FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

عہد نامہ قدیم

 

 

 

 

               ۲۰۔ کتاب امثال

 

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

۲۰۔ کتاب امثال

 

 

 

 

 

باب:    1

 

 

 

1 داؤد کے  بیٹے  اور اسرائیل کا بادشاہ سلیمان کی امثال(کہاوتیں  )۔

2 یہ باتیں  حکمت اور نظم و ضبط سکھانے   عقل و فہم کی باتوں  کو سمجھنے  کے  لئے

3 ذہنی تربیت دینے   راستبازی انصاف اور جو صحیح ہے  اس کے  بارے  میں  سکھانے  کے  لئے

4 نادان لوگوں  کو ہوش مندی سکھانے  کے  لئے  اور نوجوان لوگوں  کو علم اور عقل و فہم سکھانے  کے  لئے  لکھی گئیں۔

5 عقلمند شخص سنیں  اور اپنی معلومات کو بڑھائیں  اور ایک عالم شخص رہنمائی حاصل کرے۔

6 یہ امثال اس لئے  لکھی گئیں  تاکہ لوگ امثال اور تمثیلوں  کو عقلمند لوگوں  کی تعلیمات اور پہیلیوں  کو سمجھ سکیں۔

7 خداوند کا خوف عقلمندی کا آغاز ہے۔ صرف بے  وقوف ہی حکمت اور تربیت سے  نفرت کرتے  ہیں۔

8 اے  میرے  بیٹے  اپنے  باپ کی تربیت پر دھیان دے  اور اپنی ماں  کی تعلیمات کو نظر انداز مت کر۔

9 وہ تمہیں  آراستہ کرنے  کے  لئے  خوبصورت ٹو پی کی مانند ہیں  اور تجھے  دیکھنے  میں  خوبصورت بنانے  کے  لئے  گلے  کی ہار کی مانند ہیں۔

10 اے  میرے  بیٹے  اگر گنہگار تجھے  گناہ کی طرف لے  جائے  تو ان کی باتیں  کبھی نہ ماننا۔

11 اور اگر وہ کہیں  ” ہمارے  ساتھ آؤ تا کہ چھپ کر گھات لگا کر کچھ معصوم شخص کا قتل کریں۔

12 آؤ ہم لوگ انہیں  زندہ سارے  کا سارا ویسے  ہی نگل جائیں  جیسے  قبر نگل جاتی ہے   جیسے  پاتال نگل جاتی ہے۔

13 ہم لوگ ہر قسم کی قیمتی چیزوں  کو حاصل کریں  گے۔ ہم لوگ مال غنیمت سے  اپنے  گھروں  کو بھر دیں  گے۔

14 اس لئے  آؤ ہمارے  ساتھ شامل ہو جاؤ ہم لوگ ایک مشترکہ تھیلی کو بانٹ لیں  گے۔ ”

15 میرے  بیٹے  تو ان کے  ساتھ نہ جانا۔ تو اپنے  قدموں  کو ان کے  راستے  سے  دور رکھو۔

16 کیوں  کہ ان کے  پاؤں  برائی کرنے  کے  لئے  دوڑتے  ہیں۔ اور وہ لوگوں  کو مار نے  کے  لئے  جلدی کرتے  ہیں۔

17 لوگ پرندوں  کو پکڑنے  کے  لئے  جال بچھاتے  ہیں۔ لیکن اس وقت جال بچھا نا بیکار ہے  جب پرندے  دیکھ رہے  ہیں۔

18 اسی طرح سے  وہ خود اپنے  لئے  گھات لگاتے  ہیں۔ وہ اپنی زندگی کو پھنسا لیتے  ہیں۔

19 لالچی لوگ اپنی ہی حرکت سے  اپنے  آپ  کو تباہ کر دیتے  ہیں۔

20 سنو! دانشمندی تو بازار میں  بلند آواز سے  پکار تی ہے  اور گلیوں  میں  آواز لگا تی ہے۔

21 وہ بازار کے  ہجوم میں  چلاتی ہے۔ شہر کے  پھاٹکوں  پر وہ اپنی باتوں  کو کہتی ہے۔ ( حکمت کہتی ہے  🙂

22 ” تم نادان لوگو کب تک نادانی سے  محبت کرو گے ؟ تم مذاق اڑانے  والو کب تک مذاق سے  خوش ہو گے ؟ تم بے  وقوفو کب تک جانکاری سے  نفرت کرو گے

23 تمہیں  میری ڈانٹ ڈپٹ قبول کرنی چاہئے  تھی! میں  جو کچھ جانتی ہوں  اسے  کہوں  گی۔ اور میں  اپنا تمام علم تجھے  سکھاؤں  گی۔

24 ” لیکن اس وقت سے  میں  نے  تم کو پکارا لیکن تم نے  سننے  سے  انکار کیا۔ میں  نے  تمہاری مدد کرنی چاہی اور اپنا ہاتھ تیری طرف پھیلا یا لیکن تم نے  میری مدد کو قبول کرنے  سے  انکار کیا۔

25 اور تم نے  میرے  مشورہ کو نظر انداز کیا تم نے  میری ڈانٹ ڈپٹ کا انکار کیا۔

26 اس لئے  میں  تمہاری تباہی پر ہنسوں  گی اور جب تجھ پر تکلیف چھا جائے  گی تو میں  اس سے  خوش ہوں  گی۔

27 جب بڑی آفت ایک طوفان کی طرح تم پر آئے  گی اور سچ مچ میں  تم پر تباہی طوفانی ہوا کی طرح آئے  گی اور تمہاری مصیبت اور دکھ تم کو گھیر لے  گی

28 ” تب تم مجھ کو پکارو گے  لیکن میں  کوئی جواب اور نہیں  دوں  گی۔ تم مجھے  ڈھونڈتے  پھرو گے  لیکن نہیں  پاؤ گے۔

29 کیونکہ تم نے  علم سے  نفرت کی کیوں  کہ تم نے  خداوند کے  لئے  عزت و احترام کو نہیں  چنا۔

30 کیوں  کہ تم لوگ میرے  مشوروں  کو نہیں  چاہتے  ہو اور میری ڈانٹ ڈپٹ سے  انکار کرتے  ہو۔

31 اس لئے  تم لوگ اپنے  کئے  کا پھل کھاؤ گے   تمہارے  ہی منصوبوں  سے  تمہارا پیٹ بھرا جائے  گا۔

32 ” نادانوں  کی ضدی پن انہیں  مار ڈالے  گی۔ بے  وقوف اپنی آسودگی کی وجہ سے  بر باد ہوں  گے۔

33 لیکن جس نے  میری بات سنی وہ محفوظ رہا۔ انہیں  اطمینان نصیب ہوا انہیں  شیطان سے  ڈرنے  کی ضرورت نہیں۔”

 

 

 

باب:   2

 

 

 

1 میرے  بیٹے  اگر تم باتوں  کو قبول کرے  گا اور میرے  احکام کو یاد رکھے  گا

2 اگر تم حکمت کی باتوں  پر دھیان دو گے  اور دِل و جان سے  سمجھنے  کی کو شش میں  لگے  رہو گے

3 اگر تم حکمت کے  اصول کو پکارو گے  اور سمجھنے  کے  لئے  آواز بلند کرو گے

4 اگر تم حکمت کو ایسے  ڈھونڈو جیسے  تم چاندی کو ڈھونڈتے  ہو اگر تم اسے  ایسے  ڈھونڈو جیسے  چھپے  خزانے  کو ڈھونڈتے  ہو

5 تب تم سمجھو گے  کہ خداوند کا خوف کا کیا مطلب ہے  اور تم خدا کے  علم کو حاصل کرو گے۔

6 کیونکہ خداوند حکمت عطا کرتا ہے۔ علم اور سمجھ اس کے  منہ سے  نکلتی ہے۔

7 وہ اچھے  اور ایماندار لوگوں  کی مدد کرتا ہے۔ اور راستبازوں  کے  لئے  ڈھال کی مانند ہے۔

8 وہ انصاف کے  راستوں  کی پہریداری کرتا ہے  اور ان لوگوں  کے  راستہ کی حفاظت کرتا ہے  جو اس کا وفادار ہے۔

9 تب تو صداقت انصاف اور ہر اچھی راہ کو سمجھے  گا۔

10 کیونکہ حکمت تیرے  دل میں داخل ہو گی۔ اور علم تیری جان کو خوش کرے  گا۔

11 حکمت تجھ پر نظر کرے  گی اور سمجھ تیری نگہبانی کرے  گی۔

12تا کہ تم کو شریروں  کے  راستوں  اور ان لوگوں  سے  جو کجروی کی باتیں  کرتا ہے

13 جو اندھیروں  کی را ہوں  میں  بھٹکنے  کے  لئے  سیدھی راہوں  کو چھوڑ دیتے  ہیں

14 جو بُرے  کاموں  کے  کرنے  میں  خوش ہوتے  ہیں۔ جو شرارت کے  کجروی میں  خوش ہوتے  ہیں

15 جن کی را ہیں  نا ہموار اور جن کے  راستے  پیچیدہ ہیں  ان سے  بچا یا جائے  گا۔

16تا کہ تم کو دوسرے  آدمی  کی بیوی سے   اس بدکار عورت سے  جو میٹھی میٹھی باتیں  کرتی ہیں

17 اس نے  اس وقت شادی کی تھی جب وہ جوان تھی۔لیکن اس نے  اپنے  شو ہر سے  بیوفائی کی اور شادی کے  عہد کو جسے  اس نے  خدا کے  سامنے  کیا تھا بھول گئی۔

18 اس کے  ساتھ گھر جانا تجھے  موت کے  قریب لے  جاتا ہے۔ اس کی راہ تجھے  قبر تکلے  جا تی ہے۔

19 کوئی بھی آدمی  جو اس کے  گھر جاتا ہے  اپنی زندگی کو کھوتا ہے  اور وہ کبھی زندگی میں  واپس نہیں  آتا ہے۔

20 حکمت تو نیک لوگوں  کی مثالوں  پر چلنے  میں  تیری مدد کرے  گی اور تجھے  راستباز لوگوں  کی راہ کو اپنانے  میں  مدد کرے  گی۔

21 کیونکہ صرف ایماندار لوگ ہی زمین پر بسے  رہیں  گے  اور جو بے  قصور ہیں  وہی اس میں  آباد رہیں  گے۔ جو لوگ جھوٹے  اور دھوکہ باز ہیں  زمین سے  ہٹا دیئے  جائیں  گے۔

22 مگر شریر لوگ اپنی زمین کو کھوئیں  گے۔ اور جو دھو کہ دیتے  ہیں  اس زمین سے  ہٹا دیئے  جائیں  گے۔

 

 

 

باب:   3

 

 

1 میرے  بیٹے  میری تعلیمات کو مت بھو لو میرے  احکام کو یاد رکھو۔

2 اسے  اپنے  دل میں  ذخیرہ کرو۔ کیوں  کہ وہ تمہیں  لمبی زندگی اور سلامتی دے  گی۔

3 سچائی اور وفاداری دونوں  کبھی جُدا نہ ہونے  پائے   اسے  اپنے  گلے  میں  باندھ لو۔ اسے  اپنے  دِل میں  لکھ لو۔

4 تب تم خدا اور لوگوں  کی نظر میں  ہمدردی اور اچھی شہرت دونوں  پاؤ گے۔

5 خداوند پر مکمل توکل رکھ اپنی سمجھ اور فہم پر بھروسہ مت رکھ۔

6 ہر ایک چیز میں  جسے  تم کرتے  ہو ہمیشہ خدا کی منشا کو جان نے  کی کوشش کروہ تمہارے  راستہ کو سیدھا کرے  گا۔

7 اپنے  آ پ کو زیادہ چالاک مت سمجھ بلکہ خداوند سے  ڈرو اور اس کی تعظیم کرو اور بُرائی سے  دور رہو۔

8 یہ تمہارے  جسم کے  لئے  تندرستی اور تازگی ہو گی۔

9 اپنے  مال سے  اور اپنی پیدا وار کے  سب سے  عمدہ چیزوں  سے  خداوند کی تعظیم کرو۔

10 تب تمہارے  غلّوں  کا گودام اناجوں  سے  پوری طرح بھر جائے  گا۔ اور تمہارا حوض نئی مئے  سے  لبریز ہو جائے  گا۔

11 میرے  بیٹے  خداوند کی تربیت کو رد مت کر اور اس کی ڈانٹ ڈپٹ کا بُرا مت مان۔

12 کیوں  کہ خداوند اسی کو ڈانٹتا ہے  جسے  وہ پیار کرتا ہے۔ ہاں ! خدا باپ کے  مانند ہے  جو بیٹا کو سزا دیتا ہے  جسے  وہ پیار کرتا ہے۔

13 وہ آدمی  برکت وا لا ہے  جو حکمت اور سمجھ کو پاتا ہے۔

14 حکمت سے  جو فائدہ ہوتا ہے  وہ چاندی اور خالص سونے  سے  بہتر ہے۔

15 حکمت جواہرات سے  زیادہ قیمتی ہے  کوئی بھی چیز جس کی تم خواہش کرتے  ہو اس کا موازنہ اس سے  نہیں  کیا جا سکتا ہے۔

16 اس کے  داہنے  ہاتھ میں  لمبی زندگی ہے  اور اس کے  بائیں  ہاتھ میں  دولت اور عزت ہے۔

17 اس کے  راستے  خوشگوار ہیں  اس کے  راستے  سلامتی کی طرف لے  جاتے  ہیں۔

18 جو اسے  قبول کرتا ہے  اس کے  لئے  درخت حیات ہے۔ جو اسے  پکڑ لیتا ہے  وہ سچ مچ میں  برکت وا لا ہے۔

19 خداوند نے  اپنی ہی حکمت سے  زمین کی بنیاد رکھی اور اپنی ہی سمجھ سے  آسمانوں  کو بنا یا۔

20 اپنے  علم سے  اس نے  گہرائی سے  پانی باہر انڈیلا اور آسمان سے  بر سایا۔

21 میرے  بیٹے  مستحکم فیصلہ اور بصیرت کو اپنی نظروں  سے  اوجھل ہونے  نہ دے   ان کی حفاظت کر۔

22 وہ تیرے  لئے  زندگی دے  گی اور تیرے  گلے  کو آ راستہ کرے  گی۔

23 تب تو اپنے  راستے  پر بغیر ٹھو کر کھائے  حفاظت کے  ساتھ چلو گے۔

24 جب تم لیٹ جاؤ گے  تو تم نہیں  ڈرو گے۔ جب تم لیٹو گے  تو گہری نیند سوؤ گے۔

25 تجھے  اچانک آنے  وا لی تباہی ایسی تباہی جو کہ شریروں  کے  اوپر آتی ہے   تمہارے  اوپر آئے  گی اس سے  خوف کھانے  کی ضرورت نہیں  ہے  کیوں  کہ خداوند تمہیں  حوصلہ دے  گا اور وہ تیرے  پیر کی حفاظت کرے  گا۔

26

27 جو مدد کے  مستحق ہے  اس کی مدد کو مت رو کو جب کہ تم مدد کرنے  کے  لائق ہو۔

28 اگر تمہارے  پڑوسی کو کسی چیز کی ضرورت ہو اور تمہارے  پاس وہ ہے  تو ضرور تم اس کی ضرورت پوری کرو۔ اس کو یہ مت کہنا ” کل آؤ تب میں  یہ تم کو دوں  گا۔”

29 اپنے  پڑ وسی کے  خلاف جو کہ تم پر بھروسہ کر کے  جی رہا ہے  اس کے  خلاف خفیہ منصوبہ مت بناؤ۔

30 بلا کسی وجہ کے  کسی شخص کو عدالت میں  مت گھسیٹوں  جب کہ اس نے  تیرے  ساتھ کوئی بُرائی نہ کی ہو۔

31 ایک پُر جوش آدمی  پرحسد مت کر اور اس کی روش کو اختیار کرنے  کا فیصلہ مت کر۔

32 کیوں  کہ خداوند بُرے  لوگوں  سے  نفرت کرتا ہے۔ لیکن وہ ان کا دوست ہے  جو ایماندار ہے۔

33 خداوند مذاق اُڑانے  والے  کا مذاق اُڑاتا ہے  لیکن وہ اس شخص پر مہربان ہوتا ہے  جو خاکسار ہے۔

34 عقلمند عزّت حاصل کرتے  ہیں  لیکن بے  وقوف صرف رسوائی حاصل کرتے  ہیں

35

 

 

باب:   4

 

 

1 اے  بیٹو! اپنے  وا لد کی تعلیمات کو سنو ان پر توجہ دوتا کہ تم سمجھ سکو۔

2 کیوں  کہ جو کچھ بھی میں  تم کو سکھاتا ہوں  وہ اچھا ہے  میری ہدایات کو مت چھوڑو۔

3 کیوں  کہ میں  بھی اپنے  با پ کا بیٹا تھا اپنی ماں  کا صرف میں  ہی پیارا بیٹا تھا۔

4 اور میرے  وا لدنے  مجھے  سکھا یا اور کہا “میری باتوں  کو دل و جان سے  قبول کرو میرے  احکام کو مانو اور تم جیو گے !

5 حکمت اور سمجھ حاصل کرو میرے  الفاظ کو مت بھو لو اور ان سے  مت پھرو۔

6 حکمت کو مت چھوڑو اور وہ تمہاری حفاظت کرے  گی! اس سے  محبت کرو اور وہ تم کو محفوظ رکھے  گی۔”

7 حکمت کے  با رے  میں  پہلی چیز : عقلمند ی حاصل کرو! اپنے  تمام حاصل شدہ چیزوں  سے  سمجھ حاصل کرو۔

8 حکمت کو عزت دو اور وہ تم کو عظیم بنا دے  گی۔ اسے  گلے  لگاؤ اور وہ تمہارے  لئے  تعظیم لے  آئے  گی۔

9 وہ تمہارے  سر پر حسن کا سہرا رکھے  گا۔ وہ تمہیں  شاندار تاج پیش کرے  گا۔

10 اے  بیٹے  سُن! جو کچھ میں  کہتا ہوں  اسے  قبول کر اور تیری عمر دراز ہو گی۔

11 میں  تمہیں  حکمت کی تعلیم دیتا ہوں  میں  تجھے  سیدھا راستہ پرلے  چلوں  گا۔

12 اگر تو اس راستہ پر چلے  گا تو تیرے  پاؤں  کے  سامنے  کوئی رکاوٹ نہیں  آئے  گی۔ اگر تم ڈرو گے  تو تم ٹھو کر نہیں  کھاؤ گے۔

13 اس ہدایت کو مضبوطی سے  پکڑے  رہو اسے  جانے  مت دو! اس کی نگہبانی کرو وہ تمہاری زندگی ہے۔

14 شریروں  کا راستہ اختیار مت کرو۔ان کی راہ پر قدم بھی مت رکھو۔

15 اس سے  دور رہو! ان کے  راہ پر مت چلو! ان سے  مُڑ جاؤ اور ان سے  دور چلو!

16 بُرے  لوگ اس وقت تک نہیں  سو سکتا یا آرام نہیں  کر سکتا جب تک کہ وہ کوئی بُرا کام نہیں  کر لیتا اور اس وقت تک نہیں  سوتا جب تک کہ کسی کو نقصان نہ پہنچائے۔

17 ان کے  لئے  بُری چیزیں  کرنا کھانے  کی مانند ہے  اور تشدد پینے  کی مانند ہے۔

18 نیک لوگوں  کی را ہیں  اسی طرح ہو تی ہیں  جیسے  صبح کی پہلی کرن! یہ اپنی چمک کو حاصل کرتے  رہتا ہے  جب تک کہ دو پہر کو وہ اپنی پوری چمک تک نہیں  پہنچ جا تی ہے۔

19 اس کے  مقابلے  میں  بُرے  لوگوں  کی را ہیں  مکمل اندھیرے  کی مانند ہے۔ وہ ٹھو کر کھاتے  ہیں  لیکن یہ بھی نہیں  جانتے  ہیں  کہ کس راستے  پر چلتے  ہیں۔

20 میرے  بیٹے ! جو میں  کہتا ہوں  اس پر توجہ دے  غور سے  میری باتیں  سن۔

21 میرے  کلاموں  کو اپنے  سے  الگ ہونے  مت دے۔ انہیں  اپنے  دل کی گہرائی میں  رکھ۔

22 وہ اس کو اچھی صحت اور زندگی دیتی ہے  جو اس کو حاصل کرتا ہے۔

23 تمہارے  لئے  اہم بات یہ ہے  کہ جو کچھ تم سوچتے  ہو اس کے  لئے  ہوشیار رہو۔کیوں  کہ تمہارے  خیالات تمہاری زندگی پر اختیار رکھتے  ہیں۔

24 کج گوئی سے  چھٹکا رہ حاصل کر جھو ٹ مت بول!

25 صرف سیدھے  سامنے  دیکھ اپنی آنکھوں  کو سیدھے  اپنے  سامنے  رکھ۔

26 جو کچھ بھی تم کرو اس سے  ہوشیار رہ۔ اور اچھی زندگی بسر کر۔

27 سیدھا راستہ مت چھوڑ بلکہ بُرے  راستے  سے  دور رہو۔

 

 

 

باب:   5

 

 

1 میرے  بیٹے ! میری حکمت پر دھیان دو اور میری سمجھداری کی باتوں  کو دھیان سے  سنو۔

2تا کہ تو شعور کو رکھ سکو اور تیرے  ہونٹ علم کو محفوظ رکھ سکے۔

3 کیوں  کہ بدکار بیوی کا ہونٹ شہد ٹپکاتا ہے  اور وہ بڑی نرمی سے  باتیں  کرتی ہے۔

4 لیکن آ خر میں  وہ اتنا ہی کڑوا ہے  جتنا کہ زہر اور اتنا ہی تیز ہے  جتنا کہ دو دھاری تلوار ہے۔

5 اس کا پاؤں  موت کی طرف جاتا ہے۔ اس کا قدم قبر کی طرف لے جاتا ہے۔

6 وہ زندگی کی راہ کی طرف کوئی دھیان نہیں  دیتی ہے۔ اس کا راستہ نا ہموار ہے  لیکن اسے  وہ نہیں  جانتی ہے۔

7 اور اب میرے  بیٹو میری بات سنو! جو باتیں  میں  کہتا ہوں  اس سے  مت مڑو۔

8 اس عورت کے  راستے  سے  دور رہو۔ اس کے  گھر کے  دروازہ کے  پاس بھی مت جاؤ۔

9 ورنہ تم اپنی قوّت کسی دوسرے  کے  حوالے  کر بیٹھو گے  اور اپنی زندگی کسی ظالم کے  حوالے  کر دو گے۔

10 اور لوگ جنہیں  تم نہیں  جانتے  وہ تمہاری دولت کو ہتھیا لیں  گے۔ اور تمہارے  کاموں  کا صلہ دوسرے  حاصل کریں  گے۔

11 اور اپنی زندگی کے  آخر وقت میں  جب تم اپنے  جسم کو برباد کرنے  دو گے  تو نوحہ کرو گے۔

12 تب تم کہو گے   “میں  نے  تربیت سے  کیسی نفرت کی! کیسے  میں  نے  ڈانٹ ڈپٹ کو رد کر دیا!

13 میں  نے  اپنے  استاد کی آواز کو سننے  سے  انکار کیا اور میں  نے  اپنی تربیت کرنے  وا لوں  پر دھیان نہیں  دیا۔

14 اور میں  ساری جماعت کے  سامنے  میں  تقریباً پوری طرح تباہ ہو چکا ہوں۔”

15 اپنے  حوض کا پانی پیو اور اپنے  ہی کنواں  کاتا زہ پانی پیو۔

16 تمہارے  چشموں  کو کو با ہر گلیوں  میں  کیو بہانا چاہئے۔ اور تمہارا پانی کا نالہ عوامی چورا ہوں  پر کیوں  بہتا ہے ؟

17 اسے  فقط تمہارے  ہونے  دو! اس میں  اجنبیوں  کو حصہ دار نہ بننے  دو۔

18 تیرا جھڑنا با فضل رہے ! اپنی جوانی کی بیوی کے  ساتھ خوش رہو۔

19 وہ ایک ہرن ایک پیاری خر گوش کی مانند ہے  اس کی چھاتیاں  تمہیں  ہمیشہ نشہ آور کرے  اور اس کا پیار تمہیں  پوری طرح آسو دہ کرے۔

20 اے  میرے  بیٹے  تمہیں  کچھ بدکار بیوی کیوں  لبھائے   دوسرے  آدمی  کی بیوی کیوں  تجھے  گلے  لگائے ؟

21 خداوند تمہارے  ہر کام کو جسے  تو کرتا ہے  اچھی طرح دیکھتا ہے۔ جہاں  تم جاتے  ہو وہاں  خداوند کی نگاہ ہے۔

22 بُرے  آدمی  کا گناہ اسے  پھنسائے  گا۔ان کے  گناہ اسے  رسیوں  کے  مانند جکڑے  گا۔

23 وہ تربیت کی کمی کی وجہ سے  مرے  گا۔ وہ خود ہی اپنی بے  وقوفی کی وجہ سے  گمراہی کی طرف جائے  گا۔

 

 

 

باب:   6

 

 

1 اے  میرے  بیٹے  اگر تو نے  کسی دوسرے  کی ضمانت دی ہے   اگر تو کسی دوسرے  شخص کے  قرض کی ضمانت کے  لئے  راضی ہوا ہے

2 تو پھر تم اپنے  کئے  ہوئے  وعدہ میں  پھنس چکے  ہو۔ تمہاری باتوں  نے  تجھ کو پھنسا لی ہے۔

3 تب اسے  کرو تم اپنے  آپ  کو آزاد کرنے  کے  لئے  اس کے  پاس جاؤ کیوں  کہ تم اپنے  پڑوسی کے  رحم و کرم میں  پڑے  ہو! خاکساری سے  جاؤ اور اپنے  پڑوسی سے  التجا کرو!

4 تو اپنی آنکھوں  میں  نیند آنے  نہ دے   تو اپنے  پلکوں  کو بند ہونے  نہ دے۔

5 اپنے  آپ  کو ہرنی کی مانند شکاری کے  ہاتھوں  سے  آزاد کر اور اپنے  آ پ کو چڑیا کی مانند چڑیمار کے  پھندے  سے  آزاد کر۔

6 اے  کا ہل شخص چیونٹی کی طرف دیکھ۔اس کی روشوں  پر غور کر اور عقلمند بن جا۔

7 چیونٹی کا نہ کوئی حکمراں  نہ کوئی رہبر اور نہ کوئی سپہ سالار ہے۔

8 تب بھی گرمی میں  اپنی غذا جمع کر لیتی ہے  اور فصل کٹائی کے  وقت اپنی خوراک جمع کر لیتی ہے۔

9 کا ہل آدمی  کب تک تو اس طرح پڑا رہے  گا؟ تو کب اپنی نیند سے  اٹھے  گا۔

10 تھوڑی سی نیند ” تھوڑی سی جھپکی اپنے  ہاتھوں  کا تھوڑا سا آرام۔”

11 اور یہاں  اپنی غریبی میں  رینگتا ہے   یہ ایک ڈاکو کی طرح ہو گا جو تمہارے  سب سامانوں  کو چرا لیا ہے۔

12 ایک بُرا اور بیکار شخص چاروں  طرف جھوٹ بولتے  پھرتا ہے۔

13 اور اپنی آنکھیں  مار کر اور اپنے  ہاتھ اور پیر کے  اشاروں  سے  لوگوں  کو بہکاتا ہے۔

14 وہ برائی کے  منصوبے  بناتے  ہیں  اور ہر وقت مصیبت کھڑا کرتے  ہیں۔

15 لیکن اس کو سزا ملے  گی۔اچانک تباہی اسے  برباد کر دے  گی۔آفت اس پر آئے  گی کوئی ا ور چارہ نہ ہو گا۔

16 خداوند ان چھ چیزوں  سے  نفرت کرتا ہے  اور ساتویں  سے  اسے  کراہت ہے۔

17 آنکھیں  جس سے  ظاہر ہو کہ مغرور ہے  اور زبان جو جھوٹ بولے۔ ہاتھ جن سے  بے  گناہ آدمی  کو مار دیا جائے۔

18 ایسا دل جو بُری چیزوں  کے  منصوبے  باندھے۔ پاؤں  جو برے  کاموں  کو کرنے  کے  لئے  دوڑے۔

19 ایک جھوٹا گواہ جو عدالت میں  جھوئی گوا ہی دیتا ہے   ایک شخص جو بھا ئیوں  کے  بیچ بحث و تکرار کا سبب بنتا ہے۔

20 میرے  بیٹے  اپنے  با پ کے  احکام کا پا لن کر اور اپنی ماں  کی تعلیمات کو رد مت کر۔

21 انہیں  ہمیشہ کے  لئے  اپنے  دل میں  باندھ لے   انہیں  اپنے  گلے  کے  چاروں  طرف پہن لے

22 تم جہاں  کہیں  بھی جاؤ گے  وہ لوگ تمہاری رہنمائی کریں  گے۔ جب تم سو رہے  ہو تب بھی وہ تمہاری نگرانی کریں  گے۔ اور جب تم جا گو گے  تب وہ تم سے  باتیں  کریں  گے  اور تمہاری رہبری کریں  گے۔

23 حکم چراغ کی مانند ہے  اور تعلیمات روشنی کی مانند ہے   ڈانٹ ڈپٹ اور تربیت زندگی کا راستہ ہے۔

24 وہ تم کو ایک بُری عورت اور ایک بدکار بیوی کی میٹھی باتوں  سے  دور رکھیں  گے۔

25 ہو سکتا ہے  ہمارا دل اس کی خوبصورتی کی خواہش نہ کرے۔ ہو سکتا ہے  تم اس کی آنکھوں  سے  قید نہ ہوؤ۔

26 ہو سکتا ہے  ایک فاحشہ صرف ایک روٹی کی قیمت لے۔ وہیں  پر ہو سکتا ہے  دوسرے  آدمی  کی بیوی تمہیں  اور تمہاری زندگی کی قیمت لے۔

27 کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے  کہ ایک آدمی  اپنی گود میں  آگ رکھے  اور اس کے  کپڑے  نہ جلے ؟

28 کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے  کہ ایک آدمی  جلتے  ہوئے  کوئلے  پر چلے  اور اس کا پیر نہ جلے ؟

29 اسی طرح سے  کوئی بھی شخص جو کسی دوسرے  کی بیوی کے  ساتھ سوئے  گا اور ہر وہ شخص جو اس کو چھوئے  گا اسے  سزا دی جائے  گی۔

30 لوگ ایک بھو کے  آدمی  کو حقیر نہیں  جانتا ہے  جو کہ کھانے  کے  لئے  کھانا چراتا ہے۔

31 لیکن اگر وہ پکڑا جائے  تو اس کو چرائی ہوئی چیز کا سات گنا ادا کر نا پڑتا ہے۔ یہ قیمت اس کے  پاس جو کچھ ہو اس کی ساری قیمت بھی ہو سکتی ہے۔

32 لیکن ایک شخص جو جنسی گناہ کرتا ہے  وہ احمق ہے۔ کوئی بھی جو ایسا کرتا ہے  اپنے  آپ  کو برباد کرتا ہے۔

33 وہ صرف پٹائی اور رسوائی پائے  گا۔ وہ اپنی شرمندگی سے  کبھی چھٹکارہ نہیں  پائے  گا۔

34 کیوں  کہ شوہر کی غیرت اسے  غصہ دلاتی ہے  اور جب وہ انتقام لے  گا تو رحم نہیں  کرے  گا۔

35 وہ کوئی معاوضہ قبول نہیں  کرے  گا اور کوئی بھی رقم لینے  سے  چا ہے  وہ کتنا بھی کیوں  نہ ہو انکار کرے  گا۔

 

 

 

باب:   7

 

 

1 میرے  بیٹے ! میری باتیں  یاد رکھ میں  نے  جو نصیحتیں  کی ہیں  انہیں  مت بھول۔

2 میرے  احکام کی تعمیل کر اور تب تو جئے  گا۔ میری تعلیمات کی نگہبانی اپنی آنکھ کی پتلی کی طرح کر۔

3 اسے  اپنی انگلیوں  میں  باندھ اور اسے  اپنے  دل میں  لکھ لے۔

4 حکمت سے  کہو :” تم میری بہن ہو ” اور سمجھ کو اپنا رشتے  دار سمجھو۔

5 وہ تمہارا دوسرے  آدمی  کی بیوی سے  ایک بد کار بیوی جو میٹھی میٹھی باتیں  کرتی ہے  اس سے  نگہبانی کریں  گی۔

6 کیوں  کہ ایک دن میں  اپنی کھڑ کی سے  باہر پر دہ سے  دیکھا

7 اور میں  نے  نادانوں  کے  درمیان نوجوانوں  کے  درمیان ایک لڑ کے  کو دیکھا جسے  عقل کی کمی تھی۔

8 وہ گلی میں  چل رہا تھا وہ اپنے  گھر کی طرف جاتے  ہوئے  اپنے  کونے  سے  گزرا۔

9 اس وقت غالباً اندھیرا تھا سورج غروب ہو رہا تھا اور شام شروع ہو رہی تھی۔

10 تب ایک عورت اس سے  ملنے  کے  لئے  باہر آئی۔ وہ فاحشہ کی طرح لباس پہنے  ہوئے  تھی۔ وہ اس جوان کو پھنسانے  کا منصوبہ بنا چکی تھی۔

11 وہ عریاں  اور بڑی باغی تھی اس کا پیر گھر میں  نہیں  ٹکا رہا۔

12 اب وہ گلی میں  ہے   اب وہ چوراہے  پر ہے   ہر ایک کونے  پر گھات میں  لگ کر انتظار میں  ہے۔

13 اس نے  لڑ کے  کو پکڑ لیا اسے  چو ما اور بے  شرمی سے  اس کی آنکھوں  میں  دیکھ کر کہا

14 ” آج مجھے  اپنی ہمدردی کا نذرانہ دینا تھا اور میں  نے  منت پوری کر لی اور جو میں  نے  وعدہ کیا وہ پورا کر لیا۔

15 اس لئے  میں  تجھ سے  ملنے  باہر آئی میں  نے  تم کو تلاش کیا اور اب میں  نے  تم کو پا لیا۔

16 میں  نے  صاف چادروں  سے  اپنے  بستر کو سجا یا ہے  جو بہت بہترین مصر کی چادریں  ہیں۔

17 میں  نے  بستر کو خوشبو سے  بسا یا ہے۔ لوبان مصبر اور دار چینی سے  معطر کیا ہے۔

18 تو میرے  پاس آ تاکہ ہم لوگ رات بھر لطف اندوز ہوں  اور محبت کر کے  آسودہ ہو جاؤں۔

19 میرا شو ہر گھر پر نہیں  ہے  وہ ایک لمبا سفر پر گیا ہے  اور وہ ہفتے  تک گھر نہیں  آئے  گا۔”

20

21 اس نے  اپنی چاپلو سی کی باتوں  سے  اس کو گمراہی کی طرف لے  گئی ہے۔ اپنی میٹھی میٹھی باتوں  سے  اس کو پھسلا تی ہے۔

22 وہ لڑ کا فوراً ہی اس کے  پیچھے  ایسے  ہو لیا جیسے  ایک بیل کو ذبح کرنے  کے  لئے  لے  جایا جاتا ہو ایک ہرن پھندے  میں  قدم رکھتا ہو۔

23 ایک شکاری کی طرح جو اس کے  دل میں  تیر پیوست کرے  اس لڑ کے  کی حا لت ایک پرندہ کی طرح تھی جو اڑ کر جال میں  آ گیا وہ نہیں  جانتا تھا کہ وہ کس خطرہ میں  آ پڑا ہے۔

24 اس لئے  اب اے  بیٹو! سنو! میری باتوں  پر غور کرو۔

25 اپنے  دل کو اس کی راہ میں  مت گرنے  دو اور ان کی راہ پر مت بھٹکو۔

26 اس نے  بہتوں  کو گرا یا ہے۔ اس نے  بہت سارے  لوگوں  کو مارا ہے۔

27 اس کا گھر قبر کی طرف جانے  والی ایک شاہراہ ہے۔ اس کی راہ سیدھے  موت کی طرف جاتی ہے۔

 

 

 

باب:   8

 

1 کیا حکمت نہیں  پکارتی ہے  اور سمجھ اپنی آواز بلند نہیں  کرتی ہے ؟

2 وہ سڑک کے  کنا رے  پہاڑوں  پر جہاں  را ہیں  ملتی ہیں  وہاں  چورا ہے  پر کھڑی ہو تی ہے۔

3 شہر کے  پھاٹک کے  نزدیک دروازہ پر وہ بلند آواز سے  پکارتی ہے۔

4 حکمت کہتی ہے   ” آدمیو میں  تم کو پکار رہی ہوں۔ اے  لوگو میں  اپنی آواز تیرے  لئے  بلند کر رہی ہوں

5 اے  نا دانوں  ہوشیاری حاصل کرو اور اے  بے  وقوفو! عقل و فہم حاصل کرو۔

6 سنو! کیوں  کہ میرے  پاس کہنے  کے  لئے  قیمتی باتیں  ہیں۔ میرا ہونٹ وہ بولتا ہے  جو کہ صحیح ہے۔

7 میرا منہ وہی بولتا ہے  جو کہ سچ ہے   اور بُرائی میرے  ہونٹوں  کے  لئے  نفرت انگیز ہے۔

8 میری باتیں  صحیح ہیں۔ یہ غلط یا جھوٹی نہیں  ہیں۔

9 وہ علم والے  آدمی  جانتے  ہیں  کہ میری باتیں  صحیح ہیں۔ اور وہ ان کے  لئے  صحیح ہے  جو علم تلاش کرتے  ہیں۔

10 میری تربیت کو چاندی کے  بدلے  اور میرے  علم کو خالص سونے  کے  بدلے  قبول کر۔

11 کیونکہ حکمت موتی سے  زیادہ قیمتی ہے  اور جس چیز کی بھی تم حسرت کرو اس کا اس کے  ساتھ موازنہ نہیں  کیا جا سکتا ہے۔ ”

12 ” میں  حکمت ہوش مندی کے  ساتھ رہتی ہوں۔ میں  علم اور تمیز کے  ساتھ پائی جا تی ہوں۔

13 اگر کوئی شخص خداوند کا احترام کرتا ہے  تب وہ بُرائی سے  نفرت کرے  گا۔ میں  غرور خود پسندی بد چلن اور کج گوئی سے  نفرت کر تی ہو ں۔

14 میں  مشورت اچھا فیصلہ سمجھ اور قوت رکھتی ہوں۔

15 بادشاہ میرے  ذریعہ حکومت کرتے  ہیں  اور حاکم سیدھے  قانون بناتے  ہیں۔

16 میری بدولت شہزادے  اور سبھی امراء حکومت کرتے  ہیں۔

17 میں  ان لوگوں  سے  محبت کرتی ہوں  جو مجھ سے  محبت کرتے  ہیں۔ جو مجھے  تلاش کرتے  ہیں  وہ مجھے  حاصل کرتے  ہیں۔

18 میرے  پاس دولت اور عزت ہے  جو میں  دیتی ہو ں۔ میں  سچی دولت اور کامیابی دیتی ہوں۔

19 میں  جو چیزیں  دیتی ہوں  وہ عمدہ سونے  سے  زیادہ قیمتی ہے  اور میرے  تحفے  چاندی سے  زیادہ قیمتی ہے۔

20 میں  انصاف کے  راستے  کے  ساتھ صداقت کے  راہ پر چلتی ہوں۔

21 جو لوگ مجھے  چاہتے  ہیں  انہیں  دولت سے  نواز تی ہوں۔ہاں ! میں  ان کے  گھروں  کو خزانوں  سے  بھر دیتی ہوں۔

22 خداوند نے  سب سے  پہلے  جس چیز کو پیدا کیا تھا وہ مجھے  ہی پیدا کیا تھا کافی دنوں  پہلے   اس سے  بھی پہلے  جب اس نے  کوئی دوسرا کام کیا تھا۔

23 مجھے  کافی دنوں  پہلے  ابتداء ہی میں  دنیا شروع ہونے  سے  پہلے  بنا یا گیا۔

24 جب سمندر نہیں  تھے  مجھے  بنایا گیا تھا میں  اس وقت پیدا ہوئی تھی جب پانی سے  بھر پور چشمے  نہیں  تھے۔

25 پہاڑوں  پہاڑیوں  کو اس کی جگہ پر کھڑا کرنے  سے  پہلے

26 خداوند کا زمین اور اس کے  کھیتوں  کو بنانے  سے  پہلے   دنیا کے  دھول سے  پہلے  مجھے  پیدا کیا گیا تھا۔

27 جب خداوند نے  آسمان کو قائم کیا جب اس نے  سمندر کے  اوپر دائرہ کھینچا میں  وہیں  تھا۔

28 جب خداوند نے  آسمانوں  میں  بادلوں  کو قائم کئے  تھے  میں  اس سے  پہلے  پیدا ہوئی تھی۔اس وقت میں  تھی جب اس نے  سمندروں  میں  پانی بھرا تھا۔

29 جب خداوند نے  سمندر کی حدیں  مقر کیں تا کہ پانی اس کے  آگے  نہ چلا جائے   جب اس نے  زمین کی بنیاد ڈالی تھی میں  وہیں  تھی۔

30 میں  ایک ماہر کاریگر کی طرح اس کے  ساتھ تھی اور میری وجہ سے  خداوند ہر روز خوش تھا۔ میں  ہمیشہ اس کے  حضور شادماں  رہتی تھی۔

31 میں  دنیا اور اس کی تخلیق پر خوش ہو تی ہوں۔ میں  انسان سے  مسرور ہو تی ہوں۔

32 ” اب اے  بچو میری بات سنو! تم بھی خوش ہو سکتے  ہو اگر تم میری راہوں  پر چلو۔

33 میری تعلیمات کو سنو اور عقلمند بنو۔ اور اسے  نظر انداز مت کرو۔

34 جو شخص میری بات سنتا ہے  وہ با فضل ہو گا۔ ایسا شخص ہر روز میرے  دروازے  پر نگاہیں  جمائے  رکھتا ہے  اور وہ دروازوں  کو سیڑھیوں  پر میرا منتظر رہتا ہے۔

35 جو شخص مجھے  تلاش کرتا ہے  وہ زندگی کو پاتا ہے  اور وہ خداوند سے  مہربانی حاصل کرے  گا۔

36 لیکن جو شخص میرے  خلاف گناہ کرتا ہے  اپنے  آپ  کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جو کوئی مجھ سے  نفرت کرتا ہے  موت کو چاہتا ہے۔ ”

 

 

 

باب:   9

 

 

1 حکمت نے  اپنا گھر بنایا ہے  جس میں  اس نے  سات ستون قائم کئے  ہیں۔

2 اس نے  (حکمت ) گوشت پکا کر مئے  تیار کر لی اور غذا کو میز پر رکھ لیا۔۔

3 اس نے  اپنی خادمہ لڑکیوں  کو حکم دیکر با ہر بھیجا کہ شہر کے  اوپر سب سے  اونچی پہاڑی سے  پکا رو :

4 ” وہ جو نادان ہو یہاں  آؤ! ” وہ ان لوگوں  کو کہتی ہے  جسے  عقل کی کمی ہے۔

5 ” آؤ میرا کھا نا کھاؤ اور مئے  نوش کرو جو میں  نے  بنائی ہے۔

6 اپنی نادانی کو پیچھے  چھوڑو تب تم جیو  گے ! سمجھداری کے  راستے  کو اپناؤ! ”

7 اگر تم کسی ٹھٹھا باز کا اصلاح کرو گے  تو تمہاری ہی بے  عزتی ہو گی اور تم کسی شریر شخص کو ڈانٹ ڈپٹ کرو گے  تو تم نقصان اٹھاؤ گے۔

8 اس لئے  کسی ٹھٹھا باز کو مت ڈانٹو کیوں  کہ وہ تم سے  نفرت کرے  گا۔ عقلمند شخص کو ڈانٹ ڈپٹ کرو وہ اس کی وجہ سے   تم سے  محبت کرے  گا۔

9 عقلمند کو تعلیم دو تو وہ اور زیادہ ہو جائے  گا۔ راستباز کو تعلیم دو تو وہ اپنے  علم کو بڑھائے  گا۔

10 خداوند سے  ڈرنا عقلمندی کی شروعات ہے۔ اور خداوند کو جاننا سمجھداری ہے۔

11 اگر تم عقلمند ہو تو تمہاری عمر دراز ہو گی۔

12 اگر تو عقلمند ہے  تو یہ تمہارے  خود کے  لئے  اچھا ہے  لیکن اگر تو ٹھٹھا باز ہے  تو خود ہی تو مصیبتوں  کو بھگتے  گا۔

13 بے  وقوفی شور مچانے  والی عریاں  عورت کی طرح ہے  جو بے  تربیت اور بے  علم ہے۔

14 وہ اپنے  دروازے  کی سیڑھیوں  پر اور شہر کے  اوپر پہاڑی پر اپنی کرسی پر بیٹھی رہتی ہے۔

15 اور ادھر سے  گزرتے  ہوئے  لوگوں  کو جس کا کہ راستہ سیدھا ہے  پکارتی ہے۔

16 ” وہ جو نادان ہو یہاں  آؤ! ” وہ اسے  کہتی ہے  جسے  عقل کی کمی ہے۔

17 وہ( بیوقوفی ) کہتی ہے   ” چوری کیا ہوا پانی میٹھا ہوتا ہے   اور چوری کی ہوئی روٹی بہت مزیدار ہو تی ہے۔ ”

18 اور ان بیوقوف لوگوں  کو یہ نہیں  معلوم کہ اس کے  مکان میں  بھوت بھرے  پڑے  ہیں  اور اس ( بیوقوفی ) کے  مہمانوں  کا خاتمہ قبر میں  ہوتا ہے۔

 

 

 

باب: 10

 

 

1 ایک عقلمند بیٹا باپ کو خوش رکھتا ہے  لیکن ایک بیوقوف بیٹا اپنی ماں  کو غم دیتا ہے۔

2 برائی کے  ذریعے  سے  کمائی ہوئی دولت تمہارے  لئے  اچھی نہیں  ہو گی۔

3 خداوند کسی نیک آدمی  کو کبھی بھوکا نہیں  رہنے  دے  گا لیکن خداوند شریر لوگوں  کی خواہشات کو نا کام بنا دے  گا۔

4 کاہل شخص کنگال رہتا ہے  لیکن محنتی دولت مند رہتا ہے۔

5 ایک عقلمند شخص صحیح وقت پر اپنی فصلوں  کو جمع کرتا ہے۔ لیکن جو فصل کٹائی کے  وقت سوتا ہے  تو وہ صرف اپنے  آپ  کے  لئے  شرمندگی لاتا ہے۔

6 راستباز شخص فضل حاصل کرے  گا۔ لیکن شریروں  کے  الفاظ تشدّد کو چھپاتے  ہیں۔

7 راستباز شخص اچھی یادگار چھوڑتا ہے  لیکن شریروں  کا تذکرہ بھی کرنا بد بو آنے  کے  جیسا ہے۔۔

8 ایک عقلمند شخص حکم کا پالن کرتا ہے  لیکن ایک بے  وقوف جو بے  وقوفانہ باتیں  کرتا ہے  اپنے  آپ  پر مصیبت لائے  گا۔

9 ایک عقلمند شخص جو بے  داغ جیتا ہے  وہ محفوظ ہے  لیکن ایک چالباز شخص پکڑا جاتا ہے۔

10 سچائی کو چھپانے  والا مصیبت کا سبب بنتا ہے  لیکن کھل کر بولنے  والا سلامتی قائم کرتا ہے۔

11 راستباز کی باتیں  زندگی کا جھرنا ہے   لیکن شریروں  کی باتیں  تشدد کو چھپاتے  ہیں۔

12 نفرت بحث و مباحثہ کا سبب ہے  لیکن محبت ہر جرم کو معاف کر دیتی ہے۔

13 عقلمند آدمی  کی باتیں  سننا حکمت کو پا نا ہے۔ لیکن بے  وقوف لوگ اپنا سبق تب سیکھتے  ہیں۔ جب انہیں  سزا دیئے  جاتے  ہیں۔

14 عقلمند لوگ تمام علم کو جمع کر لیتے  ہیں  جسے  وہ جمع کر سکتے  ہیں۔ لیکن بے  وقوف کی زبان اپنے  لئے  مصیبت لا سکتی ہے۔

15 دولتمند کی دولت اس کا مضبوط قلعہ ہے  لیکن غریبی ایک غریب شخص کو بر باد کر دیتی ہے۔

16 راستباز کا صلہ زندگی ہے  لیکن شریروں  کا صلہ صرف اس کے  گناہوں  کی سزا ہے۔

17 اصلاح کو قبول کرنا زندگی کی راہ ہے   لیکن وہ شخص جو ڈانٹ ڈپٹ کو ردّ کرتا ہے  گمراہ ہو جاتا ہے۔

18 دھو کے  باز ہونٹ نفرت کو چھپاتا ہے  لیکن جو بہتان پھیلاتا ہے  بے  وقوف ہے۔

19 باتوں  کی کثرت کا خاتمہ گناہ پر ہو تی ہے   لیکن جو خاموش رہتا ہے  عقلمند ہو جائے  گا۔

20 نیک آدمی  کے  منھ سے  نکلے  ہوئے  الفاظ خالص چاندی کی مانند ہے۔ لیکن شریر لوگوں  کے  مشورے  بے  قیمت ہوتا ہے۔

21 راستبازوں  کی باتیں  دوسروں  کی مدد کرتی ہیں  لیکن احمق کم عقلی کی وجہ سے  مر جاتے  ہیں۔

22 خداوند کے  فضل سے  دولت ملتی ہے  جو اپنے  ساتھ کبھی مصیبت نہیں  لاتی ہے۔

23 بے  وقوف برائی کر کے  خوش ہوتا ہے  لیکن ایک عقلمند حکمت سے  خوش ہوتا ہے۔

24 شریر شخص جس سے  ڈرتا ہے  وہی اس کے  اوپر بھی آ پڑے  گا۔ لیکن راست باز شخص کی مرادیں  پوری ہو گی۔

25 شریر آدمی  ( اچانک آنے  والی آفت سے  ) برباد ہو جائے  گا۔ سمجھو کہ آندھی اڑا لے  گئی لیکن ایک صادق شخص ہمیشہ ہمیشہ کے  لئے  مضبوطی سے  کھڑا رہے  گا۔

26 کاہل آدمی  کو کسی کام کے  لئے  ملازم نہ رکھو کیوں  کہ وہ تمہارے  منھ میں  سرکہ یا آنکھوں  میں  دھواں  کی مانند ہو گا۔

27 اگر تم خداوند کی عزت کرو گے  تو تمہاری عمر لمبی ہو گی لیکن برے  لوگوں  کی عمر گھٹتی ہے۔

28 صادق لوگوں  کی امید کا خاتمہ خوشی پر ہوتا ہے۔ لیکن شریر لوگوں  کی امید ان لوگوں  پر تباہی لاتی ہے۔

29 خداوند کا راستہ ایماندار لوگوں  کے  لئے  پناہ گاہ ہے۔ لیکن یہ ان لوگوں  کے  لئے  تباہی ہے  جو برائی کرتے  ہیں۔

30 راستباز لوگ ہمیشہ محفوظ ہیں  لیکن شریر لوگ زمین پر زیادہ دنوں  تک قائم نہیں  رہیں  گے

31 راستباز کے  منھ سے  عقلمندی کی باتیں  نکلتی ہے   لیکن کج گوئی کرنے  والی زبان کاٹ دی جائے  گی۔

32 صادق لوگ صحیح بات کہنا جانتے  ہیں  لیکن شریر لوگ کجروی کی باتیں  کہتا ہے۔

 

 

 

باب: 11

 

 

1 خداوند نقص دار ترازو سے  نفرت کرتا ہے  اور صحیح ترازو سے  وہ خوش ہوتا ہے۔

2 غرور کا انجام رسوائی ہو تی ہے  لیکن خاکساری کا انجام حکمت ہو تی ہے۔

3 ایماندار لوگوں  کی رہنمائی ایمانداری سے  ہو تی ہے  لیکن دغا بازوں  کی دھوکہ دہی خود انہیں  برباد کر دیتی ہے۔

4 جس دن خدا لوگوں  کا فیصلہ کرتا ہے  اس دن مال و دولت کام نہیں  آتی ہے۔ لیکن راستبازی تم کو موت سے  بچا سکتی ہے۔

5 ایماندار لوگوں  کی راستبازی ان کا راستہ سیدھا کر تی ہے۔ لیکن شریر لوگوں  کی شرارت اسے  گرا دیتی ہے۔

6 راستبازی ایمانداروں  کو بچا تی ہے  لیکن غدّار لوگ اپنے  بد نیتی کے  جال میں  پھنس جائیں  گے۔

7 جب بدکار مر جاتا ہے  تو اس کے  لئے  کوئی امید نہیں  رہتی ہے۔ ہر وہ چیز جس کی اس نے  امید کی تھی وہ جا چکی ہو تی ہے  اور کل ملا کر اس کی قیمت کچھ بھی نہیں  ہو تی ہے۔

8 نیک آدمی  کو مصیبت سے  چھٹکا را ملتا ہے  لیکن بجائے  اس کے  بدکردار اس میں  پھنس جاتا ہے۔

9 بے  دین شخص اپنی باتوں  سے  دوسروں  کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ لیکن ایک نیک آدمی  کی عقلمندی اسے  بچائے  گی۔

10 جب نیک لوگ کامیاب ہوتے  ہیں  تو پو را شہر خوش ہوتا ہے۔ جب شریر لوگ برباد ہوتے  ہیں  تو لوگ خوشی سے  چلاتے  ہیں۔

11 راستبازوں  کی دی ہوئی دُعا سے  شہر ترقی کرتا ہے۔ لیکن شریر لوگوں  کی باتوں  سے  شہر تباہ ہوتا ہے۔

12 ایک شخص اپنی کم عقلی سے  اپنے  پڑو سی کو حقیر سمجھتا ہے۔ لیکن دانا آدمی  جانتا ہے  کہ کب خاموش رہنا چاہئے۔

13 جو شخص افواہ پھیلاتا ہے  وہ جہاں  کہیں  بھی جاتا ہے  رازوں  کو فاش کرتا ہے۔ لیکن ایک بھروسہ مند راز کو راز ہی رکھتا ہے۔

14 کم عقلمندانہ قیادت قوم کی تباہی کی رہنمائی کر تی ہے۔ لیکن کئی اچھے  صلاح کار قوم کو محفوظ بناتا ہے۔

15 جو اجنبی کے  قرض کا ضامن بنتا ہے۔ اسے  یقیناً نقصان ہو گا۔ لیکن وہ جو ایسا کرنے  سے  انکار کرتا ہے  وہ محفوظ رہے  گا۔

16 مہربان رحم دل عورت عزت پاتی ہے  اور تند مزاج مرد مال حاصل کرتا ہے۔

17 مہربان آدمی  نفع پاتا ہے۔ لیکن ایک ظالم شخص خود اپنے  لئے  مصیبت لاتا ہے۔

18 ایک شریر شخص دھوکے  کا اجرت کماتا ہے۔ لیکن وہ شخص جو صداقت کا بیج بوتا ہے  حقیقی اجر پاتا ہے۔

19 سچائی اور صداقت زندگی کی رہنمائی کر تی ہے۔ لیکن وہ جو شرارت پن کا تعاقب کرتا ہے  اپنی موت کی طرف رُخ کرتا ہے۔

20 خداوند بد دماغ لوگوں  سے  نفرت کرتا ہے  لیکن جو لوگ بے  قصور ہیں  اس کے  ساتھ وہ خوش ہوتا ہے۔

21 یقیناً شریر لوگوں  کو سزا ملے  گی۔ اور نیک لوگ رہائی پائیں  گے۔

22 خوبصورت مگر بے  وقوف عورت ٹھیک ایسی ہے  جیسے  سونے  کی نتھ سُوّر کی ناک میں  ہو۔

23 اچھے  لوگ جو چاہتے  ہیں  اس کا انجام ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ لیکن شریر لوگوں  کی امید غصہ پر ختم ہوتی ہے۔

24 جو کوئی دل سے  دیتا ہے  اور بھی زیادہ پاتا ہے  لیکن جو دینے  سے  انکار کرتا ہے  جب اسے  دینا چاہے  تو وہ اور غریب ہو جاتا ہے۔

25 جو شخص آزادانہ کسی کو دے  تو وہ ترقی کرے  گا۔ اور ایک شخص جو دوسروں  کی مدد کرتا ہے  وہ خود مدد پائے  گا۔

26 لوگ لالچی آدمی  پر لعنت کرتے  ہیں  جب وہ اپنا اناج فروخت کرنے  سے  انکار کرتا ہے۔ لیکن وہ لوگ ایسے  آدمی  کو دعا دیتے  ہیں  جو اپنے  اناج دوسروں  کو کھلانے  کے  لئے  فروخت کرتا ہے۔

27 لوگ اس شخص کو چاہتے  ہیں  جو اچھائی کرنے  کی کو شش کرتا ہے۔ لیکن جو برائی کا تعاقب کرتا ہے  تو برائی اسی پر لوٹے  گی۔

28 جو شخص اپنی دولت پر بھروسہ کرتا ہے  وہ گر پڑے  گا۔ لیکن نیک آدمی  ایک نئے  سبز پتہ کی طرح لہراتا ہے۔

29 اگر کوئی شخص اپنے  خاندان کی مصیبت کا سبب بنتا ہے  تو اس کے  پاس آخر میں  کچھ بھی نہیں  ہو گا۔ اور بے  وقوف ہمیشہ عقلمند کی خدمت کرے  گا۔

30 نیک آدمی  جو عمل کرتا ہے  وہ درخت حیات کی مانند ہے  اور ایک دانا شخص لوگوں  کو نئی زندگی دیتا ہے۔

31 اگر نیک لوگوں  کو زمین پر وہ چیز ملتی ہے  جس کے  وہ مستحق ہیں  تو شریروں  اور گنہگاروں  کو کتنا زیادہ ملے  گا جس کے  وہ مستحق ہیں۔

 

 

 

باب:   12

 

 

1 جو شخص اپنی اصلاح سے  محبت کرتا ہے  تو وہ علم سے  محبت کرتا ہے۔ لیکن جو شخص ڈانٹ ڈپٹ سے  نفرت کرتا ہے  تو وہ بے  وقوف ہے۔

2 خداوند اچھے  شخص کے  لئے  مہر بان ہوتا ہے۔ لیکن خداوند فیصلہ کرتا ہے۔ ایک برا آدمی  قصور وار ہو گا۔

3 ایک شخص شرارت سے  اپنے  آپ  کو قائم نہیں  کر سکتا ہے   لیکن نیک لوگوں  کو کبھی بھی ختم نہیں  کیا جا سکتا ہے۔

4 ایک شخص اپنی خوبصورت بیوی پر فخر محسوس کرتا ہے   لیکن ایک بیوی جو اپنے  شوہر کی شر مند گی کا سبب بنے  تو وہ اس کی ہڈیوں  میں  بیماری کی مانند ہے۔

5 ایماندار لوگوں  کے  منصوبے  درست ہوتے  ہیں۔ لیکن شریر لوگوں  کے  منصوبے  فریب دار ہوتے  ہیں۔

6 شریروں  کی باتوں  کا مقصد دوسروں  کو نقصان پہنچا نا ہوتا ہے۔ لیکن ایماندار شخص کی باتیں  دوسروں  کو بچا تی ہیں۔

7 وہ بد کار لوگ تباہ ہوں  گے  اور کچھ نہ بچے  گا۔ لیکن راست باز لوگوں  کا خاندان باقی رہے  گا۔

8 لوگ عقلمند کی تعریف کریں  گے  لیکن بے  وقوف کی کوئی عزت نہیں  ہے۔

9 ایک شخص اہم نہیں  ہے  پھر بھی اس کے  پاس نو کر ہے  تو وہ اس شخص سے  بہتر ہے  جو اپنے  آپ  کو بڑا جتاتا ہے  اور کھانے  کا محتاج ہے۔

10 اچھا آدمی  اپنے  مویشی تک کی دیکھ بھال کرتا ہے  لیکن شریر شخص بالکل ہی ظالم ہوتا ہے۔

11 وہ کسان جو اپنے  کھیتوں  میں  سخت محنت کرتا ہے۔ اس کے  پاس کافی مقدار میں  غذا ہو گی۔ لیکن ایک شخص جو بیکار کی باتوں  میں  اپنا وقت ضائع کرتا ہے  وہ کم عقل ہے۔

12 ایک برا شخص ہمیشہ برائی کرنے  کی تلاش میں  رہتا ہے۔ لیکن راستباز کے  پاس اتنی طاقت ہوتی ہے  کہ وہ جڑوں  کی طرح گہرائی تک جاتا ہے۔

13 ایک بد کار شخص اپنی ہی بری باتوں  میں  پھنس جاتے  ہیں  لیکن ایماندار شخص مصیبتوں  سے  باہر آتا ہے۔

14 ایک شخص کو اس کی باتوں  کے  پھل سے  نوازا جاتا ہے۔ اور جو بھی وہ کام کرتا ہے  اس کو اس کا صلہ ملتا ہے۔

15 ایک بے  وقوف شخص کو اپنی راہ ہمیشہ سیدھی معلوم ہو تی ہے   لیکن ایک عقلمند شخص نصیحت کو سنتا ہے۔

16 ایک بے  وقوف فوراً ہی اپنا غصہ دکھاتا ہے   لیکن ایک عقلمند شخص رسوائی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

17 ایک ایماندار گواہ سچائی کو بیان کرتا ہے   لیکن ایک جھوٹا گواہ جھوٹ بولتا ہے۔

18 بغیر سوچے  سمجھے  بولی گئی بات تلوار کی مانند گہرا زخم دے  سکتی ہے   لیکن عقلمندی سے  بولی گئی بات زخموں  کو بھر سکتی ہے۔

19 ہونٹ جو سچائی کو بولتا ہے  ہمیشہ قائم رہے  گا لیکن ایک دھو کہ باز زبان صرف پل بھر کے  لئے  رہے  گی۔

20 جو برے  منصوبے  بناتے  ہیں  دغا سے  بھرے  ہوتے  ہیں۔ لیکن جو امن و امان کے  لئے  کام کرتے  ہیں  خوشی پائیں  گے۔

21 راستباز لوگوں  کو کوئی بھی چیز نقصان نہیں  پہنچا سکتی ہے۔ لیکن شریر لوگوں  کو بہت ساری مصیبتوں  کا سامنا کرنا پڑے  گا۔

22 خداوند کو جھو ٹوں  سے  نفرت ہے  اور سچے  لوگوں  سے  خداوند خوش ہوتا ہے۔

23 ہوشیار شخص اپنے  علم کا اظہار نہیں  کرتا لیکن بے  وقوف ( کا دل ) چلا کر اپنی بے  وقوفی کو ظاہر کرتا ہے۔

24 محنتی شخص حکمراں  ہو گا لیکن ایک کاہل شخص کو غلام کی مانند کام کر نا ہو گا۔

25 فکر و پریشانی خوشی چھین لیتی ہے  لیکن اچھی بات آدمی  کو خوش کر تی ہے۔

26 نیک آدمی  اپنے  دوستوں  کے  انتخاب میں  ہوشیار ہے  اور شریر اپنے  راستوں  سے  گمراہی کی طرف چلے  جاتے  ہیں۔

27 کاہل شخص جن چیزوں  کو چاہتا ہے  اسے  وہ حاصل کرنے  کی زحمت نہیں  کرتا ہے۔ لیکن ایک دولت مند آدمی  اس شخص کے  پاس آتا ہے  جو سخت محنت کرتا ہے۔

28 صداقت زندگی کی سڑک ہے۔ اس راہ کے  ساتھ ابدی زندگی ہے۔

 

 

 

باب:   13

 

 

1 سمجھدار بیٹا اپنے  باپ کی اصلاح کی باتوں  کو سنتا ہے  لیکن ایک ٹھٹھا باز کسی شخص کی اصلاح کی باتوں  پر دھیان نہیں  دیتا ہے۔

2 اچھے  لوگوں  کی اچھی باتیں  اسے  اچھی چیزوں  سے  صلہ دے  سکتی ہے۔ لیکن بد کار ہمیشہ وہی کر نا چاہتا ہے  جو برا ہے۔

3 کوئی شخص جب بولنے  میں  ہوشیار رہتا ہے  تو وہ اپنی زندگی کو بچاتا ہے  اور وہ جو بغیر سوچے  سمجھے  بولتا ہے  بر باد ہو جاتا ہے۔

4 کا ہل آدمی  کی خواہش کبھی پوری نہیں  ہو تی لیکن محنتی کو اس کے  کئے  کا پھل ملتا ہے۔

5 راستباز لوگ جھوٹ سے  نفرت کرتے  ہیں  لیکن شریر لوگ شرمندگی اور رسوائی کا سبب بنتے  ہیں۔

6 راستبازی معصوم کی حفاظت کرتی ہے   لیکن برے  اعمال ایک گناہگار کو تباہ کر دیتا ہے۔

7 کچھ لوگ اپنے  آپ  کو دولت مند جتاتے  ہیں  حالانکہ ان کے  پاس کچھ نہیں  ہے  اور کچھ لوگ اپنے  آپ  کو غریب ظاہر کرتے  ہیں  مگر حقیقت میں  دولت مند ہیں۔

8 دولت مند اپنی زندگی بچانے  کے  لئے  فدیہ دے  سکتا ہے  لیکن غریبوں  کو ایسی دھمکیاں  کبھی نہیں  دی جا تی ہے۔

9 ایماندار لوگوں  کی روشنی تیز چمکتی ہے۔ لیکن شریر لوگوں  کی چراغ بجھا دی جائے  گی۔

10 غرور صرف بحث کا سبب بنتا ہے   لیکن مشوروں  کو قبول کر نا زیادہ عقلمند ی ہے۔

11 دھو کہ دے  کر کمائی گئی دولت کبھی نہیں  رہتی ہے۔ لیکن جو لوگ تھوڑی تھوڑی کر کے  دولت حاصل کرتے  ہیں  وہ زیادہ سے  زیادہ بڑھتی ہے۔

12 جب امید پوری ہونے  میں  لمبا وقت لگتا ہے  تو دل مایوس ہو جاتا ہے  لیکن جو خواہش پوری ہو جا تی ہے  وہ درخت حیات کی مانند ہے۔

13 کوئی شخص جو ہدایت سے  انکار کرتے  ہیں  وہ اپنے  لئے  مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ لیکن جو ہدایت کی عزت کرتا ہے  صلہ پاتا ہے۔

14 عقلمند آدمی  کی تعلیمات ایک جھرنے  کی طرح ہے  جو کہ زندگی دیتی ہے   وہ لوگوں  کو موت کے  پھندے  سے  دور کر دیتی ہے۔

15 اچھی عقل مقبولیت بخشتی ہے  لیکن دھوکہ بازوں  کی زندگی بہت سخت ہے۔

16 ایک عقلمند شخص اپنے  علم سے  عمل حاصل کرتا ہے  لیکن بے  وقوف اپنی بے  وقوفی ظاہر کرتا ہے۔

17 شریر قاصد مشکلات میں  گھر جاتا ہے  لیکن دیانتدار قاصد کے  لئے  سلامتی ہے۔

18 ایک شخص جو تربیت سے  انکار کرتا ہے  غریبی اور رسوائی میں  داخل ہو جاتا ہے۔ لیکن جو ڈانٹ ڈپٹ کو قبول کرتا ہے  عزت و احترام حاصل کرتا ہے۔

19 ایک شخص بہت خوش ہوتا ہے  جب اسے  مل جاتا ہے  جو وہ چاہتا ہے   لیکن بے  وقوف بُرائی سے  باز آنے  سے  نفرت کرتا ہے۔

20 دانشمندوں  سے  دوستی رکھو تو خود دانشمند ہو گے  اور اگر احمق کو دوست بناؤ گے  تو مشکلات میں  رہو گے۔

21 مصیبتیں  گنہگاروں  کا پیچھا کر تی ہیں  لیکن سچے  لوگوں  کو اچھی چیزیں  ملتی ہیں۔

22 نیک شخص کی دولت اس کے  بچوں  اور پو توں  کی میراث ہو جائے  گی اور آخرکار گنہگاروں  کی دولت نیک لوگوں  کے  پاس چلی جائے  گی۔

23 ہو سکتا ہے  غریب کا کھیت وافر غذا پیدا کرے   لیکن اگر وہ ( اپنے  کھیت میں  ) غلط فیصلہ کرتا ہے  تو وہ بھو کا رہے  گا۔

24 جو شخص اپنے  بیٹے  کا اصلاح نہیں  کرتا ہے  اور اسے  سزا نہیں  دیتا ہے  تو وہ اس سے  نفرت کرتا ہے   لیکن جو اپنے  بیٹے  سے  محبت کرتا ہے  وہ ا س کی تربیت سے  با خبر ہوتا ہے۔

25 ایک راستباز کے  پاس کھانے  کے  لئے  کافی کچھ ہوتا لیکن ایک شریر ہمیشہ بھو کا رہتا ہے۔

 

 

 

باب:   14

 

1 عقلمند عورت اپنی عقل سے  گھر کو سنوار تی ہے  لیکن بے  وقوف عورت بے  وقوفی سے  گھر کو تباہ کر تی ہے۔

2 جو شخص ایمانداری سے  رہتا ہے  وہ خداوند سے  ڈرتا ہے   لیکن جو شخص دھو کہ باز ہے  اپنے  آپ  کو حقارت میں  ڈالتا ہے۔

3 بے  وقوف کی گھمنڈی باتیں  اس کی مصیبتوں  کا باعث ہے۔ لیکن عقلمند شخص کی باتیں  اس کی حفاطت کرتی ہے۔

4 جہاں  بیل نہ ہو وہ کھلیان خالی ہے  لیکن اچھی فصل کے  لئے  بیلوں  کی طاقت ضروری ہے۔

5 سچا گواہ کبھی جھو ٹ نہیں  بولتا ہے۔ لیکن ایک جھوٹا گواہ صرف جھوٹ ہی بولتا ہے۔

6 مذاق اڑانے  وا لا حکمت کی تلاش کرتا ہے  لیکن وہ اسے  کبھی نہیں  پاتا ہے   صاحب فہم کو یہ آسانی سے  مل جا تی ہے۔

7 بے  وقوفوں  سے  دور رہو اس سے  تم کچھ بھی نہیں  سیکھو گے۔

8 ایک ہوشیار آدمی  کی عقلمندی غور کرتا ہے  کہ وہ کیسے  رہتا ہے۔ لیکن وہ بے  وقوف کی بے  وقوفی انہیں  دوسروں  کو دھو کہ دینے  کا باعث بنتا ہے۔

9 ایک بے  وقوف شخص اپنے  کئے  گئے  گناہ کے  کفارہ ادا کرنے  کے  خیال پر ہنستا ہے۔ لیکن ایک ایماندار شخص معافی پانے  کے  لئے  خواہشمند رہتا ہے۔

10 اگر کوئی شخص رنجیدہ ہے  تو کوئی دوسرا اس کے  غم میں  شریک نہیں  ہو سکتا ہے۔ اسی طرح سے  اگر کوئی خوش ہوتا ہے  تو صرف وہ اکیلے  ہی خوشی محسوس کرتا ہے۔

11 بدکار شخص کا گھر تباہ ہو جائے  گا۔لیکن نیک شخص کا گھر ہمیشہ ترقی کرے  گا۔

12 ایک راستہ ایسا ہے  جو شاید کہ سیدھا معلوم پڑتا ہے  لیکن آ خر میں  یہ موت کی طرف لے  جاتا ہے۔

13 ہنستا ہوا دل بھی غمزدہ رہ سکتا ہے  اور خوشی کا خاتمہ غم پر ہوتا ہے۔

14 بدکاروں  کو اپنے  کئے  ہوئے  عمل کے  لئے  پو را ادا کرنا ہو گا اور نیک لوگوں  کا ان کے  اچھے  اعمال کے  لئے  پو را حوصلہ دیا جائے  گا۔

15 نادان جو کچھ سنتا ہے  اس پر یقین کرتا ہے  لیکن ایک ہوشیار شخص اپنے  ہر قدم پر نظر رکھتا ہے۔

16 عقلمند آدمی  مصیبت سے  بچنے  کے  لئے  ہوشیار ہے   لیکن ایک بے  وقوف لا پر واہ اور غیر محتاط رہتا ہے۔

17 جو لوگ بے  صبر ہوتے  ہیں  اور غصہ کرتے  ہیں  وہ بے  وقوفی کا کام کرتے  ہیں۔ اور فریبی آدمی  سے  نفرت کی جا تی ہے۔

18 نادان کو صرف بے  وقوفی کی میراث ملتی ہے۔ لیکن ہوشیار کے  سر پر علم کا تاج رکھا جاتا ہے۔

19 برے  لوگ اچھے  لوگوں  کے  آگے  سر جھکائیں  گے  اور شریر لوگ راستبازوں  کے  دروازوں  پر سر جھکائیں  گے۔

20 ایک غریب آدمی  کو اس کا پڑو سی بھی نا پسند کرتا ہے   لیکن ایک دولت مند شخص کا کئی دوست ہوتا ہے۔

21 جو کوئی بھی شخص اپنے  پڑوسی کو حقیر سمجھتا ہے  وہ گناہ کرتا ہے   لیکن جو شخص غریبوں  پر رحم کرتا ہے  وہ با فضل ہے۔

22 جو برائی کے  منصوبہ باندھتا ہے  وہ گمراہی کی طرف جاتا ہے  لیکن وہ جو اچھا منصوبہ بناتا ہے  محبت اور بھرو سہ حاصل کرتا ہے۔

23 محنتی کو اس کی ضرورت کی چیز حاصل ہو تی ہے  لیکن بغیر کام کئے  صرف باتیں  کرنے  سے  کچھ حاصل نہیں  ہوتا ہے۔

24 عقلمند کا صلہ دولت ہے  لیکن بے  وقوفوں  کو اس کی بے  وقوفی کا بدلہ ملتا ہے۔

25 سچا گواہ دوسروں  کی زندگی بچاتا ہے   لیکن جھوٹا گواہ لوگوں  کو دھو کہ دیتا ہے۔

26 جو خداوند سے  ڈرتا ہے  وہ ایسا ہے  جیسے  کہ وہ مستحکم قلعہ میں  رہتا ہو۔ یہ اس کی اولاد کے  لئے  بھی محفوظ جگہ ہو گی۔

27 خداوند کا خوف زندگی کا جھر نا ہے۔ وہ لوگوں  کو موت کے  پھندا سے  بچاتا ہے۔

28 رعا یا کی کثرت میں  بادشاہ کی عظمت ہے  اور لوگوں  کی کمی سے  حاکم کی تباہی ہے۔

29 صابر شخص بہت سمجھ بوجھ رکھتا ہے۔ اور جس کو غصہ جلد آئے  وہ اپنی بے  وقوفی ظاہر کرتا ہے۔

30 صحت مند دماغ جسم کو طاقت پہنچاتا ہے  لیکن حسد خود اپنے  جسم کے  لئے  بیماری کا سبب بنتا ہے۔

31 ایک شخص جو غریبوں  پر ظلم ڈھاتا ہے  تو اس نے  اپنے  خالق کو رسوا کیا۔ لیکن جو کوئی بھی اس کی تعظیم کرتا ہے  تو وہ غریبوں  پر ہمدردی کرتا ہے۔

32 بد کار آدمی  اپنی شرارت سے  ہار جاتا ہے  لیکن ایک نیک آدمی  اپنی موت کے  وقت بھی محفوظ رہتا ہے۔

33 عقلمندی عقلمند لوگوں  کے  ذہنوں  میں  بستی ہے   لیکن بے  وقوف اس کے  بارے  میں  کچھ نہیں  جانتا ہے۔

34 راستبازی قوم کو عظیم بنا تی ہے  لیکن گناہ کسی بھی شخص کے  لئے  رسوائی ہے۔

35 بادشاہ چالاک خادم سے  خوش ہوتے  ہیں۔ لیکن وہ جو شرمندگی کا سبب بنتا ہے  اس پر اس کا قہر ہوتا ہے۔

 

 

 

باب:  15

 

 

1 نرم جواب غصہ کو خاموش کر دیتا ہے۔ لیکن سخت جواب غصہ کو بھڑ کا دیتا ہے۔

2 عقلمند لوگ جو باتیں  کہتے  ہیں  وہ سننے  کے  لئے  قیمتی ہو تی ہے۔ لیکن ایک بے  وقوف ہمیشہ بے  وقوفی کی باتی کرتا ہے۔

3 خداوند ہر چیز سے  با خبر ہے  وہ اچھے  اور برے  ہر شخص پر نظر رکھتا ہے۔

4 جو بولی صحت بخش ہو وہ درخت حیات کی مانند ہے   لیکن فریبی باتیں  آدمی  کی روح کو کچل دیتی ہیں۔

5 بے  وقوف اپنے  باپ کی تربیت کو رد کر دیتا ہے۔ لیکن ایک عقلمند انسان جو تر بیت کو قبول کرتا ہے  وہ عقلمند ہو جائے  گا۔

6 صادق لوگ بہت دولت مند ہیں  لیکن شریر لوگوں  کی دولت ان کے  لئے  صرف مصیبت کا باعث ہے۔

7 ایک عقلمند شخص کی باتیں  علم کو پھیلاتی ہیں۔ لیکن احمقوں  کی باتیں  سننے  کے  لائق نہیں  ہوتی ہیں۔

8 شریر لوگوں  کے  نذرانوں  سے  خداوند نفرت کرتا ہے   لیکن وہ صادق لوگوں  کی عبادت سے  خوش ہوتا ہے۔

9 شریروں  کی روش سے  خداوند کو نفرت ہے  لیکن جو راستبازی پر عمل کرتا ہے  وہ اس سے  محبت کرتا ہے۔

10 جو کوئی بھی غلط راہ اختیار کرتا ہے  وہ سخت سبق سیکھے  گا۔ اور جو کوئی بھی ڈانٹ ڈپٹ کئے  جانے  سے  نفرت کرتا ہے  وہ مر جائے  گا۔

11 کوئی بھی چیز خداوند کی توجہ سے  بچی ہوئی نہیں  ہے  یہاں  تک کہ قبر بھی نہیں۔ اس لئے  یقیناً وہ جانتا ہے  کہ لوگوں  کے  دلوں  میں  کیا ہے۔

12 ایک ٹھٹھا باز اس سے  نفرت کرتا ہے  جو اسے  ڈانٹ ڈپٹ کرتے  ہیں۔ اور وہ عقلمند کے  پاس مشورے  کے  لئے  جانے  سے  انکار کرتا ہے۔

13 ایک خوش دل چہرہ کو خندہ کرتا ہے۔ اور ایک درد بھرا دل آدمی  کی روح کو کچل دیتا ہے۔

14 دانا شخص مزید علم حاصل کرنے  کی کو شش کرتا ہے  اور بے  وقوف تو مزید بے  وقوفی حاصل کرتا ہے۔

15 غریب آدمی  کی زندگی کے  سارے  دن تکلیف زدہ ہیں۔ لیکن ایک خوش طبع دماغ لگاتار چلنے  والا ایک جشن کی مانند ہے۔

16 دولتمند رہ کر تکلیفیں  اٹھانے  سے  بہتر یہ ہے  کہ آدمی  غریب رہ کر خداوند سے  خوف کرے۔

17 نفرت کے  ساتھ مزیدار کھا نا کھانے  سے  محبت کے  ساتھ سادگی کا کھا نا کھا نا بہتر ہے۔

18 جلد غصہ میں  آنے  والا شخص بحث و مباحثہ کا سبب بنتا ہے  لیکن ایک صبر کرنے  والا شخص جھگڑا کو شانت کر دیتا ہے۔

19 ایک کاہل شخص ہر جگہ مصیبت کا سامنا کرے  گا۔ لیکن ایک ایماندار شخص کے  لئے  زندگی کا راستہ آسان ہو گا۔

20 عقلمند بیٹا اپنے  باپ کو خوشیاں  دیتا ہے۔ لیکن بے  وقوف بیٹا ماں  کو حقیر کرتا ہے۔

21 ایک شخص جسے  عقل کی کمی ہو تی ہے۔ اپنے  بے  وقوفی کے  کاموں  سے  خوش ہوتا ہے۔ لیکن علم والا شخص اپنی ایمانداری کی زندگی میں  خوش ہوتا ہے۔

22 وہ شخص جسے  مناسب مشورے  نہیں  ملتا ہے  اس کا منصوبہ نا کام ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک شخص کئی لوگوں  کے  مشورے  سے  کامیابی حاصل کرتا ہے۔

23 ایک شخص اپنے  صحیح جواب سے  خوش ہوتا ہے  کہ اس نے  کتنی خوشگوار بات صحیح موقع پر کہی ٍ!

24 عقلمند آدمی  کی راہ اسے  زندگی کی طرف لے  جاتی ہے  اور اس کو موت کی طرف جانے  والی راہ سے  دور رکھتی ہے۔

25 خداوند مغرور آدمی  کے  گھر کو تباہ کر دیتا ہے  لیکن بیوہ کی جائیداد کی وہ حفاظت کرتا ہے۔

26 خداوند شریروں  کے  خیالات سے  نفرت کرتا ہے   لیکن وہ ان کے  خیالات سے  جو کہ پاک ہیں  خوش ہوتا ہے۔

27 لالچی شخص اپنے  خاندان کے  لئے  تکلیف کا باعث ہوتا ہے   لیکن وہ جو رشوت سے  نفرت کرتا ہے  زندہ رہے  گا۔

28 راست باز لوگ کہنے  سے  پہلے  سوچتے  ہیں  لیکن شریر لوگ صرف برائی ہی بولتے  ہیں۔

29 خداوند ہمیشہ شریر لوگوں  سے  دور رہتا ہے  لیکن وہ نیک لوگوں  کی دعائیں  سنتا ہے۔

30 مسکراہٹ دل کو خوش کرتی ہے۔ اور ایک خوشخبری پو رے  جسم کو تازہ کر دیتی ہے۔

31 جو شخص ڈانٹ ڈپٹ کو سنتا ہے  وہ جئے  گا اور سچ مچ میں  عقلمند ہو جائے  گا۔

32 ایک شخص جو تربیت سے  انکار کرتا ہے  اپنی عزت میں  کمی کرتا ہے۔ لیکن جو ڈانٹ ڈپٹ سنتا ہے  علم حاصل کرتا ہے۔

33 خداوند کا خوف دانائی سکھاتا ہے  اور تعظیم پر خاکساری مقدم ہے۔

 

 

 

باب:   16

 

 

1 انسان تو منصوبے  بناتے  ہیں  لیکن صحیح بات کہنا خداوند کی طرف سے  تحفہ ہے۔

2 انسان سوچتا ہے  کہ اس کا ہر کام جو وہ کرتا ہے  صحیح ہے  لیکن خداوند ہی فیصلہ کرتا ہے  کہ کن اسباب سے  اس نے  ایسا کیا۔

3 اپنے  ہر کام میں  خداوند کی طرف رجوع ہو کر اس کی مدد طلب کرو اور تمہارے  سارے  منصوبے  کامیاب ہو جائیں  گے۔

4 خداوند کے  یہاں  ہر چیز کا منصوبہ ہے۔ وہ شریروں  کی تباہی کے  لئے  بھی منصوبہ بناتا ہے۔

5 خداوند مغرور لوگوں  سے  نفرت کرتا ہے  اور یقین جانو کہ وہ لوگ بے  سزا چھوڑے  نہ جائیں  گے۔

6 وفا داری اور ایمانداری سے  قصور کی تلافی ہو سکتی ہے  اور خداوند کے  خوف سے  آدمی  برائی سے  بچ سکتا ہے۔

7 جب کوئی شخص خدا کی خوشنودی میں  زندگی گزارتا ہے  تو خدا اس کے  دشمنوں  کو بھی اس کے  ساتھ سلامتی سے  رکھتا ہے۔

8 راستبازی سے  تھوڑا سا حاصل کرنا انصاف کا بے  جا استعمال کر کے  زیادہ حاصل کرنے  سے  بہتر ہے۔

9 کوئی شخص اپنی زندگی کا منصوبہ بنا سکتا ہے۔ لیکن وہ خداوند ہی ہے  جو فیصلہ کرتا ہے  کہ کیا ہو گا۔

10 جب بادشاہ کچھ کہتا ہے  تو وہ قانون بن جاتا ہے۔ اس لئے  اس کا فیصلہ منصفانہ ہونا چاہئے۔

11 خداوند چاہتا ہے  کہ سبھی ترازو اور پیمانے  صحیح ہوں۔ اور وہ چاہتا ہے  کہ تمام تجارتی معاہدے  جائز ہوں۔

12 بادشاہ کو غلط کام کرنے  سے  نفرت ہونی چاہئے۔ راستبازی بادشاہت کو مضبوط بنا تی ہے۔

13 بادشاہ سچائی سننا پسند کرتے  ہیں  اور وہ کھل کر بولنے  والوں  سے  محبت کرتے  ہیں۔

14 جب بادشاہ غصہ میں  ہو تو وہ کسی کو ختم کر سکتا ہے۔ اور عقلمند آدمی  بادشاہ کو خوش کرنے  کی کوشش کرتا ہے۔ جب بادشاہ خوش ہوتا ہے  تو ہر ایک کی زندگی بہتر ہو تی ہے۔ بادشاہ کی خوشی بادلوں  سے  برستی بارش کی مانند ہے۔

15

16 دانائی سونے  سے  زیادہ قیمتی ہے  اور سمجھداری چاندی سے  زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔

17 ایمان دار لوگ برائی سے  دور رہ کر زندگی بسر کرتے  ہیں۔ اور وہ شخص جو اپنی راہ کی نگہبانی کرتا ہے  گو یا اپنی زندگی کی نگہبانی کرتا ہے۔

18 غرور تباہی لاتی ہے  اور خود سری زوال کا سبب بنتی ہے۔

19 مغرور کے  ساتھ لوٹ کے  مال میں  شامل ہونے  سے  عاجز بن کر غریبوں  کے  ساتھ رہنا بہتر ہے۔

20 جب لوگ کچھ سکھائے  تو ایک شخص جو اسے  سنے  تو ترقی کرے  گا اور جو شخص خداوند پر توکل رکھتا ہے  با فضل ہو گا۔

21 جو شخص عقلمندی سے  سوچتا ہے  وہ صاحب فہم ( ہوشیار ) کہلائے  گا۔ شیریں  زبان بہت زیادہ قابل یقین ہو سکتا ہے۔

22 حکمت ان لوگوں  کو جن کے  پاس حکمت ہے  سچی زندگی بخشتی ہے  لیکن بے  وقوف لوگ اور زیادہ بے  وقوفی سیکھتے  ہیں۔

23 عقلمند ہمیشہ بولنے  سے  پہلے  سوچتا ہے  اور اس کی باتیں  قابل یقین ہوتی ہے۔

24 دلکش باتیں  شہد کی مانند ہے  : وہ روح کے  لئے  میٹھی ہے  اور سارے  جسم کے  لئے  تندرستی لاتی ہے۔

25 جو راستہ سیدھا دکھائی دیتا ہے  وہی بعض وقت موت تک پہنچاتا ہے۔

26 کام کرنے  والے  کی بھوک اسے  سخت کام کرواتی ہے  اور یہ بھوک ہی اسے  لگا تار کام کرنے  کے  لئے  ابھارتی ہے۔

27 شریر آدمی  ہمیشہ برائی کا منصوبہ بناتا ہے۔ اس کی باتیں  جھلسانے  والی آگ کی مانند ہے۔

28 غیر اخلاق شخص بحث و مباحثہ کا سبب بنتا ہے۔ اور ترقی دوستوں  کے  بیچ تفرقہ پیدا کرتا ہے۔

29 اپنے  پڑوسی کو ظالم لوگ پھنسا لیتے  ہیں  اور اسے  اس راستے  پر لے جاتے  ہیں  جو کہ اچھا نہیں  ہے۔

30 وہ شخص جب تباہ کن منصوبہ بناتا ہے  تو آنکھ مارتا ہے  اور جب وہ اپنے  پڑوسی کو چوٹ پہنچانے  کا منصوبہ بناتا ہے  تو مسکراتا ہے۔

31 سفید بال سر پر شان و شوکت کا تاج ہے  یہ ان کی نشاندہی کرتا ہے  جنہوں  نے  صداقت میں  زندگی بسر کی ہے۔

32 طاقتور سپاہی ہونے  سے  بہتر ہے  کہ صبر کرنے  والا بنے۔ سارے  شہر پر قابو رکھنے  سے  بہتر ہے  کہ اپنے  غصہ پر قابو رکھے۔

33 قرعہ گود میں  ڈالا جاتا ہے  لیکن اس کا فیصلہ خداوند کی طرف سے  ہوتا ہے۔

 

 

 

باب:   17

 

 

1 سکون کے  ساتھ سوکھی روٹی کا ایک ٹکڑا کھا نا اس گھر میں  کھانے  سے  بہتر ہے  جہاں  ہنگامہ والی ضیافت و بحث و تکرار ہو۔

2 ہوشیار خادم اپنے  آقا کے  احمق لڑ کے  پر قابو پا سکتا ہے   اور وہ اپنے  آقا کے  لڑ کے  کے  ساتھ وراثت میں  حصہ پائے  گا۔

3 سونا اور چاندی کو آگ میں  تپا کر خالص بنا یا جاتا ہے۔ لیکن خداوند لوگوں  کے  دلوں  کی پاکیزگی کو جانچتا ہے۔

4 بدکار لوگ بد کاری کی باتیں  سنتے  ہیں۔ وہ لوگ جو جھوٹ بولتا ہے  وہ جھوٹی باتوں  کو ہی سنتا ہے۔

5 کچھ لوگ غریبوں  کا مذاق اڑاتے  ہیں  اور اس کے  خالق کی اہانت کرتے  ہیں  اور تباہی پر ہنستے  ہیں  اسے  یقیناً سزا ملے  گی۔

6 پوتیاں  نواسے   نواسیاں  بڑھے  بوڑھوں  کے  لئے  تاج کی مانند ہیں۔ اور بچے  اپنے  والدین پر فخر کرتے  ہیں۔

7 خوشگوئی بے  وقوفوں  کو اچھی نہیں  لگتی ہے  اور اسی طرح سے  ایک حکمراں  کو دھو کہ دہی کی باتیں  اچھی نہیں  لگتی ہے۔

8 کچھ لوگوں  کا خیال ہے  رشوت ایک مبارک جو ہر ہے  جس سے  کچھ بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔

9 وہ شخص جو غلطی کو معاف کرتا ہے  محبت کو بڑھاتا ہے۔ لیکن وہ شخص جو بار بار ایسی بات کو دہراتا ہے  اپنے  قریبی دوست کو کھو دے  گا۔

10 عقلمند شخص پر ایک ڈانٹ بے  وقوف پر پڑے  سینکڑوں  گھونسا سے  زیادہ اثر کرتی ہے۔

11 ایک بد کار شخص تو ہمیشہ بد کاری ہی کرنا چاہتا ہے  لیکن خدا کی طرف سے  اس کی سزا کے  لئے  قاصد بھیجا جائے  گا۔

12 ایک بے  وقوف کی حماقت سے  لڑنے  سے  بہتر ہے  کہ ایک غصہ بھری ریچھنی جس کے  بچوں  کو چرا لیا گیا ہو اس کے  ساتھ لڑا جائے۔

13 ایک شخص کا خاندان جو بھلائی کا بدلہ برائی سے  دے  وہ ہمیشہ تکلیف میں  رہے  گا۔

14 جھگڑا شروع کرنا ایسا ہی ہے  جیسے  باندھ میں  سوراخ کرنا اس لئے  اس سے  پہلے  کہ جھگڑا پھوٹ پڑے  اسے  روک دو۔

15 خداوند کو اس سے  نفرت ہے  جو قصوروار کو چھوڑ دیتا ہے  اور جو معصوم ہے  اس کو سزا دیتا ہے۔

16 بے  وقوف کے  ہاتھ میں  پیسہ رہنے  سے  کیا فائدہ؟ کیا وہ حکمت کو خریدے  گا؟ اسے  عقل نہیں  ہے۔

17 سچا دوست ہمیشہ محبت کرتا ہے۔ سچا بھائی ہمیشہ مدد کرتا ہے  حتیٰ کہ تکلیف کے  وقت میں  بھی۔

18 بے  وقوف ہی دوسروں  کے  قرض کی ذمہ داری لیتا ہے۔

19 جو جھگڑے  سے  خوش ہوتا ہے  وہ گناہ سے  بھی خوش ہوتا ہے۔ جو شخص اپنے  بارے  میں  شیخی بگھارتا ہے  وہ مصیبتوں  کو دعوت دیتا ہے۔

20 گندہ ذہن کبھی ترقی نہیں  کرے  گا۔ اور جو شخص جھوٹ بولتا ہے  مصیبت میں  مبتلا ہوتا ہے۔

21 ایک باپ جس کا بیٹا بے  وقوف ہے  وہ صرف غمگین رہتا ہے۔ بیوقوف کے  باپ کے  لئے  خوشی نہیں  ہے۔

22 خوشی ایک اچھی دوا ہے  لیکن رنج بیماری کی مانند ہے۔

23 شریر شخص انصاف کا بے  جا استعمال کرنے  کے  لئے  خفیہ طور پر رشوت لیتا ہے۔

24 دانا شخص ہمیشہ حکمت کے  با رے  میں  سوچتا ہے  لیکن بے  وقوف ہمیشہ دور کی جگہوں  کو دیکھتا ہے۔

25 بے  وقوف لڑکا باپ کو رنج پہنچاتا ہے  اور ماں  کو غمگین کرتا ہے  جس نے  اسے  جنم دیا۔

26 بے  قصور کو سزا دینا غلطی ہے  اور ایماندار قائد کو سزا دینا بھی غلطی ہے۔

27 عقلمند الفاظ کا استعمال ہوشیاری کے  ساتھ کرتا ہے۔ ایک سمجھدار آدمی  صابر ہے۔

28 اگر بے  وقوف خاموش رہے  تو وہ عقلمند دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ کچھ نہ کہے  تو لوگ اسے  دانا سمجھتے  ہیں۔

 

 

 

باب:   18

 

 

1 الگ تھلگ رہنے  وا لا ایک شخص اپنی خواہشوں  کی جستجو میں  رہتا ہے  وہ مشورہ سے  نفرت کرتا ہے۔

2 احمق شخص سمجھنے  میں  دلچسپی نہیں  رکھتا ہے۔ بلکہ وہ اپنے  خیالات کو اظہار کرنے  کی کو شش کرتا ہے۔

3 شرارت پن کے  ساتھ حقارت آتی ہے  اور رسوائی کے  ساتھ اہانت آتی ہے۔

4 ایک شخص کے  الفاظ گہرے  پانی کی مانند ہیں  لیکن حکمت کا چشمہ بہتا ہوا نالا کی مانند ہے۔

5 ایک قصور وار شخص کی طرفداری کرنا یا ایک معصوم شخص کو انصاف سے  محروم رکھنا یہ اچھی بات نہیں  ہے۔

6 احمق کے  ہونٹ بحث و مباحثہ شروع کراتے  ہیں۔اس کا منہ مار پیٹ کے  لئے  پکارتا ہے۔

7 احمق بات کر کے  اپنے  آپ  کو بر باد کرتا ہے  اس کے  اپنے  الفاظ ہی خود اس کو پھنسا دیتے  ہیں۔

8 لوگ ہمیشہ گپ شپ سننا چاہتے  ہیں  جو اس مزیدار غذا کی مانند ہے  جو پیٹ میں  نیچے  اتر جاتا ہے۔

9 جو شخص اپنے  ہی کام میں  کا ہل ہے  وہ ٹھیک ویسا ہی ہے  جو چیزوں  کو تباہ کرتا ہے۔

10 خداوند کے  نام میں  بڑی طاقت ہے۔ یہ ایک طاقتور مینار کی طرح ہے  نیک لوگ وہاں  پہنچ کر محفوظ رہتے  ہیں۔

11 دولتمند سمجھتے  ہیں  کہ ان کی دولت ان کی حفاظت کرے  گی۔ اور یہ اس کے  تصور میں  ایک اونچی اور مضبوط دیوار کی مانند ہے۔

12 مغرور شخص جلد تباہ ہو جاتا اور نیک عاجز شخص عزت پاتا ہے۔

13 جواب دینے  کی کوشش کرنے  سے  پہلے  تمہیں  دوسرے  لوگوں  کو بات پوری کرنے  دینی چاہئے۔ اس طرح سے  تم شرمندہ نہ ہو گے  اور بیوقوف نہ بنو گے۔

14 آدمی  کا ذہن اس کی بیماری میں  اس کی حمایت کرتا ہے   لیکن کسی شخص کے  افسردہ ذہن کی حمایت کون کر سکتا ہے ؟

15 عقلمند زیادہ سے  زیادہ سیکھنا چاہتا ہے  زیادہ حکمت کے  لئے  وہ غور سے  سنتا ہے۔

16 تحفہ ایک شخص کے  لئے  راستہ کھولتا ہے۔ یہ اسے  اہم لوگوں  کے  سامنے  لا سکتا ہے۔

17 جو شخص اپنے  معاملہ کو پہلے  پیش کرتا ہے  تووہ صحیح معلوم پڑتا ہے  جب تک کہ اس کا مخالف آدمی  آ کر اس سے  سوال نہ کرے۔

18 جب دو طاقتور شخص جھگڑ رہے  ہوں  تو قرعہ ڈال کر دونوں  کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔

19 روٹھا ہوا دوست مضبوط دیوار سے  گھیرے  شہر کی مانند ہے۔ لوگوں  کے  بیچ جھگڑا نہیں  محل کے  سلاخوں  دار پھاٹکوں  کے  مانند الگ کر دیتا ہے۔

20 کسی شخص کا بول اس کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر تم اچھی باتیں  کہو گے  تو اچھی باتیں  ہوں  گی۔ اگر تم بُری باتیں  کہو گے  تب بُری باتیں  ہوں  گی۔

21 زبان سے  نکلے  ہوئے  الفاظ زندگی یا موت کا فیصلہ کر سکتا ہے  وہ جو بات کرنے  میں  محبت رکھتا ہے  اس کا جو انجام ہو گا اسے  ضرور قبول کرنا چاہئے۔

22 جو شخص اچھی بیوی پاتا ہے  تو سمجھو اس کو اچھی چیز ملی۔ یہ خداوند کی طرف سے  تحفہ ہے۔

23 غریب آدمی  مدد کی درخواست کرتا ہے  لیکن امیر آدمی  سختی سے  جواب دیتا ہے۔

24 ایک شخص جس کا بہت سارا نام نہاد دوست ہو تباہ ہوتا ہے  لیکن ایک سچا دوست بھائی سے  بھی بہتر ہو سکتا ہے۔

 

 

 

باب:  19

 

 

1 ایک غریب شخص جو کہ ایماندار ہے  ایک بے  وقوف جو کہ جھوٹ بولتا ہے  اس سے  بہتر ہے۔ جو کہ جھوٹ بولتا ہے  اس سے  بہتر ہے

2 تم جو کر رہے  ہو اسے  بغیر جانے  پُر جوش کرنا اچھی بات نہیں  ہے۔

3 احمق کی احمقانہ حرکت سے  زندگی بر باد ہو تی ہے  لیکن وہ خداوند کو الزام دیتا ہے۔

4 دولتمند کے  کئی دوست ہوتے  ہیں  لیکن ایک غریب شخص اپنے  دوستوں  سے  بے  گانہ ہو جاتا ہے۔

5 جھوٹا گواہ بے  سزا نہ رہے  گا وہ جو جھوٹ بولتا ہے  سزا سے  نہ بچ پائے  گا۔

6 کئی شخص سخی شخص سے  دوستی کرنا چاہتا ہے   اور ہر کوئی اس شخص کا دوست ہو نا چاہتا ہے  جو تحفہ دیتا ہے۔

7 کوئی غریب ہو تو خاندان بھی اس کا مخالف ہے  سب دوست اسے  چھوڑ دیتے  ہیں  جب وہ کسی سے  مدد چاہتا ہے  تو کوئی بھی قریب نہیں  آتا ہے۔

8 جو شخص حکمت کو حاصل کرتا ہے  وہ اپنے  آپ  سے  محبت کرتا ہے۔ اور ایک شخص جو سمجھ بوجھ والا ہوتا ہے  ترقی کرتے  جاتا ہے۔

9 ایک جھوٹا گواہ بے  سزا نہ رہے  گا۔ اور وہ جو جھوٹ بولتا ہے  فنا ہو جائے  گا۔

10 بے  وقوف کو دولت مند نہیں  ہونا چاہئے  وہ اس غلاموں  کی مانند ہو گا جو شہزادوں  پر حکو مت کرتا ہے۔

11 ایک سمجھ بوجھ والا آدمی  اپنے  غصہ کو قابو کر لیتا ہے  اور جرم کو نظر انداز کر دیتا ہے  یہ اس کی شان ہے۔

12 بادشاہ کا قہر شیر کی گرج کی مانند ہے   لیکن اس کی سادگی گھاس پر شبنم کی بوند کی مانند ہے۔

13 بے  وقوف بیٹا باپ کے  لئے  مشکلات کا سیلاب لاتا ہے  اور ہر وقت بڑبڑانے  والی بیوی اس پانی کی مانند ہے  جو ہمیشہ ٹپکتا رہتا ہے۔

14 مکانات اور مال و دولت والدین سے  وراثت میں  ملتی ہے   لیکن ایک دانشمند بیوی خداوند کی طرف سے  تحفہ ہے۔

15 کاہلی گہری نیند لاتی ہے   لیکن کاہل آدمی  بھو کا رہے  گا۔

16 اگر کوئی قانون کے  مطابق چلتا ہے  تو وہ اپنی زندگی کی حفاظت کرتا ہے۔ لیکن اگر کوئی اس کو اہمیت نہیں  دیتا ہے  تو وہ مر جائے  گا۔

17 غریبوں  کو رقم دینا خداوند کو قرض دینے  کے  برابر ہے۔ اور خداوند اس مہربانی کا صلہ دے  گا۔

18 جب تک امید ہے  اپنے  بیٹے  کو تربیت دے۔ ایسا کرنے  سے  انکار کر کے  اس کی موت میں  مدد مت کر۔

19 ایک شخص جسے  بہت جلد غصہ آتا ہے  اسے  ضرور اس کے  لئے  سزا ملنی چاہئے۔ اگر تم اس کو بچانے  کی کو شش کرتے  ہو تو وہ اسے  بار بار کرے  گا۔

20 نصیحت سن اور تربیت کو قبول کر اور آخر میں  تو عقلمند ہو جائے  گا۔

21 کسی شخص کا ذہن کئی منصوبے  بناتا ہے  لیکن صرف خداوند کا منصوبہ ہی وجود میں  آئے  گا۔

22 ہر کوئی ایک سچا اور وفادار شخص کو چاہتا ہے۔ اس لئے  ایک جھوٹا ہونے  سے  ایک غریب ہونا بہتر ہے۔

23 خداوند کا خوف زندگی کی رہنمائی کرتا ہے  : جو خداوند کا خوف کرے  گا اپنی زندگی سے  مطمئن ہو گا اور کوئی تکلیف نہیں  جھیلے  گا۔ کیوں  کہ وہ اپنی زندگی سے  مطمئن رہتا ہے  اور تکلیف سے  نہیں  گھبراتا ہے۔

24 ایک کاہل آدمی  اپنا ہاتھ تھا لی میں  ڈالتا ہے   لیکن پھر اسے  اپنے  منھ تک واپس نہیں  لاتا ہے۔

25 ٹھٹھا کرنے  والے  کو مارو تاکہ نادان اس سے  سبق سیکھے  گا۔ عقلمند شخص کو ڈانٹو وہ اس سے  علم حاصل کرے  گا۔

26 ایسا بیٹا جو اپنے  باپ سے  چوری کرتا ہے  اور ماں  کو نکال باہر کرتا ہے  شرم اور رسوائی لاتا ہے۔

27 میرے  بیٹے  اگر تو میری ہدایت سننا چھوڑ دے  گا تو بے  وقوفی کی غلطیاں  کر بیٹھے  گا۔

28 جھوٹا گواہ انصاف کا مذاق اڑاتا ہے  اور بد کار کا منھ بدی کو نگلتا ہے۔

29 سزا ٹھٹھا باز کا انکار کرتی ہے  اور کوڑا احمقوں  کی پیٹھ کا انتظار کرتا ہے۔

 

 

 

باب:   20

 

1 مئے  اور شراب لوگوں  کو نشہ آور کر دیتا ہے  اور عریانی حرکت کرتا ہے۔ جو کوئی بھی نشہ آور ہو جاتا ہے۔ بے  وقوفانہ حر کتیں  کرتا ہے۔

2 بادشاہ کا غصّہ شیر ببر کی دھاڑ کی مانند ہے  اگر بادشاہ کو غصّہ میں  لاؤ تو اپنی زندگی کو گنوا دو گے۔

3 جھگڑے  سے  بچنے  میں  ایک شخص کی عزت ہے   لیکن ہر ایک بے  وقوف جھگڑا شروع کرتا ہے۔

4 کا ہل شخص صحیح وقت پر اپنے  کھیت کو نہیں  جوتتا ہے۔ لیکن فصل کٹائی کے  وقت وہ فصل کی تلاش کرتا ہے  لیکن اسے  کچھ بھی نہیں  ملتا ہے۔

5 ایک شخص کا ارادہ گہرا پانی کی طرح ہو جاتا ہے۔ لیکن عقلمند شخص اسے  کھینچ نکالتا ہے۔

6 کئی لوگ اپنے  باپ کی وفاداری اور محبت کا ڈھول پیٹتے  ہیں۔لیکن صحیح بھروسہ مند کو کون پا سکتا ہے ؟

7 ایک راستباز شخص بے  قصور زندگی گزارتا ہے   اور یہاں  تک کہ اس کے  بچے  بھی با فضل ہوتے  ہیں۔

8 بادشاہ جب انصاف کے  تخت پر بیٹھتا ہے  تو اپنی آنکھ سے  بُرائی کو دیکھتا ہے۔

9 کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے  کہ اس نے  اپنے  دل کو پاک رکھا ہے  اور اس نے  کوئی گناہ نہیں  کیا ہے۔

10 خداوند ان سے  نفرت کرتا ہے  جو نقص دار ترازو باٹ اور پیمانے  سے  لوگوں  کو دھو کہ دیتا ہے۔

11 بچے  بھی اپنے  اعمال سے  پہچانا جاتا ہے  کہ وہ اچھا ہے  یا بُرا۔

12 خداوند نے  ہمیں  آنکھیں  دیں  ہیں  کہ اس سے  دیکھیں  اور کان دیئے  ہیں  کہ اس سے  سنیں۔

13 نیند سے  محبت مت رکھو ورنہ غریب ہو جاؤ گے۔ جگا ہوا رہو اور تیرے  پاس کھانے  کے  لئے  کافی غذا ہو گی۔

14 گا ہک خریداری کے  وقت کہتا ہے   ” یہ اچھا نہیں  ہے ! یہ بہت مہنگا ہے ! ” لیکن جب وہ دور جاتا ہے  تو وہ اپنی خریداری کی بڑائی کرتا ہے۔

15 کوئی شخص سونا اور قیمتی جواہرات خرید سکتا ہے   لیکن علم سے  بھری بات بیش بہا جوا ہر ہے۔

16 جو کسی اجنبی کے  قرض کی ذمہ داری لی اس کی قمیض لے  لو جو شخص کسی ضدّی عورت کا ضامن ہو یقیناً اس سے  کچھ چیز ضمانت کے  طور پرلے  لو۔

17 دھو کہ دے  کر حاصل کیا ہوا کھانا شروع میں  میٹھا ہوتا ہے  لیکن آخر میں  اس کا منہ کنکر پتھر سے  بھر جاتا ہے  اور اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

18 صلاح مشورہ سے  منصوبے  کامیاب ہوتے  ہیں  اور جنگ میں  فتح جنگی ماہرین کی رہبری میں  ہو تی ہے۔

19 وہ آدمی  جو کانا پھو سی کرتا ہے  راز کو فاش کر دیتا ہے۔ اس لئے  جو شخص زیادہ باتیں  کرتا ہوں  اس سے  بچو۔

20 اگر کوئی شخص اپنے  باپ یا ماں  پر لعنت کرتا ہے  تو اس کا چراغ گہری تاریکی کے  بیچ بجھ جائے  گا۔

21 شروع میں  آسانی سے  حاصل کی گئی میراث آخر میں  با فضل نہیں  ہو گی۔

22 اگر کوئی تمہارے  خلاف کچھ کرے  تو تم خود اسے  سزا دینے  کی کو شش نہ کرو خداوند کا انتظار کرو وہی تمہیں  بچائے  گا۔

23 کچھ لوگ غلط ترازو باٹ اور پیمانہ کا استعمال کر کے  لوگوں  کو دھو کہ دیتے  ہیں۔ خداوند کو ایسے  کاموں  سے  نفرت ہے  اور وہ اس سے  خوش نہیں  ہو تا۔

24 خداوند ہی فیصلہ کرتا ہے  کہ ہر شخص کے  ساتھ کیا ہو نا ہے  پھر کوئی کس طرح یہ سمجھ سکتا ہے  کہ اس کی زندگی میں  کیا ہونے  وا لا ہے۔

25 کوئی آدمی  جلد بازی میں  خدا کو کچھ چیز وقف کرنے  کا فیصلہ کرتا ہے  اور پھر بعد میں  اپنا ارادہ بدل دیتا ہے  تو وہ پھنس جاتا ہے۔

26 ایک عقلمند بادشاہ بُرے  لوگوں  سے  چھٹکارا پاتا ہے۔ تو وہ ان پر غلہ مالش کا پہیا پھروا دیتا ہے۔

27 ایک شخص کی رُوح خداوند کے  چراغ کے  مانند ہے   وہ ایک شخص کی رُو ح سب سے  اندرونی گہرائی تک پہنچ سکتا ہے۔

28 وفاداری اور سچائی ایک بادشاہ کو محفوظ رکھتا ہے۔ وفاداری سے  اس کا تخت قائم ہے۔

29 نو جوان آدمی  کی تعریف اس کی طاقت سے  کرتے  ہیں  لیکن بوڑھے  شخص کی عزت اس کے  سفید بالوں  کی وجہ سے  کرتے  ہیں۔

30 اگر ہمیں  سزا ملے  تو ہم بُرائی کرنا چھوڑ دیتے  ہیں۔ درد آدمی  کو بدل سکتا ہے۔

 

 

 

باب:   21

 

 

1 بادشاہوں  کا دل خداوند کے  ہاتھ میں  ہے  وہ جہاں  چاہتا ہے  وہاں  موڑ دیتا ہے  جیسے  کوئی کسان کھیت کے  پانی کو موڑ دیتا ہے۔

2 آدمی  سوچتا ہے  کہ وہ جو کچھ کرتا ہے  صحیح ہے۔ لیکن خداوند تو دلوں  کا حال جانتا ہے۔

3 جو راست اور جائز ہو وہ کام کرنا خداوند کو زیادہ قبول ہے  بہ نسبت نذرانہ پیش کرنے  سے۔

4 مغرور آنکھ اور دل کا غرور دونوں  گناہ ہے  جو آدمی  کی شرارت کو ظاہر کرتا ہے۔

5 محنتی شخص کے  منصوبوں  سے  فائدہ ہوتا ہے۔ لیکن وہ جو جلد بازی کرتے  ہیں  غریب ہو جائیں  گے۔

6 دھو کہ دیکر دولت حاصل کرنا تیزی سے  اڑتا ہوا بھانپ اور مہلک پھندا کی مانند ہے۔

7 بُرے  لوگوں  کے  بُرے  عمل انہیں  تباہ کرتے  ہیں  کیوں  کہ اچھے  عمل کرنے  سے  وہ انکار کرتے  ہیں۔

8 قصور وار لوگوں  کا راستہ ٹیڑھا ہوتا ہے۔ لیکن نیک لوگ وہی کرتے  ہیں  جو صحیح ہے۔

9 جھگڑالو اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے  والی بیوی کے  ساتھ گھر میں  رہنے  سے  بہتر ہے  کہ چھت کے  کونے  پر رہیں۔

10 برے  لوگ ہمیشہ برائی کرنا ہی چاہتے  ہیں۔ وہ لوگ اپنے  پڑوسی پر بھی رحم نہیں  کرتے  ہیں۔

11 جب ایک ٹھٹھا باز کو سزا دی جاتی ہے  تو نادان حکمت حاصل کرتا ہے۔ جب ایک عقلمند کو ہدایت دی جاتی ہے  تو خود سے  اور زیادہ علم حاصل کرتا ہے۔

12 سچا خدا جانتا ہے  کہ شریر لوگ کیا کر رہے  ہیں  اور وہ انہیں  تباہ کر دیتے  ہیں۔

13 اگر کوئی غریبوں  کی مدد سے  انکار کرے  تو جب اس کو مدد کی ضرورت ہو گی تو مدد نہیں  ملے  گی۔

14 خفیہ طور پر دیا گیا تحفہ غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ اور پوشیدہ رشوت شدید غضب کو ٹھنڈا کرتی ہے۔

15 جب انصاف کیا جاتا ہے  تو صادق لوگ خوش ہوتے  ہیں۔ لیکن اس سے  بد کار لوگ خوف کھاتے  ہیں۔

16 اگر کوئی شخص دانشمندی کی راہ ترک کرتا ہے  تو وہ موت میں  شامل ہونے  جا رہا ہے۔

17 وہ شخص جو عیش و عشرت کو گلے  لگاتا ہے  غریب ہو جائے  گا اور وہ جو کھا نا اور مئے  سے  محبت رکھتا ہے  کبھی بھی امیر نہ ہو گا۔

18 شریر لوگ راستباز لوگوں  کے  لئے  فدیہ ہو جائے  گا۔ اور اسی طرح دغا باز لوگ ایماندار لوگوں  کا فدیہ ہو گا۔

19 تند مزاج اور جھگڑالو بیوی کے  ساتھ رہنے  سے  ریگستان میں  رہنا بہتر ہے۔

20 عقلمند اپنا پسندیدہ کھا نا اور تیل کو بچاتا ہے  لیکن بے  وقوف ہر چیز کو جتنا جلدی حاصل کرتا ہے  اتنی ہی تیزی سے  ختم کر دیتا ہے۔

21 جو شخص راستبازی اور وفاداری کی جستجو کرتا ہے  وہ زندگی راستبازی اور تعظیم پاتا ہے۔

22 ایک عقلمند شخص اس شہر پر حملہ کرتا ہے  جس کا بچاؤ طاقتور لوگ کرتے  ہوں۔ اور جس قلعہ پر وہ بھروسہ کرتے  ہیں  اسے  گرا دیتا ہے۔

23 اگر کوئی اپنی کہی ہوئی باتوں  میں  ہوشیاری برتے  تو وہ اپنے  آپ  کو مصیبتوں  سے  بچا سکتا ہے۔

24 ایک مغرور اور متکبر شخص’ ٹھٹھا باز ‘ کہلاتا ہے  وہ بہت ہی متکبرانہ سلوک کرتا ہے !

25 زیادہ سے  زیادہ پانے  کی خواہش میں  ایک کاہل شخص اپنے  آپ  کو تباہ کر دیتا ہے   کیوں  کہ وہ کام کرنے  سے  انکار کرتا ہے۔ لیکن ایک نیک آدمی  سخاوت سے  دیتا ہے۔

26

27 شریروں  کی قربانی نفرت انگیز ہے۔ اگر اسے  برا ارادہ سے  پیش کیا گیا تو یہ کتنا برا ہے !

28 جھوٹے  گواہ کا خاتمہ ہو جائے  گا اور جو کوئی اس کی جھوٹی باتوں  کو سنے  گا اس کے  ساتھ ان کا بھی خاتمہ ہو جائے  گا۔

29 شریر شخص بے  حیائی اور دلیری سے  حرکت کرتا ہے   لیکن صادق شخص عمل پر غور کرتا ہے۔

30 اگر خداوند اس کے  خلاف ہو تو نہ عقلمندی ہے   نہ بصیرت ہے  اور نہ ہی مشورہ جس سے  کامیابی ہو سکے۔

31 لوگ جنگ کے  لئے  گھوڑوں  کو تیار کر سکتے  ہیں۔ لیکن فتح صرف خداوند کے  ہاتھوں  میں  ہے۔

 

 

 

باب:   22

 

 

1 اچھا نام پا نا دولت حاصل کرنے  کی خواہش سے  بہتر ہے  شہرت سونا یا چاندی سے  زیادہ اہم ہے

2 امیر اور غریب سب یکساں  ہیں  ان سب کو خداوند ہی نے  بنا یا ہے۔

3 ہوشیار شخص تکلیفوں  کو آتا دیکھتا ہے  تو اس سے  بچتا ہے   لیکن نادان بڑھتے  چلے  جاتے  ہیں  اور اس میں  مبتلا ہوتے  ہیں۔

4 برے  لوگوں  کی راہیں  کانٹوں  اور پھندوں  سے  بھرا ہوا ہے  لیکن ایک شخص جو اپنی جان کی حفاظت کرتا ہے۔ اس سے  دور ٹھہرتا ہے۔

5

6 بچے  کو نیک راہ جس پر اس کو قائم رہنا چاہئے  سکھاؤ۔ اور وہ اس سے  نہیں  مرے  گا یہاں  تک کہ اس وقت بھی جب وہ بوڑھا ہو جائے  گا۔

7 امیر لوگ غریب لوگوں  پر حکو مت کرتے  ہیں۔ اور وہ شخص جو قرض لیتے  ہیں  وہ قرض دینے  والے  شخص کا خادم ہے۔

8 جو شخص دکھوں  کا بیج بوتا ہے  وہ مصیبت کی فصل کاٹے  گا اور آخر میں  جو دکھ اس نے  دوسروں  کو دیئے  اس کی وجہ سے  تباہ ہو جائے  گا۔

9 ایک سخی شخص با فضل ہو گا کیوں  کہ وہ اپنے  کھانے  میں  غریبوں  کو شامل کرتا ہے۔

10 ٹھٹھا باز کو باہر ہانک دو اور اس کے  ساتھ بحث و مباحثہ چھوڑ دو۔ تب لڑائی جھگڑا ختم ہو جائے  گا۔

11 اگر تم پاک دلی سے  محبت کرتے  ہو اور رحم دلی سے  بولتے  ہو تو بادشاہ تیرا دوست ہو گا۔

12 خداوند ان لوگوں  کی نگرانی اور حفاظت کرتا ہے  جو اسے  جانتے  ہیں۔ لیکن وہ انہیں  تباہ کرتا ہے  جو لوگ اس کے  خلاف ہوتے  ہیں۔

13 کاہل آدمی  کہتا ہے   ” وہاں  باہر ایک شیر ببر کھڑا ہے   میں  گلیوں  میں  مارا جاؤں  گا! ”

14 بد کار عورت کی منھ ایک گہرا گڑھا کی مانند ہے۔ اور وہ جن پر خدا کی لعنت ہے  وہ اس میں  گر جائے  گا۔

15 بچے  احمقانہ حرکت کرتے  ہیں  اگر تم انہیں  سزا دو تو انہیں  ایسا نہ کرنے  کا سبق ملتا ہے۔

16 امیر بننے  کے  لئے  غریبوں  پر ظلم کرنا اور امیروں  کو تحفہ دینا یہ دونوں  ہی چیزیں  غریبی لاتی ہیں۔

17 جو میں  کہتا ہوں  ان باتوں  کو سنو! میں  تمہیں  حکمتی لوگوں  کی تعلیمات بتاتا ہوں  انہیں  سیکھو۔

18 اگر تم انہیں  یاد رکھو تو یہ تمہارے  لئے  اچھا ہو گا۔ اسے  تیار رکھو تا کہ اسے  کہہ سکو۔

19 میں  تمہیں  اب یہ تعلیم دوں  گا۔ میں  چاہتا ہوں  کہ تم خداوند پر بھروسہ رکھو۔

20 کیا میں  نے  تمہارے  لئے  تیس کہاوتیں  نہیں  لکھی ہے ؟ یہ سب حکمت اور عقل و فہم کے  الفاظ ہیں۔

21 یہ الفاظ تمہیں  سچی خبر اور معتبر باتیں  سکھائیں  گے۔ تا کہ تم سچائی کی باتوں  سے  اسے  جواب دے  سکو گے  جو تمہیں  بھیجا ہے۔

22 غریبوں  کے  پاس سے  چرانا آسان ہے  لیکن ایسا مت کرنا اور غریبوں  کو عدالت میں  انصاف سے  محروم مت کرنا۔

23 کیوں  کہ خداوند ان کے  مقدمے  کا بچاؤ کرے  گا۔ وہ ان کی زندگی لے  لے  گا جو غریب کو نقصان پہنچا یا اور اس سے  نا جائز فائدہ اٹھا یا۔

24 جو شخص جلد غصہ میں  آتا ہے  اس سے  دوستی مت کر اور جو غصہ میں  آپ ے  سے  باہر ہو جاتا ہے  اس کے  ساتھ مت رہ۔

25 یا ہو سکتا ہے  تو بھی اس کی راہوں  کو سیکھے  اور اپنے  آپ  کو جال میں  پھنسالے۔

26 کسی دوسرے  شخص کے  قرض کی ذمہ داری مت لے   ضمانت مت رکھ۔

27 اگر تیرے  پاس اس کا قرض چکانے  کے  لئے  پیسہ نہ ہو گا تو جو کچھ بھی تیرے  پاس ہے  وہ تجھے  کھو نا پڑے  گا۔ تجھے  اپنے  سونے  کا بستر جس پر کہ تو سوتا ہے  کیوں  کھو نا چاہئے۔

28 تو اپنی جائیداد کی اس حدود کو نہ سر کا جو تیرے  باپ دادا نے  بہت پہلے  باندھی ہیں۔

29 اگر کوئی اپنے  کام میں  ماہر ہے  تو بادشاہوں  کی خدمت کے  قابل ہے۔ اس کو دوسرے  لوگوں  کے  لئے  جو غیر اہم ہیں  کام نہیں  کرنا ہو گا۔

 

 

 

 

باب:   23

 

 

1 جب تم کسی حکمراں  سے  ساتھ بیٹھ کر کھا نا کھاؤ تو اس کا اچھی طرح خیال رکھ کہ تیرے  سامنے  کون ہے۔

2 اور اگر تو اپنی زندگی کا خیال رکھتا ہے  تو اپنی بھوک کو قابو میں  رکھ۔

3ا سکے  مزیدار غذا کی آرزو مت کر کیوں  کہ اس طرح کی غذا دھو کہ باز ہے۔

4 دولتمند بننے  کی کو شش میں  اپنی صحت کو برباد نہ کر اگر تو عقلمند ہے  تو صبر کر۔

5 رقم ( روپیہ پیسہ) بہت تیزی سے  چلی جا تی ہے   مانو کہ یہ پروں  کو بڑھاتا ہے  اور چڑیا کی مانند اُڑ جاتا ہے۔

6 خود غرض شخص کے  ساتھ مت کھا اور اس کا مزیدار غذا کی آرزو مت کر۔

7 کیوں  کہ وہ اس طرح کا شخص ہے  جو ہمیشہ قیمت کے  بارے  میں  سوچتا رہتا ہے  وہ تم سے  کہتا ہے   کھاؤ اور پیو۔” لیکن اس کے  کہنے  کا سچ مُچ میں  وہ مطلب نہیں  ہے۔

8 جو کچھ بھی تم کھائے  تھے  اسے  قضئے  کر کے  نکال دو گے۔ اور اس کے  لئے  تمہاری ستائش برباد ہو جائے  گی۔

9 تو بے  وقوفوں  کے  ساتھ بات چیت نہ کر وہ تیری حکمت کی باتوں  کا مذاق اُڑائیں  گے۔

10 پُرانے  زمانے  کی حدود کے  پتھر کو مت سر کا۔ اور یتیموں  کی زمین جائیداد کو مت لے۔

11 کیوں  کہ ان کا بچاؤ کرنے  وا لا بہت زور آور ہے۔ خدا ان کے  معاملات کو تیرے  خلاف لے  گا۔

12 اپنے  استاد سے  تربیت کی باتیں  سن اور جتنا ہو سکے  اسے  سیکھ۔

13 ضرورت پڑنے  پر ہمیشہ بچے  کی تربیت کر۔ اگر تو اسے  چھڑی سے  سزا دے  گا تو وہ مر نہ جائے  گا۔

14 اسے  چھڑی سے  سزا دے  اور اس کی جان کو قبر سے  بچا۔

15 میرے  بیٹے  اگر تو عقلمند ہو جائے  تو میں  بہت خوش ہوں  گا۔

16 اگر میں  تجھے  سچی باتیں  کہتے  سنوں  تو میرا دل خوشی سے  کھِل اٹھے  گا۔

17 تو گنہگاروں  سے  حسد نہ کر بلکہ بہتر تو یہ ہے  کہ ہر وقت خدا کا خوف کر۔

18 تمہارے  پاس مستقبل ہو گا تمہاری امید کبھی ختم نہ ہو گی۔

19 اے  میرے  بیٹے  سُن! اور عقلمند بن۔اپنے  دل کو نیکی کی راہ پر چلا۔

20 جو لوگ بہت زیادہ شراب کا نشہ کرتے  اور بہت زیادہ کھاتے  ہیں  ان کے  ساتھ شامل مت ہو۔

21 جو لوگ بہت زیادہ نشہ کرتے  ہیں  اور بہت زیادہ کھاتے  ہیں  کنگال ہو جاتے  ہیں۔ اور ان کی اونگھ اور کا ہلی انہیں  چیتھڑے  پہنائیں  گے۔

22 اپنے  باپ کی باتیں  سن جس نے  تجھے  زندگی دی۔ اور اپنی ماں  کو جب وہ بوڑھی ہو جائے  حقیر مت جان۔

23 سچائی حکمت ہدایت اور فہم کو خرید! اسے  فروخت مت کر!

24 راستباز شخص کا با پ بہت خوش ہوتا ہے۔ جس کا عقلمند بیٹا ہے  تو اس سے  اس کو خوشی ہو تی ہے۔

25 تو اپنے  باپ اور ماں  کو خوش رہنے  دے   اور اس عورت کو جس نے  تجھے  جنم دیا خوش رہنے  دے۔

26 میرے  بیٹے  غور سے  سن کہ میں  کیا کہتا ہوں  زندگی کو تیرے  لئے  نمونہ بننے  دے۔

27 کیونکہ فاحشہ عورت ایک گہری کھائی ہے۔ اور ایک بدکار عورت ایک تنگ کنواں  کی مانند ہے۔

28 وہ ڈاکو کی مانند گھات میں  لگی رہتی ہے۔ اور وہ کئی آدمیوں  کو بے  وفا بنا دیتی ہے۔

29 کون تکلیف میں  ہے ؟ کون غمزدہ ہے ؟ کون جھگڑا لو ہے ؟ کون پریشان ہے ؟ کون بلا وجہ گھائل ہے ؟ کس کی آنکھیں  لال ہے ؟ وہی اپنی راتیں  مئے  نوشی میں  گذارتے  ہیں  وہی جو ملائی ہوئی مئے  کے  نمونہ کی تلاش میں  جاتے  ہیں۔

30

31 مئے  کی طرف ان کی خوبصورت لال رنگ کی طرف وہ پیالہ میں  جھلملاتا ہے  اور جب وہ آہستہ آہستہ نیچے  اترتا ہے  تو نظر مت کرو۔

32 کیوں  کہ بعد میں  یہ ایک سانپ کی طرح ڈستی ہے  اور آخر میں  ناگ کی طرح زہر بھر دیتی ہے۔

33 تیری آنکھیں  عجیب و غریب چیزیں  دیکھیں  گی اور دماغ پریشان ہو گا اور الجھن میں  پڑ جائے  گا۔

34 تم ایسا محسوس کرو گے  جیسے  غیر ہموار سمندر پر سورہے  ہو ایسا جیسے  پانی جہاز میں  سو رہا ہو۔

35 تو کہے  گا ” انہوں  نے  مجھے  مارا لیکن مجھے  نہیں  لگا۔انہوں  نے  مجھے  پیٹا لیکن مجھے  محسوس نہیں  ہوا۔میں  کب اٹھوں  گاتا کہ میں  پھر پی سکوں ؟ ”

 

 

 

باب:   24

 

 

1 بُرے  لوگوں  کی کبھی رشک مت کر ان کی صحبت میں  رہنے  کی خواہش مت کر۔

2 کیوں  کہ ان کے  ذہنوں  میں  صرف بُرائی کے  منصوبے  ہوتے  ہیں۔ وہ مشکلات پیدا کرنے  کے  با رے  میں  باتیں  کرتے  ہیں۔

3 گھر کو حکمت سے  تعمیر کیا جاتا اور سمجھ بوجھ سے  اسے  قائم کیا جاتا ہے۔

4 اور علم سے  اس کے  کمروں  کو بیش بہا اور خوبصورت خزانوں  سے  بھر دیا جاتا ہے۔

5 دانائی انسان کو طاقتور بنا تی ہے  اور علم اسے  قوت بخشتا ہے۔

6 تم جنگ کرنے  سے  پہلے  جنگی ماہروں  سے  رہبری حاصل کرو۔ اور جیت حاصل کرنے  کے  لئے  تمہیں  کافی مشیروں  کی ضرورت ہے۔

7 بے  وقوف لوگ حکمت کو نہیں  سمجھ سکتے۔ جب لوگ اہم باتوں  کے  متعلق بحث کرتے  ہیں  تو ایک بے  وقوف اس میں  کچھ بھی نہیں  جوڑ سکتا ہے۔

8 جو بُرائی کے  منصوبے  رچتا ہے  وہ سازشی کہلاتا ہے

9 بے  وقوف کے  منصوبے  گناہ ہو تے۔ اور لوگ ٹھٹھا باز سے  نفرت کرتے  ہیں۔

10 اگر تم مشکلات میں  ہمت کھو بیٹھتے  ہو تو حقیقت میں  تم کمزور ہو۔

11 اگر لوگ کسی کو مار ڈالنے  کا منصوبہ بنائیں  تو تمہیں  چاہئے  کہ اس کو بچائیں۔

12 تم ایسے  نہیں  کہہ سکتے   ” میں  اس کے  با رے  میں  کچھ نہیں  جانا۔” کیا خداوند جو انسانوں  کی دلوں  کی چھان بین کرتا ہے  سچائی کو نہیں  جانتا ہے۔ وہ جو اپنی ایک آنکھ تمہاری رُوح پر رکھا ہے  اسے  جانتا ہے   اور ہر ایک کوا سکے  عمل کے  مطابق جزا دے  گا۔

13 اے  میرے  بیٹے  تو شہد کھا یا کر کیوں  کہ یہ اچھی چیز ہے۔ شہد کے  چھتہ سے  جو شہد آتا ہے  وہ تمہارے  منہ کے  لئے  میٹھا ہوتا ہے۔

14 اسی طرح سے  علم اور عقلمندی تمہارے  روح کے  لئے  میٹھا ہے۔ اگر تم اسے  تلاش کرتے  ہو تو وہاں  تمہارے  لئے  مستقبل ہے۔ اور تمہاری امید کبھی ختم نہیں  ہو گی۔

15 اس لٹیرے  کی مانند نہ بن جو کسی راستباز شخص کی جائیداد کے  لئے  گھات میں  لگ کر انتظار کرتا ہے۔ اس کے  گھر کو مت لو ٹ۔

16 اگر ایک راستباز شخص سات مر تبہ بھی گر جاتا ہے  تو وہ پھر سے  اٹھ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ لیکن ایک شریر شخص ہمیشہ مصیبتوں  سے  شکست کھائے  گا۔

17 جب تمہارے  دشمنوں  پر مصیبت آئے  تو خوش مت ہو۔ جب اسے  ٹھو کر لگے  تو تم اپنے  دل میں  خوش مت ہو۔

18 اگر تو ایسا کرے  گا تو خداوند اسے  دیکھے  گا اور وہ تم سے  خوش نہ ہو گا۔ اور ہو سکتا ہے  کہ وہ اپنے  غضب کو تمہارے  دشمنوں  سے  دور کر لے۔

19 بدکاروں  سے  رشک نہ کر شریروں  سے  حسد نہ کر۔

20 کیوں  کہ مستقبل میں  شریروں  کے  لئے  کچھ بھی نہیں  ہے  اور بد کرداروں  کا چراغ بجھا دیا جائے  گا۔

21 بیٹے ! خداوند سے  اور بادشاہ سے  ڈر اور جو لوگ ان کے  خلاف ہوں  ان کے  ساتھ مت رہ۔

22 کیوں  کہ اس قسم کے  لوگ بہت جلد تباہ ہوتے  ہیں۔ اور کون جانتا ہے  کہ وہ لوگ آفت لا سکتے  ہیں۔

23 یہ داناؤں  کے  اقوال ہیں  :

24 قومیں  ایسے  منصف پر لعنت کریں  گی جو قصور وار کو چھوڑ دیتا ہے۔ اور قوموں  کے  لوگ اسے  مجرم قرار دیں  گے۔

25 لیکن اگر منصف قصوروار کو سزادے  تب لوگ اس سے  خوش ہوں  گے۔ اور وہ فضل حاصل کرے  گا۔

26 ایماندارانہ جواب ہونٹوں  پر بوسہ دینے  کی مانند ہے۔

27 پہلے  با ہر کا کام پو را کر لو اپنا کھیت تیار کر لو تب اپنا گھر بنانا۔

28 بلاکسی وجہ کے  اپنے  ہمسایہ کے  خلاف گواہی نہ دو۔ اور اپنے  ہونٹوں  سے  دھو کہ مت دو۔

29 ایسا مت کہو “اس کے  ساتھ میں  ویسا ہی کروں  گا اس نے  میرے  ساتھ کیا ہے۔ میں  اس کے  کئے  کا سزا دوں  گا۔”

30 میں  ایک کا ہل کے  کھیت سے  ہوتا ہوا گذرا اور ایک ایسا شخص کے  انگور کے  باغ سے  جسے  عقل کی کمی تھی۔

31 ہر طرف اس کھیت میں  کانٹے  گھاس پھوس اُگے  ہوئے  تھے  اور اس کا ہل شخص کی پتھر کی دیوار ٹوٹی ہوئی تھی۔

32 میں  نے  دیکھا اور غور کیا اور اس سے  سبق سیکھا۔

33 تھوڑی سی نیند تھوڑی سی جھپکی اور ہاتھ پر ہاتھ بندھے  تھوڑا سا آرام

34 اور اس طرح سے  تمہاری غریبی آتی ہے   تیری تنگدستی چور کی طرح آتی ہے۔

 

 

 

باب:   25

 

 

1 یہ سلیمان کی کچھ اور حکمت کی کہاوتیں  ہیں  جن کو یہوداہ کے  بادشاہ حزقیاہ کے  خادموں  نے  جمع کیا۔

2 خدا کا جلال چیزوں  کو راز میں  رکھنے  میں  ہے   اور بادشاہ کا جلال چیزوں  کی تفتیش کرنے  میں  ہے۔

3 جیسا کہ آسمان اونچا ہے  اور زمین گہری ہے   اسی طرح بادشاہوں  کے  اِرادوں  کی تلاش ناممکن ہے۔

4 اگر تم چاندی سے  بیکار چیزیں  دور کرتے  ہو تو اس سے  سنار خوبصورت چیزیں  بنا سکتے  ہیں

5 اسی طرح اگر تم برے  لوگوں  کو بادشاہ کے  پاس سے  ہٹا دو تو پھر راستباز ی سے  اس کی بادشاہت مضبوط ہو جائے  گی۔

6 بادشاہ کے  سامنے  اپنی بڑائی مت کرو اور اہم لوگوں  کے  درمیان جگہ تلاش مت کرو۔

7 یہ بہتر ہے  اگر وہ تم سے  کہے  : یہاں  آؤ۔” تب اگر وہ تمہیں  دوسرے  درباریوں  کے  سامنے  رسوا کرتا ہے۔

8 جو کچھ تو نے  دیکھا اس کو منصف کے  سامنے  کہنے  میں  جلدی نہ کر اگر دوسرا شخص تجھے  غلط ثابت کر دے  تو تُو شرمندہ ہو جائے  گا۔

9 جب تم اپنے  پڑوسی کے  ساتھ مقدمہ میں  الجھے  ہوئے  ہو تو دوسرے  شخص کے  راز کو فاش مت کر۔

10 ورنہ وہ متعلقہ شخص اس کے  با رے  میں  سن لے  گا اور تمہاری شرمندگی کبھی نہیں  حتم ہو گی۔

11 مناسب بات کو مناسب وقت پر کہنا ایسا ہی ہے  جیسے  چاندی کے  طشت میں  سونے  کا سیب۔

12 ایک عقلمند شخص کی ڈانٹ سننے  والے  کان کے  لئے  قیمتی سونے  کی با لی اور جواہرات کی مانند ہے۔

13 قابل بھروسہ ایلچی اپنے  بھیجنے  وا لوں  کے  لئے  فصل کی کٹائی کے  دنوں  میں  خوشگوار ٹھنڈی ہوا کی مانند ہے   وہ اپنے  آقا کی جان کو تازہ کر دیتا ہے۔

14 جو شخص تحائف دینے  کا وعدہ کرتا ہے  لیکن کبھی نہیں  دیتا تو اس کی مثال ایسے  بادلوں  اور ہوا کی ہے  جو پانی نہیں  لاتے  ہیں۔

15 یہاں  تک کہ صبر سے  ایک حکمراں  کو بھی راضی کیا جا سکتا ہے  اور نرم زبان سے  ہڈی کو بھی توڑی جا سکتی ہے۔

16 اگر تمہیں  شہد مل جائے  تو زیادہ مت کھاؤ ورنہ ہو سکتا ہے  کہ اسے  اُگل ڈالے۔

17 اسی طرح اپنے  ہمسایہ کے  گھر بار بار نہ جا یا کرو ورنہ وہ تم سے  بیزار ہو جائے  گا اور تم سے  نفرت کرنا شروع کر دے  گا۔

18 جو شخص اپنے  پڑوسی کے  خلاف جھوٹی گواہی دیتا ہے  وہ گرز یا تیز تلوار یا تیز تیر کی مانند ہے۔

19 مصیبتوں  کے  وقت بے  وفا آدمی  پر بھروسہ کرنا ٹوٹے  دانت اور لنگڑا پاؤں  کی مانند ہے۔

20 کسی غمزدہ شخص کے  سامنے  خوشی کا گیت گانا کسی شخص کے  کپڑوں  کے  جاڑے  کے  دنوں  میں  اتار لینے  اور زخموں  پر سر کہ ڈالنے  کی مانند ہے۔

21 اگر تمہارا دشمن بھو کا ہے  تو اس کو کھانے  کے  لئے  دو اگر وہ پیاسا ہے  تو اس کو پانی پلاؤ۔

22 ایسا کرنے  سے  وہ تم سے  شرمندہ ہو گا۔ اور خداوند تم کو اس کا صلہ دے  گا۔

23 شمال کی ہوا جیسے  بارش لا تی ہے  اسی طرح بد گوئی اور غیبت بھی غصّہ لا تی ہے۔

24 جھاڑ جھپاڑ اور جھگڑا لو بیوی کے  ساتھ گھر میں  رہنے  سے  چھت کے  اوپر ایک کونے  میں  رہنا بہتر ہے۔

25 دور مقام سے  آئی ہوئی خوشخبری ایسی ہے  جیسے  پیاسے  کو ٹھنڈا پانی مل جائے۔

26 ایک راستباز شخص کا شریروں  کے  آگے  گر جانا گدلا چشمہ اور گندہ کنواں  کی مانند ہے۔

27 جس طرح زیادہ شہد کھانا اچھا نہیں  اسی طرح اپنے  آپ  کی بزرگی کو تلاش کرنا اچھا نہیں۔

28 جو شخص اپنے  آپ  پر قابو نہ رکھ سکے  تو وہ اس شہر کی مانند ہے  جس کی دیواریں  ٹوٹ گئی ہو۔

 

 

 

باب:   26

 

 

1 جس طرح برف کا گرمی میں  گرنا اور فصل کٹائی پر بارش کا آنا اسی طرح سے  بے  وقوف کو عزت دینا صحیح نہیں  ہے۔

2 بلا سبب لعنت بے  مقصد اڑتی ہوئی آوارہ گوریّا اور اڑتی ہوئی ابا بیل کی مانند ہے  جو کبھی آرام سے  نہیں  رہتا۔

3 گھوڑے  کے  لئے  چابک اور خچر کے  لئے  لگام اور احمق کے  لئے  چھڑی ہے۔

4 بے  وقوف کی باتوں  کا جواب اس کی بے  وقوفی کے  مطابق مت دو ورنہ تم بھی اس کی مانند ہو جاؤ گے۔

5 احمق کے  احمقانہ بات کا جواب اسی کے  مطابق دے  ورنہ وہ اپنے  آپ  کو عقلمند سمجھے  گا۔

6 احمق کے  ذریعہ پیغام بھیجنا ایسا ہے  جیسے  اپنے  پیروں  پر کلہاڑی مارنا یا تکلیفوں  کو دعوت دینا۔

7 احمق کے  منہ میں  مَثل( کہاوت ) ایسی ہے  جیسے  کسی لنگڑا شخص کی لڑکھڑاتا ہوا پاؤں۔

8 احمق کی عزت کرنا ایسا ہی ہے  جیسے  غلیل میں  پتھر رکھنا۔

9 احمق کے  منہ میں  مثل ( کہاوت ) شرابی کے  ہاتھ میں  چُبھنے  والے  کانٹے  کی جھاڑی کی مانند ہے۔

10 بے  وقوفوں  یا راہ گذروں  کو مزدوری پرلے  نا اس تیر انداز کی مانند ہے  جو یونہی زخمی کرتا ہے۔

11 جس طرح کتا کچھ کھا کر بیمار ہو جاتا ہے  اور قئے  کرتا ہے  اور پھر اسی کو کھاتا ہے  ویسے  ہی بے  وقوف بھی اپنی بے  وقوفی بار بار دہراتا ہے۔

12 کیا تو ایسے  شخص کو جانتا ہے  جو اپنے  آپ  کو عقلمندسمجھتا ہے ؟ ا سکے  مقابلہ میں  ایک احمق کے  لئے  زیادہ امید ہے۔

13 کا ہل کہتا ہے   “راستے  میں  شیر ببر کھڑا ہے۔ ایک باگھ ( شیر ) گلیوں  میں  گھوم رہا ہے ! ”

14 جس طرح سے  ایک دروازہ قبضوں  پر گھومتا ہے  اسی طرح ایک کا ہل شخص اپنے  بستر پر کروٹ بدلتا ہے۔

15 ایک کا ہل شخص اپنا ہاتھ تھالی میں  ڈالتا ہے  لیکن وہ اتنا کا ہل کہ اپنا ہاتھ اپنے  منہ میں  نہیں  لاتا ہے۔

16 ایک کا ہل شخص اپنے  آپ  کو عقلمند سمجھتا ہے۔ وہ سوچتا ہے  کہ وہ سات عقلمند آدمی  جو کہ پر اثر جواب دے  سکتا ہے  اس سے  بہتر اور زیادہ چالاک ہے۔

17 جب تم ایسے  جھگڑے  میں  شامل ہو جس کا کہ تم سے  کوئی مطلب نہیں  ہے  تو یہ کتّے  کے  کان کو پکڑنے  کی مانند ہے۔

18 جو شخص اپنے  پڑوسی کو فریب دے  کر یہ کہے  کہ وہ تو صرف مذاق کر رہا تھا تو اس کی مثال ایسی ہے  کہ جیسے  کوئی پاگل آدمی  بری طرح سے  جلی ہوئی تیر کو چھوڑتا ہے۔

19

20 جس طرح بغیر لکڑی کے  آگ بجھ جا تی ہے  اسی طرح بغیر کانا پھوسی کے  جھگڑا ختم ہو جاتا ہے۔

21 جس طرح سے  کوئلہ انگاروں  کو اور لکڑی آگ کو بھڑکاتا ہے  اسی طرح جھگڑا لو جھگڑے  کو بھڑکاتا ہے۔

22 غیبت کرنے  والے  کی باتیں  مزید ار کھانے  کی طرح سے  جو پیٹ میں  نیچے  اترتا ہے۔

23 شریروں  کی نرم باتیں  اس کے  برے  ارادے  کو چھپاتی ہے   یہ مٹی کے  برتن کو چاندی کے  ورق سے  ڈھکنے  کی مانند ہے۔

24 شریر آدمی  اپنی باتوں  سے  اپنے  آپ  کو چھپاتا ہے  لیکن اس کے  اندر دھو کہ چھپا رہتا ہے۔

25 وہ اس کی باتیں  پُر کشش معلوم ہو تی ہے  لیکن ان پر بھروسہ نہ کرو۔اس کے  دل میں  برائی بھری ہے۔

26 وہ اپنے  برے  منصوبوں  کو عمدہ الفاظ سے  چھپاتا ہے   لیکن اس کی برائی کو اجلاس میں  فاش کر دی جائے  گی۔

27 جو شخص گڑھا کھو دتا ہے  وہ خود اس گڑھے  میں  گر جائے  گا۔

28 دھو کہ باز زبان اس سے  نفرت رکھتی ہے  جن کو اس نے  نقصان پہنچا یا ہے۔ اور چاپلوسی باز منہ تباہی لانا چاہتا ہے۔

 

 

 

باب:   27

 

1 آنے  وا لا کل کے  با رے  میں  بڑائی مت کر کیوں  کہ کل کیا ہو سکتا ہے  تم نہیں  جانتے  ہو۔

2 اپنی تعریف آپ  مت کرو دوسروں  کو اپنی تعریف کرنے  دو۔

3 پتھر وزنی ہے  اور با لو وزنی ہے  لیکن ایک بے  وقوف جو غصّہ ہوتا ہے  اسے  برداشت کر نا ان دونوں  سے  زیادہ مشکل ہے۔

4 غصّہ ظالم ہے  اور قہر سیلاب ہے   لیکن حسد کے  سامنے  کون کھڑا رہ سکتا ہے۔

5 چھپی ہوئی محبت سے  کھلے  طور سے  ملامت کرنا بہتر ہے۔

6 ہو سکتا ہے  کہ ایک دوست تم کو نقصان پہنچا یا ہو۔لیکن تم اس کی حرکت پر اعتماد کر سکتے  ہو۔ لیکن وہ شخص جو ہر وقت تمہارا خوشامد کرتا ہے  وہ سچ مُچ میں  تم سے  محبت نہیں  کرتا ہے۔

7 ایک شخص جس کا پیٹ بھرا ہوا ہو تو وہ شہد سے  بھی انکار کرتا ہے  لیکن ایک بھو کا شخص کے  لئے  کڑوی چیز بھی مزیدار ہو تی ہے۔

8 گھر سے  دور بھٹکنے  وا لا شخص اس پرندہ کی مانند ہے  جو اپنے  گھونسلہ سے  دور اُڑ رہا ہے۔

9 عطر اور خوشبو سے  دل خوش ہوتا ہے  لیکن ایک دوست کے  اچھا مشورے  سے  وہ زیادہ مسرور ہوتا ہے۔

10 اپنے  اور اپنے  وا لد کے  دوستوں  کو نہ بھو لو اور مصیبت کے  وقت اپنے  بھائی کے  گھر بھی مدد کے  لئے  نہ جاؤ۔ اپنے  پڑوسی سے  جو تمہارے  قریب ہے  اس سے  مدد لینا اپنے  دور کے  بھائے  کے  پاس جانے  سے  بہتر ہے۔

11 میرے  بیٹے ! تو عقلمند بن اس سے  مجھے  خوشی ہو گی اور میں  ان لوگوں  کو جو مجھ پر ہنستے  ہیں  جواب دینے  کے  قابل ہوں  گا۔

12 دانا لوگ مشکلات کو آتے  دیکھ کر راستے  سے  ہٹ جاتے  ہیں  لیکن ایک نادان سیدھے  مصیبتوں  کی طرف بڑھتے  چلے  جاتے  ہیں  اور اس سے  نقصان اٹھاتے  ہیں۔

13 جو شخص کسی اجنبی کی ذمہ داری لے  اس کی قمیض لے  لو جو شخص کسی ضدّی عورت کا ضامن ہو یقیناً اس سے  کچھ چیز ضمانت کے  طور پرلے  لو۔

14 بلند آواز سے  دعائے  خیر کے  ساتھ اپنے  پڑوسی کو صبح کا سلام مت کرو ورنہ وہ اسے  بد دعا سمجھے  گا۔

15 جھاڑ جھپاڑ کرنے  وا لی جھگڑا لو بیوی بارش کے  دنوں  میں  لگاتار ٹپکنے  وا لی بارش کی مانند ہے۔

16 ایسی عورت کو روکنے  کی کوشش کرنا ہوا کو روکنے  کی یا تیل کو ہاتھ سے  پکڑنے  کی مانند ہے۔

17 جس طرح سے  لو ہے  سے  لو ہے  کو تیز کی جا تی ہے  اس طرح آدمی  بھی آدمی  ہی سے  سدھر نا سیکھتا ہے۔

18 جو شخص انجیر کے  درخت کی نگہبانی کرتا ہے  وہ اس کا پھل کھائے  گا۔اسی طرح سے  جو شخص اپنے  مالک کی دیکھ بھال کرتا ہے  اسے ا سکا صلہ دیا جائے  گا۔

19 جب کوئی شخص پانی میں  دیکھے  تو اس کا اپنا عکس نظر آتا ہے۔ اسی طرح آدمی  کا دل بتاتا ہے  کہ وہ کس قسم کا آدمی  ہے۔

20 جس طرح سے  موت اور قبر کبھی آسودہ نہیں  ہو تی اسی طرح سے  آدمی  کی آنکھیں  کبھی آسودہ نہیں  ہو تی ہیں۔

21 جس طرح سے  سونے  اور چاندی کی خالص پن کی جانچ آگ میں  ڈال کر کی جاتی ہے۔ اسی طرح سے  ایک آدمی  کی جانچ اس کی ستائش ہے۔

22 اگر تم کسی احمق آدمی  کو اناج کی طرح پیس بھی دو گے  لیکن پھر بھی تم اس کی بے  وقوفی کو اس سے  نہیں  ہٹا پاؤ گے۔

23 اپنے  بھیڑ بکریوں  کی نگرانی کرو اور اپنی بکریوں  کی ضرور توں  پر دھیان دو۔

24 کیوں  کہ دو لت ہمیشہ نہیں  رہتی ہے  اور نہ ہی تخت و تاج خاندان میں  پُشت در پُشت قائم رہے  گی۔

25 جب سوکھی گھاس جمع کر لی جا تی ہے  اور نئی گھاس اُگتی ہے  اور بعد میں  اس گھاس کو پہاڑوں  پر سے  جمع کر لی جا تی ہے

26 تب تیرے  بھیڑ تجھے  کپڑوں  کے  لئے  اون دے  گا اور تو بکریوں  کی قیمت سے  کھیت حاصل کرے  گا۔

27 تب تمہارے  پاس تیرے  خاندان اور تیرے  ملازموں  کے  لئے  کافی مقدار میں  بکریوں  کا دودھ ہو گا۔

 

 

 

باب:   28

 

 

1 شریر لوگ بھاگ رہے  ہیں  حالانکہ کوئی بھی ان کا پیچھا نہیں  کر رہا ہے   لیکن صادق لوگ شیر کے  مانند حوصلہ مند ہیں۔

2 جب ایک ملک باغی ہو جاتا ہے  تو اس ملک کا حکمراں  آتے  ہیں  اور جاتے  ہیں  لیکن ایک شخص صاحب علم و فہم ہے  وہ لمبے  عرصے  تک اقتدار میں  قائم رہتا ہے۔

3 اگر کوئی حاکم غریبوں  کو تکلیف پہنچاتا ہے  تو وہ ایک ایسی بارش کی مانند ہے  جس سے  فصل تباہ ہو تی ہے۔

4 وہ لوگ جو شریعت کا پالن کرنا چھوڑ دیتے  ہیں  اور شریروں  کی تعریف کرتے  ہیں  لیکن جو شریعت کے  مطابق چلتے  ہیں  وہ ان لوگوں  کے  خلاف ہیں۔

5 بدکار لوگ انصاف کو نہیں  سمجھتے  ہیں  لیکن جو لوگ خداوند سے  محبت کرتے  ہیں  وہ سمجھتے  ہیں۔

6 وہ غریب آدمی  جو سچائی کی راہ پر چلتے  ہیں  اس بدکار آدمی  سے  بہتر ہے  جو کجروی کی راہ پر چلتے  ہیں۔

7 جو شریعت پر عمل کرتا ہے  وہ ہوشیار ہے  لیکن جو بیکار لوگوں  کا دوست بن جاتا ہے  وہ اپنے  با پ کو رسوا کرتا ہے۔

8 جو کوئی بہت زیادہ سود لے  کر دولت مند بنتا ہے  وہ اس دولت کو کھو بیٹھتا ہے  اور یہ دولت کسی ایسے  آدمی  کے  پاس چلی جائے  گی جو غریبوں  پر رحم کرتا ہے۔

9 جو کوئی خدا کی تعلیمات کو سننے  سے  انکار کرے  تو خدا اس کی دعاؤں  کو سننے  سے  انکار کرتا ہے۔

10 جو شخص نیک لوگوں  کو غلط راہ پرلے  جاتے  ہیں  وہ خود اپنے  ہی جال میں  پھنس جائے  گا۔ لیکن وہ جو نیک ہیں  وہ اچھی وراثت کو پائیں  گے۔

11 ہو سکتا ہے  ایک دولت مند اپنی نظر میں  اپنے  آپ  کو عقلمند سمجھے  لیکن ایک غریب آدمی  جس کے  پاس حکمت ہے  وہ اس حکمت کے  ذریعہ سچائی کو دیکھتا ہے۔

12 جب اچھے  اور نیک لوگ قائدین بن جاتے  ہیں  تب لوگ خوش ہوتے  ہیں۔ لیکن جب ایک شریر شخص کو منتخب کیا جاتا ہے  تو لوگ چھپ جاتے  ہیں۔

13 جو شخص اپنے  گناہوں  کی پر دہ پوشی کرنے  کی کوشش کرے  وہ کبھی بھی کامیاب نہیں  ہو سکتا ہے  لیکن جو اپنے  گناہوں  کا لوگوں  سے  اقرار کرے  تو نہ صرف خدا بلکہ ہر کسی کے  دل میں  اس کے  لئے  رحم کا جذبہ پیدا ہو گا۔

14 جو شخص ہمیشہ خداوند سے  ڈرتا ہے  وہ با فضل ہے  لیکن جو سر کش اور خداوند سے  ڈرنے  سے  انکار کرتا ہے  مصیبت جھیلتا ہے۔

15 ایک شریر شخص جو کہ غریب قوم پر حکو مت کرتا ہے  وہ ایک گرجتے  ہوئے  شیر یا ایک حملہ کرتے  ہوئے  ریچھ کی مانند ہے۔

16 ایک حکمراں  جسے  عقل کی کمی ہوتی ہے  بہت زیادہ ظلم ڈھاتا ہے۔ لیکن جو ناجائز طریقے  سے  حاصل کی ہوئی دولت سے  نفرت کرتا ہے  لمبے  عرصے  تک کے  لئے  حکو مت کرے  گا۔

17 اگر کوئی شخص کسی دوسرے  شخص کو ہلاک کرنے  کا قصور وار ہے   تو اس کو مرنے  تک کبھی سلامتی نہیں  ملے  گی۔ اور ایسے  آدمی  کو کبھی سہارا مت دو۔

18 جو شخص راستبازی سے  رہتا ہے  وہ محفوظ ہے  اور جو شرارت کر کے  زندگی گزارتا ہے  وہ ناگہاں  گر پڑے  گا۔

19 محنتی کے  لئے  جو محنت سے  بوتا ہے  کام کرتا ہے  اس کے  پاس ہمیشہ کھانے  کے  لئے  رہے  گا لیکن جو شخص خیالوں  کی دنیا میں  گم ہو کر وقت خراب کرے  ہمیشہ کنگال رہتا ہے۔

20 ایک دیانتدار شخص زیادہ برکت حاصل کرے  گا لیکن جو شخص دولت پانے  ہی کی خواہش کرتا ہے  وہ سزا سے  نہیں  بچے  گا۔

21 فیصلہ کرنے  میں  طرفداری کرنا اچھی بات نہیں  ہے  لیکن کچھ لوگ تھوڑے  پیسوں  کے  لئے  اپنے  فیصلے  بدل دیتے  ہیں۔

22 خود غرض آدمی  صرف دولتمند ہی بننا چاہتا ہے  اور وہ یہ نہیں  جانتا کہ وہ غریبی کے  کس قدر قریب ہے۔

23 جو شخص کسی شخص کو ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہے  آخر میں  وہ اس سے  زیادہ ہمدردی حاصل کرتا ہے  بہ نسبت اس شخص کے  جو صرف اس کی خوشامد کرتا ہے۔

24 جو شخص اپنے  ماں  باپ سے  چوری کرتے  ہیں  اور کہتے  ہیں  : ” میں  نے  کچھ بھی غلطی نہیں  کی ” یہ ان لوگوں  کی مانند ہے  جو آتا ہے  اور گھر کو تباہ کر دیتا ہے۔

25 ایک خود غرض شخص جھگڑا کا سبب بنتا ہے۔ لیکن وہ شخص جو خداوند پر بھروسہ کرتا ہے  وہ ترقی کرے  گا۔

26 جو شخص اپنی صلاحیت پر بھروسہ کرتا ہے  وہ احمق ہے۔ لیکن جو شخص حکمت پر چلتا ہے  وہ محفوظ ہے۔

27 جو شخص غریبوں  کو دیتا ہے  اسے  کمی نہیں  ہو گی۔ لیکن جو غریبوں  کی مدد کرنے  سے  انکار کرے  وہ زیادہ مصیبت اٹھاتا ہے۔

28 اگر کوئی بد کار اقتدار میں  آتا ہے  تو لوگ اس سے  چھپ کر دور ہو جاتے  ہیں۔ لیکن جب بد کار فنا ہو جاتا ہے  تو راستباز ترقی کرتے  ہیں۔

 

 

 

باب:   29

 

 

1 اگر کوئی شخص ضدی ہے  اور وہ اصلاح کو قبول کرنے  سے  انکار کرتا ہے  تو وہ بغیر کسی چارہ سے  ناگہاں  تباہ ہو جائے  گا۔

2 جب صادق لوگ ترقی کرتے  ہیں  تو قوم خوش ہوتی ہے   لیکن جب شریر لوگ حکو مت کرتے  ہیں  تو ملک کراہتا ہے۔

3 ایسا شخص جو دانائی سے  محبت کرتا ہے  تو اس کا باپ خوش ہوتا ہے  لیکن جو اپنی رقم فاحشاؤں  پر خرچ کرے  تو وہ اپنی دولت گنواتا ہے۔

4 جو بادشاہ عدل سے  حکو مت کرتا ہے  وہ قوم کو طاقتور بناتا ہے   لیکن جو رشوت لیتا ہے  وہ اسے  ویران کر دیتا ہے۔

5 جو اپنے  ساتھیوں  کی خوشا مد کرتا ہے  تو وہ اس کے  پیروں  کے  لئے  جال بچھاتا ہے۔

6 برے  لوگ اپنے  ہی گناہوں  کے  سبب پھندے  میں  پھنس جائیں  گے۔ لیکن راستباز شخص گا سکتا ہے  اور خوشی منا سکتا ہے۔

7 راستباز شخص غریبوں  کے  انصاف کا خیال رکھتا ہے   لیکن ایک شریر شخص اس کا کوئی خیال نہیں  کرتا ہے۔

8 ایک ٹھٹھا باز شخص شہر میں  فساد بر پا کرتا ہے۔ لیکن ایک عقلمند قہر کو خاموش کر دیتا ہے۔

9 اگر کوئی عقلمند شخص بے  وقوف کے  ساتھ عدالت میں  جاتا ہے  تو بے  وقوف بحث کرے  گا اور بے  وقوفی کی باتیں  کرے  گا۔ اور دونوں  کبھی آپس میں  راضی نہیں  ہو گا۔

10 قاتل ہمیشہ ایماندار لوگوں  سے  نفرت کرتا ہے  یہ برے  لوگ ایماندار لوگوں  کو ہلاک کرنا چاہتے  ہیں۔

11 ایک بے  وقوف کھلے  عام اپنے  غصہ کا اظہار کرتا ہے  لیکن ایک عقلمند اپنے  آپ  کو قابو میں  رکھتا ہے۔

12 اگر کوئی حاکم جھو ٹوں  کی سنتا ہے  تو اس کے  تمام عہدیدار بد کار ہوں  گے۔

13 یہی ایک غریب شخص اور ایک ظالم شخص میں  مشترکہ ہوتا ہے  : خداوند نے  ان دونوں  کو پیدا کیا ہے۔

14 اگر کوئی بادشاہ غریبوں  کے  ساتھ انصاف پسند ہے  تو اس کی حکو مت ہمیشہ کے  لئے  قائم رہتی ہے۔

15 چھڑی اور سدھار حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن اگر بچہ تربیت یافتہ نہیں  ہے  تو وہ اپنی ماں  کے  لئے  رسوائی کا باعث ہو گا۔

16 اگر بد کار لوگ ترقی کرے  تو گناہ بڑھتا جائے  گا۔ لیکن راستباز ان کے  زوال کو دیکھے  گا۔

17 اپنے  بیٹے  کو تربیت دو اور وہ تیرے  لئے  سلامتی اور شادمانی کا سبب بنے  گا۔

18 جہاں  رویا نہیں  وہاں  لوگ گمراہی کی طرف جاتے  ہیں  لیکن جو شریعت کا پا لن کرتے  ہیں  با فضل ہے۔

19 صرف باتوں  کے  کرنے  سے  خادم سدھرتا نہیں  ہے  چاہے  وہ تمہاری باتوں  کو سمجھے  لیکن اس پر عمل نہ کرے  گا۔

20 کیا تم نے  کسی شخص کو جلد بازی میں  بولتے  ہوئے  دیکھا ہے ؟ ایسے  آدمی  کے  مقابلہ میں  ایک بے  وقوف کو زیادہ امید ہوتی ہے۔

21 اگر کوئی شخص اپنے  ملا زم کو بچپن سے  لاڈ و پیار سے  پالتا ہے  تو بھی آخر میں  وہ اس کا اچھا ملازم نہیں  ہو گا۔

22 ایک غضبناک آدمی  جھگڑا کا سبب بنتا ہے  اور ایک گرم مزاج آدمی  ظلم بر پا کرتا ہے۔

23 آدمی  کا غرور اس کے  لئے  شرمندگی کا باعث ہے  لیکن ایک خاکسار آدمی  کو دوسرے  لوگ عزت دیتے  ہیں۔

24 چور کے  جرم میں  شریک ہونے  والا اس کا اپنا دشمن ہے۔ جب وہ چور کے  خلاف حلف کو عدالت میں  سنتا ہے  تو وہ شہادت دینے  میں  ڈرتا ہے۔
 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

25 خوف انسان کے  لئے  پھندہ کی مانند ہوتا ہے۔ لیکن جو خداوند پر بھروسہ رکھتا ہے  وہ محفوظ ہے۔

26 کئی لوگ حکمراں  سے  انصاف تلاش کرتے  ہیں  لیکن خداوند ہی ہے  جو لوگوں  کے  ساتھ صحیح انصاف کرتا ہے۔

27 نیک لوگ ان لوگوں  سے  جو ایماندار نہ ہوں  نفرت کرتے  ہیں  اور بد کار لوگ نیکو کار لوگوں  سے  نفرت کرتے  ہیں۔

 

 

 

باب:  30

 

 

1 مسہ کے  یا قہ کا بیٹا کی کہاوتیں۔ اسے  اس آدمی نے  اتی ایل اور اُکال سے  کہا :

2 میں  تمام آدمیوں  میں  سب سے  زیادہ جاہل آدمی  ہوں۔ میرے  اندر انسانی سمجھ بوجھ بھی نہیں  ہے۔

3 میں  نے  حکمت نہیں  سیکھی۔ میں  نے  متبرک علم حاصل نہیں  کیا۔

4 کون اوپر آسمان تک گیا ہے  اور پھر نیچے  اترا ہے ؟ اپنے  ہاتھوں  سے  کس نے  ہوا کو جمع کیا ہے ؟ کس نے  اپنے  چغہ میں  پانی کو لپیٹا ہے ؟ کس نے  زمین کے  حدود کو قائم کیا ہے ؟ اس کا نام کیا ہے ؟ اس کے  بیٹے  کا نام کیا ہے ؟ اگر تم جانتے  ہو تو مجھے  بتاؤ۔

5 خدا کی ہر بات جسے  وہ کہتا ہے  کامل ہے۔ وہ اس کے  لئے  ڈھال ہے  جو اس کے  اندر پناہ کی تلاش کرتا ہے۔

6 خدا جو کہتا ہے  اس کو تو تبدیل نہ کرنا۔ اگر تم ایسا کرو گے  تو وہ تجھے  پھٹکارے  گا اور تجھے  جھوٹا ظاہر کیا جائے  گا۔

7 اے  خداوند میں  دو چیزوں  کی درخواست کرتا ہوں  میرے  مرنے  سے  پہلے  مجھ سے  انکار مت کرنا۔

8 جھوٹ اور فریب کو مجھ سے  دور رکھ مجھے  نہ تو دولت مند بننا ہے  اور نہ ہی غریب مجھے  صرف ان چیزوں  کو دے  جس کی مجھے  ہر روز ضرورت ہے۔

9 ورنہ اگر میرے  پاس بہت زیادہ چیزیں  ہوں  گی تو ہو سکتا ہے  کہ میں  تجھے  یہ کہتے  ہوئے  رد کر دوں  ” خداوند کون ہے ؟ ” اور اگر میں  غریب ہو جاؤں  تو ہو سکتا ہے  کہ میں  چوری کروں  اور اپنے  خدا کے  نام کے  لئے  رسوائی کا سبب بنوں۔

10 کسی بھی ملازم کے  بارے  میں  اس کے  مالک کے  سامنے  بد گوئی نہ کر ور نہ وہ ملازم تجھ پر لعنت کرے  گا اور تجھے  اس کے  لئے  چکانا پڑے  گا۔

11 کچھ لوگ اپنے  باپ کے  خلاف کہتے  ہیں  اور وہ لوگ اپنی ماں  کی عزت نہیں  کرتے۔

12 کچھ لوگ سمجھتے  ہیں  کہ وہ نیک ہیں  لیکن وہ گندگی سے  پاک نہیں  ہوا ہے۔

13 کچھ لوگ مغرور ہیں  ان کے  نظریئے  خود پسند ہیں۔

14 ایسے  بھی لوگ ہیں  جن کے  دانت تلوار کی طرح ہیں  اور ان کے  جبڑے  چاقو کی مانند ہیں  جس سے  وہ لوگ زمین کے  غریب لوگوں  سے  سب کچھ لیتا ہے۔

15 کچھ لوگ ہر وہ چیز حاصل کرنا چاہتے  ہیں  جسے  وہ حاصل کر سکتے  ہیں۔ وہ کہتے  ہیں  “مجھے  دو مجھے  دو۔ ” تین چیزیں  ایسی ہیں  جو کبھی آسودہ نہیں  ہو تی ہیں  اور چو تھی کبھی نہیں  کہتی ہے   ” بس کافی ہے ! ”

16 قبر بانجھ رحم زمین جو کبھی پانی سے  آسو دہ نہیں  ہو تی ہے   اور آگ جو کبھی نہیں  کہتی ہے   ” بس۔”

17 جو کوئی اپنے  باپ کی ہنسی اڑائے  یا پھر اپنی ماں  کی اطاعت سے  انکار کرے  اس کو سزا ملے  گی اس کی آنکھیں  گِدھوں  اور پہاڑی کوؤں  کے  ذریعے  نوچ لی جائیں  گی اور کھا لی جائیں  گی۔

18 تین باتیں  ایسی ہیں  جو میرے  لئے  پُر اسرار ( راز ) ہے  بلکہ اصل میں  وہ چار ہیں  جسے  میں  نہیں  سمجھتا ہوں۔

19 آسمان میں  اڑتے  ہوئے  عقاب کی راہ چٹان پر رینگتے  ہوئے  سانپ کی راہ سمندر کے  جہاز کی راہ اور مرد کی عورت سے  محبت۔

20 جو عورت اپنے  شوہر کی وفادار نہیں  ہو تی وہ ایسی ہے  : وہ کھا تی ہے  اور اپنا منہ پونچھ لیتی ہے  اور کہتی ہے  : ” میں  نے  کچھ بھی غلط نہیں  کیا۔”

21 تین چیزیں  ایسی ہیں  جن سے  زمین کانپتی ہے  بلکہ اصل میں  وہ چار ہیں  جنہیں  زمین برداشت نہیں  کر تی۔

22 خادم جو بادشاہ بن جاتا ہے   ایک بے  وقوف جس کے  پاس کھانے  کے  لئے  کافی مقدار میں  غذا ہو تی ہے   ایک شادی شدہ عورت جس سے  نفرت کی جا تی ہے

23 اور ایک نوکرانی جو اپنی مالکن کی جگہ لے  لیتی ہے۔

24 زمین پر چار چیزیں  ایسی ہیں  جو چھوٹی ہیں  لیکن ہیں  بہت حکمت وا لی۔

25 چیونٹیاں  جو چھوٹی اور کمزور ہیں  لیکن موسم

26 اور سافان جو کہ ایک چھوٹا سا جانور ہے  لیکن اپنا مقام چٹان کے  اندر بناتا ہے۔

27 ٹڈیوں  کا کوئی بادشاہ نہیں  ہوتا لیکن پھر بھی وہ صف بنا کر آگے  بڑھتی ہیں۔

28 اور چھپکلی جو ہاتھ سے  پکڑی جا سکتی ہے۔ لیکن پھر بھی چھپکلیاں  بادشاہوں  کے  محلوں  میں  پائی جا تی ہیں۔

29 تین مخلوق ایسی ہیں  جو عظمت کے  ساتھ چلتی ہیں  لیکن اصل میں  وہ چار ہیں  :

30 شیر جو جانوروں  میں  سب سے  زیادہ بہادر ہے  اور کبھی کسی سے  نہیں  ڈرتا ہے

31 مرغ بکرا اور بادشاہ جو اپنے  لوگوں  کی رہنمائی کرتا ہے۔

32 اگر تو اپنے  احمق پن سے  مغرور ہوتا ہے  اور دوسرے  لوگوں  کے  خلاف بُرے  منصوبہ بناتا ہے  تو طمانچہ اپنے  منہ پر مارو۔

33 دودھ کو متھنے  سے  مکھن نکلتا ہے  اور ناک کو مروڑنے  سے  خون بہتا ہے۔ اسی طرح سے  قہر کو بھڑکانے  سے  فساد بر پا ہوتا ہے۔

 

 

 

باب:   31

 

1 یہ بادشاہ لمو ایل کی دانائی کی باتیں  ہیں  جنہیں  اس کی ماں  نے  اس کو سکھا یا۔

2 تم میرے  بیٹے  ہو وہ بیٹا جو مجھے  بہت عزیز ہے   وہ بیٹا جس کے  پانے  کے  لئے  میں  نے  دعا کی تھی۔

3 اپنی طاقت کو عورتوں  پر مت ضائع کرو۔ اپنے  آپ  کو اس کے  لئے  بر باد مت کرو جو بادشاہ کو تباہ کرتے  ہیں۔

4 اے  لمو ایل بادشاہ کے  لئے  مئے  پینا زیبا نہیں  دیتا۔ اور نہ ہی حکمرانوں  کے  لئے  شراب کی آرزو مند ہونا زیب کی بات ہے۔

5 ورنہ ہو سکتا ہے  وہ لوگ بھول جائیں  گے  کہ شریعت کیا کہتی ہے  اور تمام مظلوم کو ان کے  حقوق سے  محروم کر دے۔

6 شراب ان کو دے  جو فنا ہو رہا ہے۔ اور مئے  ان کو  دے  جو افسردہ ہو رہا ہے۔

7 انہیں  پی کر اپنی غریبی کو بھول جانے  دو۔ اور انہیں  پی کر اپنی مصیبتوں  کو بھول جانے  دو۔

8 ان کے  لئے  بو لو جو اپنے  آپ  کے  لئے  بول نہیں  سکتے  ہیں۔ کمزور کے  لئے  انصاف کو بر قرار رکھ۔

9 بو لو اور راستی سے  فیصلہ کرو۔ غریبوں  اور ضرورت مندوں  کی حقوق کی حفاظت کرو۔

10 نیک بیوی کون پا سکتا ہے ؟ وہ یاقوت سے  زیادہ قیمتی ہے۔

11 اس کا شو ہر اس پر اعتماد کرتا ہے  اور اس کی قدر و قیمت میں  کوئی کمی نہیں  ہو تی ہے۔

12 اس کی زندگی کے  سبھی دنوں  میں  اسے  بغیر کوئی تکلیف پہنچائے  وہ اچھائی لاتی ہے۔

13 وہ اون اور کتان جمع کرتی ہے   وہ بڑی مستعدی سے  کام کرتی ہے۔

14 وہ اس جہاز کی مانند ہے  جو دور مقام سے  آتا ہے۔ وہ اپنی خوردنی کی چیزیں  گھر لاتی ہے۔

15 وہ ہر صبح جلدی اٹھ کر اپنے  خاندان کے  لئے  کھا نا بنا تی ہے  اور خادموں  کا حصہ ان کو  دیتی ہے۔

16 وہ کھیت کی طرف دیکھتی ہے  اور اسے  خرید لیتی ہے۔ اور اپنی کمائی سے  وہ انگور کا باغ لگا تی ہے۔

17 وہ بہت محنت سے  کام کر تی ہے  اور اس کا بازو بہت مضبوط ہے۔

18 اپنی بنائی ہوئی چیزوں  کو جب وہ فروخت کر تی ہے  تو منافع کماتی ہے۔ اور رات میں  اس کا چراغ نہیں  بجھتا ہے۔

19 وہ سوت کاٹتی ہے  اور اس سے  کپڑے  بنتی ہے۔

20 وہ ہمیشہ غریبوں  کی مدد کرتی ہے  اور صرف ضرورت مندوں  کے  لئے  اپنے  ہاتھوں  کو بڑھا تی ہے۔

21 جب ٹھنڈی پڑ تی ہے  تو وہ

22 وہ چادر بنا تی ہے  اور اسے  اپنے  بستروں  پر بچھا تی ہے  اور عمدہ کتانی کپڑے  پہنتی ہے۔

23 لوگ اس کے  شو ہر کی عزت کرتے  ہیں  اور شہر کے  لوگوں  میں  اس کا مقام ہوتا ہے۔

24 وہ ایک اچھی تاجر عورت ہے  جو کپڑے  اور تسمے  بنا کر تاجروں  کو فروخت کرتی ہے۔

25 اسے  طاقت اور عظمت سے  ملبوس کیا گیا ہے۔ وہ مستقبل کی طرف اعتماد سے  دیکھتی ہے۔

26 وہ کہتی ہے  تو حکمت کی باتیں  ہی کہتی ہے  وہ دوسروں  کو محبت اور مہربانی کرنا سکھا تی ہے۔

27 وہ کبھی بھی کاہلی نہیں  کرتی ہے  اور ہمیشہ اپنے  گھر بار کے  متعلق دھیان دیتی ہے۔

28 اس کے  بچے  اٹھ کر اس کو مبارک کہتے  ہیں۔ اور اس کا شوہر بھی اس کی تعریف کرتا ہے۔

29 اس کا شوہر کہتا ہے   ” بہت عورتیں  ہیں  جو عظیم الشان کام کرتی ہیں  لیکن تو ان سب پر سبقت لے  گئی ہے ! ”

30 کشش دھو کہ باز ہے  اور حسن چلی جاتی ہے   لیکن عورت جو خداوند سے  خوف کھا تی ہے  قابل تعریف ہے۔

31 اس کی تعریف کرو جس کا وہ مستحق ہے ! اور جو کام اس نے  کیا ہے  اس کے  لئے  عام لوگوں  کے  درمیان اس کی تعریف کرو!

٭٭٭

ماخذ:

http://gospelgo.com/a/urdu_bible.htm

پروف ریڈنگ: اویس قرنی، اعجاز عبید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید