FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

آنکھیں پرانی ہو گئیں

 

 

 

               احمد مشتاق

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو

انہیں کیسے بتائیں ہم کہ وہ کیسے لگے ہم کو

 

مکیں تھے یا کسی کھوئی ہوئی جنت کی تصویریں

مکاں اس شہر کے بھولے ہوئے سپنے لگے ہم کو ہم

 

ان کو سوچ میں گم دیکھ کر واپس پلٹ آئے

وہ اپنے دھیان میں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو

 

بہت شفاف تھے جب تک کہ مصروف تمنا تھے

مگر اس کار دنیا میں بڑے دھبے لگے ہم کو

 

جہان تنہا ہوئے دل میں بھنور سے پڑنے لگتے ہیں

اگرچہ مدتیں گزریں کنارے سے لگے ہم کو

٭٭٭

 

 

 

 

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں

ابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میں

 

موسمِ گل ہو کہ پت چھڑ ہو بلا سے اپنی

ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں

 

ہم سے مخفی نہیں کچھ رہگزرِ شوق کا حال

ہم نے اک عمر گزاری ہے ہوا خانے میں

 

ہے یوں ہی گھومتے رہنے کا مزا ہی کچھ اور

ایسی لذّت نہ پہنچنے میں نہ رہ جانے میں

٭٭٭

 

 

 

 

خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا

یہ الگ بات کہ ممکن نہیں ایسا ہونا

 

دیکھتا اور نہ ٹھہرتا تو کوئی بات بھی تھی

جس نے دیکھا ہی نہیں اس سے خفا کیا ہونا

 

تجھ سے دوری میں بھی خوش رہتا ہوں پہلے کی طرح

بس کسی وقت برا لگتا ہے تنہا ہونا

 

یوں مری یاد میں محفوظ ہیں ترے خد و خال

جس طرح دل میں کسی شے کی تمنّا ہونا

 

زندگی معرکۂ روح و بدن ہے مشتاق

عشق کے ساتھ ضروری ہے ہوس کا ہونا

٭٭٭

 

 

 

 

چپکے چپکے گھر میں بیٹھے عاشقی کرتے رہے

چھاؤں میں رہ کر عبادت دھوپ کی کرتے رہے

 

کاش ہم نے بھی سنی ہوتی کبھی دل کی پکار

چاہتی تھی ہم سے جو دنیا وہی کرتے رہے

 

اب بتائیں بھی تو کیسے دل کے بجھنے کا سبب

ہم کہ اپنے آپ سے پہلو تہی کرتے رہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھا

جانے وہ کس خیال میں تھا، کس سمے میں تھا

 

کیسے مکاں اجاڑ ہوا، کس سے پوچھتے

چولھے میں روشنی تھی نہ پانی گھڑے میں تھا

 

تا صبح برگ و شاخ و شجر جھومتے رہے

کل شب بلا کا سوز ہمارے گلے میں تھا

 

نیندوں میں پھر رہا ہوں اسے ڈھونڈتا ہوا

شامل جو ایک خواب مرے رتجگے میں تھا

٭٭٭

 

 

 

 

یہ کس ترنگ میں ہم نے مکان بیچ دیا

درخت کاٹ لئے سائبان بیچ دیا

 

 

دری لپیٹ کے رکھ دی بساط الٹ ڈالی

چراغ توڑ دئے شمع دان بیچ دیا

 

خزاں کے ہاتھ خزاں کے نیاز مندوں نے

نوائے موسمِ گل کا نشان بیچ دیا

 

اٹھا جو شور تو اہلِ ہوس نے گھبرا کر

زمین لیز پہ دے دی، کسان بیچ دیا

 

یہی ہے بھوک کا عالم تو دیکھنا اک دن

کہ ہم نے دھوپ بھرا آسمان بیچ دیا

٭٭٭

 

 

 

 

 

وابستہ ہیں اس جہان سے ہم

آئے نہیں آسمان سے ہم

 

دکھ درد ہے ذکر و فکر اپنا

کہتے نہیں کچھ زبان سے ہم

 

اس جوشِ نمو سے لگ رہا ہے

اترے نہیں اس کے دھیان سے ہم

 

کمروں میں اجنبی مکیں تھے

کچھ کہہ نہ سکے مکان سے ہم

 

محفل تو جمی رہے گی مشتاق

اٹھ جائیں گے درمیان سے ہم

٭٭٭

 

 

چاند بھی نکلا، ستارے بھی برابر نکلے

مجھ سے اچھے تو شبِ غم کے مقدر نکلے

 

شام ہوتے ہی برسنے لگے کالے بادل

صبح دم لوگ دریچوں میں کھلے سر نکلے

 

کل ہی جن کو تری پلکوں پہ کہیں دیکھا تھا

رات اسی طرح کے تارے مری چھت پر نکلے

 

دھوپ ساون کی بہت تیز ہے دل ڈرتا ے

اس سے کہہ دو کہ ابھی گھر سے نہ باہر نکلے

 

پیار کی شاخ تو جلدی ہی ثمر لے آئی

درد کے پھول بڑی دیر میں جا کر نکلے

 

دلِ ہنگامہ طلب! یہ بھی خبر ہے تجھ کو

مدتیں ہو گئیں اک شخص کو باہر نکلے

٭٭٭

 

 

 

دل میں شور برابر ہے

کون اس گھر کے اندر ہے

 

عشق میں کوئی وقت نہیں

دن اور رات برابر ہے

 

دل پر کوئ بوجھ نہیں

یعنی آپ ہی پتھر ہے

 

باہر خوب ہنسو، بولو

رونے دھونے کو گھر ہے

 

دکھ کی مسلیں چار طرف

دل بھی میرا دفتر ہے

 

ترکِ عشق سے جی کا حال

پہلے سے کچھ بہتر ہے

 

ختم ہوا سب کاروبار

یادیں ہیں اور بستر ہے

 

تم ہو شاد نہ میں غمگیں

یہ موسم کا چکر ہے

 

ساحل سے پوچھو مشتاق

کتنی دور سمندر ہے

٭٭٭

 

 

 

 

نکلے تھے کسی مکان سے ہم

روٹھے رہے اک جہان سے ہم

 

بدنامیاں دل سے آنکھ تک تھیں

رسوا نہ ہوئے زبان سے ہم

 

ہے تنگ جہانِ بود و نابود

اترے ہیں کسی آسمان سے ہم

 

پھولوں میں بکھر گئے تھے رستے

گزرے نہیں درمیان سے ہم

 

جو شان تھی ملتے وقت مشتاق

بچھڑے اسی آن بان سے ہم

٭٭٭

 

 

 

 

 

کہاں ڈھونڈیں اسے کیسے بلائیں

یہاں اپنی بھی آوازیں نہ آئیں

 

پرانا چاند ڈوبا جا رہا ہے

وہ اب کوئی نیا جادو جگائیں

 

اب ایسا ہی زمانہ آ رہا ہے

عجب کیا وہ تو آئیں، ہم نہ آئیں

 

ہوا چلتی ہے پچھلے موسموں کی

صدا آتی ہے ان کو بھول جائیں

 

بس اب لے دے کے ہے ترکِ تعلق

یہ نسخہ بھی کوئی دن آزمائیں

 

یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں

اسے ڈھونڈیں کہ اس کو بھول جائیں

 

خیالوں کی گھنی خاموشیوں میں

گھلی جاتی ہیں لفظوں کی صدائیں

 

یہ رستے رہرووں سے بھاگتے ہیں

یہاں چھپ چھپ کے چلتی ہیں ہوائیں

 

یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے

اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں

 

جو غم جلتے ہیں شعروں کی چتا میں

انہیں پھر اپنے سینے سے لگائیں

 

چلو ایسا مکاں آباد کر لیں

جہاں لوگوں کی آوازیں نہ آئیں

٭٭٭

 

 

 

 

مل ہی جائے گا کبھی، دل کو یقیں رہتا ہے

وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے

 

جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے

اے مکاں بول، کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے

 

اِک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے

اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے

 

روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جُگ بیت گئے

عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے

 

دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن

عمر بھر کون جواں، کون حسیں رہتا ہے

٭٭٭

 

 

کہاں کی گونج دلِ ناتواں میں رہتی ہے

کہ تھرتھری سی عجب جسم و جاں میں رہتی ہے

 

مزہ تو یہ ہے کہ وہ خود تو ہے نئے گھر میں

اور اس کی یاد پرانے مکاں میں رہتی ہے

 

اگرچہ اس سے مری بے تکلفی ہے بہت

جھجک سی ایک مگر درمیاں میں رہتی ہے

 

پتہ تو فصل گل و لالہ کا نہیں معلوم

سنا ہے قرب و جوارِ خزاں میں رہتی ہے

 

میں کتنا وہم کروں لیکن اک شعاعِ یقیں

کہیں نواح دل بد گماں میں رہتی ہے

 

ہزار جان کھپاتا رہوں مگر پھر بھی

کمی سی کچھ مرے طرزِ بیاں میں رہتی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

خواب کے پھولوں کی تعبیریں پرانی ہو گئیں

خون ٹھنڈا پڑ گیا، آنکھیں پرانی ہو گئیں

 

جس کا چہرہ تھا چمکتے موسموں کی آرزو

اس کی تصویریں بھی اوراقِ خزانی ہو گئیں

 

دل بھر آیا کاغذ خالی کی صورت کو دیکھ کر

جن کو کہنا تھا وہ سب باتیں زبانی ہو گئیں

 

جو مقدر میں تھا اس کو روکنا تو بس میں نہ تھا

ان کا کیا کرتے جو باتیں نا گہانی ہو گئیں

 

رہ گیا مشتاق دل میں رنگِ یادِ رفتگاں

پھول مہنگے ہو گئے قبریں پرانی ہو گئیں

٭٭٭

 

 

ہر لمحہ ظلمتوں کی جدائی کا وقت ہے

شاید کسی کی چہرہ نمائی کا وقت ہے

 

کہتی ہے ساحلوں سے یہ جاتے سمے کی دھوپ

ہشیار، ندیوں کی چڑھائی کا وقت ہے

 

کوئی بھی وقت ہو، کبھی ہوتا نہیں  جدا

کتنا عزیز اس کو جدائی کا وقت ہے

 

دل نے کہا کہ شامِ شبِ وصل سے نہ بھاگ

اب پک چکی ہے فصل، کٹائی کا وقت ہے

 

کہتی ہے ساحلوں سے یہ جاتے سمے کی دھوپ

شاید کسی کی چہرہ نمائی کا وقت ہے

 

میں نے کہا کہ دیکھو یہ میں، یہ ہوا، یہ رات

اس نے کہا کہ میری پڑھائی کا وقت ہے

٭٭٭

 

دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہے

یہ شہر تو مجھے جلتا دکھائی دیتا ہے

 

جہاں کہ داغ ہے، یاں آگے درد رہتا تھا

مگر یہ داغ بھی جاتا دکھائی دیتا ہے

 

پکارتی ہیں بھرے شہر کی گزر گاہیں

وہ روز شام کو تنہا دکھائی دیتا ہے

 

یہ لوگ توٹی ہوئی کشتیوں میں سوتے ہیں

مرے مکان سے دریا دکھائی دیتا ہے

 

خزاں کے زرد دنوں کی سیاہ راتوں میں

کسی کا پھول سا چہرا دکھائی دیتا ہے

 

کہیں ملے وہ سرِ راہ  تو  لپٹ جائیں

ہمیں تو ایک ہی رستہ دکھائی دیتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

یہ رنگ یہ روشنی یہیں ہے

آگے کوئی سحر نہیں ہے

 

لگتے ہیں یہ پیڑ دیکھے بھالے

شاید وہ گلی یہیں کہیں ہے

 

یا ایک فریب ہے محبت

یا میرے نصیب میں نہیں ہے

 

ہے روپ مگر کسی کسی پر

ہے دھوپ مگر کہیں کہیں ہے

 

سایا ہی نہیں رہا وہ مشتاق

دیوار تو آج بھی وہیں ہے

 

٭٭٭

 

 

 

کہوں کس سے رات کا ماجرا، نئے منظروں پہ نگاہ تھی

نہ کسی کا دامن چاک تھا، نہ کسی کی طرف کلاہ تھی

 

کئی چاند تھے سرِ آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے

نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا، نہ تمہاری زلف سیاہ تھی

 

دلِ کم الم پہ وہ کیفیت کہ ٹھہر سکے نہ گذر سکے

نہ حضر ہی راحتِ روح تھا، نہ سفر میں رامشِ راہ تھی

 

مرے چار دانگ تھی جلوہ گر، وہی لذّتِ طلبِ سحر

مگر اِک امیدِ شکستہ پر کہ مثالِ دردِ سیاہ تھی

 

وہ جو رات مجھ کو بڑے ادب سے سلام کر کے چلا گیا

اسے کیا خبر مرے دل میں بھی کبھی آرزوئے گناہ تھی

٭٭٭

 

 

 

 

گھاس تھی جگنوؤں کو چھُپائے ہوئے ، پیڑ تھے تیرگی میں نہائے ہوئے

ایک کونے میں سر کو جھکائے ہوئے درد کی شمع افسردہ جلتی رہی

 

پہلا دن تھا محبت کی برسات کا، وقت ٹھہرا تھا تجھ سے ملاقات کا

قطرہ قطرہ گزرتی رہیں ساعتیں ، سائے لیٹے رہے ، دھوپ چلتی رہی

 

رنج پچھلی مسّرت کے سہتے تھے ہم، ایک ہی قریۂ جاں میں رہتے تھے ہم

دن ڈھلے یا کسی صبح کے موڑ پر، اپنے ملنے کی صورت نکلتی رہی

 

ایک راتوں سے بچھڑی ہوئی رات میں ، ہم اکیلے تھے خوابِ ملاقات میں

دونوں ایک دوسرے کی طرف چل پڑے ، خواب گھٹتا رہا، رات ڈھلتی رہی

٭٭٭

 

 

 

 

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں

ابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میں

 

موسمِ گل ہو کہ پت چھڑ ہو بلا سے اپنی

ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں

 

ہم سے مخفی نہیں کچھ راہگزرِ شوق کا حال

ہم نے اک عمر گزاری ہے ہوا خانے میں

 

ہے یوں ہی گھومتے رہنے کا مزا ہی کچھ اور

ایسی لذّت نہ پہنچنے میں نہ رہ جانے میں

 

نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے

ہم بھی ایسی ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں

 

موسم کا کوئی محرم ہو تو اس سے پوچھو

کتنے پت جھڑ ابھی باقی ہیں بہار آنے میں

٭٭٭

 

 

 

کہاں ساری اداسیاں رکھوّں

کیسے اس دل کو شادماں رکھوّں

 

اسی مٹی کے گھر میں سب کچھ ہے

کیوں نظر سوئے لا مکاں رکھوّں

 

یہی چھوٹی سی چھت بہت ہے مجھے

کیوں تمنائے آسماں رکھوّں

 

چیزیں بکھری پڑی ہیں سارے میں

کس سے پوچھو کسے کہاں رکھوّں

٭٭٭

 

 

 

کبھی خواہش نہ ہوئی انجمن آرائی کی

کی کوئی کرتا ہے حفاظت مری تنہائی کی

 

میں تو گم اپنے نشے میں تھا مجھے کیا معلوم

کس نے منہ پھیر لیا کس نے پذیرائی کی

 

ہم سے پہلے بھی سخن ور ہوئے کیسے کیسے

ہم نے بھی تھوڑی بہت قافیہ پیمائی کی

٭٭٭

 

 

 

 

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں

ابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میں

 

موسمِ گل ہو کہ پت چھڑ ہو بلا سے اپنی

ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں

 

ہم سے مخفی نہیں کچھ راہگزرِ شوق کا حال

ہم نے اک عمر گزاری ہے ہوا خانے میں

 

ہے یوں ہی گھومتے رہنے کا مزا ہی کچھ اور

ایسی لذّت نہ پہنچنے میں نہ رہ جانے میں

 

نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے

ہم بھی ایسے ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں

 

موسموں کا کوئی محرم ہو تو اس سے پوچھو

کتنے پت جھڑ ابھی باقی ہیں بہار آنے میں

٭٭٭

 

 

 

٭٭٭

ٹائپنگ: نوید صادق، اعجاز عبید، اور دوسرے

تدوین، اور ای بک کی تخلیق: اعجاز عبید