FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

انتخابِ خمار بارہ بنکوی

 

 

               جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

 

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

جذبات میں وہ پہلی سی شدّت نہیں رہی

 

ضعفِ قویٰ نے آمدِ پیری کی دی نوید

وہ دل نہیں رہا، وہ طبیعت نہیں رہی

 

سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہا

دل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی

 

کمزوریِ نگاہ نے سنجیدہ کر دیا

جلووں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں رہی

 

ہاتھوں سے انتقام لیا ارتعاش نے

دامانِ یار سے کوئی نسبت نہیں رہی

 

پیہم طوافِ کوچۂ جاناں کے دن گئے

پیروں میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رہی

 

چہرے کو جھُرّیوں نے بھیانک بنا دیا

آئینہ دیکھنے کی بھی ہمت نہیں رہی

 

اللہ جانے موت کہاں مر گئی خمار

اب مجھ کو زندگی کی ضرورت نہیں رہی

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعد

زندگی بڑھ گئی زہر کھانے کے بعد

 

دل سلگتا رہا آشیانے کے بعد

آگ ٹھنڈی ہوئی اک زمانے کے بعد

 

روشنی کے لئے گھر جلانا پڑا

کیسی ظُلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد

 

جب نہ کچھ بن پڑا عرضِ غم کا جواب

تو خفا ہو گئے مسکرانے کے بعد

 

دشمنوں سے پشیماں ہونا پڑا ہے

دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد

 

بخش دے یا رب اہلِ ہوس کو بہشت

مجھ کو کیا چاہیے تم کو پانے کے بعد

 

کیسے کیسے گلے یاد آئے خمار

ان کے آنے سے قبل ان کے جانے کے بعد

٭٭٭

 

 

نہ ہارا ہے عشق نہ دنیا تھکی ہے

دِیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

 

سکوں ہی سکوں ہے خوشی ہی خوشی ہے

تیرا غم سلامت مجھے کیا کمی ہے

 

چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں

نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے

 

ارے او جفاؤں پہ چُپ رہنے والو

خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے

 

میرے راہبر مجھ کو گُمراہ کر دے

سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے

 

خمار اِک بلا نوش تُو اور توبہ؟

تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے

٭٭٭

 

 

مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آ گیا

تم کیوں اداس ہو کیا یاد آ گیا؟

 

کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر

کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد آ گیا

 

واعظ سلام لے کے چلا میکدے کو میں

فردوسِ گمشدہ کا پتا یاد آ گیا

 

برسے بغیر ہی جو گھٹا گھِر کے کھل گئی

اک بے وفا کا عہدِ وفا یاد آ گیا

 

مانگیں گے اب دعا کہ اسے بھول جائیں ہم

لیکن جو وہ بوقتِ دعا یاد آ گیا

 

حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمار

کیا بات ہو گئی جو خدا یاد آ گیا

٭٭٭

 

 

کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا

بڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیا

 

ہزار ترکِ تعلق کا اہتمام کیا

مگر جہاں وہ ملے دل نے اپنا کام کیا

 

زمانے والوں کے ڈر سے اٹھا نہ ہاتھ مگر

نظر سے اس نے بصد معذرت سلام کیا

 

کبھی ہنسے کبھی آہیں بھریں، کبھی روئے

بقدرِ مرتبہ ہر غم کا احترام کیا

 

طلوعِ مہر سے بھی گھر کی تیرگی نہ گھٹی

ایک اور شب کٹی یا میں نے دن تمام کیا

 

دعا یہ ہے کہ نہ ہوں گمراہ ہم سفر میرے

خمار میں نے تو اپنا سفر تمام کیا

٭٭٭

 

 

وہ کون ہیں جو غم کا مزا جانتے نہیں

بس دوسروں کے درد کو پہچانتے نہیں

 

اس جبر مصلحت سے تو رسوائیاں بھلی

جیسے کے ہم انہیں، وہ ہمیں جانتے نہیں

 

کم بخت آنکھ اٹھتی نہ کبھی ان کے رو برو

ہم ان کو جانتے تو ہیں، پہچانتے نہیں

 

واعظ خلوص ہے تیرے اندازِ فکر میں

ہم تیری گفتگو کا برا مانتے نہیں

 

حد سے بڑھے تو علم بھی ہے جہل دوستو

سب کچھ جو جانتے ہیں وہ کچھ جانتے نہیں

 

رہتے ہیں عافیت سے وہی لوگ اے خمارؔ

جو زندگی میں دل کا کہا مانتے نہیں

٭٭٭

 

 

 

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں

جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

 

سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں

تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں

 

ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی

وہ پتھر مرے گھر میں آنے لگے ہیں

 

یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ کو

یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے ہیں

 

قیامت یقیناً قریب آ گئی ہے

خمار اب تو مسجد میں جانے لگے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے

عشق کی مغفرت کی دعا کیجیے

 

اس سلیقے سے ان سے گلہ کیجیے

جب گلہ کیجیے ہنس دیا کیجیے

 

دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے

سامنے آئینہ رکھ لیا کیجیے

 

آپ سُکھ سے ہیں ترکِ تعلق کے بعد

اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے

 

زندگی کٹ*رہی ہے بڑے چین سے

اور غم ہوں تو وہ بھی عطا کیجیے

 

کوئی دھوکا نہ کھا جائے میری طرح

ایسے کھُل کے نہ سب سے ملا کیجیے

 

عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمار

عقل کی سُنیے، دل کا کہا کیجیے

٭٭٭

 

 

 

یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے

خدا ہے محبت، محبت خدا ہے

 

کہوں کس طرح میں کہ وہ بے وفا ہے

مجھے اس کی مجبوریوں کا پتا ہے

 

ہوا کو بہت سر کشی کا نشا ہے

مگر یہ بھولے دیا بھی دیا ہے

 

میں اس سے جدا ہوں وہ مجھ سے جدا ہے

محبت کے ماروں پہ فضلِ خدا ہے

 

نظر میں ہے جلتے مکانوں کا منظر

چمکتے ہیں جگنو تو دل کانپتا ہے

 

اُنہیں بھولنا یا انہیں یاد کرنا

وہ بچھڑے ہیں جب سے یہی مشغلہ ہے*

 

    گزرتا ہے ہر شخص چہرہ چھپائے

کوئی راہ میں آئینہ رکھ گیا ہے

 

بڑی جان لیوا ہیں ماضی کی یادیں

بھُلانے کو جی بھی نہیں چاہتا ہے

 

کہاں تُو خمار اور کہاں کفرِ توبہ!

تجھے پارساؤں نے بہکا دیا ہے

 

*    “آہنگ خمار” میں درج بالا شعر یوں درج ہے

کبھی لمحے گننا، کبھی سانسیں گننا

وہ بچھڑے ہیں جب سے یہی مشغلہ ہے

٭٭٭

 

 

 

    نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

 

سکوں ہی سکوں ہے، خوشی ہی خوشی ہے

ترا غم سلامت، مجھے کیا کمی ہے

 

وہ موجود ہیں اور ان کی کمی ہے

محبت بھی تنہائی یہ دائمی

 

کھٹک گدگدی کا مزا دے رہی ہے

جسے عشق کہتے ہیں شاید یہی ہے

 

چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں

نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے

 

جفاؤں پہ گھُٹ گھُٹ کے چُپ رہنے والو

خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے

 

مرے راہبر! مجھ کو گمراہ کر دے

سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے

 

خمارِ بلا نوش! تُو اور توبہ!

تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

اک پل میں اک صدی کا مزہ ہم سے پوچھیئے

دو پل کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیئے

 

بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم

قسطوں میں خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیئے

 

آغاز ِ عاشقی کا مزہ آپ جانیئے

انجام ِ عاشقی کا مزہ ہم سے پوچھیئے

 

ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح

ہنسیئے ۔۔۔۔۔ مگر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیئے

٭٭٭

 

 

 

 

ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میں

چلوں دو قدم اور ٹھہر جاؤں میں

 

اگر تُو خفا ہو تو پروا نہیں

ترا غم خفا ہو تو مر جاؤں میں

 

تبسّم نے اتنا ڈسا ہے مجھے

کلی مسکرائے تو ڈر جاؤں میں

 

سنبھالے تو ہوں خود کو تجھ بِن مگر

جو چھُو لے کوئی تو بکھر جاؤں میں

 

مبارک خمار آپ کو ترکِ مے

پڑے مجھ پر ایسی تو مر جاؤں میں

٭٭٭

 

 

بیتے دنوں کی یاد بھلائے نہیں بنے

یہ آخری چراغ بجھائے نہ بنے

 

دنیا نے جب مرا نہیں بننے دیا انہیں

پتھر تو بن گئے وہ پرائے نہیں بنے

 

توبہ کیے زمانہ ہوا، لیکن آج تک

جب شام ہو تو کچھ بھی بنائے نہیں بنے

 

پردے ہزار خندہ پیہم کے ڈالیے

غم وہ گناہ ہے کہ چھپائے نہیں بنے

 

یہ نصف شب یہ میکدے کا در یہ محتسب

ٹوکے کوئی تو بات بنائے نہیں بنے

 

جاتے تو ہیں صنم کدے سے حضرتِ خمار

لیکن خدا کرے کہ بن آئے نہ بنے

٭٭٭

 

 

 

ہم انہیں، وہ ہمیں بھلا بیٹھے

دو گنہگار زہر کھا بیٹھے

 

حالِ غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھے

تیر مارے تھے، تیر کھا بیٹھے

 

آندھیو! جاؤ اب کرو آرام

ہم کود اپنا دیا بجھا بیٹھے

 

جی تو ہلکا ہوا مگر یارو

رو کے ہم لطفِ غم گنوا بیٹھے

 

بے سہاروں کا حوصلہ ہی کیا

گھر میں گھبرائے در پہ آ بیٹھے

 

جب سے بچھڑے وہ مسکرائے نہ ہم

سب نے چھیڑا تو لب ہلا بیٹھے

 

ہم رہے مبتلائے دیر و حرم

وہ دبے پاؤں دل میں آ بیٹھے

 

اٹھ کے اک بے وفا نے دے دی جان

رہ گئے سارے با وفا بیٹھے

 

حشر کا دن ابھی ہے دُور خمار

آپ کیوں زاہدوں میں جا بیٹھے

٭٭٭

 

 

کبھی شعر و نغمہ بن کے، کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے

وہ مجھے ملے تو لیکن، ملے صورتیں بدل کے

 

یہ وفا کی سخت راہیں، یہ تمہارے پائے نازک

نہ لو انتقام مجھ سے، مرے ساتھ ساتھ چل کے

 

وہی آنکھ بے بہا ہے جو غمِ جہاں میں روئے

وہی جام جامِ ہے جو بغیرِ فرق چھلکے

 

یہ چراغِ انجمن تو ہیں بس ایک شب کے مہماں

تُو جلا وہ شمع اے دل! جو بجھے کبھی نہ جل کے

 

نہ تو ہوش سے تعارف، نہ جنوں سے آشنائی

یہ کہاں پہنچ گئے ہم تری بزم سے نکل کے

 

کوئی اے خمار ان کو مرے شعر نذر کر دے

جو مخالفینِ مخلص نہیں معترف غزل کے

٭٭٭

 

 

 

ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میں

چلوں دو قدم اور ٹھہر جاؤں میں

 

اگر تُو خفا ہو تو پروا نہیں

ترا غم خفا ہو تو مر جاؤں میں

 

تبسّم نے اتنا ڈسا ہے مجھے

کلی مسکرائے تو ڈر جاؤں میں

 

سنبھالے تو ہوں خود کو تجھ بن مگر

جو چھُو لے کوئی تو بکھر جاؤں میں

 

مبارک خمار آپ کو ترکِ مے

پڑے مجھ پر ایسی تو مر جاؤں میں

٭٭٭

 

 

 

جھنجھلائے ہیں، لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں

کس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں

 

دیر و حرم کے حبس کدوں کے ستائے ہیں

ہم آج مے کدے کی ہوا کھانے آئے ہیں

 

اب جا کے آہ کرنے کے آداب آئے ہیں

دنیا سمجھ رہی ہے کہ ہم مسکرائے ہیں

 

گُزرے ہیں مے کدے سے جو توبہ کے بعد ہم

کچھ دُور عادتاً بھی قدم لڑکھڑائے ہیں

 

اے جوشِ گریہ دیکھ! نہ کرنا خجل مجھے

آنکھیں مری ضرور ہیں، آنسو پرائے ہیں

 

اے موت! اے بہشت سکوں! آ خوش آمدید

ہم زندگی میں پہلے پہل مسکرائے ہیں

 

جتنی بھی مے کدے میں ہے ساقی پلا دے آج

ہم تشنہ کام زُہد کے صحرا سے آئے ہیں

 

انسان جیتے جی کریں توبہ خطاؤں سے

مجبوریوں نے کتنے فرشتے بنائے ہیں

 

سمجھاتے قبلِ عشق تو ممکن تھا بنتی بات

ناصح غریب اب ہمیں سمجھانے آئے ہیں

 

کعبے میں خیریت تو ہے سب حضرتِ خمار

یہ دیر ہے جناب یہاں کیسے آئے ہیں

٭٭٭

 

 

اک پل میں ایک صدی کا مزہ ہم سے پوچھیے

دو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھیے

 

بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدتوں میں ہم

قسطوں میں خودکشی کا مزا ہم سے پوچھیے

 

آغاز عاشقی کا مزا آپ جانیے

انجام عاشقی کا مزا ہم سے پوچھیے

 

ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح

ہنسیے مگر ہنسی کا مزا ہم سے پوچھیے

 

وہ جان ہی گئے کہ ہمیں اُن سے پیار ہے

آنکھوں کی مخبری کا مزا ہم سے پوچھیے

 

ہم توبہ کر کے مر گئے قبل اجل خمار

توہینِ مے کشی کا مزا ہم سے پوچھیے

٭٭٭

 

 

 

 

عشق خدا کی دین ہے، عشق سے منہ نہ موڑیئے

چھوڑئیے زندگی کا ساتھ، دل کا ساتھ نہ چھوڑئیے

 

اپنے کہاں کے غیر کیا اب یہ جنون چھوڑئیے

درد کہیں ہو درد ہے، درد سے رشتہ جوڑئیے

 

مجھ کو سوچنا پڑے آپ مرے ہیں یہاں نہیں

خوف بجا مگر ایسے منہ نہ موڑئیے

 

سجدے کا حق ہو جو ادا، ایک ہی سجدہ دے مزا

ویسے خوشی ہے آپ کی سر شب و روز پھوڑئیے

 

سایہ التفات میں عشق کی آنکھ لگ نہ جائے

ہو کہ خفا کبھی کبھی دل کو مرے جھنجھوڑئیے

 

میں ہوں برا مجھے قبول، پھر بھی جناب ِ محتسب

میرے معاملات کو میرے خدا پر چھوڑئیے

 

عشق ہے کتنا جانفزا بعد میں ہوگا فیصلہ

پہلے تو حضرت ِ خمار دامن ِ تر نچوڑئیے

٭٭٭

 

 

 

 

 

غم نہاں کو بھلایا مگر بھلا نہ سکے

لبوں کو چھیڑ لیا، دل سے مسکرا نہ سکے

 

کچھ ایسی نیند ترے غم کی چھاؤں میں آئی

کہ حادثات ِ زمانہ ہمیں جگا نہ سکے

 

مجھے تو اُن کی عبادت پہ رحم آتا ہے

جبیں کے ساتھ جو سجدے میں دل جھکا نہ سکے

 

گزر گیا کبھی ایسا بھی وقت مجبوری

کہ ہم بھی رو نہ سکے وہ بھی مسکرا نہ سکے

 

ہزار بار ہوئے خوش بھلا کے ہم اُن کو

مزا تو یہ ہے کہ اک بار بھی بھلا نہ سکے

 

اگر ہزار نشیمن جلیں تو فکر نہ کر

یہ فکر کر کہ گلستاں پہ آنچ آ نہ سکے

 

خمار اجل بھی نہ راس آئی ان غریبوں کو

جو زندگی کو حریفِ اجل بنا نہ سکے

٭٭٭

 

 

 

محبت بھی کیا شے ہے اللہ جانے

ہیں جتنی زبانیں ہیں، اُتنے افسانے

 

پلا دی یہ ساقی نے کیا شے نہ جانے

پلٹ آئے ہیں میرے گزرے زمانے

 

ہمارے زمانے، تمہارے زمانے

جو مل جائیں دونوں تو کیا ہو جانے

 

شروع ِ محبت ارے توبہ توبہ

قیامت گزر جائے کوئی نہ جانے

 

وہ اشکوں کی یورش وہ آہوں کی شورش

وہ ضبطِ محبت کے نازک زمانے

 

محبت کی ویرانیوں میں نہاں ہیں

محبت کی آبادیوں کے خزانے

 

محبت کیا چیز ہے مجھ سے نہ پوچھو

میں پوچھوں گا تم سے جو چاہا خدا نے

 

وہی ہے خمار جنونی وہی ہے

جو اپنی مرضی کرے اور کسی کی نہ مانے

٭٭٭

 

 

 

وہ بدنصیب ہیں جنہیں غم ناگوار ہے

غم تو دلیل ِ رحمت ِ پروردگار ہے

 

غنچے ہیں ، گل ہیں ، سبزہ ہے، ابر بہار ہے

سب جمع ہو چکے ہیں، ترا انتظار ہے

 

آگے جبین ِ شوق تجھے اختیار ہے

یہ دیر ہے، یہ کعبہ ہے، یہ کوئے یار ہے

 

الفاظ میں نہ ڈھونڈ مری بے قراریاں

اے بے خبر زباں نہیں، دل بے قرار ہے

 

تازہ ہیں جن کے دل وہ مطیع خزاں نہیں

ہم جس طرف نگاہ اٹھا دیں بہار ہے

 

اے دوست آ بھی جا کہ میں تصدیق کر سکوں

سب کہہ رہے ہیں آج فضا خوشگوار ہے

 

یہ بھی بجا کہ دل کو ہے مایوسی تمام

یہ بھی غلط نہیں کہ ترا انتظار ہے

 

ننگ ِ چمن تھا میرا نشیمن سو مٹ گیا

اب واقعی بہار مکمل بہار ہے

 

اے محتسب عذاب ِ جہنم بجا مگر

اک چیز اور رحمت ِ پروردگار ہے

 

صبر و شکیب عشق کی اب خیر ہو خمار

اب وہ بھی ساتھ ساتھ مرے بیقرار ہے

٭٭٭

 

 

 

غم دنیا نے ہمیں جب کبھی ناشاد کیا

اے غم ِ دوست تجھے ہم نے بہت یاد کیا

 

حسن معصوم کو آمادہ بیداد کیا

مجھ کو خود میری تمناؤں نے برباد کیا

 

اشک بہہ بہہ کر مرے خاک پہ جب گرنے لگے

میں نے تجھ کو ترے دامن کو بہت یاد کیا

 

قید میں رکھا ہمیں یاد نے کہہ کہہ کے یہی

ابھی آزاد کیا بس ابھی آزاد کیا

 

پھر گئیں نظروں میں آنسو بھری آنکھیں اُن کی

جب کبھی غم نے مجھے مائل فریاد کیا

 

ہائے وہ دل مجھے اُس پہ ترس آتا ہے

تو نے برباد کیا، جس کو نہ آباد کیا

 

آہ وہ خاطر ِ نازک نہ ہو مغموم کہیں

ہچکیاں کہتی ہیں آج اُس نے مجھے یاد کیا

 

تجھ کو برباد تو ہونا تھا بہرحال خمار

ناز کر ناز کر اُس نے تجھے برباد کیا

٭٭٭

 

 

 

جب وہ پشیمان نظر آئے ہیں

موت کے سامان نظر آئے ہیں

 

ہو نہ ہو آ گئی منزل قریب

راستے سنسان نظر آئے ہیں

 

عشق میں سہمے ہوئے دو آشنا

مدتوں انجان نظر آئے ہیں

 

کھا نہ سکے زندگی بھر جو فریب

ایسے بھی نادان نظر آئے ہیں

 

عشق میں کچھ ہم ہی پریشاں نہیں

وہ بھی پریشان نظر آئے ہیں

 

ہوش جب آیا ترے جانے کے بعد

گھر میں بیابان نظر آئے ہیں

 

کی ہے جو فکر اپنے گریباں کی

لاکھ گریبان نظر آئے ہیں

 

عشق ہے فرسودہ حکایت مگر

نت نئے عنوان نظر آئے ہیں

 

ہائے رے وہ مدھ بھری آنکھیں خمار

میکدے ویران نظر آئے ہیں

٭٭٭

 

 

 

آج ہم ناگہاں کسی سے ملے

مدتوں بعد زندگی سے ملے

 

شمع کیا، چاند کیا، ستارے کیا

سلسلے سب کے تیرگی سے ملے

 

پھول کر لیں نباہ کانٹوں سے

آدمی ہی نہ آدمی سے ملے

 

اُن اندھیروں سے کوئی کیسے بچے

وہ اندھیرے جو روشنی سے ملے

 

خود سے ملنے کو عمر بھر ترسے

یوں تو ملنے کو ہم سبھی سے ملے

 

غم بھی ہم سے بڑی خوشی سے ملا

ہم بھی غم سے بڑی خوشی سے ملے

 

زندگی کے سلوک کیا کہیے

جس کو مرنا ہو زندگی سے ملے

 

ہم پہ گزرا ہے وہ بھی وقت خمار

جب شناسا بھی اجنبی سے ملے

٭٭٭

 

 

 

 

 

واقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سے

اس راز کو پوچھو کسی برباد نظر سے

 

اک اشک نکل آیا یے یوں دیدہ تر سے

جس طرح جنازہ کوئی نکلے بھرے گھر سے

 

رگ رگ میں عوض خون مے دوڑ رہی ہے

وہ دیکھ رہے ہیں مجھے مخمور نظر سے

 

اس طرح بسر ہوتے ہیں دن رات ہمارے

اک تازہ بلا آئی جو اک ٹل گئی سر سے

 

صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنی

واقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سے

 

مل جائیں ابد سے مرے اللہ یہ لمحے

وہ دیکھ رہے ہیں مجھے مانوس نظر سے

 

جائیں تو کہاں جائیں کھڑے سوچ رہے ہیں

اٹھنے کو خمار اٹھ تو گئے ہم کسی در دے

٭٭٭

 

 

 

وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعد

زندگی بڑھ گئی زہر کھانے کے بعد

 

دل سلگتا رہا آشیانے کے بعد

آگ ٹھنڈی ہوئی اک زمانے کے بعد

 

روشنی کے لیے گھر جلانا پڑا

ایسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد

 

جب نہ کچھ بن پڑا عرض َ غم کا جواب

وہ خفا ہو گئے مسکرانے کے بعد

 

دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا

دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد

 

رنج حد سے گزر کے خوشی بن گیا

ہو گئے پار ہم ڈوب جانے کے بعد

 

بخش دے یارب اہل ہوس کو بہشت

مجھ کو کیا چاہیے تجھ کو پانے کے بعد

 

کیسے کیسے گلے یاد آئے خمار

اُن کے آنے سے قبل ان کے جانے کے بعد

٭٭٭

 

 

جانے والے آ، نہیں تاب ِ پشیمانی مجھے

چھیڑی رہتی ہے میرے گھر کی ویرانی مجھے

 

عشق نے بخشی ہے یہ کیسی پریشانی مجھے

اب نہ مشکل راس آتی ہے نہ آسانی مجھے

 

میں نے جب دیکھا ہے اربابِ طرب کو غور سے

خشک آنکھوں میں نظر آئی ہے طغیانی مجھے

 

عشق کا اور بے قراری کا پرانا ساتھ ہے

تم نہ گھبراؤ نہیں کوئی پریشانی مجھے

 

میرے مالک زندگی میں کیا ہنسا جاتا بھی ہے

کوئی ہنستا ہے اگر ہوتی ہے حیرانی مجھے

 

اس زمیں میں شعر مجبوراً کہے میں نے خمار

ہو رہی ہے روح ِ غالب سے پشیمانی مجھے

٭٭٭

 

 

 

 

 

اندھیری رات تھی گو چاند بھی تھا اور تارے بھی

مری آنکھوں نے دیکھے ہیں خمار ایسے نظارے بھی

 

کوئی عیش و مسرت کے طلبگاروں سے کہہ دیتا

کہ گزرے تھے انہی راہوں سے پہلے غم کے مارے بھی

 

محبت سے الگ رہنا ہی بہتر حضرت ِ ناصح

مگر اکثر سفینے ڈوب جاتے ہیں کنارے بھی

 

دل و جاں تجھ پہ صدقے میرے آنسو پونچھنے والے

مگر آنکھوں کو پھونک دے رہے کچھ شرارے بھی

 

سمجھ میں کاش ارباب ِ محبت کی یہ آ جائے

کہ دل کے ٹوٹتے ہی ٹوٹ جاتے ہیں سہارے بھی

 

وہ کیوں جانیں بھلا جن کے لیے فردوس ہے دنیا

کہ اس فردوس میں آباد ہیں کچھ غم کے مارے بھی

 

ارے او جانے والے لُوٹ کر رونق مرے گھر کی

لیے جا کاش اپنے ساتھ یہ سونے نظارے بھی

 

خمار اب یہ زمانہ شوق سے ہم پر ہنسے لیکن

محبت کو خدا بخشے کبھی تھے دن ہمارے بھی

٭٭٭

 

 

 

 

 

علم و فن کے دیوانے عاشقی سے ڈرتے ہیں

زندگی کے خواہاں ہیں زندگی سے ڈرتے ہیں

 

یوں تو ہم زمانے میں کب کسی سے ڈرتے ہیں

آدمی کے مارے ہیں آدمی سے ڈرتے ہیں

 

جل کے آشیاں اپنا خاک ہو چکا کب کا

آج تک یہ عالم ہے روشنی سے ڈرتے ہیں

 

لے لے زندگی یارب اور کچھ سزا دے

جی لیے بہت اب زندگی سے ڈرتے ہیں

 

جب نہ ہوش تھا ہم کو دشمنی سے ڈرتے تھے

اب جو ہوش آیا ہے دوستی سے ڈرتے ہیں

 

رہنے دے انہیں ناصح تو یوں ہی اندھیرے میں

کچھ تو ہے جو دیوانے آگہی سے ڈرتے ہیں

 

پھول بھی جو ہنستے ہیں، دل دھڑکنے لگتا ہے

یا ہنسی پہ مرتے تھے، یا ہنسی سے ڈرتے ہیں

 

توبہ اور جوانی میں خمار کیا کہنا

لوگ آپ جیسے ہی متقی سے ڈرتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

وہ مجھ سے میں اُس سے جدا ہو گیا

زمانے کا قرضہ ادا ہو گیا

 

جو بارش کو خاطر میں لاتا نہ تھا

وہ اونچا مکاں راستہ ہو گیا

 

بجھانا ہی تھا یوں بھی اپنا دیا

چلو آندھیوں کا بھلا ہو گیا

 

کوئی جیسے میرا تعاقب کرے

یہ شک بڑھتے بڑھتے خدا ہو گیا

 

اٹھو مے کشو تعزیت کو چلیں

خمار آج سے پارسا ہو گیا

٭٭٭

 

 

کیا جانے کون منزل ِ راحت نظر میں ہے

غربت میں ہے سکون نہ آرام گھر میں ہے

 

تم جگمگا کے جس شبوں کو چلے گئے

مدت سے وہ غریب تلاش ِ سحر میں ہے

 

اے شیخ تو نے کی ہی نہیں سیر ِ میکدہ

جنت ترے خیال، میری نظر میں ہے

 

تیری جدائی نے اسے یکسر مٹا دیا

وہ ایک امتیاز جو شام و سحر میں ہے

 

دوزخ کو جو ڈبو دے گناہوں کا ذکر کیا

ایسی بھی ایک موج مری چشم تر میں ہے

 

آتی تھی نیند زانوئے محبوب پر خمار

یادش بخیر وہ بھی زمانہ نظر میں ہے

 

 

 

 

 

نہ کسی کو مجھ سے شکوہ نہ مجھے گلہ کسی سے

غم عاشقی ہی اچھا غم ِ بے تعلقی سے

 

جو وطن کو اپنے لوٹے لیے رخ پہ گرد ِ غربت

نظر آئے دوستوں کو بھی ہم آہ اجنبی سے

 

ہوئی دوستی جو غم سے تو سمجھ میں آیا

وہی دن عذاب ِ جاں تھے جو بسر ہوئے خوشی میں

٭٭٭

 

 

اب اتنی راہ و رسم ہے زندگی سے

کہ جیسے ملے اجنبی اجنبی سے

 

منہ اک اک کا تکتا ہوں میں بے کسی سے

سہارا نہ ٹوٹے کسی کا کسی سے

 

جدا ہو کے مجھ سے کوئی جا رہا ہے

گلے مل رہی ہے اجل زندگی سے

 

سکوں تیرے قدموں سے لپٹا رہے گا

گزر جا مقامات ِ رنج و خوشی سے

 

وہ تیری جدائی کے دن توبہ توبہ

کہ راتیں بھی شرما گئیں تیرگی سے

 

خمار اب بھی جینے کو میں جی رہا ہوں

مگر کچھ تعلق نہیں زندگی سے

٭٭٭

 

 

 

 

سیلِ حوادث سے نہ گھبرائیے

موج ِ رواں بن کے گزر جائیے

 

زندگی میں ٹھوکریں بھی کھائیے

شرط مگر یہ ہے سنبھل جائیے

 

دم ہی نہ گھٹ جائے کہیں عشق کا

اتنی توجہ بھی نہ فرمائیے

 

دی جو کبھی ہم نے خوشی کو‌صدا

ہنس کے کہا غم نے ادھر آئیے

 

عشق ازل ہی سے خانہ خراب

آپ سے کیا آپ نہ گھبرائیے

 

آج وہ مائل بہ کرم ہیں خمار

جی میں یہ آتا ہے کہ مر جائیے

٭٭٭

 

 

 

 

وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں

محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں

 

سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں

تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں

 

ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کے

وہ پتھر میرے گھر میں آنے لگے ہیں

 

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں

جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

 

یہ کہنا تھا اُن سے محبت ہے مجھ کو

یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے ہیں

 

قیامت یقیناً قریب آ گئی ہے

خمار اب تو مسجد میں جانے لگے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

ہنسنے والے اب ایک کام کریں

جشن ِ گریہ کا اہتمام کریں

 

ہم بھی کر لیں جو روشنی گھر میں

پھر اندھیرے کہاں قیام کریں

 

مجھ کو محرومی نظارہ قبول

آپ جلوے نہ اپنے عام کریں

 

اک گزارش ہے حضرت ناصح

آپ اب اور کوئی کام کریں

 

آ چلیں اس کے در پہ اب اے دل

زندگی کا سفر تمام کریں

 

ہاتھ ہٹتا نہیں ہے دل سے خمار

ہم انہیں کس طرح سلام کریں

٭٭٭

 

 

 

حال غم اُن کو سناتے جا

شرط یہ ہے مسکراتے جا

 

آپ کو جاتے نہ دیکھا جائے

شمع کو پہلے بجھاتے جا

 

شکریہ لطف مسلسل کا

گاہے گاہے دل دکھاتے جا

 

دشمنوں سے پیار ہوتا جا

دوستوں کو آزماتے جا

 

روشنی محدود ہو جن کی خمار

اُن چراغوں کو بجھاتے جا

٭٭٭

 

 

 

 

 

وہ جو آئے حیات یاد آئی

بھولی بسری سی بات یاد آئی

 

حال دل ان سے کہہ کے جب لوٹے

اُن سے کہنے کی بات یاد آئی

 

حال ِ دل ان سے کہہ کے جب لوٹے

اُن سے کہنے کی بات یاد آئی

 

آپ نے دن بنا دیا تھا جسے

زندگی بھر وہ رات یاد آئی

 

تیرے در سے اٹھے ہی تھے کہ ہمیں

تنگی ِ کائنات یاد آئی

 

جب پڑا واسطہ مسرت سے

غم کی ایک ایک بات یاد آئی

 

کیا جوانی گئی جناب خمار

کیسے تابہ کی بات یاد آئی

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

بے قراری گئی قرار گیا

ترک عشق اور مجھ کو مار گیا

 

وہ جو آئے تو خشک ہو گئے اشک

آج غم کا بھی اعتبار گیا

 

ہم نہ ہنس ہی سکیں نہ ہی رو سکیں

وہ گئے یا ہر اختیار گیا

 

آپ کی ضد ِ بے محل سے کلیم

سب کی نظروں کا اعتبار گیا

 

آ گئے وہ تو اب یہ رونا ہے

لطف ِ خم،  لطف ِ انتظار گیا

 

کس مزے سے ترے بغیر خمار

بے جیے زندگی گزار گیا

٭٭٭

 

مختلف سائٹوں سے

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید