FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

جماعت اہل حدیث سے خطاب

 

 

 

 

 

مولانا پروفیسر سید ابوبکر غزنویؒ

 

 

سابق وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

 

 

 

 

 

 

عرض مدعا

 

 

غالباِ2003ً  میں ملتان کی بات ہو گی،کہ دورانِ ملازمت قران پاک کو حفظ کرنے کا  ایک ولولہ سا پیدا ہوا۔رب کریم نے خصوصی فضل فرمایا ،گو کہ بعض دشواریوں کی بناء پر حفظ تو مکمل نہ کر سکا،مگر قران سے جو قلبی تعلق پیدا ہوا ،اس نے زندگی میں انقلاب برپا کر دیا۔صحبتِ صالحین سے من کی دنیا کو ذکرِ اللہ سےآباد کرنے کا جو موقع میسر آیا ،تو پتہ چلا کہ لذتِ آشنائی کسے کہتے ہیں۔

؎دو عالم سے کرتی بیگانہ دل کو عجب چیز ہے لذت آشنائی

حفظ کی کلاس کے دوران ہماری درسگاہ والی مسجد میں ایک کمرہ جو خادمِ مسجد کے زیر استعمال تھا،وہاں کافی کوڑ کباڑ تھا ،دوران صفائی راقم الحروف کو ایک کتابچہ ملا جس کے باہر جلی حروف میں لکھا تھا

” جماعت اہل حدیث سے خطاب پروفیسر مولانا ابو بکر غزنویؒ سابق وائس پرنسپل اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور”

مطالعہ کی عادت بچپن سے ہی تھی،اس وقت کی کیفیت مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں نے یہ خطاب پڑھا تو میرے دل نے کہا کہ یہ خطاب کسی صاحب حال صوفی کا ہی ہو سکتا ہے۔مگر جب میں دوسری طرف “جماعت اہلحدیث سے خطاب” کا عنوان دیکھتا  تو سوچتا کیا اہل حدیث حضرات میں بھی ایسے گہر نایاب موجود ہیں!

خیر وقت گزرتا گیا ہمارا علمی سفر بھی بچپن سے لڑکپن میں داخل ہو گیا۔تاریخ اور تصوف سے لگاؤ کی وجہ سے علماء اہلحدیث میں خاندان غزنوی سے کچھ غائبانہ قلبی عقیدت و ارادت بڑھ گئی بس اسی عقیدت کا یہ ابھار ہی سمجھئے کہ آپؒ کا یہ خطاب الیکٹرونک کتابچے کی شکل میں استفادہ عام کے لئے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔آپ ؒ کا یہ خطاب بظاہر تو صرف جماعت اہلحدیث کانفرنس سے تھا ،مگر آپ کے ان نصائح و پند کا تعلق ہمارے معاشرے  کے ہر فرد اور جماعت سے ہے،اور خصوصی طور پر جماعت اہل حدیث کے لئے تو مینارہ نور ہے۔توحید و معرفت، آداب توحید، فضائل درود شریف،  فضائل ذکر و تصوف اور عقیدت صوفیا ء عظام جیسے موضوع پر مشتمل نہایت ہی پر تاثیر واعظ ہے۔

 

ابن محمد جی قریشی

اسلام پورہ جبر۔تحصیل گوجر خان

Ibne_m.jee@yahoo.com

 

 

 

 

جماعت اہل حدیث سے خطاب

 

 

 

بزرگانِ  کرام، برادران عزیز، عزیزان گرامی قدر!

 

پھر وضعِ  احتیاط سے رکنے لگا ہے دم

برسوں ہوئے ہیں چاک گریباں کیے ہوئے

 

آپ سے ملاقات کیے ہوئے اور آپ سے بات کیے ہوئے ایک مدت ہو گئی

 

جسے آپ گنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے با وفا

میں وہی ہوں مؤمنِ  مبتلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

 

حضرات! جب میں یہ خیال کرتا ہوں کہ یہ وہ جماعت ہے، جس کی سرزمین گو آج بنجر ہو چکی ہے، مگر یہ وہی سرزمین ہے، جس سے کبھی مولانا حافظ محمد لکھوی رحمہ اللہ، مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی رحمہ اللہ، حضرت عبداللہ غزنوی رحمہ اللہ اور حضرت الامام مولانا عبدالجبار غزنوی رحمہ اللہ ایسے لعل اور یاقوت و گوہر پیدا ہوئے تو یہ سوچ کر کہ شاید اس راکھ میں کوئی چنگاری باقی ہو، یہ شعر پڑھتا ہوا تمہاری طرف کشاں کشاں چلا آتا ہوں:

اَریٰ تَحْتَ الرَّمَادِ وَمِیْضَ جَمْرٍ

وَیُوْشِکُ أَنْ یَّکُوْنَ لَہَا ضِرَامٗ

‘‘خاکستر کے نیچے کچھ چنگاریاں دیکھ رہا ہوں، شاید ان سے شعلے بھڑک اٹھیں۔’’

اور جب یہ آگ جلتی تھی، تو اسے تاپنے کے لیے حرارتِ  ایمانی حاصل کرنے کے لیے لوگ پورب اور پچھم سے آتے تھے۔ جب آپ لوگوں کی اڑنگا پٹخی، دھینگا مشتی اور سرپھٹول دیکھتا ہوں تو جی جلتا ہے۔ ہر طرف خاک اڑائی جا رہی ہے۔ اتنی خاک کہ سب کے سروں پر خاک پڑی ہوئی ہے۔ سب کے چہرے خاک سے یوں لتھڑے ہوئے ہیں کہ میرے لیے شکلیں پہچاننی بھی مشکل ہو گئی ہیں۔ جب یہ صورت حال دیکھتا ہوں تو آپ لوگوں سے بھاگ جاتا ہوں اور سالہا سال آپ سے روپوش رہتا ہوں اور یہ شعر ان دنوں پڑھا کرتا ہوں:

وَنَارٌ لَوْ نَفَخْتَ بِہَا أَضَاءَتْ

وَلٰکِنْ أَنْتَ تَنْفَخُ فِی الرِّمَادٖ

یہ راکھ جس میں تم پھونکیں مار رہے ہو،اگر اس میں کوئی چنگاری ہوتی تو وہ یقیناً بھڑک اٹھتی ، مگر تم راکھ میں پھونکیں مار رہے ہو، راکھ میں پھونکیں مارنے سے اس کے سوا کیا حاصل ہو گا کہ تمہارے سر پر بھی راکھ پڑے گی۔

دوستو! میں تو دہقان ہو۔میرا کام دلوں کی زمین میں ہل چلانا ہے۔ تم نے کہا کہ تم ہماری زمین پہ ہل چلانے کے قابل نہیں ہو۔ میں تو خاندانی اور موروثی طور پر دہقان تھا۔ مجھے تو ہل چلانا ہی تھا۔ مجھے تو آبیاری کرنی ہی تھی۔یہ بات میری گھٹی میں تھی۔ میرے خمیر میں گندھی ہوئی تھی۔ میں نے اور زمینیں ڈھونڈیں۔ دلوں اور روحوں کی زمینیں اور ان زمینوں پہ ہل چلاتا ہوں۔ دوستو! میں تو للاری ہوں، میرا کام دلوں کو خدا کے رنگ میں رنگ دینا ہے:

صِبْغَةَ اللّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَابِدونَ [البقرة : 138]

‘‘خدا کا رنگ اور اس سے بہتر کس کا رنگ ہوسکتا ہے؟ اور ہم تو بس اس کی غلامی کرتے ہیں۔’’

تم نے کہا کہ تمہیں رنگنا نہیں آتا۔ میں نے ملک میں ہانک لگائی کہ کوئی ہے جو دلوں کو رنگوانا چاہے؟ دیکھو! میرے دروازے پر گاہکوں کی بھیڑ لگی ہے۔

دوستو! میں تو دھوبی ہوں۔ میرا کام دلوں کی میل کچیل کو چھانٹ دینا ہے۔ دوستو! میں تو سقہ ہوں۔ میرا کام روح کی پیاس بجھانا ہے۔ تم نے کہا کہ تمہیں دھونا نہیں آتا۔ میں نے ملک میں ہانک لگائی کہ کوئی ہے جو دل کی سیاہی کو دھلوانا چاہے؟ تم نے کہا کہ ہم تیرے مشکیزے سے پانی نہیں پیتے۔ میں نے ملک میں ہانک لگائی کہ کوئی ہے جو دل کی پیاس بجھانا چاہے؟ دیوبندی آئے، بریلوی آئے ، مولوی آئے، بابو آئے ، انجینئر آئے، ایڈووکیٹ آئے ، پروفیسر آئے، سب نے کہا کہ ہم تیرے مشکیزے سے پانی پیتے ہیں اور اس سارے دھندے سے خدا شاہد ہے ، مقصود فقط یہ ہے کہ اپنے نفس کا تزکیہ کرسکوں، اپنے دل کا میل کچیل چھانٹ سکوں۔

دوستو! وعظ کیا ہے؟روحانی اور اخلاقی بیماریوں کی تشخیص کرنا اور دوا دینا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوا تلخ ہوتی ہے اور بیمار ناک بھوں چڑھاتا ہے۔ لیکن مشفق طبیب کو چاہیے کہ دوا حلق میں انڈیل دے۔ مریض کو جب شفا ہو جاتی ہے تو دعا دیتا ہے۔

دوستو! اگر مریض کو زکام ہو اور طبیب اسے معدے کی دوا دے، تو اس کی نااہلی میں شک وشبہ کی کیا گنجائش باقی رہتی ہے؟ اپنی اور سامعین کی جو بیماریاں ہوں، انہیں ڈھونڈنا اور ان کی دوا دینا، یہ وعظ ہے، یہ طبِ  روحانی ہے۔ میں چند باتیں عرض کروں گا جو میرے لیے مفید ہوں، جو آپ کے لیے مفید ہوں۔ وہ واعظ دنیا دار ہے، جس کا منتہائے نظر فقط یہ ہو کہ دھواں دھار تقریر کی جائے، جذبات کو بھڑکا دیا جائے، نہ اپنے اپ کو فائدہ، نہ دوسروں کو فائدہ۔ آج کل تو سر دھُننا، وجد میں آنا، نعرے لگانا، ہاؤ ہو کرنا، وعظ کے لوازمات بن کر رہ گئے ہیں۔میری نظر میں وعظ تو یہ ہے کہ بیماریوں کو چُن چُن کر بیان کیا جائے اور ان کا علاج کیا جائے۔

 

 

 

توحید کے تقاضے

 

پہلی بات میں یہ کہتا ہوں اور میرا اولین مخاطب خود میرا نفس ہے کہ یہ سمجھنا خود فریبی میں مبتلا ہونا ہے کہ صرف قبروں کی پُوجا نہ کر کے آدمی نے توحید کے سب تقاضے پورے کر دیئے:

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللّهِ أَندَاداً [البقرة : 165]

‘‘اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو خدا سے ہٹ کر اوروں کو اس کا ہم پلّہ بنا لیتے ہیں’’

آپ غور کیجئے کہ قرآن نے جہاں بھی توحید بیان کی ‘‘مِن دُونِ اللّهِ’’ کے الفاظ استعمال کیے:

إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ [الأعراف : 194]

‘‘خدا کے علاوہ جن کو تم پکارتے ہو، وہ بھی تمہارے طرح خدا کے بندے ہیں۔’’

یہاں بھی لفظ ‘‘مِن دُونِ اللّهِ’’ کہا۔

وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ لاَ يَخْلُقُونَ شَيْئاً وَهُمْ يُخْلَقُونَ [النحل : 20]

‘‘اور جو لوگ خدا کے سوا اوروں کو پکارتے ہیں، وہ خود کسی چیز کے خالق نہیں ، بلکہ انہیں پیدا کیا گیا ہے۔’’

‘‘مِن دُونِ اللّهِ’’ کے لفظ اتنے جامع ہیں کہ ان میں تمام غیر اللہ شامل ہیں۔ ان میں زندہ بھی شامل ہیں اور مردہ بھی شامل ہیں۔تم میں سے بعض نے مردوں سے مرادیں مانگیں اور تم میں سے بعض نے زندوں سے مرادیں مانگیں۔ افسوس! تم نے مل کر غیر اللہ سے مرادیں مانگیں۔ قرآن اٹھا کر دیکھیے، قرآن کے تیس پاروں میں سب سے زیادہ زندہ فرعونوں کی نفی پر زور دیا گیا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام سے کہا گیا کہ یہ نمرود جو الٰہ بن بیٹھا ہے، اس کی نفی کرو۔ یہ قبر کی نفی نہیں ہو رہی تھی، بلکہ زندہ جابر حکمران کی نفی کا حکم دیا جا رہا تھا۔

حکیم الامت علامہ اقبال، خدا ان کی قبر کو نور سے بھر دے، انہوں نے دو مصرعوں میں اس مطلب کو بیان کیا۔

اے کہ اندر حجرہ ہا سازی سخن

نعرہ ٔ لا پیشِ  نمرودے بِزَن

اے حجروں کے اندر بیٹھ کر باتیں بنانے والو! کسی نمرود کے سامنے جا کر لَا کا نعرہ لگاؤ۔

قبر تو مٹی کا ڈھیر ہے، اس کی نفی میں کون سی دقت پیش آ رہی ہے؟ جس کسی نے قبر پر چادر نہ چڑھائی اور چراغ نہ جلایا، وہ اِتراتا پھرتا ہے کہ توحید کے سب تقاضے اس نے پورے کر دیے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو توحید کی ارتقائی منزلوں سے گزارا گیا، تو ان سے بھی یہی کہا گیا کہ :

اذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى (طه : 24)

‘‘جاؤ ، جا کر فرعون کی نفی کرو اور اس کے رُو برو  جا کر اس کی نفی کرو، وہ سرکش ہو گیا ہے۔”

اور حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھو کہ عزیز مصر کی نفی کر رہے ہیں۔ زندہ خداؤں کی نفی کرنا بڑی کٹھن منزل ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی توحید یہی تھی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توحید یہی تھی۔ ائمہ رحمۃ اللہ علیہم کی توحید یہی تھی۔ وہ تمام ضمیر فروش علماء جو دنیا دار، جاہ طلب، سرمایہ داروں کی زکاتیں کھا کر سال بھر ان کی کاسہ لیسی اور حاشیہ برداری کرتے ہیں اور اس کے باوجود اپنے آپ کو توحید کے بلند ترین مقام پر فائز سمجھتے ہیں اور پوری ملت اسلامیہ کو حقیر اور ان کی توحید کا حال یہ ہے کہ حقیر ترین دنیوی اغراض کے لیے دنیا دار سرمایہ داروں کے گھروں کے طواف کرتے ہیں اور ان کی صبحیں اور شامیں ان کی چاپلوسی میں بسر ہوتی ہیں۔ کیا ‘‘مِن دُونِ اللّهِ’’ میں صرف حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت اجمیری رحمۃ اللہ علیہ ہی شامل ہیں؟ کیا فاسق و فاجر حکام اور دنیا دار سرمایہ دار ‘‘مِن دُونِ اللّهِ’’ میں شامل نہیں ہیں؟ یہ کیا منطق ہوئی؟ توحید کا یہ تصور ان لوگوں نے اپنے جی سے گھڑ لیا ہے۔ کتاب اللہ اور حدیثِ رسول کی توحید تو بڑی انقلاب آفریں ہے۔ وہ تو ساری دنیا کے بادشاہوں کے نام انقلابی خطوط لکھنے والی توحید ہے:

‘‘أَسْلِمْ تَسْلَمْ’’

اسلام لاؤ تو محفوظ رہ سکو گے۔

اس توحید کے نتائج کا ظہور تو حضورﷺ کے اس اعلان میں ہوا تھا:

إِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ، وَإِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ [صحیح بخاری، کتاب الأیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبیﷺ، ح: ۶۶۲۹]

فرمایا کہ مری آمد کا بدیہی نتیجہ قیصر وکسریٰ کی ہلاکت ہے اور یہ انقلاب جو میں برپا کر رہا ہوں، اس کا بدیہی نتیجہ قیصریت اور شہنشاہیت کی تباہی ہے۔

دوستو! وقت کے فرعونوں کی بھی نفی کرو، دنیا داروں اور سرمایہ داروں کی بھی نفی کرو۔

‘لا تسئل الناس شیئا’ غیر اللہ سے کچھ نہ مانگو، مردوں سے مانگو، نہ زندوں سے کچھ مانگو۔ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ ‘فتوح الغیب’ میں توحید بیان فرماتے ہیں:

ما دمتَ قائماً مع الخلق، راضیاً لعطایاہم، متردداً إلی أبوابہم، أنت مشرک باللہ خلقہٗ۔

‘‘جب تک تو مخلوق کے سہارے لیتا ہے، زندوں کے سہارے لیتا ہے اور مردوں کے سہارے لیتا ہے، جب تک ان کی جیب پر تمہاری نظر ہے، جب تک ان کی بخشش اور نَوال کی آس لگائے بیٹھا ہے، جب تک ان کے دروازوں پر تو دھکے کھا رہا ہے، تو خدا کے ساتھ ان کو شریک ٹھہرا رہا ہے۔’’

محمد علی جوہر رحمہ اللہ توحید بیان فرماتے ہیں:

توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے

یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لیے ہے

 

اور سلطان باہو رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

چو تیغِ  لَا بدست آری بیا تنہا چہ غم داری

مُجواز غیرِ  حق یاری کہ لا فتَّاح إلا ہُو

جب لا کی تلوار تیرے ہاتھ میں ہے ، تو حق کے سوا کسی کا سہارا نہ لو کہ اس کے سوا کوئی مشکل کشا نہیں۔

اور شیخ شیراز رحمہ اللہ سے توحید سنیے:

موحّد کہ در یائے ریزی زرش

وگر تیغِ  ہندی نِہیْ بر سَرش

امید و ہراسش نہ باشدز کس

ہمیں است بُنیاد توحید و بس

‘‘موحد وہ ہے جس کے قدموں میں تم سونے کے انبار لگا دو مگر اس کی رال نہ ٹپکے۔ جس کے سر پر آرا لٹکا دو لیکن خدا کے سوا کسی کا خوف اس کے دل میں نہ ہو۔ یہی توحید کی بنیاد ہے۔’’

 

 

 

 

توحید اور ادب یکجا کرو

 

 

دوسری بات یہ عرض کرتا ہوں کہ موحد ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی بے مہار ہو جائے، رسیاں تڑوا بیٹھے، بے ادب اور گستاخ ہو جائے، اہل اللہ کی شان میں گستاخیاں کرے، محسنوں کا گریبان پھاڑے اور سمجھے کہ میں توحید کے تقاضے پورے کر رہا ہوں۔

دوستو! میرا کام مرض کی تشخیص اور اس کا علاج ہے، گو مریض چیخے، چلّائے، ناک بھوں چڑھائے۔ مشفق ڈاکٹر وہ ہے جو حلق میں دوا انڈیل دے، آج تم کسمساؤ گے، مضطرب ہو ہو کے زانو بدلو گے، مگر کچھ عرصے کے بعد تم مجھے دعا دو گے اور کہو گے کہ بات ٹھیک کہہ گیا تھا۔ جب مریض شفا یاب ہو جاتا ہے تو کڑوی دوا کھلانے والے کو بھی دعا دیتا ہے۔

دوستو! کچھ حدیثیں ایک مسجد میں بیان ہوتی ہیں، کچھ دوسری مسجد میں بیان ہوتی ہیں اور کچھ ایسی ہیں جو کہیں بیان نہیں ہوتیں، اس لیے کہ ان کا بیان کرنا فرقہ وارانہ مصلحت کے منافی سمجھتے ہیں۔ دوستو! احادیث میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ:

إذا کلم أطرق جلساؤوا کأنما علی رؤوسہم الطیر

جب حضور ﷺ گفتگو فرماتے تو آپ کے پاس بیٹھنے والے گردنوں کو جھکا لیتے تھے اور حرکت نہ کرتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ یعنی حرکاتِ فاضلہ نہ کرتے تھے، فالتو حرکت سے بھی اجتناب کرتے، فالتو حرکت کو بھی خلافِ  ادب جانتے تھے۔

دوستو! یہ بھی صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ عروہ بن مسعود صلح حدیبیہ کے موقع پر جب حضورِ اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا تو ساتھیوں سے کہا: عجب منظر ہے ہے وہاں :

إنہ لا یتوضأ إلا ابتدروا وضوء

وہ جب وضو کرتے ہیں تو ان کے وضو کا پانی زمین پر نہیں گرتا ہے، لوگ تبرکاً اور تیمناً اسے جسم پر مَلتے ہیں۔

ولا یبصق بصاقاً إلا تلقوہ بأکفہم

اور ان کا لعاب دہن بھی گرتا ہے تو صحابہ کے ہاتھوں پر گرتا ہے۔

ولا تسقط منہ شعرۃ إلا ابتدروہا

ان کا کوئی بال بھی گرتا ہے تو صحابہ رضی اللہ عنہم اس پر لپکتے ہیں۔(بخاری: 2731)

قرآن مجید پڑھ کر دیکھیں کہ وہ شخصیتیں جو خدا کی ربوبیت کی مظہر ہیں اور انسان کی تربیت کرتی ہیں، ان کا ادب ملحوظ رکھنے کی کس شدت سے تلقین کی گئی ہے۔

اپ دیکھیں کہ والدین جسمانی تربیت کرتے ہیں، ان کے متعلق فرمایا:

فَلاَ تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيماً [الإسراء : 23]

دیکھو انہیں کبھی یہ بھی نہ کہو کہ تُف ہے تم پر۔ یہ میری ربوبیت کے مظہر ہیں، ان کے ذریعے سے میں تمہاری تربیت کر رہا ہوں، ان کو کبھی نہ جھڑکنا ، ان سے جب بھی بات کرو تو بات کو جانچ لیا کرو۔

روحانی تربیت حضورﷺ کی ذات گرامی سے ذریعے کی گئی۔ ان کے بارے میں حکم ہوا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ [الحجرات : 2]

‘‘اے ایمان والو! اپنی آوازوں کو پیغمبرﷺ کی آواز سے اونچا مت ہونے دو اور ان کے ساتھ یوں بے تکلفی سے بلند آواز سے بات مت کیا کرو جیسا کہ تم آپس میں کر لیا کرتے ہو، ورنہ میں تمہارا پُورا اعمال نامہ غارت کر دوں گا یعنی میں تمہاری عبادتوں اور ریاضتوں کو لے کے کیا کروں ، اگر میرے حبیبﷺ سے بات کرنے کا تمہیں سلیقہ نہیں۔’’

 

دوستو!

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

 

شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کے حالات ‘‘ارواح ثلاثہ’’ میں دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنے شیخ سید احمد شہید رحمہ اللہ کی معیت میں حج کرنے کے بعد جب واپس آئے تو لکھنؤ میں اطلاع ملی کہ حضرت شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ انتقال فرما گئے ہیں۔ شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ سید احمد رحمہ اللہ کے شیخ تھے۔ سید احمد شہید رحمہ اللہ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کے عاشق تھے۔ یہ خبر سن کر سید احمد شہید رحمہ اللہ سخت بےقرار ہوئے اور شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ سے کہا: فوراً دہلی جاؤ اور معلوم کر کے آؤ کہ کیا سچ مچ میرے شیخ رحمہ اللہ دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں اور شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کو اپنا ذاتی گھوڑا دیا۔ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ تمام راستہ گھوڑے کی باگیں تھامے ہوئے پیدل چلتے رہے، لیکن گھوڑے کی اس زین پر بیٹھنے کی ہمت نہ ہوئی جس پر ان کے شیخ رحمہ اللہ بیٹھتے تھے۔ آپ نے دیکھا کہ حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کس قدر با ادب آدمی تھے کہ اس زین پر بیٹھنا بھی سوئے ادب سمجھا، جس پر ان کے شیخ رحمہ اللہ بیٹھتے تھے۔

‘‘ارواح ثلاثہ’’ ہی میں لکھا ہے کہ سید احمد شہید رحمہ اللہ کی موجودگی میں شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ تقریر نہ کرتے تھے، خاموش بیٹھے رہتے کہ میرے شیخ رحمہ اللہ بیٹھے ہیں، ان کی موجودگی میں کیا کہوں؟ بعض لوگوں نے حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ کی کتاب ‘‘تقویۃ الایمان’’ ہی پڑھی ہے، کبھی صراط مستقیم بھی دیکھو، کبھی عبقات بھی پڑھو، وہ تو بہت لطیف آدمی تھے، وہ تجلیات سے آگاہ، وہ انوار سے آگاہ، وہ سلوک کے مقامات سے آگاہ، اللہ کی محبت اور معرفت کے تمام رموز سے واقف، ان کی شخصیت میں توحید و ادب یکجا ہو گئے تھے۔ توحید و ادب کا یکجا ہونا تکمیل کی علامت ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کے مکتوبات دیکھ رہا تھا، خواجہ باقی باللہ رحمہ اللہ کے صاحبزادوں کو خط لکھتے ہیں:

‘‘ایں فقیر از سر تا پا غرق احسان ہائے والد شما است’’

‘‘یہ فقیر سر سے پاؤں تک آپ کے والد کے احسانات میں ڈوبا ہوا ہے۔’’

ایک خط میں خواجہ باقی باللہ رحمہ اللہ کے صاحبزادوں کو لکھتے ہیں:

‘‘اگر مدت العمر سر خود را پائمال اقدام خدمہ عتبہ علیہ شما کردہ باشم ہیچ نہ کردہ باشم۔’’

فرماتے ہیں: ‘‘آپ کے مجھ پر اتنے احسانات ہیں کہ اگر آپ کے آستانے کے خادموں کی عمر بھر خدمت کرتا رہوں تو پھر بھی آپ کا حق ادا تو نہ ہوسکے گا۔’’

دوستو! بھاگ تو ایسے لوگوں کو ہی لگتے ہیں، اور جو اپنے محسنوں کے قاتل ہوں، جو اپنے محسنوں کو ذبح کریں، وہ سرسبز کیوں کر ہوسکتے ہیں؟ یہودی بھی یہی کیا کرتے تھے جو لوگ ان کے محسن تھے، ان کے مربی تھے، جنہوں نے زندگیاں ان کی تربیت کے لیے وقف کر رکھی تھیں، ان ہی کو اپنا دشمن جانتے تھے، ان کے گریبان پھاڑتے تھے اور ان ہی کے قتل کے درپے تھے:

وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ [البقرة : 61]

‘‘ناحق پیغمبروں کو قتل کیا کرتے تھے۔’’

اس جرم کی پاداش میں ان پر خدا کی لعنتیں برسیں اور وہ مغضوب ہوئے۔

وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَآؤُوْاْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ [البقرة : 61]

دوستو! یہ فقرہ غور سے سنیں، موحد ہوتے ہوئے مؤدب ہونا اور مؤدب ہوتے ہوئے موحد ہونا بہت بڑی سعادت ہے۔ کچھ لوگوں کو توحید کی شُد بُد ہوتی ہے تو ادب کی لطافتوں اور باریکیوں سے محروم ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں کو ادب کی شُد بُد ہوتی ہے، تو توحید کے معارف سے محروم ہوتے ہیں۔ مؤدب ہوتے ہوئے موحد ہونا اور موحد ہوتے ہوئے مؤدب ہونا، یہ بہت بڑی سعادت ہے۔ دوستو! اور میں خدا سے اس سعادت کی بھیک مانگتا ہوں۔

 

 

 

آئین محمدیﷺ کا نفاذ

 

 

 

اگلی بات یہ عرض کرتا ہوں کہ شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کا یہ مشن تھا کہ اس خطہ ٔ زمین پر آئین محمدیﷺ کو نافذ کریں۔ اے کاش! کہ تم اسے اپنا مشن بناؤ۔ محض چند فروعی اور اختلافی مسائل پر اپنی تمام توانائی کو غارت کر دینا اور احیائے دین اور آئین محمدیﷺ کے نفاذ کے کام سے یکسر غافل ہونا، میں جُرم عظیم سمجھتا ہوں۔

اے کاش کہ آئین محمدیﷺ کے نفاذ کے اس عظیم مقصد کو تم اپنے پیش نظر رکھو اور اس کے لیے مسلسل تگ و دو کرو، جس کے لیے شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ اور سید احمد شہید رحمہ اللہ نے اپنی جان تک کو نچھاور کر دیا تھا۔

دوستو! ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔وہ لوگ بہت اچھے ہوتے ہیں جو اپنا احتساب کرتے ہیں، جو اپنی گھات میں بیٹھ کر اپنی چوریاں پکڑتے ہیں:

خواہی اگر کہ عیب تو روشن شود تُرا

یکدم منافقانہ نشین در کمین خویش

ہم جو اتباع سنت پر اس قدر زور دیتے ہیں، تو کیا سچ مچ سنت کی پیروی ہمارا شعار ہے؟ کیا چند فروعی مسائل پر جھگڑنا اتباع سنت ہے؟

 

 

 

اطاعت امیر

 

آپ غور کیجئے کہ احادیث میں اطاعت امیر پر کس قدر زور دیا گیا ہے۔ جماعتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور امیر کی اطاعت و انقیاد کی کس شدت سے تلقین کی گئی ہے۔

آپﷺ نے فرمایا:

من یطع الأمیر فقد أطاعنی ومن یعص الأمیر فقد عصانی

جو امیر کی اطاعت کرتا ہے، وہ حقیقت میں میری اطاعت کرتا ہے اور جو امیر کی نافرمانی کرتا ہے، وہ حقیقت میں میری نافرمانی کرتا ہے۔(بخاری: 7137)

کچھ لوگ امیر کو بھینگی آنکھ سے دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں، اس لیے یہ بھی فرما دیا:

اسمعوا وأطیعوا ولو استعمل علیکم عبد حبشی

دیکھو! امیر کی بات مانو، اگرچہ تم پر کالا بھجنگ حبشی غلام ہی کیوں نہ مقرر کر دیا جائے۔(مسند احمد: 6/403)

آپ غور کریں، آپ کس طرح مجلس شوریٰ میں امیر منتخب کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہ باہر سے امیر آپ پر ٹھونس دیا جاتا ہو اور آپ دو لتیاں جھاڑیں کہ کہاں سے آگیا ہے۔ پچھلے پچیس برسوں سے تو میں دیکھ رہا ہوں کہ خود امیر بناتے ہیں اور پھر خود ہی اس کے خلاف سازشیں کرتے ہیں، خود اس کی ٹانگیں کھینچتے ہیں، خود اس کی تذلیل و تحقیر کرتے ہیں۔

دوستو! یہ کتنی بڑی نحوست ہے، یہ تو ہم نے اسلام کی بنیادوں کو ڈھا دیا، تم کون سے اتباع سنت کا ذکر کرتے ہو، یہ خلفشار، یہ انتشار، یہ انارکی، یہ طوائف الملوکی کہ ہر شخص خاک اڑا رہا ہے، امیر کے سر پر بھی خاک پڑی ہوئی ہے، سب کے چہرے لتھڑے ہوئے ہیں، سب کے سروں پر خاک پڑی ہوئی ہے:

فَمَا لِهَـؤُلاء الْقَوْمِ لاَ يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً [النساء : 78]

دوستو! کچھ لوگ تو ویسے ہی باغی ہوتے ہیں اور کچھ جماعت کے اندر رہ کر بھی امیر کو معطل کیے رکھتے ہیں اور احکم اپنا چلاتے ہیں ، وہ بھی اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نظر میں سنگین مجرم ہیں۔ یہ جماعت کے اندر رہتے ہوئے امیر کو معطل کیے رکھتے ہیں اور اسے الو بنا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ یہ فریب اور دھاندلی ، یہ کیا زندگی ہے جو تم بسر کرتے ہو؟ یاد رکھو! جب تک جماعت کے تمام افراد امیر پر اس طرح جانیں نہ چھڑکیں، جس طرح پتنگے شمع دان پر گرتے ہیں، اسلام کے جماعتی نظام کی ابجد ہوز بھی سیدھی نہیں ہوتی۔ یہ دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف حسد اور بغض کا ہونا، یہ اڑنگا پٹخی ، یہ دھول دھپا اور دھینگا مشتی، کیا یہ دینی زندگی ہے؟

 

 

 

 

بزرگوں کی تصنیفات

 

 

 

دوستو! ہمارے بزرگوں کی تصانیف کو دیمک چاٹ رہا ہے، ہم میں کوئی نہیں جو ان بزرگوں کے حالاتِ  زندگی کو ضبطِ  تحریر میں لائے، عظیم شخصیتیں تمہارے ہاں گزری ہیں۔ لوگوں نے اپنے بزرگوں کے خادموں کے حالاتِ  زندگی بھی لکھ ڈالے، تم کو کیا ہوا کہ جن لوگوں نے ساٹھ ساٹھ برس تک تمہاری بے لوث خدمت کی، ان پر قلم اٹھانے کے لیے تمہارے پاس وقت نہیں ہے۔ تمہیں الیکشن جیتنے اور ہارنے کا ایسا لپکا پڑ گیا ہے کہ اور کسی بات کا تمہیں ہوش باقی نہیں رہا۔ تمہاری درسگاہیں بنجر ہو گئیں، بانجھ ہو گئیں، ان درس گاہوں سے اب کوئی مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ پیدا نہیں ہوتے، کوئی مولانا ابراہیم سیالکوٹی رحمہ اللہ پیدا نہیں ہوتے، کوئی داؤد غزنوی رحمہ اللہ پیدا نہیں ہوئے، نہ اہل قلم پیدا ہوتے ہیں، نہ مبلغ پیدا ہوتے ہیں، نہ مقرر پیدا ہوتے ہیں، نہ محقق پیدا ہوتے ہیں اور یہ باتیں تھیں غور کی۔ دوستو! تم دن رات اُکھاڑ پچھاڑ میں لگے رہتے ہو، یہ کیا زندگی ہے جو تم نے اختیار کر رکھی ہے؟ آہ! کس قدر درد ہے میرے سینے میں جس کا میں اظہار کر رہا ہوں اور اس تلخ نوائی کے لیے آپ سے معذرت چاہتا ہوں، مرکزیت نہ ہو تو خلفشار ہے، انتشار ہے۔

امام اسے بناؤ جسے روح کی گہرائیوں سے پیار کرو، چند برس پہلے بھی میں یہاں آیا تھا اور اپنی باتیں کہہ گیا تھا، مگر تمہارے سینوں میں دل نہیں ، پتھر ہیں جن سے میری آواز ٹکرا کے لوٹ آئی ہے، تم نے اعراض ہی نہیں کیا، تم نے:

جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَاراً [نوح : 7]

‘‘تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کپڑے اوڑھ لیے اور اڑ گئے اور اکڑ بیٹھے۔’’

کی تمام سنتیں پوری کر دیں۔

 

 

 

اللہ کا ذکر کثرت سے کرو

 

 

ایک نصیحت تمہیں اور کرتا ہوں، روزانہ کچھ وقت اللہ اللہ بھی کیا کرو۔ میں نے بعض لوگوں کو دیکھا ہے کہ ہر وقت جدل و بحث ہی میں لگے رہتے ہیں اور اللہ کے ذکر سے یکسر غافل ہیں۔ ہمارے اسلاف تو ایسے نہ تھے، وہ سب ذاکر تھے، ان کی زبانیں ذکر سے رکتی نہ تھیں۔ شیخ شمس الحق ڈیانوی رحمہ اللہ ‘‘غایۃ المقصود’’ کے مقدمے میں حضرت عبداللہ غزنوی رحمہ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

کان مستغرقا فی ذکر اللہ فی جمیع أحیانہ

وہ آٹھوں پہر ، چونسٹھ گھڑی خدا کے ذکر میں ڈوبے رہتے تھے۔

شیخ لکھتے ہیں:

وکان لحمہ وعظامہ وأعصابہ وأشعارہ متوجہا إلی اللہ فانیا فی ذکر اللہ۔

ان کا گوشت، ان کی ہڈیاں، ان کے پٹھے، ان کا ہر ہر بُنِ  مُو خدا کی طرف متوجہ رہتا تھا اور خدا کے ذکر میں فنا ہو گیا تھا۔

یہ تھے ہمارے اسلاف، ہم تو دنگا فساد اور لڑائی جھگڑے میں پڑ گئے۔ میں نے دیکھا کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی کِھلّی اُڑا رہا تھا اور اس پر پھبتی کس رہا تھا کہ تمہارا درود غیر مسنون ہے اور تم بدعتی ہو۔ میں نے اسے کہا کہ بھائی آج جمعہ تھا، خود تم نے کتنا درود پڑھا؟ یہ تو تم نے کہا کہ اس نے غلط درود پڑھا، مگر تمہاری اپنی زبان بھی تو ساکت و صامت تھی؟ مسنون درود پڑھنے کی آج ایک بار بھی تمہیں توفیق نہ ہوئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا:

أکثروا علیّ الصلاۃ یوم الجمعۃ

‘‘جمعہ کے دن مجھ پر درود کثرت سے بھیجا کرو۔’’ (مستدرک 2/421، علل الحدیث: 589، اذکار لابن سنی: 373، مصنف عبدالرزاق: 5338)

ہم پر کسی غفلت طاری ہوئی، جمعہ کے دن ہم نے درود پڑھنا بھی چھوڑ دیا۔ مولانا عبد الواحد غزنوی رحمہ اللہ کی عجب کیفیت ہوتی تھی جمعہ کے دن۔ ان کی زبان درود سے رُکتی نہ تھی۔ ان کی ایک عزیزہ نے جو ابھی زندہ ہیں اور معمر خاتون ہیں، مجھ سے ذکر کیا کہ ایک جمعہ کو عصر کے وقت میں مولانا عبد الواحد غزنوی رحمہ اللہ سے پوچھ بیٹھی کہ آپ نے میری فلاں چیز بازار سے منگوا لی ہے؟ ان کا چہر ہ متغیر ہو گیا ، کہنے لگے: تم کو کیا ہو گیا ہے؟ دیکھو ساری کائنات میں حضورﷺ کے عاشقوں کے درود فرشتے مدینہ منورہ لیے جا رہے ہیں، تم دنیا کی باتیں کر رہی ہو، درود پڑھو خدا کے لیے۔ یہ ہمارے اسلاف تھے دوستو! ہم کو کیا ہو گیا؟ صرف تخریب ، صرف خاک اڑانا ہمارا کام رہ گیا۔

ہاں تو میں عرض کر رہا تھا کہ کچھ وقت روزانہ اللہ اللہ کیا کرو۔ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس دنیا میں خدا کے ذکر کی لذت سے بڑھ کر کوئی لذت نہیں، دنیا کی تمام لذتیں ذکر کی لذت کے سامنے ہیچ ہیں۔ ایک فقیر کہتا ہے:

اندر بوٹی مشک مچایا جان پھلن پر آئی ہو

‘‘میرا سینہ ذکر سے مہک اٹھا ہے، میں آپے سے باہر ہوا جاتا ہوں۔’’

خاقانی کہتا ہے:

پس از سی سال این نکتہ محقق شد بہ خاقانی

کہ یکدم باخدا بُودن بہ از ملکِ سلیمانی

‘‘تیس سال میں لذت کی تلاش میں پھرتا رہا۔ تیس سال کے بعد یہ بات پایہ ٔ تحقیق کو پہنچی کہ ایک لمحہ خدا کی معیت میں گزار دینا تخت سلیمانی کے ہاتھ آنے سے بھی بہتر ہے۔’’

دوستو! خدا کا ذکر بڑی چیز ہے۔ اور یہ بات بھی پلّے باندھ لو کہ لذت آئے یا نہ آئے، اس کے ذکر میں لگا رہنا چاہیے، جو آدمی لذت آئے تو ذکر کرتا ہے اور نہ آئے تو نہیں کرتا ہے ، وہ لذت پرست ہے، اللہ پر ست نہیں ہے۔ میرے ایک بزرگ کہا کرتے تھے:

یا بم او را یانیابم جستجوئے میکنم

حاصل آید یا نیآید آرزوئے میکنم

‘‘میں اسی جستجو میں لگا رہتا ہوں ، اسے حاصل کرسکوں یا نہ کرسکوں ۔ یہ کیا کم ہے کہ اپنی تمنا کا چراغ اس نے میرے سینے میں جلا دیا ہے، اپنی آرزو سے میرے سینے کو آباد کر دیا ہے، یہ کرم کچھ کم ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے؟’’

دوستو! فراق ہو یا وصل، کیف ہو یا بے کیفی ہو، قبض ہو یا بسط، اس کے آستانے پر جم کر بیٹھے رہو اور اللہ اللہ کرتے رہو:

فراق و وصل چہ باشد رضائے دوست طلب

کہ حیف باشد ازو غیر او تمنائے

‘‘فراق اور وصل کیا چیز ہے؟ دوست کی رضا مانگو۔ حیف ہے جو اس سے اس کے سوا کسی اور کی آرزو کرو۔’’

اگر ذاکر ہر وقت کیف اور لذت میں رہے تو اس میں غرور اور کِبر پیدا ہو جائے اور ابلیس کی طرح راندہ ٔ درگاہ ہو۔ یہ بے کیفی بھی اس کی ربوبیت ہے کہ اس بے کیفی کی حالت میں انسان کو اپنی اوقات معلوم ہوتی ہے اور اس میں عجز و نیاز پیدا ہوتا ہے:

بہ دُرد و صاف تُرا حکم نیست دَم درکش

ہر آنچہ ساقیٔ ما ریخت عین الطاف است

‘‘تم دم سادھے رہو اور ساقی سے مت کہو کہ مجھے تلچھٹ پلاؤ یا مئے صافی دو۔ ساقی کی شفقت پر ایمان لاؤ، وہ جو کچھ تیرے پیالے میں ڈالتے ہیں، عین لطف و کرم ہے۔’’

یہ فراق اور وصل کی منزلیں، یہ بڑے لوگوں کی باتیں ہیں۔ ایک عارف کہتا ہے:

ہمینم بس کہ داند ماہ رُویم

کہ من نیز از خریدارانِ  اُویم

فرماتے ہیں کہ میں تو اسی طات پر وجد میں ہوں کہ میرا محبوب جانتا ہے کہ میں بھی اس کے طلب گاروں میں ہوں، اصل بات اس کے آستانے پر جم کر بیٹھنا ہے اور اس کے ذکر میں لگے رہنا ہے۔

غالب کہتا ہے:

اس فتنہ خو کے دَر سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ

اس میں ہمارے سر پر قیامت ہی کیوں نہ ہو

دیکھو، غالب رند ہو کر کیسی استقامت کی بات کہہ گیا۔ تُف ہے ہم پر اللہ کے عاشق ہونے کا دعویٰ کریں اور اتنی استقامت بھی نہ دکھلا سکیں۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے فرماتے ہیں کہ امام صاحب تہجد کے وقت دعا فرماتے تھے:

رحم اللہ أبا الہیثم

یا اللہ! تو ابوالہیثم پر رحم فرما۔

مجھے بڑا رشک آیا کہ یہ کون ہے، جس کے لیے اس قدر الحاح اور عاجزی سے دعا فرماتے ہیں۔ ایک دن جرأت کر کے پوچھ لیا کہ یہ ابوالہیثم کون ہے؟ فرمایا:

‘‘جب مجھے درے لگنے والے تھے اور مجھے جیل خانے کی طرف لے جا رہے تھے اور ضمیر فروش مولویوں نے آ آ کر مجھے تحریفیں کر کر کے آیتیں سنائیں اور کہا کہ کس نے اتنی ضد اور ہٹ کی ہے اے احمد، جو تم کر رہے ہو۔ امام صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں بھی کچھ ڈانواں ڈول ہونے لگا تھا، اس وقت ایک ڈاکو میرے سامنے آیا، جس کا بازو کٹا ہوا تھا، اس نے کہا: احمد! میں ڈاکہ زنی کی پاداش میں کئی بار جیل جا چُکا ہوں۔ میں جب رہا ہوا ہوں، سیدھا ڈاکہ ڈالنے کے لیے گیا۔ میرا ہاتھ کاٹ دیا گیا، پھر بھی ڈاکہ ڈالتا رہا، اب میرا بازو کاٹ دیا گیا اور میں اب پھر ڈاکہ ڈالنے کے لیے جا رہا ہوں۔ اس نے کہا: احمد! میری یہ استقامت شیطان کے راستے میں ہے۔ حیف ہے تجھ پر اگر خدا کے راستے میں اتنی بھی استقامت نہ دکھا سکو۔ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں استقامت کا پہاڑ بن گیا، اس کے لیے دعا کرتا ہوں:

رحم اللہ أبا الہیثم

سودا قمارِ  عشق میں خسرو سے کوہ کن

بازی اگرچہ لے نہ سکا ، سر تو کھو سکا

کس منہ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشق باز

اے رُو سیاہ! تجھ سے تو یہ بھی نہ ہوسکا

پس اس کے آستانے پر جم کر بیٹھنا، اس کی غلامی پر ناز کرنا ، توحید و ادب کو یکجا کرنا، مرکزیت کو قائم کرنا، اپنے بزرگوں کی تصنیفات کو زندہ کرنا اور اپنی درسگاہوں سے جو بانجھ ہو گئی ہیں، جو بنجر ہو گئی ہیں، نکاسی کا سامان کرنا، یہ ہیں کام کرنے کے دوستو! اس بات کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا کہ نکاسی کیسے ہو گی؟ درسگاہون سے اہلِ  قلم کیسے نکل سکتے ہیں؟ مبلغ کیسے پیدا ہوسکتے ہیں؟ مقرر کیوں کر پیدا کیے جائیں؟ورنہ قحط ہوتا چلا جائے گا دوستو! نہ کوئی اہل قلم ملے گا، نہ مقرر ملے گا، نہ قاری ملے گا، نہ محدث ملے گا، بانجھ ہوتی چلی جائے گی یہ زمین ، اگر تم الیکشنوں میں لگے رہے دوستو! یہ باتیں ہیں کرنے کی۔ مرکزیت کو قائم کرنا۔ روح کی پوری گہرائیوں سے اس کے ساتھ وابستگی کو محسوس کرنا۔ جو شخص اللہ اللہ نہیں کرتا ہے ،اس کے دل کا کھوٹ نہیں جاتا ہے۔ اس کو مرکز کے ساتھ وہ وابستگی نہیں ہوسکتی ہے جو اللہ والوں کو اپنے مرکز سے ہوتی ہے۔

 

 

 

یادِ  رفتگان

 

 

یہ درسگاہ حضرت صوفی عبداللہ صاحب نور اللہ مرقدہ کی یادگار ہے۔ وہ کس قدر اللہ اللہ کیا کرتے تھے۔ اللہ نے انہیں کیسی عزت بخشی ۔ تم الیکشن لڑ لڑ کر ذلیل ہوئے، وہ اللہ کے ذکر میں فنا ہو کر معزز ہوئے۔ حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے دل پر عجیب کیفیت طاری ہے۔ مجھے یاد ہے کہ پچھلی مرتبہ جب میں یہاں تقریر کرنے لگا، تو اس وقت کوئی اور صاحب جلسے کی صدارت کر رہے تھے۔ صوفی صاحب رحمہ اللہ غلبہ ٔ حال میں بھاگے ہوئے آئے اور صاحب صدر سے منت کی کہ اب میں صدارت کروں گا۔ کر سی صدارت پر بیٹھ گئے اور ان پر جذب کی حالت طاری تھی، میں گفتگو کر رہا تھا اور ان کا چہرہ تمتما رہا تھا۔

اس رُخ آتشیں کی شرم سے رات

شمع مجلس میں پانی پانی تھی

حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ بیمار ہوئے تو ان کی عیادت کے لیے میں لاہور سے لائل پور (فیصل آباد) آیا۔ انہوں نے میرے ساتھ مل کر دعا کی اور بہت دیر تک دعا کرتے رہے۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ حضرت سید مولا بخش کوموی رحمہ اللہ بھی وہاں موجود تھے، ان کے ساتھ الگ بیٹھ کر دعا مانگنے کا شرف بھی مجھے حاصل ہوا۔ یہ آخری دعا تھی جو حضرت کوموی رحمہ اللہ نے میرے ساتھ مانگی۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ان کے ساتھ میری یہ آخری دعا ہے تو میں دعا کو اور لمبا کرتا۔

جب حرمین سے واپسی ہوئی تو جدہ میں حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ دو منٹ کے لیے ملاقات ہوئی۔ خیریت پوچھی اور پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ یہ آخری دعا تھی جو حضرت صوفی صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ میں نے مانگی اور مجھے علم نہیں تھا کہ وہ میرے ساتھ آخری دعا مانگ رہے ہیں۔

دیکھئے! یہ قافلہ کس تیزی سے رخصت ہو رہا ہے۔ صوفی صاحب رحمہ اللہ رخصت ہوئے، حضرت کوموی رحمہ اللہ رحلت فرما گئے، مولانا عبداللہ رحمہ اللہ روڑی والے بھی وفات پا گئے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں کسی عہدے کی ہوس نہ تھی اور اس کے باوجود عہدوں کی ہوس کرنے والوں سے زیادہ معزز تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو مثبت انداز میں دین کا کام کرتے رہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے مشن میں فنا ہوئے، یہ وہ لوگ تھے جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے:

تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوّاً فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَاداً [القصص : 83[

‘‘آخرت کا گھر ہم نے ان لوگوں کے لیے مختص کر دیا ہے جو روئے زمین پر منصب کی بلندی اور فساد نہیں چاہتے ہیں۔’’

آپ نے غور فرمایا کہ اس آیت میں لفظ ‘عُلُوّاً’ استعمال کیا اور اب تو ہر شخص کو یہ لَت پڑی ہے کہ وہ ناظم اعلیٰ ہو۔ ناظم اعلیٰ کا لفظ بھی ‘عُلُوّ’ سے ہے اور اور یہ وہی بیماری ہے جس کا قرآن ذکر کر رہا ہے۔ جن لوگوں کو ناظم اعلیٰ بننے کی ہوس ہے، وہ ‘‘يُرِيدُونَ عُلُوّاً’’ کے زمرے میں شامل ہیں۔ اور جو اڑنگا پٹخنی دھینگا مشتی میں لگے ہیں، وہ ‘‘فَسَاداً’’ کے زمرے میں شامل ہیں۔ یاد رکھو! جو اپنے آپ کو خدا کی راہ میں فنا کرتا ہے، خدا سے بقا بخشتے ہیں، اس کو سچی اور دائمی عزت عطا فرماتے ہیں۔

آئیے! ہم اب سب مل کر دعا کریں کہ خدا ان سب کی قبروں کو نور سے بھر دے اور جو باتیں ہم نے کہی ہیں ، ان پر مجھے اور آپ کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

یہ تقریر ماموں کانجن کی اہل حدیث کانفرنس  منعقدہ اکتوبر 1975 میں کی گئی ہے۔

 

 

٭٭٭

تشکر: عاصم کمال جنہوں نے اس کی فائل مہیا کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید