FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

تفہیم القرآن

 

 

 

۱۳۔ سورۂ   یٓس تا سورۂ  الزُّمَر

 

 

ابو الاعلیٰ مودودی

 

 

 

 

 

 

 

(۳۶) سورۃ یٰسین

 

 

نام

 

آغاز ہی کے دو حرفوں کو اس سورے کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

انداز بیان پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اس سورہ کا نزول یا تو مکہ کے دَورِ متوسط کا آخری زمانہ ہے،  یا پھر یہ زمانہ قیام مکہ کے آخری دور کی سورتوں میں سے ہے۔

 

موضوع و مضمون

 

کلام کا مدعا کفار قریش کو نبوت محمدؐی  پر ایمان نہ لانے اور ظلم و استزاء سے اس کا مقابلہ کرنے کے انجام سے ڈرانا ہے۔  اس میں اِنذار کا پہلو غالب اور نمایاں ہے مگر بار بار  اِنذار کے ساتھ استدلال سے تفہیم بھی کی گئی ہے۔

استدلال تین امور پر کیا گیا ہے :

توحید پر آثار کائنات اور عقل عام سے،

آخرت پر آثار کائنات، عقل عام اور خود انسان کے اپنے وجود سے،

اور رسالت محمؐدی کی صداقت پر اس بات سے کہ آپ تبلیغ رسالت میں یہ ساری مشقت محض بے غرضانہ برداشت کر رہے تھے،  اور اس امر سے کہ جن باتوں کی طرف آپ لوگوں کو دعوت دے رہے تھے وہ سراسر معقول تھیں اور انہیں قبول کرنے میں لوگوں کا اپنا بھلا تھا۔

اس استدلال کی قوت پر زجر و توبیخ اور ملامت و تنبیہ کے مضامین نہایت زور دار طریقہ سے بار بار ارشاد ہوئے ہیں تاکہ دلوں کے قفل ٹوٹیں اور جن کے اندر قبول حق کی تھوڑی سے صلاحیت بھی ہو وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔

امام احمد، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور طبرانی وغیرہ نے مَعقِل بن یَسار سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یٰس الب  القرآن، یعنی یہ سورہ قرآن کا دل ہے۔  یہ اسی طرح کی تشبیہ  ہے جس طرح سورہ فاتحہ کو اُم القرآن فرمایا گیا ہے۔  فاتحہ کو ام القرآن قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں قرآن مجید کی پوری تعلیم کا خلاصہ آ گیا ہے۔  اور یٰس کو قرآن دھڑکتا ہو دل اس لیے فرمایا گیا ہے کہ وہ قرآن کی دعوت کو نہایت پر زور طریقے سے پیش کرتی ہے جس سے جمود ٹوٹتا اور روح میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔

انہی حضرت مَعقِل بن یسار سے امام احمد، ابو داؤد اور ابن ماجہ نے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ حضؐور نے فرمایا : اقرءواسُورۃ یٰس علیٰ موتا کم۔ ’’ اپنے مرنے والوں پر سورہ یٰس پڑھا کرو۔ ‘‘ اس کی مصلحت یہ ہے کہ مرتے وقت مسلمان کے ذہن میں نہ صرف یہ کہ تمام اسلامی عقائد تازہ ہو جائیں، بلکہ خصوصیت کے ساتھ اس کے سامنے عالم آخرت کا پورا نقشہ بھی آ جائے اور وہ جان لے کہ حیات دنیا کی منزل سے گزر کر اب آگے کن منزلوں سے اس کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔  اس مصلحت کی تکمیل کے لیے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ غیر عربی داں آدمی کو سورہ یٰس سنانے کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی سنا دیا  جائے تاکہ تذکیر کا حق پوری طرح ادا ہو  جائے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

یس۔ قسم ہے قرآن حکیم کی (۱ )کہ تم یقیناً رسولوں میں سے (۲) ہو، سیدھے راستے پر ہو، (اور یہ قرآن ) غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ (۳)ہے۔  تاکہ تم خبردار کرو ایک ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبردار نہ کیے گیے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے (۴)ہیں۔

ان میں سے اکثر لوگ فیصلہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں، اسے لیے وہ ایمان نہیں (۵)لاتے۔  ہم ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں، اس لیے وہ سر اٹھائے کھڑے (۶) ہیں۔ ہم نے ایک دیوار ان کے آگے کھڑی کر دی ہے اور ایک دیوار ان کے پیچھے۔  ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے،  انہیں اب کچھ نہیں (۷) سوجھتا۔ ان کے لیے یکساں ہے،  تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، یہ نہ مانیں (۸) گے۔  تم تو اسی شخص کو خبردار کر سکتے ہی جو نصیحت کی پیروی کرے اور بے دیکھے خدائے رحمان سے ڈرے۔  اسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو۔

ہم یقیناً ایک روز مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں۔ جو کچھ افعال انہوں نے کئے ہیں وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں، اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے  چھوڑ ے ہیں وہ بھی ہم ثبت کر رہے (۹) ہیں۔ ہر چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے۔ ع

 

تفسیر

 

(۱)۔ ابن عباس، عکرمہ، ضحاک، اسن بصری اور سفیان بن عُیَیْنہ کا قول ہے کہ اس کے معنی ہیں ’’ ’’اے انسان ‘‘ یا ‘’ اے شخص‘‘۔ اور بعض مفسرین نے اسے ’’ یا  سید‘ ‘کا مخفف بھی قرار دیا ہے۔  اس تاویل کی رو سے ن الفاظ کے مخاطب نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔

(۲)۔ اس طرح کلام کا آغاز کرنے کی وجہ یہ نہیں  ہے کہ معاذ اللہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی نبوت میں کوئی شک تھا اور آپ کو یقین دلانے کے لیے اللہ تعالیٰ کو یہ بات فرمانے کی ضرورت پیش آئی۔ بلکہ اس کی  وجہ یہ ہے کہ اس وقت کفار قریش پوری شدت کے ساتھ حضورؐ کی نبوت کا انکار کر رہے تھے،  اس لیے اللہ تعالیٰ نے کسی تمہید کے بغیر تقریر کا آغاز ہی اس فقرے سے فرمایا کہ ’’ تم یقیناً رسولوں میں سے ہو‘‘ یعنی وہ لوگ سخت غلط کار ہیں جو تمہاری نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ پھر اس بات پر قرآن قسم کھائی گئی ہے،  اور قرآن کی صفت میں لفظ’’ حکیم ‘‘ استعمال کیا گیا  ہے۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے نبی ہونے کا کھلا ہوا ثبوت یہ قرآن ہے جو سراسر حکمت سے لبریز ہے۔  یہ چیز خود شہادت دے رہی ہے کہ جو شخص ایسا حکیمانہ کلام پیش کر رہا ہے وہ یقیناً خدا کا رسول ہے۔  کوئی انسان ایسا کلام تصنیف کر لینے پر قادِر نہیں ہے۔  اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو جو جانتے ہیں وہ ہر گز اس غلط فہمی میں نہیں پڑ سکتے کہ یہ کلام آپ خود گھڑ گھڑ کر لا رہے  ہیں، یا کسی دوسرے انسان سے سیکھ سیکھ کر سنا رہے ہیں۔ (اس مضمون کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، صفحات ۲۷۲ تا ۲۷۴۔  ۲۸۵ تا ۲۸۶۔ ۶۴۱ تا ۶۴۳ جلد سوم، صفحات ۳۱۷ تا ۳۱۸۔ ۴۷۶۔ ۶۰۲۔ ۶۳۹ تا ۶۴۲۔ ۶۶۵ تا ۶۷۰۔ ۷۱۱ تا ۷۱۳۔ ۷۲۴ تا ۷۲۸۔ ۷۳۰ تا ۷۳۲)

(۳)۔ یہاں قرآن کے نازل کرنے والے کی دو صفتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ غالب اور زبردست ہے۔  دوسرے یہ کہ وہ رحیم ہے۔  پہلی صفت بیان کرنے سے مقصود اس حقیقت پر  متنبہ کرنا ہے کہ یہ قرآن کسی بے زور ناصح کی نصیحت نہیں ہے جسے تم نظر انداز کر دو تو تمہارا کچھ نہ بگڑے،  بلکہ یہ اُس مالکِ کائنات کا فرمان ہے جو سب پر غالب ہے،  جس کے فیصلوں کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی، اور جس کی پکڑ سے بچ جانے کی قدرت کسی کو حاصل نہیں ہے۔  اور دوسرے صفت بیان کرنے سے مقصود یہ احساس دلانا ہے کہ یہ سراسر اس کی مہر بانی ہے کہ اس نے تمہاری ہدایت و رہنمائی کے لیے اپنا رسول بھیجا اور یہ کتابِ عظیم نازل کی تاکہ تم گمراہیوں سے بچ کر اُس راہ راست پر چل سکو جس سے تمہیں دنیا و آخرت کی کامیابیاں حاصل ہوں۔

(۴)۔ اس آیت کے دو ترجمے ممکن ہیں۔ ایک وہ جو اوپر متن میں کیا گیا ہے۔  دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’ تم ڈراؤ ایک قوم کے لوگوں کو اُسی بات سے جس سے ان کے باپ دادا ڈرائے گئے تھے،  کیونکہ وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ‘‘۔  پہلا مطلب اگر لیا جائے تو باپ دادا سے مراد زمانۂ قریب کے باپ دادا ہوں گے،  کیونکہ زمانۂ بعید میں تو عرب کی سر زمین میں متعدد انبیاء  آ چکے تھے اور دوسری مطلب اختیار کرنے کی صورت میں مراد یہ ہو گی کہ ادیم زمانے میں جو پیغام انبیاء کے ذریعہ سے اس قوم کے آبا و اجداد کے پاس آیا تھا اس کی اب پھر تجدید کرو، کیونکہ یہ لوگ اسے فراموش کر گئے ہیں۔ اس لحاظ سے دونوں ترجموں میں در حقیقت کوئی تضاد نہیں ہے اور معنی کے لحاظ سے دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔

اس مقام پر یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قوم کے اسلاف پر جو زمانہ ایسا گزرا تھا جس میں کوئی خبردار کرنے والا ان کے پاس نہیں آیا، اُس زمانے میں اپنی گمراہی کے وہ کس طرح ذمہ دار ہو سکتے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کوئی نبی دنیا میں بھیجتا ہے تو اس کی تعلیم و ہدایت کے اثرات دور دور تک پھیلتے ہیں اور نسلاً بعد نسل چلتے رہتے ہیں۔ یہ آثار جب تک باقی رہیں اور نبی کے پیروؤں میں جب تک ایسے لوگ اُٹھتے رہیں جو ہدایت کی شمع روشن کرنے والے ہوں، اس وقت تک زمانے کو ہدایت سے خالی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اور جب اس نبی کی تعلیم کے اثرات بالکل مٹ جائیں یا ان میں مکمل تحریف ہو جائے تو دوسرے نبی کی بعثت نا گزیر ہو جاتی ہے۔  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت سے پلے عرب میں حضرت ابراہیم و  اسماعیل اور حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کی تعلیم کے اثرات ہر طرف پھیلے ہوئے تھے اور وقتاً فوقتاً ایسے لوگ اس قوم میں اُٹھتے رہے تھے،  یا باہر سے آتے رہے تھے جو ان اثرات کو تازہ کرتے رہتے تھے۔  جب یہ اثرات مٹنے کے قریب ہو گئے اور اصل تعلیم میں بھی تحریف ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کی مبعوث فرمایا اور ایسا انتظام فرمایا کہ آپ کی ہدایت کے آثار  نہ مٹ سکتے ہیں اور نہ محرف ہو سکتے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، سورۃ سبا، حاشیہ نمبر ۵)

(۵)۔ یہ ان لوگوں کو ذکر ہے جو  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت کے مقابلے میں ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لے رہے تھے اور جنہوں نے طے کریا تا کہ آپ کی بات بہر حال مان کر نہیں دینی ہے۔  ان کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ ’’ یہ لوگ فیصلۂ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اس لیے یہ ایمان نہیں لاتے ‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نصیحت پر کان نہیں دھرتے اور خدا کی طرف سے پیغمبروں کے ذریعہ اتمامِ حجت ہو جانے پر بھی انکار اور حق دشمنی کی روش ہی اختیار کیے چلے جاتے ہیں ان کی اپنی شامتِ اعمال مسلط کر دی جاتی ہے اور پھر انہیں توفیق ایمان نصیب نہیں ہوتے۔  اسی مضمون کو آگے چل کر اس فقرے میں کھول دیا گیا ہے کہ ’’ تم تو اسی شخص کو خبردار کر  سکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور بے دیکھے خدائے  رحمان سے ڈرے۔ ‘‘

(۶)۔ اس آیت میں ’’ طوق ‘‘ سے مراد ان کی اپنی ہٹ دھرمی ہے جو ان کے لیے قبولِ حق میں مانع ہو رہی تھی۔ ’’ ٹھوڑیوں تک جکڑے جانے ‘‘ اور سر اُٹھائے کھڑے ہونے ‘‘ سے مراد وہ گردن کی اکڑ ہے جو تکبر اور نخوت کا نتیجہ ہوتی ہے۔  اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ ہم نے ان  کی ضد اور ہٹ دھرمی کو ان کی گردن کا طوق بنا دیا ہے،  اور جس کبر و نخوت میں یہ مبتلا ہیں اس کی وجہ سے ان کی گردنیں اس طرح اکڑ گئی ہیں کہ اب خواہ کوئی روشن حقیقت بھی ان کے سامنے آ جائے،  یہ اس کی طرف التفات کر کے نہ دیں گے۔

(۷)۔ ایک دیوار آگے اور ایک پیچھے کھڑی کر دینے سے مراد یہ ہے کہ اسی ہٹ دھرمی اور استکبار کا فطری نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یہ لوگ نہ پچھلی تاریخ سے کوئی سبق لیتے ہیں، اور نہ مستقبل کے نتائج پر کبھی غور کرتے ہیں۔ ان کے تعصّبات نے ان کے ہر طرف سے اس طرح ڈھانک لیا ہے اور ان کی غلط فہمیوں نے ان کی آنکھوں پر ایسے پردے ڈال دیے ہیں کہ انہیں وہ کھُلے کھُلے حقائق  نظر نہیں آتے ہو ہر سلیم الطبع اور بے تعصب انسان کو نظر آ رہے ہیں۔

(۸)۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس حالت میں تبلیغ کرنا بے کار ہے۔  بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری تبلیغ عام ہر طرح کے انسانوں تک پہنچتی ہے۔  ان میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔  اور کچھ دوسرے لوگ وہ ہیں جن کا ذکر آگے کی آیت میں آ رہا ہے۔  پہلی قسم کے لوگوں سے جب سابقہ پیش آئے اور تم دیکھ لو کہ وہ انکار و استکبار اور عناد و مخالفت پر جمے ہوئے ہیں تو ان کے پیچھے نہ پڑو۔ مگر ان کی روش سے دل شکستہ و مایوس ہو کر کام چھوڑ بھی نہ بیٹھو، کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ اسی ہجوم خلق کے درمیان وہ خدا کے بندے کہاں ہیں جو نصیحت قبول کرنے والے اور خدا سے ڈر کر راہ راست پر آ جانے والے ہیں۔ تمہاری تبلیغ کا اصل مقصود اسے دوسرے قسم کے انسانوں کو تلاش کرنا اور انہیں چھانٹ کر نکال لینا ہے۔  ہٹ دھرموں کو چھوڑتے جاؤ، اور اس قیمتی متاع کو سمیٹتے چلے جاؤ۔

(۹)۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کا نامۂ اعمال تین قوم کے اندراجات پر مشتمل ہے۔  ایک یہ کہ ہر شخص جو کچھ بھی اچھا یا بُرا عمل کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دفتر میں لکھ لیا جاتا ہے۔  دوسرے،  اپنے گرد و پیش کی اشیاء اور خود اپنے جسم کے اعضاء پر جو نقوش (Impressions)بھی انسان مرتسم کرتا ہے وہ سب کے سب ثبت ہو جاتے ہیں، اور یہ سارے نقوش ایک وقت اس طرح اُبھر آئیں گے کہ اس کی اپنی آواز سُنی جائے گی، اس کے اپنے خیالات اور نیتوں اور ارادوں کی پوری داستان اس کی لوحِ ذہن پر لکھی نظر آئے گی، اور اس کے ایک ایک اچھے اور بُرے فعل اور اس کی تمام حرکات و سکنا ت کی تصویریں سامنے آ جائیں گی۔ تیسرے اپنے مرنے کے بعد اپنی آئندہ نسل پر، اپنے معاشرے پر، اور پوری انسانیت پر اپنے اچھے اور بُرے اعمال کے جو اثرات وہ چھوڑ گیا ہے وہ جس وقت تک اور جہاں جہاں تک کار فرما رہیں گے وہ سب اس کے حساب میں لکھے جاتے ہیں گے۔  اپنی اولاد کو جا بھی اچھی یا بُری تربیت  اس نے دی ہے،  اپنے معاشرے میں جو بھلائیاں یا بُرائیاں بھی اس نے پھیلائی ہیں اور انسانیت کے حق میں جو پھول یا کانٹے بھی وہ بو گیا ہے ان سب کا پورا ریکارڈ اس وقت تک تیار کیا جاتا رہے گا جب تک اس کی لگائی ہوئی یہ فصل دنیا میں اپنے اچھے یا بُرے پھل لاتی رہے گی۔

 

 

ترجمہ

 

اِنہیں مثال کے طور پر اس بستی والوں کا قصہ سناؤ جبکہ اس میں رسول آئے (۱۰) تھے۔  ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے اور انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا۔ پھر ہم نے تیسرا مدد کے  لیے بھیجا اور ان سب نے کہا ’’ ہم تمہاری طرف رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں۔ ‘‘

بستی والوں نے کہا ’’ تم کچھ نہیں ہو مگر ہم جیسے چند (۱۱) انسان، خدائے رحمٰن نے ہر گز کوئی چیز نازل نہیں کی(۱۲) ہے،  تم محض جھوٹ بولتے ہو۔

رسولوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں، اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں (۱۳) ہے۔

بستی والے کہنے لگے ’’ ہم تو تمہیں اپنے لیے فال بد سمجھتے (۱۴) ہیں۔ اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کر دیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاؤ گے ‘‘۔

رسولوں نے جواب دیا’’ تمہاری فال بد تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی (۱۵) ہے۔  کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ(۱۶)ہو‘‘۔

اتنے میں شہر کے دُور دراز گوشے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا ’’ اے میری قوم کے لوگو! رسولوں کی پیروی اختیار کر لو۔ پیروی کرو اُن لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر(۱۷) ہیں۔ آخر کیوں نہ میں اس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا(۱۸) ہے ؟ کیا میں اسے چھوڑ کر دوسرے معبود بنا لوں ؟ حالانکہ اگر خدائے رحمٰن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہ ان کی شفاعت میرے کسی کام آ سکتی ہے اور نہ وہ مجھے چھڑا ہی سکتے (۱۹) ہیں۔ اگر میں ایسا کروں (۲۰) تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہو جاؤں گا۔ میں تو تمہارے رب پر ایمان لے (۲۱) آیا، تم بھی میری بات مان لو۔

(آخر کار ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا اور)اس شخص سے کہہ دیا گیا کہ ’’ داخل ہو جا جنت (۲۲) میں۔ ‘‘ اس نے کہا ’’ کاش میری قوم کو معلوم ہوتا کہ میرے رب نے کس چیز کی بدولت میری مغفرت فرما دی اور مجھے با عزت لوگوں میں داخل(۲۳) فرمایا‘‘۔

اس کے بعد اس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا۔ ہمیں لشکر بھیجنے کی کوئی حاجت نہ تھی۔ بس ایک دھماکہ ہوا اور  یکایک وہ سب بجھ کر رہ  گئے۔ (۲۴) افسوس بندوں کے حال پر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے۔  کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم نے ہلاک کر چکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے ؟(۲۵)  ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر یا جانا ہے۔ ع

 

تفسیر

 

(۱۰)۔ قدیم مفسرین  بالعموم اس طرف گئے ہیں کہ اس بستی سے مراد شام کا شہر انطاکیہ ہے اور جن رسولوں کا ژکر یہاں کیا گیا ہے اُنہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تبلیغ کے لیے بھیجا تھا۔ اس سلسلے میں قصے کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں اُن میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ اس زمانہ میں  انطیخش اس علاقے کا بادشاہ تھا  لیکن یہ سارا قصّہ ابن عبّاس، قتادہ، عِکرِمہ، کَعب اَحْبار  اور وہب بن مُنَبِہّ وغیرہ بزرگوں نے عیسائیوں کی غیر مستند روایات سے اخذ کیا ہے اور تاریخی حیثیت سے بالکل بے بنیاد ہے۔  انطاکیہ میں سلوتی خاندان (Saleucid dynasty)کے ۱۳ بادشاہ انتیوکس (Antiochus)کے نام سے گزرے ہیں اور اس نام کے آخری فرمانروا کی حکومت، بلکہ خود اس خاندان کی حکومت بھی ۶۵ قبل مسیح میں ختم ہو گئی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں انطاکیہ سمیت شام فلسطین کا پورا علاقہ رومیوں کے زیر نگیں تھا۔ پھر عیسائیوں کی کسی مستند روایت سے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں میں سے کسی کو تبلیغ کے لیے انطاکیہ بھیجا ہو۔ اس کے برعکس بائیبل کی کتاب اعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعۂ صلیب کے چند سال بعد عیسائی مبلغین  پہلی مرتبہ وہاں پہنچے تھے۔  اب یہ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کو نہ اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہو، نہ اللہ کے رسول نے معمور کیا ہو، وہ اگر بطور خود تبلیغ کے لیے نکلے ہوں تو کسی تاویل کی رو سے بھی وہ اللہ کے رسول قرار نہیں پا سکتے۔  علاوہ بریں بائیبل کے بیان کی رو سے انطاکیہ پہلا شہر ہے جہاں کثرت سے غیر اسرائیلیوں نے دین مسیح کو قبول کیا اور مسیحی کلیسا کو غیر معمولی کامیابی نصیب ہوئی۔ حالانکہ قرآن جس بستی کا ذکر یہاں کر رہا ہے وہ کوئی ایسی بستی تھی جس نے رسولوں کی دعوت کو رد کر دیا اور  بالآخر  عذابِ  الہٰی کی شکار ہوئی۔ تاریخ میں اس امر کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انطاکیہ پر ایسی کوئی تباہی نازل ہوئی جسے  انکارِ رسالت کی بنا پر عذاب قرار دیا جا سکتا ہو۔

ان وجوہ سے یہ بات نا قابِل قبول ہے کہ اس بستی سے مراد انطاکیہ ہے۔  بستی کا تعین نہ قرآن میں کیا گیا ہے،  نہ کسی صحیح حدیث میں، بلکہ یہ بات بھی کسی مستند ذریعہ سے معلوم نہیں ہوتی کہ یہ رسول کون تھے اور کس زمانے میں بھیجے گئے تھے۔  قرآن مجید جس غرض کے لیے یہ قصّہ یہاں بیان کر رہا ہے اسے سمجھنے کے لیے بستی کا نام اور رسولوں کے نام معلوم ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔  قصے کے بیان کرنے کی غرض قریش کے لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ تم ہٹ دھرمی، تعصُّب اور انکارِ حق کی اسی روش پر چل رہے ہو جس پر اُس بستی کے لوگ چلے تھے،  اور اسی انجام سے دوچار ہونے کی تیاری کر رہے ہو جس سے وہ دوچار ہوئے۔

(۱۱) دوسرے الفاظ میں ا ن کا کہنا یہ تھا کہ تم چونکہ انسان ہو اس لیے خدا کے بھیجے ہوئے رسول نہیں ہو سکتے۔  یہی خیال کفارِ مکہ کا بھی تھا۔ وہ یہ کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) رسول نہیں ہیں کیونکہ وہ انسان ہیں :

وَقَا لُوْا مَلِ ھٰذَا الرَّسولِ یَأکُلُ الطَّعَمَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ۔ (الفرقان:۷)

وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔

وَاَسَرُّواالنَّجْوَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ھَلْ ھٰذَٓا اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ اَفَتَأ تُوْنَ السِّحٰرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ (الانبیاء۔ ۳)

اور یہ ظالم لوگ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ شخص (یعنی محمد صلی اللہ علیہ و سلم) تم جیسے ایک بشر کے سوا آخر اور کیا ہے،  پھر کیا تم آنکھوں دیکھتے اس جادو کے شکار ہو جاؤ گے ؟

قرآن مجید کفار مکہ کے اس جاہلانہ خیال کی تردید کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ یہ کوئی نئی جہالت نہیں ہے جو آج پہلی مرتبہ ان لوگوں سے ظاہر ہو رہی ہو، بلکہ قدیم ترین زمانے سے تمام جَہلاء اسی غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں کہ جو بشر ہے وہ رسول نہیں ہو سکتا اور جو رسول ہے وہ بشر نہیں ہو سکتا۔ قوم نوح کے سرداروں نے جب حضرت نوح کی رسالت کا انکار کیا تھا تو یہی کہا تھا:

مَا ھٰذَآاِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ وَلَوْ شَآءَاللہُ لَاَنْزَلَ مَلٰئِکَہً۔ مَا سَمِعْنَا بھِٰذَا فِیْ اٰبَآئِنَا لْاَوَّلِیْنَ۔ (المومنون : ۲۴)۔

یہ شخص اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ایک بشر ہے تم ہی جیسا، اور چاہتا ہے کہ تم پر اپنی فضیلت جمائے۔  حالانکہ اگر اللہ چاہتا تو فرشتے نازل کرتا۔ ہم نے تو یہ بات کبھی اپنے باپ دادا سے نہیں سنی (کہ انسان رسول بن کر آئے )۔

قوم عاد نے یہی بات حضرت ہودؑ کے متعلق کہی تھی:

مَا ھٰذَآاِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یَأ کُلُ مِمَّ تَأ کُلُوْنَ مَنْہُ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَه وَلَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًامِثْلَکُمْ اِنَّکُمْ اِذًالَّخٰسِرُوْنَ۔ (المومنون :۳۳۔ ۳۴)۔

یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر ہی جیسا۔ کھاتا ہے وہی کچھ جو تم کھاتے ہو اور پیتا ہے وہی کچھ جو تم پیتے ہو۔ اب اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت کر لی تو تم بڑے گھاٹے میں رہے۔

قوم ثمود نے حضرت صالحؑ کے متعلق بھی یہی کہا تھا کہ:

اَبَشَراً مِّنَّ وَ احِداً نَّتَّبِعُہٗ o(القمر:۲۴)

کیا ہم اپنے میں سے ایک بشر کی پیروی اختیار کر لیں۔

اور یہی معاملہ قریب قریب تمام انبیاء کے ساتھ پیش آیا کہ کفار نے کہا، اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا، ’’ تم کچھ نہیں ہو مگر پ، جیسے بشر۔ ’‘ اور انبیاء نے اس کو جواب دیا کہ، اِنْ نَحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ وَ لٰکِنَّ اللہَ تَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ  مِنْ عِبَادِہ۔ واقعی  ہم تمہاری طرح بشر کے سوا کچھ نہیں ہیں، مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے ‘‘ (ابراہیم:۱۰۔ ۱۱)

اس کے بعد قرآن مجید کہتا ہے کہ یہی جاہلانہ خیال ہر زمانے میں لوگوں کو ہدایت قبول کرنے سے باز رکھتا رہا ہے اور اسی بنا پر قوموں کی شامت آئی ہے :

اَلَمْ یَأ فِکُمْ نَبَؤُ االُذِیْنَ کَفَرُوْ ا مِنْ قَبْلُ فَذَا قُوْ ا وَبَا لَا اَ مْر، ھِمْ وَلَھُمْ عَذَاب ٌ اَلِیْمٌه  ذٰلِکَ بِاَنَّہٗ  کَا نَتْ تَـأ تِیْہِمْ رُسُلھُُمْ بِا لْبَیِّنٰتِ فَقَا لُوْ ا اَبَشَرٌ یَّھْدُوْنَنَا فَکَفَرُا وَفَوَ لَّوْا۔  (التغابن: ۶)

کیا اِنہیں اسن لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا تھا اور پھر اپنے کیا کا مزا چکھ لیا اور آگے ان کے لیے درد ناک عذاب ہے ؟ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی دلیلیں لے کر آتے رہے مگر انہوں نے کہا ’’ کیا اب انسان ہماری رہنمائی کریں گے ‘‘ ؟ اسی بنا پر انہوں نے کفر کیا اور منہ پھیر گئے۔

وَمَا مَنَعَ النَّا سَ اَنْ یُّؤ مِنُوْ ا اِذْ جَآ ءَ ھُمُ الْھُد یٰ اِلَّٓا اَنْ قَا لُوْا اَبَعَثَ اللہُ بَشَراً رَّسُوْلاً۔ (بنی اسرائیل : ۹۴)۔

لوگوں کے پاس جب ہدایت آئی تو کوئی چیز انہیں ایمان لانے سے روکنے والی اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے کہا’’ کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیج دیا‘‘؟

پھر قرآن مجید پوری صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ اللہ نے ہمیشہ انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی رسول ہو سکتا ہے نہ کوئی فرشتہ، یا بشریت سے بالا تر کوئی ہستی :

وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ اِلَّا رِجَلاً جُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ فَسْئَلُوْآاَھْلَ الَّذِکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ه وَمَا جَعَلْنٰھُمْ جَسَداً لاَّ یَأ کُلُوْنَالطَّعَمَوَمَا کَا نُوْ ا خٰلِدِیْنَ o(الانبیاء : ۷۔ ۸)

ہم نے تم سے پہلے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے جن پر ہم وحی کرتے تھے۔ اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو۔ اور ہم نے ان کو ایسے جسم نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ جینے والے تھے۔

وَمَٓا اَرْسَلْنَا قَبْلَکَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّٓا اَنَّھُمْ لَیَأ کُلُوْنَ الطَّعَمَ وَیَمْشُوْنَ فِیالْاِ سْوَقِ (الفرقان:۲۰)۔

ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجے تھے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔

قُلْ لّوْکَا نَ فِیالْاَ رْضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّ لْنَا عَلَیْھِمْ مِّنَالسَّمَآءِ مَلَکً رَّسُوْلًا o(بنی اسرائیل:۹۵)

اے نبی، ان سے کہو کہ اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ان پر فرشتے ہی کو رسول بنا کر نازل کرتے۔

(۱۲)۔ یہ ایک اور جہالت ہے جس میں کفارِ مکہ بھی مبتلا تھے،  آج کے نام نہاد عقلیت پسند لوگ بھی مبتلا ہیں، اور قدیم ترین زمانے سے ہر زمانے وے ہر زمانے کے منکرینِ وحی و رسالت اس میں مبتلا رہے ہیں۔ ان سب لوگوں کا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سرے سے انسانی ہدایت کے لیے کوئی وحی نازل نہیں کرتا۔ اس کو صرف عالم بالا کے معاملات سے دلچسپی ہے۔  انسانوں کا معاملہ اس نے خود انسانوں ہی پر چھوڑ رکھا ہے۔

(۱۳)۔ یعنی ہمارا کام اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ جو پیغام تم تک پہنچانے کے لیے ربّ العالمین نے ہمارے سپرد کیا ہے وہ تمہیں پہنچا دیں۔ اس کے بعد تمہیں اختیار ہے کہ مانو یا نہ مانو۔ یہ ذمہ داری ہم پر نہیں ڈالی گئی ہے کہ تمہیں زبردستی منوا کر ہی چھوڑیں۔ اور اگر تم نہ مانو گے تو تمہارے کفر میں ہم نہیں پکڑے جائیں گے بلکہ اپنے اس جرم کی جواب دہی تم کو خود ہی کرنی پڑے گی۔

(۱۴)۔ اس سے ان لوگوں کا مطلب یہ تھا کہ تم ہمارے لیے منحوس ہو، تم نے آ کر ہمارے معبودوں کے خلاف جو باتیں کرنی شروع ہیں ان  کی وجہ سے دیوتا ہم سے ناراض ہو گئے ہیں، اور اب جو آفت بھی ہم پر نازل ہو رہی ہے وہ تمہاری بدولت ہی ہو رہی ہے۔  ٹھیک یہی باتیں عرب کے کفار و منافقین نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں کہا کرتے تھے۔  وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَقُوْلُوْ اھٰذِہ مِنْ عِنْدِ کَ، ’’ اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تمہاری بدولت ہے ‘‘ (النساء:۷۷)۔ اسی لیے قرآن مجید میں متعدّد مقامات پر ان لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ ایسی ہی جاہلانہ باتیں قدیم زمانے کے لوگ بھی اپنے انبیاء کے متعلق کہتے رہے ہیں۔ قوم ثمود اپنے نبی سے کہتی تھی اِطَّیَّرْنَا بِکَ وَ بِمَنْ مَّعَکَ، ’’ ہم نے تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو منحوس پایا ہے۔ ‘‘ (النمل : ۴۷) اور یہی رویّہ فرعون کی قوم کا بھی تھا کہ فَاِذَ ا جَآءَ تْھُمُ الْحَسَنَۃُ قَا لُوْ الَنَا ھٰذِہ وَاِنْتُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَطَیَّرُ وْ بِمُسٰی وَمَنْ مُعَہٗ۔ ’’ جب ان پر اچھی حالت آتی تو کہتے کہ یہ ہماری خوش نصیبی ہے،  اور اگر کوئی مصیبت ان پر آ پڑتی تو اسے موسیٰؑ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے ‘‘ (الا عراف: ۱۳۰)

(۱۵)۔ یعنی کوئی کسی کے لیے منحوس نہیں ہے۔  ہر شخص کا نوشتہ تقدیر اس کی اپنی ہی گردن میں لٹکا ہوا ہے۔  بُرائی دیکھتا ہے تو اپنے نصیب کی دیکھتا ہے اور بھلائی دیکھتا تو ہو بھی اس کے اپنے ہی نصیب کی ہوتی ہے۔   وَکُلُّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰہُ  طٰٓئِرَہٗ فِیْ عُنُقِہ، ’’ ہر شخص کا پروانۂ خیر و شر ہم نے اس کی گردن میں لٹکا دیا ہے ‘‘ (بنی اسرائیل : ۱۳)

(۱۶)۔ یعنی دراصل تم بھلائی سے بھاگنا چاہتے ہو اور ہدایت کے بجائے گمراہی تمہیں پسند ہے،  اس لیے حق اور باطل کا فیصلہ دلیل سے کرنے کے بجائے اوہام و خرافات کے سہارے یہ بہانہ بازیاں کر رہے ہو۔

(۱۷)۔ اس ایک فقرے میں اس بندۂ خدا نے نبوت کی صداقت کے سار ے دلائل سمیٹ کر رکھ دیے۔  ایک نبی کی صداقت دو ہی باتوں سے چانچی جا سکتی ہے۔  ایک، اس کا قول و فعل۔ دوسرے اس کا بے غرض ہونا۔ اس شخص کے استدلال  کا منشا یہ تھا کہ اول تو یہ لوگ سراسر معقول بات کہہ رہے ہیں اور ان کی اپنی سیرت بالکل بے داغ ہے۔  دوسرے کوئی شخص اس بات کی نشاندہی نہیں کر  سکتا کہ اس دین کی دعوت یہ اپنے کسی ذاتی مفاد کی خاطر دے رہے ہیں۔ اس کے بعد کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ان کی بات کیوں نہ مانی جائے۔  اس شخص کا یہ استدلال نقل کر کے قرآن مجید نے لوگوں کے سامنے ایک معیار رکھ دیا کہ نبی کی نبوت کو پرکھنا ہو تو اس کسوٹی پر پرکھ کر دیکھ لو۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا قول و عمل بتا رہا ہے کہ وہ راہ راست پر ہیں۔ اور پھر ان کی سعی و جہد کے پیچھے کسی ذاتی غرض کا بھی نام نشان نہیں ہے۔  پھر کوئی معقول انسان ان کی بات کو رد آخر کس بنیاد پر کرے گا۔

(۱۸)۔ اس فقرے کے دو حصّے ہیں۔ پہلا حصّہ استدلال کا شاہکار ہے،  اور دوسرے حصے میں حکمتِ تبلیغ کا کمال دکھایا گیا ہے۔  پہلے حصے میں وہ کہتا کہ خالق کی بندگی کرنا تو سراسر عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔  نا معقول بات اگر کوئی ہے تو وہ یہ کہ آدمی ان کی بندگی کرے جنہوں نے اسے پیدا نہیں کیا ہے،  نہ یہ کہ وہ اس کا بندہ بن کر رہے جس نے اسے پیداکیا ہے۔  دوسرے حصّے میں وہ اپنی قوم کے لوگوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ مرنا آخر تم کو بھی ہے،  اور اسی خدا کی طرف جانا ہے جس کی بندگی اختیار کرنے پر تمھیں اعتراض ہے۔   اب تم خود سوچ لو کہ اس سے منہ موڑ کر تم کس بھلائی کی توقع کر  سکتے ہو۔

(۱۹)۔ یعنی نہ وہ خدا کے ایسے چہیتے ہیں کہ میں صریح جرم کروں اور  وہ محض ان کی سفارش پر مجھے معاف کر دے۔  اور نہ ان کے اندر اتنا زور ہے کہ خدا مجھے سزا دینا چاہے اور وہ اپنے بل بوتے پر مجھے چھڑا لے جائیں۔

(۲۰)۔ یعنی یہ جانتے ہوئے بھی اگر میں ان کو معبود بناؤں۔

(۲۱)۔ اس فقرے میں پھر حکمت تبلیغ کا ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے۔  یہ کہہ کر اس شخص نے ان لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ جس رب پر میں ایمان لایا ہوں وہ محض میرا ہی رب نہیں ہے بلکہ تمہارا رب بھی ہے۔  اس پر ایمان لا کر میں نے غلطی نہیں کی ہے بلکہ اس پر ایمان نہ لا کر تم ہی غلطی کر رہے ہو۔

(۲۲)۔ یعنی شہادت نصیب ہوتے ہی اس شخص کو جنت کی بشارت د دی گئی۔ جون ہی کہ وہ موت کے دروازے سے گزر کر دوسرے علم میں پہنچا، فرشتے اس کے استقبال کو موجود تے اور انہوں نے اسے خوش خبری دے دی کہ فردوسِ بریں اس کی منتظر ہے۔  اس فقرے کی تاویل میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔  قَتَادہ کہتے ہیں کہ ’’ اللہ نے اسی وقت اسے جنت میں داخل کر دیا اور سہ وہاں زندہ ہے ‘‘۔ یہ بات ملائکہ نے اس سے بشارت کے طور پر کہی اور اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے بعد جب تمام اہل ایمان جنت میں داخل ہوں گے تو وہ بھی اُن کے ساتھ داخل ہو گا۔ ‘‘

(۲۳)۔ یہ اس مرد مومن کے کمالِ اخلاق کا ایک نمونہ ہے۔  جن لوگوں نے اسے ابھی ابھی قتل کیا تھا ان کے خلاف کوئی غصہ اور جذبۂ انتقام اس کے دل میں نہ تھا کہ وہ اللہ سے ان کے حق میں بد دعا کرتا اس کے بجائے وہ اب بھی ان کی خیر خواہی کیے جا رہا تھا۔ مرنے کے بعد اس کے دل میں اگر کوئی تمنّا پیدا ہوئی تو وہ بس یہ تھی کہ کاش میری قوم میرے اس انجامِ نیک سے باخبر ہو جائے  اور میری زندگی سے نہیں تو میری موت ہی سے سبق لے کر راہِ راست اختیار کر لے۔  وہ شریف انسان اپنے قاتلوں کے لیے بھی جہنم نہ چاہتا تھا بلکہ یہ چاہتا تھا کہ وہ ایمان لا کر جنت کے مستحق بنیں۔ اسی کی تعریف کرتے ہوئے حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ نصح قومہ حیّا و میتا، ’’ اس شخص نے جیتے جی بھی اپنی قوم کی خیر خواہی کی اور مر کر بھی‘‘۔

اس واقعہ کو بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو در پردہ اس حقیقت پر متنبہ فرمایا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے ساتھ اہل ایمان بھی اسی طرح تمہارے سچے خیر خواہ ہیں جس طرح وہ مرد مومن اپنی قوم کا خیر خواہ تھا۔ یہ لوگ تمہاری تمام ایذا رسانیوں کے باوجود تمہارے خلاف کوئی ذاتی عناد اور کوئی جذبہ انتقام نہیں رکھتے۔  ان کو دشمنی تم سے نہیں بلکہ تمہاری گمراہی سے ہے۔  یہ تم سے صرف اس لیے لڑ رہے ہیں کہ تم راہ راست پر آ جاؤ۔ اس کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں ہے۔

یہ آیت بھی منجملہ ان آیات کے ہے جن سے حیاتِ برزخ کا صریح ثبوت ملتا ہے۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد سے قیامت تک کا زمانہ خالص عدم اور کامل نیستی کا زمانہ نہیں ہے،  جیسا کہ بعض کم  علم  لوگ گمان کرتے ہیں، بلکہ اس زمانہ میں جسم کے بغیر روح زندہ رہتی ہے،  کلام کرتی اور کلام سنتی ہے،  جذبات و احساسات رکھتی ہے،  خوشی اور غم محسوس کرتی ہے،  اور اہل دنیا کے ساتھ بھی اس کی دلچسپیاں باقی رہتی ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتا تو مرنے کے بعد اس مرد مومن کو جنت کی بشارت کیسے دی جاتی  اور وہ اپنی قوم کے لیے یہ تمنا کیسے کرتا کہ کاش وہ اس کے انجام نیک سے باخبر ہو جائے۔

(۲۴)۔ ان الفاظ میں ایک لطیف طنز ہے۔  اپنی طاقت پر ان کا گھمنڈ اور دینِ حق کے خلاف ان کا جوش و خروش گویا ایک شعلۂ جوّالہ تھا جس کے متعلق اپنے زعم میں وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ ان تینوں انبیاء اور ان پر ایمان لانے والوں کو بھسم کر ڈالے گا۔ لیکن اس شعلے کی بساط اس سے زیادہ کچھ نہ  نکلی کہ خدا کے عذاب کی ایک ہی چوٹ نے اس کو ٹھنڈا کر کے رکھ دیا۔

(۲۵)۔ یعنی ایسے مٹے کہ ان کا کہیں نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ جو گِرا پھر نہ اٹھا۔ دنیا میں آج کوئی ان کا نام لیوا تک نہیں ہے۔  ان کی تہذیب اور ان کے تمدّن ہی کا نہیں، ان کی نسلوں کا بھی خاتمہ ہو گیا۔

 

ترجمہ

 

ان(۲۶) لوگوں کے لئے بے جان زمین  ایک نشانی ہے۔ (۲۷) ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلہ نکالا جسے یہ کھاتے ہیں۔ ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس  کے اندر چشمے پھوڑ نکالے،  تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں۔ یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے۔  (۲۸) پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے ؟ (۲۹)  پاک ہے وہ ذات (۳۰) جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوعِ انسانی) میں سے یا ان اشیاء میں س جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں (۳۱)

ان کے لیے ایک اور نشانی رات ہے،  ہم نے اس کے اوپر سے دن ہٹا دیتے ہیں تو ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے (۳۲)۔ اور سورج، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے۔ (۳۳)۔ یہ زبردست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے۔  اور چاند، اس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کے مانند رہ جاتا ہے (۳۴)۔ نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے (۳۵) اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے (۳۶)۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں (۳۷)۔

ان کے لے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کر دیا (۳۸) اور پھر ان کے لیے ویسی ہی کشتیاں اور پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں (۳۹)۔ ہم چاہیں تو ان کو غرق کر دیں، کوئی ان کی فریاد سننے والا نہ ہو اور کسی طرح یہ نہ بچائے جا سکیں۔ بس ہماری رحمت ہی ہے جو انہیں پار لگاتی اور ایک وقتِ خاص تک زندگی سے متمع ہونے کا موقع دیتی ہے (۴۰)۔

ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچوں اس انجام سے جو تمہارے آگے آ رہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے (۴۱)۔ شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی اَن سنی کر جاتے ہیں )۔ ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے (۴۲)۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اس میں کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے،  ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں ’’کیا ہم اُن کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو”؟ (۴۳)۔

یہ (۴۴) لوگ کہتے ہیں کہ ’’یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہو گی؟ بتاؤ  اگر تم سچے (۴۵) ہو”۔ دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکا ہے جو یکایک انہیں عین اس حالت میں دھر لے گا جب یہ (اپنے دنیوی معاملات میں جھگڑ رہے ہوں گے،  اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کر  سکیں گے،  نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں (۴۶) گے۔ ع۔

 

تفسیر

 

(۲۶)۔ پچھلے دو رکوعوں میں کفار مکہ کو اِنکار و تکذیب اور مخالفت حق کے اس رویہّ پر ملامت کی گئی تھی جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلے میں اختیار کر رکھا تھا۔ اب تقریر کا رُخ اس بنیادی نزاع کی طرف پھرتا ہے جو ان کے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم  کے درمیان کشمکش کی اصل وجہ تھی، یعنی توحید و آخرت کا عقیدہ، جسے حضورؐ پیش کر رہے تھے اور کفار ماننے سے انکار کر رہے تھے۔  اس سلسلے میں پے درپے چند دلائل دے کر لوگوں کو دعوت غور و فکر دی جا رہی ہے کہ دیکھو، کائنات کے یہ آثار جو علانیہ تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں، کیا اس حقیقت کی صاف صاف نشان دہی نہیں کرتے جسے یہ نبی تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے ؟

(۲۷)۔ یعنی اس امر کی نشانی کہ توحید ہی حق ہے اور شرک سراسر بے بنیاد ہے۔

(۲۸)۔ اس فقرے کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے : ’’ تاکہ یہ کھائیں اس کے پھل اور وہ چیزیں جو ان کے اپنے ہاتھ بناتے ہیں۔ ‘‘ یعنی مصنوعی غذائیں جو قدرتی پیداوار سے یہ لوگ خود تیار کرتے ہیں، مثلاً روٹی، سالن، مُربّے،  اچار، چٹنیاں اور بے شمار دوسری چیزیں۔

(۲۹)۔ ان مختصر فقروں میں زمین کی روئیدگی کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔  آدمی شب و روز اسزمین کی پیداوار کھا رہا ہے اور اپنے نزدیک اِسے ایک معمولی بات سمجھتا ہے۔  لیکن اگر وہ غفلت کا پردہ چاک کر کے نگاہ غور سے دیکھے تو اسے معلوم ہو کہ اس فرشِ خاک سے لہلہاتی کھیتیوں اس سر سبز باغوں کا اگنا اور اس کے اندر چشموں اور نہروں کا رواں ہونا کوئی کھیل نہیں ہے جو آپ سے آپ ہوئے جا رہا ہو بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم حکمت و قدرت اور ربوبیت کار فرما ہے۔  زمین کی حقیقت پر غور کیجیے،  جب مادّوں سے یہ مرکب ہے ان کے اندر بجائے خود کسی نشو و نما کی طاقت نہیں ہے۔  یہ سب مادّے فرداً فرداً بھی اور ہر ترکیب و آمیزش کے بعد بھی بالکل غیر نامی ہیں اور اس بنا پر ان کے اندر زندگی کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بے جان زمیں کے اندر سے بناتی زندگی کا ظہور آخر کیسے ممکن ہوا؟ اس کی تحقیق آپ کریں گے تو معلوم ہو گا کہ چند بڑے بڑے اسباب ہیں جو اگر پہلے فراہم نہ کر دیے گئے ہوتے تو یہ زندگی سرے سے وجود میں نہ آ سکتی تھی:

اولاً، زمین کے مخصوص خطّوں میں اس کی اوپری سطح پر بہت سے ایسے مادوں کی تہ چڑھائی گئی جو نباتات کی غذا بننے کے لیے موزوں ہو سکتے تھے اور اس تہ کو نرم رکھا گیا تاکہ نباتات کی جڑیں اس میں پھیل کر اپنی غذا چوس سکیں۔

ثانیاً، زمین اوپر کی فضا میں ہوا پیدا کی گئی جو آفاتِ سماوی سے زمین کی حفاظت کرتی ہے،  جو بارش لانے کا ذریعہ بنتی ہے،  اور اپنے اندر وہ گیسس بھی رکھتی ہے جو نباتات کی زندگی اور ان کے نشو و نما کے لیے درکار ہیں۔

رابعاً، سورج اور زمین کا تعلق اس طرح قائم کیا گیا کہ نباتات کو مناسب درجۂ حرارت اور موزوں موسم مل سکیں۔

یہ چار بڑے بڑے اسباب (جو بجائے خود بے شمار ضمنی اسباب کا مجموعہ ہیں )جب پیدا کر دیے گئے تب نباتات کا وجود آنا ممکن ہوا۔ پھر یہ ساز گار حالات فراہم کرنے کے بعد نباتات پیدا کیے گئے  اور ان میں  سے ہر ایک کا تخم ایسا بنایا گیا کہ جب اسے مناسب زمین، پانی، ہوا اور موسم میسّر آئے تو اس کے اندر نباتی زندگی کی حرکت شروع ہو جائے۔  مزید برآں اسی تخم میں یہ انتظام بھی کر دیا گیا کہ ہر نوع کے تخم سے لازماً اسی نوع کا بوٹا اپنی تمام نوعی اور موروثی خصوصیات کے ساتھ پیدا ہو۔ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر کاریگری یہ کی گئی کہ نباتات کی دس بیس یا سو پچاس نہیں بلکہ بے حد و حساب قسمیں پیدا کی گئیں اور ان کو اس طرح بنایا گیا کہ وہ ان بے شمار اقسام کے حیوانات اور بنی آدم کی غذا، دوا، لباس اور ان گنت دوسری ضرورتوں کو پورا کر سکیں جنہیں نباتات کے بعد زمین پر وجود میں لایا جا نے والا تھا۔

اس حیرت انگیز انتظام پر جو شخص بھی غور کرے گا وہ اگر ہٹ دھرمی اور تعصب میں مبتلا نہیں ہے تو اس کا دل گواہی دے گا کہ سب کچھ آپ سے آپ نہیں ہو سکتا۔ اس میں صریح طور پر ایک حکیمانہ منصوبہ کام کر رہا ہے جس کے تحت زمین، پانی، ہوا اور موسم کی مناسبتیں نباتات کے ساتھ، اور نباتات کی مناسبتیں حیوانات اور انسانوں کی حاجات کے ساتھ انتہائی نزاکتوں اور باریکیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے قائم کی گئی ہیں۔ کوئی ہوشمند انسان یہ تصّور نہیں کر  سکتا کہ ایسی ہمہ گیر مناسبتیں محض اتفاقی حادثہ کے طور پر قائم ہو سکتی ہیں۔ پھر یہی انتظام اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ یہ بہت سے خداؤں کا کارنامہ نہیں ہو سکتا یہ تو ایک ہی ایسے خدا کا انتظام ہے اور ہو سکتا ہے جو زمین، ہوا، پانی، سورج، نباتات، حیوانات اور نوعِ انسانی، اب کا خالق و رب ہے۔  ان میں سے ہر ایک کے خدا الگ الگ ہوتے تو آخر کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایک ایسا جامع، ہمہ گیر اور گہری حکیمانہ مناسبتیں رکھنے والا منصوبہ بن جاتا اور لاکھوں کروڑوں برس تک اتنی باقاعدگی کے ساتھ چلتا رہتا۔

توحید کے حق میں یہ استدلال پیش کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَفَلَا یَشْکُرَوْنَ ؟ یعنی کی یہ لوگ ایسے احسان فراموش اور نمک حرام ہیں کہ جس خدا نے یہ سب کچھ سر و سامان ان کی زندگی کے لیے فراہم کیا ہے،  اس کے شکر گزار نہیں ہوتے اور اس کی نعمتیں کھا کھا کر دوسروں کے شکریے ادا کرتے ہیں ؟ اس کے آگے نہیں جھکتے اور ان جھوٹے معبودوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں جنہوں نے ایک تنکا بھی ان کے لیے پیدا نہیں کیا ہے ؟

(۳۰) یعنی ہر شائبہ نقص و عیب سے پاک، ہر غلطی اور کمزوری سے پاک، اور اس بات سے پاک کہ کوئی اس کا شریک و سہیم ہو۔ مشرکین کے عقائد کی تردید کرتے ہوئے بالعموم قرآن مجید میں یہ الفاظ اس لیے استعمال کیے جاتے ہیں کہ شرک کا ہر عقیدہ اپنی حقیقت میں اللہ تعالیٰ پر کسی نہ کسی نقص اور کسی نہ کسی کمزوری اور عیب کا الزام ہے۔  اللہ کے لیے شریک تجویز کرنے کے معنی ہی یہ ہیں کہ ایسی بات کہنے والا دراصل یہ سمجھتا ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ تنہا اپنی خدائی کا کام چلانے کے قابل نہیں ہے،  یا وہ مجبور ہے کہ اپنی خدائی میں کسی دوسرے کو شریک کرے،  یا کچھ دوسری ہستیاں آپ سے آپ ایسی طاقتور ہیں کہ وہ خدائی کے نظام میں دخل دے رہی ہیں اور خدا ان کی مداخلت برداشت کر رہا ہے،  یا معاذ اللہ وہ انسانی بادشاہوں کی سی کمزوریاں رکھتا ہے جن کی بنا پر وزیروں، درباریوں منہ چڑھے مصاحبوں، اور چہیتے شہزادوں اور شہزادیوں کا ایک لشکر کا لشکر اسے گھیرے ہوئے ہے اور خدائی کے بہت سے اختیارات ان کے درمیان ہٹ کر رہ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ جاہلانہ تصورات اگر ذہنوں میں موجود نہ ہوتے تو سرے سے شرک کا خیال پید ہی نہ ہو سکتا تھا۔ اسی لیے قرآن مجید میں جگہ جگہ یہ بات فرمائی گئی ہے کہ اللہ  تعالیٰ ان تمام عیوب و نقائص اور کمزوریوں سے پاک اور منزہ ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

(۳۱)۔ یہ توحید کے حق میں ایک اور استدلال ہے،  اور یہاں پھر پیش پا افتادہ حقائق ہی میں سے بعض کو لے کر بتایا جا رہا ہے کہ سب و روز جن اشیاء کا تم مشاہدہ کرتے اور یوں ہی غور و خوض کیے بغیر گزر جاتے ہو ان ہی کے اندر حقیقت کا سراغ دینے والے نشانات موجود ہیں۔ عورت اور مرد کا جوڑ تو خود انسان کا اپنا سبب پیدائش ہے۔  حیوانات کی نسلیں بھی نر و مادہ کے ازدواج سے چل رہی ہیں۔ نباتات کے متعلق بھی انسان جانتا ہے کہ ان میں تزویج کا اصول کام کر رہا ہے۔  حتیٰ کہ بے جان مادوں تک میں مختلف اشیاء جب ایک دوسرے سے جوڑ کھاتی ہیں تب کہیں ان سے طرح طرح کے مرکبات وجود میں آتے ہیں۔ خود مادے کی بنیادی ترکیب منفی اور مثبت برقی توانائی کے ارتباط سے ہوئی ہے۔  یہ تزویج، جس کی بدولت یہ ساری کائنات وجود میں آئی ہے،  حکمت و صنّاعی کی ایسی باریکیاں اور پیچیدگیاں رکھتی ہے اور اس کے اندر ہر دو زوجین کے درمیان ایسی مناسبتیں پائی جاتی ہیں کہ بے لاگ عقل رکھنے والا کوئی شخص نہ تو اس چیز کو ایک اتفاقی حادثہ کہہ سکتا ہے کہ مختلف خداؤں نے ان بے شمار ازواج کو پیدا کر کے ان کے درمیان اس حکمت کے ساتھ جوڑ لگائے ہوں گے۔  ازواج کا ایک دوسرے کے لیے جوڑ ہونا اور ان کے ازدواج سے نئی چیزوں کا پیدا ہونا خود وحدت خالق کی صریح دلیل ہے۔

(۳۲)۔ رات اور دن کی آمد و رفت بھی انہی پیش پا افتادہ حقائق میں سے ہے جنہیں انسان محض اس بنا پر کہ وہ معمولاً دنیا میں پیش آ رہے ہیں، کسی التفات کا مستحق نہیں سمجھتا۔ حالانکہ اگر وہ اس بات پر غور کرے کہ دن کیسے گزرتا ہے اور رات کس طرح آتی ہے،  اور دن کے  جانے اور رات کے آنے میں کی حکمتیں کار فرما ہیں تو اسے خود محسوس ہو جائے کہ یہ ایک ربّ قدیر و حکیم کے وجود اور اس کی یکتائی کی روشن دلیل ہے۔  دن کبھی نہیں جا سکتا اور رات کبھی نہیں آ سکتی جب تک زمین کے سامنے سے سورج نہ ہٹے۔  دن کے ہٹنے اور  رات کے آنے میں جو انتہائی باقاعدگی پائی جاتی ہے وہ اس کے بغیر ممکن نہ تھی کہ سورج اور زمین کو ایک ہی اٹل ضابطہ نے جکڑ رکھا ہو۔ پھر اس رات اور دن کی آمد و رفت کا جو گہرا تعلق زمین کی مخلوقات کے ساتھ پایا جاتا ہے وہ اس بات پر صاف دلالت کرتا ہے کہ کوئی نے یہ نظام کمال درجے کی دانائی کے ساتھ بالا ارادہ قائم کیا ہے۔  زمین پر انسان اور حیوان اور نباتات کا وجود، بلکہ یہاں پانی اور ہوا اور مختلف معدنیات کا وجود بھی دراصل نتیجہ ہے اس بات کا کہ زمین کو سورج سے ایک خاص فاصلے پر رکھا گیا ہے،  اور پھر یہ انتظام کیا گیا ہے کہ زمین کے مختلف حصے تسلسل کے ساتھ مقرر وقفوں کے بعد سورج کے سامنے آتے اور اس کے سامنے سے ہٹتے رہیں۔ اگر زمین کا فاصلہ سورج سے بہت کم یا بہت زیادہ ہوتا، یا اس کے ایک حصہ پر ہمیشہ رات رہتی اور دوسرے حصہ پر ہمیشہ دن رہتا، یا شب و روز کا الٹ پھیر بہت تیز یا بہت سست ہوتا، یا بے قاعدگی کے ساتھ اچانک کبھی دن نکل آتا اور کبھی رات چھا جاتی، تو ان تمام صورتوں میں اس کرے پر کوئی زندگی ممکن نہ ہوتی، بلکہ غیر زندہ مادوں کی شکل و ہئیت بھی موجودہ شکل سے بہت مختلف ہوتی۔ دل کی آنکھیں بند نہ ہوں تو آدمی اس نظام کے اندر ایک ایسے خدا کی کارفرمائی صاف دیکھ سکتا ہے جس نے اس زمین پر اس خاص قسم کی مخلوقات کو وجود میں لانے کا ارادہ کیا اور ٹھیک ٹھیک اس کی ضروریات کے مطابق زمین اور سورج کے درمیان یہ نسبتیں قائم کیں۔ خدا کا وجود اور اس کی توحید اگر کسی شخص کے نزدیک بعید از عقل ہے تو وہ خود ہی سوچ کر بتائے کہ اس کاریگری کو بہت سے خداؤں کی طرف منسوب کرنا، یا یہ سمجھنا کہ کسی اندھے بہرے قانون فطرت کے تحت یہ سب کچھ آپ ہی آپ پیدا ہو گیا ہے،  کس قدر عقل سے بعید ہونا چاہئے۔  کسی ثبوت کے بغیر محض قیاس و گمان کی بنیاد پر جو شخص یہ دوسری سراسر نامعقول توجیہات مان سکتا ہے وہ جب یہ کہتا ہے کہ کائنات میں نظم اور حکمت اور مقصدیت کا پا یا جانا خدا کے ہونے کا کافی ثبوت نہیں ہے تو ہمارے لیے یہ باور کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ واقعی یہ شخص کسی نظریے یا عقیدے کو قبول کرنے کے لیے کسی درجے میں بھی، کافی یا نا کافی، عقلی ثبوت کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔

(۳۳)۔ ٹھکانے سے مراد وہ جگہ بھی ہو سکتی ہے جہاں جا کر سورج کو آخر کار ٹھہر جانا ہے اور وہ وقت بھی ہو سکتا ہے جب وہ ٹھہر جائے گا۔ اس آیت کا صحیح مفہوم انسان اسی وقت متعین کر  سکتا ہے جب کہ اسے کائنات کے حقائق کا ٹھیک ٹھیک علم حاصل ہو جائے۔  لیکن انسانی علم کا حال یہ ہے کہ وہ ہر زمانہ میں بدلتا رہا ہے اور آج جو کچھ اسے بظاہر معلوم ہے اس کے بدل جانے کا ہر وقت امکان ہے۔  سورج کے متعلق قدیم زمانے کے لوگ عینی مشاہدے کی بنا پر یہ یقین رکھتے تھے کہ وہ زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے۔  پھر مزید تحقیق و مشاہدہ کے بعد یہ نظریہ قائم کیا گیا کہ وہ اپنی جگہ ساکن ہے اور نظام شمسی کے سیارے اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ لیکن یہ نظریہ بھی مستقل ثابت نہ ہوا۔ بعد کے مشاہدات سے پتہ چلا کہ نہ صرف سورج، بلکہ وہ تمام تارے جن کو ثوابت (Fixed Stare) کہا جاتا ہے،  ایک رخ پر چلے جا رہے ہیں۔ ثوابت کی رفتار کا اندازہ ۱۰ سے لے کر ۱۰۰ میل فی سکنڈ تک کیا گیا ہے۔  اور سورج کے متعلق موجودہ زمانہ کے ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ وہ اپنے پورے نظام شمسی کو لیے ہوئے ۲۰ کیلو میٹر (تقریباً ۱۲ میل) فی سکنڈ کی رفتار سے حرکت کر رہا ہے۔  (ملاحظہ ہو انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، لفظ “اسٹار”۔ اور لفظ “سن”)۔

۳۴۔ یعنی مہینے کے دوران میں چاند کی گردش ہر روز بدلتی رہتی ہے۔  ایک دن وہ ہلال بن کر طلوع ہوتا ہے۔  پھر روز بروز بڑھتا چلا جاتا ہے،  یہاں تک کہ چودھویں رات کو بدرِ کامل بن جاتا ہے۔  اس کے بعد روز گھٹتا چلا جاتا ہے۔  حتی کہ آخر کار پھر اپنی ابتدائی ہلالی شکل پر واپس پہنچ جاتا ہے۔  یہ چکر لاکھوں برس سے پوری باقاعدگی کے ساتھ چل رہا ہے اور چاند کی ان مقرر ہ منزلوں میں بھی فرق نہیں آتا۔ اسی وجہ سے انسان حساب لگا کر ہمیشہ یہ معلوم کر  سکتا ہے کہ کس روز چاند کس منزل میں ہو گا۔ اگر اس کی حرکت کسی ضابطہ کی پابند نہ ہوتی تو یہ حساب لگانا ممکن نہ ہوتا۔

۳۵۔ اس فقرے کے دو مطلب لیے جا سکتے ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ سورج میں یہ طاقت نہیں ہے کہ چاند کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لے،  یا خود اس کے مدار میں داخل ہو کر اس سے جا ٹکرائے۔  دوسرا یہ کہ جو اوقات چاند کے طلوع و ظہور کے  لیے مقرر کر دئیے گئے ہیں ان میں سورج کبھی نہیں آ سکتا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ رات کو چاند چمک رہا ہو اور یکایک سورج افق پر  آ جائے۔

۳۶۔ یعنی ایسا بھی کبھی نہیں ہوتا کہ دن کی مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے رات آ جائے اور جو اوقات دن کی روشنی کے لیے مقرر ہیں ان میں وہ اپنی تاریکیاں لیے ہوئے یکایک آ موجود ہو۔

۳۷۔  فلک کا لفظ عربی زبان میں سیاروں کے مدار (Orbit) کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کا مفہوم سماء (آسمان ) کے مفہوم سے مختلف ہے۔  یہ ارشاد کہ “سب ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔ ” چار حقیقتوں کی نشان دہی کرتا ہے۔  ایک یہ کہ نہ صرف سورج اور چاند، بلکہ تمام تارے اور سیارے اور اجرام فلکی متحرک ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان میں سے ہر ایک کا فلک، یعنی ہر ایک کی حرکت کا راستہ یا مدار الگ ہے۔  تیسرے یہ کہ افلاک تاروں کو لیے ہوئے گردش نہیں کر رہے ہیں بلکہ تارے افلاک میں گردش کر رہے ہیں۔ اور چوتھے یہ کہ افلاک میں تاروں کی حرکت اس طرح ہو رہی ہے کہ جیسے کسی سیال چیز میں کوئی شے تیر رہی ہو۔

ان آیات کا اصل مقصد علم ہئیت کے حقائق بیان کرنا نہیں ہے بلکہ انسان کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اگر وہ آنکھیں کھول کر دیکھے اور عقل سے کام لے تو زمین سے لے کر آسمان تک جدھر بھی وہ نگاہ ڈالے گا اس کے سامنے خدا کی ہستی اور اس کی یکتائی کے بے حد و حساب دلائل آئیں گے اور کہیں کوئی ایک دلیل بھی دہریت اور شرک کے ثبوت میں نہ ملے گی۔ ہماری یہ زمین جس نظام شمسی میں شامل ہے اس کی عظمت کا یہ حال ہے کہ اس کا مرکز، سورج زمین سے ۳ لاکھ گنا بڑا ہے،  اور اس کے بعید ترین سیارے نیپچون کا فاصلہ سورج سے کم از کم ۲ ارب ۷۹ کروڑ ۳۰ لاکھ میل ہے۔  بلکہ اگر پلوٹو کو بعید ترین سیارہ مانا جائے تو وہ سورج سے ۴ ارب ۶۰ کروڑ میل دور تک پہنچ جاتا ہے۔  اس عظمت کے باوجود یہ نظام شمسی ایک بہت بڑے کہکشاں کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔  جس کہکشاں (Galaxy) میں ہمارا یہ نظام شمسی شامل ہے اس میں تقریباً ۳ ہزار ملین (۳ ارب) آفتاب پائے جاتے ہیں، اور اس کا قریب ترین آفتاب ہماری زمین سے اس قدر دور ہے کہ اس کی روشنی یہاں تک پہنچنے میں ۴ سال صرف ہوتے ہیں۔ پھر یہ کہکشاں بھی پوری کائنات نہیں ہے،  بلکہ اب تک کے مشاہد ات کی بنا پر اندازہ کیا گیا ہے کہ یہ تقریباً ۲۰ لاکھ لولبی سحابیوں (Spiral nebulae)میں  سے ایک ہے،  اور ان میں سے قریب ترین سحابیے کا فاصلہ ہم سے اس قدر زیادہ ہے کہ اس کی روشنی ۱۰ لاکھ سال میں ہماری زمین تک پہنچتی ہے۔  رہے بعید ترین اجرام فلکی جو ہمارے موجودہ آلات سے نظر آتے ہیں، ان کی روشنی تو زمین تک پہنچنے میں ۱۰ کروڑ سال لگ جاتے ہیں۔ اس پر بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انسان نے ساری کائنات دیکھ لی ہے۔  یہ خدا کی خدائی کا بہت تھوڑا سا حصہ ہے جواب تک انسانی مشاہدے میں آیا ہے۔  آگے نہیں کہا جا سکتا کہ مزید ذرائع مشاہدہ فراہم ہونے پر اور کتنی وسعتیں انسان پر منکشف ہوں گی۔

تمام معلومات جو اس وقت تک کائنات کے متعلق بہم پہنچی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پورا عالم اسی مادے سے بنا ہوا ہے جس سے ہماری یہ چھوٹی سی ارضی دنیا بنی ہے اور اس کے اندر وہی ایک قانون  کام کر رہا ہے جو ہماری زمین کی دنیا میں کار فرما ہے،  ورنہ یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ ہم اس زمین پر بیٹھے ہوئے اتنی دور دراز دنیاؤں کے مشاہدے کرتے اور ان کے فاصلے ناپتے اور ان کی حرکات کے حساب لگاتے۔  کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ہے کہ یہ ساری کائنات ایک ہی خدا کی تخلیق اور ایک ہی فرمانروا کی سلطنت ہے ؟ پھر جو نظم، جو حکمت، جو صنّاعی اور جو مناسبت ان لاکھوں کہکشانوں اور ان کے اندر گھومنے والے اربوں تاروں میں پائی جاتی ہے اس کو دیکھ کر کیا کوئی صاحب عقل انسان یہ تصوّر کر  سکتا ہے کہ یہ سب کچھ آپ سے آپ ہو گیا ہے ؟ اس نظم کے پیچھے کوئی حکیم، اس صنعت کے پیچھے کوئی صانع، اور اس مناسبت کے  پیچھے کوئی منصوبہ ساز نہیں ہے ؟

(۳۸)۔ بھری ہوئی کشتی سے مراد ہے حضرت نوحؑ کی کشتی۔ اور نسل انسانی کو اس پر سوار کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس کشتی میں بظاہر تو حضرت نوحؑ کے چند  ساتھی ہی بیٹھے ہوئے تھے مگر در حقیقت قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسان اس پر سوار تھے۔  کیوں کہ طوفانِ نوحؑ میں ان کے سوا باقی پوری اولادِ آدم کو غرق کر دیا گیا تھا اور بعد کی انسانی نسل صرف انہی کشتی والوں سے چلی۔

(۳۹)۔ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے  کہ تاریخ میں پہلی کشتی جو بنی وہ حضرت نوحؑ والی کشتی تھی۔ اس سے پہلے انسان کو دریاؤں اور سمندروں کے عبور کرنے کا کوئی طریقہ معلوم نہ تھا۔ اس طریقے کی تعلیم سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو دی۔ اور جب ان کی بنائی ہوئی کشتی پر سوار ہو کر اللہ کے کچھ بندے طوفان سے بچ نکلے تو آئندہ ان کی نسل نے بحری سفروں کے لیے کشتیاں بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

(۴۰)۔ پچھلی نشانیوں کا ذکر دلائل توحید کی حیثیت سے کیا گیا تھا، اور اس نشانی کا ذکر یہ احساس دلانے کے لیے  فرمایا گیا ہے کہ انسان کو فطرت کی طاقتوں پر تصرف کے جو اختیارات بھی حاصل ہیں وہ اللہ کے دیے  ہوئے  ہیں، اس کے اپنے حاصل کیے ہوئے نہیں ہیں۔ اور ان طاقتوں پر تصرف کے جو طریقے اس نے دریافت کیے ہیں وہ بھی اللہ کی رہنمائی سے اس کے علم میں آئے ہیں، اس کے  اپنے معلوم کیے ہوئے نہیں ہیں۔ انسان کا اپنا بل بوتا یہ نہ تھا کہ اپنے زور سے وہ ان عظیم طاقتوں کو مسخر کرتا اور نہ اس میں یہ صلاحیت تھی کہ خود اسرارِ فطرت کا پتہ چلا لیتا اور ان قوتوں سے کام لینے کے طریقے جان سکتا۔ پھر جن قوتوں پربھی اللہ نے اس کو اقتدار عطا کیا ہے ان پر اس کا قابو اسی وقت تک چلتا ہے جب تک اللہ کی مرضی یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کے لیے مسخر ہیں۔ ورنہ جب مرضی الٰہی کچھ اور ہوتی ہے تو وہی طاقتیں جو انسان کی خدمت میں لگی ہوتی ہیں، اچانک اس پر پلٹ پڑتی ہیں اور آدمی اپنے آپ کو ان کے سامنے بالکل بے بس پاتا ہے۔  اس حقیقت پر متنبہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بحری سفر کے معاملہ کو محض بطور نمونہ پیش کیا ہے۔  نوع انسانی پوری کی پوری طوفان میں ختم ہو جاتی اگر اللہ تعالیٰ کشتی بنانے کا طریقہ حضرت نوحؑ کو نہ سُجھا دیتا اور ان پر ایمان لانے والے لوگ اس میں سوار نہ ہو جاتے۔  پھر نوع انسانی کے لیے تمام روئے زمین پر پھیلنا اسی وجہ سے ممکن ہوا کہ اللہ سے کشتی سازی کے اصولوں کا علم پا کر لوگ دریاؤں اور سمندروں کو عبور کرنے  کے لائق ہو گئے مگر اس  ابتدا سے چل کر آج کے عظیم الشان جہازوں کی تعمیر تک انسان نے جتنی کچھ ترقی کی ہے اور جہاز رانی کے فن میں جتنا کچھ بھی کمال حاصل کیا ہے اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ  نہیں کر سکتا کہ دریا اور سمندر، سب اس کے قابو میں آ گئے ہیں اس ان پر اسے مکمل غلبہ حاصل ہو گیا ہے۔  آج بھی خدا کا پانی خدا ہی کے قبضۂ قدرت میں ہے اور جب وہ چاہتا ہے انسان کو اس کے جہازوں سمیت اس میں غرق کر دیتا ہے۔

(۴۱)۔ یعنی جو تم سے پہلے کی قومیں دیکھ چکی ہیں۔

(۴۲)۔ آیات سے مراد کتاب اللہ کی آیات بھی ہیں جن کے ذریعہ سے انسان کو نصیحت کی جاتی ہے،  اور وہ آیات بھی مراد ہیں جو آثار  کائنات اور خود انسان کے وجود اور اس کی تاریخ میں موجود ہیں جو انسان کو عبرت دلاتی ہیں، بشرطیکہ وہ عبرت حاصل کرنے کے لیے تیار ہو۔

(۴۳)۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ کفر نے صرف ان کی عقل ہی اندھی نہیں کی ہے بلکہ ان کی اخلاقی حِس کو بھی مردہ کر دیا ہے۔  وہ نہ خدا کے بارے میں صحیح تفکر سے کام لیتے ہیں، نہ خلق کے ساتھ صحیح طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ ان کے پاس ہر نصیحت کا الٹا جواب ہے۔  ہر گمراہی اور بد اخلاقی کے لیے ایک اوندھا فلسفہ ہے۔  ہر بھلائی سے فرار کے لیے ایک گھڑا گھڑایا بہانا موجود ہے۔

(۴۴)۔ توحید کے بعد دوسری مسئلہ جس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور کفار کے درمیان نزاع برپا تھی وہ آخرت کا مسئلہ تھا۔ اس کے متعلق عقلی دلائل تو آگے چل کر خاتمہ کلام پر دیے گئے ہیں۔ مگر دلائل دینے سے پہلے یہاں اس مسئلے کو لے کر عالم آخرت کا ایک عبرتناک نقشہ ان کے سامنے کھینچا گیا ہے تاکہ انہیں یہ معلوم ہو کہ جس چیز کا وہ انکار کر رہے ہیں وہ ان کے انکار سے ٹلنے والی  نہیں ہے بلکہ لا محالہ ایک روز ان حالات سے انہیں دوچار ہونا ہے۔

(۴۵)۔ اس سوال مطلب یہ نہ تھا کہ وہ لوگ فی الواقع  قیامت کے آنے کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے،  اور اگر مثلاً ان کو یہ بتا دیا جاتا کہ وہ فلاں سنہ میں فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو پیش آئے گی تو ان کا شک رفع ہو جاتا اور وہ اسے مان لیتے۔  دراصل اس طرح  کے سوالات وہ محض کج بحثی کے لیے چیلنج کے انداز میں کرتے تھے اور ان کا مدعا یہ کہنا تھا کہ کوئی قیامت ویامت نہیں آنی ہے،  تم خواہ مخواہ ہمیں اس کے ڈراوے دیتے ہو۔ اسی بنا پر ان کے  جواب میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ قیامت فلاں روز آئے گی،  بلکہ انہیں یہ بتایا گیا کہ وہ آئے گی اور اس شان سے آئے گی۔

(۴۶)۔  یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ قیامت آہستہ آہستہ آ رہی ہے اور لوگ دیکھ رہے لیں کہ وہ آ رہی ہے۔  بلکہ وہ اس طرح آئے گی کہ لوگ پورے اطمینان کے ساتھ اپنی دنیا کے کاروبار چلا رہے ہیں اور ان کے حاشیہ خیال میں بھی یہ تصوّر موجود نہیں ہے کہ دنیا کے خاتمہ کی گھڑی آ پہنچی ہے۔   اس حالت میں اچانک ایک زور کا کڑاکا ہو گا اور جو جہاں تھا وہیں دھرا کا دھرا رہ جائے گا۔ حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت ابو ہریرہؓ نبی صلی اللہ ولیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ لوگ راستوں پر چل رہے ہوں گے،  بازاروں میں خرید و فروخت کر رہے ہوں گے،  اپنی مجلسوں میں بیٹھے گفتگوئیں کر رہے ہوں گے۔  ایسے میں  یکایک صور پھونکا جائے گا۔ کوئی کپڑا خرید رہا تھا تو ہاتھ سے کپڑا رکھنے کی نوبت نہ آئے گی کہ ختم ہو جائے گا۔ کوئی اپنے جانوروں کو پانی پلانے کے لیے حوض بھرے گا اور ابھی پلانے نہ پائے گا کہ قیامت برپا ہو جائے گی۔ کوئی کھانا کھانے بیٹھے گا اور لقمہ اٹھا کر منہ تک لے جانے کی بھی اسے مہلت نہ ملے گی۔

 

ترجمہ

 

پھر ایک صور پھونکا جائے گا اور  یکایک یہ اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے (۴۷)۔ گھبرا کر کہیں گے : “ارے،  یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہ سے اُٹھا کھڑا کیا؟” (۴۸)۔ “یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی”(۴۹)۔ ایک ہی زور کی آواز ہو گی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیئے جائیں گے۔

آج کسی (۵۰) پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے عمل تم کرتے رہے تھے۔  آج جنتی لوگ مزے کرنے میں مشغول ہیں (۵۱)، وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں مسندوں پر تکیے لگائے ہوئے،  ہر قسم کی لذیذ چیزیں کھانے پینے کو ان کے لیے وہاں موجود ہیں، جو کچھ وہ طلب کریں ان کے لیے حاضر ہے،  رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کیا گیا ہے۔  اور اے مجرمو، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ۔ آدم کے بچو، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،  اور میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے (۵۳)؟  مگر اس کے باوجود اس نے تم میں سے ایک گروہ کثیر کو گمراہ کر دیا۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے ؟ (۵۴) یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھا۔ جو کف تم دنیا میں کرتے ہو اس کی پاداش میں اب اس کا ایندھن بنو۔

آج ہم ان کے منہ بند کیے دیتے ہیں، ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا میں کیا کمائی کرتے رہے ہیں۔ (۵۵)

ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں موند دیں، پھر یہ راستے کی طرف لپک کر دیکھیں، کہاں سے انہیں راستہ سجھائی دے گا؟ ہم چاہیں تو انہیں ان کی جگہ ہی پر اس طرح مسخ کر کے رکھ دیں  کہ یہ نہ آگے چل سکیں نہ پیچھے پلٹ سکیں (۵۶)۔ ع۔

 

تفسیر

 

(۴۷)۔ صور   کے متعلق تفصیلی کلام کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن  جلد سوم، ص ۱۲۲۔ پہلے اور دوسرے صور کے درمیان کتنا زمانہ ہو گا، اس کے متعلق کوئی معلومات ہمیں حاصل نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ زمانہ سیکڑوں اور ہزاروں برس طویل ہو۔ حدیث میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: اسرافیل صور پر منہ رکھے عرش کی طرف دیکھ رہے ہیں اور منتظر ہیں کہ کب پھونک مارنے کا حکم ہوتا ہے۔  یہ صور تین مرتبہ پھونکا جائے گا۔ پہلا  نفخۃالفَزَ ع، جو زمین و آسمان کی ساری مخلوق کو سہما دے گا۔ دوسرا نفخۃ الصَّعق جسے سنتے ہی سب ہلاک ہو کر گر جائیں گے۔  پھر جب اللہ واحد صمد کے سوا کوئی ذرا سی سلوَٹ  تک نہ رہے گی۔ پھر اللہ اپنی خلق کو بس ایک جھڑکی دے گا جسے سنتے ہی ہر شخص جس جگہ مر کر  گرا تھا اسی جگہ وہ اس بدلی ہوئی زمین پر اٹھ کھڑا ہو گا، اور یہی نفخۃالقیام لربّ العالمین ہے۔  اسی مضمون کی تائید قرآن مجید کے بھی متعدد اشارات سے ہوتی ہے۔  مثال کے طور پر ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، ص ۴۹۲۔ ۴۹۳۔ جلد سوم، ص ۱۲۴۔ ۱۲۵۔

(۴۸)۔ یعنی اس وقت انہیں یہ احساس نہ ہو گا کہ وہ مر چکے تھے اور اب ایک مدت دراز کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گئے ہیں، بلکہ وہ اس خیال میں ہوں گے کہ ہم سوئے پڑے تھے،  اب یکایک کسی خوفناک حادثہ کی وجہ سے ہم جاگ اٹھے ہیں اور بھاگے جا رہے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، ص ۱۲۳۔ ۱۹۹۔ ۲۰۰۔ )

(۴۹)۔ یہاں اس امر کی کوئی تصریح نہیں  ہے کہ یہ جواب دینے والا کون ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ دیر بعد خود انہی لوگوں کی سمجھ میں معاملہ کی اصل حقیقت آ جائے اور وہ آپ ہی اپنے دلوں میں کہیں کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ تو وہی چیز ہے جس کی خبر خدا کے رسول ہمیں دیتے تھے اور ہم اسے جھٹلایا کرتے تھے۔  یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اہل ایمان ان کی غلط فہمی رفع کریں اور ان کو بتائیں کہ یہ خواب سے بیداری نہیں بلکہ موت کے بعد دوسری زندگی ہے۔  اور  یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ جواب قیامت کا پورا ماحول ان کو دے رہا ہو، یا فرشتے ان کو حقیقت حال سے مطلع کریں۔

(۵۰)۔ یہ وہ خطاب ہے جو اللہ تعالیٰ کفار و مشرکین اور فساق و مجرمین سے اس وقت فرمائے گا جب وہ اس کے سامنے حاضر کیے جائیں گے۔

(۵۱)۔ اس کلام کو سمجھنے کے لیے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ صالح اہل ایمان میدان حشر میں روک کر نہیں رکھے جائیں گے بلکہ ابتدا ہی میں ان کو بلا حساب، یا ہلکی حساب فہمی کے  بعد جنت میں بھیج دیا جائے گا، کیونکہ ان کا ریکارڈ صاف ہو گا۔ انہیں دوران عدالت انتظار کی تکلیف دینے کی کوئی ضرورت نہ ہو گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ میدان حشر میں جواب دہی کرنے والے مجرموں کو بتائے گا کہ دیکھو، جن صالح لوگوں کو تم دنیا میں بے وقوف سمجھ کر ان کا مذاق اڑاتے تھے،  وہ اپنی عقلمندی کی بدولت آج جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں، اور تم جو اپنے آپ کو بڑا زیرک و فرزانہ سمجھ رہے تھے،  یہاں کھڑے اپنے جرائم کی جواب دہی کر رہے کر رہے ہو۔

(۵۲)۔ اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ مومنین صالحین سے الگ ہو جاؤ، کیونکہ دنیا میں چاہے تم ان کی قوم اور ان کے کنبے اور برادری کے لوگ رہے ہو، مگر یہاں اب تمہارا ان کا کوئی رشتہ باقی نہیں ے۔  اور دوسرا مفہوم یہ کہ تم آپس میں الگ الگ  ہو جاؤ۔ اب تمہارا کوئی جتھا قائم نہیں رہ سکتا۔ تمہاری سب پارٹیاں توڑ دے گئیں۔ تمہارے تمام رشتے اور تعلقات کاٹ دیے گئے۔  تم میں سے ایک ایک شخص کو اب تنہا اپنی ذاتی حیثیت میں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہو گی۔

(۵۳)۔ یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے ’’ عبادت ‘‘ کو اطاعت کے معنی میں استعمال فرمایا ہے۔  ہم اس سے پہلے تفہیم القرآن میں متعدد مقامات پر اس مضمون کی تشریح کر چکے ہیں )ملاحظہ ہو جلد اول، صفحات ۱۳۴۔ ۳۹۸۔ ۵۷۷۔ ۵۷۸۔ ۵۸۶۔ جلد دوم، صفحات ۱۸۹۔ ۴۸۲۔ ۴۸۳۔ جلد سوم، صفحات ۳۱۔ ۶۹۔ ۶۵۶۔ جلد چہارم، سورہ سبا، حاشیہ ۶۳) اس  سلسلہ میں وہ نفیس بحث بھی قابل ملاحظہ ہے جو اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے امام رازی نے اپنی تفسیر کبیر میں فرمائی ہے۔  وہ لکھتے ہیں : لَا تَعْبُدُو الشَّیطٰن  کے معنی ہیں لا تطیعوہ (اس کی اطاعت نہ کرو)۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو محض سجدہ کرنا ہی ممنوع نہیں ہے بلکہ اس کی اطاعت کرنا اور اس کے حکم کی تابعداری کرنا بھی ممنوع ہے۔  لہٰذا طاعت عبادت ہے ‘‘۔ اس کے بعد امام صاحب یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر عبادت بمعنی طاعت ہے تو کیا آیت اَطِیْعُو االلہَ وَاَطِیْوُاا لرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ میں ہم کو رسول اور امراء کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ؟ پھر اس سوال کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ : ’’ ان کی اطاعت جبکہ اللہ کے حکم سے ہو تو وہ اللہ ہی کی عبادت اور اسی کی اطاعت ہو گی۔ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ ملائکہ نے اللہ کے حکم سے آدم کو سجدہ کیا اور یہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت  نہ تھی۔ امراء کی طاعت ان کی عبادت صرف اس صورت میں ہو گی جب کہ ایسے معاملات میں ان کی اطاعت کی جائے جن میں اللہ نے ان کی اطاعت کا اذن نہیں دیا ہے ‘‘۔ پھر فرماتے ہیں : ’’ اگر کوئی شخص تمہارے سامنے آئے اور تمہیں کسی چیز کا حکم دے تو دیکھو کہ اس کا یہ حکم اللہ کے حکم کے موافق ہے یا نہیں۔ موافق نہ ہو تو شیطان اس شخص کے ساتھ ہے،  اگر اس حالت میں تم نے اس کی اطاعت کی تو تم نے اس کی اور اس کے شیطان کی عبادت کی۔ اسے طرح اگر تمہارا نفس تمہیں کسی کام کے کرنے پر اکسائے تو دیکھو کہ شرع کی رو سے وہ کام کرنے کی اجازت ہے یا نہیں۔ اجازت نہ ہو تو تمہارا نفس خود شیطان ہے یا شیطان اس کے ساتھ ہے۔  اگر تم نے اس کی پیروی کی تو تم اس کی عبادت کے مرتکب ہوئے ‘‘۔ آگے چل کر وہ پھر فرماتے ہیں :’’ مگر شیطان کی عبادت کے راتب مختلف ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے  کہ آدمی ایک کام کرتا ہے اور اس کے اعضاء کے ساتھ اس کی زبان بھی اس کی موافقت کرتی ہے اور دل بھی اس میں شریک ہوتا ہے۔  اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اعضاء و جوارح سے تو آدمی ایک کام کرتا ہے مگر دل اور زبان اس کام میں شریک نہیں ہوتے۔  بعض لوگ ایک گناہ کا ارتکاب اس حال میں کرتے ہیں کہ دل ان کا اس پر راضی نہیں ہوتا اور زبان ان کی اللہ سے مغفرت کر رہی ہوتی ہے اور وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ہم یہ برا کام کر رہے ہیں۔ یہ محض ظاہری اعضاء سے شیطان کی عبادت ہے۔  کچھ اور لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ٹھنڈے دل سے جرم کرتے ہیں اور زبان سے بھی اپنے اس فعل پر خوشی و اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ ظاہر و باطن دونوں میں شیطان کے عابد ہیں۔ ‘‘ (تفسیر کبیر۔ ج ۷۔ ص ۱۰۳۔ ۱۰۴)

(۵۴)۔ یعنی اگر تم عقل سے محروم رکھے گئے ہوتے اور پھر اپنے رب کو چھوڑ کر اپنے دشمن کی بندگی کرتے تو تمہارے لیے عذر کی کوئی گنجائش تھی۔ لیکن تمہارے پاس تو خدا کی دی ہوئی عقل موجود تھی جس سے تم اپنے  دنیا کے سارے کام چلا رہے تھے۔  اور تمہیں خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے متنبہ  بھی کر دیا تھا۔ اس پر بھی جب تم اپنے دشمن کے فریب میں آئے اور وہ تمہیں گمراہ کرنے میں کامیاب ہو گیا تو اپنی اس حماقت کی ذمہ داری سے تم کسی طرح بری نہیں ہو سکتے۔

(۵۵)۔ یہ حکم ان ہیکڑ مجرموں کے معاملہ میں دیا جائے گا جو ا پنے جرائم کا اقبال کرنے سے انکار کریں گے،  گواہیوں کو بھی جھٹلا دیں گے،  اور نامۂ اعمال کی صحت بھی تسلیم نہ کریں گے۔  تب اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ اچھا، اپنی بکواس بند کرو اور دیکھو کہ تمہارے اپنے اعضائے بدن تمہارے کرتوتوں کی کیا روداد سناتے ہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں صرف ہاتھوں اور پاؤں کی شہادت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔  مگر دوسرے مقامات پر بتایا گیا ہے کہ ان کی آنکھیں، ان کے کان، ان کی زبانیں اور ان کے جسم کی کھالیں بھی پوری داستان سنا دیں گی کہ وہ ان سے کیا کام لیتے رہے ہیں۔ یَوْ مَ تَشْھَدُ عَلَیْھِمْ اَلْسِنَتھُُمْ وَاَیْدِیْھِمْ وَاَرْجُلھُُمْ بِمَا کَا نُوْ ا یَعْمَلُوْنَ (النور۔ آیت  ۲۴)۔ حَتّٰی اِذَا مَا جَآؤُ ھَا شَھِدَ عَلَیْھِمْ سَمْعھُُمْ وَ اَبْصَارھُُمْ وَجُلُوْدھُُمْ بِمَا کَا نُوْ ا یَعْمَلُوْنَ( حٓم السجدہ۔ آیت ۲۰)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان کے منہ بند کر دیں گے،  اور دوسری طرف سورۃ نور کی آیت میں فرماتا ہے کہ ان کی زبانیں گواہی دیں گی، ان دونوں باتوں میں تطابق کیسے ہو گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ منہ بند  کر دینے سے مراد ان کا اختیار کلام سلب کر لینا ہے،  یعنی اس کے بعد وہ اپنی زبان سے اپنی مرضی کے مطابق بات نہ کر سکیں گے۔  اور زبانوں کی شہادت سے مراد یہ ہے کہ ان کی زبانیں خود یہ داستان سنانا شروع کر دیں گی کہ ہم سے ان ظالموں نے کیا کام لیا تھا، کیسے کیسے کفر بکے تھے،  کیا کیا جھوٹ بولے تھے،  کیا کیا فتنے برپا کیے تھے،  اور کس کس موقع پر انہوں نے ہمارے ذریعہ سے کیا باتیں کی تھیں۔

(۵۶)۔ قیامت کا نقشہ کھینچنے کے بعد ان انہیں بتایا جا رہا ہے کہ یہ قیامت تو خیر تمہیں دور کی چیز نظر آتی ہے،  مگر ذرا ہوش میں آ کر دیکھو کہ خود اس دنیا میں، جس کی زندگی پر تم پھولے ہوئے ہو، تم کس طرح اللہ کے دست قدرت میں بے بس ہو۔ یہ آنکھیں جن کی بینائی کے طفیل تم اپنی دنیا کے سارے کام چلا رہے ہو، اللہ کے ایک اشارے سے اندھی ہو سکتی ہیں۔ یہ ٹانگیں  جن کے بل پر تم یہ ساری دوڑ دھوپ دکھا رہے ہو، اللہ کے ایک حکم سے ان پر اچانک فالج گر سکتا ہے۔  جب تک اللہ کی دی ہوئی یہ طاقتیں کام کرتی رہتی ہیں، تم اپنی خودی کے زعم میں مدہوش رہتے ہو، مگر جب ان میں سے کوئی ایک طاقت بھی جواب دے جاتی ہے تو تمہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ تمہاری بساط کتنی ہے۔

 

ترجمہ

 

جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کی ساخت کو ہم اُلٹ ہی دیتے ہیں (۵۷)۔ کیا (یہ حالات دیکھ کر) انہیں عقل نہیں آتی؟

ہم نے اس (نبی) کو شعر نہیں سکھایا ہے اور نہ شاعری اس کو زیب ہی دیتی ہے (۵۸)۔ یہ تو ایک نصیحت ہے اور صاف پڑھی جانے والی کتاب، تاکہ وہ ہر اس شخص کو خبردار کر دے جو زندگی ہو (۵۹) اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم جائے۔

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں (۶۰) میں سے ان کے لیے مویشی پیدا کیے اور اب یہ ان کے مالک ہیں۔ ہم نے انہیں اس طرح ان کے بس میں کر دیا ہے کہ ان میں سے کسی پر یہ سوار ہوتے ہیں، کسی کا یہ گوشت کھاتے ہیں، اور ان کے اندر ان کے لیے طرح طرح کے فوائد اور مشروبات ہیں۔ پھر کیا یہ شکر گذار نہیں ہوتے ؟ (۶۱)۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے خدا بنا لیے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے گی۔ وہ ان کی کوئی مدد نہیں کر  سکتے بلکہ یہ لوگ الٹے ان کے لیے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں (۶۲)۔ اچھا، جو باتیں یہ بنا رہے ہیں وہ رنجیدہ نہ کریں، ان کی چھپی اور کھلی سب باتوں کو ہم جانتے ہیں (۶۳)۔

کیا(۶۴) انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑا لو بن کر کھڑا ہو گیا ؟ (۶۵)۔ اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے (۶۶) اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے (۶۷)۔ کہتا ہے “کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا۔ جبکہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہوں “؟ اس سے کہو، انہیں وہ زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھ اور وہ خلیق کا ہر کام جانتا ہے۔  وہی جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کر دی اور تم اس سے اپنے چولہے روشن کرتے ہو (۶۸)۔  کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس پر قادر نہیں ہے کہ جیسوں کو پیدا کر  سکے ؟ کیوں نہیں، جبکہ وہ ماہر خلاق ہے۔  وہ تو جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔  پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے،  اور اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے۔ ع

 

تفسیر

 

(۵۷)۔ ساخت الٹ دینے سے مراد یہ لے کہ اللہ تعالیٰ بڑھاپے میں آدمی کی حالت بچوں جیسی کر دیتا ہے۔ اسی طرح وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوتا ہے۔  اسی طرح دوسرے اسے اٹھاتے بٹھاتے اور سہارا دے کر چلاتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے اس کو کھلاتے پلاتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنے کپڑوں میں اور اپنے بستر پر رفع حاجت کرنے لگتا ہے۔  اسی طرح وہ نا سمجھی کی باتیں کرتا ہے جس پر لوگ ہنستے ہیں۔ غرض جس کمزوری کی حالت سے اس نے دنیا میں اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا اختتام زندگی پر وہ اسی حالت کو پہنچ جاتا ہے۔

(۵۸)۔ یہ اس بات کا جواب ہے کہ کفار توحید و آخرت اور زندگی بعد موت اور جبت و دوزخ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی باتوں کو محض شاعری قرار دے کر اپنے نزدیک بے وزن ٹھیرانے کی کوشش کرتے تھے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، ص ۵۴۶ تا ۵۴۹)

(۵۹)۔ زندہ سے مراد سوچنے اور سمجھنے والا انسان ہے جس کی حالت پتھر کی سی نہ ہو کہآپ اس کے سامنے کواہ کتنی ہی معقولیت کے ساتھ حق اور باطل کا فرق بیان کریں اور کتنی ہی درد مندی کے ساتھ اس کو نصیحت کریں، وہ نہ کچھ سنے،  نہ سمجھے اور اپنی جگہ سے سر کے۔

(۶۰)۔ ’’ ہاتھوں ‘‘ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔  اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ معاذاللہ وہ ذات پاک جسم رکھتی ہے اور انسانوں کی طرح ہاتھوں سے کام کرتی ہے۔  بلکہ اس سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے خود بنایا ہے،  ان کی تخلیق میں کسے دوسرے کا ذرہ برابر دخل نہیں ہے۔

(۶۱)۔ نعمت کو منعم کے سوا کسی اور کا عطیہ سمجھنا، اس پر کسی اور کا احسان مند ہونا، اور منعم کے سوا اور سے نعمت پانے کی امید رکھنا یا نعمت طلب کرنا، یہ سب کفران نعمت ہے۔  اسی طرح یہ بھی کفران نعمت ہے کہ آدمی منعم کی دی ہوئی نعمت کو اس کی رضا کے خلاف استعمال کرے۔  لہٰذا ایک مشرک اور کافر اور منافق اور ناسق انسان محض زبان سے شکر کے الفاظ ادا کر کے خدا کا شاکر بند، قرار نہیں پا سکتا۔ کفار مکہ اس بات کے منکر نہ تھے کہ ان جانوروں کو خدا نے پیدا کیا ہے۔  ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا تھا کہ ان کے پیدا کرنے میں دوسرے معبودوں کا کوئی دخل ہے۔  مگر یہ سب کچھ ماننے کے باوجود جب وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں پر اپنے معبودوں کے شکریے بجا لاتے اور ان کے آگے نذریں اور نیازیں پیش کرتے اور ان سے مزید نعمتوں کی دعائیں مانگتے اور ان کے لیے قربانیاں کرتے تھے تو خدا کے لیے ان کا زبانی شکر بالکل بے معنی ہو جاتا تھا۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو کافر نعمت اور احسان فراموش قرار دے رہا ہے۔

(۶۲)۔ یعنی وہ جھوٹے معبود بے چارے خود اپنے بقا اور اپنی حفاظت اور اپنی ضروریات کے لیے ان عبادت گزاروں کے محتاج ہیں۔ ان کے لشکر نہہو ں تو ان غریبوں کی خدائی ایک دن نہ چلے۔  یہ ان کے حاضر باش غلام بنے ہوئے ہیں۔ یہ ان کی بارگاہیں بنا اور سجا رہے ہیں۔ یہ ان کے لیے پروپیگنڈا کرتے پھرے ہیں۔ یہ ان کے حاضر باش غلام ہوئے ہیں۔ یہ ان کی بارگاہیں بنا اور سجا رہے ہیں۔ یہ ان کے لیے پروپیگنڈا کرتے پھرتے ہیں۔ یہ خلق خدا کو ان کا گرویدہ بناتے ہیں۔ یہ ان کی حمایت میں لڑتے اور جھگڑتے ہیں تب کہیں ان کا خدائی چلتی ہے۔  ورنہ ان کا کوئی پوچھنے والا بھی نہ ہو۔ وہ اصلی خدا نہیں ہیں کہ کوئی اس کو مانے یا نہ مانے،  وہ اپنے زور پر آپ ساری کائنات کی فرماں روائی کر رہا ہے۔

(۶۳)، خطاب ہے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے۔  اور کھلی اور چھپی باتوں کا اشارہ اس طرف ہے کہ کفار مکہ کے وہ بڑ ے بڑے سردار جو آپ کے خلاف جھوٹ کے طوفان اٹھا رہے تھے،  وہ اپنے دلوں میں جانتے،  اور اپنی نجی محفلوں میں مانتے تھے کہ نبی صلی اللہ ولیہ و سلم پر جو الزامات وہ لگا رہے ہیں وہ سراسر بے اصل ہیں۔ وہ لوگوں کو آپ کے خلاف بد گمان کرنے کے لیے آپ کو شاعر، کاہن، ساحر، مجون اور نہ معلوم کیا کیا کہتے تھے،  مگر خود ان کے ضمیر اس بات کے قائل تھے،  اور آپس میں وہ ایک دوسرے کے سامنے اقرار کرتے تھے کہ سب جھوٹی باتیں ہیں جو محض آپ کی دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے وہ گھڑ رہے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ اپنی نبی سے فرماتا  ہے کہ ان لوگوں کی بیہودہ باتوں پر رنجیدہ نہ ہو۔ سچائی کا مقابلہ جھوٹ سے کرنے والے آخر کار اس دنیا میں بھی ناکام ہوں گے اور آخرت میں بھی اپنا برا انجام دیکھ لیں گے۔

(۶۴)۔  اب کفار کے اس سوال کا استدلالی جواب دیا جا رہا ہے جو آیت ۴۸ میں نقل کیا گیا تھا۔ ان کو یہ سوال کہ ’’ قیامت کی دھمکی کب پوری ہو گی‘‘ کچھ اس غرض کے لیے نہ تھا کہ وہ قیامت کے آنے کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے،  بلکہ اس بنا پر تھا کہ وہ مرنے کے بعد انسانوں کے دوبارہ اٹھائے جانے کو بعید از امکان، بلکہ بعید از عقل سمجھتے تھے۔  اسی لیے ان کے سوال کے جواب میں امکان آخرت ک دلائل ارشاد ہو رہے ہیں۔

ابن عباس، قتادہ اور سعید بن جُبیر کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر کفار مکہ کے سرداروں میں سے ایک شخص قبرستان سے کسی مردے کی ایک بوسیدہ ہڈی لیے ہوئے آ گیا اور اس نے نبی صلی اللہ و علیہ و سلم کے سامنے اسے توڑ کر اور اس کے منتشر اجزا ہوا میں اڑا کر آپ سے کہا، اے محمدؐ تم کہتے ہو کہ مردے پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں  گے۔  بتاؤ، ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ اس کا جواب فوراً ان آیات کی صورت میں دیا گیا۔

(۶۵)۔ یعنی وہ نطفہ جس میں محض ایک ابتدائی جرثومہ حیات کے سوا کچھ نہ تھا، اس کو ترقی دے کر ہم نے اس حد تک پہنچایا کہ وہ نہ صرف جانوروں کی طرح چلنے پھرتے اور کھانے پینے لگا، بلکہ اس سے آگے پڑھ کر اس میں شعور و تعقُّل اور بحث و استدلال اور تقریر و خطابت کی وہ قابلیتیں پیدا ہو  گئیں  جو کسی حیوان کو نصیب نہیں ہیں، حتٰی کہ اب وہ اپنے خالق کے بھی منہ آنے لگا ہے۔

(۶۶)۔ یعنی ہمیں مخلوقات کی طرح عاجز سمجھتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ جس طرح انسان کسی مردے کو زندہ نہیں کر  سکتا، اسی طرح ہم بھی نہیں کر  سکتے۔

(۶۷)۔ یعنی یہ بات بھول جاتا ہے کہ ہم نے بے جان مادہ سے وہ ابتدائی جرثومہ حیات پیدا کیا جو اس کا ذریعہ تخلیق بنا اور پھر اس جرثومے کو پرورش کر کے اسے یہاں تم بڑھا لائے کہ آج وہ ہمارے سامنے باتیں چھانٹنے کے قابل ہوا ہے۔

(۶۸)۔ یا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ہرے بھرے درختوں میں وہ آتش گیر مادہ رکھا ہے جس کی بدولت تم لکڑیوں سے آگ جلاتے ہو۔ یا پھر یہ اشارہ ہے مرْخ اور عَفَار نامی ان دو درختوں کی طرف جن کی ہری بھری ٹہنیوں کو لے کر اہل عرب ایک دوسرے پر مارتے تھے تو ان سے آگ جھڑنے لگتی تھی۔ قدیم زمانہ میں عرب کے بدّو آگ جلانے کے لیے یہی چقماق استعمال کیا کرتے تھے اور ممکن ہے آج بھی کرتے ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۳۷)  سورۃ الصفٰت

 

نام

 

پہلی ہی آیت کے لفظ و الصافات سے ماخوذ ہے۔

 

زمانۂ نزول
مضامین اور طرز کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورت غالباً مکّی دور کے وسط میں،  بلکہ شاید اس دور متوسط کے بھی آخری زمانہ میں نازل ہوئی ہے۔  اندازِ بیان صاف بتا رہا ہے کہ پس منظر میں مخالفت پوری شدت کے ساتھ برپا ہے اور نبی و اصحاب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو نہایت دل شکن حالات سے سابقہ در پیش ہے۔

موضوع و مضمون: اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوتِ توحید و آخرت کا جواب جس تمسخر اور استہزاء کے ساتھ دیا جا رہا تھا، اور آپ کے  دعوائے رسالت کو تسلیم کرنے سے جس شدت کے ساتھ انکار کیا جا رہا تھا،  اس پر کفار مکہ کو نہایت پر زور طریقہ سے تنبیہ کی گئی ہے اور آخر میں انہیں صاف صاف خبردار کر دیا گیا ہے کہ عنقریب یہی پیغمبر، جس کا تم مذاق اُڑا رہے ہو، تمہارے دیکھتے دیکھتے تم پر غالب آ جائے گا اور تم اللہ کے لشکر کو خود اپنے گھر کے صحن میں اُترا ہوا پاؤ گے (آیت نمبر ۱۷۱ تا ۱۷۹)۔ یہ نوٹس اس زمانے میں دیا گیا تھا جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی کامیابی کے آثار دور دور کہیں نظر نہ آتے تھے۔  مسلمان (جن کو ان آیات میں اللہ کا لشکر کہا گیا ہے )بُری طرح ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے تھے۔ ان کی تین چوتھائی تعداد ملک چھوڑ کر نکل گئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ بمشکل ۴۰۔ ۵۰ صحابہ مکہ میں رہ گئے تھا اور انتہائی بے بسی کے ساتھ ہر طرح کی زیادتیاں برداشت کر رہے تھے۔  ان حالات میں ظاہر اسباب کو دیکھتے ہوئے کوئی شخص یہ باور نہ کر سکتا تھا کہ غلبہ آخر کار محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کی مٹھی بھر سر و سامان جماعت کو نصیب ہو گا۔ بلکہ دیکھنے والے تو یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ تحریک  مکے کی گھاٹیوں ہی میں دفن ہو کر رہ جائے گی۔ لیکن ۱۵۔  ۱۶ سال سے زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ فتح مکہ کے موقع پر ٹھیک وہی کچھ پیش آ گیا جس سے کفار کو خبردار کیا گیا تھا۔

تنبیہ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں تفہیم اور ترغیب کا حق بھی پورے توازن کے ساتھ ادا فرمایا ہے۔  توحید اور آخرت کے عقیدے کی صحت پر منحصر دل نشین دلائل دیے ہیں،  مشرکین کے عقائد پر تنقید کر کے بتایا ہے کہ وہ کیسی لغو باتوں پر ایمان لائے بیٹھے ہیں،  ان گمراہیوں کے برے نتائج سے آگاہ کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ ایمان و عمل صالح کے نتائج کس ادر شاندار ہیں۔  پھر اسی سلسلے میں پچھلی تاریخ کی مثالیں دی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے انبیاء کے ساتھ اور ان کی قوموں کے ساتھ کیا معاملہ رہا ہے،  کس کس طرح اس نے اپنے وفادار بندوں کو نوازا ہے اور کس طرح ان کے جھٹلانے والوں کو سزا دی ہے۔

جو تاریخی قصے اس سورہ میں بیان کیے گئے ہیں ان میں سب سے زیادہ سبق آموز حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حیات طیّبہ کا یہ اہم واقعہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ایک اشارہ پاتے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کرنے پر آمادہ ہو گئے تھے۔ اس میں صرف ان کفار قریش ہی کے لیے سبق نہ تھا جو حضرت ابراہیمؑ  کے ساتھ اپنے نسبی تعلق پر فخر کرتے پھرتے تھے، بلکہ ان مسلمانوں کے لیے بھی سبق تھا جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے تھے۔  یہ واقعہ سنا کر انہیں بتا دیا گیا کہ اسلام کی حقیقت اور اس کی اصلی روح کیا ہے،  اور اسے اپنا دین بنا لینے کے بعد ایک مومن صادق کو کس طرح اللہ کی رضا پر اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔

سورہ کی آخری آیات محض کفار کے لیے تنبیہ ہی نہ تھیں بلکہ ان اہل ایمان کے لیے بشارت بھی تھیں جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تائید و حمایت میں انتہائی حوصلہ شکن حالات کا مقابلہ کر رہے تھے۔  انہیں یہ آیات سنا کر خوشخبری دے دی گئی کہ آغاز کار میں جن مصائب سے انہیں سابقہ پیش آ رہا ہے ان پر گھبرائیں نہیں،  آخر کار غلبہ ان ہی کو نصیب ہو گا، اور باطل کے وہ علمبردار جو اس وقت غالب نظر آ رہے ہیں،  انہی کے ہاتھوں مغلوب و مفتوح ہو کر رہیں گے۔  چند ہی سال بعد واقعات نے بتا دیا کہ یہ محض خالی تسلی نہ تھی بلکہ ایک ہونے والا واقعہ تھا جس کی پیشگی خبر دے کر ان کے دل مضبوط کیے گئے تھے۔

 

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

قطار در قطار صف باندھنے والوں کی قسم، پھر ان کی قسم جو ڈانٹنے پھٹکارنے والے ہیں، پھر ان کی قسم جو کلام سنانے والے ہیں (۱)، تمہارا معبود حقیقی بس ایک ہی ہے (۲) وہ جو زمین اور آسمانوں کا اور تمام ان چیزوں کا مالک ہے جو زمین و آسمان میں ہیں،  اور سارے مشرقوں (۳) کا مالک (۴)۔

ہم نے آسمان(۵) دنیا کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے اور ہر شیطان سرکش سے اس کو محفوظ کر دیا ہے (۶)۔ یہ شیاطین ملاء  اعلیٰ کی باتیں سن سکتے،  ہر طرف سے مارے اور ہان کے جاتے ہیں اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے۔  تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اڑے تو ایک  تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے (۷)۔

اب ان سے پوچھو،  ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا ان چیزوں کی جو ہم جے پیدا کر رکھی ہیں ؟(۸)۔ ان کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے (۹)۔ تم (اللہ کی قدرت کے کرشموں پر)حیران ہو اور یہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔  سمجھا یا جاتا ہے تو سمجھ  کر نہیں دیتے۔  کوئی نشانے دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھوں میں اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں ’’یہ تو صریح جادو ہے (۱۰)، بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جب ہم مر چکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اس وقت ہم پھر زندہ کر کے اٹھا کھڑے کیے جائیں ؟ اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آبا و اجداد بھی اٹھائے جائیں گے ‘‘؟ ان سے کہو ہاں، اور تم (خدا کے مقابلے میں )بے بس ہو (۱۱)۔

بس ایک ہی جھڑکی ہو گی اور یکایک یہ اپنی آنکھوں سے (وہ سب کچھ جس کی خبر دی جا رہی ہے ) دیکھ رہے ہوں گے (۱۲)۔ اس وقت یہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم الجزا ہے۔۔۔ ’’ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلا یا کرتے تھے (۱۳)‘‘ع

 

تفسیر

 

مفسرین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ ان تینوں گروہوں سے مراد فرشتوں کے گروہ ہیں۔  اور یہی تفسیر حضرات عبداللہ بن مسعود، ابن عباس،  قَتَادہ، مسروق،  سعید بن جُبیر،  عکرمہ،  مجاہد، سدی، ابن زید اور ربیع بن انس سے منقول ہے۔  بعض مفسرین نے اس کی دوسری تفسیریں بھی کی ہیں،  مگر موقع و محل سے یہی تفسیر زیادہ مناسبت رکھتی نظر آتی ہے۔

اس میں ’’ قطار در قطار صف باندھنے ‘‘ کا اشارہ اس طرف ہے کہ تمام فرشتے جو نظام کائنات کی تدبیر کر رہے ہیں،  اللہ کے بندے اور غلام ہیں،  اس کی اطاعت و بندگی میں صف بستہ ہیں اور اس کے فرامین کی تعمیل کے لیے ہر وقت مستعد ہیں۔  اس مضمون کا اعادہ آگے چل کر پھر آیت ۱۶۵ میں کیا گیا ہے جس میں فرشتے خود اپنے متعلق کہتے ہیں وَاِنَّا لَنَحْنُ اصَّا فُّوْنَ۔

’’ڈانٹنے اور پھٹکارنے ‘‘ سے مراد بعض مفسرین کی رائے میں یہ ہے کہ کچھ فرشتے ہیں جو بادلوں کو ہانکتے اور بارش کا انتظام کرتے ہیں۔  اگر چہ یہ مفہوم بھی غلط نہیں ہے،  لیکن آگے کے مضمون سے جو مفہوم زیادہ مناسبت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ انہی فرشتوں میں سے ایک گروہ وہ بھی ہے جو نا فرمانوں اور مجرموں کو پھٹکارتا ہے اور اس کی یہ پھٹکار صرف لفظی ہی نہیں ہوتی بلکہ انسانوں پر وہ حوادثِ طبیعی اور آفات تاریخی کی شکل میں برستی ہے۔

’’کلام نصیحت سنانے ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ انہی فرشتوں میں وہ بھی ہیں جو امر حق کی طرف توجہ دلانے کے لیے تذکیر کی خدمت انجام دیتے ہیں،  حوادثِ زمانہ کی شکل میں بھی جن سے عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرتے  ہیں،  اور ان تعلیمات کی صورت میں بھی جو ان کے ذریعہ سے انبیاء پر نازل ہوتی ہیں،  اور ان الہامات کی صورت میں بھی جو ان کے واسطے سے نیک انسانوں پر  ہوتے ہیں۔

۲۔ یہ وہ حقیقت ہے جس پر مذکورہ صفات کے حامل فرشتوں کی قسم کھائی گئی ہے۔  گویا دوسرے الفاظ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ پورا نظام کائنات جو اللہ کی بندگی میں چل رہا ہے،  اور اس کائنات کے وہ سارے مظاہر جو اللہ کی بندگی سے انحراف کرنے کے بُرے نتائج انسانوں کے سامنے لاتے ہیں،  اور اس کائنات کے اندر یہ انتظام کہ ابتدائے  آفرینش سے آج تک پے در پے ایک ہی حقیقت کی یاد دہانی مختلف طریقوں سے کرائی جا رہی ہے،  یہ سب چیزیں اس با ت پر گواہ ہیں کہ انسانوں کا ’’ اِلٰہ‘‘ صرف ایک ہی ہے۔

’’اِلٰہ‘‘ کے لفظ کا اطلاق دو معنوں پر ہوتا ہے۔  ایک وہ معبود جس کی بالفعل بندگی و عبادت کی جا رہی ہو۔ دوسرے وہ معبود جو فی الحقیقت اس کا مستحق ہو کہ اس کی بندگی و عبادت کی جائے۔  یہاں الٰہ ہ لفظ دوسرے معنی میں استعمال کیا گیا ہے،  کیونکہ پہلے معنی میں تو انسانوں نے دوسرے بہت سے الٰہ بنا رکھے ہیں۔  اسی بناپرہم نے ’’ اِلٰہ‘‘ کا ترجمہ’’ معبود حقیقی‘‘ کیا ہے۔

۳۔ سورج ہمیشہ ایک ہی مطلع سے نہیں نکلتا بلکہ ہر روز ایک نئے زاویے سے طلوع ہوتا ہے۔ نیز ساری زمین پروہ بیک وقت طابع نہیں ہو جاتا  بلکہ زمین کے مختلف حصوں پر مختلف اوقات میں اس کا طلوع ہوا کرتا ہے۔  ان وجوہ سے  مشرق کے بجائے مشارق کا لفظ استعمال کیا گیا ہے،  اور اس کے ساتھ مغارب کا ذکر نہیں کیا گیا،  کیونکہ مشارق کا لفظ خود ہی مغارب پر دلالت کرتا ہے،  تاہم ایک جگہ رَبُّ المَشَارق و المغارب کے الفاظ بھی آئے ہیں (المعارج۔ ۴۰)۔

۴۔ ان آیات میں جو حقیقت ذہن نشین کرائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کا مالک و فرمانروا ہی انسانوں کا اصل معبود ہے،  اور وہی درحقیقت معبود ہو سکتا ہے،  اور اسی کو معبود ہونا چاہیے۔  یہ بات سراسر عقل کے خلاف ہے کہ رب(یعنی مالک اور حاکم اور مربّی و پروردگار)کوئی  ہو اور الٰہ (عبادت کا مستحق ) کوئی اور ہو جائے۔  عبادت کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ آدمی کا نفع و ضرر،  اس کی حاجتوں اور ضرورتوں کا پورا ہونا،  اس کی قسمت کا بننا اور بگڑنا،  بلکہ بجائے خود اس کا وجود و بقا ہی جس کے اختیار میں ہے،  اس کی بالا تری تسلیم کرنا اور اس کے آگے جھکنا آدمی کی فطرت کا عین تقاضا ہے۔  اس وجہ کو آدمی سمجھ لے تو خود بخود اس کی سمجھ میں یہ بات آ جاتی ہے کہ اختیارات والے کی عبادت کرنا،  دونوں صریح خلافِ عقل و فطرت ہیں۔  عبادت کا استحقاق پہنچتا ہی اس کو ہے  جو اقتدار رکھتا ہے۔  رہیں بے اقتدار ہستیاں تو وہ نہ اس کی مستحق ہیں کہ ان کی عبادت کی جائے،  اور نہ ان کی عبادت کرنے اور ان سے دعائیں مانگنے کا کچھ حاصل ہے،  کیونکہ ہماری کسی درخواست پر کوئی کار روائی کرنا سرے سے ان کے اختیار میں ہے ہی نہیں۔  ان کے آگے عاجزی و نیاز مندی کے ساتھ جھکنا اور ان سے دعا مانگنا بالکل ویسا ہی احمقانہ فعل ہے جیسے کوئی شخص کسی حاکم کے سامنے جائے اور اس کے حضور درخواست پیش کرنے کے بجائے جو دوسرے سائلین وہاں درخواستیں لیے کھڑے ہوں ان ہی میں سے کسی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو جائے۔

۵۔ آسمان دنیا سے مراد قریب کا آسمان ہے،  جس کا مشاہدہ کسی دوربین کی مدد کے بغیر ہم برہنہ آنکھ سے کرتے ہیں۔  اس کے آگے جو عالم مختلف طاقتوں کی دوربینوں سے نظر آتے ہیں،  اور جن عالَموں تک ابھی ہمارے وسائل مشاہدہ کی رسائی نہیں ہوئی ہے،  وہ سب دور کے آسمان ہیں۔  اس سلسلے میں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ ’’ سماء‘‘ کسی متعیّن چیز کا نام نہیں ہے بلکہ قدیم ترین زمانے سے آج تک انسان بالعموم یہ لفظ عالَمِ بالا کے لیے استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔

۶۔ یعنی عالَم بالا محض خلا ہی نہیں ہے کہ جس کا جی چاہے اس میں نفوذ کر جائے،  بلکہ اس کی بندش ایسی مضبوط ہے،  اور اس کے مختلف خطّے ایسی مستحکم سرحدوں سے محصور کیے گئے ہیں کہ کسی شیطان سرکش کا ان حدوں سے گزر جانا ممکن نہیں ہے۔  کائنات کے ہر تارے اور ہر سیّارے کا اپنا ایک دائرہ اور کُرہ(Sphere)ہے جس کے اندر سے کسی کا نکلتا بھی سخت دشوار ہے اور جس میں باہر سے کسی کا داخل ہونا بھی آسان نہیں ہے۔  ظاہری آنکھ سے کوئی دیکھے تو خلائے محض کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔  لیکن حقیقت میں اس خلا کے اندر بے حد و حساب خطے ایسی مضبوط سرحدوں سے محفوظ کیے گئے ہیں جن کے مقابلے میں آہنی دیواروں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔  اس کا کچھ اندازہ ان گو ناں گوں مشکلات سے کیا جا سکتا ہے جو زمین کے رہنے والے انسان کو اپنے قریب ترین ہمسائے،  چاند تک پہنچنے میں پیش آ رہی ہیں۔  ایسی ہی مشکلات زمین کی دوسری مخلوق،  یعنی جنوں کے لیے بھی عالمِ بالا کی طرف صعود کرنے میں مانع ہیں۔

۷۔ اس مضمون کو سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ اس وقت عرب میں کہانت کا بڑا چرچا تھا۔ جگہ جگہ کاہن بیٹھے پیشن گوئیاں کر رہے تھا، غیب کی خبریں دے دہے تھے،  گم شدہ چیزوں کے پتے بتا رہے تھے،  اور لوگ اپنے اگلے پچھلے حال دریافت کرنے کے لیے ان سے رجوع کر رہے تھے۔  ان کاہنوں کا دعویٰ یہ تھا کہ جن اور شیاطین ان کے قبضے میں ہیں اور وہ انہیں ہر طرح کی خبریں لا لا کر دیتے ہیں۔  اس ماحول میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم منصبِ نبوت پر سرفراز ہوئے اور آپ نے قرآن مجید کی آیات سنانی شروع کیں جن میں پچھلی تاریخ اور آئندہ پیش آنے والے حالات کی خبریں دی گئی تھیں،  اور ساتھ ساتھ آپ نے یہ بھی بتایا کہ ایک فرشتہ یہ آیات میرے پاس لاتا ہے،  تو آپ کے مخالفین نے فوراً آپ کے اوپر کاہن کی پھبتی کس دی اور لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہاں کا تعلق بھی دوسرے کاہنوں کی طرح کسی شیطان سے ہے جو عالم بالا سے کچھ سن گن لے کر ان کے پاس آ جاتا ہے اور یہ اسے وحی الہٰی بنا کر پیش کر دیتے ہیں۔  اس الزام کے جواب میں اللہ تعالیٰ یہ حقیقت ارشاد فرما رہا ہے کہ شیاطین کی تو رسائی ہی عالم بالا تک نہیں ہو سکتی۔  وہ اس پر قادر نہیں ہیں کہ ملاء اعلیٰ (یعنی گروہ ملائکہ) کی باتیں سن سکیں اور لا کر کسی کو خبریں دے سکیں۔  اور اگر اتفاقاً کوئی ذرا سی بھنک کسی شیطان کے کان میں پڑ جاتی ہے تو قبل اس کے کہ وہ اسے لے کر نیچے آئے،  ایک تیز شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔  دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ملائکہ کے ذریعہ سے کائنات کا جو عظیم الشان نظام چل رہا ہے وہ شیاطین کی در اندازی سے پوری طرح محفوظ ہے۔  اس میں دخل دینا تو در کنار، اس کی معلومات حاصل کرنا بھی ان کے بس میں نہیں ہے۔  (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم،  صفحہ ۵۰۰ تا ۵۰۲)

۸۔ یہ کفار مکہ کے اس شبہ کا جواب ہے جو وہ آخرت کے بارے میں پیش کرتے تھے۔  ان کا خیال یہ تھا کہ آخرت ممکن نہیں ہے،  کیونکہ مرے ہوئے انسانوں کا دوبارہ پیدا ہونا محال ہے۔  اس کے جواب میں امکانِ آخرت کے دلائل پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ان کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ اگر تمہارے نزدیک مرے ہوئے انسانوں کو دو بارہ پیدا کرنا بڑا سخت  کام ہے جس کی قدرت تمہارے خیال میں ہم کو حاصل نہیں ہے تو بتاؤ کہ یہ زمین و آسمان، اور یہ بے شمار اشیاء جو آسمانوں اور زمین میں ہیں،  ان کا پیدا کرنا کوئی آسان کام ہے ؟ آخر تمہاری عقل کہاں ماری گئی ہے کہ خدا کے لیے یہ عظیم کائنات پیدا کرنا مشکل نہ تھا، اور جو خود تم کو ایک دفعہ پیدا کر چکا ہے،  اس کے متعلق تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری دوبارہ تخلیق سے وہ عاجز ہے۔

۹۔ یعنی یہ انسان کوئی بڑی چیز تو نہیں ہے۔  مٹی سے بنایا گیا ہے اور پھر اسی مٹی سے بنایا جا سکتا ہے۔

لیس دار گارے سے انسان کی پیدائش کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اول کی پیدائش مٹی سے ہوئی تھی اور پھر آگے نسل انسانی اُسی پہلے انسان کے نطفے سے وجود میں آئی۔  اور یہ بھی ہے کہ ہر انسان لیس دار گارے سے بنا ہے۔  اس لیے کہ انسان کا سارا مادّہ وجود زمین ہی سے حاصل ہوتا ہے۔  جس نطفے سے وہ پیدا ہوا ہے وہ غذا ہی سے بنتا ہے،  اور استقرارِ حمل کے وقت سے مرتے دم تک اس کی پوری ہستی جن اجزاء سے مرکب ہوتی ہے وہ سب بھی غذا ہی سے فراہم ہوتے ہیں۔  یہ غذا خواہ حیوانی ہو یا نباتی، آخر کار اس کا ماخذ وہ مٹی ہے جو پانی کے ساتھ مل کر  اس قابل ہوتی ہے کہ انسان کی خوراک کے لیے غلے اور ترکاریاں اور پھل نکالے،  اور ان حیوانات کو پرورش کرے جن کا دودھ اور گوشت انسان کھاتا ہے۔

پس بنائے استدلال یہ ہے کہ یہ مٹی اگر حیات قبول کرنے کے لائق نہ تھی تو تم آج کیسے زندہ موجود ہو؟ اگر اس میں زندگی پیدا کیے جانے کا آج امکان ہے،  جیسا کہ تمہارا موجود ہونا خود اس کے امکان کو صریح طور پر ثابت کر رہا ہے،  توکل دوبارہ اسی مٹی سے تمہاری پیدائش کیوں ممکن نہ ہو گی ؟

۱۰۔ یعنی عالم طلسمات کی باتیں ہیں۔  کوئی جادو کی دنیا ہے جس کا یہ شخص ذکر کر رہا ہے،  جس میں مردے اٹھیں گے،  عدالت ہو گی، جنت بسائی جائے گی اور دوزخ کے عذاب ہوں گے۔  یا پھر یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے  کہ یہ شخص دل چلوں کی سی باتیں کر رہا ہے،  اس کی یہ باتیں ہی اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے جس کی وجہ سے بھلا چنگا آدمی یہ باتیں کرنے لگا۔

۱۱۔ یعنی اللہ جو کچھ بھی تمہیں بنانا چاہے بنا سکتا ہے۔  جب اس نے چاہا اس کے ایک اشارے پر تم وجود میں آ گئے۔ جب وہ چاہے گا اس کے ایک اشارے پر تم مر جاؤ گے۔  اور پھر جس وقت بھی وہ چاہے گا اس کا ایک اشارہ تمہیں اٹھا کھڑا کرے گا۔

۱۲۔ یعنی جب یہ بات ہونے کا وقت آئے گا تو دنیا کو دوبارہ برپا کر دینا کوئی بڑا لمبا چوڑا کام نہ ہو گا۔  بس ایک ہی جھڑکی سوتوں کو جگا اٹھا نے کے لیے کافی ہو گی۔ ’’ جھڑکی ‘‘ کا لفظ یہاں بہت  معنیٰ خیز ہے، اس سے بعث بعد الموت کا کچھ ایسا نقشہ نگاہوں کے  سامنے آتا ہے  کہ ابتدائے آفرینش سے قیامت تک جو انسان مرے تھے وہ گویا سوتے پڑے ہیں،  یکایک کوئی ڈانٹ کر کہتا ہے ’’ اٹھ جاؤ‘‘ اور بس آن کی آن میں وہ سب اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

۱۳۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بات ان سے اہل ایمان کہیں،  ہو سکتا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہو، ہو سکتا ہے کہ میدان حشر کا سارا ماحول اس وقت زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو،  اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود انہی لوگوں کا دوسرا رد عمل ہو۔ یعنی اپنے دلوں میں وہ اپنے آپ ہی کو مخاطب کر کے کہیں کہ دنیا میں ساری عمر تم یہ سمجھتے رہے کہ کوئی فیصلے کا دن نہیں آنا ہے،  اب آ گئی تمہاری شامت،  جس دن کو  جھٹلاتے تھے وہی سامنے آ گیا۔

 

ترجمہ

 

(حکم ہو گا) گھیر لاؤ سب ظالموں (۱۴) اور ان کے ساتھیوں (۱۵) اور ان معبودوں کو جن کی وہ خدا کو چھوڑ کر بندگی کیا کرتے تھے (۱۶)، پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ اور ذرا انہیں ٹھیراؤ، ان سے کچھ پوچھنا ہے۔  ’’ کیا ہو گیا  تمہیں،  اب کیوں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟ ارے،  آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دوسرے کو) حوالے کیے دے رہے ہیں ‘‘ ! (۱۷)۔ اس کے بعد یہ ایک دوسرے کی طرف مڑیں گے اور باہم تکرار شروع کر دیں گے۔  (پیروی کرنے والے اپنے پیشواؤں سے )کہیں گے،  ’’ تم ہمارے پاس سیدھے رخ سے آتے تھے ‘‘(۱۸)۔ وہ جواب دیں گے،  ’’ نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے۔  ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا، تم خود ہی سرکش لوگ تھے۔  آخر کار ہم  اپنے رب کے اس فرمان کے مستحق ہو گئے کہ ہم عذاب کا مزا چکھنے والے ہیں۔  سو ہم نے تم کو بہکا یا،  ہم خود بہکے ہوئے تھے ‘‘(۱۹)۔

اس طرح وہ سب اس روز عذاب میں مشترک ہوں گے (۲۰)۔ ہم مجرموں کے ساتھ یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔  یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے ‘‘ تو یہ گھمنڈ میں آ جاتے تھے اور کہتے تھے ’’ کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں ‘‘؟ حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے رسولوں کی تصدیق کی تھی(۲۱)۔ (اب ان سے کہا جائے گا کہ) تم لازماً درد ناک سزا کا مزا چکھنے والے ہو۔ اور تمہیں جو بدلہ بھی دیا جا رہا ہے انہی اعمال کا دیا جا رہا ہے جو تم کرتے رہے ہو۔

مگر اللہ کے چیدہ بندے (اس انجام بد سے ) محفوظ ہوں گے۔  ان کے لیے جانا بوجھا  رزق ہے (۲۲)، ہر طرح کی لذیذ چیزیں (۲۳)۔ اور نعمت بھری جنتیں جن میں وہ عزت کے ساتھ رکھے جائیں گے۔  تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے۔  شراب(۲۴) کے چشموں ٕ(۲۵)  سے ساغر بھر بھر کر ان کے درمیان پھرائے جائیں گے (۲۶)۔ چمکتی ہوئی شراب، جو پینے والوں کے لیے لذّت ہو گی۔ نہ ان کے جسم کو اس سے کوئی ضرر ہو گا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہو گی(۲۷)۔ اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی(۲۸)، خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں (۲۹)گی، ایسی نازک جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جھلّی(۳۰)۔

پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پوچھیں گے۔  ان میں سے ایک کہے گا،  دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا جو مجھ سے کہا کرتا تھا،  کی تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟(۳۱)۔ کیا واقعی جب ہم مر چکے ہوں گے اور مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں جزا و سزا دے جائے گی؟ اب کیا آپ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ صاحب اب کہاں ہیں ‘‘؟ یہ کہہ کر جوں ہی  وہ جھکے گا تو جہنم کی گہرائی میں اس کو دیکھ  لے گا اور اس سے خطاب کر کے کہے گا ’’ خدا کی قسم تُو تو مجھے تباہ ہی کر دینے والا تھا۔ میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو آج میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں (۳۲)۔ اچھا تو کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں ؟ موت جو ہمیں آنی تھی وہ بس پہلے آ چکی ؟ اب ہمیں کوئی عذاب نہیں ہونا‘‘ (۳۳)؟

یقیناً یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔  ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔  بولو،  یہ ضیافت اچھی ہے یا زقوم (۳۴) کا درخت؟ ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے (۳۵)۔ وہ ایک درخت ہے جو جہنّم کی تہ سے نکلتا ہے۔  اس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر (۳۶)۔ جہنّم کے لوگ اسے کھائیں گے اور اسے سے پیٹ بھریں گے،  پھر اس پر پینے کے لیے کھولتا ہو پانی ملے گا۔ اور اس کے بعد ان کی واپسی اسی آتش دوزخ کی طرف ہو گی(۳۷)۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا اور انہی کے نقش قدم پر دوڑ چلے (۳۸)۔  حالانکہ ان سے پہلے بہت سے لوگ گمراہ ہو چکے تھے اور ان میں ہم نے تنبیہ کرنے والے رسول بھیجے تھے۔  اب دیکھ لو کہ ان تنبیہ کیے جانے والوں کاکیا انجام ہوا۔ اس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لیے خالص کر لیا ہے۔ ؑ ع

 

تفسیر

 

۱۴۔ ظالم سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے دوسروں پر ظلم کیا ہو، بلکہ قرآن کی اصطلاح میں ہر وہ شخص ظالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بغاوت و سرکشی اور نافرمانی کی راہ اختیار کی ہو۔

۱۵۔ اصل میں لفظ ’’ ازواج‘‘ استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد ان کی وہ بیویاں بھی ہو سکتی ہیں جو اس بغاوت میں ان کی رفیق تھیں،  اور سہ سب لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو انہی کی طرح باغی و سرکش اور نافرمان تھے۔  علاوہ بریں اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ایک قسم کے مجرم الگ الگ جتھوں کی شکل میں جمع کیے جائیں گے۔

۱۶۔ اس جگہ معبودوں  سے مراد دو قسم کے معبود ہیں۔  ایک، وہ انسان اور شیاطین جن کی اپنی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ان کی بندگی کریں۔  دوسرے وہ اصنام اور شجر و حجر وغیرہ جن کی پرستش دنیا میں کی جاتی رہی ہے۔  ان میں سے پہلی قسم کے  معبود تو خود مجرمین میں شامل ہوں گے اور انہیں سزا کے طور پر جہنم کا راستہ دکھایا جائے گا۔ اور دوسری قسم کے معبود اپنے پرستاروں کے ساتھ اس لیے جہنم میں ڈالے جائیں گے کہ وہ انہیں کر ہر وقت شرمندگی محسوس کریں اور اپنی حماقتوں کا ماتم کرتے رہیں۔  ان کے علاوہ ایک تیسری قسم کے معبود وہ بھی ہیں جنہیں دنیا میں پوجا تو گیا ہے مگر خود ان کا اپنا ایما ہر گز نہ تھا کہ ان کی پرستش کی جائے،  بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ انسانوں کو غیر اللہ کی پرستش سے منع کرتے رہے،  مثلاً فرشتے،  انبیا ء اور اولیاء۔  اس قسم کے معبود ظاہر ہے کہ ان معبودوں میں شامل نہ ہوں گے جنہیں اپنے پرستاروں کے ساتھ جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا۔

۱۷۔ پہلا فقرہ مجرمین کو خطاب کر کے ارشاد ہو گا۔ اور دوسرا فقرہ ان عام حاضرین کی طرف رخ کر کے فرمایا جائے گا جواس وقت جہنم کی روانگی کا منظر دیکھ رہے ہوں گے۔  یہ فقرہ خود بتا رہا ہے کہ اس وقت حالت کیا ہو گی۔  بڑے ہیکڑ مجرمین کے کَس بَل نکل چکے ہوں گے اور کسی مزاحمت کے بغیر وہ کان دبائے جہنم کی طرف جا رہے ہوں گے۔  کہیں کوئی ہز میجسٹی دھکے کھا رہے ہوں گے اور دربار یوں میں سے کوئی ’’ اعلیٰ حضرت ‘‘ کو بچانے کے لیے آگے نہ بڑھے گا۔ کہیں کوئی فاتح عالَم اور ڈکٹیٹر انتہائی ذلت کے ساتھ چلا جا رہا ہو گا اور اس کا لشکر جرّار خود اسے سزا کے لیے پیش کر دے گا۔ کہیں کوئی پیر صاحب یا گرو جی یا ہولی فادر واصل بجہنم  ہو رہے ہوں گے اور مُریدوں میں سے کسی کو یہ فکر نہ ہو گی کہ حضرتِ والا کی توہین نہ ہونے پائے۔  کہیں کوئی لیڈر صاحب کسمپرسی کے عالم میں جہنم کی طرف رواں دواں ہوں گے اور دنیا میں جو لوگ ان کی کبریائی کے جھنڈے اٹھائے پھرتے تھے وہ سب وہاں ان کی طرف سے نگاہیں پھیر لیں گے۔  حد یہ ہے کہ جو عاشق دنیا میں اپنے معشوق پر جان چھڑکتے تھے انہیں بھی اس کے حال بد کی کوئی پروا نہ ہو گی۔ اس حالت کا نقشہ کھینچ کر اللہ تعالیٰ دراصل یہ بات ذہن نشین کرانا چاہتا ہے کہ دنیا میں انسان اور انسان کے جو تعلقات اپنے رب سے بغاوت پر مبنی ہیں وہ کس طرح آخرت میں ٹوٹ کر رہ جائیں گے،  اور یہاں جو لوگ ہمچو ما دیگرے نیست  کے غرور میں مبتلا ہیں،  وہاں ان کا تکبر کس طرح خاک میں مل جائے گا۔

۱۸۔ اصل الفاظ ہیں کُنْتُمْ تَأ تُوْ نَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ۔ ’’ تم ہمارے پاس یمین کی راس سے آتے تھے۔ ‘‘ یمین کا لفظ عربی زبان میں متعدد مفہومات کے لیے بولا جاتا ہے۔  اگر اس کو قوت و طاقت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ ہم کمزور تھے اور تم ہم پر غالب تھے،  اس لیے تم اپنے زور سے ہم کو گمراہی کی طرف کھینچ لے گئے۔  اگر اس کو خیر اور بھلائی کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ تم نے خیر خواہ بن کر ہمیں دھوکا دیا۔ تم ہمیں یقین دلاتے رہے کہ جس راہ پر تم ہمیں چلا رہے ہو یہی حق اور بھلائی کی راہ ہے۔  اس لیے ہم تمہارے فریب میں آ گئے۔ اور اگر اسے قَسم کے معنی میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تم نے قَسمیں کھا کھا کر ہمیں اطمینان دلایا تھا کہ حق وہی ہے جو تم پیش کر رہے ہو۔

۱۹۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،  جلد چہارم،  سورہ سبا،  حواشی نمبر ۵۱۔ ۵۲۔ ۵۳۔

۲۰۔ یعنی پیرو بھی اور پیشوا بھی، گمراہ کرنے والے بھی اور گمراہ ہونے والے بھی، ایک ہی عذاب میں شریک ہوں گے۔  نہ پیروؤں کا  یہ عذر مسموع ہو گا کہ ہو خود گمراہ نہیں ہوئے تھے بلکہ کیا گیا تھا۔ اور نہ پیشواؤں کی اِس معذرت کو قبول کیا جائے گا کہ گمراہ ہونے والے خود ہی راہ راست کے طالب نہ تھے۔

۲۱۔ رسولوں کی تصدیق کے تین معنی ہیں اور تینوں ہی یہاں مراد بھی ہیں۔  ایک یہ کہ اُس نے کسی سابق رسول کی مخالفت نہ کی تھی کہ اُس رسول کے ماننے والوں کے لیے اُس کے خلاف تعصّب کی کوئی معقول وجہ ہوتی، بلکہ وہ خدا کے تمام پچھلے رسولوں کی تصدیق کرتا تھا۔ دوسرے یہ کہ وہ کوئی نئی اور نرالی بات نہیں لایا تھا بلکہ وہی بات پیش کرتا تھا جو ابتدا سے خدا کے تمام رسول پیش کرتے چلے آ رہے تھے۔  تیسرے یہ کہ وہ ان تمام خبروں کا صحیح مصداق تھا جو پچھلے رسولوں نے اُس کے بارے میں دی تھیں۔

۲۲۔ یعنی ایسا رزق جس کی تمام خوبیاں بتائی جاچکی ہیں، جس کے ملنے کا انہیں یقین ہے،  جس کے متعلق انہیں یہ بھی اطمینان ہے کہ وہ ہمیشہ ملتا رہے گا، جس کے بارے میں یہ خطرہ لگا ہوا  نہیں ہے کہ کیا خبر،  ملے یا نہ ملے۔

۲۳۔ اس میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جنت میں کھانا غذا کے طور پر نہیں بلکہ لذت کے لیے ہو گا۔ یعنی وہاں کھانا اس غرض کے لیے نہ ہو گا کہ جسم کے  تحلیل شدہ اجزاء کی جگہ دوسرے اجزاء غذا کے ذریعہ فراہم کیے جائیں،  کیونکہ اس ابدی زندگی میں سرے سے اجزائے جسم تحلیل   ہی نہ ہوں گے،  نہ آدمی کو بھوک لگے گی جو اس دنیا میں تحلیل کے عمل کی وجہ سے لگتی ہے،  اور نہ جسم اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لیے غذا مانگے گا۔ اسی بنا پر جنت کے ان کھانوں کے لیے ’’ فواکہ‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے مفہوم  میں تغذیہ کے بجائے تلذُّذ کا پہلو نمایاں ہے۔

۲۴۔ اصل میں یہاں شراب کی تصریح نہیں ہے بلکہ صرف کاًس(ساغر)کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔  لیکن عربی زبان کی کاًس کا لفظ بول کر ہمیشہ شراب ہی مراد لی جاتی ہے۔  جس پیالے میں شراب کے بجائے دودھ یا پانی ہو، یا جس پیالے میں کچھ نہ ہو اسے کاُس نہیں کہتے کاُس کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب اس میں شراب ہو۔

۲۵۔ یعنی وہ شراب اس قوم کی نہ ہو گی جو دنیا میں پھلوں اور غلّوں کو سڑا کر کشید کی جاتی ہے۔  بلکہ وہ قدرتی طور پر چشموں سے نکلے گی اور نہروں کی شکل میں بہے گی۔ سورہ  محمدؐ میں اسی مضمون کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے : وَاَنْھٰرٌ  مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّۃٍ لِّشَّارِبِیْنَ۔ ’’ اور شراب کی نہریں جو پینے والوں کے لیے لذت ہوں گی‘‘۔

۲۶۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ شراب کے یہ ساغر لے کر جنّتیوں کے درمیان گردش کون کرے گا۔ اس کی تفصیل دوسرے مقامات پر ارشاد ہوئی ہے : وَ یَطُوْ فُ عَلَیْھِمْ غِلْمَانٌ  لَّھُمْ کَاَنَّھُمْ لُو ءْ لُوءٌ مَّکْنُوْنٌ۔  اور ان کی خدمت کے لیے گردش کریں گے ان کے خادم لڑکے،  ایسے خوبصورت جیسے صدف میں چھُپے ہوئے موتی ‘‘ (الطور، آیت ۲۴)۔ وَیَطُوْ فُ عَلَیْھِمْ وِلْدَانٌ  مُّخَلَّدُوْنَ اِذَارَ أَیْتَھُمْ حَسِبْتَھُمْ لُوْء لُؤًا مَّنْشُوْراً۔ ’’ اور ان کی خدمت کے لیے گردش کریں گے ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہنے والے ہیں۔  تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی بکھیر دیے گئے ہیں ‘‘ (الدہر، آیت ۱۹)۔ پھر اس کی مزید تفصیل حضرت اَنَس اور حضرت سَمُرَہ بن جُندُب کی ان روایات میں ملتی ہے جو انہوں نے نبی صلی اللہ ولیہ و سلم سے نقل کی ہیں۔  ان میں بتایا گیا ہے کہ ’’ مشرکین کے بچے اہل جنت کے خادم ہوں گے ‘‘ (ابو داؤد طَیالِسی، طبرانی، بزَّار)۔  یہ روایات اگر چہ سنداً ضعیف ہیں،  لیکن متعدد دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو بچے سنّ رشد کو نہیں پہنچے ہیں وہ جنت میں جائیں گے۔  پھر یہ بھی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جن بچوں کے والدین جنتی ہو ں گے وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ رہیں گے تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو ں۔  اس کے بعد لامحالہ وہ بچے رہ جاتے ہیں جن کے ماں باپ جنّتی نہ ہوں گے۔  سو ان کے  متعلق یہ بات معقول معلوم ہوتی ہے کہ وہ اہل جنت کے خادم بنا دیے جائیں۔  (اس کے متعلق تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو فتح الباری اور عمدۃالقاری، کتاب الجنائز،  باب ماقیل فی اولاد المشرکین رسائل و مسائل،  جلد سوم،  ص ۱۷۷ تا ۱۸۷)

۲۷۔ یعنی وہ شراب ان دونوں قسم کی خرابیوں سے خالی ہو گی جو دنیا کی شراب میں ہوتے ہیں۔  دنیا کی شراب میں ایک قسم کی خرابی یہ ہوتی ہے کہ آدمی کے قریب آتے ہی پہلے تو اس کی بدنو اور سڑاند ناک میں پہنچتی ہے پھر اس کا مزا آدمی کے ذائقے کو تلخ کرتا ہے۔  پھر حلق سے اترتے ہی وہ پیٹ پکڑ لیتی ہے۔  پھر وہ دماغ کو چڑھتی ہے اور دوران سر لاحق ہوتا ہے۔  پھر وہ جگر کو متاثر کرتی ہے اور آدمی کی صحت پر اس کے برے اثرات مترتب ہوتے ہیں۔  پھر جب اس کا نشہ اترتا ہے تو آدمی خُمار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔  یہ سب جسمانی ضرر ہیں۔  دوسری قسم کی خرابی یہ ہوتی ہے کہ اسے پی کر آدمی بہکتا ہے،  اَول فَول بکتا ہے اور عَرہَدہ  کرتا ہے۔  یہ شراب کے عقلی نقصانات ہیں۔  دنیا میں انسان صرف سُرور کی خاطر شراب کے یہ سارے نقصانات برداشت کرتا ہے۔  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت کی شراب میں سرور تو پوری طرح ہو گا (لذّۃ للشاربین ) لیکن ان دونوں قسم کی خرابیوں میں سے کوئی خرابی بھی اس میں نہ ہو گی۔

۲۸۔ یعنی اپنے شوہر کے سوا کسی اور کی طرف نگاہ نہ کرنے والی۔

۲۹۔ بعید نہیں ہے کہ یہ وہ لڑکیاں ہوں و دنیا میں سنّ رشد کو پہنچنے سے پہلے مر گئی ہوں اور جن کے والدین جنت  میں جانے کے مستحق نہ ہوئے ہوں۔  یہ بات اس قیاس کی بنا پر کہی جا سکتی ہے کہ جس طرح ایسے لڑکے اہل جنت کی خدمت کے لیے مقرر کر دیے جائیں گے اور وہ  ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے،  اسی طرح ایسی لڑکیاں بھی اہل جنت کے لیے حوریں بنا دی جائیں گی اور وہ ہمیشہ جو خیز لڑکیاں ہی رہیں گی۔ واللہ اعلم با صواب۔

۳۰۔ اصل الفاظ ہیں کَاَنَّھُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ۔  ’’ گویا وہ چھپے ہوئے یا محفوظ رکھے ہوئے انڈے ہیں ‘‘ ان الفاظ کی مختلف تعبیرات اہل تفسیر نے بیان کی ہیں۔  مگر صحیح تفسیر وہی ہے جو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم  سے نقل کی ہے۔  وہ فرماتی ہیں کہ میں نے اس آیت  کا مطلب حضورؐ سے پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ ان کی نرمی و نزاکت اس جھلی جیسی ہو گی جو انڈے کے چھلکے اور اس کے گودے کے درمیان ہوتی ہے (ابن جریر)۔

۳۱۔ یعنی تم بھی ایسے ضعیف الاعتقاد نکلے کہ زندگی بعد موت جیسی بعید از عقل بات کو مان بیٹھے۔

۳۲۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آخرت میں انسان کی سماعت اور بینائی اور گویائی کس پیمانے کی ہو گی۔  جنت میں بیٹھا ہو ایک آدمی جب چاہتا ہے کسی ٹیلی ویژن کے آلے کے بغیر بس یوں ہی جھک کر ایک ایسے شخص کو دیکھ لیتا ہے جو اس سے نہ معلوم کتنے ہزار میل کے فاصلے پر جہنم میں مبتلائے عذاب ہے۔  پھر یہی نہیں کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں،  بلکہ ان کے درمیان کسی ٹیلی فون یا ریڈیو کے توسط کے بغیر براہ راست کلام بھی ہوتا ہے۔  وہ اتنے طویل فاصلے سے بات کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں۔

۳۳۔ اندازِ کلام صاف بتا رہا ہے کہ اپنے اس دوزخی یار سے کلام کرتے کرتے یکایک یہ جنتی شخص اپنے آپ سے کلام کرنے لگتا ہے اور یہ تین فقر ے اس کی زبان سے اس طرح ادا ہوتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنے آپ کو ہر توقع اور ہر اندازے سے برتر حالت میں پا کر انتہائی حیرت و استعجاب اور وفور مسرت کے ساتھ آپ ہی آپ بول رہا ہو۔ اس طرح کے کلام میں کوئی خاص شخص مخاطب نہیں ہوتا،  اور نہ اس کلام میں جو سوالات آدمی کرتا ہے ان سے درحقیقت کوئی بات کسی سے پوچھنا مقصود ہوتا ہے۔  بلکہ اس میں آدمی کے اپنے ہی احساسات کا اظہار اس کی زبان سے ہونے لگتا ہے۔  وہ جنتی شخص اس دوزخی سے کلام کرتے کرتے یکایک یہ محسوس کرتا ہے کہ میری خوش قسمتی مجھے کہاں لے آئی ہے۔  اب نہ موت ہے نہ عذاب ہے۔  ساری کلفتوں کا خاتمہ ہو چکا ہے اور مجھے حیات جاوداں نصیب ہو چکی ہے۔  اسی احساس کی بنا پر وہ بے ساختہ بول اٹھتا ہے کیا اب ہم اس مرتبے کو پہنچ گئے ہیں ؟

۳۴۔ زَقّوم ایک قسم کا درخت ہے جو تہامہ کے علاقے میں ہوتا ہے۔  مزہ اس کا تلخ ہوتا ہے،  بو ناگوار ہوتی ہے،  اور توڑنے پر اس میں سے دودھ کا  سا  رس  نکلتا ہے جو اگر جسم کو لگ جائے تو ورم ہو جاتا ہے۔  غالباً یہ وہی چیز ہے  جسے ہمارے ملک میں تھوہر کہتے ہیں۔

۳۵۔ یعنی منکرین یہ بات سن کر قرآن پر طعن اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر استہزاء کا ایک نیا موقع پالیتے ہیں۔  وہ اس پر ٹھٹھا مار کر کہتے ہیں،  لو اب نئی سنو،  جہنم کی دہکتی ہوئی آگ  میں درخت اگے گا۔

۳۶۔ کسی کو یہ غلط فہمی  نہ ہو کہ شیطان کا سرکس نے دیکھا ہے جو زقوم کے شگوفوں کو اس سے تشبیہ دی گئی۔ دراصل یہ تخییلی نوعیت کی تشبیہ ہے اور عام  طور پر زبان کے ادب میں اس سے کام لیا جاتا ہے۔  مثلاً ہم ایک عورت کی انتہائی خوبصورتی کا تصور دلانے کے لیے کہتے ہیں وہ پری ہے۔ اور انتہائی بدصورتی بیان کرنے کے لیے کہتے ہیں،  وہ چڑیل ہے یا  بھتنی ہے۔  کسی شخص کی نورانی شکل کی تعریف میں کہ جاتا ہے،  وہ فرشتہ صورت ہے۔  اور کوئی نہایت بھیانک ہیئت کذائی میں  سامنے آئے تو دیکھنے والے کہتے ہیں کہ وہ شیطان بنا چلا آ رہا ہے۔

۳۷۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل دوزخ جب بھوک پیاس سے بے تاب ہونے لگیں گے تو انہیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا جہاں زقوم کے درخت اور کھولتے ہوئے پانی کے چشمے ہوں گے۔  پھر جب وہ وہاں سے کھا پی کر فارغ ہو جائیں گے تو انہیں دوزخ کی طرف لایا جائے گا۔

۳۸۔ یعنی انہوں نے خود اپنی عقل سے کام لے کر کبھی نہ سوچا کہ باپ دادا سے جو طریقہ چلا آ رہا ہے وہ درست بھی ہے یا نہیں۔  بس آنکھیں بند کر کے اسی ڈگر پر ہولیے جس پر دوسروں کو چلتے دیکھا۔

 

ترجمہ

 

ہم کو (۳۹)(اس سے پہلے ) نوحؑ نے پکارا تھا(۴۰)، تو دیکھو کہ ہم کیسے اچھے جواب دینے والے تھے۔  ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے بچا لیا (۴۱)، اور اسی نسل کو باقی رکھا(۴۲)، اور بعد کی نسلوں میں اس کی تعریف و توصیف چھوڑ دی۔ سلام ہے نوحؑ پر تمام دینا والوں میں (۴۳)۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیا کرتے ہیں۔  درحقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ پھر دوسرے گروہ کو ہم نے غرق کر دیا۔

اور نوحؑ ہی کے طریقے پر چلنے والا ابراہیمؑ تھا۔ جب وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کر آیا (۴۴)۔ جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا(۳۵)۔ ’’ یہ کیا چیزیں جن کے تم عبادت کر رہے ہو؟ کیا اللہ کو چھوڑ کر جھوٹ گھڑے ہوئے معبود چاہتے ہو؟  آخر اللہ ربّ العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟‘‘

پھر (۴۷) اس نے تاروں پر ایک نگاہ ڈالی اور کہا میری طبیعت خراب ہے (۴۹) چنانچہ وہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے (۵۰)۔ ان کے پیچھے وہ چپکے سے ان کے معبودوں کے مندر میں گھس گیا اور بولا ’’ آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں ہیں (۵۱)۔ ؟ کیا ہو گیا،  آپ لوگ بولتے بھی نہیں ‘‘؟ اس کے بعد وہ ان پر پل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں۔  (واپس آ کر) وہ لوگ بھاگے بھاگے اس کے پاس آئے (۵۲)۔ اس نے کہا ’’ کیا تم اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو ؟ حالانکہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور ان چیزوں کو بھی جنہیں تم بناتے ہو‘‘ انہوں نے آپس میں کہا’’ اس کے لیے ایک الاؤ تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ کے ڈھیر میں پھینک دو۔ ‘‘ انہوں نے اس کے خلاف ایک کار روائی کرنی چاہی تھی، مگر ہم نے انہی کو نیچا دکھا دیا (۵۳)۔

ابراہیمؑ نے کہا (۵۴)’’میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں (۵۵)، وہی میری رہنمائی کرے گا۔ اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو‘‘(۵۶)۔ (اس دعا کے جواب میں ) ہم نے اس کو ایک حلیم(بردبار) لڑکے کی بشارت دی(۵۷)۔ وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیمؑ نے اس سے کہا، ’’بیٹا،  میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں (۵۸)، اب تو بتا تیرا کیا خیال ہے ؟(۵۹) اس نے کہا، ’’ ابا جان،  جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے (۶۰) اسے کر ڈالیے،  آپ اِنْشاءَ اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے ‘‘، آخر کو جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا (۶۱)اور ہم نے ندا دی(۶۲) کہ ’’ اے ابراہیمؑ،  تو نے خواب سچ کر دکھایا(۶۳)۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں (۶۴)۔ یقیناً یہ ایک کھلی آزمائش تھی‘‘(۶۵)۔ اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دے کر اس بچے کو چھڑا لیا(۶۶)۔ اور اس کی تعریف و توصیف ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں میں چھوڑ دی۔ سلام ہے ابراہیمؑ پر۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔  یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے۔  اور اسحاق کو برکت دی(۶۷)۔ اب ان دونوں کی ذریّت میں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے (۶۸)۔ ع

 

تفسیر

 

۳۹۔ اس مضمون کا تعلق پچھلے رکوع کے آخری فقروں سے ہے۔  ان پر غور کرنے سے سمجھ میں آ جاتا ہے کہ یہ قصے یہاں کسی غرض سے سنائے جا رہے ہیں۔

۴۰۔ اس سے مراد وہ فریاد ہے جو حضرت نوح علیہ السلام نے مدتہائے دراز تک اپنی قوم کو دعوت دین حق دینے کے بعد آخر کار مایوس ہو کر اللہ تعالیٰ سے کی تھی۔ اس فریاد کے الفاظ سورہ قمر میں اس طرح آئے ہیں فَدَ عَا رَبَّہٗ  اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ، ’’ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ میں مغلوب ہو گیا ہوں،  اب تو میری مدد کو پہنچ‘‘(آیت ۱۰)

۴۱۔ یعنی اس شدید اذیت سے جو ایک بد کردار اور ظالم قوم کی مسلسل مخالفت سے ان کو پہنچ رہی تھی۔  اس میں ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف بھی ہے کہ جس طرح نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو اس کرب عظیم سے بچایا گیا،  اسی طرح آخر کار ہم محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے ساتھیوں کو بھی اس کرب عظیم سے بچا لیں گے جس میں اہل مکہ نے ان کو مبتلا کر رکھا ہے۔

۴۲۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔  ایک یہ کہ جو لوگ حضرت نوح کی مخالفت کر رہے تھے ان کی نسل دنیا سے ناپید کر دی گئی اور حضرت نوحؑ ہی کی نسل باقی رکھی گئی اور آگے صرف حضرت نوح علیہ السلام ہی کی اولاد سے دنیا آباد کی گئی۔  عام طور پر مفسرین نے اسی دوسرے معنی کو اختیار کیا ہے،  مگر قرآن مجید کے الفاظ اس معنی میں صریح نہیں ہیں اور حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

۴۳۔ یعنی آج دنیا میں حضرت نوحؑ کی برائی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔  طوفان نوح کے بعد سے آج تک ہزار ہا برس سے دنیا ان کا ذکر خیر کر رہی ہے۔

۴۴۔ رب کے حضور آنے سے مراد اس کی طرف رجوع کرنا اور سب سے منہ موڑ کر اسی کا رُخ کرنا ہے۔  اور ’’ قلب سلیم‘‘ کے معنی ’’صحیح سلامت  د ل‘‘ کے ہیں۔  یعنی ایسا دل جو تمام اعتقادی اور اخلاقی خرابیوں سے پاک ہو، جس میں کفر و شرک اور شکوک و شبہات کا شائبہ تک نہ ہو،  جس میں نافرمانی اور سرکشی کا کوئی جذبہ نہ پایا جاتا ہو، جس میں کوئی ایچ پیچ اور الجھاؤ نہ ہو، جو ہر قسم کے برے میلانات اور ناپاک خواہشات سے بالکل صاف ہو، جس کے اندر کسی کے لیے بغض و حسد یا بد خواہی نہ پائی جاتی ہو، جس کی نیت میں کوئی کھوٹ نہ ہو۔

۴۵۔ حضرت ابراہیمؑ کے اس قصّے کی مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن،  جلد اول،  ص ۵۵۲ تا ۵۶۰۔ جلد سوم ص ۶۹۔ ۷۰۔ ۱۶۳ تا ۱۷۰۔ ۴۹۹ تا ۵۰۶۔ ۶۸۶ تا ۶۹۴۔

۴۶۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو آخر تم نے کیا سمجھ رکھا ہے۔  کیا تمہارا خیال یہ ہے کہ یہ لکڑی پتھر کے معبود اس کے ہم جنس ہو سکتے ہیں ؟ یا اس کی صفات اور اس کے اختیارات میں شریک ہو سکتے ہیں ؟ اور کیا تم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ اس کے ساتھ اتنی بڑی گستاخی کر کے تم اس کی پکڑ سے بچے رہ جاؤ گے ؟

۴۷۔ اب ایک خاص واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے جس کی تفصیلات سورہ (آیات ۵۱ تا ۷۳) اور سورہ عنکبوت (آیات  ۱۶ تا ۲۷) میں گزر چکی ہیں۔

۴۸۔ ابن ابی حاتم نے مشہور تابعی مفسر قتادہ کا  یہ قول نقل کیا ہے کہ اہل عرب نَظَرَفِی النُّجُوْ مِ (اس نے تاروں پر نگاہ ڈالی) کے الفاظ محاصرے کے طور پر اس معنی میں بولا کرتے ہیں کہ اس شخص نے غور کیا، یا وہ شخص سوچنے لگا۔ علامہ ابن کثیر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے اور ویسے بھی یہ بات اکثر مشاہدے میں آتی ہے کہ جب کسی شخص کے سامنے کوئی غور  طلب معاملہ آتا ہے تو وہ آسمان کی طرف،  یا اوپر کی جانب کچھ دیر دیکھتا رہتا ہے،  پھر سوچ کر جواب دیتا ہے۔

۴۹۔ یہ ن تین باتوں میں سے ایک ہے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زندگی میں یہ تین جھوٹ بولے تھے۔  حالانکہ اس بات کو جھوٹ،  یا خلاف واقعہ کہنے کے لیے پہلے کسی ذریعہ سے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ تھی اور انہوں نے محض بہانے کے طور پر یہ بات بنا دی تھی۔ اگر اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے تو خواہ مخواہ اسے جھوٹ آخر کس بنا پر قرار دے دیا جائے۔  اس مسئلے پر تفصیلی بحث ہم تفہیم القرآن جلد سوم (صفحہ ۱۶۷۔ ۱۶۸) میں کر چکے ہیں،  اور مزید بحث رسائل و مسائل، جلد دوم (صفحہ ۳۵ تا ۳۹) میں کی گئی ہے۔

۵۰۔ یہ فقرہ خود بخود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ صورت معاملہ دراصل کیا تھی۔  معلوم ہوتا ہے کہ قوم کے لوگ اپنے کسی میلے میں جا رہے ہوں گے۔  حضرت ابراہیم کے خاندان والوں نے ان سے بھی ساتھ چلنے کو کہا ہو گا۔  انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر دی ہو گی کہ میری طبیعت  خراب ہے،  میں نہیں چل سکتا۔ اب اگر یہ بات بالکل ہی خلاف واقعہ ہوتی تو ضرور گھر کے لوگ ان سے کہتے کہ اچھے خاصے بھلے چنگے ہو،  بلا وجہ بہانہ بنا رہے ہو۔ لیکن جب وہ عذر کو قبول کر کے انہیں پیچھے چھوڑ گئے تو اس سے خود ہی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ضرور اس وقت حضرت ابراہیم کو نزلہ،  کھانسی،  یا کوئی اور ایسی ہی نمایاں تکلیف ہو گی جس کی وجہ سے گھر والے انہیں چھوڑ جانے پر راضی ہو گئے۔

۵۱۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مندر میں بتوں کے  سامنے طرح طرح کی کھانے کی چیزیں رکھی ہوئی ہوں گی۔

۵۲۔ یہاں قصہ مختصر کر کے بیان کیا گیا ہے۔  سورہ انبیا ء میں اس کی جو تفصیل دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جب انہوں نے آ کر اپنے مندر میں  دیکھا کہ سارے بت ٹوٹے پڑے ہیں تو پوچھ گچھ شروع کی۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ ابراہیم نامی ایک نوجوان بت پرستی کے خلاف ایسی باتیں کرتا رہا ہے۔  اس پر مجمع نے کہا کہ پکڑ لاؤ اسے۔ چنانچہ ایک گروہ دوڑتا ہوا ان کے پاس پہنچا، اور انہیں مجمع کے سامنے  لے آیا۔

۵۳۔ سورہ انبیا ء (آیت ۶۹) میں الفاظ یہ ہیں۔  قُلْنَا یٰنَا رُکُوْنِیْ بَرْ داً  وَّ سَلَاماً عَلیٓ اِبْرَاہیم ( ہم نے کہا،
اے آگ ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیم کے لیے )۔ اور سورہ عنکبوت (آیت  ۲۴) میں ارشاد ہوا ہے فَاَنْجٰہُ اللہُ مِنَ النَّارِ، (پھر اللہ نے اس کو آگ سے بچا لیا)۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے ابراہیمؑ کو آگ میں پھینک دیا تھا، اور پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے بسلامت نکال دیا۔ آیت کے یہ الفاظ کہ ’’ انہوں نے اس کے خلاف ایک کاروائی کرنی چاہی تھی مگر ہم نے انہیں نیچا دکھا دیا‘‘ اس معنی میں نہیں لیے جا سکتے کہ انہوں نے حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں پھینکنا  چاہا تھا مگر نہ پھینک سکے۔  بلکہ مذکورہ بالا آیات کے ساتھ ملا کر دیکھنے سے ان کا صاف مطلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ آگ میں پھینک کر انہیں ہلاک کر دینا چاہتے تھے مگر نہ کر سکے،  اور ان کے معجزانہ طریقہ سے بچ جانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابراہیم  علیہ السلام کی بر تری ثابت ہو گئی اور مشرکین کو اللہ نے نیچا دکھا دیا۔  اس واقعہ کو بیان کرنے سے اصل مقصود قریش کے لوگوں کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ جن ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہونے پر تم فخر کرتے ہو ان کا طریقہ وہ نہ تھا جو تم نے اختیار کر رکھا ہے،  بلکہ وہ تھا جسے محمد صلی اللہ علیہ و سلم پیش کر رہے ہیں۔  اب اگر تم ان کو نیچا دکھانے کے لیے وہ چالیں چلو گے جو حضرت ابراہیم کی قوم نے ان کے ساتھ چلی تھیں تو آخر کار نیچا تم ہی دیکھو گے،  محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو نیچا تم نہیں دکھا سکتے۔

۵۴۔ یعنی آگ سے بسلامت نکل آنے کے بعد جب حضرت ابراہیمؑ نے ملک سے نکل جانے کا فیصلہ کیا تو  چلتے وقت یہ الفاظ کہے۔

۵۵۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اللہ کی خاطر نکل رہا ہوں کیونکہ اسی کا ہو جانے  کی وجہ سے میری قوم میری دشمن ہو گئی ہے ورنہ کوئی دنیوی جھگڑا میرے اور اس کے درمیان نہ تھا کہ اس کی بنا پر مجھے اپنا وطن چھوڑنا پڑ رہا ہو۔  نیز یہ کہ میرا دنیا میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے جس کا رخ کروں۔  تن بتقدیر بس اللہ کے بھروسے پر نکل رہا ہوں۔  جدھر وہ لے جائے گا اسی طرف چلا چاؤں گا۔

۵۶۔ اس دعا سے خود بخود یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیمؑ اس وقت بے اولاد تھے۔  قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر جو حالات بیان کیے گئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صرف ایک بیوی اور ایک بھتیجے (حضرت لوطؑ) کو لے کر ملک سے نکلے تھے۔  اس وقت فطرۃً آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ کوئی صالح اولاد عطا فرمائے جو اس غریب الوطنی کی حالت میں آپ کا غم غلط کرے۔

۵۷۔ اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ دعا کرتے ہی یہ بشارت دے دی گئی۔  قرآن مجید ہی میں ایک دوسرے مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلَی ا لْکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ  ’’ شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے ‘‘ (سورہ ابراہیم،  آیت ۳۹)۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور اس بشارت کے درمیان سالہا سال کا فصل تھا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ حضرت اسماعیلؑ کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیمؑ کی عمر ۸۶ برس کی تھی (پیدائش ۱۶:۱۶)، اور حضرت اسحاق کی پیدائش کے وقت سو برس کی (۶۱:۵)۔

۵۸۔ یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ ابراہیمؑ نے خواب میں یہ نہیں دیکھا تھا کہ انہوں نے بیٹے کو ذبح کر دیا ہے،  بلکہ یہ دیکھا تھا کہ وہ اسے  ذبح کر رہے ہیں۔  اگر چہ اس وقت وہ خواب کا مطلب یہی سمجھے تھے کہ وہ صاحبزادے کو ذبح کر دیں۔  اسی بنا پر وہ ٹھنڈے دل سے بیٹا قربان کر دینے کے لیے بالکل تیار ہو گئے تھے۔  مگر خواب دکھانے میں جو باریک  نکتہ اللہ تعالیٰ نے ملحوظ رکھا تھا اسے آگے کی آیت  نمبر ۱۰۵ میں اس نے خود کھول دیا ہے۔

۵۹۔ صاحبزادے سے یہ بات پوچھنے کا مدعا یہ نہ تھا کہ تو راضی ہو تو خدا کے فرمان کی تعمیل کروں۔  بلکہ حضرت ابراہیمؑ دراصل یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ جس صالح اولاد کی انہوں نے دعا مانگی تھی،  وہ فی الواقع کس قدر صالح ہے۔  اگر وہ خود بھی اللہ کی خوشنودی پر جان قربان کر دینے کے لیے تیار ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دعا مکمل طور پر قبول ہوئی ہے اور بیٹا محض جسمانی حیثیت  ہی سے ان کی اولاد نہیں ہے بلکہ اخلاقی و روحانی حیثیت سے بھی ان کا سپوت ہے۔

۶۰۔ یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ پیغمبر باپ کے خواب کو بیٹے نے محض خواب نہیں بلکہ خدا کا حکم سمجھا تھا۔ اب اگر یہ فی لواقع حکم نہ ہوتا تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ صراحۃً یا اشارۃً اس امر کی تصریح فرما دیتا کہ فرزند ابراہیم نے غلط فہمی سے اس کو حکم سمجھ لیا۔  لیکن پورا سیاق و سباق ایسے کسی اشارے سے خالی ہے۔  اسی بنا پر اسلام میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ انبیاء کا خواب محض خواب نہیں ہوتا بلکہ وہ بھی وحی کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔  ظاہر ہے کہ جس بات سے ایک اتنا بڑا قاعدہ خدا کی شریعت میں شامل ہو سکتا ہو، وہ اگر مبنی بر حقیقت نہ ہوتی بلکہ محض ایک غلط فہمی ہوتی تو ممکن نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کی تردید  نہ فرماتا۔  قرآن کو کلام الہٰی ماننے والے کے لیے یہ تسلیم کرنا محال ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ایسی بھول چوک بھی صادر ہو سکتی ہے۔

۶۱۔ یعنی حضرت ابراہیمؑ نے ذبح کرنے کے لیے بیٹے کو چِت لٹا یا بلکہ اوندھے منہ لٹایا تاکہ ذبح کرتے وقت بیٹے کا چہرہ دیکھ کر کہیں محبت و شفقت ہاتھ میں لرزش پیدا نہ کر دے۔  اس لیے وہ چاہتے تھے کہ نیچے کی طرف سے ہاتھ ڈال کر چھری چلائیں۔

۶۲۔ نحویوں کا ایک گروہ کہتا ہے کہ یہاں ’’اور ‘‘ بمعنی ’’تو‘‘ ہے یعنی فقرہ یوں ہے کہ ’’جب ان دونوں نے سر تسلیم خم کر دیا اور ابراہیمؑ نے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا تو ہم نے ندا دی ‘‘۔ لیکن ایک دوسرا گروہ کہتا ہے کہ یہاں لفظ ’’جب‘‘ کا جواب محذوف ہے اور اس کو ذہن سامع پر چھوڑ دیا گیا ہے۔  کیونکہ بات اتنی بڑی تھی کہ اسے الفاظ میں بیان کرنے کے بجائے تصور ہی کے لیے چھوڑ دینا زیادہ مناسب تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا ہو گا کہ بوڑھا باپ اپنے ارمانوں سے مانگے ہوئے بیٹے کو محض ہماری خوشنودی پر قربان کر دینے کے لیے تیار ہو گیا ہے اور بیٹا بھی گلے پر چھری چلوانے کے لیے راضی ہے،  تو یہ منظر دیکھ کر کیسا کچھ دریائے رحمت نے جوش مارا ہو گا، اور مالک، کو ان باپ بیٹوں پر کیسا کچھ پیار آیا ہو گا، اس کا بس تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔  الفاظ میں اس کی کیفیت جتنی کچھ بھی بیان کی جائے گی وہ اس کو ادا نہیں کرے گی بلکہ اس کی اصلی شان سے کچھ گھٹ کر ہی ہو گی۔

۶۳۔ یعنی ہم نے تمہیں یہ تو نہیں دکھایا تھا کہ تم نے بیٹے کو ذبح کر دیا ہے اور اس کی جان نکل گئی ہے،  بلکہ یہ دکھایا تھا کہ تم ذبح کر رہے ہو۔ تو وہ خواب تم نے پورا کر دکھایا۔  اب ہمیں تمہارے بچے کی جان یعنی مطلوب نہیں ہے۔  اصل مدعا جو کچھ تھا وہ تمہاری اس آمادگی اور تیاری سے حاصل ہو گیا ہے۔

۶۴۔ یعنی جو لوگ احسان کی روش اختیار کرتے ہیں ان کے اوپر آزمائشیں ہم اس لیے نہیں ڈالا کر تے کہ انہیں خواہ مخواہ تکلیفوں میں ڈالیں اور رنج و غم میں مبتلا کریں۔  بلکہ یہ آزمائشیں ان کی فضیلتوں کو ابھارنے کے لیے اور انہیں بڑے مرتبے عطا کرنے کے لیے ان پر ڈالی جاتی ہیں،  اور پھر آزمائش کی خاطر جس مخمصے میں ہم انہیں ڈالتے ہیں اس سے بخیریت ان کو نکلوا بھی دیتے ہیں۔  چنانچہ دیکھو، بیٹے کی قربانی کے لیے تمہاری آمادگی و تیاری ہی بس اس کے لیے کافی ہو گئی کہ تمہیں وہ مرتبہ عطا کر دیا جائے جو ہماری خوشنودی پر واقعی بیٹا قربان کر دینے والے کو مل سکتا تھا۔ اس طرح ہم نے تمہارے بچے کی جان بچا دی اور تمہیں یہ مرتبۂ بلند بھی عطا کر دیا۔

۶۵۔ یعنی مقصود تمہارے ہاتھ سے تمہارے بچے کو ذبح کرا دینا نہ تھا،  بلکہ اصل مقصود  تمہارا امتحان لینا تھا کہ تم ہمارے مقابلے میں دنیا کی کسی چیز کو عزیز تر تو نہیں رکھتے۔

۶۶۔ ’’ بڑی قربانی‘‘ سے مراد،  جیسا کہ بائیبل اور اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے،  ایک مینڈھا ہے جو اس وقت اللہ تعالیٰ کے فرشتے نے حضرت ابراہیمؑ کے سامنے پیش کیا، تاکہ بیٹے کے بدلے اس کو ذبح کر دیں۔  اسے بڑی قربانی کے لفظ سے اس لیے تعبیر کیا گیا کہ وہ ابراہیمؑ جیسے وفادار  بندے کے لیے فرزند ابراہیمؑ جیسے صاب و جاں نثار لڑکے کا فدیہ تھا، اور اسے اللہ تعالیٰ نے ایک بے نظیر قربانی کی نیت پوری کرنے کا وسیلہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ اسے ’’ بڑی قربانی‘‘ قرار دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سنت جاری کر دی کہ اسی تاریخ کو تمام اہل ایمان دنیا بھر میں جانور قربان کریں اور وفاداری و جاں نثاری کے اس عظیم الشان واقعہ کی یاد تازہ کرتے رہیں۔

۶۷۔ یہاں پہنچ کر یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے جن صاحبزادے کو قربان کرنے کے لیے آمادہ ہوئے تھے اور جنہوں نے اپنے آپ کو خود اس قربانی کے لیے پیش کر دیا تھا،  وہ کون تھے۔  اب سے پہلے اس سوال کا جواب ہمارے سامنے بائیبل کی طرف سے آتا ہے،  اور وہ یہ ہے کہ:

’’خدا نے ابراہام کو آزمایا اور اسے کہا اے ابراہام ـــــ تو اپنے بیٹے اضحاق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر موریاہ کے ملک میں جا اور وہاں اسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاؤں گا سوختنی قربانی کے طور پر چڑھا۔ ‘‘ (پیدائش،  ۲۲:۱۔ ۲)

اس بیان میں ایک طرف تو یہ کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق کی قربانی مانگی تھی، اور دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اکلوتے تھے۔  حالانکہ خود بائیبل ہی کے دوسرے بیانات سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت اسحاق اکلوتے نہ تھے۔  اس کے لیے ذرا بائیبل ہی کی حسب ذیل تصریحات ملاحظہ ہوں :

’’اور ابرام کی بیوی ساری کے کوئی اولاد نہ ہوئی۔  اس کی ایک مصری لونڈی تھی جس کا نام ہاجرہ تھا۔ اور ساری نے ابرام سے کہا کہ دیکھ خداوند نے مجھے تو اولاد سے محروم رکھا ہے سو تو میری لونڈی کے پاس جا، شائد اس سے میرا گھر آباد ہو۔ اور ابرام نے  ساری کی بات مانی۔ اور ابرام کو ملک کنعان میں رہتے دس برس ہو گئے تھے جب اس کی بیوی ساری نے اپنی مصری لونڈی اسے دی کہ اس کی بیوی بنے اور وہ ہاجرہ کے پاس گیا اور  وہ حاملہ ہوئی۔ ‘‘(پیدائش، ۱۶:۱۔ ۳)

’’خداوند کے فرشتے نے اس سے کہا کہ تو حاملہ ہے اور تیرے بیٹا پیدا ہو گا۔  اس کا نام اسمٰعیل رکھنا‘‘ (۱۶:۱۱)

’’جب ابرام سے ہاجرہ کے اسماعیل پیدا ہوا تب ابرام چھیاسی برس کا تھا‘‘(۱۶:۱۶)

اور خداوند نے ابرام سے کہا کہ ساری جو تیری بیوی ہے ــــــ اس سے بھی تجھے ایک بیٹا بخشوں گا ـــــــ تو اس کا نام اضحاق رکھنا ــــــ جو اگلے سال اسی وقت معین پر سارہ سے پیدا ہو گا۔ ــــــــــ تب ابرہام نے اپنے بیٹے اسماعیل کو اور ـــــــ گھر کے سب مردوں کو لیا اور اسی روز خدا کے حکم کے مطابق ان کا ختنہ کیا۔ ابرہام ننانوے برس کا تھا جب اس کا ختنہ ہوا اور جب اسماعیل کا ختنہ ہو ا تو وہ تیرہ برس کا تھا(پیدائش ۱۷:۱۵۔ ۲۵)

اور جب اس کا بیٹا اضحاق اس سے پیدا ہوا تو ابرہام سو برس کا تھا(پیدائش، ۲۱:۵)

اس سے بائیبل کی تضاد بیانی صاف کھل جاتی ہے۔  ظاہر ہے کہ ۱۴ برس تک تنہا حضرت اسماعیل ہی حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے تھے۔  اب اگر قربانی اکلوتے بیٹے کی مانگی گئی تھی تو وہ حضرت اسحاق کی نہیں بلکہ حضرت اسمٰعیل کی تھی۔ کیونکہ وہی اکلوتے تھے۔  اور اگر حضرت اسحاق کی قربانی مانگی گئی تھی تو پھر یہ کہنا غلط ہے کہ اکلوتے بیٹے کی قربانی مانگی گئی تھی۔

اس کے بعد ہم اسلامی روایات کو دیکھتے ہیں اور ان میں سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔  مفسرین نے صحابہ و تابعین کی جو روایات نقل کی ہیں ان میں ایک گروہ کا قول یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ صاحبزادے حضرت اسحاق تھے،  اور اس گروہ میں حسب ذیل بزرگوں کے نام ملتے ہیں :

حضرت عمر۔  حضرت علی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب۔  حضرت عبداللہ بن عباس۔  حضرت ابو ہریرہ۔  قتادہ۔ عکرمہ۔  حسن بصری۔ سعید بن جُبیر۔ مجاہد۔ شعبی۔ مسروق۔ مکحول۔  زُہری۔ عطاء۔ مُقاتل۔ سدی۔ کعب اَحبار۔ زید بن اسلم وغیرہم۔

دوسرا گروہ کہتا ہے کہ وہ حضرت اسماعیل تھا۔ اور اس گروہ میں حسب ذیل بزرگوں کے نام نظر آتے ہیں :

حضرت ابو بکر۔  حضرت علی۔ حضرت عبداللہ بن عمر۔ حضرت عبداللہ بن عباس۔ حضرت ابو ہریرہ۔  حضرت معاویہ۔ عکرمہ۔ مجاہد۔ یوسف بن مہران۔  حسن بصری۔  محمد بن کعب القرظی۔  شعبی۔ سعید بن المسیّب۔  ضحاک۔  محمد بن علی بن حسین(محمد الباقر)۔ ربیع بن انس۔ احمد بن حنبل وغیرہم۔

ان دونوں فہرستوں کا تقابل کیا جائے تو متعدد نام ان میں مشترک نظر آئیں گے۔  یعنی ایک ہی بزرگ سے دو مختلف قول منقول ہوئے ہیں۔  مثلاً حضرت عبداللہ بن عباس سے عکرمہ یہ قول نقل کرتے ہیں کہ وہ صاحبزادے حضرت اسحاق تھے۔  مگر انہی سے عطاء بن ابی رباح یہ بات نقل کرتے ہیں کہ زعمت الیھود انہ اسحٰق وکذبت الیھود (یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اسحٰق تھے،  مگر  یہودی جھوٹ کہتے ہیں )۔  اسی طرح حضرت حسن بصری سے روایت یہ ہے کہ وہ حضرت اسحٰق کے ذبیح ہونے کے قائل تھے۔  مگر عمرو بن عُبید کہتے ہیں کہ حسن بصری کو اس امر میں کوئی شک نہیں تھا کہ حضرت ابراہیمؑ کے جس بیٹے کو ذبیح کرنے کا حکم ہوا تھا وہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔

اس اختلافِ روایات کا نتیجہ یہ ہو ہے کہ علماء اسلام میں سے بعض پورے جزم و وثوق کے ساتھ حضرت اسحٰق کے حق میں رائے دیتے ہیں،  مثلاً بن جریر اور قاضی عیاض۔ اور بعض قطعی طور پر حکم لگاتے ہیں کہ ذبیح حضرت اسماعیل تھے،  مثلاً ابن کثیر۔ اور بعض مذبذب ہیں،  مثلاً جلال الدین سیوطی۔ لیکن اگر تحقیق کی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ امر ہر شک و شبہ سے بالا تر نظر آتا ہے کہ حضرت اسماعیل ہی ذبیح تھے۔  اس کے دلائل حسب ذیل ہیں :

 

۱)۔ اوپر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے کہ اپنے وطن سے ہجرت کرتے وقت حضرت ابراہیم نے ایک صالح بیٹے کے لیے دعا کی تھی اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک حلیم لڑکے کی بشارت دی۔ فحوائے کلام صاف بتا رہا ہے کہ یہ دعا اس وقت کی گئی تھی جب آپ بے اولاد تھے۔  اور بشارت جس لڑکے کی دی  گئی وہ آپ کا پہلونٹا بچہ تھا۔ پھر یہ بھی قرآن ہی کے سلسلہ کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہو ہی بچہ جب باپ کے ساتھ دوڑنے چلنے کے قابل ہوا تو اسے ذبح کرنے کا اشارہ فرمایا گیا۔ اب یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کے پہلوٹے صاحبزادے حضرت اسماعیل تھے نہ کہ حضرت اسحٰق۔  خود قرآن مجید میں صاحبزادوں کی ترتیب اس طرح بیان ہوئی ہے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلَی الکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ (ابراہیم۔ آیت ۳۹)

۲)۔ قرآن مجید میں جہاں حضرت اسحٰق کی بشارت دی گئی ہے وہاں ان کے لیے غلامِعلیم (علم والے لڑکے ) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔  فَبَشَّرُوْہُ بِغُلَا مٍ عَلِیْمٍ (الذاریات۔ ۲۸)۔ لَا تَوْ جَلْ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ عَلِیْمٍ (الحجر۔ ۵۳)۔ مگر یہاں جس لڑکے کی بشارت دی گئی ہے اس کے لیے غلام حَلیم(برد بار لڑکے ) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔  اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو صاحبزادوں کی دو نمایاں صفات الگ الگ تھیں۔  اور ذبح کا حکم غلام علیم کے لیے نہیں بلکہ غلام حلیم کے لیے تھا۔

۳)۔ قرآن مجید میں حضرت اسحٰق کی پیدائش کی خوش خبری دیتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ یہ خوشخبری بھی دے دی گئی تھی کہ ان کے ہاں یعقوبؑ جیسا بیٹا پیدا ہو گا۔ فَبَشَّرْ نَا ھَا بِاِ سْحٰقَ یَعْقُوْبَ (ہود۔ ۷۱) اب ظاہر ہے کہ جس بیٹے کی پیدائش کی خبر دینے کے ساتھ ہی یہ خبر بھی دی جا چکی ہو کہ اس کے ہاں ایک لائق لڑکا پیدا ہو گا،  اس کے متعلق اگر حضرت ابراہیم کو یہ خواب دکھایا جا تا کہ آپ اسے ذبح کر رہے ہیں،  تو حضرت ابراہیم اس س کبھی یہ نہ سمجھ سکتے تھے کہ اس بیٹے کو قربان کر دینے کا اشارہ فرمایا جا رہا ہے۔  علامہ ابن جریر اس دلیل کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ممکن ہے یہ خواب حضرت ابراہیمؑ کو اس وقت دکھایا گیا ہو جب حضرت اسحاق کے ہاں حضرت یعقوبؑ پیدا ہو چکے ہوں۔  لیکن درحقیقت یہ اس دلیل کا نہایت ہی بودا جواب ہے۔  قرآن مجید کے الفاظ یہ ہیں کہ ‘‘ جب وہ لڑکا باپ کے ساتھ دوڑنے چلنے  کے قابل ہو گیا ‘‘ تب یہ خواب دکھایا گیا تھا۔  ان الفاظ کو جو شخص بھی خالی الذہن ہو کر پڑھے گا اس کے سامنے آٹھ دس برس کے بچے کی تصویر آئے گی۔ کوئی شخص بھی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ جو ان صاحب اولاد بیٹے کے لیے یہ الفاظ استعمال کیے گئے ہوں گے۔

۴)۔ اللہ تعالیٰ سارا قصہ بیان کرنے کے بعد آخر میں فرماتا ہے کہ ’’ ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے ‘‘۔  اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی بیٹا نہیں ہے جسے ذبح کرنے کا اشارہ کیا گیا تھا۔ بلکہ پہلے  کسی اور بیٹے کی بشارت دی گئی۔ پھر جب وہ باپ کے ساتھ دوڑنے چلنے کے قابل ہوا تو اسے ذبح کرنے کا حکم ہوا۔ پھر جب حضرت ابراہیم اس امتحان میں کامیاب ہو گئے تب ان کو ایک اور بیٹے اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت دی گئی۔  یہ ترتیب واقعات قطعی طور پر فیصلہ کر دیتی ہے کہ جن صاحبزادے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا وہ حضرت اسحاق نہ تھے،  بلکہ وہ ان سے کئی برس پہلے پیدا ہو چکے تھے۔  علامہ ابن جریر اس صریح دلیل کو یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ پہلے صرف حضرت اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت دی گئی تھی۔ پھر جب وہ خدا کی خوشنودی پر قربان ہونے کے لیے تیار ہو گئے تو اس کا انعام اس شکل میں دیا گیا کہ ان کے نبی ہونے کی خوشخبری دی گئی۔  لیکن یہ ان کے پہلے جواب سے بھی زیادہ کمزور جواب ہے۔  اگر فی الواقع بات یہی ہوتی تو اللہ تعالیٰ یوں نہ فرماتا کہ ’’ ہم نے اس کو اسحاق کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے ‘‘۔ بلکہ ہوں فرماتا کہ ہم نے اس کو یہ بشارت دی کہ تمہارا یہی لڑکا ایک نبی ہو گا صالحین میں سے۔

معتبر روایات سے  یہ ثابت ہے کہ حضرت اسماعیلؑ کے فدیہ میں جو مینڈھا ذبح کیا گیا تھا اس کے سینگ خانہ کعبہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر کے زمانے تک محفوظ تھے۔  بعد میں جب حجاج بن یوسف نے حرم میں اب زبیر کا محاصرہ کیا اور خانہ کعبہ کو مسمار کر دیا تو وہ سینگ بھی ضائع ہو گئے۔  ابن عباس اور عامر شعبی دونوں اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ انہیں نے خود خانہ کعبہ میں یہ سینگ دیکھے ہیں (ابن کثیر )۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قربانی کا یہ واقعہ شام میں نہیں بلکہ مکہ مکرمہ میں پیش آیا تھا، اور حضرت اسماعیل کے ساتھ پیش آیا تھا، اسی لیے تو حضرت ابراہیم و اسمٰعیل کے تعمیر کردہ خانہ کعبہ میں اس کی یاد گار محفوظ رکھی گئی تھی۔

۶)۔ یہ بات صدیوں سے عرب کی روایات میں محفوظ تھی کہ قربانی کا یہ واقعہ منیٰ میں پیش آیا تھا۔  اور یہ صرف روایت ہی نہ تھی بلکہ اس وقت سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے تم مناسک حج میں یہ کام بھی برابر شامل چلا آ رہا تھا کہ اسی مقام منیٰ میں جا کر لوگ اسی جگہ پر جہاں حضرت ابراہیمؑ نے قربانی کی تھی، جانور قربان کیا کرتے تھے۔  پھر جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم مبعوث  ہوئے تو آپ نے بھی اس طریقے کو جاری رکھا،  حتیٰ کہ آج تک حج کے موقع پر دس ذی الحجہ کو منیٰ میں قربانیاں کی جاتی ہیں۔  ساڑھے چار ہزار برس کا یہ متواتر عمل اس امر کا ناقابل انکار ثبوت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کے وارث بنی اسماعیل ہوئے ہیں نہ کہ بنی اسحٰق۔  حضرت اسحٰق کی نسل میں ایسی کوئی رسم کبھی جاری نہیں رہی ہے جس میں ساری قوم بیک وقت قربانی کرتی ہو اور اسے حضرت ابراہیم کی قربانی کی یادگار کہتی ہو۔

یہ ایسے دلائل ہیں جن کو دیکھنے کے بعد یہ بات قابل تعجب نظر آتی ہے کہ خود امت مسلمہ میں حضرت اسحٰق کے ذبیح ہونے کا خیال آخر پھیل کیسے گیا۔ یہودیوں نے اگر حضرت اسماعیلؑ کو اس شرف سے محروم کر کے اپنے دادا حضرت اسحٰق کی طرف اسے منسوب کرنے کو کوشش کی تو یہ ایک سمجھ میں آنے والی بات ہے۔  لیکن آخر مسلمانوں کے ایک گروہ کثیر نے ان کی اس دھاندلی کو کیسے قبول کر لیا؟ اس سوال بہت شافی جواب علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں دیا ہے۔  وہ کہتے ہیں :

’’حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے،  مگر بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے دراصل یہ سارے اقوال (جو حضرت اسحٰق کے ذبیح ہونے کے حق میں ہیں )کعب احبار سے منقول ہیں۔  یہ صاحب جب حضرت عمر کے زمانے میں مسلمان ہوئے تو کبھی کبھی یہ یہود و نصاریٰ کی قدیم کتابوں کے مندرجات ان کو سنایا کرتے تھے اور حضرت عمر انہیں سن لیا کرتے تھے۔  اس بنا پر دوسرے لوگ بھی ان کی باتیں سننے لگے اور سب رطب و یابس جو وہ بیان کرتے تھے انہیں روایت کرنے لگے۔  حالانکہ اس امت کو ان کے اس ذخیرۂ معلومات میں سے کسی چیز کی بھی ضرورت نہ تھی۔ ‘‘

اس سوال پر مزید روشنی محمد بن کعب قرظی کی ایک روایت سے پڑتی ہے۔  وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری موجودگی میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے ہاں یہ سوال چھڑا کہ ذبیح حضرت اسحاق تھے یا حضرت اسماعیل۔ اس وقت ایک ایسے صاحب بھی مجلس میں موجود تھے جو پہلے یہودی علماء میں سے تھے اور بعد میں سچے دل سے مسلمان ہو چکے تھے۔  انہوں نے کہا، ’’ امیرالمومنین،  خدا کی قسم وہ اسمٰعیل ہی تھے،  اور یہودی اس بات کو جانتے ہیں،  مگر وہ عربوں سے حسد کی بنا پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ذبیح حضرت اسحٰق تھے ‘‘(ابن جریر)۔ ان دونوں باتوں کو ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ دراصل یہ یہودی پروپیگنڈا کا اثر تھا جو مسلمانوں میں پھیل گیا، اور مسلمان چونکہ علمی معاملات میں ہمیشہ غیر متعصب رہے ہیں،  اس لیے ان میں سے بہت سے لوگوں نے یہودیوں کے ان بیانات کو، جو وہ قدیم صحیفوں کے حوالہ سے تاریخی روایات کے بھیس میں پیش کرتے تھے،  محض ایک علمی حقیقت سمجھ کر قبول کر لیا اور یہ محسوس نہ کیا کہ اس میں علم کے بجائے تعصب کار فرما ہے۔

۶۸۔ یہ فقرہ اس پورے مقصد پر روشنی ڈالتا ہے جس کے لیے حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کایہ قصہ یہاں بیان کیا گیا ہے۔  حضرت ابراہیمؑ کے دو بیٹوں کی نسل سے دو بہت بڑی قومیں پیدا ہوئیں۔  ایک بنی اسرائیل،  جن کے گھر سے دنیا کے دو بڑے مذہب (یہودیت اور نصرانیت)نکلے اور انہوں نے روئے زمین کے بہت بڑے حصے کو حلقہ بگوش بنایا۔  دوسرے بنی اسمٰعیل جو نزول قرآن کے وقت تمام اہل عرب کے مقتدا و پیشوا تھے،  اور اس وقت مکہ معظمہ کے قبیلہ قریش کو ان میں سب سے زیادہ اہم مقام حاصل تھا۔ نسلِ ابراہیمی کی ان دونوں شاخوں کو جو کچھ بھی عروج نصیب ہوا وہ حضرت ابراہیم اور ان کے ان دو عظیم المرتبت صاحبزادوں کے ساتھ انتساب کی بدولت ہوا،  ورنہ دنیا میں نہ معلوم ایسے ایسے کتنے خاندان پیدا ہوئے ہیں اور گوشۂ گمنامی میں جا پڑے ہیں۔  اب  اللہ تعالیٰ اس خاندان کی تاریخ کا سب سے زیادہ زرین کارنامہ سنانے کے بعد ان دونوں گروہوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ تمہیں دنیا میں یہ جو کچھ شرف نصیب ہوا ہے وہ خدا پرستی اور اخلاص و فدویّت کی ان شاندار روایات کی وجہ سے ہوا ہے جو تمہارے باپ دادا ابراہیم و اسمٰعیل اور اسحاق علیہم السلام نے قائم کی تھیں۔  وہ انہیں بتاتا ہے کہ ہم نے ان کو جو برکت عطا فرمائی اور ان پر اپنے فضل و کرم کی جو بارشیں برسائیں،  یہ کوئی اندھی بانٹ نہ تھی کہ بس یونہی ایک شخص اور اس کے دو لڑکوں کو چھانٹ کر نواز دیا گیا ہو، بلکہ انہوں نے اپنے مالک حقیقی کے ساتھ اپنی وفاداری کے کچھ ثبوت دیے تھے اور ان کی بنا پر وہ ان عنایات کے مستحق بنے تھے۔  اب تم لوگ محض اس فخر کی بنا پر کہ تم ان کی اولاد ہو، ان عنایات کے مستحق نہیں ہو سکتے۔  ہم تو یہ دیکھیں گے کہ تم میں سے محسن کون ہے اور ظالم کون۔ پھر جو جیسا ہو گا، اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کریں گے۔

 

ترجمہ

 

اور ہم نے موسیٰ و ہارون پر احسان کیا، ان کو اور ان کو اور ان کی قوم کو کرب عظیم سے نجات دی(۶۹)، انہیں نصرت بخشی جس کی وجہ سے وہی غالب رہے،  ان کو نہایت واضح کتاب عطا کی، انہیں راہ راست دکھائی،  اور بعد کی نسلوں میں ان کا ذکر خیر باقی رکھا۔ سلام ہے موسیٰ اور ہارون پر۔  ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں،  در حقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

اور الیاس بھی یقیناً مرسلین میں سے تھا(۷۰)۔ یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’تم لوگ ڈرتے نہیں ہو؟کیا تم بعل (۷۱) کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو، اس اللہ کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے پچھلے آبا و اجداد کا رب ہے ؟‘‘ مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا،  سو اب یقیناً وہ سزا کے لیے پیش کیے جانے والے ہیں،  بجز ان بندگان خدا کے جن کو خالص کر لیا گیا تھا(۷۲)۔  اور الیاس کا ذکر خیر ہم نے بعد کی نسلوں میں باقی رکھا(۷۳)۔ سلام ہے الیاسؑ  پر۔  ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔  واقعی وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔

اور لوطؑ بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔  یاد کرو جب ہم نے اس کو اور اس کے سب گھر والوں کو نجات دی، سو ائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی(۷۵)۔ پھر باقی سب کو تہس نہس کر دیا۔  آج تم شب و روز ان کے اجڑے دیار پر سے گزرتے ہو(۷۶)۔ کیا تم کو عقل نہیں آتی؟ع

 

تفسیر

 

۶۹۔ یعنی اس شدید مصیبت سے جس میں وہ فرعون اور اس کی قوم کے ہاتھوں مبتلا تھے۔

۷۰۔ حضرت الیاس علیہ السلام انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے۔  ان کا ذکر قرآن مجید میں صرف دو ہی مقامات پر آیا ہے۔  ایک یہ مقام اور دوسرا سورہ انعام آیت ۸۵۔ موجودہ زمانہ کے محققین ان کا زمانہ ۸۷۵  اور  ۸۵۰ قبل مسیح کے درمیان متعین کرتے ہیں۔  وہ جِلْ عاد کے رہنے والے تھے (قدیم زمانہ میں جِلْ عاد اس علاقے کو کہتے تھے جو آج کل موجودہ ریاست اردن کے شمالی اضلاع پر مشتمل ہے اور دریائے یرموک کے جنوب میں واقع ہے۔ ) بائیبل میں ان کا ذکر ایلیاہ تشبِی(Elijah the Tishbite) کے ناک سے کیا گیا ہے۔  ان کے مختصر حالات حسب ذیل ہیں :

حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے بیٹے رجُبْعام (Rehoboam)کی نا اہلی کے باعث بنی اسرائیل کی سلطنت کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔  ایک حصہ جو بیت المقدس اور جنونی فلسطین پر مشتمل تھا، آل داؤد کے قبضے میں رہا،  اور دوسرا حصہ جو شمالی فلسطین پر مشتمل تھا اس میں ایک مستقل ریاست اسرائیل کے نام سے قائم ہو گئی اور بعد میں سامریہ اس کا صدر مقام قرار پایا۔  اگرچہ حالات دونوں ہی ریاستوں کے دگرگوں تھے،  لیکن اسرائیل کی ریاست شروع ہی سے سخت بگاڑ کی راہ پر چل پڑی تھی جس کی بدولت اس میں شرک و بت پرستی،  ظلم و ستم اور فسق و فجور کا زور بڑھتا چلا گیا، یہاں تک کہ جب اسرائیل کے بادشاہ اخی اب  (Ahab) نے صیدا (موجودہ لبنان ) کے بادشاہ کی لڑکی ایزبل (Iazebel)سے شادی کر لی تو یہ فساد اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ اس مشرک شہزادی کے اثر میں آ کر اخی اب خود بھی مشرک ہو گیا،  اس نے سامریہ میں بعل کا مندر اور مذبح تعمیر کیا، خدائے واحد کی پرستش کے بجائے بعل کی پرستش رائج کرنے کی بھر پور کوشش کی اور اسرائیل کے شہروں میں علانیہ بعل کے نام پر قربانیاں کی جانے لگیں۔

یہی زمانہ تھا جب حضرت الیاس علیہ السلام یکایک منظر عام پر نمودار  ہوئے اور انہوں نے جل عاد سے آ کر اخی اب کو  نوٹس دیا کہ تیرے گناہوں کی پاداش میں اب اسرائیل کے ملک پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہ برسے گا، حتیٰ کہ اوس تک نہ پڑے گی۔ خدا کے نبی کا یہ قول حرف بحرف صحیح ثابت ہوا ور ساڑھے تین سال تک بارش بالکل بند رہی۔  آخر کار اخی اب کے ہوش کچھ ٹھکانے آئے اور اس نے حضرت الیاس کو تلاش کرا کے بلوایا۔ انہوں نے بارش کے لیے دعا کرنے سے پہلے یہ ضروری سمجھا کہ اسرائیل کے باشندوں کو اللہ ربّ العالمین اور بعل کا فرق اچھی طرح بتا دیں۔  اس غرض کے لیے انہوں نے حکم دیا کہ ایک مجمع عام میں بعل کے پوجا ری بھی آ کر اپنے معبود کے نام پر قربانی کریں اور میں بھی اللہ رب العلمین کے نام پر قربانی کروں گا۔  دونوں میں سے جس کی قربانی بھی انسان کے ہاتھوں سے آگ لگائے بغیر غیبی آگ سے بھسم ہو جائے اس کے معبود کی سچائی ثابت ہو جائے گی۔  اخی اب نے یہ بات قبول کر لی۔ چنانچہ کوہ کرمل (Carmel)_ پر بعل کے ساڑھے آٹھ سو پجاری جمع ہوئے اور اسرائیلیوں کے مجمع عام میں ان کا اور حضرت الیاس علیہ السلام کا مقابلہ ہوا۔  اس مقابلے میں بعل پرستوں نے شکست کھائی اور حضرت الیاس نے سب کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ بعل ایک جھوٹا خدا ہے،  اصل خدا وہی ایک اکیلا خدا ہے جس کے نبی کی حیثیت سے وہ مامور ہو کر آئے ہیں۔  اس کے بعد حضرت الیاس نے اسی مجمع عام میں بعل کے پجاریوں کو قتل کر ا دیا اور پھر بارش کے لیے دعا کی جو فوراً قبول ہوئی یہاں تک کہ پورا ملک اسرائیل سیراب ہو گیا۔

لیکن معجزات کو دیکھ کر بھی زن مرید اخی اب اپنی بت پرست بیوی کے شکنجے سے نہ نکلا۔ اس کی بیوی ایزبل حضرت الیاس کی دشمن ہو گئی اور اس نے قسم کھا لی کہ جس طرح بعل کے پجاری قتل کیے گئے ہیں اسی طرح الیاس علیہ السلام بھی قتل کیے جائیں گے۔  ان حالات میں حضرت الیاس کو ملک چھوڑنا پڑا اور چند سال تک وہ کوہ سینا کے دامن میں پناہ گزیں رہے۔  اس موقع پر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو فریاد کی تھی اسے بائیبل ان الفاظ میں نقل کرتی ہے :

’’ بنی اسرائیل نے تیرے عہد کو ترک کیا اور تیرے مذبحوں کو ڈھا دیا اور تیرے نبیوں کو تلوار سے قتل کیا اور ایک میں ہی اکیلا بچا ہوں سو وہ میری جان لینے کے درپے ہیں ‘‘۔ (۱۔ سلاطین ۱۰:۱۹)

اسی زمانے میں بیت المقدس کی یہودی ریاست کے فرمانروا یہورام(Jehoram)نے اسرائیل کے بادشاہ اخی اب کی بیٹی سے شادی کر لی اور اس مشرک شہزادی کے اثر سے وہی تمام خرابیاں جو اسرائیل میں پھیلی ہوئی تھیں،  یہودیہ کی ریاست میں بھی پھیلنے لگیں۔  حضرت الیاس نے یہاں بھی فریضۂ نبوت ادا کیا اور یہورام کو ایک خط لکھا جس کے یہ الفاظ بائیبل میں نقل ہوئے ہیں :

’’خداوند تیرے باپ داؤد کا خدا یوں فرماتا ہے : اس لیے کہ تو نہ اپنے باپ یہو سفط کی راہوں پر اور نہ یہوواہ کے بادشاہ آسا کی راہوں پر چلا بلکہ اسرائیل کے بادشاہوں کی راہ پر چلا ہے اور یہوواہ اور یروشلم کے باشندوں کو زنا کار بنایا جیسا اخی اب کے خاندان نے کیا تھا اور اپنے باپ کے گھرانے میں سے اپنے بھائیوں کو جو تجھ سے اچھے تھے قتل بھی کیا،  سو دیکھ خداوند تیرے لوگوں کو اور تیری بیویوں کو اور تیرے سارے مال کو بڑی آفتوں سے مارے گا اور تو انتڑیوں کے مرض سے سخت بیمار ہو جائے گا یہاں تک کہ تیری انتڑیاں اس مرض کے سبب سے روز بروز نکلتی چلی جائیں گی(۲۔ تواریخ ۲۱:۱۲۔ ۱۵)

اس خط میں حضرت الیاس نے جو کچھ فرمایا تھا وہ پورا ہوا۔ پہلے یہورام کی ریاست بیرونی حملہ آوروں کی تاخت سے تباہ ہوئی اور اس کی بیویوں تک کو دشمن پکڑ لے گئے،  پھر وہ خود انتڑیوں کے مرض سے ہلاک ہوا۔

چند سال کے بعد حضرت الیاس پھر اسرائیل تشریف لے گئے اور انہوں نے اخی اب کو،  اور اس کے بعد اس کے بیٹے اَخزیاہ کو راہ راست پر لانے کی مسلسل کوشش کی، مگر جو بدی سامریہ کے شہی خاندان میں گھر کر چکی تھی وہ کسی طرح نہ نکلی۔  آخر کار حضرت کی بد دعا سے اخی اب کا گھرانا ختم ہو گیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نی اپنے نبی کو دنیا سے اٹھا لیا۔ ان واقعات کی تفصیل کے لیے بائیبل کے حسب ذیل ابواب ملاحظہ ہوں : ۱۔ سلاطین،  باب ۱۷۔ ۱۸۔ ۱۹۔ ۲۱۔ ۲۔ سلاطین باب ۱۔ ۲۔ ۳۔ تواریخ باب ۲۱۔

۷۱۔ بعل کے لغوی معنی آقا،  سردار  اور مالک کے ہیں۔  شوہر کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا تھا اور متعدد مقامات پر خود قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے،  مثلاً سورہ بقرہ آیت ۲۲۸،  سورہ نساء آیت ۱۲۷، سورہ ہود آیت ۷۲، اور سورہ نور آیت ۳۱ میں۔  لیکن قدیم زمانے کی سامی اقوام اس لفظ کو الٰہ یا خداوند کے معنی میں استعمال کرتی تھیں اور انہوں نے ایک خاص دیوتا کو بعل کے نام سے موسوم کر رکھا تھا۔ خصوصیت کے ساتھ لبنان کی فنیقی قوم (Phoenicians)کا سب سے بڑا نر دیوتا کو بعل تھا اور اس کی بیوی عستارات (Ashtoreth)ان کی سب سے بڑی دیوی تھی۔  محققین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ آیا بعل سے مراد سورج ہے یا مشتری، اور عستارات سے مراد چاند ہے یا زہرہ۔  بہرحال یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ بابل سے لے کر مصر تک پورے مشرق اوسط میں بعل پرستی پھیلی ہوئی تھی، اور خصوصاً لبنان،  اور شام و فلسطین کی مشرک اقوام بری طرح اس میں مبتلا تھیں۔  بنی اسرائیل جب مصر سے نکلنے کے بعد فلسطین اور مشرق اردن میں آ کر آباد ہوئے،  اور توراۃ کے سخت امتناعی احکام کی خلاف ورزی کر کے انہیں نے ان مشرک قوموں کے ساتھ شادی بیاہ اور معاشرت کے تعلقات قائم کرنے شروع کر دیے،  تو ن کے اندر بھی یہ مرض پھیلنے لگا۔  بائیبل کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ اور حضرت یوشع بن جون کی وفات کے بعد ہی بنی اسرائیل میں یہ اخلاقی و دینی زوال رو نما ہونا شروع ہو گیا تھا:

’’اور بنی اسرائیل نے خدا کے آگے بدی کی اور بعلیم کی پرستش کرنے لگے ـــــــ اور وہ خداوند کو چھوڑ کر بعل اور عستارات کی پرستش کرنے لگے ‘‘ (قضاۃ ۲:َ۱۱۔ ۱۳ )

’’ سو بنی اسرائیل کنعانیوں اور حتّیوں اور اموریوں اور فِرِ زّیوں اور یبوسیوں کے درمیان بس گئے اور بیٹیوں سے آپ نکاح کرنے اور اپنی بیٹیاں ان کے بیٹوں کو سینے اور ان کے دیوتاؤں کی پرستش کرنے لگے (قضاۃ ۲:۵۔ ۲)

اس زمانہ میں بعل پرستی اسرائیلیوں میں اس قدر گھُس چکی تھی کہ بائیبل کے بیان کے مطابق ان کی ایک بستی میں علانیہ بعل کا مذبح بنا ہوا تھا جس پر قربانیاں کی جاتی تھیں۔  ایک خدا پرست اسرائیل اس حالت کو برداشت نہ کر سکا اور اس نے رات کے وقت چپکے سے یہ مذبح توڑ دیا۔ دوسرے روز ایک مجمع کثیر اکٹھا ہو گیا اور وہ اس شخص کے قتل کا مطالبہ کرنے لگا جس نے شرک کے اس اڈّے کو توڑا تھا(قضاۃ ۶:۲۵۔ ۳۲)۔ اس صورت حال کو آخر کار حضرت سموایل،  طالوت،  داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام نے ختم کیا اور نہ صرف بنی اسرائیل کی اصلاح کی بلکہ اپنی مملکت میں بالعموم شرک و بت پرستی کو دبا دیا۔  لیکن حضرت سلیمان کی وفات کے بعد یہ فتنہ پھر ابھرا اور خاص طور پر شمالی فلسطین کی اسرائیلی ریاست بعل پرستی کے سیلاب میں بہہ گئی۔

۷۲۔ یعنی اس سزا سے صرف وہی لوگ مستثنیٰ ہوں گے جنہوں نے حضرت الیاس کو نہ جھٹلایا اور جن کو اللہ نے اس قوم میں سے اپنی بندگی کے لیے چھانٹ لیا۔

۷۳۔ حضرت الیاس علیہ السلام کو ان کی زندگی میں تو بنی اسرائیل نے جیسا کچھ ستایا اس کی داستان اوپر گزر چکی ہے،  مگر بعد میں وہ ان کے ایسے گرویدہ و شیفتہ ہوئے کہ حضرت موسیٰ کے بعد کم ہی لوگوں کو انہوں نے ان بڑھ کر جلیل القدر مانا ہو گا۔ ان کے ہاں مشہور ہو گیا کہ الیاس ہو گیا کہ الیاس علیہ السلام ایک بگولے میں آسمان پر زندہ اٹھا لیے  گئے ہیں (۲ سلاطین،  باب دوم) اور یہ کہ وہ پھر دنیا میں تشریف لائیں گے۔  چنانچہ بائیبل کی کتاب ملا کی میں لکھا ہے :

’’ دیکھو،  خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پہلے میں ایلیاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا‘‘(۴:۵)

حضرت یحیٰی اور  عیسیٰ علیہما السلام کی بعثت کے زمانہ میں یہودی بالعموم تین آنے والوں کے منتظر تھے۔  ایک حضرت الیاس۔  دوسرے مسیح۔ تیسرے ’’ وہ نبی‘‘(یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم)۔  جب حضرت یحییٰ کی نبوت شروع ہوئی اور انہوں نے لوگوں کو  اصطباغ  دنیا شروع کیا تو یہودیوں کے مذہبی پیشواؤں نے ان کے پاس جا کر پوچھا کیا تم مسیح ہو؟ انہوں نے کہا نہیں۔  پھر پوچھا کیا تم ایلیاہ ہو؟ انہوں نے کہا نہیں۔  پھر پوچھا کیا تم ’’ وہ نبی ‘‘ ہو؟ انہوں نے کہا میں وہ بھی نہیں ہوں۔  تب انہوں نے کہا اگر تم نہ مسیح ہو، نہ ایلیاہ،  نہ وہ نبی، تو پھر تم بپتسمہ کیوں دیتے ہو؟ (یوحنا ۱:۱۹۔ ۲۶)۔  پر کچھ مدت بعد جب حضرت عیسیٰ علیہ و سلم کا غلغلہ بلند ہوا تو یہودیوں میں یہ خیال پھیل گیا کہ شاید ایلیاہ نبی آ گئے ہیں (مرقس ۶:۱۵۔ ۱۵) خود حضرت عیسیٰ علیہ والسلام کے حواریوں میں بھی یہ خیال پھیلا ہوا تھا کہ ایلیاہ نبی آنے والے ہیں۔  مگر حضرت نے یہ فرما کر ان کی غلط فہمی کو رفع فرمایا کہ ’’ ایلیاہ تو آ چکا،  اور لوگوں نے اسے نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اس کے ساتھ کیا۔ ‘‘ اس سے حواری خود جان گئے کہ دراصل آنے والے حضرت یحییٰ تھے نہ کہ آٹھ سو برس پہلے گزرے ہوئے حضرت الیاس (متی ۱۱:۱۴ اور متی ۱۷:۱۰۔ ۱۳)۔

۷۴۔ اصل میں الفاظ ہیں سَلِا مٌ  عَلیٰ  اِلْ یَا سِیْن۔  اس کے متعلق بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ حضرت الیاس کا دوسرا نام ہے،  جس طرح حضرت ابراہیم کا دوسرا نام ابراہام تھا۔ اور بعض دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ اہل عرب میں عبرانی اسماء کے مختلف تلفظ رائج تھے،  مثلاً میکال اور میکائیل  اور میکائین ایک فرشتے کو کہا جاتا تھا۔  ایسا ہی معاملہ حضرت الیاس کے نام کے ساتھ بھی ہوا ہے خود قرآن مجید میں ایک ہی پہاڑ کا نام طور سینا ء بھی آیا ہے اور طور سینین بھی۔

۷۵۔ اس سے مراد حضرت لوط کی بیوی ہے جو ہجرت کا حکم آنے پر اپنے شوہر نامدار کے ساتھ نہ گئی بلکہ اپنی قوم کے ساتھ رہی اور مبتلائے عذاب ہوئی۔

۷۶۔ اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ قریش کے تاجر شام و فلسطین کی طرف جاتے ہوئے شب و روز اس علاقے سے گزرتے تھے جہاں قوم لوط کی تباہ شدہ بستیاں واقع تھیں۔

 

ترجمہ

 

اور یقیناً یونسؑ بھی رسولوں میں سے تھا(۷۷)۔ یاد کرو جب وہ ایک بھری کشتی کی طرف بھاگ نکلا، (۷۸)، پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا اور اس میں مات کھائی۔  آخر کار مچھلی نے اسے نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا(۷۹)۔ اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا(۸۰) تو روز قیامت تک اسی مچھلی کے پیٹ میں رہتا(۸۱)۔ آخر کار ہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیا(۸۲)۔ اور اس پر ایک بیلدار درخت اگا دیا۔ اس کے بعد ہم نے اسے ایک لاکھ،  یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا(۸۴)، وہ ایمان لائے اور ہم نے ایک وقت خاص تک انہیں باقی رکھا(۸۵)۔

پھر ذرا ان لوگوں سے پوچھو (۸۶)، کیا (ان کے دل کو یہ بات لگتی ہے کہ( تمہارے رب کے لیے تو ہوں بیٹیاں اور ان کے لیے ہوں بیٹے !(۸۷) کیا واقعی ہم نے ملائکہ کو عورتیں ہی بنا یا ہے اور ی آنکھوں دیکھی  بات کہ رہے ہیں ؟ خوب سن رکھو،  دراصل یہ لوگ اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے،  اور فی الواقع یہ جھوٹے ہیں۔  کیا للہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں اپنے لیے پسند کر لیں ؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے،  کیسے حکم لگا رہے ہو۔ کیا تمہیں ہوش نہیں آتا۔  یا پھر تمہارے پاس اپنی ان باتوں کے لیے کوئی صاف سند ہے،  تو لاؤ اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو(۸۸)۔

انہیں نے اللہ اور ملائکہ کے درمیان نسب کا رشتہ بنا رکھا ہے،  حالانکہ ملائکہ خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ مجرم کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں (اور وہ کہتے ہیں کہ) ’’ اللہ ان صفات سے پاک ہے جو اس کے خالص بندوں کے سوا دوسرے لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔  پس تم اور تمہارے یہ معبود اللہ سے کسی کو پھیر نہیں سکتے مگر صرف اس کو جو دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھلسنے والا ہو(۹۰)۔ اور ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے (۹۱)، اور ہم صف بستہ خدمت گار ہیں اور تسبیح کرنے والے ہیں ‘‘۔

یہ لوگ پہلے تو کہا کرتے تھے کہ کاش ہمارے پاس وہ ’’ ذکر‘‘ ہوتا جو پچھلی قوموں کو ملا تھا تو ہم اللہ کے چیدہ بندے ہوتے (۹۲)۔ مگر (جب وہ آ گیا )تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا۔ اب عنقریب انہیں (اس روش کا نتیجہ)معلوم ہو جائے گا۔ اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کر چکی ہیں کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا(۹۳)۔ پس اے نبیؐ،  ذرا کچھ مدّت تک انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور دیکھتے رہو، عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے۔ (۹۴)۔ کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟ جب وہ ان کے صحن میں آ اترے گا تو وہ دن ان لوگوں کے لیے بہت برا ہو گا جنہیں متنبہ کیا جا چکا ہے۔ بس ذرا انہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دو اور دیکھتے رہی، عنقریب یہ خود دیکھ لیں گے۔

پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک،  ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔  اور سلام ہے مرسلین پر، اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔ ع

 

تفسیر

 

۷۷۔ یہ تیسرا موقع ہے جہاں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔  اس سے پہلے سورہ یونس اور سورہ انبیاء میں ان کا ذکر گزر چکا ہے اور ہم اس کی تشریح کر چکے ہیں (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم،  صفحہ ۳۱۲۔ ۳۱۳۔ جلد سوم،  صفحہ ۱۸۲۔ ۱۸۳)

۷۸۔ اصل میں لفظ اَبَقَ استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں صرف اس وقت  بولا جاتا ہے جبکہ غلام اپنے آقا کے ہاں سے بھاگ جائے۔  الاباق ھرب العبد من سیدہ۔ ’’ اِباق کے معنی ہیں غلام کا اپنے آقا سے فرار ہو جانا (لسان العرب )

۷۹۔ ان فقروں پر غور کرنے سے جو صورت واقعہ سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ:

(۱)حضرت یونس جس کشتی میں سوار ہوئے تھے وہ اپنی گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی(Overloaded)تھی۔

(۲) قرعہ اندازی کشتی میں ہوئی، اور غالباً اس وقت جب بحری سفر کے دوران میں یہ محسوس ہوا کہ بوجھ کی زیادتی کے سبب سے تمام مسافروں کی جان خطرے میں پڑ گئی  ہے۔  لہٰذا قرعہ اس غرض کے لیے ڈالا گیا کہ جس کا نام قرعہ میں نکلے اسے پانی میں پھینک دیا جائے۔

(۳) قرعہ میں حضرت یونس ہی کا نام نکلا،  وہ سمندر میں پھینک دیے گئے اور ایک مچھلی نے ان کو نگل لیا۔

(۴) اس ابتلا میں حضرت یونس اس لیے مبتلا ہوئے کہ وہ اپنے آقا (یعنی اللہ تعالیٰ) کی اجازت کے بغیر اپنے مقام ماموریت سے فرار ہو گئے تھے۔  اس معنی پر لفظ اَبَقَ بھی دلالت کرتا ہے جس کی تشریح اوپر حاشیہ  نمبر ۷۸ میں گزرچکی ہے،  اور اسی معنی پر لفظ مُلِیْم بھی دلالت کرتا ہے۔  مُلیم ایسے قصور وار آدمی کو کہتے ہیں جو اپنے قصور  کی وجہ سے آپ ہی ملامت کا مستحق ہو گیا ہو،  خواہ اسے ملامت کی جائے یا نہ کی جائے (یقال قد الام الر جل اذا اتیٰ ما یلام علیہ من الامر و ان لم یُلِم۔  ابن جریر)

۸۰۔ اس کے دو مطلب ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں۔  ایک مطلب یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام پہلے ہی خدا سے غافل لوگوں میں سے نہ تھے،  بلکہ ان لوگوں میں سے تھے جو دائماً اللہ کی تسبیح کرنے والے ہیں۔  دوسرے یہ کہ جب وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچے تو انہوں نے اللہ ہی کی طرف رجوع کیا اور اس کی تسبیح کی۔ سورہ انبیا میں ارشاد ہوا ہے فَنَا دٰ ی فِی الظُّلُمٰتِ اَن ْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَا نَکَ اِنِّی کُنْتُ مِنِ الظَّا لِمِیْنَ۔  پس ان تاریکیوں میں اس نے پکارا ’’ نہیں ہے کوئی خدا مگر تو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں قصور وار ہوں۔ ‘‘

۸۱۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ مچھلی قیامت تک زندہ رہتی اور حضرت یونس ؑ قیامت تک اس کے پیٹ میں زندہ رہتے،  بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت تک اس مچھلی کا پیٹ ہی حضرت یونسؑ کی قبر بنا رہتا۔ مشہور مفسر قتادہ نے اس آیت کا یہی مطلب بیان کیا ہے (ابن جریر)۔

۸۲۔ یعنی جب حضرت یونسؑ نے اپنے قصور کا اعتراف کر لیا اور وہ ایک بندہ مومن و قانت کی طرح اس کی تسبیح میں لگ گئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مچھلی نے ان کو ساحل پر اُگل دیا۔  ساحل ایک چٹیل میدان تھا جس میں کوئی روئیدگی نہ تھی، نہ کوئی ایسی چیز تھی جو حضرت یونسؑ پر سایہ کرتی،  نہ وہاں غذا کا کوئی سامان موجود تھا۔

اس مقام پر بہت سے عقلیت کے مدعی حضرات یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ مچھلی کے پیٹ میں جا کر کسی انسان کا زندہ نکل آنا غیر ممکن ہے۔  لیکن پچھلی ہی صدی کے اواخر میں اس نام نہاد عقلیت کے گڑھ (انگلستان) کے سواحل سے قریب ایک واقعہ پیش آ چکا ہے جو ان کے دعوے کی تردید  کر دیتا ہے۔  اگست ۱۸۹۱ء میں ایک جہاز (Sta r the East) پر کچھ مچھیرے وہیل کے شکار کے لیے گہرے سمندر میں گئے۔  وہاں انہوں نے ایک بہت بڑی مچھلی کو جو ۲۰ فیٹ لمبی،  ۵ فیٹ چوڑی اور سو ٹن وزنی تھی، سخت زخمی کر دیا۔ مگر اس سے جنگ کرتے ہوئے جیمز بارٹلے نامی ایک مچھیرے کو اس کے ساتھیوں کی آنگھوں کے سامنے مچھلی نے نگل لیا۔ دوسرے روز وہی مچھلی اس جہاز کے لوگوں کو مری ہوئی مل گئی۔ انہوں نے بمشکل اسے جہاز پر چڑھایا  اور پھر طویل جدوجہد کے بعد جب اس کا پیٹ چاک کیا تو بارٹلے اس کے اندر سے زندہ برآمد ہو گیا۔ یہ شخص مچھلی کے پیٹ میں پورے ۶۰ گھنٹے رہا تھا (اردو ڈائجسٹ، فروری ۱۹۶۴ء )۔ غور کرنے کی بات ہے کہ اگر معمولی حالات میں فطری طور پر ایسا ہونا ممکن ہے تو غیر معمولی حالات میں اللہ تعالیٰ کے معجزے کے طور پر ایسا ہونا کیوں غیر ممکن ہے ؟

۸۳۔ اصل الفاظ ہیں شَجَرَۃً مِّنْ یَّقْطِیْن۔  یقطین عربی زبان میں ایسے درخت کو کہتے ہیں جو کسی تنے پر کھڑا نہیں ہوتا بلکہ بیل کی شکل میں پھیلتا ہے،  جیسے، کدو، تربوز، ککڑی وغیرہ بہر حال وہاں کوئی ایسی بیل معجزانہ طریقہ پر پیدا کر دی گئی تھی جس کے پتے حضرت یونس پر سایہ بھی کریں اور جس کے پھل ان کے لیے بیک وقت غذا کا کام بھی دیں اور پانی کا کام بھی۔

۸۴۔ ’’ ایک لاکھ یا اس سے زائد ‘‘ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی تعداد میں شک تھا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ان کی بستی کو دیکھتا تو یہی اندازہ کرتا کہ اس شہر کی آبادی ایک لاکھ سے زائد ہی ہو گی، کم نہ ہو گی۔ اغلب یہ ہے کہ یہ  وہی بستی تھی جس کو چھوڑ کر حضرت یونس بھاگے تھے۔  ان کے جانے کے بعد عذاب آتا دیکھ کر جو ایمان اس بستی کے  لوگ لے آئے تھے اس کی حیثیت صرف توبہ کی تھی جسے قبول کر کے عذاب ان پر سے ٹال دیا گیا تھا۔ اب حضرت یونس علیہ السلام دوبارہ ان کی طرف بھیجے گئے تاکہ وہ نبی پر ایمان لا کر باقاعدہ مسلمان  ہو جائیں۔  اس مضمون کو سمجھنے کے لیے سورہ یونس،  آیت ۹۸ نگاہ میں رہنی چاہیے۔

۸۵۔ حضرت یونس کے اس قصے کے متعلق سورہ یونس اور سورہ انبیا ء کی تفسیریں  جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس پر بعض لوگوں نے اعتراضات کیے ہیں،  اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دوسرے مفسرین کے اقوال بھی نقل کر دیے جائیں۔

مشہور مفسر قَتَادہ سورہ یونس،  آیت ۹۸ کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’ کوئی بستی ایسی نہیں گزری ہے جو کفر کر چکی ہو اور عذاب آ جانے کے بعد ایمان لائی ہو اور پھر اسے چھوڑ دیا گیا ہو۔ اس سے صرف قوم یونس مستثنیٰ ہے۔  انہوں نے جب اپنے نبی کو تلاش کیا اور نہ پایا،  اور محسوس کیا کہ عذاب قریب آ گیا ہے تو اللہ نے ان کے دلوں میں توبہ ڈال دی‘‘ (ابن کثیر،  جلد ۲، ص ۴۳۳)

اسی آیت کی تفسیر علامہ آلوسی لکھتے ہیں : ’’ اس قوم کا قصہ یہ ہے کہ یونس علیہ السلام موصل کے  علاقے میں نینویٰ کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔  یہ کافر و مشرک لوگ تھے۔  حضرت یونس نے ان کو اللہ وحدہٗ لا شریک پر ایمان لانے اور بتوں کی پرستش چھوڑ دینے کی دعوت دی۔  انہوں نے انکار کیا اور جھٹلایا۔  حضرت یونس نے ان کو خبر دی کہ تیسرے دن ان پر عذاب آ جائے گا اور تیسرا دن آنے سے پہلے آدھی رات کو وہ بستی سے نکل گئے۔  پھر دن کے وقت جب عذاب اس قوم کے سروں پر پہنچ گیاـــــــــ اور انہیں یقین ہو گیا کہ سب ہلاک ہو جائیں گے تو انہوں نے اپنے نبی کو تلاش کیا، مگر نہ پایا۔  آخر کار وہ سب اپنے بال بچوں اور جانوروں کو لے کر صحرا میں نکل آئے  اور ایمان و توبہ کا اظہار کیا ــــــــ پس اللہ نے ان پر رحم کیا اور ان کی دعا قبول کر لی‘‘ (روح المعانی، جلد ۱۱،  ص ۱۷۰)

سورہ انبیا ء کی آیت ۸۷ کی تشریح کرتے ہوئے علامہ آلوسی لکھتے ہیں : ’’ حضرت یونس کا ا پنی  قوم سے ناراض ہو کر نکل جانا ہجرت کا فعل تھا، مگر انہیں اس کا حکم نہیں دیا گیا تھا‘‘ (روح المعانی، ج ۱۷، ص ۷۷) پھر وہ حضرت یونسؑ کی دعا کے فقرہ  اِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّا لِمِیْن کا مطلب یوں بیان کرتے ہیں : ’’ یعنی میں قصور وار تھا کہ انبیاء کے طریقہ کے خلاف،  حکم آنے سے پہلے،  ہجرت کرنے میں جلدی کر بیٹھا۔  یہ حضرت یونس علیہ السلام کی طرف سے اپنے گناہ کا اعتراف اور توبہ کا اظہار تھا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی اس مصیبت کو دور فرما دے ‘‘ (روح المعانی، ج ۱۷، ص ۷۸)

مولانا اشرف علی تھانوی کا حاشیہ اس آیت پر یہ ہے کہ ’’ وہ اپنی قوم پر جبکہ وہ ایمان نہ لائی خفا ہو کر چل دیے اور قوم پر سے عذاب ٹل جانے کے بعد بھی خود واپس نہ آئے اور اس سفر کے لیے ہمارے حکم کا انتظار نہ کیا‘‘ (بیان القرآن)

اسی آیت پر مولانا شبیر احمد عثمانی حاشیہ میں فرماتے ہیں :’’ قوم کی حرکات سے خفا ہو کر غصّے میں بھرے ہوئے شہر سے نکل گئے،  حکم الٰہی کا انتظار نہ کیا اور وعدہ کر گئے کہ تین دن کے بعد تم پر عذاب آئے گا ـــــــ اِنِّ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْن، اپنے خطا کا اعتراف کیا کہ بے شک میں نے جلدی کی تیرے حکم کا انتظار کیے بدون بستی والوں کو چھوڑ کر نکل کھڑا ہوا۔ ‘‘

سورہ صافات کی آیات بالا کی تشریح میں امام رازی لکھتے ہیں : ’’ حضرت یونس کا تصور یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس قوم کو جس نے انہیں جھٹلایا تھا، ہلاک کرنے کا وعدہ فرمایا،  یہ سمجھے کہ یہ عذاب لا محالہ نازل ہونے والا ہے،  اس لیے انہوں نے صبر نہ کیا اور قوم کو دعوت دینے کا کام چھوڑ کر نکل گئے،  حالانکہ ان پر واجب تھا کہ دعوت کا کام برابر جاری رکھتے،  کیونکہ اس امر کا امکان باقی تھا کہ اللہ ان لوگوں کو ہلاک نہ کرے ‘‘ (تفسیر کبیر، ج ۷، ص ۱۸۵)

علامہ آلوسی اِذْ اَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُون پر لکھتے ہیں : ’’ ابق کے اصل معنی آقا کے ہاں سے غلام کے فرار ہونے کے ہیں۔  چونکہ حضرت یونس اپنے رب کے اذن کے بغیر اپنی قوم سے بھاگ نکلے تھے اس لیے اس لفظ کا اطلاق ان پر درست ہوا۔ ‘‘ پھر آگے چل کر لکھتے ہیں :’’ جب تیسرا دب ہوا تو حضرت یونس اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر نکل گئے۔  اب جو ان کی قوم نے ان کو نہ پایا تو وہ اپنے بڑے اور چھوٹے اور جانوروں،  سب کو ل کر نکلے،  اور نزول عذاب ان سے قریب تھا، پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور زاری کی اور معافی مانگی اور اللہ نے انہیں معاف کر دیا‘‘ (روح المعانی، جلد ۲۳،  ص، ۱۳)

مولانا شبیر احمد صاحب وَھُوَ مُلِیْم کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ الزام یہی تھا کہ خطائے اجتہادی سے حکم الٰہی کا انتظار کیے بغیر بستی سے نکل پڑے اور عذاب کے دن کی تعیین کر دی۔ ‘‘

پھر سورہ القلم کی آیت  فَا صْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْ تِ  پر مولانا شبیر احمد صاحب کا حاشیہ یہ ہے ’’ یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے والے پیغمبر (حضرت یونس علیہ السلام ) کی طرح مکذبین کے معاملہ میں تنگ دلی اور گھبراہٹ کا اظہار نہ کیجیے ‘‘۔ اور اسی آیت کے فقرہ وَھُوَ مَکْظُوْم پر حاشیہ تحریر کرتے ہوئے مولانا فرماتے ہیں : یعنی قوم کی طرف سے غصے میں بھرے ہوئے تھے۔  جھنجھلا کر شتابی عذاب کی دعا،  بلکہ پیشن کر بیٹھی۔ ‘‘

مفسرین کے ان بیانات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تین قصور تھے جن کی وجہ سے حضرت یونس پر عتاب ہوا۔ ایک یہ کہ انہوں نے عذاب کے دن کی خود ہی تعیین کر دی حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا کوئی اعلان نہ ہوا تھا۔ دوسرے یہ کہ وہ دن آنے سے پہلے ہجرت کر کے ملک سے نکل گئے،  حالانکہ نبی کو اس وقت تک اپنی جگہ نہ چھوڑنی چاہیے جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نہ آ جائے۔  تیسرے یہ کہ جب اس قوم پر سے عذاب ٹل گیا تو واپس نہ گئے۔

۸۶۔ یہاں سے ایک دوسرا مضمون شروع ہوتا ہے۔  پہلا مضمون آیت نمبر ۱۱ سے شروع ہوا تھا جس میں کفار مکہ کے سامنے یہ سوال رکھا گیا تھا ’’ ان سے پوچھو،  کیا ان کا پیدا کرنا زیادہ مشکل کام ہے یا ان چیزوں کا جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں ‘‘۔ اب انہی کے سامنے یہ دوسرا سوال پیش کیا جا رہا ہے۔  پہلے سوال کا منشا کفار کو ان کی اس گمراہی پر متنبہ کرنا تھا کہ وہ زندگی بعد موت اور جزا و سزا کو غیر ممکن الوقوع سمجھتے تھے اور اس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مذاق اڑاتے تھے۔  اب یہ دوسرا سوال ان کی اس جہالت پر متنبہ کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد منسوب کرتے تھے اور قیاسی گھوڑے دوڑا کر جس کا چاہتے تھے اللہ سے رشتہ جوڑ دیتے تھے۔

۸۷۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب میں قریش،  جُہینہ،  بنی سَلِمہ،   خزاعہ، بن مُلیح اور  بعض دوسرے قبائل کا عقیدہ یہ تھا کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔  قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ان کے اس جاہلانہ عقیدے کا ذکر کیا گیا ہے۔  مثال کے طور پر ملاحظہ ہو النساء، آیت ۱۱۷۔  النحل آیات ۵۷۔ ۵۸۔ بنی اسرائیل،  آیت ۴۰۔ الزخرف، آیات ۱۶ تا ۱۹۔ النجم،  آیات ۲۱ تا ۲۷۔

۸۸۔ یعنی ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دینے کے لیے دو ہی بنیادیں ہو سکتی ہیں۔  یا تو ایسی بات مشاہدے کی بنا پر کہی جا سکتی ہے،  یا پھر اس طرح کا دعویٰ کرنے والے کے پاس کوئی کتاب الٰہی ہونی چاہیے جس میں اللہ تعالیٰ نے خود یہ فرمایا ہو کہ ملائکہ میری بیٹیاں ہیں۔  اب اگر اس عقیدے کے قائلین نہ مشاہدے کا دعویٰ کر سکتے ہیں،  اور نہ کوئی کتابِ الہٰی ایسی رکھتے ہیں جس میں یہ بات کہی گئی ہو،  تو اس سے بڑی جہالت و حماقت اور کیا ہو سکتی ہے  کہ محض ہوائی باتوں پر ایک دینی عقیدہ قائم کر لیا جائے اور خداوند عالم کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائیں جو صریحاً مضحکہ انگیز ہیں۔

۸۹۔ اصل میں ملائکہ کے بجائے الجنّہ کا لفظ استعمال ہوا ہے،  لیکن بعض اکابر مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں جِنّ کا لفظ اپنے لغوی مفہوم (پوشیدہ مخلوق) کے لحاظ سے ملائکہ کے لیے استعمال کیا گیا ہے،  کیونکہ ملائکہ بھی اصلاً ایک پوشیدہ مخلوق ہی ہیں۔  اور بعد کا مضمون اسی بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہاں الجِنہ کے لفظ کو ملائکہ  کے معنی میں لیا جائے۔

۹۰۔ اس آیت کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے :’’پس تم اور تمہاری یہ عبادت،  اس پر تم کسی کو فتنے میں نہیں ڈال سکتے صرف اس کو جو ـــــــــــ ‘‘ اس دوسرے ترجمے کے لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ اے گمراہو،  یہ جو تم ہماری پرستش کر رہے ہو اور ہمیں اللہ رب العالمین کی اولاد قرار دے رہے ہو، اس سے تم ہم کو فتنے میں نہیں ڈال سکتے۔  اس سے تو کوئی ایسا احمق ہی فتنے میں پڑ سکتا ہے جس کی شامت سر پر سوار ہو۔ دوسرے الفاظ میں گویا فرشتے اپنے ان پرستاروں سے کہہ رہے ہیں کہ ’’ برد ایں دام بر مرغِ وگرنہ‘‘۔

۹۱۔ یعنی اللہ کی اولاد ہونا تو درکنار،  ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے جس کاجو درجہ اور مرتبہ مقرر ہے اس سے ذرہ برابر تجاوز تک کرنے کی مجال ہم نہیں رکھتے۔

۹۲۔ یہی مضمون سورہ فاطر،  آیت ۴۲ میں گزر چکا ہے۔

۹۳۔ اللہ کے لشکر سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو اللہ کے رسول کی پیروی کریں اور اس کا ساتھ دیں۔  نیز وہ غیبی طاقتیں بھی اس میں شامل ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اہل حق کی مدد فرماتا ہے۔

اس امداد اور غلبہ کے معنی لازماً یہی نہیں ہیں کہ ہر زمانہ میں اللہ کے ہر نبی اور اس کے پہروؤں کو سیاسی غلبہ ہی حاصل ہو۔ بلکہ اس غلبے کی بہت سی صورتیں ہیں جن میں سے ایک سیاسی غلبہ بھی ہے۔  جہاں اس نوعیت کا استیلاء اللہ کے نبیوں کو حاصل نہیں ہوا ہے،  وہاں  بھی ان کا اخلاقی تفوّق ثابت ہو کر رہا ہے۔  جن قوموں نے ان کی بات نہیں مانی ہے اور ان کی دی ہوئی ہدایات کے خلاف راستہ اختیار کیا ہے وہ آخر کار برباد ہو کر رہی ہیں۔  جہالت رضالت کے جو فلسفے بھی لوگوں نے گھڑے اور زندگی کے جو بگڑے ہوئے اطوار بھی زبردستی رائج کیے گئے وہ سب کچھ مدت تک زور دکھانے کے بعد آخر کار اپنی موت آپ مر گئے۔  مگر جن حقیقتوں کو ہزار ہا برس سے اللہ کے نبی حقیقت و صداقت کی حیثیت سے پیش کرتے رہے ہیں وہ پہلے بھی اٹل تھیں اور آج بھی اٹل ہیں۔  انہیں اپنی جگہ سے کوئی ہلا نہیں سکا ہے۔

۹۴۔ یعنی کچھ زیادہ مدت نہ گزرے گی کہ اپنی شکست اور تمہاری فتح کو یہ لوگ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔  یہ بات جس طرح فرمائی گئی تھی اسی طرح پوری ہوئی۔ ان آیات کے نزول پر بمشکل  ۱۴۔ ۱۵ سال گزرے تھے کہ کفار مکہ نے اپنی آنکھوں سے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا فاتحانہ داخلہ اپنے شہر میں دیکھ لیا، اور پھر اس کے چند سال بعد انہی لوگوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ اسلام نہ صرف عرب پر، بلکہ روم و ایران کی عظیم سلطنتوں پربھی غالب آ گیا۔

٭٭٭

 

 

 

(۳۸) سورۃ ص

 

نام

 

آغاز ہی کے حرف  ص   سورہ کا نام قرار دیا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

جیسا کہ آگے چل کر بتایا جائے گا، بعض روایات کی رو سے یہ سورۃ اس زمانے میں نازل ہوئی  تھی جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ معظمہ میں  علانیہ دعوت کا آغاز کیا تھا اور قریش کے سرداروں میں اس  پر کھلبلی مچ گئی تھی۔ اس لحاظ سے اس کا زمانہ نزول تقریباً نبوت کا چوتھا سال قرار پاتا ہے۔  بعض دوسرے روایات اسے حضرت عمر کے ایمان لانے کے بعد کا واقعہ بتاتی ہیں،  اور معلوم ہے کہ وہ ہجرت حبشہ کے بعد ایمان لائے تھے۔  ایک اور سلسلہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوطالب کے آخری مرض کے زمانہ میں وہ معاملہ پیش آیا تھا جس پر یہ سورۃ نازل ہوئی۔ اسے اگر صحیح مانا جائے تو اس کا زمانہ نزول نبوت کا دسواں یا گیارہواں سال ہے۔

تاریخی پس منظر  : امام احمد، نسائی، ترمذی، ابن جریر، ابن ابی شیبہ، ابن ابی حاتم اور محمد بن اسحاق وغیرہ نے جو روایات نقل کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ابو طالب بیمار ہوئے اور قریش کے سرداروں نے محسوس کیا کہ اب یہ ان کا آخری وقت ہے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ چل کر شیخ سے بات کرنی چاہیے۔  وہ ہمارا اور اپنے بھتیجے کا جھگڑا چکا جائیں تو اچھا ہے۔  کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا انتقال ہو جائے  اور ان کے بعد ہم محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کے ساتھ کوئی سخت معاملہ کریں اور عرب کے لوگ ہمیں طعنہ دیں کہ جب تک شیخ زندہ تھا، یہ لوگ اس کا لحاظ کرتے رہے،  اب اس کے مرنے کے بعد ان لوگو ں نے اس کے بھتیجے پر ہاتھ ڈالا ہے۔  اس رائے پر سب کا اتفاق ہو گیا اور تقریباً ۲۵ سرداران قریش، جن میں ابو جہل، ابو سفیان، امیہ بن خلف، عاص بن وائل، اسود بن المطلب، عقنہ بن ابی معیط، عتبہ اور شیبہ شامل تھے،  ابو طالب کے پاس پہنچے۔  ان لوگوں نے پہلے تو حسب معمول نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف اپنی شکایات بیان کیں،  پھر کہا ہم آپ کے سامنے ایک انصاف کی بات پیش کرنے آئے ہیں۔  آپ کا بھتیجا ہمیں ہمارے دین پر چھوڑ دے اور ہم اسے اس کے دین پر چھوڑے دیتے ہیں۔  وہ جس معبود کی عبادت کرنا چاہے کرے،  ہمیں اس سے کوئی تعرض نہیں،  مگر وہ ہمارے معبودوں کی مذمت نہ کرے اور یہ کوشش نہ کرتا پھرے کہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں۔  اس شرط پر آپ ہم سے اس کی صلح کرا دیں۔  ابو طالب نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو بلایا اور آپ سے کہا کہ بھتیجے،  یہ تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے ہیں۔  ان کی خواہش ہے  کہ تم ایک  منصفانہ بات پر ان سے اتفاق کر لو تاکہ تمہارا اور ان کا جھگڑا ختم ہو جائے۔  پھر انہیں نے وہ بات حضورؐ کو بتائی جو سرداران قریش نے ان سے  کہی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب میں فرمایا، چچا جان، میں تو ان کے سامنے ایک ایسا کلمہ پیش کرتا ہوں جسے اگر یہ مان لیں تو عرب ان کا تابع فرمان اور عجم اور کا باج گزار ہو جائے ( حضورؐ کے اس ارشاد کو مختلف راویوں نے مختلف الفاظ میں نقل کیا ہے۔  ایک روایت یہ ہے کہ آپ نے فرمایا  انید اھم علیٰ کلمۃ واحدۃ یقولو نھا تدین لھم بھا العرت و تؤدّی الیھم بھا العجم الجزیرۃ۔ دوسری روایت میں الفاظ یہ ہیں : ادعو ھم الیٰ ان یتکلمو ا بکلمۃ تدین لھم بھا العرب ویملکون بھا لعجم۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپؐ نے ابو طالب کے بجائے قریش کے لوگوں کو خطاب کر کے فرمایا : کلمۃ واحدۃ تعطو نیھا تملکون بھا العرب و تدین لکم بھا لعجم   اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : ارأیتم ان اعطیتکم کلمۃ تکلمتم بھا ملکتم بھا العرب و دانت لکم بھا العجم۔ ان  لفظی اختلافات کے باوجود مدعا سب کا یکساں ہے،  یعنی حضورؐ نے ان سے کہا کہ اگر میں ایک ایسا کلمہ تمہارے سامنے پیش کروں جسے قبول کر کے تم عرب و عجم کے مالک ہو جاؤ گے تو بتاؤ کہ یہ زیادہ بہتر بات ہے یا وہ جسے تم انصار کی بات کہہ کر میرے سامنے پیش کر رہے ہو؟ تمہاری بھلائی اس کلمے کو مان لینے میں ہے یا اس میں کہ جس حالت میں تم پڑے ہو اس میں تم کو پڑا رہنے دوں اور بس اپنی جگہ آپ ہی اپنے خدا کی عبادت کرتا رہوں؟یہ)۔ یہ سن کر پہلے تو وہ لوگ سٹ پٹا گئے۔  ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آخر کیا کہہ کر ایسے ایک مفید کلمے تو رد کر دیں۔  پھر کچھ سنبھل کر بولے،  تم ایک کلمہ کہتے ہو، ہم ایسے دس کلمے کہنے کس تیار ہیں،  مگر یہ تو بتاؤ کہ وہ کلمہ کیا ہ؟ آپ نے فرمایا  لَآ اِلٰہَ اِلَّا ا للہ۔ اس پر وہ سب یک بارگی اٹھ کھڑے ہوئے اور وہ باتیں کہتے ہوئے نکل گئے جو اس سورۃ کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے نقل کی ہیں۔

ابن سعد نے طبقات میں یہ سارا قصہ اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح اوپر مذکور ہوا، مگر ان کی روایت کے مطابق یہ ابو طالب کی مرض وفات کا نہیں بلکہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضورؐ نے دعوتِ عام کی ابتدا کی تھی اور مکہ میں پے در پے یہ خبریں پھیلنی شروع ہو گئی تھیں کہ آج فلاں آدمی مسلمان ہوا اور کل فلاں۔  اس وقت سرداران قریش یکے بعد دیگرے کئی وفد ابو طالب کے پاس  لے کر پہنچے تھے تاکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو اس تبلیغ سے روک دیں اور انہی وفود میں سے ایک وفد کے ساتھ یہ گفتگو ہوئی تھی۔

زَمخشری، رازی نیسا بوری اور بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ یہ وفد ابو طالب کے پاس اس وقت گیا تھا جب حضرت عمرؓ کے ایمان لانے پر سرداران قریش بوکھلا گئے تھے،  لیکن کتب روایت میں سے کسی میں اس کا حوالہ ہمیں نہیں مل سکا ہے اور نہ ان مفسرین نے اپنے ماخذ کا حوالہ دیا ہے۔  تا ہم اگر یہ صحیح ہو تو یہ ہے سمجھ میں آنے والی بات۔ اس لیے کہ کفار قریش پہلے ہی یہ دیکھ کر گھبرائے ہوئے تھے کہ اسلام کی دعوت لے کر ان کے درمیان سے ایک ایسا شخص اُٹھا ہے جو اپنی شرافت، نے داغ سیرت اور دانائی و سنجیدگی کے اعتبار سے ساری قوم میں اپنا جواب نہیں رکھتا۔ اور پھر اس کا دست راست ابو بکر جیسا آدمی ہے جسے مکے اور اس کے اطراف کا بچہ بچہ ایک نہایت شریف، راستباز اور ذکی انسان کی حیثیت سے جانتا ہے۔  اب جو انہوں نے دیکھا ہو گا کہ عمر بن خطاب جیسا جری اور صاحب عزم آدمی بھی ان دونوں سے جا ملا ہے تو یقیناً انہیں محسوس ہوا ہو گا کہ خطرہ حدّ برداشت سے گزرتا جا رہا ہے۔

 

موضوع اور مباحث

 

اوپر جس مجلس کا ذکر کیا گیا ہے اسی پر تبصرے سے اس سورۃ کا آغاز ہوا ہے۔  کفار اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی گفتگو کو بنیاد بنا کر اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کے انکار کی اصل وجہ دعوت اسلامی کا کوئی نقص نہیں ہے بلکہ ان کا اپنا تکبر اور حسد اور تقلید اعمیٰ پر اصرار ہے۔  یہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں کہ اپنی ہی برادری کے ایک آدمی کو خدا کا  نبی مان کر اس کی پیروی قبول کر لیں۔  یہ انہی جاہلانہ تخیلات پر جمے رہنا چاہتے ہیں جن پر انہوں نے اپنے قریب کے زمانے کے لوگوں کو پایا ہے،  اور جب اس جہالت کے پردے کو چاک کر کے ایک شخص ان کے سامنے اصل حقیقت کو پیش کرتا ہے تو یہ اس پر کان کھڑے کرتے ہیں اور اسے عجیب بات بلکہ نرالی اور  انہونی بات قرار دیتے ہیں۔  ان کے نزدیک توحید اور آخرت کا تخیل محض ناقابل قبول ہی نہیں ہے بلکہ ایک ایسا تخیل ہے جس کا بس مذاق ہی اُڑایا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورہ کے ابتدائی حصے میں بھی اور آخری فقروں میں بھی کفار کو صاف صاف متنبہ کیا ہے کہ جس شخص کا تم آج مذاق اڑا رہے ہو اور جس کی رہنمائی قبول کرنے سے تم کو آج سخت انکار ہے،  عنقریب وہی غالب آ کر رہے گا اور وہ وقت دور نہیں ہے جب اسی شہر مکہ میں،  جہاں تم اس کو نیچا دکھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہو، اس کے آگے تم سب سرنگوں نظر آؤ گے۔

پھر پے در پے ۹ پیغمبروں کا ذکر کر کے،  جن میں حضرت داؤد و سلیمانؑ کا قصہ زیادہ مفصل ہے،  اللہ تعالیٰ نے یہ بات معین کے ذہن نشین کرائی ہے کہ اس کا قانون عدل بالکل بے لاگ ہے،  اس کے ہاں انسان کا صحیح رویہ ہی مقبول ہے،  بے جا بات خواہ کوئی بھی کرے وہ اس پر گرفت کرتا ہے،  اور اس کے ہاں وہی لوگ پسند کیے جاتے ہیں جو لغزش پر اصرار نہ کریں بلکہ اس پر متنبہ ہوتے ہی تائب ہو جائیں اور دنیا میں آخرت کی جواب دہی کو یاد رکھتے ہوئے زندگی بسر کریں۔

اس کے بعد فرماں بردار بندوں اور سرکش بندوں کے اس انجام کا نقشہ کھینچا گیا ہے جو وہ علم آخرت میں دیکھنے والے ہیں اور اس سلسلے میں کفار کو دو باتیں خاص طور پر بتائی گئی ہیں۔  ایک یہ کہ آج جن سرداروں اور پیشواؤں کے پیچھے جاہل لوگ اندھے بن کر ضلالت کی راہ پر چلے جا رہے ہیں،  کل وہی جہنم میں اپنے پیروؤں  سے پہلے پہنچے ہوئے ہوں گے اور دونوں ایک دوسرے کو کوس رہے ہوں گے۔  دوسرے یہ کہ آج جن اہل ایمان کو یہ لوگ ذلیل و خوار سمجھ رہے ہیں،  کل یہ آنکھیں پھاڑ  پھاڑ کر حیرت کے ساتھ دیکھیں گے  کہ ان کا جہنم میں کہیں نام و نشان تک نہیں ہے اور یہ خود اس کے عذاب میں گرفتار ہیں۔

آخر میں قصہ آدم و ابلیس کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس سے مقصود کفار قریش کو یہ بتانا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے آگے جھکنے سے جو تکبر تمہیں مانع ہو رہا ہے  وہی تکبر آدم کے آگے جھکنے سے ابلیس کو بھی مانع ہوا تھا۔ خدا نے جو مرتبہ آدم کو دیا تھا اس پر ابلیس نے حسد کیا اور حکم خدا کے مقابلے میں سرکشی اختیار کر کے لعنت کا مستحق ہوا۔ اسی طرح جو مرتبہ خدا نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو دیا ہے اس پر تم حسد کر رہے ہو اور اس بات کے لیے تیار نہیں ہو کہ جسے خدا نے رسول مقرر کیا ہے اس کی اطاعت کرو، اس لیے جو انجام ابلیس کا ہونا ہے وہی آخر کار تمہارا بھی ہونا ہے۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

ص(۱)، قسم ہے نصیحت بھرے (۲)قرآن کی، بلکہ یہی لوگ، جنہوں نے ماننے سے انکار کیا ہے،  سخت تکبُّر اور ضد میں مبتلا ہیں (۳)۔ ان سے پہلے ہم ایسی کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں (اور جب ان کی شامت آئی ہے ) تو سہ چیخ اٹھے ہیں،  مگر وہ وقت بچنے کا نہیں ہوتا۔

ان لوگوں کو اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ ایک ڈراتے والا خود انہی میں سے آ گیا(۴)۔ منکرین کہنے لگے کہ ’’ یہ ساحر(۵) ہے،  سخت جھوٹا ہے،  کیا اس نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہو خدا بنا ڈالا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے ‘‘۔ اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ (۶)’’چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں کی عبادت پر۔ یہ بات (۷) تو کسی اور ہی غرض سے کہی جا رہی ہے (۸)۔ یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں کسی سے نہیں سنی(۹)۔ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات۔ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کر دیا گیا‘‘؟

اصل بات یہ ہے کہ یہ میرے ’’ ذکر ‘‘پر شک کر رہے ہیں، (۱۰) اور یہ ساری باتیں اس لیے کر رہے ہیں کہ انہوں نے میرے عذاب کا مزا چکھا نہیں ہے۔  کیا تیرے داتا اور غالب پروردگار کی رحمت کے خزانے ان کے قبضے میں ہیں؟کیا یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کے مالک ہیں؟ اچھا تو یہ عالم اسباب کی بلندیوں پر چڑھ کر دیکھیں !(۱۱)

یہ تو جتھوں میں سے ایک چھوٹا سا جتھا ہے جو اسی جگہ شکست کھانے والا ہے (۱۲)۔ ان سے پہلے نوحؑ کی قوم، اور عاد، اور  میخوں والا فرعون (۱۳)، اور ثمود، اور قوم لوط، اور اَیکہ والے جھٹلا چکے ہیں۔  جتھے وہ تھے۔  ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور میری عقوبت کا فیصلہ اس پر چسپاں ہو کر رہا۔ ع

 

تفسیر

 

۱۔ اگرچہ تمام حروفِ مقطعات کی طرح  ص  کے مفہوم کا تعین بھی مشکل ہے،  لیکن ابن عباس اور ضحاک کا یہ قول بھی کچھ دل کو لگتا ہے کہ اس سے مراد ہے صادقٌ فی قولِہٖ، یا صَدَق محمدٌ  یعنی محمد صلی اللہ علیہ و سلم صادق ہیں،  جو کچھ کہہ رہے ہیں سچ کہہ رہے ہیں۔  صاد کے حروف کو ہم اردو  میں بھی اسی سے ملتے چلتے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔  مثلاً کہتے ہیں میں اس پر صادر کرتا ہوں،  یعنی اس کی تصدیق کرتا ہوں،  یا اسے صحیح قرار دیتا ہوں۔

۲۔  اصل الفاظ ہیں ذی الذکر۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔  ایک ذی شرف، یعنی قرآن بزرگ۔ دوسرے ذی ا لتذکیر، یعنی نصیحت سے لبریز قرآن، یا بھولا ہوا سبق یاد دلانے والا اور غفلت سے چونکانے والا قرآن۔

۳۔ اگر ص کی وہ تاویل قبول کی جائے جو ابن عباس اور ضحاک نے بیان کی ہے تو اس چملے کا مطلب یہ ہو گا کہ ’’ قسم ہے اس قرآنِ بزرگ، یا اس نصیحت سے لبریز قرآن کی محمد صلی اللہ علیہ و سلم سچی بات پیش کر رہے ہیں،  مگر جو لوگ اندار پر جمے ہوئے ہیں وہ دراصل ضد اور تکبر میں مبتلا ہیں۔ ‘‘ اور اگر  ص  کو ان حروف مقطعات میں سے سمجھا جائے جن کا مفہوم متعین نہیں کیا جا سکتا، تو پھر قسم کا جواب محذوف ہے جس پر ’’بلکہ ‘‘ اور اس کے بعد کا فقرہ خود روشنی ڈالتا ہے۔  یعنی پوری عبارت پھر یوں ہو گی کہ ’’ ان منکرین کے انکار کی وجہ یہ نہیں ہے کہ جو دین ان کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اس میں کوئی خلل ہے۔  یا محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے سامنے اظہار حق میں کوئی کوتاہی کی ہے،  بلکہ اس کی وجہ صرف ان کی جھوٹی شیخی، ان کی جاہلانہ نحوست اور ان کی ہٹ دھرمی ہے،  اور اس پر یہ نصیحت بھرا قرآن شاہد ہے جسے دیکھ کر ہر غیر متعصب آدمی تسلیم کرے گا کہ اس میں فہمائش کا حق پوری طرح ادا کر دیا گیا ہے ‘‘

۴۔ یعنی یہ ایسے احمق لوگ ہیں کہ جب ایک دیکھا بھا لا آدمی خود ان کی اپنی جنس، اپنی قوم اور اپنی ہی برادری میں سے ان کو خبردار کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے تو ان کو یہ عجیب بات معلوم ہوئی۔ حالانکہ عجیب بات اگر ہوتے تو یہ ہوتی کہ انسانوں کو خبردار کرنے کے لیے آسمان سے کوئی اور مخلوق بھیج دی جاتی، یا ان کے درمیان یکایک ایک اجنبی آدمی کہیں باہر سے آ کھڑا ہوتا اور نبوت کرنا شروع کر دیتا۔ اس صورت میں تو بلاشبہ یہ لوگ بجا طور پر یہ کہہ سکتے تھے کہ یہ عجیب حرکت ہمارے ساتھ کی گئی ہے،  بھلا جو انسان ہی نہیں ہے وہ ہمارے حالات اور جذبات اور ضروریات کو کیا جانے گا کہ ہماری رہنمائی کر سکے،  یا جو اجنبی آدمی اچانک ہمارے درمیان آ گیا ہے اس کی صداقت کو آخر ہم کیسے جانچیں اور کیسے معلوم کریں کہ یہ بھروسے کے قابل آدمی ہے یا نہیں،  اس کی سیرت و کردار کو ہم نے کب دیکھا ہے کہ اس کی بات کا اعتبار کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کر سکیں۔

۵۔ حضورؐ کے لیے ساحر کا لفظ وہ لوگ اس معنی میں بولتے تھے کہ یہ شخص کچھ ایسا جادو کرتا ہے جس سے آدمی دیوانہ ہو کر اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔  کسی تعلق کے کٹ جانے اور کوئی نقصان پہنچ جانے کی پروا نہیں کرتا۔ باپ کو بیٹا اور بیٹے کو باپ چھوڑ بیٹھتا ہے۔ بیوی شوہر کو چھوڑ دیتی ہے اور شوہر بیوی سے جدا ہو جاتا ہے۔  ہجرت کی نوبت آئے تو دامن جھاڑ کر وطن سے نکل کھڑا ہوتا ہے۔  کاروبار بیٹھ جائے اور سارے برادری بائیکا ٹ کر دے تو اسے بھی گوارا کر لیتا ہے۔ سخت جسمانی اذیتیں بھی انگیز کر جاتا ہے،  مگر اس شخص کا کلمہ پڑھنے سے کسی طرح باز نہیں آتا۔ (مرید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن  جلد سوم، ص ۱۴۵۔ ۱۴۶)۔

۶۔ اشارہ ہے ان سرداروں کی طرف جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بات سن کر اب طالب کی مجلس سے اٹھ گئے تھے۔

۷۔ یعنی حضورؐ کا یہ کہنا کہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کے قائل ہو جاؤ تو عرب و عجم سب تمہارے تابع فرمان ہو جائیں گے۔

۸۔ ان مطلب یہ تھا کہ اس دال میں کچھ کالا نظر آتا ہے،  دراصل یہ دعوت اس غرض سے دی جا رہی ہے کہ ہم محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کے تابع فرمان ہو جائیں اور یہ ہم پر اپنا حکم چلائیں۔

۹۔ یعنی قریب کے زمانے میں ہمارے اپنے بزرگ بھی گزرے ہیں،  عیسائی اور یہودی بھی ہمارے ملک اور آس پاس کے ملکوں میں موجود ہیں،  اور مجوسیوں سے ایران و عراق اور مشرقی عرب بھرا پڑا ہے۔  کسی نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا کہ انسان بس ایک اللہ رب العالمین کو مانے اور دوسرے کسی کو نہ مانے۔  ‘آخر ایک اکیلے خدا پر کون اکتفا کرتا ہے۔  اللہ کے پیاروں کو تو سب ہی مان رہے ہیں۔  ان کے آستانوں پر جا کر ماتھے رگڑ رہے ہیں۔  نذریں دے رہے ہیں۔  دعائیں مانگ رہے ہیں۔  کہیں سے اولاد ملتی ہے۔  کہیں سے رزق ملتا ہے۔  کوی آستانے پر جو مراد مانگو بر آتے ہے۔  ان کے تصرّفات کو ایک دنیا مان رہی ہے اور ان سے فیض پانے والے بتا رہے ہیں کہ ان درباروں سے لوگوں کی کس کس طرح مشکل کشائی و حاجت روائی ہوتی ہے۔  اب اس شخص سے ہم یہ نرالی بات سن رہے ہیں،  جو کبھی کسی سے نہ سنی تھی، کہ ان میں  سے کسی کا بھی خدائی میں کوئی حصہ نہیں اور پوری کی پوری خدائی بس ایک اکیلے اللہ ہی کی ہے۔

۱۰۔ با الفاظ دیگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیک و سلم )یہ لوگ دراصل تمہیں نہیں جھٹلا رہے ہیں بلکہ مجھے جھٹلا رہے ہیں۔   تمہاری صداقت پر تو پہلے  کبھی انہوں نے شک نہیں کیا تھا۔ آج یہ شک جو کیا جا رہا ہے یہ دراصل میرے ’’ ذکر‘‘ کی وجہ سے ہے۔  میں نے ان کو نصیحت کرنے کی خدمت جب تمہارے سپرد کی تو یہ اسی شخص کی صداقت میں شک کرنے لگے جس کی راستبازی کی پہلے قسمیں کھایا کرتے تھے۔  یہی مضمون سورہ انعام آیت ۳۳ میں بھی گزر چکا ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، ص ۵۳۴)۔

۱۱۔ یہ کفار کے اس قول کا جواب ہے کہ ’’ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کریا گیا۔ ‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ نبی ہم کس کو بنائیں اور کسے نہ بنائیں،  اس کا فیصلہ کرنا ہمارا اپنا کام ہے۔  یہ لوگ آخر کب سے اس فیصلے کے مختار ہو گئے۔  اگر یہ اس کے مختار بننا چاہتے ہیں تو کائنات کی فرمانروائی کے منصب پر قبضہ کرنے کے لیے عرش پر پہنچنے کی کوشش کریں تاکہ جسے یہ اپنی رحمت کا مستحق سمجھیں اس پر وہ نازل نہ ہو۔ یہ مضمون متعدد مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہوا ہے،  کیونکہ کفار قریش بار بار کہتے تھے کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کیسے نبی بن گئے،  کیا خدا کو قریش کے بڑے بڑے سرداروں میں سے کوئی اس کام کے لیے نہ ملا تھا (ملاحظہ ہو سورہ بنی اسرائیل، آیت ۱۰۰۔ الزخرف، آیات ۳۱۔ ۳۲)

۱۲۔ ’’ اسی جگہ‘‘ کا اشارہ مکہ معظمہ کی طرف ہے۔  یعنی جہان یہ لوگ  یہ باتیں بنا رہے ہیں،  اسی جگہ ایک دن یہ شکست کھانے والے ہیں اور یہیں وہ وقت آنے والا ہے جب یہ منہ لٹکائے اسی شخص کے سامنے کھڑے ہوں گے جسے آج یہ حقیر سمجھ کر نبی تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

۱۳۔ فرعون کے لیے ’’ ذی الاوتاد ‘‘ (میخوں والا ) یا تو اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ اس کی سلطنت ایسی مضبوط تھی گویا میخ پر ٹھکی ہوئی ہو۔ یا اس بنا پر کہ اس کے کثیر التعداد لشکر جہاں ٹھیرتے تھے وہاں ہر طرف خیموں کی میخیں ہی میخیں ٹھکی نظر آتی تھیں۔  یا اس بنا پر کہ وہ جس سے ناراض ہوتا تھا اسے میخیں ٹھنک کر عذاب دیا کرتا تھا۔ اور ممکن ہے کہ میخوں سے مراد اہرام مصر ہوں جو زمین کے اندر میخ کی طرح ٹھکے ہوئے ہیں۔

 

ترجمہ

 

یہ لوگ بھی بس ایک دھماکے کے منتظر ہیں جسکے بعد کوئی دوسرا دھماکا نہ ہو گا۔ (۱۴)۔ اور  یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، یوم الحساب سے پہلے ہی ہمارا حصہ ہمیں جلدی سے دے دے (۱۵)۔

اے نبی، صبر کرو ان باتوں پر جو یہ لوگ بناتے  ہیں (۱۶)، اور ان کے سامنے ہمارے بندے داؤد کا قصہ بیان کرو(۱۷) جو بڑی قوتوں کا مالک تھا(۱۸)۔ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر رکھا تھا کہ صبح و شام وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔  پرندے سمٹ آتے اور سب کے سب اس کی تسبیح کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے (۱۹)۔ ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کر دی تھے،  اس کو حکمت عطا کی تھے اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی(۲۰)۔ پھر تمہیں کچھ خبر پہنچی ہے ان مقدمے والوں کی جو دیوار چڑھ کر اس کے بالا خانے میں گھس آئے تھے؟(۲۱)۔ جب وہ داؤد کے پاس پہنچا تو وہ نہیں دیکھ کر گھبرا گیا(۲۲)۔ انہوں نے کہا ’’ڈریے نہیں،  ہم دو فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔  آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے،  بے انصافی نہ کیجئے اور ہمیں راہ راست بتایئے۔  یہ میرا بھائی ہے، (۲۳) اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے۔  اس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دنبی بھی میرے حوالے کر دے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا‘‘(۲۴)۔ داؤد نے جواب دیا : ’’ اس شخص نے اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی ملا لینے کا مطالبہ کر کے یقیناً تجھ پر ظلم کیا(۲۵)، اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں،  بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عمل صالح کرتے ہیں،  اور ایسے لوگ کم ہی ہیں ‘‘(یہ بات کہتے کہتے )داؤد سمجھ گیا کہ یہ تو ہم نے دراصل اس کی آزمائش کی ہے،  چنانچہ اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر گیا اور رجوع کر لیا(۲۶)۔ تب ہم نے اس کا وہ قصور معاف کیا اور یقیناً ہمارے ہاں اس کے لیے تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے (۲۸)۔ (ہم نے اس سے کہا)’’ اے داؤد ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے،  لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقیناً ان کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھول گئے ‘‘(۲۸) ع

 

تفسیر

 

۱۴۔ یعنی عذاب کا ایک ہی کڑکا انہیں ختم کر دینے کے لیے کافی ہو گا۔ کسی دوسرے کڑکے کی حاجت پیش نہ آئے گی۔ دوسرا مفہوم اس فقرے کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد پھر انہیں کوئی افاقہ نصیب نہ ہو گا، اتنی دیر کی بھی مہلت نہ ملے گی جتنی دیر اُونٹنی کا دودھ نچوڑتے وقت ایک دفعہ سونتے ہوئے تھن میں دوبارہ سونتنے تک دودھ اترنے میں لگتی ہے۔

۱۵۔ یعنی اللہ کے عذاب کا حال تو ہے وہ جو ابھی بیان کیا گیا، اور ان نادانوں کا حال یہ ہے کہ یہ نبی سے مذاق کے طور پر کہتے ہیں کہ جس یوم الحساب سے تم ہمیں ڈراتے ہو اس کے آنے تک ہمارے معاملے کو نہ ٹالو بلکہ ہمارا حساب ابھی چُکوا دو، جو کچھ بھی ہمارے حصے کی شامت لکھی ہے وہ فوراً ہی آ جائے۔

۱۶۔ اشارہ ہے کفار مکہ کی ان باتوں کی طرف جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے،  یعنی نبی صلی اللہ علیہ و سلم  کے متعلق ان کی یہ بکواس کہ یہ شخص ساحر اور کذاب ہے،  اور ان کا یہ اعتراض کہ اللہ میاں کے پاس رسول بنانے کے لیے کیا بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا۔ اور یہ الزام کہ اس دعوت توحید سے اس شخص کا مقصد کوئی مذہبی تبلیغ نہیں ہے بلکہ اس کی نیت کچھ اور ہی ہے۔

۱۷۔ اس فقرے کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’’ ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو۔ ‘‘ پہلے ترجمے کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ اس قصے میں ان لوگوں کے لیے ایک سبق ہے۔  اور دوسرے ترجمے کے لحاظ سے مراد یہ ہے کہ اس قصے کی یاد خود تمہیں صبر کرنے میں مدد دے گی۔ چونکہ یہ قصہ بیان کرنے سے دونوں ہی باتیں مقصود ہیں،  اس لیے الفاظ ایسے استعمال کیے گئے ہیں جو دونوں مفہوموں پر دلالت کرتے ہیں (حضرت داؤد کے قصے کی تفصیلات اس سے پہلے حسب ذیل مقامات پر گزر چکی ہیں : تفہیم القرآن جلد اول، صفحہ ۱۹۱۔ جلد دوم، صفحات ۵۹۷ و ۶۲۴۔ جلد سوم، صفحات ۱۷۳ تا ۱۷۶ و ۵۶۰۔ ۵۶۱۔ جلد چہارم، حواشی سورہ صفحہ نمبر ۱۴ تا ۱۶)

۱۸۔ اصل الفاظ ہیں ذَالْاَیْد، ’’ ہاتھوں والا‘‘۔ ہاتھ کا لفظ صرف عربی زبان ہی میں نہیں،  دوسرے زبانوں میں بھی وقت و قدرت کے لیے استعارے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔  حضرت داؤد کے لیے جب ان کی صفت کے طور پر یہ فرمایا گیا کہ وہ ’’ ہاتھوں والے ’’ تھے تو اس کا مطلب لازماً یہی ہو گا کہ وہ بڑی قوتوں کے مالک تھے۔  ان قوتوں  سے بہت سی قوتیں مراد ہوسکتی ہیں۔  مثلاً جسمانی طاقت، جس کا مظاہرہ انہوں نے جالوت سے جنگ کے موقع پر کیا تھا۔ فوجی اور سیاسی طاقت، جس سے انہوں نے گرد و پیش کی مشرک قوموں کو شکست دے کر ایک مضبوط اسلامی سلطنت قائم کر دی تھی۔ اخلاقی طاقت، جس کی بدولت انہوں نے بادشاہی میں فقیری کی اور ہمیشہ اللہ سے ڈرتے اور اس کے حدود کی پابندی کرتے رہے۔  اور عبادت کی طاقت، جس کا حال یہ تھا کہ حکومت و فرمانروائی اور جہاد فی سبیل اللہ کی مصروفیتوں کے باوجود، صحیحین کی روایت کے مطابق، وہ ہمیشہ ایک دن بیچ روزہ رکھتے تھے اور روزانہ ایک تہائی رات نماز میں گزارتے تھے۔  امام بخاریؒ نے اپنی تاریخ میں حضرت ابوالدّرواء کے حوالہ وے نقل کیا ہے کہ جب حضرت داؤد کا ذکر آتا تھا تو نبی صلی اللہ و الیہ و سلم فرمایا کرتے تھے کَا نَ اَعْبَدَ الْبَشَرِ، ‘‘ وہ سب سے زیادہ عبادت گزار آدمی تھے۔ ’’

۱۹۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، صفحات ۱۷۴۔ ۱۷۵۔

۲۰۔ یعنی ان کا کلام الجھا ہوا نہ تھا کہ ساری تقریر سن کر بھی آدمی نہ سمجھ سکے کہ کہنا کیا چاہتے ہیں،  بلکہ وہ جس معاملہ پر بھی گفتگو کرتے،  اس کے تمام بنیادی نکات کو منقح کر کے رکھ دیتے،  اور اصل فیصلہ طلب مسئلے کو ٹھیک ٹھیک متعین کر کے اس کا بالکل دو ٹوک جاب دے دیتے تھے۔  یہ بات کسی شخص کو اس وقت تک حاصل نہیں ہوتے جب تک وہ عقل و فہم اور قادرالکلامی کے اعلیٰ مرتبہ پر پہنچا ہوا نہ ہو۔

۲۱۔ حضرت داؤد کا ذکر جس غرض کے لیے اس مقام پر کیا گیا ہے اس سے مقصود دراصل یہی قصہ سنانا ہے جو یہاں سے شروع ہوتا ہے۔  اس سے پہلے ان کی جو صفات عالیہ بطور تمہید بیان کی گئی ہیں ان کا مقصد صرف یہ بتانا تھا کہ داؤد علیہ السلام، جن کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا ہے،  کس مرتبے کے انسان تھے۔

۲۲۔ گھبرانے کی وجہ یہ تھی کہ دو آدمی فرمانروائے وقت کے پاس اس کی خلوت گاہ میں سیدھے راستے سے جانے کے بجائے یکایک دیوار چڑھ کر جا پہنچے تھے۔

۲۳۔ بھائی سے مراد حقیقی بھائی نہیں بلکہ اور قومی بھائی ہے۔

۲۴۔ آگے کی بات سمجھنے کے لیے یہ بات نگاہ میں رہنی ضروری ہے کہ استغاثہ  کا یہ فریق یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ اس شخص نے میری وہ ایک دُنبی چھین لی اور اپنی دُنبیوں میں ملا لی، بلکہ یہ کہہ رہا ہے کہ یہ مجھ سے میری دنبی مانگ رہا ہے،  اور اس نے گفتگو میں مجھ دبا لیا ہے،  کیونکہ یہ بڑی شخصیت کا آدمی ہے اور میں ایک غریب آدمی ہوں،  میں اپنے اندر اتنی سکت نہیں پاتا کہ اس کا مطالبہ رد کر دوں۔

۲۵۔ یہاں کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ حضرت داؤد نے ایک ہی فریق کی بات سن کر اپنا فیصلہ کیسے دے دیا۔ اصل بات یہ ہے کہ جب مدعی کی شکایت پر مدعا علیہ خاموش رہا اور اس کی تردید میں کچھ نہ بولا تو یہ خود ہی اس کے اقرار کا ہم معنی تھا۔ اس بنا پر حضرت داؤد نے یہ رائے قائم کی کہ واقعہ وہی کچھ ہے جو مدعی بیان کر رہا ہے۔

۲۶۔ اس امر میں اختلاف ہے کہ اس مقام سجدہ تلاوت واجب ہے یا نہیں۔  امام شافعی کہتے ہیں کہ یہاں سجدہ واجب نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک نبی کی توبہ ہے۔  اور امام ابوحنیفہ وجوب کے قائل ہیں۔  اس سلسلے میں  ابن عباس سے تین روایتیں محدثین نے نقل کی ہیں۔  عکرمہ کی روایت یہ ہے کہ ابن عباس نے فرمایا ’’ یہ ان آیات میں سے نہیں ہے جن پر سجدہ لازم ہے مگر میں نے اس مقام پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو سجدہ کرتے دیکھا ہے۔ ‘‘ (بخاری، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، مسند احمد)۔ دوسری روایات جو ان سے سعید بن جُبیر نے نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’ سورہ ص میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سجدہ کیا اور فرمایا: داؤد علیہ السلام نے توبہ کے طور پر سجدہ کیا تھا اور ہم شکر کے طور پر سجدہ کرتے ہیں ‘‘ یعنی اس بات پر کہاں کی توبہ قبول ہوئی (نسائی)۔ تیسری روایت جو مجاہد نے ان سے نقل کی ہے اس میں وہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں  اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو حکم دیا ہے کہ اُلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللہُ فَبھُِدٰ ھُمُ اقْتَدِہ، ’’ یہ وہ لوگ تھے جن کو اللہ نے راہ راست دکھائی تھی، لہٰذا تم ان کے طریقے کی پیروی کرو‘‘۔ اب چونکہ حضرت داؤد بھی ایک نبی تھے اور انہوں نے اس موقع پر سجدہ کیا تھا اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ان کے اقتدا میں یہاں سجدہ فرمایا (بخاری)۔ یہ تین بیانا ت تو حضرت ابن عباس کے ہیں۔  اور حضرت ابوسعید خدری کا بیان یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرتبہ خطبہ میں سورہ ص پڑے اور جب آپؐ اس آیت پر پہنچے تو آپؐ نے منبر پر سے اتر کر سجدہ کیا اور آپؐ کے ساتھ سب حاضرین نے بھی سجدہ کیا۔ پھر ایک دوسرے موقع پر اسی طرح آپؐ نے یہی سورہ پڑھی تو اس آیت کو سنتے ہی لوگ سجدہ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔  حضورؐ نے فرمایا’’ یہ ایک نبی کی توبہ ہے،  مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ سجدے کے لیے تیار ہو گئے ہو‘‘ ــــــ   یہ فرما کر آپؐ منبر سے اترے اور سجدہ کیا اور سب حاضرین نے بھی کیا (ابوداؤد)۔ ، ان روایات سے اگرچہ وجوب سجدہ کی قطعی دلیل تو نہیں ملتی، لیکن کم از کم اتنی بات تو ضرور ثابت ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس مقام پر اکثر سجدہ فرمایا ہے،  اور سجدہ نہ کرنے کی بہ بنسبت وجوب کے حکم کا پلڑا جھکا دیتی ہے۔

ایک اور مضمون جو اس آیت سے نکلتا ہے،  یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں خَرَّرَا کِعاً(رکوع میں کر پڑا) کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں،  مگر تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سے مراد خَرَّ سَاجِداً (سجدہ میں گر پڑا ) ہے۔  اسی بنا پر امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب نے یہ رائے ظاہر فرمائی ہے کہ نماز یا غیر نماز میں آیت سجدہ سن کر یا پڑھ کر آدمی سجدے کے بجائے صرف رکوع بھی کر سکتا ہے،  کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے رکوع کا لفظ استعمال کر کے سجدہ مراد لیا ہے تو معلوم ہو ا کہ رکوع سجدے کا قائم مقام ہو سکتا ہے۔  فقہائے شافعیہ میں سے امام خَطَّابی کی بھی یہی رائے ہے۔  یہ رائے اگرچہ بجائے خود صحیح اور معقول ہے،  لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام کے عمل میں ہم کو ایسی کوئی نظیر نہیں ملی کہ آیت سجدہ پر سجدہ کرنے کے بجائے رکوع ہی کر لینے پر اکتفا کیا گیا ہو۔ لہٰذا اس رائے پر عمل صرف اس صورت میں کرنا چاہیے جب سجدہ کرنے میں کوئی امر مانع ہو۔ اسے معمول بنا لینا درست نہیں ہے،  اور خود امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا منشا بھی یہ نہیں ہے کہ اسے معمول بنایا جائے،  بلکہ وہ صرف اس کے جواز کے قائل ہیں۔

۲۷۔ اس سے معلوم ہو ا کہ حضرت داؤد سے قصور ضرور ہوا  تھا، اور وہ کوئی ایسا قصور تھا جو دنبیوں والے مقدمے سے کسی طرح کی مماثلت رکھتا تھا اسی لیے اس کا فیصلہ سناتے ہوئے معاً ان کو یہ خیال آیا کہ یہ میری آزمائش ہوئی ہے،  لیکن اس قصور کی نوعیت ایسی شدید نہ تھی کہ اسے معاف نہ کیا جاتا، یا اگر معاف کیا بھی جاتا تو وہ اپنے مرتبہ سے بلند سے گرا دیے جاتے۔  اللہ تعالیٰ یہاں خود تصریح فرما رہا ہے کہ جب انہوں نے سجدے میں گر کر توبہ کی تو نہ صرف یہ کہ انہیں معاف کر دیا گیا، بلکہ دنیا اور آخرت میں ان کو جو بلند مقام حاصل تھا اس میں بھی کوئی فرق نہ آیا۔

۲۸۔ یہ وہ تنبیہ ہے جو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول کرنے اور بلندیِ درجات کی بشارت دینے کے ساتھ حضرت داؤد کو فرمائی۔ اس سے یہ بات خود بخود ظاہر ہو جاتی ہے کہ جو فعل ان سے صادر ہوا تھا اس کے اندر خواہش نفس کا کچھ دخل تھا، اس کا حاکمانہ اقتدار کے نامناسب استعمال سے بھی کوئی ایسا فعل تھا جو حق کے ساتھ حکومت کرنے والے کسی فرماں روا کو زیب نہ دیتا تھا۔

یہاں پہنچ کر تین سوالات ہمارے سامنے آتے ہیں۔  اول یہ کہ وہ فعل کیا تھا؟ دوسرے یہ کہ اس سیاق و سباق میں اس کا ذکر کس مناسبت سے کیا گیا ہے؟

جن لوگوں نے بائیبل (عیسائیوں اور یہودیوں کی کتاب مقدس )کا مطالعہ کیا ہے ان سے یہ با پوشیدہ نہیں ہے کہ اس متاب میں حضرت داؤد پر اُوریاہ حِتّی (Orian the Hittite)کی بیوی سے زنا کرنے،  اور پھر اوریاہ کو ایک جنگ میں قصداً ہلاک کروا کر اس کی بیوی سے نکاح کر لینے کا صاف صاف الزام لگایا گیا ہے،  اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہی عورت، جس نے ایک شخص کی بیوی ہوتے ہوئے اپنے آپ کو داؤد کے حوالے کیا تھا، حضرت سلیمان علیہ السلام کی ماں تھی۔ یہ پورا قصہ بائیبل کی کتاب سموئیل دوم،  باب ۱۱۔ ۱۲ میں نہایت تفصیل کے ساتھ درج ہے۔  نزول قرآن سے صدیوں پہلے یہ بائیبل میں درج ہو چکا تھا۔ دنیا بھر کے یہودیوں اور عیسائیوں میں سے جو بھی اپنی کتاب مقدس کی تلاوت کرتا، یا اسے سنتا تھا، وہ اس قصے سے نہ صرف واقف تھا بلکہ اس پر ایمان بھی لاتا تھا۔ انہی لوگو ں کے ذریعہ سے یہ دنیا میں مشہور ہوا اور آج تک حال یہ ہے کہ مغربی ممالک میں بنی اسرائیل اور عبرانی مذہب کی تاریخ پر کوئی کتاب ایسی نہیں لکھی جاتی جس میں حضرت داؤد کے خلاف اس الزام کو دہرایا نہ جاتا ہو۔ اس مشہور قصے میں یہ بات بھی ہے کہ:

’’خداوند نے نَاتَن کو داؤد کے پاس بھیجا۔ اس نے اس کے پاس آ کر اس سے کہا کسی شہر میں دو شخص تھے۔  ایک امیر، دوسرے غریب۔ اس امیر کے پاس بہت سے ریوڑ اور گلّے تھے۔  پر اس غریب کے پاس بھیڑ کی ایک پٹھیا کے سوا کچھ نہ تھا جسے اس نے خرید کر پالا تھا۔ اور وہ اس کے اور اس کے بال بچوں کے ساتھ بڑھی تھی۔ وہ اسی نوالے میں کھاتی اور اس کے پیالہ سے پیتی اور اس کی گود میں سوتی تھی اور اس کے لیے بطور بیٹی کے تھی۔ اور اس امیر کے ہاں کوئی مسافر آیا۔ سو اس نے مسافر کے لیے جو اس کے ہاں آیا تھا پکانے کو اپنے ریوڑ اور گلّے میں سے کچھ نہ لیا بلکہ اس غریب کی بھیڑ لے لی اور اس شخص کے لیے جو اس کے ہاں آیا تھا پکائی۔ تب داؤد کا غضب اس شخص پر  بشدت بھڑکا اور اس نے ناتن سے کہا کہ خداوند کی حیات کی قسم، وہ شخص جس نے یہ کام کیا واجب القتل ہے۔  اس شخص کو اس بھیڑ کا چوگنا بھرنا پڑے گا کیونکہ اس نے ایسا کام کیا اور اسے ترس نہ آیا۔ تب ناتن نے داؤد  سے کہا کہ وہ شخص تو ہی ہے ـــــــ تو نے  حتّی اوریاہ کو تلوار سے مارا اور اس کی بیوی لے لی تاکہ وہ تیری بیوی بنے اور اس کو بنی غمّون کی تلوار سے قتل کروایا۔ ‘‘ (۲۔ سموئیل، باب ۱۲۔ فقرات ۱ تا ۱۱)

اس قصے اور اس کی اس شہرت کی موجودگی میں یہ ضرورت باقی نہ تھی کہ قرآن مجید میں اس کے متعلق کوئی تفصیلی بیان دیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ ہے بھی نہیں کہ وہ اپنی کتاب پاک میں ایسی باتوں کو کھول کر بیان کرے۔ اس لیے یہاں پردے پردے ہی میں اس کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ اصل واقعہ کیا تھا اور اہل کتاب نے اسے بنا کیا دیا ہے۔  اصل واقعہ جو قرآن مجید کے مذکورہ بالا بیان سے صاف سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اوریاہ (یا جو کچھ  بھی اس شخص کا نام رہا ہو) سے محض یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔  اور چونکہ یہ خواہش ایک عام آدمی کی طرف سے نہیں بلکہ ایک جلیل القدر فرمانروا اور ایک زبردست دینی عظمت رکھنے والی شخصیت کی طرف سے رعایا کے ایک فرد کے سامنے ظاہر کی گئی تھی، اس لیے وہ شخص کسی ظاہری جبر کے بغیر بھی اپنے آپ کو اسے قبول کرنے پر مجبور پا رہا تھا۔ اس موقع پر، قبل اس کے کہ وہ حضرت داؤد کی فرمائش کی تعمیل کرتا، قوم کے دو نیک آدمی اچانک حضرت داؤد کے پاس پہنچ گئے اور انہوں نے ایک فرضی مقدمے کی صورت میں یہ معاملہ ان کے سامنے پیش کر دیا۔ حضرت داؤد ابتداء میں تو یہ سمجھے کہ یہ واقعی کوئی مقدمہ ہے۔  چنانچہ انہوں نے اسے سن کر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ لیکن زبان سے فیصلہ کے الفاظ نکلتے ہی ان کے ضمیر نے تنبیہ کی کہ یہ تمثیلی پوری طرح ان کے اور اس شخص کے معاملہ پر چسپاں ہوتی ہے،  اور جس فعل کو وہ ظلم قرار دے رہے ہیں اُس کا صدور خود اُن سے اُس شخص کے معاملہ میں ہو رہا ہے۔  یہ احساس دل میں پیدا ہوتے ہی وہ سجدے میں گر گئے اور توبہ کی اور اپنے اس فعل سے رجوع فرما لیا۔

بائیبل میں اس واقعہ کی وہ گھناؤنی شکل کیسے بنی؟ یہ بات بھی تھوڑے سے غور کے بعد سمجھ میں آجاتی ہے۔  معلوم ایسا ہوتا ہے کہ حضرت داؤد کو اُس خاتون کی خوبیوں کا کسی ذریعہ سے علم ہو گیا تھا اور ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ ایسی لائق عورت ایک معمولی افسر کی بیوی ہونے کے بجائے ملک کی ملکہ ہونی چاہیے۔  اس خیال سے مغلوب ہو کر انہوں نے اس کے شوہر سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ اسے طلاق دے دے۔  اس میں کوئی قباحت انہوں نے اس لیے محسوس نہ کی کہ بنی اسرائیل کے ہاں یہ کوئی معیوب بات نہ سمجھی جاتی تھی۔ ان کے ہاں یہ ایک معمولی بات تھی۔ ان کے ہاں یہ ایک معمولی بات تھی کہ ایک شخص اگر کسی کی بیوی کو پسند کرتا تو بے تکلف اس سے درخواست کر دیتا تھا  کہ اسے میرے لیے چھوڑ دے۔  ایسی درخواست پر کوئی برا نہ مانتا تھا۔ بلکہ بسا اوقات دوست ایک دوسرے کے پاس خاطر سے بیوی کو خود طلاق دے دیتے تھے تاکہ دوسرا اس سے شادی کر لے۔  لیکن یہ بات کرتے وقت حضرت داؤد کو اس امر کا احساس نہ ہوا کہ ایک عام آدمی کی طرف سے اس طرح کی خواہش کا اظہار تو جبر و ظلم کے عنصر سے خالی ہو سکتا ہے،  مگر ایک فرمانروا کی طرف سے جب ایسی خواہش ظاہر کی جائے  تو وہ جبر سے کسی طرح بھی خالی نہیں ہو سکتی۔ اس پہلو کی طرف جب اس تمثیلی مقدمہ کے ذریعہ سے ان کو توجہ دلائی گئی تو وہ بلا تامّل اپنی اس خواہش سے دست بردار ہو گئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔ مگر بعد میں کسی وقت جب ان کی کسی خواہش اور کوشش کے بغیر اس خاتون کا شوہر ایک جنگ میں شہید ہو گیا، اور انہوں نے اس سے  نکاح کر لیا، تو یہودیوں کے خبیث ذہن نے افسانہ تراشی شروع کر دی، اور یہ خبیث نفس اس وقت اور زیادہ تیزی سے کام کرنے لگا جب بنی اسرائیل کا ایک گروہ حضرت سلیمانؑ کا دشمن ہو گیا (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، صفحہ ۵۸۲)۔ ان محرکات کے زیر اثر یہ قصہ تصنیف کر ڈالا گیا کہ حضرت داؤد نے معاذاللہ  اوریاہ کی بیوی کو اپنے محل کی چھت پر سے اس حالت میں دیکھ لیا تھا کہ وہ برہنہ نہا رہی تھی۔ انہوں نے اس کو اپنے ہاں بلوایا اور اس سے زنا کا ارتکاب کی جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔ پھر انہوں نے اوریاہ کو بنی عمّون کے مقابلہ پر جنگ میں بھیج دیا اور فوج کے کمانڈر ہوآب کو حکم دیا کہ اسے لڑائی میں ایسی جگہ مقرر کر دے جہاں وہ لازماً مارا جائے۔  اور جب وہ مارا گیا تو انہوں نے اس کی بیوی سے شادی کر لی، اور اسی عورت کے پیٹ سے سلیمان (علیہ السلام ) پیدا ہوئے۔  یہ تمام جھوٹے الزامات ظالموں نے اپنی ’’ کتاب مقدس‘‘ میں ثبت کر دیے ہیں تاکہ نسلاً بعد نسل اسے پڑھتے رہیں اور اپنی قوم کے ان دو بزرگ ترین انسانوں کی تذلیل کرتے رہیں جو حضرت موسیٰ کے بعد ان کے سب سے بڑے محسن تھے۔

قرآن مجید کے مفسرین میں سے ایک گروہ نے تو ان افسانوں کو قریب قریب جوں کا توں قبول کر لیا ہے جو بنی اسرائیل کے ذریعہ سے ان تک پہنچے ہیں۔  اسرائیلی روایات کا صرف اتنا حصہ انہوں نے ساقط کیا ہے جس میں حضرت داؤد پر زنا کا الزام لگایا گیا تھا اور عورت کے حاملہ ہو جانے کا ذکر تھا۔ باقی سارا قصہ ان کی نقل کردہ روایات میں اسی طرح پایا جاتا ہے جس طرح وہ بنی اسرائیل میں مشہور تھا۔ دوسرے گروہ نے سرے سے اس واقعہ ہی کا انکار کر دیا ہے کہ حضرت داؤد سے کوئی ایسا فعل صادر ہوا تھا جو دنبیوں والے مقدمہ سے کوئی مماثلت رکھتا ہو۔ اس کے بجائے وہ اپنی طرف سے اس قصے کی ایسی تاویلات کرتے ہیں جو بالکل بے بنیاد ہیں،  جن کا کوئی ماخذ نہیں ہے اور خود قرآن کے سیاق و سباق سے بھی وہ کوئی مناسبت نہیں رکھتیں۔  لیکن مفسرین ہی میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک بات تک پہنچا ہے اور قرآن کے واضح اشارات سے قصے کی اصل حقیقت پا گیا ہے۔  مثال کے طور پر چند اقوال ملاحظہ ہوں :

مسروق اور سعید بن جبیر، دونوں حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ ’’حضرت داؤد نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تھا کہ اس عورت کے شوہر سے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ اپنی بیوی کو میرے لیے چھوڑ دے ‘‘۔ (ابن جریر)

علامہ زَمَخشری اپنی کشّا ف میں لکھتے ہیں کہ ’’ جس شکل میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کا قصہ بیان فرمایا ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا  ہے کہ انہوں نے اس شخص سے صرف یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اُن کے لیے پنی بیوی کو چھوڑ دے۔ ‘‘

علامہ ابوبکر جصّاص اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ عورت اس شخص کی منکوحہ نہیں بلکہ صرف مخطوبہ یا منسوبہ تھی، حضرت داؤد نے اسی عورت سے نکاح کا پیغام دے دیا، اس پر اللہ تعالیٰ کا عتاب ہو ا کیونکہ انہوں نے اپنے مومن بھائی کے پیغام پر پیغام دیا تھا حالانکہ ان کے گھر میں پہلے سے کئی بیویاں موجود تھیں (احکام القرآن )۔  بعض دوسرے مفسرین نے بھی یہی رائے ظاہر کی ہے۔  لیکن یہ بات قرآن کے بیان سے پوری مطابقت نہیں رکھتی۔ قرآن مجید میں مقدمہ پیش کرنے والے کے جو الفاظ نقل ہوئے ہیں ہو ہ یہ ہیں کہ لِیْ نَعْجَۃٌ  وَّاحِدَۃٌ فَقَالَ اَکْفِلْنِیْھَا۔ ’’میرے پاس بس ایک ہی دُنبی ہے اور یہ کہتا ہے کہ اسے میرے حوالہ کر دے ‘‘۔ یہی بات حضرت داؤد نے بھی اپنے فیصلہ کیں ارشاد فرمائی کہ فَدْ ظَلَمَکَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِکَ۔ ’’ اس بت تیری دنبی مانگنے میں تجھ پر ظلم کیا۔ ‘‘ یہ تمثیل حضرت داؤد اور اوریاہ کے معاملہ پر اسی صورت میں چسپاں ہو سکتی ہے جبکہ وہ عورت اس شخص کی بیوی ہو۔ پیغام پر پیغام دینے کا معاملہ ہوتا تو پھر تمثیل  یوں ہوتی کہ ’’ ایک دنبی لینا چاہتا تھا اور اس نے کہا کہ یہ بھی میرے لیے چھوڑ دے۔ ‘‘

قاضی ابوبکر ابن العربی احکام القرآن میں اس مسئلے پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ اصل واقعہ بس یہی ہے کہ حضرت داؤد نے اپنے آدمیوں میں سے ایک شخص سے کہا کہ میرے لیے اپنی بیوی چھوڑ دے،  اور سنجیدگی کے ساتھ یہ مطالبہ کیا ــــــ  قرآن میں یہ بات نہیں ہے کہ وہ شخص ان کے اس مطالبہ پر اپنی بیوی سے دست پردار ہو گیا اور حضرت داؤد نے اس عورت سے اس کے بعد شادی بھی کر لی اور حضرت سلیمانؑ اسی بطن سے پیدا ہوئے ــــــ جس بات پر عتاب ہوا وہ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ انہوں نے ایک عورت کے شوہر سے یہ چاہا کہ وہ ان کی خاطر اسے چھوڑ دے ــــــــ یہ فعل خواہ فی الجملہ جائز ہی ہو مگر منصب نبوت سے بعید تھا، اسی لیے ان پر عتاب بھی ہوا اور ان کو نصیحت بھی کی گئی۔ ‘‘

یہی تفسیر اس سیاق و سباق سے بھی مناسبت رکھتی ہے جس میں یہ قصہ بیان کیا گیا ہے۔  سلسلہ کلام پر غور کرنے سے یہ با ت صاف معلوم ہوتے ہے کہ قرآن مجید میں اس مقام پر یہ قصہ دو اغراض کے لیے بیان کیا گیا ہے۔  پہلی غرض نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو صبر کی تلقین کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ ’’ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان پر صبر کرو، اور  ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو‘‘۔ یعنی تمہیں تو ساحر اور کذاب ہی کہا جا رہا ہے،  لیکن ہمارے بندے داؤد پر تو ظالموں نے زنا اور سازشی قتل تک کے الزامات لگا دیے،  لہٰذا ان لوگوں سے جو کچھ بھی تم کو سننا پڑے اسے برداشت کرتے رہو۔ دوسری غرض کفار کو یہ بتانا ہے کہ تم لوگ ہر محاسبے سے  بے خوف ہو کر دنیا میں  طرح طرح کی زیادتیاں کرتے چلے جاتے ہو، لیکن جس خدا کی خدائی میں تم یہ حرکتیں کر رہے ہو وہ کسی کو بھی محاسبہ کیے بغیر نہیں چھوڑتا، حتیٰ کہ بو بندے اس کے نہایت محبوب و مقرب ہوتے ہیں،  وہ بھی اگر ایک ذرا سی لغزش کے مرتکب ہو جائیں تو خداوند عالم ان سے سخت مواخذہ کرتا ہے۔  اس مقصد کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے فرمایا گیا کہ ان کے سامنے ہمارے بندے داؤد کا قصہ بیان کرو جو ایسی اور ایسی خوبیوں کا مالک تھا، مگر جب اس سے ایک بے جا بات  سرزد ہو گئی تو دیکھو کہ ہم نے اسے کس طرح سرزنش کی۔

اس سلسلہ میں ایک غلط فہمی اور باقی رہ جاتی ہے جسے رفع کر دینا ضروری ہے۔ تمثیل میں مقدمہ پیش کرنے  والے نے یہ جو کہا ہے کہ اس شخص کے پاس ۹۹ دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے جسے یہ مانگ رہا ہے،  اس سے بظاہر یہ گمان ہوتا ہے کہ شاید حضرت داؤد پاس ۹۹ بیویاں تھیں اور وہ ایک عورت حاصل کر کے ۱۰۰ کا عدد پورا کرنا چاہتے تھے۔  لیکن دراصل تمثیل کے ہر ہر جُّز ء کا حضرت داؤد اور اوریاہ  حتّی کے معاملے لفظ بہ لفظ چسپاں ہونا ضروری نہیں ہے۔  عام محاورے میں دس، بیس، پچاس وغیرہ اعداد کا ذکر صرف کثرت کو بیان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے  نہ کہ ٹھیک تعداد بیان کرنے لے لیے۔  ہم جب کسی سے کہتے ہیں کہ دس مرتبہ تم سے فلاں بات کہہ دی تو اس کا مطلب یہ  نہی ہوتا کہ دس بار گِن کر وہ بات کہی گئی ہے،  مطلب یہ ہوتا ہے بارہا وہ بات کہی جا چکی ہے۔  ایسا ہی معاملہ یہاں بھی ہے۔  تمثیلی مقدمہ میں وہ شخص حضرت داؤد کو یہ احساس دلانا چاہتا تھا کہ آپ کے پاس متعدد بیویاں ہیں،  اور پھر بھی آپ دوسرے شخص کی بیوی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔  یہی بات مفسر نیسابوری نے حضرت حسنؓ بصری سے نقل کی ہے کہ  لم یکن لداؤد تسع وتسعون امرأۃ  وانما ھٰذا مثل، ’’ حضرت داؤد کی ۹۹ بیویاں نہ تھیں بلکہ یہ صرف ایک تمثیل ہے۔ ‘‘

(اس قصے پر تفصیلی بحث ہم نے اپنی کتاب تفہیمات حصہ دوم میں کی ہے۔  جو اصحاب ہماری بیان کردہ تاویل کی ترجیح کے مفصل دلائل معلوم کرنا چاہتے ہیں وہ اس کتاب کے صفحات ۲۹ تا ۴۴ ملاحظہ فرمائیں۔ )

 

ترجمہ

 

ہم نے اس آسمان اور زمین کو، اور اس دنیا کو جو ان کے درمیان ہے فضول پیدا نہیں کر دیا ہے (۲۹)۔ یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے،  اور ایسے کافروں کے لیے بر بادی ہے جہنم کی آگ سے۔  کیا ہم متقیوں کو ہم فاجروں جیسا کر دیں؟(۳۰)۔۔۔ یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے (۳۱) جو (اے محمدؐ) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقول و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں۔

اور داؤد کو ہم نے سلیمانؑ (جیسا بیٹا ) عطا کیا(۳۲)، بہترین بندہ، کثرت سے اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا۔ قابل ذکر ہے وہ موقع جب شام کے وقت اس ک سامنے خوب سدھے ہوئے تیز  رو گھوڑے پیش کئے گئے (۳۳) تو اس نے کہا’’ میں نے اس مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے ‘‘ یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہو گئے تو (اس نے حکم دیا کہ ) انہیں میرے پاس واپس لاؤ، پھر لگا ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے (۳۵)۔ اور (دیکھو کہ ) سلیمانؑ کو بھی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دیا۔ پھر اس نے رجوع کیا اور کہا کہ ’’ اے میرے رب، مجھے معاف کر دے اور مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو، بیشک تو ہی اصل داتا ہے ‘‘ (۳۶)۔ تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جدھر وہ چاہتا تھا (۳۷)، اور شیاطین کو مسخر کر دیا، ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور اور دوسرے جو پابند سلاسل تھے (۳۸)۔ (ہم نے اس سے کہا)’’یہ ہماری بخشش ہے،  تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے،  کوئی حساب نہیں ‘‘ (۳۹)۔ یقیناً اس کے لیے ہمارے ہاں تقرُّب کا مقام اور بہتر انجام ہے (۴۰)۔ ع

 

تفسیر

 

۲۹۔ یعنی محض کھیل کے طور پر پیدا نہیں کر دیا ہے کہ اس میں کوئی حکمت نہ ہو،  کوئی غرض اور مقصد نہ ہو، کوئی عدل اور انصاف نہ ہو، اور کسی اچھے یا بُرے فعل کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو۔ یہ ارشاد پچھلی تقریر کا ماحصل بھی ہے اور آگے کے مضمون کی تمہید بھی۔ پچھلی تقریر کے بعد یہ فقرہ ارشاد فرمانے سے مقصود یہ حقیقت سامعین سے ذہن نشین کرانا ہے کہ انسان یہاں شترِ بے مہار کی طرح نہیں چھوڑ دیا گیا ہے،  نہ یہ دنیا اندھیر نگری ہے کہ یہاں جس کا جو کچھ جی چاہے کرتا رہے اور اس پر کوئی باز پُرس نہ ہو۔ آگے کے مضمون کی تمہید کے طور پر اس فقرے سے کلام کا آغاز کر کے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جو شخص جزا و سزا کا قائل نہیں ہے اور اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھا رہے کہ نیک و بد سب آخر کار مر کر مٹی ہو جائیں گے،  کسی سے کوئی محاسبہ نہ ہو گا، نہ کسی کو بھلائی یا بُرائی کا کوئی بدلہ ملے گا، وہ دراصل دنیا کو ایک کھلونا اور اس کے بنانے والے کو کھلنڈرا سمجھتا ہے اور اس کا خیال یہ ہے کہ خالق کائنات نے دنیا بنا کر اور اس میں انسان کو پیدا کر کے ایک فعل عبث کا ارتکاب کیا ہے۔  یہی بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف طرقوں سے ارشاد فرمائی گئی ہے۔  مثلاً فرمایا:

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُم عَبَثاً وَّ اَنَّکُمْ اِلِیْنَا لَا تُرْ جَعُوْنَ (المومنون:۱۱۵)

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تم کو فضول پیدا کر دیا ہے اور تم ہمارے طرف پلٹائے جانے والے نہیں ہو؟

وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ o مَا خَلَقْنٰھُمَا اِلَّا بِا لْحَقِّ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُم لَا یَعْلَمُوْنَ o اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَا تھُُمْ اَجْمَعِیْنَo (الدُّ خان: ۳۸۔ ۴۰)

ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور کائنات کو جو ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا ہے۔  ہم نے ان کو بر حق پیدا کیا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔  درحقیقت فیصلے کا دن ان سب کے لیے حضری کا وقت مقرر ہے۔

۳۰۔ یعنی کیا تمہارے نزدیک یہ بات معقول ہے کہ نیک اور بد دونوں آخر کار یکساں ہو جائیں؟ کیا یہ تصور تمہارے لیے اطمینان بخش ہے کہ کسی نیک انسان کو اس کی نیکی کا کوئی صلہ اور کسی بد آدمی کو اس کی بدی کا کوئی بدلہ نہ ملے؟ ظاہر بات ہے کہ اگر آخرت نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی محاسبہ نہ اور انسانی افعال کی کوئی جزا و سزا نہ ہو تو اس سے اللہ کی حکمت اور اس کے عدل دونوں کی نفی ہو جاتی ہے اور کائنات کا پورا نظام ایک اندھا نظام بن کر رہ جانا ہے۔  اس مفروضے پر تو دنیا میں بھلائی لے لیے کوئی محرّک اور بُرائی سے روکنے کے لیے کوئی مانع سرے سے باقی ہی نہیں رہ جا تا ہے۔  خدا کی خدائی اگر معاذاللہ ایسی ہی اندھیر نگری ہو تو پھر وہ شخص بے وقوف ہے جو اس زمین پر تکلیفیں اُٹھا کر خود صالح زندگی بسر کرتا ہے اور خلقِ خدا کی اصلاح کے لیے کام کرتا ہے،  اور وہ شخص عقلمند ہے جو ساز گار مواقع پا کر ہر طرح کی زیادتیوں سے فائدے سمیٹے اور ہر قوم کے فسق و فجور سے لطف اندوز ہوتا ہے۔

۳۱۔ برکت کے لغوی معنی ہیں ’’ افزائش خیر و سعادت‘‘۔ قرآن مجید کو برکت والی کتاب کہنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ انسان کے لیے نہایت مفید کتاب ہے۔  اس کی زندگی کو درست کرنے کے لیے بہترین ہدایات دیتی ہے،  اس کی پیروی میں آدمی کا نفع ہی نفع ہے،  نقصان کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

۳۲۔ حضرت سلیمان کا ذکر اس سے پہلے حسب ذیل مقامات پر گزر چکا ہے : تفہیم القرآن جلد اول، ص ۹۷۔ جلد دوم،  ص، ۵۹۷۔ ۵۹۸۔ جلد سوم، ص ۱۷۳ تا ۱۷۸۔ ۵۶۰ تا ۵۸۲۔ سورہ سبا، آیات ۱۲۔ ۱۴۔

۳۳۔ اصل الفاظ ہیں الصَّا فِنَا تُ الْجِیَا دُ۔ اس سے مراد ایسے گھوڑے ہیں جو کھڑے ہوں تو نہایت سکون کے ساتھ کھڑے رہیں،  کوئی اچھل کود نہ کریں،  اور جب دوڑیں تو نہایت تیز دوڑیں۔

۳۴۔ اصل میں لفظ خَیْر  استعمال ہوا ہے جو عربی زبان میں مال کثیر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے،  اور گھوڑوں کے لیے بھی مجازاً استعمال کیا جاتا ہے۔  حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان گھوڑوں کو چونکہ راہ خدا میں جہاد کے لیے رکھا تھا، اس لیے انہوں نے ’’ خیر ‘‘ کے لفظ سے ان کو تعبیر فرمایا۔

۳۵۔ ان آیات کے ترجمہ اور تفسیر میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔

ایک گروہ ان کا مطلب یہ بیان کرتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام گھوڑوں کے معاینے اور ان کو دَوڑ کے ملاحظہ میں اس قدر مشغول ہوئے کہ نماز عصر بھول گئے،  یا بقول بعض اپنا کوئی خاص وظیفہ پڑھنا بھول گئے جو وہ عصر  و مغرب کے درمیان پڑھا کرتے تھے،  یہاں تک کہ سورج چھپ گیا۔ تب انہوں  نے حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو واپس لاؤ، اور جب وہ واپس آئے تو حضرت سلیمانؑ نے تلوار لے کر ان کا ٹنا، یا بالفاظ دیگر، اللہ کے لیے ان کو قربان کرنا شروع کر دیا کیونکہ وہ ذکر الٰہی  سے غفلت کے موجب بن گئے تھے۔  اس مطلب کے لحاظ سے ان آیات کا ترجمہ یہ کیا گیا ہے۔ : ’’تو اس نے کہا، میں نے اس مال کی محبت کو ایسا پسند کیا کہ اپنے رب کی یاد (نماز عصر، یا وظیفہ خاص) سے غافل ہو گیا، یہاں تک کہ (سورج پردۂ مغرب میں ) چھُپ گیا۔  (پھر اس نے حکم دیا کہ) واپس لاؤ ان (گھوڑوں ) کو (اور جب وہ واپس آئے ) تو لگا اُن کی پنڈلیوں اور گردنوں پر (تلوار کے ) ہاتھ چلانے ‘‘۔ یہ تفسیر اگرچہ بعض اکابر مفسرین نے کی ہے،  لیکن یہ اس وجہ سے قابل ترجیح نہیں ہے کہ اس میں مفسر کو تین باتیں اپنی طرف سے بڑھانی پڑتی ہیں جن کا کوئی ماخذ نہیں ہے۔  اوّلاً وہ فرض کرتا ہے کہ حضرت سلیمان کی نماز عصر اس شغل میں چھوٹ گئی، یا ان کا کوئی خاص وظیفہ چھوٹ گیا جو وہ اس وقت پڑھا کرتے تھے۔  حالانکہ قرآن کے الفاظ صرف یہ ہیں،  اِنِّی اَحْبَیْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِکْرِ رَبِّی۔ ان الفاظ کا ترجمہ یہ تو گیا جا سکتا ہے کہ ’’ میں نے اس مال کو اتنا پسند کیا کہ اپنے رب کی یاد سے غافل ہو گیا، ‘‘ لیکن ان میں نماز عصر یا کوئی خاص وظیفہ مراد لینے کے لیے کوئی قرینہ نہیں ہے۔  ثانیاً وہ یہ بھی فرض کرتا ہے کہ سورج چھپ گیا، حالانکہ وہاں سورج کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ حَتّیٰ تَوَ ا رَتْ بِا لْحِجَاب کے الفاظ پڑ ھ کر آدمی کا ذہن بال تامُّل الصَّا فِنَا تُ الْجِیَاد  کی طرف پھرتا ہے جن کا ذکر پچھلی آیت میں ہو چکا ہے۔  ثانیاً وہ یہ بھی فرض کرتا ہے کہ حضرت سلیمان نے گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں پر خالی مسح نہیں کیا بلکہ تلوار سے مسح کیا، حالانکہ قرآن میں مَسْحاً بِا لسَّیْفِ کے الفاظ نہیں ہیں،  اور کوئی قرینہ بھی ایسا موجود نہیں ہے جس کی بنا پر مسح سے مسح بالسُیف مراد لیا جا سکے۔  ہمیں اس طریق تفسیر سے اُصولی اختلاف ہے۔ ہمارے نزدیک قرآن کے الفاظ سے زائد کوئی مطلب لینا چار ہی صورتوں میں درست ہو سکتا ہے۔  یا تو قرآن ہی کی عبارت میں اس کے لیے کوئی قرینہ موجود ہو، یا قرآن میں کسی دوسرے مقام پر اس کی طرف کوئی اشارہ ہو، یا کسی صحیح حدیث میں اس اجمال کی شرح ملتی ہو، یا اس کا اور کوئی قابِل اعتبار ماخذ ہو، مثلاً تاریخ کا معاملہ ہے تو تاریخ میں اس اجمال کی تفصیلات ملتی ہوں،  آثار کائنات کا ذکر ہے تو مستند علمی تحقیقات سے اس کی تشریح ہو رہی ہو، اور احکام شرعیہ کا معاملہ ہے تو فقہ اسلامی کے مآخذ اس کی وضاحت کر رہے ہوں۔  جہاں ان میں سے کوئی چیز بھی نہ ہو وہاں محض بطور خود ایک قصہ تصنیف کر کے قرآن کی عبارت میں شامل کر دینا ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔

ایک گروہ نے مذکورہ بالا ترجمہ و تفسیر سے تھوڑا سا اختلاف کیا ہے۔  وہ کہتے ہیں کہ  حَتّیٰ تَوَا رَت ْ بِا لْحِجَابِ  اور رُدُّ وْ ھَا عَلَیَّ، دونوں کی ضمیر سورج ہی کی طرف پھرتی ہے۔  یعنی جب نماز عصر فوت ہو گئی اور سورج پردۂ مغرب میں چھُپ گیا تو حضرت سلیمانؑ نے کارکنان قضا و قدر سے کہا کہ پھیر لاؤ سورج کو تاکہ عصر کا وقت واپس آ جائے اور میں نماز ادا کر لوں،  چنانچہ سورج پلٹ آیا اور انہوں نے نماز پڑھ لی۔ لیکن یہ تفسیر اوپر والی تفسیر سے بھی زیادہ ناقابل قبول ہے۔  اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ سورج کو واپس لانے پر قادر نہیں ہے،  بلکہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا قطعاً کوئی ذکر نہیں فرمایا ہے،  حالانکہ حضرت سلیمانؑ کے لیے اتنا بڑا معجزہ صادر ہوا ہوتا تو وہ ضرور قابل ذکر ہونا چاہیے تھا۔ اور اس لیے بھی کہ سورج کا غروب ہو کر پلٹ آنا ایسا غیر معمولی واقعہ ہے کہ اگر وہ در حقیقت پیش آیا ہوتا تو دنیا کی تاریخ اس کے ذکر سے پر ہرگز خالی نہ رہتی۔ اس تفسیر کی تائید میں یہ حضرات بعض احادیث بھی پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سورج کا غروب ہو کر دوبارہ پلٹ آنا ایک ہی دفعہ کا واقعہ  نہیں ہے بلکہ یہ کئی دفعہ پیش آیا ہے۔  قصہ معراج میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے سورج کے واپس لائے جانے کا ذکر ہے۔  غزوہ خندق کے موقع پر بھی حضورؐ کے لیے وہ واپس لایا گیا۔ اور حضرت علیؓ کے لیے جب کہ حضورؐ کی گود میں سر رکھے سو رہے تھے اور ان کی نماز عصر قضا ہو گئی تھی، حضورؐ  نے سورج کی واپسی کی دعا فرمائی تھی اور وہ پلٹ آیا تھا۔ لیکن ان روایات سے استدلال اس تفسیر سے بھی زیادہ کمزور ہے جس کی تائید کے لیے انہیں پیش کیا گیا ہے۔  حضرت علیؓ کے متعلق جو روایت بیان کی جاتی ہے اس کے تمام طُرُق اور رجال پر تفصیلی بحث کر کے ابن تمییہؒ نے اسے موضوع ثابت کیا ہے۔  امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی اصل نہیں ہے،  اور ابن جَوزی کہتے ہیں کہ وہ بلا شک و شبہ موضوع ہے۔  غزوہ خندق کے موقع پر سورج کی واپسی والی روایت بھی بعض محدثین کے نزدیک ضعیف اور بعض کے نزدیک موضوع ہے،  رہی قصّۂ معراج والی روایت، تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کفار مکہ سے شبِ معراج کے حالات بیان فرما رہے تھے تو کفار نے آپ سے ثبوت طلب کیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ بیت المقدس کے راستے میں فلاں مقام پر ایک قافلہ ملا تھا جس کے ساتھ فلاں واقعہ پیش آیا تھا۔ کفّار نے پوچھا وہ قافلہ کس روز مکہ پہنچے گا۔ آپؐ نے فرمایا فلاں روز۔ جب وہ دن آیا تو قریش کے لوگ دن بھر قافلہ کا انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ شام ہونے کو آ گئی۔ اس موقع پر حضورؐ نے دعا کی کہ دن اس وقت تک غروب نہ ہو جب تک قافلہ نہ آ جائے۔  چنانچہ فی الواقع سورج ڈوبنے سے پہلے وہ پہنچ گیا۔ اس واقعہ کو بعض راویوں نے اس طرح بیان کیا ہے کہ اس روز دن میں ایک گھنٹہ کا اضافہ کر دیا گیا اور سورج اتنی دیر تک کھڑا رہا۔ سوال یہ ہے کہ اس قسم کی روایات کیا اتنے بڑے غیر معمولی واقعہ کے ثبوت میں کافی شہادت ہیں؟ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں،  سورج کا پلٹ آنا، یا گھنٹہ بھر رکا رہنا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔  ایسا واقعہ اگر فی الواقع پیش آ گیا ہوتا تو دنیا بھر میں اس کی دھوم مچ گئی ہوتی۔ بعض اخبارِ آحاو تک اس کا ذکر کیسے محدود رہ سکتا تھا؟

مفسرین کا تیسرا گروہ ان آیات کا وہی مفہوم لیتا ہے جو ایک خالی الذہن آدمی اس ک الفاظ پڑھ کر اس سے سمجھ سکتا ہے۔  اس تفسیر کے مطابق واقعہ بس اس قدر ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے جب علیٰ درجے کے اصیل گھوڑوں کا ایک دستہ پیش کیا گیا تو انہیں نے فرمایا، یہ مال مجھے کچھ اپنی بڑائی کی غرض سے یا اپنے نفس کی خاطر محبوب نہیں ہے بلکہ ان چیزوں سے دلچسپی کو میں اپنے رب کا کلمہ بلند کرنے کے لیے پسند کرتا ہوں۔  پھر انہوں نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی یہاں تک کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔ اس کے بعد انہیں نے ان کو واپس طلب فرمایا اور جب وہ آئے تو بقول ابن عباس، جعل یسمح اعراف الخیل و عرا قیبھا  حُبًّ لھا، ’’حضرت ان کی گردنوں پر اور ان کی پنڈلیوں پر محبت سے ہاتھ پھیرنے لگے ‘‘۔  یہی تفسیر ہمارے نزدیک صحیح ہے،  کیوں کہ یہ قرآن مجید کے الفاظ سے پوری مطابقت رکھتی ہے اور  مطلب کی تکمیل کے لیے اس میں ایسی کوئی بات بڑھانی نہیں پڑتی جو نہ قرآن میں ہو، نہ کسی صحیح حدیث میں اور نہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں۔

یہ بات بھی اس موقع پر نگاہ رہنی چاہیے کہ اس واقعہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کے حق میں  نِعْمَ الْعَبْدُ اِنَّہٗ اَوَّابٌ  (بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف کثرت سے رجوع کرنے والا) کے تعریفی کلمات ارشاد فرمانے کے معاً بعد کیا ہے۔  اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مقصود دراصل یہ بتانا ہے کہ دیکھو، وہ ہمارا ایسا اچھا بندہ تھا، بادشاہی کا سر و سامان اس کو دنیا کی خاطر نہیں بلکہ ہماری خاطر پسند تھا، اپنے شاندار رسالے کو دیکھ کر دنیا پرست فرمانرواؤں کی طرح اس نے ڈینگیں نہ ماریں بلکہ اس وقت بھی ہم ہی اسے یاد آئے۔

۳۶۔ سلسلہ کلام کے لحاظ سے اس جگہ اصل مقصد یہی واقعہ بیان کرنا ہے اور پچھلی آیات اسی کے لیے بطور تمہید ارشاد ہوئی ہیں۔  جس طرح پہلے حضرت داؤد کی تعریف کی گئی، پھر اس واقعہ کا ذکر کیا گیا جس میں وہ مبتلائے فتنہ ہو گئے تھے،  پھر بتایا گیا کہ اللہ جل شانہ نے اپنے ایسے محبوب بندے کو بھی محاسبہ کیے بغیر نہ چھوڑا، پھر ان کی یہ شان دکھائی گئی کہ فتنے پر متنبہ ہوتے ہی وہ تائب ہو گئے اور اللہ کے آگے جھک کر انہوں نے اپنے اس فعل سے رجوع کر لیا، اسے طرح یہاں بھی ترتیبِ کلام یہ ہے کہ پہلے حضرت سلیمان علیہ السلام کے مرتبہ بلند اور شانِ بندگی کا ذکر کیا گیا ہے،  پھر بتایا گیا ہے کہ ان کو بھی آزمائش میں ڈالا گیا پھر ان کی یہ شان بندگی دکھائی گئی ہے کہ جب ان کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دیا گیا تو وہ فوراً ہی پانے لغزش پر متنبہ ہو گئے اور اپنے رب سے معافی مانگ کر انہوں نے اپنی اس بات سے رجوع کر لیا جس کی وجہ سے وہ فتنے میں پڑے تھے۔  بالفاظِ دیگر اللہ تعالیٰ ان دونوں قصوں سے بیک وقت دو باتیں ذہن نشین کرانا چاہتا ہے۔  ایک یہ کہ  اس کے بے لاگ  محاسبے سے انبیا ء تک نہیں بچ سکے ہیں،  تابدیگراں چہ رسد۔ دوسرے یہ کہ بندے کے لیے صحیح رویہ قصور کر کے اکڑنا نہیں ہے بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ جس وقت بھی اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اسی وقت وہ عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے آگے جھک جائے۔  اسی رویہ کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان بزرگوں کی لغزشوں کو محض معاف ہی نہیں کیا بلکہ ان کو اور زیادہ الطاف و عنایات سے نوازا۔

یہاں پھر یہ سول پیدا ہوتا ہے وہ فتنہ کیا تھا جس میں حضرت سلیمان علیہ السلام پڑ گئے تھا؟ اور ان کی کرسی پر ایک جَسَد لا کر ڈال دینے کا کیا مطلب ہے ؟ اور اس جَسَد کا لا کر ڈالا جانا ان کے لیے کس نوعیت کی تنبیہ تھی جس پر انہوں نے توبہ کی؟ اس کے جواب میں مفسرین نے چار مختلف مسلک اختیار کیے ہیں۔

ایک گروہ نے ایک لمبا چوڑا افسانہ بیان کیا ہے جس کی تفصیلات میں ان کے درمیان بہت کچھ اختلافات ہیں۔  مگر سب کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمانؑ سے یا تو یہ قصور ہوا تھا کہ ان کے محل میں ایک بیگم چالیس دن تک بت پرستی کرتی رہی اور وہ اس سے بے خبر رہے،  یا یہ کہ وہ چند روز تک گھر میں بیٹھ رہے اور کسی مظلوم کی داد رسی نہ کی۔ اس پر ان کو یہ سزا ملی کہ ایک شیطان کسی نہ کسی طرح ان کی وہ انگوٹھی اُڑا لے گیا جس کی بدولت وہ جن و انس اور ہواؤں پر حکومت کرتے تھے۔  انگوٹھی ہاتھ سے جاتے ہی حضر ت سلیمانؑ کا سارا اقتدار چھن گیا اور وہ چالیس دن تک دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرے۔  اور اس دوران میں وہ شیطان، سلیمانؑ بنا ہوا حکمرانی کرتا رہا۔ سلیمانؑ کی کرسی پر ایک جسد  لا کر ڈال دینے سے مراد یہی شیطان ہے جو کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔ بعض حضرات یہاں تک بھی کہہ گزرتے ہیں کہ اس زمانے میں اس شیطان سے حرمِ سلیمانی کی خواتین تک کی عصمت محفوظ نہ رہی۔ آخر کار سلطنت کے اعیان و اکابر اور علماء کو اس کی کاروائیاں دیکھ کر شک ہو گیا کہ یہ سلیمان نہیں ہے۔  چنانچہ انہوں نے اس کے سامنے  توراۃ کھولی اور وہ ڈر کر بھاگ نکلا۔ راستے میں انگوٹھی اس کے ہاتھ سے سمندر میں گر گئی، یا خود اُسی نے پھینک دی، اور اسے ایک مچھلی نے نگل لیا۔ پھر اتفاق سے وہ مچھلی سلیمان کو مل گئی۔ اسے پکانے کے لیے انہوں نے اس کا پیٹ جو چاک کیا تو انگوٹھی نکل آئی اور اس کا ہاتھ آنا تھا کہ جن و انس سب سلام کرتے ہوئے ان کے سامنے حاضر ہو گئے ـــــــــــ  یہ پورا افسانہ از سر تا پا خرافات پر مشتمل ہے جنہیں نو مسلم اہل کتاب نے تلمود اور دوسرے اسرائیلی روایات سے اخذ کر کے مسلمانوں میں پھیلا دیا تھا اور حیرت ہے کہ ہمارے ہاں کے بڑے بڑے لوگوں نے ان کو قرآن کے مجملات  کی تفصیلات  سمجھ کر اپنی زبان سے نقل کر دیا۔ حالانکہ نہ انگشتری سلیمانی کی کوئی حقیقت ہے،  نہ حضرت سلیمان کے کمالات کسی انگشتری کے کرشمے تھے،  نہ شیاطین کو اللہ نے یہ قدرت دی ہے کہ انبیاء کی شکل بنا کر آئیں اور خلقِ خدا کو گمراہ کریں،  اور نہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ کسی نبی کے قصور کی سزا ایسی فتنہ انگیز شکل میں سے جس سے شیطان نبی بن یر ایک پوری اُمت کا ستیاناس کر دے۔  سب سے بڑی بات یہ ہے کہ قرآن خود اس تفسیر کی تردید کر رہا ہے۔  آگے آیات میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب یہ آزمائش حضرت سلیمان کو پیش آئی اور انہوں نے ہم سے معافی مانگ لی تب ہم نے ہوا اور شیاطین کو ان کے لیے مسخر کر دیا۔ لیکن یہ تفسیر اس کے برعکس یہ بتا رہی ہے کہ شیاطین پہلے ہی انگشتری کے طفیل حضرت سلمان کے تابع فرمان تھے۔  تعجب ہے کہ جن بزرگوں نے یہ تفسیر بیان کی ہے انہوں نے یہ بھی نہ دیکھا کہ بعد کی آیات کیا کہہ رہی ہیں۔

دوسرا گروہ کہتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ کے ہاں ۲۰ سال کے بعد ایک لڑکا پیدا ہوا۔ شیاطین کو خطرہ ہوا کہ اگر سلیمانؑ کے بعد یہ بادشاہ ہو گیا تو ہم پھر اسی غلامی میں مبتلا رہیں گے،  اس لیے انہوں نے اسے قتل کر دینے کی ٹھانی۔ حضرت سلیمانؑ کو اس کا علم ہو گیا اور انہوں نے اس لڑکے کو بادلوں میں چھپا دیا تا کہ وہیں اس کی پرورش ہوتی رہے۔  یہی وہ فتنہ تھا جس میں حضرت مبتلا ہوئے تھے کہ انہوں نے اللہ پر توکل کرنے کے بجائے بادلوں کی حفاظت پر اعتماد کیا۔ اس کی سزا ان کو دی گئی کہ وہ بچہ مر کر ان کی کرسی پر آ گرا ــــــــــــ  یہ افسانہ بھی بالکل بے سر و پا اور صریح قرآن کے خلاف ہے،  کیونکہ اس میں بھی یہ رفض کر لیا گیا ہے کہ ہوائیں اور شیاطین پہلے سے حضرت سلیمانؑ کے لیے مسخر تھے،  حالانکہ قرآن صاف الفاظ میں ان کی تسخیر کو اس فتنے کے بعد کا واقعہ بتا رہا ہے۔

تیسرا گروہ کہتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے ایک روز قسم کھائی کہ آج رات میں اپنی ستّر بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک سے ایک مجاہد فی سبیل اللہ پیدا ہو گا، مگر یہ بات کہتے ہوئے انہوں نے اِنشاء اللہ نہ کہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ صرف ایک بیوی حاملہ ہوئیں اور ان سے بھی ایک ادھورا بچہ پیدا ہوا جسے دائی نے لا کر حضرت سلیمانؑ کی کرسی پر ڈال دیا۔ یہ حدیث حضرت ابو ہریرہؓ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کی ہے اور سے بخاری و مسلم اور دوسرے محدثین نے متعدد طریقوں سے نقل کیا ہے۔  خود بخاری میں مختلف مقامات پر یہ روایت جن طریقوں سے نقل کی گئی ہے ان میں سے کسی میں بیویوں کی تعداد ۶۰ بیان کی گئی ہے،  کسی میں ۷۰، کسی میں ۹۰، کسی میں ۰۰، اور کسی میں ۱۰۰۔ جہاں تک اسناد کا تعلق ہے،  ان میں سے اکثر روایات کی سند قوی ہے،  اور با عتبارِ روایت اس کی صحت میں کلام نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن حدیث کا مضمون صریح عقل کے خلاف ہے اور پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح ہر گز نہ فرمائی ہو گی جس طرح وہ نقل ہوئی ہے۔  بلکہ آپ نے غالباً یہود کی یاوہ گوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے کسی موقع پر اسے بطور مثال بیان فرمایا ہو گا، اور سامع کو یہ غلط فہمی لاحق ہو گئی کہ اس بات کو حضورؐ خود بطور واقعہ بیان فرما رہے ہیں۔  ایسی روایات کو محض صحت سند کے زور پر لوگوں کے حلق سے اُتروانے کی کوشش کرنا دین کو  مضحکہ بنانا ہے۔   ہر شخص خود حساب لگا کر دیکھ سکتا ہے کہ جاڑے کی طویل ترین رات میں بھی عشا اور فجر کے درمیان دس گیارہ گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں ہوتا۔ اگر بیویوں کی کم سے کم تعداد ۶۰ ہی مان لی جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اس رات بغیر دم لیے فی گھنٹہ ۶ بیویوں کے حساب سے مسلسل دس گھنٹے یا گیارہ گھنٹے مباشرت کرتے چلے گئے۔  کیا یہ عملاً ممکن بھی ہے؟ اور کیا یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ حضورؐ نے یہ بات واقعے کے طور پر بیان کی ہو گی؟ پھر حدیث میں یہ بات کہیں نہیں بیان کی گئی ہے کہ قرآن مجید میں حضرت سلیمان کی کرسی پر جس  جسد کے ڈالے جانے کا ذکر آیا ہے اس سے مراد یہی ادھورا بچہ ہے۔  اس لیے یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ حضورؐ نے یہ واقعہ اس آیت کی تفسیر  کے طور پر بیان فرمایا تھا۔ علاوہ بریں اس بچے کی پیدائش پر حضرت سلیمانؑ کا استغفار کرنا تو سمجھ میں آتا ہے،  مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ انہوں نے استغفار کے ساتھ یہ دعا کیوں مانگی کہ ’’ مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزا وار نہ ہو۔ ‘‘

ایک اور تفسیر جس کو امام رازی ترجیح دیتے ہیں یہ ہے کہ حضرت سلیمان کسی سخت مرض میں مبتلا ہو گئے تھے،  یا کسی خطرے کی وجہ سے اس قدر متفکر تھے کہ گھلتے گھلتے وہ بس ہڈی اور چمڑا رہ گئے تھے۔  لیکن یہ تفسیر قرآن کے الفاظ کا ساتھ نہیں دیتی۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’ ہم نے سلیمان کو آزمائش میں ڈالا اور اس کی کر دی پر ایک جسد لا کر ڈال دیا، پھر اس نے رجوع کیا۔ ‘‘ ان الفاظ کو پڑھ کر کوئی شخص بھی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اس جسد سے مراد خود حضرت سلیمان ہیں۔  ان سے تو صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش میں ڈالے جانے سے مراد کوئی قصور ہے جو آنجناب سے صادر ہوا تھا۔ اس قصور پر آپ کو تنبیہ اس شکل میں فرمائی گئی کہ آپ کی کرسی پر ایک جسد لا ڈالا گیا، اور اس پر جب آپ کو اپنے قصور کا احساس ہوا تو آپ نے رجوع فرما لیا۔

حقیقت یہ ہے کہ مقام قرآن مجید کے مشکل ترین مقامات میں سے ہے اور حتمی طور پر اس کی کوئی تفسیر بیان کرنے کے لیے ہمیں کوئی یقینی بنیاد نہیں ملتی۔ لیکن حضرت سلیمان کی دعا کے یہ الفاظ کہ ’’ اے میرے رب، مجھے معاف کر دے اور مجھ کو وہ بادشاہی دے جو میرے بعد  کسی کے لیے سزاوار نہ ہو’’، اگر تاریخ بنی اسرائیل کی روشنی میں پڑھے جائیں تو بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اُن کے دل میں غالباً یہ خواہش تھی کہ ان کے بعد ان کا بیٹا جانشین ہو اور حکومت و فرمانروائی آئندہ انہی کی نسل میں باقی رہے۔  اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں ’’ فتنہ ‘‘ قرار دیا اور اس پر وہ اس وقت متنبہ ہوئے جب ان کا ولی عہد رَجُبعام ایک ایسا نالائق نوجوان بن کر اُٹھا  جس کے لچھن صاف بتا رہے تھے کہ وہ داؤد و سلیمان علیہما السلام کی سلطنت چار دن بھی نہ سنبھال سکے گا۔ ان کی کرسی پر ایک جَسَد لا کر ڈالے جانے کا مطلب غالباً یہی ہے کہ جس بیٹے کو وہ اپنی کرسی پر بٹھا نا چاہتے تھے وہ ایک کندہ نا تراش تھا۔ تب انہوں نے اپنی اس خواہش سے رجوع کیا، اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر درخواست کی کہ بس یہ بادشاہی مجھی پر ختم ہو جائے،  میں اپنے بعد اپنی نسل میں بادشاہی جاری رہنے کی تمنا سے باز آیا۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے اپنے بعد کسی کے لیے بھی جانشینی کی نہ وصیت کی اور نہ کسی کی اطاعت کے لیے لوگوں کو پابند کیا۔ بعد میں ان کے اعیانِ سلطنت نے رجبعام کو تخت پر بٹھایا، مگر کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ بنی اسرائیل کے دس قبیلے شمالی فلسطین کاعلاقہ لے کر الگ ہو گئے اور صرف یہوواہ کا قبیلہ بیت المقدس کے تخت سے وابستہ رہ گیا۔

۳۷۔ اس کی تشریح سورہ انبیاء کی تفسیر میں گزر چکی ہے (تفہیم القرآن جلد سوم، ص ۱۷۶۔ ۱۷۷ )۔ البتہ یہاں ایک بات وضاحت طلب ہے۔  سورہ انبیاء میں جہاں حضرت سلیمانؑ کے لیے ہو ا کو مسخر کرنے کا ذکر کیا گیا ہے وہاں الریح عَاصفتۃً (باد تند) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں،  اور یہاں اسی ہوا کے متعلق فرمایا گیا ہے تَجْرِیْ بِاَ مْرِ ہٖ رُخَآ ءً  (وہ اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہوا بجائے خود تو باد تند تھی، جیسی کہ بادبانی جہازوں کو چلانے کے لیے درکار ہوتی ہے،  مگر حضرت سلیمانؑ کے لیے وہ اس معنی میں نرم بنا دی گئی تھی کہ جدھر ان تجارتی بیڑوں کو سفر کرتے کی ضرورت ہوتی تھی اسی طرف وہ چلتی تھی۔

۳۸۔ تشریح کے  لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، صفحہ ۱۷۶۔ ۱۷۸۔ ۵۶۲۔ ۵۶۳۔ ۵۶۶۔ ۵۶۸۔ ۵۷۵۔ ۵۷۶۔ شیاطین سے مراد جِن ہیں۔  اور ’’ پابند سلاسل شیاطین‘‘ سے مراد وہ خدمت گار شیاطین ہیں جنہیں شرارت کی پاداش میں مقید کر دیا جاتا تھا۔ ضروری نہیں ہے کہ وہ بیڑیاں اور زنجیریں جن سے یہ شیاطین باندھے جاتے تھے، لوہے کی ہی بنی ہوئی ہوں اور قیدی انسانوں کی طرح وہ بھی لوگوں کو علانیہ بندھے ہوئے نظر آتے ہوں۔  بہر حال انہیں کسی ایسے طریقہ سے مقید کیا جاتا تھا جس سے وہ بھاگنے اور شرارت کرنے پر قادر نہ رہتے تھے۔

۳۹۔ اس آیت کے  تین مطلب ہو سکتے ہیں۔  ایک یہ کہ یہ ہماری بے حساب بخشش ہے،  تمہیں اختیار ہے کہ جسے چاہو دو اور سے چاہے نہ دو۔ دوسرے یہ کہ یہ ہماری بخشش ہے،  جسے چاہو دو نہ دو، دینے یا نہ دینے پر تم سے کوئی محاسبہ نہ ہو گا۔ ایک اور مطلب بعض مفسرین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ شیاطین کلیۃً تمہارے تصرف میں دے دیے گئے ہیں،  ان میں سے جسے چاہو رہا کر دو اور جسے چاہو روک رکھو، اس پر کوئی محاسبہ تم سے نہ ہو گا۔

۴۰۔ اس ذکر سے اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بندے کی اکڑ جتنی مبغوض ہے،  اس کی عاجزی کی ادا اتنی ہی محبوب ہے۔  بندہ اگر قصور کرے اور تنبیہ کرنے پر اُلٹا اور زیادہ اکڑ جائے تو انجام وہ ہوتا ہے جو آگے آدم و ابلیس کے اصے میں بیان ہو رہا ہے۔  اس کے برعکس ذرا لغزش بھی اگر بندے سے ہو جائے اور وہ توبہ کر کے عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے آگے جھک جائے تو اس پر وہ نوازشات فرمائی جاتی ہیں جو داؤد و سلیمان علیہما السلام پر فرمائی گئیں۔  حضرت سلیمانؑ نے استغفار کے بعد جو دعا کی تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے لفظ بلفظ پورا کیا اور ان کو فی الواقع ایسی بادشاہی دی جو نہ ان سے پہلے کسی کو ملی نہ تھی، نہ ان کے بعد آج تک کسی کو عطا کی گئی۔ ہواؤں پر تصرُّف اور جِنوں پر  حکمرانی ایک ایسی غیر معمولی طاقت ہے جو انسانی تاریخ میں صرف حضرت سلیمان ہی کو بخشی  گئی ہے،  کوئی دوسرا اس میں ان کا شریک نہیں ہے۔

 

ترجمہ

 

اور ہمارے بندے ایّوبؑ کا ذکر کرو(۴۱)، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے (۴۲)۔ (ہم نے اسے حکم دیا) اپنا پاؤں زمین پر مار، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کے لیے اور پینے کے لیے (۴۳)۔ ہم نے اسے اس کے اہل و عیال واپس دیے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (۴۴)، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر، اور عقل و فکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر(۴۵)۔ (اور ہم نے اس سے کہا) تنکوں کا ایک مُٹھا لے اور اس سے مار دے،  اپنی قسم نہ توڑ(۴۶)۔  ہم نے اسے صابر پایا، بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف بہت رجوع کرنے والا(۴۷)۔

اور ہمارے بندوں،  ابراہیمؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا ذکر کرو۔ بڑی قوت عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے (۴۸)۔ ہم نے ان کو ایک خالص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا، اور وہ دار آخرت کی یاد تھی(۴۹)۔ یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں ہے۔  اور اسماعیلؑ اور اَلْیَسْع (۵۰) اور ذوالکِفل(۵۱) کا ذکر کرو، یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے۔

یہ ایک ذکر تھا۔ (اب سنو کہ ) متقی لوگوں کے لیے یقیناً بہترین ٹھکانا ہے،  ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن دے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے (۵۲)۔ ان میں تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے،  خوب خوب فواکہ اور مشروبات طلب کر رہے ہوں گے،  اور ان کے پاس شرمیلی ہم سن بیویاں ہوں گی (۵۳)۔ یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔  یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے سالا نہیں۔

یہ تو ہے متقیوں کا انجام۔ اور سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہے،  جہنم جس میں وہ جھلسے جائیں گے،  بہت ہی بری قیام گاہ۔ یہ ہے ان کے لیے،  پس وہ مزا چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ (۵۴) لہو اور اسے قسم کی دوسری تلخیوں کا۔ (وہ جہنم کی طرف اپنے پیروؤں کو آتے دیکھ کر آپس میں کہیں گے )’’ یہ ایک لشکر تمہارے پاس گھسا چلا آ رہا ہے،  کوئی خوش آمدید ان کے لیے نہیں ہے،  یہ آگ میں جھلسنے والے ہیں ‘‘۔ وہ ان کو جواب دیں گے ’’نہیں بلکہ تم ہی جھلسے جا رہے ہو کوئی خیر مقدم تمہارے لیے نہیں۔ تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو، کیسی بری ہے یہ جائے قرار ‘‘ پھر وہ کہیں گے ’’اے ہمارے رب، جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچانے کا بندوبست  کیا اس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے ‘‘۔ اور وہ آپس میں کہیں گے ’’ کیا بات ہے،  ہم ان لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں برا سمجھتے تھے؟ (۵۵) ہم نے یونہی ان کا مذاق بنا لیا تھا، یا وہ کہیں نظروں سے اوجھل ہیں ‘‘؟ بے شک یہ بات سچی ہے،  اہل دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں۔ ع

 

تفسیر

 

۴۱۔ یہ چوتھا مقام ہے جہاں حضرت ایوبؑ کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔  اس سے پہلے سورہ نساء آیت ۱۶۳، سورہ انعام آیت ۸۴، سورہ انبیاء آیات ۸۳۔ ۸۴ میں ان کا ذکر گزر چکا ہے اور ہم تفسیر سورہ انبیاء میں ان کے حالات کی تفصیل بیان کر چکے ہیں۔ (تفہیم القرآن، جلد سوم، صفحات ۱۷۸ تا ۱۸۱)

۴۲۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شیطان نے مجھے بیماری میں مبتلا کر دیا ہے اور میرے اوپر مصائب نازل کر دیے ہیں،  بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ بیماری کی شدت، مال و دولت کے ضیاع، اور اعزّہ و اقربا کے منہ موڑ لینے سے میں جس تکلیف اور عذاب میں مبتلا ہوں اس سے بڑھ کر تکلیف اور عذاب میرے لیے یہ ہے کہ شیطان اپنے وسوسوں سے مجھ تنگ کر رہا ہے،  وہ ان حالات میں مجھے اپنے رب سے مایوس کرنے کی کوشش کرتا ہے،  مجھ  اپنے رب کا ناشکرا بنانا چاہتا ہے،  اور اس بات کے درپے ہے کہ میں دامن صبر ہاتھ سے چھوڑ بیٹھوں۔  حضرت ایوب کی فریاد کا یہ مطلب ہمارے نزدیک دو وجوہ سے قابل ترجیح ہے،  ایک یہ کہ قرآن مجید کی رو سے اللہ تعالیٰ نے شیطان کو صرف وسوسہ اندازی ہی کی  طاقت عطا فرمائی ہے،  یہ اختیارات اس کو نہیں دیے ہیں کہ اللہ کی بندگی کرنے والوں کو بیمار ڈال دے اور انہیں جسمانی اذیتیں دے کر بندگی کی راہ سے ہٹنے پر مجبور کرے۔  دوسرے یہ کہ سورہ انبیاء میں جہاں حضرت ایوبؑ اپنی بیماری کی شکایت اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں وہاں شیطان کا کوئی ذکر نہیں کرتے بلکہ صرف یہ عرض کرتے ہیں کہ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّ ا حِمِیْنَ، ’’ مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے۔ ‘‘

۴۳۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین پر پاؤں مارتے ہی ایک چشمہ نکل آیا جس کا پانی پینا اور اس میں غسل کرنا حضرت ایوبؑ کے مرض کا علاج تھا۔ اغلب یہ ہے کہ حضرت ایوبؑ کسی سخت جلدی مرض میں مبتلا تھے۔  بائیبل کا بیان بھی یہی ہے کہ سر سے پاؤں تک ان کا سارا جسم پھوڑوں سے بھر گیا تھا۔

۴۴۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بیماری میں حضرت ایوب کی بیوی کے سوا اور سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا حتیٰ کہ اولاد تک ان سے منہ موڑ گئی تھی۔ اسی چیز کی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ فرما رہا ہے کہ جب ہم نے ان کو شفا عطا فرمائی تو سارا خاندان ان کے پاس پلٹ آیا، اور پھر ہم نے ان کو مزید اولاد عطا کی۔

۴۵۔ یعنی اس میں ایک صاحب عقل آدمی کے لیے یہ سبق ہے کہ انسان کو نہ اچھے حالات میں خدا کو بھول کر سرکش بننا چاہیے اور نہ بُرے حالات میں اس سے مایوس ہونا چاہیے۔  تقدیر کی بھلائی اور بُرائی سراسر وحدہٗ  لاشریک کے اختیار میں ہے۔  وہ چاہے تو آدمی کے بہترین حا لات کو بدترین حالات میں تبدیل کر دے،  اور چاہے تو بُرے سے بُرے حالات سے اس کو بخیریت گزار کر بہترین حالت پر پہنچا دے۔  اس لیے بندہ عاقل کو ہر حالت میں اسی پر توکل کرنا چاہیے اور اسی سے آس لگانی چاہیے۔

۴۶۔ ان الفاظ پر غور کرنے سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت ایوب نے بیماری کی حالت میں ناراض ہو کر کسی کو مارنے کی قسم کھا لی تھی، (روایات یہ ہیں کہ بیوی کو مارنے کی قسم کھائی تھی) اور اس قسم ہی میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ تجھے اتنے کوڑے ماروں گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت عطا فرما دی اور حالت مرض کا وہ غصہ دور ہو گیا جس میں یہ قسم کھائی گئی تھی، تو ان کو یہ پریشانی لاحق ہوئی کہ قسم پوری کرتا ہوں تو خواہ مخواہ ایک بے گناہ کو مارنا پڑے گا، اور قسم توڑتا ہوں تو یہ بھی ایک گناہ کا ارتکاب ہے۔  اس مشکل سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح نکالا کہ انہیں حکم دیا، ایک جھاڑو لو جس میں اتنے ہی تنکے ہوں جتنے کوڑے تم نے مارنے کی قسم کھائی تھی، اور اس جھاڑو سے اس شخص کو بس ایک ضرب لگا دو، تاکہ تمہاری قسم بھی پوری ہو جائے اور اسے ناروا  تکلیف بھی نہ پہنچے۔

بعض فقہاء اس رعایت کو حضرت ایوبؑ کے لیے خاص سمجھتے ہیں،  اور بعض فقہا ء کے نزدیک دوسرے لوگ بھی اس رعایت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔  پہلی رائے ابن عساکر نے حضرت عبداللہ بن عباس سے اور ابوبکر جَصّاص نے مجاہر سے نقل کی ہے،  اور امام مالکؒ کی بھی یہی رائے ہے۔  دوسرے رائے کو امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسف، امام محمد، امام زُفَر اور امام شافعیؒ نے اختیار کیا ہے۔  وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص، مثلاً اپنے خادم کو دس کوڑے مارنے کی قسم کھا بیٹھا ہو اور بعد میں دسوں کوڑے ملا کر اسے صرف ایک ضرب اس طرح لگا دے کہ ہر کوڑے کا کچھ نہ کچھ حصہ اس شخص کو ضرور لگ جائے،  تو اس کی قسم پوری ہو جائے گی۔

متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسی زانی پر حد جاری کرنے کے معاملے میں بھی اس آیت کا بتایا ہو ا طریقہ استعمال فرمایا ہے جو اتنا بیمار یا اتنا ضعیف ہو کہ سو درّوں کی مار برداشت نہ کر سکے۔  علامہ ابو بکر جصاص نے حضرت سعید بن عبادہ سے روایت نقل کی ہے کہ قبیلہ بنی ساعد میں ایک شخص سے زنا کا ارتکاب ہوا اور وہ ایسا مریض تھا کہ بس ہڈی اور چمڑا رہ گیا تھا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم  نے حکم دیا کہ  خذوا عثکالاً فیہ مأۃ شمر اخ فاضربوہ بھا ضربۃ  واحدۃ، ’’ کھجور کا  ایک ٹہنا لو جس میں سو شاخیں ہوں اور اس سے بیک وقت اس شخص کو ماردو‘‘ (احکام القرآن)۔ مُسند احمد، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، طبرانی، عبدالرزاق اور دوسری کتب حدیث میں بھی اس کی تائید کرنے والی کئی حدیثیں موجود ہیں جن سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مرض اور ضعیف پر حد جاری کرنے کے لیے یہی طریقہ مقرر فرمایا تھا۔ البتہ فقہاء نے اس کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ ہر شاخ یا ہر تنکا کچھ نہ کچھ مجرم کو لگ جانا چاہیے،  اور ایک ہی ضرب سہی، مگر وہ کسی نہ کسی حد تک مجرم کو چوٹ لگانے والی بھی ہونی چاہیے۔  یعنی محض چھو دینا کافی نہیں ہے،  بلکہ مارنا ضروری ہے۔

یہاں یہ بحث بھی پیدا ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص ایک بات کی قسم کھا بیٹھا ہو اور بعد میں معلوم ہو کہ وہ نامناسب بات ہے تو اسے کیا کرنا چاہیے۔  نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ایک روایت یہ ہے کہ آپ نے فرمایا اس صورت میں آدمی کو وہی کام کرنا چاہیے جو بہتر ہو اور یہی کفارہ ہے۔  دوسری روایت حضورؐ سے یہ ہے کہ اس نامناسب کام کے بجائے آدمی وہ کام کرے جو اچھا ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔  یہ آیت اسی دوسرے روایت کی تائید کرتی ہے۔  کیونکہ ایک نامناسب کام نہ کرنا ہی اگر قسم کا کفارہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ حضرت ایوبؑ سے یہ نہ فرماتا کہ تم ایک جھاڑو مار کر اپنے قسم پوری کر لو، بلکہ یہ فرماتا کہ تم یہ مناسب کام نہ کرو اور اسے نہ کرنا ہی تمہاری قسم کا کفارہ ہے۔

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آدمی نے جس بات کی قسم کھائی ہو اسے فوراً پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔  حضرت ایوبؑ نے قسم بیماری کی حلت میں کھائی تھی اور اسے پورا تندرست ہونے کے بعد کیا، اور تندرست ہونے کے بعد بھی فوراً ہی نہیں کر دیا۔

بعض لوگوں نے اس آیت کو حیلہ شرعی کے لیے دلیل قرار دیا ہے۔  اس میں شک نہیں کہ وہ ایک حیلہ ہی تھا جو حضرت ایوبؑ کو بتایا گیا تھا، لیکن وہ کسی فرض سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ ایک بُرائی سے بچنے کے لیے بتایا گیا تھا۔ لہٰذا شریعت میں صرف وہی حیلے جائز ہیں جو آدمی کو اپنی ذات سے یا کوئی  دوسرے شخص سے ظلم اور گناہ اور برائی کو دفع کرنے کے لیے اختیار کیے جائیں۔  ورنہ حرام کو حلال کرنے یا فرائض کو ساقط کرنے یا نیکی سے بچنے کے لیے حیلہ سازی گناہ در گناہ ہے۔  بلکہ اس کے ڈانڈے کفر سے جا ملتے ہیں۔  کیونکہ جو شخص ان کی ناپاک اغراض کے لیے حیلہ کرتا ہے وہ گویا خدا کو دھوکا دینا چاہتا ہے۔  مثلاً جو شخص زکوٰۃ سے بچنے کے لیے سال ختم ہونے سے پہلے اپنا مال کسی اور کی طرف منتقل کر دیتا ہے وہ محض ایک فرض ہی سے فرار نہیں کرتا۔ وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اس ظاہری فعل سے دھوکا کھا جائے گا اور اسے فرض سے سبکدوش سمجھ لے گا۔ جن فقہاء نے اس  طرح کے حیلے اپنی کتابوں میں درج کیے ہیں ا ن کا یہ نہیں ہے کہ احکام شریعت سے جان چھڑا نے کے لیے یہ حیلہ بازیاں کرنی چاہییں۔  بلکہ ان کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک گناہ کو قانونی شکل دے کر بچ نکلے تو قاضی یا حاکم اس پر گرفت نہیں کر سکتا، اس کا معاملہ خدا کے حوالے ہے۔

۴۷۔ حضرت ایوبؑ   کا ذکر اس سیاق سباق میں یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کے نیک جب مصائب و شدائد میں مبتلا ہوتے ہیں تو اپنے رب سے شکوہ سنج نہیں ہوتے بلکہ صبر کے ساتھ اس کی ڈالی ہوئی آزمائشوں کو برداشت کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔  ان کا یہ طریقہ نہیں ہوتا کہ اگر کچھ مدت تک خدا سے دعا مانگتے رہنے پر بلا نہ ٹلے تو پھر اس سے مایوس ہو کر دوسروں کے آستانوں پر ہاتھ پھیلانا شروع کر دیں۔  بلکہ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ملنا ہے اللہ ہی کے ہاں سے ملنا ہے،  اس لیے مصیبتوں کا سلسلہ چاہے کتنا ہی دراز ہو، وہ اُسی کی رحمت کے امیدوار بنے رہتے ہیں۔  اسی لیے وہ ان الطاف و عنایات سے سرفراز ہوتے ہیں جن کی مثال حضرت ایوبؑ کی زندگی میں ملتی ہے۔  حتیٰ کہ اگر وہ کبھی مضطرب ہو کر کسی اخلاقی مخمصے میں پھنس بھی جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں بُرائی سے بچانے کے لیے ایک راہ نکال دیتا ہے جس طرح اس نے حضرت ایوبؑ کے لیے نکال دی۔

۴۸۔ اصل الفاظ ہیں  اُو لِی الْاَ یْدِ یْ وَالْاَبْصَارِ (ہاتھوں والے اور نگاہوں والے )۔ ہاتھ سے مراد، جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں،  قوت و قدرت ہے۔  اور ان انبیاء کو صاحب قوت و قدرت کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ نہایت با عمل لوگ تھے،  اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور معصیتوں سے بچنے کی زبردست طاقت رکھتے تھے،  اور دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے انہوں نے بڑی کوششیں کی تھیں۔  نگاہ سے مراد آنکھوں کی بینائی نہیں بلکہ دل کی بصیرت ہے۔  وہ حق ہیں اور حقیقت شناس لوگ تھے۔  دنیا میں اندھوں کی طرح نہیں چلتے تھے بلکہ آنکھیں کھول کر علم و معرفت کی پوری روشنی میں ہدایت کا سیدھا راستہ دیکھتے ہوئے چلتے تھے۔  ان الفاظ میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جو لوگ بد عمل اور گمراہ ہیں وہ درحقیقت ہاتھوں اور آنکھوں،  دونوں سے محروم ہیں۔  ہاتھ والا حقیقت میں وہی ہے  اللہ کی راہ میں کام کرے اور آنکھوں والا دراصل وہی ہے جو حق کی روشنی اور باطل کی تاریکی میں امتیاز کرے۔

۴۹۔ یعنی ان کی تمام سرفرازیوں کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان کے اندر دنیا طلبی اور دنیا پرستی کا شائبہ تک نہ تھا، ان کی ساری فکر و سعی آخرت  کے لیے تھی، وہ خود بھی اس کو یاد رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی یاد دلاتے تھے۔  اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ مرتبے دیے جو دنیا بنانے کی فکر میں منہمک رہنے والے لوگوں کو کبھی نصیب نہ ہوئے۔  اس سلسلے میں یہ لطیف نکتہ بھی نگاہ میں رہنا چاہیے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے آخرت کے لیے صرف  الدّار (وہ گھر، یا  اصل گھر ) کا لفظ استعمال فرمایا  ہے۔  اس سے یہ حقیقت ذہن نشین کرنی مطلوب ہے کہ یہ دنیا سرے سے انسان کا گھر ہے ہی نہیں،  بلکہ یہ صرف ایک گزر گاہ ہے،  ایک مسافر خانہ ہے،  جس سے آدمی کو بہر حال رخصت ہو جانا ہے۔  اصل گھر وہی آخرت کا گھر ہے۔  جو شخص اس کو  سنوارنے کی فکر کرتا ہے وہی صاحب بصیرت ہے اور اللہ کے نزدیک لامحالہ اسی کو پسندیدہ انسان ہونا چاہیے۔  رہا وہ شخص جو اس مسافر خانے میں اپنی چند روزہ قیام گاہ کو سجانے کے لیے وہ حرکتیں کرتا ہے جن سے آخرت کا اصل گھر اس کے لیے اُجڑ جائے  وہ عقل کا اندھا ہے اور فطری بات ہے کہ ایسا آدمی اللہ کو پسند نہیں آ سکتا۔

۵۰۔ قرآن مجید میں ان کا ذکر صرف دو جگہ آیا ہے۔  ایک سورہ انعام آیت ۸۶ میں۔  دوسرے اس جگہ۔ اور دونوں مقامات پر کوئی تفصیل نہیں ہے بلکہ صرف انبیائے کرام کے سلسلے میں ان کا نام لیا گیا ہے۔  وہ بنی اسرائیل کے اکابر انبیاء  میں سے تھے۔  دریائے اُردُن کے کنارے ایک مقم ایبل محولہ (Abel  Meholah)کے رہنے والے تھے۔  یہودی اور عیسائی ان کو اِلِیشَع (Elisha ) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔  حضرت الیاس علیہ السلام جس زمانے میں جزیرہ نمائے سینا میں پناہ گزیں تھے،  ان کو چند اہم کاموں کے لیے شام و فلسطین کی طرف واپس آنے کا حکم دیا گیا، جن میں سے ایک کام یہ تھا یہ حضرت الیسع کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کریں۔  اس فرمان کے مطابق جب حضرت الیاس ان کی بستی پر پہنچے تو دیکھا کہ یہ بارہ جوڑی بیل آگے لے زمین جوت رہے ہیں اور خود بارہویں جوڑی کے ساتھ ہیں۔  انہوں نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان پر اپنی چادر ڈال دی اور یہ کھیتی باڑی چھوڑ کر ساتھ ہولیے (سلاطین، باب ۱۹، فقرات ۱۵۔ تا۔ ۲۱)۔ تقریباً دس بارہ سال یہ ان کے زیر تربیت رہے پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھا لیا تو یہ ان کی جگہ مقرر ہوئے۔  (۲ سلاطین، باب ۲)۔ بائیبل کی کتاب ۲ سلاطین میں باب ۲ سے ۱۳ تک  ان کا تذکرہ بڑی تفصیل کے ساتھ درج ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شمالی فلسطین کی اسرائیلی سلطنت جب شرک و بت پرستی اور اخلاقی نجاستوں میں غرق ہوتی چلی گئی تو آخر کا انہوں نے یاہو بن یہوسفط بن مسّی کو اس خانوادہ شاہی کے خلاف کھڑا کیا جس کے کرتوتوں سے اسرائیل میں یہ برائیاں پھیلی تھیں،  اور اس نے نہ صرف بعل پرستی کا خاتمہ کیا، بلکہ اس بدکردار خاندان کے بچے بچے کو قتل کر دیا۔ لیکن اس اصلاحی انقلاب سے بھی وہ برائیاں پوری طرح نہ مت سکیں جو اسرائیل کی ر گ رگ میں اُتر چکی تھیں،  اور حضرت الیسع کی وفات کے بعد تو انہوں نے طوفانی شکل اختیار کر لی، یہاں تک کہ سامریہ پر اشوریوں کے پے در پے حملے شروع ہو گئے (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو  تفہیم القرآن جلد دوم، ص ۵۹۷۔ اور تفسیر سورہ صافات، حاشیہ نمبر ۷۰۔ ۷۱)

۵۱۔ حضرت ذولکفل کا ذکر بھی قرآن مجید میں دو ہی جگہ آیا ہے۔  ایک سورہ انبیاء۔ دوسرے یہ مقام۔ ان کے متعلق ہم اپنی تحقیق سورہ انبیاء میں بیان کر چکے ہیں۔  (تفہیم القرآن : جلد سوم، ص ۱۸۱، ۱۸۲)

۵۲۔ اصل الفاظ ہیں مُفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَبْوَابُ۔ اس کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔  ایک یہ کہ ان جنتوں میں وہ بے روک ٹوک پھریں گے،  کہیں ان کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو گی۔ دوسرے یہ جنت کے دروازے کھولنے کے لیے کسی کوشش کی حاجت نہ ہو گی بلکہ وہ مجد اُن کی خواہش پر خود بخود کھل جائیں گے۔  تیسرے یہ کہ جنت کے انتظام پر جو فرشتے مقرر ہو گے وہ اہل جنت کو دیکھتے ہی ان کے لیے دروازے کھول دیں گے۔  یہ تیسرا مضمون قرآن مجید میں ایک اور مقام پر زیادہ صاف الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے :  حَتّیٰ اِذَا جَآءُ وْ ھَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَا بھَُا وَقَالَ لَھُمْ خَزَ نَتھَُا سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَا دْخُلُوْ ھَا خٰلِدِیْنَ۔ ’’ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جاچکے ہوں گے تو جنت کے منتظمین ان سے کہیں گے کہ سلام علیکم، خوش آمدید، ہمیشہ کے لیے اس میں داخل ہو جایئے ‘‘۔ (الزمر۔ ۷۳)۔

۵۳۔ ہم سِن بیویوں کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ آپس میں ہم سِن ہوں گی، اور یہ بھی کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم سِن ہوں گی۔

۵۴۔ اصل میں لفظ غَسَّاق استعمال ہو ا ہے جس کے کئی معنی اہل لغت نے بیان کیے ہیں۔  ایک معنی جسم سے نکلنے والی رطوبت کے ہیں جو پیپ، لہو، کچ لہو  وغیرہ کی شکل میں ہو، اس میں آنسو بھی شامل ہیں۔  دوسرے معنی انتہائی سرد چیز کے ہیں۔  اور تیسرے معنی انتہائی بدبو دار متعفّن چیز کے۔  لیکن اس لفظ کا عام استعمال پہلے ہی معنی میں ہوتا ہے،  اگرچہ باقی دونوں معنی بھی لغت کے اعتبار سے درست ہیں۔

۵۵۔ مراد ہیں وہ اہل ایمان جن کو یہ کفار دنیا میں برا سمجھتے تھے۔  مطلب یہ کہ وہ حیران ہو ہو کر ہر طرف دیکھیں گے کہ اس جہنم میں ہم اور ہمارے پیشوا تو موجود ہیں مگر ان لوگوں کا یہاں کہیں پتہ نشان تک نہیں ہے جن کی ہم دنیا میں برائیاں کرتے تھے اور خدا، رسول، آخرت کی باتیں کرنے پرجن کا مذاق ہماری مجلسوں میں اُڑایا جاتا تھا۔

 

ترجمہ

 

(اے نبیؐ )(۵۶) ان سے کہو، ’’ میں تو بس خبردار کر دینے والا ہوں (۵۷)۔ کوئی حقیقی معبود نہیں مگر اللہ جو یکتا ہے،  سب پر غالب، آسمانوں اور زمین کا مالک اور ان ساری چیزوں کا مالک جو ان کے درمیان ہیں،  زبردست اور درگزر کرنے والا‘‘۔ ان سے کہو‘‘ یہ ایک بڑی خبر ہے جس کو سن کر تم منہ پھیرتے ہو‘‘(۵۸)۔

(ان سے کہو) ’’ مجھے اس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہو رہا تھا۔ مجھ کو تو وحی کے ذریعہ سے یہ باتیں صرف اس لیے بتائی جاتی ہیں کہ میں کھلا کھلا خبردار کرنے والا ہوں ‘‘ جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا(۵۹)’’ میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں (۶۰)، پھر جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں (۶۱)تو تم اس کے آگے سجدے میں  گر جاؤ‘‘۔ اس حکم کے مطابق فرشتے سب کے سب سجدے میں گر گئے،  مگر ابلیس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہو گیا (۶۳)۔ رب نے فرمایا’’ اے ابلیس، تجھے کیا چیز اس کو سجدہ کرنے سے مانع ہوئی جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟(۶۴) تو بڑا بن رہا ہے  یا تو ہے ہی کچھ اونچے درجے کی ہستیوں میں سے ‘‘؟ اس نے جواب دیا’’ میں اس سے بہتر ہوں،  آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور  اس کو مٹی سے ‘‘، فرمایا ’’ اچھا تو یہاں سے نکل جا، (۶۵) تو مردود ہے (۶۶)اور تیرے اوپر یوم الجزاء تک میری لعنت ہے ‘‘(۶۷)۔ وہ بولا’’ ا ے میرے رب، یہ بات ہے تو پھر مجھے اس وقت تک کے لیے مہلت ہے جس کا وقت مجھے معلوم ہے ‘‘ اس نے کہا ’’ تیری عزت کی قسم، میں ان سب لوگو ں کو بہکا کر رہوں گا، بجز تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص کر لیا ہے ’’(۶۸)۔ فرمایا ‘‘ تو حق یہ ہے،  اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں،  کہ میں جہنم کو تجھ سے (۶۹) اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو ان انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے ’’(۷۰)۔

(اے نبیؐ ) ان سے کہہ دو کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا (۷۱)، اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں (۷۲)۔ یہ تو ایک نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لیے۔  اور تھوڑی مدت ہی گزرے گی کہ تمہیں اس کا حال خود معلوم ہو (۷۳)جائے گا۔ ع

 

تفسیر

 

۵۶۔ اب کلام کا رُخ پھر اسی مضمون کی طرف پھر رہا ہے جس سے تقریر کا آغاز ہوا تھا۔ اِس حصّے کو پڑھتے ہوئے پہلے رکوع سے مقابلہ کرتے جائیے،  تاکہ بات پوری سمجھ میں آ سکے۔

۵۷۔ آیت نمبر ۴ میں فرمایا گیا تھا کہ یہ لوگ اس بات پر بڑے اچنبھے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایک خبردار کرنے والا خود ان کے درمیان سے اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔  یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ ان سے کہو میرا کام بس تمہیں خبردار کر دینا ہے۔  یعنی  میں کوئی فوجدار نہیں ہوں کہ زبردستی تمہیں  غلط راستے سے ہٹا کر سیدھے راستے کی طرف کھینچوں۔  میرے سمجھانے سے اگر تم نہ مانو گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے۔  بے خبر ہی رہنا گار تمہیں پسند ہے تس اپنی غفلت میں سرشار پڑے رہو، اپنا انجام خود  دیکھ لو گے۔

۵۸۔ یہ جواب ہے کفار کی اس بات کا جو آیت نمبر ۵ میں گزری ہے کہ ’’ کیا اس شخص نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک خدا بنا ڈالا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے ‘‘۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ تم چاہے کتنی ہی ناک بھوں چڑھاؤ، مگر یہ ہے ایک حقیقت جس کی خبر میں تمہیں دے رہا ہوں،  اور تمہارے ناک بھوں چڑھانے سے یہ حقیقت بدل نہیں سکتی۔

اس جواب میں صرف بیان حقیقت ہی نہیں ہے بلکہ اس کے حقیقت ہونے کی دلیل بھی اسی میں موجود ہے۔  مشرکین کہتے تھے کہ معبود بہت سے ہیں جن میں سے ایک اللہ بھی ہے،  تم نے سارے معبودوں کو ختم کر کے بس ایک معبود کیسے بنا ڈالا؟ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ معبود حقیقی صرف ایک اللہ ہی ہے،  کیونکہ وہ سب پر غالب ہے،  زمین و آسمان کا مالک ہے،  اور کائنات کی ہر چیز  اس کی مِلک ہے۔  اس کے ماسوا اس کائنات میں جن ہستیوں کو تم نے معبود بنا رکھا ہے ان میں سے کوئی ہستی بھی ایسی نہیں ہے جو اس سے مغلوب اور اس کی مملوک نہ ہو۔ یہ مغلوب اور مملوک ہستیاں اس غالب اور مالک کے ساتھ خدائی میں شریک کیسے ہو سکتی ہیں اور آخر کس حق کی بنا پر انہیں معبود قرار دیا جا سکتا ہے۔

۵۹۔ یہ جھگڑے کی تفصیل ہے جس کی طرف اوپر کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور جھگڑے سے مراد شیطان کا خدا سے جھگڑا ہے جیسا کہ آگے کے بیان سے ظاہر ہو رہا ہے۔  اس سلسلے میں یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ ’’ ملاءِ اعلیٰ‘‘ سے مراد فرشتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شیطان کا مکالمہ دو بدو نہیں بلکہ کسی فرشتے ہی کے توسط سے ہوا ہے۔  اس لیے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بھی ملاء اعلیٰ میں شامل تھا۔ جو قصہ یہاں بیان کیا جا رہا ہے وہ اس سے پہلے حسب ذیل مقامات پر گزر چکا ہے : تفہیم القرآن جلد اول، ص ۶۱ تا ۶۹۔ جلد دوم، صفحات ۱۰ تا ۱۸۔ ۵۰۴ تا ۵۰۷۔ ۶۲۷ تا ۶۳۰۔ جلد سوم صفحات ۲۹۔ ۳۰۔ ۱۲۹ تا ۱۳۶۔

۶۰۔ بَشَر کے لغوی معنی ہیں جسم کثیف جس کی ظاہری سطح کسی دوسری چیز سے ڈھکی ہوئی نہ ہو۔ انسان کی تخلیق کے بعد تو یہ لفظ انسان ہی کے لیے استعمال ہونے لگا ہے۔  لیکن تخلیق سے پہلے اس کا ذکر لفظ بشر سے کرنے اور اس کو مٹی سے بنانے کا صاف مطلب یہ ہے کہ ’’ میں مٹی کا ایک پُتلا بنانے والا ہوں جو بال و پر سے عاری ہو گا۔ یعنی جس کی جلد دوسرے حیوانات کی طرح اُون، یا صوف یا بالوں اور پروں سے ڈھکی ہوئی نہ ہو گی۔ ‘‘

۶۱۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم ص ۵۰۴۔ ۵۰۵۔ جلد چہارم، السجدہ حاشیہ ۱۶۔

۶۲۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول ص ۶۴۔ ۶۵۔ جلد دوم، ص ۱۰ تا ۱۲۔

۶۳۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، ص ۶۶۔ جلد سوم، ص ۳۰۔

۶۴۔ یہ الفاظ تخلیق انسانی کے شرف پر دلالت کرنے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔  بادشاہ کا اپنے خدّام سے کوئی کام کرانا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ ایک معمولی کام تھا جو خدّام سے کرا لیا گیا۔ بخلاف اس کے بادشاہ کا کسی کام کو بنفسِ نفیس انجام دینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایک افضل و اشرف کام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جسے میں نے خود بلاواسطہ بنایا ہے اس کے آگے جھکنے سے تجھے کس چیز نے روکا؟

’’ دونوں ہاتھوں ‘‘ کے لفظ سے غالباً اس امر کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس نئی مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی شانِ تخلیق کے دو اہم پہلو پائے جاتے ہیں۔  ایک یہ کہ اسے جسم حیوانی عطا کیا گیا جس کی بنا پر وہ حیوانات کی جنس میں سے ایک نوع ہے۔  دوسرے یہ کہ اس کے اندر وہ روح ڈال دی گئی جس کی بنا پر وہ اپنی صفات میں تمام ارضی مخلوقات سے اشرف  و افضل ہو گیا۔

۶۵۔ یعنی اس مقام سے جہاں آدم کے آگے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم ہوا اور جہاں ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔

۶۶۔ اصل میں لفظ ’’ رَجِیْم ‘‘ استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی ہیں ’’ پھینکا ہوا ‘‘  یا ’’ مارا ہوا ‘‘۔ اور محاورے میں یہ لفظ اس شخص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جسے مقام عزت سے گرا دیا گیا ہو اور ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا گیا ہو۔ سورہ اعراف میں یہی مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے : فَا خْرُجْ اِنَّکَ مِنَ الصَّا غِرِیْنَ، ’’ پس تو نکل جا، تو ذلیل ہستیوں میں سے ہے ‘‘۔

۶۷۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یوم الجزاء کے بعد اُس پر لعنت نہ ہو گی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یوم الجزا ء تک تو وہ اس نافرمانی کی پاداش میں مبتلائے لعنت رہے گا، اور یوم الجزاء کے بعد وہ اپنے ان کرتوتوں کی سزا بھگتے گا جو تخلیق آدمؑ کے وقت سے لے کر قیامت تک اس سے سرزد ہوں گے۔

۶۸۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ’’ میں تیرے چیدہ بندوں کو بہکاؤں گا نہیں، ‘‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’ تیرے چیدہ بندوں پر میرا بس نہ چلے گا۔ ‘‘

۶۹۔ ’’ تجھ سے ‘‘ کا خطاب صرف شخص ابلیس ہی کی طرف نہیں ہے بلکہ پوری جنس شیاطین کی طرف ہے،  یعنی ابلیس اور اس کا وہ پورا گروہ شیاطین جو اس کے ساتھ مل کر نوع انسانی کو گمراہ کرنے میں لگا رہے گا۔

۷۰۔ یہ پورا قصہ سرداران قریش کے اس قول کے جواب میں سنایا گیا ہے کہ أاُنْزِلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ مِنْ بَیْنِنَا، ’’ کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر ذکر نازل کیا گیا ‘‘؟ اس کا ایک جواب تو وہ تھا جو آیات نمبر ۹ اور ۱۰ میں دیا گیا تھا کہ کیا خدا کی رحمت کے خزانوں کے تم مالک ہو، اور کیا آسمان  و زمین کی بادشاہی تمہاری ہے اور یہ فیصلہ کرنا تمہارا کام ہے کہ خدا کا نبی کسے بنایا جائے اور کسے نہ بنایا جائے؟ دوسرا جواب یہ ہے،  اور اس میں سرداران قریش کو بتایا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلہ میں تمہارا حسد اور اپنی بڑائی کا گھمنڈ، آدم علیہ السلام کے مقابلے میں ابلیس کے حسد اور گھمنڈ سے ملتا جلتا ہے۔  ابلیس نے بھی اللہ تعالیٰ کے اس حق کو ماننے سے انکار کیا تھا کہ جسے وہ چاہے اپنا خلیفہ بنائے،  اور تم بھی اُس کے اس حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہو کہ جسے وہ چاہے اپنا رسول بنائے۔  اس نے آدم کے آگے جھُکنے کا حکم نہ مانا اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اتباع کا حکم نہیں مان رہے ہو۔ اس کے ساتھ تمہاری یہ مشابہت س اس حد پر ختم نہ ہو جائے گی، بلکہ تمہارا انجام بھی پھر وہی ہو گا جو  اس کے لیے مقدر ہو چکا ہے،  یعنی دنیا میں خدا کی لعنت، اور آخرت میں جہنم کی آگ۔

اس کے ساتھ اس قصے کے ضمن میں دو باتیں اور بھی سمجھائی گئی ہیں۔  ایک یہ کہ جو انسان بھی اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر رہا ہے وہ دراصل اپنے اُس ازلی دشمن، ابلیس کے پھندے میں پھنس رہا ہے جس نے آغاز آفرینش سے نوع انسانی کو اغوا کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔  دوسرے یہ کہ وہ بندہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں انتہائی مبغوض ہے جو تکبّر کی بنا پر اس کی نافرمانی کرے اور پھر اپنی اس نافرمانی کی روش پر اصرار کیے چلا جائے۔  ایسے بندے کے لیے اللہ کے ہاں کوئی معافی نہیں ہے۔

۷۱۔ یعنی میں ایک بے غرض آدمی ہوں،  اپنے کسی ذاتی مفاد کے لیے یہ تبلیغ نہیں کر رہا ہوں۔

۷۲۔ یعنی میں اُن لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی بڑائی قائم کرنے کے لیے جھوٹے دعوے لے کر اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ کچھ بن بیٹھتے ہیں جو فی لواقع وہ نہیں ہوتے۔  یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان سے محض کفار مکہ کی اطلاع کے لیے نہیں کہوائی گئی ہے،  بلکہ اس کے پیچھے حضورؐ کی وہ پوری زندگی شہادت کے طور پر موجود ہے جو نبوت سے پہلے انہی کفار کے درمیان چالیس برس تک گزر چکی تھی۔ مکے کا بچہ بچہ یہ جانتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم ایک بناوٹی آدمی نہیں ہیں۔  پوری قوم میں کسی شخص نے بھی کبھی اُن کی زبان سے کوئی ایسی بات نہ سنی تھی جس سے یہ شبہ کرنے کی گنجائش ہوتی کہ وہ کچھ بننا چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔

۷۳۔ یعنی جو تم میں سے زندہ رہیں گے وہ چند سال کے اندر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ جو بات میں کہ رہا ہوں وہ پوری ہو کر رہی۔ اور جو مر جائیں گے ان کو موت کے دروازے سے گزرتے ہی پتہ چل جائے گا کہ حقیقت وہی کچھ ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

(۳۹) سورۃ الزُّمَر

 

نام

 

اس سورہ کا نام آیات نمبر ۷۱ و ۷۳ (وَسِیْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُ وْ آ اِلیٰ جَھَنَّمَ زُمَراً   اور وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْ ارَبَّھُمْ اِلَی ا لْجَنَّۃٍ زُمَراً ) سے ماخوذ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ سورہ جس میں لفظ زمر آیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

آیت نمبر ۱۰ (وَاَرْضُ اللہِ وَاسِعَۃٌ ) سے اس امر کی طرف صاف اشارہ نکلتا ہے کہ یہ سورۃ ہجرت حبشہ سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ بعض روایات میں یہ تصریح آئی ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت جعفرؓ بن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں کے حق میں ہوا تھا جبکہ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کا عزم کیا (روح المعانی، جلد ۲۳، صفحہ ۲۲۶)

 

موضوع اور مضمون

 

یہ پوری سورت ایک بہترین اور انتہائی مؤثر خطبہ ہے جو ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے مکہ معظمہ کی ظلم و تشدد سے بھری ہوئی اور عناد و مخالفت سے لبریز فضا میں دیا گیا تھا۔ یہ ایک وعظ ہے جس کے مخاطب زیادہ تر کفارِ قریش ہیں،  اگر چہ کہیں کہیں اہل ایمان سے بھی خطاب کیا گیا ہے۔ اس میں دعوت محمدی کا اصل مقصود بتایا گیا ہے،   اور وہ یہ ہے کہ انسان خالص اللہ کی بندگی اختیار کرے اور کسی دوسرے کی طاعت و عبادت سے اپنی خدا پرستی کو آلودہ نہ کرے۔ اس اصل الاصول کو بار بار مختلف انداز سے پیش کرتے ہوئے نہایت زور دار طریقے پر توحید کی حقانیت اور اسے ماننے کے  عمدہ نتائج، اور شرک کی غلطی اور اس پر جمے رہنے کے بُرے نتائج کو واضح کیا گیا ہے،  اور لوگوں کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنی غلط روش سے باز آ کر اپنے رب کی رحمت کی طرف پلٹ آئیں۔ اسی سلسلے میں اہل ایمان کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اگر اللہ کی بندگی لے لیے ایک جگہ تنگ ہو گئی ہے تو اس کی زمین وسیع ہے،  اپنا دین بچانے کے لیے کسی اور طرف نکل کھڑے ہو، اللہ تمہارے صبر کا اجر دے گا۔ دوسرے طرف نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے فرمایا گیا ہے کہ ان کفار کو اس طرف سے بالکل مایوس کر دو کہ ان کا ظلم و ستم کبھی تم کو اس راہ سے پھیر سکے گا اور ان سے صاف صاف کہہ دو کہ تم میرا راستہ روکنے کے لیے جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہو کر ڈالو، میں اپنا یہ کام جاری رکھوں گا۔

 

ترجمہ

 

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

اس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے (۱)۔

(اے محمدؐ) یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف بر حق نازل کی ہے (۲)، لہٰذا تم اللہ کی بندگی کرو دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے (۳)۔ خبردار، دین خالص اللہ کا حق ہے (۴)۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں (اور اپنے اس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ ) ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں (۵)، اللہ یقیناً ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں (۶)۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا  اور منکر حا ہو۔ (۷)

اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جسکو چاہتا برگزیدہ کر لیتا(۸)،  پاک ہے وہ اس سے (کہ کوئی اس کا بیٹا ہو)، وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب(۹)۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو بر حق پیدا کیا ہے (۱۰)۔ وہی دن پر رات اور رات  پر دن کو لپیٹتا ہے۔ اسی نے سورج اور چاند کو اس طرح مسخر کر رکھا ہے کہ ہر ایک ایک وقت مقرر تک چلے جا رہا ہے۔ جان رکھو، وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے (۱۱)۔ اسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر وہی ہے جس نے اس جان سے اس کا جوڑا بنایا(۱۲)۔ اور اسی نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نر و مادہ پیدا کیے (۱۳)۔ وہ تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے (۱۴)۔ یہی اللہ (جس کے یہ کام ہیں ) تمہارا رب ہے (۱۵)، بادشاہی اسی کی ہے (۱۶)، کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے (۱۷)، پھر تم کدھر سے پھرائے جا رہے ہو؟ (۱۸)۔

اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے (۱۹)، لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا(۲۰)، اور اگر تم شکر کر و تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے (۲۱)۔ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا (۲۲)۔ آخر کار تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے،  پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔

انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے (۲۳)تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اسے پکارتا ہے (۲۴)۔ پھر جب اس کا رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ پہے پکار رہا تھا(۲۵)۔ اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھیراتا ہے (۲۶) تاکہ اس کی راہ سے گمراہ کرے (۲۷)۔ (اے نبیؐ) اس سے کہو کہ تھوڑے دن اپنے کفر سے لطف اٹھا لے،  یقیناً تو دوزخ میں جانے والا ہے۔ (کیا اس شخص کی روش بہتر ہے یا اس شخص کی) جو مطیع فرمان ہے،  رات کی گھڑیوں میں کھڑا رہتا اور سجدے کرتا ہے،  آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگاتا ہے ؟ ان سے پوچھو، کیا جاننے والے  اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں ؟(۲۸) نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں۔ ع

 

تفسیر

 

۱۔ یہ اس سورہ کی مختصر تمہید ہے جس میں بس یہ  بتانے پر اکتفا کیا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنا کلام نہیں ہے،  جیسا کہ منکرین کہتے ہیں،  بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اس نے خود نازل فرمایا ہے۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی دو صفات کا ذکر کر کے سامعین کو دو حقیقتوں پر متنبہ کیا گیا ہے تاکہ وہ اس کلام کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھیں بلکہ اس کی اہمیت محسوس کریں۔ ایک یہ کہ جس خدا نے اسے نازل کیا ہے وہ عزیز ہے،  یعنی ایسا زبردست ہے کہ اس کے ارادوں اور فیصلوں کو نافذ ہونے سے کوئی طاقت روک نہیں سکتی اور کسی کی یہ مجال نہیں ہے کہ اس کے مقابلہ میں ذرہ برابر بھی مزاحمت کر سکے۔ دوسرے یہ کہ وہ حکیم ہے،  یعنی جو ہدایت وہ اس کتاب میں دے رہا ہے وہ سراسر دانائی پر مبنی ہے اور صرف ایک جاہل و نادان آدمی ہی اس سے منہ موڑ سکتا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، السجدہ، حاشیہ نمبر ۱۔ )

۲۔ یعنی اس میں جو کچھ ہے حق اور سچائی ہے،  باطل کی کوئی آمیزش اس میں نہیں ہے۔

۳۔ یہ ایک نہایت اہم آیت ہے جس میں دعوت اسلام کے اصل مقصود کو بیان کیا گیا ہے،  اس لیے اس پر سے سرسری طور پر نہ گزر جانا چاہیے،  بلکہ اس کے مفہوم و مدعا کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے بنیادی نکات دو ہیں جنہیں سمجھے بغیر آیت کا مطلب نہیں سمجھا سکتا۔ ایک یہ کہ مطالبہ اللہ کی عبادت کرنے کا ہے۔ دوسرے یہ کہ ایسی عبادت کا مطالبہ ہے جو دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے کی جائے۔

عبادت کا مادہ عبد ہے۔ اور یہ لفظ ’’ آزاد‘‘ کے مقابلے میں ’’ غلام ‘‘ اور ’’مملوک‘‘ کے لیے عربی زبان میں مستعمل ہوتا ہے۔  اسی معنی کے لحاظ سے ’’عبادت ‘‘ میں دو مفہوم پیدا ہوئے ہیں۔ ایک پوجا اور پرستش، جیسا کہ عربی زبان کی مشہور و مستند لغت ’’ لسان العرب‘‘ میں ہے،  عَبَدَ اللہ، تَألَّہٗ لَہٗ۔ وَ التَّعَبُّدُ، التَّنَسُّکُ۔ دوسرے،  عاجزنہا طاعت اور برضا و رغبت فرمانبرداری، جیسا کہ لسان العرب میں ہے،  العبادۃ، الطاعۃ۔ و معنی العبادۃ فی للغۃ الطاعۃ مع الخضوع۔  وَکل من دان الملک فھر عبدٌ لِہٗ (وَقَوْمُھُمَا لَنَا عَا بِدُوْنَ)۔ والعابد، الخاضع لربہ المستسلم المنقاد لامرہ۔ عبد الطاغوت، اطاعَہ یعنی الشیطان فیما سَوَّل لہ واغواہ۔ اِیَّا کَ نَعْبُدُ، ای نطیع الطاعۃ التی یخضع معھا۔ اُعْبُدُوْارَبَّکُمْ، اطیعواربَّکم۔ پس لغت کی ان مستند تشریحات کے مطابق مطالبہ صرف اللہ تعالیٰ کی پونا اور پرستش ہی ک نہیں ہے بلکہ اس کے احکام کی بے چون و چرا اطاعت، اور اس کے قانونِ شرعی کی برضا و رغبت پیروی، اور کے امر و نہی کی دل و جان سے فرمانبرداری کا بھی ہے۔

دین کا لفظ عربی زبان میں متعدد  مفہومات کا حمل ہے :

ایک مفہوم ہے غلبہ و اقتدار، مالکانہ اور حاکمانہ تصرُف، سیاست و فرمانروائی اور دوسروں پر فیصلہ نافذ کرنا۔ چنانچہ لسان العرب میں ہے وَ انْ النَّا سَ، ای قھرھم علی اطاعۃ۔ دِنْتُھم، ای قَھر تُھم۔ دِنتُہٗ  سُسْتُہٗ  سملکتُہٗ۔ وفی الحدیث الکَیِّس من داننفسہٗ، ای اذلَّھا و استعبدھا۔ الدَّ یَّان، القاضی، الحَکَم، القھّار۔ ولا انت دیَا نی، ای لستَ بقا ھر لی فَتَسُوس امری۔ مَاکَا نَ لِیَأ خُذَ اَخَا ہُ فِیْ دِینِ الْمَلِکِ، ای فی قضاء الملک۔

دوسرا مفہوم ہے اطاعت، فرمانبرداری اور غلامی۔ لسان العرب میں ہے الدین، اطاعۃ۔ دِنْتُہٗ  و دِنْتُ لَہٗ  ای اطعتُہٗ۔ ولدین للہ، انماھو طاعتہٗ ولاتعبد لہٗ۔ فی الحدیث اُریدُ من قریشٍ کلمۃ تَدِین لھمْ بھَا العرت،  ای تطیعھم و تخضع لھم۔ ثم دانت بعد الرباب، ای ذلّت لہ و اطاعَتْہُ۔ یمرقون من الدین، ای انھم یخرجون من طاعۃ الامام المفترض اطاعۃ۔ المدین، العبد۔ فَلَوْ لَا اِنْ کُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَ، ای غیر مملوکین۔

تیسرا مفہوم ہے وہ عادت اور طریقہ جس کی انسان پیروی کرے۔ لسان العرب میں ہے الدین، العادۃ و الشأن۔ یقال مازال ذٰلک دینی و دیدَنی، ای عادتی۔

ان تینوں مفہومات کو ملحوظ رکھتے ہوئے دین کے معنی اِس آیت میں اُس ’’ طرز عمل اور اس رویّے کے ہیں جو کسی کی بالاتری تسلیم اور کسی کی اطاعت قبول کر کے انسان اختیار کرے۔ ‘‘ اور دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی بندگی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ’’ آدمی اللہ کی بندگی کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی شامل نہ کرے،  بلکہ اسی کی پرستش، اسی کی ہدایت کاس اتباع اور اسی کے احکام و اوامر کی اطاعت کرے ‘‘۔

۴۔ یہ امر واقعہ اور ایک حقیقت ہے جسے اوپر کے مطالبے کے لیے دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے لیے دین کو خالص کر کے اُس کی بندگی تم کو کرنی چاہیے کیونکہ خالص اور بے آمیز اطاعت و بندگی اللہ کا حق ہے۔ دوسرے الفاظ میں،  بندگی کا مستحق کو ئی دوسرا ہے ہی نہیں کہ اللہ کے ساتھ اُس کی بھی پرستش اور اُس کے احکام و قوانین کی بھی اطاعت کی جائے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی خالص اور بے آمیز بندگی کرتا ہے تو غلط کرتا ہے۔ اور اسی طرح اگر وہ اللہ کی بندگی کے ساتھ بندگیٔ غیر کی آمیزش کرتا ہے تو یہ بھی حق کے سراسر خلاف ہے۔ اس آیت کی بہترین تشریح وہ حدیث ہے جو ابن مَر دُوْیہ  نے یزید الرّقاشی سے نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا، ہم اپنا مال دیتے ہیں اس لیے کہ ہمارا نام بلند ہو، کیا اس پر ہمیں کوئی اجر ملے گا؟ حضورؐ نے فرمایا نہیں۔ اس نے پوچھا اگر اللہ کے اجر اور دنیا کی ناموری دونوں کی نیت ہو؟ آپ نے فرمایا  اناللہ تعالیٰ لا یقبل الّا من اخلص لہٗ، اللہ تعالیٰ کوئی عمل بھی قبول کرتا جب تک وہ خالص اسی کے لیے نہ ہو۔ ‘‘ اس کے بعد حضورؐ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔

۵۔ کفار مکہ کہتے تھے،  اور بالعموم دنیا بھی کے مشرکین یہی کہتے ہیں کہ ہم دوسرے ہستیوں کی عبادت اُن کو خالق سمجھتے ہوئے نہیں کرتے۔ خالق تو ہم اللہ ہی کو مانتے ہیں اور اصل معبود اسی کو سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کی بارگاہ بہت اونچی ہے جس تک ہماری رسائی بھلا کہاں ہو سکتی ہے۔ اس لیے ہم ان بزرگ ہستیوں کو ذریعہ بناتے ہیں تاکہ یہ ہماری دعائیں اور التجائیں اللہ تک پہنچا دیں۔

۶۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اتفاق و اتحاد صرف توحید ہی میں ممکن ہے۔ شرک میں کوئی اتفاق نہیں ہو سکتا۔ دنیا کے مشرکین کبھی اس پر متفق نہیں ہوئے ہیں کہ اللہ کے ہا ں رسائی کا ذریعہ آخر کون سی ہستیاں ہیں۔ کسی کے نزدیک کچھ دیوتا اور دیویاں اس کا ذریعہ ہیں اور ان کے درمیان بھی سب دیوتاؤں  اور دیویوں پر اتفاق نہیں ہے۔ کسی کے نزدیک چاند، سورج، مریخ، مشتری اس کا ذریعہ ہیں اور وہ بھی آپس میں اس پر متفق نہیں کہ ان میں سے کس کا کیا مرتبہ ہے اور کون اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ کسی کے  نزدیک وفات یافتہ بزرگ ہستیاں اس کا ذریعہ ہیں اور ان کے درمیان بھی بے شمار اختلافات ہیں۔ کوئی کسی بزرگ کو مان رہا ہے اور کوئی کسی اور کو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مختلف ہستیوں کے بارے میں یہ گمان نہ تو کسی علم پر مبنی ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کبھی کوئی ایسی فہرست آئی ہے کہ فلاں فلاں اشخاص ہیں،  لہٰذا ہم تک رسائی حاصل کرنے کے لیے تم ان کو ذریعہ بناؤ۔ یہ تو ایک ایسا عقیدہ ہے جو محض وہم اور اندھی  عقیدت اور اسلاف کی بے سوچے سمجھے تقلید سے لوگوں میں پھیل گیا ہے۔ اس لیے لامحالہ اس میں اختلاف تو ہونا ہی ہے۔

۷۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے دو الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ ایک کاذب دوسرے کفار۔ کاذب ان کو اس لیے فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنی طرف سے جھوٹ موٹ یہ عقیدہ گھڑ لیا ہے اور پھر یہی جھوٹ وہ دوسروں میں پھیلاتے ہیں۔ رہا کفار، تو اس کے دو معنی ہیں۔ ایک سخت منکر حق، یعنی توحید کی تعلیم سامنے آ جانے کے بعد بھی یہ لوگ اس غلط عقیدے پر مصر ہیں۔ دوسرے،  کافر نعمت، یعنی نعمتیں تو یہ لوگ اللہ سے پا رہے ہیں اور شکریے اُن ہستیوں کے ادا کر رہے ہیں جن کے متعلق انہوں نے اپنی جگہ یہ فرض کر لیا ہے کہ یہ نعمتیں ان کی مداخلت کے سبب سے مل رہی ہیں۔

۸۔ یعنی اللہ کا بیٹا ہونا تو سرے سے ہی ناممکن ہے۔ ممکن اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ کسی اللہ برگزیدہ کر لے۔ اور برگزیدہ بھی جس کو وہ کرے گا، لامحالہ وہ مخلوق ہی میں سے کوئی ہو گا، کیونکہ اللہ کے سوا دنیا میں جو کچھ بھی ہے وہ مخلوق ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ مخلوق خواہ کتنی ہی برگزیدہ ہو جائے،  اولاد کی حیثیت اختیار نہیں کر سکتی، کیونکہ خالق اور مخلوق میں عظیم الشان جوہری فرق ہے،  اور ولدیت لازماً والد اور اولاد میں جوہری اتحاد  کی مقتضی ہے۔

اس کے ساتھ یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ ’’ اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو ایسا کرتا ‘‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اللہ نے ایسا کرنا کبھی نہیں چاہا۔ اس طرز بیان سے یہ بات ذہن نشین کرنی مقصود ہے کہ کسی کو بیٹا بنا لینا تو درکنار، اللہ نے تو ایسا کرنے کا کبھی ارادہ بھی نہیں کیا ہے۔

۹۔ یہ دلائل ہیں جن سے عقیدہ ولدیت کی تردید کی گئی ہے۔

پہلی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نقص اور عیب اور کمزوری سے پاک ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اولاد کی ضرورت ناقص و کمزور کو ہوا کرتی ہے۔ جو شخص فانی ہوتا ہے وہی اس کا محتاج ہوتا ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہوتا کہ اس کی نسل اور نوع باقی رہے۔ اور کسی کو متبنّیٰ بھی وہی شخص بناتا ہے جو یا تو لا وارث ہونے کی وجہ سے کسی کو وارث بنانے کی حاجت محسوس کرتا ہے،  یا محبت کے جذبے سے مغلوب ہو کر کسی کو بیٹا بنا لیتا ہے۔ یہ انسانی کمزوریاں اللہ کی طرف منسوب کرنا اور ان کی بنا پر مذہبی عقیدے بنا لینا جہالت اور کم نگاہی کے سوا اور کیا ہے۔

دوسری دلیل یہ ہے وہ اکیلا اپنی ذات میں واحد ہے،  کسی جنس کا فرد نہیں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اولاد لازماً ہم جنس ہوا کرتی ہے۔ نیز اولاد کا کوئی تصور ازدواج کے بغیر نہیں ہو سکتا، اور ازدواج بھی ہم جنس سے ہی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا وہ شخص جاہل و نادان ہے جو اس یکتا و یگانہ ہستی کے لیے اولاد تجویز کرتا ہے۔

تیسری دلیل یہ ہے کہ وہ قہار ہے۔ یعنی دنیا میں جو چیز بھی ہے اس سے مغلوب اور اس کی قاہرانہ گرفت میں  جکڑی ہوئی ہے۔ اس کائنات میں کوئی کسی درجے میں بھی اس سے کوئی مماثلت نہیں رکھتا جس کی بنا پر اس کے متعلق یہ گمان کیا جا سکتا ہو کہ اللہ تعالیٰ سے اس کا کوئی رشتہ ہے۔

۱۰۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم صفحہ ۴۷۹ و ۵۲۵ جلد سوم، ص ۷۰۳۔

۱۱ یعنی زبردست ایسا ہے کہ اگر وہ تمہیں عذاب دینا چاہے تو کوئی طاقت اس کی مزاحمت نہیں کر سکتی۔ مگر یہ اس کا کرم ہے کہ تم یہ کچھ گستاخیاں کر رہے ہو اور اور پھر بھی وہ تم کو فوراً پکڑ نہیں لیتا بلکہ مہلت  پر مہلت دیے جاتا ہے۔ اس مقام پر عقوبت میں تعجیل نہ کرنے اور مہلت دینے کو مغفرت (درگزر) سے تعبیر کیا گیا ہے۔

۱۲۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے حضرت آدم سے انسانوں کو پیدا کر دیا اور پھر ان کی بیوی حضرت حوّا کو پیدا کیا۔ بلکہ یہاں کلام میں ترتیبِ زمان کے بجائے ترتیبِ بیان ہے جس کی مثالیں ہر زبان میں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ہم کہتے ہیں تم نے آج جو کچھ کیا وہ مجھ معلوم ہے،  پھر جو کچھ تم کل کر چکے ہو اس سے بھی میں باخبر ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ کل کا واقعہ آج کے بعد ہوا ہے۔

۱۳۔ مویشی سے مراد ہیں اُونٹ، گائے،  بھیڑ اور بکری۔ ان کے چار نر اور چار مادہ مل کر آٹھ نر و مادہ ہوتے ہیں۔

۱۴۔ تین پردوں سے مراد ہے پیٹ، رحم اور مَشِیْمَہ (وہ جھلّی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے )۔

۱۵۔ یعنی مالک، حاکم اور پروردگار۔

۱۶۔ یعنی تمام اختیارات کا مالک وہی ہے اور ساری کائنات میں اسی کا حکم چل رہا ہے۔

۱۷۔ دوسرے الفاظ میں استدلال یہ ہے کہ جب وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی ساری بادشاہی ہے تو پھر لازماً تمہارا اِلٰہ (معبود) بھی وہی ہے۔ دوسرا کوئی اِلٰہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ نہ پروردگاری میں اس کا کوئی حصّہ نہ بادشاہی میں اس کا کوئ دخل۔ آخر تمہاری عقل میں یہ بات کیسے سماتی ہے کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا تو ہو اللہ۔ سورج اور چاند کو مسخّر کرنے والا اور رات کے بعد دن اور دن کے بعد  رات لانے والا بھی ہو اللہ۔ تمہارا اپنا اور تمام حیوانات کا خالق و رب بھی ہو اللہ۔ اور تمہارے معبود بن جائیں اس کے سوا دوسرے۔

۱۸۔ یہ الفاظ قابلِ غور ہیں۔ یہ نہیں فرمایا کہ تم کدھر پھرے  جا رہے ہو۔ ارشاد یہ ہوا ہے کہ تم کدھر سے پھرائے جا رہے ہو۔ یعنی کوئی دوسرا ہے جو تم کو اُلٹی پٹی پڑھا رہا ہے اور تم اس کے بہکائے میں آ کر ایسی سیدھی سی عقل کی بات بھی نہیں سمجھ رہے ہو۔ دوسری بات جو اس اندازِ بیان سے خود مترشح ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ تم کا خطاب پھرانے والوں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہے جو ان کے اثر میں آ کر پھر رہے تھے۔ اس میں ایک لطیف مضمون ہے جو ذرا سے غور فکر سے بآسانی سمجھ میں آجاتا ہے۔ پھرانے والے اسی معاشرے میں سب کے سامنے موجود تھے اور ہر طرف اپنا کام علانیہ کر رہے تھے،  اس لیے ان کا نام لینے کی حاجت نہ تھی۔ ان کو خطاب کرنا بھی بیکار تھا، کیونکہ وہ اپنی اغراض کے لیے لوگوں کو خدائے واحد کی بندگی سے پھیرنے اور دوسروں کی بندگی میں پھانسنے اور پھانسے رکھنے کی کوششیں کر رہے تھے۔ ایسے لوگ ظاہر ہے کہ سمجھانے سے سمجھنے والے نہ تھے،  کیونکہ نہ سمجھنے ہی سے ان کا مفاد وابستہ تھا، اور سمجھنے کے بعد بھی وہ اپنے مفاد کو قربان کرنے کے لیے مشکل ہی سے تیار ہو سکتے تھے۔ البتہ رحم کے قابل ان عوام کی حالت تھی جو ان کے چکمے میں آ رہے تھے۔ اُن کی کوئی غرض اس کاروبار سے وابستہ نہ تھی، اس لیے وہ سمجھانے سے سمجھ سکتے تھے۔ اور ذرا سی آنکھیں کھُل جانے کے بعد وہ یہ بھی دیکھ سکتے تھے کہ جو لوگ انہیں خدا کے آستانے سے ہٹا کر دوسرے آستانوں کا راستہ دکھاتے ہیں وہ اپنے اس کاروبار کا فائدہ کیا اُٹھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گمراہ کرنے والے چند آدمیوں سے رُخ پھیر کر گمراہ ہونے والے عوام کو مخاطب کیا جا رہا ہے۔

۱۹۔ یعنی تمہارے کفر سے اس کی خدائی ذرا برابر بھی کمی نہیں آ سکتی۔ تم مانو گے تب بھی وہ خدا ہے،  اور نہ مانو گے تب بھی وہ خدا ہے اور رہے گا۔ اس کی فرمانروائی اپنے زور پر چل رہی ہے،  تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا عبادی لو ان اول کم و اٰخر کم و انسکم و جنکم کا نو اعلیٰ افجر قلب رجل منکم ما نقص من ملکی شیئاً۔  اے میرے بندو، اگر تم سب کے سب اگلے اور پچھلے انسان اور جِن اپنے میں سے کسی فاجر سے فاجر شخص کے دل کی طرح ہو جاؤ تب بھی میری بادشاہی میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی۔ ‘‘ (مسلم)

۲۰۔ یعنی وہ اپنے کسی مفاد کی خاطر نہیں بلکہ خود بندوں کے مفاد کی خاطر یہ پسند نہیں کرتا کہ ہو کفر کریں،  کیونکہ کفر خود انہی کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہاں یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور چیز ہے اور رضا دوسری چیز۔ دنیا میں کوئی کام بھی اللہ کی مشیت کے خلاف نہیں ہو سکتا، مگر اس کی رضا کے خلاف بہت سے کام ہو سکتے ہیں اور رات دن ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً دنیا میں جباروں اور ظالموں کا حکمراں ہونا، چوروں اور ڈاکوؤں کا پایا جانا، قاتلوں اور زانیوں کا موجود ہونا اسی لیے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بنائے ہوئے نظام قدرت میں ان برائیوں کے ظہور اور ان اشرار کے وجود کی گنجائش رکھی ہے۔ پھر ان کو بدی کے ارتکاب کے مواقع بھی دیتا ہے اور اسی طرح دیتا ہے جس طرح نیکوں کو نیکی کے موقع دیتا ہے۔ اگر وہ سرے سے ان کاموں کی گنجائش ہی نہ رکھتا اور ان کے کرنے والوں کو مواقع ہی نہ دیتا تو دنیا میں کبھی کوئی برائی ظاہر نہ ہوتی۔ یہ سب کچھ بر بنائے مشیت ہے۔ لیکن مشیت کے تحت کسی فعل کا صدور یہ معنی نہیں رکھتا کہ اللہ کی رضا بھی اس کو حاصل ہے۔ مثال کے طور پر اس بات کو یوں سمجھیے کہ ایک شخص اگر حرام خوری ہی کے ذریعہ سے اپنا رزق حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ اسی ذریعہ سے اس کو رزق دے دیتا ہے۔ یہ ہے اس کی مشیت۔ مگر مشیت کے تحت چور یا ڈاکو یا رشوت خوار کو رزق دینے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ چوری، ڈاکے اور رشوت کو اللہ پسند بھی کرتا ہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ یہاں فرما رہا ہے کہ تم کفر کرنا چاہو تو کرو، ہم تمہیں زبردستی اس سے روک کر مومن نہیں بنائیں گے۔ مگر ہمیں یہ پسند نہیں ہے کہ تم بندے ہو کر اپنے خالق و پروردگار سے کفر کرو، کیونکہ یہ تمہارے ہی لیے نقصان دہ ہے،  ہماری خدائی کا اس سے کچھ بھی نہیں بگڑتا

۲۱۔ کفر کے مقابلے میں یہاں ایمان کے بجائے شکر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے خود بخود یہ بات مترشح ہوتی ہے  کہ کفر در حقیقت احسان فراموشی و نمک حرامی ہے،  اور ایمان جی الحقیقت شکر گزاری کا لازمی تقاضا ہے۔ جس شخص نہیں اللہ جلّ شانہ کے احسانات کا کچھ بھی احساس ہو وہ ایمان کے سوا کوئی دوسری راہ اختیار نہیں کر سکتا۔ اس لیے شکر اور ایمان ایسے لازم و ملزوم ہیں کہ جہاں شکر ہو گا وہاں ایمان ضرور ہو گا۔ اور اس کے برعکس جہاں کفر ہو گا وہاں شکر کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ کفر کے ساتھ شکر کے معنی نہیں ہیں۔

۲۲۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں سے ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ کوئی شخص اگر دوسروں کو راضی رکھنے کے لیے یا ان کی ناراضی سے بچنے کی خاطر کفت اختیار کرے گا تو وہ دوسرے لوگ اس کے کفر کا وبال اپنے اوپر نہیں اٹھا لیں گے بلکہ اسے آپ ہی اپنا وبال بھگتنے کے لیے چھوڑ دیں گے۔ لہٰذا جس پر بھی کفر کا غلط اور ایمان کا صحیح ہونا واضح ہو جائے اس کو چاہیے کہ غلط رویہ چھوڑ کر صحیح رویہ اختیار کر لے اور اپنے خاندان یا برادری یا قوم کے ساتھ لگ کر اپنے آپ کو خدا کے عذاب کا مستحق نہ بنائے۔

۲۳۔ انسان سے مراد یہاں وہ کافر انسان ہے جس نے ناشکری کی روش اختیار کر رکھی ہو۔

۲۴۔ یعنی اس وقت اسے وہ دوسرے معبود یاد نہیں آتے جنہیں وہ اپنے اچھے حال میں پکارا کرتا تھا، بلکہ ان سب سے مایوس ہو کر وہ صرف اللہ ربّ العالمین کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ گویا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں دوسرے معبودوں کے بے اختیار ہونے کا احساس رکھتا ہے اور اس حقیقت کا شعور بھی اس کے ذہن میں کہیں نہ کہیں دبا چھپا موجود ہے کہ اصل اختیارات کا مالک اللہ ہی ہے۔

۲۵۔ یعنی وہ بُرا وقت پھر اسے یاد نہیں رہتا جس میں وہ تمام دوسرے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہٗ لاشریک سے دعائیں مانگ رہا تھا۔

۲۶۔ یعنی پھر دوسروں کی بندگی کرنے لگتا ہے۔ انہی کی اطاعت کرتا ہے،  انہی سے دعائیں مانگتا ہے،  اور انہی کے آگے نذر و نیاز پیش کرنا شروع کر دیتا ہے۔

۲۷۔ یعنی خود گمراہ ہونے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دوسروں کو بھی یہ کہہ کہہ کر گمراہ کرتا ہے کہ جو آفت مجھ پر آئی تھی وہ فلان حضرت یا فلاں دیوی یا دیوتا کے صدقے میں ٹل گئی۔ اس سے دوسرے بہت سے لوگ بھی ان معبود ان غیر اللہ کے معتقد بن جاتے ہیں اور ہر جاہل اپنے اسی طرح کے تجربات بیان کر کر کے عوام کی اس گمراہی کو بڑھاتا چلا جاتا ہے۔

۲۸۔ واضح رہے کہ یہاں مقابلہ دو قسم کے انسانوں کے درمیان کیا جا رہا ہے۔ ایک وہ جو کوئی سخت وقت آ پڑنے پر تو اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور عام حالات میں غیر اللہ کی بندگی کرتے رہتے ہیں۔ دوسرے وہ جنہوں نے اللہ کی اطاعت اور  اس کی بندگی و پرستش کو اپنا مستقل طریقہ بنالیا ہے اور راتوں کی تنہائی میں ان کا عبادت کرنا ان کے مخلص ہونے کی دلیل ہے۔ ان میں سے پہلے گروہ والوں کو اللہ تعالیٰ بے علم قرار دیتا ہے،  خود انہوں نے بڑے بڑے کتب خانے ہی کیوں نہ چاٹ رکھے ہوں۔ اور دوسرے گروہ والوں کو وہ عالم قرار دیتا ہے،  خواہ وہ بالکل ہی ان پڑھ کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ اصل چیز حقیقت کا علم اور اس کے مطابق عمل ہے،  اور اسی پر انسان کی فلاح کا انحصار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ دونوں آخر یکساں کیسے ہو سکتے ہیں ؟ کیسے ممکن ہے  کہ دنیا میں یہ مل کر ایک طریقے پر چلیں،  اور آخرت میں دونوں ایک ہی طرح کے انجام سے دو چار  ہوں ؟

 

ترجمہ

 

(اے نبیؐ )کہو اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو، اپنے رب سے ڈرو(۲۹)۔ جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے (۳۰)۔ اور خدا کی زمین وسیع ہے،  صبر کرتے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا(۳۲)۔

(اے نبیؐ)ان سے کہو، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی بندگی کروں،  اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں (۳۳)۔ کہو، اگر میں  اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔ کہہ دو کہ میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اسی کی بندگی کروں گا، تم اس کے سوا جس جس کی بندگی کرنا چاہو کرتے رہو۔ کہو، اصل دیوالیے تو وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو گھاٹے میں ڈال دیا۔ خوب سن رکھو، یہی کھلا دیوالیہ ہے (۳۴)۔ ان پر آگ کی چھتریاں اوپر سے بھی چھائی ہوں گی اور نیچے سے بھی۔ یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے،  پس ا میرے بندو، میرے غضب سے بچو۔ بخلاف اس کے جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا ان کے لیے خوشخبری ہے۔ پس (اے نبیؐ) بشارت دے دو میرے ان بندوں کو جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں (۳۶)۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی دانشمند ہیں۔

(اے نبیؐ) اس شخص کو کون بچا سکتا ہے جس پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہو؟(۳۷) کیا تم اسے بچا سکتے ہو جو آگ میں کرچکا ہو؟ البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈر کر رہے ان کے لیے بلند عمارتیں ہیں منزل پر منزل بنی ہوئی، جن کے نیچے نہریں نہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے،  اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں (۳۸) کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں،  پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں،  پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئیں،  پھر آ کر کار اللہ ان کو بھس بنا دیتا ہے۔ درحقیقت اس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے (۳۹)ع۔

 

تفسیر

 

۲۹۔ یعنی صرف مان کر نہ رہ جاؤ بلکہ اس کے ساتھ تقویٰ بھی اختیار کرو جن چیزوں کا اللہ نے حکم دیا ہے ان پر عمل کرو، جن سے روکا ہے ان سے بچو اور دنیا میں اللہ کے مواخذے سے ڈرتے ہوئے کام کرو۔

۳۰۔ دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی۔ ان کی دنیا بھی سدھرے گی اور آخرت بھی۔

۳۱۔ یعنی اگر ایک شہر یا علاقہ یا ملک اللہ کی بندگی کرنے  والوں کے لیے تنگ ہو گیا ہے تو دوسری جگہ چلے جاؤ جہاں یہ مشکلات نہ ہوں۔

۳۲۔ یعنی ان لوگوں کو جو خدا پرستی اور نیکی  کے راستے پر چلنے میں ہر طرح کے مصائب و شدائد برداشت کر لیں مگر راہ حق سے نہ ہٹیں۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دین و ایمان کی خاطر ہجرت کر کے جلا وطنی کی مصیبتیں برداشت کریں،  اور وہ بھی جو ظلم کی سر زمین میں جم کر ہر آفت کا سامنا کرتے چلے جائیں۔

۳۳۔ یعنی میرا کام صرف دوسروں سے کہنا ہی نہیں ہے،  خود کر کے دکھانا بھی ہے۔ جس راہ پر لوگوں کو بلاتا ہوں اس پر سب سے پہلے میں خود چلتا ہوں۔

۳۴۔ دیوالہ عُرفِ عام میں اس چیز کو کہتے ہیں کہ کاروبار میں آدمی کا لگایا ہوا سارا سرمایہ ڈوب جائے اور بازار میں اس پر دوسروں کے مطالبے اتنے چڑھ جائیں کہ ا پنا سب کچھ دے کر بھی وہ ان سے عہدہ بر آ نہ ہو سکے۔ یہی استعارہ کفار و مشرکین کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں استعمال کیا ہے۔ انسان کو زندگی، عمر، عقل، جسم، قوتیں اور قابلیتیں،  ذرائع اور مواقع، جتنی چیزیں بھی دنیا میں حاصل ہیں،  ان سب کا مجموعہ دراصل وہ سرمایہ ہے جسے وہ حیات دنیا کے کاروبار میں لگاتا ہے۔ یہ سارا سرمایہ اگر کسی شخص نے اس مفروضے پر لگا دیا کہ کوئی خدا نہیں ہے۔ یا بہت سے خدا ہیں جن کا میں بندہ ہوں،  اور کسی کو مجھے حساب نہیں دینا ہے،  یا محاسبے کے وقت کوئی دوسرا مجھ آ کر بچا لے گا، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے گھاٹے کا سودا کیا اور اپنا سب کچھ ڈبو دیا۔ یہ ہے پہلا خُسران۔ دوسرا خُسران یہ ہے کہ اس غلط مفروضے پر اس نے جتنے کام بھی کیے ان سب میں وہ اپنے نفس سے لے کر دنیا کے بہت سے انسانوں اور آئندہ نسلوں اور اللہ کی دوسری بہت سے مخلوق پر عمر پھر ظلم کرتا رہا۔ اس لیے اس پر بے شمار مطالبات چڑھ گئے،  مگر اس کے پلّے کچھ نہیں ہے جس سے وہ ان مطالبات کا بھگتان بھگت سکے۔ اس پر مزید خُسران یہ ہے کہ وہ خود ہی نہیں ڈوبا بلکہ اپنے بال بچوں اور عزیز و اقارب اور دوستوں اور ہم قوموں کو بھی اپنی غلط تعلیم و تربیت اور غلط مثال سے لے ڈوبا۔ یہی تین خسارے ہیں جن کے مجموعے کو اللہ تعالیٰ خسران مبین قرار دے رہا ہے۔

۳۵۔ طاغوت طغیان سے ہے جس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ کسی کو طاغی (سرکش ) کہنے کے بجائے اگر طاغوت (سرکشی )کہا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ انتہا درجے کا سرکش ہے۔ مثال کے طور پر کسی کو کسی کو حَسِین کے  بجائے اگر یہ کہا جائے کہ وہ حُسن ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ خوبصورتی میں درجہ کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ معبود ان غیر اللہ کو طاغوت اس لیے کہا گیا ہے کہ اللہ کے سوا دوسرے کی بندگی کرنا تو صرف سرکشی ہے مگر جو دوسروں سے اپنی بندگی کرائے وہ کمال درجہ کا سرکش ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، صفحات  ۱۹۶۔ ۱۹۷۔ ۳۶۶۔ ۳۶۷۔  ۳۷۳۔ جلد دوم صفحہ ۵۴۰)۔ طاغوت کا لفظ یہاں  طواغیت، یعنی بہت سے طاغوتوں کے لیے استعمال کیا گیا ہے،  اسی لیے  اَنْ یَّعْبُدُوْ  ھَا  فرمایا گیا۔ اگر واحد مراد ہوتا تو یَعْبُدُوْہُ  ہوتا۔

۳۶۔ اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ہر آواز کے پیچھے نہیں لک جاتے بلکہ ہر ایک کی بات سن کر اس پر غور کرتے ہیں اور جو حق بات ہوتے ہے اسے قبول کر لیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ بات کو سن کر غلط معنی پلٹانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اس کے  اچھے اور بہتر پہلو کو اختیار کرتے ہیں۔

۳۷۔ یعنی جس نے اپنے آپ کو خدا کے عذاب کا مستحق بنا لیا ہو اور اللہ نے فیصلہ کر لیا ہو کہ اسے اب سزا دینی ہے۔

۳۸۔ اصل میں لفظ ینا بیع استعمال ہو ا ہے جو کا اطلاق ان تینوں چیزوں پر ہوتا ہے۔

۳۹۔ یعنی اس سے ایک صاحب عقل آدمی یہ سبق لیتا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی اور اس کی زینتیں سب عارضی ہیں۔ ہر بہار انجام خزاں ہے۔ ہر شباب کا انجام ضعیفی اور موت ہے۔ ہر عروج آ کر کار زوال دیکھنے والا ہے۔ لہٰذا یہ دنیا وہ چیز نہیں ہے  جس کے حُسن پر فریفتہ ہو کر آدمی خدا اور آخرت کو بھول جائے اور یہاں کی چند روزہ بہار کے مزے لوٹنے کی خاطر وہ حرکتیں کریں جو اس کی عاقبت برباد کر دیں۔ پھر ایک صاحب عقل آدمی ان مناظر سے یہ سبق بھی لیتا ہے کہ اس دنیا کی بہار اور خزاں اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے پروان چڑھاتا ہے اور جسے چاہتا ہے خستہ و خراب کر دیتا ہے۔ نہ کسی کے بس میں یہ ہے کہ اللہ جسے پروان چڑھا رہا ہو اس کو پھلنے پھولنے سے روک دے۔ اور نہ کوئی یہ  طاقت رکھتا ہے کہ جسے اللہ غارت کرنا چاہے اسے وہ خاک میں  ملنے سے بچا لے۔

 

ترجمہ

 

اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا(۴۰) اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے (۴۱)(اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس نے ان باتوں سے کوئی سبق نہ لیا؟)۔ تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہو گئے (۴۲)۔ وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔

اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے،  ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں (۴۳) اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں۔ اسے سن کر ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں،  اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر  کوئی ہادی نہیں ہے۔ اب اس شخص کی بد حالی کا تم کیا اندازہ کر سکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا؟ (۴۴) ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ اس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے (۴۵)۔ ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ اسی طرح جھٹلا چکے ہیں۔ آخر ان پر عذاب ایسے رخ سے آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ جا سکتا تھا۔ پھر اللہ نے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں رسوائی کا مزہ کھایا، اور آخرت کا عذاب تو اس سے شدید تر ہے،  کاش یہ لوگ جانتے۔

ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالیں دی ہیں کہ یہ ہوش میں آئیں۔ ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے (۴۶)، جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے (۴۷)، تاکہ یہ برے انجام سے بچیں۔ اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ ایک شخص تو وہ ہے جس کی ملکیت میں بہت سے کج خُلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دوسرا شخص پورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے۔ کیا ان دونوں کا حال یکساں ہو سکتا ہے ؟(۴۸)ــــــــــ الحمد للہ، مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں (۵۰)۔ (اے نبیؐ) تمہیں بھی مرنا ہے اور ان لوگوں کو بھی مرنا ہے (۵۱)۔ آخر کار قیامت کے روز تم سب اپنے رب کے حضور اپنا اپنا مقدمہ پیش کرو گے۔ ع

 

تفسیر

 

۴۰۔ یعنی جسے اللہ نے یہ توفیق بخشی کہ ان حقائق سے سبق لے اور اسلام کے حق ہونے پر مطمئن ہو جائے۔ کسی بات پر آدمی کا شرح صدر ہو جا نا یا سینہ کھل جانا در اصل اس کیفیت کا نام ہے کہ آدمی دل میں اس کے بات کے متعلق کوئی خلجان یا تذبذب یا شک و شبہ باقی نہ رہے،  اور اسے کسی خطرے کا احساس  اور کسی نقصان کا اندیشہ بھی اس بات کو قبول اور اختیار کرنے میں مانع نہ ہو، بلکہ پورے اطمینان کے ساتھ وہ یہ فیصلہ کر لے کہ یہ چیز حق ہے  لہٰذا خواہ کچھ ہو جائے مجھے اسی پر چلنا ہے۔ اس طرح کا فیصلہ کر کے جب آدمی اسلام کی راہ کو اختیار کر لیتا ہے تو خدا اور رسولؐ کی طرف سے جو حکم بھی اسے ملتا ہے وہ اسے بکراہت نہیں بلکہ برضا و رغبت مانتا ہے۔ کتاب و سنت میں جو عقائد و افکار اور جو اصول و قواعد بھی اس کے سامنے آتے ہیں وہ انہیں اس طرح قبول کرتا ہے کہ گویا یہی اس کے دل کی آواز ہے۔ کسی نا جائز فائدے کو چھوڑنے پر اسے کوئی پچھتاوا لاحق نہیں ہوتا بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ میرے لیے وہ سرے سے کوئی فائدہ تھا ہی نہیں،  الٹا ایک نقصان تھا جس سے بفضل خدا میں بچ گیا۔ اسی طرح کوئی نقصان بھی اگر راستی پر قائم رہنے کی صورت میں اسے پہنچے تو وہ اس پر افسوس نہیں کرتا بلکہ ٹھنڈے دل سے اسے برداشت کرتا ہے اور اللہ کی راہ سے منہ موڑنے کی بہ نسبت وہ  نقصان  اسے ہلکا نظر آتا ہے۔ یہی حال اس کا خطرات پیش آنے پر بھی ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میرے لیے کوئی دوسرا راستہ سرے سے ہے ہی نہیں کہ اس خطرہ سے بچنے کے لیے ادھر نکل جاؤں۔ اللہ کا سیدھا راستہ ایک ہی ہے جس پر مجھے بہر حال چلنا ہے۔ خطرہ آتا ہے تو آتا رہے۔

۴۱۔ یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی صورت میں ایک نور  علم اسے مل گیا ہے جس کے اُجالے میں وہ ہر ہر قدم پر صاف دیکھتا جاتا ہے کہ زندگی کی بے شمار پگ ڈنڈیوں کے درمیان حق کا سیدھا راستہ کونسا ہے۔

۴۲۔ شرح صدر کے مقابلے میں انسانی قلب کی دو ہی کیفیتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک ضیقِ صدر (سینہ تنگ ہو جانے اور دل بھچ جانے ) کی کیفیت جس میں حق کے لیے نفوذ یا سرایت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ اس دوسری کیفیت کے متعلق فرماتا ہے کہ جو شخص اس حد تک پہنچ جائے اس کے لیے پھر کامل تباہی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی شخص، خواہ دل کی تنگی ہی کے ساتھ سہی، ایک مرتبہ قبول حق کے لیے کسی طرح تیار ہو جائے تو  اس کے لیے بچ نکلنے کا کچھ نہ کچھ امکان ہوتا ہے۔ یہ دوسرا مضمون آیت کے فحویٰ سے خود بخود نکلتا ہے،  مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی صراحت نہیں فرمائی ہے،  کیونکہ آیت کا اصل مقصود ان لوگوں کو متنبہ کرنا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت میں ضد اور ہٹ دھرمی پر تلے ہوئے  تھے کہ آپؐ کی کوئی بات مان کر نہیں دینی ہے۔ اس پر انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ تم تو اپنی اس ہیکڑی کو بڑی قابل چیز سمجھ رہے ہو، مگر فی الحقیقت ایک انسان کی اس سے بڑھ کر کوئی نالائقی  اور بد نصیبی نہیں ہو سکتی کہ اللہ کا ذکر اور اس کی طرف سے آئی ہوئی نصیحت سُن کر وہ نرم پڑنے کے بجائے اور زیادہ سخت ہو جائے۔

۴۳۔ یعنی ان میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے۔ پوری کتاب اول سے لے کر آخر تک ایک ہی مدعا، ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی نظام فکر و عمل پیش کرتی ہے۔ اس کا ہر جز دوسرے جز کی اور ہر مضمون دوسرے مضمون کی تصدیق و تائید اور توضیح و تشریح کرتا ہے۔ اور معنی و بیان دونوں کے لحاظ سے اس میں کامل یکسانی(Consistency) پائی جاتی ہے۔

۴۴۔ کسی ضرب کو آدمی اپنے منہ پر اس وقت لیتا ہے جبکہ وہ بالکل عاجز و بے بس ہو۔ ورنہ جب تک وہ مدافعت پر کچھ بھی قادر ہوتا ہے وہ اپنے جسم کے ہر حصے پر چوٹ کھاتا رہتا ہے مگر منہ پر مار نہیں پڑنے دیتا۔ اس لیے یہاں اس شخص کی انتہائی بے بسی کی تصویر یہ کہہ کر کھینچ دی گئی ہے کہ وہ سخت مار اپنے منہ پر لے گا۔

۴۵۔ اصل میں لفظ ’’ کسب‘‘ استعمال ہوا ہے جس سے مراد قرآن مجید کی اصطلاح میں جزا  و سزا کا وہ استحقاق ہے جو آدمی اپنے عمل کے نتیجے میں کماتا ہے۔ نیک عمل کرنے والے کی اصل کمائی یہ ہے کہ وہ اللہ کے اجر کا مستحق بنتا ہے۔ اور گمراہی و بد راہی اختیار کرنے والے کی کمائی وہ سزا ہے جو اسے آخرت میں ملنے والی ہے۔

۴۶۔ یعنی یہ کسی غیر زبان میں نہیں آیا ہے کہ مکے اور عرب کے لوگ اسے سمجھنے کے لیے کسی مترجم یا شارح کے محتاج ہوں،  بلکہ یہ ان کی اپنی زبان میں ہے جسے یہ براہ راست خود سمجھ سکتے ہیں۔

۴۷۔ یعنی اس میں اینچ پینچ کی بھی کوئی بات نہیں ہے کہ عام آدمی کے لیے اس کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش آئے۔ بلکہ صاف صاف سیدھی بات کہی گئی ہے جس سے ہر آدمی جان سکتا ہے کہ یہ کتاب کس چیز کو غلط کہتی ہے اور کیوں،  کس چیز کو صحیح کہتی ہے اور کس بنا پر، کیا منوانا چاہتی ہے اور کس چیز کا انکار کرانا چاہتی ہے،  کن کاموں کا حکم دیتی ہے اور کن کاموں سے روکتی ہے۔

۴۸۔ اس مثال میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور توحید کے فرق اور انسان کی زندگی پر دونوں کے اثرات کو اس طرح کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ اس سے زیادہ مختصر الفاظ میں اتنا بڑا مضمون اتنے مؤثر طریقے سے سمجھا دینا ممکن نہیں ہے۔ یہ بات ہر آدمی تسلیم کرے گا کہ جس شخص کے بہت سے مالک یا آقا ہوں،  اور ہر ایک اس کو اپنی اپنی طرف کھینچ رہا ہو، اور وہ مالک بھی ایسے بد مزاج ہوں کہ ہر ایک اُس سے خدمت لیتے ہوئے دوسرے مالک کے حکم پر دوڑنے کی اسے مہلت نہ دیتا ہو، اور ان کے متضاد احکام میں جس کے حکم کی بھی وہ تعمیل سے قاصر رہ جائے وہ اسے ڈانٹنے پھٹکارنے ہی پر اکتفا کرتا ہو بلکہ سزا دینے پر تُل جاتا ہو، اس کی زندگی لامحالہ سخت ضیق میں ہو گی۔ اور اس کے برعکس وہ شخص بڑے چین اور آرام سے رہے گا جو بس ایک ہی آقا کا نوکر یا غلام ہو اور کسی دوسرے کی خدمت و رضا جوئی اسے نہ کرنی پڑے۔ یہ ایسی سیدھی سی بات ہے جسے سمجھنے کے لیے کسی بڑے غور و تامل کی حاجت نہیں ہے۔ اس کے بعد کسی شخص کے لیے یہ سمجھنا بھی مشکل نہیں رہتا کہ انسان کے لیے جو امن و اطمینان ایک خدا کی بندگی میں ہے  وہ بہت سے خداؤں کی بندگی میں اسے کبھی میسر نہیں آ سکتا۔

اس مقام پر یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ بہت سے کج خلق اور باہم متنازع آقاؤں کی تمثیل پتھر کے بتوں پر راست نہیں آتی بلکہ اُن جیتے جاگتے آقاؤں پر ہی راست آتی ہے جو عملاً آدمی کو متضاد احکام دیتے ہیں اور فی الواقع اس کو اپنی اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں۔ پتھر کے بُت کسے حکم دیا کرتے ہیں اور کب کسی کو کھینچ کر اپنی خدمت کے لیے بُلاتے ہیں۔ یہ کام تو زندہ آقاؤں ہی کے کرنے کے ہیں۔ ایک آقا آدمی کے اپنے نفس میں بیٹھا ہوا ہے جو طرح طرح کی خواہشات اس کے سامنے پیش کرتا ہے اور اسے مجبور کرتا رہتا ہے کہ وہ انہیں پورا کرے۔ دوسرے بے شمار آقا گھر میں،  خاندان میں،  برادری میں،  قوم اور ملک کے معاشرے میں،  مذہبی پیشواؤں میں،  حکمرانوں اور قانون سازوں میں،  کاروبار اور معیشت کے دائروں میں،  اور دنیا کے  تمدن پر غلبہ رکھنے والی طاقتوں میں ہر طرف موجود ہیں جن کے متضاد تقاضے اور مختلف مطالبے ہر وقت آدمی کو اپنی اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں اور ان میں سے جس کا تقاضا پورا کرنے میں بھی وہ کوتاہی کرتا ہے وہ اپنے دائرہ کار میں اس کو سزا دیے بغیر نہیں چھوڑتا۔ البتہ ہر ایک کی سزا کے ہتھیار الگ الگ ہیں۔  کوئی دل مسوستا ہے۔ کوئی روٹھ جاتا ہے۔ کوئی نکّو بناتا ہے۔ کوئی مقاطعہ کرتا ہے۔ کوئی دیوالہ نکالتا ہے،  کوئی مذہب کا وار کرتا ہے اور کوئی قانون کی چوٹ لگاتا ہے۔ اس ضیق سے نکلنے کی کوئی صورت انسان کے لیے اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ توحید کا مسلک اختیار کر کے صرف ایک خدا کا بندہ بن جائے اور ہر دوسرے کی بندگی کا قلاوہ اپنی گردن سے اتار پھینکے۔

توحید کا مسلک اختیار کرنے کی بھی دو شکلیں ہیں جن کے نتائج الگ الگ ہیں۔

ایک شکل یہ ہے کہ ایک فرد اپنی انفرادی حیثیت میں خدائے واحد کا بندہ بن کر رہنے کا فیصلہ کر لے اور گرد و پیش کا ماحول اس معاملے میں اس کا ساتھی نہ ہو۔ اس صورت میں یہ تو ہو سکتا ہے کہ خارجی کش مکش اور ضیق اس کے لیے پہلے زیادہ بڑھ جائے،  لیکن اگر اس نے سچے دل سے یہ مسلک اختیار کیا ہو تو اسے داخلی امن و اطمینان لازماً میسر آ جائے گا۔ وہ نفس کی ہر اُس خواہش کو رد کر دے گا جو احکام الٰہی کے خلاف ہو یا جسے پورا کرنے کے ساتھ خدا پرستی کے تقاضے پورے نہ کیے جا سکتے ہوں۔ وہ خاندان، برادری، قوم، حکومت، مذہبی پیشوائی اور معاشی اقتدار کے بھی ایسے مطالبے کو قبول نہ کرے گا جو خدا کے قانون سے ٹکراتا ہو۔ اس کے نتیجے میں اسے بے حد تکلیفیں پہنچ سکتی ہیں،  بلکہ لازماً پہنچیں گی۔ لیکن اس کا دل پوری طرح مطمئن ہو گا کہ جس خدا کا میں بندہ ہوں اس کی بندگی کا تقاضا پورا کر رہا ہوں،  اور جن کا بندہ میں نہیں ہوں ان کا مجھ پر کوئی حق نہیں ہے جس کی بنا پر میں اپنے رب کے حکم کے خلاف ان کی بندگی بجا لاؤں۔ یہ دل کا اطمینان اور روح کا امن و سکون دنیا کی کوئی طاقت اس سے نہیں چھین سکتی۔ حتیٰ کہ اگر اسے پھانسی پر بھی چڑھنا پڑ جائے تو وہ ٹھنڈے دل سے چڑھ جائے گا اور اس کو ذرا پچھتاوا نہ ہو گا کہ میں نے کیوں نہ جھوٹے خداؤں کے آگے سر جھکا کر اپنی جان بچا لی۔

دوسری شکل یہ ہے کہ پورا معاشرہ اسی توحید کی بنیاد پر قائم ہو جائے اور اس میں اخلاق، تمدن، تہذیب، تعلیم، مذہب، قانون، رسم و رواج، سیاست، معیشت، غرض شعبہ زندگی کے لیے وہ اصول اعتقاد اً  مان لیے جائیں اور عملاً رائج ہو جائیں جو خداوند عالم نے اپنی کتاب اور اپنے رسول کے ذریعہ سے دیے ہیں۔ خدا کا دین جس کو گناہ کہتا ہے،  قانون اسی کو جرم  قرار دے،  حکومت کی انتظامی مشین اسی کو مٹانے کی کوشش کرے،  تعلیم و تربیت اسی سے بچنے کے لیے ذہن اور کردار تیار کرے،  منبر و محراب سے اسی کے خلاف آواز بلند ہو، معاشرہ اسی کو معیوب ٹھیرائے  اور معیشت کے ہر کاروبار میں وہ ممنوع ہو جائے۔ اسی طرح خدا کا دین جس چیز کو بھلائی اور نیکی قرار دے،  قانون اس کی حمایت کرے،  انتظام کی طاقتیں اسے پروان چڑھانے میں لگ جائیں،  تعلیم و تربیت کا پورا نظام ذہنوں میں اس کو بٹھانے اور سیرتوں میں اسے رچا دینے کی کوشش کرے،  منبر و محراب اسی کی تلقین کریں،  معاشرہ اسی کی تعریف کرے اور اپنے عملی رسم و رواج اُس پر قائم کر دے،   اور کاروبار معیشت بھی اسی کے مطابق چلے۔ یہ وہ صورت ہے جس میں انسان کو کامل داخلی و خارجی اطمینان میسر آ جاتا ہے اور مادی و روحانی ترقی کے تمام دروازے اس کے لیے کھل جاتے ہیں،  کیونکہ اس میں بندگیٔ رب  اور بندگیٔ غیر کے تقاضوں کا تصادم قریب قریب ختم ہو جاتا ہے۔

اسلام کی دعوت اگرچہ ہر ہر فرد کو یہی ہے کہ خواہ دوسری صورت پیدا ہو یا نہ ہو، بہر حال وہ توحید ہی کو اپنا دین بنا لے اور تمام خطرات و مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے اللہ کی بندگی کرے۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام کا آخری مقصود یہی دوسری صورت پیدا کرنا ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام کی کوششوں کا مدعا یہی رہا ہے کہ ایک اُمت مسلمہ وجود میں  آئے جو کفر اور کفار کے غلبے سے آزاد ہو کر من حیث الجماعت اللہ کے دین کی پیروی کرے۔ کوئی شخص جب تک قرآن و سنت سے نا واقف ہو اور عقل سے بے بہرہ نہ ہو، یہ نہیں کہہ سکتا کہ انبیاء علیہم السلام کی سعی و جہد کا مقصود صرف انفرادی ایمان و طاعت ہے،  اور اجتماعی زندگی میں دین حق کو نافذ قائم کرنا سرے سے اس کا مقصد ہی نہیں رہا ہے۔

۴۹۔ یہاں الحمد لِلہ کی معنویت سمجھنے کے لیے یہ نقشہ ذہن میں لایئے کہ اوپر کا سوال لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے بعد مقرر نے سکوت کیا، تاکہ اگر مخالفین توحید کے پاس اس کا کوئی جواب ہو تو دیں۔ پھر جب ان سے کوئی جواب نہ بن  پڑا اور کسی طرف سے یہ آواز نہ آئی کہ دونوں برابر ہیں،  تو مقرر نے کہا الحمد لِلہ۔ یعنی خدا کا شکر ہے کہ تم خود بھی اپنے دلوں میں ان دونوں حالتوں کا فرق محسوس کرتے ہو اور تم میں سے کوئی بھی یہ کہنے کی جرأت نہیں رکھتا کہ ایک آقا کی بندگی سے بہت سے آقاؤں کی بندگی بہتر ہے یا دونوں یکساں ہیں۔

۵۰۔ یعنی ایک آقا کی غلامی اور بہت سے آقاؤں کی غلامی کا فرق تو خوب سمجھ لیتے ہیں مگر ایک خدا کی بندگی اور بہت سے خداؤں  کی بندگی کا فرق جب سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو نادان بن جاتے ہیں۔

۵۱۔ پچھلے فقرے اور اس فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جسے موقع و محل اور سیاق پر غور کر کے ہر صاحب فہم آدمی خود بھر سکتا ہے۔ اس میں یہ مضمون پوشیدہ ہے کہ اِس اِس طرح تم ایک صاف سیدھی بات سیدھے طریقے سے ان لوگوں کو سمجھا رہے ہو اور یہ لوگ نہ صرف یہ کہ ہٹ دھرمی سے تمہاری بات رد کر رہے ہیں،  بلکہ اس کھلی صداقت کو دبانے کے لیے تمہارے درپے آزار ہیں۔ اچھا، ہمیشہ نہ تمہیں رہنا ہے نہ اِنہیں۔ دونوں کو ایک دن مرنا ہے۔ انجام سب کے سامنے آ جائے گا۔

 

ترجمہ

 

پھر اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اسے جھٹلا دیا۔ کیا ایسے کفروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے ؟ اور جو شخص سچائی لے کر آیا  اور جنہوں نے اس کو سچ مانا، وہی عذاب سے بچنے والے ہیں (۵۲)۔ انہیں اپنے رب کے ہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے (۵۳)۔ یہ ہے نیکی کرنے والوں کی جزا۔ تاکہ جو بد ترین اعمال انہوں نے کیے تھے نہیں اللہ ان کے حساب سے ساقط کر دے اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے ان کے لحاظ سے ان کو اجر  عطا فرمائے (۵۴)۔

(اے نبیؐ) کیا للہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے ؟ یہ لوگ اس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں (۵۵)۔ حالانکہ اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں،  اور جسے وہ ہدایت دے اسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں،  کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے ؟(۵۶)۔ ان لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین  اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے۔ ان سے کہو، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں،  جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو، مجھے اس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچا لیں گی؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ  اس کی رحمت کو روک سکیں گی؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں (۵۷)۔ ان سے صاف کہو کہ ’’ اے میری قام کے لوگو، تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جاؤ، میں اپنا کام کرتا رہوں گا، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کو پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں۔ (اے نبیؐ)ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کر دی ہے۔ اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا اپنے لیے کرے گا اور جو بھٹکے گا اس کے بھٹکنے کا وبال اسی پر ہو گا، تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو(۵۹)۔ ع

 

تفسیر

 

۵۲۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جو مقدمہ ہونا ہے اس میں سزا پانے والے کون ہوں گے،  یہ بات تم آج ہی سُن لو۔ سزا لازماً انہی ظالموں کو ملنی ہے جنہوں نے  یہ جھوٹے عقیدے گھڑے کہ اللہکے ساتھ اس کی ذات، صفات، اختیارات اور حقوق میں کچھ دوسری ہستیاں بھی شریک ہیں،  اور اس سے بھی زیادہ بڑھ کر ان کا ظلم یہ ہے کہ جب ان کے سامنے سچائی پیش کی گئی تو انہوں نے اسے مان کر نہ دیا بلکہ اُلٹا اُسی کو جھوٹا قرار دیا جس نے سچائی پیش کی۔ رہا وہ شخص جو سچائی لایا اور سہ لوگ جنہوں نے اس کی تصدیق کی، تو ظاہر ہے کہ اللہ کی عدالت سے ان کے سزا پانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

۵۳۔ یہ بات ملحوظ رہے کہ یہاں  فی ا لجنّۃ (جنّت میں )نہیں بلکہ عِنْدَ رَبّھِمْ (ان کے رب کے ہاں ) کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں۔  اور ظاہر ہے کہ اپنے رب کے ہاں تو بندہ مرنے کے بعد ہی پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے آیت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں پہنچ کر ہی نہیں بلکہ مرنے کے وقت سے دخول جنت تک زمانے میں بھی مومن صالح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہی رہے گا۔ وہ عذاب برزخ سے،  روز قیامت کی سختیوں سے،  حساب کی سخت گیری سے،  میدان حشر کی رسوائی سے،  اپنی کوتاہیوں اور قصوروں پر مواخذہ سے لازماً بچنا چاہے گا اور اللہ جل شانہ اس کی یہ ساری خواہشات پوری فرمائے گا۔

۵۴۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر جو لوگ ایمان لائے تھے،  زمانہ جاہلیت میں ان سے اعتقادی اور اخلاقی دونوں ہی طرح کے بد ترین گناہ سرزد ہو چکے تھے۔ اور ایمان لانے کے بعد انہوں نے صرف یہی ایک نیکی نہ کی تھی کہ اُس جھوٹ کو چھوڑ دیا جسے وہ پہلے مان رہے تھے اور وہ سچائی قبول کر لی جسے حضورؐ نے پیش فرمایا تھا، بلکہ مزید براں انہوں نے اخلاق، عبادات اور معاملات میں بہترین اعمال صالحہ انجام دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے وہ بدترین اعمال جو جاہلیت میں ان سے سرزد ہوئے تھے ان کے حساب سے محو کر دیے جائیں گے،  اور ان کو انعام ان اعمال کے لحاظ سے دیا جائے گا جو ان کے نامہ اعمال میں سب سے بہتر ہوں گے۔

۵۵۔ کفار مکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا کرتے تھے کہ تم ہمارے معبودوں کی شان میں گستاخیاں کرتے ہو اور ان کے خلاف زبان کھولتے ہو۔ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ یہ کیسی زبردست با کرامت ہستیاں ہیں۔ ان کی توہین تو جس نے بھی کی وہ برباد ہو گیا۔ تم بھی اگر اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو یہ تمہارا تختہ الٹ دیں گے۔

۵۶۔ یعنی یہ بھی ہدایت سے ان کی محرومی ہی کا کرشمہ ہے کہ ان احمقوں کو اپنے ان معبودوں کی طاقت و عزّت کا تو بڑا خیال ہے۔ مگر انہیں اس بات کا خیال کبھی نہیں آتا کہ اللہ بھی کوئی زبردست ہستی ہے اور شرک کر کے اُس کی جو توہین یہ کر رہے ہیں اُس کی بھی کوئی سزا انہیں مل سکتی ہے۔

۵۷۔ اب ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا   من احب ان یکون اقوی الناس فلیتو کل علیٰ اللہ، ومن احب ان یکون اغنی الناس فلیکن بماری ید اللہ عزو جل اوثق منہ بما فی یدیہ، ومن احب ان یکون اکرم الناس فلیتق اللہ عزو جلّ۔ ’’ جو شخص چاہتا ہو کہ سب انسانوں سے زیادہ طاقت ور ہو جائے  اسے چاہیے کہ اللہ پر توکّل کرے۔ اور جو شخص چاہتا ہو کہ سب سے بڑھ کر غنی ہو جائے اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس پر زیادہ بھوسہ رکھے بہ نسبت اُس چیز کے جو اس کے اپنے ہاتھ میں ہے،  اور جو شخص چاہتا ہو کہ سب سے زیادہ عزّت والا ہو جائے اسے چاہیے کہ اللہ عز و جل سے ڈرے۔ ‘‘

۵۸۔ یعنی مجھے زک دینے کے لیے جو کچھ تم کر رہے ہو اور کر سکتے ہو وہ کیے جاؤ، اپنی کرنی میں کوئی کسر نہ اّٹھا رکھو۔

۵۹۔ یعنی تمہارے سپرد انہیں راہِ راست پر لے آنا نہیں ہے۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ ان کے سامنے راہِ راست پیش کر دو۔ اس کے بعد اگر یہ گمراہ رہیں تو تم پر کوئی  ذ مہ داری نہیں ہے۔

 

ترجمہ

 

وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اس کی روح نیند میں قبض کر لیتا ہے (۶۰)، پھر جو پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے اسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے۔ اس میں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں (۶۱)۔ کیا اس خدا کو چھوڑ کر ان لوگوں نے دوسروں کو شفیع بنا رکھا ہے ؟(۶۲)ان سے کہو، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ ان کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی نہ ہوں ؟ کہو شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے (۶۳)۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ بھر اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔

جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں،  اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھِل اٹھتے ہیں (۶۴)۔ کہو، خدایا! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے،  حاضر و غائب کے جاننے والے،  تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ اگر ان ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو، اور اتنی ہی اور بھی، تو یہ روز قیامت کے برے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے۔ وہاں اپنی کمائی کے سار ے برے نتائج ان پر کھل جائیں گے اور وہی چیز ان پر مسلط ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔

یہی انسان (۶۵) جب ذرا سی مصیبت اسے چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے،  اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اَپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھ علم کی بنا پر دیا گیا ہے ! (۶۶) نہیں،  بلکہ یہ آزمائش ہے،  مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں (۶۷)۔ یہی بات ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی کہہ چکے ہیں،  مگر جو کچھ وہ کماتے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آیا(۶۸)۔ پھر اپنی کمائی کے برے نتائج انہوں نے بھگتے،  اور ان لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں وہ عنقریب اپنی کمائی کے برے نتائج بھگتیں گے،  یہ ہمیں عاجز کر دینے والے نہیں ہیں۔ اور کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے ؟(۶۹) اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ ع

 

تفسیر

 

۶۰۔ نیند کی حالت میں روح قبض کرنے سے مراد احساس و شعور، فہم و ادراک اور اختیار و ارادہ کی قوتوں کو معطل کر دینا ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جس پر اردو زبان کی یہ کہاوت فی الواقع راست آتی ہے کہ سویا اور مُوا برابر۔

۶۱۔ اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ ہر انسان کو یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ موت اور زیست کس طرح اُس کے دستِ قدرت میں ہے۔ کوئی شخص بھی یہ ضمانت نہیں رکتا کہ رات کو جب وہ سوئے گا تو صبح لازماً زندہ ہی اُٹھے گا۔ کسی کو بھی یہ معلوم نہیں کہ ایک گھڑی بھر میں اُس پر کیا آفت آ سکتی ہے اور دوسرا لمحہ اس پر زندگی کا لمحہ ہوتا ہے یا موت کا۔ ہر وقت سوتے میں یا جاگتے میں،  گھر بیٹھے  یا کہیں چلتے پھرتے آدمی کے جسم کی کوئی اندرونی خرابی، یا باہر سے کوئی نامعلوم آفت یکایک وہ شکل اختیار کر سکتی ہے جو اس کے لیے پیام موت ثابت ہو۔ اس طرح جو انسان خدا کے ہاتھ میں بے بس ہے وہ کیسا سخت نادان ہے اگر اُسی خدا سے غافل یا منحرف ہو۔

۶۲۔ یعنی ایک تو ان لوگوں نے اپنے طور پر خود ہی یہ فرض کریا کہ کچھ ہستیاں اللہ کے ہاں بڑی زور آور ہیں جن کی سفارش کسی طرح ٹل نہیں سکتی، حالانکہ ان کے سفارشی ہونے پر نہ کوئی دلیل، نہ اللہ تعالیٰ نے کبھی یہ فرمایا کہ ان کو میرے ہاں یہ مرتبہ حاصل ہے،  اور نہ اُن ہستیوں نے کبھی یہ دعویٰ کیا کہ ہم اپنے زور سے تمہارے سارے کام بنوا دیا کریں گے۔ اس پر مزید حماقت ان لوگوں کی یہ ہے کہ اصل مالک کو چھوڑ کر ان فرضی سفارشوں ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں اور ان کی ساری نیاز مندیاں  اُنہی کے لیے وقف ہیں۔

۶۳۔ یعنی کسی کا یہ زور نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں خود سفارشی بن کر اُٹھ ہی سکے،  کجا کہ اپنی سفارش منوا لینے کی طاقت بھی اُس میں ہو۔ یہ بات تو بالکل اللہ کے اختیار میں ہے کہ جسے چاہے سفارش کی اجازت دے اور جسے چاہے نہ دے۔ اور کس کے حق میں چاہے کسی کو سفارش کرنے دے اور جس کے حق میں چاہے نہ کرنے دے۔ (شفاعت کے اسلامی عقیدے اور مشرکانہ عقیدے کا فرق سمجھنے کے لیے حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں : تفہیم القرآن جلد اوّل، ص ۱۹۴۔ ۵۴۳۔ جلد دوم۔ صفحات ۲۶۲۔ ۲۷۵۔ ۲۷۶۔ ۳۵۶۔ ۳۶۸۔ ۴۴۹۔ ۵۵۶۔ ۵۵۷۔ ۵۶۲۔ جلد سوم، صفحات ۱۲۶۔ ۱۲۷۔ ۱۵۵۔ ۱۵۶۔ ۲۵۲۔ جلد چہارم، السّبا، حاشیہ ۴۰)۔

۶۴۔ یہ بات قریب قریب ساری دنیا کے مشرکانہ ذوق رکھنے والے لوگوں میں مشترک ہے،  حتّیٰ کہ مسلمانوں میں بھی جن بد قسمتوں کو یہ بیماری لگ گئی ہے وہ بھی اس عیب سے خالی نہیں ہیں۔ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں۔ لیکن حالت یہ ہے کہ اکیلے اللہ کا ذکر کیجیے تو ان کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں۔ کہتے ہیں،  ضرور یہ شخص بزرگوں اور اولیاء کو نہیں مانتا، جبھی تو بس اللہ ہی اللہ کی باتیں کیے جاتا ہے۔ اور اگر دوسروں کا ذکر کیا جائے تو ان کے دلوں کی کلی کھِل جاتی ہے اور بشاشت سے ان کے چہرے دمکنے لگتے ہیں۔ اس طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو اصل میں دلچسپی اور محبت کس سے ہے۔ علّامہ آلوسی نے روح المعانی میں اس مقام پر خود اپنا ایک تجربہ بیان کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی کسی مصیبت میں ایک وفات یافتہ بزرگ کو مدد کے لیے پکار رہا ہے۔ میں نے کہا اللہ کے بندے،  اللہ کو پکار، وہ خود فرماتا ہے کہ وَاِذَ ا سَأ لَکَ عَبَا دِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعَوَ ۃَ الدَّا عِ اِ ذَ ا دَعَانِ۔ میری یہ بات سُن کر اسے سخت غصّہ آیا اور بعد میں لوگو نے مجھے بتایا کہ ہو کہتا تھا یہ شخص اولیاء کا منکر ہے۔ اور بعض لوگوں نے اس کے یہ کہتے بھی سنا کہ اللہ کی نسبت ولی جلدی سُن لیتے ہیں۔

۶۵۔ یعنی جسے اللہ کے نام سے چڑ ہے اور اکیلے اللہ کا ذکر سُن کر جس کا چہرہ بگڑنے لگتا ہے۔

۶۶۔ اس فقرے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ جانتا ہے کہ میں اس نعمت کا اہل ہوں،  اسی لیے اس نے مجھے یہ کچھ دیا ہے،  ورنہ اگر اس کے نزدیک میں ایک بُرا عقیدہ اور غلط کار آدمی ہوتا تو مجھے یہ نعمتیں کیوں دیتا۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تو مجھے میری قابلیت کی بنا پر ملا ہے۔

۶۷۔ لوگ اپنی جہالت و نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ جسے کوئی نعمت مل رہی ہے وہ لازماً اس کی اہلیت و قابلیت کی بنا پر مل رہی ہے،  اور  اس نعمت کا ملنا اس کے مقبول بارگاہ الہٰی ہونے کی علامت یا دلیل ہے۔ حالانکہ یہاں جسکو جو کچھ بھی دیا جا رہا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش کے طور پر دیا جا رہا ہے۔ یہ امتحان کا سامان ہے نہ کہ قابلیت کا انعام، ورنہ آخر کیا وجہ ہے کہ بہت سے قابل آدمی خستہ حال ہیں اور بہت سے ناقابل آدمی نعمتوں میں کھیل رہے ہیں۔ اسی طرح یہ دنیوی نعمتیں مقبول بارگاہ ہونے کی علامت بھی نہیں ہیں۔ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ دنیا میں بکثرت ایسے نیک آدمی مصائب میں مبتلا ہیں جن کے نیک ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور بہت سے بُرے آدمی، جن کی قبیح حرکات سے ایک دنیا واقف ہے،  عیش کر رہے ہیں۔ اب کیا کوئی صاحب عقل آدمی ایک کی مصیبت اور دوسرے کے عیش کو اس بات کی دلیل بنا سکتا ہے کہ نیک انسان کو اللہ پسند نہیں کرتا اور بد انسان کو وہ پسند کرتا ہے ؟

۶۸۔ مطلب یہ ہے کہ جب ان کی شامت آئی تو وہ قابلیت بھی دھری رہ گئی جس کا انہیں دعویٰ تھا، اور یہ بات بھی کھل گئی کہ وہ اللہ کے مقبول بندے نہ تھے۔ ظاہر ہے کہ اگر ان کی یہ کمائی مقبولیت اور صلاحیت کی بنا پر ہوتے تو شامت کیسے آ جاتی۔

۶۹۔ یعنی رزق کی تنگی و کشادگی اللہ کے ایک دوسرے ہی قانون پر مبنی ہے جس کے مصالح کچھ اور ہیں۔ اس تقسیم رزق کا مدار آدمی کی اہلیت و قابلیت، یا اس کے محبوب و مغضوب ہونے پر ہر گز نہیں ہے۔ (اس مضمون کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، صفحات ۲۰۲۔ ۲۱۲۔ ۲۲۱۔ ۲۷۴۔ ۲۷۵۔ ۳۲۲۔ ۳۳۴۔ ۴۵۷۔ جلد سوم، صفحات ۲۶۔ ۷۷۔ ۷۸۔ ۱۳۹۔ ۱۸۹۔ ۱۹۱۔ ۱۹۲۔ ۲۵۹۔ ۲۶۰۔ ۲۸۳۔ ۲۸۴۔ ۵۱۳۔ ۵۱۶۔ ۶۶۲۔ ۶۶۴۔ جلد چہارم، حواشی سورہ سبا ۵۴ تا ۶۰۔

 

ترجمہ

 

(اے نبیؐ) کہ دو کہ اے میرے بندو(۷۰)، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے،  اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے،  وہ تو غفورٌ رحیم ہے، (۷۱) پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور مطیع بن جاؤ اس کے ابل اس کے کہ تم پر عذاب آ جائے اور پھر کہیں سے تمہیں مدد نہ مل سکے۔ اور پیروی اختیار کر لو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی، (۶۲) قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آئے اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی شخص کہے ’’ افسوس میری اس تقصیر پر جو میں اللہ کی جناب میں کرتا رہا، بلکہ میں تو الٹا مذاق اڑانے والوں میں شامل تھا۔ ‘‘ یا کہے ’’ کاش اللہ نے مجھے ہدایت  بخشی ہوتی تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا۔ ‘‘ یا عذاب دیکھ کر کہے ’’ کاش مجھے ایک موقع اور مل جائے اور، میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہو جاؤں ‘‘۔ (اور اس وقت اسے یہ جواب ملے کہ ) ’’ کیوں نہیں،  میری آیات تیرے پاس آ چکی تھیں،  پھر تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافروں میں سے تھا‘‘ آج جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ باندھے ہیں قیامت کے روز تم دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہوں گے۔ کیا جہنم میں متکبروں کے لیے کافی جگہ نہیں ہے ؟ اس کے برعکس جن لوگوں نے یہاں تقویٰ کیا ہے ان کے اسباب کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے (۷۳)۔ زمین اور آسمانوں کے خزانوں کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کی آیات سے  کفر کرتے ہیں وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔ ع (اے نبیؐ ) ان سے کہو ’’ پھر کیا اے جاہلو، تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے کے لیے مجھ سے کہتے ہو‘‘؟ (یہ بات تمہیں ان سے صاف کہہ دینی چاہیے کیونکہ )تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا(۷۴) اور تم خسارے میں رہو گے۔ لہٰذا (اے نبی) تم بس اللہ ہی کی بندگی کرو اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جاؤ۔

ان لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے (۷۵)۔ (اس کی قدرت کاملہ کا حال تو یہ ہے کہ )قیامت کے  روز پوری زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے (۷۶)۔ پاک اور بالاتر ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ (۷۷) اور اس روز صور پھونکا جائے گا(۷۸) اور وہ سب مر کر  گر جائیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوائے ان کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے۔ پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا اور یکایک سب کے سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے (۷۹)۔ زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، کتاب اعمال لا کر رکھ دی جائے گی، انبیاء اور تمام گواہ(۸۰) حاضر کر دیے جائیں گے،  لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہ ہو گا، اور ہر متنفس کو جو کچھ بھی اس نے عمل کیا تھا اس کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا۔ لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ ع

 

تفسیر

 

۷۰۔ بعض لوگوں نے ان الفاظ کی یہ عجیب تاویل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خود ’’اے میرے بندو‘‘ کہہ کر لوگوں سے خطاب کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا سب انسان نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بندے ہیں۔ یہ درحقیقت ایک ایسی تاویل ہے جسے تاویل نہیں بلکہ قرآن کی بد ترین معنوی تحریف اور اللہ کے کلام کے ساتھ کھیل کہنا چاہیے۔ جاہل عقیدت مندوں کا کوئی گروہ تو اس نکتے کو سُن کر جھوم اُٹھے گا، لیکن یہ تاویل اگر صحیح ہو تو پھر پورا قرآن غلط ہو ا جاتا ہے،  کیونکہ قرآن تو از اوّل تا آخر انسانوں کو صرف اللہ تعالیٰ کا بندہ قرار دیتا ہے،  اور اس کی ساری دعوت ہی یہ ہے کہ تم ایک اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم خود بندے تھے۔ ان کو اللہ نے رب نہیں بلکہ رسول بنا کر بھیجا تھا۔ اور اس لیے بھیجا تھا کہ خود بھی اُسی کی بندگی کریں اور لوگوں کو بھی اسی کی بندگی سکھائیں۔ آخر کسی صاحب عقل آدمی کے دماغ میں یہ بات کیسے سما سکتی ہے کہ مکہ معظمہ میں کفار قریش کے درمیان کھڑے ہو کر ایک روز محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے یکایک یہ اعلان کر دیا ہو گا کہ تم عبدالعزّیٰ اور عبد شمس کے بجائے دراصل عبدِ محمدؐ ہو،   اعا ذ نا اللہ من ذالک۔

۷۱۔ یہ خطاب تمام انسانوں سے ہے،  صرف اہل ایمان کو مخاطب قرار دینے  کے لیے کوئی وزنی دلیل نہیں ہے۔ اور جیسا کہ علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے،  عام انسانوں کو مخاطب کر کے یہ ارشاد فرمانے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ بغیر توبہ و انابت کے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے،  بلکہ بعد والی آیات میں اللہ تعالیٰ نے خود ہی وضاحت فرما دی ہے کہ گناہوں کی معافی کو صورت بندگی و اطاعت کی طرف پلٹ آنا اور اللہ کے نازل کیے ہوئے پیغام کی پیروی اختیار کر لینا ہے۔ دراصل یہ آیت ان لوگوں کے لیے پیغام اُمید لے کر آئی تھی جو  جاہلیّت میں قتل، زنا، چوری، ڈاکے اور ایسے  ہی سخت گناہوں میں غرق رہ چکے تھے،  اور اس بات سے مایوس تھے کہ یہ قصور کبھی معاف ہو سکیں گے۔ اُن سے فرمایا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، جو کچھ بھی تم کر چکے ہو اس کے بعد اب اگر اپنے رب کی اطاعت کی طرف پلٹ آؤ تو سب کچھ معاف ہو جائے گا۔ اس آیت کی تاویل ابن عباس، قتادہ، مجاہد اور ابن زیدؒ نے بیان کی ہے (ابن جریر،  بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی )۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، ص ۴۶۶ تا ۴۶۸۔

۷۲۔ کتاب اللہ بہترین پہلو کی پیروی کرنے کا مطلب  یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے آدمی ان کی تعمیل کرے،  جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے ان سے بچے،  اور امثال اور قصوں میں جو کچھ اس نے ارشاد فرمایا ہے اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔ بخلاف اس کے جو شخص حکم سے منہ موڑتا ہے،  منہیات کا ارتکاب کرتا ہے اور اللہ کے وعظ و نصیحت سے کوئی اثر نہیں لیتا وہ کتاب اللہ کے بدترین پہلو کو اختیار کرتا ہے،  یعنی وہ پہلو اختیار کرتا ہے جسے کتاب اللہ بدترین قرار دیتی ہے۔

۷۳۔ یعنی اس نے دنیا کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا ہے،  بلکہ وہی ہر چیز کی خبر گیری اور نگہبانی کر رہا ہے۔ دنیاکی تمام چیزیں جس طرح اس کے پیدا کرنے سے وجود میں آئی ہیں اسی طرح وہ اُس کے باقی رکھنے سے باقی ہیں،  اس کے پرورش کرنے سے پھل پھول رہی ہیں،  اور اس کی حفاظت و نگرانی میں کام کر رہی ہیں۔

۷۴۔ یعنی شرک کے ساتھ کسی عمل کو عمل صالح قرار نہیں دیا جائے گا، اور جو شخص بھی مشرک رہتے ہوئے اپنے نزدیک بہت سے کاموں کو نیک کام سمجھتے ہوئے کرے گا ان پر وہ کسی اجر کا مستحق نہ ہو گا اور اس کی پوری زندگی سراسر زیاں کاری بن کر رہ جائے گی۔

۷۵۔ یعنی ان کو اللہ کی عظمت و کبریائی کا کچھ اندازہ ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کبھی یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ خداوند عالم کا مقام کتنا بلند ہے اور وہ حقیر ہستیاں کیا شے ہیں جن کو یہ نادان لوگ خدائی میں شریک اور معبودیت کا حق دار بنائے بیٹھے ہیں۔

۷۶۔ زمین اور آسمان پر اللہ تعالیٰ کے کامل اقتدار تصرف کی تصویر کھینچنے کے لیے مٹھی میں ہونے اور ہاتھ پر لپٹے ہونے کا استعارہ استعمال فرمایا گیا ہ۔ جس طرح ایک آدمی کسی چھوٹی سے گیند کو مٹھی میں دبا لیتا ہے اور اس کے لیے یہ ایک معمولی کام ہے،  یا ایک شخص ایک رومال کو لپیٹ کر ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اس کے لیے یہ کوئی زحمت طلب کام نہیں ہوتا، اسی طرح قیامت کے روز تمام انسان ( جو آج اللہ کی عظمت و کبریائی کا اندازہ کرنے سے قاصر ہیں ) اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ زمین اور آسمان اللہ کے دست قدرت میں ایک حقیر گیند اور ایک ذرا سے رُو مال کی طرح ہیں۔ مسند احمد، بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوہریرہؓ کی روایات منقول ہوئی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ دَوران خطبہ میں یہ آیت آپؐ نے تلاوت فرمائی اور فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں (یعنی سیّاروں ) کو اپنی مٹھی میں لے کر اس طرح پھرائے گا جیسے ایک بچہ گیند پھراتا ہے، اور فرمائے گا میں ہوں خدائے واحد، میں ہوں بادشاہ، میں ہوں جبّار، میں ہوں کبریائی کا مالک، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ کہاں ہیں جبّار؟ کہاں ہیں متکبّر، ؟ یہ کہتے کہتے حضورؐ پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ ہمیں خطرہ ہونے لگا کہ کہیں آپ منبر سمیت کر نہ پڑیں۔

۷۷۔ یعنی کہاں اُس کی یہ شان عظمت و کبریائی اور کہاں اس کے ساتھ خدائی میں کسی کا شریک ہونا۔

۷۸۔ صور کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، ص  ۵۵۲۔ جلد دوم، ص ۴۹۳۔ جلد سوم، صفحات ۴۸۔ ۱۲۲۔ ۱۲۳ ۱۹۹۔ ۳۰۰۔ ۶۰۶۔

۷۹۔ یہاں صرف دو مرتبہ صُور پھونکے جانے کا ذکر ہے۔ ان کے علاوہ سورہ نمل میں ان دونوں سے پہلے ایک اور نفخ صور واقع ہونے کا ذکر آیا ہے،  جسے سن کر زمین و آسمان کی ساری مخلوق دہشت زدہ ہو جائے گی (آیت ۸۷)۔ اسی بنا پر احادیث میں تین مرتبہ نفخ صور واقع ہونے ک ذکر کیا گیا ہے۔ ایک نفخۃالفَزَع، یعنی گھبرا دینے والا صور۔ دوسرا نفخۃ الصَّعق، یعنی مار گرانے وا لا صور۔ تیسرا نفخۃ القیام لرَبّ العالمین، یعنی وہ صور جسے پھونکتے ہی تمام انسان جی اُٹھیں گے اور اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنے مرقدوں سے نکل آئیں گے۔

۸۰۔ گواہوں سے مراد وہ گواہ بھی ہیں جو اس بات کی شہادت دیں گے کہ لوگوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا گیا تھا، اور وہ گواہ بھی جو لوگوں کے اعمال کی شہادت پیش کریں گے۔ ضروری نہیں ہے کہ یہ گواہ صرف انسان ہی ہوں۔ فرشتے اور جِن اور حیوانات، اور انسانوں کے اپنے اعضاء اور در و دیوار اور شجر و حجر، سب ان گواہوں میں شامل ہوں گے۔

 

ترجمہ

 

(اس فیصلہ کے بعد ) وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا جہنم کی طرف گروہ ہان کے جائیں گے،  یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے (۸۱) اور اس کے کارندے ان سے کہیں گے ‘‘ کیا تمہارے پاس تمہارے اپنے لوگوں میں سے ایسے رسول نہیں آئے تھے،  جنہوں نے تم کو تمہارے رب کی آیات سنائی ہوں اور تمہیں اس بات سے ڈرایا ہو کہ ایک وقت تمہیں یہ دن بھی دیکھتا ہو گا‘‘؟ وہ جواب دیں گے ’’ ہاں،  آئے تھے،  مگر عذاب کا فیصلہ کافروں پر چپک گیا‘‘۔ کہا جائے گا، داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں،  یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے،  بڑا ہی برا ٹھکانا ہے یہ متکبروں کے لیے۔

اور جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے،  اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جا چکے ہوں گے،  تو اس کے منتظمین ان سے کہیں گے کہ ’’ سلام ہو تم پر، بہت اچھے رہے،  داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ کے لیے۔ ’’ اور وہ کہیں گے ’’ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا(۸۲)، اب ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ ‘‘ (۸۳)۔ پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے (۸۴)۔

اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد اور تسبیح کر رہے ہوں گے،  اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ چکا دیا جائے گا، اور پکار دیا جائے گا کہ حمد ہے اللہ ربّ العالمین کے لیے (۸۵)۔ ع

 

تفسیر

 

۸۱۔ یعنی جہنم کے دروازے پہلے سے کھلے نہ ہوں گے بلکہ ان کے پہنچنے پر کھولے جائیں گے،  جس طرح مجرموں کے پہنچنے پر جیل کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور ان کے داخل ہوتے ہی بند کر دیا جاتا ہے۔

۸۲۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم، صفحات ۱۲۵، ۱۳۴۔ ۱۳۵، ۱۸۹ تا ۱۹۲۔

۸۳۔ یعنی ہم میں سے ہر ایک کو جو جنت بخشی گئی ہے وہ اب ہماری ملک ہے اور ہمیں اس میں پورے اختیارات حاصل ہیں۔

۸۴۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اہل جنت کا قول ہو، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اہل جنت کی بات پر یہ جملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور اضافہ ارشاد فرمایا گیا ہو۔

۸۵۔  یعنی پوری کائنات اللہ کی حمد پکار اُٹھے گی۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.urduquran.net

http://www.tafheemonline.com/tafheem.asp

http://ur.wikipedia.org

تشکر: سبط الحسین

جمع و ترتیب: سبط الحسین، اعجاز عبید

مزید ٹائپنگ: مخدوم محی الدین، کلیم محی الدین،  عبد الحمید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید