FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

اللہ میاں کے مہمان

حصہ دوم

               اعجاز عبید

دیارِ نبی سے جوار بیت اللّہ تک

پہلے کچھ وہ احوال لکھ دیں جس کا ذکر چھوٹ گیا ہے۔ یعنی مدینے سے واپسی سے شروع کریں۔

12/ اپریل کو مسجد نبوی میں عشاء پڑھ کر “مرکزِ سفیر”، ہماری سرائے یا سفارت خانے پہنچے تو دیکھا کہ کئی لوگ سامان کمروں سے اتار کر نیچے لا چکے ہیں اور بسیں بھر رہی ہیں، ہمارا سامان بھی تقریباً تیار ہی تھا، ہاں، کھانا کھانا تھا۔ جلدی سے تندور سے کھانا لے کر آئے۔ صابرہ نے تو کھایا بھی نہیں۔ کہنے لگیں کہ آپ کھائیے، میں سامان رکھواتی ہوں، پہلے یہ بھی معلوم کرنا تھا کہ ہماری بس کون سی ہے۔ مدینے کے پاس یا شناختی کارڈ پر اس کا اندراج کروانا تھا، اس میں بس نمبر لکھا جاتا تو پھر اس بس میں سامان رکھواتے۔ ہم نے جلدی جلدی کھانا زہر مار کیا اگرچہ اتنی جلدی کی ضرورت نہیں تھی، صابرہ بھی کھانا کھا سکتی تھیں۔ بہر حال سامان رکھوا کر ساڑھے دس بجے سفارت خانے سے نکل سکے۔

سفر میں وہی کئی جگہ نقاطِ تفتیش۔ ہر جگہ بس رکی مگر کسی کو اترنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پھر اسی “مرکز استقبال حجّاج” پر۔ یہاں کچھ اشیائے خوردنی پیش کی گئیں “مدینے کے عوام کی جانب سے آپ کے لئے رخصتی تحفہ” پیکٹ پر تحریر تھا اردو میں۔ ہر پیکٹ میں ایک دودھ کا پیکٹ، ایک شربت کا پیکٹ۔ 8۔ 10 کھجوریں اور کچھ کیک۔ ایک بجے کے قریب ذوالحلیفہ پہنچے۔

ہاں، بعد میں ہم کو معلوم ہو گیا کہ ہمارا خیال صحیح تھا کہ حرمِ مکہ میں داخلے کا پروانہ احرام ہی ہے جسے عمرہ کر کے ختم کیا جا سکتا ہے یا حج کر کے(اگر آپ 8/ ذی الحجّہ کے بعد مکّے میں داخل ہوں تو)۔ ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ کچھ ساتھیوں کا ارادہ نہیں تھا عمرہ کرنے کا اس لئے احرام مکّے میں چھوڑ کر آ گئے تھے۔ جو لے کر گئے تھے ان کا ارادہ تھا کہ سب باندھیں گے تو ہم بھی باندھیں گے۔ ہمارا ارادہ تو تھا ہی باندھنے کا۔ رات ایک بجے بس مسجدِ میقات پہنچی تو پہلے کہا گیا کہ آدھے گھنٹے میں نہا دھو کر احرام باندھ کر واجب الاحرام نماز پڑھ کر بس میں واپس پہنچ جائیں۔ جن کے پاس احرام نہیں تھے ان کو احرام کے حصول کی فکر ہوئی۔ وہ تو شکر کہ وہاں بھی احرام کی دوکانیں تھیں ان کو 15۔ 20 ریال خرچ کرنے پڑے۔ ہمارا احرام تو حیدرآباد کا ہی تھا اور پہلے ہی عمرے کے بعد دھو کر تیار کر رکھا تھا۔ اس وجہ سے ہم کو دقّت نہیں ہوئی ، لوگوں کو کافی وقت لگا اور پونے تین بجے وہاں سے پھر نکل سکے۔ پھر دو گھنٹے بعد ہی ایک جگہ فجر کے لئے روکی گئی بس۔ یہ جگہ اچّھی نہیں تھی۔ نہ غسل خانے صاف تھے اور نہ پانی کی سہولت۔ ہوٹل کے واش بیسن سے پانی لے کر وضو کیا۔ کچھ لوگ ضروریات سے بھی فارغ ہوئے۔ نماز پڑھ کر چائے پی کر چلے تو ساڑھے سات بجے پھر اسی زم زم یونائیٹیڈ آفس کے کامپلیکس میں رکے۔ یہاں بھی بس کافی دیر رکی رہی۔ ہر حاجی کو ٹھنڈے زم زم کی ایک لٹر کی بوتل پیش کی گئی۔ اس کے بعد کافی وقت مکّے میں ہی ہمارے معلّم کے مکتب پر بھی بس رکی اور جب ہم ہماری عمارت رقم 468 پر پہنچے تو 11 بجنے والے تھے۔ اس دیر کی وجہ سے ظہر کی جماعت چھوڑ کر ہم نے سامان ٹھیک ٹھاک کیا اور کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر 2 بجے حرم کے لئے عمرے کے ارادے سے نکلے۔ وہاں ہی پہلے ظہر ادا کی، اس کے بعد طواف اور سعی۔ اس وقت تک عصر کا وقت نہیں ہوا تھا اس لئے باہر آ کر چائے پی اور پھر عصر کے لئے گئے۔ نماز کے بعد سر پر مشین پھروا کر باہر آ گئے۔ صابرہ کے بال ہم نے ہی کاٹ لئے۔

دو روز میں ہی “شہر” کا “نقشہ” بدل گیا

ہم مکّے پہنچے تو مکّہ اچانک بدلا ہوا لگا۔ یا تو حرم میں ہی نہیں، سڑکوں پر بھی صفائی کا یہ عالم تھا کہ آپ ایک کونے میں کھڑے ہو کر مشاہدہ کرتے تو معلوم ہوتا کوئی صاحب چلتے چلتے پےپسی کا کین سڑک پر پھینک گئے ہیں اور پھر آپ فوراً ہی دیکھتے کہ اس ڈبّے کو میونسپلٹی کا کوئی آدمی (بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کام بھی پرائیویٹ کمپنی کے سپرد ہے۔ بلکہ دو کمپنیاں ہیں مکّہ اور مدینہ میں، بِن لادِن اور دلّہ اور یہ کام وہاں کی میونسپلٹی کا نہیں) اپنے بڑے سے کارٹن میں بھر کر اٹھا لے جاتا۔ مگر اس بار مکّہ بدلا ہوا لگا۔ دور کی سڑکوں پر تو پھر صفائی دیکھی مگر حرم کے قرب و جوار میں سڑک پر لاتعداد ٹوٹی ہوئی پانی کی بوتلیں اور کولڈ ڈرنکس ،بوتلیں اور” ٹیٹرا پیک ” (Tetrapack، ہندوستان کی “فروٹی “قسم کے) پیکٹس۔ فٹ پاتھوں پر بھی لوگ چٹائی بچھا کر کیمپ کئے ہوئے نظر آئے۔ غسل خانوں کی راہداریوں میں بھی ہر طرف کیمپ تھے۔ یہ آس پاس کے حاجی تھے غریب غرباء۔ ۔ بس ایک ’’حاجی چٹائی” جس میں ایک ہوائی تکیہ بھی سلا ہوتا ہے، بچھائی، سرہانے اپنا تام جھام رکھ لیا، اور سو رہے۔ ہم کو اپنا ہی شعر یاد آ گیا ؎

اٹھا اور اٹھ کے ترے کوچے میں ہی جادہ کیا: سفر تو پاؤں میں تھا، اہتمام کیا کرتا

اور ؎

یہی بہت ہے شکم پُر ہے اور تن پہ لباس: ترے بغیر میں کچھ تام جھام کیا کرتا

نماز کی جماعت ہوئی، انھیں چٹائیوں پر صفیں بن گئیں قبلہ رخ۔ ورنہ جس طرح بچھانے کی جگہ ملی، ویسی ہی بچھائی گئیں۔ یہاں وہ امراء بھی تھے جن کو کسی ہوٹل میں جگہ نہ مل سکی تھی۔ کچھ اس قسم کے زائرین کی کاریں بھی تھیں جو سڑک پر پارک تھیں، کاریں نہیں بلکہ جنہیں انگریزی میں کارواں کہا جاتا ہے کہ لوگوں کی انھیں میں رہائش تھی۔

حرم میں بھی ہر طرف بے حد بھیڑ۔ پہلے ہی دن ہم چاہ رہے تھے کہ اس طرح صف میں بیٹھیں (جیسے پہلے کوشش کرتے تھے) کہ صابرہ عورتوں کی صف میں آگے ہوں اور ہم مردوں کی صف میں آخر اور ان سے قریب کہ بعد میں آسانی سے ساتھ ساتھ نکل سکیں۔ مگر ممکن نہ ہوا۔ عورتوں کے لئے جگہ بنانے کی کوشش میں بار بار اٹھا دئے جاتے یہاں تک کہ سیڑھیوں پر بیٹھنے کی نوبت آ گئی تو ہم اوپر ہی چلے گئے۔ نماز پڑھ کر کافی دیر رکے بھی کہ بھیڑ چھٹ جائے اور جب ساڑھے سات بجے نکل سکے تب بھی سڑکوں پر بھیڑ کا وہ عالم تھا جیسے ابھی جماعت ختم ہوئی ہے۔ یہاں سے وہاں تک نئی نئی دوکانیں۔ اور مہنگائی بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ اب حجامت کو ہی لیجئے۔ پہلے دن جب ہم نے ہندوستان سے مکّے پہنچ کر پہلا عمرہ کیا تھا تو مشین سے بال کٹوانے کے تین ریال دئے تھے، تب ہی معلوم ہوا تھا کہ استرے سے بال منڈوانے کے 5 ریال اور محض قینچی سے بال کٹوانے کی اجرت ایک ریال ہوتی ہے۔ مگر اس دن، 6 ذی الحجّہ کو مدینے سے واپسی کے بعد کے عمرے کے بعد سر پر مشین پھروائی تو 5 ریال دئے۔ حجامت کی اجرت اب تین اور استرے کی اجرت 10 ریال تھی۔ ہمارا ارادہ استرے سے ہی منڈوانے کا تھا مگر حجّام صاحب کو مہلت نہ تھی، کہنے لگے کہ یہ نیک ارادہ ہو تو 12 بجے کے بعد آئیے۔

عذاب النّار

ویسے تو 8/ ذی الحجہ کو فجر کے بعد منیٰ کے لئے روانہ ہونا چاہئے تھا کہ وہاں اس دن ظہر سے اگلی صبح فجر تک کی پانچ نمازیں پڑھنے کی سنّت ہے مگر کیوں کہ زائد پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے اکثر معلّم حضرات بعد میں رش سے بچنے کے لئے ایک رات پہلے ہی پہنچ جانے کا اہتمام کر تے ہیں۔ ایسا ہی ہمارے یہاں اعلان کیا گیا، یعنی کہ اب احرام باندھ لو۔ عموماً لوگ کمر کس کر تیار ہوتے ہیں، حج کے لئے احرام کس کر تیار ہونا تھا۔ ہم نے سوچا کہ بس آ جائے گی تب ہی احرام باندھیں گے۔ حرم سے سرِ شام ہی نہا دھو کر آ گئے تھے۔ سامان تیار تھا۔ بس احرام باندھ کر 2 رکعت نماز واجب الاحرام ادا کر کے نکل جانا تھا۔ مگر بسیں نہیں آئیں ، یہی ڈر تھا ہمیں ہمیشہ۔ رات کو 3 بجے معلم کے کارکن آئے کہ بسیں آ رہی ہیں۔ اس وقت یہ لوگ منیٰ کے خیموں کے نمبر بھی الاٹ کر گئے۔ مگر بسیں آئیں تو ٹھیک ساڑھے سات بجے۔ ہم لوگ کمروں پر ہی فجر کی نماز پڑھ چکے تھے۔ جلدی جلدی ناشتہ کیا، وضو کیا، احرام باندھا، نماز پڑھی اور گاڑیوں میں بیٹھ گئے۔ ٹریفک کا رش بہت تھا راستے میں چناں چہ یہ 9 کلو میٹر کا راستہ ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوا یعنی پونے آٹھ بجے نکلے تو سوا نو بجے منیٰ اپنے کیمپ پہنچ سکے۔

20 /اپریل ۔ صبح پونے سات بجے

منیٰ میں ایک ایک خیمے میں 25۔ 30 لوگوں کا انتظام تھا مگر جو لوگ پہلے پہنچ چکے تھے انھوں نے اپنی چوڑی چوڑی چادریں اور چٹائیاں پہلے ہی بچھا کر (15۔ 20 لوگوں نے ہی) پورے پورے خیمے بھر لئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہاں جگہ نہیں ہے، دوسرے خیمے میں جائیے۔ ہمارا خیمہ نمبر 117 تھا ۔ یہ لوگ کہہ رہے تھے کہ اسی نمبر کا کوئی دوسرا خیمہ بھی ہوگا جس میں ہماری رہائش کا انتظام ہوگا الاٹمنٹ کے مطابق۔ ہمارے مکتب نمبر 53 کے آدمی بھی وہاں تھے اور یہ واقعی ہمارے مکتب کا ہمارا ہی خیمہ تھا۔ بہرحال جگہ بنائی گئی۔

صبح ہم تو ناشتے کے ساتھ چائے پی چکے تھے، صابرہ نے نہیں پی تھی، اس کے لئے پھر باہر نکلے۔ صابرہ نے کہا کہ دوپہر کے لئے بھی کچھ کھانا خرید ہی لاؤں۔ یہ کام کیا۔ ہم نے بھی چائے پی۔ اسی میں 11 بج گئے۔ اب ظہر کے لئے وضو کی تیاری کرنے کے لئے خیمے سے باہر نکلے۔ کچھ لوگوں کا مسجدِ نمرہ جانے کا ارادہ تھا۔ ہم بھی اس میں شامل تھے۔ اگرچہ صابرہ کے لئے ہم اس کے حق میں نہیں تھے۔ بہر حال غسل خانوں کی طرف نکلے تو جنوب کی جانب دھواں نظر آیا۔ فوراً پتہ چل گیا کہ کہیں آگ لگ گئی ہے۔ اس صورتِ حال کی اطّلاع دینے پھر اندر خیمے میں گئے تو پتہ چلا کہ صابرہ بھی عورتوں کے غسل خانوں کی طرف نکل گئی ہیں۔ کچھ دیر خیمے میں ان کا انتظار کیا۔ اس اثناء میں باہر انتشار کی آوازیں آنے لگیں۔ ہم بھی پھر باہر نکلے اور حالات کا جائزہ لینے لگے۔ ادھر لاؤڈ سپیکر پر اعلان ہونے لگا کہ آگ ضرور لگ گئی ہے مگر اس پر قابو پایا جا رہا ہے۔ سب لوگ اپنے خیموں سے باہر نہ نکلیں اور پریشان نہ ہوں۔ اور یہ بھی کہ سب لوگ دعا کریں۔ بیچ بیچ میں خیمے میں جا کر صابرہ کو بھی دیکھتے رہے مگر وہ نہ جانے کہاں غائب تھیں۔ جیسے ہی صابرہ ملیں، ہم نے ارادہ ظاہر کیا کہ باہر نکلا جائے۔ مگر اسی وقت پھر اعلان ہوا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، ہم لوگ سکون سے اپنے خیموں میں رہیں۔ چناں چہ ہم نے سامان جو ہاتھوں میں اٹھا لیا تھا، پھر رکھ دیا ۔ چٹائیاں بھی اٹھا لی تھیں وہ پھر بچھا دیں کہ جگہ پر قبضہ نہ ہو جائے۔ اور باہر آ کر حالات پر غور کرتے رہے۔ کبھی واقعی محسوس ہوتا کہ آگ کم ہو گئی ہے مگر پھر فوراً ہی نزدیک ہی کہیں اور دھواں دکھائی دیتا۔ ہم کو خیموں کی آگ کا تجربہ تھا۔ ہماری ٹریننگ کے دوران ہم نے رائے پور میں محض 2۔ 3 منٹ میں پورا بڑا خیمہ راکھ ہوتے دیکھا تھا۔ ہم جیالاجسٹ لوگوں کو خیموں میں رہنے پر کتنی احتیاط کی ضرورت پڑتی ہے، اس کا ہمیں پتہ تھا مگر لوگوں کو اندازہ نہیں تھا۔ بلکہ کل تک اس ہولناک آتش زدگی کے باوجود لوگ خیموں کی دیواروں سے لگ کر بیڑی سگریٹ پیتے ہوئے نظر آئے اور باز نہ آئے۔ بہر حال اس وقت بھی یہی اعلان ہوتا رہا کہ ہراس کی ضرورت نہیں، مگر ہم نے فیصلہ کیا کہ باہر نکل جانے میں ہی عقل مندی ہے۔ چناں چہ ہم نے اب چٹائیاں بھی وہیں چھوڑیں۔ دال روٹی جو لے کر آئے تھے اس کا پیکٹ بھی چھوڑ دیا اور محض اپنے تین عدد بیگ اور پانی کی تھرمک بوتلیں لے کر سکون سے باہر آ گئے۔ اس وقت ہمارے خیمے میں کوئی نہیں تھا۔ سب کا سامان اندر ہی تھا یعنی کسی نے خیمہ خالی نہیں کیا تھا مگر سب حالات کا جائزہ لینے باہر ہی تھے۔ جب ہم باہر آئے تو پتہ چلا کہ افراط و تفریط کا کیا عالم ہے۔ جنوب مشرق کی طرف جہاں آگ لگی تھی، وہاں سے سب شمال مغرب کی طرف بھاگ رہے تھے۔ مکّے کی سمت۔ ہم بھاگے نہیں ہوش مندی اور سکون سے چلتے رہے۔ خدا کے فضل سے ہم دونوں عقل مند واقع ہوئے ہیں۔ ابھی منیٰ آئے ہوئے گھنٹہ بھر ہی ہوا تھا اس لئے جغرافیہ اور راستے معلوم نہیں ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے ہم باہر نکل کر راستوں کے مخصوص نشانات (Landmarks) دیکھتے ہوئے چلے کہ واپسی میں بھٹکیں نہیں۔ مگر جو لوگ واقعی جان بچا کر بھاگے تھے ان کا عالم دوسرا ہی تھا۔ ساری سڑک پر بھاگنے والوں کے جوتے چپّلیں، چھاتے۔ احرام اور عورتوں کے دوپٹّے تک پڑے ہوئے ملے۔ گرمی کے باعث کچھ عورتیں بے ہوش ہوتی رہیں۔ کوئی ڈیڑھ کلو میٹر آگے جانے پر ایک سایہ دار راستہ نظر آیا (اس وقت تک جغرافیہ معلوم نہ تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ شیطان تھے جہاں کنکریاں مارنے کے لئے دو منزلہ فلائی اوور بنائے گئے ہیں۔ یہ اسی فلائی اوور کی چھت تھی۔ یہیں سے مکّے کے لئے انڈر گراؤنڈ راستہ بھی جاتا ہے جس پر لوگ پیدل منیٰ آتے جاتے ہیں) سوچا یہاں پناہ لی جائے کہ یہاں خیموں کی قطاریں ختم ہو گئی تھیں اور اس طرح آگ کے وہاں تک پہنچنے کا سوال ہی نہ تھا۔ مگر یہاں پولس سائے میں یعنی چھت کے نیچے داخل ہونے نہیں دے رہی تھی۔ اس کی وجہ بھی بعد میں معلوم ہوئی۔ انھیں راستوں سے ایمبولینس اور پولس کی گاڑیاں دوڑ رہی تھیں اور اگر بھاگنے والے یہ راستہ بھی بند کر دیتے تو فلاح کے کاموں میں اور مشکل پیدا ہوتی۔ فائر انجن بھی گزر رہے تھے۔ کچھ دیر یہاں رکے مگر پھر اور آگے چلے کہ کہیں اور سائے دار جگہ ملے تو وہاں رکیں۔ آگے جانے پر معلوم ہوا کہ یہ جمرات کا علاقہ ہے۔ جب تینوں شیطان پار کر لئے تو ایک بورڈ پر نظر پڑی۔ “نہایۃ مِنیٰ ” انگریزی میں Mina ends here ہم وہیں رک گئے کہ اس سے آگے تو جائیں گے نہیں۔ معلوم نہیں تھا کہ وہاں کب تک رکنا پڑے۔ منیٰ کا قیام ضروری ہے کہ یہ حج کے واجبات میں سے ہے۔ اگرچہ ضرورت ہو تو تھوڑے وقت کے لئے باہر جا سکتے ہیں مگر زیادہ دیر تک نہیں۔ کچھ دیر دھوپ میں کھڑے رہے۔ اس عرصے میں غالباً الجزائر کی ایک عورت کو غش آ گیا تو اسے سائے میں لِٹانے کے لئے لوگوں نے منّت سماجت کی۔ پولس تب بھی نہ مانی تو لوگوں نے ایک ریلہ بنایا اور پولس ،جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے اور ڈنڈے پکڑے گھیرا ڈال کر کھڑی تھی، کی قطار کو دھکیل کر سائے میں بیٹھ گئی۔ پولس کو ہار ماننی پڑی۔ ہم کو بھی سکون ملا۔ ہم لوگ پونے بارہ بجے اپنے خیمے سے نکلے تھے اور اس ڈیڑھ کلو میٹر کی دوری تک پہنچنے میں 2 بج گئے تھے۔ پانی کی بوتلیں بھی خالی ہو گئی تھیں ۔ 3 بجے سے ہم نے دیکھا کہ لوگوں نے واپسی کے لئے حرکت کرنی شروع کر دی۔ کچھ لوگوں نے وہاں ہی مختصر جگہ میں ظہر کی نماز شروع کر دی۔ ہم لوگ بھی دس منٹ بعد ہی اٹھ گئے اور واپسی کا سفر شروع کیا۔ یہ بھی ایک ریلہ تھا مگر 2 بجے تک آگ سے بچ کر بھاگنے والوں کی بھیڑ ختم ہو گئی تھی۔ اس لئے اب یک طرفہ “ٹریفک” ہی تھا۔ اس ریلے کو بھی پولس نے جگہ جگہ روک کر پو لس اور ایمبولینس کی گاڑیوں، فائر انجنوں اور پانی کے ٹینکروں کی آمد و رفت کے لئے جگہ بنائی۔ جب اس علاقے میں پہنچے جہاں سے خیمے شروع ہوتے تھے تو دیکھا کہ اس سڑک (سوق العرب) پر بالکل آخر کی لائن کے ایک آدھ کیمپ کے خیموں کو چھوڑ کر سب راکھ ہو چکے تھے۔ سامان سڑکوں پر بکھرا پڑا تھا، کچھ جلا ہوا ، کچھ ادھ جلا۔ ہر طرف کیچڑ پانی کی وجہ سے۔ غالباً سامان کو بچانے کی نیّت سے باہر پھینکا گیا تھا مگر لوگوں کی آمد و رفت کے باعث یہ اب قابلِ استعمال نہ رہا تھا۔ ہم بھی لوگوں کے جوتے، چپّلیں، کپڑے، احرام، واٹر باٹلس، جا نمازیں، چٹائیاں، بیگ اور سوٹ کیسوں تک کو روندتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ ویسے ہر کیمپ میں آگ کے خطرے کے پیش نظر اونچے اونچے میناروں(Towers) میں بڑے بڑے پانی کے نل لگے تھے۔ سڑکوں کی دونوں جانب بھی فوّارے تھے جو در اصل فضا کو ٹھنڈا رکھنے کے مقصد سے استعمال کئے جا رہے تھے، ان سب کا پانی بھی استعمال کیا گیا ہوگا اور پھر فائر انجنوں اور ٹینکروں سے بھی پانی ہر طرف چھڑکا گیا تھا، کچھ حفاظت کی غرض سے بھی۔ ہر طرف آگ بجھانے والے سلنڈر بھی لگے تھے۔ اپنی پناہ گاہ سے ہم نے ہیلی کوپٹروں کو بھی کچھ کیمیائی شے چھڑکتے ہوئے دیکھا تھا۔ غرض انتظام میں کوئی کمی تو نہیں تھی، مگر ہونی کو کون روک سکتا ہے۔ جب اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے تو ہو کر ہی رہتا ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کو برا بھلا کہنا بھی غلط ہے۔

ہم راستے میں خیموں کی حالت دیکھ کر وہی حالت اپنے خیموں کی بھی تصوّر کر رہے تھے۔ مگر جب ہم ہمارے مکتب نمبر 53 کے کیمپ پہنچے تو عجیب صورتِ حال تھی۔ ہمارے بلاک کے خیموں کو آگ نے چھوا بھی نہیں تھا۔ اس کے دونوں طرف کے خیمے پوری طرح جل چکے تھے۔ درمیان میں غسل خانوں کی ایک پکّی عمارتوں کی قطار تھی، اس کے ایک ہی طرف عذاب نازل ہوا تھا۔ با”’ہندوستان کی ُئیں طرف کے سارے خیمے محفوظ تھے۔ اس بلاک کے 10۔ 12 خیموں کو صرف یہ نقصان پہنچا تھا کہ آگ بجھانے بلکہ آگ سے حفاظت کے لئے اوپر سے پانی چھڑکا گیا تھا، اس وجہ سے چھتیں بھاری ہو کر یہ خیمے گر گئے تھے یا باقاعدہ گرا دئے گئے تھے۔ ہم کو اپنا خیمہ ڈھونڈنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی (اور نہ اس سے پہلے اپنے کیمپ کا راستہ ڈھونڈنے میں۔ اکثر لوگ اس افراط و تفریط میں بھٹک بھی گئے تھے) اندازے سے خیمے کا کپڑا اٹھا کر دیکھا تو ہماری چٹائیاں بھی محفوظ تھیں۔ ہمارا صرف اتنا نقصان ہوا کہ دال روٹی کا پیکٹ دب کر پھٹ گیا تھا اور کھانا بکھر گیا تھا جس سے چٹائیاں خراب ہو گئی تھیں۔ آتے ہی ہم نے اپنے معلّم کے ایک کارکن سے(جو عرب ہی تھا مگر انگریزی داں) آتش زدگی کا احوال پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ جانی نقصان کچھ نہیں ہوا ہے۔ حالاں کہ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ محض جھوٹی تسلّی تھی کہ لوگ ہراساں نہ ہوں۔

ہمارے خیمے کے لوگوں میں ہم ہی پہلے پہنچے تھے۔ محبوب نگر کے جو تینوں صاحبان تھے یعنی مظہر بھائی، جبّار بھائی اور ستّار بھائی، ان کا اور ان کی بیویوں کا کہیں پتہ نہیں تھا۔ ہاں، صبح ہی مظہر بھائی کے دو بیٹے اور ان کی بیویاں ریاض سے حج کے لئے وہاں پہنچے تھے مگر ان کا مکتب دوسرا تھا، مگر وہ لوگ صبح اپنے والدین کے ساتھ ہی تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں جبّار بھائی اور ان کی اہلیہ فاطمہ بھی آ گئیں تو ہم لوگوں نے خیمے کی چھت پر ہی ظہر کی قضا اور عصر کی نماز پڑھی۔ ویسے کچھ مسلکوں میں سفر میں ظہر اور عصر کی نمازیں ملانے کی اجازت ہے۔ ایسے ہنگامی حالات میں تو یقیناً اس کی اجازت ہونی چاہئے، اس لئے ظہر کی قضا بھی امید ہے کہ اللہ کے نزدیک وقت پر ہی یعنی ادا مانی جائے گی۔ وہ تو یوں بھی نیت ہی پہلے دیکھتا ہے۔

ادھر اعلان ہونے لگا کہ کیوں کہ یہ علاقہ رہائش کے لئے ٹھیک نہیں رہا ہے اس لئے سب لوگوں کو ابھی عرفات لے جایا جائے گا۔ وہاں جو اگلے دن کی رہایش کے انتظامات تھے وہ مکمل کر لئے گئے ہیں۔ جو لوگ تیار ہیں اور جن کا سامان مل گیا ہے وہ چاہیں تو مزدلفہ تک پیدل چلے جائیں کہ وہیں بسیں کھڑی ہیں۔ فی الحال منیٰ میں ٹریفک کی وجہ سے بسوں کا آنا ممکن نہیں۔ حالاں کہ ہمارا سامان تو محفوظ تھا اور ہم بھی محفوظ تھے، مگر ہم ساتھیوں کے منتظر رہے۔ ساڑھے پانچ بجے کے قریب مظہر بھائی ، ان کے بیٹے بہو ،اور ستّار بھائی آئے۔ معلوم ہوا کہ انھوں نے بالکل دوسری سمت میں پہاڑ کے اوپر پناہ لی تھی۔ اور وہاں کافی جگہ تھی۔ مظہر بھائی اپنی بیوی اور ستّار بھائی کی بیوی صفیہ کو وہیں چھوڑ کر آئے ہیں اور ان کا ارادہ اپنی طور پر اگلی صبح ہی عرفات جانے کا ہے۔ ہم ان سے کہہ رہے تھے کہ وہ لوگ سب کو یہاں ہی لے آئیں اور یہاں سے ساتھ ہی سب عرفات کے لئے نکلیں، مگر ان کا کہنا تھا کہ ہم بھی ان کے ساتھ ہی جائیں۔ ان کا دراصل خیال تھا کہ ابھی ہی عرفات کے لئے روانہ ہونے میں منیٰ کے قیام کی شرط پوری نہ ہوگی۔ ہمارے معلم کے انھیں کارکن نے ہم کو اور دوسروں کو حدیث سنائی بھی کہ اصل حج عرفات کا قیام ہے، منیٰ کا قیام محض سنّت ہے اور ان حالات میں سنّت کو چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ہمارا بھی یہی خیال تھا۔ مظہر بھائی مگر یہاں پانچ نمازیں پوری کرنے کا ارادہ ہی رکھتے تھے، چاہے کتنی ہی تکلیف کیوں نہ ہو۔ بہر حال پھر دونوں حضرات اپنی بیویوں کو بلانے چلے گئے، مظہر بھائی کی بہو کو ہمارے پاس ہی چھوڑ دیا گیا۔ مگر سات بجے تک ان لوگوں کا پتہ ہی نہیں تھا۔ مغرب سے کیمپ کی طرف ہی بسیں بھی آنی شروع ہو گئی تھیں۔ ہم سب فکر مند تھے کہ مظہر بھائی وغیرہ کیوں نہیں آئے اور ہم ان کا انتظار کریں یا نہیں۔ فکر یہ تھی کہ کہیں مظہر بھائی ہی وہ جگہ تو نہیں بھول گئے ہیں جہاں عورتوں کو بٹھا کر آئے تھے، یا پھر کارکنوں نے عورتوں کو وہاں سے ہٹا دیا ہو اور وہ کہیں اور چلی گئی ہوں۔ آخر وہ دونوں حضرات ہی آئے کہ ان دونوں کے خاندان کو اچھّی جگہ مل گئی ہے اور انھوں نے اپنا کیمپ تو بنا لیا ہے مگر شاید ہم سب بھی وہاں پہنچ جائیں تو جگہ تنگ ہو سکتی ہے۔ اس لئے ہم چاہیں تو بسں میں چلے جائیں۔ وہ لوگ صبح فجر پڑھ کر ٹیکسی سے عرفات پہنچ جائیں گے۔ ہمارے پاس ایک بیگ کچھ وزنی بھی تھا، اس لئے بھی ہم نے وہاں بسوں سے ہی اور اسی وقت عرفات جانے کا طے کر لیا۔ 7 بجے سے ایک کے بعد ایک بسیں آ ہی رہی تھیں۔ 8 بجے کے قریب ہم بھی ایک بس میں بیٹھ گئے، اگرچہ منیٰ کیمپ میں ابھی بھی افراتفری کا عالم تھا، کسی کا شوہر ابھی تک نہیں پہنچا تھا تو کسی کی بیوی۔ بیشتر اپنے کیمپ کا پتہ بھول گئے تھے۔ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں تھی جن کو اپنے کیمپ کا نمبر تک معلوم نہ تھا۔ جو پہنچ گئے تھے، ان کو اپنا سامان نہیں مل رہا تھا۔ مظہر بھائی کے بیٹوں کے کیمپ کا نمبر 54 تھا، ان کو اپنا بیگ ملا ضرور مگر مکمل جلا ہوا۔ ان کا کچھ سامان محفوظ نہیں رہا تھا۔ بہر حال ہم تو رات ساڑھے نو بجے تک عرفات پہنچ گئے تھے، مگر لوگوں کی آمد اگلے دن دوپہر 2۔ 3 بجے تک بھی جاری تھی جب کہ عرفات فجر کے فوراً بعد پہنچنا چاہئے تھا۔ وہاں ظہر اور عصر کی نمازیں ملا کر پڑھنی ہوتی ہیں اور پھر غروب آفتاب کے بعد اور عشاء سے پہلے مزدلفہ کے لئے نکلنا ہوتا ہے جہاں عشاء پڑھنے کا حکم ہے اور رات بھر جتنی عبادتیں ہو سکیں۔

جس وقت ہم عرفات پہنچے تب تک بہت ہی کم لوگ وہاں پہنچ سکے تھے۔ اس کے علاوہ کیوں کہ وہاں رات کا قیام نہیں ہوتا ہے اس لئے روشنی کا بھی معقول انتظام نہیں تھا۔ ویسے خیموں کے باہر راستوں کی روشنیاں ، جو شاید ہمیشہ ہی رہتی ہوں گی، جل رہی تھیں۔ کیوں کہ یہ خیمے کھلے ہوئے تھے، یعنی چھتیں تھیں مگر چاروں طرف دیواریں نہیں، اس لئے تھوڑی روشنی تو تھی۔ مگر اُس وقت تک پانی کا انتظام صحیح نہیں ہو سکا تھا۔ کم از کم پینے کا۔ ہاں، وضو کے لئے نلوں میں پانی تھا۔ جب سکون ملا تو ہم نے عشاء کی نماز پڑھی اور پھر باہر نکلے۔ اگر چہ امّید تو نہیں تھی کہ وہاں کھانا مل سکے گا۔ باہر آ کر دیکھا تو کچھ لوگ روٹی سالن لے کر آتے ہیں مگر جو لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو دو منٹ میں صفایا ہو جاتا ہے۔ کچھ دیر تو ہم نے بھی کوشش کی مگر کامیابی نہیں ہوئی۔ ہاں، کچھ بنگلہ دیشی خیموں میں ہی چائے لے کر آئے تو وہ ہم نے پی، رات کے 11 بجے، یعنی پورے بارہ گھنٹے بعد کچھ پیٹ میں گیا۔ (11 بجے صبح ہم نے چائے پی تھی، صبح 7 بجے مکّے سے ناشتہ کر کے نکلے تھے)۔ چائے ایک ایک ریال کی ہی تھی مگر عموماً ملنے والی مقدار سے نصف۔ شاید خالی پیٹ رہنے کی وجہ سے ہمارے سر میں بھی درد ہو رہا تھا۔ صابرہ تو فوراً سو گئیں، ہم ہی ٹہلتے رہے کہ سر درد کی حالت میں ہم سے لیٹا ہی نہیں جاتا۔

(تحذیر، توقّف متکرّر۔ رات 50۔ 9، 20 اپریل کی رات ہی۔ )

رات کو ایک بجے پانی تو نہیں البتّہ برف کی ایک گاڑی آئی۔ پالی تھین پیکٹس میں یہ ” مکعبات الثلج” (Ice Cubes) تھے ہم بھی لے کر آئے اور واٹر باٹلس میں بھر لئے۔ پہلے تو انھیں کو چوس کر پیاس بجھاتے رہے۔ جب کچھ پگھل گئے تو اس کا پانی پیا۔ اسی اثناء میں خیموں کے باہر تھرمک جگس بھی رکھ دئے گئے مگر دیکھا کہ انتظامیہ والے برف کے کیوبس میں وضو والا پانی ملا کر جگ بھر رہے ہیں۔ ہم خواہ مخواہ رات ڈیڑھ بجے تک پیاس برداشت کرتے رہے۔ رات ڈھائی بجے پھر ایک بار چائے پی۔ آخر کسی طرح نیند آنے لگی تو ہم ساڑھے تین بجے لیٹے۔ 4 بجے کے قریب سوئے ہوں گے کہ سردی کی وجہ سے سوا پانچ بجے آنکھ کھل گئی۔ فجر کے لئے اٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میں ہی صابرہ بھی اٹھ گئیں۔ نماز کے بعد ناشتے اور کھانے پینے کے انتظام کے لئے باہر نکلے کہ پچھلی صبح ناشتے کے بعد سے کچھ کھانے کو نہیں ملا تھا۔ خریدنے کو تو صرف چائے ہی تھی۔ البتّہ ایک جگہ چھاچھ مفت بنٹ رہی تھی۔ اس کے پیکٹ تھے جس پر لکھا تھا ” لبن طازج” انگریزی میں بھی Fresh Laban لکھا تھا۔ یہاں چھاچھ کو ( جسے اپنے یہاں بٹر ملک (Butter Milk) کہتے ہیں، تیلگو میں ” مجھّگا ” اور کنّڑ میں” مجھّگے “) لبن ہی کہتے ہیں۔ یہ دراصل نمکین چھاچھ ہوتی ہے۔ یہی جمع کر کے لائے۔ تھوڑی دیر بعد ایک گاڑی بھی آئی جس میں آلو گوشت کا سالن اور روٹی تھی۔ یہ خرید سکے اگرچہ بھیڑ کی وجہ سے پہلے شک تھا کہ شاید یہ بھی ہمیں ملنے سے پہلے ختم ہی ہو جائے۔ ہم اگرچہ ناشتے میں سالن وغیرہ نہیں کھاتے ہیں، بس، نخرے ہی ہیں کہ صرف میٹھا کھاتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ آملیٹ۔ اس وقت مجبوراً نہ صرف وہ گوشت کا سالن کھایا بلکہ اب تک جو ذبیحے میں شک کی وجہ سے گوشت مرغی سے پرہیز کر رہے تھے اسے بھی بالائے طاق رکھ دیا۔ آخر چوبیس گھنٹے سے چائے کے علاوہ کچھ نہیں کھایا تھا۔ بعد میں ایک بار اور ” لبن” ملی۔ (یا ملا۔ اس کی تذکیر و تانیث کے بارے میں ہمارا علم خاموش ہے)۔ ٹھنڈے پانی کی بوتلیں بھی تقسیم ہو رہی تھیں۔ ایک بار ہم اور صابرہ نکلے تو پورا کارٹن اٹھا کر لے آئے جس میں آدھے لٹر کی 24 بوتلیں تھیں۔ کچھ لوگوں میں تقسیم کیا اور اپنی دونوں واٹر باٹلس میں بھر کر رکھا۔ ایک برف کے مکعبات (کیوبس) کا پیکٹ بھی لے کر آئے تھے، اس میں باقی بوتلوں کو دبا کر رکھ دیا کہ پانی ٹھنڈا رہے۔ اس کے باعث شام تک نہ صرف ہم کو بلکہ ہمارے خیمے والے کئی لوگوں کو پانی کی آسانی ہو گئی۔ بعد میں عرفات میں جب بھیڑ بڑھنے لگی تو یہ مفت کی چیزیں بھی حاصل کرنا کارے دارد ہو گیا۔ خریدنے والی چیزوں کا بھی یہی حال تھا۔ یہ یوں بھی بیت کم تھیں۔ اہلیانِ خیر کی جانب سے مفت تقسیم کا ہی بازار زیادہ گرم تھا۔ ایک بار بہت دیر یایتک ہم کولڈ ڈرنک کے لئے کھڑے رہے مگر لوگ ہاتھوں سے جھپٹ لے رہے تھے۔ تقسیم کرنے والا بھی اچھال اچھال کر پھینک رہا تھا۔ کچھ لوگ چھاتے الٹے کر کے پیکٹ ” کیچ” کر رہے تھے۔ اس میں کئی کاغذی پیکٹ زمین پر گر رہے تھے اور بھگدڑ میں یہ پھٹ جا رہے تھے۔ اسی طرح ایک جگہ لبن کی تقسیم کے موقعے پر دیکھا کہ زمین پوری سفید ہو گئی ہے لبن کے پیکٹ پھٹنے کی وجہ سے۔ ہم سے نہ دھکّم دھکّا ہوتی ہے نہ چھینا جھپٹی۔ چناں چہ مایوسی ہی ہاتھ لگی۔ دوپہر میں ایک بجے کے قریب جب کہ عرفات میں قیام کا اصل وقت شروع ہوتا ہے،کھانے کے پیکٹ بھی تقسیم ہوئے۔ اس پر لکھا تھا “الموسسۃ الا ہلیۃ البحرییۃ لمطوفی حجاج وول جنوبی آسیا”۔ (معلوم نہیں ہم کہاں تک اسے صحیح پڑھ اور لکھ سکے ہیں کہ یہ تحریر “خطِ شکست” میں تھی اور ابھی ہم عربی کے ماہر تو نہیں ہو گئے۔ پتہ چلا کہ یہ بشمول ہند و پاک جنوب ایشیائی( جنوبی آسیا) ملکوں کی خدمات کرنے والے معلّموں کی تنظیم ہے۔ (یہاں یہ جملہ معترضہ ضرور ہے مگر یاد آ گئی ہے بات تو آپ کو بھی کچھ اپنی عربی کی معلومات میں شریک کر لیں۔ ” مؤسسۃ”یہاں کی دوکانوں کے ناموں میں بھی ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ Establishment کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ہم نے یہاں اسے تنظیم لکھا ہے جو در اصل ہمارے یہاں Organisationکا ترجمہ ہے۔ اس کے علاوہ کمپنیاں یا کارپوریشن “شرکۃ” ہیں، اسٹورس ” بقالۃ” ہیں۔ بنکوں کو حیدر آباد کے تلفّظ میں “بیانک” نہیں ” البنک” لکھتے ہیں)۔ بہر حال اس ادارے کی جانب سے جو پیکٹ تقسیم کئے گئے، ان میں ایک نمکین بسکٹ کا چھوٹا پیکٹ (100 گرام)، ایک موٹا کھجور کا ہی بسکٹ (جس میں اندر کھجور بھری ہوتی ہے)، دو عدد کریم بسکٹ، دو توس، ایک جام (Jam) کا چھوٹا سا کپ، خوبانی کے جام کا، ایک موسمبی جو یہاں سنگترے کے رنگ کی ہوتی ہے یہاں۔ فرق یہ ہے کہ اگر اس قسم کا کوئی پھل ہاتھ سے چھل جائے تو بغیر چکھے بھی آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سنگترا ہے، نہ چھل سکے تو یقیناً موسمبی ہوگی۔ اور ایک بڑا سا کیک کا ٹکڑا۔ سب پالیتھین میں سیل کئے ہوئے۔ ہم باہر جا کر کچھ کھانا بھی خرید لائے۔ اس کے بعد ظہر کی نماز خیمے میں ہی جماعت سے پڑھی گئی۔ ویسے خطبہ جبل الرحمۃ پر ہوتا ہے اور مسجدِ نمرہ میں ظہر اور عصر کی نماز ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ملا کر پڑھی جاتی ہے، مگر وہاں جانے کی ہمّت نہیں تھی۔ سنا تھا کہ صبح 9 بجے سے ہی مسجد بھر گئی تھی۔ ہماری جماعت محض ظہر کے لئے کھڑی ہوئی تو ہم بھی اس میں شامل تھے۔ حنفی مسلک کے حساب سے جہاں حاکم یا حکومت کا کوئی نمائندہ خود نماز پڑھائے،جیسا کہ مسجد نمرہ میں ہوتا ہے، وہاں سفر میں ظہر اور عصر ملانا جائز ہے ورنہ علیٰحدہ پڑھنا بہتر ہے۔ ہم یوں تو سفر میں قصر کی نمازیں پڑھتے ہیں تو اکثر ظہر عصر ملا ہی لیتے ہیں مگر جب جماعت سے نماز پڑھی جائے تو اس میں یوں بھی پوری نماز پڑھی جاتی ہے کہ امام اکثر مقیم ہوتا ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی کر نے میں ہمارے نزدیک کوئی حرج تو نہیں تھا مگر جماعت کا ساتھ دینا بھی بہتر سمجھا۔ خیر۔ امام نے بڑی رقّت سے دعائیں مانگیں۔ ہم نے نماز کے بعد پہلے کھانا کھایا اور پھر قضا نمازوں، مختلف وظائف اور دعاؤں میں لگے رہے کہ یہی تو حج کا اصل موقعہ تھا اور قبولیت کا وقت۔ سبھی نے زیادہ تر کھڑے ہو کر دعائیں مانگیں۔ پھر عصر کی جماعت بھی علیٰحدہ ہوئی۔ ہر خیمے میں دو یا زائد جماعتیں ہوئیں۔

ہاں ایک بات اور یاد آ گئی جس کا ہم نے یہاں مشاہدہ کیا۔ وہ یہ کہ یہاں ہمارے ہندوستان کا نیم کا درخت ہر طرف اگا کر ہریالی پیدا کر دی گئی ہے اور اب یہ بے آب و گیاہ میدان نہیں، سر سبز علاقہ ہے۔ ممکن ہے کہ نیم ہندوستان سے ہی آیا ہو کہ یہ ہمارے ملک کا ہی پیڑ ہے۔

ہمارے خیمے میں ہی ظہر کے لئے وضو کرتے ہوئے ایک صاحب کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ یہ صاحب تنہا تھے۔ ایمبولینس کے انتظار میں شام 4 بجے تک میت وہیں پڑی رہی۔ ان کے احرام سے ہی ان کو ڈھک دیا گیا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے لواحقین ہندوستان سے آ رہے ہیں۔ اسی شام 5 بجے کے قریب سامنے کے خیمے سے بھی ایک میّت برامد ہوئی۔ یہ ہماری دیکھی ہوئی دو میّتیں تھیں۔ عذاب النّار میں جو شہید ہوئے وہ الگ۔

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

عرفات میں افضل ہے کہ کھڑے کھڑے دعائیں مانگیں، عبادت کریں، اور بہتر ہو کہ دھوپ میں۔ آں حضرتؐ دھوپ میں اپنی اُ مّت کی بخشش کے لئے اسی طرح دعائیں مانگتے تھے اور خاص کر عصر کے بعد آپ کی رقّت اور بڑھ جاتی تھی۔ عصر کی اذان بھی وہاں خیمے میں ہی دی گئی پونے چار بجے اور اور با جماعت نماز اور دعاؤں کے بعد بھی ہماری دعائیں جاری رہیں اور وظیفے بھی، اگرچہ کھانسی اٹھ رہی تھی کافی دیر سے۔ چناں چہ ہم نے ساڑھے چار پونے پانچ بجے ایک “بریک” لیا۔ پانی وغیرہ پی کر باہر گئے کہ چائے پی آئیں پھر چائے اور سگریٹ کے بعد مغرب تک پھر جم کر عبادت کریں گے کہ عرفات کا میدان مغرب کے بعد ہی چھوڑا جا سکتا ہے۔ باہر نکلتے ہی دیکھا کہ خیموں کی آبادی کم ہوتی جا رہی ہے۔ دروازے سے باہر آئے تو دیکھا کہ بہت سے لوگ واپسی کے لئے بسوں یں بیٹھ بھی چکے ہیں اگرچہ کوئی بس مغرب سے پہلے جانے والی نہیں تھی مگر بہت سی بسیں وہاں لا کر چھوڑ دی گئی تھیں۔ لوگوں نے سوچا تھا کہ شاید پھر جگہ نہ ملے اور ٹھیک ہی سوچا تھا جیسا کہ ہمیں بعد میں پتہ چلا۔ غرض یہ لوگ وقوفِ عرفات بسوں میں ہی کر رہے تھے اور ساری بسیں پر ہو چکی تھیں۔ پھر بھی ہم چائے کی دوکان دیکھ رہے تھے کہ مظہر بھائی مل گئے معہ جبّار اور ستّار بھائیوں کے اور کہنے لگے کہ جلدی سامان لے کر آؤ ورنہ جگہ نہیں ملے گی۔ چناں چہ سب عبادتیں اور چائے سگریٹ بھول کر ہم واپس خیمے گئے اور سارا سامان سمیٹ کر نکلنے تک سوا پانچ بج گئے اور غروب سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل ہی ہم سڑک پر آ گئے اور وہاں ہی وقوفِ عرفات کرتے رہے۔ مگر بجائے گڑگڑا کر اللہ سے دعائیں مانگنے کے بس والوں سے یہ گزارش کرتے رہے کہ؎ مہرباں ہو کہ بٹھا لو ہمیں پیارے اسی وقت۔ مگر کسی اللہ کے بندے نے یہ نہ سنی۔ کاش کہ یہ وقت ہم اللہ سے ہی کچھ مانگنے میں صرف کرتے تو وہ شاید ہماری کچھ اور سن لیتا۔ بس میں جگہ کی نہ سہی تو دنیا اور آخرت۔ غرض حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ سامان لے کر ادھر سے ادھر دوڑ جاری رہی۔ اور مغرب ہی کیا یہی عالم رات ساڑھے دس بجے تک رہا اگر چہ مغرب کے بعد زیادہ دیر تک عرفات میں رکنا منع ہے، مگر کیا کیا جائے، مجبوری تھی۔ مزدلفہ کے لئے جو بسوں کی پہلی کھیپ گئی تھی، وہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ ادھر ٹیکسی والے 40۔ 40 ریال مانگ رہے تھے۔ خیر۔ یہ بھاؤ کم ہوتے ہوتے رات ساڑھے دس بجے تک 10۔ 10 ریال ہو گیا تو ہم ایک ٹیکسی میں مزدلفہ آ گئے۔ رات 11 بجے پہنچ سکے۔ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ساتھ پڑھنی ہوتی ہیں چاہے کتنی ہی دیر کیوں نہ ہو جائے۔ اور پھر یہ رات کہتے ہیں کہ شبِ قدر سے زیادہ قیمتی رات ہے۔ یہاں پہلے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھی گئیں، پھر کھانا کھایا گیا۔ ان لوگوں نے ہی کھایا ور صابرہ نے ان کا ساتھ دیا۔ ان سے بحث کی بات بعد میں لکھیں گے بہر حال ہم نے کھانا نہیں کھایا۔ محض بیٹھے رہے۔ جہاں چٹائیاں بچھائی گئی تھیں۔ وہاں اتنی جگہ نہیں تھی کہ ہم سو سکتے۔ کھانے کے بعد سب لوگ تو سونے کے لئے لیٹ گئے۔ ہم یوں بھی دن میں دو دو نمازوں کی قضاء ہمیشہ پڑھتے رہے ہیں اور یہاں سات سات نمازوں کی قضاء کا معمول بنایا تھا حرمین میں اور سوچا تھا کہ عرفات اور مزدلفہ میں بھی یہی سلسلہ رکھیں گے۔ مگر یہاں لوگوں نے سونے میں ہمارے لئے نماز کی جگہ بھی نہ چھوڑی تھی۔ اس لئے محض ٹہلتے رہے، صابرہ بیچاری نے کسی کے سامان سے ایک جانماز نکال کر دی کہ کہیں بچھا لو تو ہم نے نمازیں شروع کیں۔

پھر مکرّر ارشاد

کچھ قضاء نمازیں پڑھ کر بریک لیا۔ صابرہ نے ہمارے لئے کچھ بسکٹ اور توس نکال کر رکھے تھے کہ چائے کے ساتھ کھا لیں۔ چائے جو وہاں شروع میں پی تھی۔ وہ دو ریال کی تھی یعنی 20 روپئے کی۔ البتّہ سادہ یا کالی چائے ایک ریال کی تھی۔ ہم کو ایک ریال کی چائے بھی مہنگی ہی لگتی ہے اور ہم اکثر ایک پیالی (یا گلاس) ہی خریدتے رہے ہیں اور اسی کو آدھی آدھی بانٹ کر پیتے آئے ہیں۔ مگر اب کھانے کے بدل کے طور پر دو ریال کی ہی دودھ والی چائے خریدی ا ور کیک بسکٹ توس کھا کر اسے کھانے (یا ڈنر) کا نام دیا۔ 12 بج چکے تھے۔ اس کھانے کے بعد اور نمازیں پڑھیں۔ صلوٰۃ التسبیح بھی پڑھنے کا ارادہ تھا۔ صابرہ شروع میں سو گئی تھیں ، پھر دو بجے اٹھیں اور تہجّد اور صلوٰۃ التسبیح پڑھ کر پھر سو گئی تھیں۔ مگر آخر وقت میں ۔ مزدلفہ میں دعاؤں اور عبادتوں کا افضل وقت آخر آخر وقت ہے فجر کی ابتدا کے آس پاس۔ اس وقت ہم کو پیشاب کی حاجت ہوئی۔ سوچا کہ ضرورت سے فراغت کے بعد وضو کر کے پھر تر و تازہ ہو کر صلوٰۃ التسبیح اور پھر فجر پڑھیں گے۔ ساڑھے تین بج رہے تھے۔ جا نماز کا کونہ پلٹ کر اس مقصد سے عوامی ٹائلیٹس کی طرف گئے اور… وہاں ہی صبح ہو گئی۔ جی ہاں، ہر ٹائلیٹ کے باہر اتنی لمبی قطار تھی کہ ہمارا نمبر آنے تک پانچ بج گئے۔ اس ڈیڑھ گھنٹے میں ہم قطار میں کھڑے کھڑے اونگھتے رہے۔ بلکہ تین چار بار نیند کے جھونکے میں گرتے گرتے بھی بچے۔ اس دوران پیشاب کی ضرورت ختم بھی ہو گئی تھی مگر اب اجابت محسوس ہو نے لگی تھی۔ بعد میں جب نمبر آیا تو دونوں “پریشر” غائب۔ کچھ دیر بیٹھنا پڑا لوگوں کی دستکوں کے باوجود۔ بہر حال باہر نکل کر وضو کر کے آئے تو یہاں سب لوگ سامان باندھ کر چلنے کے انتظار میں ہمارے منتظر تھے۔ نماز کب کی ہو چکی تھی۔ وقت کم تھا نماز کا اس لئے ہم نے بھی جلدی جلدی فجر کی نماز پڑھی اور چھ بجے کے قریب ہمارا قافلہ پیدل ہی منیٰ کے لئے روانہ ہو گیا۔ غرض افسوس کہ یہ ایک اور اہم وقت بھی ضائع ہو گیا۔ وہی مصرعہ مکرّر عرض یا ارشاد ہے کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔

عرفات سے منیٰ واپسی

21/ اپریل پونے دو بجے دن

مظہر بھائی کی رہنمائی میں ہمارا قافلہ چل پڑا۔ پہلے تو ہم سوچ رہے تھے کہ اس وقت تو بسیں مل سکیں گی مگر شاید مظہر بھائی کو حقیقت معلوم تھی کہ بسوں کے انتظار میں وقت ہی ضائع ہوگا۔ چناں چہ آگے دیکھتے ہیں کہہ کر انھوں نے پیدل چلنا شروع کیا۔ سبھی نے اپنا اپنا سامان ساتھ لیا اور چلنے لگے۔ ویسے سامان بھی ہلکا ہی تھا سب کا۔ قافلے میں دو حضرات اور بھی تھے۔ ان لوگوں میں سے ہی کسی کے رشتے دار۔ اور وہ ایسے اعتماد سے ہمیں لے جا رہے تھے جیسے راستہ انھیں “زبانی” یاد ہے۔ ویسے تو ہم کو بھی کافی اندازہ تھا۔ دراصل مکّے سے ایک مین روڈ جو آتی ہے، وہ منیٰ اور مزدلفہ ہوتے ہوئے سیدھی عرفات جاتی ہے۔ یہ سڑک جمرات تک تو سیدھی جاتی ہے۔ اس کے بعد منیٰ کے علاقے میں کئی متوازی سڑکوں میں بٹ جاتی ہے اور مزدلفہ کی طرف پھر واحد ہو جاتی ہے۔ منیٰ میں رہنے والا ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ اس کے کیمپ کی سڑک سیدھی مزدلفہ جاتی ہے حالاں کہ یہ غلط فہمی ہے۔ بس اس سیدھی سڑک کی ہی تلاش تھی جو ہم بغیر رہنمائی کے بھی ڈھونڈھ سکتے تھے مگر کیوں کہ رہنما ساتھ تھے، اس لئے یہ کام ہم نے انھیں کے ذمّے چھوڑ دیا۔ یہاں بھٹکنے کا اس طرح “معقول انتظام” ہے کہ مزدلفہ جاتے وقت تو صرف رخ متعین کرنے کی ضرورت ہے، مگر واپسی میں جب آپ منیٰ داخل ہو جائیں گے تو جس سڑک کو آپ اپنی سمجھیں گے، اس پر آپ کا کیمپ نہیں ہوگا۔ منیٰ پہنچ کر تو ہم اپنے کیمپ پہنچ سکتے تھے کہ کیمپ میں اونچے ستونوں پر نمبر لکھا تھا جو ہمارا “54” تھا۔ اور ہم نے اس کا محل وقوع پہلے ہی دن اچھی طرح ذہن میں محفوظ کر لیا تھا۔

بھیڑ تو تھی ہی۔ سڑکوں پر کاروں اور بسوں کا ٹریفک بھی تھا۔ سب کے ساتھ چلنے میں دقّت تھی اس کا علاج مظہر بھائی نے یوں کیا کہ وہ تلبیہ پکارتے جا رہے تھے اور ان کے تابعین دہرا رہے تھے، اور یہ آواز بھی گویا سمت نما تھی۔ ادھر ہماری صابرہ بیغم کا سبز لباس بھی دوسری خواتین سے کافی مختلف تھا اور آسانی سے پہچاننے میں آ رہا تھا۔ راستے میں ایک کار ٹریفک میں پھنسی رکی ہوئی تھی۔ صابرہ اس کے دائیں طرف سے نکلیں اور ہم بائیں طرف سے۔ ہم نے صابرہ کو مڑتے ہوئے بھی صاف دیکھا۔ مظہر بھائی بھی بائیں طرف تھے۔ اس کار کے آگے ایک اور بس پار کر کے دیکھا تو صابرہ اور مظہر بھائی دونوں غائب! نہ تلبیہ کی آواز تھی نہ صابرہ کا ہرا دوپٹّہ۔ کچھ تیزی سے آگے بڑھ کر دیکھا، مایوسی۔ پھر کچھ رکے کہ ممکن ہے کہ ہم ہی آگے نکل آئے ہوں مگر ہنوز مایوسی۔ کیا ہوا تھا، یہ راز تو اب تک نہ کھلا۔ ان لوگوں کو دیکھنے کی کوشش میں اور بھیڑ کے ریلے میں ہم ایک سڑک پر بائیں مڑ گئے تو اچانک پایا کہ ہمارے سر پر چھت ہے۔ یہ وہی شیڈ والی سڑک تھی جس نے ہمیں آگ سے بچایا تھا (مگر اس کے کافی آگے کے حصّے نے)۔ یہ راستہ سمجھ گئے اور اسی پر چلتے رہے کہ کچھ آگے جا کر اپنا کیمپ دیکھیں گے۔ یہ بھی یاد تھا کہ ہم نے منیٰ میں غسل خانوں کی طرف سے دیکھا تھا کہ ہمارے کیمپ کے ایک طرف پہاڑ ہی تھا یعنی اس لمبی سڑک سے دائیں مڑنے پر ہی ہمارے کیمپ کی سڑک ہونی چاہئے۔ ایک دو لوگوں سے پھر بھی پوچھ لیا کہ سوق العرب کدھر ہے مگر یہ لوگ ہم سے بھی زیادہ ناواقف تھے۔ مڑتے ہی جب ہم ایک متوازی سڑک پر آئے، کیمپ نمبر 55 لکھا نظر آ گیا اور یہ ہم کو یاد تھا کہ 51 سے 55 نمبر تک لائن سے کیمپ ہیں۔ کچھ ہی آگے آئے کہ ہمارے کیمپ کا نمبر بھی ستون پر نظر آ گیا۔ 8 بجے جب پہنچے تو یہاں کوئی نہیں پہنچا تھا۔

یا رب ترے عذاب کے آثار کیا ہوئے

یہ کون سا منیٰ کیمپ تھا؟ حیران رہ گئے۔ کہیں کوئی آثار نہیں تھے کہ یہاں کبھی آگ لگی تھی۔ اس جگہ کو تباہ و برباد دیکھے ابھی 48 گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے اور سارے خیمے لگے ہوئے تھے۔ آگ والے دن رات آٹھ بجے تک تو ہم وہاں ہی تھے، وہاں کچھ نہیں ہوا تھا، ہاں، بھیگے ہوئے اور گرے ہوئے خیمے ہٹائے جا رہے تھے۔ اور ان 46 گھنٹوں میں اب آگ کے کوئی آثار نہیں تھے۔ سارے خیمے لگے تھے۔ البتّہ آگ کا اثر یہ ضرور تھا کہ اس بار یہاں بھی خیمے چھت والے نہیں، کھلے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ اب بجلی بھی نہیں تھی اندر۔ صرف باہر روشنیوں کا انتظام تھا۔ یہ عرفات کے خیموں کی طرح تھے، بلکہ وہاں تو پھر قنات کی دیواریں تھیں، منیٰ میں اب خیموں کی دیواریں بھی نہیں تھیں۔ آپ ایک سرے سے دوسرے سرے تک کسی سمت میں بھی جا سکتے تھے اور لوگوں کو پھلانگنے کے جرم میں گالیاں سن سکتے تھے۔ دوکانیں پہلے کی ہی طرح لگ چکی تھیں۔ بس ،سڑک پر اب بھی کونوں میں کہیں ٹوٹی ہوئی چھتری، کسی کی چپّل یا تولیہ نظر آ جاتا تھا۔ ہاں، چائے کی مشکل ہو گئی تھی۔ دودھ والی چائے عنقیٰ ہو گئی تھی، تھی تو دو ریال کی، وہ بھی ڈھونڈھنے پر۔ ویسے پہلے بھی منیٰ میں مہنگائی زیادہ ہی تھی، اب اور بڑھ گئی تھی۔ ایک ریال والے کولڈ ڈرنک ڈیڑھ ریال کے مل رہے تھے۔

اس بار خیموں کے نمبر بھی نہیں تھے اور قناتوں کی دیوار بنانے کی بجائے ان کا فرش بنا دیا گیا تھا اس لئے چٹائیاں بچھانے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ قناتیں تو آپ نے دیکھیں ہوں گی۔ ان میں کپڑے کے نیفے میں بانس اڑسے ہوئے ہوتے ہیں تھوڑی تھوڑی دور پر۔ یہاں ان قناتوں میں بانس لگے چھوڑ دئے گئے تھے۔ اس وجہ سے دو بانسوں کے درمیان کوئی ڈھائی فٹ کی جگہ ہی باقی تھی جس میں بستر لگایا جا سکتا تھا۔ کہاں 8/ ذی الحج کو لوگوں نے دریوں پر اپنی چوڑی چوڑی چٹائیاں اور چادریں ڈال کر جگہیں گھیر لی تھیں، اب ہر شخص دو بانسوں کی درمیانی جگہ میں اپنا بستر بچھانے کے لئے مجبور تھا چاہے کتنی ہی چوڑی چادر اس کے پاس ہو۔ دامِ شنیدن چاہے جتنا پھیلائیے، اس پر پابندی نہیں، مگر اور کوئی دام پھیلانے کی جگہ ندارد۔

ہم نے بھی ایک جگہ خالی دیکھ کر قبضہ جما لیا، اگر چہ ہمارے پاس ایک بیگ ہی تھا، دوسرا بیگ صابرہ کے پاس تھا، اور وہ لوگ اب تک آئے نہیں تھے۔ ہم انتظار کرتے رہے۔ ایک بار جا کر اکیلے ہی ناشتہ کر کے چائے بھی پی کر آئے۔ یہ لوگ معہ مظہر بھائی وغیرہ کے ساڑھے نو بجے پہنچے۔ معلوم ہوا کہ یہ ہم سے زیادہ ہی بھٹکے۔ ان لوگوں نے دوسری جگہ اپنا سامان رکھ کر جگہ بنا لی تھی، اس لئے پھر ہم نے بھی اپنا سامان وہاں سے ہٹا کر اسی طرف رکھ لیا۔ وہاں بھی کافی جگہ تھی۔ اس لئے بھی کہ بیشتر لوگ 11 بجے تک ہی وہاں پہنچ سکے تھے۔

شیطانوں کو سزا

یہ دن 10/ ذی الحجّہ کا تھا جب دنیا عیدِ قرباں مناتی ہے مگر ہماری اصل عید، یعنی حج کا اصل رکن۔ وقوفِ عرفات تو ہو ہی چکا تھا۔ آج مگر دوسرے ارکان تھے۔ بڑے شیطان یعنی جمرۃ عقبی ٰ کو کنکریاں مارنا (رمیِ جمّار کہتے ہیں اس عمل کو یا محض رمی)۔ پھر قربانی پھر حلق یعنی بال کٹوانا۔

بسم اللہ رمی سے کی۔ اس میں مظہر بھائی تو ساتھ نہیں تھے مگر جبّار بھائی، ستّار بھائی اور ان کی بیویاں اور ہم دونوں ساتھ تھے اور ساتھ ہی ستّار بھائی کی بیوی کے رشتے دار جعفر صاحب بھی جو مقامی آدمی ہیں۔ مکّے میں بھی ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ انھوں نے ہی قربانی کا انتظام کیا تھا۔ اگرچہ ان کا ارادہ تھا کہ جب رمی کے لئے نکلیں تو جمرات تک کوئی ڈیڑھ کلومیٹر تو پیدل ہی چلیں اور وہاں سے ٹیکسی کر کے مکّہ چلے جائیں اور وہیں قربانی دے لیں اور پھر طواف بھی مکمل کر لیں۔ اس سے قربانی کا گوشت بھی وہاں ان لوگوں کے رشتے داروں اور دوسرے ملاقاتیوں کے کام میں آ جائے۔ قربانی کے بعد حرم میں ہی بال کٹوا کر نہا دھو کر طوافِ زیارۃ کر کے منیٰ واپس آ جائیں۔ اگرچہ حرج تو اس میں بھی نہیں تھا۔ مگر ہر کتاب میں لکھا ہے کہ منیٰ میں ہی قربانی بہتر ہے ۔ یہ تو ثابت نہیں ہو ا تھا کہ منیٰ میں ہی قربانی واجب ہے اور اگر چہ کہیں اور کرائی جائے تو یہ واجب ادانہ ہوگا۔ کیوں کہ اس وقت سب لوگ منیٰ میں ہی قیام پذیر ہوتے ہیں اس لئے بھی وہاں ہی قربانی کرائی جاتی ہے۔ مسجدِ نبوی میں جو حج کا کتابچہ ہم کو ملا تھا، اس میں ہنبلی مسلک (جو سعودی عرب کا سرکاری مسلک ہے) کے مطابق وضاحت تھی کہ قربانی کہیں بھی کرائی جا سکتی ہے۔ مگر پھر بھی لوگوں کو شبہ تھا کہ حنفی مسلک کے حساب سے ادا ہوگی یا نہیں۔ چناں چہ پھر سب نے ہی منیٰ میں ہی قربانی کرنے کا پلان بنایا اور جعفر صاحب نے وہاں بھی انتظام کرنا اپنے ذمّے لے لیا، بلکہ خود اپنے لئے بھی وہیں قربانی کرنا طے کر لیا۔ جمرۃ عقبیٰ پر جہاں آج رمی کرنی تھی، ہمیں اس طرح دو دو کر کے بھیڑ میں جگہ بناتے ہوئے ساتھ لے گئے کہ ہم لوگ اس ستون پر محض 5۔ 6 فٹ کی دوری سے رمی کر سکے۔ اور وہ بھی نیچے سے جہاں عام طور پر بہت بھیڑ ہوتی ہے۔ کنکریاں مارنے کا انتظام آج کل دو سطحوں پر ہے، شیڈ کے نیچے والی سڑک پرتو ہے ہی جہاں سے ہم نے ماریں، اوپر فلائی اوور پر بھی ہے۔ وہاں بھی ایک گول سوراخ کر کے اوپر تک یہی ستون لے جایا گیا ہے۔ اوپر قیف نما سیمنٹ کا ایک دائرہ یا محیط ہے جس کا ڈھال اندر مرکز کے اندر اس طرح ہے کہ کنکریاں ڈالنے پر نیچے ہی گرتی ہیں۔ ہاں، یہ تو لکھنا ہی بھول گئے کہ اس کام کے لئے مزدلفہ سے ہی کنکریاں چن کر لائے تھے بڑے چنے کے برابر۔ منیٰ میں تو ہر طرف پکّی سڑک یا فرش ہے یا پھر ریت اور مٹی۔ بہر حال یہ واجب بھی بہت آسانی سے ادا ہو گیا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ جہاں اور لوگ “پتھّر پھینک” فاصلے (Stone throw distance) سے کنکریاں مارتے ہیں، ہم نے “ہاتھ ملا” فاصلے (Hand shake distance) سے کنکریاں ماریں۔ یوں کہئے کہ بڑے شیطان سے ہاتھ ملایا۔ وہاں لوگوں کے پاس دیکھا کہ کنکریوں کی بجائے باقاعدہ پتھّر مار رہے تھے۔ رمی جمّار کیا، شیطان موذی کو سنگسار کر رہے تھے۔ بعد میں ہم کو اس کی وجہ معلوم ہوئی کہ بڑے پتھّروں سے “پتھّر پھینک” فاصلہ بڑھ جاتا ہے، یعنی آپ زیادہ دوری سے بھی صحیح نشانے پر پتھّر مار سکتے ہیں، خطا ہونے کی امّید کم ہوتی ہے۔ چھوٹی کنکری دور سے مارنے پر نظر بھی نہیں آتی اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ لگی بھی یا نہیں۔ ستون کو چاہے یہ کنکری نہ لگے، مگر ستون کے آس پاس کے دائرے میں ضرور گرنی چاہئے۔ اس وقت تو ہم نے اتنے قریب سے “سنگساری” کی کہ ساری کنکریوں کو خود ستون پر لگتے دیکھا، لیکن اگلے دو دن کی رمی کا نہیں کہہ سکتے، خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ خیر، جیسا کتابوں میں لکھا تھا، ہم نے ویسی ہی چھوٹے کنکریاں ماریں، اب شیطان کو ان کی چوٹ پہنچی یا نہیں، ہم تو مطمئن ہیں کہ ہماری نیّت تو اس موذی کو زیادہ سے زیادہ ایذا دینے کی تھی، اگر چہ اسلام میں سزا بھی کم سے کم دینا اچھّا ہے، معاف کر دینا بہتر ہے۔ لیکن حکم کی تعمیل بھی ضروری ہے۔ اور یوں بھی کہئے کہ ان کنکریوں یا پتھّروں سے اس موذی کو مارا بھی تو کیا مارا، کہ ؎ بڑے موذی کو مارا، نفسِ عمّارہ کو گر مارا۔

اس کے بعد جعفر صاحب جبّار بھائی کو لے کر منیٰ کے مسلخ گئے جو ہم سب کی نمائندگی کر رہے تھے اور دو اونٹ کاٹ کر آئے۔ سب کے ملا کر 14 حصّے ہو گئے تھے(کچھ لوگ اور بھی شامل ہو گئے تھے)۔ چناں چہ ادھر قربانی کروا کر یہ لوگ لوٹے، ادھر ہم بالوں کی قربانی کے لئے نکلے۔ یہ کام قربانی سے پہلے نہیں کیا جاتا ہے۔

“ایکسپریس” حجامت

22/اپریل، 2 بجے دو پہر

وہ لطیفہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ ایک حجّام نے اپنی دوکان میں سائن بورڈ لگا رکھا تھا کہ “یہاں ایکسپریس ٹرین کی طرح حجامت بنائی جاتی۔ ہے۔  لوگوں کو یہ غلط فہمی تھی کہ وہ نہایت تیز رفتاری سے بال کاٹتا ہوگا اور آپ جلدی ہی فارغ ہو سکتے ہیں۔ ایک صاحب نے اس سے حجامت بنوا کر آئینہ دیکھا تو شکایت کی کہ بھائی تم نے یہاں وہاں بہت سے بال چھوڑ دئے ہیں۔ حجّام نے فوراً جواب دیا۔ ” آپ نے بورڈ نہیں دیکھا؟۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایکسپریس ٹرین چھوٹے چھوٹے اسٹیشنوں پر نہیں رکتی”۔

دوپہر کو ہم رمی کے لئے گئے تھے تو وہاں دیکھا کہ حجّاموں کی کافی بھیڑ لگی ہے۔ سوچا تھا کہ شاید حجامت کے لئے وہیں جانا ہوگا۔ کھانا کھا کر کیمپ سے نکلے تو دیکھا کہ تھوڑی ہی دور پر جہاں پانی کے نل یا واٹر کولر لگا ہے، تین چار حجّام بیٹھے ہیں، بلکہ کھڑے ہیں اور لوگوں کی حجامت بنا رہے ہیں اور پکار رہے ہیں۔ مرحبا الحاج۔ مرحبا الحاج۔ اور لوگ اہلاً و سہلاً چلے جا رہے ہیں۔ ہم بھی ایک اخی کے پاس چلے گئے۔ عرض کی کہ استرا پھروانا ہے۔ اس اخی نے فوراً اپنی ایکسپریس ٹرین اسٹارٹ کر دی۔ آئینہ تو وہاں تھا نہیں۔ ہم کو ان اخی پر ہی کامل اعتماد تھا۔ موصوف نے مشکل سے 2۔ 3 منٹ میں فارغ ہوکے کہا کہ نل پر سر دھو لو۔ وہ تو دھونا ہی تھا مگر اس سے پہلے سر پر ہاتھ لگایا تو خون محسوس ہوا۔ ہمارے ہندوستانی حجّام تو کہیں کٹ جانے پر پہلے معذرت کرتے ہیں، پھر روئی سے زخم صاف کر کے ٹالکم پاؤڈر لگاتے ہیں، پھٹکری ملتے ہیں۔ کوئی کوئی تو ڈیٹال بھی لگاتے ہیں۔ ان محترم کو اپنا زخم دکھایا تو اخی نے محض ایک جنبشِ گردن سے جواب دے دیا، یا واللہ اعلم ہم ہی یہ مطلب سمجھے کہ کر لو جو چاہے کرنا ہے۔ کرنا تو ہم کو بس یہی تھا کہ نل پر سر دھو لینا تھا اور خمسہ ریال، کہ نصف جس کے ڈھائی ریال ہوتے ہیں، اخی کی خدمتِ عالیہ میں پیش کر دینا تھا۔

“فارغ البال” ہو کر کیمپ پہنچے تو پہلے صابرہ نے ہی نشان دہی کی کہ بال تو کئی جگہ چھوٹ گئے ہیں۔ فوراً آئینے کی تلاش کی۔ آئینہ ملا تو رخِ انور ملاحظہ کرنے کے بعد یہ بات حقیقت سے پر نظر آئی۔ ویسے بھی ہم کو بیغم کی بات پر بے اعتباری تو نہیں تھی۔ اُلٹے پیروں (یہ تو محاورہ ہے، ورنہ حقیقت تو یہ تھی کہ منیٰ کی بھیڑ میں سیدھے پیروں بھی چلنے کی جگہ کہاں تھی جو کوئی الٹے پیروں چل سکتا)پھر اخی کے دربار میں حاضری دی اور بتایا کہ دیکھو کتنے بہت سے بال چھوٹ گئے ہیں، انھیں برابر تو کر دو۔ موصوف نے پہلے تو کہا

“آپ ہمارے پاس بال کٹا کر ہی نہیں گئے، کہیں اور کٹوائے ہوں گے”۔

“تم سے جھوٹ بول کر کیا کریں گے بھائی” ہم نے عرض کی۔ “ابھی تو کٹا کر گئے ہیں، جا کر ابھی آئینہ دیکھ کر دوڑے چلے آ رہے ہیں”۔

اخی نے جواباً نیا ہی پینترا بدلا “ہاں، یاد آیا، آپ پیسے دئے بغیر چلے گئے تھے۔ پہلے لائیے خمسہ ریال” غصّہ تو بہت آیا، اس لئے ہم نے بھی کہہ ہی دیا “بال ٹھیک نہیں کرنا ہے تو صاف کہہ دو، جھوٹا الزام تو مت لگاؤ”۔ تو موصوف نے جھٹ ایک طرف استرا پھر چلا دیا اور ایک طرف کے بال تو کم از کم ٹھیک سے صاف ہو گئے۔

خیر سے ہم حاجی ہو گئے

10/ ذی الحجّہ کے باقی پروگرام ہو چکے تھے۔ یعنی مزدلفہ سے واپسی، رمیِ جمار بلکہ صرف جمرۃ عقبیٰ کو کنکریاں مارنا، قربانی اور پھر حلق۔ اب ایک رکن بجا تھا جو اگرچہ 12/ ذی الحجّہ تک کر سکتے تھے مگر بتدریج گھٹتی ہوئی افضلیت کے ساتھ، یعنی طوافِ زیارۃ۔ ویسے تو دو دن اور منیٰ کا قیام اور اور تینوں جمرات کی رمی بھی کرنی ہوتی ہے مگر اصل رکن یہی طواف زیارت یا زیارہ یا زیارۃ (اسے طوافِ افاضہ بھی کہتے ہیں)ہے اور جس کے بعد سعی بھی شامل ہے، مگر سعی کے بعد دوبارہ بال کٹوانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس طواف کے لئے حرم جانا اور پھر واپس آنا تھا۔

اُس وقت ساڑھے پانچ یا پونے چھ بج رہے تھے۔ پہلے مظہر بھائی کا ہی یہ مشورہ تھا کہ حرم میں ہی چل کر نہایا جائے اور سب کپڑے لے کر چلیں جسے سب نے قبول کر لیا تھا، عورتوں نے بھی۔ مگر عین موقعہ پر خود مظہر بھائی غائب ہو گئے اور پتہ چلا کہ ان کا ارادہ نہا کر چلنے کا ہے، ان کا انتظار کرنا پڑا۔ اور ان کا ساتھ دینے میں جبّار اور ستّار بھائی اور مظہر بھائی کے لڑکے بھی وہیں رک گئے۔ ہم اپنے ارادے پر قایم رہے۔ وہ تو بھلا ہوا کہ عورتوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا ورنہ ہمیں اور بھی دیر ہو جاتی۔ غرض اس میں ساڑھے چھ بج گئے اور پھر طے ہوا کہ مغرب پڑھ کر ہی سب لوگ نکلیں۔ اس میں سوا سات بج گئے۔ ایک مقامی صاحب اور مظہر بھائی کو مل گئے تھے، ان کو بھی ساتھ لیا کہ وہ رہنمائی کر سکیں کہ بس کہاں سے ملے گی۔ انھوں نے ملک خالد پُل (یا کوہری، یہ پل کے لئے عربی کا لفظ ہے)کے آگے مسجدِ خیف کا پیدل کا راستہ لے لیا۔ تھوڑا آگے حاجیوں کے کیمپ شروع ہو گئے۔ یہاں جہاں جگہ ملی، حجّاجِ کرام اپنی چٹائیاں بچھائے بیٹھے تھے۔ یہی ان کا منیٰ کا قیام تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو بغیر کسی معلم کے تھے اور مکّے کا سفر خرچ برداشت کر کے کسی طرح پہنچ گئے تھے، کئی مقامی لوگ اس ہجوم میں تھے جن میں وہ ہندوستانی پاکستانی بھی رہے ہوں گے جو سعودی عرب میں ہی ملازمت یا کاروبار میں لگے ہوں گے۔ رہنے سونے کے کے لئے ساری خدا کی زمین۔ حرمِ مکّہ میں غسل خانے اور ان کی چھتیں، مسجدِ نبوی اور اس کے قریب کی دوکانوں کے چبوترے اور برامدے (حج کے بعد جو لوگ وہاں جاتے ہیں اور یہ ہم سنی سنائی بات لکھ رہے ہیں)۔ ان خود ساختہ کیمپوں کے درمیان پگڈنڈی بھر جگہ تھی چلنے کے لئے اور اسی میں سڑک بھر مجمع نکلنا چاہتا تھا۔ نتیجہ؟ دھکّم پیل۔ خود ہم دو بار “کیمپ زدہ” حاجیوں پر گر پڑے۔ دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ اس چکر میں صرف ستّار بھائی اور ان کی اہلیہ اور ہم دونوں کے علاوہ باقی سارے ساتھی بچھڑ گئے۔ یہ کیمپ شیڈ والے راستے (فلائی اوور)کے قریب ہی تھے اور ہم لوگ، ہمارے مشورے پر ہی عمل کرتے ہوئے، اس ریلے سے کٹ کر ان کیمپوں میں اچھل کود سے بچ کر اس فلائی اوور پر آ گئے۔ یہ وہی جمرۃ عقبیٰ کا علاقہ تھا۔ قریب ہی کنکریاں ابھی بھی ماری جا رہی تھیں۔ عورتوں کے لئے اجازت ہے کہ مغرب کے بعد مار لیں ورنہ مردوں (بوڑھوں اور بیماروں کو چھوڑ کر) کو مغرب سے قبل ہی یہ رکن ادا کرنا ہوتا ہے۔ ہم چاروں تھوڑی ہی دور اس راستے پر چلے ہوں گے کہ ایک جگہ بس اسٹاپ نظر آ گیا اور کئی بسیں کھڑی ہوئی نظر آئیں۔ فوراً جا کر بس پکڑی۔ دس دس ریال ٹکٹ تھا حرم کا۔ اس بس نے کوئی پون گھنٹے میں بابِ ملک فہد کے پاس ہمیں اتارا۔ کیوں کہ اس طرف کے غسل خانوں کا ہمیں پتہ نہیں تھا تب تک اور طوافِ زیارت سے پہلے نہانے کا بھی ارادہ تھا اس لئے اس باب سے باہر ہی باہر گھوم کر مسعیٰ کی طرف آئے کہ یہ علاقہ ہمارا جانا پہچانا تھا۔ شاید آپ کو بتایا ہوگا کہ اس طرف باب السّلام، باب علی،باب النبی وغیرہ تھے۔ جب ادھر کے غسل خانوں کی طرف آئے تو دیکھا کہ ایک جگہ صحن میں مظہر بھائی اور ان کا خاندان اور دوسرے ساتھی (بلکہ واضح الفاظ میں جبّار بھائی کا خاندان ) بیٹھے ہیں جو ہم سے پہلے پہنچ چکے تھے۔ عشاء کی اذان تو اس وقت ہی ہو چکی تھی جب ہم منیٰ کے حاجیوں کو پھلانگ رہے تھے۔ یہاں پہنچے تو سوچا کہ پہلے نہایا جائے، پھر کھانا کھائیں اور آرام سے عشاء اور طواف سے فارغ ہوں۔

اس وقت غسل خانوں کی حالت تباہ تھی۔ کئی غسل خانے “چوک”(choke)ہو چکے تھے۔ ساری راہداریوں میں پالی تھین بیگ اور کپڑوں کے کاغذ کے ڈبّے بکھرے پڑے تھے۔ شاید لوگوں نے نئے ملبوس لئے تھے اور ان کو معہ پیکنگ کے غسل خانوں میں لے گئے تھے اور خود تو نئی پیکنگ میں نکل گئے تھے، کپڑوں کی پیکنگ وہیں چھوڑ گئے تھے۔ کچھ شریف آدمیوں نے تو نہ صرف اپنے نئے کپڑوں کی پیکنگ بلکہ اپنے پرانے کپڑے بھی “وقف الی الحرم” کر دئے تھے۔ کئی احرام بھی چھوڑ گئے تھے۔ بہر حال ادھر ہم نہانے بیٹھے اور ادھر صفائی کرنے والے پہنچے اور آوازیں لگانے لگے کہ غسل خانے جلدی خالی کئے جائیں۔ بہر حال کسی طرح ہم نہا کر نکلے۔ دس بج رہے ہوں گے اس وقت۔ طے ہوا کہ کھانے کے بعد ہی طواف اور سعی کے لئے نکلیں ہم اور ستّار بھائی کھانا خریدنے نکلے۔ انڈا بھری روٹیاں، دال، سبزی، دہی سب کچھ خرید کر کھانا کھانے اور پھر عشاء کی نماز پڑھنے تک ساڑھے گیارہ بلکہ بارہ بج گئے تھے۔

طواف کے لئے سب ساتھ ہی داخل ہوئے مگر اتنا بڑا گروپ بنا کر تو چلنا مشکل ہی تھا۔ اس لئے سب نے اپنی اپنی بیویوں کے ہاتھ پکڑ لئے۔ بس مظہر بھائی اکیلے تھے کہ ان کی بیوی کا ہاتھ ان کے کنوارے لڑکے نے پکڑ رکھا تھا۔ پہلے چکر تک تو ہم سب ایک دوسرے کو دیکھتے رہے، مگر دوسرے ہی چکّر میں سب غائب! طے یہی ہوا تھا کہ بچھڑ بھی جائیں تو باب السلام پر ملیں گے۔

22/ اپریل، رات ساڑھے نو بجے

حرم میں اس وقت کی کیا کیفیت لکھیں۔ امّید بھی نہیں تھی کہ رات 12 بجے سے 3 بجے کے درمیان بھی جب کہ ہم نے طواف اور سعی کی، بھیڑ بھاڑ اور دھکّم دھکّا کا یہ عالم ہوگا۔ کھوا تو ہم کو خود معلوم نہیں کہ کیا ہوتا ہے ورنہ یہ لکھتے کہ کھوا سے کھوا چھلتا تھا۔ مگر اس محاورے سے یہی مطلب نکالتے ہیں کہ بہت بھیڑ تھی اس لئے یہ محاورہ ٹھیک ہی لاگو ہوگا یہاں۔ طواف تو خیر ہم نے گھنٹہ بھر میں کر لیا تھا، مگر سعی میں، جس میں پہلے عمرے کے وقت بھی کوئی پون گھنٹہ لگا ہوگا، مگر اب 10/ کی رات کو (ویسے انگریزی حساب سے بھی تاریخ بدل چکی تھی یعنی 18/ اپریل اور اسلامی حساب سے تو مغرب کے وقت ہی 11/ ذی الحجہ شروع ہو چکی تھی) اس میں تقریباً دو گھنٹے لگ گئے۔ اس کے باہر آ کر صحنِ حرم میں صابرہ اور سامان کو چھوڑ کر ساتھیوں کی تلاش شروع کی مگر ان کا پتہ نہیں تھا۔ پونے تین سے پونے چار بجے تک ان لوگوں کا انتظار کیا مگر مایوسی ہی ہوئی۔ آخر ہم نے واپسی کے لئے کمر باندھی۔ باب السلام، باب النبی کی طرف سے ہی نکلے کہ شاید وہاں یہ لوگ مل جائیں۔ ویسے یہ ہمارا ہمیشہ کا راستہ ہے کہ اسی طرف سے شعبِ عامر کا علاقہ آتا ہے جہاں ہماری مکّہ کی رہائش گاہ رقم 468 ہے۔ وہاں پوچھا تو پتہ چلا کہ منیٰ کے لئے بسیں وہاں سے بھی جاتی ہیں بلکہ ایک جا ہی رہی تھی۔ حالاں کہ بس والے کبھی کہتے تھے کہ بس کہیں نہیں جائے گی، کبھی یہ کہ جمرات تک جائے گی۔ ہم کو بھی جمرات تک جانا ہی کافی تھا کہ منیٰ کی حدود میں داخل تو ہو سکتے تھے۔ ویسے پہلے سوچا تھا کہ مکّے سے ہی بچّوں کو فون کر لیں گے کہ یہ لوگ بھی آتش زنی کی وجہ سے فکر مند ہوں گے۔ اب سوچا کہ جمرات کے پاس بھی ٹیلیفون بوتھ ہیں، وہیں سے فون کر لیں گے۔ صبح ساڑھے چار پانچ بجے فون کریں تو ہندوستان میں سات بج چکے ہوں گے اور اس وقت یقیناً بچّے جاگ چکے ہوں گے۔ یہ بھی خیال تھا کہ اس دن وہاں عید ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ بچّے محبوب نگر، اپنی نانی کے پاس چلے گئے ہوں۔ اس صورت میں وہاں فون کرتے۔

بہر حال بس میں بیٹھے اور بس میں بیٹھتے ہی آنکھ لگ گئی۔ اس سے پہلے عرفات میں بھی گھنٹہ بھر ہی سوئے تھے اور پھر مزدلفہ میں تو ایک منٹ بھی نہیں، اور تیسری رات میں بھی تین بج گئے تھے، اس وجہ سے اب آنکھ لگ گئی۔ اور جب صابرہ نے اٹھایا تو دیکھا کہ بس اسی شیڈ والے راستے میں چل رہی تھی۔ ہم سمجھے کہ اب جمرات پہنچے ہوں گے اور اب بس رکے گی۔ بس ٹریفک میں رینگتی رہی۔ بہر حال ایک جگہ ڈرائیور نے بس روکی اور کہا کہ سب لوگ اتر جائیں تو ہم کو ہوش آیا ؎۔ یہ کیا جگہ ہے دوستو، یہ کون سا دیار ہے۔ سمجھے کہ ابھی جمرات آگے ہوں گے، کچھ دور آگے چلے تو خیمے شروع ہو گئے۔ تب پتہ چلا کہ یہ مزدلفہ سے مکّہ کا سایہ دار راستہ ہے۔ وہی راستہ جس پر ہم مزدلفہ سے منیٰ واپسی میں پچھلے ہی دن بھٹکتے ہوئے پہنچے تھے۔ یہ پتہ چلتے ہی ہم اطمینان سے اگلے ہی موڑ پر بائیں طرف مڑ گئے تو سامنے ہی 55 نمبر کا کیمپ تھا، اور اس کے پاس ہی ہمارا 53 نمبر بھی۔ غرض ہم اپنی کم علمی کے باوجود اپنے کیمپ سے بمشکل فرلانگ بھر کے فاصلے پر بس سے اترے جیسے وہی ہمارے کیمپ کے لئے بس کا اسٹاپ ہو۔ مگر فون کرنا رہا جا رہا تھا۔ مگر اب کیمپ آ ہی گئے تھے تو پہلے اپنا سامان کیمپ میں رکھا۔ 6 بجے وہاں بھی فون پر دوسرے ممالک میں فون کرنے پر 40 فی صد کی رعایت ختم ہو جاتی تھی۔ اگرچہ فجر کا وقت ہو چکا تھا، مگر ہم پہلے بھاگ کر پھر جمرات کی طرف آئے کہ فون کر لیں پہلے۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔ وہی کارڈ فون تھا وہاں ہر بوتھ میں(اگر میٹر والے فون کے بوتھ بھی ہوں تو ہم کو ان کا پتہ نہیں چلا)۔ وہاں لوگوں نے بتایا تو یہی کہ منیٰ میں کارڈ والے فون ہی ہیں، میٹر والے فون صرف مکّے میں ہیں۔ پھر واپس بھاگ کر کیمپ پہنچے اور فجر کی نماز پڑھی۔ ناشتہ کیا اور سات بجے کے قریب سوئے تو 11 بجے آنکھ کھلی۔ ہاتھ منہ دھویا، کھانا لے کر آئے اور سوچا کہ ظہر کے بعد کھائیں گے۔ مگر اس دن ہمارے خیمے والوں نے طے کیا کہ حیدر آباد کے وقت کے مطابق ڈیڑھ بجے جماعت پڑھیں گے، اب تک حرمین کے وقت کے مطابق ساڑھے بارہ بجے نماز پڑھی جا رہی تھی۔

منیٰ کا طعام

اب ذکر نکلا ہے تو منیٰ کے کھانے پینے کی بات بھی لکھ ہی دیں۔ وہاں کھانے کی ہم کو سخت مایوسی ہوئی۔ گوشت، مرغی تو ہم احتیاطاً کھا ہی نہیں رہے تھے، دال اور سبزی کے تجربے کچھ ناگوار رہے۔ 10/ کی صبح 5 ریال کی سبزی (معہ دو روٹیوں کے) لائے تھے تو اس میں نہ جانے کیا عجیب سی مہک تھی کہ چکھتے ہی قے ہوتے ہوتے رہ گئی، اور آخر ہاتھ روکنا پڑا۔ اس رات کو مکّے میں کھانا کھایا تھا۔ اگلے دن دوپہر کو دال لے کر آئے اور اس بار دوسری دوکان سے، وہی 5 ریال کی معہ دو عدد روٹیوں کے تو اس میں 8 عدد کنکر صرف ہمارے حصّے کی دال میں ہی نکلے(صابرہ کے منہ میں بھی آئے ضرور مگر انھوں نے گنے نہیں، یہ کام ہم ہی کرتے ہیں کہ اس قسم کی بیکار اور غیر اہم معلومات بھی ہم آپ جیسے اہم حضرات کو بھی دینا اہم سمجھتے ہیں)۔ اگلے دن ہم اس سبزی والی دوکان پر گئے کہ وہاں کی دال لے کر دیکھیں، تو وہاں دال نہیں تھی، پھر سوچا کہ جس دوکان کی دال نے ہمارے دندانِ مبارک پر حملے کئے تھے، وہاں سے سبزی لیں تو اس وقت اس بھلے آدمی کے پاس صرف دال تھی۔ ان دونوں کرم فرماؤں کو خدا حافظ کہہ کر ایک اور سڑک پر پہنچے اور وہاں سے 7 ریال کی دال لے کر آئے، مقدار میں اتنی ہی اور روٹیاں وہی دو عدد۔ یہ نسبتاً مزے کی تھی اور کھانا شروع کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ محض دال نہیں، دال گوشت تھا۔ کھانا شروع کر چکے تھے اس لئے کھا ہی لیا، یوں پرہیز ضرور کر رہے تھے، مگر ہر سالن پر شک کرنا بھی نہیں چاہئے تھا۔ اب یہ ذکر نکلا ہے تو ایک گھر کی بات اور لکھ دیں ورنہ پھر رہ جائے گی، اس کا موہوم سا ذکر مزدلفہ کے قیام کے ذکر میں کر چکے ہیں، بلکہ آپ کو متنبّہ کر چکے ہیں کہ جب موقعہ ملا تو آپ کو یہ بات سنائیں گے۔ اس کے لئے اجازت ہو تو ایک نیا عنوان لگائیں۔

حرام و حلال ۔ بیغم کا خیال

صابرہ سے دو ایک بار اس بات پر بحث ہو ہی چکی تھی ۔ ہم مچھلی بھی لے کر آئے تھے تو طنز کرتی تھیں کہ ہمارا گزر بغیرNonveg کے نہیں ہو سکتا۔ اور یہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ جب ہم خرید کر کھاتے ہیں تو دال سبزی کھاتے ہیں اور اور یہ اکثر مظہر بھائی وغیرہ کے کچن میں مرغی گوشت کھا لیتی ہیں۔ یہ کہہ کر کہ کسی صاحب نے گوشت لا کر دیا تھا تو اچھّا ہی ہوگا یعنی حلال کا کہ مقامی لوگوں کو پہچان ہوگی کہ کہاں صحیح حلال گوشت ملتا ہے، مگر مرغی؟۔ مزدلفہ کے واقعے کے بعد انھوں نے مظہر بھائی کے سامنے وضاحت کی تھی کہ جب ذبیحے کا شک ہو تو کم از کم خرید کر تو نہ کھائیں! دوسرے کھلا رہے ہوں تو اُن کا دل رکھنے کے لئے اور حرام ہو تو اس کا عذاب کھلانے والے پر ڈال کر کھا لیں تو کوئی حرج نہیں۔ یہ ہماری بیغم کی دلچسپ دلیل تھی جو اگرچہ ہمارے گلے سے نہیں اتری(ممکن ہے کہ مرغی کے گوشت کے نوالے کے ساتھ اتر جاتی)۔ مچھلی محترمہ کو پسند نہیں ہے شاید۔ مچھلی تو ہم کو بھی مرغی اور بکرے کے (یا “بڑے”کے )گوشت کے مقابلے میں بھی کم ہی پسند ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ دوکانوں پر سبزی کا مطلب ہے وہی آلو مٹر بینس اور ٹماٹر کا سالن جسے ہمہ شمہ انگریزی میں مکسڈ ویجی ٹیبل کری کہہ کر خوش ہوتے ہیں( ہاں، اس دن آلو گوبھی کی سبزی ملی تھی جو ایک انہونی بات تھی)، چناں چہ ایک ہی مزے کی سبزیاں کب تک کھائی جائیں؟ اس لئے مچھلی لے لی تھی ایک دن تو اکیلے کھانی پڑی۔ سوال یہ ہے کہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین دریں مسئلے کے کہ زید کی بیوی ہندہ کا خیال ہے کہ مفت کی کھائی جائے تو مرغی گوشت حلال ہے ورنہ نہیں!!

پھر لا حول ولا اور حرم کو واپسی

کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر 11/ ذی الحجّہ (18 /اپریل) کو دو ڈھائی بجے ہم پھر لاحول پڑھنے نکلے، یعنی شیطان سے نجات پانے کے لئے۔ مگر شاید ادھر تینوں شیطان ہم گناہ گار مسلمانوں سے نجات پانے کے لئے خود بھی لاحول پڑھ رہے تھے۔ ویسے ہم بھی لاحول نہیں، تکبیرِ تشریق پڑھتے جا رہے تھے کنکریاں لے کر۔ اس دن کوئی اور نہیں تھا، صرف ہم دونوں ہی تھے۔ اس لئے پہلے دن کی طرح آسانی تو نہیں ہوئی مگر پھر بھی آرام سے ہی اور نیچے سے ہی کنکریاں مار سکے۔ پہلے چھوٹے، پھر منجھلے اور پھر بڑے شیطان کو بھی۔ اس میں بہت زیادہ مشکل تو نہیں ہوئی مگر کیوں کہ زیادہ قریب سے نہیں مار سکے اس لئے یہ شک ضرور ہوا کہ کنکریاں نظر نہیں آئیں کہ لگیں بھی یا نہیں!(اب نیند آ رہی ہے۔ انشاء اللہ صبح پھر لکھیں گے)

23/ اپریل، صبح ساڑھے چھ بجے۔ گزشتہ سے پیوستہ

ہاں تو کہہ رہے تھے کنکریاں مارنے کی بات۔ لوگ اسی وجہ سے کنکریاں نہیں پتھّر مارتے ہیں کہ نشانے پر صحیح لگے۔ رمی جمار نہیں، سنگسار کرتے ہیں، وہ بھی غلط ہے۔ خیر۔ رمی کے بعد واپس آئے، عصر کی نماز پڑھی۔ چائے پی، کچھ باتیں کیں، کچھ طبیعت کی خرابی کا علاج(آپ کو تو معلوم ہی ہے، کیا بار بار لکھیں کہ کس بیماری کا اور کیا علاج!)۔ اس کے علاوہ نمازیں اور کھانا۔

اگلے دن 12/ ذی الحجّہ کی صبح بھی وہی Routineرہا۔ صبح 8 بجے ہم اس ڈائری/سفرنامے کو لکھنے بیٹھے تھے تو مظہر بھائی اور اور دوسرے لوگ ہمارے اس مشغلے اور دوسری تحریری سرگرمیوں کے بارے میں دلچسپی کا اظہار کرتے رہے اور سوالات پوچھتے رہے۔ ایک دوسرے سے مذاق کرتے رہے کہ اس کتاب میں جبّار بھائی کی اس حرکت کا بھی ذکر ہے اور ستّار بھائی کے اس وقوعے کا بھی(کچھ متعلّقہ حصّے ہم نے ان لوگوں کو پڑھ کر بھی سنائے تاکہ انھیں یقین آ جائے کہ ہم کس پائے کے ادیب ہیں)۔ ویسے سچ پوچھئے تو نہ جانے کتنا کچھ بھول بھی گئے ہیں اور بیسیوں اہم باتیں چھوٹ بھی گئی ہیں کہ ہم کبھی وقت سے نہیں لکھ پا رہے ہیں۔ اب یہی دیکھئے کہ 12۔ 13 اپریل تک کچھ وقت پر آئے تھے یعنی آج کی روداد آج ہی لکھنے کی نوبت آ گئی تھی مگر پھر 20 اپریل تک کا طویل وقفہ حائل ہو گیا ہے اور اب 16 سے 19۔ 20 اپریل تک کا بیان کرتے کرتے آج چار دن ہو گئے ہیں۔ آج 24/اپریل، 16 ذی الحجّہ ہے۔ اس دن کی بات ضرور یاد ہے کہ ہم نے کچھ دیر ڈائری لکھنی شروع کی تھی صبح نو یا ساڑھے نو بجے پھر خیال آیا کہ علی گڑھ اور بچّوں کو حیدر آباد خطوط لکھ دئے جائیں۔ فون پر یا ٹیلیگرام کے ذریعے ہماری خیریت کی اطّلاع دے بھی سکیں تب بھی تفصیل تو نہیں دے پائیں گے۔ لوگوں کو شاید شک ہو کہ ہم زندہ ہونے پر بھی ممکن ہے کہ کچھ زخمی ہو گئے ہوں، سامان وغیرہ جل گیا ہو۔ اس شک کو دور کرنے کے لئے تو خط ہی بہتر ہے کہ یہ مطمئن کر سکیں کہ الحمدُ لِلّہ ہمارا بال بھی بیکا نہیں ہوا۔ خط لکھتے لکھتے 11 بج گئے تھے اور ہم نے خود یہ پلان بنا رکھا تھا کہ 11 بجے کیمپ سے نکلیں گے کہ جمرات تک پہنچتے پہنچتے، اگر زیادہ بھیڑ ہوئی تو بارہ ساڑھے بارہ تک ہی وہاں پہنچ سکیں گے تو زوال کا وقت شروع ہو چکا ہوگا اور رمی کا وقت زوال کے بعد ہی شروع ہوتا ہے، یعنی ظہر کے ساتھ۔ شروع وقت میں ہی رمی کر لیں گے تو حرم کے لئے جلد واپسی ممکن ہو سکے گی۔ 12/ کو مغرب سے پہلے اگر رمی نہ کی جائے تو پھر ایک دن مزید رکنا ہوتا ہے منیٰ میں ہی۔ ویسے کیمپ سے گاڑیاں حرم کے لئے صبح سے ہی جا رہی تھیں۔ بہت سے لوگوں نے عورتوں کو رخصت کر دیا تھا کہ ان کے لئے اجازت ہے (اور بوڑھوں کے لئے بھی) کہ ان کی جگہ کوئی اور کنکریاں مار سکتا ہے۔

راستے میں تو اتنی بھیڑ نہیں تھی اور ہم 50۔ 11 پر ہی چھوٹے شیطان کے پاس پہنچ گئے جب کہ زوال کا وقت شروع بھی نہیں ہوا تھا۔ ہم اوپر جانے والے راستے کی طرف مڑ گئے کہ آج وہاں سے کریں گے تو شاید کم بھیڑ ہوگی اور زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔ وہیں کھڑے ہو کر گھڑی دیکھتے رہے کہ کب زوال کا وقت شروع ہو اور ہم رمی کر سکیں۔ وہاں دیکھا کہ ایک جمِّ غفیر بے حس و حرکت کھڑا ہے اور سب کی نظریں گھڑیوں پر ہیں۔ اس وقت تک ہمارا پورا گروپ موجود تھا، صرف مظہر بھائی کی اہلیہ اور بہو ساتھ نہیں تھیں۔ ان لوگوں کی طرف سے ان کے بیٹے رمی کرنے والے تھے۔ جیسے ہی 20۔ 12 ہوئے اور اس سمندر نے موجیں مارنی شروع کیں۔ اور جو حرکت شروع ہوئی تو یوں ہوا کہ ہم چل ضرور رہے تھے مگر ہمارے قدم زمین پر نہیں تھے۔ یعنی چلنے کے لئے قدم اٹھاتے تو زمین پر رکھنے کی جگہ نہیں ملتی، اور ہوا ہی ہوا میں کھسکتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ کوئی 5 منٹ یہی عالم رہا۔ جب پہلا گروہ کنکریاں مار چکا تب جا کر پتہ چلا کہ ہاں، کچھ حرکت ہو رہی ہے۔ جمرات کے قریب کا عالم مت پوچھئے۔ آگے بڑھنے کی کوشش کرتے اور ایک کنکری ہاتھ میں لیتے کہ ایک اور ریلہ آ کر پیچھے دھکیل دیتا۔ اس حملے سے کچھ سنبھلتے کہ ایک اور ریلہ پیچھے سے دھکیل دیتا۔ اور جمرات کے قریب پہنچ بھی جاتے تو یہ صورت ممکن نہ ہوتی کہ ہاتھ اونچا کر کے کنکری مار سکیں۔ بہر حال پہلے شیطان پر ہی ہم دونوں کے کنکریاں مارنے میں کوئی آدھا گھنٹا لگ گیا۔ کسی نہ کسی طرح رمی ادا ہو گئی، خدا قبول کرے۔ اوپر فلائی اوور پر یہ حالت تھی تو نیچے کیا عالم ہوگا (بعد میں معلوم ہوا کہ اسی وقت 40 حاجی جاں بحق ہو گئے )۔

بہر حال تینوں شیطانوں کو سزا دے کر اور اپنا واجب ادا کر کے لوٹے تو سکون ملا۔ واپسی میں صابرہ راستے کی دوکانیں دیکھتی ہوئی آئیں۔ پانی لے کر جانا بھول گئے تھے اس لئے کولڈ ڈرنک پیا (“بلیک”میں ایک ریال کی جگہ ڈیڑھ ریال میں )پےپسی کا ٹن۔ بڑی بوتلیں اس وقت مارکیٹ میں غائب تھیں جو ہم پہلے 2 ریال کی 125ء1 لٹر اور تین ریال میں 2 بلکہ کبھی 25ء2 لٹر کی بوتلیں لے لیتے تھے۔ اس وقت مجبوراً 330 م ل ( عربی میں ملی لیٹر کو اسی طرح لکھتے ہیں) کا ڈبّہ ہی لیا تھا (اس میں بھی کچھ برانڈس میں اسی قیمت میں 375 م ل کولڈ ڈرنک ملتا ہے)ہاں اس دن اچانک سکّے والے ٹیلی فون بوتھ بھی نظر آ گئے اور جنھوں نے ہمیں بتایا تھا کہ منیٰ میں ایسے بوتھ نہیں ہیں، وہ غلط تھا۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ جس بوتھ پر ہم کو یہ خبر ملی تھی اس سے یہ سکّے والا بوتھ بمشکل 50 میٹر دور تھا۔ وہاں البتّہ صابرہ نے اپنے بہنوئی کے بہنوئی یعنی اشفاق بھائی کو ضرور فون کیا۔ اس اطّلاع کے لئے کہ ہم لوگ محفوظ ہیں اور مکہ کے لئے نکل رہے ہیں۔ پتہ چلا کہ وہ لوگ بھی حج کے لئے ہی منیٰ میں ہی ہیں اور اسی دن شام کو وہ لوگ بھی مکّہ واپس جا رہے ہیں۔ ان کے لئے پیغام چھوڑ دیا۔

جمرات پر ہی سب بچھڑ گئے تھے مگر ہم لوگ “فٹ پاتھ شاپنگ” (“وِنڈو شاپنگ” کی طرح) کرتے ہوئے اور فون کرتے ہوئے واپس سب سے پہلے ہی پہنچے۔ پہلے سوچا تھا کہ کھانا خریدتے ہوئے چلیں گے اور کیمپ جا کر پہلے ظہر کی نماز پڑھ لیں گے اور پھر کھانا کھانے کا وقت ہوا تو کھا لیں گے ورنہ ساتھ لے چلیں گے۔ پھر سوچا کہ پہلے حالات کا جائزہ لے لیا جائے کہ کب روانگی ہے۔ کیمپ پہنچے تو وہاں جنوب مشرقی ممالک کے معلموں کی ایسوسی ایشین کی جانب سے کھانے کے پیکٹ تحفتاً تقسیم ہو رہے تھے۔ اس میں کھجور کا بسکٹ، دو اور بسکٹ، دو توس، پنیر، کیک، موسمبی اور کولڈ ڈرنک۔ ایک ہم کو ملا مگر صابرہ کے پاس دو عدد آ گئے۔ ہم نے جلدی سے دو رکعت ظہر کی نماز پڑھی۔ تب تک لوگ آنے لگے تھے، مگر کسی کو بس میں بیٹھنے کی جلدی نہیں تھی۔ کوئی کھانا کھا رہا تھا، کوئی کھانا خریدنے جا رہا تھا۔ ہم نے موقعہ غنیمت جانا اور پہلے اپنا سامان بس میں رکھ دیا جو آ گئی تھی۔ اسی بھاگ دوڑ کے دوران ہی کچھ کیک بسکٹ ہم نے بھی کھا لئے۔ 3 بج گئے تھے۔ بس میں بیٹھ بھی گئے بلکہ ساتھیوں کے لئے سیٹیں بھی محفوظ کر لیں۔ پہلے مرد آ کر بیٹھے اور عورتوں کا انتظار کرتے رہے۔ جب ہمارا “سیارہ” ( یعنی بس) روانہ ہو نے کے لئے ہارن دے رہا تھا تب عورتیں آ کر بیٹھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ہماری بس کے فوراً بعد ہی جو بس وہاں سے نکلی، وہی آخری بس تھی اور اس کے بعد جو لوگ بچے تھے، وہ چھ بجے تک انتظار کر کے پیدل ہی روانہ ہوئے کہ سورج ڈوبنے سے پہلے منیٰ کی حدود سے باہر نکلنا ضروری ہے ورنہ پھر ایک دن مزید رکنا ضروری ہو جاتا ہے۔

جن حالات میں بسیں چلتی ہیں، ان حالات میں انتظامیہ کے لئے بھی یہ مشکل ہوتا ہے کہ مکّے کی عمارتوں کے محل وقوع کے حساب سے بسیں چلائی جائیں۔ یا اگر ایسی بسیں چلتی بھی ہیں تو افرا تفری اور اس شک میں کہ دوسری بس ملے گی بھی یا نہیں، لوگ کسی بھی بس میں بیٹھ جاتے ہوں گے۔ وہاں عالم یہ تھا کہ بسیں آتے ہی بھر جا رہی تھیں۔ ورنہ کسی کو کہیں اترنا تھا تو کسی کو اور کہیں۔ یہ ڈرائیور کے لئے بھی ممکن نہیں تھا کہ ہر ایک کو اس کی منزل تک ہی پہنچائے۔ وہ یہی پکارتا رہا تھا کہ بس حرم کے قریب کہیں روکے گا اور پھر معلم کے دفتر پر۔ لوگ اپنے حساب سے اتر جائیں۔ ہم کو حرم سے اپنا راستہ معلوم ہی تھا۔ معلم کا دفتر ہم نے ہر بار بس کے سفر میں دیکھا ضرور تھا مگر راستہ معلوم نہیں تھا۔ حرم میں البتّہ کہیں بھی چھوڑتے تو ہم باہر کی چار دیواری کو پار کر کے اپنے مسعیٰ والے راستے (باب السلام والے)پر آ کر اپنی عمارت رقم 468 پہنچ سکتے تھے۔ اس بس نے ساڑھے چار بجے ہمیں حرم کے باب فہد کے پاس چھوڑا، بلکہ چھوڑا تو ایک سرنگ کے دہانے پر اور تب ہم کو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ ہم کہاں ہیں۔ سڑک پر ایک تیر کے نشان سے معلوم ہوا کہ ادھر باب فہد ہے۔ یہاں سیڑھیاں تھیں اور Escalatorsبھی تھے (“سلم کہربائی”۔ شاید ہم نے لکھا ہے کہ یہاں عربی میں برق سے مراد ٹیلی گراف ہے، بجلی نہیں اور بجلی کے لئے “کہہ ربا ” استعمال کیا جاتا ہے) اور نیچے سے کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا کہ اوپر کیا ہے۔ ان برقی زینوں سے کوئی تین منزل اوپر آئے تب باب فہد نظر آیا۔ عصر کا وقت تو کب کا شروع ہو چکا تھا اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ بجائے باہر ہی باہر اپنا پرانا راستہ تلاش کرنے کے بہتر یہ ہے کہ پہلے اندر ہی چل کر نماز پڑھ لی جائے۔ پھر یہ طے تھا کہ پیدل ہی واپس عمارت تک آئیں گے۔ ٹیکسی کرنے کی کوشش تو بابِ فہد کے قریب سرنگ میں ہی کر لی تھی اور مایوسی ہوئی تھی کہ ساری ٹیکسیاں بھری ہوئی تھیں، کوئی خالی نہیں تھی ورنہ پہلے عمارت میں سامان رکھ کر ہی آنے کا ارادہ تھا۔ ادھر بھیڑ میں سب بچھڑ گئے تھے مگر ملنے کی جگہیں مقرّر تھیں۔ ایک تو غسل خانوں کے دروازوں کے پاس اور دوسرے باب السلام کے پاس۔ اس وقت سب کو وضو بھی کرنا تھا، اس لئے ہم نے سوچا کہ اس طرف ہی وضو کیا جائے جہاں ہمیشہ کرتے آئے ہیں۔ وہیں شاید سب سے ملاقات بھی ہو جائے، 10 منٹ تک انتظار کرنے کے بعد جب کسی سے ملاقات نہیں ہوئی تو ہم نے وضو کیا، پہلے خود اور پھر سامان کے پاس رک کر صابرہ کو وضو کے لئے بھیجا۔ جب یہ وضو کر کے آئیں تو ان کے ساتھ جبّار بھائی کی بیوی فاطمہ بھی ساتھ تھیں۔ معلوم ہوا کہ یہ سب لوگ باب السلام کے قریب ہی سامان رکھ کر بیٹھے تھے۔ (صبح 7 بجے پھر ہم اپنے رخشِ قلم کو مہمیز کر رہے ہیں، بعد میں پھر لکھیں گے)۔

23/ اپریل، 2 بجے دن

غرض ہم دونوں وضو کر کے سامان لے کر باب السلام کی طرف ہی سب کے پاس پہنچ گئے۔ عصر کی نماز پڑھی تو پھر سب لوگ بکھر گئے۔ جمع ہونے میں وقت لگا۔ اس لئے جتنے لوگ جمع ہوئے، وہی ساتھ ساتھ عمارت کی طرف آئے اور پہلے عمارت میں سامان رکھا۔ یہ دیکھتے ہوئے آئے تھے کہ ہمارے غیاب میں عمارت کے بالکل نیچے ہی ایک چائے کی دوکان لگ گئی ہے۔ چناں چہ پھر اتر کر وہیں سے چائے خریدی اور آدھی آدھی پی رہے تھے کہ باقی لوگ بھی پہنچ گئے۔

اس دن حرم میں جانے کی لوگوں میں ہمّت نہیں تھی۔ چناں چہ ہم بھی اکیلے نہیں گئے۔ مغرب اور پھر عشاء کی نمازیں عمارت میں ہی پڑھیں۔ اگلی صبح فجر کے لئے حرم گئے اور پہلے محبوب نگر فون کیا جو جلد ہی مل بھی گیا۔ بچّے بھی وہاں ہی تھے۔ ان کو خیریت کی اطلاع دے کر جب حرم پہنچے تو جماعت کھڑی ہو چکی تھی۔ ہمیں وضو بھی کرنا تھا۔ وضو کر کے آئے تو دیکھا کہ غسل خانے کے قریب ہی جماعت کھڑی ہے۔ دوسری رکعت میں شامل ہو گئے۔

تندورِ مکّہ

شام کو، اور اب ہم 12/ ذی الحجّہ مطابق 19 اپریل کی شام کا ذکر کر رہے ہیں لیکن لکھ رہے ہیں 23/ اپریل کو۔ اس لئے تین چار دن کی روداد کو ملا کر لکھ رہے ہیں۔ ہاں تو حرم کے اس دور کے قیام کی پہلی ہی شام کو تو ہم نے وہی کچھ کھا لیا جو ہمارے ساتھ تھا۔ اگلے دن البتّہ ہمارا مشن یہ تھا کہ وہاں بھی افغانی تندور ڈھونڈھا جائے جہاں مدینے کی طرح گرما گرم روٹی اور عمدہ دال ملنے کی امّید تھی۔ وہ بھی صرف ایک ریال میں۔ سبزی وہاں 2 ریال کی تھی۔ اب تک ہم نے صرف حرم کا راستہ دیکھا تھا۔ اس کے علاوہ مدینے جانے جانے والے دن ہی ہندوستانی حج آفس کی عمارت دیکھی تھی اور وہ راستہ ہمارے راستے سے تھوڑا ہٹ کر تھا۔ اسی طرف گئے تو ایک تندور مل ہی گیا۔ مدینے میں ہی ہمارے تندور کے علاوہ تین چار اور تندور دیکھے تھے اس لئے ان کی پہچان ازبر تھی۔ اب آپ سے کیا چھپائیں، بلکہ چھپانا ہمارا مقصد بھی نہیں، ہم تو چاہتے ہیں کہ آپ بھی ڈھونڈ کر تجربہ کر کے دیکھیں۔ ان تندوروں کی یہ پہچان ہوتی ہے کہ سامنے ہی ایلومینیم کے بڑے بڑے دو تین دیگ ہوتے ہیں۔ اس میں ایک برتن صراحی کی شکل کا ہوتا ہے۔ جو 45 ڈگری کے زاوئے پر جھکا ہوتا ہے۔ اور یہ دیگ بھی ہماری طرف کے دیگوں کی طرح کالے نہیں، چاندی کے رنگ کے ہوتے ہیں۔ صراحی دار برتن میں لوبئے کی مخصوص مزے کی دال بنائی جاتی ہے۔ اسے وہ لوگ “فول” کہتے ہیں۔ مگر یہاں جو تندور دریافت ہوا اس سے مایوسی ہوئی۔ “شیخ التندور” نے پلاسٹک کے ایک پیالے میں بغیر بگھری، محض ابلی ہوئی دال نکالی، اس پر کچھ چاٹ مسالے نما سفوف چھڑکا اور اوپر سے کچّا تیل ڈال کر ڈھکّن لگا کر پیک کیا اور پالیتھین بیگ میں پکڑا دیا۔ روٹی کے لئے کافی دیر قطار میں لگنا پڑا مگر روٹی بھی جلی ہوئی ملی۔ پراٹھے کا پوچھا (جو مدینے میں کھاتے تھے) تو شیخ کا جواب تھا کہ دس پندرہ دن پراٹھے بھول جاؤ۔ شاید ہم لکھ چکے ہیں کہ ان تندوروں میں، کم از کم مدینے میں، تین طرح کی روٹیاں ملتی ہیں۔ پراٹھا، “بسکوت” اور چپاتی۔ چپاتی علی گڑھ کے “ڈنلپ”کی طرح ہوتی ہے، یعنی خمیری تندوری روٹی۔ مگر اس سے زیادہ ضخیم ، وقیع اور وزنی۔ یہاں صرف بسکوت ہی تھا۔ اور دو دن تک وہی کھاتے رہے، مگر یہ ٹھنڈا ہونے پر سخت ہو جاتا ہے۔ اس لئے یہاں مزا نہیں آیا۔ ایک وقت سبزی لی تو مٹر اور بینس کی تھی، آلو بھی نہیں تھے اس میں۔ یہ اگر چہ مزے کی تھی مگر مرچ بہت تیز تھی۔ 21 اپریل کی دوپہر تک تو ہم نے اس تندور کا نمک کھایا بلکہ اس کی پذیرائی کی۔ اس شام کو ہماری دعوت ہو گئی۔ اس کا الگ سے لکھیں گے، آخر ہم کو عنوانات بھی تو بنانے ہیں۔ 22/ کو یعنی کل صبح پھر دال لے کر آئے تھے وہاں سے ہی۔ مگر بور ہو گئے اس تندور سے، تو کل شام کو ہم نے پھر شعبِ عامر میں، اپنے ہندوستانی دوا خانے اور حج آفس برانچ کے آس پاس کے علاقے کا ایک اور دورہ کیا اور آخر ایک اور تندور دریافت ہو گیا۔ کل شام کو ہم وہاں سے دال لے کر آئے۔ 2 ریال کی ہی، مگر یہ بہت بہتر تھی۔ مدینے کے تندور کی طرح ہی۔

طازج فقیہ عرف مکّہ دربار ہوٹل

ہندوستان پاکستان بلکہ لندن تک میں آپ کو دلّی دربار نام کی کوئی نہ کوئی ہوٹل ضرور ملے گی۔ مگر یہ بات محض یوں ہی یاد آ گئی کہ پرسوں رات جہاں کھانا کھایا، وہ ہوٹل دلّی دربار تو نہیں تھی، اسے مکّہ دربار ضرور کہ لیجئے، بلکہ اس ایر کنڈیشنڈ ہوٹل، جو بہت Poshتھی، کا نام تھا۔ طازج فقیہ بلکہ انگریزی میں اس کا پورا نام ہی بتا دیں جو کہ تھا۔ Faqih Chicken- Bar- B- Que۔ ابتدا اس قصّے کی یوں کریں کہ عشاء کی نماز پڑھ کر ہم دونوں واپس آ رہے تھے تو صابرہ نے کہا کہ آج چاول لئے جائیں، بگھارے چاول یا فرائیڈ رائس۔ یہ معاملہ تندوروں کے دائرے سے خارج تھا، چناں چہ دوسری عربی، ہندوستانی، پاکستانی ہوٹلوں میں اس کی تلاش تھی۔ ہر جگہ سادہ (جنوبی ہند کی اصطلاح میں سفید چاول White Rice)چاول تو دستیاب تھا۔ بگھارا چاول بھی کہا، انگریزی میں فرائڈ رائس بھی کہا مگر ہوٹل والے منہ تکتے تھے۔ ایک پاکستانی ہوٹل والے نے تو طنز بھی کر دیا کہ بھائی اردو بولو۔ ہم کو انگریزی نہیں آتی۔ بہر حال بدقّت پتہ چلا کہ اسے گھی کا پُلاؤ کہنا پڑے گا۔ مظہر بھائی وغیرہ اکثر لے کر آتے تھے بازار سے اور ان کے خاندان کے ساتھ صابرہ یہ چاول کھا چکی تھیں۔ چناں چہ تین ریال کا یہ گھی کا پلاؤ لائے۔ دہی خریدی، کچھ روٹیاں رکھی تھیں(اس کی داستان الگ ہے، بعد میں لکھیں گے)ہم یہی سوچ رہے تھے کہ دال بھی لے لیں گے یا پھر ہمارے ساتھیوں سے کسی سے لے لیں گے۔ اپنی عمارت کی طرف آنے کے لئے سڑک پار کر رہے تھے کہ باقر کا پر نور چہرہ (داڑھی والا) نظر آیا۔ یہ صاحب ہمارے ہم زلف محمود بھائی کے چھوٹے بھائی ہیں اور ان کے ساتھ ہی ان کے بہنوئی اشفاق بھائی بھی تھے جو علی گڑھ کے انجینئر ہیں۔ یہ لوگ کار میں جدّہ سے ہم سے ملنے آئے تھے۔ حالاں کہ حج میں یہ لوگ بھی تھے مگر منیٰ میں ہمارے کیمپ کی طرف گاڑی لے کر نہیں آ سکے تھے۔ اس لئے اب ملنے آئے تھے۔ البتّہ آتے ہی حج آفس میں یہ معلوم کر لیا تھا کہ ہم لوگوں کا نام مرحومین اور زخمیوں کی فہرست میں تو نہیں تھا۔

سڑک سے ہی کار میں بٹھا لیا انھوں نے اور ہاتھ کا سامان بھی عمارت میں رکھنے نہیں دیا۔ لاکھ کہا کہ ہم کھانا لے کر آ گئے ہیں تو کہنے لگے کہ اس کھانے کو بعد میں کھانے کے لئے رکھ لیں اور اس وقت ان کے ساتھ چلیں۔ چناں چہ چلے مکّے کی سڑکوں کی سیر کرتے ہوئے (اشفاق بھائی ڈرائیو کر رہے تھے۔ ) اس خوبصورت ہوٹل میں پہنچے اور پھر یہ دونوں ہی چار ٹرے اٹھا کر لائے۔ کھانا واقعی بہت عمدہ تھا۔ مرغی کے ساتھ ایک عدد روٹی تو آتی ہی تھی ، ایک ایک روٹی مزید لے آئے تھے۔ روٹیاں تو جتنی چاہئیں، مل جاتی ہیں نا! ایک پلیٹ چاول بھی تھا۔ ہر ٹرے میں آدھی آدھی مرغی، ایک پیکٹ میں “فرینچ فرائز” یعنی آلو کے لمبے لمبے تلے ہوئے قتلے۔ دو پانی کی بوتلیں۔ ویسے پانی یہاں کی ہوٹلوں میں ملتا نہیں، مانگئے تو ایک بوتل دے دیتے ہیں آدھا لٹر پانی کی اور پھر کہتے ہیں کہ لائیے ایک ریال۔ پھر مٹھائی کے دو دو ٹکڑے، ٹماٹر کے “کیچ اپ” (“کشتاب” عربی میں) کے چھوٹے چھوٹے پاؤچ۔ ٹِشو پیپر کے پاؤچ (ویسے عموماً ہر ہوٹل میں ٹِشو پیپر کا پورا ڈِبّہ ہر میز پہ رہتا ہے، جتنا چاہیں استعمال کریں) اور ایک گلاس میں پےپسی، یا “بے بسی”۔ سرو کرنے والی پلیٹ بھی معہ ڈھکّن کے تھی ( جسے ہم ساتھ لے آئے ہیں اور آج کل اسی میں کھانا ہو رہا ہے)۔ معلوم ہوا کہ ان فقیہہ صاحب کے خود کے فارمس ہیں مرغی اور بکروں دونوں کے اس لئے دونوں قسم کے گوشت کے حلال ہو نے میں شک کی گنجائش نہیں، اسی لئے وہ لوگ وہاں کھانا کھاتے ہیں۔ مرغ میں مرچ مسالہ بہت کم تھا، اس لئے اور بھی اچھّی لگی، خاص کر “کشتاب” کے ساتھ۔ اشفاق بھائی کہنے لگے کہ کولڈ ڈرنک بھی ساتھ چلنے دیں جیسے کہ یہاں کے لوگ کرتے ہیں۔ چناں چہ ہم نے بھی یہی کیا۔ ویسے اشفاق بھائی بِل پہلے ہی دے کر آئے تھے مگر بِل پر ہماری نظر پڑ گئی۔ مرغی دس ریال فی پلیٹ تھی، چار پلیٹوں کے 40 ریال، 3 ریال کے فرنچ فرائیز، اور 4 ریال کی مٹھائی، کل 47 ریال کا بل تھا جو بہت مناسب ہی تھا( بشرطیکہ آپ اسے ہندوستانی رقم میں ترجمہ کر کے نہ دیکھیں کہ اس طرح یہ 470 روپئے ہو جاتے ہیں)۔ یہاں سبھی جگہ تلی یا بھونی ہوئی مرغی 10 ریال کی ہی ملتی ہے۔ کولڈ ڈرنک مفت۔ روٹی چاول بھی۔ ان کی سروس بھی عمدہ تھی۔ کشتاب کے 12۔ 15 Sachetہم نے لے لئے تھے جو کافی بچ گئے تھے۔ روٹیاں اور چاول بھی۔ باقی سامان پیک کروا کے ساتھ بھی لے آئے۔ کار میں آئے تو باقر نے پان نکالے۔ یہ پان یہ لوگ جدّے سے ہی پیک کرا کے لائے تھے۔ ہم کو ہوٹل واپس چھوڑا تو رات کے 11 بج رہے تھے۔ مگر اس دعوت میں خوب مزا آیا۔

لوٹ کا مال

ملک فہد بن عبدالعزیز آلِ مسعود جو اپنے کو خادمِ حرمین شریفین لکھتے ہیں، کی جانب سے حرم کے علاقے میں روزانہ ٹھنڈے پانی کے پیکٹ تقسیم ہوتے ہی ہیں، ہم حرم سے ٹھنڈا زمزم بھی ہمیشہ بھر کر لاتے ہیں۔ راستے میں یہ گاڑیاں کھڑی رہتی ہیں۔ “ہدیۂ من الملک” انگریزی میں لکھا ہوتا ہے۔ Royal Giftتو انھیں بھی تحفۂ شاہ سمجھ کر قبول کرتے رہتے ہیں۔ 20۔ 21 کی دوپہر کو لے کر آئے تھے تو کل ہم ظہر کے وقت اپنی پانی کی بوتل ہی نہیں لے کر گئے کہ راستے میں پانی کے پیکٹ لوٹ کر لائیں گے۔ مگر وہ گاڑیاں غائب تھیں۔ سوچا کہ ممکن ہے کہ تحفۂ شاہ کا سلسلہ ختم ہو گیا ہو کہ اب حج مکمّل ہو گیا ہے اور بہت سے لوگ واپس جانے لگے ہیں۔ اپنے وطن تو نہیں مگر مدینے، کہ یہ لوگ پہلے یہاں ہی آ گئے تھے اور اب حج کے بعد مدینے جانے والے تھے۔ مگر آج صبح ہم ١٠ بجے حرم سے واپس آ رہے تھے تو پھر یہ گاڑیاں کھڑی تھیں اور ہم پھر ١٠۔ ٨ پیکٹ لوٹ کر لائے جب کہ حرم سے پانی کی بوتل بھی بھر کر لائے تھے۔ یہ سارے پیکٹ عمارت میں آ کر بانٹ دئے۔ ظہر کے بعد دیکھا تو ایک گاڑی میں پانی ختم ہو گیا تھا۔ اس سے پہلے والی ایک اور گاڑی میں تقسیم ہو رہا تھا مگر ہم سڑک پار کر چکے تھے اور یہ پانی لینے کے لئے سڑک پار کرنی پڑتی۔ اس لئے ہم نے چھوڑ دیا۔ اس کے علاوہ ٢٠ /کو ہی اسی جگہ ناشتہ بھی تقسیم ہو رہا تھا۔ اس کے تین پیکٹ لائے تھے ہم صبح۔ ہر پیکٹ میں ٢۔ ٢ لمبی والی ڈبل روٹیاں (بعد میں معلوم ہوا کہ ان کا نام “سلومی” ہے)اور ٤۔ ٤ چھوٹے چھوٹے پیکٹوں میں جام (٣٠ جرام کے، مراد گرام، جیسا کہ ان پر تحریر تھا)اور ٤۔ ٤ پیکٹوں میں ہی “کریم چیز”(Cream Cheese) جو تقریباً مکھّن ہی تھا کہ اس میں کریم بھی شامل تھی۔ چناں چہ دو دن سے یہی مفت کا ناشتہ چل رہا ہے۔ بلکہ روٹیاں تو کھانے میں بھی کام میں آ رہی ہیں۔ ٢١/ کو ہی بن جام ہم خرید کر بھی لائے تھے۔ ٢ ریال کے ٨ عدد۔ وہ ناشتے میں چل رہے تھے چیز اور جام کے ساتھ اور سلومیاں کھانے میں استعمال میں آ رہی تھیں۔ روٹیاں نہیں خرید رہے تھے۔ ابھی تک بھی جام اور پنیر باقی ہے۔ آج دوپہر کو صابرہ نے جبّار بھائی کے خاندان کے ساتھ کھانا کھا لیا توہم بھی وہ چیز لے کر آئے جو یہ نہیں کھاتیں، یعنی مچھلی۔ اب شام کو انشاء اللہ دال سبزی اور روٹی لائیں گے۔ نیا تندور زندہ باد۔ ناشتے کے لئے بن بھی لانے ہوں گے۔

حرم کے شب و روز

جب سے ہم آئے ہیں، یہ بد قسمتی جاری ہے کہ فجر کی حرم کی نماز نہیں مل رہی ہے۔ آنکھ کھلتی ضرور ہے فجر کے لئے مگر پانچ، ساڑھے پانچ بجے کہ بس خود ہی اکیلے فجر کی نماز کا وقت رہتا ہے۔ چناں چہ ہمارا وہی معمول ہے کہ ناشتے کے بعد ساڑھے سات آٹھ بجے حرم جا رہے ہیں۔ طواف کرتے ہیں، قضا نمازیں پڑھتے ہیں، نہانا دھونا ہوتا ہے تو وہ کرتے ہیں اور ساڑھے نو، دس بجے واپس آ جاتے ہیں…

(رات ساڑھے دس بجے)

…اس کے بعد گیارہ ساڑھے گیارہ بجے پھر ظہر کے لئے نکلتے ہیں۔ ظہر کی نماز پڑھ کر کھانے کا انتظام کرتے ہوئے آ جاتے ہیں۔ پھر کھانا وغیرہ کھانے تک دو ڈھائی بج جاتے ہیں۔ تین بجے تک یہ “سفر نامہ” تحریر کرتے ہیں۔ کبھی کبھی کچھ اور کام بھی۔ جیسے آج ہی ہمارے کمرے کی ایک صاحبہ کو ان کی لڑکی کے نام خط لکھ کر دیا۔ اور پھر عصر کے لئے گئے تو خود ہی پوسٹ بھی کیا۔ عصر کے بعد آتے وقت ہی نیچے کی دوکان سے ہی چائے لیتے ہوئے آتے ہیں جو ہم دونوں آدھی آدھی پی لیتے ہیں۔ اس کے بعد کچھ دیر پڑوسیوں سے بات چیت ہوتی ہے۔ یہاں کمرے پر یا پھر مظہر بھائی جبّار بھائی وغیرہ کے کمروں میں۔ پھر چھ بجے نکل جاتے ہیں۔ مغرب اور عشاء کے درمیان ایک اور طواف کرتے ہیں۔ عشاء کے بعد کھانے کا انتظام اور کھانے تک دس بج جاتے ہیں۔ پھر گھنٹہ بھر یہ لکھنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔

آج کہیں جا کر حرم کی پرانی حالت کچھ حد تک لوٹ آئی ہے جیسی مدینے جانے سے قبل تھی۔ یعنی راستے صاف ہو گئے ہیں۔ حرم کا صحن بھی بالکل صاف ہو گیا ہے جو کل تک بھی گندا تھا۔ راستے ضرور پرسوں ہی کافی صاف ہو گئے تھے۔ کچھ تبدیلیاں اب بھی باقی ہیں۔ پہلے سائل نظر نہیں آتے تھے۔ جو ہمارا ارادہ تھا کہ احرام کی بے حرمتی کے لئے بطور دم کچھ گیہوں یا اس کی قیمت دے دیں گے تو اس وقت کوئی سائل دکھائی نہیں دیتا تھا۔ آج کل کئی اپاہج لوگ اور افریقی نظر آتے ہیں۔ زیادہ تر عورتیں اور بچّے۔ ویسے زیادہ تر افریقی عورتیں یا تو کبوتروں کے لئے بطور دانہ گیہوں فروخت کرتی نظر آتی تھیں اور ہیں ۔ ایک ایک ریال کے پیکٹ یا پھر بڑے ٥ ریال کے، یا پھر مہندی کی دوکانیں لگائے ہوئے۔ سنا ہے کہ یہاں کی مہندی کا رنگ بہت گہرا ہوتا ہے۔ صابرہ کا بھی لینے کا خیال ہے۔ فٹ پاتھوں پر چوڑیوں، ہاروں، تسبیحوں اور اسکارفوں (ان کو “محرمے” کہتے ہیں) کو بیچنے والیاں بھی افریقی ہی ہیں۔ کچھ انڈونیشی ، کچھ عرب اور کچھ بنگلہ دیشی بھی۔ منیٰ میں البتّہ بیچنے والے زیادہ تر بنگلہ دیشی ہی نظر آئے۔ جو دوکانیں ہمارے مدینے جانے کے بعد لگی تھیں، وہ اب بھی ہیں۔ ان معاملوں میں اطرافِ حرم اب بھی پہلے جیسے نہیں ہیں۔

ایک دو تبدیلیاں اور بھی نظر آتی ہیں۔ شارع مسجدِ حرام اور طریقِ مسجدِ حرام کے جنکشن پر فرانسیسی بنیان کا اشتہار لگا ہے جس میں بنیان پہنے ہوئے ایک مرد کی تصویر ہے۔ مگر چہرے کی جگہ مختلف رنگوں کے مستطیل بنے ہوئے ہیں جیسے ہمارے یہاں ٹی وی پر کسی کی شناخت چھپانے کے لئے چہرے کو بگاڑ دیا جاتا ہے۔ یہاں شاید اس کا مقصد یہ ہے کہ تصویر اصل کے مطابق نظر نہ آئے۔ مگر اس سے پہلے ہم نے کسی قسم کی تصویر کسی اشتہار میں بھی نہیں دیکھی تھی۔ ممکن ہے کہ یہ ہماری غلط فہمی ہو۔ ہاں، اس بنیان کے اشتہار میں تحریر ہے۔ “100 فی صد قطن” یعنی 100 فی صدی کاٹن۔

مدینے سے ایک بات کا اور مشاہدہ کرتے آئے ہیں ہم۔ پہلے جو بھی کاریں ہم نے دیکھی تھیں، ان کے نمبر محض ایک سات حرفی عدد دیکھا تھا۔ اب ہندوستان میں اب سے 8۔ 10 سال قبل جیسے نمبر بھی نظر آئے ہیں جو شاید نئی کاروں پر ہیں۔ جیسے ABC 769، عربی میں ہی تین حرفی اور 3 ہندسوں کے عدد۔

کچھ بین ا لا قو امی حجّاج کے با ر ے میں

جیسا کہ لکھ چکے ہیں کہ حرمین میں اکثر سائن بورڈوں پر تین زبانیں ضرور لکھی ملتی ہیں۔ عربی، انگریزی اور اردو۔ کبھی چار ہوتی ہیں تو یہ چوتھی زبان بھی رومن رسم الخط میں ہوتی ہے۔ یہ شاید انڈونیشی ہوتی ہے۔ انڈونیشیا کے لوگ سب سے زیادہ تعداد میں ہیں، یہ ہم کو بھی شک ہوا تھا۔ پرسوں باقر نے “کنفرم” بھی کر دیا کہ اخباروں میں بھی آیا ہے کہ انڈونیشیا کے حاجی ہی سب سے زیادہ ہیں۔ یہ لوگ بہت پسند آئے۔ ویسے ان کی عمروں کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ ان لوگوں کے چہرے سدا بہار نظر آتے ہیں۔ پھر بھی لگتا یہی ہے کہ برِّ صغیر کے بوڑھے حاجیوں کی بہ نسبت ان کی اوسط عمر کم ہی ہے۔ مرد بہت دوستانہ مزاج کے یعنی Friendly ہیں (عورتوں کے بارے میں صابرہ کا بھی یہی خیال ہے) آپ کے پاس صف میں بیٹھے ہوں گے یا نماز سے فارغ ہوں گے تو فوراً آگے بڑھ کر دونوں جانب کے نمازیوں سے پہلے ہاتھ ملائیں گے اور ہاتھ سینے پر پھیریں گے۔ اکثر مرد انگریزی لباس میں ہی ہوتے ہیں مگر شرٹس بڑے رنگ برنگے پہنتے ہیں۔ کبھی کالر والے کبھی بغیر کالر کے۔ مگر سب کے شرٹس میں عموماً چاک ہوتے ہیں دونوں طرف۔ اور سامنے نیچے کوٹ کی طرح جیبیں ہوتی ہیں۔ کچھ کے شرٹس پر کعبہ بھی بنا ہوتا ہے۔ کسی کسی شرٹ پر عربی میں “باب السلام” بھی لکھا دیکھا۔ عورتیں زیادہ تر سفید لباس پہنتی ہیں۔ پتلون نما پاجامے یا شلواریں اور اوپر لمبے کرتے۔ کپڑے چاہے رنگین ہوں مگر اوپر سفید نصف برقعہ ضرور پہنتی ہیں جو دراصل طویل و عریض اسکارف یا محرمہ ہوتا ہے جسے ٹھوڑی پر بھی باندھتی ہیں اور سر کے پیچھے بھی۔ برقعوں پر جالی کا کٹاؤ کا کام یا کشیدہ ہوتا ہے۔ کئی نوجوان لڑکیاں لپ سٹک بھی لگاتی ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ حاجی صاحب عورتوں کا بھی دیدار کرتے رہے ہیں۔ اب آپ سوچئے کہ جب ہر جگہ یہ خواتین نظر آ ہی جائیں گی تو آنکھیں تو نہیں بند کی جا سکتیں۔ مگر ہم تو ان کی تعریف ہی کریں گے کہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ ہماری ہندوستانی پاکستانی عورتیں نماز کے لئے آئیں گی تو خوب حجاب میں ہوتی ہیں اور جہاں سڑکوں پر نکلتی ہیں، یہاں بھی، تو سر تک کھل جاتے ہیں۔ مگر یہ انڈونیشیائی لڑکیاں ۔ مجال ہے کہ کبھی چہرے کے علاوہ کوئی اور حصّۂ بدن کسی کو نظر آ جائے۔

(24/ اپریل، صبح 20۔ 8 بجے)

انڈونیشیائی عورتوں کے بارے میں کچھ باتیں اور لکھنے سے رہ گئی تھیں۔ یہ ہاتھوں پر سفید ہی دستانے بھی پہنتی ہیں یعنی اس طرح کہ ہاتھ کی پشت ڈھکی ہوتی ہے مگر انگلیاں کھلی ہوتی ہیں۔ اکثر عورتوں کے برقعوں یا لباس پر ایک کپڑا لگا ہوتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے جماعۃ حاجی انڈونیشیا، انگریزی میں بھی۔ کبھی عربی میں “الحاج الاندونیسی”۔ ملیشیا کے لوگ بھی بالکل ایسے ہی ہوتے ہیں کہ ان کو پہچاننا اور انڈونیشی افراد سے تفرقہ مشکل ہوتا ہے۔ اس وقت پہچان ممکن ہے جب ان کے لباسوں پر “مالیزیا” لکھا ہوتا ہے۔ یہ بھی شریف النفس لوگ ہوتے ہیں۔ طواف وغیرہ کے موقعوں پر دھکّم دھکّا سے پرہیز کرنے والے۔ اس معاملے میں ایرانی اور سوڈانی بدنام ہیں۔ ہمارے ہندوستانی پاکستانی بھی دھکّم دھکّا میں حصّہ نہیں لیتے مگر ہمارے یہاں ایک عادت بری ہے، عورتیں اور بوڑھے دوسروں کو پکڑ کر ان کا سہارا لینا چاہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب ان کو دھکّا لگتا ہے تو وہ اس سہارے کی وجہ سے آپ کو بھی دھکّا دینے کے لئے مجبور ہیں۔ یہ اگرچہ غیر ارادی دھکّا ہوتا ہے۔ خود عرب کے لوگ بھی دھکّم دھکّا کے فن میں ماہر ہیں۔

سعدی و حافظ

اب آپ سے کیا کہیں کہ فارسی ہم کو اتنی تو آتی نہیں کہ سعدی و حافظ کے اشعار جا بجا ( بلکہ بے جا بے جا ) لکھا کریں۔  عام طور پر ہمارے ہندوستانی ادیب فارسی شعروں کا استعمال محض رعب کے لئے کرتے ہیں (بیشتر تو رعب تک کو ” “رباب” کہتے ہیں) اس لئے اکثر بے محل ہی “کوٹ” کر جاتے ہیں۔ (آپ کو سنائیں۔ مگر وہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ ہندوستان اور پاکستان کا ہر کلاسیکی گلوکار، جسے عرفِ عام میں پکّے گانے گانے والا کہا جاتا ہے، اپنی تان لگانے سے پہلے میاں تان سین کے آگے اپنے کان پکڑتا ہے کہ آخرت میں میاں تان سین اس کے کان نہ پکڑیں۔ یہی حال ہمارا فارسی سے رشتے کا ہے۔ آخر خمیر میں فارسی گندھی ہوئی ہے۔ اب تک سوچتے ہی رہے کہ ہمارے ایرانی حاجیوں سے فارسی میں گفتگو چھیڑی جائے( ویسے زبانِ یار من ترکی بھی ہو سکتی ہے، وٍ من ترکی نمی دانم) لیکن چاروں خانے چت ہو جانے کا خطرہ ہے کہ کہیں پہلے ہی حملے میں چیں بول کر (دل میں)اور “مرحمت شما” (زبان سے) کہہ کر بھاگنا نہ پڑ جائے۔ بلکہ یہ بھی سنا ہے کہ آج کل یہ لوگ بھی مرحمت وغیرہ سے بچتے ہیں اور محض “مرسی”کہہ دیتے ہیں شکرئے کے طور پر۔ مگر کیا بتائیں، ہم ان کو اسی رشک سے دیکھتے ہیں جیسے ان میں کا ہر شخص سعدی یا حافظ ہو۔ ان کی عورتوں کے لباسوں کی طرف نظر کیجئے۔ یہ بھی برقعے اور محرمے باندھتی ہیں۔ برقعوں میں بھی اور مردوں کے لباسوں میں بھی اپنے گروپ کے حساب سے یکسانیت پائی جاتی ہے۔ یعنی پورے گروپ کی ایک یونی فارم ہوتی ہے۔ عورتوں کے محرموں پر ایک کپڑا سلا ہوتا ہے جس میں ان کے گروپ بلکہ شہر کا نام لکھا ہوتا ہے۔ شیراز اور نیشا پور دیکھ کر تو ہم تڑپ اٹھتے ہیں۔ اصفہان اور طہران سے ہمارا کوئی مطلب نہیں کہ ہمارے سعدی و حافظ کا ان سے کوئی مطلب نہیں۔ یہ تو ماڈرن بلکہ نو دولتئے شہر ہیں۔ معلوم نہیں کہ ان ایرانیوں میں واقعی کتنے ادیب و شاعر ہوں گے۔ ہوں گے بھی تو وہی اللہ” اکبر کو اللہ اچبر کہتے ہوں گے۔ یہ “ک” کا تلفّظ “چ “سے کرتے ہیں۔ شہروں کے نام کے علاوہ ان کے “لیبلوں” پر “کارواں شمار” بھی لکھا ہوتا ہے اور “میر کارواں” کا نام بھی۔

اب آئیے روسی (ہماری مراد قدیم سوویت یونین سے ہے، یہ حاجی نہ جانے کن کن ملکوں کے ہوں گے، روس کے علاوہ تاجکستان، آذر بائیجان وغیرہ، مگر ہم ان کو مجموعی طور پر روسی ہی کہہ رہے ہیں) قوم کی طرف۔ دیکھنے میں تو یہ بھی ایرانی، افغانی اور عرب ہی لگتے ہیں، کم از کم مرد۔ عورتیں البتّہ ضرور کچھ مختلف نظر آتی ہیں کہ نازک اور دبلی پتلی ہوتی ہیں۔ اگر ان لوگوں کی گاڑیاں اور بسیں ہم نہیں دیکھتے تو پہچان نہیں سکتے تھے۔ ہماری ہوٹل کے آس پاس اور اتار کے بعد مسجدِ جن کے ارد گرد ان لوگوں کے کئی کیمپس ہیں جو اس دوران ہمارے غیاب میں بن گئے ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر “کارواں بسوں” میں آتے ہیں۔ ان میں ہی ان کے کھانے پینے اور سونے کا انتظام ہے۔ مگر جتنے لوگ ایک گروپ میں نظر آتے ہیں، ان سب کا سونا ایک ہی کاروان بس میں ممکن نظر نہیں آتا۔ شاید اسی لئے اکثر لوگ دن میں باہر زمین پر سوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں باہر ہی اسٹوو جلا کر چائے بناتے اور کھاتے پکاتے ہیں۔ سنا ہے کہ روس نے اس دفعہ پہلی بار اپنے مسلم باشندوں کو حج کی اجازت دی ہے اور یہ بھی 25 ۔ 20 ہزار کی تعداد میں ہیں۔

حبشی کچھ تو مقامی ہی ہیں اور کچھ افریقی ممالک کے۔ زیادہ تر عرب لباس ہی پہنتے ہیں۔ عورتیں بھی مقامی عربوں کی طرح سیاہ برقعے پہنتی ہیں۔ مگر جو غیر ممالک کے افریقی آتے ہیں وہ رنگ برنگے کپڑے پہنتے ہیں۔ مرد اور عورتیں عموماً یکساں لباس پہنتے ہیں۔ کچھ عورتیں مغربی لباس بھی پہنتی ہیں ان میں سے کچھ کا ایک کندھا عریاں بھی ہوتا ہے، مگر زیادہ تر مغربی لباس میں بھی ٹخنوں تک کا ملبوس ہوتا ہے۔ کچھ افریقی مرد ایک طرح کا جبّہ بھی پہنتے ہیں جو کئی پلیٹس (Pleats)کے ساتھ شانوں سے لٹکتا رہتا ہے۔ یہ حضرات شاید سوڈانی ہیں۔ دھکّم دھکّا کے لئے اکثر افریقی بدنام ہیں، مگر ہم کچھ امن پسند واقع ہوئے ہیں، اس لئے ان کو الزام نہیں دیتے۔ طبیعتاً تو یہ بھی ایذا پسند نہیں لگتے۔ البتّہ ان کا فربہی مائل بدن ہی ایسا ہوتا ہے کہ دوسروں کو ذرا سا دھکّا لگنے سے لوگ گر سکتے ہیں، ان کے غیر ارادی طور پر۔ یہ خصوصیت عورتوں میں زیادہ ہے۔ مرد تو پھر کچھ کمزور بھی ہیں۔

اب یہاں اپنی ایک غلط فہمی کا اور ذکر کر دیں۔ اب تک ہم سمجھتے تھے کہ ہماری برِّ صغیر کی عورتیں ہی شلواریں پہنتی ہیں اور کالے برقعے اوڑھتی ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ شلواریں تو افریقہ، عرب، ایران اور پرانے سوویت یونین کی کئی عورتیں پہنتی ہیں۔ برقعے بھی کم و بیش ہندوستانی طرز کے ( یہاں بھی تو آج کل کوٹ نما برقعوں۔ کا رواج چل نکلا ہے)عرب ممالک، مغربی ایشیا کے ممالک ، افریقہ اور سوویت یونین میں بھی پہنے جاتے ہیں۔ عرب عورتوں کے برقعوں میں اکثر ایک لمبا چوڑا دوپٹّہ ہوتا ہے جس میں پورا بدن ڈھک جاتا ہے۔ ہاتھوں میں یہ عورتیں دستانے بھی پہنتی ہیں، بیشتر سیاہ رنگ کے ہی۔ حرم میں جن عورتوں کی ڈیوٹی ہوتی ہے، وہ اسی لباس میں ہوتی ہیں۔

اب اس پر ایک بات اور یاد آ گئی ہے۔ وہ جو ہم نے لکھا تھا کہ عورتیں حرم کے نزدیک یا ادھر ادھر راستوں پر کھانے پینے کی چیزیں لے کر بیٹھی ہوتی ہیں، ان کا شجرۂ نسب سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ اب تک ہم انھیں عرب ہی سمجھتے تھے اور سوچتے تھے کہ یہ کھانا عربی ہی قسم کا ہوگا۔ مگر بعد میں لوگوں سے پتہ چلا کہ زیادہ تر انڈونیشی ہی ہیں۔ یہ کھانا بھی انڈونیشی ہوتا ہے۔ خود ہم اب تک 3 بار ان سے سالم مچھلی لے کر کھا چکے تھے۔ ان خوردنی اشیاء میں چاول کے پیکٹس،ابلے انڈے، آملیٹ وغیرہ کے علاوہ پالیتھین بیگس میں کچھ ہرے پیلے لال شوربے یا سوپ بھی ہوتے ہیں۔ کچھ اچار نما چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ یہ تو ہم نے چکھنے کی ہمّت نہیں کی۔ ہاں، شام کو عصر کے بعد یہ عورتیں کچھ ہلکی پھلکی چیزیں (Snacks) لے کر آتی ہیں۔ ایک دن مظہر بھائی نے ان ہی دوکانوں سے کچھ گلگلے نما میٹھی چیز خرید کر کھلائی تھی۔ یہ لوگ اسے کیا کہتے ہیں، معلوم نہیں کیا مگر یہ مزے میں گلگلے جیسے اور شکل میں جنوبی ہند کے “بونڈے” کی طرح تھے۔ معلوم نہیں یہ بیچنے والیاں جو چہرے کا بھی پردہ کرتی ہیں، سبھی مقامی انڈونیشی ہیں یا پھر حج کے موقعے پر خود بھی حج کے ساتھ اپنا کاروبار بھی کرتی ہیں۔ انڈونیشی حاجی بھی ان سے ہی کھانا لے کر کھانا پسند کرتے ہیں۔ ہر چیز ایک ایک ریال میں دیتی ہیں، گلگلوں کی پلیٹ ہو یا مچھلی، چھوٹی مچھلی سالم ہوتی ہے۔ بڑی ہو تو اس کے قتلے تلے اور بھنے ہوئے ہوتے ہیں۔ مرغی کی بوٹیاں بھی ہوتی ہیں۔

بلا عنوان

24/ اپریل۔ رات ساڑھے دس بجے۔

آج کل لکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ آج صبح کچھ وقت ملا تھا تو لکھتے رہے تھے۔ اوپر کے عنوان تک 8 بجے سے ساڑھے دس بجے تک لکھتے رہے، پھر کچھ باتیں بھی ہوتی رہیں۔ رات کو ہم لکھتے ہیں تو صابرہ کو شکایتیں ہوتی ہیں کہ بجلی جل رہی ہے اور ان کو روشنی میں نیند نہیں آتی۔ حالاں کہ مشکل سے گھنٹہ بھر ہی لکھتے تھے۔ ظہر کے بعد 2 بجے سے 3 بجے تک کچھ لکھنے کا موقعہ مل جاتا ہے یا پھر صبح آج کی طرح جب ہم کو اس دورِ قیام میں پہلی بار حرم میں فجر کی نماز مل سکی تھی۔

ہوا یوں کہ رات کو 2 بجے ہی ہماری آنکھ کھل گئی۔ ضرورت کے لئے اٹھے تھے اور بے تحاشا کھانسی شروع ہو گئی۔ کچھ قابو پا کر لیٹے اور تھوڑی نیند بھی آ گئی مگر پھر تین سوا تین بجے اٹھنا پڑااور ساڑھے تین بجے کمرے سے باہر آ کر سگریٹ بنائی اور پی۔ 4 بجے تک طبیعت بحال ہوئی تو پھر حرم ہی چلے گئے ۔ 22۔ 4 پر اذان ہوتی ہے۔ پونے پانچ بجے نماز بھی ہو گئی۔ فجر کے بعد ہی ہم طواف میں لگ گئے۔ اب بھی طواف میں کافی بھیڑ رہتی ہے حالاں کہ سڑکوں پر حالات معمول پر آتے دکھائی دیتے ہیں۔ طواف میں مگر گھنٹہ بھر آج تک بھی لگ رہا ہے بلکہ کچھ زیادہ ہی۔ آج ساڑھے چھ بجے فارغ ہوئے۔ پھر اشراق اور قضا نمازیں پڑھیں۔ واجب الطواف نماز بھی۔ ساڑھے سات بجے واپسی کے لئے روانہ ہوئے۔ تھرمک باٹل میں زم زم کا ٹھنڈا پانی لیتے ہوئے۔ پچھلی شام ہی بن لے کر آئے تھے،جام اور پنیر بھی چل رہے تھے، خیراتی، جس کا ذکر ہم نے پہلے “لوٹ کا مال”عنوان کے تحت کیا ہے۔ اسی کا ناشتہ کیا۔ صابرہ نے کہا کہ پوری چائے پئیں گی، چناں چہ دو عدد چائے لے کر آئے۔ اس کے بعد کچھ دیر لکھنے پڑھنے کے بعد ظہر کے لئے گئے۔ ظہر سے واپسی میں تندور کی دال، چھاچھ (لبن) اور روٹی لیتے ہوئے آ گئے۔ مگر اس تندور میں مزا نہیں آ رہا ہے۔ “بسکوت” جو مل رہے ہیں وہ اتنے اچھے نہیں ہوتے جیسا کہ مدینے میں پراٹھے اور چپاتیاں مل رہی تھیں۔ اور گرم بسکوت کے حصول میں دیر الگ ہوتی ہے۔ آج کی دال ویسے غنیمت تھی۔ کمرے آئے تو صابرہ کچھ چاول اور گوشت اور بینس کا سالن لئے بیٹھی تھیں۔ جبّار بھائی اور ستّار بھائی کے کچن کا۔ سب کچھ کھایا اور خدا کا شکر ادا کیا۔ خاص کر چھاچھ کی وجہ سے کھانا اچّھا لگا۔ دوپہر سے سر درد ہونے لگا تھا۔ کچھ شاید گرمی کی وجہ سے اور شاید کچھ اس باعث کہ بھوک 12 بجے سے ہی لگ رہی تھی اور بھوک میں فوراً کھانا کھانے کا انتظام نہ ہو سکے تو ہم کو اکثر سر درد ہو جاتا ہے۔ آج ڈیڑھ بجے کھانا ہو سکا تھا۔ ویسے ایسے موقعوں پر ہم لیٹ نہیں پاتے، مگر کیوں کہ درد اصل میں گردن میں ہوتا ہے، اس وجہ سے تکیوں کو گردن کے نیچے رکھ کر لیٹے تھے کہ نہ جانے کس طرح آنکھ لگ گئی۔ شاید اس وجہ سے کہ 2 بجے سے جاگ رہے تھے۔ ایسے سوئے کہ 4 بجے ہی اٹھے۔ اور نتیجہ یہ نکلا کہ دوپہر کو کچھ نہ لکھ سکے۔ سر درد جاری تھا اور حرم جانے کا وقت بھی نہیں تھا اس لئے عمارت پر ہی عصر کی نماز پڑھی، پھر اسپرو کھائی باہر بلکہ نیچے جا کر چائے لے کر آئے۔ اٹھتے ہی پھر کھانسی بھی زوروں کی اٹھ رہی تھی۔ چائے پی کر پھر نکل گئے اور باہر ہی سگریٹ پی کر اپنا علاج کیا۔ پھر پونے چھ بجے حرم پہنچے۔ وضو کر کے پہلے قضا نمازیں پڑھیں۔ اندرونی صحنِ حرم میں جگہ بنائی تھی تا کہ طواف میں آسانی ہو۔ مغرب پڑھتے ہی طواف کیا۔ واجب الطواف نماز بھی پڑھ لی۔ مگر پھر وہاں جگہ نظر نہ آئی تو عشاء کے لئے باہر کے صحن میں آ گئے، یعنی مسعیٰ کے باہر جہاں سے وہ آٹھوں دروازے اندر جاتے ہیں۔ دیکھئے کتنے دروازوں کے نام یاد ہیں: باب علی، باب بنی شیبہ، باب السلام، باب حجونّ، باب صفا، باب مروہ۔ باقی دو دروازوں کے نام کل غور سے دیکھ کر آئیں گے تو لکھیں گے انشاء ﷲ۔

عشاء پڑھ کر پھر گھر واپس آ گئے اور آتے ہوئے صبح ناشتے کے لئے بن بھی لیتے ہوئے آئے۔ 2 ریال کا 6 عدد بن کا پیکٹ۔ اور یہ سوچا تھا کہ صابرہ کے ساتھ جا کر (یہ ہمارے ساتھ حرم نہیں گئی تھیں۔ پرسوں سے ان کی آنکھ میں بھی تکلیف تھی اور گلے میں بھی) پاکستانی ہوٹل میں جا کر کھانا کھا لیں گے جہاں تسلّی بخش دال سبزی مل سکتی ہے۔ ایک دو ریال زیادہ خرچ ضرور ہوتے ہیں تندور سے سبزی لیجئے تو یہاں مکّے میں 3 ریال کی ہے۔ ایک ریال کی بڑی روٹی لیجئے اور مزید چاہئے تو 2 عدد روٹیاں 2 ریال کی۔ ہوٹل میں 5 ریال کی دال یا سبزی ملتی ہے اور روٹیاں جتنی کھانی ہیں مفت۔ خیر۔ کمرے بن لے کر آئے تو صابرہ نے یاد دلایا کہ اتنے بہت سے بن کیوں لے کر آئے۔ کل ہی صبح ایک دن تو ناشتہ کرنا ہے کہ کل عصر کے بعد جدّہ جانے کا طے ہے۔ چناں چہ پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ ابھی سبزی دال خرید ہی لاتے ہیں مگر روٹی نہیں،اور اسے ان بنوں کے ساتھ کھا لیں گے۔ چناں چہ 3 ریال کی تندور سے سبزی لائے(وہی جس میں نمک بہت تیز ہوتا ہے (واللہ اعلم کیوں) اور اس کی اصلاح کے لئے ایک ریال کی دہی بھی۔ جب یہ لے کر پہنچے تو پڑوس کے کچن سے بریانی بھی آ گئی تھی۔ ستّار بھائی کے رشتے دار جو مقامی آدمی ہیں اور جن کا نام ہم نے غلطی سے پہلے جعفر لکھ دیا تھا (بعد میں معلوم ہوا کہ رفیق ہے) یہ در اصل ستّار بھائی کی بیوی فاطمہ کے بہنوئی واقع ہوئے ہیں۔ وہ اپنے گھر سے بریانی پکوا کر لائے تھے۔ چناں چہ ہم کو بھی اس کا حصّہ ملا۔ غرض اس طرح کھانا ہو گیا۔

شام کو تو سگریٹ پی کر طبیعت ٹھیک ہو گئی تھی مگر 8 بجے سے پھر گلا خراب ہو رہا ہے۔ اگرچہ ابھی کھانے کے بعد بلکہ مظہر بھائی اور جبّار بھائی کے ساتھ پیپسی پینے کے بعد (آج مظہر بھائی 3 ریال والی بڑی بوتل لائے تھے) ابھی سگریٹ پی کر آئے ہیں مگر گلے کی حالت ابھی بھی تسلّی بخش نہیں ہوئی ہے۔ آج کل یہ “دوا “کبھی اثر کرتی ہے کبھی نہیں۔

ہدایت نامہ حاجی

اب اور کوئی خاص بات ایسی تو نہیں ہوئی ہے کہ ذکر کریں۔ مگر دو ایک دن سے سوچ رہے تھے کہ اس کتاب میں ضمیمے کے طور پر ایک ہدایت نامہ حاجی بھی تحریر کر دیں۔ عمرے اور حج کا طریقہ۔ حرم مکہ اور مسجد نبوی کے بارے میں کچھ معلومات، مگر بہت سی تفصیل یاد نہیں رہتی۔ اس لئے سوچا کہ کچھ Tipsیہاں ہی دے دیں، اس لئے یہ نیا عنوان بنایا ہے۔ ہدایت نامہ خاوند اور ہدایت نامہ بیوی نامی کتابیں آپ نے پڑھی نہیں بھی ہوں گی تو ان کا ذکر ضرور سنا ہوگا۔ ہم ہدایت نامہ حاجی یہاں ہی لکھ دیتے ہیں تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔ اس کی شروعات بھی ہم ہدایت نامہ بیوی سے ہی کرتے ہیں۔

1۔ کتابوں میں اگرچہ لکھا ہے کہ عورت کا کوئی احرام نہیں ہے مگر کوئی یہ بات ماننے کو تیار نہیں لگتا۔ کم از کم برِّ صغیر میں ایک کپڑے کو جس سے عورتیں سر کے بال باندھنے کا کام لیتی ہیں، عورتوں کے احرام کا نام دے دیا گیا ہے۔ صابرہ کو بھی یہ بات کئی بار کتابوں میں دکھائی ہے مگر آج ہی یہ خود ہم سے پوچھنے آئیں کہ منیٰ کے حادثے میں ایک صاحبہ کا احرام سر سے اتر گیا تو کیا اس کے لئے دم دینا ضروری ہے؟ ہم پھر بیویوں کو اچّھی طرح سمجھا دیں کہ یہ کپڑا محض احتیاطاً باندھا جاتا ہے کہ سر کے بال نہ کھل جائیں کہ عورت کے بال اس کے ستر میں شامل ہیں۔ احرام کی حالت ہو یا نہ ہو، عورت کے لئے فرض ہے کہ اس کے بال ہر وقت ڈھکے ہوں اور سوائے شوہر کسی کے سامنے نہ کھلیں۔ احرام کی حالت میں یہ ضرور خیال رکھنا چاہئے کہ خلاف شرع کوئی بات نہ ہونے پائے، کسی قسم کا گوئی گناہ سر زد نہ ہو۔ محض اسی احتیاط کے طور پے یہ کپڑا باندھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا ایک مقصد اور ہے جو ضرور احرام کی شرطوں کو پورا کرنے کا مقصد حل کرتا ہے، وہ یہ کہ اس طرح بال ٹوٹنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، اور بال ٹوٹ جانے پر ضرور دم دینا ہوگا۔ اسی باعث کنگھا کرنا منع ہے کہ اس میں بال ٹوٹ سکتے ہیں۔ بہر حال عورت اگر ننگے سر ہو بھی جاتی ہے تو اس کے احرام میں کوئی قباحت نہیں پیدا ہوتی۔ گناہ محض بے پردگی بلکہ بے ستری کا ہوگا۔ اس کے علاوہ ناخن نہ ٹوٹنے کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے اور بدن سے میل نہ اتارنے کا بھی۔

2۔ دوسری اور اہم ترین بات یہ ہے کہ عورت کے لئے اصل احرام یہ ہے کہ چہرے پر کپڑا نہ لگے۔ اور ہم شروع سے یہ دیکھتے آ رہے ہیں کہ احرام کہے جانے والے سفید کپڑے کو ہماری ہندوستانی پاکستانی عورتیں اس طرح کس کر باندھتی ہیں کہ کپڑا آدھی پیشانی تک ڈھک لیتا ہے۔ اس کی جزا ضرور دینی ہوگی اور اگر مستقل احرام کی یہی حالت رہی تو پوری بکری کی قربانی دینی ہوگی۔ محض تھوڑی دیر کو ایسا ہو جائے تو بھلے ہی بقدر فطرے کے گیہوں صدقہ کرنے سے دم ادا ہو جائے گا۔ عرفات اور منیٰ میں ہم نے دیکھا کہ رات بھر عورتیں اپنے چہرے پر دوپٹّہ ڈھک کر سوتی ہیں۔ دوسروں کو کیا کہیں، خود ہماری صابرہ بیغم کی یہ عادت ہے کہ چہرے پر کہنی رکھ کر سوتی ہیں۔ یوں کوئی قباحت نہیں مگر اس طرح کرتے کی آستین چہرے پر لگنے کا اندیشہ ہے۔ ہم کو ہمارے گروپ میں مفتی مان لیا گیا ہے تو ہم نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ اگر اس طرح سونا ضروری ہو تو کرتے کی آستین چڑھا لی جائے اوپر تک کہ چہرے پر ننگا بازو ہی رہے۔ اس طرح بے پردگی بلکہ بے ستری کا ضرور گناہ ہوگا اور اس کی خدا سے معافی مانگ لی جائے۔ اس طرح کم از کم دم سے تو بچا جا سکتا ہے۔ گناہ کا ارتکاب ضرور ہوگا مگر احرام کی بے حرمتی سے بچ جائیں گی۔ خود مردوں کو بھی ہم نے دیکھا کہ رومال سے پسینہ پونچھ رہے ہیں یا ناک صاف کر رہے ہیں، اس کے لئے تیسریTipدے دیں۔

3۔ اگر آپ ہندوستان پاکستان سے ہی لا سکتے ہیں تو ٹھیک ہے (بلکہ بہتر ہے کہ احرام کی حالت تو جہاز سے ہی شروع ہو جاتی ہے) ورنہ آتے ہی ٹِشو پیپر (Tissue Paper)کا ڈِبّہ خرید لیجئے۔ وطن میں یہ سستا ہی ملے گا۔ یہاں 3 ریال کا سو (100) کا ان کاغذی رومالوں کا ڈِبّہ ملتا ہے (FineاورSmile وغیرہ برانڈ کا )۔ اس سے بھلے ہی گیلے ہاتھ نہیں پونچھے جا سکتے ہوں مگر پسینے وغیرہ کے لئے بہترین ہے۔

4۔ حرم میں جوتے چپّلیں رکھنے کے لئے باہر خانے ضرور بنے ہیں، اس کے علاوہ دروازوں کے پاس لوگ جوتے یوں بھی چھوڑ جاتے ہیں، مگر جوتوں کی حفاظت کے پیش نظر اس طرح نہ رکھیں تو بہتر ہے۔ وہ اس لئے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہ خانے بھر جاتے ہیں تو بعد میں آنے والے ان ہی خانوں میں اپنی چپّلیں جوتے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کوشش میں پہلے رکھے جوتے گر جاتے ہیں۔ نیچے پڑے ہوئے جوتے اکثر صفائی کرنے والے جھاڑو دیتے وقت (جو در اصل بڑے بڑے برشوں سے دی جاتی ہے) ان گری ہوئی چپّلوں کو گھسیٹ کر ایک طرف کر دیتے ہیں یا کوڑے میں پھینک دیتے ہیں جس کے لئے تھوڑی تھوڑی دور پر بڑے بڑے ڈرم رکھے ہیں۔ خاص کر جب فرش کی دھلائی ہوتی ہے تو کسی کے کچھ بھی سامان کا لحاظ نہیں کیا جاتا اور جوتے چپّلیں ہی کیا، ہم نے بیگ اور سوٹ کیس تک ان کوڑے کے ڈرموں میں دیکھے ہیں۔ اس طرح آپ کو اپنی چپّلیں واپس ملنے کی امّید کم ہی رکھنا چاہئے۔ اگر کبھی ایسا ہو ہی جائے تو آپ شرمائیے نہیں، جہاں کوڑے میں چپّلیں جوتے پڑے ہوں، وہاں جا کر دیکھئے، آپ کی اپنی چپّل نہ بھی ملے تو جو آپ کے پیروں میں آ جائے، بلا تکلّف پہن لیجئے۔ کبھی کبھی بے جوڑ کی چپلیں بھی پہننی پڑتی ہیں۔ آپ کو حرم میں کم از کم 40 فی صد ایسے لوگ نظر آئیں گے جن کی ایک چپّل ہندوستانی ہوگی تو دوسری پاکستانی یا چینی۔ اور دونوں الگ الگ رنگ کی بھی ممکن ہیں۔ اگر آپ کو اپنی چپّل عزیز ہے تو بہتر ہوگا کہ اپنے ساتھ ہی رکھیں۔ اس کے لئے ہماری ترکیب پر عمل کریں۔ ہم تو اپنے جوتے چپّلیں پالی تھین بیگ میں رکھ کر ان بیگوں کو ایک کندھے پر لٹکائے جانے والے جھولے میں رکھ لیتے ہیں۔ اگر پانی کی بوتل بھی ساتھ ہے تو اسی طرح اسی جھولے میں رکھی جا سکتی ہے۔ اس جھولے کو آرام سے اندر لے جا کر اپنے ساتھ رکھیں اور اپنی نظروں کے سامنے حرم کے کسی ستون سے ٹکا کر یا سجدہ گاہ کی طرف رکھ لیں۔ اگر بھول جائیں اور چپّل گم ہو بھی جائے تو دوسری خریدنے کی ضرورت نہیں ہے، کوڑے میں سے نکالنے میں کسی کو وہاں شرم محسوس نہیں ہوتی۔ آخر مسلمان مسلمان بھائی بھائی ہیں اور ایک بھائی دوسرے کے اس طرح بھی کام آ سکتا ہے کہ اپنی چپّل استعمال کرنے دے۔

5۔ اب اس پر ایک اور ہدایت دے سکتے ہیں کہ یہ جھولا ویسے ہر موقعے پر کام آتا ہے، مگر طواف کے وقت جب حجرِ اسود کا استلام کیا جاتا ہے تو دونوں ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں اور بھیڑ کی وجہ سے اس حرکت کے دوران یہ جھولا دوسرے طواف کرنے والوں کے بازوؤں میں پھنس سکتا ہے، اس لئے اس موقعے پر اس جھولے کو کندھے سے نکال کر گلے میں لٹکا لیں۔

6۔ ایک پانی کی بوتل (بہتر ہو کہ تھرمِک جگ) ضرور ساتھ رکھیں۔ ہندوستان سے ہی لے کر چلیں تو مناسب ہے کہ وہاں یہ مہنگی ہی ملیں گی۔ ہم تو لے کر چلے تھے، مگر ہمارے ساتھیوں نے 8 اور 10 ریال کی یہاں سے خریدی ہیں۔ اس میں خاص بات محض یہ ہے کہ مکّہ مدینے کی تصویریں ہیں۔ ہر عمارت میں زم زم یونائٹید آفس والے زم زم کے جری کین روزانہ رکھتے ہیں مگر یہ ٹھنڈا تو نہیں ہوتا۔ کچھ عمارتوں میں ٹھنڈے پانی کے کولر بھی ہوتے ہیں (ہماری عمارت میں تھا مگر کام نہیں کرتا تھا) مگر یہ زم زم نہیں ہوتا۔ اس لئے اس تھرمک جگ میں حرم سے ٹھنڈا اور زم زم لے کر عمارت میں استعمال کریں۔ حرم کے قیام کے دوران بھی جب نماز کی جگہ مل جائے اور اگلی نماز تک بھی آپ کو رکنا ہو تو محض پیاس کی وجہ سے جگہ خالی کرنے کی ضرورت بھی اس طرح نہیں ہوگی۔ آتے وقت بھی پانی بھر کر آئیں اور اندر یہی پانی پئیں۔ جب عمارت واپس آئیں تو پھر بھرتے ہوئے لائیں۔ فجر کے وقت بھر کر لائیں تو 11 بجے تک تو یہ پانی چل سکتا ہے۔ ظہر کے بعد بھی بھر کر لائیں کہ کھانے کے بعد سے عصر تک کافی ہو جائے۔ پھر اکثر لوگ تو مغرب اور عشاء کے لئے ایک ہی بار جا کر عشاء کے بعد ہی لوٹتے ہیں تو اس وقت پانی لیں تو رات تک ضرورت نہیں پڑے گی۔

7۔ طواف بہتر ہے کہ مقامِ ابراہیم کے قریب سے کریں کہ زیادہ چکّر نہ پڑے، مگر اس حقیقت کا خیال رکھ کر کہ دھکّم پیل والی بھیڑ کا حصّہ نہ بنیں۔ آپ چاہے خود کسی کو دھکّا نہ دیں، مگر بھیڑ کے باعث کسی ایک شخص کے دھکّا دینے سے آٹھ دس آدمی اس دھکّے کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس طرح دھکّا دینے کا باعث بنتے ہیں اور یہ بھی گناہ میں شامل ہوگا اور اس سے بچیں۔ جب دیکھئے کہ ایک دوسرے کی کمر پکڑ کر یا کندھوں پر ہاتھ رکھ کر 6۔ 5 لوگوں کی قطار دھکیلتی ہوئی آ رہی ہے تو آپ بچ کر ان کو راستہ دے دیں۔ اگر کسی نے آپ کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ دیا ہے تو اسے آگے بڑھا دیجئے۔ اس طرح خود آپ بھی دھکّے سے محفوظ رہیں گے اور دوسروں کو دھکیلنے کے گناہ سے بھی بچ سکیں گے۔ ایک عملی ہدایت یہ اور دے دیں کہ ایرانیوں اور عربوں سے اور برِّ صغیر کے بوڑھوں سے دور رہیں جو اپنے کھو جانے کے خطرے سے اس طرح ساتھ طواف کرتے ہیں۔ بہترین اور Disciplinedگروپ انڈونیشیائی لوگوں کا ہوتا ہے، کوشش کر کے ان کے ساتھ رہیں۔

8۔ حجرِ اسود کو بوسہ دینے کی زیادہ کوشش نہ کریں۔ دور سے استلام کرنا بہتر ہے کہ نزدیک سے کرنے کی کوشش میں آپ کسی کو دھکّا دینے پر مجبور ہو سکتے ہیں جو گناہ ہے۔ حجر اسود کے علاوہ کعبے کے کسی اور کونے (رکن) کا استلام نہیں کیا جاتا۔ لوگوں کی دیکھا دیکھی آپ بھی اس غلط عمل کا شکار نہ ہوں۔ اکثر لوگوں کو ہم نے دیکھا کہ رکنِ یمانی کا بھی استلام کر رہے ہیں ۔ یہ رکن اسود کی ملحقہ سمت میں ہے۔ دوسرے دو رکن شامی ہیں، جن میں ایک رکن حطیم کی طرف ہے۔ دوسرا اسود کے مخالف سمت میں۔

9۔ حطیم میں داخل ہونے کی کوشش بھی تبھی کریں جب بھیڑ کم ہو۔ ویسے یہاں نماز پڑھنے کا بہت ثواب ہے۔ یہ حصّہ در اصل کعبے کا ہی حصّہ ہے، مگر بعد کی تعمیر میں باہر چھوڑ دیا گیا تھا۔ طواف تو اس کے اندر سے کرنے سے ادا ہی نہیں ہوتا کہ طواف کعبے کے باہر ہی کرنا ضروری ہے۔

10۔ اگر آپ طواف کی نیت سے اس طرح جانے کے لئے مجبور ہوں کہ آپ طواف کی مخالف سمت میں آپ کا گذر ہو، یا طواف ختم کر کے نماز واجب الطواف کے لئے (یا مسعیٰ سعی کی غرض سے) طواف کے ریلے سے باہر آنا چاہ رہے ہوں تو بہتر یہی ہے کہ فوراً باہر آنے کی کوشش نہ کریں۔ طواف ختم ہو چکا ہو تو حجر اسود کے آخری استلام کے بعد، اور شروع کرنے جا رہے ہوں تو پہلے استلام سے پہلے، طواف کرنے والوں کے ریلے میں شامل ہو جائیے اور آدھا پون طواف، جب تک کچھ کھلا راستہ نہ ملے، مزید کر لیجیے اور موقعہ دیکھ کر اس ریلے سے باہر آ جائیے۔ یہاں ایک اطّلاع اور دے دیں۔ حجرِ اسود کی سیدھ دکھانے کے لئے ایک پتھّر کی پٹی ہے۔ کتابوں میں اسے کالی پٹی کہا گیا ہے۔ ممکن ہے یہ پہلے کالے پتھّر کی ہو، آج کل تو بھورے پتھّر کی ہے۔ تقریباً آٹھ انچ چوڑے بھورے سنگِ مرمر کی۔

11۔ طواف کے دوران حرم کی طرف نہ دیکھیں۔ یہ نا جائز ہے اگر چہ اتنی اہم بات بیشتر کتابوں میں نہیں لکھی ہے۔ شوق کی بات دوسری ہے۔ اگر شوق کے ہاتھوں مجبور ہوں تو ایک چکّر مزید کر لیجئے مگر اصل ساتوں شوطوں (چکّر کے لئے شرعی اصطلاح “شوط” ہے) میں اس سے پرہیز کریں۔

12۔ طواف میں حجر اسود سے تیسرے کونے یا رکن تک تیسرا کلمہ پڑھا جاتا ہے (سُبحٰنَ اللّہِ وَالحَمدُِ للّٰہِ وَ لاَ اِلٰہَ اِلاَّاللّہِ وَالّلہُ اکبَر وَ لاَ حَولَ وَلاَ قُوّۃَ اِلّا بِا اللّہِ العَلِیُّ العَظِیم۔ الصَلٰواۃُ وَالّسَلامُ عَلیٰ نَبِیُّ الَکرِیم) اور رکن یمانی سے پھر حجر اسود تک رَبّنَا آتِنا فِی الدُنیَا حَسَنَۃً وَ فِی الاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَ قِنا عَذَابَ النّار۔ وَادخِلنَا الجَنّۃَ مَعَ الاَبرار۔ یا عزیزُ یا غفّار۔ یا رَبُّ العَالَمیِن۔ لیکن رکن کی طرف بغیر دیکھے یہ پہچان مشکل ہوتی ہے کہ کہاں سے ربّنا آتِنا شروع کیا جائے اور رکن کی جانب دیکھنا بھی منع ہے۔ اس کی ترکیب ہم نے یہ لگائی ہے کہ ایک پہچان مقرّر کر لی ہے۔ آج کل کم از کم ہمارے لئے پہچان باب ملک عبدالعزیز کا بورڈ ہے۔ دائیں طرف دیکھتے چلتے ہیں، جب یہ بورڈ اندازاً پار کر لیتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ اب ربّنا آتِنا پڑھنا ہے اور رکن یمانی پار ہو گیا۔ یہ دروازہ مستقبل قریب میں تو ٹوٹنے والا نہیں ہے، اس لئے ہمارے خیال میں برسوں تک تو یہ پہچان صحیح ثابت ہوگی۔

13۔ رکنِ یمانی اور حجر اسود کے درمیان ہی اکثر بھیڑ کعبۃ ﷲ کے نزدیک جمع ہو جاتی ہے کہ ممکن ہو تو حجر اسود کو بوسہ دیں۔ اس میں بہت دھکّم پیل ہو جاتی ہے ا ور حجر اسود کا استلام بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ خود ہم کو کئی بار واپس جا کر استلام کرنا پڑا ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ رکنِ یمانی سے آپ دائیں طرف یعنی کعبۃ اﷲ سے دور ہٹتے ہوئے طواف کریں۔ جب آرام سے استلام کر لیں تو پھر بائیں طرف ہٹتے ہوئے بیت ﷲ کی طرف آ جائیں کہ طواف کا چکّر بھی زیادہ لمبا نہ ہو۔ لیکن صحیح استلام بے حد ضروری ہے۔

14۔ تیسرے کلمے کے بعد اکثر درود بھی پڑھا جاتا ہے۔ یہ آپ کو کسی کتاب میں نہیں ملے گا کہ کون سا درود پڑھا جائے۔ مگر ہم یہ مشورہ دیتے ہیں کہ مقامِ ابراہیم کے پاس سے گزرتے ہوئے یعنی حجر اسود سے اس پوری دیوار کے علاقے میں درودِ ابراہیمی پڑھیں۔ یہ درود نہ صرف آں حضرتؐ کو پسندیدہ تھا بلکہ مقام ابراہیم کے نزدیک پڑھنے سے حضرت ابراہیم ؑ کو بھی خراجِ عقیدت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

15۔ تلبیہ ہو یا طواف کی دعائیں اور وظیفے، اکثر لوگ ایک شخص کو لیڈر بنا کر زور زور سے پڑھتے ہیں۔ وہ بولتا ہے اور وفد کے ممبر اسے دہراتے ہیں۔ یہ غلط ہے۔ اس سے دوسروں کی عبادت میں خلل بھی پڑتا ہے۔ نہ آپ خود زور سے کچھ پڑھیں اور نہ کسی اور کو پڑھائیں، بکہ ممکن ہو تو ایسے گروہ سے بچ کر ہٹ کر اپنا طواف کریں تاکہ ان کی آوازوں سے آپ کا دھیان نہ بٹ جائے۔

16۔ طواف کے ہر چکر کی دعا کتابوں سے پڑھنا ضروری نہیں ہے، اگر چہ اکثر کتابوں میں مختلف دعائیں اور وظائف درج ہیں اور ہر چکر (شوط)کے الگ الگ۔ وہ دعا پڑھیں جس کے معنی بھی آپ کو معلوم ہوں تو بہتر ہے۔ اردو میں بھی کچھ بھی دعا کر سکتے ہیں۔ جو پڑھیں، دل سے کہیں، ورنہ محض اللہُ اکبر اور لا الہ الا اللہ کہنا بھی کافی ہے۔

17۔ ہر طواف کے بعد سعی نہیں ہوتی۔ ہم کو اس کی امّید نہیں تھی کہ یہ غلط فہمی اتنی عام ہوگی۔ ہمارے کچھ ساتھی اس لئے طواف نہیں کر رہے تھے کہ سعی کی ہمّت نہیں تھی۔ معلوم ہونا چاہئے کہ سعی عمرے کے طواف میں احرام کے ساتھ ہوتی ہے، یا حج کے دوران طواف قدوم میں، طواف الزیارۃ کے بعد سادہ کپڑوں میں ہی سعی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی طواف میں سعی نہیں۔ سعی کے دوران بھی زور زور سے کچھ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دھیرے دھیرے جو یاد ہو پڑھ لیں۔ ویسے اس موقعے پر اور خاص کر صفا اور مروہ کی پہاڑی پر، جہاں سے اگلا چکر شروع ہوتا ہے، قرآنی آیت پڑھی جاتی ہے۔ اِنَّ الصَفَا وَالمَروَۃَ مِن شَعَائِرِ اللّٰہ ۔

18۔ اکثر یہ بھی ہم نے دیکھا کہ میلین اخضرین کے درمیان عورتیں بھی تیزی سے بھاگتی ہیں۔ یہاں پہلے یہ اطلاع دے دیں کہ یہ دو ستون ہیں جن کو ممیز کرنے کے لئے انھیں سبز (اخضر) رنگ کر دیا گیا ہے اور ان ستونوں پر سبز لائٹیں ہی لگی ہیں۔ ان دونوں ستونوں کے درمیان کوئی سو فٹ کے راستے میں مردوں کے لئے تیزی سے بھاگنا افضل ہے۔ بلکہ واقعی بھاگنا تو مردوں کے لئے بھی صحیح نہیں، کجا عورتوں کے لئے۔ مردوں کو بھی محض تیزی سے اس راستے سے گزرنا چاہئے۔

(لیجئے 12 بج گئے۔ ابھی اتنا ہی کافی ہے۔ ممکن ہے کچھ نکات اور یاد آ جائیں۔ یہ نکات تو محض عبادتوں کے بارے میں ہیں، وہ بھی صرف طواف اور سعی کے سلسلے میں۔ باقی نمازوں کے بارے میں بعد میں لکھیں گے انشاء اللہ۔ )

ہدایت نا مہ (گزشتہ سے پیوستہ)

19۔ ہم سائنس داں ہونے کے ناطے (بزعمِ خود) ایک بات پر اور زیادہ زور دینا چاہتے ہیں۔ ویسے کسی کتاب میں بھی لکھا ہے کہ قبلے کے اطراف میں نماز کے لئے کعبے کا بالکل صحیح رخ اختیار کرنا بہت ضروری ہے کہ یہ نماز کی ضروری شرط ہے۔ عام طور پر مکّے مدینے کی ہر رہائشی عمارت میں کسی نہ کسی دیوار پر “قبلہ اس طرف ہے” کی عبارت (یا ایسے ہی دوسرے الفاظ) کے ساتھ ایک تیر کا نشان ضرور لگا ہوتا ہے رخ کی صحیح نشان دہی کرنے کے لئے۔ مگر ہم نے اکثر مشاہدہ کیا کہ حرم کے ہی صحن میں نماز پڑھنے والے صحیح رخ کی پرواہ نہیں کرتے۔ کعبے میں تو حرم کے اندرونی اور باہری صحن میں سفید سنگ مرمر کی “جا نمازیں ” بنائی گئی ہیں جن میں چار چار صفوں کے بعد سرخ سنگ مرمر کی پٹی ّہے۔ یہ دائرے وار ہے کیوں کہ کعبے کو مرکز مان کر یہ دائرے کھینچے گئے ہیں۔ ان کے حساب سے ہی اپنی نمازیں پڑھنے کا خیال رکھیں۔ آج ہی کی بات لیجئے۔ ہم قضا نمازیں پڑھ رہے تھے کہ ایک ہندوستانی یا پاکستانی صاحب نے ہمارے ہی پاس اپنی جانماز بچھائی اور ہم سے، حالاں کہ ہم صحیح رخ پر تھے، کم از کم 20 ڈگری کے زاویے پر اپنی جانماز بچھائی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں ہم سجدہ کر رہے تھے، وہاں ان کا سجدہ بھی ہو رہا تھا۔

20۔ طواف کے بارے میں کچھ ہدایت اور دے دیں۔ سب سے زیادہ بھیڑ مغرب کے بعد ہوتی ہے۔ شاید اس لئے کہ مغرب اور عشاء کے درمیان وقفہ کم ہوتا ہے اور بیشتر حضرات مغرب کے بعد واپس نہیں جاتے اور عشاء تک رک جاتے ہیں۔ ہم بھی یہی کرتے ہیں۔ آپ بھی کرنا چاہیں تو ایسا ہی کریں۔ ہم منع نہیں کرتے مگر اس صورت میں دھکم پیل کے لئے تیار رہئے۔ اسی طرح ہر نماز کے فوراً بعد بھی بھیڑ بہت ہوتی ہے۔ تہجّد اور فجر کے درمیان بھی بھیڑ بڑھ جاتی ہے۔ اگر سہولت سے طواف کرنا چاہیں تو بہتر ہے کہ کچھ وقفہ دے کر شروع کریں۔ ہم سے مشورہ مانگیں تو ہم تو یہ مشورہ دیں گے کہ طواف کے لئے صبح 6 بجے کا وقت بہت مناسب ہے۔ فجر کے بعد کچھ دیر قضا نمازیں وغیرہ پڑھ لیں اور پھر گھنٹے بھر بعد ایک ہی کیا، دو تین طواف کر لیں۔ پھر اشراق کی نماز پڑھ کر واجب الطواف نمازیں پڑھیں اس لئے کہ فجر کے فوراً بعد کوئی اور نماز نہیں پڑھی جاتی۔ البتّہ اشراق کے بعد پڑھ سکتے ہیں، چاہے دو تین طوافوں کے واجب ایک ساتھ بعد میں پڑھ لیں۔ پھر عمارت واپس آ کر ناشتے وغیرہ کا اہتمام کریں۔ (ہم تو اکثر 9 بجے کے قریب بھی نکل جاتے ہیں، لیکن اس وقت جانے پر پھر ظہر تک کے لئے رکنا پڑے گا۔ ہم تو طواف وغیرہ کر کے اور حرم میں ہی نہا دھو کر واپس آ جاتے ہیں اور پھر ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ظہر کے لئے نکلتے ہیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ آپ ) دس، ساڑھے دس بجے نکلیں۔ پھر طواف وغیرہ کے بعد ظہر کے لئے رک جائیں۔ اس کے علاوہ بھی اور وقت میں طواف کرنا چاہیں تو پھر تین ساڑھے تین بجے نکلیں۔ اس وقت بھی بھیڑ نسبتاً کم ہوتی ہے اور طواف کے بعد عصر کا وقت بھی ہو جائے گا۔ اگر رات کا کھانا حرم کے قریب ہی ہوٹل میں کھانے کا ارادہ ہو تو یوں بھی کر سکتے ہیں کہ رات 10 بجے کے بعد بھی طواف کر لیں۔ کھانے کے بعد ٹہلنے کی عادت ہو تو اور بھی بہتر ہے۔ ٹہلنا بھی ہو جائے گا اور طواف بھی۔

21۔ ایک بات یاد رکھئے کہ بیت اللہ میں ہر مسلک کے لوگ ہوتے ہیں۔ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ہر اُ متّ (بمعنی گروہ) کے لئے مناسک مختلف ہیں اس لئے اس زعم میں نہ رہیں کہ آپ کا مسلک ہی سب سے صحیح ہے۔ زیادہ تر لوگ آپ کو رفع یدین کرتے دکھائی دیں گے کہ یہی شافعی اور ہنبلی مسلک ہے۔ افریقی باشندے اکثر مالکی ہیں اور نماز میں ہاتھ بھی نہیں باندھتے۔ کسی پر اعتراض نہ کریں۔ ان کے مسلک کے علماء کے پاس ان کے طریقے کا جواز ضرور ہوگا۔ خدا کو ان کی عبادت بھی ضرور قبول ہوگی۔ خود آں حضرتؐ نے مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے نماز پڑھی ہے۔ کوئی بھی عالم یہ نہیں کہتا کہ دوسرا ہر طریقہ غلط ہے، بلکہ محض یہی کہ ان کے علماء کے نزدیک ان کے طریقے کی نماز کے لئے احادیث زیادہ معتبر ہیں۔ اس لئے یہ نہ سمجھیں کہ ان کی نماز ہی قبول نہیں۔ ممکن ہے کہ آپ کی ایسی کوئی غلط فہمی بھی گناہوں میں شمار کی جائے اور آپ کی ہی عبادتوں کو قبولیت کا درجہ نہ ملے۔ حرمین میں اذان کے بعد اکہری اقامت ہوتی ہے یعنی محض ایک ایک بار تشہّد (اَشہَدُ اَن لَا اِلٰہَ اِلاَّ الّلہ، اَشہَدُ انَّ مُحمّدَالرَسوُلَ الَلّہ)۔ اور ایک بار ہی حیّٰ عَلی الّصلوٰۃ، حیّٰ عَلَی الفَلَاح۔ مگر اس کے بعد دو بار قد قامۃ الّصلوٰۃ۔ نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد جب سب مقتدی اور خود امام بلند آواز سے “آمین” کہتے ہیں تو سب درو دیوار گونج جاتے ہیں اور عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ ہندوستان میں یہ بھی متنازعہ فیہ مسئلہ ہے۔ خود ہم اب تک کبھی بلند آواز سے آمین نہیں کہتے آئے تھے۔ مگر یہاں یہ صدا ایسی روح پرور محسوس ہوتی ہے کہ روح سے آواز نکلتی ہے۔ ان باتوں کو اگر آپ غلط سمجھتے ہوئے آئے ہیں تو اتنا سوچیں کہ اگر یہ خلاف مذہب ہوتا تو کیا خدائے تعالیٰ اس مسلک کے ماننے والوں کو حرمین کی نگہبانی دینا پسند کر سکتا تھا؟کیا ان اماموں کو بیت اللہ کی امامت پر مامور کر سکتا تھا؟

اسی طرح عرفات میں مسجدِ نمرہ میں ظہر اور عصر کی نماز ملا کر یعنی قصر کر کے پڑھی جاتی ہے۔ ہنبلی مسلک کے مطابق آدمی محض 2 میل کے فاصلے پر مسافر بن جاتا ہے غالباً۔ اگر آپ اسے پسند نہ کریں تو کوئی حرج نہیں کہ اپنی جماعت علیٰحدہ کر لیں ظہر کی الگ اور عصر کی الگ، بشرطیکہ آپ عرفات (یا منیٰ میں بھی) مسافر نہ ہوں۔ ہم تو مسافر تھے ہی کہ ہم حیدر آباد سے چل کر نہ بنگلور میں، نہ مکّہ میں اور نہ مدینے میں 15 دن سے زیادہ رہے تھے۔ مگر جماعت کا ساتھ بھی دینا بہتر ہے، اس لئے اگر مسجدِ نمرہ میں ہوں تو وہاں دو رکعت ظہر کی جماعت سے پڑھ کر مزید دو رکعت انفرادی پڑھ لیں (اگر اپنے کو مقیم مانیں تو)، اور عصر کی بعد میں پڑھ لیں۔ اگر مسافر ہیں اور مکّے میں بھی قیام 15 دن سے زائد ہو چکا ہے اور مسجد نہ جا سکیں اور دوسرے مقیم حضرات کی ظہر کی اور عصر کی علیٰحدہ جماعت ہو رہی ہو تو کوئی حرج نہیں کہ آپ بھی ان کا ساتھ دیں۔ حرج کیا، یہ تو مزید بہتر ہے۔ مگر مسجد نمرہ کے امام صاحب پر اعتراض نہ کریں۔ عرفات کے بعد مزدلفہ میں تو سبھی کو، مسافر اور مقیم سبھی کو، مغرب اور عشاء ملا کر ہی پڑھنی ہوتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ اگر انفرادی نماز پڑھیں تو عشاء کی دو رکعتیں ہی پڑھیں۔

ہدایت نا مہ حا جی برائے خو رد و نو ش

1۔ پہلی بات تو یہ لکھیں کہ اگر آپ کی آمدنی سعودی ریال کی ہی ہے تو بے شک ریال کو روپیہ ہی سمجھیں، لیکن اگر آپ نے اپنے ملک کا روپیہ دے کر سعودی زرِ مبادلہ حاصل کیا ہے تو مبادلہ قیمت کا ہی خیال رکھیں۔ ہمارے لئے یہ قیمت تھی 9 روپئے 55 پیسے فی ریال۔ چناں چہ ہم ہر ریال کو 10 سے ضرب دے کر اس کے مہنگی یا سستی ہونے کا اندازہ کرتے تھے۔ کچھ چیزیں آپ کو مہنگی لگیں گی اور کچھ سستی۔

2۔ اگرچہ ریال میں سو حلالے ہوتے ہیں ہمارے پیسوں کی طرح، مگر غالباً ان کا مصرف کچھ نہیں ہے۔ اس لئے کہ فقیر کو خیرات بھی ایک ریال سے کم نہیں دی جاتی اور نہ ایک ریال سے کم کی کوئی چیز ہم نے دیکھی۔ بلکہ سچ پوچھئے تو ہم نے یہ سکّہ ہی نہیں دیکھا۔ اقل ترین قیمت ایک ریال ہی ہے۔ اس لئے بہت ممکن ہے کہ کسی شے کا بڑا پیکنگ بھی ایک ریال کا ہی ہو۔ جیسے لفافہ لینے جائیں تو ایک سادہ لفافہ بھی ایک ریال کا کہا جائے گا اور آپ پورا پیکنگ مانگیں تو چار لفافوں کا پیکٹ بھی ایک ریال کا ہی ہوگا۔ 180 ملی لٹر کے کولڈ ڈرنک کے ٹن یا شیشیاں بھی ایک ریال کی ہیں اور 375 م ل کا ٹن بھی۔ ہمارے پاس کپڑے دھونے کے لئے بالٹی نہیں تھی اس لئے نل پر صابن سے کپڑے دھونے کی ضرورت تھی جب کہ یہاں زیادہ تر کپڑے دھونے کا پاؤڈر ملتا ہے۔ صابن ہمارے پاس بھی نہیں تھا۔ اس کی تلاش کی تو ایک دوکا ن پر چھوٹا سا ایک صابن (ڈیٹرجنٹ) ایک ریال کا ملا۔ اسی شام کو دیکھا کہ ہمارے کمرے کی ہی ایک صاحبہ اس سے تگنے چوگنے سائز کا صابن بھی ایک ہی ریال میں لائیں۔ چناں چہ آپ کو بھی کوئی سامان لینا ہو تو بڑے پیکنگ کی قیمت بھی پوچھ لیں۔ Economy دیکھ کر خریداری کریں۔

3۔ اس پر یاد آیا کہ یہاں جو پانی کی بوتلیں دستیاب ہیں( اسے یہاں منرل واٹر نہیں، پیور یا ہیلتھ (Pure or Health) واٹر کہتے ہیں، وہ ایک ریال کی 650 م ل کی ہوتی ہیں اور 2 ریال کی سوا لٹر کی بوتل۔ یہی قیمت تقریباً کولڈ ڈرنک کی ہے تو کیوں نہ کولڈ ڈرنک ہی خریدیں کہ مزہ بھی آئے۔ پانی ہی پینا ہے تو حرم میں یا اپنے کمرے میں لا کر زم زم پیجئے۔ اس سے بہتر ہیلتھ واٹر کیا ہوگا۔ مقامی لوگوں کو Economyکا احساس نہیں ہے، یہ لوگ ایک ایک ریال کے درجنوں کولڈ ڈرنک کے ٹن پی جاتے ہیں اور زیادہ لوگ ہونے پر بھی ہر ایک کے لئے علیٰحدہ۔ یہ خیال نہیں آتا کہ بڑا پیکنگ لے لیں۔ یہ Hint اس لئے دے رہے ہیں کہ ہر ڈرنک کی ایک لٹر سے سوا لٹر تک کی بوتل دو ریال کی ملتی ہے اور دو یا سوا دو لٹر کی بوتل 3 ریال کی۔ جس میں ایک ریال کے 175 م ل والے درجن بھر ٹن آ جائیں گے محض دوگنی قیمت میں۔ ایسی ہی بڑی بوتل خریدیں، خود بھی پئیں، کمرے والوں کو بھی پلائیں یا تھرمک جگ میں محفوظ کر کے رکھ لیں اور بعد میں پئیں۔

4۔ اگر آپ چاول کے بغیر نوالہ نہیں توڑ سکتے ہوں تو بات دوسری ہے۔ لیکن اگر آپ چاول کے عادی ہوں بھی تو منہ کا مزہ بدلنے کے لئے حرمین کے قیام کے دوران روٹی کھانا شروع کر دیجئے۔ کہ یہ زیادہ بآسانی دستیاب ہے اور سستی بھی۔ وہ لطیفہ تو آپ نے سنا ہوگا کہ ایک صاحب ایک ہوٹل میں داخل ہوتے ہوتے پلٹ کر جانے لگے۔ ہوٹل والے نے ان کو جا پکڑا کہ حضرت کیوں چلے جا رہے ہیں تو انھوں نے باہر لگے بورڈ کی طرف اشارہ کیا۔ لکھا تھا ” گھر کا سا آرام، کھانے میں گھر کا سا مزا” کہنے لگے “پھر آپ کے پاس کیوں آؤں، گھر ہی جا کر نہ کھا لوں” چناں چہ آپ بھی گھر کا ہی مزا تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں۔

روٹیاں کئی طرح کی ملتی ہیں۔ مدینے میں تو ہم افغانی تندور کی روٹیوں کی سفارش کریں گے۔ پراٹھے یا چپاتی۔ مگر مکّے میں ایسی روٹیاں آپ کو دستیاب نہ ہوں تو ایسے ہی تندور سے “بسکوت” لے لیں، ممکن ہے کہ آپ کو یہ پسند آ جائیں۔ ورنہ پھر ہر علاقے میں جو بڑے بڑے سٹورس ہیں، جنھیں اکثر “بقالے” کہتے ہیں، وہاں آپ کو کئی طرح کی روٹیاں مل جائیں گی، بن، ڈبل روٹی، مختلف شکلوں کی، جن میں ایک لمبی روٹی کو سلومی کہتے ہیں۔ عام روٹیاں سائز کے مطابق ایک ریال کی ایک سے لے کر ایک ریال کی چار تک ملتی ہیں۔ بدل بدل کر کھائیے۔ جو قسم آپ کو پسند آئے یا جس میں بقول انگریزی والوں کے “بہترین رقم کی وصولی” (Best value for money) ہو، اسے اپنا لیجئے۔ کیک اور بسکٹ بھی طرح طرح کے ملتے ہیں، میٹھے بھی اور نمکین بھی۔ مگر سستا یہی پڑے گا کہ آپ کو بن یا ڈبل روٹی جو زیادہ پسند ہو، وہ خریدئیے، کریم اور پنیر (Cheese) کے ایک ایک ریال کے پیکٹ ملتے ہیں، جام کی آدھا کلو کی شیشی 3 ریال کی ہے، ان سے ناشتہ کر لیا کریں۔

5۔ اگر مکّے میں آپ کے علاقے میں (ہمارے شعبِ عامر کے علاقے نے تو ہمیں مایوس کیا ہے) تندور اچھے ہوں اور وہاں آپ کو اچھی اور گرم روٹی مل رہی ہو تو وہی بہتر ہے اور وہاں کی دال سبزی بھی اچھی ہو تو یہ کم خرچ بالا نشیں ثابت ہوگا۔ مدینے میں تو ضرور آپ کو بھی اسی میں فائدہ محسوس ہوگا۔ اس صورت میں کھیرے ٹماٹر اور پیاز خرید لیا کیجئے، اس کا سلاد بنائیے، کبھی دہی لے لیں، یا چھاچھ(لبن)، اس کا رائتہ بنا لیں۔ نمک آپ وطن سے لے جا سکتے ہیں، نہیں تو اس کی بھی ایک ریال کی بوتل ملتی ہے۔

6۔ مرغی کا مشورہ دینے میں ہم محتاط ہیں کہ ہماری اطلاع کے مطابق چھوٹی دوکانوں میں یوروپی ممالک کا مشین کا کٹا گوشت بھی مل سکتا ہے جس کے ذبیحہ کے غلط ہونے کا احتمال ہے۔ ہاں، بکری کا گوشت بلا جھجک کھا سکتے ہیں ۔ مگر یہ آپ کو تندور میں عموماً نہیں ملے گا۔ اس کے لئے آپ ہوٹل جا کر ہی کھائیں تو بہتر رہے گا کہ روٹیاں الگ سے خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مگر آپ ہندوستان کی مسلم ہوٹلوں کے قاعدے کے مطابق “پارسل” لے جانا چاہیں تو اکثر ہوٹل والے مفت میں روٹیاں نہیں دیتے ہیں، مانگنا پڑتی ہیں یا کبھی انکار بھی کر سکتے ہیں۔ اور ہم کو بھی مانگنے میں تو شرم ہی آتی تھی۔ ورنہ پھر گوشت قیمے کا سالن ہوٹل سے لے کر دو ریال کی روٹیاں خرید لیں تو تین لوگ کھا سکتے ہیں۔

کچھ خبریں

یہاں “اردو نیوز” اخبار ملتا ہے جو مقامی اردو اخبار ہے، 2 ریال قیمت کا۔ اب اسے آپ 20 روپئے سمجھ کر مہنگا کہہ سکتے ہیں مگر مقامی لوگوں کے لئے وہی دو روپیوں کے برابر ہے، جو قیمت یہاں اردو اخباروں کی ہوتی ہے۔ یہ اخبار کیوں کہ ہندوستانی پاکستانی مہاجرین کے لئے ہی ہوتا ہے ، اس لئے اس میں یہاں کی مقامی خبریں بھی مل سکتی ہیں گجرال صاحب کے وزیر اعظم بننے کی خبر بھی ہم کو اسی سے ملی ہے۔ بلکہ کل کے اخبار میں ان کا بیان تھا کہ حادثۂ منیٰ میں جن ہندوستانیوں کا حج مکمل نہیں ہو سکا ہے، انھیں حکومت ہند اپنے خرچ پر اگلے سال حج کے لئے بھیجے گی۔ ہندوستانی متاثّرین کی تفصیلیں بھی ہیں۔ 46 عدد شہداء اور 191 عدد گم شدہ لوگوں کی فہرست کے علاوہ ان کی بھی فہرست ہے جو زخمی ہیں اور جن کا مختلف اسپتالوں میں علاج چل رہا ہے اور ان کی بھی جو اسپتال سے خارج ہو کر واپس جا چکے ہیں۔ دو تین دن پہلے کے اخبار میں کچھ زخمیوں سے لئے گئے انٹرویو بھی تھے۔ کچھ نے بتایا کہ ان کو حج کے ارکان مکمل کرنے کے مواقع فراہم کئے گئے۔ جن کی حالت بہت زیادہ خراب نہیں تھی ، ان کو ایمبولینس کے ذریعے صحیح اوقات میں منیٰ سے عرفات لے جایا گیا اور پھر وہاں سے مزدلفہ بھی۔ اور پھر منیٰ لا کر ان کی قربانی کا انتظام کر کے انھیں پھر منیٰ یا مکّہ کے اسپتالوں میں رکھا گیا ہے۔ ان کی طرف سے قربانی کے علاوہ رمی جمار بھی ہو گئی ہے اور حلق و تقصیر (بال منڈوانا یا کٹوانا) بھی۔

صابرہ کی آنکھوں میں تکلیف تھی تو ہم ان کو ہندوستانی کلینک لے گئے تھے۔ وہاں معلوم ہوا کہ ہندوستانی محکمۂ صحت کی دو لاکھ روپئے کی دوائیں نذرِ آتش ہو گئیں۔ حکومت ہند کا میڈیکل کیمپ پورا جل گیا۔ نصف سے زیادہ منیٰ جل گیا تھا تو اور بھی کئی میڈکل کیمپ جل گئے ہوں گے۔ 7 لاکھ حاجی بے گھر ہو گئے تھے، کوئی مذاق کی بات ہے؟ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہم کو محفوظ رکھا ہے۔

بات اخبار سے شروع ہوئی تھی تو یہ خبر بھی آپ کو بتا دیں کہ ابھی کل کے ہی اخبار سے معلوم ہوا کہ ہمارے ہندوستانی فلموں کے اداکار ششی کپور اپنے آبائی وطن پشاور گئے تھے ،اپنا آبائی وطن دیکھنے کچھ Home comingکے طور پر۔ اور ان کے شیدائیوں میں ایسی بھگدڑ مچی کہ پولس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا اور اس کے نتیجے میں کئی زخمی ہو گئے۔

اردو نیوز میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ کیوں کہ حیدرآباد کے بہت سے لوگ عرب ممالک میں بسے ہیں ، اور ان لوگوں کو وطن ہی نہیں، اپنے شہر کی خبروں کے لئے ایسی تڑپ ہوتی ہے کہ ان اخباروں کے باقاعدہ نمائندے حیدرآباد میں رہتے ہیں اور تازہ بہ تازہ خبریں اپنے عرب سے نکلنے والے اخباروں (ہمیں تو فی الحال اردو نیوز کا ہی پتہ چلا ہے، ویسے نہ صرف دوسرے اخبار، ہفت روزے اور ادبی ماہنامے بھی عرب دنیا سے نکلنے کی خبریں تو ہم نے حیدرآباد کے اردو اخباروں میں ہی پڑھی ہیں) کو دیتے رہتے ہیں۔ کل کے ہی اخبار میں خبر تھی کی حیدرآباد کے لیڈر، مجلس بچاؤ تحریک کے امان اللہ خاں فلاں تاریخ کو جدّہ پہنچ رہے ہیں اور فلاں ہوٹل میں ان کا استقبالیہ مقرر ہے۔ ہندوستان کے ہی دوسرے شہروں کے اردو اخباروں کے قارئین امان اللہ خاں کو کیا جانیں گے۔ بہرحال آج کا اخبار ہم نے دیکھا نہیں ہے اب تک، مگر امّید ہے کہ گجرال صاحب نے پارلیمان کے۔ فرش” (Floor) پر اپنی اکثریت ثابت کر دی ہوگی، اگر کانگریس اپنے تعاون کے وعدے پر قایم رہی تو…یوں اس پارٹی پر بھی اعتماد مشکل ہے۔

یہ تو ہو گئیں اخباروں کی گرما گرم خبریں۔ کوئی تین چار دن پہلے ہم کو ایک صاحب کے منیٰ کے حادثے میں انتقال کی خبر ملی جن سے صابرہ اچھّی طرح واقف تھیں۔ ہم ان صاحب کے لڑکے علیم سے واقف تھے جو خود بھی ہم دونوں کی طرح جیالوجسٹ ہیں مگر انڈین بیورو آف مائنس (Indian Bureau of Mines, IBM) میں، بنگلور میں ہماری علیم سے ملاقات ہوئی تھی اس مغرب کی نماز کے بعد جب کہ ہم عشاء کے بعد اڑنے کے لئے تیار تھے۔ اس وقت علیم نے بتایا تھا کہ ان کے والدین بھی حج کے لئے جا رہے ہیں اور وہ ان کو چھوڑنے آئے تھے۔ بعد میں جدّہ میں ہم نے صابرہ کو علیم کے والدین کے وہیں کہیں ہونے کی بات بتائی تھی مگر وہاں کہاں معلوم کرتے، اور پھر صابرہ بھول بھی گئیں۔ اب انتقال کی خبر ملی تو افسوس ہوا۔ یہ تو ہم کو علیم نے بتایا تھا کہ ان پر فالج کا اثر ہے اور وھیل چیر استعمال کرتے ہیں اور اسی پر حج کریں گے۔ بلکہ صابرہ نے کل ہی بتایا کہ ان پر فالج کا اثر حج کی درخواست دینے کے بعد ہوا تھا۔ واقعہ یوں معلوم ہوا کہ منیٰ کی آگ ان کے کیمپ کے قریب ہی شروع ہوئی اور بھگدڑ میں سڑک کی طرف کا راستہ لوگوں نے ہی بند کر دیا۔ خیمے کے دونوں جانب تو آگ تھی ہی، بعد میں سڑک کے دوسری طرف بھی آگ شروع ہو گئی ، اس لئے لوگ پھر چوتھی سمت یعنی پہاڑ کی طرف بھاگنے لگے۔ مرحوم حکیم صاحب (یہ ان کا نام تھا) بے چارے فالج زدہ پیروں سے چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے مگر گرِ گِر جاتے تھے۔ ڈھال بھی سخت تھا۔ عام لوگ بھی پھسل پھسل کر گر رہے تھے۔ کسی اللہ کے بندے نے ان کی مدد بھی کرنی چاہی مگر وہ بیچارہ خود بھی گر گیا اور مرحوم پھسل کر جلتے ہوئے خیموں میں ہی جا گرے۔ بلکہ وہ تو پہاڑی تلے گرے، ان کے اوپر جلتے ہوئے خیمے گرے۔ صابرہ سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ صابرہ کے پڑوسی تھے محبوب نگر میں۔ حکیم صاحب خود وہاں بی۔ ایڈ کالج کے پرنسپل تھے۔ اس معلومات کے بعد چلا کہ مرحوم کی بیوہ ہماری عمارت کے قریب ہی ایک عمارت میں ہیں تب سے صابرہ روز ان سے جا کر مل رہی ہیں۔ اب 20۔ 3 ہو رہے ہیں، عصر کے لئے نکلنا ہے اور اس کے بعد جدّہ کے لئے۔ اب انشاء اللہ جدّے میں ہی لکھیں گے۔

مکّے سے مکّے تک بر ا ہ جدّ ہ

٣/ مئی، ساڑھے دس بجے رات

آج نویں دن لکھ رہے ہیں الحمد للّٰہ ۔ جدّہ میں ذرا بھی نہیں لکھ سکے۔ صرف کچھ نکات نوٹ کر لئے تھے کہ ان کے بارے میں لکھیں گے اگر حیات رہے تو۔ ویسے وہاں وقت کی کمی نہیں تھی۔ وافر مقدار میں مل رہا تھا (اگر ہم سونے میں وقت نہ گنواتے تو)۔ مگر ایک تو ہم یہ ضخیم رجسٹر لے کر نہیں گئے تھے۔ تین چار دن کا ہی پلان تھا اس لئے محض ایک ہلکا پھلکا بیگ ساتھ لے لیا تھا اور باقی سارا سامان یہاں ہی چھوڑ گئے تھے۔ یہ رجسٹر یہاں چھوڑ کر کچھ کاغذ ساتھ لے لئے تھے۔ ہم جس رجسٹر میں یہ سب لکھ رہے ہیں، وہ در اصل ہماری اہلیہ محترمہ کے دفتر کے ڈپلی کیٹنگ پیپر سے بنایا گیا ہے جسے ان کے سیکشن والوں نے باقاعدہ موٹے کاغذ کی جلد چڑھا کر زنجیری جلد بندی (سپائرل بائنڈنگ Spiral binding)کر دی ہے۔ یہ کاغذ کچھ شکستہ ہو جاتا ہے اور ہم نے جو کچھ اوراق نکالے بھی تو ان کی حالت خستہ ہو رہی تھی۔ خطوط لکھنے کے لئے ہم نے ایک ریال کے کاپی سائز کے آٹھ اوراق خریدے تھے اور اس کام کے لئے دس روپئے کے کاغذ تو ہم مشکل سے دو دن میں لکھ ڈالیں گے اور آپ کی “نظر خراشی” کریں گے۔ پسند کریں نہ کریں جانِ جہاں اختیار ہے۔ غرض ایک وجہ یہ بھی تھی اور اصلی وجہ یہ کہ ہمارے میزبان باقر، ان کی بیوی زرینہ اور ان کے تین بچّوں نے اجازت ہی نہیں دی یعنی مصروف رکھا۔ شاید ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ باقر صابرہ کی بڑی بہن صغریٰ کے دیور ہیں، ان کے شوہر محمود بھائی کے چھوٹے بھائی۔ باقر کے بچّے ہیں ارمینہ، نورینہ اور لڑکا مزمّل۔ ان کے علاوہ جدہ میں ہی صغریٰ آپا کی نند نسیم اور ان کے شوہر اشفاق بھائی بھی ہیں۔ ہم یہاں تو اللہ میاں کے مہمان تو تھے ہی، جدہ آ کر باقر میاں کے مہمان بھی ہو گئے ۔ ٹھہرے تو باقر کے گھر ہی تھے، مگر کئی بار اشفاق بھائی کے ساتھ ہی ان کی میزبانی کا لطف اٹھایا۔ در اصل کار ان کے پاس ہی تھی، باقر کے پاس نہیں تھی، اس لئے کہیں جانے کے لئے ان کے ساتھ ہی جاتے تھے۔ صرف کل یہاں واپس آنے کے لئے ان کی کار نہیں مل سکی اس لئے کہ اس جمعرات جمعے کو اشفاق بھائی کی Weekend کی چھٹی تھی اور اس دن وہ اپنا گھر شفٹ کر رہے تھے۔ چناں چہ کل ہم ان کے بڑے بھائی اقبال بھائی کی ایر کنڈیشنڈ کار میں جدّہ سے واپس لوٹے ہیں۔ پچھلے جمعے 28/ اپریل کی رات کو ساڑھے آٹھ بجے مکّے سے نکلے تھے تو کل جمعے کو ہی مغرب کی اذان کے وقت حدود حرم بلکہ میقات میں داخل ہو رہے تھے، جہاں سے غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔ (اس راستے پر یہاں ایک بڑی سی رحل بنائی گئی ہے)۔ حرم وہاں سے 4۔ 3 کلو میٹر دور ہی تھا، اس لئے مغرب کی نماز ہم نے مکّے میں ہی مگر حرم سے دور پڑھی۔ پھر اقبال بھائی نے خواتین کو حرم میں چھوڑا، ہمارا سامان عمارت رقم 468 میں رکھوایا، اور پھر ہم کو حرم میں چھوڑا تو رات کے آٹھ بج گئے تھے۔ عمرہ کر کے ہم لوگ 11 بجے ہی عمارت واپس آ سکے۔ خیر وہ روداد بعد میں۔ ابھی تو ہم نے جدّے کے سفر کی تمہید ہی باندھی ہے۔ اب آپ کو تفصیل سے وہاں کے شب و روز سے واقف کرائیں۔

جدّ ے کے شب و ر و ز

“شب و روز کی اصطلاح نہ صرف باقر اور زرینہ اور دوسرے جدّے والوں (یا سعودی عرب کے دوسرے شہریوں )کے لئے بلکہ ا ن آٹھ دنوں میں ہمارے لئے بھی بالکل صحیح ہے۔ یعنی یہ کہ ہمیشہ ان دونوں الفاظ کو مرکّب ہی لکھنا چاہئے کہ کہہ نہیں سکتے کہ آپ کی شب کب ختم ہوئی اور روز کب؟ کیوں کہ ہماری رات بھی تب ہی ختم ہو رہی تھی جب سورج (طلوع ہونے میں)؎ دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا۔ باقر کا کہنا یہ ہے کہ یہاں عورتیں اس لئے زیادہ موٹی ہوتی ہیں کہ دن بھر سوتی رہتی ہیں۔ روزانہ رات کو دو تین بجے ان کا سونا ہوتا ہے۔ مرد بھی اسی وقت سوتے ہیں مگر صبح سات آٹھ بجے اپنے کام سے لگ جانے کے لئے ان کو جلدی اٹھنا ہوتا ہے مگر عورتیں دن میں 11۔ 12 بجے تک سوتی رہتی ہیں۔ باقر کو ہی صبح ساڑھے سات بجے نکلنا ہوتا ہے اور واپسی میں ساڑھے سات بج جاتے ہیں۔ اس کے بعد عام طور پر ان کی شام کی چائے ہوتی ہے۔ اور پھر عشاء کا وقت ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ دونوں ہی نہیں، بلکہ عموماً سعودی حضرات کہیں کسی سے ملنے چلے جاتے ہیں یا پھر شاپنگ کے لئے۔ رات 12 بجے کے بعد واپسی ہوتی ہے۔ پھر آرام سے کھانا وغیرہ کھاتے ہیں، بلکہ گرم کھانے کی عادت ہو تو اسی وقت پکاتے بھی ہیں اور پھر سونے تک وہی دو تین بج جاتے ہیں۔ مردوں بے چاروں کی نیند محض5 ۔ 4 گھنٹوں کی ہوتی ہے۔ رات کو جب ہم لوگ کھانا کھانے بیٹھتے تھے تو اکثر باقر دستر خوان پر ہی اونگھنے لگتے تھے۔ ناشتہ ظہر کے بعد ہوتا تھا اور دوپہر کا کھانا عصر کے بعد۔ ہم بھی ایک یا دو دن ہی فجر کی نماز پڑھ سکے، ایک دن تو اس وقت تک سو ہی نہیں سکے تھے۔ ورنہ اکثر 7۔ 8 بجے آنکھ کھلتی تو قضا فجر پڑھ کر سب کو سوتا دیکھتے تو خود بھی لیٹ جاتے اور خلاف معمول بھی نیند آ جاتی۔ اور 11 بجے کی خبر لیتے۔ پرسوں تو اور خراب حالت رہی۔ جمعرات تھی اور اس دن باقر کو آدھے دن کی چھٹی ہوتی ہے( ان لوگوں کی جمعے کو مکمل چھٹی ہوتی ہے۔ کچھ دفتروں میں دونوں دن کی مکمل)۔ اس لئے وہ بھی آ کر سو گئے تو پھر مغرب کے وقت ہی سب لوگ اٹھے۔ ان کے آنے سے پہلے ایک بجے ناشتہ ہوا تھا ہمارا، پھر زرینہ بھی سو گئیں اور ہمارے علاوہ سبھی، بشمول باقر کے۔ اس وقت کچھ مہمان آ گئے تو دوپہر کا کھانا غائب۔ ان کے ساتھ ملک شیک پیا اور چائے بھی۔ البتّہ رات کا کھانا عشاء سے پہلے ہی کھا لیا گیا۔ یعنی عشاء کی اذان ہو رہی تھی اور سب کھانا کھانے بیٹھ چکے تھے۔ باقر کی دونوں لڑکیاں صبح سات بجے اسکول چلی جاتی ہیں اور 2 بجے واپس آتی ہیں اور کچھ اسکول کا کام کر کے یہ بھی سو جاتی ہیں تو آٹھ بجے ہی اٹھتی ہیں۔ مزمّل، ان کا چھوٹا بیٹا پونے آٹھ بجے نکلتا ہے اور وہ بھی اپنی بہنوں کے آس پاس ہی آ جاتا ہے۔ زرینہ بچّوں کو رخصت کرنے کے لئے اٹھتی ہیں، محض محبت کی خاطر ورنہ ان کے ناشتے دان بھی پچھلی رات کو ہی رکھ دئے جاتے ہیں۔ پھر یہ سو جاتی ہیں۔ اگرچہ ہمارے لئے ٹرے میں بریڈ، جام اور چیز وغیرہ پہلے ہی رکھ دیتی تھیں کہ ہماری جب خواہش ہو، ہم لوگ ناشتہ کر لیں۔ ایک دن تو ہم نے کر بھی لیا تھا، مگر بعد میں ہماری بھی سونے کی عادت ہو گئی۔

لیجئے اب تک جدّے کے شب و روز کا حال شروع ہی کیا تھا کہ لگتا ہے ہماری شب شروع ہو چکی۔ یعنی نیند آ رہی ہے۔ چلئے معمول معمول کے مطابق ہو جائے تو اچھّا ہے۔ اب کل صبح لکھیں گے ورنہ آج تک تو یہی حال تھا کہ آج ہم نے ناشتہ ہی نہیں کیا۔ ساڑھے بارہ بجے اٹھے تھے۔ اس لئے سیدھے لنچ لے لیا۔ صابرہ بھی اپنا معمول ٹھیک کرنے میں لگی ہیں کہ دس ساڑھے دس بجے سے سو رہی ہیں۔

شہر جدّ ہ

4/مئی 97ء، 11 بجے رات

اب لکھنے کی مہلت مل رہی ہے۔ ویسے تو آج کا دن بھی خاصا۔ متحرّک” (Full of activities) رہا۔ مگر اس کی بات بعد میں، پہلے جدّہ چلیں جہاں سے ہم آ رہے ہیں۔

یوں ہم نے دیکھنے کو مکّہ بھی دیکھا اور مدینہ بھی، مگر دونوں مدینے (مدینہ در اصل شہر کو ہی کہتے ہیں) صرف حرمین کے قرب و جوار تک ہی۔ مدینے میں تو پھر کئی۔ اسواق” (بازار) دیکھ ڈالے تھے۔ مکّہ میں تو حرم کے آس پاس کے علاوہ نہ کچھ دیکھا تھا نہ کچھ خریداری کی تھی۔ ویسے ان دونوں شہروں کے دوسرے علاقے سفروں کے دوران ضرور دیکھے، گزرتے ہوئے۔ یعنی جدّے سے مکہّ آتے ہوئے، مکہ اور مدینے کے درمیان کے راستے میں دو بار گزر ے اور پھر جدہ جاتے وقت۔ مگر صحیح معنوں میں دیکھنے کی غرض سے کوئی شہر دیکھا تو جدّہ۔ یوں تو مکہ مدینہ میں بھی کئی فلک بوس عمارتیں ہیں، مگر جو رونق جدّے میں نظر آئی، وہ مکہ مدینہ میں نہیں۔ یہ واضح کر دیں کہ اب ہم خالص ٹورسٹ کے طور پر بات کر رہے ہیں۔ جذبۂ شوق کی نیّت سے تو ان دونوں شہروں کے علاوہ کہیں جانے کو جی نہیں چاہتا۔ مگر جب جدّہ جانا ہی پڑ گیا تو ہم ہمارا جذبۂ شوق حرم کی ہی ایک طاق میں رکھ کر جدّہ چلے گئے تھے۔ پھر باقر اور اشفاق بھائی کے مجبور رہے، جذبۂ شوق کے مجبور ہوتے تو اگلے ہی دن بھاگ آتے۔ یعنی جب تک ان لوگوں نے واپسی کے لئے کار کا انتظام نہیں کیا، وہیں ٹھہرنا پڑا۔ آخر ان لوگوں کے مہمان تھے۔ یہ دوسری بات ہے کہ جدّے کے بازاروں میں ہمیں اللہ میاں کا مہمان ہی سمجھا گیا اور اس ناطے مکہ مدینہ سے زیادہ ہی احترام نصیب ہوا۔ وہاں تو سبھی حاجی تھے، من ترا حاجی بگوئم، تو مرا حاجی بگو کے علاوہ وہاں یہ احترام کہاں ممکن تھا۔ ویسے ہم اس خاطر کے بھوکے تو نہیں تھے۔ مگر جب احترام مفت میں ملتا رہا تو خوش ہوتے رہے۔

ایک تو ہم کو یہ لگا کہ شہر جدّہ بہت وسیع ہے۔ یہاں مکہ کا حال تو معلوم نہیں۔ یہ ضرور جانتے ہیں کہ یہاں علاقوں کو سمتوں میں بانٹ رکھا ہے، جیسے لندن میں پوسٹ آفس کی زون سمتوں کے مطابق ہیں، North-west, South-east وغیرہ۔ یہاں بھی اسی طرح ہے مگر عربی میں۔ مختصر حروف کی عربی میں مشکل ہے کیوں کہ مشرق اور مغرب دونوں۔ م” سے شروع ہوتے ہیں۔ اور اگر مشرق کو شرق بھی لکھا جائے تو وہ بھی “ش” سے ہوتا ہے اور شمال بھی۔ یہاں صرف شمال کو “ش” لکھتے ہیں،( کہیں کہیں شمال پورا بھی لکھا دیکھا تو “ش” پر زیر لکھا دیکھا، یعنی یہاں شِمال کہا جاتا ہے۔ ) مشرق کے لئے “ق” اور مغرب کے لئے “غ” ، جنوب کے لئے وہی “ج”۔ البتّہ جدہ میں علاقوں اور بستیوں کو انگریزی میں “ڈسٹرکٹ” کہا جاتا ہے اور اس کا عربی ترجمہ اردو کے حساب سے ضلع نہیں، “حتی” ہے۔ بلکہ یوں کہئے کہ یہاں حتی کی انگریزی ڈسٹرکٹ ہے۔ ہم، مراد باقر وغیرہ، حتی العزیزیہ میں رہتے تھے۔ راستوں کے دوسرے ضلعے تھے، حتی شرقیہ، بنو مالک، کندرہ وغیرہ۔ (ہم کو حتی کی جمع معلوم نہیں اس لئے ہم اس کا انگریزی میں “ڈسٹرکٹ ” ترجمہ کر کے پھر اردو میں ترجمہ کر رہے ہیں۔

25 اپریل جمعے کی رات کو جدّے پہنچے تھے۔ 26/ کو کہیں نہیں گئے مگر 27/ اپریل سے 2/ مئی تک روزانہ کسی نہ کسی نئے علاقے میں جاتے رہے۔ پہلے دن جہاں گئے اس کا نام معلوم نہیں (یا یاد نہیں رہا)۔ مگر وہاں ہندوستانی پاکستانی دوکانیں بہت تھیں۔ پان کی دوکان، ہندوستانی مٹھائیاں وغیرہ سبھی دستیاب تھیں۔ اس وقت دو علاقوں میں گئے، ایک میں سپورٹس کا سامان تھا۔ وہیں سے ہمارے بیٹے کامران کے لئے ایک جوڑی سپورٹس شوز لئے۔ فرمائش تو ان کی “ریبوک” (Reebok) شوز کی تھی مگر وہ مدینے میں اور جدّے میں بھی 350۔ 400 ریال کے تھے۔ ہندوستان میں اس سے کم قیمت میں ہی دستیاب ہو سکتے تھے۔ یعنی متبادل رقم کا سوچیں تو یہاں کے ہزار روپیوں میں مل سکتے تھے اور اس حساب سے وہاں 100 ریال کے آس پاس ہوتے تھے تو ہم ضرور خرید لیتے۔ اس لئے باقر نے مشورہ دیا کہ اس فرانسیسی کمپنی “لائن۔ 7 (Line-7) کے جوتے بھی بہت اچھّے ہوتے ہیں وہ بھی وہی استعمال کرتے ہیں اور اس میں یوں بھی ڈسکاؤنٹ چل رہا تھا اور باقر کی دوستی تھی دوکان دار سے۔ اس لئے 110 ریال کا جوتا 80 ریال میں تو تھا ہی، ہمیں 60 ریال میں ہی دے دیا۔ اس کے علاوہ کامران کے ہی لئے جین بھی خریدی، اور کیا کچھ خریدا، یاد نہیں۔

اگلے دن 28/ کو “ہراج” گئے۔ یہ در اصل نیلام کی جگہ ہے اور یہاں ہول سیل سامان آتا ہے، اس لئے کم قیمت میں اشیاء مل سکتی ہیں۔ ساحل کے قریب ہی یہ علاقہ ہے۔ مگر یہاں اکثر دوکانیں فٹ پاتھ کی ایسی بھی دیکھیں جیسی ممبئی کے چور بازار یا حیدرآباد کا جمعرات بازار (جمعرات کے دن) یا اتوار کے دن پتھّر گھٹی کا علاقہ۔ ایک جگہ 2۔ 2 ریال میں دھات کے گل دانوں سے لے کر بڑے بڑے گھنٹے تک مل رہے تھے۔ 5۔ 5 ریال میں ٹی شرٹس، لڑکیوں کے سفید بلاؤز تو ہم نے بھی یہاں سے خریدے۔ یہ اپنی پیکنگ میں سیلڈ تھے اور دس ریال کے تین بھی مل گئے۔ ہر مال 5، 10 اور 20 ریال کی بھی ایسی کئی دوکانیں تھیں بلکہ ایک ایک ریال کی بھی جہاں وہ چیزیں بھی تھیں جو مدینے وغیرہ میں 2۔ 2 ریال کی مل رہی تھیں۔ کپڑے کی دوکانیں بھی بہت تھیں۔ زنانی کپڑا 5۔ 5 ریال فی میٹر فٹ پاتھ پر اور 6 تا 10 ریال میٹر دوکانوں میں تھا۔ ریڈی میڈ بھی۔ صابرہ نے اس دن اسی بازار سے ایک چپّل خریدی اور کسی کو دینے کے لئے بچّوں کے ریڈی میڈ سوٹ بھی۔ نائٹی اور اسکارف بھی لئے۔ شلوار قمیص سوٹ کے لئے کپڑے بھی خریدے۔ بیشتر دوکانیں بنگلہ دیشیوں کی تھیں اور ان پر ہماری اچھّی خاصی بنگلہ کا یہ اثر ہوا کہ سودا چکانے میں آسانی ہوئی۔ ویسے ہم ان لوگوں کو کہہ دیتے تھے کہ بھائی ہماری بنگالی کلکتوی ہے، بنگلہ دیشی بنگالی کا نہ صرف لہجہ الگ ہوتا ہے بلکہ لفظیات میں بھی فرق ہے۔ وہاں یہ لوگ پانی “پیتے “ہی ہیں، ہندوستانی بنگالیوں کی طرح “کھاتے “نہیں۔

اگلے دن 29/ کو “کندرہ” کے علاقے میں گئے جہاں جا نمازوں کی تھوک منڈی ہے۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا جب ہم آپ کو بتائیں کہ ہم نے اس دن 35 عدد جا نمازیں خریدیں۔ صابرہ کا ارادہ اکثر لوگوں کو تحفتاً جا نمازیں دینے کا ہی تھا۔ یہاں بھی کافی کفایت رہی۔ ایک کوریا کا لحاف بھی خریدا۔ نہایت ملائم۔ یہ شے یہاں کے دوسرے بازاروں میں اور مدینے میں بھی 130۔ 140 ریال کی تھی، کندرہ میں ہمیں 110 ریال میں مل گیا۔ اس دن ایک پاکستانی ہوٹل میں باہر ہی سب نے (باقر اور اشفاق بھائی کا پورا خاندان ساتھ تھا، اشفاق بھائی کی کار میں ہی گئے تھے حسبِ معمول)کھانا کھایا۔ کڑھائی گوشت، مرغ کی ایک ڈش (اس کا نام یاد نہیں رہا)، سبزی کی بریانی اور روٹیاں۔ سلاد بھی تھا ہی اور بعد میں کھیر بھی کھائی گئی، اچّھا کھانا تھا۔

تیسرے چوتھے دن یعنی 30 اپریل اور یکم مئی کو سونے کے بازاروں میں گھومتے رہے۔ یہ دو بازار ہیں۔ ایک کا نام “یمامہ ” تو یاد رہا، دوسرے کا بھول گئے ہیں۔ پہلے دن ہماری صابرہ بیگم نے بریسلیٹ (Bracelet) دیکھنے کی کوشش کی۔ تلاش تھی “اللہ” لکھی ہوئی ہار میں ڈالنے کی “لٹکنوں”۔ (Pendants) کی، مگر وہ اچھّے نظر نہیں آ رہے تھے۔ دوسرے دن دوسری مارکیٹ میں یہ مل گئے۔ اس کے ساتھ انھوں نے چار ٹاپس بھی خریدے۔ سونے کا بھاؤ یہاں بنی ہوئی چیز کے حساب سے ہے۔ چوڑیاں سستی ہیں۔ 38 ریال فی گرام اور کان کے ٹاپس سب سے مہنگے 50۔ 60 ریال فی گرام تک۔ دوسری چیزیں 40۔ 45 ریال فی گرام۔ اور یہ سب 21 کیرٹ سونا ہے۔ غرض سونے کی کچھ چیزیں وہاں ہندوستان کی بہ نسبت سستی ہیں اور کچھ مہنگی۔ سب ملا کر تقریباً یہاں جیسا ہی حساب پڑتا ہے۔

آخری دن ہم “بابِ مکہ” کے علاقے میں گئے جسے اہلِ جدّہ پیار سے “ببمک” (Babmak)کہتے ہیں۔ یہ دراصل جیسے حیدر آباد کا عثمان گنج اور بیگم بازار (علی گڑھ کا رسل گنج اور دہلی کا دریا گنج بھی سمجھ سکتے ہیں) ہے یعنی ہر چیز، بطور خاص آٹا، دال، چاول اور مصالحوں کی تھوک مارکیٹ۔ یہاں سے مصالحے خریدے یعنی لونگیں، زیتون کا تیل، دارچینی۔ الائچی۔ بادام اور پستے۔ ان کے بھاؤ بھی آپ کو بتاتے چلیں۔ دارچینی 12 ریال، لونگ 10 ریال، الائچی 20 ریال، پستے 28 ریال اور بادام 30 ریال فی کلو۔ زیتون کا تیل آدھا لٹر کا ٹن 13 ریال کا (یہ ویسے ہندوستان میں بھی امپورٹیڈ والا ہی ملتا ہے اور بعد میں معلوم ہوا کہ نسبتاً سستا ہی)۔ اسی دن عطریات بلکہ سینٹس بھی خریدے، کچھ 10۔ 15 ریال کے، کچھ سستے 4۔ 5 ریال والے بھی۔ کھجوریں اگرچہ کافی خرید چکے تھے مگر وہاں بھی تازہ نظر آئیں تو مزید ساڑھے تین کلو لے لیں۔ جدّے کی جو چیز یاد رہے گی وہ ہے میدان قصاص۔ حالاں کہ ہم نے کسی کا قصاص ہوتے نہیں دیکھا، محض سنا ہی ہے ہمارے باقر صاحب سے۔ انھوں نے بتایا کہ جب بھی ہوتا ہے تو کافی تماشائی جمع ہو جاتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔ ایک چبوترے پر مجرم کو لایا جاتا ہے اور اس کے ہاتھ کاٹنے، درّے لگانے یا قتل کرنے کی سزا نظارۂ عام کے ساتھ دی جاتی ہے۔

جدّے کا نیا ائر پورٹ (ایر پورٹ کو عربی میں مطار کہتے ہیں)تو شہر سے 30 کلو میٹر دور ہے، پرانے ائر پورٹ کے آس پاس سے تقریباً روز ہی گزرتے رہے۔ اس کے پرانے رن ویز (Runways)پر سڑکیں بن گئی ہیں۔ اس کے قریب ہی ایک چار منزلہ عمارت ہے جو جگ مگ کرتی ہے اور دور سے نظر آتی ہے۔ اس عمارت کا نام ہےمدینۃ الحجاج۔ پہلے آمد و رفت کے وقت حاجیوں کو یہاں ہی ایک دو دن رکھا جاتا تھا۔ بندرگاہ بھی یہاں سے قریب ہے، اس لئے بحری مسافروں (جو عازمین حج ہوں) کو بھی یہاں ہی رکنا پڑتا تھا۔ اب بھی یہاں حاجیوں کا قیام ہوتا ہے اور شاید مفت۔ سنا ہے کہ انڈونیشیا کے حاجی اب بھی یہاں ہی ٹھہرتے ہیں۔ یہ ہم نے قریب سے اس طرح دیکھا کہ اس کے سامنے ہی ایک “فاسٹ فوڈ” ریستوراں ہے “البیک”۔ یہاں سے ہم نے بروسٹ چکن (یا محض بروست) لیا تھا جو یہاں کا مشہور ہے۔ یعنی نصف تلی ہوئی مرغی اور اس کے ساتھ بن، کیچ اپ اور فرینچ فرائز (یعنی آلو کے تلے ہوئے قتلے)۔ اس دن یہ پیک کرا کے گھر لے گئے تھے اور وہاں کھایا تھا۔

آ گیا “پیک آور ز” میں بھی اگر وقتِ نما ز

حرمین کے قرب و جوار میں تو ہم نے دیکھا کہ ادھر اذان ہوئی اور دوکان داروں نے اپنی دوکانوں کے سامنے ایک کپڑا لٹکایا اور بے خوف نماز کے لئے چلے گئے۔ نماز کے بعد پھر دوکان کھلے گی، یہ کپڑا نشان دہی کرتا ہے کہ نماز کے لئے دوکان بند ہے۔ ٹیلیفون بوتھس پر بھی عربی کے علاوہ انگریزی اور کہیں کہیں اردو میں بھی لکھا ہوتا ہے کہ براہِ کرم نماز کے اوقات میں کسی کو فون نہ کریں۔ مگر ہم اب تک سمجھ رہے تھے کہ یہ محض بیت الحرام یا مسجدِ نبوی میں ہی ہوتا ہوگا کہ دوکان دار (ممکن ہے کہ) شرما شرمی میں نماز پڑھنے چلے جاتے ہوں گے کہ خریداروں پر اچھّا Impression پڑے ورنہ وہ کیا کہیں گے ۔ حالاں کہ مغرب اور عشاء کے درمیان کے اوقات غالباً پوری دنیا میں شاپنگ (خریداری) کے لئے ” پیک آورس” (Peak hours)ہیں۔ مگر جدّہ میں بھی یہی دیکھا کہ ادھر اذان ہوئی اور دوکان دار آپ کو دوکان سے باہر کرنے کی جلدی مچائے گا۔ حرمین کے علاقے میں تو محض کپڑے سے کام چل جاتا ہے کہ وہاں چوروں کو چوری کرنے میں لاج آتی ہوگی، مگر جدّے میں چور بے شرمی سے چوری کر لیتے ہیں۔ (ہاتھوں کے کٹ جانے کے خطرے کے باوجود) اس لئے دوکان دار محض کپڑا ڈال کر خطرہ مول نہیں لیتے۔ باقاعدہ پوری دوکان بند کر دیتے ہیں۔ نمازوں کے اوقات میں خود ہم مساجد میں رہے مگر یقین ہے کہ عین نمازوں کے اوقات میں سڑکیں سنسان ہو جاتی ہوں گی۔ عورتوں اور بچّوں کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا ہوگا۔ ویسے بیشتر مسجدوں میں عورتوں کے لئے علیٰحدہ انتظام رہتا ہی ہے۔ بطور خاص رہائشی علاقے کی مسجدوں میں، مگر بازاروں کی مسجدوں میں ہر جگہ عورتوں کا انتظام نظر نہیں آیا۔ جیسے ہراج کے علاقے کی مسجدوں میں نہیں تھا۔ ایسی صورت میں خریدار عورتیں نماز سے محروم رہتی ہوں گی۔ غرض یہی کہا جا سکتا ہے کہ ؎

آ گیا پیک آورس میں بھی اگر وقتِ نماز : : نہ خریدار رہا اور نہ کوئی دوکاں دار

ہر محلّے میں ایک نہیں دسیوں مسجدیں ہیں۔ ہر مسجدمیں مائک پر صرف اذان ہی نہیں با قاعدہ جماعت بھی ہوتی ہے۔ باقر کے گھر میں ہی چار مسجدوں کی اذانوں کی آواز آتی ہے۔ ( اس پر یہ معترضہ بات یاد آئی کہ حیدر آباد میں نہ جانے کیوں اذان کو ” اذاں” کہتے ہیں۔ کوئی قاری ہماری اس بابت رہنمائی کریں) باقر نے بتایا کہ سعودی حکومت 50 ہزار مسجدوں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ اور ان کے علاوہ بھی بے شمار ” پرائیویٹ” مساجد ہیں۔ خود باقر کے گھر کے قریب ترین والی مسجد جہاں ہم جاتے تھے، چندے کی ہے۔ اور رہائشی علاقوں کی مسجدوں میں ایسی شاید ہی کوئی مسجد ہو جہاں دوکانوں کے کرائے وغیرہ کے ذریعے آمدنی کے کچھ ذرائع ہوں۔ پھر بھی مسجدوں کی حالت دیکھ کر طبیعت خوش ہو جاتی ہے۔ سب سے پہلے تو صفائی قابل دید ہوتی ہے۔ باہر سے بھی عمدہ سفیدی، اور ہمارے وطن کی طر ح چونا نہیں، آئل پینٹ ہوتا ہے۔ چونا وہاں کی آب و ہوا میں پائدار رہے گا بھی نہیں شاید۔ اکثر ایک مینار جس کی برجیاں ٹیوب لائٹوں سے خوب روشن ۔ غسل خانے اور بیت الخلاء نہایت صاف۔ مسجدوں میں داخلے کی جگہ کے قریب کچھ حصّہ چھوڑ کر 6۔ 8 انچ اونچی ” ریلنگ” تاکہ جوتوں چپلوں کی دھول اندر نہ جائے۔ یا جوتے ہی اندر تک نہ سرک آئیں۔ اس ریلنگ سے لگی ہوئی دبیز قالین کی جا نمازیں۔ بڑے بڑے ایر کنڈیشنر۔ پانی کے بڑے بڑے تھرمک جگس، یا کہیں کہیں و اٹر کولر بھی ۔ جن کے قریب 6۔ 6 خوب صاف گلاسوں کا سیٹ ٹرے میں سجا ہوا۔ داخلی حصّے کو چھوڑ کر تین طرف کی پوری دیوار کے سہارے شیلف لگے ہوئے۔ ہر ایک میں قرآن کے نسخے سجے ہوئے اور شیلفوں کے اوپر ٹِشو پیپر(Tissue Paper) کے ڈ بّے۔ ان کا استعمال بہت عام ہے۔ ہوٹلوں میں جائیں تو ہر میز پر ایک ڈبّہ رکھا ملے گا۔ ہر گھر میں ڈراینگ روم کی میزوں پر اور ہر کار میں یہی نظر آئیں گے۔ یہاں تک کہ ٹیکسی والے بھی ونڈ شیلڈ کے پاس رکھتے ہیں۔ اور ہم نے دیکھا کہ اس کا استعمال نہایت فضول خرچی سے کیا جاتا ہے۔ یعنی ایک بار استعمال کیا اور فوراً موڑ توڑ کر پھینک دیا۔ کچھ ہی لمحوں بعد پھر ضرورت محسوس ہوئی تو فوراً ایک عدد نیا نکال لیا۔ ہم تو اس معاملے میں کنجوس ثابت ہوئے۔ ایک ٹشو کو دو چار بار استعمال کئے بغیر ہمارا پھینکنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ لیجئے ذکر ہو رہا تھا مسجد کا اور بات پہنچی تری جوانی، ہمارا مطلب ہے ٹشو پیپر تک۔ مسجدیں اندر سے خوب جگ مگ، یعنی روشنیوں کی کثرت۔ ہماری اکثر مغرب اور عشاء کی نمازیں بازاروں کی مسجدوں میں ہوئیں، مگر ایک دن بطور خاص باقر اور اشفاق بھائی ہمیں مسجد الملک سعود لے کر گئے جو جدّے کی مشہور مسجد ہے۔ دیکھ کر طبیعت خوش ہو گئی۔ نہایت خوب صورت جھاڑ فانوس، بیچ بیچ میں کھلے حصے جن پر چھتری نما ڈوم کی چھت۔ بٹن دبائیے، چھت موجود، بٹن دبائیے، چھت غائب۔ جیسا کہ انگریزی میں کہتے ہیں نا : Now you see it, now you don’t ۔

ایک فرق یہ بھی دیکھا کہ یہاں مقتدی امام کے دونوں طرف سلام پھیرنے کے بعد سلام پھیرنا شروع کرتے ہیں، جب کہ حرمین میں امام کی آواز کے ساتھ ہی۔ جدّے میں ہی امام کو دیکھ بھی سکے ورنہ حرمین میں تو اب تک اتنی اگلی صف میں جانے کا موقعہ ہی نہیں ملا کہ امام کے دیدار ممکن ہوں۔ حرمِ مّکہ میں امام کہاں کھڑا ہوتا ہے، یہی اب تک صحیح معلوم نہیں ہوا ہے، کوئی کہتا ہے کہ بابِ کعبہ کے قریب، تو کوئی کہتا ہے کہ حطیم میں۔ کوئی اور صاحب کہتے ہیں کہ جگہ بدلتی رہتی ہے۔ ہاں یہ بھی لوگوں نے بتایا کہ وہاں (حرمین میں) امام اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ مثلاً رکوع میں پوری طرح جھک جانے کے بعد تکبیر بولتے ہیں تاکہ کوئی امام سے پہلے رکوع میں نہ چلا جائے۔ ایسا یہ یہاں بھی دیکھا۔ ایک اور بات یہاں حرمین کے مماثل ہے کہ جماعت سے پہلے امام پیچھے دیکھتا ہے اور عربی میں ایک جملہ کہتا ہے جو شروع ہوتا ہے ” سعو” سے اور ختم ہوتا ہے ” صفّا “پر۔ جس کا مطلب ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ “جلدی کیجئے اور صفیں سیدھی کر لیجئے”۔ جب امام مطمئن ہو جاتا ہے تب ہی اقامت ہوتی ہے اور یہ اکہری ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے کہیں لکھ چکے ہیں۔

ہمارا مطالعہ (اور ہمارا موضوع سے بہکنا)

جدّے میں ہمارے معمول کا ہم لکھ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ جب وقت ملا اور جب باقر کے بچّے اسکول میں ہوتے ( ان کے گھر میں رہنے پر تو تینوں میں سے کوئی نہ کوئی ہم کو کسی نہ کسی کھیل یا ان کے ہوم ورک میں مصروف رکھتا ) تو ہم کچھ نہ کچھ پڑھتے رہتے ہماری عادت کے مطابق۔ باقر روزانہ اپنے آفس سے انگریزی اخبار سعودی گزٹ لے کر آتے ہیں ( اسے عربی میں “سعودی جازیت ” لکھتے ہیں، یہ عربی میں “گ” کی آواز بھی خوب ہےAFGA کو “اکفا” لکھتے ہیں مگر .G.Tکو چی۔ تی۔ اب تلفّظ کی بات نکلی ہے تو اور کچھ مشاہدات کا ذکر بھی کرتے چلیں۔ ” پ” کو ” ب ” لکھا جاتا ہے، یہ پہلے بھی کہیں لکھ چکے ہیں۔ اس پر یہ لطیفہ یاد آیا جو اشفاق بھائی نے سنایا تھا کہ کسی صاحب نے کہا کہ یہ ” بے بسی” کیا چیز ہے جو ہر دوکان پر ملتی ہے۔ Pepsiکو بیبسی لکھیں گے تو بے بسی ہی تو پڑھا جائے گا نا! مگر ” لور پول”(Liverpool) کولور پول ہی لکھتے ہیں۔ بات “G”سے شروع ہوئی تھی تو یہ بھی بتا دیں کہ SAMSUNG (جس کی برقی مصنوعات وغیرہ ہیں) کو ” سامسونج” لکھا دیکھا۔ اور تو اور ہمارے سری نگر کو ” سری ناجار” بھی ایک جگہ لکھا پایا۔ اور Hong Kong کو “ہونج کونج” یعنی انگریزی ” جی” کی آواز “ج” بھی ہے، “چ” بھی اور “ک” بھی۔ “چ” لکھا ہوا ضرور دیکھا مگر املا میں تو ٹھیک ہے، اسے بولتے کیا ہیں، معلوم نہیں!۔ تعجّب یہ ہے کہ اس کی آواز تو “گ” کی نہیں ہے مگر بول چال میں “ق” اور کہیں “غ” کے لئے “گ” کا تلفّظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اقامہ کو اگامہ کہتے ہیں اور غمامہ کو بھی گمامہ۔ “جی” کے لئے تو “چ” لکھا دیکھا مگر “کراچی” شہر کی املا بالکل مختلف ہے۔ اسے “کراتشی” لکھتے ہیں۔ کیچ اپ (Ketch Up)کو “کیش تاب”۔ S کو کبھی “س” لکھتے ہیں تو کبھی “ص”۔ اب اس پر غور کیجئے کہ ایک کولڈ ڈرنک ہے Sun Sip اس میں دونوں S کی آواز میں کیا فرق ہے، کوئی عرب دوستوں سے پوچھے کہ اسے ” صن سِب” کیوں لکھتے ہیں، Sunکے S میں اور Sip کے S میں کیا فرق ہے جو پہلے S کو ” ص ” اور دوسرے S کو ” س “سے نوازا گیا ہے؟)۔

بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ بریکٹ کی بات پورے پیرا میں بدل گئی ۔ در اصل یہ ہمارے پیرائے کی خوبی ہے کہ خود بخود، رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام۔ لیجئے ہم پھر بہک چلے۔ پیرا پر “پیرایہ “یاد آیا اور اس پر پیرہن بلکہ حسن یار کہ شعر یاد آ گیا کہ ؎ اللہ رے حسنِ یار کی خوبی….وہی بات کہ ذکر جب چھڑ گیا…، ویسے ذکر چھڑا ہوا تھا سعودی گزٹ اور ہمارے مطالعے کا۔ موضوع سے بہک جانے کی ہماری بری عادت ہے۔ قارئین مشورہ دیں اسے چھڑانے کے لئے۔ اخبار مدینے میں ہمارے سفارت خانے کے نیچے کی دوکان میں بھی ملتے تھے مگر ہم محض سرخیاں دیکھ لیتے تھے باہر ہی سے۔ قیمت پہلے ہی دن دیکھ لی تھی۔ مبلغ دو ریال اور ہماری معاشی دور اندیشی نے اس کا فوراً اُردو میں ترجمہ کیا “20 روپئے” اور ہم نے طے کیا کہ اخبار خرید کر نہیں پڑھیں گے۔ ویسے ہمارے وطن میں ہی مادری زبان اردو کے اخبار اور رسائل خرید کر کون پڑھتا ہے۔ ہاں، مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے۔ ہندوستان کے دو روپیوں کی بجائے اگر پانچ روپئے کے متبادل (یعنی 50 حلالے) کا اخبار ملتا تو شاید ہم خرید لیا کرتے، مگر 20 روپئے کا؟ جدّے میں مفت تھا تو خوب پڑھتے۔ اس میں روزانہ ایک صفحہ ہندوستان کے لئے مخصوص تھا اور اس میں بھی دو کالم روز تھے۔ Hyderabad Bylines اور Kerala Calling۔ سعودی عرب میں ان دونوں علاقوں کے ہی ہندوستانی زیادہ ہیں اس لئے یہاں کی خبریں بطور خاص چھاپی جاتی ہیں، حیدر آباد کے نامہ نگار وہی عمر فاروق ہیں جو بی۔ بی۔ سی۔ لندن کے بھی ہیں۔ ایک اور صفحہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے لئے مشترکہ طور پر مخصوص۔ ایک صفحہ Opinion کے نام سے جس میں ایک کالم ہمارے ہندوستانی کلدیپ نیر کا بھی “بین السطور” کے نام سے۔ (Between the Lines۔ ترجمے دیکھتے دیکھتے ہماری ترجمہ کرنے کی عادت پڑتی جا رہی ہے کہ فوراً اس انگریزی کالم کے عنوان کا ترجمہ بھی کر بیٹھے)روزانہ 4 صفحوں کا ایک رنگین سکشن Panorama کے نام سے۔ اس کے چوتھے صفحے پر That’s Life کے نام سے اس دن کی دلچسپ خبریں جمع کر دی جاتی ہیں جو ایک اچھّی جدّت کہی جا سکتی ہے۔ ہر بدھ کو Vanityکے نام سے آٹھ صفحات کا میگزین جس میں کتابوں وغیرہ پر تبصرے بھی شامل ہوتے ہیں اور ہر جمعے کو بچّوں کے لئے Fun Times کے نام سے نصف سائز (Tabloid)کا 15 صفحات کا سیکشن۔

ایک پاکستانی رسالہ بھی وہاں دیکھا۔ “رابطہ” یہ کراچی کا پرچہ تھا، 86 صفحات کا 10 سعودی ریال کا۔ اس رسالے کا پاکستان ایڈیشن 40 روپئے اور انٹر نیشنل ای  چھت موجود، بٹن دبائیے، چھت غایڈیشن 50 پاکستانی روپیوں کا تھا۔ یہ ہندوستان کے حساب سے بہت مہنگا تھا۔ کتابت طباعت میں واقعی بے حد خوش نما تھا اور مواد میں بھی۔ اگرچہ ادب کا حصّہ کمزور تھا جس کی پاکستانی پرچوں میں تلاش ہماری کمزوری ہے۔ اچھا فیملی میگزین تھا ہندوستان میں اس کی قیمت درج تھی 5 ڈالر یا 2 پاؤنڈ اور سالانہ قیمت 160 امریکی ڈالر یا 1400 پاکستانی روپئے معہ ڈاک خرچ۔ یہ رسالہ کراچی میں ادارت پذیر ہوتا ہے مگر شائع پاتا ہے کوئٹہ سے۔ باقر کا بیان تھا کہ رنگین صفحات سنگا پور میں چھپتے ہیں مگر رسالے میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملا۔ واللہ اعلم۔

اس کے علاوہ باقر کے گھر میں کئی مذہبی کتابیں بھی تھیں۔ تفسیر حقّانی اور معارف القرآن تفسیریں۔ احادیث اور اسلامی زندگی اور طرزِ معاش اور سیرت المصطفیٰ وغیرہ کے موضوعات پر کتابیں جو سبھی سرسری طور پر پڑھ سکے۔

بلا عنوان ۔ متفرّقات

اب کچھ ادھر ادھر کی باتیں مختصر مختصر سی، مثلاً جب ہم عربی تلفّظ اور املا کی باتیں کر رہے تھے، تب ہی یہ بات یاد آئی تھی مگر اس وقت رہ گئی۔ اب بلا عنوان اسے بھی لکھ دیں۔ ویسے یہ مشاہدہ مکّے میں بھی کر چکے تھے، مگر جدّے میں باقر کے بچّوں کی عربی کی نصابی کتاب بھی دیکھی۔ یہ بچّے اگرچہ ہندوستانی سفارت خانے کے اسکول (انٹر نیشنل انڈین سکول) میں پڑھتے ہیں جس کا نصاب ہندوستان کے CBSE بورڈ یعنی یہاں کے سنٹرل اسکولوں (کیندریہ ودّیالیوں) کا ہوتا ہے مگر یہاں انگریزی ہندی کے علاوہ ایک زبان اور سیکھنا ضروری ہے۔ سنسکرت(جو ہندوستان کے سنٹرل اسکولوں میں بھی ہے مگر پانچویں کلاس سے آٹھویں کلاس تک)، ملیالم اور عربی۔ ان لوگوں نے عربی لی ہے تو یہ بات عربی کی نصابی کتاب سے بھی معلوم ہوئی۔ وہ بات یہ ہے کہ اب عربوں نے عربی میں الف کے لئے محض “ا” لکھنا بند کر دیا ہے، اسے ہمیشہ ہمزہ کے ساتھ ” أ ” لکھتے ہیں۔ زبر اور پیش ہو تو اوپر ہمزہ اور زیر ہو تو نیچے یعنی”ٳ”۔ بعد میں ہم نے غور کیا کہ یہاں کے چھپے ہوئے قرآنوں میں بھی یہی املا استعمال کی گئی ہے۔ ملے ہوئے حروف میں خالی الف لکھتے ہیں البتّہ۔ (مقصورہ وغیرہ کی اصطلاح میں ہم خود کنفیوز ہوتے ہیں اس لئے قارئین کو مرعوب نہیں کر رہے ہیں)۔

اس کے علاوہ کچھ یہ معلومات بھی باقر نے بہم کیں کہ حج میں انڈونیشیا کے نوجوانوں کی اور بطور خاص لڑکیوں کی کثرت کیوں ہے۔ یہ سوال ہمارے ذہن میں پہلے بھی اٹھ چکا تھا اور شاید ہم آپ کو اطلاع دے چکے ہیں اس مشاہدے کی۔ معلوم ہوا کہ وہاں شادی میں یہ مانگ کی جاتی ہے کہ لڑکی حاجّہ ہو بلکہ الحاج۔ لڑکی جتنے زیادہ حج کر چکی ہوگی، اتنی ہی اس کی شادی میں آسانی ہوگی۔ یہ ہم کو ضرور خیال ہوا کہ اس کوشش میں لڑکی کی عمر زیادہ ہو جاتی ہوگی۔ مگر وہاں اس کی اہمیت شاید نہیں ہے کہ لڑکی کم عمر ہو۔ زیادہ حج کئے ہوئے زیادہ عمر کی لڑکی کی مانگ اور زیادہ ہوگی۔ ہماری طرح نہیں کہ 60 سالہ مرد کی تیسری چوتھی شادی کے لئے بھی دولھا میاں کے ذہن میں 16 سال کی لڑکی سے بیاہ رچانے کا ارمان ہو۔ وہاں 16 سال کی عمر کی بجائے 16 حج کی ہوئی لڑکی کی اہمیت زیادہ ہوگی چاہے اس کی عمر 32 سال ہو یا 48 سال۔

یہ بھی پتہ چلا کہ مکّے میں جو سیاہ برقعہ پوش عورتیں کھانے کی اشیاء کاغذ کے بکسوں (کارٹنوں) میں لے کر بیٹھا کرتی ہیں جن سے ہم بھی ایک ایک ریال کی سالم چھوٹی تلی ہوئی مچھلی کھا چکے ہیں 3۔ 4 بار، وہ بھی اندونیشیائی ہی ہیں اور جو کھانا ملتا ہے وہ بھی عرب نہیں انڈونیشیائی ہی ہوتا ہے۔ اصل میں عرب کھانا تو ہم نے دیکھا ہی نہیں اب تک۔ مدینے میں تندور دریافت ہوا تو اسے ہم عربی تندور سمجھ رہے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ افغانی ہے۔ باقر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ افغانی تندور میں وہ لوگ “چپاتی” صرف بِّر صغیر کے لوگوں کے لئے کہتے ہیں ورنہ اس کا افغانی نام “تمیس” ہے، اور جو صراحی نما ڈرم میں لوبئے۔ کی قسم کے بیجوں کی دال ہوتی ہے، اسے “فول” کہتے ہیں۔ یہ شاید ہم لکھ چکے ہیں، ابھی یاد نہیں۔ سارا پچھلا مسودّہ دیکھنا پڑے گا اس کی پڑتال کرنے کے لئے۔ اگر آپ کو معلوم ہو بھی چکا ہے تو ہم آپ کو پھر یاد کرا دیتے ہیں یہاں۔

جدّہ میں ہر ہندوستانی چیز ملتی ہے۔ ہمارے قیام کے دوران ہراج کے علاقے میں ہم نے چھولوں کی چاٹ اور چنا جور گرم کھائے تھے۔ ایک دن باقر صبح پاکستانی ہوٹل سے ناشتہ بھی لے کر آئے۔ چھولے، پراٹھے اور سوجی کا حلوہ۔ اور آخری دن شام کو حیدرآبادی ہوٹل سے چائے لی تو وہ بالکل حیدر آباد کے ایرانی ہوٹلوں کی چائے کے مزے کی تھی۔ جدّے کے اسٹورس (بقالوں) میں ہم نے دیکھا کہ وہاں بیکری کی روٹیاں “ہاٹ کیس” میں لا کر رکھی جاتی ہیں، مکّے کی طرح ایسے ہی میز پر نہیں رکھ دیتے۔ اور پھر جدّے میں آٹے کی روٹیاں بھی ملتی ہیں اور میدے کی بھی۔ مکّے میں عام طور پر میدے کی ہی ہوتی ہیں۔ بعد میں ہم مکّے میں بھی بیکری کی پتلی روٹیاں ہی کھا رہے ہیں تندوری روٹیاں نہیں۔ ایک ریال کی چار عدد روٹیاں۔

ہم ا ب بھی جد ّہ میں ہیں

جی ہاں اس وقت ساڑھے بارہ بج رہے ہیں مگر ہم کو نیند نہیں آ رہی ہے اور ہم لکھے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ لکھ چکے ہیں کہ ہماری رات جدّ ہ میں 2۔ 3 بجے ہوتی تھی اور ابھی وہی عادت ہے۔ اب ہم یہاں پہنچنے کے بعد کی روداد شروع کر رہے ہیں۔

جدّہ سے یہاں پہنچے تو احرام باندھ کر ہی آئے تھے کہ عمرہ کرنے کا ارادہ تھا ہی۔ اپنے مرحوم والد کے نام کا (والدہ کا مدینے سے آتے وقت کر چکے تھے)۔ مگر حرم پہنچنے تک پونے آٹھ بج گئے تھے اس لئے پھر عشاء کی نماز کے بعد ہی شروع کیا۔ طواف اور سعی کے بعد بال کٹوانے اور حرم میں ہی نہانے کے بعد واپس آنے تک بارہ بج گئے تھے۔ آ کر کھانا کھایا جو زرینہ، باقر کی بیوی نے ساتھ کر دیا تھا۔ مرغ کی بریانی، رائتہ، بگھاری مرچیں اور ٹماٹر کا سالن۔ سامان ٹھیک کر کے لیٹنے تک ایک بج گیا مگر پھر بھی دو بجے تک نیند نہیں آئی۔ ہم کو ہی نہیں صابرہ کو بھی تو انھوں نے تجویز دی کہ حرم ہی چلا جائے کہ تہجّد کا وقت ہونے ہی والا تھا۔ چناں چہ یہی کیا۔ حرم جا کر پہلے 2۔ 3 طواف کئے۔ پھر تہجّد کی نماز پڑھی۔ پھر ایک طواف کیا اور اس کے بعد فجر کی نماز کے بعد پھر طواف کیا۔ اس کے بعد آ کر سوئے۔ حالاں کہ ہم کو شک تھا کہ اب نیند نہیں آئے گی، مگر ایسے سوئے کہ پھر ساڑھے گیارہ بجے ہی آنکھ کھلی۔ جب کہ ظہر کے لئے جانے کا وقت بھی نہیں تھا۔ جاتے بھی تو جگہ نہ ملتی۔ اس لئے عمارت پر ہی نماز پڑھی اور پھر حرم عصر کے لئے گئے۔ پھر مغرب اور عشاء کے درمیان بھی طواف کیا۔ در اصل اتنے دن جدّہ میں طوافوں کی برکت سے محروم رہے تھے تواب دل چاہ رہا تھا کہ خوب طواف کریں۔ اس میں ہم کو بہت اچّھا لگتا ہے کہ جب موقعہ ملے طواف کریں۔ کل اگرچہ 10 بجے تک کھانا پینا ہو چکا تھا اور کچھ صفحات لکھ کر 11 بجے لیٹ بھی گئے تھے بلکہ فوراً سو بھی گئے مگر پھر ڈیڑھ بجے ہماری آنکھ کھل گئی، دیکھا کہ صابرہ بھی شروع میں سو گئی تھیں مگر ساڑھے گیارہ بجے سے وہ بھی نیند سے محروم تھیں۔ 2 بج گئے تو انھوں نے پھر تجویز کیا کہ چلتے ہو تو حرم کو چلئے…اور ہم کو تو بس کسی کے کہنے کی دیر ہوتی ہے۔ بس خود اکیلے جانے کا اس لئے ارادہ نہیں کرتے کہ صابرہ کو شکایت نہ ہو اور خود اس لئے ہی یہ تجویز نہیں رکھتے کہ ان محترمہ کی نیند خراب نہ ہو جائے ہمارے مشورے کی وجہ سے اور یہ ہم کو ہی الزام دیں۔ ہم تو ساری رات حرم میں گزار سکتے ہیں۔

تہجدّ کی اذان تک ہی ہمارے یکے بعد دیگرے دو عدد طواف ہو چکے تھے۔ ۔ نماز کے بعد کچھ دیر حرم کے صحن میں ہی آرام کیا اور پھر فجر کے لئے اٹھے۔ صابرہ نے مشورہ دیا کہ ناشتہ بھی کر ہی لیا جائے اس کے بعد آرام سے سو جائیں گے بے فکر ہو کر۔ چناں چہ ایک ایک کیک کھا کر اور چائے پی کر چلنے کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ ہوٹل کے باہر ہی مظہر بھائی، جبّار بھائی اور ستّار بھائی معہ اپنی بیویوں کے وہاں مل گئے۔ ان کا ارادہ آج ایک اور عمرہ کرنے کا تھا۔ ان لوگوں کے بھی چائے پینے تک باتیں کیں اور یہ طے ہوا کہ ہم بھی ان کا ساتھ دیں۔ مسجدِ عائشہ یعنی تنعیم جا کر احرام باندھا جائے گا اور پھر وہاں سے حرم آ کر عمرہ کریں گے۔ مکّے والوں کے لئے وہی میقات ہے بلکہ من جملہ دوسری میقاتوں کے۔ ہم نے کہا کہ آپ لوگ نکلئے، ہم بھی پیچھے پیچھے آتے ہیں۔ غرض ہم لوگ جلدی سے اپنی عمارت پہنچے اور احرام ساتھ لئے اور 6 بجے واپس پہنچے حرم۔ وہاں کئی بسیں کھڑی ہوئی تھیں جن پر مسجدِ عمرہ لکھا تھا 16 نمبر کی۔ 2۔ 2 ریال کا ٹکٹ تھا۔ سامنے ہی بس کمپنی کا اسٹال تھا۔ ہم نے سوچا کہ یہاں اسٹال سے ٹکٹ لے کر بس میں بیٹھنا ہو گا چناں چہ کاؤنٹر پر گئے تو اس نے 5 ریال کے 3 ٹکٹ دئے۔ وہاں اسی طرح تھوک (Bulk) میں ٹکٹ ملتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ واپسی میں بھی یہی ٹکٹ کام میں آئیں گے۔ ہم دونوں کے لئے آنے جانے کے چار ٹکٹ درکار تھے، تین تو یہاں مل گئے۔ ایک ٹکٹ ہی واپسی میں اور خریدنا پڑا۔ چناں چہ ہم دونوں کا آنا جانا 7 ریال میں ہو گیا۔ جیسے ہی ہم تنعیم پہنچے، مظہر بھائی وغیرہ سے ملاقات ہو گئی۔ یہ لوگ نہا دھو کر احرام باندھ کر واجب الاحرام نماز پڑھ چکے تھے۔ اور روانہ ہونے کے لئے تیار تھے۔ ہم بھی نہائے اور احرام باندھ کر نماز پڑھ کر پھر بس میں حرم واپس پہنچے تو ساڑھے سات بج رہے تھے۔ عمرے کا طواف، پھر سعی کر کے بال کٹوانے اور نہانے سے دس بجے تک ہی فارغ ہو گئے تھے۔ جب ہم طواف کے ساتویں پھیرے (شوط) میں تھے تب ہی مظہر بھائی وغیرہ سے ملاقات ہو گئی۔ وہ لوگ بھی تبھی طواف سے فارغ ہوئے تھے۔ ہمارے طواف اور مقامِ ابراہیم پر واجب الطواف نماز پڑھنے تک وہ لوگ زمزم پر ہمارے منتظر تھے۔ زم زم پر ہم لوگ ساتھ ہو گئے اور پھر ساتھ ہی سعی کی۔ ساتھ ہی واپس ہوئے۔ پھر سب کے ساتھ روٹی اور پنیر سے ناشتہ کیا۔ دوسرے لوگوں نے دال سالن اور چاول بھی کھایا۔ ہم نے عادت کے مطابق پنیر میں شکر ملا کر کھائی۔ ابھی اتنا وقت نہیں ہوا تھا کہ ہم اسے لنچ کا نام دیتے۔ باقی لوگوں کا یہی ناشتہ تھا جو اب ہو رہا تھا۔ ہم تو پہلا ناشتہ صبح 6 بجے ہی کر چکے تھے۔ بہر حال اب دوسری بار ناشتہ کر کے لیٹے تو پھر سو ہی گئے اور ایسے سوئے کہ ڈھائی بجے اٹھ سکے۔ رات کو بھی نہیں سو سکے تھے نا!۔ ظہر کی نماز اور پھر کھانا کھانے میں ہی چار بج گئے تھے۔ اس وجہ سے عصر کی نماز کے لئے بھی حرم نہیں جا سکے اور عمارت پر ہی نماز پڑھ کر 5 بجے باہر نکلے۔ کچھ شاپنگ کی اور پھر مغرب کی نماز، پھر طواف اور عشاء کی نماز۔ اس کے بعد کھانا کھا کر اب رات ایک بج کر 25 منٹ تک یہ روزنامچہ لکھ رہے ہیں۔ اب ان دو دنوں کی تفصیل کی ایسی خاص ضرورت بھی نہیں ہے۔ یوں بھی ہم جدّے سے آنے کے بعد کی تفصیل بے ترتیب لکھ گئے ہیں۔ بس اب پرانی باتیں یہیں ختم۔

دو ر و ز میں ہی (حرم)کا عالم بد ل گیا

اب جو مکّے آئے ہیں تو حرم سونا سونا لگ رہا ہے۔ طواف میں تو ابھی بھی بھیڑ ہے مگر سعی میں بہت آسانی ہو گئی ہے۔ آج ہم نے مغرب اور عشاء بھی باہر صحن میں پڑھی تو دیکھا کہ بہت سے قطعے خالی بھی پڑے ہیں ورنہ یہاں صحن میں ہی کیا، غسل خانوں تک میں صفیں لگ رہی تھیں۔ سڑکوں پر لگی دوکانیں بھی بہت کم ہو گئی ہیں۔ ہماری عمارت کے نیچے ہی جو چائے کی دوکان لگ گئی تھی، وہ بھی اٹھ چکی ہے۔ بلکہ ٣٠/ مارچ کو بھی جب مکّے پہنچے تھے تو جو چائے کی دوکانیں قریب ہی تھیں، وہ بھی اب اٹھ چکی ہیں۔ اب چائے کے لئے حرم کے آس پاس ہی جانا پڑتا ہے۔ اس لئے فجر کے بعد ہی چائے پی کر ہی آنا پڑتا ہے کہ محض اس ضرورت کے تحت کون دوبارہ وہاں تک جائے۔ شام کو بھی وہیں پی سکتے ہیں۔ ویسے آج دوسری بار ناشتے کے بعد اور پھر شام کو بھی چائے جبّار بھائی کے کچن میں ہی پی تھی۔ کل دراصل ہم خود ہی آدھا لٹر کا دودھ کا پیکٹ لائے تھے۔ لائے تو تھے دوسرے مصرف کے لئے مگر پھر ان کو ہی دے دیا ہے کہ ان کے ساتھ ہی صبح چائے پی تھی۔ اور یوں بھی کبھی کبھی پی رہے تھے۔

جس مصرف کے لئے دودھ لائے تھے، اس کا بھی ذکر کر ہی دیں۔ مدینے میں ہم نے کئی دوکانوں میں بورڈ لگا دیکھا تھا کہ “یہاں اصلی “روغنِ بلسان” ملتا ہے”۔ مگر اس وقت ہمیں معلوم نہیں تھا کہ یہ کیا روغن ہوتا ہے۔ جدّے میں زرینہ سے معلوم ہوا کہ یہ بہت فائدے کا تیل ہوتا ہے۔ کئی بیماریوں کے لئے شفا ہے اس میں۔ باقر کے گھر میں ایک شیشی رکھی تھی اس کی اور بیچاری زرینہ ہمیں روز رات کو کھانے کے دو گھنٹے بعد ایک پیالی میں دودھ گرم کر کے اس میں دو دو قطرے ملا کر ہم دونوں کو دے رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ 40 دن استعمال کر کے دیکھیں۔ اس وجہ سے ہم دودھ لے کر آئے تھے کہ معمول جاری رہے، کچھ تیل انھوں نے ساتھ کر دیا تھا اور مزید منگوا کر دینے کا کہا تھا۔ صابرہ نے اب مشورہ دیا کہ 40 دن مستقل استعمال تو نا ممکن ہے۔ یہاں سے آٹھ مئی کو روانگی ہے۔ 8۔ 9 کی رات جدّے میں گزرے گی، پھر 10 مئی کی رات ہوائی جہاز میں اور 11/ کی رات بنگلور سے حیدر آباد کے راستے میں گزرنی ہے۔ چناں چہ کم از کم چار دن کا وقفہ تو ہونا ہی ہے۔ اس لئے اب حیدر آباد پہنچ کر ہی 40 دن کا کورس پورا کریں گے۔ اس لئے دودھ لا کر بھی روغنِ بلسان استعمال نہیں کیا ہے۔ جدّے میں پانچ دن کا استعمال ہی فی الحال کافی ہے۔ چناں چہ یہ دودھ جبّار بھائی کے کچن میں کام آ رہا ہے۔

حرم میں ہم سوچ رہے تھے کہ شاید رات کو دو بجے طواف کرنے پر حجرِ اسود کا بوسہ نصیب ہو جائے۔ مگر نہیں صاحب۔ اگر چہ بھیڑ اتنی کم ہے کہ حجر اسود کی سرخ پٹی پر لوگ نماز پڑھنے لگے ہیں ورنہ یہ طواف کرنے والوں کی بھیڑ میں نظر ہی نہیں آتی تھی۔ حجر اسود سے دور یہ پٹی خالی خالی نظر آتی ہے، مگر حجرِ اسود اور ملتزم میں … نا ممکن۔ حطیم میں البتّہ کل رات کو نماز پڑھ سکے تھے اور بغیر دھکّم پیل کے۔ ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ حجر اسود کو نسبتاً قریب سے دیکھ سکتے ہیں۔ اتنے قریب سے کہ اس کے گرد کا چاندی کا حلقہ اب صاف نظر آنے لگا ہے۔ جس کی اب تک تصویریں ہی دیکھی تھیں۔ مگر جیسا کہ کتابوں میں لکھا ہے کہ سنگ اسود کے 22 ٹکڑے ہو گئے تھے اور ان کو چاندی کے حلقے میں پیوست کیا گیا ہے تو وہ 22 ٹکڑے تو اب تک الگ الگ نہیں دیکھ سکے ہیں۔

آج کے عمرے کی ایک خاص بات اور لکھ دیں۔ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ نفلی عمرے کے لئے “بابِ عمرہ” سے داخلہ افضل ہے۔ جس کا محل وقوع ہم کو اب تک صحیح معلوم تو نہیں تھا، اس لئے ہم مروہ سے باہر ہی باہر گھوم کر ہر دروازے کو دیکھتے ہوئے بابِ فتح، باب قرارہ، باب عمر، باب الندوہ، باب القدس اور باب عمر فاروق ہوتے ہوئے باب عمرہ پہنچے اور وہیں سے حرم میں داخل ہوئے۔ اور داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہاں قالین بچھے ہوئے ہیں مسجدِ نبوی کی طرح مگر وہاں سے کچھ چھوٹے۔ ہم اب تک صفا مروہ کی طرف سے داخل ہوتے ہوئے آئے تھے اور وہاں کہیں قالین نہیں تھے۔ یا تو یہاں بھی اب بھیڑ کم ہونے کے بعد بچھا دئے گئے ہیں، یا پھر ہم نے اس طرف کا رخ نہیں کیا تھا پہلے تو ہمیں پتہ نہیں تھا۔ ممکن تو پہلی ہی بات زیادہ لگتی ہے۔ ہاں، پہلے ہم دروازوں کے نام لکھ دیں۔ اس سے پہلے بھی لکھنے کی کوشش کی تھی مگر بھول گئے تھے۔ آج اچھی طرح یاد کر کے آئے ہیں۔ کل 9 دروازے ہیں، ان کی ترتیب ہے۔ صفا کی طرف سے: باب بنی ہاشم، باب علی، باب العبّاس، باب السّلام۔ باب بنو شیبہ، باب الحجّون، باب المعلاہ۔ باب الطویٰ اور باب مروہ۔ باب السلام۔ باب بنو شیبہ اور باب الحجّون کے پانچ فلائی اوور (غبارہ) ان کے علاوہ ہیں۔

اب 40۔ 1 پر ہم یہ گفتگو یہیں ختم کرتے ہیں۔ آکاش وانی کے الفاظ میں یہ سبھا یہیں سماپت ہوتی ہے۔ شبھ راتری یا شب بخیر۔ مزید یہ کہ یار زندہ صحبت باقی۔

اُ لٹی گِنتی… تین

5/ مئی۔ 97ء سوا گیارہ بجے شب۔

لیجئے ، دیکھتے ہی دیکھتے ہمارا چل چلاؤ لگ گیا ہے۔ حرم سے روانگی کے دن نزدیک آ گئے ہیں،اور اُلٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ 10/ کو تو جدّہ سے اڑان ہے ہی ہماری۔ یہاں سے غالباً۔ 8/ کو ہی عشاء کے بعد روانگی ہوگی ویسے ابھی تک معلّم کی جانب سے کوئی نوٹس تو نہیں آیا ہے مگر یہاں کے چوکی دار (اسے حارث کہتے ہیں)کا یہی کہنا ہے۔ بہر حال اسی حساب سے ہم نے اُلٹی گنتی شروع کر دی ہے۔ کل “دو” گنیں گے اور پرسوں “ایک” اور 8/ کو صفر.. محض 72 گھنٹے اور۔

رات کو تو سونے میں ہی ڈھائی بج گئے تھے۔ بلکہ اس کے بعد سوا تین بجے صابرہ کو اٹھانے کے لئے جبّار بھائی کی بیوی آئیں تب بھی ہم ہوش میں ہی تھے۔ مگر ہمارا اس وقت حرم جانے کا ارادہ نہیں تھا۔ سوچا تھا کہ صبح فجر کے وقت ہی جائیں گے آنکھ کھلی تو۔ مگر وہ صبح سات بجے ہی کھل سکی۔ مگر الحمد للّٰہ، آج دن کو ذرا بھی نہیں سوئے ہیں کہ حالات کو معمول پر لانا ہے جو جدّے سے بگڑا ہوا چل رہا ہے۔ آج انشاء اللہ جلد ہی نیند آ جائے گی۔

صبح دیر سے آنکھ کھلی تھی۔ ضروریات اور فجر کی قضا کے بعد ہی ساتھیوں نے ناشتے کے لئے پکارا۔ آج اتّفاق سے مظہر بھائی وغیرہم کا ناشتہ بھی جلد ہی آٹھ بجے ہو رہا تھا ورنہ عموماً ساڑھے دس گیارہ بجے ہوتا تھا اور ہم ٹھہرے سات بجے ناشتے کے عادی اس لئے پہلے ہی کھا لیا کرتے تھے۔ آج ان کا ساتھ دے دیا۔ حسبِ معمول پنیر (Cheese spread) میں شکر ملا کر روٹی سے کھا لیا اور باقی لوگوں نے سبزی دال چاول بھی کھائے۔ چائے پی اور پھر ہم حرم کی طرف نکل گئے۔ ساڑھے نو بجے سے ڈیڑھ بجے تک باہر ہی رہے یعنی ظہر تک حرم میں ہی۔ آج کچھ باقاعدہ حرم کا سروے کر لیا۔ پہلے تو یہ سوچا تھا کہ صفا اور مروہ کے علاوہ جو دوسرے باب ہم نے نہیں دیکھے ہیں، وہ دیکھتے ہوئے حرم کے باہر ہی باہر سے “طواف” کر لیا جائے۔ ان دروازوں کو جو مروہ اور بابِ عمرہ کے درمیان تھے اُنھیں کل سرسری طور سے عمرے کے وقت بابِ عمرہ سے داخل ہوتے وقت دیکھ چکے تھے۔ آج خاص طور پر باب عمرہ اور باب ملک فہد کے درمیان کا حصّہ غور سے دیکھا ۔ اس درمیان میں کوئی بڑا دروازہ نہیں ہے۔ باب ملک فہد سے داخل ہوئے۔ اس کے آس پاس کا علاقہ نیا بنا ہے۔ اس طرف اور مزید آگے باب ملک عبدالعزیز جو کعبۃ اللہ کا جنوب مغربی کونہ ہے، یہ پورا حصّہ نیا ہے اور مسجدِ نبوی کی طرز کا ہے۔ یعنی ایر کنڈیشنڈ کی ٹھنڈی ہوا ستونوں کے نیچے کی جالیوں سے آتی ہے۔ ویسے ہی قالین بچھے ہیں جن میں سعودی نشان بنا ہے یعنی ایک دوسری کو کاٹتی ہوئی دو تلواریں اور درمیان میں کھجور کا درخت۔ سرخ رنگ کی جا نمازیں۔ ہم نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ کم از کم باب ملک عبدالعزیز سے لے کر باب الفتح (یعنی باب السلام سے تھوڑے ہی فاصلے پر بائیں طرف جانے پر) قالین والی جا نمازوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ معلوم نہیں کہ یہاں ہمیشہ قالین بچھے تھے یا اب حج کے بعد بھیڑ کم ہو نے پر بچھا دئے گئے ہیں۔ مسعیٰ اور اس کے آس پاس کے دالان کچھ چھوٹے بھی ہیں، شاید اس لئے وہاں قالین نہیں بچھائے جاتے ہیں یا کم از کم ابھی تک نہیں بچھائے گئے ہیں۔

دھوپ میں طواف میں تھوڑی مشکل تو ہوتی ہے اس لئے عموماً پہلے طواف کر لیتے ہیں۔ مگر آج تو فجر کی قضا بھی پڑھنی تھی اور قضائے عمری بھی پڑھتے ہی ہیں۔ سوچا کہ 20۔ 25 منٹ میں اتنی گرمی تو نہیں بڑھ جائے گی، پہلے نمازوں سے فارغ ہو لیا جائے۔ چناں چہ پہلے معمول کے مطابق پانچوں نمازوں کی دو دو قضائیں پڑھیں، پھر طواف کے لئے اٹھے۔ بھیڑ کم ہی تھی۔ واجب الطواف نماز بالکل مقامِ ابراہیم کے نزدیک پڑھی۔ پھر زم زم کی طرف گئے اور پانی پیا، پھر حجر اسود کا استلام کر کے صفا کی طرف آئے اور اپنا سروے جاری رکھا۔ اپنے قدموں سے صفا اور مروہ کے درمیان کی دوری ناپنے کی کوشش کی۔ عام طور ہر ہمارے 122 قدموں کے 100 میٹر ہوتے ہیں، بلکہ اُلٹا لکھ گئے ہیں۔ یہ کہنا بہتر ہے کہ سو میٹر میں ہمارے اوسطاً ً 122 قدم ہوتے ہیں۔ اور صفا اور مروہ کا فاصلہ 548 قدم نکلا، یعنی تقریباً 450 میٹر۔ کل ہی جبّار بھائی سے بات ہو رہی تھی تو ہم نے ایک محتاط اندازے سے کہا تھا کہ یہ دوری 400 میٹر تو ہوگی۔ اب اپنے اندازے پر فخر کر رہے ہیں۔

اس سروے کے بعد ہم کو اچانک خیال آیا کہ اشفاق بھائی کی بھابھی نے صابرہ کو بتایا تھا کہ قرآنِ کریم کا مکتبہ چاہے مدینے میں ہو مگر قرآنوں کی تقسیم یہاں بھی ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ انگریزی ترجمے اور تفسیر کا ملک فہد ایڈیشن جس کی ہم کو تلاش ہے،ہم کو مل جائے۔ اور اس مکتبے کا معلوم ہوا کہ باب السلام کے پاس ہے۔ چناں چہ پھر باب السّلام کی طرف گئے۔ وہاں شیخ سے بات کی تو اس نے ہماری ہر بات کے جواب میں ایک ہی لفظ کہا ” باب عمرہ” ۔ اس دفتر کا نام “ادارہ سنون المصاحف” تھا۔ ہم نے سوچا کہ مصاحف کا مطلب مصحف قرآن سے ہو گا۔ سنون کا مطلب ہم کو معلوم نہیں، لغت میں دیکھنا پڑے گا جو اس وقت ہمارے پاس نہیں۔ ممکن ہے کہ اشاعت یا تقسیم ہو۔ شاید اس کا ہی کوئی دفتر باب عمرہ پر بھی ہوگا۔ اندر ہی اندر سے باب عمرہ کی طرف گئے۔ تو اس پورے حصّے کو بھی قالینوں سے مزین دیکھا۔ پہلے ہمارے خیال میں اس طرف بھی قالین نہیں تھا۔ بابِ عمرہ میں کئی مکتب اور دفتر نظر آئے مگر کسی میں سنون المصاحف کا بورڈ تو نہیں تھا۔ سقیا زم زم کا ادارہ ملا، صفائی کا ادارہ ملا۔ ہاں اس پر یاد آیا کہ حرم کے مغربی حصّے کی صفائی کا ذمّہ “بن لادن” نامی کمپنی کا ہے، جب کہ دوسری طرف کے حصّے کی صفائی ایک دوسری کمپنی “دلّہ” کے سپرد ہے جس کے کارکن ہم ہمیشہ دیکھتے آئے تھے کہ زیادہ تر اسی طرف سے ہماری آمد و رفت رہی تھی حرم میں۔ باقر سے معلوم ہوا تھا کہ یہ دونوں کمپنیاں دو شیوخ کے نام پر ہی ہیں جو یہاں کے کافی امیر حضرات ہیں۔ ہمارے ٹاٹا ،برلا اور بجاج کی نوعیت کے۔ ہم نے دلّہ نام دیکھ کر پہلے سوچا تھا کہ یہ حیدر آباد کے “بلدیہ” قسم کا کوئی لفظ ہوگا اور اس سے مراد مکّہ میونسپلٹی ہوگا۔ یہ شان ہمارے حیدر آباد کی ہی ہے کہ یہاں میونسپلٹی کا بھی ترجمہ کیا جاتا ہے۔ حرم کے آس پاس اور بطور خاص صفا اور مروہ کی طرف کی سڑکوں کی صفائی بھی دلّہ کے ہی ذمّے ہے۔ یہی نہیں، حرم کے صحن کی مشینوں کے ذریعے صفائی، ویکیوم کلیننگ اور نجی عمارتوں اور سرکاری سڑکوں وغیرہ میں کرین بھی انھیں کمپنیوں کے نظر آتے ہیں۔ سنا ہے کہ حج کے سیزن میں یہ دونوں کمپنی والے بنگلہ دیش سے مزدوروں کو جہازوں میں بھر بھر کر لاتے ہیں۔ ان کی بسیں ہماری عمارت کے سامنے صبح 6 بجے اور پھر 2 بجے رکتی ہیں اور اگلی شفٹ والے اترتے ہیں اور پچھلی شفٹ والے چلے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسی کمپنی دلّہ کا ایک “محکمہ نقل ” یعنی ٹرانسپورٹ بھی ہے جن کی بسیں مکّے سے مدینے تک بھی چلتی ہیں۔ اسی کمپنی کا واشنگ پاؤڈر بھی ہم لوگوں نے خریدا ہے کپڑے دھونے کے لئے۔ خیر، یہ جملہ معترضہ پھر پیرا معترضہ ہو گیا۔ رکھیو غالب مجھے اس “معترضہ نویسی “سے معاف ۔ اور ماہرین عروض سے بھی کہ مصرعہ خارج از بحر ہو گیا۔ بہر حال بات ہو رہی تھی مفت میں قرآنی نسخوں کی دستیابی کی۔ ایک بن لادن کے کارکن سے پوچھا تو اس نے دروازے سے باہر اشارہ کیا۔ باہر آئے تو ایک جگہ “ادارہ سنون الکتب” لکھا تھا۔ معلوم ہوا کہ اسی ادارے کے دفتر سے قرآنوں کی تقسیم ہوتی ہے محض 8 بجے سے 9 بجے کے درمیان۔ کل انشاء اللہ صبح وہاں ضرور جائیں گے۔

ان سب کاموں کے بعد ہم نے وقت دیکھا تو سوا گیارہ بج گئے تھے۔ سوچا کہ اب کمرے کیا جائیں، وہیں اندر چلے آئے اور پہلے قالین کی جانماز پر بیٹھ کر 2۔ 2 قضا نمازیں پڑھیں۔ پھر درود پڑھتے رہے اور بیٹھے کعبۃ اللہ کو نہارتے رہے۔ اب یہ احساس ہو چلا ہے نا کہ میاں بس دو دن اور اس کا نظارہ کر لو۔ پھر ؎ ہم کہاں اور یہ “مکان ” کہاں!۔ ویسے ہندی میں لفظ نہارنا کا مطلب محض دیکھنا ہی ہوتا ہے مگر اردو اور ہندوستانی گیتوں میں اس دیکھنے میں کافی کچھ جذبات بھی شامل ہوتے ہیں اور پھر کعبۃ اللہ کو دیکھنے میں کیا بتائیں، کیسی تڑپ ہوتی ہے، کیسے کیسے جذبے مچلتے ہیں۔

بہر حال ظہر پڑھ کر نکلے۔ سوچا کہ تندور سے دال یا سبزی لیتے جائیں گے۔ مگر یہ اشیاء نہیں ملیں، ختم ہو گئی تھیں تو صرف دہی اور روٹی۔ لے کر چلے گئے اور پھر مظہر بھائی وغیرہ کے ساتھ ہی کھانا کھایا۔ تھوڑی دیر ان سب لوگوں سے باتیں کیں۔ آج کا بقیہ پروگرام بنایا۔ اور پھر سوا تین بجے عصر کے لئے نکل گئے۔ پلان کے مطابق عصر کے بعد بازار گئے۔ کچھ کیسٹوں کی دوکانوں کا سروے کیا۔ یہاں حرم میں مغرب اور عشاء کی نمازیں شیخ عبد الرحمٰن سُدیس پڑھاتے ہیں۔ ان کی قرأت ہم کو پسند ہے۔ ویسے قرأت کے لئے مصری قاری مشہور ہیں مگر سُدیس صاحب کی قرأت میں بلکہ اس کی پسندیدگی میں پھر کچھ ہمارے جذبے کا دخل ہے کہ ہمارے اللہ میاں کے گھر میں جو قرأت سنتے آئے ہیں، جی چاہتا ہے کہ یہاں سے جانے کے بعد بھی وہی قرأت سنتے رہیں۔ فجر میں کبھی سُدیس صاحب اور کبھی کوئی دوسرے امام پڑھاتے ہیں۔ مدینے میں جن امام کی قرأت ہم نے سنی اور زیادہ پسند کی تھی، کم از کم قرأت کے فن کے حساب سے، ان کا نام معلوم نہیں۔ ویسے مدینے کے ایک امام شیخ اُذیفی کی قرأت بھی مشہور ہے اور ہم نے اس کے کیسٹ بھی سنے ہیں مگر سُدیس صاحب کی قرأت والی وہ بات کہاں۔ آخر سدیس صاحب کی قرأت لینے کا ہی ارادہ کیا۔ لیکن جس دوکان پر ان کی آواز میں مکمل قرآن کا کیسٹ تھا، اس کی ریکارڈنگ اچھّی نہیں لگی۔ دوکان دار نے ایک دوسرا کیسٹ دکھایا جس میں دو آوازیں تھیں ۔ ایک سُدیس صاحب کی اور دوسری سعود شُریم صاحب کی(بعد میں معلوم ہوا کہ رمضان المبارک میں تراویح یہ دونوں حضرات نصف نصف پڑھاتے ہیں اور اسی طرح ایک رمضان کی تراویح میں مکمل قرآن کا کیسٹ بن جاتا ہے۔ )۔ اس کیسٹ کی کوالٹی بہتر تھی۔ ان دوکانوں کے سروے کے وقت تو صابرہ ساتھ تھیں، مگر جب وہ خریداری ہمارے سپرد کر کے حرم میں چلی گئیں تو ہم نے یہی کیسٹ لینا پسند کیا۔ 45 ریال میں یہ سیٹ ہم نے خوشی سے لے لیا۔ در اصل اس کی فرمائش ہمارے بیٹے کامران کی تھی۔ اور ہم نے یہ بھی سوچا کہ ان کو ضروری نہیں کہ سُدیس صاحب کی قرأت پسند آئے۔ اس وقت اس دوکان میں اردو سمجھنے والے لوگ بھی تھے اس لئے ترسیل و ابلاغ کا مسئلہ بھی نہیں تھا۔ مگر جب عشاء کے بعد ہم نے صابرہ کو بتایا تو یہ بڑی جز بز ہوئیں۔ کہنے لگیں کہ دو قاریوں کی آوازوں کا سیٹ “سیٹ ” تھوڑی کہا جا سکتا ہے۔ سیٹ ہو تو ایک ہی قاری کا۔ محض شریم صاحب کا لیں یا محض سدیس صاحب کا۔ “دس قاریوں کا بھی آپ سیٹ ہی کہیں گے کیا؟۔ آپ کو جو کرنا ہے اس سیٹ کا کیجئے، میں ابھی ایک اور سیٹ خرید کر لاتی ہوں۔ ” اب بھی ہم کو بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اس میں اس قدر اعتراض کی کیا بات تھی۔ بہر حال ان کی مرضی کی خاطر ہم پھر واپس گئے۔ اور اسے واپس کرنے کی کوشش کی کہ رقم ہی واپس مل جائے تو دوسری دوکان سے السدیس صاحب کی آواز کا دوسرا اچھی ریکارڈنگ والا سیٹ 50 ریال میں لے لیں جو پہلے دیکھ کر آئے تھے مگر شیخ العرب کو ہماری بات سمجھ میں نہیں آئی تھی اس لئے اُلٹے پھر آئے تھے اگرچہ در دوکان وا تھا۔ وہ اللہ کا بندہ کچھ کہتا تھا تو ہم نہیں سمجھ پا رہے تھے، اور ہماری بات ، ہمیں شک تھا کہ جان بوجھ کر، وہ سمجھ نہیں رہا تھا اس وقت۔ آخر اسی دوکان سے جہاں دوہری آوازوں کا سیٹ لیا تھا، سدیس صاحب کے ہی کیسٹوں کا دوسرا ایک سیٹ نکلوایا۔ دوکان دار سے کہا کہ سنوائے کہ ہم پسند کر لیں کہ کس سیٹ میں (یا اسے بھی نسخہ کہہ سکتے ہیں؟) ریکارڈنگ بہتر ہے۔ غرض ایک نسخہ ہم لے آئے ہیں۔ بہر حال۔

یہ سب دیکھتے ہوئے ہم نے گھڑیاں بھی دیکھیں بازار میں اور 2۔ 2 ریال کی ایک دوکان یہاں بھی مل گئی تو بچّوں کے کھلونوں کی دو ایک چیزیں اور خرید لیں۔ ایک کان کے بندے بھی خریدے، ایک لائٹر اور سگریٹ فلٹرس کا سیٹ بھی جس میں 16 فلٹرس ہیں جب کہ ہندوستان میں 4 فلٹرس کا سیٹ 10 روپئے میں ملتا ہے۔ سامان لے کر عمارت پہنچے تو صابرہ بھی بازار اور پھر حرم جا چکی تھیں۔ سامان رکھ کر اور وضو کر کے ہم پھر نکلے۔ اسی بازار سے ہوتے ہوئے کہ ممکن ہے کہ ان محترمہ سے ملاقات ہو جائے۔ مگر نہیں ہو سکی ۔ ہم نے جاتے جاتے ایک ٹوپی بلکہ اسے سپورٹس کیپ کہنا چاہئے، وہ بھی خرید لی۔ اب ہر وقت تو حرم میں رہنا نہیں ہے۔ جہاز کا سفر بھی ہے، بنگلور اور پھر حیدر آباد بھی جانا ہے۔ یہاں کا کیا ہے، یہاں تو اس “حرم میں سب گنجے ہیں” (حمام میں ننگے محاورے کی پیروڈی بنانے کی کوشش کی ہے ہم نے)۔ اس لئے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ یا پھر گول ٹوپی لگا لیتے ہیں جو حیدرآباد میں دفتر میں تو نہیں پہن سکتے۔ یہاں تو یہ ٹوپیاں اکثر لوگ پہنتے ہیں، ہندوستانی پاکستانی ہوں یا عرب۔ اس لئے ایک “انٹر نیشنل ” ٹوپی کی ضرورت تھی ہمیں۔

اس سے پہلے ہی بات ہوئی تھی کہ جہاز کے ٹکٹوں کا کنفرمیشن (Confirmation)کرنا ہے ہمارے ہندوستانی حج آفس میں۔ مغرب کے بعد مظہر بھائی وغیرہم حرم میں ہی مل گئے تو ہم اور ستّار بھائی اس کام سے گئے۔ ہم کو کھانسی بھی اٹھ رہی تھی (بہت دن بعد ہم اس کا ذکر کر رہے ہیں کہ قارئین ہمارے اس ذکر سے بور ہو گئے ہوں گے )چناں چہ یہ کام کر کے (ہمارے ٹکٹ “او۔ کے۔ “تھے اور اس کی ضرورت نہیں تھی مگر ایر انڈیا والوں کو ضرورت تھی کہ ہم لوگوں نے اپنا پلان تو نہیں بدل دیا ہے کہ اکثر لوگ اس فرمایش کے ساتھ جہاز والوں سے ملتے ہیں کہ وہ کسی اور دن کی فلائٹ سے جانا پسند کریں گے۔ کچھ کا ارادہ کچھ اور دن عرب میں رکنے کا ہوتا ہے،اپنے رشتے داروں کے پاس جدہ یا ریاض وغیرہ جانا چاہتے ہیں)چائے پی اور سگریٹ پی کر 8 بجے پھر حرم پہنچے۔ اس عرصے میں سب پھر بکھر گئے تھے۔ پہلے عورتیں بھی ساتھ تھیں۔ عشاء کی نماز کے بعد سب کو جمع کرنے میں مزید آدھا گھنٹہ لگ گیا۔ عمارت آتے ہوئے روٹی سبزی اور ناشتے کے لئے جام لے کر آئے۔ شاید دس ساڑھے دس بج رہے ہوں گے۔ ہاں ہم یہ لکھنا بھول گئے کہ ہماری گھڑی کا سیل ختم ہو گیا ہے۔ معلوم کیا تو یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ سیل کی تبدیلی میں یہاں 10 ریال لگیں گے، 5 ریال کا سیل اور 5 ریال ڈالنے کا محنتانہ۔ ہم حیدر آباد میں 25 روپئے میں ڈلواتے ہیں۔ اب کچھ مہنگا ہوگا تو 30۔ 35 روپئے لگیں گے، یہ سو روپئے تو ہم نہیں خرچ کرنے والے۔ چناں چہ آج کل بے گھڑی گھوم رہے ہیں۔ جب لکھنے بیٹھے تھے تو صابرہ کی گھڑی میں وقت دیکھا تھا اور 11 بج رہے تھے، اب دیکھا ہے کہ 20۔ 12 ہو رہے ہیں جب کہ ہم آج کی روداد پر “دی اینڈ” کا بورڈ لگانے جا رہے ہیں۔ اب سو کر اٹھیں گے تو ہماری الٹی گنتی ہو گی….دو۔

الٹی گنتی …. .د و

6 مئی ساڑھے نو بجے رات

آج بھی تہجّد اور فجر نہیں ہو سکی۔ خدا معاف کرے کہ قضا کرنی پڑی۔ رات سونے تک ایک بج گیا تھا۔ اگرچہ سوا دو بجے صابرہ جا رہی تھیں شائد جبّار بھائی کی بیوی کے ساتھ تو ہماری آنکھ ضرور کھلی تھی مگر ہم نے سوچا کہ انشاء اللہ صبح 4 بجے اٹھیں گے فجر کے لئے، مگر اٹھے… اور صابرہ کو موجود پایا اور وقت پوچھا تو سوا آٹھ بج رہے تھے۔ اس لئے صبح نہیں لکھ سکے۔ سوچا ہے کہ ابھی لکھنا شروع کر دیں۔ کھانے میں بھی ابھی دیر ہے کہ دوسرے ساتھی جن کے ساتھ آج کل ہمارا کھانا بھی چل رہا ہے، عشاء کے بعد طواف کے لئے گئے ہیں۔ ہمارے آج تین طواف ہوئے اور ہم مطمئن ہیں، ویسے ہم نے ایک دن آٹھ طواف بھی کئے ہیں اور یہاں لوگ ہیں کہ دن میں ایک طواف کر کے بھی تھک جاتے ہیں تو دو چار دن کا وقفہ دے دیتے ہیں۔ ہم عشاء کے بعد گھر ہی آ گئے ہیں۔ صابرہ سے کہہ دیا ہے کہ کھانے میں دیر ہوئی تو ہم کھانا ہی نہیں کھائیں گے کہ جلدی سو سکیں ۔ 10۔ 11 بجے سو سکیں تو ضرور 2۔ 3 بجے آنکھ کھل سکتی ہے۔ مگر ان سب لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے میں ہی گیارہ ساڑھے گیارہ بج رہے ہیں آج کل۔ آج تو اور بھی دیر ہو شاید۔ خواتین اب آ کر پکائیں گی۔ بھوک تو پہلے ہی لگ رہی تھی اور صابرہ مشورہ دے رہی تھیں کہ ہم کم از کم باہر ہی کھاتے ہوئے آئیں۔ ہم نے سوچا بھی تھا مگر ہوا یوں کہ حرم سے نکل رہے تھے تو ہمارے سامنے کے کمرے کے راج محمّد صاحب (معلوم نہیں ان کا یہ نام کیوں ہے۔ راج کمار اور راج کپور نام تو سنے تھے مگر مسلمانوں میں یہ نام عجیب ضرور ہے) کو دیکھا کہ حرم سے زم زم ایک 15 لٹر کے جری کین میں بھر کر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ صاحب حیدر آباد کے ہی ہیں۔ پی۔ ڈبلیو۔ ڈی کے ریٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ ہیں، 85ء میں ریٹائر ہو چکے تھے اس طرح عمر ہوگی تقریباً 70 سال۔ غرض ہم نے ان کی مدد کرنا اپنا فرض سمجھا۔ اور یہ جری کین ڈھو کر کمرے تک لائے۔ اس لئے سیدھے ہی اپنے کمرے تک آنا پڑا اور کھانا ٹال گئے۔ یہاں تک کہ روٹی بھی نہیں خریدی۔ اس وقت ضرورت نہیں بھی ہوتی تو صبح ناشتے میں کام آتی۔ بہر کیف۔

آج جو ہم سوچ رہے تھے کہ ادارۂ سنون الکتب جائیں کہ بابِ عمرہ پر جہاں قرآن تقسیم ہوتے ہیں، انگریزی اور اردو ترجمے کے فہد ایڈیشن مل گئے تو سبحان اللہ۔ ہمارے دوست بشیر کو تو زم زم اور کھجور کے تحفے سے بھی اتنی خوشی نہیں ہوگی جتنی قرآن مجید کے اس خوب صورت نسخے سے۔

اٹھتے ہی صبح ضروریات کے بعد ناشتے کے لئے بیٹھ گئے۔ سب ہمارے منتظر ہی تھے۔ ہم نے وہی روٹی پنیر اور جام کھایا جو کل ہی 4 ریال کی شیشی خرید کر لائے تھے۔ اس سے فارغ ہوتے ہی ہم سوئے حرم چلے کہ وہی ہمارا کوئے یا رہے اور سوئے دار بھی( بات چاہے جمی نہیں مگر کیا کریں ، ہمارے فیض صاحب سے بھی کچھ غائبانہ یاد اللہ ہے۔ کم از کم اس رشتے سے کہ ہم بھی حکایات خوں چکاں اپنی فگار انگلیوں سے لکھتے رہتے ہیں)۔ حرم میں طواف کی تیاری کر رہے تھے کہ یاد آیا تو خود سے کہا کہ میاں فجر کی نماز ابھی تک تم نے کہاں پڑھی ہے۔ قضا زیادہ ضروری ہے۔ عام طور پر نماز قضا ہونے پر صبح ضروریات کے بعد ہی وضو کر کے پہلے پڑھ لیتے تھے۔ آج دوسرے لوگوں کو دسترخوان پر منتظر دیکھ کر یہ عمل چھوڑ دیا تھا تو بھولے جا رہے تھے۔ یوں بھی حکم ہے نا کہ اگر نماز کھڑی ہو رہی ہو اور دسترخوان بچھ بھی گیا ہو تو نماز کی جماعت چھوڑ دینا بہتر ہے۔ پہلے دسترخوان کی جماعت میں شریک ہونا اور کھانا کھا لینا چاہئے۔ چناں چہ پہلے فجر کی قضا نمازیں پڑھیں (ہم محض تازہ ترین قضا ہی نہیں پڑھتے نا، قضائے عمری بھی جاری ہے اور ہر نماز کے ساتھ کم از کم ایک اسی نماز کی قضا ضرور پڑھ رہے ہیں اور جب محض قضا نمازیں پڑھنے کا ارادہ ہو تو پانچوں نماز وں کی ایک لائن سے قضائیں پڑھتے ہیں۔ یہ معمول دن میں ٦۔ ٧ بار کا ہوتا ہے)۔ اس کے بعد طواف کیا۔ واجب الطواف نماز پڑھ کر ایک اور طواف کر لیا اس کے بعد قضا نمازوں کے دو “راؤنڈ” بھی پڑھ لئے۔ اسی میں 12 بج گئے تھے۔ آج 18۔ 12 پر ظہر کی اذان تھی۔ تو ظہر کے بعد دو۔ راؤنڈ” اور پڑھ کر واٹر باٹلوں میں زم زم بھرتے ہوئے واپس آ گئے۔

جدّے سے آتے وقت باقر نے دو بڑے بڑے کارٹن نہ صرف دئے تھے بلکہ ایک میں خریدی ہوئی جانمازیں پیک بھی کر دیں تھیں۔ اور دوسرے میں دوسرا سامان رکھ دیا تھا۔ یہاں جو ایک بڑے بیگ میں سامان رکھا تھا، پہلے اسے بھی اس دوسرے کارٹن میں منتقل کر دیا تھا، مگر خیال ہوا کہ یہ اتنا وزنی ہو گیا ہے کہ اٹھا نا مشکل ہوگا۔ چناں چہ آج حرم سے واپس آنے اور کھانا کھانے کے بعد اس کی دوبارہ پیکنگ میں لگ گئے، یعنی کارٹن کا سامان پھر بیگ میں رکھا اور اس عمل میں کچھ اتنی طاقت کا استعمال کر ڈالا ( اپنی ہی ایک چپّل رکھنے میں) کہ بیگ کی سلائی کھل گئی۔ چناں چہ پھر اسے خالی کر کے ہم نے ہی پہلے اس بیگ کو سیا اور پھر سامان بھرا ہم دونوں نے۔ اسی میں عصر کی اذان کا وقت ہو گیا۔ ہمارا نہانے کا ارادہ بھی تھا۔ یہاں کا غسل خانہ ہمیشہ گندا ہی رہتا ہے۔ اس لئے ہم نے یوں کیا کہ عصر کی نماز یہاں ہی پڑھ لی اور پھر حرم چلے گئے۔ نہانے کے علاوہ یہ کام بھی کیا کہ زم زم بھرتے ہوئے لائے۔ باقر نے 18۔ 18 لٹر کے بڑے جری کین دئے تھے، ان میں زم زم بھر رہے ہیں ساتھ لے جانے کے لئے۔ ایک پہلے ہی بھر چکے تھے تھوڑا تھوڑا کر کے یعنی بوتلوں میں لے جا کر ایک جری کین میں خالی کر دیتے تھے۔ پڑوس سے آج بھی ایک 5 لٹر کا کین لے گئے تھے،۔ اس میں اور اپنی ڈیڑھ لٹر کی دو بوتلوں اور کولڈ ڈرنکس کی خالی بوتلوں میں بھر لائے۔ ایک بار اور اسی طرح کرنے میں دوسری جری کین بھی بھر جائے گی۔ کون اتنا پانی ایک ساتھ اٹھا کر لائے۔ پھر یہاں آ کر چائے پی، اور پھر ہم سب یعنی چاروں جوڑے ساتھ ساتھ نکلے ( چار مرد ہمارے علاوہ مظہر بھائی، جبّار بھائی اور ستّار بھائی اور سب کی بیویاں)۔ جری کین، واٹر باٹلس اور کولڈ ڈرنکس کی خالی بوتلیں پھر ساتھ لے لیں۔ پہلے ایک کپڑے کا تھان مظہر بھائی نے دلوایا۔ 145 ریال کا 27۔ گز (جی ہاں میٹر نہیں، یہاں گز ہی چلتا ہے) جاپانی کپڑا کے۔ ٹی(K.T. 2000)۔ سنا ہے کہ بہت اچھّا ہوتا ہے۔ سفید رنگ کا لیا کہ مردوں کے کرتے پاجامے کے کام بھی آئے اور عورتوں کی شلواروں کے بھی۔ سفید رنگ میں زنانہ مردانہ کی کیا تخصیص؟۔ پھر مزید زم زم بھر کر لا کر کمرے میں رکھا۔ صابرہ اس عرصے میں ضرورت کے لئے گئیں اور پھر وضو کر کے پھر حرم کی طرف نکلے۔ مغرب میں اگرچہ ابھی وقت تھا مگر اتنا نہیں کہ جا کر طواف کر لیا جاتا۔ ادھر صابرہ اپنے بڑے بھائی کے لئے (جو سب سے بڑے مرحوم بھائی سے چھوٹے ہیں اس لئے چھوٹے بھائی کہلاتے ہیں)چپّل یا سینڈل خریدنے کا کہہ رہی تھیں تو سوچا کہ ابھی نماز میں وقت ہے تو تھوڑی دیر راستے میں یہی دیکھتے ہوئے چلیں۔ مگر انھوں نے دوکانوں میں اپنے لئے ہی چپّلیں زیادہ دیکھیں۔ بہر حال پھر ساڑھے چھ بجے حرم پہنچے بغیر کچھ خریدے۔ وہاں سب لوگ ایک مقرّرہ مقام، یعنی باب السّلام کے پاس ہی ایک روشنی کے مینار کے پاس مل گئے۔ سب نے مغرب پڑھی۔ امام سدیس صاحب ہی تھے اور اب ہم کو ان کی قرأت اتنی پسند آنے لگی ہے کہ رقّت طاری ہو جاتی ہے سننے پر۔ خدا کا شکر ہے کہ انھیں کی قرأت کا کیسٹ ہم نے لیا ہے۔ ۔ جب بھی سنیں گے، حرم کی نمازوں کی یاد تازہ ہو جائے گی۔ مغرب کے بعد پھر قضا نمازیں پڑھیں۔ حالاں کہ آج سات راؤنڈ قضائیں ہو چکی تھیں۔ مگر اس وقت اس انتظار میں کہ کچھ بھیڑ کم ہو جائے تو پھر طواف کریں جیسا کہ سب نے پلان بنایا تھا۔ شاید ہم لکھ چکے ہیں کہ مغرب کے فوراً بعد طواف میں سب سے زیادہ بھیڑ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مظہر بھائی اور جبّار بھائی کی بیویاں ضروریات اور وضو کے لئے چلی گئی تھیں، ان کا بھی انتظار تھا۔ ہماری قضا نمازیں پڑھنے تک بھی یہ خواتین نہیں آئی تھیں۔ صابرہ نے ہم سے کہا کہ ہم تو طواف کر ہی لیں۔ وہ سب عورتوں کے ساتھ عشاء کے بعد ہی طواف کریں گی۔ بھائی صاحبان کا ارادہ پہلے ہی سے عشاء کے بعد طواف کرنے کا تھا کہ مظہر بھائی کو عشاء سے پہلے کسی کی عیادت کے لئے جانا تھا اور جبّار بھائی کو کسی سے ملنے۔ چناں چہ ہم نے سب کو چھوڑ کر طواف کیا۔ عورتوں کو وہیں چھوڑ کر۔ طواف کے بعد ہی فوراً اذان ہو گئی تو ہم عشاء پڑھ کر واپس آ گئے ہیں۔ آج کی بات ہم نے شروع ہی یہاں سے کی تھی کہ صابرہ وغیرہ طواف کے لئے گئی ہیں۔ اب واپس آئیں گی تو کھانا وانا ہوگا۔ اب انشا ء اللہ تہجّد کے لئے نہیں تو فجر کے لئے ضرور اٹھیں گے۔ اگرچہ عشاء کے بعد ہم نے وتر نہیں پڑھے ہیں اس ارادے کے تحت کہ حرم میں تہجّد کے بعد پڑھیں گے۔

اُلٹی گنتی… ایک

7/ مئی۔ 20۔ 10 بجے رات۔

واللہ اعلم ہماری گنتی صحیح ہے یا نہیں، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم لوگ کل نہیں پرسوں جمعے کی نماز یہاں ادا کر کے جدّہ روانہ ہوں گے۔ دیکھئے اب حرم میں پانچ نمازیں اور ملتی ہیں کہ چھ۔ السدیس صاحب کی قرأت میں شاید دو یا تین نمازیں ہی اور مل سکیں گی۔ وہ جہری نمازیں پڑھاتے ہیں نا۔ آج مغرب اور عشاء میں ان کی قرأت سن کر اور بھی رقّت طاری ہو رہی تھی۔ بعد میں چاہے ٹیپ ریکارڈر پر ان کی آواز سن لی جائے، مگر جو بات۔ “زندہ” (Live کا ترجمہ۔ ہائے رے ترجمے کی مجبوریاں!) سننے بلکہ ان کی اقتدا میں نماز پڑھنے میں ہے ، وہ بات کہاں؟

حرم اب سونا سونا سا لگنے لگا ہے۔ نمازوں میں صفیں خالی خالی رہ جاتی ہیں۔ بلکہ اب ہندوستانی اور پاکستانی حجّاج ہی رہ گئے ہیں۔ کچھ انڈونیشی بھی، مگر 75 فی صد برّ صغیر کے ہی لوگ باقی بچے ہیں۔ اس پر ہم کو کل کے طواف کی ایک دو باتیں یاد آ گئی ہیں، پہلے وہ کر لیں ورنہ بھول جائیں گے۔ کل صبح کے پہلے طواف میں ایک پاکستانی صاحب طواف میں بآوازِ بلند ایک ہی دعا کرتے جا رہے تھے کہ “یا اللہ ہمارے ملک پاکستان میں مکمل اسلامی قانون نافذ کروا دے.. یا اللہ ہمارے….”یہی ان کی تسبیح تھی۔ کم از کم ایک شوط (پھیرے) میں ہم ان کے ساتھ ہی رہے تھے تو مستقل یہی تسبیح سنتے رہے ان کے مونہہ سے۔ دوسری بات کل مغرب کے بعد طواف میں دیکھی۔ اس وقت وہاں صفائی ہو رہی تھی اور صفائی کرنے والا۔ وہی گروپ تھا جو اس سے پچھلے دن دیکھا تھا۔ کم ازکم ایک آدمی کو تو ہم پہچاننے لگے تھے۔ انھیں صاحب کو دیکھا کہ حرم کے مطاف والے صحن کے حصّے میں پونچھا بھی لگاتے جا رہے ہیں اور ہم جب ان کے قریب سے گزرے تو معلوم ہوا کہ ان کے ہونٹوں پر تسبیح رواں ہے” سُبحٰنَ اللّٰہِ وَالحَمدُ لِللّٰہ… یعنی کام کے ساتھ ان کا بھی طواف جاری تھا۔ یہ دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔ یہ کوئی بنگلہ دیشی تھے شاید۔ اب ان دو مثبت پہلوؤں کے بعد ایک منفی پہلو کی بات بھی۔ یہ ایک ہندوستانی بھائی سے متعلّق ہے۔ موصوف طواف کرتے جا رہے تھے اور ناک میں نسوار لگاتے جا رہے تھے۔ سگریٹ بیڑی کی تو ممانعت ہے حرم میں مگر اس عادت سے ان کو کون روک سکتا تھا، اس لئے اس اجازت کا فائدہ اٹھاتے جا رہے تھے۔ خیر اجازت سہی، مگر عین طواف کے دوران!۔ اس کا جواز ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ غرض یہ مشاہدات اتّفاق سے سبھی برّ صغیر کے لوگوں سے متعلّق تھے ۔

دوسری اہم بات یہ کہ آج ہم دونوں نے، یعنی ہم نے اور ہماری صابرہ بیغم نے چار عدد قرآن کریم کے نسخے جمع کر لئے ہیں۔ ہدیۂ حرم۔ یعنی باب عمرہ کی تقسیم سے۔ مگر ان میں سے شاہ فہد ایڈیشن ایک ہی ہے اور وہ بھی معرّیٰ۔ اب تک کسی نے صحیح رہنمائی نہیں کی ہے کہ اردو اور انگریزی ترجمے کے نسخے مل سکتے ہیں تو کہاں؟ ۔ شاید ہم لکھ چکے ہیں کہ حرم میں جہاں یہ نسخے نظر آتے ہیں ان پر صاف لکھا ہے Not for Sale۔ بلکہ صابرہ کو تو (بعد میں)جو اُردو والا نسخہ ملا ہے (یعنی ترجمہ نہیں، اردو میں محض رموز و اوقاف کا بیان ہے) اس کے سر نامے پر اردو میں ہی مہر لگی ہے جس کی عبارت ہے “” یہ قرآن کریم خادمِ حرمین شریفین شاہ فہد بن عبد العزیز آل سعود کی جانب سے ہدیہ ہے، اسے بیچنا جائز نہیں””۔ کل تو ہم اس مہم پر نہیں جا سکے تھے کہ دیر سے پہنچے تھے حرم۔ آج صبح سات بجے سے ہی لائن میں لگ گئے تھے۔ صابرہ بھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ بعد میں قطار میں لگ گئی تھیں۔ مگر معلوم ہوا کہ تقسیم کے موقعے پر حاجی کا شناختی کارڈ ضروری ہے، اس پر مہر لگائی جاتی ہے تا کہ ہر شخص روزانہ ہی یہ نسخے نہ لے سکے۔ جبّار بھائی کی بیوی فاطمہ کے پاس کارڈ تھا، وہ قطار میں لگی رہیں اور صابرہ اور دوسری خواتین کارڈ لینے پھر کمرے چلی گئیں۔ ہمارے پاس بھی یہ کارڈ موجود تھا۔ ساڑھے آٹھ بجے یہ دفتر کھلا اور تقسیم شروع ہوئی۔ یہ لوگ اندر سے ایک وقت میں 12۔ 10 نسخے لے کر آتے ہیں اور اوپر سے ایک ایک اٹھا کر دیتے جاتے ہیں، آپ کی پسند کا سوال نہیں ہے۔ ہم نے کہا بھی کہ ترجمے والا چاہئے، مگر کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مطلب لینا ہو تو یہی لو ورنہ آگے بڑھو۔ اس میں حرم میں استعمال شدہ پرانے نسخے بھی ہیں اور نئے۔ صابرہ کے ساتھ کی ایک صاحبہ کو دہلی میں ہی چھپا ہوا ایک پرانا نسخہ ملا۔ ہم کو نسبتاً نئے نسخے ملے۔ ہم کو مصر کی طباعت کا نیا نسخہ ملا اور صابرہ کو کسی عرب ملک کا ہی، مگر اس پر مقام اشاعت درج نہیں۔ دو نسخے اس طرح مل گئے۔ پھر ہم عصر کے لئے حرم گئے تو دیکھا کہ اندر “ادارہ سنون المصاحف” پر بھی بھیڑ لگی ہے۔ معلوم ہوا کہ وہاں بھی قرآن تقسیم ہو رہے تھے مگر ابھی بند کر دئے گئے ہیں۔ ترجمے کا معلوم کرنے پر ان لوگوں کا ایک ہی جواب تھا ، بلکہ دو جواب۔ یا تو” باب العمرہ” یا پھر “مطار”(یعنی ایر پورٹ۔ سنا ہے کہ پچھلے دو ایک سالوں سے حاجیوں کو واپسی کے وقت ایر پورٹ پر شاہ فہد ایڈیشن کے نسخے تحفتاً دئے جاتے ہیں۔ مگر اس سال بھی یہ معمول رہے گا اس کی کیا گارنٹی؟)۔ جب اسی امّید پر کافی دیر کئی لوگ کھڑے رہے تو ایک اور نیا جواب سنا۔ اس بار انگریزی میں ” انڈیا پاکستان ٹو مارو (Tomorrow)”دو تین بار ہم اس دفتر پر گئے اور حالات کا جائزہ لیتے رہے مگر مایوسی ہوئی۔ عصر کے بعد ہم سب شاپنگ کے لئے چلے گئے۔ بعد میں مغرب کے لئے پھر داخلِ حرم ہوئے۔ ہم دونوں نے الگ الگ نماز پڑھی اور نماز کے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ ان کو ایک اور نسخہ مل گیا ہے۔ ہم بھی فوراً گئے۔ کچھ دیر تک باہر جو شیخ تھے ان کا انکار ہی سنتے رہے۔ پھر کسی کام سے وہ صاحب ہٹے تو ہم اندر دفتر میں ہی گھس گئے کہ ان کے افسر سے ہی بات کی جائے۔ انگریزی میں بھی بات کی اور اردو میں بھی۔ معلوم نہیں وہ کہ وہ کون سی زبان سمجھے مگر اتنا کہا۔ “لا ترجمہ۔ باب العمرہ”۔ ایک دوسرے صاحب کو شاید ہم پر رحم آ گیا۔ فوراً اندر سے ایک نیا نسخہ لے کر آئے اور فرمایا “معافی.. معافی، بسم اللہ۔ جاؤ۔ فی امان اللہ”۔ اور ہم وہ نسخہ لے کر آ گئے۔ یہ بھی مصری ہے۔ ۔ کھولنے پر معلوم ہوا۔ اس کی پہچان آپ کو بتا دیں کہ مصری نسخوں میں رکوع اور پاروں کا حساب نہیں ہوتا۔ محض سورتوں کا شمار دیا جاتا ہے۔ صحیح صورت تو یہی ہے کہ قرآن کا حوالہ بھی سورتوں اور آیت نمبر سے ہی دیا جاتا ہے۔ یہ تو ہندوستان پاکستان میں ہی زیادہ چلتا ہے کہ لوگ پاروں اور رکوعوں کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ خود ہم کو یہ یاد نہیں رہتا۔ کوئی آیت یاد آئے گی بھی تو یہی کہتے ہیں کہ سورۂ اعراف کی آیت نمبر فلاں۔ اور نہ ہم کو یہ کبھی یاد ہوا ہے کہ یہ سورت کس پارے میں ہے اور نہ یہ کہ مذکورہ آیت کس رکوع میں۔ (ہم کو تو سورت کا نمبر بھی یاد نہیں رہتا کہ مائدہ چوتھی سورت ہے یا پانچویں۔ (جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ پانچویں ہے۔ اگر ہم بالمشافہ گفتگو کر رہے ہوتے تو آپ ہی فوراً ہماری معلومات میں اضافہ فرماتے)۔

آج کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ مختلف مصروفیات میں وقت ضائع کرنے کے باوجود ہم نے پانچ عدد طواف تو کر لئے ہیں۔ دو تو فجر کے بعد ہی کر لئے تھے، اس کے بعد ناشتے کے بعد قرآن کے حصول میں لگے تھے۔ دو عصر اور مغرب کے درمیان کر لئے جن کی مشترکہ واجب الطواف نمازیں نماز مغرب کے بعد اندر دالان میں ہی پڑھیں۔ (آپ کو یاد ہوگا نا کہ عصر کے بعد کوئی نفل یا سنّت نماز نہیں پڑھی جاتی)۔ پھر مغرب اور عشاء کے درمیان ایک اور طواف کر لیا، 45۔ 7 تک قرآن کے حصول میں لگے تھے۔ 10۔ 8 پر طواف اور واجب الطواف نمازوں کے بعد دالان میں جا نمازوں پر بیٹھے (ہاں۔ آج سے حرم میں ہر دالان میں قالین کی جا نمازیں بچھ گئی ہیں، راستوں کو چھوڑ کر۔ )

رات کو پھر کھانا کھانے کے بعد ساڑھے بارہ بجے تک تو لکھتے ہی رہے تھے۔ ایک بج گیا تھا اس کے بعد کبھی نیند آئی اور 20۔ 2 پر ہی پھر آنکھ کھل گئی۔ 3 بجے تک سونے کی کوشش کی اور پھر اٹھ کر بیٹھ ہی گئے۔ چناں چہ حرم میں تہجّد اور فجر بھی ہو گئی ہے۔

اب سوا گیارہ بج رہے ہیں رات کے۔ اب آخری وقت میں کیا لکھیں کہ کیا کیا کھایا پیا۔ پاکستانی ہوٹل کی سبزی روٹی ہی رات کو لے آئے تھے۔ با جماعت ہی کھانا ہو رہا ہے کئی دن سے۔ ہم خریدا ہوا کھانا لے جا کر شامل ہو جاتے ہیں۔ دو پہر کو تو ہماری طرف سے صرف روٹیاں ہی تھیں۔ ناشتہ تو ہم نے باہر ہی کیا تھا۔ اب اور کو ئی بات ( جیسا کہ ہم بچپن میں غیر سنجیدگی سے کہتے تھے اور اب بھی کہاں سنجیدہ ہیں)” قابلِ لکھ” نہیں ہے۔ اس لئے خدا حافظ۔ اسّلام وعلیکم۔ شب بخیر….

اُ لٹی گنتی…. صفر

8/مئی

55۔ 2 بجے۔ دو پہر

جی ہاں آج رات کو عشاء کے بعد جدہ روانگی ہے۔ جہاں سے پرسوں 50۔ 3 بجے سہ پہر کو ہماری بنگلور کے لئے فلائٹ ہے۔ چناں چہ رات کو لکھنے کا وقت نہیں مل سکے گا۔ ابھی رخصت ہو لیں آپ سے بھی اور اس سفرنامے سے بھی۔ ویسے انشاء اللہ کچھ اور باقی روداد ہوگی، وہ حیدر آباد پہنچ کر ہی لکھیں گے۔

غرض اللہ میاں نے اپنی میزبانی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اپنے مہمان کو بھگانے کا انتظام کر دیا ہے۔ اب تو مثلاً بسوں کی دیواروں سے بھی وہ بینر نکال دئے گئے ہیں کہ Welcome to the Guests of Allah اور “مرحبا ضیوف الرّحمٰن” یہ سٹی زن (یا سی تی زن) گھڑیوں کی جانب سے جگہ جگہ بورڈ لگے تھے۔

رات کو بھی نیند نہیں آئی۔ سر درد جو ہو گیا تھا جو صبح تک جاری رہا۔ دو بجے کے بعد کبھی نیند آئی۔ پھر صبح تہجّد کی اذان بھی یاد ہے اور فجر کی اذان بھی، مگر بقول پطرس سویرے جو پھر آنکھ میری کھلی تو حرم کی جماعت کی آواز کمرے تک آ رہی تھی۔ بہر حال ضروریات کے بعد حرم میں جا کر بلا جماعت ہی نماز پڑھی اور دو عدد طواف کئے ہیں۔ اس کے بعد ناشتے سے فارغ ہو کر کچھ دیر ساتھیوں سے باتیں کیں، سامان کی پیکنگ کی اور وزن بھی کیا کہ ایک اسپرنگ بیلینس (Spring Balance)بھی حاصل ہو گیا تھا۔ پتہ چلا کہ ہمارا وزن، ہمارا مطلب ہے کہ ہمارے سامان کا وزن قابل اجازت 70 کلو سے ٤ کلو زیادہ ہی ہو گیا ہے (ہمارے وزن کے بارے میں تو ہماری خواہش ہی رہی کہ 70 کیا، کبھی 60 کلو ہی ہو جائے۔ مگر یہ کبھی 50 کلو سے زیادہ بڑھتا ہے اور خدا کا شکر ہے کہ نہ کم ہوتا ہے۔ )۔ اس وجہ سے کچھ سامان بڑے بیگ سے نکال کر چھوٹے بیگ میں کر لیا ہے جسے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔

لیجئے عصر کے لئے سب لوگ چل رہے ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ کب وقت ملتا ہے آخری باتیں تحریر کرنے کے لئے۔

لوٹ کے حا جی گھر کو آئے

اب تاریخ لکھنا بیکار ہے۔ ویسے یہ اب ہم کئی روز بعد لکھ رہے ہیں اپنے وطن میں ہی۔ اور حیدر آباد کی بجائے اپنے فیلڈ کمپ کڈاپا ضلعے کے راجم پیٹ قصبے میں ہیں اس لمحۂ موجود میں۔ بہت سی باتیں یادداشت سے نکل بھاگی ہیں۔ اب ہم پھر کچھ ان بھاگتی تتلیوں کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں، کچھ Loud Thinking کی طرح فکر بہ قلم۔

الٹی گنتی ہماری صحیح ہی نکلی۔ یعنی 8 مئی کو ہی عشاء کے بعد ہم لوگ روانہ ہو گئے تھے مکّے سے۔ اس دن کی اہم بات یہ تو نہیں بھول سکتے کہ طواف وداع کیا تھا۔ یہ بھی یاد ہے کہ اس دن ہمارے 7 عدد طواف ہو گئے تھے۔ اور اس وجہ سے طبیعت پر سکون تھی۔ مگر طواف وداع میں بہت رقّت طاری تھی۔ خوب آنسو بہے۔ بلکہ اسی طواف میں ہی نہیں، دن بھر دوسرے طوافوں میں بھی آنسوؤں پر قابو نہیں رہا تھا۔ یا اللہ! یہ تو نے ایسا کیسا نظم رکھا ہے۔ مہمان اپنے گھر جاتا ہے تو ہنسی خوشی جاتا ہے کہ اب اپنے بچّوں سے ملاقات ہوگی۔ اپنے گھر میں سکون سے رہیں گے۔ مگر تو اپنے گھر مہمان کو رخصت کرتا ہے تو رلاتا ہے۔ تو نے اپنے گھر میں یہ کیا طلسم رکھ دیا ہے خدایا۔ گناہوں سے توبہ اور معافی کے خیال سے زیادہ یہی دعا ہونٹوں پر آ رہی تھی کہ اپنے گھر پھر مہمان بنانا اللہ میاں۔ ہم تیری مہ اللہ اعلم ہمار دہ دیکھیں۔ بہر ھمانی سے ابھی تشنہ ہی چلے جا رہے ہیں۔ تری رحمتوں کے صدقے، بس یہ کرم اور کر دے کہ پھر اپنے گھر جلد ہی بلا لے۔

اس دن کی اہم بات یہ بھی ہوئی کہ اس شام ہم نے عصر کے بعد جو طواف کیا تو بالکل آخر وقت میں کیا۔ یعنی ادھر فارغ ہوئے ادھر مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔ اور ہم اس وقت کعبۃ اللہ کے قریب ہی تھے۔ اس لئے چوتھی صف میں ہی جگہ مل گئی۔ اگرچہ اس وقت سنگ اسود کو بوسہ دینے کا موقعہ تو نہیں ملا(لوگوں کو دیکھا ہے کہ قریب ہونے پر نماز کا سلام پھیرتے ہی اس طرف دوڑتے ہیں) مگر امام السدیس صاحب کے دیدار ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ ملتزم کے قریب یا کعبے کے دروازے کے قریب ہی امام کھڑا ہوتا ہے۔ سدیس صاحب کو دیکھا تو احساس ہوا کہ کوئی بہت زیادہ عمر تو نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ 50 سال کے ہوں گے۔ Typical عرب، اور اس وجہ سے عمر کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہوتا ہے دوسرے عربوں کی طرح ۔ اس پر یوسفی یاد آ گئے۔ موصوف نے ایک دوسری ہی بات لکھی ہے کہ دور سے جو نوجوان 25 سال کا لڑکا لگتا ہے، قریب جانے سے وہ 25 سال کی ہی لڑکی نکلتی ہے۔ یہاں یہ حالت ہے کہ جو عرب دور سے 25 سال کا لگتا ہے، قریب سے 52 سال کا نکلتا ہے۔ اس کا اُلٹا بھی ممکن ہے۔

مغرب کے بعد ہم سب جمع ہو گئے اور سب نے ساتھ ہی طواف وداع کیا، اس کے بعد عشاء کی نماز باہر کے صحن میں پڑھی۔ ہاں اس وقت کی یہ بات بھی یاد ہے کہ ہمارے قیام کے دوران عشاء کی نماز کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ کوئی نمازِ جنازہ نہیں ہوئی۔ لیکن جب ہم واپس آ رہے تھے تو ایک جنازہ سوئے حرم جا رہا تھا ۔ یعنی یہ جنازہ اگر تھوڑی دیر قبل پہنچتا تو ہم اس انہونی بات کا ذکر نہیں کرتے۔ بلکہ اس انھونی بات کا ذکر کرتے کہ ہمارے قیام کے دوران ایک نماز بھی ایسی ہم نے نہیں پڑھی (جن نمازوں میں ہمیں شریک ہونے کی سعادت نہیں ملی، ان کا نہیں کہہ سکتے) جس کے بعد نمازِ جنازہ نہ ہوئی ہو۔ مسجدِ نبوی میں ضرور 2۔ 3 موقعے ایسے آئے تھے کہ نماز جنازہ نہ ہوئی ہو کسی جماعت کے بعد مگر حرم مکّہ میں یہ پہلا اتّفاق تھا۔

واپس آئے تو کھانے کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ اِدھر بسیں آ گئیں۔ اور اُدھر باقر اور زرینہ بھی۔ سامان پیک کرنے میں انھوں نے بھی مدد کی، جلدی جلدی کھانا کھایا اور پھر بسوں میں بیٹھ کر ان سے رخصت لی۔

عمارت سے نکلتے نکلتے 11 بج گئے تھے۔ اور معلّم کے مکتب سے نکلنے تک ساڑھے بارہ۔ پھر مختلف تفتیشی نقاط پر بس رکی۔ زم زم کے آفس پر بھی۔ یہاں ہر حاجی کو ایک مہر بند زم زم کی بوتل بھی تحفتاً دی گئی۔ جدّہ پہنچے تو ساڑھے تین بج رہے تھے۔ لوگ بسوں میں سوتے ہوئے آ رہے تھے۔ ہماری تو ایک لحظے کے لئے بھی آنکھ بند نہیں ہوئی۔ جب تک بسوں سے سامان اترا اور ہم نے اپنا سامان جمع کر کے ڈیڑھ دن جدّہ میں رہنے کا انتظام کیا، فجر کا وقت ہو رہا تھا۔ (ہندوستان کے لئے ایک علاقہ محفوظ تھا اور وہیں کہیں بھی ہم لوگ زمین کے فرش پر اپنا ڈیرہ ڈال سکتے تھے)۔ پتہ چلا کہ ایر پورٹ پر ہی ہمارے رہنے کی جگہ کے قریب ہی ایک باقاعدہ مسجد ہے۔ عمارت تو نہیں مگر کٹہرا ضرور تھا۔ باقاعدہ امام اور مائک کا انتظام تھا۔ کافی بڑی جماعت ہوئی۔ فجر کی نماز پڑھ کر سونے کے لئے لیٹے تو شدّت کی سردی ہو رہی تھی۔ شدّت کی اس لئے کہ ہمارے پاس کوئی گرم کپڑا نہیں تھا کہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ اتنی سردی تھی، شاید اس لئے کہ یہ کھلا علاقہ ہے اور پھر زمین کا فرش اور فجر کا وقت۔ نماز کے بعد مظہر بھائی کے ساتھ ایک چائے پی کر سونے کے لئے لیٹے۔ بڑی مشکل سے چھ بجے کے قریب نیند آئی اور ساڑھے سات بجے پھر اٹھ بیٹھے۔

اس دن 9 مئی کو، ویسے تو جب ہم جدہ پہنچے تھے، بلکہ مکّے سے نکلے تھے، 9 تاریخ شروع ہو چکی تھی، جمعہ تھا۔ ایر پورٹ میں ہی ایک باقاعدہ مسجد بھی ہے۔ وہیں جمعے کی نماز ہوئی۔ جہاں فجر پڑھی تھی، ایسی مسجدیں مزید 2۔ 3 ہیں ایر پورٹ پر ہی۔ اسی بغیر دیوار کی مسجد میں ہماری عصر، مغرب، عشاء اور پھر اگلے دن 10/ مئی کی فجر اور ظہر بھی ادا ہوئیں۔ 9/ کی صبح پہلے ایر انڈیا کے کاؤنٹر پر پاسپورٹ جمع کرنے پڑے جن پر کچھ اندراج کے بعد ہم کو شام 5 بجے واپس دے دیا گیا۔ اسی کے ساتھ جہاز کے ٹکٹ کی بکنگ بھی ہو گئی اور “او ۔ کے” ٹکٹ مل گئے۔ باقی وقت وہیں ایر پورٹ کے بازاروں میں گھومتے رہے۔ وہاں بھی بہت دوکانیں ہیں بلکہ کچھ سستی ہی۔ اب حج سیزن کے اختتام کے وقت دو دو ریال کی جگہ 5 ریال میں تین اشیاء کی آوازیں لگ رہی تھیں وہاں۔ 5۔ 5 ریال والا سامان 4۔ 4 ریال میں تھا۔ 10 ریال والی چیزیں 8 ریال بلکہ ایک دوکان پر 15 ریال میں دو عدد مل رہی تھیں۔ بہت کچھ خریداری وہاں سے بھی کر لی۔ 5۔ 5 ریال کا سامان زیادہ لیا دوسروں کو دینے کے لئے،چار عدد کیلکولیٹرس خریدے، اس کے علاوہ موتیوں کا ایک پرس، لائٹر کا ایک سیٹ، شمیص، صابرہ نے ایک سنگاپوری چپّل بھی اور خریدی ۔ صابرہ کے بھائی کے لئے بھی سینڈل دیکھ رہے تھے مگر پسند نہیں آئی، ہاں، مکّے کے آخری دن ہم نے ایک چپّل اور خریدی تھی سوچا کہ وہی چھوٹے بھائی کو دے دیں گے۔ اگر چھوٹے بھائی کو وہ اطالوی “چِپ” سینڈل پسند آتی ہے جو ہم نے مدینے سے اپنے لئے 25 ریال کی لی تھی، تو وہ ان کو دے دیں گے اور یہ خود استعمال کریں گے۔

جدّہ ایرپورٹ پر طازج فقیہہ کی بھی ایک دوکان تھی جس کے بارے میں ہم پہلے لکھ چکے ہیں اور جن کی مکّہ کی دوکان میں ہم نے باقر اور اشفاق بھائی کے ساتھ کھانا کھایا تھا ایک دن۔ مگر وہاں ایر پورٹ پر اس دوکان سے مرغ کھانے کا موقعہ نہیں ملا۔ مظہر بھائی اور دوسرے ساتھی دوسری دوکان سے ہی کھانا خرید رہے تھے تو ہم نے بھی سب لوگوں کے ساتھ ہی کھانا کھایا مگر سبزی کھائی۔ 10/ کو دوپہر کا کھانا ہی نہیں ممکن ہو سکا کہ 11 بجے سے ہی چل چلاؤ لگ رہا تھا۔ ظہر کی نماز جماعت سے پڑھ کر ہی ایر پورٹ کی عمارت کے اندر داخل ہو گئے۔ سامان کی چیکنگ اور وزن وغیرہ ہوا، پھر 3 بجے جہاز میں لے جائے گئے۔ یعنی وہی ایر پورٹ سے سیدھے ہی جہاز میں لے جائے گئے عمارت کی سیڑھیوں سے ہی۔ سیڑھیوں کے سرے پر ہی ادارہ سنون الکتب کے کارکن کھڑے تھے اور ہر حاجی کو ایک ایک معرّہ قرآن دے رہے تھے۔ یہاں بھی ہم نے انگریزی ترجمے کی اپنی فرمائش جاری رکھی، مگر جواب ملا “ہٰذا اُردو”۔ خیر ہم دونوں کو ایک ایک قرآن مزید مل گیا ہے جس میں اردو اتنی ہے کہ رموز و اوقاف کا ذکر اردو میں ہے۔ اور کیوں کہ یہ پریس سے ابھی باہر نکلے ہیں اس لئے ان کا گیٹ اپ سب سے بہتر ہے۔ انھیں میں سے ایک ہم بشیر میاں کو دے دیں گے۔

جہاز کا وقت اگرچہ سعودی وقت کے مطابق 50۔ 3 دیا گیا تھا مگر 20۔ 3 پر ہی اندر لے جائے گئے اور 25۔ 3 پر ہی جہاز نے ٹیک آف کر دیا۔ ہم نے گھڑیاں فوراً ڈھائی گھنٹے بڑھا لیں ہندوستانی وقت کے مطابق۔ جہاز میں اسی دن کا ممبئی کا “انقلاب” اخبار مل رہا تھا۔ اس میں بھی منیٰ کے حادثے کی ایک چشم دید رپورٹ تھی مگر اس میں کافی تلخی تھی۔ اس کا احساس ہم کو وہاں نہیں ہوا تھا۔ مگر انقلاب کے صحافی صاحب کا مشاہدہ تھا کہ ہندوستانی حج کمیٹی اور سفارت خانے کے لوگ اور یہاں کے وفد کے لوگوں کو بجائے متاثّرین کو امداد بہم پہنچانے کے اپنے رشتے داروں کی “سائٹ سینگ”(Sight seeing) کے لئے گاڑیوں کے انتظام کی زیادہ فکر تھی۔ واللہ اعلم۔ بلکہ اب یہاں وطن واپس آ کر معلوم ہوا ہے کہ یہاں کے اخباروں میں اور ٹی وی پر بھی یہ تک آیا ہے کہ جب منیٰ میں آگ لگی تو خیموں کے دروازے بند کر دئے گئے تھے اور وہاں کے حجّاج کو اپنی جان بچانے کے لئے نکلنے نہیں دیا گیا۔ ہندوستانی سفارت خانے کو یہ شکایت ہے کہ حج مکمل ہونے یعنی 12/ ذی الحجہ تک نہ ان کو سعودی حکومت نے کوئی اطّلاع ہی دی اور نہ حالات کا جائزہ لینے کے لئے ان کو مقامِ حادثہ تک جانے دیا۔ ہم کو اتنا تو معلوم ہے اور ہم لکھ بھی چکے ہیں کہ ہمارے خیمے میں یہی اعلان کیا جا رہا تھا کہ باہر نہیں جائیں اور اپنے مقام پر ہی رہیں۔ انشاء اللہ آگ پر قابو پا لیا جائے گا۔ اگرچہ ہم نے اس پر اس لئے عمل نہیں کیا کہ ہم کو شک تھا کہ یہ ممکن نہ ہو سکے گا مگر اس سلسلے میں ہم یہی سمجھتے ہیں کہ واقعی عملے کو یہ امّید ہوگی اور وہ یہ چاہتے ہوں گے کہ لوگوں میں ہراس نہ پھیل جائے۔ اس میں کسی سازش کا سمجھنا غلط ہی لگتا ہے ہم کو تو۔ یہاں آ کر معلوم ہوا کہ دہلی میں ہی نہیں یہاں حیدر آباد میں بھی سیکریٹیرئٹ میں ایک سپیشل سیل کھولا گیا تھا کہ متاثّرین کے رشتے داروں کو ان کے بارے میں اطّلاع دی جا سکے۔ یہاں کیا پورے ملک میں لوگ اپنے رشتے داروں کے لئے پریشان تھے۔ عرب نیوز میں ہم نے 96 ہندوستانی شہیدوں اور 87 پاکستانی شہیدوں کی فہرست دیکھی تھی ۔ یہ خبر بھی تھی کہ دوسرے ملکوں۔ سوڈان، انڈونیشیا، چین اور مصر وغیرہ کے بھی دو دو چار چار حاجی شہید ہوئے تھے۔ بنگلہ دیش کے کچھ زیادہ اور 370 کی جو سعودی حکومت کی فہرست ہے اس میں شک کی گنجایش بہت زیادہ تو نہیں ہے۔ مگر یہ فہرستیں کافی بعد میں جاری کی گئیں اور یہ واقعی سعودی حکومت کے لئے ممکن نہیں تھا کہ عین حج کے دوران ہر حاجی کے بارے میں اس کی خیریت کی اطلاع حاصل کریں۔

ہم بھی منیٰ کے حادثے کے چشم دید گواہ ضرور ہیں مگر اس حد تک کہ ہم نے محض دھوئیں کے بادل دیکھے ہیں اور بھگدڑ کا نظارہ کیا ہے بلکہ اس میں حصّہ لیا ہے (ہندی میں “بھاگ” لیا ہے زیادہ موزوں ہے کہ ہم بھی بھاگے ہیں)۔ ہاں یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے خیموں کی طرف کوئی ہندوستانی کارکن خیریت معلوم کرنے نہیں آیا۔ خدّام الحجّاج معلوم نہیں کہاں تھے جو سرکاری خرچ پر وطن کے حاجیوں کی امداد کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ شاید وہ بھی اپنے حج کے ارکان میں لگے ہوں گے۔ معلوم نہیں کہ جب کوئی حادثہ نہیں ہوتا ہے تو ان کی ذمّہ داری کیا ہے کیوں کہ جو لوگ پہلے حج کر چکے تھے ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان کو معلوم ہی نہیں کہ کچھ حضرات سرکار کی طرف سے اس غرض سے بھیجے جاتے ہیں۔ جب ضرورت ہوتی ہے تو لوگوں کو بھی ان کی یاد آتی ہے۔ حج آفس کے ہیلتھ سینٹر کا تو ہمارا تجربہ ایسا تلخ نہیں تھا، ہاں حج کے بعد جب گئے تو معلوم ہوا کہ کئی لاکھ کی دوائیں ہندوستانی ہیلتھ سینٹر کی نذرِ آتش ہو گئیں اور اس باعث بعد میں یہ سینٹر کار آمد ثابت نہیں ہو سکا۔ سعودی حکومت کو بھی یہاں بد نام کیا جا رہا ہے کہ آگ پر قابو پانے کی خاطر خواہ کوشش نہیں کی گئی۔ ہم ان سب حالات میں خاموش رہنا بہتر سمجھتے ہیں۔ آگ پر قابو پانے کے انتظامات جو ہم نے دیکھے تھے (راستوں میں پانی کا چھڑکاؤ محض گرمی کم کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ بعد میں اس سے ضرورت کا کام بھی لیا گیا۔ ہر کیمپ میں اونچائی پر بڑے بڑے ہوز پائپ بھی لگے تھے جن سے پانی کھول کر خیموں کو بھگویا گیا تھا، وہ بھی ہم نے دیکھا۔ اب معلوم نہیں کہ اور مزید کیا کیا انتظامات کئے گئے تھے اور کئے جا سکتے تھے جس میں سعودی حکومت کو نا کارہ قرار دیا جا سکے۔

بہر حال ہم جہاز کی بات کرتے کرتے منیٰ کی آگ کی بات کرنے لگے۔

جہاز کافی عرصے تک، یعنی سورج ڈوبنے تک سعودی سر زمین پر ہی اڑتا رہا اور پہاڑ اور ریگستان نظر آتے رہے۔ وقت کے فرق کا یہ اثر بھی ہوا کہ مغرب کے تھوڑی ہی دیر بعد عشاء کا وقت بھی ہو گیا۔ ہم نے ساری نمازیں بھی پڑھیں اور اپنے اندازے کے مطابق قبلہ رخ کر کے، یعنی اڑان کی سمت سے الٹی سمت میں۔ حالاں کہ سورج ڈوبتے وقت سمت کچھ زاوئیے پر تھی اور کچھ لوگوں نے اس سمت میں رخ کرنا بہتر سمجھا۔ ہمارے اکثر ہندوستانی لوگوں کے ذہن میں یہی رہتا ہے نا کہ قبلہ مغرب میں ہے اور اس باعث مدینے میں اور عرفات منیٰ میں بھی دیکھا کہ اگرچہ قبلے کی سمتوں کی کئی جگہ نشان دہی کی گئی تھی، مگر لوگ پہلے سورج دیکھ کر قبلے کی سمت مقرّر کرنے کی کوشش کرتے دیکھے گئے تھے۔ کئی بار ہم کو ہی اس سلسلے میں مدد کرنی پڑی۔

ہندوستانی وقت کے مطابق رات ساڑھے گیارہ بجے بنگلور ایر پورٹ پر اترے۔ اور اب سیڑھیوں پر سے اتر کر زمین پر کافی پیدل چل کر ایر پورٹ کی عمارت تک آنا پڑا۔ وہاں استقبال کرنے والوں میں روشن بیگ بھی موجود تھے اور ہماری آندھرہ پردیش حج کمیٹی کے چئر مین بھی۔ اور بھی کئی لوگ تھے۔ ہم کو پہلے باہری لاؤنج میں ہی بٹھایا گیا۔ سب کی چائے سے تواضع کی گئی۔ اجتماعی دعا کی گئی۔ حج کمیٹی کے والنٹئر بھی موجود تھے ہی اور سامان اتارنے میں انھوں نے بہت مدد کی۔ اس میں ہی کافی دیر لگ گئی۔ ٹرالیاں ضرور کم تھیں اس لئے کافی انتظار بلکہ افرا تفری رہی۔ خیر۔ سامان اتر گیا تو قطار در قطار سب کو لاؤنج سے سیدھے ہی باہر لے جایا گیا، اندر ایر پورٹ پر نہ سامان کی چیکنگ کی گئی نہ کسٹم کی جانچ پڑتال۔ یہ سب حج کمیٹی اور بطور خاص روشن بیگ صاحب کی کوششوں سے شاید۔ ہمارے پاس تو خیر کسٹم سے چھپانے والی کوئی چیز نہیں تھی، مگر جن کے پاس تھی بھی، وہ رشوت کے ایک مزید گناہ سے بچ گئے۔ ویسے تو غیر قانونی حرکت بھی گناہ تو ہے ہی اس میں کس کو شک ہے! بہر حال سامان جمع کرنے میں دیر لگی اور آخر 2 بجے ہم ٹرالیوں میں سامان لے کر باہر آ سکے۔ باہر بھی حج کمیٹی کا کمپ لگا تھا اور حاجیوں کے باہر آتے ہی ان سے نام پوچھ کر اناؤنس منٹ کیا جا رہا تھا کہ فلاں صاحب باہر آ چکے ہیں کہ ان کے کوئی رشتے دار انھیں لینے آئے ہوں تو انھیں اطّلاع مل جائے۔ ہم نے تو سب کو منع کر دیا تھا اور ہمارے مشورے پر سب نے عمل بھی کیا تھا۔ حج کمیٹی والوں نے معلوم کیا کہ ہمارا ارادہ کیا ہے۔ حج کمپ اب بھی آباد تھا اور وہاں جانے کی خواہش کرنے والوں کے لئے مفت بسوں کا انتظام تھا، مگر جو لوگ کہیں اور جانا چاہ رہے تھے ان کی اتنی مدد کی گئی کہ ٹیکسیوں کے ٹوکن دلوا دئے گئے۔ ہم نے پہلے تو ساتھیوں کو رخصت کیا۔ مظہر بھائی اور جبّار بھائی کے لئے محبوب نگر سے جیپیں آ گئی تھیں تو وہاں کے سبھی ساتھی اس میں چلے گئے۔ اس کے بعد ہم نے بنگلور سٹی سٹیشن کی ٹیکسی کا ٹوکن لیا اور سٹیشن آ گئے۔ 150 روپئے ٹیکسی میں لگے۔ صبح ساڑھے تین بجے کے قریب سٹیشن پہنچے اور پھر 11/ مئی کو ہی شام کو 5 بجے کی ٹرین سے حیدر آباد کے لئے واپسی۔

خیر سے حاجی گھر کو آئے۔ یہاں یہ یاد آ گیا کہ اگرچہ معروف یہی جملہ ہے مگر در اصل یہ حیدر آبادی استعمال ہے۔ یہاں لوگ گھر یا دفتر جاتے نہیں ہیں، گھر “کو” یا دفتر “کو” جاتے ہیں۔ اب ہم بھی حیدر آباد ہی آ گئے ہیں اور محاورہ بھی یہی ہے اس لئے ہم پھر یہی کہیں گے کہ لوٹ کے حاجی گھر کو آئے۔ رہے نام اللہ کا۔

۔ ۔ ۔ ۔ 2/جون 97ء

۔ ۔ ۔ ۔ راجم پیٹ، ضلع کڈا پا، آندھرا پردیش

٭٭٭

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید