ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

مکمل کتاب پڑھیں…..

 

لفظوں سے پہلے

 

شعری مجموعہ

 

 

سرفراز زاہد

 

 

صفدر خان اور بسمہ خان کے نام

 

حرفِ سپاس

علی محمد فرشی ، خاور اعجاز ،اختر رضا سلیمی،  شہاب صفدر، طاہر شیرازی، قاضی محمد زکریا

 

کنایوں اور تشبیہوں سے پہلے
کہاں ہوتے ہیں ہم لفظوں سے پہلے

کہیں بیٹھا ہوا تھا دل سے لگ کر
جبیں کا داغ کچھ سجدوں سے پہلے

ہمیں برتا گیا خوابوں کے مابین
ہمیں دیکھا گیا، آنکھوں سے پہلے

دریچے نے جگہ لے لی ہے اس کی
تکلف تھا جو دیواروں سے پہلے

کسی پتھر کے سینے میں تھے محفوظ
ہمارے عکس آئینوں سے پہلے

اُترنا ہے کسی امکاں کے اُس پار
پہنچنا ہے کہیں رستوں سے پہلے

صفاتِ نور میں ہوتے تھے شامل
یہ سارے عیب ہم ایسوں سے پہلے
٭٭٭

 

 

بھنور میں مشورے پانی سے لیتا ہوں
میں ہر مشکل کو آسانی سے لیتا ہوں

جہاں دانائی دیتی ہے کوئی موقع
وہاں میں کام نادانی سے لیتا ہوں

وہ منصوبے ہیں کچھ، آباد ہونے کے
میں جن پر رائے ویرانی سے لیتا ہوں

اب اپنے آبلوں کی گھاٹیوں سے بھی
سمندر دیکھ آسانی سے لیتا ہوں

نہیں لیتا مگر اپنی پہ آؤں تو
میں بدلہ آگ کا پانی سے لیتا ہوں

نظر انداز کر دیتی ہے جب دُنیا
جنم خود اپنی حیرانی سے لیتا ہوں

وہاں مشکل میں پڑ جاتے ہیں گرد و پیش
جہاں میں سانس آسانی سے لیتا ہوں

لگاتا ہے مری بینائی پر تہمت
میں فتوے جس کی عریانی سے لیتا ہوں
٭٭٭

 

 

نظر کچھ سر اُٹھاتے زاویوں پر
قدم نیچے اُترتی سیڑھیوں پر

کوئی ایمان لے آئے گا اک دن
مری خود ساختہ خوش فہمیوں پر

گئی تھی بات دروازے سے ہو کر
عبث الزام آیا کھڑکیوں پر

کسی کی پھول سی باتوں میں آ کر
غزل اک کہہ گئے ہم تتلیوں پر

گنہ کرتے ہوئے سوچا نہیں تھا
کہ پچھتانا پڑے گا نیکیوں پر

پھسل جاتا ہے آئے روز کوئی
تری پھینکی ہوئی ہمدردیوں پر

اجل گہری نظر رکھے ہوئے ہے
مری سانسوں کی بے ترتیبیوں پر
٭٭٭

 

 

ٹھہر کر روانی میں جھانکا
خلاؤں سے پانی میں جھانکا

اُفق کے دریچے سے کس نے
مری بے کرانی میں جھانکا

کئی قرن مٹی میں مہکا
پھر اک روز پانی میں جھانکا

بڑھاپے کے زینے سے جھک کر
کسی کی جوانی میں جھانکا

حقیقت سے آنکھیں ہوئیں چار
پلٹ کر کہانی میں جھانکا

انا الحق کی سُولی پہ چڑھ کر
تری لن ترانی میں جھانکا

میں لفظوں کی مُٹھی سے پھسلا
جب اپنے معانی میں جھانکا
٭٭٭

 

 

ایسی ویسی پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم
دان یہ فقر کی دولت نہیں کر سکتے ہم

اک عداوت سے فراغت نہیں ملتی ورنہ
کون کہتا ہے محبت نہیں کر سکتے ہم

کسی تعبیر کی صورت میں نکل آتے ہیں
اپنے خوابوں میں سکونت نہیں کر سکتے ہم

استعاروں کے تکلف میں پڑے ہیں جب سے
اپنے ہونے کی وضاحت نہیں کر سکتے ہم

شاخ سے توڑ لیا کرتے ہیں آگے بڑھ کر
جن کی خُوش بُو پہ قناعت نہیں کر سکتے ہم

بے خبر یوں کہ ہر اک بات خبر لگتی ہے
باخبر ایسے کہ حیرت نہیں کر سکتے ہم
٭٭٭

 

 

سیہ گلاب کی تشبیہ میں بھٹکتا ہوں
میں کائنات کو منظوم کرنے نکلا ہوں

زمین پاؤں تلے سے سرکتی جاتی ہے
میں آسمان سے شرطیں لگائے بیٹھا ہوں

کنویں کی سمت بُلا لے نہ کوئی خواب مجھے
میں اپنے باپ کا سب سے حسین بیٹا ہوں

کسی کی یاد اگر بھُول کر بھی آ جائے
میں اس کی یاد کہیں رکھ کے بھُول جاتا ہوں

جدید دور کے اک خوش نما وصال کے سنگ
کسی قدیم جدائی میں سانس لیتا ہوں

شکستِ فاش ہوئی ہے مرے شکاری کو
میں آج دام میں اس سادگی سے اترا ہوں

وہ ایک خواب میں میرے قریب آئے اگر
میں سارے شہر کی نیندیں خرید کر سکتا ہوں

وہیں پہ میرے مصنف کو اُونگھ آتی ہے
میں جن سطور میں دشمن پہ حاوی ہوتا ہوں
٭٭٭

 

 

جب تعارف سے بے نیاز تھا میں
کوئی زاہد نہ سرفراز تھا میں

جب ہوا آشکار تب جانا
اپنے بارے میں کوئی راز تھا میں

اب تو سانسوں میں بھی نہیں ترتیب
پہلے وقتوں میں نے نواز تھا میں

اے مری انتہائے بربادی
کس قدر مبتلائے ناز تھا میں

سب کو قدرت تھی خوش کلامی پر
خامشی میں زباں دراز تھا میں

بھول جاتا ہے اب دعاؤں میں
پہلے جس کے لیے نماز تھا میں
٭٭٭

 

 

دل میں رستہ روز نہیں بنتا
ایسا مصرعہ روز نہیں بنتا

بننے والے ٹوٹتے رہتے ہیں
ٹوٹنے والا روز نہیں بنتا

خواہش ہاتھ بٹاتی ہے ورنہ
آنکھ سے چہرہ روز نہیں بنتا

ابراہیمی کھیل نہیں پیارے
آگ میں سونا روز نہیں بنتا

باہر کھڑکی روز نہیں کھلتی
اندر جھونکا روز نہیں بنتا

شرق و غرب ملانا پڑتے ہیں
یوں ہی بوسہ روز نہیں بنتا

ایسا ویسے روز بناتا ہوں
ویسے ایسا روز نہیں بنتا

نیند کا بستر مل بھی جائے تو
بازو تکیہ روز نہیں بنتا

ایک نشانہ باندھنے والے کا
کون نشانہ روز نہیں بنتا

سیر کو ملکہ روز نہیں آتی
باغ میں قصّہ روز نہیں بنتا

موت سے جا کر کہہ دو اب ہم سے
ایک بہانہ روز نہیں بنتا
٭٭٭

 

 

تری جانب جو تکنا سیکھ لیتے
اندھیرے بھی چمکنا سیکھ لیتے

اگر کرتا کوئی زینہ تعاقب
تو ہم چھت پر بھٹکنا سیکھ لیتے

کسی کا لمس ان میں سانس لیتا
تو یہ پتھر دھڑکنا سیکھ لیتے

کوئی جھونکا مُصر ہوتا تو ہم بھی
وضاحت میں مہکنا سیکھ لیتے

یہ منظر یوں ہمیں رسوا نہ کرتے
اگر پلکیں جھپکنا سیکھ لیتے

کسی کو یاد رہنا یاد رہتا
تو ہم بھی بھول سکنا سیکھ لیتے
٭٭٭

سوچوں نے جب خلا بنایا
لفظوں سے اک خدا بنایا

کھڑکی سے جھانک کر کسی نے
منظر کو واقعہ بنایا

شاید ہو کوئی اپنے جیسا
تھا جس نے آئینہ بنایا

تھی وہ ہماری راکھ جس نے
تاروں میں راستہ بنایا

پہلے تو واں جگہ بنائی
پھر خود کو اس جگہ بنایا

آنکھوں نے خال و خد بچھائے
ہونٹوں نے راستہ بنایا

مت پوچھو کیا بنا نہ پائے
دیکھو تو ہم نے کیا بنایا

کل آن ملا تھا راستے میں
مصرعہ کوئی بنا بنایا

آنسو نہیں بنا سو ہم نے
عجلت میں قہقہہ بنایا
٭٭٭

 

 

یہ خوش گمانی ہے یا نظر کا مغالطہ ہے
انا کی دیوار میں جو در کا مغالطہ ہے

وہ زندگی کی فلاسفی سے نہیں ہیں واقف
کہ اپنے شانوں پہ جن کو سر کا مغالطہ ہے

جو اونچی شاخوں پہ ہے حقیقت پہ مشتمل ہے
جو خالی دامن میں ہے ثمر کا مغالطہ ہے

میں اپنے تکیے پہ اس کی بانہیں ٹٹولتا ہوں
دراز بستر پہ جس کمر کا مغالطہ ہے

مغالطہ ہے اسے بھی مجھ پر کسی مکیں کا
کسی کھنڈر پہ مجھے بھی گھر کا مغالطہ ہے

خوش آ رہی ہے کھلی فضا کو اُڑان اس کی
مگر پرندے کو بال و پر کا مغالطہ ہے

تجھے بھی شاید کسی خدا کا گماں ہے خود پر
مجھے بھی لاحق کسی بشر کا مغالطہ ہے
٭٭٭

 

 

نظر کی دھوپ میں آنے سے پہلے
گلابی تھا وہ سنولانے سے پہلے

سنا ہے کوئی دیوانہ یہاں پر
رہا کرتا تھا ویرانے سے پہلے

محبت عام سا اک واقعہ تھا
ہمارے ساتھ پیش آنے سے پہلے

کھِلا کرتے تھے خوابوں میں کسی کے
ترے تکیے پہ مرجھانے سے پہلے

نظر آتے تھے ہم اک دوسرے کو
زمانے کو نظر آنے سے پہلے

تعجب ہے کہ اس دھرتی پہ کچھ لوگ
جیا کرتے تھے مر جانے سے پہلے

مزین تھی کسی کے خال و خد سے
ہماری شام پیمانے سے پہلے

گریباں کے بٹن پر اونگھتا تھا
ستارہ آنکھ کھل جانے سے پہلے

رہا کرتا تھا اپنے زعم میں وہ
ہمارے دھیان میں آنے سے پہلے
٭٭٭

 

 

مکین کو مکان سے نکالیے
یہ نقطہ آسمان سے نکالیے

ہمارے ساتھ کیجیے مکالمہ
تو خود کو درمیان سے نکالیے

خزانہ رہنے دیجیے زمین میں
ہوس کو داستان سے نکالیے

نمی جگہ بنا رہی ہے آنکھ میں
یہ تیر اب کمان سے نکالیے

ہماری چپ کو سنتے جائیں غور سے
ہماری بات کان سے نکالیے

فضاؤں میں پنپ رہی ہیں سازشیں
سو بال و پر بھی دھیان سے نکالیے

سمے گزر رہا ہے سانس روک کر
صدی کو امتحان سے نکالیے

نکل نہ جائے بات دوسری طرف
لکیر اک زبان سے نکالیے

خراب ہو رہی ہے جنسِ آرزو
یہ مال اب دکان سے نکالیے
٭٭٭

 

 

خواب میں منظر رہ جاتا ہے
تکیے پر سر رہ جاتا ہے

آ پڑتی ہے جھیل آنکھوں میں
ہاتھ میں پتھر رہ جاتا ہے

روز کسی حیرت کا دھبّہ
آئینے پر رہ جاتا ہے

دل میں بسنے والا اک دن
جیب کے اندر رہ جاتا ہے

ندیا پر ملنے کا وعدہ
میز کے اوپر رہ جاتا ہے

سال گزر جاتا ہے سارا
اور کیلنڈر رہ جاتا ہے

آنگن کی خواہش میں کوئی
بام کے اوپر رہ جاتا ہے

لگ جاتی ہے ناؤ اُس پار
اور سمندر رہ جاتا ہے

رخصت ہوتے ہوتے کوئی
دروازے پر رہ جاتا ہے
٭٭٭

 

 

غفلتوں کا ثمر اٹھاتا ہوں
روز تازہ خبر اٹھاتا ہوں

بات بڑھتی ہے طول دینے سے
سو اِسے مختصر اٹھاتا ہوں

ہو کے باشندہ اک ستارے کا
انگلیاں چاند پراٹھاتا ہوں

چومتے ہیں جسے اٹھا کر لوگ
میں اسے چوم کر اٹھاتا ہوں

اب کہاں آسمان چھونے کو
زحمتِ بال و پر اٹھاتا ہوں

سوئے منزل میں ہر قدم اپنا
اک فلک چھوڑ کر اٹھاتا ہوں

وار کرتی ہے جب پلٹ کر موج
احتیاطاً بھنور اٹھاتا ہوں

اپنی مفتوحہ سر زمینوں پر
پاؤں رکھتا ہوں سر اٹھاتا ہوں
٭٭٭

 

 

نیندیں طویل کر گیا ہے
جب سے وہ خواب پر گیا ہے

یہ غل مچانے والا، میری
خاموشیوں سے ڈر گیا ہے

تھا جی کا لین دین کوئی
بدلے میں جس کے سر گیا ہے

ٹوٹی ہے گہری نیند لیکن
آئینہ کچھ سنور گیا ہے

زندہ اکٹّھے ہو رہے ہیں
لگتا ہے کوئی مر گیا ہے

یہ جاگتے میں کون میرے
خوابوں سے ہاتھ کر گیا ہے

دیوانگی کا قرض سر پر
باقی ہے، کچھ اُتر گیا ہے

آنکھوں میں اشک بھر ٹھہر کر
دھڑکن عبور کر گیا ہے
٭٭٭

 

 

جب سے اک بات پر ہنسا ہوں میں
خال و خد سے بچھڑ گیا ہوں میں

مسکراہٹ کہاں گئی میری
ہر شگوفے سے پوچھتا ہوں میں

اک زمیں زاد کی جدائی میں
آسماں چومنے لگا ہوں میں

پڑ گئے ہیں بھنور دریچوں میں
جانے کس موج میں مڑا ہوں میں

مری تنہائی کو نہیں معلوم
کب کا کمرے سے جا چکا ہوں میں

اس قدر بھیڑ تھی کلیشوں کی
لفظ کو ڈھونڈنا پڑا ہوں میں

سر پہ چھتری لیے کھڑا ہوں اور
اک تبسم میں بھیگتا ہوں میں

عشق! آٹو گراف دے اپنا
دیکھ! سُولی تک آ گیا ہوں میں

دُکھ سے دو چار سال چھوٹا ہوں
ہجر سے ایک دن بڑا ہوں میں

مت بھٹک ہاتھ کی لکیروں میں
ان جزیروں سے جا چکا ہوں میں

ایک رِم جھم سی کیفیت کے بعد
موسلا دھار ہو رہا ہوں میں

خواب ہوں دیویوں کی آنکھوں کا
دیوتاؤں کا مسئلہ ہوں میں

جب سے جھانکا ہے تیری آنکھوں میں
ان زمانوں سے لاپتہ ہوں میں

جام کرتا ہے میرا استقبال
جب مصلّیٰ لپیٹتا ہوں میں

اب جسے جوڑتا ہوں پلکوں سے
خواب میں توڑتا رہا ہوں میں
٭٭٭

 

 

پاؤں رکھتے نہیں رکاب میں ہم
دیکھ آتے ہیں خود کو خواب میں ہم

صبح بھاگے تھے گھر سے باغ کی سمت
رات پکڑے گئے کتاب میں ہم

سب سے اگلی صفوں میں تھے لیکن
سب سے پیچھے رہے ثواب میں ہم

جھانک لیتے ہیں ماہتاب سے وہ
جھوم اٹھتے ہیں اک گلاب میں ہم

قہقہے پھینکتے ہیں باہر سے
اپنے اندر کے اضطراب میں ہم
٭٭٭

 

یہ جو یک طرفہ محبت ہے میاں
خود کو پانے کی ریاضت ہے میاں

یہ ترا تخت، محل، تاج، سپاہ
میرے اک خواب کی قیمت ہے میاں

دینِ اکبر کو بچانے کے لیے
چند فتووں کی ضرورت ہے میاں

خال خال اب تو نظر پڑتی ہے
بچ نکلنے کی جو صورت ہے میاں

لمبی نیندوں میں سفر کرنے کو
خواب زادوں کی ضرورت ہے میاں

ایسا لگتا ہے یہ تاریکی بھی
کسی اندھے کی وصیت ہے میاں
٭٭٭

 

 

کبھی جو راہ گزارِ دل بناتے
کوئی گمراہ سی منزل بناتے

سناتے داستانِ شب، تو اس میں
تجھے اک خواب کا قاتل بناتے

کہیں ملتی جو تنہائی سرِ راہ
اسے ہم صاحبِ محفل بناتے

بڑی خواہش تھی اے پتھر کی مورت!
ترے پہلو میں بھی اک دل بناتے

زمیں ملتی جو سجدے کی جبیں کو
فلک والے کا مستقبل بناتے

اُٹھا کر دامنِ ماضی سے اک داغ
رُخِ امروز پر اک تل بناتے

کبھی آتی جو آسانی میسر
اسے اپنے لیے مشکل بناتے
٭٭٭

 

 

کبھی ہونٹوں پہ ایسا لمس اپنی آنکھ کھولے
کہ بوسہ خود کشی کرنے سے پہلے مسکرا دے

کوئی آنسو چمکنے میں ہمارا ساتھ دیتا
تو زہرہ اور عطارد اپنے گھر کی راہ لیتے

لجا کر رات نے کچھ اور بھی گھونگھٹ نکالا
طلب نے جسم پہنا، شوق نے گہنے اتارے

تصور میں ٹہلتے خال و خد کیا چاہتے ہیں
مصوّر سے کہو تصویر کی آنکھوں سے پوچھے

دکاں اک سامنے ایسی، اچانک آ گئی تھی
جہاں ممکن نہ تھا ہم اپنی جیبوں میں سماتے

بھکارن جاتے جاتے پیچھے مڑ کر دیکھ لے تو
میں اس کے نام کر دوں دل کے مفتوحہ علاقے

اتر آتیں ترے جھیلوں پہ سستانے کو ڈاریں
تو اس دن ہم بھی اپنے غار سے باہر نکلتے
٭٭٭

 

 

تھی وہ دلکشی مختصر بحر میں
کیا عشق بھی مختصر بحر میں

پنہ استعاروں میں لینا پڑی
وہ ایسی کھلی مختصر بحر میں

محبت! تری داستاں ہے طویل
کہیں مل کبھی مختصر بحر میں

تعاقب میں تھے قافیہ اور ردیف
کٹی زندگی مختصر بحر میں

سخن زندہ کرنے کی خواہش میں ہم
مریں گے کسی مختصر بحر میں

میں جب گنگنانے لگا اس کے ہونٹ
خموشی ہنسی مختصر بحر میں

تخیل نے شب، ربِ امکان سے
ملاقات کی مختصر بحر میں

بس اک استعارے کی دوری پہ ہے
سخن کی گلی مختصر بحر میں

کیے سارے لفظ اس وضاحت میں خرچ
کہ بولوں کبھی مختصر بحر میں

سخنور کو آنکھیں دکھاتی رہی
کسی کی کمی مختصر بحر میں

کنایوں کو رستہ بدلنا پڑا
وہ ایسی مڑی مختصر بحر میں
٭٭٭

 

 

خود کو یکمشت دان کر بیٹھے
ہم یہ کیسا زیان کر بیٹھے

تب کہیں آئینہ ہوا ایجاد
ایک دن خود پہ دھیان کر بیٹھے

ہم یہ کس خواب کی تمنا میں
اپنی نیندیں جوان کر بیٹھے

دل کی آوارگی سے تنگ آ کر
شاعری کی دکان کر بیٹھے

دونوں ہونٹوں کی ہم نوائی میں
خامشی سے زبان کر بیٹھے

ہم یہ کن تبصرہ نگاروں میں
دل کی حالت بیان کر بیٹھے
٭٭٭

 

سمٹ کر بوند میں امکان ہونا
ابھی تک راز ہے انسان ہونا

اگر ان رتجگوں کے موسموں میں
پڑے اک خواب کا مہمان ہونا

مری باتوں میں آ کر چاہتی ہے
خموشی صاحبِ دیوان ہونا

قناعت کیجیے بس دیکھنے پر
کبھی تو چھوڑیے حیران ہونا

مری تصویر کو پہچانتا ہے
تری دیوار کا انجان ہونا

یہ دانائی کہیں مہنگی نہ پڑ جائے
کہیں سے سیکھ لو نادان ہونا

رعایا کے لیے اچھی خبر ہے
ہمارا خواب میں سلطان ہونا

مری افسردگی کو راس آیا
تری تفریح کا سامان ہونا

فلک پر میزبانی جانتی ہے
زمیں کا آخری مہمان ہونا

تقاضے اس قدر تھے بام و در کے
کہ آخر پڑ گیا ویران ہونا
٭٭٭

 

 

خواب زادوں کا دکھ زمینی ہے
یہ حقیقت بڑی کمینی ہے

اے خدائے گماں! کوئی تجویز
معرکہ اب کوئی یقینی ہے

پتھروں کے مزاج میں شامل
آبگینوں پہ نکتہ چینی ہے

وہ مرے سامنے سے اُٹھ جائے
جس کا مقصد تماش بینی ہے

گھر کی تزئین میں سرِ فہرست
ایک عورت کی نکتہ چینی ہے

ایک پل کے جمال میں یک جا
کئی صدیوں کی دل نشینی ہے
٭٭٭

 

 

جہاں چوکھٹ ہے واں زینہ تھا پہلے
مرا مہمان نا بینا تھا پہلے

محبت کی مروّج داستاں میں
کہیں مرنا کہیں جینا تھا پہلے

میں دیواروں سے بھی سچ بولتا تھا
مرے کمرے میں آئینہ تھا پہلے

کسی رخسار کا تِل بن چکا ہے
ہمارے دل میں جو کینہ تھا پہلے

جسے اب تحفتاً لوٹا رہے ہو
مرے اجداد سے چھینا تھا پہلے
٭٭٭

 

 

پھر ایسا موڑ اس قصے میں آیا
میں صدیاں گھوم کر لمحے میں آیا

مرا رستہ کسی جنگل سے گزرا
کہ خود جنگل مرے رستے میں آیا

کسی کے عرش پر ہونے کا دعویٰ
سمجھ اک شب مجھے نشے میں آیا

میں اپنے گھر بڑی مدت کے بعد آج
کسی مہمان کے دھوکے میں آیا

ترا کردار چلتے پھرتے اک دن
مری روداد کے کوچے میں آیا

یونہی اک دن ہجومِ خال و خد میں
نظر خود کو میں آئینے میں آیا

منڈیروں سے اتر کر خوف کوئی
دبے پاؤں مرے کمرے میں آیا
٭٭٭

 

 

سوا دمک میں اگر ماہتاب کی ب ہے
نظر کی راہ میں حائل حجاب کی ب ہے

ہے اس میں ہاتھ کہیں موسموں کی غفلت کا
مزاجِ شاخ پہ بھاری گلاب کی ب ہے

لرز رہا ہے دریچے کی اوٹ میں منظر
کہ پیش و پس میں کسی اضطراب کی ب ہے

زباں پہ توبہ کیت کس طرف سے آنکلی
ابھی گلاس میں باقی شراب کی ب ہے

جہاں پہ رہنے کی تم کو جگہ نہیں ملتی
وہ کائنات مرے ایک خواب کی ب ہے

ہے اس کا لمس کسی دوسرے ستارے پر
ہمارے پاس یہ جو دست یاب کی ب ہے

یہ موج زلف جھٹکتی ہے اپنے شانوں سے
کہ سر پہ خاک اڑاتی سراب کی ب ہے
٭٭٭

 

ہم تھے اک دوسرے کی مجبوری
اور دل قافیے کی مجبوری

یہ جو چلتا ہوں اپنے پنجوں پر
جانتا ہوں سمے کی مجبوری

آئینہ راہ دیکھتا ہو گا
لَوٹ جا! دیکھنے کی مجبوری

دل کی ملکہ کنیز کیا بتلائیں
ہم تجھے تخلیے کی مجبوری

جاہلوں کی قطار میں لے آئے
روز کچھ جاننے کی مجبوری

میں تری کائنات کا اسلوب
تُو مرے قافیے کی مجبوری

آر کو پار سے ملا دے گی
ایک دن ٹوٹنے کی مجبوری

میں ترے دائیں بائیں رہتا ہوں
اے مرے سامنے کی مجبوری

رفتہ رفتہ جگہ بناتی ہے
ایک میں دوسرے کی مجبوری
٭٭٭

 

 

جب تلک زیرِ آسمان رہے
اپنے سائے سے بدگمان رہے

وہ امر ہو گئے ہمیں چھو کر
اور ہم یوں ہی بے نشان رہے

آ رہا ہوں نصیحتیں لے کر
اس سے کہنا ابھی جوان رہے

لفظ تشہیر میں رہے اپنی
درد نا قابلِ بیان رہے

لازمی تو نہیں ہمیشہ خواب
دونوں آنکھوں کے درمیان رہے

آسماں کو چھوا، اور اگلے پل
اپنے قدموں کے بیچ آن رہے

شب کو مہمان بننے والے خواب
سارا دن میرے میزبان رہے
٭٭٭

 

 

دو آنکھوں سے کم از کم اک منظر میں
دیکھیں خود کو آپ اور ہم اک منظر میں

اپنی کھوج میں سرگرداں بے سمت ہجوم
تنہائی دیتی ہے جنم اک منظر میں

تتلی کو رخسار پہ بیٹھا چھوڑ آئے
حیرت کو درکار تھے ہم اک منظر میں

لمحہ لمحہ بھرتے جائیں خوف کا رنگ
گہری شام اور تیز قدم اک منظر میں

گھات میں بیٹھا کوئی دانش ور مجھ کو
کر دیتا ہے روز رقم اک منظر میں

اب جو اپنا سایہ ڈھونڈتا پھرتا ہے
جا نکلے تھے بھول کے ہم اک منظر میں
٭٭٭

 

کبھی ہیرے کبھی لاوہ اُگلتے
کٹا جیون چٹانوں سے نکلتے

کہیں رستے میں پڑتی جھیل کوئی
تو ہم بھی ماہتابی چال چلتے

گمانوں سے مفر ممکن جو ہوتا
ترے باغوں کی جانب جا نکلتے

گلے لگ کر ہم اس کے خوب روئے
خوشی اک دن ملی تھی راہ چلتے

وہاں ہم غیر نکلے اپنی خاطر
جہاں پر غیر بھی اپنے نکلتے

مصور ہو گیا رنگوں میں تحلیل
تصور رہ گیا پہلو بدلتے

کسی کے ہجر میں دیکھا ہے برسوں
دیے کی اوٹ سے سورج نکلتے

کوئی اترا نہ پُر سش کو ہماری
زمانہ ہو گیا چھت پر ٹہلتے
٭٭٭

 

مِل جُل کر ایمان خدا پر لا سکتے ہیں
اک جنت میں بھوک اور پیاس سما سکتے ہیں

آپ اگر سمجھا دیں خال و خد منظر کے
ہم اپنی حیرت کا نام بتا سکتے ہیں

میرے کھلیانوں سے اٹھتے آگ کے شعلے
جھونکے تیرے باغوں تک پھیلا سکتے ہیں

کمرے کے دم گھٹ جانے کا خوف نہ ہو تو
ہم اپنی تنہائی کو دہرا سکتے ہیں

نیند اڑا سکتے ہیں دشمن کے لشکر کی
ملکہ کے خوابوں سے پھول چرا سکتے ہیں

آپ اگر پلکوں کی چوکھٹ تک آ جائیں
ہم اپنی تصویر سے باہر آ سکتے ہیں

لمحہ اتنی گنجائش رکھتا ہے خود میں
آپ اس میں آنے سے پہلے جا سکتے ہیں

ہم بے چین کھلونے اک دن موڈ میں آ کر
جسموں کے شو کیس سے باہر آ سکتے ہیں

کر سکتے ہیں قید سمندر اِک مصرعے میں
اور صحرا کو گھر کی راہ دکھا سکتے ہیں
٭٭٭

 

نظر میں دھوپ کی آنے لگے ہیں
ہمارے خواب سنولانے لگے ہیں

اضافہ ہو رہا ہے نیکیوں میں
وہ جب سے یاد فرمانے لگے ہیں

خریداروں میں بھگدڑ مچ گئی ہے
ہم اپنے دام بتلانے لگے ہیں

بھٹک جاتے ہیں اکثر راستے میں
تو کیا ہم راہ پر آنے لگے ہیں

کسی کی خوبیاں دیکھی ہیں جب سے
ہمارے عیب اترانے لگے ہیں

کہیں گروی پڑے ہیں شہر میرے
کہیں داؤ پہ ویرانے لگے ہیں
٭٭٭

 

ناؤ الجھی رہی کنارے سے
اور میں دور اک ستارے سے

سُود دیتا ہوں آسمانوں کو
گھر کے بڑھتے ہوئے خسارے سے

آگ کا کام لینا پڑتا ہے
ہم کو پانی کے استعارے سے

افراتفری میں شب، ملا ڈالا
اس کنارے کو اس کنارے سے

اپنی پس منظری کو دعوت دی
ہم نے خوش ہو کے اک نظارے سے

دل کی نگری سے منسلک ہو کر
کٹ گیا ہوں جہان سارے سے

سوچتا ہوں میں اس کو کمرے میں
دیکھتا ہوں جسے چبارے سے
٭٭٭

 

آنکھ کھلتے ہی لُٹ گئے ہم
خواب میں بادشاہ تھے ہم

تم کو دریافت کر لیا اور
خود کو اب تک نہ پا سکے ہم

ایک ذرّے کے دل میں اترے
کہکشاؤں کے راستے ہم

آ گئے دام میں خود اپنے
ورنہ چالاک تھے بڑے ہم

اسم ایسا کسی نے پھونکا
پھر کسی سے نہ کھل سکے ہم

عمر گزری عدالتوں میں
کوئی منصف نہ چور تھے ہم

جس قدر تھے زمین سے دُور
تھے قریب آسمان کے ہم

کوئی صورت نہیں رہی جب
آئنے سے اُلجھ پڑے ہم
٭٭٭

 

سمے نے پیرہن بدلا گلابی
سو منظر کو پڑا ہونا گلابی

کسی کے لوٹ آنے کی خوشی کو
در و دیوار نے پہنا گلابی

وہ کوئی نرگسی بوسہ تھا جس پر
گلستاں کو ہوا دھوکہ گلابی

کیا ہے دل کے دیباچے میں شامل
ترا اک بات پر ہونا گلابی

لہو کی بوند نے پلکوں سے جھانکا
تو میں نے دور تک دیکھا گلابی

کوئی بے رنگ سی تشبیہہ تھی وہ
تخیّل نے جسے برتا گلابی

کسی کی زرد رو بیگانگی کا
اثر ہم پر ہوا گہرا گلابی

خزاں کی رُت میں پہلا معجزہ ہے
کسی رخسار کا ہونا گلابی
٭٭٭

 

جس کا کوئی دیکھنے والا ہوتا ہے
چہرہ کوئی دیکھنے والا ہوتا ہے

لاٹھی جس کے پیچھے پیچھے چلتی ہو
اندھا کوئی دیکھنے والا ہوتا ہے

دنیا کے اِن گھورنے والوں میں کم ہی
ہم سا کوئی دیکھنے والا ہوتا ہے

پیچھے مُڑ کر دیکھ نہیں سکتے جن کا
رستہ کوئی دیکھنے والا ہوتا ہے

جس کی خاطر آنکھیں گروی ہو جائیں
سپنا کوئی دیکھنے والا ہوتا ہے

ہم سا کوئی سوچنے والا ہو جس کا
تم سا کوئی دیکھنے والا ہوتا ہے

جس کے غم میں نا بینا ہو جائے باپ
بیٹا کوئی دیکھنے والا ہوتا ہے
٭٭٭

 

 

یہ جو تالاب ہے دریا تھا کبھی
میں یہاں بیٹھ کے روتا تھا کبھی

تیرگی نے وہاں دیکھا ہے مجھے
روشنی نے جہاں سوچا تھا کبھی

اپنی تفہیم کا زندانی لفظ
شاخِ معنی پہ چہکتا تھا کبھی

اب جو بازار ہے تعبیروں کا
میرے خوابوں کا جزیرہ کبھی

یادپڑتا ہے تیری فرصت میں
میں کسی کام سے آیا تھا کبھی

آج روتی ہے جو میرے اوپر
میں اسی بات پہ ہنستا تھا کبھی

اب تو نظریں بھی چُرا لیتا ہے
جو مجھے خواب دکھاتا تھا کبھی

اپنی وسعت کو نگلتا یہ ہجوم
میری تنہائی سے الجھا تھا کبھی

یہ جو اندر کا تماشائی ہے
میرے باہر کا تماشا تھا کبھی
٭٭٭

 

مدت سے اک اندھا مجھ میں
ڈھونڈ رہا ہے رستہ مجھ میں

میں عجلت میں باہر نکلا
دیر سے کوئی آیا مجھ میں

لرز گیا ہوں سر سے پا تک
کس نے پتھر پھینکا مجھ میں

ایک ہجوم کے پیچھے کوئی
رہ جاتا ہے تنہا مجھ میں

ڈوب گیا ہوں ساحل ساحل
تیر رہا ہے دریا مجھ میں

بات کروں تو لگ جاتا ہے
خاموشی کا میلہ مجھ میں

اک مجنوں کے پیچھے پیچھے
بھاگ رہا ہے صحرا مجھ میں

کس کا رستہ دیکھ رہا ہے
دیر سے کوئی رستہ مجھ میں
٭٭٭

 

ہوا چلتی ہے دم ٹھہرا ہوا ہے
فضا میں کس کا غم ٹھہرا ہوا ہے

تصور میں ابھرتے خال و خد پر
مصور کا قلم ٹھہرا ہوا ہے

اسی کو اپنی منزل کہہ رہا ہے
جہاں جس کا قدم ٹھہرا ہوا ہے

سماعت کے جزیروں میں کہیں پر
ترے لہجے کا رَم ٹھہرا ہوا ہے

ذرا ٹھہرو، کہ چلتی ہے ابھی سانس
چلے آؤ کہ دم ٹھہرا ہوا ہے

میرے خوابوں کے رخساروں پہ اب تک
کسی بوسے کا نم ٹھہرا ہوا ہے

خدا بھی ہے اسی کوچے کا باسی
جہاں میرا صنم ٹھہرا ہوا ہے
٭٭٭

 

(ظفر اقبال کے لیے)

تشنگی میں سرابتے رہیے
ہجر کے پاؤں دابتے رہیے

باغباں جاگتا نہیں جب تک
اپنی سانسیں گلابتے رہیے

دور تک سوچیے محبت پر
دیر تک لاجوابتے رہیے

آفتابانہ دن گزارئیے اور
رات بھر ماہتابتے رہیے

کیجیے ہر گناہ پر توبہ
دین و دنیا خرابتے رہیے

ایک باغی کو لے کے بانہوں میں
جسم و جاں انقلابتے رہیے

بند آنکھوں سے دیکھیے دنیا
سادہ پانی شرابتے رہیے
٭٭٭

 

خود سے اپنا آپ ملایا جا سکتا ہے
تنہائی کا ہاتھ بٹایا جا سکتا ہے

خاموشی جب حملہ آور ہونا چاہے
چورا ہے پر شور مچایا جا سکتا ہے

حیرانی کا قرض چکانا پڑ جائے تو
آنکھوں کا احسان اٹھایا جا سکتا ہے

دھرتی پر کچھ سبز رُتوں کا بھیس بدل کر
چروا ہے کا خواب چُرایا جا سکتا ہے

اس کی کالی آنکھوں سے تشبیہیں دے کر
شب کو راہِ راست پہ لایا جا سکتا ہے

نا ممکن ہے پانی پر تصویر بنانا
لیکن اس پر شعر بنایا جا سکتا ہے

بھُولا جا سکتا ہے خود کو برسوں برسوں
روز کسی کو یاد بھی آیا جا سکتا ہے
٭٭٭

 

ایک ہی سانس میں بسر کر دوں
زندگی! آ تجھے امر کر دوں

خوش گمانی جو تم نے بھیجی ہے
کون سا رنگ اس میں بھر کر دوں

مُدّعا ساتھ دے تو ممکن ہے
اپنی تقریر مختصر کر دوں

گر سمندر برا نہ مانے تو
میں اِدھر کی نمی اُدھر کر دوں

اس سے پہلے کہ بھول جاؤں میں
کیوں نہ جا کر اسے خبر کر دوں

کوئی مانگے تو سلطنت دل کی
میں اسے تخت سے اتر کر دوں

اے بلندی! ترے خلاؤں کو
اپنی سانسوں کی رہگزر کر دوں

لازمی تو نہیں کہ میں اُن کی
ہر ادا کا جواب مر کر دوں
٭٭٭

 

خواہش سی ہے اک، دل میں نہ ہونے کے برابر
پانا ہے کسی دن تجھے کھونے کے برابر

قیمت مرے سونے کی وہاں خاک لگے گی
ہو خاک کی قیمت جہاں سونے کے برابر

مجھ کو مرے اپنے بڑے پن نے دیا دھوکا
ورنہ تو یہ دنیا تھی کھلونے کے برابر

ساحل کا نشاں تک نہ ملے، دُور کہیں تک
پانی ہو جہاں ناؤ ڈبونے کے برابر

دُنیا کی کہانی میں ہے کردار ہمارا
ہنسنے سے زیادہ کہیں رونے کے برابر

ہو درد کوئی دل میں چبھونے کے موافق
یا اشک کوئی آنکھ بھگونے کے برابر
٭٭٭

 

 

ملنے دیتی تھی کب جدائی ہمیں
ایک کھڑکی قریب لائی ہمیں

روشنی ان دنوں کی بات ہے جب
دے رہا تھا کوئی دکھائی ہمیں

ایسے قیدی ہیں اپنے خوابوں کے
ملنے آتی ہے خود رہائی ہمیں

ہم جو انمول تھے محبت میں
ایک تہمت خرید لائی ہمیں

دل کی دہلیز پر کھڑی خواہش!
دے کبھی بام تک رسائی ہمیں

وہ تو ہم کب کے مر چکے ہوتے
جی رہی ہے کوئی جدائی ہمیں

تھم رہی تھی زمین کی گردش
تب گھمانا پڑی کلائی ہمیں

اک تبسم کی بالکونی سے
شہر جلتا دیا دکھائی ہمیں

اس سے پہلے کہ دیکھ لے کوئی
مار ڈالے گی خود نمائی ہمیں

مصر پہچان تو گیا لیکن
اک زلیخا نہ جان پائی ہمیں

کیا تردّد کریں کہ جب دنیا
مل گئی ہے بنی بنائی ہمیں
٭٭٭

 

فنا کے جزیرے سے ہوتا ہوا
ہوا میں نہ ہونے سے ہوتا ہوا

یقیں آ گیا میری دہلیز تک
گمانوں کے رستے سے ہوتا ہوا

پھر اک رات داخل ہوا نیند میں
کوئی میرے تکیے سے ہوتا ہوا

کوئی میری کج بینیوں کا شکار
نہایت قرینے سے ہوتا ہوا

ٹھٹک سا گیا ہے کسی خال پر
خیال ایک مصرعے کا ہوتا ہوا

کوئی میری وارفتگی میں شریک
تکلف کے زینے سے ہوتا ہوا
٭٭٭

 

شام سے رات بنا لیتا ہوں
بات سے بات بنا لیتا ہوں

کترنیں جوڑ کے کچھ لمحوں کی
اپنی اوقات بنا لیتا ہوں

ایک ایڑی پہ کھڑا ہو کر میں
آسماں سات بنا لیتا ہوں

توڑ دیتا ہوں خموشی اپنی
اور اک بات بنا لیتا ہوں

شب کو رکھتا ہوں جسے پلکوں پر
دن کو فٹ پاتھ بنا لیتا ہوں

پھول کو زخم سے دے کر تشبیہہ
جیت کو مات بنا لیتا ہوں

توڑ دیتا ہوں کسی لمحے اور
بعض اوقات بنا لیتا ہوں
٭٭٭

 

خود اپنی میزبانی میں دل لگ نہیں رہا
کچھ دن سے میہمانی میں دل لگ نہیں رہا

اے بے نشان ! اپنا نشاں دے کہ اب مرا
تیری کسی نشانی میں دل لگ نہیں رہا

ہجرت کروں گا خال سے اب خواب کی طرف
اس بار لن ترانی میں دل لگ نہیں رہا

دلچسپی لے نہیں رہی دھڑکن بھی آج کل
سانسوں کا بھی روانی میں دل لگ نہیں رہا

کچھ دن سے کھل رہا ہے مرے صحن خواب میں
شاید کنول کا پانی میں دل لگ نہیں رہا

جلتا ہوا الاؤ ہے بجھنے کی فکر میں
لفظوں کا بھی کہانی میں دل لگ نہیں رہا

پھولوں سے گفت گو نہ ستاروں سے چھیڑ چھاڑ
لگتا ہے خوش گمانی میں دل لگ نہیں رہا

دل لگ گیا ہے اس کے خد و خال میں کہیں
جس کا میری جوانی میں دل لگ نہیں رہا
٭٭٭

 

 

کر گزرنے کا تجربہ ہے میاں
زیست مرنے کا تجربہ ہے میاں

خوشی خواہش ہے ایک ہونے کی
دُکھ بکھرنے کا تجربہ ہے میاں

ہم کو مصرعے کے تنگ سینے میں
آہ بھرنے کا تجربہ ہے میاں

یہ مری خامشی کا زیر و بم
بات کرنے کا تجربہ ہے میاں

سادگی کی حدود میں رہ کر
بن سنورنے کا تجربہ ہے میاں

کچھ بھی کرنے کی آرزو کے ساتھ
کچھ نہ کرنے کا تجربہ ہے میاں

خالی ہوتے ہوئے کیلنڈر کو
زخم بھرنے کا تجربہ ہے میاں
٭٭٭

 

اُداس مصرعے کی چوکھٹ پہ بیٹھ جاتا ہوں
میں کائنات کی تنہائی گنگناتا ہوں

یونہی نہیں ہیں یہ سب دُکھ فریفتہ مجھ پر
میں پوری ایک صدی بعد مسکراتا ہوں

میں لڑکھڑاتا ہوا بے خودی کے زینوں پر
بلندیوں کو نئے راستے دکھاتا ہوں

وہ شہر خواب کا باسی ہے جس کی گلیوں میں
میں اپنے سائے کے ہمراہ آتا جاتا ہوں

میں گفت گو سے معانی نکال کر ان سے
خموشیوں کے لیے قافیے بناتا ہوں

ہمیشہ رکھتا ہوں منزل کو پہلی ٹھوکر پر
پھر اس کے بعد قدم دوسرا اٹھاتا ہوں

چمکنے لگتی ہے ہر ایک دھندلی تشبیہہ
میں جب خیال کی سولی پہ جگمگاتا ہوں

مہ و نجوم کھڑے دیکھتے ہیں حیرت سے
میں اپنی راکھ سے جب کہکشاں بناتا ہوں
٭٭٭

 

قدم باہر نکالو آئینے سے
کریں ہجرت غزالو آئینے سے

دکھاتا ہے وہی، جو سامنے ہو
یہ پابندی اٹھا لو آئینے سے

چھپی ہے خامشی چلمن کے پیچھے
کوئی جملہ اچھالو آئینے سے

یہاں لگتا نہیں اب جی ہمارا
ہمیں واپس بلا لو آئینے سے

مری بے چینیوں کے خال و خد پر
نظر اک روز ڈالو آئینے سے

خدائی رشک کرنا سیکھ لے گی
اگر تم دل لگا لو آئینے سے

خود اپنے آپ سے الجھے پرندو!
مجھے باہر نکالو آئینے سے

بہت دھندلی نظر آتی ہے دنیا
یہ آنسو پونچھ ڈالو آئینے سے
٭٭٭

 

 

شعلے نیم گلابی ہوتے دیکھ رہا ہوں
موسم ابراہیمی ہوتے دیکھ رہا ہوں

باہر کے موسم کو شاید راس نہ آئے
اندر جو تبدیلی ہوتے دیکھ رہا ہوں

اپنی نادانی کے ساتھ اک پیڑ میں چھپ کر
دھوپ میں بارش ننگی ہوتے دیکھ رہا ہوں

کچھ دن سے اس دنیا کی رونق کو اپنی
دلچسپی سے خالی ہوتے دیکھ رہا ہوں

پیچھے مڑ کر دیکھ رہا ہے مصرعہ کوئی
شعر مکمل یعنی ہوتے دیکھ رہا ہوں

آتے جاتے لمحوں کے فٹ پاتھ پہ بیٹھا
اپنا سونا، چاندی ہوتے دیکھ رہا ہوں
٭٭٭

 

میں جس کے لیے مر سکا تک نہیں
وہ شاید مجھے جانتا تک نہیں

میں اُس آئینے کا پرستار ہوں
جو میری طرف دیکھتا تک نہیں

فلک پر کوئی استعارہ تو کیا
زمیں پر کوئی قافیہ تک نہیں

جو نزدیک ہے میری شہ رگ سے بھی
میں پہنچا ابھی اس خدا تک نہیں

کہو رات سے مت تکلف کرے
جلانے کو گھر میں دیا تک نہیں

کئی دن سے تکیے کا اکلوتا پھول
مرے خواب میں جھانکتا تک نہیں

ہمارے لیے دفترِ دل تو کیا
نگاہوں کی چِق نیم وا تک نہیں

تھی ایسی ہوس میزبان آج رات
بدن جس کے منیو میں تھا تک نہیں
٭٭٭

 

برہنگی میں تھوکئے حجاب پر
لگائیں ایک قہقہہ شباب پر

خدا سے پہلے اس کا ایک آدمی
کرے گا اعتراض میرے خواب پر

شہید پوچھتے ہیں سلسلہ میرا
میں مر مٹا تھا ایک دن گلاب پر

ہوا نے گنگنا کے تبصرہ کیا
دراز میں پڑی ہوئی کتاب پر

وہ کروٹ اک خمار میں مقیم ہے
جہاں سے لامکاں ہے ایک خواب پر

تبسم اک فریفتہ ہے اس پہ اور
میں اس فریفتہ کے انتخاب پر

زمین! تیرا آخری مقدمہ
لڑوں گا اب کی بار ماہتاب پر

نگاہ دھنس رہی ہے موجِ ریگ میں
وجود دوڑتا ہوا سراب پر
٭٭٭

 

برابر چمکنے میں مصروف ہے
نظر جس کو تکنے میں مصروف ہے

عقیدت کی راہداریوں میں جبیں
ازل سے بھٹکنے میں مصروف ہے

چہکتے دریچے کے پیچھے کوئی
اشارہ مہکنے میں مصروف ہے

ترے دُکھ کو دیکھا گیا ہے وہاں
جہاں دل دھڑکنے میں مصروف ہے

اے فرصت میں بنتے سنورتے ہوئے
کوئی تجھ کو تکنے میں مصروف ہے

بتاتے ہیں بجھتے ہوئے خال و خد
کہیں کچھ بھڑکنے میں مصروف ہے

مرے سر کے نیچے سے جیسے کوئی
کلائی سرکنے میں مصروف ہے
٭٭٭

 

پل میں ایک ہجوم اکٹھا کر لیتے ہیں
چوراہے پر روز تماشا کر لیتے ہیں

اپنے دل کی خاک پہ بوجھل پیشانی سے
ان دیکھے احساس کو سجدہ کر لیتے ہیں

تجھ سے اپنے جلوے نہیں سمٹتے تو ہم
گھر کا روشن دان دریچہ کر لیتے ہیں

تعبیروں کے ہاتھوں لٹنے والے آخر
ٹوٹے پھوٹے خواب پہ تکیہ کر لیتے ہیں

ایک ادھورے مصرعے کی تکمیل میں ہم لوگ
اکثر اپنے آپ کو آدھا کر لیتے ہیں

خوشیاں رہ جاتی ہیں باہر دروازے پر
دُکھ چپکے سے دل میں رستہ کر لیتے ہیں

اکثر اپنی عریانی سے آنکھ بچا کر
مصنوعی رنگوں کا پیچھا کر لیتے ہیں

اپنے صحن میں کمروں کی تعداد بڑھا کر
گھر آئے مہمان کو آدھا کر لیتے ہیں
٭٭٭

 

ترے لبوں کے پاس ہونا جانتی
تو تشنگی گلاس ہونا جانتی

نہ ہم ترے قریب ہونا چاہتے
نہ زندگی اداس ہونا جانتی

چراغ کوئی خواب لکھنا چاہتا
تو رات بے لباس ہونا جانتی

خبر مخل نہ ہوتی درمیاں کبھی
نظر اگر قیاس ہونا جانتی

ہماری مسکراہٹوں کو دیکھتی
تو موت بدحواس ہونا جانتی
٭٭٭

 

دمِ رخصت جو پلکوں پر کھڑا تھا
وہ اک قطرہ سمندر سے بڑا تھا

میں اُن وقتوں سے بھاگا آ رہا ہوں
کہ جب سایہ میرے پیچھے پڑا تھا

پرندے سرخ، کلیاں زرد مائل
صبا کی پشت میں نیزہ گڑا تھا

کسی نے لوٹ کر آنا تھا جس میں
مرا وہ خواب آنکھوں سے بڑا تھا

وہ اجلی دھوپ میں بوندوں کی رِم جھم
وہ اک دن ہنستے ہنستے رو پڑا تھا
٭٭٭

تشکر: شاعر جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل