ڈاؤن لوڈ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

مکمل کتاب پڑھیں…..

نیا بھائی

اور دو اور کہانیاں

 

 

معراج

انتخاب وترتیب : سیدہ شگفتہ اور اعجاز عبید

 

اردو محفل کی پیشکش

 

نیا بھائی

 

بات صرف یہ تھی کہ پپو چھوٹا سا تھا، اس لیے اس کا بڑا بھائی ہاشم ذرا ذرا سی بات پر ناراض ہو جاتا اور پپو میاں کو ڈانٹتا اور پٹائی کرتا رہتا۔ اس دن بھی ہاشم نے پپو کو صرف اس بات پر مارا کہ وہ "چور سپاہی” کھیلنا نہیں چاہتا تھا۔ شاید یہ پہلا موقع تھا کہ پپو میاں نے کھیلنے سے انکار کیا تھا۔

ہاشم غصے سے چلایا: "تم بالکل احمق ہو۔ اگر تم میرے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتے تو جاؤ دفع ہو جاؤ یہاں سے۔ میں اکیلا ہی کھیل لوں گا۔”

پپو نے روتے ہوئے کہا: "تم مجھے ہمیشہ چور بناتے ہو اور جب مجھے پکڑ لیتے ہو تو اس زور سے چلاتے ہو کہ میرے سر میں درد ہو جاتا ہے۔ جب کبھی تم "ماسٹر جی” والا کھیل کھیلتے ہو تو ہمیشہ ماسٹر جی بن جاتے ہو اور شاگرد مجھے بناتے ہو۔ پھر مجھے کبھی مرغا بناتے ہو، کبھی کرسی پر کھڑا کر دیتے ہو۔ میں یہ بالکل پسند نہیں کرتا۔”

ہاشم نے کہا: "تم مجھ سے چھوٹے ہو، اس لیے جو کچھ میں کہوں گا وہ تمہیں ماننا پڑے گا۔ اب تم رونا دھونا بند کرو، ورنہ میں بری طرح پٹائی کروں گا۔”

ہاشم کی اس دھمکی کا پپو پر الٹا اثر ہوا۔ وہ اور زور زور سے رونے لگا۔ تب ہاشم نے تلملا کر پپو کے دو تین چانٹے لگا دیے اور غصے سے بولا: "کاش کہ تم میرے بھائی نہ ہوتے۔”

پپو زور زور سے رونے لگا۔ عین اسی وقت جھاڑیوں میں سے ایک باریک سی آواز سنائی دی: "کیوں میاں! کیا بات ہے؟ تم اس زور زور سے کیوں رو رہے ہو؟”

پھر آواز نے قریب سے کہا: "میاں صاحب زادے! تم اس بچے کو کیوں مار رہے ہو؟ اس نے تمھارا کیا بگاڑا ہے؟”

دونوں حیران ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ تب ایک داڑھی والا بونا قریبی جھاڑی سے پھدک کر باہر نکلا۔ دونوں لڑکے اسے دیکھ کر ٹھٹک گئے۔ بوڑھے کی لمبی سی داڑھی ہوا میں لہرا رہی تھی۔ اس کی پکوڑا سی ناک پر گول شیشوں کی عینک ٹکی ہوئی تھی۔ بوڑھے بونے نے کہا: "میں حکیم بربروس ہوں۔ بد اخلاق اور بد تمیز لوگوں کا اخلاق سدھارا کرتا ہوں۔ یہاں سے گزر رہا تھا کہ تم لوگوں کے لڑنے بھڑنے کی آواز سنی۔”

ہاشم بونے کی طرف دیکھ کر ہنسا اور بولا: "جاؤ بڑے میاں! اپنا راستہ ناپو۔ جو لوگ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑاتے ہیں آخر ان کی ناک کٹ جاتی ہے۔”

حکیم بربروس نے آنکھیں نکال کر دیکھا اور بولا: "ہوں، تم خود میاں فضیحت ہو اور دوسروں کو نصیحت کرتے ہو۔ کیوں برخوردار! بڑوں کی باتوں پر نکتہ چینی کرنے کا سبق تم نے کس کتاب میں پڑھا ہے؟ اچھی نصیحت قبول نہ کرنے کا مشورہ کس استاد نے دیا ہے؟ چھوٹوں سے بد سلوکی کا سبق کس اسکول میں سکھایا جاتا ہے؟”

اب ہاشم کو غصہ آ گیا۔ وہ زور زور سے چیخنے لگا: "بالشت بھر کا بونا اور گز بھر کی زبان! میں کہتا ہوں تم اسی وقت یہاں سے چلتے پھرتے نظر آؤ، ورنہ میں تمھاری مرمت کروں گا کہ تم زندگی بھر یاد رکھو گے۔ دفع ہو جاؤ فوراً ورنہ۔۔۔”

الفاظ ہاشم کے منہ میں ہی رہ گئے، کیوں کہ حکیم بربروس نے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھ کر پھونکا اور ہاشم جہاں تھا وہاں بت بنا رہ گیا۔ تب حکیم بربروس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور بولا: "بس! اب بتاؤ تم میرا کیا بگاڑ لو گے؟ بے وقوف لڑکے! جو لوگ اپنی طاقت کے گھمنڈ میں کم زوروں پر ظلم ڈھاتے ہیں ان کا ایسا ہی حشر ہوا کرتا ہے۔ حضرت انسان میں یہی سب سے بڑی کمزوری ہے کہ وہ کم زور کے آگے شیر اور زور آور کے سامنے بھیڑ بنا رہتا ہے۔”

پپو نے نے ہمت کر کے کہا: "اچھے حکیم صاحب! آپ میرے بھیا کو معاف کر دیجیئے۔ آئندہ وہ کبھی ایسی بدتمیزی نہیں کریں گے۔”

حکیم بربروس داڑھی پر ہاتھ پھیرتے رہے۔ کافی دیر غور کرنے کے بعد بولے: "بیٹے! پرانا مرض بغیر علاج کی خود بخود دور نہیں ہو جایا کرتا، بلکہ میرا تو مشاہدہ یہ ہے کہ علاج کے بغیر مرض روز بروز بڑھتا ہی رہتا ہے، اس لیے میرے نیک دل بچے! تم مجھے اپنے طور پر مریض کا علاج کرنے دو۔”

پپو حیرانی سے بولا: "آپ بھیا کو کیا دوا دیں گے؟”

حکیم بربروس قہقہہ لگا کر بولا: "بیٹا جو لوگ مصیبت میں گرفتار نہیں ہوتے وہ خیر و عافیت کی قدر نہیں جانتے۔ یہ فلسفہ ابھی تمہاری عقل میں نہیں آئے گا، البتہ جب تم بڑے ہو جاؤ گے تو یقیناً سب باتوں کو سمجھنے لگو گے۔ اچھا! اب تم گھر جاؤ، میں ذرا دیر بعد تمھارے بھائی کو بھیجتا ہوں۔ پھر تم اسے بالکل بدلا ہوا پاؤ گے۔”

پپو نے جانے سے پہلے حکیم بربروس کو سلام کیا اور اللہ حافظ کہا۔ جواب میں حکیم بربروس نے اس کی عمر کی درازی کی دعا دی اور اللہ حافظ کہا۔

اب حکیم بربروس ہاشم کی طرف متوجہ ہوا جو اب تک بت بنا کھڑا ہوا تھا۔ حکیم صاحب نے کہا: "ہاں تو برخوردار! تمھیں اپنے بھائی سے شکایت ہے کہ وہ سخت نالائق ہے اور تمھارا کہنا نہیں مانتا۔ اس کا علاج یہ ہے کہ میں پپو کے بجائے تمھیں ایک بے حد دلچسپ، پر مذاق اور کھلنڈرا بھائی دے دوں۔ بولو منظور ہے تمھیں؟”

ہاشم نے بہت مشکل سے سر ہلا کر ہاں کہی، تب بربروس صاحب نے کوئی منتر پڑھا اور دوچار دفعہ ہوا میں ہاتھ گھما کر کہا: "مجھے ایک بے حد دلچسپ، پر مذاق اور کھلنڈرا لڑکا چاہیے، جو ہاشم کا بڑا بھائی بن سکے۔”

اس کے ساتھ ہی ایک بگولا سا اٹھا۔ حکیم بربروس غائب ہو گیا اور اس جگہ ایک ٹیڈی قسم کا لڑکا نمودار ہو گیا۔ ہاشم پر سے بھی جادو کا اثر ختم ہو گیا۔ شکل و صورت سے ہی یہ لڑکا بہت نٹ کھٹ اور لڑاکا نظر آ رہا تھا۔ حکیم بربروس کی آواز کہیں دور سے سنائی دی: "لو میاں ہاشم! یہ ہے تمھارا نیا بھائی۔ تم اس کے ساتھ دل بھر کے کھیلو۔ جب تم اکتا جاؤ تو اسی جگہ آ جانا اور زور زور سے پکارنا: ’حکیم بربروس! حکیم بربروس!‘میں فورا آ جاؤں گا۔”

اب ہاشم اس لڑکے کی طرف متوجہ ہوا اور بولا: "تمھارا کیا نام ہے۔”

