FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

زبدۃ الفقہ

 

 

 

جلد۔ ۳، کتاب الصلوٰۃ

 

سید زوار حسین شاہ

 

 

 

 

 

 

 

اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے

 

 

اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی کا ایک خاص طریقہ جس کو اللّٰہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے واسطے سے ہم کو سکھایا ہے اس کو نماز کہتے ہیں۔ عقائد کی درستی کے بعد بدنی عبادتوں میں نماز سب سے افضل و عمدہ عبادت ہے ، اور یہ فرضِ محکم اور اور اسلام کا رکنِ اعظم ہے ۔ نماز ہر عاقل و بالغ مسلمان مرد و عورت پر خواہ وہ آزاد ہو یا غلام فرضِ عین ہے ، اس کا منکر کافر ہے اور اس کا چھوڑ دینا حرام اور بہت سخت گناہ ہے ۔ ایک وقت کی نماز بھی جان بوجھ کر چھوڑ دینے والا فاسق ہے ۔ یہ خالص بدنی عبادت ہے ، کسی حالت میں بھی کوئی شخص کسی دوسرے کی طرف سے ادا نہیں کر سکتا اور زندگی میں نماز کے بدلے میں کچھ مال و فدیہ کے طور پر ادا کرنا بھی جائز نہیں ، البتہ مرتے وقت قضا نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کے لئے وصیت کرنی چاہئے اور وارث اس کے ترکہ میں سے ادا کریں اور بغیر وصیت بھی وارث اس کی طرف سے دیدے تو قبول و عفو کی امید ہے ۔ پانچ وقت کی نمازیں فرضِ عین ہیں ، ( وقتوں کی تفصیل آگے آتی ہے ) جب بچہ سات برس کا ہو جائے اور آٹھویں میں لگ جائے تو اس کو نماز سکھانا اور پڑھوانا اس کے ولی سرپرست پر واجب ہے اور جب دس برس کا ہو جائے اور گیارہویں میں لگ جائے تو سختی سے نماز پڑھوانا واجب ہے ۔ سب نیک کاموں کا کرنا اور برائیوں سے بچنا اِسی عمر سے سکھانا چاہئے البتہ روزہ اُس وقت رکھوایا جائے جب بچے کو اس کی قوت حاصل ہو جائے ۔

 

 

نماز پڑھنے کے فائدے

 

 

نماز پڑھنے کے بہت سے فائدے ہیں ان میں سے چند فائدے یہ ہیں۔

۱. نمازی کا بدن اور کپڑے پاک صاف اور ستھرے رہتے ہیں۔

۲. نمازی آدمی سے اللّٰہ تعالیٰ رازی اور خوش ہوتا ہے

۳. حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نمازی سے راضی اور خوش ہوتے ہیں۔

۴. نمازی آدمی اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک نیک ہوتا ہے ۔

۵. نمازی بہت سے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے

۶. لوگ دنیا میں بھی عزت کرتے ہیں اور وہ آخرت میں بھی آرام اور سکھ سے رہتا ہے ۔

 

 

اوقات نماز اور اس کے مسائل

 

 

نماز فرض ہونے کا ظاہری سبب وقت ہے ، شریعت نے نماز ادا کرنے کے لئے پانچ وقت مقرر کئے ہیں ، اگر اُن وقتوں میں نماز پڑھی جائے تو ادا ہو گی اور وقت سے پہلے پڑھ لی جائے تو نماز بالکل ہی نہ ہو گی اور وقت گزرنے کے بعد پڑھی جائے تو وہ نماز ادا نہیں کہلائے گی بلکہ قضا کہلائے گی،

 

پانچ فرض نمازوں کے جو پانچ وقت مقرر ہیں ان کی تفصیل یہ ہے

 

۱. نمازِ فجر کا وقت

 

سورج نکلنے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ پہلے مشرق کی طرف سے آسمان کے کنارے پر چوڑائی میں یعنی شمالاً جنوباً ایک سفیدی ( روشنی) ظاہر ہوتی ہے اور جلدی جلدی دائیں بائیں پھیلتی جاتی ہے یہاں تک کہ تمام تمام آسمان پر پھیل جاتی ہے اسے صبح صادق کہتے ہیں ، اِسی صبح صادق کے طلوع ہونے سے فجر کی نماز کا وقت شروع ہوتا ہے ۔ صبح کاذب کا اعتبار نہیں اور یہ وہ سفیدی ہے جو صبح صادق سے پہلے مشرق سے آسمان پر لمبائی میں شرقاً غرباً ایک ستون کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے ۔ جس کے نیچے سارا افق سیاہ ہوتا ہے ، یہ سفیدی تھوڑی دیر رہ کر غائب ہو جاتی ہے ۔ اس کے بعد صبح صادق کی سفیدی ظاہر ہوتی ہے ، جو دائیں بائیں کو پھیلتی ہوئی اٹھتی ہے ۔ فجر کی نماز کا وقت صبح صادق سے شروع ہو کر سورج نکلنے سے پہلے تک رہتا ہے ،۔جب آفتاب کا ذرا سا کنارہ بھی نکل آئے تو فجر کا وقت ختم ہو جاتا ہے

 

۲. نماز ظہر اور جمعہ کا وقت

نماز ظہر اور جمعہ کا وقت زوال یعنی سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے اور ہر چیز کا سایہ اصلی سائے کے علاوہ دو گنا ہو جانے تک رہتا ہے ، جب سایہ دو گنا ہو جائے تو ظہر کا وقت ختم ہو جاتا ہے ، ٹھیک دوپہر کے وقت ہر۔چیز کا جس قدر سایہ ہو وہ اس کا اصلی سایہ ہے

 

۳. نماز عصر کا وقت

جب ہر چیز کا سایہ اصلی سائے کے علاوہ دو مثل ( دو گنا) ہو جائے تو عصر کا وقت شروع ہوتا ہے اور سورج کے غروب ہونے سے لحظہ بھر پہلے تک۔رہتا ہے

 

۴. نماز مغرب کا وقت

جب سورج غروب ہو جائے تو مغرب کا وقت شروع ہوتا ہے اور شفق کے غائب ہونے سے پہلے تک رہتا ہے ۔ مغرب کی طرف جو سرخی اس وقت آتی ہے اس کو شفق کہتے ہیں ، صاحبین کے نزدیک شفق احمر( سرخی) تک اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک شفق ابیض تک( سفیدی) سے پہلے تک مغرب کا وقت رہتا ہے ۔اور اِسی پر فتویٰ اور عمل ہے

 

۵. نماز عشاء اور وتر کا وقت

شفق غائب ہونے کے بعد عشاء کا وقت شروع ہو جاتا ہے اور صبح صادق ہونے سے پہلے تک رہتا ہے ، وتر کی نماز کا بھی یہی وقت ہے لیکن وتر کو فرضِ عشاءسے پہلے نہ پڑھے اس لئے ان میں ترتیب واجب ہے مگر بھول کر۔پڑھ لے تو جائز ہے فائدہ: نمازِ عیدین کا وقت، سورج کے اچھی طرح نکل آنے یعنی ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اور دوپہر سے پہلے تک رہتا ہے ، ان کا جلدی پڑھنا افضل ہے مگر عید الفطر اول وقت سے کچھ دیر کر کے پڑھنا مستحب ہے

 

 

 

نمازوں کے مستحب اوقات

 

فجر کی نماز کا مستحب وقت

جب اُجالا ہو جائے اور اتنا وقت ہو کہ قرأتِ مستحبہ کو ساتھ سنت کے موافق اچھی طرح نماز ادا کی جائے اور پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد اتنا وقت باقی رہے کہ سورج نکلنے سے پہلے دوبارہ سنت کے موافق نماز پڑھی جا سکتی ہو تو ایسے وقت نماز پڑھنا مستحب و افضل ہے اور یہ حکم ہر زمانے میں ہے لیکن قربانی کے دن حج کرنے والوں کے لئے مزدلفہ میں اول وقت فجر کی نماز پڑھنا افضل ہے ، عورتوں کے لئے ہمیشہ فجر کی نماز اول وقت میں پڑھنا مستحب ہے ۔ اور باقی نمازوں میں مردوں کی جماعت کا انتظار کریں اور جماعت ہو جانے کے بعد پڑھیں۔

 

ظہر کی نماز کا مستحب وقت

گرمی کے موسم میں اتنی دیر کر کے پڑھنا کہ گرمی کی تیزی کم ہو جائے مستحب ہے اور سردی کے موسم میں اول وقت پڑھنا افضل ہے لیکن اس کا خیال۔رکھنا چاہئے کہ ظہر کی نماز ہر حال میں ایک مثل سایہ کے اندر پڑھ لی جائے جمعہ کی نماز ہمیشہ اول وقت میں پڑھنا مستحب ہے ۔ جمہور کا یہی مذہب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے کیونکہ اس میں مجمع بہت زیادہ ہوتا ہے اور لوگ پہلے۔سے آئے ہوئے ہوتے ہیں پس تاخیر سے ان کو تنگی ہو گی

 

عصر کی نماز کا مستحب وقت

خواہ سردی ہو یا گرمی ہر زمانے میں عصر کی نماز میں تاخیر مستحب ہے ۔مگر اتنی تاخیر نہ کرے کہ وقت مکروہ ہو جائے

 

مغرب کی نماز کا مستحب وقت

ابر و غبار کے دن کے سوا ہمیشہ مغرب کی نماز میں جلدی کرنا یعنی اول وقت پڑھنا مستحب ہے ۔

 

عشاء کی نماز کا مستحب وقت

ایک تہائی رات تک مستحب وقت ہے ۔ اس کے بعد آدھی رات تک تاخیر مباح ہے اس کے بعد مکروہ وقت ہو جاتا ہے ۔ وتر کی نماز میں اُس شخص کو آخر رات تک تاخیر کرنا مستحب ہے جس کو اپنے جاگ اُٹھنے کا پکا بھروسہ ہو پس ایسے شخص کو نماز تہجد کے بعد صبح صادق سے پہلے پہلے نمازِ وتر پڑھنا مستحب ہے لیکن اگر آنکھ کھلنے اور اٹھنے کا پورا بھروسہ نہ ہو تو اس کے لئے مطلقاً تعجیل افضل و مستحب ہے پس اس کو نماز عشاء کے بعد سونے سے پہلے پڑھ لینا چاہئے ۔ ابر و غبار کے روز ہمیشہ فجر اور ظہر اور مغرب کی نماز ذرا دیر کر کے پڑھنا بہتر و مستحب ہے تاکہ وقت پوری طرح ہو جائے اور شبہ نہ رہے ۔اور عصر و عشاء کی نماز مستحب وقت سے پہلے ادا کرنا مستحب ہے

فائدہ: دو فرض نمازوں کو کسی عذر سے ایک وقت میں جمع نہ کرے نہ سفر میں۔نہ حضر میں نہ بیماری میں ، لیکن عرفات و مزدلفہ اس حکم سے مستثنٰی ہیں عرفات میں اگر ظہر و عصر کی نماز میں جمع کرنے کی شرائط پائی جائیں تو یہ دونوں نمازیں ظہر کو وقت میں پڑھی جائیں اور مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نماز عشاء کے وقت میں پڑھی جائے ۔

 

جن وقتوں میں نماز جائز نہیں اور جن میں مکروہ ہے

 

 

نماز کے اوقات مکروہہ دو قسم کے ہیں

 

قسم اول

یہ تین وقت ہیں

۱. سورج نکلتے وقت، یعنی سورج کا کنارہ ظاہر ہونے سے سورج کے اندازاً ایک نیزہ بلند ہو جانے تک ( اندازاً بیس منٹ)

۲. استوائ یعنی ٹھیک دوپہر کا وقت اور وہ نصف النہار شرعی سے زوال تک ہے ، طلوع فجر سے غروبِ آفتاب تک ہر روز جتنا وقت ہو اس کے پہلے نصفِ اول کے ختم پر نصف النہار شرعی شروع ہوتا ہے اس کو ضحوہ کبریٰ بھی کہتے ہیں

۳. سورج غروب ہوتے وقت یعنی جب دھوپ کمزور اور پیلی پڑ جائے اور سورج پر نظر ٹھہرنے لگے اس وقت سے آفتاب غروب ہونے تک کا وقت ( اندازاً بیس منٹ)۔ ان تین وقتوں میں کوئی نماز خواہ ادا ہو یا قضا جائز نہیں اور شروع کرنے سے شروع نہیں ہوتی اور اگر پہلے سے شروع کی ہوئی نماز کے ختم ہونے سے پہلے ان تین وقتوں میں سے کوئی وقت داخل ہو جائے تو وہ نماز باطل ہو جاتی ہے لیکن سجدہ تلاوت اور پانچ نمازیں شروع ہو جاتی ہیں

۰ اس جنازہ کی نماز جو ان تین وقتوں میں سے کسی وقت میں تیار ہوا ہو بلا کراہت جائز بلکہ افضل ہے اور تاخیر مکروہ ہے

۰ جو سجدہ والی آیت ان تین وقتوں میں سے کسی وقت میں تلاوت کی گئی ہو اس کا سجدہ اس وقت جائز ہے مگر مکروہِ تنزیہی ہے اور کراہت کا وقت نکل جانے تک تاخیر کرنا بہتر و افضل ہے

۰ اُسی دن کی عصر کی نماز اگرچہ اتنی تاخیر کرنا مکروہِ تحریمی ہے لیکن اگر اتنا وقت تنگ ہو گیا ہو اور کسی نے ابھی تک عصر نہیں پڑھی تو وہ اس وقت ضرور پڑھ لے اور اگر وقتی عصر کی نماز سورج غروب ہونے سے پہلے شروع کر دی تو اس کا توڑنا جائز نہیں خواہ سورج غروب ہو رہا ہو اور یہ۔فرض ادا ہو جائیں گے

۰ نفل نماز خواہ سنتِ موکدہ ہو یا غیر موکدہ کراہتِ تحریمہ کے ساتھ شروع ہو جائے گی اور اُس کو توڑ کر کامل وقت میں ادا کرنا واجب ہے

۰ نماز نذر مقید یعنی وہ نماز جسکی انہی تین وقتوں میں سے کسی وقت میں ادا کرنے کی نظر کی گئی ہو

۰ وہ سنت و نفل نماز جو ان تین وقتوں میں سے کسی وقت میں شروع کر کے فاسد کر دی گئی ہو۔ یہ دونوں یعنی نماز نذر مقید اور مندرجہ بالا بھی ان وقتوں میں کراہت تحریمی کے ساتھ شروع ہو جائیں گی اور ان کو توڑ کر کامل وقت میں ادا کرنا واجب ہے کہ ان تین وقتوں میں ہر قسم کی نماز و سجدہ ادا کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے سوائے اس دن کی عصر اور اس جنازہ کی نماز کے جو اسی وقت لایا گیا ہو

 

 

جن وقتوں میں نماز جائز نہیں اور جن میں مکروہ ہے

 

قسم دوم

یہ وہ اوقات ہیں جن میں صرف نوافل کا قصداً پڑھنا اور نمازِ واجب لغیرہ کا ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے پس سوائے سنتِ فجر کے ہر قسم کی سنتیں اور نفل اگرچہ تحیتہ المسجد اور تحیتہ الوضو ہی ہوں اور نماز نذرِ مقید ہو یا مطلق، ہر دوگانہ طواف اور سجدۂ سہو جو ان نمازوں میں پیش آئے جن کا ادا کرنا ان وقتوں میں مکروہ ہے جس نفل نماز یا واجب لغیرہ کو مستحب یا مکروہ وقت میں شروع کر کے پھر توڑ دیا ہو اگرچہ وہ صبح کی سنتیں ہوں ان سب کا ان وقتوں میں ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے اور ان کو توڑ دینا اور دوسرے غیر مکروہ وقت میں ادا کرنا واجب ہے اور ان کے علاوہ باقی سب نمازیں یعنی پنج وقتہ فرض نمازیں ، نمازِ واجب لعینہ یعنی نمازِ وتر، نماز جنازہ، سجدہ تلاوت ادا و قضا بلا کراہت جائز ہیں وہ اوقات یہ ہیں :

۰ طلوع فجر یعنی صبح صادق سے نماز فجر ادا کرنے سے پہلے کا وقت اس میں صبح کی دو رکعت سنتِ موکدہ کے سوا ہر قسم کی نفل نماز اور واجب لغیرہ قصداً ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔

۰ فجر کے فرضوں کے بعد سے سورج نکلنے سے لحظہ بھر پہلے تک کا وقت

۰ عصر کی فرض نماز کے بعد سے سورج کے متغیر ہونے سے لحظہ بھر پہلے تک کا وقت

۰ سورج غروب ہونے کے بعد سے مغرب کی فرض نماز شروع ہونے سے پہلے کا وقت، تاکہ مغرب کی نماز میں تاخیر نہ ہو جائے ، تھوڑی تاخیر یعنی دو رکعت سے کم فاصلہ مکروہ نہیں اور دو رکعت کی مقدار یا اس سے زیادہ لیکن ستاروں کے گتھنے سے پہلے تک تاخیر مکروہِ تنزیہی ہے اور اس کے بعد ستاروں کے گتھنے (بکثرت نمودار ہونے) تک تاخیر کرنا مکروہِ تحریمی ہے

۰ جب جمعہ کے روز امام خطبہ کے لئے حجرہ سے نکلے یا جہاں حجرہ نہ ہو اپنی جگہ سے خطبہ کے منبر پر چڑھنے کے لئے کھڑا ہو اُس وقت سے فرضِ جمعہ ختم ہونے تک یعنی جب امام خطبہ کے لئے کھڑا ہو اُس وقت سے لے کر عین خطبہ کے وقت خواہ پہلا خطبہ ہو یا دوسرا یا ان کا درمیانی وقفہ ہو، اور فرض نماز جمعہ شروع ہونے سے ختم ہونے تک کا وقت اس وقت جمعہ کی سنتیں پڑھنا بھی مکروہِ تحریمی ہی البتہ اگر سنتیں امام کے کھڑے ہونے سے پہلے شروع کر دی تھیں تو ان چار رکعتوں کو پورا کر لے یہی صحیح ہے ، جمعہ کے علاوہ ہر خطبے کا بھی یہی حکم ہے

۰ جب فرض نمازوں کی تکبیر و اقامت ہو جائے لیکن صبح کی دو رکعت سنتوں کے لئے یہ حکم ہے کہ اگر جماعت فوت ہونے کا خوف نہ ہو اگرچہ قعدہ ہی میں شریک ہو جائے تو سنت فجر پڑھنا جائز ہے ۔ لیکن جماعت کی صف سے دور پڑھے اور اگر جماعت میں شامل ہونا ممکن نہ ہو تو ان سنتوں کو ترک کر کے جماعت میں شامل ہو جائے

 

 

جن وقتوں میں نماز جائز نہیں اور جن میں مکروہ ہے

 

۰ جب کسی نماز کا وقت تنگ ہو جائے تو اس وقت کے فرض کے سوا اور سب نمازیں مکروہِ تحریمی ہیں وقت کی تنگی سے مراد مستحب وقت کی تنگی ہے

۰ عیدین کی نماز سے پہلے گھر و مسجد و عیدگاہ میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے اور عیدین کی نماز کی بعد مسجد و عیدگاہ میں نفل پڑھنا مکروہ ہے گھر میں پڑھنا مکروہ نہیں یہی اصح ہے

۰ عرفات میں جب شرائط کے ساتھ ظہر اور عصر دو نمازوں کو جمع کرے تو اُن کے فرضوں کے درمیان میں نفل و سنت پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے اور بعد میں بھی مکروہ ہے اس لئے کہ عصر کی نماز کے بعد نفل مکروہ ہیں ، اسی طرح جب مزدلفہ میں نمازِ مغرب و عشاء کو جمع کرے تو ان کے درمیان میں بھی نمازِ نفل و سنت مکروہِ تحریمی ہے لیکن یہاں بعد میں مکروہ نہیں اس لئے مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی سنتیں و وتر عشاء کے فرضوں کے بعد پڑھے

۰ پیشاب یا پاخانہ یا دونوں کی حاجت کے وقت یا ریح کے غلبہ کو روک کر کوئی نماز پڑھنا خواہ فرض ہو یا نفل مکروہِ تحریمی ہے ، اسی طرح جب کھانا حاضر ہو اور نفس اس کی طرف راغب ہو، اس وقت نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے اسی طرح اگر کوئی اور سبب پایا جائے جس کی وجہ سے نماز کے افعال کی طرف سے دل ہٹنے اور خشوع میں خلل پڑے اور وہ اسے کو دفع کر سکتا ہو تو اس کو دور کئے بغیر نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے لیکن اگر وقت جاتا ہو تو نماز پڑھ لے اور پھر دوسرے وقت میں لوٹا لے

۰ دو وقت ایسے ہیں جن میں صرف وقتی نماز کا ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے ، اول مغرب کی فرض نماز میں بلا عذر ستارے گتھنے ( خوب نمودار ہونے) تک تاخیر کرنا، دوم عشاء کی فرض نماز بلا عذر آدھی رات کے بعد پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے

 

 

 

اذان اور اقامت کا بیان

 

 

چونکہ وقت، نماز کے لئے ظاہری سبب ہے اور اذان وقت کے شروع ہونے کا اعلان ہے ، اس لئے اوقاتِ نماز کے بعد اذان اور اقامت کا بیان کیا جاتا ہے

 

اذان

لغت میں اذان کے معنی خبر دینا ہے اور شریعت میں خاص نمازوں کے لئے خاص الفاظ سے خاص طریقہ پر نماز کی خبر دینے کو اذان کہتے ہیں

 

اذان کے کلمات

اَللّٰہُ اَکبَر اَللّٰہُ اَکبَر ط

اَللّٰہُ اَکبَر اَللّٰہُ اَکبَر ط

اَشھَدُ اَن لّٰا اِ لٰہ اِلَّا اللّٰہُ ط

اَشھَدُ اَن لّٰا اِ لٰہ اِلَّا اللّٰہُ ط

اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً ا رَّسُولُ اللّٰہ ط

اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً ارَّسُولُ اللّٰہ ط

حَیَّ عَلَی الصَّلٰوةِ ط

حَیَّ عَلَی الصَّلٰوةِ ط

حَیَّ عَلَی الفَلَاحِ ط

حَیَّ عَلَی الفَلَاحِ ط

اَللّٰہُ اَکبَر اَللّٰہُ اَکبَر ط

لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ط

صبح کی اذان میں دو کلمے زیادہ ہیں یعنی

حَیَّ عَلَی الفَلَاح کے بعد

اَلصَّلٰوہُ خَیرُُ مَّنَ الَّنَومِ

دو مرتبہ زیادہ کہے اس طرح اس میں ۱۷ کلمہ ہو جائیں گے

 

تکبیر و اقامت

جب نماز کے لئے کھڑے ہونے لگتے ہیں تو نماز شروع ہونے سے پہلے ایک شخص تکبیر اقامت کہتا ہے ، جو شخص اذان کہتا ہے اسے موذن کہتے ہیں اور جو شخص تکبیر اقامت کہتا ہے اسے مکبر کہتے ہیں

 

تکبیر و اقامت کے کلمات

تکبیر اقامت کے سترہ کلمے ہیں یعنی فجر کی اذان کے علاوہ باقی اذانوں میں جو پندرہ کلمے ہیں وہی تکبیر اقامت میں بھی کہے جاتے ہیں لیکن حَیَّ عَلَی الفَلَاحِ کے بعد دو کلمے زیادہ کرتے ہیں یعنی

قَد قَاَمَتِ الصَّلٰوةُ ط

دو مرتبہ کہتے ہیں

 

اذان و اقامت کہنے کا مسنون طریقہ

اذان دینے والا آدمی دونوں حدثوں سے پاک ہو کر مسجد سے علیحدہ کسی اونچی جگہ قبلہ رخ کھڑا ہو جائے اور اپنے دونوں کانوں کے سوراخوں کو شہادت کی دونوں انگلیوں سے بند کر کے اپنی طاقت کے مطابق بلند آواز سے اذان دے، لیکن اس قدر نہیں کہ جس سے اس کو تکلیف ہو پہلی آواز میں دو دفعہ

اَللّٰہُ اَکبَر

کہے پھر دوسری آواز میں دو دفعہ

اَللّٰہُ اَکبَر

کہے یعنی دو آوازوں میں چار مرتبہ اَللّٰہُ اَکبَر کہے پھر

اَشھَدُ اَن لّٰا اِ لٰہ اِلَّا اللّٰہُ

دو مرتبہ دو آوازوں میں ، پھر

اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً ا رَّسُولُ اللّٰہ

دو مرتبہ دو آوازوں میں کہے ، پھر

حَیَّ عَلَی الصَّلٰوةِ ط

دو مرتبہ دو آوازوں میں کہے اور ہر مرتبہ داہنی طرف منھ پھیرے، پھر

حَیَّ عَلَی الفَلَاح ط دو مرتبہ دو آوازوں میں کہے اور ہر مرتبہ بائیں طرف منھ پھیرے، دائیں یا بائیں جانب منھ پھیرنے میں سینہ اور قدم قبلہ سے نہ پھرنے پائیں ،

اَللّٰہُ اَکبَر

دو مرتبہ ایک آواز میں کہے ،

لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ

ایک مرتبہ کہے ، فجر کی اذان میں حَیَّ عَلَی الفَلَاحِ کے بعد

الصلوةُ خَیرُ مَّنَ اَّلنومِ

دو مرتبہ کہے اور اس میں منھ نہ پھیرے

اقامت کا سنت طریقہ بھی وہی ہے جو اذان کا ہے لیکن چند باتوں میں فرق ہے

۱.         اذان مسجد کے باہر بلند جگہ پر کہی جاتی ہے اور اقامت مسجد کے اندر عام سطح زمین پر، اگرچہ اونچی جگہ پر بھی جائز ہے

۲.        اذان بلند آواز سے کہی جاتی ہے اور اقامت پست آواز سے

۳.       اذان ٹھہر ٹھہر کر کہی جاتی ہے اور اقامت جلدی جلدی

۴.       اقامت میں حَیَّ عَلَی الفَلَاح کے بعد قد قامت الصلوة دو مرتبہ زائد ہے اور فجر کی اذان میں جو الصلوة خیر من النوم کہا جاتا ہے وہ اقامت میں نہیں کہا جاتا

۵.        اقامت کہتے وقت کانوں کے سوراخ بند نہیں کئے جاتے

۶.        اقامت میں حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ اور حَیَّ عَلَی الفَلَاح کہتے وقت دائیں بائیں جانب منھ نہیں پھیرا جاتا اگرچہ بعض کے نزدیک یہ بھی اذان کی طرح مستحب ہے

 

اذان و اقامت کے شرائطِ صحت و کمال

۱. اذان اور اقامت کا عربی زبان میں خاص انہی الفاظ سے ہونا جو نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے منقول ہیں ، کسی اور زبان میں یا منقولہ الفاظ کے سوا اور الفاظ سے اذان یا اقامت صحیح نہ ہو گی، دوبارہ مسنون الفاظ سے کہی جائے

۲. فرض ادا نماز کی اذان کے لئے اس نماز کا وقت ہونا، وقت سے پہلے اذان دی تو درست نہیں ہے وقت آنے پر دوبارہ کہی جائے

۳. موذن کا مسلمان ہونا، کافر کی اذان صحیح نہ ہو گی اس لئے دوبارہ کہی جائے

۴. موذن کا مرد ہونا عورت کی اذان درست نہیں دوبارہ کہی جائے

۵. موذن کا صاحبِ عقل ہونا، اگر ناسمجھ بچہ یا مجنون یا مست اذان دے تو دوبارہ کہی جائے

 

اذان و اقامت کے سُنن و مستحبات و مکروہات

۱. اذان و اقامت دونوں کو جہر سے کہے مگر اقامت اذان سے پست کہے ، اگر صرف اپنی نماز کے لئے اذان کہے تو آواز کے پست یا بلند کرنے میں اختیار ہے لیکن زیادہ ثواب بلند آواز میں ہے ، مسجد سے باہر اونچی جگہ پر اذان دے مسجد کے اندر مکروہِ تنزیہی ہے لیکن ضرورتاً ایک کونہ پر جائز ہے ۔جمعہ کی دوسری اذان مسجد کے اندر منبر کے سامنے کہنا مکروہ نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کا یہی معمول ہے ۔ موذن کو طاقت سے زیادہ آواز بلند کرنا مکروہ ہے اقامت زمین پر یعنی عام سطح پر اور مسجد میں کہی جائے بلند جگہ پر بھی جائز ہے ، اس کے لئے آواز کو زیادہ بلند نہ کرے بلکہ اتنی بلند ہو کہ مسجد کے نمازیوں کو جماعت کھڑی ہونے کا علم ہو جائے ، اذان کا دائیں یا بائیں جانب ہونا ضروری نہیں کسی جانب سے بھی کہے لیکن دائیں یا بائیں جس طرف آبادی زیادہ ہو اُسی طرف اذان دینا مناسب ہے ، اقامت بھی دائیں یا بائیں جس طرف کہے بلا کراہت درست ہے ، جب انفرادی ( اکیلا نمازی) اپنے لئے اذان دے یا جماعت کے لوگ موجود ہوں تو اذان کا بلند جگہ پر ہونا سنت نہیں

۲. اگر اذان دینے کا مینار وسیع ہو اور ایک جگہ کھڑے ہو کر اذان کہنے میں لوگوں کے پوری طرح علم نہ ہو سکے تو بہتر یہ ہے کہ حیعلتین کے وقت داہنی اور بائیں طرف اس طرح چلے کہ منھ اور سینہ قبلہ سے نہ پھرے اور داہنی طرف کے طاق سے سر نکال کر حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ دو مرتبہ کہے اور بائیں طرف کے طاق سے سر نکال کر حَیَّ عَلَی الفَلَاح دو مرتبہ کہے ، اس صورت کے علاوہ اذان میں چلنا مکروہ ہے

۳. اذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کر کہے اور اقامت جلدی یعنی رکے بغیر کہے یہ مستحب طریقہ ہے ، اگر اذان کو بغیر رکے کہے یا اقامت کو اذان کی طرح ٹھہر ٹھہر کر کہے تو جائز لیکن مکروہ ہے ۔ ایسی اذان کا اعادہ مستحب ہے اور ایسی اقامت کا اعادہ مستحب نہیں ، رک رک کر کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر دو کلموں کے درمیان میں کچھ ٹھہرے اور اس کی مقدار یہ ہے کہ اذان کا جواب دینے والا جواب دے سکے، بغیر رکے کا مطلب ملانا اور جلدی کرنا ہے ، اَللّٰہُ اَکبَر دو دفعہ کہنے کے بعد رکے ہر دفعہ کے اَللّٰہُ اَکبَر کہنے پر نہ رکے یعنی اَللّٰہُ اَکبَر اَللّٰہُ اَکبَر ایک ساتھ کہے پھر کچھ دیر ٹھہرے پھر اَللّٰہُ اَکبَر اَللّٰہُ اَکبَر ایک ساتھ کہے اور ٹھہرے کیونکہ سکتہ کے لحاظ سے اَللّٰہُ اَکبَر دو دفعہ مل کر ایک کلمہ ہے پھر ہر کلمہ کے اوپر توقف کرتا رہے اذان اور اقامت میں ہر کلمہ پر وقف کا سکون کرتا رہے یعنی دوسرے کلمہ سے حرکت کے ساتھ وصل نہ کرے لیکن اذان میں اصطلاحی وقف کرے یعنی سانس کو توڑ دے اور اقامت میں سکون کی نیت کرے کیونکہ اس میں رک رک کر کہنا نہیں ہے ، اذان میں ہر دوسری دفعہ کے اَللّٰہُ اَکبَر یعنی دوسرے چوتھے اور چھٹے اَللّٰہُ اَکبَر کی رے کو جزم کرے اور حرکت نہ دے اور اس کو رفع ( پیش) پڑھنا غلطی ہے اور ہر پہلے اَللّٰہُ اَکبَر کی یعنی پہلے تیسرے اور پانچویں کی رے اور اقامت کے اندر ہر اَللّٰہُ اَکبَر کی” ر” کو بھی سکون یعنی جزم کرے اور اگر وصل کرے تو وقف کی نیت کے ساتھ ” ر” کی زبر سے وصل کرنا سنت ہے ، ضمہ ( پیش) سے وصل کرنا خلافِ سنت ہے ، اَللّٰہُ اَکبَر کے لفظ اَللّٰہُ کے الف ( ہمزہ) کو مد کرنا کفر ہے ۔ جبکہ معنی جانتے ہوئے قصداً کہے اور بلا قصد کہنا کفر تو نہیں لیکن بڑی غلطی ہے ۔ اور اَکبَر کے ب کو مدّ کرنا بہت بڑی غلطی ہے

 

اذان و اقامت کے سُنن و مستحبات و مکروہات

۴. اذان اور اقامت کے کلمات میں سنت طریقہ کے مطابق ترتیب کرے خلاف ترتیب ہو جائے یا کوئی کلمہ بھول جائے تو اس جگہ کی ترتیب صحیح کر کے یا بھولے ہوئے کلمہ کو کہہ کر اس سے آگے کا اعادہ کرے، اگر اس کی ترتیب کو صحیح نہ کرے تو اذان ہو جائے گی

۵. اذان و اقامت میں قبلہ کی طرف منھ کرے جبکہ سوار نہ ہو، اس کا ترک مکروہِ تنزیہی ہے اور اعادہ مستحب ہے ، سوار کے لئے سفر میں اپنے لئے اذان و اقامت سواری پر درست ہے لیکن اقامت کے لئے اترنا چاہئے اگر نہ اترا تو بھی جائز ہے کہ سواری پر استقبال قبلہ ضروری نہیں اور جماعت کے لئے سوار ہو کر اذان نہ کہے ، حضر میں سواری پر اذان مکروہ ہے لیکن اعادہ نہ کیا جائے امام ابو یوسف کے نزدیک کوئی حرج نہیں

۶. اذان میں جب حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ کہے تو اپنی منھ کو دائیں طرف پھیر لے اور جب حَیَّ عَلَی الفَلَاح کہے تو بائیں طرف پھیر لے سینہ اور قدم قبلہ سے نہ پھرے۔ اکیلا نمازی اپنے لئے اذان کہے تب بھی یہی حکم ہے ، نماز کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے اذان کہے مثلاً بچہ پیدا ہونے پر اس بچہ کے کان میں اذان دے تو اس میں بھی ان دونوں موقوں پر منھ کو پھیرے، اقامت میں منھ نہ پھیرے، بعض کے نزدیک اقامت میں بھی پھیرنا چاہئے

۷. تلحسین یعنی ایسی راگنی جس سے کلمات میں تغیر آ جائے مکروہ ہے لیکن ایسی خوش آوازی سے اذان دینا یا قرآن پڑھنا جس میں تغیر کلمات نہ ہو بہتر اور احسن ہے اور ہر خوش آوازی سے تغیر کلمات ہونا لازمی نہیں ہے

۸. صبح کی اذان میں حَیَّ عَلَی الفَلَاح کے بعد دو دفعہ الصلوۃ خیر من النوم کہنا مستحب ہے

۹. اذان دیتے وقت اپنی دونوں شہادت کی انگلیاں ( یعنی انگوٹھوں کے پاس والی انگلیاں ) اپنے دونوں کانوں کے سوراخ میں رکھ لے یہ مستحب ہے اگر دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لے تب بھی بہتر ہے ، اقامت میں ایسا نہ کرے بلکہ دونوں ہاتھ عام حالت کی طرح لٹکے رہیں

۱۰. تثویب متاخرین کے نزدیک مغرب کے سوا ہر نماز میں بہتر ہے اور تثویب اس کو کہتے ہیں کہ موذن اذان اور اقامت کے درمیان پھر اعلان کرے، ہر شہر کی تثویب وہاں کے رواج کے مطابق ہوتی ہے جس سے لوگ سمجھ جائیں کہ جماعت تیار ہے مثلاً الصَّلوۃُ الصَّلوۃُ کہنا، یا قَامَت قَامَت کہنا، یا الصَّلوۃُ رَحِمَکمُ اللّٰہ کہنا، یا اس مفہوم کے الفاظ اپنی زبان میں کہنا مثلاً اردو میں کہے ” جماعت تیار ہے “وغیرہ، بہتر یہ ہے کو اذان و اقامت کا کوئی کلمہ تثویب میں استعمال نہ کیا جائے اُن کے علاوہ کوئی اور کلمات ہوں

 

اذان و اقامت کے سُنن و مستحبات و مکروہات

۱۰. تثویب متاخرین کے نزدیک مغرب کے سوا ہر نماز میں بہتر ہے اور تثویب اس کو کہتے ہیں کہ موذن اذان اور اقامت کے درمیان پھر اعلان کرے، ہر شہر کی تثویب وہاں کے رواج کے مطابق ہوتی ہے جس سے لوگ سمجھ جائیں کہ جماعت تیار ہے مثلاً الصَّلوۃُ الصَّلوۃُ کہنا، یا قَامَت قَامَت کہنا، یا الصَّلوۃُ رَحِمَکمُ اللّٰہ کہنا، یا اس مفہوم کے الفاظ اپنی زبان میں کہنا مثلاً اردو میں کہے ” جماعت تیار ہے “وغیرہ، بہتر یہ ہے کو اذان و اقامت کا کوئی کلمہ تثویب میں استعمال نہ کیا جائے اُن کے علاوہ کوئی اور کلمات ہوں

۱۱. اذان اور اقامت کے درمیان ایسی دو چار رکعات کی مقدار فصل کرنا مستحب ہے جن کی ہر رکعت میں دس آیتیں پڑھ سکے یعنی اتنی دیر ٹھہر کر تکبیر و اقامت کہی جائے کہ جو لوگ کھانے پینے میں مشغول ہوں یا پیشاب پاخانہ کر رہے ہوں تو فارغ ہو کر نماز میں شریک ہو سکیں اور مستحب وقت کا خیال رکھتے ہوئے ہمیشہ آنے والی نمازیوں کا انتظار کرے، اذان و اقامت کو ملانا یعنی ان میں فصل نہ کرنا بالاتفاق مکروہ ہے ۔ مغرب کی اذان اور اقامت میں بھی فصل ضروری ہے اور اس کی مقدار امام ابوحنیفہ کے نزدیک جتنی دیر میں تین چھوٹی یا ایک بڑی آیت پڑھ سکے اتنی دیر چپکے کھڑے رہنا مستحب ہے ، پھر اقامت کہے اور صاحبین کے نزدیک دونوں خطبوں میں بیٹھنے کی مقدار بیٹھ جائے اور یہ اختلاف صرف اتنی بات میں ہے کہ کھڑا رہنا افضل ہے یا بیٹھنا پس امام ابوحنیفہ کے نزدیک کھڑا رہنا افضل ہے اور بیٹھنا جائز اور صاحبین کے نزدیک بیٹھنا افضل ہے اور کھڑا رہنا جائز ہے

 

اذان و اقامت کے سُنن و مستحبات و مکروہات

۱۲. اذان اور اقامت کی درمیان دعا مانگنا مستحب ہے

۱۳. اذان کا مستحب وقت وہی ہے جس میں مناسب وقفے کے بعد جماعت مستحب وقت میں ادا ہو جائے اور مناسب ہے کہ اذان مستحب وقت کے شروع میں کہے اور اقامت درمیانی وقت میں کہے

۱۴. کھڑے ہو کر اذان کہنا سنت ہے اور بیٹھ کر اذان کہنا مکروہ ہے اس کا اعادہ کرنا چاہئے ۔ منفرد اپنے واسطے بیٹھ کر اذان کہے تو مضائقہ نہیں اور اعادہ کی ضرورت نہیں

۱۵. اذان اور اقامت کے لئے نیت شرط نہیں لیکن ثواب بغیر نیت کے نہیں ملتا اور نیت یہ ہے کہ دل میں ارادہ کرے ” میں یہ اذان محض اللّٰہ تعالیٰ کی خوشنودی اور ثواب کے لئے کہتا ہوں اور کچھ مقصود نہیں ”

۱۶. اذان و اقامت کی حالت میں کوئی دوسرا کلام نہ کرنا خواہ سلام یا سلام کا جواب دینا، یا چھینک کا جواب وغیرہ ہی کیوں نہ ہو، نہ اس وقت جواب دے نہ فراغت کے بعد، اگر کلام کیا اور زیادہ کیا تو اذان کا اعادہ کرے اور تھوڑا کلام کیا تو اعادہ نہ کرے، اقامت کا اعادہ کسی حال میں نہ کرے

۱۷. موذن کو حالت اذان میں چلنا مکروہ ہے اگر کوئی چلتا جائے اور اس حالت میں اذان کہتا جائے تو اعادہ کرے

 

موذن سے متعلق سنن و مستحبات و مکروہات

۱. موذن عاقل ہو، مجنون و مست و ناسمجھ بچے کو اذان و اقامت مکروہ ہے اذان کا اعادہ کریں اقامت کا اعادہ نہ کریں ، اگر سمجھ دار لڑکا ( خواہ قریب البلوغ نہ ہو) اذان دے تو بلا کراہت صحیح ہے لیکن بالغ کی اذان افضل ہے اگر کوئی نشے کی حالت میں اذان دے تو خواہ وہ نشہ مباح ہو تب بھی مکروہ ہے اور اس کا لوٹانا مستحب ہے

۲. اذان دینے والا مرد ہو، عورت اور خنثی کی اذان مکروہ تحریمی ہے اس کا اعادہ کرنا چاہئے ورنہ ترک اذان کا گناہ ہو گا

۳. موذن صالح اور متقی ہو، فاسق کی اذان مکروہ ہے خواہ وہ عالم ہی ہو مگر اس کا اعادہ نہ کریں ، اگر اس فاسق عالم کے سوا کوئی دوسرا متقی عالم نہ ہو تو امامت اور اذان کے حق میں فاسق عالم جاہل پرہیزگار سے بہتر ہے

۴. اذان و اقامت کا سنت طریقہ اور ضروری مسائل جانتا ہو، اور قبلہ و نماز کے وقتوں کو پہنچانتا ہو، تب وہ اذان دینے کے ثواب کا مستحق ہے

۵. حدثِ اصغر و اکبر دونوں سے پاک ہونا، جنبی کی اذان مکروہ تحریمی ہے اس لئے اعادہ کریں لیکن اقامت کا اعادہ نہ کریں کیونکہ اقامت کا تکرار شرع میں نہیں آیا اور یہ اذان کا اعادہ بعض کے نزدیک واجب ہے اور بعض کے نزدیک مستحب ہے اور یہی صحیح ہے ، بے وضو کی اذان مکروہ نہیں مگر اس کی عادت ڈال لینا برا ہے اور بے وضو کی اقامت مکروہ ہے لیکن اس کا اعادہ نہ کریں

۶. موذن با رعب ہو، لوگوں کے حال پر خبردار رہتا ہو، مہربانی کرتا ہو اور جماعت میں نہ آنے والوں کو تنبیہ کرتا ہو جبکہ اس کو لوگوں سے تکلیف کا خوف نہ ہو

۷. ہمیشہ اذان کہی ہو

۸. ثواب کے لئے اذان و اقامت کہتا ہو، اس پر اجرت نہ لیتا ہو، لوگ بلا طلب اس کو ساتھ سلوک کر دیں تو جائز ہے

۹. بہتر یہ ہو کہ وہی نماز کا امام ہو اور افضل یہ ہے کہ موذن ہی اقامت بھی کہے ، اگر موذن چلا گیا اور کوئی دوسرا آدمی اقامت کہہ دے تو بلا کراہت جائز ہے ، اگر وہ موجود ہو تو دوسرے آدمی کو اس کی اجازت کے بغیر اقامت کہنا مکروہ ہے جبکہ اس موذن کو ملال ہوتا ہو اور اگر ملال نہ ہو بلکہ وہ اس پر راضی ہو یا اجازت دیدے تو بلا کراہت جائز ہے

۱۰. بلند آواز ہو

۱۱. غلام اور گاؤں میں رہنے والا، جنگل میں رہنے والا، ولد الزنا، نابینا اور وہ شخص جو بعض نمازوں کی اذان دے اور بعض کی نہ دے ان سب کی اذان جائز ہے مگر مکروہِ تنزیہی ہے پس اگر کوئی اور آدمی اذان دے تو اولٰی ہے اگر اندھے کو ساتھ کوئی ایسا آدمی ہو جو نماز کے اوقات صحیح طور پر اس کو بتا دیا کرے تو اس کی اذان آنکھوں والے کی برابر ہے غلام کو اپنے مالک کی اجازت کے بغیر اذان دینا جائز نہیں لیکن صرف اپنے لئے ہو تو اجازت کی ضرورت نہیں

 

 

موذن سے متعلق سنن و مستحبات و مکروہات

۱۲.       اگر اذان و اقامت کے دوران موذن مر گیا یا گونگا ہو گیا یا بھولنے کی وجہ سے رک گیا اور کوئی بتانے والا نہیں یا اس کا وضو ٹوٹ گیا اور وضو کرنے چلا گیا یا بیہوش ہو گیا تو ان پانچ صورتوں میں نئے سرے سے اذان یا اقامت کہنا مستحب ہے خواہ وہی کہے یا کوئی دوسرا آدمی کہے لیکن وضو ٹوٹنے کی صورت میں اولٰی یہ ہے کہ اذان و اقامت کو پورا کر لے اور پھر وضو کو جائے اور نئے سرے سے اس وقت کہے جبکہ اتنی دیر کا وقفہ ہو جائے جو فاصل شمار ہوتا ہو، تھوڑا وقفہ جیسے کھانسنا یا کھنکارنا وغیرہ کی صورت میں نئے سرے سے نہ کہے

۱۳.      موذن تکبیر و اقامت کے لئے آدمیوں کا انتظار کرے اور جو ضعیف ہمیشہ جلد آنے والا ہو اس کے لئے رکا رہے اور محلّہ کے رئیس اور بڑے آدمی کا اس کی خصوصیت کی وجہ سے انتظار نہ کرے، لیکن اگر وہ شریر ہو اور اس سے اندیشہ ہو اور وقت میں گنجائش ہو تو اس کا انتظار کر لے، اگر وقت تنگ ہو تو اس کا بھی انتظار نہ کرے

۱۴.      اذان و اقامت کی ولایت مسجد بنانے والے کو ہے ، وہ نہ ہو تو اس کی اولاد کو پھر اس کے کنبہ کو ہے ، اگر اہل محلہ نے ایسے شخص کو موذن یا امام بنایا جو بانی کے موذن یا امام سے بہتر ہے تو وہی شخص بہتر ہے

۱۵.       ایک شخص کو ایک وقت میں دو مسجدوں میں اذان کہنا مکروہ ہے جس مسجد میں فرض پڑھے وہیں اذان کہے

۱۶.       اگر مسجد کے کئی موذن ہوں جب وہ آگے پیچھے آئیں تو جو پہلے آئے اسی کا حق ہے

فائدہ: جن موقعوں پر اذان کا لوٹانا واجب ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اذان کو سنت کے مطابق ادا کرنے کے لئے اس کا لوٹانا ضروری ہے

 

اذان و اقامت کے احکام

۱.         پانچوں وقت کی فرض عین نمازوں اور جمعہ کی نماز جماعت سے ادا کرنے کے لئے اذان دینا مردوں پر سنت ہے ، اور یہ سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے یعنی ہر شہر و بستی میں ایک شخص کی اذان کفایت کرتی ہے ، اگر کسی ایک شخص نے بھی نہ کہی تو وہاں کے سب لوگ گناہگار ہوں گے اذان شعائرِ اسلام میں سے ہے اور اس کا ترک دین میں استخفاف ہے اگر اہلِ شہر اذان کے ترک پر اتفاق کر لیں تو امام محمد کے نزدیک ان کا قتال حلال ہے اور امام ابو یوسف کے نزدیک وہ لوگ مارنے اور قید کرنے کے لائق ہیں اقامت بھی پانچوں فرضِ عین نمازوں اور جمعہ کے لئے سنت ہونے میں اذان کی مانند ہے بلکہ اذان کی بہ نسبت زیادہ مؤکد ہے ، باقی کسی نماز کے لئے خواہ وہ نماز فرض کفایہ ہو یا سنت نفل وغیرہ ہو اذان و اقامت مسنون و مشروع نہیں ہے

۲.        عورتوں پر خواہ وہ تنہا نماز پڑھیں یا جماعت کے ساتھ پڑھیں اذان و اقامت مسنون نہیں ہے اگر کہیں گی تو گناہ ہو گا مگر نماز جائز ہو جائے گی، عورتوں کی جماعت خواہ امام بھی عورت ہی ہو مکروہ ہے

۳.       لڑکوں اور غلاموں کی جماعت میں اذان و اقامت مشروع نہیں ہے

۴.       مسجد کے اندر اذان و اقامت کے بغیر فرض نماز جماعت سے پڑھنا سخت مکروہ ہے

۵.        مقیم کے لئے جبکہ وہ گھر میں تنہا یا جماعت سے نماز پڑھے اذان و اقامت مستحب ہے سنت مؤکدہ نہیں بشرطیکہ محلہ یا گاؤں کی مسجد میں اذان و اقامت ہو چکی ہو ورنہ اذان و اقامت دونوں کا چھوڑنا مکروہ ہے صرف اذان چھوڑ دینا مکروہ نہیں ہے ، صرف اقامت چھوڑ دینا مکروہ ہے

۶.        مسافر آبادی سے باہر خواہ اکیلا نماز پڑھتا ہو اس کو اذان و اقامت دونوں کا چھوڑ دینا مکروہ ہے ، اگر اذان کہی اور اقامت چھوڑ دی تو جائز ہے لیکن مکروہ ہے اور اگر اذان چھوڑ دی اور اقامت کہی تو بلا کراہت جائز ہے ، بہتر یہ ہے کہ دونوں کہے ، اسی طرح اگر مسافر کے تمام ساتھی موجود ہوں تو اذان کا ترک بلا کراہت جائز ہے اور اقامت کا ترک مکروہ ہے اور دونوں کا کہنا مستحب ہے سنتِ مؤکدہ نہیں ، جس گاؤں میں ایسی مسجد ہو جس میں اذان و اقامت ہوتی ہو، اس گاؤں میں گھر کے اندر نماز پڑھنے والے کا حکم وہی ہے جو شہر کے اندر گھر میں نماز پڑھنے والے کا ہوتا ہے اور اگر اس گاؤں میں ایسی مسجد نہیں ہے تو وہ مسافر کے حکم میں ہے

۷.       اگر شہر یا گاؤں کے باہر باغ یا کھیت وغیرہ ہے اور وہ جگہ قریب ہے تو گاؤں یا شہر کی اذان کافی ہے پھر بھی اذان دے لینا اولٰی ہے اور اگر وہ جگہ دور ہے تو شہر کی اذان اس کے لئے کافی نہیں اور قریب کی حد یہ ہے کہ شہر کی اذان وہاں سنائی دیتی ہو

۸.        اگر جنگل میں جماعت سے پڑھیں اور اذان چھوڑ دیں تو مکروہ نہیں اور اقامت چھوڑ دیں تو مکروہ ہے

 

 

اذان و اقامت کے احکام

 

۹.        قضا نمازیں جب مسجد کے علاوہ جنگل وغیرہ میں پڑھے تو اُن کے لئے اذان و اقامت کہے خواہ اکیلا پڑھے یا جماعت سے اور اگر مسجد میں یا ایسی جگہ جہاں لوگوں پر اظہار ہوتا ہو قضا نماز جماعت سے پڑھے تو اذان و اقامت نہ کہے اور اگر منفرد ہو تو اس قدر آواز سے کہ لے کہ وہ خود ہی سن سکے اسی طرح اگر جماعت والے بھی اتنی آواز سے کہہ لیں کہ دوسرے لوگوں کو اظہار نہ ہو تو مکروہ نہیں ، جنگل وغیرہ میں جہاں دوسرے لوگ نہ ہوں بلند آواز کے ساتھ اذان کہنا مکروہ نہیں بلکہ سنت ہے

۱۰.       اگر بہت سی نمازیں فوت ہو گئیں اور ان کو ایک ہی مجلس میں قضا کرے تو پہلی نماز کے لئے اذان و اقامت کہے اور باقی میں اختیار ہے چاہے دونوں کہے چاہے صرف اقامت کہے ہر نماز کے لئے دونوں کا کہنا بہتر و اولٰی ہے تاکہ قضا ادا کے طریقہ کے موافق ہو جائے

۱۱.        صبح کے سوا اور نمازوں کی اذان وقت سے پہلے بلاتفاق جائز نہیں اور صبح کی اذان بھی وقت سے پہلے کہنا امام ابو حنیفہ و امام محمد کے نزدیک جائز نہیں اس کا اعادہ کیا جائے ، اسی پر فتویٰ ہے اقامت بالاجماع وقت سے پہلے جائز نہیں اس لئے اعادہ کیا جائے

۱۲.       مستحب ہے کہ اقامت اور نماز کا شروع ہونا متصل ہو اور زیادہ فصل نہ ہو اور کوئی ایسا عمل نہ ہو جو اقامت اور نماز کے درمیان قاطع اور فصل شمار ہو جیسے کھانا پینا کلام کرنا وغیرہ ایسی صورت میں اقامت کا اعادہ مستحب ہے

۱۳.      عرفات میں جب ظہر و عصر کو جمع کریں تو ایک اذان اور دو تکبیر اقامت کے ساتھ پڑھیں اور مزدلفہ میں مغرب و عشا کو ایک اذان اور ایک اقامت سے ادا کریں

۱۴.      کئی مؤذنوں کا ایک ساتھ اذان کہنا جائز ہے اس کو اذانِ جوق کہتے ہیں بڑی بڑی مساجد میں اس کا رواج ہے حرمین پاک میں بھی اس کا رواج ہے

 

نماز کے علاوہ اذان و اقامت کہنے کے مستحب مواقع

فرضِ عین نمازوں کے علاوہ کسی اور نماز کے لئے اذان و اقامت سنت نہیں ، لیکن کچھ مواقع ایسے ہیں جن میں اذان و اقامت یا صرف اذان مستحب ہے وہ یہ ہیں

۱.         جب بچہ پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا

۲.        جو شخص رنج و غم میں مبتلا ہو، کوئی دوسرا آدمی اس کے کان میں اذان دے انشاء اللّٰہ العزیز اس کا غم زائل ہو جائے گا

۳.       مرگی کے مریض کے کان میں

۴. جو شخص غم و غصہ کی حالت میں ہو اس کے کان میں

۵.        بدمزاج یعنی جس کی عادتیں خراب ہو گئی ہوں خواہ وہ انسان ہو یا جانور چوپایہ وغیرہ ہو اُس کے کان میں

۶.        کفار کے ساتھ لڑائی کی شدت کے وقت

۷.       آتشزدگی کے وقت اور جلے ہوئے کے کان میں

۸.        جن (جنات) کی سرکشی کے وقت جہاں کسی جن کا ظہور ہو اور وہ کسی کو تکلیف دیتا ہو

۹.        مسافر کے پیچھے

۱۰.       جب مسافر جنگل میں راستہ بھول جائے اور کوئی بتانے والا نہ ہو، ان سب صورتوں میں اذان دینا مستحب ہے ، میت کو دفن کرتے وقت یا دفن کے بعد قبر کے پاس اذان دینا کسی حدیث سے ثابت نہیں اور نہ سلف سے منقول ہے اس لئے بدعت ہے

 

 

 

اذان کا جواب دینے کا بیان

 

 

۱.         جو شخص اذان سنے خواہ وہ عورت ہو یا مرد، پاک ہو یا جنبی اور وہ اذان نماز کی ہو یا کوئی اور اذان مثلاً نومولود بچے کے کان میں اذان دی ہو تو اس سننے والے پر اذان کا جواب دینا مستحب ہے اور بعض نے واجب بھی کہا ہے مگر معتمد اور ظاہر مذہب یہ ہے کہ نماز کی اذان کا زبان سے جواب دینا مستحب ہی ہے اور عملی جواب واجب ہے پس جو شخص مسجد سے باہر ہے اس کو عملی جواب یعنی مسجد میں آنا واجب ہے اور زبانی جواب مستحب ہے ، پس اگر کسی شخص نے زبان سے اذان کا جواب دیا اور عملی جواب نہ دیا یعنی جماعت میں شامل ہونے کے لئے کوئی عذر نہ ہونے کے باوجود مسجد میں نہ آیا تو وہ شخص جواب دینے والا نہیں کہلائے گا، اور جو شخص مسجد میں موجود ہے اس کو عملی جواب دینا جو واجب تھا حاصل ہے صرف زبان سے جواب دینا مستحب ہے

۲.        جو شخص اذان کی آواز نہ سنے مثلاً دور ہو یا بہرہ ہو تو اس پر زبان سے جواب دینا نہیں ہے اگرچہ اس کو علم ہو کہ اذان ہو رہی ہے

۳.       اگر اذان غلط کہی گئی تو اس کا جواب نہ دے بلکہ ایسی اذان کو سنے بھی نہیں

۴.       اگر ایک ہی مسجد کی کئی اذانیں سنے جیسا کہ بڑی مسجد میں جوق کی اذان کا رواج ہے یا کئی مسجدوں کی اذانیں ایک دوسرے کے بعد ساتھ ساتھ سنے تو اس پر پہلی ہی اذان کا جواب ہے خواہ وہ اپنی مسجد کی ہو یا کسی دوسری مسجد کی اور بہتر یہ ہے کہ سب کا جواب دے

۵.        چلنے کی حالت میں اذان سنے تو افضل یہ ہے کہ اذان کے جواب کے لئے کھڑا ہو جائے

۶.        اذان و اقامت سننے کی حالت میں کوئی بات نہ کرے اور سوائے ان کا جواب دینے کے کوئی کام نہ کرے یہاں تک کہ نہ سلام کرے اور نہ سلام کا جواب دے ( یعنی مناسب نہیں ہے اور خلاف اولٰی ہے )

۷.       اذان و اقامت کے وقت قرآن مجید بھی نہ پڑھے اگر پہلے سے پڑھتا ہو تو چھوڑ کر اذان یا اقامت کے سننے اور جواب دینے میں مشغول ہونا افضل ہے اور اگر پڑھتا رہے تب بھی جائز ہے اگر اقامت کا جواب نہ دے اور اس وقت دعا میں مشغول ہو تو مضائقہ نہیں

۸.        اگر کوئی اذان کا جواب دینا بھول جائے یا قصداً نہ دے اور اذان ختم ہونے کے بعد خیال آئے یا اب جواب دینے کا ارادہ کرے تو اگر زیادہ دیر نہ گزری ہو جواب دیدے ورنہ نہیں

۹.        اگر اذان ہونے کے بعد دوبارہ کوئی اذان دے تو احترام پہلی اذان کے لئے ہے

۱۰.       جمعہ کی پہلی اذان سن کر خرید و فروخت وغیرہ تمام کاموں کو چھوڑ کر جمعہ کی نماز کے لئے اُس مسجد میں جانا جس میں نماز جمعہ ہوتی ہو واجب ہے خواہ وہ پہلی اذان کسی مسجد کی ہو البتہ جن پر جمعہ واجب نہیں وہ مستثنیٰ ہیں اور ان کو خرید و فروخت وغیرہ کوئی کام کرنا جائز ہے جمعہ کی دوسری اذان جو خطیب کے سامنے ہوتی ہے زبان سے اس کا جواب دینا مکروہ ہے البتہ دل میں اس کا جواب دے لے زبان یا حلق کو حرکت نہ دے

 

اذان اور اقامت کے جواب کا طریقہ

اذان کا جواب مستحب ہے ، اس کا جواب اس طرح دے کہ جو لفظ موذن سے سنے وہی کہے مگر حَیَّ عَلَی الصَّلٰوةِ اور حَیَّ عَلَی الفَلَاح کے جواب میں لَا حَولَ وَلَا قُوةَ اِلَّا بِاللّٰہِ کہے اور لاحول الخ بھی کہے تاکہ دونوں حدیثوں پر عمل ہو جائے ، فجر کی اذان میں الصَّلٰوةُ خَیرُ مِّنَ النَّومِ کے جواب میں صَدَقتَ وَ بَرَرتَ کہے ، اقامت کا جواب بھی بالاجماع مستحب ہے اور وہ بھی اذان کی طرح ہے اور قد قامت الصلوة کے جواب میں اَقَامَھَااللّٰہ وَاَدَمَھَا کہے ابو داؤد کی روایت میں اس کے بعد یہ الفاظ زیادہ ہیں مَا دامَتِ السَّمٰواتُ الاَرضُ وَ اجعَلنِی مِن صَالِحِی اَھلِھَا ط اذان کے ختم پر مستحب ہے کہ مؤذن اور اذان کا جواب دینے والا دونوں درود شریف پڑھ کر یہ دعا پڑھیں

اَللّٰھَّم رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعوةِ التَّامَّتِ وَالصَّلٰوةِ القَآئِمَتِ اٰتِ سَیَّدَ نَا مُحَمَّدَ نِ الوَسِیلَتَوَالفَضِیلَتَ وَابعَثہُ مُقَامًا مَّحمُودَ نِ الَّذِی وَعَدتَّہُ اِنَّکَ لَا تُخلِفُ المِیعَادَ ط

اذان کے بعد کی دعا کے وقت ہاتھ اٹھانا کسی حدیث سے ثابت نہیں اس لئے نہ اٹھانا افضل ہے ، البتہ اٹھانا بھی بلا کراہت جائز ہے کیونکہ مطلقاً دعا میں ہاتھ اٹھانا قولی و فعلی بہت سی مشہور حدیثوں سے ثابت ہے

 

وہ صورتیں جن میں اذان کا جواب نہ دے

 

آٹھ صورتوں میں اذان کا جواب نہ دے

۱.         نماز کی حالت میں اگرچہ وہ نمازِ جنازہ ہو

۲.        خطبہ سننے کی حالت میں خواہ وہ خطبہ جمعہ کا ہو یا کسی اور چیز کا

۳.       جماع کی حالت میں

۴.       پیشاب یا پاخانہ کرنے کی حالت میں البتہ اگر ان چیزوں سے فراغت کے

بعد زیادہ دیر نہ گزری ہو تو جواب دینا چاہئے ورنہ نہیں

۵،۶.    حیض و نفاس کی حالت میں

۷. علمِ دین پڑھنے یا پڑھانے کی حالت میں

۸. کھانا کھانے کی حالت میں

 

 

نماز کی شرطوں کا بیان

 

نماز کی شرطیں نماز کے وہ فرائض ہیں جو نماز سے باہر ہیں اور اُن کے بغیر نماز واجب یا صحیح نہیں ہوتی پس نماز کی شرطیں دو قسم کی ہیں

 

اوّل: نماز کے واجب ہونے کی شرطیں اور وہ پانچ ہیں

۱.         اسلام یعنی مسلمان ہونا کافر پر نماز فرض نہیں ہے

۲.        صحتِ عقل، بےعقل پر نماز فرض نہیں ہے

۳.       بلوغ، نابالغ پر نماز فرض نہیں ہے

۴.       نماز سے عاجز نہ ہونا مثلاً عورتوں کو حیض و نفاس سے پاک ہونا وغیرہ

۵.        وقت یعنی اسلام لانے یا بالغ ہونے یا جنون یا بیہوشی کے بعد یا حیض و نفاس سے پاک ہونے کے بعد نماز کا وقت پانا اگرچہ وہ اسی قدر ہو جس میں صرف تحریمہ کی گنجائش ہو پس اگر اس سے بھی کم وقت پایا تو اس پر اس وقت کی نماز فرض نہیں ہے

 

دوم: نماز کے صحیح ہونے کی شرطیں اور وہ بہت سی ہیں لیکن جو مشہور ہیں اور ہر نماز سے تعلق رکھتی ہیں وہ سات ہیں

۱.         نجاستِ حکمی یعنی حدث اکبر و اصغر سے طہارت، یعنی جس پر غسل فرض ہے اس کو غسل کرنا اور جس کا وضو نہیں ہے اس کو وضو کرنا

۲.        نجاست حقیقی سے طہارت، یعنی نمازی کے بدن اور کپڑوں اور نماز کی جگہ کا نجاستِ حقیقی سے پاک ہونا خواہ نجاست خفیفہ ہو یا ثقیلہ

۳.       ستر عورت

۴.       قبلہ کی طرف منھ کرنا

۵.        وقت

۶.        نیت

۷.       تحریمہ

 

بعض کتابوں میں ان شرطوں کو اس طرح بیان کیا ہے

۱. بدن کی پاکی،

۲. کپڑوں کی پاکی،

۳. جگہ کی پاکی،

۴. سترِعورت

۵. نماز کا وقت

۶. استقبال قبلہ

۷. نماز کی نیت اور وہ تحریمہ کو نماز کے ارکان کو ساتھ ملاتے ہیں بعض نے وقت کو سبب ہونے کی وجہ سے الگ کر دیا ہے اور بعض نے کسی اور انداز سے بیان کیا ہے لیکن بات سب کی ایک ہی ہے ان شرطوں کا الگ الگ مختصر بیان درجِ ذیل ہے البتہ تحریمہ کا بیان ارکان کے ساتھ ہو گا

 

۱.      بدن کی طہارت

نمازی کو اپنا بدن نجاستِ حکمی و حقیقی سے پاک کرنا فرض ہے ، نجاست حکمیہ وہ ہے جو دیکھنے میں نہیں آ سکتی مگر شریعت کے حکم سے نجاست کہلاتی ہے اس کی دو قسمیں ہیں ،

۰          حدثِ اکبر یا جنابت یعنی غسل فرض ہونا،

۰ حدثِ اصغر یعنی بے وضو ہونا،

پس جنابت والی کے لئے غسل اور بے وضو کو وضو کرنا نجاستِ حکمی سے بدن کو پاک کرنا کہلاتا ہے اس کی تفصیل طہارت کے بیان میں گزر چکی ہے نجاستِ حقیقیہ وہ ناپاکی ہے جو دیکھنے میں آئے جیسے پیشاب، پاخانہ، خون، شراب وغیرہ، اس کی بھی دو قسمیں ہیں ۱. غلیظہ، و ۲. خفیفہ، ان دونوں کی تفصیل بھی طہارت کے بیان میں گزر چکی ہے نجاستِ حقیقیہ سے بدن کو پاک کرنا اس وقت فرض ہے جبکہ نجاست اتنی لگی ہو کہ نماز کی مانع ہو اور اس کا دور کرنا ایسے فعل کا مرتکب ہوئے بغیر ممکن ہو جس کی برائی اس سے سخت شدید ہو پس اگر آدمیوں کے سامنے ستر کھولے بغیر نجاست دور نہیں کر سکتا تو اسی نجاست سے نماز پڑھ لے، حقیقیہ کی مقدار جو مانع نماز ہے اور جس کا دھونا فرض ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ نجاستِ غلیظہ اگر درہم سے زیادہ ہو تو اُس کا دھونا فرض ہے اور اس کے ساتھ نماز پڑھنے سے نماز نہیں ہو گی اور اگر درہم کی مقدار ہے تو اُس کا دھونا واجب ہے اور نماز اس کے ساتھ جائز مگر مکروہِ تحریمی ہے جس کا لوٹانا واجب ہے اور قصداً اتنی نجاست لگی رکھنا بھی جائز نہیں اور اگر درہم سے کم ہے تو اس کا دھونا سنت ہے اگر نجاستِ غلیظہ گاڑھی ہے جیسے پاخانہ تو درہم کے وزن کا اعتبار ہے اور وہ ساڑھے چار ماشہ ہے پس اگر جسم والی نجاستِ غلیظہ وزن میں ساڑھےچار ماشہ سے کم ہو لیکن پھیلاؤ میں درہم ( روپیہ) کے برابر ہو تو نماز کے مانع نہیں ہے اور اگر پتلی ہو جیسے پیشاب، شراب وغیرہ تو وہ ایک روپیہ کے پھیلاؤ کے برابر ایک درہم کہلاتی ہے ، اگر نجاستِ خفیفہ لگی ہو تو جب تک بدن یا کپڑے کی چوتھائی سے کم ہے معاف ہے یعنی نماز صحیح ہونے کی مانع نہیں ہے نجس ہونے کے بارے میں ظاہری بدن کا اعتبار ہے پس اگر نجس سرمہ آنکھوں میں لگایا تو آنکھوں کا دھونا واجب نہیں

 

۲.      نمازی کے کپڑوں کا پاک ہونا

۱.         جو کپڑے نماز پڑھنے والے کے بدن پر ہوں جیسے کرتہ پاجامہ ٹوپی، عمامہ، اچکن، موزہ وغیرہ ان سب کا پاک ہونا ضروری ہے ، یعنی ان میں سے کسی پر نجاست غلیظہ کا ایک درہم سے زیادہ نہ ہونا اور نجاست خفیفہ کا کپڑا کے چوتھائی حصہ تک نہ ہونا نماز صحیح ہونے کے لئے شرط ہے پس اگر نجاست غلیظہ ایک درہم یا اس سے کم اور نجاستِ خفیفہ چوتھائی کپڑے سے کم ہو گی تو نماز مکروہ ہو گی

۲.        اگر نمازی کے بدن سے متصل کپڑا پاک ہے اور اس کا فالتو حصہ جو بدن سے الگ فرش وغیرہ پر ہے اور وہ نجس ہے اگر وہ نجس حصہ نمازی کے حرکت کرنے سے حرکت کرتا ہے تو نماز نہ ہو گی اور اگر اتنا بڑا ہے کہ حرکت نہ کرے تو نماز ہو جائے گی

۳.       اُس چیز کا بھی پاک ہونا فرض ہے جس کو نمازی اُٹھائے ہوئے ہے جبکہ وہ چیز اپنی قوت سے رکی ہوئی نہ ہو، مثلاً نمازی کی گود میں آدمی کا بچہ بیٹھ گیا یا اُس سے چمٹ کر چڑھ گیا اور اُس بچہ میں سنبھلنے کی سکت نہیں ہے اور اُس بچہ پر اس قدر نجاست لگی ہوئی ہے جس سے نماز درست نہیں ہوتی اور وہ بچہ اتنی دیر ٹھہرا جس میں ایک رکن ادا کر سکے یعنی تین بار سبحان اللّٰہ کہہ سکے تو نماز فاسد ہو جائے گی اگر اس سے کم ٹھہرا تو نماز فاسد نہیں ہو گی اور اگر وہ بچہ نمازی کے تھامنے کا محتاج نہ ہو یعنی اس میں خود سنبھلنے کی طاقت ہو اور وہ خود نمازی کو چمٹا ہو تب بھی نماز فاسد نہیں ہو گی خواہ بہت دیر تک ٹھہرا رہے

۴.       اگر نمازی کے جسم پر ایسی چیز ہو جس کی نجاست اپنی جائے پیدائش میں ہو اور خارج میں اس کا کچھ اثر نہ ہو تو کچھ حرج نہیں اور نماز درست ہو جائے گی، مثلاً اگر نمازی کے پاس آستین یا جیب وغیرہ میں ایسا انڈا ہو جس کی زردی خون بن چکی ہو یا انڈے میں مرا ہوا بچہ ہو تو نماز درست ہو جائے گی کیونکہ نجاست اس کے اپنے جائے پیدائش میں ہے جیسا کہ خود نمازی کے پیٹ میں اس کا فضلہ رہتا ہے اور وہ نماز کا مانع نہیں ہے

۵.        اگر کسی نے نماز پڑھی اور شہید اُس کے کاندھے پر ہے اور شہید کے بدن یا کپڑوں پر خون بہت پڑا ہے تو نماز درست ہو گی کیونکہ شہید کا خون جب تک اس کے بدن یا کپڑے پر ہے اور کپڑے اُس کے جسم پر پہنے ہوئے ہیں پاک ہے اور جب وہ خون بدن یا کپڑے سے الگ ہو گیا یا کپڑا بدن سے الگ ہو گئے تو اب ناپاک ہیں

۶.        اگر اکھڑے ہوئے دانت کو پھر منھ میں رکھ لیا اور نماز پڑھی تو نماز جائز ہو گی اگرچہ قدر درہم سے زیادہ ہو یہی صحیح ہے کیونکہ آدمی کا دانت پاک ہے ، اسی طرح خنزیر کے سوا سب جانوروں کی دانت یا ہڈی پاک ہے جبکہ اس پر چکنائی نہ ہو خواہ وہ مردے کے ہوں یا زندہ جانور کی پس اگر کسی نے نماز پڑھی اور اس کی گردن میں ایک پٹہ تھا جس میں کتے یا بھیڑئیے کے دانت ہیں تو نماز درست ہے

۷.       اگر کسی نے اس حال میں نماز پڑھی کہ اس کے پاس چوہا یا بلی یا سانپ ہے تو نماز درست ہو گی مگر گنہگار ہو گا اور یہی حکم ان سب جانوروں کا ہے جن کے جھوٹے پانی سے وضو جائز ہے

۸.        اگر کوئی شخص ایک جبہ پہن کر نماز پڑھتا رہا اور اس جبہ کے اندر روئی وغیرہ کچھ بھرا ہوا تھا پھر کسی وقت اس میں مرا ہوا چوہا نکلا اگر اس جبہ میں کوئی سوراخ تھا یا وہ پھٹا ہوا تھا تو وہ تین دن رات کی نمازیں لوٹائے اور اگر تازہ مرا ہوا نکلا کہ پھولا یا پھٹا نہیں یا خشک نہیں ہوا تو ایک دن رات کی نمازیں لوٹائے ، اگر کوئی سوراخ یا پھٹا ہوا نہیں تھا تو جتنی نمازیں اس جبہ سے پڑھی ہیں سب لوٹائے

۹.        اگر ایسے دو کپڑوں میں نماز پڑھی کہ ہر ایک پر مقدار درہم سے کم نجاست لگی ہے لیکن اگر دونوں کو جمع کریں تو قدر درہم سے زیادہ ہے تو جمع کریں گے اور اس سے نماز درست نہ ہو گی موزہ بھی لباس میں شامل ہے پس اگر کپڑے اور موزہ میں سے ہر ایک پر قدرِ درہم سے کم نجاست لگی ہو اور ان دونوں کی نجاست مل کر قدرِ درہم سے زیادہ ہو تو نماز درست نہ ہو گی، اگر ایک ہی کپڑے پر کئی جگہ نجاست لگی ہو تب بھی جمع کریں گے اگر قدرِ درہم سے زیادہ ہو گی تو مانع نماز ہو گی غرض کہ جسم پر لباس وغیرہ سے جو بھی چیز ہو گی سب کی نجاست متفرقہ کو جمع کیا جائے گا

۱۰.       اگر اکہرے اکہرے کپڑے میں نجاست قدر درہم سے کم لگی ہے مگر دوسری طرف کو پھوٹ نکلی اور دونوں طرف کی نجاست مل کر قدرِ درہم سے زیادہ ہو جاتی ہے تو یہ جمع نہیں کی جائے گی اور نماز درست ہو گی

۱۱.        اگر دوہرے کپڑے کی ایک تہ پر قدرِ درہم سے کم نجاست لگی اور دوسری تہ تک پھوٹ نکلی تو امام ابو یوسف کے نزدیک وہ اکہرے کپڑے کے حکم میں ہے اور نماز کی مانع نہیں ، اس قول میں آسانی ہے اور امام محمد کے نزدیک جمع کریں گے پس اگر قدرِ درہم سے زیادہ ہو گی تو نماز درست نہ ہو گی اس قول میں احتیاط زیادہ ہے

۱۲.       اگر نمازی کے پاس نماز کی حالت میں ایسا درہم تھا جس کی دونوں طرفین نجس تھیں تو مختار یہ ہے کہ وہ نماز جائز ہونے کے مانع نہیں اور یہی صحیح ہے کیونکہ وہ کل ایک درہم ہے

۱۳.      نمازی اگر اپنے کپڑے پر قدرِ درہم سے کم نجاستِ مغلظہ پائے اور وقت میں گنجائش ہو تو افضل یہ ہے کہ کپڑا دھو کر نماز شروع کرے اور اگر وہ جماعت اس سے فوت ہو جائے اور کسی دوسری جگہ جماعت مل جائے تب بھی یہی حکم ہے اور اگر یہ خوف ہو کہ جماعت نہ ملے گی یا وقت جاتا رہے گا تو اسی طرح نماز پڑھتا رہے ، یہ حکم اس وقت ہے جبکہ نماز میں شامل ہو گیا ہو پھر اس کو نجاست کا علم ہوا ہو، اگر نماز میں شامل نہیں لیکن جماعت کے قریب پہنچ گیا ہے اور جماعت والے نماز میں ہیں اور اس کو خوف ہے کہ اگر اس کو دھوئے گا تو جماعت فوت ہو جائے گی تو بہتر یہ ہے کہ نماز میں شامل ہو جائے اور اس کو نہ دھوئے

۱۴.      اگر اپنے کپڑے پر نجاست مغلظہ قدرے درہم سے زیادہ لگی ہوئی دیکھے اور یہ معلوم نہیں کہ کب لگی تھی تو بالاجماع یہ حکم ہے کہ کسی نماز کا اعادہ نہ کرے یہی اصح ہے

۱۵.       اگر کوئی شخص کسی دوسرے آدمی کے کپڑے میں نجاست قدرِ درہم سے زیادہ دیکھے تو اگر اس کو گمان غالب ہے کہ اس کو خبر کر دینے پر وہ نجاست کو دھو لے گا تو اس کو خبر دینا فرض ہے اور اس صورت میں چپ رہنا جائز نہیں اور اگر اس کو یہ گمان غالب نہ ہو یا یہ گمان ہو کہ وہ کچھ پرواہ نہیں کرے گا تو اس کے اختیار ہے کہ خبر کرے یا نہ کرے یعنی چپ رہنا بھی جائز ہے

ہر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے یہی اصول ہے اور اس میں یہ بھی شرط ہے اپنی ذات پر ضرر کا خوف نہ ہو پس اگر ضرر کا خوف ہو تو وہ مختار ہے کہ امر بالمعروف کرے یا نہ کرے لیکن کرنا افضل ہے اور اس حالت میں اگر قتل کر دیا گیا تو شہید ہو گا

۱۶.       اگر نمازی کو پاک اور نجس کپڑوں میں شبہ پڑ جائے تو تحری کرے اور ظنِ غالب پر عمل کرے اور اس کے ظنِ غالب میں جو کپڑا پاک ہو اس سے نماز پڑھے، اگر کسی نے ایسے کپڑے میں نماز پڑھی جو اس کے نزدیک نجس تھا پھر نماز سے فارغ ہو کر معلوم ہوا کہ وہ پاک تھا تو وہ نماز جائز ہو گی

 

۳.     نماز کی جگہ کا پاک ہونا

 

۱.         نماز کے صحیح ہونے کے لئے نماز پڑھنے کی جگہ کا پاک ہو نا شرط ہے اس سے مراد قیام اور سجود کی جگہیں ہیں ، یعنی صرف دونوں قدموں ، دونوں ہاتھوں ، دونوں گھٹنوں اور پیشانی کی جگہ کا پاک ہونا شرط ہے ، زمین یا فرش وغیرہ جس چیز پر نماز پڑھتا ہے اس کے سارے حصہ کا پاک ہونا نماز کی صحت کے لئے شرط نہیں پس اگر ایسے فرش پر نماز پڑھی جس کے ایک طرف نجاست تھی اور اس کے دونوں پاؤں اور سجدے کی جگہ پاک ہے تو مطلقاً نماز جائز ہے خواہ وہ فرش بڑا ہو یا ایسا چھوٹا ہو کہ ایک طرف کے ہلانے سے دوسری طرف ہلتا ہو کیونکہ جو چیز نمازی کے بدن سے متصل نہیں جیسا کہ فرش و کپڑے وغیرہ کا جانماز تو اگر ان اعضا کی جگہ پاک ہو جو اس جانماز پر ٹکتے ہوں تو اس پر مطلقاً نماز جائز ہے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا

۲.        اگر ناک رکھنے کی جگہ نجس ہو اور پیشانی رکھنے کی جگہ پاک ہو تو بلا خلاف نماز درست ہے ، اسی طرح اگر ناک رکھنے کی جگہ پاک ہو اور پیشانی رکھنے کی جگہ نجس ہو اور ناک پر سجدہ کرے تو بلا خلاف اس کی نماز جائز ہو گی کیونکہ عذر کے ساتھ ناک پر اکتفا کرنا سجدہ کے لئے کافی ہے ، اگر ناک اور پیشانی کی جگہ ناپاک ہو اور ناک اور پیشانی دونوں پر سجدہ کرے تو اصح یہ ہے کہ اس کی نماز درست نہ ہو گی اور صرف سجدہ ناک پر کرے تو امام ابوحنیفہ سے ایک روایت کے مطابق نماز درست ہو جائے گی، اس لئے کہ ناک ایک درہم سے کم جگہ پر لگتی ہے

۳.       اگر نجاست غلیظہ نمازی کے ایک پاؤں کے نیچے قدرِ درہم سے زیادہ ہو اور دوسرے پاؤں کی جگہ پاک ہو اور اس نے دونوں پاؤں رکھ کر نماز پڑھی تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے ، اصح یہ ہے کہ اس کی نماز جائز نہ ہو گی اور اگر وہ پاؤں رکھا جس کی جگہ پاک ہے اور دوسرا پاؤں جس کی جگہ ناپاک ہے اُٹھا لیا تو نماز جائز ہو گی بلا ضرورت ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مکروہ ہے ، اگر نجاست دونوں پاؤں کے نیچے ہے اور ہر ایک پاؤں کے نیچے قدرِ درہم سے کم ہے اور جمع کیا جائے تو قدرِ درہم سے زیادہ ہو جائے گی تو جمع کریں گے اور اس سے نماز جائز نہیں ہو گی اسی طرح سجدہ کی جگہ اور پاؤں کی جگہ کی نجاست جمع کی جائے گی

۴.       اگر سجدہ میں ہاتھوں یا گھٹنے کے نیچے کی جگہ قدرِ درہم سے زیادہ نجس ہو تو صحیح یہ ہے کہ نماز درست نہ ہو گی

۵.        اگر پاک جگہ پر نماز پڑھی اور پاک جگہ پر ہی سجدہ کیا لیکن سجدہ میں اس کا کپڑا دامن وغیرہ خشک نجس جگہ پر پڑتا ہے تو اس کی نماز درست ہے

۶.        اگر نجاست نمازی کے کپڑے میں قدرِ درہم سے کم ہو اور اس کے پاؤں کے نیچے بھی قدرِدرہم سے کم ہو اور جمع کریں تو قدرِدرہم سے زیادہ ہو جائے تو جمع نہیں کریں گے اور نماز درست ہو جائے گی

۷.       اگر نمازی پاک جگہ پر کھڑا ہوا پھر نجس جگہ پر چلا گیا پھر پہلی ( پاک) جگہ آ گیا تو اگر نجس جگہ پر اتنی دیر نہیں ٹھہرا جتنی دیر میں چھوٹا رکن ادا کر سکیں یعنی تین بار سبحان اللّٰہ کہنے کی مقدار نہیں ٹھہرا تو اس کی نماز درست ہو گی اور اگر رکن کی مقدار ٹھہرا تو نماز درست نہیں ہو گی

۸.        اگر نجس جگہ پر کھڑے ہو کر نماز شروع کی اور پھر پاک جگہ میں چلا گیا تو نماز شروع ہی نہیں ہوئی نئے سرے سے پاک جگہ پر نیت باندھے

۹.        اگر فرش پر نجاست لگی اور یہ معلوم نہیں کہ کس جگہ لگی ہے تو جس جگہ اس کے دل میں پاکی کا گمان غالب ہو وہیں نماز پڑھے

۱۰.       اگر نجاست کی جگہ اپنے بدن کا کوئی حصہ مثلاً ہاتھ بچھا کر اس پر سجدہ کرے تو نماز جائز نہیں ، اسی طرح جو کپڑا نمازی کے بدن سے متصل ہے اس کا فالتو حصہ مثلاً آستین وغیرہ بچھا کر اس پر سجدہ کرے تو صحیح یہ ہے کہ نماز نہیں ہو گی اس لئے کہ وہ بدن کے تابع ہے

۱۱.        اگر زمین یا فرش پر خشک نجاست ہو اور اُس پر کوئی کپڑا بچھایا تو اگر وہ کپڑا اتنا باریک ہو کہ اس میں سے نجاست نظر آتی ہو یا اس کی بو آتی ہو تو اس پر نماز جائز نہیں اور اگر وہ کپڑا گاڑھا ہے کہ اس میں سے نجاست نظر نہ آئے اور اس کی بو بھی نہ آئے تو اس پر نماز درست ہے ، اگر اعضاء سجدہ کی جگہ پاک ہو تو قریب یا بعید سے نجاست کی بو کا آنا نماز کا مانع نہیں ہے لیکن بلا ضرورت قصداً ایسی جگہ نماز پڑھنا مکروہ ہے

۱۲.       اگر جانماز کا کپڑا دوہرا ہو اور اس کے اوپر کی تہہ پاک ہو اور نیچے کی تہہ ناپاک ہو اگر یہ دونوں تہیں آپس میں سلی ہوئی نہ ہوں اور اوپر کی تہہ اتنی موٹی ہو کہ نیچے کی نجاست کا رنگ یا بو محسوس نہ ہو تو نماز اس پر درست ہے اور اگر دونوں تہیں ( پرت) سلی ہوئی ہیں تو احتیاط اس میں ہے کہ اس پر نماز نہ پڑھے اور اگر ایک ہی کپڑے کی دوہری تہ کر لے اور اوپر کی تہہ پاک ہو اور نیچے کی تہہ ناپاک ہو تو اس پر نماز جائز ہے

۱۳.      اگر نجس زمین پر کچھ خشک مٹی چھڑک دی تو اگر مٹی اتنی تھوڑی ہے کہ نجاست کی بو آتی ہے تو نماز جائز نہیں ہو گی اور اگر اتنی بہت ہے کہ بو نہیں آتی تو نماز درست ہو گی اگر نجس زمین کو گارے یا چونے سے لیپ دیا اور خشک ہونے پر اس پر نماز پڑھی تو جائز ہے اگر نجس کپڑا بچھائے اور اس پر مٹی بچھا کر نماز پڑھے تو جائز نہیں

۱۴.      اینٹیں اگر ایک طرف سے نجس ہوں اور ان کی دوسری جانب پر جو پاک ہے نماز پڑھے تو جائز ہے خواہ اُن اینٹوں کا زمین پر فرش لگا ہوا ہو یعنی جڑی ہوئی ہوں یا ویسے ہی رکھی ہوں

۱۵.       اگر چکی کے پتھر یا دروازے کے تختہ یا موٹے بچھونے وغیرہ سخت چیز پر نماز پڑھی اور وہ اوپر سے پاک ہے اور نیچے سے نجس ہے تو اس پر نماز جائز ہے ، اور ایسے نمدے اور موٹے فرش کا جس کے موٹائی میں چیر کر دو بن سکیں اور اس لکڑی کا بھی جو موٹائی میں چر سکے یہی حکم ہے

۱۶.       اگر نجاست پر کھڑا ہو اور پاؤں میں جوتیاں یا جرابیں یا موزے پہنے ہوئے ہو تو نماز جائز نہ ہو گی کیونکہ وہ نمازی کے بدن کے تابع ہیں اور اگر جوتیاں نکال کر اُن پر کھڑا ہو جائے اور جوتیوں کے اوپر کی جانب جہاں پاؤں رکھتا ہے پاک ہے تو نماز جائز ہے خواہ نیچے کی جانب جو زمین سے ملتی ہے پاک ہو یا ناپاک

۱۷.      اگر جانور کی پیٹھ پر نماز پڑھی اور اس کی زین پر نجاست قدرِ درہم سے زیادہ ہے تو صحیح یہ ہے کہ اس کی نماز جائز ہے ، اسی پر فتویٰ ہے

 

جن مقامات پر نماز پڑھنا مکروہ ہے

۱.         راستہ،

۲.        اونٹ، گائے ، بیل، بھیڑ، بکری وغیرہ چوپایوں کے باندھنے کی جگہ،

۳.       گھوڑے پر،

۴.       جانوروں کی ذبح کرنے کی جگہ،

۵.        پاخانہ اور اس کی چھت،

۶.        غسل خانہ اور اس کی چھت،

۷.       حمام اور اس کی چھت،

۸.        کعبہ معظمہ کی چھت (کیونکہ تعظیم و ادب کے خلاف ہے اور حدیثِ پاک میں بھی اس کی ممانعت آئی ہے ) مسجد کی چھت کا بھی یہی حکم ہے جبکہ بلا ضرورت پڑھے،

۹.        مقبرہ (قبرستان) لیکن اگر قبرستان میں نماز کے لئے الگ جگہ بنائی گئی ہو اور اس جگہ کوئی قبر نہ ہو اور نہ نمازی کے سامنے کوئی قبر ہو اور نہ وہاں کوئی نجاست ہو تو ایسی جگہ نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہے اگر قبر نمازی کے دائیں یا بائیں یا پیچھے ہو یا اگر سامنے ہو مگر سترے کی مقدار کوئی چیز نمازی اور قبر کے درمیان حائل ہو تو کچھ کراہت نہیں

۱۰.       نالہ بہنے کی جگہ،

۱۱.        آٹا پیسنے کی چکی کے پاس،

۱۲.       مزبلہ ( کوڑا ڈالنے کی جگہ)،

۱۳.      چھینی ہوئی زمین یا پرائی زمین میں مالک کی اجازت کے بغیر جبکہ وہ بوئی یا جوتی ہوئی ہو، ورنہ مجبوری کی حالت میں راستہ میں پڑھے

۱۴.      جنگل و میدان میں سترے کے بغیر نماز پڑھنا، سترے کی تفصیل مکروہاتِ نماز میں ہے ، ( گھاس، بوریا، چٹائی اور کپڑے وغیرہ کے فرش پر نماز پڑھنے اور سجدہ کرنے میں کوئی کراہت نہیں لیکن زمین پر اولیٰ ہے کہ اس میں عجز و نیاز ظاہر ہوتا ہے )

ہمارے زمانے میں احتیاطاً سفر میں اپنے ہمراہ جانماز ( مصلی) رکھنا بہتر ہے پانی کے لئے لوٹا وغیرہ بھی ہمراہ ہونا بہتر ہے

 

 

۴.     ستر عورت

۱.         سترِعورت یعنی جسم کے جس حصہ کو چھپانا فرض ہے اس کا چھپانا جبکہ اس پر قادر ہو نماز صحیح ہونے کے لئے شرط ہے اگرچہ اس چیز سے ہو جس کا پہننا جائز نہیں مثلاً مرد کے لئے ریشم لیکن بلا عذر ایسا کرنے سے گناہگار ہو گا نماز کے علاوہ لوگوں کے سامنے اور تنہائی و تاریکی میں بھی ستر عورت فرض ہے لیکن غرض مثلاً پیشاب، پاخانہ و استنجا و ختنہ و جماعِِ حلال وغیرہ کے لئے اعضاء ستر کا ضرورت کے مطابق کھولنا جائز ہے

۲.        مرد کے ناف کے نیچے سے گھٹنوں تک ستر عورت ہے ناف ستر میں داخل نہیں ، گھٹنے ستر میں داخل ہیں ، آزاد عورت ( جو لونڈی نہ ہو) کا چہرہ ( منھ) اور دونوں ہتھیلیوں اور دونوں قدموں کے سوا تمام بدن ستر عورت ہے ، عورت کے بال جو سر پر ہیں اور جو لٹکے ہوئے ہیں سب ستر عورت ہیں ، عورت کی کلائی بھی ستر ہے ، بعض کے نزدیک عورت کی آواز بھی ستر میں داخل ہے اس لئے احتیاط ضروری ہے اگرچہ عورت کو نماز میں منھ ڈاھپنا فرض نہیں لیکن غیر مردوں کے سامنے کھلے منھ آنا یا نماز پڑھنا بھی جائز نہیں ہے باندی (لونڈی) کا ستر وہی ہے جو مرد کا ہے نیز اس کا پیٹ اور پیٹھ بھی ستر ہے اور پہلو، پیٹ اور پیٹھ کے تابع ہے خنثیٰ مشکل اگر غلام ہے تو اس کا ستر باندی کی طرح ہے اور اگر آزاد ہے تو اس کا ستر آزاد عورت کی مانند ہے ، چار برس تک کے بچے کا بدن عورت نہیں اس کا چھپانا ضروری نہیں ہے اور اس کا دیکھنا یا چھونا مباح ہے اس کے بعد دس برس تک پیشاب یا پاخانہ کا مقام اور ان کے گردو نواح کا حصہ عورتِ غلیظہ اور چھپانے کے قابل ہو جاتا ہے ، دس برس کے بعد اس کے لئے ستر چھپانے کا حکم بالغ کی مانند ہے اور پندرہ برس کا لڑکا عورتوں میں جانے سے منع کیا جائے ، جب علامات کے لحاظ سے پندرہ برس سے پہلے بالغ ہو جائے تو اُسی وقت سے منع کیا جائے

۳.       جو عضو بدن کے ساتھ ہوتے ہوئے سترِ عورت میں داخل ہیں وہ بدن سے جدا ہونے کے بعد بھی سترہے اور اس کا دیکھنا درست نہیں

۴.       بےریش لڑکے کے چہرے کی طرف دیکھنا جبکہ شہوت پیدا ہونے کا شک ہو حرام اور منع ہے بغیر شہوت کے نظر کرنا مباح ہے اگرچہ وہ خوبصورت ہو

 

اعضاء ستر کی تفصیل

مرد میں سترِ عورت کے اعضا آٹھ ہیں

۱.         ذکر مع اپنے اجزا حشفہ قصبہ قلفہ سمیت ایک عضو ہے

۲.        دونوں خصیے مع اپنے ارد گرد کے ایک عضو ہیں

۳،۴.   ہر ایک سرین علیحدہ علیحدہ عضو ہیں

۵،        دبر مع اپنے اردگرد کے یہ سرین سے الگ ایک عضو ہے

۶،۷.   ہر ایک ران، چڈھے کی جڑ سے گھٹنے تک الگ الگ ایک ایک عضو ہے گھٹنا اس میں شامل ہے

۸.        ناف کے نیچے سے عانہ کی اُٹھی ہوئی ہڈی تک ( یعنی عضو تناسل کی جڑ تک) بمعہ اس حصہ کے جو اس کے محاذ میں پیٹ اور پیٹھ اور دونوں رانوں سے اس کے ساتھ ملا ہوا ہے یہ سب ایک عضو ہے

 

آزاد عورت کے لئے پانچ عضو، منھ (چہرہ)، دونوں ہتھیلیوں ، دونوں قدموں کے علاوہ سارا بدن عورت (ستر) ہے اور وہ تیس اعضاء ہیں

۱. سر یعنی پیشانی کے اوپر سے شروع گردن تک اور کان سے دوسرے کان تک یعنی جتنی جگہ پر عادتاً بال اگتے ہیں

۲. سر کے بال جو کانوں سے نیچے لٹکے ہوئے ہوں الگ عضو ہیں

۳،۴. دونوں کان دو علیحدہ علیحدہ عضو ہیں ،

۵. گردن مع گلا،

۶،۷. دونوں کندھے،

۸،۹. دونوں بازو مع کہنیاں ،

۱۰،۱۱. دونوں کلائیاں کہنی کے بعد سے پہنچوں کے نیچے تک،

۱۲. سینہ، گلے کے جوڑ سے دونوں پستان کے نیچے کی حد تک،

۱۳،۱۴. دونوں پستانیں جبکہ اچھی طرح اٹھ چکی ہو اگر بالکل نہ اٹھی ہوں یا معمولی سی ابھری ہوں کہ الگ عضو نہ بن سکیں تو سینہ کے ساتھ ہیں الگ عضو نہیں ، دونوں چھاتیوں کے درمیان کی جگہ ہر حال میں سینہ میں داخل ہیں الگ عضو نہیں ہے ،

۱۵. پیٹ، سینے کی حد ختم ہونے سے لے کر ناف کے نیچے کے کنارے تک پس ناف بھی پیٹ میں شمار ہوتی ہے ،

۱۶. پیٹھ یعنی پیچھے کی جانب سینے کے مقابل سے کمر تک،

۱۷. دونوں کندھوں کے درمیان کی جگہ بغل کے نیچے سے سینے کے نیچ کی حد تک، دونوں کروٹوں میں جو جگہ ہے اس کا اگلا حصہ سینے میں اور پچھلا حصہ شانوں یا پیٹھ میں شامل ہے ، اور اس کے بعد سے دونوں کروٹوں میں کمر تک جو جگہ ہے اس کا اگلا حصہ پیٹ میں اور پچھلا حصہ پیٹھ میں شامل ہے

۱۸. ناف کے نیچے پیڑو اور اس کے متصل جو جگہ ہے اور اس کے مقابل پشت کی جانب سب مل کر ایک عضو ہے ،

۱۹. فرج مع اپنے ارد گرد کے،

۲۰. دبر مع اپنے اردگرد کے،

۲۱،۲۲. دونوں سرین،

۲۳،۲۴. دونوں رانیں ، چڈھے سے گھٹنے تک، گھٹنے بھی شامل ہیں ،

۲۵،۲۶. دونوں پنڈلیاں ٹخنوں سمیت،

۲۷،۲۸. دونوں ہتھیلیوں کی پشت،

۲۹،۰۳. دونوں پاؤں کے تلوے ( بعض کے نزدیک دونوں ہاتھوں کی پشت اور دونوں پاؤں کے تلوے ستر نہیں ہیں )

عورت کا چہرہ اگرچہ ستر میں شامل نہیں لیکن فتنے کی وجہ سے غیر محرم کے سامنے کھولنا منع ہے ، اسی طرح نماز میں بھی عورت کو منھ چھپانا فرض نہیں لیکن غیر مردوں کے سامنے سفر وغیرہ میں منھ ڈھانپ کر نماز پڑھے خصوصاً جوان عورت کو اس پر پابندی زیادہ ضروری ہے اور غیر محرم کو بھی اُس کی طرف نظر کرنا جائز نہیں اور چھونا تو اور زیادہ منع ہے

 

مسائل متعلقہ ستر

۱. اگر آزاد بالغ عورت نے ایسا لباس پایا جو اس کے بدن کو اور چوتھائی سر کو ڈھانپ سکتا ہے تو بدن اور چوتھائی سر دونوں کا ڈھانپنا فرض ہے اگر کپڑا اتنا ہے کہ چوتھائی سر کو نہیں ڈھانپ سکتا بلکہ کم ڈھانپتا ہے تو اس کا ڈھانپنا واجب نہیں ، افضل و مستحب ہے اگر بلوغ کے قریب لڑکی چوتھائی سر ڈھانپ سکنے کی صورت میں ڈھانپنا چھوڑ دے گی تو اس پر نماز کا اعادہ واجب نہیں اگر وہ ننگی یا بغیر وضو نماز پڑھے تو نماز کو لوٹانے کا حکم کیا جائے اور بغیر اوڑھنی کے پڑھے تو نماز ہو جائے گی لیکن احسن یہ ہے کہ اوڑھنی سے پڑھے

۲. نماز میں اپنا ستر دوسروں سے چھپانا بالاجماع فرض ہے اور اپنے آپ سے چھپانا عام مشائخ کے نزدیک فرض نہیں ، پس اگر گریبان میں سے اس کو اپنا ستر نظر آئے تو نماز فاصد نہ ہو گی، یہی صحیح ہے لیکن قصداً اپنے ستر کی طرف نظر کرنا مکروہِ تحریمی ہے

۳. دوسرے لوگوں سے ستر ڈھانپنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے بدن کو چاروں طرف سے ڈھانپنا ضروری ہے نیچے کی طرف سے نہیں پس تہمد کے نیچے سے ستر کا نظر آنا نماز کا مانع نہیں ہے جبکہ چاروں طرف سے ستر صحیح ہو

۴. اگر اندھیرے میں ننگا ہو کر نماز پڑھی اور اس کے پاس کپڑا موجود ہے تو نماز جائز نہیں ہو گی

۵. باریک کپڑا جس میں سے بدن نظر آتا ہو ستر کے لئے کافی نہیں اور اس کو پہن کر نماز جائز نہیں جبکہ اعضائے ستر پر ہو، اسی طرح اگر چادر یا دوپٹہ میں سے عورتوں کے بالوں کی سیاہی چمکے تو نماز نہ ہو گی

۶. موٹا کپڑا جس سے بدن کا رنگ نظر نہ آتا ہو مگر بدن سے ایسا چپکا ہوا ہو کہ اعضائے بدن کی شکل معلوم ہوتی ہو ایسے کپڑے سے نماز ہو جائے گی مگر دوسرے لوگوں کو اس کے اعضا کی ہئیت کی طرف نظر کرنا جائز نہیں اور ایسا کپڑا لوگوں کے سامنے پہننا منع ہے خصوصاً عورتوں کے لئے بدرجہ اولیٰ منع ہے

 

نماز میں ستر کھل جانے کے مسائل

۱. نماز میں کسی عضو کا چوتھائی سے کم ستر کا کھل جانا معاف ہے خواہ کتنی ہی دیر کھلا رہے چوتھائی یا زیادہ ستر کھل جانے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے جبکہ ایک رکن کی مقدار ( تین بار سبحان اللّٰہ کہنے کے مقدار) کھلا رہے ، پس جن اعضا کا ڈھاپنا فرض ہے ان میں سے کوئی عضو نماز کے اندر چوتھائی یا زیادہ کھل گیا اور اس نے فوراً رکن کی مقدار سے پہلے پہلے ڈھانپ لیا تو نماز فاسد نہ ہو گی اور اگر ایک رکن کی مقدار کھلا رہا تو نماز فاسد ہو گئی، یہ حکم اس وقت ہے جب کہ بلا ارادہ کھل گیا ہو اور اگر اپنے ارادہ سے یا اپنے فعل سے کھولا تو رکن کی مقدار کی رعایت نہیں بلکہ فوراً یہ نماز جاتی رہے گی، اگرچہ رکن کی مقدار سے پہلے پہلے ڈھانپ لیا ہو، اگر نماز شروع کرتے وقت ستر کے کسی عضو کی چوتھائی کھلی ہوئی ہے اور اسی حالت میں تکبیر تحریمہ کہی تو نماز شروع ہی نہیں ہوئی اگرچہ رکن کی مقدار سے کم وقت گزرے

۲. اصح یہ ہے کہ سترغلیظ ہو یا خفیف اس کا حساب چوتھائی حصہ سے ہی کیا جاتا ہے ستر کا غلیظ یا خفیف ہونا صرف حرمتِ نظر کے اعتبار سے ہے

۳. مرد اور عورت میں پیشاب و پاخانہ کا مقام اور جو جگہ ان دونوں کے آس پاس ہے ستر غلیظ ہے اس کے علاوہ سب ستر خفیف ہے ( گھٹنا بہ نسبت ران کے خفیف ستر ہے پس گھٹنا کھولنے والے کو نرمی سے منع کیا جائے اور ران کھولنے والے کو سختی سے منع کیا جائے لیکن اگر نہ مانے تو اس کو مارے نہیں اور اگر عورت غلیظہ کھولے ہوئے ہو اور وہ شخص مارنے پر قادر ہے مثلاً باپ یا حاکم تو اس کو مارے)

۴. چوتھائی سے مراد اعضائے ستر میں سے ہر عضو کی اپنی چوتھائی ہے اگر ایک عضو میں کئی جگہ تھوڑا تھوڑا کھلا ہو تو جمع کریں گے اگر دو یا زیادہ اعضا میں کھلا ہوا ہو تو اس کو بھی جمع کریں گے لیکن اس کا حساب ان میں سے سب سے چھوٹے عضو کی چوتھائی سے کیا جائے گا

۵. اگر ایک عضو میں سے کئی جگہ سے کھلا ہو تو اجزاء یعنی پانچواں چھٹا حصہ وغیرہ کے حساب سے جمع کیا جائے گا اور اگر چند اعضا میں کھلا ہو تو چھٹا آٹھواں حصہ وغیرہ معتبر نہیں بلکہ پیمائش سے جمع کیا جائے گا

 

ساتر نجس کے متعلق مسائل

۱. اگر ایسی چیز کے سوا جو اصلاً ناپاک ہو اور کوئی چیز ستر ڈھاپنے کے لئے نہ ملے مثلاً مردار کی کھال جس کی دباغت نہیں ہوئی تو یہ شخص اس سے نماز میں ستر نہ ڈھانپے بلکہ ننگا رہ کر نماز پڑھے اور نماز کے علاوہ وقت میں اس کھال سے ستر چھپائے ، اور اگر وہ چیز اصلاً ناپاک نہیں بلکہ کسی خارجی نجاست مثلاً پیشاب یا پاخانہ یا خون وغیرہ کے لگنے سے ناپاک ہوئی ہے تو اگر وہ کل ناپاک ہے یا اس میں چوتھائی سے کم پاک ہے تو اس کو اختیار ہے کہ اس کپڑے کے ساتھ کھڑے ہو کر رکوع و سجود سے نماز پڑھے اور یہی مستحب و افضل ہے یا ننگا نماز پڑھے اور اگر اس کا چوتھائی حصہ پاک ہو تو اسی میں نماز پڑھنا ضروری و واجب ہے اور یہ حکم اس وقت ہے جبکہ ایسی چیز نہ پائے جو نجاست کو دور کر دے یا اس کو کم کر دے اگر ایسی چیز مل جائے تو نجاست کو دور کرنا یا کم کرنا واجب ہے

۲. اگر کسی کے پاس دو کپڑے ہوں اور ان میں سے ہر ایک قدرِ درہم سے زیادہ نجاست غلیظہ سے نجس ہے تو اگر ان میں کوئی کپڑا چوتھائی کی مقدار نجس نہیں تو اختیار ہے جس سے چاہے نماز پڑھے اور مستحب یہ ہے کہ کم نجاست والے میں پڑھے اور اگر ایک میں نجاست چوتھائی سے کم ہو اور دوسرے میں بقدر چوتھائی سے زیادہ ہو تو جس میں نجاست کم ہو اس سے نماز پڑھے اور اس کے برخلاف جائز نہیں اور اگر دونوں میں سے ہر ایک میں چوتھائی حصہ نجس ہے یا کسی ایک میں چوتھائی سے زیادہ اور تین چوتھائی ۳\۴ سے کم ہو اور دوسرے میں بقدر چوتھائی ہو تو دونوں میں حکم برابر ہیں جس میں چاہے نماز پڑھے اور افضل یہ ہے کہ جس میں نجاست کم ہو اس میں پڑھے اور اگر ایک چوتھائی حصہ پاک ہو اور دوسرا چوتھائی سے کم پاک ہو یا کل ناپاک ہو تو جس کا چوتھائی پاک ہے اس میں نماز پڑھے اس کے برخلاف جائز نہیں

۳. اگر کسی کپڑے کے ایک جانب خون وغیرہ کوئی نجاست لگی ہو اور وہ اس قدر پاک ہو کہ اس سے تہبند باندھ سکتا ہے اگر نہ باندھے گا تو نماز جائز نہیں ہو گی خواہ ایک طرف کے ہلانے سے دوسری طرف ہلتی ہو یا نہ ہلتی ہو

۴. اگر ننگے آدمی کے پاس ریشمی کپڑا ہے جو پاک ہے اور ٹاٹ کا کپڑا بھی ہے جس میں نجاست قدرِ درہم سے زیادہ لگی ہے تو ریشمی کپڑے میں نماز پڑھے

۵. اگر کسی کے سب کپڑے نجس ہیں اور پاک پانی بھی موجود ہے تو دھو کر گیلے کپڑے سے نماز پڑھ لے اور نماز قضا نہ کرے

۶. اگر ستر کا کپڑا یا اس کے پاک کرنے والی چیز سے عاجز ہونا بندوں کے فعل سے ہو تو برہنہ یا ناپاک کپڑے کے ساتھ نماز پڑھ لے اور پھر عذر جاتے رہنے پر اُس اعادہ لازمی ہے ، اور اگر عذر بندوں کے فعل سے لاحق نہ ہو بلکہ قدرتی ہو تو اس عذر کو ساتھ نماز پڑھ لے اور اس کا اعادہ لازمی نہیں

 

نماز کے لئے مستحب لباس وغیرہ

مستحب یہ ہے کہ مرد تین کپڑے پہن کر نماز پڑھے

۱. ازار ( تہبند یا پاجامہ وغیرہ)

۲. قمیض، کرتہ،

۳. عمامہ،

اگر ایک کپڑے میں بدن ڈھانپ کر نماز پڑھے تو بلا کراہت جائز ہے

 

عورت کے لئے بھی مستحب ہے کہ تین کپڑے پہن کر نماز پڑھے اور وہ یہ ہیں

۱. ازار ( تہبند یا پاجامہ وغیرہ)

۲. قمیض،

۳. اوڑھنی ( دوپٹہ)،

اگر عورت دو کپڑوں یعنی تہبند یا پاجامہ اور اوڑھنی میں نماز پڑھے تو نماز جائز ہو گی اور اگر ایک کپڑے میں پڑھے اور اس سے اُس کا تمام ستر ڈھک جائے تو نماز جائز ہو جائے گی، اگر دو شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھیں اور ہر شخص اس کے ایک کنارے ( پلہ) سے ستر ڈھانپ لے تو جائز ہے اور اسی طرح اگر کوئی شخص کپڑے کے ایک کنارے سے اپنا ستر ڈھانپ لے اور دوسرا کنارا کسی سوتے ہوئے پر ڈال دے تو جائز ہے اگر کسی کے پاس ایک ایسا کپڑا ہو کہ یا اس سے جسم کے چھپا لے یا اس کو بچھا کر نماز پڑھ لے اور نماز کے لئے اس کو پاک جگہ میسر نہیں ہے تو اس کو چاہئے کہ اس کپڑے سے اپنے جسم کو چھپا لے اور نماز اسی جگہ پڑھ لے

 

۵. قبلے کی طرف منھ کرنا

 

۱. قبلہ کی طرف منھ کرنا جبکہ اس پر قادر ہو نماز صحیح ہونے کے لئے شرط ہے ، مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہے ، یہ ایک چوکور مکان ہے جو ملک عرب کے شہر مکہ معظّمہ میں واقع ہے اس کو خانہ کعبہ، کعبۃ اللّٰہ، بیت اللّٰہ اور بیت الحرام کہتے ہیں ، نماز خواہ فرض ہو یا نفل اور سجدہ تلاوت ہو یا نماز جنازہ ہر نماز و سجدہ کے لئے ضروری ہے کہ قبلہ کی طرف منھ کرے اس پر قادر ہوتے ہوئے اس کے بغیر کوئی نماز درست نہیں ہے خواہ قبلے کی طرف منھ کرنا حقیقتہً ہو یا حکماً مثلاً بیماری یا دشمن کے خوف سے قبلے کی طرف منھ نہیں کر سکتا تو وہ جس طرف منھ کر سکتا ہو، یا قبلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اٹکل سے وہ جس طرف کو اپنا قبلہ ٹھہراتا ہے وہ اس کا قبلہ حکمی ہے قبلہ مسجودالیہ ہے ( یعنی اُس کی طرف سجدہ کیا جاتا ہے ) مسجودلہ ( یعنی جس کو سجدہ کیا جائے ) نہیں ہے بلکہ مسجودلہ تو اللّٰہ تعالیٰ ہی ہے اور یہ جہت آزمائش و یکجہتی کے لئے مقرر ہوئی ہے

۲. جو شخص مکہ مکرمہ میں ہے اس کو عین کعبہ کی طرف منھ کرنا لازمی ہے خواہ درمیان میں کوئی دیوار یا پہاڑ وغیرہ حائل ہو یا نہ ہو، اور یہ اس وقت ہے جبکہ عین کعبہ کی تحقیق ممکن ہو مثلاً چھت پر چڑھ کر دیکھ سکتا ہو اور اگر یہ تحقیق ممکن نہ ہو تو مکہ والوں کے لئے بھی جہت کافی ہے اگر صرف حطیم کی طرف منھ کر کے نماز پڑھے اور کعبہ معظّمہ کا کوئی جزو اس کے سامنے نہ آئے تو نماز جائز نہیں

۳. جو شخص مکہ معظّمہ سے باہر ہو اور خانہ کعبہ کو نہ دیکھتا ہو اُس کا قبلہ کعبہ معظّمہ کی جہت ہے پس اس کے چہرے کی کچھ سطح خانہ کعبہ یا فضائے کعبہ کے مقابل تحقیقتاً یا تقریباً واقع ہو تحقیقی سامنے ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس کے چہرے کی سیدھ سے ایک سیدھا خط کھینچا جائے تو وہ کعبہ یا اس کی فضا پر گزرے اور تقریبی یہ ہے کہ خطِ مذکور خانہ کعبہ یا اس کی فضا سے بالکل ہٹا ہوا نہ ہو بلکہ کسی قدر چہرے کی سطح کعبہ یا اُس کی فضا کے مقابل رہے کعبہ کی جہت دلیل یعنی علامت سے معلوم کی جاتی ہے اور وہ دلیل و علامت شہرو قصبوں اور دیہاتوں میں وہ مہرابیں ہیں جو صحابہ و تابعین نے بنائی ہیں اگر وہ نہ ہوں تو اس بستی کے لوگوں سے پوچھے اور صرف ایک آدمی سے پوچھنا کافی ہے دریاؤں ، سمندروں ، جنگلوں میں قبلہ کی دلیل سورج، چاند اور ستارے ہیں

۴. خانہ کعبہ کی عمارت سے گھری ہوئی جگہ کے مطابق تحت الثریٰ یعنی ساتویں زمین کے نیچے سے لے کر عرش معلیٰ تک کے درمیان کی فضا قبلہ ہے پس اگر کوئی شخص زمین کے اندر گہرے کنوئیں میں یا اونچے پہاڑ یا ہوائی جہاز وغیرہ میں نماز پڑھے گا تو اگر کعبہ کی فضا اس کے سامنے ہو گی تو اس کی نماز درست ہو گی، خانہ کعبہ کے اندر یا کعبہ مکرمہ کی چھت پر نماز پڑھے تو جدھر کو چاہے منھ کر لے

۵. قبلہ کی طرف منھ کرنا سے مراد قبلے کی طرف سینہ کرنا ہے منھ کرنا شرط نہیں البتہ سنت ہے

 

استقبال قبلہ سے عاجز ہونے کے مسائل

۱. اگر کسی بیمار کا منھ قبلے کی طرف نہیں ہے اور وہ اس پر قادر بھی نہیں اور نہ اُس کے پاس کوئی دوسرا شخص ہے جو اس کا منھ قبلہ کی طرف پھیر دے یا آدمی تو ہے لیکن منھ پھیرنا بیمار کو نقصان دیتا ہے تو جس طرف اس کا منھ ہو اُسی طرف نماز پڑھ لے اور اگر دوسرے کی مدد سے قبلہ کی طرف منھ کر سکتا ہو اور ایسا آدمی موجود ہو اور اُس سے بیمار کو نقصان بھی نہ ہو تو وہ معذور نہیں ہے ، اس کو قبلہ کی طرف منھ کرنا ضروری ہے ورنہ نماز درست نہیں ہو گی یہی معتمد ہے

۲. جس کو قبلہ کی طرف منھ کرنے میں کچھ خوف ہو خواہ وہ خوف دشمن کا ہو یا درندے کا یا چور کا تو وہ جس طرف قادر ہو اُسی طرف کو منھ کر کے نماز پڑھ لے، اگر اس کا عذر آسمانی ہو کسی مخلوق کی طرف سے نہ ہو مثلاً بیماری بڑھاپا، خوفِ دشمن وغیرہ تو بعد میں اُس نماز کا اعادہ نہ کرے اور اگر عذر مخلوق کی طرف سے ہو مثلاً قید میں ہو اور وہ لوگ اس کو روکیں تو بغیر قبلہ کے نماز پڑھ لے اور عذر دور ہونے پر اُس نماز کا اعادہ کرے

۳. کشتی میں فرض یا نفل پڑھے تو اس پر بھی قبلے کی طرف منھ کرنا واجب ہے اور نماز کے اندر کشتی گھومنے پر وہ خود بھی گھوم کر قبلے کی طرف پھرتا جائے ورنہ نماز فاسد ہو جائے گی اسی طرح ریل گاڑی میں بھی قبلے کی طرف منھ کرنا ضروری ہے اور جب نماز پڑھتے ہوئے ریل گھوم جائے اور قبلہ دوسری طرف ہو جائے تو یہ بھی نماز ہی میں گھوم جائے اور قبلہ کی طرف منھ کر لے ورنہ نماز درست نہ ہو گی لیکن اگر ریل گاڑی میں قبلے کی سمت پر قادر نہ ہو تو جس طرف پر قادر ہو اسی طرف منھ کر کے نماز پڑھ لے اور کھڑا ہونے پر قادر نہ ہونے کی صورت میں بیٹھ کر پڑھ لے، لیکن بلاوجہ قیام اور استقبال قبلہ کو ترک نہ کرے اور بہانہ تراشی نہ کرے، آج کل لوگ اس بات سے غافل ہیں اور اس کی پرواہ نہیں کرتے

 

اٹکل سے قبلہ معلوم کرنے کے مسائل

۱. آبادی میں پرانی مہرابوں اور مسجدوں کے ذریعہ قبلہ معلوم کرنا مقدم ہے اگر یہ میسر نہ ہو تو ایسے شخص سے پوچھے جو وہاں کا رہنے والا اور قبلے کا جاننے والا ہو، اس کی گواہی قبول کی جاتی ہو اور وہ اس کی آواز کو سنتا ہو، اگر اس سے بھی عاجز ہو تو اب اپنی اٹکل سے قبلہ کی سمت مقرر کر کے نماز پڑھنا لازمی ہے پرانی محرابوں اور مسجدوں کے ہوتے ہوئے کسی سے پوچھنے کا کوئی اعتبار نہیں اور نماز جائز نہیں ، اور پرانی محرابوں و مسجدوں کے نہ ہونے کی صورت میں ایسے شخص کے موجود ہوتے ہوئے جو قبلے کا جاننے والا اور وہاں کا رہنے والا ہو اس کی گواہی قبول کی جاتی ہو اور وہ اُس کی آواز سنتا ہو، پوچھے بغیر اٹکل سے قبلے کی سمت مقرر کرنا جائز نہیں پس مقدم کی موجودگی میں موخر کو اختیار کرنا جائز نہیں ہے

۲. اگر شرائط کے ساتھ اٹکل سے قبلہ مقرر کر کے نماز پڑھی پھر نماز پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس کا گمان غلط تھا تو نماز کا اعادہ نہ کرے اور اگر نماز کے اندر ہی معلوم ہو گیا یا رائے بدل گئی اور گمان غالب کسی دوسری طرف پر ہو گیا اگرچہ سہو کے سجدوں میں ہو تو قبلے کی طرف کو پھر جائے اور باقی نماز کو اسی طرح پوری کر لے نئے سرے سے پڑھنے کی ضرورت نہیں اگر اس صورت میں فوراً اس طرف کو نہ پھرا اور ایک رکن کی مقدار دیر کی تو نماز فاسد ہو جائے گی

۳. قبلہ معلوم کرنے کے جو ذرائع بیان ہوئے ان پر قادر ہوتے ہوئے اٹکل لگانا جائز نہیں ، عورت کے لئے بھی پوچھنا ضروری ہے ایسے وقت میں شرم نہ کرے بلکہ پوچھ کر نماز پڑھے ورنہ نماز نہ ہو گی، اگر ایسے جاننے والے شخص کے موجود ہوتے ہوئے اس سے پوچھے بغیر اٹکل سے نماز پڑھ لی، اگر ٹھیک قبلے کی طرف کو نماز پڑھی گئی تو نماز جائز ہو گی اور اگر ٹھیک سمت کو نہیں پڑھی تو جائز نہ ہو گی، کسی شخص کے پاس ہونے کی حد یہ ہے کہ اگر اس کو بلند آواز سے پکارے تو وہ سن لے

۴. اگر کسی کو جنگل میں قبلے کا شبہ پڑ جائے اور وہ اٹکل سے کسی سمت کو قبلہ سمجھے اور دو معتبر آدمی اُس کو خبر دیں کہ قبلہ اور طرف ہے اگر وہ دونوں بھی مسافر ہیں تو ان کے کہنے پر توجہ نہ کرے اور اگر اسی جگہ کے رہنے والے ہوں یا اکثر آنے جانے کی وجہ سے یا علم کے کسی دوسرے طریقے سے ان کو قبلہ کی معرفت حاصل ہے تو ان کا کہنا مانے ورنہ نماز جائز نہ ہو گی، ہر شخص کے لئے اپنی تحری پر عمل کرنا لازمی ہے دوسرے کی تہری پر نہیں

۵. اگر کسی شہر میں داخل ہو جائے اور وہاں محرابیں یا مسجدیں بنی ہوئی دیکھے تو اُنہی کی طرف نماز پڑھے اٹکل سے نہ پڑھے اور اگر جنگل میں ہے اور آسمان صاف ہے اور وہ ستاروں سے قبلے کے سمت پہنچان سکتا ہے تب بھی اٹکل سے نماز نہ پڑھے اگر اُن دونوں صورتوں میں اٹکل سے سمتِ قبلہ مقرر کر کے نماز پڑھے گا اور جہت کے خلاف پڑھی گئی تو نماز نہ ہو گی اور اگر ٹھیک قبلہ کی جانب کو پڑھی گئی تو ہو گئی

۶. اگر کسی مسجد میں داخل ہوا اور اُس میں محراب نہیں اور اس کو قبلہ معلوم نہیں اس نے اٹکل سے نماز پڑھ لی پھر ظاہر ہوا کہ غلطی ہوئی تو اس نماز کو لوٹانا واجب ہے اس لئے کہ وہاں کے رہنے والوں سے پوچھنے پر قادر ہے اور اگر ظاہر ہو گیا کہ اس نے ٹھیک قبلے کی طرف پڑھی ہے تو نماز درست ہے اور اگر اس نے وہاں کے رہنے والے اور سمت قبلہ جاننے والے شخص سے پوچھا اور اُس نے نہ بتایا پھر اس نے اٹکل سے نماز پڑھ لی تو جائز ہے اگرچہ بعد میں ظاہر ہو کہ قبلے کی سمت میں غلطی ہوئی ہے پس اگر وہ آدمی نماز کے بعد بتا دے تو اب نماز کو نہ لوٹائے اندھیری رات یا بارش وغیرہ میں نمازی کو پوچھنے کے لئے لوگوں کے دروازے کھٹکھٹانا واجب نہیں ہے لیکن اگر بلانے اور پوچھنے میں حرج نہ ہو تو اٹکل سے پہلے پوچھنا واجب ہے اندھیرے میں محراب قبلہ معلوم کرنے کے لئے جب کہ بآسانی پتہ نہ چل سکے دیواروں کو ٹٹولتے پھرنا بھی واجب نہیں ہے

۷. اگر کسی کو قبلے کی سمت میں شک ہوا اور مذکورہ علامتوں سے قبلہ معلوم کرنے سے عاجز ہے اس لئے اٹکل سے کسی سمت کو قبلہ مقرر کئے بغیر ہی کسی سمت کو نماز پڑھ لی پھر اگر نماز ہی میں اس کا شک زائل ہو گیا کہ وہ ٹھیک قبلے کی جانب ہے یا قبلے کی جانب نہیں ہے یا کچھ نہ معلوم ہوا تو ہر حال میں نئے سرے سے نماز پڑھے اور اگر نماز سے فارغ ہونے کے بعد غلطی معلوم ہوئی یا کچھ نہ معلوم ہوا یا گمان غالب ہوا کہ اس نے صحیح قبلے کی طرف نماز پڑھی ہے تو ان تینوں صورتوں میں بھی نماز جائز نہ ہو گی اس لئے نئے سرے سے پڑھے کیونکہ شبہ کی صورت میں اس پر اٹکل لگانا (تہری) فرض تھا جو اس نے چھوڑ دیا اور اگر نماز سے فارغ ہونے کے بعد یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ اس نے صحیح قبلے کی سمت نماز پڑھی ہے تو بالاتفاق اس کی نماز جائز ہو گی اس کا اعادہ نہ کرے

۸. اگر اٹکل سے ایک سمت کو قبلہ مقرر کیا لیکن نماز اس کے بجائے دوسری سمت کو پڑھی تو فتویٰ اس پر ہے کہ ہر حال میں دوبارہ نماز پڑھے

۹. اگر اٹکل سے کسی طرف کو گمان غالب نہ ہوا بلکہ اس کے نزدیک سب طرفیں قبلہ ہونے میں برابر ہوں تو اس میں تین قول ہیں بعض نے کہا کہ نماز میں تاخیر کریں یہاں تک کہ اس کے گمان میں ایک طرف قبلہ ظاہر ہو جائے ، بعض نے کہا چاروں طرف کو ایک ایک دفعہ نماز پڑھ لیں یہی زیادہ صحیح و احوط ہے ، بعض نے کہا چاروں اس کے حق میں برابر ہیں کسی ایک طرف کو اختیار کر کے اسی طرف کو نماز پڑھ لے علامہ شامی نے اسی کو ترجیع دی ہے واللہ اعلم

۱۰. اگر اٹکل سے قبلہ مقرر کر کے نماز شروع کی اور ایک رکعت پڑھی پھر اس کی رائے دوسری طرف کو بدل گئی اور دوسری رکعت دوسری طرف کو پڑھی پھر تیسری یا چوتھی رکعت میں اس کی رائے اس طرف کو بدل گئی جس طرف کو پہلی رکعت پڑھی تھی تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے بعضوں نے کہا کہ وہ پہلی رکعت والی طرف کو اپنی نماز پوری کر لے یہی اوجہ ہے اگرچہ بعض نے کہا کہ نئے سرے سے پڑھے، اگر کسی شبہ کی وجہ سے اٹکل سے ایک رکعت ایک طرف کو پڑھی پھر رائے دوسری طرف کو بدل گئی اور اس نے دوسری رکعت دوسری طرف کو پڑھی اسی طرح چاروں رکعتیں چاروں طرف کو پڑھیں تو جائز ہے

۱۱. اٹکل سے قبلہ کو تجویز کرنا جس طرح نماز کے لئے ضروری ہے ویسے ہی سجدہ تلاوت کے لئے بھی ضروری ہے

 

تہری والی کے پیچھے نماز پڑھنے کے مسائل

 

۱. اگر کسی شخص نے اٹکل (تہری) سے نماز پڑھی اور ایک شخص نے اس کے پیچھے بغیر تہری کے اقتدا کی، اگر امام نے ٹھیک قبلے کی طرف نماز پڑھی تو امام اور مقتدی دونوں کی نماز درست ہے اور اگر امام کی رائے غلط تھی تو امام کی نماز درست ہے اور مقتدی کی درست نہیں

۲. ایک شخص نے اٹکل سے کسی سمت کو نماز شروع کی پھر نماز میں معلوم ہوا کہ قبلہ دوسری طرف ہے اور وہ نماز میں ہی قبلہ کی طرف پھر گیا پھر ایک شخص آیا جس کو اس کی پہلی حالت معلوم تھی اور اس نے نماز میں اسی طرف کو منھ کر کے اس کی اقتدا کی تو امام کی نماز درست ہو گی، مقتدی کی فاسد ہو گی اور اگر اس کو پہلے شخص کی حالت معلوم نہیں تھی یا حالت معلوم ہونے کی صورت میں اس کو بھی تہری سے اسی طرف کے قبلے ہونے کا ظن غالب ہوا تھا جس طرف امام کا تھا اور اب رائے بدلنے پر اس نے بھی تہری کی اور امام کی رائے کے مطابق ظن غالب ہوا تو اس مقتدی کی نماز بھی اس امام کو پیچھے جائز ہو گی

۳. کسی اندھے نے قبلے کے سوا کسی اور سمت کو ایک رکعت پڑھ لی پھر ایک شخص نے آ کر اُسے قبلے کی طرف کو پھیر دیا اور اس کی اقتدا کر لی، اگر اس نابینا کو نماز شروع کرتے وقت ایسا آدمی ملا تھا جس سے وہ قبلہ دریافت کر سکتا تھا اور نہ پوچھا تو اس امام اور مقتدی دونوں کی نماز فاسد ہے اور اگر ایسا آدمی نہیں ملا تھا تو نابینا کی نماز درست ہے اور مقتدی کی فاسد ہے اگر نابینا کو ایسا آدمی نہ ملے جس سے پوچھ سکے تو محراب کا ٹٹولنا واجب نہیں ہے اور اگر ایسا آدمی ملے اور بغیر پوچھے نماز پڑھ لے تو اگر صحیح قبلے کی طرف پڑھی گئی تو نماز ہو گی ورنہ نہیں

 

خانہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کے مسائل

 

۱. خانہ کعبہ کے اندر اور باہر یعنی مسجدالحرام میں ہر نماز فرض و نفل پڑھنا بلا کراہت صحیح ہے خواہ اکیلا پڑھے یا جماعت سے اور خواہ بغیر سترے کے ہو اور وہاں نمازی کے آگے سے گزرنا معاف ہے ، خانہ کعبہ کی چھت پر نماز پڑھنا مکروہ ہے اگر خانہ کعبہ کے اندر جماعت سے نماز پڑھیں اور امام کے گرد صفیں بنائیں تو کعبے کی طرف منھ کرنے میں جماعت والوں کے منہ جدا جدا طرف کو ہوں گے پس جس مقتدی کی پیٹھ امام کے منھ کی طرف ہو گی اس کی نماز جائز نہیں ہو گی کیونکہ وہ شخص امام سے آگے ہو گا اور جس مقتدی کا منھ امام کو منھ کی طرف ہو اور امام اور مقتدی کے درمیاں کوئی سترہ (آڑ) نہ ہو تو اس کی نماز جائز مگر مکروہ ہو گی اور اگر سترہ (کپڑا وغیرہ لٹکایا) ہو تو مکروہ نہ ہو گی اس کے علاوہ جتنی صورتیں ہیں سب میں نماز بلا کراہت جائز ہو گی

۲. اگر امام نے خانہ کعبہ سے باہر مسجد الحرام میں نماز پڑھی اور جماعت کے لوگ خانہ کعبہ کے گرد حلقہ باندھ کر کھڑے ہوں اگر امام کے ساتھ نماز میں شامل ہوئے تو سب کی نماز درست ہے صرف اس شخص کی نماز درست نہیں ہو گی جو امام کی سمت میں امام سے آگے ہو یعنی امام کی بہ نسبت کعبہ شریف کے قریب ہو اور امام ہی کی سمت میں کھڑا ہو اور اگر وہ شخص جو امام کی بہ نسبت خانہ کعبہ سے زیادہ قریب ہے امام کی سمت میں نہیں ہے بلکہ کسی دوسری سمت میں ہے تو اس کی نماز درست ہو جائے گی کیونکہ وہ حکاماً امام کے پیچھے ہے اور امام سے آگے بڑھنا اس وقت ہوتا ہے جبکہ دونوں کی جہت ایک ہی ہو، اگر مقتدی اس رکن (کونے) کی سیدھ میں ہے جو امام کی جانب میں ہے اور امام سے زیادہ کعبہ شریف کے قریب ہے تو احتیاطاً اس کی نماز فاسد ہو گی

۳. اگر امام خانہ کعبہ کے اندر کھڑا ہو اور کوئی مقتدی امام کے ساتھ اندر بھی ہو اور باقی مقتدی کعبہ کے باہر ہوں اور دروازہ کھلا ہوا ہو تاکہ مقتدی امام کے رکوع و سجود وغیرہ کا حال معلوم کر سکیں تو نماز بلا کراہت جائز ہے اور اگر دروازہ بند ہو لیکن کوئی تکبیر کہنے والا آواز پہنچاتا جائے تب بھی اقتدا درست ہے اور اگر امام اکیلا خانہ کعبہ کے اندر ہو اس کے ساتھ مقتدی کوئی نہ ہو تو مکروہ ہے کیونکہ خانہ کعبہ کا اندرونی فرش قد آدم سے زیادہ بلند ہے

۴. اگر مقتدی خانہ کعبہ کے اندر اور امام باہر ہو تب بھی نماز درست ہے بشرطیکہ دونوں کی جہت ایک نہ ہو یعنی مقتدی کی پیٹ امام کے منھ کی طرف نہ ہو اسی طرح اگر کچھ مقتدی حطیم میں ہوں اور امام اور دیگر مقتدی خانہ کعبہ و حطیم سے باہر ہوں تب بھی حطیم میں کھڑے ہونے والوں کی اقتدا درست ہے کیونکہ ان کی اور امام کی جہت متحد نہیں ہے جس سے ان کا امام کے آگے ہونا لازم آتا بلکہ وہ امام سے دوسری جہت میں مستقبل قبلہ ہے معہذا حطیم کا خانہ کعبہ کا جزو ہونا قطعی الثبوت نہیں ہے بکہ ظنی الثبوت ہے اور جبکہ خانہ کعبہ میں موجود مقتدی کی نماز اس امام سے جو خانہ کعبہ سے باہر ہو درست ہے بشرطیکہ دونوں کی سمت ایک نہ ہو تو حطیم میں موجود مقتدی کی نماز بدرجہ اولیٰ درست ہو گی جبکہ مقتدی کی سمتِ کعبہ امام کی سمت کعبہ سے دوسری ہو

۵. اگر خانہ کعبہ کے اندر کوئی عورت امام کے برابر میں کھڑی ہو گئی اور امام نے اس کی امامت کی نیت کر لی، اگر اس عورت نے بھی اس طرف منھ کر لیا جس طرف امام کا منھ ہے تو امام کی نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر دوسری طرف کو منھ کیا تو امام کی نماز فاسد نہ ہو گی

۶. اگر کسی نے خانہ کعبہ کے اندر ایک رکعت ایک سمت کے پڑھی تو اب اس تحریمہ کی نماز کے لئے وہ سمت اس کے لئے متعین ہو گئی اس لئے اب اس کو اسی تحریمہ کی پوری نماز اسی سمت میں پڑھنا واجب ہے پس اگر دوسری رکعت دوسری طرف کو پڑھے گا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی

 

۶. نیت کا بیان

 

۱. خالص اللّٰہ تعالیٰ کے واسطے نماز پڑھنے کے ارادہ کو نماز کی نیت کہتے ہیں اور شرط اس کی یہ ہے کہ دل جانتا ہو کہ کونسی نماز پڑھتا ہے لیکن محض جاننا نیت نہیں جب تک ارادہ نہ ہو اس لئے نیت ارادے کا نام ہے ، جاننے کو ارادہ لازمی نہیں لیکن ارادہ کو جاننا لازمی ہے نیت میں دل کا عمل معتبر ہے اس لئے زبان سے کہنا ضروری نہیں ، اگر زبان سے بھی کہہ لیا تو بہتر و مستحسن ہے ، یہی قول مختار ہے نیتِ قلبی کے بغیر زبان کی نیت بیکار ہے

۲. زبان سے کہنے میں عربی میں ہونا ضروری نہیں کسی بھی زبان میں کہہ لے

۳. جو شخص حضورِ قلب سے عاجز ہو اس کو زبان سے نیت کر لینا کافی ہے ، دل کا حاضر رہنا صرف نیت کے وقت شرط ہے تمام نماز میں شرط نہیں پس اگر دورانِ نماز میں دل کی حضوری قائم نہ رہی تو بلا خلاف نماز درست ہے

۴. مستحب و افضل یہ ہے کہ نیت نماز شروع کرنے کے ساتھ ہو اور نیت کا تکبیر تحریمہ پر مقدم کرنا بھی جائز ہے جبکہ نیت اور تحریمہ کے درمیان میں کوئی عمل نیت کا توڑنے والا نہ پایا جائے

۵. جو نیت تکبیر تحریمہ کے بعد ہو اس کا اعتبار نہیں یہاں تک کہ اگر اللّٰہ کہنے کو بعد اور اکبر کہنے سے پہلے نیت کی تب بھی نماز درست نہ ہو گی

 

فرضِ عین نماز کی نیت کا بیان

 

۱. فرض نماز کے لئے دل میں فرض کا تعین کرنا بھی ضروری ہے ورنہ نماز نہیں ہو گی پس یوں کہیں کہ میں آج کے دن کی ظہر یا عصر وغیرہ کی یا اس وقت کے فرض یا اس وقت کے ظہر یا عصر وغیرہ کی نیت کرتا ہوں

۲ صرف فرض نماز کی نیت کرنا کافی نہیں پس اگر کسی نے صرف فرض نماز کی نیت کی تو خواہ وقت کے اندر ہو یا وقت کے بعد میں ہو اور اس کو وقت نکلنے کا علم ہو یا نہ ہو یا شک ہو ان سب صورتوں میں اس کی نماز صحیح نہیں ہو گی

۳. اگر صرف وقت کا نام لے کر نیت کی مثلاً یوں کہا کہ ظہر کی نماز پڑھتا ہوں اور اس کو ساتھ آج یا اس وقت نہیں کہا تو اگر نماز وقت کے اندر پڑھی ہو اور دل میں حاضر ہے کہ اسی وقت کی ظہر پڑھتا ہے تو نماز صحیح ہے ورنہ نہیں اور اگر وقت نکلنے کے بعد اس طرح نیت کی تھی تو بعض کے نزدیک صحیح نہیں ہے یہی اظہر ہے اور اگر وقت نکلنے کا علم نہیں تو نماز صحیح ہے

۴. اگر یوں نیت کی کہ آج کی ظہر پڑھتا ہوں تو خواہ وہ نماز وقت کے اندر ہو یا وقت نکلنے کے بعد پڑھتا ہو اور اس کو اس کا علم ہو یا نہ ہو یا شک ہو ان سب صورتوں میں نماز جائز ہو جائے گی

۵. اگر یوں نیت کی کہ آج کی فرض نماز پڑھتا ہوں تو سب صورتوں میں اس کی نماز صحیح نہیں ہو گی

۶. اگر یوں نیت کی کہ اس وقت کی ظہر پڑھتا ہوں تو اگر وقت کے اندر ہو یا وقت کے بعد ہو اور اس کو وقت نکلنے کا علم ہو تو نماز ہو جائے گی اور اگر وقت کے بعد ہو اور وقت نکلنے کا علم نہ ہو یا شک ہو تو نماز صحیح نہ ہو گی

۷. اگر یوں نیت کی کہ اس وقت کی فرض نماز پڑھتا ہوں تو اگر وقت کے اندر ہو تو جائز ہے اگر وقت نکلنے کے بعد ہو خواہ اس کا علم ہو یا نہ ہو یا شک ہو نماز جائز نہیں ہو گی

۸. اگر جمعہ کی نماز کے لئے فرض الوقت یا ظہر الوقت کی نیت کی تو وقت کے اندر بھی اس کی نماز صحیح نہیں ہو گی اس کو نماز جمعہ ہی کی نیت کرنی چاہئے

۹. آج کی ظہر یا عصر وغیرہ کی نیت کرنا بہتر ہے کیونکہ یہ ہر صورت میں نماز صحیح ہونے کے لئے کافی ہے خواہ وقت کے اندر ہو یا بعد میں اور اس کو وقت نکلنے کا علم ہو یا نہ ہو یا شک ہے اور یہ اس شخص کے لئے تدبیر ہے جس کو وقت نکلنے میں شک ہو

 

نماز جنازہ کی نیت کا بیان

نمازِ جنازہ کی نیت میں میت کے لئے دعا کی نیت ملانا ضروری نہیں البتہ بہتر ہے ، پس یوں نیت کرے کہ نماز اللّٰہ تعالیٰ کے واسطے ہے اور دعا میت کےواسطے، نیت کے الفاظ یہ ہیں

” میں نے کعبہ شریف کی طرف متوجہ ہو کر اس جنازہ کی نماز ادا کرنے کی نیت کی یہ نماز اللّٰہ تعالیٰ کے لئے ہے اور دعا میت کے لئے ہے ”

مقتدی یوں بھی کہے کہ میں اس امام کے پیچھے ہوں اگر امام دل میں یہ نیت کرے کہ میں اس جنازہ کی نماز پڑھتا ہوں تب بھی صحیح ہے اور مقتدی یوں نیت کرے کہ میں اس امام کی اقتدا کرتا ہوں تو بھی جائز ہے ، میت کا مذکر یا مونث معین کرنا ضروری نہیں لیکن جب معین کر دیا تو اس تعین کا صحیح ہونا لازمی ہے ورنہ نماز نہ ہو گی اگر نمازی پر میت مشتبہ ہو جائے کہ مذکر ہے یا مونث تو یوں کہے کہ جس میت پر امام نماز پڑھتا ہے میں بھی اس پر امام کے ساتھ پڑھتا ہوں اور اگر جنازہ حاضرہ کی طرف اشارہ کیا تو اب مذکر یا مونث کے تعین میں غلطی ہو جانے پر بھی نماز درست ہو جائے گی، اگر نام کے تعین میں غلطی ہوئی تب بھی یہی حکم ہے کیونکہ اگرچہ نام کا تعین ضروری نہیں لیکن جب تعین کیا تو اس تعین کا صحیح ہونا لازمی ہے اگر جنازہ حاضرہ کی طرف اشارہ کیا مثلاً یوں کہا کہ اس جنازہ کی نماز پڑھتا ہوں تو مذکر مونث یا نام میں غلطی ہو جانے کے باوجود نماز صحیح ہو جائے گی کیونکہ اشارہ سے متعین کر دینا کافی ہے اور مناسب یہی ہے کہ نام یا مذکر مونث کا تعین نہ کرے بلکہ اس میں اشارہ کا استعمال کرے اور یوں کہے کہ اس جنازہ کی نماز پڑھتا ہوں بہت سے جنازوں کی نماز ایک ساتھ پڑھے تو ان کی تعداد معلوم ہونا ضروری نہیں اور ان کی تعداد کا معین کرنا مضر نہیں مگر جب کہ یہ ظاہر ہو جائے کہ ان کی شمار اس تعداد سے زیادہ ہے جو نمازی نے معین کی ہے

 

نماز واجب کی نیت کا بیان

 

۱. نمازِ واجب میں واجب کی نیت کرے اور اُسے معین بھی کرے یعنی یہ کہے کہ وہ وتر کی نماز ہے یا نذر یا عیدالفطر کی یا عید الضحیٰ کی یا طواف کی دو رکعت یا نفل کی قضا جن کو شروع کر کے توڑ دیا ہو یا سجدہ سہو یا سجدہ تلاوت کی نیت کرے، وتر میں یہ نیت کرنا لازمی نہیں کہ یہ واجب ہے یا سنت ہے کیونکہ اس میں اختلاف ہے ، فقط وتر کی نیت کافی ہے پس یوں کہے کہ میں اس رات کے وتر پڑھتا ہوں واجب ہونے کی نیت کرے تو منع نہیں ہے بلکہ اولیٰ ہے واجب نہ ہونے کی نیت کرنا کافی نہیں ہے

۲. نذر کی نماز میں سبب کا بھی تعین کرے اور یوں کہے کہ وہ نماز پڑھتا ہوں جو شفا کے واسطے یا فلاں حاجت کے واسطے میں نے نذر مانی تھی کیونکہ نذر کی تعین اس کے سبب کے ذکر کے بغیر نہیں ہوتی، سجدہ تلاوت اگر نماز میں ہو اور فوراً کر لیا جائے تو نیت میں تعین ضروری نہیں اگر فاصلہ ہو جائے یا نماز سے باہر ہو تو سجدہ تلاوت کا تعین ضروری ہے ، آیت کا تعین ضروری نہیں ، سجدہ سہو میں نیت کا تعین ضروری ہے اور سجدہ شکر میں نیت کا تعین ضروری نہیں لیکن اظہر یہ ہے کہ اس میں بھی تعین ضروری ہے عوام الناس جو نماز کے بعد سجدہ کرتے ہیں وہ مکروہ ہے

۳. فرض و واجب میں رکعتوں کی تعداد کی نیت شرط نہیں ہے البتہ افضل ہے اور اس میں غلطی سے نماز میں کوئی نقصان نہیں آتا

 

سنت و نفل کی نیت

 

۱. نفل و سنت و تراویح کے لئے فقط نماز کی نیت کر لینا کافی ہے نفل یا سنت یا تراویح کہنا اور تعداد رکعت کہنا ضروری نہیں

۲. تراویح کی نیت میں احتیاط یہ ہے کہ تراویح یا سنتِ وقت یا قیامِ لیل کی نیت کرے

۳. اور سنتوں میں احتیاط یہ ہے کہ یہ نیت کرے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی متابعت میں نماز پڑھتا ہوں

کعبہ کی طرف منھ کرنے کی نیت کسی نماز میں شرط نہیں خواہ کعبہ معظمہ کے قریب ہو یا دور، البتہ کعبہ معظمہ کی طرف منھ یعنی سینہ کرنا شرط ہے جو بلا نیت حاصل ہو جاتا ہے

 

قضا نماز کی نیت کے مسائل

 

۱. قضا کی نماز میں تعین شرط ہے پس اگر بہت سے نمازیں فوت ہو گئیں اور ان کی قضا پڑھنے لگے تو ضروری ہے کہ وقت یعنی ظہر یا عصر وغیرہ کا تعین کرے اور یہ بھی تعین کرے کہ فلاں روز کی ظہر یا عصر وغیرہ پڑھتا ہوں اگرچہ فوت ہوئی نمازوں کی کثرت کی وجہ سے ترتیب ساکت ہو گئی ہو، اگر دن یا سال وغیرہ یاد نہ ہو تو اس کے لئے آسان طریقہ یہ ہے کہ یوں نیت کرے کہ میں سب سے پہلی ظہر یا عصر وغیرہ کی نماز جو مجھ پر واجب ہے (یا یوں کہے جو میرے ذمہ ہے ) پڑھتا ہوں ہر نماز کے لئے یہی نیت کرے یا یوں نیت کرے کہ سب سے آخری ظہر یا عصر وغیرہ کی نماز جو مجھ پر واجب ہے یا جو میرے ذمہ ہے ) پڑھتا ہوں

۲. اگر نفل نماز شروع کر کے توڑ دی تو اس کی قضا کا بھی تعین کرے

۳. اگر کسی کے ذمہ ایک ہی وقت کی نماز قضا ہو تو اس کو دن معین کرنے کی ضرورت نہیں

۴. اگر اسی دن کی قضا نماز ادا کی نیت سے یا ادا قضا کی نیت سے پڑھی جب کہ دل میں اس دن کا تعین کیا ہو تو نماز ہو جائے گی اور قضا یا ادا کی غلطی مضر نہیں ہو گی

 

نیت بدلنے کے مسائل

 

۱. کسی نے دل میں ظہر کی نیت کی اور اس کی زبان سے عصر نکل گیا تو اس کی نماز جائز ہے

۲. کسی نے فرض نماز شروع کی پھر اس کو گمان ہوا کہ نفل پڑھتا ہوں اور نفل کی نیت پر نماز پوری کر لی تو وہ نماز فرض ادا ہوئی اور اگر اس کے برعکس ہوا تو جواب بھی برعکس ہو گا کیونکہ شروع کرتے وقت کی نیت کا اعتبار ہے بعد کی نیت کا اعتبار نہیں جب تک کہ پہلی نیت کو توڑ کر اور اللّٰہ اکبر کہ کر نیت نہ باندھے

۳. اگر کوئی نماز مثلاً ظہر کی نماز شروع کی پھر نفل نماز یا عصر کی نماز یا جنازے کی نیت کر لی تو تکبیر کہی تو پہلی نماز سے نکل گیا اور دوسری نماز شروع ہو گئی اور اگر تکبیر نہ کہے اور صرف دل میں نیت کرے تو پہلی نماز سے نہیں نکلتا اصول یہ ہے کہ جب تک دوسری نماز کی نیت کر کے زبان سے تکبیر نہ کہے یا اور کوئی نماز کو توڑنے والا عمل نہ کرے صرف نماز توڑنے یا نماز بدلنے کی نیت سے نماز ٹوٹتی اور بدلتی نہیں

۴. اگر شروع کی ہوئی نماز میں پھر اسی نماز کی نیت سے تکبیر کہی تو پہلی ہی نیت برقرار رہے گی اور نماز شروع ہی سے شمار میں آئے گی، دوسری نیت کے وقت سے نماز شروع نہیں ہو گی، یہ حکم اس وقت ہے جب کہ صرف دل سے نیت کرے لیکن اگر نیت کے الفاظ زبان سے بھی کہے تو وہ پہلی نماز ٹوٹ جائے گی اور نئے سرے سے شروع ہو جائے گی دوسری نیت سے پہلے کی پڑھی ہوئی نماز شمار میں نہ آئے گی

 

دو نمازوں کو ایک نیت میں جمع کرنا

 

دو نمازوں کو ایک نیت میں جمع کرنے کی چند صورتیں اور ان کے احکام یہ ہیں :

۱.         دو فرض نمازوں کی نیت کی اُن میں سے ایک فرضِ عین اور دوسری فرضِ کفایہ یعنی نماز جنازہ، تو فرض عین کی نیت صحیح ہو جائے گی کیونکہ وہ قویہے اور فرض کفایہ کی نیت لغو ہو جائے گی

۲.        دونوں فرض عین ہیں مگر ایک وقتی ہے اور دوسری کا وقت نہیں تو وقتی فرض نماز کی نیت درست ہو گی دوسری کی لغو

۳.       ایک وقتی دوسری قضا تو صاحب ترتیب کے لئے اگر وقت میں گنجائش ہو تو قضا کی نیت درست ہو گی کیونکہ اس کے لئے یہ قوی ہے اور وقتی کی لغو ہو جائے گی، اور اگر وقت میں گنجائش نہیں تو نیت وقتی ہی کے لئے ہو گی خواہ وہ صاحب ترتیب ہو یا نہ ہو اور اگر وہ صاحب ترتیب نہیں ہے تو دونوں میں سے کوئی نماز درست نہیں ہو گی نئے سرے سے کسی ایک کی نیت کرے

۴.       اگر دو قضا نمازوں کی ایک ساتھ نیت کرے اور وہ صاحب ترتیب ہو تو یہ نیت پہلی قضا نماز کی ہو گی اور اگر صاحب ترتیب نہیں ہو تو دونوں میں سے کوئی نماز صحیح نہیں ہے

۵.        گر فرض اور نفل کی ایک ساتھ نیت کرے تو فرض کی نیت ہو گی کیونکہ وہ قوی ہے

۶.        اگر دو نفل ( یا سنت) نمازوں کی اکٹھی نیت کرے تو دونوں طرف سے یہ نیت کافی ہو جائے گی اور دونوں کا ثواب پائے گا

۷.       اگر نفل اور نماز جنازہ کی اکٹھی نیت کی تو نفل ہو گی

۸.        اگر نماز پڑھتے ہوئے دل میں روزے یا اعتکاف کی نیت کی تو درست و جائز ہے اور اس سے نماز فاسد نہ ہو گی کیونکہ ایک عبادت میں دوسری عبادت کی نیت کرنا درست ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ جس عبادت میں مشغول ہو اس کے دوران دوسری چیز میں مشغول نہ ہو

 

منفرد و امام و مقتدی کی نیت کے مسائل

 

۱. جو شخص اکیلا نماز پڑھتا ہے اس کو تین چیزوں کی نیت ضروری ہے تاکہ باتفاق علماء نماز جائز ہو جائے ، اول یہ کہ وہ نماز اللّٰہ تعالیٰ کے واسطے پڑھتا ہے ، دوم وقتی فرض ظہر عصر وغیرہ کی نیت کرنا سوم قبلہ کی سمت کی نیت کرنا (لیکن یہ مستحب ہے واجب نہیں ) پس نیت کے الفاظ مختصر کہے مثلاً یہ کہے کہ ” میں خالص اللّٰہ تعالیٰ کے لئے دو رکعت نماز فرض فجر کی نیت کرتا ہوں اور میرا منھ قبلے کی طرف ہے ”

۲. امام بھی وہی نیت کرے جو تنہا نماز پڑھنے والا کرتا ہے اور امامت کی نیت کرنا ضروری نہیں البتہ جماعت کا ثواب حاصل کرنے کے لئے امامت کی نیت کرنی چاہئے اس کے بغیر اس کو جماعت کا ثواب نہیں ملے گا، عورتوں کی امامت کے لئے شروع نماز میں ان کی امامت کی نیت کرنا ضروری ہے ورنہ عورتوں کی نماز درست نہ ہو گی لیکن نماز جمعہ و عیدین و نماز جنازہ میں ضروری نہیں اگر ان میں امام عورتوں کی امامت کی نیت نہ کرے تب بھی نماز جمعہ و عیدین و نماز جنازہ درست ہو جائے گی

۳. مقتدی یعنی امام کے پیچھے نماز پڑھنے والا بھی تنہا نماز پڑھنے والے کی طرح نیت کرے اور اس کے ساتھ ہی اقتدا کی نیت بھی کرے اس لئے کہ اقتدا کی نیت کے بغیر اقتدا جائز نہیں ہے مگر جمعہ اور عیدین و نماز جنازہ میں مختار یہ ہے کہ اقتدا کی نیت ضروری نہیں ہے

۴. اگر امام کو نماز میں پایا اور وہ یہ نہیں جانتا کہ امام فرض پڑھتا ہے یا تراویح تو ایسے موقع پر چاہئے کہ فرض نماز کی نیت سے اس کے ساتھ شامل ہو جائے اگر وہ فرض ہوں گے تو اس کا بھی فرض پڑھنا درست ہو جائے گا ورنہ اس کی نماز نفل ہو جائے گی اور تراویح نہ ہو گی کیونکہ تراویح فرض عشاء کے بعد ہوتی ہے

۵. اگر مقتدی اپنے واسطے آسانی چاہے تو یہ نیت کرے کہ امام کے پیچھے وہی نماز پڑھتا ہوں جو امام پڑھتا ہے

 

نمازی کے اقسام مع احکام

 

نمازی چھ طرح کے ہوتے ہیں

۱. جو فرضوں اور سنتوں کو جانتا ہے یعنی جانتا ہے کہ فرض کے کرنے میں ثواب اور نہ کرنے میں عذاب ہے اور سنت کے کرنے میں ثواب اور نہ کرنے میں عذاب نہیں اس نے صرف ظہر یا فجر وغیرہ کی نیت کی تو وہ کافی ہو گی اور وہ فرض کی نیت کے بجائے ہو جائے گی

۲. جو شخص فرض و نفل و سنت کو جانتا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ اس وقت میں کتنے فرض ہیں اور کتنی سنتیں اس نے فرض نماز کی نیت فرض کا ارادہ کر کے باندھی تو نماز درست ہے

۳. وہ نمازی جو فرض کی نیت سے نماز پڑھتا ہے مگر فرض کے معنی نہیں جانتا اس کی نماز جائز نہیں

۴. جو شخص یہ جانتا ہے کہ لوگ جو نماز پڑھتے ہیں اس میں کچھ فرض اور کچھ سنتیں ہیں اور جس طرح اور لوگ نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتا ہے اور وہ فرض اور نفل میں امتیاز نہیں رکھتا تو اس کی نماز جائز نہیں لیکن اگر اس نے نماز جماعت سے پڑھی اور امام کی نماز کی نیت کی تو بعض کے نزدیک اس کی نماز درست ہے

۵. وہ شخص جس کا یہ اعتقاد ہے کہ سب نمازیں فرض ہیں تو اس کی نماز جائز ہے

۶. جو شخص یہ نہیں جانتا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر نماز فرض کی ہے لیکن وہ پانچوں وقت نماز پڑھتا ہے اس کی نماز جائز نہیں ہے پس جن صورتوں میں نماز جائز نہیں ہے ان کی قضا واجب ہے جو شخص فرض و نفل میں فرق نہیں جانتا اور ہر نماز میں فرض کی نیت کر لیتا ہے تو اس کی نماز جائز ہے اس کی بقدر فرض نماز فرض ادا ہو جائے گی اور باقی نفل ہو گی اور ایسے شخص کے پیچھے ان نمازوں میں اقتدا جائز ہے جن سے پہلے سنت مؤکدہ نہیں ہے اور ان نمازوں میں اقتدا جائز نہیں جن سے پہلی سنت مؤکدہ ہیں

 

نیت میں ریا و سمعہ کے مسائل

 

۱.         جس عبادت میں بہت سے افعال ہوں اس کے ہر فعل کے لئے جدا جدا نیت ضروری نہیں بلکہ ایک نیت شروع میں کافی ہے جیسے اس عبادت میں جس میں یک ہی فعل ہو

۲.        جس عمل کو اخلاص کے ساتھ شروع کیا پھر اس عمل میں ریا داخل ہو۔گئی تو شروع کا اعتبار ہو گا اور وہ عمل اخلاص کے ساتھ ہی رہے گا

۳.       ریا کامل یہ ہے اکیلا ہو تو نماز نہ پڑھے اور لوگوں کے سامنے ہو تو دکھانے کے لئے نماز پڑھے ایسی نماز جائز نہیں اور اس کا لوٹانا واجب ہے لیکن اگر لوگوں کے سامنے اچھی طرح نماز پڑھتا ہے اور اکیلا بھی پڑھتا تو ہے مگر اچھی طرح نہیں پڑھتا تو یہ ریا ناقص ہے اس کو اصل نماز کا ثواب مل جائے گا اور وہ فرض اس سے ادا ہو جائے گا مگر اچھی طرح پڑھنے کا ثواب نہیں ملے گا

۴.       ریا فرضوں میں داخل نہیں ہوتی یعنی فرضوں کو ذمہ سے ادا ہونے سے نہیں روکتی بلکہ ثواب کی زیادتی کو ضائع کرتی ہے ۔ روزوں میں ریا داخل نہیں ہوتی، سمعہ اسے کہتے ہیں کہ آدمی اس لئے کام کرے کہ لوگ سنیں اور دوسرے لوگوں میں اس کی تعریف کریں اگرچہ عمل کے وقت لوگ موجود نہ ہوں ، یہ بھی ریا کے حکم میں ہے

 

ارکان نماز

 

ارکان نماز ان فرائض کو کہتے ہیں جو نماز کے اندر ہیں یعنی نماز کی ماہیت میں داخل ہیں اگر ان میں سے ایک رکن بھی نہ پایا گیا تو نماز نہ ہو گی نماز کے ارکان تکبیر تحریمہ سمیت چھ ہیں

۱.         تکبیر تحریمہ

۲.        قیام

۳.       قرأت

۴.       رکوع

۵.        دو سجدے

۶.        قاعدہ اخیرہ

فائدہ: ان ارکان کے علاوہ نماز کی اندر کچھ اور فرائض بھی ہیں وہ یہ ہیں

۱.         نماز کے ارکان میں ترتیب کا ہونا

۲.        جو چیزیں نماز میں فرض ہیں ان میں مقتدی کو امام کی متابعت کرنا

۳.       مقتدی کا اپنے امام کی نماز کو صحیح جاننا

۴.       مقتدی کا اپنے امام سے آگے نہ بڑھنا

۵.        مقتدی کا جہت میں اپنے امام کا مخالف نہ ہونا

۶.        صاحب ترتیب کو وقت کی گنجائش کے باوجود قضا نماز کا یاد نہ ہونا

۷.       عورت کا شرائط محاذات کے ساتھ مرد کے برابر نہ ہونا

ان سب کی تفصیل اپنے اپنے مقام پر آتی ہے اب چھ ارکان مذکورہ کی مختصر تشریح درج کی جاتی ہے

 

 

۱.      تکبیر تحریمہ

 

یہ دراصل نماز کی شرطوں میں سے ہے لیکن ارکان کے ساتھ ملی ہوئی ہونے کی وجہ سے ارکان میں بیان کر دیتے ہیں البتہ نماز جنازہ میں تکبیرِ تحریمہ رکن ہے شرط نہیں ہے اس تکبیر کو تکبیر تحریمہ اس لئے کہتے ہیں جو باتیں نماز کے خلاف ہیں وہ اس کے کہنے سے حرام ہو جاتی ہیں وہ تمام شرطیں جو نماز صحیح ہونے کے لئے ضروری ہیں اور جن کا بیان ہو چکا ہے یعنی نجاست حقیقی و حکمی سے پاکی و ستر عورت اور استقبال قبلہ و وقت و نیت یہ سب تکبیرِ تحریمہ کے لئے بھی شرطیں ہیں یعنی تکبیرِ تحریمہ کے ختم ہونے سے پہلے پہلے ان شرطوں کا موجود ہونا شرط ہے ان کو علاوہ تکبیرِ تحریمہ کے لئے مندرجہ ذیل سترہ شرطیں اور ہیں

۱.         تکبیرِ تحریمہ ایسے لفظوں سے ہونا جن سے اللّٰہ تعالیٰ کی تعظیم اور بزرگی ثابت ہو مثلاً سُبحَانَ اللّٰہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وغیرہ لیکن اللّٰہ اَکبَر کہنا واجب ہے جیسا کہ واجباتِ نماز میں درج ہے

۲.        تکبیرِ تحریمہ کے لئے پورا جملہ کہنا شرط ہے صرف مبتدا یا صرف خبر سے یہ شرط پوری نہ ہو گی اس لئے نماز نہ ہو گی یہی مختار ہے

۳.       اس جملہ میں خالص اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر ہو اور بندے کی حاجت وغیرہ شامل نہ ہو

۴.       نماز کو بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم سے شروع نہ کریں ( یعنی اس جملے سے تحریمہ ادا نہ کریں کیونکہ یہ طلبِ برکت کے لئے ہے اس لئے خالص ذکر نہ رہا

۵.        اللّٰہ اَکبَر میں دو جگہ ہمزہ ہے اس کو مد نہ کریں

۶.        اَکبَر کی ب کو مد نہ کریں

۷.       اللّٰہ اَکبَر میں اللّٰہ کی “ھ” کو حذف نہ کریں اور اَکبَر کی “ر” کو لمبا نہ کریں

۸.        لفظ اللّٰہ کے “لام” کا مد ( الف مقصورہ) حزف نہ کرے

۹.        اللّٰہ کی ھ اور اَکبَر کی ر کو لمبا نہ کرے

۱۰.       جو شخص عربی میں کہہ سکتا ہو وہ الفاظِ تکبیر عربی میں کہے

۱۱.        تکبیر تحریمہ کو اتنی آواز سے کہے کہ خود سن لے بشرطیکہ بہرہ نہ ہو اور وہاں شور وغل وغیرہ نہ ہو یعنی اگر وہاں شور وغل نہ ہوتا تو سن لیتا، گونگا اور ایسا بے پڑھا کہ تکبیر کہنا نہیں جانتا اس کی نماز صرف نیت سے شروع ہو جاتی ہے اس کو زبان کا ہلانا واجب نہیں

۱۲.       نیت تحریمہ کے ساتھ ملی ہوئی ہو خواہ حقیقہً ہو یا حکماً

۱۳.      تکبیر تحریمہ نیت کے بعد ہو

۱۴. مقتدی کی تحریمہ امام کی تحریمہ سے پہلے نہ ہو

۱۵.       تحریمہ کو قیام کی حالت میں کہے خواہ قیام حقیقی ہو یا حکمی، جھکے جھکے تکبیرِ تحریمہ کہنا درست نہیں

۱۶.       قبلہ رو ہو کر کہے جب کہ کوئی عذر نہ ہو

۱۷.      نماز کی شرطوں کے پائے جانے کا اعتقاد یا غلبہ ظن ہو پس شک کی صورت میں تحریمہ درست نہیں ہو گی

 

۲.      قیام

 

یعنی کھڑے ہو کر نماز پڑھنا

۱.         فرض اور واجب نمازوں میں جب کہ کوئی عذر نہ ہو کھڑے ہو کر نماز پڑھنا فرض ہے اگر بیماری یا زخم یا دشمن کا خوف یا کوئی اور ایسا ہی قوی عذر ہو تو فرض و واجب نماز بیٹھ کر ادا کر سکتا ہے

۲.        سیدھا کھڑا ہونے کی کم سے کم حد یہ ہے کہ اگر اپنے دونوں ہاتھ لٹکائے تو گھٹنوں تک نہ پہنچیں پس اس قدر جھکنا معاف ہے اور اس وقت تک وہ قیام کی حالت میں ہے اور ایسے قیام سے اور اس حد کے اندر تکبیر تحریمہ کہنے سے فرض ادا ہو جائے گا لیکن اگر دونوں ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں تو اب قیام کی حد سے نکل گیا اور رکوع کی حد میں داخل ہو گیا اب تکبیر تحریمہ کہنے یا قرأت کرنے سے نماز جائز نہ ہو گی

۳.       فرض اور واجب نمازوں میں قیام کی ادنیٰ مقدار کی تفصیل یہ ہے کہ اس قدر کھڑا ہونا فرض ہے جس میں بقدرِ فرض قرأت پڑھی جا سکے اور پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ بھی کہی جا سکے اور بقدر قرأت واجب قیام کرنا واجب ہے اور بقدر قرأت مأ[
ۓسنونہ قیام کرنا سنت ہے

۴.       سنتِ فجر کے علاوہ تمام سنت و نفل نمازوں میں قیام فرض نہیں ان کا بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے لیکن آدھا ثواب ملے گا اور اگر عذر کی وجہ سے بیٹھ کر پڑھے تو پورا ثواب ملے گا

 

۳.     قرأت

 

۱.         نماز میں قیام کی حالت میں کم از کم ایک آیت پڑھنا فرض ہے بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ایک پوری آیت ہے مگر صرف اس کے پڑھنے سے فرض ادا نہ ہو گا

۲.        فرض نماز کی دو رکعتوں میں خواہ وہ کوئی سے ہو اور نمازِ وتر اور سنت و نفل کی تمام رکعتوں میں قرأت فرض ہے

۳.       قرأت فرضِ عملی ہے اور اُس شخص پر ہے جو اس فرض پر قادر ہے پس جس شخص کو ایک آیت بھی یاد نہ ہو وہ قرأت کی جگہ سبحان اللّٰہ یا الحمد اللّٰہ پڑھ لے اور اس شخص پر جلد از جلد قرآن مجید سیکھنا اور قرأتِ فرض کی مقدار یاد کرنا فرض اور قرأت واجب کی مقدار یاد کرنا واجب ہے نہ سیکھنے کی صورت میں وہ سخت گناہگار ہو گا

۴.       قرأت کا مطلب یہ ہے کہ قدرت ہوتے ہوئے تمام حروف مخارج سے ادا کئے جائیں تاکہ ہر حرف دوسرے سے صحیح طور پر ممتاز ہو جائے اورآہستہ پڑھنے کی صورت میں خود سن لے جو شخص صرف خیال سے پڑھے گا زبان سے الفاظ ادا نہیں کرے گا یا مخارج سے صحیح ادا نہیں کرے گا یا آہستہ قرأت والی نماز میں ایسا نہیں پڑھے گا کہ خود سن سکے تو اس کی نماز درست نہیں ہو گی

۵.        قرأت جاگنے کی حالت میں کرے، نیند کی حالت میں قرأت کی تو جائز نہیں اسے پھر پڑھے اسی طرح رکوع یا سجدہ یا جو رکن بھی نیند کی حالت میں اداکیا اس کو جاگنے پر دوبارہ ادا کرے ( لیکن اگر کوئی رکن فرض و واجب کی مقدار بیداری کی حالت میں ادا ہوا اور باقی حصہ نیند میں تو اس رکن کے لوٹانے کی ضرورت نہیں )

۶.        اصل عربی قرآن پاک کی قرأت کرے ترجمہ فارسی یا اردو وغیرہ میں قرأت کرنا بلا عذر جائز نہیں

۷.       قرأت شاذہ نہ ہو

 

۴.     رکوع

۱.         رکوع کے معنی جھکنے کے ہیں اس کی ادنیٰ مقدار یہ ہے کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں اس سے کم قیام کی حالت ہے پورا رکوع یہ ہے کہ پیٹ سیدھی بچھائے یعنی سر اور پیٹھ اور سرین ایک سیدھ میں ہو جائیں بیٹھے ہوئے رکوع کرے اس کی ادنیٰ حد یہ ہے کہ سر بمعہ کمر کے کسی قدر جھک جائے اور اس کا پورا رکوع اس طرح ہے کہ اس کی پیشانی دونوں زانوؤں کے سامنےآ جائے

۲.        اگر کوئی اتنا کبڑا ہو کہ رکوع کی حد تک جھکا ہو یا بڑھاپے کی وجہ سے اس قدر کمر جھک گئی ہو تو ایسے شخص کے لئے سر سے اشارہ کرنا کافی ہے پس اس کے سر کو جھکا دینے سے اس کا رکوع ادا ہو جائے گا بلا عذر صرف سر جھکا دینے سے رکوع ادا نہیں ہو گا

۳.       ہر رکعت میں صرف ایک مرتبہ رکوع کرنا فرض ہے

 

۵.     دو سجدے

۱.         زمین پر پیشانی رکھنے کو سجدہ کہتے ہیں ہر رکعت میں دو مرتبہ سجدہکرنا فرض ہے

۲.        بلا عذر صرف پیشانی پر سجدہ کیا تو جائز ہے مگر مکروہ ہے اور بلا عذر صرف ناک پر سجدہ کیا تو سجدہ ادا نہیں ہو گا عذر کے ساتھ جائز ہے جبکہ ناک کا سخت حصہ زمین پر ٹک جائے ورنہ جائز نہیں

۳.       صرف رخسار یا ٹھوڑی پر سجدہ کیا خواہ عذر سے ہو یا بلا عذر کسی حالت میں بھی جائز نہیں پس اگر پیشانی اور ناک دونوں پر عذر ہے مثلاً زخم ہے تو سجدے کے لئے سر سے اشارہ کر لینا کافی ہے کسی اور عضو سے سجدہ نہ کرے

۴.       کسی ایسی نرم چیز پر سجدہ جائز نہیں جس میں سر دھنس جائے اور پیشانی و ناک قرار نہ پکڑے مثلاً گھانس یا بھس یا روئی یا قالین یا صوفہ یا تکیہ یا بچھونا یا بلا جمی ہوئی برف وغیرہ اور اگر وہ چیز اس قدر سخت ہو کہ پیشانی و ناک اس پر قرار پکڑ لے اور مزید دبانے سے نہ دبے اور سر نیچے نہ جائے تو جائز ہے چارپائی اگر تخت کی طرح سخت ہے کہ اس میں سر نہ دھنسےاور پیشانی قرار پکڑ لے تو جائز ہے مچان پر جب کہ تخت کی طرح سخت ہو سجدہ جائز ہے اور اگر گھانس وغیرہ کی وجہ سے اتنی نرم ہو کہ سر دھنس جائے اور قرار نہ پکڑے تو سجدہ جائز نہیں ، گیہوں یا جَو کے دانوں پرسجدہ جائز ہے مکئی یا جوار یا چنے یا چاولوں پر جائز نہیں کیونکہ یہ پھسل کر پیشانی کو جمنے نہیں دیتے اور اگر یہ اناج تھیلوں وغیرہ میں کس کر بھرے ہوں تو ان پر سجدہ جائز ہے

۵.        بیل گاڑی یا یکہ وغیرہ جانور کے کندھے پر نہ ہوں تو سجدہ جائز ہے اور اگر اس کا جُوا یا بم بیل اور گھوڑے وغیرہ پر ہے تو سجدہ جائز نہیں

۶.        اگر کسی نے ہجوم وغیرہ عذر کی وجہ سے کسی دوسرے آدمی کی پیٹھ:پر سجدہ کیا تو اس کا سجدہ جائز و صحیح ہونے کے لئے چھ شرطیں ہیں

اول: دونوں نماز میں ہوں ،

دوم: دونوں ایک ہی نماز جماعت سے پڑھ رہے ہوں ،

سوم: ساجد کے گھٹنے زمین پر ٹکے ہوئے ہوں ،

چہارم: مسجود علیہ کا سجدہ زین پر واقع ہو،

پنجم: ساجد کا سجدہ مسجود علیہ کی پیٹھ پر ہو کسی اور عضو پر نہ ہو،

ششم: ہجوم وغیرہ کی وجہ سے سجدے کی جگہ نہ ہو پس اگر ان میں سے کوئی ایک شرط بھی مفقود ہو گی مثلاً دونوں الگ الگ نماز پڑھ رہے ہوں یا دوسرا آدمی نماز میں نہ ہو یا کوئی عذر نہ ہو تو دوسرےآدمی کی پیٹھ پر سجدہ جائز نہیں ہو گا

۷.       صافہ (پگڑی) کے پیچ پر عذر کے بغیر سجدہ کرنا درست ہے جبکہ پیچ پیشانی پر ہو اور زمین پر خوب جم جائے مگر مکروہِ تنزیہی ہے اور اگر پیشانی زمین پر نہیں جمی یا سر کے کسی حصے پر سجدہ کیا تو جائز نہیں

۸.        اگر قدموں کی جگہ سجدے کی جگہ سے ایک بالشت یعنی بارہ انگل تک اونچی ہو تو سجدہ جائز ہو گا اور اگر اس سے زیادہ اونچی ہو تو بلا عذر جائز نہیں عذر کو ساتھ جائز ہے

۹.        سجدے میں کم از کم ایک پاؤں کا زمین پر رکھنا ضروری ہے اگر سجدہ کیا اور دونوں پاؤں زمین پر نہ رکھے تو سجدہ جائز نہیں اور اگر ایک پاؤں رکھا تو عذر کے ساتھ بلا کراہت جائز ہے اور بلا عذر کراہت کے ساتھ جائز ہے ، پاؤں کا رکھنا انگلی کے رکھنے سے ہے اگرچہ ایک ہی انگلی ہے

۱۰.       سوتے ہوئے سجدہ کیا تو جائز نہیں اس کا اعادہ کرے

 

۶.      قعدہ اخیرہ

 

۱.         نماز کی رکعتیں پوری کرنے کے بعد بیٹھنے کو قعدہ اخیرہ کہتے ہیں ، تمام نمازوں میں خواہ وہ فرض ہوں یا واجب یا سنت و نفل قعدہ اخیرہ فرض ہے

۲.        قعدہ اخیرہ میں بقدر تشہد یعنی التحیات تا عبدہ رسولہ صحتِ الفاظ کے ساتھ جلدی جلدی پڑھنے کی مقدار بیٹھنا فرض ہے خواہ تشہد پڑھے یا نہ پڑھے اور تشہد کا پڑھنا واجب ہے جیسا کہ واجبات میں بیان ہو گا

۳.       نمازِ جنازہ میں قعدہ اخیرہ نہیں ہے

:فائدہ

خُرُوج بِصُنعِہِ یعنی اپنے اختیار سے نماز سے باہر ہونا اختلافی ہے بعض نےاس کو رکن اور فرض شمار شمار کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ فرض و رکن نہیں ہے

 

واجباتِ  نماز

 

نماز کے کچھ واجبات ہیں اگر ان میں سے کوئی بھولے سے چھوٹ جائے توسجدہ سہو کر لینے سے نماز درست ہو جاتی ہے اگر بھولے سے چھوٹ جانے پر سجدہ سہو نہ کیا یا قصداً کسی واجب کو چھوڑ دیا تو اس نماز کو لوٹانا واجب ہو جاتا ہے پس اگر نہیں لوٹائے گا تو فاسق و گناہگار ہو گا کیونکہ ترک واجب سے نماز مکروہِ تحریمی ہوتی ہے اور اس کا لوٹانا واجب ہوتا ہے جب امام ترک واجب کی وجہ سے نماز کا اعادہ کرے تو اگر اس دوسری دفعہ کی جماعت میں کوئی نیا مقتدی شریک ہو جائے تو صحیح یہ ہے کہ اس کی نماز درست ہے واجبات نماز اکتیس(۳۱) ہیں اور وہ یہ ہیں

۱.         تکبیر تحریمہ کا خاص اللّٰہ اکبر کے لفظ سے ہونا

۲.        قرأتِ واجبہ یعنی سورة فاتحہ اور کوئی چھوٹی صورت یا چھوٹی تین آیتیں یا ایک بڑی آیت کی مقدار قیام کرنا لیکن امّی یا گونگے یا اس مقتدی کے لئے جو امام کو رکوع میں پائے قیام کی کوئی مقدار واجب نہیں ہے

۳.       تین یا چار رکعت والی فرض نماز میں قرأت فرض کے ادا کرنے کے لئے پہلی دو رکعتوں کا متعین کرنا

۴.       فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں اور باقی نمازوں کی تمام رکعتوں میں سورت فاتحہ کا پڑھنا

۵.        فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں اور باقی نمازوں کی تمام رکعتوں میں سورة فاتحہ کے بعد کوئی چھوٹی صورت یا چھوٹی تین آیتیں یا ایک بڑی آیت پڑھنا

۶.        سورة فاتحہ کو قرأت سورة یا آیت سے پہلی پڑھنا

۷.       سورة ملانے سے پہلے سورة فاتحہ ایک ہی دفعہ پڑھیں اس سے زیادہ نہ پڑھنا

۸.        جو فعل ہر رکعت میں مکرر ( دو دفعہ) ہوتا ہے یعنی سجدہ یا تمام نماز میں مقرر ہوتا ہے جیسا کہ عدد رکعت ان میں ترتیب ہونا یعنی کوئی فیصلہ نہ ہونا پس قرأت و رکوع، سجدوں اور رکعتوں میں ترتیب قائم رکھنا واجب ہے یعنی الحمد اور سورة کے درمیان کسی اجنبی کا فاصل نہ ہونا ( آمین سورة الحمد کے تابع ہے بسم اللّٰہ سورة کے تابع ہے اس لئے یہ اجنبی و فاصل نہیں ہو) اور قرأت کے بعد متصلاً رکوع کرنا ایک سجدہ کے بعد دوسرا سجدہ متصلاً ہونا کہ دونوں کے درمیان کوئی رکن فاصل نہ ہو واجب ہے

۹.        قومہ کرنا یعنی رکوع سے سیدھا کھڑا ہونا

۱۰.       سجدہ میں پیشانی کے اکثر حصہ کا لگانا ( کچھ پیشانی کا لگانا فرض ہے اگرچہ قلیل ہو)

۱۱.        جلسہ یعنی دونوں سجدوں کے درمیان میں سیدھا بیٹھنا

۱۲.       تعدیل ارکان یعنی رکوع و سجود و قومہ و جلسہ کو اطمینان سے اچھی طرح ادا کرنا یعنی ان میں کم از کم ایک بار سبحان اللّٰہ کہنے کی مقدار ٹھہرنا، تعدیل اعضا کے ایسے سکون کو کہتے ہیں کہ ان کے سب جوڑ کم سے کم سبحان اللّٰہ کہنے کی مقدار ٹھہر جائیں

۱۳.      پہلا قعدہ یعنی تین یا چار رکعت والی فرض نماز اور چار رکعت والی نفل نماز میں دو رکعتوں کے بعد تشہد کی مقدار بیٹھنا

۱۴.      ہر قعدے میں پورا تشہد یعنی التحیات آخیر تک پڑھنا اگر ایک لفظ بھی چھوڑ دے گا تو ترکِ واجب ہو گا

۱۵.       فرض و واجب ( وتر) اور سنن موکدہ کے قعدہ اولیٰ میں تشہد ( تشہد کے بعد کچھ نہ پڑھنا) پر کچھ نہ پڑھنا اللّھم صلی علی محمد یا اس کی مقدار ہو بڑھانے سے ترک واجب ہو گا اگرچہ اتنی دیر خاموش رہے اور کچھ نہ پڑھے اس سے کم مقدار ہو تو ترک واجب نہیں ہو گا

۱۶.       سلام کے لفظ کے ساتھ نماز سے باہر ہونا

۱۷.      دو بار لفظ اَلسَلَامُ کہنا واجب ہے عَلَیکُم واجب نہیں ، پہلے سلام پر نماز سے باہر ہو جاتا ہے اس کے بعد امام کی اقتدا درست نہیں

۱۸.       نماز وتر میں دعائے قنوت کے لئے اللّٰہ اکبر کہنا

۱۹.       نماز وتر میں دعائے قنوت پڑھنا

۲۰.      دونوں عیدوں کی نماز میں چھ زائد تکبیریں کہنا یعنی ہر رکعت میں تین بار اللّٰہ اکبر کہنا ہر تکبیر جداگانہ واجب ہے ایک تکبیر بھی چھوڑ دے گا تو ترک واجب ہو گا

۲۱.       دونوں عیدوں کی نماز میں دوسری رکعت کے رکوع کی تکبیر لفظ اللّٰہ اکبر سے کہنا اگر کسی اور لفظ سے کہے گا تو ترک واجب ہو گا جیسا کہ ہر نماز میں تکبیر تحریمہ کا حکم ہے

۲۲.      امام کو جہری نمازوں میں جہر کرنا یعنی مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں اور نماز فجر و جمعہ و عیدین اور ترویح و رمضان المبارک کے وتروں کی ہر رکعت میں جہر یعنی آواز سے پڑھنا جہر کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اس کی آواز قریب والے سن سکیں اگر اکیلا نماز پڑھے تو جہری نمازوں میں جہر کرنا اس پر واجب نہیں البتہ افضل ہے اگر جہری نمازیں قضا ہو جائیں ان کو جماعت سے قضا کرے تو امام ان کو بھی جہر ہی سے پڑھے اور منفرد کو اختیار ہے خواہ جہر کرے یا آہستہ پڑھے

۲۳.     امام کو دوسری نمازوں یعنی نماز ظہر و عصر کی کل رکعتوں میں اگرچہ عرفات میں ہو اور نماز مغرب کی تیسری رکعت اور نماز عشا کی آخری دو رکعتوں اور دن کے نوافل مثلاً کسوف و استسقائ میں آہستہ قرأت کرنا آہستہ پڑھنے کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اپنی آواز وہ خود سن سکے یا اس کے قریب کا ایک دو آدمی سن لیں صرف خیال دوڑا لینے سے نماز نہیں ہو گی بلکہ زبان سے پڑھنا ضروری ہے

۲۴.     نماز کے اندر ہر فرض یا واجب کا اس کے مقام پر ادا کرنا یعنی دو فرض یا دو واجب یا فرض و واجب کے درمیان تین تسبیح ( تین با سبحان اللّٰہ کہنے) کی مقدار تاخیر نہ کرنا

۲۵.     پہلی اور تیسری رکعت کے دوسرے سجدے کے بعد قعدہ نہ کرنا یعنی ایک رکن کی مقدار دیر نہ کرنا

۲۶.      ایک رکعت میں رکوع دو دفعہ نہ کرنا یعنی ہر رکعت میں رکوع ایک ہی بار ہونا

۲۷.     ہر رکعت میں دو ہی سجدے کرنا تین سجدے نہ کرنا

۲۸.     نماز میں آیت سجدہ پڑھی تو سجدہ تلاوت کرنا

۲۹.      نماز میں سہو ہوا تو سجدہ سہو کرنا

۰۳.     آیت سجدہ پڑھی تو سجدہ تلاوت ادا کرنے میں تین آیت یا اس سے زیادہ تاخیر نہ کرنا

۳۱.      قرأت کے سوا تمام واجبات میں امام کی متابعت کرنا

 

نماز کی سنتیں

 

اگر نماز میں بھولے سے یا دانستہ کوئی سنت چھوٹ جائے تو نہ نماز فاسد ہوتی ہے اور نہ سجدہ سہو واجب ہوتا ہے مگر دانستہ چھوڑنے سے برائی اور ملامت کا مستحق ہوتا ہے اور اگر سنت کو حق نہ جانے گا یا حقیر جانے گا تو کافر ہو جائے گا نماز کی ساٹھ سنتیں ہیں ان میں سے سات سنتیں تکبیر تحریمہ سے متعلق ہیں اور آٹھ قیام و قرأت سے، آٹھ رکوع سے ایک قومہ سے دو تبدیلی رکن سے سولہ سجدہ سے دس جلسہ و قعدہ سے سات سلام سے تعلق رکھتی ہیں اور ایک مقتدی سے متعلق ہے ان کی تفصیل یہ ہے

 

تکبیر تحریمہ کی سنتیں

 

۱.         تکبیر تحریمہ کے لئی دونوں ہاتھوں کو اٹھانا،

۲.        دونوں ہاتھوں کو تکبیر سے پہلی اٹھانا،

۳.       دونوں ہاتھوں کا کانوں تک اٹھانا اس طرح کہ انگوٹھے کانوں کی لو کے مقابل ہوں اور انگلیوں کے سرے کانوں کے کناروں کے مقابل ہوں عورتیں دونوں ہاتھ کندھے تک اٹھائیں عذر کی حالت میں مردوں کو بھی کندھوں تک اٹھانے میں مضائقہ نہیں ،

۴.       ہاتھ اٹھاتے وقت دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اپنے حال پر کھلی رکھنا یعنی نہ بہت ملی ہوئی ہوں اور نہ بہت کھلی ہوں ،

۵.        انگلیوں اور ہتھیلیوں کو قبلہ رخ رکھنا،

۶.        تکبیر کہتے وقت سر کو نہ جھکانا بلکہ اعتدال کے ساتھ کھڑا ہونا،

۷.       تکبیر تحریمہ کے بعد ناف کی نیچے دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا اس طرح کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی کلائی کے جوڑ پر رہے انگوٹھے اور چھنگلیا سے حلقہ بنا کر کلائی کو پکڑے باقی تین انگلیاں کلائی کی پشت پر رہیں عورتیں سینے پر دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھیں اور حلقہ نہ بنائیں

 

 

قیام و قرأت کی سنتیں

 

۸.        پھر پہلی رکعت میں ثنا یعنی سبحانک اللھم آخر تک پڑھنا،

۹.        پھر پہلی رکعت میں تعوذ یعنی اعوذباللّٰہ الخ پڑھنا

۱۰.       پھر ہر رکعت میں الحمد سے پہلی بسم اللّٰہ پڑھنا

۱۱.        فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورت فاتحہ پڑھنا

۱۲.       ہر رکعت میں الحمد ختم ہونے پر آمین کہنا خواہ امام ہو یا منفرد اور جہری نمازوں میں مقتدی بھی کہے ،

۱۳.      ثنا و تعوذ و بسم اللّٰہ و آمین کو آہستہ کہنا

۱۴.      جس جس نماز میں جس قدر قرآن پڑھنا سنت ہے اس کے موافق قرآن پڑھنا

۱۵.       صرف فجر کی نماز میں پہلی رکعت کی قرأت دوسری سے لمبی کرنا

 

رکوع کی سنتیں

 

۱۶.       رکوع میں تین بار سبحان ربی العظیم پڑھنا

۱۷.      رکوع میں پیٹھ و سرین کو اس طرح ہموار کر دینا کہ پانی کا پیالہ اس کی پیٹھ پر رکھ دیا جائے تو ٹھہرا رہے

۱۸.       رکوع میں سر اور پیٹھ کو ایک سیدھ میں رکھنا سر کو نہ اونچا رکھے نہ نیچا بلکہ سر اور پیٹھ اور سرین تقریباً ایک سیدھ میں برابر ہوں

۱۹.       دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے گھٹنوں کو پکڑنا

۲۰.      اور انگلیوں کے خوب کھلا رکھنا

۲۱.       پنڈلیوں کو سیدھا کھڑا رکھنا اور گھٹنوں میں خم نہ دینا

۲۲.      دونوں ہاتھوں سے دونوں گھٹنوں پر سہارا دینا

۲۳.     بازوؤں کو پہلوؤں سے جدا رکھنا ( رکوع کا یہ مسنون طریقہ مردوں کے لئے ہے عورتوں رکوع میں صرف اس قدر جھکیں کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں کمر بالکل سیدہی نہ بچھائیں ، ہاتھ کی انگلیاں ملی ہوئی ہوں اور گھٹنوں پر ہاتھ صرف رکھ دیں ، زور نہ دیں گھٹنوں میں خم رکھیں اور بازو پہلو سے ملے رہیں )

 

قومہ اور تبدیلیِ رکن کی سنتیں

 

۲۴.     قومہ میں امام سَمِعَ اللّٰہ لِمَن حَمِدَہ اور مقتدی رَبَّنَا لَکَ الحَمدُ کہے اور منفرد یہ دونوں کہے

۲۵.     رکن تبدیل کرتے وقت تکبیر کہنا یعنی رکوع و سجود میں جاتے وقت اور سجود سے اٹھتے وقت اللّٰہ اُکبَر کہنا

۲۶.      امام کو رکن کی تبدیلی کی تکبیر اور تسمیح اور سلام بقدر ضرورت بلند آواز سے کہنا اور اس میں لوگوں کو خبردار کرنے کی نیت کرنا اسی طرح مکبر بھی خبردار کرنے کی نیت سے تکبیر و رَبَّنَا لَکَ الحَمد کہے مقتدی و منفرد آہستہ کہے کہ خود سن سکے

 

سجدے کی سنتیں

 

۲۷.     سجدے میں جاتے وقت پہلے دونوں گھٹنے پھر دونوں ہاتھ پھر ناک پھر پیشانی رکھنا

۲۸.     سجدے سے اٹھتے وقت اس کے برعکس پہلے پیشانی پھر ناک پھر دونوں ہاتھ پھر گھٹنے اٹھانا

۲۹.      سات اعضاء ( دونوں گھٹنے دونوں ہاتھ دونوں پاؤں کے پنجے اور پیشانی) پر سجدہ کرنا، ناک پیشانی کے ساتھ شامل ہے اس لئے صرف پیشانی پر سجدہ کرنا کراہت کے ساتھ جائز ہے اور صرف ناک پر سجدہ کرنا بلا عذر جائز نہیں عذر کے ساتھ جائز ہے جبکہ ناک کا سخت حصہ زمین پر لگے ورنہ جائز نہیں

۰۳.     سجدے میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ملا ہوا رکھنا

۳۱.      اور اُن انگلیوں کو قبلہ رخ رکھنا

۳۲.     سجدہ دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کرنا

۳۳.    سجدے میں دونوں پاؤں کی سب انگلیوں کو قبلہ رخ رکھنا

۳۴.    اور سب انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا

۳۵.    اپنی ہتھیلیوں پر سہارا دینا

۳۶.     بازوؤں کو پہلوؤں سے جدا رکھنا لیکن جماعت کے اندر پہلو سے ملا رکھنا

۳۷.    کہنیوں کو زمین پر نہ بچھانا بلکہ اٹھا ہوا رکھنا

۳۸.    پیٹ کو رانوں سے جدا رکھنا ( سجدہ کا یہ طریقہ مردوں کے لئے ہے عورتیں بازو پہلوؤں سے اور پیٹ ران سے اور ران پنڈلیوں سے اور کہنیاں زمین سے ملا دیں پاؤں کے پنجے کھڑے نہ کریں اور ہاتھوں پر زور نہ دیں بلکہ جس طرح التحیات میں بیٹھتی ہیں اسی طرح بیٹھ کر اور سمٹ کر سجدے کے لئے پیشانی زمین پر لگائیں )

۳۹.     اگر عذر نہ ہو تو سجدے میں دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے علی الترتیب ایک ساتھ زمین پر رکھنا اگر عذر کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے تو دائیں ہاتھ اور گھٹنے کو بائیں پر مقدم کرنا،

۴۰.     ہر سجدے میں تین بار سُبحَانَ رَبِّیَ الاَعلٰی کہنا

۴۱.      دوسرے سجدے کے بعد جب دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہو تو پنجوں کے بل اٹھنا،

۴۲.     گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھنا( عذر کی حالت میں زمین پر ہاتھ رکھ کر اٹھنے میں حرج نہیں )

 

جلسہ و قومہ کی سنتیں

 

۴۳.    ہر جلسہ و قعدہ میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا

۴۴.    دائیں پاؤں کو اس طرح کھڑا رکھنا کہ اس کی انگلیوں کے سرے قبلہ کی طرف رہیں

۴۵.     دونوں ہاتھ رانوں پر رکھنا

۴۶.     اور ہاتھوں کی انگلیوں کو اپنی حالت پر چھوڑنا

۴۷.    انگلیوں کے کنارے گھٹنوں کے پاس ہونا، گھٹنے کو پکڑنا نہیں چاہئے (عورتیں بائیں سرین پر بیٹھ کر اپنے دونوں پاؤں داہنی طرف نکال دیں )

۴۸.     تشہد میں اَشہَدُ اَن لَّا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ پر کلمہ شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا

۴۹.     قعدہ اولیٰ کے بعد تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت گھٹنوں پر ہاتھوں کا زور دے کر اٹھنا، بلا عذر زمین پر ہاتھ رکھ کر نہ اٹھنا جیسے قعدے یا رکعت کے بعد اٹھنا ہو اسی طرح اٹھنا سنت ہے ،

۵۰.      قعدہ آخرہ میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا ( درود ابراہیمی پڑھنا افضل ہے )

۵۱.       قعدہ آخرہ میں درود کے بعد سلام سے پہلے دعا پڑھنا

۵۲.     دعا عربی زبان میں ہونا، دعا ایسی ہو جس کا بندوں سے مانگنا محال ہو

 

سلام کی سنتیں

 

۵۳.    پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف سلام پھیرنا،

۵۴.     سلام کے وقت منھ کو دائیں اور بائیں طرف پھیرنا اس طرح پر کہ اس کے داہنے رخسار کی سفیدی اس طرف کے پیچھے والے نمازی کو نظر آ جائے اور اسی قدر بائیں طرف کو پھرے

۵۵.     امام کو دونوں سلام بلند آواز سے کہنا،

۵۶.     مگر دوسرے سلام کا پہلے کی نسبت پست آواز سے ہونا،

۵۷.    امام کو داہنی طرف کے سلام میں دائیں طرف والے اور بائیں طرف کے سلام میں بائیں طرف والے مقتدیوں اور فرشتوں کی نیت کرنا، مقتدی کو ہر طرف کے سلام میں اس طرف کے مقتدیوں اور فرشتوں کی اور جس طرف امام ہو تواس ط رف کے سلام میں امام کی بھی نیت کرنا اگر مقتدی بالکل امام کے پیچھے ہو تو دونوں سلاموں میں امام کی بھی نیت کرے، منفرد دونوں طرف میں صرف فرشتوں کی نیت کرے،

۵۸.     سلام ان لفظوں سے ہونا اَلسَّلَامُ عَلَیکُم وَ رَحمَتُ اللّٰہِ

۵۹.      سلام کے بعد دائیں یا بائیں طرف یا مقتدیوں کے سامنے کی طرف پھر کر بیٹھنا جب کہ کوئی مقتدی اس کے سامنے بلا سترہ نماز میں نہ ہو

 

مقتدی سے متعلق سنتیں

 

۶۰. مقتدی کے تمام ارکان امام کے ساتھ ادا ہونا اسی طرح مقتدی کی تکبیر تحریمہ کا امام کے ساتھ ہونا

 

مستحباتِ نماز

 

مستحبات یعنی آدابِ نماز کا ترک کراہت و عتاب کا موجب نہیں ہے لیکن اُن کا کرنا افضل و باعث ثواب ہے نماز میں بارہ (۱۲) مستحبات ہیں وہ یہ ہیں

۱.         دونوں قدموں کے درمیان چار انگل کی مقدار یا اس کے مثل فاصلہ ہونا ( بعض نے اس کو سنتوں میں شمار کیا ہے )

۲.        تکبیرِ تحریمہ کہتے وقت دونوں ہاتھ چادر یا آستین وغیرہ سے باہر نکال کر اٹھانا جب کہ سردی وغیرہ کا عذر نہ ہو، عذر کی حالت میں یہ فعل مستحب نہیں اور یہ مردوں کے لئے ہے ، عورتیں کسی حالت میں بھی ہاتھ چادر یا دوپٹہ وغیرہ سے باہر نہ نکالیں بلکہ چھپائے ہوئے اٹھائیں

۳.       منفرد کو رکوع و سجود میں تین مرتبہ سے زیادہ تسبیح کہنا لیکن طاق مرتبہ کہے مثلاً پانچ یا سات یا نو مرتبہ

۴.       قیام کی حالت میں سجدے کی جگہ پر اور رکوع میں دونوں پاؤں کی پیٹھ پر اور سجدے میں ناک کے سرے ( نوک) پر اور جلسہ و قعدے میں اپنی گود پر اور پہلا سلام پھیرتے وقت اپنے داہنے مونڈھے پر اور دوسرے سلام میں بائیں مونڈھے پر نظر رکھنا

۵.        اگر جمائی آ جائے تو جہاں تک ہو سکے اس کو روکنا اور منھ کو بند رکھنا اور نہ رکے تو نیچے کے ہونٹ کو دانتوں سے پکڑے، اگر اس سے بھی نہ رکے اور منھ بند نہ ہو سکے تو قیام کی حالت میں سیدھے ہاتھ کی پشت سے یا آستین سے اور باقی حالتوں میں بائیں ہاتھ کی پشت سے یا آستین سے منھ کو ڈھانپ لے،

۶.        جہاں تک ہو سکے کھانسی کو روکنا

۷.       امام اور مقتدی کا نماز کے لئے اس وقت کھڑا ہونا جب کہ تکبیر کہنے والا حَیَّ عَلَی الفَلَاح کہے

۸.        امام اور مقتدیوں کا نماز اس وقت شروع کرنا یعنی تکبیر تحریمہ کہنا جب کہ تکبیرِ اقامت میں قَدقَامَتِ الصَّلٰوة کہا جائے اور اگر تکبیر اقامت ختم ہونے تک موخر کرے تو بالاجماع کوئی حرج نہیں اختلاف صرف افضلیت میں ہے ، ( امام ابو یوسف اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک اقامت پوری ہونے تک نماز شروع کرنے میں تاخیر کرنا افضل ہے اور یہی معتدل اور صحیح تر مذہب ہے کیونکہ اس سے مؤذن کی متابعت اور امام کے شروع کرنے میں مدد ملتی ہے ، اسی طرح صفیں سیدھی کرنے کے لئے پہلے سے کھڑا ہونا ہی زیادہ مناسب ہے اور رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم و صحابہ کرام مثل حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ وغیرہ سے بھی اس طرح منقول ہے کما فی الشامی وغیرہ)

جب کوئی شخص ایسے وقت مسجد میں آئے کہ تکبیر اقامت کا وقت ہو تو اس کو کھڑے ہو کر انتظار کرنا مکروہ ہے یعنی خلاف ادب و خلاف اولیٰ ہے

۹.        الحمد شریف کے بعد جب صورت پڑھے تو پہلے بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم پڑھنا، اگر سورة کے بجائے آیات پڑھے تو بسم اللّٰہ پڑھنا مستحب نہیں ہے ۱۰.     دونوں سجدوں کے درمیان دعائے مغفرت اور وہ یہ ہے

اَللّٰھُمَّ اغفِرلِی وَارحَمنِی وَاھدِنِی وَعَافِنِی وَارزُقنِی یا صرف رَبَّ اغفِرلِی ایک مرتبہ یا تین مرتبہ کہ لے،

۱۱.        ہر قعدے میں خاص حضرت عبداللّٰہ بن مسعود(رضی اللّٰہ عنہ) کا تشہد پڑھنا جو آگے نماز کی ترکیب میں آ رہا ہے

۱۲.       قنوت میں خاص اس دعا کا پڑھنا اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَستَعِینّکَ الخ اور اس کے ساتھ اَللّٰھُمَّ اھدِنِی الخ کا پڑھ لینا بھی اولیٰ ہے

 

نماز کی پوری ترکیب

 

نماز کی پوری ترکیب جو سلف سے منقول چلی آرہی ہے جس میں سب فرض و واجب و سنت اور مستحب اپنی اپنی جگہ پر ادا ہوں اس طرح پر ہے کہ جب نماز پڑھنے کا ارادہ ہو تو تمام شرائطِ نماز کے ساتھ شروع کرے یعنی پہلے اپنا بدن حدث اکبر و اصغر اور ظاہری ناپاکی سے پاک کر کے پاک کپڑے پہن کر پاک جگہ پر قبلے کی طرف منھ کر کے اس طرح کھڑا ہو کہ دونوں قدموں کے درمیان چار انگل یا اس کے لگ بھگ فاصلہ رہے پھر جو نماز پڑھنی ہے اس کی نیت دل میں کرے مثلاً یہ کہ آج کی فجر کی فرض نماز اللّٰہ تعالیٰ کے واسطے پڑھتا ہوں اور زبان سے بھی کہہ لے تو اچھا ہے پھر دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک اٹھائے اس طرح کہ ہاتھوں کی ہتھیلیاں اور انگلیاں قبلہ رخ رہیں اور انگوٹھے کانوں کی لو کے مقابل ہوں ، انگلیوں کے سرے کانوں کے کناروں کے مقابل ہوں انگلیاں اعتدال کے ساتھ ایک دوسرے سے جدا رہیں یعنی عادت کے مطابق درمیانی حالت میں ہوں ، بالکل ملی ہوئی یا زیادہ کھلی ہوئی نہ ہوں اور جب کانوں کی لو تک انگوٹھے پہنچ جائیں تو تکبیر یعنی اللّٰہ اکبر کہے ، ہاتھ تکبیر سے پہلے اٹھائے یہی اصح ہے تکبیر تحریمہ کے وقت سر نہ جھکائے بلکہ اعتدال کے ساتھ کھڑا رہے اور تمام نماز میں اسی اعتدال کے ساتھ کھڑا ہو، تکبیر تحریمہ سے فارغ ہوتے ہی دونوں ہاتھ ناف کے نیچے باندھ لے، بعض ناواقف لوگ تکبیر تحریمہ سے فارغ ہوتے ہی دونوں ہاتھوں کے نیچے لٹکا دیتے ہیں پھر ان کو ناف کے نیچے باندھتے ہیں ، یہ لٹکانا ٹھیک نہیں ہے ایسا نہیں کرنا چاہئے ناف کے نیچے اس طرح ہاتھ باندھے کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی پشت پر یعنی کلائی کے جوڑ پر رہے اور انگوٹھے اور چھنگلیا سے حلقہ کے طور پر بائیں ہاتھ کی کلائی کو پکڑ لے باقی تین انگلیاں کلائی کی پشت پر رہیں اور نظر سجدے کی جگہ پر رہے پھر آیستہ آواز سے کہ جس کو صرف خود سن سکے ثنا پڑھے اور وہ یہ ہے

سُبحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمدِکَ وَ تَبَارَکَ اسمُکَ وَ تَعَالٰی جَدَّکَ وَلَا اَلٰہَ غَیرُک،

امام یا مقتدی یا تنہا نماز پڑھتا ہو سب کے لئے یہی حکم ہے اور ثنا میں جَلَ ثَنَاوُکَ سوائے نماز جنازہ کے اور کسی نماز میں نہ پڑھے اور

اِنَّی وَجَّھتُ وَجھِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَ الاَرضَ حَنِیفَا وَّ مَا اَنَا مِنَ المُشرِکِین ط اِنَّ صَلٰوتِی وَ نُسُکِی وَ مَحیَایَ وَ مَمَاتِی لِلّٰہِ رَبَّ العٰلَمِینَ لَا شَرِیکَ لَہُ وَ بِذَالِکَ اُمِرتُ وَاَنَا اَوَّلُ المُسلِمِینَ ط

تحریمہ کے بعد نہ پڑھے اور نہ ثنا کے بعد پڑھے البتہ نفل نماز میں ثنا کے ساتھ ملانا جائز ہے اور اولیٰ یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ سے پہلے بھی اس سے نیت ملانے کے لئے نہ پڑھے یہی صحیح ہے اور متاخرین نے اس کو اختیار کیا ہے کہ تحریمہ سے پہلے اس کو کہہ لے اور صحیح قول یہ ہے کہ اس میں انَّا اَوَّل المُسلِمِینَ کہنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی کیونکہ نمازی اس کو تلاوت کے قصد سے کہتا ہے نہ کہ اپنے حال کی خبر دیتا ہے نیز احادیثِ صحیحہ سے اس کا پڑھا جانا ثابت ہے اس لئے مفسدِ نماز نہیں ہو سکتا البتہ اس کا جواز نفلوں میں پڑھنے پر محمول کیا گیا ہے

پھر تعوذ یعنی اَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیمَ ط پڑھے اور سنت یہ ہے کہ اسے آہستہ پڑھے امام ابو حنیفہ و امام محمد کے نزدیک تعوذ قرأت کے تابع ہے ثنا کا تابع نہیں اس پر فتویٰ ہے اس لئے مسبوق جب اپنی باقی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہو تو تعوذ پڑھے، اور جو مقتدی شروع سے امام کے ساتھ شریک ہو وہ تعوذ نہ پڑھے کیونکہ وہ قرأت نہیں پڑھے گا اور عیدین کی نماز میں پہلی رکعت میں عید کی تکبیروں کے بعد تعوذ پڑھے اس لئے کہ تکبیروں کے بعد قرأت پڑھے گا اور تعوذ نماز شروع کرتے وقت یعنی پہلی رکعت میں ہے باقی رکعتوں میں نہیں ہے ، پس اگر نماز شروع کر دی اور تعوذ کو بھول گیا یہاں تک کہ الحمد پڑھ لی پھر اس کے بعد یاد آیا تو تعوذ نہ پڑھے، اسی طرح اگر ثنا پڑھنا بھول گیا اور الحمد شروع کر دی درمیان میں یاد آیا تو اب اس کو نہ پڑھے، اس لئے کہ ان کو پڑھنے کا موقع جاتا رہا، تعوذ کے بعد بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم آہستہ پڑھے خواہ وہ نماز جہری ہو یا سری اور خواہ امام ہو یا منفرد، بسم اللّٰہ ہر رکعت کے اول میں پڑھے یعنی الحمد سے پہلے پڑھے اسی پر فتویٰ ہے ، فاتحہ اور سورة کے درمیان میں بسم اللّٰہ پڑھنا سنت نہیں ہے خواہ نماز سری ہو، یہی صحیح ہے لیکن مکروہ بالاتفاق نہیں بلکہ سورة سے پہلے آہستہ پڑھنا مستحب ہے اگرچہ جہری نماز ہو، البتہ اگر سورة کی جگہ آیات پڑھے تو اس کے شروع میں بسم اللّٰہ پڑھنا بالاتفاق سنت نہیں ہے بسم اللّٰہ کے بعد الحمد شریف (سورة فاتحہ) پڑھے جبکہ وہ منفرد یا امام ہو اور مقتدی نہ پڑھے اور جب سورة فاتحہ ختم کر لے تو آہستہ سے آمین کہے خواہ تنہا نماز پڑھنےوالا ہو یا امام یا مقتدی ہو جبکہ قرأت سنتا ہو، اور اس پر اتفاق ہے کہ یہ نماز کا جزو نہیں اس کے معنی ہیں ” اے اللّٰہ تو ہماری دعائیں قبول کر” آمین میں دو لغت ہیں مدّ بھی ہے اور قصر بھی، یعنی بغیر مدّ کے بھی اس کے تلفّظ کی نو سورتیں ہیں ، ان میں سے ان پانچ سورتوں میں نماز فاسد نہیں ہوتی

۱.         آمین الف کی مد کے ساتھ، اس طرح کہنا سنت اور افضل ہے

۲.        قصر کے ساتھ یعنی امین

۳.       امالے کے ساتھ یعنی ایمین ( ان دونوں طرح سے بھی جائز ہے اور سنت ادا ہو جاتی ہے لیکن افضل نہیں ہے )

۴.       الف کا مدّ اور میم کی تشدید پڑھنا یعنی آمّین

۵.        الف کا مدّ اور ی کا حذف یعنی آمِن ( ان دونوں سورتوں میں سنت ادا نہیں ہوتی لیکن نماز فاسد بھی نہیں ہوتی اس لئے کہ یہ الفاظ قرآن میں موجود ہیں ) چار سورتیں ایسی ہیں جن سے نماز فاسد ہو جاتی ہے

۱.         الف مقصورہ مع تشدید میم یعنی اَمِّن

۲.        الف مقصورہ مع حذف ی یعنی اَمِن

۳.       تشدید میم و حذف ی یعنی اَمِّن

۴.       الف مقصورہ و میم مقصورہ مع حذف ی یعنی اَمِّن ( یہ چاروں الفاظ قرآن میں نہیں ہیں اس لئے مفسدِ نماز ہیں )

اگر مقتدی آہستہ قرأت والی نماز یعنی ظہر و عصر میں امام سے وَلَا الضَّالَّینَ سن لے تو بعض مشائخ نے کہا ہے کہ آمین نہ کہے اس لئے کہ اس جہر کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور بعض نے کہا ہے کہ آمین کہے ، جمعہ یا عیدین کی نماز میں یا اور جس نماز میں جماعت کثیر ہو اگر مقتدی بلاواسطہ امام کی تکبیر نہ سُنے بلکہ بالواسطہ سن لے یعنی دوسرے مقتدیوں کی ( جو امام کے قریب ہیں ) آمین سن لے تو بعض کے نزدیک آمین کہے پھر کوئی سورة یا بڑی ایک آیت یا تین چھوٹی آیتیں پڑھے تاکہ واجب قرأت ادا ہو جائے بلکہ قرأتِ مسنونہ کے مطابق پڑھے تاکہ کراہتِ تنزیہی دور ہو، قرأتِ مسنونہ کا بیان آگے آتا ہے ، قرأت صاف صاف اور صحیح صحیح پڑھے جلدی نہ کرے لیکن اگر امام کے پیچھے نماز پڑھے یعنی مقتدی ہو تو صرف ثنا پڑھ کر خاموش کھڑا رہے تعوذ و تسمیہ سورة فاتحہ نہ پڑھے قرأت سے فارغ ہو کر رکوع کرے اس طرح پر کہ کھڑا ہوا اللّٰہ اکبر شروع کرے اور کہتے ہوئے جھکتا جائے یعنی تکبیر کی ابتدا جھکنے کی ابتدا کے ساتھ ہو اور فراغت اس وقت ہو جب پورا رکوع میں چلا جائے اور اس مسافت کو پورا کرنے کے لئے اللّٰہ کے لام کو بڑھائے اکبر کی ب وغیرہ کسی حرف کو نہ بڑھائے معتمد قول یہ ہے کہ سب قرأت پوری کر کے رکوع میں جائے کوئی حرف یا کلمہ جھکنے کی حالت میں پورا کرنے میں بعض کے نزدیک کچھ مضائقہ نہیں لیکن یہ قول ضعیف اور غیر معتمد ہے ، امام رکوع و سجود کی تکبیروں میں جہر کرے اور ہر تکبیر میں اللّٰہ اکبر کی ر کو جزم کرے یعنی ساکن کرے، رکوع میں انگلیوں کو کھلا کر کے ان سے گھٹنوں کو پکڑ لے اور دونوں ہاتھوں سے گھٹنوں پر سہارا دے انگلیوں کا کھلا رکھنا سوائے اس وقت کے اور انگلیوں کو ملا ہوا رکھنا سوائے حالت سجدہ کے اور کسی وقت سنت نہیں ہے یعنی نماز کے اندر ان دو موقعوں کے سوا اور سب موقعوں میں انگلیوں کو اپنی حالت میں رکھے نہ زیادہ کھلی ہوں نہ زیادہ ملی ہوئی ہوں ، رکوع میں پیٹھ کو ایسا سیدھا بچھا دے کہ اگر اس پر پانی کا پیالہ رکھ دیا جائے تو ٹھیک رکھا رہے ، سر کو نہ اونچا کرے نہ جھکائے بلکہ سر اور پیٹھ اور سرین ایک سیدھ میں رہیں ، بازو پہلوؤں سے جدا رہیں ، پنڈلیاں سیدھی کھڑی رہیں اپنے گھٹنوں کو کمان کی طرح جھکانا جیسا کہ اکثر عوام کرتے ہیں مکروہ ہے (بازوؤں میں بھی خم نہیں ہونا چاہئے ، اکثر عوام رکوع میں گھٹنوں اور بازوؤں میں خم کر دیتے ہیں ) رکوع میں نظر دونوں پاؤں کی پیٹھ پر رہے اور سَبحَانَ رَبَّیَ العَظِیمَ تین بار پڑھے، یہ کم سے کم تعداد ہے اگر تسبیح بالکل نہ پڑھے یا ایک بار پڑھے تو بھی جائز ہے مگر مکروہِ تنزیہی ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ کراہتِ تنزیہی سے زیادہ تحریمی سے کم ہے (اس میں ائمہ کا اختلاف ہے ، امام مالک اور بعض احناف کے نزدیک ایک تسبیح کہنا واجب ہے اس لئے ضروری کہہ لینا چاہئے تاکہ اختلاف ائمہ سے بچا رہے )

جب رکوع طمانیت سے ہو جائے تب سر اٹھائے اور اگر طمانیت نہ ہوئی تو صحیح یہ ہے کہ ترک واجب کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہو گا، اگر امام ہے تو رکوع سے سر اٹھاتے ہوئی صرف سَمِعَ اللّٰہُ لِمَن حَمِدَہ پڑھے اور اگر مقتدی ہے تو صرف رَبَّنَالَکَ الحَمد پڑھے اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَن حَمِدَہ نہ پڑھے اور اگر تنہا نماز پڑھے تو اصح یہ ہے کہ دونوں کو پڑھے اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَن حَمِدَہ رکوع سے اٹھتے ہوئے کہے یعنی سر اٹھانے کے ساتھ ہی یہ الفاظ شروع کر دے اور کھڑا ہونے تک پورا کرے، جھکے جھکے یا سیدھا ہو کر نہ کہے اور جب سیدھا ہو جائے تو رَبَّنَالَکَ الحَمد کہے یہی سنت ہے کسی شخص نے رکوع سے اٹھتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَن حَمِدَہ نہ کہا اور سیدھا کھڑا ہو گیا تو اب سَمِعَ اللّٰہُ لِمَن حَمِدَہ نہ کہے اور اسی طرح ہر اُس ذکر کا حال ہے جو حالت انتقال یعنی رکن بدلنے کے لئے ہے جیسے تکبیر کے قیام سے رکوع کی طرف جھکتے وقت یا رکوع سے سجدے کی طرف جھکتے وقت یا سجدے سے اٹھتے وقت کہتے ہیں ، اگر اس کو اس کے مقام پر ادا نہ کرے تو بعد میں ادا نہ کرے اسی طرح سجدے میں جو تسبیح باقی رہ جائے تو وہ سر اٹھانے کے بعد نہ کہے بلکہ ضروری ہے کہ ہر چیز میں اس کی جگہ کی رعایت کرے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَن حَمِدَہُ کی ہ کو جزم کرے اور حرکت ( یعنی پیش) کو ظاہر نہ کرے یعنی ھُو نہ کہے ( ایک قول کے مطابق ضمہ اشباع کے ساتھ یعنی حَمِدَ ھُو کہے ) پھر جب سیدھا کھڑا ہے جائے تو تکبیر کہہ کر سجدے میں جائے ، تکبیر ( اللّٰہ اکبر) جھکتے ہوئے کہے اور سجدے میں پہنچنے تک ختم کرے، سجدے میں سُبحَاَنَ رَبَّی الاَعلٰی تین بار پڑھے اور یہ کم سے کم تعداد ہے اگر تسبیح بالکل ترک کر دے گا یا تین بار سے کم کہے گا تو یہ فعل مکروہِ تنزیہی ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ تنزیہی سے زیادہ اور تحریمی سے کم ہے اور ائمہ کے اختلاف سے بچنے کے لئے کہہ لینا چاہئے جیسا کہ رکوع میں بیان ہوا اور رکوع و سجدے کی تسبیح تین بار سے زیادہ کہنا مستحب ہے جبکہ امام نہ ہو لیکن طاق عدد پر ختم کرے یعنی تسبیح کم سے کم تین بار پڑھے اور اوسط پانچ بار اور اکمل سات بار اور اس سے بھی زیادہ کرے تو زیادہ ثواب ہے اگر امام ہو تو تین بار سے زیادہ نہ کرے تاکہ مقتدیوں پر تنگی نہ ہو (لیکن اس قدر اطمینان سے کہے کہ مقتدی بھی تین بار کہ سکیں )

سجدے میں جاتے وقت پہلے زمین پر وہ اعضا رکھے جو زمین سے قریب ہیں پھر اس کے بعد والے علی الترتیب رکھے پس پہلے دونوں گھٹنے رکھے پھر دونوں ہاتھ پھر ناک پھر پیشانی رکھے اور پیشانی کا اکثر حصہ ضرور لگائے کیونکہ یہ واجب ہے اور پیشانی کو اس طرح رکھے کہ اچھی طرح قرار پکڑ لے اور جب سجدے سے اٹھے تو اس کے برخلاف کرے یعنی پہلے پیشانی پھر ناک پھر دونوں ہاتھ پھر گھٹنے اٹھائے یہ اس وقت ہے جبکہ ننگے پاؤں ہو یا اور کوئی عذر نہ ہو لیکن اگر کوئی عذر ہو مثلاً موزے پہنے ہوئے ہوں یا عمر زیادہ ہو کہ پہلے گھٹنے نہیں رکھ سکے گا تو دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے رکھ لے اگر عذر کی وجہ سے دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے علی الترتیب ایک ساتھ زمین پر نہیں رکھ سکتا تو دائیں ہاتھ اور گھٹنے کو بائیں پر مقدم کرے لیکن بلا عذر ایک ساتھ نہ رکھنا مکروہ ہے ، سجدے میں دونوں ہاتھ کانوں کے مقابل میں رکھے یعنی چہرہ دونوں ہتھیلیوں کے درمیان اور انگوٹھے کانوں کی لو کے مقابل رہیں ، ہاتھوں کی انگلیاں ملی رہیں تاکہ سب کے سرے قبلے کی طرف رہیں اور دونوں پاؤں کی سب انگلیوں کے سرے بھی قبلہ رخ رہیں ، ہتھیلیوں پر سہارا دے اپنے بازوؤں کو پہلوؤں سے جدا رکھے لیکن جماعت کے اندر بازوؤں کو پہلوؤں سے ملائے رکھے جدا نہ رکھے کہنیوں کو زمین پر نہ بچھائے بلکہ زمین سے اٹھا ہوا رکھے اور پیٹ کو رانوں سے جدا رکھے نگاہ ناک کی نوک ( سرےِ) پر رہے پھر اللّٰہ اکبر کہتا ہوا اپنے سر کو اٹھائے اور اطمینان سے سیدھا بیٹھ جائے اس کو جلسہ کہتے ہیں جلسہ میں طمانیت یعنی ایک بار سبحان اللّٰہ کہنے کی مقدار بیٹھے یہ طمانیت واجب ہے اور اس کے ترک پر سجدہ سہو لازم ہوتا ہے اس جلسہ میں کوئی ذکر مسنون نہیں ہے اور اسی طرح رکوع سے سر اٹھانے کے بعد تسمیح و تحمید کے علاوہ اور کوئی دعا مسنون نہیں اور ایسا ہی رکوع و سجود میں تسبیح کے سوا اور کچھ نہ کہے اور جو ذکر یا دعائیں ان موقعوں کو لئے حدیثوں میں آئی ہیں وہ نوافل کے لئے ہیں لیکن فرضوں کے جلسے میں بھی مستحب یہ ہیں کہ دعائے مسنون پڑھے وہ یہ ہے :

اَللّٰھُمَّ اغفِرلِی وَارحَمنِی وَ عَافِنِی وَ اھدِنِی وَ ارزُقنِی ط یہ صرف رَبَّ اغفِرلِی

ایک یا تین بار پڑھ لیا کرے اس مستحب کی عادت کی برکت سے جلسے میں طمانیت کا واجب بھی ادا ہو جائے گا ورنہ اکثر لوگ اس کے تارک ہیں اور اس کی ضرورت سے غافل ہیں ، پھر تکبیر کہتا ہوا دوسرے سجدے کے لئے جھکے اور دوسرے سجدے میں بھی پہلے سجدے کی طرح تسبیح پڑھے پھر جب سجدے سے فارغ ہو تو پنجوں کے بل اٹھے بلا عذر دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک کر کھڑا نہ ہو بلکہ دونوں ہاتھوں سے دونوں گھٹنوں پر سہارا دے کر کھڑا ہو دوسرے سجدے کے بعد بیٹھنا جس کو جلسہ استراحت کہتے ہیں حنفی مذہب میں بلا عذر کے نہیں ہے لیکن اگر کسی کو عذر ہو تو اس کو زمین پر سہارا دے کر کھڑا ہونا یا قلیل جلسہ استراحت کرنا مستحب ہے ، اور اگر بلا عذر دوسرے سجدے کے بعد بیٹھا (یعنی جلسہ استراحت کیا) یا دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک کر کھڑا ہوا تو مضائقہ نہیں لیکن خلاف اولیٰ اور مکروہِ تنزیہی ہے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کرے جس طرح پہلی رکعت ادا کی ہے مگر ثنا اور تعوذ نہ پڑھے یعنی ہاتھ باندھ کر بسم اللّٰہ، الحمد اور سورة پڑھ کر رکوع، قومہ و سجدہ، جلسہ اور دوسرا سجدہ کرے اور جب دوسری رکعت کے دوسرے سجدے سے سر اٹھائے تو قعدہ کرے اس طرح کہ بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھے (یعنی اس کو اپنی دونوں سرین کے نیچے رکھے) اور دایاں پاؤں کھڑا کرے اور اپنے کھڑے پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ کی طرف کرے، بچھے ہوئے پاؤں کی انگلیوں کو بھی قبلہ رخ رکھے اور دونوں ہاتھ دونوں رانوں پر رکھ کر قدرتی حالت میں انگلیاں پھیلا دے، ہاتھوں کی انگلیوں کے سرے گھٹنوں کے قریب ہوں اور قبلہ کی طرف رہیں ، انگلیوں سے گھٹنوں کو پکڑنا نہیں چاہئے یہی اصح ہے اگرچہ پکڑنا بھی جائز ہے مگر نہ پکڑنا افضل ہے اس لئے کہ پکڑنے سے انگلیوں کے سرے قبلہ رخ نہیں رہیں گے بلکہ زمین کی طرف ہو جائیں گے جلسے اور قعدے میں نظر اپنی گود پر رہے ،

قعدے میں حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ کا تشہد پڑھے اور وہ یہ ہے

اَلتَّحَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَ الطَّیَّبَاتُ ط اَلسَّلَامُ عَلَیکَ اَیُّھَالنَّبِیُّ وَ رَحمَتُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہُ ط اَلسَّلَامُ عَلَینَا وَعَلٰی عِبَادِاللّٰہِ الصَّالِحِینَ ط اَشھَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشَھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً اعَبدُہُ وَ رَسُولُہُ ط

اور جب اَشھَدُ اَن لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ پر پہنچے تو شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے اور بیچ کی انگلی سے حلقہ باندھ لے اور چھنگلیا اور اس کے پاس کی انگلی کو ( مٹھی کی طرح) بند کرے اور کلمہ کی انگلی اٹھا کر اشارہ کرے لَّا اِلٰہَ پر انگلی اٹھائے اور اِلَّا اللّٰہ پر جھکا دے اور پھر قعدے کے آخر تک اسی طرح حلقہ باندھے رکھے، تشہد کے بعد درود شریف پڑھے اور وہ یہ ہے

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّد کَمَا صَلَّیتَ عَلٰی اِبرَاھِیمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبرَاھِیمَ اِنَّکَ حَمِیدُُ مَّجِیدُُ ط اَللّٰھُمَّ بَارِک عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّد کَمَا بَارَکتَ عَلٰی اِبرَاھِیمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبرَاھِیمَ اِنَّکَ حَمِیدُُ مَّجِیدُُط

نماز میں بھی درود شریف میں حضور انور علیہ الصلواة وسلام کے نام مبارک اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام مبارک کے ساتھ لفظ سیدنا ملانا افضل و بہتر ہے اور بعض کے نزدیک نہ ملانا بہتر ہے اور تشہد میں اشھدان محمدًا کے ساتھ سیدنا کا لفظ نہ ملائیں جب درود سے فارغ ہو جائیں تو اپنے لئے اور اپنے ماں باپ اور سب مسلمان مردوں اور عورتوں کے واسطے مغفرت کی دعا مانگیں اور دعا میں صرف اپنی تخصیص نہ کریں یہی صحیح ہے ( کافر ماں باپ و اساتذہ کے لئے جب مر گئے ہوں دعا مغفرت حرام ہے اور بعض فقہ نے کفر تک لکھا ہے ہاں اگر زندہ ہوں تو ان کے لئے ہدایت و توفیق کی دعا کریں ، گناہگار مومنون کے لئے دعائے مغفرت مانگنا جائز ہے کیونکہ اس میں اپنے مومن بھائیوں پر فرط محبت کا اظہار اور اس میں نص کی مخالفت نہیں ہے کیونکہ ارشاد باری !تعالیٰ ہے

ِانَّ اللّٰہَ لَا یَغفِرَ اَن یُشرِکَ بِہِ وَ یَغفِرَ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَآء ط

یعنی مشرک کے علاوہ اللّٰہ تعالیٰ جس کو چاہے گا بخش دے گا اور اس طرح دعا نہ مانگے جس طرح آدمیوں سے باتیں کرتا ہے یا جس کا بندوں سے مانگنا ممکن ہے مثلاً اللّٰھُمَّ زَوَّجنِی نہ کہے ، محلات عادّیہ مہلات شرعیہ کی دعا مانگنا حرام ہے ، ماثورہ دعاؤں میں سے پڑھے یعنی جو دعائیں قرآن پاک یا حدثوں میں آئی ہیں پڑھے مثلاً

رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنیَا حَسَنَتً وَّ فِیَ الاَخِرةِ حَسَنَتً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ط

یا یہ دعا پڑھے

اٰللَّھُمَّ اغفِرلِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِجَمِیعِ المُومِنِینَ وَالمُؤمِنَاتِ وَ المُسلِمِینَ وَ المُسلِمَاتِ اَلاَ حیَآءِ مِنھُم وَالاَ موَاتِ ط

دیگر

رَبِّ اجعَلنِی مُقِیمَ الصَّلٰوةِ وَمِن ذُرِّیَتِی رَبَّنَا وَ تَقَبَّل دُعَآ ءً ط

ربنا اغفرلی ولوالدی و للمومنین یوم یقوم الحساب

دیگر

اَللَّھُمَّ اِنَّی ظَلَمتُ نَفسِی ظُلمًا کَثِیرًاوَّ لَا یَغفِرَ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنتَ فَاغفِرلِی مَغفِرَةً مِن عِندِکَ وَ ارحَمنِی اِنکَ اَنتَ الغَفُورُ الرَّحِیمَ ط

(یہ دعا آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے نماز میں پڑھنے کے لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کو تعلیم فرمائی) یا کوئی اور دعا جو قرآن یا حدیث میں آئی ہو پڑھے اگر قرآن کی دعا پڑھے تو قرأت یعنی قرآن پڑھنے کی نیت نہ کرے اس لئے کہ قرأت قیام کے سوا دوسرے ارکان رکوع و سجود و قعدہ میں مکروہ ہے بلکہ دعا کی نیت سے پڑھے، دعا عربی زبان میں پڑھے، نماز کے اندر غیر عربی میں دعا پڑھنا مکروہ ہے

پھر دونوں طرف یعنی دائیں اور بائیں سلام پھیرے، پہلے سلام میں اس قدر داہنی طرف کو پھرے کہ اس کے داہنے رخسارے کی سفیدی اس طرف کے پیچھے والے نمازی کو نظر آ جائے اور اسی قدر بائیں طرف کو پھیرے یہی اصح ہے اور لفظ !

اَلسَّلَامُ عَلَیکُم وَ رَحمَتُ اللّٰہِ

کہے اگر صرف السلام علیکم یا صرف السلام یا علیکم السلام کہے گا تو کافی ہو گا مگر سنت کا تارک ہو گا اس لئے مکروہ ہو گا اور دائیں اور بائیں کو منھ پھیرنا بھی سنت ہے اور اس وقت نظر دائیں اور بائیں کندھے پر رہے یہ مستحب ہے ، مختار یہ ہے کہ سلام الف لام کے ساتھ کہے اور اسی طرح تشھد میں ال کے ساتھ سلام کہے اور ختم نماز کے سلام میں  و برکاتہ نہ کہے بلکہ تشھد کے سلام میں کہے اور سنت یہ ہے کہ امام دوسرا سلام پہلے سلام کی بہ نسبت نیچی آواز سے کہے اور یہی بہتر ہے اگر صرف دائیں طرف سلام پھیر کر کھڑا ہو گیا اور بائیں طرف سلام پھیرنا بھول گیا تو صحیح یہ ہے کہ اگر ابھی تک باتیں نہیں کی اور قبلے کی طرف پیٹھ نہیں کی تو بیٹھ کر دوسرا سلام پھیر دے اور اگر قبلے کی طرف کو پیٹھ پھیر چکا یا کلام کیا تو دوسرا سلام نہ پھیرے اور اگر اس کا الٹ کیا یعنی پہلے بائیں طرف کو سلام پھیر دیا تو جب تک کلام نہیں کیا اور قبلے سے نہ پھرا تب تک دائیں طرف کا سلام پھیر دے اور بائیں طرف کے سلام کا اعادہ نہ کرے اور اگر منھ کے سامنے کو (قبلے کی طرف) سلام پھیرا ہے تو دوسرا سلام بائیں طرف کو پھیر دے یعنی سامنے کا سلام دائیں طرف کے قائم مقام ہو جائے گا مقتدی کے سلام پھیرنے کے وقت میں اختلاف ہے مختار یہ ہے کہ مقتدی منتظر رہے اور جب امام داہنی طرف کو سلام پھیر چکے تب مقتدی داہنی طرف کو سلام پھیرے اور جب امام بائیں طرف کے سلام سے فارغ ہو تب مقتدی بائیں طرف کو سلام پھیرے اور جو محافظ فرشتے اور انسان اور صالح جن امام کے دونوں طرف ہیں سلام میں ان کی نیت دل میں کرے اور ہمارے زمانے میں عورتوں کی اور ان لوگوں کی جو نماز میں شریک نہیں نیت نہ کرے یہی صحیح ہے اور مقتدی دائیں بائیں طرف کے مقتدی لوگوں اور جنوں اور فرشتوں کے ساتھ امام کی نیت بھی کرے پس اگر امام داہنی طرف ہو تو اس طرف کے لوگوں میں اور بائیں طرف ہو تو اس طرف کے لوگوں میں امام کی بھی نیت کرے اور امام سامنے ہو تو امام ابو یوسف کے نزدیک دائیں جانب کے لوگوں میں اس کی نیت کرے اور امام محمد کے نزدیک دونوں طرف امام کی بھی نیت کرے امام ابو حنیفہ سے بھی یہی روایت ہے اور یہی صحیح ہے اور تنہا نماز پڑھتا ہو تو صرف فرشتوں کی نیت کرے اور کسی کی نیت نہ کرے فرشتوں کی نیت میں کوئی تعداد معین نہ کرے یہی صحیح ہے ( سلام میں اس نیت سے اکثر لوگ غافل ہیں )

یہ دو رکعت والی نماز کی ترکیب ہے اگر تین یا چار رکعت پڑھنا ہوں تو پہلے قعدے میں جب تشھد سے فارغ ہو تو اس سے زیادہ کچھ نہ پڑھیں بلکہ فوراً اللّٰہ اکبر کہہ کر تیسری رکعت کے لئے اٹھ کھڑا ہو، قعدے سے بھی اسی طرح گھٹنوں پر سہارا دے کر پنجوں کے بل کھڑا ہو جس طرح پہلی رکعت میں دوسرے سجدے کے بعد دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہوا تھا پھر دوسرا دوگانہ اسی طرح ادا کر کے جس طرح پہلے دو گانے میں قیام و رکوع و سجود کر چکا ہے اور فرضوں کے اس دوسرے دو گانے کی ہر رکعت کے قیام میں صرف بسم اللّٰہ اور الحمد شریف پڑھے، اس پر زیادتی کرنے یعنی صورت ملانے کا کچھ مضائقہ نہیں لیکن مکروہ تنزیہی اور خلاف اولیٰ ہے اور اس سے سجدہ سہو لازم نہیں آتا اور اگر ان پچھلی رکعتوں میں الحمد پڑھنا بھول جائے تب بھی سجدہ سہو لازم نہیں آتا کیونکہ فرضوں کی آخری دو رکعتوں میں نمازی کو اختیار ہے چاہے الحمد پڑھے یا تین بار تسبیح ( سبحان اللّٰہ) کہے یا بقدرِ تین بار تسبیح کہنے کے چپ رہے لیکن سورة الحمد پڑھنا تسبیح پڑھنے سے افضل ہے یہی اصح ہے اور چپ رہنا مکروہ ہے اور ترک سنت کی وجہ سے موجب اسائت ہے کیونکہ ان میں قرأت سنت ہے اور سکوت اس کے خلاف ہے ، اگر نماز نفل یا سنت یا واجب ہو تو ہر رکعت میں سورة الحمد کے بعد کوئی چھوٹی سورة یا کم از کم تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت پڑھے کہ اس قدر پڑھنا واجب ہے اور تین رکعت والی نماز میں تیسری رکعت کے بعد اور چار رکعت والی نماز میں چوتھی رکعت کے بعد قعدہ آخرہ کرے اور اس قعدے میں تشھد و درود و دعا اسی طرح پڑھے جس طرح دو رکعت والی نماز کے قعدے میں پڑھنا بیان ہوا ہے کیونکہ اس کا وہی آخری قعدہ ہوتا ہے اور اسی طرح سلام پھیرے، جن نمازوں کے بعد سنتیں ہیں یعنی ظہر و مغرب و عشا کی نماز، جب امام ان کا سلام پھیر چکے تو وہاں بیٹھ کر توقف کرنا مکروہ ہے مختصر دعا مثلاً

اَللَّھُم اَنتَ السَّلامُ مِنکَ السَّلاَمُ تَبَارَکتَ یَا ذَا الجَلَالِ وَ الاِکرَامُ ط

پڑھے یہ دعا بھی مسنون ہے

لَآ اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحدَہُ لَا شَرِیکَ لَہ لَہُ المُلکُ وَلَہ الحَمدَ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَی ئٍقَدِیرط اَللّٰھُم لَا مَانِعَ لِمَا اعطَیتَ وَلَا مَعطِی لِمَا مَنَعتَ وَلَا یَنفَعُ ذَا الجَدِّ مِنکَ الجَد ط

بڑی بڑی دعاؤں میں مشغول نہ ہو تھوڑی تاخیر جائز بلکہ مستحب ہے زیادہ دیر کرنا مکروہِ تنزیہی ہے اور اس سے سنتوں کا ثواب کم ہو جائے گا، مختصر دعا کے بعد امام فوراً سنتوں کے واسطے کھڑا ہو جائے اور جہاں فرض پڑھے وہاں سنتیں نہ پڑھے کہ یہ مکروہِ تنزیہی ہے دائیں یا بائیں یا پیچھے کو ہٹ جائے اور اگر چاہے تو اپنے گھر جا کر سنتیں پڑھے یہی بہتر ہے جب کہ کسی مانع کا خوف نہ ہو اور اگر مقتدی یا اکیلا نماز پڑھتا ہو اور وہ اپنی جگہ بیٹھ کر دعا مانگتا رہے تو جائز ہے اور اسی طرح سنتوں کے لئے اسی جگہ کھڑا ہو گیا یا پیچھے یا اِدھر اُدھر کو ہٹ گیا تو اس کے لئے یہ سب صورتیں برابر ہیں یعنی اس کے لئے کوئی کراہت نہیں ، ایک قول کے مطابق مستحب ہے کہ مقتدی صفیں توڑ کر آگے پیچھے ہو جائیں

اور جن نمازوں کے بعد سنتیں نہیں ہیں یعنی فجر اور عصر ان میں امام کو اسی جگہ قبلے کی طرف منھ کئے ہوئے بیٹھ کر توقف کرنا مکروہ ہے اور نبی کریم صلی اللّٰہ وعلیہ وسلم نے اس کا نام بدعت رکھا ہے لیکن یہ کراہتِ تنزیہی ہے پس امام کو اختیار ہے چاہے گھر چلا جائے لیکن افضل یہ ہے کہ اپنی محراب میں بیٹھا رہے اور جماعت کی طرف منھ کر لے جب کہ اس کے سامنے کوئی مسبوق نماز نہ پڑھتا ہو اور اگر کوئی نماز پڑھتا ہو تو دائیں یا بائیں طرف کو پھر جائے اور اگر امام اور اس نمازی کے بیچ میں کوئی تیسرا شخص ہو جس کی پیٹھ نمازی کی طرف ہو تو امام کے اس طرف منھ کرنے میں کوئی کراہت نہیں کیونکہ تیسرا شخص بجائے سترے کے ہو جائے گا، سردی اور گرمی کے موسم کا ایک ہی سا حکم ہے یہی صحیح ہے ، صبح کی نماز کے بعد امام کو طلوع آفتاب تک اپنی محراب میں بیٹھے رہنا افضل ہے ، فرض نمازوں کے بعد جب کہ ان کے بعد سنتیں نہ ہوں یعنی فجر و عصر میں فرضوں کے بعد اور جن فرضوں کے بعد سنتیں ہوں یعنی ظہر و مغرب و عشا میں سنتوں کے بعد یہ اذکار مستحب ہے

اَستَغفِرَ اللّٰہُ العَظِیمَ الَّذِی لَاَ اِلَہَ اِلَّا ھُوَ الحَیُّ القَیُّومُ وَ اَتُوبَ اِلَیہ ط

تین مرتبہ آیت کرسی

سورة اخلاص قُل ھُوَ اللّٰہُ اَحَدُ ط ایک مرتبہ

سورة الفلق        قُل اَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَق ط ایک مرتبہ

سورة الناس       قُل اَعُوذُ بِرَبِ النَّاسِ ط ایک مرتبہ

سُبحَانَ اللّٰہ تینتیس(۳۳) بار

اَلحَمدُ لِلَّہ تینتیس(۳۳) بار

اللّٰہ اکبر تینتیس(۳۳) بار

یہ تینوں مل کر ننانوے بار ہوئے اور سو پورا کرنے کے لئے ایک بار

لَا اِلَہ اِلَّا اللّٰہُ وَحدَہُ لَا شَرَیکَ لَہ لَہُ المُلکُ وَلَہُ الحَمدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَی ئٍ قَدِیر

( بعض روایتوں میں اللّٰہ اکبر چونتیس (۳۴) بار آیا ہے ، ان چاروں کلمات کا مذکورہ طریقے پر ملا کر سو بار پڑھنا تسبیح فاطمی کہلاتا ہے ) اس کے بعد دعا مانگے دعا کے وقت دونوں ہاتھ سینے تک اٹھا کر پھیلائے اور اللّٰہ تعالیٰ سے دعا مانگے اور امام ہو تو تمام مقتدیوں کے لئے بھی دعا مانگے اور مقتدی خواہ اپنی اپنی دعا مانگیں یا اگر امام کی دعا سنائی دے تو سب آمین کہتے رہیں اور دعا ختم کرنے کے بعد دونوں ہاتھ منھ پر پھیرے نماز کے بعد کی دعا غیر عربی زبان میں مانگنا بلا کراہت جائز ہے

فائدہ: احادیث میں کسی دعا و ذکر کی بابت جو تعداد ورد ہے اس سے کم زیادہ نہ کرے کیونکہ یہ فضائل ان اذکار کے لئے وارد ہیں وہ اسی تعداد کے ساتھ مخصوص ہیں ان میں کم زیادہ کرنے کی مثال ایسی ہے کوئی قفل کسی خاص قسم کی کنجی سے کھلتا ہے اب اگر اس کجنی میں دندانے اس سے کم یا زیادہ کر دیں تو پھر اس سے وہ قفل نہ کھلے گا، البتہ اگر شمار میں شک واقع ہو تو زیادہ کر سکتا ہے اور یہ زیادتی نہیں بلکہ اتمام ہے

 

نماز کے اندر عورتوں کے مخصوص مسائل

 

عورتیں بھی مردوں کی طرح نماز پڑھیں صرف چند مقامات میں اُن کو مردوں کے خلاف کرنا چاہئے اور وہ انتیس ہیں اور ایک حکم اعتکاف کے متعلق ہے

۱.         عورتوں کو قیام میں دونوں پاؤں ملے ہوئے رکھنے چاہئیں ان میں فاصلہ نہ رکھیں ، اسی طرح رکوع و سجود میں بھی ٹخنے ملائیں

۲.        عورتوں کو خواہ سردی وغیرہ کا عذر ہو یا نہ ہو ہر حال میں چادر یا دوپٹہ وغیرہ کے اندر ہی سے ہاتھ اٹھانے چاہئیں باہر نہیں نکالنے چاہئیں

۳.       صرف اپنے کندھوں کی برابر ہاتھ اٹھانے چاہئیں

۴.       تکبیر تحریمہ کے بعد سینہ پر پستان کے نیچے یا اوپر ہاتھ رکھنے چاہئیں

۵.        داہنی ہتھیلی کو بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھ دینا چاہئے

۶.        رکوع میں زیادہ جھکنا نہیں چاہئے بلکہ اس قدر جھکیں جس میں ان کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں

۷.       رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں گھٹنوں پر بغیر کشادہ کئے ہوئے بلکہ ملا کر رکھنی چاہئیں

۸.        رکوع میں اپنے ہاتھوں پر سہارا نہ دے

۹.        رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھ لے ان سے پکڑے نہیں

۱۰.       رکوع میں اپنے گھٹنوں کو جھکائے رکھے

۱۱.        رکوع میں اپنی کہنیاں اپنے پہلوؤں سے ملی ہوئی رکھنی چاہئیں یعنی سمٹی ہوئی رہیں

۱۲.       سجدے میں کہنیاں زمین پر بچھی ہوئی رکھنی چاہئیں

۱۳.      سجدے میں دونوں پاؤں انگلیوں کے بل کھڑے نہیں رکھنے چاہئیں بلکہ دونوں پاؤں داہنی طرف نکال کر بائیں سرین پر بیٹھے اور خوب سمٹ کر اور سکڑ کر سجدہ کرے ( یعنی سرین نہ اٹھائے )

۱۴.      سجدے میں پیٹ رانوں سے ملا ہوا ہونا چاہئے یعنی پیٹ کو رانوں پر بچھا دے

۱۵.       بازو پہلوؤں سے ملے ہوئے ہوں ، غرض کہ سجدے میں بھی سمٹی ہوئی رہیں

۱۶.       التحیات میں بیٹھتے وقت مردوں کے برخلاف دونوں پاؤں داہنی طرف نکال کر بائیں سرین پر بیٹھنا چاہئے یعنی سرین زمین پر رہے پاؤں پر نہ رکھے

۱۷.      التحیات میں ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی رکھے

۱۸.       جب کوئی امر نماز میں پیش آئے مثلاً عورت کی نماز کے آگے سے کوئی گزرے تو تالی بجائے اس کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی انگلیوں کی پشت بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر مارے اور مردوں کی طرح سبحان اللہ نہ کہے

۱۹.       مردوں کی امامت نہ کرے

۲۰.      نماز میں صرف عورتوں کی جماعت کرنا مکروہ تحریمی ہے ( مردوں کے لئے جماعت واجب ہے )

ٍ۲۱.       عورتیں اگر جماعت کریں تو جو عورت امام ہو وہ بیچ میں کھڑی ہو آگے بڑھ کر کھڑی نہ ہو

۲۲.      عورتوں کا جماعت میں حاضر ہونا مکروہ ہے

۲۳.     مردوں کی جماعت میں عورت مردوں سے پیچھے کھڑی ہو

۲۴.     عورتوں پر جمعہ فرض نہیں لیکن اگر پڑھ لے تو صحیح ہو جائے گا اور ظہر اس کے ذمے سے اتر جائے گی

۲۵.     عورت پر عیدین کی نماز واجب نہیں

۲۶.      عورتوں پر ایامِ تشریق میں فرض نمازوں کے بعد تکبیر واجب نہیں

۲۷.     عورت کو مستحب نہیں کہ نمازِ فجر مردوں کی طرح اجالا ہونے کے بعد پڑھے بلکہ جلدی اندھیرے میں پڑھنا مستحب ہے

۲۸.     عورتوں کو نماز میں کسی وقت بلند آواز سے قرأت کرنے کا اختیار نہیں بلکہ ہر جہری نماز میں بھی آہستہ قرأت کرنا واجب ہے بلکہ جن فقہا کے نزدیک عورت کی آواز داخلِ ستر ہے اُن کے نزدیک جہر کے ساتھ قرأت کرنے سے عورت کی نماز فاسد ہو جائے گی

۲۹.      عورت اذان نہ دے

۰۳.     عورت مسجد میں اعتکاف نہ کرے نماز کے افعال مثل قیام و رکوع و سجود و قعدہ وغیرہ میں باندی اور خنثیٰ کا حکم آزاد عورت کی مانند ہے لیکن باندی تحریمہ کے وقت مردوں کی طرح ہاتھ اٹھائے ،

عورت کے لئے مردوں سے یہ اختلافات صرف نماز میں ہے ورنہ عورت بہت سے مسائل میں مردوں سے علیحدہ ہے