FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

اسلامائزیشن آف نالج کیوں ؟

 

 

                پروفیسر سید مسعود احمد

 

 

 

زیر بحث مقالہ پروفیسر محمد نجات اﷲ صدیقی  صاحب کا عالمانہ و فاضلانہ تجزیہ ہے جو انھوں نے اسلامائزیشن آف نالج کے پروجیکٹ پر کیا ہے۔ راقم الحروف کو اس شائع شدہ مقالہ پر  تبصرہ کی دعوت  دی گئی تھی۔ اس کی نظر میں تین نکات خاص طور سے قابل غور ہیں۔ محترم نجات اﷲ صدیقی سے پہلے نکتہ پر جزوی اتفاق کرتے ہوئے یہ مبصر ان سے یہ سوال کرنا چاہتا ہے کہ کیا علم اسماء کا حامل خلیفۃ اﷲ فی الارض اﷲ تعالیٰ کے کائناتی منصوبے کو بروئے کار لانے کے لئے کافی اہلیت رکھتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ علم اسماء خلافت کی ادائیگی کے لئے مکمل نہیں کیونکہ جن آیات کا ڈاکٹر صاحب خاص طور سے حوالہ دیتے ہیں ان میں علم اسماء کو حاصل کرنے کے باوجود حضرت آدم شیطان کی اکساہٹوں کا شکار ہو کر جنت سے نکالے گئے لہٰذا ان کو علم اسماء کے ساتھ علم ہدایت دے کر پھر اس دنیا میں امتحان کے لئے بھیجا گیا۔مزید بر آں جس ابتلا کا ڈاکٹر صاحب اپنے مضمون میں بار بار حوالہ دہے رہے ہیں اس میں بنی آدم کو علم ہدایت ہی سے خاص طور سے جوڑا گیا ہے۔ فرمایا گیا’’ فاھبطوا منھا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدای  فمن تبع ھداءَ فلا خوف  علیھم ولا ھم یحزنون‘‘ یعنی اب تم سب یہاں سے اترو اور جو کچھ میری طرف سے ہدایت تم کو پہنچے تو جو کوئی اس ہدایت پر چلے گا  اس کو نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ کوئی غم‘‘۔ یہاں خلیفہ ارضی کا علم ہدایت کا استعمال کرنے یا نہ کرنے کا خصوصی امتحان ہے۔ اس کے علاوہ یہاں جو بات کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ بنی آدم کو علم اسماء سے نواز کر علم ہدایت کی چھتری سے محفوظ کیا گیا ہے۔اب جوان دونوں علوم کا حامل و عامل ہو گا  اس کے لئے وہی جنت گم گشتہ دوبارہ مل جائے گی جس میں وہ  یوم الست میں تھا۔ قرآن مجید کی متعدد آیات اسی رائے کو تقویت پہنچاتی ہیں یعنی دنیا کی پائدار خلافت و امامت کے لئے صلاحیت اور صالحیت دونوں ضروری ہیں (خاص طور سے سورہ انبیاء  آیت: ۱۰۵ میں ہے کہ  ان الارض یرثھا عبادی الصالحون، سورہ آل عمران آیت : ۱۳۹میں ہے انتم الاعلون اِن کنتم مومِنین، اسی طرح سورہ النور کی آیت۵۵ اَللّذین آمنوا منکم وعملوالصالحات لیستخلفتھم فی الارض)۔ اس مبصر کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے علم کی تخلیق و تعمیر جدید پر تو کافی محققانہ و فاضلانہ تجزیہ کیا ہے مگر یہ پہلو بالکل دب گیا ہے کہ امت مسلمہ کا اس کائنات میں کیا مقام ہے۔ کیا علم کے میدان میں امت مسلمہ کی کوئی خصوصی ذمہ داری نہیں ہے؟ انھوں نے امت مسلمہ کے خیر امت ہونے کا کہیں ذکر نہیں کیا ہے اور نہ انھوں نے امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا کہیں حوالہ دیا جو تمام رسولوں اور امم مسلمہ کا  فرض منصبی ہے۔ راقم الحروف کا تیسرا نکتۂ اختلاف اور ابتلا کے صحیح رشتہ کو سمجھنا ہے۔ ڈاکٹر صاحب حصول علم کے لئے اور تخلیق اور تعمیر علم کے لئے کھلی چھوٹ دینا چاہتے ہیں۔ جبکہ راقم الحروف کا یہ کہنا ہے کہ اپنے علم کی حد تک ہم سب ذمہ دار ہیں اس ذمہ داری کی ادائیگی سے حصولِ علم کے Process میں توازن پیدا ہوتا ہے۔ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے تو اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ خلیفہ کو علم و تحقیق کے دائرہ میں آزاد رکھا جائے مگر سوال عام خلیفہ کا نہیں بلکہ ایک ایسے خلیفہ کا ہے جس پر دوہری ذمہ داری ہے یعنی امتِ مسلمہ کے افراد کا مقام، جن کی حیثیت اور ذمہ داری ان لوگوں کے طرح ہے کہ جیسے بہت سے لوگ ایک کشتی میں سفر کر رہے ہوں اور کشتی کے چند افراد اس میں چھید کرنے لگیں اور دوسرے لوگ ان کی حماقت پر منع نہ کریں اور چشم پوشی کریں یا کھلی چھوٹ دیدیں تو کیا چھید کرنے والے ہی غرق ہوں گے؟ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ اسی وقت تک کسی کو آزادی ملنا چاہئے جب تک اسے کسی برائی پر نقصان کا علم نہ ہو اور ہمارا فرض منصبی یہ ہے کہ جب ہمیں واضح طور پر علم ہو جائے کہ یہ طریقہ غلط ہے تو ہماری بھی انسانی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اچھائیوں کو فروغ دیں اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ڈاکٹر صاحب کا یہ کہنا کہ اﷲ تعالیٰ نے آدم کو امتحان کے لئے آزادی دی ہے لہذا اس کو روکنا صحیح نہیں بالکل الٹا مطلب نکال نے کے مترادف ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کو آزادی اختیار دیکر ہر ایک کو امتحان میں ڈالا ہے کہ’’  لیبلوکم ایکم احسن عملا‘‘(الملک:۲) تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون اچھا عمل کرتا ہے۔ انسان کا ابتلا نظامِ مشیت کے تحت ہے جبکہ اس کی مرضی نظام شریعت کے تحت ہے۔ اگر بنی آدم کی آزادی پر کسی قسم کی حد بندیاں نہ ہوں تو اس دنیا میں فساد بر پا ہو جائے گا جس کا اشارہ فرشتوں نے بھی کیا تھا جس کے لئے رسولوں کی ضرورت اور علم ہدایت پر عمل آوری ضروری قرار دی گئی تھی۔بعثت نبی خاتمؐ کے بعد اب یہ کام امت مسلمہ ہی کو کرنا ہے۔ اور اس کا بھی تو ہر دائرہ میں امتحان ہے جس میں اس کو مرضیات خداوندی  نافذ کرنا ہیں کیونکہ امتِ مسلمہ کا ہر فرد خلیفۃ اﷲ بھی ہے اور خلیفۂ رسولِ  خاتمؐ بھی۔

ہماری حقیر رائے یہ بھی ہے کہKnowledge creation  کے میدان کار میں غیر مسلم ہی نہیں بلکہ امت کا سواد اعظم بھی شامل ہے صرف چند لوگ ہیں جو اصلاح علم کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔ اگر ان کو بھی knowledge creation ہی کے عمل میں ڈال دیا جائے  تو  Knowledge Explosion کے اس دور میں اصلاحِ  علم اور عمل نافع کا عَلم کون بلند کرے گا اورجس رفتار سے رطب و یا بس علم و تحقیق کا انبار لگتا جا رہا ہو جس میں ماحولیاتی بحران اور دوسرے مسائل اس دنیا کو ہلاکت کی طرف کشاں کشاں لے جا رہے ہوں نیز اس صورت حال میں جبکہ ہم بنیادی غلطیوں اور کمیوں کو بھی جانتے ہوں اور مسائل کے حل کی طرف بعض اشارے بھی کرسکتے ہوں،پھر بھی خاموش تماشائی بنے رہیں، یا غیروں کا ہی راگ الاپتے رہیں یا وہ اگر دنیائے انسانیت کی قبر کھود  رہے ہوں اور ہم بھی ان کے ساتھ رہ کر ایک کدال اور چلا دیں تو اس دنیا کا اﷲ ہی محافظ ہے۔ اس معاملہ میں ہم ڈاکٹر صاحب کی رائے سے اتفاق نہیں کرسکتے۔ واﷲ اعلم بالصواب

 

                 سائنس بطور کائنات کے ارتباطی رشتوں کا مطالعہ اور قرآن حکیم کا نقطۂ نظر

 

آج سائنس ایک ایسے موضوع کی حیثیت سے ابھر رہی ہے جس میں کائنات کی مختلف اشیاء اور مظاہر کے آپسی رشتوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ان رشتوں کی اہمیت کے واضح اشارے ماحولیاتی بحران اور باہمی انحصار و ارتباط کے ادراک کے نتیجہ میں ملنے شروع ہو گئے تھے(۱)۔ ان رشتوں کا ٹوٹنا یا کسی بھی طرح متاثر ہونا دراصل ماحولیاتی نظام کو درہم برہم  (Ecological crisis) کرنا ہے۔ چنانچہ ایسے اقدامات کی تلاش اور پہچان ایک اہم ضرورت بن کر ابھر رہی ہے جو اس باہم انحصاری (Ecofunctioning and interdependent) کائنات کو مربوط رکھنے میں ممد و معاون ہو ں (۲)۔ ہمارا یقین ہے کہ قرآن حکیم بحیثیت کتابِ الٰہی اس سلسلہ میں بعض  اشارات کرتا اور ہدایت ضرور دیتا ہو گا۔ اس مختصر مضمون میں ہم کائنات کے ارتباطی رشتوں  (Interdependent relations) کا مطالعہ قرآن کریم کی روشنی میں کریں گے۔

ماڈرن اکالوجی کی رو سے اس کائنات میں تین تغیر پذیر اور موثر عوامل (Active variables) ہیں یعنی انسان،دیگر جاندار اور غیر جاندار اشیاء (۳) ۔ چونکہ ہم قرآن حکیم سے ماڈرن اکالوجی کو مربوط کر کے ماحولیاتی بحران کا جائزہ لینا چاہتے ہیں لہٰذا اسلامی تصور کائنات کے بنیادی موثر و عامل ’’خدا‘‘ کو خالق کائنات اور مدبرالسمٰوات والارض کی حیثیت سے شامل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ چنانچہ زیر بحث موضوع کے تعلق سے بنیادی طور پر چہار فریقی ارتباطی رشتے   Four membered interdependant ecovariable relations)) قائم ہوسکتے ہیں۔  ان میں سے دو با اختیار ہستیاں ہیں۔ اولاً خدا جو کائنات میں ہر شے کا خالق ہی نہیں بلکہ مدبر ہے اور اس کا ’’اذن‘‘ ہی ہر چیز کو با معنی کرتا ہے۔اس کے اذن کے بغیر با اختیارانسان بھی بے اختیار ہے۔دوسری با اختیار ہستی خود اس کا خلیف ہو نائب بنی آدم اور وہ انسان ہے جس کو اس نے ایک محدود دائرہ میں اختیار سے نوازا ہے۔ دیگر جاندار اور غیر جاندار فریق انسان کے مقابلہ میں بے بس ہیں البتہ اس دنیا میں ہر ایک کے شعور و اختیار کے درجے (Hierarchies) ہیں۔ اس چہار فریقی نظام میں چھ ارتباطی رشتے قائم ہوتے ہیں۔ اولاً انسان کا خالق کائنات سے رشتہ۔ ثانیاً انسان کا دیگر جانداروں سے رشتہ۔ ثالثاً انسان کا غیر جاندار اشیاء سے رشتہ۔ رابعاً جاندار مخلوقات کا غیر جاندار اشیاء سے رشتہ۔ خامساً خدا کا انسان کے علاوہ دیگر جانداروں سے رشتہ۔ سادساً خدا کا غیر جاندار اشیاء سے رشتہ۔

ان تفاعلی اور تعاملی رشتوں کو دوسرے نام بھی دیئے گئے ہیں۔ مثلاً انسان اور خدا کے رشتہ کو مذہب، اور انسان کے دوسری مخلوقات سے تفاعلی رویوں کو وسیع مفہوم میں اخلاق سے موسوم کیا جا سکتا ہے۔حالانکہ محدود معنی میں اخلاق بین الا نسانی رویوں سے عبارت ہے۔ مزید برآں انسان کے علاوہ دیگر مخلوقات عالم کا آپس میں رشتہ تعاون (Symbiosis) کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہ تمام مخلوقات اﷲ تعالیٰ کے نظام مشیت کے کارندے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کے جامع پلان: توازن، بقاء باہم اور ارتقائے کائنات کو بروئے کار لانے میں اپنا حصّہ ادا کرتے ہیں۔ علاوہ بریں انسا ن ایک با اختیار ہستی کے بطور دیگر مخلوقات عالم پر اثر ڈالتا ہے۔ جس سے نظام کائنات پر بھی اثر پڑتا ہے جو اﷲ تعالیٰ کے نظام مشیت سے عبارت ہے،اور جس کے نتیجہ میں کائنات کا حُسن و توازن قایم ہے۔ لہٰذا جب انسان اس نظام میں بے جا تصرف کرتا ہے تو مدبرالسمٰوات والارض کا غیبی ہاتھ سنت اﷲ کی شکل میں نمودار ہو کر اس کائنات میں خالق کائنات کے طے شدہ  نظامِ قدرت اور جامع نظام اخلاق کے مبادیات کے اشارے کرتا ہے۔ یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ انسان اس کائنات میں مادی سطح پر جو منفی اثر ڈالتا ہے اس کا منفی نتیجہ بھی اسی کائنات میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ اہم پہلو ہے جس کی یہاں مزید وضاحت کی جائے گی۔ یعنی یہ بتایا جائے گا کہ ہ قانونِ فطرت اور قانون اخلاق دونوں کی سطحوں پر ہم نے کیا کیا غلطیاں کیں۔اور ان میں کیا کچھ ہم نے جان کر کیا اور کیا اعمال و افعال محض انجانے میں صحیح سمجھ کر کئے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غلط تھے۔جن کا نتیجہ ماحولیاتی بحران کی شکل میں نکلا۔ یہ بھی یاد رہے کہ کہ ہمارا موضوع بحث تجرباتی ہے تکنیکی نہیں۔

ان چہار فریقی اور ارتباطی رشتوں کو مندرجہ ذیل علامتی خاکہ نمبر  ۱؎ ایک (Schematic #1 diagram)  کے ذریعہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ تیروں کی سمت سے باہمی تعامل اور ارتباط کے حاصل شدہ نتائج کو اصطلاحاً دکھایا گیا ہے۔ مثلاً انسان کا خدا سے رشتہ مذہب سے عبارت ہے تو خدا کا انسان کے اعمال پر ردِ عمل سنت اﷲ کہلاتا ہے۔ خدا کا جانداروں پر اختیار اس کی مشیت کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔تو جانداروں کا خدا سے تعلق عبادت کہلاتا ہے۔ انسان کا جانداروں کے ساتھ رویہ اس کا جامع اخلاق کا نمونہ ہے تو جانداروں کا انسان سے تعامل ان کی خدمت و تعاون کا آئینہ دار۔ جاندار کا غیر جاندار اشیاء سے تعلق صارف (Consumer) کا ہے تو غیر ئےچنانچہ ذارتباط کے ادراک کے تناور شکیل: اعجاز عبیدجاندار اشیاء کا جانداروں سے رشتہ غذا (Nutrient) اور مصرف (Consumable) کا۔

خاکہ نمبر ۱ میں تعاملی اکائیوں میں عمومی عمل ورد عمل پیش کیا گیا ہے۔ لیکن ماحولیاتی بحران انسان کے فکر و عقیدہ اور صنعتی انقلاب سے پیدا شدہ کیفیاتی اور کمیاتی تبدیلیوں کا جامع عنوان ہے اور اﷲ تعالیٰ کی سنت کا آفاقی مظہر (۴) ۔ اس کو  خاکہ نمبر ۲ میں دکھا یا گیا ہے۔ سائنسی اور صنعتی انقلاب نے اس دنیا کو بالکل نئی اشیاء سے روشناس کرایا۔ یہ سب انسانی  تخلیق و مصنوعات(Man made things) کے نادر نمونے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کے نظام فطرت میں جو چیزیں انساناستعمال کرتا ہے انکو دوسرے جاندار غذا کی شکل میں لے کر اور بہتر حالت میں تبدیل کر کے ان کی فطری ماہیتِ قلب  (Transformation) کر دیتے ہیں۔ اس فطری عمل سے دنیا میں کوڑا کچرا  (Waste) نہیں بچتا جبکہ انسانی مصنوعات (Man made things) کو فطری جاندارِ ارضی استعمال بھی نہیں کر پاتے، یہ چیزیں تمام جانداروں بشمول انسان کے نقصان دہ اور زہریلی بھی ہیں اور ان کا انبار بھی بڑھتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی جاندار کی غذا نہیں بن سکتیں۔ مثلاً پلاسٹک اور سیکڑوں انسانی مصنوعات۔ اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو آج کا انسان مصنوعات کا خالق بن کر خدا کا حریف بن بیٹھا ہے۔ اور اس کی ایک متوازی کائناتِ مادہ و انرجی  (Parallel world of artificial matter)ہے  جو خدا کی کائنات سے دوستی و تعاون کے بجائے دشمنی و عدم تعاون کا رشتہ قائم کئے ہوئے ہے۔

ہمارے بعض ساتھی اس بیان کو جذباتیت پر محمول کرتے ہیں ان کے مطابق انسان کی خواہش تو مسائل حل کرنے کی تھی، خدا کا حریف بن جانے کی نہ تھی۔ ہماری عرض ہے کہ ابتداء میں تو یہی خواہش تھی مگر نہ صرف خواہش بدلی بلکہ ہمارا طریقۂ کار بھی کچھ اور ہی اشارہ کر رہا تھا۔ مثلاً انسان نے اپنے مسائل کے حل کے لئے نہ تو خدا کے حضور اپنی حاجت پیش کی اور نہ اس کی کائنات میں اپنے مسائل کا حل ڈھونڈھا اور نہ کوئی حل نکلنے پر مالکِ کائنات کا شکریہ ادا کیا بلکہ ’’علیٰ علم عندی‘‘ والا قارونی رویہ اختیار کیا۔ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ کہ وہ خدا کے بغیر اور اس کی تائید و نصرت کے بغیر اپنے مسائل کو حل کرنے کا دعویدار ہے؟ کیا اُس نے خدا کی کائنات میں اپنی مصنوعات کو خدائی تخلیق (God made substances) سے بہتر نہیں سمجھا؟اور اگر اُس نے یہی سمجھا ہے تو وہ اس معاملہ میں خدا کا حریف ہے اور وہ فطرت کو منھ چڑاتا ہے۔ کمیونسٹ حضرات اور دہریوں نے تو اس معاملہ میں کوئی حجاب بھی نہیں رکھا۔ سیکڑوں تحریریں اس کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ تمام مصنوعات (synthetic products) ایک طرف انسان کے لئے سامانِ عیش ہیں تو دوسری طرف خود ان کے لئے سم قاتل۔ زہریلے کوڑے کچرے نے اس دنیا کو بارود کا ڈھیر اور متعفن غلاظت کا ڈھیر بنا دیا ہے جس سے آلودگی میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، موسم بدل رہا ہے، فضائی حرارت بڑھ گئی ہے، اوزون ہول نمودار ہو گیا ہے۔ وغیرہ

اب ہم ان چھ ارتباطی رشتوں کا ایک معروضی جائزہ لیتے ہیں۔ اس معروضی جائزہ کی چہار جہات ہیں۔ اولاً یہ غور کرنا کہ مختلف فریق آپس میں کس طر ح اثر انداز ہوتے ہیں۔ ثانیاً یہ معلوم کرنا کہ ان کا ایک دوسرے پر کتنا انحصار ہے اور ان کا کتنا تعاملی تناسب اور حصّہ (Contribution) ہے۔ ثالثاً یہ مسئلہ بھی زیر بحث آنا ہے کہ کائنات کے وہ کون سے مظاہر ہیں جن کے ذریعہ نقصان دہ اثرات معلوم ہوئے۔ رابعاً یہ بھی ضروری ہے کہ موجودہ ماحولیاتی بحران کی مادی اور ظاہری وجوہات کیا کیا ہیں۔

جہاں تک پہلی جہت کا تعلق ہے کہ مختلف فریق کس طرح ایک دوسرے کو متاثر کرتے اور ان میں فریق اول کس طرح فریق دوم پر تصرف کرتا ہے۔ ان کے کل بارہ ارتباطی رشتوں میں چند کا جائزہ مندرجہ ذیل نکات میں پیش کیا جا رہا ہے۔

(الف)        انسان کی دیگر جانداروں پر اثر اندازی اور تصرفات

(ب)          انسان کی غیر جاندار اشیاء پر اثر اندازی اور تصرفات

(ج)          جاندار کس طرح سے انسان پر اثرانداز ہوتے ہیں

(د)            جاندار کس طرح غیر جانداروں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور تصرف کرتے ہیں

(ہ )           خدا کس طرح انسان پر تصرف کرتا ہے

(ز)           غیر جاندار کس طرح انسان پر اثر انداز ہوتے ہیں

(الف) انسان دیگر جانداروں پر کیسے تصرف کرتا ہے اور ان پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کی موٹی موٹی تین چار صورتیں ہیں۔ اولاً شعوری طور پر اور براہ راست تصرف کر کے: مثلاً انسان بہت سے جانوروں کا شکار کر کے ان کی تعداد گھٹاتا ہے۔ ان میں شیر، چیتا، مچھلی بارہ سنگھا اور پرندے شامل ہیں۔کیڑے مار دواؤں سے شعوری طور پر بعض جانداروں کو مارتا ہے اور بعض لاشعوری طور پر مر جاتے ہیں۔ اپنی منفعت کے لئے بعض جانوروں کی تعداد بڑھاتا بھی ہے: مثلاً گائے، بیل، بھینس،سور، مرغ وغیرہ۔ثانیاً لا شعوری طور پر اوربالواسطہ اثر  ًہے۔ ثالثاًld of articاندازی کی بہترین مثال انسان کی بنائی دواDiclofenac سے بالواسطہ گِد ھوں (Vulture) کی ہلاکت ہے (۵) ۔ ثالثاً انسان دیگر جانداروں کے مزاج و طبیعت پر جیینٹک ا نجنیرنگ اور کلوننگ کے ذریعہ اثر انداز ہو رہا ہے اور جینیٹکلی تبدیل شدہ کپاس اس کی واضح مثال ہے۔ رابعاً انسان دیگر جانداروں پر بالواسطہ اور لاشعوری طور پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے یعنی بعض جاندار مر رہے ہیں اور بعض مصنوعی اور آلودہ ماحول سے بہت تیزی سے طبعاً تبدیل ہو رہے ہیں۔

(ب)   انسان کی غیر جاندار اشیاء پر اثراندازی اور تصرفات:   انسان لاکھوں مصنوعی اشیاء اپنے عیش و آرام  اور بظاہر منفعت کے لئے بنا رہا ہے۔ ثانیاً فطری اشیاء کو مختلف انداز سے استعمال کر رہا ہے۔مثلاً :دواؤں کو صحت حاصل کرنے کے لئے نیز آرائش و زیبائش کی چیزیں بنا کر اور غذائی ضرورت کے لئے مختلف اشیاء پر تصرف کر کے۔ دور جدید کا انسان فطرت سے زیادہ مصنوعات پر منحصر ہے۔ اشیاء سے لیکرانرجی کے ذرائع تک سب غیر فطری اور مصنوعی ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ مصنوعات کی پیداوار کے لئے اضافی انرجی کا ہے جس کے لئے وہ زمین کھود کر کوئلہ پٹرول وغیرہ نکال رہا ہے۔ زمین پر انسان کا یہ تصرف بھی قابل غور ہے اور دیر پا نتائج کا حامل ہے۔

(ج  اورد)       جاندار کس طرح انسان اور اشیاء پر اثر انداز ہوتے ہیں ؟ جاندار بہت سی اشیاء کو غذا کی شکل میں لیکر اس کی قلبِ ماہیت (Bio-transformation and Bioremediation) کرتے ہیں، جس سے آلودگی کم ہوتی ہے  (۶)۔ اور اس کے نتیجہ میں انسانی صحت و نشوونما پر مثبت اثرات پڑتے ہیں۔ یہ جاندار براہ راست بھی انسان کی منفعت و معیشت میں کام آتے ہیں۔ فطری اکالوجی کا نظام متعدد سائیکلز پر قائم ہے جو انھیں جانداروں کے ذریعہ قائم و دایم ہے۔

(ہ  اور د)       خدا کس طرح اس سائنسی تناظر میں انسان پر تصرف کرتا ہے؟ موجودہ سائنسی بحث کے تناظر میں اﷲ تعالیٰ جاندار اور غیر جاندار چیزیں پیدا کر کے اس کائنات میں تخلیقی تصرف کرتا ہے۔ علاوہ بریں وہ ان جانداروں کے مزاج پر طبعی تصرف قائم رکھتا ہے۔ مزید برآں اس کائنات میں قوانین فطرت بنا کر مظاہر فطرت کی پردہ کشائی کرتا ہے اور یہی مشیت اﷲ سے عبارت ہے اور جب انسان اس کی کائنات میں شعوری یا لاشعوری طور پر بے جا دخل اندازی کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ سنت اﷲ نافذ کر کے اپنے تصرف کو مؤکد کر کرتا ہے۔ اور یہ بے جا دخل اندازی اور حد سے تجاوز اسطرح ہے کہ انسان خلیفۂ خدا کے مقام سے خدا کے مقام پر فائز ہو گیا ہے اور اس نے خدا کی کائنات میں اپنے طور پر مالکانہ تصرفات کو صحیح سمجھاہے۔یہ حقیقت یاد رہے کہ اس کائنات میں اﷲ تعالیٰ کے نظامِ قدرت اور نظام اخلاق دونوں یکساں طور پر جاری ہیں۔ نظام اخلاق کے تحت انسانوں کے گناہوں پر سزا اور نظام قدرت کے تحت ہر غلطی پر تکلیف تو بھگتنا ہی ہے۔

(ز)    غیر جاندار کس طرح جاندار بشمول انسان پر اثر انداز ہوتے ہیں ؟ یہاں سب سے واضح مثال سورج اور  اس کی روشنی و حرارت کی جملہ جانداروں پر اثر اندازی سے ہے۔ تمام جانداروں کو حتمی غذائیت و انرجی سورج ہی سے حاصل ہوتی ہے ان کی حیات،نشوونما اور صحت کا دارومدار سورج، ہوا اور پانی پر ہی ہے۔ زمین کی نرم پرت (Soil) بھی جانداروں کا نشیمن و گہوارہ ہے اور ان کی غذائیت کے انتظامات میں بڑی معاون ہے۔ یہ تمام موجودات جملہ جانداروں کی حیات و نشو و نما پر بلا شبہ اثر ڈالتے ہیں۔ جس کا انکار کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ انسان نے جو چیزیں بنائی ہیں مثلاً دوائیں اور منفعت کی دوسری اشیاء اُن کی اثر پذیری بھی مسلّم ہے۔ یہ فائدہ مند بھی ہیں اور ہلاکت خیز بھی۔

جہاں تک جائزہ کی دوسری جہت کا تعلق ہے وہ یہ کہ اس کائنات کے مختلف فریق ایک دوسرے پر کتنے منحصر ہیں اور ان کا اس کائنات کی تعمیرات بشمول حیات، بقا اور ارتقاء میں کتنا کتنا حصہ ہے۔ یہ بھی پہلی جہت کی تفصیلات سے مزید آسان ہو گیا ہے۔بہر حال یہاں بعض باتیں بتانا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مثلاً خدا نے یہ پوری کائنات بنائی ہے، سب اس کے کرم پر منحصر ہیں۔

یہ سب اسی کی نعمتیں اوراس کے رحمتوں کے مظاہر ہیں۔ انسان بھی اس دنیا میں اپنی حصہ داری ریکارڈ کرانے میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ اس نے بھی ایک متوازی اور مصنوعات کی دنیا بنائی ہے۔ وہ بھی اپنے آرام و آسائش کے لئے پوری طرح متحرک عمل ہے۔ وہ بھی خدا کی بنائی ہوئی دنیا اور اپنی مصنوعات کی دنیا دونوں پر اپنا کنٹرول بنانا چاہتا ہے۔ اس نے بھی اس کائنات کو حسین بنانے میں خاصا بڑا رول ادا کیا ہے۔

انسان کے علاوہ دیگر جاندار بھی اس کائنات کے توازن قائم کرنے میں اپنی مثال آپ ہیں اور ان کا حصہ کم از کم کچرا صاف کرنے اور آلودگی دور کرنے میں کسی سے کم نہیں ہے۔ یہ جاندار اس کائنات کے نظام (Ecosystem) میں اور غذائی کڑیاں اور غذائی جال (Food chain and Food web) کے فطری توازن میں اپنا حصہ ادا کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ غذائی نظام میں انسان کے مد مقابل(Competitor) ہیں تو دوسری طرف خدمتگار (Service provider)  اور صفائی کے ذمہ دار  Scavangers & cleaners & cleansing agents)۔

ان مثبت حصہ داری  (Positive contribution)کے علاوہ انسان نے صنعتی انقلاب کے بعد کروڑوں مصنوعات (Artificial things) اس کرۂ ارض کے تینوں طبقات یعنی ہوا، پانی، اور زمین میں جانے اور انجانے نیز چاہتے ہوئے اور نہ چاہتے ہوئے خوب پھیلائے ہیں جن کے مضر اثرات کا سائنسداں بھی انکار نہیں کرتے۔ ان اشیاء کو بنانے کے لئے جس قوت و انرجی کی ضرورت تھی اس کے لئے کوئلہ کا اور اب نیوکلیر انرجی کا استعمال بھی ہونے لگا ہے جس سے مزید مسائل پیدا  ہوئے ہیں۔ مزید بر آں درپیش مثلاً گلوبل وارمنگ یعنی کرۂ ارض کے درجہ درجۂ حرارت میں اضافہ، نیو کلیر فضلہ، آلودگی وغیرہ۔ اس منفی حصہ داری میں انسان کے ناجائز،بے جا اور حد سے زیادہ استعمال اور استحصال کو دخل ہے۔ اگر یہ غلطیاں انجانے میں ہوئیں تو بعض جرم جان بوجھ کر اور فطرت کو چڑانے اور ایذا دہی میں بھی ہوئیں۔زمانۂ حال کے سائنسداں اس ماحولیاتی بحران کی ذمہ داری خود انسان پر ہی ڈالتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ انسان نے وہ فطری توازن بگاڑ دیا جو لاکھوں سالوں سے اس کرۂ ارض پر قائم تھا۔(۷)   وہ آلودگی اور بڑھتے ہوئے ناکارہ فضلات کو بھی اس بحران کا ذمہ دار گردانتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں اوزون ہول کی ذمہ دار ایر کنڈیشنر میں استعمال ہونے والی سی۔ایف۔سی ہیں جو بلا شبہ جا انسانی مصنوعات ہیں (۸)۔ وہ اپنی کم علمی جہالت اور اسراف کے بھی معترف ہیں اور ہر عمل کے رد عمل کو بھی مانتے ہیں۔ قانون فطرت کا انکار بھی نہیں کرتے۔ بلکہ خالق و مدبر اور عادلِ  ازل خدائے کائنات کا انکار بھی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ آج اس کی ضرورت کائنات کے توازن اور اس کے تعاملی رشتوں میں پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے اور جس کا جابر و قاہر ہاتھ سائنسدانوں تک کو کام کرتا محسوس ہو رہا ہے۔ اور جو کچھ قرآن چودہ سو سال پہلے کہہ چکا ہے (۹) ۔(سنرلیھم اٰیاتنا فی الآفاقِ و فی انفسھم حتیٰ تبین لھم انّہٰ  الحق (السجدہ۔۵۳ ) یعنی ہم ان کو آفاق وانفس میں نشانیاں دکھائیں گے حتیٰ کہ حق ان پر واضح و منکشف ہو جائے گا۔ اور جس نے خشکی اور تری کے فساد کو انسانوں کے کرتوت کی وجہ بتایا تھا وہ نتیجہ فساد مادی سطح پر ماحولیاتی بحران کی شکل میں بھی ظاہر و باہر ہو گیا ہے (۱۰)   (الروم۔۴۱)۔ لہٰذا پہلے ہم قرآن کی روشنی میں اکالوجی اور ماحولیاتی بحران کے تعلق سے چند معروضات پیش کریں گے اور بعد میں کائنات کے ارتباطی رشتوں کو قرآنی سانچہ فراہم کرنے والی بعض سفارشات رکھیں گے۔

پہلا بنیادی نکتہ اس باہم دگرمر بوط (Eco-functioning world)  کائنات میں یہ ہے کہ اس کا ہر جز اور فریق معاملہ یعنی انسان، دیگر جاندار اور غیر جاندار اشیاء قرآن مجید کی رو سے تخلیق خداوندی(Creation of God) ہیں اور مخلوقات خدا کی خداوندی کی حیثیت سے ایک خاندان (Family) ہی کے افراد و ارکان۔ لہٰذا یہ تینوں فریق بندگانِ خدا اور مخلوقاتِ خدا کی  ایک لڑی اور ہار میں پروئے جا سکتے ہیں۔ اور ان کاآپس میں رشتہ اخوت اور دوستی کاہے،دشمنی کا نہیں۔ مغربی سائنس کی بنیادوں میں یہ غلطی ہوئی کہ اس میں مخلوقات عالم کی جامع اصطلاح نیچر (Nature) کو انسان کا دشمن یا کم از کم حریف گردانا گیا اور اس کو اذیت دینا جائز سمجھا گیا(۱۱) ۔ مزید بر آں فطرت (Nature) کی خدمات حاصل کرنا (Services) ایک بات ہے اور اس کا استحصال (Exploitation) کرنا بالکل الگ چیز۔ ہمارا ماننا ہے کہ تمام کائنات ہماری خدمت میں لگی ہوئی ہے (۱۲)  اور چوپائے ہماری خدمت کرنے کے لئے ہمارے مسخر کئے گئے ہیں۔ سورج کو اﷲ تعالیٰ نے ہمارے لئے اس معنی میں مسخر کیا ہے کہ ہم اس کی روشنی اور حرارت سے اپنے سامان زیست حاصل کریں۔ نہ جانوروں کو ایذا دینا درست ہے اور نہ ان کا اپنے مقاصد کے لئے استحصال (Exploitation)۔ کرنا کائنات فطرت کے تمام اشیاء انسان کے استعمال و خدمت ہی کے استعمال و خدمت ہی کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔ ’’ان الدنیا خلقت لکم‘‘ (۱۳)  مغربی سائنسدانوں سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ انھوں نے کائنات میں تخلیق خداوندی کی تسخیر(Service and subjugation) اور تصرف(Control) میں فرق نہیں کیا۔ہمارے نزدیک تصرف مطلق کا حق مدبر کائنات کا ہے لہٰذا جب ہم نے قوانین فطرت کو توڑنے کی کوشش کی تو اس کا ردِ عمل سنت اﷲ کی شکل میں نمودار ہوا اور ماحولیات بحران اسی انسانی تخریب کائنات کا خدائی رد عمل ہے۔ اور قرآن مجید کے حکم کائناتی توازن میں سرکشی کے موجب نہ بنو ’’الا تطغو فی الیمزان‘‘(۱۴) (الرحمٰن) کی یاد دلاتا ہے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جمادات اور غیر نامیاتی عناصر  اور جانداروں کے درمیاں جو تال میل ہے وہ باہمی تعاون  کا ہے اور کائنات میں اس کے ذریعہ توازن قائم ہے۔ یہ دونوں رفیق بنام فریق اس کائنات میں توازن قایم کر کے اپنی تکمیل و بقا اور ارتقاء میں اہم اور مثبت رول ادا کر رہے ہیں۔ چنانچہ اگر انسان ان دونوں میں سے کسی ایک پر بھی اپنا منفی اثر  ڈالے گا تو سائیکلز رک جائیں گے۔جن سے انسان بھی نہ بچ سکے گا۔ چونکہ اﷲ تعالیٰ ظلم و فساد کو پسند نہیں کرتا لہٰذا انسانوں کی بد اعمالیوں پر اس کی سنتِ قاہر کا ظہور عین عدل کا مظہر ہے۔ چونکہ ہماری غلطیوں کی وجہ سے ماحولیاتی بحران رو نما ہو چکا ہے اور اﷲ تعالیٰ کی سنتِ قاہرہ اس کی ناراضگی کا مظہر ہے۔لہٰذا اس کی رحمت کو متوجہ کرنے کے لیے کم از کم غلطیوں پر اصرار سے مکمل احتراز تو کرنا ہی چاہئے اور انسان کو بحیثیت لہذا کالوجکل نظام کے کارندوں کے، اخوت باہمی کا مظاہر ہ کرنا چاہئے۔ چونکہ یہاں انسان کا منفی رویہ بالکلیہ ذمہ دار ہے اس لئے اخوت اور آپسی خدمت و تعاون (symbiosis)  کا انسانی جذبہ اس بحران کو کم کرنے میں یقیناً ممد د و معاون ثابت ہو گا۔ قرآن مجید کی آیت کریمہ  ’’و من کُل شی ء خلقنا زوجینِ لعلکم تذکرون‘‘(۱۵)۔  (الذاریات۔۴۹)  ہم کو یہ تحریک فراہم کرتی ہے کہ کائنات کے اعلیٰ مقاصد بقاء و ارتقاء میں یعنی دونوں رفیقِ تعامل( Both Interdependant functionaries)  زوجین کا رول ادا کر کے خود اپنی اور کائناتی تکمیل میں حصہ دار (Contributor) بنتے ہیں۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ بظاہر انسا ن جمادات کے مابین فعال تعاون (Active cooperation) محسوس نہیں ہوتا، جبکہ انسانی خدمت میں جمادات کا حصہ (Contribution) بھی کم نہیں ہے اور نہ کم اہم (Less important)۔یہ رشتہ انسان کا صارف (Consumer) کی حیثیت میں اور جمادات کا غذا اور(Nutrients) قابل استعمال اشیاء (Useful products) کی حیثیت میں تو سائنس داں مانتے ہی ہیں۔اور مزید یہ بھی مانتے ہیں کہ ان کی انقلابِ ماہیت (Transformation) بھی کائناتی توازن اور ماحولیاتی صحت کے لئے ضروری ہے (۱۶)  ۔آج کے انسان نے کرۂ ارضی پر کروڑوں نئے جمادات خود بنا کر خدمت گزار جانداروں کا بوجھ بڑھا دیا۔یہ نئی اشیاء اسی خیال کے تحت بنائی گئیں کہ فطری اشیاء دور جدید کے انسان کی ضروریات کے لئے نہ تو کافی ہیں اور نہ اتنی کارآمد جیسی وہ خود بنا سکتا ہے۔ اس خیال خام کا اثریہ ہوا کہ نادان انسان نے مصنوعات کا ڈھیر لگا دیا، اسی طرح وہ فطری اشیا ء کی تخفیف و تحقیر (Under estimation) کے جرم کا مرتکب بھی ہوا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ خدا کی کائنات میں اپنے مطلب اور کام کی چیزوں کو ڈھونڈھنے اور ان کی وضاحت کی تحقیق مزید میں اپنی صلاحیتیں صرف کرتا اور یہ تبھی ممکن تھا جبکہ وہ اس کائنات کے خالق اور منعم حقیقی کی معرفت سے آشنا ہوتا اور تب ہی وہ یہ یقین کامل رکھتا کہ ’’ان الدنیا خُلقت لکم‘‘ یعنی اے انسانوں یہ دنیا تمہارے لئے ہی بنائی اور سجائی گئی ہے (۱۷)۔

چونکہ دورِ جدید کے انسان کو اپنے علم و ہنر مندی اور تجرباتی عقل پر بے جا اعتماد تھا لہٰذا ایک طرف تو ضروریات زندگی کو اپنے پروڈکٹ(Product) سے جوڑا اور فطری اشیاء کو جانے انجانے رد کیا تو دوسری طرف شیطانی اکساہٹوں میں آ کر مصنوعی تعیشات کا انبار لگا دیا جبکہ ان سب کے لئے قوت متحرکہ اور انرجی کی بے تحاشہ ضرورت تھی جو انسانی ہاتھ پیر اور قدرتی ذرائع انرجی پوری نہ کرسکتے تھے۔ لہٰذا مدفون خزانوں کی تلاش ہوئی وہ نہ تو مل سکے البتہ آفات سماوی سے ہلاک شدہ جانداروں کے آثار ضرور ہاتھ آ گئے جن کو بلا شبہ خزانوں سے زیادہ قیمتی سمجھا گیا۔یہ طنز محض ہی نہ تھا بلکہ یہ سائنسی نظریہ خود مغربی سائنس ہی نے پیش کیا تھا کہ کوئلہ ملبے میں دبے درختوں کے معدنی آثار اور پٹرول آفتِ سماوی کی ماری مچھلیوں اور جانداروں کے آثار (Remains) ہیں (۱۸)۔ بہر حال ماضی قریب اور موجودہ انسان نے حیوانی اور نباتی لاشوں پر سیاست بھی کی اور صنعت گری بھی۔

یاد دہانی کے لئے مغربی سائنس کی تاریخ اور اس کی بنیادوں پر ایک نظر ڈال لیں۔ سائنس جدید کی بنیادیں خدا بیزار سائنسدانوں اور عقلیت پر ست فلاسفہ نے رکھیں جن کے روح رواں کوپرنکس، گلیلیو، لووائژر وغیرہ تھے (۱۹)  ۔ا ور یہ سب کچھ استحصالی اور ظالم چرچ اور عیسائی تھیوکریسی کے ردِ عمل میں ہوا جبکہ مسلمانوں نے سائنس کو کائنات کے اسرارو رموز اور اشیاء کی حقیقتوں کو معلوم کر کے رب کائنات کی معرفت کا ذریعہ سمجھا تھا(۲۰)۔ در اصل مغربی سائنس کی بنیادیں حواس پر مبنی علم ہی پر رکھی گئی ہیں لہٰذا ماوراء حواس ذریعۂ علم اور خالق کُل کا انکار کر دیا گیا۔ اگر غور کیا جاتا تو وہی سائنسی تجربات جو کائناتی قوت اور توانائی کے اتحاد (Unification of cosmic forces) کی طرف اشارہ کرتے تھے وہ خدا کے وجود اور ا س کی وحدانیت اور توحید قوت اور سرچشمٔہ قوت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ لہٰذا کیا ماحولیاتی بحران کا پیدا ہونا بذات خود ہماری غلطیوں کا اشارہ نہیں کرتا۔ کیا غلطیاں صرف مادی نوعیت کی ہیں جیساکہ ملحد سائنسداں باور کرانا چاہتے ہیں۔ یا بنیادی، اخلاقی اور روحانی سبھی نوعیت کی ہیں۔ مزید برآں کیا جو کچھ ہوا انجانے میں ہی ہوا یا اکثر فیصلے اور تحقیقات ملحدانہ فکر کی غماز تھیں۔ کیا اس حقیقت سے کوئی انکار کرسکتا ہے کہ ڈارون کا نظریۂ ارتقاء سائنسدانوں کے دل و دماغ پر اس طرح چھایا ہوا ہے کہ سائنسی دنیا میں اس کے خلاف کہنے کی ہمت نہیں ہوتی۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو اس حقیقت پر شک کی گنجائش نہ رہے کہ سائنسداں بھی صنعتی انقلاب کی نام نہاد ترقیوں کی گونج میں غلطیوں پر غلطیاں کرتے رہے مثلاً بیسویں صدی کے سبز انقلاب(Green revolution)ہی کو لیجئے جس میں کیمیاوی کھادوں اور جراثیم کش دواؤں کا بنیادی رول ہے (۲۲) ۔ اب ذرا اس سبز انقلاب اور مابعد سبز انقلاب بحران کا تجزیہ کریں۔ یہ بات سبز انقلاب سے پہلے بھی معلوم تھی کہ زمین کی زرخیزی نائٹروجن (N) فاسفورس (P) اور پوٹاشیم (K) کے علاوہ ہزاروں فائدہ مند کیڑوں اور جراثیم پر منحصر ہے جو زمین میں قدرتی سائیکلز بروئے کار لا کر اس کی ز ر خیزی قائم رکھتے ہیں۔جب کاشتکاروں نے سا ئنسدانوں کے کہنے پر کمپوسٹ (Compost) کے بجائے غیر نامیاتی شکل میں (NPK) دینا شروع کیا تو پر اور چند فصلوں تک غلہ کی پیداوار خوب بڑھی مگر ان کیڑوں اور جراثیم کو غذا نہ مل سکی جو کمپوسٹ میں موجود ہوتی ہے۔ لہٰذا ان جراثیم کے مرنے سے زمین کی  روئیدگی اور زرخیزی کی صلاحیت ختم ہو گئی۔ یہاں انسان نے کائنات کے خدائی نظام کو جو لاکھوں سال سے جاری و ساری ہے اس کو اپنی دست برد سے بگاڑ دیا۔اکالوجی کی اصطلاح میں انسان نے اس غذائی جال  (Food web) اور فوڈ چین (Food Chain) میں رخنہ ڈالا اور اس کا توازن بگاڑ کر اپنے فائدے کے بجائے دراصل نقصان ہی کیا۔

دوسری طرف پیداوار بڑھانے کے لیے کیڑے مار دوائیں (Pesticides) بنائی جانے لگیں۔ انسان عجلت پسند ہے اور نقد فائدہ کی طرف دوڑتا ہے لہٰذا اس نے ان دواؤں کو بناتے،خریدتے اور استعمال کرتے وقت یہ نہیں سوچا کہ کیا کیڑے اب بڑھے ہیں یا پہلے سے موجود تھے؟ آج سے چند صدی قبل اس سلسلہ میں کیا صورت حال تھی؟ اگر کیڑے اب بڑھے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا کیڑے مار Pesticidiچیزیں قدرتی طور پر موجود نہیں ہوتیں ؟ اگر ایسا تھا اور یقینا  تھا کیونکہ اب تک بھی تو پودے ان کیڑوں کے باوجود زند ہ تھے بظاہر اتنے صحتمند نہ سہی۔یہ بھی تو قرین قیاس تھا کہ صنعتی آلودگی نے زمین زرخیزی اور فائدہ مند کیڑوں کو نقصان پہنچایا ہو۔یہ بنیادی سوال تھے مگر ان سوالوں پر غور کیٔے بغیر مصنوعات کی دوڑ میں نیز فیشن پبلسٹی، بھیڑ چال اور مقابلہ آرائی کے دور میں ایک سے ایک زود اثر کیڑے مار دوا بازار  میں پہنچا دی گئی جس کے لئے سحر انگیز نعرے اور دعوے بھی کئے گئے۔اور سائنسدان بھی خوب خوش تھے کہ ان کی مصنوعات نہ صرف غذائی بحران کا مسئلہ حل کریں گی بلکہ اس لیے بھی کہ لوگ ان کو مبارک باد پیش کر رہے تھے کہ اصل رول تو ان کاہی ہے۔ یہ تو بعد میں راز کھلا کہ فطرت کے نظام سے پہلو تہی کر کے بلکہ اس کو بگاڑ کر انھوں نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور بد قسمتی سے ان کی صنعت،فطری صناعی سے مات کھا گئی ہے کیونکہ کیڑوں میں اس دوا کا اثر غائب (Resistance)ہوتا جا رہا ہے اور دوسری طرف کیڑے مار دواؤں کے زہر سے نفع بخش جاندار اور انسانوں کی صحت کو سخت خطرے لاحق ہو گئے ہیں۔

اب بحیثیت سائنسداں اگر ہم یہ کہنے لگیں کہ مندرجہ بالا تناظر میں کیمسٹ کیا کرتے تو اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہو گا کہ وہ اپنی ترجیحات بدل دیتے کیونکہ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر علم کا نشوونما اس کی بنیاد میں پیوست تصور کائنات اور آفاقی قدروں کا مرہونِ  منت ہوتا ہے اور بحیثیت مسلم کم از کم ہمیں تو علم نافع ہی اختیار کرنا ہے۔ اور اس قدر (value) سے شاید ہی کسی کو اختلاف ہو۔ اسی طرح حالانکہ یہ بات صحیح ہے کہ علم و تحقیق کا سفر زیادہ تر انجانے راستوں پراور اندھیرے میں ہی ہوتا ہے۔ اور یہ بعد میں اندازہ ہوتا ہے یا معلوم ہوتا ہے کہ وہ راستہ منزل تک نہیں پہنچا سکتا لیکن مسلسل خود احتسابی سائنسدانوں کا طرۂ امتیاز ہے لہٰذا اشارہ ملتے ہی ان کو راستہ بدل دینا چاہئے تھا۔ بیشتر سائنسداں چھوٹی چھوٹی مجبوریوں پر اپنے راستے بدلتے رہتے ہیں اور آخر کار ترقی کی منزلیں طے کرتے ہیں۔ مسئلہ در اصل تب پیدا ہوتا ہے جبکہ سائنسداں اپنے ضمیر کی آواز کو دبا کر اور بر وقت صحیح محاسبہ نہ کر کے، یا دنیا سے ڈر کر یا معاشرہ کے جھوٹے مفاد کے لئے،یا اپنے نام و نمود کے لیے، یا فنڈنگ ایجنسی  کے مفاد کا خیال رکھتے ہوئے کوئی تحقیق کرتا ہے اور اُن بنیادوں پر اپنے فیصلے کرتا ہے۔

ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ کم از کم مسلمان سائنسدانوں کو ایسے پروجیکٹ لیتے وقت یہ ضرور غور و خوض کر لینا تھا کہ وہ اسلامی تصورِ کائنات اور آفاقی اقدار کے خلاف تو نہیں ہیں اور ان سے ہم کیا نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں نیز وہ نتائج انسانی مفاد اور اخلاقی دائرہ میں محمود مانے جائیں گے یا نہیں مزید برآں اور وہ تحقیق علم نافع کے ذیل میں آئے گی یا علم ضار کے۔ آج جبکہ ہمیں اپنی بہت سی غلطیوں کا علم ہو چکا ہے مثلاً یہ کہ زینت و سنگار کے لیے بیشتر چیزیں یعنی  Genetics ماحول پر اور انسانی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہیں اس کے باوجود بھی اگر ہم انھیں پروجیکٹ پر کام کریں اور کائنات میں موجود فطری دواؤں کے بجائے انسانی مصنوعات پر اصرار کریں تو ہمارا کوئی عذر اور ہمارے یہ فیصلے کیسے صحیح مانے جا سکتے ہیں۔

اب ہم بنیادی سوال کو نئے سرے سے لے کر اس کے جواب کی جانب چند اشارے کریں گے وہ یہ کہ سائنسدانوں  سے کہاں غلطی ہوئی۔اس سوال کا منطقی جواب یہ ہے کہ (۱) انھوں نے قدرتی نظام اور اس کی اہمیت کو عوام کے سامنے پیش نہیں کیا۔(۲) وہ خود بھی صنعت کاروں اور تاجروں کے آلۂ کار بن گئے۔(۳) وہ خود بھی اس کائنات میں اپنی متوازی کیمیاوی دنیا بنانا چاہتے تھے جوان کی نظر میں موجود کیمیائی دنیا سے بہتر ہو گی۔(۴) وہ کائنات کو خود اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے خواہش مند تھے اور خدا کی کائنات میں اپنا تصرف مالکانہ چاہتے تھے ورنہ کلوننگ کے ذریعہ اپنی مرضی کے جاندار کیوں بناتے اور جینیٹیکلی ماڈیفائڈ  ( Genetically modified) چیزیں کیوں بناتے۔(۵) وہ کائنات میں موجود اشیا ء کو ناقص سمجھتے تھے اور ان کے برخلاف اپنی مصنوعات کو بہتر اور زیادہ پُر اثر سمجھتے تھے۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ اول تو انھیں خدا کے وجود پر یقین نہیں تھا دوسرے خدائی کائنات ان کو ناقص ہی نہیں بلکہ انسان دشمن محسوس ہوتی تھی کیونکہ فصل خراب کرنے والے عوامل اور کیڑے ان کو پریشان رکھتے تھے۔(۶) ڈارون نے سائنسدانوں کو یہ سبق پڑھایا کہ یہ دنیا جانداروں کی رزم گاہ ہے جہاں ہر جاندار اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور جو اس جنگ میں جیت جاتا ہے وہی باقی رہتا ہے۔ لہٰذا کیوں نہ انسان ایسے کیمیاوی ہتھیار بنائے جو دوسرے تمام جانداروں کا خاتمہ کر دیں۔ (۷) صنعت کاروں نے سائنسدانوں کو نئی سے نئی خوشنما اور زود اثر مصنوعات (Synthetic product) بنانے پر ابھارا اور سرمایہ داروں نے ساری دنیا کو منافع خوری کی بنیاد پر چلایا اور سائنسداں بھی جانے اور انجانے اُن ہی لوگوں کے آلۂ کار بن گئے۔ چونکہ معاشرہ کی اکثریت بھی جانے یا انجانے طور پر ملحد نظریات کو ترقی پسندی کی علامت اور علمبردار سمجھ رہی تھی لہٰذا سائنسداں بھی اسی خیال خام میں مبتلا ہو گئے۔

مندرجہ بالا خدا بیزار عوامل نے نہ صرف سائنسی امور میں خدائے کائنات کے وجود کو در خور اعتنا نہ سمجھا بلکہ کائناتی عوامل میں اس کے اذن و تصرف کا انکار کر دیا اور اس پر مستزاد یہ کہ مادہ پرست انسان نے مادہ و انرجی کا ایک متوازی نظام بنا کر اپنے منعم اور معبود حقیقی اﷲ تعالی کو بھی جانے یا انجانے حریف بنا لیا،وہ اس طرح کہ خدائی خلقت  (God made things) اور انسانی صنعت(  (Man made substancesمیں یک گونہ مسابقت بلکہ مقابلہ آرائی( Competition) پیدا ہوئی۔نیز خدائی ذرائع انرجی  مثلاً سورج، پانی، ہوا وغیرہ  کے بجائے کوئلہ، پٹرول، اور تابکاری پر مبنی ذرائع انرجی پر کلی انحصار ہوا۔ جب تصورِ کائنات بگڑا، سائنس الحاد کے راستے پر گامزن ہوئی اور فطرت کی اہمیت سے اغماض بر تا گیا، خدائی صنعت میں نقص دکھا کر اپنی مصنوعات کو بر تر بنا کر پیش کیا گیا، فیشن پرستی اور اباہیت پرستی بلکہ اسراف و تعیش نے انسانی زندگی کے پیمانے بدل دیئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ بعض شیطانی کارندوں نے حقیقی مذہب و فطرت، خدا اور اخلاقی قدروں تک کا مذاق اڑانا شروع کر دیا اور مادی اور ظاہری ترقی ہی کو انسانیت کی معراج سمجھا جانے لگا تو خدائی ہاتھ کو کبھی نہ کبھی تو ظاہر ہونا تھا اور ــ’’سنت اﷲ‘‘  اگر اب بھی نہ ظاہر ہوتی تو کب ہوتی۔ اور اس کا مقصد پھر بھی یہی تھا کہ’’ لعلکم یرجعون‘‘  تاکہ اﷲ کے بندے پلٹ آئیں لہٰذا ہماری نظریں  میں ماحولیات بحران، عذاب الٰہی ہونے کے بجائے  اس کی تنبیہ ہی ٹھہرتا ہے۔ ابھی بھی وقت ہے اور مہلت عمل ہے لہٰذا اگر ایک بار غلطی کی اور ٹھوکر کھائی جس کا خمیازہ ماحولیاتی بحران کی شکل مین بھگت رہے ہیں تو ہماری عقلمندی اور کرامت بنی آدم کا بھی تقاضہ ہے اور بندگی اور محدودیت علمی کا بھی کہ ہم اپنے مسائل کا حل خلاقِ عالم اور علام الغیوب سے پوچھیں۔اور اس کی آخری کتابِ  ہدایت جو محفوظ بھی ہے اس میں ڈھونڈیں (۲۴)۔

ٍ        ہماری نظر میں قرآن کریم میں اس بحران سے نکلنے کے لئے جو اشارے ملتے ہیں اور ہماری غلطیوں کی جو نشاندہی کی گئی ہے نیز قرآن بحیثیت انسان اور بحیثیت خلیفۂ ارضی ہم پر جو ذمہ داریاں عائد کرتا ہے اور وہ جن آفاقی اقدار کا علمبردار ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں :

(۱)    کتاب اﷲ کے مطابق انسا ن عقلی اور اخلاقی وجود رکھنے کی وجہ سے اپنے ہر عمل کا مالک کے حضور میں جوابدہ ہے اس کے ہر عمل کی ایک دن ضرور باالضرور باز پرس ہونی ہے اور وہ دن اس کی موت کے بعد بلکہ اس کائنات کی موت کے بعد آئے گا۔

(۲)قرآن مجید کے مطابق انسان کو اس دنیا میں جو کچھ ملا ہے چاہے وہ مال و زر اور صلاحیت کی شکل میں ہو یا علم و عقل اور مہلت عمر کی شکل میں، وہ سب اﷲ کی نعمتیں اور امانتیں ہیں۔ ان کے استعمال کے تعلق سے انسان کا جو رویہ ہے وہی اس کی حقیقی کامیابی و کامرانی کو یوم الحشرو حساب طے کرے گا۔

(۳)کتاب الٰہی کے مطابق انسان جس دنیا میں رہتا ہے اس کی ہر چیز کا اس پر حق ہے اگر اس نے ان کا پورا پورا حق ادا نہیں کیا تو اس دنیا میں اس کے قانون فطرت اور قانون اخلاق سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا۔ اس دنیا میں انسان  بذات خود اور اس کی اگلی نسلیں اور یوم آخرت میں وہ خود اپنے ظلم و حق تلفیوں کا خمیازہ ضرور بھگتے گا۔

(۴)   قرآن حکیم کے مطابق اس کائنات میں بہترین اور مکمل توازن پایا جاتا ہے اور خدا کا حکم ہے کہ اس کائناتی توازن کو نہ بگاڑا جائے۔ اگر انسان جانے یا انجانے اس توازن کو بگاڑنے کی کوشش کرے گا تو اس دنیا میں قانونِ اخلاق اور قانونِ فطرت کا ظہور ہو کر رہے گا اور وہ خود نقصان و تکلیف سے بچ نہیں سکتا۔ اس کائنات میں مخلوقات عالم بجز انسان کے سب اس کائناتی توازن کو برقرار رکھنے میں معاون ہیں لہٰذا اگر وہ ان مخلوقات عالم کے ساتھ دوستی و اخوت کا معاملہ کرے گا تو رب کائنات اس کی حفاظت اور ترقی کا ضامن ہے ورنہ حکم عدولی اور ظلم و تعدی کا مجرم بن کر ہرگز وہ سزا سے نہ بچ سکے گا چاہے اس کو کتنی ہی لمبی مہلت مل جائے۔

(۵)   اس کتاب محفوظ کے مطابق اس کائنات کی تمام چیزیں اﷲ تعالیٰ نے اپنے خلیفہ یعنی انسان کے لئے مسخر کر دی ہیں اور ان سب کو انسانی خدمت میں لگا دیا ہے۔ مگر اس کا مطلب وہ ہرگز یہ نہ سمجھے کہ اس کو ان چیزوں کے حقوقِ مالکانہ حاصل ہو گئے ہیں،اب وہ جیسے چاہے ان پر تصرف کرے،ان کو ذلیل کرے اور ان کا استحصال کرے اور نہ ان کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اشیاء کی فطری انقلاب ماہیت کا حق دیدیا گیا ہو۔اگر وہ اﷲ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف عمل کرے گا تو وہ خود اور اس کی اگلی نسلیں اپنے کرتوتوں کے سزا بھگتیں گی۔ایسی کلوننگ جینیٹک انجنئیرنگ  (Genetic Engineering) انجانے مسائل پیدا کر کے خود انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہیں۔ اور نسل انسانی کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ دیگر کائناتی بحرانوں کا تصور تک ہمارے لیے ناممکن ہے۔

(۶)    اس کائنات میں تنوع اور رنگا رنگی اس کے حسن، بقا اور ارتقاء کی ضامن ہیں۔اگر انسان اس کائنات کے تنوع اور حسن کو بگاڑنے کی کوشش کرے گا تو اس کی حرماں نصیبی کا داغ اگلی نسلوں تک کو نظر آئے گا اور وہ اس کو کلمہ خیر کہنے کے بجائے لعنت و ملامت کریں گی۔

(۷)   قرآن حکیم کے مطابق انسانی فلاح و ترقی (Sustainable development) کی کنجی کتابِ فطرت (آفاق و النفس) اور کتابِ الٰہی(قرآن کریم) کی ہم آہنگی میں ہے۔

ّ(۸)  اسلام اور قرآن کے مطابق طہارت و پاکیزگی، خالق کائنات کی فطرت اور مالک کائنات کی صفاتِ حسنہ میں سے ہے اور اس کی جنت کی بنیادی صفت ہے۔ لہٰذا انسان کو آلودگی دور کرنے اور بیکار فضلات (All types of wastes) کو ٹھکانے لگانے پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ اور اگر اُس نے طہارت و نظافت کو قائم کرنے یا، آلودگی و کثافت دور کرنے میں پہلو تہی کی تو اس کی صحت اور کائنات و  لوگوں کے آلہماحول کی حقیقی صحت خطرہ میں پڑ جائے گی۔

(۹)    قرآن کریم کے مطابق انسان اس دنیا میں اﷲ تعالیٰ کا خلیفہ ہے اور رسول اکرمؐ کے مطابق یہ دنیا انسان ہی کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ لہٰذا انسان کو فطرت دشمن بننے اور خدا کا حریف بننے کے بجائے فطرت دوست اور خدا کا بندہ و نائب ہونے ہی میں اس کی نجات ہے۔ اسی طرح اس کو یہی دنیا جنت نشان تو بنانا ہے مگر اس کو اپنی شدادی  جنت بنانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ لہٰذااس کو خلیفہ خدا کی حیثیت سے اس کائنات کی بقاء، ارتقاء اور حُسن کے قیام میں اپنا حصہ ادا کرنا ہے۔ اور اس دنیا کو جہنم زار بنانے کے بجائے جنت نشان بنانے میں اپنی مساعی خرچ کرنا ہے تاکہ اُسے اپنی ہی پہلے اسی کی خواہش کے مطابق فرشتہ صفت بھی کہا جا سکے اور اس دنیا میں بقائے دوام بھی حاصل ہوسکے۔

(۱۰)   یہ کائنات انسان کے لئے اس لئے مسخر کی گئی تھی کہ وہ اس کائنات کی ہر شے میں اپنی مادی اور روحانی احتیاج پوری کر سکے لہٰذا اپنی ہر احتیاج و ضرورت کے لئے سب سے پہلے اسی کائنات کی اشیاء میں اپنے جائز مسائل کا حل ڈھونڈھنا تھا تاکہ اولاً تو نئی اشیاء کے بنانے کے لئے جو اضافی بار پڑتا ہے وہ نہ پڑے کیونکہ وہ خلاف دانش ہے۔ ثانیاً کائنات کی ہر شئے سے اخوت و دوستی کا رشتہ مزید مستحکم کرنا تھا جو عین اخلاق ہے۔ ثالثاً فطرت کی اشیاء کی نفع مندی مزید اجاگر کرنا تھا جو تقاضۂ فطرت ہے۔ رابعاً فطرت (Nature) جو اﷲ تعالیٰ کی تخلیق ہے اسی میں ہر طرح کی تحقیق و جستجو اور غور و فکر کرنا تھی تاکہ خالقِ فطرت کی معرفت کے دروازے کھُلیں۔ خامساً اس حقیقت کا استحضار اور یقین جاگزیں کرنا تھا کہ یہ کائنات ابھی ناتمام ہے اور انسان میں بھی ایک معنوی خلاء ہے۔ اور اس خلاء کو پرُ کرنے کے لئے انسان کو مادی عیش و آرام کی نہیں بلکہ دائمی سکون اور حقِ مطلق کی تلاش ہے اور اس خلاء کو رب کائنات کا حقیقی فیضان، خصوصی کرم اور آخرت کا یقین ہی پرُ کرسکتا ہے۔ اس سکون کے حصول کا ایک بہترین نسخہ یہ ہے کہ انسان اس کائنات کی اشیاء کی معرفت کے آئینہ میں اس کے خالق و مالک تجلی دیکھ سکے اور اُن بے پایاں تجلیات الٰہی کا مشاہد ہ کر کے اپنی روحانی احتیاج بھی پوری کرسکے۔

٭٭

 

 

 

 

حواشی و مراجع

 

۱۔     فرجاف کیپرا ’’Fridj of Capra‘‘  کتاب عنوان The Turning Point : Science, Society & Rising Culture  مطبوعہ   Simon  & Schuster, Newyork Banton Pub                                      (1982)   (1984)

۲۔     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔،Nature،  اور فرجاف کیپربحوالہ سابق

۳۔    Encyclopedia of Environmental Pollution (Mc Graw Hill, U.S.A., London (8th Edition- (1997)

۴۔    سید مسعود احمد، کتاب بہ عنوان : ماحولیاتی بحران : اسباب و علاج ‘‘ مطبوعہ مرکزی مکتبہ اسلامی، پبلشرز، نئی دہلی (۲۰۱۱)

۵۔   Bird Life Org/……./Asia- Vultures Crisis / dichlofenac. html

۶۔     Bioremediation, Restoration Ecology, Environmental Microbiolog LIC Publication

۷۔   Man destroys the Ecological Balance-Newstatesman.com

۸۔    لاؤزن ڈن (T. Lawson Dunn) ’’کتاب بہ عنوان ‘‘  ’’ Guide to Global Environmental Issues‘‘(1997)

۹۔     القرآن : حم السجدہ۔۵۳

۱۰۔    القرآن : الروم۔۴۱

۱۱۔    رینی دیکارتے Descartes Rene (1983) “Principles of Philosophy” Translated by  Miller & Miller

نیز دیکھئے مریم جمیلہ کی کتاب بعنوان  Distributers   Islam and western Society (1991) Adam Publishers &

نیز دیکھئے  فرجاف کیپرا  بحوالۂ سابق Delhi (3rd Edition)

۱۲۔    القرآن القمٰن۔۲۰؛ النحل۔۱۴؛ الجاثیہ۔۱۲

۱۳۔

۱۴۔   القرآن: الرحمٰن۔۷

۱۵۔   القرآن: الذاریات۔۴۹

۱۶۔    People and Nature: An Introduction to Human Ecological Relations – by  E.F. Moram, Publ. Blackwell, US, U.K. Aust.

۱۷۔   …

۱۸     Origin of Petroleum, Coal by William Plotts (1995)

۱۹۔    مریم جمیلہ کی کتاب بعنوان      History of Western Science  مطبوعہ مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی، دوسرا اڈیشن (۱۹۸۱)

۲۰۔   مریم جمیلہ   Islam & Western Society مطبوعہ   Adam Pub. N.D. (1991)  نیز دیکھئے سید حسین نصر کتاب بعنوان ’’  “In Introduction to Islamic Cosmological Doctrines ogy, Environmental Microbiology مطبوعہ  Press Albany, New York (USA), (1993)

۲۱۔    ضیا ء الدین سردار کی کتاب بعنوان   Arguments for Islamic Science ناشر  CSOSعلی گڑھ  (        )

۲۲۔   وندنا  شوا کتاب بعنوان  Violence of Green Revolution”    “مطبوعہ  زیڈ بک (۱۹۹۲)

۲۳۔   القرآن : الروم۔۴۱

۲۴۔   سید مسعود احمد کتاب بعنوان ــــ’’ ماحولیاتی بحران : اسباب، علاج‘‘  مطبوعہ  مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی (۲۰۱۱)

٭٭٭

ماخذ: آیات، علی گڑھ، شمارہ ۲، ۲۰۱۴

تشکر: عارف مصباحی اور  ذکی کرمانی جنہوں نے فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید