ڈاؤن لوڈ کریں
مکمل کتاب پڑھیں…..
خالی ہتھیلی
فرح دیبا ورک
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
انتساب
ان سب لوگوں کے نام جن کے رویوں نے
مجھے برداشت کرنا سکھایا
سرورق : راجہ اسحاق اسد
آئینے
فرح دیبا ورک نے شدید موجودہ دور کی اعصاب شکن اور مصروف تر زندگی کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے شاعری کے دریا کو کوزے میں اور خیال کی ٹھاٹھیں مارتی وسعت کو اختصار کا پیکر دے کے اپنا ایک الگ ہی راستہ اختیار کیا ہے۔ چھوٹی چھوٹی نظمیں کیا ہیں آئینے ہیں جن میں خوابوں اور سرابوں، ذات اور روایات، تہذیب اور معاشرت کے عکس در عکس سلسلے ہیں۔ یہ سلسلے اس کی شاعری کو قاری سے جوڑتے ہیں۔ توڑتے ہیں بکھیر تے ہیں بناتے ہیں اور پھر قاری کو اپنا بنا لیتے ہیں۔ اور یوں کوئی انجانا رشتہ قائم ہو جاتا اس شاعری کا ہم سے کہ اس کی ہر نظم ہماری اپنی ہی کوئی سوچ، کوئی بات، کوئی موج کوئی تجربہ سا لگتی ہے اور اس سے بڑی کسی کلام کی اور کیا خوبی ہو گی ۔
نسیم سید
آنسوؤں کی حدت
نفسیاتی اور ذہنی الجھنوں نے عصرِ حاضر کو تہذیبی کرب کی جن حقیقتوں سے دوچار کیا ہے، انھیں پرکھنے کے لیے گہرے دکھ سے جڑے ہوئے مشاہداتی ادراک کا پیمانہ درکار ہے۔ ایف ڈی ورک کی مختصر نظمیں المیاتی حسیات سے جنم لینے والے اسی تخلیقی عمل کی وہ کرچیاں ہیں جنھیں چنتے ہوئے ان کی انگلیاں فگار ہیں اور لفظ اشک بار۔ انھوں نے عورت کی آنکھ سے ٹپکتے آنسوؤں کی حدّت کو اپنے ذاتی تجربے کی طرح محسوس کیا ہے۔ خالی ہتھیلی بے بسی کا وہ استعارہ ہے جس میں جبر کا ماتم بھی ہے اور دلدوز چیخوں کی بازگشت بھی۔ طنز کی کاٹ نے ان کی نظموں میں تاثر آفرینی کا ایسا رنگ جمایا ہے کہ چند سطور میں ایک مکمل کہانی کا منظر نامہ تمام تر جزئیات کے ساتھ سوچنے اور غور کرنے کی ترغیب دیتا محسوس ہوتا ہے۔
راجہ اسحٰق
پُر پیچ زندگی کی سادہ نظمیں
یہ چھل بل سے بھرپور زندگی جوں جوں اپنی پیچیدگی میں اضافہ کیے جاتی ہے، اس کے بل کھولنے کی آرزو بھی انسان کے اندر نئی کروٹیں بدل رہی ہے۔ اظہار کے نئے پیرائے کی تلاش تمام تخلیقی فنون میں تبدیلی کا عمل تیز تر کیے ہوئے ہے۔ فرح دیبا کی کوئی نظم جب بھی نظر سے گزری، یہی خیال آیا کہ اظہار کی یہ سادگی کیا زندگی کی پیچیدگی کا کوئی ردِّ عمل ہے ؟ نثری نظمیں دیکھ کر بھی ہمیشہ یہی سوچتی ہوں کہ داستانوں سے مائکروفکشن تک آنے والی نثر نے شاعری کے علاقے میں قدم کیوں رکھا؟ کیا اس بات کو یوں الٹ کر کہنا چاہیے کہ شاعری نثر کے خطّوں میں کس لیے گئی ؟ کیا یہ سادگی کی تلاش تھی؟ وسعت کی جستجو تھی یا اوزان و بحور کی پابندیوں سے وحشت؟ ہو سکتا ہے کہ یہ نئے پن کی ازلی تمنا کا ثمر ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر نثری نظم اپنا مختلف جواز پیش کرتی ہے۔ فرح دیبا نو وارد ہیں نہ ہی نو آموز۔ مختصر نظم کی ہم سفری میں یہ ان کا دوسرا پڑاؤ ہے۔ فرح کی نظمیں اظہار کی خالص شکل میں دکھائی دیتی ہیں جو کسی باطنی مطالبے کے زیرِ اثر وجود میں آتی ہیں کیوں کہ ظاہری بھڑک چمک سے بے نیاز اور بیان کی غیر ضروری سجاوٹ سے مبرّا یہ نظمیں بڑے فطری انداز سے سامنے آتی ہیں۔ کیا یہ انداز کسی عجلت کا شاخسانہ ہے ؟ ایسا کہنا اس لیے محال ہے کہ ان نظموں سے مصافحہ کرتے سمے ان کے ٹھہراؤ کا اندازہ ہوتا ہے۔ فرح جو کہنا چاہتی ہیں، اس میں نہ صنائع بدائع کے پھندنے کلیاں ٹانکتی ہیں، نہ ترکیب سازی کی جھالریں لگاتی ہیں۔ یہ آرائشی لوازم شاید اس طرزِ اظہار کی ضرورت بھی نہیں ہیں جو ان مختصر نظموں میں فرح نے اپنایا ہے۔ ان نظموں میں فرح کا جو تخلیقی مزاج سامنے آتا ہے، وہ کم از کم الفاظ میں اپنی بات کہنے کا ہنر ہے۔ نیز ان کا تخلیقی سیلف کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہیں لگتا۔ اس ہنر میں آزادی کا وہ احساس ہے جو نئی تخلیقی دنیا کا نمایاں وصف بن کر سامنے آ رہا ہے۔
ان نظموں کی ایک اور خصوصیت شاعرہ کی باریک بینی ہے۔ وہ روز مرّہ زندگی سے کوئی نظر انداز کی ہوئی چھوٹی سی بات اٹھاتی ہیں اور اس میں اپنے احساس کی آمیزش کرنے کے بعد اسے نظم کا روپ دیتی ہیں۔ یہ اس دور کی نظمیں ہیں جہاں چڑیا کے گھونسلے پر ڈرونز کی نشانہ بازی جاری ہے۔ فرح کہتی ہیں
الفاظ چھن گئے ہیں
قلم توڑ دیے گئے ہیں
اور ہوا سارے کاغذ اڑا لے گئی ہے
چاروں طرف پھیلی دھند نے بصارتیں سلب کر رکھی ہیں
مگر
دل کی تھاپ پر سوچوں کا تھرکنا جاری ہے
سوچوں کا یہ رقص اس لیے جاری ہے کہ میلہ ابھی اختتام کو نہیں پہنچا۔ لمبی دوڑ کا آخری مقام آنے کو ہے۔ اس ہاؤ ہُو میں کوئی رک کر یہ نہیں دیکھ رہا کہ کون گر گیا اور کون روندا گیا۔
وہ ہیں لمبی ریس کے گھوڑے
دوڑے جائیں، دوڑے جائیں
جوکی چاہے جان گنوائیں
نظم گو شعر۱ء اپنی طویل نظموں میں استعارہ سازی کے ذریعے نظم کی فضا بناتے اور اس فضا میں اسرار پیدا کرتے ہیں کیوں کہ اسرار کی کشش ہی قاری کو متوجہ کیے رکھتی ہے۔ فرح پوری نظم کو ایک استعارہ میں ڈھالتی ہیں۔
تمھارے ساتھ
میں کل جنگل میں جا نکلی
سنا تھا
جنگل درندوں سے پُر ہے
سارا جنگل چھان مارا
لیکن وہاں کوئی نہیں تھا
تمھارے سوا
۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔
خالی ہتھیلی
۔۔ ۔۔ ۔۔
بھنورے پھولوں کے گرد منڈلا رہے ہیں
سانپ بلوں سے نکل کر
گھاس پر لوٹ رہے ہیں
کتے ہر آنے جانے والے پر بھونک رہے ہیں
اور آسمان کا رنگ لال ہوتا جا رہا ہے
اس نظم کا پورا منظر در اصل کسی اور منظر کی تصویر کشی ہے۔ قاری سوچتا ہے کہ یہ کون سے سانپ ہیں ؟ یہ کن کتّوں کی بات کی گئی ہے ؟ اور یہی سوچ اسے اصل منظر کی جانب متوجہ کرتی ہے جو شاعرہ کا مقصود ہے۔ اس کے علاوہ فرح کبھی متضاد تصویروں سے نظم بناتی ہیں۔ کبھی مختلف تصویروں کو جوڑ کر ایک پرزم کی شکل دیتی ہیں اور کبھی ایک ہی تصویر میں کوئی خاص رنگ نمایاں کرتی ہیں۔ پہلی قسم کی مثال نظم ’ایک منظر ‘ میں موجود ہے۔ دوسری قسم کی مثال ’ میں اور جیون‘، منجمد دھوپ میں ‘ اور ’نشیب سے ابھرتا وسوسہ ‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ تیسری قسم کی مثال میں ’ پہرہ‘، وٹّہ سٹہ‘، اور ’خبر ‘ پیش کی جا سکتی ہیں۔
فرح نے جو عروضی نظمیں کہی ہیں، ان کے نمایاں اوصاف بھی یہی ہیں۔ ان نظموں کے اختصار میں ایک تلازماتی سلیقہ ہے جو چار یا پانچ لائنوں کو ایک وحدت میں تبدیل کرتا ہے
زرد کلیاں بھی مسکرانے لگیں
مردہ خلیوں میں جان آنے لگی
یہ کرشمہ ہے پہلی بارش کا
زندگی سبز میں نہانے لگی
اصل میں تو فرح کی تمام نظموں کا محور و مرکز یہی ایک تمنا دکھائی دیتی ہے کہ وہ زندگی کو سر سبز و شاداب دیکھنا چاہتی ہیں۔ کبھی طنز، کبھی غصّہ، کبھی اشارہ کنایہ اور کبھی دکھ۔۔ ۔۔ وہ ہر ممکن طریقے سے ان مقامات کی نشان دہی کرتی ہیں جنھیں تبدیل کرنے کی تمنا ان کے حسّاس دل میں انگڑائی لیتی ہے، انھیں بے تاب کرتی ہے اور ان کے لیے ایک نظم میں ڈھل جاتی ہے۔
حمیدہ شاہین
پہرہ
والدین کی ضرورتیں پوری کرتے
اپاہج بھائی کے بچوں کی فیسیں دیتے
اُس کے بالوں میں چاندی اتر چکی ہے
اُس کی اداس آنکھیں
دروازے پر لگی رہتی ہیں
اور
اُس کی ماں
کسی فقیر کی دستک پر بھی
دروازہ
کھولنے نہیں دیتی
٭٭٭
ایک لمحہ
ہوا
کچھ اس ادا سے چلتی ہے
کہ
پھول پہلو بدل کر
سرگوشیاں کرنے لگتے ہیں
اور
تتلیاں اپنے رنگ سمیٹنے لگتی ہیں
دیکھو
ایسے بھی ہوتا ہے
جب
تم لوٹ آتے ہو
٭٭
تمھیں یاد نہیں
میری کتاب کے صفحوں کو
ذرا دھیرے پلٹو
تمھیں یاد نہیں
ان میں کہیں
میری آنکھیں دھری ہیں
٭٭
بھیدوں بھری شرارت
اب کے جب تم آؤ گے
اک ذرا ستائیں گے
اپنی آنکھیں بھر کے ہم
تم کو بھی رلائیں گے
بھر کے اپنی باہوں میں
شہر دوستاں کی سیر
ہم تمھیں کرائیں گے
٭٭
میں محبت نہیں کر سکتی
اے محبت
میرے پیچھے نہ پڑ
مجھے آواز نہ دے
میرے دل میں
جگہ نہیں تیرے لیے
کیا تجھے نہیں معلوم
دل میں سوراخ ہوں
تو
جذبے نہیں ٹھہرتے
٭٭
درخواست
سانسیں لیتے جیون بیتا
اب جو لمحے باقی ہیں
ان میں
مجھ کو جی لینے دو
دلکش بیزاری
اک تیری جی
اک میری ہاں
باقی کیا ہے
یہاں وہاں
ہاہاہاہاہاہا
٭٭
طمانچہ
ہم آزاد ملک کے شہری ہیں
یہ لائن پڑھتے ہی
اس نے کتاب بند کر دی
اور
میز پہ پڑا
تازہ اخبار اٹھا لیا
٭٭
واقعہ
اب کوئی کھڑکی میں کھڑا
تمھارا انتظار نہیں کرتا
ذرا سی آہٹ پر
کسی کا دل نہیں دھڑکتا
ہوا کی دستک پر
کوئی آئینہ نہیں دیکھنے لگتا
کہا تھا نا
لوٹنے میں دیر مت کرنا
٭٭
ایک کویتا
الٹی گنگا بہے ہے
گوری کچھ نہ کہے ہے
بھنورے کی قسمت دیکھو
پروانہ جل جل مرے ہے
٭٭
صرف ایک بار
الفاظ
روٹھے
اور
قلم
ٹوٹ گیا
سکت نہیں
ہاتھوں میں
اور
میری زبان
گنگ ہے
٭٭
کاش
تم
ایک بار
صرف ایک بار
میری آنکھوں میں
جھانک سکتے
٭٭
بلا عنوان
بے انتہا لکھیں گر بے وزن
تو نثر کہلاتی ہے
دو سطریں لکھو گر با وزن
تو شاعری بن جاتی ہے
٭٭
عکس
میں اور تم
تم اور میں
اور آدھا کھلا گلاب
جیسے ادھورا خواب
٭٭
محبت
کیا ہے
تمھارے لیے
محبت؟
چلچلاتی دھوپ
اندھیری گہری کھائی
کانٹوں بھرا رستہ
ریت کا گھروندہ
یا جذبات کا سمندر؟؟؟
میرے لیے تو
محبت ہی زندگی ہے
٭٭
درندہ
تمھارے ساتھ
میں کل جنگل میں جا نکلی
سنا تھا
جنگل درندوں سے پر ہے
سارا جنگل چھان مارا
لیکن
وہاں کوئی نہیں تھا
تمھارے سوا
٭٭
عید
دور ہے
میں جس کے
جگر کا ٹکڑا ہوں
وہ
دور ہے
جو میرے جگر کا ٹکڑا ہے
یہ کیسی عید ہے
جس نے
جگر کے ٹکڑے
کر دیے ہیں
٭٭
بندھن
میں بجا لاؤں
تمھارا حکم
نظر انداز کروں
ہر خطا
اور تم؟
تو کیا
یہ اب بھی
ضروری ہے ؟
٭٭
خودغرض
وہ
مجھے چھو نہیں سکتا
مگر
سمجھتا ہے
میری ہر بات کو
محسوس کرتا ہے
میرا درد
اور
تم
جو قابض ہو میرے وجود پر
سمجھتے ہو اپنی ذات کو
اور
محسوس کرتے ہو
اپنی بھوک
٭٭
کچھ خبر ہے
برکھا جھوم کے برستی ہے
تو
دھرتی کی پیاس مٹا دیتی ہے
پانی سارا میل دھو ڈالتی ہے
مگر
تمھاری پیاس مٹتی ہے
نہ میل دھلتا ہے
کچھ خبر ہے
کیوں ؟؟
٭٭
آرزو
سردیوں کی شام ہے
خواب ناتمام ہے
مجھ سے ملنے آؤ نا
تم سے ایک کام ہے
٭٭
کرسمس ٹری کو دیکھ کر
تُو حوا کی بیٹی
محبت کی دیوی
وفاؤں کی مورت
مگر پھر بھی
انجام ہے
ایک جیسا
٭٭
قطعہ
زرد کلیاں بھی مسکرانے لگیں
مردہ خلیوں میں جان آنے لگی
یہ کرشمہ ہے پہلی بارش کا
زندگی سبز میں نہانے لگی
٭٭
انجام
ہونٹوں پہ نعرے
پکے ارادے
جھولی میں تارے
کچھ نہیں بدلا
تو پھر
تارے کہاں ہیں ؟
٭٭
طفل تسلی
تو ملے
نہ ملے
میرا ہے
یہ
احساس کافی ہے
پاس ہوں
لازم تو نہیں
پھولوں کی
باس کافی ہے
٭٭
قطعہ
تیری یاد رلائے ہے
نیند نہ مجھ کو آئے ہے
اب تو گھر کو لوٹو ساجن
برہن رین ستائے ہے
٭٭
مسافر
کامیابی سے
شہرت سے
مجھے کیا حاصل
سکوت سے
روانی سے
کیا مطلب
چاہت سے
راحت سے
کیا نسبت
کہ
میں ہوں
پچھلی نشست کا مسافر
٭٭
چیلنج
لکھو لکھو
نظمیں غزلیں
مضموں اور افسانے
کرو کرو تم تبصرے
بڑی بڑی لاحاصل باتیں
بحث مباحث
کرو نچھاور
پھول
ہماری لاشوں پر
لمحے بھر کی خاموشی سے
دامن بھر لو
اور بہاؤ مگر مچھ کے آنسو قبروں پر
چھوڑو یہ سب کھیل تماشے
میری ماں کا دل بہلاؤ
ہمت ہے تو کر کے دکھاؤ
٭٭
محاصرہ
میں کھو گئی ہوں
کتابوں میں رکھے پھولوں کی مانند
جنھیں تم بھول چکے ہو
جانے کب
تم بے خیالی میں صفحے پلٹو
اور سوکھی پتیاں
تمھارے قدموں میں
ریزہ ریزہ ہو جائیں
٭٭
سانحہ
میرے اندر تلخیوں نے
ڈیرے ڈال لیے ہیں
خون کا رنگ بدلتا جا رہا ہے
اور
میرا قلم
زہر اگلنے لگا ہے
٭٭
حقیقت
کرو ہنسی ٹھٹھا
اڑاؤ تمسخر
چلاؤ طنز کے نشتر
لگاؤ سنگین بہتان
مگر
خاموشی نہیں ٹوٹنے والی
کیونکہ
اسے
علم ہے
تمھارے ادھورے پن کا
٭٭
وٹہ سٹہ
دس سال بعد
وہ
میکے لوٹی
بھاوج کی وفات پر
اپنے نیل زدہ چہرے کو
پلو سے چھپائے
وہ دم سادھے کھڑی تھی
اس کا بھائی کن انکھیوں سے
اسے دیکھ رہا تھا
اچانک وہ آگے بڑھا
نیل سہلا کر اس کا ما تھا چوما
اور
گھر کی چابیاں
اس کے ہاتھ میں تھما دیں
٭٭
میں اور جیون
میرا دکھ بھی کیسا دکھ ہے
مجھے سمجھ نہ آئے
ایسا ہے یہ گورکھ دھندا
ناگ ڈسے کبھی ناگن
لیکن
جو گی بین بجائے
پاؤں پڑی زنجیریں
ہاتھوں پر ہے قفل زمانے کا
نیزہ تیز ہے دشمن کا
اور زہر پیالہ پیاروں کا
کیوں موت مجھے نہ آئے
جیون چلتا جائے
سہتی جاؤں کچھ نہ بولوں
دنیا رنگ دکھائے
پریت کروں اور پریت ہی چاہوں
کرودھ نہ دل کو بھائے
٭٭
نشیب سے ابھرتا وسوسہ
اسے صلیب پہ لٹکا کر
کیلیں ٹھونکی جا چکی ہیں
پھر بھی جانے کیوں
نشیب میں کھڑا
ایک کتا
اس پہ بھونک رہا ہے
٭٭
تم بتاؤ
محبت کیا ہے
کسی کے ساتھ ہونا
ایک بستر میں
کہ ہو جانا
کسی کا
اس کو چھوئے بن؟
٭٭
پُر شکم لمحہ
پچھلے کئی برسوں سے
اسے پیٹ بھر
کھانا نصیب نہیں ہوا
مگر آج
اس کے گھر میں
دیگیں پک رہی ہیں
اور
اس کا اکلوتا بیٹا اس کے لیے
مہنگا کفن خرید کے لایا ہے
٭٭
سکوت کا خلا
دکھ تھا دوری کا
خوف تھا بچھڑنے کا
اب دکھ ہے نہ خوف
اور
نہ ہی تم
٭٭
محبت کی انا
میں بھول جاؤں
اور ڈگمگائیں میرے قدم
پھر کروں شکوہ
بے وفائی کا
اتر جاؤں کسی گہری ندی میں
نہیں نہیں جاناں
یہ نہیں ہو گا
کیونکہ میں
غلام نہیں
٭٭٭
ایک پرانا مسئلہ
دیکھ کر مجھے
ناک مت سکیڑئیے
پیتا ہوں آمدن حلال سے
اور شر سے میرے
انسانیت محفوظ ہے
مگر آپ ذرا سونگھیے
بدبو اپنے پچھواڑے سے
٭٭
خواہش
تری آواز کے سرگم کی
اک چادر بناؤں
اور سو جاؤں
میں اُس کو اوڑھ کر
٭٭
نشان
خارش زدہ کتے کی طرح
گلی گلی کھجاتا پھرتا ہے
فضا مکدر ہو جاتی ہے
اس کے جسم سے اٹھنے والے تعفن سے
مگر وہ
ہر رات اپنی بیوی کو طعنہ دیتا ہے
اس کے چہرے پہ پڑے
ایک پیدائشی نشان کا
٭٭
گیت
ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈی ہے
ارد گرد ہے خار
دامن نہ الجھائے
گوری چلتی جائے
سانپ اور بچھو
اسے ڈرائیں
تنک نہیں گھبرائے
گوری چلتی جائے
بادل بارش دھوپ ہوا
کوئی روک نہ پائے
گوری چلتی جائے
٭٭
عجلت
پچھلی مسافت کی تھکن
کھٹی میٹھی یادوں کی کسک
وصال کا ملال
ہجر کا غم
سب بھولنے میں
وقت تو لگتا ہے
تمھارے ہاتھ میں میرا ہاتھ
پھر تمھیں کا ہے کی جلدی ہے ؟
٭٭
ایس او ایس کال
کچھ کرو
کہ
جینے کی چاہ
پھر سے جگے
کچھ کہو
کہ
موت رستہ بدل کے نکل جائے
٭٭
کہر
میرے یخ ہاتھوں کو چھوؤ
میری پتھرائی آنکھوں میں جھانکو
نظر ڈالو
میرے بے رونق چہرے پر
اپنا سراپا ذرا آئینے میں دیکھو
اور کہو
تمھیں مجھ سے محبت ہے
٭٭
جنگل میں موت
اس کے پاؤں
جھاڑیوں سے لپٹی
آکاس بیل میں الجھ گئے
اور وجود کسی کھائی میں گرتا محسوس ہوا
وہ ایک لمبی مسافت طے کر کے
وہاں پہنچی تھی
مگر
بوڑھے درخت کے نیچے پڑے بنچ پر
وہ اکیلا نہیں تھا
اچانک گہرے بادلوں نے
ماحول کو اپنی آغوش میں لے لیا
اور
اس کا سایہ
جنگل میں کہیں گم ہونے لگا
٭٭
ٹھکانہ
کئی باتیں کہی نہیں جاتیں
کچھ آنسو بہائے نہیں جاتے
بند گلیوں میں رہتی ہیں
صدائیں اب کہیں نہیں جاتیں
٭٭
آم اور سانپ
پیڑ پہ لٹکے
کچے پکے آم
پھن پھلائے
تنے سے لپٹا سانپ
کس میں ہمت ہے جو
کچے پکے
ان آموں کی خاطر
عبث گنوائے اپنی جان
٭٭
جدید محبت کی جدید نظم
تم نیند سے ہو جاگے
یا میں جگانے آؤں
جو ہو رہا ہے ہر سو
کیا تم کو یہ خبر ہے
یا میں سنانے آؤں
تم پوچھتے ہو مجھ سے
مجھے پیار کیوں نہیں ہے
تم پوچھو اپنے دل سے
یا میں بتانے آؤں
چھوڑو یہ ساری باتیں
کپ چائے کا بناؤ
یا میں بنانے آؤں ؟؟؟
٭٭
ایک روشن دن کی آغوش میں
سنہری چمکتی دھوپ کو
ایک بادل نے
سلیٹی
کر دیا
٭٭
مذاکرات ہونے تک
بابا
اس کے بازوؤں میں
دم توڑ گئے
وہ وقت پہ انہیں ہسپتال نہ لے جا سکی
اس کا بھائی قریبی شہر سے
باپ کو آخری غسل دینے کے لیے نہیں پہنچ پا رہا
اس کی ماں
بھائی کی مزاج پرسی سے لوٹنے کے بعد
شہر کی دہلیز پہ کھڑی دہائی دے رہی ہے
٭٭
اور وہ
باپ کے قدموں سے لپٹی
سوچ رہی ہے
شہر میں جنت کے ٹکٹ بٹ رہے ہیں
وہ بابا کی اپنے آبائی شہر میں دفنانے کی
خواہش پوری کر سکے گی؟؟؟؟؟
٭٭
پینگ ہے جانے کس رت کی
چودھویں رات کی چاندنی
اسے کوئی ٹھنڈک نہیں پہنچاتی
آگ برساتا سورج بھی
پسینے میں شرابور نہیں کرتا
ٹھنڈ میں اس کے ہاتھ ٹھٹھرتے ہیں
نہ گرمی میں
پیر جھلستے ہیں
کیا تم جانتے ہو
ایسا کب ہوتا ہے ؟
٭٭
ایک نفی ایک = ایک
میرے محافظ
میرے سر سے چادر کھینچ کر
میرے جگر کو چھلنی کر کے
اور
میرا کلیجہ چبا کر
میری لاش پہ بین کر رہے ہیں
٭٭
وہ سب کیا تھا؟
پھر
تیرے شہر کی آغوش میں
سمٹ آئی ہوں
اس امید کے سہارے
جو اب تک نہیں ٹوٹی
مگر
بات تو وعدوں کی ہے
کیا ہم نے کوئی وعدہ کیا تھا؟
٭٭
تاریخ
میرے باپ دادا کی قبروں پہ
اس گھر کی بنیاد پڑی
اس کے صحن میں
میرے بھائیوں کا خون بہا
میری ماں کی دعائیں اس کے گرد رقصاں ہیں
مگر
اس کا کوئی دروازہ
میرے لیے نہیں کھلتا
٭٭
کون اپنا کون پرایا
اپنا دیس
اپنی مٹی
اپنے لوگ
سب کچھ اپنا
پھر کیوں خون سے دامن بھیگا
یہاں ہے کوئی پرایا بھی؟
٭٭
راہنما
ہفتے بھر سے
وہ بخار میں پھنک رہی تھی
معذور بیٹی بے بسی سے
ماں پہ نظریں ٹکائے بیٹھی تھی
اور وہ
مقامی پارک میں
مجمع لگائے چلّا رہا تھا
” مجھے ایک موقع دیں
میں آپ سب کی
قسمت بدل دوں گا ”
٭٭
بھیڑ چال
چھریاں چاقو پتھر لیے
بپھرا ایک ہجوم ہے
زخموں سے چور
وہ بھاگتا جا رہا ہے
کسی جھاڑی کھائی
کسی قبرستان میں بھی
وہ خود کو چھپا نہیں سکا
زخموں سے بہتا خون
تعاقب کرنے والوں کو
راہ دکھا رہا ہے
بے بس
لاچار تھک کر
ایک درخت سے ٹیک لگاتا ہے
اور پیچھا کرنے والوں سے
چیختے ہوئے پوچھتا ہے
میرا قصور کیا ہے ؟
اور
تعاقب کرنے والے
ایک دوسرے کا منہ تک رہے ہیں
٭٭
بارش کا ادھورا خواب
سنا ہے
برکھا جھوم کے
تیرے شہر میں برسی
بارش کی چند بوندیں
تیرے بالوں میں اٹکی ہیں
اور
تو نے
آج بھی
بال نہیں جھٹکے
٭٭
تلاش
میں کہیں دور جانا چاہتی ہوں
دور بہت دور
جہاں آوازیں
میرا پیچھا نہ کر سکیں
فون کی گھنٹی پہ میرا دل نہ دہلے
دور
جہاں کوئی سگنل نہ پہنچ پائے
٭٭
مایا
میں تمھارے ہر فیصلے سے خوش ہوں
بہت خوش
مگر جانے کیوں
تم مجھ سے زیادہ
میری آنکھوں پہ اعتبار کرتے ہو
٭٭
جلا وطن
کھویا تم نے بھی ہے
میں نے بھی ہے
ہمارا درد ایک جیسا ہے
مگر
تم خوش قسمت ہو
کہ گر چاہو تو
آج بھی بلا ناغہ
اپنے پیارے کی
آخری آرام گاہ پہ دعا کے لیے جا سکتے ہو
٭٭
منجمد دھوپ میں
منڈیر پہ بیٹھا کوا کسی تاک میں ہے
گھر کا وفادار کتا
سیڑھیوں پر اچھل کود کر رہا ہے
صحن کے ایک کونے میں بندھی گائے
مزے سے جگالی کر رہی ہے
گھر میں صف ماتم بچھی ہے
اور
وہ
گیہوں سے جو الگ کرنے میں مصروف ہے
٭٭
وہ کیا ہے
بارش کی پہلی بوند
شبنم کا قطرہ
پہلی کونپل
یا
ریگستان کا درخت
وہ کیا ہے
ایک خواب
یا سراب
٭٭
کٹھالی
جانتی تھی
تم سمجھ نہ پاؤ گے
اس انتظار کی کسک
جو تم نے کیا ہی نہیں
اس پیار کی چبھن
جو تم سے ہوا ہی نہیں
بیٹھی ہوں مگر
میں اسی تپتی ریت پر
شاید
بننے کے لیے
کندن
٭٭
قطعہ
جھوٹ کی دھوپ کیوں نہیں ڈھلتی
بات اب سچ کی کیوں نہیں بنتی
خون بہتا ہے نالیوں میں یہاں
لال آندھی مگر نہیں چلتی
٭٭
ایک لاحاصل خواہش
میں پانی کو
اپنی مٹھی میں بند کرنا چاہتی ہوں
ہوا کی مخالف سمت اڑنا چاہتی ہوں
میں
چاند کو چھونا چاہتی ہوں
اور
زمین کو چاند سے دیکھنا چاہتی ہوں
میں ایسا نہیں کر سکتی
جانتی ہوں
نہیں کر سکتی
مگر
کیا کوئی خوابوں کو پابند کر سکتا ہے ؟
٭٭
بول میری مچھلی
وہ نہیں جانتی تھی
سچے رشتوں کی بنیاد
جھوٹ پہ رکھی جاتی ہے
اور فیصلے
کاغذ پہ لکھے سوالوں کے
درست
جوابات ہوتے ہیں
٭٭
ا یک تکون میں اترتی زندگی
بلی اس کے بچوں کی تاک میں ہے
وہ اسے دیکھتے ہی
بچوں کو اپنے پروں تلے
چھپا لیتی ہے
بلی بخوبی جانتی ہے
کسی دن کوئی نٹ کٹھ بچہ
اس کی زد میں آ جائے گا
مگر بلی اس بات سے بے خبر ہے
کہ سیڑھیوں پہ بیٹھا
کتا
اس پہ نظریں ٹکائے بیٹھا ہے
٭٭
دھند میں تیرتا جزیرہ
اپنے پیٹ کے دوزخ کی فکر نہیں مجھے
جیوں مروں پرواہ کس کو ہے
مگر
ان سانپوں کا کیا ہو گا
جو آستینوں میں پال رکھے ہیں
٭٭
خبر
اس کا جسم بخار سے تپ رہا ہے
اور وہ لاپروا
اخبار پڑھنے میں مشغول
اچانک
ایک خبر پہ نظر پڑتے ہی
اس کا جسم جھنجنا گیا
ماں !
مٹی کے چلن بدل گئے
اور گورستان کی ہوائیں نوحہ کناں
تم مجھے دفن مت کرنا
جلا دینا
٭٭
ایک شعر
تم نے کہا تھا لوٹ کے آؤں گا ایک دن
وہ ایک دن ہی لوٹ کے آیا نہیں کبھی
٭٭
خود فریبی
تیزی سے چپو چلاتے
وہ کشتی کو
کنارے سے دور لے جانا چاہتا ہے
اس کے ہونٹوں پر
ابلیسی مسکراہٹ کھیل رہی ہے
مگر
وہ
اس سفر سے
لطف اندوز ہو رہی ہے
بلا کی تیراک جانتی ہے
کہ وہ
تیرنا نہیں جانتا
٭٭
ورثہ
جس دہلیز پہ ما تھا ٹیکا
سجدے کیے دیوار و در کو
چوم کے ہر شے کو
آنکھوں سے لگایا
جانتے ہو
اس جاگیر سے
میرے حصے میں کیا آیا؟
دو گجرے
اک کرتہ
اور
اک شال
٭٭
پریتم کتھا
میرے آنسو
اس کے دل پر گرتے ہیں
اس کی ہر تخلیق
میری آنکھوں کے پھیلے کاجل سے
جنم لیتی ہے
مگر
اس کے کرتے کے بٹن میں اٹکے بال
میرے نہیں ہوتے
٭٭
خالی ہتھیلی
بھنورے پھولوں کے گرد منڈلا رہے ہیں
سانپ بلوں سے نکل کر
گھاس پر لوٹ رہے ہیں
کتے ہر آنے جانے والے پہ بھونک رہے ہیں
اور
آسمان کا رنگ لال ہوتا جا رہا ہے
…..
شہد کی مکھیاں چھتے چھوڑ چکی ہیں
اور چوہے جہاز
آسمان کی لالی اب سیاہی میں بدل رہی ہے
عجیب سی سڑاند
سارے ماحول سے اٹھ رہی ہے
قبرستان میں ہیضہ پھیل گیا ہے
،، ،، ،، ،،
اور
میں اپنی ہتھیلیوں میں نئی لکیر ڈھونڈ رہی ہوں
٭٭
دوا خانہ
تم سزا دو گے
قید کرو گے
پھانسی پہ لٹکاؤ گے
ہرگز نہیں
کیونکہ
تم جانتے ہو
بد ہضمی کا چورن فوراً اثر کرتا ہے
٭٭
سوال
کبھی بتانا
کبھی چھپانا
کسی سے لینا
کسی کو دینا
کسی پہ ہنسنا
کسی پہ رونا
کسی کو پانا
کسی کو کھونا
کسی کی فرقت وصال ہونا
کسی کی قربت عذاب ہونا
کسی کو اک پل نہ ساتھ رکھنا
کسی کی ساری سماعتوں کا حساب رکھنا
یہ سب تماشا ہے
کیا تماشا ہے
٭٭
قطعہ
شاعر اپنے عذاب لکھتا ہے
اور پھر بے حساب لکھتا ہے
با خبر ہے عروض سے لیکن
شعر پھر بھی خراب لکھتا ہے
٭٭
قطعہ
ہر شخص برا نہیں ہوتا
ہر سچ بھی کھرا نہیں ہوتا
ڈر خدا کا ہو نہ جسے
سر اس کا جھکا نہیں ہوتا
٭٭
پنجابی قطعہ
جنہاں لئی میں پاپ کمائے
اپنی جاننوں روگ وی لائے
عمروں لما پینڈا کیتا
کاماں بن کے ساتھ نبھائے
اووی میتھوں پچھدے نے اج
ساڈے ول کی لین او آئے
٭٭
لکیر یں کھینچتی زندگی
اس کی سانسیں
خوشبو سے معطر ہیں
مگر
کانٹوں نے اسے لہو لہان کر دیا ہے
زخموں سے بہتا لہو
لکیریں کھینچ رہا ہے
وہ
زخموں کا مرہم تو چاہتی ہے
مگر
کوئی لکیر
مٹانا نہیں چاہتی
٭٭
یاداں دی بکل
گن یاداں دی بکل مار لواں تے
ٹھنڈ نئیں لگدی
ہتھ نہیں ٹھردے
دھپ نئیں لگدی
پیر نئیں سڑ دے
پکھ نئیں لگدی
بل نئیں سکدے
پر
یاداں دی بکل مارن لئی
جگرا چاہیدا اے
جیہڑا کڈ کے لے گیاں ایں توں
٭٭
لکیر
تینوں مِلن دی تانگ وی ہے سی
تیری میری سانج وی ہے سی
فیر کی اے ہنیری چلی
سارا کج اڈا کے لے گئی
لمی اک لکیر ای رہ گئی
٭٭
معمہ
گوری کی چولی میلی
چولی میں سو سو چھید
پھر بھی اس کو لاج نہ آوے
جانے کیا ہے بھید
٭٭
مجھے معلوم نہ تھا
کیوں
یہ دل دھڑکتا ہے
کسی کے آنے سے
آنکھ ہوتی ہے نم
کسی کے جانے سے
کیوں تحریر بدل جاتی ہے
ہوا بادل اڑا لے جاتی ہے
موج ساحل سے ٹکرا کے لوٹ جاتی ہے
مجھے معلوم نہ تھا
کیوں
اپنے روٹھ جاتے ہیں
ساتھ چھوٹ جاتے ہیں
ہاتھ میں رہ جاتا ہے
محض کاغذ کا ایک ٹکڑا
٭٭
ماضی کے دریچوں سے
کچھ یادیں امنڈ آئیں
مرہم لگا زخموں پر
کچھ زخم ابھر آئے
یادوں کو سمیٹوں تو
گھائل ہوئی جاتی ہوں
دامن جو بچاؤں تو
اک عمر گنواتی ہوں
٭٭
بند گلی کا چاند
وہ
آسمانوں میں اڑنے والا
سمندر کا سینہ چیرنے والا
پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے والا
اور
تم
اس کے نام کی مہندی
اپنی ہتھیلیوں پہ
سجانے کے خواب دیکھنے والی
اک بند گلی کی بے وقوف لڑکی
نہیں جانتی
کہ ہوا کو قید نہیں کیا جا سکتا
بادل کو غلام نہیں بنا سکتے
بادل برس بھی جائے
تو
وہاں ٹھہرتا نہیں ہے
سرابوں کے پیچھے بھاگنے والی
پاگل لڑکی
کیا تم واقعی نہیں جانتی
کہ
سورج خود کو جلاتا ہے
تو
چاند چمکتا ہے
٭٭٭
تشکر: شاعرہ جنہوں نے فائل فراہم کی
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

