FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

               ترجمہ: محمد خاں جونا گڈھی

حصہ اول: فاتحہ تا  توبہ

 

۱۔ الفاتحہ

۱.         اللہ تعالیٰ  کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے

۲.        سب تعریفیں اللہ تعالیٰ  کے لیے ہیں  جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے

۳.        بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا۔

۴.        بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے

۵.        ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔

۶.        ہمیں سچی اور سیدھی راہ دکھا۔

۷.        اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ ان کا نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کا۔

 

۲۔ البقرۃ

۱.         الم

۲.        اس کتاب (کے اللہ کی کتاب ہونے) میں کوئی شک نہیں  پرہیزگاروں کو راہ دکھانے والی ہے

۳.        جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں  اور نماز کو قائم رکھتے ہیں  اور ہمارے دیئے ہوئے مال سے خرچ کرتے ہیں

۴.        اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا  اور وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں

۵.        یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں

۶.        کافروں کو آپ کا ڈرانا، یا نہ ڈرانا برابر ہے، یہ لوگ ایمان نہ لائیں گے۔

۷.        اللہ تعالیٰ  نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے

۸.        بعض کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن در حقیقت وہ ایمان والے نہیں ہیں۔

۹.         وہ اللہ تعالیٰ  اور ایمان والوں کو دھوکا دیتے ہیں، لیکن دراصل وہ خود اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں مگر سمجھتے نہیں۔

۱۰.       ان کے دلوں میں بیماری تھی اور اللہ تعالیٰ  نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا  اور ان کے جھوٹ کی وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

۱۱.        اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔

۱۲.       خبردار ہو یقیناً یہی لوگ فساد کرنے والے ہیں  لیکن شعور (سمجھ) نہیں رکھتے۔

۱۳.       اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اور لوگوں (یعنی صحابہ) کی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو جواب دیتے ہیں کہ ہم ایسا ایمان لائیں جیسا بیوقوف لائے ہیں،  خبردار ہو جاؤ یقیناً یہی بیوقوف ہیں، لیکن جانتے نہیں۔

۱۴.       اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم بھی ایمان والے ہیں جب اپنے بڑوں کے پاس جاتے ہیں  تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو صرف ان سے مذاق کرتے ہیں۔

۱۵.       اللہ تعالیٰ  بھی ان سے مذاق کرتا ہے  اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھا دیتا ہے۔

۱۶.       یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں خرید لیا، پس نہ تو ان کی تجارت  نے ان کو فائدہ پہنچایا اور نہ یہ ہدایت والے ہوئے۔

۱۷.      ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی، پس آس پاس کی چیزیں روشنی میں آئی ہی تھیں کہ اللہ ان کے نور کو لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا، جو نہیں دیکھتے۔

۱۸.       بہرے، گونگے، اندھے ہیں۔ پس وہ نہیں جانتے

۱۹.       یا آسمانی برسات کی طرح جس میں اندھیریاں اور گرج اور بجلی ہو، موت سے ڈر کر کڑاکے کی وجہ سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ  کافروں کو گھیرنے والا ہے۔

۲۰.      قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھیں اچک لے جائے، جب ان کے لئے روشنی کرتی ہے تو اس میں چلتے پھرتے ہیں  اور جب ان پر اندھیرا کرتی ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ  چاہے تو ان کے کان اور آنکھوں کو بیکار کر دے  یقیناً اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

۲۱.       اے لوگوں اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے۔

۲۲.      جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے پھل پیدا کر کے تمہیں روزی دی، خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو۔

۲۳.      ہم نے اپنے بندے پر جو کچھ اتارا ہے اس میں اگر تمہیں شک ہو اور تم سچے ہو تو اس جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ، تمہیں اختیار ہے کہ اللہ تعالیٰ  کے سوا اپنے مددگاروں کو بھی بلا لو۔

۲۴.      پس اگر تم نے نہ کیا۔ اور تم ہرگز نہیں کر سکتے  تو (اسے سچا مان کر) اس آگ سے بچو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں  جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

۲۵.      اور ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو  جنت کی خوشخبریاں دو جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جب کبھی وہ پھلوں کا رزق دئیے جائیں گے اور ہم شکل لائے جائیں گے تو کہیں گے یہ وہی ہے جو ہم اس سے پہلے دئیے گئے تھے  اور ان کے لئے بیویاں ہیں صاف  ستھری اور وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

۲۶.      یقیناً اللہ تعالیٰ  کسی مثال کے بیان کرنے سے نہیں شرماتا خواہ مچھر کی ہو، یا اس سے بھی ہلکی چیز۔  ایمان والے تو اپنے رب کی جانب سے صحیح سمجھتے ہیں اور کفار کہتے ہیں کہ اس مثال سے اللہ کی کیا مراد ہے؟ اس کے ذریعے بیشتر کو گمراہ کرتا ہے اور اکثر لوگوں کو راہ راست پر لاتا ہے۔  اور گمراہ تو صرف فاسقوں کو ہی کرتا ہے۔

۲۷.     وہ لوگ اللہ تعالیٰ  کے مضبوط عہد کو  توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ  نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

۲۸.      تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو؟ حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں زندہ کیا۔ پھر تمہیں مار ڈالے گا پھر زندہ کرے گا  پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

۲۹.      وہ اللہ جس نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا  پھر آسمان کی طرف قصد کیا  اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان  بنایا اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔

۳۰.      اور جب تیرے رب نے فرشتوں  سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں تو انہوں  نے کہا کہ ایسے شخص کو کیوں پیدا کرتا ہے جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے ہم تیری تسبیح اور پاکیزگی بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ  نے فرمایا، جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔

۳۱.       اور اللہ تعالیٰ  نے آدم کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا، اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ

۳۲.      ان سب نے کہا اے اللہ! تیری ذات پاک ہے ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھا رکھا ہے، پورے علم و حکمت والا تو تو ہی ہے۔

۳۳.     اللہ تعالیٰ  نے (حضرت) آدم علیہ السلام سے فرمایا تم ان کے نام بتا دو۔ جب انہوں نے بتا دئیے تو فرمایا کہ میں نے تمہیں (پہلے ہی) نہ کہا تھا زمین اور آسمان کا غیب میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے جو تم ظاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔

۳۴.     اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو  تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ اس نے انکار کیا  اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں ہو گیا۔

۳۵.     اور ہم نے کہہ دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو  اور جہاں کہیں سے چاہو با فراغت کھاؤ پیو، لیکن اس درخت کے قریب بھی نہ جانا  ورنہ ظالم ہو جاؤ گے۔

۳۶.      لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں سے نکلوا دیا  اور ہم نے کہہ دیا کہ اتر جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو  اور ایک وقت مقرر تک تمہارے لئے زمین میں ٹھہرنا اور فائدہ اٹھانا ہے۔

۳۷.     (حضرت) آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں  اور اللہ تعالیٰ  نے ان کی توبہ قبول فرمائی، بیشک وہ ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔

۳۸.     ہم نے کہا تم سب یہاں سے چلے جاؤ، جب کبھی تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے تو اس کی تابعداری کرنے والوں پر کوئی خوف و غم نہیں۔

۳۹.      اور جو انکار کر کے ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، وہ جہنمی ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

۴۰.      بنی اسرائیل  میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرو۔

۴۱.       اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو میں نے تمہاری کتابوں کی تصدیق میں نازل فرمائی ہے اور اس  کے ساتھ تم ہی پہلے کافر نہ بنو اور میری آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمتوں پر  نہ فروخت کرو اور صرف مجھ ہی سے ڈرو۔

۴۲.      اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ، تمہیں تو خود اس کا علم ہے۔

۴۳.     اور نمازوں کو قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

۴۴.     کیا لوگوں کو بھلائیوں کا حکم کرتے ہو؟ اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو باوجودیکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا اتنی بھی تم میں سمجھ نہیں؟۔

۴۵.     صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو  یہ چیز شاق ہے، مگر ڈر رکھنے والوں پر۔

۴۶.      جو جانتے ہیں کہ بے شک وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے اور یقیناً اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

۴۷.     اے اولاد یعقوب میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی اور میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی

۴۸.     اس دن سے ڈرتے رہو جب کوئی کسی کو نفع نہ دے سکے گا اور نہ شفاعت اور نہ سفارش قبول ہو گی اور نہ کوئی بدلہ اس کے عوض لیا جائے گا اور نہ مدد کئے جائیں گے۔

۴۹.      اور جب ہم نے تمہیں فرعونیوں  سے نجات دی جو تمہیں بدترین عذاب دیتے تھے جو تمہارے لڑکوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے، اس نجات دینے میں تمہارے رب کی بڑی مہربانی تھی۔

۵۰.      اور جب ہم نے تمہارے لئے  دریا چیر (پھاڑ) دیا اور تمہیں اس سے پار کر دیا اور فرعونیوں کو تمہاری نظروں کے سامنے اس میں ڈبو دیا۔

۵۱.       اور ہم نے (حضرت) موسیٰ علیہ السلام سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا، پھر تم نے اس کے بعد بچھڑا پوجنا شروع کر دیا اور ظالم بن گئے۔

۵۲.      لیکن ہم نے باوجود اس کے پھر بھی تمہیں معاف کر دیا، تاکہ تم شکر کرو۔

۵۳.     اور ہم نے (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کو تمہاری ہدایت کے لئے کتاب اور معجزے عطا فرمائے

۵۴.     جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو، اپنے آپ کو آپس میں قتل کرو، تمہاری بہتری اللہ تعالیٰ  کے نزدیک اسی میں ہے، تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی، وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے۔

۵۵.     اور (تم اسے بھی یاد کرو) تم نے (حضرت) موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ جب تک ہم اپنے رب کو سامنے دیکھ نہ لیں گے ہرگز ایمان نہ لائیں گے (جس گستاخی پر سزا میں) تم پر تمہارے  دیکھتے ہوئے بجلی گری۔

۵۶.      لیکن پھر اس لئے کہ تم شکر گزاری کرو، اس موت کے بعد بھی ہم نے تمہیں زندہ کر دیا

۵۷.     اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من و سلوا اتارا  (اور کہہ دیا) کہ ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھاؤ ‘ اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا، البتہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔

۵۸.     اور ہم نے تم سے کہا کہ اس بستی میں  جاؤ اور جو کچھ جہاں کہیں سے چاہو با فراغت کھاؤ پیو اور دروازے میں سجدے کرتے ہوئے گزرو  اور زبان سے کہو  ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے۔

۵۹.      پھر ان ظالموں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی  بدل ڈالی، ہم نے بھی ان ظالموں پر ان کے فسق اور نافرمانی کی وجہ سے آسمانی عذاب  نازل کیا۔

۶۰.      جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے کہا اپنی لاٹھی پتھر پر مارو، جس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور  ہر گروہ نے اپنا چشمہ پہچان لیا، (اور ہم نے کہہ دیا کہ) اللہ تعالیٰ  کا رزق کھاؤ پیو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔

۶۱.       اور جب تم نے کہا اے موسیٰ! ہم سے ایک ہی قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہ ہو سکے گا، اس لئے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمیں زمین کی پیداوار ساگ، ککڑی، گیہوں مسور اور پیاز دے آپ نے فرمایا بہتر چیز کے بدلے ادنیٰ چیز کیوں طلب کرتے ہو! اچھا شہر میں جاؤ وہاں تمہاری چاہت کی یہ سب چیزیں ملیں گی۔ ان پر ذلت اور مسکینی ڈال دی گئی اور اللہ کا غضب لے کر وہ لوٹے  یہ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ  کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے نبیوں کو ناحق تنگ کرتے  تھے، ان کی نافرمانیاں اور زیادتیوں کا نتیجہ ہے۔

۶۲.      ہم مسلمان ہوں، یہودی ہوں  نصاریٰ ہوں یا صابی  ہوں جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ  پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ان کے اجر ان کے پاس ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ اداسی۔

۶۳.      جب ہم نے تم سے وعدہ لیا اور تم پر طور پہاڑ لا کھڑا کر دیا  (اور کہا) جو ہم نے تمہیں دیا اسے مضبوطی سے تھام لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو تاکہ تم بچ سکو۔

۶۴.      لیکن تم اس کے بعد بھی پھر گئے، پھر اگر اللہ تعالیٰ  کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم نقصان والے ہو جاتے۔

۶۵.      اور یقیناً تمہیں ان لوگوں کا علم بھی ہے جو تم  میں سے ہفتہ کے بارے میں حد سے بڑھ گئے اور ہم نے بھی کہہ دیا کہ تم ذلیل بندر بن جاؤ۔

۶۶.      اسے ہم نے اگلوں پچھلوں کے لئے عبرت کا سبب بنا دیا اور پرہیزگاروں کے لئے وعظ و نصیحت کا۔

۶۷.     اور (حضرت) موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ  تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے  تو انہوں نے کہا ہم سے مذاق کیوں کرتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا میں ایسا جاہل ہونے سے اللہ تعالیٰ  کی پناہ پکڑتا ہوں۔

۶۸.      انہوں نے کہا اے موسیٰ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ  ہمارے لئے اس کا حلیہ بیان کر دے، آپ نے فرمایا سنو وہ گائے نہ تو بالکل بڑھیا ہو، نہ بچہ، بلکہ درمیانی عمر کی نوجوان ہو، اب جو تمہیں حکم دیا گیا ہے بجا لاؤ۔

۶۹.      وہ پھر کہنے لگے کہ دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ  بیان کرے کہ اس کا رنگ کیا ہے؟ فرمایا وہ کہتا ہے وہ گائے زرد رنگ کی ہو، چمکیلا اور دیکھنے والوں کو بھلا لگنے والا اس کا رنگ ہو۔

۷۰.     وہ کہنے لگے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمیں اس کی مزید حلیہ بتلائے، اس قسم کی گائے تو بہت ہیں پتہ نہیں چلتا، اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت والے ہو جائیں گے۔

۷۱.      آپ نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ گائے کام کرنے والی زمین میں ہل جوتنے والی اور کھیتوں کو پانی پلانے والی نہیں، وہ تندرست اور بے داغ ہو۔ انہوں نے کہا، اب آپ نے حق واضح کر دیا گو وہ حکم برادری کے قریب نہ تھے، لیکن اسے مانا اور وہ گائے ذبح کر دی۔

۷۲.     جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا، پھر اس میں اختلاف کرنے لگے اور تمہاری پوشیدگی کو اللہ تعالیٰ  ظاہر کرنے والا تھا۔

۷۳.     ہم نے کہا اس گائے کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر لگا دو ( وہ جی اٹھے گا) اس طرح اللہ مردوں کو زندہ کر کے تمہیں تمہاری عقلمندی کے لئے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے،

۷۴.     پھر اس کے بعد تمہارے دل پتھر جیسے بلکہ اس بھی زیادہ سخت ہو گئے  بعض پتھروں سے نہریں بہہ نکلتی ہیں، اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے، اور بعض اللہ کے ڈر سے گر گر پڑتے ہیں  اور تم اللہ تعالیٰ  کو اپنے اعمال سے غافل نہ جانو۔

۷۵.     کیا تمہاری خواہش ہے کہ یہ لوگ ایماندار بن جائیں، حالانکہ ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو کلام اللہ کو سن کر، عقل و علم والے ہوتے ہوئے، پھر بھی بدل ڈالا کرتے ہیں۔

۷۶.     جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو اپنی ایمانداری ظاہر کرتے ہیں  اور جب آپس میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو کیوں وہ باتیں پہنچاتے ہو جو اللہ تعالیٰ  نے تمہیں سکھائی ہیں، کیا جانتے نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ  کے پاس تم پر ان کی حجت ہو جائے گی۔

۷۷.     کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ  ان کی پوشیدگی اور ظاہر داری کو جانتا ہے۔

۷۸.     ان میں سے بعض ان پڑھ ایسے بھی ہیں جو کتاب کے صرف ظاہری الفاظ کو ہی جانتے ہیں صرف گمان اور اٹکل ہی پر ہیں۔

۷۹.      ان لوگوں کے لئے ـ “ویل” ہے جو اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتاب کو اللہ تعالیٰ  کی طرف کی کہتے ہیں اور اس طرح دنیا کماتے ہیں، ان کے ہاتھوں کی لکھائی کو اور ان کی کمائی کو ہلاکت اور افسوس ہے۔

۸۰.      یہ لوگ کہتے ہیں ہم تو چند روز جہنم میں رہیں گے، ان سے کہو کہ تمہارے پاس اللہ کا کوئی پروانہ ہے  اگر ہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ  اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا بلکہ تم اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاتے ہو  جنہیں تم نہیں جانتے۔

۸۱.       یقیناً جس نے برے کام کئے اور اس کی نافرمانیوں نے اسے گھیر لیا اور وہ ہمیشہ کے لئے جہنمی ہے۔

۸۲.      اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک کام کریں وہ جنتی ہیں جو جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔

۸۳.     اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے و عدہ لیا کہ تم اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، اسی طرح قرابتداروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اور لوگوں کو اچھی باتیں کہنا، نمازیں قائم رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہا کرنا، لیکن تھوڑے سے لوگوں کے علاوہ تم سب پھر گئے اور منہ موڑ لیا۔

۸۴.     اور جب ہم نے تم سے وعدہ لیا کہ آپس میں خون نہ بہانا (قتل نہ کرنا) اور آپس والوں کو جلاوطن مت کرنا، تم نے اقرار کیا اور تم اس کے شاہد بنے۔

۸۵.     لیکن پھر بھی تم نے آپس میں قتل کیا اور آپس کے ایک فرقے کو جلاوطن بھی کیا اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ان کے خلاف دوسرے کی طرف داری کی، ہاں جب وہ قیدی ہو کر تمہارے پاس آئے تم نے ان کے فدیے دیئے، لیکن ان کا نکالنا جو تم پر حرام تھا اس کا کچھ خیال نہ کیا، کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو  تم میں سے جو بھی ایسا کرے، اس کی سزا اس کے سوا کیا ہو کہ دنیا میں رسوائی اور قیامت کے عذاب کی مار، اور اللہ تعالیٰ  تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔

۸۶.      یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا ہے، ان کے نہ تو عذاب ہلکے ہوں گے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

۸۷.     ہم نے حضرت موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے پیچھے اور رسول بھیجے اور ہم نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو روشن دلیلیں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کروائی  لیکن جب کبھی تمہارے پاس رسول وہ چیز لائے جو تمہاری طبیعتوں کے خلاف تھی، تم نے جھٹ سے تکبر کیا، پس بعض کو تو جھٹلا دیا اور بعض کو قتل بھی کر ڈالا۔

۸۸.     یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف والے ہیں  نہیں نہیں بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے انہیں اللہ تعالیٰ  نے ملعون کر دیا ان کا ایمان بہت ہی تھوڑا ہے

۸۹.      اور ان کے پاس جب اللہ تعالیٰ  کی کتاب ان کی کتاب کو سچا کرنے والی آئی، حالانکہ کہ پہلے یہ خود اس کے ذریعہ  کافروں پر فتح چاہتے تھے تو باوجود آ جانے اور باوجود پہچان لینے کے پھر کفر کرنے لگے، اللہ تعالیٰ  کی لعنت ہو کافروں پر۔

۹۰.      بہت بری ہے وہ چیز جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا وہ انکا کفر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ  کی طرف سے نازل شدہ چیز کے ساتھ محض اس بات سے جل کر کہ اللہ تعالیٰ  نے اپنا فضل جس بندہ پر چاہا نازل فرمایا اس کے باعث یہ لوگ غضب پر غضب کے مستحق ہو گۓ اور ان کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔

۹۱.       اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ  کی اتاری ہوئی کتاب پر ایمان لاؤ تو کہہ دیتے ہیں کہ جو ہم پر اتاری گئی اس پر ہمارا ایمان ہے  حالانکہ اس کے بعد والی کے ساتھ جو ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے، کفر کرتے ہیں، اچھا ان سے یہ تو دریافت کریں اگر تمہارا ایمان پہلی کتابوں پر ہے تو پھر تم نے اگلے انبیاء کو کیوں قتل کیا؟۔

۹۲.      تمہارے پاس تو موسیٰ یہی دلیلیں لے کر آئے لیکن تم نے پھر بھی بچھڑا پوجا  تم ہو ہی ظالم۔

۹۳.      جب ہم نے تم سے وعدہ لیا اور تم پر طور کو کھڑا کر دیا اور کہہ دیا کہ ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوط تھامو اور سنو، تو انہوں نے کہا، کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی  اور ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت (گویا) پلا دی گئی  بسبب ان کے کفر کے  ان سے کہہ دیجئے کہ تمہارا ایمان تمہیں بڑا حکم دے رہا ہے، اگر تم مومن ہو۔

۹۴.      آپ کہہ دیجئے اگر آخرت کا گھر صرف تمہارے ہی لئے ہے، اللہ کے نزدیک اور کسی کے لئے نہیں، تو آؤ اپنی سچائی کے ثبوت میں موت طلب کرو۔

۹۵.      لیکن اپنی کرتوتوں کو دیکھتے ہوئے کبھی بھی موت نہیں مانگیں گے  اللہ تعالیٰ  ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

۹۶.      بلکہ سب سے زیادہ دنیا کی زندگی کا حریص اے نبی، آپ انہیں کو پائیں گے، یہ حرص زندگی میں مشرکوں سے بھی زیادہ ہیں  ان میں سے تو ہر شخص ایک ایک ہزار سال کی عمر چاہتا ہے، گو یہ عمر دیا جانا بھی انہیں عذاب سے نہیں چھڑا سکتا، اللہ تعالیٰ  ان کے کاموں کو بخوبی دیکھ رہا ہے۔

۹۷.      (اے نبی) آپ کہہ دیجئے کہ جو جبرائیل کا دشمن ہو جس نے آپ کے دل پر پیغام باری تعالیٰ  اتارا ہے جو پیغام ان کے پاس کی کتاب کی تصدیق کرنے والا اور مومنوں کو ہدایت اور خوشخبری دینے والا ہے۔

۹۸.      (تو اللہ بھی اس کا دشمن ہے) جو شخص اللہ کا اور اس کے فرشتوں اور رسولوں کا اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو، ایسے کافروں کا دشمن خود اللہ ہے

۹۹.       اور یقیناً ہم نے آپ کی طرف روشن دلیلیں بھیجی ہیں جن کا انکار سوائے بدکاروں کے کوئی نہیں کرتا۔

۱۰۰.     یہ لوگ جب کبھی کوئی عہد کرتے ہیں تو ان کی ایک نہ ایک جماعت اسے توڑ دیتی ہے، بلکہ ان میں سے اکثر ایمان سے خالی ہیں۔

۱۰۱.     جب کبھی ان کے پاس اللہ کا کوئی رسول ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا آیا، ان اہل کتاب کے ایک فرقہ نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے ڈال دیا کہ جانتے ہی نہ تھے۔

۱۰۲.     ا ور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وہ لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے  اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پر جادو اتارا گیا تھا  وہ دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے  جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں  تو کفر نہ کر پھر لوگ ان سے وہ سیکھتے جس سے خاوند و بیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وہ بغیر اللہ تعالیٰ  کی مرضی کے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے  یہ لوگ وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نہ نفع پہنچا سکے، اور وہ جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے۔

۱۰۳.    اگر یہ لوگ صاحب ایمان متقی بن جاتے تو اللہ تعالیٰ  کی طرف سے بہترین ثواب انہیں ملتا، اگر یہ جانتے ہوتے۔

۱۰۴.    اے ایمان والو تم (نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو) ‘ راعنا ‘ نہ کہا کرو، بلکہ ‘ انظرنا ‘ کہو  یعنی ہماری طرف دیکھئے اور سنتے رہا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔

۱۰۵.    نہ تو اہل کتاب کے کافر اور نہ مشرکین چاہتے ہیں کہ تم پر تمہارے رب کی کوئی بھلائی نازل ہو (ان کے اس حسد سے کیا ہوا) اللہ تعالیٰ  جسے چاہے اپنی رحمت خصوصیت سے عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ  بڑے فضل والا ہے

۱۰۶.     جس آیت کو ہم منسوخ کر دیں، یا بھلا دیں اس سے بہتر یا اس جیسی اور لاتے ہیں، کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قادر ہے۔

۱۰۷.    کیا تجھے علم نہیں کہ زمین اور آسمان کا مالک اللہ ہی کے لئے ہے  اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی ولی اور مددگار نہیں۔

۱۰۸.    کیا تم اپنے رسول سے یہی پوچھنا چاہتے ہو جو اس سے پہلے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تھا  (سنو) ایمان کو کفر سے بدلنے والا سیدھی راہ سے بھٹک جاتا ہے۔

۱۰۹.     ان اہل کتاب کے اکثر لوگ باوجود حق واضح ہو جانے کے محض حسد و بغض کی بنا پر تمہیں بھی ایمان سے ہٹا دینا چاہتے ہیں، تم بھی معاف کرو اور چھوڑو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ  اپنا حکم لائے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

۱۱۰.     تم نمازیں قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہا کرو اور جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے، سب کچھ اللہ کے پاس پالو گے، بیشک اللہ تعالیٰ  تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔

۱۱۱.      یہ کہتے ہیں کہ جنت میں یہود و نصاریٰ کے سوا اور کوئی نہ جائے گا، یہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں، ان سے کہو کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو۔

۱۱۲.     سنو جو بھی اپنے آپ کو خلوص کے ساتھ اللہ کے سامنے جھکا دے۔  بیشک اسے اس کا رب پورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو کوئی خوف ہو گا، نہ غم اور اداسی۔

۱۱۳.     یہود کہتے ہیں کہ نصرانی حق پر نہیں  اور نصرانی کہتے ہیں کہ یہودی حق پر نہیں، حالانکہ یہ سب لوگ تورات پڑھتے ہیں۔ اسی طرح ان ہی جیسی بات بے علم بھی کہتے ہیں  قیامت کے دن اللہ ان کے اس اختلاف کا فیصلہ ان کے درمیان کر دے گا۔

۱۱۴.     اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ  کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ  کے ذکر کئے جانے کو روکے  ان کی بربادی کی کوشش کرے  ایسے لوگوں کو خوف کھاتے ہوئے ہی اس میں جانا چاہیے  ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے۔

۱۱۵.     اور مشرق اور مغرب کا مالک اللہ ہی ہے۔ تم جدھر بھی منہ کرو ادھر ہی اللہ کا منہ ہے  اللہ تعالیٰ  کشادگی اور وسعت والا اور بڑے علم والا ہے۔

۱۱۶.     یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ  کی اولاد ہے، (نہیں بلکہ) وہ پاک ہے زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اس کی ملکیت میں ہے اور ہر ایک اس کا فرمانبردار ہے

۱۱۷.     وہ زمین اور آسمانوں کو پیدا کرنے والا ہے، وہ جس کام کو کرنا چاہے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا، بس وہی ہو جاتا ہے

۱۱۸.     اسی طرح بے علم لوگوں نے بھی کہا کہ خود اللہ تعالیٰ  ہم سے باتیں کیوں نہیں کرتا، یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی  اسی طرح ایسی ہی بات ان کے اگلوں نے بھی کہی تھی، ان کے اور ان کے دل یکساں ہو گئے۔ ہم نے تو یقین والوں کے لئے نشانیاں بیان کر دیں۔

۱۱۹.      ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور جہنمیوں کے بارے میں آپ سے پرسش نہیں ہو گی۔

۱۲۰.     آپ سے یہودی اور نصاریٰ ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں  آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے  اور اگر آپ نے باوجود اپنے پاس علم آ جانے کے، پھر ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو اللہ کے پاس آپ کا نہ تو کوئی ولی ہو گا اور نہ مددگار

۱۲۱.     جنہیں ہم نے کتاب دی  اور وہ اسے پڑھنے کے حق کے ساتھ پڑھتے ہیں  وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کرے وہ نقصان والا ہے۔

۱۲۲.     اے اولاد یعقوب میں نے جو نعمتیں تم پر انعام کی ہیں انہیں یاد کرو اور میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دے رکھی تھی۔

۱۲۳.    اس دن سے ڈرو جس دن کوئی نفس کسی نفس کو کچھ فائدہ نہ پہنچا سکے گا، نہ کسی شخص سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا نہ اسے کوئی شفاعت نفع دے گی نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

۱۲۴.    جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے کئی کئی باتوں سے آزمایا  اور انہوں نے سب کو پورا کر دیا تو اللہ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنا دوں گا، عرض کرنے لگے میری اولاد کو  فرمایا میرا وعدہ ظالموں سے نہیں۔

۱۲۵.    ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لئے ثواب اور امن و امان کی جگہ بنائی  تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو  ہم نے ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل (علیہما السلام) سے وعدہ لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو۔

۱۲۶.     جب ابراہیم نے کہا، اے پروردگار تو اس جگہ کو امن والا شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اللہ تعالیٰ  پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہوں پھلوں کی روزیاں دے  اللہ تعالیٰ  نے فرمایا میں کافروں کو بھی تھوڑا فائدہ دوں گا، پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بے بس کر دوں گا۔ یہ پہنچنے کی بری جگہ ہے۔

۱۲۷.    ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ ہمارے پروردگار تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔

۱۲۸.    اے ہمارے رب ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنی اطاعت گزار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، تو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے

۱۲۹.     اے ہمارے رب ان میں، انہیں میں سے رسول بھیج  جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب و حکمت  سکھائے اور انہیں پاک کرے  یقیناً تو غلبے والا اور حکمت والا ہے۔

۱۳۰.    دین ابراہیمی سے وہ ہی بے رغبتی کرے گا جو محض بیوقوف ہو، ہم نے تو اسے دنیا میں بھی برگزیدہ کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ نیکو کاروں میں سے ہے

۱۳۱.     جب کبھی بھی انہیں ان کے رب نے کہا، فرمانبردار ہو جا، انہوں نے کہا، میں نے رب العالمین کی فرمانبرداری کی۔

۱۳۲.    اس کی وصیت ابراہیم اور یعقوب نے اپنی اولاد کو کی، کہ ہمارے بچو! اللہ تعالیٰ  نے تمہارے لئے اس دین کو پسند فرما لیا، خبردار! تم مسلمان ہی مرنا

۱۳۳.    کیا (حضرت) یعقوب کے انتقال کے وقت تم موجود تھے؟ جب  انہوں نے اپنی اولاد کو کہا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ تو سب نے جواب دیا کہ آپ کے معبود کی اور آپ کے آباؤ اجداد ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہم السلام کے معبود کی جو معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔

۱۳۴.    یہ جماعت تو گزر چکی، جو انہوں نے کہا وہ ان کے لئے ہے اور جو تم کرو گے تمہارے لئے ہے۔ ان کے اعمال کے بارے میں تم نہیں پوچھے جاؤ گے

۱۳۵.    یہ کہتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔ تم کہو بلکہ صحیح راہ پر ملت ابراہیمی والے ہیں، اور ابراہیم خالص اللہ کے پرستار تھے اور مشرک نہ تھے۔

۱۳۶.    اے مسلمانوں! تم سب کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور اس چیز پر بھی جو ابراہیم، اسماعیل اسحاق اور یعقوب علیہم السلام اور ان کی اولاد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ کی جانب سے موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام اور دوسرے انبیاء علیہم السلام کو دیئے گئے۔ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔

۱۳۷.    اگر وہ تم جیسا ایمان لائیں تو ہدایت پائیں، اور اگر منہ موڑیں تو وہ صریح اختلاف میں ہیں، اللہ تعالیٰ  ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا  اور وہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔

۱۳۸.    اللہ کا رنگ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ  سے اچھا رنگ کس کا ہو گا  ہم تو اسی کی عبادت کرتے ہیں۔

۱۳۹.     آپ کہہ دیجئے کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو جو ہمارا اور تمہارا رب ہے، ہمارے لئے ہمارے عمل ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال، ہم تو اسی کے لئے مخلص ہیں

۱۴۰.    کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد یہودی یا نصرانی تھے؟ کہہ دو کیا تم زیادہ جانتے ہو۔ یا اللہ تعالیٰ   اللہ کے پاس شہادت چھپانے والے سے زیادہ ظالم اور کون ہے؟ اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں۔

۱۴۱.     یہ امت ہے جو گزر چکی، جو انہوں نے کیا ان کے لئے ہے اور جو تم نے کیا وہ تمہارے لئے، تم ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہ کئے جاؤ گے۔

۱۴۲.    عنقریب یہ لوگ کہیں گے کہ جس قبلہ پر یہ تھے اس سے انہیں کس چیز نے ہٹایا؟ آپ کہہ دیجئے کہ مشرق اور مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ  ہی ہے وہ جسے چاہے سیدھی راہ کی ہدایت کر دے۔

۱۴۳.    ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا  تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم تم پر گواہ ہو جائیں جس قبلہ پر تم پہلے تھے اسے ہم نے صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کہ رسول کا سچا تابعدار کون ہے اور کون ہے جو اپنی ایڑیوں کے بل پلٹ جاتا ہے  گو یہ کام مشکل ہے، مگر جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے ان پر کوئی مشکل نہیں اللہ تعالیٰ  تمہارے اعمال ضائع نہیں کرے گا  اللہ تعالیٰ  لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے والا ہے۔

۱۴۴.    ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب آپ کو ہم اس قبلہ کی طرف متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں۔ اہل کتاب کو اس بات کے اللہ کی طرف سے برحق ہونے کا قطعی علم ہے  اور اللہ تعالیٰ  ان اعمال سے غافل نہیں جو یہ کرتے ہیں۔

۱۴۵.    اور آپ اگرچہ اہل کتاب کو تمام دلیلیں دے دیں لیکن وہ آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے  اور نہ آپ کے قبلے کو ماننے والے ہیں  اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کو ماننے والے ہیں  اور اگر آپ باوجود کہ آپ کے پاس علم آ چکا ہے پھر بھی ان کی خواہشوں کے پیچھے لگ جائیں تو بالیقین آپ بھی ظالموں میں ہو جائیں گے۔

۱۴۶.    جنہیں ہم نے کتاب دی وہ تو اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں کو پہچانے، ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر پھر چھپاتی ہے۔

۱۴۷.    آپ کے رب کی طرف سے یہ سراسر حق ہے، خبردار آپ شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

۱۴۸.    ہر شخص ایک نہ ایک طرف متوجہ ہو رہا ہے  تم اپنی نیکیوں کی طرف دوڑو۔ جہاں کہیں بھی تم ہو گے، اللہ تمہیں لے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قادر ہے۔

۱۴۹.     آپ جہاں سے نکلیں اپنا منہ (نماز کے لئے) مسجد حرام کی طرف کر لیا کریں، یعنی یہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ تعالیٰ  بے خبر نہیں۔

۱۵۰.    اور جس جگہ سے آپ نکلیں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور جہاں کہیں تم ہو اپنے چہرے اسی طرف کیا کرو  تاکہ لوگوں کی کوئی حجت باقی نہ رہ جائے  سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا ہے  تم ان سے نہ ڈرو  مجھ سے ہی ڈرو تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور اس لئے بھی کہ تم راہ راست پاؤ۔

۱۵۱.     جس  طرح ہم نے تم میں تمہیں سے رسول بھیجا اور ہماری آیتیں تمہارے سامنے تلاوت کرتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت اور وہ چیزیں سکھاتا ہے جس سے تم بے علم تھے۔

۱۵۲.    اس لئے تم میرا ذکر کرو میں بھی تمہیں یاد کروں گا، میری شکر گزاری کرو اور ناشکری سے بچو

۱۵۳.    اے ایمان والو صبر اور نماز کے ذریعہ سے مدد چاہو، اللہ تعالیٰ  صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے

۱۵۴.    اور اللہ تعالیٰ  کی راہ کے شہیدوں کو مردہ مت کہو  وہ زندہ ہیں، لیکن تم نہیں سمجھتے۔

۱۵۵.    اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔

۱۵۶.    جنہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ  کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

۱۵۷.    ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

۱۵۸.    صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں  اس لئے بیت اللہ کا حج و عمرہ کرنے والے پر ان کا طواف کر لینے میں بھی کوئی گناہ نہیں  اپنی خوشی سے کرنے والوں کا اللہ قدردان ہے اور انہیں خوب جاننے والا ہے۔

۱۵۹.     جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لئے بیان کر چکے ہیں، ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔

۱۶۰.     مگر وہ لوگ جو توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں اور بیان کر دیں تو میں ان کی توبہ قبول کر لیتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔

۱۶۱.     یقیناً جو کفار اپنے کفر میں ہی مر جائیں، ان پر اللہ تعالیٰ  کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔

۱۶۲.     جس میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی۔

۱۶۳.    تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں  وہ بہت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے۔

۱۶۴.    آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات دن کا ہیر پھیر، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیزیں کو لئے ہوئے سمندروں میں چلنا۔ آسمان سے پانی اتار کر، مردہ زمین کو زندہ کر دینا  اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، ان میں عقلمندوں کے لئے قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں۔

۱۶۵.    بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں، جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے  اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں  کاش کہ مشرک لوگ جانتے جب کہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر (جان لیں گے) کہ تمام طاقت اللہ ہی کو ہے اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے (تو ہرگز شرک نہ کرتے)۔

۱۶۶.     جس وقت پیشوا لوگ اپنے تابعداروں سے بیزار ہو جائیں گے اور عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور کل رشتے ناتے ٹوٹ جائیں گے۔

۱۶۷.    اور تابعدار لوگ کہنے لگیں گے، کاش ہم دنیا کی طرف دوبارہ جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہو جائیں جیسے یہ ہم سے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ  انہیں ان کے اعمال دکھائے گا ان کو حسرت دلانے کو، یہ ہرگز جہنم سے نہیں نکلیں گے۔

۱۶۸.    لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھاؤ پیو اور شیطانی راہ پر مت چلو  وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

۱۶۹.     وہ تمہیں صرف برائی اور بےحیائی کا اور اللہ تعالیٰ  پر ان باتوں کے کہنے کا حکم دیتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں۔

۱۷۰.    اور ان سے جب کبھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ  کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں ہم اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، گو ان کے باپ دادے بےعقل اور گم کردہ راہ ہوں۔

۱۷۱.     کفار کی مثال ان جانوروں کی طرح ہے جو اپنے چرواہے کی صرف پکار اور آواز ہی سنتے ہیں (سمجھتے نہیں) وہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں، انہیں عقل نہیں۔

۱۷۲.    اے ایمان والو جو پاکیزہ روزی ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ پیو اور اللہ تعالیٰ  کا شکر کرو، اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے رہو۔

۱۷۳.    تم پر مردہ اور (بہا ہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام پکارا گیا ہو حرام ہے  پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو، اس پر ان کے کھانے میں کوئی پابندی نہیں، اللہ تعالیٰ  بخشنے والا مہربان ہے۔

۱۷۴.    بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ  کی اتاری ہوئی کتاب چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں، یقین مانو کہ یہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہ کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

۱۷۵.    یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو مغفرت کے بدلے خرید لیا ہے، یہ لوگ آگ کا عذاب کتنا برداشت کرنے والے ہیں۔

۱۷۶.    ان عذابوں کا باعث یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے سچی کتاب اتاری اور اس کتاب میں اختلاف کرنے والے یقیناً دور کے خلاف میں ہیں۔

۱۷۷.   ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں  بلکہ حقیقتاً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ  پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرے، جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔

۱۷۸.    اے ایمان والو تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد، آزاد کے بدلے , غلام , غلام کے بدلے عورت ,عورت کے بدلے  ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہیے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہیے  تمہارے رب کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے  اس کے بعد بھی جو سرکشی کرے اسے دردناک عذاب ہو گا۔

۱۷۹.    عقلمندو! قصاص میں تمہارے لئے زندگی ہے اس کے باعث تم (قتل ناحق سے) رکو گے۔

۱۸۰.    تم پر فرض کر دیا گیا کہ جب تم میں سے کوئی مرنے لگے اور مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لئے اچھائی کے ساتھ وصیت کر جائے  پرہیزگاروں پر یہ حق اور ثابت ہے۔

۱۸۱.     اب جو شخص اسے سننے کے بعد بدل دے اس کا گناہ بدلنے والے پر ہی ہو گا، واقع ہی اللہ تعالیٰ  سننے والا اور جاننے والا ہے۔

۱۸۲.    ہاں جو شخص وصیت کرنے والے کی جانبداری یا گناہ کی وصیت کر دینے سے ڈرے  پس وہ ان میں آپس میں صلح کرا دے تو اس پر گناہ نہیں، اللہ تعالیٰ  بخشنے والا مہربان ہے۔

۱۸۳.    اے ایمان والو تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

۱۸۴.    گنتی کے چند دن ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں گنتی پورا کر لے  اور اس کی طاقت رکھنے والے  فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں، پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وہ اس کے لئے بہتر ہے  لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم با علم ہو۔

۱۸۵.    ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا  جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اور روزہ رکھنا چاہے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ  کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں وہ چاہتا ہے تم گنتی پوری کر لو اور اللہ تعالیٰ  کی دی ہوئی ہدایت پر اس طرح کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔

۱۸۶.    جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں  اس لئے لوگوں کو بھی چاہیے وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔

۱۸۷.    روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں سے جماع تمہارے لئے حلال کیا گیا وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو تمہاری پوشیدہ خیانتوں کا اللہ تعالیٰ  کو علم ہے اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرما لیا اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ  کی لکھی ہوئی چیز کی تلاش کرنے کی اجازت ہے۔ تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے  پھر رات تک روزے کو پورا کرو  اور عورتوں سے اس وقت مباشرت نہ کرو جب کہ تم مسجدوں میں اعتکاف میں ہو، یہ اللہ تعالیٰ  کی حدود ہیں تم ان کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ  اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ وہ بچیں۔

۱۸۸.    اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھایا کرو، نہ حاکموں کو رشوت پہنچا کر کسی کا کچھ مال ظلم و ستم سے اپنا کر لیا کرو، حالانکہ تم جانتے ہو۔

۱۸۹.     لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں (کی عبادت) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لئے ہے (احرام کی حالت میں ) اور گھروں کے پیچھے سے تمہارا آنا کچھ نیکی نہیں، بلکہ نیکی والا وہ ہے جو متقی ہو اور گھروں میں تو دروازوں میں سے آیا کرو  اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ

۱۹۰.     لڑو اللہ کی راہ میں جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو  اللہ تعالیٰ  زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا

۱۹۱.      انہیں مارو جہاں بھی پاؤ اور انہیں نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے اور (سنو) فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے  اور مسجد حرام کے پاس ان سے لڑائی نہ کرو جب تک کہ یہ خود تم سے نہ لڑیں، اگر یہ تم سے لڑیں تو تم بھی انہیں مارو  کافروں کا بدلہ یہی ہے۔

۱۹۲.     اگر یہ باز آ جائیں تو اللہ تعالیٰ  بخشنے والا مہربان ہے۔

۱۹۳.     ان سے لڑو جب تک کہ فتنہ نہ مٹ جائے اور اللہ تعالیٰ  کا دین غالب نہ آ جائے اگر یہ رک جائیں (تو تم بھی رک جاؤ) زیادتی تو صرف ظالموں پر ہی ہے

۱۹۴.     حرمت والے مہینے حرمت والے مہینوں کے بدلے ہیں اور حرمتیں ادلے بدلے کی ہیں  جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اسی کے مثل زیادتی کرو جو تم پر کی ہے اور اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ  پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

۱۹۵.     اللہ تعالیٰ  کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو  اور سلوک و احسان کرو اللہ تعالیٰ  احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

۱۹۶.     حج اور عمرے کو اللہ تعالیٰ  کے لئے پورا کرو  ہاں اگر تم روک لئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالو  اور سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی قربان گاہ تک نہ پہنچ جائے  البتہ تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈا لے) تو اس پر فدیہ ہے خواہ روزے رکھ لے خواہ صدقہ دے دے، خواہ قربانی کرے  پس جب تم امن کی حالت میں ہو جاؤ تو جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کرے پس اسے جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالے جسے طاقت نہ ہو تو وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھ لے اور سات واپسی پر  یہ پورے دس ہو گئے یہ حکم ان کے لئے ہے جو مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں لوگو! اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ  سخت عذاب دینے والا ہے۔

۱۹۷.    حج کے مہینے مقرر ہیں  اس لئے جو شخص ان میں حج لازم کر لے وہ اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے، گناہ کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے  تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالیٰ  باخبر ہے اور اپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو، سب سے بہتر توشہ اللہ تعالیٰ  کا ڈر ہے  اور اے عقلمندو! مجھ سے ڈرتے رہا کرو۔

۱۹۸.     تم پر اپنے رب کا فضل تلاش کرنے میں کوئی گناہ نہیں  جب تم عرفات سے لوٹو تو مسجد حرام کے پاس ذکر الٰہی کرو اور اس کا ذکر کرو جیسے کہ اس نے تمہیں ہدایت دی ہے، تم اس سے پہلے راہ بھولے ہوئے تھے۔

۱۹۹.     پھر تم اس جگہ سے لوٹو جس جگہ سے سب لوگ لوٹتے ہیں  اور اللہ تعالیٰ  سے بخشش طلب کرتے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ  بخشنے والا مہربان ہے۔

۲۰۰.    پھر جب تم ارکان حج ادا کر چکو تو اللہ تعالیٰ  کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے آباؤ اجداد کا ذکر کیا کرتے تھے، بلکہ اس سے بھی زیادہ  بعض لوگ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں دے۔ ایسے لوگوں کا آخرت میں بھی کوئی حصہ نہیں۔

۲۰۱.     اور بعض لوگ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں نیکی دے  اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور عذاب جہنم سے نجات دے۔

۲۰۲.    یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ان کے اعمال کا حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ  جلد حساب لینے والا ہے۔

۲۰۳.   اور اللہ تعالیٰ  کی یاد ان گنتی کے چند ایام (ایام تشریق) میں کرو  دو دن کی جلدی کرنے والوں پر بھی کوئی گناہ نہیں اور جو پیچھے رہ جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں  یہ پرہیزگار کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے رہو اور جان رکھو تم سب اس کی طرف جمع کئے جاؤ گے۔

۲۰۴.   بعض لوگوں کی دنیاوی غرض کی باتیں آپ کو خوش کر دیتی ہیں اور وہ اپنے دل کی باتوں پر اللہ کو گواہ کرتا ہے حالانکہ دراصل وہ زبردست جھگڑالو ہے

۲۰۵.   جب وہ لوٹ کر جاتا ہے تو زمین پر فساد پھیلانے کی اور کھیتی اور نسل کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ  فساد کو ناپسند کرتا ہے۔

۲۰۶.    اور جب اسے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو تکبر اور تعصب اسے گناہ پر آمادہ کر دیتا ہے۔ ایسے کے لئے بس جہنم ہی ہے اور یقیناً وہ بدترین جگہ ہے۔

۲۰۷.   اور بعض لوگ وہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ  کی رضامندی کی طلب میں اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں  اور اللہ تعالیٰ  اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔

۲۰۸.   ایمان والو اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو  وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

۲۰۹.    اگر تم باوجود تمہارے پاس دلیل آ جانے کے بھی پھسل جاؤ تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ  غلبہ والا اور حکمت والا ہے

۲۱۰.     کیا لوگوں کو اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس خود اللہ تعالیٰ  بادل کے سائبانوں میں آ جائے اور فرشتے بھی اور کام انتہا تک پہنچا  دیا جائے، اللہ ہی کی طرف سے تمام کام لوٹائے جاتے ہیں۔

۲۱۱.     بنی اسرائیل سے پوچھو تو کہ ہم نے انہیں کس قدر روشن نشانیاں عطا فرمائیں  اور جو شخص اللہ تعالیٰ  کی نعمتوں کو اپنے پاس پہنچ جانے کے بعد بدل ڈالے (وہ جان لے)  کہ اللہ تعالیٰ  بھی سخت عذابوں والا ہے۔

۲۱۲.     کافروں کے لئے دنیا کی زندگی خوب زینت دار کی گئی ہے، وہ ایمان والوں سے ہنسی مذاق کرتے ہیں  حالانکہ پرہیزگار لوگ قیامت کے دن ان سے اعلیٰ ہوں گے، اللہ تعالیٰ  جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے۔

۲۱۳.    در اصل لوگ ایک ہی گروہ تھے  اللہ تعالیٰ  نے نبیوں کو خوشخبریاں دینے اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ سچی کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ لوگوں کے ہر اختلافی امر کا فیصلہ ہو جائے۔ صرف ان ہی لوگوں نے جو اسے دیئے گئے تھے، اپنے پاس دلائل آ چکنے کے بعد آپس کے بغض و عناد کی وجہ سے اس میں اختلاف کیا  اس لئے اللہ پاک نے ایمان والوں کی اس اختلاف میں بھی حق کی طرف اپنی مشیت سے رہبری کی  اور اللہ تعالیٰ  جس کو چاہے سیدھی راہ کی طرف رہبری کرتا ہے۔

۲۱۴.    کیا تم یہ گمان کئے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے  انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایمان والے کہنے لگے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سن رکھو کہ اللہ کی مدد قریب ہی ہے۔

۲۱۵.    آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجئے جو مال تم خرچ کرو وہ ماں باپ کے لئے ہے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے  اور تم جو کچھ بھلائی کرو گے اللہ تعالیٰ  کو اس کا علم ہے۔

۲۱۶.     تم پر جہاد فرض کیا گیا گو وہ تمہیں دشوار معلوم ہو، ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو بری جانو اور دراصل وہی تمہارے لئے بھلی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو اچھی سمجھو، حالانکہ وہ تمہارے لئے بری ہو حقیقی علم اللہ ہی کو ہے، تم محض بے خبر ہو۔

۲۱۷.    لوگ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی بابت سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجیئے کہ ان میں لڑائی کرنا سخت گناہ ہے لیکن اللہ کی راہ سے روکنا اس کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام سے روکنا اور وہاں کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا، اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑا گناہ ہے فتنہ قتل سے بھی بڑا گناہ ہے  یہ لوگ تم سے لڑائی بھڑائی کرتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ اگر ان سے ہو سکے تو تمہیں تمہارے دین سے مرتد کر دیں  اور تم میں سے جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اسی کفر کی حالت میں مریں، ان کے اعمال دنیاوی اور اُخروی سب غارت ہو جائیں گے۔ یہ لوگ جہنمی ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔

۲۱۸.    البتہ ایمان لانے والے، ہجرت کرنے والے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہی رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں، اللہ تعالیٰ  بہت بخشنے والا اور بہت مہربانی کرنے والا ہے۔

۲۱۹.     لوگ آپ سے شراب اور جوئے کا مسئلہ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئے ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے  اور لوگوں کو اس سے دنیاوی فائدہ بھی ہوتا ہے، لیکن ان کا گناہ ان کے نفع سے بہت زیادہ  ہے، آپ سے بھی دریافت کرتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں، تو آپ کہہ دیجئے حاجت سے زیادہ چیز  اللہ تعالیٰ  اسطرح سے اپنے احکام صاف صاف تمہارے لئے بیان فرما رہا ہے تاکہ تم سوچ سمجھ سکو۔

۲۲۰.    امور دینی اور دنیاوی کو۔ اور تجھ سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں  آپ کہہ دیجئے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے، تم اگر ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں، بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا  یقیناً اللہ تعالیٰ  غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔

۲۲۱.     اور شرک کرنے والی عورتوں سے تاوقتیکہ وہ ایمان نہ لائیں تم نکاح نہ کرو  ایماندار لونڈی بھی شرک کرنے والی آزاد عورت سے بہتر ہے، گو تمہیں مشرکہ ہی اچھی لگتی ہو اور نہ شرک کرنے والے مردوں کے نکاح میں اپنی عورتوں کو دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں، ایماندار غلام آزاد مشرک سے بہتر ہے، گو مشرک تمہیں اچھا لگے، یہ لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت کی طرف اور اپنی بخشش کی طرف اپنے حکم سے بلاتا ہے وہ اپنی آیتیں لوگوں کے لئے بیان فرما رہا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

۲۲۲.    آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجئے کہ وہ گندگی ہے، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو  اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ ہاں جب وہ پاک ہو جائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے  اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

۲۲۳.   تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، اپنی کھیتوں میں جس طرح چاہو  آؤ اور اپنے لئے (نیک اعمال) آگے بھیجو اور اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ تم اس سے ملنے والے ہو اور ایمان والوں کو خوشخبری دیجئے۔

۲۲۴.   اور اللہ تعالیٰ  کو اپنی قسموں کا (اس طرح) نشانہ نہ بناؤ کہ بھلائی اور پرہیزگاری اور لوگوں کے درمیان کی اصلاح کو چھوڑ بیٹھو  اور اللہ تعالیٰ  سننے والا اور جاننے والا ہے۔

۲۲۵.   اللہ تعالیٰ  تمہیں تمہاری ان قسموں پر نہ پکڑے گا جو پختہ نہ ہوں  ہاں اس کی پکڑ اس چیز پر ہے جو تمہارے دلوں کا فعل ہو، اللہ تعالیٰ  بخشنے والا اور بردبار ہے۔

۲۲۶.    جو لوگ اپنی بیویوں سے (تعلق نہ رکھنے کی) قسمیں کھائیں، ان کی چار مہینے کی مدت  ہے پھر اگر وہ لوٹ آئیں تو اللہ تعالیٰ  بھی بخشنے والا مہربان ہے۔

۲۲۷.   اور اگر طلاق کا ہی قصد کر لیں  تو اللہ تعالیٰ  سننے والا جاننے والا ہے

۲۲۸.   طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں  انہیں حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو پیدا کیا ہو چھپائیں  اگر انہیں اللہ تعالیٰ  پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو، ان کے خاوند اس مدت میں انہیں لوٹا لینے کے پورے حقدار ہیں اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو  اور عورتوں کو بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں اچھائی کے ساتھ  ہاں مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے اللہ تعالیٰ  غالب ہے حکمت والا ہے۔

۲۲۹.    یہ طلاقیں دو مرتبہ  ہیں پھر یا تو اچھائی سے روکنا  یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا  اور تمہیں حلال نہیں تم نے انہیں جو دیا ہے اس میں سے کچھ بھی لو، ہاں یہ اور بات ہے کہ دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو اس لئے اگر تمہیں ڈر ہو کہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت رہائی پانے کے لئے کچھ دے ڈالے، اس پر دونوں پر گناہ نہیں  یہ اللہ کی حدود ہیں خبردار ان سے آگے نہیں بڑھنا اور جو لوگ اللہ کی حدوں سے تجاوز کر جائیں وہ ظالم ہیں۔

۲۳۰.   پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب اس کے لئے حلال نہیں جب تک کہ وہ عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وہ بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کر لینے میں کوئی گناہ نہیں،  بشرطیکہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے، یہ اللہ تعالیٰ  کی حدود ہیں جنہیں وہ جاننے والوں کے لئے بیان فرما رہا ہے۔

۲۳۱.    جب تم عورتوں کو طلاق دو وہ اپنی عدت ختم کرنے پر آئیں تو اب انہیں اچھی طرح بساؤ یا بھلائی کے ساتھ الگ کر دو  اور انہیں تکلیف پہنچانے کی غرض سے ظلم اور زیادتی کے لئے نہ روکو جو شخص ایسا کرے اس نے اپنی جان پر ظلم کیا تم اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ  بناؤ اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب و حکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے اس سے بھی۔ اور اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ  ہر چیز کو جانتا ہے۔

۲۳۲.   اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں  یہ نصیحت انہیں کی جاتی ہے جنہیں تم میں سے اللہ تعالیٰ  پر اور قیامت کے دن پر یقین و ایمان ہو اس میں تمہاری بہترین صفائی اور پاکیزگی ہے۔ اللہ تعالیٰ  جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

۲۳۳.   مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو  اور جن کے بچے ہیں ان کے ذمہ ان کا روٹی کپڑا ہے جو مطابق دستور کے ہو  ہر شخص اتنی ہی تکلیف دیا جاتا ہے جتنی اس کی طاقت ہو ماں کو اس بچے کی وجہ سے یا باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے کوئی ضرر نہ پہنچایا جائے  وارث پر بھی اسی جیسی ذمہ داری ہے، پھر اگر دونوں (یعنی ماں باپ) اپنی رضامندی سے باہمی مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں جب کہ تم ان کو مطابق دستور کے جو دینا ہو وہ ان کے حوالے کر دو  اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے رہو اور جانتے رہو کہ اللہ تعالیٰ  تمہارے اعمال کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔

۲۳۴.   تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں  پھر جب مدت ختم کر لیں تو جو اچھائی کے ساتھ وہ اپنے لئے کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں  اور اللہ تعالیٰ  تمہارے عمل سے خبردار ہے۔

۲۳۵.   تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارۃً ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو، یا اپنے دل میں پوشیدہ ارادہ کرو اللہ تعالیٰ  کو علم ہے کہ تم ضرور ان کو یاد کرو گے، لیکن ان سے پوشیدہ وعدے نہ کر لو  ہاں یہ اور بات ہے کہ تم بھلی بات بولا کرو  اور عقد نکاح جب تک عدت ختم نہ ہو جائے پختہ نہ کرو، جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ  تمہارے دلوں کی باتوں کا بھی علم رکھتا ہے تم اس سے خوف کھاتے رہا کرو اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ  بخشش اور حلم والا ہے۔

۲۳۶.   اگر تم عورتوں کو بغیر ہاتھ لگائے اور بغیر مہر مقرر کئے طلاق دے دو تو بھی تم پر کوئی گناہ نہیں، ہاں انہیں کچھ نہ کچھ فائدہ دو۔ خوش حال اپنے انداز سے اور تنگدست اپنی طاقت کے مطابق دستور کے مطابق اچھا فائدہ دے بھلائی کرنے والوں پر یہ لازم ہے۔

۲۳۷.   اور اگر تم عورتوں کو اس سے پہلے طلاق دے دو کہ تم نے انہیں ہاتھ نہیں لگایا ہو اور تم نے ان کا مہر بھی مقرر کر دیا تو مقررہ مہر کا آدھا مہر دے دو یہ اور بات ہے وہ خود معاف کر دیں  یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے  تمہارا معاف کر دینا تقویٰ سے بہت نزدیک ہے اور آپس کی فضیلت اور بزرگی کو فراموش نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ  تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔

۲۳۸.   نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی  اور اللہ تعالیٰ  کے لئے با ادب کھڑے رہا کرو۔

۲۳۹.    اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہی یا سواری سہی، ہاں جب امن ہو جائے تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح کے اس نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے۔

۲۴۰.   جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں اور وہ وصیت کر جائیں ان کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اٹھائیں  انہیں کوئی نہ نکالے، ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں جو وہ اپنے لئے اچھائی سے کریں، اللہ تعالیٰ  غالب اور حکیم ہے

۲۴۱.    طلاق والیوں کو اچھا فائدہ دینا پرہیزگاروں پر لازم ہے

۲۴۲.   اللہ تعالیٰ  اسی طرح اپنی آیتیں تم پر ظاہر فرما رہا ہے تاکہ تم سمجھو۔

۲۴۳.   کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں تھے اور موت کے ڈر کے مارے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ  نے انہیں فرمایا مر جاؤ، پھر انہیں زندہ کر دیا  بیشک اللہ تعالیٰ  لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے، لیکن اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔

۲۴۴.   اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ  سنتا، جانتا ہے۔

۲۴۵.   ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ  کو اچھا قرض  دے پس اللہ تعالیٰ  اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے گا اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

۲۴۶.   کیا آپ نے (حضرت) موسیٰ کے بعد والی بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا  جب کہ انہوں نے اپنے پیغمبر سے کہا کہ کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجئے  تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ ممکن ہے جہاد فرض ہو جانے کے بعد تم جہاد نہ کرو، انہوں نے کہا بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہ کریں گے؟ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کر دیئے گئے ہیں۔ پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سوائے تھوڑے سے لوگوں کے سب پھر گئے اور اللہ تعالیٰ  ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

۲۴۷.   اور انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ  نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا دیا ہے تو کہنے لگے بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہو سکتی ہے؟ اس سے تو ہم بہت زیادہ حقدار بادشاہت کے ہم ہیں، اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی۔ نبی نے فرمایا سنو، اللہ تعالیٰ  اسی کو تم پر برگزیدہ کیا ہے اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے  بات یہ ہے اللہ جسے چاہے اپنا ملک دے، اللہ تعالیٰ  کشادگی والا اور علم والا ہے۔

۲۴۸.   ان کے نبی نے پھر کہا کہ اس کی بادشاہت کی ظاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق  آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلجمعی ہے اور آل موسیٰ اور آل ہارون کا بقیہ ترکہ ہے۔ فرشتے اسے اُٹھا کر لائیں گے۔ یقیناً یہ تمہارے لئے کھلی دلیل ہے اگر تم ایمان والے ہو۔

۲۴۹.    جب حضرت طالوت لشکروں کو لے کر نکلے تو کہا سنو اللہ تعالیٰ  نے تمہیں ایک نہر  سے آزمانے والا ہے، جس نے اس میں سے پانی پی لیا وہ میرا نہیں اور جو اسے نہ چکھے وہ میرا ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے۔ لیکن سوائے چند کے باقی سب نے وہ پانی پی لیا  (حضرت طالوت مومنین سمیت جب نہر سے گزر گئے تو وہ لوگ کہنے لگے آج تو ہم میں طاقت نہیں کہ جالوت اور اس کے لشکروں سے لڑیں  لیکن اللہ تعالیٰ  کی ملاقات پر یقین رکھنے والوں نے کہا بسا اوقات چھوٹی اور تھوڑی سی جماعتیں بڑی اور بہت سی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غلبہ پا لیتی ہیں، اللہ تعالیٰ  صبر والوں کے ساتھ ہے۔

۲۵۰.   جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو انہوں نے دعا مانگی کہ اے پروردگار ہمیں صبر دے ثابت قدمی دے اور قوم کفار پر ہماری مدد فرما

۲۵۱.    چنانچہ اللہ تعالیٰ  کے حکم سے انہوں نے جالوتیوں کو شکست دے دی اور (حضرت) داؤد علیہ اسلام) کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا  اور اللہ تعالیٰ  نے داؤد علیہ السلام کو مملکت و حکمت  اور جتنا کچھ چاہا علم بھی عطا فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ  بعض لوگوں کو بعض سے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا لیکن اللہ تعالیٰ  دنیا والوں پر فضل و کرم کرنے والا ہے۔

۲۵۲.   یہ اللہ تعالیٰ  کی آیتیں ہیں جنہیں ہم نے حقانیت کے ساتھ آپ پر پڑھتے ہیں، بالیقین آپ رسولوں میں سے ہیں۔

۲۵۳.   یہ رسول ہیں جن میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے  ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ  نے بات چیت کی ہے اور بعض کے درجے بلند کئے ہیں، اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات عطا فرمائے اور روح القدس سے ان کی تائید کی  اگر اللہ تعالیٰ  چاہتا تو ان کے بعد والے اپنے پاس دلیلیں آ جانے کے بعد ہرگز آپس میں لڑائی بھڑائی نہ کرتے، لیکن ان لوگوں نے اختلاف کیا، ان میں سے بعض تو مومن ہوئے اور بعض کافر، اور اگر اللہ تعالیٰ  چاہتا تو یہ آپس میں نہ لڑتے  لیکن اللہ تعالیٰ  جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

۲۵۴.   اے ایمان والو جو ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہو اس سے پہلے کہ کہ وہ دن آئے جس میں نہ تجارت ہے نہ دوستی نہ شفاعت  اور کافر ہی ظالم ہیں۔

۲۵۵.   اللہ تعالیٰ  ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے، جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کر سکے، وہ جانتا ہے جو اس کے سامنے ہے جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر وہ جتنا چاہے،  اس کی کرسی کی وسعت  نے زمین اور آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ  ان کی حفاظت سے نہ تھکتا ہے اور نہ اکتاتا ہے، وہ تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔

۲۵۶.   دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت اور دلالت سے روشن ہو چکی ہے  اس لئے جو شخص اللہ تعالیٰ  کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کر کے اللہ تعالیٰ  پر ایمان لائے اس نے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو کبھی نہ ٹوٹے گا اور اللہ تعالیٰ  سننے والا اور جاننے والا ہے۔

۲۵۷.   ایمان لانے والوں کا کارساز اللہ تعالیٰ  خود ہے، وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لے جاتا ہے اور کافروں کے اولیاء شیاطین ہیں۔ وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں یہ لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

۲۵۸.   کیا تو نے اسے نہیں دیکھا جو سلطنت پا کر ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا، جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میرا رب تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے، وہ کہنے لگا میں بھی جلاتا اور مارتا ہوں ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ تعالیٰ  سورج کو مشرق کی طرف سے لے آتا ہے اور تو اسے مغرب کی جانب سے لے آ اب تو وہ کافر بھونچکا رہ گیا، اور اللہ تعلی ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔

۲۵۹.    یا اس شخص کی مانند کہ جس کا گزر اس بستی پر ہوا جو چھت کے بل اوندھی پڑی ہوئی تھی وہ کہنے لگا اس کی موت کے بعد اللہ تعالیٰ  اسے کس طرح زندہ کرے گا  تو اللہ تعالیٰ  نے اسے مار دیا سو سال کے لیئے، پھر اسے اُٹھایا، پوچھا کتنی مدت تم پر گزری؟ کہنے لگا ایک دن یا دن کا کچھ حصہ  فرمایا بلکہ تو سو سال تک رہا پھر اب تو اپنے کھانے پینے کو دیکھ کہ بالکل خراب نہیں ہوا اور اپنے گدھے کو بھی دیکھ، ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشانی بناتے ہیں تو دیکھ کہ ہم ہڈیوں کو کس طرح اٹھاتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں، جب یہ سب ظاہر ہو چکا تو کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قادر ہے۔

۲۶۰.    اور جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے میرے پروردگار مجھے دکھا تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا  جناب باری تعالیٰ  نے فرمایا کیا تمہیں ایمان نہیں؟ جواب دیا ایمان تو ہے لیکن میرے دل کی تسکین ہو جائے گی فرمایا چار پرندوں کے ٹکڑے کر ڈالو پھر ہر پہاڑ پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دو پھر انہیں پکارو تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آ جائیں گے اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ  غالب ہے حکمتوں والا ہے۔

۲۶۱.     جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ  کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سے سو دانے ہوں، اور اللہ تعالیٰ  اسے چاہے اور بڑھا دے  اور اللہ تعالیٰ  کشادگی والا اور علم والا ہے۔

۲۶۲.    جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ  کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پر اس کے بعد نہ تو احسان جتاتے ہیں اور نہ ایذاء دیتے ہیں  ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ان پر نہ تو کچھ خوف ہے نہ وہ اداس ہوں گے۔

۲۶۳.   نرم بات کہنا اور معاف کر دینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد ایذاء رسانی ہو  اور اللہ تعالیٰ  بے نیاز اور بردبار ہے۔

۲۶۴.   اے ایمان والو اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذاء پہنچا کر برباد نہ کرو جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ  پر ایمان رکھے نہ قیامت پر، اس کی مثال اس صاف پتھر کی طرح ہے جس پر تھوڑی سی مٹی ہو پھر اس پر زور دار مینہ برسے اور وہ اس کو بالکل صاف اور سخت چھوڑ دے  ان ریاکاروں کو اپنی کمائی میں سے کوئی چیز ہاتھ نہیں لگتی اور اللہ تعالیٰ  کافروں کی قوم کو (سیدھی) راہ نہیں دکھاتا۔

۲۶۵.   ان لوگوں کی مثال ہے جو اپنا مال اللہ تعالیٰ  کی رضامندی کی طلب میں دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ خرچ کرتے ہیں اس باغ جیسی ہے جو اونچی زمین پر ہو  اور زوردار بارش اس پر برسے اور وہ اپنا پھل دوگنا لاوے اور اگر اس پر بارش نہ بھی پڑے تو پھوار ہی کافی ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

۲۶۶.    کیا تم میں سے کوئی بھی یہ چاہتا ہے کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو، جس میں نہریں بہہ رہی ہوں اور ہر قسم کے پھل موجود ہوں، اس شخص کا بڑھاپا آ گیا ہو اور اس کے ننھے ننھے سے بچے بھی ہوں اور اچانک باغ کو بگولہ لگ جائے جس میں آگ بھی ہو، پس وہ باغ جل جائے  اس طرح اللہ تعالیٰ  تمہارے لئے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غور فکر کرو۔

۲۶۷.   اے ایمان والو اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لئے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو  ان میں سے بری چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرو جسے تم خود لینے والے نہیں ہو ہاں اگر آنکھیں بند کر لو تو  اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ  بے پرواہ اور خوبیوں والا ہے

۲۶۸.   شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے  اور اللہ تعالیٰ  تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ  وسعت والا اور علم والا ہے۔

۲۶۹.    وہ جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے اور جو شخص حکمت اور سمجھ دیا جائے وہ بہت ساری بھلائی دیا گیا  اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں۔

۲۷۰.   تم جتنا کچھ خرچ کرو یعنی خیرات اور جو کچھ نذر مانو  اسے اللہ تعالیٰ  خوب جانتا ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

۲۷۱.    اگر تم صدقے خیرات کو ظاہر کرو تو وہ بھی اچھا ہے اور اگر تم اسے پوشیدہ پوشیدہ مسکینوں کو دے دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے  اللہ تعالیٰ  تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور اللہ تعالیٰ  تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھنے والا ہے۔

۲۷۲.   انہیں ہدایت پر کھڑا کرنا تیرے ذمے نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ  دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راہ میں دو گے اس کا فائدہ خود پاؤ گے۔ تمہیں صرف اللہ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا  اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا

۲۷۳.   صدقات کے مستحق صرف وہ غرباء ہیں جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے، جو ملک میں چل پھر نہیں سکتے  نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مالدار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہچان لیں گے وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے  تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ  اس کا جاننے والا ہے۔

۲۷۴.   جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں ان کے لئے ان کے رب تعالیٰ  کے پاس اجر ہے اور نہ انہیں خوف اور نہ غمگینی۔

۲۷۵.   سود خور  نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے  یہ اس لئے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے  حالانکہ اللہ تعالیٰ  نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام، جو شخص اللہ تعالیٰ  کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لئے وہ ہے جو گزرا  اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ  کی طرف ہے  اور جو پھر دوبارہ (حرام کی طرف) لوٹا، وہ جہنمی ہے، ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے۔

۲۷۶.   اللہ تعالیٰ  سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے  اور اللہ تعالیٰ  کسی ناشکرے اور گنہگار سے محبت نہیں کرتا۔

۲۷۷.  بیشک جو لوگ ایمان کے ساتھ (سنت کے مطابق) نیک کام کرتے ہیں نمازوں کو قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب تعالیٰ  کے پاس ہے ان پر نہ تو کوئی خوف ہے، نہ اداسی اور غم

۲۷۸.   اے ایمان والو اللہ تعالیٰ  سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو۔

۲۷۹.   اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ  سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ  ہاں اگر توبہ کر لو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔

۲۸۰.   اور اگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے اور صدقہ کرو تو تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے  اگر تمہیں علم ہو۔

۲۸۱.    اور اس دن سے ڈرو جس میں تم سب اللہ تعالیٰ  کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا  اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

۲۸۲.   اے ایمان والو جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقرہ پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو  اور لکھنے والے کو چاہیے کہ تمہارا آپس کا معاملہ عدل سے لکھے، کاتب کو چاہیے کہ لکھنے سے انکار نہ کرے جیسے اللہ تعالیٰ  نے اسے سکھایا ہے پس اسے بھی لکھ دینا چاہیے جس کے ذمہ حق ہو وہ لکھوائے اور اپنے اللہ تعالیٰ  سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ گھٹائے نہیں، جس شخص کے ذمہ حق ہے وہ اگر نادان ہو یا کمزور ہو یا لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی عدل کے ساتھ لکھوائے اور اپنے میں سے دو مرد گواہ رکھ لو۔ اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں پسند کر لو تاکہ ایک کی بھول چوک کو دوسری یاد دلا دے اور گواہوں کو چاہیے کہ وہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں اور قرض کو جس کی مدت مقرر ہے خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو لکھنے میں کاہلی نہ کرو، اللہ تعالیٰ  کے نزدیک یہ بات بہت انصاف والی ہے اور گواہی کو بھی درست رکھنے والی ہے شک و شبہ سے بھی زیادہ بچانے والی ہے ہاں یہ اور بات ہے کہ معاملہ نقد تجارت کی شکل میں ہو جو آپس میں تم لین دین کر رہے ہو تم پر اس کے نہ لکھنے میں کوئی گناہ نہیں۔ خرید و فروخت کے وقت بھی گواہ مقرر کر لیا کرو اور (یاد رکھو کہ) نہ لکھنے والے کو نقصان پہنچایا جائے نہ گواہ کو اور تم یہ کرو تو یہ تمہاری کھلی نافرمانی ہے، اللہ سے ڈرو اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے اور اللہ تعالیٰ  ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

۲۸۳.   اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والا نہ پاؤ تو رہن قبضہ میں رکھ لیا کرو  ہاں آپس میں ایک دوسرے سے مطمئن ہو تو جسے امانت دی گئی ہے وہ اسے ادا کر دے اور اللہ تعالیٰ  سے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے۔  اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو اسے چھپا لے وہ گناہ گار دل والا ہے  اور جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ  خوب جانتا ہے،

۲۸۴.   آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ  ہی کی ملکیت ہے۔ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تعالیٰ  اس کا حساب تم سے لے گا  پھر جسے چاہے بخشے جسے چاہے سزا دے اور اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قادر ہے۔

۲۸۵.   رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالیٰ  کی جانب سے اترے اور مومن بھی ایمان لائے یہ سب اللہ تعالیٰ  اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے  انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔

۲۸۶.   اللہ تعالیٰ  کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، جو نیکی وہ کرے وہ اس کے لئے اور جو برائی وہ کرے وہ اس پر ہے، اے ہمارے رب اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر تو ہی ہمارا مالک ہے، ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔

 

۳۔ آل عمران

۱.         الم

۲.        اللہ تعالیٰ  وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو زندہ اور سب کا نگہبان ہے

۳.        جس نے آپ پر حق کے ساتھ اس کتاب کو نازل فرمایا  جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے اسی اس سے پہلے تورات اور انجیل کو اتارا تھا

۴.        اس سے پہلے لوگوں کو ہدایت کرنے والی بنا کر  اور قرآن بھی اسی نے اتارا  جو لوگ اللہ تعالیٰ  کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور اللہ تعالیٰ  غالب ہے، بدلہ لینے والا۔

۵.        یقیناً اللہ تعالیٰ  پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔

۶.        وہ ماں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جس طرح کی چاہتا ہے بناتا ہے  اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے۔

۷.        وہی اللہ تعالیٰ  ہے جس نے تجھ پر کتاب اُتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ آیتیں ہیں۔  پس جن کے دلوں میں کجی ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے، حالانکہ ان کی حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ  کے کوئی نہیں جانتا  اور پختہ اور مضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان لا چکے ہیں، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں،

۸.        اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بڑی عطا دینے والا ہے۔

۹.         اے ہمارے رب! تو یقیناً لوگوں کو ایک دن جمع کرنے والا ہے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ  وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

۱۰.       کافروں کے مال اور ان کی اولاد اللہ تعالیٰ  (کے عذاب) سے چھڑانے میں کچھ کام نہ آئیں گی، یہ تو جہنم کا ایندھن ہی ہیں۔

۱۱.        جیسا آل فرعون کا حال ہوا اور ان کا جو ان سے پہلے تھے انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا پھر اللہ تعالیٰ  نے بھی انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا اور اللہ تعالیٰ  سخت عذاب دینے والا ہے۔

۱۲.       کافروں سے کہہ دیجئے! کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے  اور جہنم کی طرف جمع کئے جاؤ گے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

۱۳.       یقیناً تمہارے لئے عبرت کی نشانی تھی ان دو جماعتوں میں جو گتھ گئی تھیں، ایک جماعت تو اللہ کی راہ میں لڑ رہی تھی اور دوسرا گروہ کافروں کا تھا وہ انہیں اپنی آنکھوں سے اپنے سے دوگنا دیکھتے تھے  اور اللہ تعالیٰ  جسے چاہے اپنی مدد سے قوی کرتا ہے یقیناً اس میں آنکھوں والوں کے لئے بڑی عبرت ہے۔

۱۴.       مرغوب چیزوں کی محبت لوگوں کے لئے مزیّن کر دی گئی ہے، جیسے عورتیں اور بیٹے اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشاندار گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی  یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور لوٹنے کا اچھا ٹھکانا تو اللہ تعالیٰ  ہی کے پاس ہے۔

۱۵.       آپ کہہ دیجئے! کیا میں تمہیں اس سے بہت ہی بہتر چیز نہ بتاؤں؟ تقویٰ والوں کے لئے ان کے رب تعالیٰ  کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے  اور پاکیزہ بیویاں  اور اللہ تعالیٰ  کی رضامندی ہے، سب بندے اللہ تعالیٰ  کی نگاہ میں ہیں۔

۱۶.       جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم ایمان لا چکے اس لئے ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔

۱۷.      جو صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے اور فرمانبرداری کرنے والے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور پچھلی رات کو بخشش مانگنے والے ہیں۔

۱۸.       اللہ تعالیٰ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں  اور وہ عدل کو قائم رکھنے والا ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

۱۹.       بیشک اللہ تعالیٰ  کے نزدیک دین اسلام ہے  اور اہل کتاب اپنے پاس علم آ جانے کے بعد آپس کی سرکشی اور حسد کی بناء پر ہی اختلاف کیا ہے  اور اللہ تعالیٰ  کی آیتوں کے ساتھ جو بھی کفر کرے  اللہ تعالیٰ  جلد حساب لینے والا ہے۔

۲۰.      پھر بھی اگر یہ آپ سے جھگڑیں تو آپ کہہ دیں کہ میں اور میرے تابعداروں نے اللہ تعالیٰ  کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کر دیا ہے اور اہل کتاب سے اور ان پڑھ لوگوں سے  کہہ دیجئے! کہ کیا تم بھی اطاعت کرتے ہو؟ پس اگر یہ بھی تابعدار بن جائیں تو یقیناً ہدایت والے ہیں اور اگر یہ روگردانی کریں، تو آپ پر صرف پہنچا دینا ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھ بھال رہا ہے۔

۲۱.       جو لوگ اللہ تعالیٰ  کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں اور ناحق نبیوں کو قتل کر ڈالتے ہیں اور جو لوگ عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بھی قتل کر ڈالتے ہیں  تو اے نبی! انہیں دردناک عذاب کی خبر دے دیجئے۔

۲۲.      ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہیں اور ان کا کوئی مددگار نہیں۔

۲۳.      کیا آپ نے نہیں دیکھا جنہیں ایک حصہ کتاب کا دیا گیا ہے وہ اپنے آپس کے فیصلوں کے لئے اللہ تعالیٰ  کی کتاب کی طرف بلائے جاتے ہیں، پھر بھی ایک جماعت ان کی منہ پھیر کر لوٹ جاتی ہے۔

۲۴.      اس کی وجہ ان کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں تو گنے چنے چند دن ہی آگ جلائے گی، ان کی گھڑی گھڑائی باتوں نے انہیں ان کے دین کے بارے میں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔

۲۵.      پس کیا حال ہو گا جبکہ ہم انہیں اس دن جمع کریں گے؟ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور ہر شخص کو اپنا اپنا کیا پورا پورا دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔

۲۶.      آپ کہہ دیجئے اے اللہ! اے تمام جہان کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے جس سے چاہے سلطنت چھین لے تو جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں  بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

۲۷.     تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں لے جاتا ہے  تو ہی بے جان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے  تو ہی ہے کہ جسے چاہتا ہے بیشمار روزی دیتا ہے۔

۲۸.      مومنوں کو چاہیے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں  اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ  کی کسی حمایت میں نہیں یہ ان کے شر سے کس طرح بچاؤ مقصود ہو  اللہ تعالیٰ  خود تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ  ہی کی طرف لوٹ جانا ہے۔

۲۹.      کہہ دیجئے! کہ تم اپنے سینوں کی باتیں چھپاؤ خواہ ظاہر کرو اللہ تعالیٰ  بہر حال جانتا ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسے معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قادر ہے۔

۳۰.      جس دن ہر نفس (شخص) اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اور اپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پا لے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت سی دوری ہوتی۔ اللہ تعالیٰ  تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ  اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے۔

۳۱.       کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو  خود اللہ تعالیٰ  تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا  اور اللہ تعالیٰ  بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

۳۲.      کہہ دیجئے! کہ اللہ تعالیٰ  اور رسول کی اطاعت کرو، اگر یہ منہ پھیر لیں تو بیشک اللہ تعالیٰ  کافروں سے محبت نہیں کرتا۔

۳۳.     بیشک اللہ تعالیٰ  نے تمام جہان کے لوگوں میں سے آدم علیہ السلام کو اور نوح علیہ السلام کو، ابراہیم علیہ السلام کے خاندان اور عمران کے خاندان کو منتخب فرمایا۔

۳۴.     کہ یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں  اور اللہ تعالیٰ  سنتا اور جانتا ہے۔

۳۵.     جب عمران کی بیوی نے کہا کے اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے، اسے میں نے تیرے نام آزاد کرنے  کی نذر مانی، تو میری طرف سے قبول فرما، یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے۔

۳۶.      جب بچی کو جنا تو کہنے لگی اے پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ  کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں  میں نے اس کا نام مریم رکھا  میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں

۳۷.     پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا اور اسے بہترین پرورش دی۔ اس کی خیر خبر لینے والا زکریا علیہ السلام کو بنایا  جب کبھی زکریا علیہ السلام ان کے حجرے میں جاتے ان کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے  وہ پوچھتے اے مریم یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی وہ جواب دیتیں یہ اللہ تعالیٰ  کے پاس سے ہے، بیشک اللہ تعالیٰ  جسے چاہے بے شمار روزی دے۔

۳۸.     اسی جگہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی، کہا کہ اے میرے پروردگار مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بیشک تو دعا کا سننے والا ہے۔

۳۹.      پس فرشتوں نے انہیں آواز دی، جب وہ حجرے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، کہ اللہ تعالیٰ  تجھے یحییٰ کی یقینی خوشخبری دیتا ہے جو  اللہ تعالیٰ  کے کلمہ کی تصدیق کرنے والا  سردار، ضابطہ نفس اور نبی ہے نیک لوگوں میں سے۔

۴۰.      کہنے لگے اے میرے رب! میرے بال بچہ کیسے ہو گا؟ میں بالکل بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔ فرمایا، اسی طرح اللہ تعالیٰ  جو چاہے کرتا ہے۔

۴۱.       کہنے لگا پروردگار میرے لئے اس کی کوئی نشانی مقرر کر دے، فرمایا، نشانی یہ ہے تین دن تک تو لوگوں سے بات نہ کر سکے گا صرف اشارے سے سمجھائے گا تو اپنے رب کا ذکر کثرت سے کر اور صبح شام اسی کی تسبیح  بیان کرتا رہ۔

۴۲.      اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ  نے تجھے برگزیدہ کر لیا اور تجھے پاک کر دیا اور سارے جہان کی عورتوں میں سے تیرا انتخاب کر لیا۔

۴۳.     اے مریم تم اپنے رب کی اطاعت کرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔

۴۴.     یہ غیب کی خبروں سے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں، تو ان کے پاس نہ تھا جب کہ وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پا لے گا؟ اور نہ تو ان کے جھگڑنے کے وقت ان کے پاس تھا۔

۴۵.     جب فرشتوں نے کہا اے مریم! اللہ تعالیٰ  تجھے اپنے ایک کلمے  کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن  مریم ہے جو دنیا اور آخرت میں ذی عزت ہے اور وہ میرے مقربین میں سے ہے۔

۴۶.      وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں باتیں کرے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی  اور وہ نیک لوگوں میں سے ہو گا۔

۴۷.     کہنے لگیں الہٰی مجھے لڑکا کیسے ہو گا؟ حالانکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا، فرشتے نے کہا، اسی طرح اللہ تعالیٰ  جو چاہے پیدا کرتا ہے، جب کبھی وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے ہو جا! تو وہ ہو جاتا ہے۔

۴۸.     اللہ تعالیٰ  اسے لکھنا  اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائے گا۔

۴۹.      اور وہ بنی اسرائیل کی طرف سے رسول ہو گا، کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں، میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں  پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ تعالیٰ  کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ  کے حکم سے میں مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کر لیتا ہوں اور مردے کو جگا دیتا ہوں  اور جو کچھ تم کھاؤ اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو میں تمہیں بتا دیتا ہوں، اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے۔ اگر تم ایمان لانے والے ہو۔

۵۰.      اور میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے اور میں اس لئے آیا ہوں کہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کروں جو تم پر حرام کر دی گئیں  اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں اس لئے تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو۔

۵۱.       یقین مانو میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔

۵۲.      مگر جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کا کفر محسوس کر لیا  تو کہنے لگے اللہ تعالیٰ  کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون کون ہے  حواریوں  نے جواب دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ  کی راہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ تعالیٰ  پر ایمان لائے اور آپ گواہ رہئے کہ ہم تابعدار ہیں۔

۵۳.     اے ہمارے پالنے والے معبود! ہم تیری اتاری ہوئی وحی پر ایمان لائے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی، پس تو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔

۵۴.     اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ تعالیٰ  نے بھی (مکر) خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ  بہتر جاننے والا ہے

۵۵.     جب اللہ تعالیٰ  نے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں  اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں  اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر غالب کرنے والا ہوں قیامت کے دن تک  پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا۔

۵۶.      پھر کافروں کو تو میں دنیا اور آخرت میں سخت تر عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہو گا۔

۵۷.     لیکن ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کو اللہ تعالیٰ  ان کا ثواب پورا پورا دے گا اور اللہ تعالیٰ  ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔

۵۸.     یہ جسے ہم تیرے سامنے پڑھ رہے ہیں آیتیں ہیں اور حکمت والی نصیحت ہیں۔

۵۹.      اللہ تعالیٰ  کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال ہو بہو آدم (علیہ السلام) کی مثال ہے جسے مٹی سے بنا کر کے کہہ دیا کہ ہو جا پس وہ ہو گیا۔

۶۰.      تیرے رب کی طرف سے حق یہی ہے خبردار شک کرنے والوں میں نہ ہونا۔

۶۱.       اس لیے جو شخص آپ کے پاس اس علم کے آ جانے کے بعد بھی آپ سے اس میں جھگڑے تو آپ کہہ دیں کہ آؤ ہم تم اپنے اپنے فرزندوں کو اور ہم تم اپنی اپنی عورتوں کو اور ہم تم خاص اپنی اپنی جانوں کو بلا لیں، پھر ہم عاجزی کے ساتھ التجا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں۔

۶۲.      یقیناً صرف یہی سچا ایمان ہے اور کوئی معبود برحق نہیں بجز اللہ تعالیٰ  کے اور بیشک غالب اور حکمت والا اللہ تعالیٰ  ہی ہے۔

۶۳.      پھر بھی اگر قبول نہ کریں تو اللہ تعالیٰ  بھی صحیح طور پر فسادیوں کو جاننے والا ہے۔

۶۴.      آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! ایسی انصاف والی بات کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں برابر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ  کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں  نہ اللہ تعالیٰ  کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں  پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں

۶۵.      اے اہل کتاب! تم ابراہیم کی بابت جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل تو ان کے بعد نازل کی گئیں، کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے۔

۶۶.      سنو! تم لوگ اس میں جھگڑ چکے جس کا تمہیں علم تھا پھر اب اس بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں  اور اللہ تعالیٰ  جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

۶۷.     ابراہیم تو نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ تو ایک طرفہ (خالص) مسلمان تھے  مشرک بھی نہ تھے۔

۶۸.      جنہوں نے ان کا کہنا مانا اور یہ نبی اور جو لوگ ایمان لائے  مومنوں کا ولی اور سہارا اللہ ہی ہے۔

۶۹.      اہل کتاب کی ایک جماعت چاہتی ہے کہ تمہیں گمراہ کر دیں دراصل وہ خود اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں اور سمجھتے نہیں۔

۷۰.     اے اہل کتاب تم باوجود قائل ہونے کے پھر بھی دانستہ اللہ کی آیات کا کیوں کفر کر رہے ہو۔

۷۱.      اے اہل کتاب ! باوجود جاننے کے حق و باطل کو کیوں خلط ملط کر رہے ہو اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو۔

۷۲.     اور اہل کتاب کی ایک اور جماعت نے کہا جو کچھ ایمان والوں پر اتارا گیا ہے اس پر دن چڑھے تو ایمان لاؤ اور شام کے وقت کافر بن جاؤ تاکہ یہ لوگ بھی پلٹ جائیں۔

۷۳.     اور سوائے تمہارے دین پر چلنے والوں کے اور کسی کا یقین نہ کرو  آپ کہہ دیجئے کہ بیشک ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے  (اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بات کا بھی یقین نہ کرو) کہ کوئی اس جیسا دیا جائے جیسے تم دیئے گئے ہو  یا یہ کہ تم سے تمہارے رب کے پاس جھگڑا کریں گے، آپ کہہ دیجئے کہ فضل تو اللہ تعالیٰ  ہی کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہے اسے دے، اللہ تعالیٰ  وسعت والا اور جاننے والا ہے۔

۷۴.     وہ اپنی رحمت کے ساتھ جسے چاہے مخصوص کر لے اور اللہ تعالیٰ  بڑے فضل والا ہے۔

۷۵.     بعض اہل کتاب تو ایسے ہیں کہ اگر تو خزانے کا امین بنا دے تو بھی وہ واپس کر دیں اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ اگر تو انہیں ایک دینار بھی امانت دے تو تجھے ادا نہ کریں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ تو اس کے سر پر ہی کھڑا رہے، یہ اس لئے کہ انہوں نے کہہ رکھا ہے کہ ہم پر ان جاہلوں (غیر یہودی) کے حق کا کوئی گناہ نہیں یہ لوگ باوجود جاننے کے اللہ تعالیٰ  پر جھوٹ کہتے ہیں۔

۷۶.     کیوں نہیں (مواخذہ ہو گا) البتہ جو شخص اپنا قرار پورا کرے اور پرہیزگاری کرے تو اللہ تعالیٰ  بھی ایسے پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے۔

۷۷.     بیشک وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ  کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ تعالیٰ  نہ ان سے بات چیت کرے گا، اور نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

۷۸.     یقیناً ان میں ایسا گروہ بھی ہے جو کتاب پڑھتے ہوئے اپنی زبان مروڑتا ہے تاکہ تم اسے کتاب ہی کی عبارت خیال کرو حالانکہ دراصل وہ کتاب میں سے نہیں، اور یہ کہتے بھی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ  کی طرف سے ہے حالانکہ دراصل وہ اللہ کی طرف سے نہیں، وہ تو دانستہ اللہ تعالیٰ  پر جھوٹ بولتے ہیں۔

۷۹.      کسی ایسے انسان کو جسے اللہ تعالیٰ  کتاب و حکمت اور نبوت دے، یہ لائق نہیں کہ پھر بھی وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ تعالیٰ  کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ، بلکہ وہ تو کہے گا کہ تم سب رب کے ہو جاؤ  تمہارے کتاب سکھانے کے باعث اور تمہارے کتاب پڑھنے کے سبب۔

۸۰.      اور یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ تمہیں فرشتوں اور نبیوں کو رب بنانے کا حکم دے کیا وہ تمہارے مسلمان ہونے کے بعد بھی تمہیں کفر کا حکم دے گا۔

۸۱.       جب اللہ تعالیٰ  نے نبیوں سے عہد لیا کہ جو کچھ میں تمہیں کتاب و حکمت سے دوں پھر تمہارے پاس وہ رسول آئے جو تمہارے پاس کی چیز کو سچ بتائے تو تمہارے لئے اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ضروری ہے۔  فرمایا کہ تم اس کے اقراری ہو اور اس پر میرا ذمہ لے رہے ہو؟ سب نے کہا کہ ہمیں اقرار ہے۔ فرمایا تو اب گواہ رہو اور خود میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔

۸۲.      پس اس کے بعد بھی جو پلٹ جائیں وہ یقیناً پورے نافرمان ہیں۔

۸۳.     کیا وہ اللہ کے دین کے سوا اور دین کی تلاش میں ہیں؟ حالانکہ تمام آسمانوں اور سب زمین والے اللہ تعالیٰ  ہی کے فرمانبردار ہیں خوشی سے ہوں یا نا خوشی سے  سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

۸۴.     آپ کہہ دیجئے کہ ہم اللہ تعالیٰ  پر اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد پر اتارا گیا اور جو کچھ موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام پر اور دوسرے (انبیاء علیہما السلام) اللہ تعالیٰ  کی طرف سے دئیے گئے ان سب پر ایمان لائے  ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ تعالیٰ  کے فرمانبردار ہیں۔

۸۵.     جو شخص اسلام کے سوا اور دین تلاش کرے، اس کا دین قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہو گا۔

۸۶.      اللہ تعالیٰ  ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے گا جو اپنے ایمان لانے اور رسول کی حقانیت کی گواہی دینے اور اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد کافر ہو جائیں، اللہ تعالیٰ  ایسے بے انصاف لوگوں کو راہ راست پر نہیں لاتا۔

۸۷.     ان کی تو یہی سزا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ  کی اور فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔

۸۸.     جس میں یہ ہمیشہ پڑے رہیں گے نہ تو ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔

۸۹.      مگر جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں تو بیشک اللہ تعالیٰ  بخشنے والا مہربان ہے۔

۹۰.      بیشک جو لوگ  اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کریں پھر کفر میں بڑھ جائیں ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی  یہی گمراہ لوگ ہیں۔

۹۱.       ہاں جو لوگ کفر کریں اور مرتے دم تک کافر رہیں ان میں سے کوئی اگر زمین بھر سونا دے گو فدیئے میں ہی ہو تو بھی ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ یہی لوگ ہیں جن کے لئے تکلیف دینے والا عذاب ہے اور جن کا کوئی مددگار نہیں۔

۹۲.      جب تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ تعالیٰ  کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے  اور تم جو خرچ کرو اسے اللہ بخوبی جانتا ہے۔

۹۳.      تورات کے نزول سے پہلے (حضرت) یعقوب (علیہ السلام) نے جس چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا اس کے سوا تمام کھانے بنی اسرائیل پر حلال تھے آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو تورات لے آؤ اور پڑھ کر سناؤ۔

۹۴.      اس کے بعد بھی جو لوگ اللہ تعالیٰ  پر جھوٹ بہتان باندھیں وہ ہی ظالم ہیں۔

۹۵.      کہہ دیجئے کہ اللہ سچا ہے تم سب ابراہیم حنیف کی ملت کی پیروی کرو جو مشرک نہ تھے۔

۹۶.      اللہ تعالیٰ  کا پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ (شریف) میں ہے  جو تمام دنیا کے لئے برکت اور ہدایت والا ہے۔

۹۷.      جس میں کھلی کھلی نشانیاں ہیں مقام ابراہیم ہے اس میں جو آ جائے امن والا ہو جاتا ہے  اللہ تعالیٰ  نے ان لوگوں پر جو اس طرف کی راہ پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے  اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ تعالیٰ  (اس سے) بلکہ) تمام دنیا سے بے پرواہ ہے۔

۹۸.      آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب تم اللہ تعالیٰ  کی آیتوں کے ساتھ کفر کیوں کرتے ہو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس پر گواہ ہے۔

۹۹.       ان اہل کتاب سے کہو کہ تم اللہ تعالیٰ  کی راہ سے لوگوں کو کیوں روکتے ہو؟ اور اس میں عیب ٹٹولتے ہو حالانکہ تم خود شاہد ہو  اللہ تعالیٰ  تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔

۱۰۰.     اے ایمان والو! اگر تم اہل کتاب کی کسی جماعت کی باتیں مانو گے تو وہ تمہارے ایمان لانے کے بعد مرتد و کافر بنا دیں گے۔

۱۰۱.     (گویا یہ ظاہر ہے کہ) تم کیسے کفر کر سکتے ہو؟ باوجودیکہ تم پر اللہ تعالیٰ  کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) موجود ہیں جو شخص اللہ کے دین کو مضبوط تھام لے  تو بلاشبہ اسے راہ راست دکھا دی گئی۔

۱۰۲.     اے ایمان والو! اللہ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیے  دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا

۱۰۳.    اللہ تعالیٰ  کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو  اور پھوٹ نہ ڈالو  اور اللہ تعالیٰ  کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے اور تم آگ کے گھڑے کے کنارے پہنچ چکے تھے تو اس نے تمہیں بچا لیا اللہ تعالیٰ  اسی طرح تمہارے لئے اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔

۱۰۴.    تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف لائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے اور یہی لوگ فلاح اور نجات پانے والے ہیں۔

۱۰۵.    تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا انہی لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے۔

۱۰۶.     جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاہ  سیاہ چہروں والوں (سے کہا جائے گا) کہ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو۔

۱۰۷.    اور سفید چہرے والے اللہ تعالیٰ  کی رحمت میں داخل ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

۱۰۸.    اے نبی! ہم ان حقانی آیتوں کی تلاوت آپ پر کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ  کا ارادہ لوگوں پر ظلم کرنے کا نہیں

۱۰۹.     اللہ تعالیٰ  کے لئے ہی ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ تعالیٰ  ہی کی طرف تمام کام لوٹائے جاتے ہیں۔

۱۱۰.     تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ  پر ایمان رکھتے ہو  اگر اہل کتاب بھی ایمان لاتے تو ان کے لئے بہتر تھا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں  لیکن اکثر تو فاسق ہیں۔

۱۱۱.      یہ تمہیں ستانے کے سوا اور زیادہ کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے اگر لڑائی کا موقع آ جائے تو پیٹھ موڑ لیں گے پھر مدد نہ کئے جائیں گے

۱۱۲.     ان کو ہر جگہ ذلت کی مار پڑی الا یہ کہ اللہ تعالیٰ  کی یا لوگوں کی پناہ میں ہوں  یہ غضب الٰہی کے مستحق ہو گئے اور ان پر فقیری ڈال دی گئی یہ اس لئے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ  کی آیتوں سے کفر کرتے تھے اور بے وجہ انبیاء کو قتل کرتے تھے یہ بدلہ ہے ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا۔

۱۱۳.     یہ سارے کے سارے یکساں نہیں بلکہ ان اہل کتاب میں ایک جماعت (حق پر) قائم رہنے والی بھی ہے جو راتوں کے وقت بھی کلام اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں۔

۱۱۴.     یہ اللہ تعالیٰ  پر اور قیامت کے دن پر ایمان بھی رکھتے ہیں بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں یہ نیک بخت لوگوں میں سے ہیں۔

۱۱۵.     یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں ان کی ناقدری نہ کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ  پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے

۱۱۶.     کافروں کو ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی یہ جہنمی ہیں جو ہمیشہ اس میں پڑے رہیں گے۔

۱۱۷.     یہ کفار جو خرچ کریں اس کی مثال یہ ہے ایک تند ہوا چلی جس میں پالا تھا جو ظالموں کی کھیتی پر پڑا اور اسے تہس نہس کر دیا  اللہ تعالیٰ  نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔

۱۱۸.     اے ایمان والو! تم اپنا دلی دوست ایمان والوں کے سوا اور کسی کو نہ بناؤ۔  (تم تو) نہیں دیکھتے دوسرے لوگ تمہاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے وہ چاہتے ہیں کہ تم دکھ میں پڑو ان کی عداوت تو خود ان کی زبان سے بھی ظاہر ہو چکی ہے اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ بہت زیادہ ہے ہم نے تمہارے لئے آیتیں بیان کر دیں۔

۱۱۹.      اگر عقلمند ہو (تو غور کرو) ہاں تم تو انہیں چاہتے ہو  اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے تم پوری کتاب کو مانتے ہو وہ نہیں مانتے پھر محبت کیسی؟ یہ تمہارے سامنے تو اپنے ایمان کا اقرار کرتے ہیں لیکن تنہائی میں مارے غصہ کے انگلیاں چباتے ہیں  کہہ دو کہ اپنے غصہ ہی میں مر جاؤ اللہ دلوں کے راز کو بخوبی جانتا ہے۔

۱۲۰.     تمہیں اگر بھلائی ملے تو یہ ناخوش ہوتے ہیں ہاں! اگر برائی پہنچے تو خوش ہوتے ہیں  تم اگر صبر کرو اور پرہیز گاری کرو تو ان کا مکر تمہیں کچھ نقصان نہ دے گا اللہ تعالیٰ  نے ان کے اعمال کا احاطہ کر رکھا ہے۔

۱۲۱.     اے نبی! اس وقت کو بھی یاد کرو جب صبح ہی صبح آپ اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کو میدان جنگ میں لڑائی کے مورچوں پر باقاعدہ  بٹھا رہے تھے اللہ تعالیٰ  سننے اور جاننے والا ہے۔

۱۲۲.     جب تمہاری دو جماعتیں پس ہمتی کا ارادہ کر چکی تھیں  اللہ تعالیٰ  ان کا ولی اور مددگار ہے  اور اسی کی پاک ذات پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہیے۔

۱۲۳.    جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ  نے عین اس وقت تمہاری مدد فرمائی تھی جب کہ تم نہایت گری ہوئی حالت میں تھے اس لیے اللہ ہی سے ڈرو! (نہ کسی اور سے) تاکہ تمہیں شکر گزاری کی توفیق ہو۔

۱۲۴.    (اور یہ شکر گزاری باعث نصرت و امداد ہو) جب آپ مومنوں کو تسلی دے رہے تھے کیا آسمان سے تین ہزار فرشتے اتار کر اللہ تعالیٰ  کا تمہاری مدد کرنا تمہیں کافی نہ ہو گا۔

۱۲۵.    کیوں نہیں بلکہ اگر تم صبر کرو پرہیزگاری کرو اور یہ لوگ اسی دم تمہارے پاس آ جائیں تو تمہارا رب تمہاری امداد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا  جو نشاندار ہوں گے۔

۱۲۶.     اور یہ تو محض تمہارے دل کی خوشی اور اطمینان قلب کے لئے ہے ورنہ مدد تو اللہ کی طرف سے ہے جو غالب و حکمت والا ہے۔

۱۲۷.    (اس امداد الٰہی کا مقصد یہ تھا کہ اللہ) کافروں کی ایک جماعت کو کاٹ دے یا انہیں ذلیل کر ڈالے اور (سارے کے سارے) نامراد ہو کر واپس چلے جائیں۔

۱۲۸.    اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں  اللہ تعالیٰ  چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے  یا عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔

۱۲۹.     آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے وہ جسے چاہے بخشے جسے چاہے عذاب کرے اللہ تعالیٰ  بخشش کرنے والا مہربان ہے۔

۱۳۰.    اے ایمان والو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ  اللہ تعالیٰ  سے ڈرو تاکہ تمہیں نجات ملے۔

۱۳۱.     اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

۱۳۲.    اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

۱۳۳.    اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو  جس کا عرض آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

۱۳۴.    جو لوگ آسانی میں اور سختی کے موقع پر بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں  غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے  اللہ نیکوکاروں سے محبت کرتا ہے۔

۱۳۵.    جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں  فی الواقع اللہ تعالیٰ  کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟ اور وہ لوگ باوجود علم کے کسی برے کام پر اڑ نہیں جاتے۔

۱۳۶.    انہیں کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ان نیک کاموں کے کرنے والوں کا ثواب کیا ہی اچھا ہے۔

۱۳۷.    تم سے پہلے بھی ایسے واقعات گزر چکے ہیں سو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو (آسمانی تعلیم کے) جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔

۱۳۸.    عام لوگوں کے لئے تو یہ (قرآن) بیان ہے اور پرہیزگاروں کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے۔

۱۳۹.     تم نہ سستی کرو اور نہ غمگین ہو تم ہی غالب رہو گے اگر تم ایماندار ہو۔

۱۴۰.    اگر تم زخمی ہوئے ہو تو تمہارے مخالف لوگ بھی تو ایسے ہی زخمی ہو چکے ہیں ہم دنوں کو لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں  (شکست احد) اس لئے تھی کہ اللہ تعالیٰ  ایمان والوں کو ظاہر کر دے اور تم میں سے بعض کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے اللہ تعالیٰ  ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔

۱۴۱.     (یہ بھی وجہ تھی) کہ اللہ تعالیٰ  ایمان والوں کو بالکل الگ کر دے اور کافروں کو مٹا دے۔

۱۴۲.    کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے  حالانکہ اب تک اللہ تعالیٰ  نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں

۱۴۳.    جنگ سے پہلے تم شہادت کی آرزو میں تھے  اب اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔

۱۴۴.    (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ و سلم صرف رسول ہی ہیں  اس سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے کیا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا شہید ہو جائیں تو اسلام سے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جاؤ گے اور جو کوئی پھر جائے اپنی ایڑیوں پر تو اللہ تعالیٰ  کا کچھ نہ بگاڑے گا عنقریب اللہ تعالیٰ  شکر گزاروں کو نیک بدلہ دے گا۔

۱۴۵.    بغیر اللہ کے حکم کے کوئی جاندار نہیں مر سکتا مقرر شدہ وقت لکھا ہوا ہے دنیا کی چاہت والوں کو ہم دنیا دے دیتے ہیں اور آخرت کا ثواب چاہنے والوں کو ہم وہ بھی دے دیں گے  اور احسان ماننے والوں کو ہم بہت جلد نیک بدلہ دیں گے۔

۱۴۶.    بہت سے نبیوں کے ہم رکاب ہو کر بہت سے اللہ والے جہاد کر چکے ہیں انہیں بھی اللہ کی راہ میں تکلیفیں پہنچیں لیکن نہ تو انہوں نے ہمت ہاری اور نہ سست رہے اور نہ دبے اللہ صبر کرنے والوں کو ہی چاہتا ہے۔

۱۴۷.    وہ یہی کہتے رہے کہ اے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم سے ہمارے کاموں میں جو بے جا زیادتی ہوئی ہے اسے بھی معاف فرما اور ہمیں ثابت قدمی عطا فرما اور ہمیں کافروں کی قوم پر مدد دے۔

۱۴۸.    اللہ تعالیٰ  نے! انہیں دنیا کا ثواب بھی دیا اور آخرت کے ثواب کی خوبی بھی عطا فرمائی اور اللہ نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

۱۴۹.     اے ایمان والو! اگر تم کافروں کی باتیں مانو گے تو وہ تمہیں تمہاری ایڑیوں کے پلٹا دیں گے (یعنی تمہیں مرتد بنا دیں گے) پھر تم نامراد ہو جاؤ گے۔

۱۵۰.    بلکہ اللہ تمہارا مولا ہے اور وہ ہی بہترین مددگار ہے۔

۱۵۱.     ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے، اس وجہ سے کہ یہ اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو شریک کرتے ہیں جس کی کوئی دلیل اللہ نے نہیں اتاری  ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور ان ظالموں کی بری جگہ ہے۔

۱۵۲.    اللہ تعالیٰ  نے تم سے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا جبکہ تم اس کے حکم سے انہیں کاٹ رہے تھے  یہاں تک کہ جب تم نے پست ہمتی اختیار کی اور کام میں جھگڑنے لگے اور نافرمانی کی  اس کے بعد کہ اس نے تمہاری چاہت کی چیز تمہیں دکھا دی  تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے  اور بعض کا ارادہ آخرت کا تھا  تو پھر اس نے تمہیں ان سے پھیر دیا تاکہ تم کو آزمائے  اور یقیناً اس نے تمہاری لغزش سے درگزر فرما دیا اور ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ  بڑے فضل والا ہے۔

۱۵۳.    جب کہ تم چڑھے چلے جا رہے تھے  اور کسی کی طرف توجہ تک نہیں کرتے تھے اور اللہ کے رسول تمہیں تمہارے پیچھے سے آوازیں دے رہے تھے  بس تمہیں غم پر غم پہنچا  تاکہ تم فوت شدہ چیز پر غمگین نہ ہو اور نہ پہنچنے والی (تکلیف) پر اداس ہو  اللہ تعالیٰ  تمہارے تمام اعمال سے خبردار ہے۔

۱۵۴.    پھر اس نے اس غم کے بعد تم پر امن نازل فرمایا اور تم میں سے ایک جماعت کو امن کی نیند آنے لگی  ہاں کچھ وہ لوگ بھی تھے کہ انہیں اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی  وہ اللہ تعالیٰ  کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے  اور کہتے تھے کہ ہمیں بھی کسی چیز کا اختیار ہے  کہہ دیجئیے کام کل کا کل اللہ کے اختیار میں ہے  یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے  کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو یہاں قتل نہ کئے جاتے  آپ کہہ دیجئے گو تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے پھر بھی جن کی قسمت میں قتل ہونا تھا وہ تو مقتل کی طرف چل کھڑے ہوتے  اللہ تعالیٰ  کو تمہارے سینوں کے اندر کی چیز کا آزمانا اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو پاک کرنا تھا (٩) اور اللہ تعالیٰ  سینوں کے بھید سے آگاہ ہے (۱٠)۔

۱۵۵.    تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ دکھائی جس دن دونوں جماعتوں کی مڈ بھیڑ ہوئی تھی یہ لوگ اپنے بعض کرتوتوں کے باعث شیطان کے پھسلانے پر آ گئے  لیکن یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ  نے انہیں معاف کر دیا  اللہ تعالیٰ  بخشنے والا اور تحمل والا ہے۔

۱۵۶.    اے ایمان والو! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے کفر کیا اپنے بھائیوں کے حق میں جب کہ وہ سفر میں ہوں یا جہاد میں کہا اگر ہمارے پاس ہوتے نہ مرتے اور نہ مارے جاتے  اس کی وجہ یہ تھی کہ اس خیال کو اللہ تعالیٰ  ان کی دلی حسرت کا سبب بنا دے  اللہ تعالیٰ  جلاتا اور مارتا ہے اور اللہ تمہارے عمل کو دیکھ رہا ہے۔

۱۵۷.    قسم ہے اگر اللہ تعالیٰ  کی راہ میں شہید کئے جاؤ یا اپنی موت مرو تو بیشک اللہ تعالیٰ  کی بخشش اور رحمت اس سے بہتر ہے جسے یہ جمع کر رہے ہیں۔

۱۵۸.    بالیقین خواہ تم مر جاؤ یا مار ڈالے جاؤ جمع تو اللہ تعالیٰ  کی طرف ہی کئے جاؤ گے۔

۱۵۹.     اللہ تعالیٰ  کی رحمت کے باعث آپ ان پر رحم دل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے سو آپ ان سے درگزر کریں اور  ان کے لئے استغفار کریں اور کام کا مشورہ ان سے کیا کریں  پھر جب آپ کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اللہ تعالیٰ  پر بھروسہ کریں  بیشک اللہ تعالیٰ  توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

۱۶۰.     اگر اللہ تعالیٰ  تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ  ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔

۱۶۱.     ناممکن ہے کہ نبی سے خیانت ہو جائے  ہر خیانت کرنے والا خیانت کو لئے ہوئے قیامت کے دن حاضر ہو گا پھر ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور وہ ظلم نہ کئے جائیں گے۔

۱۶۲.     کیا پس وہ شخص جو اللہ تعالیٰ  کی خوشنودی کے درپے ہے اس شخص جیسا ہے جو اللہ تعالیٰ  کی ناراضگی لے کر لوٹتا ہے؟ اور جس کی جگہ جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔

۱۶۳.    اللہ تعالیٰ  کے پاس ان کے الگ الگ درجے ہیں اور ان کے تمام اعمال کو اللہ بخوبی دیکھ رہا ہے۔

۱۶۴.    بیشک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ  کا بڑا احسان ہے کہ انہیں میں سے ایک رسول ان میں بھیجا  جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت  سکھاتا ہے یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔

۱۶۵.    (کیا بات ہے) کہ جب تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے  تو یہ کہنے لگے یہ کہاں سے آ گئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے  بیشک اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قادر ہے۔

۱۶۶.     تمہیں جو کچھ اس دن پہنچا جس دن دو جماعتوں میں مڈبھیڑ ہوئی تھی وہ سب اللہ کے حکم سے تھا اس لئے تاکہ اللہ تعالیٰ  ایمان والوں کو ظاہری طور پر جان لے۔

۱۶۷.    اور منافقوں کو بھی معلوم کر لے  جن سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کافروں کو ہٹاؤ تو وہ کہنے لگے کہ اگر ہم لڑائی جانتے ہوتے تو ضرور ساتھ دیتے  وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر کے بہت نزدیک تھے  اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں اور اللہ تعالیٰ  خوب جانتا ہے جسے وہ چھپاتے ہیں۔

۱۶۸.    یہ وہ لوگ ہیں جو خود بھی بیٹھے رہے اور اپنے بھائیوں کی بابت کہا کہ اگر وہ بھی ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے کہہ دیجئے! کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی جانوں سے موت کو ہٹا دو۔

۱۶۹.     جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزیاں دیئے جاتے ہیں۔

۱۷۰.    اللہ تعالیٰ  نے فضل جو انہیں دے رکھا ہے ان سے وہ بہت خوش ہیں اور خوشیاں منا رہے ہیں ان لوگوں کی بابت جو اب تک ان کو نہیں ملے ان کے پیچھے ہیں  اس پر انہیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

۱۷۱.     وہ خوش ہوتے ہیں کہ اللہ کی نعمت اور فضل سے اور اس سے بھی کہ اللہ تعالیٰ  ایمان والوں کے اجر کو برباد نہیں کرتا۔

۱۷۲.    جن لوگوں نے اللہ اور رسول کے حکم کو قبول کیا اس کے بعد کہ انہیں پورے زخم لگ چکے تھے ان میں سے جنہوں نے نیکی کی اور پرہیز گاری برتی ان کے لئے بہت زیادہ اجر ہے۔

۱۷۳.    وہ لوگ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے میں لشکر جمع کر لئے ہیں۔ تم ان سے خوف کھاؤ تو اس بات نے انہیں ایمان میں اور بڑھا دیا اور کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔

۱۷۴.    (نتیجہ یہ ہوا) کہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ یہ لوٹے  انہیں کوئی برائی نہیں پہنچی انہوں نے اللہ تعالیٰ  کی رضامندی کی پیروی کی اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔

۱۷۵.    یہ خبر دینے والا شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے  تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو اگر تم مومن ہو

۱۷۶.    کفر میں آگے بڑھنے والے لوگ تجھے غمناک نہ کریں یقین مانو یہ اللہ تعالیٰ  کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے اللہ تعالیٰ  کا ارادہ ہے کہ ان کے لئے آخرت کا کوئی حصہ عطا نہ کرے  اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔

۱۷۷.   کفر کو ایمان کے بدلے خریدنے والے ہرگز ہرگز اللہ تعالیٰ  کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ان ہی کے لئے سخت المناک عذاب ہے۔

۱۷۸.    کافر لوگ ہماری دی ہوئی مہلت کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں، یہ مہلت تو اس لئے ہے کہ وہ گناہوں میں اور بڑھ جائیں  ان ہی کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

۱۷۹.    جس حال میں تم ہو اسی پر اللہ ایمان والوں کو نہ چھوڑے گا جب تک کہ پاک اور ناپاک الگ الگ نہ کر دے  اور نہ اللہ تعالیٰ  ایسا ہے کہ تمہیں غیب سے آگاہ کر دے  بلکہ اللہ تعالیٰ  اپنے رسولوں میں سے جس کا چاہے انتخاب کر لیتا ہے  اس لئے تم اللہ تعالیٰ  پر ایمان رکھو اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ کرو تو تمہارے لئے بڑا بھاری اجر ہے۔

۱۸۰.    جنہیں اللہ تعالیٰ  نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لئے بہتر خیال نہ کریں بلکہ وہ ان کے لئے بدتر ہے عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے  آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لئے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ تعالیٰ  آگاہ ہے

۱۸۱.     یقیناً اللہ تعالیٰ  نے ان لوگوں کا قول بھی سنا جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ  فقیر ہے اور ہم تونگر ہیں۔ ان کے اس قول کو ہم لکھ لیں گے۔ اور ان کا انبیاء کو قتل کرنا بھی  اور ہم ان سے کہیں گے کہ جلانے والا عذاب چکھو۔

۱۸۲.    یہ تمہارے پیش کردہ اعمال کا بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ  اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔

۱۸۳.    یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ  نے ہمیں حکم دیا ہے کہ کسی رسول کو نہ مانیں جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ کھا جائے آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو تو مجھ سے پہلے تمہارے پاس جو رسول دیگر معجزوں کے ساتھ یہ بھی لائے جسے تم کہہ رہے ہو پھر تم نے انہیں کیوں مار ڈالا۔

۱۸۴.    پھر بھی یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو آپ سے پہلے بھی بہت سے وہ رسول جھٹلائے گئے جو روشن دلیلیں صحیفے اور منور کتاب لے کر آئے۔

۱۸۵.    ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیئے جاؤ گے، پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بیشک وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے۔

۱۸۶.    یقیناً تمہارے مالوں اور جانوں سے تمہاری آزمائش کی جائے گی  اور یہ بھی یقین ہے کہ تمہیں ان لوگوں کی جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور مشرکوں کو بہت سی دکھ دینے والی باتیں بھی سننی پڑیں گی اور اگر تم صبر کر لو اور پرہیزگاری اختیار کرو تو یقیناً یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے۔۔

۱۸۷.    اور اللہ تعالیٰ  نے جب اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم اسے سب لوگوں سے ضرور بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں تو پھر بھی ان لوگوں نے اس عہد کو اپنی پیٹھ پیچھے ڈال دیا اور اسے بہت کم قیمت پر بیچ ڈالا۔ ان کا یہ بیوپار بہت برا ہے۔

۱۸۸.    وہ لوگ جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی تعریفیں کی جائیں آپ انہیں عذاب سے چھٹکارہ میں نہ سمجھئے ان کے لئے دردناک عذاب ہے

۱۸۹.     آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قادر ہے۔

۱۹۰.     آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقیناً عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

۱۹۱.      جو اللہ تعالیٰ  کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار تو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا۔ تو پاک ہے پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔

۱۹۲.     اے ہمارے پالنے والے تو جسے جہنم میں ڈالے یقیناً تو نے اسے رسوا کیا اور ظالموں کا مددگار کوئی نہیں۔

۱۹۳.     اے ہمارے رب! ہم نے سنا کہ منادی کرنے والا با آواز بلند ایمان کی طرف بلا رہا ہے کہ لوگو! اپنے رب پر ایمان لاؤ پس ہم ایمان لائے یا الٰہی! اب تو ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیاں ہم سے دور کر دے اور ہماری موت نیکوں کے ساتھ کر۔

۱۹۴.     اے ہمارے پالنے والے معبود! ہمیں وہ دے جس کا وعدہ تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانی کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کر یقیناً تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

۱۹۵.     پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی  کہ تم میں سے کسی کام کرنے والے کے کام کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت میں ہرگز ضائع نہیں کرتا  تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو  اس لئے وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے اور جنہیں میری راہ میں ایذا دی گئی اور جنہوں نے جہاد کیا اور شہید کئے گئے میں ضرور ضرور ان کی برائیاں ان سے دور کر دوں گا اور بالیقین انہیں جنتوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں یہ ہے ثواب اللہ تعالیٰ  کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ  ہی کے پاس بہترین ثواب ہے۔

۱۹۶.     تجھے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا فریب میں نہ ڈال دے۔

۱۹۷.    یہ تو بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے  اس کے بعد ان کا ٹھکانہ تو جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

۱۹۸.     لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لئے جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ مہمانی ہے اللہ کی طرف سے اور نیکوکاروں کے لئے جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہت ہی بہتر ہے۔

۱۹۹.     یقیناً اہل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ  پر ایمان لاتے ہیں اور تمہاری طرف جو اتارا گیا اور ان کی طرف جو نازل ہوا اس پر بھی اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ  کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے بھی نہیں  ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے یقیناً اللہ تعالیٰ  جلد حساب لینے والا ہے۔

۲۰۰.    اے ایمان والو! تم ثابت قدم رہو  اور ایک دوسرے کو تھامے رکھو اور جہاد کے لئے تیار رہو تاکہ تم مراد کو پہنچو۔

 

۴۔ النساء

۱.         اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا  اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو  بیشک اللہ تعالیٰ  تم پر نگہبان ہے۔

۲.        اور یتیموں کا مال ان کو دے دو اور حلال چیز کے بدلے ناپاک اور حرام چیز نہ لو اور اپنے مالوں کے ساتھ ان کے مال ملا کر کھا نہ جاؤ، بیشک یہ بہت بڑا گناہ ہے

۳.        اگر تمہیں ڈر ہو کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے تم انصاف نہ رکھ سکو گے تو اور عورتوں میں سے جو بھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کر لو، دو دو، تین تین، چار چار سے، لیکن اگر تمہیں برابری نہ کر سکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈی  یہ زیادہ قریب ہے (کہ ایسا کرنے سے نا انصافی اور) ایک طرف جھکنے سے بچ جاؤ۔

۴.        اور عورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دے دو ہاں اگر وہ خود اپنی خوشی سے کچھ مہر چھوڑ دیں تو اسے شوق سے خوش ہو کر کھاؤ پیو۔

۵.        بے عقل لوگوں کو اپنا مال نہ دے دو جس مال کو اللہ تعالیٰ  نے تمہاری گزران کے قائم رکھنے کا ذریعہ بنایا ہے ہاں انہیں اس مال سے کھلاؤ پلاؤ، پہناؤ، اڑھاؤ اور انہیں معقولیت سے نرم بات کہو۔

۶.        اور یتیموں کو ان کے بالغ ہونے تک سدھارتے اور آزماتے رہو پھر اگر ان میں تم ہوشیاری اور حسن تدبیر پاؤ تو انہیں ان کے مال سونپ دو اور ان کے بڑے ہو جانے کے ڈر سے ان کے مالوں کو جلدی جلدی فضول خرچیوں میں تباہ نہ کر دو مال داروں کو چاہیے کہ (ان کے مال سے) بچتے رہیں ہاں مسکین محتاج ہو تو دستور کے مطابق واجبی طرح سے کھا لے، پھر جب انہیں ان کے مال سونپو تو گواہ بنا لو دراصل حساب لینے والا اللہ تعالیٰ  ہی کافی ہے

۷.        ماں باپ اور خویش و اقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی (جو مال ماں باپ اور خویش و اقارب چھوڑ کر مریں) خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ (اس میں) حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔

۸.        جب تقسیم کے وقت قرابت دار اور یتیم اور مسکین آ جائیں تو تم اس میں سے تھوڑا بہت انہیں بھی دے دو اور ان سے نرمی سے بولو۔

۹.         چاہئے کہ وہ اس بات سے ڈریں کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے (ننھے ننھے) ناتواں بچے چھوڑ جاتے جن کے ضائع ہو جانے کا اندیشہ رہتا (تو ان کی چاہت کیا ہوتی) پس اللہ تعالیٰ  سے ڈر کر جچی تلی بات کہا کریں

۱۰.       جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں جائیں گے۔

۱۱.        اللہ تعالیٰ  تمہیں اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے  اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں اور دو سے زیادہ ہوں تو انہیں مال متروکہ کا دو تہائی ملے گا  اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک لئے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا چھٹا حصہ ہے اگر اس میت کی اولاد ہو  اگر اولاد نہ ہو اور ماں باپ وارث ہوتے ہوں تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے  ہاں اگر میت کے کئی بھائی ہوں تو پھر اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے  یہ حصے اس کی وصیت (کی تکمیل) کے بعد ہیں جو مرنے والا کر گیا ہو یا ادائے قرض کے بعد تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کون تمہیں نفع پہنچانے میں زیادہ قریب ہے  یہ حصے اللہ تعالیٰ  کی طرف سے مقرر کردہ ہیں بیشک اللہ تعالیٰ  پورے علم اور کامل حکمتوں والا ہے۔

۱۲.       تمہاری بیویاں جو چھوڑ مریں اور ان کی اولاد نہ ہو تو آدھوں آدھ تمہارا اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے تمہارے لئے چوتھائی حصہ ہے  اس کی وصیت کی ادائیگی کے بعد جو وہ کر گئیں ہوں یا قرض کے بعد۔ اور جو (ترکہ) تم چھوڑ جاؤ اس میں سے ان کے لئے چوتھائی ہے اگر تمہاری اولاد نہ ہو اور اگر تمہاری اولاد ہو تو پھر انہیں تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصہ ملے گا  اس وصیت کے بعد جو تم کر گئے ہو اور قرض کی ادائیگی کے بعد۔ اور جن کی میراث لی جاتی ہے وہ مرد یا عورت کلالہ ہو یعنی اس کا باپ بیٹا نہ ہو  اور اس کا ایک بھائی اور ایک بہن ہو  تو ان دونوں میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اگر اس سے زیادہ ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہیں  اس وصیت کے بعد جو کی جائے اور قرض کے بعد  جب کہ اوروں کا نقصان نہ کیا گیا ہو  یہ مقرر کیا ہوا اللہ تعالیٰ  کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ  دانا ہے بردبار۔

۱۳.       یہ حدیں اللہ تعالیٰ  کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالیٰ  کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم) کی فرمانبرداری کرے گا اسے اللہ تعالیٰ  جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

۱۴.       اور جو شخص اللہ تعالیٰ  کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و سلم) کی نافرمانی کرے اور اس کی مقرہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ایسوں کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔

۱۵.       تمہاری عورتوں میں سے جو بے حیائی کا کام کریں ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے  یا اللہ تعالیٰ  ان کے لئے کوئی اور راستہ نکالے

۱۶.       تم میں سے جو دو افراد ایسا کام کر لیں  انہیں ایذا دو  اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منہ پھیر لو بیشک اللہ تعالیٰ  توبہ قبول کرنے والا ہے اور رحم کرنے والا ہے۔

۱۷.      اللہ تعالیٰ  صرف انہی لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو بوجہ نادانی کوئی برائی کر گزریں پھر جلد اس سے باز آ جائیں اور توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ  بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے اللہ تعالیٰ  بڑے علم والا حکمت والا ہے۔ ْ

۱۸.       ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آ جائے تو کہہ دے کہ میں نے اب توبہ کی  اور ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں یہی لوگ ہیں جن کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

۱۹.       ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کے ورثے میں لے بیٹھو  انہیں اس لئے روک نہ رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ لے لو  ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کوئی کھلی برائی اور بے حیائی کریں  ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بود و باش رکھو گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو اور اللہ تعالیٰ  اس میں بہت بھلائی کر دے۔

۲۰.      اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا ہی چاہو اور ان میں کسی کو تم نے خزانے کا خزانہ دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو  کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناہ ہوتے ہوئے بھی لے لو گے تم اسے کیسے لے لو گے۔

۲۱.       حالانکہ تم ایک دوسرے کو مل چکے ہو  اور ان عورتوں نے تم سے مضبوط عہد و پیمان لے رکھا ہے۔

۲۲.      اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے  مگر جو گزر چکا ہے یہ بے حیائی کا کام اور بغض کا سبب ہے اور بڑی بری راہ ہے۔

۲۳.      حرام کی گئی ہیں  تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری لڑکیاں اور تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھائی کی لڑکیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری ساس اور تمہاری وہ پرورش کردہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول کر چکے ہو ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اور تمہارے بیٹوں کی بیویاں اور تمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا۔ ہاں جو گزر چکا سو گزر چکا، یقیناً اللہ تعالیٰ  بخشنے والا مہربان ہے۔

۲۴.      اور حرام کی گئی شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں  اللہ تعالیٰ  نے احکام تم پر فرض کر دئیے ہیں، ان عورتوں کے سواء اور عورتیں تمہارے لئے حلال کی گئیں کہ اپنے مال کے مہر سے تم ان سے نکاح کرنا چاہو برے کام سے بچنے کے لئے نہ کہ شہوت رانی کے لئے  اس لئے جن سے تم فائدہ اُٹھاؤ انہیں ان کا مقرر کیا ہوا مہر دے دو  اور مہر مقرر ہونے کے بعد تم آپس کی رضامندی سے جو طے کر لو تم پر کوئی گناہ نہیں  بیشک اللہ تعالیٰ  علم والا حکمت والا ہے۔

۲۵.      اور تم میں سے جس کسی کو آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی پوری وسعت و طاقت نہ ہو وہ مسلمان لونڈیوں سے جن کے تم مالک ہو اپنا نکاح کر لو اللہ تمہارے اعمال کو بخوبی جاننے والا ہے، تم سب آپس میں ایک ہی تو ہو اس لئے ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کر لو  اور قاعدہ کے مطابق ان کے مہر ان کو دے دو، وہ پاک دامن ہوں نہ کہ اعلانیہ بدکاری کرنے والیاں، پس جب یہ لونڈیاں نکاح میں آ جائیں پھر اگر وہ بے حیائی کا کام کریں تو انہیں آدھی سزا ہے اس سزا سے جو آزاد عورتوں کی ہے  کنیزوں سے نکاح کا یہ حکم تم میں سے ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں گناہ اور تکلیف کا اندیشہ ہو اور تمہارا ضبط کرنا بہت بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ  بڑا بخشنے والا اور بڑی رحمت والا ہے۔

۲۶.      اللہ تعالیٰ  چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے خوب کھول کر بیان کرے اور تمہیں تم سے پہلے کے (نیک) لوگوں کی راہ پر چلائے اور تمہاری توبہ قبول کرے اور اللہ تعالیٰ  جاننے والا حکمت والا ہے۔

۲۷.     اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے اور جو لوگ خواہشات کے پیرو ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم اس سے بہت دور ہٹ جاؤ۔

۲۸.      اللہ چاہتا ہے کہ تم سے تخفیف کر دے کیونکہ انسان کمزور پیدا ہوا ہے۔

۲۹.      اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ  مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضامندی سے ہو خرید و فروخت  اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو  یقیناً اللہ تعالیٰ  تم پر نہایت مہربان ہے۔

۳۰.      اور جو شخص یہ (نافرمانیاں) سرکشی اور ظلم سے کرے گا  تو عنقریب ہم اس کو آگ میں داخل کریں گے۔ اور یہ اللہ پر آسان ہے۔

۳۱.       اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے جس سے تم کو منع کیا جاتا ہے  تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ دور کر دیں گے اور عزت و بزرگی کی جگہ داخل کریں گے۔

۳۲.      اور اس کی آرزو نہ کرو جس کے باعث اللہ تعالیٰ  نے تم سے بعض کو بعض پر بزرگی دی ہے، مردوں کا اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کے لئے ان میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور اللہ تعالیٰ  سے اس کا فضل مانگو  یقیناً اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

۳۳.     ماں باپ یا قرابت دار جو چھوڑ مریں اس کے وارث ہم نے ہر شخص کے لئے مقرر کر دئیے ہیں  جن سے تم نے اپنے ہاتھوں معاہدہ کیا ہے انہیں ان کا حصہ دو  حقیقتاً اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر حاضر ہے۔

۳۴.     مرد عورت پر حاکم ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ  نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے مال خرچ کئے ہیں  پس نیک فرمانبردار عورتیں خاوند کی عدم موجودگی میں یہ حفاظت الٰہی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اور جن عورتوں کی نافرمانی اور بد دماغی کا تمہیں خوف ہو انہیں نصیحت کرو اور انہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہیں مار کی سزا دو پھر اگر وہ تابعداری کریں تو ان پر راستہ تلاش نہ کرو  بیشک اللہ تعالیٰ  بڑی بلندی اور بڑائی والا ہے۔

۳۵.     اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان آپس کی ان بن کا خوف ہو تو ایک منصف مرد والوں میں اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرو  اگر یہ دونوں صلح کرنا چاہیں گے تو اللہ دونوں میں ملاپ کرا دے گا یقیناً پورے علم والا اور پوری خبر والا ہے۔

۳۶.      اور اللہ تعالیٰ  کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسائے سے  اور پہلو کے ساتھی سے  اور راہ کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں (غلام، کنیز)  یقیناً اللہ تعالیٰ  تکبر کرنے والے اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا۔

۳۷.     جو لوگ خود بخیلی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخیلی کرنے کو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ  نے جو اپنا فضل انہیں دے رکھا ہے اسے چھپا لیتے ہیں ہم نے ان کافروں کے لئے ذلت کی مار تیار کر رکھی ہے۔

۳۸.     اور جو لوگ اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ  پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور جس کا ہم نشین اور ساتھی شیطان ہو  وہ بدترین ساتھی ہے۔

۳۹.      بھلا ان کا کیا نقصان تھا اگر یہ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے اور اللہ تعالیٰ  نے جو انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے اللہ تعالیٰ  انہیں خوب جاننے والا ہے۔

۴۰.      بیشک اللہ تعالیٰ  ایک ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو تو اسے دوگنی کر دیتا ہے اور خاص اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔

۴۱.       پس کیا حال ہو گا جس وقت کہ ہر امت میں سے ایک گواہ ہم لائیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے۔

۴۲.      جس روز کافر اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے نافرمان آرزو کریں گے کہ کاش! انہیں زمین کے ساتھ ہموار کر دیا جاتا اور اللہ تعالیٰ  سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے۔

۴۳.     اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو نماز کے قریب نہ جاؤ  جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو اور جنابت کی حالت میں جب تک کہ غسل نہ کر لو  ہاں اگر راہ چلتے گزر جانے والے ہوں تو اور بات ہے  اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اپنے منہ اور اپنے ہاتھ مل لو  بیشک اللہ تعالیٰ  معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔

۴۴.     کیا تم نے نہیں دیکھا، جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے، وہ گمراہی خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ سے بھٹک جاؤ۔

۴۵.     اللہ تعالیٰ  تمہارے دشمنوں کو خوب جاننے والا ہے اور اللہ تعالیٰ  کا دوست ہونا کافی ہے اور اللہ تعالیٰ  کا مددگار ہونا بس ہے۔

۴۶.      بعض یہود کلمات کو ان کی ٹھیک جگہ سے ہیر پھیر کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور سن اس کے بغیر کہ تو سنا جائے  اور ہماری رعایت کر (لیکن اس کہنے میں) اپنی زبان کو پیچ دیتے ہیں اور دین میں طعنہ دیتے ہیں اور اگر یہ لوگ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے فرمانبرداری کی آپ سنئے ہمیں دیکھئے تو یہ ان کے لئے بہت بہتر اور نہایت ہی مناسب تھا، لیکن اللہ تعالیٰ  نے ان کے کفر سے انہیں لعنت کی ہے پس یہ بہت ہی کم ایمان لاتے ہیں۔

۴۷.     اے اہل کتاب جو کچھ ہم نے نازل فرمایا جو اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمہارے پاس ہے اس پر ایمان لاؤ اس سے پہلے کہ ہم چہرے بگاڑ دیں اور انہیں الٹا کر پیٹھ کی طرف کر دیں  یا ان پر لعنت بھجیں جیسے ہم نے ہفتے کے دن والوں پر لعنت کی  اور ہے اللہ تعالیٰ  کا کام کیا گیا۔

۴۸.     یقیناً اللہ تعالیٰ  اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سواء جسے چاہے بخش دیتا ہے  اور جو اللہ تعالیٰ  کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا۔

۴۹.      کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی اور ستائش خود کرتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ  جسے چاہے پاکیزہ کرتا ہے کسی پر ایک دھاگے کے برابر ظلم نہ کیا جائے گا۔

۵۰.      دیکھو یہ لوگ اللہ تعالیٰ  پر کس طرح جھوٹ باندھتے ہیں  اور یہ (حرکت) گناہ ہونے کے لئے کافی ہے

۵۱.       کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ ملا ہے؟ جو بت کا اور باطل معبود کا اعتقاد رکھتے ہیں اور کافروں کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیادہ راہ راست پر ہیں

۵۲.      یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ  نے لعنت کی ہے اور جسے اللہ تعالیٰ  لعنت کر دے تو اس کا کوئی مددگار نہ پائے گا

۵۳.     کیا ان کا کوئی حصہ سلطنت میں ہے؟ اگر ایسا ہو تو پھر یہ کسی کو ایک کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی کچھ نہ دیں۔

۵۴.     یا یہ لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ تعالیٰ  نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے  پس ہم نے تو آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت بھی دی ہے اور بڑی سلطنت بھی عطا فرمائی۔

۵۵.     پھر ان میں سے بعض نے اس کتاب کو مانا اور بعض اس سے رک گئے  اور جہنم کا جلانا کافی ہے۔

۵۶.      جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے  جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سواء اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب چکھتے رہیں  یقیناً اللہ تعالیٰ  غالب حکمت والا ہے۔

۵۷.     اور جو لوگ ایمان لائے اور شائستہ اعمال کئے  ہم عنقریب انہیں ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، ان کے لئے وہاں صاف ستھری بیویاں ہوں گی اور ہم انہیں گھنی چھاؤں (اور پوری راحت) میں لے جائیں گے۔

۵۸.     اللہ تعالیٰ  تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ  اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل اور انصاف سے فیصلہ کرو  یقیناً وہ بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمہیں اللہ تعالیٰ  کر رہا ہے،  بیشک اللہ تعالیٰ  سنتا ہے دیکھتا ہے۔

۵۹.      اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ  کی اور فرمانبرداری کرو (رسول اللہ علیہ و سلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔  پھر اگر کسی چیز پر اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ  کی طرف اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ  پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔

۶۰.      کیا آپ نے انہیں نہیں دیکھا؟ جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ جو کچھ آپ سے پہلے اتارا گیا ہے اس پر ان کا ایمان ہے، لیکن وہ اپنے فیصلے غیر اللہ کی طرف لے جانا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ شیطان کا انکار کریں، شیطان تو یہ چاہتا ہے بہکا کر دور ڈال دے۔

۶۱.       ان سے جب کبھی کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ  کے نازل کردہ کلام کی اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف آؤ تو آپ دیکھ لیں گے کہ یہ منافق آپ سے منہ پھیر کر رکے جاتے ہیں۔

۶۲.      پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالیٰ  کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا

۶۳.      یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے دلوں کا بھید اللہ تعالیٰ  پر بخوبی روشن ہے آپ ان سے چشم پوشی کیجئے، انہیں نصیحت کرتے رہئے اور انہیں وہ بات کہئے جو ان کے دلوں میں گھر کرنے والی ہو۔

۶۴.      ہم نے ہر رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو صرف اس لئے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ  کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے اور اگر یہ لوگ جب انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، تیرے پاس آ جاتے اور اللہ تعالیٰ  سے استغفار کرتے اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم بھی ان کے لئے استغفار کرتے  تو یقیناً یہ لوگ اللہ تعالیٰ  کو معاف کرنے والا مہربان پاتے۔

۶۵.      سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور نا خوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں۔

۶۶.      اگر ہم ان پر یہ فرض کر دیتے ہیں کہ اپنی جانوں کو قتل کر ڈالو! یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ! تو اسے ان میں سے بہت ہی کم لوگ حکم بجا لاتے اور اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یقیناً یہی ان کے لئے بہتر اور زیادہ مضبوطی والا ہو

۶۷.     اور تب تو انہیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیں۔

۶۸.      اور یقیناً انہیں راہ راست دکھا دیں۔

۶۹.      اور جو بھی اللہ تعالیٰ  کی اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی فرمانبرداری کرے، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ تعالیٰ  نے انعام کیا، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں۔

۷۰.     یہ فضل اللہ تعالیٰ  کی طرف سے ہے اور کافی ہے اللہ تعالیٰ  جاننے والا ہے۔

۷۱.      اے مسلمانو! اپنے بچاؤ کا سامان لے لو  پھر گروہ گروہ بن کر کوچ کرو یا سب کے سب اکھٹے ہو کر نکلو۔

۷۲.     اور یقیناً تم میں بعض وہ بھی ہیں جو پس و پیش کرتے ہیں  پھر اگر تمہیں کوئی نقصان ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ  نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہ تھا۔

۷۳.     اور اگر تمہیں اللہ تعالیٰ  کا کوئی فضل  مل جائے تو اس طرح کہ گویا تم میں ان میں دوستی تھی ہی نہیں  کہتے ہیں کاش! میں بھی ان کے ہمراہ ہوتا تو بڑی کامیابی کو پہنچتا۔

۷۴.     پس جو لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ چکے ہیں  انہیں اللہ تعالیٰ  کی راہ میں جہاد کرنا چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ  کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہادت پا لے یا غالب آ جائے، یقیناً ہم اسے بہت بڑا ثواب عنایت کرتے ہیں۔

۷۵.     بھلا کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان ناتواں مردوں، عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کے چھٹکارے کے لئے جہاد نہ کرو؟ جو یوں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ان ظالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے حمایتی مقرر کر دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا

۷۶.     جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ  کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا، وہ اللہ تعالیٰ  کے سوا اوروں کی راہ میں لڑتے ہیں  پس تم شیطان کے دوستوں سے جنگ کرو یقین مانو کہ شیطانی حیلہ ( بالکل بودا اور) سخت کمزور ہے۔

۷۷.     کیا تم نے نہیں دیکھا جنہیں حکم کیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو اور نمازیں پڑھتے رہو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو، پھر جب انہیں جہاد کا حکم دیا گیا تو اسی وقت ان کی ایک جماعت لوگوں سے اس قدر ڈرنے لگی جیسے اللہ تعالیٰ  کا ڈر ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اور کہنے لگے اے ہمارے رب! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا  کیوں ہمیں تھوڑی سی زندگی اور نہ جینے دیا؟  آپ کہہ دیجئے کہ دنیا کی سود مندی تو بہت ہی کم ہے اور پرہیزگاروں کے لئے تو آخرت ہی بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ستم روانہ رکھا جائے گا۔

۷۸.     تم جہاں کہیں بھی ہو موت تمہیں آ کر پکڑے گی گو تم مضبوط قلعوں میں ہو  اور اگر انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ  کی طرف سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچتی ہے تو کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ تیری طرف سے ہے  انہیں کہہ دو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ  کی طرف سے ہے۔ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات سمجھنے کے بھی قریب نہیں

۷۹.      تجھے جو بھلائی ملتی ہے وہ اللہ تعالیٰ  کی طرف سے ہے  اور جو برائی پہنچتی ہے وہ تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے  ہم نے تجھے تمام لوگوں کو پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ  گواہ کافی ہے۔

۸۰.      اس رسول (صلی اللہ علیہ و سلم) کی جو اطاعت کرے اسی نے اللہ تعالیٰ  کی فرمانبرداری کی اور جو منہ پھیر لے تو ہم نے آپ کو کچھ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔

۸۱.       یہ کہتے ہیں کہ اطاعت ہے، پھر جب آپ کے پاس سے اٹھ کر باہر نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک جماعت، جو بات آپ نے یا اس نے کہی ہے اس کے خلاف راتوں کو مشورہ کرتی ہے  ان کی راتوں کی بات چیت اللہ لکھ رہا ہے، تو آپ ان سے منہ پھیر لیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں اللہ تعالیٰ  کافی کارساز ہے۔

۸۲.      کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالیٰ  کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً اس میں بھی کچھ اختلاف پاتے۔

۸۳.     جہاں انہیں کوئی خبر امن کی یا خوف کی ملی انہوں نے اسے مشہور کرنا شروع کر دیا، حالانکہ اگر یہ لوگ اس رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اور اپنے میں سے ایسی باتوں کی تہہ تک پہنچنے والوں کے حوالے کر دیتے تو اس کی حقیقت وہ لوگ معلوم کر لیتے جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں  اور اگر اللہ تعالیٰ  کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوہ تم سب شیطان کے پیروکار بن جاتے۔

۸۴.     تو اللہ تعالیٰ  کی راہ میں جہاد کرتا رہ، تجھے صرف تیری ذات کی نسبت حکم دیا جاتا ہے، ہاں ایمان والوں کو رغبت دلاتا رہ، بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ  کافروں کی جنگ کو روک دے اور اللہ تعالیٰ  سخت قوت والا ہے اور سزا دینے میں بھی سخت ہے۔

۸۵.     جو شخص کسی نیکی یا بھلے کام کی سفارش کرے اسے بھی اس کا کچھ حصہ ملے گا اور جو برائی اور بدی کی سفارش کرے اس کے لئے بھی اس میں سے ایک حصہ ہے، اور اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

۸۶.      اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے اچھا جواب دو یا انہی الفاظ کو لوٹا دو  بے شبہ اللہ تعالیٰ  ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

۸۷.     اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تم سب کو یقیناً قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے (آنے) میں کوئی شک نہیں اللہ تعالیٰ  سے زیادہ سچی بات والا اور کون ہو گا۔

۸۸.     تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہ منافقوں میں دو گروہ ہو رہے ہو؟  انہیں تو ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ  نے اوندھا کر دیا ہے۔  اب کیا تم یہ منصوبے بنا رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ  کے گمراہ کئے ہوؤں کو تم راہ راست پر لا کھڑا کرو، جسے اللہ تعالیٰ  راہ بھلا دے تو ہرگز اس کے لئے کوئی راہ نہ پائے گا

۸۹.      ان کی تو چاہت ہے کہ جس طرح کے کافر وہ ہیں تم بھی ان کی طرح کفر کرنے لگو اور پھر سب یکساں ہو جاؤ، پس جب تک یہ اسلام کی خاطر وطن نہ چھوڑیں ان میں سے کسی کو حقیقی دوست نہ بناؤ  پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو انہیں پکڑو  اور قتل کرو جہاں بھی ہاتھ لگ جائیں  خبردار ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ سمجھ بیٹھنا۔

۹۰.      سوائے ان کے جو اس قوم سے تعلق رکھتے ہوں جن سے تمہارا معاہدہ ہو چکا ہے یا جو تمہارے پاس اس حالت میں آئیں کہ تم سے جنگ کرنے سے بھی تنگ دل ہیں اور اپنی قوم سے بھی جنگ کرنے میں تنگ دل ہیں  اور اگر اللہ تعالیٰ  چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کر دیتا اور تم سے یقیناً جنگ کرتے  پس اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کشی اختیار کر لیں اور تم سے لڑائی نہ کریں اور تمہاری جانب صلح کا پیغام ڈالیں  تو اللہ تعالیٰ  نے تمہارے لئے ان پر کوئی راہ لڑائی کی نہیں کی۔

۹۱.       تم کچھ اور لوگوں کو ایسا بھی پاؤ گے جن کی (بظاہر) چاہت ہے کہ تم سے بھی امن میں رہیں۔ اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں  لیکن جب کبھی فتنہ انگیزی  کی طرف لائے جاتے ہیں تو اوندھے منہ اس میں ڈال دیئے جاتے ہیں پس اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کشی نہ کریں اور تم سے صلح کا سلسلہ جنبانی نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روک لیں تو انہیں پکڑو اور مار ڈالو جہاں کہیں بھی پاؤ یہی وہ ہیں جن پر ہم نے تمہیں ظاہر حجت عنایت فرمائی۔

۹۲.      کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں  مگر غلطی سے ہو جائے  (تو اور بات ہے) جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرانا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے  ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں  اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وہ مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرانی لازمی ہے  اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا بھی ضروری ہے  پس جو نہ پائے اس کے ذمے لگاتار دو مہینے کے روزے ہیں  اللہ تعالیٰ  سے بخشوانے کے لئے اور اللہ تعالیٰ  بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

۹۳.      اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ  کا غضب ہے  اسے اللہ تعالیٰ  نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

۹۴.      اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں جا رہے ہو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تم سے سلام علیک کرے تم اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان والا نہیں  تم دنیاوی زندگی کے اسباب کی تلاش میں ہو تو اللہ تعالیٰ  کے پاس بہت سی غنیمتیں  ہیں پہلے تم بھی ایسے ہی تھے پھر اللہ تعالیٰ  نے تم پر احسان کیا لہذا تم ضرور تحقیق اور تفتیش کر لیا کرو، بیشک اللہ تعالیٰ  تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔

۹۵.      اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھے رہنے والے مومن برابر نہیں  اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ  نے درجوں میں بہت فضیلت دے رکھی ہے اور یوں تو اللہ تعالیٰ  نے ہر ایک کو خوبی اور اچھائی کا وعدہ دیا  ہے لیکن مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت دے رکھی ہے۔

۹۶.      اپنی طرف سے مرتبے کی بھی اور بخشش کی بھی اور رحمت کی بھی اور اللہ تعالیٰ  بخشش کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

۹۷.      جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں جب فرشتے ان کی روح قبض کرتے ہیں تو پوچھتے ہیں، تم کس حال میں تھے؟  یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنی جگہ کمزور اور مغلوب تھے  فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ  کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم ہجرت کر جاتے؟ یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ پہنچنے کی بری جگہ ہے۔

۹۸.      مگر جو مرد عورتیں اور بچے بے بس ہیں جنہیں نہ تو کسی کا چارہ کار کی طاقت اور نہ کسی راست کا علم ہے۔

۹۹.       بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ  ان سے درگزر کرے، اللہ تعالیٰ  درگزر کرنے والا اور معاف کرنے والا ہے۔

۱۰۰.     جو کوئی اللہ کی راہ میں وطن چھوڑے گا، وہ زمین میں بہت سی قیام کی جگہیں بھی پائے گا اور کشادگی بھی  اور جو کوئی اپنے گھر سے اللہ تعالیٰ  اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف نکل کھڑا ہوا، پھر اسے موت نے آ پکڑا تو بھی یقیناً اس کا اجر اللہ تعالیٰ  کے ذمہ ثابت ہو گیا، اور اللہ تعالیٰ  بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

۱۰۱.     جب تم سفر پر جا رہے ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے  یقیناً کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں۔

۱۰۲.     جب تم ان میں ہو اور ان کے لئے نماز کھڑی کرو تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ اپنے ہتھیار لئے کھڑی ہو، پھر جب یہ سجدہ کر چکیں تو یہ ہٹ کر تمہارے پیچھے آ جائیں اور وہ دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی وہ آ جائے اور تیرے ساتھ نماز ادا کرے اور اپنا بچاؤ اور اپنے ہتھیار لئے رہے، کافر چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے بے خبر ہو جاؤ، تو وہ تم پر اچانک دھاوا بول دیں  ہاں اپنے ہتھیار اتار رکھنے میں اس وقت تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تکلیف ہو یا بوجہ بارش کے یا بسبب بیمار ہو جانے کے اور اپنے بچاؤ کی چیزیں ساتھ لئے رہو یقیناً اللہ تعالیٰ  نے منکروں کے لئے ذلت کی مار تیار کر رکھی ہے۔

۱۰۳.    پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے اللہ تعالیٰ  کا ذکر کرتے رہو  اور جب اطمینان پاؤ تو نماز قائم کرو  یقیناً نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے۔

۱۰۴.    ان لوگوں کا پیچھا کرنے سے ہارے دل ہو کر بیٹھ نہ رہو  اگر تمہیں بے آرامی ہوتی ہے تو انہیں بھی تمہاری طرح بے آرامی ہوتی ہے اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو، جو امید انہیں نہیں،  اور اللہ تعالیٰ  دانا اور حکیم ہے۔

۱۰۵.    یقیناً ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو جس سے اللہ نے تم کو شناسا کیا ہے  اور خیانت کرنے والوں  کے حمایتی نہ بنو۔

۱۰۶.     اور اللہ تعالیٰ  سے بخشش مانگو!  بیشک اللہ تعالیٰ  بخشش کرنے والا، مہربانی کرنے والا ہے۔

۱۰۷.    اور ان کی طرف سے جھگڑا نہ کرو جو خود اپنی ہی خیانت کرتے ہیں، یقیناً دغا باز گنہگار اللہ تعالیٰ  کو اچھا نہیں لگتا۔

۱۰۸.    وہ لوگوں سے چھپ جاتے ہیں (لیکن) اللہ تعالیٰ  سے نہیں چھپ سکتے وہ راتوں کے وقت جب کہ اللہ کی ناپسندیدہ باتوں کے خفیہ مشورے کرتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کے پاس ہوتا ہے، ان کے تمام اعمال کو وہ گھیرے ہوئے ہے۔

۱۰۹.     ہاں تو یہ تم لوگ کہ دنیا میں تم نے ان کی حمایت کی لیکن اللہ تعالیٰ  کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا؟ اور وہ کون ہے جو ان کا وکیل بن کر کھڑا ہو سکے گا۔

۱۱۰.     جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو اللہ کو بخشنے والا، مہربانی کرنے والا پائے گا۔

۱۱۱.      اور جو گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے  اور اللہ بخوبی جاننے والا ہے

۱۱۲.     اور جو شخص کوئی گناہ یا خطا کرے کسی بے گناہ کے ذمہ تھوپ دے، اس نے بڑا بہتان اٹھایا اور کھلا گناہ کیا۔

۱۱۳.     اگر اللہ تعالیٰ  کا فضل اور رحم تجھ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے تو تجھے بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا  مگر دراصل یہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں، یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اللہ تعالیٰ  نے تجھ پر کتاب اور حکمت اتاری ہے اور تجھے وہ سکھایا ہے جسے تو نہیں جانتا  اور اللہ تعالیٰ  کا تجھ پر بڑا بھاری فضل ہے۔

۱۱۴.     ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی خیر نہیں،  ہاں بھلائی اس کے مشورے میں جو خیرات کا یا نیک بات کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم کرے  اور جو شخص صرف اللہ تعالیٰ  کی رضامندی حاصل کرنے کے ارادے سے یہ کام کرے  اسے ہم یقیناً بہت بڑا ثواب دیں گے۔

۱۱۵.     جو شخص باوجود راہ ہدایت کے واضح ہو جانے کے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف کرے اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے، ہم اسے ادھر ہی متوجہ کر دیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہو اور دوزخ میں ڈال دیں گے  وہ پہنچنے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔

۱۱۶.     اسے اللہ تعالیٰ  قطعاً نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جائے ہاں شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔

۱۱۷.     یہ تو اللہ تعالیٰ  کو چھوڑ کر صرف عورتوں کو پکارتے ہیں  اور دراصل یہ صرف سرکش شیطان کو پوجتے ہیں۔

۱۱۸.     جسے اللہ نے لعنت کی ہے اس نے بیڑا اٹھایا ہے کہ تیرے بندوں میں سے میں مقرر شدہ حصہ لے کر رہوں گا۔

۱۱۹.      اور انہیں راہ سے بہکاتا رہوں گا اور باطل امیدیں دلاتا رہوں گا  اور انہیں سکھاؤں گا کہ جانوروں کے کان چیر دیں  اور ان سے کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ  کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑ دیں  سنو! جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنائے گا وہ صریح نقصان میں ڈوبے گا۔

۱۲۰.     وہ ان سے زبانی وعدے کرتا رہے گا، اور سبز باغ دکھاتا رہے گا (مگر یاد رکھو!) شیطان کے جو وعدے ان سے ہیں وہ سراسر فریب کاریاں ہیں۔

۱۲۱.     یہ وہ لوگ ہیں جن کی جگہ جہنم ہے، جہاں سے انہیں چھٹکارہ نہ ملے گا۔

۱۲۲.     اور جو ایمان لائیں اور بھلے کام کریں ہم انہیں ان جنتوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے چشمے جاری ہیں، جہاں یہ ابد الآباد رہیں گے، یہ ہے اللہ کا وعدہ جو سراسر سچا ہے اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ سے زیادہ سچا ہو۔

۱۲۳.    حقیقت حال نہ تو تمہاری آرزو کے مطابق ہے اور نہ اہل کتاب کی امیدوں پر موقوف ہے، جو برا کرے گا اس کی سزا پائے گا اور کسی کو نہ پائے گا جو اس کی حمایت و مدد اللہ کے پاس کر سکے۔

۱۲۴.    جو ایمان والا ہو مرد ہو یا عورت اور وہ نیک اعمال کرے یقیناً ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا۔

۱۲۵.    باعتبار دین کے اس سے اچھا کون ہے جو اپنے کو اللہ کے تابع کر دے وہ بھی نیکوکار، ساتھ ہی یکسوئی والے ابراہیم کے دین کی پیروی کر رہا ہو اور ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ  نے اپنا دوست بنایا ہے۔

۱۲۶.     آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے اور اللہ تعالیٰ  ہر چیز کو گھیرنے والا ہے۔

۱۲۷.    آپ عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں  آپ کہہ دیجئے! خود اللہ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے اور قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق نہیں دیتے  اور انہیں اپنے نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو اور کمزور بچوں کے بارے میں اور اس بارے میں کہ یتیموں کی کارگزاری انصاف کے ساتھ کرو  تم جو نیک کام کرو، بے شبہ اللہ اسے پوری طرح جاننے والا ہے۔

۱۲۸.    اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی بد دماغی اور بے پرواہی کا خوف ہو تو دونوں آپس میں صلح کر لیں اس میں کسی پر کوئی گناہ نہیں  صلح بہتر چیز ہے، طمع ہر ہر نفس میں شامل کر دی گئی ہے  اگر تم اچھا سلوک کرو اور پرہیز گاری کرو تو تم جو کر رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ  پوری طرح خبردار ہے۔

۱۲۹.     تم سے یہ کبھی نہیں ہو سکے گا کہ اپنی تمام بیویوں میں ہر طرح عدل کرو گو تم اس کی کتنی ہی خواہش و کوشش کر لو اس لئے بالکل ہی ایک کی طرف مائل ہو کر دوسری کو ادھڑ لٹکتی نہ چھوڑو  اور اگر تم اصلاح کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بیشک اللہ تعالیٰ  بڑی مغفرت اور رحمت والا ہے۔

۱۳۰.    اور اگر میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ  اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کر دے گا  اللہ تعالیٰ  وسعت والا حکمت والا ہے۔

۱۳۱.     زمین اور آسمانوں کی ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ  ہی کی ملکیت میں ہے واقعی ہم نے ان لوگوں کو جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے تھے اور تم کو بھی یہی حکم کیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر تم کفر کرو تو یاد رکھو کہ اللہ کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ بہت بے نیاز اور تعریف کیا گیا ہے۔

۱۳۲.    اللہ کے اختیار میں ہے آسمانوں کی سب چیزیں اور زمین کی بھی اور اللہ کارساز کافی ہے۔

۱۳۳.    اگر اسے منظور ہو تو اے لوگو! وہ تم سب کو لے جائے اور دوسروں کو لے آئے، اللہ تعالیٰ  اس پر پوری قدرت رکھنے والا ہے

۱۳۴.    جو شخص دنیا کا ثواب چاہتا ہے تو (یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ  کے پاس تو دنیا اور آخرت (دونوں) کا ثواب موجود ہے  اور اللہ تعالیٰ  بہت سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے۔

۱۳۵.    اے ایمان والو! عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی مولا کے لئے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ، گو وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ داروں عزیزوں کے  وہ شخص اگر امیر ہو تو اور فقیر ہو تو دونوں کے ساتھ اللہ کو زیادہ تعلق ہے  اس لئے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا  اور اگر تم نے کج بیانی کی یا پہلو تہی کی  تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالیٰ  اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

۱۳۶.    اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ  پر اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل فرمائی گئی ہیں، ایمان لاؤ!  جو شخص اللہ تعالیٰ  سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وہ تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا۔

۱۳۷.    جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور پھر گئے، پھر ایمان لا کر پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھ گئے اللہ تعالیٰ  یقیناً انہیں نہ بخشے گا اور نہ انہیں راہ ہدایت سمجھائے گا۔

۱۳۸.    منافقین کو اس امر کو پہنچا دو کہ ان کے لئے دردناک عذاب یقینی ہے۔

۱۳۹.     جن کی حالت یہ ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے پھرتے ہیں  کیا ان کے پاس عزت کی تلاش میں جاتے ہیں؟ (تو یاد رکھیں کہ) عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ  کے قبضہ میں ہے۔

۱۴۰.    اور اللہ تمہارے پاس اپنی کتاب میں یہ حکم اتار چکا ہے کہ تم جب کسی مجلس والوں کو اللہ تعالیٰ  کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع میں ان کے ساتھ نہ بیٹھو! جب تک کہ وہ اس کے علاوہ اور باتیں نہ کرنے لگیں (ورنہ) تم بھی اس وقت انہی جیسے ہو،  یقیناً اللہ تعالیٰ  تمام کافروں اور سب منافقین کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔

۱۴۱.     یہ لوگ تمہارے انجام کار کا انتظار کرتے رہتے ہیں پھر اگر تمہیں اللہ فتح دے تو یہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھی نہیں اور اگر کافروں کو تھوڑا غلبہ مل جائے تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تم پر غالب نہ آنے لگے تھے اور کیا ہم نے تمہیں مسلمانوں کے ہاتھوں سے نہ بچایا تھا  پس قیامت میں خود اللہ تعالیٰ  تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا  اور اللہ تعالیٰ  کافروں کو ایمان والوں پر ہرگز راہ نہ دے گا۔

۱۴۲.    بیشک منافق اللہ سے چال بازیاں کر رہے ہیں اور وہ انہیں اس چالبازی کا بدلہ دینے والا ہے  اور جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو بڑی کاہلی کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں  صرف لوگوں کو دکھاتے ہیں  اور یاد الٰہی تو یونہی برائے نام کرتے ہیں۔

۱۴۳.    وہ درمیان میں ہی معلق ڈگمگا رہے ہیں، نہ پورے ان کی طرف اور نہ صحیح طور پر ان کی طرف  جسے اللہ تعالیٰ  گمراہی میں ڈال دے تو اس کے لئے کوئی راہ نہ پائے گا۔

۱۴۴.    اے ایمان والو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ، کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ  کی صاف حجت قائم کر لو۔

۱۴۵.    منافق تو یقیناً جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے  ناممکن ہے کہ تو ان کا کوئی مددگار پا لے۔

۱۴۶.    ہاں جو توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں اور اللہ تعالیٰ  پر کامل یقین رکھیں اور خالص اللہ ہی کے لئے دینداری کریں تو یہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں  اللہ تعالیٰ  مومنوں کو بہت بڑا اجر دے گا۔

۱۴۷.    اللہ تعالیٰ  تمہیں سزا دے کر کیا کرے گا؟ اگر تم شکر گزاری کرتے رہو اور با ایمان رہو  اللہ تعالیٰ  بہت قدر کرنے والا اور پورا علم رکھنے والا ہے۔

۱۴۸.    برائی کے ساتھ آواز بلند کرنے کو اللہ تعالیٰ  پسند نہیں فرماتا مگر مظلوم کو اجازت ہے  اور اللہ تعالیٰ  خوب سنتا اور جانتا ہے۔

۱۴۹.     اگر تم کسی نیکی کو اعلانیہ کرو یا پوشیدہ کسی برائی سے درگزر کرو  پس یقیناً اللہ تعالیٰ  پوری معافی کرنے والا ہے اور پوری قدرت والا ہے۔

۱۵۰.    جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان راہ نکالیں۔

۱۵۱.     یقین مانو کہ سب لوگ اصلی کافر ہیں  اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے۔

۱۵۲.    اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے تمام پیغمبروں پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ  پورا ثواب دے گا  اور اللہ بڑی مغفرت والا اور بڑی رحمت والا ہے۔

۱۵۳.    آپ سے یہ اہل کتاب درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب لائیں  حضرت موسیٰ علیہ السلام سے انہوں نے اس سے بہت بڑی درخواست کی تھی کہ ہمیں کھلم کھلا اللہ تعالیٰ  کو دکھا دے، پس ان کے اس ظلم کے باعث ان پر کڑاکے کی بجلی آ پڑی پھر باوجودیکہ ان کے پاس بہت دلیلیں پہنچ چکی تھیں انہوں نے بچھڑے کو اپنا محبوب بنا لیا، لیکن ہم نے یہ معاف فرما دیا اور ہم نے موسیٰ کو کھلا غلبہ (اور صریح دلیل) عنایت فرمائی۔

۱۵۴.    اور ان کا قول لینے کے لئے ہم نے ان کے سروں پر طور پہاڑ لا کھڑا کر دیا اور انہیں حکم دیا سجدہ کرتے ہوئے دروازے میں جاؤ اور یہ بھی فرمایا کہ ہفتہ کے دن میں تجاوز نہ کرنا اور ہم نے ان سے قول و قرار لئے

۱۵۵.    (یہ سزا تھی) یہ سبب ان کی عہد شکنی کے اور احکام الٰہی کے ساتھ کفر کرنے کے اور اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کر ڈالنے کے  اور اس سبب سے کہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہے۔ حالانکہ دراصل ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ  نے مہر لگا دی ہے۔ اس لئے یہ قدر قلیل ہی ایمان لاتے ہیں۔

۱۵۶.    ان کے کفر کے باعث اور مریم پر بہت بڑا بہتان باندھنے کے باعث

۱۵۷.    اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا  بلکہ ان کے لئے (عیسیٰ) کا شبیہ بنا دیا گیا تھا  یقین جانو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں، انہیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے  اتنا یقینی ہے کہ انہوں نے انہیں قتل نہیں کیا۔

۱۵۸.    بلکہ اللہ تعالیٰ  نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا  اور اللہ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والا ہے۔

۱۵۹.     اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لا چکے  اور قیامت کے دن آپ ان پر گواہ ہوں گے۔

۱۶۰.     جو نفیس چیزیں ان کے لئے حلال کی گئی تھیں وہ ہم نے ان پر حرام کر دیں ان کے ظلم کے باعث اور اللہ تعالیٰ  کی راہ سے اکثر لوگوں کو روکنے کے باعث۔

۱۶۱.     اور سود جس سے منع کئے گئے تھے اسے لینے کے باعث اور لوگوں کا مال ناحق مار کھانے کے باعث اور ان میں جو کفار ہیں ہم ان کے لئے المناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

۱۶۲.     لیکن ان میں سے جو کامل اور مضبوط علم والے ہیں  اور ایمان والے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور نمازوں کو قائم رکھنے والے ہیں  اور زکوٰۃ کو ادا کرنے والے ہیں  اور اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والے ہیں  یہ ہیں جنہیں ہم بہت بڑے اجر عطا فرمائیں گے۔

۱۶۳.    یقیناً ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جیسے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد والے نبیوں کی طرف کی، اور ہم نے وحی کی ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف  ہم نے (داؤد علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی۔

۱۶۴.    اور آپ سے پہلے کے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کئے ہیں  اور بہت کے رسولوں کے نہیں بھی کئے  اور موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ  نے صاف طور پر کلام کیا

۱۶۵.    ہم نے انہیں رسول بنایا، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاہ کرنے والے  تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ  پر رہ نہ جائے  اللہ تعالیٰ  بڑا غالب اور بڑا با حکمت ہے۔

۱۶۶.     جو کچھ آپ کی طرف اتارا ہے اس کی بابت خود اللہ تعالیٰ  گواہی دیتا ہے کہ اسے اپنے علم سے اتارا ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ  بطور گواہ کافی ہے۔

۱۶۷.    جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ تعالیٰ  کی راہ سے اوروں کو روکا وہ یقیناً گمراہی میں دور نکل گئے۔

۱۶۸.    جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، انہیں اللہ تعالیٰ  ہرگز ہرگز نہ بخشے گا اور نہ انہیں کوئی راہ دکھائے گا۔

۱۶۹.     بجز جہنم کی راہ کے جس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے اور یہ اللہ تعالیٰ  پر بالکل آسان ہے۔

۱۷۰.    اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر رسول آ گیا ہے، پس تم ایمان لاؤ تاکہ تمہارے لئے بہتری ہو اور اگر تم کافر ہو گئے تو اللہ ہی کی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے  اور اللہ دانا اور حکمت والا ہے۔

۱۷۱.     اے اہل کتاب اپنے دین کے بارے میں حد سے نہ گزر جاؤ  اور اللہ پر بجز حق کے کچھ نہ کہو، مسیح عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) تو صرف اللہ کے رسول اور اس کے کلمہ (کن سے پیدا شدہ) ہیں جسے مریم علیہا السلام کی طرف سے ڈال دیا گیا تھا اور اس کے پاس کی روح  ہیں اس لئے تم اللہ کو اور اس کے سب رسولوں کو مانو اور نہ کہو کہ اللہ تین ہیں  اس سے باز آ جاؤ کہ تمہارے لئے بہتری ہے، اللہ عبادت کے لائق تو صرف ایک ہی ہے اور وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو، اسی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ  کافی ہے کام بنانے والا۔

۱۷۲.    مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی ننگ و عار نہیں یا تکبر و انکار ہرگز ہو ہی نہیں سکتا اور ان مقرب فرشتوں کو  اس کی بندگی سے جو بھی دل چرائے اور تکبر و انکار کرے اللہ تعالیٰ  ان سب کو اکٹھا اپنی طرف جمع کرے گا۔

۱۷۳.    پس جو لوگ ایمان لائے ہیں اور شائستہ اعمال کئے ہیں ان کو ان کا پورا پورا ثواب عنایت فرمائے گا اور اپنے فضل سے انہیں اور زیادہ دے گا  اور جن لوگوں نے تنگ و عار اور سرکشی اور انکار کیا  انہیں المناک عذاب دے گا  اور وہ اپنے لئے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، اور امداد کرنے والا نہ پائیں گے۔

۱۷۴.    اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند اور دلیل آ پہنچی  اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتار دی ہے۔

۱۷۵.    پس جو لوگ اللہ تعالیٰ  پر ایمان لائے اور اسے مضبوط پکڑ لیا، انہیں تو وہ عنقریب اپنی رحمت اور فضل میں لے لے گا اور انہیں اپنی طرف کی راہ راست دکھا دے گا۔

۱۷۶.    آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ  (خود) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔ کہ اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہو اور ایک بہن ہو تو اس چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ ہے  اور وہ بھائی اس بہن کا وارث ہو گا اگر اس کے اولاد نہ ہو  پس اگر بہن دو ہوں تو انہیں کل چھوڑے ہوئے کا دو تہائی ملے گا  اور کئی شخص اس ناطے کے ہیں مرد بھی عورتیں بھی تو مرد کے لئے حصہ ہے مثل دو عورتوں کے  اللہ تعالیٰ  تمہارے لئے بیان فرما رہا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ تم بہک جاؤ اور اللہ تعالیٰ  ہر چیز سے واقف ہے۔

 

۵۔ المائدہ

۱.         اے ایمان والو! عہد و پیمان پورے کرو  تمہارے لئے مویشی چوپائے حلال کئے گئے ہیں  بجز ان کے جن کے نام پڑھ کر سنا دیئے جائیں گے  مگر حالت احرام میں شکار کو حلال جاننے والے نہ بننا، یقیناً اللہ تعالیٰ  جو چاہے حکم کرتا ہے۔

۲.        اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ  کے شعائر کی بے حرمتی نہ کرو  نہ ادب والے مہینوں کی  نہ حرم میں قربان ہونے والے اور پٹے پہنائے گئے جانوروں کی جو کعبہ کو جا رہے ہوں  اور نہ ان لوگوں کی جو بیت اللہ کے قصد سے اپنے رب تعالیٰ  کے فضل اور اس کی رضا جوئی کی نیت سے جا رہے ہوں  ہاں جب تم احرام اتار ڈالو تو شکار کھیل سکتے ہو  جن لوگوں نے تمہیں مسجد احرام سے روکا تھا ان کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم حد سے گزر جاؤ  نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناہ ظلم زیادتی میں مدد نہ کرو  اور اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ تعالیٰ  سخت سزا دینے والا ہے۔

۳.        تم پر حرام کیا گیا مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا گیا ہو،  اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو،  اور جو کسی ضرب سے مر گیا ہو،  جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو  جو کسی کے سینگ مارنے سے مرا ہو (۵)، اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو،  لیکن اسے تم ذبح کر ڈالو تو حرام نہیں، (۷) اور جو آستانوں پر ذبح کیا گیا ہو، (۸) اور یہ بھی کہ قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری ہو، (۹) یہ سب بدترین گناہ ہیں، آج کفار دین سے نا اُمید ہو گئے، خبردار ان سے نہ ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا، آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنا نام بھرپور کر دیا اور تمہارے لئے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہو گیا۔ پس جو شخص شدت کی بھوک میں بیقرار ہو جائے بشرطیکہ کسی گناہ کی طرف اس کا میلان نہ ہو تو یقیناً اللہ تعالیٰ  معاف کرنے والا ہے اور بہت بڑا مہربان ہے (۱۰)۔

۴.        آپ سے دریافت کرتے ہیں ان کے لئے کیا کچھ حلال ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ تمام پاک چیزیں تمہارے لئے حلال کی گئیں ہیں  اور جن شکار کھیلنے والے جانوروں کو تم نے سدھار رکھا ہے، یعنی جنہیں تم تھوڑا بہت وہ سکھاتے ہو جس کی تعلیم اللہ تعالیٰ  نے تمہیں دے رکھی ہے  پس جس شکار کو وہ تمہارے لئے پکڑ کر روک رکھیں تو تم اس سے کھا لو اور اس پر اللہ تعالیٰ  کا ذکر کر لیا کرو  اور اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ  جلد حساب لینے والا ہے۔

۵.        کل پاکیزہ چیزیں آج تمہارے لئے حلال کی گئیں اور اہل کتاب کا ذبیحہ تمہارے لئے حلال ہے  اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال، اور پاکدامن مسلمان عورتیں اور جو لوگ تم سے پہلے کتاب دیئے گئے ان کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں  جب کہ تم ان کے مہر ادا کرو، اس طرح کہ تم ان سے باقاعدہ نکاح کرو یہ نہیں کہ اعلانیہ زنا کرو یا پوشیدہ بدکاری کرو، منکرین ایمان کے اعمال ضائع اور اکارت ہیں اور آخرت میں وہ ہارنے والوں میں سے ہیں۔

۶.        اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے اُٹھو تو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوں کہنیوں سمیت دھو لو۔ اپنے سروں کو مسح کرو  اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو  اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کر لو  ہاں اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم سے کوئی حاجت ضروری فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم عورتوں سے ملے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، اسے اپنے چہروں پر اور ہاتھوں پر مل لو (۵) اللہ تعالیٰ  تم پر کسی قسم کی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا  بلکہ اس کا ارادہ تمہیں پاک کرنے کا اور تمہیں اپنی بھرپور نعمت دینے کا ہے (۷) تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو۔

۷.        تم پر اللہ کی نعمتیں نازل ہوئی ہیں انہیں یاد رکھو اور اس کے اس عہد کو بھی جس کا تم سے معاہدہ ہوا ہے جبکہ تم نے سنا اور مانا اور اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ  دلوں کی باتوں کو جاننے والا ہے۔

۸.        اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ  کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آمادہ نہ کر دے  عدل کیا کرو جو پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے، اور اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے رہو، یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ  تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔

۹.         اللہ تعالیٰ  کا وعدہ ہے جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں ان کے لئے وسیع مغفرت اور بہت بڑا اجر اور ثواب ہے۔

۱۰.       جن لوگوں نے کفر کیا اور ہمارے احکام کو جھٹلایا وہ دوزخی ہیں۔

۱۱.        اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ  نے جو احسان تم پر کیا ہے اسے یاد کرو جب ایک قوم نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو اللہ تعالیٰ  نے ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے روک دیا  اور اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے رہو اور مومنوں کو اللہ تعالیٰ  ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔

۱۲.       اور اللہ تعالیٰ  نے بنی اسرائیل سے عہد و پیماں لیا  اور انہی میں سے بارہ سردار ہم نے مقرر فرمائے  اور اللہ تعالیٰ  نے فرمایا کہ یقیناً میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نماز قائم رکھو گے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے اور میرے رسولوں کو مانتے رہو گے اور ان کی مدد کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ  کو بہتر قرض دیتے رہو گے تو یقیناً میں تمہاری برائیاں تم سے دور رکھوں گا اور تمہیں ان جنتوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے چشمے بہہ رہے ہیں، اب اس عہد و پیمان کے بعد بھی تم میں سے جو انکاری ہو جائے وہ یقیناً راہ راست سے بھٹک گیا۔

۱۳.       پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر اپنی لعنت نازل فرما دی اور ان کے دل سخت کر دیئے کہ وہ کلام کو اپنی جگہ سے بدل ڈالتے ہیں  اور جو کچھ نصیحت انہیں کی گئی تھی اس کا بہت بڑا حصہ بھلا بیٹھے  ان کی ایک نہ ایک خیانت تجھے ملتی رہے گی  ہاں تھوڑے سے ایسے نہیں بھی ہیں  پس تو انہیں معاف کرتا رہ  بیشک اللہ تعالیٰ  احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

۱۴.       جو اپنے آپ کو نصرانی کہتے ہیں  ہم نے ان سے بھی عہد و پیمان لیا، انہوں نے بھی اس کا بڑا حصہ فراموش کر دیا جو انہیں نصیحت کی گئی تھی، تو ہم نے بھی ان کے آپس میں بغض اور عداوت ڈال دی جو تا قیامت رہے گی  اور جو کچھ یہ کرتے تھے عنقریب اللہ تعالیٰ  انہیں سب بتا دے گا،

۱۵.       اے اہل کتاب! یقیناً تمہارے پاس ہمارا رسول (صلی اللہ علیہ و سلم) آ چکا جو تمہارے سامنے کتاب اللہ کی بکثرت ایسی باتیں ظاہر کر رہا ہے جنہیں تم چھپا رہے تھے  اور بہت سی باتوں سے درگزر کرتا ہے، تمہارے پاس اللہ تعالیٰ  کی طرف سے نور اور واضح کتاب آ چکی ہے۔

۱۶.       جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ  انہیں جو رضائے رب کے درپے ہوں سلامتی کی راہ بتلاتا ہے اور اپنی توفیق سے اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور راہ راست کی طرف راہبری کرتا ہے۔

۱۷.      یقیناً وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ  مسیح ابن مریم اور اس کی والدہ اور روئے زمین کے سب لوگوں کو ہلاک کر دینا چاہیے تو کون ہے جو اللہ پر کچھ بھی اختیار رکھتا ہو؟ آسمانوں اور زمین دونوں کے درمیان کا کل ملک اللہ تعالیٰ  ہی کا ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۱۸.       یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں  آپ کہہ دیجئے کہ پھر تمہیں تمہارے گناہوں کے باعث اللہ کیوں سزا دیتا ہے  نہیں بلکہ تم بھی اس کی مخلوق میں سے ایک انسان ہو وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب کرتا ہے  زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ  کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

۱۹.       اے اہل کتاب ہمارا رسول تمہارے پاس رسولوں کی آمد کے ایک وقفے کے بعد آ پہنچا ہے۔ جو تمہارے لئے صاف صاف بیان کر رہا ہے تاکہ تمہاری یہ بات نہ رہ جائے کہ ہمارے پاس تو کوئی بھلائی، برائی سنانے والا آیا ہی نہیں، پس اب تو یقیناً خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا آ پہنچا  اور اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قادر ہے۔

۲۰.      اور یاد کرو موسیٰ(علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا، کہ اے میری قوم کے لوگو! اللہ تعالیٰ  کے اس احسان کا ذکر کیا کہ اس نے تم سے پیغمبر بنانے اور تمہیں بادشاہ بنا دیا  اور تمہیں وہ دیا جو تمام عالم میں کسی کو نہیں دیا۔

۲۱.       اے میری قوم والو! اس مقدس زمین  میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے نام لکھ دی ہے  اور اپنی پشت کے بل روگردانی نہ کرو  کہ پھر نقصان میں جا پڑو۔

۲۲.      انہوں نے جواب دیا کہ اے موسیٰ وہاں تو زور آور سرکش لوگ ہیں اور جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ہم تو ہرگز وہاں نہ جائیں گے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں پھر تو ہم (بخوشی) چلے جائیں گے۔

۲۳.      دو شخصوں نے جو خدا ترس لوگوں میں سے تھے، جن پر اللہ تعالیٰ  کا فضل تھا کہا کہ تم ان کے پاس دروازے میں تو پہنچ جاؤ۔ دروازے پر قدم رکھتے ہی یقیناً تم غالب آ جاؤ گے، اور تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ  ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

۲۴.      قوم نے جواب دیا کہ اے موسیٰ! جب تک وہ وہاں ہیں تب تک ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے، اس لئے تم اور تمہارا پروردگار جا کر دونوں ہی لڑو بھڑ لو، ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔

۲۵.      موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے الٰہی مجھے تو بجز اپنے اور میرے بھائی کے کسی اور پر کوئی اختیار نہیں، پس تو ہم میں اور ان نا فرمانوں میں جدائی کر دے

۲۶.      ارشاد ہوا کہ اب زمین ان پر چالیس سال تک حرام کر دی گئی ہے، یہ خانہ بدوش ادھر ادھر سرگرداں پھرتے رہیں گے  اس لئے تم ان فاسقوں کے بارے میں غمگین نہ ہونا۔

۲۷.     آدم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹوں کا کھرا کھرا حال بھی انہیں سنا دو  ان دونوں نے ایک نذرانہ پیش کیا، ان میں سے ایک کی نذر قبول ہو گئی اور دوسرے کی مقبول نہ ہوئی  تو کہنے لگا کہ میں تجھے مار ہی ڈالوں گا، اس نے کہا اللہ تعالیٰ  تقویٰ والوں کا ہی عمل قبول کرتا ہے۔

۲۸.      گو تو میرے قتل کے لئے دست درازی کرے لیکن میں تیرے قتل کی طرف ہرگز اپنے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا، میں تو اللہ تعالیٰ  پروردگار عالم سے خوف کھاتا ہوں۔

۲۹.      میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اپنے سر پر رکھ لے  اور دوزخیوں میں شامل ہو جائے ظالموں کا یہی بدلہ ہے۔

۳۰.      پس اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر دیا اس نے اسے قتل کر ڈالا جس سے نقصان پانے والوں میں سے ہو گیا

۳۱.       پھر اللہ تعالیٰ  نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین کھود رہا تھا تاکہ اسے دکھائے کہ وہ کس طرح اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دے، وہ کہنے لگا ہائے افسوس کہ میں ایسا کرنے سے بھی گیا گزرا ہو گیا ہوں کہ اس کوے کی طرح اپنے بھائی کی لاش کو دفنا دیتا پھر تو (بڑا ہی) پشیمان اور شرمندہ ہو گیا۔

۳۲.      اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے والا ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچائے اس نے گویا تمام لوگوں کو زندہ کر دیا  اور ان کے پاس ہمارے بہت سے رسول ظاہر دلیلیں لے کر آئے لیکن پھر اس کے بعد بھی ان میں اکثر لوگ زمین میں ظلم و زیادتی اور زبردستی کرنے والے ہی رہے۔

۳۳.     جو اللہ تعالیٰ  سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں۔ یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے  یہ تو ہوئی انکی دنیاوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے۔

۳۴.     ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر قابو پالو  تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ  بہت بڑی بخشش اور رحم و کرم والا ہے۔

۳۵.     مسلمانو! اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو  اور اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو۔

۳۶.      یقین مانو کہ کافروں کے لئے اگر وہ سب کچھ ہو جو ساری زمین میں بلکہ اس کی مثل اور بھی ہو اور وہ اس سب کو قیامت کے دن کے عذاب کے بدلے فدیہ میں دینا چاہیں تو بھی ناممکن ہے کہ ان کا فدیہ قبول کر لیا جائے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

۳۷.     یہ چاہیں گے کہ وہ دوزخ میں سے نکل جائیں لیکن یہ ہرگز اس میں سے نہیں نکل سکیں گے، ان کے لئے دوامی عذاب ہیں۔

۳۸.     چوری کرنے والا مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دیا کرو  یہ بدلہ ہے اس کا جو انہوں نے کیا، عذاب اللہ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ  قوت اور حکمت والا ہے۔

۳۹.      جو شخص اپنے گناہ کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح کر لے تو اللہ تعالیٰ  رحمت کے ساتھ اس کی طرف لوٹتا ہے  یقیناً اللہ تعالیٰ  معاف فرمانے والا مہربانی کرنے والا ہے۔

۴۰.      کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ  ہی اس کے لئے زمین و آسمان کی بادشاہت ہے؟ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کر دے، اللہ تعالیٰ  ہر چیز پر قادر ہے۔

۴۱.       اے رسول! آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کڑھئے جو کفر میں سبقت کر رہے ہیں خواہ وہ ان (منافقوں) میں سے ہوں جو زبانی تو ایمان کا دعوا کرتے ہیں لیکن حقیقتاً ان کے دل با ایمان نہیں  اور یہودیوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو غلط باتیں سننے کے عادی ہیں اور ان لوگوں کے جاسوس ہیں جو اب تک آپ کے پاس نہیں آئے وہ کلمات کو اصلی موقف کو چھوڑ کر انہیں تبدیل کر دیا کرتے ہیں، کہتے کہ اگر تم یہ حکم دیئے جاؤ تو قبول کر لینا اگر یہ حکم نہ دیئے جاؤ تو الگ تھلگ  رہنا اور جس کا خراب کرنا اللہ کو منظور ہو تو آپ اس کے لئے خدائی ہدایت میں سے کسی چیز کے مختار نہیں۔ اللہ تعالیٰ  کا ارادہ ان کے دلوں کو پاک کرنے کا نہیں ان کے لئے دنیا میں بھی بڑی ذلت اور رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لئے بڑی سخت سزا ہے۔

۴۲.      یہ کان لگا کر جھوٹ کے سننے والے  اور جی بھر بھر کر حرام کے کھانے والے ہیں اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے خواہ ان کے آپس کا فیصلہ کرو خواہ ان کو ٹال دو، اگر تم ان سے منہ پھیرو گے تو بھی یہ تم کو ہرگز کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان میں عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو، یقیناً عدل والوں کے ساتھ اللہ محبت رکھتا ہے۔

۴۳.     (تعجب کی بات ہے کہ) وہ کیسے اپنے پاس تورات ہوتے ہوئے جس میں احکام الٰہی ہیں تم کو منصف بناتے ہیں پھر اس کے بعد بھی پھر جاتے ہیں، دراصل یہ ایمان و یقین والے ہیں ہی نہیں۔

۴۴.     ہم نے تورات نازل فرمائی ہے جس میں ہدایت و نور ہے یہودیوں میں  اسی تورات کے ساتھ اللہ تعالیٰ  کے ماننے والے (انبیاء علیہ السلام)  اور اہل اللہ اور علماء فیصلے کرتے تھے کیونکہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاظت کا حکم دیا گیا تھا  اور وہ اس پر اقراری گواہ تھے  اب تمہیں چاہیے کہ لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میرا ڈر رکھو، میری آیتوں کو تھوڑے سے مول نہ بیچو  اور جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وہ (پورے اور پختہ) کافر ہیں۔ ( ۶)

۴۵.     اور ہم نے یہودیوں کے ذمہ تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ بدلے آنکھ اور ناک بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور خاص زخموں کا بھی بدلہ ہے  پھر جو شخص اس کو معاف کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کئے ہوئے کے مطابق نہ کریں، وہ ہی لوگ ظالم ہیں۔

۴۶.      اور ہم نے ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والے تھے  اور ہم نے انہیں انجیل عطاء فرمائی جس میں نور اور ہدایت ہے اور اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرتی تھی دوسرا اس میں ہدایت و نصیحت تھی پارسا لوگوں کے لئے۔

۴۷.     اور انجیل والوں کو بھی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ  نے جو کچھ انجیل میں نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق حکم کریں  اور جو اللہ تعالیٰ  کے نازل کردہ سے ہی حکم نہ کریں وہ (بدکار) فاسق ہیں۔

۴۸.     “اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اور ان کی محافظ ہے  اس لئے آپ ان کے آپس کے معاملات میں اسی اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کے مطابق حکم کیجئے  اس حق سے ہٹ کر ان کی خواہشوں کے پیچھے نہ جائیے  تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک دستور اور راہ مقرر کر دی  اگر منظور مولا ہوتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن اس کی چاہت ہے کہ جو تمہیں دیا ہے اس میں تمہیں آزمائے  تم نیکیوں کی طرف جلدی کرو تم سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہے، پھر وہ تمہیں ہر وہ چیز بتا دے گا، جس میں تم اختلاف کرتے رہتے تھے۔ “

۴۹.      آپ ان کے معاملات میں خدا کی نازل کردہ وحی کے مطابق ہی حکم کیا کیجئے، ان کی خواہشوں کی تابعداری نہ کیجیئے اور ان سے ہوشیار رہیے کہ کہیں یہ آپ کو اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ کریں اگر یہ لوگ منہ پھیر لیں تو یقین کریں کہ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی سزا دے ہی ڈالے اور اکثر لوگ نافرمان ہی ہوتے ہیں۔

۵۰.      کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں  یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ  سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہو سکتا ہے۔

۵۱.       اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ  یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔  تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بیشک انہی میں سے ہے، ظالموں کو اللہ تعالیٰ  ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا۔

۵۲.      آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے  وہ دوڑ دوڑ کر ان میں گھس رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے، ایسا نہ ہو کہ کوئی حادثہ ہم پر پڑ جائے  بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ  فتح دے دے  یا اپنے پاس سے کوئی اور چیز لائے  پھر تو یہ اپنے دلوں میں چھپائی ہوئی باتوں پر (بے طرح) نادم ہونے لگیں گے۔

۵۳.     اور ایماندار کہیں گے، کیا یہی وہ لوگ ہیں جو بڑے مبالغہ سے اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے اعمال غارت ہوئے اور یہ ناکام ہو گئے۔

۵۴.     اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے  تو اللہ تعالیٰ  بہت جلد ایسی قوم کو لائے گا جو اللہ کی محبوب ہو گی اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہو گی  وہ نرم دل ہوں گے مسلمانوں پر سخت اور تیز ہوں گے کفار پر، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ بھی نہ کریں گے  یہ ہے اللہ تعالیٰ  کا فضل جسے چاہے دے، اللہ تعالیٰ  بڑی وسعت والا اور زبردست علم والا ہے۔

۵۵.     (مسلمانوں)! تمہارا دوست خود اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں  جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور رکوع (خشوع و خضوع) کرنے والے ہیں۔

۵۶.      اور جو شخص اللہ تعالیٰ  سے اور اس کے رسول سے اور مسلمانوں سے دوستی کرے، وہ یقین مانے کہ اللہ تعالیٰ  کی جماعت ہی غالب رہے گی۔

۵۷.     مسلمانو! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں (خواہ) وہ ان میں سے ہوں جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے یا کفار ہوں  اگر تم مومن ہو تو اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے رہو۔

۵۸.     اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل ٹھرا لیتے ہیں  یہ اس واسطے کہ بے عقل ہیں۔

۵۹.      آپ کہہ دیجئے اے یہودیوں اور نصرانیوں! تم ہم میں سے صرف اس لئے دشمنیاں کر رہے ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ  پر اور جو کچھ ہماری جانب نازل کیا گیا ہے جو کچھ اس سے پہلے اتارا گیا اس پر ایمان لائے ہیں اور اس لئے بھی کہ تم میں اکثر فاسق ہیں۔

۶۰.      کہہ دیجئے کہ کیا میں تمہیں بتاؤں؟ تاکہ اس سے بھی زیادہ اجر پانے والا اللہ تعالیٰ  کے نزدیک کون ہے؟ وہ جس پر اللہ تعالیٰ  نے لعنت کی اور اس پر وہ غصہ ہو اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے معبودان باطل کی پرستش کی، یہی لوگ بدتر درجے والے ہیں اور یہی راہ راست سے بہت زیادہ بھٹکنے والے ہیں۔

۶۱.       اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ وہ کفر لئے ہوئے ہی آئے تھے اسی کفر کے ساتھ ہی گئے بھی اور یہ جو کچھ چھپا رہے ہیں اسے اللہ تعالیٰ  خوب جانتا ہے۔

۶۲.      آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر گناہ کے کاموں کی طرف اور ظلم و زیادتی کی طرف اور مال حرام کھانے کی طرف لپک رہے ہیں، جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ نہایت برے کام ہیں۔

۶۳.      انہیں ان کے عابد و عالم جھوٹ باتوں کے کہنے اور حرام چیزوں کے کھانے سے کیوں نہیں روکتے بیشک برا کام ہے جو یہ کر رہے ہیں۔

۶۴.      اور یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ  کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں  انہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان کے اس قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی، بلکہ اللہ تعالیٰ  کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے اتارا جاتا ہے وہ ان میں سے اکثر کو تو سرکشی اور کفر میں اور بڑھا دیتا ہے اور ہم نے ان میں آپس میں ہی قیامت تک کے لئے عداوت اور بغض ڈال دیا ہے، جب کبھی لڑائی کی آگ کو بھڑکانا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ  اسے بجھا دیتا ہے۔  یہ ملک بھر میں شر اور فساد مچاتے پھرتے ہیں  اور اللہ تعالیٰ  فسادیوں سے محبت نہیں کرتا۔

۶۵.      اور اگر یہ اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے  تو ہم ان کی تمام برائیاں معاف فرما دیتے اور ضرور انہیں راحت و آرام کی جنتوں میں لے جاتے۔

۶۶.      اور اگر یہ لوگ توراۃ و انجیل اور ان کی جانب جو کچھ اللہ تعالیٰ  کی طرف سے نازل فرمایا گیا ہے ان کے پورے پابند رہتے  تو یہ لوگ اپنے اوپر سے اور نیچے سے روزیاں پاتے اور کھاتے  ایک جماعت تو ان میں سے درمیانہ روش کی ہے، باقی ان میں سے بہت سے لوگوں کے برے اعمال ہیں۔

۶۷.     اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی  اور آپ کو اللہ تعالیٰ  لوگوں سے بچا لے گا  بیشک اللہ تعالیٰ  کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

۶۸.      آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب! تم دراصل کسی چیز پر نہیں جب تک کہ تورات و انجیل کو اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اتارا گیا قائم نہ کرو، جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے اترا ہے وہ ان میں سے بہتوں کو شرارت اور انکار میں اور بھی بڑھائے گا  ہی تو آپ ان کافروں پر غمگین نہ ہوں۔

۶۹.      مسلمان، یہودی، ستارہ پرست اور نصرانی کوئی ہو، جو بھی اللہ تعالیٰ  پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ محض بے خوف رہے گا اور بالکل بے غم ہو جائے گا۔

۷۰.     ہم نے بالیقین بنو اسرائیل سے عہد و پیمان لیا اور ان کی طرف رسولوں کو بھیجا، جب کبھی رسول ان کے پاس وہ احکام لے کر آئے جو ان کی اپنے منشاء کے خلاف تھے تو انہوں نے ان کی ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کر دیا۔

۷۱.      اور سمجھ بیٹھے کہ کوئی پکڑ نہ ہو گی پس اندھے بہرے بن بیٹھے، پھر اللہ تعالیٰ  نے ان کی توبہ قبول کر لی اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر اندھے بہرے ہو گئے  اللہ تعالیٰ  ان کے اعمال کو بخوبی جانتا ہے۔

۷۲.     بیشک وہ لوگ کافر ہو گئے جن کا قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے  حالانکہ خود مسیح نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے،  یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ  نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہو گا۔

۷۳.     وہ لوگ بھی قطعاً کافر ہو گئے جنہوں نے کہا، اللہ تین میں سے تیسرا ہے  دراصل اللہ تعالیٰ  کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے اس قول سے باز نہ رہے تو ان میں سے جو کفر پر رہیں گے، انہیں المناک عذاب ضرور پہنچے گا۔

۷۴.     یہ لوگ کیوں اللہ تعالیٰ  کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں استغفار نہیں کرتے؟ اللہ تعالیٰ  تو بہت ہی بخشنے والا اور بڑا ہی مہربان ہے۔

۷۵.     مسیح ابن مریم سوا پیغمبر ہونے کے اور کچھ بھی نہیں، اس سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو چکے ہیں ان کی والدہ ایک راست باز عورت تھیں  دونوں ماں بیٹا کھانا کھایا کرتے تھے  آپ دیکھئے کہ کس طرح ہم ان کے سامنے دلیلیں رکھتے ہیں اور پھر غور کیجئے کہ کس طرح وہ پھرے جاتے ہیں۔

۷۶.     آپ کہہ دیجئے کہ تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے کسی نقصان کے مالک ہیں نہ کسی نفع کے۔ اللہ ہی خوب سننے اور پوری طرح جاننے والا ہے۔

۷۷.     کہہ دیجئے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو اور زیادتی نہ کرو  اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو پہلے سے بہک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا بھی چکے ہیں  اور سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔

۷۸.     بنی اسرائیل کے کافروں پر حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی زبانی لعنت کی گئی  اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔

۷۹.      آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہ تھے  جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقیناً بہت برا تھا۔

۸۰.      ان میں سے بہت سے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ کافروں سے دوستیاں کرتے ہیں، جو کچھ انہوں نے اپنے لئے آگے بھیج رکھا ہے وہ بہت برا ہے کہ اللہ ان سے ناراض ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔

۸۱.       اگر انہیں اللہ تعالیٰ  پر اور نبی پر اور جو نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان ہوتا تو یہ کفار سے دوستیاں نہ کرتے، لیکن ان میں اکثر لوگ فاسق ہیں۔

۸۲.      یقیناً آپ ایمان والوں کا سب سے زیادہ دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے  اور ایمان والوں سے سب سے زیادہ دوستی کے قریب آپ یقیناً انہیں پائیں گے جو اپنے آپ کو نصاریٰ کہتے ہیں، یہ اس لئے کہ ان میں علماء اور عبادت کے لئے گوشہ نشین افراد پائے جاتے ہیں اور اس وجہ سے کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔

۸۳.     اور جب وہ رسول کی طرف نازل کردہ (کلام) کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھیں آنسو سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں۔

۸۴.     اور ہمارے پاس کون سا عذر ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ  پر اور جو حق ہم پر پہنچا ہے اس پر ایمان نہ لائیں اور ہم اس بات کی امید رکھتے ہیں۔ کہ ہمارا رب ہم کو نیک لوگوں کی رفاقت میں داخل کر دے گا۔

۸۵.     اس لئے ان کو اللہ تعالیٰ  ان کے اس قول کی وجہ سے ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے۔

۸۶.      اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلاتے رہے وہ لوگ دوزخ والے ہیں۔

۸۷.     اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ  نے جو پاکیزہ چیزیں تمہارے واسطے حلال کی ہیں ان کو حرام مت کرو  اور حد سے آگے مت نکلو، بیشک اللہ تعالیٰ  حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

۸۸.     اور اللہ تعالیٰ  نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال مرغوب چیزیں کھاؤ اور اللہ تعالیٰ  سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔

۸۹.      اللہ تعالیٰ  تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مواخذہ نہیں فرماتا لیکن مواخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کر دو  اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو  یا ان کو کپڑے دینا  یا ایک غلام یا لونڈی کو آزاد کرانا  اور جس کو مقدور نہ ہو تو تین دن روزے ہیں  یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھا لو اور اپنی قسموں کا خیال رکھو! اسی طرح اللہ تعالیٰ  تمہارے واسطے اپنے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔

۹۰.      اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو

۹۱.       شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کہ ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ  کی یاد سے اور نماز سے تمہیں باز رکھے۔ سو اب بھی باز آ جاؤ۔

۹۲.      تم اللہ تعالیٰ  کی اطاعت کرتے رہو اور رسول کی اطاعت کرتے رہو اور احتیاط رکھو۔ اگر اعراض کرو گے تو یہ جان رکھو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صاف صاف پہنچا دینا ہے۔

۹۳.      ایسے لوگوں پر جو ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو وہ کھاتے پیتے ہوں جب کہ وہ لوگ تقویٰ رکھتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں پھر پرہیز گاری کرتے ہوں اور خوب نیک عمل کرتے ہوں، اللہ ایسے نیکوکاروں سے محبت رکھتا ہے۔

۹۴.      اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ  قدرے شکار سے تمہارا امتحان کرے گا  جن تک تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں گے  تاکہ اللہ تعالیٰ  معلوم کر لے کون شخص اس سے بن دیکھے ڈرتا ہے سو جو شخص اس کے بعد حد سے نکلے گا اس کے واسطے دردناک عذاب ہے۔

۹۵.      اے ایمان والو! (وحشی) شکار کو قتل مت کرو جب کہ تم حالت احرام میں ہو  اور جو شخص تم میں سے اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا  تو اس پر فدیہ واجب ہو گا جو کہ مساوی ہو گا اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا ہے  جس کا فیصلہ تم سے دو معتبر شخص کر دیں  خواہ وہ فدیہ خاص چوپایوں میں سے ہو جو نیاز کے طور پر کعبہ تک پہنچایا جائے  اور خواہ کفارہ مساکین کو دے دیا جائے اور خواہ اس کے برابر روزے رکھ لئے جائیں  تاکہ اپنے کئے کی شامت کا مزہ چکھے، اللہ تعالیٰ  نے گزشتہ کو معاف کر دیا اور جو شخص پھر ایسی ہی حرکت کرے گا تو اللہ انتقام لے گا اور اللہ زبردست ہے انتقام لینے والا۔

۹۶.      تمہارے لئے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے  تمہارے فائدے کے واسطے اور مسافروں کے واسطے اور خشکی کا شکار پکڑنا تمہارے لئے حرام کیا گیا ہے جب تک کہ تم حالت احرام میں رہو اور اللہ تعالیٰ  سے ڈرو جس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔

۹۷.      اللہ نے کعبہ کو جو کہ ادب کا مکان ہے لوگوں کے قائم رہنے کا سبب قرار دیا اور عزت والے مہینہ کو بھی اور حرم میں قربانی ہونے والے جانور کو بھی اور ان جانوروں کو بھی جن کے گلے میں پٹے ہوں  یہ اس لئے تاکہ تم اس بات کا یقین کر لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ  تمام آسمانوں اور زمین کے اندر کی چیزوں کا علم رکھتا ہے اور بیشک اللہ سب چیزوں کو خوب جانتا ہے۔

۹۸.      تم یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ  سزا بھی سخت دینے والا ہے اور اللہ تعالیٰ  بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا بھی ہے

۹۹.       رسول کے ذمہ تو صرف پہنچانا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ  سب جانتا ہے جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ پوشیدہ رکھتے ہو۔

۱۰۰.     آپ فرما دیجئے کہ ناپاک اور پاک برابر نہیں گو آپ کو ناپاک کی کثرت بھلی لگتی ہو  اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے رہو اے عقلمندو! تاکہ کامیاب ہو۔

۱۰۱.     اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں اور اگر تم زمانہ نزول قرآن میں ان باتوں کو پوچھو گے تو تم پر ظاہر کر دی جائیں گی  سوالات گزشتہ اللہ نے معاف کر دیئے اور اللہ بڑی مغفرت والا بڑے حلم والا ہے۔

۱۰۲.     ایسی باتیں تم سے پہلے اور لوگوں نے بھی پوچھی تھیں پھر ان باتوں کے منکر ہو گئے۔

۱۰۳.    اللہ تعالیٰ  نے نہ بحیرہ کو مشروع کیا ہے اور نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو  لیکن جو لوگ کافر ہیں وہ اللہ تعالیٰ  پر جھوٹ لگاتے ہیں اور اکثر کافر عقل نہیں رکھتے۔

۱۰۴.    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ  نے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کی طرف اور رسول کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ ہم کو وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے بڑوں کو پایا، کیا اگرچہ ان کے بڑے نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں اور نہ ہدایت رکھتے ہوں۔

۱۰۵.    اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ رہے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں  اللہ ہی کے پاس تم سب کو جانا ہے پھر وہ تم سب کو بتلا دے گا جو کچھ تم سب کرتے تھے۔

۱۰۶.     اے ایمان والو! تمہارے آپس میں دو شخص کا گواہ ہونا مناسب ہے جبکہ تم میں سے کسی کو موت آنے لگے اور وصیت کرنے کا وقت ہو وہ دو شخص ایسے ہوں کہ دیندار ہوں خواہ تم سے ہوں  یا غیر لوگوں میں سے دو شخص ہوں اگر تم کہیں سفر میں گئے ہو اور تمہیں موت آ جائے  اگر تم کو شبہ ہو تو ان دونوں کو بعد نماز روک لو پھر دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم اس قسم کے عوض کوئی نفع نہیں لینا چاہتے  اگرچہ کوئی قرابت دار بھی ہو اور اللہ تعالیٰ  کی بات کو ہم پوشیدہ نہ کریں گے ہم اس حالت میں سخت گناہ گار ہوں گے۔

۱۰۷.    پھر اگر اس کی اطلاع ہو کہ وہ دونوں گواہ کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں  تو ان لوگوں میں سے جن کے مقابلہ میں گناہ کا ارتکاب ہوا تھا اور وہ شخص جو سب میں قریب تر ہیں جہاں وہ دونوں کھڑے ہوئے تھے  یہ دونوں کھڑے ہوں پھر دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ بالیقین ہماری یہ قسم ان دونوں کی اس قسم سے زیادہ راست ہے اور ہم نے ذرا تجاوز نہیں کیا، ہم اس حالت میں سخت ظالم ہوں گے۔

۱۰۸.    یہ قریب ذریعہ ہے اس امر کا کہ وہ لوگ واقعہ کو ٹھیک طور پر ظاہر کریں یا اس بات سے ڈر جائیں کہ ان کے قسم لینے کے بعد قسمیں الٹی پڑ جائیں گی  اور اللہ تعالیٰ  سے ڈرو اور سنو! اور اللہ تعالیٰ  فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔

۱۰۹.     جس روز اللہ تعالیٰ  تمام پیغمبروں کو جمع کرے گا، پھر ارشاد فرمائے گا کہ تم کو کیا جواب ملا تھا، وہ عرض کریں گے کہ ہم کو کچھ خبر نہیں  تو ہی پوشیدہ باتوں کو پورا جاننے والا ہے۔

۱۱۰.     جب کہ اللہ تعالیٰ  ارشاد فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! میرا انعام یاد کرو جو تم پر اور تمہاری والدہ پر ہوا جب میں نے تم کو روح القدس  سے تائید دی۔ تم لوگوں سے کلام کرتے تھے گود میں بھی  اور بڑی عمر میں بھی جب کہ میں نے تم کو کتاب اور حکمت کی باتیں اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی  اور جب کہ تم میرے حکم سے گارے سے ایک شکل بناتے تھے جیسے پرندے کی شکل ہوتی ہے پھر تم اس کے اندر پھونک مار دیتے تھے جس سے وہ پرندہ بن جاتا تھا میرے حکم سے اور تم اچھا کر دیتے تھے مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو میرے حکم سے جب کہ تم مردوں کو نکال کر کھڑا کر لیتے تھے میرے حکم سے  اور جب کہ میں نے بنی اسرائیل کو تم سے باز رکھا جب تم ان کے پاس دلیلیں لے کر آئے تھے  پھر ان میں جو کافر تھے انہوں نے کہا کہ بجز کھلے جادو کے یہ اور کچھ بھی نہیں۔

۱۱۱.      اور جبکہ میں نے حمارین کو حکم دیا  کہ تم مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور آپ شاہد رہئے کہ ہم پورے فرماں بردار ہیں۔

۱۱۲.     وہ وقت یاد کے قابل ہے جب کہ حواریوں نے عرض کیا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل فرما دے؟  آپ نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔

۱۱۳.     وہ بولے کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دلوں کو پورا اطمینان ہو جائے اور ہمارا یقین اور بڑھ جائے کہ آپ نے ہم سے سچ بولا ہے اور ہم گواہی دینے والوں میں سے ہو جائیں۔

۱۱۴.     عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی کہ اے اللہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے کھانا نازل فرما کہ وہ ہمارے لئے یعنی ہم میں جو اول ہیں اور جو بعد کے ہیں سب کے لئے ایک خوشی کی بات ہو جائے  اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو جائے اور تو ہم کو رزق عطا فرما دے اور تو سب عطا کرنے والوں سے اچھا ہے۔

۱۱۵.     حق تعالیٰ  نے ارشاد فرمایا کہ میں وہ کھانا تم لوگوں پر نازل کرنے والا ہوں، پھر جو شخص تم میں سے اس کے بعد ناحق شناسی کرے گا تو میں اس کو ایسی سزا دوں گا کہ وہ سزا دنیا جہان والوں میں سے کسی کو نہ دوں گا

۱۱۶.     اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ اللہ تعالیٰ  فرمائے گا اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے ان لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو بھی علاوہ اللہ کے معبود قرار دے لو!  عیسیٰ عرض کریں گے کہ میں تو تجھ کو منزہ سمجھتا ہوں، مجھ کو کسی طرح زیبا نہ تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کو کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں، اگر میں نے کہا ہو گا تو تجھ کو اس کا علم ہو گا، تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہے اس کو نہیں جانتا  تمام غیبوں کے جاننے والا تو ہی ہے۔

۱۱۷.     میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا مگر صرف وہی جو تو نے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ کی بندگی اختیار کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے  میں ان پر گواہ رہا جب تک ان میں رہا۔ پھر جب تو نے مجھ کو اُٹھا لیا تو تو ہی ان پر مطلع رہا۔ اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے۔

۱۱۸.     اگر تو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو معاف فرما دے تو تو زبردست ہے حکمت والا ہے۔

۱۱۹.      اللہ ارشاد فرمائے گا کہ یہ وہ دن ہے کہ جو لوگ سچے تھے ان کا سچا ہونا ان کے کام آئے گا  ان کو باغ ملیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے اللہ تعالیٰ  ان سے راضی اور خوش اور یہ اللہ سے راضی اور خوش ہیں، یہ بڑی بھاری کامیابی ہے۔

۱۲۰.     اللہ ہی کی سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی اور ان چیزوں کی جو ان میں موجود ہیں اور وہ ہر شے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔

 

۶۔ الأنعام

۱.         تمام تعریفیں اللہ ہی کے لائق ہیں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور نور کو بنایا  پھر بھی کافر لوگ (غیر اللہ کو) اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔

۲.        وہ ایسا ہے جس نے تم کو مٹی سے بنایا  پھر ایک وقت معین کیا  اور دوسرا معین وقت خاص اللہ ہی کے نزدیک ہے  پھر بھی تم شک رکھتے ہو۔

۳.        اور وہی ہے معبود برحق آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی، وہ تمہارے پوشیدہ احوال کو بھی اور تمہارے ظاہر احوال کو بھی جانتا ہے اور تم جو کچھ عمل کرتے ہو اس کو بھی جانتا ہے۔

۴.        اور ان کے پاس کوئی نشانی بھی ان کے رب کی نشانیوں میں سے نہیں آتی مگر وہ اس سے اعراض ہی کرتے ہیں

۵.        انہوں نے اس سچی کتاب کو بھی جھٹلایا جب کہ وہ ان کے پاس پہنچی، سو جلد یہی ان کو خبر مل جائے گی اس چیز کی جس کے ساتھ یہ لوگ مذاق کیا کرتے تھے۔

۶.        کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم ان سے پہلے کتنی جماعتوں کو ہلاک کر چکے ہیں جن کو ہم نے دنیا میں ایسی قوت دی تھی کہ تم کو وہ قوت نہیں دی اور ہم نے ان پر خوب بارشیں برسائیں اور ہم نے ان کے نیچے سے نہریں جاری کیں۔ پھر ہم نے ان کو گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا  اور ان کے بعد دوسری جماعتوں کو پیدا کر دیا۔

۷.        اور اگر ہم کاغذ پر لکھا ہوا کوئی نوشتہ آپ پر نازل فرماتے پھر اس کو یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے تب بھی یہ کافر لوگ یہی کہتے کہ یہ کچھ بھی نہیں مگر صریح جادو ہے

۸.        اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا اور اگر ہم فرشتہ بھی بھیج دیتے تو سارا قصہ ہی ختم ہو جاتا۔ پھر ان کو ذرا مہلت نہ دی جاتی۔

۹.         اور اگر ہم اس کو فرشتہ تجویز کرتے تو ہم اس کو آدمی ہی بناتے اور ہمارے اس فعل سے پھر ان پر وہی اشکال ہوتا جو اب کا اشکال کر رہے ہیں

۱۰.       اور واقع آپ سے پہلے جو پیغمبر ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی مذاق کیا گیا ہے۔ پھر جن لوگوں نے ان سے مذاق کیا تھا ان کو اس عذاب نے آ گھیرا جس کا مذاق اڑاتے تھے۔

۱۱.        آپ فرما دیجئے کہ ذرا زمین میں چلو پھرو پھر دیکھ لو کہ تکذیب کرنے والے کا کیا انجام ہوا۔

۱۲.       آپ کہئے کہ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں موجود ہے یہ سب کس کی ملکیت ہے، آپ کہہ دیجئے سب اللہ ہی کی ملکیت ہے، اللہ نے مہربانی فرمانا اپنے اوپر لازم فرما لیا ہے  تم کو اللہ قیامت کے روز جمع کرے گا، اس میں کوئی شک نہیں، جن لوگوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا ہے اور وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

۱۳.       اور اللہ ہی کی ملک ہیں وہ سب کچھ جو رات میں اور دن میں رہتی ہیں اور وہی بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔

۱۴.       آپ کہئے کہ کیا اللہ کے سوا، جو کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے جو کہ کھانے کو دیتا ہے اور اس کو کوئی کھانے نہیں دیتا اور کسی کو معبود قرار دوں  آپ فرما دیجئے کہ مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے میں اسلام قبول کروں اور تو مشرکین میں سے ہرگز نہ ہونا۔

۱۵.       آپ کہہ دیجئے کہ میں اگر اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

۱۶.       جس شخص سے اس روز وہ عذاب ہٹا دیا جائے تو اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا اور یہ صریح کامیابی ہے۔

۱۷.      اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ  کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا سوائے اللہ تعالیٰ  کے اور کوئی نہیں۔ اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ  کوئی نفع پہنچائے تو وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔

۱۸.       اور وہی اللہ اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے برتر ہے  اور وہی بڑی حکمت والا اور پوری خبر رکھنے والا ہے۔

۱۹.       آپ کہیئے کہ سب سے بڑی چیز گواہی دینے کے لئے کون ہے، آپ کہیئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے  اور میرے پاس یہ قرآن بطور وحی کے بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس قرآن کے ذریعہ سے تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان سب کو ڈراؤں  کیا تم سچ مچ یہی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ  کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ میں تو گواہی نہیں دیتا۔ آپ فرما دیجئے کہ بس وہ تو ایک ہی معبود ہے اور بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔

۲۰.      جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ لوگ رسول کو پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، جن لوگوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

۲۱.       اور اس سے زیادہ بے انصاف کون ہو گا جو اللہ تعالیٰ  پر جھوٹ بہتان باندھے یا اللہ کی آیات کو جھوٹا بتلائے  ایسے بے انصافوں کو کامیابی نہ ہو گی۔

۲۲.      وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جس روز ہم ان تمام خلائق کو جمع کریں گے، پھر ہم مشرکین سے کہیں گے کہ تمہارے وہ شرکا، جن کے معبود ہونے کا تم دعویٰ کرتے تھے کہاں گئے۔

۲۳.      پھر ان کے شرک کا انجام اس کے سوا اور کچھ بھی نہ ہو گا کہ وہ یوں کہیں گے کہ قسم اللہ کی اپنے پروردگار کی ہم مشرک نہ تھے۔

۲۴.      ذرا دیکھو تو انہوں نے کس طرح جھوٹ بولا اپنی جانوں پر اور جن چیزوں کو وہ جھوٹ موٹ تراشا کرتے تھے وہ سب غائب ہو گئے۔

۲۵.      اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں  اور ہم نے ان کے دلوں پر پردہ ڈال رکھا ہے اس سے کہ وہ اس کو سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے رکھی ہے  اور اگر وہ لوگ تمام دلائل کو دیکھ لیں تو بھی ان پر کبھی ایمان نہ لائیں، یہاں تک کہ جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے خواہ مخواہ جھگڑتے ہیں یہ لوگ جو کافر ہیں یوں کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ بھی نہیں صرف بے سند باتیں ہیں جو پہلوں سے چلی آ رہی ہیں

۲۶.      اور یہ لوگ اس سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور دور رہتے ہیں  اور یہ لوگ اپنے ہی کو تباہ کر رہے ہیں اور کچھ خبر نہیں رکھتے۔

۲۷.     اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں  تو کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم پھر واپس بھیج دیئے جائیں اور اگر ایسا ہو جائے تو ہم اپنے رب کی آیات کو جھوٹا نہ بتلائیں اور ہم ایمان والوں میں سے ہو جائیں

۲۸.      بلکہ جس چیز کو اس سے قبل چھپایا کرتے تھے وہ ان کے سامنے آ گئی  ہے اور اگر یہ لوگ پھر واپس بھیج دیئے جائیں تب بھی یہ وہی کام کریں گے جس سے اُن کو منع کیا گیا تھا اور یقیناً یہ بالکل جھوٹے ہیں

۲۹.      اور یہ کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیاوی زندگی ہماری زندگی ہے اور ہم زندہ نہ کئے جائیں گے

۳۰.      اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے۔ اللہ فرمائے گا کیا یہ امر واقعی نہیں ہے؟ وہ کہیں گے بیشک قسم اپنے رب کی۔ اللہ تعالیٰ  فرمائے گا تو اب اپنے کفر کے عوض عذاب چکھو۔

۳۱.       بیشک خسارے میں پڑے وہ لوگ جس نے اللہ سے ملنے کی تکذیب (جھٹلانا) کی، یہاں تک کہ جب وہ معین وقت ان پر دفعتاً آ پہنچے گا، کہیں گے کہ ہائے افسوس ہماری کوتاہی پر جو اس کے بارے میں ہوئی، اور حالت ان کی یہ ہو گی کہ وہ اپنے بار اپنی پیٹھوں پر لا دے ہوں گے، خوب سن لو کہ بری ہو گی وہ شے جس کو وہ لادیں گے

۳۲.      اور دنیاوی زندگانی تو کچھ بھی نہیں بجز لہو لعب کے اور دار آخرت متقیوں کے لئے بہتر ہے، کیا تم سوچتے سمجھتے نہیں۔

۳۳.     ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کو ان کے اقوال مغموم کرتے ہیں، سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔

۳۴.     اور بہت سے پیغمبر جو آپ سے پہلے ہوئے ہیں ان کی بھی تکذیب کی جاچکی ہے سو انہوں نے اس پر صبر ہی کیا، ان کی تکذیب کی گئی اور ان کو ایذائیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ کہ ہماری امداد ان کو پہنچی  اور اللہ کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں  اور آپ کے پاس بعض پیغمبروں کی بعض خبریں پہنچ چکی ہیں۔

۳۵.     اگر آپ کو ان کا اعراض گراں گزرتا ہے تو اگر آپ کو یہ قدرت ہے کہ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی ڈھونڈ لو اور پھر کوئی معجزہ لے آؤ تو اور اگر اللہ کو منظور ہو تو ان سب کو جمع کر دینا  سو آپ نادانوں میں سے نہ ہو جایئے۔

۳۶.      وہ ہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں  اور مُردوں کو اللہ زندہ کر کے اٹھائے گا پھر سب اللہ ہی کی طرف لائے جائیں گے

۳۷.     اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان پر کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا ان کے رب کی طرف سے آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ  کو بیشک پوری قدرت ہے اس پر کہ وہ معجزہ نازل فرما دے  لیکن ان میں اکثر بے خبر ہیں۔

۳۸.     اور جتنے قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنے قسم کے پرند جانور ہیں کہ اپنے دونوں بازوؤں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ تمہاری طرح کے گروہ نہ ہوں  ہم نے دفتر میں کوئی چیز نہیں چھوڑی  پھر سب اپنے پروردگار کے پاس جمع کئے جائیں گے۔

۳۹.      اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں وہ تو طرح طرح کی ظلمتوں میں بہرے گونگے ہو رہے ہیں اللہ جس کو چاہے سیدھی راہ پر لگا دے۔

۴۰.      آپ کہئے کہ اپنا حال تو بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا کوئی عذاب آ پڑے یا تم پر قیامت ہی آ پہنچے تو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے۔ اگر تم سچے ہو۔

۴۱.       بلکہ خاص اسی کو پکارو گے، پھر جس کے لئے تم پکارو گے اگر وہ چاہے تو اس کو ہٹا بھی دے اور جن کو شریک ٹھہراتے ہو ان سب کو بھول بھال جاؤ گے

۴۲.      اور ہم نے اور امتوں کی طرف بھی جو کہ آپ سے پہلے گزر چکی ہیں پیغمبر بھیجے تھے، سو ہم نے ان کو تنگدستی اور بیماری سے پکڑا، تاکہ وہ اظہار عجز کر سکیں۔

۴۳.     سو جب ان کو ہماری سزا پہنچتی تھی تو انہوں نے عاجزی کیوں اختیار نہیں کی، لیکن ان کے قلوب سخت ہو گئے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے خیال میں آراستہ کر دیا

۴۴.     پھر جب وہ لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جس کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشادہ کر دیئے یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملی تھیں وہ خوب اترا گئے ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہو گئے۔

۴۵.     پھر ظالم لوگوں کی جڑ کٹ گئی اور اللہ تعالیٰ  کا شکر ہے جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔۔

۴۶.      آپ کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ  تمہاری سماعت اور بصارت بالکل لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ تعالیٰ  کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے کہ یہ تم کو پھیر دے۔ آپ دیکھئے تو ہم کس طرح دلائل کو مختلف پہلوؤں سے پیش کر رہے ہیں پھر بھی یہ اعراض کرتے ہیں۔

۴۷.     آپ کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر تم پر اللہ تعالیٰ  کا عذاب آ پڑے خواہ اچانک یا اعلانیہ تو کیا بجز ظالم لوگوں کے اور بھی کوئی ہلاک کیا جائے گا۔

۴۸.     اور ہم پیغمبروں کو صرف اس واسطے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ بشارت دیں ٰ اور ڈرائیں  پھر جو ایمان لے آئے وہ درستی کر لے سو ان لوگوں پر کوئی اندیشہ نہیں اور نہ وہ مغموم ہوں گے۔

۴۹.      اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلائیں عذاب پہنچے گا بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کرتے ہیں۔

۵۰.      آپ کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف جو کچھ میرے پاس ہے وحی آتی ہے اس کا اتباع کرتا ہوں  آپ کہئے کہ اندھا اور بینا کہیں برابر ہو سکتے ہیں  سو کیا تم غور نہیں کرتے۔

۵۱.       اور ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات سے اندیشہ رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس ایسی حالت میں جمع کئے جائیں گے کہ جتنے غیر اللہ ہیں نہ ان کا کوئی مددگار ہو گا اور نہ کوئی شفاعت کرنے والا، اس امید پر کہ وہ ڈر جائیں۔

۵۲.      اور ان لوگوں کو نہ نکالئے جو صبح شام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں، خاص اس کی رضامندی کا قصد رکھتے ہیں۔ ان کا حساب ذرا بھی آپ کے متعلق نہیں اور آپ کا حساب ذرا بھی ان کے متعلق نہیں کہ آپ ان کو نکال دیں۔ ورنہ آپ ظلم کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

۵۳.     اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈال رکھا ہے تاکہ یہ لوگ کہا کریں، کیا یہ وہ لوگ ہیں کہ ہم سب میں سے ان پر اللہ تعالیٰ  نے فضل کیا  کیا یہ بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ  شک‌گزاروں کو خوب جانتا ہے

۵۴.     یہ لوگ جب آپ کے پاس آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو (یوں) کہہ دیجئے کہ تم پر سلامتی ہے  تمہارے رب نے مہربانی فرمانا اپنے ذمہ مقرر کر لیا ہے  کہ جو شخص تم میں سے برا کام کر بیٹھے جہالت سے پھر وہ اس کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح رکھے تو اللہ (کی یہ شان ہے کہ وہ) بڑی مغفرت کرنے والا ہے

۵۵.     اسی طرح ہم آیات کی تفصیل کرتے رہتے ہیں اور تاکہ مجرمین کا طریقہ ظاہر ہو جائے۔

۵۶.      آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان کی عبادت کروں جن کو تم لوگ اللہ تعالیٰ  کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہاری خواہشات کی اتباع نہ کروں گا کیونکہ اس حالت میں تو میں بے راہ ہو جاؤں گا اور راہ راست پر چلنے والوں میں نہ رہوں گا۔

۵۷.     آپ کہہ دیجئے کہ میرے پاس تو ایک دلیل ہے میرے رب کی طرف سے  اور تم اس کی تکذیب ہو، جس چیز کی تم جلد بازی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں حکم کسی کا نہیں بجز اللہ تعالیٰ  کے  اللہ تعالیٰ  واقعی بات کو بتلا دیتا ہے  اور سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا وہی ہے۔

۵۸.     آپ کہہ دیجئے کہ اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کا تم تقاضا کر رہے ہو تو میرا اور تمہارا باہمی قصہ فیصل  ہو چکا ہوتا اور ظالموں کو اللہ تعالیٰ  خوب جانتا ہے۔

۵۹.      اور اللہ تعالیٰ  ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں (خزانے) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ تعالیٰ  کے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو کچھ دریاؤں میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانا زمین کے تاریک حصوں میں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں

۶۰.      اور وہ ایسا ہے کہ رات میں تمہاری روح کو (ایک گونہ) قبض کر دیتا ہے  اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس کو جانتا ہے پھر تم کو جگا اٹھاتا ہے  تاکہ میعاد معین تمام کر دی جائے  پھر اسی کی طرف تم کو جانا ہے پھر تم کو بتلائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

۶۱.       اور وہی اپنے بندے کے اوپر غالب ہے برتر ہے اور تم پر نگہداشت رکھنے والا بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آ پہنچتی ہے، اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے قبض کر لیتے ہیں اور وہ ذرا کوتاہی نہیں کرتے۔

۶۲.      پھر سب اپنے مالک حقیقی کے پاس لائے جائیں گے  خوب سن لو فیصلہ اللہ ہی کا ہو گا اور وہ بہت جلد حساب لے گا۔

۶۳.      آپ کہئے کہ وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور دریا کی ظلمات سے نجات دیتا ہے۔ تم اس کو پکارتے ہو تو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے کہ اگر تو ہم کو ان سے نجات دے دے تو ہم ضرور شکر کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

۶۴.      آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تم کو ان سے نجات دیتا ہے اور ہر غم سے، تم پھر بھی شرک کرنے لگتے ہو۔

۶۵.      آپ کہئیے کہ اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے لئے بھیج دے  یا تو تمہارے پاؤں تلے سے  یا کہ تم کو گروہ گروہ کر کے سب کو بھڑا دے اور تمہارے ایک کو دوسرے کی لڑائی چکھا دے  آپ دیکھئے تو سہی ہم کس طرح دلائل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں۔ شاید وہ سمجھ جائیں۔

۶۶.      اور آپ کی قوم اس کی تکذیب کرتی ہے حالانکہ وہ یقینی ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم پر تعینات نہیں کیا گیا ہوں

۶۷.     ہر خبر (کے وقوع) کا ایک وقت ہے جلد ہی تم کو معلوم ہو جائے گا۔

۶۸.      اور جب آپ ان لوگوں کو دیکھیں جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہیں تو ان لوگوں سے کنارہ کش ہو جائیں یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں اور اگر آپ کو شیطان بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھیں

۶۹.      اور جو لوگ پرہیزگار ہیں ان پر ان کی باز پرس کا کوئی اثر نہ پہنچے گا  اور لیکن ان کے ذمہ نصیحت کر دینا ہے شاید وہ بھی تقویٰ اختیار کریں۔

۷۰.     اور ایسے لوگوں سے بالکل کنارہ کش رہیں جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشہ بنا رکھا ہے اور دنیوی زندگی نے انھیں دھوکا میں ڈال رکھا ہے اور اس قرآن کے ذریعے سے نصیحت بھی کرتے ہیں تاکہ کوئی شخص اپنے کردار میں (اس طرح) پھنس نہ جائے  کہ کوئی غیر اللہ اس کا نہ مددگار ہو اور نہ سفارشی اور یہ کیفیت ہو کہ اگر دنیا بھر کا معاوضہ بھی دے ڈالے تب بھی اس سے نہ لیا جائے  ایسے ہی ہیں کہ اپنے کردار کے سبب پھنس گئے، ان کے لئے نہایت گرم پانی پینے کے لئے ہو گا اور دردناک سزا ہو گی اپنے کفر کے سبب۔

۷۱.      آپ کہہ دیجئے کہ ہم اللہ تعالیٰ  کے سوا ایسی چیز کو پکاریں کہ وہ نہ ہم کو نفع پہنچائے اور نہ ہم کو نقصان پہنچائے کیا ہم الٹے پھر جائیں اس کے بعد کہ ہم کو اللہ تعالیٰ  نے ہدایت کر دی ہے، جیسے کوئی شخص ہو کہ اس کو شیطان نے کہیں جنگل میں بے راہ کر دیا ہو اور وہ بھٹکتا پھرتا ہو اس کے ساتھی بھی ہوں کہ ہمارے پاس آ۔ آپ کہہ دیجئے کہ یقینی بات ہے کہ راہ راست وہ خاص اللہ ہی کی راہ ہے  اور ہم کو یہ حکم ہوا ہے کہ ہم پروردگار عالم کے مطیع ہو جائیں۔

۷۲.     اور یہ کہ نماز کی پابندی کرو اور اس سے ڈرو  اور وہی ہے جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے۔

۷۳.     اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا  اور  جس وقت اللہ تعالیٰ  اتنا کہہ دے گا تو ہو جا وہ ہو پڑے گا۔ اس کا کہنا حق اور با اثر ہے اور ساری حکومت خاص اس کی ہو گی جب کہ صور میں پھونک ماری جائے گی  وہ جاننے والا ہے پوشیدہ چیزوں کا اور ظاہر چیزوں کا اور وہی ہے بڑی حکمت والا پوری خبر رکھنے والا۔

۷۴.     اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر  سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے؟ بیشک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں۔

۷۵.     ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ کامل یقین کرنے والوں سے ہو جائیں۔

۷۶.     پھر جب رات کی تاریکی ان پر چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا آپ نے فرمایا کہ یہ میرا رب ہے لیکن جب وہ غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں غروب ہو جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا

۷۷.     پھر جب چاند کو دیکھا تو فرمایا یہ میرا رب ہے لیکن جب وہ غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا اگر مجھ کو میرے رب نے ہدایت نہ کی تو میں گمراہ لوگوں میں شامل ہو جاؤں گا۔

۷۸.     پھر جب آفتاب کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا کہ  یہ میرا رب ہے یہ تو سب سے بڑا ہے پھر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔

۷۹.      میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں  جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا یکسو ہو کر اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

۸۰.      اور ان سے ان کی قوم نے حجت کرنا شروع کر دی  آپ نے فرمایا کہ تم اللہ کے معاملے میں مجھ سے حجت کرتے ہو حالانکہ کہ اس نے مجھے طریقہ بتلایا ہے اور میں ان چیزوں سے جن کو اللہ تعالیٰ  کے ساتھ شریک بناتے ہو نہیں ڈرتا ہاں اگر میرا پروردگار ہی ہر چیز کو اپنے علم میں گھیرے ہوئے ہے، کیا تم پھر بھی خیال نہیں کرتے۔

۸۱.       اور میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے شریک بنایا ہے حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن پر اللہ تعالیٰ  نے کوئی دلیل نہیں فرمائی، سو ان دو جماعتوں میں سے امن کا زیادہ مستحق کون ہے  اگر تم خبر رکھتے ہو۔

۸۲.      جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے۔ ایسوں ہی کے لئے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں

۸۳.     اور ہماری حجت تھی وہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے مقابلہ میں دی تھی  ہم جس کو چاہتے ہیں مرتبوں میں بڑھا دیتے ہیں۔ بیشک آپ کا رب بڑا حکمت والا بڑا علم والا ہے۔

۸۴.     اور ہم نے ان کو اسحاق دیا اور یعقوب  ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی اور پہلے زمانے میں ہم نے نوح کو ہدایت کی اور ان کی اولاد میں سے  داؤد اور سلیمان کو اور ایوب کو اور یوسف کو اور موسیٰ کو اور ہارون کو اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔

۸۵.     اور (نیز) زکریا کو یحییٰ کو عیسیٰ  اور الیاس کو، سب نیک لوگوں میں شامل تھے۔

۸۶.      اور نیز اسماعیل کو اور یسع کو اور یونس کو اور لوط کو اور ہر ایک کو تمام جہان والوں پر ہم نے فضیلت دی۔

۸۷.     اور نیز ان کے کچھ باپ دادوں کو اور کچھ اولاد کو اور کچھ بھائیوں کو  اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور ہم نے ان کو راہ راست کی ہدایت کی۔

۸۸.     اللہ کی ہدایت ہی ہے جس کے ذریعہ سے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس کی ہدایت کرتا ہے اگر فرضاً یہ حضرات بھی شرک کرتے تو جو کچھ یہ اعمال کرتے تھے وہ سب اکارت ہو جاتے۔

۸۹.      یہ لوگ ایسے تھے کہ ہم نے ان کو کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی تھی سو اگر یہ لوگ نبوت کا انکار کریں  تو ہم نے اس کے لئے ایسے بہت سے لوگ مقرر کر دیئے ہیں۔ جو اس کے منکر نہیں ہیں۔

۹۰.      یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالیٰ  نے ہدایت کی تھی، سو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلیئے  آپ کہہ دیجیئے کہ میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں چاہتا  یہ تو صرف تمام جہان والوں کے واسطے ایک نصیحت ہے۔

۹۱.       اور ان لوگوں نے اللہ کی جیسی قدر کرنا واجب تھی ویسی قدر نہ کی جب کہ یوں کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی  آپ یہ کہئے وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ لائے تھے جس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ نور ہے اور لوگوں کے لئے وہ ہدایت ہے جس کو تم نے ان متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا  ہے جن کو ظاہر کرتے ہو اور بہت سی باتوں کو چھپاتے ہو اور تم کو بہت سی ایسی باتیں بتائی گئی ہیں جن کو تم نہیں جانتے تھے اور نہ تمہارے بڑے۔۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ نے نازل فرمایا  پھر ان کو ان کے خرافات میں کھیلتے رہنے دیجئے۔

۹۲.      اور یہ بھی ایسی ہی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے جو بڑی برکت والی ہے، اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے تاکہ آپ مکہ والوں کو اور آس پاس والوں کو ڈرائیں۔ اور جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں ایسے لوگ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور وہ اپنی نماز پر مداومت رکھتے ہیں۔

۹۳.      اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہو گا جو اللہ تعالیٰ  پر جھوٹ تہمت لگائے یا یوں کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس کے پاس کسی بات کی بھی وحی نہیں آئی اور جو شخص یوں کہے کہ جیسا کلام اللہ نے نازل کیا ہے اسی طرح کا میں بھی لاتا ہوں اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ ظالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ ہاں اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کی سزا دی جائے گی  اس سبب سے کہ تم اللہ تعالیٰ  کے ذمہ جھوٹی باتیں لگاتے تھے اور تم اللہ تعالیٰ  کی آیات سے تکبر کرتے تھے۔

۹۴.      اور تم ہمارے پاس تن تنہا آ گئے  جس طرح ہم نے اول بار تم کو پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا اس کو اپنے پیچھے ہی چھوڑ آئے اور ہم تمہارے ہمراہ تمہارے ان شفاعت کرنے والوں کو نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم دعویٰ رکھتے تھے کہ وہ تمہارے معاملہ میں شریک ہیں۔ واقع تمہارے آپس میں قطع تعلق تو ہو گیا اور تمہارا دعویٰ سب تم سے گیا گزرا ہوا ہے۔

۹۵.      بیشک اللہ تعالیٰ  دانہ کو اور گٹھلیوں کو پھاڑنے والا ہے  وہ جاندار کو بے جان سے نکال لاتا ہے  اور وہ بے جان کو جاندار سے نکالنے والا ہے  اللہ تعالیٰ  یہ ہے، سو تم کہاں الٹے چلے جا رہے ہو۔

۹۶.      وہ صبح کا نکالنے والا  اس نے رات کو راحت کی چیز بنایا ہے  اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے  یہ ٹھہرائی بات ہے ایسی ذات کی جو قادر ہے بڑے علم والا ہے۔

۹۷.      اور وہ ایسا ہے جس نے تمہارے لئے ستاروں کو پیدا کیا تاکہ تم ان کے ذریعہ سے اندھیروں میں، خشکی میں اور دریا میں راستہ معلوم کر سکو۔ بیشک ہم نے دلائل خوب کھول کھول کر بیان کر دیئے ان لوگوں کے لئے جو خبر رکھتے ہیں۔

۹۸.      اور وہ ایسا ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا پھر ایک جگہ زیادہ رہنے کی ہے اور ایک جگہ چندے رہنے کی  بیشک ہم نے دلائل خوب کھول کھول کر بیان کر دیئے ان لوگوں کے لئے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔

۹۹.       اور وہ ایسا ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر قسم کے نباتات کو نکالا  پھر ہم نے اس سے سبز شاخ نکالی  کہ اس سے ہم اوپر تلے دانے چڑھے ہوئے نکالتے ہیں۔ اور کھجور کے درختوں سے ان کے گچھے میں سے، خوشے ہیں جو نیچے کو لٹک جاتے ہیں اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار کے بعض ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوتے ہیں اور کچھ ایک دوسرے سے ملتے جلتے نہیں ہوتے ہر ایک کے پھل کو دیکھو جب وہ پھلتا ہے اور اس کے پکنے کو دیکھو ان میں دلائل ہیں  ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔

۱۰۰.     اور لوگوں نے شیاطین کو اللہ تعالیٰ  کا شریک قرار دے رکھا ہے حالانکہ ان لوگوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور ان لوگوں نے اللہ کے حق میں بیٹے اور بیٹیاں بلا سند تراش رکھی ہیں اور وہ پاک اور برتر ہے ان بتوں سے جو یہ کرتے ہیں۔

۱۰۱.     وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے، اللہ تعالیٰ  کے اولاد کہاں ہو سکتی ہے حالانکہ اس کے کوئی بیوی تو ہے نہیں اور اللہ تعالیٰ  نے ہر چیز کو پیدا کیا  اور وہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

۱۰۲.     یہ اللہ تعالیٰ  تمہارا رب! اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا کارساز ہے۔

۱۰۳.    اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی  اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے اور وہی بڑا باریک بین باخبر ہے۔

۱۰۴.    اب بلاشبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے حق بینی کے ذرائع پہنچ چکے ہیں سو جو شخص دیکھ لے گا وہ اپنا فائدہ کرے گا اور جو شخص اندھا رہے گا وہ اپنا نقصان کرے گا  اور میں تمہارا نگران نہیں ہوں

۱۰۵.    اور ہم اس طور پر دلائل کو مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ یوں کہیں کہ آپ نے کسی سے پڑھ لیا ہے  اور تاکہ ہم کو دانشمندوں کے لئے خوب ظاہر کر دیں۔

۱۰۶.     آپ خود اس طریقہ پر چلتے رہئے جس کی وحی آپ کے رب تعالیٰ  کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے، اللہ تعالیٰ  کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے۔

۱۰۷.    اگر اللہ تعالیٰ  کو منظور ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے  اور ہم نے آپ کو ان کا نگران نہیں بنایا۔ اور نہ آپ ان پر مختار ہیں۔

۱۰۸.    اور گالی مت دو ان کو جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ  کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں کیونکہ پھر وہ جاہلانہ ضد سے گزر کر اللہ تعالیٰ  کی شان میں گستاخی کریں گے  ہم نے اسی طرح ہر طریقہ والوں کو ان کا عمل مرغوب بنا رکھا ہے پھر اپنے رب ہی کے پاس ان کو جانا ہے سو وہ ان کو بتلا دے گا جو کچھ بھی کیا کرتے تھے۔

۱۰۹.     اور ان لوگوں نے قسموں میں بڑا زور لگا کر اللہ تعالیٰ  کی قسم کھائی  اگر ان کے پاس کوئی نشانی آ جائے  تو وہ ضرور ہی اس پر ایمان لے آئیں گے، آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں سب اللہ کے قبضہ میں ہیں  اور تم کو اس کی کیا خبر وہ نشانیاں جس وقت آ جائیں گی یہ لوگ تب بھی ایمان نہ لائیں گے۔

۱۱۰.     اور ہم بھی ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو پھیر دیں گے جیسا کہ یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے  اور ہم ان کی سرکشی میں حیران رہنے دیں گے۔

۱۱۱.      اور اگر ہم ان کے پاس فرشتوں کو بھی بھیج دیتے اور ان سے مردے باتیں کرنے لگتے  اور ہم تمام موجودات کو ان کے پاس ان کی آنکھوں کے روبرو لا کر جمع کر دیتے ہیں  تب بھی یہ لوگ ہرگز ایمان نہ لاتے ہاں اگر اللہ ہی چاہے تو اور بات ہے لیکن ان میں زیادہ لوگ جہالت کی باتیں کرتے ہیں۔

۱۱۲.     اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بہت سے شیطان پیدا کئے تھے کچھ آدمی اور کچھ جن  جن میں سے بعض بعضوں کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے تھے تاکہ ان کو دھوکا میں ڈال دیں  اور اگر اللہ تعالیٰ  چاہتا تو یہ ایسے کام نہ کر سکتے  سو ان لوگوں کو اور جو کچھ یہ الزام تراشی کر رہے ہیں اس کو آپ رہنے دیجئے۔

۱۱۳.     اور تاکہ اس طرف ان لوگوں کے قلوب مائل ہو جائیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور تاکہ اس کو پسند کر لیں اور مرتکب ہو جائیں ان امور کے جن کے وہ مرتکب ہوتے تھے۔

۱۱۴.     تو کیا اللہ کے سوا کسی اور فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں حالانکہ وہ ایسا ہے اس نے ایک کتاب کامل تمہارے پاس بھیج دی اس کے مضامین خوب صاف صاف بیان کئے گئے ہیں اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ یہ آپ کے رب کی طرف سے حق کے ساتھ بھیجی گئی ہے سو آپ شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔

۱۱۵.     آپ کے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے  اس کلام کا کوئی بنانے والا نہیں  اور وہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔

۱۱۶.     اور دنیا میں زیادہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا ماننے لگیں تو آپ کو اللہ کی راہ سے بے راہ کر دیں محض بے اصل خیالات پر چلتے ہیں اور بالکل قیاسی باتیں کرتے ہیں۔

۱۱۷.     بالیقین آپ کا رب ان کو خوب جانتا ہے اور جو اس کی راہ سے بے راہ ہو جاتا ہے۔ اور وہ ان کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ پر چلتے ہیں۔

۱۱۸.     جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ! اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو۔

۱۱۹.      اور آخر کیا وجہ ہے کہ تم ایسے جانور میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ  نے ان سب جانوروں کی تفصیل بتا دی ہے جن کو تم پر حرام کیا ہے  مگر وہ بھی جب تمہیں سخت ضرورت پڑ جائے تو حلال ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ بہت سے آدمی اپنے خیالات پر بلا کسی سند کے گمراہ کرتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ  حد سے نکل جانے والوں کو خوب جانتا ہے۔

۱۲۰.     اور تم ظاہری گناہ کو بھی چھوڑ دو اور باطنی گناہ کو بھی چھوڑ دو بلاشبہ جو لوگ گناہ کر رہے ہیں ان کو ان کے کئے کی عنقریب سزا ملے گی۔

۱۲۱.     اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور یہ کام نافرمانی کا ہے  اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دل میں ڈالتے ہیں تاکہ یہ تم سے جدال کریں  اور اگر تم ان لوگوں کی اطاعت کرنے لگو تو یقیناً تم مشرک ہو جاؤ گے۔

۱۲۲.     ایسا شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کر دیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور دیا کہ وہ اس کو لئے ہوئے آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے کیا ایسا شخص اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے؟ جو تاریکیوں سے نکل ہی نہیں پاتا  اسی طرح کافروں کو ان کے اعمال خوش نما معلوم ہوا کرتے ہیں۔

۱۲۳.    اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں ہی کو جرائم کا مرتکب بنایا تاکہ وہ لوگ وہاں فریب کریں  اور لوگ اپنے ہی ساتھ فریب کر رہے ہیں اور ان کو ذرا خبر نہیں۔

۱۲۴.    اور جب ان کو کوئی آیت پہنچتی ہے تو یوں کہتے ہیں کہ ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ ہم کو بھی ایسی ہی چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی جاتی ہے  اس موقع کو تو اللہ تعالیٰ  ہی خوب جانتا ہے کہ کہاں وہ اپنی پیغمبری رکھے  عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے جرم کیا اللہ کے پاس پہنچ کر ذلت پہنچے گی اور ان کی شرارتوں کے مقابلے میں سزائے سخت۔

۱۲۵.    سو جس شخص کو اللہ تعالیٰ  راستہ پر ڈالنا چاہے اس کے سینہ کو اسلام کے لئے کشادہ کر دیتا ہے جس کو بے راہ رکھنا چاہے اس کے سینے کو بہت تنگ کر دیتا ہے جیسے کوئی آسمان پر چڑھتا ہے  اس طرح اللہ تعالیٰ  ایمان نہ لانے والوں پر ناپاکی مسلط کر دیتا ہے۔

۱۲۶.     اور یہی تیرے رب کا سیدھا راستہ ہے ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کے واسطے ان آیتوں کو صاف صاف بیان کر دیا۔

۱۲۷.    ان لوگوں کے واسطے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے اور اللہ تعالیٰ  ان سے محبت رکھتا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے۔

۱۲۸.    اور جس روز اللہ تعالیٰ  تمام خلائق کو جمع کرے گا (کہے گا) اے جماعت جنات کی! تم نے انسانوں میں سے بہت سے اپنا لئے  جو انسان ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے تھے وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! ہم میں ایک نے دوسرے سے فائدہ حاصل کیا تھا  اور ہم اپنی اس معین میعاد تک آ پہنچے جو تو نے جو ہمارے لئے معین فرمائی اللہ فرمائے گا کہ تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے جس میں ہمیشہ رہو گے ہاں اگر اللہ ہی کو منظور ہو تو دوسری بات ہے۔  بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا بڑا علم والا ہے۔

۱۲۹.     اور اسی طرح ہم بعض کفار کو بعض کے قریب رکھیں گے ان کے اعمال کے سبب

۱۳۰.    اے جنات اور انسانوں کی جماعت! کیا تمہارے پاس تم میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے  جو تم سے میرے احکام بیان کرتے اور تم کو آج کے دن کی خبر دیتے؟ وہ سب عرض کریں گے کہ ہم اپنے اوپر اقرار کرتے ہیں اور ان کو دنیاوی زندگی نے بھول میں ڈالے رکھا اور یہ لوگ اقرار کرنے والے ہوں گے کہ وہ کافر تھے

۱۳۱.     اس وجہ سے کہ آپ کا رب کسی بستی والوں کو کفر کے سبب ایسی حالت میں ہلاک نہیں کرتا کہ اس بستی کے رہنے والے بے خبر ہوں۔

۱۳۲.    اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے سبب درجے ملیں گے اور آپ کا رب  ان کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔

۱۳۳.    اور آپ کا رب بالکل غنی ہی ہے رحمت والا ہے۔ اگر وہ چاہے تم سب کو اُٹھا لے اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہاری جگہ آباد کر دے جیسا کہ تم کو ایک دوسری قوم کی نسل سے پیدا کیا ہے۔

۱۳۴.    جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ بیشک آنے والی چیز ہے تم عاجز نہیں کر سکتے۔

۱۳۵.    آپ یہ فرما دیجئے اے میری قوم! تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں بھی عمل کر رہا ہوں  سو اب جلد ہی تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ اس عالم کا انجام کار کس کے لئے نافع ہو گا یہ یقینی بات ہے کہ حق تلفی کرنے والوں کو کبھی فلاح نہ ہو گی۔

۱۳۶.    اور اللہ تعالیٰ  نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان لوگوں نے ان میں سے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کیا اور خود کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا ہے  پھر جو چیز ان کے معبودوں کی ہوتی ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتی  اور جو چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتی ہے  کیا برا فیصلہ وہ کرتے ہیں۔

۱۳۷.    اور اسی طرح بہت سے مشرکین کے خیال میں ان کے معبودوں نے ان کی اولاد کے قتل کرنے کو مستحسن بنا رکھا ہے  تاکہ وہ ان کو برباد نہ کریں اور تاکہ ان کے دین کو ان پر مشتبہ کر دیں  اور اگر اللہ کو منظور ہوتا تو ایسا کام نہ کرتے  تو آپ نے ان کو اور جو کچھ غلط باتیں بنا رہے ہیں یونہی رہنے دیجئے۔

۱۳۸.    اور وہ اپنے خیال پر یہ بھی کہتے ہیں یہ کچھ مویشی ہیں اور کھیت میں جن کا استعمال ہر شخص کو جائز نہیں ان کو کوئی نہیں کھا سکتا سوائے ان کے جن کو ہم چاہیں  اور مویشی ہیں جن پر سواری یا بار برداری حرام کر دی گئی  اور کچھ مویشی ہیں جن پر لوگ اللہ تعالیٰ  کا نام نہیں لیتے محض اللہ پر افترا (بہتان) باندھنے کے طور پر۔ ابھی اللہ تعالیٰ  ان کو ان کے افترا کی سزا دیئے دیتا ہے۔

۱۳۹.     اور وہ کہتے ہیں کہ جو چیز مویشی کے پیٹ میں ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہیں۔ اور اگر وہ مردہ ہے تو اس میں سب برابر ہیں۔ ابھی اللہ ان کی غلط بیانی کی سزا دیئے دیتا ہے  بلاشبہ وہ حکمت والا اور بڑا علم والا ہے۔

۱۴۰.    واقع ہی خرابی میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو محض برائے حماقت بلا کسی سند کے قتل کر ڈالا اور جو چیزیں ان کو اللہ نے ان کو کھانے پینے کے لئے دی تھیں ان کو حرام کر لیا جو اللہ پر افترا باندھنے کے طور پر۔ بیشک یہ لوگ گمراہی میں پڑ گئے اور کبھی راہ راست پر چلنے والے نہیں ہوئے۔

۱۴۱.     اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے وہ بھی جو ٹٹیوں میں چڑھائے جاتے ہیں اور وہ بھی جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائے جاتے اور کھجور کے درخت اور کھیتی جن میں کھانے کی مختلف چیزیں مختلف طور کی ہوتی ہیں  اور زیتون اور انار جو باہم ایک دوسرے کے مشابہ بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مشابہ بھی نہیں ہوتے  ان سب کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وہ نکل آئے اور اس میں جو حق واجب ہے وہ اس کے کاٹنے کے دن دیا کرو  اور حد سے  مت گزرو یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔

۱۴۲.    اور مویشی میں اونچے قد کے اور چھوٹے قد کے  پیدا کیے ہیں جو کچھ اللہ نے تم کو دیا کھاؤ  اور شیطان کے قدم بقدم مت چلو  بلاشبہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔

۱۴۳.    (پیدا کئے) آٹھ نر مادہ  یعنی بھیڑ میں دو قسم اور بکری میں دو قسم  آپ کہئے کہ کیا اللہ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کو؟ یا اس کو جس کو دونوں مادہ پیٹ میں لئے ہوئے ہے  تم مجھ کو کسی دلیل سے بتاؤ اگر سچے ہو۔

۱۴۴.    اور اونٹ میں دو قسم اور گائے میں دو قسم  آپ کہئے کہ کیا یہ اللہ تعالیٰ  نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادہ کو؟ یا اس کو جس کو دونوں مادہ پیٹ میں لئے ہوئے ہوں؟ کیا تم حاضر تھے جس وقت اللہ تعالیٰ  نے تم کو اس کا حکم دیا  تو اس سے زیادہ کون ظالم ہو گا جو اللہ تعالیٰ  پر بلا دلیل جھوٹی تہمت لگائے  تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے یقیناً اللہ تعالیٰ  ظالم کو راست نہیں دکھلاتا۔

۱۴۵.    آپ کہہ دیجئے جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے ان میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لئے جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا کہ بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو، کیونکہ وہ بالکل ناپاک ہے یا جو شرک کا ذریعہ ہو کر غیر اللہ کے لئے نامزد کر دیا گیا ہو  پھر جو شخص مجبور ہو جائے بشرطیکہ نہ تو طالب لذت ہو اور نہ تجاوز کرنے والا ہو تو واقع ہی آپ کا رب غفور و رحیم ہے۔

۱۴۶.    اور یہود پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے  اور گائے اور بکری میں سے ان دونوں کی چربیاں ان پر ہم نے حرام کر دی تھیں مگر وہ جو ان کی پشت پر یا انتڑیوں میں لگی ہو یا ہڈی سے ملی ہو  ان کی شرارت کے سبب ہم نے ان کو یہ سزا دی  اور ہم یقیناً سچے ہیں۔

۱۴۷.    پھر اگر یہ آپ کو جھوٹا کہیں تو آپ فرما دیجئے کہ تمہارا رب بڑی وسیع رحمت والا ہے  اور اس کا عذاب مجرم لوگوں سے نہ ٹلے گا۔

۱۴۸.    یہ مشرکین (یوں) کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ  کو منظور ہوتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کر سکتے  اس طرح جو لوگ ان سے پہلے ہو چکے ہیں انہوں نے بھی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزہ چکھا  آپ کہیے کیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو ہمارے سامنے ظاہر کرو  تم لوگ محض خیالی باتوں پر چلتے ہو اور تم بالکل اٹکل پچو سے باتیں بناتے ہو۔

۱۴۹.     آپ کہئے کہ بس پوری حجت اللہ ہی کی ہی رہی۔ پھر اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ راست پر لے آتا۔

۱۵۰.    آپ کہیے کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو اس بات پر شہادت دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کر دیا ہے  پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو آپ اس کی شہادت  نہ دیجئے اور ایسے لوگوں کے باطل خیالات کا اتباع مت کیجئے! جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں اور وہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ اپنے رب کے برابر دوسروں کو ٹھہراتے ہیں۔

۱۵۱.     آپ کہیے کہ آؤ تم کو وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جن کو تمہارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے  وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ  اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو  اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں  اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس مت جاؤ خواہ وہ اعلانیہ ہوں خواہ پوشیدہ اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ  نے حرام کر دیا اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق کے ساتھ  ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔

۱۵۲.    اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد تک پہنچ جائے  اور ناپ تول پوری پوری کرو، انصاف کے ساتھ  ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے  اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو گو وہ شخص قرابت دار ہی ہو اور اللہ تعالیٰ  سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو ان کا اللہ تعالیٰ  نے حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔

۱۵۳.    اور یہ کہ دین  میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راہ پر چلو  دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کر دیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ  نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔

۱۵۴.    پھر ہم نے موسیٰ(علیہ السلام) کو کتاب دی تھی جس سے اچھی طرح عمل کرنے والوں پر نعمت پوری ہو اور رحمت ہو  تاکہ وہ لوگ اپنے رب کو ملنے پر یقین لائیں۔

۱۵۵.    اور یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے بھیجا بڑی خیرو برکت والی  سو اس کا اتباع کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت ہو۔

۱۵۶.    کہیں تم لوگ یوں نہ کہو  کہ کتاب تو صرف ہم سے پہلے جو دو فرقے تھے ان پر نازل ہوئی تھی اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے محض بے خبر تھے

۱۵۷.    یا یوں نہ کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم اب سے بھی زیادہ راہ راست پر ہوتے۔ سو اب تمہارے پاس رب کے پاس سے ایک کتاب واضح اور رہنمائی کا ذریعہ اور رحمت آ چکی ہے  ان میں اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو گا جو ہماری ان آیتوں کو جھوٹا بتائے اور اس سے روکے  ہم جلدی ہی ان لوگوں کو جو ہماری آیتوں سے روکتے ہیں ان کے اس روکنے کے سبب سخت سزا دیں گے۔

۱۵۸.    کیا یہ لوگ اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا ان کے پاس رب آئے یا آپ کے رب کی کوئی (بڑی) نشانی آئے  جس روز آپ کے رب کی کوئی بڑی نشانی آ پہنچے گی کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہیں آئے گا جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا  یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو  آپ فرما دیجئے کہ تم منتظر رہو ہم بھی منتظر ہیں۔

۱۵۹.     بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے  آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ  کے حوالے ہے پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے۔

۱۶۰.     جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے  جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان پر ظلم نہ ہو گا۔

۱۶۱.     آپ کہ دیجئے کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بتایا ہے کہ وہ دین مستحکم ہے جو طریقہ ابراہیم (علیہ السلام) کا جو اللہ کی طرف یکسو تھے اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔

۱۶۲.     آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔

۱۶۳.    اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں

۱۶۴.    آپ فرما دیجئے کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کو رب بنانے کے لئے تلاش کروں حالانکہ وہ مالک ہے ہر چیز کا  اور جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے اور وہ اسی پر رہتا ہے اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا  پھر تم سب کو اپنے رب کے پاس جانا ہو گا، پھر تم کو جتا لائے گا جس جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے۔

۱۶۵.    وہ ایسا ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا  اور ایک کا دوسرے پر رتبہ بڑھایا تاکہ تم کو آزمائے ان چیزوں میں جو تم کو دی ہیں  بالیقین آپ کا رب جلد سزا دینے والا ہے اور بالیقین وہ واقعی بڑی مغفرت کرنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔

 

۷۔ الأعراف

۱.         المص

۲.        یہ ایک کتاب ہے جو آپ کے پاس اس لئے بھیجی گئی ہے کہ آپ اس کے ذریعہ ڈرائیں، سو آپ کے دل میں اس سے بالکل تنگی نہ ہو  اور نصیحت ہے ایمان والوں کے لئے۔

۳.        تم لوگ اس کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے  اور اللہ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی پیروی مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو۔

۴.        اور بہت بستیوں کو ہم نے تباہ کر دیا اور ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت پہنچا یا ایسی حالت میں کہ وہ دوپہر کے وقت آرام میں تھے۔

۵.        جس وقت ان پر ہمارا عذاب آیا اس وقت ان کے منہ سے بجز اس کے اور کوئی بات نہ نکلی واقع ہم ظالم تھے۔

۶.        پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ہم پیغمبروں سے بھی ضرور پوچھیں گے۔

۷.        پھر ہم چونکہ پوری خبر رکھتے ہیں ان کے روبرو بیان کر دیں گے  اور ہم کچھ بے خبر نہ تھے۔

۸.        اور اس روز وزن بھی برحق پھر جس شخص کا پلا بھاری ہو گا سو ایسے لوگ کامیاب ہوں گے۔

۹.         اور جس شخص کا پلا ہلکا ہو گا سو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کر لیا بسبب اس کے کہ ہماری آیتوں کے ساتھ ظلم کرتے تھے

۱۰.       اور بیشک ہم نے تم کو زمین پر رہنے کی جگہ دی اور ہم نے تمہارے لئے اس میں سامان رزق پیدا کیا تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔

۱۱.        اور ہم نے تم کو پیدا کیا  پھر ہم نے تمہاری صورت بنائی پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو سو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔

۱۲.       حق تعالیٰ  نے فرمایا تو سجدہ نہیں کرتا تو تجھ کو اس سے کونسا امر مانع ہے  جب کہ میں تم کو حکم دے چکا ہوں کہنے لگا میں اس سے بہتر ہوں آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا اور اس کو آپ نے خاک سے پیدا کیا

۱۳.       حق تعالیٰ  نے فرمایا تو آسمان سے اتر  تجھ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ تو آسمان میں رہ کر تکبر کرے سو نکل بیشک تو ذلیلوں میں سے ہے۔

۱۴.       اس نے کہا مجھ کو مہلت دیجئے قیامت کے دن تک۔

۱۵.       اللہ تعالیٰ  نے فرمایا تجھ کو مہلت دی گئی۔

۱۶.       اس نے کہا بسبب اس کے کہ آپ نے مجھ کو گمراہ کیا ہے  میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے لئے آپ کی سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔

۱۷.      پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی ان کی داہنی جانب سے بھی اور ان کی بائیں جانب سے بھی  اور آپ ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائیں گے

۱۸.       اللہ تعالیٰ  نے فرمایا کہ یہاں سے ذلیل و خوار ہو کر نکل جا جو شخص ان میں تیرا کہنا مانے گا میں ضرور تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔

۱۹.       اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو پھر جس جگہ سے چاہو دونوں کھاؤ اور اس درخت کے پاس مت جاؤ  ورنہ تم دونوں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔

۲۰.      پھر شیطان نے ان دونوں کے دلوں میں وسوسہ  ڈالا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے پوشیدہ تھیں دونوں کے روبرو بے پردہ  کر دے اور کہنے لگے کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت سے اور کسی سبب سے منع نہیں فرمایا مگر محض اس وجہ سے کہ تم دونوں کہیں فرشتے ہو جاؤ یا کہیں ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے ہو جاؤ۔

۲۱.       اور ان دونوں کے رو برو قسم کھا لی کہ یقین جانیے میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔

۲۲.      سو ان دونوں کو فریب کے نیچے لے  آیا پس ان دونوں نے جب درخت کو چکھا دونوں کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے روبرو بے پردہ ہو گئیں اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے  اور ان کے رب نے ان کو پکارا کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کر چکا تھا اور یہ نہ کہہ چکا کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے،

۲۳.      دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

۲۴.      حق تعالیٰ  نے فرمایا کہ نیچے ایسی حالت میں جاؤ کہ تم باہم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اور تمہارے واسطے زمین میں رہنے کی جگہ ہے اور نفع حاصل کرنا ہے ایک وقت تک۔

۲۵.      فرمایا تم کو وہاں ہی زندگی بسر کرنا ہے اور وہاں ہی مرنا ہے اور اسی میں سے پھر نکالے جاؤ گے

۲۶.      اے آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے  اور تقویٰ کا لباس  یہ اس سے بڑھ کر  یہ اللہ تعالیٰ  کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یاد رکھیں۔

۲۷.     اے اولاد آدم! شیطان تم کو کسی خرابی میں نہ ڈال دے جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے باہر کر دیا ایسی حالت میں ان کا لباس بھی اتروا دیا تاکہ وہ ان کو ان کی شرم گاہیں دکھائے۔ وہ اور اس کا لشکر تم کو ایسے طور پر دیکھتا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے ہو  ہم نے شیطانوں کو ان ہی لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔

۲۸.      اور وہ لوگ جب کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریق پر پایا ہے اور اللہ نے بھی ہم کو یہی بتلایا ہے۔ کہ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ  فاش بات کی تعلیم نہیں دیتا کیا اللہ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کی تم سند نہیں رکھتے۔

۲۹.      آپ کہہ دیجئے کہ میرے رب نے حکم دیا ہے انصاف کا  اور یہ کہ تم ہر سجدہ کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو  اور اللہ تعالیٰ  کی عبادت اس طور پر کرو کا اس عبادت کو خاص اللہ ہی کے واسطے رکھو تم کو اللہ نے جس طرح شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔

۳۰.      بعض لوگوں کو اللہ نے ہدایت دی ہے اور بعض پر گمراہی ثابت ہو گئی ہے۔ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنا لیا اور خیال رکھتے ہیں کہ وہ راست پر ہیں۔

۳۱.       اے اولاد آدم! تم مسجد کی ہر حاضری کے وقت پر اپنا لباس پہن لیا کرو  اور خوب کھاؤ اور پیو اور حد سے مت نکلو۔ بیشک اللہ تعالیٰ  حد سے نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

۳۲.      آپ فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ  کے پیدا کئے ہوئے اسباب زینت کو جن کو اس نے اپنے بندوں کے واسطے بنایا ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کو کس شخص نے حرام کیا ہے؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ اشیاء اس طور پر کہ قیامت کے روز خالص ہوں گی اہل ایمان کے لئے، دنیوی زندگی میں مومنوں کے بھی ہیں۔  ہم اس طرح تمام آیات کو سمجھ داروں کے واسطے صاف صاف بیان کرتے ہیں۔

۳۳.     آپ فرما دیجیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تمام فحش باتوں کو جو اعلانیہ ہیں  اور جو پوشیدہ ہیں اور ہر گناہ کی بات کو ناحق کسی پر ظلم کرنے کو  اس بات کو کہ اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو تم لوگ اللہ کے ذمے ایسی بات نہ لگا دو جس کو تم جانتے نہیں۔

۳۴.     ہر گروہ کے لئے ایک میعاد معین ہے  سو جس وقت انکی میعاد معین آ جائے گی اس ایک ساعت نہ پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے۔

۳۵.     اے اولاد آدم! اگر تمہارے پاس پیغمبر آئیں جو تم میں ہی سے ہوں جو میرے احکام تم سے بیان کریں تو جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور درستی کرے سو ان لوگوں پر نہ کچھ اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

۳۶.      اور جو لوگ ہمارے ان احکام کو جھٹلائیں اور ان سے تکبر کریں وہ لوگ دوزخ والے ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

۳۷.     سو اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو گا جو اللہ تعالیٰ  پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھوٹا بتائے ان لوگوں کے نصیب کا جو کچھ کتاب سے ہے وہ ان کو مل جائے گا  یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی جان قبض کرنے آئیں گے تو کہیں گے کہ وہ کہاں گئے جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے وہ کہیں گے کہ وہ سب غائب ہو گئے اور اپنے کافر ہونے کا اقرار کریں گے۔

۳۸.     اللہ تعالیٰ  فرمائے گا کہ جو فرقے تم سے پہلے گزر چکے ہیں  جنات میں سے بھی اور آدمیوں میں سے بھی ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جاؤ۔ جس وقت بھی کوئی جماعت داخل ہو گی اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی  یہاں تک کہ جب اس میں سب جمع ہو جائیں گے  تو پچھلے لوگ پہلے لوگوں کی نسبت کہیں گے  کہ ہمارے پروردگار ہم کو ان لوگوں نے گمراہ کیا تھا سو ان کو دوزخ کا عذاب دوگنا دے۔  اللہ تعالیٰ  فرمائے گا کہ سب ہی کا دوگنا ہے  لیکن تم کو خبر نہیں۔

۳۹.      اور پہلے لوگ پچھلے لوگوں سے کہیں گے کہ پھر تم کو ہم پر کوئی فوقیت نہیں سو تم بھی اپنی کمائی کے بدلے میں عذاب کا مزہ چکھو۔

۴۰.      جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے  اور وہ لوگ کبھی جنت میں نہ جائیں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ کے اندر سے نہ چلا جائے  اور ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

۴۱.       ان کے لئے آتش دوزخ کا بچھونا ہو گا اور ان کے اوپر (اسی کا) اوڑھنا ہو گا  اور ہم ایسے ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

۴۲.      اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ہم کسی شخص کو اس کی قدرت سے زیادہ کسی کا مکلف نہیں بناتے  وہی لوگ جنت والے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

۴۳.     جو کچھ ان کے دلوں میں (کینہ) تھا ہم اس کو دور کر دیں گے  ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اور وہ لوگ کہیں گے کہ اللہ کا (لاکھ لاکھ) شکر ہے جس نے ہم کو اس مقام تک پہنچایا اور ہماری کبھی رسائی نہ ہوتی اگر اللہ تعالیٰ  ہم کو نہ پہنچاتا  ہمارے رب کے پیغمبر سچی باتیں لے کر آئے تھے۔ اور ان سے پکار کر کہا جائے گا کہ اس جنت کے تم وارث بنائے گئے ہو اپنے اعمال کے بدلے۔

۴۴.     اور اہل جنت اہل دوزخ کو پکاریں گے کہ ہم سے جو ہمارے رب نے وعدہ فرمایا تھا ہم نے اس کو واقعہ کے مطابق پایا سو تم سے جو تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا تم نے بھی اس کو واقعہ کے مطابق پایا؟  وہ کہیں گے ہاں پھر ایک پکارنے والا دونوں کے درمیان میں پکارے گا کہ اللہ کی مار ہو ان ظالموں پر۔

۴۵.     جو اللہ کی راہ سے روگردانی کرتے تھے اور اس میں کجی تلاش کرتے تھے وہ لوگ آخرت کے بھی منکر تھے۔

۴۶.      اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑ ہو گی  اور اعراف کے اوپر بہت سے آدمی ہوں گے وہ لوگ  ہر ایک کو ان کے قیافہ سے پہچانیں گے  اور اہل جنت کو پکار کر کہیں گے السلامُ علیکم! ابھی یہ اہل اعراف (دوزخ اور جنت کے درمیان) جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور اس کے امیدوار ہوں گے۔

۴۷.     جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف پھریں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب! ہم کو ان ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کر۔

۴۸.     اور اہل اعراف بہت سے آدمیوں کو جن کو ان کے قیافہ سے پہچانیں گے پکاریں گے کہیں گے کہ تمہاری جماعت اور تمہارا اپنے کو بڑا سمجھنا تمہارے کچھ کام نہ آیا۔

۴۹.      کیا یہ وہی ہیں جن کی نسبت تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ  ان پر  رحمت نہ کرے گا ان کو یوں حکم ہو گا کہ جاؤ جنت میں تم پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ تم مغموم ہو گے۔

۵۰.      اور دوزخ والے جنت والوں کو پکاریں گے کہ ہمارے اوپر تھوڑا پانی ہی ڈال دو یا اور ہی کچھ دے دو جو اللہ نے تم کو دے رکھا ہے جنت والے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ  نے دونوں چیزوں کی کافروں کے لئے بندش کر دی ہے۔

۵۱.       جنہوں نے دنیا میں اپنے دین کو لہو و لعب بنا رکھا تھا اور جن کو دنیاوی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا سو ہم (بھی) آج کے روز ان کا نام بھول جائیں گے جیسا کہ وہ اس دن بھول گئے  اور جیسا یہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے۔

۵۲.      اور ہم نے ان لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب پہنچا دی جس کو ہم نے اپنے علم کامل سے بہت واضح کر کے بیان کر دیا  وہ ذریعہ ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے ہیں۔

۵۳.     ان لوگوں کو اور کسی بات کا انتظار نہیں صرف اس کے اخیر نتیجہ کا انتظار ہے  جس روز اس کا اخیر نتیجہ پہنچ آئے گا اس روز وہ لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے تھے یوں کہیں گے کہ واقعی ہمارے رب کے پیغمبر سچی سچی باتیں لائے تھے سو اب کیا کوئی ہمارا سفارشی ہے کہ ہماری سفارش کر دے یا کیا ہم پھر واپس بھیجے جا سکتے ہیں تاکہ ہم لوگ ان اعمال کے جو ہم کیا کرتے تھے برخلاف دوسرے اعمال کریں بیشک ان لوگوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال دیا اور یہ جو جو باتیں تراشتے تھے سب گم ہو گئیں۔

۵۴.     بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے سب آسمانوں اور زمین کو چھرہ روز میں پیدا کیا ہے  پھر عرش پر قائم ہوا  وہ رات سے دن ایسے طور پر چھپا دیتا ہے کہ کہ وہ رات اس دن کو جلدی سے آ لیتی ہے  اور سورج اور چاند اور دوسرے ستاروں کو پیدا کیا ایسے طور پر کہ سب اس کے حکم کے تابع ہیں۔ یاد رکھو اللہ ہی کے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاکم ہونا بڑی خوبیوں سے بھرا ہوا اللہ جو تمام عالم کا پروردگار ہے۔

۵۵.     تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا کیا کرو گڑ گڑا کے بھی اور چپکے چپکے بھی واقعی اللہ تعالیٰ  ان لوگوں کو نہ پسند کرتا ہے جو حد سے نکل جائیں۔

۵۶.      اور دنیا میں اس کے بعد کہ اس کی درستی کر دی گئی ہے فساد مت پھیلاؤ اور تم اللہ کی عبادت کرو اس سے ڈرتے ہوئے اور امیدوار رہتے ہوئے بیشک اللہ تعالیٰ  کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے۔

۵۷.     اور وہ ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وہ خوش کر دیتی ہیں  یہاں تک کہ جب وہ ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں  تو ہم اس بادل کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں پھر اس پانی سے ہر قسم کے پھل نکالتے ہیں  یوں ہی ہم مردوں کو نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم سمجھو۔

۵۸.     اور جو ستھری سرزمین ہوتی ہے اس کی پیداوار تو اللہ کے حکم سے خوب نکلتی ہے اور جو خراب ہے اس کی پیداوار بھی کم نکلتی ہے  اس طرح ہم دلائل بھی طرح طرح سے بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو شکر کرتے ہیں۔

۵۹.      ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود ہونے کے قابل نہیں مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

۶۰.      ان کی قوم کے بڑے لوگوں نے کہا ہم تم کو صریح غلطی میں دیکھتے ہیں۔

۶۱.       انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم! مجھ میں تو ذرا بھی گمراہی نہیں لیکن میں پروردگار عالم کا رسول ہوں۔

۶۲.      تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے ان امور کی خبر رکھتا ہوں جن کی تم کو خبر نہیں۔

۶۳.      اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت جو تمہاری ہی جنس کا ہے کوئی نصیحت کی بات آ گئی تاکہ وہ شخص تم کو ڈرائے اور تاکہ تم ڈر جاؤ  اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

۶۴.      سو وہ لوگ ان کو جھٹلاتے ہی رہے تو ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اور ان کو جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو ہم نے غرق کر دیا۔ بیشک وہ لوگ اندھے ہو رہے تھے۔

۶۵.      اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا، انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں سو کیا تم نہیں ڈرتے۔

۶۶.      ان کی قوم میں جو بڑے لوگ کافر تھے انہوں نے کہا ہم تم کو کم عقلی میں دیکھتے ہیں  اور ہم بیشک تم کو جھوٹے لوگوں میں سمجھتے ہیں۔

۶۷.     انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم! مجھ میں ذرا بھی کم عقلی نہیں لیکن میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں۔

۶۸.      تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور میں تمہارا امانتدار خیر خواہ ہوں۔

۶۹.      اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت جو تمہاری ہی جنس کا ہے کوئی نصیحت کی بات آ گئی تاکہ وہ شخص تم کو ڈرائے اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ نے تم کو قوم نوح کے بعد جانشین بنایا اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاؤ زیادہ دیا  سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کو فلاح ہو۔

۷۰.     انہوں نے کہا کہ کیا ہمارے پاس اس واسطے آئے ہیں کہ ہم صرف اللہ ہی کی عبادت کریں اور جس کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ان کو چھوڑ دیں  پس ہم کو جس عذاب کی دھمکی دیتے ہو اس کو ہمارے پاس منگوا دو اگر تم سچے ہو۔

۷۱.      انہوں نے فرمایا کہ اب تم پر اللہ کی طرف سے عذاب  اور غضب آیا ہی چاہتا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے باب میں جھگڑتے ہو  جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ٹھہرا لیا ہے؟ ان کے معبود ہونے کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں بھیجی۔ سو تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔

۷۲.     غرض ہم نے ان کو اور ان کے ساتھیوں کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اور ایمان لانے والے نہ تھے۔

۷۳.     اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو بھیجا  انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل آ چکی ہے یہ اونٹنی ہے اللہ کی جو تمہارے لئے دلیل ہے سو اس کو چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا کہ کہیں تم کو دردناک عذاب آ پکڑے۔

۷۴.     تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ  نے تم کو عاد کے بعد جانشین بنایا اور تم کو زمین پر رہنے کا ٹھکانا دیا کہ نرم زمین پر محل بناتے ہو  اور پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں گھر بناتے ہو  سو اللہ تعالیٰ  کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت پھیلاؤ۔

۷۵.     ان کی قوم میں جو متکبر سردار تھے انہوں نے غریب لوگوں سے جو کہ ان میں سے ایمان لے آئے تھے پوچھا کیا تم کو اس بات کا یقین ہے کہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بیشک ہم تو اس پر پورا یقین رکھتے ہیں جو ان کو دے کر بھیجا ہے۔

۷۶.     وہ متکبر لوگ کہنے لگے کہ تم جس بات پر یقین لائے ہوئے ہو ہم تو اس کے منکرین ہیں۔

۷۷.     پس انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ اے صالح! جس کی آپ ہم کو دھمکی دیتے تھے اس کو منگوائیے اگر آپ پیغمبر ہیں۔

۷۸.     پس ان کو زلزلہ نے آ پکڑا  اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے اوندھے پڑے رہ گئے۔

۷۹.      اس وقت (صالح علیہ السلام) ان سے منہ موڑ کر چلے گئے اور فرمانے لگے  کہ اے میری قوم میں نے تو تم کو اپنے پروردگار کا حکم پہنچا دیا تھا اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی لیکن تم لوگ خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔

۸۰.      اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کو بھیجا  جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کا تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں سے نہیں کیا۔

۸۱.       تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو  عورتوں کو چھوڑ کر  بلکہ تم تو حد ہی سے گزر گئے ہو

۸۲.      اور ان کی قوم سے کوئی جواب نہ بن پڑا بجز اس کے آپس میں کہنے لگے کہ ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو۔ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔

۸۳.     سو ہم نے لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا بجز ان کی بیوی کے کہ وہ ان ہی لوگوں میں رہی جو عذاب میں رہ گئے تھے

۸۴.     اور ہم نے ان پر خاص طرح کا مینہ  برسایا پس دیکھو تو سہی ان مجرموں کا انجام کیسا ہوا۔

۸۵.     اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ اسلام) کو بھیجا  انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آ چکی ہے پس تم ناپ اور تول پورا پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے مت  دو اور روئے زمین میں اس کے بعد اس کی درستی کر دی گئی فساد مت پھیلاؤ یہ تمھارے لئے نافع ہے اگر تم تصدیق کرو۔

۸۶.      اور تم سڑکوں پر اس غرض سے مت بیٹھا کرو کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کو دھمکیاں دو اور اللہ کے راہ سے روکو اور اس میں کجی کی تلاش میں لگے رہو  اور اس حالت کو یاد کرو جب تم کم تھے پھر اللہ نے تم کو زیادہ کر دیا اور دیکھو کہ کیسا انجام ہوا فساد کرنے والوں کا۔

۸۷.     اور اگر تم میں سے کچھ لوگ اس حکم پر جس کو دے کر مجھ کو بھیجا گیا ایمان لے آئے ہیں اور کچھ ایمان نہیں لائے تو ذرا ٹھہر جاؤ! یہاں تک کہ ہمارے درمیان اللہ فیصلہ کئے دیتا ہے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔

۸۸.     ان قوم کے متکبر سرداروں نے کہا کہ اے شعیب! ہم آپ کو اور آپ کے ہمراہ جو ایمان والے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال دیں گے الا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آ جاؤ  شعیب علیہ السلام نے جواب دیا کہ کیا ہم تمہارے مذہب میں آ جائیں گو ہم اس کو مکروہ ہی سمجھتے ہوں۔

۸۹.      ہم تو اللہ تعالیٰ  پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہو جائیں گے اگر ہم تمہارے دین میں آ جائیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ  نے ہم کو اس سے نجات دی  اور ہم سے ممکن نہیں کہ تمہارے مذہب میں پھر آ جائیں، لیکن ہاں یہ کہ اللہ ہی نے جو ہمارا مالک ہے مقدر کیا ہو  ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں  اے ہمارے پروردگار ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے موافق فیصلہ کر دے اور تو سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔

۹۰.      اور ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا اگر تم شعیب (علیہ السلام) کی راہ پر چلو گے تو بیشک بڑا نقصان اٹھاؤ گے

۹۱.       پس ان کو زلزلے نے آ پکڑا سو وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے۔

۹۲.      جنہوں نے شعیب علیہ السلام کی تکذیب کی تھی ان کی یہ حالت ہو گئی جیسے ان کے گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے  جنہوں نے شعیب علیہ السلام کی تکذیب کی وہ ہی خسارے میں پڑ گئے۔

۹۳.      اس وقت شعیب علیہ السلام ان سے منہ موڑ کر چلے گئے اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم! میں نے تم کو اپنے پروردگار کے احکام پہنچا دئیے تھے اور میں نے تو تمہاری خیر خواہی کی۔ پھر میں ان کافر لوگوں پر کیوں رنج کروں۔

۹۴.      اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا وہاں کے رہنے والوں کو ہم نے سختی اور تکلیف میں نہ پکڑا ہوتا کہ گڑگڑائیں

۹۵.      پھر ہم نے اس بد حالی کی جگہ خوش حالی میں بدل دی، یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی اور کہنے لگے کہ ہمارے آباؤ اجداد کو بھی تنگی اور راحت پیش آئی تھی تو ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا  اور ان کو خبر بھی نہ تھی۔

۹۶.      اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کے اعمال کی وجہ سے ان کو پکڑ لیا۔

۹۷.      کیا پھر بھی ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہو گئے کہ ان پر ہمارا عذاب شب کے وقت آ پڑے جس وقت وہ سوتے ہوں۔

۹۸.      اور کیا ان بستیوں کے رہنے والے اس بات سے بے فکر ہو گئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ پڑے جس وقت کہ وہ اپنے کھیلوں میں مشغول ہوں۔

۹۹.       کیا پس وہ اللہ کی اس پکڑ سے بے فکر ہو گئے۔ سو اللہ کی پکڑ سے بجز ان کے جن کی شامت ہی آ گئی ہو اور کوئی بے فکر نہیں ہوتا

۱۰۰.     اور کیا ان لوگوں کو جو زمین کے وارث ہوئے وہاں کے لوگوں کی ہلاکت کے بعد (ان واقعات مذکور میں ہیں) یہ بات نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے جرائم کے سبب ان کو ہلاک کر ڈالیں اور ہم ان کے دلوں پر بند لادیں، پس وہ نہ سن سکیں۔

۱۰۱.     ان بستیوں کے کچھ کچھ قصے ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں ان سب کے پاس ان کے پیغمبر معجزات لے کر آئے پھر جس چیز کو انہوں نے ابتدا میں جھوٹا کہہ دیا یہ بات نہ ہوئی کہ پھر اس کو مان لیتے  اللہ تعالیٰ  اسی طرح کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتا ہے۔

۱۰۲.     اور اکثر لوگوں میں وفائے عہد نہ دیکھا  اور ہم نے اکثر لوگوں کو بے حکم ہی پایا۔

۱۰۳.    پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے دلائل دے کر فرعون اور اس کے امرا کے پاس بھیجا  مگر ان لوگوں نے ان کا بالکل حق ادا نہ کیا۔ سو دیکھئے ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا۔

۱۰۴.    اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون میں رب العالمین کی طرف سے پیغمبر ہوں۔

۱۰۵.    میرے لئے یہی شایان ہے کہ بجز سچ کے اللہ کی طرف کوئی منسوب نہ کروں، میں تمہارے پاس  تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل لایا ہوں  سو تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔

۱۰۶.     فرعون نے کہا، اگر آپ کوئی معجزہ لے کر آئے ہیں تو اس کو اب پیش کیجئے! اگر آپ سچے ہیں

۱۰۷.    پس آپ نے اپنا عصا ڈال دیا، سو دفعتاً وہ صاف ایک اژدھا بن گیا۔

۱۰۸.    اور اپنا ہاتھ باہر نکالا سو وہ یکا یک سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہو گیا۔

۱۰۹.     قوم فرعون میں جو سردار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے

۱۱۰.     یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سرزمین سے باہر کر دے سو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو۔

۱۱۱.      انہوں نے کہا کہ آپ ان کو ان کے بھائی کو مہلت دیجئے اور شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دیجئے۔

۱۱۲.     کہ وہ سب ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لا کر حاضر کر دیں۔

۱۱۳.     اور جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے، کہنے لگے کہ اگر ہم غالب آ گئے تو ہم کو کوئی بڑا صلہ ملے گا۔

۱۱۴.     فرعون نے کہا ہاں اور تم مقرب لوگوں میں داخل ہو جاؤ گے۔

۱۱۵.     ان ساحروں نے عرض کیا اے موسیٰ! خواہ آپ ڈالئے اور یا ہم ہی ڈالیں

۱۱۶.     (موسیٰ علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ہی ڈالو  پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی نظر بندی کر دی اور ان پر ہیبت غالب کر دی اور ایک طرح کا بڑا جادو دکھایا۔

۱۱۷.     ہم نے موسیٰ (علیہ السلام کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دیجئے! سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا

۱۱۸.     پس حق ظاہر ہو گیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا سب جاتا رہا۔

۱۱۹.      پس وہ لوگ اس موقع پر ہار گئے اور خوب ذلیل ہو کر پھرے۔

۱۲۰.     اور وہ جو ساحر تھے سجدہ میں گر گئے۔

۱۲۱.     کہنے لگے ہم ایمان لائے رب العالمین پر

۱۲۲.     جو موسیٰ اور ہارون کا بھی رب ہے

۱۲۳.    فرعون کہنے لگا کہ تم موسیٰ پر ایمان لائے ہو بغیر اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں؟ بیشک یہ سازش تھی جس پر تمہارا عمل درآمد ہوا ہے اس شہر میں تاکہ تم سب اس شہر سے یہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو۔ سو اب تم کو حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے

۱۲۴.    میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا، پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا

۱۲۵.    انہوں نے جواب دیا کہ ہم (مر کر) اپنے مالک ہی کے پاس جائیں گے

۱۲۶.     اور تو نے ہم میں کون سا عیب دیکھا ہے بجز اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لائے ہیں  جب وہ ہمارے پاس آئے۔ اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما  اور ہماری جان حالت اسلام پر نکال

۱۲۷.    اور قوم فرعوں کے سرداروں نے کہا کہ کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم یوں ہی رہنے دیں گے کہ وہ ملک فساد کرتے پھریں  اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کیئے رہیں  فرعون نے کہا ہم ابھی ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے اور عورتوں کو زندہ رہنے دیں گے اور ہم کو ان پر ہر طرح کا زور ہے۔

۱۲۸.    موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ تعالیٰ  کا سہارا حاصل کرو اور صبر کرو، یہ زمین اللہ تعالیٰ  کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وہ مالک بنا دے اور آخر کامیابی ان ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔

۱۲۹.     قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم تو ہمیشہ مصیبت ہی میں رہے، آپ کی تشریف آوری سے قبل بھی  اور آپ کی تشریف آوری کے بعد بھی  موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بہت جلد اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کرے گا اور بجائے ان کے تم کو اس سرزمین کا خلیفہ بنا دے گا پھر تمہارا طرز عمل دیکھے گا۔

۱۳۰.    ہم نے فرعون والوں کو مبتلا کیا قحط سالی میں اور پھلوں کی کم پیداواری میں، تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔

۱۳۱.     سو جب خوشحالی آ جاتی تو کہتے یہ تو ہمارے لئے ہونا ہی تھا اور اگر ان کو کوئی بدحالی پیش آتی تو (موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی نحوست بتلاتے  یاد رکھو ان کی نحوست اللہ تعالیٰ  کے پاس ہے  لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

۱۳۲.    اور یوں کہتے کیسی ہی بات ہمارے سامنے لاؤ کہ ان کے ذریعے سے ہم پر جادو چلاؤ جب بھی تمہاری بات ہرگز نہ مانیں گے

۱۳۳.    پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹِڈیاں گھن کا کیڑا اور مینڈک اور خون، کہ یہ سب کھلے کھلے معجزے تھے  سو وہ تکبر کرتے رہے اور وہ لوگ کچھ تھے ہی جرائم پیشہ۔

۱۳۴.    اور جب کوئی عذاب ان پر واقع ہوتا تو یوں کہتے کہ اے موسیٰ ہمارے لئے رب سے اس بات کی دعا کر دیجئے! جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے، اگر آپ اس عذاب کو ہم سے ہٹا دیں تو ہم ضرور ضرور آپ کے کہنے سے ایمان لے آئیں گے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی (رہا کر کے) آپ کے ہمراہ کر دیں گے۔

۱۳۵.    پھر جب ان سے عذاب کو ایک خاص وقت تک کہ اس تک ان کو پہنچنا تھا ہٹا دیتے، تو وہ فوراً عہد شکنی کرنے لگتے۔

۱۳۶.    پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا یعنی ان کو دریاؤں میں غرق کر دیا اور اس سب سے کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل غفلت کرتے تھے۔

۱۳۷.    اور ہم نے ان لوگوں کو جو بالکل کمزور شمار کئے جاتے تھے  اس سرزمین کے پورب پچھم کا مالک بنایا جس میں ہم نے برکت رکھی اور آپ کے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں ان کے صبر کی وجہ سے پورا ہو گیا  اور ہم نے فرعون کے اور اس کی قوم کے ساختہ پرداختہ کارخانوں کو اور جو کچھ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنواتے تھے سب کو درہم برہم کر دیا۔

۱۳۸.    اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا۔ پس ان لوگوں کا ایک قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں سے لگے بیٹھے تھے، کہنے لگے اے موسیٰ! ہمارے لئے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے معبود ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔

۱۳۹.     یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں یہ تباہ کیا جائے گا اور ان کا یہ کام محض بے بنیاد ہے۔

۱۴۰.    فرمایا کیا اللہ تعالیٰ  کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کر دوں؟ حالانکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فوقیت دی ہے

۱۴۱.     اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے بچا لیا جو تم کو بڑی سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی بھاری آزمائش تھی

۱۴۲.    اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس رات مزید سے ان تیس راتوں کو پورا کیا۔ سو ان کے پروردگار کا وقت پورے چالیس رات کا ہو گیا  اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) سے کہا کہ میرے بعد ان کا انتظام رکھنا اور اصلاح کرتے رہنا اور بد نظم لوگوں کی رائے پر عمل مت کرنا

۱۴۳.    اور جب موسیٰ علیہ السلام ہمارے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اپنا دیدار مجھ کو کرا دیجئے کہ میں ایک نظر تم کو دیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے  لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وہ اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ (علیہ السلام) بے ہوش ہو کر گر پڑے  پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا، بیشک آپ کی ذات پاک ہے میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والا ہوں

۱۴۴.    ارشاد ہوا اے موسیٰ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہمکلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے تو جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو۔

۱۴۵.    اور ہم نے چند تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل ان کو لکھ کر دی  تم ان کو پوری طاقت سے پکڑ لو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ ان کے اچھے اچھے احکام پر عمل کریں  اب بہت جلد تم لوگوں کو ان بے حکموں کا مقام دکھلاتا ہوں۔

۱۴۶.    میں ایسے لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گا جو دنیا میں تکبر کرتے ہیں، جس کا ان کو کوئی حق نہیں اور اگر تمام نشانیاں دیکھ لیں تب بھی وہ ان پر ایمان نہ لائیں  اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستے دیکھ لیں تو اس کو اپنا طریقہ بنا لیں  یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے غافل رہے۔

۱۴۷.    اور یہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو اور قیامت کے پیش آنے کو جھٹلایا ان کے سب کام غارت گئے۔ ان کو وہی سزا دی جائے گی جو کچھ یہ کرتے تھے۔

۱۴۸.    اور موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں کا ایک بچھڑا معبود ٹھہرا لیا جو کہ ایک قالب تھا جس میں ایک آواز تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات نہیں کرتا تھا اور نہ کوئی راہ بتلاتا تھا اس کو انہوں نے معبود قرار دیا اور بڑی بے انصافی کا کام کیا

۱۴۹.     اور جب نادم ہوئے  اور معلوم ہوا کہ واقعی وہ لوگ گمراہی میں پڑ گئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا گناہ معاف نہ کرے تم ہم بالکل گئے گزرے ہو جائیں گے۔

۱۵۰.    اور جب موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی طرف واپس آئے غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے تو فرمایا کہ تم نے میرے بعد یہ بڑی بری جانشینی کی؟ کیا اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی تم نے جلد بازی کر لی اور جلدی سے تختیاں ایک طرف رکھیں  اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ ہارون علیہ السلام نے کہا کہ اے میرے ماں جائے  ان لوگوں نے مجھ کو بے حقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کر ڈالیں  تو تم مجھ پر دشمنوں کو مت ہنساؤ  اور مجھ کو ان ظالموں کے ذیل میں مت شمار کرو۔

۱۵۱.     موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے رب! میری خطا معاف فرما اور میرے بھائی کی بھی اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

۱۵۲.    بیشک جن لوگوں نے گو سالہ پرستی کی ہے ان پر بہت جلد ان کے رب کی طرف سے غضب اور ذلت اس دنیاوی زندگی ہی میں پڑے گی  اور ہم جھوٹی تہمت لگانے والوں کو ایسی سزا دیا کرتے ہیں۔

۱۵۳.    اور جن لوگوں نے گناہ کے کام کئے اور پھر ان کے بعد توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو تمہارا رب اس توبہ کے بعد گناہ معاف کر دینے والا، رحمت کرنے والا ہے

۱۵۴.    اور جب موسیٰ علیہ السلام کا غصہ فرو ہوا تو ان تختیوں کو اٹھا لیا اور ان کے مضامین میں  ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے ڈرتے تھے ہدایت اور رحمت تھی۔

۱۵۵.    اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمی اپنی قوم میں سے ہمارے وقت معین کے لئے منتخب کئے، سو جب ان کو زلزلہ نے آ پکڑا  تو موسیٰ (علیہ السلام) عرض کرنے لگے کہ اے میرے پروردگار اگر تجھ کو یہ منظور ہوتا تو اس سے قبل ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کر دیتا، کیا تو ہم میں سے چند بیوقوفوں کی حرکت پر سب کو ہلاک کر دے گا؟ یہ واقعہ محض تیری طرف سے امتحان ہے، ایسے امتحانات سے جس کو تو چاہے گمراہی میں ڈال دے اور جس کو چاہے ہدایت پر قائم رکھے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے پس ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور تو سب معافی دینے والوں سے زیادہ اچھا ہے۔

۱۵۶.    اور ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دے اور آخرت میں بھی ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں  اللہ تعالیٰ  نے فرمایا کہ میں اپنا عذاب اسی پر واقع کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے  تو وہ رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔

۱۵۷.    جو لوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں  وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں  اور پاکیزہ چیزوں کو حلال بناتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں اور ان لوگوں پر جو بوجھ اور طوق تھے  ان کو دور کرتے ہیں۔ سو جو لوگ اس نبی پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں

۱۵۸.    آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف سے اس اللہ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں پر اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ  پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ  پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پر آ جاؤ۔

۱۵۹.     اور قوم موسیٰ میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے مطابق ہدایت کرتی ہے اور اسی کے مطابق بھی کرتی ہے۔

۱۶۰.     اور ہم نے ان کو بارہ خاندانوں میں تقسیم کر کے سب کی الگ الگ جماعت مقرر کر دی  اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا جب کہ ان کی قوم نے ان سے پانی مانگا کہ اپنے عصا کو فلاں پتھر پر مارو پس فوراً اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا موقع معلوم کر لیا۔ اور ہم نے ان پر ابر کا سایہ فگن کیا اور ان کو من و سلویٰ (ترنجبین اور بٹیریں) پہنچائیں، کھاؤ نفیس چیزوں سے جو کہ ہم نے تم کو دی ہیں اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے۔

۱۶۱.     اور جب ان کو حکم دیا گیا کہ تم لوگ اس آبادی میں جا کر رہو اور کھاؤ اس سے جس جگہ تم رغبت کرو اور زبان سے یہ کہتے جانا کہ توبہ ہے اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے۔ جو لوگ نیک کام کریں گے ان کو مزید برآں اور دیں گے۔

۱۶۲.     سو بدل ڈالا ان ظالموں نے ایک اور کلمہ جو خلاف تھا اس کلمہ کے جس کی ان سے سفارش کی گئی تھی۔ اس پر ہم نے ان پر ایک آسمانی آفت بھیجی اس وجہ سے کہ وہ حکم کو ضائع کرتے تھے۔

۱۶۳.    اور آپ ان لوگوں سے  اس بستی والوں کا  جو کہ دریائے (شور) کے قریب آباد تھے اس وقت کا حال پوچھئے! جب کہ وہ ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جب کہ انکے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ظاہر ہو ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں، اور وہ ہفتہ کے دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں، ہم ان کی اس طرح پر آزمائش کرتے تھے اس سبب سے کہ وہ بے حکمی کیا کرتے تھے۔

۱۶۴.    اور جب کہ ان میں سے ایک جماعت نے یوں کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ بالکل ہلاک کرنے والا ہے یا ان کو سخت سزا دینے والا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے روبرو عذر کرنے کے لئے اور اس لئے کہ شاید یہ ڈر جائیں۔

۱۶۵.    سو جب وہ اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا  تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو کہ زیادتی کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا اس وجہ سے کہ وہ بے حکمی کیا کرتے تھے۔

۱۶۶.     یعنی جب، جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا اس میں حد سے نکل گئے تو ہم نے ان کو کہہ دیا تم ذلیل بندر بن جاؤ۔

۱۶۷.    اور وہ وقت یاد کرنا چاہیے کہ آپ کے رب نے یہ بات بتلا دی کہ وہ ان یہود پر قیامت تک ایسے شخص کو ضرور مسلط کرتا رہے گا جو ان کو سزائے شدید کی تکلیف پہنچاتا رہے گا  بلاشبہ آپ کا رب جلدی ہی سزا دے دیتا ہے اور بلاشبہ وہ واقعی بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا ہے۔

۱۶۸.    اور ہم نے دنیا میں ان کی مختلف جماعتیں کر دیں۔ بعض ان میں نیک تھے اور بعض ان میں اور طرح کے تھے اور ہم ان کو خوش حالیوں اور بد حالیوں سے آزماتے رہے شاید باز آ جائیں۔

۱۶۹.     پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کے جانشین ہوئے کہ کتاب کو ان سے حاصل کیا وہ اس دنیائے فانی کا مال متاع لے لیتے ہیں  اور کہتے ہیں ہماری ضرور مغفرت ہو جائے گی  حالانکہ اگر ان کے پاس ویسا ہی مال متاع آنے لگے تو اس کو بھی لے لیں گے کیا ان سے اس کتاب کے اس مضمون کا عہد نہیں لیا گیا کہ اللہ کی طرف سے بجز حق بات کے اور کسی بات کی نسبت نہ کریں  اور انہوں نے اس کتاب میں جو کچھ تھا اس کو پڑھ لیا  اور آخرت والا گھر ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو تقویٰ رکھتے ہیں، پھر کیا تم نہیں سمجھتے۔

۱۷۰.    اور جو لوگ کتاب کے پابند ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں ہم ایسے لوگوں کو جو اپنی اصلاح کریں ثواب ضائع نہ کریں گے

۱۷۱.     اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے اوپر معلق کر دیا اور ان کو یقین ہو گیا کہ اب ان پر گرا اور کہا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اسے مضبوطی کے ساتھ قبول کرو اور یاد رکھو جو احکام اس میں ہیں اس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاؤ۔

۱۷۲.    اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔  تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔

۱۷۳.    یا یوں کہو کہ پہلے پہلے شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا؟۔

۱۷۴.    ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں تاکہ وہ باز آ جائیں۔

۱۷۵.    اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنایئے کہ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں پھر وہ ان سے نکل گیا، پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا سو وہ گمراہ لوگوں میں شامل ہو گیا

۱۷۶.    اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کر دیتے لیکن وہ تو دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا سو اس کی حالت کتے کی سی ہو گئی کہ اگر تو اس پر حملہ کرے تب بھی وہ ہانپے یا اس کو چھوڑ دے تب بھی ہانپے  یہی حالت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ سو آپ اس حال کو بیان کر دیجئے شاید وہ لوگ کچھ سوچیں۔

۱۷۷.   اور ان لوگوں کی حالت بھی بری حالت ہے  جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں اور اپنا نقصان کرتے ہیں

۱۷۸.    جس کو اللہ ہدایت کرتا ہے سو ہدایت پانے والا وہی ہوتا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے سو ایسے ہی لوگ خسارے میں پڑنے والے ہیں۔

۱۷۹.    اور ہم نے ایسے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں  جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔ یہ لوگ بھی چوپاؤں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں یہی لوگ غافل ہیں۔

۱۸۰.    اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کیلئے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو  اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں  ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔

۱۸۱.     اور ہماری مخلوق میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو حق کے موافق ہدایت کرتی ہے اور اس کے موافق انصاف بھی کرتی ہے

۱۸۲.    اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ہم ان کو بتدریج (گرفت میں) لئے جا رہے ہیں اس طور پر کہ انہیں خبر بھی نہیں۔

۱۸۳.    میں ان کو مہلت دیتا ہوں بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے

۱۸۴.    کیا ان لوگوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو ذرا بھی جنون نہیں وہ تو صرف ایک صاف صاف ڈرانے والے ہیں

۱۸۵.    اور کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا آسمانوں اور زمین کے عالم میں اور دوسری چیزوں میں جو اللہ نے پیدا کیں ہیں اور اس بات میں کہ ممکن ہے کہ ان کی اجل قریب ہی آ پہنچی ہو  پھر قرآن کے بعد کون سی بات پر یہ لوگ ایمان لائیں گے

۱۸۶.    جس کو اللہ تعالیٰ  گمراہ کر دے اس کو کوئی راہ پر نہیں لا سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ  ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے۔

۱۸۷.    یہ لوگ آپ سے قیامت  کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا  آپ فرما دیجئے اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے  اس کے وقت پر اس کو سوائے اللہ کے کوئی ظاہر نہ کرے گا وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہو گا  وہ تم پر محض اچانک آ پڑے گی۔ وہ آپ اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کر چکے ہیں  آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

۱۸۸.    آپ فرما دیجئے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لئے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا، مگر اتنا ہی کہ جتنا اللہ نے چاہا اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو میں بہت منافع حاصل کر لیتا اور کوئی نقصان مجھے نہ پہنچتا میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں۔

۱۸۹.     اور اللہ تعالیٰ  ایسا ہے جس نے تم کو ایک تن واحد سے پیدا کیا  اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا  تاکہ وہ اس اپنے جوڑے سے انس حاصل کرے  پھر جب بیوی سے قربت حاصل کی  اس کو حمل رہ گیا ہلکا سا۔ سو وہ اس کو لئے ہوئے چلتی پھرتی رہی  پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں میاں بیوی اللہ سے جو ان کا مالک ہے دعا کرنے لگے اگر تم نے ہم کو صحیح سلامت اولاد دے دی تو ہم خوب شکر گذاری کریں گے۔

۱۹۰.     سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سلامت اولاد دے دی تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وہ دونوں اللہ کے شریک قرار دینے لگے  سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے۔

۱۹۱.      کیا ایسوں کو شریک ٹھہراتے ہو جو کسی کو پیدا نہ کر سکیں اور وہ خود ہی پیدا کئے گئے ہوں۔

۱۹۲.     اور وہ ان کو کسی قسم کی مدد نہیں دے سکتے اور وہ خود بھی مدد نہیں کر سکتے۔

۱۹۳.     اگر تم ان کو کوئی بات بتلانے کو پکارو تو تمہارے کہنے پر نہ چلیں  تمہارے اعتبار سے دونوں امر برابر ہیں خواہ تم ان کو پکارو یا خاموش رہو۔

۱۹۴.     واقع تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ بھی تم جیسے ہی بندے ہیں  سو تم ان کو پکارو پھر ان کو چاہیے کہ تمہارا کہنا کر دیں اگر تم سچے ہو۔

۱۹۵.     کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہوں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ کسی چیز کو تھام سکیں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہوں، یا ان کے کان ہیں جن سے سنتے ہوں  آپ کہہ دیجئے! تم اپنے سب شرکا کو بلا لو، پھر میری ضرر رسانی کی تدبیر کرو پھر مجھ کو ذرا مہلت مت دو۔

۱۹۶.     یقیناً میرا مددگار اللہ تعالیٰ  ہے جس نے یہ کتاب نازل فرمائی اور وہ نیک بندوں کی مدد کرتا ہے۔

۱۹۷.    اور جن لوگوں کو اللہ چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ تمہاری کچھ مدد نہیں کر سکتے ہیں

۱۹۸.     اور ان کو اگر کوئی بات بتلانے کو پکارو تو اس کو نہ سنیں  اور ان کو آپ دیکھتے ہیں کہ گویا وہ آپ کو دیکھ رہے ہیں اور وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔

۱۹۹.     آپ درگزر اختیار کریں  نیک کام کی تعلیم دیں  اور جاہلوں سے ایک کنارہ ہو جائیں۔

۲۰۰.    آپ کو اگر کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجئے  بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔

۲۰۱.     یقیناً جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی خطرہ شیطان کی طرف سے آ جاتا ہے تو وہ یاد میں لگ جاتے ہیں یکایک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں

۲۰۲.    اور جو شیاطین کے طابع ہیں وہ ان کو گمراہی میں کھینچے لے جاتے ہیں پس وہ باز نہیں آتے

۲۰۳.   اور جب آپ کوئی معجزہ ان کے سامنے ظاہر نہیں کرتے تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ یہ معجزہ کیوں نہ لائے  آپ کہہ دیجئے! کہ میں اس کی پیروی کرتا ہو جو مجھ پر میرے رب کی طرف سے حکم بھیجا گیا ہے یہ گویا بہت سی دلیلیں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں

۲۰۴.   اور جب قرآن پڑھا جایا کرے تو اس کی طرف کان لگا دیا کرو اور خاموش رہا کرو امید ہے کہ تم پر رحمت ہو۔

۲۰۵.   اور اے شخص! اپنے رب کی یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ صبح اور شام اور اہل غفلت میں سے مت ہونا۔

۲۰۶.    یقیناً جو تیرے رب کے نزدیک ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس کو سجدہ کرتے ہیں۔

 

۸۔ الأنفال

۱.         یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم دریافت کرتے ہیں  آپ فرما دیجئے! کہ غنیمتیں اللہ کی ہیں اور رسول کی ہیں  سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو اور اللہ تعالیٰ  اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو۔

۲.        بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں جب اللہ تعالیٰ  کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ  کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں

۳.        جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

۴.        سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔

۵.        جیسا کہ آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ آپ کو روانہ کیا  اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھتی تھی

۶.        وہ اس حق کے بارے میں، اس کے بعد کہ اس کا ظہور ہو گیا تھا  آپ سے اس طرح جھگڑ رہے تھے کہ گویا کوئی ان کو موت کی طرف ہانکنے کے لئے جاتا ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں

۷.        اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو! جب کہ اللہ تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کرتا تھا کہ وہ تمہارے ہاتھ آ جائے گی  اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت تمہارے ہاتھ آ جائے  اور اللہ تعالیٰ  کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ثابت کر دے اور ان کافروں کی جڑ کاٹ دے۔

۸.        تاکہ حق کا حق اور باطل کا باطل ہونا ثابت کر دے گو یہ مجرم لوگ ناپسند ہی کریں

۹.         اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے پھر اللہ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے۔

۱۰.       اور اللہ تعالیٰ  نے یہ امداد محض اس لئے کی کہ بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو قرار ہو جائے اور مدد صرف اللہ کی طرف سے ہے  جو کہ زبردست حکمت والا ہے۔

۱۱.        اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لئے  اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا کہ اس پانی کے ذریعے سے تم کو پاک کر دے اور تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کر دے  اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور تمہارے پاؤں جما دے

۱۲.       اس وقت کو یاد کرو جب کہ آپ کا رب فرشتوں کو حکم دیتا تھا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں سو تم ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ میں ابھی کفار کے قلوب میں رعب ڈالے دیتا ہوں  سو تم گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور کو مارو

۱۳.       یہ اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ جو اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے سو بیشک اللہ تعالیٰ  سخت سزا دینے والا ہے۔

۱۴.       سو یہ سزا چکھو اور جان رکھو کہ کافروں کے لئے جہنم کا عذاب مقرر ہی ہے۔

۱۵.       اے ایمان والو! جب تم کافروں سے دو بدو مقابل ہو جاؤ، تو ان سے پشت مت پھیرنا

۱۶.       اور جو شخص ان سے اس موقع پر پشت پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لئے پینترا بدلتا ہو یا جو (اپنی) جماعت کی طرف پناہ لینے آتا ہو وہ مستثنیٰ ہے  باقی اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کے غضب میں آ جائے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہو گا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔

۱۷.      سو تم نے انہیں قتل نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ  نے ان کو قتل کیا۔  اور آپ نے خاک کی مٹھی نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ  نے پھینکی  تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے ان کی محنت کا خوب عوض دے  بلاشبہ اللہ تعالیٰ  خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔

۱۸.       (ایک بات تو) یہ ہوئی اور (دوسری بات یہ ہے) اللہ تعالیٰ  کو کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنا تھا

۱۹.       اگر تم لوگ فیصلہ چاہتے ہو تو وہ فیصلہ تمہارے سامنے آ موجود ہوا  اور اگر باز آ جاؤ تو یہ تمہارے لئے نہایت خوب ہے اور اگر تم پھر وہی کام کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کام کریں گے اور تمہاری جمعیت تمہارے ذرا بھی کام نہ آئے گی گو کتنی زیادہ ہو اور واقعی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ  ایمان والوں کے ساتھ ہے۔

۲۰.      اے ایمان والو! اللہ کا اور اس کے رسول کا کہنا مانو اور اس (کا کہنا ماننے) سے روگردانی مت کرو سنتے جانتے ہوئے۔

۲۱.       اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ سنتے سناتے کچھ نہیں

۲۲.      بیشک بدترین خلائق اللہ تعالیٰ  کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو بہرے ہیں گونگے ہیں جو کہ (ذرا) نہیں سمجھتے

۲۳.      اور اگر اللہ تعالیٰ  ان میں کوئی خوبی دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق دے دیتا  اور اگر ان کو اب سنا دے تو ضرور روگردانی کریں گے بے رخی کرتے ہوئے

۲۴.      اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں  اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ  آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان آڑ بن جایا کرتا ہے  اور بلاشبہ تم سب کو اللہ ہی کے پاس جمع ہونا ہے۔

۲۵.      اور تم ایسے وبال سے بچو! کہ جو خاص کر صرف ان ہی لوگوں پر واقع نہ ہو گا جو تم میں سے ان گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں  اور یہ جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

۲۶.      اور اس حالت کو یاد کرو! جب کہ تم زمین میں قلیل تھے، کمزور شمار کئے جاتے تھے۔ اس اندیشہ میں رہتے تھے کہ تم کو لوگ نوچ کھسوٹ نہ لیں، سو اللہ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور تم کو اپنی نصرت سے قوت دی اور تم کو نفیس چیزیں عطا فرمائیں تاکہ تم شکر کرو۔

۲۷.     اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول (کے حقوق) میں جانتے ہوئے خیانت مت کرو اور اپنی قابل حفاظت چیزوں میں خیانت مت کرو۔

۲۸.      اور تم اس بات کو جان رکھو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ایک امتحان کی چیز ہے  اور اس بات کو جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ  کے پاس بڑا بھاری اجر ہے۔

۲۹.      اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ  تم کو ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کر دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ  بڑے فضل والا ہے۔

۳۰.      اور اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے! جب کہ کافر لوگ آپ کی نسبت تدبیر سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کر لیں، یا آپ کو قتل کر ڈالیں یا آپ کو خارج وطن کر دیں  اور وہ تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیادہ مستحکم تدبیر والا اللہ ہے۔

۳۱.       اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو اس کے برابر ہم بھی کہہ دیں، یہ تو کچھ بھی نہیں صرف بے سند باتیں ہیں جو پہلوں سے منقول چلی آ رہی ہیں۔

۳۲.      اور جب کہ ان لوگوں نے کہا کہ اے اللہ! اگر یہ قرآن آپ کی طرف سے واقعی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا ہم پر کوئی دردناک عذاب واقع کر دے۔

۳۳.     اور اللہ تعالیٰ  ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے  اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے ہوں۔

۳۴.     اور ان میں کیا بات ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ  سزا نہ دے حالانکہ وہ لوگ مسجد حرام سے روکتے ہیں، جب کہ وہ لوگ اس مسجد کے متولی نہیں۔ اس کے متولی تو سوا متقیوں کے اور اشخاص نہیں، لیکن ان میں اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔

۳۵.     اور ان کی نماز کعبہ کے پاس صرف یہ تھی سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا  سو اپنے کفر کے سبب اس عذاب کا مزہ چکھو۔

۳۶.      بلا شک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو خرچ کرتے ہی رہیں گے، پھر وہ مال ان کے حق میں باعث حسرت ہو جائیں گے، پھر مغلوب ہو جائیں گے اور کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف جمع کیا جائے گا۔

۳۷.     تاکہ اللہ تعالیٰ  ناپاک کو پاک سے الگ کر دے  اور ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملا دے، پس ان سب کو اکٹھا ڈھیر کر دے پھر ان سب کو جہنم میں ڈال دے ایسے لوگ پورے خسارے میں ہیں۔

۳۸.     آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے! کہ اگر یہ لوگ باز آ جائیں تو ان کے سارے گناہ جو پہلے ہو چکے ہیں سب معاف کر دئے جائیں گے  اور اگر اپنی وہی عادت رکھیں گے تو (کفار) سابقین کے حق میں قانون نافذ ہو چکا ہے۔

۳۹.      اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیدہ نہ رہے۔  اور دین اللہ کا ہی ہو جائے  پھر اگر باز آ جائیں تو اللہ تعالیٰ  ان کے اعمال کو خوب دیکھتا ہے

۴۰.      اور اگر روگردانی کریں  تو یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ  تمہارا کارساز ہے  وہ بہت اچھا کارساز ہے اور بہت اچھا مددگار۔

۴۱.       جان لو کہ تم جس قسم کی جو کچھ غنیمت حاصل کرو  اس میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت داروں کا اور یتیموں کا اور مسکینوں کا اور مسافروں کا،  اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے پر اس دن اتارا  جو دن حق اور باطل کی جدائی کا تھا  جس دن دو فوجیں بھڑ گئی تھیں۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے (۵)

۴۲.      جب کہ تم پاس والے کنارے پر تھے اور وہ دور والے کنارے پر تھے  اور قافلہ تم سے نیچے تھا  اگر تم آپس میں وعدے کرتے تو یقیناً تم وقت معین پر پہنچنے میں مختلف ہو جاتے  لیکن اللہ کو تو ایک کام کر ہی ڈالنا تھا جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ جو ہلاک ہو اور جو زندہ رہے، وہ بھی دلیل پر (حق پہچان کر) زندہ رہے  بیشک اللہ بہت سننے والا خوب جاننے والا ہے۔

۴۳.     جب کہ اللہ تعالیٰ  نے تجھے تیرے خواب میں ان کی تعداد کم دکھائی، اگر ان کی زیادتی دکھاتا تو تم بزدل ہو جاتے اور اس کام کے بارے میں آپس میں اختلاف کرتے لیکن اللہ تعالیٰ  نے بچا لیا وہ دلوں کے بھیدوں سے خوب آگاہ ہے۔

۴۴.     جب اس نے بوقت ملاقات انہیں تمہاری نگاہوں میں بہت کم دکھایا اور تمہیں ان کی نگاہوں میں کم دکھایا  تاکہ اللہ تعالیٰ  اس کام کو انجام تک پہنچا دے جو کرنا ہی تھا  اور سب کام اللہ ہی کی طرف پھیرے جاتے ہیں۔

۴۵.     اے ایمان والو! جب تم کسی مخالف فوج سے بھڑ جاؤ تو ثابت قدم رہو اور بکثرت اللہ کی یاد کرو تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو

۴۶.      اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو، آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر و سہار رکھو یقیناً اللہ تعالیٰ  صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

۴۷.     ان لوگوں جیسے نہ بنو جو اتراتے ہوئے اور لوگوں میں خود نمائی کرتے ہوئے اپنے گھروں سے چلے اور اللہ کی راہ سے روکتے تھے  جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ اسے گھیر لینے والا ہے۔

۴۸.     جبکہ ان کے اعمال کو شیطان انہیں زینت دار دکھا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ لوگوں سے کوئی بھی آج تم پر غالب نہیں آ سکتا میں خود بھی تمہارا حمایتی ہوں لیکن جب دونوں جماعتیں نمودار ہوئیں تو اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے ہٹ گیا اور کہنے لگا میں تم سے بری ہوں۔ میں وہ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے  میں اللہ سے ڈرتا ہوں  اور اللہ تعالیٰ  سخت عذاب والا ہے۔

۴۹.      جب منافق کہہ رہے تھے اور وہ بھی جن کے دلوں میں روگ تھا  کہ انہیں تو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے  جو بھی اللہ پر بھروسہ کرے اللہ تعالیٰ  بلا شک و شبہ غلبے والا اور حکمت والا ہے۔

۵۰.      کاش کہ تو دیکھتا جب کہ فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں ان کے منہ پر اور سرینوں پر مار مارتے ہیں (اور کہتے ہیں) تم جلنے کا عذاب چکھو

۵۱.       یہ بسبب ان کاموں کے جو تمہارے ہاتھوں نے پہلے ہی بھیج رکھا ہے بیشک اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں

۵۲.      مثل فرعونیوں کے حال کے اور ان سے اگلوں کے  کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں سے کفر کیا پس اللہ نے ان کے گناہوں کے باعث انہیں پکڑ لیا اللہ تعالیٰ  یقیناً قوت والا اور سخت عذاب والا ہے۔

۵۳.     یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ  ایسا نہیں کہ کسی قوم پر کوئی نعمت انعام فرما کر پھر بدل دے جب تک کہ وہ خود اپنی اس حالت کو نہ بدل دیں جو کہ ان کی اپنی تھی  اور یہ کہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

۵۴.     مثل حالت فرعونیوں کے اور ان سے پہلے کے لوگوں کے کہ انہوں نے اپنے رب کی باتیں جھٹلائیں۔ پس ان کے گناہوں کے باعث ہم نے انہیں برباد کیا اور فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ یہ سارے ظالم تھے

۵۵.     تمام جانداروں سے بدتر، اللہ کے نزدیک وہ ہیں جو کفر کریں، پھر وہ ایمان نہ لائیں۔

۵۶.      جن سے تم نے عہد پیمان کر لیا پھر بھی وہ اپنے عہد و پیمان کو ہر مرتبہ توڑ دیتے ہیں اور بالکل پرہیز نہیں کرتے

۵۷.     پس جب کبھی تو لڑائی میں ان پر غالب آ جائے انہیں ایسی مار مار کہ کہ ان کے پچھلے بھی بھاگ کھڑے ہوں  ہو سکتا ہے کہ وہ عبرت حاصل کریں۔

۵۸.     اور اگر تجھے کسی قوم کی خیانت کا ڈر ہو تو برابری کی حالت میں ان کا عہد نامہ توڑ دے  اللہ تعالیٰ  خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔

۵۹.      کافر یہ خیال نہ کریں کہ وہ بھاگ نکلے۔ یقیناً وہ عاجز نہیں کر سکتے۔

۶۰.      تم ان کے مقابلے کے لئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو اور گھوڑوں کے تیار رکھنے کی  کہ اس سے تم اللہ کے دشمنوں کو خوف زدہ رکھ سکو اور ان کے سوا اوروں کو بھی، جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں خوب جان رہا ہے جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں صرف کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا۔

۶۱.       اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو بھی صلح کی طرف جھک جا اور اللہ پر بھروسہ رکھ  یقیناً وہ سننے جاننے والا ہے

۶۲.      اگر وہ تجھ سے دغا بازی کرنا چاہیں گے تو اللہ تجھے کافی ہے، اسی نے اپنی مدد سے اور مومنوں سے تیری تائید کی ہے۔

۶۳.      ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی ہے، زمین میں جو کچھ ہے تو اگر سارا کا سارا بھی خرچ کر ڈالتا تو بھی ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتا۔ یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے  وہ غالب حکمتوں والا ہے۔

۶۴.      اے نبی! تجھے اللہ کافی ہے اور ان مومنوں کو جو تیری پیروی کر رہے ہیں۔

۶۵.      اے نبی! ایمان والوں کو جہاد کا شوق دلاؤ  اگر تم میں بیس بھی صبر والے ہوں گے، تو وہ سو پر غالب رہیں گے۔ اور اگر تم ایک سو ہوں گے تو ایک ہزار کافروں پر غالب رہیں گے  اس واسطے کہ وہ بے سمجھ لوگ ہیں۔

۶۶.      اچھا اب اللہ تمہارا بوجھ ہلکا کرتا ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں ناتوانی ہے، پس اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب رہیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار ہوں گے تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب رہیں گے  اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

۶۷.     نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہییں جب تک کہ ملک میں اچھی خون ریزی کی جنگ نہ ہو جائے۔ تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا ارادہ آخرت کا ہے  اور اللہ زور آور با حکمت ہے۔

۶۸.      اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی  تو جو کچھ تم نے لے لیا ہے اس بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی۔

۶۹.      پس جو کچھ حلال اور پاکیزہ غنیمت تم نے حاصل کی ہے، خوب کھاؤ پیو  اور اللہ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ غفور و رحیم ہے۔

۷۰.     اے نبی! اپنے ہاتھ تلے کے قیدیوں سے کہہ دو کہ اگر اللہ تعالیٰ  تمہارے دلوں میں نیک نیتی دیکھے گا  تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں دے گا  اور پھر گناہ معاف فرمائے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

۷۱.      اور اگر وہ تجھ سے خیانت کا خیال کریں گے تو یہ اس سے پہلے خود اللہ کی خیانت کر چکے ہیں آخر اس نے انہیں گرفتار کرا دیا  اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

۷۲.     جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا  اور جن لوگوں نے ان کو پناہ دی اور مدد کی  یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے فریق ہیں  اور جو ایمان لائے ہیں لیکن ہجرت نہیں کی تو تمہارے لئے ان کی کچھ بھی رفاقت نہیں جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں  ہاں اگر وہ دین کے بارے میں مدد طلب کریں تو تم پر مدد کرنا ضروری ہے  سوائے ان لوگوں کے کہ تم میں اور ان میں عہد و پیمان ہے  تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ خوب دیکھتا ہے۔

۷۳.     کافر آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ملک میں فتنہ ہو گا اور زبردست فساد ہو جائے گا

۷۴.     جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد پہنچائی۔ یہی لوگ سچے مومن ہیں، ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی۔

۷۵.     اور جو لوگ اس کے بعد ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ساتھ ہو کر جہاد کیا۔ پس یہ لوگ بھی تم میں سے ہی ہیں  اور رشتے ناطے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں اللہ کے حکم میں  بیشک اللہ تعالیٰ  ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

 

۹۔ التوبۃ

۱.         اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے بیزاری کا اعلان ہے  ان مشرکوں کے بارے میں جن سے تم نے عہد پیمان کیا تھا۔

۲.        پس (اے مشرکو!) تم ملک میں چار مہینے تک تو چل پھر لو،  جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو، اور یہ (بھی یاد رہے) کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔

۳.        اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو بڑے حج کے دن  صاف اطلاع ہے کہ اللہ مشرکوں سے بیزار ہے، اور اس کا رسول بھی، اگر اب بھی تم توبہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، اور اگر تم روگردانی کرو تو جان لو کہ تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے، اور کافروں کو دکھ کی مار کی خبر پہنچا دیجئے۔

۴.        بجز ان مشرکوں کے جن سے تمہارا معاہدہ ہو چکا ہے اور انہوں نے تمہیں ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچایا اور نہ کسی کی تمہارے خلاف مدد کی ہے تم بھی ان کے معاہدے کی مدت ان کے ساتھ پوری کرو  اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

۵.        پھر حرمت والے مہینوں  کے گزرتے ہی مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو  انہیں گرفتار کرو  ان کا محاصرہ کرو اور ان کی تاک میں ہر گھاٹی میں جا بیٹھو  ہاں اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو تم ان کی راہیں چھوڑ دو  یقیناً اللہ تعالیٰ  بخشنے والا مہربان ہے۔

۶.        اگر مشرکوں میں سے کوئی تجھ سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سن لے پھر اسے اپنی جائے امن تک پہنچا دے  یہ اس لئے کہ یہ لوگ بے علم ہیں۔

۷.        مشرکوں کے لئے عہد اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کیسے رہ سکتا ہے سوائے ان کے جن سے تم نے عہد و پیمان مسجد حرام کے پاس کیا  جب تک وہ لوگ تم سے معاہدہ نبھائیں تم بھی ان سے وفاداری کرو، اللہ تعالیٰ  متقیوں سے محبت رکھتا ہے۔

۸.        ان کے وعدوں کا کیا اعتبار ان کا اگر تم پر غلبہ ہو جائے تو نہ یہ قرابت داری کا خیال کریں نہ عہد و پیمان کا  اپنی زبانوں سے تمہیں پرچا رہے ہیں لیکن ان کے دل نہیں مانتے ان میں اکثر فاسق ہیں۔

۹.         انہوں نے اللہ کی آیتوں کو بہت کم قیمت پر بیچ دیا اور اس کی راہ سے روکا بہت برا ہے جو یہ کر رہے ہیں۔

۱۰.       یہ تو کسی مسلمان کے حق میں کسی رشتہ داری کا یا عہد کا مطلق لحاظ نہیں کرتے، یہ ہیں ہی حد سے گزرنے والے

۱۱.        اب بھی اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز کے پابند ہو جائیں اور زکوٰۃ دیتے رہیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔  ہم تو جاننے والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر رہے ہیں۔

۱۲.       اگر یہ لوگ عہد و پیمان کے بعد بھی اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو تم بھی ان سرداران کفر سے بھڑ جاؤ۔ ان کی قسمیں  کوئی چیز نہیں ممکن ہے کہ اس طرح وہ بھی باز آ جائیں۔

۱۳.       تم ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے کیوں تیار نہیں ہوتے  جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور پیغمبر کو جلا وطن کرنے کی فکر میں ہیں  اور خود ہی اول بار انہوں نے تم سے چھیڑ کی ہے  کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ اللہ ہی زیادہ مستحق ہے کہ تم اس کا ڈر رکھو بشرطیکہ تم ایمان والے ہو۔

۱۴.       ان سے تم جنگ کرو اللہ تعالیٰ  انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا، انہیں ذلیل اور رسوا کرے گا، تمہیں ان پر مدد دے گا اور مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا۔

۱۵.       اور ان کے دل کا غم و غصہ دور کرے گا  اور جس کی طرف چاہتا ہے رحمت سے توجہ فرماتا ہے، اللہ جانتا بوجھتا حکمت والا ہے۔

۱۶.       کیا تم سمجھ بیٹھے ہو کہ تم چھوڑ دیئے جاؤ گے  حالانکہ اب تک اللہ نے تم میں سے انہیں ممتاز نہیں کیا جو مجاہد ہیں  اور جنہوں نے اللہ کے اور رسول کے اور مومنوں کے سوا کسی کو ولی دوست نہیں بنایا  اللہ خوب خبردار ہے جو تم کر رہے ہو۔

۱۷.      لائق نہیں کہ مشرک اللہ تعالیٰ  کی مسجدوں کو آباد کریں۔ در آں حالیکہ وہ خود اپنے کفر کے آپ ہی گواہ ہیں  ان کے اعمال غارت و اکارت ہیں اور وہ دائمی طور پر جہنمی ہیں۔

۱۸.       اللہ کی مسجدوں کی رونق و آبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکوٰۃ دیتے ہوں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں۔

۱۹.       کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا اس کے برابر کر دیا جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یہ اللہ کے نزدیک برابر کے نہیں  اور اللہ تعالیٰ  ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔

۲۰.      جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی، اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا وہ اللہ کے ہاں بہت بڑے مرتبہ والے ہیں، اور یہی لوگ مراد پانے والے ہیں۔

۲۱.       انہیں ان کا رب خوشخبری دیتا ہے اپنی رحمت کی اور رضامندی کی اور جنتوں کی، ان کے لئے وہاں دوامی نعمت ہے۔

۲۲.      وہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اللہ کے پاس یقیناً بہت بڑے ثواب ہیں۔

۲۳.      اے ایمان والو! اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو دوست نہ بناؤ اگر وہ کفر کو ایمان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ تم میں سے جو بھی ان سے محبت رکھے گا وہ پورا گنہگار ظالم ہے۔

۲۴.      آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ کے جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ  اپنا عذاب لے آئے اللہ تعالیٰ  فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

۲۵.      یقیناً اللہ تعالیٰ  نے بہت سے میدانوں میں تمہیں فتح دی ہے اور حنین کی لڑائی والے دن بھی جب کہ تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا بلکہ زمین باوجود اپنی کشادگی کے تم پر تنگ ہو گئی پھر تم پیٹھ پھیر کر مڑ گئے۔

۲۶.      پھر اللہ نے اپنی طرف کی تسکین اپنے نبی پر اور مومنوں پر اتاری اور اپنے لشکر بھیجے جنہیں تم دیکھ نہیں رہے تھے اور کافروں کو پوری سزا دی۔ ان کفار کا یہی بدلہ تھا۔

۲۷.     پھر اس کے بعد بھی جس پر چاہے اللہ تعالیٰ  اپنی رحمت کی توجہ فرمائے گا  اللہ ہی بخشش و مہربانی کرنے والا ہے۔

۲۸.      اے ایمان والو! بیشک مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں  وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس بھی نہ پھٹکنے پائیں  اگر تمہیں مفلسی کا خوف ہے تو اللہ تمہیں دولت مند کر دے گا اپنے فضل سے اگر چاہے  اللہ علم و حکمت والا ہے۔

۲۹.      ان لوگوں سے لڑو جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے جو اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ شے کو حرام نہیں جانتے، نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔

۳۰.      یہود کہتے ہیں عزیز اللہ کا بیٹا ہے اور نصرانی کہتے ہیں مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ قول صرف ان کے منہ کی بات ہے۔ اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے اللہ انہیں غارت کرے وہ کیسے پلٹائے جاتے ہیں۔

۳۱.       ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہے  اور مریم کے بیٹے مسیح کو حالانکہ انہیں صرف ایک اکیلے اللہ ہی کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ پاک ہے ان کے شریک مقرر کرنے سے۔

۳۲.      وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ تعالیٰ  انکاری ہے مگر اسی بات کا کہ اپنا نور پورا کرے گو کافر ناخوش رہیں

۳۳.     اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے اور تمام مذہبوں پر غالب کر دے  اگرچہ مشرک برا مانیں۔

۳۴.     اے ایمان والو! اکثر علماء اور عابد، لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں  اور جو لوگ سونا چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے۔

۳۵.     جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس دن ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا رکھا تھا، پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو۔

۳۶.      مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے، اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں  یہی درست دین ہے  تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو  اور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں  اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ  متقیوں کے ساتھ ہے۔

۳۷.     مہینوں کا آگے پیچھے کر دینا کفر کی زیادتی ہے  اس سے وہ لوگ گمراہی میں ڈالے جاتے ہیں جو کافر ہیں۔ ایک سال تو اسے حلال کر لیتے ہیں اور ایک سال اسی کو حرمت والا کر لیتے ہیں، کہ اللہ نے جو حرمت رکھی ہے اس کے شمار میں تو موافقت کر لیں  پھر اسے حلال بنا لیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے انہیں ان کے برے کام بھلے دکھائی دیئے گئے ہیں اور قوم کفار کی اللہ رہنمائی نہیں فرماتا۔

۳۸.     اے ایمان والو! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ چلو اللہ کے راستے میں کوچ کرو تو تم زمین سے لگے جاتے ہو۔ کیا تم آخرت کے عوض دنیا کی زندگانی پر ریجھ گئے ہو۔ سنو! دنیا کی زندگی تو آخرت کے مقابلے میں کچھ یونہی سی ہے۔

۳۹.      اگر تم نے کوچ نہ کیا تو تمہیں اللہ تعالیٰ  دردناک سزا دے گا اور تمہارے سوا اور لوگوں کو بدل لائے گا، تم اللہ تعالیٰ  کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے  اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۴۰.      اگر تم ان (نبی صلی اللہ علیہ و سلم) کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے (دیس سے) نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے  پس جناب باری نے اپنی طرف سے تسکین اس پر نازل فرما کر ان لشکروں سے اس کی مدد کی جنہیں تم نے دیکھا ہی نہیں  اس نے کافروں کی بات پست کر دی اور بلند و عزیز تو اللہ کا کلمہ ہی ہے  اللہ غالب ہے حکمت والا ہے۔

۴۱.       نکل کھڑے ہو جاؤ ہلکے پھلکے ہو تو بھی اور بھاری بھرکم ہو تو بھی  اور راہ رب میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم میں علم ہو۔

۴۲.      اگر جلد وصول ہونے والا مال و اسباب ہو یا  اور ہلکا سا سفر ہوتا تو یہ ضرور آپ کے پیچھے ہو لیتے  لیکن ان پر تو دوری اور دراز کی مشکل پڑ گئی۔ اب تو یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں قوت اور طاقت ہوتی تو ہم یقیناً آپ کے ساتھ نکلتے، یہ اپنی جانوں کو خود ہی ہلاکت میں ڈال رہے ہیں  ان کے جھوٹا ہونے کا سچا علم اللہ کو ہے۔

۴۳.     اللہ تجھے معاف فرما دے، تو نے انہیں کیوں اجازت دے دی؟ بغیر اس کے کہ تیرے سامنے سچے لوگ کھل جائیں اور تو جھوٹے لوگوں کو بھی جان لے۔

۴۴.     اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان و یقین رکھنے والے مالی اور جانی جہاد سے رک رہنے کی کبھی بھی تجھ سے اجازت طلب نہیں کریں گے  اور اللہ تعالیٰ  پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔

۴۵.     یہ اجازت تو تجھ سے وہی طلب کرتے ہیں جنہیں نہ اللہ پر ایمان ہے نہ آخرت کے دن کا یقین ہے جن کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنے شک میں ہی سرگرداں ہیں۔

۴۶.      اگر ان کا ارادہ جہاد کے لئے نکلنے کا ہوتا تو وہ اس سفر کے لئے سامان کی تیاری کر رکھتے  لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا اس لئے انہیں حرکت سے ہی روک دیا  اور کہہ دیا گیا کہ تم بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

۴۷.     اگر یہ تم میں مل کر نکلتے بھی تو تمہارے لئے سوائے فساد کے اور کوئی چیز نہ بڑھاتے  بلکہ تمہارے درمیان خوب گھوڑے دوڑا دیتے اور تم میں فتنے ڈالنے کی تلاش میں رہتے  ان کے ماننے والے خود تم میں موجود ہیں  اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

۴۸.     یہ تو اس سے پہلے بھی فتنے کی تلاش کرتے رہے ہیں اور تیرے لئے کاموں کو الٹ پلٹ کرتے رہے ہیں یہاں تک کہ حق آ پہنچا اور اللہ کا حکم غالب آ گیا  باوجودیکہ وہ نا خوشی میں ہی رہے۔

۴۹.      ان میں سے کوئی تو کہتا ہے مجھے اجازت دیجئے مجھے فتنے میں نہ ڈالیئے، آگاہ رہو وہ فتنے میں پڑ چکے ہیں اور یقیناً دوزخ کافروں کو گھیر لینے والی ہے۔

۵۰.      آپ کو اگر کوئی بھلائی مل جائے تو انہیں برا لگتا ہے اور کوئی برائی پہنچ جائے تو کہتے ہیں ہم نے اپنا معاملہ پہلے سے درست کر لیا تھا، مگر وہ تو بڑے ہی اتراتے ہوئے لوٹتے ہیں۔

۵۱.       آپ کہہ دیجئے کہ ہمیں سوائے اللہ کے ہمارے حق میں لکھے ہوئے کے کوئی چیز پہنچ ہی نہیں سکتی وہ ہمارا کارساز اور مولیٰ ہے مومنوں کو اللہ تعالیٰ  کی ذات پاک پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے

۵۲.      کہہ دیجئے کہ تم ہمارے بارے میں جس چیز کا انتظار کر رہے ہو وہ دو بھلائیوں میں سے ایک ہے  اور ہم تمہارے حق میں اس کا انتظار کرتے ہیں کہ یا اللہ تعالیٰ  اپنے پاس سے کوئی سزا تمہیں دے یا ہمارے ہاتھوں سے  پس ایک طرف تم منتظر رہو دوسری جانب تمہارے ساتھ ہم بھی منتظر ہیں۔

۵۳.     کہہ دیجئے کہ تم خوشی یا نا خوشی کسی طرح بھی خرچ کرو قبول تو ہرگز نہ کیا جائے گا  یقیناً تم فاسق لوگ ہو۔

۵۴.     کوئی سبب ان کے خرچ کی قبولیت کے نہ ہونے کا اس کے سوا نہیں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں اور بڑی کاہلی سے ہی نماز کو آتے ہیں اور برے دل سے ہی خرچ کرتے ہیں۔

۵۵.     پس آپ کو ان کے مال و اولاد تعجب میں نہ ڈال دیں  اللہ کی چاہت یہی ہے کہ اس سے انہیں دنیا کی زندگی میں ہی سزا دے  اور ان کے کفر ہی کی حالت میں ان کی جانیں نکل جائیں۔

۵۶.      یہ اللہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ تمہاری جماعت کے لوگ ہیں، حالانکہ وہ دراصل تمہارے نہیں بات صرف اتنی ہے یہ ڈرپوک لوگ ہیں۔

۵۷.     اگر یہ کوئی بچاؤ کی جگہ یا کوئی غار یا کوئی بھی سر گھسانے کی جگہ پا لیں تو ابھی اس طرف لگام توڑ کر الٹے بھاگ چھوٹیں۔

۵۸.     ان میں وہ بھی ہیں جو خیراتی مال کی تقسیم کے بارے میں آپ پر عیب رکھتے ہیں  اگر انہیں اس میں مل جائے تو خوش ہیں اور اگر اس میں سے نہ ملا تو فوراً ہی بگڑ کھڑے ہوئے۔

۵۹.      اگر یہ لوگ اللہ اور رسول کے دیئے ہوئے پر خوش رہتے اور کہہ دیتے کہ اللہ ہمیں کافی ہے اللہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا اور اس کا رسول بھی، ہم تو اللہ کی ذات سے ہی توقع رکھنے والے ہیں۔

۶۰.      صدقے صرف فقیروں  کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرضداروں کے لئے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لئے  فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔

۶۱.       ان میں سے وہ بھی ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کان کا کچا ہے، آپ کہہ دیجئے کہ وہ کان تمہارے بھلے کے لئے ہیں  وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمانوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور تم میں سے جو اہل ایمان ہیں یہ ان کے لئے رحمت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو جو لوگ ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دکھ کی مار ہے۔

۶۲.      محض تمہیں خوش کرنے کے لئے تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھا جاتے ہیں حالانکہ اگر یہ ایمان دار ہوتے تو اللہ اور اس کا رسول رضامند کرنے کے زیادہ مستحق تھے۔

۶۳.      کیا یہ نہیں جانتے کہ جو بھی اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا اس کے لئے یقیناً دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہنے والا ہے، یہ زبردست رسوائی ہے۔

۶۴.      منافقوں کو ہر وقت اس بات کا کھٹکا لگا رہتا ہے کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی سورت نہ اترے جو ان کے دلوں کی باتیں انہیں بتلا دے۔ کہہ دیجئے کہ مذاق اڑاتے رہو، یقیناً اللہ تعالیٰ  اسے ظاہر کرنے والا ہے جس سے تم ڈر دبک رہے ہو۔

۶۵.      اگر آپ ان سے پوچھیں تو صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو یونہی آپس میں ہنس بول رہے تھے۔ کہہ دیجئے کہ اللہ اس کی آیتیں اور اس کا رسول ہی تمہارے ہنسی مذاق کے لئے رہ گئے ہیں۔

۶۶.      تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم اپنے ایمان کے بعد بے ایمان ہو گئے  اگر ہم تم میں سے کچھ لوگوں سے درگزر بھی کر لیں  تو کچھ لوگوں کو ان کے جرم کی سنگین سزا بھی دیں گے

۶۷.     تمام منافق مرد اور عورت آپس میں ایک ہی ہیں  یہ بری باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلی باتوں سے روکتے ہیں اور اپنی مٹھی بند رکھتے ہیں  یہ اللہ کو بھول گئے اللہ نے انہیں بھلا دیا  بیشک منافق ہی فاسق و بد کردار ہیں۔

۶۸.      اللہ تعالیٰ  ان منافق مردوں، عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا وعدہ کر چکا ہے جہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، وہی انہیں کافی ہے ان پر اللہ کی پھٹکار ہے، اور ان ہی کے لئے دائمی عذاب ہے۔

۶۹.      مثل ان لوگوں کے جو تم سے پہلے تھے  تم سے وہ زیادہ قوت والے تھے اور زیادہ مال اولاد والے تھے پس وہ اپنا دینی حصہ برت گئے پھر تم نے بھی اپنا حصہ برت لیا  جیسے تم سے پہلے کے لوگ اپنے حصے سے فائدہ مند ہوئے تھے اور تم نے بھی اس طرح مذاقانہ بحث کی جیسے کہ انہوں نے کی تھی  ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہو گئے یہی لوگ نقصان پانے والے ہیں۔

۷۰.     کیا انہیں اپنے سے پہلے لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں، قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور اہل مدین اور اہل مؤتفکات (الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والے) کی  ان کے پاس ان کے پیغمبر دلیلیں لے کر پہنچے  اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرے بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ظلم کیا۔

۷۱.      مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے مددگار و معاون اور دوست ہیں  وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں  نمازوں کی پابندی بجا لاتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں  یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ  بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے والا حکمت والا ہے۔

۷۲.     ان ایماندار مردوں اور عورتوں سے اللہ نے ان جنتوں کا وعدہ فرمایا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں وہ ہمیشہ ہمیش رہنے والے ہیں اور ان صاف ستھرے پاکیزہ محلات  کا جو ان ہمیشگی والی جنتوں میں ہیں، اور اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے  یہی زبردست کامیابی ہے۔

۷۳.     اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد جاری رکھو،  اور ان پر سخت ہو جاؤ  ان کی اصلی جگہ دوزخ ہے جو نہایت بدترین جگہ ہے۔

۷۴.     یہ اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا، حالانکہ یقیناً کفر کا کلمہ ان کی زبان سے نکل چکا ہے اور یہ اپنے اسلام کے بعد کافر ہو گئے  اور انہوں نے اس کام کا قصد بھی کیا جو پورا نہ کر سکے  یہ صرف اسی بات کا انتقام لے رہے ہیں کہ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے دولتمند کر دیا  اگر یہ بھی توبہ کر لیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر منہ موڑے رہیں تو اللہ تعالیٰ  انہیں دنیا و آخرت میں دردناک عذاب دے گا اور زمین بھر میں ان کا کوئی حمایتی اور مددگار نہ کھڑا ہو گا۔

۷۵.     ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ اپنے فضل سے مال دے گا تو ہم ضرور صدقہ و خیرات کریں گے اور آپکی طرح نیکوکاروں میں ہو جائیں گے۔

۷۶.     لیکن جب اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا تو یہ اس میں بخیلی کرنے لگے اور ٹال مٹول کر کے منہ موڑ لیا

۷۷.     پس اس کی سزا میں اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اللہ سے ملنے کے دنوں تک، کیونکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے وعدے کے خلاف کیا اور کیوں کہ وہ جھوٹ بولتے رہے۔

۷۸.     کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ  کو ان کے دل کا بھید اور ان کی سرگوشی سب معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ  غیب کی تمام باتوں سے خبردار ہے۔

۷۹.      جو لوگ ان مسلمانوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں جو دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جنہیں سوائے اپنی محنت مزدوری کے اور کچھ میسر نہیں، پس یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں  اللہ بھی ان سے تمسخر کرتا ہے  انہی کے لئے دردناک عذاب ہے۔

۸۰.      ان کے لئے تو استغفار کر یا نہ کر۔ اگر تو ستر مرتبہ بھی ان کے لئے استغفار کرے تو بھی اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا  یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ سے اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے  ایسے فاسق لوگوں کو رب کریم ہدایت نہیں دیتا۔

۸۱.       پیچھے رہ جانے والے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے جانے کے بعد اپنے بیٹھے رہنے پر خوش ہیں  انہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرنا پسند رکھا اور انہوں نے کہہ دیا اس گرمی میں مت نکلو۔ کہہ دیجئے کہ دوزخ کی آگ بہت ہی سخت گرم ہے کاش کہ وہ سمجھتے ہوتے۔

۸۲.      پس انہیں چاہیے کہ بہت کم ہنسیں اور بہت زیادہ روئیں  بدلے میں اس کے جو یہ کرتے تھے۔

۸۳.     پس اگر اللہ تعالیٰ  آپ کو ان کی کسی جماعت  کی طرف لوٹا کر واپس لے آئے پھر یہ آپ سے میدان جنگ میں نکلنے کی اجازت طلب کریں  تو آپ کہہ دیجئے کہ تم میرے ساتھ ہرگز چل نہیں سکتے اور نہ میرے ساتھ تم دشمنوں سے لڑائی کر سکتے ہو۔ تم نے پہلی مرتبہ ہی بیٹھ رہنے کو پسند کیا تھا  پس تم پیچھے رہ جانے والوں میں ہی بیٹھے رہو۔

۸۴.     ان میں سے کوئی مر جائے تو آپ اس کے جنازے کی ہرگز نماز نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں  یہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں اور مرتے دم تک بدکار اور بے اطاعت رہے ہیں۔

۸۵.     آپ کو ان کے مال و اولاد کچھ بھی بھلے نہ لگیں اللہ کی چاہت یہی ہے کہ انہیں ان چیزوں سے دنیاوی سزا دے اور یہ اپنی جانیں نکلنے تک کافر ہی رہیں۔

۸۶.      جب کوئی سورت اتاری جاتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو تو ان میں سے دولت مندوں کا ایک طبقہ آپ کے پاس آ کر یہ کہہ کر رخصت لے لیتا ہے کہ ہمیں تو بیٹھے رہنے والوں میں ہی چھوڑ دیجئے۔

۸۷.     یہ تو خانہ نشین عورتوں کا ساتھ دینے پر ریجھ گئے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اب وہ کچھ سمجھ عقل نہیں رکھتے

۸۸.     لیکن خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) اور اس کے ساتھ کے ایمان والے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں، یہی لوگ بھلائیوں والے ہیں اور یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔

۸۹.      انہی کے لئے اللہ نے وہ جنتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے

۹۰.      بادیہ نشینوں میں سے عذر والے لوگ حاضر ہوئے کہ انہیں رخصت دے دی جائے اور وہ بیٹھ رہے جنہوں نے اللہ سے اور اس کے رسول سے جھوٹی باتیں بنائی تھیں۔ اب تو ان میں جتنے کفار ہیں انہیں دکھ دینے والی مار پہنچ کر رہے گی۔

۹۱.       ضعیفوں پر اور بیماروں پر اور ان پر جن کے پاس خرچ کرنے کو کچھ بھی نہیں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خیر خواہی کرتے رہیں، ایسے نیک کاروں پر الزام کی کوئی راہ نہیں، اللہ تعالیٰ  بڑی مغفرت اور رحمت والا ہے۔

۹۲.      ہاں ان پر بھی کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ انہیں سواری مہیا کر دیں تو آپ جواب دیتے ہیں کہ میں تمہاری سواری کے لئے کچھ بھی نہیں پاتا تو وہ رنج و غم سے اپنی آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں کہ انہیں خرچ کرنے کے لئے کچھ بھی میسر نہیں۔

۹۳.      بیشک انہیں لوگوں پر راہ الزام ہے جو باوجود دولتمند ہونے کے آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں یہ خانہ نشین عورتوں کا ساتھ دینے پر خوش ہیں اور ان کے دلوں پر مہر خداوندی لگ چکی ہے جس سے وہ محض بے علم ہو گئے ہیں۔

۹۴.      یہ لوگ تمہارے سامنے عذر پیش کریں گے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے۔ آپ کہہ دیجئے کہ یہ عذر پیش مت کرو ہم کبھی تم کو سچا نہ سمجھیں گے اللہ تعالیٰ  ہم کو تمہاری خبر دے چکا ہے اور آئندہ بھی اللہ اور اس کا رسول تمہاری کارگزاری دیکھ لیں گے پھر اسی کے پاس لوٹائے جاؤ گے جو پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے پر وہ تم کو بتا دے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔

۹۵.      ہاں وہ اب تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تاکہ تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو۔ سو تم ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دو۔ وہ لوگ بالکل گندے ہیں اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے ان کاموں کے بدلے جنہیں وہ کیا کرتے تھے۔

۹۶.      یہ اس لئے قسمیں کھائیں گے کہ تم ان سے راضی ہو جاؤ۔ سو اگر تم ان سے راضی بھی ہو جاؤ تو اللہ تو ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہیں ہوتا

۹۷.      دیہاتی لوگ کفر اور نفاق میں بھی بہت ہی سخت ہیں  اور ان کو ایسا ہونا چاہیے کہ ان کو ان احکام کا علم نہ ہو جو اللہ تعالیٰ  نے اپنے رسول پر نازل فرمائے  ہیں اور اللہ بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے۔

۹۸.      اور ان دیہاتیوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو جرمانہ سمجھتے ہیں  اور تم مسلمانوں کے واسطے برے وقت کے منتظر رہتے ہو  برا وقت ان ہی پر پڑنے والا ہے  اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

۹۹.       اور بعض اہل دیہات میں ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ  پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو عند اللہ قرب حاصل ہونے کا ذریعہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں۔  یاد رکھو کہ ان کا یہ خرچ کرنا بیشک ان کے لئے موجب قربت ہے، ان کو اللہ تعالیٰ  ضرور اپنی رحمت میں داخل کرے گا  اللہ تعالیٰ  بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے۔

۱۰۰.     اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں  اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے  یہ بڑی کامیابی ہے۔

۱۰۱.     اور کچھ تمہارے گردو پیش والوں میں اور کچھ مدینے والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق پر اڑے  ہوئے ہیں، آپ ان کو نہیں جانتے  ان کو ہم جانتے ہیں ہم ان کو دوہری سزا دیں گے  پھر وہ بڑے بھاری عذاب کی طرف بھیجے جائیں گے۔

۱۰۲.     اور کچھ لوگ ہیں جو اپنی خطا کے اقراری ہیں  جنہوں نے ملے جلے عمل کئے تھے، کچھ بھلے اور کچھ برے  اللہ سے امید ہے کہ ان کی توبہ قبول فرمائے  بلاشبہ اللہ تعالیٰ  بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا ہے۔

۱۰۳.    آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کر دیں اور ان کے لئے دعا کیجئے  بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لئے موجب اطمینان ہے اور اللہ تعالیٰ  خوب سنتا ہے جانتا ہے۔

۱۰۴.    کیا ان کو یہ خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول فرماتا ہے  اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے میں کامل ہے۔

۱۰۵.    کہہ دیجئے کہ تم عمل کئے جاؤ تمہارے عمل اللہ خود دیکھ لے گا اور اس کا رسول اور ایمان والے (بھی دیکھ لیں گے) اور ضرور تم کو اسی کے پاس جانا ہے جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں کا جاننے والا ہے۔ سو وہ تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتلا دے گا۔

۱۰۶.     اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کا حکم آنے تک ملتوی ہے  ان کو سزا دے گا  یا ان کی توبہ قبول کر لے گا  اور اللہ خوب جاننے والا بڑا حکمت والا ہے۔

۱۰۷.    اور بعض ایسے ہیں جنہوں نے اغراض کے لئے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کی باتیں کریں اور ایمانداروں میں تفریق ڈالیں اور اس شخص کے قیام کا سامان کریں جو اس پہلے سے اللہ اور رسول کا مخالف ہے  اور قسمیں کھائیں گے کہ ہم بجز بھلائی کے اور ہماری کچھ نیت نہیں، اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔

۱۰۸.    آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں  البتہ جس مسجد کی بنیاد اول دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے وہ اس لائق ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں  اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں  اور اللہ تعالیٰ  خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔

۱۰۹.     پھر آیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ سے ڈرنے پر اور اللہ کی خوشنودی پر رکھی ہو، یا وہ شخص کہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی کے کنارے پر جو کہ گرنے ہی کو ہو، رکھی ہو، پھر وہ اس کو لے کر آتش دوزخ میں گر پڑے  اور اللہ تعالیٰ  ایسے ظالموں کو سمجھ ہی نہیں دیتا۔

۱۱۰.     ان کی یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں شک کی بنیاد پر (کانٹا بن کر) کھٹکتی رہے گی، ہاں مگر ان کے دل ہی اگر پاش پاش ہو جائیں  تو خیر اور اللہ تعالیٰ  بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے۔

۱۱۱.      بلا شبہ اللہ تعالیٰ  نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔ وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں۔ جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں، اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے  تو تم لوگ اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ  اور یہ بڑی کامیابی ہے۔

۱۱۲.     وہ ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے (یا راہ حق میں سفر کرنے والے) رکوع اور سجدہ کرنے والے، نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے اور بری باتوں سے باز رکھنے والے اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے  اور ایسے مومنین کو خوشخبری سنا دیجئے۔

۱۱۳.     پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں اس امر کے ظاہر ہو جانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔

۱۱۴.     اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت کرنا وہ صرف وعدہ کے سبب تھا جو انہوں نے ان سے وعدہ کر لیا تھا۔ پھر جب ان پر یہ بات ظاہر ہو گئی کہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے محض بے تعلق ہو گئے  واقعی ابراہیم (علیہ السلام) بڑے نرم دل اور بردبار تھے

۱۱۵.     اور اللہ ایسا نہیں کرتا کہ کسی قوم کو ہدایت کر کے بعد میں گمراہ کر دے جب تک کہ ان چیزوں کو صاف صاف نہ بتلا دے جن سے وہ بچیں  بیشک اللہ تعالیٰ  ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

۱۱۶.     بلا شبہ اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں، وہی جلاتا اور مارتا ہے اور تمہارا اللہ کے سوا کوئی یار ہے اور نہ کوئی مددگار۔

۱۱۷.     اللہ تعالیٰ  نے پیغمبر کے حال پر توجہ فرمائی اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا  اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل ہو چلا تھا پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ  ان سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے۔

۱۱۸.     اور تین شخصوں کے حال پر بھی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا  یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگ ہونے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آ گئے  اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی بجز اس کے کہ اسی کی طرف رجوع کیا جائے پھر ان کے حال پر توجہ فرمائی تاکہ وہ آئندہ بھی توبہ کر سکیں  بیشک اللہ تعالیٰ  بہت توبہ قبول کرنے والا بڑا رحم والا ہے۔

۱۱۹.      اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ  سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو

۱۲۰.     مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گردو پیش ہیں ان کو یہ زیبا نہیں تھا کہ رسول اللہ کو چھوڑ کر پیچھے رہ جائیں  اور نہ یہ کہ اپنی جان کو ان کی جان سے عزیز سمجھیں  یہ اس سبب سے کہ  ان کو اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور جو تھکان پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو کسی ایسی جگہ چلے جو کفار کے لئے موجب غیظ ہوا ہو  اور دشمنوں کی جو خبر لی  ان سب پر ان کا (ایک ایک) نیک کام لکھا گیا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ  مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

۱۲۱.     اور جو کچھ چھوٹا بڑا انہوں نے خرچ کیا اور جتنے میدان ان کو طے کرنے پڑے  یہ سب بھی ان کے نام لکھا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ  ان کے کاموں کا اچھے سے اچھا بدلہ دے۔

۱۲۲.     اور مسلمانوں کو یہ نہ چاہیے کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو جب کہ وہ ان کے پاس آئیں، ڈرائیں تاکہ وہ ڈر جائیں۔

۱۲۳.    اے ایمان والو! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں  اور ان کے لئے تمہارے اندر سختی ہونی چاہیے  اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ  متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔

۱۲۴.    اور جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو زیادہ کیا  سو جو لوگ ایماندار ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو زیادہ کیا ہے اور وہ خوش ہو رہے ہیں۔

۱۲۵.    اور جن کے دلوں میں روگ ہے اس سورت نے ان میں ان کی گندگی کے ساتھ اور گندگی بڑھا دی اور وہ حالت کفر ہی میں مر گئے

۱۲۶.     اور کیا ان کو نہیں دکھلائی دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں  پھر بھی نہ توبہ کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں۔

۱۲۷.    جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں کہ تم کو کوئی دیکھتا تو نہیں پھر چل دیتے ہیں  اللہ تعالیٰ  نے ان کا دل پھیر دیا اس وجہ سے کہ وہ بے سمجھ لوگ ہیں۔

۱۲۸.    تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں  جن کو تمہارے نقصان کی بات نہایت گراں گزرتی ہے  جو تمہارے فائدے کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں  ایمانداروں کے ساتھ بڑے شفیق اور مہربان ہیں۔

۱۲۹.     پھر اگر روگردانی کریں  تو آپ کہہ دیجئے کہ میرے لئے اللہ کافی ہے  اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے

٭٭٭

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید