FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

فکری ملکیت اور صنعتِ ایجاد

 

محمد علی مکی

 

 

 

 

اوپن سورس کے سورج کے طلوع نے گویا ترقی یافتہ ٹیکنالوجی اور دستیاب ٹیکنالوجی کے درمیان حائل دیوار کو گرا دیا، 1970 اور اس سے پہلے بھی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی اور اس سے متعلق لوازمات موجود تھے مگر یہ صرف چند ملکوں تک ہی محدود تھے (اب بھی ہے) کیونکہ ان ملکوں نے ایسی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کو کسی دوسرے ملک کو فروخت کرنے پر پابندیاں لگا رکھی تھیں کیونکہ یہ ملک سمجھتے تھے کہ ایسی مشینری اور پروگرام جو ان کے حساس اداروں میں مستعمل ہیں کو فروخت کرنے سے ان کی کمزوریاں ظاہر ہو جائیں گی اور یہ بہت ممکن ہے کہ یہ دشمن ہاتھوں میں پہنچ جائیں، چنانچہ ہم تک جو بھی پہنچتا تھا وہ صرف عام اور بے ضرر قسم کی تجارتی ٹیکنالوجی ہوتی تھی۔

جب اوپن سورس کی تحریک شروع ہوئی تو عام طور پر یہ سمجھا جانے لگا کہ اس میں کام کرنے والے ملازمت کی تلاش میں ہلکان لوگ ہیں جو ایسا اس لئے کر رہے ہیں تاکہ ’’کلوزڈ سورس‘‘ میں ملازمتیں حاصل کر سکیں، یا پھر شوقیہ لوگ ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر یہ ایک ’’بھاری‘‘ قسم کی ٹیکنالوجی ثابت ہوئی، کیونکہ اس میں کام کرنے والے ویسے لوگ نہیں تھے جیسا کہ سمجھا جانے لگا، بلکہ سائنسی تحقیق کے ادارے، یونیورسٹیاں، اور بڑی بڑی کمپنیاں تھیں، مثلاً معلومات کی ترمیز (انکرپشن) کا طریقہ کار جسے امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی NIST نے وضع کیا تھا اور جو DES کہلاتا ہے اس سے کہیں کمزور ہے جسے اوپن سورس آرگنائزیشن گنو www۔gnu۔org نے وضع کیا تھا چنانچہ NIST نے ابھی تک امریکی حکومت کے کمپیوٹروں میں DES کے استعمال کی اجازت نہیں دی۔ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ امریکہ کے قومی سلامتی کے ادارے نیشنل سیکورٹی ایجنسی NSA نے بھی اپنی ایک خاص لینکس ڈسٹرو بنا رکھی ہے جو SELinux کہلاتی ہے اور جسے انہوں نے اپنی امنی ضروریات کے مطابق ڈھالا اور بنایا ہے مگر چونکہ لینکس ایک آزاد مصدر نظام ہے اس لئے NSA اسے GPL لائسنس کے تحت ’’سیکرٹ‘‘ نہیں رکھ سکتی اور اسے خاص و زد عام کرنے پر مجبور ہے چنانچہ آپ SELinux اور اس کا مصدر بڑے آرام سے NSA کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔

فی الوقت دنیا کا سب سے بڑا سپر کمپیوٹر (اور دوسرا بھی) لینکس پر چل رہے ہیں، اس اعتماد کی وجہ وہ فلسفہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ اوپن سورس سوفٹ ویر کا کوڈ چونکہ ہر کوئی دیکھ سکتا ہے چنانچہ یہ امکان قطعی ختم ہو جاتا ہے کہ اس میں ’’جان بوجھ‘‘ کر چھوڑا گیا کوئی ’’سیکورٹی ہول‘‘ ہو گا جو بعد میں کسی خطرناک صورتحال پر منتج ہوسکے۔ بہر صورت ہر کسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی غلطی کی دریافت پر اسے خود ہی درست کر دے اور اوپن سورس کے قانون کے تحت اسے دنیا کے لئے نشر کر دے۔ آپ کو حیرت ہو گی کہ امریکی حکومت معلومات کی ترمیز (ڈیٹا انکرپشن) کے ایسے سوفٹ ویر بنانے اور پبلش کرنے کی اجازت نہیں دیتی جنہیں بعد میں غیر رمز شدہ نہ کیا جاسکے۔ جب تک کہ اس کی کوئی ’’ماسٹر کی‘‘ نہ ہو۔

صدمہ!!

مذکورہ بالا باتیں صدمہ نہیں بلکہ خوش آئند ہیں کہ دنیا کے غریب ممالک بھی معلومات کی اعلی سے اعلی ٹیکنالوجی حاصل کرسکیں، لیکن صدمہ یہ ہے کہ ہمارے اکثر ماہرین (باہر سے لوٹے ہوئے بہت کم) تجارتی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔!! چنانچہ ہم اوپن سورس کی دنیا سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ خاص طور پر جبکہ اوپن سورس کے اکثر پراجیکٹ کا مصدر صرف ’’کوڈ‘‘ کی صورت میں دستیاب ہوتا ہے نا کہ تیار حالت میں، اور جو بات سب سے افسوسناک ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ اور تعلیمی نصاب کے ماہرین بھی تجارتی دنیا سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ اوپر سے طرہ یہ ہے کہ ہمیں جو کچھ مِس ہوا ہے وہ کچھ کم نہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں سوفٹ ویر بنتے اور معدوم ہو جاتے ہیں اور ہمیں ان کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم۔ مثال کے طور پر ایک سوفٹ ویر Vi کے نام سے بنتا ہے اور پھر Vi IMproved آتا ہے یعنی یہ Vi کی بہتر شکل ہے تو اگر ہم Vi کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تو ہمیں یہ کیسے معلوم ہو گا کہ VIM کیا ہے۔؟؟ اور یہی ہمارے ماہرین کی صفوں میں امیت کی ایک شکل ہے۔!!

اگر آپ کسی بڑی پاکستانی ویب سائٹ (جو بہت کم ہیں اور زیادہ تر رومن اردو استعمال کرتی ہیں) پر چلے جائیں تو دیکھیں گے کہ ہمارے اکثر ماہرین وطنِ عزیز کے باہر سے بات کر رہے ہوں گے۔ ممکن ہے کہ اب کچھ صورتحال مختلف ہو گئی ہو اور کچھ ماہرین وطنِ عزیز میں رہتے ہوئے بھی کام کر رہے ہوں مگر افسوس کہ ان کی اس طرح پذیرائی نہیں کی جاتی جتنی کہ ان کی وطنِ عزیز سے باہر ہونے پر کی جاتی ہے۔

ان مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ چیزوں کے ’’تسمیہ‘‘ کا بھی ہے۔ یعنی چیزوں کے نام ان کے کام کے حساب سے نہیں لیئے جاتے بلکہ ان کے تجارتی نام استعمال کئیے جاتے ہیں مثال کے طور پر آپ نے کبھی کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا ہو گا جو ’’کولا‘‘ طلب کر رہا ہو۔ بلکہ برانڈ نیم ’’پیپسی‘‘ یا ’’کوکا کولا‘‘ طلب کیا جاتا ہے۔ یہی بات ڈیٹرجنٹ پر بھی صادق آتی ہے۔ اور یہی بات اب کمپیوٹر سوفٹ ویر میں بھی داخل ہو گئی ہے۔ مثال کے طور پر ہمارے اکثر صارفین کو یہ پتہ ہی نہیں کہ ’’مائکروسوفٹ ورڈ‘‘ دراصل ’’ورڈ پراسیسر‘‘ ہے۔ چنانچہ وہ اسے ’’مائکروسوفٹ ورڈ‘‘ ہی کہتا ہے جو کہ اصل میں برانڈ نیم ہے اور یہی کلیہ وہ ہر نئے آنی والی چیز پر لاگو کرتا ہے۔ اس کے علاوہ غلط مفاہیم کی بھی کمی نہیں کہ بعض کے ہاں Bad sector ایک وائرس ہوتا ہے اور بعض لوگ سی ڈی کو تشابہ کی وجہ سے ’’کیسٹ‘‘ سمجھتے ہیں۔!!

یہاں مسئلہ زیادہ یا کم جاہلوں کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ایسے لوگوں کو ایسے مراکز پر بٹھا دیا جاتا ہے جہاں ان کے فیصلے اثر انداز ہوتے ہیں۔ مثلاً بچوں کے ایک تعلیمی پروگرام میں ایک خاتون فرما رہی تھیں: ’’بچوں آج ہم مغناطیس بنائیں گے، پلاسٹک کی ایک کنگھی لائیں اور اسے کسی سوتی کپڑے پر رگڑیں پھر اس کنگھی کو کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے قریب لائیں آپ دیکھیں گے کہ ہمارا مغناطیس کاغذ کے ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچ لے گا‘‘ اس بات میں دو آفتیں ہیں، پہلی یہ کہ ساکن بجلی مغناطیس نہیں ہوتی، اور دوسری یہ کہ مغناطیس کاغذ کو جذب نہیں کرتا۔!! اسی طرح نصاب کی بعض کتابوں میں (ایک نصاب ہو تو بتائیں) سوفٹ ویر کی تنصیب کچھ اس طرح سکھائی جاتی ہے ‘‘setup چلائیں، Next پر کلک کریں، ایگریمنٹ قبول کریں‘‘ یہاں بھی دو آفتیں ہیں، پہلی یہ کہ یہ نہیں کہا گیا کہ ایگریمنٹ پڑھیں، دوسری یہ کہ آپ ایک بچے پر سوفٹ ویر کی تمام تر قانونی ذمہ داریاں ڈال رہے ہیں جس کے تحت وہ (اور اس کے گھر والوں کو) سوفٹ ویر کی 30 سے 300 ڈالر کی قیمت ادا کرنے کے نہ صرف پابند ہیں بلکہ متوقع نقصانات کے بھی ذمہ دار ہیں۔!!

ایک اور مثال جو زیادہ افسوس ناک ہے وہ ایک ماہر کی ہے کو 2000 سے کچھ پہلے ٹی وی پر Y2K بگ پر کچھ اس طرح تبصرہ فرما رہے تھے: ’’یہ مسئلہ کمپیوٹر میں تاریخ کو صرف دو ڈیجٹ پر محفوظ کرنے کی وجہ سے پیدا ہو گا یعنی 2000، 00 ہو جائے گا اور چونکہ 00 کے بعد 99 کا ہندسہ آئے گا اس لیئے تاریخ کے پیچھے چلے جانے کی وجہ سے کمپیوٹر میں ایک خلفشار پیدا ہو جائے گا اور وہ حسابات میں غلطیاں شروع کر دے گا جس سے وائرس پیدا ہوسکتا ہے اور سکرین جل بھی سکتی ہے‘‘ کس نے کہا ہے کہ کمپیوٹر کے جذبات ہوتے ہیں اور وہ خود ہی حسابات شروع کر دیتا ہے۔!! کس نے کہا ہے کہ وائرس خود ہی پیدا ہو جاتے ہیں اور یہ مسئلہ مانیٹر کی پکچر ٹیوب کو پھٹنے پر مجبور کر دے گا۔!!

سیٹ لائیٹ کے ایک چینل میں ایک اور ماہر فرما رہے تھے: ’’پہلا آپریٹنگ سسٹم ڈاس ہے جسے مائکروسوفٹ نے بنایا اور پھر مائکروسوفٹ نے ونڈوز 3۔1 اور 1995 میں ونڈوز 95 بنائی، اور پھر لینکس کمپنی نے ریڈ ہیٹ سسٹم بنایا اور لنڈوز کمپنی نے لنڈوز آپریٹنگ سسٹم جس میں لینکس کی طاقت اور ونڈوز کی سہولت جمع کر دی گئی‘‘ اس قولِ شریف میں کم سے کم 7 غلطیاں ہیں، پہلی یہ کہ سب سے پہلا ڈاس مائکروسوفٹ نے نہیں بلکہ IBM نے بنایا تھا وہ بھی ورژن 3.0 تک مائکروسوفٹ نے ڈاس 3.1 بنایا تھا، دوم یہ کہ ڈاس سب سے پہلا آپریٹنگ سسٹم نہیں تھا بلکہ اس سے بیس سال پہلے یونکس کا پانچواں ورِژن تھا جو کہ وہ بھی پہلا نہیں تھا!! سوم یہ کہ ونڈوز 3۔1 آپریٹنگ سسٹم نہیں تھا، چوتھا یہ کہ ونڈوز 95، 1995 میں نہیں بلکہ 1993 میں جاری کی گئی تھی کیونکہ یہ عدالتوں میں پیٹنٹ کیس میں تاخیر کا شکار رہی، پانچواں یہ کہ لینکس کمپنی نہیں ہے!! kernel۔ORG، linux۔ORG، fsf۔ORG، gnu۔ORG یہاں ہاتھی جتنا ORG انہیں نظر نہیں آیا!! چھٹا یہ کہ ریڈ ہیٹ لینکس کا ورژن نہیں ہے بلکہ ایک ڈسٹرو ہے ساتواں یہ کہ لنڈوز بھی لینکس کی ایک ڈسٹرو ہے جس میں پہلے سے ہی wine شامل ہوتا ہے اور اس کی theme ونڈوز سے زیادہ مختلف نہیں ہوتی!!

ہنسیں مت، یاد رکھیں کہ ہم امی ہیں جنہیں پڑھنا اور سمجھنا پسند نہیں، کیونکہ اگر cancel کے بٹن پر dismiss لکھ دیا جائے تو ہم کہتے ہیں کہ: ’’یہ پروگرام اب بہت مشکل ہو گیا ہے!!‘‘ یاد رکھیں کہ ہم چیزوں کو اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح کہ ہم توقع کرتے ہیں یا جیسا کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہوں، یعنی ہم پہلے ہی شرائط رکھتے ہیں، ہم مصدر سے زیادہ اشتہارات پر یقین کرنے والی قوم ہیں۔!!

فکری پراڈکٹ کی حفاظت کا طریقہ

وقت کے ساتھ ساتھ فکری پراڈکٹ کی حفاظت کے طریقۂ کار میں ترقی ہوئی، جس میں سب سے اہم یہ ہے کہ صاحبِ حق کو اس کا حق دیا جائے یعنی copyright اگر کوئی پراڈکٹ کسی دوسری پراڈکٹ سے مشتق ہے تو ہمیں چاہئیے کہ ہم اس کی تفصیلات لکھیں جو کہ ایک لازمی امر ہے، لیکن بعض حالات میں اس کا اثر عکسی یا الٹا ہوتا ہے جس سے بجائے ایجاد کی حوصلہ افزائی کے حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور ایجاد کا دائرہ کار چند لوگوں پر منحصر ہو جاتا ہے جیسے اگر پہلا مصنف (یا ناشر) یہ شرط رکھے دے کہ اگر کوئی اس کی پراڈکٹ سے مشتق کوئی دوسری پراڈکٹ بنانا چاہے تو اس کو چاہئیے کہ وہ پہلے اس سے رجوع کرے۔ ایسا ہم اکثر کتابوں میں بھی لکھا ہوا دیکھتے ہیں جس میں جلی حروف میں لکھا ہوتا ہے (مصنف کی اجازت کے بغیر …۔ کا کوئی بھی حصہ شائع نہیں کیا جاسکتا) اکثر ملکوں میں اس کے ریکارڈ رکھے جاتے ہیں، شکایتیں نوٹ کی جاتی ہیں اور نئے نام رجسٹر کئیے جاتے ہیں اور شکایتوں پر کاروائیاں بھی کی جاتی ہیں، اس طریقہ کار میں سب سے بڑی خامی تب نظر آتی ہے جب بعض لوگ عام ناموں کی ملکیت حاصل کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص لفظ sport کے حقوق حاصل کر لے تو ہر اس شخص پر لازمی ہو گا جو یہ لفظ لکھنا چاہے کہ وہ پہلے اس شخص سے رابطہ کر کے اجازت حاصل کرے!! اسی قسم کی مشکلات ثقافتی روایات میں بھی ہوسکتی ہیں جیسے اگر کوئی شخص کسی روایتی کہانی کے حقوق حاصل کر لے، یہ مسئلہ لینکس کے ساتھ بھی پیش آیا جب ایک کمپنی نے ’’لینکس‘‘ کی ملکیت کا دعوی کیا اور اسے حاصل بھی کر لیا (کیونکہ وہ پہلے سے رجسٹرڈ نہیں تھا) اور پھر ہر اس ادارے سے جو لینکس استعمال کرتا تھا اس سے رجوع کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ مگر ایسا ہو نہ سکا کیونکہ بعض درد مند وکلا نے اس کمپنی پر کیس کر دیا اور کیس جیت کر لینکس کے حقوق اس کے موجد لینس ٹروالڈ کو واپس دلوا دیے اسی لئے لفظ لینکس کے بعد (c) لکھا ہوا نظر آتا ہے۔

اس سے زیادہ خطرناک اینڈ یوزر لائسنس ایگریمنٹ ہے جسے مختصراً ایولا EULA کہا جاتا ہے جس میں موجد (یا کمپنی) پراڈکٹ کے استعمال کا لائسنس فروخت کرتی ہے یعنی خریدار نے جو رقم ادا کی ہے وہ صرف پراڈکٹ کو استعمال کرنے کے لئے ہے یعنی اس نے پراڈکٹ نہیں خریدی بلکہ اسے استعمال کرنے کا لائسنس حاصل کیا ہے چنانچہ اسے پراڈکٹ کو فروخت کرنے، کرائے پر دینے یا کاپی کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ خریدار پر پراڈکٹ کو استعمال کرنے کی حدیں بھی متعین کی جاتیں ہیں مثال کے طور پر وہ پراڈکٹ کو کھول نہیں سکتا۔ گویا یہ پراڈکٹ ایک طرح سے بلیک بکس یا ’’لوہے کا ڈھیر‘‘ ہے، ذرا سوچیں EULA پر لائسنس شدہ ٹی وی!! میں مذاق نہیں کر رہا۔ مثلاً ونڈوز کے ایولا میں لکھا ہے You may not reverse engineer, decompile, or disassemble the SOFTWARE PRODUCT اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ونڈوز سسٹم کی تصویر اتارنا (screenshot) بھی غیر قانونی سمجھا جاتا ہے!!! یورپی یونین کے بعض ممالک میں اس قسم کے لائسنسوں کی حدیں متعین کی گئی ہیں اور ان کی بعض شقوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا جیسے کھولنے کی شق، اس قسم کے لائسنسوں کے تیسری دنیا کے ممالک پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ کمپنی ہی یہ متعین کرتی ہے کہ لوگوں کو کیا کرنا چاہئیے اور کیا نہیں کرنا چاہئیے جیسے تجربات کرنا، ترقی دینا، یا ترجمہ کرنا، گویا یہ ’’سوچنا منع ہے‘‘ کے قانون کی ہی ایک شکل ہے۔

EULA سے معاملہ اس وقت اور بھی گمبھیر صورتحال اختیار کر لیتا ہے جب اینڈ یوزر کو اپڈیٹ کی ضرورت ہو، یعنی اخراجات مستفید کاروں کے اضافہ کے ساتھ ہی بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں جو تیسری دنیا کے ممالک پر ایک بوجھ بن جاتا ہے کیونکہ اگر کوئی ملک اپنے کسی ادارے کے 1000 کمپیوٹروں میں مزید 1000 کا اضافہ کرنا چاہے تو اسے ہر کمپیوٹر کی قیمت کے ساتھ ایک عدد EULA لائسنس کی قیمت بھی شامل کرنی ہو گی!! جبکہ غیر قانونی اور جعلسازی کا شکار بھی آخری مستفید کار (اینڈ یوزر) ہی ہوتا ہے جس نے انجانے میں جعلی سیڈیاں خریدیں نہ کہ وہ جعلساز جس نے کہ وہ جعلی سیڈیاں بالکل اصلی بنا کر فروخت کیں۔ اس بیچارے ’’شکار‘‘ نے دو دفعہ قیمت ادا کی۔ ایک دفعہ جعلساز کو اور ایک دفعہ کمپنی کو ساتھ ہی اسے ’’کریکر‘‘ اور ’’معلومات کے چور‘‘ کا لقب مفت میں ملا۔ جبکہ اصل چور سزا سے بچ گیا کیونکہ وہ ’’اینڈ یوزر‘‘ نہیں ہے کیونکہ ایولا کی شرائط استعمال کرنے پر لاگو ہوتی ہیں اور ’’چور‘‘ نے چونکہ اسے استعمال نہیں کیا چنانچہ وہ ’’اینڈ یوزر‘‘ نہیں ہے۔

ایولا سے زیادہ پر تشدد طریقہ patents ہے خاص طور پر جو ایجادات سے متعلق ہے جس میں کسی پراڈکٹ کو ترقی دینے استعمال کرنے حتی کہ ہر اس پراڈکٹ کو جو اس کا استعمال یا اس پر مشتمل ہو کسی ایک شخص یا جنہیں وہ تفویض کرے پر منحصر کر دیتی ہے۔ مثلاً اگر کسی شخص نے آواز کو محفوظ کرنے کا کوئی طریقہ دریافت کر کے اس کا نام A رکھا ہے اور A کو محفوظ کرنے کے لئے کوئی سوفٹ ویر بنا

کر اسے پیٹنٹ کروا لیا ہے تو اگر کسی دوسرے شخص نے بغیر A کو دیکھے آواز محفوظ کرنے کا کوئی مشابہ طریقہ الگ سے دریافت کیا ہے تو اسے سابقہ A کے مالک سے اجازت حاصل کرنی ہو گی۔ اور اگر کسی نے ٹی وی ٹرانسمشن کا کوئی طریقہ دریافت کر کے اسے پیٹنٹ کروا لیا ہے تو ٹی وی بنانی والی تمام کمپنیوں کو یہ ٹرانسمشن ریسیو کرنے کی اجازت نہیں ہو گی چاہے وہ یہ طریقہ الگ سے اپنے طور پر ہی کیوں نہ دریافت کر لیں۔!! ذرا تصور کریں کہ آپ ایک ٹی وی لیتے ہیں جس پر لکھا ہو کہ یہ CNN کو سپورٹ کرتا ہے اور BBC کو نہیں۔!؟ اس سے بھی بڑھ کر اگر کوئی شخص پیٹنٹ شدہ کسی ایجاد کی طرز پر کوئی دوسری چیز بنا کر اسے ترقی دینا چاہے تو اسے پہلے فریق سے اجازت حاصل کرنی ہو گی۔ یعنی اگر ہمارے پاس کوئی موجد ہے جو کچھ ایجاد کرنا چاہتا ہے اور اسے نے پہلے فریق سے اجازت حاصل نہیں کی تو وہ ایسا نہیں کرسکتا، اس کی ایک آسان مثال یوں ہے کہ ہمیں “۔doc” فائلوں کو جو مائکروسوفٹ کے سوفٹ ویر بناتے ہیں کسی دوسرے سوفٹ ویر میں کھولنے کے لئے مائکروسوفٹ سے اجازت حاصل کرنی ہو گی (صرف امریکہ میں) اس کی ایک واضح اور دردناک مثال افریقہ میں ایڈز کی دوائیاں ہیں جہاں غربت کے باوجود وہاں کے ممالک میں اتنی استطاعت ضرور ہے کہ وہ ایڈز کے خلاف ویکسین بنا سکیں۔ مگر چونکہ یہ دوائیاں patents ہیں اور ان کے حقوق امریکہ کی بڑی بڑی فارماسوٹیکل کمپنیوں کے پاس ہیں جو افریقہ کے ان غریب ممالک کو یہ ادویات بنانے کی اجازت نہیں دیتیں تاکہ ان کی اجارہ داری اور دولت میں اضافہ جاری رہ سکے۔ مگر ہنسی تب آتی ہے جب ہم خبروں میں سنتے ہیں کہ امریکہ نے افریقہ کے فلاں ملک کو ادویات یا رقم ڈونیٹ کی ہے جبکہ وہ خود ان کی اس بدحالی اور موت کا سبب ہے، چنانچہ اسی وجہ سے دنیا کے بعض ممالک (امریکہ کے علاوہ) ایسے لائسنسوں اور قوانین کی اس طرح حدیں متعین کرتے ہیں کہ پہلے موجد کا حق بھی قائم رہے اور ایجاد کا عمل بھی نہ رکنے پائے اس ضمن میں یورپی یونین سب سے زیادہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

ایسے ٹیڑھے قوانین سے بچنے کے لئے کمپنیاں بھی ٹیڑھا طریقہ اپناتی ہیں جو تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ وہی ہوتا ہے، یعنی اسے صفر سے شروع کر دیتی ہیں، مثال کے طور پر آواز کو محفوظ کرنے کا طریقہ جو mp3 کہلاتا ہے فوریئر سلسلہ پر بیس کرتا ہے یعنی fourier sine series جو کہ پیٹنٹ ہے، اس کے مقابلے میں ogg ایجاد کیا گیا ہے جو کہ fourier cosine series پر بیس کرتا ہے جو انیس بیس کے فرق سے وہی ہے، یہاں ہم نوٹ کرتے ہیں کہ کمپنیاں کچھ نیا ایجاد کرنے کے لئے مقابلہ نہیں کر رہیں بلکہ پہیہ کو دوبارہ ایجاد کرنے پر وقت ضائع کر رہی ہیں۔!! اسی طرح اگر mp3 سے مشتق کوئی نئی ایجاد کی ضرورت ہو جیسے mpeg جس میں تصویر کے ساتھ ساتھ آواز بھی محفوظ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تو mpeg کے موجد کو چاہئیے کہ وہ mp3 والوں سے اجازت حاصل کرے ورنہ گونگی تصاویر دکھائے!! لیکن چونکہ یہاں ایک ہی کمپنی ہے چنانچہ کوئی مسئلہ نہیں لیکن اگر کوئی اور کمپنی ہوتی تو اسے اجازت کی ضرورت ہوتی اسی لئے ogm معرضِ وجود میں آیا جو ogg۔ پر مبنی ہے، آسان لفظوں میں اگر کسی کمپنی کے پاس کوئی نئی ایجاد ہے جو کسی سابقہ ایجاد پر مبنی ہو تو اسے چاہئیے کہ وہ ہر چیز دوبارہ ایجاد کرے، یعنی آج کل کمپنیاں ایک ہی کام بار بار کر رہی ہیں جو ان میں سے کسی ایک کا کرنا کافی ہوتا، دوسرے لفظوں میں جس کے پاس حقوق ہیں صرف اسے ہی سیکھنے کی اجازت ہے ورنہ اسے چاہئیے کہ وہ ہر چیز دوبارہ سے ایجاد کرے، یہ صورتحال مجھے ان تہذیبوں کی یاد دلاتی ہے جن میں صرف شرفاء کو ہی سیکھنے کے حقوق حاصل تھے جیسے 2000 سال قبل مسیح میں ہندو تہذیب میں صرف شرفاء کو ہی سنسکرت سیکھنے کی اجازت تھی، یا قرونِ وسطی میں یورپ جہاں لاطینی زبان سیکھنے کی اجازت بھی صرف شرفاء کو ہی تھی۔

کھلے دماغ

مذکورہ بالا تمام طریقے پہلے موجد کی تو حوصلہ افزائی کرتے ہیں مگر ایجاد کے تسلسل اور پھیلاؤ کو روک دیتے ہیں، چنانچہ جب موجد کو اپنی ایجاد کا پھیلاؤ مقصود ہوتا ہے تو وہ اسے ‏Open domain یا Public domain میں نشر یا شائع کرتا ہے، جیسے ریاضی یا فزکس کے نظریات جن سے استفادہ کسی فرد یا ادارے پر منحصر نہیں ہے، مگر ایولا یا پیٹنٹ پر مبنی تمام تر ایجادات ایسے لوگوں کی ایجاد کردہ ہیں جنہوں نے ریسرچ کے مراکز کے لئے بغیر کسی منافع کے کام کیا، یا وہ حکومتی یا تجارتی اداروں کے ملازم تھے، گویا موجد کو پراڈکٹ سے منافع کی پرواہ نہیں تھی کیونکہ وہ تو ملازم تھا، یا بعض اوقات اسے کسی ادارے یا کمپنی کی طرف سے کسی سابقہ ایجاد سے مشتق کسی نئی ایجاد پر کام کروایا جاتا ہے اور پھر اس ایجاد کو بند ’’کلوز ‘‘ کر دیا جاتا ہے جس سے سلسلہ وہیں ختم ہو جاتا ہے، اس کی ایک اور مثال BSD لائسنس ہے جس میں اوپن سورس پراڈکٹ کو چاہے وہ خام حالت میں ہو یا تیار حالت میں، اس کے اصل موجد سے منسوب کر کے نشر کرنے کی اجازت ہے، مگر اس لائسنس نے ترقی دینے والے ایجاد کاروں پر کوئی حدیں متعین نہیں کیں، یعنی کسی بھی شخص کو کسی مشتق پراڈکٹ کو ترقی دے کر اسے بند (کلوز ) کرنے کی اجازت ہے، ایسے میں بعض ایسے ادارے بھی سامنے آئے جنہوں نے اوپن یا کھلا کام کیا اور پھر اس سے کمایا بھی۔ جب IBM نے پرسنل کمپیوٹر PC بنائے تھے تو اس کا ڈیزائن انہوں نے سب کے لئے نشر کر دیا جس کے نتیجہ میں بہت ساری ایسی کمپنیاں آئیں جنہوں نے IBM کے PC بنائے اور IBM سے زیادہ شہرت حاصل کی، حتی کہ Apple آئی بی ایم کے مقابلے میں آ کھڑی ہوئی مگر Apple نے اپنے کمپیوٹرز کا ڈیزائن اپنے لئے ہی محفوظ رکھا۔ مگر آخر میں سب سے زیادہ فائدہ IBM کو ہی ہوا اور وہ کمپیوٹر بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی، ساتھ ہی اس نے منافع میں بھی سب کمپنیوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور Apple کا مارکیٹ میں حصہ 5 فی صد سے بھی کم رہ گیا حالانکہ Apple نے ہی سب سے پہلے پرسنل کمپیوٹر بنایا تھا۔

بہرحال کھلی (اوپن) کامیابی کے یہ قصے انفرادی ہی رہے خاص طور پر جبکہ مذکورہ بالا لائسنس یعنی ‏Public Domain  اور BSD غیر مقید آزادی رکھتے تھے !! یعنی ایک پراڈکٹ کو اس سے مشتق دوسری پراڈکٹ میں جس میں کوئی جوہری تبدیلی یا محنت نہیں ہوتی تھی ڈال کر بند کر دیا جاتا تھا، یہ صورتحال ایسے ہی چلتی رہی حتی کہ www۔fsf۔org معرض وجود میں آئی یعنی Free Software Foundation جسے گِنو www۔gnu۔org بھی کہا جاتا ہے یعنی GNU is Not Unix جس کی بنیاد ڈاکٹر Richard M۔ Stallman نے رکھی اور جس نے آزاد سوفٹ ویر (صرف سوفٹ ویر نہیں بلکہ دستاویزات، مشینری، اور اوپن سورس ادویات ) کا مفہوم بدل کر اوپن سورس دنیا کو ایک نئی راہ دکھائی اور  GPL یعنی General Public License وضع ہوا جو کسی بھی پراڈکٹ کا سب سے زیادہ پھیلاؤ کا ضامن ہے جس کا فلسفہ یہ ہے کہ کسی بھی سوفٹ ویر کا کوئی بھی مالک نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اس کے نشر کے حقوق ہونے چاہئیں۔ اور حقیقت پسندی کا مظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کسی بھی ملک پر یہ زور نہیں دیا کہ وہ سوفٹ ویر کی ملکیت یا نشر کے حقوق ختم کریں بلکہ یہ تجویز کیا کہ کسی بھی سوفٹ ویر کا موجد جو ایف ایس ایف پر یقین رکھتا ہو یہ اعلان کر سکتا ہے کہ اس کا سوفٹ ویر جی پی ایل سے مشروط ہے جو کہ خریدار کو اپنی خریدی ہوئی چیز پر مکمل حق دیتا ہے جس کے تحت وہ اسے کاپی کرسکتا ہے، فروخت کرسکتا ہے، کرایہ پر دے سکتا ہے، یا گفٹ کرسکتا ہے، حتی کہ اسے پہلے موجد سے رجوع کیے بغیر ترقی دے سکتا ہے کیونکہ خریدار نے اس کی قیمت ادا کر دی ہے اور اسے سوائے ایک شرط کے کوئی اور شرط پابند نہیں کرسکتی اور وہ واحد شرط یہ ہے کہ خریدار اس سے مشتق دوسری ایجادات کا سورس کوڈ نہیں چھپائے گا اور انہیں بھی (مشتق ایجادات کو ) جی پی ایل لائسنس کے تحت ہی رکھے گا اور انہیں (سورس کوڈ یا شفاف دستاویز کو ) اخراجات کی قیمت پر (یا انٹرنیٹ پر ) دستیاب کرے گا اور سابقہ تمام تر موجدوں کی محنت کا اعتراف کرے گا۔ یہاں شفاف دستاویز سے مراد کسی بھی ایجاد کا ڈیزائن یا اس کے نقشہ جات وغیرہ ہیں جیسے اگر بات کسی کتاب کی ہو رہی ہو تو شفاف دستاویز وہ ٹیکسٹ فائل ہو گی جس میں سب سے پہلے متن قابلِ ترمیم حالت میں لکھا گیا تھا یعنی txt یا XML/DocBook یا پھر html جبکہ سورس کوڈ سے مراد وہ کوڈ ہے جو کہ کسی بھی پروگرام کی بنیاد ہوتا ہے جسے انسان اور مشین دونوں سمجھ سکتے ہوں۔ مگر پراڈکٹ کی تیار حالت سورس کوڈ نہیں سمجھی جاتی جیسے کتاب کے کاغذ یا pdf/exe فورمیٹ وغیرہ۔ یہ لائسنس موجد کو کمانے اور اپنی پراڈکٹ کو فروخت کرنے سے نہیں روکتا بلکہ اسے اس کا سورس کوڈ چھپانے سے روکتا ہے جس کا فلسفہ ہے ’’آپ نے جو خریدا ہے آپ اس کے مالک ہیں ‘‘۔

چونکہ گِنو کے سوفٹ ویرز کی کوالٹی تجارتی سوفٹ ویرز سے بہتر ہے چنانچہ آہستہ آہستہ مستقبلِ قریب میں کمپنیاں نہ صرف گِنو کے لائسنس کو اپنائیں گی بلکہ گِنو کے سوفٹ ویرز کا استعمال کرتے ہوئے اسے ترقی بھی دیں گی بجائے اس کے کہ وہ پہیہ دوبارہ سے ایجاد کرنے پر وقت ضائع کریں۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جو کمپنیاں یہ لائسنس لاگو نہیں کریں گی انہیں خریدار ملنا مشکل ہو جائے گا کیونکہ خریدار ایسی چیز کیوں خریدے گا جس کی ملکیت اسے منتقل نہ ہو جبکہ دوسری طرف اس سے اچھی پراڈکٹ ملکیت کے مکمل حق کے ساتھ اس کے لئے دستیاب ہو گی۔؟!

گنو کے علاوہ کم آزادی والے بھی کچھ لائسنس سامنے آئے مگر وہ تجارتی دنیا میں زیادہ مقبول ہیں جیسے ‏ www.trolltech.com  کا  QT لائسنس جس میں کہا گیا ہے کہ پراڈکٹ کا غیر تجارتی استعمال مفت جبکہ تجارتی استعمال کے لئے لائسنس کا ہونا لازمی ہے یعنی shareware دوسری طرف بہت ساری ویب سائٹس اوپن سورس پراجیکٹس کے لئے مفت ہوسٹنگ فراہم کرتی ہیں جن میں سرِفہرست www.sourceforge.net ہے (مختصراً www.sf.net) اور اب تو بہت سارے انسائکلوپیڈیا بھی گِنو کے لائسنس یافتہ ہیں جن میں سب سے سرِفہرست www.wikipedia.org ہے جو گِنو کے لائسنس FDL کے تحت اس میں مضامین کے اضافے اور ان سے اقتباس کی مکمل اجازت ہے، اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں شامل مضامین کی تعداد دس لاکھ سے متجاوز ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔ !!

ہم مسلمانوں کے لئے یہ آئیڈیا نیا نہیں ہے کہ بخاری کی ایک حدیث کے مطابق ’’جو علم چھپائے گا اسے روزِ قیامت آگ کی لگام ڈالی جائے گی‘‘ (صحیح الجامع حدیث نمبر 6517 )، شاید اسی نظریہ کے تحت بہت ساری اسلامی کتابوں پر بھی لکھا ہوتا ہے کہ ’’ہر مسلمان کو نشر کی اجازت ہے ‘‘ اگرچہ یہ بات خوش آئند ہے مگر ساتھ میں کوئی وضاحت نہیں ہوتی کہ اس کا طریقہ کار کیا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی قانونی دستاویز (جو قانون دانوں نے لکھی ہو ) جو اس ’’حق ‘‘ کی وضاحت کرتی ہو، کیونکہ پھر تو کوئی بھی بغیر اصل مصنف کا نام لئے اس میں تھوڑی بہت تبدیلی کر کے اسے اپنے نام سے شائع کرسکتا ہے۔ !! نقل یا کاپی کرنے کی اجازت لازمی ہونی چاہیے مگر اصل مصنف (جس نے خام مال تیار کیا ہے ) کے ذکر کی حد ضرور ہونی چاہیے۔ ماضی میں علم کے بدلے میں مال لینے کی اجازت نہیں تھی یعنی مال نقل کی اجرت ہوتی تھی۔ چنانچہ معلم پر مال لینے کی پابندی تھی کہ حکومتِ وقت اس کی کفالت کرتی تھی، مگر آج یہ سمجھا جاتا ہے کہ چونکہ معلم تعلیم کے لئے فراغت حاصل کر لیتا ہے اور اس کے روزگار کے لئے کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہوتا اس لئے وہ اس کے بدلے میں مال لیتا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ مال علم کی قیمت ہے بلکہ معلم کی محنت اور وقت کی قیمت ہے۔ گویا متعلم (سیکھنے والا ) کو علم (خام یا سورس ) بغیر معلم کی اجازت لئے نشر کرنے کی مکمل اجازت ہے اور یہی آزاد مصدر کا اصل فلسفہ ہے۔

آزاد ادارے بھی کماتے ہیں

لوگوں کے ذہن میں یہ بات قائم ہے کہ اگر کوئی ادارہ آزاد مصدر کو بنیاد بنا کر کوئی پراجیکٹ شروع کرے گا تو وہ کبھی کام یاب نہیں ہو گا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اوپن سورس تحریک یہ نہیں کہتی کہ آپ اپنا سرمایہ سمندر برد کر دیں۔ اگر آزاد مصدر تحریک میں کمانے پر پابندی ہوتی تو یہ آئیڈیا ہی نہ پنپنے پاتا اور کب کا ناپید ہو چکا ہوتا۔ کیونکہ پھر وہ عملی سے زیادہ جذباتی فکر ہوتی۔ مگر بہت سارے ادارے اوپن سورس کو بنیاد بنا کر کام کر رہے ہیں اور کما بھی رہے ہیں کیونکہ وہ خیراتی ادارے بہرحال نہیں ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ ادارے کس طرح کماتے ہیں۔ کیونکہ خریدار پراڈکٹ خرید کر اسے مفت تقسیم کرسکتا ہے یا بہت ارزاں نرخوں میں فروخت کرسکتا ہے۔؟! اصل میں اوپن سورس میں کمائی کا اصل ماخذ بعد از فروخت سروس ہے ناکہ کہ پراڈکٹ کی قیمت جو کسی طالب علم یا کسی چھوٹی سی دکان کو فروخت کی گئی ہو، بلکہ بڑی بڑی کمپنیاں اور حکومتی ادارے ان کی کمائی کا اصل ذریعہ ہیں جو ایک تو کثیر تعداد میں پراڈکٹ خریدتی ہیں دوسرا انہیں بعد از فروخت سرورس کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں فنی اور عملی سپورٹ بھی شامل ہے جیسے کسی ادارے کے ملازمین کو پراڈکٹ کے استعمال کی تربیت دینا، کورس کروانا وغیرہ شامل ہیں… ظاہر ہے کہ اب یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ اس طرح کی سپورٹ تو کوئی بھی تیسرا شخص یا ادارہ دے سکتا ہے (کیونکہ اصل پراڈکٹ اوپن سورس ہے) لیکن یہ بات قطعی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ جس نے جو چیز بنائی ہے وہ اس کے بارے میں کسی بھی تیسرے شخص سے بہتر جانتا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ لینکس کے بڑے بڑے اداروں کی شروعات ایک کمرے، چند کمپیوٹر اور چند ماہرین سے شروع ہوئی جیسے ریڈ ہیٹ جو اب ایک عالمی اور بڑی کمپنی ہے۔ یا مینڈریک (جو اب مینڈریوا ہے) جو چند سال قبل بند ہونے کو تھی مگر آج اس کا سرمایہ تین ملین یورو سے متجاوز ہے۔!! اس کے علاوہ مینڈریک کو مینڈریک کلب اور ڈی وی ڈی کی فروخت سے بھی اچھا خاصہ سرمایہ حاصل ہوتا ہے۔

اور صرف کمپنیاں ہی اوپن سورس پراجیکٹ شروع نہیں کرتیں بلکہ حکومتیں ۔‏gov یونیورسٹیاں اور علمی ریسرچ کے مراکز ۔edu بھی اس میں شامل ہیں، ساتھ ہی یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اوپن سورس کمیونٹی میں نئے پراجیکٹ شروع کرنا ہی کمائی کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ مقامی طور پر بھی پراجیکٹ شروع کر کے کمایا جاسکتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی پاکستانی کمپنی اردو لینکس پراجیکٹ شروع کرے تو وہ باہر کی کسی بھی کمپنی سے زیادہ کمائے گی کیونکہ وہ اردو کے مزاج سے سب سے زیادہ واقف ہے۔ !! اور چونکہ سب کچھ اوپن سورس ہے چنانچہ اسے یہ جاننے میں قطعی کوئی مشکل نہیں ہو گی کو وہ ایسا کیسے کرے۔ اور اس کے لئے بہت سارے اداروں کی مثالیں بھی دی جاسکتی ہیں کہ جنہوں نے اوپن سورس پراجیکٹ شروع کیے اور ان سے کمایا بھی جیسے IBM/SGI/Redhat/Sun اور HP حتی کہ اوپن سورس کے بڑے بڑے دشمن بھی اوپن سورس کا استعمال اور اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ اوپن سورس براؤزر موزاییک کے کوڈ کا کچھ حصہ مائکروسوفٹ کے انٹرنیٹ ایکسپلورر میں شامل ہے۔ ( دیکھیے انٹرنیٹ ایکسپلورر کا  about۔)

چنانچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اوپن سورس تحریک ہی تیسری دنیا کا آخری سہارا ہے۔

مثالیں

اوپن سورس کی مزید وضاحت کے لئے میں (مجازی طور پر) سوفٹ ویر کو کھانے سے تشبیہ دوں گا۔ تجارتی سوفٹ ویر ان کھانوں ‏Junk food سے زیادہ مختلف نہیں ہیں جن کی ریسپی ایک ’’راز ‘‘ ہوتی ہے جس پر مذکورہ ڈش بنانے والی کمپنی فخر کرتی ہے اور ایسی بہت ساری کمپنیاں ہمارے ہاں بھی موجود ہیں بادی النظر میں یہ ایک اچھی بات معلوم ہوتی ہے کہ کوئی کمپنی اپنی کوئی خاص ڈش رکھتی ہے جسے صرف وہ ہی بنا سکتی ہے اور اس کی فروخت سے بھرپور کماتی بھی ہے۔ مگر کبھی آپ نے اس ’’ڈش ‘‘ میں بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ نمک کی مقدار پر غور کیا ہے۔ یا اگر کوئی میٹھی ’’ڈش ‘‘ ہے تو اس میں شگر کے مریضوں کے لئے خطرناک شگر کی مقدار پر غور کیا ہے۔ یا دل کے مریضوں کے لئے مضر فیٹ کی مقدار پر سوچا ہے۔؟؟ اس کھانے کو خریدنے کے بعد آپ اس کے ڈبہ پہ لکھی ہوئی معلومات پر یقین کرنے پر مجبور ہیں۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ یہاں ایک عدد EULA بھی کارفرما ہے جو یہ کہتا ہے کہ آپ نے جو رقم اس کہانے کے عوض ادا کی ہے وہ صرف اس کے طبعی استعمال یعنی صرف کھانے کے لئے تھی اور آپ کو اس ’’ڈش ‘‘ کو تحلیل کرنے اور یہ جاننے کی کوشش کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہے کہ یہ ’’ڈش ‘‘ کن مرکبات پر مشتمل ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ڈبہ پر لکھی ہوئی معلومات ’’انگریڈینٹ ‘‘ ترویجی مقاصد کے لئے غلط ہوں۔ مثال کے طور پر ہوسکتا ہے کہ فیٹ کی مقدار جو ڈبہ پر لکھی ہوئی ہے وہ غلط ہو تاکہ ان خواتین کی توجہ حاصل کی جاسکے جو اپنا وزن کم کرنا چاہتی ہوں۔ اس سے بھی بڑھ کر حکومت کے متعلقہ اداروں کو بھی یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اس ’’ڈش ‘‘ کی جانچ پڑتال کرسکیں کہ یہ آخر کن مرکبات پر مشتمل ہے یعنی یہاں اجازت صرف اور صرف کھانے کی ہے۔

اس کے مقابلے میں اوپن سورس سوفٹ ویر ان روایتی کھانوں کی طرح ہوتے ہیں جن کی ریسپی ہر کوئی جانتا ہے۔ انٹرنیٹ پر ہر دوسری ویب سائٹ پر یہ ریسپیز اور ان کو بنانے کا طریقہ دستیاب ہوتا ہے، اور جو ان میں تبدیلی کرتا ہے (یا ترقی دیتا ہے) اس پر لازم ہے کہ وہ اس کا ذکر کرے اور بتائے کہ اس نے اس ڈش میں کس طریقے سے تبدیلی کی اور اسے پیش بھی کرنے کا پابند ہے۔ اگر آپ کے پاس یہ روایتی تیار ڈش خریدنے کی استطاعت نہیں ہے تو آپ اس کی ترکیب (سورس کوڈ) دیکھ کر اسے گھر پر بناسکتے ہیں۔

فرض کرتے ہیں کہ ہوٹل ’’س‘‘ ایک آزاد مصدر ہوٹل ہے اور اس نے ایک اپنی ’’ڈش‘‘ ایجاد کر کے اس کا نام بھی ’’س‘‘ رکھا ہے اور اس ڈش کی ریسپی لکھ کر (جی پی ایل کے تحت) ہوٹل کے دروازے پر (جیسے انٹرنیٹ پر) آویزاں کر دی ہے، ہوٹل ’’س‘‘ کے بالکل سامنے واقع ہوٹل ’’ص‘‘ بھی ہے جسے ہوٹل ’’س‘‘ کی ایجاد کردہ یہ ڈش بنانے کی اجازت ہے (کیونکہ وہ اوپن سورس ہے اور اس کی ریسپی دستیاب ہے) مگر اس کی صرف ایک ہی شرط ہے کہ وہ اس بات کا اعتراف کرے کہ یہ ڈش اصل میں ’’س‘‘ کی ہے۔ یہاں آپ یہ ڈش خود بناسکتے ہیں یا اس ڈش کے اصل موجد ہوٹل ’’س‘‘ سے خرید سکتے ہیں، یا اگر چاہیں تو ہوٹل ’’س‘‘ کی یہ ڈش آپ ہوٹل ’’ص‘‘ سے بھی خرید سکتے ہیں جو غالباً یہ ڈش ارزاں نرخوں پر فروخت کر رہا ہے، لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ ہوٹل ’’س‘‘ کی ڈش ہوٹل ’’ص‘‘ کی ڈش سے زیادہ اچھی اور بہتر کوالٹی کی حامل ہو گی کیونکہ وہی ڈش کا موجد ہے اور اسے بہتر سمجھ سکتا ہے اور بہتر طور پر تیار کرسکتا ہے، ہوٹل ’’س‘‘ ہوٹل ’’ص‘‘ کو اس ڈش کو بنانے کی تربیت دینے پر فیس بھی وصول کرتا ہے، چنانچہ اس طرح ہر کوئی فائدہ میں ہے۔

فلسفہ اور مغالطہ

اوپن سورس اور معلومات کے تبادلہ کا یہ نظریہ کمپیوٹر کی ایجاد کے وقت سے موجود ہے، حتی کہ تجارتی پیمانوں پر بھی (مثلاً جب کوئی کمپنی کسی دوسری کمپنی سے زیادہ اپنی پراڈکٹ کا پھیلاؤ چاہتی ہو) جیسے اوپن سورس‏X  جسے کوئی بھی کمپنی پراڈکٹ کو ترقی دینے کے لئے رقم ادا کرتی ہے لیکن لازمی نہیں ہے کہ نئی پراڈکٹ اوپن سورس ہو (غالباً ہوتی بھی نہیں ہے ) مگر اوپن سورس کا نظریہ واقعتاً  GNU پراجیکٹ میں ڈاکٹر Richard Stallman کے ہاتھوں سامنے آیا (پراجیکٹ کی شروعات 1998 میں GNU EMACS سے شروع ہوئی ) مگر یہ نظریہ اس سے تھوڑا سا پہلے ITS نیٹ ورک کے ذریعے موجود تھا جو 1982 میں ختم ہو گئی، چنانچہ ڈاکٹر رچرڈ نے اوپن سورس فکر کو ناپید ہونے سے بچانے کے لئے سوچنا شروع کیا جو بالآخر FSF اور اس کے فلسفہ پر منتج ہوا۔

ہر آئیڈیالوجی کی طرح اس فکر کے دشمنوں کا ہونا بھی ایک لازمی امر تھا جن کا مفاد اس کے نہ ہونے میں پنہاں تھا، چنانچہ کہا گیا کہ اوپن سورس (یعنی مصدر کا پھیلاؤ) کی جگہ سوویت یونین میں ہے نا کہ ‏financial  دنیا میں (ڈاکٹر رچرڈ امریکی ہیں )۔ اس پر ڈاکٹر رچرڈ کا جواب تھا کہ اوپن سورس تحریک دوسروں کی مدد کرنے پر لوگوں مجبور نہیں کرتی بلکہ آزادی پر یقین رکھتی ہے کہ اگر کوئی کاپی کرنا یا حصہ لینا چاہے تو وہ حصہ لے سکتا ہے اور اس میں آزاد ہے (کمیونزم کا نظریہ لوگوں کو حصہ لینے پر مجبور کرنا ہے ) اور کہا کہ کمیونزم سے زیادہ قریبSPA  ہے جو کہ سوفٹ ویر بنانے اور نشر کرنے والوں کا اتحاد ہے کیونکہ وہ:

ذرائع ابلاغ میں یہ تصور پھیلانے پر خطیر رقم خرچ کرتے ہیں کہ کسی دوست کو سوفٹ ویر کی کاپی دینا غلط ہے۔
یہ التماس کرتے ہیں کہ طلبا اپنی تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کی اور ملازمت پیشہ طبقہ اپنے اداروں کی اور ہر کوئی اپنے جاننے والوں کے بارے میں اطلاع دے اگر ان میں سے کوئی سوفٹ ویر کاپی کرتے ہوں۔
پولیس کی مدد سے چھاپے مارنا اور لوگوں کو مجبور کرنا کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کریں۔
افراد اور اداروں پر کیس کرنا اگر وہ سوفٹ ویر کی کاپی کرتے پائے گئے یا کاپی کے آلات کی حفاظت نہ کی۔

یہ پالیسی سوویت یونین کی پالیسی سے زیادہ مختلف نہیں ہے جہاں کاپی کے آلات پر سخت حفاظتی انتظامات کیے جاتے تھے اور انہیں حاصل کرنے پر پابندی تھی (صرف تھوڑے سے فرق کے ساتھ کہ پہلی کی وجہ سرمایہ حاصل کرنا ہے) ڈاکٹر رچرڈ کا کہنا ہے کہ یہ لوگوں کی آزادی میں کھلی دخل اندازی ہے۔

ذرائع ابلاغ کو ’’کریکنگ‘‘ ’’چوری‘‘ ’’نقصان‘‘ ’’نیٹ ورک کے راز‘‘ کی اصطلاحات سے پُر کرنے کا مقصد سوفٹ ویر پر سے معنوی قسم کی فزیکل صفات کا خاتمہ کرنا ہے، فرق یہ ہے کہ مادی اجسام میں سے کوئی شخص اگر کوئی چیز کسی دوسرے شخص کو دیتا ہے تو سوفٹ ویر کی کاپی کے برعکس لازم ہے کہ وہ پہلے شخص کے پاس نہیں رہے گی۔ یعنی دوسرے شخص کو منتقل ہو جائے گی۔ مثلاً کسی گاڑی کی چابی کی کاپی بنوانے کے لئے لازم ہے کہ نہ صرف خام مال اور مشینری موجود ہو بلکہ اسی طرح کی عمل کاری بھی عمل میں لائی جائے جس طرح کہ اصل چابی بنانے والی کمپنی نے کی تھی جس پر یقیناً خرچ بھی آئے گا چنانچہ رقم کی ادائیگی کسی خاص چیز (مادی) کے حصول کے لئے کی گئی، جبکہ اس کے برعکس سوفٹ ویر کی نقل (کاپی) کرنے کے لئے کسی خام مواد کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے موجودات اور سوفٹ ویر بنانے والی کمپنی کا سرمایہ سلب ہوتا ہے۔

کمپنیاں مبالغہ آرائی کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ انہیں ’’نقصان‘‘ ہوتا ہے۔ وہ کاپی کی وجہ سے ’’اقتصادی نقصان‘‘ کی بات کرتی ہیں جو اس مفروضہ پر مبنی ہے کہ ہر وہ شخص جو ان کے سوفٹ ویر کی غیر قانونی (کریکڈ) کاپی رکھتا ہے وہ ان سے اصل کاپی خریدنے کی رغبت اور استطاعت رکھتا ہے۔ بعض سوفٹ ویر بنانے والے ادارے آزاد سوفٹ ویر کے فلسفہ پر حملہ کرتے ہوئے قانون کا سہارا لیتے ہیں جس پر ڈاکٹر رچرڈ کہتے ہیں کہ ‏FSF قانون کے تحت ہی ہے، لیکن جب بات اخلاقیات کی ہو رہی ہو تو یہ یاد دلانا لازمی ہے کہ قانون یہ نشاندہی نہیں کرتا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے، مثال کے طور پر بیسویں صدی کی پچاس کی دہائی میں امریکی قانون کالوں کو بس کی اگلی سیٹوں پر بیٹھنے سے منع کرتا تھا۔ !!

سوفٹ ویر بنانے والے ادارے ’’مصنف کے طبعی حق‘‘ کے اعتراف پر زور دیتے ہیں اور یہ کہ سوفٹ ویر مصنف کی انتھک محنت اور ریسرچ کا نتیجہ ہے اور یہ سوفٹ ویر اس کے لئے ’’اولاد‘‘ کی سی حیثیت رکھتا ہے چنانچہ وہ اس کے سورس کوڈ سے کبھی دستبردار نہیں ہو گا کیونکہ وہ اس کی روح کا ایک حصہ ہے، لیکن اگر ہم یہ جان لیں کہ سوفٹ ویر کی مالک دراصل کمپنی ہے ناکہ وہ پروگرامر جس نے اسے بنایا ہے گویا پروگرامر تنخواہ کے بدلے میں اپنی روح سے دستبردار ہو گیا۔!! یعنی یہ صرف ایک جذباتی حربہ ہے جسے کمپنیاں اپنے مفاد کے لئے پھیلاتی ہیں اور اپنے مفاد کے لئے ہی اس سے مکر جاتی ہیں، وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ مصنف کا حق تمام تر لوگوں سے زیادہ اہم ہے۔ ہمیں بھی مصنف سے ہمدردی ہے اور لوگوں کو واقعی مصنف سے اور زیادہ ہمدردی ہوتی اگر یہ مادی آئیڈیالوجی پر مبنی ہوتا جس میں کسی مادی چیز کا کسی دوسرے کے پاس منتقل ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ پہلے کے پاس مفقود ہو جائے گی۔ مگر سوفٹ ویر کے ساتھ معاملہ بالکل مختلف ہے۔ سوفٹ ویر کو کاپی کرنے سے وہ مصنف کے پاس سے غائب نہیں ہو گا۔ گویا یہ طبعی حق نہیں بلکہ مکتسب (زبردستی) حق ہے اور فکری ملکیت کے قوانین کاپی کرنے اور تعاون کرنے کے اس طبعی حق کو مقید (پابند) کر دیتے ہیں۔

تجارتی سوفٹ ویر بنانے والے ادارے سوفٹ ویر کے وجود اور عدم وجود کا موازنہ ان پر اپنی ملکیت سے کرتے ہیں، یعنی ہمارے پاس صرف دو راستے ہیں۔ یا تو ہمارے پاس ان کی ملکیت رکھنے والے سوفٹ ویر ہوں یا نہ ہوں۔ یعنی مزید سوفٹ ویر کا وجود ان کی ملکیت کے مفادات پر منحصر ہے۔ سوفٹ ویر کی ملکیت کا نظریہ انتہائی برا اور تباہ کن ہے (بقول ڈاکٹر رچرڈ کے) کیونکہ اس کی بنیاد پراڈکٹ کی فروخت نہیں بلکہ معلومات چھپانا ہے۔ جبکہ اوپن سورس کے تحت سورس کوڈ مہیا کرنا آپ کو سوفٹ ویر کو ترقی دینے اور اسے اپنی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کا حق دیتا ہے اور آپ کو پابند کرتا ہے کہ آپ اسے آگے بڑھائیں اور شیئر کریں۔ اس کے مقابلے میں ‏EULA  ایک غیر منصفانہ اور پُر تشدد قسم کا ایگریمنٹ ہے جس میں آپ کو کمپنی کی طرف سے پیش کی گئی ہر چیز کو اپنی قسمت سمجھ کر قبول کرنا ہو گا۔ اگر ہم 2000 کا مسئلہ یاد کریں جس پر کمپنیوں نے کہا تھا کہ ان کے سوفٹ ویر اس مسئلہ سے مبرا ہیں تو آپ کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ آپ اس گری ہوئی بات پر یقین کریں۔ اور اگر اس کے برعکس نتائج نکلیں (حالانکہ ایگریمنٹ تمام تر نتائج کے اظہار سے منع کرتا ہے ) تو پھر بھی آپ کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرسکتے چاہے آپ کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہوا ہو اور نہ ہی آپ خود سے غلطی کو دور کر سکتے ہیں سوائے اپنی قسمت کو کوسنے کے !!

 

شریعت کا موقف

مضمون کے اس حصہ کا مقصد کوئی فتوی دینا نہیں ہے اور نہ ہی ہم خود کو اس کا اہل سمجھتے ہیں، مقصد اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ اس ضمن میں بعض معاملات پر روشنی ڈالی جائے اور بعض صورتوں کو واضح کیا جائے۔

ارشاد پاک ہے (وتعاونوا علی البر والتقوی) ترجمہ (نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے سے تعاون کرو) مگر فکری ملکیت کے حقوق اورEULA  نہ صرف لوگوں کو اپنی خریدی ہوئی چیزوں پر تصرف کی آزادی نہیں دیتے بلکہ انہیں شیئر کرنے پر بھی قد غن لگاتے ہیں، فکری ملکیت کے حقوق کے تحت چھپنی والی کتابوں کے کسی بھی حصہ سے آپ اقتباس نہیں کرسکتے بلکہ انہیں زبانی بھی نقل نہیں کرسکتے جیسے nondisclosure agreement فکری ملکیت لوگوں کے حقوق سے زیادہ سوفٹ ویر بنانے والے اداروں کے حقوق کا زیادہ تحفظ کرتی ہے، اور نہ صرف مبالغہ آرائی کی حد تک آپ کو معلومات اپنے دماغ میں بھی محفوظ کرنے سے روکتی ہے بلکہ بغیر ناشر کی اجازت لئے سوچنے سے بھی منع کرتی ہے (جیسے عکسی انجنیئرنگ کی شق ) مختصراً ملکیت کے حقوق لوگوں کو آپس میں تعاون کرنے سے روکتے ہیں۔ مثلاً ایولا کے تحت چاہے آپ کو یقین ہو کہ آپ کا دوست سی ڈیز کی کاپی نہیں کرے کا آپ اسے نہیں دے سکتے۔

اس معاملہ پر دوسری طرف سے نظر ڈالتے ہیں۔ ہم نے اس حدیث کا تذکرہ کیا ہے جو علم کو چھپانے کی اجازت نہیں دیتی اور وہ صحیح بھی ہے، ہم نے یہ بھی جانا کہ ماضی میں علم کے بدلے میں مال لینے کی اجازت نہیں تھی بلکہ مال وقت اور محنت کے بدلے میں دیا جاتا تھا اور حکومت تعلیم کی کفالت کرتی تھی، اگرچہ یہ نظریہ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا گیا جس کی ایک اہم وجہ ’’حقیقت پسندی‘‘ ہے کیونکہ اقدار تبدیل ہو گئی ہیں اور تاکہ ہم پر ’’جمود‘‘ کا الزام عائد نہ ہو۔

سوفٹ ویر بنانے اور ملکیت رکھنے والی کمپنیاں لوگوں کو نام نہاد ’’اقتصادی نقصان‘‘ سے ڈراتی ہیں تاکہ پروگرامنگ کی صنعت میں سرمایہ کاری حاصل کرسکیں۔ وہ لوگوں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ انہیں ’’عوامی مفاد‘‘ میں معلومات چھپانے کا حق دیا جائے (گویا ان کا مفاد ہی عوامی مفاد ہے)، ہم نے واضح کیا ہے کہ یہ درست نہیں ہے جیسا کہ ڈاکٹر رچرڈ کہتے ہیں، ان کا پراجیکٹ (‏UNISCO کی حمایت سے ) اب عالمی ضرورت بن گیا ہے، آزاد اداروں کو پیٹنٹ کے قوانین اور nondisclosure agreement کی وجہ سے سرمایہ کاری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے ساتھ ہی ملکوں اور اداروں کو بار بار ایک ہی چیز کی ایجاد پر وقت ضائع کرنے پر بھی نقصانات کا سامنا ہے (ہر کوئی بجائے کچھ نیا ایجاد کرنے کے وہی عمل بار بار دہرا رہا ہے کیونکہ اصل کلوزڈ ہے ) چنانچہ ہمیں حقیقی اقتصادی نقصانات کا سامنا ہے جس کی نظرِ ثانی پر پھر سے نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔

فروخت (بیع) دو قسم کی ہوتی ہے، کسی چیز (پراڈکٹ) کی فروخت اور منفعت (سروس) کی فروخت (جیسے کرایہ پر دینا) لیکن ایک اجازت نامہ ‏EULA فروخت کرنا جس میں کسی چیز کے استعمال پر شرائط عائد کی گئی ہوں اور جسے سوفٹ ویر بنانے والے ادارے فروخت کرتے ہیں نہ تو یہ ہے اور نہ وہ۔ !! کیونکہ وہ صارف کو سی ڈیز اس طرح فروخت نہیں کرتے کہ صارف اس کے تصرف پر آزاد ہو (کاپیاں بنانا، تقسیم کرنا ) اور نہ ہی وہ صارف کو سوفٹ ویر فروخت کرتے ہیں کیونکہ وہ غیر مادی ہے (جو حوالے نہیں کیا جاسکتا ) نہ ہی وہ سپورٹ سروس فروخت کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ سپورٹ فروخت کرتے تو کاپی کی اجازت دیتے کیونکہ اس سے سپورٹ کے طالبین میں اضافہ ہوتا، بلکہ یہ ایک طرح سے کرایہ پر دینے کے مشابہ ہے (صارف کو سی ڈیز دے دی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ ہماری ہیں اور آپ اسے ایگریمنٹ کے مطابق استعمال کریں گے ) مگر کرایہ کے ایگریمنٹ کے تمام تر بنیادی شرائط سے بالکل عاری ہے مثلاً کرایہ ہر معینہ مدت (عموماً ہر ماہ ) کے بعد ختم تصور کیا جاتا ہے اور کرایہ دار پر لازم ہوتا ہے کہ وہ کرایہ دوبارہ ادا کرے (اگر اسے مزید سروس کی ضرورت ہو ) لیکن اس میں رقم صرف ایک بار وصول کی جاتی ہے۔ !! چنانچہ یہ کرایہ بھی نہ ہوا۔؟؟ اس میں یہ بھی ہے کہ اجرت ماجور کی قیمت سے کہیں زیادہ ہے یعنی سی ڈی اور کاپی کی اجرت ایک ڈالر سے کہیں کم ہے مگر EULA کی قیمت 50 ڈالر سے کئی ہزار ڈالر تک ہے۔ !!

حرام فروخت میں کسی چیز کو جیسا ہے جہاں ہے (لوہے کا ڈھیر) کی بنیاد پر فروخت کرنا ہے جیسے کہ اگر کوئی شخص (عام شخص ناکہ تاجر) کوئی پرانا ٹی وی خریدنے ٹی وی کی دکان پر جاتا ہے اور دکان دار سے پوچھتا ہے کہ کیا یہ ٹی وی چلتا ہے؟ تو اگر دکاندار یہ کہے کہ ’’اسے جیسا ہے جہاں ہے کی بنیاد پر لے جائیں‘‘ تو یہ غلط ہو گا۔ دکاندار کو کہنا چاہیے ’’یہ چلتا ہے اسے جیسے چاہیں میری دکان میں چیک کر لیں‘‘ یا ’’یہ خراب ہے اور اس میں فلاں فلاں خرابی ہے‘‘ یا ’’مجھے نہیں معلوم جسے چاہیں اسے چیک کرنے کے لئے لے آئیں‘‘۔ فروخت ملکیت کی منتقلی ہوتی ہے اور خریدار کو مکمل حق دیتی ہے کہ وہ اس چیز کو جیسے چاہے استعمال کرے، فروخت کرنے والے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کے استعمال کا طریقہ کار متعین کرے، مثلاً کہے ’’میں تمہیں یہ چیز فروخت کر رہا ہوں مگر تمہیں اسے کھولنے کی اجازت نہیں ہے‘‘ یا ’’تمہیں یہ چیز اتنے بجے سے لے کر اتنے بجے تک استعمال کرنی ہے‘‘ یہ گویا عکسی انجنیئرنگ سے روکنے کے مترادف ہے، یا کہے کہ ’’خرابی کی صورت میں اسے صرف فلاں سے مرمت کروانا ہے وہ بھی فلاں کی متعین کردہ قیمت پر‘‘ یہ سورس فراہم نہ کرنے سے مشابہ ہے چنانچہ آپ پروگرام کو بنا/ترقی نہیں دے سکتے ما سوائے اس کے کہ جس کے پاس اس کا سورس کوڈ ہے اور جس کے پاس جا کر بنوانے کی اجازت ہے یعنی صرف کمپنی، چنانچہ ملکیت کی منتقلی پر لازم ہے کہ نہ صرف چیز کے استعمال کی مکمل آزادی دی جائے بلکہ اس کا سورس کوڈ بھی فراہم کیا جائے۔

کوئی ایسی پراڈکٹ فروخت کرنا بھی جائز نہیں کہ جس سے اس کے لوازمات کے بغیر استفادہ نہ کیا جاسکے یا اسے سپُرد نہ کیا جاسکے جیسے سمندر میں مچھلی فروخت کرنا یا گندم کے دانے ایک ایک کے حساب سے فروخت کرنا، یا گاڑی کو بغیر چابی کے فروخت کرنا۔ یا گاڑی ایک ڈالر میں اور چابی ہزار ڈالر میں فروخت کرنا۔!! یہ ایسا ہے جیسے کمپیوٹر کو بغیر آپریٹنگ سسٹم کے (جو آپریٹنگ سسٹم کے بغیر چلتا ہی نہیں) ارزاں نرخوں پر فروخت کرنا اور آپریٹنگ سسٹم اس سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کرنا۔ یا پھر پرنٹر بغیر ڈرائیور کے فروخت کرنا یا کلوزڈ سورس ڈرائیور فروخت کرنا (پرنٹر کے کام کرنے کے لئے لازم ہے کہ اسے مختلف آپریٹنگ سسٹمز یا آنے والے ہر آپریٹنگ سسٹمز کے لئے الگ سے ڈرائیور مہیا کیا جائے کیونکہ نئے آنے والے آپریٹنگ سسٹم پر پرانا ڈرائیور کام نہیں کرے گا اور پرنٹر کو چلانے کے لئے صارف کو سورس کوڈ کی ضرورت پڑے گی جو کمپنی نے فراہم نہیں کیا چنانچہ اگر کمپنی نے یہ پرنٹر بنانا بند کر دیا یا کمپنی ہی بند ہو گئی تو صارف کا پرنٹر کبھی کام نہیں کرے گا!! بہت ممکن ہے کہ کوئی دوسری کمپنی صارف کو یہ ڈرائیور فراہم کر دے اس صورت میں صارف نے دو دفعہ قیمت ادا کی، ایک دفعہ پرنٹر کے لئے اور ایک دفعہ ڈرائیور کے لئے) ایک دوسری مثال میں ہم فرض کرتے ہیں کہ احمد نے‏SM56  موڈیم انٹرنیٹ سے کنیکٹ ہونے کے لئے خریدا جس کا ڈرائیو بھی کمپنی نے مختلف آپریٹنگ سسٹمز کے لئے فراہم کیا بشمول win98 جسے احمد استعمال کرتا ہے، پھر کمپنی نے یہ موڈیم اور اس کے ڈرائیور بنانے بند کر دیے، احمد نے پھر انٹرنیٹ کے ذریعے تصاویر ارسال کرنے کے لئے ایک جدید کیمرہ خریدا جس کا ڈرائیور صرف WinME اور اس کے بعد کے آپریٹنگ سسٹمز کے لئے دستیاب ہے ( win98کے لئے نہیں کیونکہ وہ WinME سے پرانی ہے ) تو اگر ہم فرض کریں کہ احمد Win98 اور WinME ایک ساتھ خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے تو اس طرح وہ موڈیم اور کیمرہ الگ الگ چلانے پر مجبور ہو گا اور انہیں ایک ساتھ نہیں چلاسکے گا اور اس سے اس کا مقصد بھی فوت ہو جائے گا جس کے لئے اس نے رقم خرچ کی یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے تصویر بھیجنا۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس وقت اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ علما اس مسئلہ پر غور کریں اور ان مغالطوں سے بچیں جو ‏SPA  نے پوری دنیا میں اپنے مفاد کے لئے پھیلا رکھے ہیں اور انہیں بتائیں کہ جسے وہ ’’عوامی مفاد ‘‘ کہتے ہیں وہ دراصل ان کے اپنے مفادات ہیں۔

مزید معلومات کے لئے دیکھیے:

مضمون بعنوان حضرت عیسی کی جد و جہد ‏freesoft.jo
‏http://petition.eurolinux.org/reference
‏ http://www.gnu.org/doc/book13.html
‏Why Software Should Be Free http://www.gnu.org/philosophy/shouldbefree.html
‏Why Software Should Not Have Owners http://gnu.netvisao.pt/philosophy/why-free.html
‏The Free Software Definition http://www.gnu.org/philosophy/free-sw.html
‏http://www.gnu.org/philosophy/enforcing-gpl.html
‏ http://www.gnu.org/copyleft/gpl-faq.html
‏www.opensource.org
‏ www.sourceforge.net

٭٭٭

پروف ریڈنگ ور ای بک: اعجاز عبید