  ہچکیوں  اور سسکیوں  میں  بھیگی معطر صدا سنائی دی۔ کوئی صاحب پشتو زبان میں  اپنے  آقا و مولا سے  فریاد کناں  تھا۔ میں  نے  مڑ کر دیکھا تو ایک خوبصورت نوجوان اپنے  مولا سے  پورے  عالم کے  انسانوں  کی نجات کی دعائیں مانگ رہا تھا۔ مفہوم اس طرح کا تھا کہ یا اللّٰہ  سارے  عالم میں  دین کی ہوائیں  چلا دے۔ سارے  انسانوں  کو دوزخ سے  بچا کر جنت میں  جانے  والا بنا دے۔ اے   اللّٰہ  اپنے  رستے  میں  چلنے  والوں  کی نصرت فرما۔ مجاہدین اسلام کی نصرت فرما۔ وغیرہ وغیرہ میں  پشتو نہیں  جانتا۔ مگر دعاؤں  اور آہوں  کی زبان بین الاقوامی ہے  اس سے  ہر کوئی آشنا ہے۔ اس نوجوان کی آنسوؤں  سے  بھیگی سیاہ داڑھی اس وقت بھی میری آنکھوں  کو تراوٹ پہنچا رہی ہے۔ میں  دعا کر رہا تھا اے   اللّٰہ !مجھے  بھی اس نوجوان جیسی فکر اور سوچ عطا فرما۔ یا اللّٰہ  میری آہ میں  بھی اس پنجاب کی جٹی جیساسوزوگداز پیدا کر دے۔

ایک صاحب نے  واقعہ بتایا کہ ایک مفتی صاحب دورانِ طواف بڑے  خشوع و خضوع سے  مسنون دعائیں  مانگ رہے  تھے۔ انہوں  نے  ایک سادہ سے  دیہاتی آدمی کو دعا مانگتے  سناتو اپنی دعائیں  چھوڑ کر اس کی دعاؤں  پر آمین کہنے  لگے۔

مانگنے  والا کوئی لپٹ کے  مانگ رہا ہے، کوئی جھک کے  مانگ رہا ہے،کوئی سجدہ میں  گر کر مانگ رہا ہے، کوئی روکے  مانگ رہا ہے،کوئی گڑگڑا کر مانگ رہا۔ منگتوں  کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ فقیروں  کا ہجوم ہے۔ یہاں  سب گدا ہیں۔ کٹے  بازوؤں  والے، کٹی ٹانگوں  والے،اپنے  اپاہج پن کو بہانہ بنا کر مانگ رہے  ہیں۔ اندھے  بصارت اور بصارت والے  بصیرت مانگ رہے  ہیں۔ کوئی دولت، کوئی اولاد اور کوئی صحت مانگ رہا ہے۔ خواہشیں، تمنائیں،آرزوئیں  دلوں  میں  تڑپ رہی ہیں۔ ہونٹوں  پر مچل رہی ہیں۔ زبانیں  فریاد کناں  ہیں، ہاتھ دامن پسارے  ہوئے  ہیں،جبینیں   اللّٰہ  کی چوکھٹ پر جھکی ہوئیں  ہیں۔ کوئی سجدہ میں  ہے، کوئی رکوع میں  ہے،کوئی ملتزم سے  لپٹا کعبہ کی دیوار سے  سینہ رگڑ رہا ہے،کوئی رکنِ یمانی کو سلام کر رہا ہے، کوئی دور سے  حجرِ اسودکو استلام کر رہا ہے، کوئی حطیم کے  اندر داخل ہونے  کو تڑپ رہا ہے۔ کوئی میزابِ رحمت کے  نیچے  سجدہ ریز ہونے  کو بیتاب ہے۔ عجیب سماں  ہے  ایک پتھروں  سے  بنا ہوا سیاہ رنگ کا کوٹھا ہے۔ بظاہراس میں  کوئی دل کو کھنچنے  والی چیز نہیں۔ کوئی سجاوٹ نہیں۔ کوئی زیب و زینت نہیں  بہت ہی سادہ مکان ہے۔ مگر اس کے  گرد اتنی مخلوق کیوں  سرگرداں  ہے۔ یہ دوڑنے  والے  کیوں  دوڑ رہے  ہیں۔ یہ کس منزل کو جا رہے  ہیں۔ عجیب سماں  ہے  کوئی انجانے  میں  دھکا دے  رہا ہے۔ کوئی کسی کا پاؤں  مسل رہا ہے۔ کوئی پھسل رہا ہے۔ کوئی گر رہا ہے۔ ….. گرنے  والا اٹھ کر پھر چلنے  لگتا ہے۔ پھسلنے  والا پھر چکر لگانے  لگتا ہے۔ عجیب دیوانے  ہیں۔ کیا انہیں  درد نہیں  ہوتا؟ چوٹ نہیں  آتی؟زخم نہیں  ہوتے ؟ کیوں  نہیں  !چوٹیں  لگتی ہیں۔ زخم آتے  ہیں۔ ٹیسیں  اٹھتی ہیں۔ درد ہوتا ہے۔ ہاں  !میٹھا میٹھا درد! ویسادردجیسا بلبل کو کانٹا چبھنے  اور پروانے  کو جلنے   سے  ہوتا ہے۔ درد کے  باوجود بلبل پھول سونگھنا نہیں  چھوڑتی اور پروانہ شعلہ چومنا نہیں  چھوڑتا۔ تو یہ دیوانے،ہجر کے  مارے،زمانوں  کے  بچھڑے  اس لمحہ وصال پہ قربان نہ ہوں  تو کیا کریں۔ قربانی کا تعلق بابِ عشق سے  ہے۔ عقل کی سمجھ میں یہ بات آنے  کی نہیں۔ عقل کی رسائی جسم تک ہے۔ عقل ظاہر کو دیکھتی ہے۔ باطن کو نہیں۔ اور یہاں  معاملہ باطن کا ہے۔ یہاں  روحیں  اپنے  مرکز کے  گرد گھوم رہی ہیں۔ جسم بے  جسم کو محسوس کر رہا ہے۔ ملتزم سے  سینے  رگڑنے  والے  جسم کی روح بے  جسم سے  لپٹ رہی ہے۔ ہجرِ اسود کو چومنے  والی روح بے  جسم کو بوسہ دے  رہی ہے۔ یہ طواف کرتے  جسم مکان کا نہیں  خالقِ کون و مکان کا طواف کر رہے  ہیں۔ اور یہ جھکی جھکی گردنیں،زمین بوس جبینیں  کیا پتھر کے  گھر کو رکوع و سجدہ کر رہی ہیں ؟ نہیں !نہیں ! ایسا ہر گز نہیں۔ یہ بے  جسم کے  حکم کے  آگے  سرِ تسلیم  خم کر رہے  ہیں۔ حکم مان رہے  ہیں۔ کس کا؟اپنے  رب کا،حاکم اعلیٰ کا،محبوب حقیقی کا۔ معبودِ برحق کا،اسی لئے  غالب نے  کہا تھا

“کعبے  کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے  ہیں ”

 

کعبہ ___ مرکزہ

 

سائنسدانوں  کا تصور ہے  کہ ساری کائنات گھوم رہی ہے۔ اور گھومنے  میں  مدوری حرکت یعنی دائرے  میں  حرکت کرنے  کا تصور پایا جاتا ہے۔ جیسا کہ چاند زمین کے  گرد گھوم رہا ہے  اور زمین سورج کے  گرد گھوم رہی ہے۔ ہو سکتا ہے  کہکشانی نظام کی حرکت بھی مدوری ہو۔ اس حرکت کا موجب کشش بتائی جاتی ہے۔ کشش کی وجہ سے  الیکٹرون مرکزہ کے  گرد گھوم رہے  ہیں۔ اگر اس حوالے  سے  کعبہ اور اس کے  گرد گھومنے  والی مخلوق کو دیکھیں  تو یہ منظر کائناتی نظامِ تحرک کا مرکزہ معلوم ہوتا ہے۔ ایسے  معلوم ہوتا ہے  صرف انسان ہی نہیں  پوری کائنات کعبۃ  اللّٰہ  کے  گرد رقص کناں  ہے۔ زمین سے  بیت المعمور تک فرشتے  اور دوسری مخلوقات طواف کر رہی ہیں۔ کعبہ کی حیثیت ایٹم کے  مرکزہ کی سی معلوم ہوتی ہے۔ جتنا کوئی رکن مرکز سے  قریب ہوتا ہے  اتنی ہی اس میں  کشش زیادہ ہوتی ہے۔ مقناطیسی قوت سے  اس امر کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ لوہے  کا ٹکڑا جتنا مقناطیس کے  قریب ہو گا اتنی ہی باہمی کشش زیادہ ہو گی۔ اس مثال کی روشنی میں  دیکھا جائے  تو کعبہ کے  گرد گھومنے  والے   اللّٰہ  کے  نہایت قریب ہوتے  ہیں۔ یہی وجہ ہے  کہ یہاں  ہرکس وناکس کی دعائیں  قبول ہوتی ہیں۔ میرا ہی نہیں سبھی کا تجربہ ہے۔

 

کعبہ ___ مرکزِ وحدت

 

کعبۃ  اللّٰہ  نہ صرف مسلمانوں  بلکہ تمام انسانوں  کا مرکز ہے۔ تمام انبیاء اور ان کی امتیں  اس گھر کو مبارک سمجھتی رہی ہیں۔ غیر مذاہب کے  داخلے  کی جب تک ممانعت کا حکم نہیں  ہوا وہ اپنے  اپنے  طریقے  سے  حج اور زیارت کرتے  رہے  ہیں۔ اب سوائے  مسلمانوں  کے  حدودِ حرم میں  کسی کو داخلے  کی اجازت نہیں۔ ایمان و عقیدہ کے  اختلاف کے  باوجود غیر مسلموں  کے  لئے  بھی کعبۃ  اللّٰہ  کی حیثیت مرکز کی سی ہے  کہ وہ بھی کائناتی نظام کے  ارکان ہیں۔ اور ان کا خالق و  مالک بھی ربِ کعبہ ہے۔

یہ پہلاسبق تھا کتاب ھدیٰ کا

کہ مخلوق ساری ہے  کنبہ خدا کا                    (حالی)

آدمؑ کی اولاد ہونے  کے  ناتے  غیر مسلم اور مسلمان وحدتِ انساں  کے  ارکان ہیں۔ مسلمان اور غیر مسلم میں  واضح اختلاف یہ ہے  کہ وہ وحدتِ کائنات کے  خالق کو جو کہ وحدہٗ لا شریک ہے  یکتا و یگانہ مان کراس کی بندگی کا  اقرار و اظہار نہیں  کرتے۔ اس طرح وہ کائناتی برادری سے  خارج ہو جاتے  ہیں۔ اب ان بدقسمت انسانوں  کو اسلامی برادری میں  شامل کرنا مسلمانوں  کا فرض ہے۔ مگر کیا کیا جائے …….. مسلمان تو خود فرقوں  میں  بٹے  ہوئے  ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں  کو وجہ نزاع بنا کر ایک دوسرے  کے  دشمن بنے  ہوئے  ہیں۔ ہر کوئی اپنے  سوادوسرے  کو مسلمان نہیں  سمجھتا۔ سب کا کہنا ہے  ہم ناجی ہیں  باقی ناری ہیں۔ اس صورتِ حال میں  نہ صرف زمین بلکہ آفاقی نظام بگڑا ہوا ہے۔ اس لئے  کہ کائنات کا مرکزہ انتشار کا شکار ہو چکا ہے۔ مسلمان وحدت کے  بجائے  فرد فرد فرقوں  میں  بٹے  ہوئے  ہیں۔ بین الاقوامی طور پر دیکھا جائے  کہیں  بھی اخوت و محبت کی فضا نظر نہیں  آتی صرف یہ  اللّٰہ  کا گھر ہے  جہاں  وحدت و اتحاد کی جھلک نظر آتی ہے۔ الحمد للّٰہ  !بڑی غنیمت ہے۔ ابھی شیرازہ قدرے  قائم ہے۔ ابھی قیامت نہیں  آئے  گی۔

 

وحدت کی جھلک

 

جب چشمِ تصور کو کعبۃ  اللّٰہ  کی طرف مرکوز کریں تو اس کے  گرد طواف کرنے  والے  فرد فرد حجاج کرام ایک وحدت کی صورت نظر آتے  ہیں۔ کہتے  ہیں  کہ جماعت وہ ہوتی ہے  جس کا مشن ایک ہو۔ مقصد ایک ہو۔ عمل ایک ہو۔ رخ ایک ہو۔ تو ان طواف کرنے  والوں  کا رخ ایک ہے۔ منزل ایک ہے۔ مقصد ایک ہے۔ سب اپنے  رب کو راضی کرنے  کے  جذبے  سے  اس گھر کے  چکر لگا رہے  ہیں۔ سفید لباس میں  ملبوس ایسے  لگ رہے  ہیں  جیسے  مردے  قبروں  میں  سے  نکل کر میدانِ حشر میں  مالک الملک کے  حضور حاضری کو جا رہے  ہوں۔ اپنی اپنی درخواستیں  پیش کر رہے  ہوں۔ اپنے  داتاسے  مانگ رہے  ہوں۔ دعائیں  کر رہے  ہوں۔ اپنی اپنی زبان میں۔ اپنے  اپنے  لہجے  میں۔ کوئی عربی میں، کوئی انگریزی میں،کوئی ترکی میں،کوئی اردو میں  اور کوئی فارسی میں  مانگ رہا۔ زبانیں  اپنی اپنی،لہجے  اپنے  اپنے،تمنائیں  اپنی اپنی،ضرورتیں  اپنی اپنی،سب درخواستیں   اللّٰہ  کے  حضور پیش کی جا رہی ہیں  کہ صرف وہی سب کی سننے  والا اور سب کی حاجتیں  پوری کرنے  والا ہے۔

حاضرین حرم کا  منظر دیدنی ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں۔ قسم قسم کے  لوگ۔ طرح طرح کے  لباس،اپنے  اپنے  انداز، بظاہر ایک دوسرے  سے  مختلف،کسی کا رنگ گوراکسی کا کالا،کوئی عربی،کوئی عجمی،کوئی انڈیاسے  کوئی افریقہ سے۔ کوئی فقیر ہے  کوئی امیر، یہاں  عالم بھی ہیں  بے  علم بھی،کم مرتبہ بھی، اعلیٰ مرتبہ بھی۔ بظاہر بہت سے  اختلافات نظر آتے  ہیں۔ مگر جیسے  ہی تکبیرِ تحریمہ سنائی دیتی ہے  سب کا رخ کعبہ کی طرف ہو جاتا ہے۔ سب ایک امام کی اقتداء میں  ایک  اللّٰہ  کے  حضور حاضر ہوتے  ہیں۔ اب کوئی عربی نہیں  کوئی عجمی نہیں، کوئی عالم نہیں  کوئی جاہل نہیں،کوئی آقا نہیں  کوئی غلام نہیں،بلکہ اقبال کی زبانی

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے

تیری سرکار میں  پہنچے  توسبھی ایک ہوئے

ہاں  سبھی ایک ہیں۔ ایک وحدت،ایک یونٹ،ان سب کا ایک رخ، ایک منزل اور ایک مقصود ہے۔ یہ سارے  مسلمان ہیں۔ اللّٰہ  رسول کی ماننے  والے۔ سرِ تسلیم خم کرنے  والے۔ یہاں  کوئی رتبہ نہیں  کوئی درجہ نہیں۔ یہاں  فضیلتوں  کی پیمائش نہیں  مرتبوں  کی درجہ بندی نہیں، یہاں  ایک ہی فرقہ ہے۔ سب مسلمان ہیں۔ سب آپس میں  بھائی بھائی ہیں۔ ہاں یہ حرم کے  اندر کا منظر ہے۔ باہر کی حقیقت ہم سب کے  سامنے  ہے۔  اللّٰہ  کرے  حرم کا ماحول پورے  کرۂ ارض پر پیدا ہو جائے۔

 

آپ بیتی

 

سنی سنائی داستانِ شوق کا مزہ نہیں

ہے  تجربہ وہی جو اپنے  دل کی واردات  ہو     (جبینِ نعت)

گذشتہ اوراق میں  چند مشاہداتی تاثرات کا بیان کیا گیا ہے۔ اب تھوڑی سی سرگذشت گوش گذار کرنے  کی کوشش کر رہا ہوں۔ دسویں  ذی الحجہ حاجی کے  لئے  سخت مشقت کا دن ہے۔ با ہمت لوگ تو طوافِ زیارت وسعی بھی اسی روز کر لیتے  ہیں۔ مگر ہمارے  جیسے  ضعیفوں  کے  لئے  گنجائش ہے  کہ وہ اگلے  روز بھی یہ مناسک ادا کر سکتے  ہیں۔ میرے  لئے  اہلیہ کو طواف اور سعی کرانا بڑا مسئلہ تھا۔ مگر یہ مرحلہ سرکرناضروری تھا۔ سوصبح صبح ہی ہم دونوں  حرم شریف پہنچ گئے۔

ہمارے  پاس تین بیگ تھے۔ دو کندھوں  پہ لٹکانے  والے  اور ایک گلے  میں  لٹکانے  والا۔ سابقہ تجربہ کی روشنی میں  ہم نے  ویل چیئر کا سراغ لگانا شروع کر دیا۔ ایک مقامی بھائی سے  دوسوریال میں  سودا ہو گیا۔ وہ محترمہ کو چیئر  پر بٹھا کر لفٹ کے  سامنے  لگی قطار تک گئے  تو ویل چیئر مجھے  پکڑا دی۔ میں  نے  احتیاطاً ان سے  نام پوچھا غالباحسن نام بتایا۔ میں  نے  کہا بھائی پورا نام بتاؤ۔ اس نے  کافی لمبا نام بتایا۔ موصوف نے  ہمارے  بیگ ہم سے  لے  کر ہمیں  بتائے  بغیر کہیں  رکھ دیئے۔ میں  نے  اس سے  کہا کہ اور جس جگہ سے  طواف شروع ہونا ہے  وہاں  ہمارا انتظار کرے۔ ہم دونوں  میاں  بیوی لفٹ کے  ذریعے  اوپر والی منزل تک پہنچ گئے۔ یہاں  سے  آگے  تک کا راستہ مجھے  معلوم نہ تھا۔ خیر پوچھتے  پوچھتے   لکڑی کے  پل تک پہنچے۔

پل کے  آغاز میں  کچھ چڑھائی ہے۔ اس چڑھائی پر چڑھتے  چڑھتے  میں  تھک گیا۔ لمحہ بھر ریڑھی کو گھٹنے  کی ٹیک لگا کر توقف کیا۔ اور پھر حوصلہ کر کے  چل پڑا۔ چلتے  چلتے  جب پل کے  اختتام تک پہنچا تو ہمت جواب دے  چکی تھی۔ بے  ہمتی کی وجہ سے  ریڑھی ہاتھ سے  چھوٹ گئی۔ ریڑھی کے  پیچھے  میں  بھی لڑھکتا ہوا جا رہا تھا کہ آگے  کھڑے  شرطے  نے  ہمیں  سنبھال لیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں  مقامی بھائی نے  ہمیں  ملنے  کو کہا تھا۔ میں  ریڑھی سنبھالے  موصوف کو تلاش کرنے  لگا۔ ہمارے  کھڑا ہونے  کی وجہ سے  لوگوں  کو نکلنے  میں  مشکل پیش آ رہی تھی۔ شرطہ ہمیں  باہر نکلنے  یا اندر جانے  کا اشارہ کر رہا تھا۔ میں  نے  لمحہ بھر کے  لئے  سوچا کہ طواف تو اپنا بھی کرنا ہے۔ چلو خود شروع کر دیتے  ہیں۔ سو بسم  اللّٰہ  پڑھ کر ریڑھی مطاف میں  داخل کر دی۔

جن حجاج کرام نے  اوپر طواف کیا ہے  انہیں  اندازہ ہو گا کہ اس مطاف کا گھیرا کم از کم ایک کلومیٹر تو ہو گا۔ یہاں  سات چکر لگانے  میرے  جیسے  بوڑھے  کے  لئے  بہت مشکل ہیں۔ اور پھر مجھے  تو اپنی حاجن  کی ریڑھی بھی دھکیلنی تھی۔ محترمہ وقفے  وقفے  سے  پوچھتی تھک گئے  ہو؟ میں متبسم لہجے  میں  جھوٹ بولتا نہیں تو۔ اللّٰہ  معاف کرے  میں  حرم میں  جھوٹ بولنے  پر مجبور تھا۔ میں  تو آغازِ طواف میں  ہی تھکا ہوا تھا۔ اتنا تھکا کہ ٹانگوں  میں  چلنے  کی سکت نہ تھی۔ ایک قدم چلنے  کی ہمت نہ تھی۔ یہ تو اس داتا کا کرم ہے  جس کے  پاس ہمت و حوصلہ کے  بے  بہا خزانے  ہیں۔ اس نے  اس بے  ہمت کو اتنی ہمت دی کہ آہستہ آہستہ میں  نے  بھی سات چکر پورے  کر لئے۔ بالکل اسی طرح جس طرح دوسرے  حاجیوں  نے  کئے  تھے۔ جب ٹانگیں  پھول جاتیں  چلنے  کی سکت نہ رہتی تو قدرتی طور پر آگے  کی ریڑھیاں  رک جاتیں۔ جیسے  سڑک بلاک ہو جاتی ہے۔ اس وقفے  میں  مجھے  تازہ دم ہونے  کا موقع مل جاتا۔ طبیعت قدرے  تازہ ہوتی تو اگلی ریڑھیاں  چلنے  لگتیں  میں  بھی اپنی ریڑھی پر ٹیک لگائے  آہستہ آہستہ چلنے  لگتا۔ ویل چیر کی دستیوں  کی ٹیک میرے  لئے  سہارے  کا کام دینے  لگیں۔ میں  سوچتا ہوں  کہ اگر ریڑھی کا سہارانہ ہوتا تومیں  شاید ہی سات چکر لگاسکتا۔ میرے  لئے  حیرانی ہے  کہ جوانوں  کے  سنگ سنگ میں  نے  بھی سات چکر پورے  کر لئے  یہ محض  اللّٰہ  کا کرم ہے۔ سچ پوچھیں  تو یہ میرے  بس میں  نہیں  تھا۔

” اللّٰہ  اگر توفیق نہ دے  انسان کے  بس کی بات نہیں ”

طواف کے  بعد ہم نے  دو دو نفل پڑھے۔ آبِ زمزم پیا۔ اب اگلا مرحلہ سعی کا تھا۔ اور یہ بھی تقریباً تین چار کلومیٹر کا فاصلہ بن جاتا ہے۔ پھر یہاں  تو بھیڑ بھی بہت تھی۔ اہلیہ محترمہ کو  اللّٰہ  تعالیٰ نے  ہمت دی۔ فرمانے  لگیں  کہ سعی بغیر ریڑھی کے  کروں  گی۔ مجھے  بڑی حیرانی ہوئی کہ یہ فالج کی مریضہ اتنی بھیڑ میں  اپنے  پاؤں  چل کر کیسے  سعی کرے  گی۔ میں  نے  بڑا کہا کہ تھوڑی دیر آرام کر کے  میں  ریڑھی پر سعی کراؤں گا مگر یہ  اللّٰہ  کی بندی اپنے  پاؤں  سعی کرنے  پر بضد تھی۔ میں  اس کی قوت ایمانی دیکھ کر اسے  پیدل سعی کرانے  پر تیار ہو گیا۔ اب مسئلہ ویل چیئر واپس کر نے  کا تھا۔ بقدرِ ہمت اس مقامی بھائی کو تلاش کرنے  کی کوشش کی مگر وہ نہیں  ملا۔ مجھے  خیال ہوا کہ ریڑھی پہ لکھی ہوئی عبارت سے  اس کا ایڈریس معلوم ہو جائے گا۔ ریڑھی کی تحریر پڑھی تو معلوم ہوا کہ یہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں  بلکہ حرم شریف کے  لئے  وقف کردہ ریڑھی ہے۔ دل کی تسلی ہوئی۔ جہاں  دوسری ریڑھیاں  رکھی تھی وہاں  یہ ریڑھی رکھ کر سعی کرنے  کے  لئے  صفا پہنچے۔

 

سعی ___سنتِ ہاجرہؑ

 

صفا پر دیکھاتوانسانوں  کا دریا ٹھاٹھیں  مارتا ہوا رواں  دواں  تھا۔ صفا و مروا تک انسان ہی انسان نظر آ رہے  تھے۔ مرد عورتیں  بلکہ بچے  بھی۔ بچے  جو پیدل چل سکتے  تھے  وہ بھی اور جو نہیں  چل سکتے  تھے  وہ بھی۔ کسی کو باپ نے  کسی کو ماں  نے  گود میں  بٹھایا ہوا ہے۔ کسی کو کندھے  پہ چڑھایا ہوا ہے۔ جوان،بوڑھے،مختلف عمروں  والے،مختلف ہمتوں  والے،سارے  کے  سارے   وفورِ عبودیت میں  ڈوبے  دیوانہ وار چل رہے  تھے، دوڑ رہے  تھے، یہ تقریباً طواف کا سامنظر ہے۔ مختلف ملکوں، نسلوں، رنگوں، زبانوں،مزاجوں  اور مرتبوں  والے  ایک سمت میں  ایک ہی طرح ایک ہی مقصد کے  لئے  چل رہے  ہیں  مقصد کیا ہے ؟  اللّٰہ  کو راضی کرنا۔

اللّٰہ  کو کس طرح راضی کیا جائے۔  اللّٰہ  کی شریعت پر چل کر۔ اور شریعت کیا ہے ؟  اللّٰہ  کے  پیاروں  کی اداؤں  کی نقل۔ اور یہ سعی بھی تو نقل ہے۔ یہ نقل ہے  ایک نبی کی بیوی کی دوڑ کی۔ اللّٰہ  کے  نبی ؑ نے  اپنے  شیر خوار بیٹے  اسمٰعیلؑ اور بیوی ہاجرہؑ کو  اللّٰہ  کے  حکم کی تعمیل میں  جب اس بے  آب و گیاہ ویرانے  میں  اکیلے  تنہا بے  سہارا چھوڑ دیا تو بیوی نے  اُف تک نہیں  کی۔ بے  چون و چرا اپنے  خاوند کی منشاء کے  مطابق آزمائش کے  لئے  تیار ہو گئی۔ انہیں  یقین تھا کہ میرا خاوند  اللّٰہ  کا نبی ہے۔ اور اللّٰہ  کا نبی  اللّٰہ  کے  حکم کے  بغیر کوئی کام نہیں  کرتا۔ سوہمارے  لئے  جو حکم فرما رہا ہے  وہ اصل میں   اللّٰہ  کا حکم ہے۔ انہوں  نے  بھی نبی کی تربیت میں  رہ کر  اللّٰہ  کی ماننا سیکھی ہوئی تھی۔ اور اللہ کی ماننا آسان نہیں۔ بہت مشکل ہے۔ اللہ تو آزماتا ہے۔ سواس ماں  بیٹے  کی بھی آزمائش تھی۔ سخت آزمائش۔ بیٹا بھوک پیاس سے  بلبلاتا ہے۔ ماں  کے  پاس اسے  کھلانے  پلانے  کو کچھ نہیں۔ آگے  پیچھے  نظر دوڑاتی ہیں  کوئی بشر نظر نہیں  آتا۔ اٹھتی ہیں  صفا پہاڑی پر چڑھ کر آگے  پیچھے  نظر دوڑاتی ہیں  دور تک کوئی دکھائی نہیں  دیتا۔ بے  اضطرابی میں  مروہ کی طرف چلنا شروع کر دیتی ہیں۔ نظر بچے  کی طرف اور قدم مروہ کی طرف ہیں  یکدم بچہ نظروں  سے  اوجھل ہو جاتا ہے۔ چند قدم بے  اضطرابی میں  دوڑتی ہیں  تھک جاتی ہیں۔ پھر تیز تیز چلنا شروع کرتی ہیں۔ مروا پر پہنچ کر پھر آگے  پیچھے  دائیں  بائیں  دیکھتی ہیں  کوئی آدمی نظر نہیں  آتا۔ واپس صفا کو آتی ہیں  اس بے  کلی اور اضطراب میں  ساتویں  چکر میں  مروہ پر جا کر بچے  کی طرف نظر کرتی ہیں  تو معصوم بچے  کے  اوپر پرندے  اڑتے  نظر آتے  ہیں۔ دل دھک سے  رہ جاتا ہے۔ یا اللّٰہ میرے  لختِ جگر کو کوئی درندہ نہ کھا جائے۔ واپس آتی ہیں  تو معصوم اسماعیلؑ کی ایڑیوں  کی رگڑسے  زمزم کا چشمہ جاری تھا۔ آج کا زمزم وہی چشمہ ہے  جو حضرت اسمٰعیلؑ کی ایڑیوں کی رگڑسے  پھوٹا تھا۔ سوسعی کیا ہے ؟ یہ حضرت ہاجرہؑ کی کہانی کی دہرائی ہے۔ جو حضرت ہاجرہ کی نقل نہ کرے گا اس کا حج مقبول نہیں …ایک بیوی نے  خاوند کی مانی خاوند نے  اللّٰہ کی مانی۔ اللّٰہ نے  ان ماننے  والوں  کی اداؤں  کو شریعت بنا دیا۔ حج بنا دیا۔ عبادت بنا دیا۔ سچ ہے :۔

“نام فقیر تنہاں  دا با ہوقبر جنہاں  دی جیوے  ہو”

(وہی اللّٰہ والے  ہیں  جن کے  کارنامے  رہتی دنیا تک زندہ ہیں)توہم نے  بھی اللّٰہ کے  ماننے  والوں  کی نقل کا ارادہ کر رکھا ہے  …

سعی کا آغاز صفا پہاڑی سے  ہوتا ہے  ہم دونوں  میاں  بیوی صفا کے  ستون کے  پاس کھڑے  اللّٰہ کے  گھر کی طرف رخ کر کے  اللّٰہ سے  ہمت و حوصلہ اور آسانی مانگ رہے  ہیں۔ یا اللّٰہ ہماری یہ سعی صرف تیری خوشنودی کے  لئے  ہے۔ ہم کمزور ہیں، نحیف ہیں۔ کم ہمت ہیں۔ تو ہی ہمت بخشنے  والا ہے۔ تو ہی طاقت دینے  والا ہے۔ ہمیں  ہمت و حوصلہ دے۔ طاقت دے۔

دعا کے  بعد میں  اہلیہ کا ہاتھ پکڑ کر ہجوم میں  گھس جاتا ہوں۔ دائیں  بائیں  آگے  پیچھے  انسان ہی انسان ہیں، عورت مرد، کئی ملکوں  کے،کئی زبانوں  کے، سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ کسی کو کسی کی فکر نہیں۔ سب چل رہے  ہیں،دوڑ رہے  ہیں۔ لگتا ہے  حشر بپا ہے۔ جیسے  مردے  بد حواسی کے  عالم میں  قبروں  سے  نکل کر بھاگ رہے  ہیں۔ ہمیں  بھی کسی کی کوئی فکر نہیں۔ اپنی ہی پریشانی ہے۔ میں  بیوی کا بازو پکڑے  بچتا بچاتا درمیان کی دیوار کے  ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ جا رہا ہوں۔ احتیاط کے  باوجود کبھی دائیں  سے  کبھی بائیں  سے  اور پیچھے  سے  دھکا لگتا ہے …. دھکا دینے  والے  بے  قصور ہیں۔ انہیں  بھی تو کوئی دوسرا دھکیل رہا ہے۔ میری حاجن کا بایاں  ہاتھ مفلوج ہے  وہ یہ ہاتھ دیوار پر ٹیک ٹیک کر چل رہی ہے۔ کچھ جذباتی جوان اس درمیانی دیوار کے  اوپر دوڑ کر سعی کر رہے  ہیں۔ ایک کا پاؤں  حاجن کے  مفلوج ہاتھ پر پڑتا ہے۔ بیچاری کی چیخ نکل جاتی ہے۔ منھ سے  کچھ کہنے  لگتی ہے۔ مجھے  فکر ہوتی ہے  کہیں  کوئی بددعا نہ دے۔ سومنھ پہ ہاتھ رکھ دیتا ہوں۔ اور دل میں  کہتا ہوں۔

“آہ نہ کر لبوں  کو سی عشق ہے  دل لگی نہیں ”

مگر قربان جاؤں  اس محبوب کے  جس کے  عشق میں  یہ ہجوم دیوانہ وار سعی کر رہا ہے۔ وہ فوراً مہربان ہو جاتا ہے۔ مجھے  پیچھے  سے  کوئی آواز دیتا ہے۔ انہیں  اپنے  آگے  رکھیں۔ معلوم نہیں  یہ کس کی آواز تھی۔ شائد ہاتفِ غیبی تھا۔ میں  نے  اس آواز کی ہدایت کے  مطابق حاجن کو اپنے  بازوؤں  کے  حصار میں  لے  لیا۔ چند قدم آگے  چل کر ہم ویل چیئر کے  راستے  میں  داخل  داخل ہو گئے۔ یہاں  تھوڑی سی سہولت میسر آئی۔ مگر پیچھے  سے  آواز آئی حاجہ!حاجہ!طریق!

طریق!پیچھے  دیکھا تو مقامی حضرات ویل چیئر پر حاجیوں  کو سوا رکئے  بڑی تیزی سے  آ رہے  ہیں۔ ہم دونوں  میاں  بیوی سمٹ کر دیوار سے  لگ جاتے  ہیں۔ یہ راستہ اگرچہ تنگ ہے  مگر یہاں  دھکم پیل قدرے  کم تھی۔ حجاج کرام دعائیں  پڑھتے  جا رہے  ہیں۔ کئی زبانی،کئی کتابوں  سے۔ سب کی زبانیں  ذکروتسبیحات میں  مصروف ہیں۔ مجھے  اس وقت یاد کئے  ہوئے  الفاظ یاد نہیں۔ بہرحال میں  بھی ملتجی اہلیہ بھی ملتجی۔ دونوں  مانگ رہے  ہیں  ہماری زبانیں  گنگ اور دل بیٹھ رہے  ہیں۔ کیفیت یہ ہے :۔

“ہے  دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں ”

لوگ باگ،تیز تیز چل رہے  ہیں  مگر ہم دونوں  تھکے  ہارے  اللّٰہ کے  سہارے  آہستہ آہستہ چل رہے  ہیں۔ اللّٰہ !اللّٰہ !کیساعظیم سہارا ہے۔ ہماری مثال منجھدار میں  گری ہوئی کشتی کی سی ہے۔ جس میں  چپو،پتواریا بادبان کچھ بھی نہیں۔ اس بے  بادبان سفینے  کا کھیون ہاراسوائے  اس عظیم سہارے  کے  کوئی نہیں۔ انسانوں  کا ہجوم طوفانِ بلا خیز کی صورت ہمیں  چاروں  سمت سے  گھیرے  ہوئے  ہے۔ بھنور ہی بھنور ہیں۔ قدم قدم پر ہم چکرا جاتے  ہیں۔ مگر وہ ہر قدم پر ہماری دستگیری کر رہا ہے۔ ہمیں  محسوس ہوا ہے  جیسے  کوئی بازو پکڑ کر ہر بھنور سے  نکال کر سوئے  ساحل لئے  جا رہا ہے۔ یوں  لگتا ہے  کسی نے  ہمیں  ہاتھوں  پہ اٹھایا ہوا ہے۔ جیسے  پُر خطر پُر آشوب ماحول سے  ماں  بچے  کو سینے  سے  چمٹائے  بچانے  کی کوشش کرتی ہے۔ ایسے  ہی کوئی اس بپھرے  ہوئے  ہجوم سے  ہمیں  بحفاظت نکالنے  کا انتظام کر رہا ہے۔ وہ کون ہے ؟دکھائی نہیں  دے  رہا مگرمحسوس  ہو رہا ہے۔ ہاں  اس وقت وہ غیر محسوس ہمارے  احساس میں  سرایت کئے  ہوئے  ہے۔ ایسے  محسوس  ہو رہا ہے  کہ ہمارے  اندر کے  حواس بیدار  ہو رہے  ہیں۔ باہر طوفان اور اندر اطمینان ہے۔ جسم میں  تھکن درد، ٹیسیں  نجانے  کیا کیا ہے۔ مگر دل میں  سکون،کامل یقین۔ ایسایقین جسے  حق الیقین کہا جا سکتا ہے۔

ہم اپنے  معبود کو دیکھ رہے  ہیں، چھو رہے  ہیں،اس سے  مانگ رہے  ہیں۔ التجائیں  کر رہے  ہیں۔ وہ سن رہا ہے  دعائیں  پوری کر رہا ہے۔ یہ کیفیت اس لمحۂ تحریر کی نہیں  لمحۂ حضوری کی ہے۔ وہ لمحہ جب ہم صفا و مروہ کے  درمیان اپنے  آقا و مولا کے  دربار میں فریاد کناں  تھے۔

 

حضوری

 

امیرخسروؔنے  اپنی واردات کا بیان اپنی نعت میں  اس طرح کیا تھا:۔

خدا خود میرِ محفل بود اندر لامکاں  خسروؔ

محمدؐ  شمعِ محفل بود شب جائے  کہ من بودم

(محفلِ لامکان میں  اللّٰہ تبارک و تعالیٰ خود صدرِ محفل تھے  اور حضرت محمدﷺ اس محفل میں  شمع کی صورت موجود تھے۔ یہ اس رات کا واقعہ ہے  جب میں  مقام عرفان پہ تھا۔)

ہمیں  پتہ نہیں  کہ لامکاں  کہاں  ہے ؟کہاں  یہ مبارک محفل سجی تھی جہاں  خسروکسی گوشہ میں  بیٹھا یہ نظارہ کر رہا تھا؟مگر ہمیں  معلوم ہے  کہ جس وقت امڈتے  ہجوم میں  ہم دونوں  میاں  بیوی تنہا طواف وسعی کر رہے  تھے  اس وقت ہم اپنے  مولا و آقا اللّٰہ جل جلالہ کو تختِ بادشاہی پہ جلوہ افروز دیکھ رہے  تھے۔ اس کے  حضور جھک رہے  تھے۔ سجدے  کر رہے  تھے۔ اس کے  گھر سے  لپٹ رہے  تھے۔ دوڑ رہے  تھے۔ اس کے  گھر کے  گرد،صفا و مروہ کے  درمیان۔ بے  تابانہ،مجنونانہ دوڑ رہے  تھے۔ مانگ رہے  تھے۔ اس وقت ہم اَن دیکھے  کو دیکھ رہے  تھے۔ ظاہر و باطن ہم آہنگ تھا۔ بصارت کا دروازہ بصیرت کی طرف کھل چکا تھا۔ انہوں  نے  کیا دیکھا کیسے  دیکھا؟ نہ وہ صحیح طرح بتاسکتے  ہیں  نہ میں  اس تصور کی تصویر پیش کر سکتا ہوں۔ میرے  پاس الفاظ نہیں،اسلوب نہیں،مناسب ذریعۂ اظہار نہیں  سواشارے  کنائے  سے  بات کہنے  کی کوشش کر رہا ہوں۔

ایک روز اکیلے  عمرے  کی سعی کر رہا تھا۔ اب رش قدرے  کم تھا۔ اہلیہ کی سعی کی ذمہ داری بھی نہیں  تھی۔ بڑے  سکون سے  چوتھے  کلمے  کا ورد کر رہا تھا۔ اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کا تصور جمانے  کی سعی کر رہا تھا۔ بیشک وہ عالی ذات یکتا و تنہا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں  کوئی ثانی نہیں،اس کی بادشاہی ہے۔ اور اس کے  لئے  تمام تعریفیں ہیں۔ موت و حیات اس کے  قبضۂ قدرت میں  ہے۔ وہ خود زندہ ہے۔ اسے  کبھی بھی موت نہیں  آنے  کی۔ وہی جلال وا کرام کے  لائق ہے۔ اسی کے  قبضۂ قدرت میں  خیر ہے  اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ میں  زبان سے  عربی ذہن سے  اردو اور دل سے  لا ہوتی بول بول رہا تھا اور الہامی زبان سن رہا تھا۔ میں  کلمہ کے  معنی و مفہوم کو اپنی ذات میں  جذب کرنے  کی سعی و کوشش کر رہا تھا۔ تین چار چکروں  میں  مجھ پر جذب کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ مجھے  کلمہ کی بجائے  علامہ اقبالؔ مرحوم کی رباعی یاد آ گئی۔ میں  بے  ساختہ پکارنے  لگا

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر

روزِ محشر عذر ہائے  من پذیر

گر توِی بینی حسابم ناگزیر

از نگاہِ مصطفے ٰ پنہاں  بگیر

(اے  میرے  مولا تو بے  نیاز ہے  مگر میں  تو تیرا گداگر ہوں۔ براہِ کرم حشر کے  دن میرے  عذر کو قبول فرمانا۔ اور اگر آپ نے  میراحساب ضرور لینا  ہی ہے  تو اپنے  پیارے  حبیب حضرت محمد مصطفے ٰ کی نگاہ سے  میرے  گناہوں  کو پوشیدہ رکھنا)

اب تو یہ حالت تھی کہ بجائے  دیگر دعاؤں  کے  ایک ہی التجا ہونٹوں  پہ لرزاں  تھی۔ از نگاہِ مصطفے ﷺ پنہاں  بگیر۔ زبان اقبال کے  مصرعے  کو دہرا رہی تھی اور دل  خسرو کا شعر دہرا رہا تھا۔ میں  محفلِ لامکاں  میں  حضورﷺ سے  نظریں  چرائے  چرائے  داورِ محشرسے  التجا کر رہا تھا

گر توی بینی حسابم ناگزیر    از نگاہِ مصطفے ٰ پنہاں  بگیر

بات موقع محل کی ہے۔ موقع و منظر بدلنے  سے  زاویۂ نظر بدل جاتا ہے۔ تصویر بدلنے  سے  تصور بدل جاتا ہے۔ ہر کیفیت اپنے  محلِ وقوع کے  مطابق ہوتی ہے۔ یہ اشعار کئی دفعہ سنے  ہوں گے،پڑھے  ہوں گے،مگر اس موقع پر جو سرور نصیب ہوا ہے  پہلے  کبھی محسوس نہیں  ہوا۔ اسی حوالے  سے  ایک اور واقعہ یاد آ رہا ہے۔

 

الفاظ کی جادوگری

 

شعر محض الفاظ کی تنظیم کا نام نہیں  بلکہ اس کے  اندر ایک پورا نظام ہوتا ہے  جو شاعر کی پوری شخصیت کا عکاس ہوتا ہے۔ اور الفاظ بھی محض صوتی زیر و بم کا نام نہیں  بلکہ یہ متکلم کے  باطن کی کیفیات و تصورات کی مکمل تصویر ہوتے  ہیں۔ ان تصاویر کے  کئی ایک رخ ہو سکتے  ہیں۔ یہ سامع کی ترجیحات پر منحصر ہے  کہ وہ کلمہ و کلام کے  کس رخ کو پسند کرتا ہے۔ پھر کلام کے  معانی سمجھنے  اور اس سے  حظ اٹھانے  کے  لئے  مخصوص ماحول کی ضرورت ہے۔ جس طرح بیج کے  پھوٹنے  کے  لئے  خاص زمین اور موسم کی ضرورت ہے  اس طرح کلام کے  کھُلنے  اور کھلنے  کے  لئے  بھی مخصوص ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض دفعہ معمولی بات دل پہ ایسا اثر کرتی ہے  کہ آدمی وجد میں  آ جاتا ہے۔

ایک آدمی سنگترے  بیچ رہا تھا۔ آواز لگا رہا تھا” سوہنے  سنگترے “ایک صاحب حال کے  کان میں  آواز پڑی تو پھڑکنے  لگے۔ ان کے  لب پر یہ الفاظ جاری تھے

” سوہنے  سنگ ترے ”

(اچھے  ساتھی کی سنگت ڈوبنے  نہیں  دیتی)

بات موقع محل کی ہے۔ ایک روز ہم حرم شریف جانے  کی تیاری کر رہے  تھے۔ ہاتھوں  میں  دو کڑے  ایک پاکستان کا دوسرا سعودیہ کا۔ میں  کڑے  پہن کر گلے  میں  لاکٹ پہننے  لگا تو خیال آیا اس تکلف کی کیا ضرورت ہے۔ مجھے  اپنے  سارے  کوائف زبانی یاد ہیں۔ اگر خدانخواستہ کہیں  بھول گیا تو اپنا مکتب اور بلڈنگ نمبر بتا کر کسی سے  راہنمائی لے  لوں  گا۔ ایسانہ ہوا تو بلڈنگ میں  ٹیلیفون کر کے  راستہ معلوم کر لوں  گا۔ اس گلے  کے  قلادے  کی کوئی ضرورت نہیں۔ دل میں  گلے  کے  لاکٹ کی کچھ تحقیر محسوس ہوئی مگر قلادہ کے  لفظ سے  چونک گیا۔ معاً حافظ شیرازی کا شعر یاد آ گیا۔ حافظ کہتا ہے

شنیدہ ام کہ سگاں  را قلادہ کردہ ای

چرا بگردنِ حافظ نمی کنی رَسنے

(میں  نے  سنا ہے  کہ آپ نے  اپنے  کتوں  کے  گلوں  میں  پٹے  ڈالے  ہوئے  ہیں۔ کیا وجہ ہے  کہ اس سگِ درگاہ یعنی حافظ کے  گلے  میں  رسی نہیں  ڈالی)

اس شعر کا لبوں  پہ جاری ہونا تھا کہ آنسوؤں  کی جھڑی لگ گئی۔ اہلیہ پوچھنے  لگی کیا ہوا۔ میں  اسے  کیا بتاتا!کیا ہوا؟بس بار بار دہرا رہا تھا۔ چرا بگردنِ حافظ نمی کنی رسنے۔ تو میرے  گلے  میں  رسی کیوں  نہیں  ڈالتا۔ جن کے  گلے  میں  قلادہ ہے۔ لوگوں  کو معلوم ہے  کہ یہ تیرے  ہیں۔ تو ان کا مالک ہے۔ بتا میرا کون مالک ہے ؟کیا تو میرا مالک نہیں !اگر مالک ہے  تو میرے  گلے  میں  بھی قلادہ امتیاز ڈال دے۔ میں  نے  فوراً بسم اللّٰہ پڑھ کر لاکٹ گلے  میں  ڈالا۔ بیگم کو بھی پہنایا اور سمجھایا کہ حضورﷺ جب حج مبارک کے  لئے  آئے  تو آپ کے  ساتھ قربانی کے  اونٹ تھے۔ اور قربانی کے  اونٹوں  کے  گلوں  میں  جو قربانی کی نشانی کے  طور پر نشان لٹکایا تھا اسے  قلادہ کہتے  ہیں۔ اور پھر دیکھو جس کتے  کے  گلے  میں  پٹہ ہوتا ہے  اسے  کوئی گزند نہیں  پہنچاتا۔ اس لئے  کہ لوگوں  کو پتہ ہے  کہ اس کا کوئی مالک ہے  اور اگر اس کتے  کو کوئی تکلیف پہنچائی تو اس کا مالک بدلہ لے  گا۔ اس لئے  پٹے  یعنی قلادے  والے  محفوظ رہتے  ہیں۔ اب یوں  سمجھ کہ یہ گلے  کا لاکٹ اس امر کا ثبوت ہے  کہ ہم حاجی ہیں۔ اللّٰہ کے  مہمان ہیں۔ وہ ہمارا مالک ہے۔ اس سوچ کا اثر تھا کہ گھرواپس آنے  تک میں  نے  یہ زیور نہیں  اتارا۔

 

بڑے  کرم کے  فیصلے

 

ایک روز مطاف میں  بیٹھے  کعبہ شریف کی زیارت میں  محو تھے۔ قریب ہی انڈیا کی چند مستورات تشریف فرما تھیں۔ ایک خاتون فرما رہی تھیں  اگر حج کے  لئے  پیسہ ہی شرط ہوتا تو ہم جیسے  غریب تو اللّٰہ کے  پیارے  گھر کا تصور بھی نہیں  کر سکتے  تھے۔ اس بڑھیا کی اس بات سے  مجھے  اپناپسِ منظر نظر آ گیا۔ سچ ہے  ہم نے  کبھی ایسا خواب بھی نہیں  دیکھا۔ یہ بس اس کریم کا کرم ہے  کہ اس نے  بن مانگے  اتنا کچھ دیا کہ تصور میں  بھی سمانہیں  سکتا۔

“اتنا دیا میرے  مولا نے  مجھ کو جتنی میری اوقات نہیں ”

اس کے  یہاں  غریب امیر کی کوئی تمیز نہیں۔ غریبی بھی اس کی طرف سے  ہے  اور امیری بھی۔ یہ اس کی اپنی منشاء ہے  جسے  بلانا چاہتا ہے  بلا لیتا ہے۔ ہمارے  ایک دوست  ہیں۔ شیخ برادری سے  ان کا تعلق ہے۔ وہ سناتے  ہیں  کہ ہمارے  ایک ملنے  والے  ایک روز رو رہے  تھے۔ لوگوں  نے  رونے  کی وجہ پوچھی تو کہنے  لگے ”میں  کتنا بدنصیب ہوں۔ حج نہیں  کر سکتا” لوگوں  نے  پوچھا شیخ صاحب کیوں ؟کیا وجہ ہے ؟آپ کو مال کی کوئی کمی نہیں۔ ماشاء اللّٰہ صحت بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔ آہ بھر کر کہنے  لگے  کیا کروں۔ یہ پیسہ ہی تو عذاب بنا ہوا ہے۔ سنا ہے  حج حلال کے  پیسے  سے  ہوتا ہے۔ اور میرے  پاس حلال کی پائی بھی نہیں۔ اس تناظر میں  دو اور واقعات یاد آ رہے  ہیں۔

ہمارے  ایک اور دوست ہیں  ڈاکٹر مبارک صاحب۔ فرماتے  ہیں ہماری دو خالائیں  تھیں۔ ایک خالہ بال بچے  دار اور مال دار تھی۔ بچے  بڑے  تابعدار اور فرمانبردار۔ اچھے  روز گار والے۔ اور دوسری خالہ کی اولاد نہیں  تھی۔ دو میاں  بیوی تھے۔ دونوں  اپنی بہن کے  ساتھ رہا کرتے  تھے۔ یہ خالہ جان اپنے  آپ کو مصروف رکھنے  کے  لئے  سلائی کا کام کرتی تھیں۔ ایک روز ایک کرنل صاحب کی اہلیہ سے  ملنے  گئیں  تو کرنل صاحب نے  حال احوال پوچھا۔ دورانِ گفتگو پوچھا کہ اماں  جان خالہ جان یعنی آپ کی بہن کا کیا حال ہے ؟فرمانے  لگیں  ماشاء اللّٰہ حج پر جا رہی ہیں۔ کرنل صاحب نے  کہا کیا آپ کو نہیں  لے  جا رہیں۔ وہ توہر معاملے  میں  آپ کو ساتھ رکھتی ہیں۔ فرمایا بس مقدر کی بات ہے۔ وہ اکیلی جا رہی ہیں۔ کرنل صاحب نے  کہا اماں  جی آپ مجھے  اپنا شناختی کارڈ لا کر دیں۔ ان دنوں  مرحوم ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے  وزیر اعظم تھے۔ کرنل صاحب ان کے  سٹاف میں  تھے۔ انہوں  نے  درخواست لکھ کر وزیرِ اعظم کو پیش کر دی۔ دیکھتے  دیکھتے  اماں  جان کے  کاغذات تیار ہو گئے  اور زادِ سفر کا بھی انتظام ہو گیا۔ حج کے  موقع پر اماں  جان شاہی مہمان اور ان کی بہن عام حاجی کی طرح مناسکِ حج ادا کر رہی تھیں۔

اللّٰہ!اللّٰہ!

یہ سب تمہارا کرم ہے  مو لا

اسی طرح سید شمیم احمد کو اللّٰہ تعالیٰ نے  صدر ضیاء الحق کے  ذریعے  حج کی سعادت بخشی۔

کوئی ایک دو واقعہ ہوتوسناؤں  یہاں  توجس سے  پوچھو یہی کہتا ہے  کہ

“یہ بڑے  کرم کے  ہیں  فیصلے  یہ بڑے  نصیب کی بات ہے ”

ہماری بے  لال بیوہ ہے۔ تین عمرے  کر چکی ہے۔ چوتھے  کی تیاری ہے۔ بھائی عبدالرزاق کا بیٹا قیصر حجاج کی خدمت کے  بہانے  حج کر آیا ہے۔

میرے  ایک دوست کی گاڑی چوری ہو گئی۔ وہ رمضان میں  عمرہ کر کے  آئے  تھے۔ بائیسویں  روزے  انھیں  لاہور فون پر اطلاع ملی کہ گاڑی پکڑی گئی ہے،کل صبح پشاور پہنچیں۔ رات خواب میں  دیکھا کہ دیارِ عرب میں ہیں  چوری شدہ گاڑی ملنے  کی خبر پائی ہے۔ یہ سوچ کر کہ شکرانہ کے  لئے  حج پر آنے  کی کوشش کرنا چاہیے۔ وہیں  خواب میں  کسی سے  سفارشی خط لیتے  ہیں کہ حج کا ویزہ مل جائے۔ صبح پشاور جاتے  ہیں تو گاڑی مل جاتی ہے۔ اور باوجود تاخیر کے  حج کا ویزہ بھی مل جاتا ہے۔ اور تمام انتظامات بھی ہو جاتے  ہیں۔ موصوف کی سات حاضریاں  ہو چکی ہیں،مگر چودہ برس سے  اگلا بلاوا نہیں  آیا۔

موصوف نے  مجھے  جاتے  ہوئے  پیغام دیا تھا کہ آٹھویں  بار بلا لیں  تو ان کے  خزانے  میں  کیا فرق پڑتا ہے۔ میں  درخواست پیش کر آیا ہوں۔ امید ہے  کہ وہ کسی کی درخواست رد نہیں  کرتا۔ انہی نے  ایک واقعہ بتایا کہ ہم دونوں  میاں  بیوی حج پر جانے  سے  پہلے  ایک عزیز کو ملنے  گئے  تو اس نے  رخصت ہوتے  وقت بڑی لجاجت سے  گذارش کی کہ میرے  لئے  بھی دعا کرنا۔ قدرت خدا کی اسی حج میں  اللّٰہ تعالیٰ نے  حرم شریف میں  ان سے  ملاقات کرا دی۔ ان کو اللّٰہ تعالیٰ نے  کیسے  بلایا۔ یہ بھی داستان ہے۔ یہ حقائق بتانے  سے  مقصد یہ ہے  کہ آپ میرے  لئے  اور میں  آپ کے  لئے  دعا کروں۔ اللّٰہ تعالیٰ اپنے  پیارے  دربار اور پیارے  کی سرکارمیں  بار بار بلائے۔ اور دعا کرنے  پر کیا قیمت لگتی ہے ؟ صرف زبان ہلانا پڑتی ہے۔ چند آنسوبہانے  پڑتے  ہیں۔ آپ بھی چند آنسوؤں  کی قیمت میں  حج کر سکتے  ہیں۔ ذرا بہا کر تو دیکھیں۔

 

سابقہ سے  رابطہ

 

بات چل رہی تھی آپ بیتی کی مگر بات سے  بات نکلتے  بات جگ بیتی تک جا پہنچی۔ اس سے  ہو سکتا ہے  کسی کو تسلسل ٹوٹتا نظر آئے  مگر جگ بیتی میں  بھی غور کریں  تو آپ بیتی نظر آتی ہے۔ سب کو نہیں  تو کچھ کو بیان کردہ احوال میں  اپنے  اپنے  حالات کی جھلک نظر آ رہی ہو گی۔ ہو سکتا ہے  آپ بیتی میرے  حالات سے  مطابقت رکھتی ہو۔ اس لئے  میں  پھر صفاء و مروا کی طرف مراجعت کر رہا ہوں۔ اب تک کی ہماری کیفیت آپ کو معلوم ہو چکی۔ مگر اصل آزمائش اس وقت شروع ہوتی ہے  جب ہم ساتواں  چکر مکمل کر کے  مروا تک پہنچ جاتے  ہیں۔ یہاں  آ کر جسم نڈھال اور دماغ ماؤف ہو جاتا ہے۔ بالکل نیم جان۔ سمجھ نہیں  آتی کیا کریں ؟کہاں  جائیں ؟ایک توسوچنے  کی اہلیت نہیں  دوسرے  سوچنے  کا وقت نہیں۔ آگے  پیچھے  دائیں  بائیں  سے  دھکے  لگ رہے  ہیں  ہم دم لینے  کو رکتے  ہیں۔ مگر دھکے  دائیں  بائیں  دھکیل رہے  ہیں۔ اس دھکم پیل میں  ہم چلتے  ہوئے  ہجوم کے  ساتھ صفا کی طرف چلنے  لگتے  ہیں۔ آغاز میں  تو نیت تھی کہ واپس کعبۃ اللّٰہ کے  پاس آ کر جمعہ کی نماز ادا کریں  گے۔ واپسی کے  راستوں  کا بھی کچھ سروے  کر لیا تھا۔ مگر اس وقت دماغ ساتھ نہیں  دے  رہا۔ ہم لڑھکتے  لڑھکتے  قبلہ کی سمت کھلے  دروازے  میں  اندر جانے  کے  لئے  داخل ہوتے  ہیں۔ مگر یہ دروازہ نہیں  آبِ زمزم کی سبیل ہے۔ ہم نے  زمزم سے  اپنی پیاس بجھائی۔ اب کیا کریں ؟ دروازہ نظر نہیں  آ رہا۔ بائیں  ہاتھ دیکھا تو ایک لوہے  کا گیٹ ہے  جو باہر کو کھلتا ہے۔ مگر یہ گیٹ بھی بند ہے۔ ہم حرم سے  باہر بھی نہیں  جا سکتے۔ یہ خیال میں  نہیں  آ رہا کہ چند قدم آگے  صفا کی جانب جائیں  تو دائیں  جانب حرم شریف کے  اندر جانے  کے  گیٹ کھلے  ہوتے  ہیں۔ ہم سبیل سے  باہر نکل کر حرم سے  باہر جانے  کی کوشش کرتے  ہیں۔ چند قدم صفا کو جانے  والوں  کے  ساتھ ساتھ چلتے  ہیں۔ پھر صفاسے  مروہ کو جانے  والے  ریلے  میں  داخل ہو جاتے  ہیں۔ اس ریلے  میں  داخل ہوتے  ہی موت نظر آنے  لگتی ہے۔۔ ہجوم ہمیں  مروا کی طرف اور ہم ہجوم کو صفا کی طرف دھکیل رہے  ہیں۔ ایسے  میں  اچھے  خاصے  حوصلے  والے  بھی دم ہار جاتے  ہیں  مگر اللّٰہ کی قدرت نے  اس بوڑھی جوڑی کو ہمت اور حوصلہ عطا فرمایا۔ اور اس طوفانی ہجوم سے  اس طرح نکال لیاجیسے  مکھن سے  بال۔ سارے  سفر میں  سب سے  مشکل مرحلہ یہ تھاجس سے  اللّٰہ تعالیٰ نے  معجزاتی طور پر گزارا۔ ہمارے  دوست عبدالمالک صاحب اس نازک پوزیشن کے  شاہد ہیں۔ اس کے  بعد کے  مرحلے  بھی آزمائش کے  مرحلے  ہیں  مگر یہ مرحلہ تو گویا موت و حیات کی جنگ تھی۔ واقعی زندگی موت اللّٰہ کے  ہاتھ میں  ہے۔ زندگی ہوتو وہ موت کے  منہ سے  نکال لاتا ہے۔ یہ ہمارا تجربہ ہے۔ ہمارا ایمان ہے۔

منیٰ کو واپسی

سعی سے  فارغ ہو کر باہر نکلے  تو ہوش وحواس گم تھے۔ بدن تھکن سے  چور اور دماغ چکرا رہا تھا۔ باہر نکل کر اہلیہ کو دروازے  سے  ملحقہ چبوترے  پہ لٹایا،تھوڑی دیر بعد جمعہ کی اذان ہوئی۔ جمعہ  کی نماز ہم نے  صفا مروا کے  باہر ادا کی۔ اس کے  بعدواپس منیٰ جانے  کے  لئے  سڑک پر پہنچے  تو یہاں  بہت رش تھا۔ حضورﷺ پاک کی جائے  پیدائش کے  پچھواڑے  سڑک پر بسیں،ویگنیں  اور ٹیکسیاں  کھڑی تھیں۔ منیٰ منیٰ کی آوازیں لگ رہی تھیں۔ عام تیس چالیس کرایہ مانگ رہے  تھے۔ ہمیں  یہ کرایہ بہت زیادہ لگ رہا تھا۔ کافی دیر انتظار کرنے  کے  بعد ایک چھوٹا ٹرالہ آیا۔ یہ عشرہ ریال کی آواز لگا رہا تھا۔ ہم دونوں  اس میں  سوار ہو گئے۔ منیٰ پہنچتے  پہنچتے  عصر کا وقت ہو گیا تھا۔ ڈرائیور نے  ہمیں  کافی پیچھے  اتار دیا۔ ہمارا سامان ان دو بیگوں  میں  تھا جو ہمارے  ویل چیئر والے  مقامی بھائی نے  حرم شریف میں  کہیں  رکھ دیا تھا۔ اور تلاش کرنے  کے  باوجود ہمیں  یہ بیگ نہیں  ملے۔ مزدلفہ سے  جو کنکریاں  لائے  تھے  وہ تھیلیاں  بھی ان بیگوں  میں  تھیں۔ ہمارے  لئے  ایک مسئلہ یہ بھی تھا۔ اور بڑا مسئلہ تورمی کرنا تھا۔ ہم حیران و پریشان کھڑے  تھے  کہ ایک نوجوان پاکستانی احرام میں  ملبوس نظر آیا۔ اسے  اپنا مسئلہ بتایا۔ تھوڑی سی منت سماجت بھی کی کہ بھائی ہم دونوں  میاں  بیوی معذور ہیں۔ مہربانی کر کے  ہماری طرف سے  رمی کر دو۔ اس نے  بتایا کہ ابھی تک اس نے  حلق نہیں  کروایا اور عصر کی نماز بھی نہیں  پڑھی۔ کنکریوں  کے  متعلق اس نے  مشورہ دیا کہ یہیں  سے  کنکر چن لیں۔ ہم نے  کنکر چننے  شروع کئے  تو وہ لڑکا کہنے  لگا کہ میں  آپ کی طرف سے  رمی کر دیتا ہوں۔ اللّٰہ اس نوجوان کا بھلا کرے  اس نے  ہمارا یہ مسئلہ حل کر دیا۔ اب عصر تنگ  ہو رہی تھی ہم نے  وہیں  نماز ادا کی۔ اب ہمیں  اپنے  خیمے  کارستہ معلوم نہ وہاں  پہنچنے  تک کا کوئی وسیلہ۔ شام ہو گئی۔ کوئی واقف آشنا نہیں  جس سے  مشورہ کیا جائے۔ مجبوراً حرم شریف واپسی کا خیال آیا۔ کہ بھولے  بھٹکوں  کی یہی آماجگاہ اور جائے  پناہ ہے۔

 

مسجدِ حرام

 

مسجدِ حرام جس کے  وسط میں  کعبۃ اللّٰہ ہے  جدید اسلامی طرزِ تعمیر کا حسین ترین نمونہ ہے۔ اس مسجد کے  وسط میں  کعبہ شریف ہے۔ کعبہ شریف کے  ارد گرد کا علاقہ گولائی کی صورت میں  مطاف کہلاتا ہے۔ یہ گول میدان طواف کے  لئے  وقف ہے  مطاف کے  باہر مسجد کا احاطہ شروع ہو جاتا ہے۔ مسجد کعبہ شریف سے  چند سیڑھیاں  بلند ہے۔ مسجد کی ساری عمارت بڑے  بڑے  ستونوں  پر استادہ ہے۔ چھت بلند ہے۔ اور جدید ترین فانوسوں  سے  مزین ہے۔ فرش پر بہترین قسم کا سنگِ مرمر استعمال کیا گیا ہے۔ ستونوں  کی زیبائش بھی سنگِ مرمر سے  کی گئی ہے۔ زیادہ تر سنگِ سفید استعمال کیا گیا ہے۔ نیچے  تہ خانہ اور اوپر غالباً دو منزلیں  ہیں۔ اوپر کی منزلوں  میں  طواف کرنے  کے  لئے  گول راستے  بنائے  گئے  ہیں۔ ہم نے  طوافِ زیارت دوسری منزل پہ کیا تھا۔ سعی ہم نے  نیچے  کی منزل میں  کی تھی مگر سنا ہے  اوپر کی منزلوں  میں  بھی طواف کی طرح سعی کرنے  کا انتظام موجود ہے۔ تمام مسجدوسیع رقبہ پر پھیلی ہوئی ہے۔ ہماری رہائش گاہ باب فہد کی جانب تھی۔ ہمارا آنا جانا زیادہ تر اس طرف تھا۔ باب الفہد سے  با ب المروہ تک کافی فاصلہ بن جاتا ہے۔ باب الصفا سے  باب المروہ تک کی لمبائی میں  باہر کافی وسیع صحن ہے۔ یہ صحن بھی سنگِ مرمر کی سلوں  سے  سجا ہوا ہے۔ اس صحن کے  باہر لوہے  کا کافی بلند جنگلا بنا ہوا ہے۔ جنگلے  سے  چند میٹر دور حضورﷺ کا مولد شریف ہے۔ حضورﷺ کی ولادت شریف اسی جگہ ہوئی تھی۔ حکومت نے  اس جگہ لائبریری بنا دی ہے۔ ہم نے  اس مکان کی زیارت کی ہے۔ میں  لائبریری دیکھنا چاہتا تھا۔ مگر دروازے  کو تالا لگا ہوا تھا۔ دروازے  سے  ملحقہ دیوار پر عربی،اردو اور انگلش میں  کچھ اس طرح کی تحریر لکھی ہوئی تھی کہ اس جگہ کی زیارت مسنون نہیں۔

یہاں  سے  کعبہ شریف کی طرف جائیں  توراستے  میں  حدود حرم کے  باہر زنانہ و مردانہ ٹائلٹ ہیں۔ سنا ہے  یہاں  ابوجہل کا گھر تھا۔ اللّٰہ رسولﷺ کے  منکروں  کی یادگاروں  پر بھی لعنت برستی رہتی ہے۔ اور اللّٰہ والوں  کی ایک ایک ادا کو اللّٰہ نے  شریعت بنا دیا۔ ان کے  نقشِ قدم کو زیارت گاہِ مخلوق بنا دیا۔ کعبۃ اللّٰہ کے  دروازہ کی سمت شیشے  کے  بڑے  سارے  برتن میں  جو پتھر چاندی کے  خول میں  محفوظ کیا گیا ہے  اس پتھر پر حضرتِ ابراہیمؑ کے  پائے  مبارک کے  نشانات ثبت ہیں  اللّٰہ تعالیٰ نے  اس جگہ نفل پڑھنے  کا حکم فرما دیا۔ حضرتِ ہاجرہؑ کے  نقش قدم پہ چلنے  کو سعی قرار دیا۔

مکان کی اہمیت مکین کی وجہ سے  ہوتی ہے۔ مسجد حرام کی اہمیت کعبۃ اللّٰہ کی نسبت سے  ہے  اور کعبۃ اللّٰہ، اللّٰہ کا گھر ہے۔ کعبۃ اللّٰہ کو ارد گرد کے  ماحول کے  حوالے  سے  دیکھیں  تویوں  لگتا ہے  جیسے  یہ کسی پیالے  کا پیندا ہو۔ اس لئے  کہ مسجد حرام اس سے  بلند ہے  اور مسجد حرام کو فلک بوس عمارتوں  اور بلند پہاڑیوں  نے  گھیر رکھا ہے۔ اگر حرکت کے  حوالے  سے  دیکھیں  تو معلوم ہوتا ہے  کہ پوری کائنات کا مرکز و محور کعبۃ اللّٰہ ہے۔ بیت اللّٰہ سے  لے  کر بیت المعمور تک کا فاصلہ پوری کائنات کا محور ہو سکتا ہے۔ اس محور کے  گرد نہ صرف انسان اور فرشتے  بلکہ پوری کائنات گھوم رہی ہے۔ ہم جب بھی حرم شریف گئے  ہیں اسے   انسانوں  سے  آباد دیکھا ہے۔ فرشتے  وغیرہ تو ہماری بصری فریکونسی سے  مطابقت نہیں  رکھتے  ظاہری آنکھ سے  نظر نہیں  آتے۔ مگر باطن کی آنکھ یعنی روح بیت اللّٰہ اور مسجد حرام کو غیر مرئی مخلوق سے  بھری بھری محسوس کرتی ہے۔ رہی بات انسانوں  کی توہم جب بھی گئے  ہیں  ہم نے  اس گھر کو عباد ت گذاروں  سے  بھرا ہوا پایا ہے۔

 

مرکزِ اتحاد

 

مسجد حرام میں  داخل ہوتے  ہی مکمل دین کا نقشہ نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ جس کو دیکھو۔ گیان دھیان میں  محو ہے۔ کوئی قرآن پاک کی تلاوت کر رہا ہے،کوئی رکوع وسجود میں  مصروف ہے۔ کسی کے  ہاتھ میں  تسبیح ہے  وہ گن گن کر تسبیحات کر رہا ہے  اور کوئی دل ہی دل میں  اس کے  نام کی مالا جپ رہا ہے۔ کچھ ایسے  ہیں  کہ اللّٰہ کے  گھر کو ٹکٹکی جمائے  دیکھ رہے۔ اس گھر کو دل پہ نقش کرنے  کی کوشش کر رہے  ہیں  کہ جب نماز میں  کہیں  منہ طرف قبلہ شریف ہو تو قبلہ مجسم صورت میں  سامنے  ہو۔ اس گھر کا مالک تو بے  صورت ہے۔ اس بے  صورت کا تصور مشکل ہے۔ ہاں  اس کے  گھر کا تصور جمانے  کی کوشش ہے۔ اس گھر کے  تصور کی اہلیت پیدا ہونا بھی بڑی غنیمت ہے۔ کہتے  ہیں  کہ نماز میں  اللّٰہ کا دھیان جمانے  کی کوشش کرنا چاہئے۔ اگر یہ اہلیت نہیں  تو کم ا ز کم یہ یقین ہونا چاہئے  کہ اللّٰہ ہمیں  دیکھ رہا ہے۔ یقیناً وہ سمیع و بصیر ہے۔ مگر ہم جیسے  نا اہلوں  میں  تو یہ تصور جمانے  کی بھی اہلیت نہیں۔ بلکہ ہم تو ابھی تک اللّٰہ کے  گھر کا تصور جمانے  کے  اہل نہیں  ہوئے۔ بس دھندلی دھندلی جو تصویریں  چشم تصور میں  آ رہی ہیں  ان کا ذکر گوش گذار کرنے  کی کوشش کر رہا ہوں۔

اصل میں  انسان اپنے  ترجیحی نظام کے  ہاتھوں  مجبور ہوتا ہے۔ انسان اپنے  تجربات کی روشنی میں  مشاہدہ کرتا ہے۔ عالم، عابد، صوفی،فلسفی، خواندہ،ناخواندہ،شاعر،مصور، غرضیکہ ہر کوئی منظر کو اپنے  اپنے  زاویۂ نظرسے  دیکھتا ہے۔ علامہ اقبال مسجد حرام کو دیکھتے  تویوں  فرماتے :۔

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے

تیری سرکار میں  پہنچے  توسبھی ایک ہوئے

باہر کے  ماحول میں  تو تفرقہ و نفرت کی آگ لگی ہوئی ہے  مگر حرمین شریفین میں  اتحاد بین المسلمین کا نقشہ نظر آتا ہے۔ ہم نے  دیکھا ہے  سیاسی اختلاف رکھنے  والے  ممالک کے  افراد اندرونِ حرم ایسے  ملتے  ہیں  جیسے  سالوں  سے  بچھڑے  دوست یا ماں  جائے  ملتے  ہیں۔ ہماری ملاقات تین انڈین جوڑوں  سے  ہوئی۔ اس ملاقات میں  ہمیں  دونوں  ملکوں  کی باہمی دشمنی کا شائبہ تک محسوس نہیں  ہوا۔ ایک صاحب بڑے  فخر سے  بتا رہے  تھے  کہ آج اللّٰہ کی مہربانی سے  میں  اکیلا غارِ حرا کی زیارت کر کے  آ رہا ہوں۔ حالانکہ آپ مشاہدہ کر سکتے  ہیں  کہ میں  لنگڑا آدمی ہوں  اور واپسی پر مجھے  دو آدمیوں  نے  پکڑ کر اتارا ہے۔ موصوف کی بیگم صاحبہ فرما رہی تھی کہ یہ میرے  میاں  صاحب جوانی میں پہلوانی کرتے  رہے  ہیں۔ ان کی دونوں  ٹانگیں  کشتی میں  ٹوٹ گئی تھیں  مگر اللّٰہ کے  کرم سے  انہوں  نے  اپنی ان ٹیڑھی ٹانگوں  سے  سارے  مناسک آسانی سے  ادا کئے  ہیں۔ دوسری دو جوڑیوں  نے  بھی اپنے  علاقے  اور مسلمانوں  کے  جوش و جذبہ کے  متعلق معلومات فراہم کیں  اور عامر نامی نوجوان کا ذکر پہلے  گذر چکا ہے  کہ اس نوجوان نے  طواف وسعی کے  لئے  ویل چیئر فراہم کرنے  میں  ہماری بڑی مدد کی۔ اللّٰہ اس کو خوش رکھے۔ اس کے  علاوہ انڈونیشیا،ملائشیا اور ترک بھائیوں  سے  بھی سلام دعا ہوئی۔ بیٹھتے  ہی کوئی کہتا ترکی،کوئی ملائشیا،اور کوئی انڈونیشیا۔ ہم جواب میں  کہتے  پاکستانی۔ کبھی کبھی ہم استفسار کر لیتے۔ سارے  بڑی محبت کا اظہار کرتے۔ ایسے  لگتا تھا ہم سارے  پاکستانی ہیں۔ نہیں ! بلکہ سارے  گرائیں  ہیں۔ نہیں  بلکہ ماں  جائے  بھائی ہیں۔ بھائی بھائی جن میں  زن،زر،زمین جیسی کسی بات میں  کوئی جھگڑا نہیں۔ غیر زبان ہونے  کے  باوجود سارے  محبت کی زبان بولتے  اور سمجھتے  تھے۔ رنگ اور نسل کا کوئی فرق محسوس نہیں   ہو رہا تھا۔ سب کے  دل محبت سے  لبریز اور صاف شفاف تھے۔ ایک بڑا اختلاف جو ہمارے  ہاں  کچھ زیادہ رواج پا گیا ہے  وہ فرقہ پرستی ہے۔ مگر ایمان کی پوچھیں  تومیں  نے  حرمین شریفین میں  ایک ہی فرقہ دیکھا اور وہ فرقہ ہے  مسلمان۔ میں  نے  عباداتی تنوع تو مشاہدہ کیا ہے۔ فرقہ وارانہ نفرت نہیں  دیکھی۔

 

تنوع،تفرقہ،مساوات

 

کارخانۂ قدرت میں  کوئی بھی دو چیزیں  ایک سی نہیں  ہوتیں۔ دو جڑواں  بچے  آپس میں  بڑی مشابہت رکھنے  کے  باوجود ایک دوسرے  سے  مختلف ہوتے  ہیں۔ ایک ہاتھ کی انگلیاں  ایک سی نہیں  ہوتیں۔ انگلیوں  کے  نشان ایک سے  نہیں  ہوتے  بلکہ حضرت آدم ؑ سے  لے  کر آج تک پیدا ہونے  والے  کسی بھی شخص کے  نشاناتِ انگشت دوسرے  شخص سے  نہیں  ملتے۔ اگر اس قانونِ قدرت کو پیشِ نظر رکھا جائے  توجس طرح کی مساوات کا تصور ایک خاص طبقہ کے  ہاں  پایا جاتا ہے  وہ ناممکن ہے۔ دنیا میں  سارے  انسان،رنگ و صورت کے  حوالے  سے  ایک سے  ہو سکتے  ہیں  نہ مال و دولت کے  لحاظ سے  ہم مرتبہ ہو سکتے  ہیں۔ اس لئے  کہ ایسی مساوات قانونِ فطرت سے  مطابقت نہیں  رکھتی۔ اس کے  برعکس قانونِ تنوع ہے۔ اس قانون کے  مطابق کائنات میں  رنگارنگی اور حسن کاری پائی جاتی ہے۔ کائنات کا حسن اس رنگارنگی کا مرہونِ منت ہے۔ اس رنگارنگی اور حسن کاری میں  قانونِ کشش کارفرما ہے۔ تمام متنوع اشیاء ایک دوسری سے  کشش و تجاذب کی رسی میں  پروئی ہوئی ہیں۔ ان میں  محبت ہے  نفرت نہیں۔ قانونِ تنوع کے  برخلاف تفرقہ کی بدعت ہے۔ یہ بدعت  شیطانی اختراع ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے  اپنے  پاک کلام میں  بڑی شدت سے  تفرقہ بازی سے  منع فرمایا ہے۔ وجہ یہ ہے  کہ تفرقہ انسانوں  میں  محبت کے  بجائے  نفرت پھیلانے  کا باعث بنتا ہے۔ باہمی اخوت و بھائی چارہ کی بجائے  بھائی بھائی سے  جدا اور دوست دوست کا دشمن ہو جاتا ہے۔ تفرقہ کا باعث دو اَناؤں  کا ٹکراؤ ہے۔ ہر فرقہ اپنے  آپ کو حق پر ثابت کرنے  کے  لئے  ہر قسم کا جائز و نا جائز حربہ اختیار کرتا ہے۔ اور پھر مذہبی فرقہ پرستی۔ توبہ!توبہ!اس کی بنیاد تو قرآن و حدیث کو بنایا جاتا ہے۔ ہر فرقہ اپنے  کو ناجی اور دوسرے  کو ناری ثابت کرنے  کے  لئے  قرآن و حدیث کو گواہ بنا رہا ہے۔ سننے  میں  تو تہتر فرقوں  کی پیشین گوئی آئی تھی۔ اب ہر فرد مفتی ہے۔ ہر مسجد فرقہ ہے۔ تہتر کا عدد بازیچہ اطفا ل بن چکا ہے۔ ہر فرقہ کا دعویٰ ہے  کہ ہم نے  اللّٰہ کی رسی یعنی قرآن و حدیث کو مضبوطی سے  پکڑا ہوا ہے۔ مگر اس دعویٰ کا عملی ثبوت ہمیں  پاکستان میں  نہیں  ملتا۔ میری مسجد کے  نمازی اگر مجھے  دوسری مسجد میں  نماز پڑھتے  دیکھ لیں  تو مجھ سے  سلام لینا بھی پسند نہ کریں۔ اسی طرح دوسری مسجد کا کوئی فرد ہماری مسجد میں  دو سجدے  دے  تو اس کو اس کی مسجد والے  کافر سمجھنے  لگتے  ہیں۔ غضب خدا کا یہاں  کسی مسلمان کو کافر،مشرک،بدعتی یا گستاخ کہنا تو گناہ سمجھاہی نہیں  جاتا۔ بلکہ یہ عام فیشن ہے۔ یقین جانیں  میں  نے  حرمین شریفین میں  فتوے  لگتے  نہیں  دیکھے۔ مناظر ہ اور بحث مباحثے  نہیں  سنے۔ یہاں میں  نے  تفرقہ نہیں  تنوع دیکھا ہے۔ مساوات نہیں  عدل دیکھا ہے۔

اختلافِ مسلک کے  متعلق ایک عالم کا کہنا ہے  کہ اس کے  ذریعے  اللّٰہ تعالیٰ نے  اپنے  پیارے  محبوب کی اداؤں  کی حفاظت کا اہتمام فرمایا ہے۔ ان کا کہنا ہے  تمام مسالک گلزارِ نبوت کے  پھول ہیں۔ ہر ایک کی اپنی رنگت اور اپنی مہک ہے۔ اگر اس بات کو سامنے  رکھا جائے  تو فرمانِ نبویؐ کے  مطابق اختلافِ امت باعث رحمت ہے  کہ اس طرح ہر زمانے  اور ہر دور میں  قانونِ قرآن اور فرمانِ نبوی کے  نئے  سے  نئے  رنگ سامنے  آتے   ہیں۔ قرآن و حدیث میں  قیامت تک آنے  والے  زمانوں  کے  مسائل کا حل موجود ہے۔ زمانے  کے  حالات و واقعات کے  تحت مسائل تبدیل ہوتے  رہتے  ہیں۔ ان متنوع مسائل کو سمجھنے  کے  لئے  متنوع سوچ کا ہونا ناگزیر ہے  مگر متنوع سوچ مثبت ہو تو باعثِ رحمت ہے۔ مثبت سوچ اختلافِ رائے  ہے۔ اور منفی سوچ عذاب ہے۔ تفرقہ ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ امت کو تفرقہ بازی سے  محفوظ فرمائے۔ اللّٰہ کرے  حرمین شریفین کے  اندر کا عکس بیرونِ حرمین بھی منعکس ہونے  لگے۔

حرمین شریفین میں  کلمہ،نماز، روزہ، حج،زکوٰۃ پانچوں  عبادتوں  کی مشق کی جاتی ہے۔ حقوق اللّٰہ کے  علاوہ حقوقِ انسانی کی پابندی بھی کی جاتی ہے۔ پورا اسلامی معاشرہ عملی طور پر حرم شریف کے  اندر نظر آتا ہے۔ فرض نماز کے  وقت تمام حجاج کرام ایک امام کے  پیچھے  ایک مکبر کی تکبیر پر اپنے  اپنے  امام کے  بتائے  ہوئے  طریقے  کے  مطابق رکوع وسجود کرتے  ہیں۔ کسی کو ٹوکتے  روکتے  نہیں  دیکھا۔ طواف کے  دوران کوئی کسی طرح دعا مانگ رہا ہے،کوئی کسی طرح۔ اکثر زبانی تسبیحات پڑھتے  ہیں۔ کچھ کتابوں  سے  دیکھ کر۔ کوئی عربی میں  کوئی انگریزی میں۔ محرم حضرات کے  سفید پیرہن کے  علاوہ باقی کا لباس اپنی اپنی معاشرت کے  مطابق ہوتا ہے۔ انڈونیشیا، ملائشیا اور ترک بھائیوں  کو باقاعدہ گروپ کی شکل میں  طواف وسعی کرتے  دیکھا ہے۔ باقی کسی طبقہ میں ایسی یگانگت نظر نہیں  آئی۔ کوئی بیت اللّٰہ کی دیوار سے  چمٹ رہا ہے،کوئی رکنِ یمانی کو چوم رہا ہے۔ اور کوئی سادہ لوح مقامِ ابراہیمؑ کو حجرِ اسود سمجھ کر بوسہ دے  رہا ہے۔ اس موقع پر ایک بے  موقع بات یاد آ رہی ہے۔

مدینہ شریف میں  ہمارے  کمرے  کے  ساتھی نے  بتایا کہ مکہ شریف میں  ہماری بلڈنگ کے  ایک ساتھی ہر روز ہمیں  بتاتے  کہ آج ہم نے  اتنی دفعہ بوسہ دیا ہے،آج اتنی دفعہ۔ تین چار روز تک توہم سنتے  رہے۔ والدہ صاحبہ کے  دل میں  حرص پیدا ہوئی کہ ہمیں  ان لوگوں  کی مدد حاصل کرنا چاہئے۔ چنانچہ ایک دن ہم نے  ان سے  کہا کہ آج ہمیں  بھی اپنے  ساتھ لے  چلیں۔ جب مطاف میں  پہنچے  تو اس خاندان کے  بزرگ نے  اپنی ایک خاتون کو  کہا کہ تو میرا پلو پکڑ لے۔ میری والدہ کو کہا کہ آپ میری بیوی کا  پلو پکڑ لیں۔ اس طرح ہم سب نے  ایک دوسرے  کے  پلو پکڑ لئے۔ بڑے  میاں  نے  بسم اللّٰہ پڑھ کر طواف شروع کیا۔ دوسرے  یا تیسرے  چکر میں  جب ہم مقام ابراہیمؑ کے  قریب سے  گذرے  تو انہوں  نے  اس کی طرف اشارہ فرمایا۔ ہمیں  کوئی سمجھ نہیں  آئی۔ چوتھے  چکر میں  مقامِ ابراہیمؑ کے  قریب سے  گذرتے  ہوئے  انہوں  نے  اور ان کے  گھر والوں  نے  جلدی جلدی بوسہ دیا۔ اور ہمیں  بھی چومنے  کا اشارہ فرمایا۔ مگر رش کی وجہ سے  ہم اس سے  آگے  نکل گئے۔ پانچویں  چکر میں  اس مقام پر رش کم تھا۔ رک کر فرمانے  لگے  کہ اب جی بھر کر جتنے  مرضی ہیں  بوسے  لے  لو۔ یہ واقع عرض کرنے  کا مقصد تفنن طبع نہیں  بلکہ یہ بتانا مقصود ہے  کہ اس طرح کے  سادہ لوگوں  پر بھی کسی کو فتویٰ لگاتے  نہیں  دیکھا۔

انفاق فی سبیل اللّٰہ کی مثال بھی دورانِ طواف سامنے  آتی ہے۔ اپاہج لوگ یہاں  بھی خالق کے  نام پر مخلوق سے  مانگتے  نظر آتے  ہیں۔ ایامِ حج کے  علاوہ باقی دنوں  میں  کئی ایک حضرات روزے  سے  ہوتے  ہیں۔ اگر باہمی اخوت و بھائی چارہ کے  حوالے  سے  دیکھیں  تو تمام حاجی ایک گھر کے  افراد معلوم ہوتے  ہیں۔ حرم کے  اندر ایک تو کوئی مسئلہ نظر نہیں  آتا۔ مسئلہ پیدا ہوتا ہے  تو اللّٰہ تعالیٰ فوراً اس کا حل پیدا کر دیتا ہے۔ پھر مناسک و عبادات کی مشغولیت کی وجہ سے  چھوٹا موٹا مسئلہ مسئلہ نہیں  لگتا۔ یہاں  جوش و جذبہ عشق و جنوں  کے  درجہ تک پہنچ جاتا ہے  اور یہاں  کا دکھ بھی سکھ محسوس ہوتا ہے۔ پھر اس عشق و جنوں  کا نقد نفع ملتا ہے  وہ سارے  دکھ بھلا دیتا ہے۔

 

حج مبرور

 

ہر آدمی آپ اپنا نقاد اور جج ہوتا ہے۔ اپنے  ظاہر و باطن کا صرف اپنے  آپ کو یا خدا تعالیٰ کو علم ہوتا ہے۔ مجھے  اپنے  درونِ دل کا علم ہے  کہ میں  کتنا پارسا ہوں۔ بزبان کسے

“پاپی بھریا میں  پھراں  تے  لو کی کہن فقیراے ”

(میں  تو گناہوں  سے  لتھڑا ہوں  لیکن لوگ مجھے  فقیر سمجھ رہے  ہیں)

اس پاپی بدن کے  اندر جو پاپی دل ہے  اس کا مجھے  ادراک ہے۔ مگر یہ بات اب کی ہے۔ جب کی نہیں۔ جب میں  اور میری اہلیہ اس کالے  مجسم نور کے  گرد پروانہ وار گردش کر رہے  تھے  تو آفاقی نور ہمارے  قلوب پہ وار د  ہو رہا تھا۔ ہم بھی اس وقت پاک تھے۔ اندر سے،باہرسے،ہمارا ظاہر بیرونِ کعبہ اور باطن اندرونِ کعبہ تھا۔ بلکہ اندر کعبہ تھا۔ ……  میں  پہلے  گذارش کر چکا ہوں  کہ میری اہلیہ فالج کی مریضہ ہے۔ اس کو سنبھالنا میرے  جیسے  بوڑھے  کے  لئے  خاصہ مشکل ہے۔ خود بیٹھ سکتی ہے  نہ اٹھ سکتی ہے۔ ساتویں  چکر کے  بعد مقامِ ابراہیمؑ کے  نزدیک ہم نے  نفل نیت لئے۔ جب یہ فارغ ہوئیں  تو ایک خاتون جو ڈیوٹی پر مامور تھی آ کر اٹھانے  لگی تو ان سے  کوشش کے  باوجود اٹھا نہ گیا۔ جب میں  نے  ان کا بازو پکڑ کر اٹھانے  کی کوشش کو تو وہ محترمہ بھانپ گئیں۔ انہوں  نے  دوسرابازوپکڑکر میری بیوی کو اٹھایا اور ساتھ ہی بڑے  میٹھے  انداز سے  فرمایا:۔

ماماں !حج مبرور

میں  نے  خوشی سے  دل ہی دل میں  کہا۔ حج مبرور۔ حج قبول۔ میں  نے  اپنی محترمہ کو کہا حاجی صاحبہ مبارک ہو۔ آپ کو حج ان شاء اللہ قبول ہو گیا۔ کہ آج اللہ تعالیٰ نے  اپنے  گھر کی خدمتگار کی زبانی حج مبرور کی نوید سنائی ہے۔

اس مستورہ کے  لباس سے  اسلامی پردہ کی بات سامنے  آ گئی ہے۔ میں  نے  ان تمام بیبیوں  کے  چہرے  تو کجا ہاتھ پاؤں  بھی نہیں  دیکھے۔ اور پھر حرم شریف کے  باہر کوئی عربی خاتون نظر آئی تو وہ بھی اسی طرح مستور تھی جس طرح ہمیں  خوش خبری سنانے  والی مستورہ۔ مگر اس کے  برعکس وہ خواتین جو حج کر رہی تھیں  ان کے  چہرے  ننگے  تھے۔ مگر یہ ننگے  ہونے  کے  باوجود عریاں  نہیں  تھے۔ ان چہروں  پر ایک نورانی نقاب تھا جس نے  ان کی عصمت کی حفاظت کر رکھی تھی۔ حرمِ کعبہ میں  تومستورات عام حالات میں  اپنے  محرموں  کے  ساتھ ہوتی ہیں۔ مگر نماز کے  اوقات میں  عورتوں  کے  لئے  علیحدہ علیحدہ جگہیں   ہیں۔ نماز سے  پندرہ بیس منٹ پہلے  ہی صلوٰۃ صلوٰۃ کے  جملے  سے  عورتوں  کو مردوں  سے  علیحدہ علیحدہ کرنے  کی صدا لگائی جاتی ہے۔ اور مسجدِ نبوی میں  تو مردوں  اور عورتوں  کی نماز کے  لئے  بالکل علیحدہ علیحدہ گیٹ اور راستے  بنے  ہوئے  ہیں۔

 

پاکستان پاکستان

 

مکہ شریف میں  ہمیں  کوئی زیادہ اجنبیت محسوس نہیں  ہوئی خاص کر مسجدِ حرام میں۔ اس لئے  کہ یہاں  کا صفائی وسقائی کا تقریباً ساراعملہ پاکستانی ہے۔ پھر بازار کی مختلف بولیوں  میں  اردو زبان نمایاں  تھی۔ فٹ پاتھ پہ سٹال لگانے  والے  عشرہ ریال کے  ساتھ دس ریال اور خمسہ ریال کے  ساتھ پانچ ریال کی آوازیں  بھی لگا رہے  تھے۔ ہم خریداری سے  حتی الوسع احتراز کرتے  رہے  لیکن ضرورتاً کچھ خریدنا پڑ جاتا تواردوسے  بخوبی کام جاتا۔ بلکہ حلق کرانے  کے  لئے  تو اردو کی بھی ضرورت نہیں  پڑی۔ اپنی پنجابی سے  کام چل گیا۔ باقی دوکاندار بھی ضرورت کی حد تک اردو سمجھ جاتے  ہیں۔ عربی کی اتنی زیادہ ضرورت نہیں  پڑتی۔ حرم شریف کے  صحن میں  توپاکستانیوں  کا میلہ سالگا ہوتا ہے۔ مختلف ٹولیوں  میں  بیٹھے  ہوتے  ہیں۔ پورے  کے  پورے  گھرانے۔ ان میں  زیادہ تر وہ حجاج کرام ہوتے  ہیں  جن کے  عزیزو اقارب حجازِ مقدس میں  ملازمت یا کاروبار کر رہے  ہیں۔ ان میں  سے  کچھ سرکاری طور پر اور کچھ غیر سرکاری طور پر آئے  ہوئے ہیں۔ ان کے  لئے  تو حرم شریف گویا اپنا گھر ہے۔ جب بھی جائیں  انہیں  بستر لگائے  دیکھیں  گے۔ جب سے  اللّٰہ تعالیٰ نے  روزی کے  وسائل بڑھائے  ہیں۔ حجاج کرام کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ یہ ٹھیک ہے  کہ حج میں  بڑی مشقت اور محنت ہے۔ اس لئے  حج جوانی میں  کرنا چاہئے۔ مگر کیا کیا جائے  حج کے  لئے  پیسوں  کی ضرورت ہے  جب بھی ہو جائیں۔ سوبڑھاپے  اور جوانی کی کوئی شرط نہیں۔ صرف قبولیت کی بات ہے۔ جب مولا کو منظور ہوتا ہے  بلا لیتا ہے۔ ہم پاکستانیوں  کے  لئے  اللّٰہ تعالیٰ نے  اب باہر کی روزی کا دروازہ کھولا ہے۔ اس نے  یہ وسیلہ ہمارے  حج کا سبب بنا دیا۔ اور شکر ہے  بجائے  لہو و لعب پر خرچ کرنے  کے  ہماراپیسہ اللّٰہ کے  راستے  میں  خرچ  ہو رہا ہے۔ اور اب تو اللّٰہ کی مہربانی سے  حج کرنا ہماری معاشرت کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اب تو انڈیا والے  بھی کافی تعداد میں  حج پر آ رہے  ہیں  حالانکہ وہاں  بھی جوانی میں  حج کرنے  کا رواج نہ تھا۔ ہاں  انڈونیشیا اور ملائشیا والوں  میں  جوانی کے  عالم میں  حج کرنے  کی روایت عرصہ سے  چلی آ رہی ہے۔ سنا ہے  کہ حج کرنا  ان کی شادی کی شرائط میں  سے  سمجھا جاتا ہے۔ بڑے  پیارے  لوگ ہیں۔ قرآن پاک سے  عشق رکھتے  ہیں۔ میں  نے  ایک دوساتھیوں  کو قرآن پڑھتے  سنا۔ بہت پیارا تلفظ تھا۔ ان میں  بڑی یگانگت اور ہم رنگی پائی جاتی ہے۔ تقریباً سب کا ایک سالباس ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے  لباس سے  پہچانے  جاتے  ہیں۔ اس کے  برعکس ہمارا اور انڈیا والوں کا وہی پرانا حال ہے۔ اپنا اپنالباس۔ اپنا اپنا گروپ یا خاندانی قبیلہ۔ اجتماعیت بہت کم نظر آتی ہے۔ ہمارا تو خیر کوئی گروپ یا گروپ لیڈر نہ تھا۔ باقاعدہ تربیت حاصل کرنے  والوں  میں  بھی بہت کم اجتماعیت نظر آتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے  ہماری طرح انڈیا میں  بھی قومیت کا تصور کمزور ہے۔ ہماری رہائش باب الفھد کی طرف تھی۔ ادھرپاکستان، انڈیا اور انڈونیشیا ملائشیا کے  حجاج کرام رہائش پذیر تھے۔ ہمارا رخ باب الفہد سے  باب المروۃ تک کا تھا۔ ترک بھائیوں  کی رہائش گاہیں  اس طرف معلوم ہوتی تھیں  کہ وہ ادھر سے  ہی آتے  جاتے  تھے۔ مسجد حرام کی شکل ایک مستطیل کی سی ہے  یہ رخ جس کا ذکر  ہو رہا ہے  یہ لمبائی کا رخ ہے  ہمیں  صرف اس رخ کی زیارت ہوئی بقیہ تین رخوں  کا نظارہ نہیں  ہوا۔ ہاں  ایک روز مسجد عائشہ سے  واپسی پر اس رخ کی پچھلی سمت کے  دروازے  سے  داخل ہوئے  تھے  مگر ادھر کی تفصیلات معلوم نہیں۔

 

مجھے  معلوم نہیں

 

حج سے  واپسی پر ایک دوست ملے۔ وہ گذشتہ سال اس سعادت سے  فیض یاب ہو چکے  تھے۔ باہمی تبادلہ خیال کے  دوران تعمیر مسجد کا ذکر آ گیا۔ وہ تفصیلات بتانے  لگے۔ کبھی کبھی مجھ سے  استفسار کرتے  تو میں  خاموش زبان سے  یوں گویا ہوتا

مَا قصۂ سکندر و دارا نہ خواندہ ایم

از ما بجز حکایتِ مہرو وفا مپرس

(ہم نے  شاہ سکندر یا دارا کے  قصے  نہیں  پڑھے۔ ہم سے  سوائے  مہر و محبت کی حکایتوں  کے  اور کچھ نہ پوچھئے)

حقیقت ہے  کہ مجھے  فنِ تعمیر کا علم نہیں۔ اور پھر مناسک اور اہلیہ کی نگہداشت کی ذمہ داری نے  سیروتفریح کی اجازت نہیں  دی۔ میں  حرم شریف کے  دروازے  گن سکا نہ ستونوں  کی قطاروں  کی جیومیٹری معلوم کر سکا۔ حرم شریف میں  میرا کام طواف کرنا،سعی کرنا، یا ٹکٹکی باندھ کر زیارتِ کعبہ میں  محو رہنا تھا۔ آنکھیں  اگر بھٹک جاتیں  تو چھت سے  لگے  ہوئے  فانوسوں  میں  الجھ جاتیں یاکسی کبوتر یا چڑیا کے  مشاہدے  میں  گم ہو جاتیں جو کہ مسجد شریف کی چھت کے  اندر گھونسلہ بنائے  ہوئے  ہیں۔ اس منظر سے  ایک واقع یاد آ رہا ہے۔

ایک صحابیؓ  کا باغ بہت گھنا تھا، پھل دار تھا۔ ایک روز محوِ  نماز تھے۔ ایک چڑیا اُڑتی ہوئی آئی،توجہ اس کی طرف لگ گئی،باغ اتنا گھنا تھا کہ چڑیا کو نکلنے  کا راستہ نہ مل سکا۔ صحابیؓ نماز کے  بجائے  اس الجھاؤ میں  الجھ گئے۔ اب یاد نہیں  رہا کہ کتنی رکعت ادا ہوئیں  اور کتنی چھوٹ گئیں۔ معاً نماز کا خیال آیا۔ اس بھول کے  کفارہ میں  آ پ نے  سارا باغ اللّٰہ کی راہ میں  صدقہ کر دیا…… ہم کیا بتائیں  ہماری نگاہیں  کہاں  کہاں  الجھی ہوئی ہیں؟

 

جب اور اب

 

اس وقت میں  اپنی بیٹھک میں  تکیہ لگائے  بیٹھا ہوں۔ سامنے  دیوار پر مسجدِ نبویؐ کی قد آدم تصویر آویزاں  ہے۔ مسجدالحرام اور مسجدِ نبوی دونوں  کا اندرونی منظر میرے  پردہ تصور پر روشن ہے۔ میں  ستونوں، روشنیوں، فانوسوں  اور منبر و محراب کی زیبائش میں  الجھا ہوا ہوں۔ یہ تصویر بھی بڑی دلپذیر ہے  مگر مجھے  حضورﷺ کے  دستِ مبارک سے  تعمیر ہونے  والی مسجد کی زیارت کی تمنا ہے۔ وہی مسجد جو سادہ پتھروں  سے  تعمیر کردہ سادہ ساکوٹھا تھا۔ جس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں  سے  تعمیر کی گئی تھی۔ اور جس روز حضورﷺ کو شبِ قدر کی زیارت کرائی گئی تھی اس روز اس کی چھت اتنی ٹپک رہی تھی کہ اندر کیچڑ ہو گیا تھا۔ حضورﷺ نے  اس کیچڑ والی زمین پر سجدہ مبارک فرمایا تھا۔ روشنی کا حال یہ تھا کہ نوسال بعد مسجد میں  چراغ جلایا گیا۔ پہلے  کھجور کی ٹہنیاں  جلا کر روشنی کی جاتی تھی…… میں  الجھا ہوا ہوں  جب اور اَب میں۔ جب اور اب میں  کتنا فرق ہے۔ وقت کے  ساتھ ساتھ ضرورتیں  تبدیل ہوتی ہیں۔ انہیں  پورا کرنے  کے  وسائل بھی اپنانا پڑتے  ہیں۔ مگر ضرورت،وقت اور وسائل میں  کیاتناسب ہونا چاہئے۔ اہلِ علم کو اس کا علم ہو گا۔ میں  توسنت،شریعت اور نظریۂ ضرورت جیسی اصطلاحوں  میں  الجھا ہوا ہوں۔ علامہ اقبال نے  کہا تھا کہ:۔

میں  ناخوش و بیزار ہوں  مرمر کی سلوں  سے

میرے  لئے  مٹی کا حرم اور بنا دو

آج کے  سہولت پسند مسلمان کے  لئے  موسم کی شدت سہارنا اور سفر کی مشقت برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔ شائد اسی لئے  اللّٰہ تعالیٰ نے  خادمین حرمین شریفین کے  لئے  زمین کے  خزانوں  کے  منہ کھول دئیے  ہیں،اور وہ حجاج کرام کی سہولت کے  لئے  اللّٰہ کے  دئیے  ہوئے  وسائل کو فراخ دلی سے  استعمال کر رہے  ہیں۔ تو نظریہ ضرورت کے  تحت آج کا منظر مجھے  برحق معلوم ہوتا ہے۔

حرم شریف کے  صحن کاسنگِ مرمر گرمیوں  میں  بھی سکوں  بخش ہوتا ہے۔ ائر کنڈیشن سسٹم کا کیا کہنا۔ اندر بھی گرمی سردی کی شدت کا احساس نہیں  ہوتا۔ جا بجا زم زم کی سبیلیں  لگی ہوئی ہیں۔ ٹھنڈے  اور عام زم زم کے  کولر ہر وقت بھرے  رہتے  ہیں۔ صفائی کا انتظام اتنا اچھا ہے  کہ گرد کا ذرہ تک نظر نہیں  آتا۔ ہر وقت صفائی کا عملہ مصروف کار رہتا ہے۔ صفائی کرنے  والی موٹر نما مشینوں  کا نام کاپٹر ہے۔ میں  انہیں  حرم کا  کبوتر کہتا ہوں۔ ہاں  تو حرم شریف کے  صحن سے  ملحقہ جنگلے  کے  باہر کبوتروں  کو دانہ ڈالنے  کی جگہیں  بنی ہوتی ہیں۔ ان جگہوں  پر دانہ فروخت کرنے  والے  مرد عورتیں  ایک ایک یا پانچ پانچ ریال کے  دانوں  کے  پیکٹ بیچ رہے  ہوتے  ہیں۔ عقیدت مند ان کبوتروں  سے  بڑی محبت کرتے  ہیں۔ ہم جب بھی حرم شریف جاتے  ان کے  آگے  دانہ ڈال کر تھوڑی دیر کے  لئے  ان کی زیارت سے  دل خوش کر لیتے۔ دل میں  یہی تصور ہے  کہ یہ کبوتر حضورﷺ کے  زمانے  کے  کبوتروں  کی اولاد ہیں۔ پرندوں کے  حوالے  سے  اس وقت کعبۃ اللّٰہ کے  اردگرد طواف کرتے  ہوئے  ابابیل بھی میرے  تصور میں  دکھائی دے  رہے  ہیں۔ میں  سوچ رہا ہوں  اللّٰہ تعالیٰ نے  ہر دور کے  ابرہہ سے  اپنے  گھر کی حفاظت کے  لئے  چھوٹے  چھوٹے  پرندوں  کی فوج ہر وقت مستعد رکھی ہوئی ہے۔ اسے  مسجدِ حرام کے  گرد اونچی اونچی عمارتوں  کے  حصار اور بادشاہوں  کے  انتظامات کی ضرورت نہیں۔ اس نے  مچھروں  سے  نمرود کی فوج کو مروایا،فرعون کوسمندرمیں  ڈبویا،عاد و ثمود کو برباد کیا،کسی اسلحے  سے  نہیں، ظاہری وسیلہ سے  نہیں، اپنے  حکم سے۔ سو وہ آج بھی اپنے  گھر کی حفاظت کر رہا ہے۔ ہمیں  اس کے  گھر کی نہیں  اپنے  آپ کی فکر کرنی چاہئے  کہ ہم نے  رب کو رب نہیں  بلکہ سبب کو رب بنا رکھا ہے۔ اللّٰہ معاف کرے۔

 

بیرونِ حرم

 

اندرونِ حرم تو حاجی پکا ٹھکا مومن ہوتا ہے۔ مگر حرم سے  نکلتے  ہی بازار کی بھیڑ میں  گم ہو جاتا ہے۔ حرم سے  نکلتے  ہی آنکھوں  میں  چمکتے  نور نظارے  گل ہو جاتے  ہیں۔ روشن دل بجھ جاتا ہے۔ بے  نور ہو جاتا ہے۔ حضورﷺ کے  فرمان کا مفہوم ہے  کہ سب سے  بہتر جگہ مسجد اور سب سے  بری جگہ بازار ہے۔ اس کا تجربہ حرم شریف سے  باہر نکلتے  ہی محسوس ہونے  لگتا ہے۔ تبلیغ والے  کہتے  ہیں  نظروں  کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔ اس لئے  کہ نظریں  شیطان کے  تیروں  میں  سے  ایک تیر ہے۔ نظر جس منظر پر پڑتی ہے  اس کا عکس لے  لیتی ہے۔ اس کے  علاوہ لایعنی سے  بچنے  کی بھی تاکید کی جاتی ہے۔ بلکہ ایک صاحب نے  تو یہاں  تک فرمایا ہے کہ لایعنی سے  اس طرح بچنا ہے  جیسے  سانپ اور بچھو سے۔ ان دونوں  باتوں  کا احساس بڑی شدت سے  ہوا۔ حرم شریف سے  نکلتے  ہی وہ سب نظارے  نگاہوں  کو گمراہ کرنے  کے  منتظر ہوتے  ہیں  جن سے  بچنے  کی تاکید کی جاتی ہے۔ معیشت و معاشرت اور دنیوی زیب و زینت قدم قدم پر دیدہ و دل کو دیوانہ کرنے  کی منتظر ہوتی ہے۔ وہ دنیا جس سے  اللّٰہ کا پیارا نبیؐ اور آپ کے  پیارے  پناہ مانگتے  تھے  وہ پوری آب و تاب سے  بیرونِ حرم قدم قدم ورغلانے  کو استادہ ہے۔ فلک بوس عمارتیں،عمارتوں  کے  اندر کی زیبائش و آرائش اور سامانِ سہولت،اس کے  علاوہ بازار کی چمک دمک،دوکانوں  میں  سجایئ زیوروں،کپڑوں،برتنوں  کے  علاوہ بچوں  کے  بہلاوے  کا ساراساماں، ایمان بگاڑنے  کا سامان ہے۔ یہ ٹھیک ہے  ضرورت کی چیزوں  کی خرید و فروخت نا جائز نہیں۔ مگر خرید و فروخت میں  الجھنا توسراسرلایعنی میں  الجھنا ہے۔ آدمی اصل مقصد سے  ہٹ کر فضولیات میں  وقت ضائع کر دیتا ہے۔ شیطان نے  اگرچہ اس مرکزِ اسلام کو پوری طرح ملوث کرنے  کی کوشش کی ہے۔ مگر یہ پوری طرح کامیاب نہیں  ہو سکا۔ میں  نے  مستورات کو سودا بیچتے  تو دیکھا ہے  مگر کسی اشتہار پر کسی خاتون کی تصویر نہیں  دیکھی۔ سودابیچنے  والی اکثر مستورات بھی پردے  میں  ہوتی ہیں۔ ہاں  کچھ غیر ملکی عورتیں  بے  برقعہ بھی گھڑیاں  وغیرہ بیچتی نظر آ جاتی ہیں۔

اکثر حجاج کرام زیادہ وقت حرم شریف میں  گذارتے  ہیں۔ وہاں  وہ شیطان کی شیطنت سے  محفوظ رہتے  ہیں  مگر جب بازار یا بلڈنگ میں  آتے  ہیں  تو لایعنی اور لغویات میں  مصروف ہو جاتے  ہیں۔ وہی سیاسی، غیرسیاسی باتیں،مذہبی مباحثے،فضول ٹیلیفون،گپ شپ وغیرہ ایسے  مشاغل ہیں  جو بلڈنگوں  میں  موضوع گفتگو ہوتے  ہیں۔ اور آج کل اکثر گفتگوؤں  میں  کام کی باتیں  کم اور نکمی باتیں  زیادہ ہوتی ہیں۔ لایعنی ہی لایعنی۔ بلکہ غور کیا جائے  تو لایعنی سے  بھی بڑا گناہ کیا جاتا ہے۔ شائد ہی کوئی موضوع ہو جس میں  کسی فرد یا فرقے  کی غیبت نہ ہو۔ اور ہمیں  یہ خبر ہی نہیں  کہ غیبت کتنا بڑا گناہ ہے۔ اس کے  متعلق تو فرمایا گیا ہے  کہ غیبت کرنا گویا مردہ بھائی کا گوشت کھانا ہے۔ ایک دفعہ کچھ صحابہ ؓ سے  حضورﷺ نے  فرمایا کہ خلال کر لو۔ انہوں  نے  عرض کیا حضورﷺ ہم نے  گوشت تو کھایا نہیں  خلال کیوں  کریں۔ فرمایا ابھی تم اپنے  بھائی کی غیبت کر رہے  تھے۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے  کہ قبر کا عذاب پیشاب کی بے  احتیاطی اور غیبت کی وجہ سے  ہوتا ہے۔ … مگر غیبت ایسامیٹھا گناہ ہے  کہ ہرکس وناکس اس زہر کو چکھے  بغیر نہیں  رہتا۔ دوست احباب، عزیز و اقارب سب ہماری تنقید کا موضوع ہوتے  ہیں۔ سیاسی رقیب تو ہماری تنقید کا ہدفِ خاص ہوتے  ہیں۔

اس دورِ پُر آشوب میں  بیٹا باپ سے  باپ بیٹے  سے  نالاں  ہے۔ دوست کا دوستپر اعتماد نہیں۔ گورنمنٹ عوام سے  اور عوام گورنمنٹ سے  نالاں  ہیں۔ ہماری بلڈنگ میں  ایک صاحب دمہ کے  مریض تھے۔ دو دن اپنوں  سے  بچھڑ گئے۔ بیماری زیادہ ہو گئی۔ اسی بیماری کی حالت میں  خالقِ حقیقی سے  جا ملے۔ ہم سب کو بہت افسوس ہوا۔ لوگوں  کے  کہنے  کے  مطابق پاکستان کمیشن کے  عملہ نے  بڑی بے  حسی کا مظاہرہ کیا۔ اس مرحوم کے  علاج معالجے  کی طرف خاص توجہ نہیں  دی گئی وغیرہ وغیرہ۔ ایک روز میں  بھی اس شغل میں  مصروف تھا کہ معاً خیال آیا کہ بجائے  پاکستان کی گورنمنٹ یا  ڈاکٹروں  کی غیبت کرنے  کے  بجائے کیوں  نہ ان کے  لئے  دعا کریں۔ یا اللّٰہ ہماری ساری قوم کو گورنمنٹ سمیت اپنی اپنی ذمہ داریاں  کماحقہ ادا کرنے  کی توفیق دے۔

 

عربی روایت کی جھلک

 

تاریخ میں  آتا ہے  کہ جب حضرت رِبْعِی رستم سے  مذاکرات کر کے  واپس ہوئے  تورستم نے  اپنی قوم کے  سرداروں  کو اکٹھا کر کے  کہا ’’کیا تم نے  اس آدمی کی گفتگو سے  زیادہ وزنی اور دو ٹوک بات دیکھی ہے ؟‘‘انہوں  نے  کہا اللّٰہ کی پناہ اس بات سے  کہ تم اس کی کسی چیز کی طرف مائل ہو جاؤ اور اپنا دین چھوڑ کر (نعوذ باللہ)اس کتے  کے  دین کو اختیار کر لو۔ کیا تم نے  اس کے  کپڑے  دیکھے۔ رستم نے  کہا تمہارا ناس ہو کپڑوں  کو مت دیکھو۔ سمجھداری اور طرزِگفتگواورسیرت کو دیکھو۔ عرب کے  لوگ کپڑے  اور کھانے  کا خاص اہتمام نہیں  کرتے  ہیں۔ ہاں  خاندانی صفات کی بڑی حفاظت کرتے  ہیں۔  (حیاۃ  الصحابہؓ،حصہ اول)

رستم کا نام نہ صرف تاریخ بلکہ ادب میں  بھی بہت معروف ہے۔ بہادری کے  حوالے  سے  یہ نام علامت واستعارہ کے  طور پر عام استعمال ہوتا ہے۔ مذکورہ حوالہ سے  اس کی فراست و دانش کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ صحابہ ؓ کے  مذاکرات سے  اس کا دل اسلام کی طرف مائل ہو گیا تھا۔ مگر سرداروں  اور اہلکاروں  کی مخالفت اور اپنی سرداری کے  غرور کی وجہ سے  مسلمان نہیں  ہوا اور اس کفر کی حالت میں  مسلمانوں  سے  لڑتے  ہوئے  واصلِ جہنم ہوا۔ یہ شخص جنگی مخالف ہونے  کے  باوجود یہ کہہ رہا ہے  کہ عرب خاندانی صفات کی بڑی حفاظت کرتے  ہیں۔ یہ بات کافی حد تک مبنی بہ صداقت ہے۔ گو آجکل پورا عالم اسلام مغربی تہذیب کی یلغار کی زد میں  ہے۔ بلکہ عملی طور پر پوری دنیا میں  یہود و نصاریٰ کا ورلڈ آرڈر یا عالمی نظام نافذ ہو چکا ہے۔ مگر اس کے  باوجود مکہ، مدینہ میں  کہیں  کہیں  عربی معاشرت کی طلب اور جھلک نظر آ جاتی ہے۔ عربی لباس آج بھی عربوں  کو محبوب ہے۔ ان کی دیکھا دیکھی غیرملکی حاجی بھی لمبا ساچوغہ پہننے  میں  بڑی مسرت محسوس کرتے  ہیں۔

ہمارے  ایک پیارے  بھی اس سال حج کی سعادت سے  بہرہ ور ہوئے  ہیں۔ آپ کا مزاج قدرے  جدت پسند ہے۔ وہ کہتے  ہیں  کہ مجھے  عربی لباس سے  عجیب قسم کی چڑ تھی۔ میں  نے  خواب میں  حضورﷺ پُر نور کی اقتداء میں  نماز پڑھنے  والوں  کو عربی لباس میں  ملبوس دیکھا تو اٹھتے  ہی توبہ کی اور بازار جا کر عربی چوغہ خریدا اور اسے  زیبِ تن کر کے  اللّٰہ سے  توبہ کی۔ یہ چوغہ میرے  لئے  خاص سوغات کی حیثیت رکھتا ہے  کہ یہ جس خواب کی دین ہے  وہ خواب میری سوچوں  کا سرمایہ ہے۔ ہماری عرب حضرات سے  کوئی خاص ملاقات نہیں  ہوئی۔ حرم شریف کے  مقامی خدمتگار یا بنک کے  اہلکار دیکھنے  کا موقع ملا ہے۔ ماشاء اللّٰہ یہ سارے  کے  سارے  اپنا محبوب لباس زیبِ تن کئے  ہوئے  تھے۔

عربوں  کی سخاوت کے  بڑے  قصے  سنے  تھے۔ اس سفرِ مبارک میں  اس حقیقت کی بھی تائید ہوئی۔ مکہ، مدینہ دونوں  شہروں  بلکہ شہروں  کی شاہراہوں  پر جا بجا عرب سخیوں  کی سبیلیں  حجاج کرام کے  ا کرام کے  لئے  لگی ہوئی تھیں۔ ایک دن ہم عمرہ کا احرام باندھ کر باہر نکلے  تو ایک دوکاندار نے  دو دودھ کے  پیکٹ ہماری طرف بڑھائے۔ خیال ہوا شائد یہ صاحب دودھ بیچنا چاہتے  ہیں  مگر انہوں  نے  پیکٹ پکڑتے  ہوئے  کہا” سبیل” میرے  دل میں  خیال آیا کہ ہم کوئی مانگت فقیر ہیں۔ معاً خیال آیا۔ یہ تو مکہ کی خیرات ہے۔ اللّٰہ کے  گھر کا  بھنڈارہ ہے۔ میں  نے  بسم اللّٰہ کر کے  دونوں  پیکٹ لے  لئے۔ اسی طرح کئی لوگ گاڑیوں پر سامانِ ا کرام لادے  چوکوں  پر کھڑے  ہوتے  ہیں۔ بڑے  بڑے  ڈبوں  میں  بسکٹ دودھ پانی وغیرہ پیک کر کے  حاجیوں  کو ہدیہ کرتے  ہیں۔ پھر خادم حرمین شریفین کی گاڑیاں  تو عرفات کے  علاوہ مکہ، مدینہ کے  چورا ہوں  پر لنگر تقسیم کرنے  کے  لئے  حاجیوں  کی منتظر رہتی ہیں۔

عرب جو بات کر دیں  وہ آخری بات ہوتی ہے۔ نماز سے  چند منٹ قبل عورتوں  کو علیحدہ کرنے  کے  لئے  کچھ اصحاب ہاتھ میں  مصلے  لئے  کھڑے  ہوتے  ہیں۔ یہ حضرات کوئی عذر نہیں  سنتے  بس ایک ہی صدا ہوتی ہے  صلوٰۃ صلوٰۃ۔ عورتوں  کو عورتوں  کی مخصوص جگہ کی طرف اشارہ کر کے  بھیج دیتے  ہیں۔ مردوں  کے  ساتھ ملنے  نہیں  دیتے۔ عرب معاشرت میں  ابھی پردے  کی روایت زندہ نظر آتی ہے۔ بچیاں  تک مکمل پردے  میں  ہوتی ہیں۔ مسجدِ نبویؐ میں  تو پردے  کا بہت سخت اہتمام ہے۔ یہاں  عرب خواتین کو مکمل پردے  میں  ملبوس دیکھا ہے۔ یہ مستورات بچوں  سمیت نماز کے  لئے  مسجدتک آتی ہیں۔ مرد باہر کھڑے  رہ جاتے  ہیں  اور یہ بچوں  سمیت اندر نماز سے  فارغ ہو کر اسی طرح باپردہ اپنے  اپنے  محرموں  کے  ساتھ واپس ہو جاتی ہیں۔

حقیقت میں  تو دیہات معاشرت کے  عکاس ہوتے  ہیں۔ ہمیں  دیہات جانے  کا موقع نہیں  ملا۔ دل میں  تمنا ہے  کہ اللّٰہ پھر اپنے  گھر اور نبیؐ کے  در کی زیارت کرائے  اور حضورﷺ پر نور اور آپؐ کے  صحابہ ؓ کی معاشرت کی جھلک دیکھنے  کے  لئے  مکہ،مدینہ کے  مضافات کی زیارت بھی کرا دے۔

٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے فائل فراہم کی اور اجازت مرحمت کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل اعجاز عبید