اس لڑکے نے ہاشم کے ایک زور دار چانٹا مارا اور بولا: "بدتمیز! بڑوں سے اس طرح بات کی جاری ہے۔ آخر تمھیں کب عقل آئے گی؟”

ہاشم کو شاید پہلی بار ایک دھکا سا لگا۔ عادت کے مطابق اس نے چیخ چلا کر کہا: "ذرا تمیز سے با ت کرو لڑکے! جانتے ہو میں ہاشم ہوں۔ تمھارا دماغ ٹھکانے لگا دوں گا،  ہاں؟”

وہ لڑکا لپک کر آگے آیا اور ہاشم کو گدی سے پکڑ کر بولا: "بدتمیز! بے ہودہ لڑکے تیر ی یہ مجال۔ یاد رکھنا میرا نام مٹو ہے۔ میں تم جیسے بد تمیز اور بے ہودہ لڑکوں کا دماغ درست کرنا اچھی طرح جانتا ہوں۔”

یہ کہ کر اس نے ہاشم کو دو چار جھٹکے اتنی زور زور سے دیے کہ اس کی بتیسی بجنے لگی۔ پہلی بار ہاشم نے اپنی شکست تسلیم کر لی۔ جوں ہی مٹو نے اسے چھوڑا ہاشم آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگا۔ مٹو زور سے چلایا: "بھاگ کر کہاں جاؤ گے؟ چلو ادھر آؤ اور میرے ساتھ چور سپاہی کھیلو۔”

ہاشم نے کہا: "میں سپاہی بنوں گا۔”

مٹو لال لال دیدے نکال کر بولا: "کیوں جی تم سپاہی کیسے بن سکتے ہو بھلا؟ تم مجھ سے چھوٹے ہو، اس لیے تمھیں میرا ہر کہنا مانا پڑے گا۔ چلو بنو چور۔”

ناچار ہاشم کو چور بننا پڑا۔ وہ جھاڑیوں میں چھپ گیا، لیکن مٹو نے اسے فوراً ہی ڈھونڈ نکالا۔ مٹو نے چھلانگ مار کر ہاشم کو چت گر دیا اور اس کے کان میں زور سے چلایا: "ہا ہا پکڑ لیا چور۔”

ہاشم کے کان میں درد ہونے لگا۔ وہ منہ بسورتے ہوئے بولا: "تم اس زور سے چلائے ہو کہ میرے کان میں درد ہونے لگا ہے۔”

مٹو اس کا کان کھینچ کر بولا: "دیکھوں کہاں درد ہے تمہارے؟ ہوں اب سمجھا۔ جب پکڑے گئے تو بہانا کرنے لگے۔”

بے چارے ہاشم کا برا حال تھا۔ اس نے کھلنڈرا اور پر مذاق لڑکا بے شک مانگا تھا، لیکن ایسے جلاد صفت بھائی کی درخواست نہیں کی تھی۔ شاید اس کے خیالات مٹو نے بھی پڑھ لیے۔ وہ ہاشم کو جھنجوڑ کر بولا: "تم نے دیکھا میں کتنا دلچسپ اور پر مذاق ہوں۔ کیوں ہے نا؟”

ہاشم نے سر ہلا دیا۔ مٹو بولا: "آؤ اب اسکول کھولیں۔”

ہاشم خوش ہو کر بولا: "میں ماسٹر بنوں گا۔”

مٹو نے ہاشم کے ایک چانٹا مارا اور غصے سے بولا: "کیوں بھئی، تم کیسے ماسٹر بن سکتے ہو؟ کیا تم نے آج تک چھوٹا سا ماسٹر اور بڑے بڑے لڑکے دیکھے ہیں کہیں؟”

ہاشم منہ بسورتے ہوئے بولا: "نہیں نہیں، ماسٹر میں بنوں گا”

مٹو نے ہاشم کے دو تین ہاتھ رسید کیے اور بولا: "پھر وہی بکواس کیے جا رہے ہو۔ میں بڑا ہوں، اس لیے میں ماسٹر بنوں گا۔”

ہاشم نے بڑی بحث کے بعد مٹو کی بات مان لی۔ مٹو نے ہاشم کا سبق سنا اور اس میں دو تین غلطیاں نکال کر اسے میز پر کھڑا ہونے کی سزا دے دی۔ ہاشم نے اکڑ کر کہا: "میں میز پر ہر گز کھڑا نہیں ہوں گا۔”

مٹو نے ہاشم کو گدی سے پکڑ جھٹکا دیا اور ہاشم زمین پر گر پڑا۔ مٹو نے کہا: "دیکھتا ہوں کہ اب تم کیسے میرے حکم سے انکار کرو گے۔”

ہاشم نے روتے ہوئے کہا: "تم مجھے بالکل پسند نہیں ہو۔”

مٹو جھلا کر بولا: "بڑے آئے ہو نا پسند کرنے والے۔ اپنی شکل بھی دیکھی ہے کبھی؟”

ہاشم آنسو پونچھ کر بولا: "تم پپو سے کتنے مختلف ہو۔”

مٹو فخر سے بولا: "جو سلوک تم نے پپو سے کیا، وہی آج میں تم سے کر رہا ہوں۔”

ہاشم آہستہ سے بولا: "میرا خیال ہے ہم یہ فضول سا کھیل بند کر کے کوئی اور کھیل کھیلیں، مثلاً لوڈو۔”

مٹو نفرت سے بولا: "ہونہہ تمھارے بھس بھرے دماغ سے باتیں بھی فضول ہی نکلتی ہیں، بھلا لوڈو بھی کوئی کھیل ہے؟ آؤ ڈاکٹر مریض کھیلیں۔”

ہاشم نے کبھی یہ کھیل نہیں کھیلا تھا۔ اس نے پوچھا: "یہ کھیل کیسے کھیلتے ہیں؟”

مٹو بولا: "ہم میں سے ایک مریض بن کر زمین پر لیٹ جائے گا۔ ڈاکٹر اس کا معائنہ کر کے دوا لکھے گا”

ہاشم بولا: "ٹھیک ہے، میں ڈاکٹر بنوں گا۔”

مٹو نے ڈانٹ کر کہا: "کیوں تم ڈاکٹر کیسے بن سکتے ہو؟ یہ کھیل میں نے تجویز کیا ہے اور پھر میں بڑا بھی ہوں، اس لیے میں ڈاکٹر بنوں گا۔ اب تم جلدی سے لیٹ جاؤ زمین پر۔”

ہاشم نے کہا: "میں مریض نہیں بنوں گا۔”

مٹو نے لال آنکھیں نکال کر ہاشم کو گھورا: "دیکھتا ہوں کہ تم میرے حکم سے کیسے انکار کرتے ہو؟” یہ کہہ کر مٹو نے دھکا دے کر ہاشم کو زمین پر گرا دیا۔ ہاشم کا غصے اور جھنجلاہٹ سے برا حال تھا۔ مٹو ہاشم کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا اور اس کی نبض ٹٹولنے لگا۔

ہاشم روہانسا ہو کر بولا: "اللہ کے واسطے مجھے چھوڑ دو، میں بالکل ٹھیک ہوں۔”

مٹو ڈانٹ کر بولا: "خاک ٹھیک ہو تم۔ چپ چاپ لیٹے رہو۔ بکواس کرنے اور رونے دھونے والے مریض مجھے بالکل پسند نہیں۔”

ہاشم بسور کر بولا: "میں بالکل ٹھیک ہوں، مجھے چھوڑ دو۔”

مٹو نے ہاشم کے سینے کو ٹھونک بجا کر دیکھا۔ اس کی نبض ٹٹولی، کانوں کو مروڑا اور ایک لمبا سانس لے کر بولا: "ہوں تمھیں ملیریا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹائیفائڈ بھی ہے۔ کچھ چیچک کا اثر بھی ہے اور نمونیا بھی ہے۔ تمھیں آرام کی سخت ضرورت ہے، اس لیے تمھیں ہلنا جلنا بالکل نہیں چاہیے۔ میں ابھی تمہارے لیے دوا اور انجکشن لاتا ہوں۔”

"بھئی اب مجھ سے نہیں لیٹا جاتا۔” ہاشم اٹھنے لگا۔ مٹو نے دھکا دے کر اسے پھر گرا دیا اور بولا: "تم نرے کوڑھ مغز ہو۔ آخر تمہاری سمجھ میں کب آئے گا کہ تم بہت سخت بیمار ہو؟ میں کہتا ہوں اب تم ہلنے جلنے کی کوشش نہ کرنا۔ میں ابھی تمہارے لیے دوا لاتا ہوں۔”

ہاشم کا غصے اور جھنجلاہٹ سے برا حال تھا، لیکن وہ مٹو کے سامنے بالکل بے بس تھا۔ مٹو اس زور آور کی طرح تھا، جو مارتا بھی تھا اور رونے بھی نہیں دیتا تھا۔

تھوڑی دیر بعد مٹو نہ جانے کہاں سے ایک کٹوری لے آیا۔ اس میں سبز رنگ کا پانی تھا۔ مٹو نے زبردستی یہ پانی ہاشم کے منہ میں انڈیل دیا اور ہاشم کا منہ سخت کڑوا ہو گیا۔ وہ جلدی سے اٹھ بیٹھا اور تھوکنے لگا۔ ادھر مٹو نے ہاشم کے بازو میں ایک سوئی چبھو دی۔ درد تکلیف سے ہاشم کی چیخ نکل گئی۔ اب اس سے ضبط نہ ہو سکا۔ وہ زور زور سے رونے لگا اور ہچکیاں لے لے کر بولا: "تم بہت برے ہو۔ تم نے ایسی دوا دی ہے۔ جس سے میرے منہ کا ذائقہ خراب ہو گیا۔ سوئی کی تکلیف سے میرا بازو درد کر رہا ہے۔ میں اب ہرگز تمہارے ساتھ نہیں کھیلوں گا۔”

ہاشم اٹھنے لگا، لیکن مٹو نے دھکا دے کر اسے زمین پر گرا دیا۔ اس دھینگا مشتی میں ہاشم کو بہت چوٹیں آئیں۔ ہاتھ کی ایک انگلی بھی کچلی گئی۔ ہاشم بلند آواز سے رونے لگا۔ مٹو نے اس کی انگلی کو زور سے پکڑا اور دبا دبا کر دیکھنے لگا۔ پھر بولا: "کہیں درد تو نہیں ہو رہا ہے تمہارے؟ اچھا خیر، میں ابھی اس کی مرہم پٹی کیے دیتا ہوں۔”

یہ کہہ کر مٹو نے ہاشم کا رومال پھاڑ کر ایک پٹی بنائی اور ہاشم کی انگلی پر اتنی کس کر باندھی کہ اس کے ہاتھ میں تکلیف اور زیادہ ہو گئی۔

ہاشم اور زور زور سے رونے لگا اور بولا: "میرا ہاتھ چھوڑ دو۔ تم نے اتنی کس کر پٹی باندھی ہے کہ مجھے سخت تکلیف ہو رہی ہے۔”

مٹو نے ہاشم کے ایک طمانچے مار کر کہا: "رونے والے بچے مجھے بالکل پسند نہیں آتے۔ جب دیکھو منہ پھاڑ ے آنسو بہاتے رہتے ہو۔ کاش کہ تم میرے بھائی نہ ہوتے۔”

تب ہاشم کو اپنے الفاظ یاد آ گئے۔ پھر سب واقعات فلم کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگے۔ اس کو اچھی طرح احساس ہو گیا کہ وہ ایسا ظالمانہ رویہ اپنے چھوڑے بھائی سے بھی کرتا رہا ہے۔ یقیناً اسے اس کی سزا مل رہی ہے۔ تب اسے حکیم بربروس کے الفاظ بھی یاد آ گئے کہ تم اپنے نئے بھائی سے اکتا جاؤ تو زور زور سے پکارنا: "حکیم بربروس! حکیم بربروس”

ہاشم زور زور سے چلانے لگا: "حکیم بربروس! تم کہاں ہو۔ اللہ کے واسطے میری مدد کرو اور مجھے اس مصیبت سے بچاؤ۔”

اسی وقت ایک بگولا سا اٹھا۔ حکیم بربروس پلک جھپکنے کے عرصے میں وہاں حاضر ہو گیا اور اسی لمحے مٹو ہوا میں غائب ہو گیا۔ حکیم بربروس نے ہاشم کو تسلی دی، اس کے آنسو پونچھے اور پوچھا: "کیا بات ہے برخوردار! تم نے مجھے کس لیے پکارا ہے؟”

ہاشم بولا: "مجھے اب بہت نصیحت ہو گئی ہے۔ اللہ کے واسطے مجھے معاف کر دیجیے۔ میں اب چھوٹو ں سے شفقت اور بڑوں کے ساتھ احترام سے پیش آؤں گا۔”

حکیم بربروس نے قہقہہ لگا کر اس کے کندھے تھپتھپائے اور بولا: "بے شک! اب تم اشرف المخلوقات ہو بیٹے! جب انسان میں شرافت، عزت، احترام، شفقت اور مہربانی جیسے پاک جذبات باقی نہ رہیں تو وہ ارذل المخلوقات، یعنی مخلوق میں سب سے زیادہ ذلیل بن جاتا ہے۔ بولو تمہیں کیا بننا منظور ہے؟”

ہاشم پر جوش لہجے میں بولا: "میں اشرف المخلوقات بنوں گا۔”

ہاشم کی کایا ہی پلٹ گئی ہے اگر تم اب اسے دیکھو تو اس کی شرافت اور نیکی دیکھ کر تم خود بھی کہو گے کہ ہاشم بہت نیک لڑکا ہے۔

٭٭٭

ٹائپنگ: وجی، رکن اردو محفل

پروف ریڈنگ :فہیم اسلم، اعجاز عبید

 

 

 

 

کوئل کا تحفہ

 

 

ترکی کے ایک گاؤں میں دو غریب موچی رہتے تھے۔ وہ دونوں گزر بسر کے لیے بہت محنت سے کام کرتے۔ ان کے پاس تھوڑی سی زمین بھی تھی، جس کی پیداوار ان کے لیے کافی ہو جاتی۔ اتفاق سے ایک نیا موچی گاؤں میں آ گیا۔ گاؤں کے سب لوگ اس سے جوتے مرمت کروانے لگے۔ اس سال سردی اور بارش کی وجہ سے جو کی فصل خراب ہو گئی۔ یہاں تک کہ دونوں بھائیوں کو گزارا کرنا مشکل ہو گیا۔

ان کی جھونپڑی گاؤں کے باہر تھی۔ اس سے آگے جنگل تھا۔ سخت برف باری سے جنگل کے درختوں پر برف جم گئی تھی۔ ان کی جھونپڑی کے باہر ایک درخت گر پڑا تھا۔

دونوں بھائیوں نے درخت کو کاٹ کر اس کی لکڑی جلائی، پھر وہ درخت کے کھوکھلے تنے کو جھونپڑی میں لے گئے اور اس پر بیٹھ کر آگ تاپنے لگے۔ کچھ دیر بعد انھیں درخت کے کھوکھلے تنے میں کوئل کے کوکنے کی آواز سنائی دی: "۔۔۔ کو کواو۔۔۔ کو کواو۔۔۔”

اس کے ساتھ ہی ایک کوئل ایک سوراخ سے نکلی اور سامنے میز پر جا کر بیٹھ گئی۔ دونوں بھائی اس پرندے کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے، لیکن انھیں اس وقت اور زیادہ حیرانی ہوئی، جب کوئل نے انسانی آواز میں کہا: "یہ کون سا موسم ہے؟”

شاکر نے کہا: "یہ سردی کا موسم ہے اور برف باری ہو رہی ہے۔”

کوئل بولی: "اوہو! آگ کی گرمی سے میں سمجھی کہ موسم گرما آ گیا ہے۔ تم نے میرا گھونسلا تو خراب اور برباد کر دیا ہے، اس لیے گرمیوں کے آنے تک تم مجھے اپنے ساتھ رہنے دو۔ میرے لیے درخت کے تنے کا سوراخ ہی کافی ہے۔ جب گرمیوں کا موسم آئے گا تو میں اپنے سفر پر روانہ ہو جاؤں گی۔ واپسی پر میں تمھارے لیے کوئی تحفہ لاؤں گی، جس سے تمھاری مصیبتیں کم ہو جائیں گی۔”

شاکر بولا: "تم بہت شوق سے ہمارے ساتھ رہ سکتی ہو۔ میں تمھارے لیے ایک گھونسلا بنا دیتا ہوں۔ تم گرمیوں کے آنے تک اس میں آرام کرو۔ تمھیں بھوک لگ رہی ہو گی، اس لیے میں تمھیں اپنے حصے کی آدھی روٹی دے رہا ہوں۔”

کوئل نے روٹی کھائی اور پانی پیا۔ پھر وہ شاکر کے بنائے ہوئے گھونسلے میں جا کر سو گئی۔ ایک دن صبح سویرے کوئل کی کوکو سے وہ بیدار ہو گئے۔ ان کے سامنے والی کھڑکی میں کوئل بیٹھی ہوئی تھی اور کوک کر بہار کے آنے کا اعلان کر رہی تھی۔ اس نے کہا: "میں اب دنیا کے سفر پر جا رہی ہوں، تاکہ ہر جگہ بہار کے آنے کا پیغام پہنچا دوں۔ اب تم مجھے بتاؤ کہ واپس آتے وقت تمھارے لیے کیا تحفہ لاؤں؟”

لالچ سے فضلو کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ وہ بولا: "تم نے دنیا کا کونا کونا دیکھا ہوا ہے۔ تم میرے لیے کوئی بڑا سا ہیرا یا قیمتی موتی لے آؤ، تاکہ ہماری مصیبتوں کا دور ختم ہو جائے۔”

کوئل بولی: "مجھے ہیرے جواہرات کا تو علم نہیں۔ یہ چٹانوں کے اندر چھپے ہوتے ہیں اور موتی دریاؤں کی تہہ میں ہوتے ہیں، اس لیے ان کا نکالنا میرے بس میں نہیں ہے۔ یہاں سے بہت دور ایک کنواں ہے، جس کے کنارے پر دو درخت ہیں۔ ان میں سے ایک سنہری درخت کہلاتا ہے۔ اس کے پتے سونے کے ہیں۔ دوسرا درخت زیتون کا ہے۔ یہ ہمیشہ ہرا بھرا رہتا ہے۔ اس کے متعلق مشہور ہے کہ جو کوئی اس کے پتوں کو اپنے پاس رکھے گا، اس کی عقل اور دانش میں اضافہ ہو گا۔ ہر مصیبت کے باوجود اس کا دل مطمئن رہے گا۔ اگر وہ کسی جھونپڑی میں رہتا ہے تو اپنے آپ کو محل میں رہنے والوں سے زیادہ خوش خرم سمجھے گا۔”

شاکر بولا: "پیاری کوئل! تم مجھے زیتون کا پتا لا کر دینا۔”

فضلو بولا: "تم بالکل احمق ہو۔ تم نے سونے کا پتا کیوں نہ مانگا؟ پیاری کوئل! تم مجھے سونے کا پتا لا کر دینا!

کوئل نے انھیں اللہ حافظ کہا اور کھلی ہوئی کھڑکی سے اڑ کر نکل گئی۔ وہ میدانوں اور چراگاہوں پر سے اڑتی ہوئی چلی جا رہی تھی۔ اس کے ساتھ وہ چیخ چیخ کر بہار کے آنے کا اعلان کرتی جا رہی تھی۔

اس سال دونوں بھائیوں نے بہت تنگی ترشی سے وقت گزارا۔ لوگوں نے ان سے جوتے مرمت کروانے بند کر دیے۔ ان کی کھیتی سے باجرے کی فصل بھی تھوڑی پیدا ہوئی۔ سال ختم ہوتے ہوتے ان کی حالت بہت خراب ہو گئی اور فاقہ کشی تک نوبت جا پہنچی۔

بہار کا موسم شروع ہوا تو کسی نے ان کے دروازے پر دستک دی اور پھر کوئل کی آواز سنائی دی: "کو کواو۔۔۔ کو کواو۔۔ میرے دوستو! دروازہ کھولو۔۔ میں تمہارے لیے تحفہ لائی ہوں۔”

شاکر نے جلدی سے دروازہ کھولا۔ کوئل ان کی جھونپڑی میں داخل ہوئی۔ اس کی چونچ میں دو پتے تھے۔ ایک بہت بڑا سا سونے کا پتا اور دوسرا زیتون کا پتا۔ کوئل نے سونے کا پتا فضلو کو اور زیتون کا پتا شاکر کو دیا اور بولی: "دنیا کے آخری سرے سے میں تمھارے لیے یہ پتے لے کر آئی ہوں۔۔ تم مجھے کھانے کو کچھ دو۔ مجھے ابھی شمالی ملکوں میں جانا ہے، تاکہ میں وہاں بھی بہار آنے کی خوش خبری سنا دوں۔”

شاکر نے اپنے حصے کی روٹی کوئل کے آگے ڈال دی۔ کوئل روٹی کھانے لگی۔ فضلو، شاکر کو سونے کا پتا دکھا کر بولا: "تم نے میری عقل مندی دیکھی؟ اب تم اپنے لیے بھی ایسا پتا منگوانا۔”

کوئل شاکر سے بولی: "اگر تم بھی اپنے لیے سونے کا پتا منگوانا چاہتے ہو تو مجھے بتا دو۔ اگلے سال میں تمھیں بھی ایسا ہی پتا لا کر دے دوں گی۔”

شاکر نے جواب دیا: "تم میرے لیے زیتون کا پتا ہی لانا۔”

فضلو بولا: "تم میرے لیے سونے کا پتا لانا۔” یہ سن کر کوئل دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہو گئی۔

فضلو دانت پیس کر بولا: "تم نے دولت مند ہونے کا سنہری موقع کھو دیا۔ زیتون کے پتوں سے تمھیں کیا فائدہ پہنچے گا؟ آخر تم رہے بدھو کے بدھو۔”

فضلو اسے جلی کٹی سناتا رہا، لیکن جواب مین شاکر ہنس کر کہتا کہ بھائی! قناعت سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں۔ یہ مال و دولت سب آنی جانی چیز ہے۔

فضلو غصے ہو کر بولا: "تم مجھے جیسے شریف اور معزز شخص کے ساتھ رہنے کے قابل نہیں ہو۔ آج سے میرے اور تمھارے راستے جدا جدا ہیں۔”

یہ کہہ کر اس نے سنہری پتا اٹھایا اور جھونپڑی سے باہر چلا گیا۔ گاؤں والوں میں سے جس جس نے شاکر کی بیوقوفی سنی، وہ ہنسے بغیر نہ رہ سکا۔ سب لوگوں نے فضلو کی عقل مندی کی داد دی، اب وہ فضلو نہیں رہا تھا، بلکہ چودھری فضل خاں کہلانے لگا تھا۔ سچ ہے مایا، تیرے تین نام، پرسا، پرسو، پرس رام۔ اب گاؤں کے لوگ عزت و احترام سے اس کا نام لینے لگے تھے۔ معزز اور مال دار لوگ اپنے جوتے مرمت کرانے کے لیے اس کے پاس بھیجتے تھے۔ کچھ ہی دنوں میں فضل خاں نے شادی بھی کر لی۔ شادی کی دعوت میں گاؤں کے سب لوگ تھے۔ صرف شاکر کو دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا تھا، کیوں کہ فضل خاں کے خیال کے مطابق وہ غریب اور بیوقوف تھا اور خاندان کے نام پر دھبہ۔ اب فضل خاں امیرانہ شان شوکت سے زندگی بسر کر رہا تھا، لیکن عجیب بات تھی کہ وہ اور اس کی بیوی ہمیشہ ناخوش اور پریشان ہی رہے۔

اخراجات کو پورا کرنے کے لیے فضل خاں سونے کے پتے کو توڑ توڑ کر فروخت کرتا رہا۔ آخر ایک دن پتے کا آخری ٹکڑا بھی بک گیا۔ اب فضل خاں پہلے کی طرح مفلس ہو چکا تھا۔

جب موسم بہار شروع ہوا تو کوئل پھر آئی۔ فضل خاں اور اس کی بیوی نے کوئل کی بہت خاطر مدارات کی۔ وہ اس کے لیے بہت سی چیزیں لے کر آئے، لیکن کوئل نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔ وہ بولی: "میں غریب شاکر کے گھر کی روکھی سوکھی روٹی کھانا زیادہ پسند کرتی ہوں۔”

اسی طرح نہ جانے کتنے ہی سال گزر گئے۔ فضل خاں سونے کے پتے لیتا رہا اور شاکر زیتون کے پتوں پر شکر ادا کرتا رہا۔

ایک دن اس ملک کا بادشاہ شکار کھیلتا ہوا ادھر آ نکلا۔ وہ بہت فکر مند اور پریشان رہتا تھا۔ اس کا بیٹا، شہزادہ نورالدین نافرمانی کرتا تھا۔ وزیر اس کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ شمالی علاقے میں بغاوت ہو گئی تھی۔ ملک میں افراتفری پھیلی پوئی تھی۔ ان باتوں نے بادشاہ کا چین، سکون غارت کر دیا تھا۔ اچانک بادشاہ کی نظر شاکر پر پڑی۔ وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ اس کے چہرے سے لگتا تھا کہ وہ کئی وقت کا بھوکا ہے، لیکن پھر بھی وہ بے حد مطمئن اور خوش نظر آتا تھا۔

بادشاہ کو یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی۔ شاکر نے بتایا: "عالی جاہ! قناعت سب سے بڑی نعمت ہے۔ جسے قناعت کی دولت میسر ہے، اسے نہ کوئی پریشانی ہے اور نہ کوئی غم۔”

بادشاہ کو شاکر کی بات پسند آئی۔ وہ بہت دیر تک شاکر کے پاس رہا۔ اس وقت اس کے ذہن سے سب پریشانی جاتی رہی۔ شاکر کے پاس بادشاہ کے آنے اور پھر اس کی پریشانی دور ہونے کی بات بہت جلد ہر جگہ پھیل گئی۔ لوگ اس کے پاس اپنی پریشانیاں لے لے کر آتے اور شاکر ان کی فکر اور پریشانی کا حل بتا دیتا اور پھر وہ خوش خوش اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے۔ امیر لوگ اسے انعام دیتے اور غریب لوگ ڈھیروں دعائیں دیتے۔ اب شاکر بھی اچھی اور خوش حال زندگی گزارنے لگا تھا۔ ایک دن بادشاہ نے شاکر کو بلانے کے لیے اپنا خادم بھیجا۔

خادم شاکر کی جھونپڑی پر پہنچا اور اس نے بادشاہ کا حکم نامہ دکھا کر کہا: "عالی قدر سلطان معظم نے تمھیں فوراً دربار میں طلب کیا ہے۔”

شاکر نے کہا: "کل صبح بہار کا پہلا دن ہے۔ میں سورج نکلنے سے پہلے کہیں نہیں جا سکتا۔”

خادم، شاکر کی جھونپڑی کے باہر ٹھہرا رہا۔ دن نکلتے ہی کوئل آئی۔ اس نے زیتون کا پتا شاکر کو دیا۔ شاکر نے کہا: "پیاری کوئل! بادشاہ نے مجھے اپنے دربار میں طلب کیا ہے۔ کیا تم مجھ سے ملنے کے لیے محل میں آیا کرو گی؟”

کوئل بولی: "اونچے اونچے محل حقیقت میں قید خانے ہوتے ہیں۔ یہاں نفرت، عداوت، حسد اور آپس کے جھگڑے ہیں۔ ایسی جگہ میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔ میں تم سے ملنے کے لیے وہاں نہ آ سکوں گی۔ تم زیتون کے ان پتوں کی حفاظت کرنا اور انھیں اپنے سے کبھی جدا نہ کرنا۔”

کوئل نے روٹی کا ٹکڑا کھایا اور بولی: "اب تم مجھے اجازت دو۔ اللہ حافظ۔”

شاکر کو کوئل کی جدائی پر بہت رنج ہوا۔ اس نے زیتون کے پتے چمڑے کی کرتی کے استر کے اندر سیے۔ پھر وہ یہ کرتی پہن کو بادشاہ کے خادم کے ساتھ دربار کی طرف روانہ ہو گیا۔

جب وہ محل میں داخل ہوا تو درباری اسے دیکھ کر حیران ہوئے اور آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ آخر بادشاہ نے اس معمولی سے شخص میں کیا بات دیکھی ہے، جو اسے محل میں بلا لیا۔

جب بادشاہ کے وزیروں نے موچی سے گفتگو کی تو اس کے جوہر کھلنے لگے۔ شہزادے، وزیر، امیر اور درباری جس جس نے شاکر سے گفتگو کی، اس کے دل کا بوجھ کم ہو گیا۔ دربار میں ایسی تبدیلی آئی، جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ لوگ آپس کی رنجشیں بھول گئے۔ ان کے دلوں کے حسد، رقابت اور نفرت کے جذبات دور ہو گئے۔

بادشاہ نے شاکر کے لیے ایک کمرہ مخصوص کر دیا۔ بادشاہ کے تخت کے برابر شاکر کی کرسی رکھ دی گئی۔ درباریوں نے اس کی خدمت میں بہت سے تحفے پیش کیے۔ وزیروں کے ریشم اور زربفت (سونے کی تاروں سے بنا ہوا) کے لباس پیش کیے لیکن موچی نے اپنی چمڑے کی کرتی پہننی نہ چھوڑی، محل کے سب لوگوں نے اس بات کو سخت ناپسند کیا۔

بادشاہ نے کہا: "تم یہ کرتی کسی فقیر کو کیوں نہیں دے دیتے؟”

شاکر نے کہا: "عالی جاہ! محل میں داخل ہونے سے پہلے یہی میرا لباس تھا۔ یہ لباس پہن کر میرے دل میں غرور اور تکبر پیدا نہیں ہوتا۔

بادشاہ کو شاکر کا یہ جواب پسند آیا۔ اس نے حکم دیا کہ آیندہ کوئی شخص شاکر سے کرتی کے متعلق کچھ نہیں کہے گا۔

گلے سال کوئل پھر آئی۔ اس دفعہ وہ فضل خاں کے لیے سونے کے دو پتے لائی تھی۔ اب شاکر کے لیے زیتون کا پتا لانے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ فضل خاں نے سونے کا ایک پتا فضول خرچیوں میں ختم کر ڈالا۔ اس کی بیوی نے کہا: "آخر ہم کب تک تنگ ترشی سے زندگی بسر کرتے رہیں گے۔ تمھارا بھائی شاکر کیسی شاہانہ زندگی گزار رہا ہے۔ میں تو کہتی ہوں کہ تم اپنا بوریا بستر سمیٹو اور محل کا راستہ لو۔ مجھے یقین ہے کہ وہ تمھیں کہیں کا نواب بنا دے گا۔”

فضل خاں نے اپنا سامان باندھا، سونے کا پتا ایک رومال میں لپیٹا اور پھر وہ دونوں سفر پر روانہ ہو گئے۔ وہ بہت دیر تک چلتے رہے۔ دوپہر کے وقت وہ ایک جنگل میں پہنچے۔ وہ بری طرح تھک چکے تھے۔ فضل خاں کی بیوی بولی: "تم تو عقل سے بالکل پیدل ہو۔ تم نے سفر کے لیے کسی سواری کا انتظام کیوں نہ کیا؟ آخر یہ سونا ہمارے کس دن کام آئے گا؟”

فضل خاں نے رومال کھول کر سونے کا پتا دیکھا، ایک چالاک بڑھیا بہت دیر سے ان کا پیچھا کر رہی تھی۔ وہ درخت کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔ اس نے ان کی سب باتیں سن لیں، پھر پتے کی جھلک بھی دیکھ لی۔ وہ درخت کے پیچھے سے نکلی اور ان کے پاس پہنچی۔ وہ چاپلوسی سے بولی: "عالی قدر نواب صاحب اور محترمہ بانو صاحبہ! کنیز کا سلام قبول فرمائیے۔”

فضل کی بیوی نے پوچھا: "تم نے کیسے جانا کہ ہم نواب ہیں؟”

بڑھیا بولی: "عالی قدر! آپ کی شکل صورت سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ خاندانی نواب ہیں۔ سرکار! کیا آپ مجھے اپنی میزبانی کی عزت بخشیں گے؟”

بڑھیا نے ایسی خوشامد کی کہ دونوں اس کے جال میں آ گئے۔ وہ دونوں بھوکے پیاسے تو تھے ہی، انھوں نے بڑھیا کی دعوت قبول کر لی۔

بڑھیا نے اپنا تھیلا کھولا اور بولی: "حضور! آپ نے ہمیشہ مزے مزے کے کھانے کھائے ہوں گے۔ آج اس غریب بڑھیا کے ہاتھ کے پکے ہوئے پھیکے اور سادہ کھانے بھی کھائیے۔ سرکار! مکھن لگی ہوئی روٹی، کباب، کوفتے اور آم کا اچار حاضر ہے۔”

فضل خاں اور اس کی بیوی نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ پھر بڑھیا نے ان کو گلاب کا شربت پیش کیا۔ اس میں کوئی نشہ آور چیز ملی ہوئی تھی۔ اسے پیتے ہی ان کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ جلد ہی وہ خوابوں کی دنیا میں پہنچ گئے اور نوابی کے خواب دیکھنے لگے۔

بڑھیا کے دو بیٹے ٹوٹو اور گولی تھے۔ وہ بڑھیا کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ فضل خاں اور اس کی بیوی سو گئے تو بڑھیا نے چیخ کر کہا: "اے احمقو! کہاں مر گئے ہو؟”

وہ دونوں لپک کر بڑھیا کے پاس پہنچے۔ بڑھیا بولی: "اب میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو، جلدی سے مال سمیٹو اور بھاگ چلو۔” پھر وہ ٹوٹو سے بولی: "آج تمھاری کیا کارگزاری رہی؟ تم نے کچھ مال اڑایا، یا یوں ہی خالی ہاتھ چلے آئے؟

ٹوٹو نے کہا: ” اماں! آج جب میں محل سرا کے پاس سے گزر رہا تھا تو کسی نے یہ چمڑے کی کرتی اوپر سے پھینکی۔ یہ کرتی ہے تو بیکار ہی، لیکن میں اسے آپ کے حکم کی تعمیل کرنے کے لیے لیتا آیا ہوں۔”

یہ کہہ کر اس نے ایک گٹھری بڑھیا کی طرف پھینکی۔ بڑھیا تیوری چڑھا کر بولی: "ارے احمق! یہ گدڑی میرے کس کام کی ہے؟ ” یہ کہہ کر بڑھیا نے وہ کرتی فضل خان پر ڈال دی۔ بڑھیا نے سب سامان سمیٹا، پھر وہ تینوں ہنستے ہوئے وہاں سے چل دیے۔ بہت دیر بعد فضل خاں اور اس کی بیوی کی آنکھ کھلی، انہیں یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ ان کی چیزیں اور سونے کا پتا سب چوری ہو چکے ہیں۔ یہ دیکھ کر فضل کی بیوی چیخیں مار کر رونے لگی۔

شام کے وقت خاصی سردی ہو گئی۔ فضل خاں نے چمڑے کی وہ کرتی پہن لی، جو اس کے نزدیک ہی پڑی ہوئی تھی۔ جیسے ہی اس نے کرتی کے بٹن لگائے، اس کی دلی کیفیت میں ایک عجیب تبدیلی واقع ہو گئی۔ وہ رونے دھونے کے بجائے ہنسنے مسکرانے لگا۔ اس کی بیوی کے دل سے بھی رنج و ملال جاتا رہا۔ انھوں نے جنگل میں ایک گھر بنایا۔ فضل خاں ایک گھونسے سے انڈے نکال لایا۔ اس کی بیوی بے انھیں بھونا، پھر دونوں کھا پی کر گھاس کے ڈھیر پر لیٹ گئے اور سو گئے۔

وہ جنگل میں رہتے رہے، انھوں نے اپنی جھونپڑی کو کافی بڑا کر لیا تھا۔ وہ پرندوں کے انڈوں اور جنگلی پھلوں پر گزارا کرنے لگے تھے۔ دربار جانے کا خیال ان کے دل سے جاتا رہا۔

ادھر شاکر کا حال سنیے۔ جب وہ صبح کے وقت جاگا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کی کرتی گم ہو چکی ہے۔ اس نے نوکروں سے پوچھا، مگر کسی نے جواب نہ دیا۔ محل کا کونا کونا چھان مارا، لیکن کرتی نہ ملنی تھی نہ ملی۔ اس وقت سے اس کے حالات اپنی پرانی ڈگر پر آ گئے۔ لڑائی جھگڑے ہونے لگے، وزیر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگے، بادشاہ کی فکر اور پریشانی اور بڑھ گئی۔

شاکر کی سب صلاحیتیں اس کی کرتی کے ساتھ تھیں۔ جب وہ نہ رہی تو صلاحیتیں بھی جاتی رہیں۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے اس کا ذہن بالکل ناکارہ ہو چکا ہے۔ درباریوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ اس موچی کا یہاں پر کیا کام؟ بادشاہ نے تحقیقات کا حکم دے دیا کہ یہ موچی یہاں کیوں آیا اور اس درجے تک کس طرح پہنچا۔ تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ موچی خواہ مخواہ محل میں ٹھہرا ہوا ہے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ موچی کو محل سے باہر نکال دیا جائے اور اس کی ہر ایک چیز ضبط کر لی جائے، فرمان جاری ہوا اور ایک نوکر ضبطی کا حکم لے کر کمرے میں داخل ہو گیا اور قیمتی چیزوں پر قبضہ کرنے لگا۔ شاکر کھڑکی کے راستے بھاگ نکلا۔ اس کو بھاگتا دیکھ کر ایک راہ گیر بولا: "آج صبح اس کھڑکی سے ایک کرتی باہر آ کر گری تھی، اب کرتی کا مالک کھڑکی سے باہر کود رہا ہے۔”

شاکر نے راہ گیر کا ہاتھ پکڑ لیا اور منت بھرے لہجے میں بولا: "کیا تم بتا سکتے ہو کہ وہ کرتی کس کے پاس ہے؟”

راہ گیر بولا: "ایک لڑکا اس کرتی کو اٹھا کر جنگل کی طرف بھاگا تھا۔”

شاکر بولا: "اگر تم مجھے اس لڑکے کے پاس لے چلو، تو میں تمھیں بہت انعام دوں گا۔”

راہ گیر بولا: "تم اس راستے پر چلتے رہو۔ جہاں یہ ختم ہو جائے، وہاں ایک گھر ہے۔ شاید تمھاری کرتی کے متعلق کچھ خبر مل جائے۔”

شاکر نے اپنا بٹوا اسے انعام میں دے دیا اور راہ گیر کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے لگا۔ وہ جنگل میں داخل ہو گیا۔ رات ہو گئی تھی۔ اندھیرے میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا، دور ایک جگہ آگ جل رہی تھی، وہ اسی سمت بڑھتا رہا۔ آخر وہ ایک مکان کے پاس جا پہنچا۔ مکان کا دروازہ ادھ کھلا تھا۔ اس نے اندر جھانک کر دیکھا۔ وہاں اس کا بھائی فضل خاں (فضلو) سو رہا تھا۔ اس کے سرہانے وہی کرتی رکھی ہوئی تھی۔ اس کے قریب ہی ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ شاکر سمجھ گیا کہ یہ فضل کی بیوی ہے۔

وہ دستک دے کر مکان میں داخل ہوا اور دھیمی آواز سے سلام کیا۔ شاکر کی بھاوج نے اسے نہیں پہچانا۔ اس نے بہت اخلاق سے اسے خوش آمدید کہا۔ وہ بولی: "بھائی صاحب! دھیمی آواز میں گفتگو کیجیئے۔ میرے شوہر ابھی سوئے ہیں۔”

شاکر نے کہا: "بی بی! میں راستے سے بھٹک کر آ نکلا ہوں۔ میں دراصل بادشاہ کے دربار میں ملازم ہوں۔”

عورت نے پوچھا: "اچھا یہ تو بتائیے کہ دربار کا کیا حال ہے؟ بہت دن پہلے میں بھی وہاں جانے کے خواب دیکھا کرتی تھی، لیکن اب میں اپنے اس احمقانہ خیال پر ہنستی ہوں۔”

شاکر نے پوچھا: "آپ وہاں کیوں جانا چاہتی تھیں؟”

عورت نے کہا: "میرے شوہر کا بھائی دربار میں ملازم میں ہے۔ ہم بھی اپنی قسمت آزمانے نکلے تھے۔ لیکن ایک بڑھیا نے ہمیں نشہ آور شربت پلا کر بیہوش کر دیا اور ہمارا سب کچھ چھین کر لے گئی۔ جاتے وقت یہ پرانی سی کرتی یہاں پھینک گئی ہے۔”

شاکر نے اپنا قیمتی کوٹ اتار کر رکھ دیا اور بولا: "بی بی! میرا خیال ہے کہ آپ کا شوہر اس پرانی کرتی کی جگہ اس قیمتی کوٹ کو ضرور پسند کرے گا۔”

عورت نے اپنے شوہر کو جھنجوڑ کر بیدار کیا اور بولی: "دیکھو تو سہی، میں نے کیسا عمدہ سودا کیا ہے؟”

فضل خاں نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ اس کے سامنے اس کا بھائی شاکر کھڑا ہوا مسکرا رہا تھا۔ فضل نے آگے بڑھ کر اپنے بھائی کو گلے لگایا اور کہا: "بھائی! تم ٹھیک تو ہو؟ تم نے دربار میں کیا کچھ دیکھا؟ وہاں کتنی ترقی پائی؟”

شاکر بولا: "بھائی دربار کا عروج بھی دیکھا اور زوال بھی۔ سچ پوچھو تو ان ہنگاموں سے میرا دل بھر چکا ہے۔ اب تو دل چاہتا ہے کہ اپنی جھونپڑی میں سکون اور آرام سے رہوں۔”

فضل اور اس کی بیوی بھی گاؤں واپس چلنے پر رضامند ہو گئے۔ دونوں بھائیوں نے ایک بار پھر ہی اپنا کام سنبھال لیا۔

کوئل اب بھی ہر سال موسم بہار شروع ہوتے ہی ان سے ملنے آتی ہے۔ اب وہ ان دونوں کے لیے زیتون کے پتے لاتی ہے۔

٭٭٭

ٹائپنگ: مقدس، رکن اردو محفل

پروف ریڈنگ : فہیم اسلم، اعجاز عبید

 

 

 

 

اصلی جادو

 

 

 

چینی جادوگر ہوانگ ہو اپنے کمالات دکھانے کے لیے آ رہا تھا۔ اسکول کے سب بچے بہت بےچینی سے اس کے آنے کا انتظار کر رہے تھے ۔ آخر وہ دن آ پہنچا جس کا سب بچوں کو بڑی شدت سے انتظار تھا۔

مس عابدہ نے کہا: "میں کل سب بچوں کو دوپہر کے بعد ٹاؤن ہال لے جاؤں گی۔ جو بچے جادو کا شو دیکھنا چاہتے ہیں وہ دو دو روپے دے کر ٹکٹ خرید لیں۔”

سب بچوں نے ٹکٹ خرید لیے ۔ صرف فرحانہ اور عادل رہ گئے۔ مس عابدہ سمجھیں کہ ان بچوں نے کوئی شرارت کی ہو گئی، اس لیے ان کی ماں نے سزا کے طور پر انھیں جادو تماشے میں جانے سے روک دیا ہے۔

عادل اور فرحانہ نے اپنی دادی سے میجک شو (جادو تماشے) میں جانے کی اجازت مانگی تو دادی نے کہا: "بیٹا! تمھارے ابو شہر کے بڑے ہسپتال میں داخل ہیں۔ میں ان کے علاج کے لیے سب روپے پیسے بھیج چکی ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ عید کے دن پہننے کے لیے میں تمھارے لیے نئے کپڑے بھی نہ سلوا سکوں۔” دونوں بچے بہت رنجیدہ ہوئے، لیکن منھ سے کچھ نہیں بولے۔

مس عابدہ نے کہا: "کل دوپہر کو سب بچے اسکول کے برآمدے میں جمع ہو جائیں۔ میں انھیں ساتھ لے کر ٹاؤن ہال جاؤں گی۔ جو بچے جانا نہیں چاہتے۔ انھیں اسکول آنے کی ضرورت نہیں۔ کل ان کی چھٹی ہے۔” فرحانہ اور عادل کا دل تو چاہ رہا تھا کہ وہ بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ میجک شو (جادو کا تماشا) دیکھتے، لیکن مجبوری آڑے آ گئی۔

اگلی صبح دادی جان نے انھیں اسکول جانے کے لیے کہا اور بولیں: "بچو! جلدی سے اٹھ کر منھ ہاتھ دھو کر کنگھا کرو اور اسکول جانے کی تیاری کرو۔”

عادل کروٹ بدل کر بولو: "دادی جان! آج اسکول کی چھٹی ہے۔”

دادی جان حیرت سے بولیں: "وہ کیوں بھلا؟”

عادل نے کہا: "میں نے بتایا تو تھا کہ چینی جادوگر اپنے کمالات دکھانے کے لیے آ رہا ہے ۔ آج سب بچے میجک شو دیکھنے جائیں گے۔”

دادی کو اس بات کا بےحد دکھ تھا کہ دونوں بچے اپنے دوستوں کے ساتھ جادو کا شو دیکھنے سے رہ گئے۔ دادی نے اپنے بٹوے کو ٹٹولا۔ اس میں مشکل سے دو یا ڈھائی روپے باقی رہ گئے تھے۔ وہ بولیں: "میں تمھیں جادو کا شو دیکھنے کے لیے پیسے نہ دے سکی۔ یہ تھوڑے سے پیسے باقی رہ گئے ہیں۔ تم ایک روپیہ لے جاؤ اور اسٹیشن پر سے چاکلیٹ لے کر کھالو۔”

دونوں بچے بےحد نیک اور فرمانبردار تھے۔ انھوں نے دادی کا کہنا مان لیا اور اسٹیشن پر چاکلیٹ خریدنے چلے گئے۔ جب وہ چاکلیٹ لے چکے تو اسی وقت ریل گاڑی کے انجن کی سیٹی سنائی دی۔ وہ ریل کے آنے تک وہاں ٹھہر گئے۔ تھوڑی دیر میں ریل گاڑی چھک چھک کرتی ہوئی آ گئی، ریل کے انجن سے کالے دھویں کا بادل سا نکل رہا تھا۔

وہ ایک چھوٹا سا اسٹیشن تھا۔ بہت کم لوگ وہاں آتے جاتے تھے۔ اس دن اتفاق سے صرف ایک ہی آدمی ریل گاڑی سے اترا۔ وہ لمبے قد کا دبلا پتلا آدمی تھا۔ اس نے سیاہ رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا اور اس پر ہرے رنگ کی چادر لپیٹ رکھی تھی۔ اس نے کچھ ڈبے، سوٹ کیس اور تھیلے بھی ریل سے اتارے۔ وہ تانگے یا کسی ٹیکسی کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھنے لگا، لیکن وہاں تو دور دور تک ٹیکسی یا تانگے کا نام و نشان نظر نہیں آتا تھا۔

بےچارہ مسافر یہ صورت حال دیکھ کر بے حد پریشان ہوا۔ اس نے دونوں بچوں سے اس بارے میں پوچھا تو عادل بولا: جناب! یہاں تانگا یا ٹیکسی وغیرہ نہیں ملتے۔ قلی بھی آج کل بیمار ہے۔”

اجنبی مسافر بولا: "یہاں کھڑے رہ کر وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ میں خود ہی یہ سامان اٹھا کر لے چلتا ہوں۔”

اس نے دونوں سوٹ کیس سر پر رکھے، ڈبے اور تھیلے بغل میں دبائے اور چل پڑا۔ دونوں بچے اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔ وہ مسافر تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ اچانک ایک تھیلا اس کی بغل سے نکل کر گر پڑا۔ وہ جھک کر اسے اٹھانے لگا تو سر پر رکھے ہوئے سوٹ کیس بھی گر پڑے۔ تھیلے میں رکھی ہوئی چیزیں سڑک پر بکھر گئیں۔ بے چارے مسافر کا برا حال تھا۔ وہ جلدی جلدی تمام چیزوں کو اکٹھا کرنے لگا۔ اس نے سب چیزوں کو سمیٹا، سوٹ کیس دوبارہ سر پر رکھے اور ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ دونوں تھیلے پھر زمین پر گر پڑے۔ مسافر سر پکڑ کر رہ گیا۔

دونوں بھائی بہن کو اس پر بہت ترس آیا۔ فرحانہ بولی: "ہمیں اس شخص کی مدد کرنی چاہیے، دادی جان بھی تو یہی نصیحت کرتی ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو ہمیں دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔”

دونوں بچے اس اجنبی کے پاس پہنچے۔ عادل نے بڑی تمیز سے پوچھا: "کیا ہم آپ کی مدد کر سکتے ہیں؟ اگر آپ پسند کریں تو ہم یہ سامان اس جگہ پہنچا آئیں جہاں آپ کو جانا ہے۔”

اجنبی مسافر بولا: "ہاں بھئی، مجھے تمھاری مدد کی سخت ضرورت ہے۔ اگر میں یوں ہی چیزیں گرا گرا کر جمع کرتا رہا تو مجھے تو شام ہو جائے گی۔” اس نے فرحانہ کو ایک تھیلا اور ڈبا دیا ۔ دو ڈبے اور ایک تھیلا عادل کو دیا۔ باقی سامان خود اٹھایا۔ پھر وہ تینوں وہاں سے چل دیے۔

اجنبی شخص نے کہا: "میرا خیال ہے کہ ہمیں کافی دور تک چلنا پڑے گا۔ پیارے بچو! تم تھک تو نہیں جاؤ گے؟”

عاد بولا: "جی نہیں، یہ سامان زیادہ بھاری نہیں ہے۔”

مسافر نے پوچھا: ” تم آج اسکول کیوں نہیں گئے؟”

عادل بولا: "آج ہمارے اسکول میں چھٹی ہے۔ سب بچے چینی جادوگر ہوانگ ہو کے کمالات دیکھنے جائیں گے۔”

اس شخص نے پوچھا: "تم دونوں کیوں نہیں گئے؟”

عادل نے کہا: "ہمارے ابو بیمار ہیں۔ وہ شہر کے بڑے ہسپتال میں داخل ہیں۔ دادی جان نے سارے روپے پیسے ان کے علاج کے لیے بھیج دیے ہیں، اس لیے ہم جادوگر کے کمالات دیکھنے کے بجائے ادھر آ گئے۔ "وہ باتیں کرتے کرتے ٹاؤن ہال تک پہنچ گئے۔ دروازے پر بچوں کا ہجوم تھا، جو ٹکٹ دکھا کر ہال کے اندر داخل ہو رہے تھے۔

اجنبی مسافر بولا: "یہ لو، ہم اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ مجھے اندر جانا ہے۔ تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں؟ میں ہی چینی جادوگر ہوانگ ہو ہوں۔”

دونوں بچے ایک آواز ہو کر بولے: "کیا آپ سچ مچ جادوگر ہوانگ ہو ہو؟”

وہ بولا: "ہاں بھئی، میں سچ مچ جادوگر ہوانگ ہو ہوں۔ اچھا بھئی، اب یہ ڈبے اور تھیلے مجھے دے دو، مگر تم کہیں چلے مت جانا۔”

جادوگر تھیلے اور ڈبے وغیرہ لے کر ٹاؤن ہال کے اندر چلا گیا۔ فرحانہ بولی: "ہمیں ٹھہرنا نہیں چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ جادوگر واپس آ کر ہمیں کچھ انعام دے۔ تم جانتے ہو دادی جان نے کیا کہا تھا؟ انھوں نے کہا تھا کہ ہمیں نیکی کر کے اس کا بدلا نہیں لینا چاہیے، ورنہ نیکی کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔”

عادل بولا: ” ہاں، مجھے دادی کی نصیحت یاد ہے۔ اب تم جلدی سے چل دو۔ ہم گھر جا کر دادی جان کو بتائیں گے کہ اگر ہم نے جادو کا تماشا نہ دیکھا تو کیا ہوا، ہم نے جادوگر کر تو دیکھ ہی لیا ہے نا۔”

وہ گھر کی طرف دوڑے۔ جادوگر ہوانگ ہو اتنی دیر میں ٹاؤن ہال سے باہر آ گیا تھا۔ اس نے دونوں بچوں کو بہت آوازیں دیں ، لیکن شور و غل میں اس کی آواز دب کر رہ گئی۔ جادوگر ان بچوں کے لیے جادو کے شو کے دو ٹکٹ لایا تھا۔ اگر وہ کچھ دیر اور ٹھہر جاتے تو وہ بھی دوسرے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر جادو کے کمالات دیکھتے۔

عادل اور فرحانہ گھر پہنچے تو ان کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے۔ انھوں نے پورا واقعہ اپنی دادی کو سنایا کہ کس طرح انھوں نے اہن اجنبی شخص کی مدد کی اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ جادوگر ہوانگ ہو ہے۔ دادی بہت دلچسپی اور توجہ سے ان کی باتیں سنتی رہیں۔ نیک کام کرنے پر انھوں نے بچوں کو شاباشی دی۔

اگلے دن جمعہ تھا۔ اسکول کی چھٹی تھی۔ دادی جان نے میز پر ناشتہ لگایا۔ دونوں بچے منھ ہاتھ دھو کر ناشتہ کرنے میں مشغول ہو گئے۔ اس وقت دروازے پر زوردار دستک کی آواز سنائی دی۔ دادی نے دروازہ کھولا۔ وہاں ایک اجنبی شخص کو کھڑے ہوئے دیکھ کر دادی ٹھٹک گئیں۔

وہ شخص بولا: "اماں جی! میرا نام ہوانگ ہو ہے۔ میں آپ کے بچوں کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔ اگر انھوں نے کل میری مدد نہ کی ہوتی تو میں جادو کے کمالات نہ دکھا پاتا۔”

فرحانہ اور عادل بھی وہاں آ گئے۔ فرحانہ نے پوچھا: "آپ یہاں تک کیسے پہنچے؟”

جادوگر مسکرا کر بولا: "بہت آسانی سے۔ میں نے اسکول کے ہیڈ ماسٹر سے تمھارا پتہ معلوم کیا اور پھر پوچھتا پوچھتا تمھارے گھر تک پہنچ گیا۔”

پھر وہ دونوں بچوں سے بولا: "عزیز بچو” ادھر آؤ۔ میں تمھارا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔”

فرحانہ بولی: "جو کچھ ہم نے کیا وہ ہمارا فرض تھا۔ آپ ہمیں شرمندہ نہ کیجیے انکل!”

جادوگر بولا: "میں نے تمھیں ٹاؤن ہال کے دروازے پر انتظار کرنے کے لیے کہا تھا، لیکن تم میرا انتظار کیے بغیر چل دیے؟”

فرحانہ بولی: "ہم سمجھے کہ آپ ہمیں کچھ انعام دینا چاہتے ہیں۔”

عادل جلدی سے بولا: "دادی جان کہتی ہیں کہ نیکی کر کے اس کا معاوضہ وصول نہیں کرنا چاہیے۔”

چینی جادوگر ہنس کر بولا: "اماں جی! آپ نے بچوں کی بہت اچھی تربیت کی ہے۔”

دادی بولیں: "بیٹا! ذرا دیر کے لیے اندر آ جاؤ۔ ناشتہ تیار ہے۔ تم ہمارے ساتھ چائے پی کر جانا۔”

جادوگر بولا: "مجھے آپ کے ساتھ چائے پی کر بے حد خوشی ہو گی۔”

چینی جادوگر بھی ان کے ساتھ ناشتے میں شریک ہو گیا۔ اس نے اپنے سر سے ہیٹ اتارا اور بولا : "کیک حاضر ہے۔” یہ کہہ کر اس نے ہیٹ میں ہاتھ ڈالا اور ایک بڑا سا کیک نکال کر میز پر رکھ دیا۔ پھر اس نے ہیٹ میں ہاتھ ڈال کر چار گرما گرم سموسے نکال کر پلیٹ میں رکھ دیے۔ بچے یہ کمال دیکھ کر ہنس دیے۔ پتا نہیں کس طرح اتنا بڑا کیک اور چار سموسے ہیٹ سے نکلے۔

جلد ہی وہ لوگ ایک مزے دار کیک اور گرما گرم سموسوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ فرحانہ نے اپنی پلیٹ میں ایک سموسا رکھا تھا، مگر جب وہ اسے اٹھانے لگی تو نہ جانے کس طرح ایک کے دو سموسے بن گئے۔ عادل نے خالی کپ دادی جان کی طرف بڑھایا اور اسے دوبارہ بھرنے کے لیے کہا: "دادی جان ہنس کر بولیں: "یہ تو اوپر تک بھرا ہوا ہے۔”

عادل حیرانی سے بولا: "مگر میں نے تو چائے کا آخری قطرہ تک پی لیا تھا۔”

فرحانہ کی نظر میز پر رکھے ہوئے شیشے کے جگ پر پڑی۔ وہ چیخ کر بولی: "اماں جی! دیکھیے تو جگ میں ایک چھوٹی سی سنہری مچھلی تیر رہی ہے۔”

ہوانگ ہو تو بہت کمال کا جادوگر نکلا۔

چینی دان کے ڈھکن سے باہر ایک ٹشو پیپر لٹک رہا تھا۔ عادل نے جب اسے کھینچا تو وہ کھنچتا ہی چلا گیا۔ پہلے لال رنگ کا ٹشو نکلا۔ پھر نیلے رنگ کا، پھر اودے رنگ کا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چینی دان میں اتنے بہت سے ٹشو سما سکتے ہیں۔

جب عادل دوبارہ کرسی پر بیٹھا تو کوئی نرم نرم سی چیز اس کے نیچے چیں چیں کرنے لگی۔ عادل گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ ایک سفید رنگ کا لال لال آنکھوں والا خرگوش تھا۔ عادل حیران رہ گیا۔ اس نے خرگوش کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ دادی جان چائے دانی سے پیالی میں چائے انڈیلنے لگیں۔ اچانک ہی چائے شربت میں تبدیل ہو گئی۔ دادی جاں حیرانی سے بولیں: "تم یہ سب کیسے کر لیتے ہو؟”

جادوگر نے کہا: "بہت آسانی سے۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ بس ذرا سی مشق اور مہارت کی ضرورت ہے۔ میرا خیال ہے کہ صبح ناشتے میں آپ چائے پینا پسند کرتی ہیں۔ اب ذرا دوسری پیالی میں چائے دانی انڈیل کر دیکھیے۔”

جب دادی نے اسے دوسری پیالی میں انڈیلا تو چائے دانی میں سے پھر چائے نکلنے لگی۔

عادل نے شربت کا گھونٹ بھرا اور خوش ہو کر بولا: "واہ! یہ تو بہت مزے دار شربت ہے۔”

فرحانہ بولی: "آپ یہ سب کیسے کر لیتے ہیں؟”

چینی جادوگر بولا: "بہت آسانی سے۔ میں نے مشق کر کے اتنی مہارت حاصل کر لی ہے کہ میں تمھاری نظروں کے سامنے کسی بھی چیز کو چھپا سکتا ہوں اور چھپائی ہوئی چیزوں کو نکال کر تمھارے سامنے پیش کر سکتا ہوں۔”

چینی جادوگر نے ایک شیشے کا گولا دکھاتے ہوئے کہا: "یہ لو میں اسے غائب کر رہا ہوں۔ ایک دو تین۔ دیکھا! گولا غائب ہو گیا۔۔ گولا غائب نہیں ہوا بلکہ میں نے پھرتی سے اسے اپنی جیب میں ڈال لیا ہے۔ اور یہ لو، گولا پھر حاضر ہے۔ یہ میں نے اسی تیزی سے جیب سے نکال کر تمھارے سامنے پیش کر دیا ۔”

دادی جان اور دونوں بچے بہت دل چسپی سے چینی جادوگر کی باتیں سن رہے تھے۔ عادل بولا: ” انکل! کیا آپ ہمیں جادو سکھائیں گے؟”

چینی جادوگر ہنس کر بولا: "اصل جادو میٹھے بول ہیں۔ تم اپنے اچھے اخلاق سے لوگوں کا جیت لو۔ پھر تم جہاں بھی جاؤ گے لوگ تمھاری نیکی اور شرافت کی تعریف کریں گے۔”

دونوں بچے جادوگر کی باتوں سے بےحد متاثر ہوئے۔

جادوگر بولا: "نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ تم نے میرے ساتھ نیکی کی۔ میں اس کا جواب دینے کے لیے خود چل کر تمھارے پاس پہنچا ہوں۔”

عادل بولا: "آپ ہمیں کوئی اور کمال دکھائیں گے؟”

چینی جادوگر بولا: "اچھا بھئی! اب تم اپنی آنکھیں بند کر لو۔ میں دس تک گنتی گنتا ہوں، اماں جی! آپ بھی اپنی آنکھیں بند کر لیجیے۔”

بچوں نے آنکھیں بند کر لیں۔ جادوگر ان کے سامنے بیٹھا تھا۔ وہ گنتی گننے لگا۔ جوں ہی اس نے دس کہا، انھوں نے آنکھیں کھول دیں جادوگر بولا: "ذرا اپنے کمروں میں جا کر تکیوں کے نیچے تو دیکھو کہ وہاں کیا رکھا ہے؟”

دونوں بچے دوڑتے ہوئے اپنے کمرے میں پہنچے۔ جادوگر ہوانگ ہو نے اپنا سامان سمیٹا اور جانے کی تیاری کرنے لگا۔ اتنے میں دونوں بچے دوڑتے ہوئے آئے۔ ان کے ہاتھوں میں دو بند لفافے تھے۔

جادوگر بولا: "یہ لفافے تم میرے جانے کے بعد کھولنا۔” پھر اس نے دونوں بچوں کو پیار کیا۔ دادی جان کو سلام کیا اور وہاں سے رخصت ہو گیا۔

دونوں بچے حیرانی سے بولے: "دادی جان! یہ لفافے اس نے ہمارے تکیوں کے نیچے کب رکھے؟ وہ تو ہمارے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔”

دادی جان کے پاس بھی اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔

عادل بولا: "ہوانگ ہو واقعی اصل جادوگر تھا۔ جادو کے بغیر وہ ایسا کام کر ہی نہیں سکتا۔”

فرحانہ بولی: "ان لفافوں کو کھول کر دیکھنا چاہیے کہ ان میں کیا ہے؟”

دادی نے لفافے کھولے۔ ان میں سو سو کے کئی نوٹ رکھے ہوئے تھے اور ایک کاغذ پر ٹیڑھے میڑھے حروف میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ فرحانہ نے اونچی آواز میں پڑھا۔ لکھا تھا: "میٹھے بول میں جادو ہے۔”

٭٭٭

ٹائپنگ : مقدس، رکن اردو محفل؛ پروف ریڈنگ: فہیم اسلم، اعجاز عبید؛ ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