FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

آج کا سچ

 

 

               فکر تونسوی

 

مشمولہ ’اردو پلے‘ مرتبہ پروفیسر سیدمعزالدین احمدفاروق

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

               منظر

 

(پروفیسر ورما کی کرسی کے پاس دودھ کا ٹوٹا ہوا پیالہ رکھا ہے۔ گڑیا الٹی پڑی ہے۔ ڈریسنگ گون کا ازاربند لٹک رہا ہے۔ پروفیسر سویا ہوا ہے۔ اس کی چھاتی پر فلاسفی کی کتاب دھری ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک۔ الارم بجتا ہے۔ صبح کے ساتھ بجے کا الارم۔ اچانک ایک غیبی آواز فضاؤں میں ابھرتی ہے۔ )

 

 

غیبی آواز       :پروفیسر ورما، ساودھان!ساودھان!!ساودھان!!! تم ہمارے فرمان کی خلاف ورزی کر رہے ہو۔ ایک مسلسل خلاف ورزی۔ ہم نے تمہیں دنیا میں اس لئے بھیجا تھا کہ تم وہاں جا کر سچ  اور  ہمیشہ سچ بولو گے۔ مگر  تم بھول گئے یا جان بوجھ کر بھول رہے ہو۔ اس لئے ہم تمہیں متنبہ کرتے ہیں کہ ایک دن کی مہلت  اور ۔ ۔ سچ بولنا شروع کر دو، ورنہ کل صبح دھرتی سے اٹھا لئے جاؤ گے۔ ساودھان!ساودھان!!ساودھان!!!

(پروفیسر بڑبڑا کر بیدار ہو جاتا ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک۔ اس کا چہرہ پریشان ہے۔ )

پروفیسر: (میز کو زور سے دو چار جھٹکے دے کر)اف۔ اف۔ یہ کیسی آواز تھی۔ کیا میری انترآتما کی تھی یا خدا کا فرمان تھا۔ میرا مقصد حیات کیا تھا؟ کیا سچ بولنا؟کیا میں واقعی مسلسل جھوٹ بولتا رہا ہوں۔ میں۔ ۔ ۔ میں۔ ۔ ۔  مگر  مجھے جھوٹ کی اس دلدل میں کس نے پھنسایا، کیا دھرتی نے ؟ کیا دھرتی جیت گئی۔ میں ہار گیا؟ نہیں۔ ۔ ۔ نہیں۔ ۔ ۔ نہیں۔ ۔ ۔ میں مرنا نہیں چاہتا۔ میں سچ بولنا شروع کر دوں گا۔ فوراً۔ اسی دم، ابھی۔ مرنا فضول ہے، سچ بولنا اصول ہے۔ قہ قہ قہ قہ۔

(کال بیل بجتی ہے۔ پروفیسر اپنے قہقہے کو ایک دم روک لیتا ہے  اور   سیریس ہو جاتا ہے۔ کھونٹی کے پاس جا کر گاؤن اتارتا ہے پہنتے پہنتے کہتا ہے۔ )

پروفیسر:کون صاحب ہیں۔ (کال بیل پھر بجتی ہے۔ پروفیسر گاؤن پہن کر دروازے کی طرف بڑھتا ہے۔ رک جاتا ہے  اور  اپنے آپ سے) پروفیسر مادھو! دنیا کے سامنے گاؤن پہن کر معزز آدمی کا بہروپ بھرنا چاہتے ہو، حقیقت پر لباس کا جھوٹ اوڑھنا چاہتے ہو۔ ساؤدھان، ساؤدھان۔ ۔ ۔

(گھنٹی پھر بجتی ہے۔ )

پروفیسر: (دروازہ کھولتے ہوئے) تشریف لائیے۔ (اس کی طرف دیکھتا ہے) کھڑے منہ کیا تک رہے ہیں آپ۔ اگر کوئی کام ہے تو اندر آ جائیے۔ اگر صرف درش کرنا ہے تو کر لیجئے  اور  لوٹ جائیے۔

ڈاکٹر   :ہی۔ ۔ ۔  ہی۔ ۔ ۔  ہی۔ ۔ ۔  آپ واقعی ظریف الطبع واقع ہوئے ہیں۔ آپ کا لڑکا سچ کہتا تھا۔

پروفیسر:میرے لڑکے نے آج تک ایک بھی سچی بات نہیں کی۔ انڈراسٹینڈ؟ اب کہئے۔

ڈاکٹر   :یہ سچ جھوٹ تو آپ کا گھریلو معاملہ ہے۔ مگر میں۔ ۔ ۔ اوہ۔ ۔ ۔  معاف کیجئے۔ میں ایٹی کیٹ تو بھول ہی گیا۔ میرا فرض تھا، پہلے اپنا انٹروڈکشن کراتا۔ ناچیز کو انشورنس کمپنی کا ڈاکٹر کہتے ہیں، ڈاکٹر کوہلی۔ اب فرمائیے آپ کے مزاج شریف۔

پروفیسر:ہوں۔ ۔ ۔ ہوں۔ آج سے شاید دو منٹ۔ ۔ ۔ نہیں (گھڑی دیکھ کر) ڈھائی منٹ پہلے تک ٹھیک تھے بعد میں خراب ہو گئے۔

ڈاکٹر   :ہوں۔ موسم کی خرابی کا اثر ہو گا۔ آج کل موسم دو دو منٹ بعد بدل جاتا ہے۔ (اپنی ناک مچکاتا ہے) میری اپنی ناک۔ ۔ ۔ مگر  ٹھیرئیے۔ میں آپ کودو گولیاں دیتا ہوں، ڈیڑھ دو منٹ میں ہی زکام کافور۔

پروفیسر:اوہ۔ ۔ ۔ نو۔ ۔ ۔ نو۔ ۔ ۔ مجھے زکام نہیں ہے۔ بیٹھئے، بیٹھئے۔ تشریف رکھئے۔ اس کرسی کا پایا ٹوٹا ہوا ہے۔ دوسری پر بیٹھئے  اور  برا نہ مانئے۔ ویسے زکام آپ کو بھی نہیں ہے، جھوٹ موٹ ناک مچکا رہے ہیں۔ مگر  اس جھوٹ کے باوجود آپ فرمائیے۔

ڈاکٹر   :ہی۔ ۔ ۔ ہی۔ ۔ ۔ ہی۔ ۔ ۔ پروفیسر صاحب۔ آپ کی مزاحیہ باتوں سے تو میرے پیٹ میں بل پڑنے لگے ہیں۔ میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ بیمہ کروا رہے ہیں ناں ؟

پروفیسر:بیمہ۔ ۔ ۔  ارے ہاں۔ ۔ ۔  لڑکے نے کہا تھا۔ کروا لو۔ لیکن اب سوچتا ہوں کہ۔ ۔ ۔

ڈاکٹر   : (بیگ سے فیتہ نکالتا ہے) اجی، پروفیسر صاحب سوچنا آپ کا نہیں بیمہ کمپنی کا کام ہے۔ آپ ذرا سیدھے کھڑے ہونے کی زحمت گوارہ فرمائیں گے۔

پروفیسر: (سیدھے کھڑے ہو جاتا ہے) در اصل  بیمے سے مجھے موت کا تصور آتا ہے  اور  میں مرنا نہیں چاہتا۔

ڈاکٹر   : (فیتہ کھول کر پروفیسر کو ناپنے لگ جاتا ہے) نو نو، پروفیسر صاحب! مرنا کوئی شرافت نہیں  اور  ذہانت تو۔ ۔ ۔ (ناپ کر۔ پانچ فٹ تین انچ) ذہانت تو بالکل نہیں۔ ۔ ۔ بے حد آئیڈیل قد ہے آپ کا۔ انشورنس کمپنی بڑے قد کے پالیسی ہولڈروں کو زیادہ احترام سے دیکھتی ہے۔ ناخن؟ (ناخن دیکھتا ہے) خاصے سرخ ہیں۔

(کاغذ پر نوٹ کرتا ہے۔ )

پروفیسر:سرخ ہیں ؟ سفید کو سرخ کہے جا رہے ہو۔

(طنزیہ مسکراہٹ۔ )

ڈاکٹر   : (میز پر سے چشمہ اٹھا کر دیتا ہے) چشمہ لگا کر دیکھئے اصلی رنگ دکھائی دے جائے گا۔

پروفیسر: (ٹھنڈی آہ بھرکر) چشمہ۔ مگر میرا معاملہ تو چشمے سے کئی منزلیں آگے جا چکا ہے۔ ایک آنکھ میں موتیا بند ہے، دوسری میں ہونے والا ہے۔ لکھئے، لکھئے۔ ۔ ۔ !

ڈاکٹر   :موتیا بند آج کل بے ضرر بیماری ہے۔ کوئی حرج نہیں میں دیکھ لوں گا۔  اور ۔ ۔ ۔  اور ۔ ۔ ۔ آپ کے دانت؟ذرا منہ  کھولئے۔

پروفیسر:کیا کھولوں (کھولتا ہے) دیکھ لیجئے۔ تین داڑھیں  اور  چار دانت نکلوا چکا ہوں۔ باقیوں نے Queue   لگا رکھا ہے۔

ڈاکٹر   : (ہنسنے کی کوشش کو دبا کر ایک دم اداس ہو جاتا ہے) ہوں۔ ہوں۔ میرا مطلب ہے دل کی کیا کیفیت ہے۔

(استھٹسکوپ لگا کر سنتا ہے۔ )

پروفیسر:کوئی دھڑکن سنائی دی؟

ڈاکٹر   :ہاں ہاں۔ لیکن یہ بتائیے کہ مثلاً۔ ۔ ۔ مثلاً۔ ۔ ۔ کوئی چور گھر میں گھس آئے تو۔ ۔ ۔

پروفیسر:تو دھڑکن بالکل بند ہو جائے گی۔

ڈاکٹر   :ہاہاہا۔ ۔ ۔ آپ خاصا مذاق کر لیتے ہیں۔ چور تو آپ کے مذاق میں چوری کرنا ہی بھول جائے گا۔ لیکن۔ ۔ ۔ (ایک دم سنجیدہ ہو کر) دیکھئے یہ چوری کا معاملہ نہیں بیمہ کا معاملہ ہے۔

پروفیسر:ایک ہی بات ہے۔

ڈاکٹر   : (ہنستا ہے) خدا کے لئے چپ ہو جائیے ایک منٹ  اور  یہ بتائیے۔ آپ کے والد صاحب؟۔ ۔ ۔  کیا آپ کے والد صاحب قدرتی انتقال ہوا تھا؟

پروفیسر:مرحوم تپِ دق کا شکار ہوئے تھے جو شاید فطری تھا۔

ڈاکٹر   :پروفیسر صاحب(قریب آ جاتا ہے  اور  آہستہ سے کہتا ہے) اگر میں یہ سب کچھ اس (بیمہ فارم لہرا کر) فارم پر لکھ دوں تو کمپنی آپ کے بیمہ کی درخواست کو Reject   کر دے گی۔ لہٰذا آپ وہی کچھ لکھوائیے جو۔ ۔ ۔

پروفیسر:جو آپ کو پسند ہو۔ ہیں نا۔ یعنی آپ جھوٹ بولتے جائیں  اور  میں اسے سچ کہتا  چلا جاؤں۔ مگر میں ایسی جھک نہیں ماروں گا۔

ڈاکٹر   :تو پھر سوچ لیجئے آپ کے بیمہ سے آپ کے بچوں کا مستقبل وابستہ ہے۔

پروفیسر:جن بچوں کا مستقبل جھوٹی میڈیکل رپورٹ پر منحصر ہے۔ میں ان کا باپ کہلانا پسند نہیں کروں گا۔

ڈاکٹر   :معاف کیجئے۔ ۔ ۔ (کھنکار کر) آپ کی طبیعت کچھ ناساز معلوم ہوتی ہے۔ لیکن کوئی حرج نہیں۔

پروفیسر:ہاں کوئی حرج نہیں۔

ڈاکٹر   :نہیں۔ نہیں۔ میرا مطلب ہے۔ میں کل پرسوں پھر حاضر ہو جاؤں گا۔ اتنے میں آپ کی طبیعت بھی کچھ ٹھیک ہو جائے گی  اور   آپ صحیح طریقے پر سوچ سکیں گے۔

پروفیسر:سوچنا بیمہ کمپنی کا کام ہے، میرا نہیں۔

ڈاکٹر   : (دکھی ہو کر) آل رائٹ۔ آل رائٹ(منہ پھیر کر اپنا سامان سنبھالتا ہے) بے کار میں میرا قیمتی وقت ضائع کیا۔

(چلا جاتا ہے۔ )

پروفیسر: (آئینہ کے سامنے اپنا چہرہ دیکھتا ہے۔ )قہ قہ قہ قہ۔ ناخن، بڑے سرخ ہیں۔ آنکھیں موتیا بند۔ کوئی حرج نہیں۔ ۔ ۔ بچوں کا مستقبل۔ ۔ ۔  کوئی حرج نہیں (اطمینان کا گہرا سانس لے کر) اف یہ سب کتنی بوجھل چیزیں تھیں مگر دو چار سچی باتیں کہنے سے جی کتنا ہلکا پھلکا ہو گیا ہے۔ اس سمے میرا من کتنا شانت ہے۔ یوں لگتا ہے دنیا کی ہر شئے کا کایا کلپ ہو گیا ہے۔ (چہرے پر ہاتھ پھیر کر) میں کتنا بدل گیا ہوں۔ آنکھ نئی ہونٹ نئے، کان۔ ۔ ۔

(دوسرے ونگ میں ڈاکٹر  اور  پروفیسر کا لڑکا ناتھ گفتگو میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ )

ڈاکٹر   :نئیں نئیں مسٹر ناتھ۔ آپ کے ڈیڈی کا دماغ۔ ۔ ۔ آئی میں۔ ۔ ۔  ان کے دماغ میں کوئی۔ ۔ ۔ (ہاتھ کے اشارے سے دائرہ بناتا ہے) گول گول۔ صفر۔

ناتھ    :ڈونٹ بی سیریس ڈاکٹر۔ مجھے دیجئے یہ فارم۔ میں دستخط کروا لاؤں گا۔ آپ میڈیکل رپورٹ تیار کر دیجئے میں اتنے میں ڈیڈی کو تیار کرتا ہوں۔

(پہلے ونگ میں پروفیسر صاحب بڑے اطمینان سے بیٹھے ہیں۔ ۔ ۔  دروازے کے پٹ کھلتے ہیں۔ ناتھ داخل ہوتا ہے۔ ہاتھ میں بیمہ فارم ہے۔ )

ناتھ    : (تھوڑی سی گھبراہٹ  اور  تھوڑے سے طیش کے ساتھ) پتا جی آپ نے یہ کیا غضب کیا۔ (حیرت سے منہ کھول کر) آپ نے سارے میڈیکل معائنہ کا پٹڑا کر دیا۔

پروفیسر:غلط۔ ڈاکٹر نے جو کچھ پوچھا میں نے صحیح صحیح بتا دیا۔

ناتھ    :کس نے کہا تھا صحیح بولنے کو۔ آپ جانتے نہیں تھے یہ بیمے کا معاملہ ہے۔

(آگے بڑھتا ہے۔ )

پروفیسر:بیٹا!مگر یہ میری انتر آتما کا معاملہ تھا۔

ناتھ    :انتر آتما تو ہمیشہ جھوٹ بولتی ہے مگر ۔ ۔ ۔ (ذرا نرم ہو کر) اب میں آپ سے کیا کہوں۔ دنیاداری میں جھوٹ بولنا ہی پڑتا ہے۔ انتر آتما دنیا دار نہیں ہوتی۔

پروفیسر:مگر میں انتر آتما سے وعدہ کر چکا ہوں بیٹا۔

ناتھ    :کیا یہ وعدہ چند منٹوں کے لئے ملتوی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کم از کم بیمہ تو ہو جاتا۔ سچ بولنے کے لئے تو عمر پڑی ہے۔

پروفیسر:وعدہ آج کیا ہے سچ کل جا کر بولنا۔ اس میں کیا تک ہے ؟

ناتھ    :تک یہ ہے کہ کنبے کو دس ہزار روپئے مل جاتے۔

پروفیسر:ہاں۔ کنبے کو دس ہزار روپئے مل جاتے  اور  کنبے کے ہیڈ کی ارتھی اٹھ جاتی۔ اچھے برخوردار ہو۔

ناتھ    :پتا جی۔ اب چھوڑ بھی دیجئے یہ ہٹ دھرمی۔ انترآتما کے پردے میں آپ کوکسی نے دھوکا دیا ہے۔ لیجئے فارم پر دستخط کر دیجئے۔

(ناتھ قلم آگے بڑھاتا ہے، ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ پروفیسر ریسیور اٹھاتا ہے۔ )

پروفیسر: (ٹیلی فون پر)ہیلو۔ ۔ ۔ کون۔ ۔ ۔ راج بہاری سنگھ جی، (ناتھ سے) تمہارے باس ہیں۔ (پھر فون کرتا ہے) ارے بھائی تمہارا لڑکا ہمارے کالج میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ۔ ۔ کیا فرمایا۔ ۔ ۔ اجی تمہارا لڑکا بے حد نالائق ہے۔ سو فیصدی پھسڈی ہے۔ میں اس کی رکمنڈیشن بالکل نہیں کر سکتا۔ ۔ ۔ آہاں ناممکن۔

ناتھ    : (پریشان ہو کر) ڈیڈی۔

رام بنارسی سنگھ: (ادھر سے آواز آتی ہے) نان سینس۔

پروفیسر:ہاں۔ ہاں۔ نان سینس۔

رام بنارسی سنگھ:لیکن پرسوں تو آپ کہہ رہے تھے کہ لڑکا بے حد ان ٹیلی جنٹ ہے۔

پروفیسر:میں نے جھک ماری تھی۔

بنارسی سنگھ     :آل رائٹ، تو آپ کا لڑکا ناتھ بھی انتہائی ایڈیٹ ہے۔ میں اسے کل ہی اپنی کمپنی کی نوکری سے نکال باہر کروں گا ہنہ۔

(ناتھ گھبرا جاتا ہے۔ پتا جی کے گھٹنے پر ہاتھ لگاتا ہے۔ )

پروفیسر:مگر آپ پہلے اسی بیٹے کو کئی بار اپنا بیٹا کہہ چکے ہیں۔

رام بنارسی      :میں نے بھی جھک ماری تھی۔

پروفیسر:مگر سنئے تو۔ ۔ ۔ سنئے۔ ۔ ۔ ہلو۔ کم بخت نے ریسیور ہی بند کر دیا، کتنا گھٹیا انتقام لے رہا ہے مجھ سے۔ انتقام نے تو اسے بد تہذیب بنا دیا ہے۔ (ناتھ سے) لو بیٹا تمہاری نوکری ختم۔

ناتھ    :میری نوکری جائے بھاڑ میں۔ آپ کی انترآتما تو شانت ہو گئی۔

پروفیسر:ارے تو کیا میں تیری نوکری کی خاطر نالائق لڑکے کو بھرتی کر لیتا۔ ۔ ۔  ہیں۔ ۔ ۔ ؟

ناتھ    : (اپنے بال جھنجھوڑتا ہے) ڈاکٹر کوہلی ٹھیک کہتا تھا تمہارے ڈیڈی کے دماغ میں۔ ۔ ۔ اب کیسے کہوں شرم آتی ہے۔

پروفیسر:نہیں بیٹا۔ کہہ دو۔ سچ میں کا ہے کا شرم۔

ناتھ    :وہ کہتا تھا کیڑا ہے۔

پروفیسر:کیا۔ ۔ ۔ ؟

ناتھ    :بس دوسرے کے کہنے پر ناراض ہو گئے نا۔  اور  اپنے سچ پر۔ ۔ ۔

پروفیسر:وہ میری انتر آتما کی آواز تھی تمہاری کس کی ہے ؟

ناتھ    :کامن سینس کی۔ ۔ ۔ پتا جی۔ باقی دنیا بھی سچ بولتی ہے۔ لیکن کبھی ہفتے میں ایک آدھ بار بول دیا نان اسٹاپ تو کوئی بھی نہیں بولتا۔ سچ بولنے کا موقعہ محل ہوتا ہے۔ اب دیکھئے سچ بولنے سے میری نوکری چھوٹ گئی۔

پروفیسر:سچی ضمیر موقعہ نہیں دیکھتی۔

ناتھ    :ہاں۔ ہاں۔ کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری۔ میں تو۔ ۔ ۔

(ناتھ کی بیوی مالا دروازہ سے جھانکتی ہے۔ )

مالا     :وہ آ گئے ہیں۔

پروفیسر:کون۔ ۔ ۔ ؟

مالا     :مسٹر پوری  اور  ان کی مس رجنی کی سگائی کے لئے اسے دیکھنے۔

پروفیسر: (ویسے ہی بیٹھے بیٹھے)بٹھاؤ انھیں ہم آتے ہیں۔

مالا     :بٹھاؤں کیا، وہ تو بیٹھے ہیں، آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔

(دونوں اٹھتے ہیں۔ )

ناتھ    :لیکن۔ ۔ ۔ ہاں جی۔ ۔ ۔  ذرا سنئے تو۔

(کانا پھوسی۔ )

(پروفیسر اپنا کوٹ بدلتا ہے، ٹائی ٹھیک کرتا ہے۔ )

مالا     : (ناتھ سے) پاگل!پتا جی کے بغیر سگائی کیسے ہو گی؟

ناتھ    :مگر مالا۔ پتا جی کی طبیعت خراب ہے۔

پروفیسر:صرف بیمہ والا ڈاکٹر کہتا تھا۔ مگر میں بالکل چنگا بھلا ہوں چلو مالا بیٹی۔ ۔ ۔ !

ناتھ    :مگر آپ خود کیوں تکلیف کریں۔ ہم خود نپٹ لیں گے۔

مالا     :کیوں بچوں کی سی باتیں کر رہے ہو۔ پتا جی کے ہوتے ہمارا بات کرنا مناسب ہے کیا۔ وہ لوگ کیا سمجھیں گے!

پروفیسر:یہی کہ بیٹے نے باپ کی طبیعت خراب کر دی  اور  کیا۔

مالا     :اس کا مطلب ہے کسی بات پر آپ نے پتا جی کو ناراض کر دیا۔

ناتھ    :میں کچھ نہیں جانتا لیکن کہے دیتا ہوں کہ اگر پتا جی وہاں گئے تو کوئی نہ کوئی گل ضرور کھلے گا۔

مالا     :میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔

ناتھ    :سمجھ ہو تو کچھ آئے بھی۔

پروفیسر:خیر میں تو مہمانوں کے پاس جا رہا ہوں۔ آپ ایک دوسرے کو سمجھاتے رہئے۔

ناتھ    :پتا جی!بھگوان کے لئے آپ مت جائیے۔ ۔ ۔

(پیچھے بھاگتا ہے۔ )

(رجنی اپنے گلے کی مالا ٹھیک کر رہی ہے۔ ایک سجی ہوئی گڑیا کو سینے سے لگاتی ہے۔ )

مسزپوری       : (دور سے رجنی کو دیکھ کر) بہت خوب، بہت ہی سندر ہے۔

پوری   :پروفیسر صاحب پر گئی ہے۔

(دونوں آنکھیں اوپر اٹھاتے ہیں، پروفیسر،  ناتھ  اور  مالا داخل ہوتے ہیں۔ )

پروفیسر:معاف کیجئے پوری صاحب۔ آپ کو میرا انتظار کرنا پڑا۔ دراصل یہ میرا بیٹا ناتھ کچھ ایسا۔ ۔ ۔

(ناتھ گھبراتا ہے۔ )

پوری  اور  مسز   :انتظار، نہیں تو۔ ۔ ۔ !

پوری   :اپنا گھر ہے، انتظار کیسا۔ ۔ ۔ !

پروفیسر: (بیٹھتے ہوئے) معاف کیجئے یہ گھر آپ کا نہیں ہمارا ہے۔ آپ کا گھر تو ٹیگور اسٹریٹ پر ہے۔

ناتھ    :ہاہاہا۔ ۔ ۔ پوری صاحب ہمارے پتا جی بڑے مزے کے آدمی ہیں۔ یہ کاجو (سب ہنستے ہیں) لیجئے۔ (پلیٹ بڑھاتا ہے)۔ اس بڑھاپے میں بھی کتنے شوخ ہیں۔ ۔ ۔ !

مسز پوری      :کاش ہمارے پوری صاحب بھی ایسے شوخ ہوتے!

(مسٹر پوری اپنی بیوی کی طرف گھور کر دیکھتے ہیں۔ )

مسٹر پوری      :مالا جی۔ ذرا بیٹی رجنی کو بلائیے ناں۔ کہاں ہے ؟

مالا     :رجنی  اندر ہے۔ اپنے ہاتھ سے آپ کے لئے چائے تیار کر رہی ہے۔

پروفیسر:ارے وہ کیا چائے بنائے گی۔ بیٹھی کوئی جاسوسی ناول پڑھ رہی ہو گی۔ مالا بیٹی تم خود جا کر چائے بنا لاؤ۔ رجنی گھٹیا چائے بنائے گی۔

مالا     :نہیں پتا جی۔ مالا کوئی بچی ہے جو۔ ۔ ۔ ہاں۔ ۔ ۔ آخر پتا جی ہیں ناں۔ بیٹی چائے جتنی سیانی ہو جائے باپ اسے بچی ہی سمجھتا ہے۔

پروفیسر:میں کیا جانوں تم خود ہی کہتی رہی ہو کہ اسے چائے بنانی نہیں آتی۔

مالا     :وہ تو ذرا لاڈ سے کہہ دیتی ہوں۔ پوری صاحب آج آپ خود بتائیے گا چائے پی کر کیسی ہے ؟

پوری   : (بیوی کی طرف اشارہ کر کے) چائے کے معاملہ میں یہ میری گرو ہے۔

مسز پوری      :چیلا بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ مجھ سے زیادہ نفیس چائے بنا لیتے ہیں۔ (سبھی ہنستے ہیں) اچھا مالا جی، رجنی کو جاسوسی ناول پڑھنے کا شوق بھی ہے  اور  کون کون سے شوق ہیں اس کے۔ ۔ ۔ ؟

پروفیسر:صبح لیٹ اٹھنے کا۔

مالا     : (ہنس کر) پتا جی۔ اب آپ چپ بھی رہئے۔ میرے تو ہنستے ہنستے پیٹ میں بل پڑ گئے۔ (مسز پوری) ہاں بہن!آپ رجنی کے شوق پوچھ رہی تھیں ناں۔ ۔ ۔ وہ وائلن بہت نفیس بجاتی ہے۔

ناتھ    :جی ہاں۔ حال ہی میں اس کے لئے ایک نیا وائلن بھی خریدا ہے، ایک ہزار روپئے میں، جسے وہ مستی میں ڈوب کر بجاتی ہے۔

پروفیسر:بجاتی تھی۔ اب نہیں۔ کیونکہ بچاری کی انگلی کٹ گئی ہے۔ ۔ ۔ !

مسز پوری      :انگلی کٹ گئی۔ ۔ ۔ !

(مسٹر پوری کی طرف دیکھتی ہے۔ )

مسٹر پوری      :یعنی بالکل کٹ گئی۔ ۔ ۔ ؟

ناتھ    :نہیں ذرا سی جل گئی تھی۔ مگر دوائی سے بالکل ٹھیک ہو گئی ہے۔

مالا     : اور  اب تو اس نے اپنے ہاتھ سے یہ ہرن کی تصویر بھی بنا ڈالی ہے۔

(اٹھا کر تصویر دکھاتی ہے۔ )

ناتھ    :کشمیری ہرن ہے۔ زندہ ہرن کو سامنے بٹھا کر بنائی ہے۔

مسز پوری      :کیا مطلب۔ ۔ ۔ !

پروفیسر:مطلب یہ کہ وہ کبھی کشمیر گئی ہی نہیں، جانے کی صرف خواہش رکھتی ہے۔ کیونکہ ڈاکٹر کا مشورہ ہے کہ کشمیر کی ہوا کھانے سے اس کے پھیپھڑے ٹھیک ہو جائیں گے۔

ناتھ    : (گھور کر) پتا جی۔ ۔ ۔ !

پروفیسر:باقی رہی تصویر۔ توکل تک یہ ہمارے پڑوسی رگھو نندن بابو کے گھر لٹکی ہوئی تھی۔ شاید مالا بیٹی آپ کو دکھانے کے لئے مانگ لائی ہو۔

مالا     : (ہونٹ کاٹ کر) پتا جی! آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟

ناتھ    :پتا جی ٹھیک کہہ رہے ہیں مالا۔ پوری صاحب، بات یہ ہے کہ پتا جی آج کل فلاسفی کی ایک نئی تھیوری آزما رہے ہیں کہ فرض کیجئے کوئی بات جھوٹی ہے  اور  پھر اس جھوٹی بات کے اردگرد ایسی الجھن ڈال دو کہ وہ سچ معلوم ہونے لگے  اور  اس کے بعد۔ ۔ ۔ دنیا سے کہئے کہ اس گمشدہ سچائی کو تلاش کریں۔ ہے نا دلچسپ تھیوری۔ ۔ !

مسز پوری      :جی ہاں اتنی دلچسپ کہ میں تو بے وقوف لگ رہی ہوں۔

ناتھ    :فلسفہ ہے ناجی۔ ہماری، آپ کی سمجھ میں تھوڑے ہی آئے گا۔ (مالا سے) مالا، نوکر کو آواز دو ذرا چائے لے آئے۔

پروفیسر:نوکر۔ یعنی کوئی نوکر رکھ لیا ہے تم نے۔ اس گھر میں تو گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے کوئی نوکر نہیں رکھا گیا۔

ناتھ    :پتا جی!اب چھوڑئیے بھی یہ فلسفہ۔ اس سے آپ کے اعصاب پر برا اثر پڑے گا۔ ڈاکٹر نے یہی کہا تھا۔

پروفیسر:کس ڈاکٹر  نے کہا تھا۔ بے کار کی باتیں مت کرو۔ تم خود جا کر چائے لے آؤ  اور  دیکھو، ورما صاحب کے ہاں سے ٹی سیٹ مانگ لینا۔

پوری   :ٹی سیٹ، ورما جی؟

ناتھ    :جی ہمارے پڑوسی ورما جی ہم سے ٹی سیٹ لے گئے تھے۔ پتا جی کے دوست ہیں۔

(مالا کچھ لاتے ہوئے بیچ بیچ میں نظر آتی ہے۔ )

پروفیسر:دوست ہوتا تو رجنی کی منگنی توڑ نہ دیتا۔

مسزپوری       :کیا منگنی ایک بار ٹوٹ بھی چکی ہے۔ ۔ ۔ ؟

پروفیسر:ہاں۔ ورما کہتا تھا ہم نویں فیل لڑکی کو اپنی بہو نہیں بنا سکتے۔

ناتھ    :پتا جی!یہ بھی بتا دیجئے کہ اس کا لڑکا رشوت لیتا پکڑا گیا تھا، اس لئے ہم نے منگنی توڑ دی تھی۔

پروفیسر:ارے بیٹا اس دنیا میں کس کے دامن پر دھبہ نہیں، تم دفتر سے اسٹیشنری چرا کر لاتے ہو کہ نہیں ؟

ناتھ    : (چیخ کر) پتا جی۔ آپ خاموش رہیں گے یا نہیں۔

پروفیسر: (گردن اکڑا کر) سچے آدمی کو کوئی خاموش نہیں کرا سکتا۔ ۔ ۔  کیوں پوری صاحب!

پوری   :بجا فرمایا(گھڑی دیکھ کر) افوہ، پونے پانچ۔ (بیوی سے)ڈارلنگ ہمیں تو اسٹیشن پربھی جانا ہے۔

مسز پوری      :تو اجازت لیجئے۔ (دونوں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ) اچھا مالا جی۔ اس وقت نمستے۔ ۔ ۔

مالا     :مگر چائے۔ ۔ ۔

مسز پوری      :وقت کم ہے ورنہ ضرور پی لیتے۔ پھر کبھی سہی۔

پروفیسر: (جھٹک کر سلام کرتا ہے) پھر نہیں آئیں گے آپ، لکھ لیجئے۔

پوری   :نہیں نہیں۔ ایسی بات نہیں۔ اچھا نمستے۔

پروفیسر:آخری نمستے ہی سمجھئے۔

(چلے جاتے ہیں۔ پروفیسر کتابیں دیکھنے لگتا ہے۔ ناتھ  اور  مالا ادھر ادھر دیکھنے لگتے ہیں۔ پھر ایک دوسرے کو، پھر ٹھنڈی آہیں۔ ۔ ۔ )

ناتھ    : (ماتھے پر دو ہتڑ مارکر) اولاد سے دشمنی۔ بیٹی کا بنتا گھر  بگاڑ دیا۔ میں تو خودکشی کر لوں گا۔

پروفیسر:تم نہیں کرو گے بیٹا، بڑے ہونہار آدمی ہو۔

ناتھ    :ہونہار نہیں بدنصیب۔ نوکری چھوٹ گئی، بہن کا بیاہ رک گیا۔ مہمانوں کے سامنے رسوا ہوا، صرف باپ کی انتر آتما کی آواز کے لیے۔

پروفیسر:تو کیا چاہتے ہو، میری ارتھی اٹھ جائے۔

ناتھ    :خیر ہماری تو اٹھ ہی گئی۔

پروفیسر:کتنا زہر ہے بیٹا تمہارے اندر۔

ناتھ    :کس کے اندر میرا سینہ جل کر کباب ہو رہا ہے۔

مالا     :میں تو کسی  کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی۔

(جانے لگتی ہے۔ )

پروفیسر:بہو!کیا تم بھی؟(مالا پھر سے پھوٹ کر رونے لگتی ہے) اچھی بات ہے بچو۔ میں سمجھ گیا ہوں۔ کہ تمہاری جھوٹی دنیا میں میرے ایسے سچے آدمی کا نباہ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا میں آج ہی اس گھر سے جا رہا ہوں۔

ناتھ    : اور  مجھ میں اتنی شکتی نہیں رہی کہ آپ کو روک سکوں۔

پروفیسر: (جانے لگتا ہے) تھینک یو میرے بیٹے۔ سنو مالا بیٹی جاتے جاتے ایک بات کہہ دوں۔

مالا     :میرے پاس بھی اتنی شکتی نہیں رہی کہ آپ کی بات سن سکوں۔

پروفیسر:تومیں چلا جاؤں۔

ناتھ    :سو فی صدی۔

پروفیسر:افسوس!

ناتھ    :بے کا رہے۔

پروفیسر:تو میری ایک آخری بے کار بات ضرور سن لو کہ میں نے تم سے چرا چرا کر صندوقچی میں کچھ روپئے رکھے ہیں شاید پچاس ہزار ہوں گے۔

ناتھ    :پچاس ہزار۔

مالا     :روپئے  اور  پچاس ہزار اور   آپ کے پاس۔ ۔ ۔ !

پروفیسر:ہاں سوچا تھا۔ مرتے وقت یہ روپئے تمہیں دے جاؤں گا جس سے تم اپنا  اور  میرے ننھے پوتے گریش کا مستقبل بنا سکوں۔ مگر اب سوچتا ہوں، جب یہاں سے جاہی رہا ہوں تو یہ روپیہ ساتھ لیتا جاؤں، کوئی دھرم شالہ بنواؤں گایا کسی آشرم کودے کر اپنی انتر آتما کو سکھی کر لوں۔ آخری نمستے، میرے بچو!

(دروازہ پر تیزی سے پہنچتا ہے۔ )

ناتھ    :پتا جی۔ ٹھیرئیے تو ذرا۔ میرا مطلب ہے سنئے۔ ۔ ۔ !

مالا     : (ناتھ سے) بڑھ کر ہاتھ پکڑ لو ورنہ چلے جائیں گے۔

ناتھ    :پتا جی۔ آپ کو ننھے گریش کی سوگندھ۔ مت جائیے۔ (مالا سے) تم بھی کہو نا۔

مالا     :مت جائیے پتا جی، ورنہ میں ہیرا چاٹ لوں گی۔

ناتھ    :میں سنکھیا کھا لوں گا۔

پروفیسر: (دروازے سے لوٹ کر) مجھے جانے دو میرے بچو۔ میں سنسار میں سچ بولنے آیا تھا۔ کیا تم چاہتے ہو،  میں یہاں رہوں  اور  سچ نہ بولوں۔

ناتھ    :کس نے کہا ہے مت بولئے۔ کیوں مالا۔ ۔ ۔ ؟

مالا     :میں نے تو نہیں کہا۔

پروفیسر:بوڑھے کو بے وقوف مت بناؤ میرے بچو۔ سچ بہت کڑوا ہوتا ہے۔

ناتھ    :آپ کے منہ سے ٹپکتا ہوا شہد معلوم ہوتا ہے۔

پروفیسر:میری وجہ سے ناتھ کی نوکری چلی گئی۔

ناتھ    :میں اس نوکری پر لات مارتا ہوں۔

پروفیسر:رجنی کا بیاہ رک گیا۔

مالا     :میں رجنی کو اپنی نرم و نازک محبت کے نرم و نازک پنکھوں کے نیچے چھپا کر رکھوں گی۔

پروفیسر:تم سماج کے سامنے رسوا ہوتے رہو گے۔

ناتھ    :سچ کی خاطر ہم سولی پربھی چڑھ جائیں گے۔

پروفیسر:تو پھر ٹھیک ہے میرے بچو۔ (کرسی پر آ کر بیٹھ جاتا ہے) میں اسی گھر میں رہوں گا۔ میرے لئے تھوڑا سا پانی۔ ۔ ۔

ناتھ    :پانی۔ ۔ ۔ !(مالا سے) کھڑی کھڑی منہ کیا دیکھ رہی ہو۔ کولڈرنک یا۔ ۔ ۔

مالا     :میں دودھ لے آتی ہوں۔

(جانے لگتی ہے۔ )

ناتھ    : (اسے روک کر) صرف دودھ نہیں ملک شیک بنا لاؤ۔ ٹھہرو۔ میں لاتا ہوں۔

مالا     :میں آپ سے اچھا بنا لاؤں گی۔

ناتھ    :میں اچھا بناؤں گا۔

مالا     :میں۔ ۔ ۔

(جاتی ہے۔ )

(ناتھ چپ چاپ میز پر سے چابیاں اٹھاتا ہے۔ پروفیسر مسکراتا ہے۔ )

(پروفیسر کا کمرہ۔ مالا دھیرے دھیرے کمرے میں آتی ہے۔ کھلی ہوئی الماری۔ ناتھ پیچھے کھڑا ہے۔ صندوقچی نکالتا ہے۔ صندوقچی پر ایک ہاتھ مالا کا ایک ہاتھ ناتھ کا بیک وقت پڑتا ہے۔ )

ناتھ    :سنو!میں چابی لے آیا ہوں۔ دیکھیں کھول کر۔

مالا     :ہاں۔ ۔ ۔ (ناتھ کھولتا ہے۔ دونوں دیکھتے ہیں  اور  چیختے ہیں) یہ کیا ہے ؟

ناتھ    :خالی صندوقچی۔ ۔ ۔

پروفیسر: (دروازے پر مسکراتے ہوئے) خالی ہے ناں۔ آج کے دن میں نے یہ پہلا جھوٹ بولا ہے، میرے بچو۔ ۔ ۔ !

***

ماخذ: ’’شگوفہ‘‘(ڈرامہ نمبر) ۱۹۷۹ء

۳۱!مجرد گاہ، معظم جاہی مارکٹ، حیدرآباد۔ ۵۰۰۰۰۱(اے پی)

مشمولہ ’اردو پلے‘ مرتبہ پروفیسر سیدمعزالدین احمدفاروق

٭٭٭

تشکر: مصنف اور ڈاکٹر شرف الدین ساحل جن کے توسط سے وہ ان پیج فائل فراہم ہوئی جس سے یہ کتاب ترتیب دی گئی۔

ان پیج سے تبدیلی اور تدوین: اعجاز عبید