FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

نیا جزیرہ

(شعری مجموعہ)

اسلمؔ  عمادی

اؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

مکمل کتاب پڑھیں …..

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یَا عِماَدُمنْ لَا عِمَادَلَہُ

انتساب

میرے محترم

جناب سعید الحق عمادی

کے نام

تحفہ

میرے پیارے دوست

محمد اعظم

کے لیے

حمد

ہنستے رہیں گے لب یہ عنایت اُسی کی ہے

برسیں گے ہم یہ پھول یہ اُلفت اُسی کی ہے

میں کیا ہوں ایک قطرہ بحر کمال شوق

ہوں آج موج زن تو یہ قدرت اسی کی ہے

مجھ سے تمام شہر میں ہے گرمیِ حیات

میرے بدن میں ساری حرارت اسی کی ہے

ہم کو بنا دیا ہے، ہواؤں کا حکمراں

ہم پر اتر رہی ہے جو طاقت اسی کی ہے

ہم کیا تھے، صرف رنگِ بصارت کا آئینہ

ہم میں جو آ گئی ہے بصیرت اسی کی ہے

٭ ٭٭

نعت

محمدؐ مصطفی

ہم ٹوٹتی راتوں میں جیتے ہیں

ہمارے ہاتھوں میں پتوار ہے اور کشتیِ ہستی میں،

فتنہ ہے شکستوں کا۔

کہ دلدل میں چلا کرتے ہیں

دلدل۔

کچھ ایسا ہے کہ دل تاب و تواں کو بھول جاتا ہے

قدم بھر جاتے ہیں

آنکھیں ہماری آنسوؤں سے ڈِب ڈِبا جاتی ہیں

تارے جھِلملا کر۔  آسماں میں ڈوب جاتے ہیں

ہوا کے ساتھ گہرا ریت کا طوفان

سارے کاروانِ ہوش کو آغوش میں لے کر

زمیں میں ڈوب جاتا ہے

محمدؐ مصطفی

ہیں آپ ساری حاضر و پوشیدہ موجودات کے والی

صفات ایسی

کہ ہر پہلو زبانِ مصحفِ اعظم

خدا کے منتخب بندے

مرے جسم اور میری رُوح کو

اپنی شفاعت کے مظہر سبز سائے میں

شفا دے دیں۔!

محمدؐ مصطفی

بس آپ کا دستِ شفاعت۔  روشنی ہی روشنی

فرازِ کوہ سے وہ نور کا اک تیز رَو دریا

۔  مرے مٹی کے پیکر پر اُتر تا ہے

مرا مٹی کا زندہ شادماں پیکر پر اُترتا ہے

مرا مٹی کا زندہ شادماں پیکر

محمدؐ مصطفی

کتابیں ہی کتابیں

روشنی ہی روشنی

٭٭٭

درد ملتا ہے تو مٹھی میں چھپا لیتا ہوں

شعلے اُٹھتے ہیں تو آنکھوں میں چرا لیتا ہوں

سانس لیتا ہوں تو کچھ آگ نکلتی بھی تو ہے

کیسا شکوہ ہے یہ، میں کس کی ہوا لیتا ہوں

ضد، مرے جسم سے؟ میں جنگ تک آؤں بے فیض

خیر چہرے پہ ترا رنگ لگا لیتا ہوں

سنگ سکھلائے مجھے ذوقِ شرارہ سازی

میں تو بارود ہوں میں سب کا مزہ لیتا ہوں

میری رگ رگ میں چھپی ہے مری حرفت سازی

نقطہ و دائرہ و خط کو لڑا لیتا ہوں

کھڑکیاں سنتی ہیں جب مری نرالی نظمیں

کھلکھلا اُٹھتی ہیں، دیوانہ بنا لیتا ہوں

اب کبھی برق نہ آئے مرے گھر میں اسلمؔ

آج میں دونوں ہی تاروں کو ملا لیتا ہوں

٭٭٭

تھا وہی صحرا وہی خوں رنگ گہرا آسماں

قافلہ پھر اک نئے انداز سے آگے چلا

ٹوٹتی زنجیر سے اُبھرے نئے کچھ حادثے

سایہ اک تیری نگاہِ ناز سے آگے چلا

اب مجھے چونکانے والے ہو گئے ہیں دم بہ خود

کیا کریں! میں تو صدائے ساز سے آگے چلا

کس کے خوں کی بو مجھے محسوس ہوتی ہے یہاں

کون تھا۔  جو یوں مری پرواز سے آگے چلا

آج اسلمؔ میں نے بھی محسوس کی ہے ایک بات

ایک شعلہ دیدۂ غماز سے آگے چلا

٭٭٭

اتنے گہرے ساگر میں مدتوں سے پیاسا ہوں

بے پناہ سازش ہوں، دل فریب دھوکا ہوں

آ گیا ہوں منزل پر دگر یہ کوئی منزل ہے،

اب تو سوچنا یہ ہے میں کہاں سے آیا ہوں

اب تو سارے نقشوں نقشِ پائے بے منزل

شام، گر گئے پتے۔  ابر بن کے برسا ہوں

دست و پا مسافر ہیں، آنکھیں مائل پرواز

اک تلاش، اک گردش، کون ہوں میں اور کیا ہوں

جانور کی آنکھوں میں کس طرح کی جھلی ہے

جانے اس کی نظروں میں سرخ ہوں کہ پیلا ہوں

بے قرار تھا اسلمؔ خود میں محو تھا پہلے

سوختے کے اُوپر میں کس طرح سے پھیلا ہوں

٭٭٭

اجنبی زبانوں میں پھول مسکراتے ہیں

قربِ دل کا آئینہ، رنگ ڈوب جاتے ہیں

عامیانہ غم کس کا؟ میں جہت جہت تنہا

نیلگوں سمندر میں تارے جھلملاتے ہیں

میں، مرا اُجالا ہے اور میری آنکھیں ہیں

لوگ مجھ میں آتے ہیں، لوگ مجھ سے جاتے ہیں

آفتاب ذرّوں میں غرق ہو گیا ہر سُو!

قطرے سارے چہروں پر، کھیت لہلہاتے ہیں

خِشت خِشت واقف ہے، سنگ سنگ مائل ہے

اب پتہ چلا اسلمؔ ہم یہاں بھی آتے ہیں

٭٭٭

جسم آغشتہ جاں تپتے ہوئے رنگ میں ہے

کالی دیوار کے ہر ٹوٹے ہوئے سنگ میں ہے

تیز آواز، سکوں، شور، خموشی، نغمہ۔!

ہر نیا چہرہ اسی گرمیِ آہنگ میں ہے

بر قیے جمع ہوئے تار بنا۔  ٹوٹ نہ جائے

اک عجب رنگ ہوائے قفس تنگ میں ہے

تم کو پہچان کے کیا اپنی ہوا پائیں گے ہم

آکسیجن سی مہکتی ہوئی گل رنگ میں ہے

آتشیں عکس خبر جسم کو تازہ تو کرے

سانس اسلمؔ ابھی احساس سے اک جنگ میں ہے

٭٭٭

بچانا چاہے تو اس کو نظر بچا نے دو

بدن کو آئینہ کے سامنے تو آنے دو

بھرے ہجوم میں چھپ چھپ کے اپنی راہ چلو

وفا نگاہوں کو خاموش لوٹ جانے دو

تم اپنی آنکھوں کی شمعوں کو گل نہ کر دینا

تمام رات فضاؤں کو لڑ کھڑا نے دو

یہی مقام تمنا ہے گر تو خاک سکوں

میں آ گیا ہوں کہاں؟ مجھ کو لوٹ جانے دو

تھر کتی رہتی ہیں ریشم کی چادریں اطراف

مجھے نکلنا ہے، مجھ کو نکل بھی جانے دو

٭٭٭

ہنگامِ قتل کون ہے صورت نما یہاں

دروازہ بند کر کہ نہ اُٹھے صدا یہاں

آلودۂ جنوں نہیں کاشف کا اختیار

دیوار پر ہے چہرہ سا کھرچا ہوا یہاں

آیا ہے کون فتنہ لب ڈھونڈتا ہوا

خطرہ کا سُرخ رنگ ہے پھیلا ہوا یہاں

زنداں کا در کھلا ہے جو خندق ہوئی عبور

چڑیوں کا شور و غل کہ سویرا ہوا یہاں

اسلمؔ عیاں قدم کی ملامت کہیں نہیں

غلطی سے گر پڑا ہے کوئی راستا یہاں

٭٭٭

میرے لہو میں احتراق ایک شرر ہے ہو گیا

پھر یہ بتا کہ روشنی آ کے کہاں ٹھہر گئی؟

چشم جنوں کی اُنگلیاں رینگتی ہیں بدن پہ اب

ہونٹوں کی بات دوڑ کر آنکھوں کے در پر آ گئی

سگرٹوں میں جلے ہوئے سارے خیال کے طیور

کاغذوں پر پڑی ہوئی اک صدائے خوف سی

اس نے پکار کر کہا۔  پھول گرے شب وفا

میں رہا چُپ کہ میں نے تو بات کی آگ چوم لی

ہے مرے شہر کی ہوا، خود میرے جسم سے جدا

صبحوں میں رات کا خمار، شاموں میں دن کی تشنگی

پھیل گئی لہو کی لہر، تیر گیا زمیں پہ رنگ

اسلمؔ خود پسند کی باتوں میں ایک بات تھی

٭٭٭

رات ہر روز نئے راز روانہ کر دے

سانس ساعت کا نیا سوز فسانہ کر دے

کوفۂ کار پہ کون آئے؟ کہاں تک آئے؟

شوق آشوب کے نغموں کو شبانہ کر دے

تین چہروں میں ہے تنہائی کا تیزاب ترنگ

ایک انکار کا الزام روانہ کر دے

فلسفہ سونگھتی آنکھوں میں سفیروں کا سرور

اک چھناکا نئی جرأت کو ترانہ کر دے

آج سوچا ہے کہ چھیڑوں گا نیا رنگ اسلمؔ

خوف خفتہ ہے کہ خفگی نہ فسانہ کر دے

٭٭٭

اکیلے بیٹھے سگریٹ پی رہے ہیں

یہ لمحے سوچ بن کر جی رہے ہیں

اثر کرتے ہیں ترشے کی طرح ہم

خود اپنے درد کی تیزی رہے ہیں

یہاں اب خوف سے آتا نہیں وہم

یہ چہرے مدتوں خالی رہے ہیں

وہ بیٹھی تھی، تو ایسا لگ رہا تھا

کہ ہم پہلے اداکاری رہے ہیں

ہمارے جسم میں کیا ہے؟ تمہیں کیا

زمانے پر تو ہم حاوی رہے ہیں

یہی محسوس اب ہوتا ہے اسلمؔ

ہم اپنے قتل کے عادی رہے ہیں

٭٭٭

لہو لہو خاموش

لہو میں ڈوبے ہوئے نشیب و فراز چپ ہیں

لہو میں ڈوبے ہوئے نشیب و فراز چپ ہیں

لہو میں ڈوبے ہوئے نشیب و فراز چپ اور منتظر ہیں

___ لہو کی مقدار بڑھ رہی ہے

لہو کی میٹھی فضا کے اندر

یہ زرد دیوار و در_____ یہ سنسان رہگذر یہ

روشنی کی حیرت____!

کبھی تو یوں ہو___

کہ کانچ پر برف باریوں سے

کھنک سی اُبھرے

کبھی تو یوں ہو

کہ سبز اور نیلی پیلی کالی

لکیریں پھیلیں

ابھی تو ساری فضا میں یکسانیت رواں ہے

(رواں نہیں

بلکہ فی الحقیقت

اک انجمادی سی کیفیت ہے)

کہیں تو کوئی شرارہ چمکے

٭٭٭

ٹوٹتی بارش میں

بادلوں میں ہے بہت گہرا دھُواں

اور اس گہرے دھوئیں میں ایک بھی قطرہ نہیں

نیم خوابیدہ سے بیجوں کی زبانیں چینے کی آرزو میں

منہ سے باہر آ گئی ہیں۔!!

٭٭٭

آگ پہلو میں جلے

آگ پہلو میں جلے

لہر اُٹھے، اُٹھ کے گرے اور چلی جائے سمندر میں کہیں

دھوپ جنگل میں پھنسے ایسے

کہ ہم لوگوں کو احساس کا اک پل نہ ملے

اور

جب رات کی سوئی ہوئی آنکھیں

____ جاگیں

چاند مٹی بنے ____ اور

بانس کی جھاڑی میں گرے یوں کہ کسی نوک میں جا کر پھنس جائے

چڑیاں

سب خوف سے پھر گانے لگیں

حمد و ثنا!!

آگ پہلو میں جلے

اور کوئی_____ اور کوئی اپنا ہم آواز نہ ہو

گم کنویں میں ہو۔  صرف سینہ مرا

میری تنہائی کے جنگل میں

نہ آئے کوئی۔

نہ کوئی سانس گرے سانپ درختوں سے کہیں

سارے جنگل میں گھنا شور مری تا زہ نئی پتیوں کا

گرچہ ہر سمت وہی آگ کا خوف

وصل کیسے ہو کہ جسموں میں رگڑ ہوتی ہے

(ذہن لٹکا ہے سمندر کے کنارے پہ کہیں چین کے ساتھ)

آگ پہلو میں جلے

اور ہوا بھڑکائے ____!!

٭٭٭

بے دیدۂ وا

مجھے کیا خبر __

نخل، آواز سے

کیسے

شعلوں کے جھونکے اُلجھ جاتے ہیں

مجھے کیا خبر ___

میرے کمرے کی دیوار پر

زعفرانی زبان میں

کوئی کیا منقش کرے ہے

روشنی کا ہرا بلب

ٹوٹا ہوا ہے ____

نہریں اُترتی چلی آ رہی ہیں

سپید و سیہ میز پر

مرا درد بکھرا پڑا ہے

٭٭٭

گھڑ سواروں سے کہو

گھڑ سواروں سے کہو پاؤں کی رنگت رکھیں

ان پہ کیوں زہر کے پنجوں کے نشاں ملتے ہیں

جبکہ ہم رزم پر آہستگی سے

رکھتے ہیں شیرازۂ احساس کا ٹوٹا ہوا عکس

ہم نے خود اپنے بدن ہی میں بسائے ہیں کئی ایسے قبیلے

جو کہ وحشی بھی ہیں اور خون میں ناخن کا مزہ لیتے ہیں

یہ قبلے ___

____ کہ جنھیں اپنے لباسوں میں چھپانا بھی کچھ آسان نہیں ___!

ہم میں اک کرب ہے ___

جو راتوں میں خاموشی کے اندھیارے کے سینے پہ

چلا کرتا ہے، کچھ ڈر ڈر کر___!

ہم میں متضاد قبیلوں کی لڑائی گم ہے

خود میں دیکھو تو ذرا___

___ گھڑ سواروں سے کہو پاؤں کی رنگت دیکھیں ___!!

٭٭٭

عبادت

اے کاشفِ رازِ دروں

میں بھی تو تیرا راز ہوں

لیکن

مرا اک قہقہہ___ تو بھی جنوں، میں بھی جنوں

ٹوٹتے پتھر لیے جزیروں میں

ہوا کی لہر نے

کچھ بھیانک گنجلک چہرے اُبھارے تھے

ہم ان میں ڈھونڈتے تھے تیری رنگت

تو مگر بے رُوح تھا___!

اے کا شف رازِ دُروں

پر سر جھکاتی شام

عریاں جسم ہوتی صبح میں

ہم نے اپنے جال بن کر

بے فنا گہرے سمندر میں

تجھے جھانکا___

مگر تو بے بدن تھا

اے کا شفِ رازِ دُرون

یا تو ہے کچھ___ یا میں نہیں

لے آج اپنے جسم کے دریافت کردہ شہر میں

تیری خبر کا ایک سایہ ڈھونڈتا ہوں

آ مرے نزدیک آ

آ مرے ہوئے ماتھے کو چوم

٭٭٭

موت ساحل ہے

ہونٹ کھل اُٹھتے ہیں

آنکھوں میں چمکتی ہے گزشتہ خواہش

اور ماتھے پہ تڑپتی ہے ہوس

موت ساحل ہے اگر کوئی سفینہ ٹھہرے

منتظر بیٹھے ہیں

منتظر بیٹھے ہیں سب مطلعِ انفاس سے

آئے کوئی سیل

اک سمندر ہو جو آغوش میں لے لے ہم کو

جب درندے نئے دروازے سے گھس آتے ہیں

ہونٹ کھل اُٹھتے ہیں

٭٭٭

اکیلے در پہ کوئی کھٹکھٹا رہا ہے ابھی

کہ اک گمان سا اندر چھپا ہوا ہے ابھی

ہے خواب بجتی ہوئی مٹیوں کے پیکر میں ہمارے

ہمارے جسم کا اندیشہ بے صدا ہے ابھی

کچھ اور رات گذرنے دو پھر چلیں اندر

فصیلِ شہر کے اُوپر کوئی کھڑا ہے ابھی

ٹھہر ٹھہر کے ہم اپنا لہو بھی پی لیں گے

نئی ہوا ہے یہ اک بات نا روا ہے ابھی

وہ اک درندہ جسے ڈھونڈتے رہے ہو تم

وہ میرے جسم کے جنگل میں چھپ گیا ہے ابھی

نظر چرا کے جو لایا تھا شہر سے اسلمؔ

ہر اک دراز کے اندر چھپا رہا ہے ابھی

٭٭٭

شاخِ دیوار پر، پھول کھلتے نہیں، پھل اُبھرتے تو ہیں

رات کی آنکھ میں، خواب جلتے نہیں، خواب مرتے تو ہیں

جانے اس موڑ پر کس نے رکھا یہ پتھر چمکتا ہوا

لوگ پہچا نے نہیں طنز کو ہاں ٹھہرتے تو ہیں

کس کو معلوم ہے کیسے پگھلے گا یہ سرد آہن بدن

گرمی ٔہوش سے حیطۂ جسم کو گرم کرتے تو ہیں

کالی زنجیر میں آگ جلنے لگی، سُرخ ہونے لگی

خود سے باہر نکلنے کی خواہش کر و غم سنورتے تو ہیں

درد کو ڈوب جانے دو کچھ دیر میں غرق ہو جائے گا

آسماں جب سمندر میں گرتے ہیں، دو پل بکھرتے تو ہیں

٭٭٭

پھر وہ پتھریلے جزیروں کا سفر ختم ہوا

پھر وہ ہنگامۂ اربابِ نظر ختم ہوا

سر برہنہ پھرے صحراؤں میں رنگیں سائے

دن کا آشوب سرِ راہ گذر ختم ہوا

اب تڑپتے ہوئے پر داروں کا آتا ہے ہجوم

موسم نیم شبی دیدۂ تر ختم ہوا

سر اُٹھایا تو طلسموں کا جہاں غائب تھا

اب خبر آئی کہ وہ سجدۂ در ختم ہوا

٭٭٭

اب میں پھروں تو شہر میں کیا اہتمام ہو

قاتل کو کوئی دیکھے تو کچھ شاد کام ہو

اچھا تمہیں فروغِ شبِ غم کا خوف ہے

کھڑکی سے کود جاؤ کہ قصہ تمام ہو

میں مجرمانِ خود طلبی کا ہوں رہنا۔!

محتاط باد ہونٹوں پہ میرا نہ نام ہو۔!

اخبار میں نہیں کوئی آواز زندہ دار

ہنگامہ ہو کہیں پہ۔  کہیں قتلِ عام ہو

اسلمؔ لہو کی تیرتی آواز ہے شر ر

حرفِ سفید قطرۂ آہستہ گام ہو

٭٭٭

دل کی دھڑکن اب رگِ جاں کے بہت نزدیک ہے

رات بے آواز، بے انداز، بے تحریک ہے

جم گئی ہیں تاروں کی آنکھوں پہ بادل کی تہیں

ڈوب جاؤ ذات کے اندر فلک تاریک ہے

تم میرے کمرے کے اندر جھانکنے آئے ہو کیوں

سو رہا ہوں، چین سے ہوں، ٹھیک ہے سب ٹھیک ہے

موت کا لمحہ۔  ابھی آیا۔  ابھی جانے کو ہے

چوم لو مٹی کو اپنی ہدیۂ تبریک ہے

دوستو آنکھیں نہ کھولو، ٹھنڈی آہیں مت بھرو

آ گئے منزل پہ تم، اسلمؔ بہت نزدیک ہے

٭٭٭

بند الماری میں دن بھر کا سفر ہے خاموش

اور کھڑکی پہ اندھیروں کی نظر ہے خاموش

پھَڑپھَڑاتے ہوئے ہونٹوں پہ ہیں حمام کے گیت

تیز بارش میں غمِ دام اثر ہے خاموش

قوس پر ہے وہی معصومیتِ جاں عکاس

اور اک فتنۂ تخیل شرر ہے خاموش

نیند ڈھلتی ہوئی، بڑھتا ہوا گہرا سیلاب

رات کھلتی ہوئی، گل راہ گزر ہے خاموش

ایک نارنجی کرن، شیشہ پگھلتا، دریا

درد اسلمؔ سرِ محراب نظر ہے خاموش

٭٭٭

شب میں خوش فتنہ بہار کہاں

بے حجاب اب وہ زندہ دار کہاں

ہو گئی ہے فضا ہی آتش گیر

ورنہ یہ جسم شعلہ بار کہاں

کل بھی اس وقت بس یہی ہو گا

پہلے اتنا تھا اعتبار کہاں

سخت ہے کچھ محاصرہ یعنی

جاؤ گے بچ کے اب کی بار کہاں

وائلن بج رہا ہے فتنہ طراز

آئینہ پر وہ اب غبار کہاں

چیخنا بند کیجئے اسلمؔ

اب یہ آواز دل فگار کہاں

٭٭٭

فرشتے جھاڑیوں میں پھنس گئے ہیں

پیمبر وادیوں کو ڈھونڈتے ہیں

اب الہامات کی بارش نہ ہو گی

ہزاروں لوگ صف بستہ کھڑے ہیں

گریں گے ٹوٹ کر چہروں کے پتے

درختوں کے تنے بکنے لگے ہیں

میں آتش گیر مٹی کا نمونہ

جسے موسم بہ مشکل سہہ رہے ہیں

اسے لرزش کوئی انعام دیدے

کہ اسلمؔ جسم پر تالے پڑے ہیں

٭٭٭

سینۂ فکر سے آوازِ شرارہ نکلے

چپ کے محراب سے اندوہ کا تارہ نکلے

حرف پر حکم ہے، آواز پہ نگرانی ہے

اب جو گہرائی سے نکلے تو اشارہ نکلے

جو نشانے پہ ہے بے رنگ ہے پردے کی طرح

اب خود آنکھوں ہی سے نکلے تو نظارہ نکلے

اسلمؔ آواز کی لہروں میں ہے اُلجھا ہوا درد

موجۂ وقت جو ٹھہرے تو بچارہ نکلے

٭٭٭

میں کائنات کے ذرّوں کی بات کرتا ہوں

یہ ٹوٹتے تو کئی حادثے ٹھہر جاتے

میں اپنی کھڑکی سے یہ پوچھتا ہوں بچوں سے

کہ تم نے آج بھی دیکھا ہے مجھ کو گھر جاتے

ہوا کے زور سے خود آنکھیں بند تھیں اسلمؔ

نہیں تو ٹوٹے ہوئے زرد پھول بھر جاتے

٭٭٭

بنی سنوری ہوئی شامیں

بنی سنوری ہوئی شامیں تمہاری منتظر ہیں

تم کبھی

ٹوٹے ہوئے، بکھرے ہوئے، اُلجھے ہوئے آنا

تو اس پھیلے ہوئے خاموش سائے میں ٹھہر جانا!

خلیج رنگ و بو میں پھر نیا طوفان آیا۔!

مگر شاید تمہیں لمحوں کی نا تاراج راہوں سے ادھر آنا پڑے گا

کہ دن کتنا طویل و مسترد ہے

یہ لمحہ۔  اور لمحہ۔  اور وہ لمحہ

کہ دن ڈھلتا نہیں، کٹتا نہیں، خاموش ہے، ویران ہے جیسے ہڑپا کا کھنڈر ہو

تم اک خاموش چہرے ہو کہ جیسے بارشوں کی روشنی شاموں میں آتی ہے

ہر اک ہوٹل میں جا کر چائے کو چکھتے ہو، پھر سڑکوں پہ چہرے سونگھتے ہو

اور پھر تھکے ماندے بنی سنوری ہوئی شاموں کی جانب لوٹ آتے ہو۔!

یہ مانا آج کا دن سخت ہے، اس میں نہ کوئی کام ہے، کوئی نہ چہرہ ہے

یہ دن بھی ٹوٹ کر پانی میں گھل جائے گا، بہہ جائے گا سیلابوں کے اندر

بنی سنوری ہوئی شامیں تمہاری منتظر ہیں

تم کبھی آنا۔  تو ان کے سانولے ہاتھوں پہ بوسوں کو سجا دینا۔!!

٭٭٭

وہ آنکھیں

جنھیں تم یاد کرتے ہو

وہ آنکھیں

دبابوں سے کچل کر

نئے صحرا میں پھینکی جاچکی ہیں

آنکھیں

جن کو جھوٹی آرزو تھی

کہ نیلے پھول پر شبنم کے قطرے پھر چمکتے ہوں

دھماکے، زلزلے، ہنگامے رُک جائیں

کبوتر، قمریاں، مینائیں آ کر گیت گائیں

نصابی ظلم سے معصوم بچے پاک ہوں

میدان میں کھیلیں ___!

وہ آنکھیں

اب ہوا کے تیز رَو جھونکوں سے بالکل گھس چکی ہیں

اُنھیں تم بھول جاؤ___!

٭٭٭

آخری منظوم کے بعد

سنگ دل سنگ دلاں زہر ہوا پی کے جلے

چشم گُل تازہ لئے

ریک پر رکھی ہوئی فلسفہ آوازوں کو ان سونگھتے حرفوں کا تماشہ

دیکھوں __؟

چونکتی آنکھوں کو اعصاب کی لرزش کا سبب

قوس و تحریر سے ہنگامہ دری کا کوئی معیار

مقرر کر کے

مسکراہٹ کے نئے ناپ بنانے کے لئے

کس طرح لوگوں نے

ہنگامہ کیا___؟

میں نے معصوم سے بچے کی طرح چپکے سے پتھر کو اُٹھا، سامنے موٹر کے

چمکتے ہوئے شیشے کو ذرا چوم کے آ جانے کو بھیجا تو کہا سب نے

کہ یہ ایک بہت غیر حقیقی سا عمل ہے تو

بھلا کون کہے ___؟

راہ انداز کرے

فرطِ نگہ

چُپ

کہ

یہ گلدستہ

رواں

پھول بھرا

لو اُتر آئی بسنت___!

جانے دو تم سناتے ہو وہی روندی ہوئی ضابطہ آلودہ صدائیں

وہی پتے جو پرانے ہیں کہ گر چاہیں تو تلواریں بنالیں کبھی

جسموں کو چھپالیں مگر ایسا نہیں ہوتا کہ سبک ہاتھ پہ پتھر کا

جنوں ہونٹ نہیں، ہم تو یہ سب اسی بچپن کے دریچے میں

سجا دیکھتے آئے ہیں ___!

میں نے پھر

ایک نئی طرح سے

جلتے ہوئے تانبے پہ

دعا مانگی

تو دیوار

ہری

شاخ ہری

آنکھ ہری

جسم کہ

شاداب، سبک

نرم، عزی

پھر مرے سنگ دل سنگ دلاں زہر ہوا پی کے چلے

اور چمنی پہ لٹکتے رہے

صدیوں کے لئے ___!!

٭٭٭

رزمیہ کا درد

سفیدی کے کاغذ پہ میں

رزمیہ کی کہانی تو لکھتا نہیں ہوں

مگر یہ بھی سچ ہے

کہ کل جب سویرے کی آنکھیں کھلی تھیں ___

تو ہر اک طرف

خون ہی خون تھا

ذہن کے گھونسلوں میں پرندے بہت ڈر گئے تھے

مکانوں کے سر پہ کفن سُرخ تھا

اندھیری ہواؤں کی آوارہ لہریں

ہر اک سبز پیکر پہ خونی فسانہ سنبھالے ہوئی تھیں

مگر آج جب

روشنی ٹوٹ کر آ گری ہے

تو اب عکس میں خوں کی رنگت نہیں ہے

تو اب خون آنسو بنا ہے ___!!

٭٭٭

رفتار، رفتار

روشنی کے پرندے پہ بیٹھا ہوا

فاصلہ گِن رہا ہوں

پاس، نزدیک، ہم جسم

روشنی کا پرندہ رواں

نیلی نیلی فضا___

اور میں

کچھ زیادہ ہی محفوظ ہوں

فاصلے ڈوبتے جا رہے ہیں

ستارے بہت گرم ہیں

راستے بہت گرم ہیں

گرد بالکل نہیں، سانس بے صوت ہے

اب کہاں

___ اب کہاں

اب شعاعوں کا قابو نہیں

___ میں کہاں جا رہا ہوں

روشنی کا پرندہ

کہاں جا رہا ہے

کاش اگلی زمیں کو پکڑ کر

تند و بے راہ موجوں سے

بچ جاؤں، سائے میں چھپ جاؤں

مامن کہاں ہے، کدھر ہے؟

٭٭٭

بلاوا

آؤ کالے سانپ___

میں کب سے تمہارا منتظر ہوں

تم مری کھڑکی کے شیشے سے گزر کر

چپکے چپکے آ رہے ہو

تم غلط فہمی کے پانی میں رواں ہو

سوچتے ہو ___ تم مجھے پی جاؤ گے

میں تمہاری ہر زہ کاری، جعل سازی کو چمکتا دیکھتا ہوں

پھر بھی میں انسان ہوں ___

میں نے دیکھے ہیں ہزاروں بھوکے پیاسے اژدھے

آؤ کالے سانپ___

میرے سر پہ بیٹھو___ دل کو چاٹو

آؤ اپنی دُم ہلاؤ ___

ہاں مگر اک روز میں

لہر کھاتی دُم پکڑ کر ایک جھٹکا دوں گا___ تم مر جاؤ گے

اور پھر جب تم کبھی یاد آؤ گے

میں تمہاری لاش پر

دُودھ کا تحفہ رکھوں گا اور تم…!!

٭٭٭

امر

رات کی خاموشیوں میں

وہ نہ جانے کس طرف سے آ کے اس میدان میں

چیختا ہے ___

آؤ___ میرے ہمنواؤ!

مجھ پہ اپنے اپنے تیروں سے کرو یورش کہ میں

درمیاں میں ہوں ابھی

ہم سب اپنی کھڑکیوں سے جھانک کر

دیکھتے ہیں ___

اس اندھیرے میں بسانِ شعلہ اس کا

____جاگتا روشن بدن

ہم پھر اپنے دوستوں سے پوچھتے ہیں

(فرطِ حیرت، سوزِ غم میں مضمحل)

’’ہم نے کل ہی کر دیا تھا اس کو قتل

پھر کہاں سے آ گیا؟‘‘

٭٭٭

جل رہا ہے تمام شہر ہوا۔!

کچھ تو برسا دے روز و شب کے خدا

ہونٹ سے ٹوٹ کر گرے الفاظ

اور آنکھوں میں کچھ نہیں آیا

اب کہاں وہ رطوبتِ احساس

ہر بدن ہو چکا ہے بے سایہ

ہونٹ خیرات مانگنے والو

ہونٹ میں کون جان ڈالے گا

شہر عریاں میں اب نہیں باقی

وہی جو چار قطرہ پانی تھا

سب سے کرتے رہے علیک سلیک

کوئی پہچاننے نہیں پایا

جلوہ گر دُور کیوں رہا اسلمؔ

پاس آتا اگر تو کیا ہوتا

٭٭٭

پھر واقعاتِ جنگ سُنا، شب میں کیا ہوا

کیوں آئینہ میں ہے ترا چہرہ بنا ہوا

غم تم کو بوجھ ہے، مجھے وہ بھی نہیں ملا

مجھ پر محاصرہ ہے خود اپنا لگا ہوا

(ق)

جس گھر میں صرف خواب اُگاتے ہیں دو گھڑی

اس پر ہمارا نام ہے واضح لکھا ہوا

اور جس میں جیتے رہتے ہیں اپنے ہی نام سے

اس میں ہر ایک خواب ہے ٹوٹا پڑا ہوا

پانی کی زہر ناک رووں میں وہ مدعی

کیا جانے کس تپاک میں ہے جھانکتا ہوا

اسلمؔ پھر اپنے شہر میں ہونے لگا ہے امن

پھر سارا شور ڈوب کے میدان سا ہوا

٭٭٭

ہر طرف برف تھی میں خوف سے خاموش رہا

وہ نیا جان کے کچھ اور بھی پُر جوش رہا

سب کے ہاتھوں میں تھی پوشیدہ مرے دل کی لکیر

میں عجب چال چلا تھا کہ سبک دوش رہا

ایک حملہ تھا کہ میں برگ وہیں ٹوٹ گرا

کیسا ہنگامہ ہوا تھا کہ میں بے ہوش رہا

کس قدر خوش نظر آتا تھا میں احباب کے ساتھ

دل میں ایک شبہ سلگتا ہے کہ خود کوش رہا

ہر نظر میں کوئی آواز تھی پنہاں پنہاں

پھر بھی فرصت نہ تھی ہر ایک ہی خاموش رہا

میں نے بس اپنی روانی ہی نہیں دیکھی ہے

تیشہ در دست رہا، معرکہ بردوش رہا

ہے ابھی موجوں سے ٹکرانے کی خواہش اسلمؔ

بچ کے آ جاؤں گا دریا سے اگر ہوش رہا

٭٭٭

یہ بھی کوئی بدن ہے کہ جس میں صدا نہیں

دیکھو یہاں پہ کون ہے جو چیختا نہیں

گم کردہ موسموں کے تو ماتم رچاتے ہو

سونگھو ہوا کو، دیکھو یہ موسم نیا نہیں

اتنے عزیز، اتنے ہوا خواہ اس پہ وہم

کہتے ہو سارے شہر میں کوئی ملا نہیں

ہم اپنی سانس لیتے ہیں، ہم اپنے غمگسار

جاؤ ہمارا تم سے کوئی واسطہ نہیں

بے سبزگی نے سارے درختوں کو کھا لیا

سب ہیں سنہرے کوئی بھی پتہ ہرا نہیں

تا عمر اکتساب رسوم و قیود ہے۔؟

زہر ہوا ہے اس سے کوئی چھوٹتا نہیں

اسلمؔ اسے بھی خطرۂ اظہارِ عشق ہے

وہ روشنی کا جسم ادھر دیکھتا نہیں

٭٭٭

اپنے ہاتھوں میں چہرے اُٹھائے ہوئے جب دھُوئیں کی سُرنگوں میں کھو جائیں گے

ایک آواز اُترے گی جلتی ہوئی، زرد بادل ہواؤں سے ٹکرائیں گے

قافیہ قافیہ، ناپتے ناپتے، قوس در قوس بہتی ہوئی تشنگی!

سوکھی لکڑی پہ لیٹے ہیں دونوں ابھی تیز جھکڑے کے سائے میں سو جائیں گے

ہونٹ پر ناپسندیدہ سا ذائقہ، سر پہ چھائی ہوئی سردیوں کی گھٹا

موہنی زندگی راہ تکنا کہ ہم سند بادی سے اک دن پلٹ آئیں گے

کانچ کی شیشیوں میں رواں درد و غم، اور ہر ایک رگ سُوکھتی ٹوٹتی

دُور تک کوئی رشتے کی ڈوری نہیں، ہم کسے پائیں گے اور کہاں پائیں گے

اسلمؔ اک اور دو۔  اور پھر چل پڑو، وقت کم، کام افلاک، لمحہ زمیں

جاؤ جانا تو ہے کیمیائی عمل ہم کسی طرح لفظوں کو سمجھائیں گے

٭٭٭

میں اک سیدھا لفظ کہ جس کا ہر اک حرف نیا نیزہ

دھُوپ کی گرمی تڑپ رہی ہے میرے تازہ لہجے پر

میں نے دیکھا تم دونوں بھی میرے خیمے سے نکلے

کیسا پہرہ لگا ہوا تھا آخر اس کے حیطے پر

میرا ذہن اُبلتا جلتا، کوئی نہیں جو چھو پائے

میرا جسم اک بے معنی سا نخل اندھیرے تارے پر

ساری شاخ ہی جھول گئی تھی، سارا تنہ ہی لرزہ تھا

اک چڑیا جب بیٹھ گئی تھی اک اَنجانے پتے پر

اپنی بغل میں لاکھ کتابیں، سینے میں کاسہ خالی

اکثر ہم گھومے ہیں اسلمؔ اک بے منظر رستے پر

٭٭٭

گم شدہ چہروں پہ خوابوں کے نشانات ملے

کھو کھلی روحوں میں سوکھے ہوئے جذبات ملے

چلتے چلتے کبھی طے ہو بھی علاقہ دن کا

جھکتی شاخوں سے اُبھرتی ہوئی اک رات ملے

ڈوبتے ڈوبتے ہم آ گئے اپنے اندر۔!

اور اندر بھی بپا لاکھوں فسادات ہے

یہ اسی شہر کا باشندہ نظر آتا ہے

اس کے چہرے پہ بھی ہم کو وہی حالات ملے

ہم نے اک قوسِ قزح ٹوٹتی دیکھی تھی ادھر

اور پھر راہ میں بھی چند اشارات ملے

٭٭٭

میں ایک موجِ سر بلند مجھ سے گفتگو نہ کر

تو ایک ریشۂ وجود میری آرزو نہ کر

نہ رزم گاہ تازہ کر، نہ سازشوں کی چال چل

میں سادگی پہ مست ہوں، فسادِ رنگ و بو نہ کر

نگاہ بے نگاہ رکھ، خبر سے بے خبر گذر

سفر سیہ سیہ نہ کر، قدم لہو لہو نہ کہ

وہ مجھ سے منہ چھپائے ہے میں اس سے منہ چھپائے ہوں

نہ اپنا معجزہ دکھا، نہیں تو روبرو نہ کر

نہ کوئی تجھ سے آشنا، نہ کوئی تیرا ہمسفر

جو تھک گیا ہو، گھر کو چل، تلاش کو بہ کو نہ کر

٭٭٭

کچھ تو اصلی جسم کو باہر جھلکنے دیجئے

اندرونی شخص کا کپڑا سرکنے دیجئے

جھوٹے جھوٹے قہقہے ہوتے رہیں یوں ہی بلند

ہوٹلوں، تفریح گاہوں کو چمکنے دیجئے

کچھ نئے چہروں کے خاکے کینوس بن جائیں گے

شہر کی گلیوں میں آنکھوں کو بھٹکنے دیجئے

اپنے جسموں کو ہر اک تفریح میں کیسے شریک

مضمحل رُوحوں کو کھونٹی پر لٹکنے دیجئے

ہم تو خود برسا کئے ہیں من چلی برسات میں

چھت کی کسی کو فکر ہے صاحب ٹپکنے دیجئے

٭٭٭

دھیمے سروں پر ساز، طلسمی فضا خموش

یہ عکس خانہ ایسا کہ ہر حادثہ خموش

ٹکتے نہیں قدم کہ ہے سینے میں معرکہ

کروٹ بدل رہا ہے مرا راستہ خموش

سینے میں تیرے دونوں کبوتر ہیں بے سکوں

میں میں بھی تو ایک پیاس ہوں اک لمحہ آ خموش

تو اک ندی مچلتی لچکتی، پُر اضطرار

دریا کی طرح میں ہوں گذرتا ہوا خموش

گر ہو سکے تو آپ ہی اس کو کریدئیے

اسلم          ؔ ملا ہے اب کے تو بے انتہا خموش

٭٭٭

انگلیاں

پیراہنوں میں تیرنے لگتی ہیں پُر ہوس

بے تاب انگلیاں۔

بے تاب اُنگلیوں کی قسم دشتِ صد بلا

جسموں کے دائروں کو جھلستا ہوا رہے

اور سارے زندہ جسم

آنکھوں میں خون، چہروں پہ الفاظ جان لئے

آتے ہیں اس گلی میں ٹھہرتے ہیں۔!

چیخ کر اک دھڑدھڑاتی ریل گذر جاتی ہے تو

ہم۔

لاشیں شناخت کرتے ہیں

یہ کون لوگ تھے۔!

کس کے لئے عزیز تھے کس کے لئے رفیق

معصوم بچے قہر سے آزاد ہو گئے۔!

اور ان تمام لاشوں میں ہوتے ہیں ایسے چند

جن کے حسین ہونے کی دریافت کے لئے

پیراہنوں میں تیرنے لگتی ہیں

بے خبر

بے خبر بے تاب انگلیاں۔۔ ۔!

میں فلسفوں کے شہر میں

سائل مزاج شخص

دیوار و در سے پوچھتا پھرتا ہوں

اے عزیز

کیوں آدمی کے خون میں تیزاب ہے بہت

برفاب ہے بہت۔؟

٭٭٭

ہم آرزوئے بہار میں۔۔

ہم آرزوئے بہار میں صبح صبح اُٹھ کر

سڑک کے سینے پہ دوڑتے ہیں!!

مگر ضروری نہیں سڑک پر۔  بہار کا بھی کوئی شجر ہو

حسین بچہ

کھلونے سارے اُٹھا اُٹھا کر سفید دریا میں پھینکتا ہے

سفید دریا کے ڈیلٹا پر کھلونے سارے

مہیب ساگر میں ناچتے ہیں

لغت میں دیکھو کہ ہم کھلونا نہیں ہیں لیکن۔

کتابِ دانش کا آئینہ ہے۔؟

سیاہ سقراط کی نگاہوں میں ’’ ایکس رے ‘‘ کی خبر نہ لانا

کہ بے خبر ہے۔!

آ جائے تو سنیں۔

اور بدھا کی نامرادی کہ جسم محلات میں پڑا ہے

کہ روح برگد پہ دھوپ کا پل۔۔

خدا بچائے۔

نئے کلینڈر پہ روشنائی ایک ایک کر

یہ پوچھتی ہے

کہو تم اب تک وجود میں ہو

کہ برف ساری پگھل چکی ہے

ہماری مٹھی میں ایک چڑیا ہے ناچتی کو دتی اُچھلتی

و ہی ہتھیلی کی روشنی ہے

نہیں تو ہم آرزو نہ کرتے

٭٭٭

جانے دو۔۔!

جانے دو۔

سب جھوٹے ہیں۔

یہی نہ تم کو کہنا ہے۔!

میں بھی چُپ رہ جاؤں گا پیارے

آتش میں جلتے رہنے سے دیواروں کی باتیں چبھ جاتی ہیں

ہونٹوں پر کھو جاتے ہیں سب کالے پہلے لال بدن۔!

یہ لمحہ کتنا پیارا ہے۔

آؤ اس لمحے میں شہر کی ساری رقاصاؤں کے ناچوں کا امرت پی لیں

آؤ اسی لمحے میں افسانوں کی جھوٹی وادی میں کچھ تارے جی لیں

پھر میں جا کہ آ نہ سکوں گا

جا کر آنا ایک بہت بے وزن حماقت ہے

تم اس لمبے پیڑ کے نیچے سایہ ڈھونڈتے بیٹھے رہنا

۔ میں تو بالکل اُوب چکا ہوں

اب جانے دو۔!

٭٭٭

ٹوٹتے بھنور میں

لے اُڑا ہاتھ سے۔

اچھا اسے سب کچھ کہہ لو

وہ تو ہلتی ہوئی پلکوں کا تماشائی ہے

دہی کاغذ۔

جو سنہرا ہے کرشموں کے اُجالے کا نقیب

انگلیاں چپ ہیں کہ الزام گوارا کر لیں

اک تسلی کا سہارا کر لیں

پھر بکھرنے لگے بے تاب تبسم چہرے

اور پھر جمع ہوئے

اور پھر پھیل گئے

اور پھر ٹوٹ گئے

اور چلتے ہوئے جھکڑ میں مرے ذہن میں سیلاب چلا

میں وہیں ڈوب گیا

پھیل گئی چاروں طرف گہرے سمندر میں اُبلتی ہوئی آگ

جو مرے جسم نہیں روح سے نکلی ہو گی

یا نہیں۔  یا نہیں ایسا بھی نہیں

جب اس کی بنجر آنکھوں میں

جب اس کی بنجر آنکھوں میں

سورج کی سنہری سُرخ سنہری کر نیں پڑیں گی

چیخ اٹھے گا

اور کہے گا

ٹھہرو۔!

میں ابھی صبح کے ہونے کی خبر نہیں سن سکتا

میرے چاند سورج جیسے نوخیز لال۔  ابھی بہت چھوٹے ہیں

ہوٹلوں اور کارخانوں کی مزدوری ان کو لوٹ ہی لے گی

ٹھہرو۔!

ابھی مجھے چڑیوں کی حمد و ثنا مت سنواؤ،

میں ان بھو کے پیاسے بچوں کا باپ ہوں

٭٭٭

مصنوعی پھولوں کا کھیت

ہمارے قہقہے کب تک یوں ہی سوتے رہیں گے

کہیں ایسا نہ ہو

ہم بے خبر ہو کر

یوں ہی سوتے ہوئے چلتے رہیں

چلتے رہیں اور سامنے

دھُوپ ننگی ہو کے ناچے

خون۔

پیلے خون کے دھارے

جلے جذبات کے آگے بہیں

پھر اک دن

جب ہرے لمحے نئے شہروں کی جانب آئیں

تو سب لوگ

ڈر کر بھاگ جائیں

لڑکیاں اپنے بدن پر کمبلوں کا بوجھ رکھ لیں

اور لڑکے مندروں اور معبدوں میں

راکھ کی پوجا کی جانب اس طرح لپکیں

کہ جیسے مدتوں سے سخت پیاسے تھے

تو اے لوگو! تہی دامن اکیلو۔!

قہقہے پیدا کرو۔

سچے نہیں تو پھول مصنوعی سہی

٭٭٭

کرفیو

ایک دن بُدھ نے کہا تھا

’’ ایک پیپل ڈھونڈ لو

اپنے اندر چھپ رہو

اور باہر

ہر طرف کرفیو لگا دو!!‘‘

٭٭٭

اپنا امیج ٹوٹتے دیکھا نہیں گیا

ہم سے ہوائے تند میں ٹھہرا نہیں گیا

آوازیں چلنے پھرنے کی آئی تو تھیں مگر

سایوں کو گھومتے ہوئے پایا نہیں گیا

وہ سکہ ہوں کہ شہر میں جس کا رواج ہے

لیکن جو رہگزر سے اُٹھا یا نہیں گیا

اے شمع انتظار نہ دے روشنی کو زہر

اے چشم شوق دیکھ ابھی رستہ نہیں گیا

اسلمؔ یہی وہ شخص ہے جس کا منا تھا جشن

لیکن جسے خود اس میں بلایا نہیں گیا

٭٭٭

شاخ دیوار پر پھول کھلتے نہیں، پھل اُبھرتے تو ہیں

رات کی آنکھ میں، خواب جلتے نہیں خواب مرتے تو ہیں

کس کو معلوم ہے کیسے پگھلے گا یہ سرد آہن بدن!

گرمی ہوش سے حیطہ جسم کو گرم کرتے تو ہیں

کالی زنجیر میں آگ جلنے لگی، سرخ ہونے لگی

خود سے باہر نکلنے کی خواہش کرو، غم سنورتے تو ہیں

درد کو ڈوب جانے دو کچھ دیر میں غرق ہو جائے گا

آسماں جب سمندر میں گرتے ہیں دو پل بکھرتے تو ہیں

٭٭٭

خود اپنی چال سے نا آشنا رہے ہے کوئی

خرد کے شہر میں یوں لاپتہ رہے ہے کوئی

شعاعیں تنکوں میں، تنکے سیہ لکیر بنے

صحیح و صاف زمانے میں کیا رہے ہے کوئی

نہ حرف نفی، نہ چاکِ ثبات درماں ہے

ہر اک فریب کے اندر چھپا رہے ہے کوئی

کھڑی ہیں چاروں طرف اپنی بے گنہ سانسیں

صدائے درد کے اندر گھر ار ہے ہے کوئی

گریز، آنکھیں لئے جا رہے ہو کمرے میں

جنون کہ رُوح سے کب تک بجا رہے ہے کوئی

قدم ہے جذب کہ صحرا ہے رہ گذر قطرے

حروفِ دل کی طرح ڈالتا رہے ہے کوئی

جو خوشبوؤں کے تھپیڑے بدن سے ٹکرائیں

تو اسلمؔ ایسے میں کب تک کھڑا رہے ہے کوئی

٭٭٭

گرم ہوائیں، گہری آندھی، سنبھل سنبھل کر چلتا ہوں

راستے چاروں جانب اوجھل رہ رہ آنکھیں ملتا ہوں

یہ بھی دے دو، وہ بھی دے دو، گردش غم، آنسو، منظر

اپنے کھلونے دیکھ کے اکثر بُری طرح سے مچلتا ہوں

سادہ لوحی میری بالکل چھوٹے پرندوں جیسی ہے

ہر دھوکے میں پھنس جاتا ہوں ہر وعدے پر ٹلتا ہوں

سفر بہت دھندلا دھندلا ہے، ذات کا رستہ لمبا ہے

اپنے بدن پر گر پڑتا ہوں، اپنے پاؤں کچلتا ہوں

رُوح کا سونا چمک رہا ہے، آنکھیں بالکل روشن ہیں

اپنی ہی بھٹی کے اندر ایندھن بن کر جلتا ہوں

ہوا کے جھونکے ٹکراتے ہیں آگے بڑھنا مشکل ہے

آدھے لمحے چلتا ہوں تو صدیوں بیٹھ سنبھلتا ہوں

جب تک دل میں پوشیدہ درد نہیں بن جاتا شعر

اسلمؔ یوں ہی گھبرا گھبرا کہ چپ چاپ ٹہلتا ہوں

٭٭٭

چلی ہے وہ راہیں بدلتی ہوئی

کھڑی دھوپ۔  ندی پگھلتی ہوئی

فلک حرفِ تنہا، تماشا ضمیر

ہری گھاس پیکر میں جلتی ہوئی

فقیہانِ احکام ریشم کے پھول

رعایا نگاہیں مسلتی ہوئی

تمہارے قدم برف کے سرد نقش

مری سانس گھبرا کے چلتی ہوئی

نہیں درد۔  اس درد کا خوف ہے

نہیں رات سورج نگلتی ہوئی

چلو آج اسلم ؔسر بزم جوش

کہ ہے برفِ تنہائی گلتی ہوئی

٭٭٭

زباں کو نہ دانتوں کے نیچے کچل

کہ اس پر اُبھرنے لگے گی غزل

ابھی ذہن میں جل رہا ہے خیال

ابھی چل رہا ہے زمینوں پہ ہل

تیرے ہاتھ رنگین ہو جائیں گے

نئی تتلیوں کو پکڑ کر مسل

اُلجھتی رہیں زندگی سے رَویں

گیا گرم پانی میں کاغذ پگھل

یہاں سارے چہرے ہی ویران ہیں

اب اسلم عمادی کہیں اور چل

٭٭٭

ایسے ناچو کہ دم بند ہوا ٹوٹ نہ جائے

قافیے ایسے اُتارو کہ صدا ٹوٹ نہ جائے

اپنی بے داغ لباسی پہ تکلم نہ جلاؤ

راکھ گر جائے نہ تمکین ادا ٹوٹ نہ جائے

زلف زنجیر تزلزل ہے، زمیں تنہا ہے

تیز پانی پہ تعلی کا عصا ٹوٹ نہ جائے

تازہ ملبوس کے ململ میں چھلکتی ہے شراب

پیاس پیکر ہے کہ روحوں کی دُعا ٹوٹ نہ جائے

گھول دو آنکھوں کو اور کھول دو محرابوں کو

آج اسلمؔ کسی ہستی کی اَنا ٹوٹ نہ جائے

٭٭٭

(ہوا کے درمیان)

سانس آتی ہے مگر اس میں دھواں گرد، صدا

دائرہ بیچ میں ہم اور وہی مخروطِ ہوا

اُڑتی زلفوں میں اٹکتے ہوئے چہرے بادل

کھلتے ملبوس میں چھپتے ہوئے شہروں کا پتہ

تھر تھرا اٹھیں نگاہوں کی سمجھدار لویں

اُڑ گئے ہونٹ کہ ہر سمت ہوس گرم ہوا

وہ تو ہم بچ گئے اسلمؔ کہ رہے شہر سے دُور

گوں پھرتی تھی ہوا ہم تھے مگر محو خلا

٭٭٭

میں دائرے میں نہیں تو بھی اپنے گھر میں نہیں

بدن میں نام نہیں، نام بھی نظر میں نہیں

لپیٹ سے غم صحرا کہ بے سبب ہے یہ کھیل

کہ دُور تک کوئی آشفتہ سر سفر میں نہیں

لبوں پہ تازگی خون کا ایک پھول جو تھا

وہ جل کے خاک ہوا، خاک رہ گزر میں نہیں

گری جو دھوپ تو سائے لٹک گئے سر شاخ

کھلا جو ہونٹ تو اک حرف بھی اثر میں نہیں

. حضور چشمۂ زر تاب کون ہے اسلم ؔ

کہ جس کو دیکھ کہ اب تشنگی خطر میں نہیں

٭٭٭

اپنی سانسوں کے تلاطم کو سنبھالا کیجئے

روز اس سبز دریچے سے نہ جھانکا کیجئے

ذات کے نیلے کنویں میں ہے توقع کمیاب

جسم کے فرش پہ چپ چاپ ہی رینگا کیجئے

لوگ آرام سے بیٹھے ہیں کہ جیسے جنگل

روز الہام کی آواز اُتارا کیجئے

تیز ناخن سے غم لمس کو زخمی کر کے

خون کی بوند ہر اک شام کو چکھا کیجئے

نیند کے جھومتے پیپل سے ٹپکتے پتے

یوں نہ جلتی ہوئی آنکھوں میں چھپایا کیجئے

جانے کس روز اُتر جائے زمیں پر اسلمؔ

ہر تقدس کا ورق شوق سے چوما کیجئے

٭٭٭

ساحلی نظم

میرے سینے میں داخل ہو رہا ہے

کوئی تنہا تھرکتا بے تحاشا ناچتا تارہ۔!

سمندر دیکھ لڑ سکتا ہوں میں تیری اُچھلتی اضطراری کیفیت سے

مگر کچھ رحم آتا ہے

کہ تو جب ٹوٹ کر نیچے گرے گا۔  تو تیرے محل پنجے

زمین کے چپ ریتیلے جسم کو آلودہ کر دیں گے

سمندر! میں ترے ساحل پہ جب سائے چلاتا ہوں

تو گہرے نقش بنتے ہیں

مگر یہ تیری قسمت تجھ میں کوئی نقش، کوئی عکس، کوئی رنگ

بھی زندہ نہیں رہتا۔!

مری خاموش تنہائی سمندر۔ سمندر جسم۔  آوازیں سمندر

سمندر آنکھیں سائے، ہونٹ پنجے

سمندر رقص پیمانے تماشے

سمندر!

سمندر۔  تجھ میں کوئی جھیل بھی اک جم گئی ہے

یہ کیسی جھیل ہے جس پر کوئی سایہ گذرتا ہے تو رُک کر جذب ہو جاتا ہے

جیسے کوئی ٹی وی رُک گیا ہو۔!

مرے نیلے سمندر میں

وہ آئی۔  تو کیسی چیخ تھی۔؟

وہ آئی۔

۔ بوند بن کر اس طرح ٹپکی۔  سمندر کھو گیا!

اور دُور تک آتش فشانوں سے دھُواں اُٹھنے لگا۔!

سمندر تو کہاں جائے گا۔ رُک جا۔!

زمیں کا سرد ریتیلا بدن پی لے گا لاوے کو

ترا تو رنگ نیلا ہے

ترے اس جسم پر موسم اُبھرتے ہیں مگر نغمے نہیں آتے۔!

٭٭٭

جی یہ کہتا ہے کہ

جی یہ کہتا ہے کہ میں

پہلے تو شیشے توڑ دوں

پھر ہر اک ریزے کو دانتوں سے چبا جاؤں۔!

آسمانی سرخ سورج

کی دھکتی آگ کو بے ٹوک پی جاؤں

کوئی مجھ کو اس طرح مارے کہ

سارے جسم پر

سرخ ڈوروں کے نشاں ہوں

میں انوکھی بات کہہ کر

نشہ میں جھوموں کہ چلتی ریل

کے پہیوں میں آ جاؤں

یا کبھی

بم کی طرح بکھروں

تو ہر سُو آگ کی چنگاریاں اُچھلیں

تو میں

ذرّہ ذرّہ ان فضاؤں میں سما جاؤں

٭٭٭

میرا شعر محاذ نہیں ہے

میرا شعر محاذ نہیں ہے

میں جس پر اعلان کروں کہ سب دشمن دشمن جیسے ہیں

اور

ہر اک زندہ، ادھ زندہ چہرے پر تیزاب اُچھالوں

اور کہوں

میں شہر خدا کا باشندہ ہوں

میرا چہرہ۔ میری رُوح کے اندر چھپا ہوا ہے

سچ تو یہ ہے

سارے فرشتے جیتے ہیں، پھر مر جاتے ہیں

ایک خودی کے منڈپ میں۔  جس میں رہبانی تاریکی ہے

اور سچ کا بالکل جھوٹا جادو۔!

سچ تو یہ ہے: ۔

بیچ سٹرک پر دوڑنے والا گرداں پہیہ

ہوٹل میں سوکھے ہونٹوں سے سب کی خدمت کرنے والا

معصوم سا بچہ

سچ تو یہ ہے۔

ٹھنڈا بیچنے والا تیز دھوپ میں لاغر بوڑھا۔!

میں اپنے چہرے پر اک جھوٹا سچے لے کر گھوم رہا ہوں

لوگ مرے ہونٹوں کو اپنا ہونٹ سمجھ کر بول رہے ہیں

ان کے اپنے ہونٹوں میں کوئی جان نہیں ہے

میرا شعر محاذ نہیں ہے

میرا فن ہتھیار نہیں ہے

تم سب روندی روندی را ہوں پر جب چلتے ہو

مجھ کو عذر نہیں ہوتا پر گھن آتی ہے

مجھ کو چاٹی چومی کھالوں میں نئے نئے عنوان کہاں سے مل پائیں گے

میں اپنے سینے میں گھس کر قئے ہو جاؤں۔  کیسے ہو گا؟

میں اپنی خاموش ہتھیلی میں خود اپنی زیست بنا کر

جی لیتا ہوں۔

آگ ہوا کو پکڑ رہی ہے۔  اور ہوا نازک ہاتھوں سے

بھیگی زمیں کو چھو چھو کر کیوں ناپ رہی ہے

اور ہوا کو پی جاتے ہیں کیوں لرزاں اور حیراں لمحے

میں اس اندیشے میں گم کہوں

٭٭٭

میرے شہر میں تم مت آنا

سوکھے کانٹے دار ببول پر

پیلے پیلے دھوپ کے ٹکڑے

مسخ شدہ چہروں کی ہنسی میں

ڈوبے ہوئے ہیں

سورج کی متلاشی کرنیں

جنگل جنگل جھانک رہی ہیں

سائے پھر بھی چھپے ہوئے ہیں۔!

زیست کی چپ

روندی گلیوں پر

چلنے پھرنے والی

ساری سرد مشینیں شکیل رہی ہیں

اونچے اونچے

دیواری چہرے

گرد کے اندر اَٹے ہوئے ہیں

دھُواں پھینکتی تیز سواریاں

زہریلی ہیں۔

میرے شہر میں تم مت آنا

کھو جاؤ گے

قدم قدم پر راہ کھڑی ہے

اور نقلی دروازے بنے ہیں

٭٭٭

اے ساحرۂ شب

جب لوگ کٹھن فاصلوں سے لوٹ کے آتے ہیں

تو وحشت کا، درندوں کا، اندھیروں کا، گھنے جنگلوں کا

ان کو خیال آتا ہے۔

وہ لوگ نہیں کرتے خداؤں کی ثناء

کہتے ہیں کس منہ سے کریں۔  جن میں زبانوں کو کسی ذائقہ کی فکر نہیں

وہ لوہے کے صندوق میں محبوس پرندوں کی طرح

بھُول چکے۔  میٹھی صدا گیت فضا

اے ساحرۂ شب

وہ ادھر آئیں تو بگڑے ہوئے چہروں سے نہ کچھ پوچھنا

مت پوچھنا کس جنگ میں کیا کیا لٹا کیا کیا ملا

مت پوچھنا وہ نیلے گلوں والی نئی شاخ کہاں

۔  کھو گئی۔!

اے ساحرہ شب

وہ پیمبر ترے مہمان ہیں

٭٭٭

معمولی سی خبر

ہاں۔۔  اے شفیق لبانِ قدسی

میں ساری نشانیوں کو پہچانتا ہوں

تم

میری باتوں سے انکار نہیں کر سکتے۔!

ہاں۔  اے شفیق لبان قدسی

میری سرزمین پر جھوٹ کے پودے نہیں

سچ کی کائی لگ جاتی ہے

میں نے اپنی آنکھوں سے امن کو اپنے بھائیوں پر تیر چلاتے ہوئے دیکھا ہے۔

میں نے اپنی آنکھوں سے امن کو خنجر لہراتے ہوئے دیکھا ہے

ہائے وہ کتنے دلکش منظر تھے

جب ہم لوگ خدا ترس تھے اور گنہ گاروں کو قتل کر دیتے تھے

ہاں اے میرے سورج مکھی شہر

تیرا رُخ بدل بھی جاتا ہے

تیرے سینے سے غلامی کے طمطراتی نغمے بھی اُبھرتے ہیں

اور

آزادی کی دھُوم دھام بھی

تیرے جسم پر بزرگوں کے رہنماؤں کے اور دغا بازوں کے

اصنام عمودی شکل میں کھڑے ہیں۔۔!

تم سب کو ایک نئی خبر سناتا ہوں

موت کے ہاتھ کو چوم لیا ہے

کہتے ہیں وہ شخص نیک تھا

الہامی کتابوں کا تاجر تھا

سچ اے میرے بے زباں شہر!

میں نے آج تک اسے نہیں دیکھا

میں نے آج تک ایک بھی الہامی کتاب نہیں خریدی

مجھے اس خبر سے غرض نہیں

شاید تمہارے کام آئے

٭٭٭

سرد زمین

(۱)

میں اکثر تمہیں ڈھونڈتا رہتا ہوں

تم۔

ریشم کے کیڑے کی طرح اپنے خول میں چھپے ہو۔

اتنا ہی معلوم ہے۔

کتنی ہی شاخوں پر میں نے بسیرا کیا ہے

مانسون بدلتے ہی رہے

اور میں تجارتی ہواؤں کے ہر ہمراہ ہر شجر، ہر حجر پر

تمہارا کوئی نشان تمہاری کوئی علامت ڈھونڈتا ہوں

اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں

اپنے آنے سے پہلے۔  ایک بگل بجا دینا۔

میں اپنے خاکستری بستر سے اُٹھ کر

تمہیں

خوش آمدید کہوں گا۔!

٭٭

(۲)

دیوار پر سے

ایک ایک کر کے پتے گر رہے ہیں

یہ اس درخت کے ہیں

۔  جو گھر میں ہے

اور

دیوار کے اُس اور

ہم دونوں خاموشی سے کھڑے

موسم کا ماتم کر رہے ہیں

اگر

درخت کے پتے جھڑ جائیں

اور

ہم تم

ہرے نہ ہو سکیں

٭٭

(۳)

میں نے ایک معصوم

سی چڑیا پکڑ لی

اس کی چیخ۔

اور پروں کی پھڑپھڑاہٹ

میں ڈر گیا

میں اکیلا

اور اتنی بڑی دنیا۔  چیخ اور پھڑ پھڑا ہٹ

تم ہنستی رہو

مگر

میں اسے چھوڑ دیتا ہوں۔!

٭٭

(۴)

تم میٹھی ہو

اور تمہارے قہقہوں پر میں کئی بار مر چکا ہوں

تمہیں۔

اپنے قہقہوں کا شمار یاد نہیں

مجھے

اپنی اموات کا۔!

جب ہم نیلی جھیل کے قریب ہوں گے

تم اپنا سارا خون

اپنے قہقہوں میں نچوڑ لینا

۔  میں سانس روک لوں گا

لیکن

کہیں تمہاری مسکراہٹیں

۔ اعصابی مرض تو نہیں

اور

میں

فراری تو نہیں۔!!

٭٭٭

چرخ ہفتمیں

الف۔

کھلا ہوا چرخ ہفتمیں ہے

نئے نئے زندہ لب فرشتے اُتر رہے ہیں

تمام بے اختیار حوریں نکل کے اس پر دۂ سیہ رنگ سے

اُجالے میں آ رہی ہیں۔

بدن بدن تازہ تازہ جیسے کہ آم کے نرم نرم پتے

عجیب خوشبو کہ جیسے پھل لگنے کے طلسمات جاگتے ہوں

بے۔

فرشتے ہاتھوں میں فائیلوں کو لئے ہوئے درمیان جنت گذار رہے ہیں

حسین اور کم لباس حوروں کے ہونٹوں پر اک معاشی لالی سی آ گئی ہے

فرشتے اعمال نامہ لمحہ لمحہ لے کر

سروں کو حدِ ادب بنائے گذر رہے ہیں

ٹیاپ ٹپ ٹپ خطوط الفاظ بن رہے ہیں

کھُلا ہوا چرخ ہفتمیں ہے۔

اُٹھاؤ، اب چائے کی پیالی، وہ سامنے جو گذر رہی ہے

خدا بچائے۔

فرشتے سینوں کے چار خانوں میں گر پڑے ہیں

چمکتی حوریں نگاہ سے جاں کے فاصلے پر

ٹھہر ٹھہر کے گذر رہی ہیں

کھلا ہوا چرخ ہفتمیں ہے۔

یہ میگزین اور یہ پاک حوریں

ہر ایک عضو بدن تقدس

ہر ایک لمس بدن طہارت

فرشتے سوکھے ہوئے لبوں پر

زبان رکھ کہ وہ شہد اور دُودھ کی مصفا عظیم نہروں کو دیکھتے ہیں

تے۔

ہمارے سارے ثواب لے کر

زمین کے بے مآل اربابِ آرزو کا نصیب کر دے

’’کھلا ہوا چرخ ہفتمیں ہے؟

وہ سامنے نہیں گذر رہی ہے

میں اپنی کھڑکی سے جھانکتا ہوں

تمام بے جان قمقمے اب پگھل رہے ہیں

جو میز پر اک گھڑی پڑی ہے۔  وہ بند ہے

یہ جو کلینڈر لگا ہوا ہے۔  پرانا ہے اور پھٹ چکا ہے

یہ سرد بستر کسی حرارت کا منتظر ہے

خدائے حکمت۔  میں کس طرح سے دعائیں مانگوں

٭٭٭

پس منظر

میرا پورا نام محمد اسلم عمادی ہے۔

میرا تعلق ہندوستان کے علمی اور ادبی گھرانے سے ہے۔

تقریباً چھ سو برس گزرے جب ہمارے اجداد ہندوستان تشریف لائے۔  ان کا مقصد علوم باطنیہ اور منطق و فقہ کی اشاعت تھا۔  میرے جدا مجد شیخ عماد الصدیقی الیمانیؒ یمن سے طویل سفر اختیار کر کے جونپور (یوپی) تشریف لائے۔  یہاں پر ان کے شیخ طریقت شاہ قطب بینا دلؒ کے مشورہ کے تحت موضع امر توا میں رہائش پذیر ہوئے۔  خاندان پھلتا پھولتا رہا، علمی ذوق اور ادبی رچاؤ اس کے روز و شب میں ساری تھا۔

اور ہمارے یہاں، زبان کی درستی نوک و پلک کی طرح ہوتی تھی اور ہے۔  دار الترجمہ حیدرآباد کے قیام پر ہمارے بزرگ علامہ عبداللہ عمادی حیدرآباد تشریف لائے، اس طرح خاندان کا ایک شعبہ حیدر آباد آ پہنچا۔

میرے نانہال کا ماحول بھی اتنا ہی علمی اور ادبی تھا۔  نسباً فاروقی لوگ تھے۔  اس خاندان کے فضلاء کی ایک قابلِ ذکر مثال ڈاکٹر سر سلیمان ہیں۔  میرے نانا شاہ محمد عرفان نہ صرف علومِ باطنیہ میں مجد تھے۔  آرٹ میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔

ایسے ماحول میں اور ایسی آب و ہوا میں15؍ دسمبر1948ء کو حیدر آباد میں پیدا ہوا۔  حیدر آباد جو آج میرا وطن ہے، میرا گھر ہے۔

ما حول یوں تو سازگار معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقتاً ایسا نہیں تھا۔

میرے والد محترم (مولوی محمد مسلم عمادی )ان دنوں فوج کی ملازمت سے منسلک تھے، اکثر تبادلہ پر دور و دراز مقام پر مقیم رہتے تھے، والدہ محترمہ (معظمہ صدیقہ خاتون) کی تربیت مشفق سے مجھ میں خود مختار فکر اور امتیازی غور کی صلاحیت پیدا ہو گئی۔  کھیل کود سے نفرت تو نہ تھی، لیکن کبھی اس جانب دل ہی راغب نہ ہوا جب دیکھئے یا تو کتاب آنکھوں سے لگی ہے، یا آنکھیں سوچ میں گم ہیں۔

مذہب کا نشہ چڑھا تو اسی میں غرق ہو گئے، جب سائنس کا نشہ چڑھا تو اسی میں محو ہو گئے، ادب کا ذوق ہوا تو اسی میں جذب ہو گئے۔

تعلیمی زندگی بہت کا مراں رہی۔  جو امتحان دیا درجہ اول سے کامیاب ہوا۔  عثمانیہ یونیورسٹی سے بی ای (میکانکل) کی ڈگری جنوری مشاء میں لی اور اب بھارت ہیوی الکٹر سیکس لمیٹیڈ حیدر آباد میں انجینئر ہوں۔  یوں تو بچپن ہی سے با وزن انداز میں خود غال کرتا تھا لیکن شاعری کی ابتدا ء 1962ء کی ایک بارش سے ہوئی۔  پھر یوں ہوا کہ آندھی چلتی رہی مت کرو، کیریر خراب ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔  لیکن وہی پتے ہوا دینے لگے اور شاعری کا شعلہ بھڑکنے لگا۔

مختلف سہ ماہی، دو ماہی، ایک ماہی، نیم ماہی، ہفتہ وار اور روزناموں میں چھپتے چھپتے اب وہ اشتیاق بھی نہ رہ گیا۔

بہت ساری کتابیں کھا پی لیں۔  ہر بات کو کریدنے کی عادت رہی جدید شاعری سینے میں پنپ رہی تھی، سوچتا کہ آخر کب تک ہم مصنوعی فضا برقرار رکھ سکیں گے کہ1963ء میں ڈاکٹر عبدالوحید کی فیروز سنز لاہور سے شائع شدہ کتاب ’’ تذکرہ جدید شعرائے اُردو‘‘ باصرہ نواز ہوئی۔ اس میں ن م راشد، تصدق حسین خالد اور ڈاکٹر تاثیر کی نظمیں پڑھیں تو یوں لگا کہ بھائی مؤمن و غالب و آزردہ کے دن لد گئے۔  پہلے تو پڑھتے ہی نہیں بنیں، پھر ابہام کافی بھاری پڑتا لیکن گر ہیں کھلتی گئیں اور غرق ہوتا گیا۔

اپنی شاعری پر کڑی نظر رکھتا ہوں، تعریف و تحسین کے لئے ذہن نہیں کھپاتا۔  جس مجموعہ کو آپ اپنے ہاتھوں میں پا رہے ہیں، میرے کلام کا پہلا انتخاب ہے۔

میں اس جگہ پر اپنے نظریاتِ فن اور عقاید فکر کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا کیونکہ جب فن سامنے ہو تو دعویٰ کی ضرورت ہی کہاں ہوتا ہے۔

میں ممنون ہوں

lاُن اساتذہ کا۔ جنہوں نے میرے ذوق، ذہن د خیال کو تہذیب سے آراستہ کیا۔  خصوصاً:

٭ مولوی شوکت رضوی

٭مولوی عبد الواحد (محمد حسن انٹر کالج جونپور)

٭مولوی محبوب علی (گاندھی بھون مڈل اسکول)

٭مولوی محمد عبد الشکور (گورنمنٹ ہائی اسکول چادر گھاٹ)

lان شعراء اور اُدبا کا۔  جن کے کلام و بیان کو میں نے ذوق سے پڑھا ہے اور جن سے میں نے سیکھنے کا سلیقہ سیکھنے کی کوشش کی ہے۔

l ان اصحاب اور بزرگوں کا۔  جن کا خلوص اس کتاب کی اشاعت کا باعث بنا۔  خصوصاً:

٭وقار خلیل ٭ عزیز قیسی٭ سعید بن محمد نقش٭ محمود خاور٭ اعظم راہی ٭ حسن فرخ٭قطب سرشار ٭ انور رشید ٭ غیاث متین٭ علی ظہیر ٭عبدالحلیم٭ محمد ابراہیم خان، اور ٭ محمد عبد الحفیظ

l ان صورت گروں۔  کا جنھوں نے اس کتاب کی طباعت و اشاعت میں ہر تکلیف کو گوارہ کیا:

٭محترم و تار خلیل، محمود خاور، انور مسعود۔  جنہوں نے کتاب کی صحیح طباعت کے لئے مجھے مشوروں سے نوازا۔

٭محترم قیصر سرمست۔  جنہوں نے اس کتاب کو خوبصورت سا سرِ ورق عنایت کیا۔

٭محترم محمد ولی الدین۔  جن کی خوبصورت کتابت آپ کو پسند آئی ہو گی۔

lپریس کا۔  جس میں یہ کتاب مکمل ہوئی۔

l ان رسائل کا۔  جن میں میرا کلام شائع ہوا، اور جو قاری اور ادیب کے درمیان اہم ترین رشتہ ہیں۔

lباعث صد احترام والدین کا، میٹھے اور مَدھُر بھائی بہنوں کا

’’عمادی منزل‘‘۔  ہمایوں نگر

حیدر آباد۔ ۲۸ (بھارت)

اسلم ؔعمادی

٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل