FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

آزادیِ ہند اور تحریکِ ریشمی رومال

 

 

               مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی

 

 

 

 

 

 

تحریکِ آزادی میں علمائے کرام کی جد و جہد و قربانی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کی تحریک اس وقت شروع ہوئی، جب ہندوستان کی آزادی کے لیے ملک میں کوئی دوسری تحریک شروع نہیں ہوئی تھی۔ ملک کی آزادی کے لیے، انھوں نے ہر طرح کی قربانیاں دیں۔ قید و بند کی تکلیفیں برداشت کیں، پھانسیاں دی گئیں، کالا پانی بھیجے گئے۔ اس تحریک میں خود حصہ لیا۔ برادرانِ وطن کو دعوت دی، اور ان کے ساتھ مل کر ملک کو آزاد کرانے میں پیش پیش رہے۔ ان حضرات نے ملک کی آزادی کے لیے بہت سی تحریکیں بھی چلائیں اور بہت سی تنظیمیں قائم کیں، جن کا ملک کی آزادی میں اہم رول رہا ہے۔ ان تحریکوں میں سے ریشمی رومال تحریک بہت مشہور ہے۔

 

قونصل جنرل برطانیہ کے ذریعہ پولیٹیکل ڈپارٹمنٹ میں موصول ہوئے ٹیلیگرام میں ریشمی خطوط کا خلاصہ موجود ہے۔ اس میں تحریر ہے:

 

“زیر نظر کیس کو ہم اپنی آسانی کے لیے “ریشمی خطوط کا کیس” اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس بارے میں ہمیں گہری اور مکمل واقفیت اگست۱۹۱۶ء میں ریشمی کپڑے پر لکھے ہوئے “تین خطوط” کے پکڑے جانے سے حاصل ہوئی۔ جو کابل میں موجود سازشیوں نے حجاز میں موجود سازشیوں کو بھیجنے کے لیے روانہ کیے تھے۔ یہ واقعات جو اس تفتیش اور تحقیقات کا باعث ہیں۔ ان کا سلسلہ ۱۹۱۵ء کے اوائل سے شروع ہوتا ہے۔ “(۱)

 

ریشمی رومال تحریک کی سیاسی اہمیت بھی ہے اور تاریخی بھی۔ اس تحریک کا ملک کی آزادی میں اہم رول ہے۔ اس کی قیادت شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ نے کی۔

 

شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے والد محترم کا نام مولانا ذوالفقار علیؒ تھا۔ آپ کی پیدائش ۱۸۵۱ء کو بریلی میں ہوئی۔ چھ سال کی عمر میں سلسلۂ تعلیم شروع ہوا۔ ابتدائی تعلیم مختلف اساتذہ سے حاصل کی۔ تعلیم کی تکمیل حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی سے کی۔ آپ سفر و حضر میں حضرت استاذ کے ساتھ رہے۔ دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کی۔ فراغت کے بعد معین مدرس بنائے گئے۔ اور چار سال کے بعد دارالعلوم دیوبند میں مدرسِ چہارم قرار دیے گئے۔ پھر ۱۸۸۸ء میں صدر المدرسین کے عہدہ پر فائز کیے گئے۔ جس کے فرائض ۱۹۱۵ء تک انجام دیتے رہے۔ (۲)

 

دار العلوم میں مدرس کی حیثیت سے تقرر کو پانچ سال ہوئے تھے کہ آپ نے دارالعلوم ہی کے حلقہ میں ایک جماعت بنائی “ثمرۃ التربیت” اس کا نام تجویز کیا۔ دارالعلوم کے مالی مفاد کے لیے فضلاء اور ہمدردانِ دارالعلوم سے رابطہ رکھنا اس جماعت کا مقصد ظاہر کیا گیا، مگر ظاہر ہے کہ جملہ مقاصد کو الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جاتا۔

 

۱۳۲۱ھ/۱۹۰۳ میں”نظارۃ المعارف” کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بانی حضرت مولانا عبید اللہ سندھی تھے۔ اور روحِ رواں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ۔ یہ تعلیم گاہ بھی تھا۔ تربیت گاہ بھی اور خفیہ مشورہ گاہ بھی۔ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ تحریر کرتے ہیں:

 

“اس کا مقصد یہ تھا کہ انگریزی تعلیم سے نوجوانانِ اسلام کے عقائد اور خیالات پر جو بے دینی اور زہریلا اثر پڑتا ہے اس کو زائل کیا جائے اور قرآن کی تعلیم اس طرح دی جائے کہ ان کے شکوک و شبہات دینِ اسلام سے دور ہو جائیں اور وہ سچے اور پکے مسلمان ہو جائیں۔ ” (۳)

 

ساتھ ہی اس کا مقصد سیاسی بھی تھا۔ سی آئی ڈی نے اس سلسلہ میں لکھا ہے:

 

“دیوبند کو اپنے مشنریوں کی تربیت گاہ نہ بنا سکا تو عبید اللہ نے فیصلہ کیا کہ ایک مدرسہ دلّی میں اس مقصد کے لیے قائم کرے۔ اس میں درس کے علاوہ جو “نظارۃالمعارف” میں دیا جاتا تھا وہ صریحاً درست نہیں تھا، یہ سازشوں کے لیے وقتاً فوقتاً مل بیٹھنے کے لیے ایک جلسہ گاہ بھی تھا۔ “(۴)

 

۱۹۱۴ء میں عالمی جنگ چھڑ جانے کے بعد شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن ؒ نے محسوس کیا کہ وقت قریب آ گیا ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے جنگ شروع کی جا سکتی ہے۔ حضرت شیخ الہند ؒ نے محسوس کر لیا تھا کہ ہندوستانی عوام اور مشرقِ وسطی کے ممالک خصوصاًافغانستان، ایران اور خلافت عثمانیہ کو متحد کیے بغیر برطانوی حکومت سے ایشیاء کو آزاد نہیں کرایا جا سکتا ہے۔ اس وقت خلافت عثمانیہ مشرقی وسطی کے وقار کی محافظ سمجھی جاتی تھی، اور ترکی ہی برطانیہ، اٹلی،  فرانس، یونان اور روس کے مقابلہ میں ڈٹا ہوا تھا، اس لیے آپ نے حضرت مولا نا عبید اللہ سندھی کو افغانستان جانے کا حکم دیا اور خود حجاز و خلافت عثمانیہ کا سفر کیا۔

 

۱۹۱۵ء میں حضرت شیخ الہند ؒ نے مولانا سندھی کو کابل جانے کا حکم دیا، مگر انھیں کوئی مفصل پروگرام نہیں دیا۔ سی آئی ڈی کو غفلت میں ڈال کر شیخ عبدالرحیم سندھی کے ساتھ کوئٹہ ہوتے ہوئے افغانستان کے لیے روانہ ہو گئے۔

 

شیخ عبدالرحیم سندھی جنہوں نے اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا یہ بھی حضرت شیخ الہند کی تحریک کے معتمد تھے۔ مولانا عبید اللہ سندھی کو افغانستان جانے کے لیے ان کی بیوی اور بیٹیوں نے اپنے زیورات فروخت کر کے زاد راہ کی فراہمی کی تھی۔ روانگی کے وقت شیخ عبدالرحیم کوئٹہ تک گئے اور وہاں جا کر روپئے سپر د کر کے واپس لوٹ آئے۔

 

گرفتاری سے بچنے کے لیے مولانا سندھی بلوچستان کے ریگستان اور سنسان پہاڑی راستوں اور دروں سے ہوتے ہوئے ۱۵/اگست ۱۹۱۵ء کو افغانستان کی سرحد میں داخل ہوئے۔ اس وقت سورج غروب ہو رہا تھا۔ افغانستان کی آزاد سرزمین پر انھوں نے پہلی مغرب کی نماز ادا کی۔ اور حسنِ اتفاق یہی ۱۵/ اگست ہندوستان کی آزادی کی تاریخ ہوئی۔

 

مولانا عبید اللہ سندھی تحریر کرتے ہیں:

 

“۱۹۱۵ء میں شیخ الہندؒ کے حکم سے کابل گیا، مجھے کوئی مفصل پروگرام نہیں بتایا گیا تھا، اس لیے میری طبیعت اس ہجرت کو پسندنہیں کرتی تھی، لیکن تعمیلِ حکم کے لیے جانا ضروری تھا۔ خدا نے اپنے فضل سے نکلنے کا راستہ صاف کر دیا اور میں افغانستان پہونچ گیا۔ روانگی کے وقت دہلی کی سیاسی جماعت کو میں نے بتلایا کہ میرا کابل جانا طے ہوچکا ہے، انھوں نے بھی مجھے اپنا نمائندہ بنایا، مگر کوئی معقول پروگرام وہ بھی نہ بتا سکے۔ کابل جا کر مجھے معلوم ہوا کہ حضرت شیخ الہند قدس سرہ جس جماعت کے نمائندہ تھے، اس کی پچاس سال کی محنتوں کا حاصل میرے سامنے غیر منظم شکل میں تعمیلِ حکم کے لیے تیار ہے۔ ان کو میرے جیسے ایک خادمِ شیخ الہند کی اشد ضرورت تھی۔ اب مجھے اس ہجرت اور شیخ الہند کے اس انتخاب پر فخر محسوس ہونے لگا۔ میں سات سال تک حکومتِ کابل کی شرکت میں اپنا ہندوستانی کام کرتا رہا۔ ۱۹۱۹ء میں امیر حبیب اللہ خاں نے ہندوؤں سے مل کر کام کرنے کا حکم دیا، اس کی تعمیل میرے لیے فقط ایک ہی صورت میں ممکن تھی کہ میں انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہو جاؤں اس وقت سے میں کانگریس کا داعی بن گیا۔ ۱۹۲۲ء میں امیر امان اللہ خاں کے دور میں میں نے کانگریس کمیٹی کابل بنائی، جس کا الحاق ڈاکٹر انصاری کی کوششوں سے کانگریس کے گیا سیشن نے منظور کر لیا۔ برٹش ایمپائر سے باہر یہ پہلی کانگریس کمیٹی ہے اور میں اس پر فخر محسوس کرسکتا ہوں کہ میں اس کا پہلا پریسیڈنٹ ہوں۔ “(۵)

 

افغانستان کے جس علاقہ میں مولانا سندھی داخل ہوئے اس علاقہ کو “سوریایک” کہا جاتا ہے۔ حضرت مولانا وہاں سے قندھار پہنچے۔ وہاں سے کابل پہنچے۔ ان کے سفر کا مقصد تھا افغانستان کو ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں اخلاقی اور فوجی امداد دینے کے لیے تیار کرانا۔ مولانا اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے کوشش کرتے رہے۔ اس سلسلہ میں حکومت کے ذمہ داروں سے رابطہ قائم کیا اور ان کی مدد سے امیر حبیب اللہ تک رسائی حاصل کی۔ اور اپنے مقصد سفر کے سلسلہ میں ایک عرض داشت پیش کی، جس میں افغانستان کو ہندوستان کی آزادی کے لیے امداد دینے کی درخواست تھی۔

 

“مولانا سندھی کے کابل پہنچنے سے پہلے پنجاب اورسرحد کے انگریز ی کالج کے طلبہ کا ایک وفد بھی کابل پہنچ چکا تھا۔ جہاں ان کو نظر بند کر دیا گیا تھا۔ طلبہ کے اس وفد کا مقصد تھا خلافت عثمانیہ کی فوج میں شامل ہوکر انگریزوں سے لڑنا۔ ان طلبہ کو مولانا سندھی نے کابل پہنچنے کے بعد رہا کرایا تھا۔ مولانا سندھی نے ان مہاجر طلبہ کو اپنے حلقہ میں شامل کر لیا۔ ان کو مشورہ دیا کہ وہ ترکی فوج میں شامل ہونے کا ارادہ ترک کر دیں۔ اورافغانستان ہی میں رہ کر ہندوستان کی آزادی کے لیے کام کریں، چنانچہ وہ طلبہ تیار ہو گئے۔ اور ان کے ساتھ مل کر مولانا سندھی نے ایک عارضی حکومت قائم کی۔ اس عارضی حکومت کے تین رکن تھے۔ راجہ مہندر سنگھ، مولانا برکت اللہ بھوپالی اور مولانا عبید اللہ سندھی۔ اس عارضی حکومت نے مختلف ممالک میں اپنے وفود روانہ کر کے رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کی۔ اسی سلسلہ میں مارچ ۱۹۱۶ء کو ایک وفد روس بھیجا گیا، اس کے بعد دو وفد کو ترکی اور جاپان کے لیے روانہ کیا گیا۔ ترکی جانے والے وفد میں عبدالباری اور شجاع اللہ اور جاپان جانے والے وفد میں شیخ عبد القادر اور ڈاکٹر متھرا سنگھ شامل تھے۔ جاپان جانے والے وفد کو گرفتار کر کے روسی حکام نے برطانیہ کے حوالے کر دیا۔ اور بد قسمتی سے ترکی جانے والا وفد بھی برطانوی حکام کے قبضہ میں آ گیا۔ ان کے بیانات سے سارے واقعات انگریزوں کے علم میں آ گئے۔ حکومتِ برطانیہ نے حکومتِ افغانستان سے احتجاج کیا، جس کے دباؤ میں آ کر حکومتِ افعانستان نے مولوی محمد علی اور شیخ ابراہیم کو ہندوستان جانے کا حکم دے دیا۔ یہ دونوں حبیبیہ کالج کے پرنسپل اور پروفیسر تھے۔ “(۶)

 

مولانا عبید اللہ سندھی نے ان حالات سے حضرت شیخ الہند ؒ کو مطلع کرنا ضروری سمجھا اور ریشمی کپڑے کے تین ٹکڑوں پر خط لکھ کر ۹/ جولائی ۱۹۱۶ء کو عبد الحق کو دیا اور اس کو ہدایت کر دی کہ یہ خطوط شیخ عبدالرحیم سندھی کو پہچا دیں “ریشمی رومال” کے اس خط کو “ریشمی رومال تحریک ” یا”ریشمی خطوط تحریک” کہتے ہیں۔ یہ خطوط کیسے ہاتھ لگے، اس سلسلہ میں ریشمی خطوط سازش کیس میں آفیسران کی تحریر ملاحظہ ہو:

 

“۱۴/اگست کو ملتان کے خان بہادر رب نواز خاں نے ملتان ڈویزن کے کمشنر کو زرد ریشمی کپڑے کے تین ٹکڑے دکھائے جن پر خوش خط اردو لکھی تھی۔ انھوں نے بیان کیا کہ یہ ۴/ اگست سے ان کے پاس تھے، لیکن کمشنر کی عدم موجود گی کے باعث پیش نہیں کیے جا سکے۔ خان بہادر نے بتایا کہ انھیں یہ خطوط عبدالحق سے ملے ہیں، جو پہلے ان کے لڑکوں کا اتالیق تھا اور ۱۹۱۵ء میں ان کے ہمراہ کابل گیا تھا۔ عبدالحق نے رب نواز خاں کو یہ خطوط پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان خطوط کو پہنچا نے کے لیے ہی اس کو کابل سے بھیجا گیا ہے۔ جو حیدرآباد سندھ میں عبدالرحیم کو دیے جانے تھے، تاکہ وہ ان خطوط کو مدینہ روانہ کر دے۔ عبدالحق کو عبد الرحیم سے ان خطوط کی رسیدلینی تھی اور اس رسید کو واپس کابل لے جانا تھا۔

 

کمشنر ملتان نے اس خط کے بعض حصے پڑھوا کر سنے اور انھیں بچوں کی سی حماقت قرار دیا، تاہم ان خطوط کو پنجاب سی آئی ڈی کے حوالہ کر دیا گیا، پنجاب سی آئی ڈی کے مسٹر ٹومکنس نے ان خطوط کا ترجمہ کرایا اور عبدالحق قاصد پر جر ح کرائی۔ “(۷)

 

انگریز آفیسران خطوط کی تحریر کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:

 

“ان خطوط کی تحریر بہت اچھی نہایت صاف اور پختہ ہے۔ نہ تو کوئی لفظ کھرچ کر صاف کیا گیا ہے، نہ کہیں کچھ مٹا یا گیا ہے، نہ کسی لفظ کی اصلاح کی گئی ہے۔ صرف و نحو کی صرف ایک نہایت معمولی غلطی پوری تحریر میں نظر آتی ہے۔ خط کی زبان اگرچہ بعض مقامات پر مبہم ہے۔ جیسا کہ بالعموم سازشی تحریروں میں ہوتی ہیں، لیکن اچھے تعلیم یافتہ، بلکہ عالم شخص کی زبان ہے۔ “(۸)

 

مولانا عبید اللہ سندھی نے جو ریشمی رومال پر خطوط لکھے تھے ’تاریخی اور سیاسی اعتبار سے وہ خطوط نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں سے پہلا خط شیخ عبد الرحیم سندھی کے نام تھا۔ یہ خط ۶/ انچ لمبے اور ۵/ انچ چوڑے ٹکڑوں پر لکھا گیا تھا۔ دوسرا خط حضرت شیخ الہند ؒ کے نام تھا۔ یہ خط دس انچ لمبے اور آٹھ انچ چوڑے کپڑے کے ٹکڑے پر لکھا گیا تھا۔ تیسرا خط ۱۵/انچ لمبے اور دس انچ چوڑے ٹکڑے پر لکھا گیا تھا یہ خط شیخ الہند ؒ کے نام تھا۔ ریشمی خطوط سازش کیس میں ان خطوط کے سلسلہ میں تفصیل درج ہے، وہ یہ ہے:

 

“یہ خطوط زرد رنگ کے ریشمی کپڑے کے تین ٹکڑوں پر ہیں، ان میں پہلا خط شیخ عبدالرحیم صاحب کے نام ہے۔ یہ ٹکڑا چھ انچ لمبا اور پانچ انچ چوڑا ہے۔ دوسرا خط مولانا کے نام ہے یہ دس انچ لمبا اور آٹھ انچ چوڑا ہے۔ تیسرا خط بظاہر پہلے خط ہی کے تسلسل میں ہے۔ پندرہ انچ لمبا اور دس انچ چوڑا ہے۔ ”

 

پہلے اور تیسرے خطوط پر “عبید اللہ”دستخط ہیں۔ عبدالحق نے ہمیں بتایا ہے کہ مولوی عبید اللہ نے اس کو یہ تینوں ریشمی رومال دیے ہیں۔ جن پر اس کی موجود گی میں مولوی عبید اللہ نے خطوط لکھے تھے۔

 

اس میں شبہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ عبید اللہ نے خود ہی یہ خط لکھے تھے۔ عبید اللہ نام کے دستخط عبید اللہ کے ان دستخطوں سے پوری مطابقت رکھتے ہیں۔ جو یہاں ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ “(۹)

 

ریشمی خطوط کے مضمون کیا تھے۔ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

 

“پہلا خط جو شیخ عبد الرحیم سندھی کے نام تھا، اس کا مضمون یہ تھا :

 

“یہ خط حضرت مولانا شیخ الہند کو مدینہ بھیجنا ہے۔ حضرت شیخ الہند کو خط کے ذریعہ بھی اور زبانی بھی آگاہ کر دیں کہ وہ کابل آنے کی کوشش نہ کریں۔ حضرت مولانا شیخ الہند مطلع ہو جائیں کہ مولانا منصور انصاری اس بار حج کے لیے نہ جا سکیں گے۔ شیخ عبد الرحیم کسی نہ کسی طرح کابل میں مولانا سندھی سے ملاقات کریں”۔

 

دوسرا خط شیخ الہند ؒ کے نام تھا جس کے سلسلہ میں ہدایت تھی کہ تحریک کے ممتاز کارکنوں کو بھی یہ خط دکھا دیا جائے! اس خط میں رضاکار فوج “جنود اللہ” اور اس کے افسروں کی تنخواہوں کا تذکرہ ہے۔ ۱۰۴ افراد کے نام ہیں۔ جنہیں فوجی تربیت اور ان کے کام کی ذمہ داری کے سلسلہ میں تحریر ہے۔ اس کے علاوہ راجہ مہندر پرتاب سنگھ کی سرگرم “جرمن مشن کی آمد، عارضی حکومت” کا قیام روس جاپان اور ترکی وفود کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

 

تیسرا خط حضرت شیخ الہند ؒ کے نام تھا۔ مشہور یہ ہے کہ یہ خطوط مولانا منصور انصاری نے لکھا تھا، لیکن عبدالحق ‘ جنہیں یہ خط پہنچانے کے لیے دیا گیا تھا، کا بیان ہے کہ یہ خط مولانا سندھی نے اس کے سامنے لکھا تھا۔ اس خط کے خاص مضامین یہ ہیں کہ ہندوستان میں تحریک کے کون کون سے کارکن سرگرم ہیں۔ اور کون کون سے لوگ سست پڑ گئے ہیں۔ اس میں مولانا آزاد اور مولانا حسرت موہانی کی گرفتاری کی اطلاع بھی تھی۔ اس میں یہ بھی تحریر ہے کہ میرا حجاز آنا ممکن نہیں ہے۔

 

“غالب نامہ” تحریک کے کارکنوں کو دکھا کر قبائلی علاقہ کے سرداروں کو دکھا دیا گیا ہے۔ حاجی ترنگ زئی اس وقت “مہمند” علاقہ میں ہیں۔ مہاجر ین نے مہمند اور “سوات” کے علاقہ میں آگ لگا رکھی ہے۔ جرمن ترک مشن کی آمد اور اس کے ناکام ہونے کے اسباب کا تذکر ہ بھی ہے۔ مشن کی ناکامی کے اسباب کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے کہ جرمنی اور ترکی کو چاہیے تھا کہ پہلی جنگِ عظیم میں شامل ہونے سے پہلے ایران اورافغانستان کی ضرورت معلوم کرے اور اس کو پورا کرنے کی صورت نکالے۔ اس کے علاوہ افغانستان کو جنگ میں شریک ہونے کے لیے کن کن چیزوں کی ضرورت ہے ا س کی تفصیل درج ہے۔ ساتھ ہی حضرت شیخ الہندؒ کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ مدینہ منورہ میں ٹھہر کر ترکی، افغانستان اور ایران میں معاہدہ کرانے کی کوشش کریں۔ اس خط میں حضرت شیخ الہندؒسے یہ بھی گزارش کی گئی تھی کہ وہ ہندوستان نہ آئیں حکومت نے ان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ “(۱۰)

 

مولانا سندھی نے یہ خطوط ریشمی رومال پر لکھ کر عبد الحق کو دیے، او راس کو ہدایت کر دی کہ یہ خط شیخ عبدالرحیم سندھی کو پہنچا دیں۔ عبدالحق ایک نو مسلم تھا ‘ وہ مہاجر طالب علموں کے ساتھ افغانستان گیا تھا۔ مہاجر طالب علموں میں دو طالب علم اللہ نواز اور شاہ نواز قابل ذکر ہیں۔ یہ دونوں رب نواز کے لڑکے تھے، جو ملتان میں انگریزی ایجنٹ تھا‘ عبد الحق بھی رب نواز کے یہاں رہتا تھا۔

 

جب یہ خطوط عبدالحق کو پہنچانے کے لیے دیے گئے تو وہ سرحد کے راستے سے پنجاب ہوتا ہوا بھاولپور پہنچا، وہاں بھاولپور کے مرشد کے پاس وہ کوٹ رکھ دیا جس کے استر میں وہ ریشمی ٹکڑے سلے ہوے تھے۔ اس کے بعد وہ بھاولپور سے اپنے آقا رب نواز سے ملاقات کرنے کے لیے ملتان چلا گیا۔ اس نے ان دونوں کی خیریت کے علاوہ تحریک اوراس کی سرگرمی، قبائلی علاقہ اور جیل کے واقعات اور مولانا عبید اللہ سندھی کی سرگرمیوں کی تفصیل بھی بتا دی۔ اور دھمکانے پر بھاولپور کے مرشد مولانا محمد کے پاس سے لا کر وہ کوٹ بھی دیا، جس کے استر میں وہ ریشمی خطوط سلے ہوئے تھے، جب رب نواز کو یہ خطو ط ہاتھ لگے تو اس نے غداری کی، اور اس نے فوراً ہی کمشنر سے ملاقات کی، اور ریشمی خطوط پیش کیے اور تمام تفصیلات سے اس کو باخبر کر دیا۔ ساتھ ہی عبد الحق کو کمشنر کے پاس لے گیا، اس کے صلہ میں اس کو “خان بہادر” کے خطاب سے نوازا گیا۔ اس طرح وہ رب نواز سے خان بہادررب نواز بن گیا۔

 

۱۰/اگست ۱۹۱۶ء کو رب نواز کے ذریعہ کمشنر کو مفصل رپورٹ ملی، اور پھر کیا تھا، اس کی روشنی میں حکومت نے نہایت ہی تیزی سے کاروائی شروع کر دی، چھاپے مارے گئے۔ اور گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔ اور اس طرح ۲۲۰ افراد کے خلاف انکوائری اور پوچھ تاچھ کی گئی۔ ۵۹اشخاص پر حکومت برطانیہ کا تختہ الٹنے کا اور غیر ممالک سے امداد حاصل کرنے کی سازش کا مقدمہ قائم کیا گیا۔ مولاناسندھی نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے:

 

“ہندوستان میں گرفتار یاں شروع ہوئیں تو ہم حیران رہ گئے، چند روز بعد شیخ الہندؒ او ران کے ساتھی مکہ معظمہ میں گرفتار کیے گئے۔ ایک عرصہ کے بعد ہمیں حقیقت معلوم ہوئی، اس کے ساتھ ہی کابل کی حالت بھی خراب ہونے لگی ‘ امیر حبیب اللہ کی رائے بھی بدل گئی، وہ نہیں چاہتا تھا کہ افغانستان اس تحریک میں کوئی دلچسپی لے یا ہندوستان کو کسی قسم کی مد د دے۔ اس کے علاوہ انگریزوں کا دباؤ مولانا سندھی اور ان کے ساتھیوں کے سلسلہ میں امیر حبیب اللہ پر بڑھ رہا تھا۔ آخر کار حبیب اللہ نے مولانا عبید اللہ سندھی او ران کے ساتھیوں کی گرفتاری اور نظر بندی کا حکم جاری کر دیا۔ ”

 

“یہ تینوں خط انڈیا آفس لائبریری لندن کے پولٹیکل اور سکریٹریٹ شعبہ میں من و عن محفوظ ہیں۔

 

تحریک آزادی کے لیے حضرت شیخ الہندؒ نے اپنا مرکز بھی سرحدی علاقہ کو بنایا تھا۔ انگریزوں سے مقابلہ میں مجاہدین وہاں کام کر رہے تھے۔ اور انگریزوں سے مقابلہ کر رہے تھے۔ وہاں حضرت شیخ الہند ؒ کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی، مگر آپ اس حقیقت کو پوری طرح محسوس کر رہے تھے کہ کہاں کا سفر ضروری ہے، چنانچہ حضرت مولانا محمد میاں صاحب تحریر کرتے ہیں:

 

مرکزیاغستان سے تقاضہ ہو رہا تھا کہ حضرت وہاں تشریف لے آئیں، تو مجاہدین کا اجتماع اور زیادہ ہو جائے گا۔ آپس کے تفرقہ کا خطرہ نہ رہے گا، اور کاروبار جہاد میں پختگی آ جائے گی، لیکن مجاہدین اور ضروریاتِ جہاد کے لیے غیر معمولی امداد کی بھی ضرورت تھی۔ اور حضرت کے علاوہ اور کوئی ایسانہ تھا کہ لوگ اس کی شخصیت سے متاثر ہوں ‘ اور محض خفیہ اشارہ پر غیر معمولی امداد پیش کر دیں۔ لہٰذا حضرت نے یاغستان جانا خلافِ مصلحت سمجھا، مسلسل تقاضوں کے بعد کچھ تیار بھی ہوئے تو خبر پہنچیں کہ میگزین ختم ہو چکا ہے۔ رسد بھی باقی نہیں رہی، اور یہ کہ عوام کی خفیہ امدادی ضروریات جہاد کے لیے کافی نہیں ہوسکتیں، لہٰذا کسی باقاعدہ حکومت کو آمادہ کیا جائے کہ وہ پشت پناہی کرے، اس مرحلہ پر حضرت نے یاغستان کے بجائے حجاز کا ارادہ کیا کہ ترکی حکومت سے رابطہ قائم کریں اور مرکز یاغستان کے لیے مولانا عبید اللہ سندھی کو مامور فرمایا۔

 

مکہ معظمہ پہنچنے کے بعد حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے مقصد کے لیے کوشش شروع کر دی۔ اور گورنر حجاز سے ملاقات کر کے اپنا مقصد سمجھایا، گورنر نے تمام باتیں غور سے سنیں، ضروری سوالات کے جوابات حاصل کیے ‘ اور اسی طرف سے جواب دینے کے لیے حضرت شیخ کودوسرے دن اپنے یہاں تشریف لانے کی دعوت دی۔ حضرت شیخ سے مختلف موضوع پر گفتگو کرنے کے بعد وہ اتنا متاثر ہوا کہ حضرت شیخ ؒاپنے مقصد کے لیے جو تحریر حاصل کرنا چاہتے تھے، وہ مرتب کر کے انھوں نے دے دیا، ان میں سب سے اہم مسلمانانِ ہند کے نام پیغام تھا ‘ جس میں حضرت شیخ الہندؒ پراعتماد ظاہر کرتے ہوئے ان کی جد و جہد کی تحسین کی تھی۔ اور ہدایت کی تھی کہ ان کی حمایت اور امداد کریں۔ اس کے علاوہ اپنی یعنی ترکی حکومت کی طرف سے بھی امداد کا یقین دلایا، یہ تحریر “غالب نامہ” کے نام سے مشہور ہوئی، اور اس کی کاپیاں یاغستان میں تقسیم کی گئیں۔ اس تحریر کے علاوہ دوسر ی تحریر مدینہ منورہ کے گورنر بصری پاشا کے نام تھی، جس میں حضرت شیخ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فرمائش کی تھی کہ ان کو استنبول انور پاشا کے پاس پہنچا دیں، تیسری تحریر انور پاشا کے نام تھی کہ یہ معتمد بزرگ ہیں، ان کے مطالبات پورے ہونے چاہئیں، لیکن حضرت شیخ کو استنبول جانے کی ضرورت پیش نہ آئی، کیونکہ جب حضرت شیخ الہندؒ حج بیت اللہ سے فارغ ہوکر ۶/ محرم الحرام ۱۳۳۴ھ/۱۹۱۵ء کو مدینہ منورہ پہنچے تو خود انور پاشا اور جمال پاشا اپنے سرکاری پروگرام کے مطابق مدینہ طیبہ حاضر ہو گئے۔ وہیں حضرت شیخ سے ملاقات ہوئی اور حضرت شیخ کی فرمائش کے بموجب ان حضرات نے فرامین اور پیغامات لکھ کر دے دیے، ان پیغامات کا مضمون بھی وہی تھا جو “غالب نامہ” کا تھا ‘ یعنی ہندوستانیوں کے مطالبۂ آزادی کی تحسین کی گئی تھی، اور اپنی طرف سے امداد و اعانت کا وعدہ تھا ‘ اور ہر شخص کو جو ترکی کی رعیت یا ملازم ہو، حکم تھا کہ مولانا محمود حسن صاحب پر اعتماد کرے اور ان کی اعانت میں حصہ لے۔ یہ فرمان صندوق کی دوسری تلی میں پیوست کر کے ہندوستان پہنچائے گئے۔ پھر ان کے فوٹو لیے گئے، او ران کو افغانستان ویاغستان پہنچایا گیا۔

 

مولانا سید محمد میاں صاحب تحریر کرتے ہیں:

 

“حضرت خود تو حجاز ہی میں ٹھہر گئے، لیکن “غالب نامہ” اور دوسرے ضروری کاغذات بطریقِ محفوظ ہندوستان پہنچا نے کی تدبیر یہ سوچی کہ کپڑے رکھنے کے لیے لکڑی کا ایک صندوق بنوایا۔ اس کے تختے اندر سے کھود کر کاغذات رکھ دیے، پھر انھیں اس طرح ملا دیا کہ باہر سے دیکھنے والا کتنا ہی مبصر کیوں نہ ہو پتہ نہ لگا سکے، بلکہ شبہ بھی نہ کر سکے۔ یہ صندوق مولانا ہادی حسن رئیس خاں جہاں پور۔ (ضلع مظفر نگر)اور حاجی شاہ بخش سندھی کے حوالہ کر دیا گیا۔ بمبئی میں جہاز پر سی آئی ڈی بھی موجود تھی اور اہلِ شہر بھی بکثرت آئے ہوئے تھے۔ انھیں میں سے مولانا محمد بنی نام ایک مخلص نے مولانا ہادی حسن صاحب سے کہا کہ اگر کوئی چیز محفوظ رکھنے ہوں تو ابھی مجھے دے دیجیے، چنانچہ صندوق انھیں دے دیا گیا، وہ اسے محفوظ نکال لائے اور توڑ کر تحریریں نکال لیں۔ دہلی میں حاجی احمد میرزا فوٹو گرافر نے ان کے فوٹو لیے اور مولانا محمد میاں عرف منصور انصاری کے ہاتھ یہ تحریریں سرحد بھیج د ی گئیں، بعد ازاں حضرت نے اپنے ایک عزیز کو اس خیال سے تحریروں کا راز بتا دیا کہ وہ ہندوستان واپس جا کر ان کے فوٹو لینے اور جا بجا پہنچانے کا پیغام اربابِ کار تک پہونچا نے کا انتظام کریں، مگر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اور اس نے کچھ بتا دیا جس کی بنا پر مختلف اصحاب کی تلاشیاں ہوئیں اور انھیں گوناگوں مصائب سے سابقہ پڑا۔ “( ۱۱)

 

” اسی زمانہ میں انگریزوں سے مل کر مکہ کے گورنر شریف حسین نے ترکی حکومت کے خلاف بغاوت کر دیا۔ اس بغاوت سے اور بے چینی ہندوستان میں بھی پیدا ہوئی۔ حکومت ہند نے خان بہادر مبارک علی اورنگ آبادی کو خفیہ طور پر مکہ معظمہ بھیجا کہ وہاں سے ترکی کے خلاف فتوی حاصل کر کے لائیں، چنانچہ شریف حسین کے عہدہ دار علماء کی مدد سے خان بہادر نے استفتاء اور اس کا جواب مرتب کرایا، جس میں ترکی فوج کی مطلقاً تکفیر تھی اور سلاطین آل عثمان کی خلافت سے انکار کیا گیا تھا، اور شریف حسین کی بغاوت کو حق بجانب اور مستحسن قرار دیا گیا تھا۔ شریف حسین سے تعلق رکھنے والے بہت سے علماء نے اس پر دستخط کر دیے تھے، لیکن علماء کی کثیر تعداد متردد اور خائف تھی۔ حضرت شیخ کے سامنے فتوی پیش کیا گیا تو حضرت موصوف نے سختی سے انکار کر دیا۔ آپ کے انکار پر تمام حق پرست علماء کی ہمت بلند ہو گئی، جو حضرات متردد اور خائف تھے، ان سب نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ فتوی پر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے حکومتِ ہند نے ان حضرات کو شریف حسین سے طلب کیا، شریف نے گرفتار ی کے احکام جاری کر دیے، حضرت شیخ طائف میں گرفتار کر لیے گئے۔ اور وہاں سے ۱۵/فروری ۱۹۱۷ء کو مالٹا روانہ کر دیے گئے۔ جوسیاسی اور جنگی قیدیوں کا مرکز تھا۔ وہاں سخت تکلیف کی زندگی گزار نے کے بعد ۸/ جون ۱۹۲۰ء کو تین برس سات مہینے کے بعد بمبئی پہنچا کر آپ کو رہا کیا گیا۔ “(۱۲)

 

واپسی کے بعد ملک کی آزادی میں سرگرم حصہ لیا۔ مالٹا ہی میں حضرت شیخ ا لہندؒ نے محسوس کیا کہ ہندوستان کی آزادی، ایک قوم اپنی کوشش سے حاصل نہیں کر سکتی ہے۔ ۱۸۳۱ء سے ۱۹۱۵ء تک کا تجربہ ان کے سامنے تھا۔ لہٰذا آپ نے تشدد کی پالیسی بد ل دی اور ہندوستان کی آزادی کو ہندو اور مسلمان کی مشترکہ جد و جہد سے حاصل کرنے کی تجویز پیش کی اور پھر ۱۹۱۹ء میں جمعیۃ علماء ہند کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کیا۔ جس نے تحریکِ آزادی میں سر گرم حصہ لیا۔ اس طرح ملک کی آزادی میں “ریشمی رومال تحریک” کا اہم رول ہے اور تاریخِ آزادی کا اہم باب بھی۔

 

آج ہمارا ملک آزاد ہے اور ہم آزاد ملک میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان مجاہدین کے کارناموں کو یاد کریں اور خراجِ تحسین پیش کریں، جنہوں نے ملک کی آزادی میں حصہ لیا۔ ملک کی آزادی میں ہمارے اکابر نے سر گرم حصہ لیا ہے اور ان کی قیادت نے تحریکِ آزادی کو تیز کیا ہے جو ہندوستان کی تاریخِ آزادی کا اہم باب ہے۔ ریشمی رومال تحریک کے سوسال کے موقع پر ہم ان مجاہدین کی آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کو ملک کی آزادی کے لیے قربان کر دیا اور ہمیں آزاد ملک میں زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرایا۔

***

ماخذ

(۱)         ریشمی خطوط سازش کیس۔ ص۔ ۱۶۶

(۲ )       نقش حیات جلد دوم۔ ص:۱۳۱

(۳)        نقش حیات۔ جلد دوم۔ ص:۱۷۸

( ۴)       ریشمی خطوط سازش کیس۔ ص:۱۹۶، ۱۹۷

(۵)        ذاتی ڈائری :ص:۲۰․۲۱․۲۲۔ نقش حیات۔ جلد دوم۔ ص:۱۴۵

(۶)        نقش حیات۔ جلد دوم۔ ص:۱۶۷

(۷)        ریشمی خطوط سازش کیس۔ ص:۱۲۶

(۸)        ریشمی خطوط سازش کیس۔ ص:۱۲۸

(۹)        ریشمی خطوط سازش کیس۔ ص:۱۲۷

(۱۰)       ریشمی خطوط سازش کیس۔ ص:۱۲۹

( ۱۱)       ریشمی خطوط سازش کیس۔ ص:۷۲

ماخذ:

http://www.darululoom-deoband.com/urdu/magazine/new/tmp/05-Azadi%20Hind%20Aur%20Tahrik%20Reshmi_MDU_02_February_14.htm

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید