FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

بر صغیر میں علم حدیث پر تحریک استشراق کے اثرات

(ایک تحقیقی جائزہ)

 

                تصنیف و تحقیق : حسیب احمد حسیب

 

 

 

 

مقدمہ

رسول عربی صلی الله علیہ وسلم کا ” ایک ” اسلام

 

یہ آج سے چودہ صدیوں پہلے کی بات ہے جب دنیا اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی ہر طرف سناٹا تھا کہیں سے بھی کوئی آواز سنائی نہ دیتی تھی کہ جو حق بیان کرتی ہو ایسی کیفیت میں جب رات اپنی پوری سیاہی کے ساتھ چھا چکی ہوئی زندگی سانس لیتی ہے ۔

اور رات کی جب وہ پھیل جائے ۔

اور صبح کی جب سانس لے ۔

یہ کون ہیں ۔ ؟

یہ محمد عربی ہیں

یہ کیا کہتے ہیں ۔ ؟

یہ لوگوں کو لوگوں کی غلامی سے نکال کر الله کی غلامی کی طرف بلاتے ہیں

ہم ان کی بات کیوں مانیں ۔ ؟

کیونکہ یہ صادق ہیں یہ امین ہیں انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا کبھی شرافت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا ارے ان جیسا نہ تو پہلے کبھی بلاد عرب نے دیکھا ہے اور نہ ہی دیکھے گا ۔

جان لو جان لو

ان کو کچھ جنون نہیں ۔

وہ پہلی چیز کیا تھی جو رسول عربی نے امت کے سامنے رکھی

کیا انہوں نے کوئی نظریہ پیش کیا

یا پھر انہوں نے کوئی فلسفہ بیان کیا

کیا ان کے پاس کوئی ایکشن پلان تھا

وہ سادہ ترین دلیل جس کی بنیاد پر قیامت تک آنے والی امت کے دین کا فیصلہ ہونا تھا کیا تھی ۔ ؟؟؟

نبی اکرم ﷺ پر نبوت کے ابتدائی مراحل میں جب اللہ تعالی کی طرف سے حکم ہوتا ہے کہ نبوت کے پیغام اور توحید کی دعوت کو علی الاعلان اپنے قبیلہ والوں تک پہنچا یا جائے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوہِ صفا پر تشریف لاتے ہیں اور قریش کے قبائل کو آواز دیتے ہیں۔ ارشاد فرماتے ہیں : اے قریش! اگر میں کہوں کہ پہاڑ کے پیچھے دشمن کی فوج حملہ آور ہونے کو تیار ہے تو کیا تم یقین کرو گے؟ پوری قوم یک زبان ہو کر کہتی ہے: نَعَمْ! مَا جَرَّبْنَا عَلَیْكَ اِلَّا صِدْقاً (ہاں! ہم نے آپ میں سوائے صدق اور سچائی کے کچھ نہیں پایا)۔

(صحیح بخاری ، حدیث نمبر 4397)

اور پھر نبی کریم کے کردار کے ان کی صداقت و امانت کے تو عربی دل سے قائل تھے

مکی زندگی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی شناخت تھی آپ کی صاف ستھری اور پاکیزہ زندگی ۔ مکی زندگی میں نبوت و رسالت سے سرفراز ہونے سے پہلے اور بعد کے زمانہ میں آپ کی شناخت آپ کی صداقت و امانت، شرافت و پاکیزگی ، تواضع و انکساری اور تقوی و پاکبازی تھی، مکہ کا ہر باشندہ آپ کی شرافت و پاکیزگی اور اعلی اخلاق کا قائل تھا۔ آپ کو عام طور پر صادق اور امین کہا جاتا تھا۔ خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت حجرِ اسود کو اس کے مقام تک اٹھا کر رکھنے میں قریش کے اندر جو سخت اختلاف پیدا ہوا اور جس کی وجہ سے خوں ریز جنگ چھڑنے والی تھی ، وہ آپ کی جوانی کا زمانہ تھا، لیکن قریش کے سرداروں اور بڑے بوڑھوں کو جب یہ ہاشمی نوجوان دکھائی پڑا تو سب نے بیک آواز ہو کر کہا: ھَذا مُحَمَّدُن الأَمِیْنُ رَضِیْنَا ھَذا مُحَمَّدُن الأمِیْنُ (یعنی یہ محمد امین شخص ہیں، ہم ان سے خوش ہیں، یہ امین ہیں)۔اور سب نے اس نوجوان کے حکیمانہ فیصلے کو بخوشی قبول کیا اور اس طرح ایک خون ریز جنگ چھڑتے چھڑتے رہ گئی۔ (1)

جی ہاں نبی کا کردار یہ تھی اسلام کی پہلی دعوت ۔

پہلے دین لانے والے کا کردار منوایا

دشمنوں سے ان کی صداقت و امانت کا اقرار کروایا

ان کی سچائی کے ڈنکے بجوائے

پھر دین پیش کیا

پھر بات کی توحید کی

یہ کون لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ نبوی زندگی کے بغیر وہ خالق حقیقی کی منشاء کو سمجھ پائے کون ہیں یہ کیا ان کو جنوں ہے یا انہیں کسی عفریت نے لپٹ کر دیوانہ کر دیا ہے

خدا کے واسطے سیرت پڑھو

سیرت سے تعلق پیدہ کرو

سیرت میں مشغول رہو

بجز سیرت علوم دینیہ کا دروازہ نہیں کھلنے والا

سیرت سے ہٹ کر نہ تو قرآن کو سمجھا جا سکتا نہ حدیث کا فہم حاصل کیا جا سکتہ نہ فقہ کا افادہ ہو سکتا اور نہ ہی تاریخ کی سمجھ آ سکتی ۔

بلکہ سیرت کو اپنے اندر اتارے بغیر نہ تو جہاد ، جہاد ہے

نہ دعوت ، دعوت ہے

نہ علم ، علم ہے

اور نہ ہی تزکیہ ، تزکیہ

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ’’ ترجمہ : بے شک رسول کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے

اور ایک جگہ فرمایا

من یطع الرسول فقدااطاع اﷲ’’ (النساء :80) ترجمہ:” جس نے رسول ﷺ کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی

اور پھر حجت ہی تام کر دی

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ’’ ترجمہ: کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

الله الله

بے شک آپ کا ذکر بلند کیا گیا

یہ کون لوگ ہیں جنہیں محمد عربی کا ایک اسلام قبول نہیں

یہ کیا چاہتے ہیں

ان کی سوچ آخر ہے کیا؟

یہ کس بیماری میں مبتلا ہیں

”یقیناً آپ ﷺ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے۔”

یہ تو وہ ہیں جو لوگوں کی ہدایت کیلئے خود کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں اور خالق حقیقی کی شان رحمت جوش میں آ کر بولتی ہے

”اگر یہ لوگ ایمان نہ لائے، تو شاید آپ اسی بات پرافسوس کرتے ہوئے اپنی جان کو ہلاک کر ڈالیں گے۔”

بے شک آپ کے اخلاق ہی تو اسلام ہیں

”اللہ کی رحمت کے سبب سے آپ ﷺ ان کے لئے نرم خُو ہو گئے۔ اور اگر آپ ﷺ تُند خُو اور سخت دل ہوتے تو وہ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے۔”

نبی کریم صل الله علیہ وسلم تو سرا سر رحمت ہیں

وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَة لِّلْعٰلَمِينَ

”ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔”

ڈاکٹر مصطفی سباعی مرحوم اپنی مشہور کتاب "المستشرقون والاسلام” میں مستشرقین کے پھیلتے ہوئے اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"اس نصف صدی کے اندر عالم اسلام میں اصلاح و ترقی (بالفاظ واضح تجدد و مغربیت) کے جتنے علم بردار پیدا ہوئے ان کے خیالات، اشتہارات، اعلانات اور طریق کار میں مستشرقین کی دعوت و تلقین کے اثرات صاف طور پر نظر آتے ہیں۔ بلکہ اگر یہ بات کہی جائے کہ اصلاح و ترقی کے داعی ان مصلحین کے فکر و عمل کی اساس مستشرقین کے پیدا کردہ خیالات ہیں تو حقیقت سے بعید نہیں ہوگی۔”

جی ہاں بات ہو رہی ہے ان لوگوں کی جنہیں اقوال رسول قبول نہیں وہ کلام الہی کو الہی منشاء کے خلاف اپنی ہوائے نفس کے مطابق نبوی تعبیرات سے ہٹ کر سمجھنا چاہتے ہیں ۔

بر صغیر میں اس سلسلے کی پہلی کڑی سر سید تھے جن کا سر استشراقی حلقے میں بندھا ہوا تھا ۔

ڈاکٹر احمد عبدالحمید غراب کے نزدیک استشراق کی تعریف اس طرح سے ہے :

الاستشراق: ھو دراسات ’’اکادیمیۃ‘‘یقوم بھاغربیون کافرون من اھل الکتاب بوجہ خاص، لاسلام والمسلمین، من شتی الجوانب:عقیدۃ وشریعۃ، وثقافۃ، وحضارۃ، وتاریخا، و نظما، وثروات و امکانات۔ھدف تشویۃ الاسلام

ومحاولۃ تشکیک المسلمین فیہ، و تضلیلھم عنہ وفرض التبعیۃللغرب علیھم ومحاولۃ تبریر ھذہ التبعیۃ بدراسات و نظریات تدعی العلمیۃ والموضوعیۃ، تزعم التفوق العنصری والثقافی للغرب المسیحی علی الشرق الاسلامی۔‘‘

 

الاستشراق،

( ۱۔ڈاکٹر مازن بن صلاح مطبقانی، ، قسم الاستشراق کلیہ الدعوہ مدینہ، س ن، ص۳۔)”

 

’’استشراق، کفار اہل کتاب کی طرف سے ، اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے ، مختلف موضوعات مثلاً عقائد و شریعت، ثقافت، تہذیب، تاریخ، اور نظام حکومت سے متعلق کی گئی تحقیق اور مطالعات کا نام ہے جس کا مقصد اسلامی مشرق پر اپنی نسلی اور ثقافتی برتری کے زعم میں ، مسلمانوں پر اہل مغرب کا تسلط قائم قائم کرنے کے لیے ان کو اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات اور گمراہی میں مبتلا کرنا اور اسلام کو مسخ شدہ صورت میں پیش کرنا ہے۔‘‘

اس استشراقی فکر کے پیچھے موجود فتنے کو عالم اسلام کے ایک عبقری نے کچھ اس طرح کھولا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ مستشرقین کی ایک بڑی تعداد نے قرآن مجید، سیرت، تاریخ، تمدن اسلام اور اسلامی معاشرہ کی تاریخ اور پھر اس کے بعد اسلامی حکومتوں کی تاریخ کا مطالعہ ایک خاص مقصد کے تحت کیا اور مطالعہ میں ان کی دور بیں نگاہیں وہ چیزیں تلاش کرتی رہیں، جن کو جمع کر کے قرآن، شریعت اسلامی،سیرت نبوی ﷺ، قانون اسلامی، تمدن اسلامی اوراسلامی حکومتوں کی ایک ایسی تصویر پیش کرسکیں، جسے دیکھ کر لوگ آنکھوں پر پٹی باندھ لیں، مستشرقین نے اپنی آنکھوں پر خورد بین لگا کر تاریخ اسلام اور تمدن اسلا می اور یہ کہ آگے بڑھ کر (خاکم بدہن )قرآن مجید اور سیرت نبوی ﷺ میں وہ ذرے وہ ریزے تلاش کر نے شروع کئے جن سے کوئی انسا نی جماعت، کوئی انسا نی شخصیت خالی نہیں ہو سکتی ہے اور ان کو جمع کر کے ایسا مجموعہ تیار کرنا چاہا جو ایک نہایت تاریک تصور ہی نہیں بلکہ تاریک تاثر اور تاریک جذبہ پیش کرتا ہے اور انہوں نے اس کام کو انجام دیا جو ایک بلدیہ کا ایک انسپکٹر انجام دیتا ہے کہ وہ شہر کے گندے علاقوں کی رپورٹ پیش کرے۔

(حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ)

۱۳۰۰ھ کے قریب قریب مولوی چراغ علی اور سر سید احمد خاں نے احادیث کو تاریخ کا ذخیرہ قرار دیا۔ اور اپنا یہ اُصول بنایا کہ جو حدیث نیچر کے موافق ہو گی، وہ قابل قبول ہے اور جو نیچر کے موافق نہیں، وہ قابل قبول نہیں۔۱۳۰۰ھ کے بعد ایک ایسا گروہ آیا جس نے احادیث کا بالکلیہ انکار کر دیا۔ اس گروہ میں مولوی عبد اللہ چکڑالوی ، مستری محمد رمضان گوجرانوالہ، مولوی حشمت علی لاہوری اور مولوی رفیع الدین ملتانی شامل تھے۔ ان کے بعد ۱۴۰۰ھ میں ایک گروہ اور نمودار ہوا جنہوں نے قرآن و حدیث اور پورے دین اسلام کو ایک کھیل قرار دیا۔ اور ایک سیاسی نظریہ قائم کیا کہ اس میں ردّ و بدل کیا جا سکتا ہے۔ اس گروہ میں مولوی احمد الدین امرتسری اور مسٹر غلام احمد پرویز شامل تھے۔

اسی زنجیر کی ایک کڑی ڈاکٹر غلام جیلانی برق بھی تھے جن کو لیکر دور جدید کے خود ساختہ کالم نگار تمام اہل اسلام کو للکارتے دکھائی دیتے ہیں یہ برق صاحب کو ابو حنیفہ رح ، امام غزالی ، ابن تیمیہ رح جیسے اکابرین کی فہرست میں داخل کرتے دکھائی دیتے ہیں ان کے نزدیک محمد عربی کا اسلام متروک ہو چکا ہے اور اب کسی دوسرے کسی جدید اسلام کی ضرورت ہے ۔

یہ استشراقی غلاظت صرف مغربی مستشرقین تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اس نے اپنی فکر و تہذیب اور تاریخ پر شرمندہ مسلمانوں کو بھی متاثر کیا

عالم عرب میں طہٰ حسین اور بر صغیر میں سر سید اس فکر کے شدید متاثرین میں شمار کیے جا سکتے ہیں

اول الذکر کی کتاب فی الشعر الجاہلی: یہ مشہور زمانہ کتاب ۱۹۲۶ء میں شائع ہوئی اور مذہبی واسلامی حلقوں میں موصوف کی بدنامی کا باعث بنی جس میں زمانہ جاہلیت کے عربی ادب کے متعلق بحث کرتے ہوئے موصوف کج راستوں پر رواں ہوئے اور اپنے تئیں مخالف کتاب وسنت باتیں لکھ کر بعض اسلامی نظریات و افکار کو گڑھی ہوئی بے بنیاد باتیں قرار دے بیٹھے۔ دراصل موصوف کے قلبی تاثرات اور اسلام مخالف افکار و خیالات اس کتاب سے آشکارا ہوئے تھے یہ ناپاک اثرات پروفیسر گائیڈی اور پروفیسر نللنیو کی صحبت تلمذ اور ان سے محبت کا نتیجہ اور لادینی افکار کے حامل مستشرقین سے تعلق کا ثمرہ و حاصل تھا

موخر الذکر ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکلے

سر سید کی خود سپردگی کا یہ عالم تھا کہ ایک طرف تو انہوں نے اسلامی عقائد و افکار کو ناقابل مدافعت سمجھتے ہوے ان میں باطل تاویلات کا دروازہ کھولا تو دوسری طرف ملک میں اٹھنے والی ہر حربی و فکری تحریک کی بنیادیں کھودنے کا کام کیا موصوف فرماتے ہیں !

” جن مسلمانوں نے ہماری سرکار کی نمک حرامی اور بد خواہی کی، میں ان کا طرف دار نہیں۔ میں ان سے بہت زیادہ ناراض ہوں اور حد سے زیادہ برا جانتا ہوں، کیونکہ یہ ہنگامہ ایسا تھا کہ مسلمانوں کو اپنے مذہب کے بموجب عیسائیوں کے ساتھ رہنا تھا، جو اہل کتاب اور ہمارے مذہبی بھائی بند ہیں، نبیوں پر ایمان لائے ہوں ہیں ، خدا کے دیے ہوئے احکام اور خدا کی دی ہوئی کتاب اپنے پاس رکھتے ہیں، جس کا تصدیق کرنا اور جس پر ایمان لانا ہمارا عین ایمان ہے۔ پھر اس ہنگامے میں جہاں عیسائیوں کا خون گرتا، وہیں مسلمانوں کا خون گرنا چاہیے تھا۔ پھر جس نے ایسا نہیں کیا، اس نے علاوہ نمک حرامی اور گورنمنٹ کی ناشکری جو کہ ہر ایک رعیت پر واجب ہے ’کی ، اپنے مذہب کے بھی خلاف کیا۔ پھر بلاشبہ وہ اس لائق ہیں کہ زیادہ تر ان سے ناراض ہوا جائے (2):

یہ اس طویل غلامی کا شاخسانہ تھا جسنے قومی غیرت و حمیت کا جنازہ نکال دیا اور خود داری اور انا کے پرخچے اڑا دئیے

دور غلامی نے مسلمانوں میں تین مختلف طبقات پیدا کئے

١ پہلا طبقہ علما قدیم کا تھا جنہوں نے اس دور فترت میں اپنے مذہبی تشخص عقائد و افکار کو محفوظ رکھنے کیلئے مدارس و خانقاہوں میں پناہ لی اور ایک طرح کے (cocoon) میں چلے گئے تاکہ لاروا تتلی بننے کے ارتقائی مراحل تے کر سکے ۔

٢ دوسرا طبقہ وہ تھا جس نے تاویلات باطل سے اسلام کا چہرہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا اور جو کچھ باقی رہا وہ اسلام نہیں کچھ اور تھا

یہ لارڈ تھامس بیمنگٹن میکالے کی فکری ذریت تھی لارڈ اپنا مقصود ان الفاظ میں بیان کرتا ہے

ایک ممورینڈم کی شکل میں ۳؍فروری ۱۸۳۵ء کو بیرک پور کلکتہ کے مقام پر گورنر جنرل ہند لارڈ ولیم بینٹنگ کو پیش کی۔ جس پر مباحثہ کے لئے جنرل کمیٹی برائے پبلک انسٹرکشن کا اجلاس ۷؍مارچ ۱۸۳۵ء کو منعقد ہوا۔ وہ کہتے ہیں، "ہمارے پاس ایک رقم ایک لاکھ روپیہ ہے۔ جسے سرکار کے حسب ہدایت اس ملک کے لوگوں کی ذہنی تعلیم وتربیت پر صرف کیا جاتا ہے۔ یہ ایک سادہ سا سوال ہے کہ اس کا مفید ترین مصرف کیا ہے؟ کمیٹی کے پچاس فیصداراکین مصر ہیں کہ یہ زبان انگریزی ہے۔ باقی نصف اراکین نے اس مقصد کے لئے کوئی ایسا شخص نہیں پایا ہے جو اس حقیقت سے انکار کرسکے کہ یورپ کی کسی اچھی لائبریری کی الماری میں ایک تختے پر رکھی ہوئی کتابیں ہندوستان اور عرب کے مجموعی علمی سرمایہ پر بھاری ہے۔ پھر مغربی تخلیقات ادب کی منفرد عظمت کے کما حقہ معترف تو کمیٹی کے وہ اراکین بھی ہیں جو مشرقی زبانوں میں تعلیم کے منصوبے کی حمایت میں گرم گفتار ہیں۔ ہمیں ایک ایسی قوم کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے جسے فی الحال ان کی مادری زبان میں تعلیم نہیں دی جا سکتی ہے۔ ہمیں انہیں لازماً کسی غیر ملکی زبان میں تعلیم دینا ہوگا۔ اس میں ہماری اپنی مادری زبان کے استحقاق کا اعادہ تحصیل حاصل ہے۔ ہماری زبان تو یورپ بھر کی زبانوں میں ممتاز حیثیت کی حامل ہے۔ یہ زبان قوت متخیلہ کے گراں بہا خزانوں کی امین ہے۔ انگریزی زبان سے جسے بھی واقفیت ہے اسے اس وسیع فکری اثاثے تک ہمہ وقت رسائی حاصل ہے جسے روئے زمین کی دانشور ترین قوموں نے باہم مل کر تخلیق کیا ہے اور گزشتہ نوّے سال سے بکمال خوبی محفوظ کیا ہے۔ یہ بات پورے اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ اس زبان میں موجود ادب اس تمام سرمایہ ادبیات سے کہیں گراں تر ہے جو آج سے تین سوسال پہلے دنیا کی تمام زبانوں میں مجموعی طور پر مہیا تھا” ۔ ذریعہ تعلیم کے سلسلہ میں میکالے نے کہا، "اب ہمارے سامنے ایک سیدھا سادا سوال ہے کہ جب ہمیں انگریزی زبان پڑھنے کا اختیار ہے تو

پھر بھی ہم ان زبانوں کی تدریس کی ذمہ داری قبول کریں گے جن کے بارے میں یہ امر مسلمہ ہے کہ ان میں سے کسی موضوع پر بھی کوئی کتاب اس معیار کی نہیں ہوگی کہ اس کا ہماری کتابوں سے موازنہ کیا جا سکے۔ آیا جب ہم یورپئین سائنس کی تدریس کا انتظام کرسکتے ہیں تو کیا ہم ان علوم کی بھی تعلیم دیں جن کے بارے عمومی اعتراف ہے کہ جہاں ان علوم میں اور ہمارے علوم میں فرق ہے تو اس صورت میں ان علوم ہی کا پایہ ثقاہت پست ہوتا ہے اور پھر یہ بھی کہ آیا جب ہم پختہ فکر، فلسفہ اور مستند تاریخ کی سرپرستی کرسکتے ہیں تو پھر بھی ہم سرکاری خرچ پر ان طبی اصولوں کی تدریس کا ذمہ لیں جنہیں پڑھانے میں ایک انگریز سلوتری بھی خفت محسوس کرے۔ ایسا علم فلکیات پڑھائیں جن کا انگریزی اقامتی اداروں کی چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی مذاق اڑائیں”۔ (3)

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ5، جلد: 99 ‏، رجب 1436 ہجری مطابق مئی 2015ء

از:           حافظ سیف الاسلام

پی ایچ ڈی اسکالر، اسلامیہ یونیورسٹی، بھاولپور، پاکستان

 

 

 

تحریک استشراق کا تاریخی پس منظر

 

تاریخی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ تحریک استشراق کی روح ازل سے لے کر ابد تک موجود رہے گی، اور اس کی قدامت پر حضرت آدم علیہ السلام اور ابلیس کا واقعہ ، پھر حضرت آدم علیہ السلام اور شیطان کا ایک ساتھ اس دنیا میں بھیجا جانا بھی دلالت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ حق کے ساتھ باطل ، اسلام کے ساتھ کفر ، ایمان کے ساتھ الحاد کا ہونا استشراق کی ہی صورتیں ہیں ۔اس کے قدیم ہونے کی طرف اس شعر میں بھی اشارہ موجود ہے:

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغِ مصطفوی سے شرارِ بو لہبی

اس تحریک کا آغاز دراصل ظہور اسلام کے ساتھ ہی ہو گیا تھا اور باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرنے سے پہلے بھی ، اہل مغرب کی طرف سے ، اسلام کے خلاف بالعموم اور پیغمبرِ اسلام کے خلاف بالخصوص ، بغض و عداوت کا اظہار موقع بہ موقع مختلف ادوار میں ہوتا رہا ہے، اور وفور جذبات سے سرشار ، رومی ، بازنطینی ، لاطینی ، مسیحی اور یہودی روایتیں صدیوں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہیں ، افواہوں کے دوش پر سفر کرتی رہیں، اور کبھی کبھار تحریر و تصنیف اور وقائع واسفار کے قالب میں ڈھلتی رہیں اور ان کی اپنی آئندہ نسلوں کا سرمائیہ افتخار قرار پائیں ۔ (4)

سب سے پہلے جس نے اسلام کے خلاف ، اس تحریک کا آغاز کیا وہ ساتویں صدی عیسوی کا ایک پادری جان (John) تھا، جس نے آنحضور کے بارے میں طرح طرح کی جھوٹی باتیں گھڑیں اور لوگوں میں مشہور کر دیں، تا کہ آپ کی سیرت و شخصیت ایک دیو مالائی کردار سے زیادہ دکھائی نہ دے ۔ جان آف دمشق کی یہی خرافات مستقبل کے استشراقی علماء کا ماخذ و مصدر بن گئیں، جان آف دمشق کے بعد عیسائی دنیا کے بیسیوں عیسائی اور یہودی علماء نے قرآن کریم اور آنحضور کی ذات گرامی کو کئی سو سال تک موضوع بنائے رکھا اور ایسے ایسے حیرت انگیز افسانے تراشے جن کا حقیقت کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہ تھا، ان ادوار میں زیادہ زور اس بات پر صرف کیا گیا کہ آپ امی نہیں،بلکہ بہت پڑھے لکھے شخص تھے ، تورات اور انجیل سے اکتساب کر کے آپ نے قرآنی عبارتیں تیا ر کیں ، بہت بڑے جادوگر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ (العیاذ باللہ ) حد درجہ ظالم ، سفاک ، اور جنسی طور پر پراگندہ شخصیت کے حامل تھے ۔ فرانسیسی مستشرق کا راڈی فوکس(Carra de Vaux) نے آنحضور کی ذات گرامی کے بارے میں لکھا ہے کہ محمد ایک لمبے عرصے کے لیے بلاد مغرب میں نہایت بری شہرت کے حامل رہے اور شاید ہی کوئی اخلاقی برائی اور خرافات ایسی ہو جو آپ کی جانب منسوب نہ کی گئی ہو ۔تعجب کی بات یہ ہے کہ اسلام کی آمد سے کم و بیش آٹھ سو سال بعد تک مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف نفرت نا کافی اور ادھوری معلومات کی بنیاد پر ہی پنپتی رہیں، مثال کے طور پر گیارہویں صدی عیسوی کے اواخر میں( Song of Roland) جو پہلی صلیبی جنگوں کے دوران ہی وضع کیا گیا ، بہت مشہور ہوا ، اسی طرح کی بیہودہ باتوں پر مشتمل تھا۔(5)

 

استشراق اور استعمار

 

تحریک استشراق کی آبیاری میں انتہائی اہم ترین کردار استعمار نے ادا کیا   ہے

رچرڈ کونگریو بشپ آف آکسفورڈ کہتا ہے

خدا نے ہندوستان کو ہمیں عطا کیا ہے تاکہ ہم اسے اپنے تسلط میں رکھیں لہذا یہ ہمارا کام نہیں کہ اس فرض سے دستبردار ہو جائیں ۔(6)

"عالمی تہذیبی کشمکش اور علامہ اقبال” کے مصنف پروفیسر عبدالجبار شاکر مرحوم ایک جگہ لکھتے ہیں

بیسویں صدی کے معروف برطانوی مؤرخ نائن بی نے تہذیبوں کے تصادم کے لیے Encounter of Civilization کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ دورِ حاضر کے یہودی مفکر برنارڈ لیوس (Bernard Lewis) نے اس Encounter کو Clash کا درجہ دے دیا ہے۔ اسی طرح ہارورڈ یونیورسٹی، امریکا کے پروفیسر سیموئل پی ہٹنگٹن نے اپنی کتاب (Clash of Civilizations) میں تہذیبوں کے اس تصادم میں آویزش کے اس تصور کو جنگی جنون تک بڑھا دیا ہے۔ فرانسس فوکویاما نے تو اپنی کتاب ’’خاتمۂ تاریخ‘‘ (The End Hastory) میں دنیا کے مستقبل کو جس نگاہ سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اس میں بالآخر اقتدار ایک یک محوری قوت کے پاس چلا جائے گا اور یوں باقی ماندہ دنیا ایک نو آبادی کی شکل اختیار کر لے گی۔

مغربی اقوام کے نزدیک اس تاریخی آویزش کا علاج گلوبلائزیشن یا عالمگیریت میں مضمر ہے۔ وہ اپنی عسکری قوت اور اقتصادی غلبے کے ذریعے سے دنیا کو ایک گلوبل ویلیج دیکھنا چاہتے ہیں جس پر صرف اور صرف ان کی حکمرانی ہو مگر افریشیائی مسلمانوں کی نسلِ نو اپنے ایمان اور عقائد کی نئی تعبیر چاہتی ہے۔ تسخیرِ فطرت اور مظاہرِ کائنات کے مطالعہ کی تلقین ہمارے قرآنی صحیفے کی اہم تعلیم ہے، لہٰذا ہمیں کھلے ذہن کے ساتھ مغرب کی اس ترقی کا جائزہ لینا ہو گا کہ جن نتائج اور سائنسی فتوحات کو ابھی تک مغرب نے حاصل کیا ہے، اس کے اصول کیا ہیں اور ان اصولوں کی اسلامی فکر کے ساتھ کس حد تک موافقت یا مغائرت موجود ہے۔ مغربی طاقتوں نے تسخیرِ کائنات کے اس سفر میں جہاں گیری اور جہاں داری کا درجہ تو حاصل کیا ہے مگر وہ جہاں بانی اور جہاں آرائی کے منصب سے محروم ہیں۔

جہانبانی سے ہے دشوار تر کارِ جہاں بینی

جگر خون ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا

(طلوعِ اسلام، بانگِ درا) (7)

١٨٥٧ میں ہندوستان مکمل طور پر انگریز   کے تسلط میں میں آ گیا یہ ایک ایسا علم منظر نامہ تھا   کہ جب دنیا فرانسیسی ، پرتگیزی اور برطانوی استعمار کے بوجھ تلے کراہ رہی تھی

معروف مورخ ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب ” تاریخ اور آج کی دنیا ” میں ایک عنوان قائم کرتے ہیں

ہندوستان اور کولونیل آئیڈیو لوجی

صفحہ (٤٢ تا ٤٣)

ہندستان میں جیسے جیسے اہل برطانیہ کا سیاسی اقتدار قائم ہوتا چلا گیا اسی طرح کولونیل ئیڈیو لوجی کی تشکیل بھی عمل میں آتی رہی ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ابتدائی دور کو مشرقی دور کہا جا سکتا ہے یہ وہ زمانہ تھا کہ جب کمپنی ہندوستان میں اپنا سیاسی اقتدار برقرار رکھ سکتی تھی وارن ہسٹنگز تک یہ رجحان برقرار رہا (١٧٧٤-١١٨٣) اسی دور میں رائل ایشیا ٹک سوسائٹی (١٧٨٤) قائم ہوئی اور برطانوی مستشرقین نے نے ہندستان کے ماضی کی دریافت اور شناخت میں پورا پورا حصہ لیا کیونکہ کولونیل آئیڈیو لوجی میں نالج یا علم کے ذریعہ رعایا پر کنٹرول کرنا اس کا ایک اہم حصہ تھا۔ (8)

میکالے کے آتے آتے تعلیم کے بارے میں کولونیل نقطۂ نظر بدل گیا ١٨٣٥ میں اس نے حقارت سے کہا عربی اور فارسی علوم کیلئے صرف ایک شلف چاہئیے ۔

ایک اور نقطۂ نظر میں زوال پر بحث کرتے ہوئے اس کا اشارہ کیا کہ مسلمان معاشرہ بشمول ہندوستان کے مسلمان مذہبی ، سیاسی ، سماجی اور معاشی طور پر زوال پیر ہیں اسی وجہ سے وسط ایشیاء میں روس ان کے ملکوں پر قابض ہو گیا ہے تو ایشیاء و افریقہ میں یورپی نے شکست دے کر انہیں اپنا تابع بنا لیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی اندرونی تخلیقی توانائی ختم ہو چکی ہے لہذا اس کو جہاں سیاسی اتباع سے دیکھا گیا کہ ان پر حکومت کرنا آسان ہے وہیں مذہبی اعتبار سے یہ سمجھا گیا کہ انہیں عیسائی بنا بھی آسان ہے اس سلسلے میں ا یورل پاؤل (Dr Avril A Powell) جرمن مشنری پمفندر کے خیالات بیان کرتے ہوے لکھتا ہے کہ اسلامی ریاستوں میں با عزت اور ایماندار اشرافیہ طبقہ کمزور ہو گیا ہے ، لہذا اس کی دلیل کے مطابق ہندوستان میں مسلمان اشرافیہ اخلاقی طور پر زوال پذیر ہے اور خود غرضانہ اور جذبات و خواہشات نے اسے معاشرے کیلئے برائی کی جڑ بنا دیا ہے (9)

حوالہ جات : تاریخ اور آج کی دنیا

مصنف : ڈاکٹر مبارک علی

ناشر : فکشن ہاؤس

 

 

استعمار کی استشراقی کاوشیں

 

استعمار نے سب سے پہلے اپنی مسیحی مشنریوں کو میدان میں اتارا لیکن ان کو بدترین شکست سامنا کرنا پڑا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

مولانا رحمت اللہ کیرانوی اسلام اور اہل سنت کے بڑے پاسبانوں میں سے تھے۔ آپ علماء دیوبند مولانا قاسم نانوتوی و‌مولانا رشید احمد گنگوہی وغیرہم کے حلقۂ فکر کے ایک فرد تھے۔ جس زمانے میں ہزاروں یورپی مشنری، انگریز کی پشت پناہی میں ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، مولانا کیرانوی رحمہ اللہ اور ان کے ساتھی مناظروں، تقریروں اور پیمفلیٹوں کے ذریعے اسلامی عقائد کے دفاع میں مصروف تھے۔ ١٢٧٠‌هـ بمطابق ١٨٥٤‌ء یعنی جنگ آزادی سے تین سال قبل مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے آگرہ میں پیش آنے والے ایک معرکہ کے مناظرہ میں عیسائیت کے مشہور مبلغ پادری فنڈر کو شکست دی۔

جنگ آزادی ١٨٥٧‌ء میں مولانا کیرانوی صوفی شیخ حضرت حاجی امداد اللہ (مہاجر مکی) رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں انگریز کے ساتھ قصبہ تھانہ بھون میں انگریز کے خلاف جہاد میں شامل ہوئے اور شاملی کے بڑے معرکہ میں بھی شریک ہوئے جس میں دیگر کئی لوگوں کے علاوہ ان کے ساتھی حافظ محمد ضامن رحمہ اللہ شہید ہوئے اور مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ زخمی ہوئے۔

انگریز کی فتح کے بعد مولانا کیرانوی دیگر مجاہدین کی طرح ہجرت کر کے حجاز چلے گئے۔ یہاں مولانا رحمہ اللہ تعالیٰ نے پادری فنڈر کی کتاب میزان الحق کا جواب اظہار الحق تحریر فرمایا۔ حجاز سے سلطان ترکی کے بلانے پر قسطنطنیہ (حالیہ استنبول) گئے اور وہاں عیسائیوں سے مناظرے کئے، وہاں سے اظهار الحق شائع بھی ہوئی۔ قسطنطنیہ کے مناظروں اور اظہار الحق کے متعلق مشہور مستشرق گارسان وتاسی کے مقالات میں ہے،

کیمبرج کے شعبۂ دینیات میں پادری ولیم صاحب نے بتایا کہ مشرق میں اسلام کی تبلیغ زور شور سے ہو‌رہی ہے، قسطنطنیہ میں جو مذہبی مباحثے ہوئے ان میں مسلمانوں نے ایسی قابلیت دکھائی کہ بہت سے عیسائی فوراً مذہب بدلنے کو تیار ہو گئے۔ اس ضمن میں مقرر نے ایک نئی عربی کتاب کا ذکر کیا جس کا جواب مشرق کے عیسائیوں سے نہ بن پڑا۔ اگر ان کی یہی حالت رہی تو اسلام کے حملے کا مقابلہ نہ کرسکیں گے۔»(10)

مکہ میں مولانا کیرانوی رحمہ اللہ نے، ایک نیک خاتون بیگم صولت النساء کے فراہم کردہ عطیے سے ایک مدرسہ مدرسہ صولتیہ قائم کیا جو حجاز مقدس میں اصول میں اہل سنت اور فروع میں حنفی فقہ پر چلنے والوں کا نمائندہ ادارہ‌ ہے۔

 

علم حدیث اور مستشرقین

 

مستشرقین نے حدیث پر حملہ بنیادی طور پر سند اور متن کے حوالے سے کیا ہیں دو اہم ترین مستشرقین کا تعارف اور ان کے کچھ افکار ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں ۔

ویسے تو ان دشمنانِ اسلام نے دین کے ہر شعبہ ہی کو نشانہ بنایا اور ہر گوشے کو مشکوک کرنے کی کوشش کی لیکن چونکہ حدیث پاک، قرآن پاک کے بعد سب سے اہم مصدر ہے، دین کی صحیح فہم اور اسلام کی حقیقی تصویر کشی، حدیث کے بغیر نامکمل رہتی ہے، اس لیے ہم مستشرقین کو دیکھتے ہیں کہ اس اہم مصدر کی طرف کچھ زیادہ ہی متوجہ رہتے ہیں اور آزاد تحقیق وریسرچ کے نام پر زہر اگلتے ہیں۔

اس سلسلے میں سب سے نمایاں شخصیت ہمیں دو نظر آتی ہیں:

(۱) سب سے پہلی شخصیت گولڈزیہر (Gold Hazer) کی ہے، جس کو عربی کتابوں میں "جولدتسھر” سے جانا جاتا ہے یہ شخص جرمن کا یہودی ہے، اس نے تمام اسلامی مآخذ کا مطالعہ کیا اور ۱۸۹۰ء میں پہلی تحقیق شائع کی، جس میں پورے اسلامی مآخذ کو مشکوک ٹھہرایا اس کی سب سے اہم کتاب "دراسات اسلامیۃ” کے نام سے ملتی ہے، جس کو پڑھ کر بعض اسلام کے نام لیوا بھی اپنی راہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

(۲) دوسری شخصیت "جوزف شاخت” (Joseph Schacht) کی ہے جس نے سارے اسلامی علوم و فنون کا دقتِ نظری سے مطالعہ کیا، خاص طور پر "فقہ اسلامی” پر توجہ دیا اور مختلف چھوٹے بڑے رسالے لکھے "بدایۃ الفقہ الاسلامی” اس کی ضخیم کتاب ہے، جس میں اس نے سارے ہی مآخذ کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی۔(11)

(تفصیلی حالات ملاحظہ کیجئے، موسوعۃ المستشرقین، تالیف عبدالرحمن بدوی)

حدیث کے متعلق سے "گولڈزیہر” نے زیادہ توجہ متن پر مرکوز کی، جب کہ "شاخت” نے سند اور تاریخ سند کو مشکوک قرار دیا، مندرجہ ذیل سطور میں انہی دونوں حضرات کے وہ شبہات جو بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ذکر کئے جاتے ہیں۔

یہ بات تقریباً تواتر کی حد تک پہنچ چکی ہے کہ کتابت حدیث اور حفظ حدیث دونوں زمانہ نبوت سے شروع ہو چکے تھے، بعض صحابہ کے صحیفے اس کے لیے پیش کئے جا سکتے ہیں، مگر”تدوین رسمی” حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دور میں ہوئی اس کا سہرا کسی ایک شخص پر نہیں، بلکہ مختلف علاقوں کے مختلف ذی استعداد قابل اعتماد حضرات کے ہاتھوں یہ کام ہوا، البتہ امام زہریؒ کا کارنامہ عظیم تھا ۔

اس لیےمستشرقین نے کوشش یہ کی کہ پہلی ہی بنیاد کو درمیان سے ہٹا دیا جائے تاکہ ساری عمارت خود بخود ڈھ جائے، چنانچہ سب سے پہلا تیر گولڈزیہر نے یہ چلایا کہ حدیث بنی امیہ کے دور کی پیداوار ہے، یہی اسلام کا مکمل اور پختہ بلکہ دورِ عروج ہے، چنانچہ وہ لکھتا ہے:

"إن القسم الأكبر من الحديث ليس صحيحاً مايقال من أنه وثيقة للإسلام في عهده الأول عهد الطفولة، ولكنه أثر من آثار جهود المسلمين في عصر النهضة”۔(12)

کہ حدیث کا ایک بڑا حصہ صحیح نہیں ہے، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اسلام کے یہ دستاویز عہد اوّل جو عہد طفولیت ہے سے چلے آرہے ہیں یہ تومسلمانوں کے دورِ عروج کی کوششوں کے آثار میں سے ہے۔

پھراس الہام کی تشریح اس طرح کی کہ پہلی صدی ہجری میں امویین و علویین کے دو گروہ آپس میں نبرد آزما ہوئے، کسی کے پاس قرآن و حدیث سے ٹھوس دلائل نہیں تھے اس لیے کچھ حدیثیں گھڑ کر چلتا کیا گیا، ہر گروہ نے اپنے زعم کے مطابق حدیثیں گھڑیں، طرفہ تماشہ یہ ہے کہ حکومت کی سرپرستی بھی حاصل رہی، بلکہ شاباشی دی گئی، حضرت امیر معاویہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے یوں کہا تھا:

"لَاتَھْمِلْ فِیْ أَنْ تَسُبَّ عَلِیاً وَأَنْ تَطْلُبَ الرَّحْمَۃَ لِعُثْمَانَ وَأَنْ تَسُبَّ أَصْحَابَ عَلِیٍ وَتَضْطَہَدُ مِنْ أَحَادِیْثِہِمْ وَعَلَی الضِدِّ مِنْ ھَذَا وَأَنْ تَمَدَّحَ عُثْمَانَ وَأَھْلَہُ وَأَنْ تَقْرُبَھُمْ وَتَسْمَعْ اِلَیْہِمْ”۔

کہ حضرت علی پر سب و شتم کرنا، حضرت عثمان کے حق میں رحمت کی دعا کرنا، نیز اصحاب علی کو گالی گلوج کرنا ان کی حدیثوں کے خلاف حدیثیں گڑھنا مت چھوڑو۔

 

                اس امر کی تائید

 

پھر تائید میں یہاں تک کہا کہ دیکھتے نہیں:

"فَإِنَّهُ لَاتُوْجَدْ مَسْأَلَةٌ خِلَافِيَّةٌ، سِيَاسِيَّةٌ أَوْاِعْتِقَادِيَّۃٌ، إِلَّاوَلَهَا اِعْتِمَادٌ عَلَى جُمْلَةِ مِنَ الْأَحَادِيْثِ ذَاتَ الْإِسْنَادِ الْقَوِيِّ”۔ (13)

کہ کوئی بھی مسئلہ ہو خواہ وہ سیاسی ہو یا اعتقادی ہر باب میں قوی سند والی حدیثوں پر اعتماد کو پائیں گے۔

پھراس کے بعد مستشرق گولڈزیہر نے لکھا:

"وَعَلَی ھَذَا الْاَسَاسِ قَامَتْ أَحَادِیْثُ الْأُمَوِیِّیْنَ ضِدَّ عَلِیٍّ”۔

کہ اسی اساس پر حضرت علی کے خلاف، امویین کی حدیث کا دارومدار ہے

بنو امیہ نے اس کام کے لیے زہری کو خریدا

اپنی جھوٹی عمارت کی تعمیر کے لیے بنو امیہ کا ایک بادشاہ عبد الملک بن مروان نے چال چلی کہ جب فتنہ عبداللہ بن زبیر کے موقع پر حج سے ممانعت کر دی گئی تو عبد الملک نے بیت المقدس میں "قبۃ الصخرہ” کی تعمیر کر کے لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اس وقت کے نامور محدث، جن کا دور دور تک شہرہ تھا، یعنی امام زہری کو اس کام کے لیے راضی کیا کہ بیت المقدس کی فضیلت کے باب میں کوئی حدیث گڑھیں، چنانچہ زہری نے ایک مشہور حدیث گھڑی جس کو امام مسلم وغیرہ نے روایت کیا ہے:

"لَاتَشُدُّوا الرِّحَالَ إِلَّاإِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِي هَذَاوَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى”(14)

یہ زہری کے موضوعات میں سے ہے اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ جتنی سندیں بھی منقول ہیں سب جا کر زہری پر منتہی ہوتی ہیں۔

 

                ایک دل فریب مکاری جو امویوں نے رچی

 

مستشرقین نے زہری کی بابت ایک عجیب قصہ نقل کیا ہے جو مختلف سندوں سے کتابوں میں محفوظ ہے کہ ابراہیم بن الولید اموی زہری کے پاس ایک صحیفہ لایا، جس میں اپنی من پسندروایتیں لکھ لی تھیں اور زہری سے اس کی اجازت طلب کی، زہری نے بھی بلاکسی تردید کے اس کی اجازت دے دی،اور یہ فرمایا:

"مَنْ یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُخْبِرَکَ بِھَا غَیْرِی؟”۔

کہ میرے علاوہ اس کی خبر تم کو اور کون دے سکتا ہے۔

اس طرح اس صحیفہ کی روایتیں زہری کے حوالے سے بیان کی جانے لگی۔(15)

 

                زہری کی مجبوری

 

خود امام زہری کے ذاتی احوال میں اس طرح کی باتیں ہیں کہ بادشاہوں کی ہاں میں ہاں ملانا باعثِ فخر تصور کرتے ہیں، خواہ اس کے وجوہات کچھ بھی ہوں، یہی وجہ ہے کہ ہشام نے اپنے ولی عہد کے اتالیقی کی پیش کش کی، یزید ثانی نے منصبِ قضا کا عہدہ دیا، سب کو بخوشی قبول کیا، جب کہ علماء کے نزدیک یہ ایک محقق مسئلہ ہے :

"مَنْ تَوَلّیٰ الْقَضَاءَ فَقَدْ ذَبَحَ بِغَیْرِ سِکِّیْنٍ”۔

جس نے عہدۂ قضاء قبول کیا اسے اُلٹی چھری سے ذبح کر دیا گیا۔

البتہ ہوسکتا ہے کہ اس تقرب کی وجہ امام زہری کو حدیثوں کے گڑھنے کی مجبوری ہو، یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر آپ نے کھل کر اعتراف کیا:

"أَكْرَهْنَا هَؤَلَاءِ الْأُمَرَاءَ عَلَى أَنْ نَكْتُبَ أَحَادِيْثَ”۔

کہ ان امراء نے ہمیں حدیثوں کے گڑھنے پر مجبور کیا۔

 

 

 

 

تحریک استشراق بر صغیر میں

 

معروف برطانوی مستشرق سر ولیم میور کو ہندوستان میں گر تحریک استشراق کا بانی کہا جائے تو کسی طور غلط نہ ہوگا بلکہ در حققیت برطانوی استعمار نے اسے خاص اسی مقصود کیلیے ہندوستان درآمد کیا تھا

 

                قادیانیت انگریزی استعمار کی ضرورت اور پیداوار

in Tahaffuz, August-September 2011, ا سلا می عقائد

جب انگریزی استعمار اپنے تمام تر مظالم اور جبرواستبداد کے باوجود ہندوستانی مسلمانوں کے دل سے جذبہ جہاد ختم نہ کرسکا تو 1869ء کے اوائل میں برٹش گورنمنٹ نے ممبران برٹش پارلیمنٹ‘ برطانوی اخبارات کے ایڈیٹرز اور چرچ آف انگلینڈ کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد سر ولیم میور کی قیادت میں ہندوستان بھیجا تاکہ ہندوستانی مسلمانوں کو رام کرنے کا کوئی طریقہ دریافت کیا جا سکے۔ برطانوی وفد ایک سال تک برصغیر میں رہ کر مختلف زاویوں سے تحقیقات کرتا رہا۔ 1870ء میں وائٹ ہال لندن میں اس وفد کا اجلاس ہوا جس میں اس وفد نے برطانوی راج کی ہندوستان میں آمد کے عنوان سے دو رپورٹس پیش کیں۔ جن کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمان اپنے سوا تمام مذاہب کو کفریہ مذاہب سمجھتے ہوئے ان مذاہب کے پیروکاروں کے خلاف مسلح جنگ کو ’’جہاد‘‘ قرار دے کر‘ جہاد کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ چونکہ مسلمانوں کے کے مذہبی عقیدہ کے مطابق انگریزی حکومت‘ کافر حکومت ہے۔ اس لئے مسلمان اس حکومت کے خلاف بغاوت اور جہاد میں مصروف رہتے ہیںجو برطانوی حکومت کے لئے مشکلات کا سبب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی اور مذہبی پیشواؤں کی اندھا دھند پیروی کرتی ہے۔ اگر کوئی ایسا شخص مل جائے جو انگریز حکومت کے جواز اور اس کے خلاف بغاوت و جہاد کے حرام ہونے کی بابت الہامی سند پیش کر دے تو ایسے شخص کو سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھا کر اس سے برطانوی مفادات کے لئے مفید کام لیا جا سکتا ہے۔ ان رپورٹس کو مد نظر رکھ کر برطانوی حکومت کے حکم پر ایسے موزوں شخص کی تلاش شروع ہوئی جو برطانوی حکومت کے استحکام کے لئے سند مہیا کرسکے اور جس کے نزدیک تاج برطانیہ کا ہر حکم وحی کے مترادف ہو۔ ایسے شخص کی تلاش ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ‘ پارنکسن کے ذمہ لگائی گئی۔ جس نے برطانوی ہند کی سینٹرل انٹیلی جنس کی مدد سے کافی چھان بین کے بعد چار اشخاص کو اپنے دفتر طلب کر کے انٹرویو کئے۔ بالآخر ان میں سے مرزا غلام احمد قادیانی کو برطانوی مفادات کے تحفظ کے لئے نامزد کر لیا گیا اور اس کی سرکاری سرپرستی شروع کر دی گئی۔(16)

یہ وہی ولیم میور تھا کہ جس کی کتاب کا جواب سر سید مرحوم نے لکھا ہے اس کے افکار کا اندازہ درج ذیل حوالوں سے ہوتا ہے

صدیوں سے کسی کو نبی ﷺ کے بنی اسماعیل سے ہونے پر کوئی اعتراض نہ تھا اور نہ ہی کسی نے اس حقیقت کو جھٹلایا تھا۔لیکن موجودہ دور کے بزعم خود انصاف پسند اور حقیقت بیان مستشرقین نے بغیر کسی دلیل کے آپ ﷺ کی اس حیثیت کا بھی انکار کر دیا۔مشہور مستشرق ولیم میور (1819- 1905) نے اپنی کتاب "The Life of Muhammad”میں اس بات کا ذکر اس انداز سے کیا ہے :

"The desire to regard, and possibly the endeavour to prove, the Prophet of Islam a descendant of Ishmael, began even in his life-time۔ Many Jews, versed in the Scriptures, and won over by the inducements of Islam, were false to their own creed, and pandered their knowledge to the service of Mahomet and his followers۔[1](17)

’’اس بات کی خواہش کہ آپﷺ کو حضرت اسماعیل کی اولاد سے خیال کیا جائے اور یہ کہ اس بات کو ثابت کر دیا جائے کہ آپ اسماعیل کی اولاد سے ہیں ، پیغمبرﷺ کو اپنی زندگی میں ہوئی۔اور اس کے لیے آپ کے ابراہیمی نسب نامے کے ابتدائی سلسلے گھڑ ے گئے اور حضرت اسماعیل اور بنی اسرائیل کے بے شمار قصے عربی زبان میں شامل کیے گئے۔‘‘

 

                بر صغیر کے اہل علم کا استشراقی تحریک سے متاثر ہونا

 

بر صغیر میں استشراق کو ایک نیا عنوان ” اہل قرآن ” کا ملا یہ وہ طبقہ تھا کہ جس نے انکار حدیث کی آواز بلند کی تاکہ قرآن کریم کو اپنی من مانی تاویلات و توجیہات سے تبدیل کیا جا سکے ۔

 

پروفیسر عبدالغنی

”ان لوگوں کے اکثر اعتراضات مستشرقین یورپ ہی کے اسلام پر اعتراضات سے براہِ راست ماخوذ ہیں مثلاً حدیث کے متعلق اگر گولڈ زیہر (Gold Ziher)، سپرنگر(Sprenger) اور ڈوزی (Dozy) کے لٹریچر کا مطالعہ کیا جائے تو آپ فوراً اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ منکرین حدیث کی طرف سے کئے جانے والے بڑے بڑے اعتراضات من و عن وہی ہیں جو ان مستشرقین نے کئے ہیں۔”(18)

 

مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی

”اور عجیب بات ہے کہ موجودہ دور کے منکرین حدیث نے بھی اپنا ماخذ و مرجع انہی دشمنانِ اسلام، مستشرقین کو بنایا ہے اور یہ حضرات انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور جو اعتراضات و شبہات ان مستشرقین نے اسلام کے بارے میں پیش کئے ہیں، وہی اعتراضات و شبہات یہ منکرین حدیث بھی پیش کرتے ہیں۔” (19)

 

مولانا مفتی محمد عاشق الٰہی بلند شہری

”انگریزوں نے جب غیر منقسم ہندوستان میں حکومت کی بنیاد ڈالی تو اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایسے افراد بنائے جو اسلام کے مدعی ہوتے ہوئے اسلام سے منحرف ہوں۔ اس طرح کے لوگوں نے تفسیر کے نام سے کتابیں لکھیں، معجزات کا انکار کیا، آیاتِ قرآنیہ کی تحریف کی۔ بہت سے لوگوں کو انگلینڈ ڈگریاں لینے کے لئے بھیجا گیا۔ وہاں سے وہ گمراہی، الحاد،زندیقیت لے کر آئے۔ مستشرقین نے ان کو اسلام سے منحرف کر دیا۔ اسلام پر اعتراضات کئے جو ان کے نفوس میں اثر کر گئے اور علما سے تعلق نہ ہونے کی وجہ سے مستشرقین سے متاثر ہو کر ایمان کھو بیٹھے۔ انگریزوں نے سکول اور کالجوں میں الحاد اور زندقہ کی جو تخم ریزی کی تھی، اس کے درخت مضبوط اور بار آور ہو گئے اور ان درختوں کی قلم جہاں لگتی چلی گئی، وہیں ملحدین اور زندیق پیدا ہوتے چلے گئے۔” (20)

 

بر صغیر کے معروف منکرین حدیث کے افکار

 

اگر غلام احمد قادیانی کو بر صغیر کا اولین منکر حدیث کا جاوے تو کچھ غلط نہ ہوگا کہ جس نے انکار حدیث کی ابتداء حدیث سے ثابت شدہ عقیدے نزول مسیح سے کی تاکہ اپنی جھوٹی نبوت کی راہ ہموار کر سکے

ان کا یہ عقیدہ مرزا غلام احمد کی ایک تحریر میں اس طرح مرقوم ہے:

"اور جو شخص حکم ہو کر آیا ہو اس کو اختیار ہے حدیثوں کے ذخیرہ میں سے جس انبار کو چاہے خدا سے علم پاکر قبول کرے اور جس ڈھیر کو چاہے خدا سے علم پاکر رد کر دے (حاشیہ تحفہ گولڑویہ:۱۰) میرے اس دعویٰ کی حدیث بنیاد نہیں، بلکہ قرآن اور وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی، ہاں! تاکیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کوہم ردّی کی طرح پھینک دیتے ہیں”۔   (21)

فتنۂ انکارِ حدیث کی تاریخ مولانا محمد تقی عثمانی یوں بیان کرتے ہیں:

”یہ آواز ہندوستان میں سب سے پہلے سرسیداحمدخان اور ان کے رفیق مولوی چراغ علی نے بلند کی، لیکن انہوں نے انکارِ حدیث کے نظریہ کو علیٰ الاعلان اور بوضاحت پیش کرنے کی بجائے یہ طریقہ اختیار کیا کہ جہاں کوئی حدیث اپنے مدعا کے خلاف نظر آئی، اس کی صحت سے انکار کر دیا خواہ اس کی سند کتنی ہی قوی کیوں نہ ہو۔ اور ساتھ ہی کہیں کہیں اس بات کا بھی اظہار کیا جاتا رہا کہ یہ احادیث موجودہ دور میں حجت نہیں ہونی چاہئیں اور اس کے ساتھ بعض مقامات پر مفیدِ مطلب احادیث سے استدلال بھی کیا جاتا رہا۔ اسی ذریعہ سے تجارتی سود کو حلال کیا گیا، معجزات کا انکار کیا گیا، پردہ کا انکار کیا گیا اور بہت سے مغربی نظریات کو سندِ جواز دی گئی۔ ان کے بعد نظریۂ انکارِ حدیث میں اور ترقی ہوئی اور یہ نظریہ کسی قدر منظم طور پر عبداللہ چکڑالوی کی قیادت میں آگے بڑھا اور یہ ایک فرقہ کا بانی تھا، جو اپنے آپ کو ‘اہل قرآن’ کہتا تھا۔ اس کا مقصد حدیث سے کلیتاً انکار کرنا تھا، اس کے بعد جیراج پوری نے اہل قرآن سے ہٹ کر اس نظریہ کو اور آگے بڑھایا، یہاں تک کہ پرویز غلام احمد نے اس فتنہ کی باگ دوڑ سنبھالی اور اسے منظم نظریہ اور مکتبِ فکر کی شکل دے دی۔ نوجوانوں کے لئے اس کی تحریر میں بڑی کشش تھی، اس لئے اس کے زمانہ میں یہ فتنہ سب سے زیادہ پھیلا۔”(22)

مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:

”اس طرح فنا کے گھاٹ اتر کر یہ انکارِ سنت کا فتنہ کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری (انیسویں صدی عیسوی) میں پھر جی اٹھا۔ اس نے پہلا جنم عراق میں لیا تھا، اب دوسرا جنم اس نے ہندوستان میں لیا۔ یہاں اس کی ابتدا کرنے والے سرسیداحمدخان اور مولوی چراغ علی تھے۔ پھر مولوی عبداللہ چکڑالوی اس کے علم بردار بنے۔ اس کے بعد مولوی احمد الدین امرتسری نے اس کا بیڑا اٹھایا، پھر مولانا اسلم جیراج پوری اسے لے کر آگے بڑھے اور آخر کار اس کی ریاست چوہدری غلام احمد پرویز کے حصے میں آئی، جنہوں نے اس کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا ہے۔” (23)

 

ان تمام حضرت میں سے سر سید احمد خان کو صریح طور پر منکر حدیث قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ اس حوالے سے تاویلات کرتے تھے

چنانچہ سرسید لکھتے ہیں:

”جناب سید الحاج مجھ پر اتہام فرماتے ہیں کہ میں کل احادیث کی صحت کا انکار کرتا ہوں۔« لاحول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» یہ محض میری نسبت غلط اتہام ہے۔ میں خود بیسیوں حدیثوں سے جو میرے نزدیک روایتاً و درایتاً صحیح ہوتی ہیں، استدلال کرتا ہوں۔”(24)

استشراقی فکر کی وباء سے پر صغیر کے ایسے اہل علم بھی متاثر ہوئے کہ جنہیں بلا شبہ مخلصین کی صف میں شامی کیا جا سکتا ہے مولانا حمید الدین فراہی ، مولانا امین احسن اصلاحی اور سید ابو اعلی مودودی مرحوم کا نام نامی ان شخصیات میں لیا جا سکتا ہے ۔

یہاں کچھ حوالے ڈاکٹر ابو عدنان سہیل کی کتاب سے پیش کیے جاتے ہیں

مولانا فراہی رحمہ اللہ کے اصول کے مطابق چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قول و فعل کے ذریعے سے قرآن مجید کے مدعا میں کسی قسم کا کوئی تغیر پیدا نہیں کرتے، بلکہ آپ کے تمام استنباطات اور اجتہادات قرآن ہی پر مبنی اور اسی کے تحت ہوتے ہیں، اس وجہ سے انھوں نے رجم کی سزا کا ماخذ قرآن مجید ہی میں متعین کرنے کی کوشش کی اور یہ رائے ظاہر کی کہ رجم کی سزا آیت محاربہ پر مبنی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے محاربہ اور فساد فی الارض کے مجرموں کے لیے عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے (جس کی ایک صورت مولانا کی رائے میں ’رجم‘ بھی ہے)،

یہ اس بحث کا اصل علمی پس منظر ہے۔ جہاں تک آیت محاربہ کو رجم کی سزا کا ماخذ قرار دینے کا تعلق ہے تو اس رائے پر یقیناً بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں جن میں دو سوال بنیادی نوعیت کے ہیں۔ ایک یہ کہ کیا آیت محاربہ اپنے الفاظ، سیاق وسباق اور علت کی رو سے رجم کا ماخذ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اور دوسرا یہ کہ کیا رجم سے متعلق احادیث اور روایات اس توجیہہ کو قبول کرتی ہیں؟

مولانا فراہی کی مذکورہ رائے کو صاحب’’ تدبر قرآن‘‘ مولانا امین احسن اصلاحی نے زیا دہ وضاحت کے ساتھ موضوع بحث بنایا تو فطری طور پر علمی حلقوں میں ایک بحث پیدا ہو گئی اور طرفین سے مباحثہ واستدلال کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسی تناظر میں فراہی اسکول کے معروف عالم مولانا عنایت اللہ سبحانی نے ’’حقیقت رجم‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب تصنیف کی جس میں انھوں نے مولانا فراہی کے نقطۂ نظر کے حق میں دلائل و شواہد پیش کیے۔ ’’انکار رجم: ایک فکری گمراہی‘‘ کے عنوان سے زیر نظر کتاب ڈاکٹر ابو عدنان سہیل صاحب نے مولانا سبحانی کی اسی تصنیف کے جواب میں لکھی ہے۔ (25)

’’انکار رجم: ایک فکری گمراہی‘‘

یہاں دو مثالوں پر اکتفا کروں گا کہ جن میں سید مودودی رح جیسی شخصیت نے مدار اپنی عقل اور علم کو بنایا اور سند حدیث کو ثانوی حیثیت دی ۔

کچھ احادیث پر وارد اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے مولانا مودودی نے لکھا کہ :

” ان مختلف احادیث میں سے کسی میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی بیویوں کی تعداد ٦٠ ، کسی میں ٧٠، کسی میں ٩٠ ، کسی میں ٩٩ اور کسی میں ١٠٠ بیان کی گئی ہیں۔ اور سب کی سندیں مختلف ہیں ۔ اتنی مختلف سندوں سے جو بات محدثین کو پہنچی ہو ، اس کے متعلق یہ کہنا تو مشکل ہے کہ وہ بالکل بے اصل ہوگی ، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کو سمجھنے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کوئی غلطی ہوئی ہے یا وہ پوری بات سن نہیں سکے ہوں ، ممکن ہے حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہو حضرت سلیمان علیہ السلام کی بہت سی بیویاں تھیں جن کی تعداد یہودی ٦٠، ٧٠، ٩٠، ٩٩ اور ١٠٠ تک بیان کرتے ہیں اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمجھا ہو کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا بیان ہے۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے قول کی اس طرح بیان کیا ہو کہ ” میں اپنی بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر بیوی سے ایک مجاہد پیدا ہوگا ” اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سمجھے ہوں کہ ” ایک رات میں جاؤں گا ” اس طرح کی غلط فہمیوں کی مثالیں متعدد روایات میں ملتی ہیں جن میں سے باق کو دوسری روایتوں میں ایسا ہو جانا کوئی تعجب کی بات نہیں اور اس طرح کی چند مثالوں کو لیکر پورے ذخیرہ احادیث کو ساقط الاعتبار قرار دینا کسی معقول آدمی کا کام نہیں ہو سکتا۔ رہا انشا الله کا معاملہ ، تو یہ کسی روایت میں بھی نہیں کہا گیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جن بوجھ کر انشا الله کہنے سے احتراز کیا تھا ۔ اس لئے اس میں توہین انبیا کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ ” کسی نے کہا ، انشا الله بھی ساتھ کہئے ۔لیکن آپ نے پرواہ نہ کی ” حدیث میں جو الفاظ آئے ہیں وہ یہ ہیں کہ :

فقال له صاحبه انشاء الله فلم یقل ” ان کے ساتھی نے ان سے کہا ، انشاء الله مگر انہوں نے نہ کہا ” اس کا مطلب   یہ ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کے منہ سے یہ بات نکلی تو پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص نے خود کہا ” انشاء اللہ ” اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کے کہ دینے کو کافی سمجھ لیا اور اپنی زبان سے اس کا اعادہ نہ کیا(26)۔

( رسائل و مسائل – جلد دوئم -صفحہ ٢٧-٢٨ )

سوال: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعۂ ہجرت جب کہ ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی اور ایک ظالم بادشاہ نے بد فعلی کا ارادہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس ظالم کو اپنی قدرت قاہرہ کے ساتھ اس ارادہ سے باز رکھا۔ آپ نے یہاں بھی اختلاف کیا ہے اور اس واقعہ کو لغو قرار دیا ہے۔

جواب: حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کذبات ثلاثہ کے مسئلے پر میں نے دو جگہ بحث کی ہے۔ ایک ’’رسائل و مسائل حصہ دوم‘‘ صفحہ ۳۵ تا ۳۹۔ دوسرے تفہیم القرآن، بسلسلہ تفسیر سورہ انبیا، حاشیہ نمبر ۶۰۔ ان دونوں مقامات پر میں نے وہ دلائل بھی بیان کر دئے ہیں جن کی بنا پر میں اس روایت کے مضمون کی صحت تسلیم کرنے میں متامل ہوں۔ اگر میرے ان دلائل کو دیکھ کر آپ کا اطمینان ہو جائے تو اچھا ہے، اور نہ ہو تو جو کچھ آپ صحیح سمجھتے ہیں، اس کو صحیح سمجھتے رہیں۔ اس طرح کے معاملات میں اگر اختلاف رہ جائے تو آخر مضائقہ کیا ہے۔ آپ کے نزدیک حدیث کا مضمون اس لئے قابل قبول ہے کہ وہ قابل اعتماد سندوں سے نقل ہوئی ہے اور بخاری، مسلم، نسائی اور متعدد دوسرے اکابر محدثین نے اسے نقل کیا ہے۔ میرے نزدیک وہ اس لئے قابل قبول نہیں ہے کہ اس میں ایک نبی کی طرف جھوٹ کی نسبت ہوتی ہے، اور یہ کوئی ایسی معمولی بات نہیں ہے کہ چند راویوں کی روایت پر اسے قبول کر لیا جائے۔ اس معاملہ میں، میں اس حد تک نہیں جاتا جہاں تک امام رازیؒ گئے۔ وہ تو کہتے ہیں کہ ’’انبیاء کی طرف جھوٹ کو منسوب کرنے سے بدرجہا بہتر یہ ہے کہ اس روایت کے راویوں کی طرف اسے منسوب کیا جائے‘‘۔ (تفسیر کبیر، جلد ۶، صفحہ ۱۱۳) اور یہ کہ ’’نبی اور راوی میں سے کسی ایک کی طرف جھوٹ منسوب کرنا پڑ جائے تو ضروری ہے کہ وہ نبی کی بجائے راوی کی طرف منسوب کیا جائے‘‘۔ (تفسیر کبیر، جلد ۷، صفحہ ۱۴۵) مگر میں اس روایت کے ثقہ راویوں میں سے کسی کے متعلق یہ نہیں کہتا کہ انہوں نے جھوٹی روایت نقل کی ہے، بلکہ صرف یہ کہتا ہوں کہ کسی نہ کسی مرحلے پر اس کو نقل کرنے میں کسی راوی سے بے احتیاطی ضرور ہوئی ہے۔ اس لئے اسے نبی ﷺ کا قول قرار دینا مناسب نہیں ہے۔ محض سند کے اعتماد پر ایک ایسے مضمون کو آنکھیں بند کر کے ہم کیسے مان لیں جس کی زد انبیا علیہم السلام کے اعتماد پر پڑتی ہے؟

میں ان دلائل سے بے خبر نہیں ہوں جو اس روایت کی حمایت میں اکابر محدثین نے پیش کئے ہیں، مگر میں نے ان کو تشفی بخش نہیں پایا ہے۔ جہاں تک فعلہ کبیرھم ھذا اور انی سقیم کا تعلق ہے، ان دونوں کے متعلق تو تمام مفسرین و محدثین اس پر متفق ہیں کہ یہ حقیقتاً جھوٹ کی تعریف میں نہیں آتے۔ آپ تفسیر کی جس کتاب میں چاہیں، ان آیات کی تفسیر نکال کر دیکھ لیں اور ابن حجر، عینی، قسطلانی وغیرہ شارحین حدیث کی شرحیں بھی ملاحظہ فرما لیں۔ کسی نے بھی یہ نہیں مانا ہے کہ یہ دونوں قول فی الواقع جھوٹ تھے۔ رہا بیوی کو بہن قرار دینے کا معاملہ تو یہ ایسی بے ڈھب بات ہے کہ اسے بنانے کے لئے محدثین نے جتنی کوششیں بھی کی ہیں، وہ ناکام ہوئی ہیں۔ تھوڑی دیر کے لئے اس بحث کو جانے دیجئے کہ جس وقت کا یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے، اس وقت حضرت سارہ کی عمر کم از کم ۶۵ برس تھی اور اس عمر کی خاتون پر کوئی شخص فریفتہ نہیں ہوسکتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بادشاہ حضرت سارہ کو حاصل کرنے کے درپے ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آخر کس مصلحت سے کہا کہ یہ میری بہن ہیں؟ اس صورت حال میں بیوی کو بہن کہہ کر آخر کیا فائدہ ہوسکتا تھا؟ شارحین حدیث نے اس سوال کے جو جوابات دئے ہیں، ذرا ملاحظہ ہوں:

۱۔ اس بادشاہ کے دین میں یہ بات تھی کہ صرف شوہر والی عورتوں ہی سے تعرض کیا جائے، اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیوی کو بہن اس امید پر کہا کہ وہ حضرت سارہ کو بے شوہر عورت سمجھ کر چھوڑ دے گا۔

۲۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیوی کو بہن اس لئے کہا کہ بادشاہ عورت کو چھوڑنے والا تو ہے نہیں، اب اگر میں یہ کہوں کہ میں اس کا شوہر ہوں تو جان بھی جائے گی اور بیوی بھی، اور اگر بہن کہوں گا تو صرف بیوی ہی جائے گی، جان بچ جائے گی۔

۳۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اندیشہ ہوا کہ سارہ کو بیوی بتائیں گے تو یہ بادشاہ مجھ سے زبردستی طلاق دلوائے گا، اس لئے انہوں نے کہا کہ یہ میری بہن ہے۔

۴۔ اس بادشاہ کے دین میں یہ بات تھی کہ بھائی اپنی بہن کا شوہر ہونے کے لئے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ حقدار ہے، اس لئے انہوں نے بیوی کو بہن اس امید پر بتایا کہ یہ سارہ کو میرے لئے ہی چھوڑ دے گا۔ (27)

خدارا غور کیجئے کہ ان توجیہات نے بات بنائی ہے یا بگاڑ دی ہے؟ آخر کس تاریخ سے یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ دنیا میں کوئی دین ایسا بھی گزرا ہے جس میں بے شوہر عورت کو چھوڑ کر صرف شوہر دار عورت ہی سے تعرض کرنے کا قاعدہ مقرر ہو؟ اور یہ نبی کی سیرت و شخصیت کا کیسا بلند تصور ہے کہ وہ جان بچانے کے لئے بیوی کی عصمت قربان کرنے پر راضی ہو جائے گا؟ اور یہ کس قدر معقول بات ہے کہ زبردستی طلاق دلوائے جانے کے اندیشہ سے بیوی کو بہن کہہ کر دوسرے کے حوالے کر دیا جائے تاکہ وہ بے طلاق ہی اس سے استفادہ کر لے؟ اور یہ کتنی دل لگتی بات ہے کہ بادشاہ بھائی کو تو بہن کا شوہر ہونے کے لئے زیادہ حق دار مان لے گا مگر خود شوہر ہونے کے لئے حق دار نہ مانے گا؟ اس طرح کی لا طائل سخن سازیوں سے ایک مہمل بات کو ٹھیک بٹھانے کی کوشش کرنے سے کیا یہ مان لینا زیادہ بہتر نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے ہرگز یہ بات نہ فرمائی ہوگی اور کسی غلط فہمی کی بنا پر یہ قصہ غلط طریقے سے نقل ہو گیا ہے۔

بعض حضرات اس موقع پر یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگر اس طرح کے دلائل سے محدثین کی چھانی پھٹکی ہوئی ایک صحیح السند روایت کے مضمون کو مشکوک ٹھہرا دیا جائے تو پھر ساری ہی حدیثیں مشکوک قرار پا جائیں گی۔ لیکن یہ خدشہ اس لئے بے بنیاد ہے کہ متن کی صحت میں شک ہر روایت کے معاملے میں نہیں ہوسکتا، بلکہ صرف کسی ایسی روایت ہی میں ہو سکتا ہے جس میں کوئی بہت ہی نامناسب بات نبی ﷺ کی طرف منسوب ہوئی ہو اور وہ کسی توجیہ سے بھی ٹھیک نہ بیٹھتی ہو۔ اس طرح کی بعض روایتوں کے متن کو مشکوک ٹھہرانے سے آخر ساری روایتیں کیوں مشکوک ہو جائیں گی؟ پھر یہ امر بھی غور طلب ہے کہ جن نامناسب باتوں کی کوئی معقول توجیہ ممکن نہ ہو، ان کا نبی ﷺ کی طرف منسوب ہو جانا زیادہ خطرناک ہے، یا یہ مان لینا کہ محدثین کی چھان پھٹک میں بعض کوتاہیاں رہ گئی ہیں، یا یہ کہ بعض ثقہ راویوں سے بھی نقلِ روایات میں کچھ غلطیاں ہوگئی ہیں؟ بتائیے، ایک صاحب ایمان آدمی ان دونوں باتوں میں سے کس بات کو قبول کرنا زیادہ پسند کرے گا؟(28)

(ترجمان القرآن۔ ربیع الثانی ۱۳۷۵ھ، دسمبر ۱۹۵۵ء)

 

                مقصود مقالہ

 

پیش نظر مقالے میں ہمارا مقصود تھا کہ مستند تاریخی حوالوں سے یہ بات کا جائزہ لیا جائے کہ کس طرح صلیبی فکر کی جانب سے اٹھائی گئی تحریک استشراق کو ماضی قریب میں عالمی استعمار کی حمیت اور تائید حاصل ہوئی اور کس انداز میں مغربی مستشرقین نے بر صغیر کے اہل علم کو اپنی استشراقی فکر سے متاثر کیا اور انہوں نے وہ ارادی و غیر ارادی طور پر وہ تمام امور اپناتے گئے کہ جن کی وجہ سے ایک امت اسلامی ماخذات کی بابت غلط فہمیوں کا شکار رہی ۔

 

سفارشات

 

دور جدید میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ استعمار اور استشراق کے تعلق کو واضح انداز میں بیان کیا جاوے اور علوم اسلامی کے حوالے سے ان کے اعتراضات کو سامنے رکھ کر جدید انداز میں تحقیقی کام کیا جائے اہل علم کی ایک جماعت جمع ہو کہ جو مسلکی جماعتی اور گروہی تعصبات سے بلند ہو کر خالص تحقیقی انداز میں مستشرقین کے ان اعتراضات کے حوالے سے بات کرے کہ جنہیں دور جدید ” قرانیوں ” یا مستغربین نے من و عن حاصل کیا اور ان کی نشر و اشاعت کا کام کر رہے ہیں ۔

٭٭٭

 

 

 

 

کتابیات

 

1)       (سیرۃ المصطفیٰ۱۱۶:۱، بحوالہ سیرت ابن ہشام)

2)       ” مقالات سرسید، صفحہ 41″

3)       ہمارے ہندوستانی مسلمان” از ولیم ولسن ہنٹر، آئی سی ایس آفیسر بنگال، مترجم ڈاکٹر صادق حسین، دفتر اقبال اکیڈیمی، ظفر منزل، تاج پورہ، لاہور ۱۹۴۴ء، صفحہ: ۲۳۴ و ۲۳۵

4)       نثار احمد ، ڈاکٹر ، مستشرقین اور مطالعہ سیرت ، نقوش ادارہ فروغ اردو ، لاہور،۱۹۸۵ء ، ۱۱/ ۴۹۴۔

5)       اکر م ،ڈاکٹر محمد ، استشراق ، ص ۵۶۷ ،تکملہ دائرہ معارف اسلامیہ ،شعبہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور،۲۰۰۲ء،مادہ شرق۔

6)       Asish Nandy: The Entimate Enemy۔ Oxford Delhi, Eight Impression 1994 , P.34)

7)       بحوالہ: ماہنامہ ’’دعوۃ‘‘ اسلام آباد۔ اپریل ۲۰۰۹ء

8) Masks of Conquest by Gauri ViswanathanPublished by Faber & Faber, London, U.K. (1990)

9) Muslims and Missionaries in Pre-mutiny India. Front Cover. Avril Ann Powell. Psychology Press, 1993 – Religion – 339 pages)

10)     [مقالات گارسن وتاسی ۔ مقالہ ١٩٧٤ مترجمہ پروفیسر عزیز احمد صاحب شعبہ انگریزی جامعہ عثمانیہ] بحوالہ تراشے مولانا مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم

11)    (تفصیلی حالات ملاحظہ کیجئے، موسوعۃ المستشرقین، تالیف عبدالرحمن بدوی)

12)     (نظریہ عامۃ فی تاریخ الفقہ لعلی حسن عبدالقادر: ۱۲۶)

13)     (مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی، بحوث مجمعیۃ السنۃ النبویۃ فی العصر: ۸/۱۴۷۴)

14)     (مسلم، باب سفرالمرأۃ مع محرم إلی حج وغیرہ، حدیث نمبر:۲۳۸۳)

15)     (السنۃ ومکانتھا فی التشریع الاسلامی:۱۹۲)

16)     پاکستان میں مرزائیت صفحہ 25 تا 27 از مرتضیٰ احمد خان مکیش

17)     The Life of Muhammad, William Muir, Smith Elder &Co London,1861,p34)

18)     قادری، عبدالغنی، پروفیسر، ریاض الحدیث، لاہور، ۱۹۶۹ء، ص۱۵۹

19)     ٹونکی، ولی حسن، مفتی ، عظیم فتنہ، کراچی، اقراء روضۃ الاطفال، ناظم آباد، ۱۹۸۴ء ص۲۶

20)     محمد عاشق الٰہی، مفتی، فتنہ انکار حدیث اور اس کا پس منظر، لاہور ادارہ اسلامیات، ۱۹۸۶ء ص۷

21)     (ضمیمہ نزولِ مسیح:۳۰)

22)     عثمانی، محمد تقی، مولانا، درس ترمذی، کراچی مکتبہ دارالعلوم کراچی، ۱۹۸۰ء ص۲۶

23)     مودودی، ابوالاعلیٰ، مولانا، سنت کی آئینی حیثیت، لاہور اسلامک پبلیکیشنز، ۱۹۶۳ء ص۱۶

24)     پانی پتی، محمد اسماعیل، مقالات سرسید، لاہور مجلس ترقی ادب، ج۱۳، ص۱۷

25)     مصنف : ڈاکٹر ابو عدنان سہیل :ضخامت : ۱۲۸ ناشر : مکتبۂ قدوسیہ، رحمان مارکیٹ، غزنی اسٹریٹ، اردو بازار لاہور

26)     ( رسائل و مسائل – جلد دوئم -صفحہ ٢٧-٢٨ )

27)     (فتح الباری، جلد ۶، صفحہ ۲۴۷۔ عینی جلد ۱۵، صفحہ ۲۴۹۔ قسطلانی جلد ۵، صفحہ ۲۸۰)

28)     (ترجمان القرآن۔ ربیع الثانی ۱۳۷۵ھ، دسمبر ۱۹۵۵ء)

 

Weblography

 

  1. https://mazameen.wordpress.com/
  2. https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B1%D8%AD%D9%85%D8%AA_%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81_%DA%A9%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%D9%88%DB%8C
  3. http://anwar-e-islam.org/node/816#.VoBh4vl97cs
  4. http://tahaffuz.com/1853/#.VoBlnPl97ct
  5. http://alhassanain.com/urdu/book/book/belief_library/religion_and_sects/istishraaq_o_mustashriqeen/007.html
  6. http://www.rasailomasail.net/5027.html

تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید