FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

ارمغانِ تبسم

 

                مدیر: نوید ظفر کیانی

 

اپریل تا جون ۲۰۱۶ء

حصہ نظم، نظمالوجی، لمرک، ہزلیات پر مشتمل)

 

 

 

 

 

نظمالوجی

تنبیہ

 

                ڈاکٹر سید مظہر عباس رضوی

 

دوسری شادی چاہنے والے بیتاب شوہروں کے نام

 

پروین شاکر کی غزل پر تضمین

 

جلایا تُو نے تو تجھ کو بھی میں جلاؤں گی

توے سے دل پہ ترے روٹیاں پکاؤں گی

میں اپنے سارے ہنر تجھ پہ آزماؤں گی

میں سارے راز ترے کھول کر بتاؤں گی

میں ناچ تگنی کا ایسا تجھے نچاؤں گی

کچہری تھانے تجھے رات دن پھراؤں گی

میں اپنے ہاتھ سے قیمہ ترا بناؤں گی

تو لایا گر نئی دلہن تو پھر بتاؤں گی

 

بنائے گا تو اگر اس طرح سے گھر دو دو

تجھے پھر اس میں بنانے پڑیں گے در دو دو

اگر ہے شوق تو لے آ ذرا جگر دو دو

پھر اس کے بعد مزے سے تُو کھا ثمر دو دو

یہ کیا کہ ایک ہو تُو، بیویاں ہوں پر دو دو

بگڑ گئیں جو، تو آئے گا پھر نظر دو دو

میں اُس سے مل کے ستم تجھ پہ خوب ڈھاؤں گی

تو لایا گر نئی دلہن تو پھر بتاؤں گی

 

سہولیات تو دیتا نہیں ہے بنیادی

تُلا ہوا ہے کہ ہو میری خانہ بربادی

زبانِ حال سے سارا ہی گھر ہے فریادی

بڑھانا چاہتا ہے کیوں جہاں کی آبادی

یہ شادی ہے یہ کوئی تپ نہیں ہے میعادی

بخار اترا تو بس کر لی دوسری شادی

میں گھر گرہستی کا تجھ کو سبق پڑھاؤں گی

تو لایا گر نئی دلہن تو پھر بتاؤں گی

 

 

مرے’’ فگر ‘‘پہ نہ جا، تو سمجھ نہ مجھ کو نحیف

غلط ہے سوچ تری، ہو گئی ہوں میں بھی ضعیف

شریف ہوں مگر اتنی بھی اب نہیں ہوں شریف

بلک کے روئے گا لگ جائے گی جو ضربِ خفیف

یہ میرا گھر ہے، نہ کرِ اس میں تُو کوئی تحریف

ہُوں تیری فوج کی اب بھی کمانڈر انچیف

ترے ہی بچوں سے درگت تری بناؤں گی

تو لایا گر نئی دلہن تو پھر بتاؤں گی

 

تُو عقلِ کل ہے اگر، میں بھی ہوں بہت ہی ذہین

اور اپنے جیسوں میں مجھ سا نہیں ہے کوئی حسین

پسند تجھ کو ہے شہنائی گر تو مجھ کو ہے بین

نیا بیاہ رچا کر نہ کر مری توہین

تو میرے مصرع پہ اے جانِ من نہ کر تضمین

میں نیک ہوں یا نہ ہوں پر نہیں ہوں میں پروینؔ

کہ اپنے ہاتھ سے تیری دلہن سجاؤں گی

تو لایا گر نئی دلہن تو پھر بتاؤں گی

٭٭٭

 

 

 

 

 

اعلان

 

                ڈاکٹر عزیز فیصل

 

دوستو!

آج سب سے تنگ آ کر

اپنے سینے پہ لاد کر پتھر

آج اعلان کر رہا ہوں میں

فیس بُک چھوڑ کر چلا ہوں میں

منقطع رابطہ رہے گا مرا

اِس حقیقت میں اب نہیں ہے شک

اپنے اِس خاکسار بھائی سے

مل سکو گے نہ آٹھ منٹوں تک

میں ہوا بن کے لوٹتا ہوں ابھی

٭٭٭

 

 

پاکستانی کرکٹر

 

                احمد علوی

 

خدا کے فضل سے ہم میچ سارے ہار جاتے ہیں

کھلاڑی کیا اناڑی ہم سے بازی مار جاتے ہیں

جہاں میں ہم سے زندہ ہے روایت یہ پٹھانوں کی

ہمیں عزت بہت پیاری ہے اپنے میزبانوں کی

لپک لیتے ہیں شاہد آفریدی کا ہر اک چھکّا

سلیقہ ہند کو آتا نہیں مہماں نوازی کا

کسی بھی بال کو ہم احتراماً کچھ نہیں کہتے

یہ اپنے بھائی ہیں اِن کو مذاقاً کچھ نہیں کہتے

کبھی اکّے نکلتے تھے کبھی چوکے نکلتے تھے

بُرا وہ وقت تھا جب بیٹ سے چھکے نکلتے تھے

بڑی مشکل سے اب میدان میں زیرو بناتے ہیں

عوام الپاک ہم کو اِس لئے ہیرو بناتے ہیں

ہوا نہ آج تک ہم پر کسی بھی فین کو ڈاؤٹ

کوئی آؤٹ نہ کر پائے تو ہو جاتے ہیں رن آؤٹ

پرائی بال کا ہم تو کبھی پیچھا نہیں کرتے

کبھی ہم باؤنڈری پر بال کو روکا نہیں کرتے

غلط ہوتی ہیں سب خبریں ہمارے سولڈ ہونے کی

ہمیں جلدی بہت ہوتی ہے یارو بولڈ ہونے کی

ہمیں دھونی سے پٹنے میں بڑا ہی لطف آتا ہے

بُرائی کیا ہے پٹنے میں بڑے بھائی کا ناتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

سرکاری ٹیچر

 

                غضنفر علی

 

 

پڑھانے کے سوا ہر کام کرنے کو میں حاضر ہوں

پڑھانے کو اگر بھیجو گے تو آنے سے قاصر ہوں

 

کہیں تنبو لگانا ہو کسی شادی میں جانا ہو

کوئی عمرے کی دعوت ہو کہیں گانا بجانا ہو

کسی دعوت میں جانا ہو کسی کو جا کے لانا ہو

عقیقہ ہو کسی یا کہیں ختنہ کرانا ہو

 

پڑھانے کے سوا ہر کام کرنے کو میں حاضر ہوں

 

سیکٹری باپ ہے میرا ڈ ریکٹر میرا ماما ہے

ایچ ایم اسکول کا میرے مری بیگم کا چاچا ہے

کوئی چھیڑے تو مجھ کو میں مزا اس کو چکھا دوں گا

کلیکٹر میرے گاؤں کا ہے اور رشتے میں تایا ہے

 

پڑھانے کے سوا ہر کام کرنے کو میں حاضر ہوں

 

مرا لمڈا اسمبلی میں تلاوت کرنے جائے گا

مجھے جانا پڑے گا آج لازم ہے مرا جانا

مری ماسی کے نانا کی بھتیجی کا نکاح ٹھہرا

پڑھانا کیا ضروری تھا وہاں جانا ضروری تھا

 

پڑھانے کے سوا ہر کام کرنے کو میں حاضر ہوں

 

سویرے نو بجے آتا ہے، پانی بھی ضروری ہے

قصد شاپنگ کا ہے سو خدمتِ بیوی ضروری ہے

ہماری ساس کی برسی ہے کل آؤں گا میں کیسے

مسلماں ہوں میں برسی کی بھی تیاری ضروری ہے

 

پڑھانے کے سوا ہر کام کرنے کو میں حاضر ہوں

٭٭٭

 

 

 

 

ہمیشہ ٹوٹ پڑتا ہوں میں

 

(منیر نیازی سے معذرت کے ساتھ)

 

                محمد خلیل الرحمٰن

 

ہمیشہ پیٹ بھر کھاتا ہوں میں، ہر ایک دعوت میں

ہمیشہ ٹوٹ پڑتا ہوں

 

کسی شادی کی دعوت ہو، ولیمے کا وہ کھانا ہو

عشائیہ ہو، ظہرانا ہو یا ویسے ہی جانا ہو

ہمیشہ پیٹ بھر کھاتا ہوں میں، ہر ایک دعوت میں

ہمیشہ ٹوٹ پڑتا ہوں

 

کسی موٹے سے بھوکے کو کبھی نیچا دِکھانا ہو

کبھی اپنے کسی مہمان کو جی بھر ستانا ہو

ہمیشہ پیٹ بھر کھاتا ہوں میں، ہر ایک دعوت میں

ہمیشہ ٹوٹ پڑتا ہوں

 

کبھی بیوی کے ساتھ، اپنے مجھے سسرال جانا ہو

وہاں مرغِ مسلم ہو، کوئی اچھا سا کھانا ہو

ہمیشہ پیٹ بھر کھاتا ہوں میں، ہر ایک دعوت میں

ہمیشہ ٹوٹ پڑتا ہوں

٭٭٭

 

 

 

 

 

پروگرامر کا خواب

 

(گلزار سے معذرت کے ساتھ)

 

                نیرنگِ خیال

 

صبح صبح اک Email کی دستک پر Computer کھولا

دیکھا تو Testers نے کچھ Bugs بھیجے تھے

صورت سے منحوس تھے سارے

Description سارے سنے سنائے تھے

Code کھولا، Debugger لگائے

Process ساتھ Attach کروائے

ساتھ ہی کہیں کہیں، کچھ موٹے موٹے Message Box لگائے

Description میں وہ Bug میرے

کچھ ان دیکھے Environments کی Log لائے تھے

کوڈ لکھا، Compile کیا

پھر دیکھا تو Semicolon نہیں لگا تھا

آنکھ کھلی تو دیکھا کمپیوٹر پر کوئی نہیں تھا

Mouse ہلا کر دیکھا تو Auto Lock ابھی ہوا نہیں تھا

خواب تھا شاید

خواب ہی ہو گا

میٹنگ میں کل رات سنا ہے ہوئی تھی گوشمالی

میٹنگ میں کل رات سنا ہے

کچھ Bugs کی فہرست بنی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

اگر۔ ۔ ۔

 

                ڈاکٹر سعید اقبال سعدی

 

 

اگر خدا پیدا کر دیتا لڑکیوں کا بحران

نہ کوئی کسی کی جانو ہوتی نہ کوئی کسی کی جان

نہ کوئی کسی کو لفٹ کراتی، نہ جلوے دکھلاتی

نہ کوئی اُن کو دیکھ کے بنتا شاہ رُخ اور سلمان

لڑکیوں کے کالج کی سڑکیں ہو جاتیں سنسان

نہ کوئی کسی کے پیچھے جاتا، نہ ہوتا قربان

بازاروں کی رونق بھی پڑ جاتی ساری ماند

نہ کوئی لڑکیاں دیکھنے جاتا، نہ ہوتا ہلکان

 

لٹریچر اور ادب کی دنیا ہو جاتی ناپید

نہ کوئی شاعر شاعری کرتا نہ بنتے دیوان

نہ کوئی کسی کو میسج کرتا، نہ کوئی کرتا فون

نہ کوئی کسی سے سینڈل کھاتا نہ ہوتا پریشان

ہوتا نہ جب لڑکوں کی دلچسپی کا سامان

لڑکوں کا بھی پڑھنے کی جانب ہوتا رجحان

لڑکے پانچ نمازیں پڑھتے اور پڑھتے قرآن

سیدھے جنت میں جاتے سارے دل پھینک جوان

 

لڑکی نہ ہوتی تو دنیا ہو جاتی بے رنگ

ہر جانب پیدا ہو جاتا چاہت کا بحران

شکر خدا کا لڑکوں پر ہے یہ کتنا احسان

لڑکی پیدا کر دی رب نے ہر دل کا ارمان

٭٭٭

 

 

 

 

دعوتِ ولیمہ

 

                ڈاکٹر نشتر امروہوی

 

 

اک روز ہم بھی دعوت اڑانے چلے گئے

وعدہ جو کر لیا تھا نبھانے چلے گئے

بیگم کی بات ہم نہیں مانے چلے گئے

اور فیملی کے ساتھ میں کھا نے چلے گئے

 

ٹائم کے ہیر پھیر نے سب کو سکھا دیا

کھانے کے انتظار نے ہم کو پکا دیا

 

آنتیں شکم میں کرنے لگی تھیں اتھل پتھل

میزوں پہ تھی سجی ہو ئی ہر چیز بر مہل

بریانی قورمہ وہیں روٹی اغل بغل

چٹنی اچار رائتہ اور چاٹ کے تھے پھل

 

اسٹال میں سجی ہوئی ہر شہ عظیم تھی

کوفی تھی کولڈرنک تھی آئسکریم تھی

 

کھانا شروع کرنے کا اعلان جب ہوا

ہر سمت جیسے حشر کا عالم ہوا بپا

کیسی سلاد کس کا اچار اور رائتہ

اِک شخص نے پلیٹ میں ڈونگا پلٹ لیا

 

ہم یوں بھٹک رہے تھے کہ جیسے حقیر ہوں

خالی پلیٹ ساتھ تھی جیسے فقیر ہوں

 

بیگم سے تھا بلند کوئی قد میں پست تھا

فرہاد کا چچا کوئی مجنوں پرست تھا

جوشِ شباب میں کوئی مغرورومست تھا

اتنا ضعیف کوئی کہ لاٹھی بدست تھا

 

بھگدڑ میں کون دیتا بھلا پھر کسی کا ساتھ

ڈونگہ کسی کے ہاتھ تھا چمچہ کسی کے ہاتھ

 

کچھ عورتوں کے سا تھ میں بچّے تھے چلبلے

کس باپ کے سپوت تھے کس گود کے پلے

نو دس برس کے سن میں یہ ہمّت یہ ولولے

کس کی مجال ان سے کوئی ڈونگا چھین لے

 

مرغے کی ٹانگ پھینک دی آدھی چچوڑ کر

بریانی پر جھپٹ پڑے روٹی کو چھو ڑ کر

 

کوئی تو تھا کباب کے پیچھے پڑا ہوا

مرغے کی ٹانگ لینے پہ کوئی اڑا ہوا

ڈش کے قریب کوئی تھا ایسے کھڑا ہو ا

کھمبے کی طرح جیسے زمیں میں گڑا ہوا

 

بریانی کی طلب میں بھٹکتا ہوا کوئی

بوٹی بنا چبائے سٹکتا ہوا کوئی

 

آئے کباب سیخ تو ہتھیا گیا کوئی

پلّے پڑ ا نہ کچھ بھی تو   جھلّا گیا کوئی

چٹنی سمجھ کے سونٹھ وہاں کھا گیا کوئی

اور رائتے میں کے کھیر میں اوندھا گیا کوئی

 

کوئی تو لے رہا تھا مزا رس ملائی کا

تھپّڑ کسی نے کھا لیا دستِ حنائی کا

 

پہلے تو ہم بھٹکتے رہے بس اِدھر اُدھر

شرم و حیا کو رکھ دیا پھر ہم نے طاق پر

ٹیبل پہ پہنچے مجمع کو جب چیر پھاڑ کر

ڈونگا اٹھا کے ڈالی جو اس پہ ذرا نظر

 

اس میں نہ شوربہ نہ ہی بوٹی دکھائی دی

خالی پلیٹ بھوک میں روٹی دکھائی دی

 

پلّے جب اپنے کچھ نہ پڑا بھاگ دوڑ کر

حسرت بھری نگاہ سے کھانے کو چھوڑ کر

ہم نے سلا د کھا لیا نیبو نچوڑ کر

ویٹر سے پانی مانگا جو پھر ہاتھ جوڑ کر

 

غصّے سے پانی پھر گیا اس وقت پیاس پر

چاروں طرف سنی تھی لپ اسٹک گلاس پر

٭٭٭

 

 

 

 

آئیڈیل

 

                اعظم نصر

 

جانے کیا سوجھی ہمیں بیٹھے بٹھائے ناگہاں

ورنہ یارو ہم کہاں اور یہ وبالِ دل کہاں

ہم نے سوچا ہم کسی شاعر سے پیچھے کیوں رہیں

ہم تصور کے کسی ماہر سے پیچھے کیوں رہیں

ذہن میں اپنے بھی اک تصویر ہونی چاہیئے

آئیڈیل کے روپ میں تعبیر ہونی چاہیئے

آئیے اب آپ بھی سُن لیں تحمل سے حضور

کیا بنائی تھی زمیں پر ہم نے وہ جنت کی حور

قد میں مجھ سے وہ ذرا سی چھوٹی ہونی چاہیئے

نہ بہت پتلی نہ زیادہ موٹی ہونی چاہیئے

چاند ہو چہرہ! نہیں یہ عام ہی سی چیز ہے

جو بھی دیکھے کہہ اُٹھے یہ کس جہاں کی چیز ہے

آنکھ ہو چشمِ غزالاں، ہونٹ ہو کھلتا گلاب

چال میں ہو یوں روانی جس طرح موجِ چناب

زلف لہرائے تو دن میں رات کا سا ہو سماں

گال پر اک تل ہو کالا، قد خمِ ابرِ کماں

مسکراہٹ میں چھپائے بجلیوں کا راز ہو

دانت ہیرے کی لڑی ہوں جل ترنگ آواز ہو

ناک زیبا کی طرح باریک ہونی چاہیئے

ہاں زبانِ ناز بھی کچھ ٹھیک ہونی چاہیئے

یہ کہ تھا چہرہ جبینِ چاند سے بھی خوب تر

پوجنے کے لائق بھی تھا گرچہ یہ چہرہ مگر

ہم ابھی شاعر ہوئے تھے کب کہ بیٹھے سوچتے

یا خیالوں میں فقط اُس نازنیں کو پوجتے

ہم نے سوچا اب ذرا سا گھومنا بھی چاہیئے

آئیڈیل تو بن چکا اب ڈونڈھنا بھی چاہیئے

ہم کہ دیوانے ہوئے تھے آئیڈیل کے پیار میں

ہم کمر باندھے ہوئے نکلے تلاشِ یار میں

ہر در و دیوار ہر کوچے میں ہم جھانکا کئے

ہر سڑک ہر موڑ ہر بازار کو ناپا کئے

کیا کہیں قسمت مین یہ دن بھی لکھے تھے بے قصور

تھی نظر ہو آنے جانے والے چہرے پر حضور

تھی اگر چشمِ غزالاں تو نہیں ابرو کماں

ہونٹ اگر ملتے کہیں سے ناک زیبا سی کہاں

تھی اگر قد میں مناسب نقش سب بیکار تھے

ہیل تھی لمبی کسی کی یارو زلفِ یار سے

الغرض پھرتے پھراتے یونہی اک بازار میں

کھو گئیں نظریں مری اک محشرِ رفتار میں

کیا بلا کی چال تھی اب کیا کہیں تم سے جناب

تھا ذرا نیلا سا برقعہ، رخ پہ تھا دوہرا نقاب

اور تو سوجھا نہ کچھ ہم کو مگر پھر یوں کئے

چل دئے ہم اُس کے پیچھے آرزوئے دل لئے

چوک سے ہوتی ہوئی پہنچی وہ بس اسٹینڈ پر

تھا اُسے جانا کہاں یارو تھی یہ کس کو خبر

بس کے آتے ہی وہ دروازے کی جانب بڑھ گئے

بھاگ کر جلدی سے یارو ہم بھی بس پر چڑھ گئے

ہم کہ پہلے ہی تھے گھبرائے، ابھی بیٹھے نہ تھے

سر پہ آ پہنچا کنڈکٹر، ہم ابھی سنبھلے نہ تھے

بس کنڈکٹر نے جو پوچھا جانا بابو ہے کہاں

نا کہاں نکلا زباں سے جا رہے ہیں وہ جہاں

میں کہ تھا زلف و لب و رخسار میں کھویا ہوا

وہ چڑھا کے آ ستیں کو مجھ سے یوں گویا ہوا

کیا کہا بابو ذرا پھر سے تو بتلاؤ مجھے

کیا تعلق ہے تمھارا اس سے سمجھاؤ مجھے

مجھ کو لگتا ہے تمھارے ہوش بھی قائم نہیں

چاہتے ہو خیریت تو تم اُتر جاؤ یہیں

ہم کہ شرمندہ سے اُٹھے با دلِ نخواستہ

پھر وہی تھی بے نشاں منزل وہی تھا راستہ

ہے کوئی بگڑا ہوا، وہ جاتے جاتے کہہ گئے

لے گئے وہ جان کو ہم ہاتھ ملتے رہ گئے

اول اول شوق یارو ہار تھی کس کو قبول

پھر وہی راہیں وہی گلیاں وہی راہوں کی دھول

بڑھتے بڑھتے شیو بھی داڑھی نظر آنے لگی

حالتِ اعظم میاں مجنوں کو شرمانے لگی

خیر قصہ مختصر! اک موڑ پر جاتے ہوئے

پھر نظر آئی ہمیں وہ مہ جبیں آتے ہوئے

ہم کہ پھولے نہ سمائے تھے اُسے پہچان کے

پیر سے سیٹی بجائی ہم نے موقع جان کے

اُس نے جو دیکھا پلٹ کر ہم خوشی سے تن گئے

جھوم اُٹھا دل یوں جیسے کام سارے بن گئے

حالِ دل جونہی سنایا پوچھئے نہ پھر جناب

اُس نے اک دم سے اُلٹ دی اپنے چہرے سے نقاب

رُخ سے جو پردہ ہٹا بیساختہ نکلی تھی آہ

تھا رُخِ لیلیٰ کو شرماتا ہوا رنگِ سیاہ

گھور کر دیکھا جو اُس نے ہم کھڑے ہی رہ گئے

پیار کے جذبے سبھی دل میں دھرے ہی رہ گئے

پوچھئے نہ ہم پہ ظالم کیا ستم ڈھاتے رہے

ایک جھانپڑ میں ہمارے ہوش تک جاتے رہے

ایک لمحے میں اکٹھا اک زمانہ ہو گیا

شوق میں بیٹھے بٹھائے ہی فسانہ ہو گیا

ہر کسی کے منہ میں یارو اپنے دل کا پاپ تھا

تھی کسی کی وہ بہن اور کوئی اُس کا باپ تھا

تھا کوئی شکوہ کناں اچھا زمانہ کھو گیا

آج کل کی پود کو نہ جانے یہ کیا ہو گیا

کیسی رسوائی ہوئی پھر کیا سُنائیں آپ کو

کس طرح سے جان چھوٹی کیا بتائیں آپ کو

آئیڈیل کے شوق میں کیا کچھ نہیں سہنا پڑا

آئندہ سے یہ نہیں ہو گا، ہمیں کہنا پڑا

آج تک بھی دل سے گزرا سانحہ جاتا نہیں

آئیڈیل کا اب تو ہم کو خواب بھی آتا نہیں

٭٭٭

 

 

 

کارپوریٹ کسٹمر

 

                انجینئر عتیق الرحمٰن

 

زخم دل پر جو لگیں ہم تو بھلا دیتے ہیں

بعد میں زخم یہی ہم کو گھلا دیتے ہیں

 

یہ نیا دور ہے بزنس کا طریقہ بھی نیا

کسٹمر حق بھی ہمیں بن کے خدا دیتے ہیں

 

وقتِ بزنس وہ ہرے باغ دکھا دیتے ہیں

نوٹ دیتے ہوئے بالکل ہی رُلا دیتے ہیں

 

اب تو دشوار ہوا ہے یہاں بزنس کرنا

ایسے بزنس میں تو سب خود کو لُٹا دیتے ہیں

 

پڑھ کے بیٹھے ہیں جو فائنانس کی تعلیم یہاں

گر چلے بس تو وہ ہستی سے مٹا دیتے ہیں

 

جال ڈالے ہوئے بیٹھے ہیں مچھیروں کی طرح

جو نکلنے کی کرے اُس کو پھنسا دیتے ہیں

 

بات بزنس کی ہوئی جب بھی ہماری اُن سے

ہاتھ میں ٹرمز کریڈٹ کا تھما دیتے ہیں

 

جب بھی کرتے ہیں تقاضہ کہ کرو قسط ادا

قسط دینے کی جگہ دل وہ جلا دیتے ہیں

 

ہو کوئی ان سے کریں سوچ سمجھ کر بزنس

یہ تو دیوار سے ہر اک کو لگا دیتے ہیں

 

اب مروت کا کہیں نام نہیں بزنس میں

ایک ہی ڈیل میں وہ سب کو اُڑا دیتے ہیں

 

چھین لیتے ہیں یہاں منہ سے نوالا اب تو

ایسے حالات تباہی کی صدا دیتے ہیں

 

کیوں تمنا ہے تمھیں مال بنانے کی عتیقؔ

لوگ اس دوڑ میں خود کو بھی گنوا دیتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

کاش کہ ہم خاتون ہوتے

 

                سید ظفر کاظمی

 

کاش کہ ہم خاتون ہوتے

ہر کوئی غزلیں لکھ کر دیتا

ہر کوئی نظمیں لکھ کر دیتا

اور ان پر پھر داد بھی دیتا

اس کی دیکھا دیکھی پھر سب

داد بھی دیتے اور دعوت بھی

امریکہ، افریکا، دوبئی

انڈیا، اردن اور کراچی

نیوزی لینڈ اور کینیڈا میں

پڑھتے مشاعرے اور شاپنگ بھی

کھل کر کرتے، جن سے کرتے

انگ انگ کے فوٹو لگتے

سب اطراف سے پیغام آتے

بینک بیلنس بھی بڑھتا رہتا

بچے بھی آرام سے پڑھتے

کاش کہ ہم خاتون ہوتے

 

خاوند بھی اتراتا پھرتا

لوگوں سے ملواتا پھرتا

جب بھی جاتے محفل میں ہم

پیچھے دُم ہلاتا پھرتا

سجن آن بلائیں لیتے

دعوتیں ہوتیں کھانے کھاتے

کوٹھی کار اور بنگلہ ہوتا

نوکر چاکر بھاگتے پھرتے

ساس اور نندیں جل جل مرتیں

دیور جیٹھ حسد میں رہتے

اماں واری واری جاتیں

بہنیں اور بھائی لپٹاتے

ابا بھی چوپال میں جا کر

کہتے زینو بہت اچھی ہے

بہت ہی اچھی بہت اچھی ہے

کاش کہ ہم خاتون ہوتے

٭٭٭

 

 

 

لیمرک

 

کافی کا کپ

 

                نوید ظفر کیانی

اِک بالٹی نما کپ بیٹھے تھے لے کے شوکت

پوچھا گیا یہ اُن سے حضرت یہ کیا حماقت

بولے کہ ڈاکٹر نے

باندھا ہوا ہے اب کے

دن میں بس ایک ہی کپ کافی کی ہے اجازت

 

 

میاں کا دماغ

 

                نوید ظفر کیانی

 

چاہے لگی ہو کام سے یا ہو فراغ سے

رکھتی نہیں ہے شوق وہ ہرگز ایاغ سے

پیتی ہے ہر سمے

اس میں ہے جو بھی شے

کچھ بھی نہیں لذیذ میاں کے دماغ سے

٭٭٭

 

 

 

ہزلیات

 

ڈاکٹر سید مظہرؔ عباس رضوی

 

 

وہ نقش پا تو نہیں نقشِ پان چھوڑ گیا

کہاں کہاں مرا قاتل نشان چھوڑ گیا

تھیں پانچوں انگلیاں اس کی محبتوں کی گواہ

وہ میرے چہرے پہ اک داستان چھوڑ گیا

ہے اپنا حال بھی اس بھوکے شخص کی مانند

کباب کھا گیا جو، سادہ نان چھوڑ گیا

ہے شکر اُس سے ملاقات کھُل کے ہو نہ سکی

سنا کے چار سو اشعار جان چھوڑ گیا

نہیں ہے فکر کہ برباد کر گیا سب کچھ

خوشی ہے اس کی وہ میرا مکان چھوڑ گیا

ہیں پیچھے کتے تو لڑکی کا ابا سامنے ہے

کہاں پہ مجھ کو مرا مہربان چھوڑ گیا

الٹ پلٹ کے زمیں کو کئے پلاٹ الاٹ

نہ ہاتھ آ سکا یوں آسمان چھوڑ دیا

سہانا وقت نہیں کھا نہ بادلوں کا فریب

دھواں بسوں کا کوئی کارون چھوڑ گیا

کمایا جتنا تھا وہ دے کے صورتِ تاوان

میں تائیوان سدھارا دکان چھوڑ گیا

ہمارا حلق میں کھانا اٹک اٹک سا گیا

کہ بل سے پہلے ہمیں میزبان چھوڑ گیا

دعائیں دے گی ظرافت تجھے نوید ظفرؔ

مزاح و طنز کا اک ارمغان چھوڑ گیا

مشاعرے وہاں ہوتے تھے اسقدر مظہرؔ

’’کہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑ گیا‘‘

 

ڈاکٹر سید مظہرؔ عباس رضوی

 

غزل کسی کی ہو اپنا اُسے بنا لیا جائے

کوئی ردیف کوئی قافیہ چُرا لیا جائے

حصولِ امن کی خاطر ہے اس کا ایک ہی حل

جلا پراٹھا جو بیوی دے اس کو کھا لیا جائے

کہ اس سے پہلے کوئی زلزلہ ہلانے لگے

پہاڑ جسم کو تھوڑا سا خود ہلا لیا جائے

نکلتی بھاپ ہے جس طرح بند کُکر سے

درست ہو گا کہ کچھ منہ میں بُڑبُڑا لیا جائے

ڈیزائینر نے کہا دے کے ٹائیٹ اور کُرتی

چلو پھر آج خواتین کو پھنسا لیا جائے

کلام پڑھ کے گھروں کو سدھارے’’ بے وزنے‘‘

جنابِ صدر کو اب نیند سے جگا لیا جائے

وہ لے کے ایم۔ اے کی ڈگری ہوئے ہیں سنجیدہ

یہ سوچتے ہیں کہ اب کوئی قاعدہ لیا جائے

تمام جھوٹوں کو جیلوں میں بند کرنے کے بعد

ہمارے مُلک کا اِک سچا جائزہ لیا جائے

تو پہلے آتا تھا جتنے میں سُوٹ بیگم کا

اب اتنے پیسوں میں بچے کا جانگیہ لیا جائے

نہ جانے ڈھونڈ رہا ہے مریض کب سے کوئی

حکیم، سرجری کا جس سے مشورہ لیا جائے

ملے گا وہ، نہ ملے گا جو ورلڈ بنک سے بھی

خدا کے آگے اگر اتنا گِڑگڑا لیا جائے

ابھی تو عقد سے پہلے پڑا ہے وقت بہت

تو کھُل کھُلا کے ذرا اور کھِلکھِلا لیا جائے

غزل میں بھر کے ظریفانہ رنگ مظہرؔ جی

گھٹن کے دور میں تھوڑا سا مسُکرا لیا جائے

 

عتیق الرّحمٰن صفیؔ

 

ورزش سے کچھ ویٹ گھٹایا جا سکتا ہے

خود کو پھر سے ینگ بنایا جا سکتا ہے

ایجنگ فیکٹر آڑے آ جائے تو پھر بھی

انٹرنیٹ پر عشق لڑایا جا سکتا ہے

سوچ رہا ہوں اتنی بھینگی محبوبہ سے

کس اینگل سے نین ملایا جا سکتا ہے

گر وہ ساتھ نہ آئے تو پھر اُس کے پیچھے

کتا چھوڑ کے ساتھ بھگایا جا سکتا ہے

ہر اِک دانشور سے بس یہ پوچھتا ہوں میں

پاگل سے کیا کیا کروایا جا سکتا ہے

ڈانس نہیں جس جس کو آتا اُس کو بھی تو

تگنی کا اِک ناچ نچایا جا سکتا ہے

اک دوشیزہ نے بتلایا جعلی عاشق

جعلی بھائیوں سے پٹوایا جا سکتا ہے

جس کی ہر اِک سوچ کو سیدھا کرنا ہو تو

اُس کو اُلٹا ہی لٹکایا جا سکتا ہے

گوگل ارتھ سے اُس کی چھت کو دیکھ کے سوچا

اُس کو کوٹھے پر بلوایا جا سکتا ہے

یہ اِک میک اپ ٹپ ہے گنجے یارو سُن لو

ٹاکی سے ٹنڈ کو لشکایا جا سکتا ہے

صابن دانی پر باقی ہے جو چکنائی

اُس سے بھی اِک روز نہایا جا سکتا ہے

کفرانِ نعمت ہے یارو انکار اِس کا

کھُسرے کو بھی یار بنایا جا سکتا ہے

اُن سے پیار محبت والا سین صفیؔ بس

ذہن کے پردے پر فلمایا جا سکتا ہے

 

اسلام الدین اسلامؔ

 

نثار، عابد و زاہد ملے وقار ملا

گنوار کہتی ہے اب بھی نہ سچا پیار ملا

 

ہزار لوڈ کراؤ تو بات ہوتی ہے

ہمیں تو یار بھی قسطوں پہ ماہوار ملا

 

اتار لی وہ انگوٹھی جو دی تھی تحفے میں

شدید بھیڑ میں جیسے ہی دستِ یار ملا

 

اُسی کو تحفے میں دے کر پٹائی کروا لی

تھا رات ھولی میں جس کے گلے کا ہار ملا

 

پھر اس کی عمر رسیدہ کزن سے شادی ہوئی

نتیجتاً اسے بیوی سے ماں کا پیار ملا

 

’’مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے‘‘

یہی وجہ ہے مجھے قرض بے شمار ملا

 

وہاں وہاں تھے رہائش پذیر دیس کے لوگ

جہاں جہاں مجھے یورپ میں کوئی غار ملا

 

کل ایک شیخ لگا بیٹھا سب جمع پونجی

پلوٹو پر جو پلاٹنگ کا اشتہار ملا

 

مرے گوالے’ مرے یار، سارا پانی ہے

خدا کے واسطے اِک دودھ کی بھی دھار ملا

 

تنویر پھولؔ

 

کوئی بھی بات پُر اثر نہ ہوئی

شکر ہے آنکھ میری تر نہ ہوئی

 

پھوٹتے من میں کس طرح لڈّو!

حالِ دل کی اُنھیں خبر نہ ہوئی

 

دیکھ لو ! کاروبارِ انٹرنیٹ

ختم ڈیوٹی یہ رات بھر نہ ہوئی

 

لیلیٰ مجنوں کا کھیل ہم کھیلے!

یہ کہانی مگر امر نہ ہوئی

 

اِک نکھٹو گلی میں رہتے تھے

زندگی کام میں بسر نہ ہوئی

 

اپنی اپنی ہیں قسمتیں یارو!

بوند ٹپکی مگر گُہر نہ ہوئی

 

ہو چکی تھیں سگائیاں کتنی!

اُن کی شادی کبھی مگر نہ ہوئی

 

خواب میں قمقمے نظر آئے!

شامِ غم کی مگر سحر نہ ہوئی

 

پھولؔ! اشعار کے کھلے غنچے

اپنی کوشش یہ بے ثمر نہ ہوئی

 

تنویر پھولؔ

 

چار سو بیسی وطیرہ ہُوا مکّاروں کا

حال ابتر ہے شرافت میں ہی بے چاروں کا

ڈانٹ پھٹکار میں بیگم کی ہے بجلی کی کڑک

بس یہی راز ہے بھیگی ہوئی شلواروں کا

رال ٹپکاتی ہے ہر منہ سے کبابوں کی مہک

سیخ کے نیچے بچھا فرش ہے انگاروں کا

تیرے ابّانے ہیں برسائے ستم کے ڈنڈے

کیسا نکلا ہے کچومر ترے بیماروں کا

دال جو دیکھی تو مہمان نے منہ پھیر لیا

منتظر وہ تھا کبابوں ہی کے چٹخاروں کا

دیکھو! لیڈر پہ ہوئی مال کی کیسی بارش

سامنے بنگلے کے بیڑا ہے نئی کاروں کا

پیٹو مُلّا کی جو اُلجھی ہوئی داڑھی دیکھی

لوگ سمجھے کہ یہ ہے جال سیہ تاروں کا

سڑکیں ویران ہوئیں، نو بجے اُلّو بولے

لوڈ شیڈنگ سے یہ حال ہے بازاروں کا

کوششیں مُنّے کی امّی نے بہت کیں لیکن

سلسلہ رُک نہ سکا رات کے فوّاروں کا

کوئی تجھ کو بھی بنا لے نہ گلے کی زینت

پھولؔ! بازار بہت گرم ہُوا ہاروں کا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

شوکت جمالؔ

 

نہ دھمکیوں سے ملا ہے نہ حجّتوں سے ملا

ملا ہے دل جو یہ واپس تو منّتوں سے ملا

 

پتنگ بازی ہماری تو اک بہانہ تھا

پڑوسیوں سے وفا کا سبق چھتوں سے ملا

 

ملا جو ڈاک سے اُس کو پیامِ شوق مرا

جواب دینے سے پہلے وہ پنڈتوں سے ملا

 

ہیں کتنے چاہنے والے ترے ہمارے سِوا

سُراغ ہم کو محلّے کی عورتوں سے ملا

 

یہ کہہ کے بزم سے اُس نے اُٹھا دیا مجھ کو

کہ نیّتوں کا پتا تیری حرکتوں سے ملا

 

 

 

شوکت جمالؔ

 

تمھارے دِل میں میرا خوف کس نے اِس قدر ڈالا

لگایا تم نے اِک تالا اِدھر اور اِک اُدھر ڈالا

 

یہ بھولیں وہ کبھی یہ ذائقہ اُن کے لئے ہم نے

کڑاھی گوشت بنوایا تو دل ڈالا، جگر ڈالا

 

ہمیشہ ایک سے رہتے نہیں ہیں دِن سو قدرت نے

بہو کو کچھ برس رکھا، بہو پھر ساس کر ڈالا

 

میں اُس میں ڈھونڈتا تھا کوچۂ دلدار کا رستہ

مگر کم بخت GOOGLE نے نہ جانے کس ڈگر ڈالا

 

بآسانی وہ پڑھ لیں نامۂ الفت میرا، میں نے

ضرورت کے مطابق پیش ڈالا، زیر ڈالا اور زبر ڈالا

 

سیاسی لیڈروں میں بھی یہ خصلت ہے مویشی کی

گلستانِ وطن میں جو ہرا دیکھا، وہ چر ڈالا

 

نہ پلٹیں وہ کئی دن تک جو میکے سے تو پھر ہم نے

کہلوایا کچھ اوروں سے، کچھ اپنا بھی اثر ڈالا

٭٭٭

 

 

نیاز احمد مجازؔ انصاری

 

ہمیں پولس کے جو افسر تلاش کرتے ہیں

ہمارے ساتھ ہی پی کر تلاش کرتے ہیں

 

ہر ایک فرم کے مالک کو سیلری کے لئے

اداس نظروں سے نوکر تلاش کرتے ہیں

 

نصیب اپنا بنانے ندی کنارے پر

ہم اپنی راشی کے پتھر تلاش کرتے ہیں

 

جب ہم کو دل کے مرض نے بنا دیا لاغر

سنا ہے سارے تونگر تلاش کرتے ہیں

 

جلا کے اپنے لہو کو حسد کی بھٹی میں

برائے خون چقندر تلاش کرتے ہیں

 

کوئی تو ہم کو سمجھ لے کہ پھنس رہے ہیں ہم

حسین چہروں کو ہنس کر تلاش کرتے ہیں

 

جو گومتی سے بہے اور چناب میں ڈوبے

ہم ایسے میل کے پتھر تلاش کرتے ہیں

 

’’ مجاز ‘‘ شہر میں تبلیغِ دین کس نے کی

امام باڑے مجاور تلاش کرتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

ابنِ منیب

 

 

’’ڑ‘‘ سے شعر بنا کر ہم نے

حیراں سب کو کر ڈالا ہے

 

جھگڑا ہے بیکار کا صاحب!

آپ نے جس میں سر ڈالا ہے

 

دیکھو دیکھو پیار نے آ کر

دل میں کیسا ڈر ڈالا ہے

 

میں نے فتنہ اُس کے گھر میں

اُس نے میرے گھر ڈالا ہے

 

ارمانوں کے خون سے ہم نے

دیس کا دامن بھر ڈالا ہے

٭٭٭

 

 

یاسر عباس فرازؔ

 

جن کو نصیب خوبرو ہمسائیاں نہیں

ان کے نصیب میں کہیں خوش بختیاں نہیں

جو تم میں پائی جاتی ہیں عہدِ شباب میں

وہ ساری والدین ہی کی غلطیاں نہیں

یوں بھی کرایا گیس پہ گیزر جناب نے

جب بھی نہانا ہوتا ہے تب بجلیاں نہیں

لڈو، گلاب جامن، امرتی، جلیبیاں

مجھ کو یہ سب پسند ہیں بس برفیاں نہیں

سردی میں بھی سلیو لیس پہنیں جو لڑکیاں

پھر لڑکیاں وہ ٹھنڈ سے کیوں مرتیاں نہیں

مردوں کا ماپ لینے کو شہرِ لباس میں

درزی تو پائے جاتے ہیں درزانیاں نہیں

کرنے لگا ہوں عشق کی پوچھل پہ استری

سیدھی ہمیں جناب کبھی سوجھیاں نہیں

میری نظر کے پیٹ میں چوہے ہیں دوڑتے

اک عمر سے جو پائی تمہیں جھاتیاں نہیں

جا کر یہ کہہ دیں قوم کی سب لڑکیوں سے آپ

بے پردہ جو پھریں وہ رہیں باجیاں نہیں

کاٹا ہے ان کو عشق کے بھونڈوں نے ٹھیک ٹھاک

ایسے ہی ان کی آنکھ میں یہ لالیاں نہیں

بس کیجیے جناب کہ یاسرؔ بہت ہوا

زائد مزاح کاریاں بھی اچھیاں نہیں

 

 

 

محمد قمر شہزاد آسیؔ

 

دیدار اس نے یار کا پایا نہیں ہنوز

جس نے بھی ایزی لوڈ کرایا نہیں ہنوز

 

پہلے ہی بول پر ہوئی برساتِ پیر پوش

مغنی نے بول دوسرا گایا نہیں ہنوز

 

چٹ کر کے بیس روٹیاں سالم بمع مٹن

کہتا ہے مجھ سے میٹھا تو کھایا نہیں ہنوز

 

بجلی کے بل کو دیکھتے ہی ہوش اڑ گئے

اور گیس کا تو بل ابھی آیا نہیں ہنوز

 

اس واسطے ہی عشق مرا کامیاب ہے

شادی کا میں نے اس کو بتایا نہیں ہنوز

 

بیگم بھی فیس بک پہ ہی مصروف کار ہے

کھانے کو اس نے کچھ بھی بنایا نہیں ہنوز

 

اس نے کہا تھا اپنا بنا کر میں چھوڑوں گی

بیگم نے اپنا قول نبھایا نہیں ہنوز

 

اتنی سی بات پر وہ قمرؔ سے خفا ہوئی

تارے فلک سے توڑ کے لایا نہیں ہنوز

٭٭٭

 

 

 

 

ہاشم علی خان ہمدمؔ

 

 

 

راز کھلتے ہیں کہاں ہم پہ پری خانوں کے

ہم تو بندے ہیں سیاست کے نہ ایوانوں کے

اپنی دستار اتاریں بھی تو کس کو سونپیں

سر ہی گنجے ہیں مرے عہد میں سلطانوں کے

جو کھلا دے اسے جینے کی دعا دیتے ہیں

وہ بھی شوقین ہیں چائے کی طرح کھانوں کے

پاپ میوزک میں سناتے ہیں زنانہ چیخیں

یوں بدلتے ہیں وہ انداز بھی دو گانوں کے

دیکھنا سننا یہاں سب کا ہے گونگوں جیسا

کان بہروں نے لگا رکھے ہیں عجب کانوں کے

شوخ ساقی نے سیاہ لینس لگا رکھے تھے

کس کی آنکھوں سے پتے پوچھتے میخانوں کے

اک گداگر نے عجب کہہ کے پریشان کیا

کام آتے ہیں مسلماں ہی مسلمانوں کے

دال روٹی پہ گزارہ ہے ہمارا ورنہ

دام اچھے ہیں ابھی شہر میں انسانوں کے

کم سے کم خون کا سودا نہیں کرتے صاحب !

کام انساں سے تو اچھے ہیں نا حیوانوں کے

مست رہتے ہیں بھرے شہر میں شیشہ پی کر

برگری ناز ہیں اس دور میں دیوانوں کے

کوک پیتے ہیں لنڈھاتے ہیں ڈیو کی بوتل

بڑھ گئے دام جو ساقی ترے پیمانوں کے

میں بھی تو اپنے علاقے کا ملک ہوں ہمدمؔ

ووٹ کیوں پڑتے نہیں ہیں مجھے ایوانوں کے

٭٭٭

 

 

 

 

شاہین فصیح ربّانی

 

شادی کا کارڈ اس لیے آیا نہیں ہنوز

مانا دلہن غریب کا تایا نہیں ہنوز

 

ترکیب سہل تو ہے خیالی پلاؤ کی

لیکن جناب ہم نے پکایا نہیں ہنوز

 

اپنی سزا کا کیسے تعین کریں گے ہم

احباب نے قصور بتایا نہیں ہنوز

 

کرتے ہیں لوگ یوز بہت کمپنی کا نیٹ

کیوں یہ پوائنٹ اس نے اٹھایا نہیں ہنوز

 

آیا ہوں دے کے ناپ نئے پینٹ کوٹ کا

دعوت پہ گرچہ اس نے بلایا نہیں ہنوز

 

مالک مکان آئے تو مرغی کھلاؤں گا

دینے کو میرے پاس کرایہ نہیں ہنوز

 

اٹھا ہے شورِ واہ سرِ انجمن فصیح

ہم نے غزل کا شعر سنایا نہیں ہنوز

٭٭٭

 

 

 

 

رحمان حفیظؔ

 

ایک مہمان پورے ’’خانے‘‘ میں

اونٹ لایا ہوں شامیانے میں

آؤ کانوں میں انگلیاں دے لیں

ہے وہ مصروف گانے گانے میں

کام مشکل سہی مگر قسمے

لطف ہے پیٹھ کو کھجانے میں

جیسے بازارِ درد گرم رہا

اتنی تکلیف گرمی دانے میں !!

مشترک ٹھرک کتنے پائے گئے

میرے دادے تمہارے نانے میں

تم بھی شہنائی لائے ہو لیکن

گال پھولیں گے یہ بجانے میں

قیس! تڑیاں لگا رہا ہے مجھے

عمر کاٹے گا جیل خانے میں

لنچ کے ساتھ مکھیاں بھی ملیں

تھیں جو ایکسپرٹ بھنبھنانے میں

من و سلوی سے بڑھ آتا ہے

لطف اوروں کا مال کھانے میں

نادرا اب شمار کرتا ہے

میرے خانے کو جیل خانے میں

کیسے جیتے ہیں ہم وطن میرے

کچھ کچہری میں، باقی تھانے میں

٭٭٭

 

 

 

 

 

احمد علی برقی اعظمی

 

گرا تو سکتا ہے لیکن اٹھانے والا نہیں

رُلا تو سکتا ہے تجھ کو ہنسانے والا نہیں

دلے گا مونگ وہ اب پانچ سال چھاتی پر

وہ جانتا ہے کوئی اب ہٹانے والا نہیں

دیا ہے ووٹ تو اس کی سزا بھگتنا ہے

وہ شکل اپنی تجھے اب دکھانے والا نہیں

غرض ہے تیری تو، تواس سے جا کے مل ورنہ

تجھے وہ بھول سے ملنے ملانے والا نہیں

ملاتا تھا جو تری ہاں میں ہاں الیکشن میں

گلے سے اپنے تجھے وہ لگانے والا نہیں

نہ ہاتھ آئے گا اب پانچ سال وہ تیرے

تو مَر بھی جائے تو پانی پلانے والا نہیں

تو اس کی کرتا ہے ناحق یہ ناز برداری

کہیں بھی کام سے تیرے وہ جانے والا نہیں

ہے ٹیڑھی کھیر ملاقات اس سے اب تیری

تو پانچ سال کہیں اس کو پانے والا نہیں

کرے گا تجھ سے وفا ہے یہ تیری خوش فہمی

وہ تیری موت پہ آنسو بہانے والا نہیں

امیر شہر کو تو جانتا نہیں ہے ابھی

لگا کے آگ وہ ہرگز بجھانے والا نہیں

ہے تجھ کو مشورہ برقی کا چھوڑ دے اس کو

وہ تیری دال کہیں بھی گلانے والا نہیں

٭٭٭

 

 

 

 

نویدؔ صدیقی

 

شہرِ سخن میں چند ہی شاعر پاگل ہیں، دیوانے ہیں

ہاشمؔ، فیضؔ، نویدؔ، کیانیؔ، بس دو چار ہی دانے ہیں

جن کے نیچے لمبی گاڑی ان کو ہے سیلیوٹ یہاں

ہم جیسے بائک والوں کی قسمت میں جرمانے ہیں

کوئی بھی اپنے ملک کا ویزہ دینے کو تیار نہیں

چھان کے ہم نے دیکھے ہیں یاں جتنے سفارت خانے ہیں

ہر دفتر میں افسرِ اعلیٰ صرف انھی سے ملتے ہیں

اہلِ سفارش ہیں یا جن کے ہاتھوں میں نذرانے ہیں

دہشت گردی کیسے ہو سکتی ہے ختم، بتاؤ تو

جب کہ سیاست دانوں کے ان سے گہرے یارانے ہیں

اب تو معاذاللہ! یہاں کچھ نظمیں سن کر لگتا ہے

حمد و ثنا کی آڑ میں گویا پورے فلمی گانے ہیں

ثابت ہوتا ہے دعوت میں چھین جھپٹ سے یاروں کی

’’اپنی ذات سے عشق ہے سچا، باقی سب افسانے ہیں ‘‘

بزم میں آنے والوں نے گھیرا ہے صدرِ محفل کو

آنے والے جیسے آئے ہی سیلفی بنوانے ہیں

رہتا ہے دن رات مگن خود آپ وہ اس کی خدمت میں

جو کہتا تھا کہ بیوی سے ناز اپنے اٹھوانے ہیں

ساس بہو کے سارے ڈراموں کی ہے ’’بیسیک تھیم‘‘ یہی

گھر میں ہیں جتنے بھانڈے سب آپس میں ٹکرانے ہیں

’’ہی اوں ‘‘ میں ہیں نہ ’’شی اوں ‘‘ میں، کچھ اینکر ہیں ایسے بھی

صاف ’’زنانے‘‘ دکھتے ہیں حالاں کہ وہ ’’مردانے‘‘ ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

نورؔ جمشیدپوری

 

بہو سے ساس نہ بیزار ہو ایسا نہیں ہوتا

بہو بھی ساس سے سر شار ہو ایسا نہیں ہوتا

ذرا سا دل بڑا کر لو نہ دیکھو تم حقارت سے

بہو جو لائی سب بیکار ہو ایسا نہیں ہوتا

اسے دیکھا کبھی تم نے بتاؤ ماں کی نظروں سے

بہو ہر ایک ہی عیار ہو ایسا نہیں ہوتا

جو اپنے گھر میں لا کر پھر بہو پر ظلم کرتے ہیں

خدا کی ان پہ نہ پھٹکار ہو ایسا نہیں ہوتا

پڑوسی اک نیا جوڑا، مرا بن کر جو آیا ہے

کسی دن ان کی نہ تکرار ہو ایسا نہیں ہوتا

اگر تھوڑا سا پڑھ لیتے کسی میں پاس ہو جاتے

ہر اک پر چہ سدا دشوار ہو ایسا نہیں ہوتا

ہوں کتنے عیب بھی ان میں امیری ڈھانپ لیتی ہے

جو ہے مفلس وہی غدار ہو ایسا نہیں ہوتا

اُنہیں بھی تو ہمارے ہی تعاون کی ضرورت ہے

ہر اک سرکا ہی بیکار ہو ایسا نہیں ہوتا

کہاں ہم آ گئے ہیں اب، کسی دن ابن آدم سے

رنگا نہ خون میں اخبار ہو ایسا نہیں ہوتا

بہت کچھ سیکھ لیتے ہیں تری محفل میں سب آ کر

ہر اک بندہ یہاں فنکار ہو ایسا نہیں ہوتا

سخن ور اور اچھے ہیں، ہمیشہ نورؔ محفل میں

ترا ہر شعر ہی دم دار ہو ایسا نہیں ہوتا

٭٭٭

 

 

 

 

محمد خلیل الرحمٰن

 

وہ جو میرا تُم پہ اُدھار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

نہیں اب تلک وہ ادا ہوا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

 

تھے غبی مگر ہوا داخلہ، ہوئے پاس یہ بھی کمال ہے

سبھی کچھ تھا میرا کیا دھرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

 

وہ جو پِٹ رہے تھے گلی میں تُم، وہ جو چیختے تھے مدد، مدد

وہی میں تھا جِس نے چھُڑا لیا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

 

جسے آپ گنتے ہیں ہر گھڑی، یہ جو گرم جیب ہو ئی ابھی

اسے اور کہتے ہیں کیا بھلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

 

چلو چھوڑ دو یہ کہانیاں، نہیں یاد، یہ بھی بُرا نہیں

مِرے منہ سے یونہی نکل گیا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

٭٭٭

 

 

 

 

مزمل حسین چیمہ

 

اپنا ہر زخم دکھانے کا کہا تھا

بائیو اس نے پڑھانے کا کہا تھا

 

میں نے پھراس کو سنا دی ہے غزل

اس نے احوال سنانے کا کہا تھا

 

میں اُسے بہن بنانے لگا ہوں

وہ جسے تو نے پٹانے کا کہا تھا

 

جس کی جانب میں بہت جانے لگا

اُس نے کیسے مجھے جانے کا کہا تھا

 

چھو کے پہلے مجھے تو آگ کیا

اورپھر اس نے بجھانے کا کہا تھا

 

جم دئے اُس نے بہت سے بچے

ہم نے تو دودھ جمانے کا کہا تھا

 

میری آنکھوں میں بھی آنسو امڈے

یوں مجھے اس نے نہانے کا کہا تھا

 

میں نے آواز غزلؔ دی خود کو

اس نے تو اس کو بلانے کا کہا تھا

٭٭٭

 

 

 

 

نوید ظفرؔ کیانی

 

حُسن کیسے ہو مسخّر سوچیں

کوئی منتر، کوئی جنتر سوچیں

ناچ تگنی کا نچا دیتی ہیں

یوں گھما دیتی ہیں میٹر سوچیں

کیوں زمانے کا چلن ہے اُلٹا

شاخ سے اُلٹا لٹک کر سوچیں

کوئی انسان بنے کیوں لوٹا

کچھ سیاست کے مچھندر سوچیں

جب تصرف میں ہے دیوارِ سخن

تھاپئیے صورتِ گوبر سوچیں

کسی انگنائی میں گھُس جاتی ہیں

چن چڑھائیں گی نیا شر سوچیں

جس قدر شادی شدہ ہیں اب کے

صدر ممنون سے بن کر سوچیں

میں تو پنڈی میں کہیں اٹکا ہوں

اور جا پہنچیں پشاور سوچیں

جب زمیں پاؤں تلے کی کھسکے

قوم کے واسطے لیڈر سوچیں

اپنے بارے میں نہ سوچے انساں

تو کیا ان کے لئے ڈنگر سوچیں

آپا دھاپی کا زمانہ ہے ظفرؔ

خود کو دیکھیں یا وہ مجھ پر سوچیں

 

 

 

نوید ظفرؔ کیانی

 

اُن کی محفل میں بہت جن کو مچلتے دیکھا

اُن کو ماتھے پہ لگاتے ہوئے ’’پلتے‘‘ دیکھا

 

لوگ کہتے تھے کہ کنسرٹ ہے سنگر کا مگر

ہم نے اسٹیج پہ بندر کو اچھلتے دیکھا

 

بیویاں میکے سے واپس بھی پلٹ آتی ہیں

ایسی آفت کو وظیفوں سے نہ ٹلتے دیکھا

 

اُلٹے قدموں سے میں آیا تھا جہاں سے واپس

اپنے قدموں کو اُسی راہ پہ چلتے دیکھا

 

منہ سے شعلوں کو نکالا ہے مداری نے عبث

ہم نے لیڈر کو تو ہر روز اُگلتے دیکھا

 

کوچۂ یار میں رکھتے نہیں وکھری ٹائپ

ہم بھی پھسلیں گے جو اوروں کو پھسلتے دیکھا

 

اشک خاتون کی آنکھوں میں جہاں بھی آئے

دیکھتے دیکھتے پتھر کو پگھلتے دیکھا

 

کارِ الفت میں بھلا عشق کے ناخن کیا لیں

افلاطونوں کو بھی جب اس پہ’’چولتے‘‘ دیکھا

 

بزمِ یاراں میں بہ عنوانِ لطیفہ بازی

اک گٹر تھا کہ جسے ہم نے اُبلتے دیکھا

 

اور ہی کوئی اُڑا لے گیا پنکی کو ظفرؔ

ہم بھی ششدر ہیں، رقیبوں کو بھی جلتے دیکھا

٭٭٭

 

 

 

عرفان قادرؔ

 

دل میں ہمارے روز ہی دلبر لگا کے آگ

پٹرول پھینکتا ہے وہ اس پر، لگا کے آگ

 

پہلے ہی اُس کے ہاتھ میں ماچس نہ دیجیے

بستی جلا نہ دے کہیں بندر، لگا کے آگ

 

باقی کرپشنوں کا رہے کوئی نا ثبوت

جلوا کے راکھ کر دیئے دفتر، لگا کے آگ

 

دونوں طرف اگرچہ ہیں حوّا کی بیٹیاں

معصوم بن ہی جاتی ہیں اکثر لگا کے آگ

 

آپس میں ایک دوسرے سے سب ملے ہوئے

لڑواتے ہیں عوام کو رہبر لگا کے آگ

 

کوئی نہ اُس پہ شک کرے، شاید اسی لیے

وہ پی رہا ہے دیکھ لو، فیڈر، لگا کے آگ

 

انسانیت بھسم ہے کی یوں ذات پات نے

’’تُو اونچی ذات کا ہے‘‘، ’’ تُو شودر‘‘، لگا کے آگ

 

شعلے اُگل رہی ہے تری آتشیں زباں

جاری ابھی تلک ہے یہ ٹر ٹر، لگا کے آگ

 

بھڑکائے گا خود آدمی، یہ جانتا نہ تھا

شیطان ہے کھڑا ہوا ششدر لگا کے آگ

 

پہنچے گی تیرے گھر کے بھی اندر ضرور وہ

بچ پائے گا نہیں کبھی باہر لگا کے آگ

 

عرفان قادرؔ

 

گر جاں عزیز ہے تو، ذرا اور تیز بھاگ

مجنوں تمھارے پیچھے ہیں لیلیٰ کے تین ڈاگ

 

دیوان ایک ’’شاعرِ اعظم‘‘ کا پڑھ کے لوگ

پٹرول پھینکتے ہیں، وہ اس پر، لگا کے آگ

 

گانے سُنا رہا ہے وہ کُچھ اس طرح ہمیں

مچھر بھی گرمیوں میں نہیں گاتے ایسے راگ

 

برگر کے ساتھ پیپسی مرغوب ہے انھیں

بچّے ہمارے عہد کے کب کھائیں دال ساگ؟

 

دن رات مارتا تھا جو بھینسوں کے سامنے

اب تک ہمیں وہ یاد ہیں رانجھے کے ڈائیلاگ

 

چاہے زبان جو بھی ہو، شوہر ہیں بے زباں

پیرس ہو پُونے ہو یا پشاور ہو یا پراگ

 

دیکھو جسے بھی گھر میں ہے جھاڑو لگا رہا

برتن، بنا کے دھوئے ہیں، صابن سے خوب جھاگ

 

ان پڑھ ہمارے دیس کو بالکل ڈبو نہ دیں

تعلیم یافتہ جواں ! بڑھ کر سنبھال باگ

 

یورپ کے ساحلوں پہ تھا پھرتا کسی کے ساتھ

بیلن لگا جو سر پہ تو فوراً گیا وہ جاگ

 

دیں گے ضرور داد تری شاعری پہ وہ

معیار کیا ہے جانتے ہیں سب پرانے گھاگ

 

شہزاد قیس

 

رُکو تو تم کو بتائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کلی اَکیلے اُٹھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کہا طبیب نے، گر رَنگ گورا رَکھنا ہے

تو چاندنی سے بچائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ نیند کے لیے شبنم کی قرص بھی صاحب

کلی سے پوچھ کے کھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

ہَوائی بوسہ دِیا پھول نے، بنا ڈِمپل

اُجالے، جسم دَبائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

سنا ہے پنکھڑی سے رات کان میں پوچھا

یہ جلد کیسے بچائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو اُن کے سائے کے پاوئں پہ پاوئں آ جائے

تو ڈاکٹر کو دِکھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

متاعِ ناز کے ناخن تراشنے ہوں اَگر

کلوروفام سنگھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

لباس اُتاریں جو کلیوں کا وُہ بنے فیشن

گلاب دام چکائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

حجاب نظروں کا ہوتا ہے سو وُہ ساحل پر

سیاہ چشمہ چڑھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو جھوٹ بولنے میں اَوّل آیا اُس نے کہا

وُہ تین روٹیاں کھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ گول گپا بھی کچھ فاصلے سے دیکھتے ہیں

کہ اِس میں گر ہی نہ جائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کنیز توڑ کے بادام لائی تو بولے

گِری بھی پیس کے لائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو غنچہ سونگھ لیں خوشبو سے پیٹ اِتنا بھرے

کہ کھانا سونگھ نہ پائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو ’’نیم ٹھوس‘‘ غذا کھانے کو حکیم کہے

ہَوا بہار کی کھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

زُکام ہو گیا دیکھی جو برف کی تصویر

اَب اُن کو یخنی دِکھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

دَوا پلا کے قریب اُن کے بھیجے دو مچھر

کہ اُن کو ٹیکہ لگائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

بہت تلاش کی مچھر نے سُوئی گھونپنے کی

رَہا یا دائیں یا بائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

شفا کو اُن کی قریب اُن کے لیٹ کر ٹیکہ

طبیب خود کو لگائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

دَوا کو کھانا نہیں تین بار سوچنا ہے

طبیب پھر سے بتائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ تین روٹیوں کا آٹا گوندھ لیں جس دِن

تو گھر میں جشن منائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ بول لیتے ہیں یہ بھی خدا کی قدرت ہے

حرُوف جشن منائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

گلے میں لفظ اَٹک جائیں اُردُو بولیں تو

غرارے ’’چپ‘‘ کے کرائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو گاڑھی اُردُو سے نازُک مزاج ہو ناساز

فِر اُن کو ہندی سنائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو اُن کا نام کوئی پوچھے تو اِشارے سے

ہَوا میں ’’ل‘‘ بنائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو پہلی بار ملے اُلٹا اُس سے کہتے ہیں

ہمارا نام بتائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

گواہی دینے وُہ جاتے تو ہیں پر اُن کی جگہ

قسم بھی لوگ اُٹھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ پانچ خط لکھیں تو ’’شکریہ‘‘ کا لفظ بنے

ذِرا حساب لگائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

چیونٹیوں کی لڑائی میں بول پڑتے ہیں

جلی کٹی بھی سنائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

بس اِس دَلیل پہ کرتے نہیں وُہ سالگرہ

کہ شمع کیسے بجھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

غبارہ پھُولتا ہے خود سکڑنے لگتے ہیں

غبارہ کیسے پھلائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

خیال میں بھی جو دعوت کریں عزیزوں کی

تو سال چھٹی منائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

اُٹھا کے لاتے جو تتلی تو موچ آ جاتی

گھسیٹتے ہُوئے لائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

ہر ایک کام کو ’’مختارِ خاص‘‘ رَکھتے ہیں

سو عشق خود نہ لڑائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

غزل یہ اُن کو پڑھائی ہے نو مہینوں میں

کتاب کیسے پڑھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کتاب میں پھنسے اُنگلی وَرَق پلٹتے ہُوئے

تو جلد ساز بُلائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو دِل بھی توڑنا ہو تو کِرائے کے قاتل

سے ایسا کام کرائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کلاس ساری تو اَلجبرا پڑھتی ہے اُن کو

اَلاختیار پڑھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

زِیادہ پڑھ نہ سکے اور مسئلہ یہ تھا

کہ ڈِگری کیسے اُٹھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

بلب جلانے سے اِک دَھکا روشنی کا لگے

سو ایک دَم نہ جلائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو کالی چیونٹی کبھی رَستہ کاٹ دے اُن کا

پلٹ کے گھر چلے جائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

غضب ہے چھٹی کے دِن گڑیا، گڈا مل جل کر

اُنہی کی شادی کرائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ پہلوانوں کو گڑیا کی بانہوں کی مچھلی

اُکھاڑے جا کے دِکھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو آئینے میں وُہ خود سے لڑائیں آنکھیں کبھی

تو ایک پل میں جھکائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ صرف باتیں نہیں کرتے کارٹونوں سے

ڈِنر پہ گھر بھی بلائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

قدم اُٹھاتے ہُوئے دیر تک وُہ سوچتے ہیں

قدم یہ کیسے اُٹھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کلی، گلاب، بہن بھائی اُن کے لگتے ہیں

جو اُن میں عکس بنائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

چیونٹیوں سے وُہ لے لیتے ہیں قُلی کا کام

پھر اُن کو چینی کھِلائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ تتلیوں کی طرح قَدرے اُڑنے لگتے ہیں

جو آنچل اَپنا ہِلائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

فریج میں آرزُو رَکھتے ہیں تا کہ تازہ رہے

قسم بھی دھُو کے ہی کھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

سنا ہے وَہم کو اُن کے وُجود پر شک ہے

گمان قسمیں اُٹھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

جو کھیل کھیل میں اُلجھیں خیال سے اَپنے

تو زَخم دونوں کو آئیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ سیر، صبح کی کرتے ہیں خواب میں چل کر

وَزَن کو سو کے گھٹائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وَزَن گھٹانے کا نسخہ بتائیں کانٹوں کو

پھر اُن کو چل کے دِکھائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ تِل کے بوجھ سے بے ہوش ہو گئے اِک دِن

سہارا دے کے چلائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

کل اَپنے سائے سے وُہ اِلتماس کرتے تھے

یہاں پہ رَش نہ لگائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

وُہ تھک کے چُور سے ہو جاتے ہیں خدارا اُنہیں

خیال میں بھی نہ لائیں، وُہ اِتنے نازُک ہیں

غزل وُہ پڑھتے ہی یہ کہہ کے قیس رُوٹھ گئے

کہ ناز کی تو نتائیں، وہ اِتنے نازک ہیں

 

(شاعر کی ایک طویل غزل کے چند اشعار)

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

احمدؔ علوی

 

پٹائی سے پولس والوں کی کیا کیا بول دیتا ہے

میاں زندوں کی کیا اوقات مردہ بول دیتا ہے

 

بہت عزت کمائی ہے وطن میں ٹی وی چینل نے

وہی سچائی ہوتی ہے جو جھوٹا بول دیتا ہے

 

رسولوں سے بڑا ہے مرتبہ عزت مآبوں کا

کوئی بولے کہ نہ بولے یہ چمچا بول دیتا ہے

 

نہیں برداشت ہوتا مرچ لگ جاتی ہے دنیا کو

کبھی حق بے زباں جب بے ارادہ بول دیتا ہے

 

حقیقت کب بدلتی ہے بدل جانے سے لفظوں کے

اڑایا ہے کہاں سے شعر، چربہ بول دیتا ہے

 

مقدر میں نہیں ہو تو کھدائی میں نہیں ملتا

اگر تقدیر میں ہو تو خزانہ بول دیتا ہے

 

جو کالا ہے اسے کالا جو گورا ہے اسے گورا

نہیں رکتا کبھی علویؔ ہمیشہ بول دیتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

اقبال شانہؔ

 

عشق ہمت سے میں فرماؤں گا انشاء اللہ

اُن کے ڈیڈی سے نہ گھبراؤں گا انشاء اللہ

 

کیوں ڈراتے ہو دکھا کر مجھے خالی بندوق

وقت آئے گا تو مر جاؤں گا انشاء اللہ

 

کیا ہوا کل جو میں وعدے پہ نہ آیا جاناں

زندگی میں تیری آ جاؤں گا انشاء اللہ

 

آپ کی طرح میں بھی آدمی کا بچہ ہوں

ڈر لگے گا تو میں ڈر جاؤں گا انشاء اللہ

 

یوں تو یہ شرم و حیا آپ ہی کا زیور ہے

آپ کہتے ہیں تو شرماؤں گا انشاء اللہ

 

تیرے درباں نے ترے گھر سے نکالا مجھ کو

اب میں دربان کے گھر جاؤں گا انشاء اللہ

 

اب گرج کر نہ کوئی شعر پڑھوں گا شانہؔ

میں ترنم میں غزل گاؤں گا انشاء اللہ

٭٭٭

 

 

 

 

روبینہ شاہین بیناؔ

 

حقوق نسواں کے بل پہ چارہ نہیں چلے گا

کسی بھی شوہر کا اب اجارہ نہیں چلے گا

 

کہا ٹریفک کے سارجنٹ سے یہ دل جلے نے

کبھی بھی گھر میں ترا اشارہ نہیں چلے گا

 

ہمیں ضرورت ہے گرمیوں میں تمھاری بجلی

تمھارے بن کوئی فین ہمارا نہیں چلے گا

 

بہت ہوا ہے یہ مک مکیا سیاستوں میں

ہمارے ووٹوں پہ اب اجارہ نہیں چلے گا

 

سیاسی نعروں نے ووٹروں کو دیا ہی کیا ہے

بغیر نوٹوں کے اب یہ نعرہ نہیں چلے گا

٭٭٭

 

 

روبینہ شاہین بیناؔ

 

انجانی ان دیکھی تصویروں پر جو شعر بناتے ہیں

ایسے فیس بُکی شاعر بھی پاگل ہیں دیوانے ہیں

 

تیری بات بتائیں گے کیا اپنا بھی معلوم نہیں

تیری گلی سے جو لوٹے ہیں دیوانے دیوانے ہیں

 

اپنے حق کی خاطر بھی حق بات نہیں کر سکتے ہیں

صدافسوس ہمارے لوگ “شریفے” ہیں “عمرانے” ہیں

 

چلتے پھرتے سارے مجنوں چُوری کے دیوانے ہیں

شیریں لیلیٰ ہیر کے قصے ماضی کے افسانے ہیں

 

صاف دکھائی دے کر بھی کیوں جرم پرایا لگتا ہے

چوری کرنے والے ہاتھوں پر کیسے دستانے ہیں

 

جو وینڈر نے بھجوایا ہے خیر اندیشی میں ہم کو

مالِ محبت ہے یا یہ بھی رشوت کے نذرانے ہیں

 

اب تو سڑکوں پر چلنا بھی مفت نہیں ہے بینا جی

ٹیکس کہیں چالان کہیں چندہ ہے کہیں جرمانے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

سید فہیم الدین

 

کنوار پن ہے تبھی گرانی سے بچ گیا ہوں

زوال کیسا اگر زنانی سے بچ گیا ہوں

 

وزن تھا ایسا میری کمانی بھی ٹوٹ جاتی

میں اپنے سسرال کی نشانی سے بچ گیا ہوں

 

پٹا رقیبوں سے پہلی الفت کے پہلے دن ہی

سو آج کی اک بڑی کہانی سے بچ گیا ہوں

 

مجھے پُلس نے پکڑ لیا تھا برائے رشوت

میں اپنے پھوپھا کی مہربانی سے بچ گیا ہوں

 

مرے لہو میں تو اب کرپشن سی دوڑتی ہے

یہی سبب ہے اِسی روانی سے بچ گیا ہوں

 

مجھے خبر تھی کہ کوئی مفتے میں مار دے گا

میں فوت ہو کر جہانِ فانی سے بچ گیا ہوں

٭٭٭

 

سید فہیم الدین

 

افسر مرے خلاف ترے بعد میں ہوا

نیچے مرا گراف ترے بعد میں ہوا

 

پہلے تو میرے دل میں تھا چھوٹا سا چھید ہی

دل میں مرے شگاف ترے بعد میں ہوا

 

اپنا شمار تھا بڑے چمچوں میں خیر سے

پتہ ہمارا صاف ترے بعد میں ہوا

 

انسان کا شمار کبھی بندروں میں تھا

لیکن یہ انکشاف ترے بعد میں ہوا

 

چلتے تھے اِن حسینوں سے اپنے معاملات

پر اِن سے اختلاف ترے بعد میں ہوا

٭٭٭

 

 

 

ڈاکٹر عزیزؔ فیصل

 

وہ احمقوں کا پیر تھا، جبران تو نہ تھا

اس میں سیانی بات کا امکان تو نہ تھا

ٹھونسی ہیں یونہی کانوں میں تم نے تو انگلیاں

چولا یہ اک ہی شعر ہے، دیوان تو نہ تھا

سڑکوں کو لال و لال جو دیکھا تو یہ کھلا

جو چیز اس کے منہ میں تھی، وہ پان تو نہ تھا

لایا وہ گھر میں تیسری بیگم بھی گھیر کر

اس گھر میں ایسی جنس کا فقدان تو نہ تھا

نسوار، لمبی مونچھ نہ کندھے پہ کوئی گن

وہ شخص فنی طور پر گل خان تو نہ تھا

میں نیند میں ہی ریل سے یک دم اتر پڑا

ملتان جس کو سمجھا تھا، ملتان تو نہ تھا

بٹوا ہوا تمام تر خالی تو یہ کھلا

اک پل کا وصل یار بھی آسان تو نہ تھا

نوبل پرائز جس کو ملا بھنڈی کاشت میں

جاپان کا وہ دھوبی تھا، دہقان تو نہ تھا

یہ سب ہی لوٹ مار کی فلموں کا درس ہے

بنکوں کو ورنہ لوٹنا آسان تو نہ تھا

بیگم نے جس کو گنے کا جبراً پلایا رس

شوگر تھی اس حکیم کو، یرقان تو نہ تھا

بن کر کرین دودھ کی اک نہر کھودنا

فرہاد کے دماغ کا خلجان تو نہ تھا؟

پردہ نشیں ہی مجھ کو سمجھتے ہیں بھائی جان

ورنہ میں فیس بک سے پریشان تو نہ تھا

فیصلؔ بتا یہ اپنی غزل کو کہ پھر بھی تُو

فاروق روکھڑی سا سخندان تو نہ تھا

 

ڈاکٹر عزیزؔ فیصل

 

دل میں اس کی یادیں ڈالی جا سکتی ہیں

ایسی بلائیں بھی تو پالی جا سکتی ہیں

 

ٹال مٹول کو اتنا تو پھیلاؤ تم ناں

اس کی ڈمانڈیں جب تک ٹالی جا سکتی ہیں

 

خالی جیبوں والے دل پھینکوں کے در سے

چاند فقیرنیاں بھی خالی جا سکتی ہیں

 

شوہر کی حرکات بہ چشم منکوحہ ہی

دیکھی جا سکتی ہیں، بھالی جا سکتی ہیں

 

ناقص گھی سے پکنے والا سالن کھا کر

اپنی ساری آنتیں گالی جا سکتی ہیں

 

عہد جدید میں پگڑی باندھتا کوئی نہیں

سو اب پی کیپیں ہی اچھالی جا سکتی ہیں

 

فیصلؔ یہ بتلاؤ بعض بزرگوں کی بھی

عادتیں کیسے بچوں والی جا سکتی ہیں ؟

٭٭٭

 

 

 

 

 

گھر داماد

 

یقینا کا اُس کا ہے، اُسی کو زیب دیتا ہے

مگر دنیا کی رسموں کو وہ اکثر توڑ دیتا ہے

وہ گھر داماد ہو کر بھی انا کا پاس رکھتا ہے

کہ جھاڑُو تو لگا دیتا ہے، پوچا چھوڑ دیتا ہے

 

                خالد محمود

 

مشاعراتی شاعر کے لئے

(بحریہ ٹاؤن کے ایک مشاعرے میں )

مسخرہ پن کیش کر اور عیش کر

چاہئیں گر تجھ کو پیسے شعر کہہ

جن کو سن سن کر پڑیں بل پیٹ میں

اب لطیفے پڑھ کے ایسے شعر کہہ

 

                سید مظہر عباس رضوی

 

بحریہ والے

 

(بحریہ ٹاؤن کے ایک مشاعرے میں )

خود تو بھاری بھرکم ہیں وزن میں نہیں مصرعے

بہر سے ہیں بے بہرہ پھر بھی شعر کہتے ہیں

اب زبان میں دیکھیں کیسا آ گیا بحرا

کہتے ہیں زمیں والے’’ بحریہ‘ میں رہتے ہے

سید مظہر عباس رضوی

 

غور کریں

 

ایک فہرست ہے لہراتی ہوئی طول طویل

کس کو چھوڑیں کسے لیں فیصلہ کس طور کریں

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

’’آپ ہی اپنی دواؤں پہ ذرا غور کریں ‘‘

سید مظہر عباس رضوی

 

بحر میں

 

(بحریہ ٹاؤن کے ایک مشاعرے میں )

شاعرِ نظمِ معریٰ کچھ تو کر پاسِ ادب

دھوم ہے تیری سخن آرائی کی ہر شہر میں

لہر میں جیسے سمندر کے ہے اک موسیقیت

’’بحریہ‘‘ میں تو کم از کم شعر کہہ دے بحر میں

سید مظہر عباس رضوی

 

نرس

 

ایک ہاہاکار ہے دیکھو جدھر

وارڈ سارا ہو گیا زیر و زبر

چیختی ہے نرس مردوں کی طرح

کیا کرے ہے نام میں موجود ’’ نر ‘‘

سید مظہر عباس رضوی

 

تازہ غزل

 

ہنستی ہے تو اب بھی دل میں رونق سی ہو جاتی ہے

گلشن گلشن اس کے آگے سب کچھ ماند تو اب بھی ہے

عمر کے کچھ اثرات ہیں ورنہ اور تو کوئی بات نہیں

پورا چاند رہی نہ شائد آدھا چاند تو اب بھی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

                اعظم نصرؔ

 

تازہ غزل

 

سارے اخبارات میں چھتی رہی تازہ غزل

پورے ستر سال ابا نے پڑھی تازہ غزل

تازگی میں ایک فیصد بھی کمی آئی نہیں

دس برس سے پڑھتا ہوں میں بھی وہی تازہ غزل

 

                احمدؔ علوی

 

حسرتِ ناتمام

 

ہماری عمر کے ہر ایک شوہر کی تمنا ہے

پلٹ آئیں سہانے دن بڑھاپا بھی سنبھل جائے

نیا سسٹم کوئی ایجاد ہو ایسا زمانے میں

پرانی والی بیوی سے نئی بیوی بدل جائے

احمدؔ علوی

 

افسوس

 

وہ ہو گئے ہیں بیوی کی خدمات پہ معمور

قاضی سے جو نکاح کے دو بول پڑھ گئے

تاریخ میں وہ نام ہوئے زندہ و جاوید

گھوڑی پہ جو چڑھے نہیں سولی پہ چڑھ گئے

احمدؔ علوی

 

ہوش باش

 

نہ کر غرور اسی پانچ سال پر اپنے

کہ اقتدار کا تختہ الٹ بھی سکتا ہے

جو آج شیر و شکر ہیں وہ کل کے دشمن تھے

یہ اتحاد ہے نازک سا بٹ بھی سکتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

                گوہر رحمان گہرؔ

 

ہاتھ کنگن کو آرسی کیا

 

کچھ زن مرید مل گئے، ہوٹل میں طے ہوا

کھانا وہی کھلائے گا شوہر جو شیر ہے

اتنے میں سب کی بیویاں بھی آ گئیں وہاں

کہنے لگیں کہ لاؤ جی ! اب کس کی دیر ہے ؟

٭٭٭

 

 

 

 

                ہاشم علی خان ہمدمؔ

 

ننگے پاؤں

 

لے کر چپل،   چور چلا جو سرعت سے

بھاگے اُس کے پیچھے پیچھے ننگے پاؤں

چوری ہوئی پاپوش نئی، مسجد سے پھول!

barefooted یعنی آئے ننگے   پاؤں

٭٭٭

 

 

 

 

                تنویر پھولؔ

 

سامان بھی گیا۔ ۔ ۔

 

مُلّا ہیں، کر کے بیٹھے ہیں وہ چار شادیاں

اُن کا پڑوس چھوڑ کے ہمسائیاں گئیں

مرغے کے پیچھے جاتی ہیں جس طرح مرغیاں

تایا کے پیچھے پیچھے سبھی تائیاں گئیں

تنویر پھولؔ

 

بھُول جا

 

اِک یار میرے کان میں کہتا ہے یہ سدا

پتی سے تیری،   دیکھ! جگر ہیرے کا کٹا

تو ہے جری،   دلاور و با حوصلہ بہت

تجھ سے یہ کہہ رہا ہوں کہ تن ویر! پھُول جا!

تنویر پھولؔ

 

ملک و ملت کے امیں

 

حال اپنا کیا بتائیں قوم کے یہ مذنبیں !

کوئی سکّہ، کوئی پائی، کچھ پراپرٹی نہیں

ملک میں دولت تھی جتنی، پارسل باہر ہوئی

کھا گئے سب لُوٹ کر یہ ملک و ملت کے امیں

تنویر پھولؔ

 

کیسے لگے؟

 

یار میرے ! تم تو کھاتے ہو سدا تکّہ کباب

آج دستر خوان پر آلو مٹر کیسے لگے؟

رہ گیا پنجرہ کھُلا،   بولو ذرا مُنّے میاں !

کھا گئی بلی اُسے، طوطے کے پر کیسے لگے

تنویر پھولؔ

 

تگڑم

 

یہ جڑواں بیگمات کا جنگی کمال ہے

تینوں میں تال میل کا ہونا محال ہے

بے جوڑ سا یہ خانگی تگڑم بطور خاص

سہ لخت ہائیکو کی مناسب مثال ہے

 

                ڈاکٹر عزیز فیصل

 

مجھے دے دو!

 

ہمیشہ مجھ سے کہتا ہے یہ رمضانی مجھے دے دو

تم اپنی بے وقوفی اور نادانی مجھے دے دو

نظر بیوی پہ جاتی ہے کوئی جب گنگناتا ہے

’’تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دو

٭٭٭

 

 

 

                احمدؔ علوی

 

پیاری بیوی

 

موٹی ہو کہ پتلی ہو، ہلکی ہو کہ بھاری ہو

بیوی وہ ہماری یا بیوی وہ تمہاری ہو

ہر عمر کے شوہر کا علویؔ ہے یہی کہنا

بیوی وہی پیاری جو اللہ کو پیاری ہو

احمدؔ علوی

 

بلائے آسمانی

 

نہیں محفوظ کوئی بھی ہے شوقِ شوہری جس کو

یہ آفت سب پہ آئی ہے یہ آفت سب پہ آنی ہے

سنا یہ ہے بنا کرتے ہیں جوڑے آسمانوں پر

تو یہ سمجھیں کہ ہر بیوی بلائے آسمانی ہے

احمدؔ علوی

 

سیلفی

 

کل غیر کے جوساتھ بنائی تھی آپ نے

ہر چند فیس بُک پہ وہ سیلفی سجائیے

لیکن جو ریزہ ریزہ ہوا ہے ہمارا دل

اُس پر بھی اپنے ہاتھ سے ایلفی لگائیے

خالد محمود

 

ہوشیار چور

 

مسرور تھا کہ ہو گئی پوری مری مراد

کل چور گھر میں گھس گئے دروازہ توڑ کے

علویؔ تمام چور تھے کس درجہ ہوشیار

سامان سارا لے گئے بیوی کو چھوڑ کے

احمدؔ علوی

 

برائلر

 

کس درجہ کمالات مشینوں نے کئے ہیں

انڈے نکل آئے، کبھی بچے نکل آئے

بچپن میں جو کھاتے تھے بہت پیار کی قسمیں

ہونے پہ جواں دونوں ہی مرغے نکل آئے

٭٭٭

 

 

 

                خالد محمود

 

انگلش سوٹ

 

اُس کے جب ٹو پیس انگلش سوٹ کی تعریف کی

کیا بلیک اس کا کلر، فیشن بھی ہے کس ڈھنگ کا

بولا وہ خاطر تواضع ہی نہ کر ڈالے پُلس

کوٹ میرا بھی وکیلوں سا ہے کالے رنگ کا

٭٭٭

 

 

 

 

                جواد حسن جوادؔ

 

گرفتاری

 

چلایا گرفتاری سے پہلے کوئی گنجا

پولیس جو لے جانے لگی اُس کو جکڑ کر

وِگ ہاتھ میں رہ جائے گی سمجھو تو خدارا

گاڑی میں نہ ٹھونسو مجھے بالوں سے پکڑ کر

جواد حسن جوادؔ

 

شکار

 

جو بھی کہنا ہے وہ اپنے خون سے لکھ بھیجنا

مجھ کو روکا ہے زبانی حالِ دل سے یار نے

خون کی یوں تو کمی ہو جائے گی یہ سوچ کر

جاتا ہوں بندوق سے پھر آج کوے مارنے

جواد حسن جوادؔ

 

ایکٹنگ

 

ایک میں ہوں آپ کی ایکٹنگ کا دل سے معترف

ہر جگہ تعریف کرتا ہوں بِلا خوف و خطر

ایک بیگم ہے جب اُس سے حالِ مجبوری کہو

جھٹ سے کہتی ہے کہ لا تنخواہ اداکاری نہ کر

جواد حسن جوادؔ

 

پی آر

 

ایک شاعر مجھ سے فرمانے لگے

شعر گوئی آپ پر جچتی نہیں

آپ کو شاعر کوئی کیسے کہے

آپ کی پبلک ریلیشن ہی نہیں

٭٭٭

 

 

 

                نوید ظفرؔ کیانی

 

اِس حمام میں

 

طمع کس کی ہے ہے خفتہ ہے اب تک

نظر کس کی ہے جو کانی نہیں ہے

کرپشن سب کی ظاہر ہو چکی ہے

یہ ٹوپی اب سلیمانی نہیں ہے

 

چھٹی حِس

 

ظفر آج بیوی پہ ہونے لگا

میاں جی کے غصے کا مورال اَپ

ضرور آج دفتر میں موصوف نے

لڑائی ہے لیڈی سٹینو سے گپ

 

سرزنش

 

شریفوں کے نہیں ہوتے ہیں یہ لچھن

کہے دیتا ہوں تجھ سے گالیاں نہ دے

میں تیرے کان جڑ سے کھینچ ڈالوں گا

ابے اُلو کے پٹھے گالیاں نہ دے

 

نسخہ

 

دِل کی تسکین بھی ہو جاتی ہے معدے کی طرح

چائے کے ساتھ اگر بات بنانا سیکھے

کامیابی اُسی بیوی کا مقدر ہو گی

خود کو جو ملکۂ جذبات بنانا سیکھے

 

فکرِ عافیت

 

گھر سے باہر خُوب پنگے کیجئے

گھر میں فکرِ عافیت ہی ٹھیک ہے

ذکر بیگم کا اگر مقصود ہے

ہجو میں تجریدیت ہی ٹھیک ہے

٭٭٭

تشکر: مدیر، جنہوں نے اس کی فائلیں فراہم کیں۔

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید