FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

عرفان صدیقی: حیات، خدمات اور شعری کائنات

 

 (آئینۂ عرفانؔ، عرفانیات)

 

                مرتّبین: عزیز نبیلؔ ۔ آصف اعظمی

 

 

 

نوٹ

 

اسی نام کی اصل کتاب سے  یادِ عرفان (یادیں، خاکے)، شاعری کا انتخاب، اور تفہیم عرفان (عرفان صدیقی پر تنقیدی مقالے، دو حصوں میں) الگ ای بکس کے طور پر شائع کئے جا رہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

انتساب

 

مملکتِ بحرین میں اردو تہذیب کی اعلی قدروں کے نقیب

اور اردو شاعری کے عاشقِ صادق

شکیل احمد صبرحدی صاحب

کے نام

 

 

 

 

جانے کتنے سورجوں کا فیض حاصل ہے اسے

اس مکمّل روشنی سے جو ملا روشن ہوا

______________________عزیز نبیلؔ

 

 

مری شاعری مری عاشقی ہے سمندروں کی شناوری

وہی ہمکنار اسے چاہنا، وہی بیکراں اسے دیکھنا

عرفان صدیقیؔ

 

 

 

ابتدائیہ

 

عرفان صدیقی اردو زبان کے شاعر ہیں جو منفرد و ممتاز، عظیم و معروف جیسے تمام لاحقوں سے بالاتر جنہیں آج کل ہر کس و ناکس کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ عرفانِ ذات سے لے کر عرفانِ کائنات تک فکر و عمل اور تجربات و مشاہدات کی جو دنیا عرفان صدیقی کے ہاں اپنی پوری صوتی، صوری، معنوی اور جمالیاتی نیرنگیوں کے ساتھ آباد ہے، وہ ان کی شاعری کو نئی وسعتوں اور پنہائیوں سے ہمکنار کراتی ہے۔ پھر وہ جداگانہ الفاظ اور ترکیبیں ہوں کہ نت نئے استعارے اور تلمیحات، روایات کی مٹی میں رچا بساکلا سیکی خمیر ہو کہ جدیدیت کے نئے آسمانوں کی فکری اڑان، ان کی شاعری میں وہ تمام اوصاف و لوازمات موجود ہیں جو انہیں بلا مبالغہ صف اول کے شعراء میں جگہ دلانے کے لئے کافی ہے۔

سائنس اور آرٹ دونوں کی معراج صنعت ہے، لیکن دونوں کے فارمولے الگ الگ ہیں۔ عرفان صدیقی کے نزدیک بھی شاعری تخلیق سے زیادہ صناعی ہے۔ الہامی سے زیادہ اختراعی ہے۔ چنانچہ وہ اپنی شاعری کا نظم خود تشکیل دیتے ہیں۔ کینوس بھی ان کا ہوتا ہے اور رنگ بھی۔ یہ نظم فکر کی جولان گاہوں پرچلتے ہوئے صوتی اور معنوی لحاظ سے موزوں ترین الفاظ کی صناعی سے عبارت ہے۔ ان کی شاعری فارم اور اسپیس کے درمیان تناسب اور توازن کی شاعری ہے، جس میں مصوری جیسی پیکر تراشی، موسیقی جیسا آہنگ اور داستاں گو ئی یا تھیٹر جیسا ڈرامائی انداز بھی ہے۔ عرفان صدیقی کہتے ہیں ’’ میں اس لیے سوچتا ہوں کہ شاید میں جو کچھ بات کہنا چاہتا ہوں وہ اپنے تمام تلازمات اور تمام رموز کے ساتھ اس وقت تک ادا نہیں ہو گی جب تک اس لفظ کے جتنے امکان بھی اجاگر کر سکتا ہوں اجاگر کر لوں تو بہتا تھاہ قسم کی چیز ہے، لیکن جتنے بھی اس کے امکانات کو تلاش کر سکوں اور ان کو برت سکوں، اپنے مفہوم کو پہونچانے میں اس حد تک میں جاؤں اور اس کے لئے خاصی محنت ریاض اور کوشش کرنی پڑتی ہے۔ میں بالکل ان لوگوں میں نہیں ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ شاعری کوئی صاحب الہامی چیز ہے۔ ہوتی ہو گی، الہام خیال کی شکل میں ہوتا ہو گا۔ کوئی چیز آ جاتی ہو گی لیکن شاعری خالص شعوری exerciseہے اور اگر آپ لفظ کے برتنے کے لئے شعور کی اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ نہیں لگتے تو وہ کام نہیں بنتا ہے اور شاعری میں تو بالکل نہیں بنتا ہے صاحب‘‘۔

عرفان صدیقی اوریجنل شاعر ہیں۔ وہ انسپریشن اور اثر تو لیتے ہیں، مگرکسی دھارے یا تحریک کا حصہ نہیں بنتے۔ عرفان صدیقی کے لفظوں میں ’’میں خدا کی قسم بہت خوش ہوں اگر میں کسی دھارے میں آپ کو نظر نہیں آ رہا ہوں اس لئے کہ میں اصل میں کسی دھارے کا شاعر نہیں ہوں۔ میں تو، میں آپ سے سچ عرض کرتا ہوں کہ اب تک میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں میرؔ کو غالبؔ سے کہاں ممیّز کروں ‘‘۔ انہی پر کیا موقوف، کلاسیکیت، ترقی پسندی، جدیدیت وغیرہ کے بھی سبھی دھارے عرفانیات میں آ کر مدغم ہو جاتے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں :

ہوا آخر وہ ہم سے ہم سخن آہستہ آہستہ

چلی صحرا میں بھی ٹھنڈی ہوا آہستہ آہستہ

سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھا

سوچیے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا

ہمیں سچ مچ کوئی آزار ہے ایسا نہیں لگتا

کہ ہم دفتر بھی جاتے ہیں غزل خوانی بھی کرتے ہیں

مگر اس کا کیا کیا جائے کہ عرفان صدیقی کی شاعری کی عظمت کو پہچاننے میں زمانے لگ گئے اور جب پہچانا گیا تو بھی اس کی اس طرح تعیین قدر نہیں ہوئی جواس کو سزاوار تھا۔ خیر، یہ تو ایک یونیورسل المیہ ہے اور یہ شکوہ غالب سے لے کر عرفان تک سبھی کرتے آئے ہیں۔

ع ’’کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا‘‘ (غالب)

ع ’’لوگو مری گلکاریِ وحشت کا صلہ کیا‘‘ (مجروح)

ع ’’فائدہ عرض ہنر میں تھا، ہنر میں کیا تھا‘‘ (عرفان صدیقی)

مزید ظلم یہ ہوا کہ کربلا کے استعارات و تلمیحات کی بنا پر عرفان صدیقی کو محض ایک منقبت خواں اور مرثیہ نگار کی حیثیت اور مقام تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی، جب کہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ نوحہ و مرثیہ، منقبت و سلام ان کی شاعری کا جزوی حصہ ہے، کُل نہیں۔ ایک ایسے دور میں جب کہ آرٹ برائے آرٹ اور فن برائے فن کی وکالت پر زور طریقے سے کی جا رہی ہے، عرفان صدیقی کی شاعری کو محدود حوالوں کے بجائے تکنیک فن اور اظہار کے پیمانوں پر سمجھا جانا ضروری ہے۔ یوں بھی وہ اپنی نوع کے منفرد اور حیران کر دینے والے لب و لہجہ کے شاعر تھے۔

کوئی سلطان نہیں میرے سوا میرا شریک

مسند خاک پہ بیٹھا ہوں برابر اپنے

اس کتاب میں عرفان صدیقی کے ذاتی اوصاف و خصائل، علمی و ادبی خدمات اور بطور خاص شاعری کے حوالے سے ان کے دوستوں، عزیزوں، نقادوں اور دیگر اہل قلم حضرات کی وقیع تحریریں جمع کی گئی ہیں، جن سے نہ صرف عرفان صدیقی کی شخصیت کو قریب سے جاننے میں مدد ملے گی، بلکہ ان کے شعر و ادب کے گوناگوں گوشوں کی تفہیم کی راہ آسان ہو گی۔ اس کے علاوہ قارئین عرفان صدیقی کی چنندہ شاعری اور نثر کے نمونوں سے براہ راست استفادہ کر سکتے ہیں، جس کے لئے عرفانیات کے نام سے علاحدہ گوشہ قائم کیا گیا ہے۔ مرتبین اسے اپنا ادبی فریضہ جانتے ہیں کہ کتاب میں شامل ان تمام قلمکاروں کا شکریہ ادا کیا جائے جنہوں نے خصوصی طور پر اس کتاب کے لئے اپنے مضامین قلم بند کیے۔ اس کتاب کی ترتیب میں جن دیگر احباب اور عرفان صدیقی کے اہل خانہ کا تعاون شامل حال رہا، ان میں ان کی اہلیہ محترمہ، صاحبزادے خالد عرفان اور ان کے قریبی عزیز اور معروف شاعر و فکشن نگار سید محمد اشرف، سعود عثمانی (لاہور)، قمر صدیقی (ممبئی)، سید راشد حامدی (دہلی)، ڈاکٹر عمیر منظر (لکھنؤ)، ڈاکٹر محمد شارق (علی گڑھ)، احمد اشفاق (قطر)، شاہنواز فیاض )(دہلی) شامل ہیں۔ علاوہ بریں، نیا دور کے عرفان صدیقی نمبر، سوغات و شب خون کے مختلف شمارے اور ایوانِ اردو کے گوشۂ عرفان سے بھی خوشہ چینی کی گئی ہے۔

اس کتاب کی سب سے دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس میں عرفان صدیقی کے معاصرین سے زیادہ تعداد ان قلمکاروں کی ہے جن کی قلمی عمر دس بارہ برس سے زیادہ کی نہیں ہے یعنی ان کا تعلق عرفان صدیقی کے بعد کے زمانہ سے ہے۔ اس بات کا مثبت پہلو یہ ہے کہ یہاں دو نسلوں کی نمائندگی ہے، ایسی دو نسلیں جن کی سوچ اور طریقۂ کار کا ابعاد زمانہ کی سرعت پذیری میں نمایاں ہے۔ منفی پہلو یہ ہے کہ عرفان صدیقی کے معاصرین ان پر قلم اٹھانے کے معاملہ میں کوتاہ رہے ہیں۔

عرفان صدیقی بے نیاز قسم کے انسان تھے۔ انفارمیشن سروسز کی طویل ملازمت اور رابطۂ عامہ کو سمجھنے اور اس پر کتاب لکھنے والے عرفان اپنے پی آر کو لے کر کافی کمزور واقع ہوئے تھے۔ اس کا اعتراف انہوں نے نیر مسعود سے اپنی ایک گفتگو میں کچھ یوں کیا ہے : ’’ کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کے تعارف میں بہت بڑا ہاتھ شاید اس کی شاعری کے volumeکا بھی ہوتا ہے پھر میں چونکہ خود اس فیلڈ کا ہوں مجھے معلوم ہے کہ P.R.کے تقاضے کیا ہوتے ہیں مگر یہ کہ کچھ طبیعت ادھر نہیں آتی‘‘۔ تاہم سوال صرف عرفان، ایک ذات کی تعریف و تحسین کا نہیں، بلکہ عرفان شاعر کی شناسی کا ہے اور یہ شکوہ بجا ہے کہ شاعری میں عرفان صدیقی کی حیثیت مسلم ہو جانے کے بعد بھی تفہیم عرفان اوترسیل عرفان کی کوششیں جس پیمانے پر ہونی چاہیے تھیں، نہیں ہو سکیں۔

شاعری خلاقی ہے کہ صناعی۔ یہ بحث تفصیل چاہتی ہے، مگر ہے ان دونوں کے درمیان کی کوئی چیز جو یہ تقاضا کرتی ہے کہ اسے برتا جائے، فہم و ادراک سے لے کر فکر و عمل کے تمام راستوں سے گزارا جائے اوراس کے ساتھ وہ سلوک کیا جائے جو اس کا حق ہے۔ اگر کوئی فن پارہ محض اس وجہ سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ اس کے مخاطبین کو معلوم ہی نہیں ہو سکا یا ان کے ہاں ذوق کی کمی تھی، تو شاعر و ادیب اس کے لئے ہر گز قصوروار نہیں ہے، تخلیق تو بالکل ہی نہیں۔ مجلسِ فخر بحرین اور اس کے بانی شکیل احمد صبرحدی کی جانب سے گزشتہ تین برسوں سے جاری یہ کاوش، جس کے تحت شہریار اور فراق گورکھپوری پر اسی قسم کی دستاویزی کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہے، اگر اپنے ذوق سلیم کا اعادہ نہیں تو حق بحقدار رسید کا استعارہ ضرور ہے۔ عرفان صدیقی کی شخصیت اور شاعری پر مرتب یہ کتاب بھی اسی مشن کا ایک حصہ ہے، امید ہے پسند کی جائے گی۔

٭٭٭

 

 

 

 

آئینۂ عرفان

 

                کوائف

 

 

 

 

کوئی سلطان نہیں میرے سوا میرا شریک

مسند خاک پہ بیٹھا ہوں برابر اپنے

 

 

 

 

 

 

عرفان صدیقی: ذاتی کوائف

 

نام:-

محمد عرفان احمد صدیقی

پیدائش:-

۱۱ مارچ ۱۹۳۹ء مقام : – پیدائش بدایوں

تخلص:-

عرفان صدیقی

والد:-

سلمان احمد ہلالی

والدہ:-

رابعہ خاتون

شادی:-

۱۹۶۴ ء، سیدہ حبیب کے ساتھ

اولاد:-

خالد عرفان(فیضان احمد صدیقی)، مینا عرفان، نغمہ عرفان، رومانہ عرفان اور لبنیٰ عرفان

تعلیم :-

ایم اے ( آگرہ یونیورسٹی)

ملازمت:-

۱۹۶۲ء میں دہلی میں وزارت اطلاعات و نشریات کی مرکزی اطلاعاتی خدمات سے وابستہ ہوئے

۱۹۷۴ء دہلی سے لکھنو ٹرانسفر

۱۹۸۸ء میں حکومت ہند کے سینٹرل کمان میں (میجر رینک) پی آر او مقر ر ہوئے

۱۹۹۷ء میں بحیثیت ڈپٹی پرنسپل انفارمیشن آفیسرملازمت سے سبکدوش ہوئے

۱۵  اپریل ۲۰۰۴ء، لکھنؤ

اہم اعزازات:-

نشانِ امتیازِ میر (میر اکادمی لکھنؤ)

ؤ اعتراف مجموعی خدمات ۔ ۱۹۹۸ء، اتر پردیش اردو اکادمی

غالب ایوارڈ (غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی)

شعری تصنیفات:

کینوس (۱۹۷۸)

شب درمیان (۱۹۸۴ء)

سات سماوات (۱۹۹۲ء)

عشق نامہ (۱۹۹۷ء)

دریا (۱۹۹۹ء) ۔ پہلے چار مجموعہ کی کلیات

ہوائے دشتِ ماریہ (۱۹۹۸ء) سلام و منقبت پر مشتمل ۴۸ صفحات کا مجموعہ

شہرِ ملال (کلیاتِ عرفان صدیقی طباعت کے مراحل میں )

نثری تصنیفات:

تراجم:

عوامی ترسیل (۱۹۷۷)

رابطہ عامّہ (۱۹۸۴)

رت سنگھار (کالی داس کی کتاب رتو سمہارم کا منظوم ترجمہ)

مالویکا اگنی مترم (کالی داس کے ڈرامہ کا سنسکرت سے ترجمہ)

روٹی کی خاطر (عرب ناول نگار محمد شکری کے سوانحی ناول کا ترجمہ)

٭٭٭

 

 

 

 

 

عرفانیات

                انٹرویو اور نثری تحریریں

 

 

 

آؤ ان پر سخن آباد کا در کھولتے ہیں

لفظ مر جاتے ہیں فرہنگ میں رہتے ہوئے بھی

 

 

 

 

 ہر موزوں چیز شاعری نہیں ہوتی

 

                ( نیر مسعود اور محمد مسعود کی موصوف کے ساتھ ۱۹۹۱ء میں ریکارڈ کی گئی ریڈیو ٹاک)

 

نیر مسعود: عرفان صاحب، آپ کے سلسلہ میں بات ہوتی ہے تو ہم لوگوں کو قائم چاند پوری کا خیال آتا ہے جو میرؔ اور سوداؔ کا ہم پلّہ شاعر تھا لیکن اسے وہ شہرت نہ مل سکی۔ آپ سے بھی جو لوگ واقف ہیں وہ یہاں تک کہتے ہیں کہ آپ سے بہتر شاعر ہندوستان، پاکستان میں موجود نہیں ہے۔ آپ نے کہا بھی ہے۔

تم بتاتے تو سمجھتی اسے دنیا عرفانؔ

فائدہ عرضِ ہنر میں تھا ہنر میں کیا تھا

آپ سے ہم کو یہی شکایت ہے کہ آپ ’’عرض ہنر‘‘ نہیں کر رہے ہیں آپ کے دو مجموعے ’’کینوس‘‘ اور ’’شب درمیاں ‘‘ چھپے لیکن تقسیم ٹھیک سے نہیں ہوئی تو پہلے یہ بتائیے کہ یہ بے نیازی کیوں۔

عرفان صدیقی: اس سوال کے دو حصے ہیں۔ میں ایک ساتھ دونوں کے سلسلے میں عرض کرتا ہوں۔ قائمؔ سے جو مماثلت آپ حضرات نے اپنی محبت سے تلاش کی ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں عرض کرنا لیکن کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کے تعارف میں بہت بڑا ہاتھ شاید اس کی شاعری کے volumeکا بھی ہوتا ہے پھر میں چونکہ خود اس فیلڈ کا ہوں مجھے معلوم ہے کہ P.R. کے تقاضے کیا ہوتے ہیں مگر یہ کہ کچھ طبیعت ادھر نہیں آتی۔

نیر مسعود: ہاں نہیں آتی ہو گی۔ آپ کا مزاج ہی یہ ہے کہ اس صورتحال میں اور آپ کی شاعری میں ایک عجیب طرح کی مطابقت ہے۔ آپ کی شاعری میں ایک قسم کا استغناء ہے کہ اسے پڑھ کر بھی شبہ ہوتا ہے کہ اس کا کہنے والا ان چیزوں سے بے پروا ہے۔

محمد مسعود: جو دو مجموعے چھپے ہیں وہ بھی اتنی کم تعداد میں کہ بہت سارے ایسے لوگ جنھیں پڑھنا چاہیے ان تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔

نیر مسعود: ہاں تو اس کو بھی عرفان صاحب ہی کی غلطی کہیں گے۔

مسعود: اور بہت سے ایسے لوگوں تک پہنچ گئے ہیں جنھیں نہیں پڑھنا چاہیے (ہنسی)

نیر مسعود: وہ تو مجبوری ہے۔ اسے چھوڑیے۔ عرفان صاحب طرح طرح کے۔

عرفان صدیقی: دیکھیے چھپنے کے بعد یہ شرط عائد کرنا بالکل۔ ۔ ۔ نہیں نہیں میں شرط نہیں عائد کر رہا ہوں۔

نیر مسعود:۔ ۔ ۔ کے سوالات آپ کی شاعری سے پیدا ہوتے ہیں کہ اس کا کہنے والا کون آدمی ہے، کیسا ہے۔ اس کو ہم جانیں۔ اب یہ ہے کہ ہم لوگ جو آپ کے قریبی دوستوں میں ہیں۔ ہماری آپ سے اکثر ملاقات ہوتی ہے۔ کھل کر گفتگو ہوتی ہے۔ ہم بھی جب شاعر کی حیثیت سے آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کچھ عجیب نظر آتے ہیں۔ نہ یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس شخص نے کیا کیا پڑھا ہے نہ یہ کہ کیسی زندگی گذاری ہے۔ کچھ بھی اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بزرگ کون لوگ تھے کس قسم کے لوگ تھے مگر یہ کہ اس کو اپنے بزرگوں کا بھی بہت شدید احساس ہے۔ ہم آپ کے پس منظر کے بارے میں سب سے پہلے جاننا چاہتے ہیں۔ مثلاً اپنے مطالعہ ہی کو لے لیجیے تو آپ کا مطالعہ کس طرح کا رہا بچپن سے لے کر اب تک۔

عرفان صدیقی: نیر صاحب اس سلسلہ میں۔ ۔ ۔ واقعی آپ نے بعض چیزیں ایسی اپنے سوال کے ذریعہ اٹھائی ہیں کہ خود میرا جی چاہتا ہے کہ میں کچھ کھل کر کہوں لیکن جیسا کہ ہم لوگ اکثر بات چیت میں کہتے رہتے ہیں بہتر یہ ہے کہ لکھنے والے کو، اس کی ذات کو، اور اس ذات کے حوالے سے خارج میں جو صفات منعکس ہو رہے ہیں ان کو اس کے لکھے ہوئے لفظوں سے پہچانا جائے۔

اچھا، اس میں نیر صاحب کوئی شعوری کوشش اپنے آپ کو پوشیدہ رکھنے کی نہیں ہے۔ ایمانداری کی بات یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے کہ یہ جان بوجھ کر کوشش کی ہو کہ کوئی Mysteryکا یا اسرار کا پردہ اپنی شخصیت پر یا اپنی ٹوٹی پھوٹی شاعری جیسی بھی ہے اس پر ڈالا جائے ایسا کچھ نہیں ہے لیکن ہاں یہ ضرور ہے کہ یہ خیال کہیں رہتا ہے کہ اگر میں اپنا انکشاف اپنی شاعری کے ذریعہ نہیں کرتا یا نہیں کر سکتا تو پھر کچھ اور کہنا فضول ہے۔

نیر مسعود: نہیں وہ سوال جو میں پوچھ رہا تھا اس نقطۂ نظر سے نہیں تھا کہ گویا آپ کی شخصیت کی تفصیلات کو سمجھے بغیر ہم آپ کی شاعری کو نہیں سمجھ سکیں گے۔ یا جب تک ہمیں یہ نہ معلوم ہو کہ آپ نے کتنا پڑھا ہے۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: نہیں نہیں۔ یہ میرا مطلب بھی نہیں ہے۔

نیر مسعود: ایک تجسس یا ایک دلچسپی اپنے پسندیدہ شاعر سے ہوتی ہے۔ یہاں تک ہوتی ہے کہ وہ کپڑے کیا پہنتا ہے۔ مثلاً اسلامی کپڑے پہنتا تھا یا سوٹڈ بوٹڈ تھا۔ تو اس طرح بھی کہ اپنے بارے میں ہم لوگوں کو جیسا کہ میں نے شروع میں عرض کیا کہ اس قدر قربت کے باوجود آپ نے از خود کبھی بتایا ہی نہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو زیادہ تر اپنے ہی بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ آپ بالکل نہیں کرتے تو یہ تجسس ہم لوگوں کے دل میں ضرور ہے۔ خاص طور پر مطالعہ کے سلسلہ میں۔ کس طرح کی چیزیں آپ بچپن سے پڑھتے آئے۔ یا کون کون سے مصنف۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: میں عرض کئے دیتا ہوں۔ اصل میں یہ چونکہ۔ ۔ ۔

مسعود: تھوڑا سا بچپن کا بیک گراؤنڈ اور تعلیم کے حوالے سے بھی فرمائیے۔

عرفان صدیقی: ہاں میں عرض کرتا ہوں، دیکھیے ایک تو اس طرح کے سوالات کا بالکل فارمل(Formal)جواب ہوتا ہے۔ آپ لوگ سوال نہ کرتے کوئی اور کرتا تو میں جواب دیتا کہ صاحب اس سن میں پیدا ہوا فلاں فلاں سن میں، فلاں کیا۔ فلاں ڈگری وغیرہ

مسعود: نہیں ذہنی سفر خاندانی ماحول وغیرہ

عرفان صدیقی: ایسا ہے کہ بہت سی باتیں نیر صاحب شاعر کے لئے ممنوع ہوتی ہیں آپ اس سے اتفاق کریں گے اور دوسری اصناف بھی لکھنے والوں کے لئے شاید۔ ۔ ۔ مثلاً یہ کہ اگر میں ناول نگار ہوتا تو میں بھی کوئی نیم سوانحی ناول لکھ لیتا اور میرے بارے میں سب کچھ آپ کو معلوم ہو جاتا وہ بھی معلوم ہو جاتا جو نہیں ہوا ہے۔ جو ہوا ہے وہ تو معلوم ہی ہو جاتا لیکن شاعری کے ساتھ مقطعوں کی تعلّی کی جانے دیجئے یا اور اشعار میں تعلّی کی جانے دیجئے کہ ہماری کلاسیکی شاعری بھی تعلی کا ایک خاص حصہ رہا ہے ورنہ شاعری کا مزاج Modestyکا مزاج ہے۔ صاحب میں تو یہی سمجھتا ہوں تو اب اس Modestyکے معنی بالکل اپنی ذات کی نفی کے نہیں ہیں۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ شاعر کچھ اس کو اپنے منصب سے کچھ فروتر چیز سمجھتا ہے کہ اپنے آپ کو خود Projectکرے۔ بڑے شاعر یا اہم شاعر یا اچھے شاعر نے نہیں کیا تو اب چونکہ یہ ہے کہ بھئی شاعری کر رہے ہو تو ان بڑوں کی پیروی کرو یہ بھی خیال رہے کہ یہ Modestyبھی قائم رہنی چاہیے پھر مزاج بھی اپنا کچھ اس طرح کا نہیں ہے کہ بہت زیادہ اپنے بارے میں گفتگو کرتا ہے تو طبیعت اک دم بند ہو جاتی ہے۔

لیکن ہاں اتنا بتانا ضرور پڑے گا کہ ماضی میں کیا چیزیں خاص تھیں۔ بیک گراؤنڈ کچھ اس طرح کا رہا۔ جو عام طور پر یوپی کے شریف خاندانوں کا ہے۔ ظاہر ہے کہ ادب کا بہت چلن تھا۔ پورا ایک سلسلہ اور اگر اس پر فخر کرنے کی اجازت دیجئے تو میں فخر بھی کروں کہ بہت بڑا سلسلہ ہے یعنی رشتہ غالب سے ملتا ہے شاعری میں۔ وہ اس طرح سے میرے پردادا زلالیؔ بدایونی وہ حالیؔ کے شاگرد تھے۔ حالیؔ کے آپ کو معلوم ہے چند ہی شاگرد ہیں۔

نیر مسعود: اس میں قافیہ بھی وہی ہے استاد کا۔

عرفان صدیقی: جی ہاں حالیؔ کے ہی قافیے پر رکھا ہے اور میرے والد نے براہ راست اپنے والد۔ ۔ ۔ نانا بھی تھے۔ ۔ ۔ میرے دادا کے چچا بھی۔ ۔ ۔ تو ان سے استفادہ کیا۔ میرے والد کا تخلص جب وہ غزل لکھتے تھے۔ ۔ ۔ بعد میں انھوں نے تو صرف نعت ہی لکھنا جاری رکھا غزل گوئی چھوڑ دی۔ غزل گوئی میں ان کا تخلص ہلالیؔ تھا تو گویا واسطہ یوں بنا کہ میرے والد۔ میرے والد کے بعد زلالیؔ ، زلالی کے بعد حالیؔ ۔ یہ بہت بڑا سلسلہ ہے اجازت دیں تو میں اس پر زبردست فخر کروں لیکن محض سلسلوں پر فخر کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ ایک تو یہ صورت حال تھی۔ میرے یہاں صاحب۔ میرے خاندان میں شروع سے دو دھارے تھے۔ ایک تھا مذہب کا اور ایک تھا ادب کا، پورے خاندان میں ایک مذہبی روایت تھی۔ بڑے تسلسل کے ساتھ اور میرے جو اجداد تھے ان کا روزگار کا معاملہ بھی کچھ نہ کچھ اس مذہب کے حوالے سے تھا یعنی اوقاف کی تولیت جو تھی سارے ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے دوران وہ میرے موروثوں کو دی گئی تھی۔ ایک طرح سے آپ انھیں Custodian Generalکہہ لیجئے اس طرح کی صورت تھی اس پر میں نے کچھ کہا بھی ہے۔

کسی مورث کے لئے ہفت ہزاری منصب

اور تولیت اوقاف کا اعزاز کہیں

اور اس کا کلائمکس یہ ہے۔

آگے بڑھنے کے لئے بانڈ الگ کرنے ہیں

علم صدیوں سے وراثت ہے تمہارے گھر کی

اور ع

عہد رفتہ کی مہک بند ہے صندوقوں میں

تو یہ رہا صاحب۔ اب دونوں چیزیں ظاہر ہے کہ مجھے ایک طرح سے ورثہ میں ملیں۔ صورت حال یہ تھی کہ پورے خاندان میں۔ ۔ ۔ بدایوں میرا وطن ہے۔ پورے خاندان میں نانہال اور دادیہال میں دونوں طرف شاعری ہی شاعری تھی۔ یا تصوف تھا، یا مذہب تھا۔ بس یہی چیزیں تھیں۔

نتیجہ یہ ہوا کہ اس کا ذہن کے اندر بلکہ پوری ذات کے خمیر میں وہ سب چیزیں کہیں ایسے جا کے پیوست ہو گئیں کہ اب چا ہوں بھی تو اپنی ذات سے ان کو خارج نہیں کر سکتا۔ اچھا تو اکتساب اپنا کیا رہا؟ بہت سی چیزیں رد کرنی پڑیں۔ بہت سی چیزیں غیر ضروری نظر آئیں۔ لیکن یہ کہ ان کی چھاپ سے بھی بچ نہیں سکا۔ تو یہ دونوں چیزیں رہیں اور ادب کا خاص طور پر اس لئے سلسلہ رہا کہ کچھ بہت اہم نام ماضی میں اور کچھ خاصے معروف نام حال کے بھی۔ میرے خاندان سے وابستہ رہے۔ ان کا تذکرہ بے سود ہے لیکن اگر آپ ضروری سمجھیں گے تو میں تذکرہ بھی کر دوں گا۔

مسعود: جی نہیں تذکرہ ضروری نہیں۔

عرفان صدیقی: تذکرے کے سلسلہ میں صاحب یہ ہے کہ مثال کے طور پر میرے۔ ۔ ۔ آپ کے علم میں ہو گا ہی کہ میرے دونوں مجموعوں میں کسی قسم کا کوئی تعارفی مضمون یا اور کوئی دیباچہ یا پیش لفظ وغیرہ نہیں ہے۔ ’’کینوس‘‘ کی ابتداء ہی ایک طویل نظم سے ہے ’’سفر کی زنجیر‘‘ تو سفر کی زنجیر اصل میں۔ ۔ ۔ بہت دلچسپ بات ہوئی نیر صاحب کہ ’’سفر کی زنجیر‘‘ کے بعد بریکٹ میں لکھا ہے ’’نا تمام‘‘ تو میرے اکثر احباب نے مجھ سے تقاضا کیا کہ بھئی یہ نظم نا تمام ہے۔ اسے تمام کر دو۔ تو میں نے کہا بھائی یہ تو اسی وقت مکمل ہو گی جب میں مکمل ہو جاؤں گا۔ میں ختم ہو جاؤں گا۔ تو یہ بھی مکمل ہو جائے گی۔ تو وہ اصل میں سفر کی زنجیر جو ہے اس میں اشارے ایک شخص کے مختلف جذباتی، ذہنی شعوری مراحل کے ہیں کہ کن کن مرحلوں سے وہ گذرا ہے۔ اس کی ذات کے خارج میں جو کچھ رونما ہوتا رہا اس کا اس کی ذات پر کیا اثر پڑتا رہا اور اس اثر کو وہ کس طرح سے آج عیاں کرتا ہے تو اس میں بہت زیادہ وضاحتیں نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود مجھے یہ محسوس ہوتا ہے۔ پتہ نہیں آپ لوگ کیا اس سلسلہ میں رائے قائم کرتے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ کچھ پہچان اس میں ہوتی ہے ایک ذہن کی اور یہی میرا مقصد تھا۔

مسعود: زمانہ بھی قائم ہوتا ہے اس میں

عرفان صدیقی: زمانہ قائم ہوتا ہے یقیناً

نیر مسعود: یہ کہ چونکہ میں آپ کا ہم عمر ہوں تو ہم کو تو وہ اپنی ہی چیز معلوم ہوتی ہے

عرفان صدیقی: تو عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ عرفان صدیقی کی زندگی یا اس کے شعور کی داستان اتنی نہیں ہے جتنی اس پورے دور میں پیدا ہونے والے اور پرورش پانے والے اور جوان ہونے والے اور جوان ہونے کے بعد ادھیڑ ہونے والے لوگوں کی بات۔ ۔ ۔ تو یہ لگتا ہے کہ یہ ہمارا گویا حق ہے کہ ہم اس حد تک اپنا تعارف کرا دیں اس سے آگے کا معاملہ یہ ہے کہ میں کیا سوچتا ہوں ان معاملات کے بارے میں، میرے جذبات یا دوسرے کے رد عمل کیا ہیں یہ میری شاعری سے ظاہر ہونا چاہیے اور بھی چیزیں میں نے لکھی ہیں لیکن ظاہر ہے کہ بنیادی طور پر میں نے شاعری کی ہے اور شاعری کے ہی حوالے سے اپنی پہچان جو کچھ بھی ہے ٹوٹی پھوٹی وہ قائم کرانا پسند کرتا ہوں۔ تو شاعری کے حوالے سے اگر ظاہر ہوتا ہے وہی مناسب ہو گا اور وہی بہتر ہو گا۔ یہ کوئی شعوری کوشش نہیں تھی لیکن اب یہ میرے پورے مزاج کا اور میری ذات کا گویا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ اس سانچے کو توڑنا ممکن نہیں ہو گا اور نہ اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

میرے بزرگوں نے کام بڑے کئے یہ اور بات ہے کہ سب لوگوں کو پتہ نہ چلا ہو۔ مثال کے طور پر جس زمانے میں حفیظ جالندھری نے ’’شاہنامۂ اسلام‘‘ لکھا اسی زمانے میں میرے دادا عیش ضیائی صاحب نے ’’شہنشاہ نامہ اسلام ‘‘ لکھا جس کی ۶ جلدیں ہیں۔ چھپ چکی ہیں نظامی پریس سے اور متعدد دیوان۔ ۔ ۔ میرے دادا شاد صاحب اکرام احمد صاحب شاد۔ وہ شاگرد تھے احسن مارہروی کے اور اس حوالے سے داغ اسکول کے آدمی تھے۔ ان کا بھی نظامی پریس سے انتخاب ’’نغمات شاد‘‘ کے نام سے بہت پہلے شائع ہوا تھا۔ میری پیدائش کے وقت ۱۹۴۔ ء میں والد نے جیسا کہ میں نے عرض کیا غزل سے اپنا رشتہ توڑ کر بالکل نعت گوئی اور تاریخ اسلام کو نظم کرنے تک اپنے کو محدود کر لیا تھا یا اپنے کو وسیع تر کر لیا تھا ان کی بہت سی چیزیں ہیں کچھ چھپ چکی ہیں اور کچھ نہیں چھپی ہیں ’’لمعات اسلامی‘‘ کے نام سے انھوں نے اسلامی تاریخ کے کچھ بہت درخشاں واقعات کو منظوم کیا تھا۔ وہ ابھی چھپا نہیں ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ میں اسے چھپواؤں۔ حال کے ناموں میں مثال کے طور پر محشر بدایونی میرے چچا ہیں۔ میرے والد کے حقیقی چچا زاد بھائی۔ پھر دلاور فگار ہیں۔ میرے والد کے حقیقی پھوپھی زاد بھائی۔ مطلب یہ کہ ایک ہی گھر کی میں بات کر رہا ہوں۔ ایک دادا پر دادا ایک نانا پر نانا کی تو اس طرح سے نیر صاحب یہ رہا ہے معاملہ اور میرے والد کے چچا زاد بھائی سبطین احمد ہیں۔ انھوں نے بہت کام اسلامی تاریخ پر کیا ہے۔ انگریزی اور اردو میں بھی۔ پاکستان میں ’’سیرت النبی‘‘ کی دو جلدیں انھوں نے انگریزی میں ترجمہ کیں۔ وہ وہاں چھپی ہیں۔ اس کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ تو یہ مختلف دھارے نیر صاحب۔ ۔ ۔ یہ بھی صرف اس لئے کہنا پڑا کہ کچھ پدرم سلطان بود والی بات نہیں ہے لیکن یہ چونکہ آپ نے پوچھا ہے اس لئے بتایا۔

نیر مسعود: نہیں یہ بات ضروری بھی تھی۔

مسعود: اب کچھ اپنی والدہ کے بارے میں فرمائیے

عرفان صدیقی: والدہ کے بارے میں عرض کرتا ہوں۔ میری والدہ۔ ۔ ۔ اصل میں میری اپنی شخصیت پر میری والدہ کی بہت گہری چھاپ ہے صورتحال یوں ہے کہ جیسا اکثر گھروں میں ہوتا ہے۔ میری والدہ اپنے مزاج کے اعتبار سے اور میرے والد اپنے مزاج کے اعتبار سے خاصے مختلف یعنی ضدین جیسے تھے۔ ایک بے حد رقیق القلب اور نرم اور گداز یعنی میری والدہ۔ اور ایک بظاہر بہت سخت اور با اصول یعنی میرے والد۔ والد سے تو جو کچھ سیکھا بہت سیکھا۔ ۔ ۔ البتہ اگر کہا جائے کہ جو کچھ ٹوٹے پھوٹے لفظ آتے ہیں وہ اپنے والد اور دادا کی وجہ سے آتے ہیں۔ مدرسہ اور کالج اور اسکول کا اتنا ہاتھ نہیں ہے۔ لیکن اندر جو کچھ ملا ہے شخصیت کو اس میں بہت زیادہ دین میری والدہ کی ہے۔ میری والدہ خود بھی شاعرہ تھیں اور باقاعدہ شعر کہتی تھیں اور بہت مطالعہ تھا ان کا بلکہ آپ کو حیرت ہو گی اگر میں یہ بتاؤں کہ میں نے اردو کی جتنی بھی بنیادی کتابیں پڑھی ہیں وہ سب اپنی والدہ کی وجہ سے پڑھی ہیں اس لئے کہ وہ منگواتی تھیں۔ وہ پڑھتی تھیں علاوہ ان چیزوں کو جو والد پڑھاتے تھے تو گویا پہلا تعارف جو کچھ ہوا اردو کے بنیادی ادب سے وہ اپنی والدہ کے حوالے سے۔ ان کی شخصیت کی کچھ چیزیں ملیں مثلاً بہت رقیق القلب تھیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ نہیں صاحب بہت زیادہ وقت جو گذرا ہے کوئی بہت خوبی کی بات نہیں ہے لیکن یہ کہ یہ سب چیزیں اندر کہیں جذب ہیں۔ ایک اور پہلو جو اکثر آپ نے دیکھا ہو گا بار بار وہ شاعری کا ایک پہلو ہے میری لیکن ہے بہت اہم معاملہ۔ یعنی ’’کربلا‘‘ کے واقعہ نے جس طرح مجھے متاثر کیا ہے یہ بڑی دین ہے میری والدہ کی۔

نیر مسعود: تو تین روایتیں آپ کے پسِ پشت رہی ہیں۔ دینی اور مذہبی روایت ایک ادبی روایت اور ایک تصوف کی روایت۔ کربلا کا ذکر آپ نے کر ہی دیا۔ اب تو خیر باقاعدہ یہ ایک مضمون بن گیا ہے کربلا کا اور بہت دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں آپ کا نام بہت کم لیا جاتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی صاحب تو برہم ہو گئے اس بات پر کہ عرفان کا نام نہیں لیا جا رہا ہے آپ نے غالباً سب سے پہلے باقاعدہ اس کو شعری استعارہ بنا کر پیش کیا ہے تو یہ ہم لوگ پوچھنا بھی چاہ رہے تھے کہ اسے محض استعارہ گڑھنے کا شوق تو نہیں کہہ سکتے یہ استعارہ تو موجود تھا ہی ہمارے یہاں۔ اگر جدت کا شوق ہوتا تو کوئی اور استعارہ اور علامتیں ڈھونڈتے۔ تو ایک علامت جو ہمارے یہاں کمزور طریقے پر موجود تھی آپ نے اس کو بالالتزام برتا اور بہت آگے بڑھا دیا۔ اس وقت بھی اگرچہ ہمارے افتخار عارف کی بھی بہت شہرت ہے۔ میں اور انھوں نے بہت کچھ اچھے شعر کہے بھی لیکن تعداد میں بھی آپ کے شعر ان سے زیادہ اور تنوع میں بھی زیادہ ہیں تو کیا سبب تھا کہ آپ کو اس واقعہ کے علامات یا رموز اپنے خیالات کے اظہار کے لئے زیادہ سازگار معلوم ہوئے ؟

عرفان صدیقی: عرض کرتا ہوں۔ یوں ہے نیر صاحب کہ مجھے زندگی کے وہ موضوعات جن کے بارے میں مجھے کچھ کہنا ضروری محسوس ہوا ان میں ایک بہت پیش یا افتادہ بات لگے گی، مگر ہے۔ میں اس میں کیا کر سکتا ہوں۔ ظلم اور بے انصافی اور جبر اور تشدد کے مقابلے میں آدمی کی خودی کا اثبات کیوں کر ممکن ہے۔

نیر مسعود: بہت عمدہ بات ہے۔

عرفان صدیقی: تو صاحب یہ سب چیزیں کہیں نہ کہیں میرے خمیر کا حصہ ہیں۔ اپنے آپ تو ایسا نہیں ہو گیا کہ یہ سب چیزیں اچانک مجھے اہم معلوم ہونے لگیں۔ ظاہر ہے کہ اندر سے میری نشو و نما اس قسم کی تھی کہ یہ چیزیں بہت اہم لگتی رہیں تو یہ موضوع مجھے بہت بنیادی موضوع لگتا ہے۔ نیر صاحب کہ آدمی کیا واقعی بے بس ہے۔ کیا ایسا ہے کہ آدمی ظلم کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا؟

تو کربلا کے سلسلہ میں یہ تھا کہ جیسے ’’کینوس‘‘ میں آپ دیکھیں۔ کہ۔ ۔ ۔ اب یہاں مطلب کی بنیاد واضح کر دوں کہ ایک تو موضوع یہ ہے کہ یہ صرف ایک موضوع ایک پہلو ہے لیکن ایک موضوع یہ ہے کہ انسان انتہائی جبر اور انتہائی تشدد، انتہائی ظلم کے مقابلے میں اپنے آپ کو۔ ۔ ۔ جسے قرآن ’’صبر‘‘ کہتا ہے ہم لوگ اس کو بہت محدود معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ اپنی خودی کا اثبات کیوں کر کر سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کوئی کہاں تک خود کو قائم رکھ سکتا ہے۔ یہ موضوع مجھے صاحب بڑا اہم لگتا ہے بلکہ مجھے تو ساری دنیا میں اگر آپ سچ پوچھیے تو ہر طرف یہی چیز نظر آتی ہے اور اس میں زبان کی کوئی قید نہیں ہے۔ یہ لڑائی ازل سے جاری تھی اور ابد تک جاری رہے گی۔ میں نے لکھا بھی ہے۔

پھر ایک عجیب تماشہ رہے گا صدیوں تک

یہ کاروبار کمان گلو ہے کتنی دیر

یہ شعر جس غزل میں شامل ہے وہ دوسرے مجموعے ’’ شب درمیاں ‘‘ میں ہے ’’کینوس‘‘ کی شاعری میں سے شعر میں آپ کے سامنے عرض کرتا ہوں۔

سروں کے پھول سر نوک نیزہ کھلتے رہے

یہ فصل سوکھی ہوئی ٹہنیوں پہ پھلتی رہی

یا یہ کہ

جو بھی تم چا ہو وہ تاریخ میں تحریر کرو

یہ تو نیزہ ہی سمجھتا ہے کہ سر میں کیا تھا

تو عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب سے میں نے لکھنا شروع کیا ہے مجھے یہ موضوع بہت اہم لگاہے اور اس کی جھلک آپ نے دیکھی۔

نیر مسعود: اچھا اب آپ کو خیال ہو گا کہ آصف فرخی نے انتظار حسین سے جو گفتگو کی تھی وہ بہت خوبصورت انداز میں شروع کی تھی کہ انھوں نے ایک دم پوچھ لیا کہ انتظار صاحب آپ کو دنیا کیسی لگتی ہے ؟ جیسی کہ انتظار حسین کی عادت ہے کہ بظاہر وہ گھبرا گئے بوکھلا کر پوچھا ’’بھئی کیا مطلب تو یہ جو آپ کے یہاں کربلا کی علامتیں ہیں۔ اس میں آپ نے جیسا بتایا کہ ظلم اور جبر کے خلاف اپنی شخصیت کا اثبات یہ کربلا بہت بڑا استعارہ ہے تو اب ہم سبھی ایک طرح سے محسوس کر رہے ہیں کہ ظلم اور جور کے ماحول میں گھرے ہوئے ہیں۔ شاعر ظاہر ہے کہ اس کو زیادہ محسوس کرتا ہے اس لئے کہ زیادہ حساس ہوتا ہے تو مسئلہ یہ ہے کہ ہم ظلم و جور میں گھرے ہوئے تو ہیں لیکن ظلم و جور کرنے والے ہم کو نظر نہیں آ رہے ہیں ورنہ ان کے خلاف ہم مورچہ کھول دیتے تو آپ کو کیا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ جو Hostileدنیا آپ کے مقابلہ میں ہے اس کی Hostilityکہاں ہے کس نوعیت کی ہے ؟

عرفان صدیقی: یہ بہت معنی خیز بات آپ نے فرمائی ہے بالکل سچ ہے نیر صاحب کہ ہم اپنے۔ ۔ ۔ ہم سے مراد ہے آدمی۔ وہ آدمی جو ظلم کی طاقتوں کے یا نا انصافی کی طاقتوں کے مقابلہ میں ڈٹا ہوا ہے اور شاعر اس کے ترجمان کی حیثیت سے ہے۔ ان طاقوں کو پوری طرح identifyنہیں کر پاتا ان کی شناخت بہت مشکل ہو گئی ہے کہ اب بالکل سفید و سیاہ کے خانوں کی طرح ظلم اور مظلومی بٹی ہوئی نہیں ہے۔

نیر مسعود: ہاں نہیں ہے۔

عرفان صدیقی: شاید شروع میں بھی یہ صورت تھی لیکن اس وقت یہ پہچان اس لئے آسان تھی کہ ظلم کے ذرائع معلوم تھے اور وہ بہت محدود تھے۔

مسعود: ظلم کرنے والی جو طاقتیں ہیں ان کو identifyکرنے کا ایک سوال ہے۔ یعنی آدمی جو ظلم کے خلاف ڈٹا ہوا ہے۔ ظلم کا شکار ہے وہ پچان نہیں پا رہا ہے کہ کون سی طاقتیں ہیں جو اس پر ظلم کر رہی ہیں، ظلم کی کتنی جہتیں ہیں۔

نیر مسعود: ہاں اصل مسئلہ تو یہی ہے۔ اگر اس کو پہچان لیا جائے تو اس سے لڑنا بھی آسان ہو جائے۔

مسعود: اور ظلم کی کتنی صورتیں ہیں بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں ڈاکٹر صاحب کہ آپ کو بظاہر نہیں لگے گا کہ ظلم ہو رہا ہے لیکن پس پردہ۔ ۔ ۔

نیر مسعود: ہاں کاروبار بہت فنکارانہ ہو گیا ہے مظلوم کے پاس تو کوئی فن نہیں ہے۔

مسعود: جیسے میں اس سے ہٹ کر ذرا ایک بات کہوں۔ ایک مرتبہ آپ بھی کہہ رہے تھے کہ ایسے کئی لوگ ہیں ہمارے دانشوروں میں جو مثلاً یہ کہ باقاعدہ۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی:جی ہاں کچھ تو نا محسوس اور نا معلوم طور پر آلۂ کار بن جاتے ہیں یا شکار بن جاتے ہیں۔ تو میں نے یہ عرض کیا تھا کہ زمانہ اور زمانے کے معاملات اتنے پیچیدہ ہو گئے ہیں کہ اب ظلم کو بہت آسانی کے ساتھ پہچانا نہیں جا سکتا بہت ظلم ایسے ہیں جو بظاہر بہت مہربانی اور عنایت نظر آتے ہیں لیکن ہیں اصل میں ظلم۔ تو اچھا اب یہاں شاعر کا۔ اگر آپ اجازت دیں تو کہوں کہ منصب۔ ۔ ۔ ورنہ یہ کہ فرض ہے کہ وہ کوشش کرے کہ شناخت قائم ہو جائے کہ ظلم اصل میں ہے کیا اور اس ظلم کے مقابلہ میں مظلوم کا رد عمل کیا ہونا چاہئے۔ مظلوم کے رد عمل کے سلسلہ میں نیر صاحب ایقان کا حصہ جو بات بن چکی ہے وہ یہ ہے مزاحمت کسی نہ کسی سطح پر ضروری ہے وہ مزاحمت عمل سے بھی ہو سکتی ہے اور وہ مزاحمت محض خیال اور عقیدہ سے بھی ہو سکتی ہے۔ اگر ظلم کوئی شخص بہت آسانی سے۔ ۔ ۔ اور بہت خاموشی سے۔ آسانی نہ کہئے، بلکہ خاموشی سے سہ لیتا ہے تو وہ خود بھی ظالم ہے۔ وہ ظلم کا حصہ بن جاتا ہے۔ ایک شعر میں نے کہا تھا اس موضوع پر۔

بہت کچھ دوستو بسمل کے چپ رہنے سے ہوتا ہے

فقط اس خنجر دستِ جفا سے کچھ نہیں ہوتا

تو یہ بھی معاملہ ہے صاحب۔ لوگ ظلم کر رہے ہیں اور بعض لوگ ظلم سہ رہے ہیں۔ تو جو ظلم سہ رہے ہیں وہ بھی ایک مرحلے پر اتنے ہی قابل مذمت ہو سکتے ہیں جتنے ظلم کرنے والے۔ اس لئے کہ ظلم اگر آپ سہ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ظلم کو پنپنے کا موقع دے رہے ہیں۔

تو دو چیزیں سامنے آئیں ایک تو شناخت قائم کرنا کہ ظلم اصل میں ہے کیا؟ بھیس بدل بدل کے آتا ہے تو اس کو identifyکرنا بہت ضروری ہے۔ یہ کام تو بہر حال کچھ نہ کچھ ظاہر ہے کہ فنکاروں کے کرنے کا ہے۔ ادیبوں، شاعروں کے علاوہ جو دوسرے لوگ ہیں یہ کام کر رہے ہیں ان کے یہاں اپنے اپنے مفادات بھی نظر آتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ظلم کو identifyکرنے کا دعویٰ تو بہت سے سیاستداں، بہت سے صوفی اور دوسرے لوگ کرتے ہیں ہی لیکن صحافیوں اور سیاستدانوں کے جو رویے ہیں ظاہر ہے کہ شاعر افسانہ نگار یا کسی اور ادیب کا رویہ نہیں ہو سکتا نہ ہونا چاہئے تو ہمارے ان کے approachمیں بھی فرق ہے اور غالباً نتائج میں بھی فرق ہے۔

مسعود: سہل انگاری بھی ہے ایک طرح سے ان کے یہاں۔

عرفان صدیقی: صحافت میں تو خاص طور پر سیاہ کو سفید کو اور سفید کو سیاہ ثابت کرنے کی شعوری کوشش ہے اور وہ اس میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں یعنی ایسی یلغار کر دی ہے ذرائع ابلاغ نے کہ آدمی کو بالکل پہچاننے سے معذور کر دیا ہے کہ سچ کیا ہے جھوٹ کیا ہے۔ ظلم کیا ہے اور مظلومی کیا ہے۔ انصاف کیا ہے بے انصافی کیا ہے، تو ظاہر ہے کہ شاعر کا تو یہ رویہ ہو ہی نہیں سکتا۔ تو ایک تو ظلم کی شناخت، بے انصافی کی شناخت اور دوسرے یہ کہ خود مظلوم کو اس چیز کا احساس دلانا کہ اگر تم ظلم کو خاموشی سے سہ لو گے تو تم بھی ظلم کے systemکا ایک حصہ بن جاؤ گے۔ اس سلسلہ میں ایک موضوع ہے۔ ۔ ۔ یہ موضوع اس لئے بہت اہم نظر آتا ہے نیر صاحب۔ ۔ ۔ پھر بات تو انھیں اصطلاحوں میں کرنی پڑتی ہے کہ جنھیں سیاست داں کرتے یا سماج کے دوسرے ماہرین کرتے ہیں معاملہ ہے انسانیت کی existence کا اگر یہ خبر نہ ہو کہ کہیں روک لگنی چاہئے نا انصافی پر اور ظلم پر اور جبر پر تو پھر شاید انسانیت کا وجود ہی نظر بھی پڑ جائے تو کچھ اس اعتبار سے تو بڑا اہم موضوع مجھے لگتا ہے، صرف ایک موضوع لیکن ہے۔

نیر مسعود: اچھا اب تین عناصر قرار پائے تھے آپ کے پس منظر کے۔ ایک تو مذہب تھا جس کا حوالہ کربلا کے سلسلہ میں آیا اگر چہ اس میں گفتگو ابھی بہت باقی ہے اس لئے کہ آپ کے یہاں علائم کی جو تعمیر ہوئی وہ گویا ظلم کے بالمقابل ہونے کی وجہ سے آپ کر بلا کو اپنے سامنے رکھتے ہیں تو اس کے مذہبی پہلو سے فی الحال ہم سرو کار نہیں رکھیں گے لیکن ایک چیز جو بین بین ہے ان دونوں کے یعنی تصوف۔ تصوف کو بھی ایک حد تک ظلم اور جور کے خلاف احتجاج کے طور پر لوگوں نے پیش کیا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ بالکل سو فیصد تو صحیح نہیں ہے کسی حد تک صحیح ہے۔ آپ کے یہاں تصوف کا بہت گہرا اثر نظر آتا ہے لیکن وہ صوفی منش کا انداز نہیں ہے۔ نہ آپ کی شاعری کو صوفیا نہ شاعری ہی کہیں گے لیکن تصوف کا ادر اک اور شعور بہت زبردست آپ کے یہاں ہے اور اس کی اصطلاحات بھی آپ کے یہاں۔ ابدال وغیرہ۔ آتی ہیں۔ تو کس طرح تصوف نے آپ کو متاثر کیا؟ یعنی یوں تو آپ کے انداز میں تو ہے صوفی منشی اور بے نیازی۔ ایک طرح کی قناعت پسندی لیکن کلام میں تصوف جھلک رہا ہے اس کو بتائیے کہ آپ کس طرح متاثر ہوئے ہیں، اس تصوف سے۔

عرفان صدیقی: اس میں بھی نیر صاحب معاملہ یہ ہے کہ تصوف کی بھی دو، آپ نے خود بھی فرمایا، تصوف کی دو سطحیں ہو سکتی ہیں۔ ایک تو خالص نظریاتی یا academicسطح ہے کہ تصوف۔ ۔ ۔ جو رشتہ ہے اس رشتے میں اخلاص کی تلاش کا نام تصوف ہے۔ رشتہ جو انسان اور خدا کے درمیان ہے ایک بات تو یہ ہے بنیادی۔ لیکن تصوف کا جو پہلو بہت زیادہ مجھے اہم لگتا ہے اور جس کی جھلک آپ نے جیسا کہ فرمایا آپ کو نظر آتی ہے اور آنی چاہئے اس لئے کہ ہے بھی کہ تصوف عام انسانی زندگی پر کس طرح سے اثر انداز ہوتا ہے۔ تصوف سے مراد یہ ہے کہ وہ approachزندگی کے تئیں جو تصوف سکھاتا ہے وہ کہاں تک انسانی زندگی کے لئے اہم ہے۔ مجھے وہ approachاس لئے با معنی نظر آتا ہے کہ اس کا رشتہ بھی ظلم کے خلاف احتجاج سے کہیں نہ کہیں جڑ جاتا ہے اس حد تک کہ تصوف بھی بعض جبر کے systemجو ہیں ان کے خلاف ایک طرح کا احتجاج تھا۔ وہ جبر کے systemخود مذہب کے مظاہر میں بھی قائم تھے۔ وہ جکڑ بندیاں، وہ سختیاں، وہ ظاہری معاملات پر اصرار۔ ان سب چیزوں سے ایک خاص طرح کی بغاوت کا نام تصوف ہے۔ عملی اعتبار سے اس سے بھی آگے بڑھ کر تصوف نے جو بنیادی تعلیم دی بلکہ صوفیا نے جو بنیادی تعلیم دی کہ بھئی انسانوں کا معاملہ جو ہے وہ یہ ہے کہ انسان اور انسان میں کوئی تفریق دوسری پہچانوں کی بنیاد پر نہیں قائم ہونی چاہیے انسان ہونے کے ناطے اور خدا کے بندے ہونے کے ناطے تمام انسان برابر ہیں۔ دو پہلو ہو گئے ایک تو یہ کہ جبر کے systemکے خلاف اور اس گھٹن کے خلاف ایک خاص طرح کی آزادی کی فضا کی تلاش۔ یہ اور ایک یہ approachکہ انسان بڑی قابل قدر چیز ہے اور انسان کی اچھائیوں کی اور انسان کے وجود کی جو بنیادی خوبیاں ہیں ان کی تلاش بہت اہم چیز ہے۔ اس کی ایک جھلک آپ میری شاعری میں پائیے گا۔

مسعود: اچھا یہ جو کر بلا کا ذکر ابھی آیا ہے۔ ظلم اور مظلومی کے حوالے سے جو پس منظر آپ نے اپنا گھریلو اور ذاتی بیان کیا۔ تو ظاہر ہے مسلمان گھرانوں میں تمام اسلامی جنگوں کا ذکر ہوتا ہے جہاد کا بھی ذکر ہوتا ہے تو ہمیں جگہ جگہ شاعری میں آپ کے یہاں کچھ جہاد کا بھی ایک سلسلہ نظر آتا ہے فتوحات کے معنوں میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ وہ ایک حرکت ہے جسے جنگ کہہ سکتے ہیں۔ ماضی کے حوالے بہت ہیں۔ تو سفر کی زنجیر کا جو زمانہ قائم ہوتا ہے تقریباً دوسری جنگ عظیم کے بعد کا زمانہ ہے۔ اس میں جو سب سے بڑا واقعہ ہوا ہے ہمارے بر صغیر میں ہندوستان کی تقسیم کا۔ تو ہمارے بر صغیر کے لوگوں پر اس تقسیم کے جو اثرات پڑے ہیں خاص طور سے مسلمانوں پر، تہذیبی طور پر پوری ایک قوم متاثر ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ۱۹۴۷ء میں مسلمانوں کا تہذیبی ماحول ختم ہو گیا تو تقسیم کے المیہ کے وقت آپ کا بالکل شروع کا زمانہ رہا ہو گا۔ اس زمانے کے معاملات کو جو آپ نے دیکھا، محسوس کیا۔ گھروں میں جو اس کا تذکرہ ہوا تو اس کی بھی ایک خاص تلخی ہمیں نظر آتی ہے کہ آپ کی شاعری میں آتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کچھ بتائیں کہ اس کے کیا اثرات پڑے۔

عرفان صدیقی: میں عرض کرتا ہوں۔ ۔ ۔ اصل میں وہ تصوف کے سلسلہ میں ذرا سی بات عرض کرنا رہ گئی وہ پہلے کر لوں اس کے بعد آپ کے سوال کی طرف آؤں گا۔ ۔ ۔ تو نیر صاحب نے جو تصوف کا سلسلہ میں کہا۔ کہ تصوف کے کون سے پہلو۔ تو میں نے عرض کیا کہ ایک تو وہ پہلو ہے جو گویا جبری نظاموں کے خلاف بغاوت کا ہے اور دوسرا یہ کہ خود انسان کے اندر کی جو بنیادی اچھائیاں ہیں ان کے اثبات کا معاملہ ہے تو یہ دو پہلو ہیں۔ تصوف کا مگر ایک اور معاملہ یہ ہے کہ اصل میں ہمارے ہاں خصوصاً شاعری میں کہ ہم چیزوں کو اور کبھی کبھی بعض اصطلاحوں کو خاصی رسمی طور پر برت لیتے ہیں۔ تصوف کا معاملہ بنیادی طور پر حال کا معاملہ ہے حال کا معاملہ۔ ۔ ۔ تمام صوفیا نے کہا ہے کہ تصوف ایسی چیز نہیں ہے جسے آپ دوسروں کو سمجھا سکیں یا بیان کر سکیں۔ وہ تو ایک کیفیت ہے اور ایک واردات ہے۔ وہ اگر ہے تو ہے۔ نہیں تو نہیں ہے۔ نیر صاحب نے ایک لفظ کی طرف اشارہ کیا تھا ابدال تو سلوک کے رستے کے مختلف مدارج ہیں اور ان مدارج پر فائز لوگوں کے مختلف مراتب۔ ایک شعر ہے میرا:

ورنہ ہم ابدال بھلا کب ترک قناعت کرتے ہیں

ایک تقاضا رنج سفر کا خواہش مال و منال میں تھا

تو relateاس طرح سے کیا ہے کہ مطلب یہ نہیں ہے کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ صاحب آج کے زمانے میں کوئی بڑے ابدال موجود ہیں۔ معاملہ صرف اتنا ہے کہ آج ابدال کی صف میں وہ بھی شامل ہے یقیناً جو اپنی approachکے اعتبار سے ترک قناعت نہ کرے۔ حالانکہ دوسرے مصرعہ میں بات میں نے کچھ اور کہنی چاہی ہے۔ میں نے تو صرف اتنا کہنا چاہا ہے کہ اصل بات خواہش مال و منال نہیں ہے۔ اصل بات ہے رنج سفر۔ رنج سفر اٹھانے کا معاملہ ہے۔ یہ اندر کی ایک imageہے اس کی وجہ سے اسے لوگ خواہش مال و منال سے تعبیر کرتے ہیں لیکن ابدال کی جو میں نے علامت کے لئے استعمال کی ہے اس کا مفہوم صرف اتنا ہی ہے کہ ترک قناعت کیا ہے۔ ترک قناعت کو اس شعر میں میں نے اپنے طور پر interpretکیا ہے۔ عرض یہ ہے کہ تصوف کی دو اصطلاحیں جو آج مجھے relevantانسانی زندگی میں لگتی ہیں ان کو بھی اپنی شاعری میں برتتا ہوں۔

مسعود: تصوف سے بھی۔ ۔ ۔ قناعت اور صبر کا۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: اصل میں قناعت اور تصوف صرف تصوف ہی نہیں میں تو تصوف کی بنیاد ہی نہیں سمجھتا۔ قناعت کو ایک خاص معنی میں قناعت جو ہے یعنی اسے آپ ترک ہوس کہیے کیونکہ ہوس جو ہے پھر اس کا رشتہ وہی ظلم سے جا کے جڑ جاتا ہے۔ ہوس پھر جن چیزوں پر آمادہ کرتی ہے وہ نا انصافیوں کو اور ظلموں کو جنم دیتی ہے۔

اچھا آپ نے مسعود صاحب تقسیم کے سلسلہ میں جو باتیں کہیں تو تقسیم تو صاحب اتنا بڑا المیہ ہے ہندوستان اور پاکستان کا، اور مجھے اب تک یہ لگتا ہے کہ تقسیم جتنا بڑا المیہ ہے اس اعتبار سے اور اس لحاظ سے ہمارے ادب میں اس کا عکس نہیں ملتا۔ میں اردو ادب کی بات کہہ رہا ہوں اور اردو ادب میں تقسیم جیسے بڑے المیہ کا کوئی اتنا گہرا با معنی اور اتنا اہم حوالہ نہیں ہے۔ لوگوں نے ذکر کیا ہے۔ مثلاً یہ کہ فساد سے متعلق افسانے لکھے گئے ٹھیک ہے، لیکن اس پورے تہذیبی ڈھانچے کی شکست و ریخت کے کیا نتائج ہوئے۔ ان سب با توں پر ابھی بہت کچھ لکھنا نیر صاحب باقی ہے اور بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ شاید اس اعتبار سے محض تقسیم کو کسی نے اپنا موضوع نہیں بنایا ہے۔ آپ قرۃ العین حیدر کا ذکر کیجئے لیکن انھوں نے تقسیم کے المیہ کے ایک خاص پہلو کی طرف توجہ رکھی ہے۔ یعنی تقسیم کا المیہ صرف طبقہ اشرافیہ کے لئے نہیں تھا یا کسی ایک خاص طبقے تک محدود نہیں تھا۔ وہ تو ایک اتنا بڑا معاملہ ہے کہ اس کی کچھ نہ کچھ چوٹ ان پر بھی پڑتی ہے جنھوں نے ترک وطن نہیں کیا۔ ان کا تو مسئلہ ہے ہی جو ترک وطن کر کے چلے گئے، ترک وطن کر کے جو نہیں جا سکے کبھی کبھی ان کے مسائل زیادہ اہم نظر آتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ نہ صرف ہندوستان کا مسئلہ تھا، نہ صرف پاکستان کا مسئلہ تھا، پورا انسانی سماج اس سے متاثر ہوا ہے۔ مجھ پر اس حد تک اس کا اثر پڑا ہے کہ مجھے چیزوں کے ٹوٹنے کا رنج نہیں ہے مجھے بحیثیت شاعر رنج اس بات کا ہے کہ کچھ نئی چیزیں ان کی جگہ بن نہیں پائیں۔ دیکھئے اقدار تو بہت subjectiveچیزیں ہیں اور بعض اقدار ایسی ہیں جنھیں آپ زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔

مسعود: افسوس زیاں کا نہیں۔ افسوس اس کا ہے کہ کچھ نیا۔

عرفان صدیقی: ہاں کوئی نیا۔ زندہ اور فعال system وجود میں نہیں آیا۔ تہذیبی سطح پر چیزیں ٹوٹ گئیں۔ بہت اچھا ہوا صاحب بعض چیزوں سے میرا جذباتی لگاؤ تھا۔ یقیناً جو کچھ ٹوٹا ہے اس میں بہت سی چیزیں مجھے عزیز تھیں لیکن ان کی مرثیہ خوانی سے فائدہ نہیں ہے کہ ان کی بازیافت نہیں کی جا سکتی, ان کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ ہے کہ ان چیزوں کے ٹوٹنے کے بعد کچھ اور بنتا تو وہ بنتا ہوا مجھے ہندوستان پاکستان کہیں کچھ نظر نہیں آ رہا ہے مثلاً یہ کہ تقسیم سے پہلے جو سماج کی کیفیت تھی اس میں بعض چیزیں معمولی طور پر اچھی مانی جاتی تھیں مثلاً یہ کہ دولت کی تلاش میں تمام حدوں کو توڑ دینا اور دولت کے حصول کے لئے تمام چیزوں کو بالائے طاق رکھ دینا بہت خراب بات سمجھی جاتی تھی اب یہ خراب بات نہیں سمجھی جاتی۔ یہ دونوں جگہ ہے۔ ہندوستان میں بھی، پاکستان میں بھی۔ تو رنج جو ہے مجھے وہ اس کا ہے کہ ہمارے سامنے کوئی نیا Value Systemابھی تک بن کر نہیں آیا۔ چھا اسے رنج بھی مت کہئے اس لئے کہ ایک سماجیات کے طالب علم کی حیثیت سے مجھے معلوم ہے کہ اقدار اور سماجی ڈھانچے ایک سال دو سال پچاس سال میں نہیں بنتے ہیں۔ بہت وقت لگتا ہے۔ تو المیہ میرا یہ ہے کہ میں ایک ایسے transitoryدور میں زندہ ہوں کہ جس میں پرانی چیزیں ٹوٹ گئی ہیں نئی چیزیں واضح طور پر سامنے نہیں آئیں۔ میں اپنے کو ایک خاص طرح سے بے زمیں پاتا ہوں۔

نیر مسعود: اچھا اب دو باتیں ذرا اور طرح کی۔ ۔ ۔ ہم لوگ خاصے قاعدہ سے چل رہے ہیں (ہنسی)

عرفان صدیقی: نہیں نہیں، تھوڑی بے قاعدگی بھی نیر صاحب ضروری ہے تھوڑی بے ترتیبی۔

نیر مسعود: ہاں بے قاعدگی کی طرف آ رہے ہیں۔ ابھی تک تو ترتیب قائم ہے اب تیسری چیز ادبی روایت آپ کی رہ گئی۔ تو آپ کا رشتہ آپ کی ادبی روایت سے اس حد تک تو ہے کہ آپ کے اجداد کو بھی ادب سے شوق تھا۔ شعر لکھتے تھے، نثر لکھتے تھے، تصنیف و تالیف میں دلچسپی رکھتے تھے۔ اس حد تک تو آپ اسی روایت کی توسیع ہیں، روایت کا جز ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ زمانے کے فرق کی وجہ سے ان بزرگوں اور آپ میں کوئی مماثلت شاعری کی حد تک نہیں ہے اور نہ اس کی توقع کرنا چاہیے کہ صاحب آپ اس طرح کہیے جس طرح مرحوم زلالی صاحب کہہ رہے تھے یا آپ کے والد صاحب کہہ رہے تھے۔

عرفان صدیقی: جی درست

نیر مسعود: لیکن اس کے ساتھ یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر سنجیدگی سے آپ کے اجداد شاعری کرتے تھے اور جو تنقیدی مذاق وغیرہ تھا، خاص طور پر کہ تکنیکی پہلوؤں پر پورا زور دیتے تھے تو آپ کے یہاں بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ بہت ہی ریاض کئے ہوئے شعر ہیں۔ ہر لفظ بہت ٹھونک بجا کر سوچ سمجھ کر استعمال کیا گیا ہے اور اب بد قسمتی ہے کہ ہم اسے خصوصیت کہنے پر مجبور ہیں لیکن پہلے زمانے میں یہ کوئی بہت بڑی خصوصیت نہیں تھی۔ شاعر ہو گا تو اس کے کلام میں پختگی اس لحاظ سے ہو گی ہی، سب لفظ رواں ہوں گے، کسی قسم کا جھول یا غیر فصیح لفظ نہیں آنے پائے گا۔ آپ کے یہاں جو خاص بات نظر آتی ہے وہ یہ کہ پہلے آپ لفظ کے اسرار کو سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد اس کو شعر میں لاتے ہیں۔ آپ کے یہاں جو شعروں میں الفاظ ایک دوسرے سے عجیب و غریب رشتے قائم کرتے نظر آتے ہیں وہ روایتی قسم کے رشتے نہیں ہیں مثلاً رعایت لفظی یا ابہام کا رشتہ ہے نہ صرف یہ کہ کسی مخصوص شعر کے لحاظ سے موزوں لفظ ہوں گے بلکہ اس شعر کے دوسرے لفظوں کے لحاظ سے ہر لفظ کا استعمال ہو گا۔ اس لئے آپ کے یہاں بعض ایسے الفاظ بھی آ جاتے ہیں جو اب کم استعمال ہو رہے ہیں مثلاً ارزانی کرنا یا آپ کے یہاں کسی شعر میں نواح کا لفظ ہے قریہ کا لفظ ہے، اس طرح کے بہت سے الفاظ ہیں۔ تو یہ الفاظ جو آپ استعمال کر رہے ہیں ان کے لانے کے کیا سبب ہیں اور یہ کہ الفاظ کے انتخاب میں آپ کیا محنت کرتے ہیں۔

عرفان صدیقی: نیر صاحب یہ تو آپ نے بہت ضروری بات کہہ دی اس لئے کہ اگر آج کی گفتگو میں یہ بات نہ ہوتی تو مجھے یہ لگتا کہ بات ہی نہیں ہو پائی ہے اور مزے دار بات یہ ہے کہ جو کچھ مجھے کہنا چاہیے تھا تقریباً وہ سب آپ نے کہہ دیا ہے لیکن اب میں عرض کرتا ہوں۔ نیر صاحب جیسا کہ آپ جانتے ہیں لفظ بہت پر اسرار چیز ہے، بہت بڑی چیز بھی ہے۔ بڑی طاقتور چیز بھی ہے اور بڑی مقدس چیز بھی ہے تو لفظ کے اسرار، لفظ کی تقدیس اور لفظ کی گہرائیوں اور امکان کی تلاش۔ ۔ ۔ یہ تو صاحب ہر فنکار کی بنیادی فریضہ ہونا چاہیے۔

دیکھئے واحد toolجو ہمارا اور سارے لکھنے والوں کا وہ لفظ ہی ہے اگر لفظ کو مائنس (minus)کر دیجئے تو ملارمے کی طرح آپ بھی صفحہ سادہ کو سب سے اعلیٰ نظم کہتے رہیے لیکن صورت حال یہ ہے کہ ہم تو لفظوں کے وسیلے ہی سے اپنی بات کہتے ہیں جس طرح سے بھی کہتے ہیں۔ اگر لفظ سے ہماری صرف دور کی شناسائی ہے تو ظاہر کہ ہماری بات بھی اسی حد تک نا مکمل یا ادھوری یا بے معنی یا کم معنی رہے گی جیسا کہ آپ نے کہا مجھے ہمیشہ لفظ کے اسرار نے haunt کیا ہے اور میں نے صاحب اگر ایک دعویٰ بھی کر سکتا ہوں جو پھر وہیmodesty کے خلاف ہے، لیکن اتنا دعویٰ تو میں ضرور کروں گا کہ ایک ایک لفظ کے استعمال پر بھی ہفتوں سوچتا ہوں۔ ہفتوں بلا مبالغہ۔ ۔

نیر مسعود: نہیں، یہ دعویٰ تو آپ کی طرف سے ہم لوگ بھی کر سکتے ہیں۔

عرفان صدیقی: اچھا اور اس لئے سوچتا ہوں۔ ۔ ۔ اس لیے نہیں کہ یہ بہت بڑی چیز ہے اور لوگ ایسا انہیں کر سکتے لیکن میں اس لیے سوچتا ہوں کہ شاید میں جو کچھ بات کہنا چاہتا ہوں وہ اپنے تمام تلازمات اور تمام رموز کے ساتھ اس وقت تک ادا نہیں ہو گی جب تک اس لفظ کے جتنے امکان بھی اجاگر کر سکتا ہوں اجاگر کر لوں تو بہتا تھاہ قسم کی چیز ہے، لیکن جتنے بھی اس کے امکانات کو تلاش کر سکوں اور ان کو برت سکوں، اپنے مفہوم کو پہونچانے میں اس حد تک میں جاؤں اور اس کے لئے خاصی محنت ریاض اور کوشش کرنی پڑتی ہے۔ میں بالکل ان لوگوں میں نہیں ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ شاعری کوئی صاحب الہامی چیز ہے۔ ہوتی ہو گی، الہام خیال کی شکل میں ہوتا ہو گا۔ کوئی چیز آ جاتی ہو گی لیکن شاعری خالص شعوری exerciseہے اور اگر آپ لفظ کے برتنے کے لئے شعور کی اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ نہیں لگتے تو وہ کام نہیں بنتا ہے اور شاعری میں تو بالکل نہیں بنتا ہے صاحب۔

مسعود: تو یہ لفظ سیکھنے کا سلسلہ عرفان صاحب آپ نے بچپن میں۔ ۔ ۔ ظاہر ہے کہ آپ ایسے گھر میں پلے، بڑھے جہاں لفظ کی حرمت کا بہت چلن تھا۔ ۔ ۔ لیکن جس زمانہ میں آپ الفاظ سیکھ رہے تھے۔ الفاظ کے معنی دریافت کر رہے تھے تو ابتدائی دنوں میں آپ نے کس طرح محنت کی ہو گی یہ ہم جاننا چاہتے ہیں۔

عرفان صدیقی: عرض کرتا ہوں۔ یہ بھی ایک ارتقائی عمل تھا پہلے لفظ کے معنی وہی سمجھ میں آتے تھے جو بزرگوں نے بتا دیے یا لغات نے سمجھا دیے۔ لیکن پھر جیسے جیسے شعور ذرا سا بڑھا تو یہ لگا کہ نہیں اس لفظ میں اور بھی کچھ ہو گا تو اور کیا کیا ہو گا؟ تو صورت حال یہ ہے کہ صاحب لفظ کے امکانات محض لغات سے نہیں تلاش کیے جا سکتے۔ ایک لفظ لغت میں ہے اس کے پچاس connotationsآپ کو لغت میں مل جائیں گے لیکن ہو سکتا ہے کہ اس کے پانچ سو مفاہیم مختلف contextsمیں ہوں تو جتنے contextsآپ لفظ کے حوالے سے دریافت کریں گے اتنا ہی زیادہ گویا آپ کی لفظ کی تلاش با معنی ہو جائے گی۔ یہ عمل لڑکپن کے بعد شروع ہوا۔ اس میں یہ بھی ہے کہ صاحب میرے بزرگوں نے بھی اس سلسلہ میں میری یقیناً تربیت کی لیکن اس کے بعد کا جو مرحلہ ہے وہ خالص میرا اپنا ذاتی کوششوں کا معاملہ ہے اور جن چیزوں کی طرف نیر صاحب نے اشارہ کیا۔ بعض لفظ ایسے۔ ۔ ۔ مجھے لگا کہ بعض الفاظ کے امکانات کو سمجھے بغیر ہم نے انھیں تقریباً مسترد کر دیا۔

نیر مسعود: ہاں یہ بڑی زیادتی ہوئی ہے۔

عرفان صدیقی: اچھا ہوا یہ ہے ہمارے یہاں نیر صاحب۔ اردو میں خالص طور پر اساتذہ کی کوششوں کی میں بڑی قدر کرتا ہوں لیکن صاحب یہ کیا صورت حال ہے کہ زبان کو بڑھانے کے بجائے آپ زبان کا دائرہ تنگ کریں۔ متروکات کا بہت سا معاملہ میری سمجھ میں نہیں آتا میں تو آج ’’سو‘‘ بھی استعمال کروں گا اور ’’تلک‘‘ بھی استعمال کروں گا۔ اس لئے کہ مجھے لگتا ہے کہ جہاں میں استعمال کروں گا وہاں میں اس کے بجائے ’’تو‘‘ یا ’’تک‘‘ استعمال نہیں کر سکتا۔ یہ ماننے میں مجھے بہت تامل ہے کہ کوئی لفظ متروک ہو جاتا ہے۔ ایک لفظ جب وجود میں آ جاتا ہے تو پھر آپ اسے استعمال نہ کریں لیکن وہ اپنا وجود قائم رکھتا ہے۔ اس کا وجود قائم ہے، اب اس کو آپ اس کے contextsکی اگر تلاش کر سکیں اور اس کو پھر سے معنی دے سکیں تو یہ آپ کی اپنی قابل قدر۔ ۔ ۔

نیر مسعود: اور اپنی طرف سے فیصلہ دے کے متروک کر دینا۔

عرفان صدیقی: متروک کر دینا۔ ۔ ۔ یہ تو صاحب۔ ۔ ۔

نیر مسعود:۔ ۔ ۔ یہ تو قتل ہے۔

عرفان صدیقی: قتل ہے صاحب۔ بالکل قتل ہے۔ مثال کے طور پر ’’سو‘‘ ہے۔

نیر مسعود: ہاں ’’سو‘‘ آپ کے یہاں آتا ہے بہت۔

عرفان صدیقی: اب صاحب مجھے کبھی کبھی یہ لگتا ہے کہ اگر یہ لفظ میں نہ استعمال کرتا تو بات ہی نہ کر پاتا۔ مثال کے طور پر ایک مطلع ہے میرا

ہوں مشت خاک مگر کوزہ گر کا میں بھی ہوں

سو منتظر اسی لمس ہنر کا میں بھی ہوں

یا جیسے کہ ’’آمین‘‘ اس کو آپ محض دعا کا اثبات سمجھیں یہ محض ایک پہلو ہے لیکن ’’آمین‘‘ کے اور کیا امکانات ہو سکتے ہیں۔ میں اپنا شعر عرض کرتا ہوں۔

ہم بھی پتھر تم بھی پتھر سب پتھر ٹکراؤ

ہم بھی ٹوٹیں تم بھی ٹوٹو سب ٹوٹیں آمین

یا مثلاً اس شعر میں۔

کچھ دن پرند پرورش بال و پر کریں

بے صرفہ کیوں ہواؤں سے پیکار کرتے ہیں

بہت آسان تھا کہ ’’بے صرفہ‘‘ کی جگہ کچھ اور استعمال کرتا۔

نیر مسعود: ہاں ’’بیکار‘‘ سامنے کا لفظ تھا۔

عرفان صدیقی: لیکن توانائی کی رائگانی کے سلسلہ میں مجھے ’’بے صرفہ‘‘ میں جو امکانات نظر آ رہے ہیں وہ مثال کے طور پر ’’بیکار‘‘ میں نہیں نظر آتے۔

مسعود: لیکن عرفان بھائی۔ یہ مزاج کی بات ہوتی ہے۔ مثلاً یہ کہ محاورے کا استعمال، آپ کے یہاں وہ محاورے جو بہت مشہور ہیں ان کا استعمال نہیں ہے۔

عرفان صدیقی: نہیں محاوروں کا شوق مجھے نہیں ہے۔

مسعود: یہ میرے خیال سے آپ کے مزاج کا کچھ حصہ ہے۔

عرفان صدیقی: نہیں، محاوروں کے سلسلہ میں ایک تو معاملہ یہ ہے کہ خاصی جامد چیز ہے محاورہ۔ محاورہ معنی کی توسیع نہیں کرتا۔ ایک معنی قائم ہو گئے ہیں۔ بس تو شاعری میں تو صاحب، قائم شدہ معنوں پر قائم رہنا بڑا۔ گڑبڑ معاملہ ہے۔ جہاں فقروں کی حیثیت سے آئے ہیں محاورے وہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن میں محاورے کو فی نفسہ شاعری کے لئے اچھی چیز نہیں مانتا۔ خراب چیز ہے میرے نزدیک۔

مسعود: اچھا ترکیبیں بھی بہت ہیں آپ کے یہاں۔ نئی سے نئی۔

نیر مسعود: ہاں اس پر یہ بات کرنا ہے کہ اس وقت بہت کم شاعر ہیں جو ترکیب صحیح طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ فیض ہمارے بہت بڑے ماہر تھے۔ اس سلسلہ میں ظفر اقبال کے یہاں بھی ترکیبیں بے تکان استعمال ہوئی ہیں۔ افتخار عارف کے یہاں بھی ترکیبیں اچھی استعمال ہوئی ہیں یعنی وہ ترکیب جو خوشگوار بھی معلوم ہو۔ آپ کے یہاں ترکیب سازی ایسی ہے کہ فوری طور پر یہ معلوم بھی نہیں ہو پاتا کہ یہاں شاعر کوئی ترکیب استعمال کر گیا۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک فارسی ادب پر کافی عبور نہ ہو تو یہ آپ سے پوچھنا بھی چاہ رہا تھا۔ تعلیم کے سلسلہ میں جو پوچھا تھا یہ سوال رہ گیا کہ یہ جو آپ کو ترکیب سازی کی مہارت حاصل ہوئی اس میں کوئی شعوری کوشش ہے۔ آپ کا مطالعہ فارسی کا کیسا رہا ؟

عرفان صدیقی: نیر صاحب ترکیب کے معاملے میں ہے کہ فارسی مجھے ایک طرح سے گھر پر باضابطہ پڑھائی گئی جیسا کہ اور گھروں میں پڑھائی جاتی تھی۔ پہلے آج سے ۴۔ ۔ ۴۵ برس پہلے۔ تو ایک تو یہ ہوا کہ کچھ مزاج کو مناسبت قائم ہو گئی فارسی سے اور میرے دادا مرحوم نے مجھے فارسی پڑھائی۔ والد نے بھی پڑھائی۔ کالج کی یا اسکول کی درسیات میں فارسی سے میرا کوئی تعلق نہیں رہا۔ بنیادی تعلیم فارسی کی اور اردو کی اپنے گھر میں ملی۔ اچھا پھر اس کو مطالعہ کے ذریعہ بھی کچھ کوشش کی کہ اس میں کچھ اضافہ کروں۔ تو ترکیب کا معاملہ یہ ہے کہ اس کا رشتہ پھر وہی لفظوں سے ملتا ہے کہ دو لفظوں کا آپس میں کیا رشتہ کیا ہے۔ دو لفظ کس طرح سے مربوط ہیں یعنی ایک تو ظاہر کی سطح پر جس میں بہت زیادہ مجھے دلچسپی نہیں رہتی لیکن معنوی سطح پر دونوں ایک طرح سے کتنے جڑے ہوئے ہیں یہ، اس تلاش میں رہتا ہوں۔ تو اس لئے آپ تراکیب جیسا کہ آپ نے فرمایا خاصی پائیں گے۔ اچھا اسی بات کو۔ ۔ ۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔ ترکیب کو میں ہر شعر کے لئے لازمی نہیں سمجھتا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھے یہ شعر اس طرح سے کہنا چاہئے تو سانچا اپنے آپ اندر سے یہ ہو جاتا ہے کہ یہی اس کا فطری سانچاہے اس کو اسی طرح سے قائم رکھا جائے۔ مثال کے طور پر :

ملال دولت بردہ پہ خاک ڈالتے ہیں

تو صاحب آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر میں ’’ملال دولتِ بردہ‘‘ نہ کہوں ایک شخص ہے اسے یہ احساس ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے یا جو لکھ رہا ہے یا جو سوچ رہا ہے دوسرے لوگ اس کی سوچ کو اس سے پہلے ناقص طریقے پر عام کیے دیتے ہیں تو آپ مجھ سے یہ فرمائیں گے کہ اگر میں ’’دولت بردہ‘‘ اس کو نہ کہوں تو کیا کہوں ؟ مجھے یہ لگا کہ نہیں بھائی دولتِ بردہ ہی ہے اور یقیناً وہ دولت ہے۔ میں نے کہیں سے بہت جگر کاوی کے بعد کچھ چیز حاصل کی ہے بہت سوچنے کے بعد۔ اور اس کے بعد معلوم ہوا کہ اس کو عام چلتی ہوئی چیز سمجھ کر لوگ لے اڑے اور ادھر ادھر پھیلانے لگے تو وہ دولت بردہ ہے میرے نزدیک اور ملال دولت بردہ۔ ظاہر ہے کہ اس کا ملال بھی فطری ہے۔ اچھا یہ بالکل بھی نہیں ہے کہ کوئی شعوری کوشش ہو کہ انوکھی ترکیبیں ہوں۔ انوکھی نہ ہوں لیکن کم سے کم اس شعر کے لئے لازمی اور انتہائی با معنی ہوں اور یہ اس وقت تک صاحب میرے خیال میں نہیں ہو سکتاجب تک کہ جیسا کہ میں نے عرض کیا، لفظوں کے ایک دوسرے سے تعلق اور رشتے کو پوری طرح دریافت نہ کر لیا جائے۔ پوری طرح تو ممکن نہیں ہے لیکن جہاں تک ممکن ہے۔ زیادہ سے زیادہ جہاں تک ممکن ہو دریافت کر لیا جائے۔

نیر مسعود: اسی مصرع میں مسعود صاحب۔ آپ ذرا دیکھئے کہ ’’ملال دولتِ بردہ پہ خاک ڈالتے ہیں ‘‘ اس میں تقریباً نا محسوس طریقے پر ایک محاورہ بھی موجود ہے۔

عرفان صدیقی: خاک ڈالنا۔ جی ہاں۔ میں نے عرض کیا۔

نیز مسعود: نا محسوس اس لئے کہ ’’ملال دولتِ بردہ‘‘ وہ اس قدر چھایا ہوا ہے۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: بالکل صحیح فرمایا آپ نے۔

نیر مسعود: یہ سب اسرار آپ کے یہاں یوں ہی نہیں ہے کہ بھئی ٹھیک ہے۔ خوش فکر شاعر ہیں تو ان کے یہاں آ گیا۔ لازمی جز و نظر آتا ہے۔ یہ چیز آپ کے یہاں خاص طور پر اہم معلوم ہوتی ہے۔

مسعود: ڈاکٹر صاحب یہ بات صحیح کہی کہ یہاں محاورہ لازمی جز بنتا ہے لیکن کچھ الفاظ ایسے آپ کے یہاں نئے سے نئے اور پرانے استعمال ہوئے شاعری میں کہ جن سے آپ کو کچھ خاصی شغف معلوم ہوتا ہے جیسے سر کی بلندی کے لیے ’’کلاہ‘‘ کا لفظ ہے۔ ایک عزت نفس کا بھی مفہوم اس میں ملتا ہے۔ مثلاً ایک شعر ہے آپ کا کہ ’’میری پگڑی گر گئی۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: لیکن میرا سر بچ گیا۔

مسعود: ایک نہیں ہے یا اسی طرح سے۔ ایک جگہ اور یہی لفظ استعمال ہوا ہے تو اس کا مطالعہ تو ہم معنوی سطح پر بھی کریں گے تو جو پورا پس منظر ہے آپ کی شاعری کا اس کے ساتھ آئے گا لیکن یہ جو ترکیبیں ہیں تو ہمارے دوسرے شعراء جیسے فیض کا آپ نے حوالہ دیا ہے یا مثلاً سراج اورنگ آبادی کے یہاں بہت ترکیبیں ہیں تو آپ نے کس شاعر سے یا کن شاعروں سے اثر قبول کیا ہے ؟

عرفان صدیقی: اثر تو یقیناً ہو گا اس لئے کہ وہ سب میرے۔ ۔ ۔ اور شاعری کے اتنی عظیم انسانی روایت سے جس کا میں بہت چھوٹا سا بھی طالب علم یا متلاشی ہوں تو وہ سب میرا سرمایا ہے۔ اب میں تلاش یہ کرتا ہوں کہ صاحب یہ جو میرے جواہرات سامنے رکھے ہوئے ہیں یہ تو ہیں ہی معلوم نہیں کہ یہ میرے جواہرات ہیں لیکن ممکن ہے کہ یہ جو چھوٹا سا پتھر کا ٹکڑا بھی پڑا ہے۔ میرے اجداد نے جو چھوڑا ہے، اسلاف نے جو چھوڑا ہے اس میں بھی کوئی خاص بات ہو۔ کوئی قیمت ہو تو اس کی بھی دریافت کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر لفظوں ہی کا معاملہ لیجئے ذرا سا ترکیب سے ہٹ جائیے، چاہیے تو ترکیب بھی سمجھیے۔ ایک شعر ہے میرا:

تمہیں رنج بہت تھا دشت کی بے امکانی کا

لو غیب سے پھر اک شکل ظہور پذیر ہوئی

اب میں شعر کی کسی قسم کی تفسیر یا تشریح نہیں کروں گا لیکن ایک بات ہے ’’بے امکانی‘‘ تو صاحب میں بے امکانی کے سوا کیا کہوں۔ یہ میں نہیں سمجھ پایا کیونکہ میں تو دشت کے امکانات ہی پر غور کر رہا ہوں تو مجھے لگا کہ بھئی بے امکانی ہی اس کے لئے ممکن لفظ ہے۔ عموماً اس طرح سے ہوتا ہے کہ جو ایک مفہوم ذہن میں ہوتا ہے یا مضمون ہوتا ہے۔ خیال ہوتا ہے تو اس کے لئے سانچا جو بھی سمجھ میں آیا موزوں کر دیا جائے۔

لیکن یہیں موزونی اور شاعری میں تھوڑا سا فرق ہو جاتا ہے۔ ہر موزوں چیز شاعری نہیں ہوتی میرے نزدیک اپنے کلاسیکی سرمائے کا جو بھی ٹوٹا پھوٹا میں نے مطالعہ کیا اس سے بے پناہ فائدہ پہنچا ہے۔ اچھا اس میں یہی نہیں کہ جو ہمارے معروف شعراء ہیں مثلاً ظاہر ہے کہ اگر میرؔ سے فیضیاب ہوا ہے کوئی تو یہ تو اس کی مجبوری ہے کہ میرؔ سے تو فیض یاب ہونا ہی ہے۔

لیکن میں تو صاحب۔ ۔ ۔ اور سراجؔ بھی اتنے غیر معروف نہیں ہیں۔ ۔ ۔ لیکن میں تو آپ سے سچ عرض کرتا ہوں کہ مجھے تو شاہ ؔ نصیر اور ذوقؔ ، یہ لوگ بھی بہت اہم شاعر نظر آتے ہیں اس لئے کہ ان سے ہم بہت کچھ چیزیں اور لفظ کا استعمال اور شعر میں کس طرح سے لفظوں کو برتا جائے، اس کو ان لوگوں سے ہم سیکھتے ہیں۔ ۔ ۔ تو اتنی عظیم الشان روایت۔ ۔ ۔ جو چیز بھی۔ ۔ ۔ میں نے عرض کیا مجھے اگر پتھر کا ٹکڑا بھی پڑا ہوا کہیں نظر آئے تو میں نے اس کو بھی لینے کی کوشش کی ہے۔ تو ایک تو مجھے اس سلسلہ میں دو تین چیزوں سے فائدہ پہنچا ہے۔ ۔ ۔ میں صاف کہوں اور یہ بھی عرض کر دوں کہ آج کل کے لکھنے والوں کو کیوں یہ فائدے نہیں پہونچ پاتے مثلاً یہ کہ فارسی اور تھوڑی سی عربی کی شدبد یعنی کہ عربی کی اس حد تک کہ ابتدائی چار چھ جماعتوں تک عربی کے ابتدائی اسباق پڑھے، قرآن کو با ترجمہ پڑھا تو ایک مناسبت اس سے بھی قائم ہو گی۔ اچھا پھر یہ ہے کہ خود اردو لفظوں اور ان لفظوں کے اشتقاق کے سلسلہ پر غور کیجئے تو یہ چیزیں روشن ہوتی چلی جائیں گی۔ وہ خود آپ کے لئے مطالعہ کی ایک بنیادی چیز بن جائے گی تو اس سے بہت فائدہ پہونچا، فارسی کے مطالعہ سے اور عربی کی شدبد سے، خود اردو لفظوں کے تاریخی سلسلہ کی تلاش، ارتقا کی تلاش ان سے فائدہ بے حد پہونچا۔

پھر یہ کہ میرا ذہن مطالعہ کے سلسلہ میں تقریباً کباڑ خانہ رہا۔ سچ بات تو یہ ہے۔ یہ بھی پڑھ لو۔ یہ بھی دیکھ لو والا عالم۔ نتیجہ یہ ہوا کہ طرح طرح کی چیزیں اس کباڑ خانے میں جمع ہیں مگر کچھ ایسا Mysterious Processہے کہ ہاتھ وہیں پڑتا ہے ذہن کے اس کباڑ خانے میں جہاں سے چیز نکالنی ہوتی ہے۔ نیر صاحب کا اتنا بڑا کتب خانہ ہے یہ جاتے ہیں تو بس وہیں سے کتاب نکال کے لے آتے ہیں تو کچھ یہی صورت ہے۔

مسعود: آپ نے باقاعدہ شعر کہنا کس عمر سے شروع کیا؟ کس کلاس میں آپ پڑھتے تھے۔

عرفان صدیقی: اچھا صاحب باقاعدگی کا یہ سلسلہ ہے کہ۔ ۔ ۔

مسعود: نہیں میرا مطلب ہے باقاعدہ آپ نے شعر موزوں کرنا کب سے۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: موزوں تو مجھے لگتا ہے صاحب کہ میں نے جب ہوش سنبھال کے غوں غوں کرنا سیکھا ہو گا تو کچھ نہ کچھ موزوں طور پر کہا ہو گا اور اگر چا ہوں تو روایتیں گڑھ بھی سکتا ہوں کہ میری والدہ یہ فرماتی تھیں کہ جب تم تین سال کے تھے تو یوں کہتے تھے وغیرہ۔ لیکن ہے ایسا ضرور کچھ۔ اچھا شاعری باقاعدہ تقریباً باقاعدہ ۹!۱۔ برس کی عمر سے۔ ۔ ۔ یعنی شعر کہنا, ٹوٹے پھوٹے موزوں شعر موزوں کر لینا لفظوں کو جوڑ کے۔ ۔ ۔ وہ اس عمر سے شروع ہو گیا تھا۔ اس کے بعد شاعری کے چھپنے چھپانے کے حوالے سے۔ ۔ ۔ اچھا۔ مشاعرے سے کچھ شروع سے الجھن سی رہتی لیکن مخصوص ادبی محبتیں اور شری نشستیں اتنی اچھی اور با معنی لگتی تھیں تو ظاہر ہے کہ مشاعروں کے حوالے سے باقاع سے فائدہ پہوہ فائدہ پہودگی کا ذکر کرنا بالکل بیکار ہو گا کیوں کہ مجھے کبھی اپیل نہیں کیا اس چیز نے۔ چھپنے چھپانے کے حوالے سے تو یہ ہے کہ سن انیس سو۔ ۔ ۔ اچھا یہ حیرت انگیز بات ہے نیر صاحب۔ اگر چہ بہت معمولی بات ہے لیکن میرے لئے یہ حیرت انگیز ہے کہ میری پہلی کوشش نثر میں تھی اور میں اس وقت دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔ یعنی دسویں کا امتحان دے کے چھٹیوں میں۔ ۔ ۔ ایک مضمون اپنی دانست میں بڑا اہم لکھا۔ ’’ پرتھوی راج راسو میں عربی فارسی الفاظ ‘‘ اور یہ صاحب غالباً ۱۹۵۴ء میں۔ جی ہاں ۱۹۵۴ء میں ہی ’’آج کل‘‘ کے کسی شمارے میں چھپا۔

مسعود: اچھا علم عروض تو آپ نے با قاعدہ سیکھا ہو گا۔

عرفان صدیقی: باقاعدگی کا یہ ہے کہ جیسا میں نے عرض کیا میرے دادا خود ایک ماہر عروضی تھے اور لوگ ان سے پوچھنے کے لئے آتے تھے تو گھر میں اس طرح کی کتابیں بہت سی تھیں۔ ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے مجھے عروض پڑھائی ہو۔ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ شاعری کے سلسلہ میں رویہ کچھ یہی تھا ہمارے گھر میں کہ جانتے تھے کہ یہ لازمی، جسے کہنا چاہیے ایکNecessary Evilہے اور یہ اس تک بھی پہونچے گا، transmitہو گا اولاد تک لیکن یہ کہ بہت زیادہ کچھ اس کی ہمت افزائی بھی نہیں ہوتی تھی کہ صاحب واہ واہ ہو رہی ہے، ہم اپنے دادا صاحب کو اپنی کہی ہوئی غزل سنا رہے ہیں، ایسا کچھ نہیں تھا۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کے پاس جو کچھ مواد تھا، کتابیں تھیں وہ میں نے دیکھیں اور اس وقت تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ لیکن جب تھوڑا سا ذہن اس کے قابل ہوا کہ کچھ تھوڑا بہت سمجھ سکوں تو کچھ چیزیں سمجھ میں آنے لگیں۔ جب تک وہ حیات رہے میں ان سے پوچھتا بھی رہا۔ اپنے والد سے بھی پوچھتا رہا۔ تو ایک طرح سے عروض کے سسٹم سے ایک مناسبت قائم ہوئی اس کے بعد میں نے اس کو خود بھی، جیسے ایک شوق ہوتا ہے شوق کے طور پر میں نے اس کو سیکھنے کی بھی کوشش کی۔ تو اب یہ لگا کہ بہت زیادہ عروض پر اصرار جو ہے وہ کہیں نہ کہیں شاعری کی روح کو تھوڑا سا نقصان، تھوڑا کیا خاصا نقصان پہنچاتا ہے۔ اس لئے بہت اصرار اس پر میں نہیں کرتا لیکن شاعری کے ڈھانچے کے حسن کو قائم رکھنے کے لئے، شعر کا خارجی حسن جو ہوتا ہے، اس کو قائم رکھنے کے لئے وزن کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے میں سمجھتا ہوں کہ تھوڑا بہت علم ہونا اس فن کا ضروری ہے۔

نیر مسعود: اچھا ایک۔ اب اس کو چاہے آخری سوال ہی سمجھیے سوال کیا ایک موضوع ہے اور آخری کا مطلب یہ نہیں کہ بس اب۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: (ہنسی) ہاں دیر بھی بہت ہو گئی ہے۔

نیر مسعود: بات ہو رہی تھی کچھ ایسے لفظوں کی جو اب استعمال نہیں ہو رہے ہیں یا متروک ہی ہو چکے ہیں یا متروک کر دیے گئے لیکن آپ کے یہاں یہ جو پرانے لفظ ہیں وہ اس طرح نہیں آ رہے ہیں کہ آپ گویا زبان میں کہنگی کا رنگ لا رہے ہیں ایسا قطعاً نہیں ہے لیکن ان لفظوں سے ظاہر ہے ایک فضا تو بنتی ہی ہے اور وہ فضا پرانی نہیں ہے یعنی کسی کو یہ شبہ نہیں ہو گا کہ یہ اب سے مثلاً ستر سال پہلے کے کسی شاعر کا کلام ہے لیکن وقت کا ایک عجب سا شعور اس سے بیدار ہوتا ہے۔ اب ہم لوگوں کی جو عمر ہے اگر چہ اس کو فراخ دلی سے آپ بھی تسلیم نہیں کریں گے کہ ہم اب بڈھے ہیں لیکن ہے یہی کہ بڈھے ہو چلے ہیں۔

عرفان صدیقی: (ہنسی ) ہاں ہو تو چلے ہیں۔

نیر مسعود: اور جو تبدیلیاں ہم نے دیکھی ہیں۔ گذشتہ چالیس پینتالیس برس میں اور کسی کا کہنا ہے کہ جو تبدیلیاں ایک ایک سو سال میں ہوا کرتی تھیں وہ ہمارے زمانے میں دس دس سال میں ہو رہی ہیں۔

عرفان صدیقی: درست ہے یہ بہت تیز رفتار زندگی ہو گئی ہے۔

نیر مسعود: تو ہم نے اپنی زندگی میں گو یا چار سو سال کی تبدیلیاں۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: وہ گویا ہم نے اپنی پچھلی عمر میں دیکھی ہیں۔

نیر مسعود: اس کا آپ کے یہاں آئینی اظہار بھی ملتا ہے اگر چہ براہ راست یہ موضوع آپ کا نہیں معلوم ہوتا ہے۔ وقت کا گذرنا۔ تو یہ گذرنا دو طرح سے ہے ایک تو خارجی لحاظ سے، گذشتہ سفر زندگی کی طرف اشارے ہیں کہ جو باتیں پہلے تھیں وہ۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: جی ہاں وہ تو خارج۔

نیر مسعود: اور ایک یہ کہ خود ہم پر سے بہت وقت گذر گیا بلکہ یہ شاید زیادہ تکلیف دہ ہے۔

عرفان صدیقی: جی ہاں۔

نیر مسعود: آپ کے یہاں اس کا شدید احساس ہے لیکن آپ کی بیشتر شاعری کی طرح کوئی چیختا ہوا اظہار بھی اس کا نہیں ہے تو آپ کی شاعری کے محرکات میں یہ وقت یا زمان کیا کردار ادا کر رہا ہے ؟

عرفان صدیقی: نیر صاحب، میں بہت واقعی آپ کا شکر گذار ہوں کہ آپ نے یہ پوچھ کر مجھے بہت ضروری بات کہنے کا موقع دے دیا نیز صاحب وقت جو ہے وہ جیسا کہ ہم سب واقف ہیں، وقت سے زیادہ mysteriousاور پر اسرار اور سمجھ میں نہ آنے والی چیز نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہ انسانی ذہن کی گویا مجبوری ہے کہ ہمیشہ انسان نے اس کے بارے میں سوچاہے کسی نہ کسی شکل میں۔ کسی نہ کسی نہج پر میرے یہاں بھی صاحب وقت کا تصور کچھ اس طرح سے ہے کہ ایک تو زمان کا معاملہ ہے کہ جس کے حصے آپ کر سکتے ہیں کہ صاحب ایسا زمان جو پہلے مستقبل تھا پھر حال ہوا اور آگے ماضی ہو جائے گا اور پھر زمان مستقل ہے جس میں نہ ماضی ہے نہ حال ہے کچھ نہیں ہے۔ یہ دونوں پہلو مجھے بیحد mysteriousلگتے ہیں اور ان میں آدمی کہاں کھڑا ہوا ہے یہ موضوع ایسا ہے کہ جس میں میں نے کچھ سوچا بھی ہے اور جو کچھ اندر اس سلسلہ میں وارد ہوا اس کے اظہار کی کوشش بھی کی۔ اس میں مجھے۔ ۔ ۔ اس کا رشتہ پھر وہی۔ آپ نے جو شروع میں کہا تھا لفظوں کے استعمال کے بارے میں مثلاً میرا ایک شعر ہے :

ترک سفر پہ کیسا نمودار ہو گئے

وہ ناحیے جو در بدری میں نظر نہ آئے

اب تو ظاہر ہے کہ ایک سلسلہ ہے کہ آدمی تلاش میں نکلا اور وہ ذہنی، ذہنی سفر تھا یا خارج میں مادی physicalسطح پر تلاش تھی لیکن وہ ایک سفر تھا۔ ایک تلاش تھی لیکن اس میں بعض چیزیں اس وقت تو آشکار نہیں تھیں بے حد کوشش اور تلاش اور جستجو اور سفر کے باوجود لیکن پھر یوں ہوا کہ وہ سلسلہ رک گیا تو اچانک بعض چیزیں آشکار ہو گئیں اور ایکدم معلوم ہوا کہ ارے یہ اس وقت تو نہیں تھا یہ کیسے ہو گیا کہ جب ہم نے تلاش کی تو کچھ نہ ملا اور جب ترک تلاش کی منزل میں پہونچ گئے تو اچانک وہ چیزیں سمجھ میں آنے لگیں۔

نیر مسعود: وہ کھویا ہوا شہر سامنے آ رہا ہے۔

عرفان صدیقی: آ رہا ہے۔ اب یہاں میں نے ’’ناحیے ‘‘ کا استعمال کیا، وہ ناحیے جو در بدری میں نظر نہ آئے تو اب تھوڑی سی کوشش کے بعد اس مصرع کا structure بدلا جا سکتا تھا اور اس کو موزوں رکھتے ہوئے ’’قریہ‘‘ یا ’’شہر‘‘ وغیرہ کہا جا سکتا تھا لیکن ’’ناحیے ‘‘ کا معاملہ یہ ہے کہ نیر صاحب، کہ میں شہر میں نہیں پہنچا ہوں۔ میں کسی ایک منزل تک پہونچ ہی نہیں پایا۔ میرا تو صرف ناحیے تک معاملہ رہا۔ ناحیہ بستی بھی نہیں ہے بلکہ گویا تقریباً پہونچ گئے ہیں تو میں کہنا یہی چاہتا ہوں کہ ہم بالکل تو نہیں پہونچ پائے صاحب پھر پہونچ بھر گئے تھے۔

نیر مسعود: ہاں، یہ سب اس لفظ کی وجہ سے اور یہ پھر وہی لفظ ہے جو اب کم استعمال ہو رہا ہے۔

عرفان صدیقی: جی ہاں

نیر مسعود: اور ’’ناحیے ‘‘ ہم کو کسی مکانی نقطے پر نہیں نظر آ رہا ہے۔ زمان کے نقطے پر نظر آ رہا ہے۔

عرفان صدیقی: جی ہاں، وہی۔ اس لئے عرض کر رہا تھا کہ وقت سے اس کا یہ رشتہ قائم ہوا کہ بھائی ہم جس سفر پر نکلے تھے اپنے ذہن میں وہ ایک ایسا عجیب و غریب سفر ہے کہ پہونچ تو اس وقت بھی نہ پائے آج بھی جو چیز آشکار ہوئی ہے وہ بالکل اور مطلق کوئی چیز نہیں ہے ناحیے ہی ہیں وہ بھی یعنی اس وقت بھی ملتے تو ناحیے ہی ہوتے۔ تو وقت کے سلسلہ میں صاحب یہ ہے کہ مجھے کئی طرح سے hauntکرتا ہے ایک تو یہ ہے کہ جو تھا وہ اب نہیں ہے وہ گویا میری ذاتی واردات کا حصہ بن گیا۔ وقت کی ایک چھاپ تو یہ ہے کہ جو کچھ تھا وہ اب نہیں رہا۔ تو ایک عجب اندوہ کہیں نہ کہیں اس کا ہے۔ بعض بہت پیاری چیزیں تھیں جو تھیں اور اب نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر میرا ایک شعر ہے :

سب دھوپ اتر گئی ٹوٹی ہوئی دیواروں سے

مگر ایک کرن مرے خوابوں میں اسیر ہوئی

تو یہ بھی وہی وقت گذر جانے کا معاملہ ہوا۔ اچھا، ایک تو یہ ہے، اور ایک وہ وقت ہے جس میں ہم سب گویا ہمیشہ قائم ہیں۔ وہ وقت جیسا پہلے تھا وہی آج بھی ہے، کل بھی رہے گا۔ اس کی مثال میں میں آپ کو ’’کینوس‘‘ سے ایک شعر سنانا چاہتا ہوں۔ ظاہری لفظ شاید آپ کو کافی dubiousاور دھوکہ دینے والے لگیں گے لیکن موضوع کے اعتبار سے اگر آپ غور فرمائیں گے تو لگے گا کہ موضوع وہی ہے جو میں عرض کر رہا ہوں :

ذرا سوچو تو اس دنیا میں شاید کچھ نہیں بدلا

وہی کانٹے ببولوں میں وہی خوشبو گلابوں میں

تو ایک زمان یہ ہے۔

نیر مسعود: جو نہیں بدلتا۔

عرفان صدیقی: بعض چیزیں ایسی ہیں جو قائم رہتی ہیں یعنی خارج میں بھی ان کا وجود قائم رہتا ہے، حالانکہ زمان اس سے بھی آگے کی چیز ہے یہ تو صرف خارجی علامات ہیں ورنہ زمان کو تو کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا تو وقت مجھے انسانی زندگی میں سب سے زیادہ پر اسرار چیز لگتی ہے۔ میں طرح طرح سے اس پر غور کرتا ہوں۔ سمجھ میں کچھ نہیں آتا لیکن سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

مسعود: اچھا ایک شعر کا میں اور ذکر کروں گا۔ وہ ایک معمورہ پس۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی:۔ ۔ ۔ سیل بلا چلتا ہے۔ اصل میں شعروں کا معاملہ یہ ہے کہ بر محل شعر یاد کرنے میں مجھے خاصی زحمت ہوتی ہے۔

مسعود: اس میں بھی آپ نے وقت کے حوالے سے۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: ہاں درست ہے۔ وہ شعر یہ ہے :

اس خرابے میں بھی ہو جائے گی دنیا آباد

ایک معمورہ پس سیل بلا چلتا ہے

تو صورت یہی ہے بھئی کہ کوئی چیز مستقل نہیں ہے، دائمی کچھ بھی نہیں۔ زمان مسلسل میں کوئی چیز دائمی نہیں ہے۔ کچھ نہ کچھ، کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک امکان کی بشارت بھی مجھے کبھی کبھی ملتی ہے نا محسوس طور پر جس کی طرف اس شعر میں بھی اشارہ ہے۔ اس خرابے میں بھی خرابہ ظاہر ہے کہ بے حد اندوہ گیں معاملہ ہے لیکن۔ ۔ ۔

نیر مسعود: ہاں دبائے رکھنا بہتر ہے۔

عرفان صدیقی: تو اگر آپ۔ اسے میں تو شاعری کا ہنر سمجھتا ہوں صاحب، کہ شاعری کا ہنر یہی ہونا چاہئے کہ کہیں انگلی رکھ کے آپ نہیں بتا سکتے کہ یہ کون سی چیز ہے۔ اسی طرح سے شاعری ہو یا اور کوئی فن ہو اس میں معاملہ یہی ہے کہ چیزوں کو بغیر کہے ہوئے اگر آپ پہونچا سکیں یا جتنے subduedانداز میں خصوصاً آپ کے جو اندوہ ہیں۔ آپ کی جو اندرونی، داخلی اذیتیں ہیں ان کا بیان اگر بہت واضح آپ نے کر دیا تو یہ کوئی بہت اعلیٰ درجے کی بات نہیں۔

نیر مسعود: نہیں وہ تو بہت ہی۔ ۔ ۔ یہ تو نوحہ گری۔ تو اب وقت کے سلسلہ میں بہت صحیح بات آپ نے کہی۔ ایک وقت تو ظاہر ہے کہ وہ ہے جو ہم پر سے گزر رہا ہے، بہت سی یادیں ہیں جو ماضی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔

عرفان صدیقی: جی، جی۔ ایک وقت وہ ہے جس سے ہم گذر رہے ہیں۔ کچھ چیزوں کو ہم کہہ رہے ہیں کہ اب نہیں ہیں ہم سب کے بچپن کی، نوجوانی کی یادیں جو اب ختم ہو رہی ہیں، لیکن بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو اب بھی موجود ہیں، نہیں بدلیں۔ وہ آپ کے گلابوں کی خوشبو ہے جسے لیکن وہ بھی بدل جاتی ہے جب ہم وقت سے گذر جاتے ہیں۔

نیر مسعود: پتنگ بازی میں پہلے یہ عالم تھا کہ ذرا سی پتنگ کے لئے کوٹھے پر سے پھاند پھاند پڑتے تھے اب سر کے اوپر سے ڈور گذر جائے۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: گذر جائے تو ہاتھ بڑھانے کو جی نہ چاہے۔

نیر مسعود: تو یہ وقت نہیں گذرا ہم گذر گئے۔ اور آپ کے یہاں یہ دونوں اذیتیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں بلکہ یہ دوسری اذیت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔ وہ جو گذری ہوئی چیزوں کا احساس ہوتا ہے وہ اتنا شدید نہیں ہے لیکن خود اپنے گذر جانے کا۔

عرفان صدیقی: اپنے گذر جانے کا۔ جی ہاں۔

عرفان صدیقی: تو کیا شاید اسی لئے اس کا اظہار اتنا ہی کم ہوا ہے ؟

عرفان صدیقی: کہ اس کا اندوہ نیر صاحب اتنا ہی زیادہ ہے۔ چونکہ اندوہ زیادہ ہے اس لئے اظہار اتنا ہی دبایا گیا ہے اور کوشش یہ کی ہے کہ لگے کہ دبایا ہوا ہے یعنی کسی چیز سے یہ بھی پتہ چل جائے کہ کوئی بڑا ہی گمبھیر دکھ ہے جسے نہ کہنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

نیر مسعود: اچھا ایک بات رہی جا رہی ہے۔ مجموعی رویے کی۔ یہ بھی اس میں کوئی اچھائی برائی کا سوال نہیں۔ ۔ ۔ کہ آپ کا رویہ رجائی نہیں ہے۔ کچھ شعر ہیں۔ آپ نے سنائے بھی لیکن مجموعی حیثیت سے مایوسی۔ مایوسی بھی نہیں کہیں گے ہم۔ اس لئے کہ نا امیدی کا اظہار آپ کے یہاں نہیں ہوتا لیکن افسردگی بہت سخت قسم کی ہے تو خیر۔ مجھ کو اپنے مزاج کی وجہ سے یہ چیز بہت پسند ہے لیکن خود آپ کیا محسوس کرتے ہیں کہ آپ کا عمومی رویہ شاعری میں افسردہ تقریباً مایوس شخص کا سا ہے یا۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: میں عرض کئے دیتا ہوں نیر صاحب۔ مایوس شخص تو میں بالکل نہیں ہوں اور اگر کہیں اس طرح کا تاثر میری شاعری سے قائم ہوتا ہے تو میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ وہ شعر میرا نہیں ہے یا میں نے اس تاثر کے تحت وہ شعر نہیں لکھا ہو گا، ممکن ہے ایسا ہو بلکہ ضرور ہوا ہو گا لیکن رویہ میرا بحیثیت شاعر کے مایوسی کا ہرگز نہیں ہے۔ اصل میں مجموعی طور پر اگر آپ دیکھیے تو میرا رویہ اپنے کو رنج اور خوشی دونوں سے تھوڑا سا detachedرکھنے کا ہے یعنی میرے لئے یہ جو کچھ گذر رہا ہے بہ حیثیت شاعر کے وہ جیسے کسی observatoryمیں ایک متجسس سا شخص کھڑا ہوا ہے۔ اس طرح کا معاملہ ہے تو میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ بعض چیزوں کا اثر مجھ پر ظاہر ہے کہ کیفیات مختلف قسم کی طاری ہوتی ہیں۔ اچھا چونکہ شاعری کے لئے پیغام کو میں نہ صرف یہ کہ ضروری نہیں سمجھتا بلکہ کبھی کبھی بہت خراب چیز سمجھتا ہوں اس لئے شاعری کے ذریعہ سے پیغام دینا بھی میرا کوئی معاملہ نہیں ہے کہ میری رجائیت یا قنوطیت کا ذکر کیا جائے لیکن اتنا ضرور سہی کہ زندگی کے تئیں کسی قسم کی مایوسی مجھے نہیں محسوس ہوتی، اس لئے کہ زندگی ایک مسلسل عمل ہے جو ہوتا جا رہا ہے۔ اس میں ہر طرح کی چیزیں ہو رہی ہیں۔ اچھی بھی ہو رہی ہیں بری بھی ہو رہی ہیں۔ بعض چیزیں ایسی ہیں جن سے ہم خوش ہوتے ہیں۔ بعض چیزوں پر ملال ہوتا ہے تو ان تمام واردات کا سچا سچا اظہار اپنے ذاتی تجربے کے حوالے سے۔ یہ گویا میری شاعری کا معاملہ ہے تو اس میں مایوسی کا معاملہ تو نیر صاحب بالکل نہیں ہے۔

نیر مسعود: نہیں۔ مایوسی تو میں نے خود بھی نہیں۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: لیکن محزونی اور افسردگی۔ آپ نے بہت بجا فرمایا۔ ایک خاص قسم کی محزونی اور افسردگی ہے اور وہ کچھ تو اس لئے ہے کہ خارج میں بعض چیزیں ایسی ہیں جو اندر دکھ پہونچا رہی ہیں تو اس دکھ کا عکس بھی پڑ رہ ہے اور آپ کو معلوم ہو رہا ہے، لیکن کچھ بشارتیں مجھے خوش بھی کر رہی ہیں۔ اس کا بھی عکس شاعری میں ملے گا۔

مجموعی طور پر زندگی سے بہت زیادہ شاکی ہونے کا قائل نہیں ہوں یعنی زندگی کوئی شکایت کی چیز نہیں ہے اگر صرف شکایت یا خرابی کی کوئی چیز ہے تو پھر زندہ رہنا بیکار ہے تو مجھے زندگی بیکار تو بالکل نہیں لگتی۔ بہت با معنی لگتی ہے لیکن زندگی کے معنوں کی تلاش میں جو مختلف کیفیتیں مجھ پر گذرتی ہیں ان میں محزونی بھی ہے افسردگی بھی ہے، اس لئے کہ بعض چیزیں بہت تکلیف پہنچاتی ہیں اور ان کا اظہار ملتا ہے لیکن بشارتیں ہیں جو زندگی کو قائم رکھنے پر اصرار کرتی ہیں۔ تو یہ کیفیت ہے صاحب۔

نیر مسعود: اچھا ایک بہت ضروری سوال چھوٹا جاتا ہے۔ گفتگو میں مزہ بھی آ رہا ہے ایک شعر آپ کا ہے اس طرح اور شعر بھی ہوں گے۔

کہیں کسی کے بدن سے بدن نہ چھو جائے

اس احتیاط میں خواہش کا ڈھنگ سا کچھ ہے

عرفان صدیقی: ’’کچھ ہے ‘‘ جی ہاں۔

نیر مسعود: یہ خاصے شوقین آدمی کا شعر معلوم ہوتا ہے۔

عرفان صدیقی: (قہقہہ) ہاں، جی ہاں۔

نیر مسعود: اور آپ کے یہاں ظاہر ہے۔ رومانی شاعر کا تو ہمارے یہاں زوال ہی ہو گیا ہے۔ پہلے کی طرح کی عشقیہ شاعری نہیں ہو رہی ہے آپ کے یہاں بھی بہت کم ہے۔ لیکن جو ہے تھوڑی بہت وہ بہت ہی پر قوت قسم کی شاعری ہے۔ اب یہ تو ہم نہیں پوچھیں گے آپ سے کہ صاحب اپنے معاشقوں کی داستان سنائیے (ہنسی) لیکن اس کا آپ کی شاعری میں کسی حد تک عمل دخل رہا ہے ؟

عرفان صدیقی: اگر اس طرح کے معاشقے ہوتے تو سنا ضرور دیتا۔ اس میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ آپ سے کچھ نہیں چھپاؤں گا۔ ذرا مزے دار بات ہے۔ اس لئے ایک پہلو تو، بالکل جملہ معترضہ کے طور پر مجھے کہہ لینے دیجیے۔ معاشقوں کے سلسلہ میں کہ ذہنی سطح پر ہو سکتا ہے بہت سے معاشقے رہے ہوں لیکن جسمانی تجربات کچھ بہت قابل ذکر نہیں ہیں۔ لیکن اس چیز کی کمی اگر ہے تو وہ کسی چیز نے پوری کی ہے تو وہ کوشش ہے مشاہدے کو تیز کرنے کی۔ تو یہ جو شعر آپ نے پڑھا۔

کہیں کسی کے بدن سے بدن نہ چھو جائے

اس احتیاط میں خواہش کا ڈھنگ۔ ۔ ۔ کچھ ہے

اصل میں تو میں کہنا یہ چاہتا ہوں اس میں کہ لگتا تو ایسا ہے کہ بالکل مجتنب ہے کوئی شخص۔ لیکن یہ اجتناب ہی یہ ظاہر کر رہا ہے کہ نہیں صاحب، اندر کچھ ہے۔ اگر کچھ نہیں ہے تو اس قدر احتیاط کیا معنی؟

تو ایک انسانی reactionکو میں نے ظاہر کرنا چاہا ہے۔ اچھا جہاں تک عشق کا تعلق ہے تو عشق تو کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ نہ کیا ہو۔ یہ ریکارڈ ہو رہی ہے بات (ہنسی) لیکن یہ کہ عشق سے عام طور پر جو چیزیں مراد لی جاتی ہیں۔ یعنی عشق کے ظاہری معاملات۔ ان میں بہت سی چیزیں نہیں ہوئیں۔ ظاہر ہے کہ کوئی بہت اچھا لگا ہو گا، بہت پسند آیا ہو گا، بہت کچھ اس کے بارے میں سوچا ہو گا۔ وہ سب تو رہتا ہے۔ اس طرح کی عشقیہ شاعری جس کا خارج میں اظہار ہوتا ہے نہیں ملے گی اس لئے کہ وہ ہے نہیں اور جس کا وجود ہی نہیں ہے وہ شاعری میں کہاں سے ملے گا؟ لیکن جسم ایک چیز ہے، انسانی حسن ایک چیز ہے، تناسب جسمانی ایک چیز ہے، انسانی جسم کی کشش ایک چیز ہے۔ اس کے مختلف پہلو میں بدن کے ہزاروں اسرار ہیں۔ وہ سب میں جانتا ہوں اور ان کا شائق بھی ہوں اور ان کو بہت اہم اور ضروری چیز بھی سمجھتا ہوں کیونکہ بہت ادھورا رہتا ہے آدمی ان چیزوں کے بغیر۔

نیر مسعود: عشقیہ شاعری کا ذکر اس لئے ضروری معلوم ہوا کہ آپ کی شاعری کی عام فضا کی جو بات ہو رہی تھی کہ اندوہ اور محزونی کی فضا ہے تو اس میں بالکل متوقع یہ بات تھی کہ آپ کے یہاں جو عشق اور گذشتہ محبتوں اور رومانوں کا تذکرہ ہو گا وہ بھی ایک فریاد کے انداز میں ہو گا لیکن یہ عجیب و غریب چیز ہے کہ اس لحاظ سے آپ کا جو عشقیہ یا رومانی کلام ہے یہ اس فضا سے بالکل الگ ہے۔ آپ کے یہاں مجھے کوئی ایسا شعر یاد نہیں آ رہا ہے ممکن ہے کہ ہو جہاں رومان یا نسوانی حسن کا جو ذکر ہو اس میں اداسی یا محرومی کا بھی تصور ہو بلکہ بہت ہی جاندار قسم کا۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: اصل میں نیر صاحب آپ مجھے اجازت دیں میں دو شعر آپ کو سناؤں۔

نیر مسعود: ہاں ہاں !

عرفان صدیقی: وہ ایک طرح سے عشقیہ شاعری، یا جو بھی کہیے اس میں ایک طرح سے میری approachکی ترجمانی کریں گے۔ ایک شعر تو یہ ہے کہ ع

نا چیز بھی خوباں سے ملاقات میں گم ہے

۔ ۔ ۔ میں نے عرض کیا نہ کہ مجھے تصوف سے جو فائدے پہونچے ہیں وہ محض فکری سطح پر نہیں پہونچے بلکہ مجھے شاعری میں بہت مدد دی ہے بعض چیزوں نے۔

نا چیز بھی خوباں سے ملاقات میں گم ہے

مجذوب ذرا سیر مقامات میں گم ہے

تو ایک معاملہ تو یہ ہے صاحب! اب مجذوب پر بھی ہزاروں چیزیں گذرتی ہیں۔ کبھی وہ سالک ہوتا ہے، کبھی اور آگے بڑھتا ہے، مختلف مقامات ہوتے ہیں قرب حسن کے تو وہ مقامات آتے ہیں۔ زندگی میں کہیں ٹھہر ٹھہر کے رکنا نہیں چاہتے۔ مجذوب تبھی آدمی ہو پاتا ہے جب رکتا نہیں ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ آدمی رکتا ہے ہر مقام پر اور رک کے اس کی سیر کرتا ہے۔ ع

کھلتے ہی نہیں لمس یہ اس جسم کے اسرار

دیکھئے صاحب میں نے ہاتھ واتھ نہیں کہا ہے، نہ آنکھ۔ ۔ ۔

نیر مسعود: جی ہاں محض لمس ہے۔

عرفان صدیقی:         کھلتے ہی نہیں لمس پہ اس جسم کے اسرار

سیاح عجب شہر طلسمات میں گم ہے

تو یہ ایک چیز ہے صاحب، تلاش تو مجھے بھی ہے کہ کیا کیا معنویتیں ہیں انسانی حسن کی، جمال کی اور اس سے قرب اور اتصال کے معاملات کی۔ اور ایک اور شعر یہ ہے کہ:

میں ڈوب گیا جب ترے پیکر میں تو ٹوٹا

یہ وہم کہ تو خود ہی مری ذات میں گم ہے

اصل میں معاملہ یہ ہے نیر صاحب کہ اس میں بھی مجھے اصرار ہے اپنے وجود کو الگ قائم رکھنے کا۔ اس طرح کے عشق کا میں قائل نہیں ہوں آپ نے بالکل صاحب اپنے آپ کو۔ ۔ ۔

نیر مسعود: ہاں۔ محبوب میں گم کر دیا۔

عرفان صدیقی: گم کر دیا اچھا یہ بھی نہیں ہے کہ مجھے ایسا لگے کہ میں اپنے میں کافی ہوں۔ اتصال کی ضرورت ہی نہیں۔ وصل کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ وہ تو میرے اندر ہی موجود ہے۔ نہیں دونوں کا الگ الگ وجود ہے اور دونوں کا قرب اور لمس ضروری بھی ہے اور اس سے انسان کی بہت سی کمیوں کی تلافی ہوتی ہے اور آدمی زیادہ مکمل ہوتا ہے۔

مسعود: ڈاکٹر صاحب ایک چیز میں یہ عرض کروں کہ اس بات کی نشان دہی ’’کینوس‘‘ میں زیادہ ملتی ہے۔

نیر مسعود: وہ جوانی کا کلام ہے بھئی، ظاہر ہے کہ۔ ۔ ۔

مسعود: ہم سفر کے چھوٹ جانے کا ملال، ہمسفر کا ذکر۔ عشق بمعنی ہمسفر۔

نیر مسعود: اصل میں ہمارے یہاں عشقیہ شاعری بہت ہی۔ ۔ ۔ فاروقی صاحب کی زبان میں، پلپلی ہوتی رہی ہے، تو بیشتر جو ہمارے عشقیہ شاعر ہیں میرا تو خیال ہے کہ انھوں نے قاعدہ سے عورت کو دیکھا ہی نہیں (ہنسی)

عرفان صدیقی: وجہ یہی ہے۔ نیر صاحب پلپلی اس لئے ہے۔ واقعی سچ ہے کہ یا تو وہ واردات ان پر گذری ہی نہیں۔ یونہی بس سنی سنائی باتیں بیان کرتے رہے اور یا گذری تو اس سطح سے آگے نہیں بڑھ سکے جو گویا جسمانی اتصال کی سطح ہے۔ عشق کے اسرار کو دریافت کرنے کی کوئی کوشش۔ ۔ ۔ ۔

نیر مسعود:۔ ۔ ۔ نہیں ہے، یہ تو آپ کے یہاں بہت قابلِ ذکر چیز ہے۔ جب کبھی آپ کی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو اس کا بھی ذکر ہونا چاہیے کہ اس وقت جب کہ عشقیہ شاعری out of dateہو چکی ہے تویا غزل میں سے جا چکی ہے اور اگر آتی ہے تو بہت ہی خراب طریقے پر۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ اب اگر عشقیہ شاعری میں تھوڑی سی جان پیدا کی جا سکتی ہے تو غم سے مدد لے کر چونکہ غم ایک قوی جذبہ ہے کشش پیدا کرتا ہے موضوع میں محبت کی مایوسیوں کا تذکرہ کریں تو عشقیہ شاعری شاید کچھ جاندار معلوم ہو ورنہ گیا اس کا زمانہ۔ لیکن آپ کے شعروں میں ظاہر ہے کہ یہ نہیں ہے ظفر اقبال کے یہاں بھی۔ وہ بڑا جاندار اور زندہ اور شاد کام اور با مراد عشق ہے۔ عشق کیوں کہیں۔ اس کو ہم سیدھا سیدھا وصال کہیں۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: وصال کہیں، بالکل۔

مسعود: یہ ہمارے کلاسیکی شاعروں کے یہاں بہت ہے۔

نیر مسعود: بہت ہے میرؔ ، مصحفی وغیرہ ہیں۔ اب یہ سوال، اس کا تعلق صرف آپ کی شاعری سے نہیں ہے لیکن یہ کیا بات ہے کہ رومان ہمارے تقریباً پورے ادب ہی سے غائب ہوتا جا رہا ہے یعنی اب عشقیہ کہانی گویا اچھی لکھی ہی نہیں کہی جا سکتی، نہ عشقیہ شعر اچھا کہا جا سکتا ہے بالعموم یہی کیفیت ہے۔

عرفان صدیقی: آپ صحیح فرما رہے ہیں اصل میں اس کی وجہ وہی ہے کہ اب یہ معاملہ آدمی کا، یا شاعر کا ذاتی واردات کا معاملہ نہیں رہا پہلی محرومی تو یہ رہی۔ میں محرومی ہی کہوں گا اسے کہ شاعری کے لئے بہت ہی بنیادی موضوع ہے۔ ۔ ۔ تو اب معاملہ ہے اس طرح کا۔ سماج اور زندگی انسان کی ایسی ہو گئی ہے کہ جسمانی تمناؤں کی تکمیل اب کوئی مشکل کام نہیں ہے وہ ایک خاصا میکانکی عمل ہو گیا ہے تو بیان کیا کریں آپ؟ آپ کیا بیان کریں گے ؟ لیکن جو لوگ عشق کو عشق سمجھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ میر جیسا عشق تو کسی کو نصیب نہیں ہو گا تو پھر ظاہر ہے کہ میرؔ جیسی عشقیہ شاعری بھی کسی کو نصیب نہیں ہو گی۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ عشق کو کچھ یوں خارج کر دیا گیا ہے، شاعری سے آجکل عموماً کہ عشق بہ حیثیت ایک انسانی واردات کے لوگوں کے تجربوں کا حصہ نہیں رہا۔ عشق میں جسمانی اتصال کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ جسمانی اتصال تو میں نے عرض کیا کہ وہ ایک میکانیکی ہے۔ تمناؤں کی تکمیل ہو گئی، خواہشات کی تکمیل ہو گئی، بات ختم ہو گئی۔ لیکن عشق کا معاملہ یہاں پر ختم نہیں ہو جاتا۔ آپ اجازت دیں تو میں ایک شعر سنادوں۔ میرا ایک مطلع ہے :

تیرا سراپا میرا تماشا کوئی تو برج زوال میں تھا

رات چراغ ساعت ہجراں روشن طاق وصال میں تھا

۔ ۔ ۔ تو ایک معاملہ تو یہ ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں وصال بھی گویا تقریباً ً فراق بن جاتا ہے یا میرا ایک اور شعر ہے :

درد کی شب گذر گئی تیرے خیال کے بغیر

اب کے بجھا چراغ ہجر باد وصال کے بغیر

تو اب اس میں دیکھیے جسم اس طرح سے کوئی رول playنہیں کر رہا ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ جسم کا نہ ہونا، دوسرے شعر میں جسم کا نہ ہونا ایک بہت بڑی محرومی لگ رہا ہے، عجیب و غریب سانحہ لگ رہا ہے کہ بھئی یہ کیا ہوا؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ چراغ ہجر جو ہے وہ بادِ وصال سے بجھے لیکن نہیں ہوا۔ ایسا نہیں ہوا۔ کوئی بات ہی تیری یاد نہیں آئی تیرا جسم ہی ذہن میں نہیں آیا۔ کچھ معاملات نہیں ہوئے نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی کیفیت ہی طاری نہیں ہوئی یعنی کوئی خواہش پیدا نہیں ہوئی تیرے قرب کو حاصل کرنے کی۔ یہ بڑا زبردست المیہ ہو گیا یہ کیا ہو گیا۔ تو میں نے جیسا کہ عرض کیا یہ اس لئے کم ہو گیا ہے کہ ادھر لوگ ایک تو خالص جسمانی سطح پر اس کو برت رہے ہیں تو خاصے میکانیکی انداز میں برت رہے ہیں۔ شاعری کے لئے کوئی مواد فراہم نہیں ہو رہا ہے۔

نیر مسعود: ہاں عشق قریب قریب تفریحی مشغلہ ہے۔

عرفان صدیقی: تفریحی مشغلہ ہے تو چونکہ اچھا اور گہرا عشق انسان کی زندگی سے تقریباً خارج ہو گیا ہے۔ اس لئے شاعری سے بھی خارج ہو گیا تو میں صاحب اب بھی اس عشق کی بڑی قدر کرتا ہوں اور موقع ملے تو میں ویسا عشق پھر کروں جو مجھے بہت اچھے عشقیہ شعر لکھنے کے لئے آمادہ کرے۔

نیر مسعود: اچھا ایک سوال۔ بس اب۔ ۔ ۔ اب واقعی گفتگو ختم کر رہے ہیں۔

عرفان صدیقی: جی جی فرمائیں۔

نیر مسعود: یہ سب آپ کی شاعری ہی پر گفتگو ہو رہی ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ شاعری ہی کے برابر دسترس آپ کو نثر پر بھی حاصل ہے حالانکہ نثر کم آپ لکھ رہے ہیں لیکن جتنی چیزیں بھی آپ نے لکھی ہیں وہ بہت ہی عمدہ ہیں، خیالات کے علاوہ زبان کے اعتبار سے بھی۔ تو شاعری کے بارے میں تو خیر درخواست نہیں ہے اس لئے کہ شاعری تو آپ کریں ہی گے مجبوراً۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: جی ہاں۔ بالکل مجبوری ہے۔

نیر مسعود: لیکن نثر کے سلسلہ میں ہم لوگوں کی یہ درخواست بھی ہے کہ کچھ نہ کچھ لکھتے رہیے کچھ چیزیں آپ نے لکھنا شروع کیں لیکن آپ کی غیر مستقل مزاجی کی وجہ سے وہ تکمیل کو نہیں پہونچ رہی ہیں۔

عرفان صدیقی: بالکل صحیح ہے۔ اصل میں یہ ہوا ہے کہ نثر تو بہت جی چاہتا ہے لکھنے کو۔ کچھ تھوڑا بہت لکھا بھی۔ دو چیزیں نثر میں رہیں ایک تو ترجمے کی سطح پر کچھ کام کیا وہ اب بھی بہت اہم لگتا ہے۔ ترجمہ دشوار لیکن اتنا ہی نشاط انگیز تجربہ لگتا ہے۔ تو ایک تو وہ سطح ہے نثر نگاری کی۔ وہ جاری ہے۔ کچھ چیزیں ہیں جن پر کام کیا جا رہا ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ نیر صاحب کہ میرے جی میں بہت۔ ۔ ۔ بہت دن کچھ ناول یا ناول قسم کی چیز لکھنے کا معاملہ تھا کئی سال سے۔ تو کچھ اس میں لکھا بھی گیا۔ اب سوچتا ہوں کہ اس کو مکمل کروں اور وہ سامنے آ جائے۔ وہ اصل میں بات وہی آ جاتی ہے نیر صاحب کہ چاروں طرف بٹ جانے سے concentrationمیں کچھ کمی آتی ہے لیکن مجھے کچھ ایسا لگتا ہے کہ یہ چیزیں (نثر اور شاعری) ایک دوسرے کو compliment کرتی ہیں یعنی اگر میں شاعر ہوں۔ شاعری کرتا ہوں تو میری نثر نگاری اس کا ایک compliment ہو گی۔

نیر مسعود: اچھے شاعر کو اچھا نثر نگار ہونا ہی چاہیے۔

عرفان صدیقی: جی۔ تو ایک تو یہ ہے کہ انشاء اللہ ارادہ ہے کہ ناول مکمل کروں جو خاصے عرصہ سے ادھورا پڑا ہوا ہے۔ دوسرے یہ کہ کچھ اور چیزیں نثر میں لکھنے کا ارادہ ہے کچھ ترجمے ذہن میں ہیں تو انشاء اللہ کچھ نہ کچھ ہو گا۔

مسعود: ایک سوال ڈاکٹر صاحب میں بھی سوچ رہا ہوں۔

نیر مسعود: ہاں ہاں۔ ضرور۔

مسعود: یہ گفتگو غزل کے حوالے سے ہو رہی تھی۔ آپ کی شاعری جو سب سے بہتر اور زیادہ اظہار ہوا ہے وہ غزل ہی میں ہوا ہے اور جو دوسری چیزیں آپ نے لکھی ہیں ان میں بھی اکثر غزل ہی کے فارم کا سہارا لیا گیا ہے۔ ہمارے یہاں جو اردو غزل کی روایت ہے اس میں ایک تو وہ دھارا ہے جو میر تقی میرؔ سے چلا اور دوسری غالبؔ کی لہر ہے میں اس کو یوں دیکھتا ہوں کہ میرؔ کی غزل کو آگے لے چلیے تو جدید دور میں وہ ناصر ؔ کاظمی تک آ جاتی ہے اور وہ شکست و ریخت جو ہے وہ غالبؔ کے یہاں ہے کہ بہت سے طے شدہ ادبی اصول غالبؔ نے توڑے ہیں۔ یہ تو دو دھارے ہیں اس کے بعد پھر ترقی پسند تحریک کا دور آتا ہے۔

عرفان صدیقی: جی یہ بھی ایک ردیف کی مجبوری ہے (ہنسی)

مسعود: اس نے غزل کو ایک حد تک۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: نقصان پہنچایا۔ ۔ ۔

مسعود: نقصان پہنچایا۔ بہر حال ہماری جو روایت بنتی بگڑتی رہی اس کا ایک حصہ وہ بھی ہے تو آپ کی غزلیں جب ہم پڑھتے ہیں تو بہ حیثیت ایک قاری کے لیکن اگر میں نقادی پر آ جاؤں۔

عرفان صدیقی: نہیں نہیں آپ انشاء اللہ نقاد بنیں گے۔

نیر مسعود: بلکہ اس وقت بھی ہیں۔

مسعود: تو مجھے یہ دونوں دھارے آپ کی غزل میں نہیں نظر آتے۔ کم از کم مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے۔

عرفان صدیقی: صاحب، میں خدا کی قسم بہت خوش ہوں اگر میں کسی دھارے میں آپ کو نظر نہیں آ رہا ہوں اس لئے کہ میں اصل میں کسی دھارے کا شاعر نہیں ہوں۔ میں تو، میں آپ سے سچ عرض کرتا ہوں کہ اب تک میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں میرؔ کو غالبؔ سے کہاں ممیّز کروں۔

مسعود: ممیز کرنے کی بات نہیں ہے۔

عرفان صدیقی: نہیں۔ میں عرض اس لئے کر رہا ہوں۔ مجھے بات پوری کرنے کی اجازت دیں۔ غالبؔ کے ذہن کی پیچیدگی، زبردست پیچیدہ ذہن، عجیب و غریب ! لیکن میرؔ کہیں کہیں مجھے لگتا ہے کہ اس سے زیادہ پیچیدہ ذہن کا شاعر ہے سمجھ میں اب تک نہیں آتا کہ میں، اگر گروہ ہو سکتے ہیں شاعری میں، تو میں میرؔ کے گروہ کا شاعر ہوں یا غالبؔ کے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں ان دونوں کے گروہوں میں آدھا آدھا بٹا ہوا ہوں اس لئے کہ بہت زیادہ فیصلہ نہ کر سکنے کے باوجود یہ طے ہے کہ غالبؔ کی شاعری مجموعی طور پر میرؔ سے مختلف ہے۔ یہ تو ضرور طے ہے تو پھر یہ بھی طے ہے کہ یہ دونوں شاعر الگ الگ طرح کے ہیں۔ میرا معاملہ یہ ہے کہ مجھے دونوں ہی اس قدر پُراسرار اور اتنے اپنی طرف کھینچ لینے والے لگتے ہیں کہ میں کبھی اس طرف جاتا ہوں، کبھی اس طرف جاتا ہوں، بلکہ ایک ہی وقت میں دونوں طرف بٹا ہوا رہتا ہوں۔ ایک ہی وقت میں، ایک ہی شعر میں۔ یہ عجیب و غریب معاملہ ہے اور یہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے لیکن دل میرا میرؔ کی طرف بہت کھنچتا ہے، سچ بات یہ ہے۔

نیر مسعود: بلکہ میرؔ کے بلاک میں غالب ؔ کا بلاک موجود ہے۔

عرفان صدیقی: موجود ہے۔ اصل میں معاملہ یہی ہے اور فاروقی صاحب نے تو اس کو تقریباً ً وضاحت سے عیاں کر دیا ہے۔

مسعود: ہم لوگوں میں کچھ پہلے بات ہو رہی تھی آپ کی شاعری سے متعلق۔ تو ہم نے یہ کہا تھا کہ عرفان صاحب مصحفی کا ذکر بہت کرتے ہیں اپنی گفتگوؤں میں۔

عرفان صدیقی: جی ہاں میں مصحفیؔ کو بڑا اہم شاعر مانتا ہوں۔

مسعود: میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے مصحفیؔ کو زیادہ پڑھا نہیں ہے تو میں یہ نہیں طے کر پا رہا ہوں کہ آیا مصحفی کا کوئی دھارا بنتا ہے یا نہیں۔

عرفان صدیقی: دیکھئے مصحفیؔ کا دھارا بن سکتا تھا اگر میرؔ نہ ہوتے۔ میرؔ کا وجود خارج کر دیجیے آپ اردو شاعری سے تو مصحفیؔ کا دھارا بہت بڑا دھارا بنتا۔ لیکن ایسا تو ہے نہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ میرؔ کا چربہ ہوں۔ بالکل نہیں ہیں، لیکن عجیب و غریب شاعر ہیں۔ لیکن دھارا وہی ہے تو اب اس دھارے میں چونکہ ان سے بہت بڑا شاعر موجود ہے یعنی ظاہر ہے کہ میرؔ اور مصحفیؔ کا کوئی مقابلہ ہم نہیں کر سکتے تو جیسے کسی نے یہ مثال دی تھی کہ برگد کے نیچے کتنا ہی بڑا کوئی درخت ہو۔ کتنا ہی وہ پنپ جائے نظر تو پہلے برگد ہی پر پڑے گی اور رہے گا وہ برگد ہی کے نیچے تو صاحب میرؔ کے برگد کے نیچے آ گئے ہیں مصحفیؔ ۔ معاملہ یہ ہے۔ ورنہ مصحفیؔ بہت اہم شاعر ہیں۔ مثلاً یہ شعر ہے۔ اگر کوئی نہ جانے، مجھ ایسا جاننے والا تو بہ آسانی اسے میرؔ کا شعر سمجھ سکتا ہے۔

ہجر تھا یا وصال تھا کیا تھا

خواب تھا یا خیال تھا کیا تھا

مسعود: بہت بہت شکریہ۔ خدا حافظ

عرفان صدیقی: خدا حافظ۔

(بہ شکریہ ماہنامہ شب خون، الہ آباد)

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

تفہیم اقبال

 

                 شرکائے گفتگو: عرفان صدیقی، شمس الرحمن فاروقی، نیر مسعود

 

پہلی نشست

 

عرفان صدیقی: کلام اقبال کی تفہیم کے سلسلے میں جو چیز سب سے پہلے ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے یہاں تاریخی، مذہبی، اساطیری حوالے، تلمیحات اور استعارے، اتنی کثرت سے ملتے ہیں کہ لگتا ہے جب تک ان سے پوری طرح واقفیت نہ ہو اس کلام کی تہ تک پہنچا مشکل ہو گا۔ اقبال کے یہاں یہ حوالے دوسرے شاعروں کے مقابلے زیادہ ہیں۔ ان کی بہت سی شاعری مختلف رجحانات، تحریکوں اور تاریخی واقعات سے کوئی ربط اور سلسلہ رکھتی ہے۔ مثلاً جب ہم پڑھتے ہیں ؂

لے گئے تثلیث کے فرزند میراث خلیل

خشت بنیاد کلیسا بن گئی خاک حجاز

ہو گئی رسوا زمانے میں کلاہِ لالہ رنگ

جو سراپا ناز تھے، ہیں آج مجبور نیاز

تو ’’کلاہ لالہ رنگ‘‘ کو صرف سرخ رنگ کی ٹوپی سمجھ لینے سے کام نہیں بنتا۔ جب تک آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ خلافت عثمانیہ کا زوال کس طرح ہوا اور اس میں انگریزوں کا کیا کردار رہا تھا، اس وقت تک کلاہ لالہ رنگ، یا ترکی ٹوپی کے رسوا ہونے کا مفہوم روشن نہیں ہوتا۔ فاروقی صاحب، آپ کا کیا خیال ہے ؟ کیا ان حوالوں کو سمجھے بغیر کلام اقبال کی علیحدہ سے تفہیم ممکن ہے ؟

شمس الرحمن فاروقی: اس میں شک نہیں کہ جیسا آپ نے فرمایا، اقبال کے یہاں تاریخی اشارے، علمی اشارے، فلسفیانہ اشارے کثرت سے ہیں اور جب تک ان سے کچھ نہ کچھ واقفیت نہ ہو تب تک بہت سے اشعار کا مفہوم سمجھ میں نہیں آتا، اور اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ ان اشعار کی بڑائی اور عظمت سمجھ میں نہیں آتی۔ لیکن ایک مشکل اور بھی ہے اس سے زیادہ، وہ اس وقت پیش آتی ہے جب تاریخ اور فلسفے کا وہ تصور جو اقبال کے ذہن میں تھا، اس سے واقفیت نہ ہو۔ کیوں کہ یہ تو ممکن ہے کہ جو واقعات ہیں، وہ تاریخ میں لکھے ہوئے دیکھ لیے جائیں کہ ۱۹۔ ۳ ء میں یہ ہوا اور ۱۹۔ ۴ء میں یہ ہوا، اور سلطان عبد المجید کو یوں معز ول کیا گیا، وغیرہ۔ یا حضرت ابوبکرؓ کا واقعہ، یا جو بھی واقعہ سمجھ لیجئے۔ لیکن جیسے یہ شعر ہے ؂

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم

نہایت اس کی حسینؓ ابتدا ہے اسمٰعیل ؑ

اب اس میں اسلامی اور مسلم تاریخ کا بھی ایک خاص نظریہ ہے، اس سے واقفیت چاہیے۔ مان لیجیے میں آپ کو بتا بھی دوں کہ صاحب، اس میں اسمٰعیل علیہ السلام کی اور حسین علیہ السلام کی قربانی کا جو معاملہ ہے، جو ان کا معرکہ تھا حق و باطل کا، وہ ہے۔ لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ ایک پورا تاریخی منظر اور تاریخ کا ایک تصور بھی ہے۔

اور وہیں پر مشکل آ پڑتی ہے۔ اب، مثلاً یہ کہ چونکہ ہم نے پچھلے پچاس ساٹھ ستر برس سے اقبال کا ایک طرح سے استحصال کر رکھا ہے، کچھ لوگ جو ایک خاص نظریے کے مالک ہیں وہ اقبال کو بھی اسی نظریے کا حامل سمجھنا چاہتے ہیں۔ کوئی انھیں انقلابی کہتا ہے، کوئی مسلمchauvinistic کوئی کہتا ہے وہ پاکستان کے نظام کے گویا بانی تھے وغیرہ وغیرہ۔ کچھ لوگ جو اقبال کے مخالف ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ان کے فاشسٹ خیالات ہیں، جنگ جو یا نہ خیالات ہیں، وہ امن کے مخالف ہیں، قوت کے حامی ہیں۔ وغیرہ۔ تو یہاں مشکل آ پڑتی ہے کہ جب اقبال کا ایک تصور تاریخ ہے اور اس کو سمجھے بغیر ہم ان کے کلام کی پوری معنویت کو نہیں سمجھ سکتے، تو اس تصور تاریخ کو ہم کیسے متعین کریں ؟ چونکہ اقبال کے ساتھ Vested Interest بہت ہیں، اس لیے۔ ۔ ۔ اب اگر اسی شعر کو آپ لے لیجیے غریب وسادہ و رنگیں ہے۔ ۔ ۔ تو اس میں سو شلسٹ قسم کا نقاد تاریخی اعتبار سے کچھ اور معنی بتائے گا، جو اسلام پسند ہے وہ کچھ اور معنی نکالے گا، جو اقبال کو قومیت پرست ثابت کرنا چاہتا ہے، کہ گویا ہندوستان کی سالمیت کے معاملے میں وہ کانگریس کی پالیسیوں کے حامی تھے، کم و بیش، وہ اور معنی نکالے گا۔ کتنے معنی نکالے کوئی۔ تو سب سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ اقبال کا اپنا تصور تاریخ، تصور فلسفہ اور تصور فن کیا تھا اور اس کو ہم اپنے طور پر نہیں، خود اقبال کے اقوال، تصورات اور کلام سے نکالیں۔ ایک تو صاحب یہ مشکل ہے، دوسری مشکل یہ ہے کہ بہت ساری چیزیں جو اقبال نے پڑھی تھیں وہ ہماری دسترس میں نہیں ہیں۔ مثلاً ان کے وہ اشعار جو فلسفیوں، اسپنوزا، افلاطون، ہیگل وغیرہ یا شعراء جیسے بائرن، براؤننگ وغیرہ کے بارے میں ہیں۔ اب وہ تو دو دو شعر لکھ کر چلے گئے ہیں، لیکن ظاہر ہے ان کے پیچھے خود اقبال کا پورا انیسویں صدی کے ذہنی مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے مطالعہ تھا کہ اٹھارہ سو نوے یا انیسویں صدی کے ذہنی مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے مطالعہ تھا کہ ۱۸۹۔ ء یا ۱۹۔ ۴ء، ۱۹۰۵ء، ۱۹۱۰ ء کے قریب مغربی یورپ میں لوگوں کا بائرن کے بارے میں کیا خیال تھا، براؤننگ کے بارے میں کیا خیال تھا، اس سے واقفیت اگر نہ ہو تو پھر یہ اشعار۔ ۔ ۔ آپ تعریف ضرور کر دیں گے۔ لیکن ان اشعار کی گہرائی تک نہیں پہنچیں گے۔ تو معاملہ صرف میکانیکی طور پر تلمیحات اور حوالوں کا نہیں ہے۔ بلکہ ان کے پیچھے جو تاریخی فلسفیانہ تصور اقبال کے ذہن میں تھا اس تک پہنچنے کا بھی معاملہ ہے۔

عرفان صدیقی: فاروقی صاحب، آپ نے بہت صحیح فرمایا، اقبال کے یہاں بعض حوالے ایسے ہیں کہ محض تاریخی طور پر آپ انھیں تھوڑا سا decodeکر لیں تو کام نہیں بنتا۔ مثال کے طور پر انھوں نے بہت سے مغربی مفکرین کے اقوال کا ایک طرح سے ترجمہ کر دیا ہے، جمہوریت کے بارے میں، آمریت کے بارے میں، فلاں اصول کے بارے میں، فلاں تحریک کے بارے میں، تو دیکھنا یہ ہے کہ اقبال کے پورے شعری، فکری نظام میں ان چیزوں کی اہمیت کیا ہے۔ مثلاً انھوں نے ایک جگہ کہہ دیا کہ صاحب وہ بھی ترجمہ ہے، کہ ؂

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں، تو لا نہیں کرتے

درست کہا اچھا، اب مجھے یہ لگتا ہے کہ بظاہر انھوں نے محض ترجمہ کر دیا ہے لیکن در اصل یہ جمہوریت پر ان کا commentبھی ہے۔ اور جب commentہے تو اس میں شاعر کا اپنا نقطۂ نظر بھی شامل ہو گیا۔ نیر صاحب، آپ کا اس سلسلے میں کیا خیال ہے ؟

نیر مسعود: عرفان صاحب، ہمارے سامنے جو مسئلہ ہے وہ ایک تو اسی نقطۂ نظر کو سمجھنے کا ہے۔ اس کو ہم صحیح سمجھ رہے ہیں یا نہیں۔ یہ تو بعد میں۔ ۔ ۔ بلکہ وہ ہم قارئین ادب کا درد سر ہے بھی نہیں۔

عرفان صدیقی: ہاں، بالکل صحیح ہے۔

نیر مسعود: ہاں آپ نے صحیح فرمایا کہ اقبال کے یہاں مختلف قسم کے حوالے اور تلمیحات بکثرت ہیں۔ حوالے اور تلمیحات ہماری شاعری میں پہلے بھی بہت تھیں۔ یعنی علوم کا ایک وسیع قسم کا مطالعہ اپنی کلاسیکی شاعری کو سمجھنے کے لیے پہلے بھی ہمارے لیے ضروری تھا۔ تھوڑا بہت نجوم جانیں، کچھ طب جانیں، کچھ تاریخ، کچھ دینیات جانیں، لیکن وہ مطالعہ صرف شاعری کے حوالے سے تھا۔ مثلاً مانی پیغمبری کا مدعی اور ایک تحریک کا بانی تھا، اس سے ہم کو مطلب نہیں، ہم کو صرف یہ معلوم رہنا چاہیے کہ وہ چین کا بہت بڑا مصور تھا۔ حالانکہ نہیں تھا، چینی بھی نہیں تھا۔ لیکن اگر ہم کو اس قسم کا علم نہیں ہے تو ہم ناقص قاری ہیں اور ہم کو شاعری پڑھنے اور سمجھنے کا حق نہیں ہے۔ لیکن اقبال کو سمجھنے کے لیے اتنا ہی علم کافی نہیں ہے جتنا کلاسیکی شعری نظام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ اقبال کے مطالعے کے لیے ہمارا علم نہ صرف وسیع بلکہ گہرا بھی ہونا چاہیے۔ ہم صرف مانی کو نہ جائیں بلکہ ایران کی پوری ذہنی تاریخ سے بھی ہم کو تھوڑی بہت واقفیت ہو۔ گویا اقبال کو سمجھنے کے لیے ہمیں لغت سے زیادہ انسائیکلو پیڈیا دیکھنا ہو گا۔

شمس الرحمن فاروقی: جی ہاں، بہت خوب۔

نیر مسعود: ترکان عثمانی کا ابھی ذکر ہوا تھا۔ ایک شعر مجھے یاد آیا ؂

کوئی تقدیر کی منطق سمجھ سکتا نہیں ورنہ

نہ تھے ترکان عثمانی سے کم ترکان تیموری

اس شعر کی شرح بیخود دہلوی نہیں کر سکتے تھے، نہ بیخود موہانی کر سکتے تھے، نہ ہم کر سکتے ہیں جب تک ترکوں کی اس تاریخ سے واقف نہ ہوں جس کی طرف اشارہ کیا گیا۔ تو اقبال کی تفہیم کا ایک تو یہ مسئلہ ہے۔ سیدھا سیدھا علمی مسئلہ ہے جس کے لیے میں نے عرض کیا کہ انسائیکلو پیڈیا چاہیے اور یہ حل بھی ہو سکتا ہے۔ ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اقبال فوراً آپ کو مرعوب کر کے مبہوت کر دیتے ہیں۔ خود اپنا تجربہ بتاؤں کہ بچپن میں اقبال کے کلام سے آشنا ہوا اور پہلی بار میں ان کے جو شعر دل پر نقش ہو گئے وہ یہ تھے ؂

دیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیں

جس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاں

چشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلاب۔ ۔ ۔

وغیرہ، تو اس سے مجھے غرض نہیں تھی کہ المنی کسی آدمی کا نام ہے یا کوئی قوم ہے، یا فرانسیس کوئی شخص تھا یا کوئی ملک یا ملت ہے۔ اصلاح دیں کی شورش کیا تھی، اسے مجھے کوئی مطلب نہیں تھا، بس شعر بہت عمدہ معلوم ہوئے اور دل میں اتر گئے۔

عرفان صدیقی: صحیح ہے۔

نیر مسعود: تو ایک قاری گویا مطمئن ہو گیا۔ اب اسے کوئی فکر نہیں ہے اس لیے کہ وہ لطف اندوز ہو چکا۔ لیکن جب اسی کلام کی تفہیم کا معاملہ ہو تو پھر اب یورپ کی تاریخ سے واقف ہونا بھی ضروری ہو جائے گا۔ وہی بات آ گئی کہ اقبال کو سمجھنے کے لیے ہمیں دوسری طرف کا علم بھی درکار ہے۔ ایک اور مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب ہم اپنے کلاسیکی شعری نظام کی مانوس چیزیں اقبال کے یہاں پاتے ہیں لیکن ان کو بھی سمجھنے میں ہمارا گذشتہ مطالعہ اور شعری مسلمات کا علم ہماری مدد نہیں کرتا۔ مثلاً سب سے سامنے کی چیز ہے ’’عشق‘‘۔ اقبال کے یہاں عشق کا ذکر تو بہت ہے لیکن یہ وہ عشق نہیں ہے جس سے ہم واقف چلے آ رہے ہیں۔ ’’خواجہ‘‘ اقبال کے یہاں کیا ہیں ؟ ’’ملا‘‘ کیا ہیں ؟ یہ مختلف قسم کے لوگ بن گئے ہیں۔ اقبال کو سمجھنے میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے اور اس کا حل بھی بڑی حد تک اقبال کے کلام ہی میں موجود ہے۔ اقبال کے یہاں ’’عشق‘‘ کیا ہے، یہ معلوم کرنے کے لیے اقبال ہی کو پڑھیے۔ لیکن بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو صرف اقبال کو پڑھنے سے حل نہیں ہوں گی۔ گذشتہ گفتگوؤں میں ہم اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ میر اور غالب کو سمجھنے کے لیے انھیں پڑھنا کافی ہے۔ لیکن اقبال کو سمجھنے کے لیے صرف اقبال کو پڑھنا۔ ۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی:۔ ۔ ۔ کافی نہیں ہے۔

نیر مسعود: بلکہ مجھے تو ایسامحسوس ہوتا کہ کچھ بھی پڑھنا کافی نہیں ہے۔

شمس الرحمن فاروقی: ایک بات مجھے اس میں اور کہنے کا خیال آیا۔ جیسا کہ نیر صاحب نے فرق کیا، کہ بہت ساری معلومات ہیں جو کتابوں میں ملی ہیں۔ انسائیکلو پیڈیا وغیرہ ہم دیکھ سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ صرف اطلاع نہیں، بلکہ اقبال کے کلام کو سمجھنے کے لیے کچھ علم بھی چاہیے۔ اب جیسا میں سمجھتا ہوں، علم سے مراد صرف یہ نہیں کہ صاحب، آپ نے فلسفہ پڑھا ہو، تاریخ پڑھی ہو، بلکہ عمومی طور پر ایک ایسا ذہن ہو جو علمی مسائل کو انگیز کر سکتا ہو اور علمی مسائل سے لطف اٹھا سکتا ہو۔ اگر لطف نہیں ملتا تو پھر مشکل ہو جائے گی کہ آپ اقبال کے کلام کو کسی بھی صورت سے پسند کر سکیں۔ بہت سے لوگ جو اقبال کے شاکی ہیں انھوں نے کہا صاحب دیکھیے یہ تمام اونچی اونچی باتیں کرتے ہیں، بڑی بلند آہنگی ہے، مگر دل کو چھونے والی بات نظر نہیں آتی۔ تو یہ بھی ایک مسئلہ کہ دل کو چھونے والی بات اقبال کے یہاں ہے یا نہیں ہے، اور اگر نہیں ہے تو اس سے اقبال کا نقصان کتنا ہوا ہے ؟ میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ آج کے زمانے کے لحاظ سے دل کو چھونے والی بات اقبال کے یہاں کم ملے گی۔ ممکن ہے ۱۹۲۰ یا ۱۹۳۰ میں جب بڑا انقلابی اور حریت پسندی کا ماحول تھا تو ان کے کلام میں یہ صفت رہی ہو کہ وہ لوگوں کے دلوں کو گرما دے اور ان کو میدان میں لے آئے۔ لیکن آج جو ان کے یہاں strong affirmationہے وہ کچھ ہم کو گویا متاثر نہیں کرتا۔ چونکہ دنیا اتنی منتشر اور تہ و بالا ہو چکی ہیں کہ اب اقبال کے یہاں جو self assuranceہے وہ ذرا کھٹکتی ہے، اور اگر علمی مذاق نہ ہو تو اور بھی کھٹکے گی۔ لیکن پھر بھی اس شاعر کی جو فکر کی جولانی ہے وہ متاثر کیے بغیر نہیں رہتی ؂

کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معری

اب ابو العلا  معری کے بارے میں تین صفحے لکھ دیجیے، کچھ بھی پلے نہیں پڑے گا، اس لیے کہ جہاں لے جا کر ختم کیا ہے اس نے ع

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

یہ ایک فکری معاملہ ہے۔ آدمی اگر علمی اور فکری ذہن رکھتا ہے تب تو اس نظم کو بہت پسند کرے گا اور enjoyکرے گا۔ اور وہ ذہن اگر نہیں ہے تو۔ ۔ ۔ اچھا ہم لوگوں کی نسل کے مقابلے میں اگر آپ دیکھیں، جیسا کہ نیر صاحب نے کہا کہ بارہ پندرہ برس کی عمر میں پڑھنا شروع کیا، پلے نہیں پڑ رہ ہے لیکن۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: ہاں، مرعوب ہو رہے ہیں اور متاثر ہو رہے ہیں۔ ۔ ۔

فاروقی:۔ ۔ ۔ کہ کیا چیز ہے بھئی! جھوم رہے ہیں اس پر، لیکن آج، مثلاً اپنے بچوں کو اقبال پڑھاتے وقت میں نے محسوس کیا، میری بیٹیاں مجھ سے پوچھتی تھیں کہ صاحب ٹھیک ہے، لیکن بات کچھ بن نہیں رہی ہے، تو وہ اسی وجہ سے کہ جس طرح کا تیقن اور جس طرح کا بلند آہنگ دعویٰ اقبال کے یہاں ملتا ہے وہ موجودہ ذہن کو متاثر نہیں کرتا۔ میں تو یہی سمجھتا ہوں۔

عرفان صدیقی: فاروقی صاحب، آپ نے یہاں دو بہت اہم نکتے اٹھائے۔ ایک تو اقبال کی شاعری کی۔ ۔ ۔ اگر میں اس کو تاثیر کہوں تو انگیز کر لیجیے۔

شمس الرحمن فاروقی: ہاں ہاں، تاثیر۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: کہ دل کو چھوتی نہیں ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں اس وقت ہمارے اس مسئلے، تفہیم اقبال، سے اس کا سیدھا سروکار نہیں ہے جس سے ہم کہنا چاہیے جنگ لڑ  کہ ان کے فاشٹزوں رکھتے ہوئے ’’ رہے ہیں۔ یہ اس لیے کہ۔ ۔ ۔

شمس الرحمن فاروقی: سروکار تو صاحب، خیر میں بعد میں عرض کروں گا۔ آپ کہہ لیجیے۔

عرفان صدیقی: تو اس کو تھوڑی دیر کے لیے ملتوی رکھتے ہیں کہ تاثیر اور اثر کا معاملہ کیا ہے۔ لیکن یہ بات طے ہو گئی کہ اقبال کے سلسلے میں محض مطلب شناسی سے کام نہیں بنتا۔ جب تک آپ اس کی شعری فکر کی تہ تک نہ پہنچیں، اور اس تک پہنچے کے لیے جیسا کہ ہمارے نیر صاحب نے فرمایا، صرف لغات سے یا اور فرہنگوں سے، بلکہ قاموس سے بھی کام نہیں چلتا۔ اقبال کے حوالوں کو بہر حال decodeکرنا ہے، اس کے بغیر اقبال فہمی کے سلسلے میں قدم آگے نہیں بڑھا سکتے۔ اس کے علاوہ آپ کو اس پورے عصر کی تاریخ کو سمجھنا ہو گا۔

شمس الرحمن فاروقی: یہ بات صحیح ہے۔ لیکن اس میں کچھ باتیں ایسی ہیں جو میں اگلی نشست میں عرض کروں گا جہاں مجھے کچھ اختلاف بھی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ فکری تاریخ اور خود اقبال کی ذہنی تاریخ سے واقفیت کے بغیر اقبال کا کلام خاصا مشکل معلوم ہو گا۔ بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اس کے دروازے بند نظر آئیں گے۔

عرفان: جی ہاں درست ہے۔ شکریہ۔

 

دوسری نشست

عرفان: پچھلی گفتگو میں فاروقی صاحب، آپ نے یہ اہم نکتہ اٹھایا تھا کہ آج کے ماحول میں جب ہم اقبال کی شاعری پڑھتے ہیں تو بہت سی جگہوں پر اس کی تاثیر پہلے کی طرح دل پر قائم نہیں ہوتی۔ اب میں چاہتا ہوں کہ یہ بات یہاں صاف ہو جائے کہ کسی شعر کی تاثیر کا اس شعر کی تفہیم سے کتنا تعلق۔ ۔ ۔

شمس الرحمن فاروقی: ہاں، یہ تو اتنا عمدہ سوال اٹھا ہے اس وقت کہ میرے خیال میں نیر صاحب بھی اس کی داد دیں گے۔

نیر مسعود: یقیناً!

شمس الرحمن فاروقی: میرا خیال یہ ہے کہ شعر کو سمجھنے کے لیے اس سے متاثر ہونا ضروری ہے۔ جب تک شعر کی تاثیر آپ کے ذہن پر مرتب نہیں ہو گی، تب تک آپ اس کی تہیں کھولنے سے قاصر رہیں گے، اس لیے کہ تاثیر کے بغیر اس کی شکل یہ ہو جائے کہ گویا کوئی معما ہے۔ آپ دماغ لگاتے رہیے، پسینہ ٹپکاتے رہیے، وہ آپ کے ذہن میں شعر کی سطح پر جلوہ گر نہیں ہو گا۔ رچرڈس نے بہت مزے کی بات کی تھی کہ کسی نظم کے معنی بیان کرنا اس کو سمجھنے کا طریقہ نہیں بلکہ یہ خود نظم ہے۔ اس لیے میں نے عرض کیا کہ جب تک شعر آپ پر اثر نہ کرے، آپ کو بر انگیخت نہ کرے کہ اس کے سمجھنے کے لیے کچھ زحمت کریں، کچھ کوشش کریں، اس وقت تک۔ ۔ ۔ میں نے پچھلی گفتگو میں عرض کیا تھا کہ اقبال کو exploitبہت کیا گیا۔ کوئی کہتا ہے اقبال فلسفی، کوئی کہتا ہے اقبال اسلامی مفکر۔ مگر اقبال کا بہت سا ایساکلام ہے جس میں تاثیر ہی تاثیر ہے، معنی اور تصور کا معاملہ جانے دیجئے۔ خود ’’مسجد قرطبہ‘‘ کو لے لیجیے۔ اب بلا وجہ اس میں فلسفے چھانٹے جا رہے ہیں کہ صاحب یہ وہ ٹائم ہے اور realٹائم ہے، اور فلانا ٹائم ہے۔ مگر وہاں تو یہ ہے کہ دو مرتبہ آپ پہلا مصرع پڑھ دیجیے ع ’’سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثات‘‘ تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ اقبال کے کلام کے اس پہلو کو۔ ۔ ۔ جو اس کا آہنگ ہے، خوب صورتی ہے، بہاؤ ہے، اس کی روشنی میں دیکھیں کہ یہ شعر اچھا ہے کہ نہیں اور اس کے کیا معنی نکل سکتے ہیں۔ ایک واقعہ مجھے یاد آتا ہے کہ ایک بار اقبال نے صبح اٹھ کر کہا کہ بھئی رات کو میں نے خواب میں ایک شعر کہا ہے اور معنی اس کے واضح نہیں ہو رہے ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ حضرت یہ کیا بات ہوئی، ذرا فرمائیں۔ تو انھوں نے شعر پڑھا ؂

دوزخ کے کسی طاق میں افسردہ پڑی ہے

خاکستر اسکندر و چنگیز و ہلاکو

اب میں نے جب یہ واقعہ پڑھا، اس وقت میری عمر کم تھی، تو میں نے کہا بھئی اس میں کیا ہے۔ اس میں تو کوئی بات ہی نظر نہیں آ رہی جو مشکل ہو۔ لیکن جب آپ غور کیجیے تو پھر مشکل بھی نظر آتی ہے کہ دوزخ کے کسی طاق میں۔ ۔ ۔ اور ان تینوں کو خاص کر لایا جانا، اور انھیں خاک کر کے طاق پر کیوں رکھا گیا، وغیرہ۔ تو اب ظاہر ہے کہ اس میں تاریخی علم بھی ضروری ہے، تاریخی شعور بھی ضروری ہے لیکن اس علم اور شعور کے بغیر بھی شعر میں ایک تاثیر موجود ہے جو آپ کو فوراً گرفتار کر لیتی ہے۔ تو میرا خیال ہے کہ اس پہلو پر بھی ذرا زور دیں کہ آجکل تفہیم اقبال میں جو ناکامی ہو رہی ہے اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ہم اقبال شاعر کی جگہ اقبال فلسفی اور محقق اور مفکر پر توجہ کرتے ہیں۔

نیر مسعود: فارقی صاحب، جیسا کہ آپ نے کہا اقبال کی تفہیم میں یہ چیز حائل ہوتی ہے کہ ہم ان کو شاعر کم، مفکر زیادہ سمجھتے ہیں۔ چلیے بہت انصاف کریں گے تو برابر کا شاعر اور مفکر مان لیں گے۔ کم اور زیادہ کی ناپ تول سے قطع نظر، در اصل وہ بیک وقت شاعر بھی تھے اور مفکر بھی تھے۔ ان کے شعر کی تفہیم میں ہم کو بھی گویا سوئچ آن اور آف کرنا پڑتے ہیں۔ کبھی یہ سمجھ کر کہ کوئی مفکرانہ دانشورانہ بات کہی گئی ہے ہم ان کے شعر کا مطلب دوسری طرح سوچتے ہیں۔ اگر وہ ہمارے جذبات کو مہمیز کر رہا ہے تو اسے خالص شاعری سمجھ کر دوسری طرح سوچتے ہیں۔ اقبال کا یہ گویا مخصوص انداز ہے کہ وہ ان دونوں چیزوں کو عجیب طرح سے ملا دیتے ہیں۔ مثلاً بات شروع کریں گے۔ وہ تفکر اور فلسفے سے ع

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے

اب ہم تیار ہو کر بیٹھتے ہیں کہ کچھ فلسفۂ زوال اقوام۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی:۔ ۔ ۔ بیان کیا جائے گا۔

نیر مسعود:۔ ۔ ۔ مگر وہاں آتا ہے ؂

شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر

تو فوراً ہم کو سوئچ او ور کرنا پڑتا ہے۔ یا ع

اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

اس کے دوسرے مصرعے میں ہم تیموریوں وغیرہ کا ذکر سننے کے لیے دماغ کو تیار کرتے ہیں، مگر مصرع کہتا ہے ع

کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

اور وہ جوان کی نظم ہے، فاروقی صاحب، میں تو اسی کو ان کا شاہکار سمجھتا ہوں، ’’ذوق و شوق‘‘۔ ۔ ۔

شمس الرحمن فاروقی: بالکل صحیح۔

نیر مسعود: اس میں یہ چیز بہت نمایاں ہے ع

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب

یہ بالکل دوسرا وہی تفکر والا آہنگ ہے، لیکن دوسرا مصرع ہے ع

گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

عرفان صدیقی: واہ، کیا کہنے ہیں۔

نیر مسعود: تو یہ جو اقبال کی ایک بہت بڑی قوت ہے، یہی ان کے بیچارے مفسروں کو کم زور کر دیتی ہے کہ دونوں مصرعوں کو ایک ہی ڈور میں کس طرح پرویا جائے، کہ اس شعر کی عظمت آخر ہم دونوں میں سے کس کی بنا پر سمجھیں گے۔ بالعموم ہم یہ کرتے ہیں کہ کبھی تو اس پہلو پر زور دے رہے ہیں کہ صاحب یہ بہت عمدہ مفکرانہ شعر ہے اور اس کے شاعرانہ فنی پہلو کو فراموش کر گئے اور کبھی۔ ۔ ۔ اس سلسلے میں عرفان صاحب، کچھ دیر بعد میں شاید بھول جاؤں تو آپ یاد رکھئے گا، اس پر ذرا غور کرنا ہے، ان دونوں پہلوؤں کے سلسلے میں کہ خالص فن کی حیثیت سے اقبال۔ ۔ ۔

شمس الرحمن فاروقی: ایک مشکل، میرا خیال ہے، اقبال کو سمجھنے میں یہ بھی ہے کہ وہ جو بہرحال ان کی بڑی اور مشہور نظمیں ہیں، بڑی بھی اور مشہور بھی، مثلاً ’’ذوق و شوق‘‘ کا ذکر آیا، یا مثلاً ’’مسجد قرطبہ‘‘، اور جو نظمیں میرے خیال میں اتنی بڑی نہیں ہیں لیکن مشہور بہت ہوئیں مثلاً ’’طلوع اسلام‘‘، یا وہ نظمیں جن کے بعض بعض حصے واقعی شاعری ہیں، جیسے ’’خضر راہ‘‘، اور بعض جو اتنی اچھی نہیں ہیں، مثلاً ’’شمع و شاعر‘‘، اس کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ بیچ کی نظم ہے۔ بہت اچھی ہے مگر اقبال کے بہترین کلام کے برابر نہیں ہے۔ ان سب نظموں میں ایک بات مجھ کو شروع ہی سے محسوس ہوتی رہی ہے کہ اس شخص کو کسی بھی غیر معمولی یا غیر فطری یا مافوق الفطری طاقت یا قوت یا ہستی سے خطاب کرنے میں جھجک نہیں ہوتی، وہ برابر کی گفتگو ان سے کرتا ہے۔ چاہے وہ شمع سے شاعر کی بات ہو رہی ہو، چاہے وہ ساحل دریا پر خضر سے، چاہے۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی:۔ ۔ ۔ بندہ خدا سے بات کر رہا ہو۔

فاروقی:۔ ۔ ۔ جو بھی ہو، اس کی وجہ میرے خیال میں یہ ہے کہ انیسویں صدی میں لوگوں کے ذہن میں شاعر کے متعلق ایک رومانی قسم کا تصور تھا کہ شاعر عام انسانوں کی فطرت سے بھی مافوق الفطرت چیزوں سے بھی ہم آہنگ ہوتے ہیں اور ان سب میں ایک ہی قسم کی روح دوڑ رہی ہے جس کو برگساں نے vitality of lifeکہا تھا۔ یہ پھر وہی فکری معاملہ ہے کہ اس شخص کو کوئی حجاب نہیں ہے، خفتگان خاک سے بھی بات کر لیتا ہے، جگنو سے بھی بات کر لیتا ہے اور پہاڑسے بھی، اور پیغمبرؑ سے بھی بات کر لیتا ہے، وہ اسی لیے کہ اس کے یہاں یہ سب ایک نظام حیات ہے جس میں ایک ہی روح دوڑ رہی ہے۔ اور یہی چیز اقبال کے کلام کو ایک غیر معمولی وسعت اور پہنائی بھی عطا کرتی ہے اور ان کے مقابلے میں جو لوگ سامنے آتے ہیں ان میں کسی کے یہاں وہ وسعت اور پہنائی نہیں ہے۔ اگر اس بات کو ہم فراموش کر جائیں تو پھر ہمیں مشکل ہو جائے گی کہ ان کی بڑائی کو کس طرح ظاہر کریں۔

عرفان صدیقی: صحیح ہے فاروقی صاحب، کہ جو وسعت اور پہنائی اور گہرائی اقبال کے یہاں ہے، اس کا انداز اپنے معاصروں سے تو الگ ہے ہی، پہلے والے شاعروں سے بھی الگ ہے۔ مثلاً آپ نے تخاطب کا معاملہ لیا۔ تو تخاطب تو ہماری شاعری میں بہت ملتا ہے، خدا سے بھی اور دوسروں سے بھی، لیکن اقبال کے یہاں دو فطری عناصر جس طرح بات کرتے ہیں ان کی شناخت اور ایک دوسرے سے گفتگو کا انداز ہی بالکل مختلف ہے۔ ظاہر ہے اس کی جڑیں بھی تفہیم سے اس طرح ملتی ہیں کہ ہمیں تلاش کرنا پڑے گا کہ اقبال نے ان عناصر میں گفتگو کا یہ approachکیوں اختیار کیا۔ تو یہ تفہیم کا مسئلہ بنتا ہے۔ میں ایک بات اور عرض کرنا چاہتا ہوں جو میرے ذہن میں نیر مسعود صاحب کی گفتگو سے آئی۔ انھوں نے بڑی اچھی بات کہی کہ اقبال نے ایک بڑا کام، یعنی شعری اور تخلیقی اعتبار سے بڑا کام، یہ کیا کہ بہت سے مروجہ الفاظ اور اصطلاحات بدل دیے، بلکہ کہیں کہیں الٹ دیے۔ مثلاً ’’عشق‘‘ ان کی بڑی زبردست اور بنیادی اور کلیدی اصطلاح ہے۔ لیکن یہ عشق بالکل وہ عشق نہیں ہے جو اس سے پہلے تھا۔ بلکہ ان پر اعتراض بھی ہوا کہ صاحب آپ عشق کو اتنی فوقیت دیتے ہیں اور قرآنی فکر سے اس کا رشتہ جوڑتے ہیں۔ قرآن میں تو عشق۔ ۔ ۔ یعنی یہ لفظ ہی۔ ۔ ۔

شمس الرحمن فاروقی: ہاں، لفظ ہی استعمال نہیں ہوا۔

عرفان صدیقی: نہیں ہوا ہے، اور مذہبی فکر میں عشق کو آپ پرانے حوالے سے پڑھنا چاہیں گے تو اقبال آپ پر کھلیں گے ہی نہیں۔ یہ بات درست کہی نیر مسعود صاحب نے کہ اقبال نے بہت سے شعری کلیدی الفاظ استعمال کیے لیکن ان میں ایک دوسرا رنگ اور دوسری معنویت بھر دی ہے۔ اس معنویت کی تلاش اقبال کی تفہیم کے سلسلے میں ایک بڑا کام ہے اور اسی وجہ سے میرے خیال میں فاروقی صاحب کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ اقبال کا آہنگ بھی خاص مختلف نظر آتا ہے ؟ اقبال کی غزلیں جو ہیں وہ اپنی پیش رو غزلوں سے بالکل الگ ہیں اور نظمیں بھی۔ آپ فرما رہے تھے، نیر مسعود صاحب نے بھی ’’ذوق و شوق‘‘ کا حوالہ دیا، اس طرح کی نظمیں آپ کو اس وقت بھی نہیں ملتی تھی، آج بھی نہیں ملتیں۔ تو آہنگ کا یہ فرق جو ہے، اقبال کی شعری سچائی کو دریافت کرنے کے لیے اس کی بھی تلاش کرنا چاہیے کہ یہ فرق کیا ہے، اس کی وجہ سے ان کا شعر کیوں مختلف اور بہتر ہو جاتا ہے ؟

شمس الرحمن فاروقی: عرفان صاحب، غزل کو تو میرے خیال میں اگلی نشست کے لیے اٹھا رکھتے ہیں، اس لیے کہ غزل کے بارے میں بہت کچھ کہنا ہے اور یہ کہ اقبال کی غزل، غزل ہے بھی کہ نہیں۔ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ابھی تو وہ پہلی والی بات سامنے رکھتے ہیں کہ جیسا کہ نیر صاحب نے کہا یہ عشق وغیرہ دسیوں لفظ ایسے ہیں۔ اس لیے ایک بات جو ہم اکثر بھول جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگرچہ اقبال کا جو عام لہجہ ہے وہ کلاسیکی شعرا سے ملتا جلتا ہے لیکن ایک معاملے میں وہ بالکل جدید ہیں، اور گویا پہلے بڑے شاعر ہیں جنھوں نے یہ کام کیا ہے کہ الفاظ کو اپنے معنی میں استعمال کیا ہے۔ اب اس پہلو پر لوگ غور نہیں کرتے کہ اقبال نے ان کو جب اپنے معنی دیے ہیں تو جب تک ہم اقبال کے اپنے ذہن سے ان معنی کو نہ نکالیں بات نہیں بنتی۔ جب وہ کہتے ہیں ’’اک دانش نورانی اک دانش برہانی‘‘ تو غور کرنا پڑتا ہے کہ بھئی دانش تو دونوں جگہ کہہ رہے ہیں پھر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ نورانی الگ ہوتی ہے، برہانی الگ ہوتی ہے۔ تو وہ کیا ہے، صرف تعقل اور تصوف ہے، یا کچھ اس سے بڑھ کر ہے یا کم ہے ؟ مجھے اپنی بات پھر یاد آتی ہے، جیسے مان لیجیے کہ ’’لالۂ صحرا‘‘ ہے۔ جب میں نے پہلی بار اس کو پڑھا اور اس وقت سے لے کر اب تک ہزاروں بار پڑھ چکا ہوں اور کتنی بار با آواز بلند پڑھ چکا ہوں۔

نیر مسعود: اس میں کوئی تلمیحی حوالہ نہیں ہے۔ وہ خالص۔ ۔ ۔

فاروقی: کوئی تلمیحی حوالہ نہیں ہے، لیکن اس لیے وہ نظم اپنی جگہ پر اس قدر مکمل بھی ہے اور مشکل بھی کہ اس میں تمام الفاظ کو اقبال نے خود اپنے معنی میں استعمال کیا ہے۔ مثلاً ؂

یہ گنبد مینائی یہ عالم تنہائی

مجھ کو تو ڈراتی ہے اس دشت کی پنہائی

اب ظاہر ہے کہ یہ گنبد مینائی آسمان ہے بھی اور نہیں بھی، اور یہ دشت جو ہے، یہ دشت حیات ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔ اس پر مجھے خوف ہے کہ بہت کم لوگوں نے غور کیا ہے۔ لوگ یہی کہتے رہے ہیں کہ عشق ان کے یہاں علامت ہے اور شاہین ان کے یہاں۔ ۔ ۔ لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ انھوں نے شاعری کے جو روز مرہ کے الفاظ ہیں ان کو اپنے معنی میں استعمال کیا ہے، اسی لیے ان کی نظم مشکل ہوتی ہے۔

نیر مسعود: آپ نے بہت صحیح بات کہی، فاروقی صاحب۔ اسی ’’لالۂ صحرائی‘‘ میں جو شعر ہے، اس کا مطلب اب تک پوری طرح سمجھ میں نہیں آیا ہے لیکن بہت زبردست شعر معلوم ہوتا ہے اور ابھی جیسا آپ نے۔ ۔ معلوم ہوتا ہے اس کا ہر لفظ اقبال کسی الگ معنی میں، ذاتی معنی میں استعمال کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ؂

اس موج کے ماتم میں روتی ہے بھنور کی آنکھ

دریا سے اٹھی لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی

یہ بالکل عام الفاظ ہیں۔

عرفان صدیقی: بظاہر بالکل کلاسیکی رنگ کا شعر معلوم ہوتا ہے۔

نیر مسعود: جی ہاں۔ کوئی بھی تو معنی خیز لفظ نہیں، حتیٰ کہ بھنور کے لیے ’’کر داب‘‘ بھی نہیں استعمال کیا جو نسبتہً معنی خیز معلوم ہوتا ہے۔ تو اس پر بھی ذرا گفتگو ہونا چاہئے۔ اقبال کا استعمال الفاظ۔

عرفان صدیقی: درست ہے۔ اس گفتگو میں یہ بالکل طے شدہ بات لگی کہ اقبال نے تمام شعری نظام میں جو تبدیلیاں کیں ان میں ایک بڑی تبدیلی الفاظ کو۔ ۔ ۔

شمس الرحمن فاروقی:۔ ۔ ۔ اپنے معنی میں استعمال کرنا۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی:۔ ۔ ۔ اپنے طور پر برتنا ہے، پہلے وہ کسی بھی انداز میں استعمال ہوتے رہے ہوں۔

نیر مسعود: اچھا، اسی سے عرفان صاحب یہ بھی مان لینا چاہیے کہ اگر ایسا کوئی شاعر ہے جو لفظوں کو اپنے طور پر استعمال کر سکے تو زبان کا اس سے بڑا ماہر تو کوئی۔ ۔ ۔

شمس الرحمن فاروقی:۔ ۔ ۔ قطعی، بے شک۔

عرفان صدیقی: یقیناً وہ زبان کے بہت بڑے ماہر تھے۔ اس میں تو کوئی شک ہی نہیں۔ زبان سے ان کا بڑا اجتہادی رشتہ تھا، بلکہ کہیں کہیں تو بڑا باغیانہ رشتہ ہو جاتا ہے۔

نیر مسعود: اور اقبال کو بڑا شاعر ماننے کا سوال ہی نہیں جب تک ہم پہلے یہ نہ تسلیم کر لیں کہ وہ زبان کے بڑے ماہر تھے۔ اگر ہم ان کو سب سے بڑا شاعر مان رہے ہیں تو انھیں سب سے بڑا ماہر زبان بھی مان رہے ہیں۔

شمس الرحمن فاروقی: ہاں، ماننا پڑے گا۔

نیر مسعود: اور یہ حقیقت بھی تھی۔ ایک مثال بس، اس گفتگو کا وقت ختم ہو رہا ہے۔ فاروقی صاحب، وہ جو سنائی کی زمیں میں قصیدہ ہے۔ ۔ ۔

شمس الرحمن فارقی: ہاں ع

سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا

نیر مسعود: اسی میں مصرع ہے ع

یہی شیخ حرم ہے جو چرا کے بیچ کھاتا ہے

چرا کر بیچ کھانا، کسی اور شاعر کی ہمت نہ پڑتی کہ اس شان کے قصیدے میں ایسا عامیانہ محاورہ استعمال کرے۔

شمس الرحمن فاروقی: اور وہ بھی کن چیزوں کے سلسلے میں۔

عرفان صدیقی: کن چیزوں کے سلسلے میں، واقعی ذرا سوچئے۔ ۔ ۔

شمس الرحمن فاروقی: گلیم بوذرودلق اویس و۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی:۔ ۔ ۔ چادر زہر آ!

نیر مسعود: اس فعل کا گھٹیا پن اور چھچھورپن ظاہر کرنے کے لیے ایسا ہی عامیانہ محاورہ چاہیے تھا۔

شمس الرحمن فاروقی: یہ تو میری کر سکتے تھے کہ ؂

مت ان نمازیوں کو خانہ ساز دیں جانو

کہ ایک اینٹ کی خاطر یہ ڈھاتے ہیں گے مسیت

اسی نے کہا صاحب، اور اس کے بعد پھر اقبال نے کہا اور کوئی نہیں کہہ سکتا۔

عرفان صدیقی: درست ہے۔ شکریہ۔

تیسری نشست

عرفان صدیقی: پچھلی گفتگو کا سلسلہ اس پر ختم ہوا تھا کہ اقبال نے کس انداز میں پرانے شعری الفاظ کی اصطلاحوں کو اپنے طور پر ایک نئی معنویت دی ہے اور تقریباً بالکل معنی بدل کے استعمال کیا ہے۔ ایک شعر کے حوالے سے میں اس بات کو تھوڑا سا آگے بڑھانا چاہتا ہوں۔ یہ شعر خاص طور پر اس لیے پڑھ رہا ہوں کہ اقبال کی تفہیم سے تعلق رکھنے والے دونوں مسئلے اس میں سامنے آتے ہیں۔ یعنی تاریخی اور مذہبی حوالے اور الفاظ کی معنویت۔ شعر ہے ان کا ؂

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب

گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف

ٹھیک ہے، معلوم ہے کہ انھوں نے قرآن کی دو تفسیروں کا حوالہ دیا ہے۔ لیکن میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ یہاں اگر آپ ’’کتاب‘‘ کو صرف قرآن کے معنوں میں سمجھیں گے تو شاید پورا شعر منکشف نہیں ہو گا۔ ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب، ظاہر ہے کہ قرآن آپ پر نہیں اتر سکتا۔ لگتا ہے کہ اس میں کچھ اور بات کہی گئی ہے۔ یہاں ’’کتاب‘‘ کا جو لفظ ہے وہ کسی وسیع تر معنویت کا حامل ہے اور اس کی تلاش کی جانی چاہیے۔

نیر مسعود: اس پر، عرفان صاحب یاد آ گیا۔ ایک بہت ذہین نوجوان عالم دین سے ایک مرتبہ گفتگو ہو رہی تھی۔ موضوع یہی نزول قرآن تھا۔ انھوں نے بہت عمدہ بات کہی کہ اکثر جب میں کلام پاک کی تلاوت کرتا ہوں تو مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں دو کتابیں پڑھ رہا ہوں۔

شمس الرحمن فاروقی: واہ!

نیر مسعود: ایک تو وہ جو آنحضرتؐ پر نازل ہوئی، اور ایک وہ جو خاص مجھ پر نازل ہو رہی ہے۔ تو یہ غالباً بلکہ یقیناً اقبال کا بھی تجربہ ہو گا۔ ان کے یہاں کتاب صرف قرآن نہیں بلکہ کچھ کتاب کائنات قسم کی چیز بھی ہے۔

شمس الرحمن فاروقی: ہاں۔ اس لیے کہ اس اصطلاح کو تو انھوں نے اور جگہ بھی برتا ہے ؂

خدا تجھے کس طوفان سے آشنا کر دے

کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو

کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

جب میں نے اس کو پہلی بار پڑھا تو سوچا یہ کیا بات ہے ؟ کتاب خواں ہے، مگر صاحب کتاب نہیں ؟ صاحب کتاب تو ہم سب لوگ ہیں۔ تو جیسا کہ عرفان صاحب نے کہا کہ یہاں کتاب کی معنویت کو بدل کے دیکھنا ہو گا۔

نیر مسعود: جی ہاں ’’ کہہ ڈالے قلندر نے اسرار۔ ۔ ۔

شمس الرحمن فاروقی:۔ ۔ ۔ کتاب آخر‘‘ بالکل۔ پھر پیغمبرؐ کے لیے خاص کر ’’الکتاب‘‘ کہتا ہے۔ تو ظاہر بات ہے، اب اس طرح کے الفاظ چونکہ شاعری میں پہلے سے بھی موجود تھے، پوری زبان ہی میں مستعمل ہیں، کتاب ہے، قلم ہے، لوح ہے۔ تو اگر پڑھنے والا ان کو غور سے نہ پڑھے اور ان پر نگاہ نہ رکھے گا تو ممکن ہے کہ وہ ان سے یوں ہی گذر جائے۔

عرفان صدیقی: یا یہ کہ گم راہ ہو جائے۔ اگر مروجہ معنوں میں لفظ کو سمجھ لیا تو مفہوم شعر تک رسائی تو درکنار، وہ بالکل دوسری سمت میں چلنا شروع کر دے گا۔

شمس الرحمن فاروقی: ہاں ہاں، یہ بھی ہو سکتا ہے اور یہیں سے وہ بات نکلتی ہے جو پچھلی گفتگو میں آئی کہ جو ان کا تخاطب ہے، مثلاً تخاطب جو اللہ سے ہے، یا جو تخاطب پیغمبرؐ سے ہے، اگر ہم یہ سمجھیں کہ یہ وہی تخاطب ہے جو عام طور پر دو شخصیتوں یا ہستیوں میں ہوتا ہے تو مشکل پڑ جائے گی۔ مثلاً ؂

اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے، یا میرا

مجھے فکر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا

اب اس میں اگر ایک طرح کا چڑچڑا پن سمجھ لیا جائے کہ صاحب، دیکھیے یہ تو محض لڑکپن کا سا انداز ہے۔ اتنا ہی دیکھا جائے تو ظاہر ہے کہ ہم اس کی اصل معنویت سے محروم رہ جائیں گے۔ کیوں کہ اقبال کے کلام کی ایک طرح سے بنیادی لے، یا زیریں لہر یہی سوال ہیں کہ کائنات میں انسان کا کردار کیا ہے اور کائنات سے انسان کا رشتہ کیا ہے ؟ اس کی ان کو بہت فکر ہے۔ اور وہ اس کے بارے میں بہت سوچتے ہیں اور بہت پوچھتے رہتے ہیں۔ خود سے بھی پوچھتے ہیں، اللہ سے بھی پوچھتے ہیں، تمام لوگوں سے پوچھتے ہیں، خود کائنات سے سوال کرتے ہیں، اور غالباً پہلی بار اتنا تجسس، اتنا سوال اور استفسار اردو شاعری میں نظر آتا ہے کیوں کہ پہلے زمانے میں تو گویا لوگوں کو ٹھیک ٹھیک معلوم ہی تھا کہ بھئی انسان کی کیا وقعت ہے، کائنات میں اس کی کیا حیثیت ہے اور اللہ کہاں پر ہے، اور کائنات کہاں پر ہے، اور ہم کہاں پر ہیں۔ ان تمام رشتوں کو بھی ایک طرح سے upsetکرنا۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: ہاں جو rolesپہلے definedتھے ان سب کو بدل دینا۔ ۔ ۔

شمس الرحمن فاروقی:۔ ۔ ۔ یا ان کو کم سے کم questionکرنا۔

نیر مسعود: اب دیکھئے یہ جو گفتگو اس وقت ہو رہی ہے اس کا تعلق اقبال کی شاعری کے موضوع اور مشتملات اور نفس مضمون سے ہے، خالصتہً ان کے فن یا شعری حرفت سے نہیں ہے۔ ایک دلچسپ، یا افسوس ناک بات کہہ لیجئے، فاروقی صاحب تو شاید مشتعل ہو جائیں۔ میرا خیال ہے عرفان صاحب، آپ سے گفتگو کی جائے۔ اقبال کی شاعرانہ حیثیت کے علاوہ ایک دانشورانہ، مدبرانہ اور سیاسی حیثیت بھی تھی اور ایک معمار ملک بھی مانے جاتے ہیں۔ تو فاروقی۔ ۔ ۔ نہیں فاروقی صاحب سے بات نہیں کر رہا ہوں۔

عرفان صدیقی: کوئی مضائقہ نہیں، اس لیے کہ بات تو ان سے کی ہی جائے گی۔

نیر مسعود: ان کو غصہ آئے گا، اور پھر۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: نہیں تو ان کو تھوڑا سا مشتعل کیا جائے گا۔

نیر مسعود: خاص طور پر ہندوستان کے نقاد، اور ان میں فاروقی صاحب یقیناً شامل ہیں، اگر اقبال کے فنی محاسن پر گفتگو کو مرکوز رکھتے ہیں تو سمجھا جاتا ہے کہ گویا ایک منصوبے کے تحت ایسا کیا جا رہا ہے۔ اور اقبال کی جو اصل عظمت تھی، فکری عظمت، اس کو چھپانے کے لیے اس پر زور دیا جا رہا ہے کہ صاحب وہ ’’شاعر بہت اچھے تھے ‘‘، یہ جو فاروقی صاحب کہتے ہیں کہ ان کے موضوعات سے ہم کو مطلب نہیں ہے، اور فلسفی وہ بہت غیر معمولی قسم کے نہیں تھے اور ان سے بہتر فلسفی تو مثلاً رسل تھا، یہ سب ایک سازش ہے کہ اقبال کی جو اصل عظمت ہے اس کو چھپا کے بس یہ کہتے ہیں کہ وہ ’’شاعر‘‘ بہت عمدہ تھے۔ تو عمدہ شاعر تو ’’داغ‘‘ بھی تھے۔ اب اس پر غصہ ظاہر ہے آنا بھی چاہیے۔ اور یہ احتجاج صحیح بھی نہیں ہے۔

عرفان صدیقی: درست ہے، نیر صاحب، یہ تو طے شدہ بات ہے کہ ہم اقبال کو اس لیے اہم سمجھ رہے ہیں کہ وہ شاعر تھے۔ اب اگر وہ شاعر تھے تو شاعر کی حیثیت سے اور شاعری کے وسیلے سے انھوں نے کن کن موضوعات کو برتا، فکر کی کون کون سی تہیں ان کے یہاں ہیں۔ ۔ ۔

شمس الرحمن فاروقی:۔ ۔ ۔ اس پر بھی ہم بات کر رہے ہیں۔

عرفان صدیقی: جی ہاں، اس پر بھی ہم نے بات کی ہے، لیکن اگر وہ صرف فلسفی تھے، یا صرف دانشور تھے، یا صرف مفکر تھے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ ادب کے پڑھنے والوں کا بہت زیادہ concernنہیں رہتے۔

شمس الرحمن فاروقی: نہیں، زیادہ کیا، بالکل نہیں۔

عرفان صدیقی: وہ بہت کچھ تھے لیکن شاعر بھی تھے اور ہم شاعر اقبال ہی کو پڑھیں گے اور اس پر بات کریں گے۔

نیر مسعود: تو اب ہماری گفتگو اس موضوع پر ہے یعنی اقبال بہ حیثیت فن کار۔ فاروقی صاحب نے کہیں یا تو لکھا ہے یا کسی تقریر میں کہا تھا، بہرحال لوگ اس پر بہت۔ ۔ ۔ تقریباً اچھل پڑے تھے کہ فاروقی صاحب یہ کیا کہہ رہے ہیں کہ اقبال کے یہاں ابہام اور رعایت لفظی بھی ہے۔ یہ تو اقبال کے دامن پر گویا ایک دھبا لگایا جا رہا ہے۔ خیر، اب شاعری اور اپنے شعری اظہار کے سلسلے میں اقبال کے وہ دو فارسی شعر ہیں جن کا پڑھنا نا گزیر ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ ؂

برہنہ حرف نہ گفتن کمال گویائی ست

حدیث خلوتیاں جز بہ رمز و ایما نیست

یعنی بہترین تکلم یا بہترین شاعری وہ ہے جس میں بات کو براہ راست نہ کہا جائے۔ دوسرا شعر ہے ؂

وقت برہنہ گفتن است، من بہ کنایہ گفتہ ام

خود تو بگوکجا برم ہم نفسان خام را

کہ یہ تو کھل کر اور واشگاف انداز میں بات کہنے کا وقت ہے، میں کنایوں میں بات کر رہا ہوں، پھر بھلا بتاؤ میں اپنے ہم نفسوں کی کیا ہدایت کر پاؤں گا۔ یعنی وہ تو ہدایت اور رہنمائی کے مقصد کو بھی شاعرانہ اظہار پر قربان کیے ہوئے ہیں۔ اور اس پہلو سے اقبال کا جائزہ نہ لینا تو واقعی۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: ایک ظلم سا ہو گا اقبال پر، تو اب شاعر اقبال کے مطالعے میں، فاروقی صاحب، ان کی غزلوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ formatکے اعتبار سے اپنی شکل اور ہیئت کے اعتبار سے وہ غزلیں ہیں بھی اور بعض حیثیتوں سے شاید نہیں بھی ہیں۔ یہ ایک خاصی تکنیکی بحث ہو جائے گی۔ لہٰذا تھوڑی دیر کے لیے یہ مانتے ہوئے کہ ان میں اقبال کا جوڈکشن ہے وہ دوسرے شاعروں کی غزلوں سے بہت مختلف ہے۔ مثال کے طور پر ایک شعر پڑھتا ہوں ؂

یہ زیر کہن کیا ہے، انبار خس و خاشاک

مشکل ہے گذر اس میں بے نالۂ آتش ناک

تو یہ نالہ تو نہیں ہے جو کوئی پرانا عاشق کرتا تھا۔

شمس الرحمن فاروقی: بلکہ یہ وہ نالہ بھی نہیں جو ’’شکوہ‘‘ اور ’’جواب شکوہ‘‘ میں ہے۔

عرفان صدیقی: وہ بھی نہیں ہے۔ تو یہ لگتا ہے کہ اقبال نے ان فن پاروں میں جنھیں ہم اپنی سہولت کی خاطر غزل کہہ رہے ہیں، ڈکشن کا اور ترسیل خیال کا ایک بالکل ہی نیا انداز اختیار کیا ہے۔ اس سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟

شمس الرحمن فاروقی: مجھے ایک تو اس سلسلے میں آپ سے اختلاف کرنا ہے کہ ’’بال جبریل‘‘ کی جن چیزوں پر نمبر پڑے ہوئے ہیں، ان کو آپ غزل کہہ رہے ہیں۔ غزل تو وہ نہیں ہیں۔ ان پر شاعر نے نمبر ڈالے ہیں اور نمبروں میں وہ بھی شامل ہے ؂

سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا

عرفان صدیقی: نہیں میں سب کو نہیں کہہ رہا ہوں۔ ۔ ۔

شمس الرحمن فاروقی: تو پھر اس میں تو کچھ بچتا ہی نہیں۔ جن چیزوں پر غزل کا عنوان ڈالا گیا ہے وہ تو ’’ضرب کلیم‘‘ میں ہیں اور وہ اس طرح کی چیزیں ہیں ؂

دریا میں موتی اے موج بے باک

ساحل کی سوغات خار و خس و خاک

’’بال جبریل‘‘ میں تمام نمبر لگے ہیں اور ان میں ایک نمبر ایسا ہے، پانچواں یا چھٹا جس میں چار شعر کسی اور زمیں ( مستعار کا، نا پائدار کا) اور ایک شعر، آخری کسی اور ردیف قافیے (کھٹک لازوال ہو، کسک لازوال ہو) میں ہے۔

عرفان صدیقی: وہ تو ظاہر ہے کہ غزل نہیں ہے، لیکن میں پوچھتا ہوں کہ۔ ۔ ۔ بہت دلچسپ بحث آپ نے چھیڑی ہے۔ آئیے اسے آگے بڑھائیں۔ مثلاً ؂

اک دانش نورانی اک دانش برہانی

ہے دانش برہانی حیرت کی فرادانی

آپ نے پڑھا تھا۔ یہ کیا ہے، مطلع ہے، یا نہیں ہے ؟

شمس الرحمن فاروقی: پتہ نہیں، میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ کیا ہے۔

عرفان صدیقی: نہیں، تو آپ اسے کیا کہیے گا؟

شمس الرحمن فاروقی: اس پیکر خاکی میں اک شے ہے سو وہ تیری

میرے لیے مشکل ہے اس شے کی نگہبانی

اب یہ شعر ہے کہ اس پر سر دھنیے آپ، آسمان چھو لیجیے۔ دیکھیے نہ، ایک مطلع لگا دینے کی وجہ سے اسے غزل کہنا۔ ۔

نیر مسعود: اسے قصیدہ بھی کہہ سکتے ہیں۔

عرفان صدیقی: نہیں میں نے اس لیے عرض کیا تھا کہ تکنیکی اعتبار سے ہم ان کو غزل کہنے پر اس لیے مجبور ہوتے ہیں کہ ان کا formatغزل کا سا ہے۔

شمس الرحمن فاروقی: قصیدے کا formatکیوں نہیں مانتے ہیں اس کو آپ؟

ہو نقش اگر باطل، تکرار سے کیا حاصل

کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی

بالکل قصیدے کا formatہے۔

عرفان صدیقی: نہیں، قصیدے کا formatتو۔ ۔ ۔ اچھا تو مجھے یہ بتائیے ؂

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں

خدا مجھے نفسِ جبریل دے تو کہوں

تو صاحب اس میں ’’قصیدیت‘‘ کہاں آپ کو ملے گی؟

شمس الرحمن فاروقی: یہی تو مشکل ہے اب۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: یہی میں عرض کر رہا ہوں۔

شمس الرحمن فاروقی: میں بھی یہی عرض کر رہا ہوں۔ کہ اقبال شاید یہ بتانا چاہتے ہیں کہ دیکھو یہ قصیدے اور غزل دونوں سے ماورا۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی:۔ ۔ ۔ کوئی چیز ہے۔ لیکن فی الحال ہم ان کو غزل کہہ لیتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان فن پاروں کے ڈکشن اور ترسیل خیال کے لحاظ سے آپ ان کی معنویت کو کس طرح دیکھتے ہیں، اور ان اشعار کی تفہیم کو نظموں کی تفہیم سے کس طرح مختلف پاتے ہیں ؟

نیر مسعود: ایک سوال میں بھی اس میں جوڑ دوں۔ فاروقی صاحب، اقبال کا کلام اپنے آہنگ کی وجہ سے فوراً پہچان میں آتا ہے، لیکن اس آہنگ کو بیان کس طرح کیا جائے ؟

شمس الرحمن فاروقی: پہلے میرا خیال ہے، پہلی بات کو لیتے ہیں۔ میرا خیال ہے جس بنا پر لوگوں نے نمبروں والے کلام کو غزل کہا وہ یہ ہے کہ اس میں معنی سے زیادہ کیفیت کی فراوانی ہے اور اس کے معنی بیان کرنا مشکل بھی ہے اس لیے کہ اس میں فکر کا ویسا غلبہ نہیں ہے جیسا ہم اقبال کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں، اور یقیناً یہ ایک طرح کا کلام ہے۔

محبت کی رسمیں نہ ترکی نہ تازی

شہید محبت نہ کافر نہ غازی

یہ جو ہرا گر کار فرما نہیں ہے

تو ہیں علم و حکمت فقط شیشہ بازی

ان میں اس قدر۔ ۔ ۔ اس کو سر مستی کہیے، سرشاری کہیے، جو بھی کہیے، لیکن ایک ایسی کیفیت کی فراوانی ہے کہ شعر بہرحال آپ کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر یہ کہیے کہ ان میں مثلاً قصیدے کا وہ رنگ ہے جو منو چہری کے چھوٹی بحر والے قصیدوں۔ ۔ ۔

نیر مسعود: ہاں، ع

سلام علیٰ دار ام الکواعب

شمس الرحمن فاروقی:۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس قسم کے کلام سے مقابلہ کیجئے، تو بات اس لیے نہیں بنتی کہ ع

سلام علیٰ دار ام الکواعب

قسم کے جو چھوٹی بحر والے قصیدے ہیں، ان میں تغزل تو بہت ہے، لیکن ان میں آہنگ کا وہ سب پن نہیں ہے جو اقبال کے یہاں ہے کہ۔ ۔ ۔

نیر مسعود:۔ ۔ ۔ لفظ بہتے چلے جا رہے ہیں۔

شمس الرحمن فاروقی: جی ہاں اور یہ جو نئی نسل کے لوگ اقبال کو بہت زیادہ پسند نہیں کرتے، اگر ان سے کہا جائے کہ اس کو غزل یا قصیدہ یا نظم سمجھ کر نہ پڑھو، بس کلام سمجھ کر پڑھو تو وہ لوگ زیادہ متاثر ہوں گے، کیوں کہ وہ توقعات جو ہمیں عام غزل، داغ بلکہ غالب کی بھی غزل سے ہیں وہ اس کلام سے پوری نہیں ہوتیں اور اس میں معنی بیان کرنے کے وہ مراحل نہیں ہیں جو مثلاً ’’خضر راہ‘‘ میں یا دوسری مشکل نظموں میں ہم دیکھتے ہیں بلکہ ان کی جگہ پر ایک سر مستی ہے۔ اب رہ گیا یہ سوال کہ کیا یہ سرشاری اور سرمستی کی کیفیت اور جگہ نہیں ہے ؟ تو اس کا جواب میں دینا چاہتا ہوں کہ ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔ اس لیے کہ اور جگہوں پر معنی بھی کثرت سے ہیں اور یہاں معنی کم ہیں۔ مثلاً سر راس مسعود پر جو نظم انھوں نے لکھی تھی، اس کو پڑھیے آپ۔ پہلا بند جو ہے وہ تو مرثیہ ہے گویا، سر راس مسعود کے بارے میں۔ دوسرے میں بہت فکری رنگ ہے، مگر آہنگ دونوں میں بہت ہی ٹھہرا ہوا اور گمبھیر ہے۔ تو اقبال کے یہاں آہنگ کا تنوع اس طرح ہے، کہ کہیں معنی کی کثرت ہے، پھر بھی آہنگ بہت پر شکوہ ہے۔ بعض جگہ معنی کی کثرت نہیں ہے لیکن آہنگ میں روانی بھی نہیں ہے اور جو یہ پوچھا جائے کہ ایسا کیوں ہے، تو صاحب اس کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔

عرفان صدیقی: اس کا جواب، فاروقی صاحب، میرے خیال میں کسی کے پاس نہیں ہے، جیسے اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ وہ فن پارے کیا ہیں ؟ انھیں قصیدہ نہیں کہہ سکتے، غزل نہیں کہہ سکتے، لیکن ان میں آہنگ کی فراوانی ہے اور یہ decodeکرنا بھی مشکل ہے کہ وہ فراوانی کثرت مفہوم کی بنا پر ہے یا الفاظ کے نئے پن کی بنا پر ہے، یا خود الفاظ کے اپنے آہنگ کی بنا پر ہے۔

نیر مسعود: اس کی بہت اچھی مثال ’’ساقی نامہ‘‘ ہے۔ روانی اور تسلسل بھی ہے، فکر اور کثرت معنی بھی ہے اور الفاظ کی غنائیت بھی ہے۔ لیکن یہ وہ مسئلہ ہے جو ہم لوگوں کو حل کرنا بھی نہیں ہے کہ یہ آہنگ کس طرح پیدا ہوتا ہے۔ رہ گیا یہ طریقہ کہ ایک لفظ کو، جیسے کسی نے کہا بھی ہے کہ ع

نیکر کا خرام بھی سکوں ہے

والی نظم میں کچھ حرفوں۔ ۔ ۔

شمس الرحمن فاروقی: ارے وہ کہاں، ’’دریا کے خموش، کہسار کے سبز پوش۔ ‘‘ش ش اور وہ۔ ۔ ۔

عرفان صدیقی: بس اس آہنگ سے ہم لطف اندوز بھی ہوں۔ اگر اتنا ہو جائے تو میں سمجھتا ہوں تفہیم کا ہمارا ایک مرحلہ سر ہو جائے گا۔

شمس الرحمن فاروقی: ہاں، بس۔

نیر مسعود: بس، اتنا کافی ہے۔

عرفان صدیقی: بہت، بہت شکریہ۔

(بہ شکریہ ماہنامہ شب خون، الہ آباد)

٭٭٭

 

 

 

 

عرفان صدیقی سے ایک مکالمہ

 

                (شکیل صدیقی، ہندی سے ترجمہ: رفعت عزمی)

 

ش۔ ص: غزلیں کہنا آپ نے کب سے شروع کیا؟

ع۔ ص: بہت عرصہ ہو گیا۔ ٹھیک ٹھیک تو یاد نہیں بس اتنا تو یاد ہے کہ ۵۶۔ ۱۹۵۵ء میں میری غزلیں میگزینوں میں شائع ہونے لگی تھیں۔ جیسے تحریک، تلاش، محور اور سبحاد ظہیر کی ادارت میں نکلنے والے ہفتہ وار حیات میں۔

ش۔ ص: تحریک داہنے بازو کے انتہا پسند نظریات کا جریدہ تھا جب کہ حیات کمیونسٹ؟

ع۔ ص: میں سیاسی نظریات کے پیچھے بھاگنے والا آدمی نہیں ہوں جو مجھے صحیح لگتا ہے وہ کہتا ہوں۔

ش۔ ص: یوں تو آپ نے دیگر اصناف میں بھی طبع آزمائی کی لیکن ابتدا ہی سے آپ کی پسندیدہ اور خاص صنف غزل ہی رہی جبکہ آپ کے زیادہ تر ہم عصر غزل کے ساتھ ہی نظم میں بھی اپنے جوہر دکھاتے رہے ؟

ع۔ ص: آپ درست فرماتے ہیں۔ نظمیں تو میں نے بھی کہی ہیں لیکن غزل پر مجھے زیادہ اعتماد ہے۔ بہت پیارا لگتا ہے مجھے یہ میڈیم۔ طاقتور، سکت اور امکانات سے بھرا ہوا۔ اپنے بیشتر شعری اور سماجی تجربوں کے اظہار کے لئے مجھے یہ میڈیم کافی لگتا ہے، یہ میڈیم مجھے مطمئن کرتا ہے، بے چین بھی کرتا ہے۔ زندگی کی حقیقتوں کے بیان کا یہ بہترین ذریعہ ہے اس میں پیچیدہ سے پیچیدہ باتیں اور زندگی کا بڑے سے بڑا تجربہ اختصار میں خوبصورتی سے کہا جا سکتا ہے۔ پھر ذریعہ تو شاعر اپنی صلاحیت Creative Urgeاور فکری سطح کے حساب سے منتخب کرتا ہے۔

ش۔ ص: لیکن غزل پر تو محدود امکانات کی صنف کے طور پر الزام تراشی ہوتی رہی ہے۔

ع۔ ص: میں ان الزامات کو درست نہیں مانتا۔ محدودیت تو اس ذریعہ میں ہے۔ غزل کی بھی کچھ حدیں ہو سکتی ہیں لیکن جیسا کہ پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ میں اسے لا محدود امکانات کی صنف کے طور پر دیکھتا ہوں اور قبول کرتا ہوں۔ زندگی کا کون سا تجربہ اس میں بیان نہیں ہوا ہے! آپ قدیم زمانے کی غزل سے لے کر آج تک کی غزل پر نظر ڈالتے جائیے۔

ش۔ ص: غزل پر موضوعات کی یکسانیت اور دہرانے کے الزامات بھی لگتے ہیں۔ ہندی بولنے والوں کا یہ عام نظریہ ہے کہ غزل میں محبت، حسن اور تعیش کے تجربوں کی کثرت ہے ؟

ع۔ ص: غلط ہے یہ نظریہ۔ موضوعات کو دہرانے کا الزام بھی بے بنیاد ہے۔ غزل تجربوں کے تنوع سے بھری پڑی ہے۔ آپ اردو غزل کی تاریخ پر نظر دوڑائیے عظیم شاعروں کی ایک طویل فہرست ہے اور کوئی شاعر نقل یا تقلید سے عظیم نہیں ہوتا ہے اس کا اپنا تخلیقی تجربہ اور جوہر ہوتا ہے ہر شاعر اپنے وقت کی حقیقتوں کو بیان کرتا ہے۔ اس کے اپنے شعری تجربے ہوتے ہیں ہاں بڑا شاعر اپنی زبان اور علامتیں خود وضع کرتا ہے۔ میرؔ ، غالبؔ ، سوداؔ ، دردؔ ، نظیرؔ ، ولیؔ ، اقبالؔ ، حسرتؔ ، عزیزؔ ، یگانہؔ کی غزل میں اگر لوگوں کو فرق نظر نہیں آتا تو اس میں غزل کا کوئی جرم نہیں۔ آپ دیکھئے تجربوں کے کتنے رنگ ہیں۔ فکر کی کتنی سطحیں ہیں۔ اتنا میں ضرور کہوں گا کہ غزل کو کچھ لوگوں نے Stereotype Music Systemبنا دیا ہے۔ اس سے غزل کا وقار مجروح ہوا ہے اور غزل کی بدنامی بھی ہوئی ہے ہاں مقبولیت میں اضافہ ضرور ہوا ہے باوجود اس کے اصلی غزل اور نقلی غزل کی پہچان مشکل نہیں ہے۔ غزل تو خیر نقلی شاعر کو برداشت ہی نہیں کر سکتی۔

ش۔ ص: لیکن خود اردو غزل کے کچھ دانشوروں یہاں تک کہ شاعروں نے بھی غزل پر الزامات لگائے ہیں جگر کا وہ شعر تو بہت مشہور ہے کہ ’’شاعر نہیں ہے وہ جو غزل خواں ہے آجکل‘‘ یا کلیم الدین احمد نے اسے نیم وحشی صنف کہا؟

ع۔ ص: آپ بجا فرما رہے ہیں۔ غزل پر ایسا برا وقت بھی آیا ہے خاص کر بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں ترقی پسند تحریک کے عروج کے دنوں میں نظم کی بڑی دھوم تھی ان دنوں لیکن غزل ان تاریک دنوں میں بھی پوری آن بان کے ساتھ پیش رفت کرتی رہی۔ خود حالی نے جو اصلاحی تحریک میں پیش پیش تھے بہت اچھی غزلیں کہیں۔ اقبال بھی نشاۃ الثانیہ کے شاعر تسلیم کئے جاتے ہیں۔ انھوں نے بہت اہم غزلیں کہیں۔ میں اصلاحی یا ترقی پسند تحریک کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کرتا۔ ہماری ادبی اور سماجی زندگی میں ان کا بڑا رول ہے۔ میں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کرتا کہ ۱۹ ویں صدی کے دوسرے نصف یا ۱۸۵۷ء کے انقلاب کے بعد غزل پر جاگیردارانہ رجحانات کے دباؤ میں اضافہ ہو گیا تھا۔ مبالغہ اور لفظوں کی تزئین کاری بڑھ گئی تھی چند خاص طرح کے موضوعات بہت مقبول ہو گئے تھے۔ ۲۰ ویں صدی ہماری زندگی میں نئی بیداری لے کر آئی اسے ہم تبدیلی کا شعور بھی کہہ سکتے ہیں۔ قوی تحریک کے انکھوے پھوٹ رہے تھے۔ فرانس کی Anti Romanticتحریک کا بھی کچھ اثر رہا بہر حال حالیؔ اور ان کے کچھ ہم عصروں نے ادب کے سماجی مقصد پر زور دیا پھر بھی غزل کا مقام اس تحریک میں بھی قائم رہا۔ اس نے تبدیلی کے شعور سے اپنے کو ہم آہنگ کر لیا۔ کلیم الدین احمد صاحب نے اسے نیم وحشی صنف شاید اس لئے کہا کیونکہ اس میں خیال کی وحدت نہیں ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ وہ غزل کی اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکے کہ اس میں ایک مکمل آہنگ ہوتا ہے۔ عام طور پر ہر غزل کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے غزل ایک شریف صنف ہے۔ نیم وحشی سماج میں وہ پنپ ہی نہیں سکتی۔

ش۔ ص: اور ترقی پسند تحریک کے دور میں۔ ۔ ۔ ؟

ع۔ ص: جہاں تک ترقی پسند تحریک کا سوال ہے۔ تو اس دور میں بھی غزل نے خوب ترقی کی۔ آپ دیکھیں کہ نظم کو اہمیت ضرور حاصل ہو گئی تھی۔ بہت اچھی نظمیں بھی کہی گئیں اس دور میں۔ بیرونی تجربوں، سماجی حقیقت نگاری اور مقصدیت کا دباؤ بڑھ گیا تھا۔ تبدیلیوں کا زمانہ تھا وہ لیکن فرد کی تنہائی کا احساس اور اس کی اندرونی کیفیتیں اس دور کی تخلیقات میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی تھیں۔ ن۔م راشد جیسا Modern Sensibilityکا اتنا بڑا شاعر اسی دور کی پیداوار ہے۔ پھر یہ دیکھئے کہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ زیادہ تر شاعروں نے غزل کی ترقی میں بہت اہم رول ادا کیا۔ غزل تجربات اور احساس کی ایک نئی دنیا سے روشناس ہوئی۔ اگر اس تحریک سے جڑے ہوئے شاعروں کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو فراقؔ ، فیضؔ ، مجروحؔ ، مجاز، جذبی، مخدوم جانثار اختر۔ ۔ ۔ سب کے سب غزل کے اچھے بلکہ بہت اہم شاعر ہیں۔ ۔ ۔ ہاں دیکھئے غلام ربانی تاباں اور احمد ندیم قاسمی کے نام تو چھوٹے جا رہے ہیں۔ نام تو اور بھی چھوٹے ہوں گے۔

ش۔ ص: اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ غزل پر روایت پرستی کا الزام پوری طرح مناسب نہیں ہے۔

ع۔ ص: دیکھئے شکیل صاحب۔ ۔ ۔ روایت کو پوری طرح جانے بغیر تو اچھی غزل کہی ہی نہیں جا سکتی اس لئے تھوڑی بہت تو روایت پرستی رہے گی ہی۔ آپ نے خود محسوس کیا ہو گا کہ آج کے زیادہ تر اہم شاعروں پر کلاسیکی غزل کا گہرا اثر ہے اصل چیز تو Dictionہے۔ وقت بدل رہا ہے۔ زندگی بدل رہی ہے تو پھر غزل کیوں نہیں بدلے گی۔ یہ تو زندگی سے وابستہ صنف ہے۔ آپ دیکھئے نہ کہ غزل کیا سے کیا ہو گئی۔ اب فیض ہی کو لیجئے۔ روایتی علامتوں سے انھوں نے بالکل نئے معانی پیدا کئے ہیں۔ ان کی غزلوں میں روایتی علامتوں کو نیا Relevance ملا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ نئی زبان، تکنیک یا محاورے کی تلاش نہیں ہوئی ہیئت اور مواد کے بھی کئی لوگوں نے کامیاب تجربے کئے ہیں۔

ش۔ ص: تو کیا غزلوں میں ہیئت کے تجربے ممکن ہیں۔

ع۔ ص: کیوں نہیں۔ لیکن بہت زیادہ تجربوں کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کا بندھا ٹکا سانچاہے۔ اس کی اپنی شرطیں ہیں غزل یا تو غزل ہے یا پھر غزل نہیں ہے۔ کوئی درمیانی صورت اس میں نظر نہیں آتی۔ وزن، ردیف اور قافیہ کی شرطوں کو تو تسلیم کرنا ہو گا۔

ش۔ ص: آزاد غزل کے جو تجربے روایتی ہیئت سے باہر جانے کے ہوئے۔ ؟

ع۔ ص: بے معنی تھے۔ آزاد نظم یا نثری نظم جیسے تجربے غزل میں کامیاب نہیں ہو سکتے غزل سے اس طرح کے تجربات کا تقاضا بھی نہیں کرنا چاہئے۔

ش۔ ص: آج جو غزل کہی جا رہی ہے یا یوں کہیں کہ موجودہ دور کی غزل کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟

ع۔ ص: آج جو غزل کہی جا رہی ہے وہ مجھے مطمئن کرتی ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ Original Dictionسامنے آتے ہیں اور ہر شاعر کا روایت سے بھی بہت مضبوط رشتہ ہے سچ پوچھئے تو آج کی غزل نے امکانات کی نئی راہیں دکھائی ہیں نئی امیدیں جگائی ہیں۔ کئی باکمال شاعر اس دور کو حاصل ہوئے ہیں کچھ نے اپنی الگ انفرادیت دریافت کر لی ہے اس دور میں کچھ پانے کی کوشش میں غزل بہت Richہوئی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہوں کی مثالیں لے سکتے ہیں۔ زندگی کی غزل کا رشتہ آج بھی بہت مضبوط ہے تخلیقی اور تنقیدی دونوں سطحوں پر آج کے ٹوٹے شکست خوردہ دربدر اور پریشاں حال آدمی کے ساتھ غزل کے مکالمہ میں زیادہ اپنائیت شامل ہوئی ہے۔ تنہائی کا شکار ہوتی ہوئی زندگی میں اس کی حصہ داری بڑھی ہے ظلم، نا انصافی اور جذباتی بے حرمتی کے خلاف ہر موقع پر اس نے اپنا احتجاج درج کرایا ہے۔ انسانی تکلیف کا بیان کیا ہے۔ اس دور میں انسان کی خارجی و داخلی دنیا میں بہت کچھ واقع ہوا ہے۔ ان سب کی باز گشت غزل میں سنی جا سکتی ہے۔

ش۔ ص: کہیں ایسا ترقی پسند تحریک کے اثر کی وجہ سے تو نہیں ہے ؟

ع۔ ص: قطعی نہیں۔ احتجاجی غزل کی بہت پرانی روایت ہے۔ کیا فارسی غزل، کیا اردو غزل۔ میرؔ اور غالبؔ کی غزلیں اس کی بہترین مثال ہیں۔ اور بھی بہت سے شاعر ہیں۔ غالبؔ اور ۱۹۴۷ء کے درمیان جنھوں نے غزل کو احتجاج کا محاورہ بنایا۔ مثلاً یگانہ چنگیزی۔ بعد کے شاعروں کا ذکر تو آپ چھوڑ او       ہی دیجئے۔ ہاں پاکستان کی غزل کا تذکرہ ضروری لگتا ہے۔ کیوں کہ وہاں احتجاج اور عصری حقیقتوں کے بیان کے لئے نئی علامتیں تلاش کی گئیں۔ نئے محاورے ڈھونڈے گئے۔

ش۔ ص: ہندی غزلیں بھی آپ نے سنی اور پڑھی ہوں گی۔ غزل کی اس روایت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔

ع۔ ص: جی ہاں۔ سنی بھی ہیں۔ پڑھی بھی ہیں لیکن کم از کم جتنا میں نے سنا اور سمجھا ہے اس سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہندی غزل اردو غزل کے قریب آ رہی ہے۔ روایت سے پوری واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے کچھ کمزوری جھلکتی ہے۔ سانچے کچھ خام معلوم ہوتے ہیں۔ تجربے بہت پیارے اور متاثر کرنے والے ہیں۔ کچھ لوگ چونکاتے ہیں جیسے راجیش ریڈی پراگ وغیرہ خاص طور پر دیشنت کمار مجھے بہت پسند ہیں لیکن ایک بات ضرور کہہ دوں کہ غزل کہنا بہت مشکل کام ہے بہت ظالم میڈم ہے یہ۔ پھر ہندی میں غزل کی پرانی روایت بھی نہیں رہی۔ مشکل سے ۵۔ ۔ ۶۔ سال کی اس کی تاریخ ہے اس کے علاوہ ہندی میں نہایت بلند درجے کی شاعری ہوئی ہے۔ میں اسے انسانی وقار کی شاعری کہتا ہوں۔ اس کے آگے ہندی غزل ٹھہر پائے گی، مجھے نہیں لگتا۔ غزل کی ہیئت مقبول ہو رہی ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر خوش محسوس ہوتی ہے اور غزل پر اعتماد بڑھتا ہے۔

ش۔ ص: غزل کا مستقبل آپ کو کیسا لگتا ہے ؟

ع۔ ص: میں غزل کے مستقبل کے بارے میں مطمئن ہوں مجھے یقین ہے کہ غزل باقی رہے گی کیوں کہ مجھے یقین ہے کہ آدمیت باقی رہے گی۔ غزل نے ہمیشہ ہی اعلا اصولوں کی طرفداری کی۔ میں تو کہتا ہوں کہ اگر غزل زندہ رہتی ہے تو زندگی کی اعلا قدریں اور اعلا جذبے بھی زندہ رہیں گے۔

ش۔ ص: لیکن جدید ٹکنالوجی اور الکٹرانک میڈیا سے جو خطرے در پیش ہیں انھیں دیکھتے ہوئے آپ غزل کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے ؟

ع۔ ص: اس سے غزل کی ضرورت اور معنویت میں اضافہ ہوا ہے آگے مزید اضافہ ہو گا۔ جدید ٹکنالوجی انسان کو مطمئن نہیں کر پا رہی ہے۔ غزل میں اس برے وقت میں نا امیدی اور بے چینی کے لمحوں میں انسان کو سکون پہونچانے کی طاقت ہے پھر آپ یہ بھی دیکھئے کہ آج کے دور میں Information Explosionہوا ہے اور جدیدیت کے طور طریقوں نے جو ضرورتیں بتائی ہیں غزل ان تقاضوں پر کھری اترتی ہے۔ کم الفاظ میں یعنی اختصار میں بات کرنے کی ضرورت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ غزل کے ایک شعر میں بڑی سے بڑی بات پر اثر طریقے سے کہی جا سکتی ہے اس کا مختصر ہونا Modern Messageکی جان ہے۔ غور کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ الکٹرانک میڈیا نے غزل کی ہیئت کو بہت مقبول بنایا ہے غزل باقی رہے گی کیوں کہ زندگی باقی رہے گی۔ وہ ہمارے Thought Processکا حصہ بن چکی ہے، وہ ہمارے مزاج اور خمیر میں رچ بس گئی ہے۔ وہ ہماری ثقافت کا ایک وصف بن گئی ہے۔

ش۔ ص: اور سماجی برتاؤ کا حصہ بھی؟

ع۔ ص: یقیناً اپنی بات میں اثر پیدا کرنے کے لئے لیڈر، دانشور، اور ناقدین سبھی غزل کے شعروں کا سہارا لیتے ہیں۔ میں نے کہا نا کہ غزل ہماری ثقافت کا حصہ بن چکی ہے۔

ش۔ ص: معاصر اردو غزل کے نمائندہ نام بتانے کی زحمت فرمائیں ؟

ع۔ ص: بھائی یہ ناموں کا چکر مناسب نہیں کس کا نام لوں اور کس کا چھوڑ دوں۔ آپ تو سب جانتے ہیں۔

ش۔ ص: ہندی قارئین کو نظر میں رکھ کر سوال کر رہا ہوں ؟

ع۔ ص: جہاں تک Original Dictionکا سوال ہے تو سب سے پہلے میں منیر نیازی کا نام لوں گا۔ ظفر اقبال نے غزلوں کو وسعت دی ہے۔ ناصر کاظمی، احمد مشتاق، مجید امجد، شکیب جلالی بہت اہم شاعر ہیں۔ بے گھری اور فسادات کا المیہ، اقتدار کی شکست، ظلم و جبر کے خلاف انسان کے کمزور ہوتے جانے کے احساس کے عکس ان کی غزلوں میں پورے تاثر کے ساتھ ملیں گے۔

ہندوستان میں بانی، مظہر امام، خلیل الرحمن اعظمی، زیب غوری، شہریار جیسے باکمال شاعر ہیں جن کی بنیاد کلاسیکیت پر ہے جن کے یہاں رنگوں کا تصور اور معنی کی تہہ داری ہے۔ ندا فاضلی کے یہاں Dictionکا انوکھا پن ہے تو زبیر رضوی کے یہاں غزلوں سے غائب ہوتی سرشاری، نشاط اور الھڑ پن کی کیفیتیں بچی ہوئی ہیں۔ اسعد بدایونی اپنے ہم عصروں میں مخصوص اور توانا شاعر ہیں تو آشفتہ چنگیزی، شارق کیفی، وقار ناصری اور انیس اشفاق نئی نسل کے اچھے شاعر ہیں۔ غزل کو ایک الگ طرح کا رنگ، احساس اور کیفیت دینے کے لئے ساقی فاروقی، شہزاد احمد اور احمد جاوید کا نام بھی لیا جانا چاہئے۔

ش۔ ص: معاف کیجئے گا۔ ایک سوال جو مجھے پہلے کرنا چاہئے تھا وہ اس جگہ پوچھنا پڑ رہ ہے وہ یہ کہ اردو ہندی کے علاوہ بر صغیر کی دوسری زبانوں میں بھی غزلیں کہی جا رہی ہیں جیسے پنجابی، سندھی، گجراتی، بنگلہ، سرائکی، پشتو وغیرہ۔ یاد آتا ہے کہ میں نے سنسکرت، بھوجپوری اور اودھی زبانوں میں بھی غزلیں پڑھی ہیں۔

ع۔ ص: قطعِ کلام کے لئے معافی چاہتا ہوں دیکھئے شکیل صدیقی صاحب میں نے پہلے ہی عرض کیا کہ غزل اظہار کا اتنا پیارا اور طاقتور ذریعہ ہے کہ اس کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہونا ہی ہے۔

ش۔ ع: اردو کی بین اقوامی توسیع کے ساتھ غزل بھی دنیا کے کئی ممالک میں کہی جا رہی ہے اس کے باوجود غزل کا اہم خطہ ہندوستان اور پاکستان ہی ہے۔ ان دونوں ملکوں میں جو غزل کہی جا رہی ہے اس میں کوئی فرق آپ کو نظر آتا ہے ؟

ع۔ ص: فرق تو ہے۔ بہت سے تجربات دونوں جگہ مختلف ہیں Approachکا بھی فرق ہے بہت سی چیزوں کے بارے میں۔ وہاں علامتیں زیادہ استعمال ہوئیں استعاروں کے ذریعہ بات کہی گئی۔ فرق مواد کا بھی ہے۔ زبان کی سطح پر کچھ اختلافات ہیں۔ ۷۰۔ ۱۹۶۵ء کے بعد یہ فرق زیادہ نمایاں ہوا ہے۔ اسلامی تواریخ کی علامتیں وہاں زیادہ رائج ہوئیں جبکہ ہمارے یہاں کربلا اور ہندو Mythologyکی علامتوں کا زیادہ استعمال ہوا ہے۔ وہاں الفاظ میں تبدیلی جلدی جلدی ظاہر ہوئی ہے۔ ہماری شاعری شناخت کی شاعری ہے زیادہ کشادہ اور زیادہ فکری۔ حالات کا فرق غزل پر تو اثر انداز ہو گا ہی۔ اس وقت ہندوستان میں زیادہ اہم شاعری ہو رہی ہے۔ خاص طور پر ہمارے یہاں نوجوان اچھی شاعری کر رہے ہیں وہ شاعری چونکاتی ہے۔

ش۔ ص: آپ کی غزلوں میں مزاحمت کے جو اتنے تیکھے پر تو ہیں تو یہ کس احساس کی دین ہیں ؟

ع۔ ص: در اصل غزل کہنے کو محض میں جذباتی یا قدرتی عمل نہیں تسلیم کرتا۔ یہ باخبر یا یوں کہیں کہ یہ جذبے اور بیداری، احساس اور بیداری بھی کہہ سکتے ہیں سے جاری و ساری ہونے والا تخلیقی عمل ہے جس میں ہمارے خیالات و تجربات کا بھی دخل ہوتا ہے۔ میں فکر اور جذبے کی شاعری کو الگ کر کے نہیں دیکھتا اچھی شاعری کے لئے دونوں ضروری ہیں۔ میرے چاروں طرف جو کچھ ہو رہا ہے جس طرح غیر انسانی رویے تیز ہو رہے ہیں۔ خوف اور جبر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقدار اور اصول ٹوٹ رہے ہیں، میں ان سب سے متاثر ہوتا ہوں۔ میری شاعری پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے۔ میں بھی ان سب پر اپنا رد عمل ظاہر کرنا چاہتا ہوں۔ اس لئے غزل میرے لئے رد عمل کا، لوگوں سے مکالمہ قائم کرنے کا اور خراب حالات میں مہذبانہ مداخلت کا موثر Toolہے۔ میں سوچتا ہوں، محسوس کرتا ہوں اس لئے احتجاج کرتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ غزل اعلا قدروں اور اعلا جذبوں کے دفاع کی فکر سے لازمی طور سے وابستہ ہوئی ہے۔

ش۔ ص: غزل کو ترقی پسند تحریک اور جدیدیت دونوں تحریکوں نے متاثر کیا ہے۔ آپ ان اثرات کے فرق کو کس طرح دیکھتے ہیں ؟

ع۔ ص: سن ۱۹۳۶ء کے بعد غزل میں شامل ہوئی فکر، موضوعات اور زبان کا فرق ترقی پسند تحریک کے اثر کی شناخت ہے، روایتی ہیئت اور علامتوں میں عصری حقیقتوں کی تصویر کشی ہوئی۔ زندگی کی نئی تعمیر میں اس کا کردار زیادہ وسیع ہوا۔ جبکہ جدیدیت کے رجحان کا زیادہ اثر روایت سے آزاد ہونے کی چھٹ پٹا ہٹ اور شخصی اصراروں کی شدت میں نظر آیا۔ محرومی، تنہائی اور شکست و ریخت کے جذبات گہرے ہوئے اسے ہم ٹوٹے ہوئے، رشتوں کی شاعری بھی کہہ سکتے ہیں۔ سانچوں کی داخلی شناخت کا رجحان تیز ہوا۔ صنعت کاری اور شہر کاری نے آدمی کی زندگی میں جو بیگانگی بھر دی، بے چہرگی کا جو خطرہ پیدا ہوا جدیدیت پسند شاعروں کی توجہ اس طرف زیادہ ہوئی۔ داخلی کیفیت کے بیان پر زور زیادہ ہوا۔ اس سے اپنے وقت کے آدمی سے غزل کا مکالمہ کچھ کمزور بھی پڑا۔

ش۔ ص: اس دور یا اس رجحان کی غزل میں ثقافتی ٹوٹ پھوٹ کا احساس اور مذہبیت کی طرف جانے کا میلان بھی دکھائی پڑا۔

ع۔ ص: یہ تو ہو گا ہی۔ جب Ideologiesسے یقین اٹھ رہا ہو۔ آدمی اپنے کو کمزور اور تنہا محسوس کر رہا ہو تو مذہبی رجحانات زور پکڑیں گے ہی۔ ۔ ۔

ش۔ ص: ہم عصر جد و جہد کے ساتھ بیداری اور احساس کی سطح پر ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے بھی تو ایسا ہو سکتا ہے ؟

ع۔ ص: ضرور ہو سکتا ہے لہٰذا میں اپنے وقت کی تمام ضروری جد و جہد سے اپنے کو ہم آہنگ محسوس کرتا ہوں۔

ش۔ ص: ادھر کچھ مدت سے غزل میں اسلامی علامتوں کے استعمال کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اس سے غزل کے روایتی سیکولرازم کی شبیہ کو کیا نقصان نہیں پہونچتا؟

ع۔ ص: میں ایسا نہیں سوچتا۔ غزل کا زیادہ تر حصہ اب بھی سیکولر ہے۔ ہم نے اس روایت کو قائم رکھا ہے۔ نئی غزل کا بھی خاص رجحان سیکولرزم اور انسان دوستی کا ہے۔ پاکستان میں کچھ ایسے تجربے ضرور ہوئے۔ ثقافتی شکست و ریخت ہوئی تو مذہبی احیاء پرستی کی تحریک بھی چلی۔ روایت سے الگ ہونے کی کوشش میں کچھ شاعروں نے اسلامی علامتوں کو اظہار کا ذریعہ بنایا۔ اس کا کچھ اثر ہمارے یہاں بھی پڑا لیکن یہ سب زیادہ دور تک نہیں چل پاتا۔ آج کا شاعر تو اظہار کے لئے تو زندگی سے علامتیں تلاش کر رہا ہے۔

ش۔ ص: آپ کی غزلوں میں بھی کربلا کی علامتیں موجود ہیں ؟

ع۔ ص: میں نے کربلا کی علامتوں کو وسیع تر انسانی سیاق میں دیکھا ہے اور برتا ہے۔ وہ پوری قوم کا تجربہ ہے۔ پھر وہ تو میرا روحانی تجربہ بھی ہے۔

ش۔ ص: فراق گورکھپوری نے غزل کو “A Series of Climaxes” کہا ہے آپ اس سے کتنا متفق ہیں ؟

ع۔ ص: پوری طرح متفق ہوں جناب۔ اور ایسا انھوں نے معیاری غزلوں کو نظر میں رکھ کر ہی کہا۔ غزل کا ہر شعر ایک مکمل یونٹ ہے۔ ہر شعر اپنے معنی اور خیال میں مکمل ہوتا ہے، ہر بڑے شاعر کے یہاں خیال اپنے عروج پر پہونچ کر ہی شعر کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس طرح ایک ہی غزل میں خیالات اور تجربات کے کئی Climaxesدیکھنے کو ملتے ہیں اور یہ خصوصیت صرف غزل کو حاصل ہے۔

(بہ شکریہ نیا دور، عرفان صدیقی نمبر)

٭٭٭

 

 

 

 

آگ کے دریاؤں کا مسافر: شکیب جلالی

 

                ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عرفان صدیقی

 

اس اخبار کے اندرونی صفحوں میں بالکل غیر اہم انداز کی وہ مختصر سی خبر دیکھی تو کانوں میں اچانک بہت سی بھولی ہوئی آواز یں گڈ مڈ ہو کر گونجنے لگیں اور ذہن میں بیتے دنوں کی دھندلی دھندلی تصویریں خلط ملط سی ہونے لگیں جیسے کرچ کرچ آئینوں میں چہرے۔

نئی اردو غزل کے منفرد شاعر شکیب جلالی نے ریل سے کٹ کر خود کشی کر لی۔ وہ مغربی پاکستان کی حکومت میں پبلسٹی افسر کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ پسماندگان میں انھوں نے ایک بیوہ اور دو بچے چھوڑے ہیں۔ خود کشی کا سبب معلوم نہیں ہو سکا۔ خبر نویس کو خود کشی کا سبب معلوم بھی کیسے ہوتا۔ شکیبؔ تو پہلے ہی کہہ گیا تھا ؂

سایہ کیوں جل کے ہوا خاک تجھے کیا معلوم

تو کبھی آگ کے دریاؤں میں اترا ہی نہیں

۱۹۵۴ء سے لے کر ۱۹۶۶ء تک یہ مدت یعنی بدایوں چھوڑنے سے لے کر یہ دنیا چھوڑ جانے تک کا پورا عرصہ شکیبؔ کے لئے سچ مچ آگ کے دریاؤں کا سفر تھا۔ پھر اس سفر میں اس کے وجود پر بے حسی، سخت کوشی اور زمانہ سازی کا کوئی فائر پروف لبادہ بھی نہ تھا جو اسے خاک ہو جانے سے بچا لیتا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس کا دل ایک عجیب و غریب آتش کدہ تھا جس میں جا کر زمانے کی ننھی سی چنگاری بھی بھڑکتا ہوا شعلہ بن جاتی تھی اور یہ آگ اس کے وجود کو کھائے جا رہی تھی۔ ایک طرح سے یہ چھوٹی سی خبر اس کا مقدر بن چکی تھی۔

آج میں موسموں کی کتاب کے بیس یا تیس ورق الٹتا ہوں تو کچھ دھند لے عکس اجاگر ہو کر بولتی تصویروں میں بدل جاتے اور کتنی ہی بھولی بسری یادیں مجسم ہو جاتی ہیں۔

چوتھائی صدی پہلے زندگی اتنی دل شکن معلوم نہ ہوتی تھی نئی عصری حقیقتیں اس چھوٹی سی بستی کے دروازے پر بھی دستک دے رہی تھیں لیکن آنکھوں میں گزری ہوئی روایتوں کے عکس ابھی جاگ رہے تھے۔ جو نسل اس وقت بدایوں میں جوان ہو رہی تھی اس کے ہاتھوں میں ماضی کے دامن کی مہک باقی تھی اور آنکھوں میں آنے والے برسوں کے خواب جگمگا رہے تھے۔ ادبی محفلیں، مباحثے رسالوں کا اجراء، ڈرامے، ادبی اور ثقافتی انجمنوں کا قیام، گہری خاموش با معنی دوستیاں، دل نواز رقابتیں اور با اُصول وسیع القلب دشمنیاں کچھ کر دکھانے کے حوصلے۔

یہ فضا تھی جس میں شکیبؔ کا جسم اور اس کا شعور جوان ہو رہے تھے۔ میرا اس سے راست تعارف بس اتنا ہی تھا جتنا کسی کا اپنے بڑے بھائی کے دوست سے ہو سکتا ہے۔ لیکن اس وقت بھی اداس اور گہری آنکھوں والے اس نوجوان کی شخصیت جو بھائی صاحب کے عزیز دوستوں میں تھا۔ کوئی ایسی بات تھی جو اس کو حلقۂ یاراں میں ایک خاص انفرادیت دیتی تھی۔ آج اتنے برسوں کے بعد شاید میں اس تاثر کا مکمل طور پر تجزیہ نہیں کر سکتا۔ ہاں اس کی شاعری کے حوالے سے اب اس کی ذات کو دیکھتا ہوں تو میرے اسی تاثر سے ملتا جلتا ایک تاثر اُبھرتا ہے جسے کلاسیکی انداز میں ’آنے دارد‘‘ سے سمجھا جا سکتا ہے۔

نیاز یعنی میرے بھائی صاحب کے دوستوں کا حلقہ یوں بہت وسیع تھا لیکن ان کے قریب ترین ہم مذاق ساتھیوں میں شکیبؔ ، افضال، شروانی، عبدالباری تسنیم، اخلاق اختر حمیدی اور فرخ جلالی شامل تھے۔ ان کے علاوہ اور بھی تھے لیکن ذہنی رفاقت کی بنا پر یہ لوگ بیشتر ہر ادبی ہنگامے میں ساتھ ہی ہوتے تھے۔ فرخ جلالی کو چھوڑ کر جوان دنوں علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبہ لائبریری سائنس سے وابستہ ہیں باقی سب دوست رفتہ رفتہ پاکستان چلے گئے۔ اس کوہِ ندا کی طرف جو یا اخی پکارتا رہتا ہے اور حوصلہ مند، ذہین اور خواب دیکھنے والے نوجوان جس کی وسعتوں میں گم ہوتے رہتے تھے۔

یہ حوالے شاید شخصی محسوس ہوں مگر میرے لیے شکیبؔ کی ذات کو اس پس نظر سے الگ کر کے دیکھنا اور سمجھنا مشکل ہے ہمارے گھر کا مردانہ حصہ ان نوجوانوں کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ مباحثے ہوتے تھے۔ ادبی مقابلے اور شعری محفلیں برپا کی جاتی تھیں۔ ادبی رسالے نکالے اور بند کئے جاتے تھے، انجمنیں قائم کی جاتی تھیں۔ ابا مرحوم ( دادا جان قبلہ شادؔ بدایونی) ایک مشفقانہ تبسم سے کبھی کبھی اظہار پسندیدگی فرماتے کبھی والد صاحب کچہری اور مؤکلوں سے فارغ ہوتے تو تقسیم انعامات کے لئے تشریف لاتے اور یوں بھی ہوتا کہ انجمن سازی میں اگر کوئی قضیہ پیدا ہو جاتا تو اس کے فیصلے کے لئے ابا مرحوم سے رجوع کیا جاتا، ماضی کا تناور درخت ابھی سایہ کئے ہوئے تھا۔ اور اس کی چھاؤں میں ذہن اور شعور پنپ رہا تھا شکیبؔ تب تک شکیبؔ جلالی نہ بنا تھا لیکن شعر کہتا تھا شعر سنانا تھا مباحثوں میں حصہ لیتا تھا اور نیاز کے ساتھ کالج کی تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں میں آگے آگے رہتا تھا۔ یہ پوری نسل مجھ سے سات آٹھ سال آگے تھی۔ اس لئے ہمارے سماجی اسٹیٹس میں اسی اعتبار سے فرق تھا میں اور میرے دو تین ساتھی ان محفلوں اور ہنگاموں کے بس تماشائی تھے یا زیادہ سے زیادہ صفِ آخر کے حاضرین۔

پھر یوں ہوا کہ محفل تتر بتر ہو گئی۔ ہوائیں تو سمتِ غیب سے پہلے ہی چل رہی تھیں کچھ جھونکوں نے بہت سے دوستوں کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا تسنیم اور اخلاق اختر کے بعد شکیبؔ بھی ایک دن خاموشی سے ترکِ وطن کر گئے پھر افضال شروانی نے رختِ سفرباندھا، فرخ جلالی نے علی گڑھ بسایا، کچھ دن نیاز تنہا تنہا سے اس شاخِ نہال غم کی آبیاری کرتے رہے پھر بریلی چلے گئے۔

۱۹۵۵ء کی گرمی کی چھٹیوں میں اپنے فائنل امتحانات سے فارغ ہو کر بھائی صاحب بدایوں آئے ہوئے تھے مجھے ان کے کمرے میں جا کر ان کی کتابوں، رسالوں، خطوں اور ڈائریوں کو چوری چھپے پڑھنے کی شروع سے عادت رہی تھی۔ کبھی کبھی پکڑا بھی جاتا تھا۔ اب کی بار ان کی ڈاک میں ایک بڑا خوبصورت ماہنامہ بھی شامل تھا ’’جاوید‘‘ اور لاہور سے نکل رہا تھا پہلے صفحہ پر مدیر کی جگہ جلی قلم میں لکھا تھا شکیبؔ جلالی، رسالہ بے حد خوبصورت لگا پورا رسالہ بڑے ستھرے مذاق اور گہرے شعور کا آئینہ تھا دو ڈھائی سال کی مختصر مدت میں شکیبؔ نے وہاں خود کو نہ صرف ایک منفرد اور با شعور غزل گو کی حیثیت سے متعارف کرا لیا تھا۔ بلکہ ادبی صحافت کے معیاروں کی تلاش میں کئی منزلیں طے کر لی تھیں۔ رسالہ کے ساتھ ہی بھائی صاحب کے نام اس کا ایک خط بھی آیا تھا۔

’’نیاز تم وہاں سے یہاں کی زندگی کا اندازہ نہیں کر سکتے اچھا ہوں شب و روز کی نہ پوچھو دن ’مغربی پاکستان‘ ( اس نام کا سرکاری رسالہ جس سے شکیبؔ وابستہ ہو گئے تھے ) کی نذر ہو جاتا ہے اور رات کشاکشوں میں کٹ جاتی ہے حال ہی میں ایک غزل کہی ہے اس سے کچھ اندازہ کر سکتے ہو کیا گزرتی ہو گی۔

یہ جھاڑیاں، یہ خار، کہاں آ گیا ہوں میں

اے حسرتِ بہار، کہاں آ گیا ہوں میں

کیا واقعی نہیں ہے یہ موسیقیوں کا شہر

کیوں چپ ہیں نغمہ کار، کہاں آ گیا ہوں میں

کچھ دن بعد بھائی صاحب بھی چلے گئے شکیبؔ وہیں لاہور میں تھا اور بھائی صاحب کراچی میں لیکن اکثر نصف ملاقاتیں اور کبھی بھائی صاحب کے لاہور جانے پر پوری ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں وہ کبھی کبھی مجھے بھی اس کے بارے میں لکھ دیتے تھے۔ اب وہ ’مغربی پاکستان، چھوڑ کر کسی اور اخبار سے وابستہ ہو گیا ہے۔ اب اس نے ’’جاوید ‘‘بند کر دیا ہے اب اس نے تعلقات عامہ کے محکمے میں ایک ذمہ دار جگہ حاصل کر لی ہے اب اس نے شادی کر لی ہے اب وہ ایک شفیق اور حساس باپ ہے۔

ایک بار بھائی صاحب گھر آئے تو میں نے تفصیل سے اس کے بارے میں پوچھنا چاہا بھائی صاحب نے بہت افسردگی سے کہا ’’عرفان‘‘ شکیبؔ خوش نہیں ہے سمجھ میں نہیں آتا بات کیا ہے وہ شاید اس لئے اداس رہتا ہے کہ اس کے تصور کے مطابق ڈھل نہیں پا رہی ہے وہ اس دھرتی کے ایک اُکھڑے ہوئے درخت کی طرح معلوم ہوتا ہے لیکن اس کی سلگتی، جلتی زندہ تپیدہ شاعری۔ ۔ ۔ اُف

میں جانتا تھا اس طرح کے لوگ اتنے ذہین اور اتنے حساس اور اتنے خوددار اور اتنے خواب دیکھنے والے لوگ ذرا مشکل ہی سے خوش رہ سکتے ہیں۔

پھر ۱۹۶۴ء میں ابا مرحوم کا بدایوں میں انتقال ہوا۔ بھائی صاحب کراچی میں بلک رہے تھے لاہور سے شکیب کا خط آیا۔

’’میں تجھے صبر کرنے کے لئے کیسے کہوں جب مجھے خود صبر نہیں آتا وہ ہماری عزیز ترین روایتوں کی علامت تھے اور ہمارے ذوق اور شعور نے ان کے سائے میں نمو پائی تھی۔ ۔ ۔ آہ تو تنہا نہ رو نیاز تیرا شکیبؔ تیرے ساتھ رو رہا ہے۔ ‘‘

میں ۱۹۶۲ء سے مرکزی محکمۂ اطلاعات سے وابستہ ہو کر دلی آ گیا تھا بیچ کے برسوں میں شکیبؔ کے زیادہ تفصیلی حالات تو نہ معلوم ہو سکے البتہ پاکستانی رسائل اور اخبارات میں اس کی غزلیں نظر سے گزرتی رہیں اور اس کی سلگتی ہوئی شخصیت ذہن میں اُبھرتی رہی۔ اس کی غزلیں بتا رہی تھیں کہ اس کا شعور اور اس کا احساس جس سفر پر نکلے ہیں وہ آگ کے دریاؤں ہی سے گزرتا ہے۔

پھر اچانک ایک دن وہ اپنے جسم کی ٹوٹی پھوٹی فصیل پر تازہ لہو کے چھینٹے چھوڑ کر حدودِ وقت سے آگے جانے کہاں نکل گیا۔

اس نے کہا بھی تو تھا ؔ

فصیلِ جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں

حدودِ وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی

٭٭٭

 

 

 

 

 

میرے کھوئے ہوئے موسم

 

                ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عرفان صدیقی

 

وہ فروری کی ایک سرد شام تھی۔ اداس اور خاموش۔ خشک دھندلکے میں لپٹی ہوئی۔ شاستری بھون کو اشوک روڈ سے ملانے والی سڑک پر دور تک بکھرے ہوئے خشک پتے ادھر ادھر اڑتے پھر رہے تھے۔ میں ان پتوں کے ساتھ، نئی دہلی کی سڑکوں اور پرانی دلی کی گلی کوچوں میں پچھلے چھتیس سال کی کوچہ گردی میں کھوئے ہوئے ان موسموں کو تلاش کر رہا تھا جو میں نے اور عظیم اختر نے اس شہر میں ساتھ گزارے تھے اور جو ہم دونوں کے عہد جوانی کے حوصلوں، امنگوں اور خوابوں سے عبارت تھے۔ اتنے برسوں کے بعد بھی موسم کا یہ منظر نامہ اس ماضی کو زندہ کر رہا تھا جو ہماری بہترین یادوں کا امین تھا:

شاہراہوں پہ وہی برگ خزاں اڑتے ہیں

اور اطراف میں خوشبوئے بہاراں ہے وہی

ان پتوں کے ساتھ چلتے ہوئے ایسا محسوس ہوا کہ تین دہائیوں سے زیادہ کا یہ زمانی فاصلہ پلک جھپکتے طے ہو گیا ہے اور ہم دو نوجوان اپنے شوق اور حوصلوں کے سفر پر نکلے ہوئے ہیں۔ ہماری تگ و تاز آکاش وانی بھون کی کثیر منزلہ عمارت، اس سے ملے ہوئے براڈ کاسٹنگ ہاؤس کے کمروں، رہداریوں اور عمارت کے احاطے میں مونگا ریسٹورینٹ، جن پتھ کا رنگینیوں سے معمور بازار، قدیم کافی ہاؤس، پھر تھیٹر کمیونی کیشن بلڈنگ کے میدان میں عارضی خیموں میں قائم نیا کافی ہاؤس، ریگل سنیما کے مصروف فٹ پاتھ اور کناٹ سرکس کی زندگی کی سرگرمی سے معمور پیچ در پیچ راہداریوں میں نگار ان دلی کے رنگین پیراہن اور غارت گرانِ ایمان کے جلوؤں کی چکا چوند، نئی دلی کی شاہراہوں اور پرانی دلی کے ’ ’اوراق مصور‘‘ گلی کوچوں، کارپوریشن کی لائبریری، جامع مسجد اور اردو بازار کے کتب فروشوں، پرانے چائے خانوں، فٹ بال میچوں کے مرکز، بہادر شاہ ظفر مارگ پر اخبارات کے دفاتر، لال قلعہ میں منعقد ہونے والے جشنِ جمہوریت کے مشاعروں اور ایسی ہی نہ جانے اور کتنی جگہوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ پریس انفارمیشن بیورو میں ہم دونوں نے، تقریباً سال بھر کے فرق سے جوائن کیا پی آئی بی میں اگرچہ اس وقت بہت سے ہم عمر ساتھی تھے تاہم مزاجوں کی ہم آہنگی نے ہمیں قربت اور دوستی کے ایسے رشتے میں جوڑ دیا جس میں ہم ایک دوسرے کے لئے ع

’دل کفِ دست کی مانند کھلا رکھا ہے ‘ کی مثال بن گئے۔ اب جو ۶۴ء کے بعد اس زمانے کی یادوں کے سفر پر نکلا ہوں تو واقعات اور چہروں کا ایک طویل سلسلہ ذہن کے پردے پر تصویروں کی طرح رواں ہے۔ عظیم اختر کے والد مرحوم، دلی کی سماجی زندگی کی مشہور شخصیت اور معتبر شاعر مولانا علیم اخترؔ مظفر نگری کی وجیہ اور پر وقار شخصیت ہمارے سروں پر محبت اور شفقت کے ایک چھتنار درخت کی طرح سایہ فگن تھی۔ پھاٹک حبش خاں کے چھوٹے رنگ محل میں جو اس وقت بھی ’’اوراق مصور‘‘ کی یاد دلاتا تھا۔ مولانا علیم اختر مظفر نگری کے مکان کا دیوان خانہ جسے مولانا حسرت موہانیؔ ، جگر مراد آبادیؔ ، احسان دانشؔ ، روشؔ صدیقی، المؔ مظفر نگری اور مجازؔ لکھنوی جیسے انگنت مشاہیر شعراء کی میزبانی کا شرف حاصل تھا، ہماری ادبی، شعری اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھا اور میرے لیے پردیس میں گویا گھر کے نعم البدل کی حیثیت بھی رکھتا تھا۔ مولانا کی سرپرستی اور شفقت میرا بڑا اہم سرمایہ تھی۔ وہ کبھی کبھی اپنے خوبصورت اور اثر انگیز اشعار سے نوازتے یا اپنی ادبی و تہذیبی یادداشتوں کے ورق الٹتے تو عظیم اور میں دونوں خاموشی کے ساتھ ذہنی اور جذباتی وابستگی کے ساتھ ان کے ہم سفر ہو جاتے۔

دہلی کی بزرگ شخصیتوں اور نوجوان دوستوں کی ایک طویل فہرست ہے جن سے مولانا کے اس مکان اور عظیم اختر سے دوستی کے حوالے سے نیاز مندی یا خلوص دوستی کے راستے استوار ہوئے اس میں بسملؔ سعیدی، استاد رساؔ دہلوی، مسلم احمد نظامی (ڈپٹی نذیر احمد کے پوتے اور شاہد احمد دہلوی کے چھوٹے بھائی)، اعجازؔ صدیقی (سیماب اکبر آبادی کے بیٹے اور ماہنامہ ’’شاعر‘‘ بمبئی کے مدیر)، گوپال متل (مدیر تحریک دہلی)، صاحبزادہ مستحسن فاروقی (مدیر آستانہ دہلی) غلامؔ احمد فرقت کاکوری، سلام مچھلی شہری، عنوانؔ چشتی، شمیمؔ کرہانی، دیویندر سیتار تھی، جاوید وششٹ، مخمورؔ سعیدی اور شعر و ادب کے ہم عصر منظر نامے میں نمایاں ہوتے ہوئے بانی ایم اے زبیر رضوی اور کے کھلر اور میرے قیام دہلی کے آخری حصے میں سید ضمیر حسن دہلوی، یعقوب عامرؔ ، اقبال عمرؔ خاص طور پر یاد آتے ہیں۔ جن لوگوں سے خصوصی قربت اور اخلاص کا تعلق رہا ان میں سلامؔ مچھلی شہری بہت یاد آتے ہیں جو ہم دونوں سے بہت سینئر ہونے کے باوجود بہت بے تکلف تھے اور جنہیں ہم محبت سے ’’شام اودھ کا شہزادہ‘‘ کہتے تھے۔ دہلی کی شاہراہوں اور کافی ہاؤس میں ان گنت شامیں جو میں نے اور عظیم اختر نے اس البیلے شاعر اور مخلص اور خوش خیال انسان کے ساتھ گزاریں وہ ہماری قیمتی یادوں کا حصہ ہیں۔ دہلی میں زندگی کی امنگوں سے بھرے ہوئے ان دنوں میں صہباؔ وحید (آل انڈیا ریڈیو کی اردو نیوز کے وحید قریشی) کے ساتھ رفاقت اور اخلاص کا گہرا رشتہ بھی یادوں کے سرمائے میں شامل ہے۔

عظیم اختر کے مزاج کا کھلنڈرا پن آج بھی بحمد اللہ اسی طرح قائم ہے اب بھی اسے دیکھ کر خیال آتا ہے کہ گزرے ہوئے ماہ وسال ہمارا کچھ نہیں بگاڑسکے۔ برگِ خزاں کی ہمراہی میں ماضی کے اس سفر کا مقصد عظیم کے ساتھ اپنی دوستی کی عمر کا حساب دینے سے زیادہ اس ذہنی اور جذباتی پس منظر کو اجاگر کرنا ہے جس نے ہمارے درمیان رفاقت اور دوستداری کے تعلق کی بنیادیں استوار کی تھیں۔ پرانی اور گہری دوستی کی شناخت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ماضی کو اس تعلق کے بغیر یاد نہیں کیا جا سکتا۔ اس تعلق کا بنیادی حوالہ زندگی کے پہلوؤں کے بارے میں ہمارے رویوں کا اشتراک اور اپنی ثقافتی اور تہذیبی روایات، خصوصاً شعر و ادب سے ہماری وابستگی تھی۔ لیکن اس کے بظاہر کھلنڈرے انداز اور سیمابی کیفیت کی تہہ میں ایک گہرا خلوص اور ایک شوخ بچے کی سی معصومیت کارفرما رہی ہے۔ مشاعروں اور ادبی نشستوں میں، کافی ہاؤس اور ٹی ہاؤس میں ہماری بیٹھکوں کے دوران اس کے شوخ لیکن معنی خیز فقرے رہے ہوں یا فٹ بال میچوں میں ہم دونوں کے پسندیدہ سٹی کلب کے کھیل کے دوران اس کا جوش و خروش، زندگی کے ساتھ اس کا رویہ ہمیشہ امید اور حوصلوں سے بھرپور رہا ہے۔ مولانا علیم اختر مرحوم کے بڑے بیٹے کی حیثیت سے اس نے شعر و ادب کی روایات ورثے میں پائی ہیں اور اس ورثے کی اس نے بڑی لگن سے پاسداری کی ہے۔ اسے اپنے گھر پر لڑکپن ہی سے بزرگ شاعروں اور ادیبوں کی جو قربتیں میسر رہیں انہوں نے اس کے ادبی ذوق کو جلا بخشی ہے۔

پریس انفارمیشن بیورو میں ہمارا ساتھ آٹھ نو برس رہا اور رفاقت کے یہ چراغ خدا کا شکر ہے بدستور روشن ہیں۔ وہ پی آئی بی سے دلی ایڈ منسٹریشن میں پریس افسر کی حیثیت سے چلا گیا اور پھر دلی کی ریاستی سول سروس کا ایک ذمہ دار رکن بن کر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی کرسی سنبھالی لیکن اسے دیکھ کر آج بھی حوصلوں، شوخیوں اور توانائیوں سے بھر پور وہی کھلنڈرا نوجوان عظیم اختر یاد آتا ہے جس سے ۶۴ء میں دوستی کا آغاز ہوا تھا۔

اس نے ٹوٹ کر چاہا بھی ہے اور وہ چاہا بھی گیا ہے۔ اور میں دل کے ان معاملات میں اس کا راز داں تو ہمیشہ رہا ہوں تا ہم اپنی طبیعت کی افتاد کی بنا رقیب کبھی نہ بنا۔ وہ دو ایک برس کے لیے ملازمت کے دوران تبادلہ پر جالندھر چلا گیا تھا جہاں سے وہ اپنی واردات، دل کی روئداد لمبے لمبے خطوط میں مجھے بھیجا کرتا تھا۔ جالندھر کے اس قیام میں اس کے دل کے گداز میں اضافہ ہوا لیکن انجام اس معاملے کا وہی ہوا جو عموماً ہوتا ہے یعنی فاصلے اور جدائی اور پھر کبھی کبھی خواب جیسی کچھ یادیں۔

عظیم کی یاد اللہ دلی کے ایسے ’’امیر زادوں ‘‘ سے بھی رہی ہے جن کے بارے میں میرؔ نے کہا تھا ؂

امیر زادوں سے دلی کے مت ملا کر میرؔ

کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے

لیکن یہ ’’امیر زادے ‘‘ عظیم اختر کی شوخی گفتار، بے باکی اور پر معنی فقرہ بازی سے خائف ہی رہتے تھے اور اپنی حدوں سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔

اسی دور میں اس نے شاعری بھی شروع کی تھی جو بیشتر نثری نظموں پر مشتمل تھی۔ لیکن پھر اس کی توجہ نثر نگاری کی طرف ہو گئی۔ یہ اچھا ہی ہوا کیونکہ آگے چل کر اسی شوق اور توجہ کے نتیجے میں انشائیہ اور طنز نگاری کے میدان میں اسے اپنی صلاحیتوں کو تسلیم کرانا تھا۔

ہم نے ایک مدت تک دلی میں اتنی شامیں روشن کی ہیں، اتنی راتیں جگائیں ہیں، اتنے موسم جذب کئے ہیں کہ ان کا بیان چند صفحات میں ممکن نہیں ہے اس دور کی دلی اب تک میری یادوں میں زندہ ہے اگرچہ جن چہروں اور پیکروں سے وہ زمانہ روشن تھا ان میں سے بہت سے اب وقت کی دھند میں کھو چکے ہیں۔ ان میں جانے پہچانے چہرے بھی ہیں اور وہ لوگ بھی جن سے ہم دونوں کے سوا اور کوئی شاید واقف بھی نہ ہو لیکن یہ سب لوگ ہمارے کھوئے ہوئے موسموں کے رنگ اور خوشبوؤں کا لازمی حوالہ ہیں۔ عظیم اختر اب ایک منفرد اور صاحب طرز خاکہ نگار اور طنز نگار تسلیم کیا جا چکا ہے اور اس نے ’’حرف نیم کش‘‘، ’’دلی حرف حرف چہرے ‘‘ اور اب ’’دلی، میری بستی میرے لوگ‘‘ میں نئے اور پرانے چہروں، پیکروں، بزم آرائیوں اور موسموں کی جو تصویریں بنائی ہیں ان کے ذریعے اس نے ایک خوبصورت، توانا اور رنگارنگ تہذیبی روایت کو زندہ رکھنے میں اپنا حصہ ادا کیا ہے۔ اس کے خاکوں اور طنزیہ انشائیوں میں اس کی شخصیت ہی کی سی بے ساختگی، شوخی اور سچائی ہے اور ان خاکوں میں وہ جن لوگوں سے ہمیں ملواتا ہے وہ یہ شعر یاد دلاتے ہیں ؂

جن سے مل کر زندگی سے پیار ہو جائے وہ لوگ

آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

اپنی تہذیبی روایت کو زندہ رکھنے کا یہ عمل زندگی کی خوبصورتی کے تسلسل پر ہمارا یقین تازہ کرتا ہے۔ عظیم اختر کا گھر آج بھی دلی میں منیر ہمدم، نور جہاں ثروت، ع۔ حامد، رؤف رضا اور اقبال اشہر جیسے اردو شاعروں ادیبوں کی نئی، تازہ دم اور تازہ کار نسل کے نمائندوں کا مرکز ہے جو اس سے ذہنی قربت محسوس کرتے ہیں ان ’’نئے دیوانوں ‘‘ کو دیکھ کر بقول احمد مشتاق خوشی بھی ہوتی ہے اور اپنا گزارا ہوا عہد جوانی بھی یاد آتا ہے۔

جی چاہتا ہے کسی دن عظیم اختر کو ساتھ لے کر دلی کی شاہراہوں اور گلی کوچوں کے اس سفر پر پھر نکلوں جو لگ بھگ پینتیس برس پہلے ہم نے شروع کیا تھا اور جس کی خوشبوئیں اب تک ہمیں اپنی طرف بلاتی رہتی ہیں اور یہ یقین دلاتی رہتی ہیں کہ موسم گل اب بھی انہیں اطراف میں کہیں عرفان صدیقی اور عظیم اختر کے انتظار میں ہے۔

٭٭٭

 

 

 

کالم

 

اقلیتی درسگاہیں اور سپریم کورٹ کا فیصلہ

 

                (عرفان صدیقی کا تحریر کردہ روزنامہ صحافت کا اداریہ)

 

سپریم کورٹ کی گیارہ رکنی بنچ نے چھ ججوں کی اکثریت سے چیف جسٹس بی این کرپال کی سر کر دگی میں اقلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق جو فیصلہ دیا ہے وہ اپنے مضمرات اور دور رس اثرات کی بنا پر گہری توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ اس فیصلے کے تعلق چوں کہ اقلیتوں کے ایک بے حد اہم آئینی حق یعنی اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور انہیں چلانے سے ہے، اس لئے عدالت عالیہ کے فیصلے کا سرسری جائزہ اور اس پر فوری رد عمل کے اظہار کے بجائے اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کر کے یہ اندازہ لگانے کی ضرورت ہے کہ اس فیصلے سے مکاتب اور ابتدائی درسگاہوں سے لے کر کالجوں اور یونیورسٹی سطح تک کے اقلیتی تعلیمی اداروں پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اقلیتی فرقے کو مذہب کی بنیاد پر اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کا اختیار حاصل ہے لیکن اگر اس نے ایسے ادارے کے لئے حکومت سے امداد حاصل کی تو اسے سرکاری قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی ہو گی۔ چھ ججوں کی اکثریت والے اس فیصلے کے بموجب اگر کسی اقلیتی ادارے نے حکومت سے گرانٹ یا امداد لی تو وہ مذہب، ذات، نسل یا زبان کی بنیاد پر دوسرے فرقوں کے لوگوں کو داخلہ دینے سے انکار نہیں کر سکے گا۔ بنچ نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت سے امداد نہ لینے والے اقلیتی تعلیمی اداروں کے انتظام میں بھی حکومت اسی وقت تک مداخلت نہیں کرے گی جب تک ان کا بندوبست صاف و شفاف ہو اور طلباء کو داخلہ دینے کے معاملے میں میرٹ یعنی اہلیت کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہو۔ ایک اور اہم بات اس فیصلے میں یہ کہی گئی ہے کہ اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا یہی حق اکثریتی فرقے کو بھی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ فیصلے کے مطابق اقلیتی فرقے کے تعلیمی اداروں کو اپنے فرقے کے طلباء کو داخلے دینے کے ساتھ ہی دوسرے فرقوں کے طلباء کو بھی ایک مخصوص فیصد تک جس کا فیصلہ حکومت اس ادارے سے متعلق مقامی آبادی کی بنیاد پر کرے گی، داخلہ دینا ہو گا اور داخلہ کا عمل، امداد پانے والے اقلیتی اداروں میں مشترکہ داخلہ ٹسٹ کے ذریعے ہو گا جو حکومت یا متعلقہ یونیورسٹی اپنی نگرانی میں کرائے گی۔ پانچ ججوں جسٹس وی ایم کھرے، جسٹس ایس ایس ایم قادری، جسٹس روما پال، جسٹس ایس این وریوا اور جسٹس اشوک بھان نے اپنے علاحدہ فیصلوں میں غیر امداد یافتہ تعلیمی اداروں کے انتظام کے معاملے پر اختلاف ظاہر کرتے ہوئے باقی فیصلے سے اتفاق کیا ہے۔

اس طرح یہ ظاہر ہے کہ سرکاری امداد پانے والے اور نہ پانے والے دونوں قسم کے اقلیتی تعلیمی اداروں کا قیام اور انتظام کا حق تسلیم کرنے کے باوجود انہیں غیر امداد یافتہ اداروں میں کار کر دگی کی شفافیت کی شرط پر اور امداد یافتہ اداروں کو امداد حاصل کرنے کی بناء پر، سرکاری قواعد و ضوابط کا پابند کیا گیا ہے۔ یعنی اس فیصلے کے مطابق دونوں صورتوں میں اقلیتوں کا یہ حق مطلق اور غیر مشروط نہیں ہے۔ اقلیتوں کے ذریعے اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کے حق کی ضمانت آئین نے دی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں اس حق کا تسلیم کیا جانا یقیناً آئینی حقوق کے تحفظ کے لحاظ سے اہم بات ہے لیکن بنچ کے اکثریتی فیصلے میں ایسے سرکاری امداد یافتہ اداروں کے نظم و نسق میں سرکاری قواعد و ضوابط کی پابندی کی شرط سے بہرحال اقلیتوں کے ذریعے قائم اداروں کے انتظام میں سرکاری مداخلت کی گنجائش پیدا ہو گئی ہے اس طرح عدالت عالیہ کا اس امر پر زور کہ اقلیتی تعلیمی اداروں میں انتظام شفاف رکھا جائے، بالکل درست ہے اور داخلوں میں اہلیت کی بنیادی اہمیت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا لیکن اس ضمن میں اہم بات یہ ہے کہ ایسے کسی ادارے کی کار کر دگی کی شفافیت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار اگر صرف انتظامیہ کو رہے گا تو ان اداروں کو چلانے میں مختلف پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

سرکاری امداد حاصل کرنے والے اداروں کے معاملات میں چیک اور بیلنس کے کسی نظام کے بغیر سرکاری ضوابط کی پابندی سے سرکاری مداخلت کا جو امکان پیدا ہو سکتا ہے وہ خود اقلیت کے اس بے حد اہم آئینی حق کو محدود کر سکتا ہے لیکن اس سے قطع نظر، ان اداروں میں داخلوں کے ضمن میں اقلیتی اور غیر اقلیتی طلباء کے فیصد کا تعین متعلقہ ریاست کی اقلیتی آبادی کی بنا پر طے کیے جانے سے اقلیتی ادارے کی بنیادی شکل اور کردار ہی کے متاثر ہونے کا خطرہ ایسا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس بند وبست سے ثانوی اور یونیورسٹی سطح کے تمام اقلیتی اداروں میں طلباء کے تناسب پر اثر پڑے گا۔ اس فیصلے کی جو تفصیل اخبارات میں آئی ہے اس میں ایک بات جو عجیب محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جو اقلیتی تعلیمی ادارے امداد نہیں لے رہے ہیں انہیں بھی ایک مخصوص فیصد تک جس کا فیصلہ بھی مقامی آبادی کی بنیاد پر کیا جائے گا، غیر اقلیتی طلباء کو داخلہ دینا ہو گا۔ کیا اس کا یہ مطلب سمجھا جائے کہ مثال کے طور پر مسلم اقلیت کے جو دینی مدارس اور مکاتب سرکار سے ایک پیسہ بھی نہیں لے رہے ہیں اور اپنے بچوں کو اپنے مذہب اور کلچر کے تعلیم و تربیت دینے کے لئے چلائے جا رہے ہیں وہ بھی اس بندوبست کے دائرے میں آئیں گے ؟

عیسائی اقلیتی رہنما دلی کے پادری عما نویل نے مجموعی طور پر اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے لیکن اس کے جن پہلوؤں سے اقلیتی اداروں کے انتظام میں سرکاری مداخلت کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے اس پر فکر بھی ظاہر کی ہے۔ سید شہاب الدین نے بھی اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار تشویش کیا ہے کہ اقلیتی اداروں میں غیر اقلیتی فرقوں کے طلباء کے داخلوں کے معاملے پر ہر شہری کو بلا امتیاز مذہب و زبان و نسل تعلیم حاصل کرنے کے حق سے متعلق آئین کی دفعہ ۲۹ (۲) اور اقلیتوں کے اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کے حق سے متعلق دفعہ ۳۔ (۱) کے درمیان عملاً ایک ربط قائم کر دیا گیا ہے۔ بہرحال، شدید ضرورت اس بات کی ہے کہ اقلیتوں، خصوصاً مسلم اور عیسائی فرقوں کے معتبر اور صاحب نظر رہنما، دانشور، ماہرین قانون اور ماہرین تعلیم سپریم کورٹ کے پورے فیصلے کا تفصیل اور گہرائی سے جائزہ لے کر اس کے مضمرات اور اثرات کا پورا اندازہ لگائیں اور اگر کوئی پہلو اقلیتوں کے حقوق پر منفی طور سے اثر انداز ہو سکتا ہو تو اس کے بارے میں قانونی و آئینی اصلاحی تدابیر تلاش کریں۔

(روزنامہ صحافت لکھنؤ۔ جلد نمبر ۱۲، شمار نمبر ۲۹۳)

٭٭٭

 

 

 

 

 

تعلیم پر بھگوا رنگ کا غلبہ

 

                (عرفان صدیقی کا تحریر کردہ روزنامہ صحافت کا اداریہ)

 

ملک کی تاریخ اور ثقافت کو ہندوتو کے مخصوس نظریات و تصورات کی رنگ میں پیش کرنا سنگھ پریوار اور دوسری انتہا پسند تنظیموں کا خاص پروگرام ہے اور اس کے لئے تعلیم کو ایک کارگروسیلے کے طور پر بہت دن سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تعلیم کو بھگوا رنگ میں رنگنے کا یہ مہم حالیہ دنوں میں کچھ اور شدت پکڑ گئی ہے اور نصابی کتابوں کے ذریعہ فرقہ وارانہ خیالات کی تشہیر کا کام بی جے پی کے زیر اقتدار مرکز اور ریاستی سرکاروں کی سرپرستی میں زور و شور سے چلایا جا رہا ہے اور تعلیم کو زہر آلود بنانے کی ان کوششوں کے خلاف ملک کے سیکولر اور روشن خیال حلقوں میں احتجاج کی آوازیں بھی بلند کی جا رہی ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ متعلقہ حکومتیں ان حالات کی اصلاح کے لیے کوئی ٹھوس عملی اقدام نہیں کر رہی ہیں۔ مرکز میں حکمراں اتحاد سے باہر سیاسی جماعتیں جن نوریاستوں میں برسر اقتدار ہیں ان کے وزرائے تعلیم نے بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کو اس بات کے لئے مورد الزام ٹھہرایا ہے کہ وہ تعلیمی نظام کو فرقہ واریت سے آلودہ کر کے ملک کے اتحاد اور یکجہتی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

اس سلسلہ میں مذکورہ ریاستوں کے وزرائے تعلیم نے تعلیم پر فرقہ پرستی کے تسلط کے خلاف نئی دلی میں ایک قومی کنونشن منعقد کیا ہے اور گزشتہ پیر کو اس کے اختتام پر ایک تجویز منظور کی ہے جس میں تعلیم کو فرقہ واریت سے مسموم کرنے کی کوشش پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ تجویز میں کھل کر کہا گیا ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت نے قومی سطح کے تقریباً ہر علمی اور تعلیمی ادارے کو سنگھ پریوار کا فرقہ وارانہ ایجنڈا نافذ کرنے کا ایک وسیلہ بنا دیا ہے۔ اس مقصد سے ان اداروں کی سربراہی ایسے افراد کو سونپی جا رہی ہے جن کے تقر ر کی واحد بنیاد پریوار کے نظریات سے ان کی وابستگی ہے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن جیسے اعلیٰ اور خود مختار ادارے نے حکومت کے ایماء پر اس سلسلہ میں جو طرز عمل اختیار کیا ہے اس پر گزشتہ دنوں مختلف حلقوں میں شدید اعتراض کیا گیا ہے۔ اب ان وزرائے تعلیم نے بھی کہا ہے کہ کمیشن دیسی تعلیمی نظام کو تعلیمی اداروں میں رائج کر رہا ہے جب کہ ملک کی یونیورسٹیاں ضروری فنڈ کی کمی کا شکار ہیں۔ کنونشن کے خیال میں اس اقدام کا مقصد رجعت پسندی کو بڑھا وا دینا اور اعلیٰ تعلیم کے سائنسی کردار کو برباد کرنا ہے۔

تعلیم پر فسطائی نظریات مسلط کرنے کا یہ عمل بلا شبہ اتنا خطرناک ہے اور اس کے نتائج اتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں کہ ملک کو اس خطرے سے بچانے کے لئے ان تمام حلقوں اور افراد کا منظم ہو کر کوشش کرنا انتہائی ضروری ہے جو ملک کے اتحاد اور سیکولر نظام کو عزیز رکھتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں یا دوسری اقلیتوں کے خلاف اس نئے تعلیمی نظام کے وسیلے سے پیدا کی جانے والی نفرت ہی کا نہیں ہے بلکہ اس کے ہولناک اثرات ملک کے تمام طبقوں اور پورے قومی ڈھانچے پر پڑیں گے بلکہ یہ اثرات عملاً سامنے آنا بھی شروع ہو گئے ہیں۔ تعلیم میں فرقہ واریت کے غلبہ کے خلاف مختلف سماجی اور ثقافتی تنظیموں اور اداروں کے ذریعہ وقتاً فوقتاً جلسے اور سیمینار وغیرہ کے انعقاد سے بھی اس نفرت انگیزی کے خلاف فضا بنانے میں مدد ملتی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں سیکولزم اور سماجی اتحاد کے علمبردار سیاسی جماعتیں بھی اس فتنہ سے لڑنے کو اپنے سیاسی ایجنڈے کا ایک ترجیحی موضوع بنائیں۔

نئی دلی میں وزرائے تعلیم کا یہ قومی کنونشن وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کرنے کی سمت میں ایک مثبت قدم ہے جس کو وسیع پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔ کنونشن میں شبانہ اعظمی، اڈوارڈوفلیرو، منی شنکر ایر اور دوسرے ممبران پارلیمنٹ نے مرکزی حکومت سے بالکل درست مطالبہ کیا ہے کہ وہ ریاستی وزرائے تعلیم کا ایک اجلاس بلا کر اور ایک مرکزی تعلیمی صلاح کار بورڈ بنا کر قومی تعلیمی پالیسی کے امور پر ریاستوں سے ضروری صلاح و مشورہ کرنا شروع کرے۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سیتا رام یچوری نے یہ کہہ کر ایک اہم سچائی بیان کی ہے کہ حکومت ہندوستان کی تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی کوشش کر کے ایک شدید فرقہ پرستانہ مذہبی ریاست کے قیام کی کوشش کر رہی ہے۔

(روزنامہ صحافت لکھنؤ۔ جلد نمبر ۱۱، شمار نمبر ۲۱۲)

٭٭٭

 

 

 

 

سارک پر بے یقینی کے سائے

 

                (عرفان صدیقی کا تحریر کردہ روزنامہ صحافت کا اداریہ)

 

جنوبی ایشیا کے سات ملکوں کے علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کا بنیادی مقصد ان ملکوں یعنی ہندوستان، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے درمیان اقتصادی و تجارتی اشتراک و تعاون کو فروغ دینا تھا اور تنظیم کے قیام کے وقت سے ہی یہ طے کیا گیا تھا کہ یہ سیاسی تنازعوں، خصوصاً دو ممبر ملکوں کے باہمی سیاسی تنازعوں سے دور رہے گی۔ اس کے باوجود مختلف موقعوں پر سارک کے اجلاس، اس تنظیم کے دو سب سے بڑے ممبروں یعنی ہندوستان اور پاکستان کے باہمی سیاسی مسائل کے درمیان میں لائے جانے کی بنا پر اختلاف اور انتشار کا شکار ہوتے رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں علاقائی اقتصادی ترقی کے وہ نشانے پورے نہیں ہو سکے جن کے حصول کے لیے اس تنظیم کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اپنے بنیادی مقصد سے دور ہو جانے کی صورت حال کے لیے اصلاً پاکستان ذمہ دار رہا ہے جس نے ہر موقع پر اس تنظیم کو کشمیر کا مسئلہ اٹھانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اقتصادی ترقی کے ایک ادارے کے طور پر سارک کی موجودہ بے اثری میں کچھ نہ کچھ حصہ اس بد دلی اور سخت رد عمل کا بھی ہے جو پاکستان کے رویے کی بنا پر ہندوستان کی طرف سے اس تنظیم کے تعلق سے ظاہر کیا گیا ہے۔ اسباب اور عوامل کا تجزیہ اپنی جگہ، افسوسناک سچائی یہ ہے کہ سارک محض ایک بے اثر اور غیر فعال علاقائی تنظیم ہو کر رہ گئی ہے جس کا عدم اور وجود تقریباً برابر ہے۔

آئندہ جنوری میں پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں ہونے والا سارک اجلاس بھی ہندوستان اور پاکستان کے باہمی اختلافات کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔ سارک کے اس اجلاس کی حیثیت چوٹی کانفرنس کی ہو گی جس میں ممبر ملکوں کے سربراہان حکومت کو شرکت کرنا ہے۔ کچھ مدت پہلے تک سیاسی حلقوں میں تاثر یہ تھا کہ وزیر اعظم مسٹر باجپئی اس میں شرکت کریں گے لیکن گجرات، دلی اور جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد سے صورت حال میں بہت فرق آ گیا ہے۔ سارک اجلاس پر بے یقینی کے سائے گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں کی وجہ سے ہندوستان کے وزیر اعظم کا اس اجلاس میں شرکت کرنا غیر یقینی نظر آتا ہے۔

میڈیا میں بی بی سی کے ایک پروگرام کے حوالے سے وزیر اعظم مسٹر باجپئی کے قومی سلامتی امور کے مشیر برجیش مشرا کا یہ بیان آیا ہے کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے چونکہ پاکستان نے ’’قطعاً کچھ نہیں ‘‘ کیا ہے اس لیے وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی کا اس اجلاس کے لیے اسلام آباد جانا ’’بہت مشکل‘‘ ہے۔ خبروں کے مطابق مسٹر مشرا نے یہ تو تسلیم کیا ہے کہ در اندازی میں کمی ہوئی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ کمی پاکستان کے عمل کے نتیجے میں نہیں بلکہ اس لیے ہوئی ہے کہ ہندوستان نے اس معاملے پر بہت زیادہ دباؤ بنایا ہے۔ انہوں نے وی ایچ پی کے اشوک سنگھل کے اس مبینہ ریمارک کے بارے میں کہ جو وزیر اعظم پاکستان کے خلاف کاروائی کرے گا وہ الیکشن جیت لے گا، پوچھے جانے پر یہ دعویٰ کیا کہ سرکار پر جنگ چھیڑنے کے لئے کسی طرف سے کوئی دباؤ نہیں ہے حالانکہ پارلیمنٹ اور فوجی کیمپ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ’’جذبات بہت بھڑک گئے تھے ‘‘۔ اس کے ساتھ ہی مسٹر مشرا نے کہا کہ اس ملک میں ایک بڑا حلقہ ہندوستان کی طرف سے جنگ چھیڑے جانے کے خلاف ہے اور تمام تنازعات کا تصفیہ باہمی مذاکرات کے ذریعہ کرنے کے حق میں ہے۔

یہ سب باتیں سرحد پار کی دہشت گردی کے بارے میں ہندوستان کے موقف کا اعادہ کرتی ہیں اور ان پر زور دیتے رہنا بھی ضروری ہے لیکن ان مسائل کو سارک جیسی خالص معاشی و تجارتی ترقیاتی تنظیم کے اجلاس میں شرکت سے وابستہ کرنا خود تنظیم کی اس بنیادی حیثیت سے مطابق نہیں رکھتا کہ اسے باہمی سیاسی تنازعات سے دور رکھا جائے گا۔ پاکستان کی حمایت سے ہونے والی دہشت گردی کا انسداد لازم ہے لیکن اگر ان واقعات کے باوجود ہندوستان اور پاکستان کے سیاسی اور سفارتی تعلقات قائم ہیں اور تجارتی اشتراک کے شعبے میں ہندوستان اب بھی یہ توقع کر سکتا ہے کہ پاکستان اسے ’’انتہائی مراعات یافتہ ملک‘‘ کی حیثیت دے گا، تو پھر سارک جیسی علاقائی اقتصادی تعاون کی تنظیم کے اجلاس میں شرکت کو ہند۔ پاک تنازعات کے حل سے مشروط کرنا کہاں تک ایک حقیقت پسندانہ رویہ ہو گا؟

(روزنامہ صحافت لکھنؤ۔ جلد نمبر ۱۲، شمار نمبر ۳۱۸)

٭٭٭

تشکر:

عزیز نبیل، جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید