FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

ابدی زندگی اور اخروی حیات

مرتضی مطہری

 

 

معاد

    اسلامی تصور کائنات کے اصولوں  میں  سے ایک اصول جو دین اسلام کے ایمانی و اعتقادی ارکان میں  سے ایک رکن بھی ہے، جاوداں  زندگی اور اخروی حیات پر ایمان ہے۔ عالم آخرت پر ایمان مسلمان کی شرط ہے، جو شخص اس ایمان سے محروم ہو جائے یا اس کا انکار کر دے، تو وہ مسلمانوں  کی صف سے خارج ہے۔

    اصول توحید کے بعد جس اہم ترین اصول کی طرف اللہ کے نبیوں  نے (بلااستثناء) متوجہ کیا ہے اور اس پر ایمان لانے کا کہا ہے، یہی اصول ہے، جو مسلمان متکلمین کے نزدیک “اصول معاد” کے نام سے مشہور ہے۔

    قرآن کریم میں  سینکڑوں  آیات ایسی ہیں، جن میں  کسی نہ کسی طرح سے موت کے بعد والے عالم اور روز قیامت، حشر و نشر کی کیفیت، میزان، حساب، ضبط اعمال، بہشت، جہنم اخروی، حیات کی جاودانی اور بعد از موت کے باقی مسائل کے بارے میں  بحث کی گئی ہے۔

    لیکن ۱۲ آیات میں  صراحتاً خدا پر ایمان لانے کے بعد روز قیامت پر ایمان کا ذکر کیا گیا ہے۔

    قیامت کے بارے میں  قرآن میں  مختلف عبارتیں  ہیں  اور ہر عبارت معرفت کا ایک باب ہے۔ ایک عبارت “الیوم الاخر” ہے، اس عبارت سے قرآن ہمیں  دو نکات کی یاد دہانی کرا رہا ہے :

    (الف) اول یہ کہ حیات انسان بلکہ دنیا کی زندگی دو ادوار میں  تقسیم ہوتی ہے، ہر دور کو ایک روز کہا جا سکتا ہے۔ ایک وہ دن اور دور ہے، جو اول اور ابتداء ہے۔ جس نے ختم ہو جانا ہے، یعنی دنیا کا دور، دوسرا وہ دن اور دور ہے، جو آخر ہے، جس کی کوئی انتہا نہیں  یعنی آخرت کا دور۔

    (ب) دوم یہ کہ چونکہ اس وقت ہم حیات کے پہلے دور کو طے کر رہے ہیں  اور دوسرے دور اور دوسرے دن تک نہیں  پہنچے اور وہ ہم سے پوشیدہ ہے، لہٰذا اس دن اور اس دن میں  ہماری سعادت و خوش بختی اسی میں  ہے کہ آج ہم اس آنے والے دن پر ایمان لے آئیں۔

    اس دور اور اس دن میں  ہماری سعادت اس لئے ایمان پر منحصر ہے کہ ایمان ہمیں  اعمال کے نتیجے کی طرف متوجہ کرتا ہے اور ہم یہ سمجھ لیتے ہیں  کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے خیالات، اعمال، اقوال، رفتار و کردار، اخلاق اور عادات بلکہ تمام صفات کا اور خود ہمارا بھی ایک روز اول ہے اور ایک روز آخر، ایسا نہیں  کہ روز اول میں  یہ سب ختم ہو جائیں  اور معدم ہوں، بلکہ باقی رہیں  گے اور روز آخر میں  ان کا حساب ہو گا۔

    لہٰذا ہمیں  اپنے آپ اور اپنے اعمال اور نیتوں  کو نیک کرنا چاہئے اور برے کاموں  اور غلط خیالات سے پرہیز کرنا چاہئے اور اس طرح ہمیشہ ہمیں  نیکی، نیک خوئی و نیک چال چلن کی راہوں  پر گامزن رہنا چاہئے۔

    ہماری سعادت روز آخر میں  اس لئے ایمان پر منحصر ہے کہ عالم آخر میں  انسان کی نیک اور سعادت مند زندگی یا بری اور شقاوت آلود زندگی کا باعث اس دنیا میں  اس کے انجام دیئے ہوئے اعمال اور کردار ہیں۔

    اسی لئے قرآن کریم روز آخر یا آخرت پر ایمان کو سعادت بشر کے لئے لازم و حتمی قرار دیتا ہے۔

حیات اخروی پر ایمان کی بنیاد

    جاوداں  زندگی اور اخروی حیات پر ایمان کا مآخذ دوسری ہر چیز سے پہلے اللہ کی طرف سے وحی ہے جو انبیاء کے توسط سے انسان تک پہنچی ہے۔ جب انسان نے معرفت خدا کے بعد پیغمبران خدا کی سچائی کا یقین کر لیا اور یہ جان لیا کہ پیغمبر جو کچھ قطعی کے طور پر کہتے ہیں، وہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے، اس کا خلاف واقع ہونا ممکن نہیں، تو وہ قیامت اور اخروی جاوداں  حیات پر ایمان لے آتا ہے، کیونکہ تمام انبیاء و رسل کے نزدیک اس پر ایمان لانا توحید کے بعد اسلام کا اہم ترین اصول ہے، لہٰذا حیات اخروی پر ہر فرد کے ایمان کے درجہ کا تعلق ایک طرف تو اس بات سے ہے کہ اس کا ایمان نبوت کے اصول پر کس قدر ہے اور وہ کس قدر نبی کی سچائی اور صدق گفتار کا قائل ہے۔ دوسری طرف اس کا تعلق اس امر سے ہے کہ اس کی معرفت کی سطح کس قدر بلند ہے۔ معاد اور آخرت کے متعلق اس کا تصور کس قدر صحیح، معقول اور عقل کے نزدیک پسندیدہ ہے اور کہیں  جاہلانہ تصورات اور عامیانہ خیالات نے اسے متاثر تو نہیں  کیا؟ البتہ وحی الٰہی کے علاوہ بھی جس کی خبر انسان کو انبیاء کے ذریعے سے ہوئی ہے، کچھ راہیں  قرائن اور علامات کی ہیں، جن کی وجہ سے معاد کے وجود کا اعتقاد اور اس پر ایمان پیدا کیا جا سکتا ہے۔ یہ راہیں  اور قرائن انسان کی فکری، عقلی اور عملی کاوشوں  کا نتیجہ ہیں  اور ان راہوں  اور قرائن کو کم از کم انبیاءکے فرامین کا موید قرار دیا جا سکتا ہے، جو یہ ہیں :

    ۱۔ خدا شناسی کا طریقہ

    ۲۔ انسانی روح اور نفس کی شناخت کا راستہ

    فی الحال ہم ان قرائن سے معترض نہیں  ہونا چاہتے کیونکہ اس کا لازمہ یہ ہو گا کہ کچھ خاص قسم کی علمی و فلسفی بحثیں  سامنے آئیں  گی، لہٰذا ہم صرف وحی اور نبوت کے ذریعے معاد کے بارے میں  گفتگو کریں  گے، لیکن چونکہ خود قرآن میں  ان راہوں  کے بارے میں  صراحت یا اشارے پائے جاتے ہیں، لہٰذا ہم ان کا ذکر بعد میں  “اخروی دنیا کے متعلق قرآن کا استدلال” کے عنوان کے تحت کریں  گے۔ وہ مسائل جن کے بارے میں  بحث ضروری ہے تاکہ معاد اور جاوداں  زندگی کا مسئلہ اسلامی نقطہ گاہ سے واضح ہو جائے، درج ذیل ہیں :

    ۱۔ موت کی ماہیت

    ۲۔ موت کے بعد کی زندگی

    ۳۔ عالم برزخ

    ۴۔ قیامت کبریٰ

    ۵۔ دنیوی زندگی کا اخروی زندگی سے رابطہ

    ۶۔ انسانی اعمال کا مجسم اور جاوداں  ہونا

    ۷۔ دنیوی زندگی اور اخروی زندگی میں  مشترکہ اور مختلفہ امور

    ۸۔ اخروی دنیا کے متعلق قرآنی استدلات

۱۔ موت کی ماہیت

    موت کیا ہے ؟ کیا موت نیستی، نابودی، فنا اور انہدام کا نام ہے یا تحول و تغیر اور ایک جگہ سے دوسری جگہ انتقال اور ایک عالم سے دوسرے عالم میں  منتقلی کو موت کہتے ہیں ؟

    یہ سوال شروع سے بشر کے سامنے تھا اور ہے، ہر شخص اس کا براہ راست جواب جاننا چاہتا ہے یا دیئے گئے جوابات پر ایمان اور اعتقاد پیدا کرنا چاہتا ہے۔

    ہم مسلمان قرآن پر ایمان اور اعتقاد رکھتے ہیں، اس لئے اس سوال کا جواب بھی قرآن ہی سے حاصل کرتے ہیں  اور جو کچھ اس نے اس بارے میں  کہا ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں۔

    قرآن کریم نے موت کی ماہیت سے متعلق ایک خاص عبارت میں  خصوصی جواب دیا ہے۔

    قرآن کریم نے موت کے بارے میں  لفظ توفیٰ استعمال کیا ہے اور موت کو “توفیٰ” قرار دیا ہے۔

    توفیٰ اور استیفاء دونوں  کا مادہ “وفاء” ہے۔

    جب کوئی کسی چیز کو پورا پورا اور کامل طور پر بغیر کم و کاست کے حاصل کر لے، تو عربی میں  اس کے لئے لفظ توفیٰ استعمال کیا جاتا ہے۔

    عربی میں  “توفیت المال” کا مطلب ہے کہ میں  نے تمام مال بغیر کمی بیشی کے پا لیا۔

    قرآن کریم کی چودہ آیات میں  موت کے لئے لفظ توفیٰ استعمال ہوا ہے، ان تمام آیات سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ موت قرآن کی نظر میں  قبضے میں  لینا ہے، یعنی انسان موت کے وقت اپنی تمام شخصیت اور حقیقت سمیت اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتوں  کی تحویل میں  چلا جاتا ہے اور وہ انسان کو اپنے قبضے میں  لے لیتا ہے۔

    قرآن کے اس بیان سے ذیل کے مطالب اخذ ہوتے ہیں :

    (الف) مرگ، نیستی، نابودی اور فنا نہیں  بلکہ ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف انتقال ہے اور ایک زندگی سے دوسری زندگی کی طرف منتقلی ہے، جس سے حیات انسانی ایک اور شکل میں  جاری رہتی ہے۔

    (ب) وہ چیز جو انسان کی حقیقی شخصیت کو تشکیل دیتی ہے اور اس کی حقیقی “میں ” (خودی) شمار ہوتی ہے، وہ بدن اور اس کے مختلف حصے وغیرہ نہیں  کیونکہ بدن اور اس کے اعضاء کسی اور جگہ منتقل نہیں  ہوتے بلکہ رفتہ رفتہ اسی دنیا میں  گل سڑ جاتے ہیں۔ جو چیز ہماری حقیقی شخصیت کو بناتی ہے اور ہماری حقیقی “میں ” سمجھی جاتی ہے، وہی ہے جسے قرآن میں  کبھی نفس اور کبھی روح سے تعبیر کیا گیا ہے۔

    (ج) روح یا نفس انسانی جسے انسان کی شخصیت کا حقیقی معیار قرار دیا گیا ہے اور جس کی جاودانی ہی سے انسان جاوداں  ہے۔ مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے مادہ اور مادیات کے افق سے بہت بالا ہے۔ روح یا نفس اگرچہ طبیعت کے کمال جوہری کا ماحصل ہے، لیکن چونکہ طبیعت، جوہری تکامل کے نتیجے میں  روح یا نفس میں  تبدیل ہوتی ہے، لہٰذا اس کا مرتبہ اور حقیقی مقام تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ ایک اعلیٰ سطح پر قرار پاتی ہے، یعنی اس کی جنس کو ماوراء طبیعت عالم سے شمار کیا جاتا ہے، موت کی وجہ سے روح یا نفس عالم مادی سے عالم روح کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں  میں  موت کے وقت اس ماوراء مادہ حقیقت کو واپس اپنی تحویل میں  لے لیا جاتا ہے۔ قرآن کریم کی بعض ایسی آیتیں  جن میں  انسانی خلقت کے بارے میں  گفتگو کی گئی ہے اور وہ معاد اور اخروی زندگی سے متعلق نہیں، اس چیز کی نشاندہی کی ہے کہ انسان میں  آب و گل کی جنس سے ماوراء ایک اور حقیقت موجود ہے۔ آدم اول کے بارے میں  ارشاد ہوتا ہے :

    ونفخت فیہ من روحی(سورۂ حجر، آیت ۲۹)

    “ہم نے اپنی روح سے اس میں  پھونکا۔ “

    روح، نفس اور موت کے بعد روح کی بقاء کا مسئلہ معارف اسلامی کے بنیادی مسائل سے ہے۔

    ناقابل انکار معارف اسلامی کا تقریباً نصف حصہ، روح کی اصالت، بدن سے اس کا استقلال اور موت کے بعد روح کی بقاء پر ہے، جس طرح سے انسانیت اور حقیقی انسانی قدریں  بھی اسی حقیقت پر استوار ہیں  اور اس کے بغیر یہ سب چیزیں  وہم محض ہی ہیں۔ تمام ایسی قرآنی آیات جو موت کے فوراً بعد زندگی پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں، سب اس بات کی دلیل ہیں  کہ قرآن روح کو بدن سے مستقل اور فناء بدن کے بعد اسے باقی تصور کرتا ہے۔ ان میں  سے بعض آیات کا تذکرہ بعد میں  کیا جائے گا۔ بعض لوگوں  کا نظریہ ہے کہ قرآن کی رو سے روح یا نفس کچھ بھی نہیں، انسان مرنے کے بعد ختم ہو جاتا ہے، یعنی موت کے بعد شعور، ادراک، خوشی و تکلیف نام کی کوئی چیز باقی نہیں  رہتی، البتہ جب قیامت کبریٰ کا وقوع ہو گا اور انسان کو نئی زندگی ملے گی، تب انسان اپنا اور دنیا کا شعور پائے گا۔

    لیکن وہ آیات جو صراحتاً موت کے فوراً بعد کی زندگی کو بیان کرتی ہیں۔ اس نظریے کے باطل ہونے پر قطعی دلیل ہیں۔ ان لوگوں  کا خیال ہے کہ روح کے قائلین کی دلیل صرف “قل الروح من امر ربی” والی آیت ہے۔ ان لوگوں  کا کہنا ہے کہ قرآن میں  کئی جگہ لفظ روح استعمال ہوا ہے، اس سے مراد کچھ اور ہے۔ یہ آیت بھی اسی معنی پر دلالت کر رہی ہے۔

    یہ لوگ نہیں  جانتے کہ قائلین روح کی دلیل یہ آیت نہیں  بلکہ تقریباً ۲۰ دوسری آیات ہیں، البتہ یہ آیت دوسری آیات کی مدد سے جن میں  روح کا ذکر مطلق آیا ہے یا روح کے ساتھ اور کوئی قید جیسے “روحنا”، “روح القدس”، “روحی”، “روح من امرنا” وغیرہ، لیکن اسی طرح سے انسان کے بارے میں  نازل شدہ آیات “ونفخت فیہ من روحی” بھی نشاندہی کر رہی ہے کہ قرآن کی نظر میں  ایک حقیقت ایسی موجود ہے جو ملائکہ اور انسان سے اعلیٰ و ارفع ہے، جسے روح کہتے ہیں۔ ملائکہ اور انسان کی واقفیت امری یعنی روح اسی کے فیض اور اذن کا نتیجہ ہے۔

    روح سے متعلق تمام آیات اور آیت “و نفخت فیہ من روحی” جو انسان کے بارے میں  نازل ہوئی ہیں، نشان دہی کر رہی ہیں  کہ انسانی روح ایک غیر معمولی حقیقت ہے۔ (تفسیرالمیزان، جلد ۱۳، ص ۱۹۵، آیت: وقل الروح من امر ربی اور جلد ۳، ص ۲۷۵، آیت: یوم یقوم الروح و الملائکة صفا کی تفسیر دیکھئے)

    فقط قرآن ہی متعدد آیات میں  اصالت روح پر دلالت نہیں  کرتا بلکہ کتب حدیث، دعا اور نہج البلاغہ میں  رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اطہار علیہم السلام نے بھی متواتراً اس بات کی تائید کی ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ روح کا انکار مغرب کا ایک متعفن اور کثیف خیال ہے، جس کا سرچشمہ ان کی مادیت اور محسوسات کی طرف میلان ہے۔

    افسوس ہے کہ قرآن کریم کے بعض حسن نیت رکھنے والے پیروکاروں  کو بھی یہ خیال دامن گیر ہو چکا ہے۔

    اب ہم نمونہ کے طور پر ان چند آیات کا ذکر کریں  گے، جن میں  موت کو توفیٰ سے تعبیر کیا گیا ہے، ان میں  سے بعض آیات میں  بلا فاصلہ موت کے بعد کچھ بنیادی اعمال کو انساں  سے نسبت دی گئی ہے (جیسے مکالمہ، تمنا اور تقاضے) ان چار آیات میں  سے تین کا ہم ذکر کریں  گے، جن میں  “توفیٰ” استعمال کیا گیا ہے :

     ان الذین توفھم الملائکة ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض، قالو الم تکن ارض اللہ واسعة فتھا جروا فیھا فا اولئک ماوا ھم جھنم وساءت مصیراً(سورۂ نساء، آیت ۹۸)

    “بیشک ان لوگوں  کو جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے، فرشتوں  (خدا کے بھیجے ہوئے مامورین) نے کامل طور پر اپنے قبضے میں  لیا۔ فرشتوں  نے ان سے پوچھا: یہ تم کس حال میں  مبتلا تھے، وہ کہیں  گے کہ ہم زبوں  حال لوگ محیط اور معاشرے کے زیردست اور محکوم تھے، فرشتوں  نے ان سے پوچھا: کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں  ہجرت کرتے ؟ یہ وہ لوگ ہیں  جن کا ٹھکانہ جہنم اور ان کا انجام برا ہے۔ “

    یہ آیت ان لوگوں  کے بارے میں  ہے جو کہ نامساعد حالات میں  زندگی گذار رہے تھے۔ جب کہ کچھ لوگ ان حالات اور معاشرے کو اپنی مرضی سے چلا رہے تھے اور یہ کمزور لوگ اپنے محیط اور معاشرے کے محکوم تھے۔ اب اسی بات کو بطور عذر پیش کر رہے ہیں  کہ حالات نامساعد تھے، معاشرہ فاسد تھا اور ہم کچھ کر نہیں  سکتے تھے۔ یہ لوگ بجائے اس کے کہ اپنے معاشرے اور محیط کو تبدیل کریں  اور اگر تبدیل کرنے کی طاقت نہیں  رکھتے، تو خود کو ایسے فاسد معاشرے کی دلدل سے بچانے کی کوشش کریں  اور کسی بہتر اور اچھے محیط و معاشرہ میں  چلے جائیں، جبکہ وہ اسی معاشرے میں  رہے اور اپنے آپ کو اسی معاشرے کے حالات کے سپرد کر دیا اور معاشرے کی برائیوں  میں  غرق ہو گئے۔ اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ان کو اپنی تحویل میں  لینے کے بعد ان سے گفتگو کر رہے ہیں  اور ان کے عذر کو ناقابل قبول قرار دے رہے ہیں، کیونکہ انہوں  نے کم از کم وہ کام بھی انجام نہ دیا، جو ان کے بس میں  تھا، یعنی کسی بہتر معاشرے کی طرف ہجرت نہیں  کی، فرشتے انہیں  سمجھا رہے ہیں  کہ جو ظلم تم پر ہوا اس کے ذمہ دار خود تمہی ہو، یعنی اپنے گناہوں  کے مسئول تم خود ہو۔

    قرآن کریم اس آیت میں  ہمیں  یاد دلا رہا ہے کہ (کسی معاشرے میں) بیچارگی اور ناتوانی قابل قبول عذر نہیں  بن سکتی، مگر یہ کہ ہجرت اور کسی اور علاقے میں  چلے جانے کے دروازے بھی بند ہوں، جیسا کہ نظر آ رہا ہے، اس آیت کریمہ میں  موت کو کہ جو ظاہر میں  نیستی، نابودی اور ختم ہونا ہے۔

    توفیٰ یعنی تحویل میں  لینے اور مکمل طور پر پا لینے سے تعبیر کیا گیا ہے اور نہ صرف یہ تعبیر بلکہ باقاعدہ طور پر موت کے فرشتوں  اور انسان کے درمیان مکالمہ، گفتگو اور احتجاج کے بارے میں  بات ہو رہی ہے۔ واضح ہے کہ اگر انسان کی حقیقت باقی نہ ہو اور انسان کی تمام تر حقیقت لاشہ بے حس و شعور سے عبارت ہو، تو مکالمہ کوئی معنی نہیں  رکھتا۔

    یہ آیت ہمیں  سمجھا رہی ہے کہ انسان جب اس جہان اور اس عالم سے چلا جاتا ہے، تو ایک اور طرح کی آنکھ، کان اور زبان کے ذریعے سے ایک نامرئی مخلوق یعنی فرشتوں  سے گفت و شنید کرنے میں  مشغول ہو جاتا ہے۔

    (۲) وقالوا اذا ضللنا فی الارض ائنالفی خلق جدید بل ھم بلقاء ربھم کافرون، قل یتوفا کم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الی ربکم ترجعون(سورۂ سجدہ، آیت ۱۱)

    “انہوں  نے کہا کہ جب ہم مٹی میں  مل چکے ہوں  گے، تو کیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کئے جائیں  گے ؟ (یہ باتیں  بہانہ ہیں) حقیقت یہ ہے یہ (ازروئے عناد) اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ کہہ دو موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، تم کو پورے کا پورا اپنے قبضے میں  لے لے گا، پھر تم اپنے رب کی طرف پلٹا دیئے جاؤ گے۔ “

    اس آیت میں  قرآن کریم، معاد اور حیات اخروی کے منکرین کے ایک اعتراض اور اشکال کو ذکر کر کے اس کا جواب دے رہا ہے۔

    اشکال یہ ہے کہ “موت کے بعد ہمارا ہر ذرہ نابود ہو گا اور ہمارا کوئی نشان باقی نہیں  رہے گا” تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں۔

    قرآن ان اعتراضات کو از روئے عناد اور انکار، بہانہ بازی قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ تمہارے مدعا کے برعکس تمہاری حقیقت اور واقعیت وہ نہیں، جسے تم سمجھتے ہو کہ مٹ جاتا ہے، بلکہ تم تو اپنی تمام تر حقیقت اور واقعیت کے ساتھ اللہ کے فرشتے کی تحویل میں  چلے جاتے ہو۔

    معترضین کے “فنا اور نابود” ہونے سے مراد یہ ہے کہ ہمارے بدن کا ہر ذرہ اس طرح بکھر جاتا ہے کہ اس کا کوئی اثر باقی نہیں  رہتا، پھر ایسے بدن کو دوبارہ کیسے زندہ کیا جا سکتا ہے ؟

    عیناً یہی اعتراض یعنی اجزائے بدن کا متفرق اور گم ہو جانا قرآن کریم کی دوسری آیات میں  بھی مذکور ہے اور اس کا دوسرا جواب بھی دیا گیا ہے، وہ یہ کہ اس طرح کا گم ہونا آپ کی نظر میں  گم ہونا ہے، بشر کے لئے مشکل بلکہ ناممکن ہے کہ ان ذرات کو جمع کر لے، مگر خدا کے لئے مشکل نہیں، جس کا علم قدرت لامتناہی ہے۔

    مذکورہ آیات میں  منکرین کی گفتگو براہ راست اجزائے بدن کے بارے میں  ہے کہ کیسے اور کہاں  سے جمع ہو سکیں  گے ؟ لیکن یہاں  اور جواب دیا ہے کیونکہ یہاں  سوال صرف یہ نہیں  کہ اجزائے بدن نابود ہوں  گے اور ان کا کوئی نام و نشان نہیں  ملے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اجزائے بدن کے گم ہو جانے سے “ہم” گم ہو جائیں  گے اور پھر “میں ” اور “ہم” کا وجود کہیں  نہیں  رہے گا۔ دوسرے لفظوں  میں  معترضین کا اشکال یہ ہے کہ اجزائے بدن کے نابود ہونے سے ہماری حقیقت واقعیہ معدوم ہو جائے گی۔

    قرآن جواب میں  یوں  فرما رہا ہے “تمہارے گمان کے برخلاف” تمہاری حقیقی اور واقعی شخصیت کبھی گم ہی نہیں  ہوتی، جو تلاش کی ضرورت پڑے، وہ تو پہلے ہی سے اللہ کے فرشتوں  کے قبضے میں  ہوتی ہے۔

    اس آیت میں  بھی کمال صراحت کے ساتھ انسان کے اجزائے بدن کے فنا ہونے کے باوجود اس کی حقیقت واقعیہ یعنی روح کی موت کے بعد بقاء کا تذکرہ ہے۔

    (۳) اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منا مہا فیمسک التی قضیٰ علیھا الموت و یرسل الاخری الیٰ اجل مسمیٰ ان فی ذالک لآیات لقوم یتفکرون    (سورۂ زمر، آیت ۴۲)

    “خداوند عالم نفسوں  کو موت کے وقت اور جو ابھی نہیں  مرا، اسے نیند کے موقع پر مکمل طور پر اپنے قبضے میں  لے لیتا ہے، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے، اسے روک لیتا ہے اور دوسروں  کو ایک معین وقت تک کے لئے واپس بھیج دیتا ہے۔ اس میں  فکر کرنے والی قوم کے لئے بہت سی نشانیاں  ہیں۔ “

    یہ آیت نیند اور موت میں  مشابہت کو بیان کر رہی ہے۔ ضمنی طور پر بیداری اور اخروی حیات میں  مشابہت کا بھی ذکر ہو رہا ہے۔

    نیند، خفیف اور چھوٹی موت ہے اور موت، شدید اور بڑی موت ہے، دونوں  مراحل میں  انسانی روح اور نفس کا ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف انتقال ہے۔

    اس فرق کے ساتھ کہ نیند کی حالت میں  انسان غالباً غفلت میں  ہوتا ہے اور بیداری کے بعد اسے نہیں  معلوم ہوتا کہ حقیقتاً وہ ایک سفر سے لوٹا ہے، موت کی حالت کے برعکس کہ جس میں  ہر چیز اس پر واضح ہوتی ہے۔

    تینوں  آیات میں  سے کاملاً سمجھا جا سکتا ہے کہ موت کی حقیقت قرآن کی رو سے نیستی، نابودی اور فنا ہونا نہیں  بلکہ ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف انتقال ہے۔ ضمنی طور پر نیند کی ماہیت اور حقیقت بھی قرآنی نکتہ نگاہ سے واضح ہو گئی ہے کہ نیند اگرچہ جسمی و ظاہری لحاظ سے طبیعت کی قوتوں  کی تعطیل کا نام ہے، لیکن روحانی اور نفس کے لحاظ سے باطن و ملکوت کی طرف ایک طرح کا رجوع اور گریز ہے۔

    سائنس کی نظر میں  نیند کا مسئلہ بھی موت کے مسئلہ کی طرح مجہول الحقیقت ہے، اس سلسلے میں  سائنس صرف یہ کہتی ہے کہ نیند جسمانی انفعالات کا نام ہے، جو بدن کے قلمرو میں  متشکل ہوتے ہیں۔

۲۔ موت کے بعد کی زندگی

    کیا انسان موت کے بعد ایک دم عالم قیامت میں  داخل ہو گا اور معاملہ ختم ہو جائے گا یا موت اور قیامت کے مابین ایک خاص عالم کو طے کرے گا اور جب قیامت کبریٰ برپا ہو گی، تو عالم قیامت میں  داخل ہو گا؟

    اس کا علم صرف خدا کو ہے کہ قیامت کبریٰ کب برپا ہو گی؟ انبیاء اور رسل نے بھی اس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

    قرآن کریم کے نصوص، حضرت رسول اعظم اور آئمہ اطہار علیہم السلام سے منقول متواتر اور ناقابل انکار احادیث و روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی موت کے فوراً بعد قیامت کبریٰ میں  داخل نہیں  ہو گا، کیونکہ قیامت کبریٰ تمام ذہنی، زمینی اور آسمانی موجودات جیسے پہاڑ، دریا، چاند، سورج، ستارے اور کہکشاں  میں  ایک کلی انقلاب اور مکمل تبدیلی کے ہمراہ ہو گی، یعنی قیامت کبریٰ کے موقع پر کوئی چیز بھی اپنی موجودہ حالت پر برقرار نہیں  رہے گی۔ علاوہ ازیں  قیامت کبریٰ میں  اولین و آخرین سب جمع ہوں  گے، جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں، ابھی نظام عالم برقرار ہے اور شاید لاکھوں  بلکہ کروڑوں  سال قائم رہے اور اربوں  انسان ایک دوسرے کے بعد اس دنیا میں  آئیں۔ اسی طرح قرآن کریم کی رو سے (جیسے بعض آیات سے معلوم ہوا، جن کا ذکر بعد میں  ہو گا) کوئی بھی شخص ایسا نہیں، جس کی عمر قیامت کبریٰ اور موت کے درمیانی فاصلے میں  سکوت اور بے حسی میں  گذر جائے۔ یعنی ایسا نہیں  کہ مرنے کے بعد انسان نیم بے ہوشی کی حالت میں  ہو، کسی چیز کو محسوس کرے اور نہ لذت ہو نہ الم نہ اسے سرور حاصل ہو سکے، نہ ہی غم و اندوہ بلکہ مرنے کے بعد انسان فوراً حیات کے ایسے مرحلہ میں  داخل ہوتا ہے کہ کچھ چیزوں  سے اسے لذت حاصل ہوتی ہے اور کچھ سے تکلیف، البتہ اس لذت و الم کا ربط اس کے دنیوی افکار، اعمال اور اخلاق سے ہے۔ قیامت کبریٰ تک یہ مرحلہ جاری رہتا ہے، لیکن جب آن واحد میں  ایک کلی انقلاب اور تبدیلی تمام عالم کو اپنی لپیٹ میں  لے لے گی اور دور ترین ستاروں  سے لے کر ہماری زمین تک ہر چیز اس انقلاب اور تبدیلی کی زد میں  ہو گی، تب یہ مرحلہ یا یہ عالم جو سب کے لئے دنیا و قیامت کے درمیان حد فاصل کی حیثیت رکھتا تھا، اختتام پذیر ہو گا، لہٰذا قرآن کریم کی نظر میں  موت کے بعد کے عالم میں  دو مرحلے ہوں  گے۔ دوسرے لفظوں  میں  مرنے کے بعد انسان دو مراحل طے کرے گا۔

    ایک عالم برزخ جو عالم دنیا کی طرح ختم ہو جائے گا اور دوسرا عالم قیامت کبریٰ جو کبھی بھی ختم نہیں  ہو گا۔

    اب ہم برزخ اور عالم قیامت کے بارے میں  مختصر سی گفتگو کریں  گے۔

۳۔ عالم برزخ

    اگر دو چیزوں  کے درمیان کوئی چیز حائل ہو جائے، تو اسے برزخ کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے موت اور قیامت کے درمیان کی زندگی کو عالم برزخ سے تعبیر کیا ہے۔

    حتی اذا جاء احدھم الموت قال رب ارجعون لعلی اعمل صالحا فی ماترکت کلا انھا کلمة ھو قآئلھا و من و رائھم برزخ الی یوم یبعثون    (سورۂ مومنون، آیت ۱۰۰)

    “جب ان میں  سے کسی ایک کے پاس موت آئے گی، تو وہ عرض کرے گا بار الہا! مجھے پلٹا دے تاکہ جو اعمال صالح ترک کئے ہیں، ان کو بجا لاؤں  ہرگز نہیں  یہ تو وہ زبانی گفتگو ہے، جس کا قائل وہ ہے اور اس کے پیچھے برزخ اور فاصلہ ہے، اس دن تک جب یہ اٹھائے جائیں  گے۔ “

    قرآن کریم میں  یہی ایک آیت ہے، جس میں  موت اور قیامت کے درمیانی فاصلہ کو برزخ سے تعبیر کیا گیا ہے، اسی آیت سے استفادہ کرتے ہوئے علماء اسلام نے دنیا اور قیامت کبریٰ کے درمیانی عالم کا نام برزخ رکھا ہے۔ اس آیت میں  موت کے بعد زندگی کے دوام کا ذکر بس اتنا ہی ہے کہ کچھ انسان مرنے کے بعد اظہار پشیمانی کرتے ہوئے درخواست کریں  گے کہ ایک دفعہ دنیا میں  پھر لوٹائے جائیں، لیکن انکار کر دیا جائے گا۔

    یہ آیت صراحتاً بتا رہی ہے کہ موت کے بعد انسان کی ایک خاص قسم کی زندگی ہوتی ہے، جس میں  رہتے ہوئے وہ واپسی کی خواہش کرتا ہے، لیکن اسے رد کر دیا جاتا ہے۔

    قرآن کریم میں  ایسی آیتیں  زیادہ ہیں، جو دلالت کرتی ہیں  کہ موت اور قیامت کے درمیانی فاصلے میں  انسان ایک خاص قسم کی زندگی رکھتا ہے، جس میں  اس کے محسوس کرنے کی قوت میں  شدت آ جاتی ہے، وہ گفت و شنید کرتا ہے، اسے لذت، رنج، سرور اور غم بھی ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اسے ایسی زندگی نصیب ہوتی ہے، جس میں  سعادت کی آمیزش ہوتی ہے، قرآن کریم میں  مجموعی طور پر تقریباً ۱۵ آیتیں  ایسی ہیں، جو زندگی کی کسی نہ کسی صورت کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں  کہ انسان قیامت اور موت کے درمیانی عرصے میں  ایک مکمل زندگی رکھتا ہے۔

    ان آیتوں  کی کئی اقسام ہیں :

    ۱۔ وہ آیات جن میں  صالح اور نیک انسانوں  یا بدکار اور فاسد انسانوں  کی اللہ کے فرشتوں  سے بات چیت کا ذکر ہے، جو مرنے کے فوراً بعد ہو گی، اس قسم کی آیات کی تعداد کافی ہے، سورۂ نساء کی آیہ نمبر ۹۷ اور سورۂ مومنون کی آیت نمبر ۱۰۰ جن کا ذکر مع ترجمہ پہلے ہو چکا ہے، اسی قسم میں  سے ہیں۔

    ۲۔ ایسی آیات جو مندرجہ بالا مفہوم کے علاوہ کہتی ہیں  کہ فرشتے نیک اور صالح انسانوں  سے اس گفتگو کے بعد کہیں  گے کہ بعد ازیں  الٰہی نعمتوں  سے فائدہ اٹھاؤ یعنی انہیں  قیامت کبریٰ کی آمد تک منتظر نہیں  رکھا جاتا، ذیل کی دو آیات اسی مطلب پر مشتمل ہیں :

    (الف) الذین تتوفا ھم الملائکة طیبین یقولون سلام علیکم ادخلوا الجنة بما کنتم تعملون    (سورۂ نحل، آیت ۳۲)

    “وہ لوگ جنہیں  پاکیزگی کی حالت میں  فرشتے اپنی تحویل میں  لیتے ہیں، فرشتے ان سے کہیں  گے آپ پر سلام ہو، بے شک اپنے اچھے کردار کی وجہ سے جنت میں  داخل ہو جایئے۔ “

    (ب) قیل ادخل الجنہ قال یالیت قومی یعلمون بما غفرلی ربی و جعلنی من المکرمین    (سورۂ یس، آیات ۲۶۔ ۲۷)

    “(مرنے کے بعد) اس سے کہا جائے گا، بہشت میں  داخل ہو جاؤ وہ کہے گا، اے کاش! جن لوگوں  نے میری بات نہیں  سنی، اب جان لیتے کہ میرے پروردگار نے مجھے کیسے بخش دیا اور اپنے معزز بندوں  میں  سے قرار دیا ہے۔ “

    اس سے پہلے کی آیات میں  مومن آل یسن کی اپنی قوم کے ساتھ گفتگو کا ذکر ہے۔

    جس میں  وہ لوگوں  کو شہر انطاکیہ میں  ان انبیاء کا کہہ رہا ہے، جو عوام الناس کو غیر خدا کی عبادت سے منع کرتے اور خدا کی مخلصانہ عبادت کی طرف دعوت دیتے تھے، اس کے بعد یہ مومن اپنے ایمان و اعتقاد کا اظہار کر کے کہہ رہا ہے کہ میری بات سنو اور میرے راستے پر عمل کرو۔ ان آیات میں  ارشاد ہوتا ہے کہ لوگوں  نے اس کی بات کو نہ سنا، حتیٰ کہ وہ اگلے جہان میں  چلا گیا۔ اگلے جہاں  میں  اپنے بارے میں  مغفرت و کرامات الٰہی کے مشاہدہ کے بعد اس نے آرزو کی کہ

    “اے کاش! میری قوم جو اس وقت دار دنیا میں  ہے، میری یہاں  کی سعادت مند کیفیت کا مشاہدہ کر سکتی۔ “

    واضح رہے کہ یہ تمام حالات قیامت کبریٰ سے قبل کے ہیں  کیونکہ قیامت کبریٰ میں  اولین و آخرین سب جمع ہوں  گے اور روئے زمین پر کوئی بھی باقی نہیں  ہو گا۔

    ضمناً اس نکتہ کو سمجھ لیں  کہ مرنے کے بعد نیک اور باسعادت لوگوں  کے لئے بہشتیں  مہیا ہیں  نہ ایک بہشت، یعنی مختلف اقسام کی بہشتیں۔

    عالم آخرت میں  بہشت کے مدارج قرب الٰہی کے مدارج و مراتب کے لحاظ سے مختلف ہوں  گے، جیسا کہ اہل بیت اطہارکی احادیث و روایات سے استفادہ ہوتا ہے۔ ان بہشتوں  میں  سے بعض عالم برزخ سے مربوط ہیں  نہ کہ عالم قیامت سے، بنابرایں  اوپر والی دو آیات میں  بہشت کے ذکر سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ عالم قیامت سے مربوط ہیں۔

    ۳۔ تیسری قسم ان آیات کی ہے، جن میں  فرشتوں  کی انسانوں  کے ساتھ گفتگو کا کوئی ذکر نہیں  بلکہ سعادت مند اور نیک انسانوں  یا بے سعادت اور بدکار انسانوں  کی زندگی کا ذکر ہے، پہلی قسم کے لئے موت کے فوراً بعد نعمات الٰہی اور دوسری صنف کے لئے عذاب و رنج ہو گا۔

    ذیل کی دو آیتیں  اسی قسم سے متعلق ہیں :

     ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون فرحین بما اتھم اللہ من فضلہ و یستبشرون بالذین لم یلحقو ابھم من خلفھم الا خوف علیھم ولا ھم یحزنون    (سورۂ آل عمران، آیات ۱۲۹۔ ۱۷۰)

    “آپ یہ گمان نہ کریں  کہ راہ خدا میں  مقتول مردہ ہیں، بلکہ وہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں  اور روزی دیئے جا رہے ہیں۔ اپنے فضل و رحمت سے خدا نے جو کچھ انہیں  دیا ہے، اس پر وہ خوش ہیں، ان کی آرزو ہے کہ ان کے دنیا والے دوستوں  کی شہادت کی بشارت ان تک پہنچے تاکہ انہیں  بھی اپنے ساتھ اس شہادت میں  شریک دیکھیں۔ “

    (۲) (وحاق بال فرعون سوء العذاب النار یعرضون علیھا غدواً و عشیا و یوم تقوم الساعة ادخلوا آل فرعون اشد العذاب(سورۂ مومن، آیات ۴۵۔ ۴۶)

    “آگ کے تکلیف دہ عذاب نے آل فرعون کا احاطہ کر رکھا ہے، ہر صبح و شام آگ ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے، جب قیامت ہو گی (کہا جائے گا) آل فرعون کو اب شدید ترین عذاب میں  داخل کر دو۔ “

    اس آیت میں  آل فرعون کے لئے دو قسم کے عذاب کا ذکر ہے۔ ایک قیامت سے پہلے جس کو سوء العذاب سے تعبیر کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ہر روز دو بار آگ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں، بغیر اس کے کہ اس میں  ڈال دیئے جائیں۔ دوسرا بعد از قیامت جس کو اشدالعذاب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حکم ہو گا انہیں  جہنم میں  داخل کیا جائے۔ پہلے عذاب کے بارے میں  صبح و شام کا تذکرہ ہے، دوسرے عذاب میں  نہیں۔

    جیسا کہ اس آیت کی توضیح اور تفسیر میں  امیرالمومنین علیہ السلام کا فرمان ہے کہ پہلا عذاب چونکہ عالم برزخ سے مربوط ہے، اسی لئے صبح و شام کا ذکر ہے کیونکہ عالم برزخ میں  عالم دنیا کی طرح صبح و شام، ہفتہ، ماہ اور سال ہیں۔ اس کے برعکس دوسرا عذاب عالم قیامت سے متعلق ہے اور وہاں  صبح و شام اور ہفتہ وغیرہ کا وجود نہیں۔

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمومنین علی علیہ السلام اور باقی آئمہ اطہار علیہم السلام کی احادیث روایات میں  عالم برزخ کا ذکر ہے، نیز اہل ایمان و اہل معصیت کی حیات کا بھی بہت تذکرہ ہے، جنگ بدر میں  جب مسلمانوں  کو فتح ہوئی اور سرداران قریش کو ہلاکت کے بعد ایک کنویں  میں  ڈال دیا گیا، تو رسول اللہ نے اپنا روئے مبارک کنویں  میں  کر کے فرمایا:

    “خدا نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، اسے ہم نے سچا پایا، تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا گیا تھا، کیا وہ تم نے پا لیا؟”

    بعض اصحاب نے کہا یا رسول اللہ آپ مردوں  سے باتیں  کر رہے ہیں، کیا یہ آپ کی بات سمجھ رہے ہیں ؟ فرمایا:

    “اس وقت یہ تم سے بھی زیادہ سنتے ہیں۔ “

    اس حدیث میں  اس جیسی دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ جسم و جان کا رشتہ موت کی وجہ سے منقطع ہو جاتا ہے، لیکن روح جو سالہا سال تک جسم کے ساتھ متحد رہی اور وقت گذارا، کلی طور پر بدن سے اپنا تعلق منقطع نہیں  کرتی۔

    امام حسین علیہ السلام روز عاشور نماز صبح باجماعت پڑھنے کے بعد اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور ایک مختصر سے خطبہ میں  ارشاد فرمایا:

    “تھوڑا سا صبر و استقامت سے کام لو، موت ایک پل کے سوا کچھ نہیں، جو آپ۱ کو درد و رنج کے ساحل سے سعادت و خوش بختی اور وسیع جنتوں  کے ساحل پر پہنچا دے گی۔ “

    حدیث میں  آیا ہے کہ لوگ سوئے ہوئے ہیں، جب مریں  گے، تب بیدار ہو جائیں  گے، مراد یہ ہے کہ موت کے بعد کی زندگی کا درجہ اور رتبہ دنیوی زندگی سے زیادہ کامل اور بلند ہے۔ جس طرح سے انسان نیند کی حالت میں  احساس کے ایک ضعیف درجہ کا حامل ہوتا ہے، یعنی اس کی حالت نیم مردہ اور نیم زندہ ہوتی ہے۔

    بیداری کے بعد اس کی حیات کامل ہو جاتی ہے، اسی طرح عالم دنیا میں  عالم برزخ کی نسبت زندگی ضعیف تر اور زیادہ کمزور ہوتی ہے، جو عالم برزخ میں  منتقل ہونے کے بعد کامل تر ہو جاتی ہے، یہاں  پر دو نکات کی طرف توجہ ضروری ہے :

    (الف)رہبران دین کی روایات و احادیث سے استفادہ ہوتا ہے کہ عالم برزخ میں  فقط ان مسائل کے متعلق سوال ہو گا، جن کا تعلق اعتقاد و ایمان سے ہے۔ باقی مسائل کا سوال قیامت کبریٰ میں  ہو گا۔

    (ب) ثواب و اجر کی نیت سے مرحومین کے لواحقین کی طرف سے جو نیک کام کئے جاتے ہیں، وہ مردہ کے لئے آسانی، خیر اور سعادت کا باعث ہوں  گے، مثلاً صدقات، خواہ صدقات جاریہ ہوں، جیسے ان اداروں  کی تشکیل جن کا نفع خلق خدا کو حاصل ہو، یا صدقات غیر جاریہ جو ایسا عمل ہے کہ جلد ختم ہو جاتا ہے، یہ عمل اگر اس نیت سے ہو کہ اس کا اجر و ثواب، ماں، باپ، دوست، معلم و استاد یا کسی اور مردہ کو نصیب ہو، تو یہ مرنے والے کے لئے تحفہ شمار کیا جائے گا اور اس کے لئے خوشی اور سرور کا باعث ہو گا۔ اسی طرح سے ان مرحومین کی نیابت میں  دعا، طلب مغفرت، حج، طواف اور زیارات یہی فائدہ رکھتی ہیں، ممکن ہے اولاد نے والدین کو اپنی زندگی میں  خدانخواستہ ناراض کیا ہو اور مرنے کے بعد اس طرح کے کام کر لے کہ والدین کی رضامندی کا مستحق ہو جائے، اسی طرح اس کے برعکس بھی ممکن ہے۔

۴۔ قیامت کبریٰ

    جاوداں  زندگی کا دوسرا مرحلہ قیامت کبریٰ ہے۔ قیامت کبریٰ عالم برزخ کے برعکس جس کا تعلق افراد سے ہے اور ہر فرد موت کے بعد بلافاصلہ عالم برزخ میں  داخل ہو جاتا ہے، اجتماع سے مربوط ہے، یعنی تمام افراد اور تمام عالم سے متعلق ہے، یہ ایسا حادثہ ہے، جو تمام اشیاء اور تمام انسانوں  کو اپنی لپیٹ میں  لے لے گا۔ یہ ایسا واقعہ ہے، جو تمام جہان کے لئے پیش آئے گا، سارا جہاں  ایک جدید مرحلے، ایک جدید زندگی اور ایک جدید نظام میں  داخل ہو گا۔

    قرآن کریم جس نے ہمیں  اس عظیم حادثہ سے آگاہ کیا ہے، اس عظیم واقعہ کو ستاروں  کے خاموش ہونے، سورج کے بے نور ہونے، دریاؤں  کے خشک ہو جانے، بلندیوں، ناہمواریوں  کے ہموار ہو جانے، پہاڑوں  کے ریزہ ریزہ ہو جانے، زلزلوں  اور عالم گیر جھٹکوں، تبدیلیوں  اور عظیم انقلاب کے ہمراہ قرار دیا ہے۔

    قرآن کریم سے جو استفادہ ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ تمام عالم تباہی و بربادی کی طرف بڑھ رہا ہے، تمام چیزیں  نابود ہوں  گی اور ایک بار پھر عالم کی تعمیر نو ہو گی۔ نئے سرے سے عالم پیدا ہو گا، جس کا نیا نظام اور نئے قوانین ہوں  گے، آج کے نظام اور قوانین سے بنیادی طور پر مختلف ہوں  گے، یہ نظام اور قوانین دائمی ہوں  گے اور ہمیشہ رہیں  گے۔

    قرآن کریم میں  قیامت کو کئی ناموں  اور عنوانات سے یاد کیا گیا ہے، ہر نام ایک مخصوص وضع اور اس پر حاکم خصوصی نظام کی نشاندہی کرتا ہے، مثلاً اس لحاظ سے کہ تمام اولین و آخرین ایک سطح پر قرار پائیں  گے اور ان کے درمیان ترتیب زمانی ختم ہو جائے گی، قیامت کو روز حشر، روز جمع اور روز تلافی کہا گیا ہے۔

    اس لحاظ سے اسے فنا نہیں  اور وہ ہمیشہ کے لئے ہے، اسے یوم “الخلود” کہا گیا ہے اور اس لحاظ سے کہ بعض انسان سخت حسرت و یاس کی حالت میں  ہوں  گے اور اپنے نقصان کو محسوس کریں  گے کہ کیوں  انہوں  نے اپنے آپ کو اس مرحلے کے لئے تیار نہیں  کیا، اس کو یوم “الحسر” اور “یوم التغابن” کہا گیا ہے اور چونکہ یہ بہت بڑی خبر اور عظیم ترین واقعہ ہے، اس لئے اس کو نباء عظیم بھی کہا گیا ہے۔

۵۔ دنیوی اور اخروی زندگی کا آپس میں  رابطہ

    ایک بنیادی اور اہم مسئلہ جس کی طرف آسمانی کتب نے ہمیں  متوجہ کیا ہے، دونوں  زندگیوں  میں  پیوستگی اور ربط ہے، یہ دونوں  زندگیاں  ایک دوسرے سے جدا نہیں۔

    اخروی زندگی کا بیج انسان دنیا میں  خود کاشت کرتا ہے، حیات اخروی کی تقدیر خود انسان کے وسیلہ سے دنیوی زندگی میں  متعین ہو جاتی ہے۔

    واقع کے مطابق درست اور پاک ایمان و اعتقاد اور حقیقت پسندانہ تصور کائنات حسد، کینہ، مکر و فریب اور دھوکہ دہی سے پاک انسان اخلاق اور طاہر عادتیں  اور اسی طرح اعمال صالحہ، جو فرد اور اجتماع کے کمال کے لئے انجام پاتے ہیں، خدمت خلق، اخلاص اور اس طرح کی دوسری چیزیں  جو انسان کے لئے ایک جاوداں  اور سعادت مند زندگی کی تشکیل کا سبب ہیں  اور اس کے برعکس بے ایمانی، بے اعتقادی، غلط فکر، پلید اور بری عادتیں، خود خواہی، خود پرستی، خودبینی و تکبر، ظلم و ستم، ریاکاری، سود خوری، جھوٹ، تہمت، خیانت، غیبت، چغل خوری، فتنہ و فساد، خالق کی عبادت اور پرستش سے کنارہ کشی وغیرہ حیات اخروی میں  انسان کی بے انتہا شقاوت اور بدبختی کا سبب ہیں۔

    رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بہت خوبصورت فرمایا ہے :

    الدنیا مزرعا الاخر

    “دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ “

    بدی یا نیکی کا جو بیج بھی دنیا میں  کاشت کرو گے، آخرت میں  اسی کا پھل کاٹو گے۔

    جس طرح سے یہ محال ہے کہ انسان جو کاشت کرے اور گندم کاٹے، کانٹے بوئے اور پھول چنے، حنظل کاشت کرے اور کھجور کا درخت اُگے۔ اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ دنیا میں  انسان برے خیال، برے اخلاق اور برے کردار کا حامل ہو اور آخرت میں  نفع حاصل کرے۔

۶۔ انسان کے اعمال کا تجسم اور جاودانگی

    قرآن کریم اور رہبران دین کے فرامین اور احادیث سے استفادہ ہوتا ہے کہ نہ فقط انسان ہمیشہ رہنے والا اور جاوید ہے، بلکہ اس کے اعمال و آثار بھی محفوظ ہوتے ہیں  اور ختم نہیں  ہوتے، انسان عالم قیامت میں  اپنے تمام اعمال و آثار کو مصور اور مجسم شکل میں  دیکھے گا اور مشاہدہ کرے گا۔

    اچھے اعمال و آثار نہایت حسین، خوبصورت اور لذت بخش شکل میں  مجسم ہوں  گے اور سرور و لذت کا باعث بنیں  گے، مگر انسان کے برے اعمال نہایت بدصورت، وحشت ناک، مہیب و اذیت ناک شکل میں  مجسم ہوں  گے اور درد و رنج اور عذاب کا باعث بنیں  گے۔

    (اس سلسلے میں  مزید تفصیل کے لئے عدل الٰہی، بحث معاد کی طرف رجوع کیجئے گا)

    اس سلسلے میں  ہم قرآن کریم کی تین آیات اور رسول اکرم ۱کی احادیث کے بیان پر اکتفا کرتے ہیں :

     یوم تجد کل نفس ماعملت من خیر محضرا و ما عملت من سوء تو دلو ان بینھا و بینہ امدا بعیداً     (آل عمران، آیت ۳۰)

    “وہ دن جب انسان اپنے ہر نیک کام کو اپنے سامنے حاضر دیکھے گا، اسی طرح برے کام کو بھی، وہ چاہے گا کہ کاش اس کے اور برے کام کے درمیان زیادہ فاصلہ ہوتا۔ “

    اس آیت میں  تصریح ہے کہ انسان عیناً اپنے نیک کام ہی کو مطلوب اور محبوب صورت میں  دیکھے گا اور اپنے برے کام کو بعینہ ایسی صورتوں  میں  دیکھے گا، جن سے اس کو نفرت و وحشت ہو گی، چاہے گا کہ اس سے فرار کر جائے یا اس صورت کو اس سے دور کیا جائے، لیکن وہ جگہ فرار کر سکنے کی جگہ نہ ہو گی اور نہ ہی انسان کے عمل کو انسان سے جدا کیا جا سکے گا۔

    اس عالم میں  مجسم شکل میں  حاضر ہو جانے والا انسانی عمل اس کے وجود کے ایک حصے اور جزو کی طرح ہو گا، جو اس سے جدا نہیں  کیا جا سکتا۔

    (۲) ووجدو اما عملوا حاضرا    (سورۂ کہف، آیت ۴۹)

    “دنیا میں  انجام دیئے ہوئے ہر عمل کو اپنے سامنے حاضر پائیں  گے۔ “

    اس آیت کا مفہوم اور معنی بالکل پہلی آیت والا ہے۔

    (۳) یومئذ یصدر الناس اشتاتا لیرو اعمالھم فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یرہ، ومن یعمل مثقال ذرة شرا یرہ(سورۂ زلزال، آیات ۶ یا ۸)

    “اس دن انسان باہر آئیں  گے تاکہ (اعمال کی نمائش گاہ عمل میں) ان کے اعمال انہیں  دکھائے جائیں۔ جس نے ذرہ برابر بھی نیک کام انجام دیا ہے، اسے قیامت میں  دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر برا کام انجام دیا ہو گا، اس کو بھی اس جگہ دیکھے گا۔ انسان باقی و دائمی ہے، انسان کے اعمال و آثار بھی محفوظ، باقی اور جاوداں  ہیں، عالم آخرت میں  انسان دنیوی زندگی میں  کمائی ہوئی چیزوں، اخلاق اور اعمال کے ساتھ زندگی گذارے گا۔ یہ کمائی، اعمال اور اخلاق، حیات اخروی میں  ہمیشہ کے لئے اس کا اچھا یا برا سرمایہ اور نیک یا برے ساتھی ہوں  گے۔

احادیث مبارکہ

    مسلمانوں  کا ایک گروہ کافی دور سے رسول اللہ ۱کی خدمت میں  شرف یاب ہوا اور دیگر باتوں  کے ضمن میں  آپ سے نصیحت کی خواہش کی۔ رسول اکرم نے چند جملات ارشاد فرمائے، جن میں  سے ایک جملہ یہ ہے کہ

    “ابھی سے آخرت کے لئے اچھے رفقاء اور ساتھیوں  کا انتخاب کریں، اس لئے کہ عالم آخرت میں  انسان کا کردار و اعمال ہی بصورت جسم اس کے زندہ ساتھی ہوں  گے۔ “

    حیات جاوید کا قائل مومن انسان اپنے خیالات، اخلاق و عادات اور اعمال، چال چلن میں  ہمیشہ پوری توجہ دیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ زود گذر دنیوی امور میں  سے نہیں  بلکہ یہ تمام چیزیں  انسان کی اپنی اگلی دنیا میں  بھیجی ہوئی چیزیں  ہیں  اور اسے اسی سرمایہ کے ساتھ عالم آخرت میں  زندگی گذارنا ہو گی۔

۷۔ دنیوی اور اخروی زندگی کی مختلف اور مشترک صورتیں

    دنیوی اور اخروی زندگی کی مشترکہ چیزیں  یہ ہیں  کہ دونوں  زندگیاں  حقیقی اور واقعی ہیں  اور دونوں  زندگیوں  میں  انسان خود سے اور اپنی متعلقہ چیزوں  سے آگاہ ہے، دونوں  زندگیوں  میں  لذت و تکلیف، خوشی و غمی اور سعادت و شقاوت ہے۔

    جبلت و سرشت خواہ حیوانی ہو یا انسانی، دونوں  جگہ کارفرما ہے، دونوں  زندگیوں  میں  انسان اپنے بدن قد و قامت اور اعضاء و جوارح کے ساتھ زندگی گذارے گا۔ دونوں  زندگیوں  میں  فضا اور اجرام ہوں  گے، لیکن ان میں  بنیادی فرق بھی موجود ہے، یہاں  سلسلہ توالد، تناسل، بچپنا، جوانی، بڑھاپا اور موت ہے وہاں  نہیں، یہاں  ضروری ہے کہ کام کرے، بیج ڈالے اور مناسب اسباب مہیا کرے، وہاں  بیج کا پھل کاٹے اور دنیوی اسباب کا نفع حاصل کرے۔ یہ جگہ عمل اور کام کی جگہ ہے اور وہ عالم حساب و کتاب کرنے اور نتیجہ اخذ کرنے کی جگہ۔

    دنیا میں  انسان کے لئے عمل اور حرکت کی سمت بدل کر مقدر کو تبدیل کر سکنے کا امکان ہے لیکن آخرت میں  نہیں، یہاں  پر موت و حیات کی آمیزش ہے، ہر حیات ایسے مادہ کے ہمراہ ہے، جس میں  حیات فاقد ہے۔ علاوہ ازیں  مردہ سے زندہ پیدا ہوتا ہے اور زندہ سے مردہ، جیسا کہ بے جان مادہ خاص شرائط کے ساتھ جاندار اور جاندار بے جان میں  تبدیل ہو جاتا ہے۔ مگر آخرت میں  محض زندگی کارفرما ہے، وہاں  مادی جسم بھی جاندار ہے، زمین و آسمان بھی جاندار ہیں، وہاں  کا باغ اور میوہ انسان کے مجسم اعمال کی طرح سے جاندار ہیں، وہاں  کی آگ اور عذاب بھی ذی شعور اور آگاہ ہیں۔

    دنیا میں  اسباب و علل اور خاص زمانی شرائط کی حکمرانی ہے۔ حرکت اور کمال کی طرف سے سفر (تکامل) کا وجود ہے۔ مگر عالم آخرت میں  صرف ملکوت الٰہی اور ارادہ الٰہی کا ظہور ہے۔ اس دنیا میں  انسان کا ادراک، اس کا شعور اور آگاہی اور بطور مطلق دیکھنا اور سننا دنیا سے زیادہ طاقتور ہے، دوسرے لفظوں  میں  پردے اور حجاب عالم آخرت میں  انسان کے سامنے سے اٹھا دیئے جائیں  گے اور انسان اپنی باطن بین نگاہوں  سے حقائق کا ادراک کرے گا، جیسا کہ قرآن کریم میں  آیا ہے :

    فکشفنا عنک غطائک فبصرک الیوم حدید(سورۂ ق، آیت ۲۲)

    “ہم نے اب پردے تجھ سے اٹھا لئے ہیں، پس آج تیری نظر خوب تیز ہے۔ “

    اس دنیا میں  خستگی و ملال خصوصاً یکسانیت کی وجہ سے کارفرما ہے، انسان کی حالت کسی شے کو گم کرنے والے کی طرح ہوتی ہے، جو ہمیشہ اپنی گم کردہ شے کی تلاش میں  سرگرداں  رہتا ہے۔ جب کوئی چیز مل جائے، تو خیال کرتا ہے، مقصود مل گیا ہے اور اسی پر خوش ہو جاتا ہے، مگر کچھ دیر بعد اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ وہ نہیں  جو “مطلوب” تھا تو دل گیر ہو جاتا ہے اور پھر کسی نئی شے کی طلب میں  لگ جاتا ہے۔ اسی لئے دنیا میں  انسان ہر اس چیز کا طالب ہے، جو اس کے پاس نہیں  اور اس چیز سے بیزار ہونے لگتا ہے، جو اس کے پاس موجود ہے۔

    مگر اخروی دنیا میں  دل کی گہرائیوں  اور فطرت و شعور کی عمق سے جس چیز کو چاہتا تھا اور جسے اپنی گم شدہ متاع حقیقی سمجھتا تھا، یعنی “دربار رب العالمین” میں  “جاوداں  اور ابدی” جانتا تھا، اس کو پا لیتا ہے، لہٰذا اسے کسی قسم کا ملال و خستگی و پریشانی نہیں  ہوتی۔ قرآن کریم اسی نکتہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور کہتا ہے :

    لا یبغون عنھا خولا(سورۂ کہف، آیت ۱۰۸)

    “یعنی (دنیا کے برعکس) آخرت میں  انسان تبدیلیوں  اور جدید ماحول کے طالب نہیں  ہوں  گے اسی لئے اگرچہ اہل بہشت ہمیشہ بہشت ہی میں  رہیں  گے، لیکن کبھی سیر نہیں  ہوں  گے۔

    علاوہ ازیں  وہاں  جو چیز چاہیں  گے، ارادہ الٰہی سے اسی وقت ان کے لئے پیدا ہو جائے گی، لہٰذا ایسی چیز کی آرزو انہیں  پریشان نہیں  کرتی، جو ان کے پاس نہیں۔ “

۸۔ قرآنی استدلال

    اگرچہ قیامت پر ہمارے ایمان و اعتقاد کا سرچشمہ قرآن کریم اور گفتار انبیاء پر ہمارا ایمان ہے اور ضروری نہیں  کہ قیامت کو ثابت کرنے کے لئے استدلال قائم کیا جائے یا علمی شواہد و قرائن بیان کریں، لیکن چونکہ قرآن کریم نے خود ہی (مطلب کو اذہان کے قریب کرنے کے لئے) استدلال کا ایک سلسلہ بیان کیا ہے اور چاہتا ہے کہ ہمارے اذہان از روئے استدلال اور براہ راست بھی قیامت کا اعتقاد پیدا کریں۔ ہم بھی مختصراً ان دلائل کو ذکر کر رہے ہیں۔ قرآنی استدلال در حقیقت منکرین قیامت کے اشکالات کا جواب دیں۔ بعض میں  یہ بیان ہوتا ہے کہ قیامت کے آنے میں  کوئی مانع اور رکاوٹ نہیں، یہ در حقیقت ان کا جواب ہے، جو قیامت کو امر نا ممکن سمجھتے تھے۔

    بعض آیات اس سے بھی ایک درجہ آگے بڑھ کر کہتی ہیں  کہ اسی دنیا میں  قیامت کے مشابہ چیزوں  کا وجود تھا اور ہے اور ایسی چیزوں  کو دیکھنے کے بعد انکار کا کوئی جواز نہیں، بعض آیات اس سے ایک درجہ اور آگے کی بات کرتی ہیں  اور وجود قیامت کو لازم اور ضروری امر اور خلقت حکیمانہ کا ایک قطعی اور یقینی نتیجہ قرار دیتی ہیں۔

    بنابرایں  قیامت کے بارے میں  استدلال کرنے والی تمام آیتوں  کو تین حصوں  میں  تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

    ۱۔ سورۂ یٰس آیت ۷۸ و ۷۹ میں  ارشاد ہوتا ہے :

    و ضرب لنا مثلاً و نسی خلقہ قال من یحیی العظام و ھی رمیم قل یحیھا الذی انشاء ھا اول مرة وھوبکل خلق علیم

    “اب وہ ہم پر مثالیں  چسپاں  کرتا ہے۔ اپنی پیدائش کو بھول گیا ہے، کہتا ہے ان بوسیدہ ہڈیوں  کو کون زندہ کرے گا؟ اس سے کہو انہیں  وہی زندہ کرے گا، جس نے پہلے انہیں  پیدا کیا تھا، وہ ہر مخلوق سے آگاہ ہے۔”

    یہ آیت اس کافر کے جواب میں  ہے، جس نے بوسیدہ ہڈی کو اپنے ہاتھ میں  لیا اور نرم کر کے پاؤڈر کی صورت بنا کر ہوا میں  بکھیر دیا اور پھر کہا ان کے بکھرے ہوئے ذرات کو کون زندہ کرے گا۔ قرآن جواب میں  کہتا ہے کہ وہی جس نے پہلی بار اسے پیدا کیا۔ انسان کبھی اپنی قدرت و توانائی کو معیار بنا کر امور کو ممکن اور ناممکن میں  تقسیم کرتا ہے۔ جب کسی کام کو اپنی طاقت و تصور سے ماوراء پاتا ہے، تو سمجھتا ہے کہ اس کام کا ہو جانا ذاتاً ناممکن ہے۔

    قرآن کہہ رہا ہے، بشری طاقت کے معیاروں  کو دیکھتے ہوئے تو یہ کام ناممکن ہے، لیکن قوت اور طاقت کے معیاروں  کے پیش نظر جس نے پہلی بار مردہ جسم میں  زندگی کو پیدا کیا، آپ کیا کہیں  گے ؟ اس طاقت کے معیارات کے لحاظ سے یہ امر ممکن اور قابل انجام ہے۔

    قرآن کریم میں  متعدد آیتیں  ایسی آئی ہیں، جن میں  الٰہی طاقت کی بنیاد پر قیامت کے بارے میں  گفتگو کی گئی ہے۔

    تمام آیات کا مفہوم یہ ہے کہ خدائے عادل و حکیم کی مشیت کا تقاضا یہ ہے کہ قیامت موجود ہو اور اس کی مشیت کی راہ میں  کوئی مانع بھی نہیں  ہے۔ جیسا کہ پہلی بار حیات و خلقت کا معجزہ اس مشیت سے سرزد ہوا اور اس نے عالم، انسان اور حیات کو پیدا کیا۔ دوسری مرتبہ بھی قیامت میں  انسان کو زندہ کرے گا۔

    ۲۔ وہ آیات جنہوں  نے نمونوں  کا ذکر کیا ہے۔ یہ آیات بذات خود دو حصوں  میں  منقسم ہیں :

    (الف)وہ آیات جن میں  ماضی کے ایک خاص واقعہ کا ذکر ہے کہ جس میں  ایک مردہ نئے سرے سے زندہ ہوا، جیسے وہ آیات جو حضرت ابراہیم کے قصے میں  آئی ہیں۔ حضرت ابراہیم نے خدا سے مخاطب ہو کر کہا:

    “پروردگار تو مردہ کو کس طرح زندگی دیتا ہے، مجھے دکھا دے۔ “

    جواب میں  فرمایا:

    “کیا اس پر تیرا ایمان نہیں ؟ کہا کیوں  نہیں ؟ ایمان تو ہے، اطمینان قلب کا خواہش مند ہوں۔ ان سے کہا گیا کہ چار پرندے لے کر ان کا سر قلم کر دو، بدن کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر حصہ ایک پہاڑ پر رکھ دو، پھر پرندوں  کو بلاؤ، دیکھو گے کہ خدا کے امر سے پرندے زندہ ہو کر تیرے پاس آئیں  گے۔ “

    (ب) ایسی آیات جن میں  کسی استثنائی اور غیر معمولی واقعہ (جیسے واقعہ ابراہیم) کو بنیاد نہیں  بنایا گیا، بلکہ نظام شہود اور موجود پر استناد کیا گیا ہے، جس میں  ہمیشہ زمین اور جڑی بوٹیاں  موسم خزاں  اور سرما میں  مردہ ہو جاتی ہیں، پھر موسم بہار میں  نئی زندگی ملتی ہے۔

    قرآن کہتا ہے کہ طول عمر میں  بارہا آپ مشاہدہ کر چکے ہیں  کہ زمین تر و تازگی و شادابی کے بعد موت کی طرف بڑھتی ہے اور اس پر افسردگی چھا جاتی ہے۔ پھر موسم کی تبدیلی سے ماحول بدل جاتا ہے اور زمین درخت اور پودے اپنی حیات نو کا جامہ پہن لیتے ہیں۔

    عالم کے کلی نظام میں  بھی یہ عالم خاموشی اور افسردگی کی طرف چلا جائے گا۔ سورج، چاند، ستارے سب ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائیں  گے۔ تمام عالم موت کی آغوش میں  ہو گا، لیکن یہ موت دائمی نہیں  ہو گی، دوسری طرف عالم کے تمام موجودات نئی وضع اور جدید کیفیت کے ساتھ زندگی کا آغاز کریں  گے۔

    اس کی وضاحت یہ ہے کہ ہم انسان اس وقت ایسی زمین پر زندگی گذار رہے ہیں  جو ۳۶۵ دنوں  میں  موت و حیات کا ایک دور طے کرتی ہے، چونکہ معمولاً ہماری عمر پچاس ساٹھ سال اور زیادہ سے زیادہ ۱۰۰ سال یا کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ ہم درجنوں  بار نظام موت و حیات کا مشاہدہ کرتے ہیں، لہٰذا یہ دیکھ کر کہ زمین مردہ ہونے کے بعد پھر زندہ ہوتی ہے اور نئی زندگی کا آغاز کرتی ہے۔ ہمیں  تعجب اور حیرانگی نہیں  ہوتی، اگر فرض کریں  کہ انسان کی عمر چند ماہ ہوتی، جیسے بعض حشرات الارض کی عمر ہے، بالفرض ہم ان پڑھ بھی ہوتے اور پڑھنا لکھنا نہ جانتے، تاریخ زمین اور گردش سالانہ کے بارے میں  آگاہ نہ ہوتے، ہم نے زمین کی موت اور تجدید حیات کا مشاہدہ نہ کیا ہوتا، تو ہم کبھی یقین نہ کرتے کہ زمین مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو سکتی ہے، مسلم امر ہے کہ ایک مچھر جو موسم بہار میں  پیدا ہوتا ہے اور خزاں  اور سر دیوں  میں  مر جاتا ہے۔ اس کے لئے جدید زندگی کا تصور مفہوم نہیں  رکھتا، کیا درخت میں  رہنے والا کیڑا اور ایک باغ میں  رہنے والا مچھر، جس کی تمام دنیا وہی درخت اور باغ ہیں، تصور کر سکتا ہے، یہ درخت اور یہ باغ ایک عظیم تر نظام کے جزو اور تابع ہیں، جس کا نام مزرع اور کھیت ہے اور اس کا مقدر کھیت کے مقدر سے وابستہ ہے ؟ اور یہ کھیت بھی ایک اور نظام کے تابع ہے، جس کا نام شہر ہے، یہ شہر بھی ایک بڑے نظام یعنی صوبے کے تابع ہے، صوبے کا نظام بھی تابع مملکت ہے اور نظام مملکت زمین کے کلی نظام کے تابع ہے اور نظام زمین سورج کے نظام کے تابع ہے ؟

    ہمیں  کیا معلوم شاید یہ نظام شمسی تمام ستارے اور کہکشاں  اور ہر وہ چیز جسے ہم نظام طبیعت سمجھتے ہیں، ایک کلی تر اور عظیم تر نظام کے تابع ہو اور فطرت اور طبیعت کے گذشتہ کرداروں  اور اربوں  سال کی عمر جس کا ہمیں  علم ہے، صرف ایک موسم یا موسم کے ایک دن کے برابر ہو، جو ایک بڑے نظام کا حصہ ہو اور یہ موسم جو کہ حیات و زندگی کا موسم ہے، ایک نئے موسم میں  تبدیل ہو جائے، جو خاموشی و افسردگی کا موسم ہو، پھر یہ نظام کلی جس کا ایک جزو نظام شمسی، ستارے اور کہکشاں  ہیں۔ زندگی کو ایک نئی صورت میں  پھر سے شروع کرے۔

    انبیاء و رسل نے خدا کی جانب سے ہمیں  تمام جہاں  کی بربادی و خرابی کے بعد زمین میں  ایک جدید نظام کے تحت مردوں  کے زندہ ہونے کی خبر دی ہے، چونکہ متعدد دلائل سے ہمیں  ان کی سچائی کا علم ہو چکا ہے۔ اس لئے تمام عالم کی تباہی کے بعد ایک کلی تجدید حیات اور نئی زندگی کا بھی اعتراف کرتے ہیں۔

    قرآن کریم زمین پر موت و حیات کے نظام کی مثال اس لئے پیش کرتا ہے کہ ہم اسے ایک کلی حیات کا ادنیٰ نمونہ سمجھیں  اور قیامت کے امور کو غیر ممکن نہ سمجھیں  اور اسے ان نظاموں  اور آفرینش کی روایات سے خارج قرار نہ دیں۔

    قرآن کریم کا فرمان ہے :

    “قیامت نئی زندگی کا نام ہے۔ “

    تجدید حیات وہ چیز ہے، جس کا ایک چھوٹا سا نمونہ زمین میں  ہم دیکھ رہے ہیں۔ حدیث میں  آیا ہے کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا:

    اذا رأیتم الربیع فاکثروا و اذکروا النشور

    “جب موسم بہار کو دیکھو تو قیامت کا ذکر زیادہ کرو۔ “

    یعنی موسم بہار قیامت کی ایک روشن مثال اور نمونہ ہے۔

    مولانا رومی فرماتے ہیں :

    این بہار نو ز بعد برگ ریز

    ہست برہان بر وجود رست خیز

    آتش و باد ابر و آب و آفتاب

    رازہا را می بر آرند از سرآب

    در بہاراں  سر ھا پیدا شود!

    ہرچہ خوردہ است این زمین رسوا شود

    بردمد آن ازدھان و ازلبش

    تا پدید آید ضمیر و مذھبش!

    رازھا رامی کند حق آشکار

    چون بخواہد رست تخم بدہکار

    “پتوں  کے جھڑنے کے بعد یہ نئی بہار قیامت کے وجود کی دلیل ہے، آگ، ہوا، پانی، بادل اور دھوپ یہ سب چیزیں  سرآب میں  رازوں  کو افشا کر دیتی ہیں۔ بہار میں  سر نکلنے لگتے ہیں  اور زمین نے جو بھی چیز کھائی تھی، نکال دیتی ہے اور رسوائی ہوتی ہے، وہ اپنے لبوں  اور منہ سے پھونکتی ہے اور اس طرح اس کا مذہب اور اس کا ضمیر وجود میں  آتا ہے، حق رازوں  سے پردہ اٹھاتا ہے، جب برا بیج اگنا چاہتا ہے۔ “

    دیوان شمس میں  مولانا رومی فرماتے ہیں :

    فرو شدن چو بدیدی بر آمدن بنگر

    غروب شمس و قمر را چرا زیان باشد

    کدام دانہ فرو رفت در زمین کہ نرست

    چرابہ دانہ انسانت این گمان باشد

    “جب تو نے ڈوبنا دیکھ لیا ہے، تو پھر ابھرنا بھی دیکھ لے، سورج اور چاند کے ڈوبنے میں  کیوں  کر نقصان ہو سکتا ہے، کونسا بیج ایسا ہو سکتا ہے، جو زمین میں  دفن ہونے کے بعد نہ اگا ہو؟ پھر تو انسان کے بارے میں  کیوں  کر ایسا سوچتا ہے، وہ آیتیں  جو موت و حیات کے موجودہ مشہود نظام پر استناد کرتی ہیں، بہت ہیں، ان میں  سے ایک یہ ہے “:

     واللہ الذی ارسل الریاح فتثیر سحابا فسقناہ الی بلد میت فاحینیا بہ الارض بعد موتھا کذلک النشور    (سورۂ فاطر، آیت ۹)

    “خدا وہ ہے، جس نے ہواؤں  کو بھیجا، بادل کو پراگندہ اور دگرگوں  کیا، پس ہم اس بادل کو مردہ زمین کی طرف لے گئے اور مردہ زمین کو زندہ کیا۔ قیامت میں  زندہ ہونا بھی اسی طرح سے ہے۔ “

    (۲) وتری الارض ھامدة فاذا انزلنا علیھا الماء اھتزت و ربت و انبتت من کل زوج بھیج، ذلک بان اللہ ھو الحق وانہ یحیی الموتی وانہ علی کل شئی قدیر و ان الساعة آتیة لاریب فیھا و ان اللہ یبعث من فی القبور(سورۂ الحج، آیات ۵ تا ۷)

    “زمین کو دیکھ رہے ہو کہ افسردہ و مردہ اور ساکن ہے، لیکن جیسے ہی ہم نے بارش برسائی پس حرکت میں  آتی ہے اور ہر قسم کے نباتات پیدا کرتی ہے، یہ اس لئے کہ ذات خدا برحق ہے، وہی مردوں  کو زندہ کرتا ہے اور وہی ہر شے پر قادر ہے، قیامت بدون شک آنے والی ہے اور قبر یں  رہنے والوں  کو خدا اٹھائے گا۔ “

    وہ آیات جن میں  اس قیامت کو عالم ہستی کے اس نظام موت و حیات سے خارج نہیں  سمجھا گیا، جس کے نمونے ہم زمین میں  دیکھ رہے ہیں، ان کی تعداد زیادہ ہے، ہم نے فقط دو پر اکتفا کیا ہے۔

    اس قسم کی آیات کا پہلی قسم کی آیات سے فرق یہ ہے کہ ان میں  صرف اللہ کے قادر ہونے پر ہی تکیہ نہیں  کیا گیا بلکہ اس محسوسات کی دنیا میں  اس سے مشابہ نمونوں  کا بھی ذکر کیا گیا ہے، یعنی محسوسات کی دنیا میں  اللہ کی قدرت کا جلوہ ایسی صورت میں  بھی ظہور پذیر ہوا ہے۔

    (ج) تیسری قسم ان آیتوں  کی ہے، جو قیامت کو ضروری اور قطعی امر قرار دیتی ہیں  اور قیامت کے نہ ہونے کا لازمہ اللہ کی ذات کے بارے میں  ایک ناروا اور محال امر سمجھتی ہیں۔ اس مطلب کو دو طریقوں  سے بیان کیا گیا ہے۔

    ایک طریقہ عدل الٰہی کا ہے، یعنی خداوند عالم اپنی ہر مخلوق کو وہی کچھ عنایات کرتا ہے، جس کی وہ مستحق ہے۔

    دوسرا طریقہ حکمت الٰہی کا ہے، یعنی خداوند عالم نے مخلوق کو ایک ہدف و مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ حکمت الٰہی کا تقاضا ہے کہ موجودات عالم کو ان کے لائق کمال اور ممکنہ مقصد کی طرف لے جائے۔ قرآن کریم کہتا ہے :

    “اگر قیامت ابدی زندگی، دائمی سعادت اور اخروی جزا و سزا نہ ہو، تو یہ عدل الٰہی کے خلاف ہے اور ایک طرح کا ظلم ہے، جو خدا کی نسبت سے محال ہے۔ “

    اسی طرح کہتا ہے کہ

    “اگر جاوداں  زندگی اور ابدی انجام موجود نہ ہو، تو خلقت عبث اور کھوکھلی ہو گی جبکہ عبث اور بے ہودہ کام خدا کے لئے محال ہے۔ “

    وہ آیات جو عدل الٰہی اور حکمت خداوندی پر استناد کرتے ہوئے خدا کی جانب بازگشت اور جاوداں  زندگی کو حتمی قرار دیتی ہیں، تعداد کے لحاظ سے بہت زیادہ ہیں۔

    اب ہم قرآن کریم کی دو سورتوں  میں  سے دو آیات کا ذکر کریں  گے، جن میں  عدل الٰہی اور حکمت خداوندی دونوں  پر استناد کیا گیا ہے :

    ۱۔ سورۂ مبارکہ ص میں  یہ بیان کرنے کے بعد کہ

    “جو لوگ راہ خدا سے منحرف ہو چکے ہیں  اور سزا کو بھول چکے ہیں، ان کے لئے سخت عذاب ہو گا۔ “

    آیت ۲۷ اور ۲۸ میں  روز قیامت کے بارے میں  یوں  ارشاد ہوتا ہے :

    وما خلقنا السماء والارض وما بینھما باطلا ذلک ظن الذین کفروا فویل للذین کفروا من النار۔ ام نجعل الذین آمنوا و عملوا الصالحات کالمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کالفجار

    “ہم نے آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کو بے فائدہ پیدا نہیں  کیا، یہ خیال (کہ خلقت بلا فائدہ ہے) ان لوگوں  کا ہے، جن کو حقیقت سے عناد ہے، پس وائے ہو ان لوگوں  پر آتش جہنم سے، کیا ہم ان لوگوں  کو جو (خدا معاد و انبیاء) پر ایمان لائے اور اچھے کام انجام دیتے ہیں، مفسدوں  کی طرح قرار دیں  گے یا پرہیزگاروں  کو بدکاری کی طرح سمجھیں  گے ؟”

    جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں، پہلی آیت میں  خدا کا حکیم اور خلقت کا حکیمانہ ہونا مذکور ہے اور دوسری آیت میں  عدل الٰہی اور خلقت کے عادلانہ ہونے کا بیان ہے۔

    ۲۔ سورہ مبارکہ جاثیہ، آیت ۲۱۔ ۲۲ میں  اس طرح سے آیا ہے :

    ام حسب الذین اجتر حوا السیات ان نجعلھم کالذین آمنو و عملوا الصلحات سواء محیاھم و مماتھم ساء مایحکمون۔ وخلق اللہ السموات والارض بالحق ولتجزی کل نفس بما کسبت وھم لایظلمون

    “کیا بدکاروں  کا یہ گمان ہے کہ ہم انہیں  ایماندار اور اچھے کام کرنے والوں  کی طرح قرار دیں  گے جبکہ ان کی زندگی و موت یکساں  ہے۔ ان کا یہ حکم برا حکم ہے، خدا نے آسمانوں  و زمین کو حق پیدا کیا ہے (نہ باطل اور بلا فائدہ) اس لئے کہ ہر شخص اپنے کئے کی (جزا و سزا) تک پہنچ جائے، ان پر ظلم کبھی بھی نہیں  ہو گا۔ “

    ان دو آیات میں  سے پہلی میں  عدل الٰہی اور دوسری میں  حکمت خداوندی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، دوسری آیت کے ذیل میں  دوسری مرتبہ عدل الٰہی کو قیامت کا ہدف اور مقصد قرار دیا گیا ہے۔

وضاحت

    ان دو اصولوں  کے بارے میں  یہاں  وضاحت ضروری ہے کہ عدل الٰہی کا تقاضا کیوں  جاوداں  زندگی ہے ؟

    اگر ہم فرض کریں  کہ اس محدود زندگی کے بعد ابدی زندگی نہ ہو، جس میں  ہر شخص اپنے اعمال کے دائمی نتیجہ تک پہنچ جائے، تو پھر عالم اور انسان کی خلقت عدل الٰہی اور حکمت خداوندی کی رو سے کیوں  بے فائدہ ہے ؟

    ہم عدل الٰہی سے آغاز کرتے ہیں :

عدل الٰہی

    عدالت اپنے وسیع تر مفہوم کے لحاظ سے صحبان حق کو ان کا حق بغیر کسی تفریق کے دے دینا ہے، اگر کسی حقدار کو بھی حق نہ دیا جائے، تو خلاف عدالت ہے اور اگر بعض کو دیا جائے اور بعض کو نہیں، تو پھر بھی خلافت عدالت ہے، اگر استاد امتحان کے موقع پر سب طلباء کو ان کے حق سے کم نمبر دے، تو یہ خلاف عدالت کام ہو گا۔ اگر بعض کو ان کے استحقاق کے مطابق اور بعض کو کم نمبر دے تب بھی خلافت عدالت و انصاف ہو گا۔

    عدالت: ایک لحاظ سے مساوات کا لازمہ ہے۔

    مساوات: یعنی سب کو ایک نظر سے دیکھنا۔ تفریق و فرق کا قائل نہ ہونا، ایسی مساوات کا لازمہ عدالت ہے، یعنی جو شخص جتنی مقدار کا استحقاق رکھتا ہے، اسے اتنا دیا جائے، اگر زیادہ کا استحقاق رکھتا ہے، تو زیادہ دیا جائے۔ کم کا استحقاق رکھتا ہے، تو کم دیا جائے اس میں  تفریق و امتیاز بالکل نہ ہو اور اگر مساوات سے ہماری مراد عطا کرنے میں  برابری ہو اور استحقاق کو دیکھے بغیر سب کو برابر دیا جائے، تو ایسی مساوات خلاف عدالت اور ظلم کے ہمراہ ہو گی۔ اسی طرح سے نہ دینے میں  سب میں  برابری بھی ظلم ہے، یعنی سب کو بلاتفریق برابر طور پر ان کے استحقاق سے محروم کر دیا جائے، بنابرایں  عدل الٰہی کا معنی یہ ہے کہ عالم کے موجودات میں  سے ہر ایک اپنی قابلیت اور ہستی کے مطابق اللہ کے فیض سے استفادہ کا حق رکھتا ہے۔ اللہ کی طرف سے بھی کسی بھی مخلوق کو اس کی استعداد اور صلاحیت کے مطابق فیض دینے سے دریغ نہیں  کیا جاتا۔ اگر کسی موجود کے پاس کوئی چیز نہیں، تو اس وجہ سے کہ وہ ان حدود میں  ہے کہ اس چیز کے مالک ہونے کی قابلیت اور امکان نہیں  رکھتا۔

    اب ہم کہتے ہیں  کہ اگر بعض موجودات کچھ خاص خصوصیات کے ساتھ وجود میں  آئیں، لیکن ان کے لائق کمال کے افاضے میں  دریغ کیا جائے، تو یہ عدل الٰہی کے خلاف ہو گا، لہٰذا عدالت کا تقاضا یہ ہے کہ استحقاق کے مطابق انہیں  افاضہ فیض کیا جائے، تمام موجودات کے مابین انسان ایسی مخلوق ہے، جس میں  قابلیت، استعداد و صلاحیت اور اہم خصوصیات کا سرمایہ موجود ہے، اس میں  موجود قوت تحریک جو اسے کام اور فعالیت پر مجبور کرتی ہے، صرف اتنی نہیں  جتنی حیوان میں  ہوتی ہے۔

    حیوان میں  صرف وہ عزائز موجود ہیں، جو اسے صرف طبیعت اور مادی زندگی سے مربوط کرتی ہیں، لیکن انسان جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے، ایسی سرشت و جبلت کا مالک ہے، جو صرف اس دنیا کے مطابق نہیں  بلکہ اس کی سطح بالا ہے، یعنی وہ جاوداں  اور ابدیت کی سطح پر ہے۔

    انسان میں  عالی فکری تحریکات موجود ہیں، یعنی اس میں  اخلاقی، علمی، ذوقی، مذہبی اور الٰہی فیض کے محرکات پائے جاتے ہیں، بہت سارے کام انسان ان چیزوں  سے متاثر ہو کر کرتا ہے اور کبھی اپنی طبیعی، مادی اور حیوانی زندگی ان عالی اور انسانی اہداف پر قربان کر دیتا ہے۔

    قرآن کی تعبیر کے مطابق انسان اپنے علمی نظام کو ایمان اور عمل صالح کی بنیاد پر قرار دیتا ہے اور اس نظام میں  جاوداں  زندگی اور خوشنودی خدا کا طالب ہوتا ہے۔

    انسان میں  جاوداں  اور عظیم تصور بھی ہے اور اس کی خواہش و آرزو بھی اور ایسے عزائز بھی جو اس کو اسی طرف لے جاتے ہیں۔

    یہ سب چیزیں  دائمی اور جاوداں  رہنے کی قابلیت اور استعداد کی حکایت کر رہی ہیں۔

    دوسرے لفظوں  میں  یہ سب چیزیں  اس بات کی دلیل ہیں  کہ مجرد اور غیر مادی روح کا مالک ہے۔

    یہ سب امور انسان کو اس دنیا میں  جنین کے حکم میں  قرار دے رہے ہیں، جو رحم مادر میں  کچھ خاص وسائل اور آلات و نظامات کا مالک ہوتا ہے، جیسے نظام تنفس، گردش خون، نظام اعصاب، بصارت و سماعت کا آلہ، نظام تناسل وغیرہ، یہ سب چیزیں  رحم سے خارج ہونے کے بعد حیات دنیوی کے مطابق تو ہیں، لیکن رحم کے اندر کی نوماہی زندگی کے مطابق نہیں۔

    یہ درست ہے کہ انسان دنیاوی زندگی میں  نظام ایمان و عمل صلاح سے فائدہ اٹھاتا ہے، لیکن یہ فائدہ طفیلی ہے۔

    “نظام ایمان و عمل صالح” ایک بیج کے حکم میں  ہیں، جو ایک سعادت مندانہ جاوداں  زندگی میں  پرورش اور رشد کی صلاحیت رکھتے ہیں، یعنی ایک ابدی زندگی کے لئے اور ایک ابدی زندگی میں  ہی اس کے صحیح معنی اور مفہوم ہو سکتا ہے۔

    انسان نہ صرف ایمان و عمل خیر کے نظام میں  طبیعت سے بالاتر فضا میں  پرواز کرتا ہے اور مادی تعلقات سے مافوق تخم پاشی کرتا ہے بلکہ نظام ایمان و عمل صالح کے مخالف نظام میں  بھی جسے قرآن نظام کفر و فسق کہتا ہے، اس کے کام، طبیعت اور حیوانیت کے حدود سے ماوراء اور جسمانی ضروریات اور طبیعی تعلقات سے خارج ہوتے ہیں  اور اس پر روحانی اور جاودانہ پہلو غالب آنے لگتا ہے، لیکن یہ انحراف کی صورت ہوتی ہے، اسی لئے وہ ایک قسم کی حیات جاوید کا مستحق تو ہو جاتا ہے، لیکن افسوس ہے، وہ اپنے لئے درد و رنج جمع کرتا ہے اور دینی اصطلاح میں  وہ جہنم کی راہ اختیار کر لیتا ہے۔

    انسان ایسا نہیں  کہ اگر ایمان و عمل صالح کے مدار میں  حرکت نہ کرے، تو اپنے آپ کو حیوان کے مدار میں  محدود کر دے بلکہ وہ صفر سے بھی نیچے چلا جاتا ہے اور قرآنی زبان میں  “بل ھم اضل” یعنی حیوان سے بھی پست تر اور گمراہ تر ہو جاتا ہے۔

    اب اگر ابدی زندگی کا تصور نہ ہو، تو پھر وہ انسان جو نظام ایمان و عمل صالح کے تحت چل رہے ہیں  اور وہ انسان جو ایمان، عمل صالح کے مخالف نظام پر کاربند ہیں، ان شاگروں  کی طرح ہوں  گے کہ جن میں  سے بعض نے اپنے کام کو احسن طریقے سے انجام دیا ہو اور بعض نے لہو و لعب میں  وقت گذارا ہے، اب اگر استاد چاہے کہ سب کو نمبروں  سے محروم کر دے، تو یہ محرومیت ظلم اور خلاف عدل ہو گی۔

    اس مطلب کو سادہ الفاظ میں  بھی بیان کیا جا سکتا ہے، وہ یہ ہے کہ خدا نے لوگوں  کو ایمان اور نیکیوں  کی دعوت دی ہے، لوگ اس دعوت کی قبولیت کے لحاظ سے دو گروہوں  میں  تقسیم ہو گئے ہیں۔ بعض نے اس دعوت کو قبول کیا اور اپنے فکری، اخلاقی نظام اور اپنے عمل کو اس کے مطابق انجام دیا، بعض نے قبول نہ کیا اور بد کاری میں  پڑ گئے۔

    دوسری طرف سے اگر دیکھیں، تو اس دنیا کا نظام ایسا نہیں  کہ نیک کام کرنے والے کو سو فیصد جزا اور بدکار کو سو فیصد سزا مل جائے، بلکہ بعض ایسے نیک کام کرنے والے ہیں، جو اس دنیا سے بغیر جزا چلے گئے ہیں، ایسے عالم کا وجود ضروری ہے، جہاں  نیک لوگوں  کو ان کی نیکی کی جزا کامل طور پر اور بدکاروں  کو بدی کی سزا مکمل طور پر ملے ورنہ یہ “عدل الٰہی” کے خلاف ہو گا۔

حکمت الٰہی

    انسانوں  کے کام دو قسم کے ہیں :

    پہلا بلا فائدہ و عبث کام جس کا کوئی نتیجہ نہیں، یعنی ان کمالات تک پہنچانے میں  جو ہماری استعداد میں  ہیں، یہ موثر نہیں، دوسرے لفظوں  میں  ہمیں  حقیقی سعادت تک پہنچانے میں  ان کا کوئی حصہ نہیں۔

    دوسرا عاقلانہ کام جس کے نتائج خوب اور مفید ہوتے ہیں  اور ہمیں  مطلوبہ کمال تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ پہلی قسم کو لغو و باطل و بلا فائدہ کام کہا جاتا ہے اور دوسری قسم کے کام کو حکیمانہ اور عاقلانہ کام کہا جاتا ہے۔

    پس انسان کے حکیمانہ کام کا مطلب ایسے امور ہیں، جو ہمیں  لائق کمال تک پہنچائیں۔ خداوند عالم کے حکیمانہ افعال کیا ہیں ؟

    کیا خدا کے کارہائے حکیمانہ کا مطلب وہ کام ہیں، جو اس کو کمال لائق تک لے جائیں  اور اس کے کارعبث سے مراد وہ کام ہیں، جو اسے کمال تک نہ پہنچائیں ؟

    بالکل نہیں  وہ غنی اور بے نیاز ہے، جو کام وہ کرتا ہے، وہ اس کا فضل، جود، بخشش اور عطا ہے۔ کوئی کام اس لئے نہیں  کرتا کہ اپنی حاجت برطرف کرے یا اپنے آپ کو کمال اور سعادت تک پہنچائے۔

    خدا کے کارہائے حکیمانہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا کسی مخلوق کو کمال لائق تک پہنچائے۔ عبث کاموں  کو خدا کی طرف نسبت دینے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کسی مخلوق کو پیدا کرے، لیکن اس کو کمال لائق اور ممکن تک پہنچانے کا بندوبست نہ کرے، یہی وجہ ہے کہ حکمت خداوندی اور انسان کے حکیم ہونے کا مطلب جدا جدا ہے، انسان کو حکمت و دانائی کا مطلب عقل مندی اور کمال انسانی کے طریق میں  قدم اٹھانا اور حکمت خداوندی کا مطلب مخلوقات کو کمال لائق تک پہنچانا ہے۔

    دوسرے لفظوں  میں  حکمت خداوندی یعنی اشیاء کی ایسی خلقت جس کی اساس اور بنیاد انہیں  غایت و کمال لائق تک لے جائے، چونکہ حکمت انسانی سے مراد انسان کو اس کے کمالات تک پہنچانے کے لئے کوئی کام انجام دینا ہے، لہٰذا ضروری نہیں  کہ انسان جو کام انجام دے رہا ہے، اس کے اور اس کام کے نتیجے کے مابین حقیقی رابطہ موجود ہو، یعنی ضروری نہیں  کہ اس کام کا فطری رخ اسی نتیجے کی طرف ہو اور وہ نتیجہ اس کام کا کمال شمار کیا جائے، جو چیز ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ اس کا کام نتیجہ انسان کے لئے کمال اور فائدہ مند شمار ہو، مثلاً انسان، مٹی، لکڑی، پتھر، دھات، کھال، روئی اور پشم سے مختلف قسم کے آلات بناتا ہے اور ان سے حکیمانہ نتیجہ حاصل کرتا ہے، مثلاً کرسی بناتا ہے، یا مکان بناتا ہے یا گاڑی بناتا ہے یا لباس بنتا ہے …

    کرسی، لکڑی کے لئے، مکان، پتھر، اینٹ، چونا اور لوہے کے لئے اور گاڑی مختلف دھاتوں  کے لئے کمال شمار نہیں  کئے جاتے اور یہ تمام مواد اس مخصوص شکل و صورت کے اختیار کرنے کے لئے حرکت نہیں  کرتے، لیکن جو نتیجہ انسان ان سے حاصل کرتا ہے، جیسے کرسی پر بیٹھنا، مکان میں  رہنا، گاڑی میں  چلنا، لباس کا پہننا وغیرہ، انسان کے لئے ایک طرح کا کمال یا کم از کم فائدہ بخش اور مفید امر شمار ہوتا ہے، لیکن اللہ کے کاموں  اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج میں  حقیقی رابطہ ہوتا ہے، یعنی ہر کام کا نتیجہ اور آخری مقصد اس کام کے واقعی اور حقیقی کمال سے عبارت ہے۔ خداوند متعال اپنی مخلوق کو جو کہ اسی کا کام اور فعل ہے، اسی مخلوق کے کمال کی طرف لے جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، ہر بیج اور دانہ اپنے مقصد اور کمال کی جانب محو سفر ہے۔

    قابل غور مسئلہ یہ ہے کہ دنیا اور عالم طبیعت تو تغیر و تبدل اور عدم ثبات کے مساوی ہے، یعنی طبیعت میں  جس بھی مقصد، ہدف اور منزل کو دیکھا جائے، وہ غیر ثابت اور تغیر و تبدل کی زد میں  ہے۔ دوسرے لفظوں  میں  ہر چیز عبوری، غیر دائم اور ختم ہونے والی ہے، عالم طبیعت کے تمام مراحل “ایک منزل” کی حیثیت رکھتے ہیں، جس کی خصوصیت راستے میں  واع ہونا ہے اور ان میں  سے کوئی بھی مرحلہ آخری منزل اور ہدف و مقصد نہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں  میں  یہ خیال پیدا ہوا کہ خلقت بے مقصد، بے ہدف اور عبث ہے، وہ کہتے ہیں، اس عالم کی مثال ایک قافلے کی مانند ہے، جو ہمیشہ حرکت میں  ہے اور مختلف منزلیں  تبدیل کرتا رہتا ہے اور کبھی اپنی حقیقی اور آخری منزل تک نہیں  پہنچتا، اس کا ہدف اور مقصد راستے کی ایک منزل ہے، جس میں  کچھ دیر رہنے کے بعد طبیعت اسے چھوڑ دیتی ہے اور آگے بڑھ جاتی ہے، واضح امر ہے کہ ایک حرکت اور ایک سفر تبھی معنی اور مفہوم رکھتا ہے، جب اس کا کوئی انتہائی ہدف اور آخری مقصد بھی ہو، لیکن اگر تمام اہداف اور مقاصد راستے کی منزلیں  ہوں  اور سفر کر کے انتہائی مقصد تک پہنچنے کا تصور باقی نہ رہے، تو یہ سفر بے ہودہ، عبث اور بے فائدہ شمار ہو گا۔ اگر یہ قرار پا جائے کہ ہر ہستی کے پیچھے نیستی پوشیدہ ہو اور ہر آبادی اپنے بعد بربادی کا پیغام دے اور ہر منزل پر پہنچنا، اسے خالی کر کے دوبارہ آگے بڑھانے کے لئے ہو، پھر تو عالم کے نظام پر حاکم چیز مگر رات کے تکرار اور سرگردانی و حیرانی کے سوا کچھ نہیں، پس عالم ہستی کی بنیاد ہی کھوکھلی ہے۔

    قرآن کا جواب یہ ہے کہ ہاں، اگر صرف طبیعت اور دنیا ہی ہوتی اور بس کچھ نہ ہوتا یا اگر پیدائش مرنے کے لئے، نشوونماء، سرسبز ہونے اور شادابی، زرد خشک اور پراگندہ ہونے کے لئے اور تمام نئی چیزیں  قدیم ہونے کے لئے ہوتیں، تو پھر اعترا ض بجا تھا، مگر عالم ہستی کے بارے میں  اس قسم کے نقطہ نظر کا سرچشمہ ناقص نظر ہے، اس نظریہ کی اساس یہ ہے کہ “ہستی کو دنیا اور طبیعت کے محدود قالب میں  محضور سمجھا جائے، لیکن “ہستی” دنیا اور طبیعت میں  محدود و محصور نہیں۔ ” دنیا روز اول ہے “روز اول کے بعد روز آخر کی باری ہوتی ہے، دنیا “جانا” ہے اور آخرت “پہنچنا”۔

    علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

    الدنیا دار مجار و الاخرة دار قرار

    “دنیا گذرگاہ اور آخرت جائے قرار ہے۔ “

    آخرت ہی دنیا کو معنی دیتی ہے، کیونکہ مقصد ہی وہ چیز ہوتی ہے، جو حرکت و جستجو کو معنی اور مفہوم کا لباس پہناتی ہے۔

    اگر جہان آخرت جو کہ دائمی عالم ہے، نہ ہوتا، تو اس دنیا کا کوئی مقصد اور منتہی نہ ہوتا، جسے حقیقتاً مقصد کہا جا سکتا، نہ منزل اور مرحلہ۔

    گردش روزگار ایک قسم کی حیرت و سرگردانی کا نام ہوتا اور قرآن کی اصطلاح میں  یہ خلقت و پیدائش “عبث”، “باطل” اور “لعب” ہوتی، لیکن انبیاء و مرسلین آئے تاکہ اس بنیادی غلطی سے روکیں  اور ہمیں  ایسی حقیقت سے آگاہ کریں  کہ جس کے نہ جاننے سے “ہستی” ہماری نظر میں  بے فائدہ اور بے معنی ہو جاتی ہے اور آفرینش کے بے فائدہ ہونے کا تصور ہمارے ذہن میں  راسخ ہو جاتا ہے، ایسے تصور کے اثر و رسوخ سے خود ہم بھی ایک بے معنی، بے ہدف اور بے ہودہ مخلوق کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

    عالم آخرت پر ایمان و اعتقاد کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ یہ ہمیں  کھوکھلے پن اور بے معنی ہونے کے تصور سے نجات دیتا ہے۔ ہمیں  اور ہمارے خیالات و تصورات اور ہماری “ہستی” کو معنی و مفہوم بخشتا ہے۔

٭٭٭

ان پیج سے کنورژن: علی رضا

ماخذ:

اردو ویب

تدوین اور ای بک