FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

انتخابِ سودا

 

 

               جمع و ترتیب: فرخ منظور، محمد وارث، مبارز کاشفی، اعجاز عبید

 

 

 

 

ڈرتے ڈرتے جو ترے کوچے میں آ جاتا ہوں

صید خائف کی طرح رو بہ فنا جاتا ہوں

 

نہ تلطف، نہ محبت، نہ مروت، نہ وفا

سادگی دیکھ کراس پر بھی ملا جاتا ہوں

 

کوئی تعمیر کے در پہ نہیں میرے ہیہات

شکل دیوار خرابے کی گرا جاتا ہوں

 

فکر موزوں کرنے کو گرفتار مرے

ہوں میں مضمون تری باتوں میں بندھا جاتا ہوں

 

گرم جوشی نہ کرو مجھ سے کہ مانند چنار

اپنی ہی آگ میں مَیں آپ جلا جاتا ہوں

 

طائر رنگ حنا کی نمط اب اے صیاد

ہوں تو میں ہاتھ میں تیرے یہ اڑا جاتا ہوں

 

ہوں میں وہ وحشی رم خوردہ کہ تا دشت عدم

پات کھڑکے ہے تو مانند صدا جاتا ہوں

 

صفحۂ ہستی پہ اک حرف غلط ہوں سودا

جب مجھے دیکھنے بیٹھو تو اٹھا جاتا ہوں

٭٭٭

 

 

 

گلہ لکھوں میں اگر، تیری بے وفائی کا

لہو میں غرق، سفینہ ہو آشنائی کا

 

مرے سجود کی دیر و حرم سے گزری قدر

رکھوں ہوں دعویٰ ترے در پہ جبہ سائی کا

 

کبھو نہ پہنچ سکے دل سے تا زباں اک حرف

اگر بیاں کروں طالع کی نارسائی کا

 

دکھاؤں گا زاہد اس آفت دیں کو

خلل دماغ میں تیرے ہے پارسائی کا

 

طلب نہ چرخ سے کرنا ہے  راحت اے سودا

پھرے ہے آپ یہ کاسہ لئے گدائی کا

٭٭٭

 

 

 

 

 

کسی کا دردِ دل پیارے تمہارا ناز کیا سمجھے

جو گزرے صید کے جی پر، اسے شہباز کیا سمجھے

 

رِہا کرنا ہمیں صیّاد اب پامال کرنا ہے

پھڑکنا بھی جسے بھولا ہو سو پرواز کیا سمجھے

 

نہ پہنچے داد کو ہرگز ترے کوچے کا فریادی

کسی کے شورِ محشر میں، کوئی آواز کیا سمجھے

 

نہ پوچھو مجھ سے میرا حال ٹک دنیا میں جینے دو

خدا جانے میں کیا بولوں، کوئی غماز کیا سمجھے

 

کہا چاہے تھا کچھ تجھ سے میں لیکن دل دھڑکتا ہے

کہ میری بات کے ڈھب کو تو اے طناز کیا سمجھے

 

جو گزری رات میرے پر کسے معلوم ہے تجھ بن

دلِ پروانہ کا جز شمع کوئی راز کیا سمجھے

 

نہ پڑھیو یہ غزل سودا تُو ہرگز میر کے آگے

وہ ان طرزوں سے کیا واقف وہ یہ انداز کیا سمجھے

٭٭٭

 

 

 

 

 

جو گزری مجھ پہ مت اُس سے کہو، ہوا سو ہوا

بلا کشانِ محبت پہ جو، ہوا سو ہوا

 

مبادا ہو کوئی ظالم ترا گریباں گیر

مرے لہو کو تو دامن سے دھو، ہوا سو ہوا

 

پہنچ چکا ہے سرِ زخم دل تلک یارو

کوئی سیو، کوئی مرہم رکھو، ہوا سو ہوا

 

کہے ہے سن کے مری سرگزشت وہ بے رحم

یہ کون ذکر ہے جانے بھی دو، ہوا سو ہوا

 

خدا کے واسطے آ، در گرز گنہ سے مرے

نہ ہو گا پھر کبھو اے تند خو، ہوا سو ہوا

 

یہ کون حال ہے، احوالِ دل پہ اے آنکھو!

نہ پھوٹ پھوٹ کے اتنا بہو، ہوا سو ہوا

 

دیا اُسے دل و دیں اب یہ جان ہے سودا

پھر آگے دیکھیے جو ہو سو ہو، ہوا سو ہوا

٭٭٭

 

 

 

 

 

ملائم ہو گئیں دل پر برہ کی ساعتیں کڑیاں

پہر کٹنے لگے اُن بن جنہوں بن کاٹتیں گھڑیاں

 

گُتھی نکلی ہیں لخت دل سے تارِ اشک کی لڑیاں

یہ آنکھیں کیوں مرے جی کے گلے کی ہار ہو پڑیاں

 

ہنوز آئینہ گرد اس غم سے اپنے منہ کو مَلتا ہے

خدا جانے کہ کیا کیا صورتیں اس خاک میں گَڑیاں

 

گرہ لاکھوں ہی غنچوں کی صبا اک دم میں‌ کھولے ہے

نہ سلجھیں تجھ سے اے آہِ سحر اس دل کی گل جھڑیاں

 

دوانہ اُن لٹوں کا ہوں قسم ہے روحِ مجنوں کی

نہ مارو چوبِ گل مجھ کو بغیر از بید کی چھڑیاں

 

چھری تلوار یک دیگر گل و بلبل ہیں‌ گلشن میں

تمہاری، سچ کہو دونوں میں کس سے انکھڑیاں لڑیاں

 

کھُلائے گو کہ شانے سے تم اپنی زلف کے عقدے

نہ سمجھے یہ کسی دل میں‌ہزاروں ہیں گرہ پڑیاں

 

تسلی اس دوانے کی نہ ہو جھولی کے پتھروں سے

اگر سودا کو چھیڑا ہے تو لڑکو مول لو پھڑیاں

٭٭٭

 

 

 

 

 

سخنِ عشق نہ گوشِ دلِ بے تاب میں ڈال

مت یہ آتش کدہ اس قطرۂ سیماب میں ڈال

 

گھر کا گھر بیچ، ٹکے خرچ مئے ناب میں ڈال

زاہد!‌اسبابِ جہاں کچھ نہیں، دے آب میں ڈال

 

ابھی جھپکی ہے ٹک، اے شورِ قیامت یہ پلک

صبح کا وقت ہے ظالم، نہ خلل خواب میں ڈال

 

کر کے معیوبِ طمع دل کہ نہ سن حرفِ درشت

یہ بری چٹ ہے، نہ اس گوہرِ نایاب میں ڈال

 

شمع ساں روئیے کیوں کر نہ، کہ یاں بیٹھے ہیں

ہم بنا ہستی کی اپنی، رہِ سیلاب میں‌ڈال

 

دست رس ہووے تو کر مہر کا طرّہ مقراض

ساقی کے سامنے دیجے شبِ مہتاب میں ڈال

 

کوئے مے خانہ سے رکھ دل کو کنار اے سودا

شیشہ ٹوٹا ہے، نہ جا کر رہِ احباب میں ڈال

٭٭٭

 

 

گدا، دستِ اہلِ کرَم دیکھتے ہیں

ہم اپنا ہی دم اور قدم دیکھتے ہیں

 

نہ دیکھا جو کچھ جام میں جَم نے اپنے

سو اک قطرۂ مے میں ہم دیکھتے ہیں

 

یہ رنجش میں ہم کو ہے بے اختیاری

تجھے تیری کھا کر قسم دیکھتے ہیں

 

غَرَض کفر سے کچھ، نہ دیں سے ہے مطلب

تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں

 

خدا دشمنوں کو نہ وہ کچھ دکھاوے

جو کچھ دوست اپنے سے ہم دیکھتے ہیں

 

مگر تجھ سے رنجیدہ خاطر ہے سودا

اسے تیرے کوچے میں کم دیکھتے ہیں

٭٭٭

 

 

بلبلِ تصویر ہوں جوں نقشِ دیوارِ چمن

نے قفس کے کام کا ہرگز، نہ درکارِ چمن

 

کیا گلہ صیّاد سے ہم کو یوں ہی گزری ہے عمر

اب اسیرِ دام ہیں، تب تھے گرفتارِ چمن

 

نوک سے کانٹوں کے ٹپکے ہے لہو، اے باغباں

کس دل آزردہ کے دامن کش ہیں یہ خارِ چمن

 

زخم پر ہر گُل کے چھڑکے صبح، محشر کا نمک

سیکھ لے گر ہم سے رونا شبنمِ زارِ چمن

 

لختِ دل گرتے خزاں میں جائے برگ، اے عندلیب

ہم اگر ہوتے تری جاگہ گرفتارِ چمن

 

فصلِ گُل جاتی ہے سودا دیکھ لے نرگس کو ٹک

باغ میں مہماں ہے کوئی دن یہ بیمارِ چمن

٭٭٭

 

 

    گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ بر اندازِ چمن، کچھ تو اِدھر بھی

 

کیا ضد ہے مرے ساتھ، خدا جانئے ورنہ

کافی ہے تسلّی کو مرے ایک نظر بھی

 

اے ابر، قسم ہے تجھے رونے کی ہمارے

تجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لختِ جگر بھی

 

کس ہستیِ موہوم پہ نازاں ہے تو اے یار

کچھ اپنے شب و روز کی ہے تجھ کو خبر بھی

 

تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش

رہتا ہے سدا چاک، گریبانِ سحر بھی

 

سودا، تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی رات

آئی ہے سحر ہونے کو ٹک تو کہیں مر بھی

٭٭٭

 

 

 

اجل نے عہد میں تیرے ہی تقدیر سے یہ پیغام کیا

ناز و کرشمہ دے کر اس کو مجھ کو کیوں بدنام کیا

 

چمن میں آتے سن کر تجھ کو بادِ سحر یہ گھبرائی

ساغر جب تک لاویں ہی لاویں توڑ سبو کو جام کیا

 

ناگن کا اس زلف کی مجھ سے رنگ نہ پوچھو، کیا حاصل

خواہ تھی کالی، خواہ وہ پیلی، بِس نے اپنا کام کیا

 

پوج مجھے اس دیرِ کہن میں کیا پوجے ہے پتھر کو

مجھ وحشی کو، سنا برہمن؟ بتوں نے اپنا رام کیا

 

تھا یہ جوانی فکر و تردد، بعد از پیری پایا چین

رات تو کاٹی دکھ سکھ ہی میں، صبح ہوئی آرام کیا

 

خاص کروں میں ہی نظّارہ تُو تو دید کی لذّت ہے

کور بھلیں یہ آنکھیں اس دن، جس دن جلوہ عام کیا

 

کون سا مجھ سے حسنِ تردد عمل میں آیا تیرے حضور

دل کو غارت کر کے میرے، جان کو کیوں انعام کیا

 

مہر و وفا و شرم و مروّت سبھی کچھ اس میں سمجھے تھے

کیا کیا دل دیتے وقت اس کو ہم نے خیالِ خام کیا

 

لذّت دی نہ اسیری نے صیّاد کی بے پروائی سے

تڑپ تڑپ کر مفت دیا جی، ٹکڑے ٹکڑے دام کیا

 

شمع رخوں سے روشن ہو گھر ایسے اپنے کہاں نصیب

صبحِ ازل سے قسمت نے خاموش چراغِ شام کیا

 

فخر نہیں اے شیخ مجھے کچھ دین میں تیرے آنے کا

راہب نے جب منہ نہ لگایا تب میں قبولِ اسلام کیا

 

سُپش نہ ماری ہرگز کوئی تیرے حج کے شرائط میں

قتل اے حاجی نفس کو اپنے باندھ کے میں احرام کیا

 

ادب دیا ہے ہاتھ سے اپنے کبھو بھلا مے خانے کا

کیسے ہی ہم مست چلے پر سجدہ ہر اک گام کیا

 

میں یہ سماجت دیا ہے دل کو، جور و جفا کا شکوہ کیا

ان نے کب لینے پر اُس کے، قاضی کا اعلام کیا

 

یار کہے ہے “سودا کے ملنے سے مجھ کو کیا حاصل

شعر جو اُن نے خوب کہے آفاق میں اپنا نام کیا”

٭٭٭

 

 

 

 

تمنا کی انکھیاں نے سجن ہمنا کا دل جھٹ پٹ لیا

کیوں کر ملے ہمنا کو اب، دو ظالماں نے بٹ لیا

 

دستا نہیں کوئی اور پیو، تمنا کو سُٹ کاں جائیں ہم

سب جگ کے اب خوباں منیں ہم نے تمن کو جھٹ لیا

 

ہمنا کو ناصح مت ڈرا جیو جان کے جانے ستی

جب اُس گلی میں پگ رکھا پہلے ہمن سر کٹ لیا

 

یہ دل کہ قیمت جس کی مِیں ملتا تھا ہمنا کو دو جگ

افسوس ظالم نے نپٹ مُولاں میں ہم سے گھٹ لیا

 

مستی ہمن کو اس سبب زیادہ رقیبوں سے ہوئی

جب پی چکا پیالا سجن اُس کا ہمن تلچھٹ لیا

 

مجلس منے عشّاق کی اُس شوخ نے مدھ کی جگہ

دل کے رگت کا گھونٹ پر گھونٹ آن کر غٹ غٹ پیا

 

زلفاں کو ساجن کے ہمن سودا یہ دل دیتے نہ تھے

دو بالکاں کیا قہر ہیں آخر اُسے کر ہٹ لیا

٭٭٭

 

فرہنگ

 

تمنا = تم، تمہاری، تمہیں

ہمنا= ہم، ہمیں، ہماری

جھٹ پٹ = فوراً

سجن= محبوب

انکھیاں = آنکھیں

بٹ لیا = بانٹ لیا

پیو = پیالہ، معشوق

سُٹ کاں جائیں ہم = چھوڑ یا پھینک کر کہاں جائیں

خوباں منیں = مجھ میں خوبیاں ہیں

تمن کو جھٹ لیا = تمہیں پا لیا

ستی = ہندوؤں کی ستی کی رسم جس میں شوہر کے ساتھ بیوی بھی جلا دی جاتی تھی

پگ = پاؤں

ہمن = ہم نے

مُولاں میں ہم سے گھٹ لیا = بھاؤ تاؤ کر کے کم مول لگا کر خرید لیا

تلچھٹ = پینے کے بعد شراب یا کوئی بھی مائع پیندے کے ساتھ لگا رہ جاتے ہے اسے کہتے ہیں

مدھ = شراب

دل کے رگت = دل کی رگیں رگت یعنی رگ

بالکاں = بچے

 

 

 

نکل نہ چوکھٹ سے گھر کی پیارے، جو پٹ کے اوجھل ٹھٹک رہا ہے

سمٹ کے گھٹ سے ترے دَرَس کو نُیَن میں جی آ اٹک رہا ہے

 

اگن نے تیرے برہ کے جب سے بھلس دیا ہے مرا کلیجا

ہئیے کی دھڑکن میں کیا بتاؤں یہ کوئلا سا چٹک رہا ہے

 

مجھے پسینا جو مکھ پہ تیرے دکھائی دے ہے تو سوچتا ہوں

یہ کیوں کہ سورج کی جوت آگے ہر ایک تارا چھٹک رہا ہے

 

جنہوں کی چھاتی سے پار برچھی ہوئی ہے رن میں وہ سورما ہیں

پڑا وہ ساونت من میں جس کے برہ کا کانٹا کھٹک رہا ہے

 

ہلورے یوں لے نہ اوس کی بوند لگ کے پھولوں کی پنکھڑی سے

تمہارے کانوں میں جس طرح سے ہر ایک موتی مٹک رہا ہے

 

کہیں جو لگ چلنے ساتھ دیتا ہو اس طرح کا کٹر ہے پاپی

نہ جانوں پینڈے کی دھول ہوں میں جو مجھ سے پلّا جھٹک رہا ہے

 

کبھو لگا ہے نہ آتے جاتے جو بیٹھ کر ٹُک اُسے نکالوں

سجن جو کانٹا ہے تجھ گلی کا تو پگ سے میرے پھٹک رہا ہے

 

کوئی جو مجھ سے یہ پوچھتا ہووے کیوں تُو روتا ہے کہہ تو ہم سے

ہر ایک آنسو مرے نَیَن کا جگہ جگہ سر پٹک رہا ہے

 

گُنی ہو کیسا ہی دھیان جس کا ترے گُنوں سے لگا ہے پیارے

گیان پربت بھی ہے جو اُس کا تو چھوڑ اُس کو سٹک رہا ہے

 

جو باٹ ملنے کی ہووے اُس کا پتا بتا دو مجھے سریجن

تمہاری بَٹیوں میں آج برسوں سے یہ بٹوہی بھٹک رہا ہے

 

جو میں نے سودا سے جا کے پوچھا تجھے کچھ اپنے ہے من کی سدھ بدھ

یہ رو کے مجھ سے کہا کسی کی لٹک میں لٹ کے لٹک رہا ہے

 

فرہنگ

 

پٹ = دروازے کا ایک حصہ، دروازے کا ایک پٹ

دَرَس کو = درشن ، دیکھنے کو، دیکھنے کے لئے

نُیَن = آنکھیں، نیناں

اگن= آگ

برہ = جدائی

بھلس دیا = جلا دیا

ہئیے = دل، ہمت و حوصلہ مراد ہے

مکھ = چہرہ

جوت = روشنی

رن = میدانِ جنگ

ہلورے = ہلکے ہلکے جھولنا

پینڈے کی دھول = سفر کی دھول

پگ = پاؤں

گُنی = جس میں بہت سارے گن یعنی خوبیاں ہوں

گیان= دھیان

پربت = پہاڑ

گیان پربت = پہاڑ ایسا دھیان یعنی انتہائی خوش و خضوع

سٹک رہا ہے = کھسک رہا ہے، فرار ہو رہا ہے

باٹ = راستہ

سریجن = خوبصورت، بناؤ سنگھار کرنے والی

بَٹیوں = رستوں

بٹوہی = مسافر

من = دل

سدھ بدھ = ہوش

لٹک = زلف

٭٭٭

 

 

 

لاتا ہے بزم میں وہ سخن بر زباں زبُوں

سر جس سے ہو یہ خدمتِ فرزانگاں نگُوں

 

دنیا نہ لے سکے ہے ، نہ دیں ، مجھ سے دل مرا

میداں سے لے گئے ہیں یہ گو دل براں برُون

 

سنتا نہیں کسی کا کوئی دردِ دل کہیں

اب تجھ سوا میں جا کے خدایا کہاں کہوں

 

جوں گل نہیں ہے تازہ جنوں یاں کہ از عدم

لایا میں شکلِ غنچہ گریباں دراں درُوں

 

وعدے کے وصل کے یہ بڑھایا کہ ہو گیا

اسپک تلے فلک کے قدِ دل ستاں ستُوں

 

ایسے کو دل دیا ہے کہ کرنے کو مسترد

پھرتا ہوں گِرد اُس کے میں زاری کُناں کنُوں

 

یوسف کے غم میں رووے تھا یعقوب جس طرح

تجھ غم میں چاہتا ہے مرا ہر رُواں روؤں

 

دل عاشقِ غریب سے لے ، شکلِ آسیا

چاہے ہے یوں ہر ایک ز سنگیں دِلاں دَلُوں

 

ناصح کہے تھا راست کہ بد ہیں یہ خوب رُو

حاشا نہ بازی عشق کی پھر با بداں بدوُں

 

قطعہ

سودا سخن کو جامی کے میں اس میں کر کے نصب

مشہور اِس غزل کو کراں تا کراں کرُوں

 

اُس کا گہر ہے مجھ کنے اختر مرا بہ چرخ

نیکاں نمودہ میل بہ نیکاں بداں بدوُں

٭٭٭

 

 

 

ساون کے بادلوں کی طرح سے بھرے ہوئے

یہ وہ نین ہیں جن سے کہ جنگل ہرے ہوئے

 

اے دل یہ کس سے بگڑی کہ آتی ہے فوجِ اشک

لختِ جگر کی نعش کو آگے دھرے ہوئے

 

پلکیں تری کہاں نہ صف آرا ہوئیں کہ واں

افواجِ قاہرہ کے نہ برہم پرے ہوئے

 

انکھیوں کو تیری کیونکہ میں باندھوں کہ یہ غزال

جاتے ہیں میرے دل کی زراعت چرے ہوئے

 

بوندی کے جمدھروں سے یہ بھِڑتے ہیں یک دگر

لڑ کے مجھ آنسواں کے نپٹ منگرے ہوئے

 

انصاف کس کو سونپیے اپنا بجز خدا

منصف جو بولتے ہیں سو تجھ سے ڈرے ہوئے

 

نزدیک اپنے رہنے سے مت کر تو ہمیں منع

ہیں لاکھ کوس جب ترے دل سے پرے ہوئے

 

مجلس میں چھوکروں کی جو چھیڑے سے شیخ جی

آویں تو پھر خدا نے کہا مسخرے ہوئے

 

سودا نکل نہ گھر سے کہ اب تجھ کو ڈھونڈتے

لڑکے پھرے ہیں پتھروں سے جھولی بھرے ہوئے

٭٭٭

 

 

 

 

بلبل چمن میں کس کی ہیں یہ بد شرابیاں

ٹوٹی پڑی ہیں غنچوں کی ساری رکابیاں

 

تجھ مُکھ پہ تا نثار کریں ، مہر و ماہ کو

لب ریز سیم و زر سے ہیں دونوں رکابیاں

 

صیّاد کہہ تو کِن نے کبوتر کو دام میں

سکھلا دیاں ہیں دل کی مرے اضطرابیاں

 

زاہد جو کہنے سے تُو ہمارے پیے شراب

مصری کی دیں منگا کے تمہیں ہم گُلابیاں

 

فرہاد و قیس وُوں گئے ، سودا کا ہے یہ حال

کیا کیا کِیاں ہیں عشق نے خانہ خرابیاں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

گر کیجیے انصاف تو کی زور وفا مَیں

خط آتے ہی سب چل گئے ، اب آپ ہیں یا مَیں

 

تم جن کی ثنا کرتے ہو کیا بات ہے اُن کی

لیکن ٹک اِدھر دیکھیو اے یار بھلا مَیں

 

رکھتا ہے برہمن بچہ کچھ ایسی وہ رفتار

بُت ہو گیا دھج دیکھ کے جس کی بہ خُدا مَیں

 

(قطعہ)

 

یارو نہ بندھی اُس سے کبھو شکلِ ملاقات

ملنے کو تو اُس شوخ کے ترسا ہی کیا مَیں

 

جب مَیں گیا اُس کے تو اُسے گھر میں نہ پایا

آیا وہ اگر میرے تو در خود نہ رہا مَیں

 

کیفیّتِ چشم اُس کی تجھے یاد ہے سودا؟

ساغر کو مرے ہاتھ سے لیجو، کہ چلا مَیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھنا

کوئی دم کو پھولتا ہے یہ گلزار دیکھنا

 

نرگس کی طرح خاک سے میری اگیں ہیں چشم

ٹک آن کر یہ حسرتِ دیدار دیکھنا

 

کھینچے تو تیغ ہے حرمِ دل کی صید پر

اے عشق! پر بھلا تو مجھے مار دیکھنا

 

ہے نقصِ جان دید ترا پر یہی ہے دھن

جی جاؤ یا رہو مجھے اِک بار دیکھنا

 

اے طفلِ اشک ہے فلکِ ہفتمیں پہ عرش

آگے قدم نہ رکھیو تُو زنہار دیکھنا

 

قطعہ

پوچھے خدا سبب جو مرے اشتیاق کا

میری زباں سے ہو یہی اظہار دیکھنا

 

ہر نقشِ پا پہ تڑپے ہے یارو ہر ایک دل

ٹک واسطے خدا کے یہ رفتار دیکھنا

 

کرتا تو ہے تو آن کے سودا سے اختلاط

کوئی لہر آ گئی تو مرے یار دیکھنا

 

قطعہ

تجھ بن عجب معاش ہے سودا کا اِن دنوں

تو بھی ٹک اُس کو جا کے ستم گار دیکھنا

 

نے حرف و نے حکایت و نے شعر و نے سخن

نے سیرِ باغ و نے گل و گلزار دیکھنا

 

خاموش اپنے کلبۂ احزاں میں روز و شب

تنہا پڑے ہوئے در و دیوار دیکھنا

 

یا جا کے اُس گلی میں جہاں تھا ترا گزر

لے صبح تا بہ شام کئی بار دیکھنا

 

تسکینِ دل نہ اِس میں بھی پائی تو بہرِ شغل

پڑھنا یہ شعر گر کبھو اشعار دیکھنا

 

کہتے تھے ہم نہ دیکھ سکیں روزِ ہجر کو

پر جو خدا دکھائے سو ناچار دیکھنا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

بلبل نے جسے جا کے گلستان میں دیکھا

ہم نے اُسے ہر خارِ بیابان میں دیکھا

 

روشن ہے وہ ہر ایک ستارے میں زلیخا

جس نور کو تُو نے مہِ کنعان میں دیکھا

 

برہم کرے جمعیّتِ کونین جو پل میں

لٹکا وہ تری زلفِ پریشان میں دیکھا

 

واعظ تو سنی بولے ہے جس روز کی باتیں

اُس روز کو ہم نے شبِ ہجران میں دیکھا

 

اے زخمِ جگر سودۂ الماس سے خُو کر

کتنا وہ مزا تھا کہ نمک دان میں دیکھا

 

سودا جو ترا حال ہے اتنا تو نہیں وہ *

کیا جانیے تُو نے اسے کس آن میں دیکھا

 

*متغیرات: سودا جو ترا حال ہے ایسا تو نہیں وہ

٭٭٭

 

 

 

 

 

بس ہو تو رکھوں آنکھوں میں اُس آفتِ جاں کو

اور دیکھنے دوں میں نہ زمیں کو نہ زماں کو

 

جب عزم کروں گھر سے کوئے دوست کا یارو

دشمن ہے مرا وہ جو کہے یہ کہ “کہاں کو؟”

 

موجب مری رنجش کا جو پوچھے ہے تو یہ جان

مُوندوں گا نہ پھر کھول کے جوں غنچہ دہاں کو

 

ابرو نے، مژہ نے، نگہِ یار نے یارو

بے رتبہ کیا تیغ کو، خنجر کو، سناں کو

 

اسرارِ خرابات سے واقف ہو جو زاہد

کعبے سے نہ کم سمجھے درِ پیرِ مغاں کو

 

یہ رسم نہیں تازہ کچھ اے شیخ جہاں میں

جاگہ حرمِ دل میں جو مَیں دی ہے بُتاں کو

 

ناصح یہ مجھے راست کہے تھا کہ بجز داغ

کیا لیوے گا دل دے کے تُو اِن لالہ رُخاں کو

 

دل کس کے دمِ تیغ کا پیاسا ہے کہ سودا

بسمل کی طرح تڑپے ہے دیکھ آبِ رواں کو

٭٭٭

 

 

 

 

کس سے بیاں کیجئے؟ حال دلِ تباہ کا

سمجھے وہی اسے جو ہو زخمی تیری نگاہ کا

 

مجھ کو تیری طلب ہے یار تجھ کو ہے چاہ غیر کی

اپنی نظر میں‌یاں نہیں طور کوئی نباہ کا

 

دین و دل و قرار و صبر عشق میں‌تیرے کھو چکے

جیتے جو اب کہ ہم بچے نام نہ لیں‌گے چاہ کا

 

وصل بھی ہو تو دل میرا غم کو نہ چھوڑے ہجر کے

یہ تو ہمیشہ ہے رفیق وصل ہے گاہ گاہ کا

 

سودا سُنا ہے میں نے یہ اُس پہ ہوا تو مبتلا

رشک سے جس کی چہرے کے داغ جگر ہے ماہ کا

٭٭٭

 

 

 

 

یہ میں بھی سمجھوں ہوں یارو، وہ یار یار نہیں

کروں میں کیا کہ مرا دل پہ اختیار نہیں

 

عبث تو سر کی مرے ہر گھڑی قسم مت کھا

قسم خدا کی ترے دل میں اب وہ پیار نہیں

 

میں ہوں وہ نخل کہ جس نخل کو قیامت تک

بہار کیسی ہی آوے تو برگ و بار نہیں

 

جہاں کے بیچ غمِ دل کہوں تو میں کس سے؟

سوائے غم کے مرا کوئی غمگسار نہیں

 

ہزار قول کریں یہ نباہ کا سوداؔ

مجھے بتوں کی محبت کا اعتبار نہیں

٭٭٭

 

 

 

 

بولو نہ بول شیخ جی، ہم سے کڑے کڑے

یاں چٹ کیے ہیں اس سے عمامہ بڑے بڑے

 

کیا مے کدے میں آ ن کے چومے گا محتسب

پیویں گے اُس کی ضد سے تو اب ہم گھڑے گھڑے

 

قامت نے تیرے باغ میں جا خطِّ بندگی

لکھوا لیا ہے سروِ چمن سے کھڑے کھڑے

 

مِل جا گلے سے اب تو مرے یار، کیا ہوا

دو روز دوستی میں جو باہم لڑے لڑے

 

کیا قدر دل بُتاں کو، جنہوں کی گلی کے بیچ

دل خاک ہو گئے ہیں کروڑوں پڑے پڑے

 

از بس کہ تنگنا ہے گزرگاہِ آخرت

جاتے ہیں اُس طرف جو کہ و مہ چھڑے چھڑے

 

دنداں دہن میں وقتِ تبسّم نہ دیکھے ہم

موتی سے کچھ ہمیں نظر آئے جڑے جڑے

 

بوسہ نہیں تو گالی ہی، گالی نہیں تو مار

عاشق نہیں، ہیں منڈ چرے جس پر اڑے اڑے

 

سودا کے ہوتے وامق و مجنوں کا ذکر کیا

عالم عبث اُکھاڑے ہے مُردے گڑے گڑے

٭٭٭

 

 

 

جی مرا مجھ سے یہ کہتا ہے کہ ٹل جاؤں گا

ہاتھ سے دل کے ترے اب میں نکل جاؤں گا

 

لطف اے اشک کہ جوں شمع گھُلا جاتا ہوں

رحم اے آہِ شرر بار! کہ جل جاؤں گا

 

چین دینے کا نہیں زیرِ زمیں بھی نالہ

سوتوں کی نیند میں کرنے کو خلل جاؤں گا

 

قطرۂ اشک ہوں پیارے، مرے نظّارے سے

کیوں خفا ہوتے ہو، پل مارتے ڈھل جاؤں گا

 

اس مصیبت سے تو مت مجھ کو نکال اب گھر سے

تُو کہے آج ہی جا، میں کہوں کل جاؤں گا

 

چھیڑ مت بادِ بہاری کہ میں جوں نکہتِ گُل

پھاڑ کر کپڑے ابھی گھر سے نکل جاؤں گا

 

میری صورت سے تو بیزار ہے ایسا ہی تو دیکھ

شکل اس غم سے کوئی دن میں بدل جاؤں گا

 

نطق کہتا ہے مرا آج یہ ہر ناطق سے

آن کر ہونٹ ابھی طوطی کے مل جاؤں گا*

 

کہتے ہیں وہ جو ہے سودا کا قصیدہ ہی خوب

اُن کی خدمت میں لیے میں یہ غزل جاؤں گا

 

* آن کر ہونٹ ابھی طوطی کے سے مل جاؤں گا

کلیاتِ سودا میں یہ مصرع ایسے درج ہے جبکہ متغیرات میں یہ مصرع بھی شامل ہے جو غزل میں درج کیا گیا ہے۔ وارث صاحب کے مطابق یہ مصرع وزن میں نہیں ہے اس لئے اسے متغیرات سے بدل دیا گیا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

زہے وہ معنیِ قرآں، کہے جو تُو واعظ

پھٹے دہن کے تئیں اپنے، کر رفو واعظ

 

مجھے یہ فکر ہے تُو اپنی ہرزہ گوئی کا

جواب دیوے گا کیا حق کے روبرو واعظ

 

خدا کے واسطے چپ رہ، اتر تُو منبر سے

حدیث و آیہ کو مت پڑھ تُو بے وضو واعظ

 

سنا کسی سے تُو نامِ بہشت، پر تجھ کو

گلِ بہشت کی پہنچی نہیں ہے بُو واعظ

 

بتوں کی حسن پرستی سے کیا خلل دیں میں

خدا نے دوست رکھا ہے رخِ نکو واعظ

 

ثبوتِ حق کی کریمی سبھوں پہ ہے لیکن

تری تو نفیِ کرم پر ہے گفتگو واعظ

 

ڈروں ہوں میں نہ کریں رند تیری ڈاڑھی کو

تبرّکات میں داخل ہر ایک مُو واعظ

 

ہزار شیشۂ مے اس میں تیں چھپایا ہے

تری جو پگڑی ہے یہ صورتِ سبو واعظ

 

قطعہ

سخن وہ ہے کہ موثر دلوں کا ہو ناداں

یہ پوچ گوئی ہے جس سے ہے تجھ کو خُو واعظ

 

کہا تُو مان لے سودا کا، توبہ کر اس سے

لب و دہن کے تئیں کر کے شست و شُو واعظ

٭٭٭

 

 

 

ٹوٹے تری نگہ سے اگر دل حباب کا

پانی بھی بھر پئیں تو مزہ ہے شراب کا

 

کہتا ہے آئینہ کہ سمجھ تربیت کی قدر

جن نے کیا ہے سنگ کو ہم رنگ آب کا

 

دوزخ مجھے قبول ہے اے منکر و نکیر

لیکن نہیں دماغ سوال و جواب کا

 

تھا کس کے دل کو کشمکشِ عشق کا دماغ

یا رب! برا ہو دیدۂ خانہ خراب کا

 

زاہد سبھی ہے نعمتِ حق جو ہے اکل و شرب

لیکن عجب مزہ ہے شراب و کباب کا

 

غافل غضب سے ہو کے، کرم پر نہ رکھ نظر

پُر ہے شرارِ برق سے دامن سحاب کا

 

قطرہ گرا تھا جو کہ مرے اشکِ گرم سے

دریا میں ہے ہنوز پھپولا حباب کا

 

اے برق کس طرح سے میں حیراں ہوں تجھ کنے

نقشہ ہے ٹھیک دل کے مرے اضطراب کا

 

سودا نگاہِ دیدۂ تحقیق کے حضور

جلوہ ہر ایک ذرّے میں ہے آفتاب کا

٭٭٭

 

 

 

 

دامن صبا نہ چھو سکے جس شہسوار کا

پہنچے کب اُس کو ہاتھ ہمارے غبار کا

 

موجِ نسیم آج ہے آلودہ گرد سے

دل خاک ہو گیا ہے کسی بے قرار کا

 

خونِ جگر شراب و ترشّح ہے چشمِ تر

ساغر مرا گِرو نہیں ابرِ بہار کا

 

سونپا ہے کیا جنوں نے گریبان کو مرے

لیتا ہے اب حساب جو یہ تار تار کا

 

سودا شرابِ عشق نہ کہتے تھے ہم نہ پی

پایا مزہ نہ تو نے اب اُس کے خمار کا؟

٭٭٭

 

 

 

 

 

ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا

موسیٰ نہیں جو سیر کروں کوہِ طور کا

 

پڑھیے درود حسنِ صبیح و ملیح دیکھ

جلوہ ہر ایک پر ہے محمد کے نور کا

 

توڑوں یہ آئینہ کہ ہم آغوشِ عکس ہے

ہووے نہ مجھ کو پاس جو تیرے حضور کا

 

بے کس کوئی مرے تو چلے اُس پہ دل مرا

گویا ہے یہ چراغ غریباں کی گور کا

 

ہم تو قفس میں آن کے خاموش ہو رہے

اے ہم صفیر! فائدہ ناحق کے شور کا؟

 

قطعہ

سودا! کبھی نہ مانیو واعظ کی گفتگو

آوازۂ دہل ہے خوش آیند دور کا

 

ساقی سے کہہ کے ہے شبِ مہتاب جلوہ گر

دے بسمہ پوش ہو کے تُو ساغر بلور کا

٭٭٭

 

 

 

 

 

مقدور نہیں اس کی تجلّی کے بیاں کا

جوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کا

 

پردے کو تعیّن کے درِ دل سے اٹھا دے

کھلتا ہے ابھی پل میں طلسماتِ جہاں کا

 

ٹک دیکھ صنم خانۂ عشق آن کے اے شیخ

جوں شمعِ حرم رنگ جھمکتا ہے بتاں کا

 

اس گلشنِ ہستی‌ میں عجب دید ہے، لیکن

جب چشم کھلے گُل کی تو موسم ہوں خزاں کا

 

دکھلائیے لے جا کے تجھے مصر کے بازار

لیکن نہیں‌ خواہاں کوئی واں جنسِ گراں کا

 

قطعہ

سودا جو کبھی گوش سے ہمّت کے سنے تُو

مضمون یہی ہے جرسِ دل کی فغاں کا

 

ہستی سے عدم تک نفسِ چند کی ہے راہ

دنیا سے گزرنا سفر ایسا ہے کہاں کا

٭٭٭

 

 

 

 

 

آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا

کچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دل بنا

 

سرگرم نالہ آج کل میں بھی ہوں، عندلیب!

مت آشیاں چمن میں میرے متصل بنا

 

جب تیشہ کوہکن نے لیا ہاتھ، تب یہ عشق

بولا کہ اپنی چھاتی پہ رکھنے کو سل بنا

 

جس تیرگی سے روز ہے عشاق کا سیاہ

شاید اسی سے چہرہ خوباں پہ تل بنا

 

لب زندگی میں کب ملے اس لب سے، اے کلال

ساغر ہماری خاک کو مت کر کے گل بنا

 

اپنا ہنر دکھا دیں گے ہم تجھ کو، شیشہ گر!

ٹوٹا ہوا کسی کا اگر ہم سے دل بنا

 

سن سن کے عرض حال میرا، یار نے کہا

سودا، نہ باتیں بیٹھ کے یاں متصل بنا

٭٭٭

 

 

 

اعمال سے میں اپنے بہت بے خبر چلا

آیا تھا آہ کس لئے اور کیا میں کر چلا

 

ہے فکر ِ وصل صبح تو اندوہ ِ ہجر شام

اس روز و شب کے دھندے میں اب میں تو مر چلا

 

کیا اس چمن میں آن کے لے جائے گا کوئی

دامن کو میرے سامنے گل جھاڑ کر چلا

 

طوفاں بھرے تھا پانی جن آنکھوں کے سامنے

آج ابر ان کے آگے زمیں کر کے تر چلا

٭٭٭

 

 

 

 

ترے خط آنے سے دل کو مرے آرام کیا ہو گا

خدا جانے کہ اس آغاز کا انجام کیا ہو گا

 

نہ دو ترجیح اے خوباں کسی کو مجھ پہ غربت میں

زیادہ مجھ سے کوئی بے کس و ناکام کیا ہو گا

 

مجھے مت دیر سے تکلیف، کر کعبے کے اے زاہد!

جو میرا کفر ایسا ہے تو پھر اسلام کیا ہو گا

 

مگر لائق نہیں اس دور میں ہم بادہ خواری کے

جو دیوے گا تو اے ساقی، ہمیں بھی جام کیا ہو گا

 

کسی دیں دار و کافر کو خیال اتنا نہیں آتا

سحر کیا ہو چکی سودا کے دل پر شام کیا ہو گا

٭٭٭

 

 

 

 

 

تیرے کوچے سے جو میں آپ کو چلتے دیکھا

جس کسی تن سے نہ اس طرح نکلتے دیکھا

 

کیوں دیا دل میں ترے طرہ ِ مشکیں کو کہ مرغ

کہیں بھی پنجہ ِ شاہین میں پلتے دیکھا

 

استقامت ہے عجب شئے، نہیں جس میں لغزش

نخل کا پاؤں زمیں پر نہ پھسلتے دیکھا

 

فضل حق ہو تو تنزل ہی ترقی ہو جائے

قطرہ گوہر ہو صدف سے میں نکلتے دیکھا

 

اپنے منہ کے نہ کہا کن نے سخن کو گوہر

لعل سودا ہی کو پر ہم نے اگلتے دیکھا

٭٭٭

 

 

 

 

جو چلن چلتے ہو تم، کیا اس سے حاصل ہوئے گا

خوں سے بہتوں کے غبار اس راہ کو گل ہوئے گا

 

شرح اپنی بے قراری کی لکھیں گے ہم اگر

نامہ بر اپنا پر ِ پرواز ِ بسمل ہوئے گا

 

یاں وفا و جور کا ہم تم نہ سمجھیں گے حساب

دفتر ِ محشر میں سب باقی و فاضل ہوئے گا

 

کر ہے گوش ِ فہم ِ عالم ورنہ کہتی ہے بہار

جو گل آیا اس چمن میں ایک دن دل ہوئے گا

٭٭٭

 

 

 

 

 

دل، مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا

جوں اشک پھر زمیں سے اٹھایا نہ جائے گا

 

رخصت ہے باغباں کہ تک دیکھ لیں چمن

جاتے ہیں واں جہاں سے پھر آیا نہ جائے گا

 

پہنچیں گے اس چمن میں نہ ہم داد کو کبھو

جوں گل یہ چاک ِ جیب سلایا نہ جائے گا

 

عمامے کو اتار کے پڑھیو نماز، شیخ!

سجدے سے ورنہ سر کو اٹھایا نہ جائے گا

 

ظالم میں کہہ رہا کہ تو اس خون سے گزر

ان میں سودا کا قتل ہے، چھپایا نہ جائے گا

٭٭٭

 

 

 

 

سیہ کاری ہے مانند نگیں ہر چند کام اپنا

نکالا رو سفید آخر میں اس صفحے میں نام اپنا

 

حباب آسا کیا ہے کار ِ استغنا تمام اپنا

رکھا محروم قطرے سے میں اس دریا میں جام اپنا

 

نہ پہنچے نیستی عنقا کی ہستی کو مری ہر گز

کہ میں یاں اک زباں سے بھی نہیں سنتا ہوں نام اپنا

 

سنا جب انس تھا ہرنوں کو صحرا بیچ مجنوں سے

کیا شہری زالوں کے تئیں سودا نے رام اپنا

٭٭٭

 

 

 

 

وہ ہم نہیں جو کریں سیر ِ بوستاں تنہا

بہشت ہو تو نہ منہ کیجے باغباں تنہا

 

پھروں ہوں دشت میں جو گرد ِ کارواں تنہا

کدھر کو چھوڑ گئے مجھ کو ہم رہاں تنہا

 

اکیلے آنے کی ایسی کوئی نہیں تقریب

کہو کہ جاؤں ہوں میں بہر امتحاں تنہا

 

خبر لے حال سے مجنوں کے صاحب ِ محمل

کرے ہے آج جرس نالہ و فغاں تنہا

 

سنا نہ ہووے جو سودا تو خلق صائب کا

تو پوچھ خلق سے، میں کیا کروں بیاں تنہا

٭٭٭

 

 

 

 

 

کیا جانیں کس کی خاک ہو، رکھ ہوش ِ نقش ِ پا

یوں دھر قدم کہ تا نہ دبے دوش ِ نقش ِ پا

 

اعمال ِ رفتگاں کی مکافات ِ کر نظر

حیراں رہے ہے صورت ِ خاموش ِ نقش ِ پا

 

کس کی سنیں ہیں خاک نشینان ِ راہ ِ عشق

گوش اپنے گر ہیں اتنے کہ جوں گوش ِ نقش ِ پا

 

افتاد گاں تک ان کے کیا لیں گے راہ زن

جز خاک کچھ ہیں ہے در آغوش ِ نقش ِ پا

 

سودا بہ قول ِ حضرت ِ بیدل بہ کوئے دوست

” خط ِ جبین ِ ماست ہم آغوش ِ نقش ِ پا ”

٭٭٭

 

 

 

کیوں میں تسکینِ دل، اے یار! کروں یا نہ کروں؟

نالہ جا کر پسِ دیوار کروں یا نہ کروں؟

 

سن لے اک بات مری تو کہ رمق باقی ہے

پھر سخن تجھ سے ستم گار کروں یا نہ کروں؟

 

ناصحا! اُٹھ مرے بالیں سے کہ دم رکتا ہے

نالے دل کھول کے دو چار کروں یا نہ کروں؟

 

سخت مشکل ہے کہ ہر بات کنایہ سمجھو

ہے زباں میرے بھی، گفتار کروں یا نہ کروں؟

 

موسمِ گُل ہے ، میں صیّاد سے جا کر یارو

ذکرِ مرغانِ گرفتار کروں یا نہ کروں؟

 

حال باطن کا نمایاں ہے مرے ظاہر سے

میں زباں اپنی سے اظہار کروں یا نہ کروں؟

 

عہد تھا تجھ سے تو پھر عمر وفا کرنے کا

اِن سلوکوں پہ، جفا کار، کروں یا نہ کروں؟

 

کوچۂ یار کو میں، رشکِ چمن، اے سودا

جا کے با دیدۂ خوں بار کروں یا نہ کروں؟

٭٭٭

 

 

 

محتسب آیا بزم میں، ساقی لے آ شراب کو

یہ نہ سمجھ کہ شب پرک دیکھے گی آفتاب کو

 

آنکھوں کا میری ان دنوں، یارو ہے طرفہ ماجرا

میں تو روؤں ہوں اُن کے تئیں ہنستی ہیں یہ سحاب کو

 

دم ہی رہا یہ پیرہن، تو تو ہو اشک بہہ گیا

جن نے نہ دیکھا ہو مجھے، دیکھے وہ جا حباب کو

 

پند سے تیری زاہدا ! حال مرا یہ مے سے ہے

سگ کا گزیدہ جس طرح دیکھ ڈرے ہے آب کو

 

مجنوں بہ ریگِ بادیہ کیوں نے کرے شمارِ غم

یاں نہ تو جا شمار کی، دخل نہ یاں حساب کو

 

موسمِ گُل میں اب کے سال، بادہ بغیر ساقیا

ہم نے کیا بہ جامِ چشم، خونِ دلِ خراب کو

 

یار کے بیتِ ابرو پر خال نہیں، وہ ہے نقط

آفریں ہے صد آفریں صاحبِ انتخاب کو

 

خامشی موجبِ رضا کب ہو سوالِ بوسہ کی

تنگی ہی اس دہن کی راہ دیتی نہیں جواب کو

 

سودا امیدِ وصل کی کس کو ہے یاں کہ رہ نہیں

اپنے دل اور چشم میں ایسے خیال و خواب کو

٭٭٭

 

 

 

 

سالہا ہم نے صنم نالۂ شب گیر کیا

آہ اک روز نہ ترے دل میں*تاثیر کیا

 

حشر میں بھی نہ اٹھوں بسکہ اذیت کھینچی

زندگانی نے دو عالم سے مجھے سیر کیا

 

ایک عقدہ نہ کھلا رشتۂ تقدیر سے حیف

ہم نے فرسودہ بہت ناخنِ تدبیر کیا

 

کیا ہی وحشت زدہ مضموں تھے جنہیں کہ سودا

تو نے ہر مصرع موزوں میں زنجیر کیا

٭٭٭

 

 

 

نسیم ہے ترے کوچے میں اور صبا بھی ہے

ہماری خاک سے دیکھو تو !کچھ رہا بھی ہے

 

ترا غرور ،مرا عجز، تا کجا ظالم!

ہر ایک بات کی آخر کچھ انتہا بھی ہے

 

جلے ہے شمع سے پروانہ اور میں تجھ سے

کہیں ہے مہر بھی جگ میں ، کہیں وفا بھی ہے؟

 

ستم روا ہے ،اسیروں پہ اس قدر صیّاد!

چمن چمن کہیں بلبل کی اب نوا بھی ہے

 

سمجھ کے رکھیو قدم دشتِ خار میں مجنوں

کہ اس نواح میں سوداؔ برہنہ پا بھی ہے

٭٭٭

 

 

چمن ہے کس کے گرفتار زلف و کاکل کا

کہ اس قدر ہے پریشان حال سنبل کا

 

کبھی گزر نہ کیا خاک پر مری ظالم

میں ابتدا ہی سے کشتہ ہوں اِس تغافل کا

 

فلک خوشی سے تو جو کچھ عوض کرے میں کروں

سوائے غم کے ہے مایہ مرے توکّل کا

 

خبر شتاب لے سودا کے حال کی پیارے

نہیں ہے وقت مری جان یہ تامّل کا

٭٭٭

 

 

 

 

نہ کھینچ اے شانہ ان زلفوں کو، یاں سودا کا دل اٹکا

اسیرِ ناتواں ہے یہ، نہ دے زنجیر کو جھٹکا

 

میاں میں‌ رات کو سن ہر کسی کے پاؤں کا کھٹکا

اُٹھایا سر کو بالیں سے تو پھر دیوار سے پٹکا

 

نہ آنکھوں میں تری جادو، نہ ہرگز سحر زلفوں میں

یہ دل جس سے ہے دیوانہ محبت کا ہے وہ لٹکا

 

پرے رہ برق، خارِ آشیاں میرے سے کہتا یوں

اڑے گا دھجیاں ہو کر ترا دامن جو یاں اٹکا

 

نواحی میں ترے کوچے کی ہے یہ حال سودا کا

کہ جوں چُغد آشیاں گم کر کے بستی میں پھرے بھٹکا

٭٭٭

 

بہنا کچھ اپنی چشم کا دستور ہو گیا

دی تھی خدا نے آنکھ سو نامور ہو گیا

 

بھٹکی پھرے ہے کب سے خدایا مری دعا

دروازہ کیا قبول کا معمور ہو گیا

 

خوش ہیں  شکستہ بالی سے اپنی ہم اس لئے

پرواز کا تو دل سے خلش دور ہو گیا

 

شب آگیا جو بزم میں پیارے تو یک بیک

چہرے سے رنگ شمع کے کافور ہو گیا

 

سودا کو کہتے  ہیں کہ اس سے مصاحبت

کہنا غلط یہ حرف بھی مشہور ہو گیا

٭٭٭

 

 

 

 

نہ اشک سے بہتے ہیں نہ دل سے اٹھتی ہیں آہیں

سبب کیا کاروان درد کی مسدود ہیں راہیں

 

جو ان کی دوستی سے مطمئن ہووے سو کافر ہو

یہ ظالم مار ڈالیں بات کہتے ہیں جسے چاہیں

 

روئے ہیں زور ہم اس سرزمیں پر چاہے دہقان

بجائے دانہ دل بو دیں اگر اب کے زمیں گاہیں

 

مرے گلشن میں کب نالہ ترا ہو سبز اے قمری

بجائے سردیاں خاک چمن سے اگتی ہیں آہیں

 

نہ پہنچا منزل مقصود کو مجنون بھی اے سودا

سمجھ کر جائیو مرتے ہیں ملک عشق کی راہیں

٭٭٭

 

 

 

 

سجدہ کیا صنم  کو میں دل کے کشت میں

کہہ اس خدا اسے شیخ جو ہے سنگ و خشت میں

 

جوں تاک اینڈتے ہیں پڑے میکدوں میں مست

زاہد بھلا یہ عیش ہیں باغ بہشت میں؟

 

گزارا ہے آب چشم مرے سر سے بارہا

لیکن نہ وہ مٹا کہ جو تھا سر نوشت میں

 

ہرگز نہ مر تو قصر فریدوں کے رشک سے

جاگہ کر اپنی دوست دل خوب و زشت میں

 

سودا کو شمع بزم جو کہتے تو تھا بجا

ہے اشک آہ سو ختن اس کی سرشت میں

٭٭٭

 

 

 

سحر جو باغ میں دلدار ایک بار آیا

نثار میوہ سے ہر نخل زیر بار آیا

 

قسم نہ کھائیے ملنے کی غیر سے ہر گز

کہا نہ تم نے میاں ہم کو اعتبار آیا

 

گئے جہان سے کیا کیا ستیزہ جو تہہ خاک

کہ گل بہار میں مجروح بے شمار آیا

 

خبر لو وادی میں سودا کی یوں سنا ہے آج

کہ ایک شوخ کسی بے گنہ کو مار آیا

٭٭٭

ماخذ: اردو محفل اور دوسری ویب سائٹس

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید