FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

آلِ محمد سے کیا مراد ہے ؟

 

                نا معلوم

 

 

 

 

 

ناصبی دعویٰ کہ “آلِ محمد” سے مراد “پوری امت” ہے

 

چونکہ درود سے بھی آلِ محمد کی فضیلت ثابت ہوتی ہے جس سے ہر انسان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اتنے افضل اور اعلیٰ لوگ موجود تھے تو پھر امت نے انہیں حکومت کیوں نہ دی؟ جبکہ علم شجاعت، زہد، تقویٰ اور عدل کے علاوہ حکومت چلانے کے لئے بیس فی صدی خمس لینے کے حقدار بھی یہی ہیں، جس سے حکومت کا خرچ چلتا۔

مکتبِ صحابہ کے لیے یہ ایسا مشکل ترین اور پریشان کن سوال ہے جس کی وجہ سے انہیں لفظ آل میں مغالطہ پیدا کرنا لازمی ہو گیا اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ “آلِ محمد” سے مراد پوری امت ہے۔ اور ثبوت کے طور پر یہ دلیل دی کہ:

قرآن میں لفظ “مومن آلِ فرعون” آیا ہے۔

مگر فرعون کی کوئی اولاد نہیں تھی

اس سے ثابت ہوا کہ وہ شخص فرعون کا بیٹا نہیں تھا، بلکہ اُس کی قوم کا ایک شخص تھا۔

اور قرآن نے اُس قوم کے شخص کے لئے “آل” کا لفظ لگا کر ثابت کر دیا ہے کہ “آل” سے مراد “پوری امت” ہے۔

آئیے اللہ کے بابرکت نام سے ابتدا کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس ناصبی دعویٰ میں کتنی صداقت ہے۔

قرآن میں آل سے مراد “اولاد/ نسل/خاندان” ہے

قرآن میں “آل” سے مراد کہیں بھی “پوری امت” نہیں ہے، بلکہ صرف اور صرف “اولاد/نسل/خاندان”ہے۔

جہاں تک “مومن آلِ فرعون” کا تعلق ہے، تو یہ باتیں ذہن نشین فرمائیں کہ:

اُس وقت مصر کے تمام کے تمام حکمرانوں کا لقب فرعون تھا۔

اور سارے فرعون بے اولاد نہیں تھے۔

اور انہیں فرعونوں کی نسلوں سے مل کر ایک خاندان بن گیا تھا جو کہ “آلِ فرعون” کے نام سے جانا جاتا تھا۔

اللہ نے اسی آلِ فرعون کے خاندان کے ایک شخص کو “مومن آلِ فرعون” کہا ہے۔

بعض مرتبہ حکمران مختلف القاب اختیار کرتے ہیں، جیسے قیصر، کسریٰ، سیزر وغیرہ۔ آج اگر ہم سے کوئی پوچھے کہ سعودی عرب پر کون حکمران ہے تو ہم یہی کہیں گے کہ آلِ سعود حکمران ہیں، اور ان کا لقب ملک ہے۔

سعودیہ میں شاہ فہد بادشاہ اور ان کے بھتیجے عبد اللہ ولیعہد قرار پائے ہیں۔ جبکہ اس سلطنت کی بنیاد عبد العزیز ابن عبد الرحمان بن فیصل السعود نے رکھی تھی۔ اس وقت سے ان کے جانشین، بلکہ تمام خاندان کو آلِ سعود کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تو ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ولیعہد عبداللہ کا تعلق آلِ سعود سے ہے اور انہی کی حکومت ہے اور اسی طرح اور جتنے شہزادے ہیں وہ سب بھی آلِ سعود کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

مگر یہ سعودی عرب کے ہر شہری کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا تعلق بھی آلِ سعود سے ہے۔

حکمرانوں کا ملک ہوتا ہے، قوم ہوتی ہے مگر امت نہیں۔ امت تو صرف انبیاء کی ہوتی ہے۔ جبکہ فرعون نبی اور رسول نہیں تھا، بلکہ کافر حکمران تھا۔ اولاد کی اولاد کے سلسلہ کو نسل کہتے ہیں اور ان ہی سے خاندان کا وجود ہے۔ قرآن میں آّل سے مراد یہی اولاد، نسل یا خاندان ہے۔

 

