ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

مکمل کتاب پڑھیں…..

 

تین بھائی

 

 

سرفراز صدیقی

 

ترتیب و تدوین: اعجاز عبید

 

 

نادان چوہا

 

کسی جنگل میں ایک بھیڑیا رہتا تھا۔ ایک دن وہ بھیڑیا ایک شکاری کے جال میں پھنس گیا۔ بہت زور لگایا مگر جال سے نکل نہ پایا، بلکہ مزید اُلجھ گیا۔ اِسی تگ و دو میں جال کی ڈوریاں اُس کے جسم میں گڑ گئیں اور جسم سے خون رسنے لگا۔ اتنے میں قریب سے ایک چوہے کا گزر ہوا۔ بھیڑیا اُسے دیکھتے ہی انتہائی لجاجت سے بولا: بھائی چوہے! میری مدد کرو میں اس جال میں بری طرح پھنس گیا ہوں، تم مہربانی کرو اور اپنے تیز دانتوں سے اس جال کو کاٹ دو تا کہ میں آزاد ہو جاؤں۔ چوہا بولا : نہ بابا نہ!  اگر میں نے تمہیں آزاد ی دلا دی تو تم سب سے پہلے مجھے ہی ہڑپ کر جاؤ گے۔ بھیڑیا بولا: تم ٹھیک کہتے ہو ۔ میری فطرت کچھ ایسی ہی ہے مگر تمہارے اس احسان کے بدلے میں وعدہ کرتا ہوں کہ نہ صرف میں اپنے آپ پر قابو رکھوں بلکہ جب تمہیں کسی اور درندے نے تنگ کیا تو میں تمہاری مدد کروں گا۔ قصہ مختصر کافی دیر تک منت سماجت کرنے کے بعد بھیڑیے نے چوہے کو راضی کر ہی لیا اور یوں چوہے نے اس جال کو اپنے تیز دانتوں سے کتر ڈالا۔

بھیڑیے نے آزاد ہوتے ہی چوہے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج سے تم میرے ساتھ رہو گے اور مجال ہے کہ جنگل کا کوئی دوسرا جانور تمھاری طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔ چوہا بہت ہی خوش ہو گیا اور ننھا سا سینہ پھلا کر جنگل میں گھومنے لگا۔ جب بھی کوئی لکڑبھگا، جنگلی بلی، گیدڑ، لومڑی، وغیرہ اس کی طرف حملہ کرنے کے لیے بڑھتے وہ فوراً بھیڑیے کو بلا لیتا اور بھیڑیا بھی فوراً ہی لبیک کہتا ہوا چوہے کی مدد کو آن پہنچتا اور حملہ آور کو مار بھگاتا۔ یہ دیکھ کر چوہے کی ہمت اتنی بڑھ گئی کے راہ چلتے ہر چھوٹے بڑے جانور کی بے عزتی کرنے لگا اور یوں جنگل کے تمام جانور چوہے سے نفرت کرنے لگے۔ ایک دن کچھ شکاری دوبارہ جنگل میں آئے اور انہوں نے بھیڑیے پر گولی چلائی۔ گولی بھیڑیے کی ٹانگ پر لگی پر جان بچ گئی۔ لنگڑا بھیڑیا اب شکار کرنے کے قابل نہ رہا۔ معذوری کی حالت میں بھوک کی شدت بڑھتی گئی مگر کوئی بھی جانور شکار نہ کر سکا۔ دوسری طرف بھیڑیے کی پشت پناہی کے زعم میں چوہے نے سرے راہ ایک لومڑی کی بے عزتی کر دی۔ لومڑی غصہ میں آ کر چوہے کو پکڑنے کے لیے لپکی تو چوہا فوراً بھاگ کر بھیڑیے کے پاس آ گیا۔ لومڑی یہ دیکھ کر دور ہی رُک گئی مگر موٹے تازے چوہے کو دیکھ کر بھیڑیے کی نیت میں فتور آ گیا اور بھوک چمک اُٹھی۔ اُس نے ایک ہی پنجہ مار کر چوہے کو دبوچ لیا ۔ چوہے نے جو بھڑیے کے خطرناک تیور دیکھے تو خوفزدہ ہو کر بولا: بھائی بھیڑیے یہ کیا کر رہے ہو؟ میرے احسان کا یہ بدلہ دے رہے ہو؟ بھیڑیا بولا: کمبخت تو نے بھی تو اُس دن کے بعد سے جنگل کے تمام جانوروں کو بے عزت کر کے اپنی اوقات سے زیادہ مزے کیے ہیں اور کسی خوف کے نہ ہونے کے سبب کھا کھا کر خوب موٹا ہو گیا ہے۔ چل اب میرا خالی شکم سیر کر۔ بھیڑیے نے یہ کہا اور ایک ہی بار میں سالم چوہے کو ہڑپ کر گیا۔

٭٭

سبق:

– عادت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے مگر فطرت پر قابو پانا ممکن نہیں۔ سانپ کو لاکھ دودھ پلاؤ مگر وہ کاٹے گا ضرور!

– بے جوڑ دوستی اکثر اوقات دیرپا نہیں ہوتی اور کبھی نہ کبھی نقصان پہنچاتی ہے۔

– کسی پر کیے گئے احسان کی قیمت کبھی نہیں وصول کرنی چاہیے۔ اس سے نیکی بھی ضائع ہوتی ہے اور انسان کا وقار بھی مٹی میں مل جاتا ہے۔

– طاقتور کے مزاج اور وعدے کا کوئی بھروسا نہیں۔ وہ جب چاہے اسے بدل دیتا ہے۔

– انسان کو ہمیشہ اپنی اوقات میں رہنا چاہیے اور اللہ کے بعد صرف اپنے ہی قوت بازو پر بھروسا کرنا چاہیے۔

– ذرا سی طاقت ملتے ہی کم ظرف کی طرح بے جا اچھل کود اور اکڑفوں نفرت کو پھیلانے کا سبب بنتی ہے جس سے آخر کار نقصان ہی ہوتا ہے۔

٭٭٭

 

چڑا، چڑیا اور بے جا خواہش

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کِسی گاؤں میں ایک درخت پر چِڑیوں کا ایک چھوٹا مگر نہایت ہی خوشحال سا کنبہ رہائش پذیر تھا۔ ایک دن گھر کے سربراہ چُڑے کو بھوک لگی۔ پہنچا اپنی جورو کے پاس اور کہا کہ کھانا بناؤ۔ چڑیا بولی: سرتاج آپ اگر سامنے کھیت سے چاول کا ایک دانا لے آئیں تو میں جا کر نیچے مکان مالکن سے مسور کی دال کا ایک دانا لے آتی ہوں پھر ہمیشہ کی طرح ہم آج بھی کھچڑی بنائیں گے اور مزے لے لے کر کھائیں گے۔ تھوڑے کو بہت جانیں گے،  اللہ کا شکر ادا کریں گے اور ہمیشہ کی طرح شام ڈھلتے ہی سکون کی نیند سو جائیں گے۔ چُڑا  بولا: نہ بابا نہ! برسوں سے روز وہی ایک طرح کی کھچڑی کھا کھا کر میر ا تو پیٹ خراب ہو گیا ہے۔ تمھارے میکے والوں نے تمہیں کُچھ اور پکانا نہیں سکھایا؟ کبھی تو تم کچھ بدل کر پکا لیا کرو! جاؤ تم میرے لیے آج کوئی دوسرے قسم کی مزیدار سی ڈِش بناؤ۔

چڑیا بولی: سرکار! کام کاج تو آپ کچھ کرتے نہیں مگر باتیں آپ کی مغلیہ خاندان کے فرمانرواؤں کی یاد دلاتی ہیں۔ حرام ہے جو آپ اپنی محنت کی کمائی کا ایک دھیلہ بھی کبھی گھر لائے ہوں۔ اِس وقت آپ کی خواہش پوری کرنے کے لیے گھر پر کسی قسم کا اَناج موجود نہیں اس لیے میں کُچھ نہیں پکا سکتی۔ اور ہاں! خبردار جو آئندہ میرے میکے کے بارے میں ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نکالا ہو۔ ہمارے گھر میں تو کھانے پکانے کے لیے نوکر چاکر ہوا کرتے تھے۔ ہائے کیا دور تھا! جب میری امّاں مجھے اپنی نیم کے درخت جیسی محبت کی ٹھنڈی چھاؤں سے کبھی باہر نکلنے نہ دیا کرتی تھیں اور ابّا پیپل کی شفقت سے بھری مضبوط شاخوں کی طرح رات دن مجھے اپنے حصار میں محفوظ رکھتے تھے! بھائی پتے بن کر مجھے زمانے کی گرم ہوا سے بچاتے اور بہنیں میری دکھ سکھ کی ساتھی ہوتیں۔ سکھیاں میرے ساتھ دن رات کھیلتیں، دل لگی کرتیں اور میری راز دار ہوتیں۔ میرا میکا میکا نہ تھا گویا جنت کا درخت تھا!

آہ! پتا نہیں کون سی منحوس گھڑی تھی جب ابّا امّاں نے تم جیسے ٹٹ پونجیے کے ساتھ میرا نصیب جوڑ دیا۔ اور اُس دن سے آج تک ہانڈی چولہا کرتے کرتے، بچوں کو سنبھالتے سنبھالتے اور گھر کی صفائی کرتے کرتے کمبخت موئی میری تو کمر ہی جواب دے گئی ہے!  چُڑا  بولا: نیک بخت ! ایک تو توُ اِنسانوں کی بیویوں کی طرح کام کم اور بک بک زیادہ کرتی ہے۔ دماغ پھٹنے لگتا ہے تیری روز کی چیں چیں سے۔ اس گھونسلے میں بیٹھنے سے تو بہتر ہے چڑا کہیں باہر چلا جائے۔ میں بھی جاتا ہوں کچھ ڈھونڈ کے لاتا ہوں تاکہ آج سادہ کھچڑی کی جگہ کوئی چٹ پٹی سی بریانی بنے اور ہم اِسے مزے سے کھائیں ۔

چڑا پھِر پھُر سے اُڑ جاتا ہے اور بریانی پکانے کا سامان جمع کرنا شروع کرتا ہے۔ گوشت کے لیے جب قصاب کی دکان پہنچتا ہے اور جونہی چھیچڑوں میں پڑا ایک چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں داب کر اُڑنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہاں پہلے سے تاک میں موجود ایک بلی اُسے دبوچ لیتی ہے۔ اور جونہی کھانے کا ارادہ کرتی ہے تو چُڑا اِنتہائی لَجاجَت سے بلی سے درخواست کرتا ہے: بی بلّی! میری ننھی سی جان بخش دو کیونکہ اگر تم مجھے کھا گئیں تو میری ایک عدد معصوم بیوی بیوہ اور بہت سے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہو جائیں گے۔ بلّی بچپن سے ایسی باتیں نا جانے کتنے چوہوں ، چڑیاؤں اور کبوتروں سے سُن چکی تھی۔ اُ س نے چُڑے کی التجاؤں پر رتّی برابر بھی کان نہ دَھرا اور ایک ہی بار میں سالم چڑے کو چٹ کر گئی اور ڈکار تک نہ لی۔ بیوی کو جب اِس اندوہناک حادثہ کی خبر پڑوسیوں سے ملی تو اُس بے چاری نے ایک ہچکی لی اور آناً فاناً اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔

٭٭

سبق:

– گھر کا مرد اگر کام نہ کرے تو گھر میں معاشی تنگی آ جاتی ہے۔

بلا وجہ کی خواہشات اور اپنی اوقات کی چادر سے باہر پیر نکالنے سے ہمیشہ نقصان ہوتا ہے۔

– بیوی کی جلی کٹی باتیں گھر کا سکون غارت کر دیتی ہیں اور مرد کی ٹھیک سے سوچنے کی صلاحیت سَلب کر لیتی ہیں۔

– میاں بیوی کی کھٹ پٹ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دونوں کے مابین محبت نہیں۔

– اس دنیا میں کون شکاری کِس کی گھات میں کہاں چھپا بیٹھا ہے اِس بات کا اندازہ ضرور لگا لینا چاہیے ورنہ بہت بڑا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

– جس کسی کی زندگی کا انحصار کسی دوسرے کی موت پر ہو اُس سے رحم کی اُمید عبث ہے۔

– جس سے رحم کی اُمید نہ ہو اُس سے رحم کی بھیک مانگنا کارِ فضول ہے۔

٭٭٭

 

عقلمند اُلّو اور جوان گھوڑا

 

کسی جگہ ایک بہت وسیع و عریض بلکہ ایک بہت وسیع القلب جنگل موجود تھا جو برسہا برس سے اپنے باسیوں کو اپنی شفقت کی گھنی چھاؤں میں پناہ دیے ہوا تھا۔ اس پاک جنگل میں ابتدائے زمانہ سے ‘وحوُشیت’ نامی نظامِ حکمرانی نافذ تھا جس کے نقائص کی بدولت غلط طرح کے جانور حکمران بنتے اور پھر اُن کی نالائقی کی وجہ سے پاک جنگل خراب سے خراب تر ہوتا چلا جاتا تھا۔ یہاں تک کے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ بہت سے باسیوں کو بھی اس بات کا احساس نہ رہا کہ وہ سب مل کر مالک کی عطا کردہ کس عظیم نعمت کو برباد کر رہے ہیں۔

اسی پاک جنگل میں دیگر جانوروں کے ساتھ ساتھ ایک بوڑھا مگر انتہائی عقلمند اُلّوُ بھی رہتا تھا۔ ایک دن جنگل کے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر جنگل کا درد رکھنے والا ایک وفادار اور جوان گھوڑا عقلمند اُلّوُ کے پاس آن پہنچا اور لگا سوال کرنے:

جوان گھوڑا: قبلہ! جب سے میں پیدا ہوا ہوں اس جنگل میں بھوکے بھیڑیوں اور لٹیرے لومڑوں کا راج دیکھتا آ رہا ہوں۔ آپ تو بہت دور اندیش ہیں، یہ فرمایئے اس جنگل کے حالات کب سدھریں گے اور کون اسے ٹھیک کرے گا؟

عقلمند اُلوّ  پنچہ اُٹھا کر جوان گھوڑے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا: یہاں کے حالات تم ٹھیک کرو گے اور جب تم چاہو گے تب ہی یہ ٹھیک ہوں گے۔

جوان گھوڑا: مگر میں بھلا یہ کام کیسے کر سکتا ہوں؟

عقلمند اُلوّ: سب سے پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کر و۔ پھر اپنے گھر والوں کو دوست احباب کو درست راہ پر ڈال کر اور اسی طرح بڑھتے بڑھتے ایک دن ان شاء اللہ سب بہتر ہو جائے گا۔ یار رکھو! اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔

جوان گھوڑا: لیکن اس کام میں تو بہت وقت لگ جائے گا اور مجھے یہ بھی یقین نہیں کہ میرے اندر اپنے آپ کو بدلنے کی کوئی خواہش موجود ہے۔ میرے خیال میں اگر میں وجیہ پانڈا کا گروپ جوائن کر لوں تو ہم مل کر بھیڑیوں اور لومڑوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں اور اس جنگل کے حالات کو بدل سکتے ہیں۔

عقلمند اُلوّ: بیٹا! زندگی میں شارٹ کٹس مت ڈھونڈو۔ جو چیزیں کئی دہائیوں میں خراب ہوئی ہیں اُن کو ٹھیک کرنے کے لیے بھی بڑا زمانہ درکار ہے۔ محض چہرے بدلنے سے حالات نہیں بدلیں گے۔ حالات بدلنے کے لیے اس نظام وحوشیت کو بدلنا بڑا ضروری ہے۔

جوان گھوڑا: مگر کیوں؟ اس نظام میں آخر کیا خرابی ہے؟

عقلمند اُلوّ: اے میرے فرزند: اس نظام وحوشت کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں جنگل کے ہر جانور کی رائے کو ایک برابر سمجھا جاتا۔

جوان گھوڑا: مگر یہ تو اچھی بات ہے کے سب کو برابر سمجھا جاتا ہے!

عقلمند اُلوّ: بیٹا: بیشک ہر جانور کے لیے زندگی گزارنے کا حق برابر ہوتا ہے مگر ہر جانور کی عقل ایک برابر نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر ایک عقلمند ہاتھی کسی بیوقوف بھیڑ کے برابر نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح جو بد خصلت ہے وہ کبھی شرفاء میں شامل نہیں ہو سکتا۔ کیا تم نے وہ کہاوت نہیں سنی "پڑھو فارسی بیچو تیل”؟

جوان گھوڑا: عقل اور خصلت والی بات کی ذرا وضاحت فرمایئے؟

عقلمند اُلوّ: دیکھو! وفا کا پیکر سبک رفتار گھوڑا کسی ڈسنے والے سانپ کے برابر نہیں ہو سکتا۔ ان دونوں کو برابر سے تمام جانوروں کے لیے فیصلہ کرنے کا حق دینا ایک ظلم عظیم ہوگا۔ اور اس سے کبھی فلاح حاصل نہیں ہو سکتی۔ دوسری طرف اگر تم بغور دیکھو تو اس جنگل میں سب سے بڑی تعداد میں بزدل اور بیوقوف بھیڑیں ہیں۔ ان کی کثیر تعداد کے ہوتے ہوئے کیا کبھی کوئی اچھا حکمران اقتدار میں آ سکتا ہے؟ بد قسمتی سے ان بھیڑوں کی مجبوری اور ان کے حالات نے انہیں اس ذہنی طور پر اس درجہ ضعیف بنا دیا ہے کہ وہ ہر بار تمام مظالم بھول کر دوبارہ کسی نئے ستم گر کے بہکاوے میں آ جاتی ہیں اور یوں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی چلی جاتی ہے۔ بقول شاعر:

اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے  اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے!

جوان گھوڑا: لیکن اگر اکثریت اپنا بھلا نہیں چاہتی تو آپ اور میں اس نظام کو بُرا کہنے والے کون ہوتے ہیں؟

عقلمند اُلوّ: اگر ہم برے کو برا نہ کہیں تو جو لوگ نہیں جانتے وہ اس خرابی کوپہچانے گے کیسے اور جہاں تک اکثریت کی بات ہے تو تم دیکھ سکتے ہو کہ ہمارے جنگل کی کل آبادی لگ بھگ 20 ہزار ہے مگر بدقسمتی سے نظام وحوُشیت کی بدولت آج جو حریص بھیڑیا اس جنگل کا حکمران ہے اُس نے محض 14 سو بھیڑوں (7 فیصد) کی رائے کے بل پہ جنگل کے 93 فیصد اکثریت پر اپنا اقتدار قائم کر لیا ہے۔ یہ تو صریحاً اقلیت کی حکمرانی ہوئی۔

جوان گھوڑا: اے میرے بزرگ! مگر میں نے تو سنا ہے کے کافرستان نامی جنگل میں یہی نظام وحوشیت نافذ ہے اور وہاں تو راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بھی بہتی ہیں!

عقلمند اُلوّ: بیٹا! تم نے بالکل ٹھیک سُنا ہے وہاں ایسا ہی ہے۔

جوان گھوڑا: تو اس کا مطلب وجیہ پانڈا جو کہتا ہے بالکل ٹھیک ہے۔ ہمیں بھیڑیے سے فالفور جان چھڑانی چاہیے اور نظام وحوُشیت کو مزید آگے بڑھانا چاہیے۔ اور یوں ایک دن ہماری بھی قسمت بدل جائے گی۔

عقلمند اُلوّ: آہ! کاش کے ایسا ہو پاتا۔ لیکن مجھے افسوس ہے کے ایسا کبھی نہیں ہو گا۔

جوان گھوڑا: مگر کیوں؟

عقلمند اُلوّ: اس لیے کے کافرستان میں نافذ نظام صرف اس لیے کامیاب ہے کہ وہاں تمام کے تمام خنزیر بستے ہیں۔ یعنی اُن کی ضروریات، سوچ، عقلی معیار، پسند نا پسند، رہن سہن، بود و باش سب یکساں ہیں۔ اس لیے نظام وحوشیت اُن کے لیے بہت بہتر ہے اور وہی در اصل ان کی ترقی کا راز ہے۔

جوان گھوڑا: معزز اُلّو! میں سمجھا نہیں۔

عقلمند اُلوّ: میں تمھیں ایک آسان سی مثال دیتا ہوں۔ تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے جنگل میں جتنے بھی جانور ہیں وہ یا تو سبزی کھاتے ہیں یا پھر گوشت اب اگر ہم نظام وحوشیت کے اعتبار سے سب جانوروں سے پوچھیں کے اس جنگل میں کل صبح سے صرف ایک ہی طرح کا کھانا کھایا جائے گا۔ اس لیے سب اپنی رائے دیں کے وہ کون سا کھانا ہونا چاہیے۔ تو کیا جواب ہوگا؟

جوان گھوڑا: سادہ سی بات ہے وہی کھانا ہوگا جو اکثریت کہے گی۔ اور میرے خیال میں اس جنگل میں سبزی خوروں کی بہتات ہے اس لیے سبزی ہی وہ کھانا ہو گا جو ہر ایک کے لیے کھانا قانون بن جائے گا۔

عقلمند اُلوّ: تو پھر تو تمام گوشت خور بھوکے مر جائیں گے۔ اور اگر ایسا ہوا تو کیا یہ انصاف ہو گا؟ کیا پیدا کرنے والے نے یہی چاہا ہے؟

جوان گھوڑا: بات تو آپ کی ٹھیک ہے مگر کافرستان میں تو۔۔۔۔

عقلمند اُلوّ: اے میرے فرزند! بنیادی بات یہ ہے کافرستان جنگل کے تمام باسیوں کی مرغوب ترین غذاء مشترک ہے یعنی خود اُن کا اپنا ‘فضلہ’۔ اس لیے جب کبھی بھی وہ نظامِ وحوشیت کے حساب سے رائے شماری کریں گے وہ ایک ہی نتیجہ پر پہنچیں گے یعنی "ہمیں تو بس فضلہ چاہیے”۔ اُن میں اختلاف ہو گا تو شاید اس بات پر کے فضلہ کتنے بڑے خنزیر کا ہو یا کتنے دن پرانا ہو مگر اُن سب کا اتفاق بغیر کسی جھگڑے کے فضلہ پر ہی ہو گا۔ اس لیے نہ کوئی لڑائی اور نہ کوئی جھگڑا۔ اور آپس میں اتفاق کر لینے کے بعد سب کے سب اونچی اونچی میز کرسیوں پر بیٹھ کر سونے کے چمچوں سے سونے کے برتنوں میں اپنا ہی فضلہ ڈال کر بخوشی کھاتے رہیں گے۔

جوان گھوڑا: لیکن ہم سب تو پلید فضلہ نہیں کھاتے؟

عقلمند اُلوّ: نہیں میرے پسر! ہمارے اس پاک جنگل میں موجود شکل و صورت والے خنزیر تو شاید نہیں ہیں مگر طبعیت کے کچھ خنزیر ضرور موجود ہیں جو بڑے شوق سے ناپاک فضلہ کھاتے ہیں اور پھر دوسروں کو بھی یہی تلقین کرتے ہیں "کھایئے نا”۔ لیکن تم جانتے ہو آج بھی ہم جانوروں کی اکثریت پلید کھانے سے بھوکا مر جانا بہتر جانتی ہے وہ اس لیے کے ہمارا مالک یعنی ہمارا رب پاکی کو انتہائی پسند کرتا ہے۔ حرام اور ناپاک کھانا کھانے والوں کے لیے اُس نے سخت عذاب کا وعدہ کیا ہے۔ یہ وہ عذاب ہے کہ جس کی کافرستان کے خنزیروں کو تو بالکل فکر نہیں کیونکہ جب وہ "ہمارے رب کو” ہی نہیں مانتے تو "ہمارے رب کی” کیوں مانیں گے۔ اب بتاؤ وہ خنزیر کیوں اَن دیکھی آخرت کی بہتر ی کے لیے اپنی دُنیا مشکل کریں گے؟

جوان گھوڑا: بات کچھ کچھ سمجھ آ رہی ہے اے زیرک اُلّو! مگر آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں کے اگر نظام وحوشیت نہیں تو پھر کیا؟

عقلمند اُلوّ: بڑی سیدھی سے بات ہے۔ جب کوئی موجد کسی چیز کو ایجاد کرتا ہے تو اُسے استعمال کرنے کے لیے ہدایات کا کتابچہ (manual) بھی لکھ دیتا ہے تا کہ تمام جانور اُس ایجاد کو احسن طریقہ سے استعمال کر سکیں۔ اسی طرح ہمارے جنگل سمیت اس کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ اس لیے اس جنگل کو استعمال کرنے کا سب سے بہتر طریقہ کیا ہونا چاہیے یہ اس جنگل کے خالق سے بہتر کون بتا سکتا ہے؟

جوان گھوڑا: اور اللہ نے بھلا کیا بتایا ہے؟

عقلمند اُلوّ: اللہ تعالیٰ نے اپنی حکومت جس میں کسی قسم کی کوئی شراکت نہیں اور جہاں اُس کے حکم پر فرشتے مختلف امور انجام دیتے ہیں یہ مثال دی ہے کہ عنان اقتدار صرف ایک ہی کے ہاتھ میں ہونا چاہیے اور جس کے فیصلہ پر ہر کوئی سرِ تسلیم خم کرے ورنہ نظام میں گڑبڑ ہونا لازمی ہے۔ شوریٰ اس کو محض مشورہ دے مگر وہ خود اللہ کے سوا کسی کا پابند نہ ہو۔ کوئی قانون خود نہ بنائے بلکہ اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کا نفاذ کرے۔

جوان گھوڑا: لیکن اگر و ہ ‘ایک قائد’ ٹھیک نہ ہو تو؟

عقلمند اُلوّ: ایسا بالکل ممکن ہے ۔ لیکن تم اگر کسی ایسے جانور کو ڈھونڈ لو جس میں اوصافِ حمیدہ بھی ہوں اور وہ دانشمند بھی ہو اور ساتھ ہی وہ اقتدار بالکل بھی نہ چاہتا ہو ۔ تو پھر سوچو کیا وہ جانور اقتدار کا غلط استعمال کرے گا؟ اگر بالفرض وہ جانور ہاتھی کی نسل سے ہو تو تم خود بتاؤ کہ اُسے گوشت اور خون میں کوئی رغبت ملے گی؟ نہیں کبھی نہیں! چاہے وہ ہاتھی کتنا ہی خراب ہو وہ اپنی فطرت کے خلاف گوشت کھانا شروع نہیں کر سکتا۔ اسی لیے ایک ایسا جانور جسے طاقت اور مال کی ہوس نہ ہو۔ جو خود درندہ نہ ہو مگر قد کاٹھ کا اتنا وزنی ہو کہ تمام جنگلی درندے اپنی تمام تر درندہ صفتی کے باوجود اُس سے خوف کھائیں اور وہ جنگل میں کسی سے نہ ڈرے سوائے اپنے رب کے تو وہی جانور سچا بھی ہو گا اور اپنے جنگل اور اُس کے باسیوں کے لیے سوُد مند بھی۔

جوان گھوڑا: یعنی وجیہہ پانڈا۔۔! سچا تو وجیہہ پانڈا ہی اپنے آپ کو کہتا ہے۔ اور اپنے آپ کو جانوروں کا خیر خواہ بھی کہتا ہے۔

عقلمند اُلوّ: اے میرے فرزند! تم اس بات کو اپنی گراہ میں باندھ لو کہ جو جانور خود اپنے مُنہ سے اپنے آپ کو سچا کہے وہ سب سے بڑا جھوٹا ہے۔ جو اپنے آپ کو سب سے زیادہ ایماندار کہے وہ سب سے زیادہ بے ایمان ہے۔ جو اپنے آپ کو عقلمند کہے وہ دراصل بے وقوف ہے۔ جو اپنے مُنہ سے کہے وہ تمہارا خیر خواہ ہے تو درحقیقت وہ خود اپنا خیر خواہ اور خودغرض ہے۔ کیونکہ تمام اوصاف حمیدہ کردار میں جھلکنے چاہئیں نہ کہ وہ کسی کی اپنی زبان سے ادا ہوں؟ یاد رکھو ایک جانور کی برسہا برس کی عملی زندگی ہی یہ بتاتی ہے کہ وہ کتنا عقلمند ہے، کتنا سچا ہے، کتنا خیر خواہ ہے، کتنا نڈر ہے اور اپنے ارادوں میں کتنا اٹل ہے۔ جو جانور اپنی خوبیاں خود گنوائے تو سب سے پہلے سوچو کے اُس کو اس بات کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

جوان گھوڑا: اے دانا اُلّوُ! اب مجھے کافی حد تک یہ باتیں سمجھ آر ہی ہیں۔ لیکن اگر میں آپ سے اس فراست کے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی درخواست کروں تو؟

عقلمند اُلوّ: بیٹا! خنزیروں کے پلید نظام میں چہرے بدلنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اس لیے تم کوشش کرو کے اس پلید نظام کو بدل کرا للہ کا پاک نظام اس جنگل میں نافذ کرو تا کہ دُنیا اور آخرت دونوں میں ان شاء اللہ فلاح پاؤ۔

جوان گھوڑا: بہت خوُب ! لیکن اگر میری اس کوشش کا کوئی خاطرخواہ نتیجہ نہ نکلا تو؟

عقلمند اُلوّ: تب بھی تم روز قیامت اپنے رب کے سامنے ادب کے ساتھ کھڑے ہو کر یہ کہہ سکو گے کہ: "اے میرے رب! اگرچہ میں اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہو سکا میں نے اپنی زندگی میں وہی نظام لانے کی کوشش کی جو تیر ا پسند کردہ ہے۔ یا الٰہی! توُ اپنی رحمت کے صدقے میں میری کوشش پر راضی ہو جا۔” اور مجھے کامل یقین ہے کہ اِن شاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔

٭٭٭

نڈر چوہا

کسی جنگل میں ایک چوہا رہا کرتا تھا۔ چوہا ایک دن بیمار ہو گیا۔ نقاہت کی وجہ سے چلنا دوبھر ہو گیا مگر پھر بھی دوپہر کی گرمی میں گرتا پڑتا علاج کے لیے پہنچا حکیم اُلو کے پاس ۔ اُلو نے چوہے کا طبی معائنہ کیا اور انکشاف کیا کہ اُسے تو مرض الموت ہے۔ حکیم چوہے سے بولا: "بس اب تمھاری زندگی کے دن گنے جا چکے ہیں۔” چوہا نہایت افسردہ ہوا۔ حکیم اُلو نے اُسے ڈھارس دلائی: "میاں چوہے! تم فکر مت کرو۔ موت تو ہر نفس کو ایک دِن آنی ہے۔ تم تو خوش قسمت ہو کہ تمہیں پتہ چل گیا کے تمھارے جانے کا وقت قریب ہے ورنہ کتنے ہی چوہے آخری وقت تک خواب غفلت میں پڑے رہتے ہیں اور ایک دن اچانک ہی فرشتہ اجل ان کی روح قبض کر لیتا ہے۔ اُن کو اپنی دنیوی مصروفیت میں اس بات کا موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ کوئی اچھائی اپنے نام کرتے اور خلق خدا کے لیے کچھ نیک کام کرتے جاتے۔ تم تو خوش قسمت ہو کہ تمہیں اپنی زندگی کا اختتام نظر آ رہا ہے۔ چاہو تو اس موقع سے فائدہ اُٹھاؤ اور اپنا نام چوہوں کی تاریخ میں سنہری حروف سے رقم کر دو۔”

چوہے نے یہ سنا تو اُس کی عقل میں کچھ بات آ گئی اور وہ اُلو کا شکریہ ادا کر کے واپس پلٹا۔ راستے میں اس کی مڈ بھیڑ ایک جنگلی بلی سے ہو گئی۔ بلی نے جونہی منہ کھولا چوہے کو کھانے کے لیے چوہے نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور ایک لکڑی کی چھڑی اُٹھا کر لگا بلی کو پیٹنے۔ بلی اس کایا پلٹ کو دیکھ کر بھونچکی رہ گئی، جو چوہا کل تک اس کی آواز سے خائف رہتا تھا وہ آج وہی چوہا اُس کی یہ درگت بنا رہا ہے۔ بلی نے سوچا پتہ نہیں کیا معاملہ ہے۔ چوہا پاگل ہو گیا ہے یا اُس کو کہیں سے بہت طاقت مل گئی ہے۔ بلی نے سوچا کہ کچھ بھی ہو لگتا ہے کہ میری خیر اسی میں ہے کہ میں یہاں سے بھاگ جاؤں۔ بلی کے اس طرح دم دبا کر بھاگ جانے پر چوہا بڑا خوش ہوا۔ سوچا آج تک میں بلاوجہ اس کمبخت سے ڈرتا رہا۔ یہ تو میرے آگے کچھ بھی نہیں۔ حوصلہ بڑھا تو سینہ چوڑا کر کے آگے چلنا شروع کیا۔ دیکھا کہ آسمان سے ایک باز اُس کو پکڑنے کے لیے جھپٹ رہا ہے۔ یہ دیکھتے ہی چوہے نے ایک پتھر اُٹھا یا اور دے مارا باز کے منہ پر ۔ پتھر لگنے سے باز کی ایک آنکھ پھوٹ گئی اور وہ تکلیف سے چلاتا ہوا اُڑ گیا۔ اب تو چوہا شیر ہو گیا۔ اُس نے سمجھ لیا کہ آج تک کی زندگی تو بیکار گزری ۔ اُس نے سوچا کہ میں تو صرف قد میں ہی چھوٹا ہوں ورنہ میری ہمت کے آگے کیا مجال ہے کسی کی کہ مجھ سے ٹکر لے سکے۔ چوہا اب تک ساتویں آسمان پر چڑھ چکا تھا۔ اُ س کی نظر میں اب جنگل کا بادشاہ شیر بھی بکری بن چکا تھا۔

راستہ میں اچانک پیر پھسلا تو ایک گہرے گڑہے میں جا گرا۔ سر ایک پتھر سے ٹکرایا تو خون بہنے لگا ۔ فوراً واپس پلٹا تاکہ حکیم اُلو سے پٹی کرو ا لے۔ حکیم کے پاس پہنچا تو سورج غروب ہو چکا تھا۔ حکیم نے زخم پر دوا لگائی اور چوہے کو بغور دیکھا تو اُس کو سمجھ آیا کے دوپہر میں جو تشخیص کی تھی وہ غلط تھی ۔ چوہے کو تو معمولی بخار ہے جو دو ا کی دو خوراک سے ٹھیک ہو سکتا ہے۔ حکیم اُلو کو افسوس ہوا اور وہ چوہے سے یوں گویا ہوا: مجھے افسوس ہے کہ تمہیں یہ گہرا زخم لگا ۔ اس کو بھرنے میں کم از کم ایک ہفتہ تو لگ ہی جائے گا۔ اور اس دوران تم کم سے کم حرکت کرنا تا کہ یہ اچھی طرح مندمل ہو جائے۔ چوہا یہ سن کر افسردہ ہو گیا کہ ایک تو موت قریب ہے اوپر سے اس زخم کی وجہ سے میں ایک ہفتہ تک کچھ کر بھی نہیں سکتا۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ حکیم اُلو بولا: میاں چوہے تم دل چھوٹا مت کرو میرے لیے تمھارے پاس ایک بہت ہی اچھی خبر ہے۔ تم تو جانتے ہو میں سورج کی روشنی میں ٹھیک سے دیکھ نہیں پاتا اور یہی وجہ ہے کہ میر ی دوپہر کی تشخیص غلط تھی ۔ تمھیں مرض الموت نہیں ہے بلکہ معمولی سا بخار ہے جو دو ایک روز میں ٹھیک ہو جائے گا۔ چوہا یہ سن کر بہت خوش ہوا اور شکریہ ادا کر کے واپس پلٹا۔ رات کافی ہو چکی تھی راستے میں اُسے ایک چھوٹا سا بچھو نظر آیا۔ چوہے نے ایک لمحہ کے لیے سوچا کے اس موذی کیڑے کو مار بھگائے مگر فوراً ہی اُسے بچھو کا خطرناک زہر اور نوکیلا ڈنک یاد آ گیا۔ خوف کی ایک سرد لہر چوہے کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی اور وہ سکتے کے عالم میں آ گیا۔ بچھو خراماں خراماں پاس آیا اور بڑے اطمینان سے چوہے کو ڈنک مار کر اُسے آناً فاناً ختم کر دیا۔

٭٭

سبق:

– غلط وقت پر یا غلط ماحول میں قابل سے قابل انسان بھی حقیقت حال سمجھنے میں غلطی کر سکتا ہے۔ انسان کو اپنے اہم فیصلوں پر کسی دوسرے اور بہتر وقت نظر ثانی ضرورکر لینی چاہیے۔

– انسان کو اپنے اندر تبدلی کے لیے آخری وقت کا اتنظار نہیں کرنا چاہیے۔

– جس شخص کے پاس کھونے کو کچھ نہ ہو اُس سے زیادہ دبنگ انسان دُنیا میں کوئی نہیں ہوتا۔ جو لوگ ایسے جذباتی لوگوں کی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں یا ان باتوں کے بھرم میں آ جاتے ہیں انہیں اکثر مایوسی ہوتی ہے۔ انسان کے کردار کی پختگی اُس وقت پتہ چلتی جب اُس کے پاس ہار جانے کے لیے سب کچھ ہو مگر وہ پھر بھی حق کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے پر آمادہ ہو۔

– زندگی میں وہی انسان کامیاب ہوتا ہے جس کو اپنی خوبیوں ، خامیوں اور اپنی شخصیت کے کمزور پہلوؤں کا بالکل صحیح ادراک ہو۔ جو انسان اپنی کمزوریوں کو جانتا ہے وہی انہیں دُور کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یوں وہ بتدریج بہتر انسان بنتا ہے۔ اور اگر وہ اپنی کمزوری دور نہیں بھی کر پاتا تو کم از کم اُس کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ وہ کہاں سے مار کھا سکتا ہے۔ دوسری طرف جب کوئی انسان اپنی شخصیت کے مضبوط پہلو کو صحیح وقت اور صحیح جگہ استعمال میں لاتا ہے تو کامیابی اُس کے قدم چومتی ہے۔

– جو انسان اپنے آپے اور اوقات سے باہر ہو جائے وہ آخرکار نقصان اُٹھاتا ہے۔

– بزدلی ایک طاقتور انسان کو اپنے سے نسبتاً کمزور حریف سے بھی شکست دلوا دیتی ہے اور اگر انسان حوصلہ کرے تو طاقتور دشمن کو بھی زیر کر سکتا ہے۔

٭٭٭

 

ضرب کی تقسیم

 

ماسٹر جی: ماجد بیٹا! آج تم کچھ گم سُم سے ہو کیا بات ہے گھر پہ سب خیریت تو ہے؟

ماجد: جی ماسٹر جی! بس آج یونہی کچھ طبعیت افسردہ سی ہے۔

ماسٹر جی: مجھے بتاؤ کس بات پر تم اُداس ہو؟

ماجد: بس اپنے ملک کے حالات دیکھ کر مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ حالات دن بہ دن ناگفتہ بہ ہوتے جار ہے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے حالات کبھی بدلیں گے۔

ماسٹر جی: نا بیٹا نا! مایوسی کفر ہے۔ یہ ملک اللہ کے نام پر اُس کے دین کی سربلندی کے لیے بنایا گیا تھا۔ اللہ خود اِس ملک کا نگہبان ہے۔ ان شاء اللہ یہاں کے حالات بھی ضرور بدلیں گے۔

ماجد: لیکن کیسے ماسٹر جی؟ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ہمارا معاشرہ اس وقت برائیوں کی بدبو دار دلدل میں گردن تک دھنس چکا ہے۔ اِسے اب کون بچائے گا؟

ماسٹر جی: دیکھو ! جو دلدل میں دھنس رہا ہوتا ہے وہ باہر نکلنے کے لیے بد حواسی میں بری طرح ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور اس طرح وہ مزید تیزی سے دلدل میں دھنسنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں انسان کو اپنے اوسان خطا نہیں کرنے چاہیئیں بلکہ اُسے ساکت ہو جانا چاہیے تاکہ اُس کے دلدل میں دھنسنے کی رفتار کم ہو سکے اور اُسے سوچنے کا کچھ وقت مل سکے۔ اس کے بعد جب وہ ہوش و حواس کے ساتھ سوچنا شروع کرتا ہے تو اکثر اُسے اپنی مشکل حالت سے باہر نکلنے کا راستہ نظر آ جاتا ہے۔

ماجد: میں تو کب سے بیٹھا سوچ رہا ہوں مگر مجھے تو کوئی بھی حل سجھائی نہیں دیتا۔ میری تو بس اب یہی دُعا ہے کہ کوئی اچھا لیڈر آ جائے جو میرے پیارے وطن کو ڈوبنے سے بچا لے۔

ماسٹر جی: دیکھو اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں۔ وہ جب محض "کن فیکون” کہہ کر پوری کائنات تخلیق کر سکتا ہے تو پاکستان کے حالات کو ٹھیک کرنا اُس کے لیے کیا بڑی بات ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی یہ کہا ہے کہ وہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں. اب اگر تم اپنے آپ میں تبدیلی نہ لاؤ اور شارٹ کٹ لینے کے لیے ایک نجات دہندہ ڈھونڈتے رہو تو پھر یہ تمہاری مرضی ہے۔ بس اتنا ذہن میں رکھنا کہ تم میں سے تمہارے جیسا ہی کوئی شخص لیڈر بنے گا کوئی فرشتہ نہیں آئے گا ۔

ماجد: مگر مجھ میں کیا خرابی ہے؟

ماسٹر جی: یہی تو مسئلہ ہے ہمارا کہ ہمیں دوسرے کی آنکھ کا بال تو صاف دکھائی دیتا ہے مگر خود اپنی آنکھ کا شہتیر ہمیں نظر نہیں آتا۔ تمہاری کل اپنے پڑوسی لڑکے خالد سے توُ توُ میں میں ہو رہی تھی میں قریب ہی کھڑا سن رہا تھا کہ تم اُسے سب کے سامنے کس قدر بری بری گالیاں دے رہے تھے۔ کیا یہ اخلاقی برائی قابل اصلاح نہیں؟ اسی طرح اگر انسان اپنے اخلاق کا بغور جائزہ لے تو اُسے شاید اِس میں بہتری کی کافی گنجائش نظر آئے۔ ویسے بھی ہمارے معاشرے میں برائیوں کا کثیر اَنبار لگا ہوا ہے۔

ماجد: لیکن ماسٹر جی ! خالد مجھ سے بلا وجہ اُلٹی بحث کر رہا تھا اس لیے مجھے غصہ آ گیا اور غصہ میں میرے مُنہ سے نہ جانے کیا کیا نکل گیا۔

ماسٹر جی: بیٹا اسی لیے غصہ حرام ہے کہ یہ انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور اس کی سوچنے اور سمجھنے کی طاقت کو زائل کر دیتا ہے اور پھر انسان وہ کرتا ہے جو وہ کبھی نارمل حالت میں نہیں کرتا، بالکل نشہ کی طرح۔ دوسری بات یہ کہ غصہ میں انسان اُس وقت آتا ہے جب اُس کے پاس اَگلے شخص کو قائل کرنے کے لیے دلیل ختم ہو جاتی ہے۔ اور جس کے پاس دلیل نہ ہو اُس کو بحث کرنے کا بھی کوئی حق نہیں۔

ماجد: ماسٹر جی! بات تو آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ میں اگر بغور دیکھوں تو مجھ میں بھی کئی خامیاں ہیں لیکن میں اگر اپنے آپ کو ٹھیک کرنے بیٹھ گیا تو شاید بہت وقت لگ جائے۔ اور اگر مان لیں کے میں ٹھیک ہو بھی گیا تو اِس سے کیا سار ا زمانہ ٹھیک ہو جائے گا؟ میرے خیال میں اس طویل راہ کے بجائے ہمیں اگر ایک اچھا لیڈر مل جائے تو وہ ہماری تقدیر راتوں رات بدل دے گا۔

ماسٹر جی: بیٹا قوموں کی تقدیریں یوں بیٹھے بیٹھے تبدیل نہیں ہو جاتیں۔ اس کے لیے ایک طویل عرصہ تک خون کے آنسو بہانے پڑتے ہیں۔ تم کیا سمجھتے ہو کے یہاں کوئی بھی لیڈر کسی بھی لالچ کے بغیر اقتدار میں آیا تھا یا آج موجود ہے یا مستقبل میں آئے گا؟ اگر واقعی تم ایسا سمجھتے ہو تو تم بہت ہی نادان ہو۔ بیٹے! یہاں کسی کو پیسے کی ہوس ہے تو کسی کو زمین کی اور کسی کو عیاشی کی مگر ایک ہوس ایسی ہے جو بلا تخصیص سب میں پائی جاتی ہے اور وہ ہے طاقت کی ہوس۔ جانتے ہو ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اِس دُنیا میں ماسوائے اُن لوگوں کے کہ جن کے دل میں خوف خدا ہے انسان کے لیے طاقت سے بڑھ کر کوئی اور ہوس نہیں، شہوت نہیں، چاہت نہیں، آرزو نہیں، تمنا نہیں، شوق نہیں، جنون نہیں، دیوانگی نہیں!۔۔۔۔ یاد رکھنا! طاقت وہ دیوی ہے کہ جس کے قبضے میں ہو اُس کے آگے زر، زن، زمین اور دنیا کی دیگر تمام نعمتیں باندیوں کی طرح ہمہ وقت ہاتھ جوڑے حکم کی تعمیل کے لیے چوکس کھڑی رہتی ہیں۔ مگر طاقت کی چاشنی کو حقیقی طور پر وہی سمجھ سکتا ہے جس کے پاس کسی نہ کسی طور کسی نہ کسی درجہ طاقت رہی ہو۔

ماجد: اچھا۔ تو پھر آپ فرمائیے کہ ہم شروع کہاں سے کریں؟

ماسٹر جی: چلو ہم دونوں اس بات کا پکا ارادہ کرتے ہیں کہ ہم سب سے پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کریں گے۔ پھر اپنی اولاد کو اچھی تعلیم اور تربیت دیں گے اور اُنہیں یہ سمجھائیں گے کہ صراط مستقیم در اصل کیا ہے۔ اور یہ سلسلہ اگر چلتا رہا تو اسی طرح ان شاء اللہ یہ ملک ٹھیک ہو گا۔

ماجد: واہ ماسٹر جی! 20 کروڑ کی آبادی والے ملک کو ہم اس طریقہ سے بھلا کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں؟

ماسٹر جی: سادہ سی بات ہے "ضرب کی تقسیم” سے!

ماجد: ماسٹر جی! میں ضرب بھی جانتا ہوں اور تقسیم بھی اور یہ بھی کے دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں مگر یہ ضرب کی تقسیم کیا شئے ہوتی ہے؟

ماسٹر جی: اس کا مطلب ہے تعلیم و تربیت کو اپنی اولاد یا نئی نسل سے ضرب دے کر اسے معاشرے میں تقسیم کیا جائے۔

ماجد: میں اب بھی نہیں سمجھا!

ماسٹر جی: اس کے لیے تمہیں ضرب کی طاقت اور تقسیم کی برکت کو سمجھنا پڑے گا۔ تمہیں وہ قصہ تو یاد ہو گا جس میں چین کے ایک بادشاہ نے تمام ملک میں یہ منادی کروا دی کہ جو شخص اُسے شطرنج کے کھیل میں زیر کر دے گا وہ اُس کی کوئی بھی ایک خواہش پوری کر دے گا۔

ماجد: بچپن میں سنا تو تھا شاید مگر پوری طرح سے یاد نہیں!

ماسٹر جی: اچھا تو پھر سنو! بادشاہ کے منادی کرانے پر بہت لوگ قسمت آزمائی کے لیے آئے مگر کوئی بھی بادشاہ کو شطرنج کے کھیل میں ہرا نہیں سکا۔ لیکن ایک دن ایک مفلوک الحال شخص آیا اور اُس نے بادشاہ کو باآسانی ہرا دیا۔ بادشاہ کو بڑی مایوسی ہوئی مگر وعدے کے مطابق اُس نے پوچھا کہ اپنی خواہش بیان کرو؟ اس شخص نے کہا کہ عالم پناہ! آپ تو جانتے ہیں کہ شطرنج کی بساط میں کل چونسٹھ (64) خانے ہوتے ہیں ۔ بادشاہ نے کہا ہمیں معلوم ہے۔ وہ شخص بولا چین میں دُنیا بھر سے زیادہ چاول پیدا ہوتا ہے اس لیے سستی شئے ہے۔ بس میری خواہش یہ ہے کہ آپ شطرنج کے پہلے خانے پر چاول کا ایک دانہ میرے لیے رکھ دیں۔ دوسرے خانے میں دگنے یعنی 2 دانے اور تیسرے میں اس کے دُگنے یعنی 4 اور چوتھے میں اس کے دُگنے یعنی 8 اور اس طرح ہر خانے میں چاول کے دانوں کی تعداد کو دُگنا کرتے چلے جائیں یہاں تک کے بساط کے 64 خانے مکمل ہو جائیں۔ پھر آپ وہ تمام چاول میرے حوالے کر دیں۔ بس یہی میری خواہش ہے! بادشاہ نے کہا بس اتنی سی بات! یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ ہم تمہاری خواہش ابھی پوری کیے دیتے ہیں۔ یوں بادشاہ نے اپنے وزیر کو چاول کی بوری اور شطرنج کی بساط لانے کو کہا اور اُس شخص کی مرضی کے مطابق چاول کے دانے بساط کے خانوں میں رکھنے کو کہا۔ شروع کے خانوں میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوا مگر بیس خانوں کے بعد صورتحال انتہائی مشکل ہو گئی اور بالآخر بادشاہ کو سمجھ آ گیا کے اُس دانا شخص نے بادشاہ سے اتنا چاول مانگ لیا تھا جو چین کی پوری مملکت میں تو چھوڑو پوری دُنیا میں موجود نہ تھا!

ماجد: کیا بات کر رہے ہیں ماسڑ جی آپ! ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟

ماسٹر جی: وہ اس طرح کے اگر تم پہلے خانے میں ایک پھر دوسرے میں دو اور اسی طرح 64 خانوں میں چاول کے دانوں کی تعداد دگنی کرتے جاؤ تو ضرب کے قانون کے حساب سے چونسٹھویں خانے میں کل چاول کے دانوں کی تعداد 9,223,372,036,854,780,000 (نو ّے سنکھ یا 9 quintillion) ہو جائے گی۔ اور مجموعی طور پہ بساط پر چاول کے دانوں کی تعداد 18,446,744,073,709,600,000 اور ان کا کُل وزن تقریباً تین کھرب اُنہتر اَرب میٹرک ٹن (metric ton 368,934,881,474) بنے گا۔ جانتے ہو یہ کتنا ہوتا ہے؟

ماجد: پتہ نہیں۔۔۔۔۔ شاید بہت زیادہ!

ماسٹر جی: بہت!!؟ تم اس بات سے اندازہ لگا لو کہ 2014 یعنی اس سال پوری دُنیا میں جو چاول کی فصل ہو گی اُس کا کل وزن پچھتر کروڑ ٹن ہو گا یعنی جتنا چاول اُس شخص نے مانگا تھا وہ اُس زمانے کی پیداوار کو چھوڑو آج کی پوری دنیا کی کل پیداوار سے بھی پانچ سو گنا زیادہ تھا!!! دوسرے لفظوں میں پوری دُنیا میں اس سال جو چاول کی کاشت ہو گی اُتنی پیداوار اگر پانچ سو سال تک مسلسل ہوتی رہے گی تو اُتنا چاول بنے کا جتنا اُس شخص نے مانگا تھا!

ماجد: اوہ! اتنا زیادہ؟ مگر اس کہانی کا مقصد کیا ہوا؟

ماسٹر جی: مقصد یہ ہوا کہ آج کے دن اگر 20 کروڑ پاکستانیوں میں سے صرف ایک لاکھ افراد یعنی 0.05 فیصد عوام یہ تہیا کر لیں کے وہ ساری دنیا کو نہیں ، سارے ملک کو نہیں، پورے شہر کو نہیں، تمام اہل محلہ کو نہیں بلکہ صرف اپنی 3 اولادوں کو یا 3عدد پڑوس کے بچوں کو یا پھر کسی رشتہ دار کے بچوں کو صحیح تعلیم اور تربیت دیں گے اور اگر فرض کریں کے وہ تربیت یافتہ بچے بھی 3 بچوں کو پڑھائیں گے تو صرف 10 نسلوں میں یہ تعداد ایک لاکھ لوگوں سے بڑھ کر 2 ارب (2 billion) تک پہنچ جائے گی! اور اگر اس ضرب کی طاقت کو عام پاکستانیوں میں فی سبیل اللہ تقسیم کیا جائے گا تو اس تعداد میں ان شاء اللہ اتنی برکت آ جائے گی کے تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اسے کہتے ہیں ضرب کی تقسیم!

ماجد: لیکن میری زندگی میں تو کچھ نہیں تبدیل ہو گا؟

ماسٹر جی: کیا ضرور ی ہے تمہاری ہر تمنا تمہاری زندگی میں ہی پوری ہو؟ کیا تم اپنی آنے والی نسلوں کے اچھے مستقبل کے لیے آج ایک معمولی سی قربانی بھی نہیں دے سکتے؟

ماجد: واہ ماسٹر جی! کیا آپ اپنی بات کو ایک انتہائی خوش کُن تصور نہیں کہیں گے؟

ماسٹر جی: ہاں! شاید تم ٹھیک کہتے ہو۔ بلکہ لوگ تو اسے دیوانے کی بَڑ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ اگر نیت صاف ہو، سوچ مثبت ہو، ہدف کو اونچا رکھا جائے اور پھر اُس کے حصول کے لیے جہد مسلسل سے کام لیا جائے تو پھر یقیناً اللہ بھی مدد کرتا ہے۔ اورغور سے سنو! جب اللہ کسی کی مدد کرنے پرراضی ہو جائے تو ہدف چاہے جتنا بھی دشوار ہو ناکامی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اس لیے میرے پیارے بیٹے ابھی سے اقبالؒ کے اس شعر پر عمل شروع کرو :

اُٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے

پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

٭٭٭

 

تین بھائی

 

کسی گاؤں میں تین بھائی رہا کرتے تھے۔ تینوں پیشہ کے اعتبار سے جولاہے تھے۔ والدین کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ بڑے بھائی اور اُس کی بیوی نے والدین کی جگہ دونوں چھوٹوں کو بڑی محبت اور شفقت سے پالا تھا۔ بڑی بھابھی اللہ میاں کی گائے کی بچھیا تھی۔ ہر وقت گھر گھرستی، شوہر اور دیوروں کی دیکھ بھال میں لگی رہتی ۔ بڑا اور منجھلا بھائی بہت تجربہ کار اور محنتی تھے۔ دونوں شب و روز محنت کرتے، جو کماتے اُس سے اپنی گزر اوقات کرتے اور سکون کی زندگی گزارتے۔ اِن میں سے چھوٹا سب سے تیز تھا اور قریبی شہر کے کالج میں پڑھائی کر رہا تھا۔ تینوں بھائیوں میں وہ محبت اور اتفاق تھا کہ گاؤں کے لوگ مثالیں دیا کرتے تھے۔

ایک دن چھوٹا بھائی شہر سے آیا اور اپنے بھائیوں سے کہنے لگا: بھائیو: آخر ہم کب تک یونہی روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرتے رہیں گے؟ گاؤں کے کتنے ہی لوگ شہر جا کر مختلف کاروبار کر کے کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں مگر ہم برسوں کی محنت کے بعد آج بھی وہیں کے وہیں کھڑے ہیں ۔ بڑا بھائی بولا: تو کیا مسئلہ ہے؟ زندگی تو الحمدُ للہ سکون اور عزت سے گزر رہی ہے۔ منجھلا بھائی بولا: بڑے بھائی آپ کی بات ٹھیک ہے مگر چھوٹے کی بات بھی سن لینے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ چھوٹا بولا: ہم شہر چل کر ایک چھوٹی سی ٹیکسٹائیل مل لگاتے ہیں اور اپنے پیشہ کی مہارت اور تجربہ کی بنیاد پر اُسے ترقی دیتے ہیں۔ اگر ہم محنت کریں گے تو مجھے یقین ہے کہ ہم بہت کامیاب ہوں گے۔ بڑا بولا: مگر مل لگانے کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا؟ چھوٹا بولا: حکومت آسان اقساط پر ہنر مندوں کو بذریعہ بینک قرضہ فراہم کر رہی ہے ۔ ہم اپنی زمین گروی رکھ کراس اسکیم سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ کچھ دیر کی بحث کے بعد تینوں مل لگانے پر متفق ہو گئے۔

تینوں شہر آ گئے اور انہوں نے بینک سے قرضہ لے کر مل لگائی اور پھر رات دن کام میں جٹ گئے۔ مل نے دن دونی رات چوگنی ترقی کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی مل ملک کی بڑی ملوں میں شمار ہونے لگی۔ دولت کی ریل پیل ہو گئی۔ باقی دو بھائیوں کی بھی شادیاں ہو گئیں۔ ایک پرانے مل مالک نے (جس کا کاروبار ان بھائیوں کی وجہ سے خراب ہو رہا تھا) کسی طرح اپنی بیٹی کی شادی چھوٹے سے کروا دی اور اپنی بیٹی کو سمجھا دیا کے وہ شادی کے فوراً بعد کاروبار میں سے اپنے شوہر کا حصہ الگ کر وا لے اور اپنی الگ رہائش کر لے ۔ چھوٹے کو بیوی نے پٹی پڑھائی: دیکھو اس کاروبار کی کامیابی میں سارا دماغ تمھارا استعمال ہوا مگر منافع میں حصہ دونوں بڑے بھی برابر لے جاتے ہیں۔ یہ تمہارے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ تم فوراً اپنا حصہ الگ کر لو۔ چھوٹا آہستہ آہستہ بیوی کی باتوں میں آ گیا اور لگا بڑے بھائیوں سے اپنا حصہ مانگنے۔ یہ بات سن کر دونوں بڑے بھائی بہت پریشان ہوئے۔ چھوٹے کو بہت سمجھایا مگر اُس کی عقل پر تو جورو نام کا خوبصورت پتھر پڑ چکا تھا وہ کچھ سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ تھا۔ بات لڑائی جھگڑے اور کورٹ کچہری تک جا پہنچی۔ عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ مل بیچ کر سب کا برابر حصہ دے دیا جائے۔ مل کو بالآخر بیچنا پڑا۔ دونوں بڑے دل برداشتہ ہو کر واپس اپنے آبائی گاؤں چلے گئے اور چھوٹے نے اپنی ایک علیحدہ مل لگا لی۔ ذہین تو تھا مگر چونکہ اس کے پاس اپنے بڑے بھائیوں جیسا عملی تجربہ نہ تھا اس وجہ سے مل نقصان میں چلی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بینک نے مل کی قرقی کر ڈالی۔ سب کچھ لُٹا کر چھوٹا پہنچا اپنے سُسر کے پاس جو ہمیشہ سے ہی ان بھائیوں کی مل بند کروانا چاہتا تھا۔ سُسر نے چھوٹے کو گھر داماد بن کر رہنے کی پیشکش کر دی اور اپنی مل میں ایک مینیجر کی پوزیشن بھی آفر کر دی۔ چھوٹے کی انا کو جو ٹھیس لگی تو پہنچا بیوی کے پاس اور اُس کو ٹھیک ٹھاک سنایا۔ پھر اُسے اپنی شفیق بھائیوں کا خیال آیا۔ واپس گاؤں پہنچا۔ سالوں بعد بھائی ملے تو آپس میں خوب گلے شکوے ہوئے، ڈانٹ ڈپٹ اور معافی تلافی ہوئی، اشک بھی بہے ۔ دِلوں کے میل جو دھُل گئے تو سب نے گلے بھی مل لیے اور دوبارہ ایک ساتھ مل کر ہنسی خوشی رہنا شروع کر دیا۔

٭٭

سبق:

– اتفاق میں ہمیشہ سے برکت رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی اور اس کے برعکس نا اتفاقی ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتی۔

– جو کام کسی بھی لالچ کے بغیر محنت اور ایمانداری سے کیا جائے اُس میں برکت ہوتی ہے۔ برکت کا مطلب روپے پیسے کی ریل پیل نہیں بلکہ انسان کی حلال کی آمدنی میں عزت اور وقار کے ساتھ اُس کی جائز ضروریات کا پورا ہونا ہوتا ہے۔

– علم کی اہمیت اپنی جگہ لیکن زندگی گزارنے کے لیے ہنر اور تجربہ کی حیثیت بھی اپنی جگہ مسلّم ہے۔ کہتے ہیں ہنرمند کبھی بھوکا نہیں مرتا۔

– اپنا آخر اپنا ہوتا ہے۔ اُس کی ہمیشہ قدر کرنی چاہیے، چاہے وہ دھتکار بھی دے تو۔

– انسان کو کسی کے بہکانے میں نہیں آنا چاہیے اور ہر معاملہ میں اپنی عقل ضرور استعمال کرنی چاہیے۔ بعض اوقات کوئی قریبی شخص بھی اپنے ذاتی مفاد کے لیے محبت اور اخوت کے رشتوں میں فساد کا بیج بو دیتا ہے۔

– جب کوئی اپنے کیے پر نادم ہو جائے تو اُسے معاف کر دینا ہی بڑائی ہے۔

– سودی کاروبار کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی شکل میں انسان کو زبردست نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اُس کو دیکھتے ہوئے بھی سمجھ نہیں پاتا۔

– انسان کو اپنے حال پر شاکر ہونا چاہیے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کے اُسے ترقی نہیں کرنی چاہیے۔ انسان کو معاشی ترقی ضرور کرنی چاہیے لیکن ساتھ ہی اپنے آپ پر قابو رکھنا چاہیے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ دولت جہاں آتی ہے وہاں بے سکونی، رعونت، تکبر اور لالچ اپنے دامن میں ساتھ لاتی ہے۔

– اکثر دیکھا گیا ہے کہ انسان تمام عمر شدید محنت کر کے دُنیوی آسائشوں کے حصول کے لیے تگ و دو کرتا ہے اور بالآخر جب کچھ حاصل ہو جاتا ہے تو اُسے پتہ چلتا ہے کہ گوہر مقصود یعنی سکون چلا گیا، صحت چلی گئی، وقت چلا گیا اور آخر میں انسان اِس دُنیا سے تہی دست چلا گیا۔

٭٭٭

ماخذ:

https://chunida.com/hikayaat-sarfaraz

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل