FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

دلہن نئی نویلی

 

 

                قتیلؔ شفائی

 

مجموعے ’گجر‘ سے نظموں اور گیتوں کا انتخاب: آزر عباس

 

 

 

 

 

دعا

 

نقرئی جھانجھنوں جھن جھن جھنن دود ھ سے پاؤں کو گدگداتی ہے

گنگناتی رہیں کانچ کی چوڑیاں، ہر کلائی نئے گیت گاتی رہے

ہر جوانی سدا مسکراتی رہے

گاؤں سے دور کھیتوں کے اس پار وہ صاف شفاف چشمہ ابلتا رہے

شوخ پنہاریوں کا حسیں جمگھٹا گا گریں لے کے راہوں پہ چلتا رہے

حسن منظر کے سانچے میں ڈھلتا رہے

گرمیوں کی کڑکتی ہوئی دھوپ میں جھوم کر پیڑ سایے لٹاتے رہیں

ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کے پالے ہوئے مست جھونکے شرابیں پلاتے رہیں

نیند بنکر منظر میں سماتے رہیں

چودھویں رات کے چاند کی چاندنی کھیتوں پر ہمیشہ بکھرتی رہے

اونگھتے رہگزاروں پہ پھیلے ہوئے ہر اجالے کی رنگت نکھرتی رہے

نرم خوابوں گنگا ابھرتی رہے

عید کا دن یونہی روز آتا رہے ڈھولکوں پر یونہی تھاپ پڑتی رہے

منچلی لڑکیوں میں ہنسی کھیل پر نت نئے ڈھب سے بنتی بگڑتی رہے

کوئی مانے تو کوئی اکڑتی رہے

شہر سے لوٹ کر آنے والے جواں گاؤں میں جوق در جوق آتے رہیں

اپنی اپنی دلہن کے لئے نت نئی سونے چاندی کی سوغات لاتے رہیں

زندگی کے محل جگمگاتے رہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

گیت

 

 

باج رہی شہنائی، آئی دلہن نئی نویلی!

دلہن نئی نویلی!

سوامی سمجھے گھونگھٹ پیچھے ہو گا چاند کا ٹکڑا

گھونگھٹ کے پٹ کھلے تو نکلا مرجھایا سا مکھڑا

ڈھانپ کے روئے مرجھائے سے مکھڑے کو البیلی

دلہن نئی نویلی

نئی نویلی کا یہ سواگت؟ تند نہ ساس نہ دیور

میکے سے بھی کیا لائی ہے ، کھوٹ کے پیلے زیور

اب کیا کسی سے آنکھ ملائے ؟ سوچے پڑے اکیلی

دلہن نئی نویلی

بین کرے یا چین سے سوئے ؟ روئے یا مسکائے

آج تو گذرا کل کیا ہو گا؟ سوچ سوچ گھبرائے

جیون کے اس الجھاوے میں بن گئی ایک پہیلی

دلہن نئی نویلی

باج رہی شہنشائی، آئی دلہن نئی نویلی

٭٭٭

 

 

 

وادی سر بن کی ایک صُبح

 

کوہ سر بن کی آغوشِ گلبوش میں نقرئی بادلوں نے بسیرا کیا

رات بھر یوں ندیاں رقص کرتی رہیں بھیگی موسیقیوں نے سویرا کیا

ہو گئیں صاف شفاف پگڈنڈیاں میلی میلی چٹانوں کے منہ دھل گئے

سوئی سوئی فضا آنکھ ملنے لگی، سیلی سیلی ہواؤں کے منہ دھل گئے

وجد میں آ گئیں سوکتی جھاڑیاں مست جھرنے نئے گیت گانے لگے

اونچے اونچے صنوبر لہکتے ہوئے مل کے جشنِ مسرت منانے لگے

ذرّے ذرّے کا چہرہ دمکنے لگا، سنگریزوں میں ہیروں سے تاب آ گئی

سارا ماحول اک آئینہ بن کے فطرت پہ تابندگی چھا گئی!

پیارے پیارے پرندے چہکتے ہوئے آشیانوں سے اڑ اڑ کے آنے لگے

ننھے ننھے سے پھڑپھڑاتے ہوئے کوئی بے نام سا گیت گانے لگے

ٹوٹی پھوٹی سی کٹیاؤں میں چونک کر مست چرواہے بیدار ہونے لگے

گونج اٹھیں مرلیوں کی رسیلی دھنیں ہونٹ گیتوں کی مالا پرونے لگے

سرد چشمے پہ البیلی پنہاریاں دم بخود رس بھرے گیت سننے لگیں

جانی پہچانی آواز پہچان کر حسرتوں کے حسین جال بننے لگیں

٭٭٭

 

 

 

 

تکون

 

چھپی وہ شب کی سیاہی میں دن کی تابانی

چراغ جیسے کوئی کاکلوں سے ڈھانپ گیا

کراہتے ہوئے سایے اور ان کا پس منظر

سحر ہوئی تو دل کائنات کانپ گیا

 

چھپے ہوئے ہیں نظر سے وہ دل نشیں منظر

جنہیں خیال کی زینت بنائے بیٹھا ہوں

نظر سے دور مگر ذہن کے قریب! یہ کیا

میں کہکشاں کو زمین پر جھکائے بیٹھا ہوں

چھپا جو پردہ مغرب میں زرد رو سورج

فلک پہ چاند ستاروں کی جگمگاہٹ تھی!

ہوا کا نرم سا جھونکا وہ اک لطیف سی لے

گزرتے وقت کے آنچل کی سرسراہٹ تھی

٭٭٭

 

 

 

 

سپنا

 

 

غم کے پر ہول شبستانوں میں !

آج اک شمع ضیا بار جلا آیا ہوں!!

کتنے خوابیدہ اجالوں کو جگا آیا ہوں

اپنے قدموں کو نئی راہ دکھا آیا ہوں

تیرہ و تار بیابانوں میں

چھٹ گئے ہیں مرے ماحول سے غم کے بادل

مسکرانے لگے تارے مری چشم نم کے

میری دنیا میں مسرت کے اجالے چمکے

بجھ گیا نور سیہ خانوں میں!

اٹھ گئی بارگہ حسن کی رنگین چلمن

پاؤں تھر کے تو مچلنے لگی جھانجھن جھن جھن

ہو گئے پھر سے ان آنکھوں میں دیے سے روشن

لوچ سا آ گیا ارمانوں میں

ناگہاں آج مرے بخت نے پلٹا کھایا

پردہ ظلمت آلام جو نہی سرکایا

اک شور سا مرے احساس کو چھونے آیا

جیسے جگنو کوئی طوفانوں میں

٭٭٭

 

 

 

 

 

کروٹ

 

 

ننگے پیڑوں کو ڈھانپنے کے لئے

پھیلے جاتے ہیں ریشمیں سائے

آ گئے وہ پروں کو پھیلائے

غول کے غول سبز پریوں کے

 

ایک کروٹ سی، اور خزاں ناپید

ایک آہٹ سی اور موسم گل

خشک پتوں کی کھڑکھڑاہٹ پر

چھا گیا ہے ترانۂ بلبل

 

ابر جھوما تو رند بھی جھومے

جام رقصاں ہیں، مے چھلکتی ہے

قہقہے سن کے موسم گل کے

دور پت جھڑ کہیں سسکتی ہے

 

یوں جھکا ہے ندی پہ اک شہتوت

دیکھتا ہو وہ جیسے آئینہ

پیڑ کا عکس ہے کہ سبز آنچل

جس میں لپٹا ہو نقرئی سینہ

 

خلوتوں کے نصیب جاگ اٹھے

دل مچلنے لگا ہے پہلو میں

آج کچھ ان پہ ہی نہیں ہے موقوف

جی میں آتا ہے خود کو بھی چومیں

 

ڈالیاں لد گئیں ہیں پھولوں سے

خوشبوؤں سے مہک اُٹھے سایے

جیسے گر کر دلہن کے ہاتھوں سے

ناگہاں عطر داں الٹ جائے

٭٭٭

 

 

 

 

قطعہ

 

 

چاندنی رات، فکرِ شعر و سخن!!

میں نے چاندی کی بت تراشے ہیں

ان میں تم روح پھونک دو ورنہ

میرے افکار سرد لاشے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

دُلہن

 

 

جاگ سہیلی!

جاگ سنبھل کر آنکھیں مل کر

او البیلی!

دیکھ وہ اٹھ کر گیا ندی پر

ساجن تیرا

نیند کی ماتی

اپنی سُدھ لے بول نہ اُٹھے

تیری چھاتی

یوں سونے سے

تیرا ان کا بھید کھلے گا

کروٹ بھی لے

او البیلی!

٭٭٭

 

 

 

ہرجائی

 

 

کھیت سے دُور دمکتے ہوئے دوراہے پر

ایک سرشار جواں میں نے کھڑا پایا تھا!

تمتمائے ہوئے چہرے پہ سلگتی آنکھیں

جیسے مہکے ہوئے گلزار کا خواب آیا تھا

سر پہ گاگر کے چھلکنے سے جو تارے ٹوٹے

آسماں جھانک رہا تھا مجھے حیرانی سے

ٹن سے کنکر جو پڑا میری حسیں گاگر پر

ایک نغمہ سا اُلجھنے لگا پیشانی سے !

ٹوٹتی رات گئے گھر کو پلٹنا میرا!

ایک لپکتے ہوئے سایے نے ڈرایا تھا مجھے

تم؟ اری تم؟ (وہی سرشار جواں تھا شاید)

جی یونہی ایک سہیلی نے بُلایا تھا مجھے

کھیت بھرپور جوانی کو لٹا بیٹھے تھے !

ہر درانتی پہ تسلسل کا جنوں طاری تھا

جانے کیا دیکھ رہا تھا وہ مرے چہرے پر

اس قدر یاد ہے انگلی سے لہو جاری تھا

کانچ کی چوڑیاں کل رات نہ ہوں ہاتھوں میں

اتنی اونچی تری پازیب کی جھنکار نہ ہو!

سرسراتا ہوا ملبوس نہ لہرا جائے !

کسی سایے کا گماں بھی پسِ دیوار نہ ہو

جب کبھی چاند سے پگھلی ہوئی چاندی برسی

اونگھتی رات کے شانے کو جھنجھوڑا ہم نے

بھول کر بھی کبھی پلکیں نہ جھپکنے پائیں!

اس قدر نیند کو آنکھوں سے نچوڑا ہم نے

اب مگر چاندنی رات آ کے گزر جاتی ہے

پوچھتا ہی نہیں کوئی میری تنہائی کو!

کھیت سے دور دمکتے ہوئے دوراہے پر

ڈھونڈتی ہیں میری آنکھیں کسی ہرجائی کو

٭

گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں

کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

کھنڈر

 

 

وہ مکاں جس کے دریچے مدتوں سے بند ہیں

کچھ دنوں سے چھا رہا ہے میرے احساسات پر

زندگی کی دھڑکنیں آلودۂ تاثیر ہیں!

وقت کے ماتھے پہ اک اجلی چمک پیدا ہوئی

تیرہ و تاریک راہوں میں ستارے بُجھ گئے

ان اُجالوں میں اندھیرے قابلِ تعزیر ہیں

زندگی نے دو قدم پیچھے کو پلٹا کھا لیا

پھر وہی پیماں، وہی سہمی ہوئی سرگوشیاں

سن رہی ہوں اب بھی ماضی کے رسیلے قہقہے

ٹمٹماتا ہے ابھی تک میری کٹیا کا دیا!

وہ گٹھیلا سا بدن ابریشمی ملبوس میں

آتے جاتے آنکھوں آنکھوں سے سندیسے پیار کے

بُھول سکتے ہیں کبھی؟ ان کو بھلا سکتی ہوں میں

اُف وہ آنکھیں، دو دیے جلتے ہیں فانوس میں

میں نے دیکھی تھی انہیں آنکھوں میں تاروں کی چمک

اک مسلسل کیف، اک پیہم مُسرّت کی نمود

والہانہ عشق کی اک غیر فانی یادگار!

ہلکی ہلکی خلش، اک میٹھی میٹھی سی کسک

آہ وہ خونی سحر، میری محبت کی رقیب

اُف وہ غراتی ہوئی موٹر کا بل کھاتا دھواں

آخری آہوں میں وہ ڈوبا ہوا لمبا سفر!

ایک نا دیدہ وطن میں کھو گیا میرا حبیب

دیکھ کر کٹیا میں مجھ کو کروٹیں لیتے ہوئے

غرق ہو جاتے ہیں احساسات گہری سوچ میں

رینگتی ہے دل کے ایک تاریک گوشے میں اُمید

آ رہے ہوں جیسے وہ مجھ کو صدا دیتے ہوئے

جن کے پس منظر میں میری جنتیں آباد تھیں

مُسکراتے ہیں ابھی تک ان دریچوں کے کواڑ

جیسے میری زندگی بازیچۂ تقدیر ہے !

جیسے میرے جھونپڑے کا کوئی مستقبل نہیں

میرا ننھا ہے کہ فردوس بریں کا پھول ہے

رات کی تنہائیوں میں دے کے اس کو لوریاں

“لو وہ ابا آ گئے ” کہتی ہوں جانے کس لئے

وہ نہ آئیں گے ، نہ آئیں گے ، یہ میری بُھول ہے

٭٭٭

 

 

 

 

پیش گوئی

 

 

سونے کی انگوٹھی میں یہ ہیرے کا نگینہ!

تحفہ ترا لیتے ہوئے دل کانپ رہا ہے

آغاز میں انجام کی باتیں مرے محبوب

احساس کی رگ رگ میں لہو ہانپ رہا ہے

 

وہ خواب جو میں نے تری آنکھوں سے نچوڑا

افسوس کہ اس خواب کی تعمیر غلط ہے

میں نے تو نہ چاہا تھا یہ سونے کا دریچہ

شاید ترے فردوس کی تعبیر غلط ہے

 

افسوس تری مصلحت اندیش محبت

دل سے نہیں سونے سے مجھے تول رہی ہے

لیکن مرے محبوب اسے کون چھپائے

وہ راز جو ہیرے کی کنی کھول رہی ہے

 

ڈھل جائیں گے جس وقت شفق زار لبوں سے

جب حسن کے شاداب نظارے نہ رہیں گے

جب چاند سے ماتھے پہ نہ پھوٹے گا اُجالا

جب رات سی آنکھوں میں ستارے نہ رہیں گے

 

ہو جائیگا عریاں تری فطرت کا تلون

ہیرے سے اُتر جائے گا سونے کا لبادہ

جس وقت میں آفاق میں رہ جاؤں گی تنہا

ہیرا مرے کام آئے گا سونے سے زیادہ

٭٭٭

 

 

 

شمع انجمن

 

 

میں زندگی کی ہر ایک سانس کو ٹٹول چکی

میں لاکھ بار محبت کے بھید کھول چکی

میں اپنے آپ کو تنہائیوں میں تول چکی

میں جلوتوں میں ستاروں کے بول بول چکی

مگر کوئی بھی نہ مانا !!

 

وفا کے دام بچھائے گئے قرینے سے

مگر کسی نے بھی روکا نہ مجھ کو جینے سے

کسی نے جام چرائے ہیں مرے سینے سے

کسی نے عطر نچوڑا مرے پسینے سے

کسی کو غیر نہ جانا!!

 

مری نظر کی گرہ کھل گئی تو کچھ بھی نہ تھا

جو بازوؤں میں کہیں تل گئی تو کچھ بھی نہ تھا

مرے لبوں سے شفق دھل گئی تو کچھ بھی نہ تھا

جواں رہی سو رہی گھل گئی تو کچھ بھی نہ تھا

کہ لٹ چکا تھا خزانہ!!

 

رہی نہ سانس میں خوشبو تو بھاگ پھوٹ گئے

گیا شباب تو اپنے پرائے چھوٹ گئے

کوئی تو چھوڑ گئے کوئی مجھ کو لوٹ گئے

محل گرے سوگرے جھونپڑے بھی ٹوٹ گئے

رہا نہ کوئی ٹھکانہ!!

٭٭٭

 

 

 

 

آپ بیتی

 

 

میرے خوابوں کے شبستاں میں اُجالا نہ کرو

کہ بہت دُور سویرا نظر آتا ہے مجھے

چھپ گئے ہیں مری نظروں سے خد و خالِ حیات

ہر طرف ابر گھنیرا نظر آتا ہے مجھے !

چاند تارے تو کہاں اب کوئی جگنو بھی نہیں

کتنا شفاف اندھیرا نظر آتا ہے مجھے !

کوئی تابندہ کرن یوں مرے دل پر لپکی

جیسے سوئے ہوئے مظلوم پہ تلوار اُٹھے

کسی نغمے کی صدا گونج کے یوں تھرائی

جیسے ٹوٹی ہوئی پازیب سے جھنکار اُٹھے

میں نے پلکوں کو اٹھایا بھی تو آنسو پائے

مجھ سے اب خاک جوانی کا کوئی بار اُٹھے

تم نے راتوں میں ستارے تو ٹٹولے ہوں گے

میں نے راتوں میں اندھیرے ہی اندھیرے دیکھے

تم نے خوابوں کے پرستاں تو سجائے ہوں گے

میں نے ماحول کے شب رنگ پھریرے دیکھے !

تم نے اک تار کی جھنکار تو سن لی ہو گی!

میں نے گیتوں میں اداسی کے بسیرے دیکھے

مرے غمخوار! مرے دوست تمہیں کیا معلوم

زندگی موت کے مانند گزاری میں نے

ایک بگڑی ہوئی صورت کے سوا کچھ بھی نہ تھا

جب بھی حالات کی تصویر اُتاری میں نے

کسی افلاک نشیں نے مجھے دھتکار دیا!

جب بھی روکی ہے مقدر کی سواری میں نے

مرے غمخوار مرے دوست تمہیں کیا معلوم!

 

***

اے دل کے ولولو! شب وعدہ فریب ہے

تا زندگی سویرا سویرا کرو گے تم

٭٭٭

 

 

 

 

شرافت

 

 

حریری ملبوس میں گلابی بدن کی خوشبو

دبی دبی لے میں گیت سا گنگنا رہی تھی

کھلے دریچوں سے جھانکتی چاندنی ابھی تک

مری جھجکتی نگاہ پر مسکرا رہی تھی!

سنہرے بالوں کے تار شدت سے جھنجھنا کر!

عجیب سی کوئی راگنی گائے جا رہے تھے

کھلے دریچوں سے آنے والے ہوا کے جھونکے

مری خموشی پہ تیر برسائے جا رہے تھے !

سُلگتی آنکھوں کی غیر مبہم شکایتوں میں

کسی کی ناکام التجا اب چہک اُٹھی تھی!

کھلے دریچوں میں تلملاتی سحر کی دیوی!

مری جوانی کی بزدلی پر بھڑک اُٹھی تھی!

میں سوچتا ہوں مرے کئے کا یہی صلہ ہے

کہ میری مہماں کو مجھ سے اب تک یہی گلہ ہے

میں پو پھٹے تک قریب رہ کر بھی دُور کیوں تھا

وہ رات بے سود کیوں کٹی تھی؟

٭٭٭

 

 

 

 

دیس پردیس

 

 

کہاں ہو وادیِ سر بن کی سرد سرد ہواؤ

جھلس رہی ہے جوانی تم اپنے پاس بلاؤ

 

کہاں وہ نغمۂ صحرا، کہاں یہ شورشِ پیہم

کہاں وہ روح کی تسکیں، کہاں یہ جسم کے گھاؤ

 

یہ رنگ و بُو کا جہنم مُجھے جلا کے رہے گا

وہ سادگی کا بہشتِ بریں کبھی تو دکھاؤ

 

وہ چاندنی کی پھواروں میں بھیگتی ہوئی راتیں

مرے خیال میں سوئی ہیں اُن کو آن جگاؤ

 

میں جن سے عظمتِ اُلفت کا عہد کر کے چلا تھا

وہ خلوتیں مجھے ایک بار پھر سے یاد دلاؤ

 

میں تم سے دُور، بہت دُور رو رہا ہوں ابھی تک

میں اپنے آپ سے بچھڑا ہوں مجھ کو ڈھونڈنے آؤ

 

سسک رہا ہے چناروں کے اس طرف مرا ماضی

وہ آ رہی ہیں صدائیں، بچاؤ کوئی بچاؤ

٭٭٭

 

 

 

 

ایکٹریس

 

 

تھرتھراتی رہی چراغ کی لَو!

اشک پلکوں پہ کانپ کانپ گئے

کوئی آنسوں نہ بن سکا تارا

شب کے سایے نظر کو ڈھانپ گئے

 

کٹ گیا وقت مسکراہٹ میں

قہقہے روح کو پسند نہ تھے

وہ بھی آنکھیں چُرا گئے آخر

دل کے دروازے جن پہ بند نہ تھے

 

جس پہ دل اعتبار کرتا ہے

بنتی جاتی ہوں نخلِ صحرائی

 

تو نے چاہا تو میں نے مان لیا

گھر کو بازار کر دیا میں نے

بیچ کر اپنی ایک ایک امنگ

تجھ کو زر دار کر دیا میں نے

 

اپنی بے چارگی پہ رو رو کر

دل تجھے یاد کرتا رہتا ہے !

قمقموں کے سیہ اُجالے میں

جسم فریاد کرتا رہتا ہے !

٭٭٭

 

 

 

 

 

راستے کا پھول

 

 

نچوڑ لو مرے جواں لبوں کا رس نچوڑ لو!

مرے اُداس اُداس عارضوں کے پُھول توڑ لو

نفس نفس میں خوشبوؤں کے جال بُن رہی ہوں میں

نظر نظر جگنوؤں کے گیت چن رہی ہوں میں

مری جبیں پہ رقص کر رہی ہیں بے حجابیاں!

چھلک رہی ہیں میری بات بات میں گلابیاں!

لپک رہی ہیں مستیاں بدن کی ہر اٹھان سے

لچک رہے ہیں ابروؤں کے خم عجیب شان سے

یہ وقت رائیگاں نہیں ہوس کا نخل سینچ لو

مرا گداز جسم اپنے بازوؤں میں بھینچ لو

مرا بدن ہزار زمزموں کو تولتا رہا!

مرا شباب زندگی کے راز کھولتا رہا!

میں ان گنت جوانیوں سے پھاگ کھیلتی رہی

میں ہر نئے ایاغ میں شراب انڈیلتی رہی

کئی چراغ جل کے میری انجمن میں کھو گئے

ہزاروں گیت خامشی کے بازوؤں پہ سوگئے

نہ جانے کیا کمی تھی میرے حُسن کے خمار میں

کہ زندگی نہ مل سکی کسی کو میرے پیار میں

فریب کھا رہی تھی میں فریب کھا رہی ہوں میں

ابھی تک اپنی حسرتوں کو آزما رہی ہوں میں

مذاق سا بنی ہوئی ہوں کائنات کے لئے

پکارتا ہے ہر کوئی بس ایک رات کے لئے

میں سوچتی ہوں بے بسی کا کچھ تو حق ادا کروں

یہ رات بھر کی بھیک آؤ تم کو بھی عطا کروں

نچوڑ لو مرے جواں لبوں کا رس نچوڑ لو!!

مرے اُداس اُداس عارضوں کے پھول توڑ لو!!

٭٭٭

 

 

 

 

 

کہانی

 

 

کل رات اک رئیس کی بانہوں میں جھوم کر

لوٹی جو گھر کسان کی بیٹی بصد ملال!

غیظ و غضب سے باپ کا خوں کھولنے لگا

درپیش آج بھی تھا مگر پیٹ کا سوال!

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

البم

 

 

یہ میری جوانی کی پہلی کرن ہے

جسے میری تقدیر نے اک تاریک دل میں سجایا

جسے میں نے تاریکیوں سے بچانے کی خاطر پتنگا بنایا

پتنگا بنا کر کسی شمع نو پر گرایا ــــــــجلایا

مگر اب وہ شمع فروزاں کہاں ہے

یہ میری محبت کی پہلی خطا ہے

جسے میری انمول عصمت کے گل رنگ سا یے نہ بھائے

جسے میں نے اپنے بدن کے گلابی ترانے سنائے

سرِعام جس کے لئے میں نے گیتوں کے گجرے بنائے

مگر اب وہ گیتوں کا رسیا کہاں ہے

یہ ہنستا ہوا زندہ دِل نوجواں ہے

مگر اس کی زندہ دلی کا ہر ایک جذبہ بیکراں مر چکا ہے

مری شوخ چنچل جوانی سے اب اس کا جی بھر چکا ہے

مرے نت بدلتے ہوئے شوق بیباک سے ڈر چکا ہے

مگر میں اسے یاد کرتی ہوں اب تک

یہ بھنورے ہیں میری جوانی کے پیاسے

یہ بھنورے مرے پُھول سے عارضوں پر لپکتے رہے ہیں

جوانی کا رس چوسنے کو ہمیشہ بلکتے رہے ہیں!

مرے پاس آ کر بھی اکثر مری راہ تکتے رہے ہیں

مگر اب نہ جانے کہاں اڑ گئے ہیں

یہ میری ہوس کا شریکِ سفر ہے

اسے رقص گاہوں کی آرائشوں سے چُرایا ہے میں نے

اسے اپنے حسن و جوانی کا تاجر بنایا ہے میں نے

اسے آسماں کی حدوں تک اُٹھا کر گرایا ہے میں نے

مگر اب مجھے اس پر رحم آ رہا ہے

یہ وہ ہے جسے میں نے چھپ چھپ کے پُوجا

یہ بھوکے وطن کا ہوس کار انساں یہ سادہ سلونا

بنایا تھا جس کے لئے میں نے انگڑائیوں کا بچھونا!

جوانی کی نادانیوں سے بنی جس کی خاطر کھلونا

وہی دیوتا اب کہاں جا چھُپا ہے

یہ نو عمر ـــــــــیہ نو گرفتار پنچھی

یہ بھولا مسافر ، یہ گیتوں میں، سپنوں میں کھویا ہوا سا

یہ آزاد انساں محبت کے چھینٹوں سے دھویا ہوا سا

اسے دیکھنا چاہتی ہوں ابد تک میں سویا ہوا سا

مگر تا بہ کے یہ بھی سو تا رہے گا

٭٭٭

 

 

 

بانجھ!

 

 

کتنے ہی سال ستاروں کی طرح ٹوٹ گئے

مری گودی میں کوئی چاند جنم لے نہ سکا

ٹکٹکی باندھ کے افلاک پہ روئی برسوں!

آج تک کوئی بھی واپس مرا غم لے نہ سکا!

وہ زمیں جو کوئی پودا نہ اُگل سکتی ہو!

قاعدہ ہے کہ اسے چھوڑ دیا جاتا ہے !

گھر میں ہر روز یہی ذکر، یہی شور سُنا!

شاخ ٹوٹے تو اُسے توڑ دیا جاتا ہے !

مجھے باہوں پہ اُٹھا لے ، مجھے مایوس نہ کر

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجالے مجھ کو

اپنے احساں کے صلے میں مرا جوبن لے لے

کر دیا سب نے مقدر کے حوالے مجھ کو

ایک “دو” تین کہاں تک کوئی گِنتا جائے

ان گنت سانس مہکتے ہیں مرے سینے پر

مرے لب پہ کوئی نغمہ، کوئی فریاد نہیں

لوگ انگشت بدنداں ہیں مرے جینے پر

کتنے ہاتھوں نے ٹٹولا مری تنہائی کو

کوئی جگنو، کوئی موتی ، کوئی تارا نہ مِلا

کتنے جھولوں نے جھلایا مرے ارمانوں کو

دل میں سوئی ہوئی ممتا کو سہارا نہ ملا!

کل بھی خاموش تھی میں، آج بھی خاموش ہوں میں

میرے ماحول میں طوفان نہ آیا کوئی!

کتنے ارمان مٹے ایک تمنا کے لئے

گھر لٹانے پہ بھی مہمان نہ آیا کوئی!

کتنے ہی سال ستاروں کی طرح ٹوٹ گئے !

٭٭٭

 

 

 

کھلونا

 

اُڑا اڑا سا رنگ ہے !

وہ آ رہی ہے جس طرح کٹی ہوئی پتنگ ہے

نڈھال انگ انگ ہے !

 

عجیب رنگ ڈھنگ ہے

ایاغ ہے ، نہ باغ ہے ، رباب ہے نہ چنگ ہے

ندامتوں میں جنگ ہے !

 

بجھی بجھی اُمنگ ہے !

یہ رات طویل ہے ، وہ رہ گزار تنگ ہے

ان الجھنوں پہ دنگ ہے !

 

کدھر مڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟

کہاں چلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

٭٭٭

 

 

 

 

آئینے کے سامنے

 

 

ترے شبستاں کی نکہتوں میں ہزاروں سانسیں مہک رہی ہیں

مگر تری سیج کا کوئی داغ، کوئی گل مطمئن نہیں ہے !

اگر چہ کتنے جسیم سایے گھلے ہیں بستر کی سلوٹوں میں

مگر ترے بے کراں ارادوں کا کوئی بھی سال و سن نہیں ہے

 

کھلے کواڑوں کے بند ہونٹوں میں دفن ہیں بے حساب نغمے

مگر ترے ساز نے کسی گیت کا کبھی ساتھ بھی دیا ہے ؟

کھلے رہے ہیں ہزاروں آغوش صبح ہونے کے بعد تک بھی

مگر ترے حسن نے کسی کے ہاتھ میں ہاتھ بھی دیا ہے ؟

 

کبھی تصور کے دائرہ کو کچھ اور پھیلا کے دیکھ لیتی

کہ ابتدائے شباب کا اولیں کرشمہ جواں ہے اب تک

تری امنگوں کا گرم لاوا جو کسمسا کر ابل پڑا تھا

ترے شبستاں کی شعبدہ بازیوں میں شعلہ فشاں ہے ابتک

 

ترے تبسم کے سرد شعلوں کی زد میں آتی رہی ہے دنیا!

ہلال و خنجر، صلیب و زنار تیرے ہونٹوں سے جل چکے ہیں

تعیناتِ حدودِ کونین بارہا تو نے توڑ ڈالے !

ترے بدلتے ہوئے تقاضے ہر ایک سانچے میں ڈھل چکے ہیں

یہ آئینہ کا اداس چہرہ تجھے تسلی نہ دے سکے گا!

اب آئینہ توڑ دے کہ تری نظر نہ یہ بار سہہ سکے گئی

کئی مراحل، کئی فسانے ابھی ترے انتظار میں ہیں!

یونہی چلی چل وگرنہ تیری یہ سیج قائم نہ رہ سکے گی!

٭٭٭

 

 

 

 

 

راکھ

 

 

وہی خرام ناز ہے تو بانکپن کہاں گیا؟

لبوں پہ جو مہک رہا تھا وہ چمن کہاں گیا؟

مجھے بنا رہی ہے تو!

وہی ہیں گیسوؤں کے خم تو یہ غبار کس لئے ؟

بجھی بجھی سی خوشبوؤں میں انتشار کس لئے ؟

فریب کھا رہی ہے تو!

اگر وہی ہے سادگی تو جسم کیوں نڈھال ہے ؟

رواں رواں ہے مضمحل، اداس بال بال ہے ؟

جنہیں چھپا رہی ہے تو!

اگر وہی غرور ہے ، تو یہ جھکی نگاہ کیوں۔۔۔؟

لبوں کی جنبشوں میں یہ رُکی رُکی سی آہ کیوں؟

کہاں سے آ رہی ہے تو!

ترا جمالِ زر پرست کچھ تو کام کر گیا !

ترا غرور بک گیا، مرا خلوص مرگیا!

کسے منا رہی ہے تو!

٭٭٭

 

 

 

 

پڑوسِی

 

 

محبتوں کی عبادت کا دور ختم ہوا

مسرتوں کے ہیولے جھجک کے تھم سے گئے

ہوس کا رُوپ کچھ ایسا خلا میں لہرایا!

جوانیوں کے بگولے بدن میں جم سے گئے

وہ حسرتیں، وہ اُمنگیں، خیال و خواب ہوئیں

نظر اُٹھی، تو ہم ان سے گئے وہ ہم سے گئے

دلوں کے گرم تقاضے غبار بن کے اُڑے

وفائیں ہانپ گئیں زر نواز راہوں میں

لچک کے ٹوٹ گئے اشتیاق کے جُھولے

رہے نہ شوخ بلاوے گداز باہوں میں

لبوں پہ ناچتی شوخی نے ساتھ چھوڑ دیا

سمٹ کے رہ گئے شکوے گلے نگاہوں میں

کبھی نگاہ میں جگنو سے رقص کرتے تھے

مگر خیال میں شعلے سے اب بھڑکتے ہیں

کبھی جبیں پہ ستارے سے جگمگاتے تھے

مگر دماغ میں کوندے سے اب لپکتے ہیں

کبھی رگوں میں رواں تھے بہشت کے جھونکے

مگر لہو میں جہنم سے اب دہکتے ہیں!

 

مری اُداس جوانی کے خواب بازوں نے

بدل بدل کہ بتائیں ہزار تعبیریں

کبھی حسین اُجالوں سے تیرگی پھوٹی!

اسی کشاکشِ بیم و رجا کی حدّت سے

پگھل گئیں مرے خوابوں کی نرم زنجیریں

 

مجنوں کی ہوس بھی خرید سکتی ہے !

مرے شکوک کو تو نے ہزار چند کیا!

مرے غرور کا آئینہ توڑنے والے !

تری خوشی نے مرے دل کو درد مند کیا

مگر نہیں مرے دل کو گلہ نہیں تجھ سے

اصُول یہ ہے کہ “جس نے جسے پسند کیا”

 

جھک جھک کے نہ چل میرے پاس آتے ہوئے

کہ میں نے تجھ کو پکارا نہیں حقارت سے

مرے خلوص کی میت ہے منتظر تیری!

اسے کفن کی طلب ہے تری امارت سے

مری وفاؤں کے آنسو کبھی نہ اُلجھیں گے !

ترے لباس کی گاتی ہوئی حرارت سے

 

مرا غرور بس اک چاند تھا سو وہ بھی گیا!

پرائے گھر میں کھلی چاندنی سے کیا لینا!

مری حیات کبھی مجھ پہ ناز کرتی تھی!

اب اس بلکتی ہوئی زندگی سے کیا لینا

ترے نشاط کا ساماں تجھے مبارک ہو

مجھے شباب کی اس دل لگی سے کیا لینا

٭٭٭

 

 

 

اکتاہٹ

 

 

روشنی نہیں ہے دور دور تک               جاؤ مجھ کو چھوڑ دو!

خاموشی ہے مے کدے سے طور تک       بربطوں کو توڑ دو!

یہ اداس رات کی سیاہیاں                 نیند آ کے ٹل گئی!

یہ مرے نصیب کی سیاہیاں               شمع کب کی جل گئی!

آسماں بلند ہے تو کیا کروں                ہائے میری پستیاں!

کاش میں کبھی تمہیں دکھا سکوں           کچھ اجاڑ بستیاں!

نیند ہے ، نہ چاند ہے ، نہ جام ہے             پیاس کیا بجھاؤ گے !

زندگی کی تیغ بے نیام ہے                  آس کیا بندھاؤ گے !

حسرتوں کا باغ باغ اجڑ گیا                 پھول اب کھلیں گے کیا؟

ایک ایک ہم سفر بچھڑ گیا!                دوست اب ملیں گے کیا؟

مشعلیں نہیں تو یہ چراغ کیوں             راہ بھول جاؤں گا!

زندگی پہ کوئی تازہ داغ کیوں؟              چاہ بھول جاؤں گا!

روشنی نہیں ہے دور دور تک                جاؤ جاؤ مجھ کو چھوڑ دو!

خاموشی ہے مے کدے سے طور تک       بربطوں کو توڑ دو!

٭٭٭

 

 

 

 

لڑھکتا پتھر

 

 

روشنی ڈوب گئی چاند نے منہ ڈھانپ لیا

اب کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی مجھ کو!

میرے احساس میں کہرام مچا ہے لیکن!

کوئی آواز سنائی نہیں دیتی مجھ کو!

رات کے ہاتھ نے کرنوں کا گلا گھونٹ دیا

جیسے ہو جائے زمیں بوس شوالا کوئی!

یہ گھٹا ٹوپ اندھیرا، یہ گھنا سناٹا

اب کوئی گیت ہے باقی نہ اُجالا کوئی

جس نے چھپ چھپ کے جلایا مری اُمیدوں کو

وہ سلگتی ہوئی ٹھنڈک مرے گھر تک پہونچی

دیکھتے دیکھتے سیلاب ہوس پھیل گیا!

موج پایاب ابھر کر مرے سر تک پہونچی

میرے تاریک گھروندے کو اداسی دے کر

مسکراتے ہیں دریچوں میں اشارے کیا کیا

اف یہ امید کا مدفن، یہ محبت کا مزار

اس میں دیکھتے ہیں تباہی کے نظارے کیا کیا

جس نے آنکھوں میں ستارے سے کبھی گھولے تھے

آج احساس پہ کاجل سا بکھیرا اس نے

جس نے خود آ کے ٹٹولا تھا مرے سینے کو

لے لیا غیر کے پہلو میں بسیرا اس نے

وہ تلون کہ نہیں جس کا ٹھکانہ کوئی!

اس کے انداز کہن آج نئے طور کے ہیں

وہی بے باک اشارے وہی بھڑکے ہوئے گیت

کل مرے ہاتھ بکے ، آج کسی اور کے ہیں

یہ مہکتا سا، چہکتا سا، ابلتا سینہ

اس کی میعاد ہے دو روز لپٹنے کے لئے

زلف بکھری ہوئی بکھری تو نہیں رہ سکتی

پھیلتا ہے کوئی سایہ تو سمٹنے کے لئے

٭٭٭

 

 

 

آج اور کل

 

 

جب چھلکتے ہیں زر و سیم کے گاتے ہوئے جام

ایک زہر اب سا ماحول میں گھل جاتا ہے

کانپ اٹھتا ہے تہی دست جوانوں کا غرور

حسن جب ریشم و کمخواب میں تل جاتا ہے

 

میں نے دیکھا ہے کہ افلاس کے صحراؤں میں

قافلے عظمتِ احساس کے رک جاتے ہیں

بیکسی گرم نگاہوں کو جھلس دیتی ہے !

دل کسی شعلۂ زر تاب سے پھک جاتے ہیں

 

جن اصولوں سے عبارت ہے محبت کی اساس

ان اصولوں کو یہاں توڑ دیا جاتا ہے !

اپنی سہمی ہوئی منزل کے تحفظ کے لئے

رہ گزاروں میں دھواں چھوڑ دیا جاتا ہے

 

میں نے جو راز زمانے سے چھپانا چاہا

تو نے آفاق پہ اس راز کا در کھول دیا

میری باہوں نے جو دیکھے تھے سنہرے سپنے

تو نے سونے کی ترازو میں انہیں تول دیا

 

آج افلاس نے کھائی ہے زر و سیم سے مات

اس میں لیکن ترے جلوؤں کا دوش نہیں!

یہ تغیرا سی ماحول کا پروردہ ہے !

اپنی بے رنگ تباہی کا جسے ہوش نہیں

 

رہ گزاروں کے دھندلکے تو ذرا چھٹ جائیں

اپنے تلوؤں سے یہ کانٹے بھی نکل جائیں گے

آج اور کل کی مسافت کو ذرا طے کر لیں

وقت کے ساتھ ارادے بھی بدل جائیں گے

٭٭٭

 

 

 

رہگزر

 

 

پھر وہی بڑھتے ہوئے رکتے ہوئے قدموں کی چاپ

پھر وہی سہمی ہوئی سمٹی ہوئی سرگوشیاں

پھر وہی بہکی ہوئی، مہکی ہوئی سی آہٹیں

پھر وہی گاتی سی لہراتی سی کچھ مدہوشیاں

 

زندگی طوفان تھی، سیلاب تھی، بھونچال تھی

وقت پھر بھی کروٹوں پر کروٹیں لیتا رہا

قافلے اس راہ پر آتے رہے جاتے رہے

راہبر سب کو مسافت کا صلہ دیتا رہا!

 

وہ تبسم جس کو روتے ہیں کئی اُجڑے سہاگ

بن رہا ہے اک لچکتا خار اپنے پاؤں میں

وہ نظر جو کل تلک ہر جسم کو ڈستی رہی

آج ستانے لگی ہے مصلحت کی چھاؤں میں

 

کتنی امیدوں کے مدفن اس کے ہاتھوں بن چکے

کتنے ارمانوں کے لاشے اس نے خود کفنائے ہیں

آہ یہ مقتل کہ جس کی پاسبانی کے لئے

کتنے مستقبل فنا کے دوش پر لہرائے ہیں

 

کلفتوں سے تنگ آ کر بیخودی کی کھوج میں

قافلے اس راہ پر آتے رہیں جاتے رہیں

راہبر سب کو مسافت کا صلہ دیتا رہے

راہرو اپنے تجسس کا صلہ پاتے رہیں

٭٭٭

 

 

 

 

ردّ عمل

 

 

اے گداگر! مجھے ایمان کی سوغات نہ دے

مجھ کو ایمان سے اب کوئی سروکار نہیں!

میں نے دیکھا ہے ان آنکھوں سے مروت کا مآل

مجھ کو اب مہر و محبت سے کوئی پیار نہیں!

میں نے انسان کو چاہا بھی تو کیا پایا ہے

اب مرا کفر خدا کا بھی طلبگار نہیں!

جا کسی اور سے ایمان کا سودا کر لے !

میں تری نیک دعاؤں کا خریدار نہیں!

 

اے گداگر مجھے ایمان کی بخشش کے عوض

یہ دعا کیوں نہیں دیتا کہ میں زر دار بنوں

بیچ ڈالوں سرِ بازار ضمیرِ ہستی!

اور احساس کی ذلت کا علم دار بنوں

آدمیت کا گلا کاٹ کے عزت پاؤں

ظلم کے سایے میں راحت کا طلبگار بنوں

روز روشن میں یتیموں کے گھروندے لوٹوں

اور بیواؤں کی دولت کا پرستار بنوں

 

اے گداگر! مجھے حیران نگاہوں سے نہ دیکھ

میرا کچلا ہوا احساس یہی کہتا ہے !

دیکھ ان شنگرفی چہروں کے شفق رنگ خطوط

جن سے مجبور گھرانوں کا لہو بہتا ہے !

دیکھ ان اونچے مکانات کے تہہ خانوں کو

جن کی ہر سانس میں زہر اب گھلا رہتا ہے !

دیکھ ایمان کی گرتی ہوئی دیواروں کو

جن کی تعمیر میں انسان ستم سہتا ہے !

 

اے گداگر مجھے ایمان سے کیا لینا ہے !

اس سے مفلس کی قبا تک بھی نہیں سل سکتی!

یہ جواں جسم، یہ بھرپور نگاہیں، یہ سرور

فکر انسان بجز ان کے نہیں کھل سکتی

چار دن عیش سے جینا ہے مجھے بھی لیکن

ہٹ کے دولت سے کوئی چیز نہیں مل سکتی

اور دولت وہ شکنجہ ہے کہ جس میں پھنس کر

ہم تو کیا سطوتِ یزداں بھی نہیں ہل سکتی!

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

آج کی باتیں کل کے سپنے

 

 

جب بھی تنہا مجھے پاتے ہیں گزرتے لمحے !

تیری تصویر سی راہوں میں بچھا جاتے ہیں

میں کہ راہوں پہ بھٹکتا ہی چلا جاتا ہوں!

مجھ کو خود میری نگاہوں سے چھپا جاتے ہیں

 

میرے بے چین خیالوں پہ اُبھرنے والی

اپنے خوابوں سے نہ بہلا میری تنہائی کو

جب تری سانس مری سانس میں تحلیل نہیں

کیا کریں گی مری باہیں تری انگڑائی کو

 

جب خیالوں میں ترے جسم کو چھو لیتا ہوں

زندگی شعلۂ ماضی سے جھلس جاتی ہے !

جب گزرتا ہوں غم حال کے ویرانے سے !

میرے احساس کی ناگن مجھے ڈس جاتی ہے

 

ہم سفر تجھ کو کہوں یا تجھے رہزن سمجھوں!

راہ میں لا کے مجھے چھوڑ دیا ہے تو نے

ایک وہ دن کہ ترا پیار بسا تھا دل میں

ایک یہ وقت کہ دل توڑ دیا ہے تو نے

ماضی و حال کی تفریق، وہ قربت، یہ فراق

پیار گلشن سے چلا آیا ہے زندانوں میں!

بے زری اپنی صداقت کو پرکھتی ہی رہی

تل گیا حسن زر و سیم کے میزانوں میں!

 

غیر سے ریشم و کمخواب کی راحت پا کر!

تو مجھے یاد بھی آئے گی تو کیا آئے گی؟

ایک مستقبل زریں کی تجارت کے لئے

تو محبت کے تقدس کو بھی ٹھکرائے گی

 

اور میں پیار کی تقدیس پہ مرنے والا

درد بن کر تیرے احساس میں بس جاؤں گا

وقت آئے گا تو اخلاص کا بادل بن کر

تیری جھلسی ہوئی راتوں پہ برس جاؤں گا

٭٭٭

 

 

 

 

 

داشتہ

 

 

جب تک چہرے کی شریانیں سرخ لہو دوڑاتی ہیں

جب تک مہکی مہکی سانسیں ہونٹوں کو گرماتی ہیں

جب تک آم کی میٹھی قاشیں ہونٹ دکھائی دیتے ہیں

جب تک نینوں میں تاروں کے گیت سنائی دیتے ہیں

جب تک اجلے ماتھے پر بلور کا دھوکا ہوتا ہے

جب تک پلکوں کے سائے ذہن کسی کا سوتا ہے

جب تک انگڑائی سے چھائی پر الماس نکھرتے ہیں

جب تک شانوں پر کالے ریشم کے ڈھیر بکھرتے ہیں

جب تک چال کی تال پہ راہیں چھمک چھمک لہراتی ہیں

جب تک پھول کی سیجوں پر اپنا رین بسیرا ہے !

یہ جاگیریں، یہ کاریں، یہ چاندی سونا میرا ہے

 

لیکن کب تک، یہ جاگیریں، یہ کاریں، یہ جھنکاریں

جو بن ڈھل جائے تو نظریں بن جاتی ہیں تلواریں

چہرے کی شادابی گھل کر خون کی لالی بنتی ہے

پیار کی بات لبوں پر آ کر کڑوی گالی بنتی ہے

آم کی میٹی قاشیں روپ بدل کر زہر پلاتی ہیں

نینوں کی سب راگنیاں چیخوں کے شہر بستاتی ہیں

اجلے اجلے ماتھے کے بلور میں بال آ جاتا ہے

پلکوں کے البیلے سائے میں بھونچال آ جاتا ہے

انگڑائی سے چھاتی کے الماس بکھر سے جاتے ہیں

ریشم کے ڈھیروں میں زہریلے پھندے بل کھاتے ہیں

 

کب تک چال کی تال پہ کوئی چھمک چھمک لہرائے گا

کب تک باہوں کے گھیرے میں کوئی جھوم کے آئے گا

ہنسی خوشی ان محلوں میں جی لینا کوئی کھیل نہیں

اس ماحول میں سرمائے کا پیار سے کوئی میل نہیں!

سرمائے کی اس منڈی میں جب سودے چک جاتے ہیں

پھول سے چہرے ارمانوں کے شعلوں سے پھک جاتے ہیں

اس منڈی میں پیار کا یوں نیلام اٹھایا جاتا ہے

ہر دو کوڑی والے کو فرعون بنایا جاتا ہے

جسم کی لذت ننگی ہو ہو کر جی کھول کے بکتی ہے

بکنے والی جنس یہاں خود منہ سے بول کے بکتی ہے

نئی نئی سونے چاندی کی حوریں ڈھالی جاتی ہیں

زر داروں کے محلوں میں کچھ بھیڑیں پالی جاتی ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

ٹمپل روڈ

 

 

رنگ رنگیلے محل دو محلے جگمگ جگمگ جاگ رہے ہیں

جس میں رہنے والے اپنی میٹھی نیندیں تیاگ رہے ہیں

ایک محلکا جھوم جھما کر ڈگمگ ڈگمگ ڈول رہا ہے

جس میں اک سونے کا پنچھی اڑنے کو پر تول رہا ہے

ایک حویلی چھنن چھنن چھن پائل گت پر ناچ رہی ہے

موتی چگنے والی چڑیا جس کی چھت پر ناچ رہی ہے

ایک دریچہ سانسوں کے گرمیلے پن سے ہانپ رہا ہے

جس کے پائیں باغ کا منظر اپنا چہرہ ڈھانپ رہا ہے

ایک جھروکا روشنیوں کے فوارے سے چھوڑ رہا ہے

جس کے بہتے سایوں میں اک پردیسی دم توڑ رہا ہے

رات کی چلتی گاڑی کے چمکیلے پہیے بھاگ رہے ہیں

رنگ رنگیلے محل دو محلے جگمگ جگمگ جاگ رہے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

دردِ مشترک

 

 

میں نے جو ظلم کبھی تجھ سے روا رکھا تھا

آج اسی ظلم کے پھندے میں گرفتار ہوں میں

میں نے جو تیر ترے ہاتھ سے چھینا تھا کبھی

آج اسی تیر کے گھاؤ سے نگوں سا رہوں میں

جس کی خاطر تری ذلت بھی گوارا تھی مجھے

آج اسی “پیکر عصمت” کا خطا وار ہوں میں

مری آنکھوں نے جسے چاند کہا تھا کل تک

آج اسی شعلۂ پراں سے عرق با ر ہوں میں

تونہ چاہے بھی تو آفاق ہنسے گا مجھ پر

وقت کے ہاتھ میں ٹوٹی ہوئی تلوار ہوں میں

 

میں نے چاہا تھا کہ انسان کی عظمت کے لئے

ایک مظلوم جوانی کو سہارا دے دوں

ایک ٹھکرائے ہوئے پیار کے صدمے بانٹوں

ایک بھٹکے ہوئے راہی کو اشارہ دیدوں

ایک جھلسے ہوئے احساس کو ٹھنڈک بخشوں

اور کونین کو پھر ذوقِ نظارہ دے دوں!

 

میں نے اخلاص کے پھولوں سے بنائے گجرے

میں نے احساس کے جھولوں میں جھلایا اس کو

میں نے روندی ہوئی راہوں پہ بچھائیں آنکھیں

میں نے پیغام ستاروں کا سنایا اس کو!

میں نے افلاک کے دریا کا تموج بن کر!

اک نئی آس کے ساحل پہ لگایا اس کو

 

آج میں سوچ رہا ہوں شب تنہائی میں

کس قدر تلخ جوانی کی لٹی یادیں ہیں

دیکھ اس دور میں ایوان محبت کے لئے

کیسی کیسی غم داند دہ کی بنیادیں ہیں

کل ترے دیدہ حیراں سے لہو پھوٹا تھا

آج میرے لب خاموش پہ فریاد یں ہیں

 

یہ محبت، یہ وفائیں، یہ مروت، یہ خلوص!

ان کو سرمائے نے بے کار بنا رکھا ہے

حسن اور حسن کے ہر ایک صنم خانے کو!

زر پرستوں نے جفا کار بنا رکھا ہے !

آ کہ اس دور کا معیار بدلنا ہے ہمیں!

جس نے ہر ذہن کو بیمار بنا رکھا ہے !

آ کہ اس جنس گراں قدر کو بیدار کریں

جس نے ہم سب کو خریدار بنا رکھا ہے

آ کہ اس فتنۂ زر پوش کو عریاں کر دیں

جس نے آفاق کو بازار بنا رکھا ہے !

٭٭٭

 

 

 

عورت

 

جب کبھی چاند گھٹاؤں میں گھرا ہوتا ہے

میں ترے کاکل و رخسار میں کھو جاتا ہوں

جب خلاؤں میں ابھرتی ہے ابابیل کوئی

میں تری یاد میں بے چین سا ہو جاتا ہوں

جب کبھی آنچ ستاروں کی ستاتی ہے مجھے

تری یادوں کی خنک سیج پہ سوجاتا ہوں

جب کہیں دور تصور میں نکل جاتا ہوں

میں تری زلف میں کچھ اشک پرو جاتا ہوں

حسرتیں مہر بہ لب دیکھ رہی ہیں مجھ کو

مرے احساس پہ کہرام مچانے کے لئے

آرزوؤں کی چبھن دل میں گھلی جاتی ہے

مری سوئی ہوئی راتوں کو جگانے کے لئے

ولولے نقش بہ دیوار ہوئے جاتے ہیں

مرے انجام کی تلخی میں سمانے کے لئے

زندگی آئینہ بردوش کھڑی ہے کب سے

مجھ کو تیری ہی کوئی شکل دکھانے کے لئے

وقت اڑتا ہی چلا جاتا ہے جھونکا بن کر!

اور میں تیرے خیالوں سے نکلتا ہی نہیں

کائنات ایک نئے حسن کی ضو مانگتی ہے

اور میں جادۂ انوار پہ چلتا ہی نہیں

روح آلام کی یلغار سے چلاتی ہے

اور میں پیار کے انداز بدلتا ہی نہیں

تو مرے پیار سے انکار کئے جاتی ہے

اور یہ آس کا پتھر کہ پگھلتا ہی نہیں

تو کہ زر کار جھروکے میں سجی بیٹھی ہے

تجھ کو رسوا سحر و شام کیا جائے گا!

ترے جلوؤں کی تمازت میں نہا لینے پر

ترے ماحول کو بدنام کیا جائے گا!

خلوت خاص میں ہونٹوں کی صبوحی پی کر

صبح ہوتے ہی تجھے عام کیا جائے گا!

کھنکھناتی ہوئی جیبوں کے سنا کر نغمے

ترے پندار کو نیلام کیا جائے گا

تو کہ ہر محفلِ رنگیں میں چلی آتی ہے !

اپنے چہرے پہ سیہ رات کا غازہ مل کر

اپنے آنچل میں چھپائے ہوئے دھڑکن دل کی

اپنی پلکوں پہ سجائے ہوئے سپنے کل کے

ان گنت رنگ ترے چشمۂ عارض میں گھلے

نو بہ نو جام ترے قلب و نظر میں چھلکے

بارہا جسم کا بازار سجایا تو نے !

اُف مگر کوئی خریدار نہ آیا چل کے

تو کہ بازار میں پہلی سی تری قدر نہیں

اتنی ارزاں ہے مگر پھر بھی خریدار کہاں

تیرے ہونٹوں سے ہے عنقا وہ تبسم کی مٹھاس

تیری آواز میں وہ نقرئی جھنکار کہاں!

مطلق الحکم جوانی کے وہ انداز گئے

اب ترے حکم میں پہلی سی وہ للکار کہاں

نرخ کچھ اور بڑھا دے کہ یہ ارزاں ہے ابھی

آج وہ جنس کہاں، آج وہ بازار کہاں

تو کہ ماضی کی بہر طور پرستار نہیں

کیوں گئے وقت کی باہوں پہ گری جاتی ہے

کیوں کسی ڈار سے بچھڑے ہوئے پنچھی کی طرح

آسماں بوس محلات میں کُرلاتی ہے

کیوں زبوں حال شرابی کا بڑھاپا بن کر

اپنے جو بن کی حکایات کو دوہرائی ہے

کیوں کسی بستر زر کار پہ کروٹ لے کر

اپنے ٹوٹے ہوئے انگ انگ کو سہلاتی ہے

تو کہ احساس کی رانی ہے مہارانی ہے

تیرا جوبن نہیں در در پہ بھٹکنے کے لیے

تیرے آنسو نہیں دامن پہ ڈھلک جانے کو

تیری صورت نہیں آنکھوں میں کھٹکنے کے لئے

تیری نظریں نہیں جھک جھک کے بلکنے والی

تیرا لہجہ نہیں باتوں میں اٹکنے کے لئے

توکسی پیار کے دھوکے میں نہ لانا دل کو!

یہ ترے ہاتھ ہیں دامن کو جھٹکنے کے لئے

مجھ کو ہر چند ترے حسن نے دھتکار دیا!

لیکن اس دل پہ مرا زور تو چلتا ہی نہیں

جب تلک میں تری یادوں کا نہ جھولا جھولوں

جی کسی طرح جدائی میں بہلتا ہی نہیں

میں وہ زر دار نہیں جس کا گلستان حیات

حرص کی آنچ بنا پھولتا پھلتا ہی نہیں

تو مرے پیار سے انکار کئے جاتی ہے !

اور یہ آس کا پتھر کہ پگھلتا ہی نہیں

میں کہ افلاس کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر

چُور ہوتا ہوں تو روتے ہوئے سوجاتا ہوں

جب مجھے تیری جوانی کا خیال آیا ہے !

جانے کیا سوچ کے بے چین سا ہو جاتا ہوں

جب کہیں درد تصور سے نکل جاتا ہو

میں تری زلف میں کچھ اشک پرو جاتا ہوں

وقت نے مجھ سے تجھے چھین لیا ہے لیکن

میں جیوں گا ترے خوابوں میں سمانے کے لئے

میں جیوں گا تری عظمت کا نگہباں بن کر!

میں جیوں گا تجھے ذلت سے بچانے کے لئے !

میں ترے دل پہ کوئی آنچ نہ آنے دوں گا!

میں بڑھوں گا تجھے سینے سے لگانے کیلئے

زندگی آئینہ بردوش کھڑی ہے کب سے

مجھ کو تیری ہی کوئی شکل دکھانے کے لئے

٭٭٭

 

 

 

 

تجدید

 

 

وہی جھنکار، وہی ناچتی گاتی تلوار

وہی للکار، وہی پھیلتا بڑھتا سا غبار

وہی سیلاب، وہی سینۂ دریا کی امنگ

وہی گرداب، وہی فطرت امواج کی جنگ

وہی طوفان، وہی عزم بغاوت کی دلیل

وہی ہیجان، وہی خوب کا احساسِ علیل

وہی پیغام، وہی صلح کا مبہم اقرار

وہی انجام، وہی ریت کی گرتی دیوار

وہی تمہید، وہی کہنہ رسومات کی رٹ

وہی تجدید، وہی پھر سے مراعات کی رٹ

وہی دمساز، وہی روح پر چلتے نشتر

وہی اعزاز، وہی کھوٹ کے پیلے زیور

وہی قانون، وہی موم کی مڑتی ہوئی ناک

وہی معجون، وہی شہد میں لپٹی ہوئی خاک

وہی سوغات، وہی نکتۂ ناقابل غور

وہی دن رات، وہی وقت کے بدلے ہوئے تیور

پھر وہی ذکر، کہ یہ چوٹ بھی کھائیں کیونکر

پھر وہی فکر، کہ تلوار اٹھائیں کیونکر

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

 

بہلاوے

 

یہی کفن اوڑھ لو بدن پر سمور و سنجاب کو بھلا دو

بجھے چراغوں سے روشنی پاؤ مہر و مہتاب کو بھلا دو!

جو تم نے مانگا تھا مل گیا ہے ہر اک نئے خواب کو بھلا دو

اسی لحد میں جیو مرو گے لحد سے آگے محل نہیں ہے !

یہ رہنماؤں کی تیز گامی جو ہاتھ مل مل کے رو رہی ہے

یہ رہ گذاروں کی دل فریبی جو خون کے بیج بو رہی ہے

یہ اپنی منزل جو منہ بسورے ہوا کے دامن میں سو رہی ہے

تمہیں بتاؤ ضمیرِ انساں، انہیں سہاروں پہ جی رہا تھا

یہ زر د چہروں پہ ہانپتے کانپتے افق کے پار کے فسانے

یہ سرد آہوں میں کسمساتے ہوئے ندامت کے تازیانے

یہ گرم پیشانیوں کی آنچیں، یہ نرم زلفوں کے شامیانے

افق کے اس پار جاتے جاتے اک اور منزل پہ آ گئے ہیں

ہزار وعدہ بھی ہو تو کیا ہے بھلا یوں کوئی بہل سکا ہے

خلاؤں میں تیر مارنے سے کہیں برا وقت ٹل سکا ہے

نگاہ کی خود فریبیوں سے کبھی زمانہ بدل سکا ہے

افق کے اس پار جانے والو! مرے تجسس کے ہم خیالو

٭٭٭

 

 

 

 

 

میرا قلم

 

 

مرے قلم سے تقاضا ہے شہر یاروں کا

کہ اس کے لب پہ رہے تذکرہ بہاروں کا

اگر کہیں نظر آئیں سلگتے ویرانے

قرار دے انہیں ہمسر گلاب زاروں کا

اگر زمیں پہ بلکتے ہوں خاک کے ذرے

گماں ہو ان پہ دمکتے ہوئے ستاروں کا

اگر شباب کے نوحے فضا میں رچنے لگیں

مذاق اڑائے زمانہ ستم کے ماروں کا

اگر کوئی سر بازار بھوک سے تڑپے

سنائے ان کو فسانہ خدا کے پیاروں کا

یہ بھولا بھالا تقاضا بجا سہی، لیکن

مرے ضمیر کو بندگی قبول نہیں

شرر کو پھول بنانا مجھے نہیں آتا

گھٹا کو زلف سمجھنا مرا اصول نہیں

ترس گئے ہوں اگر ہونٹ مسکرانے کو

تو کس زباں سے کہوں زندگی ملول نہیں

روش روش پہ اگر خار راستہ روکیں

تو کیوں کہوں کہ یہاں سرو ہیں ببول نہیں

مرے قلم نے اگر کوئی بھید کھول دیا

تو اعتراف کروں گا یہ میری بھول نہیں

مرا قلم مرے جمہور کی امانت ہے

اسے عوام کی بے چارگی سساتی ہے

مرے قلم کی زباں کاٹ دی گئی، لیکن

مرے قلم کی خموشی بھی گنگناتی ہے

مرے قلم کی رگوں میں وہ خون جولاں ہے

کہ جس سے عظمت انساں پہ آنچ آتی ہے

مرا قلم وہ مؤرخ ہے جس کے سینے میں

غمِ حیات کی تاریخ سرسراتی ہے

مرے قلم کو زمانہ تو کیا خریدے گا

کہ اکثر اس سے مشیت شکست کھاتی ہے

میں خود اسیر سہی، میرا فن اسیر نہیں

مرا قلم کسی جلاد کا ضمیر نہیں

٭٭٭

پروف ریڈنگ : ماروا ضیاء ، اعجاز عبید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید