ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

مکمل کتاب پڑھیں…..

 

ذکیہ مشہدی

کے نمائندہ افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ

 

 

احمد رشید (علیگ)

 

 

ابتدائیہ

 

ذکیہ مشہدی اپنے ڈھب کی الگ فنکار ہیں جن کی قلم میں روانی بھی ہے اور موضوعات کی تازگی بھی۔ وہ جن موضوعات پر قلم اٹھاتی ہیں اُس کا پورا پورا حق ادا کرتی ہیں۔ ان کے تا ہنوز چھ افسانوی مجموعے اشاعت سے ہمکنار ہو چکے ہیں جو درج ذیل ہیں:

۱۔ پرائے چہرے ۱۹۸۴ء

۲۔ تاریک راہوں کے مسافر۱۹۹۳ء

۳۔ صدائے بازگشت۲۰۰۳ء

۴۔ نقش ناتمام۲۰۰۸ء

۵۔ یہ جہانِ رنگ و بو۲۰۱۳ء

۶۔ آنکھن دیکھی۲۰۱۷ء

مندرجہ بالا مجموعوں میں شامل افسانوں کی تعداد مجموعی طور پر اکیاسی[۸۱] بنتی ہے۔ ان میں دو ناولٹ ’قصہ جانکی رمن پانڈے ‘اور ’پارسا بی بی کا بگھار‘ بھی شامل ہے۔ آخر الذکر ناولٹ الگ سے کتابی صورت میں بھی منظر عام پر آ چکا ہے۔ ذکیہ مشہدی کا قد ہمعصر افسانے میں بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر کئی اہم کہانیاں تخلیق کی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے تمام افسانوں کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے لیکن پھر بھی یہاں چند نمائندہ افسانوں کا تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے۔

 

 

ماں

 

افسانہ فکر و اظہار کی وہ نثری صنف ہے جس میں حیات و کائنات کی علمی و فنّی صورت دی جاتی ہے۔ جس کا تخلیقی ہونا لازمی ہے بھلے ہی افسانہ مغرب کے زیر اثر ہمارے ادب میں داخل ہوا لیکن شروع ہی سے اس کا رنگ و روپ اور مزاج مشرقی رہا ہے۔ بر صغیر کے مختلف علاقوں کی تہذیب، وہاں کی سیاسی اتھل پتھل، اقدار کی شکست و ریخت، سماج کا کھوکھلا پن، رومان اور حقیقت کا ٹکراؤ، فطرت نگاری، طبقاتی جد و جہد، غریبی و امیری کا تصادم غرض کہ زندگی کے ہر پہلو کے لیے صنف افسانہ کو استعمال کیا گیا ہے۔ اس صنف میں فکری وسعت اور عصری زندگی کے تقاضوں کے ساتھ تکنیکی اور اسلوبی سطح پر بھی تجربات ہوئے ہیں۔ ہرچند کہ افسانہ مغرب کی دین ہے لیکن فن افسانہ نگاری مغرب کی طرف آنکھ اٹھانے کا محتاج کبھی نہیں رہا ہے۔ اس کی وجہ تہذیبی، سماجی اور معاشرتی پس منظر ہونے کے ساتھ اس کا ارضیت سے جڑے رہنے کا مزاج ہے اور موجودہ عصر میں تو مقامیت، علاقائیت پر کافی توجہ دی جا رہی ہے۔ ذکیہ مشہدی کا افسانہ ’’ماں‘‘ کو سامنے رکھتے ہوئے غور کریں تو فنّی نقطۂ نظر سے اس میں اپنی مکمل تخلیقی صورت میں ہونے کی دلیل نظر آتی ہے۔ دوسرے تہذیبی اور معاشرتی پس منظر کے ساتھ ساتھ ارضیت اور مقامیت سے جڑے رہنے کی آرزو بھی ہے۔ یہ معاملہ صرف افسانہ ’’ماں‘‘ ہی کا نہیں بلکہ ذکیہ مشہدی کے افسانوی کائنات میں حقیقت نگاری کے علاوہ مقامیت، ارضیت ان کی شناخت بن چکی ہے۔ مذکورہ افسانہ میں بھی ایک مخصوص علاقہ کے تہذیبی اور معاشرتی زندگی کا عکس نظر آتا ہے جو گنگا کے درمیان پھیلے دئیراکے کے علاقے میں ’منی‘ جو اس افسانہ کا مرکزی کردار ہے اپنی زندگی تنہا گزار رہی ہے:

’’منی ڈری نہیں اور ڈرتی وہ تھی بھی نہیں۔ رات کے سناٹے میں ہر ہر کرتی گنگا کے درمیان پھیلے پڑے دیئرا کے اس علاقے میں وہ تنہا زندگی گزار رہی تھی اور لوگ رہتے تو تھے لیکن جھونپڑیاں دور دور تھیں۔‘‘ (۱)

افسانہ کی ابتدا میں مصنفہ نے جاڑے کی شدت کا اظہار ایک تخلیقی جملہ سے کیا ہے۔ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہڈیوں کے آر پار ہو گیا، موسم کی اس سختی کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ مفلوک الحال غریب خاندان کس طرح اس سفاک حقیقت سے جوجھتا ہے۔ سردی سے بچنے کے لیے نہ صرف اس کے پاس گرم کپڑے ہوتے ہیں اور نہ ہی لحاف گدّے جس میں گھس کر بے رحم جاڑے سے اپنا بچاؤ کر سکے۔ رات کے وقت پھٹے پرانے گودڑوں میں نیچے سوتے ہیں۔ آس پاس جنگل سے چنی ہوئی لکڑیوں کو جلا کر اس کے الاؤ سے جاڑے کی شدت سے اپنا بچاؤ کرتے ہیں:

’’کڑاکے کا جاڑا پڑ رہا تھا اس پر مہاوٹیں بھی برسنے لگیں۔ پتلی ساری کو شانوں کے گرد کس کر لپیٹتے ہوئے منی کو خیال آیا کہ اوسارے میں ٹاپے کے نیچے اس کی چاروں مرغیاں جو دبک کر بیٹھی ہوئی ہوں گی۔ ان پر ٹاپے کی سانکوں سے پھوار پڑ رہی ہو گی۔ بیمار پڑ کر مر گئیں تو دوبارہ خریدنا بہت مشکل ہو گا۔ کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے ٹٹر ہٹایا اور باہر آ گئی۔‘‘ (۲)

جاڑا، گرمی اور برسات کی شدت سے زیادہ بڑی چیز پیٹ ہے جو انسان کی اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔ پیٹ کی آگ گرمی کی شدت سے زیادہ بھیانک ہے۔ پیٹ ہی کی خاطر غریب انسان سخت ترین جاڑے میں گھر سے نکل کر کمانے نکلتا ہے۔ یہاں بھی منی کو خیال ہے کہ بیمار پڑ کر مرغیاں مر نہ جائیں۔ چوں کہ اس کی روزی روٹی ان سے جڑی ہے اس کا علاوہ منی تھوڑی بہت کمائی مچھلی بیج کر کر لیتی ہے:

’’سرپر ٹوکرا اٹھائے محلے محلے مچھلی بیچ کر کوئی دو ڈھائی بجے تک لوٹ آتی۔ راستے سے ضرورت کا سودا سلف بھی اٹھا لیتی۔۔۔ منافع ہو نہ ہو، جمع نکل آئے یہ سوچ کر وہ اکثر بچی ہوئی مچھلی بہت کم داموں میں ہرسیا کو بیچ دیا کرتی تھی۔‘‘ (۳)

’’ہر سیا‘‘ پولس کا مخبر اوباش قسم کا آدمی تھا۔ گھاٹ کے قریب چائے کا کھو کھا تھا وہ آتے جاتے منی کو چھیڑتا۔ آوازے کستا تھا۔ مفت کی چائے آفر کرتا لیکن مچھلی کے دام اس نے کبھی پورے نہیں دیے چوں کہ وہ جانتا تھا کہ منی جیسی غریب بیوپاری میں نقصان اٹھانے کا بوتا نہیں ہے۔ چائے کے کھوکے کی آڑ میں کچی شراب کے ساتھ تلی مچھلی بیچنے کا دھندہ کرتا تھا۔ ہرسیا نے کسی تکرار کے سبب اس سے بدلہ لینے کے لیے اس کے خلاف مخبری کی تھی۔ منی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ جھوٹی یا سچی بات ہے نیپال سے کیندور کی پتیوں اور کتھے کی اسمگلنگ کے جرم میں اس کا شوہر گرفتار ہوا تھا:

’’ہو سکتا ہے وہ صرف موٹر بوٹ چلاتا رہا ہوا ور اسے مال کا علم نہ رہا ہو، ہو سکتا ہے ملوث رہا ہو جو بھی ہو وہ ایک بہت ہی چھوٹی مچھلی تھی جسے بڑی مچھلیاں نگل گئی تھیں۔‘‘ (۴)

شوہر کی گرفتاری سے پہلے منی کا پہلوٹھی کا بیٹا بیمار رہا کرتا تھا۔ باپ کے جانے کے بعد گھر پر ایسی مصیبت آئی کہ کھانے پینے کے لالے پڑ گئے۔ بچے کی بیماری زیادہ بڑھ گئی اور آخر کار وہ مر گیا۔ ایک نیک فرشتہ صفت انسان نے اس کی مدد کی۔ اسپتال پہچانے اور تیمار داری کرنے کی ذمہ داری اس نے سنبھالی چوں کہ خدمت خلق کرنا اس کی عادت تھی۔ سخت جاڑے کی اندھیری رات میں وہ منی کے گھر مہمان بن کر آتا ہے اور وہ منی کے خاندان کی ہر طرح سے مدد کرتا ہے اس کے جھولے میں رکھے بطخ کے چار انڈے اور چھ عدد کیلے اس نے بچوں کے دے دیے۔ یہ نعمتیں دیکھ کر زرد چہرے اور بجھتی آنکھوں میں جو چمک آئی اسے منی کبھی نہیں بھول سکتی۔ اہم بات یہ ہے کہ موت کے سامنے بھی پیٹ کی بھوک ایک آگ کی طرح ہوتی ہے جو اخلاقی اقدار، انسانی تہذیب سب ہی جلا کر راکھ کر دیتی ہے تب ہی تومنی سوچتی ہے:

’’جب بھی اس کے جانے کا غم ستاتا وہ مسرت کی اس چمک کو یاد کرتی تو دکھتے دل پر ٹھنڈی ٹھنڈی پھوار پڑ جاتی۔ اپنی زندگی کے آخری دو دنوں میں اس کا بچہ بہت خوش تھا۔ وہ اس دنیا سے خوش خوش گیا تھا۔ اس کے پیٹ میں کھانا تھا وہ بھی اچھا کھانا۔‘‘ (۵)

اگر افسانہ کی Paraphrasing کہی جائے تو منی مذکورہ افسانہ ’’ماں‘‘ کا مرکزی کردار ہے اس کا خاندان آٹھ سالہ پولیو زدہ لڑکا اور پانچ پانچ سال کی دو جڑواں مریل لڑکیاں ہیں جس کا شوہر تسکری کے الزام میں جیل میں قید ہے۔ ہر سیا سے کسی تکرار کے سبب اس نے مخبری کی کہ وہ نیپال سے کتھے کی اسمگلنگ میں شامل ہے۔ وہ کہاں ہے کس حال میں ہے، ہے بھی یا نہیں ہے یہ منی کو بھی نہیں معلوم۔ شوہر کے غائب ہو جانے کے بعد وہ نہایت غریبی اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ہے۔ منی اپنے بچوں کو دو وقت پیٹ بھر کھانا تک مہیا نہیں کرا پاتی۔ ہر سیا نہایت بدکار قسم کا انسان ہے جو چائے کا ہوٹل چلاتا ہے۔ چائے کے کھوکھے کی آڑ میں کچی شراب کے ساتھ تلی مچھلی کا کاروبار کرتا ہے۔ منی شہر میں مچھلی فروخت کرنے کا کام کرتی ہے۔ منی ذات کی ملاح نہیں تھی لیکن پندرہویں برس میں وہ بیاہ کر یہاں آئی تھی۔ پچھلے بارہ تیرہ سال سے ریڑے میں بنی اس جھونپڑی میں اپنے اور شوہر کو موٹر بوٹ چلانے کے پیشے کی وجہ سے وہ گنگا اور گنگا میں بسی مچھلیوں کے علاوہ اور کسی چیز کو نہیں جانتی۔ بقول مصنف اسے گنگا ماں سے پہلے ہی بڑی عقیدت اور محبت تھی۔ اُن کے آنچل میں رہنے کو ملے گا یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا اور اب تو روزی روٹی کا ذریعہ بھی گنگا ماں ہی تھی۔ ایک رات کڑاکے کا جاڑا پڑ رہا تھا اس پر مہاوٹیں بھی برسنے لگیں۔ سن سن کرتے دئیرا میں گنگا کو چھو کر یخ بستہ ہوائیں چل رہی تھیں۔ ایک شخص دبلا پتلا، لانبے قد پر دھوتی لپیٹ رکھی تھی جس نے اوسارے میں رات کاٹنے کی اجازت چاہی۔ منی نے کہا ’’اندر آ جایئے مالک‘‘ منی نے محسوس کیا کہ اس کے گھر میں فرشتوں کے قدم اترے ہیں یا گنگا ماں ایک انسان کی شکل اختیار کر کے اس کی جھونپڑی میں آن اتری ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے اس کے برے وقت میں اس کا ساتھ دیا تھا۔ پہلو ٹھی کے بچہ کی بیماری میں سرکاری اسپتال لے جانے اور اس کی تیمار داری کرنے اس کی مدد کی۔ بھوکے بچوں کو انڈے اور کیلے کھلائے۔ آج رات بھولے بھٹکے سخت سردی اور مہاوٹ کی وجہ سے وہ رُکا ہے۔ بے لوث خدمت گزاری کی وجہ سے وہ اسے فرشتہ کہتی ہے اس سخت جاڑے کی رات میں اس کا مہمان ہوتا ہے۔ وہ الاؤ جلا کر رات کی ٹھنڈ کا علاج کرتی ہے اسے گڑ کی چائے پلاتی ہے اور اس کے گیلے کپڑے اتروا کر اپنے شوہر کا بکسے میں رکھا ہوا ایک جوڑا پہننے کو دیتی ہے۔ پرانے، پھٹے بستر پر سلانے کا انتظام کرتی ہے۔ دونوں کے درمیان عام سی بات چیت ہوتی ہے۔ منی اس کے پر یھوار کے بارے میں پوچھتی ہے۔ اس شخص کا جواب ہے ’’میرا پریوار تم لوگ ہو۔ آس پاس کے چاروں گاؤں میرا پریوار ہے‘‘۔ اس کی نہ کوئی عورت ہے، نہ بچے ہیں عورت کا سکھ اس نے کبھی نہیں جانا۔ شوہر کو یاد کر کے اس کے دل میں ٹیس سی اٹھی۔ اس نے اس شخص سے کہا ’’آپ کا سر سہلا دوں؟ نیند نہیں آ رہی ہے نہ‘‘ اس نے چائے کا آخری گھونٹ لے کر خالی گلاس رکھتے ہوئے کہا ’’تم خود سوؤ جا کے۔ سویرے سویرے مچھلی لانے نکل پڑو گی۔ جاؤ یہاں سے‘‘ انہوں نے قدرے ڈپٹ کر کہا۔ یہاں مصنفہ جنس کے اس لمحہ کو اس قدر فطری انداز میں پیش کیا ہے جو حقیقت کے بالکل قریب ہے:

’’کچھ لمحوں بعد وہ وہیں بیٹھ گئی۔ تسلے کی آگ بجھ کر بہت سی راکھ چھوڑ گئی تھی۔ لیکن راکھ کے اندر انگارے تھے اور راکھ گرم تھی۔ اس نے ایک ٹہنی سے اسے کریدا تو چنگاریاں اڑیں‘‘۔ (۶)

کچھ دیر تک وہ اپنی کثرت استعمال سے پتلی پڑتی ساڑی پلو سے خود کو لپیٹ لپیٹ کر کچھ سوچتی رہی پھر دھیرے سے ان کی بغل میں سرک آئی۔ سخت محنت سے گھٹا ہوا اٹھائیس سالہ جوان جسم کمان کی طرح تنا اور پھر چراغ کی طرح لو دے اٹھا۔ جنس کے اس کمزور لمحے میں وہ آہنی مرد جو فرشتوں جیسی خصائص کا حامل تھا ٹوٹ گیا۔ اس منظر کو مصنفہ نے بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ جو رمزیاتی بھی ہے اور علامتی بھی:

’’اس لمحے نے مزید کچھ سوچنے کا موقع نہیں دیا وہ ان پر حملہ کر بیٹھا۔ جیسے نیپال میں برف پگھلنے کے بعد طغیانی پر آئی بے بضاعت گنڈک خونخوار ہو کر طاقتور گنگا پر چڑھ دوڑتی ہے اور گنگا اپنی تمام تر غضب ناکی کے باوجود کروٹیں بدل بدل کر اسے اپنے اندر ضم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔‘‘ (۷)

افسانہ خاتمہ پر اس طرح پہنچتا ہے کہ فنی صبح کو اٹھ کر ہاتھ جوڑ کر کہتی ہے ’’اب کبھی رکنے کو نہیں کہوں گی بھگوں ڈریئے گا نہیں‘‘۔ وہ فرشتہ جو رات کی تاریکی میں انسان کے وجود میں ڈوب گیا تھا اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے کہتا ہے: ’’باقی ساری زندگی صرف ایک وقت کھانا کھا کر آج کی رات کا کفارہ ادا کروں گا مگر تمہارا شکر گزار ہوں منی ماں۔ ہمیشہ رہوں گا۔ انہوں نے اچانک جھک کر اس کے پیر چھو لیے۔ رکنے کو کہنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ یہ علاقہ چھوڑ کر جا رہا ہوں۔‘‘ اور نم دھواں دیتی تاریک صبح میں تیزی سے گم ہو گئے۔

اس مرد کی عورت کی نگاہ میں بہت اہمیت اور عزت ہوتی ہے جو اس کے برے وقت میں اس کے کام آئے خصوصی طور سے ماں کے سامنے اس کا درجہ اور بھی بلند تر ہو جاتا ہے جو اس کی اولاد پر ترس کھائے ہمدردی کرے اور محبت رکھے۔ پھر منی ایک مفلوک الحال عورت جس کا پہلو مٹھی کا بچہ پہلے ہی مر چکا ہے۔ اس بچہ کی بیماری سے لے کر آخری دن ایک انجان شخص مدد کرے تو وہ اس کی نظر میں دیوتا اور مالک تو ہو ہی جانا چاہیے۔ قابلِ رحم حالات کا یہ معاملہ ہے کہ دوسرا لڑکا لنگڑا پولیو زدہ ہے اور دو جڑواں کمزور اور لاغر لڑکیاں ہیں شوہر گزشتہ کئی سال سے تسکری کے الزام میں جیل کاٹ رہا ہو، تنگدستی کا عالم یہ ہے کہ پیٹ بھر روٹی میسر نہ ہو۔ محنت مزدوری کرتی ہے۔ مزدوری کے نام پر تھوڑی بہت مچھلی فروخت کر کے آتی اور اپنے بچوں کا کام چلاؤ پیٹ بھرتی ہے۔ بچوں کے علاج و معالجہ کرانے کی اس کے اندر سکت نہیں تھی۔ ایسی کسمپرسی کے حالات میں کوئی شخص مدد کرے تو وہ عورت کی نظر میں ’دیوتا‘ فرشتہ کہلائے گا۔ اس کی نظر میں اس آنے والے انجان مرد کی بے حد وقعت اور منزلت تھی اور ہونی بھی چاہئے چوں کہ وہ اسی قدرو منزلت کا مستحق تھا۔ چوں کہ اس سوتے ہوئے مرد کے پہلو میں داخل ہونے کی ابتدا کرنے کی کوشش منی ہی کی تھی۔ جنس کا ایک کمزور لمحہ ایسا بھی آتا ہے کہ جہاں مرد اور عورت دونوں ہی ٹوٹ جاتے ہیں۔ عورت کی عرض تمنا پر مرد کا فطرتاً جھک جانا عین حقیقت ہے کیوں کہ آدم کے ساتھ حوا کا تخلیق کیا جانا بے مقصد اور معنی نہیں تھا۔ وہ بھی ایسا مرد جو لذت حسن سے آشنا نہ ہو، اس خاص لمحہ میں منی اپنی جنسی ضرورت کا اظہار بھی اس طرح کرتی ہے:

’’مالک جانے بغیر دنیا مت چھوڑیے گا۔ آتما بھٹکے گی۔ یہ سکھ …….بھوگئے نہ بھوگئے، جان تو لیجئے ایک بار……..۔‘‘ (۸)

اس موقع پر انجان شخص کی ذہنی کیفیت کو مصنفہ نے کس طرح بیان کیا جو حقیقت بیانی کا غماز ہے۔

’’مہاتما بدھ ویسے تو اہنسا کے پجاری تھے لیکن کوئی کشکول میں گوشت ڈال دیتا تو کھا لیتے لیکن کیا جب مارنے انہیں گمراہ کرنے کے لیے اپنی بیٹیوں کو بھیجا تھا تو وہ انہیں شکست نہیں دے سکے تھے؟ کیا انہوں نے اپنی خواہشوں پر مکمل قابو نہیں پا لیا تھا؟‘‘ (۹)

ایک غریب عورت کے پاس ایسا بھی ہے کہ اپنے محسن کو وہ اپنے آپ کو سونپ دے۔ ایسے فرشتہ صفت انسان کی بے لوث مدد کے عوض میں وہ سرد رات کے اندھیرے میں مرد کے بن بلائے غیر مرد کے پہلو میں خود سرک جائے۔ میرے نزدیک یہاں مرد کے احسانات کی قیمت چکانا ہی مقصد نہیں ہے بلکہ اپنی جنسی آسودگی کے تقاضے کو پورا کرنا بھی ہے کیوں کہ کافی عرصے سے وہ اپنے شوہر سے چھوٹی ہوئی بھی ہے۔ یہ جنس کی فطرت بھی کہ شہوانی خواہش کو ایک حد تک دبانا ممکن ہے وہ بھی ایک شادی شدہ عورت جو پہلے سے اس لذت سے آشنا ہے۔ جب اس کا واسطہ ایک ایسے شخص سے پڑتا ہے جس نے کبھی عورت کی شکل جنسی نگاہ سے نہیں دیکھی، شرافت نفس اور عزت و حرمت کا وہ قائل ہے لیکن بغل میں پڑی ہوئی عورت کو دیکھ کر وہ فرشتہ صفت انسان بھی مرد کے وجود میں ڈھل کر عورت (منی) کے سامنے ڈھیر ہو جاتا ہے۔ در اصل اس افسانہ کا بنیادی کردار منی ہے جس کے ارد گرد کہانی گھومتی ہے لیکن مرکزیت اس بدھا خصلت انسان کو بھی حاصل ہے جو اہنسا کا پجاری ہے پھر بھی جب اس کے کشکول میں گوشت کا ٹکڑا ڈال دیا جائے گا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اسے بھیک سمجھ کر نہ قبول کر لے۔ اس لیے فطری طور پر وہ بھی جنس کے اس کمزور لمحہ میں ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ لذتِ جنس کے بادل چھٹنے کے بعد اس کو احساسِ ندامت بھی ہوتا ہے۔

٭٭

 

ہدّو کا ہاتھی

 

اردو افسانہ میں مقامیت اور ارضیت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسی طرح معاشرتی، سماجی اور تہذیبی اقدار بھی ترجیحات میں شامل ہیں۔ اردو افسانہ نے اپنے عہد کی ہمیشہ تر جمانی کی ہے باوجود کہ اس کے اندر بدلتی ہوئی اقدار تقاضوں، رویوں، سروکاروں کا ساتھ دینے کی صلاحیت و قوت بھی اس کے اندر موجود ہے۔ نہ صرف زمانے کے مطابق اس کی تشکیلی عناصر میں تبدیلی آتی رہی ہے بلکہ موضوعاتی سطح پر بھی اس کی ترکیبی اور فنی اجزا کے برتنے کی شرائط کو بھی توڑنے کی بھی جرأت اس کے اندر موجود ہے چوں کہ افسانہ ایک آزاد نثری صنف ہے جس کے اندر لچک اور تغیر پسند مزاج ہونے کی خصوصیت پوشیدہ ہے۔ افسانہ دیگر اصناف سخن کی طرح زندگی اور موت کی ترجمانی ہی نہیں اس کی تعبیر بھی کرتا ہے۔ اس لیے افسانہ حیات و ممات کا ایک تخلیقی استعارہ کہا جاتا ہے چوں کہ اس میں حیات کی کشمکش، زندگی کی تغیر پسندی اور کرداروں فعا لیت کی رو داد پیش کی جاتی ہے ساتھ ہی موت کی کیفیت اور موت کے بعد کے کوائف بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہیں۔ در اصل افسانہ تخیل اور حقیقت کی آمیزش سے تخلیق ہوتا ہے۔ فنٹاسی کو حقیقت کا روپ اسی طرح دیا جاتا ہے کہ زندگی کا سچ نظر آنے لگے۔ افسانہ ایک متحرک نثری صنف ہے۔ وہ زندگی کو پیش کرتی ہے اور زندگی کسی ساکت و جامد شے کا نام نہیں۔ افسانہ ایک نئی دنیا اور نئی زندگی کے متنوع پہلوؤں کو دریافت کرنے کا عمل ہے یہ تاریخ اور عصری تقاضوں کے رشتوں کو مضبوط بناتا ہے ماضی اور حال کی کڑیوں کو جوڑنے اور گڈمڈ کرنے کا کردار ادا کرتا ہے۔

ذکیہ مشہدی کا افسانہ ’’ہدّو کا ہاتھی‘‘ تکنیکی، موضوعاتی اور تہذیبی تنوع کے لحاظ سے بہت معروف افسانہ ہے۔ ذکیہ مشہدی کا محبوب موضوع عورتوں کی نفسیات اور خانگی زندگی کے تعلقات کا مطالعہ ہے۔ وہ عصری آگہی اور سماجی معنویت کو خود اپنے تجربے اور مشاہدے کا حصہ بنا کر افسانہ کی بنت کرتی ہیں لیکن مذکورہ افسانہ میں ماضی کی تصویروں کے نقوش کو ابھارنے کی سعی ملتی ہے۔ در اصل فکشن ادب کا مرغوب موضوع تہذیبوں کے عروج و زوال کی داستان بیان کرتا رہا ہے۔ اس افسانہ میں بھی مسلمانوں کے شاندار ماضی اس کی شان و شوکت اور اعلیٰ اقدار کی ٹوٹ پھوٹ کو موضوع بنایا ہے۔ ذکیہ مشہدی نے مذکورہ افسانہ میں ماضی کی عظمتوں اور تاریخ کی ان تصویروں کوپیش کیا، ان کے شاندار ماضی کی علامتیں رہی ہیں۔ آج بھی ہندوستانی مسلمانوں کے ذہن و شعور پر وہ تصویریں آویزاں ہیں۔ کبھی وہ ان کو یاد کر کے فخر کرتے ہیں اور کبھی آنسو بہاتے ہیں۔ مصنفہ نے بھی زیر تجزیہ افسانہ میں مسلمانوں کے شاندار تاریخ کا ایک ورق کھولا ہے۔ تہذیبی زوال، اعلیٰ اقدار کا مٹنا اور معاشرتی نظام کے بکھرنے کاذکر اپنے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔

افسانہ کا عنوان ہی اس بات کا مظہر ہے کہ ہدّو نام کا کوئی انسان ہے جو ہاتھی کا مالک ہے اور ہاتھی علامت ہے صاحبِ ثروت ہونے کی۔ پرانے زمانے میں زمینداروں اور راجہ مہاراجوں میں ہاتھی رکھنے کا رواج تھا۔ ہاتھی کا پالنا معمولی انسان کی اوقات سے باہر تھا۔ جس طرح جدید دور میں کاروں کا مالک ہونا مالدار ہونے کی نشانی ہے، کاروں کی گنتی اور ان کے ماڈل سے کسی بھی انسان کی مالداری آنکنے کا پیمانہ ہے۔ اسی طرح ماضی میں ہاتھیوں کی تعداد سے زمینداروں اور راجہ رجواڑوں کی اوقات کا پتہ چلتا تھا۔ کہاوت مشہور ہے کہ ہاتھی خریدنا آسان ہے لیکن اس کو پالنا بے حد مشکل ہے۔ ہما شما نہ تو اس کو خرید سکتا ہے اور نہ ہی پال سکتا ہے۔ ہدّو جو اس افسانہ کا مرکزی کردارہے اپنے عروج کے زمانے میں سید ہادی حسن کے نام معزز اور نامور تھا وقت بگڑنے کے ساتھ ہادی سے ہدّو رہ گیا جو اس کے زوال پذیر ہونے کی نشانی ہے:

’’اس وقت حویلی نہایت حسین اور بارونق ہوا کرتی تھی۔ ڈیوڑھی پر تین تین ہاتھی جھولتے تھے جن پر آٹھ ملازم مقرر تھے۔ ان کے خاص مہاوت کی سفارش پر ایک نواں ملازم مقرر کیا گیا۔ یہ ہدو کے پردادا کے والد تھے۔‘‘ (۱۰)

جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ ہاتھی کا ہونا صاحب ثروت ہونی کی علامت ہے اس وقت حویلی نہایت حسین اور بارونق اس لیے بھی تھی کہ ڈیوڑھی پر تین تین ہاتھی جھومتے تھے جن کی دیکھ ریکھ کرنے کے لیے ملازم رکھے جاتے۔ ہدّو کے پردادا کے والد بھی فیل بان تھے۔ سید سنجر حسین مہتمم فیل خانہ شاہی جو محض تین ہاتھیوں پر مشتمل معمولی فیل خانے کے ایک معمولی ملازم ضرور تھے لیکن اس زمانے میں اس ملازمت کا بڑا رتبہ اور مرتبہ ہوا کرتا تھا ایک تو شاہی دربار سے منسلک ہونا دوسرے ہاتھیوں کی نگہبانی کرنا جو کسی بھی زمیندار یا راجہ کی عزت کی نشانی تھا۔ ہاتھی کا باعث افتخار ہونا اس لیے بھی تھا کہ شاہی سواری ہونے کے ساتھ ان کا استعمال جنگی میدانوں میں بھی ہوا کرتا تھا۔ یعنی ہاتھی عزت، دولت اور طاقت کی بھر پور علامت بن جاتا ہے۔ افسانہ کی ابتداہا تھی کے ذکر سے ہوتی ہے اور خاتمہ بھی علامتی انداز میں ہوتا ہے۔ ’’ثبوت کے طور پر ہاتھی کے دانت کچی دیوار پر آویزاں تھے اور شجرہ بکس میں محفوظ تھا‘‘۔

ذکیہ مشہدی کا یہ افسانہ تاریخی نوعیت کا ہے جس میں ہاتھی کو علامت بنا کر افسانہ کی بنت کی ہے اور پسِ منظر میں تہذیبی اور تاریخی اقدار ابھارنے کی کامیاب کوشش ملتی ہے۔ ہاتھی کے دانت، شیر کی کھال، تلوار ڈھال کا دیوار پر آویزاں ہونا۔ راجاؤں اور زمین داروں کی شان و شوکت کی نمود و نمائش ہے۔ حسب و نسب کا شجرہ مرتب ہونا فخر و رعب کی علامت ہے۔ یہ تمام اشیاء ماضی کے لمحات کو پکڑنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

وسط میں کہانی میں کشمکش اور تصادم شوہر اور بیوی کے درمیان مکالمہ سے شروع ہوتا ہے۔ ہدّو کو ہاتھی سے بے حد محبت ہے اس کے برخلاف اس کی بیوی ہاتھی سے اتنی ہی نفرت ہے چوں کہ وہ ہدّو کی صرف بیوی نہیں ایک ماں بھی ہے۔ حالات اتنے خراب ہو چکے کہ بھوکوں کو مرنے کی نوبت آ چکی ہے۔ ہدّو کام وام کچھ نہیں کرتا، ہاتھی کی خدمت گزاری میں لگارہتا ہے۔ باہر کہیں سے وہ گھر میں داخل ہوتا ہے۔ بڑے پیار سے ہاتھی سے مخاطب ہوا اور کندھے پر لٹکے انگوچھے میں بندھی پوٹلی میں چار عدد روٹیاں اور پانچ سات حلوے کی قتلیاں، روٹیوں میں لپیٹ کر ہاتھی کے منہ میں ڈالیں ساتھ ہی اس کے دل میں کچوٹ تھی اگر استطاعت ہوتی تو ٹوکرا بھر حلوہ روٹی کھلاتا، یہ پورا منظر اس کی بیوی دیکھتی ہے اور ٹاٹ کے پردے کے پیچھے سے چلاتی ہے:

’’ارے اس کمبخت کو ڈھائی گھڑی کی آوے۔ بچے کھا لیتے حلوہ روٹی جو اس کے پیٹ میں ڈال دیا۔ اس کالے پہاڑ کا کوئی بھلا نہ ہو اور بچے محروم رہ جائیں۔‘‘

’’بچے ہیں کہ راون کی فوج! اپنا حصہ کھا چکے یہ ہمارا حصہ تھا ہم جسے چاہیں دیں، ہدّو گرے ’’ہم جسے چاہیں دیں‘‘ بیوی نے مونہہ ٹیڑھا کر کے ان کی نقل کی۔ شاید انہیں کوئی معقول جواب نہیں سوجھا تھا۔ اس لیے منہہ چڑانے پر ہی اکتفا کی۔

’’نیک بخت اوقات میں رہا کر، شوہر کا منہ چڑاتی ہے۔ جہنم میں جائے گی۔ صبح تین چار گھروں سے حصے آئے۔ سب تیرے یہ سپوت اڑا گئے۔ ہم نے ایک نوالہ بھی نہیں کھایا۔ گئے تھے اسحٰق صاحب کے یہاں۔ ان کی اہلیہ خدا انہیں جنت نصیب کرے۔ بولیں ’’سید ہادی حسن آئے ہو تو فاتحہ تمہیں پڑھ دو‘‘ ہم نے فاتحہ پڑھی تو اس کا حصہ انہوں نے الگ سے دیا۔‘‘ (۱۱)

تحریر کردہ مکالموں سے ہاتھی کو لے کر شوہر اور بیوی کے درمیان کشمکش کے علاوہ کتنے ہی پہلو نکلتے ہیں۔ اول تو وہ منظر نامہ ہمارے سامنے آتا ہے جو میاں بیوی کی تکرار اور نوک جھونک سے تخلیق ہوتا ہے۔ دوسرے روز مرّہ کی عام زبان جو گھریلو ماحول میں بولی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے کی عورت کے روز مرہ کے گزرے لمحات جن کو مصنفہ نے صحیح تناظر میں پیش کیا ہے اور نسوانی کردار کی پیش کش جو اپنی ذات کے علاوہ اپنے معاشرے کی بھر پور نمائندگی بھی کرتی ہے۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ ذکیہ مشہدی کے کردار معاشرے سے الگ نہیں ہوتے۔ ہر مکالمہ جو چاہے عورت کی زبانی ادا ہوا ہو یا مرد کی زبانی وہ ہمارے سماجی نظام کی حقیقت بیان کرتا ہے۔ جب عورت کہتی ہے ’’ارے کمبخت کو ڈھائی گھڑی کی آوے‘‘ یہ خالص نسوانی محاورہ ہے ’’بچے کھا لیتے حلوہ روٹی جو اس کے پیٹ میں ڈال دیا‘‘ یہاں ایک ماں کی بھر پور ممتا کا عکس نظر آتا ہے۔ کس قدر حقیقت پر مبنی برجستہ کہاوت استعمال ہوا ہے کہ ’’کالے پہاڑ کا کوئی بھلا نہ ہوا اور بچے محروم رہ جائیں‘‘۔ ہدّو کے اساطیری جواب میں بھی برجستگی ہے کہ ’’راون کی فوج اپنا حصہ کھا چکے‘‘ ہدّو کی معقولیت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ ایک اور بات ہدّو نے اپنا حصہ ہاتھی کو کھلایا ہے جو اس کی پدرانہ فرض اورہاتھی سے بے انتہا محبت کی نشاندہی کرتا ہے جو ابّا عورت کا منہ چڑانا نسوانی فطرت کی سچائی ہے۔ اس نفسیاتی گوشے کو مصنفہ نے وضاحت بھی کی ہے کہ شاید انہیں کوئی معقول جواب نہیں سوجھا تھا اس لیے منہ چڑانے پر ہی اکتفا کی‘‘۔ جب بیوی نے ہدّو کو منہ چڑایا تو وہ کربھی کچھ نہیں سکتا تھا چوں کہ حالات کامارا، بدحال انسان ہے وہ مذہب کا سہارا لیتا ہے ’’کی بے عزتی کرنے پر جہنم جائے گی‘‘ یہ مسلمانوں کے مذہبی کلچر کی طرف اشارہ ہے۔ ہدّو کا تعارف ہدّو ہی کی زبانی فن کارانہ انداز میں کرایا ہے کہ ہدّو کا نام سید ہادی حسن ہے۔ ہدّو کو جہاں اپنی شان و شوکت کا خیال ہے وہاں اسے اس بات کا بھی احساس ہے کہ وہ سادات خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے معمولی کام کرنا کسر شان سمجھتا ہے۔ ایک مرتبہ بیوی نے تجویز رکھی کہ ڈھال گر ٹولہ میں بیڑی بنانے کا کام مل جائے تو ہدّو بے حد ناراض ہوتا ہے ’’اب تم برقعہ اوڑھ کے گلی محلے کے لونڈوں کے بیچ سٹر پٹر کرتی گھومو گی۔ سیدانی ہو ذرا یہ تو سوچو ’’بیوی نے جواب دیا‘‘ ہم تمہاری طرح کھرے سید نہیں ہیں ہماری اماں پٹھا نن تھیں اور پھر کام کرنے میں ذات کیسی ’’اس مدلل جواب سے بھی ہدّو مطمئن نہیں ہوئے اپنی جھوٹی شان اور حسب و نسب کے چکّر میں ان کا غیر معقول جواب تھا: ’’سید کی بیٹی ہو نہ اور سید کی بیوی بھی۔ بس بات ختم۔ اماں سے کیا ہوتا ہے۔ اماں سے نسل نہیں چلا کرتی‘‘۔ تانیثی نقطہ نظر سے مرد کو حسب و نسب کے معاملہ میں بھی فوقیت حاصل ہے کہ نسل باپ سے چلا کرتی ہے۔

بیوی کو ہاتھی سے نفرت ہے کیوں کہ تہذیبی زوال اور بگڑے حالات نے ماضی کی شان و شوکت حسب و نسب، اعلیٰ ذات کے افتخار کو بے معنی بنا دیا ہے۔ ذکیہ مشہدی نے میاں بیوی کو دو متضاد افکار والے کرداروں کو پیش کر کے صنفی نقطہ نظر سے افسانہ میں کشمکش تخلیق کی اور زندگی کی ٹھوس حقیقت کو عملی طور پر پیش کر کے معاشرہ اور سماج کی عکاسی کی ہے۔ ساتھ ہی زندہ کرداروں کے ذہنی و فکری امتیازات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔

ہدّو کو ہاتھی کی شان میں گستاخی سختی سے ناپسند تھی۔ بیوی کی مخالفت بھی اس کے لیے ناقابل برداشت تھی بقول مصنفہ ’’ہاتھی ان کے اجتماعی لاشعور کا ایک حصہ تھا کیوں کہ ان کے اجداد میں سے ایک بزرگ سلطنت جون پور کے تیرے سلطان ابراہیم شاہ مشرقی کے زمانے میں فیل خانے کے مہتمم ہوا کرتے تھے۔ شاہی وقتوں میں یہ ایک بڑا معزز عہدہ تھا۔ اس لیے فیل بانی ہدّو کا آبائی پیشہ تھا:

’’بیوی بچوں کا پیٹ تو بھر لو پہلے۔ لٹکے رہتے ہو اس منحوس ہاتھی کی دم سے۔ شب برات فاتحہ خوانی کے علاوہ بھی کچھ کر لیا کرو۔ اور فاتحہ خوانی بھی اب کہاں۔ جب سے تبلیغی جماعت والوں کا زور بڑھا ہے محلے میں فاتحہ کرانے والے گھر بھی دوچار ہی رہ گئے ہیں۔ نہ جلسے جلوس میں ہاتھی بلایا جائے نہ تم کچھ کر کے دو‘‘۔

’’کیوں کریں ہم کچھ اور۔ دادا پردادا کے وَخت سے ہی فیل بانی کرتے آ رہے ہیں اور فاتحہ کیا ہم کسی لالچ میں کرتے ہیں؟ ارے لوگوں میں عزت ہے۔ سید ہیں ہم اور راجہ کے فیل بان ہیں۔ کبھی کبھار لوگ فاتحہ کے لیے کہہ دیتے ہیں‘‘۔ (۱۲)

ہدّو کو اپنا تہذیبی تشخص بچانے کی فکر ہے اور بیوی کو اپنے بچوں کی پرورش و پرداخت کی جستجو ہے۔ افسانہ نگار نے ہاتھی کو ایک تہذیبی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے جس کا ذکر کیا جا چکا ہے۔

افسانہ میں قصہ در قصہ ایک سے زائد کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔ ایک قصہ ہاتھی کے اٹھ کھڑے ہونے کا ہے۔ قصہ یوں ہے کہ علی گڑھ سے ایک باریش بزرگ صاحب اپنے پوتے کے ہمراہ جون پور کے موضع فیروز شاہ پور (پڑوسی پور) تشریف فرما ہوئے اس وقت خواجہ جہاں کا منھ بولا بیٹا مبارک شاہ تخت نشیں تھا، نے سید صاحب کو کچھ زمین عطا کی، بزرگ نے اس پر ایک مدرسہ قائم کیا۔ اطراف کا ایک پنچ گوتی راج پوت بزرگ سے اس قدر متاثر ہوا کہ اسلام قبول کر لیا اور اپنی بیٹی ان کے پوتے کے نکاح میں دے دی۔ سید صاحب بزرگ ہاتھی والے سید صاحب مشہور ہو گئے ایک دن سارافن آزمالیا لیکن بیکار گیا۔ بقول مصنفہ ’’لیکن زمین جنبد، آسمان جنبد، نہ جنبد فیل سید‘‘۔ تب ان کے پوتے کے پانچ سالہ بیٹے جس کی ماں نسلاً راجپوتانی اور مذہباً مسلمان تھی، نے ہاتھی کے گلے میں ننھے ننھے ہاتھ ڈال کر اس کے کان میں کچھ کہا۔ ہاتھی فوراً کھڑا ہو گیا۔

ہدّو کی بیوی کو سفیدے کے درختوں سے بھی بہت چڑتھی جنہیں وہ ہر وقت ہاتھی کی طرح کوستی رہتی تھی۔ مصنفہ نے پڑوسی پور میں لگے سفیدے کے درختوں کا قصہ بیان کیا ہے:

’’ہدّو کی بیوی کو سفیدے کے درختوں سے سخت چڑ تھی۔ جس میں وہ جق بہ جانب تھیں۔ ان کی زندگی کے منظر نامے پر سفیدے کے درخت لکھے جانے سے پہلے زندگی اتنی بے ہنگم اور تاریک نہیں تھی۔ پڑوسی پور کے زمیندار بھیرو سنگھ کے یہاں ایک خستہ حویلی، کچھ زمینیں اور ایک عدد ہاتھی، خاتمہ زمینداری کے خاصے عرصے بعد تک برقرار تھے۔ راجہ صاحب کالقب بھی برقرار تھا۔‘‘ (۱۳)

راجہ صاحب نے بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ اپنے پیشے میں کامیاب ہونے کے بعد باپ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ شکستہ حویلی کی گرتی دیوار میں پوری طرح گروا کر ملحق زمین سے اسے ملا دیا اور وہاں سفیدے کے درخت لگوا دیے کہ یہ نہایت مذمت بخش سودا ہے۔ حویلی کے دو کوٹھریاں رہنے دیں اور دو نوجوان صحت مند کا رندے مقرر کر دیے۔ باقی لوگوں کو ہدو اور ہاتھی سمیت باہر نکال دیا۔

افسانہ ’’ہدّو کا ہاتھی‘‘ اپنا تاریخی پہلو بھی رکھتا ہے جب دہلی کی حکومت زوال پذیر ہو رہی تھی تو مرکز کو کمزور پا کر جو جہاں گورنر مقرر تھا وہ وہاں کا فرمانروا بن بیٹھا۔ جون پور کے حالت بھی بگڑ نے لگے:

’’سلطنت جون پور بھی کئی اور چھوٹی چھوٹی حکومتوں کی طرح معرض وجود میں آ گئی۔ بانی تھے سلطان الشرق ملک سرور خواجہ جہاں جو فیروز شاہ کے وقت میں ہی مشرق علاقوں کے گورنر بنائے گئے تھے اور باوجود اس کے کہ خواجہ سرا تھے۔ نہایت لائق و فائق انسان تھے صرف پانچ برس کے دور حکومت میں (کہ قضا و قدر نے اس سے زیادہ مہلت نہیں دی) جون پور کو دار السرور بنا گئے۔ آگے چل، کر شاہ جہاں نے اسے شیراز ہند کے لقب سے نوازا۔‘‘ (۱۴)

ذکیہ مشہدی نے ہندوستانی مسلمانوں کے نہ صرف شاندار ماضی کے نقوش ابھارے ہیں بلکہ ان زوال پذیر تاریخ بھی مرتب کی ہے۔ مسلمانوں کے اعلیٰ اقدار اور ان کے بکھرنے کی روداد بھی بیان کی ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس میں قلعہ فیروز شاہی کی شان و شوکت کے مٹنے کے بعد جو حالت بگڑے اس کا اظہار مصنفہ نے نہایت سچائی کے ساتھ کیا ہے:

’’روڈھال گر ٹولہ میں لوہار ڈھالیں بنانے میں مصروف ہوتے اور درسگاہوں میں طالب علم اپنے اپنے ذہن کو جلا بخشتے۔ درسگاہوں نے ایسی شہرت حاصل کی کہ ایک صدی بعد شیر شاہ جیسا مدبر، ذہین اور رعایا پرور بادشاہ یہاں تعلیم حاصل کرنے آیا (ڈھال گر ٹولے میں اب غریب مسلمان بیڑی بناتے ہیں اور ٹی بی میں مبتلا ہو کر قبل از وقت مر جایا کرتے ہیں۔ جون پور کے کسی مدرسے میں اب کوئی شیر شاہ پڑھنے نہیں آتا‘‘(۱۵)

اعلیٰ قدریں بکھر چکی ہیں۔ مسلمانوں کا شاندار ماضی کب کا ختم ہو چکا ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کی نئی تاریخ لکھی جا چکی ہے۔ آج بھی ماضی کی دھندلی تصویر یں آنکھوں میں بسی ہوئی ہیں۔ جو ہندوستانی مسلمانوں کے ناسٹیلجیا کا حصہ ہے۔ مندرجہ ذیل اقتباس میں مصنفہ نے بیان کیا ہے کہ کس طرح جون پور آباد ہوا۔ اور اس میں بھی تاریخی حوالے موجود ہیں جو حقیقت پر مبنی ہیں:

’’دہلی میں طوائف الملوکی کے اس دور میں جناب امیر تیمور صاحبقراں نے بھی اپنی ترچھی آنکھیں ہندوستان کی طرف پھریں۔ بڑے بڑے شہر بشمول دہلی اجاڑ ہوئے جیسے کوئی نہایت منحوس الو بول گیا ہو۔ صاحب علم و اوصاف لوگ عزت اور جان و مال کی حفاظت کے لیے بھاگ بھاگ کر نسبتاً پر امن علاقوں میں اکٹھا ہوئے جن میں جون پور بھی تھا جو دار السرور کے بعد دارالامان بھی قرار دیا گیا تھا۔ انہیں دنوں علی گڑھ سے ہجرت کر کے جو اس وقت کوئیل کے خوبصورت نام سے جانا جاتا تھا۔‘‘ (۱۶)

امیر تیمور صاحبقراں نے ہندوستان میں بڑی تباہی مچائی۔ پورے ملک میں طوائف الملوکی کا بازار گرم ہو گیا۔ دہلی بشمول دیگر شہر تباہ و برباد ہوئے۔ صاحب کمال و ثروت، علم و حکمت اور عزت دار لوگ اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے پناہ گاہیں تلاش کرنے لگے۔ حفظ واماں کے لیے جون پور میں جمع ہوئے جو اس وقت دار السرور کے نام سے مشہور تھا بعد میں دارالامان قرار دیا گیا۔ علی گڑھ سے بھی لوگ ہجرت کر کے گئے جو پہلے کبھی کوئیل کے نام سے جانا جاتا تھا۔ آج بھی علی گڑھ (کول) کے نام سے موسوم ہے۔ خصوصی طور سے علی گڑھ کا ذکر اس لیے ہوا کہ ایک باریش بزرگ سید صاحب اپنے پوتے کے ساتھ جون پور آ کر آباد ہوئے تھے جن کا قصہ پچھلے اوراق میں کیا جا چکا ہے۔

مصنفہ نے افسانہ ’’ہدّو کا ہاتھی‘‘ کے ذریعے ماضی اور حال کے درمیان تہذیبی پل قائم کرنے کی سعی کی ہے اور اس پل کی تعمیر کے لیے تاریخی حوالوں سے مدد لی گئی ہے جو ان کے یاداشت کا حصہ ہیں۔ خاندانی عظمت و وجاہت اور حسب و نسب کے بیان کے لیے سید ہاوی حسن اور ان کا ہاتھی ان کے افسانہ کی بنیاد بنا۔ ’’ہدّو کا ہاتھی‘‘ ان کی بہترین کہانی ہے جس کا شمار اردو کے منتخب افسانوں میں ہوتا ہے۔

٭٭

 

بھیڑیئے سیکولر تھے

 

مابعد جدید افسانے نے وحدت تاثر کے تصور کو توڑنے کی کوشش کی جب کہ مغربی افسانہ نگار ’’ایڈگر ایلن پو‘‘ نے افسانے کے عناصر ترکیبی میں وحدت تاثر کو اہم عنصر قرار دیا ہے اور اردو افسانہ نے ایک عرصہ تک اس کی پابندی کی۔ آج کے افسانہ نے اس شرط کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ افسانہ نگار اپنے افسانوں کو ترفع بنانے کی سعی کرتا ہے۔ ذکیہ مشہدی کے افسانہ ’’بھیڑیئے سیکولر تھے‘‘ سے مختلف ڈائمنشن (Dimensions) نکلتے ہیں۔

ذکیہ مشہدی نے انسانی نفسیات کی گرہیں اپنے افسانوں میں کھولی ہیں۔ خصوصی طور سے ان کا مرغوب موضوع عورتوں کی نفسیات کا مطالعہ اور اس کی خانگی زندگی کے معاملات کو پوری درد مندی کے ساتھ پیش کرنا ہے۔ عورت کے رشتوں کی عظمتوں کو بیان کرنے پر ان کو ملکہ حاصل ہے۔ عورتوں کے مختلف رشتوں کی صورتیں مثلاً ساس، بہو، نند، بھوجائی، ماں، بیٹی کے جذباتی کیفیتوں کو بڑی ہمدردی اور دلجوئی سے بیان کرتی ہیں۔

مذکورہ کہانی کی شروعات ہی ساس سسر اور بہو کے رشتے کی تلخی سے ہوتی ہے۔ ساس سسر مزاجاً ترش ہیں جو بہو کے ساتھ نہایت سختی سے پیش آتے ہیں۔ ’’اے حرامجادی بھک منگوں کی بیٹی! بچے کا بہانہ لے کر کب تک وہیں بیٹھی رہے گی۔ برتن باسن صاف کرے گا تیرا باپ۔‘‘ یہاں ساس حقہ گڑ گڑا رہی ہے اور بہو (سروجا) کے خاندان کو کوستی نظر آ رہی ہے جنہوں نے ایسی پھوہڑ زبان دراز کام چور بیٹی اس کے گھر بیاہ دی تھی۔ یہ تو ساس کا رویہ ہے سسر کا برتاؤ بھی کم ظالمانہ نہیں ہے۔ چونکہ ایک دن ذرا سی کرکری دانتوں میں آنے پر سسر نے کھانے کی تھالی اٹھا کر پھینک دی تھی۔ اس کا ذکر مصنفہ نے اس لیے کیا ہے کہ سروجا بتھوئے کے ساگ چننے اور اسے ٹھیک سے دھونے میں مصروف ہے کہ مٹی کی کسکساہٹ ختم ہو جائے۔ تھوڑی دیر پہلے بھینس کی سانی اور پانی سے فارغ ہوئی تھی اور اب دوپہر کا کھانا تیار کرے گی کیونکہ مردوں کو کھیت پر بھیجنے کے لیے روٹی اور لال مرچ کی چٹنی بنائے گی۔

دیہی زندگی کے ماحول کو مصنفہ نے بہت قریب سے دیکھا ہے۔ یہی سبب ہے گابھن، ٹٹر، پلنگڑی جھونپڑا، سانی، تسلہ، اوسارہ، کھیت، کھلیان، تھالی، ٹوکرا، مینڈ وغیرہ کا ذکر افسانہ میں پڑھ کر دیہات کا پورا منظر نامہ آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ ساتھ ہی دیہی علاقوں کی خانگی زندگی سے واقفیت اُن کو بھر پور ہے۔ چولہا، چکلہ، روٹی، ساگ چٹنی کی جزئیات ان کے قوی مشاہدہ کی دلیل ہے۔ عام طور سے دیہاتوں میں کھیتوں پر کام کرنے والے کسانوں کی بیویاں دوپہر کا کھانا پہنچاتی ہیں۔ آج بھی یہ رواج گاؤوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہندوستان کی تقریباً اسی ۸۰ فیصد آبادی دیہاتوں پر مشتمل ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ دیہات ہمارے دیش کی پہچان ہے۔ مابعد جدید افسانہ نگاروں کا ایک اہم کارنامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے افسانے کو ارضیت اور اپنی مٹی سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کا سارا زور مقامیت اور علاقائیت پر ہوتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں صنف افسانہ مغرب کی دین ہے لیکن اردو افسانہ ہندوستانی رنگ روپ میں رچ بس کر مقامی مزاج سے اس طرح ہم آہنگ ہوا کہ اس کی وضع سے یہ فرق کرنا کہ یہ غیر ملکی صنف ادب ہے، مشکل ہو گیا۔ اگلی نسلوں میں ہندوستان کے دیہی ماحول میں بہوؤں کے ساتھ نوکرانی جیسا سلوک ہوتا تھا آج بھی بعض علاقوں میں عورتوں سے بد سلوکی کا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔ اسی بہو کو تھوڑا بہت درجہ حاصل ہوتا ہے جو گھریلو کاموں میں مشاق اور محنت کش ہو۔ خانگی کام کاج میں ہوشیار اور ڈھنگ سے کام کرنا جانتی ہو، ساس سسر کے بنائے ہوئے پیمانوں پر کھری اترتی ہو، وہی سگھڑ بہو کہلاتی تھی۔ اگر ان کی نظر میں وہ کھری نہ اترے تو وہ طعنہ اور تشنیع کا نشانہ بنتی ہے ہر وقت ساسیں کوسا کاٹی کرتی ہیں۔ بہو پر گھریلو کاموں کا بوجھ اس قدر ہوتا ہے کہ اسے اپنے بچے کی صحیح طریقے سے دیکھ ریکھ کرنے کی فرصت بھی نہیں ملتی۔ اسی منظر کو ذکیہ مشہدی نے بیان کیا ہے:

’’چولہے پر ساگ چڑھا کر روٹیاں پکاتی ہیں۔ کم از کم پچیس روٹیاں اور لال مرچ کی چٹنی بنانی ہے۔ بچہ آرام سے سوتا رہے تو کام چین سے نمٹ جائے۔ دوپہر تو بڑی مشکل ہو گئی تھی۔ بھینس کی سانی پانی، مردوں کو کھیت پر بھیجنے کے لیے روٹی۔‘‘ (۱۷)

افسانہ کی ابتدا گھریلو زندگی سے ہوتی ہے۔ اس کا ذکر مصنفہ کے لیے اس لیے بھی ضروری تھا کہ ساس کی آواز سن کر سروجا بچے کو تھپکتی ہوئی ہڑ بڑا کر اندر بھاگی۔ تین مہینہ کا مہیش ابھی سویا تھا۔ بچے کو سوتا چھوڑ کر ساگ دھو کر جب وہ واپس ہوئی تو گہراتی شام کے اندھیرے میں بھیڑیا بجلی کی سی سرعت کے ساتھ بچے کو اپنے مضبوط جبڑوں میں لے کر چھلانگ لگا چکا تھا اور سروجا چیختی پکارتی رہ گئی۔

پانچو (شوہر کا نام) کے پہلوٹھی کے بیٹے کو پچھل پیری اٹھا کر لے گئی۔ سویرا ہوتے ہوتے یہ خبر پورے گاؤں میں گشت کر گئی تھی۔ خانگی زندگی کا یہ معاملہ جو سروجا، پانچو اور ساس سسر کا تھا، یہیں ختم ہو جاتا ہے۔ جو افسانہ کے خاتمہ تک کہیں نظر نہیں آتے۔ اسی طرح دیگر اور بھی کردار اِس افسانے میں اپنے الگ الگ واقعات لے کر نظر آتے ہیں جو اپنے اپنے حصے کا رول ادا کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی کردار کا ایک دوسرے سے رشتے کی بنیاد پر کوئی سلسلہ نہیں ہے۔ صرف ایک دوسرے سے علاقائی رشتہ ضرور ہے۔ اسی طرح ترتیبی نقطۂ نظر سے کہانی کے درمیان کوئی منطقی ربط بھی نہیں کس کی Paraphrasing کی جا سکے یا نامیاتی بنیاد پر کہانی کہہ سکیں کیوں کہ افسانہ کی اجزائے ترکیبی میں ایک اہم عنصر پلاٹ بھی ہوتا ہے۔ پر لطف بات یہ ہے کہ پوری کہانی میں ایک تجسس آخر تک برقرار رہتا ہے جو قاری کو پڑھنے کے لیے مجبور کرتا ہے۔ اس کی دلچسپی بنی رہتی ہے یہ سوچ کر کہ اب کیا ہونے والا ہے۔ ایک ہولناک فضا خاتمہ تک قائم رہتی ہے اور یہ تجسس اس لیے برقرار رہتا ہے کہ گاؤں میں ہونے والے مختلف واقعات کو ایک کڑی میں جوڑ کر افسانہ کی تعمیر کی گئی ہے جب کہ نوعیت کی بنیاد پر کسی بھی واقعہ کا دوسرے واقعہ سے واقعاتی سطح سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ذکیہ مشہدی کے مذکورہ افسانہ کی بھی فنی خوبی قابل تحسین ہے۔

ایک اہم واقعہ جواس افسانہ کی ترکیب میں شامل ہے۔ سات سال پہلے گاؤں میں واقعہ رونما ہوا۔ رام بابو اہیر کی جوان، ہٹی کٹی بیوی پھول متی کو اس کے پٹی داروں نے مار کر بسواڑی میں گاڑ دیا تھا۔ رام بابو کی پھول متی سے کوئی اولاد نہیں تھی۔ اس کے پاس پانچ بیگھہ زرخیز زمین اور اعلیٰ نسل کی تین گائیں تھیں۔ شادی کے بارہ برس ہو گئے تھے۔ دونوں میاں بیوی اپنی زندگی میں بڑے خوش خرم اور مست تھے۔ پٹی داروں کی بری نیت کو بھانپ کر پھول متی نے زبردستی رام بابو کا دوسرا بیاہ اپنی چھوٹی بہن سے کرا دیا۔ اس جرم کی پاداش میں پھول متی پر ڈائن ہونے کا الزام لگا کر پٹی داروں نے گاؤں کے اوجھا کے ساتھ سازش کر کے اسے مار ڈالا اور لاش بسواڑی میں دفن کرا دی۔ اس کی بہن پاروتی کے ڈائن ہونے کا ایک اور ثبوت انہوں نے یہ کہہ کر گڑھ لیا کہ رام بابو تو نامرد ہے۔ پھول متی ڈائن بن کر اپنی بہن کی کوکھ میں آ بیٹھی ہے۔ لوگوں نے ایک سازش رچی اور پاروتی کو بھی بسواڑی میں مار کر دفنا دیا گیا۔ رام بابو نیم پاگل ہو گیا گایوں کے دودھ سے بھرے تھن یوں ہی چھوڑ کر وہ بسواڑی کے آس پاس گھومتا پھرتا۔ اسی طرح افسانہ ایک واقعہ ساجاپوری چاچی سے منسوب ہے۔ ساجا پوری چاچی کا نام شاہ جہاں پور میکہ ہونے کی وجہ سے ملا تھا۔ گرچہ وہ گاؤں میں وی ایل ڈبلو مقرر ہوئی تھیں اور انہیں بڑی سخت ہدایت تھی کہ لوگوں کو لڑکے لڑکی میں فرق نہ کرنا سکھائیں ایک چرچا کے بیچ وہ کہتی ہیں:

’’ہاں جی۔ لڑکیوں کا کوئی کیا بگاڑ سکے ہے۔ دندناویں ہیں چھاتی پے یہ ہماری تیسری۔ اسے دودھ بھی پورا نہ ملا تو بھی دن دونی رات سوائی بڑھی جاوے ہے۔ نمونیا ہوا لوٹ پوٹ کے اٹھ بیٹھی۔‘‘ (۱۸)

وی ایل ڈبلو نے یہ رد عمل اس وقت ظاہر کیا جب پانچوں کے پہلوٹھی کے بیٹے کو پچھل پیری اٹھا کر لے گئی۔ اس طرح چار ماہ کے وقفے میں ایک کے بعد ایک تین بچے گاؤں سے اٹھائے گئے۔ اتفاق سے وہ تینوں ہی لڑکے تھے جوگاؤں کے اکثریتی طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان بچوں کی ہڈیاں پھٹے اور با قیامت بسواڑی کے آس پاس پائی گئیں۔ گاؤں والوں پر بسواڑی کا ایسا خوف طاری ہوا کہ ادھر سے گزرنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے۔ دھیرے دھیرے لوگ بانسوں کے جھنڈ سے دس بانس دور سے کترا کر نکلنے لگے۔

اس جدید دور میں بھی دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ بیہودہ رسومات اور توہمات میں مبتلا ہیں۔ تعویذ گنڈے کرنے والے مولوی پنڈت اور اوجھاؤں پر اندھے ہو کر یقین کرتے ہیں۔ سر وجا کا شوہر پانچو کا پہلوٹھی کا تین ماہ کا بچہ مہیش کو بھیڑیا رات کے اندھیرے میں اٹھا کر لے جاتا ہے تو ڈھونڈ تے وقت اس کو گلے کا تعویذ ملتا ہے جسے دیکھ کر وہ اندازہ نہیں لگا پاتا ہے کہ آپا یہ اس کے بچے کا تعویذ ہے یا کسی اور کا کیونکہ گاؤں میں تعویذ بہت لوگ پہنا کرتے تھے کبھی مولوی صاحب سے لا کر تو کبھی رام سینی اوجھا سے لے کر آتے۔ یہ چھوٹے بچوں کو بھیڑیا اٹھا کر لے جاتا تھا لیکن گاؤں والوں کا خیال تھا کہ یہ کام یا تو بری آتما کرتی ہے اور ایک شبہہ اقلیتی طبقہ پر بھی تھا کیونکہ اتفاق سے ان کے علاقے سے کوئی بچہ غائب نہیں ہوا تھا۔

آج بھی ہمارے دیہی سماج میں لڑکے اور لڑکی کی پرورش، تعلیم و تربیت، یہاں تک کہ کھان پان میں تفریق کی جاتی ہے۔ لڑکوں کو لڑکیوں پر ہر طرح سے ترجیح دینے کا رواج آج بھی ہے۔ وی ایل ڈبلو کی زبان سے بھی ظاہر ہوتا ہے جب کہ اس کی ڈیوٹی اس امتیاز کو ختم کرنے کی تھی۔ معلوم ہوا کہ ہماری تہذیبی سرشت میں داخل ہے۔ لڑکوں کو لڑکیوں پر فوقیت دینا۔ چونکہ ساجاپوری چاچی گاؤں کے باہر کی رہنے والی تھی اس لیے طرح طرح کے اوصاف سے اسے متصف کیا جاتا تھا اس کے لیے یہ بھی مشہور تھا کہ وہ کل جبھّی یعنی کالی زبان کی ہے۔ ادھر اس نے لڑکیوں کو ٹوکا ادھر بنسی کمہار کی چھ سالہ بچی اٹھا لی گئی۔ بنسی کمہار کے یہاں بیٹیاں کی بہت قدر تھی شاید اس لیے کہ چھ لڑکوں کے بعد وہ پیدا ہوئی تھی۔ رات کے وقت بچی ماں کے پاس سوئی تھی کہ اس نے باپ کے پاس جانے کی ضد کی۔ ماں نے پیٹھ پر ہاتھ مار کر کہا ’’مر باہر جا کے‘‘ باپو وہیں ہے آؤے کے پاس‘‘ دبلی پتلی چھوٹے قد کی گیہوں کی سنہری بالیوں جیسی رنگت والی لڑکی آنکھیں ملتی ہوئی باہر آنکلی۔ ایک مٹکے کے پاس بچی ذرا ٹھٹکی۔ اچانک اندھیرے میں جیسے پگھل کر معدوم ہو گئی۔ اس کی آدھی پونی کھائی گئی لاش بسواڑی کے پاس ملی، بسواڑی کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں چڑیلیں رہا کرتی ہیں۔ بسواڑی کے تعلق سے یہ واقعہ بھی مشہور ہے کوئی سات سال پہلے گاؤں کے رام بابو اہیر کی جوان ہٹی کٹی بیوی پھول متی کو اس کے پٹی داروں نے ما کر بسواڑی میں گاڑ دیا تھا۔ رام بابو کے پاس پانچ بیگھہ زرخیز زمین تھی اور اعلیٰ نسل کی تین گائیں۔ البتہ شادی کے بارہ برس بعد بھی پھول متی کے کوئی اولاد نہیں ہوئی لیکن رام بابو کو اس کی زیادہ فکر نہیں تھی۔ وہ سارا کچھ بھگوان کے ذمہ چھوڑ کر کھیت، گیہوں اور اپنی خوبصورت عورت میں مگن تھا۔

وی ایل ڈبلو کے علاوہ گاؤں میں تعلیم بالغان کا سینٹر چلانے والی آشا بھی ہے جو عرف عام میں نرس دیدی کہلاتی تھی کیونکہ اس نے مڈوائف کی ٹریننگ لے رکھی تھی۔ لوگ بلاتے تو زچگی میں مدد کرنے کو جھٹ سے دوڑ جاتی تھی۔ آشا بھاگیرتھ سے بہت گھبرائی تھی۔ در اصل بھاگیرتھ سے گاؤں کے بڑے بڑے گھبراتے تھے۔ آشا جیسی بے بضاعت عورت کی بساط ہی کیا تھی اسے دیکھ کر وہ خاموشی سے سرپر پلو ڈال کر سینٹر کی طرف سرک جاتی۔

’’بچوں کے اٹھنے کے سلسلے میں گاؤں میں چرچہ ہو رہی تھی‘‘۔

’’چیتا‘‘ تیندوا ادھر کے جانور نہیں ہیں۔ بھیڑیا کہئے تو مانتے ہیں۔ مگر پچھلے پچاس برس سے بھیڑیا اندر نہیں آیا ہے‘‘

’’جنگل کٹ رہے ہیں۔ گاؤں اندر ہی اندر جنگل میں رینگتا جا رہا ہے۔ پیڑ پہلے اتنا بڑا کہاں تھا؟‘‘ گاؤں میں تعلیم بالغان کا سینٹر چلانے والی آشا نے کہا۔

’’بھاگیرتھ نے اسے گھور کر دیکھا‘‘ دوچار اچھر پڑھ لیے تو سسری اپنے آپ کو پنڈتائن سمجھنے لگی‘‘ وہ اس طرح بدبدایا کہ کم از کم آشا ضرور سن لے۔‘‘ (۱۹)

یہ وہ واقعات ہیں جن میں منطقی ربط قائم کر کے افسانہ کی بنت کی گئی ہے۔ دوسرے دیہی زندگی کی حقیقی تصویر، تہذیب و تمدن، بود و باش، رہن سہن، رسمیات اور توہمات ابھر کر ہمارے سامنے آتے۔ مقامیت اور ارضیت افسانہ کے پس منظر میں پوشیدہ ہے۔

جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ گاؤں میں اکثریتی طبقہ کے تین چار بجے اٹھنے سے اقلیتی طبقہ کے خلاف غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات پیدا ہو گئے۔ بچوں کو اٹھانے والے بھیڑئیے تھے لیکن اکثریتی طبقہ کا خیال تھا کہ یہ سب حرکتیں اقلیتی طبقہ کرارہا ہے۔ حالانکہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی تفتیش پر معلوم ہوا کہ بھیڑیئے معصوم بچوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ تلاش کرنے پر ایک نر بھیڑئیے کو مار دیا گیا تھا۔ کچھ دن گاؤں میں امن و سکون رہا لیکن ہندو مسلمانوں کے درمیان منافرت اور غلط فہمیاں اپنی جگہ برقرار ہیں۔ اس کی ایک وجہ ایک دوسرے کے خلاف افواہوں کا گرم ہونا بھی ہے۔ لیکن افسانہ کے وسط میں اس راز کا انکشاف ہوتا ہے کہ بھیڑیئے کی مادہ کسی طرح سے زندہ رہ گئی تھی جو اپنے بچوں کے ساتھ بساڑی کے آس پاس چھپی تھی۔ اس نے اب کی بار اقلیتی علاقے کے بچوں کا شکار کرنا شروع کر دیا تھا۔

ہندو اور مسلمانوں کے بیچ منافرت کے بارے میں اگر غور و فکر کیا جائے تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ کچھ لوگ اپنے ذاتی مفادات کو پورا کرنے کے لیے ہر حد سے گزر جاتے ہیں۔ اس قول و فعل میں سیاسی پارٹیوں اور حکومت کے اپنے مفادات ہوتے ہیں جو ’’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ کا تصور کی تکمیل کے لیے ایسا کرنا ان کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ حصول مقاصد کی خاطر دونوں مذاہب کے درمیان شکوک و شبہات پیدا کئے جاتے ہیں۔ پاکستان کے بننے کے بعد ہجرت کے موقع پر بھیانک فسادات ہوئے، یہ خود تاریخ کی ایک بہت بڑی غلطی تھی۔ غلط فہمیوں کے پیچھے افواہیں اور قیاس آرائیاں بھی اپنا اپنا رول ادا کرتی ہیں۔

مذکورہ افسانہ ’’بھیڑئیے سیکولر تھے‘‘ کابنیادی موضوع پندو مسلمان کے درمیان پیدا ہونے والی منافرت اور غلط فہمیوں کی وجوہات کی تلاش ہے جو افسانہ کے خاتمہ میں مستتر ہے:

’’روشنی میں حملہ آور کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور اس کی شناخت کی تھی۔ وہ بھیڑیا ہی تھا نر کہ مادہ اس کی پہچان تو پل بھر میں نہیں ہو سکی لیکن وہ ایک نہایت سیکولر بھیڑیا تھا۔ وہی کیوں، بھیڑیئے تو سبھی سیکولر ہوتے ہیں۔ شکار کا مذہب کبھی نہیں پوچھتے۔‘‘ (۲۰)

ذکیہ مشہدی کے افسانوں کے اختتام زیادہ تر ترفع Multi Dimensional ہوتے ہیں۔ مذکورہ افسانہ کا خاتمہ بھی افسانہ ’’ماں‘‘ کی طرح ترفع ہونے کی بہترین مثال ہے۔

افسانہ کا عنوان ’’بھیڑیئے سیکولر تھے‘‘ خود اپنے اندرون میں پراسراریت رکھتا ہے۔ عنوان کی معنیاتی سطح ہندوستانی سماج پر ایک بھر پور طنز بھی ہے۔ ہندوستانی جمہوریہ کا ہر شہری جو سیکولر ہونے کا دعویدار ہے وہ بظاہر ایک ڈھونگ ہو کر رہ گیا ہے جو اپنے باطن میں نہایت متعصب ہے جس کے رگ و ریشے میں فرقہ واریت کا زہر سرایت کر چکا ہے خصوصی طور سے اکثریتی طبقہ اس مرض کا شدت سے شکار ہے۔ وہ ملک کی بڑی اقلیت کو شک و شبہ کی نگاہوں سے دیکھتا ہے اور اسے حقارت سے نظر انداز کر کے قومی دھارا (Main Stream) سے علیحدہ کرنے کی تاک میں ہے جب کہ ہم آہنگی، قومی اتحاد میں ہی اس ملک کی ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔ گنگا جمنی تہذیب کا وصف جو ہماری قومی تہذیب کی وراثت ہے اسے ہم بھلا بیٹھے ہیں۔ اس کی تلاش بہت ضروری ہے جو اپنے دل میں قومی ایکتا کے ٹوٹنے کا غم رکھتے ہیں تب ہی ’’بھیڑیئے سیکولر تھے‘‘ جیسا افسانہ تخلیق ہوتا ہے۔

٭٭

 

بدّا نہیں مری

 

افسانہ ’’بدّا نہیں مری‘‘ بیانیہ انداز میں لکھا ہوا ایک خوبصورت افسانہ ہے جو فنّی اور تخلیقی بنیاد پر حقیقت کے قریب افسانہ ہے۔ مصنفہ کے افسانوں کی بنیادی اساس دیہی علاقوں کی سچائی بیان کرتا ہے۔ مذکورہ افسانہ کا بھی محور بھی بہار کا ایک روایتی گاؤں ہے۔ ہندوستان کے روایتی گاؤوں کی بیشتر آبادی مزدوروں اور کسانوں پر مشتمل ہوتی ہے جومل جل کر محبت اور اتحاد سے رہتے ہیں۔ ہم آہنگی اور ایکتا ان کا بنیادی مزاج ہے۔ ایک ساتھ میلے ٹھیلوں میں جانا موج مستی کرنا ان کا شیوہ ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کے رنج و غم اور خوشیوں میں شریک ہونا، مذہبی تیوہاروں کو اس طرح منانا کہ یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ تیوہار ہندو کا ہے یا کہ مسلمانوں کا۔ چھوٹے بڑے بچے ایک ساتھ کھیلتے ہیں، شور و غل کرتے ہیں۔ پورا ہندوستان گنگاجمنی تہذیب کا علم بردار ہوتا ہے۔ خصوصی طور سے آج سے قبل ہندوستان کا اسی ۸۰ فیصد حصہ جو دیہاتوں پر مشتمل ہے۔ ان میں ہندو مسلمانوں کے درمیان مذہبی فرق کا محسوس کرنا بہت مشکل تھا چونکہ ان کی بول چال، علاقائی زبان، رسمیات اور روائج میں ایسی یکسانیت تھی کہ یہ پتہ لگانا دشوار تھا کہ کون سیر سم کس مذہب میں رائج ہے۔

افسانہ کی ابتدا بھی گاؤں کی مشترکہ تہذیب کی منظر نگاری سے ہوتی ہے۔ دیہاتی بچے باہر گلی میں کبڈی کھیل رہے ہیں اور شور مچا رہے ہیں خوشی اور مسرتوں سے بھر پور اس ماحول میں ہم آہنگی اور ایکتا کا پہلو بھی پوشیدہ ہے۔ مثال کے طور پر:

’’املی کے پتا، نوانو وپتا، کھڑا رہو بیٹا، دلّے چھو، دلے چھو، دلے چھو۔

کمبخت درجنوں کے حساب سے تھے اور ایسا شور مچا رہے تھے جیسے میدان حشر میں کھڑے ہوں۔ مخالف ٹیم کا ایک کھلاڑی مار لیا گیا تو اور غل مچا ہو، ہو، ہو۔‘‘ (۲۱)

نومبر کی خنک ہوا کا چلنا، مستی کا مہینہ نہ سخت سردی اور نہ گرمی کا ہونا، ایسا مستی بھرا موسم جس میں جانور بھی مست ہو جاتے ہیں، پھر یہ تو انسانوں کے بچے تھے۔ رات ہو گئی ہے اور سڑک پر کبڈی کھیل رہے ہیں اندر گھر میں شور و غل کی ساری آوازیں داخل ہو رہی ہیں۔ توے پر اماں کی باریک چپاتی پھول کر غبارہ ہو اٹھی ہے۔ وہ اسے چمٹے سے اتارتی ہوئی بڑبڑاتی ہے ’’شیر کی چربی کھا رکھی ہے کم بختوں نے سردی بھی نہیں لگتی کہ گھر جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ اماں کو فکر نہ ابا کو‘‘ مانو بوڑھی اماں بھی غصہ کی آگ سے غبارہ کی طرح پھول گئی ہو، اس پر صفیہ کا کھل کھلا کر ہنس کرکہنا ’’سب کی فکر میں اماں ہی دیوانی رہا کرتی ہیں۔ اپنے بچوں کو ڈر سے میں مرغیوں کی طرح بند رکھنا، دوسرے بھی ان کا فلسفہ مانیں۔

صفیہ افسانہ کا بنیادی کردار ہے جس کے ارد گرد کہانی گھومتی ہے۔ صفیہ مسلم ماحول سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کی سہیلی ودھیا عرف بدا کو بھی افسانہ میں مرکزی حیثیت حاصل ہے جو ہندو گھرانہ کی پروردہ ہے دونوں میں گہری دوستی ہے۔ بظاہر دو خاندانوں پر مشتمل یہ کہانی پورے علاقہ کی تہذیب کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اگر کہا جائے تو کہانی کا پہلا حصہ بیانیہ ہے اور وسط میں کہانی صفیہ کے فلیش بیک میں جا کر حال میں واپس ہوتی ہے جہاں افسانہ کا خاتمہ رنج و ملال پر ہوتا ہے جس میں گنگا جمنی تہذیب، ملنساری، میل جول کے ٹوٹنے کا احساس ہوتا ہے لگتا ہے۔ دو تہذیبوں کے درمیان بس ایک اجنبی لاتعلق کا جذبہ ابھر کر ہمارے سامنے آتا ہے۔ صفیہ سسرال سے جب اپنے پیہرآتی ہے تو وہ بدا کے چھوٹے بھائی کا لو سے ملنے اس کے گھر جاتی ہے لیکن وہ اس سے اجنبیوں جیسا سلوک کرتا ہے:

’’چائے نہیں پینی ہمیں‘‘۔ صفیہ کی آواز میں غم و غصہ دونوں تھے ’’کالو، ہم تم سے ملنے آئے تھے‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی___۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’پاپا__پاپاہو___ای ہمار پھوا لاگیں۔ صفیہ کے بہت قریب آ کر اس نے صفیہ کو چھو کر کہا اور اس کے چہرے کے نقوش میں بدا جیسے اچانک زندہ ہو اٹھی۔‘‘ (۲۲)

اگر افسانہ کی Paraphraising کی جائے تو کہانی اس طرح ہے کہ بہار کا ایک گاؤں ہے جو ہندو اور مسلمانوں کی آبادی پر مشتمل ہے۔ ہندوستان کے اکثر صوبوں میں ایسے گاؤں ملیں گے جنہیں ہندو آبادی کم اور مسلمانوں کی زیادہ آبادی یا مسلمانوں کی زیادہ اور ہندوؤں کی آبادی کم ہے لیکن آبادی کی اکثریت یا اقلیت کے ہونے کا اثر ان کی یکجہتی اور ہم آہنگی پر نہیں پڑتا۔ دونوں مذاہب کے لوگ مل جل کر امن اور شانتی سے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہوتے ہیں۔ مذہبی تیوہاروں کو ایک ساتھ مل کر مناتے ہیں خواہ کسی بھی مذہب کا تیوہار ہو، اُن کے رہن سہن میں کوئی بھید بھاؤ نہیں ہوتا۔ ایک ساتھ کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا ان کا معمول ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کی شادی بیاہ میں شریک ہو کر نہ صرف خوشیاں مناتے ہیں بلکہ مدد کرتے ہیں اور کام کاج میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔

اس گاؤں میں صفیہ عرف سپھو اور ودھیا عرف بدا دونوں آپس میں گہری سہیلیاں تھیں۔ آپس میں خاندانی تعلقات بھی تھے۔ دونوں میں اس قدر گہرے تعلقات تھے کہ اکثر ودھیا صفیہ کے گھر آتی اس کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتی، ساگ بنانا، دھونا کاٹنا اس طرح وہ اس کی مدد کرتی۔ صفیہ کی پینٹنگ بہت اچھی تھی اس لیے بدا بھیا دوج اور دیوالی کے موقع پر گھروندا رنگنے اور آرٹ بنانے کے لیے لے جاتی۔ اس کا بنایا ہوا گھروندا محلے کا سب سے شاندار گھروندا ہوتا۔ بدا کی شادی ہو گئی تھی لیکن گونا ابھی نہیں ہوا تھا اس لیے صفیہ سے اکثر اپنے پتی کو چٹھی لکھوانے آتی کیونکہ بدا زیادہ پڑھی لکھی نہ تھی اور صفیہ آٹھواں پاس کر چکی تھی۔ بدا کا چھوٹا بھائی کالو نہایت شریر اور دھما چوکڑی کرنے والا تھا۔ صفیہ اس کو چھیڑ خانی کرتی، اسے کالو بھالو خالو کہہ کر چڑاتی اس لیے اس کی ایک آنکھ نہ بنتی تھی۔ دونوں آپس میں جھگڑتے رہتے۔ بدا کی ودائی کے وقت بہن کے غم میں کالو بلک بلک کر روتا ہے۔ صفیہ اس کے سرپر ہاتھ رکھتی ہے۔ کچھ عرصہ کے بعد صفیہ کی بھی شادی ہو جاتی ہے صفیہ کی رخصتی پر صفیہ کے سرپر کالو نے ہاتھ رکھا تھا۔ ایک بھائی کے محبت بھرے لمس کو وہ زندگی بھر نہ بھول سکی۔

شادی ہونے کے کافی عرصہ بعد صفیہ جب اپنے آبائی گاؤں یعنی پیہر کو لوٹتی ہے تو گاؤں کا منظر نامہ بالکل بدل جاتا ہے۔ حالانکہ سفر کے دوران اس کے خواب و خیال میں پرانے گاؤں کی تصویر گھوم رہی تھی۔ لیکن اب حالات بدل چکے تھے۔ لوگوں کے نظریات بدل گئے تھے۔ گاؤں میں چاروں طرف مذہبی جھگڑا پھیل گیا تھا۔ دو خاندانوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی ہو گئی تھی۔ مذہبی جھگڑے شروع ہو گئے۔ لوگ سہمے سہمے رہتے تھے خصوصی طور سے اقلیتی طبقہ خوف و ہراس میں ڈوبا رہتا۔ بدلتے منظر نامہ کو دیکھ کر صفیہ کو بہت دکھ ہوا۔ اپنے بھائی اور بھابھی کی مرضی کے خلاف وہ کالو سے ملنے کی غرض سے اس کے گھر جاتی ہے۔ گھر عالیشان بن گیا۔ اس نے بدا کی موت کی خبر سن کر افسوس کا اظہار کیا۔ لیکن کالو نے صفیہ کی ملنساری اور ہمدردی پر کوئی توجہ نہیں دی۔ امید کے خلاف اس کی تنگ نظری کے رویہ کو دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گئی۔ یہی وہ چھوٹا سا کالو ہے جس کی محبت کے ہاتھ کا لمس وہ آج بھی محسوس کرتی ہے جس نے رخصتی کے وقت اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔ اس کا برتاؤ بھی غیروں جیسا تھا۔ کالو اب ایک بڑا بزنس مین ہو گیا تھا لیکن انسانیت کے نقطۂ نظر سے وہ بہت چھوٹا ہو گیا تھا۔ سیاست میں بھی اس کا دخل تھا۔ مسلمانوں کے خلاف اس کے اندر حقارت تھی جو موجودہ دور کی سیاست کا خاصہ ہے چونکہ ہندو ووٹ کو پولرائز کرنے کا یہی ایک ہتھیار ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے خلاف اکثریتی طبقہ کے اندر نفرت اور گڑھنا کا زہر گھل گیا تھا۔ نفرت کی سیاست میں پورا گاؤں ڈوب گیا تھا۔ اسی حقارت اور نفرت کی وجہ سے کالو نے صفیہ اور اس کی محبت کی کوئی عزت نہیں کی۔ نتیجتاً وہ مایوس ہو جاتی ہے اور سوچتی ہے کہ گاؤں کی وہ پرانی تہذیب کو کیا ہو گیا کہ تمام لوگ، پریم اور محبت اور یکجہتی سے رہتے تھے اب ’’دیوالی‘‘ صرف ہندوؤں کی ہو کر رہ گئی ہے جو صرف اپنے ہی ہم مذہب لوگوں کے ہی بیچ منائی جاتی ہے۔

اس بدلے ہوئے ماحول سے بھی مصنفہ مایوس نہیں ہے۔ صفیہ کی نسل کے ذہنوں میں ہندوستان کی پرانی تہذیب ابھی زندہ ہے اور محفوظ ہے۔ کالو کے بعد آنے والی نسل ابھی معصوم ہے۔ اس کے ذہن شیشے کی طرح شفاف ہیں اس لیے ان کے ذہنوں میں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے نقوش ابھارنے کی ضرورت ہے اور گنجائش بھی کیونکہ کالو کی معصوم بچی کی صورت میں صفیہ کو آنجہانی بدا کی شکل نظر آتی:

’’لیکن دوسرے ہی لمحہ بادلوں سے جھانکتے سورج کی کرنوں جیسی شرمیلی مسکراہٹ پورے چہرے کو روشن کر گئی۔ گول مٹول چہرے کے بھرے بھرے گالوں میں دو بے حد مانوس ننھے ننھے گھڑے۔ کالی کجراری آنکھیں، عین مین بدا۔

’’پاپا۔ پاپا۔ ای ہمار پھوا لاگیں۔‘‘ صفیہ کے بہت قریب آ کر اس نے صفیہ کو چھو کر کہا اور اس کے چہرے نقوش میں بدا جیسے اچانک زندہ ہو اٹھی۔‘‘ (۲۳)

’’بدّا نہیں مری‘‘ کہانی کا عنوان ہے افسانہ کے عنوان کا تعلق ’’خاتمہ‘‘ سے اپنے آپ جڑ جاتا ہے۔ کہانی کا عنوان پر معنی اس لیے بھی ہے کہ بدا ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی علامت بن کر ہمارے سامنے آتی ہے۔ بھلے ہی موجودہ حالات کتنے ہی بدلے ہوں یا بگڑے ہوں لیکن آج بھی ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں پرانی تہذیب کے نمونے دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ بدا اس لیے زندہ ہے کہ وہ ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہے آنے والی نسل ہماری تہذیبی وراثت کو زندہ کرنے اور فروغ دینے میں معاون ہو گی۔

تکنیکی سطح پر افسانہ کا پہلا حصہ بیانیہ ہے۔ دوسرے حصہ میں مصنفہ نے شعور کی روکی تکنیک کا استعمال کیا ہے۔ کہانی کبھی فلیش بیک میں جاتی ہے اور کبھی موجودہ زمانے میں لوٹ آتی ہے۔ گذشتہ دور کے واقعات اور معاملات کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور موجودہ دور میں خاندان کے ساتھ مکالماتی کیفیت کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ کہیں کہیں صفیہ پرانے اور نئے منظر نامہ کا تقابل کرتی ہے۔ پچیس تیس سال بعد صفیہ ایئر انڈیا کے جمبوجیٹ کے دلی ہوائی اڈے پر اترتے وقت ائیر ہوسٹس کی شستہ انگریزی بول رہی تھی اور دیہات کا منظر صفیہ کے دماغ میں گھوم رہا تھا۔ ملاحظہ ہوں دو اقتباسات:

’’شستہ انگریزی میں نہ جانے کہاں سے ان دیہاتی بچوں کی آوازیں آ کر مل گئی تھیں۔ پچیس تیس سال پرانی آوازیں۔۔ یہ گلی میں اب بھی گونجتی ہوں گی ’’جاسوری کے بارے میں ماں (جاسور کے بارے میں) اور بدا دیوالی میں گھروندے سجاتی ہو گی۔‘‘ (۲۴)

’’دلی سے لے کر گھر کے سفر کے دوران ریل گاڑی کی چھک چھک میں بھی کوئی کبڈی کھیلتا رہا۔ کھڑکی سے باہر بھاگتے مناظر میں صفیہ کو بچے دکھائی دیتے رہے جو برسہابرس سے اس کے اردگرد گھوم رہے تھے۔ ٹرین نے خاک وطن کو چوما تھا تو اس نے جلدی جلدی گردن لمبی کر کے پلیٹ فارم کے پاس لگے گل مہر کے درخت کو دیکھنا چاہا۔ درخت وہیں تھا اور بہت بڑا چھتنار ہو گیا تھا۔‘‘ (۲۵)

تحریر کردہ دونوں اقتباسات افسانے کے دوسرے حصہ سے لیے گئے ہیں۔ گاؤں وہی ہے پلیٹ فارم کے پاس لگا گل مہر کا درخت بھی اپنی جگہ ہے بس بڑا چھتنار ہو گیا ہے۔ گاؤں کی منظر کشی اپنی جگہ ہے لیکن تبدیلی جو آئی ہے۔ وہ انسانوں کے مزاج اور رہن سہن میں ڈھیٹ کالو کا بچپن چلا گیا ہے اور بچپن کے ساتھ ساتھ اس کی معصومیت اور بھولا پن بھی ناپید ہو گیا ہے۔ اب ایک نئے کالو نے راجہ رام کے نام سے جنم لیا ہے جو نہایت متعصب اور کٹر ہے۔ اور یہ کٹرپن حالات کی دین ہے جس نے آج کی نسل کے ذہن اور مزاج کو بگاڑ کر دکھ دیا ہے۔

گاؤں پہنچتے ہی جب صفیہ اپنے گھر پر اترتی ہے تو اپنے بھائی الطاف کی زبانی موجود گاؤں کی روداد سنتی ہے اس کے ذہن میں سجا ہوا خواب چکنا چور ہو جاتا ہے۔ حالات بدل چکے ہیں اب پرانا جیسا گاؤں نہیں رہا۔ ماہ و سال بدلنے کے ساتھ دلوں سے محبتیں ختم ہو چکی ہیں۔ قومی یکجہتی کا تصور ٹوٹ کر بکھر گیا ہے۔ افواہوں کا بازار گرم ہے۔ سہمی سہمی اور خوف زدہ زندگیاں ہیں۔ دونوں فرقوں کے بیچ شک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ جن کو دور کرنا نا ممکن ہو گیا ہے۔ اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب صفیہ کالو سے ملاقات کرنے گئی۔ ہندو مسلمان کا فرق ہونا اپنی جگہ لیکن کالو تو مہمان نوازی کے جذبہ سے بھی عاری نظر آیا جو کہ انسانی تہذیب کی اہم قدر ہے۔ اسی لیے الطاف صفیہ کو اس کے گھر جانے کے لیے روکتا ہے:

’’الطاف کے منع کرنے کے باوجود صفیہ کالو کے یہاں جانے پر تلی رہی۔ راجہ رام (کالو) اب یہاں نہیں آتا۔ الطاف نے بتایا تھا۔ بس کہیں دکھائی دیتا ہے تو دعا سلام ہو جاتا ہے۔ کئی بار تو محسوس ہوا ہم دونوں ہی دعا سلام سے بھی کترا رہے ہیں۔‘‘ (۲۶)

افسانہ کے پہلے حصے میں مصنفہ نے گنگا جمنی تہذیب کو بہت ہی عمدگی سے بیان کیا ہے جو حقیقت کے قریب ہے اور دیہات کا سماجی منظر نامہ قاری کے سامنے ابھر کر آتا ہے:

’’صفیہ کو اس سچھو سے تپنگے لگتے تھے۔ کتنی بار اس نے بدا کا تلفظ صحیح کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر کمبخت کے منھ سے کبھی ’’ف‘‘ صحیح ادانہ ہوا۔ ویسے تو اس کا بھی صحیح نام ودیا تھا۔ لیکن خود اس کے گھر والے اسے بدا کہتے تھے۔‘‘ (۲۷)

بدا صفیہ کے گھر آتی ہے اور وہ پسر کر بیٹھ گئی ہے۔ صفیہ کے چنے ہوئے ساگ میں ملے اکا دکا ڈنٹھل الگ کرنے لگتی ہے:

’’ارے سب گل جائیں گے، ایک دورہ بھی گئے تو کیا ہوا۔ صفیہ نے منھ لٹکا کر کہا ’’چرا تو جائے بکری کے ہاتھ گوڑ جون تو کھات ہو، ملا ساگ توڑے کا تریکہ جائے‘‘ (گل جائیں گے بکری کے ہاتھ پیر بھی جو تم کھاتی ہو، مگر ساگ توڑنے کا طریقہ بھی کوئی چیز ہے)‘‘(۲۸)

صفیہ بدا کی شرارت بھری حرکتوں سے کھسیا جاتی ہے اور دل میں سوچتی ہے کہ وہ بدا کا گھروندا رنگنے ہر گز نہیں جائیں گی۔ لیکن دوسرے دن دروازے پر صفیہ کے پکارنے پر تیر کی طرح اس کے گھر پہنچ جاتی ہے۔ گاؤں میں لب سڑک چبوترے پر سر اٹھائے دو منزلہ چونے سے لپا پتا گھروندا اپنا سر اٹھائے کھڑا تھا۔ صفیہ بدا کے گھر پہنچتی ہے۔ ڈرائینگ کا خدا داد شوق تھا اور صلاحیت بھی۔ منٹوں میں دیوی دیوتاؤں کی تصویریں، کمل کا پھول، بطخ، نکلتا سورج، پیڑ پودے، چڑیاں سب کے سب بدا کے گھروندے پر منھ سے بول رہے اٹھے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی اس کا گھروندا محلے کا سب سے شاندار گھروندا ہو گیا۔ جئے میری سپھو۔

اس ظاہر حقیقت کے پیچھے ہندوستانی تہذیب کا وہ پہلو ہے جسے گنگا جمنی کلچر کہتے ہیں۔ صفیہ کا بدا کے گھر میں ہندو دیوی دیوتاؤں اور مذہبی نشانیاں جیسے کمل کا پھول، بطخ، نکلتا سورج کی تصویر کشی کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ہندو اور مسلمان شیر و شکر ہو کر اس ملک میں رہتے آئے ہیں۔ افسانہ کے پہلے حصے میں گزشتہ ہندوستان کے تہذیبی اور سماجی پس منظر کو اجاگر کیا گیا ہے۔ صفیہ کی بدا کے چھوٹے بھائی کالو سے ایک آنکھ نہیں بنتی تھی ہڑ کمپ مچانا کالو کا مزاج تھا اور صفیہ کوتنگ کرنا اس کی عادت تھی لیکن جب بدا کی شادی ہوئی اس منظر کو مصنفہ نے اس طرح نقشہ کھینچا ہے کہ حقیقت کا گمان ہوتا ہے:

’’بدا پر ہر وقت مرکھنڈے بیل کی طرح سینگ چلانے والا کالو سبک سبک کر رو رہا تھا۔ پہلی بار بار صفیہ کو احساس ہوا کہ گندمی رنگت اور موٹی موٹی آنکھوں والا عمر میں اس سے دو برس چھوٹا یہ لڑکا کبھی ایسا بھی لگ سکتا ہے کہ اس پر پیار آ سکے اس نے جا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ گھنے بالوں کا ریشم جیسا لمس بہت دن تک ہتھیلی پر یوں ہی رہ گیا تھا۔ تازہ اور نیا اور ایسا ہی ایک لمس تازہ رہ گیا تھا کالو کی ہتھیلی پر جب کئی برس بعد اس نے صفیہ کی رخصتی پر صفیہ کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔‘‘ (۲۹)

یہ لمس کسی ہندو اور مسلمان کا نہیں تھا بلکہ انسانی تہذیب کا تھا۔ جس دور میں ہندو اور مسلمان بھائی بھائی کی طرح اس ملک میں رہتے تھے۔ اسی کو مذکورہ افسانہ میں مصنفہ نے ابھارا ہے۔

مصنفہ نے ’’بدا نہیں مری‘‘ میں اودھی محاوروں کا بھی استعمال اور بہار کے دیہاتوں کی علاقائی زبان کے علاوہ وہاں کے محاورات کا بھی بر محل استعمال کیا ہے جیسے ’’ارے کل مونہے، پوتھی پھینکتا ہے۔ پڑھنا کیسے آئے گا‘‘ فیض آباد میں بولا جانے والا اودھی محاورہ ہے اسی طرح ’’چرا تو جائے بکری کے ہاتھ گوڑ جو تو کھات ہو، ساگ توڑے کا تریکہ بائے‘‘ (گل جائیں گے بکری کے ہاتھ پیر بھی جو تم کھاتی ہو، مگر ساگ توڑنے کا طریقہ بھی کوئی چیز ہے) ’’کلو مٹلو کے دوئی بکرا۔ کھانست، چھینکت جیؤ نکرا‘‘ (کلو مٹلو کے دو بکرے۔ کھانس چھینک کے مر گئے۔)

٭٭

 

ہر ہر گنگے

 

مابعد جدید ادبی رجحان میں مقامیت اور ارضیت کو ترجیحی حیثیت حاصل ہے۔ تہذیبی و ثقافتی اقدار بھی ایک اہم عنصر کے طور پر ان کے نظریہ میں شامل ہے۔ اگر صنف افسانہ کے تاریخی پس منظر کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آتی ہے کہ سماجی اور معاشرتی نظام کے علاوہ تہذیب و تمدن کی مختلف جہتیں بھی اس کا ضروری اجزا رہے ہیں۔ مابعد جدید تھیوری کے حامیوں نے سنجیدگی اور کلی توجہ کے ساتھ تخلیقی ادب خصوصی طور سے فن افسانہ اسے شامل کرنے کی شعوری سعی کی ہے۔ ذکیہ مشہدی نے اپنے افسانوں میں نہ صرف مقامیت اور ارضیت پر زور صرف کیابلکہ تہذیبی وسماجی پس منظر کو بہ طور ترجیحات اپنی افسانوی کائنات میں داخل کیا۔ ان کے ہر افسانے میں تقریباً یہ فکری رویہ نظر آتا ہے۔ افسانہ ’’ہر ہر گنگے‘‘ میں بھی یہ کاوش دکھائی دیتی ہے۔ فنی طور پر یہ افسانہ عمدہ تخلیق اس لیے ہے کہ ذکیہ مشہدی نے مقامی اور تہذیبی اقدار مذکورہ افسانے میں ابھارنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

ذکیہ مشہدی کے تمام تر افسانوں میں ہندوستان بولتا ہوا نظر آتا ہے۔ خصوصی طور سے دیہی توہمات، شادی و بیاہ کے معاملات اور تہذیب و ثقافت کا عکس ان کے افسانوں میں نظر آتا ہے۔ ان کے مرغوب موضوعات میں عورتوں کے مسائل اور ان کی روز مرہ کی زندگی کے معاملات، خانگی زندگی کی اشباء اور ضرور تیں جیسے آٹا، روٹی، چپاتی، چولھا چوکہ، دال بھات، نمک مرچ اور دیگر اجناس کا ذکر ان کے افسانوں میں ملے گا۔

ذکیہ مشہدی کے یہاں نہ تو موضوعات کا تنوع اور نہ ہی نت نئے تکنیکی تجربات ملیں گے۔ سیدھی سادھی بیانیہ کہانیاں، جن میں نہ پیچیدگی ہے اور نہ ہی کوئی الجھاؤ، حقیقت کے قریب چلتی پھرتی، دوڑتی زندگی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے افسانوں کا بنیادی اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے فرسودہ موضوعات کو چھوا اور اس کو اپنے مخصوص ٹریٹمنٹ سے نیا بنا دیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ بڑا افسانہ بنانے میں موضوعات کے ساتھ برتے گئے رویہ کو زیادہ دخل ہے اور اسے تخلیقی و فنی بلندی عطا کر نے میں ان کا زبان و بیان بہت کار آمد ثابت ہوا۔ ابتدا ہی سے افسانہ قاری کو پکڑ لیتا ہے اور خاتمہ تک اپنے آپ کو پڑھوا لیتا ہے اور یہ خوبی کم ہی افسانہ نگاروں کے یہاں ملتی ہے۔ دوسری اہم بات مقامی زبان، محاورات، کہاوتیں اور ضرب الامثال جو اپنے افسانوں میں استعمال کرتی ہیں وہ مقامیت اور ارضیت کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں جس کو پڑھنے کے بعد اجنبیت کا احساس مٹتا ہے۔

’’ہر ہر گنگے‘‘ کا موضوع بھی بھوک اور افلاس ہے۔ غربت ہندوستان کا بہت سنگین مسئلہ ہے۔ قدیم ہندوستان (خاص طور سے انگریزوں کے دور سے) اور آج آزادی ملنے کے بعد بھی جدید ہندوستان کا یہ مسئلہ منھ پھاڑے کھڑا ہے۔ ہندوستان کے ترقی یافتہ ملک ہونے کی ہم دعویداری کرتے ہیں۔ آج بھی عام انسان غریبی کی سطح کے نیچے اپنی زندگی گزار رہا ہے۔ ہندوستان کے بیشتر افراد افلاس زدہ، بدحال زندگی جی رہے ہیں۔ بھوک و افلاس ان کا مقدر بنی ہوئی ہے۔ آج بھی نادار انسانوں کے بچے کو ڑا کرکٹ سے کھانے کی اشیا و تلاش کر کے جینے کے لیے اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ ان کے پاس پہننے کے لیے کپڑے اور نہ ہی رہنے کے لیے مکان ہیں۔ میلے کچیلے کپڑوں سے اپنا تن ڈھانکتے ہیں۔ سخت جاڑے میں ٹھٹھر تے بچے ننگے دھڑ نگے گلی کو چوں کے کوڑا کرکٹ سے بین بین کر کھانے کی اجناس پر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ آج ہم چاند پر کمند ڈالنے کی بات کرتے ہیں اور اس میں مکان بنانے کی خواب دیکھتے ہیں۔ سوشلزم کے نام پر پورا معاشرہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ ہمارے سماج کا ایک بہت ہی مختصر طبقہ عیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہے اور انسانوں کا ایک بڑا طبقہ بھوک، غریبی اور مہلک بیماریوں کا شکار ہے۔ ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں خاص طور سے آدی باسی اور قبائلی لوگوں کو وقت پر کھانا میسر نہیں، ان کے لیے بیماریوں کا معقول علاج نہیں، رہنے کے لیے مکانات نہیں۔ آج بھی بڑے بڑے شہروں میں فٹ پاتھ پر اپنی زندگی گزارتے ہیں اور دیہاتوں میں جنگلات میں اپنی زندگی بسر کر تے ہیں:

’’لیکن اس مرتبہ شکار کے ساتھ جیپ میں کچھ زندہ جانور بھی تھے۔ ایک لڑکا کوئی دس ایک برس کا تھا۔ تین لڑکیاں۔ ایک اٹنگی دھوتی میں ملبوس مرد۔ ایک حاملہ عورت۔ سب جی بھرکر کالے، آدھے ننگے، مریل سیاہ چہروں پر زرد آنکھیں سپید دانت۔ یہ کوڑا کرکٹ ورما جی کہاں سے اٹھا لائے۔‘‘ (۳۰)

مصنفہ نے ایک غریب خاندان کا حلیہ بیان کیا ہے جوان کی غریبی کی نشاندہی کرتا ہے اور ایک کڑوی سچائی کے طور پر قاری نظارہ کرتا ہے۔ ورما جی شکار کرنے جاتے ہیں اور ان کی غریبی پر ترس کھا کر گھر لے آتے ہیں۔ یہاں مصنفہ کا بھرپور طنز بھی دیکھیں کہ انسان جو زندہ جانوروں کی طرح زندگی گزارتے ہیں اٹنگی دھوتی، آدھے ننگے، مریل سیاہ چہروں پر زرد آنکھیں، سپید دانت وغیرہ غریبی اور بد حالی کی ایسی تصویر ہے جسے دیکھ کر آنکھیں ڈبڈبا جاتی ہیں۔ اس پر ذکیہ مشہدی کا بھر پور نشتر سے بھرا یہ جملہ کہ یہ کوڑا کرکٹ ورما جی کہاں سے اٹھا کر لائے۔ یہ مسٹر ورما کی سوچ کے ذریعہ ظاہر کیا ہے۔ جب مسٹر ورما نے لکھی سے اس کے احوال دریافت کئے تو وہ جواب دیتی ہے:

’’پورا پریوار کام کرتا تھا تو دو جون کا چاول۔ روپنی ختم ہونے پر ایک جون کھا کر سوتے تھے۔ کبھی کبھی تو وہ بھی نہیں۔ صرف لڑکن کو کھلا دیتے تھے۔ ہری ہر کو ٹری کے یہاں سے اتنا ہی مل پاتا تھا۔‘‘ (۳۱)

غریبی اور بھوک اپنی جگہ تحریر کردہ اقتباس میں ایک جملہ خصوصی طور سے قابل غور ہے ’’کہ کبھی کبھی تو وہ بھی نہیں۔ صرف لڑکن کو کھلا دیتے تھے۔ یاد رہے مذکورہ غریب خاندان میں ایک دس سالہ لڑکا اور تین لڑکیاں ہیں۔ مالدار ہو یا غریب طبقہ ہمارے سماجی نظام میں لڑکیوں کو برابری کا درجہ نہیں دیا جاتا۔ لڑکا اور لڑکیوں میں تفریق کرنے کی بری روایت آج بھی قائم ہے کیونکہ لڑکیوں کو پرایا دھن سمجھنے کی سوچ نے ان کو ان کے حقوق سے محروم کر دیا ہے کیونکہ پرایا دھن کی قدر و قیمت کرنا کیا معنیٰ رکھتا ہے؟لڑکوں کی پرورش اور ان کے کھانے پینے پہننے اور صحت کا اس لیے بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ آگے چل کر کماؤ پوت بنیں گے اور خاندان کا بوجھ اٹھائیں گے۔ بھلے ہی یہ امید پوری نہ ہو، آج بھی ہمارے معاشرہ میں لڑکیوں کو برابری کا حق حاصل نہیں ہے۔

لکھی کا جواب سن کر مسز ورما سوچتی ہیں تو ان کو یاد آیا کہ ان کی بڑی بہو کے ساتھ دوچار لڑکے اور لڑکیاں کولہاپوری چپل پہنے، کاندھے پر جھولے لٹکائے آتے تھے تو ان کی باتیں ان کو اول جلول معلوم ہوئیں۔ ان کی بہونے بتایا کہ چھوٹا ناگ پور کے کسی آدی باسی قبیلے میں کھانے کے نام پر گھاس اور پتے مل رہے تھے اور جس کی نسل گندے جوہڑوں کا گاڑھا گدلا پانی پی پی کر طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو کر ختم ہوتی جا رہی ہے۔ نہ جانے کتنے غریب گھرانے صرف ایک بھونی ہوئی مرچ اور نمک کے ساتھ بھات کھا کر گزارہ کر لیتے ہیں۔ یہ ہے آج کے ہندوستان کی بدنما تصویر جس کو فنکارہ نے کرداروں کی زبانی مختلف علاقوں کے سماج کی غریبی اور مفلسی کا منظر نہیں آ رہا ہے۔

افسانہ ’’ہر ہر گنگے‘‘ میں انتہا درجہ کی غریبی اور بھوک کو موضوع بنا کر ایک مخصوص بدحال طبقہ کی نمائندگی کی ہے۔ اس طرح پرچم چند کی روایت کی توسیع بھی ہوتی ہے۔ بھوک کے موضوع پر پریم چند کی شاہ کار تخلیق ’’کفن‘‘ اردو افسانوی ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہی نہیں بلکہ اس کا شمار عالمی افسانوں کی فہرست میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ ’’بھوک‘‘ کے موضوع کو لے کر رتن سنگھ کی ایک بہت ہی مشہور کہانی ’’ہزاروں سال لمبی رات‘‘ بھی ہے جو موضوعی سطح پر ہی نہیں بلکہ تکنیکی اعتبار سے بہت اہم افسانہ ہے۔ افسانہ ’’ہر ہرگنگے‘‘ اپنی نوعیت کی بنیاد پر بہت عمدہ افسانہ ہے۔ مصنفہ نے موضوع کے ساتھ جو ٹریٹمنٹ اختیار کیا ہے وہ یقیناً قابل تحسین ہے۔ موجودہ ہندوستان کے حالات کو مصنفہ نے کرداروں کی زبانی اس طرح بیان کیا ہے کہ زندگی کی حقیقی تصویر ہمارے سامنے فلم کی طرح گھومتی ہے۔

’’آنٹی آپ بزرگ ہیں۔ آپ کے گھر میں بیٹھ کر آپ کو کیا کہیں۔ اس پوش کالونی کے دو محلے میں بیٹھ کر آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ ہمارے ملک میں کتنے لوگ بغیر کھائے سوتے ہیں اور کتنوں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ہوتا اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ (۳۲)

معاشی اعتبار سے ہندوستان کا ہر شہری دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ ایک اعلیٰ طبقہ جو پوش کالونی میں رہنا پسند کرتا ہے۔ وہ نچلے طبقہ کے ساتھ چھوٹے چھوٹے مکانات اور جھکی جھونپڑیوں کے درمیان اپنی اعلیٰ قسم کی رہائش گاہیں بنانا پسند نہیں کرتا۔ غریبوں سے ایک فاصلہ بنائے رکھتا ہے۔ نچلے طبقہ کے غرباء سماجی طور پر اپنے آپ ہی یا سوچی سمجھی سازشوں کے تحت علیٰحدہ کر دیئے جاتے ہیں ان کی کلچرل لائف کے مطابق دوکانیں، میلے ٹھیلے اور روز مرہ زندگی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے الگ بازار’پھڑ‘ اور کھوکے بن جایا کرتے ہیں۔ پوش کا لونیوں میں رہنے والے افراد کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ مفلس اور نادار اپنی زندگی کس طرح جیتے ہیں۔

خدمت خلق دنیا کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ اس امر سے دنیا کے تمام مذاہب متفق ہیں۔ مذکورہ افسانہ ’’ہر ہر گنگے‘‘ کا اہم کردار مسٹر ورما جن سیوا کو اپنا دھرم سمجھتے ہیں۔ ورما جی شکار کے بہت شوقین ہیں۔ انسانوں سے ہمدردی، غریبوں کی مدد کرنے کا جذبہ بھی شدت کے ساتھ موجود ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا، ننگوں کو کپڑے پہنانا ان کی عادت میں شامل ہے۔ ان کی اہلیہ مسٹر ورما ان سے بالکل مختلف ہونے کے باوجود لکھی کے خاندان کی بدحالی دیکھ کر ان کی سوچ بھی بدل گئی۔ ان کے مزاج میں بھی ہمدردی کا جذبہ بیدار ہو گیا۔ وہ یہ جان کر حیرت زدہ ہو جاتی ہیں کہ لکھی کے خاندان کے لوگ کبھی ایک وقت کھا کر اور کبھی دونوں وقت کے فاقے سے سوجاتے ہیں۔ سارے بچوں کے جسم پر کپڑوں کے نام پر صرف لنگوٹی سے زیادہ نہیں۔ عورت نے بھی پرانی پتلی دھوتی سے سینہ چھپا رکھا ہے اور بڑی مایوسی سے سوچتی ہیں۔ یہ دنیا ہے یہاں ہر طرح کے لوگ ہیں کوئی کس کس کے دکھ میں دکھی ہو اور کس کس کی ضرورتیں پوری کرے۔ رام دئی جس کو ورما جی پہلے ہی اٹھا لائے تھے۔ وہ مسٹر ورما کی خدمت گزاری میں لگی رہتی ہے:

’’اگر چہ جب سے وہ ورماجی کے یہاں آئی تھی اس کو اور اس کے بچوں کو بھوکا نہیں سونا پڑا تھا اور بھات کے ساتھ آلو کا بھرتا یا کدو کی بھاجی بھی مل جایا کرتی تھی۔‘‘ (۳۳)

بیان کردہ واقعات افسانہ کے موضوع تک رسائی کا سبب ہیں۔ در اصل افسانہ ’’ہر ہر گنگے‘‘ کی کہانی اس کے وسط میں بیان ہوئی ہے۔ رام دئی جو رام دھنی کی ’’مائے‘‘ کہلوانا نہ صرف پسند کرتی ہے بلکہ خوش ہوتی تھی۔ اگر چہ اس کو پہلی اولاد ایک لڑکی تھی اور رام دھنی بعد میں پیدا ہوا تھا۔ رام دھنی نے رام دئی کالی پیلی، سوکھی سڑی چار لڑکیاں پیدا کیں۔ رام دھنی کو لڑکا ہونے کا اعزاز حاصل ہونے کی وجہ سے لڑکیوں پر فوقیت حاصل تھی۔ ماں باپ کے مسائل سے بے نیاز رام دھنی گاؤں کے جوہڑمیں بھینسوں کے ساتھ تیرا کرتا تھا اور ناک پکڑ کر ڈبکی لگانے میں استاد تھا۔ مستر ورما کے پڑوسی کے چپراسی کے بیٹے ہوئے بہو سے دوستی ہو گئی تھی۔ اکثر بہو کے ساتھ رام دھنی گنگا میں ڈبکی لگاتا تھا اور بانس گھاٹ پر چلنے والے مردوں کے رشتے دار پانی میں جو پیسے پھینکتے وہ نکال کر لاتا تھا اور خوانچے والوں سے چاٹ، ملائی اور مختلف نعمتیں کھاتا فصل کا تازہ گڑاور ہرن کے گوشت کے کباب جو اس نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا انہیں پیٹ بھر کھا کر مست رہتا۔ رام دھنی کو اپنی مائے سے بڑی محبت تھی کیونکہ بیٹیاں اس کے ساتھ مل کر محنت کرتیں رام دھنی گلی ڈنڈا کھیلتا پھرتا۔ کیسا ہی برا وقت ہوتا مگر وہ اس کے لیے کھانے کو کچھ نہ کچھ بچائے رکھتی دو وقت کا اکٹھا فاقہ اس نے رام دھنی پر کبھی نہیں گزرنے دیا۔ رام دھنی گنگا سے جو پیسے نکالتا وہ سب چاٹ میں نہیں اڑاتا بلکہ کچھ پیسے بچا کر ماں کو ضروردیتا۔ ماں نے ان پیسوں سے بساطی سے اپنے لیے چوٹی میں ڈالنے کا موباف خریدار اور لڑکیوں کے لیے پلاسٹک کی چوڑیاں، وہ اب ادھ ننگی نہیں رہتی تھی۔ پٹنہ میں گنگا کے کنارے سے ایک ٹورسٹ بس گزری، کچھ لوگوں نے گنگا میا کی جے کے نعرے لگائے اور کھڑکی سے ہاتھ باہر نکال کر کچھ سکے پانی میں پھینکے رام دھنی نے ڈبکی لگائی اور پتھر کی تہہ میں بیٹھ گیا۔

افسانہ کا سب سے ہولناک اور المناک منظر افسانہ کے خاتمہ پر ابھر کر ہمارے سامنے آتا ہے جو پریم چند کے کفن کی یاد دلاتا ہے۔ شہر سے کوئی چار کیلو میٹر آگے گنگا کے کنارے بنے ہوئے چند جھونپڑوں میں سے ایک میں کارو ڈوم باہر نکلا تو اس نے دیکھا کہ رام دھنی کی لاش رہتی ہوئی آ رہی ہے۔ تازہ لاش کو دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑا۔ شہر میں رہنے والے انسان ہڈیوں کا کاروبار کرنے والے کچھ لوگوں سے اس کار بط ضبط تھا سوچنے لگا۔ اس صاف ستھرے تازہ جسم کے تین چار سو مل جائیں گے۔ کارو نے رام دھنی کو کھینچ کر لاش پر گھاس پھوس ڈال کر اسے ڈھک دیا۔ جیسے تیسے کارو ڈوم سے لوگوں نے ڈیڑھ سو روپئے میں لاش چھڑائی:

’’رام دھنی نے تو اس کی کوکھ روشن کی تھی۔ کہاں گیا وہ اس کو کھ میں عظیم گنگا کی مٹیالی تہوں کی کیچڑ انڈیل کر۔ لاش دیکھ کر اس کی اس کی چھاتی سے ہوک نکلی اور ایسا بھیانک رونا جو در و بام کو رلا جاتا ہے لیکن شاید اس کا کچھ نہیں بگاڑ تا جو انگلی کی جنبش سے اپنی ہی گڑھی ہوئی عورتوں کو حرف غلط کی طرح مٹا دیتا ہے۔‘‘ (۳۴)

مصنفہ نے رام دھنی کی مائے کی ذہنی کیفیت کا بہت ہی درد آمیز انداز میں اظہار کیا ہے۔ رام دئی کو یاد آیا کہ غریبی کے عالم میں کیسے کیسے رام دھنی کی پرورش کر کے جوان کیا۔ خود بھوکی رہی اور اسے پیٹ بھر کھلایا۔ پورا خاندان غم میں ڈوبا ہوا تھا اس منظر نامہ کو ذکیہ مشہدی پیش کرتی ہیں:

’’ایک غریب آدی باسی ماں اپنے اکلوتے بیٹے کا نام لے لے کر چھاتی پیٹ پیٹ کر زمین پر لوٹ رہی تھی۔ چار کم عمر لڑکیاں سہمی سہمی کھڑی تھیں، جیسے ان کی سمجھ میں نہ آ رہا ہو کہ کیا ہو گیا ہے۔ ایک سیدھا سادہ معصوم چہرے والد مرد انگوچھے سے مستقل آنکھیں پونچھ رہا تھا کوئی تسلی دینے والا نہیں کوئی اپنا نہیں۔‘‘ (۳۵)

مسنر ورما نے گھنٹوں پر ہاتھ رکھ اٹھتے ہوئے کہا جو ہونا تھا سو ہو چکا اب داہ سنسکار کا انتظام کرو۔ لوگوں نے چندہ کیا کل ملا کر سات سو روپئے کا چندہ ہوا۔ یہ سات سو روپئے ایک ساتھ دیکھ کر ان کے ذہن میں سات سو جنگجوؤں کی طرح چمکنے لگے۔ وہ سوچتے ہیں ’’رام دھنی تو چلا گیا۔ کلیجے میں جو آگ لگی ہے وہ کبھی نہیں بجھ سکے گی۔ اس کی معرفت جو روپیہ ملا ہے اسے لکڑیوں میں پھونک دینا کہاں کی عقل مندی ہے؟‘‘ اقدار کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ جب تک بیٹا زندہ تھا تو سونے کا تھا اب مٹی ہے بات حقیقت پر مبنی ہے یہ زندگی کی کڑوی سچائی غریب شربت سمجھ کر پی رہا ہے اور دولت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور دل درد سے خالی ہے:

’’ہر ہر گنگے‘‘ لکھی نے زیر لب دہرایا، بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیر کر اس کا منھ چوما، سر جھکا کر گنگا کو پرنام کیا اور دھیرے سے لاش پانی کے سپرد کر دی۔‘‘ (۳۶)

افسانہ کا عنوان بھی ملٹی ڈائمنشنل (Multi Dimensional) ہے۔ گنگا علامت ہے سرسبز شادابی کی جو پاپیوں کے پاپ دھوتی ہے لیکن یہاں رام دھنی کی موت کا سبب بن گئی۔

٭٭

 

بھیڑیے

 

ذکیہ مشہدی کا ’’بھیڑیے‘‘ تخلیقی اور فنّی نقطۂ نظر سے قابل تحسین افسانہ ہے۔ تخلیقی سطح پر زبان و بیان اور تشبیہ و استعارات کے استعمال سے ان کے اسلوبیِ طرز کا پتہ چلتا ہے۔ اس کا اندازہ افسانہ کے ابتدائیہ کلمات سے لگایا جا سکتا ہے:

’’گودام سے بھینسوں کی سانی کے لیے سرسوں کی کھلی نکالتے وقت انجو رانی نے کھڑ کی کے دونوں پٹ کھول دیئے تھے اور امرائی میں کھڑے بور سے لدے آم کے درخت کسی تصویر کی طرح قدیم میں جڑ اُٹھّے تھے۔ دور کہیں کھیت مزدوروں کے چیتی گانے کی آواز آ رہی تھی۔ ایسی صاف، دلکش اور واضح جیسے وہ سرخ پھول جنہیں انجو رانی نے اپنے شوہر کی چچا زاد بہن کے جہیز میں دی جانے والی سفید چادر پر کاڑھ کر کل ہی مکمل کیا تھا۔‘‘ (۳۷)

تحریر کردہ اقتباس سے مصنفہ کی زبان و بیان کے علاوہ بہار کے دیہات، امرائی کی دیہی زندگی کا منظر نامہ ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزرتا ہے۔ دیہات کی دلکش منظر نگاری کے بیانیہ میں بور سے لدے آم کے درخت کسی تصویر کی طرح فریم میں جڑے ہونا، دور کہیں کھیت مزدوروں کے چیتی گانے کی صاف، دلکش اور واضح آواز کو سفید چادر پر کاڑھے ہوئے سرخ پھولوں سے تشبیہ دینا ذکیہ مشہدی کی خوبصورت اور دلکش زبان کا اظہار یہ ہے۔ ہندوستان کے دیہاتوں میں فصل پکنے پر خوشیوں کے گیت گائے جانے کا عام رواج ہے۔ ان دیہی گیتوں کا ایک سماجی اور مقامی پس منظر ہے۔ عام طور پر کسان اپنے بچوں کی شادیوں اور مختلف تقریبات منانے کے لیے فصل کے پک جانے کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں اور پک جانے پر جھوم جھوم کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی مزدوری اور محنتانہ کی وصولیابی بھی فصل کٹنے کے بعد ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح تشبیہات کی اور بھی مثالیں ہیں:

’’کرملّی کا جملہ پورا ہونے سے پہلے چاچی کی کرخت آواز کھلے آنگن میں یوں پھیلی چلی آئی جیسے تالاب میں پھینکے گئے پتھر سے اٹھتے پھیلتے پانی کے دائرے‘‘

’’کرملّی تیر کی طرح اور انجو کسی رو بوٹ کی طرح‘‘

’’نند کشور کی آواز غصے کی شدت سے کالے ناگ کی پھنکار جیسی ہو گئی تھی۔ آواز تو آواز اُس کا تو چہرہ بھی کالے ناگ کے پھن جیسا ہی لگنے لگا تھا‘‘۔ (۳۸)

مذکورہ تمام مثالیں ان کی تخلیقی ہنر مندی کا ثبوت ہیں۔ اس عجلت پسندی کے زمانہ اور حصول شہرت کی رفتار میں افسانہ تخلیقیت سے محروم ہو گیا۔ زبان و بیان اور اسلوب پر تو جہ کم ہو گئی ہے۔ جدیدیت کے دور میں زبان و بیان میں یکسانیت آ گئی تھی اور افسانہ کہانی پن سے دور ہو گیا تھا۔ اب اس نے کہانی کو تو پا لیا لیکن افسانے کے دیگر لوازمات اور ضروری تقاضے پورا کرنے میں ناکام ہے۔ معدودے چند افسانہ نگار ہیں جو افسانے کے فنی اور تخلیقی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں۔ ان ہی معدودے چند تخلیق کاروں میں ذکیہ مشہدی کا نام لیا جاتا ہے۔ مذکورہ افسانہ بھی مصنفہ کے فنّی اور تخلیقی شعور کی نمائندگی کرتا ہے۔

اس افسانہ کا بنیادی کردار انجو رانی ہے جو امرائی کے چودھری خاندان میں بیاہی گئی ہے۔ افسانہ ’’بھیڑیئے‘‘ میں اس کا کردار اس لیے اہم ہے کہ وہی کہانی کی راوی ہے اور خاندان کے تمام افراد میں مزاج، اخلاق اور تہذیبی اعتبار سے مختلف ہے۔ انجو رانی کی زبان میٹھی اور اس نے ملنسار طبیعت پائی تھی۔ وہ پورے خاندان میں واحد پڑھی لکھی نوجوان اور خوبصورت عورت ہے۔ وہ اعلیٰ ذات تھی اور کھاتے پیتے زمین جائیداد والے گھرانے کی بہو، اس گاؤں میں کرملّی حکومت کی آنگن واڑی اسکیم کی ٹیچر تھی جو آنگن میں گھوم گھوم کر تعلیم بالغان کی مہم کو جاری رکھنے کی کوشش کرتی۔ وہ بھی اس گاؤں میں جہاں تعلیم کا کوئی رواج نہیں تھا۔ چودھری خاندان نہ صرف تعلیم سے بے بہرہ تھا بلکہ تعلیم کے فروغ میں روڑے اٹکاتے تھے اور عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے کا کوئی حق ہی نہیں تھا بلکہ سختی سے اس کی ممانعت تھی۔ کر ملّی اور انجو رانی کے بیچ کوئی مماثلت نہیں تھی بس دونوں کے درمیان ایک انسانی اور اخلاقی رشتہ تھا۔

’’بظاہر کچھ بی تو مشترک نہیں تھا۔ اس کے (انجو رانی) اور کرملّی کے بیچ لیکن کرملّی کو معلوم تھا انجو اس جیسی ہی تھی۔ اکیلی اور خوف زدہ اور دل گرفتہ‘‘۔ (۳۹)

در اصل تعلیم بالغان کی اسکیم، غریب، پچھڑے طبقے اور پس ماندہ اقلیتی گروہ میں تعلیم کو رائج کرنے اور اس کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے۔ لیکن سماج کا اعلیٰ ذات طبقہ نیچ ذات اور معاشی اور سماجی اعتبار سے پس ماندہ سماج کو تعلیم سے دور رکھنا چاہتا ہے کیوں کہ:

’’کرملّی گھگھیانے لگی۔ ہم راج نیتی کیا جانیں بابو۔ ہم تو سیوا بھاؤ سے پڑھانے آتے ہیں۔‘‘

’’اری او پنڈتانی ہمارے کھیت مجور توڑ رہی ہے۔ موسہر چمار پڑھیں گے تو کھیت مجوری کون کرے گا۔ تیرا باپ کہ ہم؟ ویسے بھی نیچ، کمین سب آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بار کرنے لگے ہیں۔ اوپر سے انہیں پڑھایا بھی جائے گا۔‘‘ (۴۰)

تعلیم کے سلسلے میں میں ایک غلط تصور عام ہو گیا ہے کہ حصولِ تعلیم کے بعد روپیہ کمانا ہے۔ (The End of the education is to earned money) اس جدید دور میں باقی تمام تعلیم کے اہم مقاصد پس پشت چلے گئے ہیں۔ اسی لیے چودھری خاندان نے تعلیم حاصل کرنے کی اس اسکیم کو بڑھاوا دینے میں کوئی تعاون نہیں دیا۔ شروع شروع میں کرملّی گاؤں آئی تو گاؤں کے سربرآوردہ لوگوں کا تعاون حاصل کرنے کی غرض سے سب سے پہلے چودھری صاحب کی ڈیوڑھی پر گئی تھی۔ اس نے انجو سے کہا تھا کہ اگر وہ اس کے ساتھ بستی میں چل کر لوگوں کو سمجھائے تو لوگ سنٹر پر آنے لگیں گے۔ انجو نے دبی زبان سے گھونگھٹ کی اوٹ سے چاچا سے اجازت چاہی تو چودھری کا جواب تھا:

’’عقل گھاس چرنے چلی گئی ہے۔ چاچا غرایا تھا۔ ہمارے یہاں کی بہو بیٹیاں چپل سنکاتی، مردوں سے دیدے لڑاتی کر ملّی کی طرح جہاں تہاں گھومتی نہیں پھرتیں‘‘۔

’’اور میاں لوگوں کو بھی؟ اور جنانیوں کو بھی؟ یہ تو حد ہے۔‘‘

’’برج کی عورت کی چھٹی لے جاکے ڈالتی ہے۔ کس کے نام لکھتی ہے وہ، سوتو یہی جانے۔ اب گاؤں کی کنواریوں کو بھی لکھنا سکھائے گی۔ پھر خود ہی لے جا کے ان کے یاروں کو چھٹیاں پہنچائے گی۔‘‘ (۴۱)

عورتوں کو تعلیم نہ دلانے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ بگڑ جائیں گی، تعلیم حاصل کر کے لکھنا پڑھنا سیکھ جائیں گی، عشق لڑائیں گی اور اپنے عاشقوں کو چھٹیاں لکھیں گی۔ دوسرے اگر تعلیم حاصل کر لیں گی تو انہیں عقل و شعور آ جائے گا اور وہ اپنے حقوق و اختیارات کا مطالبہ کرنے لگیں گی۔ یہی سبب ہے کرملّی چودھری خاندان کو ایک نہ بھاتی تھی بلکہ اسے گالی گلوج سننے کے علاوہ مارنے کی دھمکیاں بھی ملتی تھی:

’’نند کشور نے ایک دن کرملّی کو مکھیا کے کھیتوں کی منڈیر پر پکڑا ’’کیوں ری بڈھی، گاؤں چھوڑ کے جاتی ہے یا زندہ جلوا دوں تجھے۔۔۔۔۔۔ کرملّی تھر تھر کانپنے لگی، بابو لوگ ہمارا قصور تو بتائیں۔ دو اچھّر پڑھا دنیا تو پُن کا کام ہے۔‘‘

ارے بدھی۔ پن کمانا ہے تو رام کا نام جپ، زیادہ پُن کمانا چاہتی ہے تو چلی جا کر سیوا کے لیے اجودھیا۔ موہر چماروں کو ورغلا کے ہی پُن کمائے گی کیا؟‘‘ (۴۲)

یہی سبب ہے کرملّی کو اپنا سینٹر چلانے میں بڑی دقّتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ لاکھ کوششوں کے باوجود موسہر ٹولے اور میاں ٹولے کے لڑکے بالے اور عورتیں سنٹر آنے کو تیار نہ ہوتے۔ بڑی منت سماجت اور کوششوں کے بعد جو دو چار بچے ہاتھ آتے وہ ہفتہ دس دن میں بھاگ جاتے۔ پروجیکٹ افسر کو جورپورٹ جاتی اس میں نئی بھرتی کے مقابلے میں ’’ڈراپ آؤٹ‘‘ کا کام کہیں زیادہ بھرا ہوا ہوتا۔ امرائی گاؤں میں چودھری خاندان کی دبنگائی عروج پر تھی۔ باقی ذات برداری کے افراد بڑی مشکل گزار رہے تھے۔ خاص طور سے موسہر ٹولے میں رہنے والے ہندو، نیچ ذات کے لوگ اور میاں ٹولے کے مسلمان ان کی ظالمانہ حرکتوں کے شکار ہو تے۔ ان کی روداد اور بپتا سننے کے لیے حکومت بھی تیار نہیں ہوتی۔ در اصل جس کا ساشن اسی کا پرساشن ہوتا ہے۔ ’’بھیڑیئے‘‘ کا بنیادی موضوع سیاسی اور سماجی ہے حکومت فسطائی طاقتوں کی تھی اور چودھری صاحب کی پشت پناہی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کر رہی تھی یہی وجہ ہے۔ مندر، مسجد کا فرقہ واریت اور نچلی ذات کے مسائل عروج پر تھے۔ ہر فرد سہما سہما ڈرا ڈرا اور خوف زدہ تھا۔

جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں چودھری ایک بے خوف اور نڈر کردار ہے۔ اس کی سر پر فسطائی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔ اسی لیے اسے نہ پولس کا ڈر تھا اور نہ ہی سماج کا اپنے مقصد کو پانے کے لیے ہر حد سے گزر جانا اس کا شیوہ تھا۔ گھر میں خاندان کے مرد آ گئے تھے۔ مردوں میں چاچا چودھری اس کا بڑا بیٹا نند کشور اور چار گھنی، چڑھی ہوئی مونچھوں والے چار لٹھیت، گاؤں میں الیکشن کا دور ہے، انجو رانی نے آٹے کی پرات سرکاتی، ارہر کی لکڑیاں جوڑ کر آگ تیز کی اور مشین کی سی تیزی سے روٹیاں ڈالنی شروع کر دیں۔ ’’سنا کہ جبار مارا گیا نند کشور کے بابو؟‘‘ چاچی نے دریافت کیا۔ یاد رہے جبار کھیتوں کا مزدور ہی نہیں بلکہ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے والا فرد بھی تھا۔ وہ انجو رانی کے گھریلو کام بھی کرتا تھا:

’’ہم جبار کا برا نہیں چاہتے تھے۔ سسرا نہ جانے کہاں سے وہاں پہنچ گیا تھا‘‘ چاچا نے بے پروائی سے نوالہ توڑتے ہوئے کہا۔ ’’برا تو ہم میاں ٹولے کے کسی آدمی کا نہیں چاہ رہے تھے۔ لیکن ستیارتھی جی کے بل پر کچھ زیادہ ہی کودنے لگے تھے وہ لوگ۔ کھانے کو ہے نہیں چلے راج نیتی کرنے۔۔۔ راج پاڑہ سے ستیار تھی جی جیتیں گے ہمارے جیتے جی؟ میاں تو میاں آدی واسی ہریجن سب کو ورغلا رکھا ہے۔ وہ بھی ان کے ساتھ ہو گیا ہے۔ کہتا ہے مندر بننا ضروری نہیں ہے۔ ہم کو روٹی چاہئے پوچھو سالے روٹی کیا مر کے کھاؤ گے؟‘‘ (۴۳)

دیہاتوں میں سیاست طاقت کے زور سے چلتی ہے۔ کہاوت ہے جس کی لاٹھی اسی کی بھینس لیکن فسطائی ذہنیت رکھنے والی جماعت کی سیاست مندر و مسجد کے اردگرد گھومتی ہے۔ مندر کی سیاست نے نہ صرف شہروں کے ماحول کو گندہ کر دیا ہے بلکہ دیہی علاقوں کا ماحول بھی زہر آلود کر دیا ہے۔ آج مندر مدعا روٹی سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ اس مسئلہ نے ملک میں ہندو اور مسلمان کے درمیان دراڑ پیدا کر دی ہے۔ انجورانی کو جبار کے مرنے ہی کا غم نہیں بلکہ اسے انسانیت کے مرنے کا درد تھا وہ سوچتی ہے:

’’پانچ لوگ جو اور مارے گئے وہ بھی تو اپنے اپنے گھر والوں کے پیارے ہوں گے۔ مرنا کون چاہتا ہے۔ لنگڑا، لولا، بیمار، بوڑھا، بھی نہیں چاہتا کہ اس کے سر پر بم پھوٹے اور وہ مر جائے۔ انجو کو محسوس ہوا آج وہ کھانا نہیں کھا سکے گی۔ اس کا کلیجہ مونہہ کو آ رہا تھا۔‘‘ (۴۴)

لیکن چودھری اور اس کے بیٹے نند کشور کو اس حادثہ کو کوئی غم نہیں تھا۔ ان کی دبنگائی کا عالم یہ ہے کہ انہیں نہ قانون کی کوئی پرواہ نہ ہی پولس کا کوئی خوف تھا:

’’پولس تو ابھی نہ آئی ہو گی؟‘‘ ایک شخص نے پوچھا

’’پولس سسری کل دو پہر تک بھی آ جائے تو جلدی جانو‘‘

’’آنے دو سالوں کو۔ ہمارا کیا لے جائیں گے۔‘‘ چاچا نے کھانا ختم کرتے ہوئے کہا۔ (۴۵)

افسانہ کا بنیادی موضوع سیاست کی بگڑتی صورت حال ہے۔ خصوصی طور سے انتہا پسند جماعتوں کے ظلم و ستم اور ان کی دبنگائی اس کا مرکزی خیال ہے۔ چودھری کی یہ دبنگائی صرف دیہات کے کمزور، دلت اور مسلمانوں ہی پر نہیں بلکہ گھریلو زندگی میں عورتیں بھی اس کی سخت گیری سے پریشان اور خوف زدہ دکھائی دیتی ہیں۔ خصوصی طور سے انجو رانی ان کے ظلم و ستم اور دباؤ کا زیادہ شکار ہے۔ پوری کہانی میں دبی، کچلی، سہمی نظر آنے والی انجو رانی برج کشور کی بیوی ہے جو چودھری کے مرحوم چھوٹے بھائی کا اکلوتا لڑکا ہے۔ گونگا اور بہرا۔ اس کی دو بہنیں تھیں جن کا بیاہ کرا دیا گیا اور برج کشور کو گو نگوں اور بہروں کے اسکول میں داخلہ دلوا کر بڑھایا گیا۔ علاقے کے ایم۔ ایل۔ اے کی سفارش پر اسے سرکاری نوکری سے بھی لگوا دیا تھا۔ رہنے کو چھوٹا موٹا کوارٹر بھی ملا ہوا تھا۔ برج کشور کی ماں کارواں رواں جیٹھ کے احسانوں تلے دیا ہوا تھا۔ ان کی مجال نہیں تھی کہ وہ جائیداد کے بٹوارے کی بات کریں۔ وہ تو اپنی ہر بات کا آغاز اس جملے سے کرتی تھی ’’بھائی جی نہ ہوتے تو‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برج کشور کو نوکری ملنے کے بعد وہ ایسے بھی گھر سے الگ تھلگ اس کے ساتھ شہر جا کر رہنے لگی تھی۔ جیٹھ اور ان کے لڑکے کے سیاست میں قدم رکھنے کے بعد گھر میں جو فضا بنی تھی وہ انہیں پسند نہیں تھی۔ ویسے بھی ہندو سماج میں جیٹھ کی بہت ہی عزت اور وقعت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ جیٹھ کی اولادوں کو بھی وہی مان سمان دیا جاتا ہے جو جیٹھ کو حاصل ہوتا ہے۔

انجو رانی کی شادی کا قصہ بھی عجیب وغریب ہے۔ برج کشور کی ماں کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بیٹے کی شادی معذور لڑکی سے کرے گی اور اس نے اور اس کے بیٹے نے ایک گوں گی بہری لڑکی کو پسند بھی کر لیا تھا۔ جب برج کشور کی ماں نے اس کا ذکر کیا تو چودھری بلیوں اچھلنے لگا:

’’جنانی کی عقل پاؤں میں ہوتی ہے‘‘ چاچا (چودھری) زور سے بولتا ہوا اٹھ گیا۔ ’’ارے ہم لائیں گے دنکے کی چوٹ۔ گاؤں کی صحت مند، سگھڑ بہو۔ دو چار درجہ پڑھی بھی ہے۔ بی۔ اے۔ ایم۔ اے۔ ایک ہمیں کیا کام۔ وہ بھی شہر کی لڑکی۔ ہمارا لڑکا گونگا ہے تو ہم لڑکی بھی گوں گی لائیں۔ کون سے شاستر میں لکھا ہے؟‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے انجو رانی کا گھرانہ کافی عرصے سے تاک رکھا تھا۔ ان کی برادری میں اتنے غریب لوگ مشکل سے ملتے تھے۔ اوپر سے لڑکی ماما کے گھر رہ کر پلی تھی۔ ماں مر چکی تھی۔ باپ دوسری شادی کر کے بیوی بچوں میں مگن تھا۔‘‘ (۴۶)

غریبی ہندوستان کا مقدر بن چکی ہے۔ آزادی کے ملنے کے بعد آج تک ہندوستان کو اس سے نجات نہیں ملی ہے۔ غریب گھرانوں کے لیے لڑکیوں کی شادی بیاہ کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ اوپر سے جہیز کی لعنت نے اس مسئلہ کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے۔ غریب لڑکیوں کے لیے ان کی پسند ناپسند کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وہ بھی ایسے کھاتے پیتے با رسوخ گھرانے کی انجو رانی بہو بنے جو بن ماں کی لڑکی ماما کے گھر رہ کر پلی ہو۔ چودھری نے تلک جہیز کچھ نہیں مانگا۔ انجو رانی کے گھر کے لوگ نہال ہو گئے۔ ایک بوجھ تھا جو سیج موج میں اتر گیا۔ ادھر چودھری گھرانہ کو انجو رانی سے اچھے سے سنبھال لیا:

’’خدمت گزار اور نیک۔ وہ ایسا پرزہ ثابت ہوئی۔ جس کی کمی لمبی چوڑی گرہستی کی گاڑی میں بہت دن سے کھٹک رہی تھی۔ چوبیس گھنٹے چلنے والے سیاسی چولھے سے لے کر چاچی کی ساری بیماریاں بھینسال کی بھینسوں سے لے کر ہالی اور ہل بیل مزدوروں سے لے کر ٹھیٹ، سب اس نے سنبھال لیے تھے۔ اس کا دن اٹھارہ گھنٹے کا ہوا کرتا تھا۔ وہ کب سونے گئی اور کب سو کر اٹھی، یہ کسی کو پتہ ہی نہ چلتا۔‘‘ (۴۷)

اس طرح چار برس گزر گئے۔ گھونگھٹ کے اندر خاموش آگ میں انجو رانی جلتی رہی۔ اس کے یہاں کوئی اولاد بھی نہیں ہوئی کہ اس کے بہانے جانے کے لیے کہتی۔ گھر کی اصل مالکن بھی نند کشور کی بہو تھی۔ جب چاہتی میکے جاتی جو چاہتی کرتی۔ کئی بیٹے پیدا کئے تھے۔ انجو رانی کا شوہر نوکری کی مجبوری کی وجہ سے مہینہ دو مہینہ میں آتا تھا۔ برج کشور تائی اور تاؤ کے خوف سے انجو رانی کو اپنے ساتھ رکھ نہیں سکتا تھا۔ کرملی ہی انجو رانی کے خطوط لے کر جاتی تھی۔ بار بار خط میں اس کے آنے کا انتظار اور اپنی تنہائی اور مجبور یوں کا ذکر کرتی۔ کرملی سے چودھری خاندان کو بغض تھا۔ نند کشور انجو رانی پر بڑی نظر بھی رکھتا تھا۔ ایک دن وہ اس کے کمرے میں گھس آیا:

’’فکر کی کوئی بات نہیں۔ ہم ہیں نا۔ اس نامرد کی پروا کیوں کرو تم؟ آج تک ایک چوہیا کا بچہ بھی نہ پیدا کر اسکا۔ ایک ہماری والی ہے۔ سال میں نو مہینے تو میکے بھاگی رہتی ہے اصل بہو تو تم ہو۔ ساراگھر تمہارے حوالے ہے۔ تمہاراحق کہیں نہیں جائے گا۔‘‘ (۴۸)

الیکشن منصوبہ بند دھاندلیوں کے ساتھ ہوا۔ ستیار تھی جی بری طرح ہارے اور چودھری کی پارٹی جیت گئی۔ اگلی مرتبہ چودھری خود الیکشن میں کھڑا ہو گا۔ اس کی اطلاع انجو رانی کو ملی۔ اس نے اپنے شوہر برج کشور کو چھٹی لکھی کہ اب وہ یہاں ایک پل بھی اور نہیں رہے گی۔ وہ اس کی بیاہتا ہے اس لیے وہ آ کر رخصت کرا لے جائے ورنہ پنچایت بلائے گی۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ اس کے جیٹھ کی نیت میں کھوٹ معلوم ہوتا ہے۔ کرملی نند کشور کی عقابی نظروں کی گرفت میں آ گئی اور خط پکڑا گیا۔ پھر کیا تھا گھر میں طوفان آ گیا۔ چودھری آنگن میں دہاڑنے لگا گھر سے نکالنے کی دھمکی دی۔ چاپی نے بہو کو نہ نکالنے کی منت کی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ کون ملے گا جو سارا گھر سنبھال لے۔ یہاں بھی چودھری کی مکاری اور دبنگائی کا نمونہ دیکھیں:

’’جنانی کی عقل پاؤں میں۔ اے نکال کون رہا ہے۔ بس ذرا مزا چکھانا ہے۔ جائے گی کہاں؟ اس کا بھلکڑ ماما تو دوسرے دن ہی یہاں لا کر ڈالا جائے گا اور برج کی ماں کی بھی مجال نہیں کہ ہماری مرضی کے بغیر بہو کو لے جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کلچھنی کو بیاہ کر لائے۔ ہم اور یہ یہاں رہنا نہیں چاہتی۔ دیوتا جیسے جیٹھ پر الزام لگاتی ہے۔ گھر کی عزت پنچایت میں نیلام کرنے کو کہتی ہے۔ جا نکل جا یہاں سے ابھی چلی جا۔ بہو کا گزارا ہے اس گھر میں۔ رنڈی پتریا کا نہیں۔‘‘ (۴۹)

افسانہ کے مختلف پہلوؤں میں سے ایک پہلو یہ بھی نکلتا ہے کہ مسلمانوں کی سیاست میں حصہ داری کو فسطائی طاقتیں ختم کرنا چاہتی ہیں۔ انہیں سیاسی طور پر بے دم اور بے وقعت کرنے کا اپنا نظریہ ہے۔ بابری مسجد گرائے جانے کے بعد جو مسلمانوں کی سیاسی صورت حال ہے وہ چودھری کی زبانی:

’’یہاں تم کو رہنے کا ادھیکار دیا ہم نے۔ مسجد بنانے دی ہم نے۔ ووٹ کا ادھیکار دیا ہم نے۔ زمین میں ہل چلانے دیا ہم نے۔ اب تم ووٹ دو گے ستیار تھی جی کو۔ یاد رکھو ہم چاہیں گے گیہوں کی فصل کی طرح تمہیں درانتی سے کاٹ کر پھینک دیں گے۔ مسجد کی ایک ایک اینٹ اکھاڑ لے جائیں گے۔ جب ہم سرکار کی ناک کے نیچے سے اکھاڑ لے گئے تو تم کس گنتی میں ہو؟ پورے میاں ٹولے کو سانپ سونگھ گیا۔ چھاتی ٹھونکتے چاچا کے گرگے پگڈنڈیوں پر دند مچاتے گزر گئے تھے۔‘‘ (۵۰)

ہندوستان کے زیادہ تر گاؤں میں لٹھ، بندوقوں اور طاقت کے بل بوتے پر سیاست چلتی ہے۔ خاص طور سے پردھانی کے الیکشن میں دو پھاڑ ہو جاتے ہیں اور اپنے اپنے Candidate کو جتانے کے لیے خون خرابے ہونا، گولی چلنا، بھالے برچھی چلنا عام بات ہے۔ نمائندے اپنے ساتھ غنڈے، بد معاش اور پالتو ٹھیٹ رکھتے ہیں:

’’چاچا کبھی کسی سے نہیں ڈرا تھا۔ اس کے پاس طاقت تھی۔ روپئے کی اور ٹھیتوں کی اور اونچی ذات کی اور بہت تیز چلنے والے جوڑ توڑ لگانے والے غریب لوگوں سے بھرے اس گاؤں میں جب چاہے آفت برپا کر سکتی تھی، کسی بھی دل کو دہشت سے بھر سکتی تھی، کسی بھی جسم کو پارہ پارہ کر سکتی تھی۔‘‘ (۵۱)

اونچی ذات والے اس لیے نہیں ڈرتے کہ ان کے پاس ساشن بھی ہے اور برساشن بھی۔ عام طور پر غرباء اور نچلی ذات کے مظلوم، مقہور اور کمزور ہوتے ہیں۔ سوچی سمجھی سازش کے تحت ان کو دولت اور تعلیم سے محروم رکھا گیا۔ مذہب کی آڑ لے کر اُن کے ساتھ ظلم و ستم کیا گیا ہے اس کی تاریخ گواہ ہے۔ ہندو فلسفہ کے مطابق سماج کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ برہما کے سر سے پیدا ہونے والی مخلوق برہمن کہلائی۔ تعلیم دینا، پوجا پاٹ کرنا، مذہبی رسومات ادا کرنا، شاسن کو مشورے دینا ان کا کام ہے۔ چھتری برہما کے بازوؤں سے پیدا ہوئے اس لیے چھتری کے پاس باہو بل کی طاقت ہوتی ہے۔ اس کا کام ملک کی حفاظت کرنا اور جنگ و جدال کرنا۔ انہوں نے بھی اپنے ظلم و ستم میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایسے واقعات سے روزانہ اخبارات بھرے پڑے ہوتے ہیں۔ ویش پیٹ سے پیدا ہوئے ملک کی معیشت اور اقتصادیت ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ان کا پیشہ تجارت اور بزنس ہے۔ نتیجتاً زیادہ دولت اسی طبقہ کے ہاتھ میں گھوم رہی ہے۔ غریب طبقہ خصوصی طور سے نچلی ذات کے لوگ اقلیتی گروہ دن بدن غریب سے غریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس طرح ملک نہ صرف سماجی طور سے تقسیم ہوا ہے بلکہ معاشی سطح پر بھی پورا ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔

نچلی ذات کا طبقہ شودر کہلاتا ہے جس کے ذمہ گندے کام کرنا ہے صفائی ستھرائی میلا ڈھونا، مردہ جانوروں کی کھال اتارنا اونچی ذات والوں کی خدمت گزاری کرنا۔ ایسی سوچ کی وجہ سے چھوٹی ذات کے لوگ ان کے ظلم و ستم کا شکار رہے۔ اگر کسی ہندو مذہبی کتاب کے اشلوک غلطی سے بھی نیچی ذات کا آدمی سن لے تو ان کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیا جاتا تھا۔ اعلیٰ ذات کے سامنے وہ بیٹھ نہیں سکتا۔ اگر بیٹھے گا تو زمین پر بیٹھے گا۔ پیروں میں جوتے نہیں پہن سکتا ہے۔ اگر اس کی پرچھائیں بھی کسی برہمن یا سادھو کے اوپر پڑ جائے تو پنڈت اپوتر ناپاک ہو جاتا اور اس کو اسنان کرنے کی نوبت آ جاتی۔ اگر کوئی غلطی کر دے تو اس کے سر پر جوتے برسائے جاتے۔ ایسے ایسے مظالم جس سے انسانیت کی روح کانپ جائے۔ ہندوستان کی تاریخ ایسے روح فرسا واقعات سے بھری پڑی ہے۔

افسانہ کا عنوان ’’بھیڑئیے‘‘ علاقائی سطح پر اپنی معنویت کا حامل ہے۔ بھیڑیا ظلم، نا انصافی اور بربادی کی علامت ہے۔ امرائیوں کے بھوکے بھیڑیوں کے درمیان انجو رانی اپنی معصومیت اور مظلومیت کے ساتھ برہنہ کھڑی ہے جس کی داد و فریاد سننے کے کوئی بھی نہیں ہے۔ امرائی میں رہنے والے کمزور اور پس ماندہ انسان بھی خوف و ہراس میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ظلم کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کو نہایت مایوسی کے عالم میں برداشت کر رہے ہیں۔ ان کے پاس نہ احساس نفس ہے اور نہ ہی خودداری ہے۔ مقابلہ کرنے کی ہمت تو ہے ہی احتجاج کرنے کا مادہ بھی نہیں ہے بلکہ انہوں نے اپنے آپ کو ان بھیڑیوں کے ہاتھوں میں سونپ دیا ہے کہ جو چاہے کرو، ہم تمہارے لیے نرم چارہ ہیں۔ جس طرح چاہے استعمال کریں۔ بھیڑئیے کی علامت کے معنی خود مصنفہ وضاحت کرتی ہے:

’’بھیڑئیے جو طاقت ہیں۔ طاقت جو روپیہ ہے۔ طاقت جو ہتھیار ہے۔ طاقت جو ریگستانوں کے کنوؤں میں تیل بن کر بہتی ہے۔ طاقت جو سیاسی بازی گروں کی ٹیڑھی عقل ہے طاقت جو پنچایت کے پنجوں کو خرید لینے کی صلاحیت ہے۔ طاقت جو مرد کی جنسی برتری ہے۔ طاقت جو قتل کو خودکشی اور نسل کشی کو فساد کہلوانے کی قدرت ہے۔‘‘ (۵۲)

اس مرد اساس کائنات میں مردوں کو بالا دستی حاصل ہے۔ اس لیے عورت کو مردوں سے نہ کوئی سوال کرنے کا حق ہے اور نہ ہی اس سے احتجاج کرنے کی بلکہ اس کی حیثیت ایک ٹنڈ منڈ پتے جھڑے خزاں رسیدہ درخت کی طرح ہو گئی ہے کیونکہ انجو رانی کو معلوم ہے کہ کمزوروں کے لیے کال چکر سے باہر نکلنے کی تمام راہوں پر بھیڑئیے پہرہ دیتے رہتے ہیں۔ اس لیے اس چکر ویو سے نکلنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ آخر کار مایوسی اور بے بسی کے عالم میں چاند کے حوالے سے وہ خالق کائنات کے دربار میں ہی سوال ڈالتی ہے کہ شاید وہاں اس کا کوئی جواب ملے:

’’انجو رانی نظریں اٹھا کر چمکتے چاند کو دیکھا۔ خاموشی کی زبان میں اس سے پوچھا۔ اے خدا کی قدرت کے مظہر کیا تم نے خدا کو دیکھا ہے؟ کیا خدا کہیں ہے؟ ملے تو پوچھوں کہ جنہیں تم طاقت سے نوازتے ہو ان کا ضمیر کیوں چھین لیتے ہو؟ ان کے دلوں سے درد کیوں ختم کر دیتے ہو؟(۵۳)

ایسے الجھے سوالوں کا جواب وہاں بھی ندارد تھا اس کی اس بیوقوفی پر امرائی کا کوئی لکڑبگھا زور زور سے ہنس رہا تھا اور وہ شرمندہ تھی عورت کی مجبوری اور محرومیت پر سوائے اس کے وہ کیا کر سکتی تھی کہ اپنا سر جھکائے اپنی کوٹھری میں واپس چلی جائے۔ یہی افسانہ کا اختتام ہوتا ہے جو بہت ہی موثر اور مایوس کن ہے غریب، کمزور انسانوں کی زندگی کی طرح۔

٭٭

 

فضلو بابا ٹخ ٹخ

 

افسانہ ’’فضلو بابا ٹخ ٹخ‘‘ کے عنوان سے جاسوسی کہانیوں جیسی پراسراریت ظاہر ہوتی ہے لیکن سماجی ربط و ضبط اور تہذیبی اقدار کے اظہار پر مبنی کہانی ہمیں ایک نئی کائنات کی سیر کراتی ہے۔ افسانہ عناصر ترکیبی کی ترتیب میں کہانی ابتدا کچھ اختتامیہ میں ہوتی ہے لیکن مذکورہ افسانہ کے وسط میں مستتر ہے۔ تکنیکی سطح پرافسانہ در افسانہ کی نہج پر کہانی کی تشکیل کی گئی ہے جو اس کا انفراد ہے ایک انوکھی تکنیک کے ساتھ افسانہ ہمارے سامنے مؤثر انداز میں نمودار ہوتا ہے اس طرح اپنی تکنیکی اور تخلیقی بنیاد پر فن کا بہترین نمونہ بن گیا ہے۔

’’فضلو بابا ٹخ ٹخ‘‘ ایک چھوٹے سے شہر سلطان پور (اودھ) کے ارد گرد گھومتا ہے۔ پورا افسانہ او دھی بول چال اور وہاں کی زبان پر منحصر ہے۔ خصوصی طور سے فضلو جو افسانہ کا بنیادی کردار ہے۔ اس کی چال ڈھال، انداز گفتگو اور بولی تمام تر اودھی ہے۔ اودھی زبان کے فقرے، کہاوتیں اور محاروں کا برجستہ استعمال سے کرداروں کو زندگی دینے کا فن مصنفہ کو بہت عمدگی سے آتا ہے۔ مذکورہ افسانہ کا کردار اور فضلو جس کے چاروں طرف کہانی گھومتی ہے وہ نہایت متحرک اور جاندار ہے۔

ذکیہ مشہدی کے افسانوں میں تہذیبی علامت کے پیچھے ان کا پورا ذہنی اور فکری رویہ کام کرتا ہے۔ فضلو بابا ٹخ ٹخ میں یکہ، بھگی اور گھوڑا تہذیبی امور کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بھلے ہی اس جدید دور میں ان کی کوئی اہمیت نہیں لیکن سلطان پور جو او دھ کے علاقہ کا کبھی ایک چھوٹا سا شہر رہا ہے۔ اس میں ماضی میں تانگہ، بگھی بطور سواری استعمال ہوتے ہیں۔ معزز گھرانہ کی مستورات کا تانگہ کے چاروں طرف چادریں باندھ کر سفر کرنے کا رواج تھا جو بعد میں رکشہ میں سواری کرنے کا معمول بنا۔ رکشہ کے چاروں طرف پردہ باندھ کر خواتین طبیب اور قریب میں رہنے والے عزیز اقربا کے گھر جانے لگیں۔ یہ وقت کے ساتھ ضرورتوں کے مطابق تہذیبی بدلاؤ اور تہذیبی تنزلی کے نشانات ہیں:

’’ارے بٹیا سوجھے (سیدھی طرح) بیٹھو۔ ابھی جائے کو ہے پانچوں پیرن، ڈاکٹر تاراچرن کی ماتا جی منت مانے رہیں۔ سو جات ہیں چدر لے گئے‘‘

’’ہم بھی چلیں فضلو بابا؟‘‘

’’پانچ موٹکی موٹکی مہراروں ہیں سب جوڑ کے تم کہاں بیٹھیو بیٹا؟‘‘ وہ ایکے سے شکر قند کی ٹوکری اتارتے ہیں جو گنوں کی پھاندی کے ساتھ آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ (۵۴)

اس افسانہ کا راوی واحد متکلم ہے اور راوی ایک افسانہ نگار ہے۔ افسانہ نگار افسانہ میں افسانہ کی تکنیک، اس کے ترکیبی عناصر کی تشکیل، اس کی ساخت کے تین حصے ابتدا، وسط اور اختتام کی بنت میں کہانی پن لانے کے عمل کو کار آمد بنانے کی ایک کامیاب سعی کی گئی ہے۔ اس لیے تکنیکی سطح پر یہ افسانہ فنکاری کی دلیل بن جاتا ہے۔ فضلو اور راوی کے درمیان میں ہونے مکالمہ میں کئی رازوں کا انکشاف ہوتا ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ مکالمہ اودھی زبان میں ہے۔ دوسرے ڈاکٹر تارا چرن کی ماتا جی نے چدر چڑھانے کی منت مانی ہے۔ یہ گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے کہ ماضی میں ہندو مسلمان دونوں قومیں مل جل کر رہتے تھے اور چادر چڑھانے کی منت والی رستم پر ہندو عورتیں بھی یقین رکھتی تھیں۔ تیسرے سلطان پور جو ایک چھوٹا سا شہر تھا لیکن دیہاتوں جیسی زندگی بسر کر رہا تھا۔ شکر قندی کی ٹوکری اور گنوں کی پھاندی اس کی نشاندہی کر رہی ہے۔

یہاں یہ ذکر ضروری ہے ذکیہ مشہدی بنیادی طور سے لکھنؤ کی رہنے والی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم لکھنؤ یونیورسٹی میں حاصل کی لیکن ایک زمانے سے پٹنہ میں مقیم ہیں۔ ایک تخلیق کار کی حیثیت سے ان کے افسانوں میں اودھ اور مشرقی اتر پردیش کی تہذیب کا پس منظر اور بہار کے گرد و نواح علاقوں کی تہذیب کا ایک حسین امتزاج ملتا ہے۔ اس افسانہ میں مصنفہ کا سلطان پور جو اودھ کام ایک چھوٹا سا شہر تھا، جس میں ان کا بچپن گزرا، اس کا عکس نظر آتا ہے۔ افسانے کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے کہ مصنفہ بچپن سے کہانی سننے کی شوقین تھی کہ والد کے پرانے دوست شمسی چچا پرنسپل طیبہ کالج سے کہانی کی فرمائش کرتی ہے۔ وہ دو پہلو انوں آلتو خاں فالتو خاں چڑاتے خاں مارتے خان دونال خان بے دھڑک اور امیرو خاں طمیرو خاں، لنگڑا چمرچا خاخاں چی وٹی وٹی کی کہانی سناتے ہیں۔ دونوں پہلوانوں کے نام بھی عجیب و غریب اسی لیے ہیں کہ پچپنے میں دادا دادی، نانا نانی ایسی کہانیاں سناتے تھے تاکہ بچے اور بڑے حیرت انگیز مسرت سے محفوظ ہو کر کہانی سنیں۔ دوسرے کرداروں کا پہلوان ہونا، جن دیو، بھوت پریت ہونا پرانے وقتوں کی تہذیبی علامت بھی ہے۔ افسانے کی ارتقائی تاریخ بھی داستانوں سے شروع ہوتی ہے جس کے کردار بھی مافوق الفطرت عناصر ہوا کرتے تھے۔ بات دونوں پہلوانوں کے بیچ کشتی لڑ کر خود فیصلہ کرنے تک پہنچتی ہے چونکہ دونوں غیر معمولی طاقت کے حامل تھے۔ جن کے چلنے پھرنے اور کھانے پینے سے زلزلہ آ جاتا تھا۔ نباتات اور جاندار سب ہی ان کی غیر معمولی طاقت سے پریشان تھے۔ جنگل کے چرند پرند، پنکھ پکھیرو، آدمی ان کی روز روز کی دھمکیوں سے عاجز تھے۔ اس لیے کشتی کے فیصلہ کے منتظر بھی تھے تاکہ دیگر مخلوق چین اور امن کی زندگی بسر کر سکیں۔ کہانی ابھی پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ اسی وقت چچا زوار حسین نازل ہو گئے اور کہانی کی ابتدا نے اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا اور سننے کا تجسس پیدا ہو گیا تھا۔ سامع بے چین ہے کہانی سننے کے لیے۔ یہاں نکتہ بھی ہے کہ کہانی سنی جائے یا پڑھی جائے۔ اس کی ابتدا اس طرح ہو کہ سننے پڑھنے کے انسان بے چین ہو جائے۔ یعنی اس کی دلچسپی شروع سے قائم ہو جائے۔ تجسس بے چین کر دے پڑھنے اور سننے کے لیے۔ اس وقت کہانی میں ایسا اڑنگا لگا کہ کہانی ادھوری رہی تو رہ گئی۔ راوی لکھنؤ واپس چلا گیا۔ بچی اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں خط لکھتی ہے کہ کہانی پوری کر دیں۔ جواب ملتا ہے کہ کہانی کہیں خط میں لکھی جاتی ہے بے وقوف راوی کا یہ جملہ بڑا معنی خیز ہے ’’کہانی تو آس پاس گھومتی رہتی ہے۔ اسے پکڑوں تو سناؤں‘‘ غور کریں زمانہ ترقی کی دوڑ میں کتنا ہی بڑھ جائے لیکن کہانی سننے کہنے کا عمل انسان کی فطرت میں داخل ہے کیونکہ کہانیاں، واقعات، حادثات اس کے ارد گرد گھومتے رہتے ہیں۔ نظر چاہیے اس کو پکڑنے کے لیے:

’’بعض واقعات کہیں گہری کسک چھوڑ جاتے ہیں جیسے اس کہانی کا ادھورا پن جو آج بھی پھانس بن کر دماغ میں گڑا ہوا ہے۔ اور اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب جبکہ میں خود آس پاس گھومتی کہانیوں کو پکر پکڑ دوسروں کو سناتی رہتی ہوں تو سوچ رہی ہوں کہ اس کہانی کو بھی خود ہی مکمل کر کے اپنے آپ کو سنا دوں تاکہ میرے اندر جو ننھی بچی چھپی بیٹھی ہے وہ مجھے تنگ کرنا چھوڑ دے‘‘۔ (۵۵)

اس اقتباس میں کئی پہلو نکلتے ہیں مثلاً میرے اندر جو ننھی بچی چھپی بیٹھی ہے۔ انسان کا کسی بھی عمر میں پچپن سے تعلق نہیں چھوٹتا۔ بچپن تو گزر جاتا ہے لیکن اس کی یادیں ذہن و شعور کے کسی کونے میں پیوست ہوتی ہیں۔ اختر الایمان کی مشہور نظم ’’ایک لڑکا‘‘ میں اس موضوع کا اظہار ہے کہ ہر لمحہ ایک لڑکا میرے ساتھ چلتا ہے۔ مذکورہ جملہ راوی کو ماضی میں گزرے ہوئے بچپن کی طرح لے جانے میں ایک فنی حربہ ہے اور افسانہ فضلو بابا کی جانب مڑ جاتا ہے جو اُن کے بچپن سے دیکھے بھالے کردار سے متعلق ہے۔ ’’فضلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے فضلو، ہمیں ایک چکر دلا کر لاؤ‘‘ گنا ختم کر کے وہ فضلو بابا کی آستین پکڑ کر اچھلنے لگتی ہے۔ اس طرح قاری کا فضلو بابا اور ان کے گھوڑے کے ایکہ سے تعارف ہوتا جس کی نسبت سے مذکورہ افسانہ کا عنوان ’’فضلو بابا ٹخ ٹخ‘‘ ہے۔ ٹخ ٹخ گھوڑا گاڑی کی آواز ہے جو بچوں کا دیا ہوا نام ہے۔

’’وہ دوبارہ ایکے پر سوار ہو جاتے ہیں۔ ٹخ ٹخ ٹخ ٹخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’فضلو بابا ٹخ ٹخ۔۔۔۔۔ فضلو بابا ٹخ ٹخ‘‘ محلے کے دوچار لڑکے تالیاں بجاتے یکے کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ ان میں موٹا بیوقوف پریم چند لوہیا سب سے آگے ہے۔ پیچھے سے اسماعیل جو اسماعیل پگلا کہلاتا ہے۔ اسے لہٹوکا دے رہا ہے۔‘‘ (۵۶)

افسانہ میں اصل کہانی وسط میں پوشیدہ ہے جہاں فضلو بابا کی ٹخ ٹخ اور اس کی زندگی کے گوشے اجاگر ہوئے ہیں۔ اودھ کے تہذیبی منظر نامہ بیان کیا گیا ہے۔ اقدار کا بکھرنا ثقافتی نظام کی ٹوٹ پھوٹ، صحت مند رسمیات کا زوال ہونا، ذکیہ مشہدی کے دیگر افسانوں کی طرح اس فسانہ کا بھی پس منظر ہے۔

’’اس وقت اس چھوٹے سے شہر سلطان پور اودھ میں لوگ باگ چار پانچ کوس کے لیے یکہ تانگا ہی استعمال کیا کرتے تھے۔ فضلو کی گھوڑی ہمیشہ صحت اور چاق و چوبند رہتی تھی اور یکہ درست۔ اس لیے ان کی سواریوں کا حلقہ شہر کے خواص پر مشتمل تھا۔‘‘ (۵۷)

اس زمانے میں اشرافیہ طبقہ کی سواری گھوڑا گاڑی ہوتی تھی۔ ان کی پردہ نشین مستورات یکہ میں سفر کرتیں۔ حکیم طبیب یا عزیز و اقارب سے ملاقات کرنے کے لیے گھوڑا گاڑی کا استعمال عزت دار ہونے کی نشانی تھی:

’’فضلو سے کہلا دی وہ آ گیا۔ وقت سے اب کسی سپہ سالار کی ضرورت نہیں کہ ساتھ چلے۔ اطمینان سے دور نزدیک جہاں چاہو ہو جاؤ، ڈاکٹر کے یہاں گھنٹوں کھڑا رکھ لو۔ یہ رشتہ اس وقت بھی قائم رہا جب رام پیاری (گھوڑی) مر گئی اور فضلو بابا رکشہ چلانے لگے۔ ان کے ایکے کی طرح ان کا رکشہ بھی کبھی اسٹینڈ پر جا کر نہیں لگا۔ وہ محلے کے ’’لگے ہوئے گاہکوں‘‘ کے یہاں کام کرتے تھے۔‘‘ (۵۸)

قسمت بھی عجیب عجیب کھیل کھیلتی ہے۔ فضلو کی گھوڑی جس کا وہ دل و جان سے خیال رکھتا تھا، اسے بڑے پیار سے رام پیاری کہتا تھا اچانک ان کی موت واقع ہونے کے بعد رکشہ چلانے لگا اور جب قویٰ کمزور ہوئے تو فضلو رکشہ چلانے کے قابل بھی نہ رہے اور وہ بازار میں ترکاری کا ٹھیلہ لگانے لگے۔ تین بیٹیاں تھیں تینوں کے بیاہ ہو چکے تھے۔ ایک بیٹا تھا بہت عرصہ پہلے وہ ممبئی بھاگ چکا تھا جہاں وہ درزی کا کام کرتا تھا۔ بیوی اللہ کو پیاری ہو چکی تھی۔ ایک اکیلا پیٹ پالنا ایسا بھاری نہیں تھا لیکن کچھ عرصے پہلے ایک داماد ان کی بیٹی کو مار پیٹ کر ان کے گھر چھوڑ گیا۔ اب اس کا پیٹ تو پالنا ہی تھا۔ بیٹی بیڑیاں بناتی تھی پھر بھی انتہائی عسرت میں زندگی بسر ہو رہی تھی۔ وہ اکثر سبزی تو لتے تولتے خلا میں تکنے لگتا اور دھیرے دھیرے بدبداتے‘‘ ٹخ ٹخ ٹخ ٹخ سنبھل کے بیٹا رام پیاری۔ شاید وہ اپنے ماضی کے عہد زریں میں لوٹ جاتے جب زندگی بڑی خوشگوار تھی۔

ذکیہ مشہدی کی کردار نگاری بہت جاندار ہوتی ہے۔ جس طبقہ سے وہ کردار چنتی ہیں اس کے سماجی اور معاشرتی زندگی پران کی نگاہ بہت گہری ہوتی ہے۔ کردار کی شخصیت کے تمام گوشے ابھارنے میں بڑی ہوشیاری سے کام لیتی ہیں۔ کرد ار کی نفسیاتی گرہیں کھولنے اور اس کے ایک ایک پہلو کو بڑی کامیابی سے اجاگر کرتی ہیں۔ فضلو کے کردار کے علاوہ مذکورہ افسانے کا ایک بہت اہم کردار تائی اماں کا کردار ہے جن کو فضلو اپنے تانگے میں بٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لے جانا قرابت داروں کے گھروں پر پہچانے کا کام وہ مستعدی سے کرتا تھا:

’’طبیعت کم بخت کیا ٹھیک رہے گی۔ اس بلڈ پریشر کا ستیاناس ہو۔ لگتا ہے لے ڈوبے گا‘‘ تائی اماں پردے کے پیچھے سے تفصیل بتانے لگتی ہیں کہ جانا ضروری تھا ورنہ گھر سے نہ نکلتیں۔ ’’اس وقت بھی سر بھاری ہو رہا ہے‘‘

’’کاہو، آج سبیرے سبیرے گھاس ناہیں کھائے رہئیو کا ٹھیک سے۔‘‘

’’ارے کم بخت، میں گھاس کھاتی ہوں؟ ستیا ناسی، تیرا بیل کا مونہہ ہو‘‘ تائی ماں ہتھے سے اکھڑ جاتیں‘‘

’’ہم تو رام پیاری کو کہت رہیں بڑ کی اماں، ’’فضلو بغیر شرمندہ ہوئے آرام سے جواب دیتے ہیں اور یکایک یکہ روک کر اتر جاتے ہیں۔‘‘ (۵۹)

ذکیہ مشہدی کے افسانوں کا غالب موضوع عورتوں کی نفسیات کا مطالبہ ہے۔ خانگی زندگی کے معاملات پر ان کی پکڑ بڑی مضبوط ہے۔ مندرجہ بالا مکالمہ میں فضلو اودھی زبان میں گفتگو کرتا ہے اور بڑی اماں مراد آباد کی رہنے والی تھیں اس لیے ان کی زبان اردوہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ عورتوں کی بولی اور ان کی زبان سے ادا ہوئے نسوانی محاورات کا وہ برجستہ انداز میں استعمال کرتی ہیں۔ مثلاً ستیا ناسی تیرا بیل کا مونہہ ہو، اس بلڈ پریشر کا ستیاناس ہو۔ لگتا ہے لے ڈوبے گا، تائی ماں ہتھے سے اکھڑ جاتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ، فضلو سے تائی اماں کی چیخ چیخ ہمیشہ چلتی رہتی لیکن پھر بھی کہیں جانا ہوتا تو انہیں کو بلاتیں۔ زیادہ بوڑھے ہونے کے بعد فضلو بابا اور تائی اماں، دونوں میں اور بھی بے میل خواص ہو گیا تھا۔ تائی اماں بے صبری اور چڑ چڑی ہو گئیں تھیں اور فضلو سست رفتار موڈی اور بکو ہو گیا تھا۔ ایک دن تائی اماں کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ فضلو کو ظہر کے بعد بلایا تھا اور وہ عصر کے بعد ہانپتے کانپتے آیا کیونکہ اس نے رکشہ چلانا شروع کر دیا تھا گھروں کے بچوں کو اسکول لے جانے لگے تھے۔ بچوں کو لے جانے کے چکر میں دیر گئی۔ اس دن تائی اماں خوب ناراض ہوئیں پھر رام پیاری کی طرح وہ بھی فضلو بابا کی زندگی سے خارج ہو گئیں۔

جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ مذکورہ افسانہ اپنی تمام تر تخلیقی اور فنی بنیاد پر ایک کامیاب افسانہ ہے۔ تکنیکی سطح پر بھی انوکھا ہے واحد متکلم میں لکھی گئی کہانی کی راوی خود مصنفہ محسوس ہوتی ہے۔

’’میں تو امیرو خاں، طمیرو خاں اور مارتے خاں بے دھڑک کی کہانی سنانے جا رہی تھی جو خوف و دہشت پیدا کرتے اور قبروں پر اپنا راج سنگھاسن جماتے۔ یہ فضلو بابا کہاں سے درمیان میں آ گئے میں بھی سٹھیا گئی ہوں‘‘ (۶۰)

افسانہ کی ابتدا یوں ہوتی ہے کہ بچپن گزرے صدیاں بیت گئیں۔ تب میں اپنے بزرگوں کی گود میں گھس کر کہانیاں سنا کرتی تھی۔ والد کے پرانے دوست اور کلاس فیلو شمسی چچا سے کہانی سننے کی ضد کرتی ہے اور وہ امیرو خاں، طمیرو خاں اور مارتے خاں کی کہانی شروع کرتے ہیں کہ اچانک اسی وقت چچا زوار حسین کے آنے پر کہانی کا سلسلہ ٹوٹ گیا:

’’امیرو خاں طمیرو خاں تو ایک کبھی نہ ختم ہونے والی داستان کی کردار ہے۔ شاید اسی لیے شمسی چچا بھی اسے کبھی پورا نہ کر سکے۔ لیکن ٹھہریئے۔ فضلو بابا کی کہانی میں بھی کیسے ختم کروں؟ ان سے ملے زمانہ گزر گیا۔ تین برس ہوئے کہ میں وطن نہیں گئی ہوں۔ وطن جسے عورتیں اپنی زبان میں مائکہ کہتی ہیں اور جو انہیں بہت عزیز ہوتا ہے۔ لیکن کہانی تو مکمل کرنی ہے۔‘‘ (۶۱)

مندرجہ بالا اقتباس سے افسانہ کے کئی گوشے کھلتے ہیں۔ مصنفہ کے شمسی چچا جو پرانے وقتوں کے تھے۔ ماضی بعید کا حوالہ بن جاتا ہے۔ صنف افسانہ کے ارتقائی نقطہ نظر سے کہانی کا سفر جو امیرو خاں طمیرو خاں اور مارتے خاں جیسے کرداروں کی داستان سے شروع ہو کر صنف افسانہ کے کردار فضلو بابا تک پہنچتا ہے۔ تکنیکی سطح پر کہانی کہنے کا یہ انداز افسانہ کے فن کو سمجھنے میں معاون بنتا ہے۔ دوسرے اودھ کا علاقہ مصنفہ کے مائکہ ہونے کا ایک اشارہ بھی ہے جو ماضی لکھنؤ کی زوال آمادہ تہذیب کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

مصنفہ اپنے بھتیجے کو فون کر کے فضلو بابا کے بارے میں پوچھتی ہے تو اطلاع ملتی ہے کہ بڑی عسرت میں زندگی گزر رہی تھی۔ ادھار قرض لے کر اپنی بیمار بیٹی کو دیکھنے کے لیے گئے۔ بدایوں اسٹیشن پر جو مسافر اردو کے نام پر ٹرین سے کھینچ کر مار دئے گئے ان میں فضلو بھی تھا۔ لاش بھی گھر نہ آ سکی۔ مصنفہ کو ایک جھٹکا لگتا ہے، اس کو صدمہ ہوتا ہے اور سوچتی ہے ’’ضرور اس کی حیران و پریشان روح آسمانوں کے درمیان چکراتی، گھومتی ہو گی اور پوچھتی ہو گی ’’ہم کاکا ہے مارئیو بھیا؟ ہم کا بگاڑے رہیں تہار؟‘‘

فضلو بابا وہ کردار ہے جس کی تہذیب میں ہندو و مسلمان ہو نا کوئی معنیٰ نہیں رکھتا۔ پیشہ کے لحاظ سے وہ ایک مزدور ہے جسے گھوڑا گاڑی ہو، رکشہ ہو یا سبزی بیچنا ہو انسانوں کی خدمت کرنا ہے۔ اسے اردو ہندی زبانوں سے کیا لینا دینا؟ ایک بے پڑھا لکھا عام آدمی جس کی زبان بھی اودھی تھی ایک علاقائی زبان جو امن اور آتشی کا پیغام دیتی ہے اور پھر زبان تو کسی بھی قوم و مذہب کی جاگیر ہی نہیں ہوتی۔ پھر زبان کے لیے انسانیت کا خون کیوں بہتا ہے۔ افسانہ کا خاتمہ بھی ماضی کی بازگشت پر ہوتا ہے:

’’سونے سے پہلے بالی سمیٹ کر ایک چوٹی گوندھ لینا میری عادتوں میں شامل ہے۔ لیکن یہ کیا اچانک آئینے سے میرا چہرا غائب ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ شانوں پر فضلو بابا کا چہرہ اگ آتا ہے۔ دہشت کی ایک سرد مہری میرے جسم میں دوڑ جاتی ہے اور برش ہاتھ سے گر جاتا ہے۔‘‘ (۶۲)

انسان زبان کے لیے مارا جائے یا مذہب کے نام پر قتل ہو، بہر حال دہشت گردی ہے اور اس دہشت گردی کا شکار بھی عام آدمی ہی ہوتا ہے۔ معصوم لوگ ہی بلوائے اور فسادات میں مارے جائے ہیں جن کا تاریخ میں کوئی ذکر بھی نہیں ملتا چونکہ یہ لوگ پنکھ پکھیرو، خرگوش، ہرن اور مینے کی طرح پرنہ کوئی افسوس کرتا ہے اور نہ ہی ان کی موت کی کوئی داد و فریاد ہے۔

٭٭

 

بکسا

 

ذکیہ مشہدی کے افسانوں کا مرغوب موضوع ہندوستانی عورت اور اس کے بنیادی مسائل ہیں۔ اپنے محبوب موضوع کے لیے انہیں کے خواتین کی نفسیات کا بہت گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ خانگی زندگی کے تعلقات، رشتوں کی عظمتیں اور ماں کی ممتا اولادوں میں مان کے لیے رغبت اور محبت بہن بھائیوں کے بیچ پیدا ہونے والے مسائل اور پیارو محبت کی نوک جھونک پر انہوں نے بہت عمدہ کہانیاں لکھی ہیں۔ بیوی اور شوہر کے درمیان ناہمواری اور خوشگوار رشتوں کی لذتیں انہوں نے اپنے افسانوں میں پیش کرنے کی سعی کی ہے۔

زیر بحث افسانہ ’’بکسا‘‘ میں بیوہ عورت کی تکلیفیں اور اولادوں کے لیے اس کی قربانیوں کا ذکر دردمندی اور ہمدردی کے ساتھ کیا ہے۔ موصوفہ نے اپنے افسانوں میں انسانی تعلقات کو فکری اور جذباتی بلندی عطا کی ہی ہے۔ افسانہ ’’بکسا‘‘ بھی فنی سطح اور تخلیقی بنیاد پر بہت عمدہ افسانہ ہے۔ بیوہ عورت کے حقیقی جذبات اور انسانی کیفیات کا عکس اس میں نظر آتا ہے۔ اپنے بچوں کی پرورش کرنے میں اسے کن کن دقتوں کا سامنا ہوا اس میں اس میں اس کا بخوبی اظہار ہوا ہے۔ ذکیہ مشہدی نے حالات و کوائف کا بہترین اظہار مذکورہ افسانہ میں کیا ہے۔ ان کے افسانوں میں لکھنؤ کی تہذیب کی چھاپ نظر آتی ہے۔ تہذیبی اقدار، صحت مند روایات، رسم و رواج، شادی بیاہ کے معاملات کا اظہار اس میں ملتا ہے۔ مصنفہ نے لکھنؤ میں آنکھ کھولی اس لیے اودھی تہذیب کو بہت قریب سے دیکھا۔ زمانہ کی ستم ظریفی، تہذیبی عروج و زوال کی کہانی، لکھنو کی معاشرتی زندگی اور مٹتی ہوئی اقدار کا اظہار بہت درد مندی سے کیا ہے۔ مذکورہ افسانہ بھلے ہی ایک بیوہ عورت کی درد بھری داستان ہے، پس منظر میں ہندوستانی مسلمانوں کے شاندار ماضی اور اعلیٰ اقدار کی بدلتی تصویر یں ہمارے سامنے ابھر کر آتی ہیں۔ دیگر انہیں لکھنو کی زبان و بیان پر مکمل گرفت حاصل ہے:

’’دن بھر کے سارے کاموں کے باوجود جن میں موسم کے مطابق ہاون دستے میں اچار کے مسالے کوٹنا بھی شامل تھا۔ ان کی چوڑیاں جلدی ٹوٹتی نہیں تھیں۔ چوڑی ٹوٹتے کے لیے وہ ٹوٹنا لفظ کبھی استعمال بھی نہ کرتیں۔ کہتیں ’’چوڑی مول گئی‘‘ ابا کے انتقال کے بعد امی کا چوڑی کا کیس نہ جانے کہاں غائب ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپا نے ذرا کی ذرا ڈھکن اٹھایا تو جیسے پورے کمرے میں روشنی پھیل گئی۔ ایک عورت کے سہاگ کی روشنی۔ جگ مگ جگ مگ کرتی فیروز آباد کے شیشہ گروں کے خون پسینے کی روشنی۔‘‘ (۶۳)

دیے گئے اقتباس میں الفاظ کی مناسب ترتیب واقعاتی منظر نامہ کا اظہار ہی نہیں بلکہ صاف و شفاف اور دھلی منجھی زبان مصنفہ کے تخلیقی جوہر کا مظہر بھی ہے۔ موسم کے مطابق ہاون دستے میں اچار کے مسالے کوٹنا متوسط گھرانے کی گرہستن عورت کی خانگی کی زندگی کی مصروفیت کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔ ہندوستانی تہذیب کی روایت رہی ہے کہ شوہر کے مرنے کے بعد بیوی کو چوڑیاں توڑ دی جاتی ہیں۔ اس لیے زیادہ تر عورتیں اپنے گھریلو کام کرنے کے حق میں بہت احتیاط پسند ہوتی ہیں کہ کہیں چوڑیاں نہ ٹوٹ جائیں۔ اگر اتفاق سے ٹوٹ جائیں تو مخصوص الفاظ ’’چوڑی مول گئی‘‘ کا استعمال کرتی ہیں۔ یہ تہذیبی زبان ہی نہیں، شوہر کے مرنے کے بعد امی کا چوڑی کیس کا غائب ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اب عورت کا شوق و سنگار سے کوئی واسطہ نہیں رہے گا۔ چوڑیوں کا پہننا بھی عورت کے سنگار اور خوبصورتی کا ایک حصہ ہے۔ پرانے زمانے میں یہ بڑی مضبوط روایت رہی ہے جو اس جدید دور میں فرسودہ ہو گئی ہے۔ چوڑی کیس کا ڈھکن کھلنے سے کمرے میں روشنی پھیلنے کو عورت کے سہاگ کی روشنی سے مثال دینا ان کی تخلیقی ہنر مندی ہے اور چوڑیوں کی یہ جگ مگ جگ مگ فیروز آباد کے شیشہ گروں کے خون پسینہ کی روشنی ہونا ترقی پسند نظریہ کی باز یافت بھی ہے چونکہ محنت اور مزدوری سے ہی اس کائنات کی خوبصورت قائم ہے۔

افسانہ ’’بکسا‘‘ عنوان ہی اپنے اندر پراسراریت رکھتا ہے اور وقت ماضی کی علامت ہونے کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ پرانے وقتوں میں کپڑے لیے، قیمتی سامان، ضروری کاغذات، روپیہ پیسہ اور گنیاں اور سونے چاندی کے زیوارت رکھنے اور سفر میں سفری اشیاء رکھنے کے کام میں آتا تھا۔ جدید دور میں سیف الماری، سفری بیگ وغیرہ اس کے بجائے استعمال ہوتے ہیں۔ افسانہ کی ابتدابھی ’’بکسا‘‘ کے ذکر سے ہوتی ہے:

’’بچے جب کم عمر تھے اور اسکول کی ابتدائی کلاسوں میں جایا کرتے تھے تو ایک بار بڑے بھیا نے انہیں ٹوکا تھا ’’امی بوکس (box) کہا کرو، یہ بکسا کیا ہوا بھلا؟‘‘

امی نے کہا ’’بکس کہنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ چلو کہہ لیا بکس۔ اب خوش!‘‘(۶۴)

’’بکسا‘‘ خالص تانیثی زبان ہے حالانکہ لفظ بکسا مرد و زن دونوں کے لیے زبان زد تھا۔ انگریزی زبان کے تسلط کے بعد صندوق اور صندوقچی کی جگہ بکس اور بکسے نے لے لی۔ بکسا تخفیف ہو کر بنات کی زبانوں پر بکسا ہو کر رہ گیا۔ مسلم متوسط گھرانوں میں عام طور پر عورتیں اور خصوصی طور سے بزرگ خواتین بکسا اپنے لیے مخصوص رکھتی تھیں جس میں وہ اپنے اجداد، ساس سسر کی دی گئی چیزیں، زیورات، لباس، جوڑے کے علاوہ ضروری کاغذات اور تحائف رکھتی تھیں۔ بکسا خود خاندانی نوادرات کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ اس لیے نسل در نسل چلنے سے اس کی شکل و صورت ہیئتی اعتبار سے پراسرار ہو جاتی تھی:

’’بڑی آپا نے بکس کھول رکھا تھا۔ اوسط سے بڑا پتیل کے قبضوں والا، امی کے جہیز میں ساتھ آیا۔ بکس جسے وہ بکسا کہنے پر مصر رہا کرتی تھیں اور اب وہ گھر کی وہ واحد شئے تھا جو بلا شرکت غیرے امی کی کہی جا سکتی تھی ورنہ وہ اپنا سارا کچھ بانٹ چکی تھیں۔ یہاں تک کہ اپنا وجود بھی۔ اس کی ظاہری صورت بڑی پراسرار سی تھی یا زمانے سے گزرنے کی وجہ سے ایسی ہو گئی تھی جیسے الف لیلہ کی کہانیوں سے نکل کر آیا ہو۔‘‘ (۶۵)

افسانہ کا عنوان ’’بکسا‘‘ دینے کا راز کہانی کے اختتام میں منکشف ہوتا ہے۔ جب بکسا کھولا گیا:

’’آپا نے دلائی نکال کر اسے جھاڑا۔ تہوں میں سے نیم کی خشک پتیاں اڑ کر فرش پر بکھر گئیں۔ کسی خزاں زدہ درخت کے پیلے پتوں کی طرح ایک زرد پڑتی، چرمراتی، پرانی تصویر بھی نکل کر اڑی اور پھڑپھڑاتی ہوئی نیچے آ گری۔ یہ ایک نوجوان کی تصویر تھی دھندلے پڑ جانے کے باوجود نقوش امی کی نوجوانی کی صورت سے کافی مشابہ تھے۔ پھوپی زاد ماموں زاد کے درمیان مشابہت کوئی حیرت کی بات تو نہیں۔ تصویر کے پیچھے لکھے گئے نام پر وقت سے اڑی گرد کی ایک موٹی تہہ جم گئی تھی۔ شاید لکھا ہوا تھا "وسیم”‘‘ (۶۶)

عورت اپنے پھوپی زاد بھائی وسیم سے دل ہی دل میں محبت کرتی ہے۔ بچپن میں ہی پھوپی زاد سے طے کر دی گئی تھی۔ وسیم اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ بھیجا گیا۔ کسی لڑکی سے دل لگا بیٹھا۔ آخر کار گھر کے بزرگوں کے سامنے طے شدہ رشتہ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر بھی وہ وسیم کو آخر تک بھلا نہیں پائی تھی۔ یہ نام ان کے دل میں آج تک محفوظ ہے اور وسیم کی تصویر جو وقت کی گرد میں پوشیدہ ہو گئی تھی، وہ بھی بکسے میں احتیاط سے رکھی ہوئی ہے۔ یہاں عورت کی بے لوث محبت اور اس کی راز دارانہ طبیعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پوری زندگی جس کا ذکر اپنے میکہ میں کیا اور اس کی خبر وسیم کو بھی نہیں ہوئی، سسرال میں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ عورت کی شریفانہ فطرت کی طرف اشارہ ہے۔ عورت یوں ہی مستور نہیں کہلاتی۔ اس کے اندر فطری طور پر اپنے راز کو مستور رکھنے کی قوت اور صلاحیت ہوتی ہے۔

اس کائنات کے خوبصورت ہونے کا راز عورت کے وجود میں پوشیدہ ہے۔ اگر اس کا وجود نہ ہوتا تو تمام عالم بے معنیٰ اور بے مقصد ہو جاتا۔ اس امر سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا۔ رشتوں کی بنیاد پر اس کے مختلف روپ ہیں۔ بہن، بیٹی اور ماں کا رشتہ، جو دنیا کے تمام رشتوں پر فوقیت کا درجہ رکھتا ہے۔ ان رشتوں میں ماں کی محبت اور اس کی ممتا کو اولیت حاصل ہے۔ ماں اور اولاد کے درمیان ایک بے لوث رشتہ، ورنہ دنیا کا ہر رشتہ بے غرض نہیں ہوتا۔ ایک ماں اپنے بچوں کے لیے سب کچھ قربان کر دیتی ہے۔ اپنی ممتا کی خاطر ہر تکلیف اور دکھ کو سہتی ہے۔ خود بھوکی رہ کر اپنی اولادوں کا پیٹ بھرتی ہے پھر مذکورہ افسانہ اس کردار کی کہانی ہے جو ایک بیوہ عورت ہے جس کا غریب شوہر داغ مفارقت دے کر غریبی کی آگ میں اپنے خاندان کو جھونک کر چلا گیا۔ ایک ایسا کردار جو شوہر پرست بھی ہے اور عورت کی عزت و حرمت کی وارث بھی ہے۔ ایسے حالات میں پس ماندہ پانچ بچوں کو پال پوس کر بڑا کرتی، ان کی تعلیم و تربیت کا پورا پورا خیال رکھتی ہے:

’’لڑکیوں کے بڑے ہونے پران کے لیے لڑکے والوں کا آنا اور شادی ہو جانے کے بعد دامادوں کی آمدورفت خاص ہی نہیں، خاص الخاص موقعوں میں شامل تھے۔ بڑے جتن سے ان مواقع کے لیے رقم پس انداز کر کے رکھا کرتی تھیں۔ ان کے بچت کرنے کے طریقوں میں گھر کے سارے کام خود کرنے حتی کہ بچوں کے کپڑے اور شوہر کے کرتے پاجامے سینے، فصل پر سال بھر کا غلہ گاؤں سے ننگا رکھنے کے علاوہ خود اپنی ذات پر کوئی خرچ روانہ رکھنا ایک بڑا طریقہ تھا۔ کتنی تکلیف ہو خاموشی سے جھیل جاتیں۔‘‘ (۶۷)

گذشتہ زمانے کی متوسط گھرانے کی عورت کا حقیقی خاکہ مصنفہ نے بیان کیا ہے۔ ذکیہ مشہدی نے اپنے عہد کی عورت، اس کے معاشرے اور روز مرہ زندگی کی جزئیات اپنے افسانوں میں اظہار کرنے کی سعی کی ہے۔ ان کے افسانوں میں متوسط گھرانوں کے عزت دار معاشرہ کا پس منظر دکھائی دیتا ہے۔ ان کے افسانوں کے نسوانی کردار بہ یک وقت اپنی ذات کی نمائندگی کی ساتھ ساتھ اپنے سماج کی بھی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔ ذکیہ مشہدی نے عورت کے مسائل اور مسلم معاشرے کی قید و بند میں رہنے والی عورت کے جذبات کی عکاسی کی ہے۔ ان کے عہد میں جینے والی عورت جو کسی بھی طبقہ، گروہ، یا مذہب کی ہو، سب کی ہو پر گزرنے والے معاملات کو پیش کرنے میں نہیں چوکتیں۔ اس لیے ان کے افسانے ہمارے سماجی نظام اور معاشرے سے جڑی حقیقی کہانیاں ہیں:

’’اس نے کچے آنگن والے کھپر پوش گھر پر کچھ کچھ پریشان نظر یں ڈالیں اور تنہائی میں بہن سے بولا ’’آپا ایسے گھروں میں تو ہمارے یہاں مویشی باندھے جاتے ہیں۔ میاں نے کیا دیکھ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ امی نے اسے جملہ پوار نہیں کرنے دیا۔ کس کر ہاتھ سے اس کا منھ دبا دیا۔ ’’خبر دار‘‘ آگے ایک لفظ مونہہ سے نہ نکلے۔ اور اگر گھر جا کر میاں سے کچھ کہا تو میرا مرا منھ دیکھو گے۔‘‘ (۶۸)

ایک صاحب ثروت تہذیب یافتہ خاتون کی شادی غریب گھرانہ میں ہوتی ہے۔ سسرال کے گھرو مکان کے نقشہ سے قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ شہری خاتون کا بیاہ دیہی علاقہ میں کر دیا گیا ہے اور وہ بغیر چوں چراں کے والدین کے فیصلے کو قبول کر لیتی ہے۔ اس کے تمام خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں اور وہ اُف بھی نہیں کرتی نہ کوئی اعتراض اور نہ ہی کوئی احتجاج۔ عورت کو گائے کی طرح جس کھونٹے سے باندھ دیا جائے۔ والدین کی عزت پر کوئی حرف نہ آئے۔ پہلی بار بھائی سسرال جاتا ہے اور حیرت زدہ ہو کر کہتا ہے ’’میاں نے کیا دیکھ کے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ لیکن امی نے فوراً بھائی کا منہ دبادیا اور ہدایت کی کہ اگر گھر جا کر میاں سے کچھ کہا تو میرا مرا منھ دیکھو گے‘‘۔ ذکیہ مشہدی کے کردار ہمارے سماج سے الگ نہیں ہوتے۔ انہوں نے عورت کے ان مسائل کو نمایاں کیا ہے جو مسلم معاشرے کے گھٹن میں ان کے دور کی عورت اپنی زندگی گزار رہی ہے۔ عورت کے دکھ درد اپنے افسانوں میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔

افسانہ ’’بکسا‘‘ واحد متکلم کی کہانی ہے۔ راوی اپنی امی کی پوری زندگی کی قربانیوں اور نیک کارناموں سے بھر پور کہانی سناتا ہے جس میں بہن بھائیوں کے خوشگوار لمحوں کے علاوہ دردو الم میں ڈوبے ہوئے وہ لمحات بھی ہیں جن کو سن کر آنکھیں آنسوؤں میں ڈوب جاتی ہیں:

’’وہ کمینہ وسیم‘‘ بھائی نے دانت پیس کر پہلے وقتوں کی حد ادب کا لحاظ کر کے کوئی گندی گالی نہیں بکی تھی۔ پھر بھی شبنم جیسی امی نے شعلہ برساتی آنکھوں سے بھائی کو دیکھا۔ ’’گالیاں مونہہ سے نکالنا شریفوں کا شیوہ نہیں ہے اور وہ تمہارے سگے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔‘‘ (۶۹)

ذکیہ مشہدی لکھنو میں پیدا ہوئیں اور یہیں تعلیم حاصل کی۔ اس لیے لکھنوی تہذیب و تمدن کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ وہاں کی اخلاقیات اور تہذیبی پس منظر انہیں ورثہ میں ملا۔ شرفاء خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے دل و دماغ میں مسلمانوں کے شاندار اور تہذیب یافتہ ماحول کی جو تصویر یں نقش ہیں وہ چلتی پھرتی افسانوں میں نظر آتی ہیں۔ ان کے کردار اعلیٰ اقدار کے حامل ہوتے ہیں یہی وجہ ہے اپنے ارد گرد جو کچھ انہوں نے دیکھا محسوس کیا بڑی فنکاری سے اپنے افسانوں میں ڈھال دیا۔

٭٭

 

منظوروا

 

افسانہ ’’منظوروا‘‘ تخلیقی اور فنی نقطۂ نظر سے بہت اہم افسانہ ہے جس کا پس منظر تاریخی اور سیاسی نوعیت کا ہوتے ہوئے ذکیہ مشہدی کی فنی ہنر مندی کا نمونہ ہے۔ عام طور پر واقعاتی اور عصری نوعیت کے افسانے تخلیقی منہاج پانے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ چونکہ فنکار کی نگاہ مقصد اور واقعہ پر مرکوز ہونے کے سبب اس کی تخلیقیت فنا ہونے کے امکانات قوی ہوتے ہیں۔ اس موقع پر تخلیقی فاصلہ (Creative Distance) برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لمحہ تخلیقی فاصلہ قائم ہو جائے تو ’’منظوروا‘‘ جیسی کہانی تخلیق ہوتی ہے جو مصنفہ کی فنی چابک دستی کی عمدہ مثال ہے۔

بابری مسجد مسمار کئے جانے سے تقریباًدو مہینہ قبل ملک کے جو سیاسی حالات بنے اور جس کو بنانے کے لیے فسطائی طاقتوں نے برسوں اپنا زور صرف کیا۔ اس نے ہندوستان کے سماجی ڈھانچہ کو ایسا بگاڑا کہ آج تک اس کے حالات نہیں سدھرے۔ ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ء کا ہندوستان کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ دن ہے جس نے یہ صرف آئین کے دھجیاں اڑادیں بلکہ ملک کے سیکولر نظام کو بکھیر کر رکھ دیا۔ پورے ملک میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہو گیا۔ ہندو مسلم بھائی چارہ، قومی اتحاد، اکثریت میں وحدت کا تصور ٹوٹ گیا۔ بابری مسجد کو ڈھانا بظاہر سیاسی نوعیت کا واقعہ ہے لیکن اس حادثہ نے ملک کے دیرینہ یکجہتی اور امن وامان کے تانے بانے کو توڑ دیا، ہماری گنگا جمنی تہذیب اور ثقافتی اقدار کو پاش پاش کر دیا۔ ہندو اور مسلمانوں کے دلوں میں نفرت کا بیج بودیا اور فاصلے پیدا کر دیے۔ سیاسی اور معاشرتی نظام کو چوٹ پہنچائی۔ بدنصیبی یہ ہے کہ تاریخی صداقتوں کو ملیا میٹ کر دیا:

’’ترپاٹھی جی کی بہو کے کان کھڑے ہو گئے۔ ’’ارے منجوروا کس پاپی کو صوفی پیر کہہ رہا ہے۔ نہ جانے کتنے مندر ڈھا دیئے۔ کتنے ہندوؤں کو مروا دیا۔ باہر سے آنے والا بدیسی آکرانتا۔ کئی بار کہا اماں جی سے کہ اس میاں کو گھر میں رکھ لیا ہے، نکالیے اسے سنتی ہی نہیں ہیں۔ جب کہو بس ایک ہی جواب کہ تمہارا کیا بگاڑ رہا ہے۔ کام کر رہا ہے۔ پوجا گھر میں تمہارے کہنے پر ہم اسے جانے نہیں دیتے۔ پھر کیا اعتراض ہے۔‘‘ (۷۰)

منظوروا ایک معمولی انسان ہے۔ سماج میں اس کا سماج میں نہ کوئی مرتبہ ہے نہ وقعت۔ ایک بے پڑھا لکھا بیوقوف سا غریب آدمی سماجی اعتبار سے نچلے درجے کا آدمی، گھریلو کام کاج کر کے دوسروں کے ٹکڑوں پر پلتا ہے۔ اسے سیاست، معاشرت اور تہذیب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ تاریخ اور مذہب اس کے لیے کوئی معنیٰ نہیں رکھتے۔ بس نام کا مسلمان، مسلم گھر انہ میں پیدا ہوا اس لیے مسلمان کہلاتا ہے۔ افسانہ میں گھر و ٹھکانہ کا کوئی حوالہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب پوری بستی اس کا گھر اور بسی میں رہنے والے اس کے رشتہ دار، کوئی چچی، بھابی، امی، بھائی ہیں چاہے وہ ہندو ہو یا مسلمان مذہب کی کوئی قید نہیں۔ صحیح معنوں میں اس کا مذہب محنت و مزدوری کرنا لوگوں کی بیگار اور خدمت گزاری کر کے پیٹ بھرنا ہے۔ اس پر بھی سارا دن لوگوں کی دھتکار کھانا اور اس پر بھی خوش رہنا۔ یہی سب ہے۔ نام منظور ہے کم وقعت ہونے پر منظوروا ہو گیا۔

ایک دن اکتوبر کے آخری ہفتے کی شفاف اور نرم دھوپ میں سارے بچوں کو بٹور کر آنگن میں گھوم گھوم کر ناچ رہا تھا اور تالیوں کی تال پر کہہ رہا تھا ’’تیل لگاؤ ڈابر کا نام مٹاؤ بابر کا‘‘ اور ’’بابر کی اولادو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہندوستان چھوڑ دو‘‘ یہ خطرناک اور زہریلے نعرے جو مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ فسطائی طاقتوں کی ایجاد ہیں جنہوں نے ہندوستان کے سیکولر مزاج کو مکدّر کر دیا۔ خصوصی طور سے ہندو نوجوانوں کے ذہنوں کو مسلمانوں کے خلاف Polarise کر کے صف آراء کر دیا اور ملک کی سب سے بڑی اقلیت کی مخالفت میں اتار دیا اور بابری مسجد گرانے کے لیے نہ صرف فضا ہموار کی بلکہ اسے ڈھانے کے لیے آمادہ کر دیا۔ افسانہ کار مزید پہلو یہ ہے کہ منظوروا جیسا کم دماغ کی زبان پر بھی زہر میں ڈوبے نعرے سے گونجنے لگے۔ جس کے معنیٰ و مفاہم سے نا بلد تھا جو تاریخ کی اے بی سی سے بھی ناواقف ہے۔ افسانے کی زبان کے پس منظر وہ معنیٰ پوشیدہ ہیں کہ معصوم لوگ اور عام انسان جو بابری مسجد بابر اور تاریخ ہند سے ناواقف تھے اور آج بھی ہیں۔ ان کی زبانوں پر بھی زہریلے نعرے آنے لگے جس نے پورے ملک کے ماحول کو گندہ کر کے رکھ دیا۔ یا یوں کہہ لیجئے اس طرح کے بیہودہ نعرے پاگلوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے جس کو پیش کرنے کا ذریعہ منظوروا بنا۔ یہ افسانے کا ایمائی پہلو بھی معلوم ہوتا ہے۔

انور بھیا نے جب یہ سنا تو غصہ آ گیا اور انہوں نے منظوروا کو بتایا بابر پیر فقیر نہیں تھے، بادشاہ تھے۔ بڑے منصف، عادل، صوفی منش، پڑھنے لکھنے کے شوقین تھے۔ عالموں کی قدر کر تے تھے۔ ’’غریبوں کا خیال بھی کرتے ہوں گے تب تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منظوروا نے لقمہ دیا۔ کیا اچھا ہوتا جو ہم ان کے وقت میں پیدا ہوئے ہوتے۔ پھر تو ہماری شادی بھی ہو گئی ہوتی‘‘ یہ اس معصوم کا جواب تھا۔ انور کی کہی ہوئی باتیں اس نے ترپاٹھی جی کے پوتوں کو دہرا دی‘‘ خبردار جو باہر بادشاہ کا نام مٹانے کی بات کرتا ہے اسے پاپ چڑھے گا جہنم میں جائے گا۔ ظاہر ہے یہ سن کر ترپاٹھی جی کی بہو کے کان کھڑے ہو گئے پھر تو اس نے تاریخ کو جھٹلانے والی غلط بیانی شروع کر دی۔

وہ نہ جانے کتنے مندر ڈھا دیے، کتنے ہندوؤں کو مروا دیا، باہر سے آنے والا بدیسی ’’آکرانتا‘‘ یہ زبان ہندو نوجوانوں کو آرا یس ایس اور انتہا پسند سیاسی جماعتوں کی دی ہوئی ہے۔ یہاں منظوروا سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ تب انور بھیا ایسا کیوں کہہ رہے تھے۔ بھیا بھی پڑھے لکھے ہیں اور یہ بھوجی بھی پڑھی لکھی ہیں منظوروا کے دماغ میں جالے سے پڑ گئے جو افسانے کے اختتام تک پڑے۔

’’منظوروا‘‘ کچھ دن کیا، پھر کبھی نہیں آیا۔ ایک تنگ گلی میں اس کی گردن ریتی لاش پائی گئی۔ مرتے وقت بھی اس کے دماغ میں جالے لگے ہوئے تھے۔ اس کی سمجھ میں قطعی نہیں آیا تھا کہ بابر سے اس سے کیا رشتہ تھا اور کیوں تھا اور اس کا باپ زمانہ قبل مسیح میں پیدا ہونے والا ہینگن مستری تھا یا 1526ء میں ہندوستان آنے والا ظہیر الدین محمد بابر، زمان و مکان سے اوپر اٹھ چکا تھا۔‘‘ (۷۱)

فرقہ وارانہ فسادات، سیاسی جماعتوں اور ان کے خریدے ہوئے مورخین کا گھناؤنا کھیل ہے جس میں عام انسانوں کی بربادی اور جانوں کا زیاں ہوتا ہے۔ جہاں ایسے ہی معصوم انسانوں کے گھر اجڑتے ہیں جن کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ ان کے آباء و اجداد کب ہندوستان آئے اور کون سی نسل یا طبقہ سے ان کا سلسلہ جڑتا ہے۔ بظاہر افسانہ کا اختتام المیہ ہے لیکن زماں و مکاں قید سے آزاد ہونے والا منظوروا آج بھی یہ سوال کر رہا ہے کہ مجھے کیوں مارا گیا؟ میرا کیا قصور ہے؟

جوبات بڑے بڑے پڑھے لکھوں کی سمجھ میں نہیں آتی آخر کار اس سیدھے سادے منظوروا کی زبان کاٹ دار طنزیہ جملے سنیں: ’’یہ تو اچھی بات نہیں بھوجی۔ مارنا تو ایک آدمی کا بھی برانہ کہ لاکھوں آدمی۔ مندر بھی کیوں ڈھایا جائے۔ وہاں تو لوگ پوجا کرتے ہیں۔‘‘

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ مندر یا کسی مذہبی مقام کو ڈھانے کا تصور تو کبھی منظوروا جیسے جاہل اور بیوقوف آدمی کے ذہن میں بھی نہیں آ سکتا۔ یہ تو تعلیم یافتہ لوگوں کی ذہنی اپج ہے جو تعلیم کا استعمال تخریبی کار ناموں کو انجام دینے کے لیے کرتے ہیں۔

ذکیہ مشہدی کو کردار نگاری پر ملکہ حاصل ہے۔ وہ آس پاس کی زندگی سے کردار منتخب کرتی ہیں اور اس کے اندر حرکی کیفیت اور فعلیت پیدا کر کے اسے زندہ کر دیتی ہیں۔ منظوروا جیسے نیک اور کم دماغ انسان کو بھی انہوں نے روزانہ زندگی سے اٹھایا۔ اس کی شخصیت کے ایک ایک گوشے کو اپنے افسانہ ’’منظوروا‘‘ میں اجاگر کیا ہے۔ منظوروا مذکورہ افسانہ کا مرکزی کردار ہے اور بابری مسجد کی مسماری اس کا بنیادی موضوع۔ افسانہ کی تکنیکی خوبی یہ ہے کہ ضمنی کرداروں کے ربط و ضوابط سے بابری مسجد کے موضوع کو کہانی کی یافت میں پیوست کیا گیا ہے۔ مصنفہ نے منظوروا کا تعارف افسانہ کی ابتداہی میں کرادیا ہے:

’’پٹنہ والی چچی اسے موگا کہتی تھیں، امرونی ممانی میلا اور مقامی عورتیں مہیندرا، یہ تینوں القاب ہم معنیٰ تھے۔ جہاں کام دھام سے فارغ ہوا بس عورتوں کے درمیان گھسا اور ہاتھ مٹکا مٹکا کے گپیں ہانکنی شروع کیں ’’اے بھوجی سنیو؟‘‘ ’’اے باجی اللہ قسم ہم کہین‘‘ ’’ہائے دیا چچی، مہاگن ہوئے کے سفید ڈوپٹہ لاؤ ہم رنگ دیتے ہیں۔‘‘ (۷۲)

منظوروا ایک نیک اور بے ضرر قسم کا انسان تھا۔ گھر کی جو ان بہوئیں تک اسے بلا تکلف چھیڑتیں بیسیویں بالٹی پانی بھرنے کے بعد بھی تر و تازہ اور شاداب ہنستا، مذاق کرتا، بازوؤں کی مچھلیاں اس کی محنت کشی کی گواہ تھیں اور پھٹے کپڑے اس کی زبوں حالی کی نشاندہی کرتے تھے۔ منظور کسی بات کا مبرا نہیں مانتا تھا۔ انور دلی زبان سے کہتے ’’زنخہ کہیں کا‘‘ پھر بھی اس کی موٹی عقل کو کوئی بات اہانت انگیز نہیں معلوم ہوتی تھی۔

ہندو اور مسلمان کے لیے اس کے دل میں کوئی فرق نہیں تھا۔ مذہب کا اور مذہبی معاملات کا تصور تو اس کے ذہن میں دور دور تک نہیں تھا لیکن انسانی درد اور ہمدردی اس کی فطری کمزوری تھی اسی لیے بلا مذہب و ملت کی تخصیص کے وہ سب ہی خدمت گزاری میں حاضر باش رہتا۔ ایک دن جب وہ بازار سے گزر رہا تھا تو معلوم ہوا کہ دیو کی نندن بابو کی بڑی بی بی کو کسی نے مار دیا ہے۔ تو اس خبر سے وہ بے چین ہو گیا اور کام کے تئیں اس کے بے دلی اور خاموشی تو جی طلب ہے:

’’وہ بالٹیاں اٹھاتے پلٹا۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا اور حیرت اور ہمدردی اور بہت سے ایسے جذبات جنہیں گونگی آنکھیں کھل کر کہہ نہیں پاتیں بس خلط ملط کر کے رکھ دیتی ہیں۔‘‘ (۷۳)

منظور بھلے ہی احمق و جاہل تھا لیکن اس کے اندر انسانیت تھی، انسانی درد تھا، منظور باتونی خوش مزاج ہر وقت مسخرہ پن کر کے سب کو ہنسانے والا تھا مگر بابر اور بابری مسجد کے قضیے نے اس کو اداس کر دیا تھا۔ وہ سو چنے پر مجبور تھا کہ جب وہ ترپاٹھی جی کے گھر جاتا تو اسے نئی نئی باتیں سننے کو ملتیں جو اس کی عقل و شعور سے بہت دور تھیں۔ ترپاٹھی جی کی بہو اس سے ترش لہجہ میں کہتی تیرے بابر نے مندر ہی نہیں توڑا بلکہ ہمارا مندر توڑ کر وہاں اپنی مسجد بھی بنوائی۔ ’’خبر ہم اپنا مندر تو واپس لے ہی لیں گے مگر تو کان کھول کر سن لے۔ یہاں کام کرنا ہے تو خبردار جو اس چنڈال کا نام لیا۔ لٹیرا کہیں کا‘‘ اور ہندوؤں کی ہٹ دھرمی کو وہ برداشت کرتا ادھر مسلمانوں کی تاریخی دلیلوں کو سنتا کہ ’’بابر پیر فقیر نہیں، بادشاہ تھے، بڑے منصف، عادل صوفی منش‘‘ دونوں طبقوں کی جھاڑ اس پر پڑتی:

’’جھاڑ تو منظوروا کو اکثر یہاں بھی پڑتی تھی لیکن آج بہو جی کے لہجے میں جو تحقیر اور چہرے پر جو خشونت تھی وہ اسے کہیں اندر تک کچوٹ گئی۔ پہلی سادی ڈانٹیں وہ شربت کے گھونٹ کی طرح گٹک گیا تھا۔ ان میں نہ ایسی تحقیر تھی نہ ایسی دھمکی، نہ ایسی نفرت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس گھر کا ایک ناگزیر حصہ ہے لیکن آج گھر کی بہو کا مسخ چہرہ ایسا دھار دار خنجر تھا، جس نے اس گھر سے اس کی ڈور کاٹ دی تھی۔‘‘ (۷۴)

بابری مسجد کی مسماری سے پہلے ایسے حالات نہیں تھے دونوں قومیں آپس میں مل جل کر رہتے تھے۔ ایک دوسرے کے میلوں ٹھیلوں میں شریک ہوتے۔ ایک ساتھ تیوہار مناتے۔ آپس میں بھائی چارگی اور رواداری تھی۔ منظور ترپاٹھی خاندان کے بچوں کو کندھے پر چڑھا کے رام لیلا دکھانے لے جاتا۔ اب امن، اتحاد اور یکجہتی خطرے میں آ گئی۔ پورے ملک میں انتہا پسند جماعتوں کا بول بالا ہو گیا۔ انسانیت کے سرپر حیوانیت کا ننگا ناچ ہونے لگا۔ ۶؍دسمبر کو بابری مسجد کو شہید ہونے سے پہلے ہندو نوجوانوں کے دل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بیج بویا کہ ’’میاں مسلمان چرب زبان، دل میں کچھ، زبان پر کچھ، پوری قوم ہی مکار ہے۔ مکار اور دغا باز‘‘ اس قسم کے غلیظ الفاظ مسلمانوں کے لیے بولے جانے لگے۔ حقارت اور نفرت کی فضا ہموار کی گئی اور خاص طور سے ہندو نوجوانوں کا ذہن گندہ کیا گیا اور آخر کار بابری مسجد شہید ہونے کا حادثہ رونما ہوا اور انتہا پسند سیاسی جماعتوں نے ہندوستان کی سیکولر تاریخ میں ایک سیاہ ورق جوڑ دیا۔ یہی کہانی کا مرکزی خیال ہے جسے منظوروا کے حوالے سے بیانیہ میں تانے بانے کی مانند بنا گیا ہے۔ کمال فن یہ ہے کہ مصنفہ کی زبانی منظور کی شخصیت کا یہ پہلو بھی سنئے:

’’در اصل منظوروا کو بسنت کی خبر نہیں ہے۔ اپنی دنیا میں رہتا ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ کمپیوٹر اور اسپیس کرافٹ اور لوگوں کو مارنے کی اعلیٰ درجے کی تکنیکیں، نسل کشی کے منصوبے اور پھر نسل کشی کو فساد قرار دلوانے کی گھاتیں۔ ابے منظوروا، احمق الذین، پائی بھر، تیرے میرے گھر کا بجا کچھا کھانا کھا اور ایک دن بغیر نالہ و شیون، نوحہ و ماتم کس اندھیری گلی میں مارا جا تب تو دیوکی نندن بابو کی بڑھی بی بی کے قتل پر افسوس کرنا بند کر دے گا۔‘‘ (۷۵)

سائنسی دور میں انسان کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں بلکہ اس کو مارنے کے لیے نئے طریقے ایجاد ہو گئے ہیں اب تو نسل کشی منصوبہ بند طریقے سے ہوتی ہے۔ نسل کشی کو فساد قرار دلوانے کی وجہ قانونی وجوہات ہیں تاکہ دفعات، قتل اور ارادہ قتل کی نہ لگیں جو نہایت سنگین ہوتی ہیں۔ صارفیت کے اس دور میں انسان، ریا کاری، خود غرضی اور مکرو فریب کا شکار ہو گیا ہے۔ بے غرض، لہجے اور پر خلوص انسان کی حیثیت منظوروا جیسی ہو کر رہ گئی ہے جو انسان کی فطری سچائیوں کے ساتھ جینا چاہتے ہیں ان کا انجام بھی منظوروا کی طرح اندھیری گلی میں بڑا ہی ہولناک ہوتا ہے جس کو یاد کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ نہ ہی ایسے بے لوث سیدھے سادھے افراد کا تاریخ میں کوئی ذکر ملتا ہے۔ جب کہ یہ کائنات ایسے ہی کاندھوں پر ٹکی ہے ورنہ بہت پہلے فنا ہو چکی ہوتی!

٭٭

 

اجّن ماموں کا بیٹھکہ

 

افسانہ کا عنوان ’’اجّن ماموں کا بیٹھکہ‘‘ بڑا ہی عجیب اور مضحکہ خیز لگتا ہے لیکن عنوان کی معنویت کا اندازہ افسانہ کی قرأت کے بعد ہوتا ہے۔ مصنفہ موضوع کی مناسبت اور کرداروں کی کیفیت کے مطابق منتخب کرتی ہیں۔ پرانی طرز کے مکانات میں مہمانوں کی آمد و رفت بیٹھنے اٹھنے گفتگو کرنے کے لیے ایک کمرے کی تعمیر کی جاتی تھی جو خصوصی طور سے مکان کے صدر دروازے کے آس پاس ہوتی تھی جہاں صرف مردوں کے لیے نشست و برخاست کا انتظام ہوتا۔ اسے مردان خانہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ مستورات کا وہاں گزر کم ہوتا یا ضرورتاً ان کا وہاں گزر ہوتا۔ وہ کمرہ جسے بیٹھک یا بیٹھکہ کہتے زنان خانہ سے نسبتاً فاصلے پر ہوتا۔ اگر اس کی شکل چھوٹی رہتی تو اسے بیٹھک اور اگر ذرا بڑی ہوتی تو اسے بیٹھکہ کہا جاتا۔ زمینداروں، جاگیرداروں اور دولت مندوں کی حویلیوں میں زنان خانہ اور مردان خانہ کا باقاعدہ الگ الگ انتظام ہوتا جو ان کی حیثیت کی نمائندگی کرتا۔ اور متوسط گھرانوں کے مکانوں میں اسے بیٹھک یا بیٹھکہ کے نام سے موسوم کیا جاتا۔ یہ ایک طرح کا مہمان خانہ بھی کہلاتا ہے جو صرف مردوں کے لیے ہوتا ہے جدید دور میں اس نے ڈرائینگ روم کی شکل اختیار کر لی ہے۔ زمانہ کے مطابق مرد و عورتیں ڈرائینگ روم میں نشست و برخاست ایک ساتھ کر سکتی ہیں جب کہ گزشتہ دور میں پردے کی پابندی ہونے کے سبب مرد و عورتوں کو ایک ساتھ بیٹھنے کی اجازت شاذونادر ہی ہوتی۔ ’’اجّن مامو کا بیٹھکہ‘‘ میں انوکھے لال کے ساتھ بیٹھے لالہ ہر پرساد کے قتل کے موضوع پر باتیں کر رہے ہیں:

’’دو چار لوگ اور آ گئے۔ اس دن اتفاق سے اتوار تھا، کچہری بند تھی اور زیادہ تر دوکانیں بھی۔ اجن ماموں کے بیٹھکے میں احباب کا جمگھٹ ہر چھٹی کا معمول تھا لیکن آج کسی نے نہ پنڈت نہرو کی حالیہ تقریر پر گفتگو کی نہ سیاست اور قومی آواز کے ایڈیٹوریل زیر بحث آئے نہ کسی بزرگ نے طلباء میں بڑھتی بے راہ روی پر تشویش کا اظہار کیا نہ ہی روئی کے مقامی تاجر میاں عبد السلام پر چھینٹے کسے گئے جو ایک میونسپلٹی کے الیکشن میں کامیاب ہو گئے تھے تو ایم۔ پی بننے کے خواب دیکھنے لگے تھے۔ جاہل نمبر ایک، مسیتا کبابی کی دوکان کے تھڑے پر بیٹھ کر کباب کھاتے اور چائے سڑکتے۔‘‘ (۷۶)

مندرجہ بالا اقتباس سے کئی پہلو ظاہر ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ اجن میاں کی جوانی کے دور میں پنڈت نہرو جمہوریہ ہند کے وزیر اعظم تھے۔ ان کا جاری کردہ اخبار ’’قومی آواز‘‘ لوگوں کا پسندیدہ اخبار تھا جس کے ایڈیٹوریل مباحثہ کا موضوع بنتے تھے۔ اس وقت بھی طلباء کی بے راہ روی بھی چرچہ کا مضمون ہوتا یعنی انگریزوں کے جانے کے بعد مغربی تہذیب کے غالب ہونے کے اثرات دکھائی دینے لگے تھے جنہوں نے آج سنگین شکل اختیار کر لی ہے۔ تیسری اہم بات سیاسی نوعیت کی ہے کہ مقامی تاجر میاں عبدالسلام جاہل نمبر 1 ہونے کے باوجود میونسپلٹی کے الیکشن میں کامیاب ہو گئے تھے اور ایم۔ پی بننے کا خواب دیکھنے لگے تھے۔ جب کہ وہ شخص شرابی کبابی، مزاجاً فتنہ پرداز اور احمق پیسے والا تھا۔ آج کے دور میں نیتا بننے کے لیے یہ خوبیاں اور بھی مضبوط ہو گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی سیاست نے ملک کا معاشی، معاشرتی اور سماجی نظام تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ چاروں طرف قتل و خون، غارت گری، غنڈہ گردی کا بازار گرم ہے۔

افسانہ کا مرکزی موضوع بھی قتل و خون کی واردات کا ہونا ہے۔ گذشتہ دور میں شہر گاؤں اور قصبہ میں اتفاق سے کوئی قتل ہو جاتا تو پوری آبادی میں ہیجان طاری ہوتی، ہفتوں، مہینوں اس کی چرچہ ہوتی، غم و الم کا چرچہ ہوتا، مختلف انداز میں اظہار افسوس ہوتا، انسانی ہمدردی، روا داری اور امن و آشتی سے رہنے کی کوششیں ہوتی تھی لیکن جب زمانہ نے کروٹ بدلی تو قتل و خون کی وارداتیں عام ہو گئیں ہیں۔ اخبارات غنڈہ گردی، فسادات، انسانی اتلاف سے بھرے ہوتے ہیں لیکن کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ کوئی چرچہ نہیں، کوئی غم نہیں۔ اظہاری ہمدردی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ جیسے ایسی واردات اور حادثات کو دیکھنے اور سننے کے لوگ عادی ہو گئے ہیں، انسانیت دم توڑ چکی ہے لوگوں کے ضمیر مر چکے ہیں۔ سفاکیت اور ظلم و ستم کھلے عام ہو رہے ہیں۔ اس کے قصور وار قومی رہنما، مردہ ضمیر نیتا اور انتظامیہ ہے کہانی کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے کہ بابو انوکھے لال شری واستو ایڈوکیٹ اجن ماموں کو ایک منحوس خبر کی اطلاع دیتے ہیں کہ ’’بابو رام پرشاد کی حویلی میں قتل ہو گیا‘‘ بابو انوکھے لال خوف زدہ، گھبرائے ہوئے اور حواس باختہ تھے اس وقت اجن ماموں اپنے بیٹھکہ میں حقہ گڑ گڑا رہے تھے۔ خبر سنتے ہی وہ چونکے اورحقہ کی نے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ تفتیش کرنے پر معلوم ہوا ’’قتل ہر پرشاد بابو کا ہوا ہے جو ایک بوڑھا شخص ہے۔ اس وقت اجن ماموں کے منہ سے نکلا کہ وہ بے چارہ بزرگ، بے ضرر انسان سے کسی کی کیا دشمنی ہو سکتی تھی۔ ماموں کے بیٹھکے میں آنے والے ہر مرد کی گفتگو ’’کیا زمانہ آن گیا‘‘ ٹیپ کے بند سے شروع ہوتی اور اسی پر ختم ہوتی تھی۔

بھلے ہی کائنات فساد سے بھری ہو، پھر بھی جب کوئی شریف اور بے ضرر انسان مرتا ہے تو دکھ اور تکلیف کا احساس بھی انسان ہی کو ہوتا ہے۔ وہ چاہے کسی بھی مذہب یا طبقہ سے تعلق رکھتا ہو۔ پھر ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی یہ خصوصیت بھی ہے۔ اس معاملے میں چھوٹے شہروں اور قصبوں کا ماحول بڑے شہروں سے مختلف ہے۔ کم آبادی والے شہروں اور قصبوں میں محبت، ہمدردی اور رواداری بڑے شہروں کے مقابلے میں زیادہ ملتی ہے۔ یہی سب ہے ہری پرشاد قتل کی واردات ہونے پر پورے قصبہ میں ماتم طاری ہو گیا ہر شخص حیرت زدہ اور غم زدہ ہو گیا۔ پوری آبادی میں چرچہ کا موضوع بن گیا۔ یہ گذشتہ ہندوستان کی روایت کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانوں کے اندر ملنساری، ہمدردی کا جذبہ بہت قومی ہے۔ زمانہ کی بدلتی ہوئی شکل کو مصنفہ بیان کرتی ہیں۔

’’پھر یہ گردان کرتے کرتے اجن ماموں کا زمانہ ختم ہونے لگا۔ ان کے بیٹھکے کا پلاسٹر اور ان کے تمام ساتھیوں کا کلف جھڑ گیا۔ وہ سب کے سب ڈھیلے ڈھالے سے گردن لٹکائے بیٹھے اپنی دھندلی ہوتی ہوئی آنکھوں کے سامنے کی دنیا کا منظر دیکھ رہے تھے۔ دنیا جو قتل و غارت گری کا ایک مہیب کو لاج بنتی جا رہی تھی اور جس سے انہوں نے غدار کو دور رکھنا چاہا تھا۔ قصبے میں بیک وقت ایک ہی کنبے کے گیارہ افراد قتل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پچھلے چند ماہ کی کل تعداد ایک سو ساٹھ۔ گھاٹی میں آج پولس کے دو جوانوں سمیت بتیس آدمیوں کی موت۔۔۔۔۔۔۔‘‘ (۷۷)

صورت حال کا بدلاؤ دیکھیں جو درج بالا اقتباس ذکیہ مشہدی کی تخلیق اور فنکاری کی بہترین مثال ہے۔ کفایت لفظی میں جو معنیٰ خیزی ہے۔ غور طلب کہ قصبہ کی منظر کشی میں ہندوستان کی موجودہ صورت حال کا منظر نامہ پوشیدہ ہے۔ ماموں کی عمر کے ذریعہ زمانے کی کروٹ پر روشنی ڈال کر افسانہ نے سماجی اعتبار سے دو زمانوں کو سمیٹ لیا ہے۔ زمانہ کے بدلاؤ کے سلسلے میں ان کی تخلیق جوہر اور فنی حربہ قابل تحسین ہے۔ ’’پھر یہ گردان کرتے کرتے اجن ماموں کا زمانہ ختم ہونے لگا۔ ان کے بیٹھکے کا پلاسٹر اور ان کے تمام ساتھیوں کا کلف جھڑ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ پرانے زمانے میں ایک قتل ہونے پر انسان حیرت زدہ اور غم زدہ ہو جا تا تھا۔ آج دنیا جو قتل و غارت گری کا ایک مہیب کو لاج بنتی جا رہی ہے۔ قصبہ میں ایک ہی کنبے کے گیارہ افراد قتل ہوتے ہیں۔ بغل کے ضلع کے گاؤں میں ایک ہی ذات سے تعلق رکھنے والے چوبیس آدمی مارے جاتے ہیں۔ مخصوص قبیلے کے پورے گاؤں کا صفایا ہوتا ہے۔ گھاٹی میں پولس کے دو جوانوں سمیت بتیس آدمیوں کی موت واقع ہوتی ہے۔ قتل و غارت گری کے واقعات سے اخبارات بھرے پڑے ہیں۔ ان کے تراشے دھرتی سے آسمان تک پہنچ رہے ہیں لیکن اس زمانہ کا انسان قتل و غارت گری کی خبریں پڑھنے، سننے اور دیکھنے کا جیسے عادی ہو چکا ہے۔ ایسی وارداتوں کے رو نما ہونے سے اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا جب کہ اجن ماموں جیسے لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں اور مخدوش اور خوف زدہ ہو کر وہ اپنی بھانجی عذرا کے بچے جوجوان ہو چکے ہیں کو ایسے دہشت ناک ماحول سے بچانے میں اپنی عافیت سمجھتے ہیں:

’’کہاں سے چلے آ رہے ہو میاں۔ برف کٹ رہی ہے اور موٹر سائیکل پر اڑے اڑے پھرتے ہو۔ اور ہلمٹ کہاں ہے تمہارا؟‘‘

’’ماموں میں ابھی سلام چوک کی طرف سے آ رہا ہوں‘‘ اس کی آواز کچھ سنجیدہ تھی۔ دانت کٹکٹائے۔ کوئی سلام چوک کا نام لیتا تو ان کے اندر کچھ ایسا ہی رد عمل پیدا ہوتا تھا۔ میاں عبدالسلام کا بیٹا بیوقوف فتّین نہیں تھا۔ فتنہ اس نے باپ سے ورثے میں پایا تھا اور چالا کی گرد و پیش کے تیزی سے تبدیل ہوتے منظر نامے سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اور بھی کامیابیاں حاصل کیں۔ جن میں ایک یہ بھی تھی کہ باپ کو ایک عظیم ہستی ثابت کر کے ان کے نام پر شہر کے چوک کا نام رکھوایا‘‘۔ (۷۸)

اجن ماموں کی جوانی کے دلوں میں لالہ ہری پرشاد کے قتل کا واقعہ ہوا تھا تو گھر گھر اس کی چرچہ عام ہو گئی تھی لیکن قتل کا واقعہ بڑوں کی زبان پر تھا۔ ایسے بھیانک واقعات بچوں سے چھپائے جاتے تھی تاکہ ان کے اوپر غلط اثرات نہ پڑیں۔ اس سماجی حقیقت کو مصنفہ نے مکالموں کی صورت میں پیش کیا ہے اس زمانہ میں برائی سے بچانے کے لیے بچوں کی نفسیاتی اور جذباتی تربیت بھی بڑی احتیاط سے کی جاتی تھی جو اس جدید دور میں ناپیدہے بلکہ زندگی کی تیز رفتاری میں بچوں کی صحیح تربیت کہیں چھوٹ گئی ہے۔ صارفیت کے اس زمانے میں انسان دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے اور اس کے پاس بچوں کی تہذیب و تربیت کی تعمیرو تشکیل کے لیے فرصت ہی نہیں ہے۔ مذکورہ افسانہ میں اس پہلو کی طرف مصنفہ نے مکالماتی انداز میں اشارہ کیا ہے:

’’عذرا کی ممانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ دوڑی ہوئی آئیں۔‘‘ آ گئے آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنا ہے بابو رام پرشاد کی حویلی میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ’’ارے بھئی پھر پوچھ لینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بچوں کے سامنے یہ قتل و غارت گری کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاؤ جاؤ اپنا کام کرو۔ اور کھانا لگواؤ۔ عذرا بھوکی ہو گی‘‘ پھر زیر لب لولے ’’گرچہ کیا کھانا کھایا جائے وہ معلوم ہے ایسا جی خراب ہوا ہے سن کر۔‘‘ (۷۹)

مصنفہ نے سماجی حقیقت کو اس طرح پیش کیا ہے کہ اس کا نقشہ ہماری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے۔ کرداروں کے تعلق سے جو واقعات ہماری روزانہ زندگی میں دیکھنے کو ملتے ہیں ان پر بھی ان کی نظر گہری ہے۔ مثلاً اجن میاں نے اپنی بھانجی عذرا کو پال لیا تھا۔ اس نسبت سے نسبتی میں اجن ماموں کے نام سے مشہور ہو گئے تھے۔ اجن ماموں جگت ماموں تھے۔ اس معاملہ میں ان کے مزاج کی کیفیت اس طرح تھی کہ چھوٹے انہیں ماموں کہتے تھے تو پسند تھا لیکن برابر کا یار دوست یا بڑا ماموں کہتا تو انہیں زور کا غصہ آ جاتا۔ اسی طرح اجن ماموں کے بے تکلف دوست حافظ صدر الزماں محلے میں حافظ بھنڈی کے نام سے مشہور تھے:

’’وہ اجن ماموں کے بے تکلف دوستوں میں سے تھے۔ سیدھے گالی سے بات کرتے لیکن اس وقت نہایت وحشت زدہ تھے۔ گالی کیا، مہذب الفاظ منھ سے نکالنے میں دقت ہو رہی تھی۔‘‘ (۸۰)

جہاں یہ ہماری روزانہ زندگی معمولات کا مظہر ہے وہیں مصنفہ کی کردار نگاری کی مثال بھی ہے۔ مذکورہ افسانہ میں اس طرح کی مثالیں اور بھی مل جائیں گی جوذ کیہ سلطانہ کی حقیقت پسندی کا اعتراف کرتی ہیں۔ یہ افسانہ بھی ان کی تخلیقی اور فنی صلاحیتوں کی غماز ہے۔

٭٭

 

سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے

 

کہانی کہنے میں ذکیہ مشہدی کا انداز اس قدر عمدہ ہے کہ پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ واقعہ آنکھوں کے سامنے رو نما ہو رہا ہے۔ ابتدا سے اختتام تک تجسس برقرار رکھنے میں ان کو کمال حاصل ہے۔ ان کا مرغوب موضوع عورتوں کے مسائل ہیں۔ عورتوں کی نفسیات کا مطالعہ بہت گہرا ہے۔ انہوں نے عورتوں کی خانگی زندگی کے تعلقات اور رشتے نبھانے میں جن مسائل سے دو چار ہونا پڑتا ہے ان پر بڑی خوبصورت کہانیاں لکھی ہیں۔ انہوں نے عورتوں کی کمزوریوں اور تکالیف کو پوری درد مندی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مصنفہ نے عورت کی معاشرتی زندگی اور روز مرہ میں گزرنے والے لمحات کو حقیقی تناظر میں روشنی ڈالی ہے وہ اپنے افسانوں میں نسوانی کردار کے ساتھ اپنی ذات کی نمائندگی بھرپور کرتی ہیں۔ اس میں ان کی زندگی کے تجربات اور مشاہدات کی سچی تصویریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ وہ اعلیٰ سوسائٹی میں زندگی گزارنے والی عورت کی تصویر بھی بڑی فنکاری سے ابھارتی ہیں نیز عصری آگہی اور معاشرتی معنویت کو خود اپنے تجربات اور غور و فکر کا حصہ بنا کر اپنے افسانوں بڑی فنکاری سے پیش کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔

ذکیہ مشہدی کے افسانے ارضیت اور مقامیت سے جڑے ہوتے ہیں۔ بھلے ہی ان کے افسانے بہار اور اودھ کے علاقہ سلطان پور کی زمین سے اگتے ہیں لیکن اس کے پس منظر میں ہندوستان کی تہذیب اور معاشرت کے منظر نامے ہمیں دکھائی دیتے ہیں۔

ہندوستان کے تمام صوبے، شہر اور گاؤں دقیانوسی رواجوں اور توہمات میں ملوث نظر آتا ہے۔ بھوت پریت، آسیب اور بدروحوں کے تصورات پرانے وقتوں سے ہندوستان کے کلچر میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ موجودہ سائنسی دور میں بھی کم افراد کو چھوڑ کر بڑے بڑے پڑھے لکھے، جاہ و ثروت والے، عزت دار یہاں تک کہ نیتا اور کرسی نشین بھی ان بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ بلا تخصیص مذہب و ملت ہندوستان میں رہنے والے ہندو مسلمان اور دیگر قوموں کے اندر بھی بیہودہ رسومات اور توہمات دیکھنے کو ملتی ہیں:

’’اس وقت بکنگھم پیش پیلس میں بہوؤں کی نئی کھیپ نہیں آئی تھی۔ نہ ہی صفدر جنگ روڈ میں بیٹے جوان ہوئے تھے ورنہ پتہ چلتا ہے کہ سنسکرتی کے پانچویں ادھیائے کا یہ صفحہ تو سلطان پور اودھ کے محلوں سے لے کردلی کی شاہی رہائش گاہوں سے گذرتا ہوابکنگھم پیلس تک کھلا پڑا ہے۔‘‘ (۸۱)

’’سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے‘‘ افسانہ میں الّو کا شکار ہونے کے بعد جو صورت حال بنی مذکورہ کہانی میں بیان کی گئی ہے۔ یہ مجوزہ ناول کا پہلا باب ہے۔ حالانکہ یہ واقعہ تو اودھ سلطان پور کے محلے کا ہے لیکن الو کے بارے میں جو توہمات مشہور ہیں وہ تقریباً ہر گاؤں سے لے کر شہروں تک سننے کو ملتی ہیں۔ مذکورہ اقتباس میں موصوفہ اسی بات کی نشاندہی کی ہے کہ بکیگھم پیلس ہویا صفدر جنگ روڈ جو آج جدید طرز کا پوش علاقہ ہے گزشتہ دور میں اس کا ماحول بھی سلطان پور اودھ کے محلوں سے الگ نہیں تھا یہاں تک کہ شاہی رہائش گاہیں جو پرانی دلی میں قائم ہیں۔ وہاں سے بکنگھم پیلس تک سنسکرتی کے پانچویں ادھیائے جیسی صورت حال تھی۔ الو اور الو کا گوشت ہر مرض کا علاج تھا۔ عورتیں جو اپنے مردوں کو قابو میں کرنا چاہتی تھیں تو اپنے مردوں کو دھوکے سے اس کا گوشت کھلا کر اپنے بس میں کرتیں۔ رام آسرے ریلوے کلرک کی پڑھی لکھی بیوی بھی اپنے شوہر جو ایک بنجارن کے عشق میں پاگل تھا۔ پیچھا چھڑانے کے لیے رفیقن بوا کو ایک روپیہ دے کر الو کا گوشت لائی۔ یہ سوچ کر کہ اب گھن آئے یا پاپ چھڑے۔ ایک پور گھیس کر گوشت رام آسرے بابو کے کھانے میں ملا ہی دنیا ہے:

’’محلے میں ایسی کہانیاں بہت عام تھیں۔ پیارے میاں انصاری، پیارے لال لوہیا، جگ رام داس چودھری، رام داس کسوندھن اور تو اور مشرائن جن کے یہاں پیاز لہسن کا بھی پرہیز تھا اور میر صاحب کی بی بی جو محلے کی بچیوں کو قرآن پڑھاتی تھیں اور جن کے پاس لوگ بچوں کو پھکوانے لے جاتے تھے سب کو ذرا ذرا الو کا گوشت درکار تھا۔ سب سے قیمتی چیز یعنی الو کی زبان رکھی رفیقن بوا نے۔ اس لیے کہ الو پران کا دعویٰ مضبوط تھا وہ ان کے بھیا یعنی حکیم صاحب نے مارا تھا۔ الو کی تکابوٹی بھی انہوں نے ہی کی تھی۔‘‘ (۸۲)

رفیقن بوا کا دعویٰ اس لیے درست تھا کہ مصنفہ افسانے کی ابتدا ہی میں اس کا ذکر کر چکی ہیں کہ حکیم صاحب کے یہاں رفیقن بوا گھریلو کام کرنے والی عورت ہیں۔ الو کا شکار کس نے کیا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اس کے پھڑپھڑا کر مرنے کا حادثہ حکیم صاحب کے چبوترے پر ہوا تھا۔ جب انہوں مردہ الو کو ڈنڈے پر اٹھا کر گھورے پر پھینکنے کا اصرار کیا تو شہزادے کی دادی دوڑی آئیں اور رفیقن بوا بھی پہونچیں ’’بھیا لے کے آئے رہے، سب سے پہلے ہم لیں گے‘‘ اور رفیقن بوا نے الو کے گوشت خاص طور سے اس کی زبان کے فیوض بیان شروع کر دیئے۔ اس دن محلے کے کئی گھروں میں الو کا گوشت بٹا۔ باقی رفیقن بوا سے وعدہ کیا گیا کہ ضرورت پڑنے پروہ اپنے پاس سے لا کر دیں گی۔ بس گھس کر ایک پور چٹادوں وہی ہی اپنا کام کر جاتا ہے۔

ظہور احمد کے یہاں بچے نہیں بچتے تھے۔ ملنگ بابا نے بتایا بہو پر چڑیل کا سایہ ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اسے اپنا دودھ پلا جاتی ہے اور بچہ مر جاتا ہے۔ تعویذ گنڈے مگر افاقہ نہیں ہوا۔ چار بچے ہو کر مر گئے۔ کئی لوگوں نے اگلے بچے کے لیے الو کا گوشت، گھس کر چٹانے کی تجویز پیش کی اور ظہور محمد کی اماں بوٹی کٹوا کر لے گئیں اور دھوپ میں باریک کپڑا ڈھک کر احتیاط سے سکھانے کے لیے رکھ دیا گیا۔

در اصل مذکورہ افسانہ کا بنیادی موضوع سماج میں پھیلی بیہودہ توہمات اور دقیانوسی خیالات پر مبنی ہے۔ کہانی کی ابتدا شکاریات کے شوق سے ہوتی ہے اور وسط سے اختتام تک کہانی ’’الو‘‘ اور الو کے گوشت کے اردگرد گھومتی ہے:

’’حکیم انور حکمت کم کرتے تھے مطب پر بیٹھ کر لکچر جھارٹے (جن میں اکثر لگائیوں کو گالیاں اور نہرو گاندھی کی سیاست پر تبصرہ شامل ہوتا) یا شکار کو نکل کھڑے ہوتے۔ بڑا شکار تو کبھی نہیں کیا۔ بس ایک دو بار بھیڑیئے مارے تھے اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے انعام پایا تھا۔ اسی موقع پر اُن سے نیل گائے کے شکار کا پرمٹ لے لیا تھا۔‘‘ (۸۳)

حکیم انور کے شکار کے ساتھیوں میں وصول پاڑی ایک ہنسوڑ، گھٹیا حرکتوں اور مبالغہ آمیز داستانیں سنانے والا انسان تھا۔ حالانکہ انور اس کی بیہودہ حرکتوں کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے۔ چونکہ وہ ایک جگاڑو آدمی تھا اس لیے شکار کے موقع پر ایسے انسانوں کو رکھنا ان کی ضرورت تھی۔ راجہ صاحب حسن پورہ اور ان کے جگری دوست گنگیؤ کوٹھی والے میرن صاحب وغیرہ بھی ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ حکیم صاحب گولی چلا کر ہٹ جاتے جانور گرتا تو وصول پاڑی دوڑتے اور چھری چلاتے۔ گوشت کی تقسیم، کھال اتارنا حصے بخرے کرنا بھی ان کے کام تھے جس دن گاؤں میں شکار آ جاتا مانو وہ دن بہت خوشی کا ہوتا۔ اس بہانے گاؤں والے مسلمانوں اور کچھ ہندوؤں کو بھی گوشت کھانے کو مل جاتا۔

اکثر گاؤں کے ٹھا کر خبر بھجواتے کہ ارہر کے کھیت میں ریوڑ آ گئی ہے جو کھیت کو نقصان پہنچا رہی ہے اور حکیم صاحب پورے انتظام کے ساتھ نکلتے۔ اس دن گاؤں میں خوشی کا ماحول ہوتا بقول ایک مسلمان مہاوت ’’بہت لوگن کے ہریا بھرجات بھیا‘‘۔

ٹھا کر کی خبر پر جمعرات کے روز شکار کے لیے نکلنا پڑا پوری کوشش کے باوجود بھی شکار نہیں ملا۔ اس کی وجہ بھی اندھ وشواش ہی نکلی:

’’بھیا جانتے نہیں ہیں۔ اچھا ہوا لیل گاہ چلے گئے۔ وہ اصل لیل گاہ نہیں تھے۔ ادھر سے آئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

’’کدھر سے؟‘‘

’’آج جمعرات ہے نہ بھیا‘‘

’’ابے تجھے جمعہ جمعرات سے کیا مطلب؟‘‘

’’مطلب ہے نہ بھیا۔ جمعرات کے روز پانچوں پیرن کی طرف سے لیل گاہ آتے ہیں۔ کھیت کے کھیت چرکے، روند کے نکل جاتے ہیں۔ ان پر گولی چلاؤ تو اثر ہی نہیں کرتی۔ ہاں بھیا اور کتنا کھیت کھا جائیں فصل میں برکت ہوتی ہے۔ اب دیکھو نہ ٹھاکروں کی کھڑی ارہر گرا گئے۔ ان کے کوئی کمی تھوڑی ہی ہو گئی۔‘‘ (۸۴)

ٹھاکروں کی بگیا پہنچتے پہنچتے سورج غروب ہو گیا تھا۔ راستے میں دوچار الووّں کی ہوہو سنائی دے گئی تھی، کچھ چمگاڈر بھی سرپر سے گزر گئے لیکن شکار نہیں ملا۔ وصو میاں نے حکیم صاحب کی ایرگن اپنے کندھے پر لٹکا رکھی تھی۔ انہوں نے منحوس صورت، شکار نہ ملنے پر مذاق اڑانے والے الو پر نشانہ سادھا تو اس کے بازو کے جوڑ پرج کے لگا اور وہ دھپ سے نیچے گرا۔ وصو میاں نے سوچا شکار تو ملا نہیں چلو تماشہ ہی سہی ’’ٹھا کروں کے گماشتہ نور میاں نے جھر جھری لی۔ شام کا وقت، جمعرات کا دن اور موچرائی کو گرا لیا‘‘ جو سورتیں تھیں وہ انہوں نے جلدی جلدی الٹی سیدھی پڑھنی شروع کر دیں۔ الو کے سلسلے میں ایسی بہت سی روایتیں مشہور ہیں کہ یہ منحوس پرندہ ہوتا ہے ویرانہ پسند ہوتا ہے، ویرانہ چاہتا ہے، آبادی سے دور رہنا پسند کرتا ہے۔ اگر آباد علاقے میں لوٹ آئے تو اس کا وہاں سے گزر بھی منحوس خیال کیا جاتا ہے نہ صرف مسلمانوں میں ہندوؤں میں بھی اس طرح کی کہانیاں مشہور ہیں۔ ٹھا کروں کے آفیشیل پجاری سنت رام پنڈت نے سندھیا آرتی کے وقت اسے دیکھا تو خوف زدہ نظروں سے وصول پاڑی اور حکیم صاحب کو دیکھ کر کہا‘‘ ملا سانجھ کے ٹیم ای موچرئی مارے کی کون تک رہی؟ چھوڑ دئیو سسرے کو‘‘

پنڈت جی کا خوف بھی اس بات کی علامت ہے کہ ہندوؤں کے یہاں بھی اس پرندہ کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔

ذکیہ مشہدی نے اپنے معاشرے کی عورت ہی نہیں بلکہ مسلم معاشرے کا نقشہ نہایت سچائی سے کھینچا ہے کہ گاؤں کے مسلم معاشرہ میں عورتیں کس انداز میں رہتی ہیں خاص طور سے مسلم بہوئیں کس قدر پابندی میں رہتی ہیں:

’’در اصل محلے کا کمپلیکیشن کچھ یوں تھا کہ بیٹیاں تو سر ڈھک کے میلے ٹھیلے، اسکول یا رشتے داروں کے یہاں آتی جاتی رہتی ہیں کہ چہرہ ڈھکنا ان کے لیے ضروری نہیں تھا مسلمان لڑکیاں بارہ تیرہ سال کی عمر کے بعد برقعہ اوڑھنے لگتی تھیں لیکن کچھ نقاب گرا کے اور کچھ نقاب اٹھا کے بھی باہر نکل لیتی تھیں۔ بہوؤں کے لیے ضابطے تقریباً یکساں تھے۔ ہاتھ بھر گھونگھٹ نصف زندگی کڑھا رہتا۔‘‘ (۸۵)

بہوؤں اور بیٹیوں کے لیے الگ الگ ضابطوں کے فرق بھی اس اقتباس میں صاف نظر آتی ہے۔ اسی طرح ہندو اور مسلمان بیوہ عورتوں کی زندگی جینے کا فرق بھی مذکورہ افسانہ میں واضح کیا گیا ہے جو انسانی تہذیب کے تضاد کو بیان کرتا ہے۔ در اصل مصنفہ نے معاشرہ میں اس کی حیثیت اور اس کے ساتھ ہونے والے اختیارات کو درد مندی کے ساتھ بیان کیا ہے۔

’’اس میں ہندو، مسلمان کی تخصیص بس اتنی ہی تھی کہ ہندو بوڑھیاں بیوہ ہو جانے کے بعد سلا ہوا کپڑا پہننا عموماً بند کر دیتیں۔ لیکن کیا مجال جو بے پردگی ہو جائے۔ ساڑھی باندھ بوندھ کے ڈھلکی چھاتیوں پر اس طرح پھیلاتیں کہ رواں تک نہ دکھائی دے۔ مسلمان بوڑھیاں البتہ مکمل لباس، ساڑی بلاؤس پیٹی کوٹ پہنتیں۔‘‘ (۸۶)

ذکیہ سلطانہ مشہدی دیہاتوں کو حقیقی تصویر یں اس طرح کھینچتی ہیں کہ دیہی ماحول آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے۔ وہاں کے مناظر، پیڑ پودے اور وہاں کے صبح و شام کا خوشگوار منظر دیکھ کر ان کے گہرے مشاہدہ کا احساس ہوتا ہے:

’’رام رام رام‘‘ بابا جی کھڑاویں کھٹ کھٹاتے حویلی کے مندر کی طرف بڑھ گئے۔ نور میاں مغرب کی نماز سے پہلے گیس کے ہنڈے جلوایا کرتے تھے۔ بجلی ابھی گاؤں کیا کیا شہر میں بھی نہیں آئی تھی۔ انہوں نے کام چور رام کرپال اہیر کو آواز دی جو گائیں دوہنے کے ساتھ ساتھ اس کام میں بھی ان کی مدد کرتا تھا۔ اندر حویلی روشن ہو جاتی تھی۔ باہر اندھیرا پسرا رہتا تھا۔ سن سن سن کہیں کہیں سے آتی تیل کی کپیوں کی ٹمٹماہٹ پراسرار کھیتوں اور پگڈنڈیوں کے طلسم میں اضافہ کرتی تھی۔

ذکیہ مشہدی زبان و بیان پر زبردست گرفت ہے۔ وہ اپنے انسانوں میں مسلمانوں کی شاندار تاریخ اور ماضی کی صحت اقدار کو بڑی خوبصورتی سے سموتی ہیں۔ خاندانی عظمت و وجاہت کا بیان اپنی تحریروں میں فنکاری سے کرتی ہیں۔ موصوفہ اپنے افسانوں میں مقامی اورا رضی سچائیاں بہت ہی ہی خوبصورت انداز میں نظر آتی ہیں۔ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، ہندو و مسلمان کی گنگا جمنی سنسکرتی کی تصویر یں زیادہ تران کے افسانوں میں ملتی ہے۔ مذکورہ افسانہ سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے میرے خیال کی سچائی کا بہترین ثبوت ہے۔

٭٭

 

قصہ جانکی رمن پانڈے

 

بقول ذکیہ مشہدی ’’جانکی رمن پانڈے‘‘ میرے پسندیدہ افسانوں میں سے ہے‘‘ اس کی تفصیل یہ بتائی کہ یہ عرصہ پہلے "شب خون” میں شائع ہوا تھا۔ پاکستان سے جناب اجمل کمال نے اسے اپنے موقر جریدے ’’آج‘‘ کراچی میں شائع کیا۔ محمد عمر میمن جیسے جید عالم نے اس کا انگریزی میں ترجمہ کر کے 2011ء میں ’’The annual of Urdu studies‘‘ میں شائع کیا۔ افسانہ کی اہمیت اور قدر و قیمت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے۔

تخلیق کار کو اپنی ہر تخلیق سے پیار ہوتا ہے جیسے ایک ماں کو اپنی چھوٹی بڑی منجھلی، اچھی بری ہر اولاد عزیز ہوتی ہے۔ باپ کو دیکھا گیا ہے کہ وہی اولاد اس کے قریب ہوتی ہے جو نیک، فرمانبردار ہو اور اس کے لیے حاضر بادش ہوا ور اس کے کاموں میں ہاتھ بٹائے۔ کبھی کبھی بڑا بیٹا یا سب سے چھوٹا بیٹا بھی پیارا ہوتا ہے لیکن ممتا اس قسم کی تخصیص سے بالا تر ہوتی ہے۔ بلکہ یہ دیکھا گیا ہے کہ جو بچہ فیملی میں کسی بھی بنیاد پر نظر اندازی کا شکار ہوتا ہے تو ماں دیگر اولادوں کے مقابلے میں اس کو پہلے گلے لگاتی ہے جب کہ پیار سب ہی سے ہوتا ہے۔ بالکل یہی مزاج فنکار کا ہوتا ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ذکیہ مشہدی ایک جینوئین فنکارہ ہیں۔ اپنی تخلیقات کے وسیلے سے انہوں نے افسانوی کا ئنات میں شناخت بنائی ہے۔ اردو افسانے کی تاریخ ان کی شمولیت کے بغیر نامکمل رہے گی۔ اپنی انفرادی خوبیوں کی وجہ سے انہوں نے نہ صرف اپنی پہچان قائم کی بلکہ اردو افسانوی ادب میں ایک معتبر افسانہ نگار کی حیثیت سے شہرہ آفاق ہوئیں اور فن افسانہ نگاری میں اعتبار حاصل کیا۔ مذکورہ افسانہ ’’جانکی رمن پانڈے‘‘ نہ صرف موضوعاتی بلکہ تکنیکی سطح پربھی شاہکار افسانہ ہے۔

تخلیقی اور فنی اعتبار سے اردو ادب کے معدودے چند افسانوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ تب ہی عمر میمن جیسے جید عالم، فن شناس نے اس افسانہ کو انگریزی زبان میں ترجمہ کرنے کے لیے منتخب کیا اور The annual of urdu studies میں شائع کیا۔ ہندوستان میں ’’شب خون‘‘ کے مدیر محترم شمس الرحمن فارقی جو کثیر المطالعہ اور اردو زبان و ادب کے عظیم نقاد ہیں نے اپنے مؤقر جریدہ میں شائع کیا۔ پاکستان کے اجمل کمال مدیر ’’آج‘‘ نے اسے اپنے مؤقر جریدے کراچی سے شائع کر کے پاکستانی قارئین سے روشناس کرایا۔ محترم اجمل کمال جن کی مدیرانہ اور تنقیدی صلاحیتوں سے کون انکار کر سکتا ہے؟ ان کی نظر انتخاب بھی مذکورہ افسانہ پر جانا خود ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘ ایک اہم تخلیق کارنامہ ہونے کی دلیل ہے۔

افسانہ کا موضوع ہم آہنگی اور اتحاد و اتفاق ہے۔ ہندوستان میں گنگا جمنی تہذیب کو اجاگر کرنا جو کبھی اس کی پہچان تھی۔ اب عرصہ سے زوال پذیر ہے۔ سیکولر اقدار اور مذہبی رواداری کا احیاء کرنا اور مکرر اس ثقافتی منظر نامہ کو بحال کرنا جو کمزور ہو چکے ہیں۔ حالانکہ یہ موضوع پرانا ہے اور بیشتر افسانے اس موضوع کو لے کر تحریر ہوئے ہیں اور بعض افسانے اپنی فنی اور تخلیقی خوبیوں کی وجہ سے مثال بن گئے ہیں۔ اس کے باوجود مذکورہ افسانہ اپنی زبان و بیاں، تکنیک اور ٹریٹمنٹ کی بنیاد پر ایک فنی کار نامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

ذکیہ مشہدی نے اردو افسانہ کی دنیا میں ایک معتبر خاتون افسانہ نگار کی حیثیت سے شہرت اور مقبولیت حاصل کی ہے۔ ان کے یہاں تکنیکی سطح پر تجربے کی کوئی کوشش نہیں ملتی لیکن موضوعاتی تنوع ضرور ہے۔ ارضیت اور مقامیت سے جڑے افسانوں میں ہندوستانی تہذیب کا پس منظر اور ہندوستانی عورت جو چاہے کسی بھی مذہب، فرقہ، ذات سے تعلق رکھتی ہو کو موضوع بنا کر افسانے لکھے ہیں۔ ان کا عورت کی نفسیات کا گہرا مطالعہ ہے اسی لیے اس کی شخصیت کے ہر پہلو اور گوشے کی گرہ کشائی کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ان کے افسانوں میں ہندوستان کے زمینی مسائل ہی نہیں، بیرون ہند یا بین الاقوامی مسائل پر بھی اپنی توجہ صرف کی ہے۔ ان کا مشاہدہ بہت گہرا ہے۔ کسی بھی موضوع کو انوکھا ٹریٹمنٹ دے کر منفرد افسانہ کا درجہ عطا کر دیتی ہیں۔ اس کائنات میں موضوعات بکھرے پڑے ہیں۔ ایک ایک موضوع پر سینکڑوں افسانے لکھے جاتے ہیں لیکن افسانہ کو انفراد اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب کہ اسے کامیاب ٹریٹمنٹ دیا جائے۔

مصنفہ نے ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘ کے متذکرہ موضوع کو مخصوص ٹریٹمنٹ دے کر فنی سطح پر ایک بہترین افسانہ تخلیق کیا ہے۔ کہانی شروعات ابتدائی حصہ سے وسط تک داستانی طرز پر ہوئی ہے جس کا راوی باقاعدہ طور پر ایک داستان گو کی طرح جانکی رمن پانڈے کا قصہ اس طرح بیان کرتا ہے جیسے پرانے وقتوں میں فرصت کے اوقات میں اپنے روزانہ کاموں سے فارغ ہو کر رات کے وقت چوپالوں میں بیٹھ کر قصہ گو کی داستان سنتے تھے۔ جب ادب کا طالب علم کہانی کی ارتقاء پر نظر ڈالتا ہے تو کہانی کی ابتدا داستان گوئی سے شروع ہوتی ہے اور مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے صنف افسانہ کی صورت میں ڈھل کر وجود میں آئی۔ مصنفہ نے بھی مذکورہ کا منظر نامہ بھی اسی طرح تخلیق کیا ہے جہاں کے کے ماما داستان گو کا کام انجام دیتا ہے اور سننے والے محلے کے اوپر آس پڑوس کے لوگ جو اس افسانے کے سامعین کی طرح بڑی دلچسپی سے قصہ جانکی رمن پانڈے سنتے ہیں:

’’نہ جانے کسی ستم ظریف نے نام کے آگے ماما لگا دیا۔ بس وہ جگت ماما ہو گئے۔ خاصہ طویل عرصہ لکھنؤ میں گذرا تھا۔ اچھی اردو بولتے تھے۔ قصہ گوئی کے شوقین تھے۔ نخاس کے کسی داستان گو کی روح ان میں حلول کر گئی تھی (ایسا خیال کبھی جانکی رمن پانڈے نے ہی ظاہر کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سامعین میں خاص الخاص تھے۔ لانبے چوڑے کنبے کے سارے نوجوان، دو ایک اڑوسی پڑوسی جن میں مرزا انور بیگ کی بیوی نیرہ بیگ بھی شامل تھیں اور جو آیا گیا ہو، وہ الگ انور بیگ شاید واحد ہستی تھے جو کے۔ کے ماما سے جڑتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’زنخہ کہیں کا‘‘ ان کا کمنٹ ہوا کرتا تھا۔‘‘ (۸۷)

ذکیہ مشہدی کو کردار نگاری پر ملکہ حاصل ہے۔ ان کے کردار معاشرے سے الگ نہیں ہوتے بلکہ ہمارے سماج کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ ان کے اظہار یہ کا کمال ہے کہ جس کردار کو پیش کرتی ہیں وہ زندہ ہو کر ہمارے سامنے چلتا پھر تا محسوس ہونے لگتا ہے۔ کے کے ماما مذکورہ افسانے کا ضمنی کردار ہے جس نے کہانی کے مخصوص حصے تک اپنا رول ادا کرتا ہے اور پھر غائب ہو جاتا ہے۔ افسانے کے وسط تک اس کی حرکات و سکنات کی ماما در اصل کرشن کانت کا مخفف ہے، ہنسی مذاق اور مسخراپن ان کی شخصیت کا ایک حصہ تھا۔ وہ ذات پات کے سخت مخالف تھے۔ حالانکہ ذات کے برہمن پنڈت تھے لیکن اپنے نام کے ساتھ ٹائٹل کا استعمال نہ کرنا ان کے احتجاج کا مظہر تھا۔ ہر نیچ اونچ ذات میں بیٹھنا اٹھنا ان کا شیوہ تھا۔ مسلمان چوڑے چماروں سے بھی کھان پان تک کا پرہیز نہ کرتے تھے۔ بقول مصنفہ ’’کے۔ کے کا اپنا بھانجہ تو شاید کوئی تھا بھی نہیں۔ نہ جانے کس ستم ظریف نے نام کے آگے ماما لگا دیا۔ بس وہ جگت ماماہو گئے خاصہ طویل عرصہ لکھنو میں گذرا تھا۔ اچھی اردو بولتے تھے۔ یہ ذکر اس لیے ضروری تھا کہ داستان گوئی کے لیے زبان پر عبور ہونا شرط ہے۔ قصہ گوئی کے شوقین تھے۔ پان کھاتے اس لیے منھ اوپر کر کے بولتے کہپ یل کی چھیٹیں سننے کے بارے میں خیال تھا ’’راوی تفریح کی جنت لکھتا تھا‘‘۔ راوی اور جانکی رمن پانڈے کے درمیان رشتہ داری تھی بقول راوی ’’ان (پانڈے) کی اماں ہماری اماں کے پھپھیرے بھائی کی سالی کے جیٹھ کی چچازاد بہن ہوتی تھیں۔ یہ رشتہ تو تھاہی، تعلقات بھی تھے‘‘

راوی کے کے ماما نے جانکی رمن پانڈے ایڈووکیٹ کا قصہ یوں بیان کیا ہے۔ پانڈے جب چھوٹے تھے تو ان کی اماں جو پنڈتائن کہلاتی تھیں پر لوک سدھار گئیں۔ کچھ دن کے بعد ان کے ابانے دوسرا بیاہ کر لیا۔ بڑی بوڑھیوں کے اصرار پر کہ پانچ برس کا لڑکا کیسے پالو گے۔ درمیان میں نیرہ بیگ بول پڑیں:

’’اور جو کہیں پنڈت مرے ہوتے تو کوئی نہ کہتا کہ آئے ہائے پنڈتائین دوسرا بیاہ کر لیو، اور تب پانڈے مزے میں پل بھی جاتے۔ کوئی نہ سوچتا کہ پانڈے کیسے پلیں گے اگر ان کی اماں بن بیاہی بیٹھی رہ گئیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ (۸۸)

پرانے زمانے کے ہندوستانی سماج میں بیوہ عورتوں کی دوسری شادی کرنے رواج نہیں تھا۔ خصوصی طور سے ہندو سماج میں بیوہ عورتوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کے ساتھ برابر تاؤ ہوتا، سلے ہوئے کپڑے پہننے کی اجازت نہ تھی، خاندان کا ہر فرد اس کے ساتھ بدسلوکی کرتا۔ بڑے بوڑھے اسے کوستے کاٹتے تھے۔ سونے بیٹھنے کے لیے بستر مہیا نہیں کئے جاتے۔ آدھا پیٹ کھانا وہ بھی جھوٹن ملتا۔ دن بھر بھاری بھرکم کام لیے جاتے سنگارپٹی، کرنے، نہانے دھونے صاف ستھرا رہ نے کی اجازت نہ تھی اور ان کا سر منڈادیا جاتا۔ اکثر عورتوں کو ان کے شوہروں کی چتا میں ہی جلا دیا جاتا۔ زندہ جلانے کی یہ رسم اس قدر ظالمانہ تھی کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہندو تہذیب کے اثرات دوسری شکل میں مسلمانوں میں بھی نظر آتے ہیں مثلاً سنگھار کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ دوسری شادی کرنے ممانعت تھی وغیرہ وغیرہ۔ مصنفہ نے سماج کی اس بیہودگی کی طرف مکالماتی انداز میں اشارہ کیا ہے ’’کوئی نہ سوچتا کہ پانڈے کیسے پلیں گے۔ اگر ان کی اماں بن بیاہی بیٹھی رہ گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ سماج کی اس نا انصافی کی طرف بھرپور طنز ہے کہ مردوں کو دوسرا بیاہ کرنے کی اجازت ہے ’’اس وقت لوگ باگ ضرورت سمجھتے تو بیوی کے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا کرتے تھے۔ مزے سے دوسرا بیاہ کر لیتے تھے۔‘‘

جب دوسری ماں کی اپنی اولاد ہوئی تو وہ رانی کیکئی بن گئی۔ رمن پانڈے کی بری حالت دیکھ کر ان کی شادی شدہ بڑی بہن اوما دیوی اپنے ساتھ لے گئیں۔ سارے لڑکے بالے انہیں ددا ددا کہتے تھے۔ پانڈے کو ددّا پیار سے بھین کہتی تھیں اور بھائی نہیں بیٹا سمجھتی تھیں۔ ددّا کے شوہر اونکار ناتھ مشر نے بھی اپنے سالے کو بھی چاہت اور عزت دی اور وہ بھی اپنی بیوی ددّا کو پیار اور مان دیتے تھے:

’’ددّا جیسی بیوی پا کر خود کو خوش قسمت سمجھتے تھے۔ مشکل سے نقربرساتی برہمن، صاف گوئی اور وعدہ وفا کرنے میں راجپوتنی، سارا حساب کتاب رکھنے، زمین جائداد دیکھنے میں ویشہ اور کھٹ کے خدمت کرنے میں شودُر۔ اونکار آگے پیچھے گھومتے جو کہتیں وہ کرتے۔ بھین کو بھر پور تعلیم ملی۔۔‘‘ (۸۹)

ابھی بی۔ اے کے فائنل ایئر میں تھے بھین کا رشتہ اعلیٰ گھرانہ میں کر دیا۔ لڑکی کا رنگ کا لا تھا۔ بھین نے دبے لفظوں میں اظہار کیا۔ ’’سنا ہے مرجاپور والی کالی ہے اور تم زبان دے آئیں‘‘ جس کا جواب ملا ’’صورت دیکھی جاتی ہے رنڈی کی۔ بیٹا کا تو خاندان دیکھا جاتا ہے۔ سو خاندان ہزاروں میں ایک۔ ماس مچھلی تو کیا کوئی پیاز لہسن تک نہیں کھاتا‘‘ گفتگو کے درمیان اونکار ناتھ بڑی سنجیدگی سے بولے ’’برخوردار فی الحال خاندان والی سے بیاہ کر لو بعد میں کبھی ایک صورت والی بھی لے آنا‘‘ وکالت کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب ان کی وکالت چل نکلی تو وہ پوری طرح خود کفیل ہو گئے۔

داستان سننے والوں میں بپن بھائی نے ٹھونکا دیا کہ وہ صورت والی مسلمنٹی تھیں لیکن ان سے سابقہ کہاں، کیسے پڑا یہ تو ماماہی بتائیں گے۔‘‘ قصہ گو نے چائے سڑکتے ہوئے قصہ کا سرا پکڑا۔

’’رہا مسلمنٹے مسلمنٹی کا سوال تو میاں کوئی کہہ دے ان نیرہ بی بی کی صورت دیکھ کے کہ یہ ہندو ہیں یا مسلمان۔ ماتھے پہ نہ کوئی ذات لے کے گھومتا ہے نہ مذہب اور میاں ہمارا بس چلے تو ہم دنیا کے سارے مذاہب بین کرادیں۔ انسانوں کے بیچ ان سے زیادہ تفرقہ کسی نے نہیں ڈلوابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماما نے اتنے طیش میں آ کے یہ آخر کا جملہ ادا کیا۔‘‘ (۹۰)

مندرجہ بالا اقتباس سے نہ صرف کے کے ماما کے سیکولر مزاج کا اظہار ہوتا ہے بلکہ مذہب جس نے انسانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کر دیا ہے، کے خلاف احتجاج بھی درج کرایا ہے۔

پانڈے کے چچا جی پنڈت اونکار ناتھ ایڈوکیٹ کے پرانے فرمانبردار منشی رجب علی کے والد امتیاز علی اونکار ناتھ کے والد کے زمانے سیان کی زمینوں کا کاروبار دیکھتے تھے۔ بڑے ہی ایماندار اور وفا دار منیجر تھے۔ ددّا انہیں رجب علی بھائی صاحب کہتیں گھونگھٹ کاڑھ کے پیر چھو کے پرنام کرتیں ہاں ان لوگوں کے گھر کھانا نہیں کھائی تھیں:

’’پرہیز پکے ہوئے کھانے اور گیلی چیزوں کا تھا۔ سوکھے سامان، پان تمباکو پھلوں وغیرہ سے عار نہیں تھا۔ سو عید میں رجب علی کے یہاں سے خوان آتا۔ تانبے کی نئی سینی پر سوکھی سویاں لہجے خشک میوے، شکر اور طرفہ تماشہ دودھ خریدنے کے لیے ایک کنارے کچھ نئے کڑکڑے نوٹ رکھے ہوتے اور سارے لڑکے بالوں کے لیے بنام عیدی کے لفافے بھی۔‘‘ (۹۱)

مصنفہ نے نہ صرف مسلمانوں کی شاندار تاریخ اور پرانی تہذیب کو اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے بلکہ قدیم ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا بھی ذکر کیا ہے۔ ہندو مسلمان کس طرح ایک دوسرے میں شیر و شکر ہو کر رہتے تھے اور مل جل کر تیوہار مناتے تھے۔ تحفے تحائف کا دینا مسلمانوں کے شاندار ماضی کی نشاندہی کرتا ہے۔

رجب علی کی ایک بیوہ بہن تھیں۔ عمر میں ان سے خاصی بڑی، ان بہن کی ایک نواسی تھی۔ ان کی ماں جوانی میں ہی مر گئی تھی۔ باپ نے دوسرا نکاح کر لیا تھا۔ رجب علی بیوہ بہن اور یتیم نواسی کو گھر لے آئے۔ اپنی کوئی بیٹی نہیں تھی۔ اس لیے بہت چاہتے تھے بڑے ارمان سے شادی کی تھی۔ ددّا نے بھی جوڑے توڑے بھیجے تھے۔ کچھ ہی عرصہ بعد معلوم ہوا جس لڑکے سے شادی کی تھی وہ دماغی مریض ہے۔ رجب علی کی قبل از وقت موت کا سبب بھی یہی صدمہ بنا کہ آ کر کو اس عزیز نواسی کو خلع دلوانا پڑا۔ ایک چپ سی لگ گئی تھی اسے۔ پہلی مرتبہ پانڈے کی اس پر نظر پڑی اور وہ اس کے دیوانے ہو گئے۔ بظاہر رجب علی پرانی وفاداریوں کے صلے میں پانڈے نے ان کے گھر آنا جانا شروع کر دیا۔ تحفے تحائف دینے لگے۔ بے چاری رجب علی کی بیوی سیدھے سادی گھریلو عورت اوپر سے شوہر کی موت اور اس بچی پر جو گزری تھی۔ اس کے صدمے سے آئے حو اس جاتے رہے تھے۔ بہت دن تک وہ کچھ نہ سمجھیں۔ ددّا کو بھی اس کی خبر نہ ہوئی۔ جب معلوم ہوا تو پانی سر سے اوپر بہہ رہا تھا۔ عشق کا جب بھوت سوار ہوتا ہے تو وہ ذات برادری، مذہب کی بھی دیوار توڑ دیتا ہے۔

آخری کار دونوں گھرانوں نے طوعاً و کرہاً یہ رشتہ منظور کر ہی لیا۔ جب پانڈے نے اس خوبصورت عورت سے شادی کی۔ اس وقت ان کی پانچ چھ برس کی دو بیٹیاں تھیں۔ دوسرا بیاہ کیا تو ایک سال کے اندر ایک بیٹا پھر دوسرے برس دوسرا بیٹا اور پھر بعد میں تیسری بیٹی بھی ہو گئی۔ ددّا بھتیجوں کا منھ دیکھ کر خوش ہوئیں بدھاوا کی رسم ادا ہوئی۔ گھر پر ست نرائن بھگوان کی کتھا ہوئی جب غیر مذہب بھاوج سے ددّا پہلی بار ملیں تو اس کی خوبصورتی، فرمانبرداری اور عزت افزائی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں بولیں بین کے ساتھ تمہاری جوڑی رام سیتا جوڑی لگتی ہے۔ روشن آرا کا نیا نام جانکی، سنیتا کی نسبت سے رکھا گیا۔ عامر کو اَمر، صابر کو سُبیر نام دیا گیا۔ اس طرح سب کو خاندان میں شامل کر لیا گیا:

’’اسلام اور ہندو ازم کی خلیج انہوں نے پل بھر میں پاٹ کے رکھ دی۔ اتنی جلدی تو ہنومان جی کی فوج ہندوستان اور لنکا کو جوڑنے والا پل بھی نہ بنا پائی ہو گی۔ مگر اس کار روائی کا فال آؤٹ ’’ذرا گڑبڑ تھا، جس خاندان والی کی ددّا بڑے ارمان سے بیاہ کے لائی تھیں وہ ددّا سے خاصی ناراض رہنے لگی۔ میاں یہ ساس نند والے جھڑے ہوتے تو سب جگہ ہیں۔ لیکن شریف گھرانوں میں ذرا ڈھکے چھپے رہتے ہیں۔‘‘ (۹۲)

افسانہ کے عنوان ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘ کرداروں کے ناموں کی نسبت سے رکھا گیا ہے اس اعتبار سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ کہانی کرداری افسانہ ہے جو جانکی اور رمن پانڈے کے اردگرد گھومتا ہے۔ ددّا نے روشن آرا کا نام جانکی دیا ہے اور سیتا کا دوسرا نام جانکی ہے۔ ذکیہ مشہدی نے ہندو اساطیر کا استعمال اپنے افسانوں میں خوب کہا ہے جو ہندو ازم کے متعلق ان کی واقفیت کا ثبوت ہے جس کی وجہ سے ان کے افسانے تہہ دار ہو گئے ہیں۔ ہندو مسلمانوں کے درمیان خلیج پاٹنے کی مثال وہ ہندوستان اور لنکا کے بیچ سمندر پرپل بنانے کی روایت سے دیتی ہیں جسے ہنومان جی کی فوج نے تعمیر کیا تھا۔ دوسرے یہ ارضی سچائی ہے کہ نند اور بھاوج کا رشتہ بڑا ہی نازک ہوتا ہے ان دونوں کے معاملات کبھی ہموار نہیں ہوتے۔ شریف گھرانوں میں بھی ان کے بیچ سرد جنگ چلتی رہتی ہے۔ مصنفہ کا خانگی زندگی کے معاملات میں مشاہدہ بہت گہرا تھا۔

داستانی طرز میں چلنے والا یہ قصہ یہاں تمام ہوتا ہے اور افسانہ تکنیکی سطح پر دوسرا رخ اختیار کرتا ہے اور کہانی افسانوی طرز میں ڈرامائی اندازسے آگے بڑھتی ہے جس میں مصنفہ خود راوی ہے۔ افسانے کو تخلیقی بیانیہ کے ذریعہ پیش کرتی ہے اور افسانہ زمانہ حال میں واپس ہوتا ہے۔ یہ بتانا ضروری ہے کے کے ماما جنہوں نے کہانی کا پہلا حصہ قصہ گوکی حیثیت سے بیان کیا تھا بقول مصنفہ:

’’یہ نشستیں اب بھی ہوتی تھیں لیکن وہ مزا نہیں رہ گیا۔ کے کے ماما محض پچپن سال کی عمر (بقول خود بھری جوانی) میں کینسر کا شکار ہوئے اور دوبرس میں چٹ پٹ ہو گئے‘‘۔ (۹۳)

افسانہ کا دوسرا حصہ بڑا ہی معنی خیز اور تخلیقی و فنی سطح پر دلچسپ پر تجسس استدلال نوعیت کا ہے جس میں زندگی و موت، مذہب اور الوہیت کے موضوعات پر مباحثہ قائم کیا ہے کہ افسانہ کی تخلیقیت پر کوئی حرف بھی نہیں آتا۔ اس لیے افسانہ کے شاہ کار ہونے پر کوئی شبہ بھی نہیں ہوتا۔

ددّا بھی مر چکی ہیں۔ لڑکیاں بڑی ہو گئی ہیں۔ اس لیے پانڈے پر بیوی کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ جاتے بھی جلدی واپس ہوتے لیکن اس مرتبہ گئے تو سارا اگلا پچھلا حساب چکتا کر دیا۔ وہیں مر گئے۔ بس یونہی اچانک بیٹھے بیٹھے کے کے ماما تو ہیں نہیں ورنہ کہتے۔ اب میاں نہ کسی پہ دل آنے کا کوئی وقت مقر رہے نہ آندھی شادی اور موت کا۔ کبھی کبھی ایسے اچانک آتی ہیں یہ آفتیں کہ پوچھئے مت۔ اب دیکھ لیو اچھے بھلے پانڈے گھر میں بیٹھے۔ اب یہ رسول پور کہاں جا مرے۔ مانا کہ وہاں وہ رہ رہی تھی۔ ان کی چہیتی بیوی لیکن اس گھڑی نہ جاتے تو شاید مرتے بھی نہیں اور مرتے بیشک لیکن رسول پور میں تو نہ مرتے۔‘‘ (۹۴)

اس کائنات میں ہر جاندار کی موت برحق ہے۔ لیکن کسی کو یہ پتہ نہیں کہ موت کب آئے گی۔ کیسے آئے گی اور کہاں آئے گی۔ مفکر ین، شعرا، ادبا اور علما نے اس پر بہت غور فکر کیا ہے لیکن اس سے زیادہ کوئی کچھ نہ کہہ سکا کہ موت کا ایک دن معین ہے۔ کون سادن، کون سا لمحہ ہے، اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ اسی طرح شادی کیسے ہو گی، کب ہو گی، کن حالات میں ہو گی پہلے سے کسی کو پتہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح ناگہانی آفتیں کب آتی ہیں۔ کیوں کر آتی ہیں؟ کسی کو نہیں معلوم ہوتا۔ رمن پانڈے کو بھی کیا معلوم تھا کہ وہ اپنی چہیتی بیوی کے گھر جا کر مریں گے۔ وہ بھی رسول پور میں جو آگے جا کر جھگڑے کا سبب بھی بنا۔

عرصہ ہوا کے کے ماما پہلے ہی مر چکے تھے۔ ددّا بھی فوت ہو گئی اور اب جانکی رمن پانڈے ناگہانی موت کے شکار ہو گئے۔ اس کائنات میں جو ہونا ہے وہ ہوتا ہے۔ ہونی کو کوئی نہیں ٹال سکتا۔ روشن آرا نے بھی اپنی زندگی میں بہت ساری ہونیوں کو دیکھا ہے۔ دروازے کے سامنے زبردست شور ہے۔ لوگوں کے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہیں برچھی بھالے ہیں۔ مقامی لوگوں کے ہاتھوں میں ہتھیار ہیں۔ الٰہ آباد سے پانڈے کے تینوں داماد، ان کے ایک دو رشتہ دار ددّا کے جیٹھ کے کا خاندان والے تھے۔ ماں کے نام دی جانے والی گندی گالیوں کو سننے کے بعد دروازہ کھول دیا۔ اندر آنگن میں روشن ہاتھوں پر قرآن بلند کئے کھڑی تھر تھر کانپ رہی تھی۔ روشن بے چین ہو کر باہر نکل آئی اور بیٹوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر لولی ’’یہ تمہارے رشتہ دار ہیں۔ جانکی رمن پانڈے کی اولاد ہیں‘‘ بھیڑ سے کوئی جواباً چلایا ’’پہلے تو اس کلٹا کو ہی مارنا چاہیے۔‘‘ روشن نے بڑے پرسکون انداز میں کہا ’’تم لوگ کاغذات لے آؤ۔ امن سکون کے ساتھ ہمارے ساتھ بیٹھ۔ ہم تینوں اس جائداد سے دستبردار ہوتے ہیں جو پنڈت ہمارے نام کر گئے ہیں۔

تبھی کسی انہونی کے خوف سے بزرگ اونکار ناتھ مشر موقعہ پر پہنچ گئے اور انہوں نے بات کو سنبھال لیا۔ دنیا کے سرد و گرم دیکھنے کے بعد لوگوں کے مزاج اور خصلتوں میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ بیوی کے مرنے کے بعد دنیا کی بے ثباتی دل پر نقش ہو گئی تھی۔ پانڈے رسول پور میں مرے تھے تو روشن نے گاؤں کے لوگوں سے بیٹوں سے کہا کہ پنڈت کے جسد خاکی کو ان کے گھرالٰہ آباد پہنچا دیا جائے لیکن لوگ نہ مانے۔ اس لیے لوگوں نے باقاعدہ نماز جنازہ پڑھا کر انہیں قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ مرنے سے پہلے ہی انہوں نے نصف جائداد لڑکوں اور روشن کے نام کر دی تھی یہ سن گن سب جگہ ہو گئی تھی۔ ادھر الیکشن قریب آ رہے تھے۔ رسول پور میں آئی ایس آئی کے ایجنٹوں کے سرگرم ہونے کی افواہ بھی تھی۔ بہر حال صورت حال نہایت خطرناک تھی جس وقت پنڈت جانکی رمن پانڈے مرنے سے پہلے نصف جائداد بیٹوں کو کر رہے تھے تو روشن اظہار کرتی ہے:

’’پنڈت ہمیں کچھ نہیں چاہیے۔ بس یہاں رسول پور میں رہنے کا ٹھکانہ تم نے کر دیا ہے۔ دونوں لڑکوں نے اعلیٰ تعلیم پائی۔ وہ خود بہت کما لیں گے۔ تم نے انہیں اتنی بڑی دولت دی۔ باہر رکھ کر اعلیٰ اسکول کالجوں میں پڑھایا۔ اتنا خرچ کیا۔ اب اور کیا دو گے۔ ہمارا سرپھٹنے لگتا ہے جب ہم سوچتے ہیں کہ انسان بنیادی طور پر خود غرض وار کمینہ خصلت ہے۔ ایک کمینہ پن ہم نے بھی کیا کہ ایک بے چاری عورت کے شوہر پر قبضہ کیا‘‘(۹۵)

روشن ایک شریف النفس اور منکسر المزاج خاتون ہے۔ انسانی اور شرافت اس کی تہذیب کا خاصہ ہے۔ اس کے اندر نہ کوئی لالچ تھا اور نہ خود غرض۔ پنڈت سے بے لوث محبت کرتی تھی اور ان کی احسان مند بھی تھی۔ اسے اس بات کا شدید احساس ہے ’’کہ ایک بے چاری عورت کے شوہر پر قبضہ کر لیا‘‘ اس کی اعلیٰ ظرفی کی یہ دلیل ہے کہ وہ آج تک اپنے آپ کو گناہ گار سمجھتی ہے۔ پانڈے کو بھی اپنے عشق کی پاسداری تھی۔ ان کی وفاداری اور تہذیب عظمت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ ایک غیر مذہب عورت سے شادی کرنے پر سماج، خاندان اور عزیزو اقارب کی مخالفتوں کا سامنا کیا اور آخر تک عشق نبھایا۔ ایک برہمن سماج سے تعلق رکھتے تھے جس میں لہسن و پیاز کھانے سے بھی پرہیز کیا جاتا ہے۔ ایک تنگ نظر خاندان میں ان کی پرورش ہوئی تھی اس سے بغاوت کرنا یہ ان کی بیباکی اور وسیع القلبی کا ثبوت ہے۔ ذہنی کشادگی کے علاوہ اعلیٰ اخلاق و کردار کے مالک تھے:

’’وہ عورت ایسی بے چاری بھی نہیں ہے روشن۔ اسے ہمارا بھرپور ساتھ ملا ہے۔ سماج نے اسے جو کچھ دیا ہے وہ ہم تمہیں نہ دے سکے اس لیے سماج سے کٹ کے فرد اکیلا ہو جاتا ہے۔ سچ پوچھو تو ہم تمہارے گناہ گار ہیں۔ تمہیں بے یار و مددگار چھوڑ کر، مر کر ہم اس گناہ میں اضافہ نہیں کرنا چاہیں گے۔ ہماری دلی خواہش تو یہ ہے کہ مریں تو تمہارے پاس ہوں۔ روشن نے پانڈے کے منھ پر اپنی ملائم انگلیاں رکھ دیں۔‘‘ (۹۶)

اس سے پہلے کوئی خطرناک واقعہ رونما ہوتا، اونکارنا تھ کے شدید اصرار پر روشن نے اپنی مرضی کے خلاف کہ خواہ مخواہ پنڈت کا جسد خاکی بے حرمتی ہو گی لیکن کسی انہونی کے خوف سے مردے کو قبر سے اکھاڑ نے کی اجازت دے دی۔ جائداد کی واپسی کے لیے کاغذات پر دستخط پہلے ہی کر دیئے تھے۔ فضا خراب ہے۔ گاؤں میں نہ جانے کتنے بے گناہ مارے جائیں گے۔ اسی میں عافیت ہے کہ سدبھاؤ نا بنا رہے۔ وہ سوچتی ہے کہ یہ سارے انسان کون تھے جو قبر کے کیڑوں اور چتا کے بدن چاٹنے والے شعلوں کو بھلا کر جان لینے اور جان دینے پر تل جاتے ہیں؟ کیوں انہوں نے اپنے اور اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے بیچ نفرت کی دیواریں کھڑی کر رہی ہیں؟ اسی وقت انہیں پانڈے کے کہے ہوئے الفاظ یاد آتے ہیں:

’’کسی بھلاوے میں مت رہنا روشن آرا بیگم۔ یہ دوسری دنیا کا تصور ہمیشہ زندہ رہنے اور موت کو شکست دینے کی انسانی خواہش کے اظہار کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ یہ آتما کا اجرامرہونا۔ یہ روح کا ناقابل تسخیر ہونا سب فراڈ ہے۔ ہمارا تمہارا ساتھ بس اتنا ہی ہے جتنا ہم جئیں گے۔ باقی تمہارا جی چاہے تو ہمارے نام سے بھی فاتحہ پڑھ لیا کرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھرو شیطنت کے ساتھ مسکرائے۔۔۔۔۔ مگر کیا تمہاری فاتحہ ہم تک پہنچے گی۔ ہم ٹھہرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ (۹۷)

موت جو ایک اٹل حقیقت ہے۔ موت کے واقعات جو روزانہ زندگی میں رونما ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود انسان اس کا عادی نہیں ہو سکا۔ ہر روز نیا غم لے کر ہماری سامنے آتی ہے اور انسان اسے شکست دینے کی ناکام کوششیں کرتا رہتا ہے۔ روح اور جسم کا ناگزیر تعلق ہے۔ اگر روح نکل جائے تو یہ خوبصورت جسم مٹی بن جاتا ہے۔ روح کے معمہ کو سمجھنے کے لیے وہ غور و فکر کرتا ہے مگر اس کی سچائی کو آج تک نہیں سمجھ سکا۔ ہندو فلسفہ کے مطابق آتما اجر ہے روح ایک ناقابل تسخیر عنصر ہے:

’’لوگوں کے لاش لے جانے کے بعد انکار نا تھ کچھ دیر وہیں بیٹھ گئے تھے۔ ’’اب اسے جلاؤ یا دفن کرو۔ وہ تو دنیا سے گیا۔ پنچ تتو پنچ تتو میں مل جاتے ہیں۔ مٹی، مٹی میں، آکاش میں، آگ، آگ میں۔ پانی، پانی میں۔ اور ہوا، ہوا میں، جل کے بھی یہ ہوتا ہے۔ اور دفن ہو کے بھی یہی ہوتا ہے۔ فرق اتنا ہی ہے کہ دفن ہونے پر یہ عمل بہت سست رفتار کے ساتھ ہوتا ہے۔ مگر لوگ اس بات کون ہیں سمجھیں گے۔ مرنے کے بعد ساری رسمیں صرف زندوں کی تسلی کے لیے ہیں۔ ہم تو معمولی آدمی ہیں۔ ہم کیا کہیں مگر رشیوں مینوں نے شریر کو چولا قرار دیا ہے جسے آتما بدلتی رہتی ہے۔ آتما اجر اور امر ہے‘‘ (۹۸)

ہندو مائتھولوجی میں آتما اجراور امر ہے۔ آتما کو فنا نہیں، شریر کو چولا قرار دیا ہے جسے آتما بدلتی رہتی ہے اور چولا بد لنے کا یہ سلسلہ اسی لاکھ یونیو تک جاری رہتا ہے۔ روح نکلنے کے بعد یہ سلسلہ اسی لاکھ یو نیو تک جاری رہتا ہے۔ روح نکلنے کے بعد جسم جلاؤ یا دفن کرو انجام ایک ہی ہوتا ہے۔ مٹی میں مٹی مل جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے انسان کی تخلیق خاک سے ہوئی ہے۔ مٹی بھی پنچ تتو میں ایک تتو ہے۔ اسی طرح پانی، پانی میں، ہوا میں ہوا۔ آکاش آکاش میں اور آگ میں مل کر اپنا وجود کھو دیتی ہے۔ جلانے کی رسم ہو یا دفن کرنے کی یہ تمام رسومات صرف زندوں کو تسلی کے لیے ہیں جو محض رسمیات کے علاوہ کچھ نہیں۔ ان کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔ افسانہ کا خاتمہ عبرت انگیز المیہ پر ہوتا ہے اور مذہب کے ایک مخصوص نظریے پر مبنی ہے:

’’بجھتی چتا کے دھویں کی طرح بے کملی نے روشن کے اندر چکّر کاٹے‘‘۔

’’ساری جنتیں، سارے جہنم ہم اسی دنیا میں جھیل لیتے ہیں اور یہ ہمارے ہی تخلیق کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہمارے اعمال کے نتیجے ___‘‘(۹۹)

یہ دنیا مکانات عمل ہے جو بوؤ گے وہی کاٹو گے۔ اگر نیک عمل کئے ہیں تو اس کا بدلہ نیک ملے گا اور برائی کا بدلہ برا ہو گا۔ مذکورہ افسانہ کا اختتام تکنیکی اور فنی سطح پر اس کی ابتدا سے جڑ جاتا ہے:

’’اب کوئی پوچھے ان جانکی رمن پانڈے ایڈوکیٹ سے کہ اچھے بھلے الٰہ آباد میں تھے۔ رسول پور کہاں جامرے۔ وہ بھی محاورہ‘‘ نہیں حقیقتاً۔ یوں تو عام عقیدہ ہے کہ مرنے کی ساعت اور جگہ پہلے سے طے ہوتی ہے (ویسے مرنے سے بھی بڑے کچھ واقعات کی ساعت پہلے سے طے ہوتی ہے مثلاً شادی) لیکن سوال یہ ہے کہ عقیدہ یہ کہتا ہے تو ہنگامہ کا ہے کا۔‘‘ (۱۰۰)

در اصل افسانہ کے وسط میں جانکی رمن پانڈے کی غیر مذہب عورت روشن آرا سے شادی اور ان کی رسول پور میں موت واقعہ ہونے کا قصہ بیان ہوا ہے۔ عام عقیدہ ہے کہ مرنے کی ساعت اور جگہ پہلے سے طے ہوتی ہے یہ بھی یقین ہے کہ اوپر والے حاکم نے مرنے کی جگہ اور ساعت تو پہلے ہی سے طے کر دی ہے۔

جانکی رمن پانڈے سناتن دھرم کے ماننے والے سیدھے سادھے ہندو تھے۔ روشن آرا کو پانے کے لیے نقلی مسلمان ہے پھر اصل ہندو بھی نہ رہے۔ روشن آرا کو ان کے مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ وہ تو اس لیے محبت کرتی تھی کہ رمن پانڈے ایک اچھے انسان تھے جس نے بھر پور محبت دی اور روشن آرا کو تحفظ دیا اور رمن پانڈے نے روشن آرا سے صرف اس لیے شادی نہیں کی کہ وہ بہت خوبصورت تھی بلکہ وہ ذہین، بذلہ سنج، گہری سوجھ بوجھ اور شرافت سے مزیّن تھی۔ چونکہ رمن پانڈے سناتن دھرم کے حامی تھے اس لیے ان کا فلسفہ وحدانیت مسلمانوں کے وحدانی نظریہ سے مماثلث رکھتا ہے۔ رمن پانڈے نے کہانی کے وسط میں روشن آراء سے اس کا اظہار یہ مکالمہ میں کیا:

’’ہم نے بڑی شدت سے محسوس کیا ہے کہ کائنات کے اسرار و رموز نے زندگی کے سارے اتار چڑھاؤں، موت، بڑھاپے اور دکھ نے۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان میں۔ ہر دو، ہر مقام اور ہر رنگ ونسل کے انسان میں ایک ایسی ہستی کا تصور پیدا کیا جو اس سارے گور کھ دھندے پر قادر ہے جسے ہم دنیا کہتے ہیں۔ ایسی ہستی جو باپ کی طرح شفیق ہے اور ہر امتیاز سے بالا تر ہے۔ ایسی ہستی جس سے ہم حق کی حمایت اور جھوٹ کی مخالفت کی امید کرتے ہیں۔ ایسی ہستی جو ہر وقت جاگتی ہے اور ہر ذی روح پر نظر رکھتی ہے۔ ایسی ہستی جس سے ہم سب کچھ مانگ سکتے ہیں۔ اس ہستی کو خوش کرنے، اس کے غصے سے بچنے کے لیے پھر ہم نے گناہ و ثواب کے اصول بھی گڑھے۔ بنیادی طور پر تو سارے ثواب وہ تھے جن سے کسی کو فائدہ پہنچے اور گناہ وہ جو باعث نقصان ہوں۔‘‘ (۱۰۱)

رمن پانڈے نے خدا، کائنات اور زندگی و موت کے موضوعات پر مدلل مباحثہ کیا ہے۔ حق ناحق اور گناہ و ثواب کے تصور پر بڑا معنیٰ خیز مکالمہ قائم کیا ہے گناہ وہ ہے جو انسانیت کے لیے نقصان کا باعث ہو اور ثواب وہ ہے جو انسانیت کے فائدہ مند ہو۔ وہ نظریاتی بنیاد پر ایک زبردست انقلابی مصلح کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ وہ نہ ہندو ہیں اور نہ مسلمان بس ایک انسان ہیں جو چڑیوں کی چہچہاہٹ میں، پھولوں کی خوشبوں، خلا کی وسعتوں میں، بکھری کہکشاں میں، دریاؤں کے پانی میں، اُگتے اور ڈوبتے سورج کے حسن میں خدا کا جلوہ دیکھتے ہیں ان کا خیال ہے:

’’شاید سورج کی پوجا بھی ہمارے رشیوں مینوں نے اسی لیے کرنی شروع کی تھی اور درختوں کی اور دریاؤں کی۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب خدا کی قدرت کے مظہر ہیں اور روشن میں ہر شخص کے لیے اس کے ذاتی عقائد اور مذہب کا حق تسلیم کرتا ہوں۔‘‘ (۱۰۲)

شادی سے رمن پانڈے اور روشن آراء کے درمیان جو مکالمہ ہوا ہے وہ نہایت تخلیقی اور پر معنی ہے۔ جدید ترین افسانہ نگاروں میں ذکیہ مشہدی کا نام بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ ایک نامور اور تخلیقی فنکارہ ہیں۔ ان کو زبان و بیان پر ملکہ حاصل ہے۔ لکھنو اور اس کے گرد و نواح میں بولی جانے والی زبان اور تہذیبی اثرات بہت گہرے ہیں۔ ان کی تحریروں میں لکھنو کی شائستگی اور شگفتگی ہر جگہ نظر آتی ہے۔ رمن پانڈے کی پرورش اور تربیت الٰہ آباد میں ضرور ہوئی ہے لیکن رسول پور میں مستقل رہائش ہونے کی وجہ سے وہاں کے تہذیبی اثرات ان کی گفتگو میں دکھائی پڑتے ہیں۔ روشن آراء کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل پورے طور سے رسول پور میں ہوئی ہے اس لیے ان کے لب و لہجہ میں لکھنوی تہذیب کا پس منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے انداز گفتار میں شائستگی اور سنجیدگی کے ساتھ ملیح طنز اور تہذیب یافتہ مزاح کی جھلک دکھائی پڑتی ہے۔ مصنفہ نے اپنے افسانوں میں صرف متوسط اور پس ماندہ گھرانوں کی تصویر کشی نہیں کی ہے بلکہ طبقہ اشرافیہ اور ہائی سوسائٹی میں زندگی گزارنے والے کرداروں کی بڑی فنکاری کے ساتھ تصویریں کھینچی ہیں۔ مذکورہ افسانہ ان کی تخلیقی زبان و بیان کی عمدہ مثال ہے۔ شادی ہونے سے پہلے رمن پانڈے اور روشن آرا کے درمیان جو مکالمہ ہوا ہے وہ نہایت تخلیقی اور پر معنی ہے:

’’جان پنڈت‘‘

’’اس خالص ہندو لفظ کے ساتھ اضافت اچھی نہیں لگتی۔ جیسے ہماری تمہاری جوڑی، انمل جوڑ‘‘

’’روشن آراء تم ہم سے پٹ جاؤ گی‘‘

روشن یک لخت سنجیدہ ہو گئیں۔ ’’پٹ تو ہم چکے ہیں۔ زندگی کی بساط پر ایک بے اضاعت مہرے کی طرح۔ پنڈت اب ہم کیا کریں؟‘‘ اضطراری طور پر وہ ہاتھ ملنے لگی تھیں۔ ان کے لہجے میں بلا کی بے بسی تھی۔

’’کچھ مت کرو۔ بس چپ چاپ ہم سے بیاہ کر لو‘‘

’’تمہیں مذہب بدلنا پڑے گا۔ ہم کورٹ میرج نہیں کریں گے‘‘

’’کورٹ میرج تو ویسے بھی نہیں ہو پائے گی۔ گھر پر وہ جو ہے نہ مرِجاپور والی اس سے کیسے انکار کریں گے کہ وہ ہماری بیاہتا ہے‘‘

’’تو؟ ہمیں رکھیل بناؤ گے کیا؟‘‘(۱۰۳)

ذکیہ مشہدی اپنے چاروں اطراف جو دیکھتی ہیں۔ محسوس کرتی ہیں اپنے ذاتی مشاہدے کی روشنی میں پیش کرتی ہیں وہ سماجی معنویت، عصری حیثیت کو اپنے فکر و شعور کا حصہ بنا کر افسانے میں بڑی فنکاری سے ڈھالنے کا ہنر جانتی ہیں۔ ان کے کردار معاشرے سے الگ نہیں ہوتے۔ وہ روزمرہ کی عام زبان تخلیقی شعور کے ساتھ استعمال کرتی ہیں جو تہہ دار ہے اور معنیٰ خیز بھی۔ ان کے کردار اس قدر فعال اور متحرک ہوتے ہیں کہ ان کا ہر فعل و عمل ذہن و ادراک پر نقش ہو جاتا ہے جس طرح روشن آراء (جانکی) جو اس افسانہ کا مرکزی کردار ہے اپنی تمام تر خوبیوں کی بنیاد پر ایک نہ بھولنے والا کردار بن گئی ہے۔ اسی طرح رمن پانڈے اس کائنات سے الوداع ہو چکا ہے پھر بھی انسانی اقدار سے مزین کردار جس کو افسانہ میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ایک موثر شخصیت کی طرح دل و دماغ میں محفوظ ہو گیا ہے۔

٭٭٭

 

حوالہ جات

 

۱۔ ذکیہ مشہدی۔ افسانہ ’’ماں‘‘ مشمولہ ’’یہ جہانِ رنگ و بو‘‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔ صفحہ نمبر ۱۱

۲۔ ایضاً

۳۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۲

۴۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۴

۵۔ ایضاً

۶۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۲۱

۷۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۲۲

۸۔ ایضاً

۹۔ ایضاً

۱۰۔ ذکیہ مشہدی۔ افسانہ ’’ہدو کا ہاتھی‘‘ مشمولہ ’’نقش ناتمام‘‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔ صفحہ نمبر ۱۶

۱۱۔ ایضاً،  صفحہ نمبر ۱۲

۱۲۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۳

۱۳۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۶

۱۴۔ ایضاً

۱۵۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۴

۱۶۔ ایضاً

۱۷۔ ذکیہ مشہدی۔ افسانہ ’’بھیڑیے سیکولر تھے‘‘ مشمولہ ’’یہ جہانِ رنگ و بو‘‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔ صفحہ نمبر ۳۸

۱۸۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۴۰

۱۹۔ ایضاً،  صفحہ نمبر ۴۵

۲۰۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۵۲

۲۱۔ ذکیہ مشہدی۔ افسانہ ’’بدا نہیں مری‘‘ مشمولہ ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘ شاہجہاں پرنٹرس، دہلی۔ ۱۹۹۳ء۔ صفحہ نمبر ۷۳

۲۲۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۸۴

۲۳۔ ایضاً

۲۴۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۷۶

۲۵۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۷۴

۲۶۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۸۲

۲۷۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۷۷

۲۸۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۷۴

۲۹۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۷۷

۳۰۔ ذکیہ مشہدی۔ افسانہ ’’ہر ہر گنگے‘‘ مشمولہ ’’تاریک راہوں کے مسافر‘‘ شاہجہاں پرنٹرس، دہلی۔ ۱۹۹۳ء۔ صفحہ نمبر ۷

۳۱۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۹

۳۲۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۹

۳۳۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۲

۳۴۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۰

۳۵۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۳

۳۶۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۵

۳۷۔ ذکیہ مشہدی۔ افسانہ ’’بھیڑیے‘‘ مشمولہ ’’صدائے بازگشت‘‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔ صفحہ نمبر ۳۵

۳۸۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۳۶

۳۹۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۳۸

۴۰۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۴۰

۴۱۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۳۹

۴۲۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۴۰

۴۳۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۳۷

۴۴۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۳۸

۴۵۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۳۸

۴۶۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۳۹

۴۷۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۳۶

۴۸۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۴۳

۴۹۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۴۴

۵۰۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۴۵

۵۱۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۴۵

۵۲۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۴۵

۵۳۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۴۵

۵۴۔ ذکیہ مشہدی۔ افسانہ ’’فضلو بابا ٹخ ٹخ‘‘ مشمولہ ’’نقش ناتمام‘‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔ صفحہ نمبر ۴۷

۵۵۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۴۶

۵۶۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۴۷

۵۷۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۵۰

۵۸۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۴۸

۵۹۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۴۵

۶۰۔ ایضاً

۶۱۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۵۳

۶۲۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۵۲

۶۳۔ ذکیہ مشہدی۔ افسانہ ’’بکسا‘‘ مشمولہ ’’یہ جہانِ رنگ و بو‘‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔ صفحہ نمبر ۱۵۴

۶۴۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۵۲

۶۵۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۵۵

۶۶۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۵۷

۶۷۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۵۴

۶۸۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۵۶

۶۹۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۵۸

۷۰۔ ذکیہ مشہدی۔ افسانہ ’’منظوروا‘‘ مشمولہ ’’نقش ناتمام‘‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۲۰۰۸ء۔ صفحہ نمبر ۱۱۷

۷۱۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۲۱

۷۲۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۱۶

۷۳۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۱۷

۷۴۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۱۸

۷۵۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۱۸

۷۶۔ ذکیہ مشہدی۔ افسانہ ’’اجن ماموں کا بیٹھکہ‘‘ مشمولہ ’’صدائے بازگشت‘‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔ صفحہ نمبر ۹

۷۷۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۱

۷۸۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۵

۷۹۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۴

۸۰۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۷

۸۱۔ ذکیہ مشہدی۔ افسانہ ’’سنسکرتی کا پانچواں ادھیائے‘‘ مشمولہ ’’یہ جہانِ رنگ و بو‘‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۲۰۱۳ء۔ صفحہ نمبر ۲۵

۸۲۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۲۷

۸۳۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۲۶

۸۴۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۲۷

۸۵۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۳۲

۸۶۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۳۳

۸۷۔ ذکیہ مشہدی۔ افسانہ ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘ مشمولہ ’’صدائے بازگشت‘‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔ صفحہ نمبر ۱۳۶

۸۸۔ ذکیہ مشہدی۔ افسانہ ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘ مشمولہ ’’صدائے بازگشت‘‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔ صفحہ نمبر ۱۳۷

۸۹۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۴۰

۹۰۔ ذکیہ مشہدی۔ افسانہ ’’قصہ جانکی رمن پانڈے‘‘ مشمولہ ’’صدائے بازگشت‘‘ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ۲۰۰۳ء۔ صفحہ نمبر ۱۴۲

۹۱۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۴۳

۹۲۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۴۸

۹۳۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۵۳

۹۴۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۵۶

۹۵۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۶۰

۹۶۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۶۲

۹۷۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۶۳

۹۸۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۶۴

۹۹۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۴۹

۱۰۰۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۵۰

۱۰۱۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۵۱

۱۰۲۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۵۲

۱۰۳۔ ایضاً، صفحہ نمبر ۱۵۲

٭٭٭

تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل