FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

تفسیر بیان القرآن

 

فاتحہ، بقرہ، آل عمران

محض ان سورتوں کی تفسیر ہی دستیاب ہو سکی ہے

 

اشرف علی تھانوی

 

فاتحہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ف ۔یہ سورت رب العالمین نے اپنے بندوں کی زبان سے فرمائی کہ ان الفاظ میں اپنے خالق و رازق کے سامنے عرض مدعا کیا کریں۔
ف ۔مخلوقات کی الگ الگ جنس ایک ایک عالم کہلاتا ہے مثلاً عالم ملائکہ عالم انسان،عالم پرند،عالم حیوانات،عالم جن۔
﴿7﴾ ف ۔انعام سے دینی انعام مراد ہے انعام والے چارہ گروہ ہیں۔انبیاء،صدیقین،شہداء اور صالحین۔
ف ۔غضب کے مستحق وہ لوگ ہیں جو تحقیقات کے باوجود راہ ہدایت کو چھوڑ دیں اور گمراہ وہ ہیں جو صراط مستقیم کی تحقیقات نہ کرنا چاہیں ان میں مغضوب زیادہ ناراضی کے مستحق ہیں جو دیدہ دانستہ حق کی مخالفت میں سرگرم ہیں۔

 

بقرہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ف ۔ ان حروف کے معانی سے عوام کو اطلاع نہیں دی گئی ۔شاید حامل وحی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلا دیا گیا ہو کیونکہ اللہ اور اس کے رسول نے اہتمام کے ساتھ وہی باتیں بتلائی ہیں جن کے نہ جاننے سے دین میں کوئی جرح اور نقصان لازم آتا تھا لیکن ان حروف کا مفہوم نہ جاننے سے کوئی حرج نہ تھا اس لیے ہم کو بھی ایسے امور کی تفتیش نہ چاہیے۔
﴿2﴾ ف ۔یعنی قرآن کے منجانب اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں یعنی یہ امر یقینی ہے کہ اگر کوئی نا فہم اس میں شبہ رکھا ہو کیونکہ یقینی بات کسی کے شبہ کرنے سے بھی یقینی یہ رہتی ہے۔
ف ۔کیونکہ جس کا خوف خدا نہ ہو وہ قرآن کا بتلایا ہوا راستہ نہیں دیکھتا۔
﴿3﴾ ف ۔یعنی جو چیزیں حواس اور عقل سے پوشیدہ ہیں ان کو صرف اللہ ورسول کے فرمانے سے صحیح مان لیتے ہیں۔
ف ۔یعنی اس کو پابندی سے ہمیشہ ادا کرتے ہیں اور اس کے شرائط اور ارکان کو پورا پورا بجا لاتے یں۔
ف ۔یعنی نیک کاموں میں ۔
﴿4﴾ ف ۔یعنی قرآن پربھی ایمان رکھتے ہیں اور پہلی آسمانی کتابوں پربھی۔ایمان سچا سمجھنے کو کہتے ہیں عمل کرنادوسری بات ہے پس حق تعالی نے جتنی کتابیں انبیائے سلف علیہم السلام پر نازل کی ہیں سب کوسچا سمجھنا فرض اور شرط ایمان ہے رہ گیا عمل سووہ صرف قرآن پر ہو گا پہلی کتابیں منسوخ ہو گئی ہیں اس لیے ان پر عمل جائز نہیں۔
ف ۔آخرت سے قیامت کا دن مراد ہے چونکہ وہ دن دنیا کے بعد آئے گا اس لیے اس کو آخرت کہتے ہیں۔
﴿5﴾ ف۔۹۔یعنی ایسے لوگوں کو دنیا میں نعمت ملی،کہ راہ حق نصیب ہوتی اور آخرت میں یہ دولت نصیب ہو گی کہ ہر طرح کی کامیابی ان کے لیے ہے۔
﴿6﴾ ف ۰۔اس آیت میں سب کافروں کا بیان نہیں بلکہ خاص ان کافروں کا ذکر ہے جن کی نسبت خدا کو معلوم ہے کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہو گا اور اس آیت سے یہ غرض نہیں کہ ان کو عذاب الہی سے ڈرانے اور احکام سنانے کی ضرورت نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے ایمان لانے کی فکر نہ کریں اور ان کے ایمان نہ لانے مغموم نہ ہوں ان کے ایمان لانے کی امید نہیں۔
﴿7﴾ ف۔انہوں نے شرارت و عناد کر کے باختیار خود اپنی استعداد برباد کر لی ہے سواس تباہی واستعداد کاسبب و فاعل تو وہ خود ہی ہیں مگر چونکہ بندوں کے جمیع افعال کا خالق اللہ سبحانہ و تعالی ہے اس لیے اس آیت میں اپنے خالق ہونے کا بیان فرما دیا کہ جب وہ تباہی استعداد کے فاعل ہوئے اور اس کو بقصد خود اختیار کرنا چاہا توہم نے بھی وہ بداستعدادی کی کیفیت ان کے قلوب وغیرہ میں پیدا کر دی بند لگانے سے اسی بداستعدادی کا پیدا کرنا مراد ہے ان کا یہ فعل اس ختم کاسبب ہو ختم الہی اس فعل کاسبب نہیں ہوا۔
﴿9﴾ ف ۔یعنی اس چالبازی کا انجام بد خود ان ہی کو بھگتنا پڑے گا ۔
﴿10﴾ ف ۔مرض میں ان کی بد اعتقادی وحسد اور ہر وقت کا اندیشہ و خلجان سب کچھ آ گیا چونکہ اسلام کو روزانہ رونق ہو جاتی تھی اس یے ان کے دلوں میں ساتھ ساتھ یہ امراض ترقی پاتے جاتے تھے۔
﴿16﴾ ف ۔یعنی ان کو تجارت کا سلیقہ نہ ہوا کہ ہدایت کی سی اچھی چیز چھوڑ دی اور گمراہی کی بری چیز پالی۔
﴿18﴾ ف ۔ یعنی حق سے بہت بعید ہو گئے ہیں کہ ان کے کان حق سننے کے قابل نہ رہے ، زبان ان کی حق بات کہنے کے لائق نہ رہی، آنکھیں حق دیکھنے کے قابل نہ رہیں سو اب ان کے حق کی طرف رجوع ہونے کی کیا امید ہے ۔
﴿20﴾ ف ۔ متردد و منافقین آثار غلبہ اسلام میں کبھی نور اسلام کی جھلک دیکھ کر ادھر کو بڑھنے لگتے ہیں کہ اور کبھی خود غرضی کی ظلمت میں پڑ کر پھر حق سے رک جاتے ہیں۔
﴿21﴾ ف ۔ شاہی محاورہ میں “عجب نہیں” کا لفظ وعدہ کے موقع پر بولا جاتا ہے ۔
﴿22﴾ ف ۔ یعنی اس بات کو جانتے ہو کہ ان تصرفات کا بجز خدا تعالی کے کوئی کرنے والا نہیں ۔ تو اس صورت میں کب زیبا ہے کہ خدا کے مقابلہ میں دوسروں کو معبود بناؤ۔
﴿23﴾ ف ۔ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو بے شمار معجزے عطا ہوئے جن میں سے سب سے بڑا معجزہ قرآن شریف ہے کہ اثبات نبوت کی بڑی دلیل ہے ، اس کے معجزہ ہونے میں مخالفین کو یہ شبہ تھا کہ شاید اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود تصنیف کر لیا کرتے ہوں۔ تو اس صورت میں اس کا معجزہ ہونا محل کلام میں ہو گیا پس دلیل نبوت مشتبہ ہو گئی، اس لئے اللہ تعالی اس اشتباہ کو رفع فرماتے ہیں کہ تاکہ اس کا معجزہ ہونا ثابت ہو جائے پھر نبوت قطعی دلیل بن سکے ۔
ف ۔ جب باوجود اس کے نہ بنا سکیں گے تو بشرط انصاف بلا تامل ثابت ہو جائے گا کلہ یہ معجزہ منجانب اللہ ہے اور بلا شبہ آپ پیغمبر ہیں اور یہی مقصود تھا۔
﴿24﴾ ف ۔ یہ سن کر کیسا کچھ جوش و خروش اور بیچ و تاپ نہ آیا ہو گا۔ اور کوئی دقیقہ سعی کا کیوں اٹھا رکھا ہو گا؟ پھر عاجز ہو کر اپنا سامنہ لیکر بیٹھ رہنا قطعی دلیل ہے کہ قرآن مجید معجزہ ہے ۔
﴿25﴾ ف ۔ دونوں بار کے پھلوں کی صورت ایک سی ہو گی جس سے وہ یوں سمجھیں گے کہ یہ پہلی ہی قسم کا پھل ہے مگر کھانے میں مزہ دوسرا ہو گا، جس سے خط و سرور مضاعف ہو جائے گا۔
﴿27﴾ ف ۔اس میں تمام تعلقات شرعیہ داخل ہو گئے۔
ف ۔یہاں تک اس شبہ کے جواب کا سلسلہ تھا جو کفار نے پیش کیا تھا کہ کلام الہی میں ایسی کم قدر چیزوں کا ذکر کیوں آیا اب اس مضمون کی طرف رجوع کرتے ہیں جو اس سے اوپر والی آیت یا ایھا الناس اعبدوا میں متعلق توحید کے مذکور ہوا تھا۔
﴿29﴾ ف ۔اول زمین میں مادہ بنا اور ہنوز اس کی ہیبت موجودہ نہ بنی تھی کہ اسی حالت میں آسمان کا مادہ بنا جو صورت دخان تھا۔اس کے بعد زمین کی جو ہتدہ موجود پر پھیلا دی گئی پھر اس پر پہاڑ درخت وغیرہ پیدا کیے گئے پھر اس مادہ سیالہ کے سات آسمان بنا دیے گئے۔
﴿30﴾ ف ۔یعنی وہ میرا نائب ہو گا کہ اپنے احکام شرعیہ کے اجرا و نفاذ کی خدمت اس کے سپرد کروں گا۔
ف ۔یہ بطور اعتراض کے نہیں کہا نہ اپنا حق جتلایا بلکہ یہ فرشتوں کی عرض معروض اظہار نیاز مندی کے واسطے تھی۔
ف ۔یعنی جو امر تمہارے نزدیک مانع تخلیق بنی آدم ہے وہی واقع میں باعث ان کی تخلیق کا ہے۔
﴿31﴾ ف ۔یعنی تمام موجودات روئے زمین کے اسما و خواص کا علم دے دیا۔
﴿34﴾ ف ۔غالباً فرشتوں کو بلاواسطہ حکم کیا ہو گا اور جنوں کوکسی فرشتہ وغیرہ کے ذریعے سے کہا گیا ہو گا۔
ف ۔اس پر تکفیر کا فتوی اس لیے دیا گیا کہ اس نے حکم الہی کے مقابلہ میں تکبر کا۔ اور اس کے قبول کرنے میں عار کیا اور اس کو خلاف حکمت و خلاف مصلحت ٹھیرایا۔
﴿35﴾ ف ۔خدا جانے وہ کیا درخت تھا۔
﴿36﴾ ف ۔یعنی وہاں بھی جا کر دوام نہ ملے گا بعد چندے وہ گھر بھی چھوڑنا پڑے گا۔
﴿41﴾ ف ۔یعنی میرے احکام چھوڑ کر اور ان کو بدل کر اور چھپا کر عوام الناس سے دنیائے ذلیل و قلیل کو وصول مت کرو جیسا کہ ان کی عادت تھی۔
﴿43﴾ ف ۔نماز سے ان کی حب جاہ کم ہو گی زکوٰۃ سے ان کی حب مال گھٹنے گی۔تواضع سے باطنی امراض وغیرہ میں کمی آئے گی یہی مرض ان میں زیادہ تھے۔
﴿44﴾ ف ۔اس سے یہ مسئلہ نہیں نکلتا کہ بے عمل کو واعظ بننا جائز نہیں بلکہ یہ نکلتا ہے کہ واعظ کو بے عمل بننا جائز نہیں۔
﴿48﴾ ف ۔یہ دن قیامت کا ہو گا۔
﴿49﴾ ف ۔کسی نے فرعون سے پیش گوئی کر دی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا ایساپیدا ہو گا جس کے ہاتھوں تیرے سلطنت جاتی رہے گی اس نے اس لیے نوزائیدہ لڑکوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔
﴿50﴾ ف ۔یہ قصہ اس وقت ہوا کہ موسی علیہ السلام پیدا ہو کر پیغمبر ہو گئے اور مدتوں فرعون کوسمجھاتے رہے۔
﴿53﴾ ف ۔فیصلہ کی چیز یا تو ان احکام کو کہا جو توریت میں لکھے ہیں یا معجزوں کو کہا۔یا خود تورات ہی کو کہہ دیا۔
﴿54﴾ ف ۔یہ بیان ہے اس طریق کاجو ان کی توبہ کے لیے تجویز ہوا یعنی مجرم لوگ قتل کیے جاویں۔
﴿57﴾ ف ۔یہ دونوں قصے وادی تیہ میں ہوئے، تیہ کے معنی ہیں سرگردانی۔
﴿59﴾ (ف ۔ وہ کلمہ خلاف یہ تھا کہ حطۃ بمعنی توبہ کی جگہ براہ تمسخر حبة فی شعیرة بمعنی غلہ درمیان جو کے کہنا شروع کای اور وہ آفت سماوی طاعون تھا۔
﴿60﴾ ف ۔یہ قصہ وادی تیہ میں ہوا وہاں پیاس لگی تو پانی مانگا موسی علیہ السلام نے دعا کی تو ایک خاص پتھر سے صرف عصا مارنے سے اس میں بارہ چشمے بقدرت خداوندی نکل پڑے۔اور کھانے وے مراد من وسلوی کا کھانا ہے اور پینے سے یہی پانی پینا ہے اور فساد و فتنہ فرمایا نافرمانی اور ترک احکام۔
﴿61﴾ ف ۔منجملہ ذلت ومسکنت کے یہ بھی ہے کہ یہودیوں سے سلطنت قرب قیامت تک کے لیے چھین لی گئی ۔
﴿62﴾ ف ۔حاصل قانون کا ظاہر ہے کہ جو شخص پوری اطاعت اعتقاد اور اعمال میں اختیار کرے گا خواہ وہ پہلے سے کیساہی ہو ہمارے یہاں مقبول اور اس کی خدمت مشکور رہے ۔مطلب یہ ہوا کہ جومسلمان ہو جاوے گا مستحق اجر و نجات اخروی ہو گا۔
﴿66﴾ ف ۔بنی اسرائیل کے لیے ہفتہ کا دن معظم اور عبادت کے لیے مقرر تھا اور مچھلی کا شکار بھی اس روز ممنوع تھا یہ لوگ سمندر کے کنارے آباد تھے مچھلی کے شوقین ہزار جال ڈال کر شکار کرنا تھا سو کیا اس پر اللہ کایہ عذاب شکل کے مسخ کرنے کا نازل ہوا اور تین دن پیچھے وہ سب مر گئے۔
﴿67﴾ ف ۔بنی اسرائیل میں ایک خون ہو گیا تھا لیکن اس وقت قاتل کا پتہ نہ لگتا تھا بنی اسرائیل نے موسی سے عرض کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ قاتل کا پتہ لگے آپ نے بحکم الہی ایک بیل کے ذبح کرنے کا حکم فرمایا اس پر انہوں نے اپنی جبلت کے موافق حجتیں نکالنا شروع کر دیں۔
﴿68﴾ ف ۔حدیث میں ہے کہ اگر وہ حجتیں نہ کرتے تو اتنی قیدیں ان کے ذمہ نہ ہوتیں جو بقرہ ذبح کر دینے کافی ہو جاتا۔
﴿73﴾ ف ۔اس مقتول نے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتا دیا اور فوراً مر گیا۔
﴿74﴾ ف ۔اس مقام پر ان پتھروں کے اقسام سہ گانہ میں ترتیب نہایت لطیف اور افادہ مقصود میں نہایت بلیغ ہے یعنی بعض پتھروں سے نہریں جاری ہوتی ہیں جن سے مخلوق کوبڑا نفع پہنچا ہے ان کے قلوب ایسے بھی نہیں بعض پتھروں میں اس سے کم تاثر ہے جس سے کم نفع پہنچتا ہے لیکن ان کے دل ان سے بھی زیادہ سخت ہیں اور بعض پتھروں سے گوکسی کو نفع نہیں پہنچتا مگر خود تو ان میں ایک اثر ہے مگر ان کے قلوب میں یہ انفعال ضعف بھی نہیں۔
﴿75﴾ ف ۔مطلب یہ کہ جو لوگ ایسے بے باک اور اغراض نفسانیہ کے اسیر ہوں وہ کسی کے کہنے سے کب باز آنے والے اور کسی کی کب سننے والے ہیں۔
﴿80﴾ ف ۔امر محقق ہے کہ مومن اگر عاصی ہو تو گو معاصی سے دوزخ میں معذب ہو۔لیکن ایمان کی وجہ سے خلود نہ ہو گا بعد چندے نجات ہو جاوے گی۔
﴿81﴾ ف ۔کفر کی وجہ سے کوئی عمل صالح مقبول نہیں ہوتا۔بلکہ اگر کچھ کفر کے قبل کے اعمال ہوں تو وہ بھی حبط اور ضبط ہو جاتے ہیں اس وجہ سے کفار میں سب بدی ہی بدی ہو گی بخلاف اہل ایمان کے کہ اولا ان کا ایمان خود ایک اعظم اعمال صالحہ ہے ثانیاً اعمال فرعیہ بھی ان کے نامہ اعمال میں درج ہوتے ہیں اس لیے وہ نیکی کے اثر سے خالی نہیں۔
﴿85﴾ ف ۔اس باب میں ان پر تین حکم واجب تھے اول قتل نہ کرنا دوم اخراج نہ کرنا،سوم اپنی قوم میں سے کسی کو گرفتار و بندی دیکھیں تو روپیہ خرچ کر کے چھڑا دینا۔سو ان لوگوں نے حکم اول و دوم کو ضائع کر دیا تھا اور سوم کا اہتمام کیا کرتے تھے جن مخالف قوموں کی امداد کا ذکر فرمایا ہے مراد ان قوموں سے اوس اور خزرج ہیں کہ اول بنی قریظہ کی موافقت میں بنی نضیر کے مخالف تھے اور خزرج بنی نضیر کی موافقت میں بنی قریظہ کے مخالف تھے گناہ اور ظلم دو لفظ لانے میں اشارہ ہوسکتا ہے کہ اس میں دو حق ضائع ہوتے ہیں حق اللہ بھی کہ حکم الہی کی تعمیل نہ کی اور حق العبد بھی کہ دوسرے کو آزار پہنچا۔
﴿90﴾ ف ۔ایک غضب تو کفر پرتھا ہی دوسرا غضب ان کے حسد پر ہو گیا۔اور عذاب مھین کی قید سے تخصیص کفار کی ہو گئی کیونکہ مومن عاصی کو عذاب تطہیر عن الذنوب کاہو گا۔
﴿92﴾ ف ۔بینات سے مراد وہ دلائل ہیں جواس قصہ سے پہلے کہ اس وقت تک تورات نہ ملی تھی صدق موسی پر قائم ہو چکی تھیں مثلاً عصا اور ید بیضاء اور فلق بحر و غیر ذالک۔
﴿96﴾ ف ۔باوجود اعتقاد آخرت کے طول عمر کی تمنا صاف دلیل ہے کہ یہ اختصاص استحقاق نعمت آخرت کا دعوی صرف دعوی ہے۔دل میں خوب سمجھتے ہیں کہ وہاں پہنچ کر جہنم ہی نصیب ہونا ہے اس لیے جب تک بچے رہیں تب ہی تک سہی۔
﴿98﴾ ف ۔بعض یہود نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر جبرائیل علیہ السلام وحی لاتے ہیں کہا کہ ان سے تو ہماری عداوت ہے احکام شاقہ اور واقعات ہائلہ ان ہی کے ہاتھوں آیا کہتے ہیں میکائیل خوب ہیں کہ بارش اور رزق ان سے متعلق ہے اگر وہ وحی لایا کرتے توہم مان لیتے اس آیت میں اسی کا رد ہے۔
﴿104﴾ ف ۔بعض یہودیوں نے ایک شرارت ایجاد کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آتے تو راعنا سے آپ کو خطاب کرتے جس کے معنی ان کی عبرانی زبان میں برے ہیں اور وہ اسی نیت سے کہتے اور عربی میں اس کے معنی بہت اچھے کے ہیں کہ ہماری مصلحت کی رعایت فرمائیے اس لیے عربی داں اس شرارت کو نہ سمجھ سکے اور اس اچھے معنی کے قصد سے بعض مسلمانوں نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کلمہ سے خطاب کرنے لگے اس سے ان شریروں کو اور گنجائش ملی حق تعالی نے اس گنجائش کے قطع کرنے کی مسلمانوں کو یہ حکم دیا۔
﴿105﴾ ف ۔بعض یہود بعض مسلمانوں سے کہنے لگے کہ بخدا ہم دل سے تمہارے خیرخواہ ہیں مگر تمہارا دین ہمارے دین سے اچھا ثابت نہیں ہوا حق تعالی اس دعوے خیرخواہی کی تکذیب اس آیت میں فرماتے ہیں۔
﴿106﴾ ف ۔یہود نے قبلہ کا حکم بدل جانے پر جس کا ذکر عنقریب آنا ہے طعن کیا تھا اور مشرکین بھی بعض حکموں کے منسوخ ہو جانے پر زبان درازی کرتے تھے حق تعالی اس طعن اور اعتراض کا جواب اس آیت میں دیتے ہیں۔
﴿109﴾ ف ۔اشارتاً بتا دیا کہ ان کی شرارتوں کا علاج قانون انتظام امن عام یعنی قتال و جزیہ سے ہم جلدی جاری کرنے والے ہیں۔
﴿110﴾ ف ۔اس وقت حالت موجود کایہ مقتضی تھا پھر حق تعالی نے اس وعدہ کو پورا فرما دیا اور آیات جہاد نازل فرما دیں۔
﴿112﴾ ف ۔حاصل استدلال کایہ ہوا کہ جب یہ قانون مسلم ہے تواب صرف یہ دیکھ لو کہ یہ مضمون کس پر صادق آتا ہے سوظاہر ہے کہ بعد منسوخ ہو جانے کسی حکم سابق کے اس پر چلنے والاکسی طرح فرماں بردار نہیں کہاجا سکتا پس یہودی نصرانی کسی طرح فرماں بردار نہ ہوئے۔
﴿113﴾ ف ۔عملی فیصلہ یہ کہ اہل حق کو جنت میں اور اہل باطل کو دوزخ میں بھیج دیں گے اور یہ قید اس لیے لگائی کہ قولی اور برہانی فیصلہ تو حق و باطل کے درمیان دلائل نقلیہ و عقلیہ سے دنیا میں بھی ہو چکا ہے۔
﴿114﴾ ف ۔مساجد میں مکہ کی مسجد مدینہ کی مسجد،بیت المقدس کی مسجد اور سب مسجدیں آ گئیں۔
﴿115﴾ ف ۔یہود نے حکم تبدیل قبلہ پر اعتراض کیا تھا اس کا جواب حق تالی یہ دیتے ہیں کہ اللہ کی مملوک ہیں سب جہتیں جب وہ مالک ہیں توجس جہت کو چاہیں قبلہ مقرر کر دیں۔
﴿117﴾ ف ۔کن کہنے میں دو احتمال ہیں ایک یہ کہ مجاز ہو سرعت تکوین وار جلدی بنا دینے سے دوسرے یہ کہ حقیقتاً حق تعالی کی یہی عادت ہو۔
﴿118﴾ ف ۔یہود و نصاریٰ کو باوجود اہل کتاب و اہل علم ہونے کے جاہل اس لیے کہہ دیا گیا کہ یہ بات جاہلوں کی سی کہی تھی کہ باوجود دلائل قویہ کثیرہ قائم ہو چکنے کے ابھی تک حجود کیے جاتے ہیں۔
﴿119﴾ ف ۔یہاں تک یہود کی چالیں اور قباحتیں جن میں سے بعض میں نصاریٰ بھی شریک ہیں بیان فرمائی گئیں ہیں آگے یہ بتلانا مقصود ہے کہ ایسے ہٹ دھرم لوگوں سے امید ایمان نہ رکھنی چاہیے اور اس میں رسول اللہ کا ازالہ غم و فکر ہے کہ آپ ان کے عام طور پر ایمان لانے سے مایوس ہو جائیے اور پریشانی اور کلفت دل سے دور کر دیجیے اور علاوہ ان کے ان کی ایک اور قباحت کا بیان ہے کہ رسول اللہ کا اتباع کرنے کی ان کو کیا توفیق ہوتی وہ یہاں تک بلند پروازی کرتے ہیں کہ نعوذ با اللہ آپ کو اپنی راہ پر چلانے کی فکر محال میں ہیں۔
﴿125﴾ ف ۔مقام امن دو وجہ سے فرمایا ایک تو یہ کہ اس میں حج و عمرہ و نماز طواف کرنے سے عذاب دوزخ سے امن ہوتا ہے دوسرے اس وجہ سے کہ اگر کوئی خونی حدود کعبہ میں جس کو حرم کہتے ہیں جاگھسے تو وہاں سے سزائے موت نہ دیں گے ۔
ف ۔مقام ابراہیم ایک خاص پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر آپ نے کعبہ کی عمارت بنائی وہ کعبہ کے پاس ایک محفوظ جگہ رکھا ہے اور وہاں نفلیں پڑھنا ثواب ہے۔
﴿126﴾ ف ۔شہر ہونے کی دعا اس واسطے کی تھی کہ اس وقت یہ مقام بالکل جنگل تھا پھر اللہ نے شہر کر دیا۔
ف ۔ابراہیم علیہ السلام نے جو کافروں کے لیے دعائے رزق نہیں مانگی غالباً اس کی وجہ یہ ہوئی کہ پہلی دعا کے جواب میں اللہ نے ظالمین کو ایک نعمت کی صلاحیت سے خارج فرما دیا تھا اس لیے ادبا اس دعا میں ان کو شامل نںیب کیا کہ کبھی مرضی کے خلاف ہو۔
﴿127﴾ ف ۔حضرت اسماعیل کی شرکت دو طرح ہوسکتی ہے یا تو پتھر گارا دیتے ہوں گے یاکسی وقت چنائی بھی کرتے ہوں گے۔
﴿128﴾ ف ۔جس جماعت کا اس آیت میں ذکر ہے وہ صرف بنی اسماعیل ہیں جن میں جناب رسول اللہ مبعوث ہوئے۔ پس جہاں جن پیغمبر کے لیے دعا ہے اس سے مراد صرف آپ ہوئے کیونکہ یہ دعا دونوں صاحبوں نے کی ہے تو وہی جماعت مراد ہوسکتی ہے جو دونوں کی اولاد ہو اور پیغمبر کے ذکر میں کہا گیا ہے کہ وہ اس جماعت سے ہوں تو جماعت بنی اسماعیل میں سے ہیں اس لیے حدیث صحیح میں ارشاد نبوی ہے کہ میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ظہور ہوں ۔
﴿135﴾ ف ۔ملت ابراہیم کا ایک لقب ہے شریعت محمدیہ کاسویہ کہنا کہ ہم ملت ابراہیم پر رہیں گے یا یہ کہنا کہ تم ملت ابراہیم کا اتباع کرو مترادف اور ہم معنی ہیں اس کاہے کہ کہا جاوے کہ ہم شریعت محمدیہ پر رہیں اور تم شریعت محمدیہ کا اتباع کرو۔
﴿136﴾ ف ۔حکم میں صحیفے اور کتابیں سب داخل ہیں حاصل مضمون کا یہ ہوا کہ دیکھو ہمارا دین کاسپ انصاف اور حق کاہے کہ سب انبیاء کو مانتے ہیں سب کتابوں کوسچا مانتے ہیں سب کے معجزات کو حق سمجھتے ہیں گو بوجہ منسوخ ہونے اکثر احکام کے دوسری مستقل شریعت محمدیہ پر عمل کرتے ہیں لیکن انکار اور تکذیب کسی کی نہیں کرتے۔
﴿140﴾ ف ۔جب یہ حضرات یہود و نصاریٰ نہ تھے تو تم طریقہ دین میں ان کے موافق کب ہوئے پھر تمہارا حق پر ہونا بھی ثابت نہ ہو گا۔
﴿141﴾ ف ۔جب خالی تذکرہ بھی نہ ہو گاتواس سے تم کو نفع پہنچنا درکنار بلکہ اس کے برعکس یہ (ثابت ہوتا ہے کہ کسی بزرگ سے محض کسی نسبت کا ہونا نجات آخرت کے لیے کافی نہیں۔
﴿142﴾ ف ۔اللہ کو مالکانہ اختاہر ہے جس سمت کو چاہیں قبلہ مقرر فرما دیں کسی کو منصب علت دریافت کرنے کا نہیں۔
ف ۔جس امر کواس مقام پر صراط مستقیم کہا گیا ہے فی الحقیقت سلامتی اور امن اسی طریق میں ہے۔
﴿143﴾ ف ۔یعنی تم ایک بڑے مقدمہ میں جس میں ایک فریق حضرات انبیاء ہوں گے اور فریق ثانی ان کی مخالفت قومیں ہوں گی ان مخالف لوگوں کے مقابلہ میں شہادت دو گے اور شرف بلائے شرف یہ ہے کہ تمہارے قابل شہادت اور معتبر ہونے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہوں گے۔
ف ۔اعتراض تحویل قبلہ کا حاکمانہ جواب دے کراب حکیمانہ جواب شروع ہوتا ہے جس میں کئی حکمتوں کی طرف اشارہ ہے ۔
﴿144﴾ ف ۔اس آیت سے بیت المقدس کامنسوخ کرنا اور کعبہ کو قبلہ مقرر کرنا منظور ہے حاصل حکمت کا یہ ہے کہ ہم کو آپ کی خوشی منظور تھی اور آپ کی خوشی کعبہ کے قبلہ مقرر ہونے میں دیکھی ۔اس لیے اسی کو قبلہ مقرر کر دیا رہا یہ کہ آپ کی خوشی اس میں کیوں تھی وجہ اس کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ کی علامات نبوت میں سے ایک علامت نبوت میں سے ایک علامت یہ بھی تھی کہ آپ کے قبلہ کی یہ جہت ہو گی اللہ نے آپ کے نورانی قلب میں اسی کے موافق خواہش پیدا کر دی۔
﴿145﴾ ف ۔آپ کا ظالم ہونا بوجہ معصوم ہونے کے محال ہے اس لیے یہ امر کہ آپ ان کے خیالات کو کہ منجملہ ان کے ان کا قبلہ بھی ہے قبول کر لیں محال ہے۔
﴿146﴾ ف ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہچاننے کو جو بیٹوں پو پہچاننے سے تشبیہ دی ہے تو تشبیہ میں بیٹے کا بیٹا ہونا ملحوظ نہیں بلکہ بیٹے کی صورت ملحوظ ہے۔
﴿150﴾ ف ۔بحث قبلہ کے آغاز و انجام کے اتحاد میں اشارہ ہے کہ کعبہ کا ان نبی کی شریعت میں قبلہ مقرر ہونا مقام تعجب نہیں کیونکہ کعبہ بناء ابراہیم ہے اور یہ نبی ابن ابراہیم ہیں اور اس کے بناء کے قبول ہونے کی اور اس کے ابن رسول ہونے کی انہوں نے دعا بھی کی تھی ہم نے ان کی دونوں دعائیں قبول فرمائیں۔
﴿151﴾ ف ۔اوپر کی آیات میں حقیقتاً اللہ کی بڑی بری نعموقں کا ذکر تھا اس لیے آیت آئندہ میں منعم کے ذکر اور ان کی نعمت کے شکر کا حکم فرما کر آیات مذکورہ کے مضمون کی بوجہ احسن تکمیل اور تمیم فرماتے ہیں۔
﴿153﴾ ف ۔جب صبر میں یہ وعدہ ہے تو نماز جواس سے بڑھ کر ہے اس میں تو بدرجہ اولی یہ بشارت ہو گی۔
﴿154﴾ ف ۔ایسے مقتول کو شہید کہتے ہیں اور اس کے متعلق گو یہ کہنا کہ وہ مرگیا صحیح اور جائز ہے لیکن اس کی موت کودوسرے مردوں کی سی موت سمجھنے کی ممانعت کی گئی ہے۔
﴿157﴾ ف ۔یہ خطاب ساری امت کو ہے توسب کوسمجھ لینا چاہیے کہ دنیا دار المحن ہے یہاں کے حوادث کو عجیب اور بعید نہ سمجھنا چاہیے۔
﴿158﴾ ف ۔حج اور عمرہ اور سعی کا طریقہ فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے اور یہ سعی امام احمد کے نزدیک سنت مستحبہ ہے اور امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک فرض ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک واجب ہے کہ ترک سے ایک بکری ذبح کرنا پڑتی ہے۔
﴿159﴾ ف ۔اس آیت میں کتمان حق پر جو وعید مذکور ہوئی ہے کہ ہرچند کہ ہر امر حق کے باب میں لفظاً عام ہے لیکن بقرینہ جملہ یعرفونہ کمایعرفون ابناءھم باقتضاخصوصیت مقام زیادہ مقصود بالنفل مسئلہ رسالت محمدیہ علی صاحبھا الف الف سلام ہے ۔پس اس لحاظ سے اس آیت میں اثبات ہوا مسئلہ رسالت کا چونکہ اعتقاد و توحید اور اعتقاد رسالت دونوں اعتبار شرع میں متلازم ہیں اس لیے آیت آئندہ میں مسئلہ توحید کی تقریر فرمائی جاتی ہے۔
﴿163﴾ ف ۔مشرکین عرب نے جو آیت والھکم الہ واحد اپنے عقیدے کے خلاف سنی تو تعجب سے کہنے لگے کہ کہیں سارے جہان کا ایک معبود بھی ہوسکتا ہے اور اگر یہ دعوی صحیح ہو تو کوئی دلیل پیش کرنا چاہیے حق تعالی دلیل توجیہ بیان فرماتے ہیں۔
﴿164﴾ ف ۔اوپر کی آیات میں توحید کا اثبات تھا آگے مشرکین کی غلطی اور وعید کا بیان فرماتے ہیں۔
﴿165﴾ ف ۔اگرکسی مشرک کو یہ ثابت ہو جاوے کہ میرے معبود سے مجھ پر ضرر پڑے گا تو فوراً محبت منقطع ہو جاوے اور مومن باوجود اس کے کہ نافع ضار حق تعالی ہی کو اعتقاد کرتا ہے لیکن پھر بھی محبت و رضا اس کی باقی رہتی ہے۔
ف ۔اور عذاب آخرت کوسخت فرمایا ہے آگے اس سختی کی کیفیت کا بیان فرماتے ہیں۔
﴿167﴾ ف ۔اس عذاب میں کئی طرح کی شدت ثابت ہوئی اور اہل شرک کے عقیدہ کا بطلان ہے آگے اہل شرک کے بعض اعمال کا بطلان ہے جیسے سانڈ کی تعظیم وغیرہ۔
﴿168﴾ ف ۔بعض مشرکین بتوں کے نام پر جانور چھوڑتے تھے اور ان سے منتفع ہونے کو باعتقاد ان کی تعظیم کے حرام سمجھتے تھے اور اپنے اس فعل کو حکم الہی اور موجب رضاء حق وسیلہ تقرب الی اللہ بواسطہ شفاعت ان بتوں کے سمجھتے تھے اس آیت میں اس کی ممانعت کی گئی ہے۔
﴿173﴾ ف ۔اس مقام کے متعلق چند مسائل فقیہ ہیں۔۱۔جس جانور کا ذبح کرنا شرعاً ضروری ہو اور وہ بلا ذبح ہلاک ہو جاوے وہ حرام ہوتا ہے اور جس جانور کا ذبح کرنا ضروری نہیں وہ دو طرح کے ہیں ایک ٹڈی اور ایک مچھلی ۔دوسرے وحشی جیسے ہرن وغیرہ۔جب کہ اس کے ذبح پر قدرت نہ ہوئے تواس کو دور رہی سے تیر یا اور کسی تیز ہتھیار سے اگربسم اللہ کہہ کر زخمی کیا جائے تو حلال ہو جاتا ہے البتہ بندوق کا شکار بدون ذبح کیے ہوئے حلال نہیں کیونکہ گولی میں دھار نہیں ہوتی۔۲۔خون جو بہتا نہ ہو اس سے دو چیزیں مراد ہیں جگر اور طحال۔یہ حلال ہیں۔۳۔ خنزیر کے سب اجزاء لحم و شحم و پوست و اعصاب سب حرام ہیں، اور نجس بھی ہیں۔
﴿174﴾ ف ۔جس جانور کو غیراللہ کے نام اس نیت سے کر دیا ہو کہ وہ ہم سے خوش ہوں گے اور ہماری کاروائی کر دیں گے وہ حرام ہو جاتا ہے اگر ذبح کے وقت اس پر اللہ کا نام لیا ہو۔اور محرمات حسیہ کا ذکر تھا اس آیت میں محرم معنوی کا بیان ہے جو عادت تھی علما یہود کی احکام غلط بیان کر کے عوام سے رشوت لیتے اور کھاتے تھے نیز اس میں تعلیم ہے علماء امت محمدیہ کو کہ ہم نے جو کچھ احکام بیان فرمائے ہیں کسی نفسیاتی غرض اور منفعت سے ان کے بیان و تبلیغ میں کوتاہی مت کرنا۔
﴿176﴾ ف ۔آیات آئندہ میں کہ بقیہ نصف بقرہ ہے ۔زیادہ مقصود مسلمانوں کو بعض اصول و فروع کی تعلیم کرنا ہے گو ضمناً غیر مسلمین کو کوئی خطاب ہو جائے اور یہ مضمون ختم سورت تک چلا گیا ہے جس کو شروع کیا گیا ہے ایک مجمل عنوان برّ سے جو کہ تمام طاعات ظاہری و باطنی کو عام ہے اور اول آیات میں الفاظ جامعہ سے ایک کلی تعیمم کی گئی ہے آگے اس بر کی تفصیل چلی ہے جس میں بہت سے احکام باقتضائے وقت و مقام بقدر ضرورت بیان فرما کر بشارت وعدہ رحمت و مغفرت پر ختم فرما دیا۔
﴿177﴾ ف ۔خاص سمتوں کا قصہ یہاں اس لیے مذکور ہوا کہ تحویل قبلہ کے وقت تمام تر بحث یہود و نصاریٰ کی اس میں رہ گئی تھی اس لیے متنبہ فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کام اور ہیں ان کا اہتمام کرو۔
ف ۔غرض اصلی مقاصد اور کمالات دین کے یہ ہیں نماز میں کسی سمت کو منہ کرنا ان ہی کمالات مذکورہ میں سے ایک کمال خاص ہے یعنی اقامت صلوة کے توابع و شرائط میں سے اور اس کے حسن سے اس میں بھی حسن آ گیا ورنہ اگر نماز نہ ہوتی توکسی خاص سمت کو منہ کرنا بھی عبادت نہ ہوتا۔
﴿180﴾ ف ۔اس حکم کے تین جزو تھے ایک بجز اولاد کے دوسرے ورثہ کے حصص و حقوق ترکہ میں معین نہ ہونا۔دوم ایسے اقارب کے لیے وصیت کا واجب ہونا۔تیسرے ثلث مال سے زیادہ وصیت کی اجازت نہ ہونا۔ پس پہلا جزو تو آیت میراث سے منسوخ ہے دوسرا جزو حدیث سے جو کہ موید بالا جماع ہے منسوخ ہے اور وجوب کے ساتھ جواز بھی منسوخ ہو گیا۔یعنی وراثت شرعی کے لیے وصیت مالیہ باطل ہے تیسرا جزو اب بھی باقی ہے ثلث سے زائد میں بدون رضاء ورثہ وصیت باطل ہے۔
﴿183﴾ ف ۔روزہ رکھنے سے عادت پڑے گی نفس کواس کے متعدد تقاضوں سے روکنے کی اور اسی عادت کی پختگی بنیاد ہے تقوی کی یہ روزہ کی ایک حکمت کا بیان ہے لیکن حکمت کا اسی میں انحصار نہیں ہو گا خدا جانے اور کیا کیا ہزاروں حکمتیں ہوں گی۔
﴿184﴾ ف ۔اب یہ حکم منسوخ ہے البتہ جو شخص بہت بوڑھا ہو یا ایسابیمار ہو کہ اب صحت کی توقع نہیں ایسے لوگوں کے لیے یہ حکم اب بھی ہے۔
﴿185﴾ ف ۔قرآن مجید میں دوسری آیت میں آیا ہے کہ ہم نے قرآن مجید شب قدر میں نازل فرمایا اور یہاں رمضان شریف میں نازل کرنا فرمایا ہے سووہ شب قدر رمضان کی تھی اس لیے دونوں مضمون موافق ہو گئے اور اگر یہ وسوسہ ہو کہ قرآن مجید تو کئی سال میں تھوڑا تھوڑا کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے پھر رمضان میں یا شب قدر میں نازل فرمانے کے کیا معنی؟اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر دفعتاً رمضان کی شب قدر میں نازل ہو چکا تھا پھرآسمان دنیا سے دنیا میں بتدریج کئی سال میں نازل ہوا پس اس میں بھی تعارض نہ رہا۔
﴿186﴾ ف ۔یہ جو فرمایا کہ میں قریب ہوں توجیسے حق تعالی کی ذات کی حقیقت بیچون وبیجگوں ہونے کی وجہ سے ادراک نہیں کی جا سکتی اسی طرح ان کی صفات کی حققتس بھی معلوم نہیں ہوسکتی لہذا ایسے مباحث میں زیادہ تفتیش جائز نہیں اجمالا اتنا سمجھ لیں کہ جیسی ان کی ذات ہے ان کی شان کے مناسب ان کا قرب بھی ہے۔
﴿187﴾ ف ۔شروع اسلام میں یہ حکم تھا کہ رات کو ایک دفعہ نیند آ جانے سے آنکھ کھلنے کے بعد کھانا پینا اور بی بی کے پاس جانا حرام ہو جاتا تھا۔بعض صحابہ سے غلبہ میں اس حکم کے امتثال میں کوتاہی ہو گئی پھر نادم ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اطلاع کی ان کی ندامت اور توبہ پر حق تعالی نے رحمت فرمائی اور اس حکم کومنسوخ کر دیا۔
ف ۔مراد متمیز ہونے سے یہ ہے کہ صبح صادق طلوع ہو جائے۔
ف ۔حالت اعتکاف میں بی بی کے ساتھ صحبت اور اسی طرح بوس و کنار سب حرام ہے۔اعتکاف صرف ایسی مسجد میں جائز ہے جس میں پانچوں وقت جماعت سے نماز کا انتاام ہو۔جو اعتکاف رمضان میں نہ ہو اس میں بھی روزہ شرط ہے اعتکاف والے کومسجد سے کسی وقت باہر نکلنا درست نہیں البتہ جو کام بہت ہی ضروری ہو جیسے پیشاب پائخانہ یا کوئی کھانا لانے والا نہ ہو تو گھر سے کھانا لا سکتا ہے یا جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے لیے جانا بس ایسی ضرورت کے لیے باہر جانا درست ہے لیکن گھر میں یارستہ میں ٹھہرنا درست نہیں اگر عورت اعتکاف کرنا چاہے تو جو جگہ اس کی نماز پڑھنے کی مقرر ہے اسی جگہ اعتکاف بھی درست ہے۔
﴿189﴾ ف ۔شریعت نے بالاصالہ قمری حساب پر احکام و عبادات کامدار رکھا ہے کہ سب کا اجتماع و اتفاق ان امور میں سہولت سے ممکن ہو پھر بعض احکام میں تواس حساب پر لازم کر دیا ہے کہ ان میں دوسرے حساب پر مدار رکھنا جائز ہی نہیں جیسے حج و روزہ رمضان ،و عیدین و زکوٰۃ و عدت طلاق و امثالہا اور بعض میں گو اختیار دیا ہے جیسے کوئی چیز خریدی اور وعدہ ٹھہرا کہ اس وقت سے ایک سال شمسی گزرنے پر زر ثمن بے باق کریں گے اس میں شرع نے مجبور نہیں کیا کہ سال قمر ی ہی پر مطالبہ کا حق ہو جاوے گا لیکن اس میں شک نہیں کہ اگر ابتداء قمری پر مدار رکھا جاوے تو عام طور پر سہولت اس میں ہے۔
ف ۔بعض لوگ قبل اسلام کے حالت احرام میں حج میں اگرکسی ضرورت سے گھر جانا چاہتے تو دروازے سے جانا ممنوع سمجھتے اس لیے پشت کی دیوار میں نقب دے کر اس میں سے اندر جاتے تھے اور اس عمل کو فضیلت سمجھتے تھے اللہ تعالی اس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی فضیلت نہیں کہ گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے آیا کرو اس سے ایک بڑے کام کی بات معلوم ہوئی کہ جو شے شرعاً مباح ہواس کو طاعت و عبادت اعتقاد کر لینا اور اسی طرح اس کو معصیت اور محل ملامت اعتقاد کر لینا شرعاً مذموم ہے اور بدعت میں داخل ہے۔
﴿194﴾ ف ۔کفار کے ساتھ جبکہ شرائط جواز کے پائے جاویں ابتداء قتال شروع کرنا درست ہے۔۲۔جزیرہ عرب کے اندر کفار کو وطن بنانے کی اجازت نہیں۔
﴿195﴾ ف ۔یہ جو فرمایا ہے کہ اپنے ہاتھوں اس قید کا حاصل یہ ہے کہ باختیار کود کوئی امر خلاف حکم نہ کرے اور جو بلا قصد اختیار کچھ ہو جاوے تووہ معاف ہے۔
﴿196﴾ ف ۔۱عورت کوسرمنڈانا حرام ہے وہ صرف ایک ایک انگل بال کاٹ لے۔۲۔حج تین طرح کا ہوتا ہے افراد کہ ایام حج میں صرف حج کیا جائے۔اور تمتع اور قرآن جن میں ایام حج میں عمرہ اور حج دونوں کیے جاویں افراد ہر شخص کو جائز ہے اور تمتع اور قران صرف ان لوگوں کو جائز ہے جو میقات کے حدود سے باہر رہتے ہیں اور جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیں ان کے لیے تمتع اور قران کی اجازت نہیں ہے۔
﴿197﴾ ف ۔فحش بات دو طرح کی ہے ایک وہ جو پہلے ہی سے حرام ہے وہ حج کی حالت میں زیادہ حرام ہو گی دوسرے وہ کہ پہلے سے حلال تھی جیسے اپنی بی بی سے جنسی اختلاط اور بے حجابی کی باتیں کرنا،حج میں یہ بھی درست نہیں۔
ف ۔بے خرچ لیے ہوئے ایسے شخص کا حج کو جانا درست نہیں جس کے نفس میں قوت توکل نہ ہو۔
﴿198﴾ ف ۔حج میں تجارت مباح یقیناً ہے اب رہی یہ بات کہ اخلاص کے خلاف تو نہیں سواس میں اس کا حکم مثل اور مباحات کے وارد ہوا ہے۔
ف ۔زمانہ جاہلیت میں قریش چونکہ اپنے آپ کو مجاور حرام سمجھتے تھے اور مزدلفہ حرم میں ہے اور عرفات حرم سے باہر ہے اسلیے یہ لوگ عرفات میں نہ جاتے تھے ،مزدلفہ ہی میں ٹھہر کر وہاں سے لوٹ آتے تھے اللہ تعالی نےاس آیت میں ان احکام کا عام ہونا بتلا دیا۔
﴿200﴾ ف ۔آیت میں جو حکم یاد کا فرمایا اس میں نمازیں بھی داخل ہیں پس یہ ذکر تو واجب ہے باقی ذکر جو کچھ کرے مستحب ہے۔
﴿202﴾ ف ۔حاصل یہ ہے کہ دنیا ظرف طلب ہے خود مطلوب نہیں بلکہ مطلوب حسنہ ہے۔
﴿205﴾ ف ۔کوئی شخص تھا اخنس بن شریق،بڑا فصیح و بلیغ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر قسمیں کھا کر جھوٹا دعو اسلام کا کیا کرتا تھا اور مجلس سے اٹھ کر جاتا توفساد و شرارت وایذارسانی خلق میں لگ جاتا اس منافق کے باب میں یہ آیت فرمائی ہیں۔
﴿210﴾ ف ۔روح المعانی میں بسند ابن مردویہ بروایت ابن مسعود پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کی ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالی تمام اولین و آخرین کو جمع فرمائیں گے اور سب منتظر حساب و کتاب کے ہوں گے اللہ تعالی ابر کے سائبانوں میں عرش پر تجلی فرمائیں گے اور ابن عباس کی روایت نقل کی ہے کہ ان سائبانوں کے گرد ملائکہ ہوں گے سوآیت میں اس قصہ کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ ہوا کہ قیامت کے منتظر ہیں پھر اس وقت کیا ہوسکتا ہے۔
﴿211﴾ ف ۔مثلاً تورات ملی ،چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے مگر انکار کیا آخر طور گرانے کی دھمکی دی گئی اور مثلاً حق تعالی کا کلام سناچاہیے تھا کہ سرآنکھوں پر رکھتے مگر شبہات نکالے آخر بجلی سے ہلاک ہوئے اور مثلاً دریا کو شگافتہ کر کے فرعون سے نجات دی گئی احسان مانتے مگر گولہ پرستی شروع کر دی سزائے قتل دی گئی اور مثلاً من وسلوی نازل ہوا شکر کرنا چاہیے تھا بے حکمی کی وہ سڑنے لگا اور اس سے نفرت ظاہر کی تو وہ موقوف ہو گیا اور کھیتی کی مصیبت سر پر پڑی اور مثلاً انبیاءکاسلسلہ ان میں جاری رہا غنیمت سمجھتے ان کو قتل کرنا شروع کر دیا انتزاع سلطنت کی سزا دی گئی ۔و علی ھذا بہت سے معاملات اس سورہ بقرہ کے شروع میں بھی مذکور ہو چکے ہیں۔
ف ۔یہ سزاکبھی دنیا میں بھی ہو جاتی ہے اور کبھی آخرت میں بھی ہو گی۔
﴿212﴾ ف ۔پس اس کامدار قسمت پر ہے نہ کہ کمال اور مقبولیت پر۔
﴿213﴾ ف ۔اول دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام مع اپنی بی بی کے تشریف لائے اور جو اولاد ہوتی گئی ان کو دین حق کی تعلیم فرماتے رہے اور وہ ان کی تعلیم پر عمل کرتے رہے ایک مدت اسی حالت میں گزر گئی پھر اختلاف طبائع سے اغراض میں اختلاف ہونا شروع ہوا حتی کہ ایک عرصہ کے بعد اعمال و عقائد میں اختلاف کی نوبت آ گئی۔
﴿214﴾ ف ۔انبیاء اور مومنین کا اس طرح کہنا نعوذ باللہ شک کی وجہ سے نہ تھا بلکہ وجہ یہ تھی کہ وقت امداد اور غلبہ کا مقابلہ مخالفین میں ان حضرات کونہ بتلایا گیا ابہام وقت سے ان کو جلدی ہونے کا انتظار رہتا تھا جب انتظار سے تھک جاتے تب اس طرح عرض معروض کرنے لگتے جس کا حاصل دعا ہے الحاح کے ساتھ اور الحاح خلاف رضاوتسلیم کے نہیں ہے بلکہ جب الحاح کاپسندیدہ ہونا اللہ تعالی کے نزدیک ثابت ہے توالاںح عین رضاءحق سے رضا ہے البتہ خلاف رضا اور وہ دعا ہے جس کے قبول نہ ہونے سے دعا کرنے والا ناخوش ہو سع معاز اللہ اس کاانبیاء اور مومنین کاملین میں ثبوت ہے نہ احتمال۔
﴿215﴾ ف ۔ماں باپ کو زکوٰۃ اور دوسرے صدقات واجبہ دنیا درست نہیں اس آیت میں نفلی خیرات کا بیان ہے۔
﴿216﴾ ف ۔جہاد فرض ہے جبکہ اس کے وہ شرائط پائے جاویں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں۔اور فرض دو طرح کا ہوتا ہے فرض عین،فرض کفایہ۔سو اعداء دین جب مسلمانوں پر چڑھ آویں تب جہاد فرض عین ہے ورنہ فرض کفایہ۔
﴿217﴾ ف ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کا ایک سفر میں اتفاق سے کفار کے ساتھ مقابلہ ہو گیا ایک کافر ان کے ہاتھ سے مارا گیا اور جس روز یہ قصہ ہوا رجب کی پہلی تاریخ تھی مگر صحابہ اس کو جمادی الاخری کی تیس تاریخ سمجھتے تھے اور رجب اشہر حرم سے ہے کفار نے اس واقعہ پر طعن کیا کہ مسلمانوں نے شہر حرم کی حرمت کا بھی خیال نہ کیا مسلمانوں کواس کی فکر ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اس آیت میں اسی کا جواب ارشاد ہے اور خلاصہ جواب یہ ہے کہ اول تومسلمانوں نے کوئی گناہ نہیں کیا اور علی سبیل الفرض اگر کیا ہے تو معترضین اس سے بڑے بڑے گناہ یعنی کفر و مزاحمت دین حق میں مبتلا ہیں پھر ان کومسلمانوں پر اعتراض کرنے کا کب منصب ہے۔
ف ۔دنیا میں اعمال کا ضائع ہونا یہ ہے کہ اس کی بی بی نکاح سے نکل جاتی ہے اگراس کا کوئی مورث مسلمان مرے اس شخص کو میراث کا حصہ نہیں ملتا حالت اسلام میں نماز و روزہ جو کچھ کیا تھا سب کالعدم ہو جاتا ہے مرنے کے بعد جنازہ کی نماز نہیں پڑھی جاتی مسلمانوں کے مقابر میں دفن نہیں کیا جاتا اور آخرت کا نقصان یہ ہے کہ عبادات کا ثواب نہیں ملتا ابد لآباد کے لیے دوزخ میں داخل ہوتا ہے۔
﴿219﴾ ف ۔پہلے دونوں چیزیں حلال تھیں سب سے پہلی امت شراب و قمار کے متعلق یہ نازل کی گئی اس آیت سے ان دونوں کی حرمت فی نفسہ کا بیان کرنا مقصود نہیں تھا بلکہ بعض بعض عوارض غیر لازمہ سے ان دونوں کا ترک کا مشورہ دینا مطلوب تھا۔
﴿220﴾ ف ۔چونکہ ابتداء میں مثل ہندوستان کے عرب میں بھی یتیموں کا حق دینے میں پوری احتیاط نہ تھی اس لیے یہ وعید سنائی گئی تھی کہ یتیموں کا مال کھانا ایسا ہے جیسا دوزخ کے انگارے سے پیٹ بھرنا توسننے والے ڈر کے مارے اتنی احتیاط کرنے لگے کہ ان کا کھانا بھی الگ پکواتے الگ رکھواتے اور اتفاق سے اگر بچہ کم کھاتا تو کھانا بچتا اور سڑتا اور پھینکنا پڑتا اس طرح بالکل علیحدہ اٹھائے رکھنے میں تکلیف بھی ہوتی اور یتیم کے مال کا بھی نقصان ہوتا۔
﴿221﴾ ف ۔اس آیت میں دو حکم ہیں ایک یہ کہ کافروں مردوں سے مسلمان عورت کا نکاح نہ کیا جاوے سو حکم یہ کہ مسلمان مرد کا کافر عورت سے نکاح نہ کیا جائے اس حکم میں دو جزو ہیں ایک جزو یہ کہ وہ کافر عورت کا بی یعنی یہودی یا نصرانی نہ ہو اور کوئی مذہب کفر کا رکھتی ہو اس جزو میں بھی اس آیت کا حکم باقی ہے چنانچہ ہندو عورت یا آتش پرست عورت سے نکاح مسلمان کا نہیں ہوسکتا دوسرا جزو یہ کہ عورت کتابیہ ہو یعنی یہودو نصاریٰ اس خاص جزو میں اس آیت کا حکم باقی نہیں بلکہ ایک آیت سورہ مائدہ میں اس مضمون کی ہے کہ کتابی عورتوں سے نکاح درست ہے سوا س آیت سے اس آیت کا یہ خاص جزو منسوخ ہو گیا چنانچہ یہود و نصاریٰ سے نکاح درست ہے لیکن اچھا نہیں حدیث میں دین دار عورت کے حاسل کرنے کا حکم ہے توبد دین عورت کا حاصل کرنا اس درجہ میں ناپسندیدہ ہو گا۔
﴿222﴾ ف ۔حالت حیض میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن کو دیکھنا اور ہاتھ لگانا بھی درست نہیں ۔
﴿223﴾ ف ۔نیک کام کا ترک کرنا بلاقسم بھی برا ہے۔
﴿225﴾ ف ۔لغو قسم کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ کسی گزری ہوئی بات پر جھوٹی قسم بلا ارادہ نکل گئی یا آئندہ بات پر اس طرح قسم نکل گئی کہ کہنا چاہتا تھا کچھ اور بے ارادہ منہ سے کچھ نکل گیا اس میں گناہ نہیں ہوتا۔اس کے مقابلہ میں جس پر مواخذہ ہونے کا ذکر فرمایا وہ قسم ہے جو قصداً جھوٹی سمجھ کر کھائی ہو۔
﴿226﴾ ف ۔اگر کوئی قسم کھا لے کہ اپنی بی بی سے صحبت نہ کروں گا تو اگر چار ماہ کے اندر اپنی قسم توڑ ڈالے اور بی بی کے پاس چلا جائے توقسم کا کفارہ ہے اور نکاح باقی ہے اگر چار ماہ گزر گئے اور بی بی کے پاس نہ گیا تواس عورت پر طلاق قطعی پڑ جائے گی اور رجوع کرنا درست نہیں رہا ہاں اگر دونوں رضامندی سے دوبارہ نکاح کر لیں تودرست ہے۔
﴿228﴾ ف ۔یہ عدت ان عورتوں کی ہے جن میں اتنی صفتیں ہوں خاوند نے ان سے صحبت یا خلوت صحیحہ کی ہو ان کو حیض آتا ہو آزاد ہوں یعنی شرعی قاعدے سے لونڈی نہ ہو عدت کے اندر دوسرے مرد سے نکاح درست نہیں ارواس کے برعکس جس عورت سے مرد نے صحبت یا خلوت صحیحہ نہ کی اور اس کو طلاق دے دے تواس پر بالکل عدت لازم نہیں۔
ف ۔مطلقہ پر واجب ہے کہ اپنے حائضہ یا حاملہ ہونے کی حالت ظاہر کرے تاکہ اس کے موافق عدت کاحساب ہو مرد پر خاص عورت کے حقوق یہ ہیں اپنی وسعت کے مطابق اس کو کھانا کپڑا رہنے کا گھر دے مہر دے اس کو تنگ نہ کرے اور عورت پر مرد کے خاص حق یہ ہیں اس کی اطاعت کرے اس کی خدمت کرے۔
﴿229﴾ ف ۔اس طلاق کو رجعی کہتے ہیں جو دو مرتبہ سے زائد نہ ہو اور اس میں یہ بھی قید ہو کہ صاف لفظوں سے ہوں اور قاعدہ سے مراد یہ ہے کہ طریقہ بھی اس کا شرع کے موافق ہو اور نیت بھی بھی اس کا شرع کے موافق ہو اور نیت بھی اس میں شرع کے موافق ہو اور خوش عنوانی سے بھی مراد یہ ہے کہ طریقہ اس کا شرع کے موافق ہو نیز خوش عنوانی سے چھوڑنے کے لیے ضروری ہے کہ نیت بھی شرع کے موافق ہو یعنی دفع نزاع مقصود ہو یہ مقصد نہ ہو کہ اس کی دل شکنی کریں اس کو ذلیل کریں اس لیے نرمی و دل جوائی کی رعایت ضروری ہے ۔
ف ۔عورت سے مال ٹھیرا کر چھوڑنا اس کی دو صورتیں ہیں ایک خلع دوسرا طلاق علی مال۔خلع یہ کہ عورت کہے کہ تو اتنے مال پر مجھ سے خلع کر لے اور مرد کہے مجھ کو منظور ہے اس کے کہتے ہی گو لفظ طلاق نہ کہے طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور اس قدر مال عورت کے ذمہ واجب ہو جائے گا اور طلاق علی مال یہ ہے کہ مرد عورت سے کہے کہ تجھ کوا س قدر مال کے عوض طلاق ہے اس کا حکم یہ ہے کہ عورت منظور نہ کرے تو طلاق واقع نہیں ہو گی اور اگر منظور کر لے تو طلاق بائن ہو جائے گی اور اس قدر مال عورت پر واجب ہو جائے گا۔
﴿232﴾ ف ۔اس آیت میں روکنے کی سب صورتیں داخل ہیں اور ہر صورت میں روکنے کو منع فرمایا ہے۔
﴿233﴾ ف ۔یعنی بچہ کے ماں باپ آپس میں کسی بات پر ضدا ضدی نہ کریں ماں اگرکسی وجہ سے معذور نہ ہو تو اس کے ذمہ دیانتہ یعنی عند اللہ واجب ہے کہ بچہ کو دودھ پلائے جب کہ وہ منکوحہ ہو یا عدت میں ہو اور اجرت لینا درست نہیں اور اگر طلاق کے بعد عدت گزر چکی تواس پر بلا اجرت دودھ پلانا واجب نہیں۔اگر ماں دودھ پلانے سے انکار کرے تواس پر جبر نہ کیا جائے گا البتہ اگر بچہ کسی کا دودھ نہیں لیتا نہ اوپر کا دودھ پیتا ہے تو ماں کو مجبور کیا جائے گا۔ماں دودھ پلانا چاہتی ہے اور اس کے دودھ میں کوئی خرابی بھی نہیں تو باپ کو جائز نہیں کہ اس کونہ پلانے دے اور دوسری انا کا دودھ پلوائے۔ماں دودھ پلانے پر رضامند ہے لیکن اس کا دودھ بچہ کو مضر ہو گا تو باپ کو جائز ہے کہ اس کو دودھ نہ پلانے دے اور کسی دوسری انا کا دودھ پلوائے۔
ف ۔باپ کے ہوتے ہوئے بچہ کی پرورش کا خرچ صرف باپ کے ذمہ ہے اور جب باپ مر جائے تواس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر بچہ مالک مال کاہے تب تواسی مال میں اس کا خرچ ہو گا اور اگر مالک مال کا نہیں تواس کے مال دار عزیزوں میں سے جواس کے محرم ہیں اور محرم ہونے کے علاوہ شرعاً اس کے مستحق مرراث بھی ہیں پس ایسے محرم وارث رشتہ داروں کے ذمہ اس کا خرچ واجب ہو گا اور ان رشتہ داروں میں ماں بھی داخل ہے۔
﴿234﴾ ف ۔یہ عدت اس بیوہ کی ہے جس کو حمل نہ اور اگر حمل ہو تو بچہ پیدا ہونے تک اس کی عدت ہے خواہ جنازہ لے جانے سے پہلے ہی پیدا ہو جائے یا چار مہینے دس دن سے بھی زیادہ میں ہو یہ مسئلہ سورہ طلاق میں آوے گا جس کا خاوند مر جائے اس کوعدت کے اندر خوشبو لگانا سنگار کرنا سرمہ اور تیل بلا ضرورت دوا لگانا رنگین کپڑے پہننا درست نہیں اور صریح گفتگو سے نکاح ثانی بھی درست نہیں جیسا کہ اگلی آیت میں ہے اور رات کودوسرے گھر میں بھی رہنا درست نہیں۔
﴿235﴾ ف ۔یہاں عدت کے اندر چار فعل مذکور ہیں دو زبان کے اور دو دل کے۔اور ہر ایک کا حکم جدا ہے اول زبان سے تصریحاً پیغام دینا یہ حرام ہے لاتواعدوھن سرا میں اس کا ذکر ہے دوم زبان سے اشارہ کرنا جائز ہے لاجناح علیکم اور قولا معروفا میں اس کا ذکر ہے ۔سوم دل سے یہ ارادہ کرنا کہ ابھی یعنی عدت کے اندر نکاح کر لیں گے یہ بھی حرام ہے کیونکہ عدت کے اندر نکاح کرنا حرام ہے اور ارادہ حرام کا حرام ہے ۔لاتعزمو میں اس کا ذکر ہے ۔چہارم دل سے یہ ارادہ کرنا کہ عدت کے بعد نکاح کریں یہ جائز ہے۔اکننتم فی انفسکم میں اس کا ذکر ہے۔
﴿237﴾ ف ۔جس عورت کا مہر نکاح کے وقت مقرر ہواہواوراس کو قبل صحبت و خلوت صحیحہ کے طلاق دے دی ہو تو مقرر کیے ہوئے مہر کا نصف مرد کے ذمہ واجب ہو گا البتہ اگر عورت معاف کر دے یا مرد پورا دے دے تو اختیاری بات ہے۔
﴿238﴾ ف ۔کثرت علماء کا قول بعض احادیث کی دلیل سے یہ ہے کہ بیچ والی نماز عصر ہے کیونکہ اس کے ایک طرف دو نمازیں دن کی ہیں فجر اور ظہر۔اور ایک طرف دونوں نمازیں رات کی ہیں مغرب اور عشاء اور عاجزی کی تفسیر حدیث میں خاموشی کے ساتھ آئی ہے اسی آیت سے نماز میں باتیں کرنے کی ممانعت ہوئی پہلے درست تھا۔
﴿240﴾ ف ۔جب آیت میراث نازل ہو گئی گھر بار سب ترکہ میں سے عورت کا حق مل گیا اور یہ آیت منسوخ ہو گئی۔
ف ۔یہاں ایک عجیب نکتہ قابل توجہ یہ ہے کہ احکام نکاح و طلاق میں جا بجا اتقواللہ اور حدود اللہ اور سمیع علیم اور عزیز حکیم اور بصیر اور فقد ظلم نفسہ وغیرہا کا ذکر آنا دلیل قطعی ہے کہ یہ سب احکام شریعت میں مقصود اور واجب ہیں۔بطور مشورہ کے نہیں جن میں ترمیم و تبدیل کرنے کا یا عمل نہ کرنے کا ہم نعوذ باللہ اختیار حاصل ہو۔
﴿245﴾ ف ۔قرض مجازاً کہہ دیا ورنہ سب خدا ہی کی ملک ہے مطلب یہ ہے کہ جیسے قرض کا عوض ضرور ہی دیا جاتا ہے اسی طرح تمہارے انفاق کا عوض ضرور ملے گا اور بڑھانے کا بیان ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک خرما اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے تو اللہ تعالی اس کو اتنا بڑھا دیتے ہیں کہ وہ احد پہاڑ سے زیادہ ہو جاتا ہے۔
﴿246﴾ ف ۔ان بنی اسرائیل نے اللہ تعالی کے احکام کو چھوڑ دیا تھا کفار عمالقہ ان پرمسلط کر دیے گئے اس وقت ان لوگوں کو فکر اصلاح ہوئی اور ان پیغمبر کا نام شموئیل مشہور ہے۔
﴿247﴾ ف ۔بادشاہ ہونے کے لیے اس علم کی ضرورت زیادہ ہے تاکہ ملکی انتظام پر قادر ہو اور جسامت بھی بایں معنی مناسب ہے کہ موافق و مخالف کے قلب میں وقعت و ہیبت پیدا ہو۔
﴿248﴾ ف ۔اس صندوق میں تبرکات تھے جالوت جب بنی اسرائیل پر غالب آیا تھا یہ صندوق بھی لے گیا تھا جب اللہ کواس صندوق کا پہنچانا منظور ہوا تویہ سامان کیا کہ جہاں اس صندوق کو رکھتے وہاں سخت بلائیں نازل ہوتیں آخر ان لوگوں نے ایک گاڑی پر اس کو لاد کر بیلوں کو ہانک دیا فرشتے اس کو ہانک کر یہاں پہنچا گئے جس سے بنی اسرائیل کوبڑی خوشی ہوئی اور طالوت بادشاہ مسلم ہو گئے۔
﴿249﴾ ف ۔اس امتحان کی حکمت اور توجیہ راقم کے ذوق میں یہ معلوم ہوتی ہے کہ ایسے مواقع پر جوش و خروش بھیڑ بھڑکا بہت ہو جایا کرتا ہے لیکن وقت پر جمنے والے کم ہوتے ہیں اور اس وقت ایسوں کا اکھڑ جانا باقی لوگوں کے پاوں بھی اکھاڑ دیتا ہے اللہ کوایسے لوگوں کا علیحدہ کرنا منظور تھا۔
﴿250﴾ ف ۔اس دعا کی ترتیب بڑی پاکیزہ ہے کہ غلبہ کے لیے چونکہ ثابت قدمی کی ضرورت ہے اس لیے پہلے اس کی دعا کی اور ثابت قدمی کامدار ثابت قلب پر ہے اس لیے اس سے پہلے ثبات قلب کی دعا کی۔
﴿251﴾ ف ۔چونکہ قرآن کے اعظم مقاصد میں اثبات نبوت محمدیہ بھی ہے اس لیے اکثر جس جگہ کسی مضمون کے ساتھ مناسبت ہونے سے موقع ہوتا ہے وہاں اس کا اعادہ کیا جاتا ہے چنانچہ اس مقام پراس واقعہ کی صحیح خبر دینا ایسے طور پر کہ نہ آپ نے کہیں پڑھا نہ کسی سے سنا نہ آپ نے دیکھا بوجہ معجزہ ہونے کے صریح دلیل ہے صدق دعوئے نبوت کی ۔اس لیے آگے رسول اللہ کی نبوت پراستدلال فرماتے ہیں۔
﴿253﴾ ف ۔چونکہ اوپر کی آیت میں ضمناًً پیغمبروں کا مجملاً ذکر آ گیا تھا اس لیے اس میں کسی قدر تفصیل ان میں سے بعض حضرات کے احوال و کمالات کی اور پھر ان کے ذکر کی مناسبت سے ان کے امم کی ایک حالت خاصہ اور اس حالت کے واقع فی الوجود ہونے کے متضمن حکمت و مصلحت الہیہ ہونے کی طرف اشارہ یہ سب مضامین مذکور ہیں۔
ف ۔اس مضمون میں ایک گونہ تسلی دینا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے یہ بات سنا دی کہ اور بھی پیغمبر مختلف درجوں کے گزرے ہیں لیکن ایمان عام کسی کی امت میں نہیں ہوا کسی نے موافقت اور اس میں بھی اللہ کی حکمتیں ہوتی ہیں گوہر شخص پر منکشف نہ ہوں مگر اجمالاً اتنا عقیدہ ضروری ہے کہ کوئی حکمت ضرور ہے۔
﴿254﴾ ف مطلب یہ ہے کہ جو عمل خیر دنیا میں فوت ہو جائے گا پھر وہاں اس کا کچھ تدارک قدرت سے خارج ہو جائے گا چنانچہ تدارک کے طریقوں تو خود نہ ہوں گے جیسے دوستی،بعض اختیاری نہ ہوں گے جیسے شفاعت۔اور مقصود اس سے قیامت کے دن ثمرات اعمال کر کے اکتساب پر قادر نہ ہونے کا یاد دلانا ہے۔
﴿255﴾ ف ۔یہ آیت ملقب بہ آیت الکرسی ہے۔
ف ۔قیامت میں انبیاء و اولیا گناہ گاروں کی شفاعت کریں گے وہ اول حق تعالی کی مرض پالیں گے جب شفاعت کریں گے۔
ف ۔کرسی ایک جسم ہے عرش سے چھوٹا اور آسمانوں سے بڑا۔
﴿256﴾ ف اوپر آیت وانک لمن المرسلین میں رسالت پیغمبر کی اور آیت الکرسی میں توحید حق سبحانہ مذکور ہوئی ہے اور یہی دو امر اصل الاصول ہیں اسلام کے تو ان کے اثبات سے دین ک اسلام کی حقانیت بھی لازمی طور پر ثابت ہوئی ہے اس آیت میں اسی پر تصریح کر کے اسلام کا محل کراہ نہ ہونا ارشاد فرماتے ہیں ۔
ف ۔اسلام کو مضبوط پکڑنے والا چونکہ ہلاکت وخسران سے محفوظ رہتا ہے اس لیے اس کوایسے شخص سے تشبیہ دی جوکسی مضبوط رسی کا حلقہ تھام کر گرنے سے محفوظ رہتا ہے۔اگر مرتد پر یا کفروں پر بوجہ خفاء دلیل کے اکراہ کیا جائے جیسا کہ شریعت میں حکم ہے تو یہ نفی اکراہ فی نفسہ کے معارض نہیں۔
﴿259﴾ ف ۔روح المعانی میں بروایت حاکم حضرت علی سے اور بروایت اسحق بن بشیر حضرت ابن عباس و عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ یہ بزرگ عزیر علیہ السلام ہیں۔
ف ۔یعنی پہلے چھتیں گریں پھر ان پر دیواریں گریں مراد یہ کہ کسی حادثے سے وہ بستی بالکل ویران ہو گئی تھی اور سب آدمی مر گئے تھے۔
ف ۔یہ تو یقین تھا کہ اللہ قیامت کے دن مردوں کو جلا دیں گے مگر اس وقت کے جانے جو خیال غالب ہوا تو بوجہ امر عجیب ہونے کے ایک حیرت سی دل پر غالب ہو گئی اور چونکہ اللہ ایک کام کو کئی طرح کرسکتے ہیں اس لیے طبیعت اس کی جویاں ہوئی کہ خدا جانے جلانا کسی صورت سے ہو گا اللہ کو منظور ہوا کہ اس کا تماشا ان کو دنیا ہی میں دکھلا دیں تاکہ ایک نظیر کے واقع ہو جانے لوگوں کو زیادہ ہدایت ہو۔
ف ۔ان کی حیرت کا جواب اس مجموعی کیفیت سے دینا اس کی وجہ احقر کے ذوق میں یہ ہے کہ محل حیرت یعنی احیاء و یوم البعث مشتمل ہے چندا اجزاء پر اول خود زندہ کرنا دوسرے مدت طویل کے بعد زندہ کرنا تیسرے خاص کیفیت سے زندہ کرنا چوتھے اس مدت تک روح کا باقی رکھنا پانچویں بعد بعث کے برزخ میں رہنے کی مدت معلوم نہ ہونا جز اول پر خود ان کے زندہ کرنے اور ان کے گدھے میں جان ڈالنے کی دلالت کی گئی اور دوسرے جزو کے اثبا ت کے لیے ان کوسوبرس تک مردہ رکھا تیسراجزو خود گدھا ان کے سامنے زندہ کر کے دکھلا دیا جو بالاولی امکان بقاء روح پر دال ہے کیونکہ بدن طعام و شراب بوجہ اشتمال عناصر کے بہ نسبت روح کے تغیر وفساد کے زیادہ قابل ہیں اور پانچویں امر کی نظیر ان کے جواب میں یوما اور بعض یوما کہنا ہے جیسا بعینہ یہی جواب بعض اہل محشر دیں گے۔
﴿260﴾ ف یعنی زندہ کرنے کا تو یقین ہے مگر عقلاً اس کی مختلف کیفیتیں ممکن ہیں ان میں سے معلوم نہیں کون سی کیفیت ہو گی۔
ف ۔اس واقعہ کو دکھلا کر اللہ نے کیفیت احیاء یوم قیامت کی بتلا دی کہ اس طرح اول اجزاء جمع ہو کر اجسام تیار ہوں گے پھر ان میں روح پڑ جائے گی
﴿261﴾ ف ۔نیک کام میں خرچ کرنا باعتبار نیت کے تین قسم کا ہے ایک نمائش کے ساتھ اس کا کچھ ثواب نہیں دوسرے ادنی درجہ کے اخلاص کے ساتھ اس کا ثواب دس حصہ ملتا ہے تیسرے زیادہ اخلاص یعنی اس کے اوسط یا اعلی درجہ کے ساتھ اس کے لیے اس آیت میں وعدہ ہے دس سے زیادہ سات سو تک علی حسب تفاوت المراتب اور من ذالذی الخ میں سات سو کے وعدہ کے بعد اور زیادہ کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔
﴿262﴾ ف ۔برتاؤ سے آزار پہنچانا یہ کہ مثلاً اپنے احسان کی بنا ءپر اس کے ساتھ تحقیر سے پیش آوے اس سے دوسرا آزار پاتا ہے اور آزار پہنچانا حرام ہے اور موجب عذاب ہے احسان جتلانا بھی اس میں آ گیا۔
﴿263﴾ ف ۔ناداری کی قید اس لیے لگائی کہ استطاعت کے وقت حاجت مند کی اعانت نہ کرنا خود برا ہے اس کو بہتر کیوں کہا جاتا البتہ ناداری کے وقت نرمی سے جواب دے دینا اور سائل کوسختی کو ٹال دینا چونکہ موجب ثواب ہے اس لیے اس کو خیر فرمایا گیا۔
﴿264﴾ ف ۔معلوم ہوتا ہے کہ انفاق کے لیے ایمان کے ساتھ ایک شرط صحت اخلاص بھی ہے اور ترک من واذی شرط بقاء ہے اس لیے منافق اور مرائی کے انفاق کو باطل کہا گیا اس میں شرط صحت مفقود ہے اور من واذی کو بھی مبطل کہا گیا کہ اس میں شرط بقا مفقود ہے۔
﴿266﴾ ف ۔ظاہر یہ بات ہے کہ کسی کو اپنے لیے یہ بات پسند نہیں آسکتی پس جب تم اس مثال کے واقعہ کوپسند نہیں کرتے توابطال طاعات کوکیسے گوارا کرتے ہو۔
﴿267﴾ ف ۔یہ اس شخص کے لیے جس کے پاس عمدہ چیز ہو اور پھر وہ بری اور نکمی چیز خرچ کرے اور جس کے پاس اچھی چیز ہوہی نہیں وہ اس ممانعت سے بری ہے اور اس کی وہ بری مقبول ہے۔
﴿268﴾ ف ۔یعنی اگر خرچ کرو گے یا اچھا مال خرچ کرو گے تو محتاج ہو جاؤ گے۔
ف ۔حاصل آیت یہ ہے کہ ایسے انفاق میں ضرر تو بالکل نہیں اور نفع ہر طرح کاہے کہ مغفرت بھی ملے اور فضل بھی پس مقتضائے فہم ییہ ہے کہ ایسی حالت میں شیطانی وسوسہ کو ہرگز قبول نہ کرے اور اگر ظاہر اور یقیناً محتاجی کے اسباب و قرائن موجود ہوں تو شریعت ایسے شخص کو تطوعات صدقات و تبرعات سے روکتی ہے اور ایسے شخص کے خرچ نہ کرنے کو بخل بھی نہیں کہہ سکتے۔
﴿270﴾ ف ۔بے جا کام کرنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو ضروری شرائط کا لحاظ نہیں کرتے بلکہ احکام کی مخالفت کرتے ہیں ان کو تصریحاً وعید سنادی۔
﴿271﴾ ف ۔یہ آیت فرض اور نفل صدقات کو شامل ہے اور سب میں اخفاء ہی افضل ہے اور مراد فضیلت اخفاء ہی افضل ہے اور مراد افضلیت اخفاءسے آیت میں افضلیت فی نفسی ہے پس اگرکسی مقام پرکسی عارض سے مثلاً رفع تہمت یا امید کو ترجیح ہو جائے توا فضلیت فی نفسہ کے منافی نہیں اور یہ جو کہا کچھ گناہ تو وجہ اس کی یہ ہے کہ ایسے حسنات سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔
﴿272﴾ ف ۔یعنی تم کو اپنے عوض سے مطلب رکھنا چاہیے اور عوض ہر حال میں ملے گا تم کواس سے کیا بحث کہ ہمارا صدقہ مسلمان ہی کو ملے کافر کونہ ملے ۔خلاصہ یہ ہے کہ نیت بھی تمہاری اصل میں اپنے ہی نفع حاصل کرنے کی کہے اور واقع میں بھی حاصل خاص تم ہی کوہو گا۔اس پر نظر کیوں کی جاتی ہے کہ یہ نفع خاص اسی طریق سے حاصل کیا جاوے کہ مسلمان ہی کو صدقہ دیں کافر کونہ دیں۔اور جاننا چاہیے کہ حدیث میں جو آیا کہ تیرا کھانا خاص متقی کھایا کریں تو مراد اس سے طعام دعوت ہے اور اس آیت میں طعام حاجت مراد ہے پس تعارض کا شبہ کیا جائے۔
﴿273﴾ ف ۔یعنی دین کی خدمت میں اور جاننا چاہیے کہ ہمارے ملک میں اس آیت کے مصداق سب سے زیادہ وہ حضرات ہیں جو علوم دینیہ کی اشاعت میں مشغول ہیں۔
﴿276﴾ ف ۔کبھی تو دنیا ہی میں سب برباد ہو جاتا ہے ورنہ آخرت میں تو یقیناً بربادی ہے کیونکہ وہاں اس پر عذاب ہو گا۔
ف ۔کبھی تو دنیا میں بھی ورنہ آخرت میں تو یقیناً بڑھتا ہے کیونکہ وہاں اسپر بہت ثواب ملے گا جیسا اوپر آیات میں مذکور ہوا۔
﴿277﴾ ف ۔اوپر کی آیت میں سود خواروں کا قول انما البیع مثل الربوا ان کے کفر پر دلالت کرتا تھا۔اس کے مقابل میں اس آیت میں آمنو لایا گیا اور وہاں ان کی ب دعملی سود کی مذکور تھی جس سے ان لوگوں کا راغب الی الدنیا ہونا بھی مفہوم تھا یہاں ان کی خوش عملی اجمالا عملوالصالحات سے تفصیلا راغب الی اللہ ہونا اقاموالصلوة سے اور بجائے مال سود حاصل کرنے کے اور بالعکس مال کا خرچ کرنا اتوالزکوٰۃ سے مذکور ہے اور ظاہر ہے کہ ان مقابلوں کی رعایت سے کلام میں کس قدر حسن و خوبی آ گئی۔
﴿279﴾ ف ۔اس آیت میں جو یہ فرمایا ہے کہ اگر تم توبہ کرو تو تمہارا راس المال تمہیں ملے گا اس سے مفہوم ہوتا ہے کہ توبہ نہ کرنے کی صورت میں راس المال بھی نہ ملے گا۔
﴿280﴾ ف ۔مفلس کو مہلت دینا واجب ہے جب اس کو گنجائش ہو پھر مطالبہ کی اجازت ہے ۔
﴿282﴾ ف ۔خواہ دام ادھار ہو یا جو چیز خریدنا ہو وہ ادھار ہو۔
ف ۔مثلاً گونگا ہے اور لکھنے والا اس کا اشارہ نہیں سمجھتا یا مثلاً دوسرے ملک کا رہنے والا ہے اور زبان غیر رکھتا ہے اور لکھنے والا اس کی بولی نہیں سمجھتا۔
ف ۔شرعاً اصل مدار ثبوت دعوی کا یہی گواہ ہیں گودستاویز نہ ہو اور خالی دستاویز بدون گواہوں کے ایسے معاملات میں حجت اور معتبر نہںو دستاویز لکھنا صرف یادداشت کی آسانی کے لیے ہے کہ اس کا مضمون سن کر طبعی طور پر اکثر تمام واقعہ یاد آ جاتا ہے۔
ف ۔لکھنے میں تین فائدے ہیں اول کا حاصل یہ ہے کہ ایک کا حق دوسرے کے پاس نہ جائے گا اور نہ رہے گا دوسرے کا حاصل یہ ہے کہ گواہوں کو آسانی ہو گی تیسرے کا حاصل یہ ہے کہ اہل معاملہ کا جی صاف رہے گا تینوں فائدوں کا الگ الگ ہونا ظاہر ہے اور ان فوائد کا اس طرح بیان کرنا قرینہ ہے کتابت کے مستحب ہونے کا اس طرح گواہ کرنا بھی مستحب ہے البتہ ضرر پہنچانا کاتب اور گواہ کو حرام ہے۔فسوق بکم اس کا صریح قرینہ ہے اور جو یہ فرمایا کہ نہ لکھنے میں الزام نہیں تو مراد یہ ہے کہ دنیا کی مضرت نہیں ورنہ گناہ توکسی معاملہ کے نہ لکھنے میں نہیں ہے۔
﴿283﴾ ف ۔جمہور علماء کا اتفاق ہے کہ رہن جس طرح سفر میں جائز ہے حضر میں بھی جائز ہے یہاں ذکر میں تخصیص سفر کی اس وجہ سے ہے کہ سفر میں اس کی ضرورت بہ نسبت حضر کے زیادہ پڑے گی۔مسئلہ۔جو چیز رہن رکھی جائے اس پر جب تک مرتہن کا قبضہ نہ ہو جائے وہ رہن نہیں ہوتا۔
ف ۔شہادت کا اخفاء دو طرح سے ہے ایک یہ کہ بالکل بیان نہ کرے دوسرے یہ کہ غلط بیان کرے دونوں میں اصل واقعہ مخفی ہو گیا اور دونوں صورتیں حرام ہیں۔جب کسی حق دار کا حق بدون اس کی شہادت کے ضائع ہونے لگے اور وہ درخواست بھی کرے تو اس وقت ادائے شہادت سے انکار حرام ہے چونکہ ادائے شہادت واجب ہے لہذا اس پر اجرت لینا جائز نہیں البتہ آمد و رفت کا خرچ اور خوراک بقدر حاجت صاحب معاملہ کے ذمہ ہے اگر زیادہ آ جائے تو بقیہ واپس کر دے۔
﴿284﴾ ف ۔مراد مافی انفسکم سے امور قلبیہ اختیاریہ ہیں۔
﴿286﴾ ف ۔یہاں جو ثواب و عانب کامدار کسب واکتساب پر رکھا مراد اس سے ثواب و عقاب ابتداء ہے نہ بواسطہ تسبب کے۔
ف ۔حدیث میں ہے کہ یہ سبب دعائیں قبول ہوئیں۔

 

آل عمران

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

﴿2﴾ ف ۔حی و قیوم کے صفات لانے میں اشارہ ہے معبودان باطلہ کے معبود نہ ہونے کی دلیل عقلی پر کیونکہ ان میں یہ صفتیں نہیں ۔
﴿7﴾ ف ۔یعنی ان کا مطلب ظاہر ہے۔
ف ۔یعنی غیر ظاہر المعنی کو بھی ان یہ ظاہر المعانی کے موافق بنایا جاتا ہے۔
ف ۔یعنی ان کا مطلب خفی ہے خواہ بوجہ مجمل ہونے کے خواہ کسی نص ظاہر المراد کے ساتھ معارج ہونے کے۔
ف ۔بعض منکرین توحید کا بعض کلمات موہمہ خلاف توحید سے استدلال ہوسکتا تھا چنانچہ بعض نصاریٰ نے لفظ روح اللہ اور کلمة اللہ سے جو کہ قرآن میں واقع ہوا ہے اپنے مدعا پر الزامی طور پراستدلال کیا تھا اس آیت میں اس شبہ کا جواب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے کلمات خفی المراد سے احتجاج درست نہیں بلکہ مدار عقائد کا نصوص واضحہ ہیں ، اور خفی المراد پر جبکہ ان کی تفسیر معلوم نہ ہو اجمالا ایمان لے آنا واجب ہے ، زیادہ تفتیش کی اجازت نہیں۔
﴿8﴾ ف ۔ حق پرستوں کا دسرا کامل مذکور ہے کہ باوجود وصول الی الحق کے اس پر نازل نہیں ، بلکہ حق تعالی سے استقامت علی الحق کی دعا کرتے ہیں۔
﴿9﴾ ف ۔ یہاں تک محاجہ باللسان کا بیان تھا آگے محاجہ بالسنان کا بیانا ور لقمہ شمشیر و زیر نگیں ہونے کی وعید ہے ، جو صراحة اس آیت میں مذکور ہے ۔ قل للذین کفروا اور اس سے پہلے کی آیت بطور تمہید کے ہے ۔
﴿10﴾ ف ۔ مقابلہ میں کام آنے کے دو معنی ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ اللہ تعالی کی رحمت و عنایت کی ضرورت نہ ہو ، اس کے عوض صرف مال و اولاد نافع اور کافی ہو جاوے، دوسرے یہ کہ مال و اولاد اللہ تعالی کے مقابل ہو کر ان کے عذاب سے بچا لے گی، مقابلہ کا لفظ دونوں جگہ بولا جاتا ہے ، سو آیت میں دونوں کی نفی کر دی گئی ۔
﴿12﴾ ف ۔ اوپر کفار کے مغلوب ہونے کی خبر دی گئی ہے آگے اس کی ایک کافی نظیر بطور دلیل کے ارشاد فرماتے ہیں۔
﴿13﴾ ف ۔ بدر کی لڑائی میں ۔
ف ۔ روایتوں میں آیا ہے کہ اس روز مسلمان تین سو تیرہ تھے اور کفار ایک ہزار تھے ، گو یا کفار مسلمانوں سے تین حصے تھے ، اس آیت میں اسی کثرت کو بیان فرمایا ہے ، کہ کفار آنکھوں سے مشاہدہ کرتے تھے کہ ہمارا گروہ زیادہ ہے مگر پھر بھی انجام دیکھ لیا کہ مسلمان ہی غالب رہے۔
﴿14﴾ ف ۔ یہ جو فرمایا کہ ان چیزوں کی محبت خوشنما معلوم ہوتی ہے اس کا حاصل میرے ذوق میں یہ ہے کہ محبت و میلان غالب حالات میں موجب فتنہ ہو جانے کی وجہ سے ڈر کی چیز تھی ، مگر اکثر لوگ اس کو سبب ضرر نہیں جانتے ، بلکہ اس میلا کو علی الاطلاق اچھا سمجھتے ہیں۔
﴿16﴾ ف ۔ یہ جو کہا کہ ہم ایمان لے آئے سو آپ ہمارے گناہوں کو معاف کر دیجئے ، یہ اس وجہ سے ہے کہ بدون ایمان کے مغفرت نہیں ہوتی ، پس حاصل یہ وہا کہ فکر جو مانع ابدی مغفرت کا ہے اس کو ہم مرتفع کر چکے ، اب معاف کر دیجئے ۔
﴿17﴾ ف ۔ اخیر شب کی تخصیص اس لئے ہے کہ اس وقت اٹھنے میں مشقت بھی ہے اور وہ وقت قبولیت کا بھی ہے ۔
﴿18﴾ ف ۔ قائما بالقسط کی صفت غالباً اس لئے بڑھا دی کہ وہ ایسے نہیں کہ صرف اپنی تعظیم و عبادت ہی کراتے ہوں، بلکہ وہس ب کے کام بھی بناتے ہیں۔
﴿19﴾ ف ۔ یعنی اسلام کے حق ہونے میں کوئی وجہ شبہ کی نہیں بلکہ علمائے یہود میں مادہ دوسروںس ے بڑا بننے کا ہے ، اور اسلام لانے میں یہ سرداری جو ان کو اب عوام پر حاصل ہے فوت ہوتی تھی اس لئے اسلام کو قبول نہیں کیا بلکہ الٹا اس کو باطل بتلانے لگے ۔
﴿22﴾ ف ۔ دنیا میں غارت ہونا یہ کہ ان کے ساتھ معاملہ اہل اسلام کا سا نہ ہو گا، اور آخرت میں یہ کہ ان کی مغفرت نہ ہو گی۔
﴿23﴾ ف ۔ اگر ہدایت کے طالب ہوتے تو وہ حصہ اس غرض کی تکمیل کے لئے کافی تھا۔
﴿25﴾ ف ۔ اگلی آیت میں امت محمدیہ کے کفار پر غالب آنے کی پنشں گوئی کی طرف تعلیم مناجات کے عنوان میں اشارہ ہے ، جیسا شان نزول سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روم و فارس کے فتح ہو جانے کا وعدہ فرمایا تو منافقین و یہود نے استبعاد اور استہزاءکیا، ا س پر یہ آیت نازل ہوئی۔
﴿27﴾ ف ۔ یعنی ہر طرح کی قدرت حاصل ہے، سو ضعفاء کو قوت و سلطنت دے دنیا کیا مشکل ہے ، اس دعا میں ایک قسم کا استدلال ہے اس کے امکان پر اور دفع ہے استبعاد کفار کا، اور خیر کی تخصیص اس لئے مناسب ہوئی کہ یہاں مقصود خیر کا مانگنا ہے ، جیسے کوئی کہے کہ نوکر رکھنا آپ کے اختیار میں ہوتا ہے ، اگرچہ نوکر کا موقوف کر دینا بھی اختیار میں ہوتا ہے ۔
﴿28﴾ ف ۔ اوپر کفار کی مذمت مذکور تھی اس آیت میں ان کے ساتھ دوستی کرنے کی ممانعت فرماتے ہیں۔
ف ۔ تجاوز دو صورت سے ہوتا ہے ، ایک یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ بالکل دوستی نہ رکھیں، دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ کفار سے بھی دوستی رکھیں ، دونوں صورتیں ممانعت میں داخل ہیں۔
ف ۔ کفار کے ساتھ تین قسم کے معاملے ہوتے ہیں۔ موالات یعنی دوستی ۔ مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی ۔ مواساة یعنی احسان و نفع رسانی، موالات تو کسی حال میں جائز نہیں، اور مدارت تین حالتوں میں درست ہے ۔ ایک دفع ضرر کے واسطے دوسرے اس کافر کی مصلحت دینی یعنی توقع ہدایت کے واسطے ، تیسرے اکرام ضیف کے لئے ، اور اپنی مصلحت و منفعت مال و جان کے لئے درست نہیں، اور مواسات کا حکم یہ ہے کہ اہل حرب کے ساتھ ناجائز ہے اور غیر اہل حرب کے ساتھ جائز۔
﴿33﴾ ف ۔ اگر یہ عمران حضرت موسی علیہ السلام کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت ومسی علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام ہیں اور اگر یہ عمران حضرت مریم علیہا السلام کے والد ہیں تو اولاد سے مراد حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام ہیں۔
﴿34﴾ ف ۔ یہ جو فرمایا کہ ایک دوسرے کی اولاد ہے شاید مقصود اس سے ان سب حضرات کا اتحاد یا شرف ذاتی کے ساتھ شرف نسبت کا بیان فرمانا ہو، اور اس امر کا جتلانا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و اجداد میں بھی نبوت رہی ہے ، اگر آپ کو نبوت مل گئی تو بعید کیا ہے ۔ واللہ اعلم
﴿37﴾ ف ۔ یہ جو فرمایا کہ عمدہ طور پر ان کو نشوونما دیا تو اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ ابتداءسے عبادت و طاعت میں مشغول رکھا، دوسرے یہ کہ اور بچوں کی معمولی نشوونما سے ان کا ظاہری نشوونما زائد تھا۔
﴿39﴾ ف ۔ محراب سے مراد یا تو مسجد بیت المقدس کی محراب ہے یا مراد اس سے وہ مکان ہے جس میں حضرت مریم علیہا السلام کو رکھا کرتے تھے کیونکہ اس جگہ محراب کے معنی عمدہ مکان کے ہیں۔
ف ۔ یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ، کلمة اللہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اس لئے کہتے ہیں کہ وہ محض خدا تعالی کے حکم سے خلاف عادت بلا واسطہ باپ کے پیدا کئے گئے ۔
ف ۔ لذات سے روکنے میں سب مباح خواہشوں سے بچنا داخل ہو گیا، اچھا کھانا، اچھا پہننا، نکاح کرنا وغیرہ وغیرہ۔
﴿42﴾ ف ۔ فرشتوں کا کلام کرنا خواص نبوت سے نہیں۔
ف ۔ لفظ نساءسے جو کہ خاص ہے بالغہ کے ساتھ ظاہرا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہنا فرشتوں کا حضرت مریم علیہا السلام کے جوان ہونے کے بعد تھا اور اس بنا پر اصطفاء کے مکرر لانے کی یہ توجیہہ ہوسکتی ہے کہ پہلا اصطفاء بچپن کا ہو ، اور اصطفاء ثانی جوانی کا ہو۔
﴿44﴾ ف ۔ شریعت محمدیہ میں حنفیہ کے مسلک پر قرعہ کا یہ حکم ہے کہ جن حقوق کے اسباب شرع میں معلوم و متعین ہیں ان میں قرعہ ناجائز و داخل قمار ہے ۔
﴿47﴾ ف ۔ یعنی کسی چیز کے پیدا ہونے کے لئے صرف ان کا چاہنا کافی ہے کسی واسطہ و سبب خاص کی ان کو حاجت نہیں۔
﴿49﴾ ف ۔ پرندہ کی شکل بنانا تصویر تھا جو اس شریعت میں جائز تھا، ہماری شریعت میں اس کا جواز منسوخ ہو گیا، اور ابرء اکمہ و ابرص کا امکان اگر اسباب طبعیہ سے ثابت ہو جاوے تو وجہ اعجاز یہ تھی کہ بلا اسباب طبعیہ ابراء واقع ہو جاتا تھا۔
﴿54﴾ ف ۔ چنانچہ مکر و حیلہ سے آپ کو گرفتار کر کے سولی دینے پر آمادہ ہو گئے ۔
ف ۔ ایک اور شخص کو عیسی علیہ السلام کی شکل بنا دیا اور عیسی علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا، جس سے وہ محفوظ رہے ، اور وہ ہم شکل سولی دیا گیا۔
﴿55﴾ ف ۔ یعنی اپنے وقت موعود پر طبعی موت سے وفات دینے والا ہوں ، اس سے مقصود بشارت دینا تھا حفاظت من الاعداء کی ، یہ وقت موعود اس وقت آوے گا جب قرب قیامت کے زمانہ میں عیسی علیہ السلام آسمان سے زمین پر تشریف لاویں گے ، جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے ۔
ف ۔ یہ وعدہ عالم بالا کی طرف فی الحال اٹھا لینے کا ہے ۔ چنانچہ یہ وعدہ ساتھ کے ساتھ پورا کیا گیا جس کے ایفاء کی خبر سورہ نساءمیں دی گئی ہے رفعہ اللہ الیہ اب زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ اگرچہ پہلا وعدہ پیچھے پورا ہو گا، لیکن مذکور پہلے ہے ، کیونکہ یہ مثل دلیل کے ہے وعدہ روم کے لئے اور دلیل رتبة مقدم ہوتی ہے اور داود چونکہ ترتیب کے لئے موضوع نہیں، لہذا اس تقدیم و تاخیر میں کوئی اشکال نہیں۔
ف ۔ اس وعدہ کا ایفاءاس طرح ہوا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور یہود کے سب بے جا الزامات اور افتراؤں کو جو حضرت عیسی علیہ السلام کے ذمہ لگاتے تھے صاف کر دیا۔
ف ۔ یہاں اتباع سے مراد خاص اتباع ہے ، یعنی اعتقاد نبوت ، پس مصداق متبعین کے وہ لوگ ہیں جو آپ کی نبوت کے معتقد ہیں، سو اس میں نصاریٰ اور اہل اسلام دونوں شامل ہیں۔ اور منکرین سے مراد یہود ہیں جو منکر نبوت عیسویہ تھے ، پس حاصل یہ ہوا کہ امت محمدیہ اور نصاریٰ ہمشہی یہود پر غالب رہیں گے ۔
﴿61﴾ ف ۔ آیت میں اپنے تن سے مراد تو خود اہل مباحثہ ہیں اور نساءسے خاص زوجہ مراد نہیں، بلکہ اپنے گھر کی تمام عورتیں مراد ہیں ، جس میں دختر بھی شامل ہے ۔ چنانچہ آپ بوجہ اس کے کہ حضرت فاطمہ سب اولاد میں زیادہ عزیز تھیں ان کو لائے ۔ اسی طرح بنائنا سے خاص صلبی اولاد مراد نہیں بلکہ عام ہے ، اولاد کی اولاد کو بھی اور ان کو بھی جو مجازاً اولاد کہلاتے ہوں ، یعنی عرفا مثل اولاد کے سمجھے جاتے ہوں، اس مفہوم میں نواسے اور داماد بھی داخل ہیں، چنانچہ آپ حضرات حسنین اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کو لائے ۔ مباہلہ اب بھی حاجت کے وقت جائز اور مشروع ہے ۔ مباہلہ کا انجام کہیں تصریحاً تو نظر سے نہیں گزرا، مگر حدیث میں قصہ مذکور کے متعلق اتنا مذکور ہے کہ اگر وہ لوگ مباہلہ کر لیتے تو ان کے اہل اور اموال سب ہلاک ہو جاتے ۔
﴿71﴾ ف ۔ دونوں جو تشہدون اور تعلمون فرمایا، تو اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ عدم اقرار یا عدم علم کی حالت میں کفر جائز ہے ، قبیح ذاتی تو کسی حال مٰں جائز ہو ہی نہیں سکتا، بلکہ وجہ یہ ہے کہ اقرار ار علم کے وقت کفر اور زیادہ قابل ملامت ہے ۔ اوپر مذکور تھا کہ بعض اہل کتاب مسلمانوں کے اضلال کی فکر میں رہتے ہیں۔ آگے ان کی ایک تدبیر کا بیان فرماتے ہیں جس کو اضلال مومنین کے لئے انہوں نے تجویز کیا تھا۔
﴿72﴾ ف ۔ یعنی مسلمان یہ خیال کریں کہ یہ لوگ علم والے ہیں اور بے تعصب بھی ہیں کہ اسلام قبول کر لیا، اس پر بھی جو یہ پھر گئے ، تو ضرور اسلام کا غیر حق ہونا ان کو دلائل علمیہ سے ثابت ہو گیا ہو گا، اور ضرور انہوں نے اسلام میں کوئی خرابی دیکھی ہو گی جب تو اس سے پھر گئے۔
﴿73﴾ ف ۔ حاصل آیت یہ ہوا کہ تم کو مسلمانوں سے حسد ہے کہ ان کو آسمانی کتاب کیوں مل گئی یا یہ لوگ ہم پر مذہبی مناظرہ میں کیوں غالب آتے ہیں، اس حسد کی وجہس ے اسلام اور اہل اسلام کے تنزل کی کوشش کر رہے ہیں۔
﴿75﴾ ف ۔ یعنی غیر اہل کتاب مثلاً قریش کا مال چرا لینا یا چھین لینا سب جائز ہے ۔
ف ۔ اس آیت میں جن بعض کی امانت کی مدح کی گئی ہے اگر ان بعض سے وہ لوگ مراد ہیں جو اہل کتاب میں سے ایمان لے آئے تھے ، تب تو مدح میں کوئی اشکال نہیں اور اگر خاص مومن مراد نہ ہوں، بلکہ مطلقاً اہل کتاب میں سے امین اور خائن دونوں کا ذکر کرنا مقصود ہے تو مدح باعتبار عنداللہ کے نہیں کیونکہ بدون ایمان کے کوئی عمل صالح مقبول نہیں ہوتا، بلکہ مدح اس اعتبار سے ہے کہ ا چھی بات گو کفر کی ہو کسی درجہ میں اچھی ہے ۔
﴿78﴾ ف ۔ممکن ہے کہ تحریف لفظی کرتے ہوں اور ممکن ہے کہ تفسیر غلط بیان کرتے ہوں تحریف لفظی میں تودعوی ہوتاہ ے کہ یہ لفظ منزّل من اللہ ہے اور غلط تفسیر میں یہ تو نہیں ہوتا لیکن یہ دعوی ہوتا ہے کہ یہ تفسیر قواعد شرعیہ سے ثابت ہے اور قواعد شرعیہ کامن جانب اللہ ہونا ظاہر ہے ایک صورت میں جزو ہونے کا دعوی ہو گا ایک صورت میں معنی جزو کتاب ہونے کا دعوی ہو گا بایں معنی کہ جزو ثابت بالشرع ہے اور ہر ثابت بالشرع حقیقتاً ثابت بالکتاب ہے۔
﴿79﴾ ف ۔بنی سے امر بعبادت غیر اللہ شرعاً منفی و محال ہے۔
﴿81﴾ ف ۔انبیاءسے تواس عہد کالیا جانا قرآن مجید میں مصرح ہے باقی ان کی امم سے یاتواسی وقت لیا گیا ہو گا یا انبیاء علیمف السلام کے ذریعہ سے لاز گیا ہو اور محل اس عہد کا یا تو اول عالم ارواح ہو یا صرف دنیا میں وحی سے لیا گیا ہو اہل کتاب کو یہ عہد اس لیے سنایا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت دلائل سے ثابت ہے تو لامحالہ اس عہد کے مضمون میں داخل ہے پھر تم پر یقیناً آپ کی تصدیق اور نصرت فرض ہے اور یہی حاصل ہے اسلام کا۔
﴿83﴾ ف ۔حاصل مقام یہ ہوا کہ اللہ تعالی کے احکام تکونیہ کے توسب مسخر ہیں اور کرہ سے یہی مراد ہے اور بہتر ے احکام شرعیہ کے بھی مطبع ہیں اور طوع کا یہی مطلب ہے تو ایک قسم حکم کی توسب ہی پر جاری ہے اور دوسری قسم کو بھی بہتوں نے قبول کر رکھا ہے جس سے حاکم کی عظمت نمایاں ہے اب بعض جودوسری قسم میں خلاف کرتے ہیں تو کیا کوئی اور اس عظمت کا مالک ہے جس کی موافقت کے لیے یہ مخالفت کرتے ہیں۔
﴿86﴾ ف ۔یہ مطلب نہیں کہ ایسوں کو کبھی توفیق اسلام کی نہیں دیتے بلکہ مقصود ان کے اسی دعوے مذکور کی نفی کرنا ہے وہ کہتے تھے کہ ہم نے جواسلام چھوڑ کر یہ طریق اختیار کیا ہے توہم کو خدا نے ہدایت دی ہے خلاصہ نفی کا یہ ہوا کہ جو شخص کفر کا بے ڈھنگا راستہ اختیار کرے وہ ہدایت خداوندی پر نہیں اس لیے وہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھ کو خدا نے ہدایت دی ہے کیونکہ کفر ہدایت کاراستہ نہیں بلکہ ایسے لوگ یقیناً گمراہ ہیں۔
﴿89﴾ ف ۔یعنی منافقانہ طور پر صرف زبان سے توبہ کافی نہیں۔
﴿90﴾ ف ۔یعنی کفر پر دوام رکھا ایمان نہیں لائے۔
﴿92﴾ ف ۔آیت سے معلوم ہوا کہ ثواب توہر خرچ کرنے سے ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں کیا جاوے مگر زیادہ ثواب محبوب چیز کے خرچ کرنے سے ہوتا ہے۔
﴿93﴾ ف ۔یعنی گوشت شتر کا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو عرق النساءکامرض تھا ۔آپ نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ اس سے شفا دیں توسب میں زیادہ جو محبوب کھانا ہو گا میں اس کو چھوڑ دوں گا ان کو شفا گئی اور سب سے زیادہ محبوب آپ کو اونٹ کا گوشت تھا اس کو ترک کیا کر دیا پھر یہی تحریم جو نذر سے ہوئی تھی بنی اسرائیل میں بحکم وحی رہی اور معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شریعت میں نذر سے تحریم بھی ہو جاتی ہو گی جس طرح ہماری شریعت میں مباح کا وجوب ہو جاتا ہے مگر تحریم کی نذر جائز نہیں بلکہ اس میں حنث واجب ہے جس کا کفارہ واجب ہے۔
ف ۔نزول تورات کے قبل اس واسطے فرمایا کہ نزول تورات کے بعد ان مذکورہ حلال چیزوں میں سے بہت سی چیزیں حرام ہو گی تھیں جس کی کچھ تفصیل سورہ انعام کی اس آیت میں ہے وعلی الذین ھادو حرمنا کل ذی ظفرالی آخرہ۔
﴿96﴾ ف ۔سب عبادت گاہوں سے پہلے اس کے مقرر ہونے سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ بیت المقدس سے بھی پہلے بنا ہے چنانچہ حدیث صحیحین میں اس کی تصریح بھی ہے۔
ف ۔یعنی خانہ کعبہ
ف ۔مطلب یہ کہ حج وہاں ہوتا ہے اور مثلاً نماز کا ثواب بروئے تصریح حدیث بہت زیادہ ہوتا ہے دینی برکت تویہ ہوئی اور جو وہاں نہیں ہیں ان کواس مکان کے ذریعہ سے نماز کا رخ معلوم ہوتا ہے یہ رہنمائی ہوئی۔
﴿97﴾ ف ۔مقام ابراہیم ایک پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی تھی اور اس پتھر میں آپ کے قدموں کا نشان بن گیا تھا اب وہ پتھر خانہ کعبہ سے ذرا فاصلے پر ایک محفوظ مکان میں رکھا ہے۔
ف ۔سبیل کی تفسیر میں حدیث میں زاد و راحلہ کے ساتھ آئی ہے۔
ف ۔حاصل میں استدلال کا یہ ہوا کہ دیکھو یہ احکام شرعیہ خانہ کعبہ سے متعلق ہیں جن کاس سے متعلق ہونا دلائل سے ثابت ہے اور ایسے احکام بیت المقدس سے متعلق مشروع نہیں کیے گئے پس خانہ کعبہ کی افضلیت ثابت ہو گیر
﴿102﴾ ف ۔کامل ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شر و کفر سے بچے ہو کل معاسی سے بھی بچا کرو آیت کا مطلب یہ ہے کہ ادنی تقوی پر اکتفا مت کرو بلکہ اعلی اور کامل درجہ کا تقوی اختیار کرو جس میں معاصی سے بھی بچنا آ گیا۔
﴿103﴾ ف ۔یعنی بوجہ کافر ہونے کے دوزخ سے اتنے قریب تھے کہ بس دوزخ میں جانے کے لیے صرف مرنے کی دیر تھی۔
﴿104﴾ ف ۔جو شخص امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر قادر ہو یعنی قرائن سے غالب گمان رکھتا ہے کہ اگر میں امر و نہی کروں گا تو مجھ کو کوئی ضرر معتد بہ لاحق نہ ہو گا اس کے لیے امور واجبہ میں امر و نہی کرنا واجب ہے اور امور مستحبہ میں مستحب اور جو آدمی بالمعنی مذکور قادر نہ ہو اس پر امر و نہی کرنا امور واجبہ میں بھی واجب نہ ہو گا البتہ اگر ہمت کرے تو ثواب ملے گا۔
﴿105﴾ ف ۔آیت میں جو تفریق ہے جو اصول دین میں ہو یا فروع میں براہ نفانیت ہو جو فروع غیر واضح میں یا بوجہ عدم نص صریح کے یا بوجہ ظاہری تعارض نصوص کے جن میں وجہ تطبیق صریح نہ ہو توایسے فروع میں اختلاف ہو جانا اس آیت میں داخل نہیں بلکہ امت مرحومہ میں واقع ہے۔
﴿110﴾ ف ۔یہ خطاب تمام امت محمدیہ کو عام ہے پھر ان میں سے صحابہ اول اور اشرف مخاطبین ہیں۔
﴿111﴾ ف ۔یعنی زبانی برا بھلا کہہ کر دل دکھانا
ف ۔یہ ایک پیشن گوئی ہے جواسی طرح واقع ہوئی چنانچہ اہل کتاب زمانہ نبوت میں کسی موقعہ میں بھی صحابہ پر جو کہ بقرینہ مقام اس مضمون کے مخاطب ہیں غالب نہ آئے خصوص یہود جن کے قبائح خصوصیت سے اس جگہ مذکور ہیں۔
﴿112﴾ ف ۔یعنی بے امنی جان کی۔
ف ۔اللہ کی طرف کا ذریعہ یہ کہ کوئی کتابی اللہ تعالی کی عبادت میں ایسا مشغول ہو کہ مسلمانوں سے لڑتا بھڑتا نہ ہو وہ جہاد میں قتل نہیں کیا جاتا گو عبادت اس کی آخرت میں نافع نہ ہو اور آدمیوں کی طرف کے ذریعہ سے مراد معاہدہ وصلح ہے۔جومسلمانوں کے ساتھ ہو جاوے چنانچہ ذمی و مصالح بھی مامون ہے یاکسی قوم کا ان سے لڑنے کا قصد نہ کرنا جیسا بعض زمانوں میں ہوا یا ہو گا یہ امن بھی آدمیوں ہی کی جانب سے ہے باقی اور کسی کو امن نہیں۔
﴿114﴾ ف ۔حاصل آیت کا مدح ہے ان لوگوں کی کہ انہوں نے ان صفات کو اختیار کیا ہے جو کہ اس امت کی خیریت کے اسباب میں سے اس لیے یومنون اور یامرون کو تخصیص کے ساتھ لائے جس کی وجہ سے خیریت میں بھی تصریح تھی ورنہ قائمہ کے عموم میں یہ سب امور داخل ہو گئے تھے۔
﴿118﴾ ف ۔یہاں جو غیر مذہب والوں سے خصوصیت کی ممانعت فرمائی ہے اس میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کو اپنا ہمراز بنایا جائے اور اس میں یہ بھی داخل ہے کہ اپنے خاص امور انتظامی میں ان کو داخل کیا جائے۔
﴿119﴾ ف ۔یہ کنایہ ہے شدت غضب سے جو مجبوری کے وقت ہو۔
ف ۔مراد یہ ہے کہ اگر تم مر بھی جاؤ گے تب بھی تمہاری مراد پوری نہ ہو گی۔
﴿121﴾ ف ۔یہ قصہ غزوہ احد کاہے۔
﴿122﴾ ف ۔صحابہ پر خدا تعالی کی کیسی عنایت تھی کہ بیان جرم کے ساتھ ان کو بشارت ولایت خاصہ بھی سنادی جس میں وعدہ معافی مفہوم ہوتا ہے اور جرم بھی کتنا خفیف بتلایا کہ واپسی نہیں صرف کم ہمتی پھراس کا بھی وقوع نہیں بلکہ خیال پس یا تو صدور اتنا ہی ہوا ہو یا بعض صادر کو ذکر نہںل فرمایا اور تقدیر اول پر عتاب کی وجہ ان حضرات کا غایت تقرب ہے۔
﴿123﴾ ف ۔بدر دراصل ایک کنویں کا نام ہے جو بدر بن قریش نے کھودا تھا بدر کی لڑائی اس کے قرب میں ہوئی تھی۔
﴿124﴾ ف ۔معلوم ہوتا ہے کہ بڑے درجہ کے فرشتے ہوں گے اور نہ جو فرشتے پہلے زمین پر موجود تھے ان سے بھی یہ کام لیا جا سکتا تھا۔
﴿127﴾ ف ۔یہاں امداد کی حکمت نہایت تصریح کے ساتھ فرمائی جس میں غور کرنے سے اس مضمون میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ حاصل اس کا یہ ہوا کہ ان فرشتوں کے نزول سے اصلی مقصود یہ تھا کہ مسلمانوں کے قلب کوسکون ہو۔
﴿128﴾ ف ۔غزوہ احد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دندان مبارک شہید ہو گیا اور چہرہ مبارک مجروح ہو گیا توآپ نے یہ فرمایا کہ ایسی قوم کوکیسے فلاح ہو گی جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا کیا حالانکہ وہ نبی ان کو خدا کی طرف بلاتا ہے اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔
﴿130﴾ ف ۔یہ جو فرمایا کہ اصل سے کوئی حصے زائد کر کے۔یہ سود کے حرام ہونے کی قید نہیں کیونکہ سود قلیل ہو یا کثیر سب حرام ہے۔
﴿133﴾ ف ۔مطلب یہ کہ ایسے نیک کام اختیار کرو جس سے پروردگار تمہاری مغفرت کر دیں اور تم کو جنت عنایت ہو۔
﴿143﴾ ف ۔شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ سال گزشتہ بعض صحابہ جو بدر میں شہید ہوئے تھے اور ان کے بڑے فضائل معلوم ہوئے تو بعض نے تمنا کی کاش ہم کو بھی کوئی ایسا موقع پیش آئے کہ اس دولت شہادت سے مشرف ہوں آخر یہ احد کا غزوہ پیش ہوا تو پاؤں اکھڑ گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
﴿144﴾ ف ۔جب غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے اور سر مبارک زخمی ہوا تواس وقت کسی دشمن نے پکار دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم قتل کیے گئے مسلمان لڑائی بگڑ جانے سے بدحواس اور منتشر ہوہی رہے تھے اس خبر سے اور بھی کمر ٹوٹ گئی کسی نے یہ تجویز کیا کہ اب کفار سے امن لے لینا چاہیے بعض ہمت ہار کر بیٹھ رہے اور ہاتھ پاوں چھوڑ دیے اور بعض بھاگ کھڑے ہوئے بعض منافق بولے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہیں رہے تو پھر اپنا پہلا ہی دین کیوں نہ اختیار کر لیا جائے بعض نے کہا کہ اگر نبی ہوتے تو قتل کیوں ہوتے اور بعض نے کہا کہ اگر آپ ہی نہ رہے توہم رہ کر کیا کریں گے جس پر آپ نے جان دی اس پر ہم کو بھی جان دی دینی چاہیے اور اگر آپ قتل ہو گئے تو تو کیا ہے اللہ تعالی تو قتل نہیں ہوئے اس پریشانی میں اول آپ کو حضرت کعب بن مالک نے دیکھ کر پہچانا اور پکار کر کہا کہ اے مسلمانوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ صحیح سلامت ہیں غرض اس وقت پھر مسلمان مجمع ہوئے آپ نے ان کو ملامت فرمائی عرض کیا یارسول اللہ یہ خبر سن کر ہمارے دلوں میں ہول بیٹھ گئی اس لیے ہمارے پاوں اکھڑ گئے اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
﴿150﴾ ف ۔پس اسی کی دوستی پر اکتفاء کرو اور اسی کا مددگار سمجھو دوسرا مخالف اگر نصرت کی بھی تدبیر بتلائے خلاف حکم خداوندی تو عمل مت کرو۔
﴿151﴾ ف ۔چنانچہ اس القاء رعب کا ظہور اس طرح ہوا کہ اول تو باوجود مسلمانوں کے شکست کھا جانے کے مشرکین بلاکسی سبب ظاہری کے مکہ کو لوٹ گئے پھر جب کچھ رستہ قطع کر چکے تو اپنے اس طرح آنے پر بہت افسوس کیا اور پھر ارادہ واپسی مدینہ کا کیا مگر کچھ ایسا رعب چھایا کہ پھر ارادہ واپسی مدینہ کا کیا مگر کچھ ایسا رعب چھایا کہ پھر نہ آسکے اور راہ میں کوئی اعرابی مل گیا اس سے کہا کہ ہم تجھ کو اتنا مال دیں گے تومسلمانوں کو ڈرا دینا یہاں وحی سے معلوم ہو گیا آپ ان کے تعاقب میں حمراءالاسد تک پہنچے۔
﴿152﴾ ف ۔اس آیت سے صحابہ کے حال پر بڑی عنایت معلوم ہوئی کہ عتاب میں بھی چند در چند تسلیاں فرمائیں ایک یہ کہ سزا نہ تھی بلکہ اس میں بھی تمہاری مصلحت تھی پھر مواخذہ آخرت سے بے فکر کر دیا ۔
﴿154﴾ ف ۔جب کفار میدان سے واپس ہو گئے تواس وقت غیب سے مسلمانوں پر اونگھ غالب ہوئی جس سے سب غم غلط ہو گیا۔
﴿155﴾ ف ۔ببعض ماکسبوا سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک گناہ سے دوسرا گناہ پیدا ہوتا ہے جیسا کہ ایک طاعت سے دوسری طاعت کی توفیق بڑھتی جاتی ہے۔
ف ۔بعض معاندین صحابہ نے اس واقعہ سے صحابہ پر خصوصاً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر طعن کیا ہے اور اس سے عدم صلاحیت خلافت کی مستنبط کی ہے لیکن یہ محض مہلن بات ہے جب اللہ نے معاف کر دیا اب دوسروں کو مواخذہ کرنے کا حق رہا قصہ خلافت کاسواہل حق کے نزدیک خلافت کے لیے عصمت شرط نہیں ہے۔
﴿156﴾ ف ۔اوپر منافقین کا قول نقل کیا تھا چونکہ ایسے اقوال سننے سے احتمال ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں اس قسم کے وساوس پیدا ہونے لگیں اس لیے حق تعالی اس آیت میں مسلمانوں کو ایسے اقوال اور ایسے احوال سے ممانعت فرماتے ہیں ۔
ف ۔اس سفر سے دینی کام کے لیے سفر کرنا مراد ہے۔
﴿159﴾ ف ۔نرم خوئی کو رحمت کا سبب اس لیے فرمایا کہ خوش اخلاقی عبادت ہو اور عبادت کی توفیق خدا تعالی کی رحمت سے ہوتی ہے۔
ف ۔یہ جو کہا گیا کہ خاص خاص باتوں میں مشورہ لیتے رہا کیجیے تو مراد ان سے وہ امور ہیں جن میں آپ پر وحی نازل نہ ہوئی ورنہ بعد وحی کے پھر مشوروں کی کوئی گنجائش نہیں۔
ف ۔لفظ عزم میں کوئی قید نہیں لگائی اس سے معلوم ہوا کہ امور انتظامیہ متعلقہ بالرائے میں کثرت رائے کا ضابطہ محض بے اصل ہے ورنہ یہاں عز میں یہ قید ہوتی کہ بشرطیکہ آپ کا عزم کثرت رائے کے خلاف نہ ہو۔اور مشورہ و عزم کے بعد جو توکل کا حکم فرمایا تواس سے ثابت ہوا کہ تدبیر منافی نہیں توکل کے کیونکہ مشورہ و عزم کا داخل تدبیر ہونا ظاہر ہے اور جاننا چاہیے کہ مرتبہ توکل کا کہ باوجود تدبیر کے اعتقاداً اعتماد رکھے اللہ پر یہ ہرمسلمان کے ذمہ فرض ہے اور توکل بمعنی ترک تدبیر کے تواس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ تدبیر دینی ہے تواس کا ترک مذموم۔اور اگر دنیوی یقینی عادة ہے تواس کا ترک بھی ناجائز اور اگر ظنی ہے تو قوی القلب کو جائز اور اگر وہمی ہے تواس کا ترک مامور بہ ہے۔
﴿161﴾ ف ۔انبیاء علیمت السلام کا امین ہونا یہاں دلیل سے ثابت کیا گیا ہے۔
﴿164﴾ ف ۔یہ جو فرمایا کہ ان ہی کی جنس سے تواس میں مفسرین کے کئی قول ہیں بعض نے کہا کہ ان کے نسب سے یعنی قریش ہے بعض نے کہا کہ عرب سے بعض کہا کہ بنی آدم سے اور یہی زیادہ مناسب ہے کیونکہ لفظ مومنین اس جگہ عام ہے اور انفسھم کی ضمیر اسی طرف عائد ہے پس صفت عام کے ساتھ تفسیر کرنا اوفق ہے۔
﴿168﴾ ف ۔اس واقعہ ہزیمت میں جو صحابہ کی عتاب کے بعد جا بجا تسکین کی گئی تواس سے نافرمانی کرنے والے دھوکہ نہ کھادیں کہ ہم سے جو گناہ ہوتے ہیں اس میں بھی مشیت و حکمت الہیہ ہوتی ہے پھر غم کی کوئی بات نہیں بات یہ ہے کہ اول تو صحابہ سے خطا ایسا ہوا قصداً مخالفت نہ تھا دوسرے ان پر ندامت اور غم کا بے انتہا غلبہ تھا جو اعلی درجہ ہے توبہ کا اس لیے ان کی تسلی کی گئی اور جو قصداً گناہ کرے پھراس پر کرے جرات،وہ مستحق تسلی نہیں بلکہ مستحق تخویف وعید ہے ۔
﴿171﴾ ف ۔اوپر غزوہ احد کا قصہ مذکور ہو چکا آگے اس سے متعلق ایک دوسرے غزوہ کا ذکر ہے جو غزوہ حمراءالاسد کے نام سے مشہور ہے وہ یہ کہ جب کفار قریش میدان احد سے مکہ واپس ہوئے تورستہ میں جا کراس پر افسوس کیا کہ باوجود غالب آ جانے کے لوٹ آئے سواب چل کر سب کا استیصال کر دیں اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور پھر وہ مکہ ہی کی طرف ہولیے لیکن بعض راہ گیروں سے کہہ گئے کہ کسی تدبیر سے مسلمانوں کے دل میں ہمارا رعب جما دیا جائے آپ کو وحی سے یہ امر معلوم ہو گیا اور آپ ان کے تعاقب میں مقام حمراءالاسد تک پہنچے حمراءالاسد مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے وہاں آپ نے تین روز قیام فرمایا اس مقام پر ایک قافلہ تجار کا گزر رسول اللہ نے ان سے مال تجارت خرید فرمایا اللہ تعالی نے اس میں نفع دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نفع ہمراہی مسلمانوں کوتقسیم فرمایا آیات آئندہ میں اسی قصہ کی طرف اشارہ ہے۔
﴿175﴾ ف ۔اوپر منافقین کی بے وفائی اور بد خواہی کا ذکر تھا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر ان کی ان حرکات کا رنج ہوا ہو گا حق تعالی آیت آئندہ میں آپ کوتسلی دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ضمنا ً و تبعا جمیع کفار کے معاملہ کے متعلق خواہ کوئی ہو آپ کی تسلی فرماتے ہیں تاکہ آپ کے قلب پر اب یا آئندہ ان کی اور دوسروں کی طرف سے کبھی ضد غالب نہ ہو۔
﴿178﴾ ف ۔اس آیت سے کوئی یہ شبہ نہ کرے کہ جب اللہ تعالی نے اسی لیے مہلت دی ہے کہ اور زیادہ جرم کرنے سے عذاب کیوں ہو گا اصل سبب امہال کا زیادہ عقوبت ہے لیکن اس سبب کے سبب یعنی ازدیار اثم کوجو باختیار عبد ہے قائم مقام سبب بغرض افادہ بلاغت کلام کر دیا گیا۔
﴿179﴾ ف ۔یہ جو فرمایا سب رسولوں پر ایمان لاؤ حالانکہ مقام مقتضی ہے ذکر ایمان بہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو۔وجہ اس کی یہ ہے کہ آپ پربھی ایمان جب ہی متحقق ہو گا جب سب کو مانے کیونکہ ایک کی تکذیب سب کی تکذیب ہے۔
﴿180﴾ ف ۔اس طوق پہنائے جانے کی کیفیت حدیث بخاری میں آئی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کو خدا تعالی مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ نہ دے تواس کا وہ مال قیامت کے روز ایک زہریلے سانپ کی شکل بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا اور وہ اس شخص کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں تیرا سرمایہ ہوں پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی۔
﴿181﴾ ف ۔نامہ اعمال میں درج کرا دینے میں یہ حکمت ہے کہ عادتاً مجرم پر زیادہ حجت ہو جاتا ہے ورنہ اللہ تعالی کو احتیاج نہیں۔
﴿183﴾ ف ۔پہلے بعض انبیاء کا یہ معجزہ ہوا ہے کہ کوئی چیز جاندار یا غیر جاندار اللہ کے نام کی نکال کر کسی میدان یا پہاڑ پر رکھ دی غیب سے ایک آگ نمودار ہوئی اور اس چیز کو جلا دیا۔
﴿184﴾ ف ۔جب اوروں کی بھی تکذیب ہو چکی ہے تو آپ کی تکذیب کوئی نئی بات نہیں پھر غم کیا؟۔
ف ۔یعنی بعض معجزے لائے بعض چھوٹی کتابیں اور بعض بڑی کتابیں جیسے تورات ،انجیل ۔اور چونکہ کتاب سے بڑی کتاب مراد ہے اور بڑی کتاب شان اور مضامین میں زیادہ ہو گی اس لیے اس کی صفات میں منیر فرمایا کہ اس میں شان و مضامین دونوں کے اعتبار سے معنی ظہور کے زیادہ ہوں گے ۔
﴿185﴾ ف ۔یہ جو فرمایا کہ دھوکے کاسودا تواس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ دنیوی زندگی سب کے لیے مضر ہے مطلب تشبیہ سے صرف یہ ہے کہ یہ اصلی مقصود بنانے کے قابل نہیں۔
﴿186﴾ ف ۔آزمانے کا مطلب یہ ہے کہ ایسے حوادث تم پر وقتاً فوقتاً واقع ہوا کریں گے اس کو مجازاً آزمانا کہہ دیا ورنہ اللہ تعالی آزمانے کے حقیقی معنی سے پاک ہیں کیونکہ وہ عالم الغیب ہیں۔
ف ۔صبر کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ تدبیر نہ کرو یا مواقع انتقام میں انتقام نہ لو یا مواقع قتال میں قتال نہ کرو بلکہ حوادث میں دل تنگ نہ ہوں کیونکہ اس میں تمہارے لیے منافع و مصالح ہیں اور تقوی یہ کہ خلاف شرع امور سے بچو گو تدبیر بھی کی جائے۔
﴿188﴾ ف ۔کردار بدیہی کے احکام کو چھپاتے تھے اور جو نیک کام نہیں کا اس سے مراد اظہار حق ہے جس کو وہ نہ کرتے تھے لیکن دوسروں کو یقین دلانا چاہتے تھے کہ ہم اظہار حق کرتے ہیں تاکہ ان کا خداع معلوم نہ ہو چنانچہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو بھی یہود نے یہ جرات کی۔
﴿189﴾ ف ۔پس چونکہ وہ سلطان حقیقی ہیں سب پران کا حکم ماننا ضروری ہے اور نافرمانی جرم ہے اور چونکہ وہ قادر ہیں اس لیے جرم کی سزا دے سکتے ہیں اور چونکہ انہوں نے اس سزا کی خبر دی ہے اس لیے ضرور سزادیں گے اور چونکہ یہ صفات ان کے ساتھ خاص ہیں لہذا ان کے سزادیے ہوئے کو کوئی بچا نہیں سکتا۔
﴿191﴾ ف ۔بلکہ اس میں حکمتیں رکھی ہیں جن میں ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ اس مخلوق سے خالق تعالی کے وجود پر توحید پراستدلال کیا جائے۔
﴿193﴾ ف ۔مراد اس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں بواسطہ یابلاواسطہ۔
﴿194﴾ ف ۔مطلب یہ کہ اول ہی سے جنت میں داخل کر دیجیے۔
ف ۔لیکن ہم کو یہ خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ ہم ان صفات سے موصوف نہ رہیں جن پر وعدہ ہے اس لیے ہم آپ سے یہ التجائیں کرتے ہیں کہ ہم کو اپنے وعدے کی چیزیں دیجیے یعنی ہم کوایسا کر دیجیے ایساہی رکھیے جس سے ہم وعدے کے مخاطب و محل ہو جائیں۔
﴿195﴾ ف ۔دونوں کے لیے یکساں قانون ہے۔
ف ۔یعنی کفار نے وطن میں پریشان کیا بیچارے گھر چھوڑ کرپردیس کو نکل کھڑے ہوئے۔
ف ۔تمام خطائیں اس لیے کہا گیا کہ یہاں ہجرت و جہاد و شہادت کی فضیلت مذکور ہے اور حدیثوں سے ان اعمال کا تمام ذنوب سابقہ کا کفارہ ہونا معلوم ہوتا ہے ۔
ف ۔اوپر کی آیت میں مسلمانوں کی کلفتوں کا بیان اور ان کا انجام نیک مذکور تھا آگے کافروں کے عیش و آرام کا بیان اور ان کا انجام بد مذکور ہے تاکہ مسلمان کو اپنا انجام سن کرتسلی ہوئی تھی جو وہ کافروں کا انجام سن کر زیادہ تسلی ہو۔اور ان کے عیش و آرام کی طرف حرصاً یا حزناآ التفات نہ کریں۔
﴿197﴾ ف ۔ کیونکہ مرتے ہی اس کا نام و نشان بھی نہ رہے گا
﴿200﴾ ف ۔ قاموس میں مرابطت اور رباط کے دو معنی لکھے ہیں ایک ملازمت ثغر العدو یعنی مابین دار الاسلام و دار الکفر کے سرحد کے موقع پر قیام کرنا تاکہ کفار سے دار الاسلام کی حفاظت رہے، احقر نے یہی معنی لئے ہیں، دوسرے معنی مواظبت علی الامر یعنی مطلق احکام کی پابندی کرنا۔ بیضاوی نے یہ معنی بھی لئے ہیں اور حدیث میں انتظار الصلوۃ بعد الصلوۃ کو رباط فرمایا ہے، اس میں دونوں معنی کا احتمال ہے ، یا تو معنی اول کے اعتبار سے تشبیہاً اس کو رباط فرما دیا کہ یہ بھی نفس و شیطان کے مقابلہ میں مستعد رہنا ہے یا معنی ثانی کے اعتبار سے حقیقۃ فرما دیا ہے کہ یہ انتظار خود علامت ہے دوام کی جیسا کہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم
٭٭٭
ماخذ:تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
http://www.myonlinrquran.com