FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

بام پہ روشن چاند

 

 

               اختر ضیائی

                             جمع و ترتیب اور ٹائپنگ: شیزان اقبال


 

 

 

پرچم سبز ہمارا !

 

ماضی کے حالات

آج بھی سب کو یاد ہیں

جیسے کل کی بات

 

خلقت شاد ہوئی

غیروں کی سفاک غلامی

سے آزاد ہوئی

 

گھر گھر جلے چراغ

مل جل کر شاداب کریں گے

یہ خوشیوں کا باغ

 

اپنا پاکستان

قائد اعظم نے فرمایا

ہے سب کی پہچان

 

دھُول میں پھُول گئے

قوم کے لیڈر سارے وعدے

جیسے بُھول گئے

 

نفرت ایک عذاب

جس کے کارن بن گئے اپنے

سارے خواب سراب

 

مخلص دھوکا کھائیں

لوٹ کھسوٹ کے ماہر ٹولے

مل کر موج اڑائیں

 

پرچم سبز ہمارا

ہری بھری دھرتی کے اوپر

روشن چاند ستارہ

 

سدا رہے آباد

اسلامی دستورِ اخوت

ہے جس کی بنیاد !

٭٭٭

 

 

 

 

موسم کی پہلی برف باری

 

 

 

فضا سرد ہے

اور ہوائے زمستاں رواں ہے

ہر اک سمت سنسان سی خامشی میں

سرِشام سے ہی کلب اور ڈسکو کے نغمے

گھنی دھند میں اونگھتے ہیں

بس اسٹاپ، زیر زمیں ریل کے مستقر

جیسے بے رونقی کی ردا اوڑھ کر

سو گئے ہیں

 

منڈیروں پہ، سڑکوں میں اور پارکوں میں

پہاڑوں پہ، دریاؤں میں ، وادیوں میں

خلاؤں ، فضاؤں کی پہنائیوں میں

دھُنی روئی کی تتلیاں سی اترتی

نظر آ رہی ہیں

سبک سار گنگ آبشاروں کے جھرنے تھمے ہیں

درختوں کی شاخوں پہ برفاب گالے جمے ہیں

شفق رنگ پھولوں کے گجرے

نہ سبزے کی جھالر

نہ بور اور خوشے، نہ کونپل نہ پتے

نہ کلیاں نہ بھنورے نہ طائر

عجب بےکسی!

سوگ میں جیسے بیوہ کا جوبن

کفن پوش آنگن!!

 

نئے موسموں کی تمنا میں بےچین پیغام بر

جنگ بردوش مطرب پرندے

کہیں کھو گئے ہیں

مرے باغ کے کنج میں سرو تنہا

نگوں سار اپنی لگن میں مگن

جانے کیا سوچتا ہے

میں کھڑکی کے شیشے سے باہر کے یخ بستہ منظر

کو یوں دیکھتا ہوں

کہ جیسے ابھی تک اسی خلد زار تمنا

کے دامن میں الجھا کھڑا ہوں

جہاں رُت کا جادو جواں ہے

جہاں گل کدوں، سبزہ زاروں

چناروں، بہاروں کی خوشبو

میری روح کی خلوتوں میں رواں ہے

کہ اس چاند کا عکسِ تاباں

نہاں خانۂ دل میں شعلہ بجاں ہے

میں جس کی خوشی کے لیے

دربدر بے وطن ہو گیا ہوں

اسے کیا خبر زرد پتوں

رواں پانیوں

بےنوا طائروں، شاعروں

غم نصیبوں کی منزل کہاں ہے؟

فضا سرد ہے

اور ہوائے زمستاں رواں ہے

٭٭٭

 

 

 

 

خیال پارے

 

یوں کشت جوانی میں

کانٹے ہی نہ بو لینا

جذبات کی لہروں میں

کشتی نہ ڈبو لینا

 

کیا روگ لگا بیٹھے

اس چاند کی فرقت میں

یاروں میں سدا ہنسنا

تنہائی میں رو لینا

 

خط آئے تو خوش ہونا

اور طنز بھری باتیں

پڑھ کر دلِ مضطر میں

نشتر سے چبھو لینا

 

کیا طرفہ تماشا ہے

پانی میں گرا کر بھی

کس شان سے کہتے ہیں

دامن نہ بھگو لینا

 

مشرق میں ٹھہرتا ہے

آئین وفا داری

مغرب میں حماقت ہے

بس ایک کا ہو لینا

 

غفلت میں گنواتے ہو

کیوں نعمتِ ہستی کو

پھر حشر تلک بےشک

آرام سے سو لینا

 

دنیا کی جفاؤں پر

افسوس سے کیا حاصل

ملتا ہے وہی آخر

قسمت میں ہو جو لینا

 

کردار و عمل میں ہیں

سو طرح کے اندیشے

گفتار میں آساں ہے

گو نام نکو لینا

 

الجھے ہو بہت اختر

جاں سوز اندھیروں سے

اے جانِ وفا جاں سے

اب ہاتھ نہ دھو لینا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

کسی کی یاد کی قندیل

 

 

کبھی کبھی غمِ ہستی کے دشتِ فرقت میں

وہ ماہتاب سرِچرخ جھلملاتا ہے

 

تو اس کے ساتھ اُبھرتا ہے سوگوار کلس

کنارِ جہلم بے تاب خوشنما منظر

 

فریب زارِ تمنا کا گوشۂ خلوت

خود اپنے جذب دروں کے ظہور کی صورت

 

وفا شعار، سبک سار، مہرباں فطرت

کوئی فریق تھا جس کا نہ مونس و ہمدم

 

طلسم زارِ تخیل، عروسِ رعنائی

دھنک کے نور میں لپٹی لطیف پروائی

 

برنگِ موجِ طرب پیچ و تاب کھاتی ہوئی

فریبِ صبح ِ مسرت میں مسکراتی ہوئی

 

عجیب رنگ نمایاں سکون و راحت کے

بھلا چکا ہوں جنہیں میں بھی ایک مدت سے

 

حریمِ ذات نئی چاہتوں کا مسکن ہے

نہ جانے پھر بھی کئی بار ایسا لگتا ہے

 

کسی کی یاد کی قندیل اب بھی روشن ہے

دمک رہا ہے گھنے گیسوؤں کے سائے میں

 

کسی کا پیار سے سرشار پُر یقیں چہرہ

وہ گل عذار، سمن بار، دل نشیں چہرہ

 

بسی ہوئی ہے مہک جس کی میرے خوابوں میں

بھٹک گیا ہے غمِ زیست کے سرابوں میں

 

کبھی خیال میں ظاہر، کبھی حجابوں میں

وہ جس کی دید کی حسرت ہے اضطرابوں میں !

٭٭٭

 

 

 

 

وہ ایک لمحہ!

 

فسوں ہے

جادو ہے، شعبدہ ہے

میں جب بی سوچوں

کچھ ایسا لگتا ہے

آج بھی اس اداس گاؤں

کی ملگجی شام جاگتی ہے

میں دیکھتا ہوں

گلی کے اس موڑ پر نکلتے ہی

جھیل آنکھوں میں کھو گیا ہوں

۔ ۔ ۔ وہ میرے پہلو میں ایستادہ

اور اس کے شانوں پہ بے ارادہ

ہیں ہاتھ میرے

وہ ساتھ میرے!!

 

دھواں دھواں سا تمام منظر،

غروبِ ہستی، طلوع محشر

 

ہزار جاں سے نثار دل ہے

دمکتے عارض پہ بھوری لٹ اور

حسیں زنخداں کی دائیں جانب

نفیس تل ہے

جھکی نگاہوں میں

ہے جھجک سی

وفورِ جذبات کی جھلک سی

بدن سے اٹھتی مہک سی

مرے تنفس میں گھل گئی ہے

حیات پھولوں میں تل گئی ہے

 

وہ ایک لمحہ

جو یک بیک زیست کے افق پر

ابھر کے اک انقلاب لایا

دھنک میں ڈوبا شباب لایا!

میں جانتا ہوں

کہ کس طرح سے نوشت ِ تقدیر کے تقاضے

سماج کے آہنی شکنجے

میں وہ ستارہ

بکھر کے نابود ہو گیا تھا

مگر میں جب بھی

گئے دنوں کی بساطِ احساس کو سمیٹوں

تو ایسا لگتا ہے

دور تنہا

گلی کے اس موڑ پر ابھی تک

نمودِ فطرت کا ایک نقشِ جمیل بن کر

حیا کی روشن دلیل بن کر

بہار آثار راستے میں

شعور کا سنگِ میل بن کر

دمک رہا ہے

مرے تنفس میں

اس کے مہکے بدن کی خوشبو

مچل رہی ہے

۔ ۔ ۔ وہ ایک لمحہ!

جو آج بھی عکسِ آرزو ہے

مرے تخیل کی آبرو ہے

٭٭٭

 

 

 

 

پہاڑوں کے سائے میں!

 

سرِ شام بستی کو ہم چھوڑ آئے

فروزاں یہاں روشنی کے علم ہیں

وہ ٹیلوں، درختوں، چھتوں

اور فضاؤں میں

اودھی گھٹائیں

ہواؤں کے کاندھوں پہ

مدہوش خم ہیں

پہاڑوں کے سائے

اندھیرے کے دامن میں ضم

اور ہم

آشتی سے بہم ہیں

نہیں کچھ بھی اب درمیاں

حرزِ جاں

 

خواہشوں کے فسانے

تمنا کے خفیہ خزانے

جو ہم نے چھپائے

یہاں کھینچ لائے

پہاڑوں کی چوٹی سے ابھرا

وہ مہتاب بھی مسکرائے!

 

گجر دم جو سورج

انہی برف پوش

اونچے ٹیلوں سے جھانکے

فضاؤں میں رنگ اور نکہت کے

سو نقش ٹانکے

چرندوں پرندوں کے انبوہ جاگیں

کھی وادیوں میں اڑیں اور بھاگیں

ہواؤں میں احساس کی گدگدی ہو!

رواں وقت کی خوش نما ہر گھڑی ہو

نئے راستوں پر نظر دور تک

بے محابانہ اٹھے!

تو ایسے میں پوری دیانت سے ہم

اسی آشتی سے بہم

عمر بھر کے لئے عہد و پیماں کریں

سدا ساتھ دینے کا اعلاں کریں

 

سکاٹ لینڈ: 16 نومبر۔86ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

مہرباں دھوپ کی آغوش میں

 

خلق و خورشد کے مابین

جو پردہ تھا ، ہٹا

دھند کا زور گھٹا

اوجِ افلاک سے انوار کے جھرنے پھوٹے

تیز کرنوں کی تمازت میں بجھے تیر

گھٹاؤں کے گنے جنگل کی

تیرہ و تار گھپاؤں کو منور کرتے

سوئے پہنائے زمیں

ارض افرنگ حسیں

منجمد بحر و بر و سبزہ و اشجار

۔ ۔ ۔ چمن زار کئی لاکھ نگر

دشت و دمن میں آباد

نسل آدم کے لئے گرمیِ زیست کا سامان

بہم کرتے ہیں

 

جسم اور روح میں خوابیدہ حرارت کی طلب

کھلے ایوانوں سمندر کے ساحل سے پرے

مست شاداب ہرے

خلد آثار جزیروں کی خنک ریت میں

پوشیدہ تراوت کے سبب

اپنی منزل کی طرف

جوق در جوق رواں ہوتے ہیں

محبتی فکر سے آزاد

جہاں شادمکاں ہوتے ہیں

جشنِ تعطیل منانے کے لیے

پھر سے اک بار جواں ہوتے ہیں

 

۔ ۔ ۔ اور پھر بنتے ہیں جو نقش و نگار

رامش و رنگ طرب

قوس و محراب، سمن پوش سفیران بہار

سقف و دیوار سے اکتائے ہوئے

پارکوں، کھیل کے میدانوں

ہری گھاس کے تختوں پہ دراز

نہ کوئی راز ہی باقی نہ کوئی پردہ ساز

گلی کوچوں میں، گلساتوں میں

اپنی بگیا کے سجل کنج میں، میدانوں میں

مہرباں دھوپ کی آغوش میں

سستائے ہوئے

 

سر بہ سر عالم مدہوشی میں

مختصر نام کی محدود ستر پوشی میں

بعض اوقات زخورد رفتہ سے شرمائے ہوئے

کتنے خوش باش نظر آتے ہیں

مثلِ گل کھل کے بکھر جاتے ہیں

اور پھر رات ڈھلے

سرد پروائی چلے

ہاتھ میں ہاتھ دیئے

مضمحل قدموں سے

جیسے مجبور سے، گھر جاتے ہیں

یوں بگڑتے ہیں

کہ کچھ اور سنور جاتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

پھول ذرا سا !

 

میرے کمرے کے پچھواڑے

پائیں باغ کے نم گوشے میں

جب بھی کھڑکی کا پٹ کھلتا

گھاس کی سوندھی باس اور سبزہ

اور دیوار سے ٹیک لگائے

بیلے کی لچکیلی کونپل

لہرا جاتی

اور اس کا اکلوتا بیٹا

(پھول ذرا سا)

جھومے جاتا !

اپنی چھب سے خوب رجھاتا

۔۔۔ ۔۔ میرے دھیان کی لہریں، جیسے

گڈ مڈ، گڈ مڈ

 

اس کا جوبن، ان کا مکھڑا

یادوں کی پریاں آ آ کر

دھوم مچاتیں !

 

لیکن جب سے بھادوں آیا

مینہ کے چھینٹے۔ ۔ ۔ اندھے جھکڑ

رات گئے پھر بجلی کڑکی

بھور سمے طوفان سا آیا

خوف کے مارے

کھڑکی کا پٹ چیخا، کانپا

میں کچھ سویا اور کچھ جاگا

سپنوں کی وادی میں چونکا

دھوپ کا کندن پھیل چکا تھا

کھڑکی سے باہر جب جھانکا

وحشی طوفان تھم سا گیا تھا

لیکن اندھے پاگل پن میں

ڈالی ڈالی روند گیا تھا

بیلے کا اکلوتا بیٹا

پھول ذرا سا!

بے سدھ کیچڑ میں لت پت تھا

ہردے میں اک ہوک سی اٹھی

آنکھوں میں آنسو بھر آئے

٭٭٭

 

 

 

 

بام پہ روشن چاند

 

شام ہوئی، صیام کا صدقہ، خوشیوں کی تمہید ملے

بام پہ روشن چاند کو دیکھوں، وصل کی کچھ امید ملے

 

رقصِ صبا، خوشبو پروائی، رنگِ چمن، نکھرے مہکے

جشنِ بہاراں کا ساماں ہو، حسن کی گر تائید ملے

 

جانے کیسے ضبط کا دامن یاس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا

آنکھوں میں آنسو بھر آئے، آپ سے جب ہم عید ملے

 

ہم پردیس میں بسنے والے اکثر سوچتے رہتے ہیں

کب اپنوں کو گلے لگائیں، کب یاروں کی دید ملے

 

بھول گئے اسلاف کی سنت، غیروں کے محتاج ہوئے

فرزندانِ اہل ِ یقیں بھی پابندِ تقلید ملے

 

اس نا خلف اولاد کی آخر دنیا میں کیا بات بنے

جس کے دلوں میں بت خانے، پر ہونٹوں پر توحید ملے

 

ظلمتِ شب کی کوکھ سے ابھرے نورِ سحر شرمندہ

جہدِ وفا کی راہ میں اختر ایسے بھی خورشید ملے

٭٭٭

یب کو تج کر

آئندہ نسلوں کا کیا اندازِ نظر ہے؟

جن کو تم نے

اپنے وقتوں کا جو یہ ماحول دیا ہے

حاضر خوشیوں کے بدلے میں

مستقبل کا ہول دیا ہے

خواہش کے خوش رنگ سبو میں

حسرت کا بس گھول دیا ہے!

تم کو خبر ہے!

یہ دنیا اک رہ گزر ہے!!

 

او پگلے بے چارے لوگو!

کبھی کبھی ان خود بچھڑے

بالغ ہوتے بچوں کا احوال بھی پوچھو!

ان کو اپنے پاس بٹھا کر

ان کے چہروں پر کندہ تحریر کو سمجھو!

جس میں ابھی الجھاؤ وہی ہے

ان کے لئے تو شہر بھی بن ہے

اسکولوں اور کارگہوں میں

اور باغوں میں

فٹ پاتھوں پر، بازاروں میں

نفرت کا برتاؤ وہی ہے

ہونٹوں پہ سو مسکانیں ہیں

محرومی کا گھاؤ وہی ہے

بس میں جو ہوتا رنگ بدلتے

ہار چکے وہ ڈھنگ بدلتے

اک بے نام سی آگ میں جلتے

بیگانی راہوں پہ چلتے

تابندہ خوابوں کے جزیرے

پا لینے کی وہی لگن ہے

کہنے کو تو اپنا گھر ہے

ہرا بھرا شاداب نگر ہے

ان آنکھوں میں جھانک کے دیکھو

دکھ کا اک گہرا ساگر ہے

٭٭٭

 

 

 

پرندے

 

اک مدت سے

ہر موسم میں ، نور کے تڑکے

سرودوان البیلے پنچھی

من موجی بے باک پرندے

میرے پائیں باغ کے اک گوشے میں

گانے آتے ہیں

مجھے جگاتے ہیں

 

(۱)

 

پچھلے پہر گھنے جنگل میں

فطرت کے معصوم پکھیرو

گرد آلود۔ ۔ ۔ ۔ اوارہ یوگی

نٹ کھٹ با پوشاک پرندے

متوالے پیراک پرندے

ہری بھری نیلم وادی میں

چنچل جھرنوں کی سنگت میں

یوں ہر روز نہاتے ہیں

مل کر دھوم مچاتے ہیں !

 

(۲)

 

تاڑ اور چیل میں گھات لگا کر

پربت کی چوٹی کے اوپر

تپتے میدانوں میں اڑتے

لوندی، شکرے، باز شکاری

طاقت کے مغرور پجاری

کچھ ظالم سفاک پرندے

وحشی ہیبت ناک پرندے

پنجوں کے خنجر لہراتے

شاخوں میں سہمی چڑیوں کا

ناحق خون بہاتے ہیں

سب پر رعب جماتے ہیں

 

(۳)

 

کل میں نے کالج میں دیکھا

بڑے ہال میں

طلبا کو اسناد کی بخشش کے موقع پر

جبہ پوش استاد تھے جتنے

پر عظمت دلشاد تھے کتنے؟

میں نے سوچا!

علم و ہنر کے پنکھ سجائے

پڑھے لکھے چالاک پرندے

اپنے اپنے پروں کی رنگت سے

پہچانے جاتے ہیں

 

۔ ۔ ۔ فہم و ذکا کے،جود و سخا کے

مہر و وفا کے،حسن عطا کے

جگمگ دیپ جلاتے ہیں !

یہ بھی سچ ہے

حرص و ہوا سے پاک پرندے

کچھ روشن ادراک پرندے

ننھی ننھی کنکریوں سے

ہاتھی مار بھگاتے ہیں

جھوٹ کا نام مٹاتے ہیں

بریڈ فورڈ:  جولائی ء

کالج میں تقسیمِ اسناد کے موقع پر

٭٭٭

 

 

 

 

 

گُنگی بستی کی کہانی

 

اونگھ رہا تھا پیر کا حجرہ اونچے محل منارے تک

بھاگ بھری کی پریم کہانی گونجی گاؤں کے دارے تک

 

اونچے گھر کا رانجھا اپنی ہیر سے ملنے آتا تھا

جس کے روپ سروپ کا چرچا پھیلا تخت ہزارے تک

 

وہ معصوم، حسیں دوشیزہ، بیٹی صوبے نائی کی

پہنچ سکی آواز نہ جس کی اپنے ساجن پیارے تک

 

پچھلے پہر کی پروائی میں مست ملنگوں نے دیکھا

پگڈنڈی پر دھندلا سایہ چلتا نہر کنارے تک

 

گھیر لیا اور لے گئے اس کو باندھ کے مرشد خانے پر

جانے پھر کیا بیتی اس پر صبح کے روشن تارے تک

 

بھور سمے پھر سرکنڈوں میں لاش ملی چرواہے کو

لہروں لہروں تیر کے پہنچی تھی جو سنگم دھارے تک

 

مل کے مالک ملک ٹوانے مالک گنگی بستی کی

پکڑ جکڑ کر کچھ “غنڈوں” کو لائے سرخ چبارے تک

 

ان میں تھا اک شوخ سجیلا مل مزدوروں کا لیڈر

آ جاتی تھی ہر اک آفت اس قسمت کے مارے تک

 

شک کی بنا پر موت نہیں، پر دی گئی سولہ سال کی قید

بیوہ ماں کا لائق بیٹا آیا یوں اندھیارے تک

 

زر والوں کی راہ کا کانٹا ناداروں کے دل کا چین

پیار کی تہمت لے کر آخر آیا جیل دوارے تک

 

اپنے شباب کا سونا چاندی ایک ہی وار میں ہار گیا

جس کو لوٹ کھسوٹ کے ماہر لائے سخت خسارے تک

٭٭٭

 

 

 

 

ناری تیرے روپ کی شوبھا!

 

 

 

برکھا رُت میں پیاسی پگلی

مچلے اور نہائے

گم سم جھیل کے آئینے میں

چندرما شرمائے

ساگر کی چنچل لہروں میں

سیپ کے دیپ سمائے

خوشبو اور دھنک مل جائے

پون جھکولے کھائے

اک سیماب کی مورت ایسی

اک آنسو کی مورت

جنم مرن کی پگڈنڈی پر

جس کو خوف مہورت

جگ کے غم اپنائے

وقت پڑے تو موم کی گڑیا

کبھی کبھی فولاد

کبھی کبھی تو جیسے اس کو

کچھ بھی رہے نہ یاد

 

ہر سپنا بسرائے!

مدماتی کہلائے

 

میں اک شاعر

دھرتی اور آکاش کے اندر

کس کو بکھرا پاؤں

کس کا آنچل دھندلا کاجل

جب جب پاس بلائے

اندھی یاس کے اس بن باس میں

آس کی راہ دکھلائے

گلشن گلشن کیاری کیاری

کس کے گیتوں کا رس جاری

کس کے رنگ پریم آہنگ نے

پگ پگ پھول کھلائے

کس کی باس سے بگیا مہکے

کلی کلی مسکائے

کس کے شیتل دھیان میں کھو کر

روم روم لہرائے

کس کے پیار کا قیدی ہو کر

میں نے شعر بنائے

کس کی کوکھ میں ہیرے موتی

کس کی مانگ میں تارے

ناری تیرے روپ کی شوبھا

کیا کیا نقش ابھارے

٭٭٭

 

 

 

 

 

جیون کا نٹ کھیل

 

روزِ ازل سے

گردش میں ہیں

(دھرتی اور آکاش کے اندر)

ہوش ربا خودکار مظاہر

ایک خلا ہے اور سمندر

رنگوں اور شکلوں کے بے انداز مناظر

فطرت کے آئین کی پابندی کا تواتر

اک تکمیل کے مخفی ذوقِ نمو کی خاطر

سدا سے قائم

کن کے ودیعت کردہ

اپنے اپنے خاص مداروں

کی پہچانیں

ربطِ بہم سے

اندھی، بنجر، بانجھ چٹانیں

بے بس، بے رس، خاک کے تودے

بن جائیں پُر ہیئت کدے

اور جگ مگ روشن دنیائیں

سیارے، تارے کہلائیں

کبھی کبھی ٹوٹیں، مٹ جائیں

 

اور پھر دائم

کن کی ودیعت گردش میں ہے

 

پھر میں دیکھوں

صبح کو دور افق سے

روشن سورج ابھرے

جس کی جھلمل شیتل کرنیں

جنگل، بن، ساگر، شہروں میں

سایوں، خاکوں اور جسموں میں

حرکت اور حدت پہنچائیں

پانی پر، خشکی میں، فضا میں

شبنم میں، سبزے پہ، ہوا میں

زیست کی ابدی سونی خوشبو

باطن کے اظہار کی خواہش

میں بیکل تعمیر کا جادو

رنگوں اور شکلوں میں کیا کیا روپ دکھائے

 

گلشن گلشن پھول کھلیں، مہکیں، مسکائیں

پت جھڑ میں سوکھیں، مر جائیں

شام ڈھلے کرنیں چھپ جائیں

اسی طرح ہستی کا مسافر

وقت کے اس پنڈال میں آ کر

دیا گیا نٹ کھیل دکھا کر

قدم قدم آگے بڑھ جائے

٭٭٭

 

 

 

 

 

الجھے رشتے

 

ہار تھے جو وہ طوقِ گلو ہیں

رشتوں کے بھی سو پہلو ہیں

میں ان سے گھبراتا ہوں

اکثر تنگ آ جاتا ہوں

 

آج اور کل کے افسانوں سے

لاکھ برس کے سامانوں سے

پہرہ داروں، دربانوں سے

طاقت ور کے تاوانوں سے

بھوکے ننگے انسانوں سے

خستہ تن، خستہ جانوں سے

فرض کے مارے نادانوں سے

جھوٹے وقتی درمانوں سے

مطلب کے تانوں بانوں سے

نام و نسب کی پہچانوں سے

دلکش خالی گلدانوں سے

خون کے پیاسے ایمانوں سے

 

چھپ کر جان بچاتا ہوں

خود کو تنہا پاتا ہوں

ہردے کے بندھن ہر سو ہیں

رشتوں کے بھی سو پہلو ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

اے مرے دل!

 

دھُند سی پھیل گئی

ڈوب گئے سب ساحل

درد کی جوئے رواں

چاہے جہاں لے جائے

داغِ آزار کا غماز ہوا

ایک انجام سے آغاز ہوا

اٹھ گئی شہرِ زیاں کون و مکاں کی محفل

جمع ہیں چارہ گرانِ بسمل(۱)

بجھ گئی شمع تب و تاب گماں لاحاصل!!

 

محبسِ جسم سے نکلا تو نفس کا طائر

سر بسر لذت پرواز ہوا

بیکراں وقت کا ہمراز ہوا

کیا یہی تھی غمِ جاں کی منزل؟

اک نئے دور کا در باز ہوا

کرب میں تُو بھی نہ دمساز ہوا!

تو مرا سرِ نہاں، عزمِ جواں

چل دیا چھوڑ کے یوں

مجھ کو کہاں؟

اے مرے دل، مرے دل!!

 

(۱۔ دل کے آپریشن کا تجربہ)

٭٭٭

ٹائپنگ:شیزان اقبال

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید