FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

               ترجمہ: محمد خاں جونا گڈھی

حصہ دوم: یونس تا الفرقان

 

۱۰۔ يونس

۱.         الر یہ پر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں

۲.        کیا ان لوگوں کو اس بات سے تعجب  ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ سب آدمیوں کو ڈرائیے اور جو ایمان لے آئے ان کو یہ خوشخبری سنائیے کہ ان کے رب کے پاس ان کو پورا اجر و مرتبہ  ملے گا، کافروں نے کہا کہ یہ شخص تو بلاشبہ صریح جادوگر ہے۔

۳.        بلا شبہ تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا کر دیا پھر عرش قائم ہوا  وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے  اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس کے پاس سفارش کرنے والا نہیں  ایسا اللہ تمہارا رب ہے سو تم اس کی عبادت کرو  کیا تم پھر بھی نصیحت نہیں پکڑتے۔

۴.        تم سب کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے، اللہ نے سچا وعدہ کر رکھا ہے، بیشک وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا تاکہ ایسے لوگوں کو جو کہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے انصاف کے ساتھ جزا دے اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے واسطے کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور دردناک عذاب ہو گا ان کے کفر کی وجہ سے۔

۵.        وہ اللہ تعالیٰ  ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا  اور اس کے لئے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کر لیا کرو  اللہ تعالیٰ  نے یہ چیزیں بے فائدہ نہیں پیدا کیں۔ وہ یہ دلائل ان کو صاف صاف بتلا رہا ہے جو دانش رکھتے ہیں۔

۶.        بلا شبہ رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور اللہ تعالیٰ  نے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں ان لوگوں کے واسطے دلائل ہیں جو اللہ کا ڈر رکھتے ہیں۔

۷.        جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا یقین نہیں ہے اور وہ دنیاوی زندگی پر راضی ہو گئے اور اس میں جی لگا بیٹھے ہیں اور جو لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں۔

۸.        ایسے لوگوں کا ٹھکانا ان کے اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے۔

۹.         یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کا رب ان کو ان کے ایمان کے سبب ان کے مقصد تک پہنچا دے گا  نعمت کے باغوں میں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔

۱۰.       ان کے منہ سے یہ بات نکلے گی ‘ سبحان اللہ ‘  اور ان کا باہمی سلام یہ ہو گا ‘ السلام علیکم ‘ اور ان کی اخیر بات یہ ہو گی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہان کا رب ہے۔

۱۱.        اور اگر اللہ لوگوں پر جلدی سے نقصان واقع کر دیا کرتا جس طرح وہ فائدہ کے لئے جلدی مچاتے ہیں تو ان کا وعدہ کبھی سے پورا ہو چکا ہوتا  سو ہم نے ان لوگوں کو جن کو ہمارے پاس آنے کا یقین نہیں ہے ان کے حال پر چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔

۱۲.       اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے لیٹے بھی، بیٹھے بھی، کھڑے بھی۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف اس سے ہٹا دیتے ہیں تو وہ ایسا ہو جاتا ہے کہ گویا اس نے اپنی تکلیف کے لئے جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہیں تھا  ان حد سے گزرنے والوں کے اعمال کو ان کے لئے اس طرح خوش نما بنا دیا گیا ہے۔

۱۳.       اور ہم نے تم سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کر دیا جب کہ انہوں نے ظلم کیا حالانکہ ان کے پاس ان کے پیغمبر بھی دلائل لے کر آئے، اور ایسے کب تھے کہ ایمان لے آتے، ہم مجرموں لوگوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

۱۴.       پھر ان کے بعد ہم نے دنیا میں بجائے ان کے تم کو جانشین کیا  تاکہ ہم دیکھ لیں کہ تم کس طرح کام کرتے ہو۔

۱۵.       اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں  جو بالکل صاف صاف ہیں تو یہ لوگ جن کو ہمارے پاس آنے کی امید نہیں یوں کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن لائیے  یا اس میں کچھ ترمیم کر دیجئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم یوں کہہ دیجئے کہ مجھے یہ حق نہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں ترمیم کر دوں  بس میں تو اس کی پیروی کروں گا جو میرے پاس وحی کے ذریعے پہنچا ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں۔

۱۶.       آپ یوں کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کو منظور ہوتا تو نہ میں تم کو وہ پڑھ کر سناتا اور نہ اللہ تعالیٰ  تم کو اس کی اطلاع  فرماتا، کیونکہ میں اس سے پہلے تو ایک بڑے حصہ عمر تک تم میں رہ چکا ہوں۔ پھر کیا تم عقل نہیں رکھتے۔

۱۷.      سو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتلائے، یقیناً ایسے مجرموں کو اصلاً فلاح نہ ہو گی۔

۱۸.       اور یہ لوگ اللہ کے سوا  ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ ان کو ضرر پہنچا سکیں اور نہ ان کو نفع پہنچا سکیں  اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں  آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ  کو معلوم نہیں، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں  وہ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے۔

۱۹.       اور تمام لوگ ایک ہی امت کے تھے پھر انہوں نے اختلاف پیدا کر لیا  اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے تو جس چیز میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں ان کا قطعی فیصلہ ہو چکا ہوتا۔

۲۰.      اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پر ان کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی؟  سو آپ انہیں فرما دیجئے کہ غیب کی خبر صرف اللہ کو ہے  سو تم بھی منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔

۲۱.       اور جب ہم لوگوں کو اس امر کے بعد کہ ان پر کوئی مصیبت پڑ چکی ہو کسی نعمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں  تو وہ تو فوراً ہی ہماری آیتوں کے بارے میں چالیں چلنے لگتے ہیں  آپ کہہ دیجئے کہ اللہ چال چلنے میں تم سے زیادہ تیز ہے  بالیقین ہمارے فرشتے تمہاری سب چالوں کو لکھ رہے ہیں۔

۲۲.      وہ اللہ ایسا ہے کہ تم کو خشکی اور دریا میں چلاتا ہے  یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعے سے لے کر چلتی ہیں اور وہ لوگ ان سے خوش ہوتے ہیں ان پر ایک جھونکا سخت ہوا کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ (برے) آ گھرے  (اس وقت) سب خالص اعتقاد کر کے اللہ ہی کو پکارتے ہیں  کہ اگر تو ہم کو اس سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزار بن جائیں گے۔

۲۳.      پھر جب اللہ تعالیٰ  ان کو بچا لیتا ہے تو فوراً ہی وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں  اے لوگو! یہ تمہاری سرکشی تمہارے لئے وبال ہونے والی ہے  دنیاوی زندگی کے (چند) فائدے ہیں، پھر ہمارے پاس تم کو آنا ہے پھر ہم سب تمہارا کیا ہوا تم کو بتلا دیں گے۔

۲۴.      پس دنیاوی زندگی کی حالت تو ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کی نباتات، جن کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں، خوب گنجان ہو کر نکلی یہاں تک کہ جب وہ زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب زیبائش ہو گئی اور اس کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ اب ہم اس پر بالکل قابض ہو چکے ہیں تو دن میں یا رات میں اس پر ہماری طرف سے کوئی حکم (عذاب) آ پڑا سو ہم نے اس کو ایسا صاف کر دیا  کہ گویا کل وہ موجود ہی نہ تھی۔ ہم اس طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے جو سوچتے ہیں۔

۲۵.      اور اللہ تعالیٰ  سلامتی کے گھر کی طرف تم کو بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ راست پر چلنے کی توفیق دیتا ہے۔

۲۶.      جن لوگوں نے نیکی کی ہے ان کے واسطے خوبی ہے اور مزید برآں بھی  اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت، یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۲۷.     اور جن لوگوں نے بد کام کئے ان کی بدی کی سزا اس کے برابر ملے گی  اور ان کی ذلت چھائے گی، ان کو اللہ تعالیٰ  سے کوئی نہ بچا سکے گا  گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت کے پرت لپیٹ دیئے گئے ہیں  یہ لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۲۸.      اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس روز ہم ان سب کو جمع کریں گے  پھر مشرکین سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی جگہ ٹھہرو  پھر ہم ان کی آپس میں پھوٹ ڈال دیں گے  اور ان کے وہ شرکا کہیں گے کہ کیا تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے۔ ؟

۲۹.      سو ہمارے تمہارے درمیان اللہ کافی ہے گواہ کے طور پر کہ ہم کو تمہاری عبادت کی خبر بھی نہ تھی۔

۳۰.      اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کئے ہوئے کاموں کی جانچ کر لے گا  اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ جھوٹ باندھا کرتے تھے سب ان سے غائب ہو جائیں گے۔

۳۱.       آپ کہئے کہ وہ کون ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا وہ کون ہے جو کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وہ کون ہے جو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہ کون ہے جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے؟ ضرور وہ یہی کہیں گے کہ ‘ اللہ ‘  تو ان سے کہیئے کہ پھر کیوں نہیں ڈرتے۔

۳۲.      سو یہ ہے اللہ تعالیٰ  جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ پھر حق کے بعد اور کیا رہ گیا بجز گمراہی کے، پھر کہاں پھرے جاتے ہو۔

۳۳.     اسی طرح آپ کے رب کی یہ بات کہ ایمان نہ لائیں گے، تمام فاسق لوگوں کے حق میں ثابت ہو چکی ہے۔

۳۴.     آپ یوں کہیے کہ تمہارے شرکاء میں کوئی ہے جو پہلی بار بھی پیدا کرے، پھر دوبارہ بھی پیدا کرے؟ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا۔ تم کہاں پھرے جاتے ہو؟

۳۵.     آپ کہئے کہ تمہارے شرکاء میں کوئی ایسا ہے کہ حق کا راستہ بتاتا ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی حق کا راستہ بتاتا ہے  تو پھر آیا جو شخص حق کا راستہ بتاتا ہو وہ زیادہ اتباع کے لائق ہے یا وہ شخص جس کو بغیر بتائے خود ہی راستہ نہ سوجھے  پس تم کو کیا ہو گیا ہے کہ تم کیسے فیصلے کرتے ہو۔

۳۶.      اور ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان پر چل رہے ہیں یقیناً گمان، حق (کی معرفت) میں کچھ بھی کام نہیں دے سکتا  یہ جو کچھ کر رہے ہیں یقیناً اللہ کو سب خبر ہے۔

۳۷.     اور یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ اللہ (کی وحی) کے بغیر (اپنے ہی سے) گھڑ لیا گیا ہو۔ بلکہ یہ تو (ان کتابوں کی) تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے قبل نازل ہو چکی ہیں  اور کتاب (احکام ضروریہ) کی تفصیل بیان کرنے والا  اس میں کوئی بات شک کی نہیں  کہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔

۳۸.     کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ آپ نے اس کو گھڑ لیا ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ پھر تم اس کے مثل ایک ہی سورت لاؤ اور جن جن غیر اللہ کو بلا سکو، بلا لو اگر تم سچے ہو

۳۹.      بلکہ ایسی چیز کو جھٹلا نے لگے جس کو اپنے احاطہ، علمی میں نہیں لائے  اور ہنوز ان کو اس کا ہی نتیجہ ملا  جو لوگ ان سے پہلے ہوئے ہیں اسی طرح انہوں نے بھی جھٹلایا تھا، سو دیکھ لیجئے ان ظالموں کا انجام کیا ہوا

۴۰.      اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئیں گے اور بعض ایسے ہیں کہ اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ اور آپ کا رب فساد کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔

۴۱.       اور اگر آپ کو جھٹلاتے رہیں تو یہ کہہ دیجئے کہ میرے لئے میرا عمل اور تمہارے لئے تمہارا عمل، تم میرے عمل سے بری ہو اور میں تمہارے عمل سے بری ہوں۔

۴۲.      اور ان میں بعض ایسے ہیں جو آپ کی طرف کان لگائے بیٹھے ہیں کیا آپ بہروں کو سناتے ہیں گو ان کو سمجھ بھی نہ ہو

۴۳.     اور ان میں بعض ایسے ہیں آپ کو دیکھ رہے ہیں۔ پھر کیا آپ اندھوں کو راستہ دکھلانا چاہتے ہیں گو ان کو بصیرت نہ ہو

۴۴.     یہ یونہی بات ہے کہ اللہ لوگوں پر کچھ ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔

۴۵.     اور ان کو وہ دن یاد دلائیے جس میں اللہ ان کو (اپنے حضور) جمع کرے گا (تو ان کو ایسا محسوس ہو گا) کہ گویا وہ (دنیا میں) سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے  اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچاننے کو ٹھہرے ہوں۔ واقعی خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وہ ہدایت پانے والے نہ تھے۔

۴۶.      اور جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں اس میں کچھ تھوڑا سا اگر ہم آپ کو دکھلا دیں یا (ان کے ظہور سے پہلے) ہم آپ کو وفات دے دیں سو ہمارے پاس تو ان کو آنا ہی ہے۔ پھر اللہ ان کے سب افعال پر گواہ ہے۔

۴۷.     اور ہر امت کے لئے ایک رسول ہے، سو جب ان کا وہ رسول آ چکتا ہے ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا۔

۴۸.     اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہو گا؟ اگر تم سچے ہو۔

۴۹.      آپ فرما دیجئے کہ میں اپنی ذات کے لئے تو کسی نفع کا اور کسی ضرر کا اختیار رکھتا ہی نہیں مگر جتنا اللہ کو منظور ہو، ہر امت کے لئے ایک معین وقت ہے جب ان کا وہ معین وقت آ پہنچتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ اگے سرک سکتے ہیں۔

۵۰.      آپ فرما دیجئے کہ یہ تو بتلاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب رات کو آ پڑے یا دن کو تو عذاب میں کونسی چیز ایسی ہے کہ مجرم لوگ اس کو جلدی مانگ رہے ہیں

۵۱.       کیا پھر جب وہ آ ہی پڑے گا اس پر ایمان لاؤ گے۔ ہاں اب مانا!  حالانکہ تم جلدی مچایا کرتے تھے۔

۵۲.      پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ ہمیشہ کا عذاب چکھو۔ تم کو تو تمہارے کئے کا ہی بدلہ ملا ہے۔

۵۳.     اور وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کیا عذاب واقعی سچ ہے؟  آپ فرما دیجئے کہ ہاں قسم ہے میرے رب کی وہ واقعی سچ ہے اور تم کسی طرح اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔

۵۴.     اور اگر ہر جان، جس نے ظلم (شرک) کیا ہے، کے پاس اتنا ہو کہ ساری زمین بھر جائے تب بھی اس کو دے کر اپنی جان بچا نے لگے  اور جب عذاب کو دیکھیں گے تو پشیمانی کو پوشیدہ رکھیں گے۔ اور ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ ہو گا۔ اور ان پر ظلم نہ ہو گا۔

۵۵.     یاد رکھو کہ جتنی چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں سب اللہ ہی کی ملک ہیں۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ  کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن بہت سے آدمی علم نہیں رکھتے۔

۵۶.      وہی جان ڈالتا ہے وہی جان نکالتا ہے اور تم سب اسی کے پاس لائے جاؤ گے۔۔

۵۷.     اے لوگوں! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک ایسی چیز آئی ہے جو نصیحت ہے  اور دلوں میں جو روگ ہیں ان کے لئے شفا ہے  اور رہنمائی کرنے والی ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے۔

۵۸.     آپ کہہ دیجئے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہیے  وہ اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں۔

۵۹.      آپ کہیے یہ تو بتاؤ کہ اللہ نے تمہارے لئے جو کچھ رزق بھیجا تھا پھر تم نے اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حلال قرار دے لیا۔ آپ پوچھئے کہ کیا تم کو اللہ نے حکم دیا تھا یا اللہ پر بہتان ہی کرتے ہو۔

۶۰.      اور جو لوگ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا قیامت کی نسبت کیا گمان ہے  واقعی لوگوں پر اللہ تعالیٰ  کا بڑا ہی فضل ہے  لیکن اکثر آدمی شکر نہیں کرتے۔

۶۱.       اور آپ کسی حال میں ہوں آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو اور آپ کے رب سے کوئی چیز ذرہ برابر بھی غائب نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی اور نہ کوئی چیز بڑی مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے

۶۲.      یاد رکھو کے اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں

۶۳.      یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (برائیوں سے) پرہیز رکھتے ہیں۔

۶۴.      ان کے لئے دنیاوی زندگی میں بھی  اور آخرت میں بھی خوشخبری ہے اللہ تعالیٰ  کی باتوں میں کچھ فرق ہوا نہیں کرتا۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

۶۵.      آپ کو ان کی باتیں غم میں نہ ڈالیں تمام تر غلبہ اللہ ہی کے لئے ہے وہ سنتا اور جانتا ہے۔

۶۶.      یا رکھو جتنے کچھ آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں یہ سب اللہ ہی کے ہیں اور جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے شرکاء کی عبادت کر رہے ہیں کس چیز کی پیروی کر رہے ہیں اور محض اٹکلیں لگا رہے ہیں۔

۶۷.     وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن بھی اس طور بنایا کہ دیکھنے بھالنے کا ذریعہ، تحقیق اس میں دلائل ہیں ان لوگوں کے لئے جو سنتے ہیں۔

۶۸.      وہ کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے۔ سبحان اللہ! وہ تو کسی کا محتاج نہیں  اس کی ملکیت ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔  تمہارے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں۔ کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے۔

۶۹.      آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹ افترا کرتے ہیں  وہ کامیاب نہ ہوں گے۔

۷۰.     یہ دنیا میں تھوڑا سی عیش ہے پھر ہمارے پاس ان کو آنا ہے پھر ہم ان کو ان کے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھائیں گے۔

۷۱.      اور آپ ان کو نوح (علیہ السلام) کا قصہ پڑھ کر سنائیے جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر تم کو میرا رہنا اور احکام الٰہی کی نصیحت کرنا بھاری معلوم ہوتا ہے تو میرا اللہ پر ہی بھروسہ ہے تم اپنی تدبیر مع اپنے شرکا کے پختہ کر لو  پھر تمہاری تدبیر تمہاری گھٹن کا باعث نہ ہونی چاہے  پھر میرے ساتھ کر گزرو اور مجھ کو مہلت نہ دو۔

۷۲.     پھر بھی اگر تم اعراض ہی کئے جاؤ تو میں نے تم سے کوئی معاوضہ تو نہیں مانگا  میرا معاوضہ تو صرف اللہ ہی کے ذمہ ہے اور مجھ کو حکم کیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے رہوں۔

۷۳.     سو وہ لوگ ان کو جھٹلاتے رہے  پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے ان کو نجات دی اور ان کو جانشین بنایا  اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کر دیا۔ سو دیکھنا چاہیے کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ڈرائے جا چکے تھے۔

۷۴.     پھر نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے اور رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا سو وہ ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے  پس جس چیز کو انہوں نے اول میں جھوٹا کہہ دیا یہ نہ ہوا کہ پھر اس کو مان لیتے  اللہ تعالیٰ  اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کے دلوں پر بند لگا دیتا ہے۔

۷۵.     پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہا السلام) کو  فرعون اور ان کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا  سو انہوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ مجرم قوم تھے۔

۷۶.     پھر جب ان کو ہمارے پاس سے صحیح دلیل پہنچی تو وہ لوگ کہنے لگے کہ یقیناً یہ صریح جادو ہے۔

۷۷.     موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا تم اس صحیح دلیل کی نسبت جب کہ تمہارے پاس پہنچی ایسی بات کہتے ہو کیا یہ جادو ہے، حالانکہ جادوگر کامیاب نہیں ہوا کرتے

۷۸.     وہ لوگ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم کو اس طریقہ سے ہٹا دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اور تم دونوں کو دنیا میں بڑائی مل جائے  اور ہم تم دونوں کو کبھی نہ مانیں گے۔

۷۹.      اور فرعون نے کہا میرے پاس تمام ماہر جادوگروں کو حاضر کرو۔

۸۰.      پھر جب جادوگر آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ ڈالو جو کچھ تم ڈالنے والے ہو۔

۸۱.       سو جب انہوں نے ڈالا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ جو کچھ تم لائے ہو جادو ہے۔ یقینی بات ہے کہ اللہ اس کو بھی درہم برہم کئے دیتا ہے  اللہ ایسے فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا

۸۲.      اور اللہ تعالیٰ  حق کو اپنے فرمان سے  ثابت کر دیتا ہے گو مجرم کیسا ہی ناگوار سمجھیں۔

۸۳.     پس موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے  وہ بھی فرعوں سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں ان کو تکلیف پہنچائے  اور واقع میں فرعون اس ملک میں زور رکھتا تھا، اور یہ بھی بات تھی کہ وہ حد سے باہر ہو جاتا تھا۔

۸۴.     اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔

۸۵.     انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا، اے ہمارے پروردگار! ہم کو ان ظالموں کیلئے فتنہ نہ بنا۔

۸۶.      اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے

۸۷.     اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے پاس وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنے ان لوگوں کے لئے مصر میں گھر برقرار رکھو اور تم سب اپنے انہی گھروں کو نماز پڑھنے کی جگہ قرار دے لو  اور نماز کے پابند رہو اور آپ مسلمانوں کو بشارت دے دیں۔

۸۸.     اور موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے ہمارے رب! تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو سامان زینت اور طرح طرح کے مال دنیاوی زندگی میں دیئے اے ہمارے رب! (اسی واسطے دیئے ہیں کہ) وہ تیری راہ سے گمراہ کریں۔ اے ہمارے رب! انکے مالوں کو نیست و نابود کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے  سو یہ ایمان نہ لانے پائیں یہاں تک کہ دردناک عذاب کو دیکھ لیں

۸۹.      حق تعالیٰ  نے فرمایا کہ تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی، سو تم ثابت قدم رہو  اور ان لوگوں کی راہ نہ چلنا جن کو علم نہیں۔

۹۰.      ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کر دیا  پھر ان کے پیچھے پیچھے فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے ارادہ سے چلا یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا  تو کہنے لگا میں ایمان لاتا ہوں کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔

۹۱.       (جواب دیا گیا کہ) اب ایمان لاتا ہے؟ اور پہلے سرکشی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل رہا۔

۹۲.      سو آج ہم تیری لاش کو نجات دیں گے تاکہ تو ان کے لئے نشان عبرت جو تیرے بعد ہیں  اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آدمی ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔

۹۳.      اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا رہنے کو دیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں۔ سو انہوں نے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم پہنچ گیا  یقینی بات ہے کہ آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان امور میں فیصلہ کرے گا جن پر وہ اختلاف کرتے تھے۔

۹۴.      پھر اگر آپ اس کی طرف سے شک میں ہوں جس کو ہم نے آپ کے پاس بھیجا ہے تو آپ ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو آپ سے پہلی کتابوں کو پڑھتے ہیں، بیشک آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے سچی کتاب آئی ہے۔ آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔

۹۵.      اور نہ ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اللہ تعالیٰ  کی آیتوں کو جھٹلایا، کہیں آپ خسارہ پانے والوں میں سے نہ ہو جائیں

۹۶.      یقیناً جن لوگوں کے حق میں آپ کے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے۔

۹۷.      گو ان کے پاس تمام نشانیاں پہنچ جائیں جب تک وہ دردناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔

۹۸.      چنانچہ کوئی بستی ایمان نہ لائی کہ ایمان لانا اس کو نافع ہوتا سوائے یونس (علیہ السلام) کی قوم کے  جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے رسوائی کے عذاب کو دنیاوی زندگی میں ان پر سے ٹال دیا اور ان کو ایک وقت (خاص) تک کے لئے زندگی سے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا۔

۹۹.       اور اگر آپ کا رب چاہتا تمام روئے زمین کے لوگ سب کے سب ایمان لے آتے  تو کیا آپ لوگوں پر زبردستی کر سکتے ہیں یہاں تک کہ وہ مومن ہی ہو جائیں۔

۱۰۰.     حالانکہ کسی شخص کا ایمان لانا اللہ کے حکم کے بغیر ممکن نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ  بے عقل لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے

۱۰۱.     آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائدہ نہیں پہنچاتیں۔

۱۰۲.     سو وہ لوگ صرف ان لوگوں کے سے واقعات کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اچھا تو تم انتظار میں رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔

۱۰۳.    پھر ہم اپنے پیغمبروں کو اور ایمان والوں کو بچا لیتے تھے، اسی طرح ہمارے ذمہ ہے کہ ہم ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔

۱۰۴.    آپ کہہ دیجئے  کہ اے لوگو! اگر تم میرے دین کی طرف سے شک میں ہو تو میں ان معبودوں کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو  لیکن ہاں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان قبض کرتا ہے  اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے رہوں۔

۱۰۵.    اور یہ کہ اپنا رخ یکسو ہو کر (اس) دین کی طرف کر لینا  اور کبھی مشرکوں میں سے نہ ہونا۔

۱۰۶.     اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے، پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔

۱۰۷.    اور اگر اللہ تم کو کوئی تکلیف پہنچائے تو بجز اس کے اور کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تم کو کوئی خیر پہنچانا چاہیے تو اس کے فضل کا کوئی ہٹانے والا نہیں  وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نچھاور کر دے اور وہ بڑی مغفرت بڑی رحمت والا ہے۔

۱۰۸.    آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! تمہارے پاس حق تمہارے رب کی طرف سے پہنچ چکا ہے  اس لئے جو شخص راہ راست پر آ جائے سو وہ اپنے واسطے راہ راست پر آئے گا  اور جو شخص بے راہ رہے گا تو اس کا بے راہ ہونا اسی پر پڑے گا  اور میں تم پر مسلط نہیں کیا گیا۔

۱۰۹.     اور آپ اس کی پیروی کرتے رہیے جو کچھ آپ کے پاس وحی بھیجی جاتی ہے اور صبر کیجئے یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں میں اچھا ہے۔

 

۱۱۔ ہود

۱.         الر، یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں محکم کی گئی ہیں  پھر صاف صاف بیان کی گئی ہیں  ایک حکیم باخبر کی طرف سے

۲.        یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو میں تم کو اللہ کی طرف سے ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں۔

۳.        اور یہ کہ تم لوگ اپنے گناہ اپنے رب سے معاف کراؤ پھر اس کی طرف متوجہ رہو، وہ تم کو وقت مقرر تک اچھا سامان  (زندگی) دے گا اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ ثواب دے گا۔ اور اگر تم لوگ جھٹلاتے رہے تو مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے دن  کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

۴.        تم کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے اور وہ ہر شے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

۵.        یاد رکھو وہ لوگ اپنے سینوں کو دوہرا کئے دیتے ہیں تاکہ اپنی باتیں (اللہ) سے چھپا سکیں  یاد رکھو کہ وہ لوگ جس وقت اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں وہ اس وقت بھی سب جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔ بالیقین وہ دلوں کے اندر کی باتیں جانتا ہے۔

۶.        زمین پر چلنے پھرنے والے جتنے جاندار ہیں سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ  پر ہیں  وہی ان کے رہنے سہنے کی جگہ کو جانتا ہے اور ان کے سونپے جانے  کی جگہ کو بھی، سب کچھ واضح کتاب میں موجود ہے۔

۷.        اللہ ہی وہ ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا  تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے،  اگر آپ ان سے کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد اٹھا کھڑے کئے جاؤ گے تو کافر لوگ پلٹ کر جواب دیں گے یہ تو نرا صاف صاف جادو ہی ہے۔

۸.        اور اگر ہم ان سے عذاب کو گنی چنی مدت تک کے لئے پیچھے ڈال دیں تو یہ ضرور پکار اٹھیں گے کہ عذاب کو کون سی چیز روکے ہوئے ہے، سنو! جس دن وہ ان کے پاس آئے گا پھر ان سے ٹلنے والا نہیں پھر تو جس چیز کی ہنسی اڑا رہے تھے وہ انہیں گھیر لے گی

۹.         اگر ہم انسان کو اپنی کسی نعمت کا ذائقہ چکھا کر پھر اسے اس سے لے لیں تو وہ بہت ہی ناامید اور بڑا نا شکرا بن جاتا ہے

۱۰.       اور اگر ہم اسے کوئی مزہ چکھائیں اس سختی کے بعد جو اسے پہنچ چکی تھی تو وہ کہنے لگتا ہے کہ بس برائیاں مجھ سے جاتی رہیں  یقیناً وہ بڑا اترانے والا شیخی خور ہے

۱۱.        سوائے ان کے جو صبر کرتے ہیں اور نیک کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ انہیں لوگوں کے لئے بخشش بھی ہے اور بہت بڑا بدلہ بھی۔

۱۲.       پس شاید کہ آپ اس وحی کے کسی حصے کو چھوڑ دینے والے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی جاتی ہے اور اس سے آپ کا دل تنگ ہے، صرف ان کی اس بات پر کہ اس پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترا؟ یا اس کے ساتھ فرشتہ ہی آتا، سن لیجئے! آپ تو صرف ڈرانے والے ہی ہیں  اور ہر چیز کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ  ہے۔

۱۳.       کیا یہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کو اسی نے گھڑا ہے۔ جواب دیجئے کہ پھر تم بھی اسی کے مثل دس سورتیں گھڑی ہوئی لے آؤ اور اللہ کے سوا جسے چاہو اپنے ساتھ بلا بھی لو اگر تم سچے ہو۔

۱۴.       پھر اگر وہ تمہاری بات کو قبول نہ کریں تو تم یقین سے جان لو کہ یہ قرآن اللہ کے علم کے ساتھ اتارا گیا ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پس کیا تم مسلمان ہوتے ہو

۱۵.       جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا چاہتا ہو ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) یہیں بھرپور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔

۱۶.       ہاں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہو گا وہاں سب اکارت ہے اور جو کچھ اعمال تھے سب برباد ہونے والے ہیں

۱۷.      کیا وہ شخص جو اپنے رب کے پاس کی دلیل پر ہو اور اس کے ساتھ اللہ کی طرف کا گواہ ہو اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (گواہ ہو) جو پیشوا و رحمت ہے (اوروں کے برابر ہو سکتا ہے)  یہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں  اور تمام فرقوں میں سے جو بھی اس کا منکر ہو اس کے آخری وعدے کی جگہ جہنم  ہے پس تو اس میں کسی قسم کے شبہ میں نہ رہنا، یقیناً یہ تیرے رب کی جانب سے سراسر حق ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان والے نہیں ہوتے۔

۱۸.       اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے  یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور سارے گواہ کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا، خبردار ہو کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر۔

۱۹.       جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کر لیتے ہیں  یہی آخرت کے منکر ہیں۔

۲۰.      نہ یہ لوگ دنیا میں اللہ کو ہرا سکے اور نہ ان کا کوئی حمایتی اللہ کے سوا ہوا، ان کے لئے عذاب دگنا کیا جائے گا نہ یہ سننے کی طاقت رکھتے تھے اور نہ دیکھتے ہی تھے۔

۲۱.       یہی ہیں جنہوں نے اپنا نقصان آپ کر لیا اور وہ سب کچھ ان سے کھو گیا، جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔

۲۲.      بیشک یہ لوگ آخرت میں زیاں کار ہوں گے۔

۲۳.      یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کئے اور اپنے پالنے والے کی طرف جھکتے رہے، وہی جنت میں جانے والے ہیں، جہاں وہ ہمیشہ ہی رہنے والے ہیں۔

۲۴.      ان دونوں فرقوں کی مثال اندھے، بہرے اور دیکھنے، سننے والے جیسی ہے  کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہیں؟ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔

۲۵.      یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا کہ میں تمہیں صاف صاف ہوشیار کر دینے والا ہوں۔

۲۶.      کہ تم صرف اللہ ہی کی عبادت کرو  مجھے تو تم پر دردناک دن کے عذاب کا خوف ہے۔

۲۷.     اس کی قوم کے کافروں کے سرداروں نے جواب دیا کہ ہم تو تجھے اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں  اور تیرے تابعداروں کو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ واضح طور پر سوائے نیچ  لوگوں کے  اور کوئی نہیں جو بے سوچے سمجھے (تمہاری پیروی کر رہے ہیں) ہم تو تمہاری کسی قسم کی برتری اپنے اوپر نہیں دیکھ رہے، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھ رہے ہیں۔

۲۸.      نوح نے کہا میری قوم والو! مجھے بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوا اور مجھے اس نے اپنے پاس کی کوئی رحمت عطا کی ہو  پھر وہ تمہاری نگاہوں میں  نہ آئی تو کیا یہ زبردستی میں اسے تمہارے گلے منڈھ دوں حالانکہ تم اس سے بیزار ہو۔

۲۹.      میری قوم والو! میں تم سے اس پر کوئی مال نہیں مانگتا  میرا ثواب تو صرف اللہ تعالیٰ  کے ہاں ہے نہ میں ایمان داروں کو اپنے پاس سے نکال سکتا ہوں  انہیں اپنے رب سے ملنا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت کر رہے ہو۔

۳۰.      میری قوم کے لوگو! اگر میں ان مومنوں کو اپنے پاس سے نکال دوں تو اللہ کے مقابلے میں میری مدد کون کر سکتا ہے  کیا تم کچھ بھی نصیحت نہیں پکڑتے۔

۳۱.       میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، میں غیب کا علم بھی نہیں رکھتا، نہ یہ میں کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، نہ میرا یہ قول ہے کہ جن پر تمہاری نگاہیں ذلت سے پڑ رہی ہیں انہیں اللہ تعالیٰ  کوئی نعمت دے گا ہی نہیں  ان کے دل میں جو ہے اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے، اگر میں ایسی بات کہوں تو یقیناً میرا شمار ظالموں میں ہو جائے گا۔

۳۲.      (قوم کے لوگوں نے) کہا اے نوح! تو نے ہم سے بحث کر لی اور خوب بحث کر لی  اب تو جس چیز سے ہمیں دھمکا رہا ہے وہی ہمارے پاس لے آ اگر تو سچوں میں ہے۔

۳۳.     جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالیٰ  ہی لائے گا اگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔

۳۴.     تمہیں میری خیر خواہی کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی، گو میں کتنی ہی تمہاری خیر خواہی کیوں نہ چاہوں، بشرطیکہ اللہ کا ارادہ تمہیں گمراہ کرنے کا ہو  وہی تم سب کا پروردگار ہے  اور اسی کی طرف لوٹ جاؤ گے۔

۳۵.     کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے خود اسی نے گھڑ لیا ہے؟ تو جواب دے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہو تو میرا گناہ مجھ پر ہے اور میں ان گناہوں سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو

۳۶.      نوح کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لا چکے ان کے سوا اور کوئی اب ایمان لائے گا ہی نہیں، پس تو ان کے کاموں پر غمگین نہ ہو۔

۳۷.     اور کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے تیار کر  اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر وہ پانی میں ڈبو دیئے جانے والے ہیں

۳۸.     وہ (نوح) کشتی بنانے لگے ان کی قوم کے جو سردار ان کے پاس سے گزرے وہ ان کا مذاق اڑاتے  وہ کہتے اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی تم پر ایک دن ہنسیں گے جیسے تم ہم پر ہنستے ہو۔

۳۹.      تمہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے اور اس پر ہمیشگی کی سزا  اتر آئے۔

۴۰.      یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ پہنچا اور تنور ابلنے لگا  ہم نے کہا کہ کشتی میں ہر قسم کے (جانداروں میں سے) جوڑے (یعنی) دو (جانور، ایک نر اور ایک مادہ) سوار کرا لے  اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی، سوائے ان کے جن پر پہلے سے بات پڑ چکی  اور سب ایمان والوں کو بھی  اس کے ساتھ ایمان لانے والے بہت ہی کم تھے۔

۴۱.       نوح نے کہا اس کشتی میں بیٹھ جاؤ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے،  یقیناً میرا رب بڑی بخشش اور بڑے رحم والا ہے۔

۴۲.      وہ کشتی انہیں پہاڑوں جیسی موجوں میں لے کر جا رہی تھی  اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے لڑکے کو جو ایک کنارے پر تھا، پکار کر کہا کہ اے میرے پیارے بچے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ رہ۔

۴۳.     اس نے جواب دیا کہ میں تو کسی بڑے پہاڑ کی طرف پناہ میں آ جاؤں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا  نوح نے کہا آج اللہ کے امر سے بچانے والا کوئی نہیں، صرف وہی بچیں گے جن پر اللہ کا رحم ہوا۔ اسی وقت ان دونوں کے درمیان موج حائل ہو گئی اور وہ ڈوبنے والوں میں سے ہو گیا۔

۴۴.     فرما دیا گیا کہ اے زمین اپنے پانی کو نگل جا  اور اے آسمان بس کر تھم جا، اسی وقت پانی سکھا دیا گیا اور کام پورا کر دیا گیا  اور کشتی ‘ جودی ‘ نامی  پہاڑ پر جا لگی اور فرما دیا گیا کہ ظالم لوگوں پر لعنت نازل ہو۔

۴۵.     نوح نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا میرے رب میرا بیٹا تو میرے گھر والوں میں سے ہے، یقیناً تیرا وعدہ بالکل سچا ہے اور تو تمام حاکموں سے بہتر حاکم ہے۔

۴۶.      اللہ تعالیٰ  نے فرمایا اے نوح یقیناً وہ تیرے گھرانے سے نہیں ہے  اس کے کام بالکل ہی ناشائستہ ہیں  تجھے ہرگز وہ چیز نہ مانگنی چاہیے جس کا تجھے مطلقاً علم نہ ہو  میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے اپنا شمار کرانے سے باز رہے۔

۴۷.     نوح نے کہا میرے پالنہار میں تیری ہی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے وہ مانگوں جس کا مجھے علم ہی نہ ہو اگر تو مجھے نہ بخشے گا اور تو مجھ پر رحم نہ فرمائے گا، تو میں خسارہ پانے والوں میں ہو جاؤں گا۔

۴۸.     فر ما دیا گیا کہ اے نوح! ہماری جانب سے سلامتی اور ان برکتوں کے ساتھ اتر،  جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کی بہت سی جماعتوں پر  اور بہت سی وہ امتیں ہوں گی جنہیں ہم فائدہ تو ضرور پہنچائیں گے لیکن پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔

۴۹.      یہ خبریں غیب کی خبروں میں سے ہیں جن کی وحی ہم آپ کی طرف کرتے ہیں انہیں اس سے پہلے آپ جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم  اس لئے کہ آپ صبر کرتے رہیئے (یقین مانیئے) کہ انجام کار پرہیزگاروں کے لئے ہے۔

۵۰.      اور قوم عاد کی طرف سے ان کے بھائی ہود کو ہم  نے بھیجا، اس نے کہا میری قوم والو! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تم صرف بہتان باندھ رہے ہو۔

۵۱.       اے میری قوم! میں تم سے اس کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا تو کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے۔

۵۲.      اے میری قوم کے لوگو! تم اپنے پالنے والے سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو اور اس کی جناب میں توبہ کرو، تاکہ وہ برسنے والے بادل تم پر بھیج دے اور تمہاری طاقت پر اور طاقت قوت بڑھا دے  تم جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو۔

۵۳.     انہوں نے کہا اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی دلیل تو لایا نہیں اور ہم صرف تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تجھ پر ایمان لانے والے ہیں

۵۴.     بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود کے بڑے جھپٹے میں آ گیا ہے  اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں اللہ کے سوا ان سب سے بیزار ہوں، جنہیں تم شریک بنا رہے ہو۔

۵۵.     اچھا تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو مجھے بالکل مہلت بھی نہ دو۔

۵۶.      میرا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ  پر ہے جو میرا اور تم سب کا پروردگار ہے جتنے بھی پاؤں دھرنے والے ہیں سب کی پیشانی وہی تھامے ہوئے ہے  یقیناً میرا رب بالکل صحیح راہ پر ہے۔

۵۷.     پس اگر تم روگردانی کرو تو کرو میں تمہیں وہ پیغام پہنچا چکا جو دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا  تھا، میرا رب تمہارے قائم مقام اور لوگوں کو کر دے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکو گے  یقیناً میرا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے

۵۸.     اور جب ہمارا حکم آ پہنچا تو ہم نے ہود کو اور اس کے مسلمان ساتھیوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات عطا فرمائی اور ہم نے ان سب کو سخت عذاب سے بچا لیا

۵۹.      یہ تھی قوم عاد، جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی  نافرمانی کی اور ہر ایک سرکش نافرمان کے حکم کی تابعداری کی۔

۶۰.      دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی  دیکھ لو قوم عاد نے اپنے رب سے کفر کیا، ہود کی قوم عاد پر دوری ہو۔

۶۱.       اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا  اس نے کہا کہ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں  اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا  اور اسی نے اس زمین میں تمہیں بسایا ہے  پس تم اس سے معافی طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ بیشک میرا رب قریب اور دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے۔

۶۲.      انہوں نے کہا اے صالح! اس سے پہلے تو ہم تجھ سے بہت کچھ امیدیں لگائے ہوئے تھے، کیا تو ہمیں ان کی عبادت سے روک رہا ہے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے، ہمیں تو اس دین میں حیران کن شک ہے جس کی طرف تو ہمیں بلا رہا ہے۔

۶۳.      اس نے جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو! ذرا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی مضبوط  دلیل پر ہوا اور اس نے مجھے اپنے پاس کی رحمت عطا کی ہو پھر اگر میں نے اس کی نافرمانی کر دی  تو کون ہے جو اس کے مقابلے میں میری مدد کرے؟ تم تو میرا نقصان ہی بڑھا رہے ہو۔

۶۴.      اور اے میری قوم والو! اللہ کی بھیجی ہوئی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک معجزہ ہے اب تم اسے اللہ کی زمین میں کھاتی ہوئی چھوڑ دو اور اسے کسی طرح کی ایذا نہ پہنچاؤ ورنہ فوری عذاب تمہیں پکڑ لے گا

۶۵.      پھر بھی لوگوں نے اس اونٹنی کے پاؤں کاٹ ڈالے، اس پر صالح نے کہا کہ اچھا تم اپنے گھروں میں تین تین دن تو رہ لو، یہ وعدہ جھوٹا نہیں

۶۶.      پھر جب ہمارا فرمان آ پہنچا  ہم نے صالح کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت سے اسے بھی بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی، یقیناً تیرا رب نہایت توانا اور غالب ہے۔

۶۷.     اور ظالموں کو بڑے زور کی چنگھاڑ نے آ دبوچا  پھر وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے

۶۸.      ایسے کہ گویا وہ وہاں کبھی آباد ہی نہ تھے  آگاہ رہو کہ قوم ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سن لو ان ثمودیوں پر پھٹکار ہے۔

۶۹.      اور ہمارے بھیجے ہوئے پیغمبر ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر پہنچے  اور سلام کہا  انہوں نے بھی جواب میں سلام دیا  اور بغیر کسی تاخیر کے بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت لے آئے

۷۰.     اب جو دیکھا کہ ان کے تو ہاتھ بھی اس کی طرف نہیں پہنچ رہے تو ان سے اجنبیت محسوس کر کے دل ہی دل میں ان سے خوف کرنے لگے  انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے ہوئے آئے ہیں۔

۷۱.      اس کی بیوی کھڑی ہوئی تھی وہ ہنس پڑی  تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی خوشخبری دی۔

۷۲.     وہ کہنے لگی ہائے میری کم بختی! میرے ہاں اولاد کیسے ہو سکتی ہے میں خود بڑھیا اور یہ میرے خاوند بھی بہت بڑی عمر کے ہیں یہ یقیناً بڑی عجیب بات ہے۔

۷۳.     فرشتوں نے کہا کیا تو اللہ کی قدرت سے تعجب کر رہی  ہے؟ تم پر اے اس گھر کے لوگوں اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں  بیشک اللہ حمد و ثنا کا سزاوار اور بڑی شان والا ہے۔

۷۴.     جب ابراہیم کا ڈر خوف جاتا رہا اور اسے بشارت بھی پہنچ چکی تو ہم سے قوم لوط کے بارے میں کہنے سننے لگے

۷۵.     یقیناً ابراہیم بہت تحمل والے نرم دل اور اللہ کی جانب جھکنے والے تھے۔

۷۶.     اے ابراہیم! اس خیال کو چھوڑ دیجئے، آپ کے رب کا حکم آ پہنچا ہے، اور ان پر نہ ٹالے جانے والا عذاب ضرور آنے والا ہے

۷۷.     جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے بہت غمگین ہو گئے اور دل ہی دل میں کڑھنے لگے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بڑی مصیبت کا دن ہے

۷۸.     اور اس کی قوم دوڑتی ہوئی اس کے پاس آ پہنچی، وہ تو پہلے ہی سے بدکاریوں میں مبتلا تھی  لوط نے کہا اے قوم کے لوگو! یہ میری بیٹیاں جو تمہارے لئے بہت ہی پاکیزہ ہیں  اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں۔

۷۹.      انہوں نے جواب دیا کہ تو بخوبی جانتا ہے کہ ہمیں تو تیری بیٹیوں پر کوئی حق نہیں ہے اور تو اصلی چاہت سے بخوبی واقف ہے

۸۰.      لوط نے کہا کاش مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا اسرا پکڑ پاتا۔

۸۱.       اب فرشتوں نے کہا اے لوط! ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں ناممکن ہے کہ یہ تجھ تک پہنچ جائیں پس تو اپنے گھر والوں کو لے کر کچھ رات رہے نکل کھڑا ہو۔ تم میں سے کسی کو مڑ کر بھی نہ دیکھنا چاہیئے، بجز تیری بیوی کے، اس لئے کہ اسے بھی وہی پہنچنے والا ہے جو ان سب کو پہنچے گا یقیناً ان کے وعدے کا وقت صبح کا ہے، کیا صبح بالکل قریب نہیں

۸۲.      “پھر جب ہمارا حکم آ پہنچا، ہم نے اس بستی کو زیر زبر کر دیا اوپر کا حصہ نیچے کر دیا اور ان پر کنکریلے پتھر برسائے جو تہ بہ تہ تھے۔ “

۸۳.     تیرے رب کی طرف سے نشان دار تھے اور وہ ان ظالموں سے کچھ بھی دور نہ تھے

۸۴.     اور ہم نے مدین والوں  کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور تم ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو  میں تمہیں آسودا حال دیکھ رہا ہوں  اور مجھے تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب کا خوف (بھی) ہے۔

۸۵.     اے میری قوم! ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کرو لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو  اور زمین میں فساد اور خرابی نہ مچاؤ۔

۸۶.      اللہ تعالیٰ  کا حلال کیا ہوا جو بچ رہے تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو  میں تم پر کچھ نگہبان (اور دروغہ) نہیں ہوں۔

۸۷.     “انہوں نے جواب دیا کہ اے شعیب! کیا تیری صلاۃ  تجھے یہی حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور ہم اپنے مالوں میں جو کچھ چاہیں اس کا کرنا بھی چھوڑ دیں  تو تو بڑا ہی با وقار اور نیک چلن آدمی ہے۔ “

۸۸.     کہا اے میری قوم! دیکھو تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل لئے ہوئے ہوں اور اس نے مجھے اپنے پاس سے بہترین روزی دے رکھی ہے  میرا یہ ارادہ بالکل نہیں کہ تمہارے خلاف کر کے خود اس چیز کی طرف جھک جاؤں جس سے تمہیں روک رہا ہوں  میرا ارادہ تو اپنی طاقت بھر اصلاح کرنے کا ہی ہے  میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے  اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔

۸۹.      اور اے میری قوم (کے لوگو!) کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو میری مخالفت ان عذابوں کا مستحق بنا دے جو قوم نوح اور قوم ہود اور قوم صالح کو پہنچے ہیں۔ اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور نہیں

۹۰.      تم اپنے رب سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو، یقین مانو کہ میرا رب بڑی مہربانی والا اور بہت محبت کرنے والا ہے۔

۹۱.       انہوں نے کہا اے شعیب! تیری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتیں  اور ہم تجھے اپنے اندر بہت کمزور پاتے ہیں  اگر تیرے قبیلے کا خیال نہ ہوتا تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے  اور ہم تجھے کوئی حیثیت والی ہستی نہیں گنتے۔

۹۲.      انہوں نے جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو! کیا تمہارے نزدیک میرے قبیلے کے لوگ اللہ سے بھی زیادہ ذی عزت ہیں کہ تم نے اسے پس پشت ڈال  دیا ہے یقیناً میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو سب کو گھیرے ہوئے ہے۔

۹۳.      اے میری قوم کے لوگو! اب تم اپنی جگہ عمل کیئے جاؤ میں بھی عمل کر رہا ہوں، تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ کس کے پاس وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے اور کون ہے جو جھوٹا ہے تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔

۹۴.      جب ہمارا حکم (عذاب) آ پہنچا ہم نے شعیب کو اور ان کے ساتھ (تمام) مومنوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات بخشی اور ظالموں کو سخت چنگھاڑ کے عذاب نے دھر دبوچا  جس سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے ہو گئے۔

۹۵.      گویا کہ وہ ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے، آگاہ رہو مدین کے لئے بھی ویسی ہی دوری  ہو جیسی دوری ثمود کو ہوئی۔

۹۶.      اور یقیناً ہم نے ہی موسیٰ کو اپنی آیات اور روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا تھا

۹۷.      فرعون اور اس کے سرداروں  کی طرف، پھر بھی ان لوگوں نے فرعون کے احکام کی پیروی کی اور فرعون کا کوئی حکم درست تھا ہی نہیں۔

۹۸.      وہ قیامت کے دن اپنی قوم کا پیش رو ہو کر ان سب کو دوزخ میں جا کھڑا کرے گا  وہ بہت ہی برا گھاٹ  ہے جس پر لا کھڑے کیے جائیں گے۔

۹۹.       ان پر اس دنیا میں بھی لعنت چپکا دی گئی اور قیامت کے دن بھی  برا انعام ہے جو دیا گیا۔

۱۰۰.     بستیوں کی یہ بعض خبریں جنہیں ہم تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں ان میں سے بعض تو موجود ہیں اور بعض (کی فصلیں) کٹ گئی ہیں۔

۱۰۱.     ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا  بلکہ خود انہوں نے ہی اپنے اوپر ظلم کیا  اور انہیں ان کے معبودوں نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے، جب کہ تیرے پروردگار کا حکم آ پہنچا، بلکہ اور ان کا نقصان ہی انہوں نے بڑھایا

۱۰۲.     تیرے پروردگار کی پکڑ کا یہی طریقہ ہے جب کہ وہ بستیوں کے رہنے والے ظالموں کو پکڑتا ہے بیشک اس کی پکڑ دکھ دینے والی اور نہایت  سخت ہے۔

۱۰۳.    یقیناً اس میں  ان لوگوں کے لئے نشان عبرت ہے جو قیامت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وہ دن جس میں سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ، وہ دن ہے جس میں سب حاضر کئے جائیں گے۔

۱۰۴.    اسے ہم ملتوی کرتے ہیں وہ صرف ایک مدت معین تک ہے

۱۰۵.    جس دن وہ آ جائے گی مجال نہ ہو گی کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بات بھی کر  لے، سو ان میں کوئی بدبخت ہو گا اور کوئی نیک بخت۔

۱۰۶.     لیکن جو بدبخت ہوئے وہ دوزخ میں ہوں گے وہاں چیخیں گے چلائیں گے۔

۱۰۷.    وہ وہیں ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تک آسمان و زمین برقرار رہیں  سوائے اس وقت کے جو تمہارا رب چاہے  یقیناً تیرا رب جو کچھ چاہے کر گزرتا ہے۔

۱۰۸.    لیکن جو نیک بخت کئے گئے وہ جنت میں ہوں گے جہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین باقی رہے مگر جو تیرا پروردگار چاہے  یہ بے انتہا بخشش ہے۔

۱۰۹.     اس لئے آپ ان چیزوں سے شک و شبہ میں نہ رہیں جنہیں یہ لوگ پوج رہے ہیں، ان کی پوجا تو اس طرح ہے جس طرح ان کے باپ دادوں کی اس سے پہلے تھی۔ ہم ان سب کو ان کا پورا پورا حصہ بغیر کسی کمی کے دینے والے ہیں

۱۱۰.     یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی۔ پھر اس میں اختلاف کیا گیا،  اگر پہلے ہی آپ کے رب کی بات صادر نہ ہو گئی ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ کر دیا جاتا  انہیں تو اس میں سخت شبہ ہے۔

۱۱۱.      یقیناً ان میں سے ہر ایک جب ان کے رو برو جائے گا تو آپ کا رب اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا بیشک وہ جو کر رہے ہیں ان سے وہ باخبر ہے۔

۱۱۲.     پس آپ جمے رہیئے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جو آپ کے ساتھ توبہ کر چکے ہیں خبردار تم حد سے نہ بڑھنا  اللہ تمہارے تمام اعمال کا دیکھنے والا ہے۔

۱۱۳.     دیکھو ظالموں کی طرف ہرگز نہیں جھکنا ورنہ تمہیں بھی (دوزخ کی) آگ لگ جائے گی  اور اللہ کے سوا اور تمہارا مددگار نہ کھڑا ہو سکے گا اور نہ تم مدد دیئے جاؤ گے۔

۱۱۴.     دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی  یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں  یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے۔

۱۱۵.     آپ صبر کرتے رہیئے یقیناً اللہ تعالیٰ  نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

۱۱۶.     پس کیوں نہ تم سے پہلے زمانے کے لوگوں میں سے ایسے اہل خبر لوگ ہوئے جو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے، سوائے ان چند کے جنہیں ہم نے ان میں سے نجات دی تھی  ظالم لوگ تو اس چیز کے پیچھے پڑ گئے جس میں انہیں آسودگی دی گئی تھی اور وہ گنہگار تھے

۱۱۷.     آپ کا رب ایسا نہیں کہ کسی بستی کو ظلم سے ہلاک کر دے اور وہاں کے لوگ نیکوکار ہوں۔

۱۱۸.     اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی راہ پر ایک گروہ کر دیتا۔ وہ تو برابر اختلاف کرنے والے ہی رہیں گے۔

۱۱۹.      بجز ان کے جن پر آپ کا رب رحم فرمائے، انہیں تو اس لئے پیدا کیا ہے،  اور آپ کے رب کی یہ بات پوری ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے پر کروں گا

۱۲۰.     رسولوں کے سب احوال ہم آپ کے سامنے آپ کے دل کی تسکین کے لئے بیان فرما رہے ہیں۔ آپ کے پاس اس سورت میں بھی حق پہنچ چکا جو نصیحت و وعظ ہے مومنوں کے لئے۔

۱۲۱.     ایمان نہ لانے والوں سے کہہ دیجئے کہ تم اپنے طور پر عمل کئے جاؤ ہم بھی عمل میں مشغول ہیں۔

۱۲۲.     اور تم بھی انتظار کرو ہم بھی متتظر ہیں۔

۱۲۳.    زمینوں اور آسمانوں کا علم غیب اللہ تعالیٰ  ہی کو ہے، تمام معاملات کا رجوع بھی اسی کی جانب ہے، پس تجھے اس کی عبادت کرنی چاہیے اور اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ  بے خبر نہیں۔

 

۱۲۔ یوسف

۱.         یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔

۲.        یقیناً ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے کہ تم سمجھ سکو

۳.        ہم آپ کے سامنے بہترین بیان  پیش کرتے ہیں اس وجہ سے کہ ہم نے آپ کی جانب یہ قرآن وحی کے ذریعے نازل کیا اور یقیناً آپ اس سے پہلے بے خبروں میں تھے۔

۴.        جب کہ یوسف  نے اپنے باپ سے ذکر کیا کہ ابا جان میں نے گیارہ ستاروں کو اور سورج چاند کو  دیکھا کہ وہ سب مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔

۵.        یعقوب نے کہا پیارے بچے! اپنے اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تیرے ساتھ کوئی فریب کاری کریں  شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے۔

۶.        اور اسی طرح تجھے  تیرا پروردگار برگزیدہ کرے گا اور تجھے معاملہ فہمی (یا خوابوں کی تعبیر) بھی سکھائے گا اور اپنی نعمت تجھے بھرپور عطا فرمائے گا  اور یعقوب کے گھر والوں کو بھی  جیسے کہ اس نے پہلے تیرے دادا پردادا یعنی ابراہیم و اسحاق کو بھی بھرپور اپنی رحمت دی، یقیناً تیرا رب بہت بڑے علم والا اور زبردست حکمت والا ہے۔

۷.        یقیناً یوسف اور اس کے بھائیوں میں دریافت کرنے والوں کے لئے (بڑی) نشانیاں  ہیں۔

۸.        جب کہ انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی  بہ نسبت ہمارے، باپ کو بہت زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم (طاقتور) جماعت  ہیں، کوئی شک نہیں کہ ہمارے ابا صریح غلطی میں ہیں۔

۹.         یوسف کو مار ہی ڈالو اسے کسی (نامعلوم) جگہ پھینک دو کہ تمہارے والد کا رخ صرف تمہاری طرف ہی ہو جائے۔ اس کے بعد تم نیک ہو جانا۔

۱۰.       ان میں سے ایک نے کہا یوسف کو قتل نہ کرو بلکہ اسے کسی اندھے کنوئیں (کی تہ) میں ڈال آؤ کہ  اسے کوئی (آتا جاتا) قافلہ اٹھا لے جائے اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یوں کرو۔

۱۱.        انہوں نے کہا ابا! آخر آپ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ہم پر اعتبار کیوں نہیں کرتے ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں۔

۱۲.       کل آپ اسے ضرور ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ خوب کھائے پیئے اور کھیلے  اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں۔

۱۳.       (یعقوب علیہ السلام نے کہا) اسے تمہارا لے جانا مجھے تو سخت صدمہ دے گا اور مجھے یہ بھی کھٹکا لگا رہے گا کہ تمہاری غفلت میں اس بھیڑیا کھا جائے۔

۱۴.       انہوں نے جواب دیا کہ ہم جیسی (زور آور) جماعت کی موجودگی میں بھی اگر اسے بھیڑیا کھا جائے تو ہم بالکل نکمے ہی  ہوئے۔

۱۵.       پھر جب اسے لے چلے اور سب نے مل کر ٹھان لیا اسے غیر آباد گہرے کنوئیں کی تہ میں پھینک دیں، ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ یقیناً (وقت آ رہا ہے کہ) تو انہیں اس ماجرا کی خبر اس حال میں دے گا کہ وہ جانتے ہی نہ ہوں

۱۶.       اور عشاء کے وقت (وہ سب) اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے پہنچے۔

۱۷.      اور کہنے لگے ابا جان ہم تو آپس میں دوڑ میں لگ گئے اور یوسف (علیہ السلام) کو ہم نے اسباب کے پاس چھوڑا تھا پس اسے بھیڑیا کھا گیا، آپ تو ہماری بات نہ مانیں گے، گو ہم بالکل سچے ہی ہوں

۱۸.       اور یوسف کے کرتے کو جھوٹ موٹ کے خون سے خون آلود بھی کر لائے تھے، باپ نے کہا یوں نہیں، بلکہ تم نے اپنے دل ہی میں سے ایک بات بنا لی ہے۔ پس صبر ہی بہتر ہے، اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں پر اللہ ہی سے مدد کی طلب ہے۔

۱۹.       اور ایک قافلہ آیا اور انہوں نے اپنے پانی لانے والے کو بھیجا اس نے اپنا ڈول لٹکا دیا، کہنے لگا واہ واہ خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے  انہوں نے اسے مال تجارت قرار دے کر چھپا لیا  اور اللہ تعالیٰ  اس سے باخبر تھا جو وہ کر رہے تھے۔

۲۰.      انہوں نے  اسے بہت ہی ہلکی قیمت پر گنتی کے چند درہموں پر بیچ ڈالا، وہ تو یوسف کے بارے میں بہت ہی بے رغبت تھے

۲۱.       مصر والوں میں سے جس نے اسے خریدا تھا اس نے اپنی بیوی  سے کہا کہ اسے بہت عزت و احترام کے ساتھ رکھو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا اسے ہم اپنا بیٹا ہی بنا لیں، یوں ہم نے مصر کی سرزمین پر یوسف کا قدم جما دیا، کہ ہم اسے خواب کی تعبیر کا کچھ علم سکھا دیں۔ اللہ اپنے ارادے پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ بے علم ہوتے ہیں۔

۲۲.      جب (یوسف) پختگی کی عمر کو پہنچ گئے ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم دیا  ہم نیکوں کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔

۲۳.      اس عورت نے جس کے گھر میں یوسف تھے، یوسف کو بہلانا پھسلانا شروع کیا کہ وہ اپنے نفس کی نگرانی چھوڑ دے اور دروازہ بند کر کے کہنے لگی لو آ جاؤ یوسف نے کہا اللہ کی پناہ! وہ میرا رب، مجھے اس نے بہت اچھی طرح رکھا ہے۔ بے انصافی کرنے والوں کا بھلا نہیں ہوتا۔

۲۴.      اس عورت نے یوسف کی طرف کا قصد کیا اور یوسف اس  کا قصد کرتے اگر وہ اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھتے  یونہی ہوا کہ ہم اس سے برائی اور بے حیائی دور کر دیں  بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔

۲۵.      دونوں دروازے کی طرف دوڑے  اور اس عورت نے یوسف کا کرتا پیچھے کی طرف سے کھینچ کر پھاڑ ڈالا اور دروازے کے پاس اس کا شوہر دونوں کو مل گیا تو کہنے لگی جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے بس اس کی سزا یہی ہے کہ اسے قید کر دیا جائے یا اور کوئی دردناک سزا دی جائے۔

۲۶.      یوسف نے کہا یہ عورت ہی مجھے پھسلا رہی تھی  اور عورت کے قبیلے کے ہی کے ایک شخص نے گواہی دی  کہ اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہو تو عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔

۲۷.     اور اگر اس کا کرتہ پیچھے کی جانب سے پھاڑا گیا ہے تو عورت جھوٹی ہے اور یوسف سچوں میں سے ہے۔

۲۸.      خاوند نے جو دیکھا کہ یوسف کا کرتہ پیٹھ کی جانب سے پھاڑا گیا ہے تو صاف کہہ دیا یہ تو عورتوں کی چال بازی ہے، بیشک تمہاری چال بازی بہت بڑی ہے

۲۹.      یوسف اب اس بات کو آتی جاتی کرو  اور (اے عورت) تو اپنے گناہ سے توبہ کر، بیشک تو گنہگاروں میں سے ہے۔

۳۰.      اور شہر کی عورتوں میں چرچا ہونے لگا کہ عزیز کی بیوی اپنے (جوان) غلام کو اپنا مطلب نکالنے کے لئے بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے، ان کے دل میں یوسف کی محبت بیٹھ گئی ہے، ہمارے خیال میں تو وہ صریح گمراہی میں ہے۔

۳۱.       اس نے جب ان کی اس فریب پر غیبت کا حال سنا تو انہیں بلوا بھیجا  اور ان کے لئے ایک مجلس مرتب کی  اور ان میں سے ہر ایک کو چھری دی۔ اور کہا اے یوسف ان کے سامنے چلے آؤ  ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بہت بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے  اور زبانوں سے نکل گیا کہ ماشاءاللہ! یہ انسان تو ہرگز نہیں، یہ تو یقیناً کوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے۔

۳۲.      اس وقت عزیز مصر کی بیوی نے کہا، یہی ہیں جن کے بارے میں تم مجھے طعنے دے رہی تھیں  میں نے ہر چند اس سے اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا، لیکن یہ بال بال بچا رہا، اور جو کچھ میں اسے کہہ رہی ہوں اگر یہ نہ کرے گا تو یقیناً یہ قید کر دیا جائے گا اور بیشک یہ بہت ہی بے عزت ہو گا۔

۳۳.     یوسف نے دعا کی اے میرے پروردگار! جس بات کی طرف یہ عورت مجھے بلا رہی ہے اس سے تو مجھے جیل خانہ بہت پسند ہے، اگر تو نے ان کا فن فریب مجھ سے دور نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل ہو جاؤں گا اور بالکل نادانوں میں جا ملوں گا۔

۳۴.     اس کے رب نے اس کی دعا قبول کر لی اور ان عورتوں کے داؤ پیچ اس سے پھیر دیئے، یقیناً وہ سننے والا جاننے والا ہے۔

۳۵.     پھر ان تمام نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی انہیں یہی مصلحت معلوم ہوئی کہ یوسف کو کچھ مدت کے لئے قید خانہ میں رکھیں۔

۳۶.      اس کے ساتھ ہی دو اور جوان بھی جیل خانے میں داخل ہوئے، ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو شراب نچوڑتے دیکھا ہے، اور دوسرے نے کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں جسے پرندے کھا رہے ہیں، ہمیں آپ اس کی تعبیر بتائیے، ہمیں تو آپ خوبیوں والے شخص دکھائی دیتے ہیں۔

۳۷.     یوسف نے کہا تمہیں جو کھانا دیا جاتا ہے اس کے تمہارے پاس پہنچنے سے پہلے ہی میں تمہیں اس کی تعبیر بتلا دوں گا یہ سب اس علم کی بدولت ہے جو میرے رب نے سکھایا ہے،  میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں٢٠)۔

۳۸.     میں اپنے باپ دادوں کے دین کا پابند ہوں، یعنی ابراہیم و اسحاق اور یعقوب کے دین کا  ہمیں ہرگز یہ سزاوار نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ  کے ساتھ کسی کو بھی شریک کریں  ہم پر اور تمام اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ  کا یہ خاص فضل ہے، لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں۔

۳۹.      اے میرے قید خانے کے ساتھیو!  کیا متفرق کئی ایک پروردگار بہتر ہیں؟  یا ایک اللہ زبردست طاقتور۔

۴۰.      اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کر رہے ہو وہ سب نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہی گھڑ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ  نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی  فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ  کی ہے، اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اس کے کسی اور کی عبادت نہ کرو، یہی دین درست ہے  لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

۴۱.       اے میرے قید خانے کے رفیقو!  تم دونوں میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کو شراب پلانے پر مقرر ہو جائے گا  لیکن دوسرا سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے  تم دونوں جس کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے اس کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے۔

۴۲.      اور جس کی نسبت یوسف کا گمان تھا کہ ان دونوں میں سے یہ چھوٹ جائے گا اس سے کہا کہ اپنے بادشاہ سے میرا ذکر بھی کر دینا پھر اسے شیطان نے اپنے بادشاہ سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف نے کئی سال قید خانے میں ہی کاٹے۔

۴۳.     بادشاہ نے کہا، میں نے خواب دیکھا ہے سات موٹی تازی فربہ گائے ہیں جن کو سات لاغر دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیاں ہیں ہری ہری اور دوسری سات بالکل خشک۔ اے درباریو! میرے اس خواب کی تعبیر بتلاؤ اگر تم خواب کی تعبیر دے سکتے ہو۔

۴۴.     انہوں نے جواب دیا یہ تو اڑتے اڑاتے پریشان خواب ہیں اور ایسے شوریدہ پریشان خوابوں کی تعبیر جاننے والے ہم نہیں۔

۴۵.     ان دو قیدیوں میں سے جو رہا ہوا تھا اسے مدت کے بعد یاد آ گیا اور کہنے لگا میں تمہیں اس کی تعبیر بتا دوں گا مجھے جانے کی اجازت دیجئے۔

۴۶.      اے یوسف! اے بہت بڑے سچے یوسف! آپ ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلایئے کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور سات ہی دوسرے بھی بالکل خشک ہیں، تاکہ میں واپس جا کر ان لوگوں سے کہوں کہ وہ سب جان لیں۔

۴۷.     یوسف نے جواب دیا کہ تم سات سال تک پے درپے لگاتار حسب عادت غلہ بویا کرنا، اور فصل کاٹ کر اسے بالیوں سمیت ہی رہنے دینا سوائے اپنے کھانے کی تھوڑی سی مقدار کے۔

۴۸.     اس کے بعد سات سال نہایت سخت قحط کے آئیں گے وہ اس غلے کو کھا جائیں گے، جو تم نے ان کے لئے ذخیرہ رکھ چھوڑا تھا  سوائے اس تھوڑے سے کے جو تم روک رکھتے ہو۔

۴۹.      اس کے بعد جو سال آئے گا اس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس میں (شیرہ انگور بھی) خوب نچوڑیں گے

۵۰.      اور بادشاہ نے کہا یوسف کو میرے پاس لاؤ  جب قاصد یوسف کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا، اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے  تھے؟ ان کے حیلے کو (صحیح طور پر) جاننے والا میرا پروردگار ہی ہے۔

۵۱.       بادشاہ نے پوچھا اے عورتو! اس وقت کا صحیح واقعہ کیا ہے جب تم داؤ فریب کر کے یوسف کو اس کی دلی منشا سے بہکانا چاہتی تھیں انہوں نے صاف جواب دیا کہ معاذاللہ ہم نے یوسف میں کوئی برائی نہیں  پائی، پھر تو عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب تو سچی بات نتھر آئی میں نے ہی اسے ورغلایا تھا، اس کے جی سے، اور یقیناً وہ سچوں میں سے ہے۔

۵۲.      بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ میں اسے اپنے خاص کاموں کے لئے مقرر کر لوں  پھر جب اس سے بات چیت کی تو کہنے لگا کہ آپ ہمارے ہاں آج سے ذی عزت اور امانت دار ہیں۔

۵۳.     میں اپنے نفس کی پاکیزگی بیان نہیں کرتا  بیشک نفس تو برائی پر ابھارنے والا ہی ہے  مگر یہ کہ میرا پروردگار ہی اپنا رحم کے  یقیناً میرا رب پالنے والا بڑی بخشش کرنے والا اور بہت مہربانی فرمانے والا ہے۔

۵۴.     بادشاہ نے کہا کہ اسے میرے پاس لاؤ کہ میں اسے اپنے خاص کاموں کے لئے مقرر کر لوں  پھر جب اس سے بات چیت کی تو کہنے لگا کہ آپ ہمارے ہاں ذی عزت اور امانت دار ہیں

۵۵.     (یوسف) نے کہا آپ مجھے ملک کے خزانوں پر معمور کر دیجئے  میں حفاظت کرنے والا اور باخبر ہوں

۵۶.      اسی طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو ملک کا قبضہ دے دیا کہ وہ جہاں کہیں چاہے رہے سہے  ہم جسے چاہیں اپنی رحمت پہنچا دیتے ہیں۔ ہم نیکوکاروں کا ثواب ضائع نہیں کرتے۔

۵۷.     یقیناً ایمان داروں اور پرہیزگاروں کا اخروی اجر بہت ہی بہتر ہے۔

۵۸.     یوسف کے بھائی آئے اور یوسف کے پاس گئے تو اس نے انہیں پہچان لیا اور انہوں نے اسے نہ پہچانا

۵۹.      جب انہیں ان کا اسباب مہیا کر دیا تو کہا کہ تم میرے پاس اپنے اس بھائی کو بھی لانا جو تمہارے باپ سے ہے، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں پورا ناپ کر دیتا ہوں اور میں ہوں بھی بہترین میزبانی کرنے والوں میں

۶۰.      پس اگر تم اسے لے کر نہ آئے تو میری طرف سے تمہیں کوئی ناپ بھی نہ ملے گا بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا

۶۱.       انہوں نے کہا ہم اس کے باپ کو اس کی بابت پھسلائیں گے اور پوری کوشش کریں گے۔

۶۲.      اپنے خدمت گاروں سے کہا کہ  ان کی پونجی انہی کی بوریوں میں رکھ دو  کہ جب لوٹ کر اپنے اہل و عیال میں جائیں اور پونجیوں کو پہچان لیں تو بہت ممکن ہے کہ پھر لوٹ کر آئیں۔

۶۳.      جب یہ لوگ لوٹ کر اپنے والد کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ ہم سے تو غلہ کا ناپ روک لیا گیا  اب آپ ہمارے ساتھ بھائی کو بھیجئے کہ ہم پیمانہ بھر کر لائیں ہم اس کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں۔

۶۴.      (یعقوب علیہ السلام نے) کہا مجھے تو اس کی بابت تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے، جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تھا  بس اللہ ہی بہترین محافظ ہے اور وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے۔ ۲

۶۵.      جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو اپنا سرمایہ موجود پایا جو ان کی جانب لوٹا دیا گیا تھا کہنے لگے اے ہمارے باپ ہمیں اور کیا چاہیے  دیکھئے تو ہمارا سرمایہ بھی واپس لوٹا دیا گیا ہے، ہم اپنے خاندان کو رسد لا دیں گے اور اپنے بھائی کی نگرانی رکھیں گے اور ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ زیادہ لائیں گے  یہ ناپ تو بہت آسان ہے۔

۶۶.      یعقوب علیہ السلام نے کہا! میں تو اسے ہرگز ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کو بیچ میں رکھ کر مجھے قول و قرار نہ دو کہ تم اسے میرے پاس پہنچا دو گے، سوائے اس ایک صورت کے کہ تم سب گرفتار کر لئے جاؤ  جب انہوں نے پکا قول قرار دے دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے۔

۶۷.     اور (یعقوب علیہ السلام) نے کہا اے میرے بچو! تم سب ایک دروازے سے نہ جانا بلکہ کئی جدا جدا دروازوں میں سے داخل ہونا  میں اللہ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا حکم صرف اللہ ہی کا چلتا ہے  میرا کامل بھروسہ اسی پر ہے اور ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔

۶۸.      جب وہ انہیں راستوں سے جن کا حکم ان کے والد نے انہیں دیا تھا گئے۔ کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر کر دی ہے وہ اس سے انہیں ذرا بھی بچا لے۔ مگر یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں ایک خیال پیدا ہوا جسے اس نے پورا کر لیا  بلاشبہ وہ ہمارے سکھلائے ہوئے علم کا عالم تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

۶۹.      یہ سب جب یوسف کے پاس پہنچ گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس بٹھا لیا اور کہا کہ میں تیرا بھائی (یوسف) ہوں پس یہ جو کچھ کرتے رہے اس کا کچھ رنج نہ کر۔

۷۰.     پھر جب انہیں ان کا سامان اسباب ٹھیک ٹھاک کر کے دیا تو اپنے بھائی کے اسباب میں پانی پینے کا پیالہ  رکھوا دیا پھر ایک آواز دینے والے نے پکار کر کہا کہ اے قافلے والو!  تم لوگ تو چور ہو۔

۷۱.      انہوں نے ان کی طرف منہ پھیر کر کہا تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے؟

۷۲.     جواب دیا کہ شاہی پیمانہ گم ہے جو اسے لے آئے اسے ایک اونٹ کے بوجھ کا غلہ ملے گا۔ اس وعدے کا میں ضامن ہوں

۷۳.     انہوں نے کہا اللہ کی قسم! تم کو خوب علم ہے کہ ہم ملک میں فساد پھیلانے کے لئے نہیں آئے اور نہ ہم چور ہیں۔

۷۴.     انہوں نے کہا اچھا چور کی کیا سزا اگر تم جھوٹے ہو؟

۷۵.     جواب دیا اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے اسباب میں سے پایا جائے وہی اس کا بدلہ ہے  ہم تو ایسے ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔

۷۶.     پس یوسف نے ان کے سامان کی تلاشی شروع کی، اپنے بھائی کے سامان کی تلاشی سے پہلے، پھر اس پیمانہ کو اپنے بھائی کے سامان (زنبیل) سے نکالا  ہم نے یوسف کے لئے اسی طرح یہ تدبیر کی  اس بادشاہ کی قانون کی رو سے یہ اپنے بھائی کو نہ لے جا سکتا تھا  مگر یہ کہ اللہ کو منظور ہو ہم جس کے چاہیں درجے بلند کر دیں  ہر ذی علم پر فوقیت رکھنے والا دوسرا ذی علم موجود ہے۔

۷۷.     انہوں نے کہا اگر اس نے چوری کی (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) اس کا بھائی بھی پہلے چوری کر چکا ہے  یوسف) علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں رکھ لیا اور ان کے سامنے بالکل ظاہر نہ کیا۔ کہا کہ تم بدتر جگہ میں ہو  اور جو تم بیان کرتے ہو اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے۔

۷۸.     انہوں نے کہا اے عزیز مصر!  اس کے والد بہت بڑی عمر کے بالکل بوڑھے شخص ہیں آپ اس کے بدلے ہم میں سے کسی کو لے لیجئے، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ بڑے نیک نفس ہیں۔

۷۹.      یوسف (علیہ السلام) نے کہا ہم نے جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا دوسرے کی گرفتاری کرنے سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، ایسا کرنے سے تو ہم یقیناً نا انصافی کرنے والے ہو جائیں گے۔

۸۰.      جب یہ اس سے مایوس ہو گئے تو تنہائی میں بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے  ان میں جو سب سے بڑا تھا اس نے کہا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کی قسم لے کر پختہ قول قرار لیا ہے اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم کوتاہی کر چکے ہو۔ پس میں تو اس سرزمین سے نہ ٹلوں گا جب تک کہ والد صاحب خود مجھے اجازت نہ دیں  یا اللہ تعالیٰ  میرے اس معاملے کا فیصلہ کر دے، وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

۸۱.       تم سب والد صاحب کی خدمت میں واپس جاؤ اور کہو کہ ابا جی! آپ کے صاحب زا دے نے چوری کی اور ہم نے وہی گواہی دی تھی جو ہم جانتے تھے  ہم کچھ غیب کی حفاظت کرنے والے نہ تھے۔

۸۲.      آپ اس شہر کے لوگوں سے دریافت فرما لیں جہاں ہم تھے اور اس قافلہ سے بھی پوچھ لیں جس کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ اور یقیناً ہم بالکل سچے ہیں۔

۸۳.     (یعقوب علیہ السلام) نے کہا یہ تو نہیں، بلکہ تم نے اپنی طرف سے بات بنا لی  پس اب صبر ہی بہتر ہے۔ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ  ان سب کو میرے پاس ہی پہنچا دے  وہی علم و حکمت والا ہے۔

۸۴.     پھر ان سے منہ پھیر لیا اور کہا ہائے یوسف!  ان کی آنکھیں بوجہ رنج و غم کے سفید ہو چکی تھیں  اور وہ غم کو دبائے ہوئے تھے۔

۸۵.     بیٹوں نے کہا واللہ! آپ ہمیشہ یوسف کی یاد ہی میں لگے رہیں گے یہاں تک کہ گھل جائیں یا ختم ہی ہو جائیں۔

۸۶.      انہوں نے کہا کہ میں تو اپنی پریشانیوں اور رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں مجھے اللہ کی طرف سے وہ باتیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے۔

۸۷.     میرے پیارے بچو! تم جاؤ اور یوسف علیہ السلام کی اور اس کے بھائی کی پوری طرح تلاش کرو  اور اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو۔ یقیناً رب کی رحمت سے نا امید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں۔

۸۸.     پھر جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے  تو کہنے لگے کہ اے عزیز! ہم کو اور ہمارے خاندان کو دکھ پہنچا ہے  ہم حقیر پونجی لائے ہیں پس آپ ہمیں پورے غلے کا ناپ دیجئے  اور ہم پر خیرات کیجئے  اللہ تعالیٰ  خیرات کرنے والوں کو بدلہ دیتا ہے۔

۸۹.      یوسف نے کہا جانتے بھی ہو کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ اپنی نادانی کی حالت میں کیا کیا ؟

۹۰.      انہوں نے کہا کیا (واقعی) تو ہی یوسف (علیہ السلام) ہے  جواب دیا کہ ہاں میں یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر فضل و کرم کیا بات یہ ہے کہ جو بھی پرہیز گاری اور صبر کرے تو اللہ تعالیٰ  کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

۹۱.       انہوں نے کہا اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ  نے تجھے ہم پر برتری دی ہے اور یہ بھی بالکل سچ ہے کہ ہم خطا کار تھے

۹۲.      جواب دیا آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے  اللہ تمہیں بخشے، وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے۔

۹۳.      میرا یہ کرتا تم لے جاؤ اور اسے میرے والد کے منہ پر ڈال دو کہ وہ دیکھنے لگیں  اور آ جائیں اور اپنے تمام خاندان کو میرے پاس لے آؤ۔

۹۴.      جب یہ قافلہ جدا ہوا تو ان کے والد نے کہا کہ مجھے تو یوسف کی خوشبو آ رہی ہے اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو

۹۵.      وہ کہنے لگے کہ واللہ آپ اپنے اسی پرانے خبط  میں مبتلا ہیں۔

۹۶.      جب خوشخبری دینے والے نے پہنچ کر ان کے منہ پر وہ کرتا ڈالا اسی وقت پھر بینا ہو گئے  کہا! کیا میں تم سے نہ کہا کرتا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

۹۷.      انہوں نے کہا ابا جی آپ ہمارے لئے گناہوں کی بخشش طلب کیجئے بیشک ہم قصور وار ہیں۔

۹۸.      کہا اچھا میں جلد ہی تمہارے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا  وہ بہت بڑا بخشنے والا اور نہایت مہربانی کرنے والا ہے۔

۹۹.       جب یہ سارا گھرانہ یوسف کے پاس پہنچ گیا تو یوسف نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی  اور کہا کہ اللہ کو منظور ہے تو آپ سب امن و امان کے ساتھ مصر میں آؤ۔

۱۰۰.     اور اپنے تخت پر اپنے ماں باپ  کو اونچا بٹھایا اور سب اس کے سامنے سجدے میں گر گئے  تب کہا ابا جی! یہ میرے پہلے کے خواب کی تعبیر ہے  میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا، اس نے میرے ساتھ بڑا احسان کیا جب کہ مجھے جیل خانے سے نکالا  اور آپ لوگوں کو صحرا سے لے آیا  اس اختلاف کے بعد جو شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ڈال دیا تھا  میرا رب جو چاہے اس کے لئے بہترین تدبیر کرنے والا ہے اور وہ بہت علم و حکمت والا ہے۔

۱۰۱.     اے میرے پروردگار! تو نے مجھے ملک عطا فرمایا  اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلائی  اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے تو دنیا و آخرت میں میرا ولی (دوست) اور کارساز ہے، تو مجھے اسلام کی حالت میں فوت کر اور نیکوں میں ملا دے۔

۱۰۲.     یہ غیب کی خبروں میں سے جس کی ہم آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ آپ ان کے پاس نہ تھے جب کہ انہوں نے اپنی بات ٹھان لی تھی اور وہ فریب کرنے لگے تھے

۱۰۳.    گو آپ لاکھ چاہیں۔ لیکن اکثر لوگ ایماندار نہ ہیں نہ ہوں گے۔

۱۰۴.    آپ ان سے اس پر کوئی اجرت طلب نہیں کر رہے ہیں  یہ تو تمام دنیا کے لئے نری نصیحت ہی نصیحت ہے

۱۰۵.    آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں، جن سے یہ منہ موڑے گزر جاتے ہیں۔

۱۰۶.     ان میں سے اکثر لوگ باوجود اللہ پر ایمان رکھنے کے بھی مشرک ہی ہیں

۱۰۷.    کیا وہ اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے عذابوں میں سے کوئی عام عذاب آ جائے یا ان پر اچانک قیامت ٹوٹ پڑے اور وہ بے خبری میں ہوں۔

۱۰۸.    آپ کہہ دیجئے میری راہ یہی ہے، میں اور پیروکار اللہ کی طرف بلا رہے ہیں، پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ  اور اللہ پاک ہے  اور میں مشرکوں میں نہیں۔

۱۰۹.     آپ سے پہلے ہم نے بستی والوں میں جتنے رسول بھیجے ہیں سب مرد ہی تھے جن کی طرف ہم وحی نازل فرماتے گئے  کیا زمین میں چل پھر کر انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیسا کچھ انجام ہوا؟ یقیناً آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لئے بہت ہی بہتر ہے، کیا پھر تم نہیں سمجھتے۔

۱۱۰.     یہاں تک کہ جب رسول نا امید ہو نے لگے  اور وہ (قوم کے لوگ) خیال کرنے لگے کہ انہیں جھوٹا کہا گیا  فوراً ہی ہماری مدد ان کے پاس آ پہنچی  جسے ہم نے چاہا اسے نجات دی گئی  بات یہ ہے کہ ہمارا عذاب گناہ گاروں سے واپس نہیں کیا جاتا۔

۱۱۱.      ان کے بیان میں عقل والوں کے لئے یقیناً نصیحت اور عبرت ہے، یہ قرآن جھوٹ بنائی ہوئی بات نہیں بلکہ یہ تصدیق ہے، ان کتابوں کی جو اس سے پہلے کی ہیں، کھول کھول کر بیان کرنے والا ہے ہر چیز کو اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان دار لوگوں کے لئے۔

 

۱۳۔ الرعد

۱.         یہ قرآن کی آیتیں ہیں، اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا جاتا ہے، سب حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

۲.        اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے بلند رکھا ہے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ پھر وہ عرش پر قرار پکڑے ہوئے ہے  اسی نے سورج اور چاند کو ما تحتی میں لگا رکھا ہے۔ ہر ایک میعاد معین پر گشت کر رہا ہے، وہی کام کی تدبیر کرتا ہے وہ اپنے نشانات کھول کھول کر بیان کر رہا ہے کہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کر لو۔

۳.        اسی نے زمین پھیلا کر بچھا دی ہے اور اس میں پہاڑ اور نہریں پیدا کر دی ہیں  اور اس میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے دوہرے دوہرے پیدا کر دیئے  وہ رات کو دن سے چھپا دیتا ہے۔ یقیناً غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت نشانیاں ہیں۔

۴.        اور زمین میں مختلف ٹکڑے ایک دوسرے سے لگتے لگاتے ہیں  اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیت ہیں اور کھجوروں کے درخت ہیں، شاخ دار اور بعض ایسے ہیں  جو بے شاخ ہیں سب ایک ہی پانی پلائے جاتے ہیں۔ پھر بھی ہم ایک کو ایک پر پھلوں میں برتری دیتے ہیں  اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

۵.        اگر تجھے تعجب ہو تو واقعی ان کا یہ کہنا عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم نئی پیدائش میں ہو نگے؟  یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی ہیں جو جہنم کے رہنے والے ہیں جو اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

۶.        اور جو تجھ سے (سزا کی طلبی میں) جلدی کر رہے ہیں راحت سے پہلے ہی، یقیناً ان سے پہلے سزائیں (بطور مثال) گزر چکی ہیں  اور بیشک تیرا رب البتہ بخشنے والا ہے لوگوں کے بے جا ظلم پر  اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ تیرا رب بڑی سخت سزا دینے والا بھی ہے۔

۷.        اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نہیں اتاری گئی۔ بات یہ ہے کہ آپ تو صرف آگاہ کرنے والے ہیں  اور ہر قوم کے لئے ہادی ہے۔

۸.        مادہ اپنے شکم میں جو کچھ رکھتی ہے اسے اللہ تعالیٰ  بخوبی جانتا ہے  اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی  ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے۔

۹.         ظاہر و پوشیدہ کا وہ عالم ہے (سب سے) بڑا اور (سب سے) بلند و بالا۔

۱۰.       تم میں سے کسی کا اپنی بات کو چھپا کر کہنا اور بآواز بلند اسے کہنا اور جو رات کو چھپا ہوا ہو اور جو دن میں چل رہا ہو، سب اللہ پر برابر و یکساں ہیں۔

۱۱.        اس کے پہرے دار  انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں۔ کسی قوم کی حالت اللہ تعالیٰ  نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے  اللہ تعالیٰ  جب کسی قوم کی سزا کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ بدلہ نہیں کرتا اور سوائے اس کے کوئی بھی ان کا کارساز نہیں۔

۱۲.       وہ اللہ ہی ہے جو تمہیں بجلی کی چمک ڈرانے اور امید دلانے کے لئے دکھاتا ہے  اور بھاری بادلوں کو پیدا کرتا ہے۔

۱۳.       گرج اس کی تسبیح و تعریف کرتی ہے اور فرشتے بھی، اس کے خوف سے  اور وہی آسمان سے بجلیاں گراتا ہے اور جس پر چاہتا ہے اس پر ڈالتا ہے  کفار اللہ کی بابت لڑ جھگڑ رہے ہیں اور اللہ سخت قوت والا ہے۔

۱۴.       اسی کو پکارنا حق ہے  جو لوگ اوروں کو اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان (کی پکار) کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے مگر جیسے کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منہ میں پڑ جائے حالانکہ وہ پانی اس کے منہ میں پہنچنے والا نہیں  ان منکروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی میں ہے۔

۱۵.       اللہ ہی کے لئے زمین اور آسمانوں کی سب مخلوق خوشی اور نا خوشی سے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح شام

۱۶.       آپ پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ کہہ دیجئے! اللہ  کہہ دیجئے! کیا تم پھر بھی اس کے سوا اور کو حمایتی بنا رہے ہو جو خود بھی اپنی جان کے بھلے برے کا اختیار نہیں رکھتے  کہہ دیجئے کہ اندھا اور بینا برابر ہو سکتا ہے؟ یا کیا اندھیری اور روشنی برابر ہو سکتی ہیں  کیا جنہیں یہ اللہ کا شریک ٹھرا رہے ہیں انہوں نے بھی اللہ کی طرح مخلوق پیدا کی ہے کہ ان کی نظر میں پیدائش مشتبہ ہو گئی ہو، کہہ دیجئے کہ صرف اللہ ہی تمام چیزوں کا خالق ہے وہ اکیلا ہے  اور زبردست غالب ہے۔

۱۷.      اسی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اپنی اپنی وسعت کے مطابق نا لے بہ نکلے پھر پانی کے ریلے نے اوپر چڑھی جھاگ کو اٹھا لیا  اور اس چیز میں بھی جس کو آگ میں ڈال کر تپاتے ہیں زیور یا سازو سامان کے لئے اسی طرح کی جھاگ ہیں  اسی طرح اللہ تعالیٰ  حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے  اب جھاگ تو ناکارہ ہو کر چلی جاتی ہے  لیکن جو لوگوں کو نفع دینے والی چیز ہے۔ وہ زمین میں ٹھری رہتی ہے  اللہ تعالیٰ  اسی طرح مثالیں بیان فرماتا ہے۔

۱۸.       جن لوگوں نے اپنے رب کے حکم کی بجا آوری کی ان کے لئے بھلائی ہے اور جن لوگوں نے اس کے حکم کی نافرمانی کی اگر ان کے لئے زمین میں جو کچھ ہے سب کچھ ہو اور اسی کے ساتھ ویسا ہی اور بھی ہو تو وہ سب کچھ اپنے بدلے میں دے دیں  یہی ہیں جن کے لئے برا حساب ہے  اور جن کا ٹھکانا جہنم ہے جو بہت بری جگہ ہے۔

۱۹.       کیا وہ شخص جو یہ علم رکھتا ہے کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وہ حق ہے، اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھا ہو  نصیحت تو وہی قبول کرتے ہیں ہیں جو عقلمند ہوں

۲۰.      جو اللہ کے عہد و پیمان کو پورا کرتے ہیں  اور قول و قرار کو توڑتے نہیں۔

۲۱.       اور اللہ نے جن چیزوں کو جوڑنے کا حکم دیا ہے وہ اسے جوڑتے ہیں  اور وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں۔

۲۲.      اور وہ اپنے رب کی رضامندی کی طلب کے لئے صبر کرتے ہیں  اور نمازوں کو برابر قائم رکھتے ہیں  اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اسے چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں  اور برائی کو بھی بھلائی سے ٹالتے ہیں  ان ہی کے لئے عاقبت کا گھر ہے۔

۲۳.      ہمیشہ رہنے کے باغات  جہاں یہ خود جائیں گے اور ان کے باپ دادوں اور بیوی اور اولادوں میں سے بھی جو نیکوکار ہوں گے  ان کے پاس فرشتے ہر دروازے سے آئیں گے۔

۲۴.      کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو، صبر کے بدلے، کیا ہی اچھا (بدلہ) ہے اس دار آخرت کا۔

۲۵.      اور جو اللہ کے عہد کو اس کی مضبوطی کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جن چیزوں کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، ان کے لئے لعنتیں ہیں اور ان کے لئے برا گھر ہے

۲۶.      اللہ تعالیٰ  جس کی روزی چاہتا ہے بڑھاتا ہے اور گھٹاتا ہے  یہ دنیا کی زندگی میں مست ہو گئے  حالانکہ دنیا آخرت کے مقابلے میں نہایت (حقیر) پونجی ہے۔

۲۷.     کافر کہتے ہیں کہ اس پر کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نازل نہیں کیا گیا؟ جواب دیجئے کہ اللہ جسے گمراہ کرنا چاہے کر دیتا ہے اور جو اس کی طرف جھکے اسے راستہ دکھا دیتا ہے۔

۲۸.      جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے

۲۹.      جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام بھی کئے ان کے لئے خوشحالی ہے  اور بہترین ٹھکانا۔

۳۰.      اسی طرح ہم نے آپ کو اس امت میں بھیجا  جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں کہ آپ انہیں ہماری طرف سے جو وحی آپ پر اتری ہے پڑھ کر سنائیے یہ اللہ رحمان کے منکر ہیں  آپ کہہ دیجئے کہ میرا پالنے والا تو وہی ہے اس کے سوا درحقیقت کوئی بھی لائق عبادت نہیں  اسی کے اوپر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی جانب میرا رجوع ہے۔

۳۱.       اگر (بالفرض) کے کسی قرآن (آسمانی کتاب) کے ذریعہ پہاڑ چلا دیے جاتے یا زمین ٹکڑے ٹکڑے کر دی جاتی یا مردوں سے باتیں کرا دی جاتیں (پھر بھی وہ ایمان نہ لاتے)، بات یہ ہے کہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہے،  تو کیا ایمان والوں کو اس بات پر دل جمعی نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ  چاہے تو تمام لوگوں کو ہدایت دے دے۔ کفار کو تو ان کے کفر کے بدلے ہمیشہ کوئی نہ کوئی سخت سزا پہنچتی رہے گی یا ان کے مکانوں کے قریب نازل ہوتی رہے گی  تاوقتیکہ وعدہ الٰہی آ پہنچے  یقیناً اللہ تعالیٰ  وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

۳۲.      یقیناً آپ سے پہلے کے پیغمبروں کا مذاق اڑایا گیا تھا اور میں نے بھی کافروں کو ڈھیل دی تھی پھر انہیں پکڑ لیا تھا، پس میرا عذاب کیسا رہا۔

۳۳.     آیا وہ اللہ جو نگہبانی کرنے والا ہے ہر شخص کی، اس کے کئے ہوئے اعمال پر  ان لوگوں نے اللہ کے شریک ٹھہرائے ہیں کہہ دیجئے ذرا ان کے نام تو لو،  کیا تم اللہ کو وہ باتیں بتاتے ہو جو وہ زمین میں جانتا ہی نہیں، یا صرف اوپری اوپری باتیں بتا رہے ہو، بات اصل یہ ہے کہ کفر کرنے والوں کے لئے ان کے مکر سجا دیئے گئے ہیں، اور جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کو راہ دکھانے والا کوئی نہیں۔

۳۴.     ان کے لئے دنیا کی زندگی میں عذاب ہے  اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی زیادہ سخت ہے  انہیں اللہ کے غضب سے بچانے والا کوئی بھی نہیں۔

۳۵.     اس جنت کی صفت، جس کا وعدہ پرہیزگاروں کو دیا گیا ہے یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کا میوہ ہمیشگی والا ہے اور اس کا سایہ بھی یہ ہے انجام پرہیزگاروں کا  اور کافروں کا انجام دوزخ ہے۔

۳۶.      جنہیں ہم نے کتاب دی  وہ تو جو کچھ آپ پر اتارا جاتا ہے اس سے خوش ہوتے ہیں  اور دوسرے فرقے اس کی بعض باتوں کے منکر ہیں  آپ اعلان کر دیجئے کہ مجھے تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ شریک نہ کروں، میں اسی کی طرف بلا رہا ہوں اور اسی کی جانب میرا لوٹنا ہے۔

۳۷.     اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان اتارا ہے۔  اگر آپ نے ان کی خواہشوں  کی پیروی کر لی اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آ چکا ہے  تو اللہ (کے عذابوں) سے آپ کو کوئی حمایتی ملے گا اور نہ بچانے والا۔

۳۸.     ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا  کسی رسول سے نہیں ہو سکتا کہ کوئی نشانی بغیر اللہ کی اجازت کے لے آئے  ہر مقررہ وعدے کی ایک لکھت ہے

۳۹.      اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے۔

۴۰.      ان سے کیے ہوئے وعدوں میں سے کوئی اگر ہم آپ کو دکھا دیں یا آپ کو ہم فوت کر لیں تو آپ پر تو صرف پہنچا دینا ہی ہے۔ حساب تو ہمارے ہی ذمہ ہی ہے۔

۴۱.       کیا وہ نہیں دیکھتے؟ کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں  اللہ حکم کرتا ہے کوئی اس کے احکام پیچھے ڈالنے والا نہیں  وہ جلد حساب لینے والا ہے۔

۴۲.      ان سے پہلے لوگوں نے بھی اپنی مکاری میں کمی نہ کی تھی، لیکن تمام تدبیریں اللہ ہی کی ہیں،  جو شخص جو کچھ کر رہا ہے اللہ کے علم میں ہے  کافروں کو ابھی معلوم ہو جائے گا (اس) جہان کی جزا کس کے لئے ہے؟

۴۳.     یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول نہیں۔ آپ جواب دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہی دینے والا کافی ہے  اور وہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔

 

۱۴۔ ابراہیم

۱.         یہ عالی شان کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف لائیں  ان کے پروردگار کے حکم  سے زبردست اور تعریفوں والے اللہ کی طرف۔

۲.        اس اللہ کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور کافروں کے لئے تو سخت عذاب کی خرابی ہے۔

۳.        جو آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی کو پسند رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھ پن پیدا کرنا چاہتے ہیں  یہی لوگ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں۔

۴.        ہم نے ہر ہر نبی کو اس کی قومی زبان میں ہی بھیجا ہے تاکہ ان کے سامنے وضاحت سے بیان کر دے  اب اللہ جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے راہ دکھا دے، وہ غلبہ اور حکمت والا ہے۔

۵.        (یاد رکھو جب کہ) ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ تو اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی میں نکال  اور انہیں اللہ کے احسانات یاد دلا  بے شک اس میں نشانیاں ہیں ہر صبر شکر کرنے والے کے لئے۔

۶.        جس وقت موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ کے وہ احسانات یاد کرو جو اس نے تم پر کئے ہیں، جبکہ اس نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بڑے دکھ پہنچاتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ چھوڑتے تھے، اس میں تمہارے رب کی طرف سے تم پر بہت بڑی آزمائش تھی

۷.        اور جب تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ  کر دیا کہ اگر تم شک‌گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیادہ  دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے

۸.        موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اگر تم سب اور روئے زمین کے تمام انسان اللہ کی ناشکری کریں تو بھی اللہ بے نیاز اور تعریفوں  والا ہے۔

۹.         کیا تمہارے پاس تم سے پہلے کے لوگوں کی خبریں نہیں آئیں؟ یعنی قوم نوح کی اور عاد و ثمود کی اور ان کے بعد والوں کی جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ  کے اور کوئی نہیں جانتا، ان کے پاس ان کے رسول معجزے لائے، لیکن انہوں نے اپنے ہاتھ اپنے منہ میں دبا لیے  اور صاف کہہ دیا کہ جو کچھ تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس کے منکر ہیں اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو ہمیں تو اس میں بڑا بھاری شبہ  ہے۔

۱۰.       ان کے رسولوں نے انہیں کہا کہ کیا حق تعالیٰ  کے بارے میں تمہیں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے وہ تمہیں اس لئے بلا رہا ہے کہ تمہارے تمام گناہ معاف فرما دے  اور ایک مقرر وقت تک تمہیں مہلت عطا فرمائے، انہوں نے کہا تم تو ہم جیسے ہی انسان ہو  تم چاہتے ہو کہ ہمیں ان خداؤں کی عبادت سے روک دو جن کی عبادت ہمارے باپ کرتے رہے ہیں  اچھا تو ہمارے سامنے کوئی کھلی دلیل پیش کرو۔

۱۱.        ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا کہ یہ تو سچ ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں لیکن اللہ تعالیٰ  اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اپنا فضل کرتا ہے  اللہ کے حکم کے بغیر ہماری مجال نہیں کہ ہم کوئی معجزہ تمہیں لا دکھائیں  اور ایمانداروں کو صرف اللہ تعالیٰ  ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے۔

۱۲.       آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ  پر بھروسہ نہ رکھیں جبکہ اسی نے ہمیں ہماری راہیں سمجھائی ہیں۔ واللہ جو ایذائیں تم ہمیں دو گے ہم ان پر صبر ہی کریں گے توکل کرنے والوں کو یہی لائق ہے اللہ ہی پر توکل کریں۔

۱۳.       کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم تمہیں ملک بدر کر دیں گے یا تم پھر سے ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ، تو ان کے پروردگار نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ہی غارت کر دیں گے

۱۴.       اور ان کے بعد ہم خود تمہیں اس زمین میں بسائیں گے  یہ ہے ان کے لئے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھیں اور میرے سزا دینے کے وعدہ سے خوف زدہ رہیں۔

۱۵.       اور انہوں نے فیصلہ طلب کیا  اور تمام سرکش ضدی لوگ نامراد ہو گئے۔

۱۶.       اس کے سامنے دوزخ ہے جہاں پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

۱۷.      جسے بمشکل گھونٹ گھونٹ پئے گا۔ پھر بھی وہ اپنے گلے سے اتار نہ سکے گا اور اسے ہر جگہ موت آتی دکھائی دے گی لیکن وہ مرنے والا نہیں  اور پھر اس کے پیچھے بھی سخت عذاب ہے۔

۱۸.       ان لوگوں کی مثال جنہوں نے اپنے پالنے والے سے کفر کیا، ان کے اعمال مثل راکھ کے ہیں جس پر تیز ہوا آندھی چلے اور اڑا کر لے جائے  جو بھی انہوں نے کیا اس میں کسی چیز پر قادر نہ ہوں گے، یہی ان کی گمراہی ہے

۱۹.       کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ  نے آسمانوں اور زمین کو بہترین تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق لائے۔

۲۰.      اللہ پر یہ کام کچھ بھی مشکل نہیں۔

۲۱.       سب کے سب اللہ کے سامنے روبرو کھڑے ہوں گے  اس وقت کمزور لوگ بڑائی والوں سے کہیں گے کہ ہم تو تمہارے تابعدار تھے، تو کیا تم اللہ کے عذابوں میں سے کچھ عذاب ہم سے دور کر سکنے والے ہو؟ وہ جواب دیں گے کہ اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم بھی ضرور تمہاری رہنمائی کرتے، اب تو ہم پر بے قراری کرنا اور صبر کرنا دونوں ہی برابر ہیں ہمارے لئے کوئی چھٹکارا نہیں۔

۲۲.      جب اور کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا شیطان  کہے گا کہ اللہ نے تمہیں سچا وعدہ دیا تھا اور میں نے تم سے جو وعدے کئے تھے ان کے خلاف کیا  میرا تو تم پر کوئی دباؤ تو تھا نہیں  ہاں میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری مان لی،  پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو  نہ میں تمہارا فریاد رس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے  میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے  یقیناً ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے۔

۲۳.      جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ ان جنتوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے چشمے جاری ہیں جہاں انہیں ہمیشگی ہو گی اپنے رب کے حکم سے  جہاں ان کا خیر مقدم سلام سے ہو گا

۲۴.      کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ  نے پاکیزہ بات کی مثال کس طرح بیان فرمائی، مثل ایک پاکیزہ درخت کے جس کی جڑ مضبوط ہے اور جس کی ٹہنیاں آسمان میں ہیں۔

۲۵.      جو اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت اپنے پھل لاتا  ہے۔ اور اللہ تعالیٰ  لوگوں کے سامنے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

۲۶.      اور ناپاک بات کی مثال ایسے درخت جیسی ہے جو زمین کے کچھ ہی اوپر سے اکھاڑ لیا گیا۔ اسے کچھ ثبات تو ہے نہیں۔

۲۷.     ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ  پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی  ہاں نا انصاف لوگوں کو اللہ بہکا دیتا ہے اور اللہ جو چاہے کر گزرے۔

۲۸.      کیا آپ نے ان کی طرف نظر نہیں ڈالی جنہوں نے اللہ کی نعمت کے بدلے ناشکری کی اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں لا اتارا۔

۲۹.      یعنی دوزخ میں جس میں یہ سب جائیں گے، جو بدترین ٹھکانا ہے۔

۳۰.      انہوں نے اللہ کے ہمسر بنا لئے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ خیر مزے کر لو تمہاری باز گشت تو آخر جہنم ہی ہے۔

۳۱.       میرے ایمان دار بندوں سے کہہ دیجئے کہ نمازوں کو قائم رکھیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے رہیں اس سے پہلے کہ وہ دن آ جائے جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی اور نہ دوستی اور محبت۔

۳۲.      اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمانوں سے بارش برسا کر اس کے ذریعے تمہاری روزی کے پھل نکالے ہیں اور کشتیوں کو تمہارے بس میں کر دیا کہ دریاؤں میں اس کے حکم سے چلیں پھریں۔ اسی نے ندیاں اور نہریں تمہارے اختیار میں کر دی ہیں۔

۳۳.     اسی نے تمہارے لئے سورج چاند کو مسخر کر دیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں  اور رات دن کو بھی تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔

۳۴.     اسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے  اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے  یقیناً انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے۔

۳۵.     (ابراہیم کی یہ دعا بھی یاد کرو) جب انہوں نے کہا اے میرے پروردگار! اس شہر کو امن والا بنا دے  اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے پناہ دے۔

۳۶.      اے میرے پالنے والے معبود! انہوں نے بہت سے لوگوں کو راہ سے بھٹکا دیا ہے  پس میری تابعداری کرنے والا میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو، تو بہت ہی معاف اور کرم کرنے والا ہے۔

۳۷.     اے میرے پروردگار! میں نے اپنی کچھ اولاد  اس بے کھیتی کی وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسائی ہے۔ اے ہمارے پروردگار! یہ اس لئے کہ وہ نماز قائم رکھیں  پس تو کچھ لوگوں  کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے۔ اور انہیں پھلوں کی روزیاں عنایت فرما  تاکہ یہ شکر گزاری کریں۔

۳۸.     اے ہمارے پروردگار! تو خوب جانتا ہے جو ہم چھپائیں اور جو ظاہر کریں۔ زمین و آسمان کی کوئی چیز اللہ پر پوشیدہ نہیں۔

۳۹.      اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اس بڑھاپے میں اسماعیل و اسحاق (علیہا السلام) عطا فرمائے کچھ شک نہیں کہ میرا پالنے والا اللہ دعاؤں کا سننے والا ہے۔

۴۰.      اے میرے پالنے والے! مجھے نماز کا پابند رکھ اور میری اولاد سے بھی،  اے ہمارے رب میری دعا قبول فرما۔

۴۱.       اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو بھی  بخش اور دیگر مومنوں کو بھی جس دن حساب ہونے لگے۔

۴۲.      نا انصافوں کے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھو وہ تو انہیں اس دن تک مہلت دیئے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔

۴۳.     وہ اپنے سر اوپر اٹھائے دوڑ بھاگ رہے ہوں گے  خود اپنی طرف بھی ان کی نگاہیں نہ لوٹیں گی اور ان کے دل خالی اور اڑے ہوئے ہوں گے۔

۴۴.     لوگوں کو اس دن سے ہوشیار کر دے جب کے ان کے پاس عذاب آ جائے گا، اور ظالم کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہمیں بہت تھوڑے قریب کے وقت تک کی ہی مہلت دے کہ ہم تیری تبلیغ مان لیں اور تیرے پیغمبروں کی تابعداری میں لگ جائیں کیا تم اس سے پہلے بھی قسمیں نہیں کھا رہے تھے؟ کہ تمہارے لئے دنیا سے ٹلنا ہی نہیں۔

۴۵.     اور کیا تم ان لوگوں کے گھروں میں رہتے سہتے نہ تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور کیا تم پر وہ معاملہ کھلا نہیں کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا کچھ کیا۔ ہم نے (تو تمہارے سمجھانے کو) بہت سی مثالیں بیان کر دی تھیں۔

۴۶.      یہ اپنی اپنی چالیں چل رہے ہیں اور اللہ کو ان کی تمام چالوں کا علم ہے  اور ان کی چالیں ایسی نہ تھیں کہ ان سے پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں۔

۴۷.     آپ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ اللہ اپنے نبیوں سے وعدہ خلافی کرے گا  اللہ بڑا ہی غالب اور بدلہ لینے والا ہے۔

۴۸.     جس دن زمین اس زمین کے سوا اور ہی بدل دی جائے گی اور آسمان  بھی، اور سب کے سب اللہ واحد غلبے والے کے رو برو ہوں گے۔

۴۹.      آپ اس دن گنہگاروں کو دیکھیں گے کہ زنجیروں میں ملے جلے ایک جگہ جکڑے ہوئے ہوں گے۔

۵۰.      ان کے لباس گندھک کے ہوں گے  اور آگ ان کے چہروں پر چڑھی ہوئی ہو گی۔

۵۱.       یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ  ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا بدلہ دے، بیشک اللہ تعالیٰ  کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگنے کی۔

۵۲.      یہ قرآن  تمام لوگوں کے لئے اطلاع نامہ ہے کہ اس کے ذریعے سے وہ ہوشیار کر دیئے جائیں اور بخوبی معلوم کر لیں کہ اللہ ایک ہی معبود ہے اور تاکہ عقلمند لوگ سوچ سمجھ لیں۔

 

۱۵۔ الحِجر

۱.         ا لر، یہ کتاب الٰہی کی آیتیں ہیں اور کھلی اور روشن قرآن کی۔

۲.        وہ وقت بھی ہو گا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے۔

۳.        آپ انہیں کھاتا، نفع اٹھاتا اور (جھوٹی) امیدوں میں مشغول ہوتا چھوڑ دیجئیے یہ خود بھی جان لیں گے۔

۴.        کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لئے مقررہ نوشتہ تھا

۵.        کوئی گروہ اپنی موت سے نہ آگے بڑھتا نہ پیچھے رہتا

۶.        انہوں نے کہا اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے یقیناً تو تو کوئی دیوانہ ہے

۷.        اگر تو سچا ہی ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا۔

۸.        ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں اور اس وقت وہ مہلت دیئے گئے نہیں ہوتے

۹.         ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔

۱۰.       ہم نے آپ سے پہلے اگلی امتوں میں بھی رسول (برابر) بھیجے۔

۱۱.        اور (لیکن) جو بھی رسول آتا وہ اس کا مذاق اڑاتے۔

۱۲.       گناہگاروں کے دلوں میں ہم اسی طرح ہی رچا دیا کرتے ہیں۔

۱۳.       وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور یقیناً اگلوں کا طریقہ گزرا ہوا ہے۔

۱۴.       اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازہ کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں۔

۱۵.       تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے۔

۱۶.       یقیناً ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں  اور دیکھنے والوں کے لئے اسے سجا دیا گیا ہے۔

۱۷.      اور اسے ہر مردود شیطان سے محفوظ رکھا ہے

۱۸.       ہاں مگر جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرے اس کے پیچھے دھکتا ہوا (کھلا شعلہ) لگتا ہے۔

۱۹.       اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے اور اس پر (اٹل) پہاڑ ڈال دیئے، اور اس میں ہم نے ہر چیز ایک معین مقدار سے اگا دی۔

۲۰.      اور اسی میں ہم نے تمہاری روزیاں بنا دی ہیں  اور جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو۔

۲۱.       اور جتنی بھی چیزیں ہیں ان سب کے خزانے ہمارے پاس ہیں  اور ہم ہر چیز کو اس کے مقررہ انداز سے اتارتے ہیں۔

۲۲.      اور ہم بھیجتے ہیں بوجھل ہوائیں  پھر آسمان سے پانی برسا کر وہ تمہیں پلاتے ہیں اور تم اس کا ذخیرہ کرنے والے نہیں ہو۔

۲۳.      ہم ہی جلاتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی (بالآخر) وارث ہیں۔

۲۴.      اور تم میں سے آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے بھی ہمارے علم میں ہیں۔

۲۵.      آپ کا رب سب لوگوں کو جمع کرے گا یقیناً وہ بڑی حکمتوں والا ہے۔

۲۶.      یقیناً ہم نے انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے، پیدا فرمایا ہے۔

۲۷.     اس سے پہلے جنات کو ہم نے لو والی آگ  سے پیدا کیا۔

۲۸.      اور جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں۔

۲۹.      تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لئے سجدے میں گر پڑنا۔

۳۰.      چنانچہ تمام فرشتوں نے سب کے سب نے سجدہ کر لیا۔

۳۱.       مگر ابلیس کے، کہ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شمولیت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

۳۲.      (اللہ تعالیٰ  نے) فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟

۳۳.     وہ بولا کہ میں ایسا نہیں کہ اس انسان کو سجدہ کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔

۳۴.     فرمایا اب تو بہشت سے نکل جا کیونکہ تو راندہ درگاہ ہے۔

۳۵.     تجھ پر میری پھٹکار ہے قیامت کے دن تک۔

۳۶.      کہنے لگا میرے رب! مجھے اس دن تک کی ڈھیل دے کہ لوگ دوبارہ اٹھ کھڑے کیئے جائیں۔

۳۷.     فرمایا کہ اچھا تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت ملی ہے۔

۳۸.     روز مقرر کے وقت تک۔

۳۹.      (شیطان نے) کہا اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے مجھے بھی قسم ہے کہ میں بھی زمین میں ان کے لئے معاصی کو مزین کروں گا اور ان سب کو بہکاؤں گا بھی۔

۴۰.      سوائے تیرے ان بندوں کے جو منتخب کر لئے گئے ہیں۔

۴۱.       ارشاد ہوا کہ ہاں یہی مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راہ ہے

۴۲.      میرے بندوں پر تجھے کوئی غلبہ نہیں  لیکن ہاں جو گمراہ لوگ تیری پیروی کریں۔

۴۳.     یقیناً سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے

۴۴.     جس کے سات دروازے ہیں۔ ہر دروازے کے لئے ان کا ایک حصہ بنا ہوا ہے

۴۵.     پرہیزگار جنتی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے

۴۶.      (ان سے کہا جائے گا) سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ۔

۴۷.     ان کے دلوں میں جو کچھ رنجش و کینہ تھا، ہم سب کچھ نکال دیں گے  وہ بھائی بھائی بنے ہوئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔

۴۸.     نہ تو وہاں انہیں کوئی تکلیف چھو سکتی ہے اور نہ وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے۔

۴۹.      میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے والا اور بڑا مہربان ہوں۔

۵۰.      ساتھ ہی میرے عذاب بھی نہایت دردناک ہیں۔

۵۱.       انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا (بھی) حال سنا دو۔

۵۲.      کہ جب انہوں نے ان کے پاس آ کر سلام کہا تو انہوں نے کہا کہ ہم کو تو ڈر لگتا ہے

۵۳.     انہوں نے کہا ڈرو نہیں، ہم تجھے ایک صاحب علم فرزند کی بشارت دیتے ہیں۔

۵۴.     کہا، کیا اس بڑھاپے کے آ جانے کے بعد تم مجھے خوشخبری دیتے ہو! یہ خوشخبری تم کیسے دے رہے ہو؟

۵۵.     انہوں نے کہا ہم آپ کو بالکل سچی خوشخبری سناتے ہیں آپ مایوس لوگوں میں شامل نہ ہوں۔

۵۶.      کہا اپنے رب تعالیٰ  کی رحمت سے نا امید تو صرف گمراہ اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔

۵۷.     پوچھا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو) تمہارا ایسا کیا اہم کام ہے؟

۵۸.     انہوں نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

۵۹.      مگر خاندان لوط کہ ہم ان سب کو ضرور بچا لیں گے

۶۰.      سوائے اس (لوط) کی بیوی کے کہ ہم نے اسے رکنے اور باقی رہ جانے والوں میں مقرر کر دیا ہے۔

۶۱.       جب بھیجے ہوئے فرشتے آل لوط کے پاس پہنچے۔

۶۲.      تو انہوں (لوط علیہ السلام) نے کہا تم لوگ تو کچھ انجان سے معلوم ہو رہے ہو۔

۶۳.      انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم تیرے پاس وہ چیز لائے ہیں جس میں یہ لوگ شک شبہ کر رہے تھے۔

۶۴.      ہم تیرے پاس (صریح) حق لائے ہیں اور ہیں بھی بالکل سچے۔

۶۵.      اب تو اپنے خاندان سمیت اس رات کے کسی حصہ میں چل دے اور آپ ان کے پیچھے رہنا  اور (خبردار) تم میں سے (پیچھے) مڑ کر بھی نہ دیکھے اور جہاں کا تمہیں حکم کیا جا رہا ہے وہاں چلے جانا۔

۶۶.      ہم نے اس کی طرف اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ صبح ہو تے ہوتے ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی۔

۶۷.     اور شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے۔

۶۸.      (لوط علیہ السلام نے) کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں تم مجھے رسوا نہ کرو۔

۶۹.      اللہ تعالیٰ  سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو۔

۷۰.     وہ بولے کیا ہم نے تجھے دنیا بھر (کی ٹھیکیداری) سے منع نہیں کر رکھا؟۔

۷۱.      (لوط علیہ السلام نے) کہا اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری بچیاں موجود ہیں۔

۷۲.     تیری عمر کی قسم! وہ تو اپنی بد مستی میں سرگرداں تھے۔

۷۳.     پس سورج نکلتے نکلتے انہیں ایک بڑے زور کی آواز نے پکڑ لیا۔

۷۴.     بالآخر ہم نے اس شہر کو اوپر تلے کر دیا  اور ان لوگوں پر کنکر والے پتھر  برسائے۔

۷۵.     بلاشبہ بصیرت والوں کے لئے  اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

۷۶.     یہ بستی راہ پر ہے جو برابر چلتی رہتی (عام گزرگاہ) ہے۔

۷۷.     اور اس میں ایمان داروں کے لئے بڑی نشانی ہے۔

۷۸.     ایک بستی کے رہنے والے بھی بڑے ظالم تھے

۷۹.      جن سے (آخر) ہم نے انتقام لے ہی لیا۔ یہ دونوں شہر کھلے (عام) راستے پر ہیں

۸۰.      اور حجر والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا

۸۱.       اور ہم نے اپنی نشانیاں بھی عطا فرمائیں (لیکن) تاہم وہ ان سے روگردانی ہی کرتے رہے۔

۸۲.      یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے، بے خوف ہو کر۔

۸۳.     آخر انہیں بھی صبح ہوتے ہوتے چنگھاڑ نے آ دبوچا۔

۸۴.     پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔

۸۵.     ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے،  اور قیامت ضرور ضرور آنے والی ہے۔ پس تو حسن و خوبی (اور اچھائی) سے درگزر کر لے۔

۸۶.      یقیناً تیرا پروردگار ہی پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے۔

۸۷.     یقیناً ہم نے سات آیتیں دے رکھی ہیں  کہ وہ دہرائی جاتی ہیں اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے۔

۸۸.     آپ ہرگز اپنی نظریں اس چیز کی طرف نہ دوڑائیں، جس سے ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو بہرہ مند کر رکھا ہے، نہ ان پر آپ افسوس کریں اور مومنوں کے لئے اپنے بازو جھکائے رہیں۔

۸۹.      اور کہہ دیجئے کہ میں تو کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔

۹۰.      جیسے کہ ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا۔

۹۱.       جنہوں نے اس کتاب الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے

۹۲.      قسم ہے تیرے پالنے والے کی! ہم ان سب سے ضرور باز پرس کریں گے۔

۹۳.      ہر چیز کی جو وہ کرتے تھے۔

۹۴.      پس آپ  اس حکم کو جو آپ کو کیا جا رہا ہے کھول کر سنا دیجئے اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجئے۔

۹۵.      آپ سے جو لوگ مسخرا پن کرتے ہیں ان کی سزا کے لئے ہم کافی ہیں۔

۹۶.      جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود مقرر کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا۔

۹۷.      ہمیں خوب علم ہے کہ ان باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے۔

۹۸.      آپ اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہیں اور سجدہ کرنے والوں میں شامل ہو جائیں۔

۹۹.       اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آ جائے۔

 

۱۶۔ النحل

۱.         اللہ تعالیٰ  کا حکم آ پہنچا، اب اس کی جلدی نہ مچاؤ  تمام پاکی اس کے لئے ہے وہ برتر ہے ان سب سے جنہیں یہ اللہ کے نزدیک شریک بتلاتے ہیں۔

۲.        وہی فرشتوں کو اپنی وحی  دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے  اتارتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں، پس تم مجھ سے ڈرو۔

۳.        اسی نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا  وہ اس سے بری ہے جو مشرک کرتے ہیں۔

۴.        اس نے انسان کو نطفے سے پیدا کیا پھر وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا۔

۵.        اسی نے چوپائے پیدا کئے جن میں تمہارے لئے گرم لباس ہیں اور بھی بہت سے نفع ہیں  اور بعض تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں۔

۶.        ان میں تمہاری رونق بھی ہے جب چرا کر لاؤ تب بھی اور جب چرانے لے جاؤ تب بھی۔

۷.        اور وہ تمہارے بوجھ ان شہروں تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تم آدھی جان کیئے پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔ یقیناً تمہارا رب بڑا شفیق اور نہایت مہربان ہے۔

۸.        گھوڑوں کو، خچروں کو گدھوں کو اس نے پیدا کیا کہ تم ان کی سواری لو اور وہ باعث زینت بھی ہیں۔  اور بھی ایسی بہت سی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں۔

۹.         اور اللہ پر سیدھی راہ کا بتا دینا ہے  اور بعض ٹیڑھی راہیں ہیں، اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ راست پر لگا دیتا۔

۱۰.       وہی تمہارے فائدے کے لئے آسمان سے پانی برساتا ہے جسے تم پیتے ہو اور اسی سے اُگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو۔

۱۱.        اسی سے وہ تمہارے لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے بیشک ان لوگوں کے لئے تو اس میں بڑی نشانی ہے  اور غور و فکر کرتے ہیں۔

۱۲.       اسی نے رات دن اور سورج چاند کو تمہارے لئے تابع کر دیا ہے اور ستارے بھی اس کے حکم کے ماتحت ہیں، یقیناً اس میں عقلمند لوگوں کے لئے کئی ایک نشانیاں موجود ہیں۔

۱۳.       اور بھی بہت سی چیزیں طرح طرح کے رنگ روپ کی اس نے تمہارے لئے زمین پر پھیلا رکھی ہے۔ بیشک نصیحت قبول کرنے والوں کے لئے اس میں بڑی بھاری نشانی ہے۔

۱۴.       اور دریا بھی اس نے تمہارے بس میں کر دیئے ہیں کہ تم اس میں سے (نکلا ہوا) تازہ گوشت کھاؤ اور اس میں سے اپنے پہننے کے زیورات نکال سکو اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس میں پانی چیرتی ہوئی (چلتی) ہیں اور اس لئے بھی کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور ہو سکتا ہے کہ تم شکر گزاری بھی کرو۔

۱۵.       اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے ہیں تاکہ تمہیں لے کر ہلے نہ  اور نہریں اور راہیں بنا دیں تاکہ تم منزل مقصود کو پہنچو۔

۱۶.       اور بھی بہت سی نشانیاں مقرر فرمائیں اور ستاروں سے بھی لوگ راہ حاصل کرتے ہیں۔

۱۷.      تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کر سکتا؟ کیا تم بالکل نہیں سوچتے۔

۱۸.       اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو تم اسے نہیں کر سکتے۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے

۱۹.       اور جو کچھ تم چھپاؤ اور ظاہر کرو اللہ تعالیٰ  سب کچھ جانتا ہے۔

۲۰.      اور جن جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ  کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے، بلکہ وہ خود پیدا کیئے ہوئے ہیں۔

۲۱.       مردے ہیں زندہ نہیں  انہیں تو یہ بھی شعور نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے

۲۲.      تم سب کا معبود صرف اللہ تعالیٰ  اکیلا اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل منکر ہیں اور وہ خود تکبر سے بھرے ہوئے ہیں۔

۲۳.      بیشک و شبہ اللہ تعالیٰ  ہر اس چیز کو، جسے وہ لوگ چھپاتے ہیں اور جسے ظاہر کرتے ہیں، بخوبی جانتا ہے۔ وہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا

۲۴.      ان سے جب دریافت کیا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تو جواب دیتے ہیں کہ اگلوں کی کہانیاں۔

۲۵.      اس کا نتیجہ ہو گا کہ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے پورے بوجھ کے ساتھ ہی ان کے بوجھ کے حصے دار ہوں گے جنہیں بے علمی سے گمراہ کرتے رہے۔ دیکھو تو کیسا برا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

۲۶.      ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی مکر کیا تھا، (آخر) اللہ نے (ان کے منصوبوں) کی عمارتوں کو جڑوں سے اکھیڑ دیا اور ان (کے سروں) پر (ان کی) چھتیں اوپر سے گر پڑیں  اور ان کے پاس عذاب وہاں سے آ گیا جہاں کا انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا

۲۷.     پھر قیامت والے دن بھی اللہ تعالیٰ  انہیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا کہ میرے شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم لڑتے جھگڑتے تھے،  جنہیں علم دیا گیا تھا وہ پکار اٹھیں گے  آج تو کافروں کو رسوائی اور برائی چمٹ گئی۔

۲۸.      وہ جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، فرشتے جب ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں اس وقت وہ جھک جاتے ہیں کہ ہم برائی نہیں کرتے تھے  کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ  خوب جاننے والا ہے جو کچھ تم کرتے تھے۔

۲۹.      پس اب تو ہمیشگی کے طور پر تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ  پس کیا ہی برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا۔

۳۰.      اور پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل فرمایا ہے؟ تو جواب دیتے ہیں اچھے سے اچھا جن لوگوں نے بھلائی کی ان کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے، اور یقیناً آخرت کا گھر تو بہت ہی بہتر ہے، اور کیا ہی خوب پرہیزگاروں کا گھر ہے۔

۳۱.       ہمیشگی والے باغات جہاں وہ جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جو کچھ طلب کریں گے وہاں ان کے لئے موجود ہو گا۔ پرہیزگاروں کو اللہ تعالیٰ  اسی طرح بدلے عطا فرماتا ہے۔

۳۲.      وہ جن کی جانیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاک صاف ہوں کہتے ہیں کہ تمہارے لئے سلامتی ہی سلامتی ہے،  جاؤ جنت میں اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے۔

۳۳.     کیا یہ اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آ جائیں یا تیرے رب کا حکم آ جائے؟  ایسا ہی ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو ان سے پہلے تھے  ان پر اللہ تعالیٰ  نے کوئی ظلم نہیں کیا  بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔

۳۴.     پس ان کے برے اعمال کے نتیجے انہیں مل گئے اور جس کی ہنسی اڑاتے تھے اس نے ان کو گھیر لیا

۳۵.     مشرک لوگوں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ  چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادے اس کے سوا کسی اور کی عبادت ہی نہ کرتے، نہ اس کے فرمان کے بغیر کسی چیز کو حرام کرتے۔ یہی فعل ان سے پہلے لوگوں کا رہا۔ تو رسولوں پر تو صرف کھلم کھولا پیغام پہنچا دینا ہے

۳۶.      ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ  نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہو گئی  پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟

۳۷.     گو آپ ان کی ہدایت کے خواہشمند رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ  اسے ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ کر دے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوتا ہے۔

۳۸.     وہ لوگ بڑی سخت سخت قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ مردوں کو اللہ زندہ نہیں کرے گا  کیوں نہیں ضرور زندہ کرے گا یہ اس کا برحق لازمی وعدہ ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

۳۹.      اس لئے بھی کہ یہ لوگ جس چیز میں اختلاف کرتے تھے اسے اللہ تعالیٰ  صاف بیان کر دے اور اس لئے بھی کہ خود کافر اپنا جھوٹا ہونا جان لیں۔

۴۰.      ہم جب کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو صرف ہمارا یہ کہہ دینا ہوتا ہے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے۔

۴۱.       جن لوگوں نے ظلم برداشت کرنے کے بعد اللہ کی راہ میں ترک وطن کیا ہے  ہم انہیں بہتر سے بہتر ٹھکانا دنیا میں عطا فرمائیں گے  اور آخرت کا ثواب تو بہت ہی بڑا ہے،  کاش کہ لوگ اس سے واقف ہوتے۔

۴۲.      وہ جنہوں نے دامن صبر نہ چھوڑا اور اپنے پالنے والے ہی پر بھروسہ کرتے رہے۔

۴۳.     آپ سے پہلے بھی ہم مردوں کو ہی بھیجتے رہے، جن کی جانب وحی اتارا کرتے تھے پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو۔

۴۴.     دلیلوں اور کتابوں کے ساتھ، یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں، شاید کہ وہ غور و فکر کریں۔

۴۵.     بدترین داؤ پیچ کرنے والے کیا اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ  انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان کے پاس ایسی جگہ سے عذاب آ جائے جہاں کا انہیں وہم و گمان بھی نہ ہو۔

۴۶.      یا انہیں چلتے پھرتے پکڑ لے  یہ کسی صورت میں اللہ تعالیٰ  کو عاجز نہیں کر سکتے۔

۴۷.     یا انہیں ڈرا دھمکا کر پکڑ لے  پس یقیناً تمہارا پروردگار اعلیٰ شفقت اور انتہائی رحم والا ہے۔

۴۸.     کیا انہوں نے اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیکھا؟ کہ اس کے سائے دائیں بائیں جھک جھک کر اللہ تعالیٰ  کے سامنے سر بسجود ہوتے اور عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔

۴۹.      یقیناً آسمان و زمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اللہ تعالیٰ  کے سامنے سجدے کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے۔

۵۰.      اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے، کپکپاتے رہتے ہیں  اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔

۵۱.       اللہ تعالیٰ  ارشاد فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ۔ معبود تو صرف وہی اکیلا ہے  پس تم سب میرا ہی ڈر خوف رکھو۔

۵۲.      آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے،  کیا پھر تم اس کے سوا اوروں سے ڈرتے ہو؟۔

۵۳.     تمہارے پاس جتنی بھی نعمتیں ہیں سب اسی کی دی ہوئی ہیں،  اب بھی جب تمہیں کوئی مصیبت پیش آ جائے تو اسی کی طرف نالہ اور فریاد کرتے ہو۔

۵۴.     اور جہاں اس نے وہ مصیبت تم سے دفع کر دی تم میں سے کچھ لوگ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔

۵۵.     کہ ہماری دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کریں۔  اچھا کچھ فائدہ ابھالو آخرکار تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا

۵۶.      اور جسے جانتے بوجھتے بھی نہیں اس کا حصہ ہماری دی ہوئی روزی میں سے مقرر کرتے ہیں،  واللہ تمہارے اس بہتان کا سوال تم سے ضرور کیا جائے گا۔

۵۷.     اور وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ  کے لئے لڑکیاں مقرر کرتے ہیں اور اپنے لئے وہ جو اپنی خواہش کے مطابق ہو

۵۸.     ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے

۵۹.      اس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت کے ساتھ لئے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبا دے، آہ! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں؟

۶۰.      آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کی ہی بری مثال ہے  اللہ کے لئے تو بہت ہی بلند صفت ہے، وہ بڑا ہی غالب اور با حکمت ہے۔

۶۱.       اگر لوگوں کے گناہ پر اللہ تعالیٰ  ان کی گرفت کرتا تو روئے زمین پر ایک بھی جاندار باقی نہ رہتا  لیکن وہ تو انہیں ایک وقت مقرر تک ڈھیل دیتا ہے  جب ان کا وہ وقت آ جاتا ہے تو وہ ایک ساعت نہ پیچھے رہ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

۶۲.      اور وہ اپنے لئے جو ناپسند رکھتے ہیں اللہ کے لئے ثابت کرتے ہیں  اور ان کی زبانیں جھوٹی باتیں بیان کرتی ہیں کہ ان کے لئے خوبی ہے  نہیں نہیں، دراصل ان کے لئے آگ ہے اور یہ دوزخیوں کے پیش رو ہیں۔

۶۳.      واللہ! ہم نے تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی اپنے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کے اعمال بد ان کی نگاہوں میں آراستہ کر دیئے  وہ شیطان آج بھی ان کا رفیق بنا ہوا ہے  اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

۶۴.      اس کتاب کو ہم نے آپ پر اس لئے اتارا ہے کہ آپ ان کے لئے ہر اس چیز کو واضح کر دیں جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں  اور یہ ایمان داروں کے لئے راہنمائی اور رحمت ہے۔

۶۵.      اور اللہ آسمان سے پانی برسا کر اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے نشانی ہے جو سنیں۔

۶۶.      تمہارے لئے تو چوپایوں  میں بھی بڑی عبرت ہے کہ ہم تمہیں اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اسی میں سے گوبر اور لہو کے درمیان سے خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لئے سہتا پچتا ہے۔

۶۷.     اور کھجور اور انگور کے درختوں کے پھلوں سے تم شراب بنا لیتے ہو  اور عمدہ روزی بھی۔ جو لوگ عقل رکھتے ہیں ان کے لئے تو اس میں بہت بڑی نشانی ہے۔

۶۸.      آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات  ڈال دی کہ پہاڑوں میں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی اونچی اونچی ٹٹیوں میں اپنے گھر (چھتے) بنا۔

۶۹.      اور ہر طرح کے میوے کھا اور اپنے رب کی آسان راہوں میں چلتی پھرتی رہ، ان کے پیٹ سے رنگ برنگ کا مشروب نکلتا ہے،  جس کے رنگ مختلف ہیں  اور جس میں لوگوں کے لئے شفا  ہے غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت بڑی نشانی ہے۔

۷۰.     اللہ تعالیٰ  ہی نے تم سب کو پیدا کیا وہی پھر تمہیں فوت کرے گا، تم میں ایسے بھی ہیں جو بدترین عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کہ بہت کچھ جانتے بوجھنے کے بعد بھی نہ جانیں  بیشک اللہ دانا اور توانا ہے۔

۷۱.      اللہ تعالیٰ  ہی نے تم سے ایک کو دوسرے پر روزی میں زیادتی دے رکھی ہے، پس جنہیں زیادتی دی گئی ہے وہ اپنی روزی اپنے ما تحت غلاموں کو نہیں دیتے کہ وہ اور یہ اس میں برابر ہو جائیں  تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہو رہے ہیں۔

۷۲.     اللہ تعالیٰ  نے تمہارے لئے تم میں سے ہی تمہاری بیویاں پیدا کیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لئے بیٹے اور پوتے پیدا کئے اور تمہیں اچھی اچھی چیزیں کھانے کو دیں۔ کیا پھر بھی لوگ باطل پر ایمان لائیں گے؟  اور اللہ تعالیٰ  کی نعمتوں کی ناشکری کریں گے۔

۷۳.     اور وہ اللہ تعالیٰ  کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین سے انہیں کچھ بھی تو روزی نہیں دے سکتے اور نہ قدرت رکھتے ہیں۔

۷۴.     پس اللہ تعالیٰ  کے لئے مثالیں مت بناؤ  اللہ تعالیٰ  خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

۷۵.     اللہ تعالیٰ  ایک مثال بیان کرتا ہے کہ ایک غلام ہے دوسرے کی ملکیت کا، جو کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا اور ایک اور شخص ہے جسے ہم نے اپنے پاس سے معقول روزی دے رکھی ہے، جس میں سے چھپے کھلے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ سب برابر ہو سکتے ہیں؟  اللہ تعالیٰ  ہی کے لئے سب تعریف ہے، بلکہ ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

۷۶.     اللہ تعالیٰ  ایک اور مثال بیان فرماتا ہے  دو شخصوں کی، جن میں سے ایک تو گونگا ہے اور کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنے مالک پر بوجھ ہے کہیں بھی اسے بھیج دو کوئی بھلائی نہیں لاتا، کیا یہ اور وہ جو عدل کا حکم دیتا ہے  اور ہے بھی سیدھی راہ پر، برابر ہو سکتے ہیں؟

۷۷.     آسمانوں اور زمین کا غیب صرف اللہ تعالیٰ  ہی کو معلوم ہے  اور قیامت کا امر تو ایسا ہی ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا، بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب۔ بیشک اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قادر ہے۔

۷۸.     اللہ تعالیٰ  نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ہے کہ اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے،  اسی نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے  کہ تم شکر گزاری کرو۔

۷۹.      کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا جو تابع فرمان ہو کر فضا میں ہیں، جنہیں بجز اللہ تعالیٰ  کے کوئی اور تھامے ہوئے نہیں،  بیشک اس میں ایمان لانے والے لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں۔

۸۰.      اور اللہ تعالیٰ  نے تمہارے لئے گھروں میں سکونت کی جگہ بنا دی ہے اور اسی نے تمہارے لئے چوپایوں کی کھالوں کے گھر بنا دیئے ہیں، جنہیں تم ہلکا پھلکا پاتے ہو اپنے کوچ کے دن اور اپنے ٹھہرنے کے دن بھی،  اور ان کی اون اور روؤں اور بالوں سے بھی اس نے بہت سے سامان اور ایک وقت مقررہ تک کے لئے فائدہ کی چیزیں بنائیں۔

۸۱.       اللہ ہی نے تمہارے لئے اپنی پیدا کردہ چیزوں میں سے سائے بنائے ہیں  اور اسی نے تمہارے لئے پہاڑوں میں غار بنائے ہیں اور اسی نے تمہارے لئے کرتے بنائے ہیں جو تمہیں گرمی سے بچائیں اور ایسے کرتے بھی جو تمہیں لڑائی کے وقت کام آئیں  وہ اس طرح اپنی پوری پوری نعمتیں دے رہا ہے کہ تم حکم بردار بن جاؤ۔

۸۲.      پھر بھی اگر یہ منہ موڑے رہیں تو آپ پر صرف کھول کر تبلیغ کر دینا ہی ہے۔

۸۳.     یہ اللہ کی نعمتیں جانتے پہچانتے ہوئے بھی ان کے منکر ہو رہے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں

۸۴.     اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ کھڑا کریں گے  پھر کافروں کو نہ اجازت دی جائے گی اور نہ ان سے توبہ کرنے کو کہا جائے گا۔

۸۵.     اور جب یہ ظالم عذاب دیکھ لیں گے پھر نہ تو ان سے ہلکا کیا جائے گا اور نہ وہ ڈھیل دیئے جائیں گے۔

۸۶.      جب مشرکین اپنے شریکوں کو دیکھ لیں گے تو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! یہی وہ ہمارے شریک ہیں جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے، پس وہ انہیں جواب دیں گے کہ تم بالکل ہی جھوٹے ہو

۸۷.     اس دن وہ سب (عاجز ہو کر) اللہ کے سامنے اطاعت کا اقرار پیش کریں گے اور جو بہتان بازی کیا کرتے تھے وہ سب ان سے گم ہو جائے گی۔

۸۸.     جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم انہیں عذاب پر عذاب بڑھاتے جائیں گے  یہ بدلہ ہو گا ان کی فتنہ پردازیوں کا۔

۸۹.      اور جس دن ہم ہر امت میں انہی میں سے ان کے مقابلے پر گواہ کھڑا کریں گے اور تجھے ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے  اور ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے  اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے مسلمانوں کے لئے۔

۹۰.      اللہ تعالیٰ  عدل کا، بھلائی کا اور قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی کے کاموں، ناشائستہ حرکتوں اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے،  وہ خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو۔

۹۱.       اور اللہ تعالیٰ  کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم آپس میں قول و قرار کرو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد مت توڑو، حالانکہ تم اللہ تعالیٰ  کو اپنا ضامن ٹھہرا چکے ہو  تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو بخوبی جان رہا ہے۔

۹۲.      اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کر کے توڑ ڈالا  کہ تم اپنی قسموں کو آپس کے مکر کا باعث ٹھہراؤ  اس لئے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھا چڑھا ہو جائے  بات صرف یہی ہے کی اس عہد سے اللہ تمہیں آزما رہا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ  تمہارے لئے قیامت کے دن ہر اس چیز کو کھول کر بیان کر دے گا جس میں تم اختلاف کر رہے تھے۔

۹۳.      اگر اللہ چاہتا تم سب کو ایک ہی گروہ بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے ہدایت دیتا ہے، یقیناً تم جو کچھ کر رہے ہو اس کے بارے میں باز پرس کی جانے والی ہے۔

۹۴.      اور تم اپنی قسموں کو آپس کی دغا بازی کا بہانہ نہ بناؤ۔ پھر تمہارے قدم اپنی مضبوطی کے بعد ڈگمگا جائیں گے اور تمہیں سخت سزا برداشت کرنا پڑے گی کیونکہ تم نے اللہ کی راہ سے روک دیا اور تمہیں سخت عذاب ہو گا

۹۵.      تم اللہ کے عہد کو تھوڑے مول کے بدلے نہ بیچ دیا کرو۔ یاد رکھو اللہ کے پاس کی چیز ہی تمہارے لئے بہتر ہے بشرطیکہ تم میں علم ہو۔

۹۶.      تمہارے پاس جو کچھ ہے سب فانی ہے اور اللہ تعالیٰ  کے پاس جو کچھ ہے باقی ہے۔ اور صبر کرنے والوں کو ہم بھلے اعمال کا بہترین بدلہ ضرور عطا فرمائیں گے۔

۹۷.      جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن با ایمان ہو تو ہم یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے  اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔

۹۸.      قرآن پڑھنے کے وقت راندے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔

۹۹.       ایمان والوں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھنے والوں پر زور مطلقاً نہیں چلتا۔

۱۰۰.     ہاں اس کا غلبہ ان پر تو یقیناً ہے جو اسی سے رفاقت کریں اور اسے اللہ کا شریک ٹھہرائیں۔

۱۰۱.     جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ  نازل فرماتا ہے اسے وہ خوب جانتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ تو تو بہتان باز ہے۔ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر جانتے ہی نہیں۔

۱۰۲.     کہہ دیجئے کہ اسے آپ کے رب کی طرف سے جبرائیل حق کے ساتھ لے کر آئے ہیں  تاکہ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ  استقلال عطا فرمائے  اور مسلمانوں کی رہنمائی اور بشارت ہو جائے۔

۱۰۳.    ہمیں بخوبی علم ہے کہ یہ کافر کہتے ہیں کہ اسے تو ایک آدمی سکھاتا ہے  اس کی زبان جس کی طرف یہ نسبت کر رہے ہیں عجمی ہے اور یہ قرآن تو صاف عربی زبان میں ہے۔

۱۰۴.    جو لوگ اللہ تعالیٰ  کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے انہیں اللہ کی طرف سے بھی رہنمائی نہیں ہوتی اور ان کے لئے المناک عذاب ہیں۔

۱۰۵.    جھوٹ افترا تو وہی باندھتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ  کی آیتوں پر ایمان نہیں ہوتا۔ یہی لوگ جھوٹے ہیں۔

۱۰۶.     جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے بجز اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو  مگر جو لوگ کھلے دل سے کفر کریں تو ان پر اللہ کا غضب ہے اور انہی کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

۱۰۷.    یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت سے زیادہ محبوب رکھا یقیناً اللہ تعالیٰ  کافر لوگوں کو راہ راست نہیں دکھاتا۔

۱۰۸.    یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور جن کے کانوں اور جن کی آنکھوں پر مہر لگا دی ہے اور یہی لوگ غافل ہیں۔

۱۰۹.     کچھ شک نہیں کہ یہی لوگ آخرت میں سخت نقصان اُٹھانے والے ہیں۔

۱۱۰.     جن لوگوں نے فتنوں میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی پھر جہاد کیا اور صبر کا ثبوت دیا بیشک تیرا پروردگار ان باتوں کے بعد انہیں بخشنے والا اور مہربانیاں کرنے والا ہے۔

۱۱۱.      جس دن ہر شخص اپنی ذات کے لئے لڑتا جھگڑتا آئے  اور ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور لوگوں پر (مطلقاً) ظلم نہ کیا جائے گا۔

۱۱۲.     اللہ تعالیٰ  اس بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو پورے امن و اطمینان سے تھی اس کی روزی اس کے پاس با فراغت ہر جگہ سے چلی آ رہی تھی۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ  کی نعمتوں کا کفر کیا تو اللہ تعالیٰ  نے اسے بھوک اور ڈر کا مزہ چکھایا جو بدلہ تھا ان کے کرتوتوں کا۔

۱۱۳.     ان کے پاس انہی میں سے رسول پہنچا پھر بھی انہوں نے اسے جھٹلایا پس انہیں عذاب نے آ دبوچا  اور وہ تھے ہی ظالم۔

۱۱۴.     جو کچھ حلال اور پاکیزہ روزی اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اس کی عبادت کرتے ہو۔

۱۱۵.     تم پر صرف مردار اور خون اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا جائے حرام ہیں  پھر اگر کوئی بے بس کر دیا جائے نہ وہ خواہشمند ہو اور نہ حد سے گزر جانے والا ہو تو یقیناً اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔

۱۱۶.     کسی چیز کو اپنی زبان سے جھوٹ موٹ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھ لو،  سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ  پر بہتان بازی کرنے والے کامیابی سے محروم ہی رہتے ہیں۔

۱۱۷.     انہیں بہت معمولی فائدہ ملتا ہے اور ان کے لئے ہی دردناک عذاب ہے۔

۱۱۸.     اور یہودیوں پر جو کچھ ہم نے حرام کیا تھا اسے ہم پہلے ہی سے آپ کو سنا چکے ہیں  ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔

۱۱۹.      جو کوئی جہالت سے برے عمل کر لے پھر توبہ کر لے اور اصلاح بھی کر لے تو پھر آپ کا رب بلاک و شبہ بڑی بخشش کرنے والا اور نہایت ہی مہربان ہے۔

۱۲۰.     بیشک ابراہیم پیشوا  اور اللہ تعالیٰ  کے فرمانبردار اور ایک طرفہ مخلص تھے۔ وہ مشرکوں میں نہ تھے۔

۱۲۱.     اللہ تعالیٰ  کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ نے انہیں اپنا برگزیدہ کر لیا تھا اور انہیں راہ راست سمجھا دی تھی۔

۱۲۲.     ہم نے اس دنیا میں بھی بہتری دی تھی اور بیشک وہ آخرت میں بھی نیکوکاروں میں ہیں۔

۱۲۳.    پھر ہم نے آپ کی جانب وحی بھیجی کہ آپ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کریں،  جو مشرکوں میں سے نہ تھے۔

۱۲۴.    ہفتے کے دن کی عظمت تو صرف ان لوگوں کے ذمے ہی ضروری تھی جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا،  بات یہ ہے کہ آپ کا پروردگار خود ہی ان میں ان کے اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا۔

۱۲۵.    اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے  یقیناً آپ کا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وہ راہ یافتہ لوگوں سے پورا واقف ہے

۱۲۶.     اور اگر بدلہ لو بھی تو بالکل اتنا ہی جتنا صدمہ تمہیں پہنچایا گیا ہو اور اگر صبر کر لو تو بیشک صابروں کے لئے یہی بہتر ہے۔

۱۲۷.    آپ صبر کریں بغیر توفیق الٰہی کے آپ صبر کر ہی نہیں سکتے اور ان کے حال پر رنجیدہ نہ ہوں اور جو مکر و فریب یہ کرتے رہتے ہیں ان سے تنگ دل نہ ہوں۔

۱۲۸.    یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ  پرہیزگاروں اور نیک کاروں کے ساتھ ہے۔

 

۱۷۔ الاسراء

۱.         پاک ہے  وہ اللہ تعالیٰ  جو اپنے بندے  کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے  رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں  یقیناً اللہ تعالیٰ  خوب سننے دیکھنے والا ہے۔

۲.        ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اسے بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنا دیا کہ تم میرے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ بنانا

۳.        اے ان لوگوں کی اولاد! جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کر دیا تھا، وہ ہمارا بڑا ہی شکر گزار بندہ تھا

۴.        ہم نے بنو اسرائیل کے لئے ان کی کتاب میں صاف فیصلہ کر دیا تھا کہ تم زمین میں دو بار فساد برپا کرو گے اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کرو گے

۵.        ان دونوں وعدوں میں سے پہلے کے آتے ہی ہم نے تمہارے مقابلہ پر اپنے بندے بھیج دیئے جو بڑے ہی لڑاکے تھے۔ پس وہ تمہارے گھروں کے اندر تک پھیل گئے اور اللہ کا یہ وعدہ پورا ہونا ہی تھا۔

۶.        پھر ہم نے ان پر تمہارا غلبہ دے کر تمہارے دن پھیرے اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تمہیں بڑے جتھے والا بنا دیا۔

۷.        اگر تم نے اچھے کام کئے تو خود اپنے ہی فائدے کے لئے، اور اگر تم نے برائیاں کیں تو بھی اپنے ہی لئے، پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے دوسرے کو بھیج دیا تاکہ) وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور پہلی دفعہ کی طرح پھر اسی مسجد میں گھس جائیں اور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیں

۸.        امید ہے کہ تمہارا رب تم پر رحم کرے۔ ہاں اگر تم پھر بھی وہی کرنے لگے تو ہم دوبارہ ایسا ہی کریں گے  اور ہم نے منکروں کا قید خانہ جہنم بنا رکھا ہے۔

۹.         یقیناً یہ قرآن وہ راستہ دکھاتا ہے جو بہت ہی سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔

۱۰.       اور یہ کہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے

۱۱.        اور انسان برائی کی دعائیں مانگنے لگتا ہے بالکل اس کی اپنی بھلائی کی دعا کی طرح، انسان ہی بڑا جلد باز ہے

۱۲.       ہم نے رات اور دن کو اپنی قدرت کی نشانیاں بنائی ہیں، رات کی نشانی کو تو ہم نے بے نور کر دیا اور دن کی نشانی کو روشن بنایا ہے تاکہ تم لوگ اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور اس لئے بھی کہ برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو  اور ہر چیز کو ہم نے خوب تفصیل سے بیان فرما دیا ہے۔

۱۳.       ہر انسان کی برائی بھلائی کو اس کے گلے لگا دیا ہے  اور بروز قیامت ہم اس کے سامنے اس کا نامہ اعمال نکالیں گے جسے وہ اپنے اوپر کھلا ہوا پائے گا۔

۱۴.       لے! خود ہی اپنی کتاب آپ پڑھ لے۔ آج تو تو آپ ہی اپنا خود حساب لینے کو کافی ہے۔

۱۵.       جو راہ راست حاصل کر لے وہ خود اپنے ہی بھلے کے لئے راہ یافتہ ہوتا ہے اور جو بھٹک جائے اس کا بوجھ اسی کے اوپر ہے، کوئی بوجھ والا کسی اور کا بوجھ اپنے اوپر نہ لا دے گا  اور ہماری سنت نہیں کہ رسول بھیجنے سے پہلے ہی عذاب کرنے لگیں۔

۱۶.       اور جب ہم کسی بستی کی ہلاکت کا ارادہ کر لیتے ہیں تو وہاں کے خوشحال لوگوں کو (کچھ) حکم دیتے ہیں اور وہ اس بستی میں کھلی نافرمانی کرنے لگتے ہیں تو ان پر (عذاب کی) بات ثابت ہو جاتی ہے پھر ہم اسے تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔

۱۷.      ہم نے نوح کے بعد بھی بہت سی قومیں ہلاک کیں  اور تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار اور خوب دیکھنے بھالنے والا ہے

۱۸.       جس کا ارادہ صرف اس جلدی والی دنیا (فوری فائدہ) کا ہی ہو اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لئے چاہیں سر دست دیتے ہیں بالآخر اس کے لئے ہم جہنم مقرر کر دیتے ہیں جہاں وہ برے حالوں میں دھتکارا ہوا داخل ہو گا

۱۹.       اور جس کا ارادہ آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لئے ہونی چاہئے، وہ کرتا بھی ہو اور وہ با ایمان بھی ہو، پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدر دانی کی جائے گی

۲۰.      ہر ایک کو ہم بہم پہنچائے جاتے ہیں انہیں بھی اور انہیں بھی تیرے پروردگار کے انعامات میں سے۔ تیرے پروردگار کی بخشش رکی ہوئی نہیں ہے۔

۲۱.       دیکھ لے کہ ان میں ایک کو ایک پر ہم نے کس طرح فضیلت دے رکھی ہے اور آخرت تو درجوں میں اور بھی بڑھ کر اور فضیلت کے اعتبار سے سے بھی بہت بڑی ہے۔

۲۲.      اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ ٹھہرا کہ آخرش تو برے حالوں بے کس ہو کر بیٹھ رہے گا

۲۳.      اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات کرنا

۲۴.      اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا  اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔

۲۵.      جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے تمہارا رب بخوبی جانتا ہے اگر تم نیک ہو تو وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

۲۶.      اور رشتے داروں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرتے رہو  اور اسراف اور بے جا خرچ سے بچو

۲۷.     بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ہی ناشکرا ہے

۲۸.      اور اگر تجھے ان سے منہ پھیر لینا پڑے اپنے رب کی رحمت کی جستجو میں، جس کی امید رکھتا ہے تو بھی تجھے چاہیے کہ عمدگی اور نرمی سے انہیں سمجھا دے۔

۲۹.      اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ اسے بالکل ہی کھول دے کہ پھر ملامت کیا ہوا درماندہ بیٹھ جائے

۳۰.      یقیناً تیرا رب جس کے لئے چاہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ  یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر اور خوب دیکھنے والا ہے

۳۱.       اور مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو نہ مار ڈالو، ان کو تم کو ہم ہی روزی دیتے ہیں۔ یقیناً ان کا قتل کرنا کبیرہ گناہ ہے

۳۲.      خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے۔

۳۳.     اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کر دیا ہرگز ناحق قتل نہ کرنا  اور جو شخص مظلوم ہونے کی صورت میں مار ڈالا جائے ہم نے اس کے وارث کو طاقت دے رکھی ہے کہ پس اسے چاہیے کہ مار ڈالنے میں زیادتی نہ کرے بیشک وہ مدد کیا گیا ہے۔

۳۴.     اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ بجز اس طریقہ کے جو بہت ہی بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی بلوغت کو پہنچ جائے  اور وعدے پورے کرو کیونکہ قول و قرار کی باز پرس ہونے والی ہے۔

۳۵.     اور جب ناپنے لگو تو بھر پورے پیمانے سے ناپو اور سیدھی ترازو سے تولا کرو۔ یہی بہتر ہے  اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت اچھا ہے۔

۳۶.      جس بات کی تمہیں خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت  پڑ کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔

۳۷.     اور زمین میں اکڑ کر نہ چل کہ نہ تو زمین کو پھاڑ سکتا ہے اور نہ لمبائی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتا ہے

۳۸.     ان سب کاموں کی برائی تیرے رب کے نزدیک (سخت) ناپسند ہے۔

۳۹.      یہ بھی منجملہ اس وحی کے ہے جو تیری جانب تیرے رب نے حکمت سے اتاری ہے تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنانا کہ ملامت خوردہ اور راندہ درگاہ ہو کر دوزخ میں ڈال دیا جائے۔

۴۰.      کیا بیٹوں کے لئے تو اللہ نے تمہیں چھانٹ لیا اور خود اپنے لئے فرشتوں کو لڑکیاں بنا لیں؟ بیشک تم بہت بڑا بول بول رہے ہو۔

۴۱.       ہم نے اس قرآن میں ہر ہر طرح بیان  فرما دیا کہ لوگ سمجھ جائیں لیکن اس سے انہیں تو نفرت ہی بڑھتی ہے۔

۴۲.      کہہ دیجئے! کہ اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسے کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ضرور وہ اب تک مالک عرش کی جانب راہ ڈھونڈ نکالتے

۴۳.     جو کچھ یہ کہتے ہیں اس سے پاک اور بالا تر، بہت دور اور بہت بلند ہے۔

۴۴.     ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔  وہ بڑا برد بار اور بخشنے والا ہے۔

۴۵.     تو جب قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ایک پوشیدہ حجاب ڈال دیتے ہیں۔

۴۶.      اور ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ اور جب تو صرف اللہ ہی کا ذکر اس کی توحید کے ساتھ، اس قرآن میں کرتا ہے تو وہ روگردانی کرتے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

۴۷.     جس غرض سے وہ لوگ اسے سنتے ہیں ان (کی نیتوں) سے ہم خوب آگاہ ہیں، جب یہ آپ کی طرف کان لگائے ہوئے ہوتے ہیں تب بھی اور جب مشورہ کرتے ہیں تب بھی جب کہ یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم اس کی تابعداری میں لگے ہوئے ہو جن پر جادو  کر دیا گیا ہے۔

۴۸.     دیکھیں تو سہی، آپ کے لئے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وہ بہک رہے ہیں۔ اب تو راہ پانا ان کے بس میں نہیں رہا

۴۹.      انہوں نے کہا کہ جب ہم ہڈیاں اور (مٹی ہو کر) ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو کیا ہم از سر نو پیدا کر کے پھر دوبارہ اٹھا کر کھڑے کر دیئے جائیں گے

۵۰.      جواب دیجئے کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔

۵۱.       یا کوئی اور ایسی خلقت جو تمہارے دلوں میں بہت ہی سخت معلوم ہو،  پھر وہ یہ پوچھیں کہ کون ہے جو دوبارہ ہماری زندگی لوٹائے؟ جواب دیں کہ وہی اللہ جس نے تمہیں اول بار پیدا کیا، اس پر وہ اپنے سر ہلا ہلا کر  آپ سے دریافت کریں گے کہ اچھا یہ ہے کب؟ تو آپ جواب دے دیں کہ کیا عجب کہ وہ (ساعت) قریب ہی آن لگی ہو۔

۵۲.      جس دن وہ تمہیں  بلائے گا تم اس کی تعریف کرتے ہوئے تعمیل ارشاد کرو گے اور گمان کرو گے کہ تمہارا رہنا بہت ہی تھوڑا ہے۔

۵۳.     اور میرے بندوں سے کہہ دیجئے کہ وہ بہت ہی اچھی بات منہ سے نکالا کریں  کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے۔  بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

۵۴.     تمہارا رب تم سے بہ نسبت تمہارے بہت زیادہ جاننے والا ہے، وہ اگر چاہے تو تم پر رحم کر دے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے  ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار ٹھہرا کر نہیں بھیجا۔

۵۵.     آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے آپ کا رب سب کو بخوبی جانتا ہے۔ ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر بہتری اور برتری دی ہے۔  اور داوٗد کو زبور ہم نے عطا فرمائی ہے۔

۵۶.      کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا جنہیں تم معبود سمجھ رہے ہو انہیں پکارو لیکن نہ تو وہ تم سے کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں اور نہ بدل سکتے ہیں۔

۵۷.     جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں خود وہ اپنے رب کے تقرب کی جستجو میں رہتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہو جائے وہ خود اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے خوف زدہ رہتے ہیں،  (بات بھی یہی ہے) کہ تیرے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔

۵۸.     جتنی بھی بستیاں ہیں ہم قیامت کے دن سے پہلے پہلے یا تو انہیں ہلاک کر دینے والے ہیں یا سخت تر سزا دینے والے ہیں۔ یہ کتاب میں لکھا جا چکا ہے۔

۵۹.      ہمیں نشانات (معجزات) کے نازل کرنے سے روک صرف اسی کی ہے کہ اگلے لوگ انہیں جھٹلا چکے ہیں  ہم نے ثمودیوں کو بطور بصیرت کے اونٹنی دی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا  ہم تو لوگوں کو دھمکانے کے لئے ہی نشانی بھیجتے ہیں۔

۶۰.      اور یاد کرو جب کہ ہم نے آپ سے فرما دیا کے آپ کے رب نے لوگوں کو گھیر لیا ہے۔  جو رویت (عینی روئیت) ہم نے آپ کو دکھا دی تھی وہ لوگوں کے لئے صاف آزمائش ہی تھی اور اسی طرح وہ درخت بھی جس سے قرآن میں اظہار نفرت کیا گیا ہے  ہم انہیں ڈرا رہے ہیں لیکن یہ انہیں اور بڑی سرکشی میں بڑھا رہا ہے

۶۱.       جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے کیا، اس نے کہا کہ کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے۔

۶۲.      اچھا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی تو دی ہے، لیکن اگر مجھے بھی قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اولاد کو بجز تھوڑے لوگوں کے، اپنے بس  میں کر لوں گا۔

۶۳.      ارشاد ہوا کہ جا ان میں سے جو بھی تیرا تابعدار ہو جائے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے جو پورا پورا بدلہ ہے

۶۴.      ان میں سے تو جسے بھی اپنی آواز سے بہکا سکے گا بہکا  لے اور ان پر اپنے سوار اور پیا دے چڑھا لا  اور ان کے مال اور اولاد میں سے اپنا بھی حصہ لگا  اور انہیں (جھوٹے) وعدے دے لے  ان سے جتنے بھی وعدے شیطان کے ہوتے ہیں سب کے سب سراسر فریب ہیں۔

۶۵.      میرے سچے بندوں پر تیرا کوئی قابو اور بس نہیں  تیرا رب کار سازی کرنے والا کافی ہے۔

۶۶.      تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ وہ تمہارے اوپر بہت مہربان ہے

۶۷.     اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہو جاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی رہ جاتا ہے پھر جب تمہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔

۶۸.      تو کیا تم اس سے بے خوف ہو گئے ہو کہ تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین) میں دھنسا دے یا تم پر پتھروں کی آندھی بھیج دے  پھر تم اپنے لئے کسی نگہبان کو نہ پا سکو۔

۶۹.      کیا تم اس بات سے بے خوف ہو گئے ہو کہ اللہ تعالیٰ  پھر تمہیں دوبارہ دریا کے سفر میں لے آئے اور تم پر تیز و تند ہواؤں کے جھونکے بھیج دے اور تمہارے کفر کے باعث تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اپنے لئے ہم پر اس کا (پیچھا) کرنے والا کسی کو نہ پاؤ گے۔

۷۰.     یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی  اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں  دیں اور انہیں پاکیزہ چیزوں کی روزیاں  دیں اور اپنی بہت سی مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔

۷۱.      جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے پیشوا سمیت  بلائیں گے۔ پھر جن کا بھی اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دے دیا گیا وہ تو شوق سے اپنا نامہ اعمال پڑھنے لگیں گے اور دھاگے کے برابر (ذرہ برابر) بھی ظلم نہ کئے جائیں گے۔

۷۲.     اور جو کوئی اس جہان میں اندھا رہا، وہ آخرت میں بھی اندھا اور راستے سے بہت ہی بھٹکا ہوا رہے گا۔

۷۳.     یہ لوگ آپ کو اس وحی سے جو ہم نے آپ پر اتاری ہے بہکانا چاہتے کہ آپ اس کے سوا کچھ اور ہی ہمارے نام سے گھڑ گھڑا لیں، تب تو آپ کو یہ لوگ اپنا ولی دوست بنا لیتے۔

۷۴.     اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو بہت ممکن تھا کہ ان کی طرف قدرے قلیل مائل ہو ہی جاتے۔

۷۵.     پھر تو ہم بھی آپ کو دوہرا عذاب دنیا کا کرتے اور دوہرا ہی موت کا  پھر آپ تو اپنے لئے ہمارے مقابلے میں کسے کو مددگار نہ پاتے۔

۷۶.     یہ تو آپ کے قدم اس سرزمین سے اکھاڑنے ہی لگے تھے کہ آپ کو اس سے نکال دیں  پھر یہ بھی آپ کے بعد بہت ہی کم ٹھہرتے

۷۷.     ایسا ہی دستور ان کا تھا جو آپ سے پہلے رسول ہم نے بھیجے  اور آپ ہمارے دستور میں کبھی رد و بدل نہ پائیں گے۔

۷۸.     نماز کو قائم کریں آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک  اور فجر کا قرآن پڑھنا بھی یقیناً فجر کے وقت کا قرآن پڑھنا حاضر کیا گیا

۷۹.      رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں  یہ زیادتی آپ کے لئے  ہے عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا۔

۸۰.      اور دعا کیا کریں کہ اے میرے پروردگار مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہاں سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لئے اپنے پاس سے غلبہ اور امداد مقرر فرما دے۔

۸۱.       اور اعلان کر دے کہ حق آ چکا اور ناحق نابود ہو گیا۔ یقیناً باطل تھا بھی نابود ہونے والا۔

۸۲.      یہ قرآن جو ہم نازل کر رہے ہیں مومنوں کے لئے تو سراسر شفا اور رحمت ہے۔ ہاں ظالموں کو بجز نقصان کے اور کوئی زیادتی نہیں ہوتی۔

۸۳.     اور انسان پر جب ہم اپنا انعام کرتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا ہے اور کروٹ بدل لیتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ مایوس ہو جاتا ہے

۸۴.     کہہ دیجئے! کہ ہر شخص اپنے طریقہ پر عامل ہے جو پوری ہدایت کے راستے پر ہیں انہیں تمہارا رب ہی بخوبی  جاننے والا ہے

۸۵.     اور یہ لوگ آپ سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ جواب دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے

۸۶.      اور اگر ہم چاہیں تو جو وحی آپ کی طرف ہم نے اتاری ہے سلب کر لیں  پھر آپ کو اس کے لئے ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی میسر نہ آ سکے

۸۷.     سوائے آپ کے رب کی رحمت کے  یقیناً آپ پر اس کا بڑا فضل ہے۔

۸۸.     کہہ دیجئے کہ اگر تمام انسان اور کل جنات مل کر اس قرآن کے مثل لانا چاہیں تو ان سب سے اس کے مثل لانا ناممکن ہے گو وہ (آپس میں) ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔

۸۹.      ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے سمجھنے کے لئے ہر طرح سے مثالیں بیان کر دی ہیں، مگر اکثر لوگ انکار سے باز نہیں آتے۔

۹۰.      انہوں نے کہا  کہ ہم آپ پر ہرگز ایمان لانے کے نہیں تا وقتیکہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری نہ کر دیں۔

۹۱.       یا خود آپ کے لئے ہی کوئی باغ ہو کھجوروں اور انگوروں کا اور اس درمیان آپ بہت سی نہریں جاری کر دکھائیں

۹۲.      یا آپ آسمان کو ہم پر ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دیں جیسا کہ آپ کا گمان ہے یا آپ خود اللہ تعالیٰ  کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لا کھڑا کر دیں۔

۹۳.      یا آپ کے اپنے لئے کوئی سونے  کا گھر ہو جائے یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور ہم آپ کے چڑھ جانے کا بھی اس وقت ہرگز یقین نہیں کریں گے جب تک کہ آپ ہم پر کوئی کتاب نہ اتار لائیں جسے ہم خود پڑھ لیں،  آپ جواب دیں کہ میرا پروردگار پاک ہے میں تو صرف ایک انسان ہی ہوں جو رسول بنایا گیا ہوں

۹۴.      لوگوں کے پاس ہدایت پہنچ چکنے کے بعد ایمان سے روکنے والی صرف یہی چیز رہی کہ انہوں نے کہا کیا اللہ نے ایک انسان کو ہی رسول بنا کر بھیجا؟

۹۵.      آپ کہہ دیں کہ اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اور رہتے بستے ہوتے تو ہم بھی ان کے پاس کسی آسمانی فرشتے ہی کو رسول بنا کر بھیجتے

۹۶.      کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ  کا گواہ ہونا کافی ہے  وہ اپنے بندوں سے خوب آگاہ اور بخوبی دیکھنے والا ہے

۹۷.      اللہ جس کی رہنمائی کرے وہ تو ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ راہ سے بھٹکا دے ناممکن ہے کہ تو اس کا مددگار اس کے سوا کسی اور کو پائے،  ایسے لوگوں کا ہم بروز قیامت اوندھے منہ حشر کریں گے  دراں حالیکہ وہ اندھے گونگے اور بہرے ہوں گے  ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا جب کبھی وہ بجھنے لگے گی ہم ان پر اسے اور بھڑکا دیں گے۔

۹۸.      یہ سب ہماری آیتوں سے کفر کرنے اور اس کے کہنے کا بدلہ ہے کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزے ریزے ہو جائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں اٹھ کھڑے کئے جائیں  گے؟

۹۹.       کیا انہوں نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ جس اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا وہ ان جیسوں کی پیدائش پر پورا قادر ہے  اسی نے ان کے لئے ایک ایسا وقت مقرر کر رکھا ہے جو شک و شبہ سے یکسر خالی ہے،  لیکن ظالم لوگ انکار کئے بغیر رہتے ہی نہیں۔

۱۰۰.     کہہ دیجئے کہ اگر بالفرض تم میرے رب کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بن جاتے تو تم اس وقت بھی اس کے خرچ ہو جانے  کے خوف سے اس کو روکے رکھتے اور انسان ہے ہی تنگ دل ہے۔

۱۰۱.     ہم نے موسیٰ کو نو معجزے  بالکل صاف صاف عطا فرمائے، تو خود ہی بنی اسرائیل سے پوچھ لے کہ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو فرعون بولا کہ اے موسیٰ! میرے خیال میں تو تجھ پر جادو کر دیا گیا ہے۔

۱۰۲.     موسیٰ نے جواب دیا کہ یہ تو تجھے علم ہو چکا ہے کہ آسمان و زمین کے پروردگار ہی نے یہ معجزے دکھانے، سمجھانے کو نازل فرمائے ہیں، اے فرعون! میں تو سمجھ رہا ہوں کہ تو یقیناً تباہ اور ہلاک کیا گیا ہے۔

۱۰۳.    آخر فرعون نے پختہ ارادہ کر لیا کہ انہیں زمین سے ہی اکھیڑ دے تو ہم نے خود اسے اور اس کے تمام ساتھیوں کو غرق کر دیا۔

۱۰۴.    اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اس سرزمین  پر رہو سہو۔ ہاں جب آخرت کا وقت آئے گا ہم سب کو سمیٹ لپیٹ کر لے آئیں گے

۱۰۵.    اور ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا اور یہ بھی حق کے ساتھ اترا  ہم نے آپ کو صرف خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا  بنا کر بھیجا ہے۔

۱۰۶.     قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے اس لئے اتارا  ہے کہ آپ اسے بہ مہلت لوگوں کو سنائیں اور ہم نے خود بھی اسے بتدریج نازل فرمایا۔

۱۰۷.    کہہ دیجئے! تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان کے پاس تو جب بھی اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔

۱۰۸.    اور کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے، ہمارے رب کا وعدہ بلا شک و شبہ پورا ہو کر رہنے  والا ہی ہے۔

۱۰۹.     وہ اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور یہ قرآن ان کی عاجزی اور خشوع اور خضوع بڑھا دیتا ہے۔

۱۱۰.     کہہ دیجئے کہ اللہ کو اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو تمام اچھے نام اسی کے ہیں  نہ تو تو اپنی نماز بہت بلند آواز سے پڑھ اور نہ بالکل پوشیدہ بلکہ اس کے درمیان کا راستہ تلاش کر لے۔

۱۱۱.      اور یہ کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو نہ اولاد رکھتا ہے نہ اپنی بادشاہت میں کسی کو شریک ساجھی رکھتا ہے اور نہ وہ کمزور ہے کہ اسے کسی کی ضرورت ہو اور تو اس کی پوری پوری بڑائی بیان کرتا رہ۔

 

۱۸۔ الکہف

۱.         تمام تعریفیں اسی اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن اتارا اور اس میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔

۲.        بلکہ ہر طرح سے ٹھیک ٹھاک رکھا تاکہ اپنے  پاس کی سخت سزا سے ہوشیار کر دے اور ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبریاں سنا دے کہ ان کے لئے بہترین بدلہ ہے۔

۳.        جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

۴.        اور ان لوگوں کو بھی ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ  اولاد رکھتا ہے۔

۵.        در حقیقت نہ تو خود انہیں اس کا علم ہے نہ ان کے باپ دادوں کو۔ یہ تہمت بڑی بری ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے وہ نرا جھوٹ بک رہے ہیں۔

۶.        پس اگر یہ لوگ اس بات  پر ایمان نہ لائیں تو کیا آپ ان کے پیچھے اس رنج میں اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے

۷.        روئے زمین پر جو کچھ  ہے ہم نے اسے زمین کی رونق کا باعث بنایا ہے کہ ہم انہیں آزما لیں کہ ان میں سے کون نیک اعمال والا ہے

۸.        اس پر جو کچھ ہے ہم اسے ایک ہموار صاف میدان کر ڈالنے والے ہیں۔

۹.         کیا تو اپنے خیال میں غار اور کتبے والوں کو ہماری نشانیوں میں سے کوئی بہت عجیب نشانی سمجھ رہا ہے

۱۰.       ان چند نو جوانوں نے جب غار میں پناہ لی تو دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے کام میں ہمارے لئے راہ یابی کو آسان کر دے۔

۱۱.        پس ہم نے ان کے کانوں پر گنتی کے کئی سال اسی غار میں پردے ڈال دیئے۔

۱۲.       پھر ہم نے انہیں اٹھا کھڑا کیا کہ ہم یہ معلوم کر لیں کہ دونوں گروہ میں سے اس انتہائی مدت کو جو انہوں نے گزاری کس نے زیادہ  یاد رکھا

۱۳.       ہم ان کا صحیح واقعہ تیرے سامنے بیان فرما رہے ہیں۔ یہ چند نوجوان  اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں ترقی دی تھی۔

۱۴.       ہم نے ان کے دل مضبوط کر دیئے  تھے جبکہ یہ اٹھ کر کھڑے ہوئے  اور کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار تو وہی ہے جو آسمان و زمین کا پروردگار ہے، ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور کو معبود پکاریں اگر ایسا کیا تو ہم نے نہایت ہی غلط بات کہی۔

۱۵.       یہ ہے ہماری قوم جس نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں۔ ان کی خدائی کی یہ کوئی صاف دلیل کیوں پیش نہیں کرتے اللہ پر جھوٹ افترا باندھنے والے سے زیادہ ظالم کون ہے۔

۱۶.       جب تم ان سے اور اللہ کے سوا ان کے اور معبودوں سے کنارہ کش ہو گئے تو اب تم کسی غار  میں جا بیٹھو تمہارا رب تم پر اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے لئے تمہارے کام میں سہولت مہیا کر دے گا۔

۱۷.      آپ دیکھیں گے کہ آفتاب بوقت طلوع ان کے غار سے دائیں جانب کو جھک جاتا ہے اور بوقت غروب ان کے بائیں جانب کترا جاتا ہے اور وہ اس غار کی کشادہ جگہ میں ہیں  یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے  اللہ تعالیٰ  جس کی رہبری فرمائے وہ راہ راست پر ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے ناممکن ہے کہ آپ اس کا کوئی کارساز اور رہنما پا سکیں۔

۱۸.       آپ خیال کرتے کہ وہ بیدار ہیں، حالانکہ وہ سوئے ہوئے تھے  خود ہم انہیں دائیں بائیں کروٹیں دلایا کرتے تھے  ان کا کتا بھی چوکھٹ پر اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر آپ جھانک کر انہیں دیکھنا چاہتے تو ضرور الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور ان کے رعب سے آپ پر دہشت چھا جاتی۔

۱۹.       اسی طرح ہم نے انہیں جگا کر اٹھا دیا  کہ آپس میں پوچھ گچھ کر لیں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ کیوں بھئی تم کتنی دیر ٹھہرے رہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک دن یا ایک دن سے بھی کم  کہنے لگے کہ تمہارے ٹھہرے رہنے کا بخوبی علم اللہ تعالیٰ  ہی کو ہے  اب تم اپنے میں سے کسی کو اپنی یہ چاندی دے کر شہر بھیجو وہ خوب دیکھ بھال لے کہ شہر کا کونسا کھانا پاکیزہ تر ہے  پھر اسی میں سے تمہارے کھانے کے لئے لے آئے، اور وہ بہت احتیاط اور نرمی برتے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے

۲۰.      اگر یہ کافر تم پر غلبہ پا لیں تو تمہیں سنگسار کر دیں گے یا تمہیں پھر اپنے دین میں لوٹا لیں گے اور پھر تم کبھی بھی کامیاب نہ ہو سکو گے

۲۱.       ہم نے اس طرح لوگوں کو ان کے حال سے آگاہ کر  دیا کہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ بالکل سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک و شبہ نہیں  جبکہ وہ اپنے امر میں آپس میں اختلاف کر رہے تھے  کہنے لگے ان کے غار پر ایک عمارت بنا لو  اور ان کا رب ہی ان کے حال کا زیادہ عالم ہے  جن لوگوں نے ان کے بارے میں غلبہ پایا وہ کہنے لگے کہ ہم تو ان کے آس پاس مسجد بنا لیں گے

۲۲.      کچھ لوگ تو کہیں گے کہ اصحاب کہف تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا، کچھ کہیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا  غیب کی باتوں میں (اٹکل (کے تیر تکے) چلاتے ہیں  کچھ کہیں گے سات ہیں آٹھواں ان کا کتا  ہے آپ کہہ دیجئے کہ میرا پروردگار ان کی تعداد کو بخوبی جاننے والا ہے، انہیں بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں  پس آپ ان کے بارے میں صرف سرسری گفتگو ہی کریں  اور ان میں سے کسی سے ان کے بارے میں پوچھ گچھ بھی نہ کریں۔

۲۳.      اور ہرگز ہرگز کسی کام پر یوں نہ کہنا میں اسے کل کروں گا۔

۲۴.      مگر ساتھ ہی انشا اللہ کہ لینا  اور جب بھی بھولے، اپنے پروردگار کی یاد کر لیا کرو  اور کہتے رہنا کہ مجھے پوری امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کے قریب کی بات کی رہبری کرے۔

۲۵.      وہ لوگ اپنے غار میں تین سو سال تک رہے اور نو سال اور زیادہ گزارے

۲۶.      آپ کہہ دیں اللہ ہی کو ان کے ٹھہرے رہنے کی مدت کا بخوبی علم ہے، آسمانوں اور زمینوں کا غیب صرف اسی کو حاصل ہے وہ کیا ہی اچھا دیکھنے سننے والا ہے  سوائے اللہ کے ان کا کوئی مددگار نہیں، اللہ تعالیٰ  اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔

۲۷.     تیری جانب جو تیرے رب کی کتاب وحی کی گئی ہے اسے پڑھتا رہ  اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں تو اس کے سوا ہرگز ہرگز کوئی پناہ کی جگہ نہ پائے گا۔

۲۸.      اور اپنے آپ کو انہیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کے ارادے رکھتے ہیں (رضا مندی چاہتے ہیں)، خبردار! تیری نگاہیں ان سے نہ ہٹنی پائیں  کہ دنیاوی زندگی کے ٹھاٹھ کے ارادے میں لگ  جا۔ دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے۔

۲۹.      اور اعلان کر دے کہ یہ سراسر برحق قرآن تمہارے رب کی طرف سے ہے۔ اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے۔ ظالموں کے لئے ہم نے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کے شعلے انہیں گھیر لیں گے۔ اگر وہ فریاد رسی چاہیں گے تو ان کی فریاد رسی اس پانی سے کی جائے گی جو تیل کی گرم دھار جیسا ہو گا جو چہرے بھون دے گا بڑا ہی برا پانی ہے اور بڑی بری آرام گاہ (دوزخ) ہے۔

۳۰.      یقیناً جو لوگ ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں تو ہم کسی نیک عمل کرنے والے کا ثواب ضائع نہیں کرتے۔

۳۱.       ان کے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہاں یہ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے  اور سبز رنگ کے نرم اور باریک اور موٹے ریشم کے لباس پہنیں گے  وہاں تختوں کے اوپر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔ کیا خوب بدلہ ہے، اور کس قدر عمدہ آرام گاہ ہے

۳۲.      اور انہیں ان دو شخصوں کی مثال بھی سنا دے  جن میں سے ایک کو ہم نے دو باغ انگوروں کے دے رکھے تھے اور جنہیں کھجوروں کے درختوں سے ہم نے گھیر رکھا تھا  اور دونوں کے درمیان کھیتی لگا رکھی تھی۔

۳۳.     دونوں باغ اپنا پھل خوب لائے اور اس میں کسی طرح کی کمی نہ کی  اور ہم نے ان باغوں کے درمیان نہر جاری کر رکھی تھی

۳۴.     الغرض اس کے پاس میوے تھے، ایک دن اس نے باتوں ہی باتوں میں اپنے ساتھی سے کہا  کہ میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور جتھے  کے اعتبار سے بھی زیادہ مضبوط ہوں۔

۳۵.     اور یہ اپنے باغ میں گیا اور تھا اپنی جان پر ظلم کرنے والا۔ کہنے لگا کہ میں خیال نہیں کر سکتا کہ کسی وقت بھی یہ برباد ہو جائے۔

۳۶.      اور نہ میں قیامت کو قائم ہونے والی خیال کرتا ہوں اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو یقیناً میں (اس لوٹنے کی جگہ) اس سے بھی زیادہ بہتر  پاؤں گا۔

۳۷.     اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو اس (معبود) سے کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نطفے سے پھر تجھے پورا آدمی بنا دیا۔

۳۸.     لیکن میں تو عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہی اللہ میرا پروردگار ہے میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں گا

۳۹.      تو نے اپنے باغ میں جاتے وقت کیوں نہ کہا کہ اللہ کا چاہا ہونے والا ہے، کوئی طاقت نہیں مگر اللہ کی مدد  سے اگر تو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کم دیکھ رہا ہے۔

۴۰.      بہت ممکن ہے کہ میرا رب مجھے تیرے اس باغ سے بھی بہتر دے  اور اس پر آسمانی عذاب بھیج دے تو یہ چٹیل اور صاف میدان بن جائے۔

۴۱.       یا اس کا پانی نیچے اتر جائے اور تیرے بس میں نہ رہے کہ تو اسے ڈھونڈھ لائے

۴۲.      اور اس کے (سارے) پھل گھیر لیئے گئے  پس وہ اپنے اس خرچ پر جو اس نے اس میں کیا تھا اپنے ہاتھ ملنے  لگا اور باغ تو اوندھا الٹا پڑا تھا  اور (وہ شخص) یہ کہہ رہا تھا کہ کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرتا۔

۴۳.     اس کی حمایت میں کوئی جماعت نہ  اٹھی کہ اللہ سے اس کا کوئی بچاؤ کرتی اور نہ وہ خود بدلہ لینے والا بن سکا

۴۴.     یہیں سے (ثابت ہے) کہ اختیارات  اللہ برحق کے لئے ہیں وہ ثواب دینے اور انجام کے اعتبار سے بہت  ہی بہتر ہے۔

۴۵.     ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال (بھی) بیان کرو جیسے پانی جسے ہم آسمان سے اتارتے ہیں اور اس سے زمین کا سبزہ ملا جلا (نکلتا) ہے، پھر آخرکار وہ چورا چورا ہو جاتا ہے جسے ہوائیں اڑائے لیئے پھرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قادر ہے۔

۴۶.      مال و اولاد تو دنیا کی زینت ہے  اور (ہاں) البتہ باقی رہنے والی نیکیاں  تیرے رب کے نزدیک از روئے ثواب اور (آئندہ کی) اچھی توقع کے بہت بہتر ہیں۔

۴۷.     اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے  اور زمین کو تو صاف کھلی ہوئی دیکھے گا اور تمام لوگوں کو ہم اکٹھا کریں گے ان میں سے ایک بھی باقی نہ چھوڑیں گے

۴۸.     اور سب کے سب تیرے رب کے سامنے صف بستہ  حاضر کیے جائیں گے۔ یقیناً تم ہمارے پاس اسی طرح آئے جس طرح ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا لیکن تم تو اس خیال میں رہے کہ ہم ہرگز تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت مقرر کریں گے بھی نہیں۔

۴۹.      اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ پس تو دیکھے گا گنہگار اس کی تحریر سے خوفزدہ ہو رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے ہائے ہماری خرابی یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا گناہ بغیر گھیرے کے باقی ہی نہیں چھوڑا، اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم و ستم نہ کرے گا۔

۵۰.      اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا، یہ جنوں میں سے تھا  اس نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی،  کیا پھر بھی تم اسے اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر اپنا دوست بنا رہے ہو؟ حالانکہ وہ تم سب کا دشمن ہے  ایسے ظالموں کا کیا ہی برا بدلہ ہے۔

۵۱.       میں نے انہیں آسمانوں و زمین کی پیدائش کے وقت موجود نہیں رکھا تھا اور نہ خود ان کی اپنی پیدائش میں  اور میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنانے والا نہیں

۵۲.      اور جس دن وہ فرمائے گا کہ تمہارے خیال میں جو میرے شریک تھے انہیں پکارو! یہ پکاریں گے لیکن ان میں سے کوئی بھی جواب نہ دے گا ہم ان کے درمیان ہلاکت کا سامان کر دیں گے۔

۵۳.     اور گنہگار جہنم کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ وہ اسی میں جھونکے جانے والے ہیں لیکن اس سے بچنے کی جگہ نہ پائیں گے

۵۴.     ہم نے اس قرآن میں ہر ہر طریقے سے تمام کی تمام مثالیں لوگوں کے لئے بیان کر دی ہیں لیکن انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔

۵۵.     لوگوں کے پاس ہدایت آ چکنے کے بعد انہیں ایمان لانے اور اپنے رب سے استغفار کرنے سے صرف اس چیز نے روکا کہ اگلے لوگوں کا سا معاملہ انہیں بھی پیش آئے  یا ان کے سامنے کھلم کھلا عذاب آ موجود ہو جائے

۵۶.      ہم تو اپنے رسولوں کو صرف اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ خوشخبریاں سنا دیں اور ڈرا دیں۔ کافر لوگ باطل کے سہارے جھگڑتے ہیں اور (چاہتے ہیں) کہ اس سے حق کو لڑا کھڑا دیں، انہوں نے میری آیتوں کو اور جس چیز سے ڈرایا جاتا اسے مذاق بنا ڈالا ہے۔

۵۷.     اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے؟ جسے اس کے رب کی آیتوں سے نصیحت کی جائے وہ پھر بھی منہ موڑے رہے اور جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھا ہے اسے بھول جائے، بیشک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اسے (نہ) سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی ہے، گو تو انہیں ہدایت کی طرف بلاتا رہے، لیکن یہ کبھی بھی ہدایت نہیں پانے  کے۔

۵۸.     تیرا پروردگار بہت ہی بخشش والا اور مہربانی والا ہے وہ اگر ان کے اعمال کی سزا میں پکڑے تو بیشک انہیں جلدی عذاب کر دے، بلکہ ان کے لئے ایک وعدہ کی گھڑی مقرر ہے جس سے وہ سرکنے کی ہرگز جگہ نہیں پائیں گے

۵۹.      وہ بستیاں جنہیں ہم نے ان کے مظالم کی بنا پر غارت کر دیا اور ان کی تباہی کی بھی ہم نے ایک میعاد مقرر کر رکھی تھی۔

۶۰.      جبکہ موسیٰ نے اپنے نوجوان  سے کہا کہ میں تو چلتا ہی رہوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے  سنگم پر پہنچوں، خواہ مجھے سالہا سال چلنا پڑے۔

۶۱.       جب وہ دونوں دریا کے سنگم پر پہنچے، وہاں اپنی مچھلی بھول گئے جس نے دریا میں سرنگ جیسا اپنا راستہ بنا لیا

۶۲.      جب یہ دونوں وہاں سے آگے بڑھے تو موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ لا ہمارا ناشتہ دے ہمیں تو اپنے اس سفر سے سخت تکلیف اٹھانی پڑی

۶۳.      اس نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا بھی؟ جبکہ ہم پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا، دراصل شیطان نے ہی مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں۔ اس مچھلی نے ایک انوکھے طور پر دریا میں  اپنا راستہ بنا لیا۔

۶۴.      موسیٰ نے کہا یہی تھا، جس کی تلاش میں ہم تھے چنانچہ وہیں سے اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈتے  ہوئے واپس لوٹے۔

۶۵.      پس ہمارے بندوں میں سے ایک بندے  کو پایا، جسے ہم نے اپنے پاس کی خاص رحمت  عطا فرما رکھی تھی اور اسے اپنے پاس سے خاص علم سکھا رکھا تھا۔

۶۶.      اس سے موسیٰ نے کہا کہ میں آپ کی تابعداری کروں؟ کہ آپ مجھے اس نیک علم کو سکھا دیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے۔

۶۷.     اس نے کہا آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکتے۔

۶۸.      اور جس چیز کو آپ نے اپنے علم میں  نہ لیا ہو اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں؟

۶۹.      موسیٰ نے جواب دیا کہ انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور کسی بات میں میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا۔

۷۰.     اس نے کہا اچھا اگر آپ میرے ساتھ ہی چلنے پر اصرار کرتے ہیں تو یاد رہے کسی چیز کی نسبت مجھ سے کچھ نہ پوچھنا جب تک کہ میں خود اس کی نسبت کوئی تذکرہ نہ کروں۔

۷۱.      پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے، خضر نے اس کے تختے توڑ دیئے، موسیٰ نے کہا کیا آپ اسے توڑ رہے ہیں کہ کشتی والوں کو ڈبو دیں، یہ تو آپ نے بڑی (خطرناک) بات کر دی۔

۷۲.     خضر نے جواب دیا میں نے تو پہلے ہی تجھ سے کہہ دیا تھا کہ تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہ کر سکے گا۔

۷۳.     موسیٰ نے جواب دیا کہ میری بھول پر مجھے نہ پکڑیئے اور مجھے اپنے کام میں تنگی نہ ڈالیئے۔

۷۴.     پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک  لڑکے کو پایا، خضر نے اسے مار ڈالا، موسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض مار ڈالا؟ بیشک آپ نے تو بڑی ناپسندیدہ حرکت کی۔

۷۵.     وہ کہنے لگے کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ہمراہ رہ کر ہرگز صبر نہیں کر سکتے۔

۷۶.     موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا اگر اب اس کے بعد میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو بیشک آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا، یقیناً آپ میری طرف سے (حد) عذر  کو پہنچ چکے۔

۷۷.     پھر دونوں چلے ایک گاؤں والوں کے پاس آ کر ان سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے مہمانداری سے صاف انکار کر دیا  دونوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرا ہی چاہتی تھی، اس نے اسے ٹھیک اور درست  کر دیا، موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے۔

۷۸.     اس نے کہا بس یہ جدائی ہے میرے اور تیرے درمیان،  اب میں تجھے ان باتوں کی اصلیت بھی بتا دوں گا جس پر تجھ سے صبر نہ ہو سکا

۷۹.      کشتی تو چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کاج کرتے تھے۔ میں نے اس میں کچھ توڑ پھوڑ کا ارادہ کر لیا کیونکہ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک (صحیح سالم) کشتی کو جبراً ضبط کر لیتا تھا۔

۸۰.      اور اس لڑکے کے ماں باپ ایمان والے تھے، ہمیں خوف ہوا کہ کہیں یہ انہیں اپنی سرکشی اور کفر سے عاجز و پریشان نہ کر دے۔

۸۱.       اس لئے ہم نے چاہا کہ انہیں ان کا پروردگار اس کے بدلے اس سے بہتر پاکیزگی والا اور اس سے زیادہ محبت اور پیار والا بچہ عنایت فرمائے

۸۲.      دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس شہر میں دو یتیم بچے ہیں جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے، ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا تو تیرے رب کی چاہت تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آ کر اپنا یہ خزانہ تیرے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں، میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا  یہ تھی اصل حقیقت اور ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہ ہو سکا۔

۸۳.     آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ یہ لوگ دریافت کر رہے ہیں،  آپ کہہ دیجئے کہ میں ان کا تھوڑا سا حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں

۸۴.     ہم نے اس زمین میں قوت عطا فرمائی تھی اور اسے ہر چیز کے  سامان بھی عنایت کر دیے تھے۔

۸۵.     وہ ایک راہ کے پیچھے لگا۔

۸۶.      یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچ گیا اور اسے ایک دلدل کے چشمے میں غروب ہوتا ہوا پایا  اور اس چشمے کے پاس ایک قوم کو پایا ہم نے فرمایا  کہ اے ذوالقرنین! یا تو انہیں تکلیف پہنچائے یا ان کے بارے میں تو کوئی بہترین روش اختیار کرے۔

۸۷.     اس نے کہا جو ظلم کرے گا اسے تو ہم بھی اب سزا دیں گے  پھر وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا اور وہ اسے سخت تر عذاب دے گا

۸۸.     ہاں جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرے اس کے لئے تو بدلے میں بھلائی ہے اور ہم اسے اپنے کام میں بھی آسانی کا حکم دیں گے

۸۹.      پھر وہ اور راہ کے پیچھے لگا

۹۰.      یہاں تک کہ جب سورج نکلنے کی جگہ تک پہنچا تو اسے ایک ایسی قوم پر نکلتا پایا کہ ان کے لئے ہم نے اس سے اور کوئی اوٹ نہیں بنائی

۹۱.       واقعہ ایسا ہی ہے اور ہم نے اس کے پاس کی کل خبروں کا احاطہ  کر رکھا ہے۔

۹۲.      وہ پھر ایک سفر کے سامان میں لگا۔

۹۳.      یہاں تک کہ جب وہ دو دیواروں  کے درمیان پہنچا ان دونوں کے پرے اس نے ایک ایسی قوم پائی جو بات سمجھنے کے قریب بھی نہ تھی

۹۴.      انہوں نے کہا اے ذوالقرنین!  یاجوج ماجوج اس ملک میں (بڑے بھاری) فسادی،  ہیں تو کیا ہم آپ کے لئے کچھ خرچ کا انتظام کر دیں؟ (اس شرط پر کہ) آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دیں۔

۹۵.      اس نے جواب دیا کہ میرے اختیار میں میرے پروردگار نے جو دے رکھا ہے وہی بہتر ہے، تم صرف قوت  طاقت سے میری مدد کرو۔

۹۶.      میں تم میں اور ان میں مضبوط پردہ بنا دیتا ہوں۔ مجھے لوہے کی چادریں لا دو۔ یہاں تک کہ جب ان دونوں پہاڑوں کے درمیان دیوار برابر کر دی  تو حکم دیا کہ آگ تیز جلاؤ تاوقتیکہ لوہے کی ان چادروں کو بالکل آگ کر دیا۔ تو فرمایا میرے پاس لاؤ اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈال دو

۹۷.      پس تو ان میں اس کے دیوار کے اوپر چڑھنے کی طاقت تھی اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے تھے

۹۸.      کہا یہ سب میرے رب کی مہربانی ہے ہاں جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو اسے زمین بوس کر دے گا  بیشک میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔

۹۹.       اس دن ہم انہیں آپس میں ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوتے ہوئے چھوڑ دیں گے اور صور پھونک دیا جائے گا پس سب کو اکٹھا کر کے ہم جمع کر لیں گے

۱۰۰.     اس دن ہم جہنم (بھی) کافروں کے سامنے لا کھڑا کر دیں گے۔

۱۰۱.     جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور (امر حق) سن بھی نہیں سکتے تھے۔

۱۰۲.     کیا کافر یہ خیال کئے بیٹھے ہیں؟ کہ میرے سوا وہ میرے بندوں کو اپنا حمایتی بنا لیں گے؟ (سنو) ہم نے تو ان کفار کی مہمانی کے لئے جہنم کو تیار کر رکھا ہے

۱۰۳.    کہہ دیجئے کہ اگر (تم کہو تو) میں تمہیں بتا دوں کہ با اعتبار اعمال سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟

۱۰۴.    وہ ہیں کہ جن کی دنیاوی زندگی کی تمام تر کوششیں بے کار ہو گئیں اور وہ اسی گمان میں رہے کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔

۱۰۵.    یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کی ملاقات سے کفر کیا  اس لئے ان کے اعمال غارت ہو گئے پس قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔

۱۰۶.     حال یہ ہے کہ ان کا بدلہ جہنم ہے کیونکہ انہوں نے کفر کیا اور میری آیتوں اور میرے رسولوں کا مذاق اڑا یا۔

۱۰۷.    جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی اچھے کئے یقیناً ان کے لئے فردوس  کے باغات کی مہمانی ہے

۱۰۸.    جہاں وہ ہمیشہ رہا کریں گے جس جگہ کو بدلنے کا کبھی بھی ان کا ارادہ ہی نہ ہو گا

۱۰۹.     کہہ دیجئے کہ اگر میرے پروردگار کی باتوں کے  لکھنے کے لئے سمندر سیاہی بن جائے تو وہ بھی میرے رب کی باتوں کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا، گو ہم اسی جیسا اور بھی اس کی مدد میں لے آئیں۔

۱۱۰.     آپ کہ دیجئے کہ میں تو تم جیسا ہی ایک انسان ہوں  (ہاں) میری جانب وحی کی جاتی ہے کہ سب کا معبود صرف ایک ہی معبود ہے،  تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت  میں کسی کو شریک نہ کرے۔

 

۱۹۔ مريم

۱.         کہیعص

۲.        یہ ہے تیرے پروردگار کی اس مہربانی کا ذکر جو اس نے اپنے بندے زکریا  پر کی تھی۔

۳.        جبکہ اس نے اپنے رب سے چپکے چپکے دعا کی تھی

۴.        کہ اے میرے پروردگار! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اٹھا ہے  لیکن میں کبھی بھی تجھ سے دعا کر کے محروم نہیں رہا

۵.        مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے  میری بیوی بھی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے  وارث عطا فرما۔

۶.        جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان کا بھی جانشین اور میرے رب! تو اسے مقبول بندہ بنا لے۔

۷.        اے زکریا! ہم تجھے ایک بچے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے، ہم نے اس سے پہلے اس کا ہم نام بھی کسی کو نہیں کیا۔

۸.        زکریا (علیہ السلام) کہنے لگے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا، جب کہ میری بیوی بانجھ اور میں خود بڑھاپے کے انتہائی ضعف کو پہنچ چکا ہوں۔

۹.         ارشاد ہوا کہ وعدہ اسی طرح ہو چکا، تیرے رب نے فرما دیا کہ مجھ پر تو یہ بالکل آسان ہے اور تو خود جبکہ کچھ نہ تھا میں تجھے پیدا کر چکا ہوں

۱۰.       کہنے لگے میرے پروردگار میرے لئے کوئی علامت مقرر فرما دے ارشاد ہوا کہ تیرے لئے علامت یہ ہے کہ باوجود بھلا چنگا ہونے کے تین راتوں تک کسی شخص سے بول نہ سکے گا۔

۱۱.        اب زکریا (علیہ السلام) اپنے حجرے  سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آ کر انہیں اشارہ کرتے ہیں کہ تم صبح و شام اللہ تعالیٰ  کی تسبیح بیان کرو۔

۱۲.       اے یحییٰ! میری کتاب  کو مضبوطی سے تھام لے اور ہم نے اسے لڑکپن ہی سے دانائی عطا فرما دی

۱۳.       اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی بھی  وہ پرہیزگار شخص تھا۔

۱۴.       اور اپنے ماں باپ سے نیک سلوک کرنے والا تھا وہ سرکش اور گناہ گار نہ تھا

۱۵.       اس پر سلام ہے جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس دن وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے۔

۱۶.       اس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کر۔ جبکہ وہ اپنے گھر کے لوگوں سے علیحدہ ہو کر مشرقی جانب آئیں

۱۷.      اور ان لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا  پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح (جبرائیل علیہ السلام) کو بھیجا پس وہ اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا۔

۱۸.       یہ کہنے لگیں میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو کچھ بھی اللہ سے ڈرنے والا ہے۔

۱۹.       اس نے جواب دیا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔

۲۰.      کہنے لگیں بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہ لگا اور نہ میں بدکار ہوں۔

۲۱.       اس نے کہا بات تو یہی ہے،  لیکن تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ وہ مجھ پر بہت ہی آسان ہے ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے  اور اپنی خاص رحمت  یہ تو ایک طے شدہ بات ہے۔

۲۲.      پس وہ حمل سے ہو گئیں اور اسی وجہ سے وہ یکسو ہو کر ایک دور کی جگہ چلی گئیں۔

۲۳.      پھر درد زہ اسے ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا، بولی کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہو جاتی۔

۲۴.      اتنے میں اسے نیچے سے ہی آواز دی کہ آزردہ خاطر نہ ہو، تیرے رب نے تیرے پاؤں تلے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے

۲۵.      اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، یہ تیرے سامنے ترو تازہ پکی کھجوریں گرا دے گا۔

۲۶.      اب چین سے کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ  اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑ جائے تو کہہ  دینا کہ میں نے اللہ رحمان کے نام کا روزہ رکھا ہے۔ میں آج کسی شخص سے بات نہ کروں گی۔

۲۷.     اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لئے ہوئے وہ اپنی قوم کے پاس آئیں۔ سب کہنے لگے مریم تو نے بڑی بری حرکت کی

۲۸.      اے ہارون کی بہن!  نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی

۲۹.      مریم نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ سب کہنے لگے کہ لو بھلا ہم گود کے بچے سے باتیں کیسے کریں؟

۳۰.      بچہ بول اٹھا کہ میں اللہ تعالیٰ  کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا  ہے

۳۱.       اور اس نے مجھے بابرکت کیا ہے  جہاں بھی میں ہوں، اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے جب تک بھی میں زندہ رہوں

۳۲.      اور اس نے مجھے اپنی والدہ کا خدمت گزار بنایا ہے  اور مجھے سرکش اور بد بخت نہیں کیا۔

۳۳.     اور مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوبارہ زندہ کھڑا کیا جاؤں گا، سلام ہی سلام ہے۔

۳۴.     یہ ہے صحیح واقعہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا، یہی ہے وہ حق بات جس میں لوگ شک شبہ میں مبتلا ہیں

۳۵.     اللہ تعالیٰ  کے لئے اولاد کا ہونا لائق نہیں، وہ بالکل پاک ذات ہے، وہ تو جب کسی کام کے سر انجام دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا، وہ اسی وقت ہو جاتا ہے۔

۳۶.      میرا اور تم سب کا پروردگار صرف اللہ تعالیٰ  ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔

۳۷.     پھر یہ فرماتے آپس میں اختلاف کرنے لگے،  پس کافروں کے لئے ‘ ویل ‘ ہے ایک بڑے (سخت) دن کی حاضری سے۔

۳۸.     کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے،  لیکن آج تو یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

۳۹.      تو انہیں اس رنج و افسوس کے دن  کا ڈر سنا دے جبکہ کام انجام کو پہنچا دیا جائے گا  اور یہ لوگ غفلت اور بے ایمانی میں ہی رہ جائیں گے۔

۴۰.      خود زمین کے اور تمام زمین والوں کے وارث ہم ہی ہوں گے اور سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹا کر لائے جائیں گے۔

۴۱.       اس کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر، بیشک وہ بڑی سچائی والے پیغمبر تھے۔

۴۲.      جب کہ انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان! آپ ان کی پوجا پاٹ کیوں کر رہے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں؟ نہ آپ کو کچھ بھی فائدہ پہنچا سکیں۔

۴۳.     میرے مہربان باپ! آپ دیکھیے میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس آیا ہی نہیں،  تو آپ میری ہی مانیں میں بالکل سیدھی راہ کی طرف آپ کی رہبری کروں گا۔

۴۴.     میرے ابا جان آپ شیطان کی پرستش سے باز آ جائیں شیطان تو رحم و کرم والے اللہ تعالیٰ  کا بڑا ہی نافرمان ہے۔

۴۵.     ابا جان! مجھے خوف لگا ہوا ہے کہ کہیں آپ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آ پڑے کہ آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں

۴۶.      اس نے جواب دیا کہ اے ابراہیم! کیا تو ہمارے معبودوں سے روگردانی کر رہا ہے۔ سن اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار ڈالوں گا، جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ رہ۔

۴۷.     کہا اچھا تم پر سلام ہو  میں تو اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کرتا رہوں گا  وہ مجھ پر حد درجہ مہربان ہے۔

۴۸.     میں تو تمہیں بھی اور جن جن کو تم اللہ تعالیٰ  کے سوا پکارتے ہو انہیں بھی سب کو چھوڑ رہا ہوں۔ صرف اپنے پروردگار کو پکارتا رہوں گا، مجھے یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار سے دعا مانگ کر محروم نہ رہوں گا۔

۴۹.      جب ابراہیم (علیہ السلام) ان سب کو اور اللہ کے سوا ان کے سب معبودوں کو چھوڑ چکے تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب (علیہما السلام) عطا فرمائے،  اور دونوں کو نبی بنا دیا۔

۵۰.      اور ان سب کو ہم نے اپنی بہت سی رحمتیں  عطا فرمائیں اور ہم نے ان کے ذکر جمیل کو بلند درجے کا کر دیا۔

۵۱.       اس قرآن میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر، جو چنا ہوا  اور رسول اور نبی تھا

۵۲.      ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے آواز کی اور راز گوئی کرتے ہوئے اسے قریب کر لیا۔

۵۳.     اور اپنی خاص مہربانی سے اس کے بھائی کو نبی بنا کر عطا فرمایا

۵۴.     اس کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا واقعہ بھی بیان کر، وہ بڑا ہی وعدے کا سچا تھا اور تھا بھی رسول اور نبی۔

۵۵.     وہ اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا، اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول۔

۵۶.      اور اس کتاب میں ادریس (علیہ السلام) کا بھی ذکر کر، وہ بھی نیک کردار پیغمبر تھا۔

۵۷.     ہم نے اسے بلند مقام پر اٹھا لیا

۵۸.     ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں چڑھا لیا تھا، اور اولاد ابراہیم و یعقوب سے اور ہماری طرف سے راہ یافتہ اور ہمارے پسندیدہ لوگوں میں سے۔ ان کے سامنے جب اللہ رحمان کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تھی یہ سجدہ کرتے روتے گڑگڑاتے گر پڑتے تھے۔

۵۹.      پھر ان کے بعد ایسے اطاعت نہ کرنے والے پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کر دی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا

۶۰.      بجز ان کے جو توبہ کر لیں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کی ذرا سی بھی حق تلفی نہ کی جائے گی

۶۱.       ہمیشگی والی جنتوں میں جن کا غائبانہ وعدہ  اللہ مہربان نے اپنے بندوں سے کیا ہے۔ بیشک اس کا وعدہ پورا ہونے والا ہی ہے۔

۶۲.      وہ لوگ وہاں کوئی لغو بات نہ سنیں گے صرف سلام ہی سلام سنیں  گے، ان کے لئے وہاں صبح شام ان کا رزق ہو گا۔

۶۳.      یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے انہیں بناتے ہیں جو متقی ہوں۔

۶۴.      ہم بغیر تیرے رب کے حکم کے اتر نہیں سکتے  ہمارے آگے پیچھے اور ان کے درمیان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں، تیرا پروردگار بھولنے والا نہیں۔

۶۵.      آسمانوں کا، زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب وہی ہے تو اسی کی بندگی کر اور اس کی عبادت پر جم جا۔ کیا تیرے علم میں اس کا ہم نام ہم پلہ کوئی اور بھی ہے؟

۶۶.      انسان کہتا  ہے کہ جب میں مر جاؤں گا تو کیا پھر زندہ کر کے نکالا جاؤں گا۔

۶۷.     کیا یہ انسان اتنا بھی یاد نہیں رکھتا کہ ہم نے اسے اس سے پہلے پیدا کیا حالانکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔

۶۸.      تیرے پروردگار کی قسم! ہم انہیں اور شیطانوں کو جمع کر کے ضرور ضرور جہنم کے ارد گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کر دیں گے

۶۹.      ہم ہر ہر گروہ سے انہیں الگ نکال کھڑا کریں گے جو اللہ رحمٰن سے بہت اکڑے اکڑے پھرتے تھے

۷۰.     پھر ہم انہیں بھی خوب جانتے ہیں جو جہنم کے داخلے کے زیادہ سزاوار ہیں۔

۷۱.      تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، طے شدہ امر ہے۔

۷۲.     پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچا لیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔

۷۳.     جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں بتاؤ ہم تم دونوں جماعتوں میں سے کس کا مرتبہ زیادہ ہے؟ اور کس کی مجلس شاندار ہے۔

۷۴.     ہم تو ان سے پہلے بہت سی جماعتوں کو غارت کر چکے ہیں جو سازو سامان اور نام و نمود میں  ان سے بڑھ چڑھ کر تھیں

۷۵.     کہہ دیجئے! جو گمراہی میں ہوتا ہے اللہ رحمٰن اس کو خوب لمبی مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ ان چیزوں کو دیکھ لیں جن کا وعدہ کیے جاتے ہیں یعنی عذاب یا قیامت کو، اس وقت ان کو صحیح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ کون برے مرتبے والا اور کس کا گروہ کمزور ہے۔

۷۶.     اور ہدایت یافتہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ  ہدایت میں بڑھاتا ہے  اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں۔

۷۷.     کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی۔

۷۸.     کیا وہ غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعدہ لے چکا ہے؟

۷۹.      ہرگز نہیں، یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم ضرور لکھ لیں گے، اور اس کے لئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔

۸۰.      یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے۔ اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہو گا۔

۸۱.       انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں کہ وہ ان کے لئے باعث عزت ہوں۔

۸۲.      لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ وہ تو پوجا سے منکر ہو جائیں گے، الٹے ان کے دشمن  بن جائیں گے۔

۸۳.     کیا تو نے نہیں دیکھا کہ ہم کافروں کے پاس شیطانوں کو بھیجتے ہیں جو انہیں خوب اکساتے ہیں

۸۴.     تو ان کے بارے میں جلدی نہ کر، ہم تو خود ہی ان کے لئے مدت شمار کر رہے ہیں۔

۸۵.     جس دن ہم پرہیزگاروں کو اللہ رحمان کی طرف بطور مہمان جمع کریں گے۔

۸۶.      اور گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے۔

۸۷.     کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہو گا سوائے ان کے جنہوں نے اللہ تعالیٰ  کی طرف سے کوئی قول قرار لے لیا ہے۔

۸۸.     ان کا قول یہ ہے کہ اللہ رحمٰن نے بھی اولاد اختیار کی ہے۔

۸۹.      یقیناً تم بہت بری اور بھاری چیز لائے ہو۔

۹۰.      قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں

۹۱.       کہ وہ رحمٰن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے۔

۹۲.      شان رحمٰن کے لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے۔

۹۳.      آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں۔

۹۴.      ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو پورے گن بھی رکھا ہے

۹۵.      یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں

۹۶.      بیشک جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے شائستہ اعمال کیے ہیں ان کے لئے اللہ رحمٰن محبت پیدا کر دے گا

۹۷.      ہم نے اس قرآن کو تیری زبان میں بہت ہی آسان کر دیا ہے  کہ تو اس کے ذریعہ سے پرہیزگاروں کو خوشخبری دے اور جھگڑالو  کو ڈرا دے۔

۹۸.      ہم نے اس سے پہلے بہت سی جماعتیں تباہ کر دیں ہیں، کیا ان میں سے ایک بھی آہٹ تو پاتا ہے یا ان کی آواز کی بھنک بھی تیرے کان میں پڑتی ہے؟۔

 

۲۰۔ طٰہٰ

۱.         طٰہٰ

۲.        ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑ جائے۔

۳.        بلکہ اس کی نصیحت کے لئے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔

۴.        اس کا اتارنا اس کی طرف سے ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمان کو پیدا کیا ہے۔

۵.        جو رحمٰن ہے، عرش پر قائم ہے

۶.        جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور (کرہ خاک) کے نیچے کی ہر ایک چیز پر ہے۔

۷.        اگر تو اونچی بات کہے تو وہ تو ہر ایک پوشیدہ، بلکہ پوشیدہ سے پوشیدہ تر بات کو بھی بخوبی جانتا ہے

۸.        وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بہترین نام اسی کے ہیں۔

۹.         تجھے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بھی معلوم ہے۔

۱۰.       جبکہ اس نے آگ دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا سی دیر ٹھہر جاؤ مجھے آگ دکھائی دی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں اس کا کوئی انگارا تمہارے پاس لاؤں یا آگ کے پاس سے راستے کی اطلاع پاؤں۔

۱۱.        جب وہ وہاں پہنچے تو آواز دی گئی  اے موسیٰ۔

۱۲.       یقیناً میں تیرا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتار دے،  کیونکہ تو پاک میدان طویٰ میں ہے۔

۱۳.       اور میں نے تجھے منتخب کر لیا ہے  اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سن۔

۱۴.       بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کے لائق اور کوئی نہیں پس تو میری ہی عبادت کر  اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ۔

۱۵.       قیامت یقیناً آنے والی ہے جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو۔

۱۶.       پس اب اس کے یقین سے تجھے کوئی ایسا شخص روک نہ دے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہو، ورنہ تو ہلاک ہو جائے گا۔

۱۷.      اے موسیٰ! تیرے اس دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟

۱۸.       جواب دیا کہ یہ میری لاٹھی ہے، جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیا کرتا ہوں اور بھی اس میں مجھے بہت سے فائدے ہیں۔

۱۹.       فرمایا اے موسیٰ! اسے ہاتھ سے نیچے ڈال دے۔

۲۰.      ڈالتے ہی وہ سانپ بن کر دوڑنے لگی۔

۲۱.       فرمایا بے خوف ہو کر اسے پکڑ لے، ہم اسے اسی پہلی سی صورت میں دوبارہ لادیں گے

۲۲.      اور اپنا ہاتھ بغل میں ڈال لے تو وہ سفید چمکتا ہوا ہو کر نکلے گا، لیکن بغیر کسی عیب (اور روگ) کے  یہ دوسرا معجزہ ہے

۲۳.      یہ اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانا چاہتے ہیں

۲۴.      اب تو فرعون کی طرف جا اس نے بڑی سرکشی مچا رکھی ہے

۲۵.      موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ میرے لئے کھول دے۔

۲۶.      اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے

۲۷.     اور میری زبان کی گرہ بھی کھول دے۔

۲۸.      تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں۔

۲۹.      اور میرا وزیر میرے کنبے میں سے کر دے۔

۳۰.      یعنی میرا بھائی ہارون (علیہ السلام) کو۔

۳۱.       تو اس سے میری کمر کس دے۔

۳۲.      اور اسے میرا شریک کار کر دے

۳۳.     تاکہ ہم دونوں بکثرت تیری تسبیح بیان کریں

۳۴.     اور بکثرت تیری یاد کریں۔

۳۵.     بیشک تو ہمیں خوب دیکھنے بھالنے والا ہے۔

۳۶.      جناب باری تعالیٰ  نے فرمایا موسیٰ تیرے تمام سوالات پورے کر دیے گئے

۳۷.     ہم نے تو تجھ پر ایک بار اور بھی بڑا احسان کیا ہے

۳۸.     جب کہ ہم نے تیری ماں کو وہ الہام کیا جس کا ذکر اب کیا جا رہا ہے۔

۳۹.      کہ تو اسے صندوق میں بند کر کے دریا میں چھوڑ دے، پس دریا اسے کنارے لا ڈالے گا اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا  اور میں نے اپنی طرف کی خاص محبت و مقبولیت تجھ پر ڈال دی  تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے  کی جائے۔

۴۰.      (یاد کر) جبکہ تیری بہن چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اگر تم کہو تو میں بتا دوں جو اس کی نگہبانی کرے  اس تدبیر سے ہم نے تجھے تیری ماں کے پاس پہنچایا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمگین نہ ہو، اور تو نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا  اس پر بھی ہم نے تمہیں غم سے بچا لیا، غرض ہم نے تجھے اچھی طرح آزما لیا۔ پھر تو کئی سال تک مدین کے لوگوں میں ٹھہرا رہا  پھر تقدیر الٰہی کے مطابق اے (۵) موسیٰ! تو آیا۔

۴۱.       اور میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے پسند فرمایا لیا۔

۴۲.      اب تو اپنے بھائی سمیت میری نشانیاں ہمراہ لئے ہوئے جا، اور خبردار میرے ذکر میں سستی نہ کرنا

۴۳.     تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑی سرکشی کی ہے

۴۴.     اسے نرمی  سے سمجھاؤ کہ شاید وہ سمجھ لے یا ڈر جائے۔

۴۵.     دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں خوف ہے کہ کہیں فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرے یا اپنی سرکشی میں بڑھ نہ جائے۔

۴۶.      جواب ملا کہ تم مطلقاً خوف نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں اور سنتا اور دیکھتا رہوں گا

۴۷.     تم اس کے پاس جا کر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے، ان کی سزائیں موقوف کر۔ ہم تو تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اس کے لئے ہے جو ہدایت کا پابند  ہو جائے۔

۴۸.     ہمارے طرف وحی کی گئی ہے کہ جو جھٹلائے اور روگردانی کرے اس کے لئے عذاب ہے

۴۹.      فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ! تم دونوں کا رب کون ہے؟

۵۰.      جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راہ سجھا دی۔

۵۱.       اس نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ اگلے زمانے والوں کا حال کیا ہونا ہے

۵۲.      جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں موجود ہے، نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے

۵۳.     اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے ہیں اور آسمان سے پانی بھی وہی برساتا ہے، پھر برسات کی وجہ سے مختلف قسم کی پیداوار بھی ہم ہی پیدا کرتے ہیں۔

۵۴.     تم خود کھاؤ اور اپنے چوپاؤں کو بھی چراؤ  کچھ شک نہیں کہ اس میں عقلمندوں کے لئے  بہت سی نشانیاں ہیں۔

۵۵.     اس زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوبارہ تم سب  کو نکال کھڑا کریں گے۔

۵۶.      ہم نے اسے اپنی سب نشانیاں دکھا دیں لیکن پھر بھی اس نے جھٹلایا اور انکار کر دیا۔

۵۷.     کہنے لگا اے موسیٰ! کیا تو اسی لئے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دے

۵۸.     اچھا ہم بھی تیرے مقابلے میں اسی جیسا جادو ضرور لائیں گے، پس تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت مقرر کر لے  کہ نہ ہم اس کا خلاف کریں اور نہ تو، صاف میدان میں مقابلہ ہو۔

۵۹.      موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ زینت اور جشن کے دن  کا وعدہ ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں

۶۰.      پس فرعون لوٹ گیا اور اس نے اپنے ہتھکنڈے جمع کئے پھر آ گیا

۶۱.       موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تمہاری شامت آ چکی، اللہ تعالیٰ  پر جھوٹ اور افتراء نہ باندھو کہ تمہیں عذابوں سے ملیامیٹ کر دے، یاد رکھو وہ کبھی کامیاب نہ ہو گا جس نے جھوٹی بات گھڑی۔۔

۶۲.      پس یہ لوگ آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہو گئے اور چھپ کر چپکے چپکے مشورہ کرنے لگے۔

۶۳.      کہنے لگے یہ دونوں محض جادوگر ہیں اور ان کا پختہ ارادہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے بہترین مذہب کو برباد کریں۔

۶۴.      تو تم بھی اپنا کوئی داؤ اٹھا نہ رکھو، پھر صف بندی کر کے آؤ، جو آج غالب آ گیا وہی بازی لے گیا۔

۶۵.      کہنے لگے اے موسیٰ! یا تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں۔

۶۶.      جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو  اب تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں

۶۷.     پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل ہی دل میں ڈر محسوس کیا۔

۶۸.      ہم نے فرمایا کچھ خوف نہ کر یقیناً تو ہی غالب اور برتر رہے گا۔

۶۹.      اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ ان کی تمام کاریگری کو وہ نگل جائے، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔

۷۰.     اب تو تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے کہ ہم تو ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے رب پر ایمان لائے

۷۱.      فرعون کہنے لگا کہ کیا میری اجازت سے پہلے ہی تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً تمہارا بڑا بزرگ ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، (سن لو) میں تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے  کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوں میں سولی پر لٹکوا دوں گا، اور تمہیں پوری طرح معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیادہ سخت اور دیرپا ہے۔

۷۲.     انہوں نے جواب دیا کہ ناممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں پر جو ہمارے سامنے آ چکیں ہیں، اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے  اب تو تو جو کچھ کرنے والا ہے کر گزر، تو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وہ اسی دنیاوی زندگی  میں ہی ہے۔

۷۳.     ہم (اس امید سے) اپنے پروردگار پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں معاف فرما دے اور (خاص کر) جادوگری (کا گناہ) جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا ہے  اللہ ہی بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔

۷۴.     بات یہی ہے کہ جو بھی گناہ گار بن کر اللہ تعالیٰ  کے ہاں حاضر ہو گا اس کے لئے دوزخ ہے، جہاں نہ موت ہو گی اور نہ زندگی

۷۵.     اور جو بھی اس کے پاس ایماندار ہو کر حاضر ہو گا اور اس نے اعمال بھی نیک کئے ہوں گے اس کے لئے بلند و بالا درجے ہیں۔

۷۶.     ہمیشگی والی جنتیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی انعام ہے ہر اس شخص کا جو پاک ہوا۔

۷۷.     ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تو راتوں رات میرے بندوں کو لے چل  پھر نہ تجھے کسی کے آ پکڑنے کا خطرہ ہو گا نہ ڈر۔

۷۸.     فرعون نے اپنے لشکروں سمیت ان کا تعاقب کیا پھر تو دریا ان سب پر چھا گیا جیسا کچھ چھا جانے والا تھا

۷۹.      فرعون نے اپنی قوم کو گمراہی میں ڈال دیا اور سیدھا راستہ نہ دکھایا

۸۰.      اے بنی اسرائیل! دیکھو ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوہ طور کی دائیں طرف کا وعدہ  اور تم پر من و سلویٰ اتارا

۸۱.       تم ہماری دی ہوئی پاکیزہ روزی کھاؤ، اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو  ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہو گا، اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وہ یقیناً تباہ ہوا۔

۸۲.      ہاں بیشک میں انہیں بخش دینے والا ہوں جو توبہ کریں ایمان لائیں نیک عمل کریں اور راہ راست پر بھی رہیں

۸۳.     اے موسیٰ! تجھے اپنی قوم سے (غافل کر کے) کون سی چیز جلدی لے آئی؟

۸۴.     کہا کہ وہ لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے ہیں، اور میں نے اے رب! تیری طرف جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو جائے۔

۸۵.     فرمایا! ہم نے تیری قوم کو تیرے پیچھے آزمائش میں ڈال دیا اور انہیں سامری نے بہکا دیا ہے

۸۶.      پس موسیٰ (علیہ السلام) سخت غضبناک ہو کر رنج کے ساتھ واپس لوٹے، اور کہنے لگے کہ اے میری قوم والو! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے نیک وعدہ نہیں کیا  تھا؟ کیا اس کی مدت تمہیں لمبی معلوم ہوئی؟  بلکہ تمہارا ارادہ ہی یہ ہے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو؟ کہ تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا

۸۷.     انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے ساتھ وعدے کے خلاف نہیں کیا  بلکہ ہم پر زیورات قوم کے جو بوجھ لاد دیئے گئے تھے، انہیں ہم نے ڈال دیا، اور اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیئے۔

۸۸.     پھر اس نے لوگوں کے لئے ایک بچھڑا نکال کھڑا کیا یعنی بچھڑے کا بت، جس کی گائے کی سی آواز بھی تھی پھر کہنے لگے کہ یہی تمہارا بھی معبود ہے  اور موسیٰ کا بھی۔ لیکن موسیٰ بھول گیا ہے۔

۸۹.      کیا یہ گمراہ لوگ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ وہ تو ان کی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور نہ ان کے کسی برے بھلے کا اختیار رکھتا ہے

۹۰.      اور ہارون (علیہ السلام) نے اس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا اے میری قوم والو! اس بچھڑے سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے، تمہارا حقیقی پروردگار تو اللہ رحمٰن ہی ہے، پس تم سب میری تابعداری کرو۔ اور میری بات مانتے چلے جاؤ۔

۹۱.       انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی تک تو ہم اسی کے مجاور بنے بیٹھے رہیں گے

۹۲.      موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے اے ہارون! انہیں گمراہ ہوتا ہوا دیکھتے ہوئے تجھے کس چیز نے روکا تھا۔

۹۳.      کہ تو میرے پیچھے نہ آیا۔ کیا تو بھی میرے فرمان کا نافرمان بن بیٹھا

۹۴.      ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میرے ماں جائے بھائی! میری داڑھی نہ پکڑ اور سر کے بال نہ کھینچ، مجھے تو صرف یہ خیال دامن گیر ہوا کہ کہیں آپ یہ (نہ) فرمائیں  کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔

۹۵.      موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا سامری تیرا کیا معاملہ ہے۔

۹۶.      اس نے جواب دیا کہ مجھے وہ چیز دکھائی دی جو انہیں دکھائی نہیں دی، تو میں نے قاصدِ الٰہی کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی اسے اس میں ڈال دیا  اسی طرح میرے دل نے یہ بات میرے لئے بھلی بنا دی۔

۹۷.      کہا اچھا جا دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہی ہے کہ تو کہتا رہے کہ مجھے نہ چھونا  اور ایک اور بھی وعدہ تیرے ساتھ ہے جو تجھ سے ہرگز نہیں ٹلے گا  اور اب تو اپنے اس معبود کو بھی دیکھ لینا جس کا اعتکاف کئے ہوئے تھا کہ ہم اسے جلا کر دریا میں ریزہ ریزہ اڑائیں گے۔

۹۸.      اصل بات یہی ہے کہ تم سب کا معبود برحق صرف اللہ ہی ہے اس کے سوا کوئی پرستش کے قابل نہیں۔ اس کا علم تمام چیزوں پر حاوی ہے

۹۹.       اس طرح ہم تیرے سامنے  پہلے کی گزری ہوئی وارداتیں بیان فرما رہے ہیں اور یقیناً ہم تجھے اپنے پاس سے نصیحت عطا فرما چکے ہیں۔

۱۰۰.     اس سے جو منہ پھیر لے گا  وہ یقیناً قیامت کے دن اپنا بھاری بوجھ لا دے ہوئے ہو گا۔

۱۰۱.     جس میں ہمیشہ رہے گا  اور ان کے لئے قیامت کے دن (بڑا) برا بوجھ ہے

۱۰۲.     جس دن صور پھونکا جائے گا  اور گناہ گاروں کو ہم اس دن (دہشت کی وجہ سے) نیلی پیلی آنکھوں کے ساتھ گھیر لائیں گے

۱۰۳.    وہ آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے  ہوں گے کہ ہم تو (دنیا میں) صرف دس دن ہی رہے۔

۱۰۴.    جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کی حقیقت سے ہم باخبر ہیں ان میں سب سے زیادہ اچھی رائے  والا کہہ رہا ہو گا کہ تم صرف ایک ہی دن دنیا میں رہے۔

۱۰۵.    وہ آپ سے پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں، تو آپ کہہ دیں کہ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کر کے اڑا دے گا۔

۱۰۶.     اور زمین کو بالکل ہموار صاف میدان کر کے چھوڑے گا۔

۱۰۷.    جس میں تو نہ کہیں موڑ توڑ دیکھے گا، نہ اونچ نیچ۔

۱۰۸.    جس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں  گے جس میں کوئی کجی نہ ہو گی  اور اللہ رحمٰن کے سامنے تمام آوازیں پست ہو جائیں گی سوائے کھسر پھسر کے تجھے کچھ بھی سنائی نہ دے گا۔

۱۰۹.     اس دن سفارش کچھ کام نہ آئے گی مگر جسے رحمٰن حکم دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے

۱۱۰.     جو کچھ ان کے آگے پیچھے ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہو سکتا۔

۱۱۱.      تمام چہرے اس زندہ اور قائم دائم اور مدبر، اللہ کے سامنے کمال عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے، یقیناً وہ برباد ہوا جس نے ظلم لاد لیا

۱۱۲.     اور جو نیک اعمال کرے اور ایمان دار بھی ہو تو نہ اسے بے انصافی کا کھٹکا ہو گا نہ حق تلفی کا

۱۱۳.     اس طرح ہم نے تجھ پر عربی میں قرآن نازل فرمایا ہے اور طرح طرح سے اس میں ڈر کا بیان سنایا ہے تاکہ لوگ پرہیزگار بن  جائیں یا ان کے دل میں سوچ سمجھ تو پیدا کرے

۱۱۴.     پس اللہ عالی شان والا سچا اور حقیقی بادشاہ  ہے۔ تو قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر اس سے پہلے کہ تیری طرف جو وحی کی جاتی ہے وہ پوری کی جائے،  ہاں یہ دعا کر کہ پروردگار میرا علم بڑھا

۱۱۵.     ہم نے آدم کو پہلے تاکیدی حکم دے دیا تھا لیکن وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں کوئی عزم نہیں پایا

۱۱۶.     اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے کیا۔ اس نے صاف انکار کر دیا۔

۱۱۷.     تو ہم نے کہا اے آدم! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے (خیال رکھنا) ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے

۱۱۸.     یہاں تو تجھے یہ آرام ہے کہ نہ تو بھوکا ہوتا ہے نہ ننگا۔

۱۱۹.      اور نہ تو یہاں پیاسا ہوتا ہے نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاتا ہے۔

۱۲۰.     لیکن شیطان نے وسوسہ ڈالا، کہنے لگا کہ کیا میں تجھے دائمی زندگی کا درخت اور بادشاہت بتلاؤں کہ جو کبھی پرانی نہ ہو

۱۲۱.     چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کچھ کھا لیا پس ان کے ستر کھل گئے اور بہشت کے پتے اپنے اوپر ٹانکنے لگے۔ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی پس بہک گیا

۱۲۲.     پھر اس کے رب نے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کی راہنمائی کی

۱۲۳.    فرمایا، تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو، اب تمہارے پاس جب کبھی میری طرف سے ہدایت پہنچے تو میری ہدایت کی پیروی کرے نہ تو وہ بہکے گا نہ تکلیف میں پڑے گا۔

۱۲۴.    اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی،  اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے

۱۲۵.    وہ کہے گا کہ الٰہی! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حالانکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا۔

۱۲۶.     (جواب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہیے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے

۱۲۷.    ہم ایسا ہی بدلہ ہر اس شخص کو دیا کرتے ہیں جو حد سے گزر جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، اور بیشک آخرت کا عذاب نہایت ہی سخت اور باقی رہنے والا ہے۔

۱۲۸.    کیا ان کی رہبری اس بات نے بھی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی بستیاں ہلاک کر دی ہیں جن کے رہنے سہنے کی جگہ یہ چل پھر رہے ہیں۔ یقیناً اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

۱۲۹.     اگر تیرے رب کی بات پہلے ہی سے مقرر شدہ اور وقت معین کردہ نہ ہوتا تو اسی وقت عذاب آ چمٹتا۔

۱۳۰.    پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا رہ، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے، رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا رہ  بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے

۱۳۱.     اور اپنی نگاہیں ہرگز چیزوں کی طرف نہ دوڑانا جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو آرائش دنیا کی دے رکھی ہیں تاکہ انہیں اس میں آزما لیں  تیرے رب کا دیا ہوا ہی (بہت) بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے۔

۱۳۲.    اپنے گھرانے کے لوگوں پر نماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما رہ  ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول بالا پرہیزگاری ہی کا ہے۔

۱۳۳.    انہوں نے کہا کہ یہ نبی ہمارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں لایا؟  کیا ان کے پاس اگلی کتابوں کی واضح دلیل نہیں پہنچی؟

۱۳۴.    اور ہم اس سے پہلے  ہی انہیں عذاب سے ہلاک کر دیتے تو یقیناً یہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے۔

۱۳۵.    کہہ دیجئے! ہر ایک انجام کا منتظر  ہے پس تم بھی انتظار میں رہو۔ ابھی ابھی قطعاً جان لو گے کہ راہ راست والے کون ہیں اور کون راہ یافتہ ہیں۔

 

۲۱۔ الأنبياء

۱.         لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا  پھر بھی وہ بے خبری میں منہ پھیرے ہوئے ہیں ٢)

۲.        ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نئی نئی نصیحت آتی ہے اسے وہ کھیل کود میں ہی سنتے ہیں

۳.        ان کے دل بالکل غافل ہیں اور ان ظالموں نے چپکے چپکے سرگوشیاں کیں کہ وہ تم ہی جیسا انسان ہے پھر کیا وجہ ہے جو تم آنکھوں دیکھتے جادو میں آ جاتے ہو

۴.        پیغمبر نے کہا میرا پروردگار ہر اس بات کو جو زمین و آسمان میں ہے بخوبی جانتا ہے، وہ بہت ہی سننے والا اور جاننے والا ہے

۵.        اتنا ہی نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن حیران کن خوابوں کا مجموعہ ہے بلکہ اس نے از خود اسے گھڑ لیا بلکہ یہ شاعر  ہے، ورنہ ہمارے سامنے یہ کوئی ایسی نشانی لاتے جیسے اگلے پیغمبر بھیجے گئے  تھے۔

۶.        ان سے پہلے جتنی بستیاں ہم نے اجاڑیں سب ایمان سے خالی تھیں۔ تو کیا اب یہ ایمان لائیں گے

۷.        تجھ سے پہلے بھی جتنے پیغمبر ہم نے بھیجے سبھی مرد تھے  جن کی طرف ہم وحی اتارتے تھے پس تم اہل کتاب سے پوچھ لو اگر خود تمہیں علم نہ ہو

۸.        ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔

۹.         پھر ہم نے ان سے کئے ہوئے وعدے سچے کئے انہیں اور جن جن کو ہم نے چاہا نجات عطا فرمائی اور حد سے نکل جانے والوں کو غارت کر دیا۔

۱۰.       یقیناً ہم نے تمہاری جانب کتاب نازل فرمائی ہے جس میں تمہارے لئے ذکر کیا پھر بھی تم عقل نہیں رکھتے

۱۱.        اور بہت سی بستیاں ہم نے تباہ کر دیں  جو ظالم تھیں اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوم کو پیدا کر دیا۔

۱۲.       جب انہوں نے ہمارے عذاب کا احساس کر لیا تو لگے اس سے بھاگنے

۱۳.       بھاگ دوڑ نہ کرو  اور جہاں تمہیں آسودگی دی گئی تھی وہی واپس لوٹو اور اپنے مکانات کی طرف  جاؤ تاکہ تم سے سوال تو کر لیا جائے

۱۴.       کہنے لگے ہائے ہماری خرابی! بیشک ہم ظالم تھے۔

۱۵.       پھر تو ان کا یہی قول رہا  یہاں تک کہ ہم نے انہیں جڑ سے کٹی ہوئی کھیتی اور بھجی پڑی آگ (کی طرح) کر دیا

۱۶.       ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا

۱۷.      اگر ہم یوں ہی کھیل تماشے کا ارادہ کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا  لیتے، اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے۔

۱۸.       بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وہ اسی وقت نابود ہو جاتا ہے  تم جو باتیں بناتے ہو وہ تمہارے لئے باعث خرابی ہیں۔

۱۹.       آسمانوں اور زمین میں جو ہے اسی اللہ کا ہے  اور جو اس کے پاس ہیں  وہ اس کی عبادت سے نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں۔

۲۰.      وہ دن رات تسبیح بیان کرتے ہیں اور ذرا سی بھی سستی نہیں کرتے۔

۲۱.       کیا ان لوگوں نے زمین (کی مخلوقات میں) سے جنہیں معبود بنا رکھا ہے وہ زندہ کر دیتے ہیں۔

۲۲.      اگر آسمان و زمین میں سوائے اللہ تعالیٰ  کے اور بھی معبود ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے  پس اللہ تعالیٰ  عرش کا رب ہے ہر اس وصف سے پاک ہے جو یہ مشرک بیان کرتے ہیں۔

۲۳.      وہ اپنے کاموں کے لئے (کسی کے آگے) جواب دہ نہیں اور سب (اس کے آگے) جواب دہ ہیں۔

۲۴.      کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں، ان سے کہہ دو۔ لاؤ اپنی دلیل پیش کرو۔ یہ ہے میرے ساتھ والوں کی کتاب اور مجھ سے اگلوں کی دلیل  بات یہ ہے کہ ان میں اکثر لوگ حق کو نہیں جانتے اسی وجہ سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

۲۵.      تجھ سے پہلے بھی جو رسول ہم نے بھیجا اس کی طرف یہی وحی نازل فرمائی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پس تم سب میری ہی عبادت کرو

۲۶.      (مشرک لوگ) کہتے ہیں کہ رحمٰن اولاد والا ہے (غلط ہے) اس کی ذات پاک ہے، بلکہ وہ سب اس کے با عزت بندے ہیں۔

۲۷.     کسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں کرتے بلکہ اس کے فرمان پر کار بند ہیں۔

۲۸.      وہ ان کے آگے پیچھے کے تمام امور سے واقف ہے وہ کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو  وہ خود ہیبت الٰہی سے لرزاں و ترساں ہیں۔

۲۹.      ان میں سے اگر کوئی بھی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں لائق عبادت تو ہم اسے دوزخ کی سزا دیں  ہم ظالموں کو اس طرح سزا دیتے ہیں۔

۳۰.      کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا  کہ آسمان و زمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا  اور ہر زندہ چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا  کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔

۳۱.       اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنا دیئے تاکہ مخلوق کو ہلا نہ سکے  اور ہم نے  اس میں کشادہ راہیں بنا دیں تاکہ وہ راستہ حاصل کریں

۳۲.      آسمان کو مضبوط چھت  بھی ہم نے ہی بنایا۔ لیکن لوگ اس کی قدرت کے نمونوں پر دھیان نہیں دھرتے۔

۳۳.     وہی اللہ ہے جس نے رات اور دن، سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے  ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں۔

۳۴.     آپ سے پہلے کسی انسان کو بھی ہم نے ہمیشگی نہیں دی، کیا اگر آپ مر گئے تو وہ ہمیشہ کے لئے رہ جائیں گے۔

۳۵.     ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔ ہم بطریق امتحان تم میں سے ہر ایک کو برائی بھلائی میں مبتلا کرتے ہیں  اور تم سب ہماری طرف لوٹاۓ جاؤ گے۔

۳۶.      یہ منکرین تجھے جب دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق ہی اڑاتے ہیں کیا یہی وہ ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر برائی سے کرتا، اور وہ خود ہی رحمٰن کی یاد کے بالکل ہی منکر ہیں

۳۷.     انسان جلد باز مخلوق ہے میں تمہیں اپنی نشانیاں ابھی ابھی دکھاؤں گا تم مجھ سے جلد بازی نہ کرو۔

۳۸.     کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو بتا دو کہ یہ وعدہ کب ہے۔

۳۹.      کاش! یہ کافر جانتے کہ اس وقت نہ تو یہ کافر آگ کو اپنے چہروں سے ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

۴۰.      (ہاں ہاں!) وعدے کی گھڑی ان کے پاس اچانک آ جائے گی اور انہیں ہکا بکا کر دے گی  پھر نہ تو یہ لوگ اسے ٹال سکیں گے اور نہ ذرا سی بھی مہلت دیئے  جائیں گے۔

۴۱.       اور تجھ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ہنسی مذاق کیا گیا پس ہنسی کرنے والوں کو ہی اس چیز نے گھیر لیا جس کی وہ ہنسی اڑاتے تھے۔

۴۲.      ان سے پوچھئے کہ رحمٰن کے سوا، دن اور رات تمہاری حفاظت کون کر سکتا ہے؟  بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے رب کے شکر سے پھرے ہوئے ہیں۔

۴۳.     کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں جو انہیں مصیبتوں سے بچا لیں۔ کوئی بھی خود اپنی مدد کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ کوئی ہماری طرف سے ساتھ دیا جاتا ہے۔

۴۴.     بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو زندگی کے سرو سامان دیئے یہاں تک کہ ان کی مدت عمر گزر گئی  کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں  اب کیا وہی غالب ہیں؟۔

۴۵.     کہہ دیجئے! میں تمہیں اللہ کی وحی کے ذریعہ آگاہ کر رہا ہوں مگر بہرے لوگ بات نہیں سنتے جبکہ انہیں آگاہ کیا جائے۔

۴۶.      اگر انہیں تیرے رب کے کسی عذاب کا جھونکا بھی لگ جائے تو پکار اٹھیں کہ ہائے ہماری بد بختی یقیناً ہم گناہ گار تھے۔

۴۷.     قیامت کے دن ہم درمیان میں لا رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ ظلم بھی نہ کیا جائے گا۔ اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہو گا ہم اسے لا حاضر کریں گے، اور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے۔

۴۸.     یہ بالکل سچ ہے کہ ہم نے موسیٰ و ہارون کو فیصلے کرنے والی نورانی اور پرہیزگاروں کے لئے وعظ و نصیحت والی کتاب عطا فرمائی ہے

۴۹.      وہ لوگ جو اپنے رب سے بن دیکھے خوف کھاتے ہیں اور قیامت (کے تصور) سے کانپتے رہتے ہیں۔

۵۰.      اور یہ نصیحت اور برکت والا قرآن بھی ہم نے نازل فرمایا ہے کیا پھر بھی تم اس کے منکر ہو۔

۵۱.       یقیناً ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو اس کی سمجھ بوجھ بخشی تھی اور  ہم اس کے احوال سے بخوبی واقف تھے۔

۵۲.      جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں؟۔

۵۳.     سب نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی عبادت کرتے ہوئے پایا۔

۵۴.     آپ نے فرمایا! پھر تم اور تمہارے باپ دادا سبھی یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا رہے۔

۵۵.     کہنے لگے کیا آپ ہمارے پاس سچ مچ حق لائے ہیں یا یوں ہی مذاق کر رہے ہیں۔

۵۶.      آپ نے فرمایا نہیں درحقیقت تم سب کا پروردگار تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے، میں تو اپنی بات کا گواہ اور قائل ہوں

۵۷.     اور اللہ کی قسم میں تمہارے ان معبودوں کے ساتھ جب تم علیحدہ پیٹھ پھیر کر چل دو گے ایک چال چلوں گا

۵۸.     پس اس نے سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ہاں صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا یہ بھی اس لئے کہ وہ سب اس کی طرف ہی لوٹیں

۵۹.      کہنے لگے ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کس نے کیا؟ ایسا شخص تو یقیناً ظالموں میں سے ہے

۶۰.      بولے ہم نے ایک نوجوان کو ان کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا تھا جسے ابراہیم (علیہ السلام) کہا جاتا ہے۔

۶۱.       سب نے کہا اچھا اسے مجمع میں لوگوں کی نگاہوں کے سامنے لاؤ تاکہ سب دیکھیں

۶۲.      کہنے لگے! اے ابراہیم (علیہ السلام) کیا تو نے ہی ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے۔

۶۳.      آپ نے جواب دیا بلکہ اس کام کو ان کے بڑے نے کیا ہے تم اپنے خداؤں سے پوچھ لو، اگر یہ بولتے چالتے ہوں

۶۴.      پس یہ لوگ اپنے دلوں میں قائل ہو گئے اور کہنے لگے واقع ظالم تو تم ہی ہو

۶۵.      پھر اپنے سروں کے بل اوندھے ہو گئے (اور کہنے لگے کہ) یہ تجھے بھی معلوم ہے یہ بولنے چالنے والے نہیں

۶۶.      اللہ کے خلیل نے اسی وقت فرمایا افسوس! کیا تم اللہ کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں کچھ بھی نفع پہنچا سکیں نہ نقصان۔

۶۷.     تف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ کیا تمہیں اتنی سی عقل نہیں۔

۶۸.      کہنے لگے کہ اسے جلا دو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے

۶۹.      ہم نے فرما دیا اے آگ! تو ٹھنڈی پڑ جا اور ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے سلامتی (اور آرام کی چیز) بن جا۔

۷۰.     گو انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کا برا چاہا، لیکن ہم نے انہیں ناکام بنا دیا۔

۷۱.      اور ہم ابراہیم اور لوط کو بچا کر اس زمین کی طرف لے چلے جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت رکھی تھی۔

۷۲.     اور ہم نے اسے اسحاق عطا فرمایا اور یعقوب اس پر مزید  اور ہر ایک کو ہم نے صالح بنایا۔

۷۳.     اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا کہ ہمارے حکم سے لوگوں کی رہبری کریں اور ہم نے ان کی طرف نیک کاموں کے کرنے اور نمازوں کے قائم رکھنے اور زکوٰۃ دینے کی وحی (تلقین) کی، اور وہ سب ہمارے عبادت گزار بندے تھے۔

۷۴.     ہم نے لوط(علیہ السلام) کو بھی حکم اور علم دیا اور اسے اس بستی سے نجات دی جہاں لوگ گندے کاموں میں مبتلا تھے۔ اور تھے بھی وہ بدترین گنہگار۔

۷۵.     اور ہم نے لوط(علیہ السلام) کو اپنی رحمت میں داخل کر لیا بیشک وہ نیکوکار لوگوں میں سے تھا۔

۷۶.     نوح کے اس وقت کو یاد کیجئے جبکہ اس نے اس سے پہلے دعا کی ہم نے اس کی دعا قبول فرمائی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو بڑے کرب سے نجات دی۔

۷۷.     اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے رہے تھے ان کے مقابلے میں ہم نے اس کی مدد کی، یقیناً وہ برے لوگ تھے پس ہم نے ان سب کو ڈبو دیا۔

۷۸.     اور داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو یاد کیجئے جبکہ وہ کھیت کے معاملہ میں فیصلہ کر رہے تھے کہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو اس میں چر گئی تھیں، اور ان کے فیصلے میں ہم موجود تھے۔

۷۹.      ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا  ہاں ہر ایک کو ہم نے حکم و علم دے رکھا تھا اور داؤد کے تابع ہم نے پہاڑ کر دیئے تھے جو تسبیح کرتے  تھے اور پرند  بھی ہم کرنے والے ہی تھے۔

۸۰.      ہم نے اسے تمہارے لئے لباس بنانے کی کاریگری سکھائی تاکہ لڑائی کی ضرر سے تمہارا بچاؤ ہو  کیا تم شکر گزار بنو گے۔

۸۱.       ہم نے تند و تیز ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کر دیا  جو اس کے فرمان سے اس زمین کی طرف چلتی ہے جہاں ہم نے برکت دے رکھی تھی، اور ہم ہر چیز سے باخبر اور دانا ہیں۔

۸۲.      اسی طرح سے بہت سے شیاطین بھی ہم نے اس کے تابع کئے تھے جو اس کے فرمان سے غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا بھی بہت سے کام کرتے تھے،  ان کے نگہبان ہم ہی تھے

۸۳.     ایوب (علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

۸۴.     تو ہم نے اس کی سن لی اور جو دکھ انہیں تھا اسے دور کر دیا اور اس کو اہل و عیال عطا فرمائے بلکہ ان کے ساتھ ویسے ہی اور، اپنی خاص مہربانی  سے تاکہ سچے بندوں کے لئے سبب نصیحت ہو۔

۸۵.     اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل  (علیہم السلام) یہ سب صابر لوگ تھے۔

۸۶.      ہم نے انہیں اپنی رحمت میں داخل کر لیا۔ یہ سب لوگ نیک تھے۔

۸۷.     مچھلی والے  (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو! جبکہ وہ غصہ سے چل دیے اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔ بالا آخر وہ اندھیروں  کے اندر سے پکار اٹھا کہ الٰہی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے بیشک میں ظالموں میں ہو گیا۔

۸۸.     تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچا لیا کرتے ہیں۔

۸۹.      اور زکریا (علیہ السلام) کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب سے دعا کی اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑ، تو سب سے بہتر وارث ہے۔

۹۰.      ہم نے اس کی دعا قبول فرما کر اسے یحیٰ (علیہ السلام) عطا فرمایا  اور ان کی بیوی کو ان کے لئے درست کر دیا  یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔

۹۱.       اور وہ پاک دامن بی بی جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی اور خود انہیں اور ان کے لڑکے کو تمام جہان کے لئے نشانی بنا دیا

۹۲.      یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے  اور میں تم سب کا پروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو۔

۹۳.      مگر لوگوں نے آپس میں اپنے دین میں فرقہ بندیاں کر لیں سب کے سب ہمارے ہی طرف لوٹنے والے ہیں۔

۹۴.      پھر جو بھی نیک عمل کرے اور وہ مومن (بھی) ہو تو اس کی کوشش کی بے قدری نہیں کی جائے گی ہم تو اس کے لکھنے والے ہیں۔

۹۵.      اور جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا اس پر لازم ہے کہ وہاں کے لوگ پلٹ کر نہیں آئیں گے۔

۹۶.      یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔

۹۷.      اور سچا وعدہ قریب آ لگے گا اس وقت کافروں کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی،  کہ ہائے افسوس! ہم اس حال سے غافل تھے بلکہ فی الواقع ہم قصوروار تھے۔

۹۸.      تم اور اللہ کے سوا جن جن کی تم عبادت کرتے ہو، سب دوزخ کا ایندھن بنو گے، تم سب دوزخ میں جانے والے ہو۔

۹۹.       اگر یہ (سچے) معبود ہوتے تو جہنم میں داخل نہ ہوتے، اور سب کے سب اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

۱۰۰.     وہ وہاں چلا رہے ہوں گے اور وہاں کچھ بھی نہ سن سکیں گے۔

۱۰۱.     البتہ بیشک جن کے لئے ہماری طرف سے نیکی پہلے ہی ٹھہر چکی ہے۔ وہ سب جہنم سے دور ہی رکھے جائیں گے۔

۱۰۲.     وہ تو دوزخ کی آہٹ تک نہ سنیں گے اور اپنی من بھاتی چیزوں میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔

۱۰۳.    وہ بڑی گھبراہٹ  (بھی) انہیں غمگین نہ کر سکے گی اور فرشتے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیں گے، کہ یہی تمہارا وہ دن ہے جس کا تم وعدہ دیئے جاتے رہے۔

۱۰۴.    جس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ لیں گے جیسے دفتر میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں  جیسے کہ ہم نے اول دفعہ پیدائش کی تھی اسی طرح دوبارہ کریں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے اور ہم اسے ضرور کر کے (ہی) رہیں گے۔

۱۰۵.    ہم زبور میں پند و نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے  (ہی) ہوں گے

۱۰۶.     عبادت گزار بندوں کے لئے تو اس میں ایک بڑا پیغام ہے

۱۰۷.    اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

۱۰۸.    کہہ دیجئے! میرے پاس تو پس وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، تو کیا تم بھی اس کی فرمانبرداری کرنے والے ہو

۱۰۹.     پھر اگر یہ منہ موڑ لیں تو کہہ دیجئے کہ میں نے تمہیں یکساں طور پر خبردار کر دیا ہے  مجھے علم نہیں کہ جس کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا دور

۱۱۰.     البتہ اللہ تعالیٰ  تو کھلی اور ظاہر بات کو بھی جانتا ہے اور جو تم چھپاتے ہو اسے بھی جانتا ہے۔

۱۱۱.      مجھے اس کا بھی علم نہیں، ممکن ہے یہ تمہاری آزمائش ہو اور ایک مقرر وقت تک کا فائدہ (پہنچانا) ہے۔

۱۱۲.     خود نبی نے کہا  اے رب! انصاف کے ساتھ فیصلہ فرما اور ہمارا رب بڑا مہربان ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے ان پر جو تم بیان کرتے ہو

 

۲۲۔ الحج

۱.         لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔

۲.        جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مد ہوش، دکھائی دیں گی، حالانکہ درحقیقت وہ متوالے نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔

۳.        بعض لوگ اللہ کے بارے میں باتیں بناتے ہیں اور وہ بھی بے علمی کے ساتھ اور ہر سرکش شیطان کی پیروی کرتے ہیں۔

۴.        جس پر (قضائے الٰہی) لکھ دی گئی  ہے کہ جو کوئی اس کی رفاقت کرے گا وہ اسے گمراہ کر دے گا اور اسے آگ کے عذاب کی طرف لے جائے گا۔

۵.        لوگو! اگر تمہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے میں شک ہے تو سوچو ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر خون بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے جو صورت دیا گیا تھا اور وہ بے نقشہ تھا  یہ ہم تم پر ظاہر کر دیتے ہیں  اور ہم جسے چاہیں ایک ٹھہرائے ہوئے وقت تک رحم مادر میں رکھتے ہیں  پھر تمہیں بچپن کی حالت میں دنیا میں لاتے ہیں تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو، تم میں سے بعض تو وہ ہیں جو فوت کر لئے جاتے ہیں  اور بعض بے غرض عمر کی طرف پھر سے لوٹا دئیے جاتے ہیں کہ وہ ایک چیز سے باخبر ہونے کے بعد پھر بے خبر ہو جائے  تو دیکھتا ہے کہ زمین بنجر اور خشک ہے پھر جب ہم اس پر بارش برساتے ہیں تو وہ ابھرتی ہے اور پھولتی ہے اور ہر قسم کی رونق دار نباتات اگاتی ہے۔

۶.        یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہی مردوں کو جلاتا ہے اور ہر ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

۷.        اور یہ کہ قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور یقیناً اللہ تعالیٰ  قبروں والوں کو دوبارہ زندہ فرمائے گا۔

۸.        بعض لوگ اللہ کے بارے میں بغیر علم کے بغیر ہدایت کے اور بغیر روشن دلیل کے جھگڑتے ہیں۔

۹.         جو اپنی پہلو موڑنے والا بن کر  اس لئے کہ اللہ کی راہ سے بہکا دے، اسے دنیا میں رسوائی ہو گی اور قیامت کے دن بھی ہم اسے جہنم میں جلنے کا عذاب چکھائیں گے۔

۱۰.       یہ ان اعمال کی وجہ سے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیج رکھے تھے۔ یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ  اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔

۱۱.        بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ ایک کنارے پر (کھڑے) ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر کوئی نفع مل گیا تو دلچسپی لینے لگتے ہیں اور اگر کوئی آفت آ گئی تو اسی وقت منہ پھیر لیتے ہیں  انہوں نے دونوں جہان کا نقصان اٹھا لیا واقع یہ کھلا نقصان ہے۔

۱۲.       اللہ کے سوا وہ انہیں پکارتے ہیں جو نہ انہیں نقصان پہنچا سکیں نہ نفع۔ یہی تو دور دراز کی گمراہی ہے۔

۱۳.       اسے پکارتے ہیں جس کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ قریب ہے، یقیناً برے والی ہیں اور برے ساتھی

۱۴.       ایمان اور نیک اعمال والوں کو اللہ تعالیٰ  لہریں لیتی ہوئی نہروں والی جنتوں میں لے جائے گا۔ اللہ جو ارادہ کرے اسے کر کے رہتا ہے۔

۱۵.       جس کا خیال یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ  اپنے رسول کی مدد دونوں جہان میں نہ کرے گا وہ اونچائی پر ایک رسہ باندھ کر (اپنے حلق میں پھندا ڈال کر اپنا گلا گھونٹ لے) پھر دیکھ لے کہ اس کی چالاکیوں سے وہ بات ہٹ جاتی ہے جو اسے تڑپا  رہی ہے؟

۱۶.       ہم نے اس طرح اس قرآن کو واضح آیتوں میں اتارا ہے۔ جسے اللہ چاہے ہدایت نصیب فرماتا ہے۔

۱۷.      ایمان دار اور یہودی اور صابی اور نصرانی اور مجوسی  اور مشرکین  ان سب کے درمیان قیامت کے دن خود اللہ تعالیٰ  فیصلہ کرے گا  اللہ تعالیٰ  ہر ہر چیز پر گواہ ہے۔

۱۸.       کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجدے میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور  اور بہت سے انسان بھی  ہاں بہت سے وہ بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ثابت ہو چکا ہے  جسے رب ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں،  اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

۱۹.       یہ دونوں اپنے رب کے بارے میں اختلاف کرنے  والے ہیں، پس کافروں کے لئے تو آگ کے کپڑے ناپ کر کاٹے جائیں گے، اور ان کے سروں کے اوپر سے سخت کھولتا ہوا پانی بہایا جائے گا۔

۲۰.      جس سے ان کے پیٹ کی سب چیزیں اور کھالیں گلا دی جائیں گی۔

۲۱.       اور ان کی سزا کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہیں۔

۲۲.      یہ جب بھی وہاں کے غم سے نکل بھاگنے کا ارادہ کریں گے وہیں لوٹا دیئے جائیں گے اور (کہا جائے گا) جلنے کا عذاب چکھو۔

۲۳.      ایمان والوں اور نیک کام والوں کو اللہ تعالیٰ  ان جنتوں میں لے جائے گا جن کے درختوں تلے سے نہریں لہریں بہہ رہی ہیں، جہاں وہ سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سچے موتی بھی۔ وہاں ان کا لباس خالص ریشم کا ہو گا۔

۲۴.      ان کی پاکیزہ بات کی رہنمائی کر دی گئی  اور قابل صد تعریف راہ کی ہدایت کر دی گئی۔

۲۵.      جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکنے لگے اور اس حرمت والی مسجد سے  بھی جسے ہم نے تمام لوگوں کے لئے مساوی کر دیا ہے وہیں کے رہنے والے ہوں یا باہر کے ہوں  جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں دین حق سے پھر جانے کا ارادہ کرے  ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔

۲۶.      جبکہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے کعبہ کے مکان کی جگہ مقرر کر دی  اس شرط پر کہ میرے ساتھ کسی کو شریک  نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف قیام رکوع سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھنا۔

۲۷.     اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے لوگ تیرے پاس پیادہ بھی آئیں گے اور دبلے پتلے اونٹوں پر بھی  دور دراز کی تمام راہوں سے آئیں گے۔

۲۸.      اپنے فائدے حاصل کرنے کو آ جائیں  اور ان مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں ان چوپایوں پر جو پالتو ہیں  پس تم آپ بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ۔

۲۹.      پھر وہ اپنا میل کچیل دور کریں  اور اپنی نذریں پوری کریں  اور اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں

۳۰.      یہ جو کوئی اللہ کی حرمتوں  کی تعظیم کرے اس کے اپنے لئے اس کے رب کے پاس بہتری ہے۔ اور تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کر دیئے گئے بجز ان کے جو تمہارے سامنے  بیان کئے گئے ہیں پس تمہیں بتوں کی گندگی سے بچتے رہنا چاہیے  اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔

۳۱.       اللہ کی توحید کو مانتے ہوئے  اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے۔ سنو! اللہ کے ساتھ شریک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی دور دراز کی جگہ پھینک دے گی

۳۲.      یہ سن لیا اب اور سنو! اللہ کی نشانیوں کی جو عزت و حرمت کرے اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے یہ ہے۔

۳۳.     ان میں تمہارے لئے ایک مقررہ وقت تک فائدہ ہے  پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ خانہ کعبہ ہے۔

۳۴.     اور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں  سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے تم اسی کے تابع فرمان ہو جاؤ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے!

۳۵.     انہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل تھرا جاتے ہیں، انہیں جو برائی پہنچے اس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وہ اس میں سے بھی دیتے رہتے ہیں۔

۳۶.      قربانی کے اونٹ ہم نے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ  کی نشانیاں مقرر کر دی ہیں ان میں تمہیں نفع ہے پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو،  پھر جب ان کے پہلو زمین سے لگ جائیں  اسے (خود بھی) کھاؤ  اور مسکین سوال سے رکنے والوں اور کرنے والوں کو بھی کھلاؤ، اس طرح ہم نے چوپاؤں کو تمہارے ماتحت کر دیا ہے کہ تم شکر گزاری کرو۔

۳۷.     اللہ تعالیٰ  کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے اسی طرح اللہ نے جانوروں کو تمہارا مطیع کر دیا ہے کہ تم اس کی راہنمائی کے شکریئے میں اس کی بڑائیاں بیان کرو، اور نیک لوگوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔

۳۸.     سن رکھو! یقیناً سچے مومنوں کے دشمنوں کو خود اللہ تعالیٰ  ہٹا دیتا ہے  کوئی خیانت کرنے والا ناشکرا اللہ تعالیٰ  کو ہرگز پسند نہیں۔

۳۹.      جن (مسلمانوں) سے (کافر) جنگ کر رہے ہیں انہیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں  بیشک ان کی مدد پر اللہ قادر ہے۔

۴۰.      یہ وہ ہیں جنہیں ناحق اپنے گھروں سے نکالا گیا، صرف ان کے اس قول پر کہ ہمارا پروردگار فقط اللہ ہے، اگر اللہ تعالیٰ  لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو عبادت خانے اور گرجے اور مسجدیں اور یہودیوں کے معبد اور وہ مسجدیں بھی ڈھا دی جاتیں جہاں اللہ کا نام با کثرت لیا جاتا ہے۔ جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ بھی ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ  بڑی قوتوں والا بڑے غلبے والا ہے

۴۱.       یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں  تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔

۴۲.      اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) تو ان سے پہلے نوح کی قوم عاد اور ثمود۔

۴۳.     اور قوم ابراہیم اور قوم لوط۔

۴۴.     اور مدین والے بھی اپنے اپنے نبیوں کو جھٹلا چکے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) بھی جھٹلائے جا چکے ہیں پس میں نے کافروں کو یوں ہی سی مہلت دی پھر دھر دبایا  پھر میرا عذاب کیسا ہوا۔

۴۵.     بہت سی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہ و بالا کر دیا اس لئے کہ وہ ظالم تھے پس وہ اپنی چھتوں کے بل اوندھی ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے پکے اور بلند محل ویران پڑے ہیں۔

۴۶.      کیا انہوں نے زمین میں سیر و  سیاحت نہیں کی جو ان کے دل ان باتوں کے سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان (واقعات) کو سن لیتے، بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔

۴۷.     اور عذاب کو آپ سے جلدی طلب کر رہے اللہ ہرگز اپنا وعدہ نہیں ٹالے گا۔ ہاں البتہ آپ کے رب کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ہے۔

۴۸.     بہت سی ظلم کرنے والی بستیوں کو میں نے ڈھیل دی پھر آخر انہیں پکڑ لیا، اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

۴۹.      اعلان کر دو کہ لوگو! میں تمہیں کھلم کھلا چوکنا کرنے والا ہی ہوں۔

۵۰.      پس جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان ہی کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی۔

۵۱.       اور جو لوگ ہماری نشانیوں کو پست کرنے کے درپے رہتے ہیں  وہی دوزخی ہیں۔

۵۲.      ہم نے آپ سے پہلے جس رسول اور نبی کو بھیجا اس کے ساتھ یہ ہوا کہ جب وہ اپنے دل میں کوئی آرزو کرنے لگا شیطان نے اس کی آرزو میں کچھ ملا دیا، پس شیطان کی ملاوٹ کو اللہ تعالیٰ  دور کر دیتا ہے پھر اپنی باتیں پکی کر دیتا ہے  اللہ تعالیٰ  دانا اور با حکمت ہے۔

۵۳.     یہ اس لئے کہ شیطانی ملاوٹ کو اللہ تعالیٰ  ان لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں  بیشک ظالم لوگ گہری مخالفت میں ہیں۔

۵۴.     اور اس لئے بھی کہ جنہیں علم عطا فرمایا گیا ہے وہ یقین کر لیں کہ یہ آپ کے رب ہی کی طرف سے سراسر حق ہی ہے پھر اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل اس کی طرف جھک جائیں  یقیناً اللہ تعالیٰ  ایمان والوں کو راہ راست پر رہبری کرنے والا ہے۔

۵۵.     کافر اس وحی الٰہی میں ہمیشہ شک شبہ ہی کرتے رہیں گے حتیٰ کہ اچانک ان کے سروں پر قیامت آ جائے یا ان کے پاس اس دن کا عذاب آ جائے جو منحوس ہے۔

۵۶.      اس دن صرف اللہ کی بادشاہی ہو گی  وہی ان میں فیصلے فرمائے گا، ایمان اور نیک عمل والے تو نعمتوں سے بھری جنتوں میں ہوں گے۔

۵۷.     اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کے لئے ذلیل کرنے والے عذاب ہیں۔

۵۸.     اور جن لوگوں نے راہ خدا میں ترک وطن کیا پھر وہ شہید کر دیئے گئے یا اپنی موت مر گئے  اللہ تعالیٰ  انہیں بہترین رزق عطا فرمائے گا  بیشک اللہ تعالیٰ  روزی دینے والوں میں سب سے بہتر ہے۔

۵۹.      انہیں اللہ تعالیٰ  ایسی جگہ پہنچائے گا کہ وہ اس سے راضی ہو جائیں گے  بیشک اللہ تعالیٰ  بردباری  والا ہے۔

۶۰.      بات یہی ہے  اور جس نے بدلہ لیا اسی کے برابر جو اس کے ساتھ کیا گیا تھا پھر اگر اس سے زیادتی کی جائے تو یقیناً اللہ تعالیٰ  خود اس کی مدد فرمائے گا  بیشک اللہ درگزر کرنے والا بخشنے والا ہے

۶۱.       یہ اس لئے کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے  بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔

۶۲.      یہ سب اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے  اور اس کے سوا جسے بھی پکارتے ہیں وہ باطل ہے بیشک اللہ ہی بلندی والا کبریائی والا ہے۔

۶۳.      کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ  آسمان سے پانی برساتا ہے، پس زمین سر سبز ہو جاتی ہے، بیشک اللہ تعالیٰ  مہربان اور باخبر ہے۔

۶۴.      آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے  اور یقیناً اللہ وہی ہے بے نیاز تعریفوں والا۔

۶۵.      کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی نے زمین کی تمام چیزیں تمہارے لئے مسخر کر دی ہیں  اور اس کے فرمان سے پانی میں چلتی ہوئی کشتیاں بھی۔ وہی آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر اس کی اجازت کے بغیر گر نہ پڑے  بیشک اللہ تعالیٰ  لوگوں پر شفقت و نرمی کرنے والا اور مہربان ہے۔

۶۶.      اسی نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر وہی تمہیں زندہ کرے گا، بیشک انسان البتہ ناشکرا ہے

۶۷.     ہر امت کے لئے ہم نے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کر دیا ہے، جسے وہ بجا لانے والے ہیں  پس انہیں اس امر میں آپ سے جھگڑا نہ کرنا چاہیے  آپ اپنے پروردگار کی طرف لوگوں کو بلائیے۔ یقیناً آپ ٹھیک ہدایت پر ہی ہیں۔

۶۸.      پھر بھی اگر یہ لوگ آپ سے الجھنے لگیں تو آپ کہہ دیں کہ تمہارے اعمال سے اللہ بخوبی واقف ہے۔

۶۹.      بیشک تمہارے سب کے اختلاف کا فیصلہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ  آپ کرے گا۔

۷۰.     کیا آپ نے نہیں جانا کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے۔ یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ  پر تو یہ امر بالکل آسان ہے۔

۷۱.      اور یہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کر رہے ہیں جس کی کوئی خدائی دلیل نازل نہیں ہوئی نہ وہ خود ہی اس کا کوئی علم رکھتے ہیں۔ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

۷۲.     جب ان کے سامنے ہمارے کلام کی کھلی ہوئی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو آپ کافروں کے چہروں پر نا خوشی کے صاف آثار پہچان لیتے ہیں۔ وہ قریب ہوتے ہیں کہ ہماری آیتیں سنانے والوں پر حملہ کر بیٹھیں،  کہہ دیجئے کہ کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ بدتر خبر دوں۔ وہ آگ ہے، جس کا وعدہ اللہ نے کافروں سے کر رکھا ہے،  اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے

۷۳.     لوگو! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے، ذرا کان لگا کر سن لو! اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے گو سارے کے سارے ہی جمع ہو جائیں،  بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے، بڑا بزدل ہے طلب کرنے والا اور بڑا بزدل ہے  وہ جس سے طلب کیا جا رہا ہے۔

۷۴.     انہوں نے اللہ کے مرتبہ کے مطابق اس کی قدر جانی ہی نہیں  اللہ تعالیٰ  بڑا ہی زور و قوت والا اور غالب و زبردست ہے۔

۷۵.     فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے پیغام پہنچانے والوں کو اللہ ہی چھانٹ لیتا ہے،  بیشک اللہ تعالیٰ  سننے والا دیکھنے والا ہے

۷۶.     وہ بخوبی جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے، اور اللہ ہی کی طرف سب کام لوٹائے جاتے ہیں۔

۷۷.     اے ایمان والو! رکوع سجدہ کرتے رہو  اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

۷۸.     اور اللہ کی راہ میں ویسا ہی جہاد کرو جیسے جہاد کا حق ہے  اسی نے تمہیں برگزیدہ بنایا ہے اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی  دین اپنے باپ ابراہیم  (علیہ السلام) کا قائم رکھو اس اللہ  نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اس قرآن سے پہلے اور اس میں بھی تاکہ پیغمبر تم پر گواہ ہو جائے اور تم تمام لوگوں کے گواہ بن جاؤ  پس تمہیں چاہیے کہ نمازیں قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ کو مضبوط تھام لو، وہی تمہارا ولی اور مالک ہے۔ پس کیا ہی اچھا مالک ہے اور کتنا بہتر مددگار ہے۔

 

۲۳۔ المؤمنون

۱.         یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کر لی

۲.        جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں

۳.        جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں

۴.        جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں

۵.        جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

۶.        بجز اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے یقیناً یہ ملامتیوں میں سے نہیں ہیں۔

۷.        جو اس کے سوا کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کر جانے والے ہیں

۸.        جو اپنی امانتوں اور وعدے کی حفاظت کرنے والے ہیں

۹.         جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں

۱۰.       یہی وارث ہیں۔

۱۱.        جو فردوس کے وارث ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے

۱۲.       یقیناً ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا

۱۳.       پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ میں قرار دے دیا۔

۱۴.       پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا، پھر خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کر دیا، پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں، پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا  پھر دوسری بناوٹ میں اسے پیدا کر دیا  برکتوں والا ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے۔

۱۵.       اس کے بعد پھر تم سب یقیناً مر جانے والے ہو۔

۱۶.       پھر قیامت کے دن بلاشبہ تم سب اٹھائے جاؤ گے۔

۱۷.      ہم نے تمہارے اوپر سات آسمان بنائے ہیں  اور ہم مخلوقات میں غافل نہیں ہیں۔

۱۸.       ہم ایک صحیح انداز سے آسمان سے پانی برساتے ہیں،  پھر اسے زمین میں ٹھہرا دیتے ہیں  اور ہم اس کے لے جانے پر یقیناً قادر ہیں۔

۱۹.       اسی پانی کے ذریعے سے ہم تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کر دیتے ہیں، کہ تمہارے لیے ان میں بہت سے میوے ہوتے ہیں انہی میں سے تم کھاتے بھی ہو

۲۰.      اور وہ درخت جو طور سینا پہاڑ سے نکلتا ہے جو تیل نکالتا ہے اور کھانے والے کے لئے سالن ہے۔

۲۱.       تمہارے لئے چوپایوں میں بھی بڑی بھاری عبرت ہے۔ ان کے پیٹوں میں سے ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں اور بھی بہت سے نفع تمہارے لئے ان میں ہیں ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو۔

۲۲.      اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کرائے جاتے ہو

۲۳.      یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، کیا تم (اس سے) نہیں ڈرتے۔

۲۴.      اس کی قوم کے کافر سرداروں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے، یہ تم پر فضیلت اور بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے  اگر اللہ ہی کو منظور ہوتا تو کسی فرشتے کو اتارتا  ہم نے تو اسے اپنے اگلے باپ دادوں کے زمانے میں سنا ہی نہیں

۲۵.      یقیناً اس شخص کو جنون ہے، پس تم اسے ایک وقت مقرر تک ڈھیل دو۔

۲۶.      نوح (علیہ السلام) نے دعا کی اے میرے رب ان کو جھٹلانے پر تو میری مدد کر

۲۷.     تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنا جب ہمارا حکم آ جائے  اور تنور ابل پڑے  تو تو ہر قسم کا ایک ایک جوڑا اس میں رکھ لے  اور اپنے اہل کو بھی، مگر ان میں سے جن کی بابت ہماری بات پہلے گزر چکی ہے  خبردار جن لوگوں نے ظلم کیا ان کے بارے میں مجھ سے کچھ کلام نہ کرنا وہ تو سب ڈبوئے جائیں گے۔

۲۸.      جب تو اور تیرے ساتھی کشتی پر باطمینان بیٹھ جاؤ تو کہنا کہ سب تعریف اللہ کے لئے ہی ہے جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی۔

۲۹.      اور کہنا کہ اے میرے رب!  مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر ہے اتارنے والوں میں۔

۳۰.      یقیناً اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں  اور ہم بیشک آزمائش کرنے والے ہیں۔

۳۱.       پھر ان کے بعد ہم نے ایک اور امت پیدا کی

۳۲.      پھر ان میں خود ان میں سے (ہی) رسول بھی بھیجا  کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں  تم کیوں نہیں ڈرتے؟

۳۳.     اور سردار قوم  نے جواب دیا، جو کفر کرتے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے اور ہم نے انہیں دنیاوی زندگی میں خوشحال کر رکھا تھا  کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے، تمہاری ہی خوراک یہ بھی کھاتا ہے اور تمہارے پینے کا پانی ہی یہ بھی پیتا ہے۔

۳۴.     اگر تم نے اپنے جیسے ہی انسان کی تابعداری کر لی تو بیشک تم سخت خسارے والے ہو۔

۳۵.     کیا یہ تمہیں اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مر کر صرف خاک اور ہڈی رہ جاؤ گے تو تم پھر زندہ کیے جاؤ گے۔

۳۶.      نہیں نہیں دور اور بہت دور ہے وہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔

۳۷.     (زندگی) تو صرف دنیا کی زندگی ہے ہم مرتے جیتے رہتے ہیں اور یہ نہیں کہ ہم اٹھائے جائیں گے۔

۳۸.     یہ تو بس ایسا شخص ہے جس نے اللہ پر جھوٹ (بہتان) باندھ لیا ہے،  ہم تو اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

۳۹.      نبی نے دعا کی کہ پروردگار! ان کے جھٹلانے پر میری مدد کر

۴۰.      جواب ملا کہ یہ تو بہت ہی جلد اپنے کیے پر پچھتانے لگیں گے

۴۱.       بالآخر عدل کے تقاضے کے مطابق چیخ  نے پکڑ لیا اور ہم نے انہیں کوڑا کرکٹ کر ڈالا  پس ظالموں کے لئے دوری ہو۔

۴۲.      ان کے بعد ہم نے اور بھی بہت سی امتیں پیدا کیں

۴۳.     نہ تو کوئی امت اپنے وقت مقرہ سے آگے بڑھی اور نہ پیچھے رہی

۴۴.     پھر ہم نے لگاتار رسول بھیجے  جب جب جس امت کے پاس اس کا رسول آیا اس نے جھٹلایا، پس ہم نے ایک کو دوسرے کے پیچھے لگا دیا  اور انہیں افسانہ  بنا دیا۔ ان لوگوں کو دوری ہے جو ایمان قبول نہیں کرتے۔

۴۵.     پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اور اس کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیل  کے ساتھ بھیجا۔

۴۶.      فرعون اور اس کے لشکروں کی طرف، پس انہوں نے تکبر کیا اور تھے ہی وہ سرکش لوگ۔

۴۷.     کہنے لگے کہ کیا ہم اپنے جیسے دو شخصوں پر ایمان لائیں؟ حالانکہ خود ان کی قوم (بھی) ہمارے ماتحت  ہے۔

۴۸.     پس انہوں نے دونوں کو جھٹلایا آخر وہ بھی ہلاک شدہ لوگوں میں مل گئے۔

۴۹.      ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب (بھی) دی کہ لوگ راہ راست پر آ جائیں۔

۵۰.      ہم نے ابن مریم اور اس کی والدہ کو ایک نشانی بنایا  اور ان دونوں کو بلند صاف قرار والی اور جاری پانی  والی جگہ میں پناہ دی۔

۵۱.       اے پیغمبر! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو  تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں۔

۵۲.      یقیناً تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے  اور میں ہی تم سب کا رب ہوں، پس تم مجھ سے ڈرتے رہو۔

۵۳.     پھر انہوں نے خود (ہی) اپنے امر (دین) کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لئے، ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس پر اترا رہا ہے۔

۵۴.     پس آپ (بھی) انہیں انکی غفلت میں ہی کچھ مدت پڑا رہنے دیں۔

۵۵.     کیا یہ (یوں) سمجھ بیٹھے ہیں؟ کہ ہم جو بھی ان کے مال و اولاد بڑھا رہے ہیں۔

۵۶.      وہ ان کے لئے بھلائیوں میں جلدی کر رہے ہیں (نہیں نہیں) بلکہ یہ سمجھتے ہی نہیں۔

۵۷.     یقیناً جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔

۵۸.     یقیناً جو لوگ اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

۵۹.      اور جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے

۶۰.      اور جو لوگ دیتے ہیں جو کچھ دیتے ہیں اور ان کے دل کپکپاتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

۶۱.       یہی ہیں جو جلدی جلدی بھلائیاں حاصل کر رہے ہیں اور یہی ہیں جو ان کی طرف دوڑ جانے والے ہیں۔

۶۲.      ہم کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے  اور ہمارے پاس ایسی کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی ہے، ان کے اوپر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔

۶۳.      بلکہ ان کے دل اس طرف سے غفلت میں ہیں اور ان کے لئے اس کے سوا بھی بہت سے اعمال ہیں  جنہیں وہ کرنے والے ہیں۔

۶۴.      یہاں تک کہ جب ہم نے ان کے آسودہ حال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیا  تو بلبلانے لگے۔

۶۵.      آج مت بلبلاؤ یقیناً تم ہمارے مقابلہ پر مدد نہ کئے جاؤ گے۔

۶۶.      میری آیتیں تو تمہارے سامنے پڑھی جاتی تھیں  پھر بھی تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے بھاگتے تھے

۶۷.     اکڑتے اینٹھتے  افسانہ گوئی کرتے اسے چھوڑ دیتے تھے۔

۶۸.      کیا انہوں نے اس بات میں غور و فکر ہی نہیں کیا  بلکہ ان کے پاس وہ آیا جو ان کے اگلے باپ دادوں کے پاس نہیں آیا تھا۔

۶۹.      یا انہوں نے اپنے پیغمبر کو پہچانا نہیں کہ اس کے منکر ہو رہے ہیں۔

۷۰.     یا یہ کہتے ہیں کہ اسے جنون ہے  بلکہ وہ تو ان کے پاس حق لایا ہے۔ ہاں ان میں اکثر حق سے چڑنے والے ہیں۔

۷۱.      اگر حق ہی ان کی خواہشوں کا پیرو ہو جائے تو زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز درہم برہم ہو جائے  حق تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں ان کی نصیحت پہنچا دی ہے لیکن وہ اپنی نصیحت سے منہ موڑنے والے ہیں۔

۷۲.     کیا آپ ان سے کوئی اجرت چاہتے ہیں؟ یاد رکھئے کہ آپ کے رب کی اجرت بہت ہی بہتر ہے اور وہ سب سے بہتر روزی رساں ہے۔

۷۳.     یقیناً آپ انہیں راہ راست کی طرف بلا رہے ہیں۔

۷۴.     بیشک جو لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہ سیدھے راستے سے مڑ جانے والے ہیں۔

۷۵.     اور اگر ہم ان پر رحم فرمائیں اور ان کی تکلیفیں دور کر دیں تو یہ تو اپنی اپنی سرکشی میں جم کر اور بہکنے لگیں

۷۶.     اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاہم یہ لوگ نہ تو اپنے پروردگار کے سامنے جھکے اور نہ ہی عاجزی اختیار کی۔

۷۷.     یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیا تو اسی وقت فوراً مایوس ہو گئے

۷۸.     وہ اللہ ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل پیدا کئے، مگر تم بہت (ہی) کم شکر کرتے ہو

۷۹.      اور وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کر کے زمین میں پھیلا دیا اور اسی کی طرف جمع کئے جاؤ گے۔

۸۰.      اور وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اور رات دن کے رد و بدل  کا مختار بھی وہی ہے۔ کیا تم کو سمجھ بوجھ نہیں

۸۱.       بلکہ ان لوگوں نے بھی ویسی ہی بات کہی جو اگلے کہتے چلے آئے

۸۲.      کہ کیا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈی ہو جائیں گے کیا پھر بھی ہم ضرور اٹھائے جائیں گے۔

۸۳.     ہم سے ہمارے باپ دادوں سے پہلے ہی سے یہ وعدہ ہوتا چلا آیا ہے کچھ نہیں یہ صرف اگلے لوگوں کے افسانے ہیں۔

۸۴.     پوچھیے تو سہی کہ زمین اور اس کی کل چیزیں کس کی ہیں؟ بتلاؤ اگر جانتے ہو۔

۸۵.     فوراً جواب دیں گے کہ اللہ کی، کہہ دیجئے کہ پھر تم نصیحت کیوں نہیں حاصل کرتے۔

۸۶.      دریافت کیجئے کہ ساتوں آسمانوں کا اور بہت با عظمت عرش کا رب کون ہے؟

۸۷.     وہ لوگ جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجئے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے۔

۸۸.     پوچھئے کہ تمام چیزوں کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے؟ جو پناہ دیتا ہے  اور جس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دیا جاتا  اگر تم جانتے ہو تو بتلاؤ؟

۸۹.      یہی جواب دیں گے کہ اللہ ہی ہے۔ کہہ دیجئے پھر تم کدھر جادو کر دیئے جاتے ہو

۹۰.      حق یہ ہے کہ ہم نے انہیں حق پہنچا دیا ہے اور یہ بیشک جھوٹے ہیں۔

۹۱.       نہ تو اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا اور نہ اس کے ساتھ اور کوئی معبود ہے، ورنہ ہر معبود اپنی مخلوق کو لئے لئے پھرتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتا جو اوصاف یہ بتلاتے ہیں ان سے اللہ پاک (اور بے نیاز) ہے۔

۹۲.      وہ غائب حاضر کا جاننے والا ہے اور جو شرک یہ کرتے ہیں اس سے بالا تر ہے۔

۹۳.      آپ دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! اگر تو مجھے وہ دکھائے جس کا وعدہ انہیں دیا جا رہا ہے۔

۹۴.      تو اے رب! تو مجھے ان ظالموں کے گروہ میں نہ کرنا

۹۵.      ہم جو کچھ وعدے انہیں دے رہے ہیں سب آپ کو دکھا دینے پر یقیناً قادر ہیں۔

۹۶.      برائی کو اس طریقے سے دور کریں جو سراسر بھلائی والا ہو،  جو کچھ بیان کرتے ہیں ہم بخوبی واقف ہیں۔

۹۷.      اور دعا کریں کہ اے میرے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

۹۸.      اور اے میرے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ وہ میرے پاس آ جائیں

۹۹.       یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہتا ہے اے میرے پروردگار! مجھے واپس لوٹا دے۔

۱۰۰.     کہ اپنی چھوڑی ہوئی دنیا میں جا کر نیک اعمال کر لوں  ہرگز ایسا نہیں ہو گا  یہ تو صرف ایک قول ہے جس کا یہ قائل ہے  ان کے پس پشت تو ایک حجاب ہے، ان کے دوبارہ جی اٹھنے کے دن تک۔

۱۰۱.     پس جب صور پھونک دیا جائے گا اس دن نہ تو آپس کے رشتے ہی رہیں گے، نہ آپس کی پوچھ گچھ

۱۰۲.     جن کی ترازو کا پلہ بھاری ہو گیا وہ تو نجات والے ہو گئے۔

۱۰۳.    اور جن کے ترازو کا پلہ ہلکا ہو گیا یہ ہیں وہ جنہوں نے اپنا نقصان آپ کر لیا جو ہمیشہ جہنم واصل ہوئے۔

۱۰۴.    ان کے چہروں کو آگ جھلستی رہے گی  اور وہ وہاں بد شکل بنے ہوئے ہوں گے۔

۱۰۵.    کیا میری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت نہیں کی جاتی تھیں؟ پھر بھی تم انہیں جھٹلاتے تھے۔

۱۰۶.     کہیں گے کہ اے پروردگار ! ہماری بدبختی ہم پر غالب آ گئی (واقعی) ہم تھے ہی گمراہ۔

۱۰۷.    اے پروردگار! ہمیں یہاں سے نجات دے اگر اب بھی ہم ایسا ہی کریں تو بیشک ہم ظالم ہیں۔

۱۰۸.    اللہ تعالیٰ  فرمائے گا پھٹکارے ہوئے یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔

۱۰۹.     میرے بندوں کی ایک جماعت تھی جو برابر یہی کہتی رہی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لا چکے ہیں تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم فرما تو سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔

۱۱۰.     (لیکن) تم انہیں مذاق ہی اڑاتے رہے یہاں تک کہ (اس مشغلے نے) تم کو میری یاد (بھی) بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔

۱۱۱.      میں نے آج انہیں ان کے اس صبر کا بدلہ دے دیا ہے کہ وہ خاطر خواہ اپنی مراد کو پہنچ چکے ہیں۔

۱۱۲.     اللہ تعالیٰ  دریافت فرمائے گا کہ زمین میں باعتبار برسوں کی گنتی کے کس قدر رہے؟

۱۱۳.     وہ کہیں گے ایک دن یا ایک دن سے بھی کم، گنتی گننے والوں سے بھی پوچھ لیجئے

۱۱۴.     اللہ تعالیٰ  فرمائے گا فی الواقع تم وہاں بہت ہی کم رہے ہو اے کاش! تم اسے پہلے ہی جان لیتے؟

۱۱۵.     کیا تم یہ گمان کئے ہوئے ہو کہ ہم نے تمہیں یونہی بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے ہی نہ جاؤ گے۔

۱۱۶.     اللہ تعالیٰ  سچا بادشاہ ہے وہ بڑی بلندی والا ہے  اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی بزرگ عرش کا مالک ہے

۱۱۷.     جو شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں، پس اس کا حساب تو اس کے رب کے اوپر ہی ہے۔ بیشک کافر لوگ نجات سے محروم ہیں۔

۱۱۸.     اور کہو کہ اے میرے رب! تو بخش اور رحم کر اور تو سب مہربانوں سے بہتر مہربانی کرنے والا ہے۔

 

۲۴۔ النور

۱.         یہ وہ سورت ہے جو ہم نے نازل فرمائی ہے  اور مقرر کر دی ہے اور جس میں ہم نے کھلی آیتیں (احکام) اتارے ہیں تاکہ تم یاد رکھو۔

۲.        زنا کار عورت و مرد میں ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔  ان پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمہیں ہرگز ترس نہ کھانا چاہیئے، اگر تمہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو  ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیے۔

۳.        زانی مرد بجز زانیہ یا مشرکہ عورت کے اور سے نکاح نہیں کرتا اور زنا کار عورت بھی بجز زانی یا مشرک مرد کے اور نکاح نہیں کرتی اور ایمان والوں پر یہ حرام کر دیا گیا

۴.        جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ پیش کر سکیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ یہ فاسق لوگ ہیں۔

۵.        ہاں جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں  تو اللہ تعالیٰ  بخشنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔

۶.        جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کا کوئی گواہ بجز خود ان کی ذات نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں۔

۷.        اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ  کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو

۸.        اور اس عورت سے سزا اس طرح دور ہو سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یقیناً اس کا مرد جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔

۹.         اور پانچویں دفع کہے کہ اس پر اللہ کا عذاب ہو اگر اس کا خاوند سچوں میں سے ہو۔

۱۰.       اگر اللہ تعالیٰ  کا فضل تم پر نہ ہوتا  (تو تم پر مشقت اترتی) اور اللہ تعالیٰ  توبہ قبول کرنے والا ہے۔

۱۱.        جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ لائے ہیں  یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروہ ہے  تم اسے اپنے لئے برا نہ سمجھو، بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے  ہاں ان میں سے ہر ایک شخص پر اتنا گناہ ہے جتنا اس نے کمایا ہے اور ان میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصے کو سر انجام دیا ہے اس کے لئے عذاب بھی بہت بڑا ہے۔

۱۲.       اسے سنتے ہی مومن مردوں عورتوں نے اپنے حق میں نیک کمائی کیوں نہ کی کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ تو کھلم کھلا صریح بہتان ہے

۱۳.       وہ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے؟ اور جب گواہ نہیں لائے تو بہتان باز لوگ یقیناً اللہ کے نزدیک محض جھوٹے ہیں۔

۱۴.       اگر اللہ تعالیٰ  کا فضل و کرم تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہوتا تو یقیناً تم نے جس بات کے چرچے شروع کر رکھے تھے اس بارے میں تمہیں بہت بڑا عذاب پہنچتا۔

۱۵.       جبکہ تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرنے لگے اور اپنے منہ سے وہ بات نکالنے لگے جس کی تمہیں مطلق خبر نہ تھی، گو تم اسے ہلکی بات سمجھتے رہے لیکن اللہ تعالیٰ  کے نزدیک ایک بہت بڑی بات تھی۔

۱۶.       تم نے ایسی بات کو سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات منہ سے نکالنی بھی لائق نہیں۔ یا اللہ! تو پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے اور تہمت ہے

۱۷.      اللہ تعالیٰ  تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی بھی ایسا کام نہ کرنا اگر تم سچے مومن ہو۔

۱۸.       اللہ تعالیٰ  تمہارے سامنے اپنی آیتیں بیان فرما رہا ہے، اور اللہ تعالیٰ  علم و حکمت والا ہے۔

۱۹.       جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہیں  اللہ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے۔

۲۰.      اگر تم پر اللہ تعالیٰ  کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ  بڑی شفقت رکھنے والا مہربان ہے  (تم پر عذاب اتر جاتا)

۲۱.       ایمان والو! شیطان کے قدم بقدم نہ چلو۔ جو شخص شیطانی قدموں کی پیروی کرے تو وہ بے حیائی اور برے کاموں کا ہی حکم کرے گا اور اگر اللہ تعالیٰ  کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ  جسے پاک کرنا چاہے، کر دیتا ہے  اور اللہ سب سننے والا جاننے والا ہے۔

۲۲.      تم میں سے جو بزرگی اور کشادگی والے ہیں انہیں اپنے قرابت داروں اور مسکینوں اور مہاجروں کو فی سبیل اللہ دینے سے قسم نہ کھا لینی چاہیئے۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ  تمہارے قصور معاف فرما دے؟  اللہ قصوروں کو معاف فرمانے والا ہے۔

۲۳.      جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی با ایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ دنیا و آخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے

۲۴.      جبکہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔

۲۵.      اس دن اللہ تعالیٰ  انہیں پورا پورا بدلہ حق و انصاف کے ساتھ دے گا اور وہ جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ  ہی حق ہے (اور وہی) ظاہر کرنے والا ہے۔

۲۶.      خبیث عورتیں خبیث مرد کے لائق ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لائق ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لائق ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لائق ہیں  ایسے پاک لوگوں کے متعلق جو کچھ بکواس (بہتان باز) کر رہے ہیں وہ ان سے بالکل بری ہیں، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی

۲۷.     اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کر لو  یہی تمہارے لئے سراسر بہتر ہے تاک تم نصیحت حاصل کرو

۲۸.      اگر وہاں تمہیں کوئی بھی نہ مل سکے تو پھر اجازت ملے بغیر اندر نہ جاؤ۔ اور اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو تم لوٹ ہی جاؤ، یہی بات تمہارے لئے پاکیزہ ہے، جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ  خوب جانتا ہے۔

۲۹.      ہاں غیر آباد گھروں میں جہاں تمہارا کوئی فائدہ یا اسباب ہو، جانے میں تم پر کوئی گناہ نہیں  تم جو کچھ بھی ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو اللہ تعالیٰ  سب کچھ جانتا ہے۔

۳۰.      مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں  اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت رکھیں  یہ ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ  سب سے خبردار ہے۔

۳۱.       مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں سے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا غلاموں کے یا ایسے نوکر چاکر مردوں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہیں اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے، اے مسلمانوں! تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو تاکہ نجات پاؤ

۳۲.      تم سے جو مرد عورت بے نکاح ہوں ان کا نکاح کر دو  اور اپنے نیک بخت غلام لونڈیوں کا بھی  اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ  انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا  اللہ تعالیٰ  کشادگی والا علم والا ہے۔

۳۳.     اور ان لوگوں کو پاک دامن رہنا چاہیے جو اپنا نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ  انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دے، تمہارے غلاموں میں سے جو کوئی کچھ تمہیں دے کر آزادی کی تحریر کرانی چاہے تو تم ایسی تحریر انہیں کر دیا کرو اگر تم کو ان میں کوئی بھلائی نظر آتی ہو اور اللہ نے جو مال تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے انہیں بھی دو، تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو اور جو انہیں مجبور کر دے تو اللہ تعالیٰ  ان پر جبر کے بعد بخش دینے والا اور مہربانی کرنے والا ہے۔

۳۴.     ہم نے تمہاری طرف کھلی اور روشن آیتیں اتار دی ہیں اور ان لوگوں کی کہاوتیں جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت۔

۳۵.     اللہ نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا  اس کے نور کی مثال مثل ایک طاق کے ہے جس پر چراغ ہو اور چراغ شیشہ کی طرح قندیل میں ہو اور شیشہ مثل چمکتے ہوئے روشن ستارے کے ہو وہ چراغ ایک بابرکت درخت زیتون کے تیل سے جلایا جاتا ہو جو درخت نہ مشرقی ہے نہ مغربی خود وہ تیل قریب ہے کہ آپ ہی روشنی دینے لگے اگرچہ اسے آگ نہ بھی چھائے نور پر نور ہے اللہ تعالیٰ  اپنے نور کی طرف رہنمائی کرتا ہے جسے چاہے  لوگوں (کے سمجھانے) کو یہ مثالیں اللہ تعالیٰ  بیان فرما رہا ہے  اور اللہ تعالیٰ  ہر چیز کے حال سے بخوبی واقف ہے۔

۳۶.      ان گھروں میں جن کے بلند کرنے اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ تعالیٰ  نے حکم دیا ہے  وہاں صبح و شام اللہ تعالیٰ  کی تسبیح کرو۔

۳۷.     ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی

۳۸.     اس ارادے سے کہ اللہ انہیں اور ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے بلکہ اپنے فضل سے اور کچھ زیادتی عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ  جس چاہے بے شمار روزیاں دیتا ہے

۳۹.      اور کافروں کے اعمال مثل اس چمکتی ہوئی ریت کے ہیں جو چٹیل میدان میں جیسے پیاسا شخص دور سے پانی سمجھتا ہے لیکن جب اس کے پاس پہنچتا ہے تو اسے کچھ بھی نہیں پاتا، ہاں اللہ کو اپنے پاس پاتا ہے جو اس کا حساب پورا پورا چکا دیتا ہے، اللہ بہت جلد حساب کر دینے والا ہے۔

۴۰.      یا مثل ان اندھیروں کے ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہ میں ہوں جسے اوپر تلے کی موجوں نے ڈھانپ رکھا ہو پھر اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں۔ الغرض اندھیریاں ہیں جو اوپر تلے پے درپے ہیں۔ جب اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی قریب ہے کہ نہ دیکھ سکے  اور بات یہ ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ  ہی نور نہ دے اس کے پاس کوئی روشنی نہیں ہوتی۔

۴۱.       کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کی کل مخلوق اور پر پھیلائے اڑنے والے کل پرند اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ ہر ایک کی نماز اور تسبیح اسے معلوم ہے لوگ جو کچھ کریں اس سے اللہ بخوبی واقف ہے۔

۴۲.      زمین و آسمان کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور اللہ تعالیٰ  ہی کی طرف لوٹنا ہے

۴۳.     کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ  بادلوں کو چلاتا ہے، پھر انہیں ملاتا ہے پھر انہیں تہ بہ تہ کر دیتا ہے، پھر آپ دیکھتے ہیں ان کے درمیان مینہ برستا ہے وہی آسمانوں کی جانب اولوں کے پہاڑ میں سے اولے برساتا ہے، پھر جنہیں چاہے ان کے پاس انہیں برسائے اور جن سے چاہے ان سے انہیں ہٹا دے بادلوں ہی سے نکلنے والی بجلی کی چمک ایسی ہوتی ہے کہ گویا اب آنکھوں کی روشنی لے چلی۔

۴۴.     اللہ تعالیٰ  ہی دن اور رات کو رد و بدل کرتا رہتا ہے  آنکھوں والوں کے لئے تو اس میں یقیناً بڑی بڑی عبرتیں ہیں۔

۴۵.     تمام کے تمام چلنے پھرنے والے جانداروں کو اللہ تعالیٰ  ہی نے پانی سے پیدا کیا ان میں سے بعض تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں  بعض دو پاؤں پر چلتے ہیں  بعض چار پاؤں پر، اللہ تعالیٰ  جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے  بیشک اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قادر ہے۔

۴۶.      بلا شبہ ہم نے روشن اور واضح آیتیں اتار دی ہیں اللہ تعالیٰ  جسے چاہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔

۴۷.     اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ  اور رسول پر ایمان لائے اور فرماں بردار ہوئے پھر ان میں سے ایک فرقہ اس کے بعد بھی پھر جاتا ہے۔ یہ ایمان والے ہیں (ہی) نہیں۔

۴۸.     جب یہ اس بات کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے جھگڑے چکا دے تو بھی ان کی ایک جماعت منہ موڑنے والی بن جاتی ہے۔

۴۹.      ہاں اگر انہی کو حق پہنچتا ہو تو مطیع و فرماں بردار ہو کر اس کی طرف چلے آتے ہیں

۵۰.      کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے؟ یا یہ شک و شبہ میں پڑے ہوئے ہیں؟ یا انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ  اور اس کا رسول ان کی حق تلفی نہ کریں؟ بات یہ ہے کہ یہ لوگ خود ہی بڑے ظالم ہیں

۵۱.       ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں ٰ اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ان میں فیصلہ کر دے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا  یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔

۵۲.      جو بھی اللہ تعالیٰ  کی، اس کے رسول کی فرماں برداری کریں، خوف الٰہی رکھیں اور اس کے عذابوں سے ڈرتے رہیں، وہی نجات پانے والے ہیں۔

۵۳.     بڑی پختگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ  کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ آپ کا حکم ہوتے ہی نکل کھڑے ہوں گے۔ کہہ دیجئے کہ بس قسمیں نہ کھاؤ (تمہاری) اطاعت (کی حقیقت) معلوم ہے  جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ  اس سے باخبر ہے۔

۵۴.     کہہ دیجئے کہ اللہ کا حکم مانو، رسول اللہ کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمے تو صرف وہی ہے جو اس پر لازم کر دیا گیا ہے  اور تم پر اس کی جوابدہی ہے جو تم پر رکھا گیا ہے  ہدایت تو تمہیں اس وقت ملے گی جب رسول کی ماتحتی کرو  سنو رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔

۵۵.     تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالیٰ  وعدہ فرما چکا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا جو ان سے پہلے تھے اور یقیناً ان کے لئے ان کے اس دین کو مضبوطی کے ساتھ محکم کر کے جما دے گا جسے ان کو وہ امن امان سے بدل دے گا  وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرائیں گے  اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری اور کفر کریں وہ یقیناً فاسق ہیں۔

۵۶.      نماز کی پابندی کرو زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ تعالیٰ  کے رسول کی فرماں برداری میں لگے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

۵۷.     یہ خیال آپ کبھی بھی نہ کرنا کہ منکر لوگ زمین میں (ادھر ادھر بھاگ کر) ہمیں ہرا دینے والے ہیں  ان کا اصلی ٹھکانا تو جہنم ہے جو یقیناً بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔

۵۸.     ایمان والو! تم سے تمہاری ملکیت کے غلاموں کو اور انہیں بھی جو تم میں سے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں (آپ نے آنے کی) تین وقتوں میں اجازت حاصل کرنی ضروری ہے۔ نماز فجر سے پہلے اور ظہر کے وقت جب کہ تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو اور عشا کی نماز کے بعد، یہ تینوں وقت تمہاری (خلوت) اور پردہ کے ہیں، ان وقتوں کے ماسوا نہ تم پر کوئی گناہ ہے اور نہ ان پر، تم سب آپس میں ایک دوسرے کے پاس بکثرت آنے جانے والے ہو (ہی)، اللہ اس طرح کھول کھول کر اپنے احکام سے بیان فرما رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ  پورے علم اور کامل حکمت والا ہے۔

۵۹.      اور تمہارے بچے (بھی) جب بلوغت کو پہنچ جائیں تو جس طرح ان کے اگلے لوگ اجازت مانگتے ہیں انہیں بھی اجازت مانگ کر آنا چاہیے  اللہ تعالیٰ  تم سے اسی طرح اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ  ہی علم و حکمت والا ہے۔

۶۰.      بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید (اور خواہش ہی) نہ رہی ہو وہ اگر اپنے کپڑے اتار رکھیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ اپنا بناؤ سنگار ظاہر کرنے والیاں نہ ہوں  تاہم اگر ان سے بھی احتیاط رکھیں تو ان کے لئے بہت افضل ہے،  اور اللہ تعالیٰ  سنتا اور جانتا ہے۔

۶۱.       اندھے پر، لنگڑے پر، بیمار پر اور خود تم پر (مطلقاً) کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھالو یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کے کنجیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوستوں کے گھروں سے تم پر اس میں بھی کوئی گناہ نہیں کہ تم سب ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤ یا الگ الگ۔ پس جب تم گھروں میں جانے لگو تو اپنے گھر والوں کو سلام کر لیا کرو، دعائے خیر ہے جو بابرکت اور پاکیزہ ہے اللہ تعالیٰ  کی طرف سے نازل شدہ، یوں ہی اللہ تعالیٰ  کھول کھول کر تم سے اپنے احکام بیان فرما رہا ہے تاکہ تم سمجھ لو۔

۶۲.      با ایمان لوگ تو وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ  پر اور اس کے رسول پر یقین رکھتے ہیں اور جب ایسے معاملہ میں جس میں لوگوں کے جمع ہونے کی ضرورت ہوتی ہے نبی کے ساتھ ہوتے ہیں تو جب تک آپ سے اجازت نہ لیں نہیں جاتے۔ جو لوگ ایسے موقع پر آپ سے اجازت لے لیتے ہیں حقیقت میں یہی ہیں جو اللہ تعالیٰ  پر اور اس کے رسول پر ایمان لا چکے ہیں  پس جب ایسے لوگ آپ سے اپنے کسی کام کے لئے اجازت طلب کریں تو آپ ان میں سے جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ  سے بخشش کی دعا مانگیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

۶۳.      تم اللہ تعالیٰ  کے نبی کے بلانے کو ایسا بلاوا نہ کر لو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے سے ہوتا ہے تم میں سے انہیں اللہ خوب جانتا ہے جو نظر بچا کر چپکے سے سرک جاتے ہیں  سنو جو لوگ حکم رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔

۶۴.      آگاہ ہو جاؤ کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ  ہی کا  ہے۔ جس روش پر تم ہو وہ اسے بخوبی جانتا ہے  اور جس دن یہ سب اس کی طرف لوٹائے جائیں گے اس دن ان کو ان کے کئے سے وہ خبردار کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ  سب کچھ جاننے والا ہے۔

 

۲۵۔ الفرقان

۱.         بہت بابرکت ہے وہ اللہ تعالیٰ  جس نے اپنے بندے پر فرقان  اتارا تاکہ وہ تمام لوگوں کے  لئے آگاہ کرنے والا بن جائے۔

۲.        اس اللہ کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی  اور وہ کوئی اولاد نہیں رکھتا  نہ اس کی سلطنت میں کوئی ساتھی ہے  اور ہر چیز کو اس نے پیدا کر کے ایک مناسب انداز ٹھہرایا  ہے۔

۳.        ان لوگوں نے اللہ کے سوا جنہیں اپنے معبود ٹھہرا رکھے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں، یہ تو اپنی جان کے نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ موت و حیات کے اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کے وہ مالک ہیں۔

۴.        اور کافروں نے کہا یہ تو بس خود اسی کا گھڑا گھڑایا جھوٹ ہے جس پر اور لوگوں نے بھی اس کی مدد کی  ہے، دراصل یہ کافر بڑے ہی ظلم اور سر تا سر جھوٹ کے مرتکب ہوئے ہیں۔

۵.        اور یہ بھی کہا کہ یہ تو اگلوں کے افسانے ہیں جو اس نے لکھا رکھے ہیں بس وہی صبح و شام اس کے سامنے پڑھے جاتے ہیں۔

۶.        کہہ دیجئے کہ اسے تو اس اللہ نے اتارا ہے جو آسمان و زمین کی تمام پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے  بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے مہربان ہے۔

۷.        اور انہوں نے کہا کہ یہ کیسا رسول ہے؟ کہ کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جاتا، کہ وہ بھی اس کے ساتھ ہو کر ڈرانے والا بن جاتا۔

۸.        یا اس کے پاس کوئی خزانہ ہی ڈال دیا جاتا  یا اس کا کوئی باغ ہی ہوتا جس میں سے یہ کھاتا  اور ان ظالموں نے کہا کہ تم ایسے آدمی کے پیچھے ہو لئے ہو جس پر جادو کر دیا گیا ہے۔۔

۹.         خیال تو کیجئے! کہ یہ لوگ آپ کی نسبت کیسی کیسی باتیں بناتے ہیں۔ پس جس سے خود ہی بہک رہے ہیں اور کسی طرح راہ پر نہیں آ سکتے۔

۱۰.       اللہ تعالیٰ  تو ایسا بابرکت ہے کہ اگر چاہے تو آپ کو بہت سے ایسے باغات عنایت فرما دے جو ان کے کہے ہوئے باغ سے بہت ہی بہتر ہوں جس کے نیچے نہریں لہریں لے رہی ہوں اور آپ کو بہت سے (پختہ) محل بھی دے دے۔

۱۱.        بات یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھوٹ سمجھتے ہیں  اور قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔

۱۲.       جب وہ انہیں دور سے دیکھے گی تو یہ غصے سے بپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے

۱۳.       اور جب یہ جہنم کی کسی تنگ جگہ میں مشکیں کس کر پھینک دیئے جائیں گے تو وہاں اپنے لئے موت ہی موت پکاریں گے۔

۱۴.       (ان سے کہا جائے گا) آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی اموات کو پکارو

۱۵.       آپ کہہ دیجئے کہ یہ بہتر ہے  یا وہ ہمیشگی والی جنت جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے، جو ان کا بدلہ ہے اور ان کے لوٹنے کی اصلی جگہ ہے۔

۱۶.       وہ جو چاہیں گے ان کے لئے وہاں موجود ہو گا، ہمیشہ رہنے والے۔ یہ تو آپ کے رب کے ذمے وعدہ ہے جو قابل طلب ہے۔

۱۷.      اور جس دن اللہ تعالیٰ  انہیں اور سوائے اللہ کے جنہیں یہ پوجتے رہے، انہیں جمع کر کے پوچھے گا کہ کیا میرے ان بندوں کو تم نے گمراہ کیا یا یہ خود ہی راہ سے گم ہو گئے۔

۱۸.       وہ جواب دیں گے کہ تو پاک ذات ہے خود ہمیں ہی یہ زیبا نہ تھا کہ تیرے سوا اوروں کو اپنا کارساز بناتے  بات یہ ہے کہ تو نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو آسودگیاں عطا فرمائیں یہاں تک کہ وہ نصیحت بھلا بیٹھے، یہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے والے۔

۱۹.       تو انہوں نے تمہیں تمہاری تمام باتوں میں جھٹلایا، اب نہ تو تم عذابوں کے پھیرنے کی طاقت ہے، نہ مدد کرنے کی  تم میں سے جس نے ظلم کیا ہے ہم اسے بڑا عذاب چکھائیں گے۔

۲۰.      ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب کے سب کھانا بھی کھاتے تھے  اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے  اور ہم نے تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کی آزمائش کا ذریعہ بنا دیا  کیا تم صبر کرو گے؟ تیرا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے۔

۲۱.       اور جنہیں ہماری ملاقات کی توقع نہیں انہوں نے کہا کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے؟  یا ہم اپنی آنکھوں سے اپنے رب کو دیکھ لیتے  ان لوگوں نے اپنے آپ کو ہی بہت بڑا سمجھ رکھا ہے اور سخت سرکشی کر لی ہے۔

۲۲.      جس دن یہ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن ان گناہگاروں کو کوئی خوشی نہ ہو گی  اور کہیں گے یہ محروم ہی محروم کئے گئے

۲۳.      اور انہوں نے جو جو اعمال کیے تھے ہم نے ان کی طرف بڑھ کر انہیں پراگندہ ذروں کی طرح کر دیا

۲۴.      البتہ اس دن جنتیوں کا ٹھکانا بہتر ہو گا اور خواب گاہ بھی عمدہ ہو گی

۲۵.      اور جس دن آسمان بادل سمیت پھٹ جائے گا  اور فرشتے لگا تار اتارے جائیں گے۔

۲۶.      اور اس دن صحیح طور پر ملک صرف رحمٰن کا ہی ہو گا اور یہ دن کافروں پر بڑا بھاری ہو گا

۲۷.     اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول اللہ کی راہ اختیار کی ہوتی۔

۲۸.      ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا

۲۹.      اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کر دیا کہ نصیحت میرے پاس آ پہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے والا ہے۔

۳۰.      اور رسول کہے گا کہ اے میرے پروردگار! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا

۳۱.       اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن گناہگاروں کو بنا دیا ہے  اور تیرا رب ہی ہدایت کرنے والا کافی ہے۔

۳۲.      اور کافروں نے کہا اس پر قرآن سارا کا سارا ایک ساتھ ہی کیوں نہ اتارا گیا  اسی طرح ہم نے (تھوڑا تھوڑا) کر کے اتارا تاکہ اس سے ہم آپ کا دل قوی رکھیں، ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر ہی پڑھ سنایا ہے۔

۳۳.     یہ آپ کے پاس جو کوئی مثال لائیں گے ہم اس کا سچا جواب اور عمدہ دلیل آپ کو بتا دیں گے

۳۴.     جو لوگ اپنے منہ کے بل جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے وہی بدتر مکان والے اور گمراہ تر راستے والے ہیں۔

۳۵.     اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے ہمراہ ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنا دیا۔

۳۶.      اور کہہ دیا کہ تم دونوں ان لوگوں کی طرف جاؤ جو ہماری آیتوں کو جھٹلا رہے ہیں۔ پھر ہم نے انہیں بالکل ہی پامال کر دیا۔

۳۷.     اور قوم نوح نے بھی جب رسولوں کو جھوٹا کہا تو ہم نے انہیں غرق کر دیا اور لوگوں کے لئے انہیں نشان عبرت بنا دیا۔ اور ہم نے ظالموں کے لئے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

۳۸.     اور عادیوں اور ثمودیوں اور کنوئیں والوں کو  اور ان کے درمیان کی بہت سی امتوں کو (ہلاک کر دیا)۔

۳۹.      اور ہم نے ان کے سامنے مثالیں بیان کیں  پھر ہر ایک کو بالکل ہی تباہ و برباد کر دیا۔

۴۰.      یہ لوگ اس بستی کے پاس سے بھی آتے جاتے ہیں جن پر بری طرح بارش برسائی گئی  کیا یہ پھر بھی اسے دیکھتے نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ انہیں مر کر جی اٹھنے کی امید ہی نہیں۔

۴۱.       اور تمہیں جب کبھی دیکھتے ہیں تو تم سے مسخر پن کرنے لگتے ہیں۔ کہ کیا یہی وہ شخص ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ  نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔

۴۲.      (وہ تو کہئے) کہ ہم اس پر جمے رہے ورنہ انہوں نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی  اور یہ جب عذابوں کو دیکھیں گے تو انہیں صاف معلوم ہو جائے گا کہ پوری طرح راہ سے بھٹکا ہوا کون تھا؟

۴۳.     کیا آپ نے اسے بھی دیکھا جو اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہے کیا آپ اس کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں؟

۴۴.     کیا آپ اسی خیال میں ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں۔ وہ تو نرے چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے۔

۴۵.     کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے سائے کو کس طرح پھیلا دیا ہے؟  اگر چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا ہی کر دیتا  پھر ہم نے آفتاب کو اس پر دلیل بنایا۔

۴۶.      پھر ہم نے اسے آہستہ آہستہ اپنی طرف کھینچ لیا۔

۴۷.     اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لئے پردہ بنایا  اور نیند کو راحت بنائی  اور دن کو کھڑے ہونے کا وقت۔

۴۸.     اور وہی ہے جو باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاک پانی برساتے ہیں

۴۹.      تاکہ اس کے ذریعے سے مردہ شہر کو زندہ کر دیں اور اسے ہم اپنی مخلوقات میں سے بہت سے چوپایوں اور انسانوں کو پلاتے ہیں۔

۵۰.      اور بیشک ہم نے اسے ان کے درمیان طرح طرح سے بیان کیا تاکہ  وہ نصیحت حاصل کریں، مگر پھر بھی اکثر لوگوں نے سوائے ناشکری کے مانا نہیں۔

۵۱.       اگر ہم چاہتے تو ہر ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج  دیتے۔

۵۲.      پس آپ کافروں کا کہنا نہ مانیں اور قرآن کے ذریعے ان سے پوری طاقت سے بڑا جہاد کریں

۵۳.     اور وہی ہے جس نے سمندر آپس میں ملا رکھے ہیں، یہ ہے میٹھا اور مزیدار اور یہ ہے کھاری کڑوا  ان دونوں کے درمیان ایک حجاب اور مضبوط اوٹ کر دی۔

۵۴.     وہ جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا، پھر اسے نسب والا اور سسرالی رشتوں والا کر دیا  بلاشبہ آپ کا پروردگار (ہر چیز پر) قادر ہے۔

۵۵.     یہ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ تو انہیں کوئی نفع دے سکیں نہ کوئی نقصان پہنچا سکیں، اور کافر تو ہے ہی اپنے رب کے خلاف (شیطان کی) مدد کرنے والا۔

۵۶.      ہم نے تو آپ کو خوشخبری اور ڈر سنانے والا (نبی) بنا کر بھیجا ہے۔

۵۷.     کہہ دیجئے کہ میں قرآن کے پہنچانے پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر جو شخص اپنے رب کی طرف راہ پکڑنا چاہے

۵۸.     اس ہمیشہ زندہ رہنے والے اللہ تعالیٰ  پر توکل کریں جسے کبھی موت نہیں اور اس کی تعریف کے ساتھ پاکیزگی بیان کرتے رہیں، وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے۔

۵۹.      وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو چھ دن میں پیدا کر دیا ہے، پھر عرش پر مستوی ہوا وہ رحمان ہے، آپ اس کے بارے میں کسی خبردار سے پوچھ لیں۔

۶۰.      ان سے جب بھی کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو تو جواب دیتے ہیں رحمان ہے کیا؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کا تو ہمیں حکم دے رہا ہے اور اس (تبلیغ) نے ان کی نفرت میں مزید اضافہ کر دیا

۶۱.       بابرکت ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے  اور اس میں آفتاب بنایا اور منور مہتاب بھی۔

۶۲.      اور اسی نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا  اس شخص کی نصیحت کے لئے جو نصیحت حاصل کرنے یا شکر گزاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔

۶۳.      رحمان کے (سچے) بندے وہ ہیں جو زمین پر مصلحت کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے۔

۶۴.      اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں۔

۶۵.      اور جو یہ دعا کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار! ہم سے دوزخ کا عذاب پرے ہی پرے رکھ، کیونکہ اس کا عذاب چمٹ جانے والا ہے۔

۶۶.      بیشک وہ ٹھہرنے اور رہنے کے لحاظ سے بدترین جگہ ہے

۶۷.     اور جو خرچ کرتے وقت بھی اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی، بلکہ ان دونوں کے درمیان معتدل طریقے پر خرچ کرتے ہیں

۶۸.      اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ  نے منع کر دیا ہو وہ بجز حق کے قتل نہیں کرتے  نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں  اور جو کوئی یہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت وبال لائے گا۔

۶۹.      اسے قیامت کے دن دوہرا عذاب کیا جائے گا اور وہ ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا۔

۷۰.     سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں،  ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ  نیکیوں سے بدل دیتا ہے  اللہ بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔

۷۱.      اور جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے وہ تو (حقیقتاً) اللہ تعالیٰ  کی طرف سچا رجوع کرتا ہے

۷۲.     اور جو لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے  اور جب کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوتا ہے تو شرافت سے گزر جاتے ہیں

۷۳.     اور جب ان کے رب کے کلام کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اندھے بہرے ہو کر ان پر نہیں گرتے

۷۴.     اور یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا

۷۵.     یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بلند و بالا خانے دیئے جائیں گے جہاں انہیں دعا سلام پہنچایا جائے گا۔

۷۶.     اس میں یہ ہمیشہ رہیں گے، وہ بہت ہی اچھی جگہ اور عمدہ مقام ہے۔

۷۷.     کہہ دیجئے! اگر تمہاری دعا التجا (پکارنا) نہ ہوتی تو میرا رب تمہاری مطلق پرواہ نہ کرتا  تم تو جھٹلا چکے اب عنقریب اس کی سزا تمہیں چمٹ جانے والی ہو گی۔

٭٭٭

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 ۔۔