ڈاؤن لوڈ کریں
مکمل کتاب پڑھیں…..
جھوٹن
اور دوسرے افسانے
واجدہ تبسم
ترتیب و تدوین: اعجاز عبید
زکوٰۃ
چاند آسمان پر نہیں نیچے زمین پر جگمگا رہا تھا! نواب زین یار جنگ کے برسوں پہلے کسی شادی کی محفل میں ڈھولک پر گاتی ہوئی میراثنوں کے وہ بول یاد آ گئے:
کیسے پاگل یہ دنیا کے لوگاں ماں۔
چھت پو کائے کو تو جاتے یہ لوگاں ماں۔
آنکھاں کھلے رکھو تاکا جھانکی نکو۔
اپنے آنگن کو دیکھو ماں …. چندا سجا کیسے پاگل
واقعی وہ پاگل ہی تو تھے۔ اب یہ پاگل پن نہیں تو اور کیا تھا کہ اتنے زمانے سے اس حویلی میں رہ رہے تھے اور اب تک یہی معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ چاند آسمان پر ہی نہیں زمین پر بھی چمک سکتا ہے۔
عید کی آمد آمد تھی…. کل بھی ساری حویلی کے لوگ چاند دیکھنے کے لئے چھت پر چڑھے تھے…. نواب صاحب کی کچھ تو عمر بھی ایسی تھی، کچھ عید کی خوشی بھی انہیں نہ ہوتی تھی کہ روزے نمازوں سے وہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے معافی لکھوا کے لائے تھے۔ عید کے چاند کی اصل خوشی تو ان روز داروں کو ہوتی ہے جو رمضان بھر کے پورے روزے رکھتے ہیں۔ وہ چھت پر جاتے بھی تو کیوں؟ لیکن آج سب نے ہی ضد کی…. یہاں تک کہ حویلی کے مولوی صاحب نے بھی کہا، ’’مبارک مہینوں کی پہلی کا چاند دیکھنے سے بینائی بڑھتی ہے اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔ ‘‘ تو وہ برکتوں کے نزول سے زیادہ بینائی بڑھانے کے لالچ میں اوپر چلے آئے، کیوں کہ آج کل وہ واقعی آنکھوں کی کمزوری کا شکار ہو رہے تھے…. عمر تو یہی کوئی چالیس بیالیس کے قریب تھی، وہ منزل ابھی نہیں آئی تھی کہ ان پر ساٹھے پاٹھے کا اطلاق ہونے لگتا۔ لیکن جوانی کو وہ شروع جوانی سے ہی یوں دل کھول کر لٹاتے آرہے تھے کہ اکثر اعضاء کس بل کھو چکے تھے۔ وہ اپنے حسابوں وہ ابھی تک خود کو بڑا دھاکڑ جوان سمجھتے تھے۔ لیکن خواب گاہ سے نکلنے والی طرار اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پی ہوئی خواصیں دوپٹوں میں منہ چھپا چھپا کر ہنس ہنس کر ایک دوسری کو راتوں کی واردات سناتیں تو دبے چھپے الفاظ میں ان کی جوانی کا پول بھی کھول کر رکھ دیتیں۔
’’اجاڑ پتہ اچ نئیں چلا کی رات کدھر گزر گئی….‘‘
’’کیوں؟‘‘ کوئی دوسری پوچھتی ’’اتے لاڈاں ہوئے کیا؟‘‘
’’لاڈاں؟‘‘ وہ ہنس کر کہتی، ’’اگے جو جاکو سوئی تو بس سوتی اچ رہی…. اجاڑ دم ہی کیا ہے بول کے انوں میں۔ ‘‘
کوئی یوں ہی سر جھاڑ منہ پہاڑ گھومتی تو دوسری ٹھیلتی، ’’اگے غسل نئیں کری کیا میں ابھی حمام میں گئی تھی تو پانی گرم کا گرم ویساچ رکھے وا ہے۔ ‘‘
وہ الجھ کر بولتی، ’’باوا ہور بھایاں بن کے کوئی مرد سوئیں گا تو کائے کا غسل اور کائے کی پاکی؟‘‘
لیکن ان تمام باتوں سے نواب صاحب کی جوانی پر کوئی حرف نہیں آتا تھا۔ آخر حکیم صاحب کس مرض کی دوا تھے؟ اور پھر حکیم صاحب کا کہنا یہ بھی تھا کہ ’’قبلہ آپ زیادہ سے زیادہ نوخیز چھریاں حاصل کرنا۔ ایسا کرے اچ تو اچ آپ کو زیادہ خوت ملتی ہور آپ زیادہ دناں جوان رہتے۔ ‘‘
لیکن اس وقت نواب صاحب کا چھت چاندنی پر جانا قطعی کسی بری نیت سے نہ تھا۔ وہ تو واقعی عید کا چاند دیکھنے کے لئے اوپر چڑھے تھے۔ چاند واند تو انہیں کیا نظر آتا، جس نے بھی جدھر انگلی اٹھا دی، ہوہو…. جی ہو…. جی ہو۔ ‘‘ کر کے ادھر ہی نظر جما دی۔ لیکن اچانک اپنی بلند بانگ حویلی کی آخری اور اونچی چھت پر سے ان کی نظر پھسلی اور نیچے کے غریبانہ ملگی (جھونپڑی) کے آنگن میں ٹھہر گئی…. آنکھیں کمزور تھیں ضرور، پہلی کا چاند یقیناً نہیں دیکھ سکتی تھیں، لیکن چودھویں کا چمچماتا چاند سامنے ہو تو کمزور بینائی والی آنکھیں خود بھی جگمگانے لگتی ہیں۔
’’کیسے پاگل تھے ہمیں …. اتنے دناں ہو گئے ہور یہ بھی نئیں معلوم کرے کی ایں پڑوس کیسا ہے اپنا۔ ‘‘
دیوان جی سامنے ہی کھڑے ہاتھ مل رہے تھے۔
’’آپ تو کبھی ہم نا بولنا تھا کی پڑوس میں خیامت ہے۔ ‘‘
’’جی….جی….وہ….وہ سرکار میں نے کبھی غور نئیں کرا۔ ‘‘
’’آپ کو غور کرنے کی ضرورت بھی نئیں، بس آپ کیسا تو بھی کر کے، وہ لڑکی حاضر کر دینا۔ فخط اتاچ کام ہے آپ کا۔ ‘‘
دیوان جی پلٹے تو انہوں نے پاس والی دراز کھولی اور کھنکھناتے کل دار حالی روپوں سے بھرا بٹوا اچھال کر دیوان جی کے پیروں میں پھینکا۔
’’ہم مفت میں کوئی چیز نہیں لیتے۔ وہ چھوکری اگر چوں چرا کری، یا ماں باپ اگر مگر کرے تو یہ روپے پکڑا دینا…. ان لوگاں زندگی پھر کھائیں گے تو بھی اتے روپے ختم نئیں ہوئیں گے۔ ‘‘
لیکن دوسرے ہی دن دیوان جی پھر اسی طرح کھڑے تھے۔ ہاتھ ملتے ہوئے خالی روپیوں کا توڑا انہوں نے ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔
’’سرکار….‘‘ ان کی زبان ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی، ’’انے….انے….‘‘
’’یہ انے انے کیا کر رے آپ؟‘‘ سرکار الجھ کر بولے، ’’جو بات ہے، صاف بولتے۔ ہوا کیا نئیں کچھ؟‘‘
’’سرکار وہ لوگاں بہوت ہی بہوت شریف لوگاں نکلے۔ بولنے لگے، روپے پیسے میں بیٹیاں کیسا بیچتے۔ ہم شریف نمازی اللہ والے لوگاں ہیں۔ ہماری بیٹی کو ہم اللہ رسول کے بنائے خانون کے مطابخ عخد خوانی کر کے وداع کریں گے۔ ہور…. ہور…. سرکار اتا وزنی توڑا اٹھا کے انوں میرے مونہہ پو پھینک مارے۔ ‘‘
نواب صاحب دانت پیس کر بولے، ’’تو آپ انسان کی اولاد بولتا تھا نئیں کی ایسا ہے تو عخد میں دے دیو؟‘‘
دیوان جی لرز گئے…. نواب صاحب انتہائی غصے کی حالت میں ہی نہیں بجائے گالی دینے کے انسان کی اولاد کہا کرتے تھے جو ہزار گالیوں سے بدتر گالی تھی۔
’’بولا سرکار۔ ‘‘
’’پھر ان لوگاں کیا بولے؟‘‘
’’بولے…. بولے سرکار کی عمر بہت ہوتی، ہماری بچی کچی عمر کی ہے۔ ‘‘
اس وقت دیوان جی کے مونہہ سے ’’کچی عمر‘‘ سن کر نواب صاحب کے انگ انگ میں خون بول اٹھا۔ ذرا بھنا کر بولے، ’’ہم نا زیادہ عمر کے دکھتے جی؟‘‘
’’نئیں سرکار۔ ‘‘ دیوان جی چاپلوسی سے بولے، ’’ایسی بھی کیا عمر ہوئیں گی آپ کی۔ ایسے ایسے تو کتے پوٹیاں آپ….‘‘ پھر وہ ادب تہذیب کا خیال کر کے چپ ہو گئے، لیکن نواب صاحب کی باچھیں کھل گئیں، وہ مسکرائے:
’’ووئی اچ تو ہم بھی کہہ رہے تھے….‘‘ اچانک وہ پھر سنجیدہ ہو گئے ’’مگر وہ چھوکری کیسا تو بھی ہم کو ملنا۔ ‘‘
’’آپ عخل والے ہیں، سرکار آپ سوچو، ہم غریب کم عخل لوگاں …. آپ جیسا حکم دئے ویساچ بجا لائے…. بس….‘‘
’’یہ پتہ چلاؤ آپ کی گھر میں کتے لوگاں ہیں….‘‘
’’وہ میں چلا لیا سرکار….‘‘ دیوان جی جلدی سے بولے، ’’ماں ہے، بیمار باپ ہے…. چل پھر نئیں سکتی، سو دادی ہے۔ ہور تین چار چھوٹے چھوٹے بھایاں بہناں ہیں …. یہ اجالا اچ سب سے بڑی ہے۔ ‘‘
نواب صاحب کا ذہن جیسے روشن ہو گیا۔ اجالا…. اتا خوب صورت نام! بے تابی سے بولے، ’’جیسا مونہہ ویسا اچ نام۔ ‘‘
’’جی ہو سرکار، سچ مچ اجالا اچ ہے۔ ہندہارے (اندھیرے) میں بھی بیٹھے سو اجالا ہو جاتا….‘‘
’’آپ چپ اس کے تعریفاں نکو کرو جی‘‘ نواب صاحب جل کر بولے، ’’آپ اب یہ کرو کی ان لوگاں کو جاکو بولو کی نواب صاحب آس پاس کے پورے گلیاں توڑ کو پکا احاطہ بنوا رئیں۔ بول کو یہ جگہ کل شام تک اچ خالی کر دینا۔ ‘‘
دیوان جی خوش ہو کر بولے، ’’جی ہو سرکار! بہت اچھی بات سوچے آپ…. اتنا بڑا کنبہ لے کو نکل کو کہاں جائیں گے بد بختاں …. جھکنا پڑے گا۔ ‘‘
عید کے دن روتے دھوتے میاں بیوی سرکار کے حضور میں پیش ہوئے۔
’’حضور…. سرکار…. آپ کے خدموں میں زندگی کٹ گئی۔ اب کدھر جانا؟ بڈھی ماں ہے، اٹھ کو اپنے آپ سے بیٹھ بھی نئیں سکتی۔ یہ مرد میرا کب سے دخ کا بیمار ہے۔ چھوٹے چھوٹے بال بچے۔ ایچ بولو سرکار۔ کاں جانا….‘‘ سکینہ بی رو رو کر کہنے لگی۔
’’ہمارے حویلی کے نوکر خانے میں بہوت جگہ ہے، یہاں آ جاتے۔ ‘‘ نواب صاحب نرمی سے بولے۔
اپنے بیمار شوہر پر نظر پڑتے ہی اس کا حوصلہ جواب دے گیا۔
’’احسان ہے سرکار کا…. سچی بولتی ساری رعیت کی حضور بڑی دیوال ہئیں۔ ‘‘
اور یہ حقیقت بھی تھی کہ نواب زین یار جنگ سے بڑا دل والا ان سے زیادہ سخی، ان سے زیادہ دیوال، کوئی نواب حیدر آباد نے پیدا نہیں کیا…. لینے سے انہیں سخت چڑ تھی۔ خود اپنے رشتہ داروں، عزیزوں سے بھی زندگی میں کبھی ایک پائی کا تحفہ قبول نہیں کیا۔ سدا ہاتھ اٹھا ہوا ہی رہا تھا، لیکن صرف دینے کے لئے۔ دینے میں تو اس حد تک پہنچے ہوئے تھے کہ ان کی ہاتھوں سے کتنی ہی قیمتی چیز کیوں نہ گر جاتی، کبھی جھک کر اٹھاتے بھی نہ تھے…. ملازموں سے اٹھواتے اور پھر ان ہی کو بخش بھی دیتے۔
سوداگروں کا ایک خاندان حیدرآباد میں مدتوں راج کرتا رہا۔ اتنی دولت سوداگروں کے خاندان میں آئی کہاں سے؟ ہوا یہ تھا کہ ایک بار ان ہی نواب صاحب کے ہاتھوں سے بچپن میں سونے کی جگر مگر اشرفیوں سے بھری تھیلی چھوٹ کر زمین پر گری۔ سخاوت تو بچپن سے ہی گھول کر پلائی گئی تھی۔ جھکنا بھی کبھی نہ جانا تھا۔ ملازم کو بلایا اور اس نے تھیلی اٹھا کر دینا چاہی تو غصے سے بولے، ’’گرا ہوا مال ہم نا دیتا ہے نا مخول…. نکل جا ابھی حویلی سے، ہور یہ تھیلی بھی لیتا جا۔ ‘‘
تھیلی کے ساتھ جیسے اس کی خوش بختی بھی لگی تھی…. بعد میں کہتے ہیں اس نے کوئی کاروبار کیا اور خود بھی بڑے بڑے نوابوں کی طرح رہا جیا…. سوچو بچپن سے ایسا تھا، بڑا ہو کر کیا نہ بنتا کہ بچپن کی عادتیں ہی بڑے ہو کر پختہ اور راسخ بنتی ہیں۔
حویلی کا نوکر خانہ محض نام کا ہی نوکر خانہ تھا۔ اچھے اچھوں سے اعلیٰ رہائش مصیبت کے ماروں کو نصیب ہو گئی۔ دل میں ایک وسوسہ ضرور تھا کہ اللہ جانے اس عنایت اور بخشش کا نواب صاحب کیا مول مانگیں …. مگر نواب صاحب بھلا کیا مانگتے وہ تو صرف دینے کے قائل تھے۔
احسانوں سے چور سکینہ بی کا بس نہ چلتا کہ اپنی جان کو نواب صاحب پر سے صدقے کر کے پھینک دیتی…. کسی نہ کسی طرح کہ کچھ تو سرکار کے کام آ سکوں۔ چھوٹے بچوں بچی کو اور کچھ نہیں تو پاؤں دبانے کو ہی سرکار کے کمرے میں بھیج دیتی۔
سرکار ایک دن مسکرا کر بولے، ’’اتنے اتنے بچے کیا پاؤں دبائیں گے، ایساچ ہے تو بڑی کو بھیج دیا کر….‘‘
سکینہ بی نے ہول کر انہیں دیکھا…. یاد آ گیا کہ ان ہی سرکار نے تو بیٹی کو خریدنے کے لئے توڑا بھر مالی روپے بھجوائے تھے…. جب روپیوں سے بیٹی نہیں بیچی تو اب…. اب خالی کمرے میں، بند دروازوں کے پیچھے یوں ہی اکیلے بیٹی کو کیسے بھیجے؟
سرکار نے اس کے چہرے پر لکھے ہوئے خیالات ایک ہی نظر میں پڑھ ڈالے۔
’’ہم نا معلوم ہے تو کیا سوچ رئی۔ پر یہ بھی سوچ، ہم چاہتے تو کیا تیری بیٹی پر زور زبردستی کر کے اس کو اٹھوا کے نہیں منگا سکتے تھے! ہم کو روکنے والا کوئی ہے کیا؟‘‘
’’سرکار، آپ شادی اچ کر لیو….‘‘ مجبور سکینہ بی رو دینے والے لہجے میں بولی، ’’جوان بیٹی کی عزت کانچ کا برتن ہوتی…. ذرا دھکا لگی کی ٹوٹی۔ ‘‘
’’شادی؟‘‘ نواب صاحب کچھ غصے اور کچھ اچنبھے سے بولے، ’’شادی کا مطلب ہوتا ہے پوری زندگی بھر کی ذمہ داری…. پھر وارثاں پیدا ہو گئے تو جائیداد کے جھگڑے الگ اٹھتے، تو پاگل ہے کیا؟‘‘
سکینہ ڈرتے ڈرتے بولی ’’پن سرکار وہ جب آپ کے شیروانی ہور اونچی ٹوپی والے نوکر آئے تھے تو انوں تو بولے تھے کہ آپ…. وہ مصلحتاً چپ رہ گئی۔ ‘‘
نواب صاحب سچائی سے بولے، ’’ہم بولے تھے ضرور، مگر ہمارا مطلب وہ نئیں تھا ہم تو متعہ کرنے کا سوچے تھے۔ ‘‘
’’مت….مت….متعہ؟‘‘ سکینہ ہکلا ہکلا کر بولی، وہ کیا ہوتا سرکار۔ ‘‘
سرکار نے صاف صاف کہہ دیا، ’’ابھی جب ہم دو ہفتے کے واسطے جاگیر پو گئے تھے کی نئیں تو بغیر عورت کے کیسا رہنا…. بول کے ہم شادی کر لئے وہاں ایک چھوکری سے۔ پھر واپس آنے لگے تو طلاخ دے کو آ گئے۔ مطلب یہ کہ تھوڑے دنوں کی شادی…. تو ڈر مت، مگر…. ہم طلاخ دیں گے تو مہر کے نام پو اتا پیسہ وی دیں گے کی تیری دو پشتیں چین سے کھا لینا۔ اتار دیں گے…. بس ہمارے جی بھرنے پر ہے کہ ہم کب طلاخ دیتے۔ پر اتا ہور سن لے، ایسے ایسے تو کئی متعہ ہم کرے، پر جہاں کسی نیچ کمینی ذات سے وارث پیدا ہونے کے امکان ہم نا نظر آئے ہم اپنے حکیم جی سے کوئی بھی گرم دوا کھلا دیتے کی گندے خون کا وارث ہم نا نئیں ہونا۔ ‘‘
’’یہ سب حرام ہے سرکار…. یہ کام حرام ہے۔ ‘‘ سکینہ کا رواں رواں چلا رہا تھا مگر سکینہ میں، جی ہو، یا جی نئیں، کہنے کی سکت ہوتی تب نا…. وہ تو ہونقوں کی طرح بس مونہہ کھولے بیٹھی کی بیٹھی تھی اور نواب صاحب فتوے پر فتویٰ صادر کئے جا رہے تھے، ’’ہم عخد خوانی کر کے باخائدہ بیاہتا بی بی تو بس ایک ہی رکھے ہیں، جو بڑی پاشا کے نام سے مشہور ہیں …. ویسے ہم نے دینا ہی دینا سیکھا ہیں بس…. اس واسطے اب یہ جتی ہی غریب غربا پوٹیاں، خواصاں ہمارے ساتھ رہتے ہم سب کو باری باری متعہ کرتے رہے ہور طلاخ دیتے رہتے…. آخر غریبوں کا پیٹ تو پلنا ہی چاہئے نا۔ ہم نئیں دیں گے تو ان لوگاں کا کیا ہوئیں گا؟‘‘
یہ تو اس جھٹ پٹے کی بات تھی جس میں نواب صاحب نے چھت کی اونچائی پر سے ملگجے اندھیرے میں دور نیچے چاند چمکتا دیکھا تھا۔ وہ دوری اور یہ قربت!
آج انہیں یہ پتہ چلا کہ اجالا کیا چیز تھی۔ اونہہ بال تو ان کم بخت غریب حیدر آباد کی عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے جی کھول کر دیئے تھے، اس کی کوئی بات نہیں۔ لیکن رنگ؟ کیا رنگ تھا! چاندی کو گھول کر جیسے اس کے جسم میں، رگ رگ میں دوڑایا گیا تھا۔ پھر آنکھیں تھیں، شراب و راب سب بے کار چیز ہے۔ یہ آنکھیں تو صرف اس لئے بنی تھیں کہ جن پر اٹھیں انہیں ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیں۔ قد و قامت تو جو تھا وہ سامنے ہی تھا…. عربی شاعری میں عورت کے حسن کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ عورت کے برہنہ جسم پر اگر ایک چادر سر پر سے ڈال دی جائے تو وہ چادر صرف دو جگہ سے جسم کو مس کرے…. ایک سینے پر سے دوسرے کولہوں پر سے…. باقی چادر یوں ہی جسم کے لمس کو ترستی رہے۔ اجالا ایسے ہی جسم کی مالک تھی جو چادروں کو ترساتا ہے…. دو صبیح رخساروں سے سجے ہوئے وہ قاتل ہونٹ، جو اجالا کا سب سے بڑا سرمایہ تھے۔ وہ ہونٹ جو ایک ایسی چپ چاپ کٹیلی کٹیلی اور ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ سے مہکے اور دہکے ہوئے تھے کہ نواب صاحب اپنے آپ کو بچا ہی نہ سکے۔
سب سے زیادہ حیرت تو نواب صاحب کو اس بات پر تھی کہ انہیں حکیم صاحب کی مطلق بھی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ وہ جو بجائے خود ہیروں، موتیوں، سونے چاندی اور جواہرات کی کشیدہ تھی، اس کے ہوتے ہوئے کسی معجون کی کیا ضرورت تھی۔
کیسے کیسے لمحے اس نواب صاحب کو عطا کئے کہ اپنی ساری پچھلی زندگی انہیں بے کار، بے رس اور برباد نظر آنے لگی۔ اس کے ساتھ گزارا ہوا ایک ایک دن انہیں جنت میں گزارا ہوا معلوم ہوتا…. یہ سب تو تھا، لیکن اجالا نے کبھی ان سے بات نہیں کی…. ہر چند کہ وہ اس کی کمی محسوس بھی نہیں کرتے تھے، لیکن پھر بھی دل چاہتا ضرور تھا کہ یہ دو آتشہ شراب، یہ قیامت، یہ فتنہ کچھ جادو اپنے دہن لب سے بھی جگائے۔ کسی بھی بات پر بس وہ ہلکی سی چبھتی ہوئی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکا لیتی۔ بس گردن کی ایک ہلکی سی جنبش اس کی ہر بات کا جواب دے دیتی۔
’’تمے ہمارے ساتھ خوش ہے نا، اجالا؟‘‘
جواب میں وہ طنزیہ، ہلکی سی، قاتل سی مسکراہٹ اور بس!
’’تمہارا کوئی چیز پو جی چاہتا؟ ویسے تو ہم اچ تم کو سب دے ڈالے۔ پھر بھی کچھ ہونا؟‘‘
گردن کی ایک جنبش سے وہ ’’نہیں‘‘ کا اظہار کر دیتی۔
’’تم بات کیوں نہیں کرتے اجالا…. تمے اتنے خوبصورت ہیں۔ تمہاری آواز بھی بہوت بی بہوت اچھی ہوئیں گی…. کبھی تو بولا چالا کرو۔ ‘‘
وہی مسکراہٹ، کچھ قاتل، کچھ بھولی، کچھ کٹیلی، کچھ طنز میں ڈوبی…. مگر ہلکی سی!
نواب صاحب کی محفلیں جمتیں تو اپنی مثال آپ ہوتیں …. ناچ گانے راگ رنگ، شباب و شراب کی محفلیں …. وہ بڑے دل والے تھے۔ ایسی محفلوں میں اگر ان کی متعہ کی ہوئی کوئی کنیز کسی دوست نواب کو جی جان سے پسند آ جاتی تو وہ اسے جھٹ طلاق دے کر دوست کو تحفے میں دے دیتے۔ یہ ان کی سخی اور دل والے ہونے کی چھوٹی سی مثال تھی…. خود ان کے نواب دوستوں میں بھی یہی چلتا تھا، لیکن خود نواب زین یار جنگ نے کبھی کسی کا ایسا تحفہ قبول نہیں کیا کہ وہ بنے ہی اس لئے تھے کہ لوگوں کو دیا کریں …. لینے کا سوال ان کے یہاں اٹھتا ہی نہ تھا۔
اس رات ایسی ہی ایک ہوش و حواس گم کر دینے والی محفل سجی ہوئی تھی…. گرما گرم کبابوں کے طشت آرہے تھے…. سنہری، نقرئی، بلوریں جاموں میں، جن کے قبضے اور بٹھاوے سونے اور چاندی کے بنے ہوئے تھے، شراب پیش کی جا رہی تھی کہ نواب صاحب کے خاص حکم پر سرخ زرتار لباس میں ملبوس اجالا، سرخ شراب کا چھلکتا ہوا بلوریں جام بن کر محفل میں داخل ہوئی…. جس نے دیکھا، دیکھتا ہی رہ گیا۔ اوپر کی سانس اوپر…. نیچے کی نیچے۔
نواب صاحب فخر سے سب کو دیکھ رہے تھے…. وہ اس وقت دگنے نشے میں تھے۔ ایک شراب کا نشہ اور ایک ایسی بے مثال حسینہ کے احساس ملکیت کا نشہ تھا، جس کا کوئی ثانی ہی نہ تھا…. وہ فخر سے ایک ایک کو دیکھ رہے تھے، جواب میں دھیرے دھیرے ہوش میں آرہے تھے۔
’’اس کو بولتے جمال۔ ‘‘ کوئی دل تھام کر بولے:
’’ہور اس کو بولتے چال۔ ‘‘
’’جنت کے حوروں کا ذکر بہوت سنے۔ آج دنیا میں اچ دیکھ لئے۔ ‘‘
’’اب نواب صاحب کو دوزخ بھی ملی تو کیا غم۔ وہ تو یہیں اچ جنت کے مزے دیکھ ڈالے۔ لے ڈالے۔ ‘‘
’’مگر، خصت، آپ یہ لا خیمت ہیرا کتے میں خریدے؟‘‘
نواب صاحب نے فخر سے سب کو دیکھا۔ جانے وہ کیا کہنے والے تھے کہ زندگی میں پہلی بار…. ان کے ساتھ گزاری ہوئی زندگی میں پہلی بار اجالا کی بانسری کی طرح بج اٹھنے والی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی…. جو سوال پوچھنے والے نواب صاحب سے مخاطب ہو کر طنزیہ لہجے میں کہہ رہی تھی:
’’آپ لوگوں تو بس یہی جانتے کہ نواب زین یار جنگ بہوت بڑے نواب ہئیں …. بہوت بڑے دل والے، بہوت سخی دیوال۔ بس دیتے رہتے مگر لیتے نئیں …. مگر اس حیدرآباد کی، ایک چھوٹے سے غریب گھرانے کی یہ غریب بچی بھی کچھ کم سخی نئیں ہے…. میں آپ لوگوں کو بتاؤں۔ زندگی بھر کسی سے کچھ نئیں لینے والا میرے سے بھیک لیا سو میں اپنے حسن کی زکوٰة نکال تو بھکاریوں اور فخیروں کی خطار میں سب سے آگے جو فخیر جھولی پھیلائے کھڑا تھا وہ یہی اچ آپ کے نواب زین یار جنگ تھے…. میں تو سنی تھی کہ انوں ایسے دل والے ہئیں کی کسی کا کوئی تحفہ تک نہیں لیتے، بس دیتے اچ رہتے…. پھر میں پوچھتیوں کی انوں میری خوبصورتی کی ’’زکوٰة‘‘ کیسا خبول کر لئے؟ ان کی کیا اوخات تھی کہ میری کو خریدتے، میں خود انوں کو بھکاری بنا دی۔ ‘‘
وہ جو ہر لمحہ اس کی آواز کو سننے کو ترستے تھے، آج اسی کی آواز سن تو لی، لیکن جیسے کانوں میں ہر دھات پگھلا پگھلا کر ڈال دی گئی کہ پھر اس کے بعد کچھ نہ سن سکے…. شراب کا جام ان کے ہاتھ سے چھوٹ گرا اور اس کے ساتھ ہی وہ بھی لہراتے ہوئے پھر کبھی نہ اٹھنے کے لئے زمین پر آرہے۔
٭٭٭
اُترن
’’نکو اللہ، میرے کو بہوت شرم لگتی۔ ‘‘
’’ایو اس میں شرم کی کیا بات ہے؟ میں نئیں اتاری کیا اپنے کپڑے؟‘‘
’’اوں …. چمکی شرمائی۔ ‘‘
’’اب اتارتی کی بولوں انا بی کو؟‘‘ شہزادی پاشا جن کی رگ رگ میں حکم چلانے کی عادت رچی ہوئی تھی، چلا کر بولیں۔
چمکی نے کچھ ڈرتے ڈرتے، کچھ شرماتے شرماتے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے پہلے تو اپنا کرتا اتارا، پھر پاجامہ…. پھر شہزادی پاشا کے حکم پر جھاگوں بھرے ٹب میں ان کے ساتھ کود پڑی۔
دونوں نہا چکیں تو شہزادی پاشا ایسی محبت سے جس میں غرور اور مالکن پن کی گہری چھاپ تھی، مسکرا کر بولیں، ’’ہور یہ تو بتا کہ اب تو کپڑے کون سے پین رئی؟‘‘
’’کپڑے….‘‘ چمکی بے حد متانت سے بولی، ’’یہی اچ میرا نیلا کرتا پاجامہ۔ ‘‘
’’یہی اچ‘‘ شہزادی پاشا حیرت سے ناک سکوڑتے ہوئے بولیں۔
’’اتے گندے، بدبو والے کپڑے؟ پھر پانی سے نہانے کا فائدہ؟‘‘
چمکی نے جواب دینے کی بجائے الٹا ایک سوال جڑ دیا۔
’’ہور آپ کیا پین رئے پاشا؟‘‘
’’میں؟‘‘ شہزادی پاشا بڑے اطمینان اور فخر سے بولیں۔
’’وہ میری بسم اللہ کے دخت چمک چمک کا جوڑا دادی ماں نے بنائے تھے، ونی ا…. مگر تو نے کائے کو پوچھی؟….‘‘
چمکی ایک لمحے کو تو سوچ میں پڑ گئی، پھر ہنس کر بولی، ’’میں سوچ رئی تھی۔ ‘‘ وہ کہتے کہتے رک گئی۔
’’ہو پاشا…. یہ میرے کو حمام میں بھگا لے تو اس کو اجاڑ مار چوٹی کے ساتھ کیا مٹاخے مار لیتے بیٹھیں؟…. جلدی نکلو…. نئیں تو بی پاشا کو جاکو بولتیوں ….‘‘
اپنی سوچی ہوئی بات چمکی نے جلدی سے کہہ سنائی۔
’’پاشا میں سوچ رئی تھی کہ کبھی آپ ہور میں ’’اوڑھنی بدل‘‘ بہناں بن گئے تو آپ کے کپڑے میں بھی پہن لے سکتی نا؟‘‘
’’میرے کپڑے؟…. تیرا مطلب ہے کہ وہ سارے کپڑے جو میرے صندوخاں بھر بھر کو رکھے پڑے ہیں؟‘‘
جواب میں چمکی نے ذرا ڈر کر سر ہلایا۔
شہزادی پاشا ہنستے ہنستے دہری ہو گئی…. ’’ایو کتی بے خوف چھوکری ہے…. اگے تو تو نوکرانی ہے…. تو تو میری اترن پہنتی ہے…. ہور عمر بھر اترن ہی پہنیں گی….‘‘ پھر شہزادی نے بے حد محبت سے جس میں غرور اور فخر زیادہ اور خلوص کم تھا…. اپنا ابھی ابھی کا، نہانے کے لئے اتارا ہوا جوڑا اٹھا کر چمکی کی طرف اچھال دیا۔
’’یہ لے اترن پہن لے۔ میرے پاس تو بہوت سے کپڑے ہئیں۔ ‘‘
چمکی کو غصہ آ گیا…. ’’میں کائے پہنوں، آپ پہنو نا میرا جوڑا یہ جوڑا….‘‘ اس نے اپنے میلے جوڑے کی طرف اشارہ کیا۔
شہزادی پاشا غصے سے ہنکاری۔ ’’انا بی…. انا بی….‘‘
انا بی نے زور سے دروازے کو بھڑ بھڑایا اور دروازہ جو صرف ہلکا سا بھڑا ہوا تھا، پاٹوں پاٹ کھل گیا۔
’’اچھا تو آپ صاحبان ابھی تک ننگے اچ کھڑے دے ہیں ….‘‘ انا بی ناک پر انگلی رکھ کر بناوٹی غصے سے بولیں۔
شہزادی پاشا نے جھٹ اسٹینڈ پر ٹنگا ہوا نرم نرم گلابی تولیہ اٹھا کر اپنے جسم کے گرد لپیٹ لیا، چمکی یوں ہی کھڑی رہی۔
انا بی نے اپنی بیٹی کی طرف ذرا غور سے دیکھا، ’’ہور تو پاشا لوگاں کے حمام میں کائے کو پانی نہانے کو آن مری؟….‘‘
’’یہ انوں شہزادی پاشا نے بولے کی تو بھی میرے ساتھ پانی نہا۔ ‘‘
انا بی ڈرتے ڈرتے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی دیکھ نہ رہا ہو۔ پھر جلدی سے اسے حمام سے باہر کھینچ کر بولیں۔ ’’چل، جلدی سے جا کر نوکر خانے میں کپڑے پین۔ نئیں تو سردی وردی لگ گئی تو مرے گی۔ ‘‘
’’اب یہ چکٹ گوند کپڑے نکو پین، وہ لال پیٹی میں شہزادی پاشی پرسوں اپنا کرتا پاجامہ دیئے تھے، وہ جاکو پین لے۔ ‘‘
وہیں ننگی کھڑی کھڑی وہ سات برس کی ننھی سی جان بڑی گہری سوچ کے ساتھ رک رک کر بولی…. ’’امنی جب میں ہور شہزادی پاشی ایک برابر کے ہیں تو انوں میری اترن کیوں نئیں پہنتے؟‘‘
’’ٹھہر ذرا، میں مما کو جا کے بولتیوں کی چمکی میرے کو ایسا بولی۔ ‘‘
لیکن انا بی نے ڈر کر اسے گود میں اٹھا لیا…. آگے پاشا انے تو چھنال پاگل ہولی ہو گئی ہے ایسے دیوانی کے باتاں کائے کو اپنے مما سے بولتے آپ؟ اس کے سنگات کھیلنا، نہ بات کرنا، چپ اس کے نام پوجو تو مار دیو آپ۔ ‘‘
شہزادی پاشا کو کپڑے پہنا کر، کنگھی چوٹی کر کے، کھانا وانا کھلا کر جب سارے کاموں سے نچنت ہو کر انا بی اپنے کمرے میں پہنچیں تو دیکھا کہ چمکی ابھی تک ننگا جھاڑ بنی کھڑی ہے۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ دیکھا آتے ہی انہوں نے اپنی بیٹی کو دھنکنا شروع کر دیا۔
’’جس کا کھاتی اسی سے لڑائیاں مول لیتی…. چھنال گھوڑی۔ ابھی کبھی بڑے سرکار نکال باہر کر دیئے تو کدھر جائیں گے اتے نخرے؟‘‘
انا بی کے حسابوں تو یہ بڑی خوش نصیبی تھی کہ وہ شہزادی پاشا کو دودھ پلانے کے واسطے رکھی گئی تھیں۔ ان کے کھانے پینے کا معیار تو لازماً وہی تھا، جو بیگمات کا تھا کہ بھئی آخر وہ نواب صاحب کی اکلوتی بچی کو اپنا دودھ پلاتی تھیں۔ کپڑا لتا بھی بے حساب تھا کہ دودھ پلانے والی کے لئے صاف ستھرا رہنا لازمی تھی اور سب سے زیادہ مزے تو یہ تھے کہ ان کی اپنی بچی کو شہزادی پاشا کی بے حساب اترن ملتی تھی…. کپڑے لتے ملنا تو ایک طے شدہ بات تھی، حد یہ کہ اکثر چاندی کے زیور اور کھلونے تک بھی اترن میں دے دیئے جاتے تھے۔
ادھر وہ حرافہ تھی کہ جب سے ذرا ہوش سنبھال رہی تھی، یہی ضد کئے جاتی تھی کہ میں بی پاشا کے اترن کیوں پہنوں؟ کبھی کبھار تو آئینہ دیکھ کر بڑی سوجھ بوجھ کے ساتھ کہتی…. ’’امنی میں تو بی پاشا سے بھی زیادہ خوبصورت ہوں نا؟ پھر تو انوں میری اترن پہنا نا؟‘‘
انا بی ہر گھڑی ہولتی تھیں۔ بڑے لوگ تو بڑے لوگ ہی ٹھہرے۔ اگر کسی نے سن گن پالی کہ موئی انا نا اصل کی بیٹی ایسے ایسے بول بولتی ہے تو ناک چوٹی کاٹ کر نکال باہر کر دیں گے…. ویسے بھی دودھ پلانے کا زمانہ تو مدت ہوئی بیت گیا تھا۔ وہ تو ڈیوڑھی کی روایت کہئے کہ انا لوگوں کو مرے بعد ہی چھٹی کی جاتی تھی۔ لیکن قصور بھی معاف کئے جانے کے قابل ہو تو ہی معافی ملتی ہے ایسا بھی کیا؟ انا بی نے چمکی کے کان مروڑ کر اسے سمجھایا۔
’’آگے سے کچھ بولی تو یاد رکھ…. تیرے کو عمر بھر بی پاشا کی اترن پہننا ہے سمجھی کی نئیں، گدھے کی اولیاد!‘‘
گدھے کی اولیاد نے اس وقت زبان سی لی…. لیکن ذہن میں لاوا پکتا ہی رہا۔
تیرہ برس کی ہوئیں تو شہزادی کی پہلی بار نماز قضا ہوئی۔ آٹھویں دن گل پوشی ہوئی تو ایسا زرتار، جھم جھماتا جوڑا مما نے سلوایا کہ آنکھ ٹھہرتی نہ تھی…. جگہ جگہ سونے کے گھنگھروؤں کی جوڑیاں ٹنکوائیں کہ جب بی پاشا چلتیں تو چھن چھن پازیبیں سی بجتیں۔ ڈیوڑھی کے دستور کے مطابق وہ حد سے سوا قیمتی جوڑا بھی اترن میں صدقہ دے دیا گیا۔ انا بی خوشی خوشی وہ سوغات لے کر پہنچیں تو چمکی جو اپنی عمر سے کہیں زیادہ سمجھ دار اور حساس ہو چکی تھی، دکھ سے بولی، ’’امنی مجبوری ناطے لینا ہور بات ہے مگر آپ ایسے چیزاں کو لے کو خوش مت ہوا کرو۔ ‘‘
’’اگے بیٹا….‘‘ وہ راز داری سے بولیں …. ’’یہ جوڑا اگر بکانے کو بھی بیٹھے تو دو سو کل دار روپے تو کہیں نئیں گئے۔ اپن لوگاں نصیبے والے ہیں کہ ایسی ڈیوڑھی میں پڑے۔ ‘‘
’’امنی….‘‘ چمکی نے بڑی حسرت سے کہا…. ’’میرا کیا جی بولتا کی میں بھی کبھی بی پاشا کو اپنی اترن دیوں؟‘‘
انا بی نے سر پیٹ لیا…. ’’آگے تو بھی اب جوان ہو گئی گے ذرا عمل پکڑ…. ایسی ویسی باتاں کوئی سن لیا تو میں کیا کروں گی ماں …. ذرا میرے بڈھے چونڈے پر رحم کر….‘‘
چمکی ماں کو روتا دیکھ کر خاموش ہو گئی۔
مولوی صاحب نے دونوں کو ساتھ ساتھ ہی قرآن شریف اور اردو قاعدہ شروع کرایا تھا…. بی پاشا نے کم اور چمکی نے زیادہ تیزی دکھائی…. دونوں نے جب پہلی بار قرآن شریف کا دور ختم کیا تو بڑی پاشا نے از راہ عنایت چمکی کو بھی ایک ہلکے کپڑے کا نیا جوڑا سلوا دیا تھا۔ ہر چند کہ بعد میں اسے بی پاشا کا بھاری جوڑا بھی اترن میں مل گیا تھا لیکن اسے اپنا وہ جوڑا جان سے زیادہ عزیز تھا…. اس جوڑے سے اسے کسی قسم کی ذلت محسوس نہ ہوتی تھی۔ ہلکے زعفرانی رنگ کا سوتی جوڑا…. جو کتنے ہی سارے جگمگاتے، لس لس کرتے جوڑوں سے سوا تھا۔
اب جبکہ خیر سے شہزادی پاشا بھر پڑھ لکھ بھی چکی تھیں، جوان بھی ہو چکی تھیں …. ان کا گھر بسانے کی فکریں کی جا رہی تھیں۔ ڈیوڑھی، سناروں …. درزیوں، بیوپاریوں کا مسکن بن چکی تھی۔ چمکی یہی سوچے جاتی کہ وہ تو شادی کے اتنے بڑے ہنگامے کے دن بھی اپنا وہی جوڑا پہنے گی جو کسی کی اترن نہیں تھا۔
بڑی پاشا، جو واقعی بڑی مہربان خاتون تھیں، ہمیشہ اپنے نوکروں کا اپنی اولاد کی طرح خیال رکھتی تھیں۔ اس لئے شہزادی کے ساتھ وہ چمکی کی شادی کے لئے بھی اتنی ہی فکرمند تھیں …. آخر نواب صاحب سے کہہ کر انہوں نے ایک مناسب لڑکا چمکی کے لئے تلاش کر ہی لیا۔ سوچا کہ شہزادی پاشا کی شادی کے بعد اسی جھوڑ جھمکے میں چمکی کا بھی عقد پڑھا دیا جائے۔
اس دن جب شہزادی پاشا کے عقد کو صرف ایک دن رہ گیا تھا…. اور ڈیوڑھی مہمانوں سے ٹھسا ٹھس بھری پڑی تھی اور لڑکیوں کا ٹڈی دل ڈیوڑھی کو سر پر اٹھائے ہوئے تھا، اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں بیٹھی ہوئی شہزادی پاشا پیروں میں مہندی لگواتے ہوئے چمکی سے کہنے لگی، ’’تو سسرال جائے گی تو تیرے پیروں کو میں مہندی لگاؤں گی۔ ‘‘
’’ایو خدا نہ کرے….‘‘ انابی نے پیار سے کہا…. ’’اس کے پانواں آپ کے دشمناں چھوئیں …. آپ ایسا بولے سو بس ہے۔ بس اتی دعا کرنا پاشا کہ آپ کے دولہے میاں ویسا شریف دولہا اس کا نکل جائے۔ ‘‘
’’مگر اس کی شادی کب ہو رئی جی؟‘‘ کوئی چلبلی لڑکی پوچھ بیٹھی۔
شہزادی پاشی وہی بچپن والی غرور بھری ہنسی ہنس کر بولیں، ’’میری اتی ساری اترن نکلے گی تو اس کا جہیز تیار سمجھو….‘‘
اترن…. اترن…. اترن…. کئی ہزار سوئیوں کی باریک باریک نوکیں جیسے اس کے دل کو چھید گئیں …. وہ آنسو پیتے ہوئے اپنے کمرے میں آ کر چپ چاپ پڑ گئی۔
سر شام ہی لڑکیوں نے پھر ڈھولک سنبھال لی۔ ایک سے ایک واہیات گانا گایا جا رہا تھا۔ پچھلی رات رات جگا ہوا تھا۔ آج پھر ہونے والا تھا۔ پرلی طرف صحن میں ڈھیروں چولہے جلائے، باورچی لوگ انواع و اقسام کے کھانے تیار کرنے میں مشغول تھے۔ ڈیوڑھی پر رات ہی سے دن کا گمان ہو رہا تھا۔
چمکی کا روتا ہوا حسن نارنجی جوڑے میں اور کھل اٹھا۔ یہ جوڑا وہ جوڑا تھا، جو اسے احساس کمتری کے پاتال سے اٹھا کر عرش کی بلندیوں پر بٹھا دیتا تھا۔ یہ جوڑا کسی کی اترن نہیں تھا۔ نئے کپڑوں سے سلا ہوا جوڑا، جو اسے زندگی بھر ایک ہی بار نصیب ہوا تھا، ورنہ ساری عمر تو شہزادی پاشا کی اترن پہنتے ہی گزری تھی اور اب چونکہ جہیز بھی تمام تر ان کی اترن ہی پر مشتمل تھا اس لئے باقی کی ساری عمر بھی اسے اترن ہی استعمال کرنی ہو گی۔
’’لیکن بی پاشا…. ایک سید زادی کہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ وہ تم بھی دیکھ لینا۔ تمے ایک سے ایک پرانی چیز مجھے استعمال کرنے کو دیئے نا؟ اب تم دیکھنا….‘‘
ملیدے کا تھال اٹھائے وہ دولہا والوں کی کوٹھی میں داخل ہوئی…. ہر طرف چراغاں ہو رہا تھا…. یہاں بھی وہی چہل پہل تھی، جو دلہن والوں کے محل میں تھیں، صبح ہی عقد خوانی جو تھی۔
اتنے ہنگامے اور اتنی بڑی کوٹھی میں کسی نے اس کا نوٹس بھی نہ لیا…. پوچھتی یا چھپتی وہ سیدھی دولہا میاں کے کمرے میں جا پہنچی…. ہلدی مہندی کی ریتوں رسموں سے تھکے تھکائے دولہا میاں اپنی مسہری پر دراز تھے۔ پردہ ہلا تو وہ مڑے، اور دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔
گھٹنوں تک لمبا زعفرانی کرتا۔ کسی کسی پنڈلیوں پر منڈھا ہوا تنگ پاجامہ، ہلکی ہلکی کلدانی کا کڑھا ہوا زعفرانی دوپٹہ۔ روئی روئی، بھیگی بھیگی گلابی آنکھیں، چھوٹی آستینوں والے کرتے میں سے جھانکتی گداز بانہیں، بالوں میں موتیا کے گجرے پروئے ہوئے…. ہونٹوں پر ایک قاتل سی مسکراہٹ…. یہ سب نیا نہیں تھا…. لیکن ایک مرد جس کی پچھلی کئی راتیں کسی عورت کے تصور میں بیتی ہوں …. شادی سے ایک رات پہلے بہت خطرناک ہو جاتا ہے…. چاہے وہ کیسا ہی شریف ہو۔
تنہائی جو گناہوں کی ہمت بڑھاتی ہے۔
چمکی نے انہیں یوں دیکھا کہ وہ جگہ جگہ سے ’’ٹوٹ‘‘ گئے…. چمکی جان بوجھ کر مونہہ موڑ کر کھڑی ہو گئی۔ وہ تلملائے سے اپنی جگہ سے اٹھے اور ٹھیک اس کے سامنے آ کر کھڑے ہو گئے۔ آنکھوں کے گوشوں سے چمکی نے انہیں یوں دیکھا کہ وہ ڈھیر ہو گئے۔
’’تمہارا نام؟‘‘ انہوں نے تھوک نگل کر کہا۔
’’چمکی….‘‘ اور ایک چمکیلی ہنسی نے اس کے پیارے پیارے چہرے کو چاند کر دیا۔
’’واقعی تم میں جو چمک ہے اس کا تخاضا یہی تھا کہ تمہارا نام چمکی ہوتا….‘‘
انہوں نے ڈرتے ڈرتے اپنا ہاتھ اس کے شانے پر رکھا۔ خالص مردوں والے لہجے میں …. جو کسی لڑکی کو پٹانے سے پہلے خواہ مخواہ کی ادھر ادھر کی ہانکتے ہیں …. لرزتے ہوئے اپنا ہاتھ شانے سے ہٹا کر اس کے ہاتھ کو پکڑتے ہوئے بولے….
’’یہ تھال میں کیا ہے؟‘‘
چمکی نے قصداً ان کی ہمت بڑھائی…. ’’آپ کے واسطے ملیدہ لائی ہوں، رت جگا تھانہ رات کو….‘‘ اور اس نے تلوار کے بغیر انہیں گھائل کر دیا…. ’’مونہہ میٹھا کرنے کو….‘‘ وہ مسکرائی۔
’’ہم ملیدے ولیدے سے منہ میٹھا کرنے کے خائل نہیں ہیں …. ہم تو…. ہاں ….‘‘ اور انہوں نے ہونٹوں کے شہد سے اپنا منہ میٹھا کرنے کو اپنے ہونٹ بڑھا دیئے…. اور چمکی…. ان کی بانہوں میں ڈھیر ہو گئی…. ان کی پاکیزگی لوٹنے…. خود لٹنے…. اور انہیں لوٹنے کے لئے….
وداع کے دوسرے دن ڈیوڑھی کے دستور کے مطابق جب شہزادی پاشا ان کی اترن اپنا سہاگ کا جوڑا اپنی انا اپنی کھلائی کی بٹیا کو دینے گئیں، تو چمکی نے مسکرا کر کہا:
’’پاشا…. میں ….میں ….میں زندگی بھر آپ کی اترن استعمال کرتی آئی…. مگر اب آپ بھی….‘‘
اور وہ یوں دیوانوں کی طرح ہنسنے لگی…. ’’میری استعمال کری ہوئی چیز اب زندگی بھر آپ بھی….‘‘ اس کی ہنسی تھمتی ہی نہ تھی۔
سب لوگ یہی سمجھے کہ بچپن سے ساتھ کھیلی سہیلی کی جدائی کے غم نے عارضی طور سے چمکی کو پاگل کر دیا ہے۔
٭٭٭
ذرا ہور اُوپر
نواب صاحب نوکر خانے سے جھومتے جھامتے نکلے تو اصلی چنبیلی کے تیل کی خوشبو سے ان کا سارا بدن مہکا جا رہا تھا۔
اپنے شاندار کمرے کی بے پناہ شاندار مسہری پر آ کر وہ دھپ سے گرے تو سارا کمرہ معطر ہو گیا…. پاشا دولہن نے ناک اٹھا کر فضا میں کچھ سونگھتے ہی خطرہ محسوس کیا۔ اگلے ہی لمحے وہ نواب صاحب کے پاس پہنچ چکی تھیں …. سراپا انگارہ بنی ہوئی۔
’’سچی سچی بول دیو، آپ کاں سے آرئیں …. جھوٹ بولنے کی کوشش نکو کرو….‘‘
نواب صاحب ایک شاندار ہنسی ہنسے۔
’’ہمنا جھوٹ بولنے کی ضرورت بھی کیا ہے؟ جو تمے سمجھے وہ ہیچ سچ ہے۔ ‘‘
’’گل بدن کے پاس سے آ رئیں نا آپ؟‘‘
’’معلوم ہے تو پھر پوچھنا کائے کو؟‘‘
جیسے آگ کو کسی نے بارود دکھا دی ہو۔ پاشا دولہن نے دھنا دھن پہلے تو تکیہ کوٹ ڈالا، پھر ایک ایک چیز اٹھا اٹھا کر کمرے میں پھینکنی شروع کر دی، ساتھ ہی ساتھ ان کی زبان بھی چلتی جا رہی تھی۔
’’اجاڑ انے ابا جان اور امنی جان کیسے مردوئے کے حوالے میرے کو دیئے غیرت شرم تو چھوکر بھی نئیں گئی۔ دنیا کے مردوئے ادھر ادھر تانک جھانک کرتے نہیں کیا، پر انے تو میرے سامنے کے سامنے اودھم مچائے رہئیں۔ ہور اجاگری تو دیکھو، کتے مزے سے بولتیں، معلوم ہے تو پھر پوچھنا کائے کو؟ میں بولتیوں اجاڑ یہ آگ ہے کیسی کی بجھتی اچ نئیں۔ کتے عورتوں انے ایک مردوئے کو ہونا جی‘‘…. اب وہ ساتھ ساتھ پھپھک پھپھک کر رونے بھی لگی تھیں …. ’’اجاڑ میرے کو یہ زندگی نکو۔ اپنا راج محل تمچ سنبھالو…. میرے کو آجچ طلاخ دے دیو، میں ایسی کال کونڈی میں نئیں رہنے والی….‘‘
مگر جو پیاسا زور کی پیاس میں پانی چھوڑ شراب پی کر آیا ہو، وہ بھلا کہیں اتنی دیر تک جاگتا ہے؟ اور عورت کی گرمی ملے تو یوں بھی اچھا بھلا مرد پٹ کر کے سو جاتا ہے…. نواب صاحب بھی اس وقت اس تمام ہنگامے سے بے خبر گہری نیند سو چکے تھے۔
کیسی زندگی پاشا دولہن گزار رہی تھیں۔ بیاہ کر آئیں تو بیس سے ادھر ہی تھیں۔ اچھے برے کی اتنی بھی تمیز نہ تھی کہ میاں کے پیر دکھیں تو رات بے رات خود ہی دبا دیں۔ جوانی کی نیند یوں بھی کیسی ہوتی ہے کہ کوئی گھر لوٹ کر لے جائے اور آنکھ تک نہ پھڑکے۔ جب بھی راتوں میں نواب صاحب نے درد کی شکایت کی، انہوں نے ایک کروٹ لے کر اپنے ساتھ آئی باندیوں میں سے ایک آدھ کو میاں کی پائنتی بٹھا دیا اور اسے ہدایت کر دی، ’’لے ذرا سرکار کے پاؤں دبا دے، میرے کو تو نیند آرئی۔ ‘‘
صبح کو یہ خود بھی خوش باش اٹھتیں اور نواب صاحب بھی…. کبھی کبھار نواب صاحب لگاوٹ سے شکایت بھی کرتے۔
’’بیگم آپ بھی تو ہمارے پاواں دبا دیو، آپ کے ہاتھاں میں جو لذت ملے گی، وہ انے حرام زادیاں کاں سے لائیں گے۔ ‘‘
مگر یہ بلبلا جاتیں …. ’’ہور یہ ایک نوی بات سنو، میں بھلا پاواں دبانے کے لایخ ہوں کیا، اس واسطے تو امنی جان باندیاں کی ایک فوج میرے ساتھ کر کو دیئے کہ بیٹی کو تخلیف نئیں ہونا بول کے۔ ‘‘
اور نواب صاحب دل میں بولتے…. خدا کرے تمے ہور گہری نیند سو…. تمہارے سوتے اچ ہمارے واسطے تو جنت کے دروازے کھل جا تئیں۔
مگر دھیرے دھیرے پاشا دولہن پر یہ بھید یوں کھلا کہ نواب صاحب نئی نویلی دولہن سے ایک سر بے گانہ ہوتے چلے گئے…. اب بیاہی بھری تھیں اتنا تو معلوم ہی تھا کہ جس طرح پیٹ کی ایک بھوک ہوتی ہے اور بھوک لگنے پر کھانا کھایا جاتا ہے اسی طرح جسم کی ایک بھوک ہوتی ہے اور اس بھوک کو بھی بہرطور مٹایا ہی جاتا ہے۔ پھر نواب صاحب ایسے کیسے مرد تھے کہ برابر میں خوشبوؤں میں بسی دولہن ہوتی اور وہ ہاتھ تک نہ لگاتے…. اور اب تو یہ بھی ہونے لگا تھا کہ رات بے رات کبھی ان کی آنکھ کھلتی…. تو دیکھتیں کہ نواب صاحب مسہری سے غائب ہیں ….
اب غائب ہیں تو کہاں ڈھونڈیں؟ حویلی بھی تو کوئی ایسی ویسی حویلی نہ تھی۔ حیدرآباد دکن کے مشہور نواب ریاست یار جنگ کی حویلی تھی کہ پوری حویلی کا ایک ہی چکر لگانے بیٹھو تو موئی ٹانگیں ٹوٹ کے چورا ہو جائیں۔ پھر رفتہ رفتہ آنکھیں کھلنی شروع ہوئیں۔ کچھ ساتھ کی بیاہی سہیلیوں کے تجربوں سے پتہ چلا کہ مرد پندرہ پندرہ بیس بیس دن ہاتھ تک نہ لگائے، راتوں کو مسہری سے غائب ہو جائے تو دراصل معاملہ کیا ہوتا ہے…. لیکن یہ ایسی بات تھی کہ کسی سے کچھ بولتے بنتی نہ بتاتے…. مشورہ بھی کرتیں تو کس سے؟ اور کرتیں بھی تو کیا کہہ کر؟ کیا یہ کہہ کر میرا میاں عورتوں کے پھیر میں پڑ گیا ہے، اسے بچاؤں کیسے؟ اور صاف سیدھی بات تو یہ تھی کہ مرد وہی بھٹکتے ہیں جن کی بیویوں میں انہیں اپنے گھٹنے سے باندھ کر رکھنے کا سلیقہ نہیں ہوتا…. وہ بھی تو آخر مرد ہی ہوتے ہیں جو اپنی ادھیڑ ادھیڑ عمر کی بیویوں سے گوند کی طرح چپکے رہتے ہیں۔ غرض ہر طرف سے اپنی ہاری اپنی ماری تھی، لیکن کر بھی کیا سکتی تھیں؟ خود میاں سے بولنے کی تو کبھی ہمت ہی نہ پڑی۔ مرد جب تک چوری چھپے منہ کالا کرتا ہے، ڈرا سہما ہی رہتا ہے اور جہاں بات کھل گئی وہیں اس کا منہ بھی کھل گیا۔ پھر تو ڈنکے کی چوٹ کچھ کرتے نہیں ڈرتا۔ لیکن ضبط کی بھی ایک حد ہوتی ہے…. ایک دن آدھی رات کو یہ تاک میں بیٹھی ہوئی تھیں، آخر شادی کے اتنے سال گزار چکی تھیں، دو تین بچوں کی ماں بھی بن چکی تھیں، اتنا حق تو رکھتی ہی تھیں، اور عقل بھی کہ آدھی رات کو جب مرد کہیں سے آئے اور یوں آئے کہ چہرے پر یہاں وہاں کالک ہو تو وہ سوا پرائی عورت کے کاجل کے اور کاہے کی کالک ہو سکتی ہے؟ کیونکہ بہرحال دنیا میں اب تک یہ تو نہیں ہوا ہے کہ کسی کے گناہوں سے منہ کالا ہو جائے۔
جیسے ہی نواب صاحب کمرے میں داخل ہوئے کہ چیل کی طرح جھپٹیں اور ان کے چہرے کے سامنے انگلیاں نچا کر بولیں، ’’یہ کالک کاں سے تھوپ کو لائے؟‘‘
اور نواب صاحب بھی آخر نواب ہی تھے، کسی حرام کا تخم تو تھے نہیں، اپنے ہی باپ کی عقد خوانی کے بعد والی حلال کی اولاد تھے، ڈرتا ان کا جوتا۔ بڑے رسان سے بولے ’’یہ مہرو کم بخت بہت کاجل بھرتی ہے اپنے آنکھاں میں، لگ گیا ہوئیں گا، اسی کا….‘‘
ایسے تہئے سے تو پاشا دولہن اٹھی تھیں مگر یہ سن کر وہیں ڈھیر ہو گئیں …. اگر مرد ذرا بھی آناکانی کرے تو عورت کو گالیاں دینے کا موقع مل جاتا ہے۔ لیکن یہاں تو صاف سیدھی طرح انہوں نے گویا اعلان کر دیا کہ…. ’’ہاں، ہاں …. میں نے بھاڑ جھونکا…. اب بولو….!‘‘
پاشا دولہن کچھ بول ہی نہ سکیں، بولنے کو تھا بھی کیا؟ جو چپکی ہوئیں تو بس چپ ہی لگ گئی۔ اب محل کے سارے ہنگامے، ساری چہل پہل، ساری دھوم دھام ان کے لئے بے معنی تھی۔ ورنہ وہی پاشا دولہن تھیں کہ ہر کام میں گھسی پڑتی تھیں …. پہلے تو دل میں آیا کہ جتنی بھی یہ جوان جوان حرام خورنیاں ہیں انہیں سب کو ایک سرے سے برطرف کر دیں، لیکن روایت سے اتنی بڑی بغاوت کر بھی کیسے سکتی تھیں؟ پھر اپنے مقابل کی حیثیت والیوں میں یہ مشہور ہو جاتا کہ اللہ مارے کیسے نواباں ہیں کہ کام کاج کو چھوکریاں نہیں رکھے۔ بس ہر طرف سے ہار ہی ہار تھی۔ دل پر دکھ کی مار پڑی تو جیسے ڈھیر ہی ہو گئیں۔ نئی نئی بیماریاں بھی سر اٹھانے لگیں، کمر میں درد، سر میں درد، پیروں میں درد، ایک اینٹھن تھی کہ جان لئے ڈالتی۔ حکیم صاحب بلوائے گئے، اس زمانے کے حیدرآباد میں مجال نہ تھی کہ حکیم صاحب محل والیوں کی جھپک تک دیکھ سکیں۔ بس پردے کے پیچھے سے ہاتھ دکھا دیا جاتا۔ پھر ساتھ میں ایک بی بی ہوتیں جو حکیمن اماں کہلاتی تھیں …. وہ سارے معائنے کرتیں اور یوں دوا تجویز ہوتی بس حکیم صاحب نبض دیکھنے کے گناہگار ہوتے۔
پاشا دولہن کی کیفیت سن کر حکیم صاحب کچھ دیر کے لئے خاموش رہ گئے انہوں نے بظاہر غیر متعلق سی باتیں پوچھیں جس کا دراصل اس بیماری سے بڑا گہرا تعلق تھا۔
’’نواب صاحب کہاں سوتے ہیں؟‘‘
حکیمن اماں نے پاشا دولہن سے پوچھ کر بات آگے بڑھائی…. ’’جی انوں تو مردانے میں اچ سوتے ہیں۔ ‘‘
اب حکیم صاحب بالکل خاموش رہ گئے۔ سوئے ادب! کچھ کہتے تو مشکل نہ کہتے تو مشکل۔ بہرحال ایک تیل مالش کے لئے دے گئے۔
پاشا دلہن کو ان کم بخت باندیوں سے نفرت ہو گئی تھی۔ بس نہ چلتا کہ سامنے آتیں اور یہ کچا چبا جاتیں۔ باندیوں میں سے کسی کو انہوں نے اپنے کام کے لئے نہ چنا۔ حویلی کا ہی پالا ہوا چھوٹا سا چھوکرا تھا۔ انہوں نے طے کر لیا کہ مالش اسی سے کرائیں گے۔ چودہ پندرہ برس کے چھوکرے سے کیا شرم؟
اسی بیچ میں دو تین بار نواب صاحب اور دولہن پاشا کی خوب زور دار لڑائی ہوئی۔ شکر ہے کہ جو نوبت طلاق تک نہ پہنچی۔ اب تو نواب صاحب کھلم کھلا کہتے تھے…. ہاں میں آج اس کے ساتھ رات گزارا۔ اس کے ساتھ مستی کیا، تم نا کچھ بولنا ہے؟‘‘
پاشا دولہن بھی جی کھول کر کوستیں کاٹتیں۔ ایک دن دبے الفاظ میں جب انہوں نے اپنی ’’بھوک‘‘ کا ذکر کیا تو نواب صاحب ذرا حیرت سے انہیں دیکھ کر بولے، ’’دیکھو اللہ میاں کو معلوم تھا کہ مرد کو کچھ زیادہ ہونا پڑتا اس واسطے اچ اللہ میاں مردوں چار، چار شادیوں کی اجازت دیا۔ ایسا ہوتا تو عورتاں کو کیوں نئیں دے دیتا تھا۔ ‘‘
یہ ایک ایسا نکتہ نواب صاحب نے پکڑا کہ پاشا دولہن تو بالکل ہی لاجواب ہو کر رہ گئیں اور یوں رہی سہی جو بھی پردہ داری تھی بالکل ہی ختم ہو کر رہ گئی۔ اس صبح ہی کی بات تھی کہ انہوں نے سر میں تیل ڈالنے کو چنبیلی کے تیل کی شیشی اٹھائی اور وہ کم بخت ہاتھ سے ایسی چھوٹی کہ ندی سی بہہ اٹھی۔ گھبرا کر انہوں نے پاس کھڑی گل بدن کو پکارا ’’بیکار بہہ کو جارا تو اچ اپنے سر میں چپڑ لے۔ ‘‘
اور رات کو وہ ساری خوشبو نواب صاحب کے بدن میں منتقل ہو گئی، جس کے بارے میں اعلان کرتے ہوئے انہیں ذرا سی جھجک یا شرم محسوس نہیں ہوئی۔
پتہ نہیں یہ کون لوگ ہیں جو کہتے ہیں عورت بیسی اور گھیسی۔ عورت تو تیس کی ہو کر کچھ اور ہی چیز ہو جاتی ہے۔ ان دنوں کوئی پاشا دولہن کا روپ دیکھتا۔
چڑھتے چاند کی سی جوانی، پور پور چٹخا پڑتا۔ برسات کی راتوں میں ان کے جسم میں وہ تناؤ پیدا ہو جاتا جو کسی استاد کے کسے ہوئے ستار میں کیا ہو گا۔ اتنا سا چھوکرا کیا اور اس کی بساط کیا۔ سر اور کمر سے نپٹ کر وہ پیروں کے پاس آ کر بیٹھتا تو اس کے ہاتھ دکھ دکھ جاتے۔ پنڈلیوں کو جتنی زور سے دباتا، وہ یہی کہے جاتی۔
’’کتے! ہلو ہلو دباتا رے تو…. ذرا تو طاقت لگا۔ ‘‘
چودہ پندرہ سال کا چھوکرا، ڈر ڈر کے سہم سہم کر دبائے جاتا کہ کہیں زور سے دبا دینے پر پاشا ڈانٹ نہ دیں، اتنی بڑی حویلی کی مالک جو تھیں۔
حویلی میں ان دنوں خواتین میں کلی دار کرتوں پر چوڑی دار پاجامے پہننے کا رواج تھا۔ لڑکیاں بالیاں غرارے بھی پہن لیتیں …. اور بڑے ہنگاموں کے بعد اب ساڑھی کا بھی نزول ہوا تھا، مگر بہت ہی کم پیمانے پر….
چوڑی دار پاجامے میں پنڈلیاں صرف دبائی جا سکتی تھیں، تیل مالش کیا خاک ہوتی؟ پاشا دولہن نے ماما کو بلوا کر اپنے پاس کھڑا کیا، یہ حویلی کے کسی بھی نوکر کے لئے بڑے اعزاز کی بات تھی۔ پھر پاشا بولیں۔
’’دیکھو یہ انے چھوکرا رحمت ہے نا؟ اس کو کھانے پینے کو اچھا اچھا دیو…. ناشتے میں اصلی گھی کے پراٹھے بھی دیو۔ انے میرے پیراں کی مالش کرتا، مگر ذرا بھی اس میں طاخت نئیں۔ اب میں جتا کو دی۔ ‘‘
پھر خود انہوں نے غرارہ پہننا شروع کر دیا تاکہ پنڈلیوں کی اچھی طرح مالش ہو سکے اور انہیں درد سے نجات ملے۔
اب جو دوپہر کو مالش شروع ہوتی تو ایک ہی مکالمے کی گردان رحمت کے کانوں سے ٹکراتی۔
’’ذرا ہور اوپر!‘‘
وہ سہم سہم کر مالش کرتا، ڈر ڈر کر پاشا کا منہ تکتا۔ تیل میں انگلیاں چپڑ کر وہ غرارہ ڈرتے ڈرتے ذرا اوپر کھسکاتا کہ کہیں سجر، اطلاس یا کمخواب کے غرارے کو تیل کے دھبے بدنما نہ بنا دیں۔ چم چماتی پنڈلیاں تیل کی مالش سے آئینہ بنتی جا رہی تھیں۔ رحمت غور سے دیکھتے دیکھتے گھبرا گھبرا کر اٹھتا کہ کہیں ان میں اس کا چہرہ نہ دکھائی دے جائے۔
ایک رات دولہن پاشا کے پیروں میں کچھ زیادہ ہی درد اور اینٹھن تھی۔ رحمت مالش کرنے بیٹھا تو سہمتے سہمتے اس نے پنڈلیوں تک غرارہ کھسکایا۔
’’ذرا ہور اوپر‘‘ دولہن پاشا کسمسا کر بولیں، ’’آج اجاڑ اتا درد ہو ریا کہ میرے کو بخار جیسا لگ ریا۔ گھنٹوں تک مالش کر ذرا، تو تو خالی بس پنڈلیاں اچ دبا ریا۔ ‘‘
رحمت نے بخار کی سی کیفیت اپنے اندر محسوس کی۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے غرارہ اور ’’اوپر‘‘ کھسکایا اور ایک دم ناریل کی طرح چکنے چکنے اور سفید مدور گھٹنے دیکھ کر بوکھلا سا گیا۔ ترتراتے گھی کے پراٹھوں، دن رات کے میوؤں اور مرغن کھانوں نے اسے وقت سے پہلے ہی اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا، جہاں نیند کی بجائے جاگتے میں ایسے ویسے خواب دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس نے ہڑبڑا کر غرارہ ٹخنوں تک کھینچ دیا تو اونگھتی ہوئی پاشا دولہن بھنا گئیں۔
’’ہورے، میں کیا بول رئی ہو، تو کیا کر ریا؟‘‘ انہوں نے ذرا سر اٹھا کر غصے سے کہا…. وہاں ان کے سرہانے سنسناتا ہوا، جوان ہوتا ہوا، وہ چھوکرا بیٹھا تھا جسے انہوں نے اس لئے چنا تھا کہ انہیں چھوکریوں سے از حد نفرت ہو گئی تھی کہ…. کم بختیں ان کے میاں کو ہتھیا ہتھیا لیتی تھیں۔
انہوں نے غور سے اسے دیکھا۔ اس نے بھی ڈرتے ڈرتے سہمی، مگر ذرا غور سے انہیں دیکھا اور اک دم سر جھکا لیا۔
ٹھیک اسی وقت نواب صاحب کمرے میں داخل ہو گئے۔ جانے کون سا نشہ چڑھا کر آئے تھے کہ جھولے ہی جا رہے تھے۔ آنکھیں چڑھی پڑ رہی تھیں۔ مگر اتنے نشے میں بھی بیگم کے قدموں میں اسے بیٹھا دیکھ کر چونک اٹھے۔
’’یہ انے حرام زادہ مسٹنڈا یہاں کیا کرنے کو آیا بول کے؟‘‘
رحمت تو نواب صاحب کو دیکھتے ہی دم دبا کر بھاگ گیا مگر پاشا دولہن بڑی رعونت سے بولیں، ’’آپ کو میرے بیچ میں بولنے کا کیا حخ ہے؟‘‘
’’حخ؟ وہ گھور کر بولے، ’’تمہارا دھگڑا ہوں، کوئی پالکڑا نئیں، سمجھے۔ رہی حخ کی بات، سو یہ حخ اللہ اور اس کا رسول دیا…. کون تھا وہ مردود؟‘‘
’’آپ اتنے سالاں ہو گئے، آپ ایکو ایک چھوکری سے پاواں دبائے رئیں، ہور اللہ معلوم ہور کیا کیا تماشے کر لے رئیں، وہ سب کچھ نئیں، ہور میں کبھی دکھ میں، بیماری میں مالش کرانے ایک آدھ چھوکرے کو بٹھا لی تو اتے حساباں کائے کو؟‘‘
’’اس واسطے کی مرد بولے تو دالان میں بچھا خالین ہوتا کہ کتے بھی پاواں اس پہ پڑے تو کچھ فرخ نئیں پڑتا۔ ہور عورت بولے تو عزت کی سفید چدر ہوتی کہ ذرا بھی دھبا پڑا تو سب کی نظر پڑ جاتی….‘‘
دولہن پاشا بلبلا کر بولیں، ’’ائی اماں، بڑی تمہاری عزت جی، ہور تمہاری بڑی شان، اپنے دامن میں اتے داغاں رکھ کو دوسرے کو کیا نام رکھتے جی تمے، ہور کچھ نئیں تو اتے سے پوٹے کے اپر اتا واویلا کر لیتے بیٹھیں۔ ‘‘
اک دم نواب صاحب چلائے، تمنا وہ پوٹا اتا اتا سا دکھتا؟ ارے آج اس کی شادی کرو نو مہینے میں باپ بن کر دکھا دیں گا۔ میں جتا دیا آج سے اس کا پاؤں نئیں دکھنا تمہارے کمرے میں ….‘‘
پاشا دولہن تن کر بولیں، ’’ہور دکھا تو؟‘‘
’’دکھا تو طلاخ….‘‘ وہ آخری فیصلہ سناتے ہوئے بولے۔
’’ابھی کھڑے کھڑے دے دیو۔ ‘‘ پاشا دولہن اسی تہئے سے بولیں۔
ایک دم نواب صاحب سٹ پٹا کر رہ گئے۔ بارہ تیرہ سال میں کتنی بار تو تو، میں میں ہوئی، کتنے رگڑے جھگڑے ہوئے…. با عزت، با وقار دو خاندانوں کے معزز میاں بیوی، جو پہلے ایک دوسرے کو آپ، آپ کہتے نہ تھکتے تھے اب تم تمار تک آ گئے تھے…. مگر یہ نوبت تو کبھی نہ آئی تھی، خود پاشا دولہن نے ہی کئی بار یہ پیشکش کی کہ ایسی زندگی سے تو اجاڑ میرے کو طلاخ دے دیو…. لیکن یہ کبھی نہ ہوا تھا کہ خود نواب صاحب نے یہ فال بد منہ سے نکالی ہو…. اور اب منہ سے نکالی بھی تو یہ کہاں سوچا تھا کہ وہ کہیں گی کہ ’’ہاں …. ابھی کھڑے کھڑے دے دیو!!‘‘
مگر پاشا دولہن کی بات پوری نہیں ہوئی تھی۔ ایک ایک لفظ پہ زور دیتے ہوئے وہ تمتماتے چہرے کے ساتھ بولیں …. ’’ہور طلاخ لئے بعد سارے حیدرآباد کو سناتی پھروں گی کہ تمے عورت کے لائخ مرد نئیں تھے۔ یہ بچے تمہارے نئیں۔ اب چھوڑو میرے کو…. ہور دیو میرے کو طلاخ!‘‘
یہ عورت چاہتی کیا ہے آخر؟…. نواب صاحب نے سر پکڑ لیا…. انہوں نے ذرا شک بھری نظروں سے بی بی کو دیکھا…. کہیں دماغی حالت مشتبہ تو نہیں وہ سنا رہی تھیں۔
’’اس حویلی میں دکھ اٹھائی نا میں …. تمہارے ہوتے اب سکھ میں بھی اٹھاؤں گی…. تمہارے اچ ہوتے سن لیو۔ ‘‘
دوسری رات پاشا دولہن نے سرسراتی ریشمی ساڑھی اور لہنگا پہنا۔ خود بھی تو ریشم کی بنی ہوئی تھیں۔ اپنے آپ میں پھسلی پڑ رہی تھیں۔ پھر جب رحمت مالش کرنے بیٹھا تو بس بیٹھا ہی رہ گیا۔
دیکھتا کیا ہے رے؟ ہاتھوں میں دم نئیں کیا؟
اس نے سرسراتا لہنگا ڈرتے ڈرتے ذرا اوپر کیا۔
اس کو مالش بولتے کیا رے نکمے! ان کی ڈانٹ میں لگاوٹ بھی تھی۔
رحمت نے سرخ ہوتی کانوں سے پھر اور سنا…. ’’ذرا ہور اوپر۔ ‘‘
’’ذرا ہور اوپر….‘‘
گہرے اودے رنگ کا لہنگا اور گہرے رنگ کی ساڑھی ذرا اوپر ہوئی اور جیسے بادلوں میں بجلیاں کوندیں۔
’’ذرا ہور اوپر….‘‘
’’ذرا ہور اوپر….‘‘
’’ذرا ہور اوپر….‘‘
’’ذرا ہور اوپر….‘‘
تلملا کر صندل کے تیل سے بھری کٹوری اٹھا کر رحمت نے دور پھینک دی، اور اس ’’بلندی‘‘ پر پہنچ گیا جہاں تک ایک مرد پہنچ سکتا ہے اور جس کے بعد ’’ذرا ہور اوپر‘‘ کہنے سننے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔
دوسرے دن پاشا دولہن پھول کی طرح کھلی ہوئی تھیں۔ صندل ان کی من پسند خوشبو تھی۔ صندل کی مہک سے ان کا جسم لدا ہوا تھا…. نواب صاحب نے رحمت سے پانی مانگا تو وہ بڑے ادب سے چاندی کی طشتری میں چاندی کا گلاس رکھ کر لایا…. جھک کر پانی پیش کیا تو نہیں ایسا لگا کہ وہ صندل کی خوشبو میں ڈوبے جا رہے ہیں۔ گلاس اٹھاتے اٹھاتے انہوں نے مڑ کر بیگم کو دیکھا جو ریشمی گدگدے بستر میں اپنے بالوں کا سیاہ آبشار پھیلائے کھلی جا رہی تھیں …. ایک فاتح مسکراہٹ ان کے چہرے پر تھی۔
وہ انہیں سنانے کو رحمت کی طرف دیکھتے ہوئے زور سے بولے ’’کل تیرے کو گاؤں جانے کا ہے، وہاں پر ایک منشی کی ضرورت ہے بول کے۔ ‘‘
رحمت نے سر جھکا کر کہا، ’’جو حکم سرکار….‘‘
نواب صاحب نے پاشا دولہن کی طرف مسکرا کر دیکھا…. ایک فاتح کی مسکراہٹ۔
دو گھنٹے بعد پاشا دولہن اپنی شاندار حویلی کے بے پناہ شان دار باورچی خانے میں کھڑی ماما کو ہدایت دے رہی تھیں۔
’’دیکھو ماما بی، انے یہ اپنی زبیدہ کا چھوکرا ہے نا شرفو…. اس کو ذرا اچھا کھانا دیا کرنا…. آج سے یہ میرے پاواں دبایا کریں گا…. مالش کرنے کو ذرا ہاتھاں پاواں میں دم ہونے کو ہونا نا؟‘‘
’’بروبر بولتے بی پاشا آپ۔ ‘‘ ماما بی نے اصلی گھی ٹپکتا انڈوں کا حلوہ شرفو کے سامنے رکھتے ہوئے پاشا دولہن کے حکم کی تعمیل اسی گھڑی سے شروع کر دی۔
٭٭٭
جنتی جوڑا
آج ایک ساتھ خوشی اور غم کا دن تھا۔ بی بی ماں کی شادی کا دن!
چاندی کے جھم جھماتے تھالوں میں ایک قطار سے دس جگر مگر کرتے تولواں جوڑے، رکھے تھے اور گیارھواں تھا، جو سونے کا تھا، اس میں سب سے قیمتی جوڑا سجا ہوا تھا، جس کی مجموعی قیمت پچیس ہزار سے بھی اوپر تھی۔
اندر جہیز کا سارا کا سارا سامان سجا ہوا تھا۔ اس میں لس لس کرتے کپڑوں کے جوڑے ہی کوئی سو سے اوپر تھے۔ یہ گیارہ جوڑے تو الگ سے اس لئے سجائے گئے تھے کہ ان میں سچے موتی اور ہیرے ٹنکوائے گئے تھے۔ یہ بات بڑی پاشا کے جدت طراز دماغ نے ہی سوچی تھی۔ انہوں نے بڑے نواب صاحب کو سمجھایا تھا، ’’میں ایسے بہوت نواب لوگوں دیکھی جو بس شادی ہوتے کے ساتھ اچ دلہن کے جہیز کی نخدی اور زیوراں اڑانا شروع کر دیتے۔ اپنی بچی کو میں اس واسطے اچ آدھا روپیہ تو کپڑوں کی شکل میں دے دئی۔ اللہ نہ کرو کی اس کا شوہر کبھی اس کے روپے پیسے پو نظر کرو، پن وخت وخت کی بات ہے، کبھی اپنا ہور اس کے جہیز کا سارا روپیہ بھی انوں اڑا ڈالے تو کم سے کم برے وخت کے ساتھ یہ کپڑے لتی تو رہنا۔ اب یہ تو انوں کرنے سے رہے کی صندوخوں میں سے کپڑے نکال نکال کو لے جا رئیں۔ کپڑا لتا تو عورت ذات کے ہاتھ کو اچ رہتا۔ سو میں یہ ترکیب کری کی سوا لاکھ کے خریب کے ہیرے موتی کپڑوں کے جوڑوں میں ٹنکوا دی۔ ہور ایک جوڑا خاص طور سے شادی کے دن پہننے کا ہے، وہ خریب خریب پچیس ہزار کا یا اس سے بھی بڑھ کر ہوئیں کا…. کیوں میں اچھا کری نا جی؟‘‘
اتنی لمبی چوڑی بات کے جواب میں نواب صاحب نے صرف انہیں مسکرا کر دیکھنے پر اکتفا کی۔
’’آپ کچھ بولے نئیں؟‘‘ بڑی پاشا الجھ گئیں۔
’’ہم آپ کے کاموں میں کبھی دخل دیئے؟‘‘ وہ اسی طرح مسکرا کر بولے۔
’’تو پھر چلو ذرا آپ بھی بچی کے کپڑوں کی بہار دیکھ لیو۔ ‘‘
دونوں میاں بیوی مہمانوں کے ہجوم میں سے گزرتے ہوئے جب جہیز والے کمرے میں پہنچے تو آنکھیں چندھیا گئیں۔ خوشی خوشی بڑی پاشا سونے کے طشت والا جوڑا سب سے پہلے دکھانے کے لئے بڑھیں تو ان کی تیوریوں پر بل پڑ گئے۔ سونے کے جھلملاتے طشت میں ہیروں کے ٹنکے جوڑے ٹکے جوڑے کے ٹھیک اوپر ایک سادہ سرخ مدرے کا چوڑی دار پاجامہ، مدرے کا ہی کرتا اور سوتی ململ کا سستے مول کا سرخ دوپٹہ بڑے اہتمام سے طے کیا ہوا رکھا تھا۔
جھوٹے گوٹے اور سستی چمکیوں سے ٹکا ہوا! انہوں نے جھلا کر ادھر ادھر دیکھا اور خون برساتی نگاہوں سے اور اپنے پورے وجود کا زور لگا کر چلا کر کہا، ’’یہ کون اجاڑ مارا انے سڑی گت کا جوڑا سونے کے طشت میں رکھا سو؟‘‘
سارے نوکر چاکر، خواصیں، مغلانی بوا دم بخود سانس روک کونے کی طرف دیکھنے لگے، جہاں اپنی بے نور آنکھیں لئے رمضو بابا کھڑے کانپ رہے تھے۔
کسی نے یہ حرکت کی ہوتی تو بڑی پاشا گرج کر پوچھتیں…. ’’تمے اندھے تھے کیا؟ دکھا نئیں کہ سونے کا تھال ہے، ہور جوڑے سمدھیانے میں جانے کو ہیں؟‘‘ مگر وہاں تو واقعی سابقہ ایک اندھے سے ہی تھا۔ پھر بھی وہ اپنے غصے کو دبا نہ سکیں اور پھٹ پڑیں، ’’تمہاری یہ ہمت کیسے ہوئی گے بڈھے میاں؟ تم دو ٹکے کے آدمی معلوم نہیں کیا کہ یہ کا کا جہیز ہے؟‘‘
رمضو با با بے نور آنکھوں سے خلا میں دیکھتے ہوئے بولے، ’’جی معلوم ہے پاشا میری بچی کی شادی ہے، ہور اسی کا جہیز ہے۔ ‘‘
’’تمہاری بچی؟ شرم آنا نا تم کو! یہ پھٹے کپڑے، چیتھڑے، گودڑیاں لٹکا کو ہماری شہزادی جیسی بچی کو اپنی بچی بولتے….‘‘
لیکن رمضو با با تو صرف یہ سوچ رہے تھے کہ شہزادی پاشا اگر میری بچی نہیں تو پھر کس کس کی بچی ہے؟ کیا پیدا کرنے والے باپ کو ہی یہ حق ہے کہ وہ باپ کہلائے؟ وہ اگر باپ نہیں تھے اور شہزادی پاشا ان کی بچی نہیں تھی تو پھر یہ دنیا کون سی محبت کے سہارے قائم تھی۔
اونچی ساڑھی ڈیوڑھی کے باہر سے پھاٹک پر پہرا دیتا ہوا عرب چاؤش بہت دیر سے یہ تماشا دیکھ رہا تھا کہ گلی کے بہت سے چھوکرے ایک نیک صورت نابینا شخص کو ہشکار رہے تھے، مانو وہ کوئی جانور ہوں۔ کوئی ان کے تہہ بند کا کونہ پکڑ کر کھینچتا، کوئی داڑھی ہلا کر دوڑ بھاگ جاتا، کوئی مضبوط قسم کا چھوکرا انہیں چک پھیری دیتی اور پھر سب مل کر قہقہے لگانا شروع کر دیتے۔
چاؤش پہلے پہل تو خود بھی مسکراتا رہا اور مزے لیتا رہا، لیکن ایک بار جب دھکا کھا کر بڑے میاں زمین پر گر پڑے تو اس نے زور سے اپنا ڈنڈا لہرایا اور چلا چلا کر بولا ’’کیوں گے حرام زادو، تمہارے ماواں نے اس واسطے اچ جن کر چھوڑ دیاں کیا کہ غریب بندے کو ستاتے رہو۔ ‘‘
اس کے ڈنڈا لہراتے ہی سارے چھوکرے رفو چکر ہو گئے۔ چاؤش پھر بھی بڑبڑاتا رہا، ’’اب سے ادھر دکھے تو حرام زادو سب کا باپ بن کر بتا دیوں گا۔ ‘‘ پھر وہ آگے بڑھ کر میاں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اٹھاتے ہوئے بولے۔ ’’پھاٹک بند ہے میاں جی، تبنی کھلی ہے۔ ذرا سر نیچو کر کے اندر داخل ہونا پڑے گا۔ ‘‘
انہیں سہارا دے کر کھڑکی سے اندر داخل کر کے وہ دونوں ہاتھ جھٹکے ہوئے بولا، مگر آپ ادھر یہ حرام کے پوٹوں میں کیسے پھنس گئے میاں جی؟‘‘
’’کیا بولوں بیٹا…. مسجد سے ذرا چائے پینے باہر نکلا تھا کہ چھوکروں نے گھیر لئے اور بھگاتے بھگاتے معلوم نئیں کدھر کا کدھر لے کو آ گئے۔ اب میں واپس کیسا تو بھی جاؤں گا۔ ‘‘ اور ان کی آنکھوں میں، جو بے نور تھیں، پانی چمک اٹھا۔
چاؤش نے اپنے گلے میں کچھ اٹکتا محسوس کیا۔ رکتے رکتے پوچھا، ’’آپ کا کوئی تو ہوئیں گا، جو ڈھونڈ کو آ کو لے جائیں گا۔ ‘‘
’’نئیں میاں…. میرا بس اللہ ہے۔ ‘‘
چاؤش کچھ دیر کے لئے سن سا ہو گیا، پھر خوش ہو کر بولا، ’’ادھر ڈیوڑھی میں مسجد بھی تو ہئی…. آپ سارے نوکریاں ہیں نئیں، ان کے بچوں کو نماز روزہ سکھلاتے بیٹھنا….‘‘
’’ڈیوڑھی کے مالک کچھ بولیں گے تو نئیں، اور پھر….‘‘
ابھی رمضو با با کی بات ان کے مونہہ میں ہی تھی کہ ایک ننھی سی آواز نے ان کے کانوں میں جلترنگ سا بجا دیا:
’’با با…. چلو سب لوگاں کھانا کھانے چل رئیں، تم بھی چلو۔ ‘‘
’’چاؤش نے دھیرے سے بوڑھے کو سنایا، ’’یہ ڈیوڑھی کے نواب صاحب کی صاحب زادی ہے نا؟ بہوت نوکریاں ہیں نا۔ سب کا کھانا ایک اچ لگتا…. چلو میاں جی۔ ‘‘
’’نئیں چاؤش، تم ہٹو…. با با کی انگلی پکڑ کر میں لے جاؤں گی۔ ‘‘
’’ہو بابا، تم کو بالکل نئیں دکھتا؟….‘‘ معصوم سی جان بے حد پیارے لہجے میں پوچھ رہی تھی۔
’’نئیں ماں، کچھ بھی نئیں دکھتا۔ ہور اچھا اچ ہے کہ کچھ نئیں دکھتا۔ دیکھنے کے واسطے دنیا میں اچھی چیز ہے اچ کیا؟‘‘
’’میں جو ہوں بابا۔ ‘‘ وہ خوشی خوشی بولی، ’’میں بہت اچھی ہوں بابا۔ میرے گورے گورے گالاں ہیں۔ بٹن کے ویسے چمک دار آنکھاں ہیں۔ ہور بابا خوب گھنے سنہرے بالاں بھی ہیں۔ سب لوگاں بولتے، میں گڑیا ویسی دکھتی۔ تم میرے کو دیکھنا نئیں چاہئیں گے کیا با با؟‘‘
رمضو با با چلتے چلتے ٹھٹھک گئے۔ ان کے ویران دل میں اتھل پتھل سی ہوئی وہ خود پر قابو پا کر بولے، ’’اگے واہ! میں کیسا اتی اچھی بچی کو نئیں دیکھنا چاہوں گا۔ !‘‘
’’ہو بابا۔ میں سچی بہوت اچھی بچی ہوں۔ دادی حضور بولتے، شہزادی ماں کو دیکھے تو آنکھوں کی جوت بڑھ جاتی ہے۔ تم میرے کو غور سے دیکھنا بابا، تمہارے آنکھاں سے سوب دکھنے لگ جائیں گا۔ ‘‘
رمضو بابا نے ٹٹول ٹٹول کر اس کا ننھا سا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما، اس کے ملائم ملائم اور خوشی سے گرمائے ہوئے گالوں پر پسینے کی ہلکی سی نمی محسوس کی اور بہت محبت سے اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر کہا، میں بھی کتا نادان تھا بی بی ماں، جو سوچتا تھا کہ دنیا میں دیکھنے کے لائخ ہے ہی کیا…. یہ دنیا تو بہت بھی بہوت خوب صورت لگتی ہوئیں گی، کیوں کہ اس میں تو تو رہتی ہے۔ ‘‘
سات سال کی ننھی منی سی جان نے ایک مجبور اور دنیا سے ٹوٹے ہوئے شخص میں جینے کی ہر خوشی بھر دی۔ بی بی ماں نے ہی اپنے با با جان کی سفارش پہنچائی…. ’’با با جان آپ باتاں تو نئیں کریں گے نا؟ ایک بات بولتیوں۔ بولوں؟‘‘
نواب صاحب نے ہنس کر اسے دیکھا…. ’’بی بی ماں، ہم کبھی آپ کو باتاں کرے؟ بولو، کیا بولتے آپ؟‘‘
’’بابا جان۔ وہ انوں بڈھے سر کے جو بابا ہیں نا…. ان کو آنکھاں نئیں بابا جان…. کچھ بھی نئیں دکھتا ان کو…. میں بھی نئیں دکھتی۔ ان کو یہی اچ انے پاس رہنے دیتے آپ؟‘‘
’’ہم کبھی آپ کی بات کو ناں بولے بی بی ماں؟‘‘
اور نواب صاحب سچ مچ تھے بھی ایسے ہی…. کسی کے کسی کام میں دخل دیتے، نہ کسی پر اپنی رائے ٹھونستے۔ البتہ بڑی پاشا نے خوب ہنگامہ کھڑا کیا۔ جب پتہ چلا تو خوب چڑ کر آئیں۔
’’ہو میں سنی کی آپ کی ہور مصیبت پال لئے۔ ‘‘
’’جانے دیو بیگم…. اللہ رازخ ہے۔ ‘‘
’’وہ تو ہے…. میں نئیں بولی کیا، مگر اجاڑ کیا مصیبت ہے…. ایک اندھے کو رکھنا بولے تو آفت۔ کبھی باؤلی میں گر ور گیا تو؟‘‘
’’بیگم انوں حافظ جی ہیں…. خواہ مخواہ اندھا بول کے بے عزتی کر کے گناہ کائے کو مول لیتے آپ؟‘‘ نواب صاحب نے نرمی سے کہا۔
’’میں کیا بے عزتی کری جی؟ بس اتا اچ بولی نا کی باؤلی میں گر گرا کر مر مرا گیا؟ اب اس کو رکھے، سو اس کے اوپر ہور ایک نوکر رکھو۔ ہور بڑھاؤ خرچے۔ ‘‘
نواب صاحب اسی طرح نرمی سے بولے، ’’بیگم، ہر انسان اپنا نصیب، اپنا رزخ لے کر آیا ہے، آپ کیوں ایسا سوچتے؟‘‘
’’مگر میں بول دی، اب رہیا سو رہیا، پن آپ تنخواہ وغیرہ نکو باندھو۔ اول اچ کتے نوکراں چپ مفت کی روٹیاں توڑتے؟‘‘
نواب صاحب نے بڑی تکلیف سے انہیں دیکھا…. ’’بیگم، آپ اب بولے یعنی بعد میں، اس واسطے ہم کچھ نئیں کر سکتے۔ اگر پہلے سے بولتے تو ہم غور کرتے۔ ہم تو انوں تنخواہ بھی دو روپے ماہانہ باندھ چکے۔ ‘‘
’’دو روپے؟‘‘ بڑی پاشا پیشانی پر ہاتھ مار کر بولیں، ’’آپ کو کچھ بھی عخل نئیں ہے، کھانا کپڑا جب دیوڑھی سے ملیں گا تو دو روپے کائے کے واسطے؟‘‘
’’بیگم جیتی زندگی کو سو ضرورتاں لگے دے رہتے۔ کچھ بھی کرے گا بے چارہ۔ ‘‘
لیکن بڑی بیگم کے جی کو یہ بات لگ گئی کہ دو روپے خواہ مخواہ باندھ دیئے گئے۔ چنانچہ انہوں نے بڑے میاں کے کھانے چائے میں کٹوتی کرا دی۔ جب نوکروں کا کھانا لگتا تو بڑی پاشا خاص طور سے برتاؤ والے خادم اور خادمہ سے آ کر کہتیں، ’’آج صبح انے بڈھا ناشتہ کر کو بیٹھا ہے، اب دوپہر کا کھانا نکو اس کو۔ ‘‘
انو میاں اور بھاگ بھری ایک دوسرے کا مونہہ دیکھتے، وہ ہٹ جاتیں تو کہتے: ’’اتے بڑے نواب کے بیگم ہیں انوں۔ کائے کو تو بھی غریبوں کے کھانے پینے کو ٹوکتے۔ ‘‘
’’وئی اچ میں بھی سوچتیوں…. ایسا تو کتا روپیہ خیر خیرات میں نکل جاتا۔ اللہ مالوم بے چارے میاں جی سے کائے کا بیر باندھ کو بیٹھے ہیں بڑی پاشا۔ ‘‘
بی بی ماں کو پتہ چلتا کہ آج رمضو بابا کا دوپہر کا کھانا ناغہ کر دیا گیا تو وہ فوراً اپنے کرتے کے دامن میں دو تین چپاتیاں اور بھنے گوشت کا یا مرغی کا سالن چھپا کر ڈیوڑھی میں پہنچ جاتیں…. ’’بابا، دیکھو آپ کے واسطے میں کیا لائی؟ با با آپ کو دانتاں تو ہیں نا؟ اک دم کو تلی مرغی تھی۔ پر با با میں روٹی اچ لائی، کھانا (چاول) کے ساتھ لائی؟ کرتے میں لاتی تو کرتا خراب ہو جاتا۔ امنی جان دیکھ لیتی اور باتاں کرتے۔ اس واسطے خالی کاغذ میں لپیٹ کو، روٹی مرغی اچ لے کو آ گئی۔ ‘‘
رمضو با با کا دل سینے میں تھرتھرانے لگتا۔ آنسوؤں کو پیتے ہوئے وہ اٹک اٹک کر نوالے نگلتے۔ ادھر بی بی ماں مستقل اپنا ریکارڈ بجائے جاتی۔
’’بابا، آپ کو آنکھاں نئیں ہیں نا؟ کچھ بھی نئیں دکھتا ہوئیں گا؟ یہ بھی نئیں دکھتا ہوئیں گا کہ اتی بڑی ڈیوڑھی میں کتے سارے نوکراں ہیں اور کتا سارا کھانا پکتا؟ تو بابا پھر امنی جان آپ کو کھانا دینے کو کائے کو چڑتے؟ کیا معلوم میرے کو، مگر میرے بابا جان بالکل نئیں چڑتے۔ امنی جان تنخواہ بٹی، سو اب کے بھی بابا جان سے خوب لڑ لئے کی آپ کو کائے کو تنخواہ ہونا۔ مگر آپ کو سو ضرورتاں ہئیں؟ ہوئیں گے۔ نئیں تو بابا جان کائے کو ایسا بولتے…. بابا، آپ کو کبھی بھی کوئی بھی چیز کا کام پڑے تو میرے کو چپکے سے بولنا۔ پیسے ہونا تو وہ بھی بولنا۔ میں امنی جان کی تجوری میں سے چرا کو….‘‘
’’ارے رے رے! توبہ توبہ بی بی ماں!‘‘ رمضو میاں اچانک اس کی بات کاٹ کر بولے اٹھتے…. ’’چوری چکاری کی باتیں نکو کرو آپ؟ آپ کو میں سکھایا نئیں کی اللہ میاں چوری سے بہوت چڑتے۔ اور بی بی ماں، میں آپ کو کل عربی کا سبخ پڑھائے بعد نصیحتاں کرا تھا نئیں کہ اپنے حضورﷺ فرمائے کی ماں باپ کا حکم ماننا۔ ان کے خلاف کوئی بات مت کرنا۔ ‘‘
بی بی ماں بات کاٹ کر کہہ اٹھتی، ’’ہور آپ اچ یہ بھی سکھائے نا کہ حضور بولے کہ بھوکوں کو کھانا کھلانا…. پھر آپ بھوکے رہے تو میں کیا کھانا مت کھلاؤں؟‘‘
وہ سٹ پٹا جاتے، ’’وہ تو ٹھیک ہے بی بی ماں؟ پر اگر آپ کی امنی جان کے دل میں نئیں تھا تو آپ چھپا چرا کو کھانا نئیں لانا تھا۔ ‘‘
’’میں چھپا کو تو لائی، چرا کو کب لائی؟ میں تو اپنے حصے میں سے لائی۔ اپنا حصہ میں کھاؤں کی کسی کو کھلاؤں۔ ‘‘ پھر وہ خفا ہو کر کہتی، ’’اچھا آپ میرے کو چوٹی بولے نا؟ میں اب سے آپ کے پاس نئیں آؤں گی۔ ‘‘
لیکن تھوڑی ہی دیر بعد وہ چہکتی ہوئی آ جاتی اور اپنی معصوم بک بک شروع کر دیتی۔ بیچ بیچ میں چاؤش کو گواہ بھی بناتی جاتی۔
’’کیوں چاؤش، بابا خود میرے کو سبخ پڑھاتے نا کی غریبوں کی مدد کرنا چاہئے؟ اپنے حضورﷺ کو بھی ایسا ہی سکھائے نا؟‘‘
’’جی ہو، بی بی ماں۔ ‘‘ چاؤ ش مسکرا کر گواہی دیتا، ’’آپ سچی بولتے۔ ‘‘
’’اچھا چاؤش، تم بابا کو اب کی تنخواہ پر لنگی کرتا لا دینا۔ بہوت پھٹ گیا نا۔ ‘‘
رمضو بابا اپنی جگہ سٹ پٹا جاتے۔ چاؤش الگ پینترے بدلنے لگتا۔ چاؤش کی بڑی ساری فیملی تھی۔ پانچ روپے مہینہ تنخواہ تھی، جو ڈیوڑھی کے سارے نوکروں سے بڑھ کر تھی، مگر پھر بھی کم بخت پوری نہ پڑتی۔ بابا چار آٹھ آنے، خود رکھ کر پوری تنخواہ چاؤش کے حوالے کر دیتے۔
’’جی ہو بی بی ماں، اب کے مہینے ضرور لا دیوں گا۔ ‘‘ وہ رکتے رکتے کہتا مگر وہ مہینہ کبھی نہیں آتا۔
بی بی ماں اس بھید سے لا علم اپنی خدمات پیش کئے جاتی…. ’’ہو بابا میں بابا جان کو بول کے کہ ان کا ایک آدھ کرتا پاجامہ لا کر دیوں…. کتے پھٹ گئے تمہارے کپڑے….‘‘
’’نئیں بی بی ماں، چپ آپ کو دکھتے کہ پھٹے وے ہیں۔ اچھے خاصے تو ہیں۔ دیکھو تو بھلا چاؤش میاں کی بی بی نے یہ پیوند لگا کو بالکل نوا کر دیئے ہیں یہ کرتا۔ ‘‘
’’مگر بابا، تمہارا کرتا سفید تھا، یہ پیوند تو گلابی رنگ کا ہے۔ ‘‘
چاؤش اپنی جگہ چرمرا جاتا۔ بابا بات ٹالنے کو کہتے، ’’ارے بی بی ماں، تو میں اچ بولا تھا کہ گلابی پیوند لگاتا…. پھول کے ویسا گلابی گلابی اچھا لگتا نا؟‘‘
’’اچھا بابا، میرے کو اب عید پر دادی ماں عیدی دیں گے تو میں تمہارے واسطے گلابی پھولاں کا کرتا پاجامہ بناؤں گی…. آں۔ ‘‘
رمضو بابا اور چاؤش دونوں ہنس پڑے۔ بابا کہتے، ’’نئیں ماں…. بڈھوں کو گلابی پھولاں کیسے لگیں گے؟ سب لوگاں ہنسیں گے…. اپ اتا خیال رکھتے، بس وئی اچ بہت ہے۔ ‘‘
’’نئیں بابا۔ ‘‘ وہ اپنی ہی ہانکے جاتی، گلابی پھولاں بہت اچھے لگتے…. تم دیکھنا….‘‘ اچانک وہ ٹھٹھک جاتی، ’’ارے بابا، تم کو تو دکھتا نئیں نا؟ بابا حکیم صاحب سارے ڈیوڑھی کے لوگاں کا علاج کرتے…. میں بابا جان سے بولوں گی کہ تمہارے آنکھاں کا علاج کروانے کو…. پھر بابا تم دیکھنا گلابی پھولاں کتے اچھے…. میں کتنی اچھی دکھتی۔ ‘‘
بابا اس کے پیار کے سمندر میں ڈوب کر کہتے، ’’میری گڑیا، وہ تو میں اندھا ہو کر بھی دیکھتا ہوں کہ تو کتی اچھی ہے۔ ‘‘
دھیرے دھیرے، وہ چھپا چھپا کر کھانا لانے والی، بابا کی بینائی واپس آ جانے کی دعائیں کرنے والی اپنی عیدی سے بابا کے لئے کپڑے سلوانے کی چاہ کرنے والی بڑی ہوتی گئی۔ اس کا اُردو کا پہلا قاعدہ ختم ہوا، پھر پہلا پارا شروع ہوا۔ پھر اُردو کی پہلی کتاب ختم ہوئی، پھر دوسرا سیپارہ، پھر تیسرا…. بابا اسے دل لگا کر مذہب کی تعلیم دیتے رہے…. پھر اس کا قرآن شریف ختم ہوا، اُردو کی قابلیت آئی…. فارسی والی استانی ماں نے اسے فارسی سکھائی۔ انگلش پڑھانے والی نے اسے انگلش میں طاق کیا…. وقت کا پنچھی اونچی اونچی اڑانیں بھرتا رہا، مگر اس چہکتی مینا نے جس ڈال پر بسیرا کیا تھا وہ نہ چھوٹا…. وہ اب بھی اسی طرح بابا کے پاس آتی، ان کے کھانے کا اہتمام کرتی۔ یہ ضرور تھا کہ شعور آتے آتے وہ زبان کی قدر و قیمت سے واقف ہوتی گئی اور ہر دم پڑپڑ کرتی رہنے والی مینا اب دھیمے دھیمے لہجے میں کم ہی باتیں کرتی، لیکن رمضو بابا کے لئے اس کے دل میں پیار کی جڑیں گہری سے گہری ہوتی گئیں۔
بابل کے آنگن میں چہکنے والی چڑیا کب تک آزاد رہتی؟ ہوتے ہوتے بابا کے کانوں میں بھی یہ بات پڑ ہی گئی کہ بی بی ماں کی شادی ہونے والی ہے۔ کیسی خوشی کی خبر تھی۔ لیکن بابا کا دل جیسے ڈوب کر رہ گیا…. ’’ڈیوڑھی میں اب میرے واسطے کیا تو بھی رہ جائیں گا مولیٰ!‘‘ وہ دل مسوس مسوس کر رہ جاتے۔ بی بی ماں اپنے گھر کی ہو رہی تھی۔ یہ بھی ناممکن تھا کہ وہ دعا کرتے کہ یہ سماعت ٹل جائے۔ ایک نہ ایک دن تو بی بی ماں کو یہ ڈیوڑھی، یہ آنگن، یہ میکہ چھوڑنا ہی تھا۔ اچھا ہے جہاں رہے میری بچی خوش رہے۔ لیکن اپنی بچی کو مجھے کچھ نہ کچھ تو دینا ہی چاہئے۔
اپنے میٹھے سبھاؤ اور نرم سلوک اور شیریں زبان کی وجہ سے با با نے سارے نوکروں میں ایک مقام بنا لیا تھا۔ دائی ماں سے ان کے صلاح مشورے خوب چلتے تھے۔
’’دائی ماں، سونا تو بہوت مہنگا ہے۔ میں بی بی ماں کو کیا تو بھی دیوں؟‘‘ ایسا سوچا ہوں کہ ایک آدھ کپڑوں کا جوڑا دیوں۔ ‘‘
’’جی ہو میاں جی…. ضرور دیو آپ۔ آپ کا دیا ہوا ٹکڑا بھی برکت بھرا ہوئیں گا۔ آخر کو آپ اتا اللہ کا کلام یاد کرے وے ہیں۔ ‘‘
’’تو دائی ماں کم خواب کا جوڑا دیوں؟‘‘
دائی ماں نے ترس بھری نگاہوں سے انہیں دیکھا۔ ٹال کر بولیں، ’’ائی کم خواب کائے کو؟ اپنا دورا دیو کوئی۔ ‘‘ وہ جانتی تھیں کہ اتنا مہنگا کپڑا ان کے بس کا نہیں….
’’اطلس کا کیسا رہیں گا؟‘‘
’’نکو میاں جی، اطلس کے بہوت سارے جوڑے سل رئے۔ ‘‘
’’پھر جامہ دار کا؟‘‘
’’جامہ دار چبھتا بولتے بی بی ماں۔ ‘‘ وہ ٹالے جاتیں۔
’’اب میں غریب عورت کیا مشورہ دیوں۔ آپ تو خود لایخ آدمی ہیں۔ ‘‘
’’اپنا لال مدرے نئیں تو سوسی کا جوڑا اور ململ کا دوپٹہ۔ ‘‘
’’جی ہو، یہ بہوت اچھا رہیں گا۔ ‘‘
’’ہور میرے کو تو دائی ماں کچھ دکھتا نویں، بہوت پہلے جب آنکھاں تھے تب دکھتا تھا۔ گھر کے عورتاں چمکی ستارے گوٹا ٹانکتے تھے…. اس سے کپڑوں پر رونخ اور چمک آ جاتی تھی۔ ‘‘
’’جی ہو میاں جی۔ ‘‘
’’مگر ٹانکے گا کون؟‘‘
’’ائی میاں جی، اتے پوٹیاں ہیں، چپ کد کڑے لگا لیتے، گھومتیاں پھرتیاں، اس کی آپ فکر نہ کرو۔ بس میرے کو پیسے دے دیو…. میں سوب کر لیوں گی۔ ‘‘
’’کپڑے…. دوپٹہ…. گوٹا…. چمکی سب ملا کو کم ہے کم دس روپے ضرور اچ ہوئیں گے میاں جی۔ ‘‘
وہ بیٹھتے بیٹھے دھنس سے گئے۔ غریب چاؤش کو دے دلا کر، کبھی کبھار کی چار آٹھ آنے کو ہوتے ہی کیا تھے۔ ان چار آٹھ آنوں میں کبھی وہ بی بی ماں کو بیسن کے مرکل، بیر، جام خرید کر کھلا دیتے تھے۔ کبھی سستی آتی تو خود چاؤش کے ہاتھ سے ایک آدھا پیالی چائے اسلامی ہوٹل سے منگا کر پی لیتے تھے۔ اس وقت تو جیب میں دمڑی بھی نہ تھی۔ بڑی مشکل سے بولے، ’’شادی کب ہے مگر دائی ماں؟‘‘
’’بس تین ہفتے ہی تو رہ گئے ماں۔ ‘‘ دائی ماں ٹھنڈی سانس بھر کر بولیں، ’’پھر تو میری مینا…. میری چہکتی بلبل میرے آنگن کو سونا کر دے گی۔ ‘‘
وہ آنکھوں میں بھر آنے والے آنسو پونچھنے لگیں۔ رمضو بابا کا اپنا دل بھی نمکین پانی میں ڈوبنے لگا۔
یہ الگ داستان تھی کہ رمضو بابا نے کس طرح دس روپے کی رقم جوڑی…. اپنی چائے پانی چھوڑ دی، پیٹ کاٹا۔ پاس پڑوس کے صاحب حیثیت بچوں کو چاؤش سے بلوا بلوا کر درس دیئے، راتوں کو نیندیں حرام کیں، کسی کو دن میں پڑھایا، کسی کو رات میں۔
نہ چاؤش کو اپنی تنخواہ دینی بند کی، نہ اس سے ادھار سدھار کا سوال کیا۔ بس ایک ہی دھن تھی کہ کسی طرح دس روپے جمع ہو جائیں۔ پھر یہ ڈر بھی تھا کہ ڈیوڑھی کے مالکوں کو پتہ نہ چل جائے کہ با با آس پڑوس کے بچوں کو بلا بلا کر پڑھاتا اور پیسے وصول کرتا ہے۔ رات کو پڑھاتے، دن بھر جماہیوں پر جماہیاں لیتے۔ چاؤش کہتا بھی…. ’’میاں جی، اتی سستی آ رہی ہے تو ایک کوپ چائے لا دیوں؟‘‘
’’وہ ہنس کر بولتے، ’’اگے نئیں میاں، سستی کائے کی؟ ابھی تو سارے نوکروں کو چائے بٹی تھی۔ ‘‘
اور جب دس روپے کی خطیر رقم دائی ماں کے ہاتھوں میں پہنچی تو بڑھاپا ٹوٹ کر بابا پر برس چکا تھا۔ سفید جھاگ ایسے بال صافے میں جھانکتے ہوئے۔ کمزوری سے ہلتا ڈولتا، جسم اس کے ساتھ ہلتی کانپتی ڈاڑھی۔ ہاتھوں میں رعشہ…. دائی ماں نے روپے ان کے ہاتھوں سے لئے تو حیرت سے انہیں دیکھ کر بولیں، ’’ائی ماں جی، آپ کا جی اچھا نئیں کیا؟ اتے کمزور کائے لگ رئے؟‘‘ وہ ٹوٹی ہوئی آواز سے بولے، ’’میری بی بی ماں چلی جائے گی بول کے، سوچ سوچ کے یہ حال ہو گیا۔ ‘‘
یہ تو سب ہی کے دل کی آواز تھی…. دائی ماں بھی سسک کر رہ گئی۔
سلیم شاہی، بنا آواز کی جوتیاں پہنے، آتے جاتے بڑے نواب صاحب دیکھتے کہ ڈیوڑھی میں ادھر درزنیں بیٹھی لچ لچ گوٹے، سانچے، سلمیٰ ستارے، بانکڑیاں، کرنیں ٹانک رہی ہیں۔ اطلس، شامو، جامے دار، بنارسی اور کم خواب کے تھانوں کے تھان کھلے ہیں۔ سنار مسلسل زیورات بنانے میں جٹے ہوئے ہیں …. جوہری سچے ہیرے اور موتیوں کے پٹارے کھولے بیٹھے ہیں، اور ادھر غلام گردش میں ایک جوڑا سل رہا ہے۔ سستے مول کی چمکیوں سے اسے سنوارا جا رہا ہے…. جھوٹی لچے سے ململ کی سجاوٹ بڑھائی جا رہی ہے اور دو کانپتے ہاتھ اس جوڑے کو اٹھا کر بار بار اپنی بے نور آنکھوں تک لے جاتے ہیں۔ ایک بوڑھی، لرزتی آواز بار بار پاس بیٹھی لڑکیوں سے پوچھتی ہے، ’’چھوکریو، میری بی بی ماں اس جوڑے میں شہزادی لگے گی نا؟‘‘ اور لڑکیاں آنکھوں ہی آنکھوں میں دکھ سے بوجھل نظروں کا تبادلہ کر کے انہیں جیسے دلاسہ دیتی ہیں، جی ہو میاں جی، اتا اچھا جوڑا تو بی بی پاشا کے جہیز میں ایک بھی نئی ہوئیں گا۔ ‘‘
’’خدا اس کا سہاگ بنائے رکھے…. مجھ اندھے کا کتا خیال رکھتی تھی…. نہ دنیا بار بار جنم لے گی، نہ ایسی چاند سورج کے ویسی بے مثال بچی پیدا ہوئیں گی…. میری بی بی ماں …. میری بچی….‘‘
تمہاری بچی؟…. بڑی پاشا چلائیں ’’شرم آنا نا تم کو…. یہ پھٹے کپڑے چیتھڑے، گودڑیاں لٹکا لے کو ہماری شہزادی جیسی بچی کو اپنی بچی بولتے۔ ‘‘
اور انہوں نے پوری طاقت سے جو جوڑا اٹھا کر جو پھینکا تو وہ سیدھا رمضو بابا کے پیروں میں جا پڑا۔
رمضو بابا کے آنکھیں نہیں تھیں، کان تو تھے، اور ان کے کانوں نے مدھم سی، چلنے کی چاپ سنی…. پھر ان کے کانوں میں ہلکی سی ضبط بھری سسکی سی ابھری کوئی قریب آیا، پھر ان کے کانوں نے یوں سنا جیسے کسی نے ان کپڑوں کا بوسہ لیا ہو۔ پھر ان کے کانوں نے باقاعدہ سنا…. اور یقیناً یہ آواز ایک دردمند دل کی ہی ہو سکتی تھی۔
’’بیگم….‘‘ انہوں نے محسوس کیا کہ کوئی ان کے پیروں میں جھکا ہو اور اس نے وہ کپڑے اٹھا لئے ہوں۔
’’بیگم…. آپ نے یہ کپڑے پھینک دیئے! یہ کپڑے بیگم! جو اس دنیا میں تیار نہ ہوئے ہوتے تو صرف جنت سے ہی اتارے جا سکتے تھے اور جنہیں لے کر فرشتے بھی ڈرتے ڈرتے اس دنیا میں خدم رکھتے…. آپ کو ان کپڑوں کی خدر و خیمت معلوم ہے بیگم صاحبہ…. ان کے ایک ایک ٹانکے میں محبت گوندھی گئی ہے…. کتنے راتوں کی جاگ اور کتنے بھوکے لمحوں کا کرب ان میں گھلا ہوا ہے…. بیگم یہ جوڑا خون دل کی لالی سے سرخ ہے…. اس کے جھوٹے گوٹے اور سستی چمکیوں پر مت جائیے۔ اس میں جو چمک ہے وہ آپ کے سارے ہیرے اور موتیوں میں مل کر بھی نہیں ہو سکتی….‘‘
سارے مہمان، براتی، سمدھیانے والے حیرت سے کھڑے سن رہے تھے۔ وہ ایسی نرم آواز میں، جو ہزار حکموں پر بھاری تھی، دھیمے سے بولے، ’’بی بی ماں کی عخد خوانی کے وخت اس کو یہی اچ جوڑا پہنایا جائیں گا۔ ‘‘
’’مگر آپ اتا تو سوچو، سارا حیدرآباد….‘‘
نواب صاحب نے بیگم صاحبہ کی بات کاٹ دی، ’’ہم آپ کا مطلب سمجھتے ہیں اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم کسی کو کسی کام سے منع کرتے نہ کسی کے کام میں دخل دیتے…. مگر ہم آپ کو کہے دیتے ہیں کہ بی بی ماں کی شادی اسی جوڑے سے ہوتی اور خاعدے کے مطابخ شادی کا جوڑا جو دوسرے دن خیرات کر دیا جاتا ہے…. یہ جوڑا خیرات میں نہیں دیا جائیں گا۔ یہ جوڑا نسل در نسل سنبھال سنبھال کر رکھا جائیں گا کہ لوگوں کو یاد رہے کہ محبت اس طرح کی جاتی ہے اور محبت کے یادگاراں اس طرح سنبھال کر محفوظ کئے جاتے ہیں۔ ‘‘
انہوں نے اپنے آنسو پونچھ کر رمضو بابا کے ہلتے کانپتے وجود کو سنبھالا جن کے ہونٹ تھرتھرا رہے تھے۔
’’زندگی میں آج پہلی بار جی چاہ رہا ہے کہ خدایا میرے بھی آنکھاں ہوتے اور میں اس مہربان چہرے کو دیکھ سکتا….‘‘ رمضو بابا کے ٹوٹے دل سے دعا نکلی اور وہ نواب صاحب سے لپٹ کر چیخ چیخ کر رونے لگے۔
٭٭٭
کوئلہ بھئی نہ راکھ
رات تاریک ہے، میرے نصیب کی طرح۔ آسمان پر اکا دکا ستارے ٹمٹما رہے ہیں، ان کا میرے آنسوؤں سے کیا مقابلہ؟
میری آنکھوں میں تو ان گنت ستارے جھلملا رہے ہیں، جھلملاتے ہی رہتے ہیں۔ کتنے دن ہو گئے، میری آنکھوں نے مسکرانا چھوڑ دیا، ایسا معلوم ہوتا ہے ہنسی سے میری شناسائی ہی نہیں۔
آج صبح سے میرا دل ہے کہ ڈوبا جا رہا ہے، یوں رہ رہ کر تو میرا دل کبھی نہ دھڑکا تھا، مٹی کے اس ننھے منے چراغ میں ایسی کیا بات تھی کہ اس کے ٹوٹتے ہی میرا اپنا دل بھی جیسے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ میں نے کتنے جتن سے، کتنے برسوں سے اس چراغ کو سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا اس چراغ سے میری اپنی زندگی کا گہرا ناطہ ہے، وہ ٹوٹے گا تو میں بھی ٹوٹ کر رہ جاؤں گی۔
اور آج! آج تو جیسے میرا سبھی کچھ ٹوٹ گیا۔ سبھی کچھ لٹ گیا۔
لیکن میں کیسی پاگل ہوں آفتاب! جو یہ کہہ رہی ہوں کہ آج میرا سبھی کچھ لٹ گیا، میرا تو اسی دن سب کچھ لٹ گیا تھا جس دن تم مجھے چھوڑ گئے تھے۔
امیدوں، آرزوؤں اور بھروسوں کے سارے چراغ تو اسی دن بجھ گئے تھے۔۔۔
یہ تو میں ہی تھی کہ جو خزاں ہو کر بھی بہار بہار کرتی رہی۔
کتنی پاگل؟ کسی نادان (محبت کرنے والے سچ مچ نادان، پاگل ہی تو ہوتے ہیں) میں تم سے شکایت نہیں کر رہی ہوں آفتاب۔
شکایت اور گلے تو اپنوں سے کئے جاتے ہیں اور تم نے یہ موقع ہی کب دیا کہ میں تمہیں اپنا سمجھوں یا کہوں؟ سوائے چند لمحوں کے، وہ لمحے جو میری زندگی کا سکون بن کر رہ گئے ہیں، کاش میں نے یوں ٹوٹ کر کسی کو نہ چاہا ہوتا۔ لیکن محبت کیا سوچ سمجھ کر کی جاتی ہے آفتاب؟
اب سوچتی ہوں تو یہ سراسر پاگل پن ہی نظر آتا ہے۔ میں نے دل بھی کس سے لگانے کی کوشش کی؟
تم سے! تم جو سچ مچ آفتاب ہی کی طرح بلند اور دور تھے۔
لیکن آفتاب! میں سچ کہتی ہوں، تم نے مجھے یوں حوصلہ نہ دلایا ہوتا تو شاید میں تمہاری طرف کبھی دیکھ بھی نہ پاتی، میں نے تو جبھی سے روشنی حاصل کی تھی۔ (اور تمہیں نے مجھے اندھیروں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا، کیسا دکھ ہے۔ )
کتنے سارے سال گزر گئے ہیں کہ میں نے تمہارے بارے میں کبھی سوچا تک نہیں۔ اور جو دیکھو تو زندگی میں تمہارے سوا اور دوسری کوئی بات ہی نہیں۔
جیسے اپنے آپ سے خود کو بچائی، چھپاتی پھرتی ہوں، آئینے میں خود کو دیکھتی تک نہیں کہ اپنی صورت دیکھوں گی تو تم یاد آ جاؤ گے۔
اس صورت کو تم نے کتنا پیار کیا تھا، کتنا پیار دیا تھا، کتنا غرور بخشا تھا۔
ان دنوں آئینے کے سامنے جاتی تو گالوں پر گلاب سا بکھر جاتا تھا، اپنا آپا سنبھلتا نہیں تھا۔
آنکھوں کی جوت دیوالی کے چراغوں کی طرح جگمگاتی تھی۔ مجھے میرا ماتھا چاند معلوم ہوتا تھا اور ہونٹوں پر ایسی کلیوں کا گمان ہوتا تھا جو اب کھلیں، اب کھلیں۔
ان دنوں کوئی مجھ سے میرا نام پوچھتا تو مجھے جھجھک سی آتی تھی۔ میں کیسے کہوں میرا نام ‘شمع’ ہے۔ شمع تو جلتی رہتی ہے اور میں تو مسکراہٹوں سے عبارت ہوں۔ بھرپور بہادر اور دلکش سپنوں سے میرا وجود مہکا لہکا ہوا ہے۔
لیکن میں یہ بھولتی ہوں کہ شمع کا کام بہرحال جلنا ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں آفتاب! کہ اگر میرا نام شمع نہ ہوتا تو کیا واقعی میری زندگی یوں نہ ہوتی؟
لیکن تمہارا نام بھی تو آفتاب ہے۔ سورج بھی تو سدا جلتا ہی رہتا ہے، پھر تمہارے حصے میں دنیا زمانے کی خوشیاں کیسے ہوئیں اور میں کیوں غموں سے سجائی گئی ہوں؟
شاید یہ میرے اپنے سوچنے کا غلط انداز ہی ہو، ہم عورتیں وہمی ہوا کرتی ہیں نا۔
ہاں یہ میرا وہم ہی تو تھا کہ میں ایک معمولی سی مٹی کے چراغ کو یوں دل سمجھ کر سنبھال سنبھال کر رکھتی رہی۔
اور آج اس کے ٹوٹ جانے سے یوں اداس ہوں جیسے ساری خوشیوں ہی سے میرا ناطہ ٹوٹ گیا ہے۔ شاید یہ بات ہو آفتاب کہ اس دن تم نے ہنسی ہی ہنسی میں بہت گہری بات کہہ دی تھی:
"شمع اسے سنبھال کر رکھنا، جس دن یہ بجھا، سمجھو اپنی محبت بھی بجھ گئی۔”
وہ دیوالی کی رات تھی۔ تمہیں تو یاد بھی نہ آہو گا (اور میری تو زندگی ہی محض یاد ہے) گھر کے بچے پڑوسیوں کی دیکھا دیکھی مٹی کے چھوٹے چھوٹے دئیے کہیں سے لے آئے تھے اور چاندی کی منڈیروں پر قطار در قطار بہت سارے دئیے جلا کر رکھ دئیے تھے۔ ہم دونوں چاندنی پر آئے تو سب سے کونے والا دیا بجھا پڑا تھا۔
"ہائے غریب کا کوئی پرسان حال نہیں۔”
میں نے لرز کر کہا اور اسے ساتھ والے دئیے سے جلانے کو جھکی ہی تھی کہ تم نے ہنس کر کہا:
"آج دئیے سے زیادہ کوئی خوش نصیب نہیں ہے۔”
میں نے بوکھلا کر تمہیں دیکھا تو تم اس جگمگاتی ہنسی کے ساتھ بولے تھے۔
"ہاں جسے تم چھولو۔”
میں نے تمہاری بات کاٹ کر پوچھا:
"اور جسے تم چھولو؟”
دیا میرے ہاتھ میں کانپ رہا تھا۔ جل مل، جھل مل۔
مجھے نہیں معلوم لیکن یقیناً میرے چہرے پر اس دئیے کی لو جاگی آہو گی۔ یقیناً اس کے عکس نے میرے چہرے کو وہ جلا بخشی ہو گی کہ تم میری تمنا کر سکو، اسی لئے تم نے کہا تھا:
"شمع! میں ساری زندگی تمہاری تمنا کرتا رہوں گا۔”
میرا ہاتھ کانپا، یقیناً دیا گر جاتا اگر تم میرا ہاتھ نہ تھام لیتے وہ ہاتھ جو پھر تم نے کبھی نہ تھاما اور تم نے جذبات سے بھری اور بھرائی آواز میں کہا:
"شمع! اس مٹی کے چراغ کو میں اپنی محبت کا امین بنا لوں؟”
میں وہموں کی ماری، عورت پن کی ساری کمزوریوں سمیت تمہاری طرف تکنے لگی، نہ جانے اب تم کیا کہو؟ اور تم نے دھیرے سے کہا تھا:
"شمع! اسے سنبھال کر رکھنا، جس دن یہ بجھا، سمجھو اپنی محبت بھی بجھ گئی۔”
میرا دل دھڑ دھڑ کر نے لگا۔ محبت کا یہ کون سا انداز تھا کہ لے کے ایک چراغ کو تمام تر ذمہ داریاں سونپ دیں، لیکن میں نے کہا نا، میں وہموں کی ماری تھی۔
تمہارے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے لئے جیسے آسمانی صحیفہ ہو گئے۔
مجھے سہما ہوا دیکھ کر تم ذرا مسکرائے تھے اور کہا تھا:
"اتنی ڈری ہوئی کیوں ہو شمع؟”
میں ایک دم بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی:
"تم نے کیسی زنجیر میں جکڑ دیا ہے آفتاب! چراغ تو چراغ ہی ہوتا ہے کبھی ایک جھونکے سے بھی بجھ سکتا ہے۔ اب تو ہر لمحہ میرا دل رہ رہ کر دھڑکے گا۔ اللہ نہ کرے۔۔۔ اللہ نہ کرے جو یہ بجھے۔ اور جو کبھی ہوا کا کوئی سرکش اور حاسد جھونکا، میرے آنچل سے نظر بچا کر اسے بجھا ہی دے تو میں کہاں جی سکوں گی؟”
تم کتنی اعتماد سے بھری ہنسی ہنسے تھے۔
"تو تم اتنی سیریس ہو گئیں شمع! کیا مٹی کا یہ حقیر سا دیا میری محبت پر بھاری ہو سکتا ہے؟”
"بات مٹی اور کانچ کی نہیں آفتاب، بات تو اعتقاد اور رواجوں کی ہوتی ہے، کانچ کی چوڑیوں میں کیا دھرا ہوتا ہے؟
لیکن کسی کے نام کے ساتھ جب ایک نئی بیاہتا کو پہنائی جاتی ہیں تو اس کی زندگی کا مول ہو جاتی ہیں اور پھر وہ ساری زندگی اسی کے اپنے انگ کا ایک حصہ ہو کر رہ جاتی ہیں۔ تم نے یونہی ایک بات کہہ دی، لیکن میں تو مٹ کر رہ گئی آفتاب!”
پھر وہ رات کبھی نہ آئی، جب ہم ساتھ ساتھ چاندنی پر جاتے۔
میں چراغ جلاتی، تم میری تمنا کرتے اور میں تمہاری وفاؤں پر بھروسہ کرتی۔ بس زندگی جیسے سمٹ کر آنچل کی اوٹ میں آ گئی۔ میں نے اپنے کمرے کے ایک محفوظ طاقچے میں وہ چراغ اٹھا کر رکھ دیا۔
اور زندگی اس جتن میں گزرنے لگی کہ محبت کا وہ شعلہ کبھی بجھ نہ جائے، میرا بھولا پن دیکھا۔ مارے وہم کے ایک ساتھ دو دو بتیاں روئی کی بنا کر اس میں ڈال دیتی کہ ایسا نہ ہو کہ ہوا اسے کمزور پا کر بجھا ہی دے۔
ہر روز میں تیل ڈالتی، میں تو اپنا خون بھی اس میں ڈال دیتی اگر مجھے یقین ہو جاتا کہ اس طرح محبت کے چراغ دل کے خون سے امر ہو جاتے ہیں۔
سب میں اس چراغ کا چرچا ہو گیا۔ میری سہیلیاں مجھ پر ہنستیں۔
"ارے دیکھو یہ زرتشتیوں کی طرح دن رات چراغ جلائے رہتی ہے۔”
دو ایک نے تو ٹوہ لینے کی کوشش کی لیکن جس طرح منہ بند کلی کی خوشبو اسی کے تن میں چھپی رہتی ہے، ایسے ہی اپنی محبت کا راز میں نے بھی اپنے تن من میں ہی رکھا تھا۔
زمانہ بہت حاسد ہے، کون جانے کس کا دل کب پلٹ جائے، اور بعض ہوائیں اتنی سرکش اور منہ زور ہوتی ہیں۔
اور میری محبت کا چراغ تو اتنا ننھا سا ہے۔
منزل سامنے ہو تو راستے کی کٹھنائیاں ہیچ ہو جاتی ہیں۔ میری منزل تو میرے سامنے تھی، مجھے کس بات کا ڈر تھا، کانٹوں سے میں کبھی نہ ڈری، پاؤں کے چھالوں نے مجھے ہراساں نہیں کیا۔
قدم قدم، لمحہ لمحہ، بڑھتے ہوئے حوصلوں کو زمانے کے ظلم بھی نہ پیس سکے۔ حالانکہ میری زندگی ہی کیا تھی۔
غریب سی لڑکی جس نے ماں کا سکھ دیکھا نہ باپ کی محبت۔ خالہ کے رحم و کرم کے سہارے جس نے جینا سیکھا۔ دو وقت کی روٹی اور تن بھر کپڑا، جہاں زندگی کی معراج تھی اور وقت گزارنے کے لئے جہاں ڈھیروں کام تھے۔
گھر بھر کے میلے کپڑوں کے انبار، باورچی خانے میں جھوٹے برتنوں کے ڈھیر، جھاڑنے کے لئے بڑے بڑے آنگن، صفائی کے لئے چھوٹے بڑے کمرے اور خدمت بجا لانے کے لئے چھوٹے بڑے گھر بھر کے کئی کئی آقا،، لیکن پیار کی ایک نگاہ، محبت کا ایک ان کہا بول، مٹی کا ایک چھوٹا سا دیا، یہ سب تیز جھلستی ہوئی دھوپ کو کیسے خنک چھاؤں سے بدل دیتے ہیں؟
اس دن دوپہر میں سب کو کھلا پلا کر ہر کام سے نبٹ کر جب میں اپنے بستر پر لیٹی تو پتہ نہیں کیا ہوا گھر بھر کے بچے آ کر میرے سر ہو گئے۔
"بجیا! پلیز کہانی سنائیے۔”
"ہائے اللہ کہانی؟ اور وہ بھی دن میں، نہیں نہیں ایسے تو مسافر راہ بھٹک جاتے ہیں”۔ میں نے گھبرا کر کہا۔
"نہیں باجی! آج بڑے چچا آ گئے ہیں، وہ ہمیں سر شام ہی بستروں میں گھسا دیتے ہیں کہ بچوں کو جلدی سو جانا چاہئے۔ تو آج ہمیں آپ دن میں ہی کہانی سنا دیجئے”۔
سب کاموں سے نبٹ کر، یہ میرا تو آخری کام ہوتا تھا۔ کہ رات میں سب بچوں کو کہانیاں کہہ کر سلاؤں، دن میں کہانیاں مجھ سے کبھی نہ کہی گئیں۔
میں نے سنا تھا کہ دن میں کہانیاں کہو تو مسافر راستے بھول جاتے ہیں، راہ بھٹک جاتے ہیں۔
میں وہموں کی ماری، میرا دل یہ سوچ کر ٹوٹا کرتا، اللہ جانے کون کس ارادے سے کس راہ جانا چاہتے اور راستہ بھول بیٹھے، میں کیوں کسی کی منزل کھوٹی کروں؟
لیکن اس دوپہر بچوں نے مجھے دم نہ لینے دیا، میری ایک نہ چلنے دی۔
"دیکھئے آپی! اگر آپ نے کہانی نہ سنائی تو ہم آفتاب بھیا کو کہہ دیں گے”۔
تم گھر کے سب سے بڑے تھے، سب تمہارا نام لے کر ایک دوسرے کو ڈرایا کرتے۔
"آفتاب بھیا!!”
میں تمہارا نام دل ہی دل میں گنگنا کر بولی۔
میرے خدا! یہ کس کا نام میری زبان پر ہے اور میں جیسے سب کچھ بھول کر کہانی سنانے لگی۔
کسی شہزادے شہزادی کی نہیں، اس بستی دنیا کی میری تمہاری۔
لیکن آفتاب! میں نے دیکھ لیا، کہنے والے غلط نہیں کہا کرتے، دن میں کہانیاں سنانے سے مسافر سچ مچ راستہ بھول جاتے ہیں۔
میں نے دن میں کہانی سنانے کی جو غلطی کی، اس کا بھگتان آج تک بھگتا رہی ہوں۔ سوچتی ہوں، یہ کہانی میں نے شروع ہی کیوں کی تھی۔
اور پھر یہ ہوا کہ دم بہ دم اس چراغ کی لو نیچی ہوتی گئی۔ پھر بھی اسے جلانے اور جلانے کی اپنی سی کوشش کئے گئی۔ لیکن دل کا لہو بھی کام نہ آیا۔
آج دل کو تھوڑی بہت تسکین، بس بیتے دنوں کو یاد کرنے سے مل رہی ہے۔
شاید آج کے بعد ان دنوں کو کبھی یاد بھی نہ کر سکوں۔ یہ کیسی عجیب بات تھی۔
آفتاب! کہ زندگی میں تم نے کبھی کھلے عام اپنی محبت کا اعتراف کیا، نہ کونے کھدروں میں سرگوشیاں ہی کیں۔
نگاہیں! صرف وہ تمہاری بولتی ہوئی، مسکراتی ہوئی عہد و پیماں کرتی ہوئی، ساری دشواریوں کو پیس ڈالنے کے بلند بانگ دعوے کرتی ہوئی نگاہیں ہی تو تھیں، جنہوں نے مجھے تمہاری محبت کا یقین دلایا۔
مجھے آج بھی تمہارے ان جذبات پر ناز ہے کہ تم نے کبھی سطحی پن کا مظاہرہ نہیں کیا۔
سمندر کی وسیع ذات کی طرح تہ ہی تہ میں تمہاری محبت کی کار فرمائیاں تھیں۔ سطح خاموش، پر سکون۔
کوئی کیسے سمجھ سکتا ہے کہ تم ایک غریب سی بد نصیب سی لڑکی سے اتنا بھرپور یار کرتے ہو۔ یہ تو صرف میں تھی جو تمہاری محبت کی راز دار تھی۔
چند لمحے میری زندگی کا حاصل ہیں، کیسے گہرا پیار چھلک پڑتا ہے، کبھی کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں سے۔
اندھیری رات میں ایک بار سیڑھیاں چڑھ رہی تھی، تم اتر رہے تھے۔
میں چاپ سن کر ہی سمجھ گئی یہ تم ہو، میں نے سوچا اللہ نہ کرے، تم کہیں گر نہ جاؤ اسی لئے میں نے ذرا جھک کر کہا تھا:
"ذرا سنبھل کر۔۔۔”
تم نے جگمگاتی آواز میں جواب دیا تھا:
"تمہارے چہرے کا چاند جو ساتھ ہے۔”
ایک تیز دھوپ والی دوپہر میں تم باہر سے آئے تو میرا دل رو اٹھا۔
"ٹھنڈے پانی سے منہ ہاتھ دھو لیجئے، کیسی سخت دھوپ سے آپ ہو کر آئے ہیں۔”
"دھوپ۔۔۔؟”
تم نے مسکرا کر کہا تھا۔
"میں جدھر جاتا ہوں، تمہاری ان لانبی لانبی زلفوں کا سایہ مجھ پر چلتا جاتا ہے۔”
ایک چاندنی رات۔
چاند کے بھرپور حسن کے مقابل تم نے میرا حقیر وجود کھڑا کیا تھا اور اپنی جوان سانسوں اور مضبوط ہاتھوں کے ساتھ میرے قریب تر ہو کر مجھے چھو کر کہا تھا:
"چاند میں اتنا نور کہاں ہے؟”
میرے وہموں کے ساتھ ساتھ زندگی میں قدم قدم پر کیسے بھرپور بھروسے تھے!
آج بھی تو چہرے کا وہی چاند ہے، زلفوں کا وہی عطر بیز اور ٹھنڈی گھٹائیں ہیں۔
آنکھوں کے انتظار میں بسے ہوئے، ڈوبے ہوئے دئیے ہیں لیکن تم نہیں ہو۔ اور تم کیا جانو، صرف تمہارے نہ ہونے سے ان زندگی کا کیا رنگ ہے؟
میں سوچتی ہوں آفتاب! لکڑیاں کتنی خوش نصیب ہوتی ہیں کہ دھواں دھواں ہو کر راکھ ہو سکتی ہیں، ہو جاتی ہیں۔
میں پاپن تو دھواں بنی راکھ جلی۔
لمحے لمحے کی سنگ دل واردات میرے دل سے پوچھو اور یہ دیکھو میں بھی کیسی سخت جان تھی جو زندہ رہی، زندہ ہوں۔
وہ دن میں کبھی نہیں بھول سکتی۔
تم بے حد شادماں، بشاش اور بہت گہرے عزم سے میرے پاس آئے اور بولے۔
"شمع! زندگی کتنی خوبصورت ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ایک اور چیز خوبصورت ہے، پیسہ!”
میں سر سے پاؤں تک لرز گئی اور بری طرح چونک کر تمہیں دیکھنے لگی۔
تم اک دم شفاف سی، بے داغ سی ہنسی ہنس پڑے۔
"گھبرا گئیں؟ میں صرف یہ کہہ رہا تھا شمع، اب زندگی اس مقام پر آ گئی ہے کہ میں چاہوں تو خوشی سے تمہیں اپنا لوں، مجھے بھلا کون روکے گا؟ لیکن میں چاہتا ہوں کہ ہم نے جو زندگی میں اب تک صرف دکھ اٹھائے ہیں، غریبی ہی دیکھی ہے تو اب اس راستے کو چھوڑ کر ایک نیا راستہ اپنائیں جہاں خوشی ہو، محبت ہو اور زندگی کا ہر عیش بھی ہو۔۔۔”
میں بے حد سہمے دل کے ساتھ سنتی رہی تھی۔
"شمع! پہلے میں ذرا اپنی لائف بنا لوں، میرا مطلب ہے کچھ پیسہ جمع کر لوں، کار وار خرید لوں، پھر ٹھاٹھ سے تمہیں بیاہ لے جاؤں، تمہیں بھی تو زندگی کا کچھ حسن ملے۔”
تمہاری محبت کے بدلے شاید میں نے اپنی زبان رہن رکھ دی تھی، کبھی تمہارے سامنے ہونٹ نہ ہلا پائی تھی۔ لیکن جیسے میرا رواں رواں چیخ اٹھا۔
"مجھے پیسہ نہیں چاہئے آفتاب! مجھے دولت کی ہوس نہیں ہے، مجھے اپنے پیارے ہاتھوں کے ہار پہنا دو، اپنے گرم گرم ہونٹوں کا ٹیکہ میرے ماتھے پر سجا دو، میرے سہاگ اور محبت کی بس اتنی ہی مانگ ہے۔”
لیکن میں کہا نا کہ میں نے تمہارے آگے صرف اپنی آنکھیں جھکانا ہی سیکھا تھا اور تم چلے گئے۔
یوں کہنے اور سننے میں کتنی معمولی سی بات لگتی ہے کہ ایک شخص کو جانا تھا اور وہ چلا گیا۔
لیکن یہ میں نے انہی دنوں جانا کہ جگمگاتا چاند تاریک کیوں کر ہو جاتا ہے۔ پھول اپنا حسن کیسے کھو دیتا ہے، بہاریں خزاؤں سے کیسے بدل جاتی ہیں۔
اور دھیرے دھیرے ہنسنے مسکرانے والے ہونٹ اپنی مسکراہٹیں، آنسوؤں کو کیسے تج دیتے ہیں؟
اور تم سے یہ بتا دوں آفتاب! کہ تم نے میری آنکھوں کے لئے جو ایک بہت پیاری اور انوکھی سی تشبیہ دی تھی کہ میری آنکھیں دیکھو تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے سچے ہیرے، جگر مگر کرتے ہیرے۔ اللہ میاں نے کوٹ کر یہ آنکھیں بنائی ہیں۔ تو وہی آنکھیں اپنی جگمگاہٹ کھو کر جیسے دو بجھے ہوئے چراغ بن کر رہ گئیں۔
جہاں حوصلہ ہو وہاں ارادے بھی ساتھ دیتے ہیں۔ تمہارے بے پناہ حوصلوں نے تمہیں کامیابی سے ہمکنار کر دیا۔ آج یہاں کل وہاں، تمہارا بزنس پھیلتا چلا گیا۔ تم امیر سے امیر تر ہوتے چلے گئے۔
خوبصورت کوٹھی، فون، فرج، نوکر چاکر اور گاڑیاں تو یوں بدلی جانے لگیں جیسے کوئی کپڑے بدلتا ہے۔
میں بھی سب کے ساتھ نئی کوٹھی میں اٹھ آئی تھی۔ ایسی زندگی جس کا تصور انسان خوابوں میں ہی کر سکتا ہے، اب سبھی کا اور میرا مقدر تھی۔
(لیکن تم کہاں تھے؟)
دولت آئی تو زندگیوں میں مغربیت دخیل ہونے لگی۔ لیکن میں جس مقام پر تھی وہیں رہی۔ سورج مکھی کے معصوم اور نادان پھول کی طرح جو سدا سورج ہی کی طرف تکتا رہتا ہے۔
ایک رات سب لوگ کسی پارٹی میں گئے ہوئے تھے، فون کی گھنٹی اچانک بجنے لگی۔
میں ہی فون اٹھایا، تم تھے، دہلی سے بات کر رہے تھے۔
اتنی دور سے، میرا دل لرز اٹھا۔
"ہیلو! میں آفتاب بول رہا ہوں، ادھر کون ہے؟”
میں ڈوبتے دل سے بولی۔
"میں۔۔۔ میں شمع ہوں۔”
"کیا کر رہی ہو؟”
"جل رہی ہوں۔”
ادھر سے ایک بھرپور ہنسی۔
"افوہ! تم تو ڈائیلاگ بول رہی ہو۔”
نہ جانے ایک ساتھ کتنے سارے آنسو میری آنکھوں میں امڈ پڑے۔ میں نے روکنے کی کوشش بھی نہیں کی۔
بنتے بگڑے جملوں کو میرے آنسوؤں نے بھگو بھگو دیا۔
"آفتاب! میں تمہارے بغیر زندہ ہیں رہ سکتی، تم آتے ہو، پھر چلے جاتے ہو، پھر آتے ہو پھر چلے جاتے ہو۔ مجھ سے بات کرنے کا وقت تمہارے پاس نہیں ہوتا۔
یہ چہرہ آج بھی چاند ہے، آنکھیں آج بھی ہیروں کی طرح دمکتی ہیں۔ زلفوں میں آج بھی ساون کی گھٹائیں جھومتی ہیں، لیکن تم کہاں ہو آفتاب؟”
ادھر سے فون کٹ ہو گیا۔
تیسرے دن پلین سے تم آئے۔
شوفر گاڑی لیکر ایروڈرم گیا تھا۔
تم نوابوں کی سی شان تمکنت کے ساتھ اترے۔ کچن کی ایک کھڑکی کاریڈور میں کھلتی تھی، تم ادھر ادھر دیکھتے چلے آرہے تھے جیسے تم کسی کو ڈھونڈ رہے ہو، شاید تمہاری آنکھوں کو میری تلاش ہو؟
میں نے دکھے دل سے سوچا، لیکن تم اپ اپ کرتے ہوئے اوپر چلے گئے۔ شام کو میں پودوں میں پانی دے رہی تھی کہ تم باغ میں نکل آئے۔
"ارے شمع! تم؟ مالی کہاں ہے؟ یہ تم کیا کرتی رہتی ہو ہمیشہ؟ کام کام اتنے سارے نوکر جو ہیں۔”
میں نے پہلی بار بے خوفی سے تمہاری آنکھوں میں جھانکا۔
"آفتاب! سبھی پھول ایسے تو نہیں ہوتے ہیں جو مالی کے ہاتھوں کھل سکیں۔”
ایک دم تم چونکے۔
"تم آج کل بہت ڈائیلاگ بولتی ہو۔ ایں اور بھئی اس دن ٹرنک کال پر تم یہ کیا نادانی کرنے لگیں؟ کوئی ایسے رویا کرتا ہے؟ میں نے گھبرا کر ریسیور ہی رکھ دیا۔”
میں کچھ نہ بولی۔
پودوں میں پانی ڈالتی رہی۔
لڑکیاں بہت احمق ہوتی ہیں، زندگی بھر محبت کے پودوں میں امیدوں کا پانی ڈالتی رہتی ہیں۔
اور میں بھی تو ایک لڑکی ہی تھی، سب لڑکیاں جیسی بلکہ ان سے کچھ زیادہ ہی نادان۔
اور مجھے اس دن پر حیرت ہے جب میں اتنی بے باک ہو گئی تھی کہ تمہارے مقابلے پر آ کھڑی ہوئی تھی۔ یہ تمہارا احسان تھا یا ظلم، پتہ نہیں۔
بہر حال تم نے مجھے نئے کپڑوں اور زیوروں سے لاد دیا تھا۔
سبھی سے تمہارا یہ مطالبہ تھا کہ گوندنی کے پیڑ کی طرح زیوروں سے لدی رہیں۔ تم کسی کام سے اندر آئے تو تھے تو بڑی لپک جھپک کے، لیکن مجھے دیکھ کر ٹھٹک سے گئے۔
"شمع! یہ دوپٹہ؟”
میں نے تمہاری بات کاٹ دی۔
"اسے میرا مقدر سمجھ لو، سیاہ، تاریک، اور ان ستاروں کو آنسو، شاید یہ نشانی تمہیں کچھ سوچنے پر اکسائے۔”
"تم کیسی باتیں کر رہی ہو شمع!”
میں پھٹ پڑی۔
"آفتاب! مجھے مت آزماؤ، خدا کے لئے مجھے مت آزماؤ، میں گھٹ رہی ہوں، مر رہی ہوں، تمہیں کچھ احساس نہیں ہوتا۔”
آنسوؤں نے میرا گلہ رندھا دیا۔
"آج میں تم سے تمہیں کو مانگتی ہوں، بولو آفتاب! جب اللہ نے تمہیں دنیا جہان کی نعمتوں سے نواز دیا ہے تو مجھے کیوں ٹال رہے ہو؟”
"پاگل نہ بنو شمع، میں تمہیں ٹال وال نہیں رہا ہوں بھئی۔ قصہ دراصل یہ ہے کہ ابھی میرے سامنے اتنے پروگرام ہیں کہ میں خود گڑ بڑا گیا ہوں۔ دیکھو! پندرہ دن بعد مجھے لندن جانا ہے، وہاں سے لوٹوں تو شاید کئی دنوں کے لئے دہلی جانا پڑ جائے، اگلے چھ مہینوں میں مجھے پیرس، ہانگ کانگ۔”
میں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں، میں چیخ اٹھی۔
"آفتاب! سونے کے مت بن جاؤ۔ خدا کے لئے گوشت پوست کے ہی رہو۔”
گھر کے لڑکے کاریں اڑائے پھرتے، لڑکیاں نئے نئے فیشن کے کپڑوں اور زیوروں سے سجی بنی کوٹھی پر اپنی سہیلیوں اور دوستوں کے ساتھ ہنگامہ مچائے رکھتیں۔
اور تم جو ان دنوں نعوذ باللہ سب کے پالن پار بنے ہوئے تھے۔ یہ سب دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے رہتے کہ سب لائف کو کس قدر انجوائے کر رہے ہیں۔
اور یہ دیکھ دیکھ کر کڑھتے رہتے کہ میں اتنی خوشیوں کے باوجود کس طرح، بے طرح اداس رہتی ہوں، پہننے اوڑھنے سے مجھے رغبت نہیں، گھومنے پھرنے کا شوق نہیں آنے جانے میں دل نہیں لگتا، محفلوں سے بھاگتی ہوں۔
میں کیا کرتی آفتاب! میرا تو دل ہی جیسے مردہ ہو گیا تھا۔
تم سچ مچ آفتاب بن کر رہ گئے تھے۔ جسے ہر لمحہ دیکھ تو سکتے ہیں، ہاتھ بڑھا کر چھو نہیں سکتے۔ اپنا نہیں سکتے۔
اس دن تم کلکتہ سے آئے ہوئے تھے، تم نے اپنے دوستوں کو ایک پارٹی دے ڈالی۔
انتظام تو مجھے ہی کرنا تھا۔ سو کر دیا، لیکن ان ہنگاموں سے مجھے کیا دلچسپی ہو سکتی تھی؟ تم نے مجھے جتا دیا تھا:
"دیکھو شمع! خدا کے لئے آج ذرا اچھے کپڑے پہننا اور خوبصورت، خیر وہ تو تم نظر آؤ گی ہی!”
میں نے بےحد بے دلی سے وہ جوڑا پہن لیا جس سے میری دیرینہ یادیں وابستہ تھیں، جن دنوں تم غریب تھے لیکن میرے تھے۔
سیاہ شلوار، سیاہ قمیض، اور سیاہ دوپٹہ، جس پر ستارے ٹنکے ہوئے۔
انسان بنے رہو کہ میں تمہیں پا بھی سکوں۔ چھو بھی سکوں، اور چھوؤں تو احساس بھی کر سکوں کہ میں نے محبت اور پیار سے بھرپور دل کو، جسم کو چھوا ہے۔ یہ احساس نہ ہو کہ میں نے ایک سونے کے مجسمے کو محبت دی ہے۔
تم ہکا بکا رہ گئے۔
شاید تمہیں توقع نہ تھی کہ میں جو سدا ایک گونگی کے کردار میں تمہارے ڈرامے میں پارٹ کرتی رہی، یوں بول بھی سکوں گی۔
میں اچانک دیوانوں کی طرح اٹھی اور اونچے کارنس پر سے وہ ننھا منا چراغ اٹھا لائی جو میری امیدوں کی طرح رہ رہ کر ٹمٹما رہا تھا۔
"اسے پھونک مار کر بجھا دو آفتاب! اب میں زندگی سے ہار گئی ہوں، مجھ میں وہ حوصلہ نہیں کہ اسے میں دل کا خون بھی دے کر زندہ رکھ سکوں۔”
تم نے چراغ کو بے معنی نظروں سے دیکھا، اسے بجھایا نہیں (لیکن جلایا بھی نہیں)
اس رات کی پارٹی کی ایک بات مجھے یاد رہ گئی ہے۔ تم نے اپنے دوستوں سے ہم سب بہن بھائیوں سے تعارف کرایا تھا اور تمہارے ہی ٹکر کے ایک بزنس مین دوست اسلم نے مجھ سے ہاتھ ملاتے وقت بے حد شدید حیرت اور سچائی کے ساتھ کہا تھا:
"یار آفتاب! کیا بے وقوفی تھی، آج کے دن تک یہی سمجھتا رہا تھا کہ حوریں مرنے کے بعد ہی ملیں گی۔”
پھر چند دنوں بعد خالہ امی نے میرے سامنے ایک عجیب و غریب "بات” پیش کی۔
"بیٹی! تم جانتی ہو، آفتاب کتنا روشن خیال لڑکا ہے۔ اس نے اپنی بہنوں کو بھی بے جا پابندیوں سے دور رکھا ہے اور تمہیں بھی وہ اپنی بہنوں کی طرح ہر عیش و آرام مہیا کرنا چاہتا ہے۔ اسلم آفتاب کا بہت گہرا، بہت پیارا دوست ہے۔ اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اس نے تمہیں بے حد پسند کیا ہے۔ وہ تم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔”
وہ کچھ ٹھہر کر بولیں۔
"ہم سب اور خاص طور سے آفتاب اس رشتے سے بے حد خوش ہیں۔”
اس کے بعد تو سننے کے لئے کچھ بھی نہ رہ گیا۔
میں اس اصول کی قائل ہوں کہ محبت ایسا جذبہ ہے جو زبردستی کسی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ جب تمہیں نے مجھے ٹھکرا دیا تو میں تمہارے سامنے اس گھر میں رہ کر کیا کر لیتی؟
میں تو بہرحال ایک بوجھ تھی، جو کسی نہ کسی سر پر لاد دیا جاتا۔ میں نے ہاں، نہ کچھ بھی نہ کہا، بس اپنا سر جھکا لیا۔ اب میں سر اٹھا کر جی بھی کیسے سکتی تھی؟
لیکن یہ کیا دکھ ہے آفتاب! جو جی سے جاتا ہی نہیں، میں کہانیاں پڑھتی تھی، جن میں ہمیشہ دو محبت کرنے والوں کے بیچ زمانہ، سماج یا کوئی رقیب آڑے آ جاتا تھا۔
محبت اسی لئے سدا مثلث سے تعبیر کی جاتی رہی ہے۔ لیکن میرے نصیب میں یہ کیسا غم لکھا تھا کہ نہ کوئی سماج میرے لئے دیوار بنا، نہ زمانے نے اڑچن ڈالی، نہ کوئی رقیب ہی پیدا ہوا۔ تمہی میرے سب کچھ تھے اور تمہی نے مجھے بھری بہار میں لوٹ لیا۔
تمہی نے سہاگ کی بندیا میرے ماتھے پر سجائی اور تمہی نے مٹا دی۔ جیون مرن کا سارا کھیل تمہارے ہی ہاتھوں انجام کو پہنچا۔
میں جب بیاہ کر نئے گھر آئی تو وہ دیا اپنے ساتھ ہی اٹھا لائی، اسلم نے دیکھا میں دئیے کی ایسی دیوانی ہوں تو اس نے میرے گھر کو سدا دیوالی کا رو پ دے دیا۔
ننھے منے رنگین، یہاں سے وہاں تک سارے لان میں، درختوں میں، حد یہ کہ ننھے منے پودوں میں لگوا دئیے۔
"تمہیں اجالوں سے پیار ہے اور مجھے تم سے۔”
اور اس نے محبت سے سرشار ہو کر بےحد عام شوہروں والی ہزار بار کہی بات دہرائی۔
"جان! یہ حقیر قمقمے ہیں، تم کہو تو میں آسمان کے سارے جگمگاتے ستارے توڑ کر تمہارے آنچل میں ڈال دوں۔”
اسلم بے چارے کو نہیں معلوم آفتاب! کہ جن ستاروں کو توڑ لانے کا جتن وہ کرتا رہتا ہے وہ آج سے سالوں پہلے تم نے چن چن کر میری آنکھوں میں بسا دئیے ہیں۔
مجھے اسلم پر کیسا ترس آتا ہے۔
اس بے چارے نے کیا قصور کیا ہے کہ اسے محبت سے محروم زندگی ملے۔
اور پھر اتنا ٹوٹ کر چاہنے والا شوہر۔
اسی لئے۔
آج میں نے اپنے ہاتھوں سے اس مٹی کے دئیے کو اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا۔
میں ان یادوں کے لئے کیوں اپنا جیون برباد کروں، جو مجھے خوشی کا ایک لمحہ بھی نہیں دے سکتیں۔
لیکن صبح سے اب تک میں ایک لمحہ کو بھی سکون نہیں پا سکی ہوں۔
اور آنسو تو۔۔۔۔
یوں ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے ہیں جیسے ساری دنیا بہا لے جائیں گے۔
دل کی دکھن کا یہ عالم ہے جیسے چھالے تپ رہے ہوں۔
بے پناہ خوشیوں، محبت کرنے والے ساتھی اور رنگین بہاروں میں گھری ہونے کے باوجود جیسے میری روح ترس ترس کر کراہتی ہے۔
میں تنہا ہوں۔
میں اکیلی ہوں، میں اکیلی ہوں۔
٭٭٭
جھوٹن
"حرامزادے پاواں دبا ریا کہ مذاخ کر ریا رے؟”
بڑے سرکار نے زور سے لات ماری اور کلوا ایک لڑھکنی کھا کر دور جا گرا۔
"ہاتھا کا دم کائے سے چلا گیا؟ حرام خوروں کو کتا بھی کھلاؤ پلاؤ۔ خون میں جو مستی ہور کام چوری کی عادت ہیں سو ہے، اٹھ ذرا زور دے کر دبا۔”
کلوا اپنی مٹھی بھر ہڈیاں کو سمیٹتا اٹھا اور پھر بڑے سرکار کے شان دار بستر پر ڈرتا، سہمتا چڑھ گیا۔ آج اس کے ہاتھ پاؤں واقعی کام نہیں کر رہے تھے۔ اسے ان میں دم ہی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ پیٹ میں کچھ ہو تو انسان میں طاقت بھی آئے۔ یہاں تو زندگی کا طور ہی نرالا تھا۔
ڈیوڑھی کام کاج کرنے والوں سے بھری پڑی تھی۔ ایک تو انائیں تھیں، جو غریب، مگر شریف گھرانوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر لائی جاتی تھیں۔ تاکہ نومولود پاشا لوگوں کو دودھ پلائیں۔ ان کی چاندی ہی چاندی تھی۔ بیگمات بیبیوں کا سا، بلکہ ان سے بھی بڑھ چڑھ کر کھانا ملتا۔ تاکہ نئی نسل اچھی طرح پروان چڑھے اور بچوں کو دودھ کی کمی نہ رہے۔
دوسرے درجے پر مامائیں تھیں جو مطبخ کی کرتا دھرتا تھیں۔ پہلے ان ہی کے ہاتھوں سے ہو کر کھانا پاشا لوگوں تک پہنچتا تھا۔ چکھتے پکتے ہی اتنا اڑا جاتیں کہ پیٹ بھر جاتا، اور جو یہ نہ ہوتا تو چرا چرو کر پیٹ بھر لیتیں۔
تیسرے نمبر پر اوپر کے کام کاج کی چھوکریاں اور چھوکرے مالی، تمبولی۔۔ چوکیدار اور چاؤش آتے تھے۔ جن کا کھانا ڈیوڑھی ہی سے ملتا تھا۔ ان کا کھانا کھٹی دال، چاول، سبزی پر مشتمل ہوتا۔ بڑی سرکار کھانا بننے کے وقت خود آ کھڑی ہوتیں۔۔۔ وہ اچھے خاصے چمچوں کو جن میں ذرا بھی گہرائی ہوتیں، ٹھونک پیٹ کر سیدھا کرا لیتی تھیں کیوں کہ ڈونگے اور گہرے چمچوں میں زیادہ سبزی اور دال چلی جاتی ہیں اور خواہ مخواہ اناج کی بربادی ہوتی ہے۔ اب یا تو الٹے چمچ سے کھانا پروسا جاتا یا ان ٹھونکے پٹے چمچوں سے۔۔۔ بہرحال پیٹ تو سب کا پل ہی رہا تھا۔
اب چوتھے نمبر پر ساری مصیبت ان اوپر کے کام کرنے والے چھوکروں کی تھی جو مردانے میں محض سوکھے پر نوکر تھے۔ دو روپے کلدار ان کی تنخواہ ہوتی، کھانا انہیں اپنے گھر پر جا کر کھانا پڑتا۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ ڈیوڑھی کے ہنگاموں میں چھٹی مل بھی نہ پاتی اور کام کرتے کرتے انہیں ایسی زور کی بھوک لگتی، کہ آنتیں الٹ الٹ کر منہ کو آنے لگتیں اور گھر جا کر بھی کون سے ترتراتے پر اٹھے، پلاؤ اور میٹھے ان کے استقبال کو موجود ہوتے۔ وہی کھٹی دال چاول جو انہیں شاید صدیوں سے ورثے میں ملا ہوا تھا۔
کلوا اس لحاظ سے بڑا خوش نصیب تھا کہ بڑے سرکار کے منہ چڑھا ہوا تھا۔۔ منہ چڑھا ان معنوں میں کہ ان کے بستر کا راز دار تھا۔ ایک سے ایک طرحدار چھوکری اس نے لا کر بڑے سرکار کے بستر پر "نون غنہ” بنا دی تھی۔۔ اور بڑے سرکار کو اس کی اس خوبی کا پتہ بھی نہ چلتا اگر ایک دن وہ اسے زنان خانے میں جا کر پان لانے کو نہ کہتے۔ اب پاندان تو پر تو مشتری حکمران تھے۔ جسے چاہے دے اور جسے چاہے دھتکار دے۔ اور ایسی حرافہ کہ کچھ پوچھو نہیں۔ اس لئے کلوا ڈرتے ڈرتے کان کھجاتا بولا:
"پاشا، پان لانے کا آپ حمید کو بولو نا۔۔۔”
"وہ کائے کو؟” نواب صاحب نے غصے سے کہا: "تیرے ہاتھاں مہندی میں لپٹے کیا؟”
اب کی بار کلوا کان اور سر دونوں کھجا کر بولا۔
"نہیں پاشا ویسی بات نہیں۔ وہ مشتری ہے نا، انے۔۔” وہ چپ رہ گیا۔
"کیا کرتی مشتری؟” بڑے سرکار چڑ کر بولے۔
"پاشا۔۔۔” وہ منمنا کر بولا۔ "وہ نمبر ایک کی چھنال ہے۔ انے میرا ہاتھ لے کو اپنے سینے پر رکھ لیتی۔” پھر وہ بڑے معصوم لہجے میں شرما کر بولا: "ہور پاشا مولبی صاحب بولے کہ شریف مرداں بس اپنی بیوی کے سینے کو ہاتھ لگانا، انے تو غیر ہوئی نا؟”
بڑے سرکار کو اس وقت نہ مولبی صاحب سے غرض تھی نہ ان کے وعظ سے۔ ان کے تصور میں جگمگاتی ہوئی مشتری گھوم رہی تھی، جو اتنی بے باک تھی اور کمبخت زنان خانے میں چاکری کر رہی تھی۔
پھر کلدار ایک۔۔۔ پورا ایک روپیہ یعنی آدھے مہینے کی تنخواہ پوری کلوا کے ہاتھ میں آ گئی۔ یعنی تنخواہ کے علاوہ، بدلے میں وہ مشتری کو پٹا کر مردانے تک رات کے اندھیرے میں لے آیا اور رات کے اندھیرے میں ہی تو چاند جگمگاتا ہے۔
بس اس کے بعد تو یہ معمول ہو گیا کہ کلوا بڑے سرکار کا مشیر خاص بن گیا۔ خانہ باغ سے لے کر معظم جاہی مارکیٹ سے لے کر، چار مینار کے اطراف سے لے کر، کوٹلہ عالی جاہ سے لے کر، میر عالم کی منڈی سے لے کر، پنچھی براق سے لے کر محبوب کی مہندی تک، کوئی جگہ ایسی نہ بچی جہاں کے پھیرے اس نے نہ مارے ہوں اور بڑے سرکار کی خدمت اقدس میں ہر رات ایک نیا چاند طلوع نہ کر دیا ہو۔۔۔
وقت اور بیوپار سلیقہ بھی سکھا دیتے ہیں۔ اب وہ محض ایک روپے کے عوض ایک چاند سپلائی نہ کرتا۔ کسی کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دئیے تو دو سے لے کر پانچ روپے تک بھی بنا لئے۔ کبھی دس تک بھی نوبت پہنچی، کبھی کبھار اس سے بھی زیادہ لیکن رہا وہی ڈیوڑھی کا، باہر کا پوٹا۔ سارا پیسہ وہ اضلاع میں رہنے والے ماں باپ کو بھجوا دیتا، جن کی حقیر سی زمین مستقل قرضوں میں پھنسی ہوئی تھی۔ کھانا کلوا کا ابھی تک اس کے ذاتی گھر میں ہی ہوتا، جہاں اس کی بیوی کھٹی دال، موٹا چاول پکا کر اس کا راستہ دیکھتی ہوتی۔ لیکن بڑے سرکار کا مشیر خاص بننے کا ایک فائدہ ضرور ہوا تھا آئے دن اسے رات کے کھانے میں سے بچی ہوئی انواع و اقسام کی نعمتوں سے بھرا طشت یوں ہی مل جاتا، بڑے سرکار تھے دل والے۔۔۔ شراب، کباب اڑانے کے بعد ویسے بھی انسان کو کتنی بھوک باقی رہ جاتی ہے۔ جنت کی سی نعمتوں سے بھرا طشت خاص الخاص بڑے سرکار کے کمرے میں پہنچا دیا جاتا تھا۔ کیونکہ نشے کے مارے ان کے لئے اپنے آپ چلنا بھی دوبھر ہو جاتا۔ یوں ہی تھوڑا بہت ٹونگ کر کھلانے والے خادم سے کہتے:
"طشت واپس نکو لے جاؤ۔۔ انے کلوا بیٹھا ہے باہر، اس کو دے دیو۔ یہ جھوٹن اس کا اچ حصہ ہے۔۔۔”
کھلانے والا خادم اس عنایت پر جل بھن کر خاک ہو جاتا اور اپنے جی کی جلن مٹانے کے لئے باہر بیٹھے ہوئے کلوا اسے پکار کر کہتا۔۔
"یہ لے جھوٹن کھا کو برتن خالی کر کو جلدی سے دے دے میرے کو۔۔۔” وہ جھوٹن پر زیادہ زور دیتا۔
لیکن نعمتوں سے بھرے ہوئے خوان اسی صورت میں کلوا کو ملتے تھے جب بڑے سرکار کہیں مدعو نہ ہوتے، جس دن وہ کہیں دعوت پر تشریف لے جاتے یا جس دن ان کی طبیعت سست ہوتی اور وہ زنان خانے میں کہلوا دیتے کہ آج کھانا نہ بھجوایا جائے تو کلوا کی میت اٹھ جاتی۔ دن بھر کا بھوکا پیاسا، نہ ہاتھوں میں دم، نہ انگلیوں میں جان، بس یوں ہی ہل ہل کر برائے نام پاؤں دبائے جاتا۔ اس طرح کہ بڑے سرکار کے پیروں پر تو کم وزن پڑتا اور کلوا خود اپنے جسم کو زیادہ جھکولے دیتا رہتا اور اسی جھکولے میں غصے سے بھرے ہوئے سرکار کی ایک آدھ لات ایسی کراری پڑتی کہ کلوا مسہری سے دھپ سے نیچے جا گرتا، دوبارہ اپ نے آپ کو سمیٹتا اور پائینتی پر چڑھ جاتا۔
ایسی ہی لات اس کے آج پڑی تھی، مگر آج جو سرکار نے اس کے لات ماری تو اس میں پاؤں اچھی طرح نہ دبانے کی سزا کم اور کوئی اچھی سی لڑکی نہ ڈھونڈ لانے کی سزا زیادہ تھی۔ اتنے دنوں سے مسلسل یہ ہو رہا تھا کہ روز ایک نئی لڑکی آتی۔ مگر اتنی بہت سی نئی لڑکیاں آخر آئیں کہاں سے؟ حیدرآباد دکن کا ایک بڑا مشہور سبزی ترکاری کا بازار تھا جسے عرف عام میں "میر عالم کی منڈی” کہتے تھے۔ لڑکیوں کی بھی ایسی ہی کوئی منڈی ہوتی تو کیا بات تھی۔ بس گئے، پیسے دئیے اور بیل گاڑی بھر لڑکیاں تلوا کر لے آئے۔ لیکن لڑکیاں تو جناب ڈھونڈ ڈھانڈ کر حیلے بہانوں سے، روپے، پیسوں کا لالچ دے کر ہی لائی جا سکتی تھیں اور وہ بھی ایسی صورت میں جب ان کا وجود ہو۔ جتنے پتے ٹھکانے معلوم تھے، وہاں کی خوبصورتیاں بستر کی زینت بنائی جا چکی تھیں۔ اور ادھر نواب صاحب کا جسم ٹوٹا جا رہا تھا۔ ناگنوں سے ڈسوانے کی ایسی لت لگ چکی تھی کہ گھر کی بیوی اب پھس پھسی معلوم ہونے لگی تھی، ویسے بھی وہ اس طرح سوچتے تھے:
"دنیا کو آنے کا عجیب و غریب دستور ہے، کپڑا پرانا ہوتا، دل سے اترتا، آپ کسی کو بھی دے دیتے، کوئی کچھ نئی بولتا، جوانی پرانی ہو گئی، آپ پھینک دیتے یا دوسری خرید لیتے، کوئی کچھ نئیں بولتا، ایکچ کھانا کھائے کھاتے آپ کا دل بھر جاتا آپ بول کو دوسری ہانڈی پکوا کر کھا لیتے، کوئی کچھ نئیں بولتا، ہور تو ہور میں سال کے سال ہاتھ کی گھڑی بدل دیتا، کوئی کچھ نئیں بولتا۔۔ پن آپ ذرا بیوی سے اکتا جاتے ہور چھوکری باندی سے دل بہلانا چاہتے تو ساری دنیا ناماں رکھتی۔ یہ دنیا بڑی عجیب و غریب ہے۔۔”
اور اس عجیب و غریب دنیا کا چلن بدلنے اور نئی ریت قائم کرنے کے لئے ہی وہ روز ایک نئی تبدیلی کے خواہاں تھے۔
اور آج کے غصہ کی وجہ ہی یہ تھی کہ سرکار کا حکم تھا کوئی نوی چیز ہونا۔
پاؤں ذرا سمیٹ کر نواب صاحب نے ذرا نرمی سے پھر بات شروع کی۔
"ہو رے تو روپے پیسے کے مارے تو پیچھے نئیں ہٹ ریا؟”
اونگھتا ہوا کلوا ایک دم چوکنا ہو گیا، وہ کاروبار میں منجھ چکا تھا، سمجھ گیا، چوٹ لگانے کا وقت اور موقع یہی ہے۔ بظاہر بے پروائی سے بولا:
"جی ہو، پاشا آپ سچی سمجھے، مگر میں آپ سے اس واسطے نئیں بولا کہ آپ نئیں تو سمجھتے کہ میں اچ خرد برد کر ریا۔۔۔” پھر ذرا رک کر کہنے لگا "پاشا اس کی ماں پچیس روپے کلدار مانگ رئی تھی۔”
بڑے سرکار ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئے :
"پچیس روپے؟ ایسی کون سی کوہ خاف کی پری ہے انے؟”
کلوا پرچانے کی انداز سے بولا۔ "جی ہو پاشا۔ کوہ خاف کی پری اچ ہے انے، نئیں پری ویسی نکلی تو کلیم الدین سے پلٹ کر میرا نام کلوا رکھ دینا۔”
پھر ذرا آگے جھک کر ادھر ادھر دیکھ کر بے حد راز داری سے بولا۔
"پاشا، کبھی لال مٹی کا کورا برتن دیکھے آپ؟ پانی پڑتے اچ کیسا سن سے بولتا۔ بس ایسا اچ کورا برتن سمجھ لیو پاشا۔۔ سن، سن۔۔۔”
کچھ ایسے انداز سے کم بخت نے نقشہ کھینچا، بڑے سرکار کی رگ رگ سن سن کرنے لگی، تڑپ کر کھڑے ہو گئے، اچکن کی جیب سے کھن کھن کر پچیس روپے نکالے اور کلوا کی طرف اچھال کر بولے:
"جاکو بس ابی ابی لے کو آ جا وہ چھوکری کو۔۔۔”
کلوا روپے دونوں مٹھیوں میں دبا کر تیزی سے نکلا اور برق رفتاری سے بھاگتا ہوا اپنے گھر پہنچ گیا۔
"سکو۔۔۔ اگے او سکو، کاں مر گئی؟”
حواس باختہ سکینہ سامنے کے دالان میں نکل آئی۔۔
"کائے کو اتا چلائے رئیں۔۔”
"اگے کھانا کھائیں گی؟ مرغا، بریانی، ڈبل کا مٹھا، دہی کی چٹنی، کش مش والے نان۔۔۔”
"چچ، چچ، چچ۔۔” سکینہ افسوس سے بولی۔
"بھوک کے مارے سچ مچ بھی تمے پاگل دیوانے بن گئے۔ پن میں بھی کیا کروں، آج تو دال چاول کو بھی پیسے نئیں تھے، فاخہ اچ سمجھو۔۔۔”
"اگے فاخہ نئیں، دعوت بول، دعوت، دیکھ یہ روپے۔” اور اس نے روپے دالان میں اچھال دئیے۔
سکینہ پاگلوں کی طرح روپیوں پر لپکنے لگی۔ ایک دم کلوا اسے دونوں ہاتھوں میں سنبھال کر کہنے لگا۔۔۔
"بس پہلے ایک چھوٹا سا کام کر دے میرا، پھر یہ سارے روپے اپنے سال بھر کو پورے پڑ جاتے اتے تو۔۔۔”
"کیا کام ہے؟ جلدی بولو نا۔۔۔” سکینہ خوشی سے پاگل ہوتے ہوئے بولی۔
کلوا نے محراب میں ٹھونسے ہوئے کپڑوں میں جھٹ سے ایک ململ کا سفید کرتا نکالا اور اپنے ہاتھوں سے سکینہ کے جسم پر سے میلا کرتا گھسیٹ کر اتارنا شروع کر دیا۔ وہ چلائی بھی۔۔۔
"اگے اگے، یہ کیا کرتے جی تمے؟ بے شرم کدھر کے، کیا میرے کو کپڑا پہننا نئیں آتا؟۔۔۔”
لیکن اتنی دیر میں کلوا اس کا کرتا اتار، قدرت کی صناعی کی داد دینے کے لئے تیار ہو چکا تھا۔
"سکو۔۔۔ تو مال ہے، سچی تو مال ہے۔۔ تو پچیس روپے کے اچ لائخ ہے، چل جلدی کر۔۔۔”
پھر اس نے مبہوت کھڑی سکو کو اپنے ہی ہاتھوں کرتا پہنایا، دوپٹہ اڑھایا، اور گھسیٹتا ہوا لے چلا۔
بڑے سرکار کی جو نظر اٹھی تو اٹھی ہی رہ گئی۔۔۔ غریبی جب ململ کا کرتا کسی غریب کو پہنا دیتی ہے تو نوابوں کو بھکاری بنا دیتی ہے۔ بڑے سرکار ایک بھکاری کی طرح اسے تکے جا رہے تھے۔ گریبان تک جو بٹنس پٹی لگی ہوئی تھی اس میں ہلکی سی گلٹ کی زنجیر میں بجنے والے بٹن جگمگا رہے تھے۔ اور زنجیر اور بٹن کے دائیں اور بائیں گلابی کٹوریوں میں جیسے کھیر بھری رکھی تھی، جسے چاٹنے کے لئے بڑے سرکار بے قرار ہوئے جا رہے تھے۔ انہوں نے فاقہ زدوں کے انداز سے کلوا سے مڑ کر کہا:
"پچیس روپے تو بہوت بھی بہوت کم بولا تمہارے تو۔۔ پچیس روپے تو فخط اس پو سے وار کو پھینک دینا میں۔”
روتی دھوتی سکینہ باہر نکلی تو کلوا وہیں جھاڑیوں میں دبکا بیٹھا تھا۔ اسے دیکھ کر وہ تیزی سے اٹھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بھگاتے ہوئے ڈیوڑھی سے باہر لے آیا۔ ایک ہاتھ سے رکشا روک کر اس نے نامپلی اسٹیشن کے ایک بڑے سے ہوٹل کا پتہ دیا، جو رات گئے تک کھلا رہتا تھا۔ کرسی پر بیٹھتے ہی اس نے مرغی، بریانی، میٹھے، دہی کی چٹنی، نان، ایک سے ایک بڑھیا چیز کا آرڈر دے ڈالا۔ بیرا ایک ایک چیز لا کر چنتا گیا۔ اب پہلی بار اس نے نظریں چرا کر سکینہ کی طرف دیکھا۔
"رونے کو ساری رات پڑی ہے، بلکہ ساری زندگی پڑی ہے گے۔ ذرا سن پہلے پیٹ بھر کر کھانا تو کھا لے۔ تیری اچ تو کمائی ہے۔”
سکینہ نے پہلے تو اپنے شوہر کی طرف دیکھا۔ پھر پاس پڑا ہوا چمچہ اٹھا کر تڑا تڑ زور زور سے اس کے سر پر مارنا شروع کیا۔
"اگے اگے۔۔۔ یہ کیا کرتی ہے؟ اگے دیکھنا تو کب سے مرغے کی خوشبو بھی نئیں سونگھی ہوئیں گی۔ بریانی کا مزہ کیسا ہوتا، یہ بھی تیرے کو یاد نئیں ریا ہوئیں گا۔۔۔ پر اب دیکھنا۔ دیکھ دیکھ! کیا بہوت سا کتا مزے دار کھانا ہے۔ تو بھی تو صبو سے بھوکی اچ تھی نا؟”
چمچہ چھوڑ کر سکینہ نے کھانے کی طرف دیکھا اور اس کی بھوک اسے ڈسنے لگی۔ اس نے دیوانوں کی طرح دونوں ہاتھوں سے منہ میں بیک وقت کئی کئی چیزیں ٹھونسنی شروع کر دیں۔
کلوا کا پروگرام سوچا سمجھا تھا۔ سال بھر کی تنخواہ ایک ہی ساتھ مل گئی تھی، بیوی کی عزت گئی اس کا اسے دکھ ضرور تھا۔ لیکن سوکھے پیٹ نے اسے جواز بھی سمجھا دیا تھا۔
"اتے زمانے سے میرے ساتھ سوتی تھی، بس ایک رات بڑے سرکار کے ساتھ سو گئی تو کون ہیرے موتی جھڑ گئے۔۔ بات تو ایک اچ ہوئی۔ سرکار کے ساتھ سونے سے کم سے کم سال بھر کی تنخواہ ایک ساتھ تو مل گئی۔:
اب اس نے یہ سوچا تھا کہ چپکے سے نکل کر سکینہ کو ساتھ لے کر ماں باپ کے پاس اضلاع میں چلا جائے گا اور باقی زندگی کھیتی کے کام کاج میں چین اور عزت سے گزارے گا۔ روز روز کی لاتیں اب اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھیں۔
دو دن تیاری میں نکل گئے۔ ان دو دنوں میں وہ ڈیوڑھی ہی نہیں گیا، اور جانے کی اب ضرورت بھی کیا تھی؟ اپنے حسابوں تو اس نے نوکری چھوڑ دی تھی۔ لیکن ادھر جو نواب صاحب کو پہلی دھار کی طرح چڑھ گئی تھی۔ وہ لڑکی اترنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ دو دن تو اسی انتظار میں نکل گئے کہ کلوا آئے تو پھر اسی کوری لال مٹی کی صراحی کو بلوائیں، مگر جب کلوا پلٹا ہی نہیں، بڑے سرکار خود ہی شکرم لگوا کر اس کے گھر پہونچ گئے۔ یہ ظاہر کرنے کے لئے دو دن سے کلوا نہیں آیا تو وہ خیریت پوچھنے آئے ہیں۔
کلوا اس وقت کسی کام سے بازار گیا ہوا تھا، گھر میں صرف سکینہ تھی۔۔ نواب اقتدار یار جنگ کا کلوا ایسی حقیر فقیر کی مڑگی (جھونپڑی) تک آ جانا ایسی کوئی معمولی بات تو تھی نہیں، سارے محلے میں شور مچ گیا۔
"اگے ایک بہوت بھی بہوت خوبصورت بڑی بھاری شکرم آئی تھی۔۔ کوئی نواب صاحب آئے گئے۔”
سکینہ بھی تیزی سے باہر نکلی۔ نواب صاحب سے اس کی آنکھیں چار ہوئیں۔۔ نواب صاحب کا دل اچھل کر سینے سے باہر نکلنے لگا۔ جس کے لئے وہ یو ں تڑپ رہے تھے وہ اس قدر آسانی سے مل جائے گی، اس کا انہیں گمان بھی نہ تھا۔ مگر رعب داب قائم رکھنے کی خاطر پوچھا۔۔
"کلوا کا گھر کون سا ہے؟”
"یہی اچ ہے سرکار۔” کئی آدمی ایک ساتھ بولے۔
"تو اس کے گھر یہ چھوکری کون کھڑی؟”
"یہ۔۔۔۔ ؟ انے تو اس کی مکان والی (بیوی) ہوتی سرکار!”
نواب صاحب کبھی سکینہ کو دیکھتے، کبھی محلے والوں کو۔ دل میں غصہ کا ابال سا اٹھا۔
"تو اس نے، حرام زادہ، سور کا جنا، ہم کو دھوکا دیا، پورے پچیس روپے کا دھوکا۔۔۔”
"اچھا بچہ جی۔۔” وہ سکینہ سے مخاطب ہو کر بولے۔۔ "یہ ہمارا چاؤش تمہارے گھر پو بیٹھا رہے گا۔ کلوا آئے تو اس کو فوراً ڈیوڑھی پو بھیج دیو۔”
کلوا بید مجنوں کی طرح کانپ رہا تھا، جب زپا زپ بید پر بید پڑ رہے ہوں تو اچھے اچھے بھی بید مجنوں کی طرح کانپنے لگتے ہیں۔۔ اور وہ تو تھا ہی قمچی کی طرح۔
"کیوں بے حرام کی اولاد۔۔۔ جب اپنے گھر کی آپس کی اچ بات تھی تو تو میرے سے روپے کیوں لیا؟ اتنی خوبصورت تیری بیوی تھی تو تیرا کام نئیں تھا کہ ویساچ لا کر پیش کر دیتا۔ کیا میرا نمک نئیں کھاتا تھا تو؟”
کلوا کچھ نہ بولا۔
"اب تیری سزا یہ ہے کہ وہ روپے میرے کو واپس کر، ہور سزا کے طور پر ایک مہینہ روزانہ اپنی بیوی کو میرے پاس بھجوا۔”
کلوا کچھ نہ بولا۔
"ہور سن۔۔ تیری اک سزا یہ بھی ہے کہ جب ہم ہور تیری جورو اندر رہیں تو تو دروازے پو ہی بیٹھا رہو۔۔ پھر تیرا جی تو جلنا کی اندر تیزی جورو کا کیا حشر ہو ریا۔”
کلوا کچھ نہ بولا۔
پھر سرکار نے کھانا کھلانے والے خادم کو بلا کر زور دار الفاظ میں تنبیہ کی:
"اب سے ہماری جھوٹن اس حرامزادے کو نکو دیتے جاؤ۔ بہوت حرام خور ہے انے۔۔ کھا کھا کو مستی چڑھ گئی اس کو۔۔۔”
خوف کی زیادتی کبھی کبھار انسان کو بےخوف بنا دیتی ہے۔ اب کلوا پہلی بار بولا:
"ہو۔۔ آج سے میں اچ سرکار کی جھوٹن نئیں کھاؤں گا۔۔ کیونکہ اب تو سرکار میری جھوٹن کھا رئے۔۔”
بڑے سرکار کے ہاتھ سے بید چھوٹ کر ان کے اپنے پیروں پر آ پڑا۔
٭٭٭
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