قرآن میں “آل” کی مزید مثالیں

 

ناصبی حضرات حسبِ عادت قرآن کا صرف ایک حصہ لیتے ہیں جسے وہ توڑ مڑوڑ کر اپنی خواہشات کے مطابق ڈھال سکیں، اور باقی قرآن کو یکسر ٹھکرا دیتے ہیں۔

قرآن میں لفظ “آل” کے استعمال کے ساتھ بھی انہوں نے یہی رویہ اختیار کیا ہے۔

ذیل میں ہم قرآن کی وہ آیات پیش کرنے جا رہے ہیں جنہیں ناصبی حضرات نے ٹھکرایا ہوا ہے۔

ان آیات کا اردو ترجمہ و تفسیر سعودی عرب کے شائع کردہ قرآن سے دیا جا رہا ہے۔ (اس قرآن کو سعودی حکومت نے لاکھوں کی تعداد میں چھپوا کر پاکستان میں مفت تقسیم کرایا ہے۔ اس قرآن کے ’مقدمہ‘ میں اس کے مترجم اور مفسر کا تعارف کراتے ہوئے لکھا ہے :

خادمِ حرمین الشریفین کی انہی ہدایات اور وزارت برائے مذہبی امور کے اسی احساس کے پیشِ نظر مجمع الملک فھد لطباعۃ المصحف الشریف المدینہ المنورہ اردو دان قارئین کے استفادہ کے لیے قرآن مجید کا یہ اردو ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔

یہ ترجمہ مولانا جوناگڑھی کے قلم سے ہے اور تفسیری حواشی مولانا صلاح الدین یوسف کے تحریر کردہ ہیں۔ مجمع کی جانب سے نظر ثانی کا کام ڈاکٹر وصی اللہ بن محمد عباس اور ڈاکٹر اختر جمال لقمان نے انجام دیا ہے۔ )

آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ سعودی عالم آلِ فرعون کا ترجمہ اردو میں کیا کر رہا ہے۔

وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ إِیمَانَہُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن یَقُولَ رَبِّیَ اللَّہُ وَقَدْ جَاءکُم بِالْبَیِّنَاتِ مِن رَّبِّکُمْ

(القرآن ۴۰:۲۸) اور ایک مومن شخص نے، جو کہ فرعون کے خاندان سے تھا، کہا کہ کیا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ؟ اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے۔

اردو ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

صرف یہیں ایک جگہ نہیں، بلکہ جہاں جہاں قرآن میں آل کا لفظ آیا ہے، وہاں پر ایک دفعہ بھی ان سعودی علماء نے اس کا ترجمہ کبھی قوم یا امت نہیں کیا ہے بلکہ ہمیشہ ترجمہ کے لیے خاندان والے یا گھر والے استعمال کیا ہے۔

مثلاً سورہ یوسف میں اللہ سبحانہ تعالیٰ آلِ یعقوب استعمال کر رہا ہے :

وَکَذَلِکَ یَجْتَبِیکَ رَبُّکَ وَیُعَلِّمُکَ مِن تَأْوِیلِ الأَحَادِیثِ وَیُتِمُّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکَ وَعَلَى آلِ یَعْقُوبَ کَمَا أَتَمَّہَا عَلَى أَبَوَیْکَ مِن قَبْلُ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبَّکَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ

(القرآن ۱۲:۶) اور اسی طرح تیرا پروردگار تجھے برگزیدہ کرے گا اور تجھے معاملہ فہمی (یا خوابوں کی تعبیر) سکھائے گا اور اپنی نعمت تجھے بھرپور عطا فرمائے گا۔ اور یعقوب کے گھر والوں کو بھی۔ جیسے کہ اس نے اس سے پہلے تیرے دادا اور پردادا یعنی ابراہیم و اسحاق کو بھی بھرپور اپنی نعمت سے نوازا۔

ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

اور آلِ یعقوب کے ذیل میں ان سعودی علماء نے جو تفسیر کی ہے، وہ بھی قابلِ غور ہے

’اس (نعمت) سے مراد نبوت ہے، جو یوسف (ع) کو عطا کی گئی۔ یا وہ انعامات ہیں جن سے یوسف علیہ السلام مصر میں نوازے گئے۔ اور آلِ یعقوب سے مراد یوسف علیہ السلام کے بھائی اور ان کی اولاد وغیرہم ہیں، جو بعد میں انعاماتِ الٰہی کے مستحق بنے۔

آل سے مراد قوم یا امت ہرگز نہیں ہے کیونکہ اللہ نے قرآن میں “آل” کے لفظ کے ساتھ “قوم” کا لفظ استعمال کر کے آل اور قوم دونوں کو الگ الگ کر دیا ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن کیسے “آل” اور “قوم” میں فرق کر رہا ہے :

کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ بِالنُّذُرِ

إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ نَّجَّیْنَاہُم بِسَحَرٍ

(القرآن ۵۴:۳۴) قومِ لوط نے بھی ڈرانے والوں کی تکذیب کی۔ بیشک ہم نے ان پر پتھر برسانے والی ہوا بھیجی، سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے، انہیں ہم نے سحر کے وقت نجات دے دی۔

ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

پھر ملاحظہ فرمائیں کہ کس طرح سعودی مطبوعہ قرآن آل کا ترجمہ قوم یا امت کرنے کی بجائے گھر والوں کر رہا ہے۔

اگر آل سے مراد امت یا قوم ہوتی تو پھر حضرت لوط (ع) کی امت تو اسی رات عذاب سے دفن ہو گئی تھی جبکہ اللہ کہہ رہا ہے کہ اس نے آلِ لوط کو بچا لیا ہے۔

ایک اور جگہ اللہ قرآن میں کہہ رہا ہے :

قَالُواْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمٍ مُّجْرِمِینَ

إِلاَّ آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوہُمْ أَجْمَعِینَ

لاَّ امْرَأَتَہُ قَدَّرْنَا إِنَّہَا لَمِنَ الْغَابِرِینَ

فَلَمَّا جَاء آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ

(القرآن، سورہ ۱۵، آیات ۵۸ تا ۶۱) (فرشتوں ) نے کہا کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ سوائے خاندانِ لوط کے (آلِ لوط) کے کہ ان سب کو بچا لیں گے۔ مگر سوائے (لوط ) کی بیوی کے، کہ اسے ہم نے رکنے اور باقی رہ جانے والوں میں مقرر کر دیا ہے۔ جب بھیجے ہوئے فرشتے آلِ لوط کے پاس پہنچے تو لوط (علیہ السلام) نے کہا کہ تم لوگ تو انجان معلوم ہو رہے ہو۔

ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

اور دوسری جگہ اللہ فرما رہا ہے :

فَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إِلَّا أَن قَالُوا أَخْرِجُوا آلَ لُوطٍ مِّن قَرْیَتِکُمْ إِنَّہُمْ أُنَاسٌ یَتَطَہَّرُونَ

(القرآن ۲۷:۵۶) تو ان کی قوم کا کوئی جواب نہیں تھا سوائے اس کے کہ لوط کے خاندان (آلِ لوط) کو اپنی بستی سے نکال باہر کرو کہ یہ لوگ بہت پاکباز بنتے ہیں۔

ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

قوم تو خود کہہ رہی ہے کہ آلِ لوط کو اس بستی سے نکال دو اور مولوی حضرات قرآن کی مخالفت میں کہتے ہیں کہ آل سے مراد پوری امت ہے۔ آخر لوگوں کو آلِ محمد سے اتنی دشمنی کیوں ہے کہ قرآن کے احکامات ماننے کے لیے بھی تیار نہیں۔

اور اس مفروضہ کو کہ آل سے مراد امت یا قوم ہے، قرآن نے کئی اور جگہ پر واضح طور پر رد کیا ہے۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے :

إِنَّ اللّہَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاہِیمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِینَ ذُرِّیَّۃً بَعْضُہَا مِن بَعْضٍ وَاللّہُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ

(القرآن، سورہ ۳، آیات ۳۳ تا ۳۴) بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لوگوں میں سے آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کو، اور ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان اور عمران کے خاندان کو منتخب فرما لیا۔ کہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل (ذریت) سے ہیں اور اللہ تعالیٰ سنتا اور جانتا ہے۔

ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

اللہ نے خود اس آیتِ مبارکہ میں آل کا مطلب نسل کہہ کر اور قرآنی آیت میں ذریت کا لفظ استعمال کر کے آلِ محمد کے دشمنوں کا منہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہے۔ اب جو قرآن کو ہی نہ مانے اس کا کیا علاج؟

قرآن تو کہہ رہا ہے کہ:

اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُکْرًا

(سورہ سبا، آیت۱۳)اے اولادِ داؤد اللہ کا شکر ادا کرتے رہو۔

ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

اسی طرح دوسری جگہ کہہ رہا ہے کہ

یَرِثُنِی وَیَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ وَاجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّا

(سورہ مریم، آیت ۶) جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب علیہ السلام کے خاندان کا بھی جانشین ہو۔ اے میرے رب اسے پسندیدہ بندہ بنانا

ترجمہ از سعودی مطبوعہ قرآن

اور اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں یہ سعودی عالم لکھتا ہے کہ:

’انبیاء علیھم السلام کے خاندانوں میں دو عمران ہوئے ہیں ایک حضرت موسیٰ و ہارون علیھما السلام کے والد دوسرے حضرت مریم علیہا السلام کے والد۔ اس آیت میں اکثر مفسرین کے نزدیک یہی دوسرے عمران مراد ہیں اور اس خاندان کو بلند درجہ حضرت مریم علیہا السلام اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے حاصل ہوا اور حضرت مریم علیہا السلام کی والدہ کا نام مفسرین نے حنۃ بنت فاقوذ لکھا ہے (تفسیر قرطبی و ابن کثیر) اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے آل عمران کے علاوہ مزید تین خاندانوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت میں جہانوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ ان میں پہلے حضرت آدم علیہ السلام ہیں، جنہیں اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی، انہیں مسجود ملائک بنایا، اسما کا علم انہیں عطا کیا اور انہیں جنت میں رہائش پذیر کیا، جس سے پھر انہیں زمین میں بھیج دیا گیا جس میں اس کی بہت سی رحمتیں تھیں۔ دوسرے حضرت نوح علیہ السلام ہیں، انہیں اس وقت رسول بنا کر بھیجا گیا جب لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو معبود بنا لیا، انہیں عمر طویل عطا کی گئی، انہوں نے اپنی قوم کو ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کی، لیکن چند افراد کے سوا، کوئی آپ پر ایمان نہیں لایا۔ بالآخر آپ کی بددعا سے اہل ایمان کے سوا، دوسرے تمام لوگوں کو غرق کر دیا گیا۔ آل ابراہیم کو یہ فضیلت عطا کی کہ ان میں انبیاء و سلاطین کا سلسلہ قائم کیا اور بیشتر پیغمبر آپ ہی کی نسل سے ہوئے۔ حتیٰ کہ علی الاطلاق کائنات میں سب سے افضل حضرت محمد (ص) بھی حضرت ابراہیم (ع) کے بیٹے، اسمٰعیل (ع) کی نسل سے ہوئے۔

اب یہ ناصبی حضرات کس کس آیت کا انکار کریں گے ؟

اگر ہمیں اسلام کے دائرہ میں رہنا ہے تو آل سے مراد جو قرآن میں ہے وہی ہمیں بھی قبول کرنا پڑے گا۔ مزید دیکھئے کہ قرآن کیا کہہ رہا ہے :

 

وَقَالَ لَہُمْ نِبِیُّہُمْ إِنَّ آیَۃَ مُلْکِہِ أَن یَأْتِیَکُمُ التَّابُوتُ فِیہِ سَکِینَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ آلُ مُوسَى وَآلُ ہَارُونَ تَحْمِلُہُ الْمَلآئِکَۃُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَۃً لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ

(سورہ بقرہ ۲:۲۴۸) ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اس کے بادشاہ ہونے کی پہچان یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آ جائے گا جس میں تمہارے رب کہ طرف سے تسکین دہ چیزیں اور ان تبرکات سے بچی ہوئی کچھ چیزیں ہوں گی جو آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون چھوڑ گئے ہیں اور اس صندوق کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اور اس میں تمہارے لیے نشانی پوری ہے اگر تم مومنین میں سے ہو۔

اگر آل سے مراد امت ہو تو پھر صندوق میں ساری امت کے تبرکات ہونے چاہئے جب کہ ایسا نہیں ہے۔ قرآن میں ہی ہے کہ:

فَقَدْ آتَیْنَا آلَ إِبْرَاہِیمَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَآتَیْنَاہُم مُّلْکًا عَظِیمًا

(سورہ النساء ۴:۵۴) ’ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت دی اور ہم نے ان کو ملک عظیم عطا فرمایا۔

سوچئے کہ کیا اللہ نے پوری قوم کو کتاب دی اور کیا پوری قوم کو حکیم بنایا (یعنی حکمت دی)۔ اور اسی طرح کیا پوری امت کو حکومت دی گئی؟

یا پھر صرف یہ چار کتب زبور، توریت، انجیل اور قرآن دیا؟ اب اگر آل سے مراد اولاد ہو گی تو جن کو کتب ملی وہ سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے ہوں گے ؟ اور اگر آل سے مراد قوم ہو گی تو پھر اللہ نے چار لاکھ کتب آل ابراہیم کو دی ہوں گی۔ تلاش کیجئے۔

 

حدیث میں آلِ محمد کا ثبوت

 

حدثنا ‏ ‏ہارون بن معروف ‏ ‏حدثنا ‏ ‏عبد اللہ بن وہب ‏ ‏قال قال ‏ ‏حیوۃ ‏ ‏أخبرنی ‏ ‏أبو صخر ‏ ‏عن ‏ ‏یزید بن قسیط ‏ ‏عن ‏ ‏عروۃ بن الزبیر ‏ ‏عن ‏ ‏عائشۃ ‏ أن رسول اللہ ‏ ‏صلى اللہ علیہ و سلم ‏ ‏أمر بکبش أقرن ‏ ‏یطأ فی سواد ‏ ‏ویبرک فی سواد ‏ ‏وینظر فی سواد ‏ ‏فأتی بہ لیضحی بہ فقال لہا یا ‏ ‏عائشۃ ‏ ‏ہلمی ‏ ‏المدیۃ ‏ ‏ثم قال ‏ ‏اشحذیہا ‏ ‏بحجر ففعلت ثم أخذہا وأخذ الکبش فأضجعہ ثم ذبحہ ثم قال ‏ ‏باسم اللہ اللہم تقبل من ‏ ‏محمد ‏ ‏وآل ‏ ‏محمد ‏ ‏ومن أمۃ ‏ ‏محمد ‏ ‏ثم ضحى بہ

رسول (ص) نے حضرت عائشہ کو حکم دیا کہ ایک کالی ٹانگوں والا بھیڑ کا بچہ لایا جائے، جس کا پیٹ بھی کالا ہو اور جس کی آنکھوں کے گرد کالے حلقے ہوں تاکہ وہ اُس کی قربانی کر سکیں۔ پھر آپ (ص) نے حضرت عائشہ سے فرمایا: مجھے ایک بڑی چھری دو اور ایک پتھر پر اس کی دھار لگاؤ۔ حضرت عائشہ نے یہ کر دیا۔ پھر رسول (ص) نے چاقو اور بچھڑے کو لیا، اسے زمین پر لٹایا اور پھر یہ الفاظ کہتے ہوئے ذبح فرمایا: “بسم اللہ، اللھم تقبل من محمد و آل محمد و من امتی محمد” (یعنی اے اللہ! اس قربانی کو قبول فرما محمد کی طرف سے، اور آلِ محمد کی طرف سے اور امتِ محمد کی طرف سے )۔

صحیح مسلم، کتاب الاضاحی

اگلی حدیث بھی امام مسلم نے نقل کی ہے :

حدثنا ‏ ‏قتیبۃ بن سعید ‏ ‏حدثنا ‏ ‏عبد العزیز یعنی ابن أبی حازم ‏ ‏عن ‏ ‏أبی حازم ‏ ‏عن ‏ ‏سہل بن سعد ‏ ‏قال ‏ ‏استعمل على ‏ ‏المدینۃ ‏رجل من آل ‏ ‏مروان ‏ ‏قال فدعا ‏ ‏سہل بن سعد ‏ ‏فأمرہ أن یشتم ‏ ‏علیا ‏ ‏قال فأبى ‏ ‏سہل ‏ ‏فقال لہ أما إذ أبیت فقل لعن اللہ ‏ ‏أبا التراب ‏ ‏فقال ‏ ‏سہل ‏ ‏ما کان ‏ ‏لعلی ‏ ‏اسم أحب إلیہ من ‏ ‏أبی التراب

ترجمہ:

سہل بن سعد کہتے ہیں کہ مدینہ میں مروان کے خاندان میں سے ایک شخص حاکم ہوا تو اس نے سہل کو بلایا اور مولا علی علیہ السلام کو گالی دینے کا حکم دیا۔ سہل نے انکار کیا تو وہ شخص بولا کہ اگر تو گالی دینے سے انکار کرتا ہے تو کہہ کہ ابو تراب پر اللہ کی لعنت ہو۔ سہل نے کہا کہ علی علیہ السلام کو ابو تراب سے زیادہ کوئی نام پسند نہ تھا اور وہ اس نام کے ساتھ پکارنے والے شخص سے خوش ہوتے تھے

صحیح مسلم، کتاب فضائل صحابہ، فضائل علی ابن ابی طالب

اب مروان کی کوئی قوم نہیں تھی اور آلِ مروان سے مراد صرف اور صرف مروان کے خاندان کا ایک شخص ہے۔ مگر ناصبی حضرات ابھی تک آل کو قوم بنانے پر تلی ہوئی ہے۔

 

آلِ عمر کون ہیں ؟

 

عمر ابن خطاب کے متعلق روایت ہے :

عمر ابن خطاب کی غذا ایک یا دو ٹوکرے ٹڈیوں کے کھا لیتے تھے۔ ایک صاع کھجور (ساڑھے تین سیر) ڈال دی جاتی تھیں۔ وہ انہیں کھاتے تھے اور اس میں خراب اور ردی بھی کھا لیتے تھے۔ عمر اپنے جوتے سے کھانا کھانے کہ بعد ہاتھ پونچھتے تھے اور کہتے تھے آلِ عمر کی رو مال اُن کے جوتے ہیں۔ عمر گوشت کھا کر اپنا ہاتھ قدم سے پوچھتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ آلِ عمر کا رو مال ہے۔

سنی حوالہ: طبقات ابن سعد، اردو ایڈیشن از نفیس اکیڈمی، جلد اول، صفحہ 75

 

نماز میں آلِ محمد کا ثبوت

 

اس بات کا ثبوت قرآن میں بھی موجود ہے کہ آل سے مراد قوم یا امت نہیں ہے کیونکہ ہر مسلمان نماز میں درود کے علاوہ الگ سے السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین پڑھتا ہے۔ اگر آل سے مراد امت ہوتی تو الگ سے صالحین پر سلام نہ ہوتا کیونکہ تمام صالحین تو خود رسول (ص) کی امت سے ہیں۔

 

درود میں آلِ محمد کا ثبوت

 

اور اسی طرح اگر آل سے مراد امت ہو تو پھر مکتبِ صحابہ والے درود میں اپنی طرف سے ازواج و اصحاب اجمعین کا اضافہ نہ کرتے ؟ ازواجِ رسول اور اصحابِ رسول امت سے باہر تو نہیں ؟ اس کا صاف مطلب ہے کہ آل سے مراد امت ہرگز نہیں ہے۔

 

حضرت مہدی (ع) آلِ محمد سے ہیں

 

سنن ابو داؤد، کتاب المہدی میں عبد اللہ ابن مسعود سے روایت ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا کہ:

اگر دنیا کی عمر میں بس صرف ایک دن بھی باقی رہ جائے تب بھی اللہ تعالیٰ اس دن کو اسقدر طولانی کرے گا کہ یہاں تک کہ میری نسل سے ایک شخص کو ظاہر کرے۔

اور سنن ابو داؤد، کتاب المہدی میں ابو سعید خدری سے رسول اللہ کی حدیث نقل کی ہے جس میں آپ (ص) نے فرمایا:

’مہدی مجھ سے ہے۔ ‘

صاحبِ نور الابصار نے اپنی کتاب کے صفحہ ۳۴۶ پر ترمذی سے ایک ایسی روایت نقل کی ہے جو کہ ابو سعید خدری سے مروی ہے۔ اور اس کے بعد امام ترمذی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ:

یہ حدیث صحیح اور ثابت شدہ ہے۔

نیز صاحبِ نور الابصار کا کہنا ہے کہ اس حدیث کو طبرانی اور طبرانی کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی نقل کیا ہے۔

ابن حجر اپنی کتاب صواعقِ محرقہ کے صفحہ ۹۸ پر رسول اللہ (ص) کی اس حدیث کو نقل کرتے ہیں جسے طبرانی اور دوسرے محدثین نے نقل کیا ہے۔

آپ (ص ) نے فرمایا:

’مہدی میری اولاد میں سے ہو گا۔

نور الابصار صفحہ ۲۳۰ پر ابن شیرویہ سے اور وہ حذیفہ بن الیمان سے اور وہ رسول اللہ سے اسی طرح کی حدیث نقل کرتے ہیں۔

ایضاً اسی کتاب کے سفحہ ۲۳۱ پر حضرت علی ابن ابی طالب (ع) سے روایت ہے :

میں نے رسول اللہ سے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا مہدی ہم آل محمد میں سے ہے یا ہمارے علاوہ کسی اور کی نسل سے ؟ تو رسول اللہ (ص) نے جواب دیا: ہرگز نہیں ! بلکہ ہم ہی سے ہے۔

صاحب مطالب السؤل اپنی کتاب میں رقمطراز ہیں کہ:

آل کے کلمہ کی تعریف کے بارے میں لوگوں کے اقوال مختلف ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ کسی کی آل، اس شخص کے گھر والے ہیں، جبکہ بعض نے یہ رائے دی ہے آلِ نبی وہ لوگ ہیں جن پر زکوٰۃ حرام ہے۔ لیکن اس کی بجائے خمس حلال ہے اور بعض نے یہ قول اختیار کیا ہے کہ کسی شخص کی آل یعنی جو اس شخص کے دین اور مسلک پر چلے اور پیروی کرے۔

اب پہلے نظریے کے حامی اس چیز کے ذریعے استدلال کرتے ہیں جس کو قاضی الحسین بن مسعود بغوی نے اپنی کتاب شرح سنت الرسول میں رقم کیا ہے اور ایسی احادیث کی تشریح کی ہے کہ جن کی صحت متفق علیہ ہے۔

مذکورہ مصنف نے جس حدیث کو اپنی کتاب میں نقل کیا ہے اس کو اپنی سند کا ذکر کرتے ہوئے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے متصل کیا ہے کہ ابن ابی لیلیٰ نے کہا کہ:

میں نے کعب بن عجرہ سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا کہ آیا میں تحفہ میں تمہیں ایسی حدیث سناؤں جو کہ میں نے ختم مرتبت سے سنی ہے ؟

عبد الرحمٰن نے کہا کہ بالکل سنائیے۔ تو پھر کعب نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ (ص) سے پوچھا کہ ہم آپ اہلبیت پر درود کیسے بھیجیں ؟ تو آپ (ص) نے فرمایا کہ کہو:

اللھم صل، علی محمد وا علی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم و آل ابراہیم و بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراہیم و آل ابراہیم انک حمید مجید۔

پس آنحضرت (ص) نے اس حدیث میں آل اور اہل کی تفسیر و تشریح ایک دوسرے کے ذریعے فرمائی۔ اس طرح تفسیر شدہ اور تفسیر کنندہ لفظ ایک دوسرے کے ہم معنی ہیں۔ (یعنی آل اور اہل) پس لفظ کو بدلا گیا ہے مگر معنی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے۔

اس طرح آل النبی، اہل بیت ہیں اور اہل بیت آل النبی۔ اس حساب سے الفاظ تو مختلف ہیں لیکن معنی کے لحاظ سے متحد۔

اس کے علاوہ ایک دوسری حقیقت جو سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ عربی زبان میں کلمہ آل کو کلمہ اہل سے لیا گیا ہے۔ اور کلمہ اہل میں موجود ہائے ہوز، ہمزہ میں تبدیل ہو گئی۔

اس امر کی نشاندہی اس وقت ہوتی ہے جب ہم کلمہ آل کی تصغیر بنائیں کیونکہ تصغیر کے وقت آل کی ھاء پلٹ آتی ہے اور آل کا تلفظ اہیل ہو جاتا ہے۔

اب کلمہ آل کے معنی کرتے ہوئے جن لوگوں نے دوسرے قول کو اختیار کیا ہے اور ان کا استدلال وہ روایت ہے کہ جس کو ائمہ حدیث نے اپنی مسانید میں ذکر کہا ہے۔ اور امام مسلم بن حجاج، ابو داؤد اور نسائی ان سب نے مذکورہ حدیث کی سند کو اپنی صحیح میں ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے اور آخر میں عبد المطلب بن ربیعہ بن الحارث سے متصل کیا ہے کہ عبد المطلب کہتے ہیں :

میں نے رسول اللہ (ص) سے سنا کہ تمام صدقات میل کچیل کی مانند ہیں۔ اور محمد اور آل محمد میں کسی پر حلال نہیں۔

اور دوسرا استدلال اس حدیث کے ذریعے ہے جس کو امام دار الھجرۃ مالک بن انس اپنی کتاب میں سند کا ذکر کرتے ہوئے رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں کی آپ (ص) نے فرمایا:

صدقہ آلِ محمد کے لئے حلال نہیں ہے کیونکہ یہ لوگوں کے اموال کا میل ہے۔

پس رسول اللہ نے حرمتِ صدقات کو اپنی آل کی خصوصیات میں سے قرار دیا۔ لہذا وہ لوگ جن پر صدقہ حرام ہے، بنو ہاشم، اور پھر بنو عبد المطلب ہیں۔ اور جب زید بن ارقم سے پوچھا گیا کہ وہ کون آلِ رسول ہیں کہ جن پر صدقہ حرام ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا: ول آل علی، آل جعفر، آل عباس اور آل عقیل ہیں (یعنی خاندان والے )۔ اور آل کے یہ معنی پہلے معنی سے ملتے جلتے ہیں۔

ذیل میں ہم صحیح مسلم، کتاب فضائلِ الصحابہ کی اس حدیث کا عربی ٹیکسٹ دے رہے ہیں۔

6378 – حدثنی زہیر بن حرب، وشجاع بن مخلد، جمیعا عن ابن علیۃ، قال زہیر حدثنا إسماعیل بن إبراہیم، حدثنی أبو حیان، حدثنی یزید بن حیان، قال انطلقت أنا وحصین، بن سبرۃ وعمر بن مسلم إلى زید بن أرقم فلما جلسنا إلیہ قال لہ حصین لقد لقیت یا زید خیرا کثیرا رأیت رسول اللہ صلى اللہ علیہ و سلم وسمعت حدیثہ وغزوت معہ وصلیت خلفہ لقد لقیت یا زید خیرا کثیرا حدثنا یا زید ما سمعت من رسول اللہ صلى اللہ علیہ و سلم – قال – یا ابن أخی واللہ لقد کبرت سنی وقدم عہدی ونسیت بعض الذی کنت أعی من رسول اللہ صلى اللہ علیہ و سلم فما حدثتکم فاقبلوا وما لا فلا تکلفونیہ ‏۔ ‏ ثم قال قام رسول اللہ صلى اللہ علیہ و سلم یوما فینا خطیبا بماء یدعى خما بین مکۃ و المدینۃ فحمد اللہ وأثنى علیہ ووعظ وذکر ثم قال ‏”‏ أما بعد ألا أیہا الناس فإنما أنا بشر یوشک أن یأتی رسول ربی فأجیب وأنا تارک فیکم ثقلین أولہما کتاب اللہ فیہ الہدى والنور فخذوا بکتاب اللہ واستمسکوا بہ ‏”‏ ‏۔ ‏ فحث على کتاب اللہ ورغب فیہ ثم قال ‏”‏ وأہل بیتی أذکرکم اللہ فی أہل بیتی أذکرکم اللہ فی أہل بیتی أذکرکم اللہ فی أہل بیتی ‏”‏ ‏۔ ‏ فقال لہ حصین ومن أہل بیتہ یا زید ألیس نساؤہ من أہل بیتہ قال نساؤہ من أہل بیتہ ولکن أہل بیتہ من حرم الصدقۃ بعدہ ‏۔ ‏ قال ومن ہم قال ہم آل علی وآل عقیل وآل جعفر وآل عباس ‏۔ ‏ قال کل ہؤلاء حرم الصدقۃ قال نعم ‏

اللہ محمد و آلِ محمد اور آپ پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ امین۔

صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ

٭٭٭

ماخذ:

http://shiastudies.com

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید