FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

اجتہاد اور تقلید

               شہید مرتضی مطہری

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وما کان المومنون لینفردا کافۃ فلو لانفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیفقھوا فے الدین ولینذروا قومھم اذارجعوا الیھم لعلھم یحذرون

“تمام مومنوں کے لئے کوچ کرنا تو ممکن نہیں ہے مگر ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے تاکہ دین کا علم حاصل کرے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرے، شاید وہ اس طرح ڈرنے لگیں۔”(توبہ، ۱۲۲)

اجتہاد کی تعریف آج کل اجتہاد و تقلید کا مسئلہ موضوع سخن بنا ہوا ہے، آج بہت سے افراد یہ پوچھتے نظر آتے ہیں یا اپنے ذہن میں سوچتے ہیں کہ اسلام میں اجتہاد کی کیا حیثیت ہے؟ اسلام میں اس کا مآخذ کیا ہے؟ تقلید کیوں کی جائے؟ اجتہاد کے شرائط کیا ہیں؟ مجتہد کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ مقلد کے فرائض کیا ہیں؟

اجمالی طور پر اجتہاد کا مطلب دینی مسائل میں مہارت حاصل کرنا اور صاحب نظر ہونا ہے، لیکن ہم شیعوں کے نقطہ نظر سے دینی مسائل میں صاحب رائے ہونے کی دو صورتیں ہیں، جائز اور ناجائز۔ اسی طرح تقلید کی بھی دو قسمیں ہیں، جائز و ناجائز۔

ناجائز اجتہاد ہمارے نقطہ نظر سے ناجائز اجتہاد کا مطلب قانون سازی ہے یعنی مجتہد اپنی فکر اور اپنی رائے کی بنیاد پر کوئی ایسا قانون وضع کرے جو قرآن و سنت میں موجود نہیں ہے، اسے اصطلاح میں “اجتہاد بالرائے” کہتے ہیں۔ شیعی نقطہ نظر سے اس قسم کا اجتہاد منع ہے، لیکن اہل سنت اسے جائز سمجھتے ہیں۔ اہل سنت جب قانون سازی کے مصادر اور شرعی دلیلوں کو بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں، کتاب، سنت، اجتہاد، اجتہاد کو، جس سے مراد اجتہاد بالرائے ہے، قرآن و سنت کی صف میں شمار کرتے ہیں۔

اس اختلاف نظر کا سبب اہل سنت کا یہ نظریہ ہے کہ کتاب و سنت کے ذریعے بننے والے قوانین محدود ہیں، حالانکہ واقعات و حادثات لامحدود ہیں، لہٰذا کتاب و سنت کے علاوہ ایک اور مصدر ضروری ہے جس کے سہارے الٰہی قوانین بنائے جا سکیں اور یہ مصدر وہی ہے جسے ہم “اجتہاد بالرائے” کے نام سے یاد کرتے ہیں، انہوں نے اس سلسلے میں رسول اکرم سے کچھ حدیثیں بھی نقل کی ہیں، من جملہ یہ کہ رسول خدا جس وقت معاذ بن جبل کو یمن بھیج رہے تھے، ان سے دریافت فرمایا کہ تم وہاں کیسے فیصلے کرو گے؟ معاذ نے کہا، کتاب خدا کے مطابق۔ حضرت نے فرمایا، اگر کتاب خدا میں تمہیں اس کا حکم نہ مل سکا؟ معاذ نے عرض کیا، رسول خدا کی سنت سے استفادہ کروں گا۔ حضرت نے فرمایا، اور اگر رسول خدا کی سنت میں بھی نہ ملا تو کیا کرو گے؟ معاذ نے کہا، اجتہد رائی یعنی اپنی فکر، اپنی رائے، اپنے ذوق اور اپنے سلیقے سے کام لوں گا۔ کچھ اور حدیثیں بھی اس سلسلے میں ان لوگوں نے نقل کی ہیں۔

“اجتہاد بالرائے” کیا ہے؟ اور کس طرح انجام پانا چاہئے؟ اس سلسلے میں اہل سنت کے یہاں خاصا اختلاف ہے۔ شافعی کو اپنی مشہور و معروف کتاب “الرسالہ” میں، جو علوم اصول فقہ میں لکھی گئی، پہلی کتاب ہے اور میں نے اسے پارلیمنٹ کی لائبریری میں دیکھا ہے، اس میں ایک باب “باب اجتہاد” کے نام سے بھی ہے، شافعی کو اس میں، اس بات پر اصرار ہے کہ احادیث میں “اجتہاد” کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس سے صرف “قیاس” مراد ہے۔ قیاس کا مطلب، اجمالی طور پر، یہ ہے کہ مشابہ مورد پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے سامنے درپیش قضیہ میں ان ہی مشابہ موارد کے مطابق حکم کریں۔

لیکن بعض دوسرے سنی فقیہوں نے اجتہاد بالرائے کو قیاس میں منحصر نہیں جانا ہے بلکہ استحسان کو بھی معتبر مانا ہے۔ استحسان کا مطلب یہ ہے کہ مشابہ موارد کو مد نظر رکھے بغیر مستقل طور پر جائزہ لیں اور جو چیز حق و انصاف سے زیادہ قریب ہو، نیز ہمارا ذوق و عقل اسے پسند کرے اسی کے مطابق حکم صادر کریں۔ اسی طرح “استصلاح” بھی ہے، یعنی ایک مصلحت کو دوسری مصلحت پر مقدم رکھنا ایسے ہی “تاوّل” بھی ہے یعنی اگرچہ کسی دینی نص، کسی آیت یا رسول خدا کی کسی معتبر حدیث میں ایک حکم موجود ہے لیکن بعض وجوہات کے پیش نظر ہمیں نص کے مفہوم و مدلول کو نظرانداز کر کے اپنی “اجتہادی رائے” مقدم کرنے کا حق ہے۔ ان اصطلاحوں کے متعلق تفصیلی بحث و گفتگو کی ضرورت ہے اور اس طرح شیعہ سنی کی بحث بھی چھڑ جائے گی۔ اس سلسلے میں یعنی نص کے مقابلے میں اجتہاد کے متعلق متعدد کتابیں لکھی گئی ہیں اور شاید سب سے اچھی کتاب “النص و الاجتہاد” ہے جسے علامہ جلیل سید شرف الدین رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے۔

شیعہ نقطہ نظر سے اس طرح کا اجتہاد ناجائز ہے، شیعوں اور ان کے آئمہ کی نظر میں اس کی ابتدائی بنیاد ہی، یعنی یہ کہ کتاب و سنت کافی نہیں ہیں لہٰذا ہمیں اپنی فکر و رائے سے اجتہاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے، درست نہیں ہے، ایسی بے شمار حدیثیں پائی جاتی ہیں کہ ہر چیز کا کلی حکم قرآن و سنت میں موجود ہے کتاب “وافی” میں باب البدع والمقائیس” کے بعد ایک باب ہے جس کا عنوان یہ ہے:

باب الرد الی الکتاب والسنۃ وانہ لیس شئی من الحلال و الحرام وجمیع ماتحتاج الیہ الناس الا وقد جاء فیہ کتاب او سنۃ(کافی، جلد ۱، کتاب العلم، قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنے کا باب اور یہ کہ ہر حلال و حرام اور عوام کی ضروریات قرآن و سنت میں موجود ہیں)

قیاس و اجتہاد کو قبول یا اسے رد کرنے کے متعلق دو جہتوں سے بحث و گفتگو کی جا سکتی ہے۔ ایک یہی جہت جسے میں نے بیان کیا کہ قیاس و اجتہاد بالرائے کو اسلامی قانون سازی کا ایک سرچشمہ و مصدر تسلیم کر لیا جائے اور اسے کتاب و سنت کی صف میں ایک مستقل مصدر مانتے ہوئے کہیں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جن کا حکم وحی کے ذریعے بیان نہیں ہوا ہے، اب یہ مجتہدوں کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی رائے سے ان کا حکم بیان کریں، دوسری جہت یہ ہے کہ قیاس و اجتہاد بالرائے کو واقعی احکام کے استنباط کے وسیلہ کے طور پر اسی طرح استعمال کریں جس طرح دوسرے وسائل، مثلاً خبر واحد سے استفادہ کرتے ہیں اسے اصطلاحی زبان میں یوں سمجھئے کہ ممکن ہے قیاس کو موضوعیت کی حیثیت دیں اور ممکن ہے اسے طریقیت کی حیثیت دیں۔

شیعہ فقہ میں قیاس و اجتہاد بالرائے مذکورہ بالا کسی بھی عنوان سے معتبر نہیں ہے، پہلی جہت اس لئے معتبر نہیں ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایسا موضوع نہیں ہے جس کا حکم (چاہے کلی طور پر سہی) قرآن و سنت نے بیان نہ کیا ہو، دوسری جہت اس لئے باطل ہے کہ قیاس و اجتہاد بالرائے کا تعلق گمان و تخمینہ سے ہے اور یہ شرعی احکام میں بہت زیادہ خطا و لغزش سے دوچار ہوتے ہیں۔ قیاس کے بارے میں شیعہ و سنی کے درمیان اختلاف کی بنیاد وہی پہلی جہت ہے اگرچہ اصولیوں کے یہاں دوسری جہت زیادہ مشہور ہوئی ہے۔

“اجتہاد” کا حق اہل سنت کے یہاں زیادہ دنوں تک باقی نہیں رہ سکا، شاید اس کا سبب عملی طور پر پیش آنے والی مشکلیں تھیں، کیونکہ اگر یہ حق اسی طرح جاری رہے، خاص طور سے نصوں میں تاوّل و تصرف جائز سمجھتے ہیں اور ہر شخص اپنی رائے کے مطابق تصرف و تاوّل کرتا رہے تو دین کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے گا، شاید یہی وجہ تھی کہ رفتہ رفتہ مستقل اجتہاد کا حق چھین لیا گیا اور سنی علماء نے یہ طے کر لیا کہ عوام کو چار مشہور مجتہدوں اور اماموں ابوحنیفہ، شافعی، مالک بن انس، احمد بن حنبل کی تقلید کی طرف لے جائیں اور انہیں ان چاروں کے علاوہ کسی دوسرے مجتہد کی تقلید سے روک دیں۔ یہ قدم پہلے (ساتویں صدی میں) مصر میں اٹھایا گیا اور بعد میں دوسرے اسلامی ملکوں میں بھی اس طرز فکر نے جگہ بنا لی۔

جائز اجتہاد لفظ “اجتہاد” پانچویں صدی ہجری تک اسی طرح مخصوص معنی میں، یعنی قیاس و اجتہاد بالرائے جو شیعہ نقطہ نظر سے ناجائز ہے، استعمال ہوتا تھا۔ شیعہ علماء اس وقت تک اپنی کتابوں میں “باب الاجتہاد” اسے رد کرنے اور باطل و ناجائز قرار دینے کے لئے لکھتے تھے، جیسے شیخ طوسی کتاب “عدہ” میں لیکن آہستہ آہستہ یہ لفظ اپنے خصوصی معنی سے باہر آ گیا اور خود سنی علماء نے بھی، جیسے ابن حاجب “مختصرالاصول” میں جس کی شرح عضدی نے لکھی ہے اور مدتوں جامعۃ الازہر کے درسی نصاب میں شامل رہی ہے اور شاید آج بھی شامل ہو۔ ان سے پہلے غزالی نے اپنی مشہور کتاب “المستصفٰی” میں، لفظ اجتہاد کو اجتہاد بالرائے کے اس مخصوص معنی میں استعمال نہیں کیا ہے جو کتاب و سنت کے مقابلے میں ہے، بلکہ انہوں نے شرعی حکم حاصل کرنے کے لئے سعی و کوشش کے اس عالم معنی میں استعمال کیا ہے جسے ان لفظوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ استفراع الوسع فی طلب الحکم الشرعی اس تعریف کے مطابق اجتہاد کا مطلب، “معتبر شرعی دلیلوں کے ذریعے شرعی احکام کے استنباط کی انتہائی کوشش کرنا ہے۔” اب رہی یہ بات کہ معتبر شرعی دلیلیں کیا ہیں؟ آیا قیاس و استحسان وغیرہ بھی شرعی دلیلوں میں شامل ہیں یا نہیں؟ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔

اس وقت (پانچویں صدی) سے شیعہ علماء نے بھی یہ لفظ اپنا لیا کیونکہ وہ اس قسم کے اجتہاد کے پہلے سے قائل تھے۔ یہ اجتہاد، جائز اجتہاد ہے، اگرچہ شروع میں یہ لفظ شیعوں کی نظر میں نفرت انگیز تھا لیکن جب اس کا معنی و مفہوم بدل گیا تو شیعہ علماء نے بھی تعصب سے کام نہیں لینا چاہا اور اس کے استعمال سے پرہیز نہیں کیا، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ علماء بہت سے مقامات پر مسلمانوں کی جماعت سے اتحاد و یکجہتی اور اسلوب کی رعایت کا بڑا خیال رکھتے تھے، مثلاً اہل سنت، اجماع کو حجت مانتے تھے اور تقریباً قیاس کی طرح اجماع کے لئے بھی اصالت و موضوعیت کے قائل تھے، جبکہ شیعہ اسے نہیں مانتے وہ ایک دوسری چیز کے قائل ہیں، لیکن اسلوب اور وحدت کے تحفظ کی خاطر جس چیز کو خود مانتے تھے اس کا نام اجماع رکھ دیا۔ اہل سنت کہتے تھے شرعی دلیلیں چار ہیں، کتاب، سنت، اجماع، اجتہاد (قیاس)۔ شیعہ علماء نے کہا، شرعی دلیلیں چار ہیں، کتاب، سنت، اجماع، عقل۔ انہوں نے صرف قیاس کی جگہ عقل رکھ دی۔

بہرکیف اجتہاد رفتہ رفتہ صحیح و منطقی معنی میں استعمال ہونے لگا یعنی شرعی دلیلوں کو سمجھنے کے لئے غور و فکر اور عقل کا استعمال اور اس کے لئے کچھ ایسے علوم میں مہارت ضروری ہے جو صحیح و عالمانہ تدبر و تعقل کی استعداد و صلاحیت کا مقدمہ ہیں۔ علمائے اسلام کو تدریجی طور پر یہ احساس ہوا کہ شرعی دلیلوں کے مجموعہ سے احکام کے استخراج و استنباط کے لئے کچھ ابتدائی علوم سے واقفیت ضروری ہے، جیسے عربی ادب، منطق، تفسیر قرآن، حدیث، رجال حدیث، علم اصول حتیٰ دوسرے فرقوں کی فقہ کا علم۔ اب مجتہد اس شخص کو کہتے ہیں جو ان تمام علوم میں مہارت رکھتا ہو۔

یقین سے تو نہیں کہہ سکتا لیکن گمان غالب یہی ہے کہ شیعوں میں اجتہاد و مجتہد کا لفظ اس معنی میں سب سے پہلے علامہ حلی نے استعمال کیا ہے۔ علامہ حلی نے اپنی کتاب “تہذیب الاصول” میں “باب القیاس” کے بعد “باب الاجتہاد” تحریر فرمایا ہے، وہاں انہوں نے اجتہاد اس معنی میں استعمال کیا ہے جس معنی میں آج استعمال کیا جاتا ہے اور رائج ہے۔

پس شیعی نقطہ نظر سے وہ اجتہاد ناجائز ہے جو قدیم زمانہ میں قیاس و رائے کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔ اب چاہے اسے قانون سازی و تشریع کا ایک مستقل مصدر و سرچشمہ مانیں یا واقعی حکم کے استخراج و استنباط کا وسیلہ، لیکن جائز اجتہاد سے مراد فنی مہارت کی بنیاد پر سعی و کوشش ہے۔

پس یہ جو کہا جاتا ہے کہ اسلام میں اجتہاد کیا چیز ہے؟ اس کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اجتہاد جس معنی میں آج استعمال ہو رہا ہے، اس سے مراد صلاحیت اور فنی مہارت ہے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص قرآن و حدیث سے استفادہ کرنا چاہتا ہے اس کے لئے قرآن کی تفسیر، آیتوں کے معانی، ناسخ و منسوخ اور محکم و متشابہ سے واقفیت، نیز معتبر و غیر معتبر حدیثوں میں تمیز دینے کی صلاحیت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ صحیح عقلی اصولوں کی بنیاد پر حدیثوں کے آپسی ٹکراؤ کو ممکنہ حد تک حل کر سکتا ہو، مذہب کے اجمالی و متفق علیہ مسائل کو تشخیص دے سکتا ہو، خود قرآنی آیتوں اور حدیثوں میں کچھ کلی اصول و قواعد ذکر کرتے ہوئے ہیں، دنیا کے تمام علوم میں پائے جانے والے تمام اصولوں اور فارمولوں کی طرح ان شرعی اصول و قواعد کے استعمال کے لئے بھی مشق، تمرین، تجربہ اور ممارست ضروری ہے۔ ایک ماہر صنعت کار کی طرح اسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ مواد کے ڈھیر میں سے کون سا مواد انتخاب کرنا ہے، اس میں مہارت و استعداد ہونی چاہئے۔ خاص طور سے حدیثوں میں بہت زیادہ السٹ پھیر اور جعل سازی ہوئی ہے، صحیح و غلط حدیثیں آپس میں خلط ملط ہیں، اس میں صحیح حدیث کو غلط حدیث سے تشخیص دینے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔ مختصر یہ کہ اس کے پاس اس قدر ابتدائی و مقدماتی معلومات فراہم ہونی چاہئیں کہ واقعاً اس میں اہلیت، قابلیت، صلاحیت اور فنی مہارت پیدا ہو جائے۔

شیعوں میں اخباریت کا رواج میں یہاں اس خطرناک تحریک کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں جو تقریباً چار صدی قبل شیعہ دنیا میں اجتہاد کے موضوع سے متعلق وجود میں آئی ہے اور وہ “اخباریت” کی تحریک ہے۔ اگر کچھ جید و دلیر علماء نہ ہوتے اور اس تحریک کا مقابلہ کر کے اسے سرکوب نہ کرتے تو نہیں معلوم آج ہماری کیا حالت ہوتی۔ دباستان اخباریت کی عمر چار صدی سے زیادہ نہیں ہے، اس اسکول کے بانی ملا امین استر آبادی ہیں، جو بذات خود بہت ذہین تھے اور بہت سے شیعہ علماء نے ان کا اتباع کیا ہے۔ خود اخباریوں کا دعویٰ ہے کہ شیخ صدوق کے زمانہ تک کے تمام قدیم شیعہ علماء اخباری تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اخباریت ایک اسکول اور کچھ معین اصول و قوانین کی شکل میں، جو عقل کی حجیت کی منکر ہو، قرآن کی حجیت و سندیت کی، یہ بہانہ بنا کر منکر ہو کہ قرآن صرف پیغمبر کے اہل بیت۱ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ہماری ذمہ داری فقط اہل بیت علیہم السلام کی حدیثوں کی طرف رجوع کرنا ہے اور اجماع سنیوں کی بدعت ہے، لہٰذا ادلہ اربعہ یعنی قرآن، سنت، اجماع، عقل میں سے صرف سنت حجت ہے اور وہ تمام حدیثیں جو کتب اربعہ یعنی “کافی”، “من لایحضرہ الفقیہ”، “تہذیب” اور “استبصار” میں بیان ہوئی ہیں، صحیح و معتبر بلکہ قطعی الصدور ہیں یعنی رسول خدا اور آئمہ طاہرین۱سے ان کا صادر ہونا یقینی ہے ان اصولوں کا پیرو اسکول، چار سو سال پہلے موجود نہ تھا۔

شیخ طوسی نے اپنی کتاب “عدۃ الاصول” میں بعض قدیم علماء کو “مقلدہ” کے نام سے یاد کیا ہے اور ان پر نکتہ چینی کی ہے، تاہم ان کا اپنا کوئی اسکول و دبستان نہیں تھا۔ شیخ طوسی نے انہیں مقلدہ اس لئے کہا ہے کہ وہ اصول دین میں بھی روایتوں سے استدلال کرتے تھے۔

بہرحال اخباریت کا اسکول، اجتہاد و تقلید کے دبستان کے خلاف ہے، جس صلاحیت، قابلیت اور فنی مہارت کے مجتہدین قائل ہیں اخباری اس کے منکر ہیں۔ وہ غیر معصوم کی تقلید حرام جانتے ہیں، اس اسکول کا حکم ہے کہ چونکہ صرف حدیث حجت و سند ہے اور اس میں بھی کسی کو اجتہاد و اظہار نظر کا حق نہیں ہے، لہٰذا عوام پر فرض ہے کہ وہ براہ راست حدیثیں پڑھیں اور ان ہی کے مطابق عمل کریں، بیچ میں کسی عالم کو مجتہد مرجع تقلید اور واسطہ کے عنوان سے تسلیم نہ کریں۔

ملا امین استر آبادی نے، جو اس دبستان کے بانی ہیں اور بذات خود ذہین، صاحِ مطالعہ اور جہان دیدہ تھے، انہوں نے، “الفوائد المدینتہ” نامی ایک کتاب تحریر فرمائی ہے، موصوف نے اس کتاب میں مجتہدوں سے بڑی سخت جنگ لڑی ہے، خاص طور سے عقل کی حجیت کے انکار کے لئے ایڑی چوڑی کا زور صرف فرمایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ عقل صرف محسوسات یا محسوسات سے قریب مسائل (جیسے ریاضیات) میں حجت ہے، اس کے سوا اس کا کوئی اعتبار نہیں۔

بدقسمتی سے یہ فکر اس وقت سامنے آئی جب یورپ میں حسی فلسفہ نے جنم لیا تھا، وہ لوگ علوم (سائنس) میں عقل کی حجیت کے منکر ہوئے اور یہ حضرت دین میں انکار کر بیٹھے، اب یہ نہیں معلوم کہ موصوف نے یہ فکر کہاں سے حاصل کی، ان کی اپنی ایجاد ہے یا کسی سے سیکھا ہے؟

مجھے یاد ہے کہ ۱۹۴۳ء کے موسم گرما میں بروجرد گیا ہوا تھا اور اس وقت آیۃ اللہ بروجردی اعلیٰ اللہ مقامہ، بروجرد ہی میں مقیم تھے، ابھی قسم تشریف نہیں لائے تھے۔ ایک دن اخباریوں کے طرز فکر کی گفتگو چھڑ گئی، آیۃ اللہ بروجردی نے اس طرز فکر پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ

“اخباریوں کے درمیان اس فکر کی پیدائش یورپ میں حسی فلسفہ کی لہر کے زیر اثر عمل میں آئی ہے۔”

یہ بات میں نے ان سے اس وقت سنی تھی، جب آپ قم تشریف لائے اور آپ کے درس اصول میں “حجیت قطع” کا موضوع زیر بحث آیا، تو مجھے امید تھی کہ آپ دوبارہ وہی بات فرمائیں گے، لیکن افسوس! انہوں نے اس کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ یہ صرف ان کا خیال و گمان تھا جو انہوں نے بیان فرمایا تھا یا واقعاً ان کے پاس کوئی دلیل موجود تھی۔ خود مجھے ابھی تک کوئی ایسی دلیل نظر نہیں آئی ہے اور بعید نظر آتا ہے کہ اس زمانہ میں یہ حسی فکر مغرب سے مشرق تک پہنچی ہو، لیکن آیۃ اللہ بروجردی بھی کبھی دلیل کے بغیر کوئی بات نہیں کرتے تھے۔ اب مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ اس وقت میں نے اس سلسلے میں ان سے سوال کیوں نہیں کیا۔

اخباریت کا مقابلہ بہرصورت اخباریت عقل کے خلاف ایک تحریک تھی، اس اسکول پر عجیب و غریب جمود حکم فرما تھا۔ خوش قسمتی سے وحید بہبہانی، معرف بہ آقا “آل آقا” حضرات آپ ہی کی نسل سے ہیں، آپ کے شاگردوں اور شیخ انصاری اعلیٰ اللہ مقامہ جیسے دلیر و سمجھدار افراد نے اس اسکول کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

وحید بہبہانی کربلا میں تھے اس زمانے میں، ایک ماہر اخباری، صاحب “حدائق” بھی کربلا میں ساکن تھے، دونوں کا اپنا اپنا حلقہ درس تھا۔ وحید بہبہانی اجتہادی اسکول کے حامی تھے اور صاحب حدائق اخباری مسلک کے پیرو۔ فطری طور پر دونوں کے درمیان سخت فکری جنگ جاری تھی۔ آخرکار وحید بہبہانی نے صاحب حدائق کو شکست دے دی۔ کہتے ہیں کاشف الغطا  بحر العلوم اور سید مہدی شہرستانی جیسے وحید بہبہانی کے جید شاگرد، پہلے صاحب حدائق کے شاگرد تھے، بعد میں صاحب حدائق کا حلقہ درس چھوڑ کر وحید کے حلقہ درس میں شامل ہو گئے۔

البتہ صاحب حدائق، نرم مزاج اخباری تھے، خود ان کا دعویٰ تھا کہ ان کا مسلک وہی ہے جو علامہ مجلسی کا مسلک تھا، ان کا مسلک اصولی و اخباری کے درمیان کی ایک چیز ہے۔ علاوہ برایں وہ بڑے مومن، خدا ترس اور متقی و پرہیزگار انسان تھے، باجودیکہ وحید بہبہانی ان کے سخت مخالف تھے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کرتے تھے، لیکن وہ اس کے برعکس، کہتے تھے آقای وحید کے پیچھے نماز پڑھنا صحیح ہے کہتے ہیں موصوف نے مرتے وقت وصیت کی تھی کہ ان کی نماز جنازہ وحید بہبہانی پڑھائیں۔

اخباریت کے خلاف شیخ انصاری کی جدوجہد کا انداز یہ تھا کہ آپ نے علم اصول فقہ کی بنیادوں کو محکم بنایا۔ کہتے ہیں، خود شیخ انصاری فرمایا کرتے تھے کہ اگر امین استر آبادی زندہ ہوتے تو میرا اصول مان لیتا۔

اخباری اسکول اس مقابلہ آرائی کے نتیجے میں شکست کھا گیا اور اب اس مسلک کے پیرو گوشہ و کنار میں خال خال ہی نظر آتے ہیں، لیکن ابھی بھی اخباریت کے سارے افکار، جو ملا امین کی پیدائش کے بعد بڑی تیزی سے پھیلے ہیں، لوگوں کے ذہنوں میں داخل ہوئے اور تقریباً دو سو سال تک چھائے رہے، ذہنوں سے باہر نہیں نکلے ہیں۔ آج بھی آپ دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ حدیث کے بغیر، قرآن کی تفسیر جائز نہیں سمجھتے۔ بہت سے اخلاقی و سماجی مسائل بکہ بعض فقہی مسائل میں بھی اخباریت کا جمود طاری ہے، فی الحال ان کے متعلق تفصیلی بحث کی گنجائش نہیں ہے۔

ایک چیز جو عوام کے درمیان اخباری فکر پھیلنے کا باعث ہوئی وہ اس کا عوام پسند پہلو ہے، کیونکہ وہ کہتے تھے ہم تو اپنے پاس سے کچھ بھی نہیں کہتے، ہم کلام معصومؑ کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں، ہمیں صرف “قال الباقر و قال الصادق” سے سروکار ہے، اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے معصومؑ کا کلام بیان کرتے ہیں۔

شیخ انصاری “فرائدالاصول” میں “برأت” و “احتیاط” کی بحث میں سید نعمت اللہ جزائری سے،جو اخباری مسلک کے پیرو تھے، نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں:

“کیا کوئی صاحب عقل یہ احتمال دے سکتا ہے کہ قیامت کے دن خدا کے کسی بندہ (یعنی کسی اخباری) کو حاضر کیا جائے اور اس سے پوچھا جائے کہ تم نے کس بنیاد پر عمل کیا؟ وہ جواب دے کہ میں نے معصومین۱کے حکم کے مطابق عمل کیا، جہاں کہیں معصومؑ کا فرمان مجھے نہیں ملا میں نے احتیاط کی، کیا ایسے شخص کو جہنم میں لے جایا جائے گا اور اس شخص کو بہشت میں جگہ دی جائے گی، جو کلام معصومؑ کو اہمیت نہیں دیتا تھا اور ہر حدیث کسی نہ کسی بہانہ سے ٹھکرا دیتا تھا (یعنی اجتہادی دبستان کا پرو شخص)!! ہرگز نہیں۔”

مجتہدین اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اس قسم کی اطاعت و تسلیم، قول معصومؑ کی اطاعت اور ان کے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم کرنا نہیں ہے بلکہ جہالت کے آگے سر جھکانا ہے، اگر واقعاً یہ معلوم ہو جائے کہ معصومؑ نے فلاں بات کہی ہے تو ہم بھی اسے بے چون و چرا قبول کرتے ہیں، لیکن آپ حضرات یہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہم سنیں (اس کی سند اور معنی و مفہوم میں تحقیق کئے بغیر) جاہلوں کی طرح اسے قبول کر لیں۔

اب ہم یہاں چند ایک نمونے پیش کر رہے ہیں جس سے اخباریت کے جامہ طرز فکر اور اجتہادی نقطہ نظر کے درمیان فرق واضح ہو جائے گا۔

دو طرز فکر کا ایک نمونہ بہت سی حدیثوں میں عمامہ کا تحت الحنک گردن میں لپیٹے رہنے کا حکم دیا گیا ہے، صرف نماز میں ہی نہیں بلکہ ہر وقت اور ہر جگہ۔ اس سلسلے کی ایک حدیث یہ ہے:

الفرق بین المومنین و المشرکین التلحی

“مومن و مشرک کا فرق، گلے میں تحت الحنک لپیٹنا ہے۔”

کچھ اخباریوں نے اس طرح کی حدیثوں سے تمسک کر کے کہا ہے کہ تحت الحنک ہمیشہ گلے میں پڑا رہنا چاہئے، لیکن ملا محسن فیض مرحوم نے، باوجودیکہ اجتہاد کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے اپنی کتاب “وافی” کے باب “الزی و التجمل” میں اس سلسلے میں ایک قسم کا اجتہاد کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں، قدیم زمانہ میں مشرکوں کا شیوہ تھا کہ وہ تحت الحنک عمامہ کے اوپر باندھے رہتے تھے اور اس عمل کو “اقتعاط” کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، اگر کوئی یہ کام کرتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ میں مشرکوں کے گروہ میں شامل ہوں، چنانچہ یہ حدیث اس عملی و شیوہ کے خلاف مبارزہ کرنے اور مشرکوں کے اس سمبل (Symbol) کی پیروی نہ کرنے کی خاطر ہے، لیکن آج جبکہ وہ سمبل ختم ہو چکا ہے تو پھر اس حدیث کا کوئی موضوع باقی نہیں رہا ہے، آج چونکہ کوئی شخص تحت الحنک گلے میں نہیں لپیٹتا، لہٰذا اب تحت الحنک گلے میں لپیٹنا حرام ہے، کیونکہ اس صورت میں وہ “لباس شہرت” کی شکل اختیار کر لے گا اور لباس شہرت حرام ہے۔

یہاں اخباریت کا جمود کہتا ہے کہ حدیث میں صرف تحت الحنک لپیٹنے کا حکم بیان ہوا ہے، لہٰذا اس کے بارے میں بحث و اجتہاد کرنا فضول ہے، لیکن اجتہادی فکر کہتی ہے ہمیں دو چیزوں کا حکم دیا گیا ہے، ایک مشرکوں کے سمبل سے اجتناب اور دوسرے لباس شہرت سے پرہیز۔ جس وقت وہ سمبل دنیا میں موجود تھا مسلمین اس سے اجتناب کرتے تھے، گلے میں تحت الحنک لپیٹے رہنا سب پر واجب تھا لیکن آج جبکہ یہ موضوع متنفی ہو چکا ہے۔ اب یہ مشرکوں کا سمبل نہیں رہا ہے اور عملی طور پر اب کوئی بھی تحت الحنک نہیں لپیٹتا، لہٰذا اب کوئی شخص یہ عمل بجا لاتا ہے تو وہ لباس شہرت کا مصداق ہے اور حرام ہے۔ ایک نمونہ تھا، اس طرح کی مثالیں بہت ہیں۔

وحید بہبہانی سے یہ واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ عید کا چاند تواتر کی حد تک ثابت ہو گیا، اتنے زیادہ افراد نے میرے پاس آ کر چاند دیکھنے کی گواہی دی کہ مجھے یقین آ گیا۔ چنانچہ میں نے عید کا اعلان کر دیا، ایک اخباری نے مجھ پر اعتراض کیا کہ خود تم نے چاند دیکھا نہیں جن کی عدالت مسلم ہے انہوں نے گواہی بھی نہیں دی، پھر تم نے عید کا اعلان کیسے کر دیا؟ میں نے کہا خبر متواتر ہے اور تواتر سے مجھے یقین حاصل ہو گیا ہے۔ کہنے لگے کہ کس حدیث میں ہے کہ تواتر حجت ہے؟

وحید بہبہانی کا بیان ہے کہ

“اخباریوں میں اتنا جمود پایا جاتا ہے کہ اگر بالفرض کوئی مریض کسی امام کے پاس گیا ہو اور امام نے اسے ٹھنڈا پانی پینے کو کہا ہو تو اخباری، دنیا کے سارے مریضوں کو ٹھنڈا پانی پینے کا حکم دیں گے اور کہیں گے ہر مرض کا علاج ٹھنڈا پانی ہے۔ وہ یہ نہیں سوچیں گے کہ امام نے یہ حکم اس مریض کے مزاج اور اس کی بیماری کی نوعیت کے لحاظ سے دیا تھا نہ کہ تمام مریضوں کیلئے۔”

یہ بھی مشہور ہے کہ بعض اخباری میت کے کفن پر شہادتیں اس طرح لکھنے کا حکم دیتے تھے:

اسماعیل یشھد ان لا الہ الا اللہ

“اسماعیل خدا کی وحدانیت کی گواہی دیتا ہے۔”

وحدانیت کی گواہی اسماعیل کے نام سے کیوں دی جائے؟ اس لئے کہ حدیث میں ہے کہ حضرت امام صادقؑ نے اپنے فرزند اسماعیل کے کفن پر یہ عبارت تحریر فرمائی تھی۔

اخباریوں نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کہ اسماعیل کے کفن میں یہ عبارت کی وجہ یہ تھی کہ ان کا نام اسماعیل تھا۔ اب اگر مثلاً حسن قلی بیگ کا انتقال ہوا ہے تو خود ان ہی کا نام کیوں نہ لکھا جائے؟ اسماعیل کا نام کیوں لکھیں؟!! اخباری کہتے تھے یہ ساری باتیں اجتہاد اور عقل کا استعمال ہیں، ہم اہل تعبد و تسلیم ہیں، ہمیں صرف “قال الباقر و قال الصادق” سے مطلب ہے، اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

ناجائز تقلید تقلید کی بھی دو قسمیں ہیں، جائز و ناجائز۔ ایک وہ تقلید ہے جس سے مراد ماحول و معاشرہ کی اندھی پیروی ہے، یہ یقینا ناجائز ہے اور قرآن مجید میں اس کی ان لفظوں میں مذمت کی گئی ہے:

انا وجدنا آباء نا علی امۃ و انا علی آثارھم مقتدون

“ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم ان ہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔”(زخرف، ۲۳)

ہم نے تقلید کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، جائز و ناجائز۔ تو ناجائز تقلید ہے، مراد صرف ماحول اور اپنے آباء و اجداد کے رسم و رواج کی یہی اندھی تقلید ہی نہیں ہے بلکہ عالم کی طرف جاہل اور فقیہ کی طرف عوام کے رجوع کرنے والی تقلید بھی دو قسم کی ہے، جائز و ناجائز۔

آج کل بعض ایسے افراد سے جو کسی مرجع تقلید کی تلاش میں ہیں، یہ سننے میں آتا ہے کہ ہمیں کسی ایسے شخص کی تلاش ہے جس کے آستانہ پر سر جھکا دیں اور خود کو اس کے حوالے کر سکیں، لیکن اسلام نے جس تقلید کا حکم دیا ہے وہ سپردگی اور خود کو کسی کے حوالے کرنا نہیں ہے بلکہ آنکھ کھولنا اور کھلوانا ہے، تقلید اگر سرسپردگی کی شکل اختیار کر لے تو اس میں ہزاروں برائیاں پیدا ہو جائیں گی۔

اس سلسلے میں ایک طویل حدیث ہے جسے آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں:

و اما من کان من الفقہاء صائنا لنفسہ حافظا لدینہ مخالفا علی ھواہ مطیعا لامر مولاہ فللقوام ان یقلدوہ

یہ حدیث تقلید و اجتہاد کی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے اور شیخ انصاری اس حدیث کے متعلق فرماتے تھے، اس سے صحت و صداقت کے آثار نمایاں ہیں۔

یہ حدیث اس آیہ شریفہ کے ذیل میں ہے:

و منھم امیون لا یعلسون الکتاب الا امانی و ان ھم الا یطنون(بقرہ، ۷۸)

یہ آیت ان جاہل یہودی عوام کی مذمت کر رہی ہے جو اپنے علماء کی تقلید و پیروی کرتے تھے اور ان آیتوں کے بعد جن میں یہودی علماء کے برے طور طریقوں کا ذکر ہوا ہے، ارشاد ہوتا ہے:

“ان میں کچھ ایسے جاہل و نادان افراد تھے جو اپنی آسمانی کتاب کے بارے میں بے بنیاد امیدوں اور آرزوؤں کے سوا کچھ نہیں جانتے تھے اور وہم و گمان کی پیروی کرتے تھے۔”

ناجائز تقلید اور امام صادقؑ مذکورہ حدیث اسی آیت کے ذیل میں ہے:

“ایک شخص نے امام صادقؑ سے عرض کیا کہ جاہل یہودی عوام اپنے علماء کی پیروی اور ان کی ہر بات ماننے پر مجبور تھے، ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ ہی نہ تھا اس میں ان کی کیا خطا ہے؟ اگر خطا ہے تو وہ یہودی علماء کی خطا ہے۔ قرآن مجید ان بے چارے عوام الناس کی مذمت کیوں کر رہا ہے جو کچھ جانتے ہی نہ تھے اور صرف اپنے علماء کی پیروی کر رہے تھے؟ اگر علماء کی تقلید و پیروی لائق مذمت ہے تو پھر ہمارے عوام کی بھی مذمت کی جانی چاہئے جو ہمارے علماء کی تقلید کرتے ہیں، اگر یہودی عوام کو اپنے علماء کی تقلید نہیں کرنی چاہئے تھی تو ان لوگوں کو بھی تقلید نہیں کرنی چاہئے۔”

حضرتؑ نے فرمایا:

بین عوامنا و علمائنا وبین عوام الیہود و علمائھم فرق من جھۃ وتسویۃ من جھۃ: اما من حیث استووا فان اللہ قد ذم عوامنا بتقلیدھم علمائھم کما قد دم عوامھم و امامن حیث افترقوا فلا

“ہمارے عوام و علماء اور یہودی عوام و علماء میں ایک جہت سے فرق ہے اور ایک جہت سے ایک جیسے ہیں، ان کے ایک جیسے ہونے کی جہت میں خداوند عالم نے ہمارے عوام کو بھی اپنے علماء کی ویسی تقلید کرنے کے باعث مذمت کی ہے اور فرق ہونے کی جہت میں مذمت نہیں کی ہے۔”

اس شخص نے عرض کیا:

“فرزند رسول توضیح دیجئے۔”

حضرتؑ نے فرمایا:

“یہودی عوام نے اپنے علماء کی عملی زندگی دیکھی تھی کہ وہ کھلم کھلا جھوٹ بولتے ہیں، رشوت لینے سے نہیں چوکتے، رشوت اور ذاتی تعلقات کے باعث الٰہی احکام اور فیصلوں میں الٹ پھیر کرتے ہیں، افراد و اشخاص سے تعصب کی بنیاد پر برتاؤ کرتے ہیں، ذاتی حب و بغض کو الٰہی احکام میں شامل کرتے ہیں۔”

اس کے بعد حضرتؑ نے فرمایا:

و اضطروا بمعارف قلوبھم الی ان من یفعل ما یفعلونہ فھو فاسق لا یجوز ان یصدق علی اللہ ولا علی الوسائط بین الخلق وبین اللہ

“وہ اس فطری الہام کی روشنی میں جو خداوند عالم نے تکوینی طور پر ہر شخص کو عطا کیا ہے جانتے تھے کہ ایسے اعمال کا ارتکاب کرنے والے شخص کی پیروی نہیں کرنی چاہئے، اس کی زبان سے بیان ہونے والا خدا اور رسولؑ کا قول نہیں ماننا چاہئے۔”

یہاں امامؑ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ یہودی عوام اس مسئلہ سے واقف نہیں تھے کہ ان علماء کی بات ماننا جائز نہیں ہے جو دینی احکام کے خلاف عمل کرتے ہیں، کیونکہ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے کوئی شخص واقف نہ ہو اس مسئلہ کی معرفت خداوند عالم نے ہر شخص کی فطرت میں ودیعت کی ہے اور ہر شخص کی عقل اسے جانتی ہے۔

منطقیوں کے بقول یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کی دلیل خود اس کے ساتھ ہے:

قضایا قیاسھا معھا

جس شخص کا فلسفہ وجود، پاکی و طہارت اور ہویٰ و ہوس سے اجتناب ہے اگر وہ ہوا و ہوس اور دنیا پرستی کا دلدادہ ہو جائے تو ہر عقل یہی حکم کرتی ہے کہ اس کی باتوں پر کان نہیں دھرنا چاہئے۔ اس کے بعد حضرتؑ فرماتے ہیں:

و کذلک عوام امتنا اذا عرفوا من فقہائھم الفسق الظاہر، والعصبیۃ الشدیدۃ، والتکالب علی حطام الدنیا و حرامھا، و اھلاک من یتعصبون علنہ و ان کان لاصلاح امرہ مستحقا، وبالترفق بالبر و الاحسان علی من تعصبوا لہ وان کان للاذلال و الا ھانۃ مستحقا فمن قلک من عوامنا مثل ھولا فھم(احتجاجی طبرسی، جلد ۲، ص ۲۶۳، ماخوذ از تفسیر منسوب بہ امام حسن عسکری وہاں “بالترفق” کے بجائے “بالترفرف” آیا ہے)

“ہمارے عوام کا بھی یہی حال ہے، یہ لوگ بھی اگر اپنے فقہاء میں بدکاری، شدید تعصب، مال و دنیا کی ہوس، اپنے دوستوں اور حامیوں کی جانبداری، چاہے وہ نا صالح ہی کیوں نہ ہوں، اپنے مخالفوں کی سرکوبی، چاہے وہ احسان و نیکی کے مستحق ہی کیوں نہ ہوں، اور اسی طرح کے دوسرے اوصاف مشاہدہ کرنے کے باوجود اپنی آنکھیں بند کر کے ان کی پیروی کرتے رہیں تو وہ لوگ بھی یہودی عوام کی طرح مذمت و ملامت کے مستحق ہیں۔”

پس معلوم ہوا کہ جائز و ممدوح تقلید، خود سپردگی، آنکھیں بند کر لینا اور خود کو کسی کے حوالے کر دینا نہیں ہے بلکہ آنکھ کھولے رہنا اور ہوشیار رہنا ہے ورنہ وہ جرم میں شریک مانیں جائیں گے۔

اجتھاد اور تقلید اجتھاد اور تقلید علماء کی کریت اور عصمت کا جاہلانہ نظریہ بعض افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ گناہ کی تاثیر ہر شخص میں یکساں نہیں ہے، عام لوگوں پر گناہ اثرانداز ہوتا ہے اور ان کی عدالت و تقویٰ زائل کر دیتا ہے، لیکن علماء پر وہ کارگر ثابت نہیں ہوتا وہ ایک قسم کی “کُریت” اور ایک طرح کی عصمت کے مالک ہیں جو فرق آب قلیل و آب کثیر میں ہے (وہی فرق عوام اور علماء میں ہے) کہ اگر آب کثیر ایک کُر کے برابر ہو تو وہ نجاست کے مل جانے سے نجس نہیں ہوتا، نجاست اس پر اثرانداز نہیں ہوتی، جبکہ اسلام، کسی کے لئے کُریت و اعتصام کا قائل نہیں ہے، یہاں تک کہ خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے بھی۔ قرآن مجید کیوں کہتا ہے:

قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم

“اے پیغمبر! کہہ دو کہ اگر میں بھی گناہ کروں تو مجھے بھی یوم عظیم کا خوف ہے۔”

کیونکہ ارشاد ہوتا ہے:

لئن اشرکت لیحبطن عملک

“اگر آپ کے عمل میں شرک کا شائبہ آ جائے تو آپ کا عمل رائیگاں چلا جائے گا۔”

یہ سب ہمیں بتانے کے لئے، یہاں کسی قسم کا امتیاز نہیں ہے کہ کسی کو کُریت و اعتصام حاصل نہیں ہے (کہ چاہے جتنا گناہ کرتے جائیں ان کی عدالت و تقویٰ پر حرف نہ آئے گا)۔

قرآن مجید میں موسیٰؑ و عبد صالح کی جو داستان بیان ہوئی ہے وہ بڑی عجیب داستان ہے، اس داستان سے ایک عظیم درس یہ ملتا ہے کہ تابع و پیرو صرف اسی وقت تک پیشوا و رہنما کی اطاعت اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کر سکتا ہے، جب تک پیشوا قانون کی خلاف ورزی نہ کرے، اصول نہ توڑے، برائی کی طرف مائل نہ ہو۔ اگر پیشوا اصول و قوانین کے خلاف اقدام کرے تو یہاں خاموشی ہرگز جائز نہیں ہے، اگرچہ اس داستان میں عبد صالح کے اقدامات، خود ان کی نظر میں، ایک وسیع تر افق پر نظر رکھنے اور موضوع کے باطنی پہلو کی جانب توجہ کرنے کے باعث، اصول و قوانین کے خلاف نہ تھے، بلکہ فریضہ و ذمہ داری کے عین مطابق تھے، لیکن نکتہ یہ ہے کہ موسیٰؑ نے صبر کیوں نہیں کیا؟ اعتراض کیوں کر بیٹھے؟ باوجودیکہ وہ وعدہ کرتے تھے اور خود کو تلقین کرتے تھے کہ اعتراض نہیں کریں گے لیکن پھر بھی اعتراض کر بیٹھتے تھے۔ موسیٰؑ کا کمزور پہلوان کا اعتراض کرنا نہیں تھا بلکہ موضوع کی حقیقت اور اس کے باطن سے ناواقفیت تھی، اگر انہیں حقیقت کا علم ہوتا تو وہ اعتراض نہ کرتے اور وہ حقیقت کو جاننا بھی چاہ رہے تھے لیکن جب تک وہ ان اقدامات کو الٰہی اصول و قوانین کے برخلاف تصور کر رہے تھے، ان کا ایمان انہیں خاموش رہنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ بعضوں کا کہنا ہے کہ اگر قیامت تک عبد صالح کے اقدامات جاری رہتے تو موسیٰؑ بھی اعتراض و تنقید سے باز نہ آتے، مگر یہ کہ حقیقت موضوع سے باخبر ہو جاتے۔

موسیٰؑ ان سے کہتے ہیں:

ھل اتبعک علی ان تعلمن مما علمت رشدا

“کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ میں آپ کی پیروی کروں تاکہ آپ مجھے تعلیم دیں۔”

عبد صالح کہتے ہیں:

لن تستطیع معی صبرا

“تم میری مصاحبت برداشت اور جو کچھ دیکھو گے اس کے متعلق خاموش نہیں رہ سکتے۔”

اس کے بعد خود ہی اس کی وجہ بتائے دیتے ہیں:

وکیف تصبر علی مالم تحط بہ خبرا؟

“جب تم کوئی (بظاہر) غلط کام ہوتا دیکھو گے اور اس کی حقیقت و راز سے بھی واقف نہ ہو گے تو کیسے خاموش رہ سکتے ہو؟”

موسیٰؑ نے کہا:

ستجد نی انشاء اللہ صابراً و لا اعصی لک امراً

“انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔”

موسیٰؑ نے یہ نہیں کہا کہ راز کا پتہ ہو یا نہ ہو میں صبر کروں گا، بلکہ صرف اتنا کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ صبر و تحمل مجھ میں پیدا ہو جائے، البتہ موسیٰؑ میں یہ تحمل اس وقت پیدا ہو گا جب وہ ان اقدامات کے راز سے واقف ہو جائیں گے۔

اس کے بعد عبد صالح نے موسیٰؑ سے مزید واضح اور پکا وعدہ لینا چاہا کہ راز معلوم ہو یا نہ ہو وہ اعتراض نہ کریں، یہاں تک کہ وقت آنے پر میں خود اس کی وضاحت کروں:

قال فان اتبعتنی فلا تسئلنی عن شئی حتی احدث لک منہ ذکراً

“اگر میرے ساتھ آنا چاہتے ہو تو سب کچھ دیکھ بھی چپ رہنا ہو گا، بعد میں خود توضیح دوں گا۔”

یہاں اب اس کے بعد آیت میں یہ نہیں ہے کہ موسیٰؑ نے یہ شرط مان لی، آیت میں بس اتنا ہی ہے کہ اس کے بعد وہ لوگ چل پڑے اور ان کو سارے واقعات پیش آئے جنہیں آپ بارہا سن چکے ہیں۔

بہرحال میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ جاہل کا عالم کی تقلید کرنا سرسپردگی نہیں ہے، ناجائز تقلید وہی ہے جو سرسپردگی کی شکل میں ہو اور یہ صورت اختیار کر لے کہ

“جاہل کو عالم سے بحث کرنے کا حق نہیں، یہ باتیں ہماری سمجھ سے مافوق ہیں، شاید یہ سب کچھ شرعی ذمہ داریوں کا تقاضا ہو۔”

میں نے یہ داستان امام جعفر صادق علیہ السلام کی تائید و شاہد کے طور پر پیش کی ہے۔

جائز تقلید امام جعفر صادق علیہ السلام ناجائز و مذموم تقلید کے متعلق وہ جملے (جنہیں میں نقل کر چکا ہوں) بیان کرنے کے بعد جائز و ممدوح تقلید، ان لفظوں میں بیان فرماتے ہیں:

فاما من کان من الفقہاء صائنا لنفسہ حافظاً لدینہ مخالفاً علیٰ ھواہ مطیعاً لامر مولاہ فللعوام ان یقلدوہ

“اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو، شیطان کی دعوتیں اور آوازیں اس کے قدم ڈگمگا نہ سکتی ہوں، اپنے دین کی حفاظت کرتا ہو، دین کا سودا نہ کرتا ہو (شاید مراد یہ ہو کہ عوام اور معاشرہ میں دین کی حفاظت و بقاء کا انتقام کرتا ہو) نفسانی خواہشات کا مخالف اور الٰہی احکام کا مطیع و فرمانبردار ہو تو عوام ایسے شخص کی تقلید کر سکتے ہیں۔”

البتہ یہ نکتہ واضح ہے کہ نفسانی خواہشات کی مخالفت میں ایک عالم اور عام شخص کے درمیان فرق ہے، کیونکہ ہر شخص کی خواہش نفس، کچھ معین امور میں ہوتی ہے جوان کی خواہش نفس الگ ہے اور بوڑھے کی خواہش نفس الگ، ہر شخص جس منصب، جس طبقہ، جس سن میں ہو اسی کے مطابق خواہش نفس رکھتا ہے۔ ایک عالم دین کی نفس پرستی کا معیار یہ نہیں ہے کہ وہ شراب پیتا ہے یا نہیں؟ جوا کھیلتا ہے یا نہیں؟ نماز و روزہ ترک کرتا ہے یا نہیں؟ اس کی ہوا پرستی کا معیار، عہدہ و منصب کی خواہش، شہرت و محبوبیت سے لگاؤ، ہاتھ چموانے کی آرزو، اپنے آگے پیچھے لوگوں کے چلنے کی تمنا، اپنا اقتدار مضبوط بنانے کے لئے بیت المال کا استعمال، اپنے ساتھیوں، عزیز و اقرباء، خاص طور سے اپنے صاحبزادوں کو بیت المال وغیرہ میں خرد برد کی کھلی چھوٹ اور اسی طرح کی دوسری چیزیں ہیں۔

امامؑ اس کے بعد فرماتے ہیں:

وھم بعض فقہاء الشیعۃ لاجمیعھم

“یہ اعلیٰ و ارفع اوصاف و فضائل صرف بعض شیعہ فقہاء میں پائے جا سکتے ہیں، تمام شیعہ فقہاء میں نہیں۔”

یہ حدیث اپنے آخری جملوں کے لحاظ سے مسئلہ اجتہاد و تقلید کی ایک دلیل ہے۔

پس معلوم ہوا کہ اجتہاد و تقلید کی دو دو قسمیں ہیں، جائز و ناجائز۔

میت کی تقلید کیوں جائز نہیں؟ ہماری فقہ کا ایک مسلم الثبوت مسئلہ یہ ہے کہ میت کی تقلید ابتداً جائز نہیں ہے، میت کی تقلید اگر جائز ہے تو صرف اس حد تک کہ جو شخص کسی مجتہد کی اس کی زندگی میں تقلید کر رہا تھا اس کی موت کے بعد اس کی تقلید پر باقی رہ سکتا ہے، مردہ مجتہد کی تقلید پر باقی رہنے کے لئے بھی زندہ مجتہد کی اجازت ضروری ہے، مجھے اس مسئلے کی فقہی دلیلوں سے مطلب نہیں ہے، میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بڑا ہی بنیادی نظریہ ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا مقصد واضح ہو جائے۔

اس نظریہ کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ یہ دینی مدارس کی بقا اور اسلامی علوم کی حفاظت کا ذریعہ ہے، نہ صرف یہ کہ اس طرح اسلامی علوم محفوظ رہیں، بلکہ روز بروز اس میں اضافہ و ترقی آتی جائے گی اور لاینحل مشکلیں حل ہوں گی۔

ایسا نہیں ہے کہ قدیم زمانہ میں ہماری تمام مشکلیں علماء کے ذریعے حل ہو چکی ہوں اور اب کوئی مشکل باقی نہ رہ گئی ہو، کلام تفسیر، فقہ اور دوسرے اسلامی علوم میں ہزاروں معمے اور مشکلیں ہیں، بہت سی مشکلیں ماضی میں عظیم علماء حل کر چکے ہیں اور بہت سی مشکلیں باقی ہیں اور یہ مستقبل کے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں حل کریں اور تدریجی طور پر ہر موضوع میں مزید جامع اور بہتر کتابیں تحریر کریں اور اس سلسلے کو آگے بڑھائیں، جس طرح ماضی میں علماء نے تدریجی طور پر تفسیر کو آگے بڑھایا، فقہ کو آگے بڑھایا، کلام کو آگے بڑھایا، یہ قافلہ رکنا نہیں چاہئے، پس زندہ مجتہدوں کی تقلید اور ان کی طرف عوام کی توجہ، اسلامی علوم کی بقاء و ارتقاء کا ایک ذریعہ ہے۔

دوسرا سبب یہ ہے کہ مسلمان ہر روز اپنی زندگی میں نئے نئے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں اور انہیں ان مسائل میں اپنی ذمہ داری کا علم نہیں ہے، لہٰذا ایسے زندہ فقیہوں اور زندہ افکار کی ضرورت ہے جو یہ عظیم احتیاج برطرف کر سکیں۔ اجتہاد و تقلید سے متعلق ایک حدیث میں ہے:

و اما الحوادث الواقعۃ فا رجعوا فیھا الیٰ رواۃ احادیثنا(احتجاج طبرسی، ج ۲۸۳ (نئے واقعات میں ہماری حدیثوں کے راویوں کی طرف رجوع کرو) “احادیثنا” کے بجائے “حدیثنا” ہے)

“حوادث واقعہ” یہی نئے مسائل ہیں جو ہر صدی میں، ہر دور میں اور ہر سال پیش آتے رہتے ہیں۔ مختلف زمانوں، مختلف صدیوں کی فقہی کتابوں کی چھان بین سے یہ پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کی ضروریات کے مطابق تدریجی طور پر فقہ میں نئے مسائل داخل ہوئے ہیں اور فقہاء نے ان کا جواب دینے کی کوشش فرمائی ہے، اسی لئے رفتہ رفتہ فقہ کی ضخامت بڑھتی گئی ہے۔

اگر کوئی شخص تحقیقی نقطہ نظر سے حساب لگائے تو سمجھا جا سکتا ہے کہ فلاں اور فلاں مسئلہ، کس صدی میں، کس علاقہ میں اور کس ضرورت کے تحت فقہ میں شامل ہوا ہے۔ اگر زندہ مجتہد ان نئے مسائل کا جواب نہ دے تو پھر زندہ و مردہ مجتہد کی تقلید میں کیا فرق ہے؟ بہتر ہے کہ ہم بعض مردہ مجتہدوں مثلاً شیخ انصاری کی، جو خود زندہ مجتہدوں کے اعتراف کے مطابق سب سے زیادہ عالم و محقق تھے، تقلید کریں۔

بنیادی طور پر اجتہاد کا فلسفہ، کلی احکام کو جدید مسائل اور بدلتے ہوئے حادثات پر منطبق کرنے میں نہاں ہے۔ واقعی مجتہد وہی ہے جو یہ فلسفہ حاصل کر سکے، اسے معلوم ہو کہ موضوعات کس طرح بدلتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے احکام بھی بدل جاتے ہیں، ورنہ پرانے اور تحقیق شدہ مسائل میں تحقیق کرنا اور کسی “علی الاقویٰ” کو “علی الاحوط” سے بدل دینا یا “علی الاحوط” کو “علی الاقوی” میں تبدیل کر دینا تو کوئی ہنر نہیں ہے، اس کے لئے اتنے ہنگامے کی ضرورت نہیں ہے۔

البتہ اجتہاد کے لئے بہت سی شرائط و مقدمات کی ضرورت ہے۔ مجتہد کو مختلف علوم کا ماہر ہونا چاہئے، عربی ادب، منطق، اصول فقہ، حتیٰ تاریخ اسلام اور تمام اسلامی فرقوں کی فقہ کا علم ہونا چاہئے اور پھر مدتوں مشق و تمرین کی ضرورت ہے، تب کہیں ایک واقعی و جید فقیہ وجود میں آتا ہے۔ فقط نحو، صرف، معانی، بیان اور منطق کی چند کتابیں اور پھر فرائد، مکاسب اور کفایۃ جیسی سطح کی تین چار کتابیں پڑھ کر اور چند برتمک درس خاہر میں شرکت کر کے کوئی اجتہاد کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور “وسائل” و “جواہر” سامنے رکھ کر فتوے صادر نہیں کر سکتا، اسے تفسیر و حدیث یعنی حضرت رسول خدا سے امام حسن عسکریؑ تک کے ۲۵۰ سال پر محیط ادوار میں بیان ہونے والی ہزاروں حدیثو ں، نیز ان حدیثوں پر صادر ہونے والے ماحول یعنی  اسلام اور تمام اسلامی فرقوں کی فقہ، نیز رجال اور راویوں کے طبقوں کا مکمل علم ہونا چاہئے۔

آیۃ اللہ بروجردی اعلیٰ اللہ مقامہ، واقعاً فقیہ تھے، مجھے کسی کا نام لینے کی عادت نہیں ہے۔ وہ بھی جب تک زندہ تھے میں نے اپنی تقریروں میں ان کا نام نہیں لیا ہے، لیکن اب جبکہ وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور کسی لالچ کا شائبہ نہیں رہ گیا ہے، یہ عرض کر رہا ہوں کہ آپ واقعاً ایک ممتاز و زبردست فقیہ تھے۔ تفسیر، حدیث، رجال درایت اور تمام اسلامی فرقوں کی فقہ پر مکمل دسترس رکھتے تھے۔

فتووں میں فقیہ کے تصورات کی جھلک فقیہ اور مجتہد کا کام شرعی احکام کا استنباط و استخراج ہے، لیکن موضوعات کے بارے میں اس کی معلومات اور کائنات کے متعلق اس کے تصورات کو اس کے فتووں میں بڑا دخل ہوتا ہے، جن موضوعات کے متعلق فتویٰ صادر کر رہا ہے، ضروری ہے کہ ان کے متعلق بھرپور معلومات رکھتا ہو مگر کسی ایسے فقیہ کو تصور کریں جو گھر یا مدرسہ میں گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہا ہے اور اس کا موازنہ ایک ایسے فقیہ سے کریں جو زندگی کے مسائل میں دخیل ہے۔ یہ دونوں فقیہ شرعی دلیلوں کی طرف رجوع کرتے ہیں، لیکن دونوں کا استنباط اور فتویٰ الگ ہو گا۔

ایک مثال عرض کرتا ہوں، فرض کیجئے جس شخص نے تہران میں زندگی گزاری ہو یا تہران ہی جیسے کسی شہر میں زندگی بسر کی ہو، جہاں آب کُر اور آب جاری کی فراوانی ہو، نہریں اور کنویں موجود ہوں۔ یہ شخص فقیہ ہے اور طہارت و نجاست کے متعلق فتویٰ دینا چاہے تو وہ اپنی ذاتی زندگی کے تجربات کے پیش نظر جب طہارت و نجاست کی روایتوں کا مطالعہ کرے گا تو اس کا استنباط و احتیاط اور بہت سی چیزوں سے اجتناب کے ہمراہ ہو گا، لیکن جب یہی شخص بیت اللہ الحرام کی زیارت کی غرض سے سفر کرے گا اور وہاں پر طہارت و نجاست کی صورت حال، نیز پانی کی قلت سے دوچار ہو گا تو طہارت و نجاست کے سلسلے میں اس کا نظریہ بدل جائے گا، یعنی اس سفر کے بعد جب وہ طہارت و نجاست سے متعلق روایتوں کا جائزہ لے گا تو ان حدیثوں کا کچھ اور ہی مطلب اس کی سمجھ میں آئے گا۔

اگر کوئی شخص فقہاء کے فتووں کا آپس میں موازنہ کرے اور پھر ان کے حالات زندگی، نیز زندگی کے مسائل میں ان کے طرز فکر کا جائزہ لے تو اس پر یہ حقیقت آشکار ہو جائے گی کہ ایک فقیہ کے ذہنی تصورات اور دنیا کے بارے میں اس کی معلومات کس قدر اس کے فتووں پر اثرانداز ہوئے ہیں، یہاں تک کہ عرب فقیہ کے فتووں سے عربیت کی بو آتی ہے اور عجمی فقیہ کے فتووں سے عجمیت کی بو آتی ہے، دیہاتی فقیہ کے فتووں میں دیہات کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور شہری فقیہ کے فتووں میں شہری جلوے نظر آتے ہیں۔

یہ دین، دین خاتم ہے، کسی خاص علاقہ یا زمانہ سے مخصوص نہیں ہے وہ ہر علاقہ اور ہر زمانہ کے لئے ہ، یہ وہ دین ہے جو زندگی کو منظم بنانے اور انسانی زندگی کو ارتقاء دینے آیا ہے، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی فقیہ فطری نظاموں اور طبیعی حالات سے بے خبر اور زندگی کے رشد و ارتقاء کا منکر ہونے کے باوجود اس دین حنیف کے اعلیٰ و  مترقی احکام کا صحیح طریقے سے استنباط کر سکے جو انہی نظاموں کے لئے آیا ہے اور ان ہی تغیرات و تبدلات، نیز رشد و ارتقاء کی ہدایت و رہنمائی اور انہیں صحیح سمت پر لے جانے کا ضامن ہے؟!

ضرورتوں کا ادراک آج بھی ہماری فقہ میں ایسے موارد موجود ہیں جہاں فقہاء نے صرف کسی موضوع کی ضرورت و اہمیت کے ادراک کے پیش نظر پورے جزم و یقین کے ساتھ اس کے واجب ہونے کا فتویٰ دیا ہے یعنی باوجودیکہ اس موضوع کے متعلق کوئی صریح و واضح حدیث و آیت ہے نہ معتبر اجماع، لیکن فقہاء نے استنباط کے چوتھے رکن یعنی عقل دلیل سے استفادہ کرتے ہوئے فتویٰ دیا ہے، فقہاء ایسے مقامات پر موضوع کی اہمیت اور روح سے واقفیت کے پیش نظر کہ اسلام، اہم موضوعات کے احکام بیان کئے بغیر انہیں یوں ہی نہیں چھوڑ دیتا، یقین کرتے ہیں کہ اس مقام پر الٰہی حکم ایسا ہونا چاہئے۔ حاکم کی ولایت اور اس کے فروعات سے متعلق فقہاء کے فتووں کی اساس یہی ہے، اگر انہیں موضوع کی اہمیت کا حساس نہ ہوا ہوتا تو یہ فتوے وجود میں نہ آتے جس حد تک انہیں موضوع کی اہمیت کا حساس ہوا، انہوں نے فتوے صادر کئے۔ ایسی ہی دوسری نظیریں بھی دریافت کی جا سکتی ہیں جہاں فتویٰ نہ دینے کی وجہ، موضوع کی اہمیت و ضرورت سے بے خبر و لاعلمی رہی ہے۔

ایک اہم تجویز یہاں میں ایک تجویز پیش کر رہا ہوں جو ہماری فقہ کے ارتقاء کے لئے بے حد مفید ہے، یہ تجویز اس سے پہلے آیۃ اللہ حاجی شیخ عبدالکریم یزدی اعلیٰ اللہ مقامہ، (حوزئہ علمیہ قم کے بانی) پیش کر چکے ہیں، میں ان ہی کی تجویز دہرا رہا ہوں۔

جناب موصوف نے فرمایا تھا کہ یہ کیا ضروری ہے کہ عوام تمام مسائل میں ایک ہی شخص کی تقلید کریں، بہتر یہ ہے کہ فقہ کے الگ الگ شعبے قائم کر دیئے جائیں، یعنی ہر گروہ، فقہ کا ایک عمومی کورس پورا کرنے کے بعد کسی معین شعبہ میں مہارت حاصل کرے اور لوگ اس کی اسی شعبے میں تقلید کریں جس میں اس نے مہارت حاصل کی ہے، مثلاً بعض لوگ عبادات کو اپنی مہارت کے شعبہ کے طور پر اختیار کریں تو کچھ لوگ معاملات میں، کچھ افراد سیاسیات میں اور کچھ اشخاص احکام میں (احکام، فقہی اصطلاح میں) اجتہاد کریں، جس طرح علم طب میں شعبے تقسیم کر دیئے گئے ہیں ہر ڈاکٹر طب کے ایک مخصوص شعبہ میں مہارت حاصل کرتا ہے، کوئی دل کا ماہر ہے تو کوئی آنکھ کا، کوئی کان کا ماہر ہے تو کوئی ناک کا، اگر ایسا ہو جائے تو ہر شخص اپنے شعبے میں زیادہ بہتر طریقے سے تحقیق کر سکتا ہے۔ میرے خیال میں جناب سید احمد زنجانی کی کتاب “الکلام یجرالکلام” میں یہ بات آیۃ اللہ حائری یزدی سے نقل ہوئی ہے۔

یہ تجویز بہت اچھی تجویز ہے اور میں اس میں اتنا اور اضافہ کرتا ہوں کہف قہ میں کام کی تقسیم اور فقاہت میں تخصصی شعبوں کی ایجاد، تقریباً سو سال سے ایک ضرورت کی شکل اختیار کر چکی ہے اور موجودہ حالات اس دور کے فقہاء یا فقہ کے تکامل و ارتقاء کو روک دیں، اسے موقوف کر دیں اور یا یہ تجویز مان لیں۔

علوم میں شعبوں کی تقسیم کیونکہ علوم میں کام کی تقسیم، علوم کی ترقی کا نتیجہ بھی ہے اور علت بھی، یعنی علوم تدریجی طور پر ترقی کرتے ہیں اور پھر اس منزل پر پہنچ جاتے ہیں کہ اس کے تمام مسائل میں تحقیق ایک شخص کے بس کی بات نہیں رہ جاتی، لہٰذا اس کی تقسیم اور مختلف شعبے ایجاد کرنا ضروری ہو جاتا ہے، پس کام کی تقسیم اور ایک علم تخصصی شعبوں کی ایجاد اس علم کی ترقی کا نتیجہ ہے۔ دوسری طرف سے جب کام تقسیم ہو جاتا ہے اور تخصصی شعبے قائم ہو جاتے ہیں اور ساری توجہ اپنے اپنے مخصوص شعبوں پر متمرکز ہو جاتی ہے تو علم کو مزید ترقی ہوتی ہے۔ دنیا کے تمام علوم، طب، ریاضیات، قانون، ادبیات اور فلسفہ، میں تخصصی شعبے قائم ہو چکے ہیں، اسی لئے ان علوم نے خوب ترقی بھی کی ہے۔

فقہ کا ایک ہزار سالہ ارتقاء ایک زمانہ تھا جب فقہ بہت محدود تھی، شیخ طوسی سے پہلے کی فقہی کتابوں کا جب جائزہ لیتے ہیں تو وہ بہت ہی چھوٹی اور محدود نظر آتی ہیں۔ شیخ طوسی نے “مبسوط” نامی کتاب لکھ کر فقہ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا اور اسے وسعت دی۔ اسی طرح ہر دور کے علماء و فقہاء کی کوششوں اور نئے نئے مسائل شامل ہونے، نیز جدید تحقیقات کے نتیجے میں فقہ کی ضخامت بڑھتی گئی، یہاں تک کہ سو سال قبل، صاحب جواہر بڑی مشکلوں سے فقہ کا ایک مکمل دورہ لکھنے میں کامیاب ہو سکے۔ کہتے ہیں موصوف نے بیس سال کی عمر سے اس مہم کا آغاز کیا تھا اور اپنی غیر معمولی صلاحیت، پیہم کوشش اور طویل عمر کے نتیجے میں زندگی کے آخری لمحات میں فقہ کا دورہ مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے، جواہر کا مکمل دورہ چھ بڑی اور بہت ہی ضخیم جلدوں میں چھپا ہے۔(اب یہ کتاب ۴۴ جلدوں میں “عام سائز سائز” میں چھپی ہے) شیخ طوسی کی “مبسوط” جو اپنے زمانہ میں مشروح و مفصل فقہ کا نمونہ مانی جاتی تھی، جواہر کی ایک جلد کے نصف کے برابر بھی نہیں ہے۔ صاحب جواہر کے بعد شیخ مرتضیٰ انصاری اعلیٰ اللہ مقامہٗ نے فقہ کی نئی بنیادیں قائم کیں جس کا نمونہ آپ کی کتاب مکاسب اور کتاب طہارت ہے، آپ کے بعد کسی کے ذہن میں اتنی تفصیل و تحقیق کے ساتھ فقہ کا مکمل دورہ پڑھانے یا لکھنے کا تصور بھی نہیں آتا۔

اس موجودہ دور میں اور دنیا کے تمام علوم کی طرح ہماری فقہ کی اس ترقی کے بعد، جو ماضی میں علماء و فقہاء کی کوششوں کا نتیجہ ہے، اس دور کے علماء و فقہاء فقہ کی ترقی کو روک دیں اس کے ارتقاء کے راستے مسدود کر دیں اور یا اس سنجیدہ مترقی تجویز کو مان کر تخصصی شعبے ایجاد کریں اور عوام بھی ایک شخص کی تقلید کرنے کی بجائے مختلف شعبوں میں الگ الگ مجتہدین کی تقلید کریں جس طرح وہ اپنی جسمانی بیماریوں کے علاج کے لئے الگ الگ ماہرین کے پاس جاتے ہیں

فقہی کونسل ایک اور تجویز بیان کرنا چاہتا ہوں اور میرا خیال ہے کہ یہ باتیں جتنا زیادہ بیان کی جائیں اتنا ہی بہتر ہے۔ تجویز یہ ہے، باوجودیکہ دنیا میں تمام علوم میں تخصصی شعبے قائم ہو چکے ہیں اور اس کے باعث حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ ایک اور کام ہوا ہے جس نے اپنی جگہ پر اس ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور وہ ہر شعبہ کے صف اول کے ماہروں کی امداد باہمی، آپسی تعاون اور فکر و نظر کا تبادلہ ہے۔ آج کی دنیا میں ایک شخص کے فردی فکر و عمل کی کوئی قیمت نہیں، اکیلا انسان کچھ نہیں کر سکتا۔ ہر شعبہ کے ماہرین ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرتے رہتے ہیں، اپنے افکار دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں، یہاں تک کہ ایک براعظم کے دانشور دوسرے براعظم کے دانشوروں سے تعاون کرتے ہیں، چنانچہ صف اول کے ماہروں کے درمیان اس تبادلہ خیال اور باہمی تعاون کے نتیجے میں اگر کوئی صحیح و مفید نظریہ سامنے آتا ہے تو وہ دنیا میں جلد ہی پھیل جاتا ہے اور اپنی جگہ بنا لیتا ہے اور اگر کوئی غلط نظریہ ہوتا ہے تو اس کا بطلان جلد از جلد واضح ہو جاتا ہے اور وہ نظریہ دم توڑ دیتا ہے، اس نظریہ پرداز کے شاگرد، برسوں غلط فہمی میں پڑے نہیں رہتے۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں ابھی تک کام کی تقسیم ہوئی ہے نہ تخصصی شعبے قائم ہوئے ہیں اور نہ آپس میں کسی قسم کا تعاون و تبادلہ خیال ہوتا ہے، میں یہاں یہ بتانے کے لئے کہ خود اسلام کے اندر اس قسم کے تصورات اور مترقی احکام موجود ہیں۔ قرآن مجید کی ایک آیت اور نہج البلاغہ کے چند جملے پیش کر رہا ہوں۔

قرآن مجید میں سورئہ شوریٰ ۳۸ میں ہے:

والذین استجابوالربھم واقاموا الصلوۃ و امرھم شوریٰ بینھم ومما رزقناھم ینفقون

یہ آیت مومنوں اور اسلام کے پیروؤں کے اوصاف ان لفظوں میں بیان کرتی ہے:

“یہ لوگ حق کی دعوت قبول کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، اپنے کام باہمی ہم فکری اور رائے مشورے سے انجام دیتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عنایت کیا ہے اس میں سے انفاق کرتے ہیں۔”

پس اسلامی نقطہ نظر سے تبادلہ خیال اور ہم فکری مومنوں اور اسلام کے پیروؤں کی زندگی کے اصول میں شامل ہے۔

نہج البلاغہ میں ہے:

و اعلموا ان عباد اللہ المسحفطبر علمہ یصونون مصونہ و یفجرون عیونہ یتواصلون بالولایۃ ویتلاقون بالمحبہ، ویساقون بکاس رویۃ و یصدرون بریۃ

“جان لو! خدا کے جن بندوں کو الٰہی علم سپرد کیا گیا ہے وہ اس کی حفاظت کرتے ہیں، اس کے چشموں کو جاری کرتے ہیں، یعنی علم کے چشموں سے لوگوں کو سیراب کرتے ہیں، آپس میں محبت آمیز عواطف اور دوستی کا رشتہ قائم کرتے ہیں، کشادہ روئی، محبت ار گرم جوشی سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ایک دوسرے کو اپنی فکر و علم کے جام سے سیراب کرتے ہیں، اپنے نظریات سے ایک دوسرے کو مستفید کرتے ہیں، نتیجہ میں سب کے سب سیراب ہو کر باہر آتے ہیں۔”

اگر فقاہت کی علمی کونسل قائم ہو جائے اور تبادلہ خیال کا عمل باقاعدہ طور سے انجام پائے تو فقہ میں رونما ہونے والی ترقی کے علاوہ فتووں کا اختلاف بھی کافی حد تک برطرف ہو جائے گا۔

اگر ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہماری فقہ بھی دنیا کے واقعی علوم کا ایک حصہ ہے، تو ہمیں بھی ان اسلوبوں سے استفادہ کرنا پڑے گا جس سے دوسرے علوم میں فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، اگر ہم ان اسلوبوں کو کام میں نہ لائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری فقہ، علوم کی صف سے خارج ہے۔

کچھ اور بھی تجویزیں ہیں، لیکن انہیں بیان کرنے کا اب وقت نہیں رہا ہے، میں نے اس آیت کو سرنامہ کلام بنایا تھا:

قلولا نفرمن کل فرقۃ منھم طائفہ لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم لعلم یحذرون

یہ آیت واضح لفظوں میں حکم دے رہی ہے کہ کچھ مسلمانوں خو دین میں “تفقہ” کر کے دوسروں کو اپنے “تفقہ” سے بہرہ مند کرنا چاہئے۔

“تفقہ”، “فقہ” سے بنا ہے، فقہ کا معنی صرف سمجھنا ہی نہیں ہے، بلکہ گہرائی اور ایک شئے کی حقیقت کے متعلق بھرپور بصیرت کے ساتھ سمجھنے کو فقہ کہتے ہیں۔ راغب اصفہانی اپنی کتاب “مفردات” میں کہتے ہیں:

الفقہ ھوالتوصل الی علم غائب بعلم شاہد

“فقہ ظاہر و آشکار امر کے ذریعے کسی مخفی و پوشیدہ حقیقت کے انکشاف کا نام ہے۔”

تفقہ کی تعریف میں کہتے ہیں:

تفقہ اذا طلبہ فتخصص بہ

“کسی چیز کو تلاش کیا اور اس میں مہارت حاصل کر لی۔”

یہ آیت مسلمانوں سے کہتی ہے کہ دین کی معرفت سطحی نہیں ہونی چاہئے بلکہ گہرائی میں اتر کر غور و فکر کریں اور احکام کی روح و فلسفہ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

یہ آیت اجتہاد و فقاہت کی دلیل ہے اور یہی آیت ہماری تجویزوں کی سند ہے، جس طرح اس آیت کی روشنی میں اسلام میں تفقہ و اجتہاد کی بساط بچھائی گئی، اسی طرح اس آیت کے فرمان کے مطابق اس کی بساط میں مزید وسعت دی جائے، ضرورتوں پر مزید توجہ دی جائے، فقہی کونسل میدان عمل قدم رکھے، اجتماع سے کٹ کر انفرادی اقدامات منسوخ قرار دے دیئے جائیں، تخصصی شعبے قائم کئے جائیں تاکہ ہماری فقہ اپنا ارتقائی سفر جاری رکھ سکے۔

(یہ استاد شہید، جلیل القدر مفکر حضرت آیۃ اللہ مرتضیٰ مطہری کی تقریر تھی جو آپ نے ۱۹۶۱ء میں حضرت آیۃ اللہ بروجردی اعلیٰ اللہ مقامہ، کی وفات کے تین دن بعد کی تھی)

ماخذ:

http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=149

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید