FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

فہرست مضامین

اک خواب ہے دنیا

 

 

 

               عرشی ملک

 

 

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

 

نبوت ختم ہے تجھ پر، رسالت ختم ہے تجھ پر

ترا دیں ارفع و اعلیٰ، شریعت ختم ہے تجھ پر

 

ہے تیری مرتبہ دانی میں پوشیدہ خدا دانی

تو مظہر ہے خدا کا، نورِ وحدت ختم ہے تجھ پر

 

ترے ہی دم سے بزمِ  انبیاء کی رونق و زینت

تو صدرِ انجمن، شانِ صدارت ختم ہے تجھ پر

 

تری خاطر ہوئے تخلیق یہ ارض و سماء سارے

یہی وجہِ ضرورت تھی ضرورت ختم ہے تجھ پر

 

خدا خود نعت لکھتا ہے تری قران کی صورت

عجب ہے شانِ محبوبی، وجاہت ختم ہے تجھ پر

 

مزمل بھی، مدثر بھی ہے تو، یاسین و طٰہٰ بھی

انوکھے نام ہیں تیرے، یہ ندرت ختم ہے تجھ پر

 

شریعت کے محل کا آخری پتھر ہے تو پیارے

ادھورے کو کیا پورا یہ سنت ختم ہے تجھ پر

 

ترے ہی ہاتھ سے تکمیلِ دیں اللہ نے فرمائی

ہوا اتمام نعمت کا یہ نعمت ختم ہے تجھ پر

 

نہیں ہے باپ گرچہ تو کسی بھی مرد کا لیکن

تو مُہرِ انبیاء شانِ رسالت ختم ہے تجھ پر

 

نہیں حاجت کسی دستور کی اب بعد قرآں کے

یہی دستورِ کامل، کاملیت ختم ہے تجھ پر

 

کیا وہ کام تنہا جو نبی مل کر نہ کر پائیں

فہم انمول تیرا، قابلیت ختم ہے تجھ پر

 

تو آ کر بعد میں بھی سب پہ بازی لے گیا پیارے

یہ ہمت ختم ہے تجھ پر، یہ سبقت ختم ہے تجھ پر

 

خدا میں جذب ہو کر تو ابد تک ہو گیا زندہ

فنا ہو کر بقا پائی، سعادت ختم ہے تجھ پر

 

تری ہی ذات میں آ کر ہوئی اکمل ہر اک خوبی

مروت ہو، متانت ہو کہ الفت ختم ہے تجھ پر

 

خدا کے نام گر سو ہیں تو تیرے ایک کم سو ہیں

صفاتِ ذاتِ باری سے شباہت ختم ہے تجھ پر

 

کہا جبرئیل نے ’’اقراء‘‘ کہا میں پڑھ نہیں سکتا

کمالِ عاجزی کی یہ علامت ختم ہے تجھ پر

 

شبِ معراج تو نے بامِ  عرفاں کو چھوا جا کر

یہی حدِ فضیلت تھی، فضیلت ختم ہے تجھ پر

 

تو ہفت افلاک کو اک جست میں طے کر گیا پیارے

یہ شوکت یہ، سعادت، یہ امامت ختم ہے تجھ پر

 

جہاں جبرئیل کے جلتے تھے پر تو اس جگہ پہنچا

تو منزل ہے رہِ حق کی مسافت ختم ہے تجھ پر

 

خدا سے عشق ایسا تھا ملائک ہو گئے حیراں

لگے سرگوشیاں کرنے محبت ختم ہے تجھ پر

 

ہزاروں سال میں جو راہِ الفت طے نہ ہوتی تھی

دنوں میں طے کرا دی وہ، قیادت ختم ہے تجھ پر

 

پکارا تو نے جب کوہِ صفا پر چڑھ کے لوگوں کو

عجب اندازِ دعوت تھا، یہ دعوت ختم ہے تجھ پر

 

ترا ہی نام وجہِ شرف و عزت دو جہانوں میں

تو ہے خیر البشر، سب خیر و برکت ختم ہے تجھ پر

 

قیامت تک تیرے ہی فیض کا جاری ہے اب دریا

تری بخشش نرالی ہے، سخاوت ختم ہے تجھ پر

 

ہے دستور العمل قرآن، سچا رہنما تو ہے

یہی رازِ حقیقت ہے، حقیقت ختم ہے تجھ پر

 

ترے آوازۂ حق نے بپا محشر کیا جگ میں

تری بعثت قیامت تھی، قیامت ختم ہے تجھ پر

 

کمالاتِ رسالت، حق نے تجھ پر وار کر سارے

کہا پھر پیار سے پیارے، رسالت ختم ہے تجھ پر

 

تو صادق بھی امیں بھی تھا یہ دشمن تک پکار اُٹھے

صداقت ختم ہے تجھ پر، امانت ختم ہے تجھ پر

 

کروڑوں وحشیوں کو تو نے انسانی چلن بخشے

تو کوہِ استقامت ہے، کرامت ختم ہے تجھ پر

 

تو وہ صبحِ صداقت ہے نہیں ڈر شام کا جس کو

تو کوہِ استقامت ہے، کرامت ختم ہے تجھ پر

 

کیا پیتل کو بھی مَس تو زرِ خالص بنا ڈالا

تھا تیرے لمس میں جادو، یہ قدرت ختم ہے تجھ پر

 

پڑے جس پر ترا پرتو، حسیں ہو جائے وہ یک دم

کہ سارا حسنِ صورت، حسنِ سیرت ختم ہے تجھ پر

 

دُعاؤں سے تری عالم کا عالم ہو گیا زندہ

انوکھا معجزہ، زندہ کرامت ختم ہے تجھ پر

 

تو غفلت کے، جہالت کے حجابوں سے چھڑاتا ہے

یہ علم و معرفت، فہم و فراست ختم ہے تجھ پر

 

سبھی ظلمت کے پردے اُٹھائے عقلِ انساں سے

کیا حق الیقیں پیدا یہ شوکت ختم ہے تجھ پر

 

جو دِل صدیوں سے مردہ تھے کیے زندہ دُعاؤں سے

یہ جذبِ دل یہ تاثیرِ محبت ختم ہے تجھ پر

 

بھٹکتی ڈولتی انسانیت کو راہ پر ڈالا

تو اک بے مثل قائد ہے قیادت ختم ہے تجھ پر

 

سبھی آداب جینے کے سکھائے تو نے دنیا کو

لطافت ختم ہے تجھ پر نظامت ختم ہے تجھ پر

 

عجب تھا حوصلہ ہر جاں کے دشمن کو اماں دے دی

تو اعلیٰ ظرف تھا ترکِ شکایت ختم ہے تجھ پر

 

مئے عرفاں پلائی تو نے خاص و عام کو یکساں

کیا مستی میں بے خود، رنگِ صحبت ختم ہے تجھ پر

 

تو سرخیلِ گدایانِ محبت ہے قیامت تک

خدائے پاک سے بے لوث چاہت ختم ہے تجھ پر

 

قرینے تو نے ذکر و فکر کے دنیا کو سکھلائے

ریاضت ختم ہے تجھ پر، عبادت ختم ہے تجھ پر

 

خدا کا دین غالب ہو یہی خالص تمنا تھی

حبیبِ کبریا، اخلاصِ نیت ختم ہے تجھ پر

 

زمین و آسماں پر شور اک صل علیٰ کا ہے

تو طاہر تھا، مطہر تھا، طہارت ختم ہے تجھ پر

 

ترے در کی گدائی میں ہے پوشیدہ شہنشاہی

تو شاہِ دو جہاں ہے بادشاہت ختم ہے تجھ پر

 

خدا کا مظہرِ اُتّم تھی تیری ذاتِ سبحانی

غضب پر پیار غالب، جوشِ رحمت ختم ہے تجھ پر

 

محبت وہ خدا سے کی کہ دشمن تک پکار اُٹھے

تو اپنے رب پہ عاشق ہے یہ جدت ختم ہے تجھ پر

 

تری ذات و صفات، افعال، سب لاریب، پاکیزہ

تقدس خود پکار اُٹھا کہ عفت ختم ہے تجھ پر

 

ترے فیضان کا ٹھاٹھیں مارتا دریا رواں اب تک

یہ لطفِ بے نہایت، یہ مروت ختم ہے تجھ پر

 

تو عاشق تھا خدا کا اور خدا عاشق ہوا تیرے

یہ آغازِ وفا، انجامِ الفت ختم ہے تجھ پر

 

جو شیدائے محبت ہیں، جو دانائے محبت ہیں

تو سب کی سوچ سے بالا کہ رفعت ختم ہے تجھ پر

 

جو اربابِ تدبر ہیں وہ بے کھٹکے یہ کہتے ہیں

ترا ہی ذکر اب جاری، حکایت ختم ہے تجھ پر

 

تو یکتا ہے خدا کے عشق کے میدان میں پیارے

وہ سوزِ خاص، وہ جذبِ محبت ختم ہے تجھ پر

 

کیا وہ عشقِ بے پایاں، خدا کو رکھ لیا دل میں

مرے آقا دلِ عاشق کی وسعت ختم ہے تجھ پر

 

نہیں ہم جانتے، تو عشق کی کس راہ سے گزرا

بس اتنا جانتے ہیں دردِ فرقت ختم ہے تجھ پر

 

سلگتا تھا ترا سینہ اُبلتی دیگ کی مانند

عجب تھی عشق کی حدت، یہ حدت ختم ہے تجھ پر

 

گدازِ غم نے چہرے کو انوکھا نور بخشا تھا

سکینت خود یہ کہتی تھی، سکینت ختم ہے تجھ پر

 

ہر عُسر و یُسر میں راضی رہا تو اپنے مولا سے

اے عالی مرتبت، صبر و قناعت ختم ہے تجھ پر

 

ترے سر کے لیے پتھر تھے، پیروں کے لیے کانٹے

مگر لب پر دُعا تھی، جوشِ رحمت ختم ہے تجھ پر

 

سفر طائف کا، زخمی تھا بدن ، لب پر دُعائیں تھیں

اے کوہِ استقامت، عزم و ہمت ختم ہے تجھ پر

 

جو پیاسے خون کے تھے، ان کی بخشش کی دُعائیں کیں

مرے محبوب، لطفِ بے نہایت ختم ہے تجھ پر

 

ترا مکے سے وہ چھپ کر نکلنا یاد آتا ہے

تھا ٹھنڈی آہ میں جو دردِ ہجرت ختم ہے تجھ پر

 

قیامِ شب میں سوجے پاؤں اور آنکھیں ہوئیں جل تھل

عبادت میں یہ بے پایاں مشقت ختم ہے تجھ پر

 

خدا کے واسطے تا عمر تو نے سختیاں جھیلیں

عجب تھی صبر کی طاقت یہ قوت ختم ہے تجھ پر

 

گواہی لا الہ کی دی جہاں کو کر لیا دشمن

عجب تھا حوصلہ، جرأت، جسارت ختم ہے تجھ پر

 

رہِ حق میں جو تو نے دکھ سہے تیرا ہی حصہ تھے

اذیت ختم ہے تجھ پر، صعوبت ختم ہے تجھ پر

 

ترا حامی خدا تھا، اور مخالف اک خدائی تھی

غضب تھی شانِ استغنا، متانت ختم ہے تجھ پر

 

پرائے تھے کہ اپنے، سب کے سب دشمن ہوئے تیرے

یہ دردِ بے کسی، حدِ مصیبت ختم ہے تجھ پر

 

وہ تیرا نرغۂ دشمن میں بڑھتے ہی چلے جانا

عزیمت ختم ہے تجھ پر، شجاعت ختم ہے تجھ پر

 

تو میدانِ وفا میں ایسا بے خوف و خطر آیا

ہر اک دل نے کہا شوقِ شہادت ختم ہے تجھ پر

 

تری نرمی حلیمی بھی علامت تھی نبوت کی

صباحت ختم ہے تجھ پر، ملاحت ختم ہے تجھ پر

 

جو آئے قتل کرنے کو ہوئے شامل غلاموں میں

دلوں کو جیت لینے کی مہارت ختم ہے تجھ پر

 

ستم سہنے کی لذت سے ہمیں واقف کیا تو نے

تری اس جورِ بے پایاں سے رغبت ختم ہے تجھ پر

 

تو مسکینوں، یتیموں کے لیے اک گھنا سایہ

غریبوں، بے کسوں پر خاص شفقت ختم ہے تجھ پر

 

رہا فاقے سے خود، مہماں کو لیکن سیر کر ڈالا

یہ استغنا، یہ اندازِ ضیافت ختم ہے تجھ پر

 

مسلسل پیٹ کو بھر کر کبھی کھانا نہیں کھایا

یہ مسکینوں سے یک جہتی کی عادت ختم ہے تجھ پر

 

من و سلویٰ بھی مل سکتا تھا پر تو نے نہیں چاہا

تجھے نانِ جویں بھایا، یہ غربت ختم ہے تجھ پر

 

کبھی لذّاتِ دنیا سے کوئی حصہ نہیں چاہا

خدا کے ہاتھ سب بیچا، یہ بیعت ختم ہے تجھ پر

 

وہ زہد و پارسائی کی کہ شاہی میں گدائی کی

سرِ تسلیم خم ایسا، اطاعت ختم ہے تجھ پر

 

غلاظت سے بھرے بستر کو اپنے ہاتھ سے دھویا

کسی مہماں کی یہ خاطر مدارت ختم ہے تجھ پر

 

نہ آلودہ تجھے کر پائی اس دنیا کی آلائش

گواہی روز و شب نے دی، نفاست ختم ہے تجھ پر

 

نہ مال اسباب کی پرواہ، نہ جاہ و حشم پر تکیہ

فقر تھا تیرا سرمایہ، یہ دولت ختم ہے تجھ پر

 

ترے دربار میں شاہ و گدا اک تھے مراتب میں

مرے منصف ! یہ اندازِ عدالت ختم ہے تجھ پر

 

تو اس دنیا کی عز و جاہ کو ٹھوکر پہ رکھتا تھا

فقر کو تو نے عظمت دی قناعت ختم ہے تجھ پر

 

عجب تھا تیرا ستر بار استغفار کرنا بھی

خدا کے سامنے عجز و ندامت ختم ہے تجھ پر

 

عمل کر کے دِکھایا تو نے خود احکامِ قرآں پر

نصیحت خوب کی، طرزِ نصیحت ختم ہے تجھ پر

 

تجھے دیکھا سُنا جس نے، وہ تیرا ہو گیا شیدا

سراپا تھا ترا قرآں، تلاوت ختم ہے تجھ پر

 

جو خط شاہوں کو لکھوائے بہت نایاب ہیں سارے

گواہ تحریر ہے، خط و کتابت ختم ہے تجھ پر

 

ترا ہر مختصر فقرہ، خزینہ معرفت کا ہے

ترے حرفوں میں جو تھی معنویت ختم ہے تجھ پر

 

بدن مصروف تھا اور دل خدا کے واسطے فارغ

ترے قربان یہ رنگِ فراغت ختم ہے تجھ پر

 

خدا کے در پہ تو دھونی رما کر عمر بھر بیٹھا

یہ استقلال یہ شوقِ ارادت ختم ہے تجھ پر

 

تری خلوت میں رونق تھی، تری جلوت میں تنہائی

یہ خلوت ختم ہے تجھ پر، یہ جلوت ختم ہے تجھ پر

 

مبشر بھی تو منذر بھی، ترا منصب تھا ہادی کا

بہت تلقین کی اتمامِ حجت ختم ہے تجھ پر

 

مقام عالیٰ، کلام عالیٰ، پیام عالیٰ، دوام عالیٰ

تو عالیٰ مرتبت ہے شرف و عزت ختم ہے تجھ پر

 

سرِ محفل خدائے پاک سے سرگوشیاں جاری

یہ عشق و عاشقی، یہ شوق و شدت ختم ہے تجھ پر

 

ترا رتبہ تھا کیا، اس راز کو سمجھی نہیں دنیا

ہے قصہ مختصر، اللہ سے قربت ختم ہے تجھ پر

٭٭٭

 

 

 

 

 

نگر میں دل کے اب کچھ بھی نہیں ہے

یہاں شور و شغب کچھ بھی نہیں ہے

 

یہ دل رسماً دھڑکتا جا رہا ہے

دھڑکنے کا سبب کچھ بھی نہیں ہے

 

نہ جانے کون کب لہجہ بدل لے

یہ دنیا ہے عجب کچھ بھی نہیں ہے

 

کہا جب ان سے تم مرتے تھے ہم پر

لگے کہنے کہ کب ؟ کچھ بھی نہیں ہے

 

تعلق تھا تو تھی ناراضگی بھی

پر اب لُطف و غضب کچھ بھی نہیں ہے

 

نہ وہ پہلے سے اب رنج و الم ہیں

نہ وہ بزمِ طرب کچھ بھی نہیں ہے

 

تری فرقت کا کیا خدشہ ہو دل کو

تری قربت میں جب کچھ بھی نہیں ہے

 

جو کہنا تھا کہا کھل کر ہمیشہ

ہمارے زیرِ لب کچھ بھی نہیں ہے

 

نہ کوئی مصلحت نہ وضع داری

ہمیں جینے کا ڈھب کچھ بھی نہیں ہے

 

تمہارے ہجر کے مارے ہوؤں کو

ملن کی ایک شب کچھ بھی نہیں ہے

 

ہمیں جی بھر کے خود کو دیکھنے دو

سوا اس کے طلب کچھ بھی نہیں ہے

 

مہک اشعار کی بانٹی جہاں میں

پر اپنا یہ کسب کچھ بھی نہیں ہے

 

میں عورت ہوں ملامت کی ہوں عادی

سو عزت کی طلب کچھ بھی نہیں ہے

 

بنے بیٹھے ہیں بابائے ادب وہ

جنہیں پاسِ ادب کچھ بھی نہیں ہے

 

تم اپنے شہرِ دل کو پاک کر لو

فقط عجم و عرب کچھ بھی نہیں ہے

 

قبا اوڑھی نہیں مانگے کی میں نے

میری کنیت لقب کچھ بھی نہیں ہے

 

میں بنتِ آدم و حوا ہوں عرشی

مرا نام و نسب کچھ بھی نہیں ہے

٭٭٭

 

 

 

    بہت اُکتا چُکا ہے آج کا انسان مُلا بس

ابھی نکلا نہیں،دل کا ترے ارمان مُلا بس

 

کبھی تُو اشرف المخلوق تھا کچھ یاد ہے تجھ کو

پتہ اب مانگتے ہیں تجھ سے سب حیوان مُلا بس

 

تجھے رشک و حسد سے دیکھتا رہتا ہے بے چارہ

کہ تیری رِیس کر سکتا نہیں شیطان مُلا بس

 

بہت کی خدمتِ اسلام مُلا اب تو بس کر دے

بھُلا سکتا نہیں اسلام یہ احسان مُلا بس

 

فسادِ فی سبیل للہ تری شہرت ہے برسوں سے

اُٹھا مت چائے کی پیالی میں یہ طوفان مُلا بس

 

سبھی بھیگے ہوئے ہیں کُفر کی بوچھار پیہم میں

بہت برسا چکا فتنوں کا تُو باران مُلا بس

 

 

۲

 

فلاں ملحد فلاں مشرک فلاں کافر فلاں اکفر

اسی سُر پر سدا ٹوٹی ہے تیری تان مُلا بس

 

اُڑا مت کف گلے کو دو گھڑی آرام لینے دے

نہ غم میں دین کے ہو اس قدر ہلکان مُلا بس

 

ہمارے منہ نہ کھلوا بس ہمیں خاموش رہنے دے

بہت دیکھی ہے تیری پاکیِ دامان مُلا بس

 

لکھا ہے بد تریں مخلوق کا قصہ کتابوں میں

بھلا وہ کون ہیں ان کو ذرا پہچان مُلا بس

 

جہاں میں کس لئے آیا تھا کیا لے جا رہا ہے تو

یہ گٹھری پاپ کی ہے کُل ترا سامان مُلا بس

 

نئی نسلوں کو تو نے دین سے بے زار کر ڈالا

وہ اب سنتے نہیں ہیں من گھڑت فرمان مُلا بس

 

سناتا ہے تو قرآں خود عمل اس پر نہیں کرتا

تبّرا بھیجتا ہے تجھ پہ خود قرآن مُلا بس

 

پنہ مانگیں گے مُلاؤں سے وحشی بھڑیے اک دن

حدیثوں میں لکھی تھی یہ تری پہچان مُلا بس

 

۳

 

مفاسد کی سبھی آما جگاہیں مسجدیں ہوں گی

محمد مصطفےٰ ﷺ کا تھا یہی فرمان مُلا بس

 

گناہوں سے ذرا رک جا انہیں آرام کرنے دے

فرشتے لکھتے لکھتے ہو گئے ہلکان مُلا بس

 

کراماً کاتبیں بھی تھک گئے تفصیل کیا لکھیں

ابھی تک لکھ نہیں پائے وہ کُل عنوان مُلا بس

 

نہ جانے کتنی صدیوں تک جہاں رو رو کے گائے گا

بہت لمبا ہے جُرموں کا ترے دیوان مُلا بس

 

کما کر دیکھ محنت سے کبھی رزقِ حلال اپنا

بڑھا دے کفر کے فتنوں کی یہ دُکان مُلا بس

 

بشر کے فائدے کے واسطے وہ کچھ تو کرتے ہیں

بہت بہتر ہیں تجھ سے موچی و ترکھان مُلا بس

 

غبارِ دل یونہی عرشی نے شعروں میں نکالا ہے

سدھرنے کا نہیں گر چہ ترے امکان مُلا بس

 

 

۴

 

اسمبلی کا تجھے اب بھا گیا ایوان مُلا بس

فقط مسجد ہے اب تیرے لئے زندان مُلا بس

 

خدا کی نعمتوں کا اس قدر کفران مُلا بس

کہ تیرا ہمدمِ دیرینہ ہے شیطان مُلا بس

 

حکومت کی چمک پا کر تری چندھیا گئیں آنکھیں

ہر اک فرعون کا ساتھی ہے تو ہامان مُلا بس

 

وطن کو لے نہ ڈوبے یہ ترا چسکہ سیاست کا

تجھے کافی نہیں تھا دین کا میدان مُلا بس

 

خدا کے واسطے مشقِ ستم کو روک لے مُلا

کہ زندہ لاش کی صورت ہے پاکستان مُلا بس

 

جو جیکٹ خود کُشی کی روز پہناتا ہے اوروں کو

کبھی خود بھی پہن چھوٹے ہماری جان مُلا بس

 

۵

 

یہ دینی بد معاشی غنڈہ گردی اور کتنے دن

کہ قدرت اب ترا کرنے کو ہے چالان مُلا بس

 

نکالا تو نے فرقہ واریت کے جِن کو بوتل سے

جدا تو نے کیا انسان سے انسان مُلا بس

 

بہت کھیلی ہے تو نے خوں کی ہولی اب تو بس کر دے

بنے مقتل مساجد کے بھی اب دالان مُلا بس

 

جو بہتا ہے لہو باچھوں سے اس کو پونچھ لے ظالم

کہ آ جاتا ہے ویمپائر کا مجھ کو دھیان مُلا بس

 

ہمیشہ دین کو بیچا ہے تو نے نرخِ ارزاں پر

کیا اسلام کا تو نے بہت نقصان ملا بس

 

سوائے تیرے دنیا کافر و زندیق ہے ساری

یہی تجھ کو بتاتا ہے ترا وجدان مُلا بس

 

ترے اپنے سوا کوئی سما سکتا نہیں اس میں

بہت ہے تنگ تیرا حلقۂ ایمان مُلا بس

 

مغلّظ قورمہ، لعنت کی روٹی، کفر کا حلوہ

سجا دیکھا ہے ہم نے تیرا دستر خوان مُلا بس

 

 

۶

 

سدا بریانیاں دہشت کی تو تقسیم کرتا ہے

ترے گھر روز و شب پکتے ہیں یہ پکوان مُلا بس

 

بنانے کا مسلماں شوق تھا اسلاف کو عرشی

تجھے کافر بنانے کا مگر ارمان مُلا بس

 

مجھے بھی شوق ہے چھتہ بھڑوں کا چھیڑ دینے کا

بچاؤ کا نہیں گرچہ کوئی سامان مُلا بس

٭٭٭

 

 

 

    محفوظ نہیں گھر بندوں کے، اللہ کے گھر محفوظ نہیں

اس آگ اور خون کی ہولی میں اب کوئی بشر محفوظ نہیں

 

شعلوں کی تپش بڑھتے بڑھتے ہر آنگن تک آ پہنچی ہے

اب پھول جھلستے جاتے ہیں پیڑوں پر شجر محفوظ نہیں

 

کل تک تھا سکوں جن شہروں میں، وہ موت کی دستک سنتے ہیں

ہر روز دھماکے ہوتے ہیں، اب کوئی نگر محفوظ نہیں

 

دن رات بھڑکتی دوزخ میں جسموں کا ایندھن پڑتا ہے

کیا ذکر ہو عام انسانوں کا، خود فتنہ گر محفوظ نہیں

 

آباد مکاں اک لمحے میں ویران کھنڈر بن جاتے ہیں

دیوار و در محفوظ نہیں، اور زید و بکر محفوظ نہیں

 

شمشان بنے کوچے گلیاں ہر سمت مچی ہے آہ و فغاں

فریاد ہے ماؤں بہنوں کی اب لخت جگر محفوظ نہیں

 

انسان کو ڈر انسانوں سے، انسان نما حیوانوں سے

محفوظ نہیں سر پر شملے شملوں میں سر محفوظ نہیں

 

پہرے ہیں کلاشنکوفوں کے ہر ایک گلی کے نکڑ پر

آنگن میں شجر محفوظ نہیں شانوں پر سر محفوظ نہیں

 

اک استغفار کا نسخہ ہے اس کو بھی برت لو نادانوں

مت ناز کرو تدبیروں پر، یہ راہ گذر محفوظ نہیں

 

اے کاش کہ قوم یونس کی تقلید کی ہو توفیق ہمیں

وہ آہ سحر محفوظ نہیں، وہ دیدہ تر محفوظ نہیں

 

جب بانجھ ہوں آنکھیں اشکوں سے، دل قبر کی صورت ویراں ہوں

جب پست ہو مقصد جینے کا، تب حسن بشر محفوظ نہیں

٭٭٭

 

 

 

اس بار تو دل کی بازی میں اے جانِ جاں، سب ہار دیا

زر ہار دیا، سر ہار دیا، ظاہر پنہاں، سب ہار دیا

 

جب عشقِ حقیقی نے دل کے دروازے پر آ دستک دی

جاں سحر زدہ سی اُٹھ بیٹھی جو کچھ تھا جہاں، سب ہار دیا

 

تھیں وصل کی راہیں تنگ بہت سو بھاری گٹھڑ پھینک دئیے

دنیا کی ہوس دنیا کی متاع اک بارِ گراں، سب ہار دیا

 

جب عشق نے پوچھا چپکے سے، چلنا ہے تو چل اب دیر نہ کر

میں ننگے پاؤں دوڑ پڑی پوچھا نہ “کہاں” سب ہار دیا

 

اب تیرے در پر رونا ہی اس دل کو تسلی دیتا ہے

وہ رونق میلے دنیا کے وہ عشق بُتاں سب ہار دیا

 

ہو عشق بھی اور خود داری بھی دنیا کی متاع ہو پیاری بھی

یہ طرز نہیں اک عاشق کے شایان شاں سب ہار دیا

 

جب ہم بھی ترے اور جاں بھی تری پھر بھاؤ تاؤ ٹھیک نہیں

اور عشق کوئی بیوپار نہیں سو سود و زیاں سب ہار دیا

 

کچھ پھندے تھے مضبوط بہت اور دل کو جکڑے رکھتے تھے

اب رشتے ناطے دنیا کے اک وہم و گماں، سب ہار دیا

 

اللہ کی طلب کے دعووں میں لفاظی ایک “فضولی” ہے

تصدیق عمل سے کی جس نے کھولی نہ زباں سب ہار دیا

 

اک آن سے اُس نے پوچھا تھا کیا ہار کی بازی کھیلو گی؟

میں نعرہ مار کے بول اُٹھی ہاں ہاں مری جاں سب ہار دیا

 

لہجے کی کھنک، لفظوں کی چمک سب گذرے دور کا قصہ ہیں

وہ تانا شاہی طبیعت کی، وہ شوکت وشاں سب ہار دیا

 

وہ دن بھی عرشی بیت گئے جب طرز بیاں میں جادو تھا

اب لفظ ہیں گونگے ہونٹوں پر ناں ہوں، ناں ہاں سب ہار دیا

٭٭٭

 

 

 

 

ہم چُپ رہے

 

 

وہ جو قاتل تھے ،جنونی تھے ،بہت بے رحم تھے

جب گلی کوچوں میں اپنے آ گھسے

ہم چُپ رہے

ہم پڑھے لکھے تھے ،دانشمند تھے،پُر امن تھے

کس لئے پھر بولتے

ہم چُپ رہے

……………………….

 

ہندوؤں پر سندھ میں حملے ہوئے

مندروں میں خون کے چھینٹے اُڑے

ہم چُپ رہے

ہم مسلماں لوگ تھے ہندو نہ تھے، بے وجہ کیوں بولتے

ہم چُپ رہے

…………………………..

 

پھر عیسائی بستیوں میں قتلِ ناحق بھی ہوئے

گرجا گھر جلتے ہوئے جسموں کی بُو سے بھر گئے

ہم چُپ رہے

کیا عیسائیوں سے ہمیں لینا تھا،جو کچھ بولتے

ہم چُپ رہے

………………………………….

 

پھر شیعوں کا بھی لہو ارزاں ہوا

دس محرم ،یومِ محشر جب بنا

ہم چُپ رہے

ہم شیعہ کب تھے کہ ناحق بولتے

ہم چُپ رہے

………………………………

 

احمدی بوڑھے،جواں،اپنی عبادت گاہ میں

ظلم و سفاکی سے جب بھونے گئے

ہم چُپ رہے

قادیانی ہم نہیں تھے،کس لئے پھر بولتے

ہم چُپ رہے

………………………………

 

پھر مزاروں ،خانقاہوں کی بھی باری آ گئی

جب دھواں بارود کا،صحنوں کے اندر بھر گیا

ہم چُپ رہے

ہم کسی صوفی کے پیرو کار نہ تھے

بے وجہ کیوں بولتے

ہم چُپ رہے

…………………………..

 

اور پھر ایسا ہوا۔۔۔۔۔۔

ہم بھی مدد کے واسطے اک رات چِلّائے بہت

خوں کی جب ہم پر ہوئی برسات ،چِلّائے بہت

چیتھڑے بن کر فضا میں جب اُڑے

بیویوں،بچوں کے پاؤں،ہاتھ،چِلّائے بہت

…………….

 

گھپ اندھیرے میں تھی ،عرشی ہوں نہ ہاں

مستقل چُپ تھی زمیں تا آسماں

کون آتا ۔۔۔۔؟کون باقی تھا وہاں؟؟

٭٭٭

 

 

 

داتا دربار پر حملہ

 

اب کے داتا کا بھی دربار لہو رنگ ہوا

یہ وہ دربار کہ جو امن کا گہوارہ تھا

یہ وہ دربار جو الفت کا رواں دھارا تھا

جو غریبو ں کو امیروں کو بہت پیارا تھا

………………………………

 

یہ وہ دربار کہ جس تک تھی رسائی سب کی

یہ وہ دربار جو سنتا تھا دہائی سب کی

جہاں مذہب کو نہ مسلک کو تھا پرکھا جاتا

نہ حسب کو، نہ نسب کو ، جہاں دیکھا جاتا

جہاں غربت ، نہ امارت کی تھی تفریق کوئی

جہاں زر دار، نہ بے زر کی تھی تحقیق کوئی

کوئی دیوان ، جہاں ، خاص نہ تھا ، عام نہ تھا

نام والا نہ تھا کوئی ، کوئی بے نام نہ تھا

چین ہی چین تھا ، ہنگامۂ ایاّم نہ تھا

…………………………..

 

جوق در جوق چلی آتی تھی خلقت ساری

آس و اُمید کا، خوراک کا لنگر جاری

بھوک مٹ جاتی دل و پیٹ کی باری باری

کتنی صدیوں سے تھا روشن ، یہ محبت کا چراغ

زرد موسم میں بھی سرسبز رہا ، عشق کا باغ

دہریے بھی یہاں پاتے تھے عقیدت کا سراغ

………………………………….

 

کس نے کاٹی ہیں یہاں آ کے سروں کی فصلیں

کون انساں کی مٹانے پہ تُلا ہے نسلیں

باڑ نفرت کی سرِ راہ اگانے والو

خانقاہوں پہ جلے دیپ بجھانے والو

قتلِ انسان کو اک کھیل بنا نے والو

بو میں بارود کی جنت کو کمانے والو

خو د کشی کر کے بڑا جشن منانے والو

………………………………

 

تم کہ کرتے ہو ،عقیدوں کی بنا پر حملہ

اب کے تو تم نے کیا ، بادِ صبا پر حملہ

مردِ درویش کے ، پیغامِ  بقا پر حملہ

ایک صوفی کی محبت کی صدا پر حملہ

یہ تو حملہ ہے عقیدت پہ، وفا پر حملہ

آس و اُمید پہ اور حرفِ دعا پر حملہ

دلِ مظلوم کی ہاں آہِ رسا پر حملہ

مار پائیں نہیں جس شخص کو صدیاں عرشی

کس لئے کرتے ہو اُس مردِ خدا پر حملہ

٭٭٭

 

 

شاعرو ! نغمہ گرو ! جاگو۔۔

 

 

 

مرے عہدِ زبوں کے شاعرو ! نغمہ گرو ! جاگو

اُٹھو ! جس دور میں جیتے ہو اس کا حال بھی لکھو

ذرا آنکھیں تو کھولو، صورتِ احوال بھی لکھو

نئے لہجے میں بولو اور نئی امثال بھی لکھو

………………………………

 

سنا ہے شاعری ،پیغمبری کا جزو ہوتی ہے

ِ یہ اک پختہ گواہی ہے ضمیرِ آدمیت کی

جبھی تو کشف اور الہام کے پایہ کا موتی ہے

………………………………

 

نہیں تم دیکھتے سب کو دکھائی دے رہا ہے جو؟

نہیں تم نے سنا سب کو سنائی دے رہا ہے جو؟

کوئی آسیب ہے پیہم دہائی دے رہا ہے جو

…………………………..

 

یہ دروازے شکستہ ہیں،نہ سہہ پائیں گے جھٹکا بھی

دہل دل جاتے ہیں دل ماؤں کے سن کر ایک کھٹکا بھی

صلیبِ دہشت و ذلت پہ ہے مصلوب کُل خلقت

عجب نا مردمی ہے خود سے ہے محجوب کُل خلقت

شکنجے میں ستم رانوں کے ہے مغلوب کُل خلقت

………………………………….

 

دھکیلے جا چکے ہیں لوگ اب دیوار کی حد تک

وہ تنگ بجنگ آمد ہیں اب بےزار کی حد تک

نہیں ہیں تلخیاں محدود اب گفتار کی حد تک

بہت سے آ چکے ہیں اب فرازِ دار کی حد تک

یہ طوفاں جب اٹھا،سب کچھ بہا لے جائے گا اب کے

جو اندازے ہیں یہ ان سے سوا ،لے جائے گا اب کے

کوئی امید اب زندہ ،نہ کوئی آس باقی ہے

مسلسل ذلتوں کا ہر گھڑی احساس باقی ہے

شکم میں بھوک باقی ہے ،لبوں پر پیاس باقی ہے

………………………………….

 

بہت جب بھوک بڑھ جائے تو پھر بس میں نہیں رہتی

سلگ اُٹھتی ہے جب تیلی تو ماچس میں نہیں رہتی

وضع داری کے رسمی بندھنوں کو کاٹ دیتی ہے

یہ انسانی لہو کا ذائقہ تک چاٹ لیتی ہے

……………………………………..

 

مرے نغمہ گرو !جاگو ! حقائق کا بیاں لکھّو

خدارا مصلحت کا، اب ترازو ہاتھ سے رکھ دو

قلم کا پاس رکھو جو عیاں ہے یا نہاں لکھّو

اجاڑے جو بھی گلشن کو اسے مت باغباں لکھّو

لٹیروں ،راہزنوں کو اب نہ میرِ کارواں لکھّو

لکھو کانٹوں کو تم کانٹے ، نہ پھولوں کی دُکاں لکھّو

سرابوں کو نہ اب بھولے سے بھی آبِ رواں لکھّو

جگالی چھوڑ دو برتے ہوئے الفاظ کی پیارو

تم ان بے ذائقہ لفظوں کو اب کتنا چباؤ گے؟

کتابی علم کے دلدل میں کب تک کلبلاؤ گے؟

٭٭٭

 

 

 

باپ بیٹا اور چڑیا

 

ایک دن ایک باپ اور بیٹا

باغ میں اپنے گھر کے بیٹھے تھے

باپ بوڑھا سا ناتواں سا تھا

اور بیٹا حسیں جواں سا تھا

ہاتھ میں تھی کتاب بیٹے کے

باپ بوڑھا فضا میں تکتا تھا

کم تھی بینائی اس کی آنکھوں کی

یونہی بیٹھا خلا میں تکتا تھا

…………………………..

 

دفعتاً آس پاس پھولوں کے

ایک چڑیا کہیں سے آ بیٹھی

باپ بے اختیار بول اٹھا

دیکھو دیکھو ذرا وہ شے کیا ہے؟

میرے بیٹے وہ سامنے کیا ہے؟

بے نیازی سے نوجواں بولا

ایک چڑیا ہے وہ مرے ابا

……………………….

 

چند لمحوں کے بعد وہ چڑیا

اُڑ کے اک جھاڑ کی طرف آئی

باغ کی باڑ کی طرف آئی

منہ سے پھر باپ کے یہی نکلا

دیکھو دیکھو ذرا وہ شے کیا ہے؟

میرے بیٹے وہ سامنے کیا ہے؟

چڑ کے بولا وہ نوجواں لڑکا

باپ میرے وہ ایک چڑیا ہے

کہہ چکا ہوں وہ ایک چڑیا ہے

…………………………..

 

چند لمحے اسی طرح بیتے

اڑ کے چڑیا وہ گھاس پر آئی

اور لینے لگی وہ انگڑائی

باپ نے اس کو غور سے دیکھا

اپنے چشمے کی اور سے دیکھا

چھُو کے بیٹے کی بانہہ کو بولا

دیکھو دیکھو ذرا وہ شے کیا ہے؟

میرے بیٹے وہ سامنے کیا ہے؟

اب کے بیٹا بھڑک گیا یکدم

چیخ کر اس طرح ہوا گویا

کیوں مرا صبر آزماتے ہیں

بے وجہ کیوں مجھے چڑاتے ہیں

کہہ چکا ہوں وہ ایک چڑیا ہے

ایک چڑیا ہے ایک چڑیا ہے

…………………………..

 

ہائے افسوس پھر وہی چڑیا

اُڑ کے قدموں میں باپ کے آئی

اس نے کھانے کی کوئی شے پائی

باپ بے اختیار بول اٹھا

دیکھو دیکھو ذرا یہ شے کیا ہے؟

میرے پاؤں کے پاس یہ کیا ہے؟

یہ سوال اب نہ سہہ سکا بیٹا

اپنی حد میں نہ رہ سکا بیٹا

اب کے آپے سے ہو گیا باہر

ایک لمحے میں بن گیا قاہر

طیش میں یک بیک بہت آیا

پھاڑ کر پھر گلے کو چِلایا

کیسے بتلاؤں میں وہ چڑیا ہے

کیسے سمجھاؤں میں وہ چڑیا ہے

’چ‘سے چڑیا ہے،’چ‘ سے چڑیا ہے

وہ ہے چڑیا وہ ایک چڑیا ہے

آخری بار کہہ رہا ہوں میں

اک مصیبت کو سہہ رہا ہوں میں

کس جہنم میں رہ رہا ہوں میں

جانے کیا چیز یہ بڑھاپا ہے

یہ بڑھاپا نرا سیاپا ہے

…………………………..

 

سُن کے یہ دھاڑ باپ کانپ گیا

اُکھڑے قدموں سے گھر کی سمت چلا

چند لمحوں کے بعد لوٹ آیا

ہاتھ میں اک کتاب سی لایا

دے کے بیٹے کے ہاتھ میں اس کو

اس سے کہنے لگا پڑھو اس کو

اتنا اونچا پڑھو کہ میں سُن لوں

……………………….

 

اس گھڑی نوجوان نے دیکھی

ایک تحریر اپنے والد کی

جو تھی پچیس سال پہلے کی

باپ کی ڈائری تھی وہ عرشی

زیرِ عنواں لکھا تھا ’چڑیا‘ کے

آج لختِ  جگر میرا چھوٹا

خیر سے تین سال کا ہے ہوا

جب سے سیکھا ہے بولنا اس نے

رس کو کانوں میں گھولنا اس نے

ہر گھڑی بولتا ہی جاتا ہے

بے پنہ پیار اس پہ آتا ہے

…………………………..

 

آج سہ پہر کو میرا بیٹا

ساتھ میرے تھا باغ میں بیٹھا

دفعتاً آ گئی وہاں چڑیا

مجھ سے کہنے لگا مرا بیٹا

دیکھو دیکھو ذرا وہ شے کیا ہے؟

میرے بابا وہ سامنے کیا ہے؟

چوم کر اس کا چاند سا ماتھا

میں بتاتا رہا وہ چڑیا ہے

گو تھا اس کا سوال سادہ سا

اس نے پر تیس بار پوچھا تھا

اور ہر بار چوم کر اس کو

اپنی بانہوں میں بھینچ کر اس کو

میں بتاتا رہا وہ چڑیا ہے

……………………….

 

پھر میں کرتا تھا ہنس کے چُوں ،چُوں، چُوں

نقل کرتا تھا وہ بھی جوں کی توں

ہر دفعہ جب اسے بتاتا تھا

اک نیا لطف مجھ کو آتا تھا

اس نے پوچھا تھا صرف تیس دفعہ

گر وہ سو بار پوچھتا مجھ سے

میں نہ تھکتا کبھی بتانے سے

…………………………..

 

جب یہ اوراق پڑھ چکا بیٹا

شرم سے سر جھکا لیا اس نے

لفظ ہونٹوں سے اک نہیں نکلا

صرف آنکھوں میں آ گئے آنسو

باپ سے یہ بھی نہ گیا دیکھا

اس کے ماتھے پہ دے دیا بوسہ

٭٭٭

 

 

 

پینسل اور انسان

 

 

پینسلوں کے ایک کاریگر نے پنسل سے کہا

آخرش بازار میں جانے کا لمحہ آگیا

جا کے اب میدان میں جوہر دکھا

تو میری تخلیق ہے تجھ سے محبت ہے مجھے

با دل نخواستہ کرتا ہوں پر تجھ کو جدا

کچھ نصا ئح تجھ کو کرتا ہوں مگر قبل از وداع

———————————-

 

بہترین پنسل ہو گر بننا تجھے

تجھ پہ لازم ہے کہ تو یہ پانچ باتیں جان لے

صدق دل سے پھر عمل کرنے کی ان پر ٹھان لے

گر ہے کچھ دنیا میں کرنے کی طلب

خود کو دے دینا کسی کے ہاتھ میں

عاجزی سے ہوکے مخلص ،با ادب

———————————–

 

اور پھر وقتاً فوقتاً تجھ کو ہے

شا پنر سے روز و شب چھلنا ضرور

ایک پنسل کو یہ دکھ سہنا ہی ہے

اس کی نوک اس کے لیے گہنا ہی ہے

—————————–

 

ہاں غلط گر تجھ سے کچھ لکھا گیا

اس کی تو اصلاح کرنا لازما

ہاں مٹا کر پھر سے لکھنا لازما

————————

 

سکہ و لکڑی ہے جسم ظاہری

اصلیت ہے دور باطن میں چھپی

———————–

 

غور سے سن لے یہ نکتہ آخری

اس میں پوشیدہ ہے علم و آگہی

جس بھی کاغذ کو چھوۓ تو جان من

اس پر تیرا نقش اترے لازما

اس کو مل جاۓ انوکھا بانکپن

ایک پنسل کی یہی پہچان ہے

ایک پنسل کی یہی تو شان ہے

————————

 

نام پنسل کے تھا عرشی جو پیام

اب وہی پیغام ہے انساں کے نام

کام کر سکتا ہے تو بس شک بڑے

اپنی ضد پہ گر نہ ہر لحظہ اڑے

سونپ دے خود کو خدا کے ہاتھ میں

کہہ سمعنا اور اطعنا ساتھ میں

——————-

اور پھر وقتاً فوقتاً جھیلنا

کچھ نہ کچھ محنت، مشقت، ابتلا

ابتلا انسان کا ہیں شاپنر

—————-

جس قدر چھلتا ہے جاتا ہے نکھر

مشکلیں مضبوط کر دیں گی تجھے

گرمی ایماں سے بھر دیں گی تجھے

————————

تیرے ہاتھوں میں ہے توبہ کا ربر

جو مٹا دے گا خطائیں بیشتر

———————

ظاہری صورت تیری گو،تن میں ہے

اصلیت تیری مگر باطن میں ہے

————————

آخری نکتہ بھی سن لے جان جاں

تجھ میں پوشیدہ ہے طاقت کا جہاں

تو کہ جن لوگوں کے بھی ہو درمیاں

مہرباں تجھ پر ہوں یا نا مہرباں

چھوڑنا ان سب پہ ہے اپنا نشاں

عزم کی بننا ہے تجھ کو داستاں

ہے یہی پیارے تیرے شایان شاں

٭٭٭

 

 

 

کوکھ میں قتل

 

ابھی جنم نہیں میں نے لیا ہے دنیا میں

مگر میں خوف سے ہر پل لرزتی رہتی ہوں

میں ماں کی کوکھ کے اندر بھی ڈرتی رہتی ہوں

سہم سہم کے میں، بے موت مرتی رہتی ہوں

سنا ہے میں نے کہ سائنس کی یہ ترقی بھی

ہمارے واسطے لائی ہے اک نئی افتاد

سنا ہے ایسی مشینیں بھی ہو گئیں ایجاد

جو ماں کی کوکھ کے اندر کے سب مناظر کو

چمکتی،جاگتی سکرین پر دکھاتی ہیں

جو نسل و جنس کا پورا پتہ لگاتی ہیں

٭٭

 

سنا ہے مائیں بھی اب  بیٹیوں کی دشمن ہیں

جب اپنے رحم میں بیٹی کا جان لیتی ہیں

تو اس کے قتل کی پھر دل میں ٹھان لیتی ہیں

بھلی تھی رسم ہمیں زندہ گاڑ دینے کی

تو قبر بنتی تھی آنسو بہائے جاتے تھے

جو ساتھ باپ کے ، ہم قتل گاہ جاتے تھے

نئے لباس میں ہم بھی سجائے جاتے تھے

ہمارے سر پہ ربن بھی لگائے جاتے تھے

پر ایسا ظلم تو دیکھا سنا نہ دنیا میں

بہت سی ہیں میری بہنیں کہ جن کو مل نہ سکا

کفن کے نام پہ کپڑا کوئی نیا عرشی

کہ جن کا کوئی جنازہ اٹھا نہ ارتھی ہی

زمیں پہ ایک دو بالشت بھی جگہ نہ ملی

ہمیں تو ماؤں کے رحموں میں بھی پناہ نہ ملی

٭٭

 

بہت سی ہیں مری بہنیں جو ماؤں کے ہاتھوں

انہیں کی کوکھ کے اندر مٹائی جاتی ہیں

خوشی کے ساتھ گٹر میں بہائی جا تی ہیں

 

 

ابھی جنم نہیں میں نے لیا ہے دنیا میں

مگر میں خوف سے ہر پل لرزتی رہتی ہوں

میں ماں کی کوکھ کے اندر بھی ڈرتی رہتی ہوں

سہم سہم کے میں، بے موت مرتی رہتی ہوں

٭٭٭

 

 

 

لینڈ کروزر

 

 

میری گریجویشن میں بس گنتی کے دن باقی تھے

میری سوچوں میں اک لینڈ کروزر کب سے بسی ہوئی تھی

آتے جاتے ڈیلر کے شوروم پہ رک کر اس کو دیکھا کرتا تھا

باپ سے اپنی خواہش کا اظہار بھی کرتا رہتا تھا

اور یہ بھی معلوم تھا مجھ کو، باپ میرا اک ارب پتی ہے

دن اور لمحے گنتے گنتے، گریجویشن کا دن آیا

باپ نے مجھ کو فون کیا اور اپنے کمرے میں بلوایا

میرے ماتھے کو چوما اور اپنے سینے سے لپٹایا

نیلے کاغذ میں لپٹا ، اک ڈبہ میری سمت بڑھایا

دیکھ کہ یہ چھوٹا سا ڈبہ میں چکرایا

میری امیدوں کا سورج دیکھ کے یہ تحفہ گہنایا

————————————

 

بجھتے دل ،مردہ ہاتھوں سے میں نے اس ڈبے کو کھولا

اس میں ایک قرآن رکھا تھا

جس پر چمکیلے حرفوں میں میرا اپنا نام لکھا تھا

غصے کی اک لہر نے میری سدھ بدھ کھوئ

میں بے حد چیخا چلایا ،خوب بکا جو منہ میں آیا

آگ کا ایک بگولا بن کر گھر سے نکلا

باپ کے تحفے کو ٹھکرایا

————————–

 

بیت گئے پھر ماہ و سال ۔ خوب کمایا میں نے مال

بیوی ،بچوں اور بزنس میں گھر کر سب کچھ بھول گیا میں

سوچا جب فرصت پاؤں گا ،والد سے ملنے جاؤں گا

بزنس کے دھندوں میں گھر کر پل بھر کی فرصت نہ پائ

با پ کی موت کی جب تک مجھ بزنس میگنٹ کو خبر نہ آئ

والد نے اپنی سب دولت مجھ سرکش کے نام لکھی تھی

میں نادم سا کھویا کھویا اپنے والد کے گھر پہنچا

والد کے کمرے میں میز پہ وہی نیا قرآں رکھا تھا

جس پر چمکیلے حرفوں میں میرا اپنا نام لکھا تھا

جس کو میں ٹھکرا کر گھر سے بھاگ گیا تھا

——————————–

 

بھیگی آنکھوں ،جلتے دل سے میں نے وہ قرآن اٹھایا

اس کو کھولا، ورقے پلٹے

ٹن کر کے ایک کار کی چابی ،میز کے شیشے سے ٹکرائ

چابی پر ایک ٹیگ لگا تھا

جس پر میری گریجویشن کی تاریخ ، اور سال لکھا تھا

اور لکھا تھا ۔۔۔۔۔

پیارے بیٹے لینڈ کروزر تمہیں مبارک

٭٭٭

 

 

 

ہر طرف ہے شورِ محشر الاماں کچھ کیجئے

ہے وطن اپنا مریضِ نیم جاں کچھ کیجئے

 

قبل اس کے پھر اُٹھے آہ و فغاں کچھ کیجئے

پھر کسی کے سر پہ ٹوٹے آسماں کچھ کیجئے

 

سانحے کچھ ہو چکے ہیں اور کچھ ہونے کو ہیں

اے امیرِ شہر ان کے درمیاں کچھ کیجئے

 

سب تماشا آپ کی آنکھوں کے آگے ہے بپا

کب تلک دیکھیں گے رقصِ بسملاں کچھ کیجئے

 

خون کی ہولی یہاں کا کھیل قومی بن گئی

چار جانب ہیں دھماکے گولیاں کچھ کیجئے

 

آپ کے ہاتھوں میں قدرت نے دیا ہے اختیار

اور مت دیجے مذمت کے بیاں کچھ کیجئے

 

اپنی آنکھوں سے اتاریں بے حسی کی عینکیں

ہے بموں کا ہر طرف پھیلا دھواں کچھ کیجئے

 

یا تو دامن دھوئیے یا پھر بدل لیجے لباس

جا بجا ہیں خوں کے دھبوں کے نشاں کچھ کیجئے

 

زندگی کا نرخ مٹی سے بھی کمتر ہو گیا

موت نے ہر چوک میں کھولی دُکاں کچھ کیجئے

 

قتل اک انساں کا کُل انسانیت کا قتل ہے

جائیے قرآن کا پڑھیے بیاں کچھ کیجئے

 

یہ رعونت اور اتنی بے رخی اچھی نہیں

اپنے دل پر ہیں طمانچوں کے نشاں کچھ کیجئے

 

یہ وضع داری یہ رسمی اشک شوئی کب تلک

یہ نہیں ہے آپ کے شایانِ شاں کچھ کیجئے

 

چھوڑئیے بھی اس بیاں بازی کو اہلِ اقتدار

بولیے مت اپنی اپنی بولیاں کچھ کیجئے

 

لفظ پاکستان دہشت کی علامت بن گیا

آپ لیکن چین سے ہیں مہرباں کچھ کیجئے

 

یہ صدا نقار خانے میں ہے طوطی کی صدا

ہو نہ جائے یہ بھی صوتِ رائگاں کچھ کیجئے

 

عرش کانپ اٹھتا ہے عرشی آہ سے مظلوم کی

آپ بن جائیں نہ عبرت کا نشاں کچھ کیجئے

٭٭٭

 

 

 

 

دنیا کے کاروبار سے فرصت نہ ہو سکی

دل اس سے جب ملا تو فراغت نہ ہو سکی

 

دیکھا جو حسن یار ازل ہوش اُڑ گئے

اس جگ میں پھر کسی سے محبت نہ ہو سکی

 

لطف مزید کی نہ گئیں دل سے حسرتیں

اُس در پر جا کے ہم سے قناعت نہ ہو سکی

 

نادم ہوں شرمسار ہوں شکووں گلوں پہ میں

کم ظرف ہوں سو مجھ سے مروت نہ ہو سکی

 

کٹیا میں مجھ غریب کی وہ آۓ تو مگر

شایان شان مجھ سے مدارت نہ ہو سکی

 

کیا کیا نہ ہم کو یاد تھے نکتے نۓ نۓ

جب سامنا ہوا تو جسارت نہ ہو سکی

 

کیوں رنگ تیرا زرد ہے،چہرہ بجھا بجھا

وہ پوچھنے لگے تو وضاحت نہ ہو سکی

 

دیکھے جو میرے زخم تو بے ساختہ کہا

افسوس وقت پر یہ جراحت نہ ہو سکی

 

سوچے جو اپنے عیب زباں بند ہوگی

ہم سے کسی بشر کی مذمت نہ ہو سکی

 

لہجہ تھا ناصحوں کا زہر میں بجھا ہوا

سو کارگر کوئی بھی نصیحت نہ ہو سکی

 

ہم بے ہنر کسی کو بھی حیراں نہ کر سکے

افسوس ہم سے کوئی کرامت نہ ہو سکی

 

بس ایک قدم اٹھا کے اناّ کو تھا روندنا

تا عمر ہم سے طے یہ مسافت نہ ہو سکی

 

ماتھا تو ٹیکتے رہے ہر صبح و شام ہم

پر سچ تو یہ ہے ہم سے عبادت نہ ہو سکی

 

بیکار ہی گئیں مری ساری وضاحتیں

دل سے کسی کے دور کدوّرت نہ ہو سکی

 

عرشی ہوا ہوا میرا شوقِ مکالمہ

لب یوں سلے کہ مجھ سے خطابت نہ ہو سکی

٭٭٭

 

 

 

 

نفسِ امّارہ کو موت سے ڈرانا

 

 

مجھے کچھ نفسِ امّارہ سے کھُل کر بات کرنی ہے

اور اس بدبخت پر اس کی بیاں اوقات کرنی ہے

 

خبر کچھ اس کی لینی ہے اسے شیشہ دکھانا ہے

کہ اس نے آخرت کے کام کو آسان جانا ہے

 

یہ اس سے پوچھنا ہے اس قدر پھولا ہوا ہے کیوں

تُو اے غافل خدائے پاک کو بھولا ہوا ہے کیوں

 

سمجھتا ہے تو خود کو حکمت و دانائی میں یکتا

فلک پر ہے ترا ماتم تو احمق ہے مگر ہنستا

 

کھڑی ہے موت سر پر اور ہلکا ہے ترا بستہ

ہٹے گر آنکھ سے پردہ تو ہو جائے تجھے سکتہ

 

جنازوں پر تُو جاتا ہے کہ یہ رسمِ زمانہ ہے

ترا افسوس کرنے بھی ابھی لوگو ں کو آنا ہے

 

تیرا بھی کفن کپڑے کی کسی دُکان میں ہوگا

سمجھ لے آج یا کل تو بھی قبرستان میں ہوگا

 

فرشتہ دفعتاً آتا ہے کب کچھ عذر سُنتا ہے

مگر تو اپنے منصوبوں کے لمبے جال بُنتا ہے

 

نہیں ہے موت ٹلنے کی کسی پل آنے والی ہے

تجھے ہمراہ اپنے جبر سے لے جانے والی ہے

 

اجل کی تیغ ہے سر پر تنی ، تو اس کے نیچے ہے

کہ اک ساعت یہ آگے ہے نہ اک ساعت یہ پیچھے ہے

 

کماں تھامے ہوئے ہے موت اپنے ہاتھ میں ہر پل

نہ اس کے تیر سے بچ پائے گا ناقص ہو یا کامل

 

تکبر میں کوئی فرعون ، کہ دولت میں ہو قاروں

وہ شہ زوری میں رستم ہو کہ خبطِ عشق میں مجنوں

 

وہ دانش میں اگر سقراط ہو ، لقمان حکمت میں

سیاست میں عمر ( رض) ہو یا علی (رض) عزم و شجاعت میں

 

ہو عیسیٰ ( ع) زہد میں یا پھر حکومت میں سلیماں ہو

ہو یوسف (ع) حُسن و احساں میں ، حیا داری میں عثماں (رض) ہو

 

غرض کوئی بھی ہو اس سے یہ پیالہ ٹل نہیں سکتا

کوئی حیلہ بہانہ زور کوئی چل نہیں سکتا

 

یہ مرضی موت کی ہے دن میں آئے رات میں آئے

چنے وہ موسمِ سرما کہ پھر برسات میں آئے

 

بڑھاپے تک تجھے بخشے کہ آ جائے جوانی میں

دبوچے یا تجھے پھر بانکپن کی رُت سہانی میں

 

چلو گر موت نہ آئے تو بیماری کا ڈر تو ہے

کہ یہ بھی موت کی جانب ہی اک لمبا سفر تو ہے

 

تو کہتا ہے کہ بڑھاپے میں تائب ہو ہی جائے گا

تجھے کس نے بتا یا ہے تو بڑھاپے کو پائے گا

 

خدا قرآن میں فرما رہا ہے بے بصر ہیں وہ

بہت نزدیک ہے وقتِ حساب اور بے خبر ہیں وہ

 

لگے رہتے ہیں اپنے کھیل میں پروا نہیں ان کو

خدا کے قُرب کی عرشی ذرا بھی چاہ نہیں ان کو

 

دبے پاؤں مگر ہر گھر میں ملکِ الموت آتا ہے

کسی نے کب یہ دیکھا ہے کہ خالی ہاتھ جاتا ہے

 

کبوتر کی طرح مت میچ آنکھیں ہوش کر ناداں

کسی بھی طور نہ چھوٹے گی اس بلی سے تیری جاں

 

تو کس برتے پہ کس امید پر اتنا نڈر ہے تُو

کہ تیری تاک میں ہو موت لیکن بے خبر ہے تُو

………..

 

اگر ایمان ہے تیرا جہنم اور جنت پر

خدا کی عظمت و طاقت پہ اس کی بادشاہت پر

 

تو کیوں کرتا ہے میدانِ عمل میں اس قدر سُستی

یہاں تو ہر گھڑی درکار ہے بیداری و چُستی

 

اگر تُو یہ سمجھتا ہے نہیں وہ دیکھتا تُجھ کو

تو پھر تیری بصیرت پر بھروسہ کچھ نہیں مُجھ کو

 

اگر یہ زعمِ باطل ہے ابھی تجھ میں بہت دم ہے

تو پھر تیری حماقت پر ہو ماتم جس قدر کم ہے

 

اگر ایمان ہے تیرا کہ وہ موجود ہے ہر سُو

گنہ پھر بھی کئے جاتا ہے کتنا بے حیا ہے تو

 

بہادر گر تو ایسا ہے نہیں ڈرتا عذابوں سے

تو گویا دل سے منکر ہے تو اس کی سب کتابوں سے

 

اگر دوزخ کی گرمی جھیلنے کی تجھ میں طاقت ہے

تو چھُو کر دیکھ شعلے کو کہ کیا درجہ حرارت ہے

 

بِنا اعمال کے اگر رحم پر تو اس کے نازاں ہے

تو کیوں دنیا کے دھندوں میں پھر اس درجہ پریشاں ہے

 

طلب میں مال و زر کی روز و شب ہے کس لیے مرتا

کریمی پر تو مولا کی بھروسہ کیوں نہیں کرتا

 

حصولِ زر کی خاطر گر یہاں محنت کی حاجت ہے

یہ دنیا ہو کہ وہ دنیا خدا کی ایک سُنت ہے

 

خدا نے ذکرِ عقبیٰ میں یہی کھُل کر بتایا ہے

وہی انسان کا حصہ ہے جو اس نے کمایا ہے

 

بہت وہ فضل کرتا ہے اگر جہدِ مسلسل ہو

گنہ سب بخش دیتا ہے نہ گر ان میں تسلسل ہو

 

اور اس دنیا کے بارے میں یہی قانون ڈھالا ہے

زمیں پر سب کی روزی ہے وہ ادنیٰ ہے کہ اعلیٰ ہے

 

جہاں جائے گا تو روزی پہنچ ہی جائے گی تجھ کو

خدا رزّاق ہے تیرا یہ خود سمجھائے گی تجھ کو

 

کمائی آخرت کی تجھ کو غافل آپ کرنی ہے

تجوری جو تری خالی ہے وہ کوشش سے بھرنی ہے

 

بِنا کاٹے کٹے گا کیسے ماہ و سال کا رستہ

کہیں ہلکا نہ رہ جائے ترے اعمال کا بستہ

 

کہ لمبے راستوں کی ابتدا بھی اک قدم سے ہے

ہر اک پستی کی لیکن انتہا بھی اک قدم سے ہے

 

رہِ عقبیٰ پہ چلنے میں یہ تیری مستقل سُستی

حماقت ہے کھُلی تیری کہ تیرا کُفر ہے مخفی ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اب اک دانش کا نکتہ ہے سو اس کو غور سے سُن لے

پھر اس کے بعد جو اچھا لگے وہ راستہ چن لے

 

یہاں گر ڈاکٹر تجھ کو کوئی پرہیز بتلائے

بِنا حجت تو اس کی بات پر ایمان لے آئے

 

دوا کڑوی کسیلی جاں بچانے کو تو کھاتا ہے

یقیں باتوں پہ تجھ کو ڈاکٹر کی خوب آتا ہے

 

ضروری ہو اگر تو روز انجکشن بھی لگوا لے

کہے گر ڈاکٹر تو آپریشن بھی تو کروا لے

 

تُو بیماری سے ڈرتا ہے سو اس کی مان لیتا ہے

بدلنے کے سبھی معمول دل میں ٹھان لیتا ہے

 

تو اپنی جان و صحت پر بہت پیسہ لُٹا تا ہے

علاج اپنا کرانے کو تُو امریکہ بھی جاتا ہے

 

تُو باتیں مانتا ہے سب کی سب اپنے معالج کی

بہت وقعت ہے تیرے دل میں اس کے علم و نالج کی

 

نہیں پر انبیاء کے قول کا تجھ پر اثر کوئی

نہیں دل میں خدائے لم یزل کا تجھ کو ڈر کوئی

 

ارے او نفسِ امّارہ او میری جان کے دشمن

مری رسوائی کے خواہاں مرے ایمان کے دشمن

 

بظاہر تُو نہ بہرہ ہے نہ گونگا ہے نہ اندھا ہے

بس اتنی بات ہے تُو خود غرض مطلب کا بندہ ہے

 

تری چادر میں بچھو ہے ، کوئی بچہ اگر چیخے

تو چادر پھینک دیتا ہے بِنا اک لفظ بھی پوچھے

 

کوئی کہ دے ترے بستر کے نیچے سانپ بیٹھا ہے

تو تُو کتنا بھی کاہل ہو مگر فوراً اُچھلتا ہے

 

تو کیا یہ انبیاء عالم حکیم اس سے بھی کمتر ہیں ؟

اور ان کے قول اور افعال بے معنی سراسر ہیں ؟

 

وہ روحانی معالج ہیں ترے ہمدرد ہیں وہ بھی

تڑپتے ہیں تری خاطر کہ اہلِ درد ہیں وہ بھی

 

نہیں ان پاک روحوں کو کوئی لالچ کوئی حاجت

خدا کے ہیں وہ اس کی گود میں پاتے ہیں ہر راحت

 

تمنا ہے ستائش کی نہ تجھ سے فیس لیتے ہیں

تری حالت پہ کُڑھتے ہیں دوا پلّے سے دیتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔

 

رسول پاک ( ص) نے اُمت سے کھل کر کہ دیا یہ بھی

کہ جبرائیل نے یہ بات میرے دل میں ہے پھونکی

 

کہ تو جس شئے سے کر لے پیا ر آخر چھوڑ جائے گا

تو جو چاہے عمل کر لے جزاء لازم ہے پائے گا

 

نتائج کا عمل کے سامنا کرنا ضروری ہے

کوئی سو سال بھی جی لے تو پھر مرنا ضروری ہے

 

نصیحت مان لے غافل تو مت ہو آگ پر راضی

تو رکھ دنیا سے روزہ ، دال پر ہو ، ساگ پر راضی

 

اُٹھا لے آپ دنیا سے تو اپنے مستقبل ڈیرے

منہ اپنا پھیر لے ، قبل اسکے اپنے رُخ کو یہ پھیرے

 

مگر افسوس تجھ کو لذتِ دنیا کا چسکا ہے

بھُلا بیٹھا ہے دنیا رہ گذر ہے صرف رستہ ہے

 

بنا بیٹھا ہے تو رستے میں گھر دنیا کا عاشق ہے

اور اپنا عہد جو بھُولے اسی کا نام فاسق ہے

 

یہاں پُر لطف کھانے ہیں میسّر نرم بستر ہے

بچھونا خاک کا ہے قبر میں سرہانہ پتھر ہے

 

غلط فہمی ہے تجھ کو سب گئے پر تو نہ جائے گا

کرے گا تعزیت مُردوں کی اور ٹسوے بہائے گا

 

ترا گھر قبر ہے کیڑے ہیں تیرے منتظر بیٹھے

تری فردِ عمل لے کر فرشتے باخبر بیٹھے

 

وہاں پر سانپ ہیں بچھو ہیں ، رونا ہے دُہائی ہے

انہیں پہچان لے گا تُو یہی تیری کمائی ہے

 

سبھی سامان دنیا کا یہیں پر چھوڑنا ہوگا

بڑی حسرت سے جانب قبر کی منہ موڑنا ہوگا

 

بہت اونچے پلازے اور مکاں تعمیر کرتا ہے

ہمیشہ کے لیے جینے کی خواہش میں تُو مرتا ہے

 

جگہ تیری زمیں کے پیٹ میں ہے اور نیچے ہے

جبھی تو یہ کشش اس کی تجھے ہر آن کھینچے ہے

 

کھڑا ہے منتظر مُردوں کا لشکر تیری آمد کا

بِنا تجھ کو لیے ٹلنا نہیں یہ عہد ہے ان کا

 

بہت حسرت ہے مُردوں کو بہت غم عمرِ رفتہ کا

اُنہیں اک دن ہی مل جائے کہیں عمرِ گذشتہ کا

 

تو وہ شرم و ندامت سے جہاں تک ہو سکے رو لیں

بہا کر آنسووں کی نہر وہ فردِ عمل دھولیں

 

تو خوش قسمت ہے اے ناداں یہ موقع تجھ کو حاصل ہے

گنوا دے گا اگر اس کو تو پھر احمق ہے جاہل ہے

 

بہت بے حِس ہے تُو تجھ کو نہ جانے کیا ہے بیماری

کہ تجھ پر رات دِن اک بے حسی کی نیند ہے طاری

۔۔۔۔۔۔۔

 

تری آنکھوں میں شائد چھا گئی ہے جاہ کی چربی

بھلا یہ جاہ کیا ہے ؟ کچھ دلوں کا میل ہے وقتی

 

چلو یہ مان لیتے ہیں حکومت تیرے بس میں ہو

دلوں میں عشق ہو تیرا یہ سب کچھ دسترس میں ہو

 

تو پھر بھی عارضی ہے سب کا سب افسوس فانی ہے

حکومت ہو دلوں پر یا زمیں پر آنی جانی ہے

 

مگر دُکھ ہے تو یہ کہ تجھ پہ دنیا بھی نہیں مائل

اور اس کے عشق میں ہر پل ہوا جاتا ہے تُو گھائل

 

مشقت ہے بہت اس میں فنا بھی جلد ہوتی ہے

بڑی مشکل سے ملتی ہے جُدا بھی جلد ہوتی ہے

 

اگر یہ ناز ہے تجھ کو موافق ہے بہت دنیا

خدا کے منکروں پر بھی تو عاشق ہے بہت دنیا

 

فریب اس کا نہ کھانا ایک زنِّ فاحشہ ہے یہ

حکومت بھی ہو گر حاصل تو پھر دوہرا نشہ ہے یہ

 

کسی وعظ و نصیحت کا اثر تجھ پر نہیں پڑتا

تُو کُتّوں کی طرح ہے روز و شب مُردار پر لڑتا

۔۔۔۔۔۔۔

 

اگر تو اپنی لذت چھوڑنے سے آج قاصر ہے

تو کل یہ اور بھی طاقت پکڑ جائے گی ظاہر ہے

 

مثال اس کی سمجھ لے ، آج گویا تجھ میں ہے قوت

پر اک پودا اُ کھیڑے تُو نہیں دل میں ترے ہمت

 

تو کل کیسے اُکھیڑے گا نہ جب باہوں میں دم ہوگا

تناور پیڑ بن جائے گا پودا پھر نہ خم ہوگا

 

ہری ٹہنی بھی تجھ سے مُڑ نہیں سکتی اگر کاہل

تو کل سوکھی کو جب موڑے گا ، کہلائے گا تُو پاگل

 

کنارہ کش اگر ہو جائے تو دنیا کی لذت سے

ترا دل آشنا ہو جائے گا لُطفِ عبادت سے

 

اگر عادی ہے تو لذت کا تیرا جی نہیں بھرتا

تو پھر لذاتِ جنت کی تمنا کیوں نہیں کرتا

 

تو خلقت کے لیے دن رات گو سجتا سنورتا ہے

ترے باطن میں پر دبُو سی ہے ، کچھ ہے جو سڑتا ہے

 

بہت ہے فکر لوگوں کی سبھی سے صلح کرتا ہے

مگر باطن میں تُو ہر آن خالق سے جھگڑتا ہے

 

بہت خلقت کی تجھ کو شرم ہے خالق سے بے پروا

تُو اپنے ظلم سے ، اپنی جہالت سے نہیں آگاہ

……….

 

عبادت کی ہے گر توفیق ، اس پر پھولتا کیوں ہے ؟

بلعم باعور بھی عابد تھا اس کو بھولتا کیوں ہے ؟

 

خدا کی سمت عالم بن کے لوگوں کو بلاتا ہے

مگر خود دُور اس سے بے ادب تُو ہوتا جاتا ہے

 

بلا دنیا پہ جو آتی ہے سب تیری نحوست ہے

سمجھتا ہے تو خود کو پاک یہ تیری جہالت ہے

 

گدھا شیطان کا تو بن گیا وہ تجھ پہ حاوی ہے

لیے جاتا ہے تجھ کو جس طرف تیری تباہی ہے

 

بناتا ہے تجھے احمق ، وہ تجھ پر خوب ہنستا ہے

سمجھتا ہے تجھے اپنی سواری ، زین کستا ہے

 

اگر چہ مال کے بڑھنے سے تو مسرور ہوتا ہے

مگر کب عمر کے گھٹنے سے تو رنجور ہوتا ہے

 

تجھے کیا فائدہ گر سانس نہ ہوں مال ہو باقی

فرشتے آ کھڑے ہوں پُرسشِ اعمال ہو باقی

 

خدا کا فیصلہ یہ ہے ترے اعمال پرکھے گا

کھرا ہے یا کہ کھوٹا ہے ، وہ سارا مال پرکھے گا

 

خدا کے سامنے جب خائب و خاسر کھڑا ہوگا

یہ چھوٹے دن گذر ہی جائیں گے وہ دن بڑا ہوگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اگر حائل ترے رستے میں تیرے دل کی سختی ہے

تو اتنا جان لے بدبخت، دوزخ تجھ کو چکھتی ہے

 

تُو خود پر ترس کر اپنے لیے آنسو بہایا کر

خدا کے خوف کی بھٹی میں اپنا دل تپایا کر

 

تڑپ کر رو خدا کے سامنے ، سجدے میں سر رکھ دے

بہت ممکن ہے وہ تیری دعاؤں میں اثر رکھ دے

 

جو جتنے باخبر ہیں اس قدر ہر آن ڈرتے ہیں

کب اسکے قہر کے آگے فرشتے بھی ٹھرتے ہیں

 

تری اوقات کیا ہے ، تو غلط فہمی میں مت رہنا

وہ لمبی ڈھیل دیتا ہے ، یہی نبیوں کا ہے کہنا

 

تُو اُٹھ راتوں کو رو پچھلے پہر ، اور خوب زاری کر

کسی بھی طور سے اعمال کے پلڑے کو بھاری کر

 

کبھی صدقہ کبھی خیرات دے کر اس کو راضی کر

بہت کر عاجزی، اس طور اپنی سرفرازی کر

 

اگر مل جائے صدقے کی تجھے توفیق اے جاہل

تو مت احساں جتا کر یا پشیمانی سے کر باطل

 

تضرع اس قدر کر جتنی کثرت ہے گنا ہوں کی

اسی کے در پہ جھکتی ہیں جبینیں شہنشاہوں کی

 

بہت وہ رحم کرتا ہے دلِ بے چین و مضطر پر

بہت ہی پیا ر آتا ہے اسے ہر دیدہ ء تر پر

 

ہوا کچھ مغز گر تجھ میں سنبھالا جائے گا تجھ کو

فقط چھلکا ہے تو دوزخ میں ڈالا جائے گا تجھ کو

 

حقیقت ہے یہ ، افسانہ ہے نہ رنگیں بیانی ہے

مرا ہی نفس ہے موذی اسی کی یہ کہانی ہے

 

یہ جھگڑا ہر گھڑی چلتا ہے چخ چخ روز ہوتی ہے

یہ جگ بیتی نہیں ہر گز ، یہ میری آپ بیتی ہے

 

چھُپا تھا درد جو دل میں ، وہ لفظوں میں اُتارا ہے

نہ اچھی شاعری کی ہے، نہ کوئی تیر مارا ہے

 

ندامت ہے ہر اک لمحے پہ جو عرشی گذارا ہے

خسارہ ہے ، خسارہ ہے ، خسارہ ہے، خسارہ ہے

٭٭٭

 

 

 

 

ابو جانی

 

 

جب میں اپنی عمر کے چوتھے سال میں تھا

میرے ابو جانی مجھ کر بے حد پیارے لگتے تھے

میری سوچوں کے آکاش پہ روشن تارے لگتے تھے

بے حد عظمت کے مالک اور بے حد اچھے لگتے تھے

دنیا کا کچھ علم نہیں، پر ابو سچے لگتے تھے

………………………………………………..

 

چھ سالوں کا ہو کر میں نے جان لیا

میرے ابو سارے علم کے مالک ہیں

ہر پل ہنستا ،روشن چہرہ ،کتنے حِلم کے مالک ہیں

………………………………………………..

 

جب میں اپنی عمر کے دسویں سال میں پہنچا

مجھے لگا کہ،یوں تو ابو ، اچھے ہیں

پر مجھ سے غصے رہتے ہیں

ان کا علم و فہم بھی گر چہ اچھا ہے پر خاص نہیں ہے

میرے ہر ساتھی کے ابو ، اتنے علم کے مالک ہیں

…………………………………………….

 

بارہ سال کا ہو کر میں کچھ بے کل سا تھا

ہر پل سوچا کرتا تھا

ابو کو خوش کرنا کتنا مشکل ہے

جب میں چھوٹا بچہ تھا تو ابو مجھ سے کتنا پیار کیا کرتے تھے

گود میں مجھ کو لے کر چاہت کا اظہار کیا کرتے تھے

تب وہ کتنے اچھے تھے

………………………………………………..

 

سولہ سال کا ہو کر یک دم میں کافی مایوس ہوا تھا

ابو یوں تو ٹھیک ہی ہیں پر وقت کا ساتھ نہیں دے پاتے

اکثر ہیں پیچھے رہ جاتے

……………………………………………………

 

سترہ سال سے بیس برس کی مدت کافی مشکل تھی

مجھ کو یوں لگتا تھا جیسے،ہر پل مجھ پر نکتہ چینی

ابو کی اب عادت بنتی جاتی ہے

میری ٹوہ میں رہنا ان کی فطرت بنتی جاتی ہے

میرے ملنے والوں سے بھی اکھڑے اکھڑے رہتے ہیں

مجھ سے کچھ مایوس سے ہیں اور بگڑے بگڑے رہتے ہیں

تب میں ان کی نظروں سے بچ بچ کے گذرا کرتا تھا

اور یہ سوچا کرتا تھا

ان کی صحبت میں کچھ دیر بھی رہنا کتنا مشکل ہے

ان کی گہری گہری نظریں سہنا کتنا مشکل ہے

جانے ماں کس طرح ان کا ساتھ نبھاتی آئی ہے

……………………………………..

 

چوبیس اور پچیس برس کی عمر میں مجھ کو یوں لگتا تھا

ان کو میری ہر خواہش سے بیر سا ہے

دنیا کے حالات کا بھی کچھ علم نہیں ہے

طیش میں جلدی آ جاتے ہیں

شائد ان میں حِلم نہیں ہے

جانے دنیا والوں کا وہ ساتھ نبھانا کب سیکھیں گے

آنے والے نئے دنوں سے ،ہاتھ ملانا کب سیکھیں گے

………………………………….

 

تیس برس کا ہو کر میں حیران ہوا کہ

اپنے ننھے بچوں کو کس طور سنبھالوں

ایک نہیں وہ سنتے میری

حالانکہ میں چھوٹے ہوتے اپنے ابو سے ڈرتا تھا

جو کچھ وہ کہتے کرتا تھا

………………………………….

 

چالیس اور پینتالیس سال کا ہو کر آخر میں نے جانا

ابو نے ہم سب کو کافی،طور، اطوار سکھائے تھے

خوب ڈسپلن میں رکھا تھا

میں حیران ہوا کہ ابو اتنے بچوں کو کیسے

اک نظم و ضبط میں رکھتے تھے

………………………………

 

نصف صدی کی عمر بِتا کر میں نے جانا

بے شک ابو نے ہم سب پر کافی وقت لگایا تھا

روز و شب قربانی دی تھی سارا مال لٹایا تھا

چھ بچوں کو نظم و ضبط سکھانا اور پروان چڑھانا

کام کوئی آسان نہیں تھا

میرے دو بچے ہیں وہ بھی اکھڑے اکھڑے رہتے ہیں

اور جینریشن گیپ کے ان کے لب پر دکھڑے رہتے ہیں

……………………………………..

 

پچپن سال کی عمر میں مجھ پر اور بہت سے راز کھلے

بے شک ابو اعلیٰ ظرف تھے

متحمل تھے،دانشور تھے

دور تلک وہ دیکھ رہے تھے دیدہ ور تھے

وہ ہر کام کو مجھ سے بڑھ کر احسن طور پہ کر سکتے تھے

کر سکتے ہیں۔۔۔۔

……………………………………..

 

اب میں ساٹھ برس کا ہو کر

چوٹ پہ ڈنکے کی کہتا ہوں

میرے ابو جانی مجھ کو جان سے پیارے لگتے ہیں

میری سوچوں کے آکاش پہ روشن تارے لگتے ہیں

بے حد عظمت کے مالک اور بے حد اچھے لگتے ہیں

دنیا کا کچھ علم نہیں،پر ابو سچے لگتے ہیں

……………………………………..

 

چار برس کی عمر میں جو ایمان تھا میرا

ساٹھ برس کی عمر میں عرشی وہ ایمان ہوا ہے تازہ

ابو کی قدر و قیمت کا آج ہوا مجھ کو اندازہ

٭٭٭

 

 

 

آسماں کی وسعتوں ٹوٹے پروں کی سوچنا

تم سے ہو پائے تو میرے حوصلوں کی سوچنا

 

سوچ کر لکھے ہوئے خط کی عبارت سے الگ

جو جلا ڈالے گئے ہیں ان خطوں کی سوچنا

 

رنگ جا اٹھتے ہیں ان آنکھوں میں جن کے نام پر

ان حسیں لوگوں کی مدھم آہٹوں کی سوچنا

 

کلیوں کلیوں اڑنے والی خوبصورت تتلیو

وقت مل جائے تو آتے پت جھڑوں کی سوچنا

 

وقت کا ہر نقش چہرے پر اترتا دیکھنا

خود بخود بے آب ہوتے آئینوں کی سوچنا

 

اپنے آسودہ گھروں کی کھڑکیوں میں بیٹھ کر

بارشوں کو دیکھنا کچے گھروں کی سوچنا

 

تلخ باتیں ہر کسی سے بے دھڑک کہنا مگر

کانچ پر پتھر پڑے تو کرچیوں کی سوچنا

 

شہر کی سب رونقوں سے چہچہوں سے بے خبر

بیٹھ کر لہروں کو گننا دائروں کی سوچنا

 

جسم و جاں پر بے حسی کی زرد چادر اوڑھ کر

یونہی بے مقصد گذرتے موسموں کی سوچنا

 

مجھ کو ہنستے دیکھ کر تم مطمئن ہونا مگر

ہو سکے تو دل پہ گرتے آنسوؤں کی سوچنا

 

خود بخود عرشی مہک اٹھیں گے سارے راستے

تم سدا پھولوں کی رنگوں خوشبوؤں کی سوچنا

٭٭٭

 

 

 

آپ کے در پر آتے جاتے ،کتنے موسم بیت گئے

آپ کو دل کے زخم دکھاتے،،کتنے موسم بیت گئے

 

من کے بنجر صحرا میں دن رات بگولے رقصاں ہیں

ہم کو اپنی خاک اُڑاتے ،کتنے موسم بیت گئے

 

خود بھڑکایا درد کا بھانبڑ اشکوں کے چھڑکاؤ سے

پانی سے یہ آگ لگاتے ،کتنے موسم بیت گئے

 

جاناں کھڑکی کھول بھی دو اب جان لبوں تک آ پہنچی

اس چوکھٹ سے سر ٹکراتے ،کتنے موسم بیت گئے

 

درد چھپایا،آنسو پونچھے،چہرے پر مسکان سجی

ان رمزوں سے جی بہلاتے ،کتنے موسم بیت گئے

 

شائد آج وہ پٹ کھولیں گے ،شائد آج وہ درشن دیں

ہر شب دل کی آس بندھاتے ،کتنے موسم بیت گئے

 

آپ کے لب سے نکلی ہوں ہاں،اپنے دل کا روگ بنی

’ہوں ہاں ‘ کو معنی پہناتے ،کتنے موسم بیت گئے

 

آپ نے اک دن یونہی مڑ کر مجھ کم ظرف کو دیکھا تھا

اس دن سے خود پر اتراتے، کتنے موسم بیت گئے

 

ماتمِ ہستی اتنا پھیلا ، جیون شامِ غریباں ہے!!!۔

خود روتے اوروں کو رلاتے ، کتنے موسم بیت گئے

 

ہجر نہ جس کا جھیلا جائے ،جس کی ہر پل راہ تکوں

ہائے اسے مجھ سے کتراتے، کتنے موسم بیت گئے

 

فرصت میں سب زخم  کھرچنا،اپنا شوق پرانا ہے

دل کے سوئے درد جگاتے ، کتنے موسم بیت گئے

 

آپ کے در پر آ تو گئے پر عرضِ تمنا کر نہ سکے

یونہی جھجکتے اور شرماتے ، کتنے موسم بیت گئے

 

کملی، جھلی، اور سودائی،جگ نے کیا کیا لقب دئے

عشق میں تیرے نام رکھاتے ، کتنے موسم بیت گئے

 

آپ کے اک دو مُبہم فقرے میری عمر کا حاصل ہیں

ہِر پھر کر ان کو دہراتے ، کتنے موسم بیت گئے

 

جانی پہچانی تھیں راہیں ،تیرے مُکھ کا چانن بھی

پھر بھی گرتے ٹھوکر کھاتے ، کتنے موسم بیت گئے

 

اب بھی حُبِ دنیا کی کچھ چھینٹیں دل پر پڑتی ہیں

آنچل سے یہ داغ چھڑاتے ، کتنے موسم بیت گئے

 

درد ہی اپنا سنگی ساتھی، درد ہی اپنا جیون ہے

عرشی درد کے نغمے گاتے ، کتنے موسم بیت گئے

٭٭٭

 

 

 

 

عورت کے آنسو

 

 

اپنی ماں کے بہتے آنسو دیکھ کے اک معصوم سا لڑکا

اپنی ماں کو چوم کے بولا

پیاری ماں تو کیوں روتی ہے؟

ماں نے اس کا ماتھا چوما ،گلے لگایا،اس کے بالوں کو سہلایا

گہری سوچ میں کھو کر بولی

’’کیونکہ میں اک عورت ہوں‘‘

بیٹا بولا،میں تو کچھ بھی سمجھ نہ پایا

ماں مجھ کو کھُل کر سمجھاؤ

اس کو بھینچ کے ماں یہ بولی

’’بیٹا تم نہ سمجھ سکو گے‘‘

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

شام ہوئی تو چھوٹا لڑکا،باپ کے پہلو میں جا بیٹھا

باپ سے پوچھا ’’ماں اکثر کیوں رو دیتی ہے‘‘

باپ نے اس کو غور سے دیکھا ،کچھ چکرایا،پھر بیٹے کو یہ سمجھایا

’’یہ عادت ہے ہر عورت کی،دل کی بات کبھی نہ کہنا

فارغ بیٹھ کے روتے رہنا‘‘

باپ کا مُبلغ علم تھا اتنا ،بیٹے کو بتلاتا کیا

اس کے سوا سمجھاتا کیا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

جب بچے نے ہوش سنبھالا

علم نے اس کے ذہن و دل کو خوب اجالا

اس نے اپنے رب سے پوچھا

میرے مالک میرے خالق، آج مجھے اک بات بتا دے

الجھن سی ہے اک سلجھا دے

اتنی جلدی اتنی جھٹ پٹ ہر عورت کیوں رو دیتی ہے

دیکھ کے اس کی یہ حیرانی،بھولے سے من کی ویرانی

پیار خدا کو اس پر آیا،اس کو یہ نکتہ سمجھایا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

عورت کی تخلیق کا لمحہ خاص بہت تھا

مرد کو سب کچھ دے بیٹھا تھا پھر بھی میرے پاس بہت تھا

میں نے چاہا عورت کو کچھ خاص کروں میں

چہرہ مقناطیسی رکھوں لیکن دل میں یاس بھروں میں

میں نے اس کے کاندھوں کو مضبوط بنایا

کیونکہ اس کو بوجھ بہت سے سہنے تھے

اور پھر ان کو نرم بھی رکھا

کیونکہ ان پر سر کو رکھ کر

بچوں اور شوہر نے دکھڑے کہنے تھے

اس کو ایسی طاقت بخشی ہر آندھی طوفان کے آگے وہ ڈٹ جائے

پر دل اتنا نازک رکھا تیکھے لفظ سے جو کٹ جائے

اس کے دل کو پیار سے بھر کر گہرائی اور وسعت دے دی

پھولوں جیسا نازک رکھا پھر بھی کافی قوت دے دی

تا وہ اپنے پیٹ جنوں کے سرد رویوں کو سہہ جائے

ان راہوں پر چلتی جائے جن پر کوئی چل نہ پائے

بچوں کی گستاخی جھیلے ،پیار کا امرت بانٹے

اپنی روح پہ جھیل سکے فقروں کے تپتے چانٹے

شوہر کی بے مہری بھول کے ہر پل اس کو چاہے

اس کی پردہ پوشی کر کے زخم پہ رکھے پھاہے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

اتنا بوجھل جیون اس کو دے کر میں نے سوچا

نازک سی یہ ڈالی اتنے بوجھ سے ٹوٹ نہ جائے

اس کے نازک کاندھوں پر جب رکھا اتنا بار

اس کی آنکھوں میں رکھ دی پھر اشکوں کی منجدھار

اس کو فیاضی سے میں نے بخشی یہ سوغات

تا وہ دیپ جلا کر کاٹے غم کی کالی رات

غم کی بھاپ بھرے جب دل میں یہ روزن کھل جائے

رو کر اس کے دل کی تلخی پل بھر میں دھل جائے جائے

اس کے سندر مکھڑے پھر روپ وہی لوٹ آئے

عرشی بے حس دنیا کو جو رب کی یاد دلائے

٭٭٭

 

 

 

 

کسی دُکاں سے مگر زندگی نہیں ملتی

 

لبلبے کے کینسر میں مبتلا ایک اٹھائیس سالہ ماں کا(جسے ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تھا اور جو جنوری دو ہزار دس کی تین تاریخ کو ’’اوہائیو ‘‘ میں فوت ہو گئی ) اپنے سوا سال کے بچے کے نام ایک خط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جسے میں نے نظم میں ڈھالا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔   عرشیؔ

 

 

اس ایک خط نے مجھے دیر تک رلایا ہے

لباسِ شعر سے میں نے جسے سجایا ہے

میں سوچتی رہی عرشیؔ سلجھ نہ پائے گا

عجیب عقدہ ہے یہ اختیار و مجبوری

ہیں ہسپتال یو۔ایس۔ اے کے ارفع و اعلیٰ

قدم قدم پہ دواؤں کی بھی دُکانیں ہیں

کسی دکان سے پر زندگی نہیں ملتی

 

خط

 

مرے وجود کے ٹکڑے، مری نظر کی چمک

مرے چراغ کی لو ،اے مرے اُفق کی دھنک۔

میں چاہتی ہوں کہ باتیں بہت کروں تجھ سے

سمجھ میں پر نہیں آتا کہ کیا کہوں تجھ سے

تو ہنس رہا ہے مری گود میں مرے بچے

میں تیرے لمس سے پاتی ہوں زندگی کی رمق

سرور دیتی ہے دل کو تری ہنسی کی کھنک

 

پر ایک سِل سی مرے دل پہ خوف کی ہے دھری

مرے وجود کے اندر ہے موت چھپ کے کھڑی

میں اس سے بھاگ کے جاؤں تو کس جگہ جاؤں

جہاں بھی جاؤں اسے سامنے کھڑا پاؤں

 

میں اس جہان میں مہمان ہوں مرے بچے

خود اپنے بخت پہ حیران ہوں مرے بچے

یہ خط میں لکھ کے ترے نام چھوڑ جاؤں گی

ابھی تُو بات بھی میری سمجھ نہیں سکتا

کہ تیری عمر سوا سال ہے مرے بیٹے

ابھی تو دانت ہیں منہ میں ترے فقط چھ ہی

کہ چار دانت تو اوپر ہیں اور دو نیچے

 

مگر ہنسی تری ہر دل کو موہ لیتی ہے

تجھے میں پہروں بھی دیکھوں تو جی نہیں بھرتا

مگر میں تجھ کو بہت دن نہ دیکھ پاؤں گی

بہت ہی جلد اندھیروں میں ڈوب جاؤں گی

معالجوں نے کہا ہے کہ مجھ کو کینسر ہے

ہے لبلبے کا یہ کینسر میں بچ نہ پاؤں گی

بہت ہی جلد اندھیروں میں ڈوب جاؤں گی

 

کہ موت مجھ سے ہر اک پل اُلجھتی رہتی ہے

مری امید مری آس مرتی رہتی ہے

بہت ہی کرب کی حالت میں جی رہی ہوں میں

ہیں چند گھونٹ مری زندگی کے ساغر میں

ٹھر ٹھر کے ہر اک گھونٹ پی رہی ہوں میں

 

بہت سے لوگ ہیں گھر میں جو تجھ کو چاہیں گے

میں جانتی ہوں ترے ترے لاڈ بھی اُٹھائیں گے

مگر ہے ماں کی محبت کا ذائقہ ہی الگ

مزے ہزار ہوں لیکن ہے یہ مزہ ہی الگ

 

تو پہلی سالگرہ پر تو میری گود میں تھا

نہ جانے دوسری پر کس کی گود میں ہو گا

میں چاہتی تھی کہ جیون کی راہگزاروں میں

تو تھام کر مری انگلی ذرا سا چل لیتا

بہت اتار چڑھاؤ ہیں راہ میں بیٹے

یہ آرزو تھی مری تو ذرا سنبھل لیتا

 

میں چاہتی تو بہت تھی کہ دیکھ پاتی میں

وہ پہلا دن ترے اسکول کا مرے بیٹے

وہ ننھے منے ترے دوست تیرے ہمجولی

میں لنچ باکس بناتی ترا محبت سے

نماز پڑھتے ہوئے تجھ کو دیکھ لیتی میں

تجھے دعائیں سکھاتی میں اور قرآں بھی

نہیں ہے میرے مقدر میں یہ خوشی لیکن

ہر ایک لمحہ مجھے اپنے دل کی دھڑکن میں

اسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے

کہ موت ہی مجھے ہر سو دکھائی دیتی ہے

 

ذرا جو ہوش سنبھالے گا تو بڑا ہو گا

سبھی سے پوچھے گا ہر بات میرے بارے میں

سنے گا سب سے بڑے شوق سے مرے قصے

تجھے دکھائیں گے سب لوگ میری تصویریں

پڑھے گا تو مرے خط اور میری تحریریں

مگر کوئی بھی تجھے یہ بتا نہ پائے گا

کہ کتنا پیار تری ماں کو تجھ سے تھا بیٹے

 

یہ حسرتیں تھیں مری اب نصیحتیں سن لے

خدا کے سامنے تو روز و شب جھکا کرنا

بوقتِ سجدہ مرے واسطے دعا کرنا

میں تجھ کو سونپ رہی ہوں خدا کے ہاتھوں میں

جو ماں سے بڑھ کے مہربان ہے مرے بچے

اسی کا تجھ کو وفا دار بن کے رہنا ہے

اسی سے حالِ دلِ زار تو نے کہنا ہے

خوشی غمی میں، وہی سائبان، ہو تیرا

وہی حصار، وہی پاسبان، ہو تیرا

 

مرے اداس دکھی دل میں ہیں جو پوشیدہ

دُعاؤں کے وہ خزانے تجھے مبارک ہوں

خدا کے قرب و محبت میں تو پلے بیٹے

سب آنے والے زمانے تجھے مبارک ہوں

٭٭٭

 

 

 

اِنسان خسارے میں ہے

 

 

زندگی برف کی بھاری سل ہے

قطرہ قطرہ جو پگھلتی جائے

مرے ہاتھوں سے پھسلتی جائے

بہہ کے کیچڑ میں بدلتی جائے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

جس قدر جلد یہ بک جائے منافع ہے مرا

بِک نہ پائی تو پگھل جائے گی گھاٹا ہے نِرا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

کاش مل جائے خریدار مرا

کاش آ جائے طلب گار مرا

بیچ دوں میں اسے سستے داموں

نہ سہی آٹھ ، چلو چار بہت

میں ہوں نقصان پہ تیار بہت

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

کچھ تو اس یارِ ازل کو بھائے

عجز ہی میرا پسند آ جائے

دن ہیں بے کار گزرتے جاتے

سر پہ ہیں راکھ سی ملتے جاتے

دھوپ جیون کی کڑی ہے عرشی

وقت لمحوں کی لڑی ہے عرشی

عمر کی شام پڑی ہے عرشی

ہائے خطرے کی گھڑی ہے عرشی

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

ہو خبردار کہ ہر جان خسارے میں ہے

ہے قسم وقت کی انسان خسارے میں ہے

٭٭٭

 

 

 

 

اک دیا ،جو نہ بُجھا۔۔۔۔۔۔

 

 

اک اندھیری شب میں عرشی جل رہے تھے کچھ دیئے

کاٹنے کو وقت وہ سرگوشیاں کرنے لگے

اک دیا بولا کہ میرا نام ہے امن و سکوں

ہے مری خواہش جلوں تا دیر پر مجبور ہوں

چل رہی ہیں ہر طرف غارت گری کی آندھیاں

جل نہیں پاؤں گا ان حالات میں معذور ہوں

یہ کہا اور ایک ٹھنڈی سانس لے کر بجھ گیا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

دوسرا بولا مجھے کہتے ہیں عزم و حوصلہ

مردِ آہن تھا مگر اب تو پگھل کر رہ گیا

سارا استقلال میرا بن کے پانی بہہ گیا

سخت جانی میں اگر چہ نام ہے میرا بڑا

تھک گیا ہو ں میں بھی لیکن وقت ہے ایسا کڑا

یہ دیا بھی ٹمٹمایا ،ٹمٹما کر بجھ گیا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

تیسرے کی آنکھ میں آنسو بھر آئے دفعتاً

پونچھ کر آنکھوں کو بولا میں محبت ہوں مگر

دیکھ کر اطوارِ دنیا آجکل بیمار ہوں

حوصلے اور امن کی مانند میں لاچار ہوں

یہ کہا ،کچھ دیر کانپا،آہ بھر کر بجھ گیا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

ایک بچہ دفعتاً کمرے میں آیا اس گھڑی

اور نظر اس کی بجھے تینوں دیوں پر جا پڑی

وہ پریشاں ہو گیا بے ساختہ رونے لگا

پھر خدا کے سامنے فریاد یوں کرنے لگا

مجھ کو لگتا ہے اندھیرے سے بہت ڈر کیا کروں

بُجھتے جاتے ہیں دئیے کیسے انہیں روشن کروں

اس کو روتا دیکھ کر چوتھا دیا کہنے لگا

مت پریشاں ہو مرے بچے ابھی روشن ہوں میں

نُورِ حق ہوں اور خدا کے فضل کا روزن ہوں میں

آؤ مجھ کو تھام کر روشن کرو یہ گُل دئیے

نام میرا بھول نہ جانا کہ میں ’’ امید ‘‘ہوں

تا ابد جو بجھ نہ پائے میں وہ ہی خورشید ہوں

٭٭٭

 

 

 

ماں کا بچوں کے لئے پیغام

 

ایک آزاد نظم

 

میرے بچو،گر تم مجھ کو بڑھاپے کے حال میں دیکھو

اُکھڑی اُکھڑی چال میں دیکھو

مشکل ماہ و سال میں دیکھو

صبر کا دامن تھامے رکھنا

کڑوا ہے یہ گھونٹ پہ چکھنا

’اُف‘  نہ کہنا،غصے کا اظہار نہ کرنا

میرے دل پر وار نہ کرنا

………………………………….

 

ہاتھ مرے گر کمزوری سے کانپ اٹھیں

اور کھانا،مجھ پر گر جائے تو

مجھ کو نفرت سے مت تکنا،لہجے کو بیزار نہ کرنا

 

۲

 

بھول نہ جانا ان ہاتھوں سے تم نے کھانا کھانا سیکھا

جب تم کھانا میرے کپڑوں اور ہاتھوں پر مل دیتے تھے

میں تمہارا بوسہ لے کر ہنس دیتی تھی

کپڑوں کی تبدیلی میں گر دیر لگا دوں یا تھک جاؤں

مجھ کو سُست اور کاہل کہہ کر ، اور مجھے بیمار نہ کرنا

بھول نہ جانا کتنے شوق سے تم کو رنگ برنگے کپڑے پہناتی تھی

اک اک دن میں دس دس بار بدلواتی تھی

……………………………………………………….

 

میرے یہ کمزور قدم گر جلدی جلدی اُٹھ نہ پائیں

میرا ہاتھ پکڑ لینا تم ،تیز اپنی رفتار نہ کرنا

بھول نہ جانا،میری انگلی تھام کے تم نے پاؤں پاؤں چلنا سیکھا

میری باہوں کے حلقے میں گرنا اور سنبھلنا سیکھا

………………………………….

 

 

 

 

۳

 

جب میں باتیں کرتے کرتے،رُک جاؤں ،خود کو دہراؤں

ٹوٹا ربط پکڑ نہ پاؤں،یادِ ماضی میں کھو جاؤں

آسانی سے سمجھ نہ پاؤں،مجھ کو نرمی سے سمجھانا

مجھ سے مت بے کار اُلجھنا،مجھے سمجھنا

اکتا کر، گھبرا کر مجھ کو ڈانٹ نہ دینا

دل کے کانچ کو پتھر مار کے کرچی کرچی بانٹ نہ دینا

بھول نہ جانا جب تم ننھے منے سے تھے

ایک کہانی سو سو بار سنا کرتے تھے

اور میں کتنی چاہت سے ہر بار سنایا کرتی تھی

جو کچھ دہرانے کو کہتے،میں دہرایا کرتی تھی

 

اگر نہانے میں مجھ سے سُستی ہو جائے

مجھ کو شرمندہ مت کرنا،یہ نہ کہنا آپ سے کتنی بُو آتی ہے

بھول نہ جانا جب تم ننھے منے سے تھے اور نہانے سے چڑتے تھے

تم کو نہلانے کی خاطر

چڑیا گھر لے جانے میں تم سے وعدہ کرتی تھی

کیسے کیسے حیلوں سے تم کو آمادہ کرتی تھی

…………………………………………

 

انٹر نیٹ ،موبائیل جیسی نئی نئی ایجادوں کو

گر میں جلدی سمجھ نہ پاؤں،وقت سے کچھ پیچھے رہ جاؤں

مجھ پر حیرت سے مت ہنسنا،اور کوئی فقرہ نہ کسنا

مجھ کو کچھ مہلت دے دینا شائد میں کچھ سیکھ سکوں

بھول نہ جانا

میں نے برسوں محنت کر کے تم کو کیا کیا سکھلایا تھا

کھانا پینا،چلنا پھرنا،ملنا جلنا،لکھنا پڑھنا

اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اس دنیا کی ،آگے بڑھنا

……………………………………………………

 

میری کھانسی سُن کر گر تم سوتے سوتے جاگ اٹھو تو

مجھ کو تم جھڑکی نہ دینا

یہ نہ کہنا،جانے دن بھر کیا کیا کھاتی رہتی ہیں

اور راتوں کو کھُوں کھوں کر کے شور مچاتی رہتی ہیں

بھول نہ جانا میں نے کتنی لمبی راتیں

تم کو اپنی گود میں لے کر ٹہل ٹہل کر کاٹی ہیں

………………………………………………..

گر میں کھانا نہ کھاؤں تو تم مجھ کو مجبور نہ کرنا

 

۴

 

جس شے کو جی چاہے میرا اس کو مجھ سے دور نہ کرنا

پرہیزوں کی آڑ میں ہر پل میرا دل رنجور نہ کرنا

کس کا فرض ہے مجھ کو رکھنا

اس بارے میں اک دوجے سے بحث نہ کرنا

آپس میں بے کار نہ لڑنا

جس کو کچھ مجبوری ہو اس بھائی پر الزام نہ دھرنا

………………………………………………..

 

گر میں اک دن کہہ دوں عرشی، اب جینے کی چاہ نہیں ہے

یونہی بوجھ بنی بیٹھی ہوں ،کوئی بھی ہمراہ نہیں ہے

تم مجھ پر ناراض نہ ہونا

جیون کا یہ راز سمجھنا

برسوں جیتے جیتے آخر ایسے دن بھی آ جاتے ہیں

جب جیون کی روح تو رخصت ہو جاتی ہے

سانس کی ڈوری رہ جاتی ہے

……………………………………………………

 

شائد کل تم جان سکو گے ،اس ماں کو پہچان سکو گے

گر چہ جیون کی اس دوڑ میں ،میں نے سب کچھ ہار دیا ہے

لیکن ،میرے دامن میں جو کچھ تھا تم پر وار دیا ہے

تم کو سچا پیار دیا ہے

……………………………………………………

 

جب میں مر جاؤں تو مجھ کو

میرے پیارے رب کی جانب چپکے سے سرکا دینا

ا ور ،دعا کی خاطر ہاتھ اُٹھا دینا

 

میرے پیارے رب سے کہنا،رحم ہماری ماں پر کر دے

جیسے اس نے بچپن میں ہم کمزوروں پر رحم کیا تھا

بھول نہ جانا،میرے بچو

جب تک مجھ میں جان تھی باقی

خون رگوں میں دوڑ رہا تھا

دل سینے میں دھڑک رہا تھا

خیر تمہاری مانگی میں نے

میرا ہر اک سانس دعا تھا

٭٭٭

 

 

 

 

 

یہ درد جو دل کو چیر گیا تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

میں عبد ترا تو میرا خدا تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

 

اک تو ہی محرمِ راز مرا ہمدرد مرا دم ساز مرا

بندوں سے مجھے آتی ہے حیا تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

 

کچھ دن جو قرب میں گذرے ہیں وہ دن ہی مرا سرمایہ ہیں

ہر دن میں تھا اک لطف نیا تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

 

میں تجھ سے باتیں کرتی ہوں ہنستی ہوں کبھی رو دیتی ہوں

کیا تو نے میرا حال کیا تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

 

اب دنیا داری کی باتیں سنتے ہی نہیں ہیں کان مرے

آہٹ پہ تری یہ دل اٹکا تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

 

میں چلتے پھرتے سوتے جاگتے تجھ سے باتیں کرتی ہوں

تو کہتا ہے جا سر نہ کھا تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

 

جس روز نہ تجھ سے مل پاؤں دل اُکھڑا اُکھڑا رہتا ہے

وہ دن ہے گویا یومِ سزا تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

 

ہر آن مرے ہمراہ بھی تُو پر پیارے بے پرواہ بھی تو

کھونے کا تجھے دھڑکا ہے لگا تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

 

دنیا میں تو نے بھیج دیا ہم آ بھی گئے اور رہ بھی لئے

اس میلے میں پر دل نہ لگا تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

 

اشعار کا فن لفظوں کا ہُنر خود تو نے مجھ کو بخشا ہے

اب کہتا ہے مت شعر سنا تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

 

کم ظرف ہے پیہم فضلوں سے کچھ شوخی میں آ جاتی ہے

عرشی کو زیادہ منہ نہ لگا تجھ سے نہ کہوں تو کس سے کہوں

٭٭٭

 

 

 

غریبی بے کسی ہے عجز ہے اشکِ ندامت ہے

 

 

تمنا تھی بہت دل میں رضا رب کی کما جاؤں

کسی بھی طور سے آقا کی نظروں میں سما جاؤں

تجلّی مجھ پہ ہو ایسی کہ بن کر طُور جل جاؤں

میں اس درگاہ میں جاؤں تو عرشی سر کے بل جاؤں

 

خیال آیا کہ لے جاؤں کوئی نایاب سا تحفہ

کہ اُس دربار کے شایاں کوئی کمیاب سا تحفہ

تھا دل جذبات سے بوجھل لرزتا تھا مرا تن من

کہا میں نے مرے آقا مرے پیارے مرے محسن

درِ اقدس میں تیرے باریابی کس طرح پاؤں؟

ترے دربار میں آؤں تو میں کیا نذر لے آؤں

 

وہ ہدیہ کیا ہو اے مالک جو تیرے من کو بھا جائے

ترے شایانِ شاں ہو،اور مری قسمت جگا جائے

کہا۔۔وہ چیز لے آنا ،نہیں ہے پاس جو میرے

وہ ہدیہ جگمگا ڈالے گا کھوٹے بھاگ کو تیرے

کہا میں نے وہ کیا ہے جو نہیں تیرے خزانوں میں

سبھی کچھ ہے ترا جو ہے زمینوں آسمانوں میں

کہا۔۔اک شئے نہیں ہے پاس میرے اس کی حاجت ہے

اُسی ہدیے کی اس دربار میں بس قدر و قیمت ہے

وہی شایانِ شاں بندے کے ہے اس کی سعادت ہے

وہ ہدیہ کیا ہے؟مسکینی ہے محتاجی ہے ذلت ہے

غریبی بے کسی ہے عجز ہے اشکِ ندامت ہے

٭٭٭

 

 

 

 

دل کی لذت

 

 

لذتیں بکھری ہوئی ہیں شش جہت میں چار سو

ذوق گر تجھ میں نہیں تو ان کا انکاری نہ ہو

غور کر تیرے ہی اندر کوئی بیماری نہ ہو

ان گنت خوش کُن نظاروں سے سجی ہے کائنات

گر نہیں نورَ بصارت تو یہ سب بیکار ہے

نغمگی ہے چار سو کانوں کی لذت کے لئے

ہو نہ گر حسنِ سماعت سر بھی ایک آزار ہے

لذتیں ہیں بے پناہ کام و دہن کے واسطے

فائدہ ہی کیا گر ذائقے کی حس بیمار ہے

ریشمی نرمی ہو یا کھردرا پن جو بھی ہو

حس گر نہ پوروں میں ہو تو جاننا دشوار ہے

لذتِ خوشبو گلاب و یاسمن کی کیا کہوں

سونگھنے کی حس نہ ہو تو اس سے بھی انکار ہے

اس سے بڑھ کر ہیں خیال و فکر کی لذتیں

عشق میں لب و رخسار کی لذتیں

الجھے عقدوں کو کھولنے کی لذتیں

خامشی کی لذتیں بولنے کی لذتیں

قیصری کی لذتیں ہیں خسروی کی لذتیں

دوسری جانب ہیں عشق و دلبری کی لذتیں

مال و جاہ کی لذتیں ہیں افسری کی لذتیں

ظالموں کو ظلم میں غارت گری کی لذتیں

دل کی لذت ہے مگر اس یار کی پہچان میں

اک سرور بیکراں دلدر کی پہچان میں

نور جس دل میں نہ ہو وہ جان سکتا ہی نہیں

بے نشاں محبوب کو پہچان سکتا ہی نہیں

عقل کے جلتے ہیں پر اس کو سمجھ آتی نہیں

دل کی لذت ظاہری حس میں سما پاتی نہیں

ذوق بن عرشی مگر ادراک ہوتا ہے کہاں

جس نے چکھا یہ مزہ راتوں کو سوتا ہے کہاں

٭٭٭

 

 

اس عشق میں مٹنے کا مزہ اور ہی کچھ ہے

اور ہار میں اک جیت جدا اور ہی کچھ ہے

 

اس شوخ کا بھی طرزِ ادا اور ہی کچھ ہے

کچھ اور ہی مانگا تھا دیا اور ہی کچھ ہے

 

کہتے ہیں وہ انگلی سے مرے دل کو بجا کر

ٹوٹے ہوئے برتن کی صدا اور ہی کچھ ہے

 

ڈھنگ ان کی نوازش کے ہیں کچھ اور طرح کے

اور دل کو مرے ان سے گلا اور ہی کچھ ہے

 

دن کو بھی مناجات کا گو لُطف جدا ہے

راتوں کا مگر لُطفِ دعا اور ہی کچھ ہے

 

ہم یوں تو دعا کے لئے کہہ دیتے ہیں سب سے

عرشی دلِ مضطر کی دعا اور ہی کچھ ہے

٭٭٭

 

 

 

ہتھیلی پر لیے دل ہر گلی بازار میں آئے

ہم اک ٹوٹا کھلونا بیچنے بے کار میں آئے

 

بہت انمول تھے جذبے دلوں میں قید تھے جب تک

بہت ہلکے ہوئے جب پیکرِ اظہار میں آئے

 

سبھی نے ہم کو سمجھایا قدم مت عشق میں رکھنا

مگر ہم بے دھڑک اس وادیِ  پر خار میں آئے

 

ہوا جب سامنا تیرا تو سب سدھ بدھ گئی اپنی

بہت پندار میں تھے جب تری سرکار میں آئے

 

بہت محدود ہیں سوچیں سو تُجھ کو پا نہیں سکتیں

تو لا محدود ہے کیسے مرے افکار میں آئے

 

میں پابندِ سلاسل ہوں ، مری روح رقصِ پیہم میں

انا الحق کی صدا اس رقص کی جھنکار میں آئے

 

محبت مُشک کی صورت چھپائے سے نہیں چھپتی

عمل بن کر کبھی مہکے کبھی گفتار میں آئے

 

انا کی آہنی بیڑی کو توڑا ایک جھٹکے سے

دھمالیں ڈالتے پھر ہم ترے دربار میں آئے

 

تری خواہش نے میری روح میں ہلچل مچا دی ہے

کہ پیہم زلزلہ سا اک در و دیوار میں آئے

 

بہت سے ذائقے کڑوے کسیلے مجھ کو چکھنے ہیں

عجب کیا چاشنی آخر مرے اشعار میں آئے

 

یہ ہر آئے گئے سے تیرے قصے چھیڑ دیتا ہے

دلِ ناداں کو کتنا لطف ذکرِ یار میں آئے

 

خوشی کے دن بھی اپنے دل کی ویرانی کچھ ایسی ہے

ہوں جیسے ہم غریبوں کے کسی تہوار میں آئے

 

اگر میں کھل کے رو پاؤں تو شائد وحشتیں کم ہوں

دھُلیں یہ تلخیاں ، نرمی مری گفتار میں آئے

 

امنگوں کی جگہ اب حسرتوں کی دھول اڑتی ہے

میں اک خواہش ہوں ایسی جو دلِ نادار میں آئے

 

یہاں سے کوئی کوئی جاں سلامت لے کے جاتا ہے

ہمیں تھے سر پھرے ، اس وادیِ دشوار میں آئے

 

جنونِ عشق ہے یہ یا کہ ہے سودائی پن اپنا

مزہ اس دل کو اس کی جیت اپنی ہار میں آئے

 

جسے اُجڑے مکاں ویراں کھنڈر عرشی لبھاتے ہوں

وہ آئے شوق سے میرے دلِ مسمار میں آئے

٭٭٭

 

 

 

 

دروازے کی جانب پل پل آنا جانا بھول گئی

تنگ قفس میں رہتے رہتے پر پھیلانا بھول گئی

 

باز کے ظالم پنجرے میں میں زخمی سہمی چڑیا ہوں

چوں چوں کرنا بھول گئی فریاد سنانا بھول گئی

 

اس نے اتنے ظلم سے اتنے روکھے پن سے وار کئے

گم سُم اس کو تکتی ہوں چوٹیں سہلانا بھول گئی

 

نہ پتھر کا دل ہوتا ہے نہ آنکھیں نہ کان نہ لب

جب یہ جانا دیواروں سے سر ٹکرانا بھول گئی

 

اُس چہرے کی بے رحمی تو میری ہمت توڑ گئی

دبی دبی فریاد تو کی اس کو دھرانا بھول گئی

 

اتنا بھی احساس سے عاری ہونا شائد ممکن ہے

اس کی نفرت برسوں کا وہ ساتھ پرانا بھول گئی

 

ریل کے ڈبے میں جس طرح دو انجانے بیٹھے ہوں

ایسے جیون کاٹا ہے میں ہنسنا گانا بھول گئی

 

آتے آتے لب سی کر جینے کا سلیقہ آ ہی گیا

ہونٹوں پر اب قفل لگا میں بات بنانا بھول گئی

 

من کے زخموں کو دھونے میں اپنا جیون بیت گیا

تن کا تب سے ہوش نہیں میں خود کو سجانا بھول گئی

 

برسوں پہلے مہماں بن کر یہ تنہائی آئی تھی

ایسی جم کر بیٹھی دل میں واپس جانا بھول گئی

 

سب مجھ سے ناراض ہیں میں کیا اپنی صفائی پیش کروں

رسموں ماری دنیا میں مَیں رسم نبھانا بھول گئی

 

اب تو دل پر جو بھی گذرے کہہ دیتی ہوں لکھ دیتی ہوں

پے در پے جب زخم لگے میں چوٹ چھپانا بھول گئی

 

اُس سے میری سوچ جدا ہے عرشی میرا جرم ہے یہ

اپنی رائے رکھی ہاں میں ہاں کو ملانا بھول گئی

٭٭٭

 

 

 

اس ہار سنگھار کو آگ لگے

 

 

ترے عشق میں سُدھ بُدھ کھو بیٹھوں ، چشمِ ہشیار کو آگ لگے

غارت ہوں یہ دھندے دنیا کے ، اس کاروبار کو آگ لگے

بے کار عبادت عرشی جی ، گر چاہ نہیں اخلاص نہیں

جو دل نہ پیا کا جیت سکے ، اُس ہار سنگھار کو آگ لگے

٭٭٭

 

 

لکھنے نہیں دیتا

 

 

اُسے دنیا کے دھندوں میں کبھی کھُبنے نہیں دیتا

جِسے وہ زندگی بخشے اُسے مرنے نہیں دیتا

میں اُس دربار میں نغمہ سرا ہوں ہر گھڑی عرشی

کسی بھی ا ور موضوع پر وہ اب لکھنے نہیں دیتا

٭٭٭٭٭

 

پر کُتر دیتا ہے

 

 

مرے ٹوٹے ہوئے دل کو کبھی جڑنے نہیں دیتا

کسی بھی اور جانب وہ مجھے مڑنے نہیں دیتا

وہ جس طائر کو بھی اپنی منڈیروں کے لیے چُن لے

پھر اس کے پر کُتر دیتا ہے وہ اُڑنے نہیں دیتا

٭٭٭

 

 

سہیلی

 

رُوح تنہا اداس اکیلی ہے

زندگی ان کہی پہیلی ہے

اجنبی ہوں میں اس جگہ عرشی

اک اداسی مری سہیلی ہے

٭٭٭

 

الف

 

ترے ہی در پہ بے کس دل مرا رہ رہ کے جھکتا ہے

تُو سر پر ہاتھ جب رکھ دے تو سیلِ اشک رکتا ہے

تہی دامن ہوں میں عرشی الف کی طرح خالی ہوں

کہ جس پر جزم نہ تشدید نہ حرکت نہ نُقطہ ہے

٭٭٭

 

 

 

اُداسی

 

اتنے اُداس نہ سہی تاہم اداس تھے

خوشیاں تھیں آس پاس مگر ہم اداس تھے

تم سے ملے تو اور غمِ دل سوا ہوا

پہلے بھی تھے اداس مگر کم اداس تھے

٭٭٭

 

چاک پر

 

بیٹھنا ہے تجھ کو فرشِ خاک پر

پر نظر رکھنی ہے ہفت افلاک پر

تیری مٹی خام ہے جلدی نہ کر

گھوم تھوڑی دیر عرشی چاک پر

٭٭٭

 

 

 

دبے پاؤں

جنم لینے سے پہلے ہی جو مر جاتی تو اچھا تھا

میں عرشیؔ دھول کی صورت بکھر جاتی تو اچھا تھا

بہت شور و شغب اشعار لکھ لکھ کر مچایا ہے

میں دنیا سے دبے پاؤں گزر جاتی تو اچھا تھا

٭٭٭

 

اک خواب ہے دنیا

اک خواب ہے دنیا کہ عدم جس کی ہے تعبیر

اور موت کا لقمہ ہیں سبھی طفل و جواں ،پیر

انسانوں سے پُر روئے زمیں ،زیرِ زمیں ہے

دونوں طرف اس خاک کے ورقے پہ ہے تصویر

٭٭٭

 

 

 

٭٭٭

ماخذ:

http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=arshi

اور عرشی ملک کی فراہم کردہ مختلف ان پیج فائلوں سے

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید