FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

نسیم ہدایت کے جھونکے

 

جلد دوم

مختلف نو مسلم حضرات

ماہنامہ ارمغان، پھلت سے ماخوذ

 

 

 

 

 

 

 

          مولوی محمد یونس {سبھاش شنکر لال} سے  ایک ملاقات

 

مولوی محمد یونس

 

میرا موجودہ نام مولوی محمد یونس ہے  شمسیکیلنڈر کے  مطابق میری عمر تقریباً ۵۱/سال ہے  لیکن اسلامی زندگی کی میری اصل عمر ۲۸/برس کی ہے  ۱۶/دسمبر ۱۹۷۸ء کا وہ تاریخی دن میری زندگی میں انقلابی حیثیت رکھتا ہے  جس دن رب کائنات اللہ سبحانہ تعالیٰ نے  مجھے  ہدایت و ایمان کی نعمت سے  سرفراز فرمایا، ۳۱/جون ۱۹۵۵ء میری تاریخ پیدائش  ہے  میرا آبائی وطن صوبہ مہاراشٹر کا ایک قصبہ مانڈول ہے  جو ناندگاؤں نزد منماڑ ریلوے  جنکشن کے  قریب واقع ہے  اور موجودہ رہائش گاہ قدیم جالنہ صوبہ مہاراشٹر میں ہے، میری بنیادی تعلیم جالنہ کے  مہاراشٹر نائٹ اسکول میں ہندی میڈیم سے  ہوئی ۱۹۴۷ء میں، میں نے  میٹرک کا امتحان کامیاب کیا، میٹرک کے  بعد ذہن میں مختلف مذاہب کے  تعلق سے  خیالات آتے  رہے  کہ کون سا مذہب سچا دھرم ہے  دماغ میں یکے  بعد دیگرے  کئی سوالات آنے  لگے  کہ ہمارا پیدا کرنے  والا کوئی تو ہے، اس سنسار کا کوئی تو پالنہار ہے  پھر پوجا پاٹ سے  دل اچاٹ ہونے  لگا اور آہستہ آہستہ مذہب اسلام کی طرف رجحان بڑھتا گیا۔ میٹرک کے  بعد کالج میں داخلہ میں نے  محض اس لئے  نہیں لیا کہ وہاں مخلوط تعلیم کا نظام تھا، مسلمانوں کی تہذیب میں پردہ کے  اہتمام کو دیکھ کر مذہب اسلام کی جانب میرا جھکاؤ مزید بڑھنے  لگا اور رفتہ رفتہ پردہ کی اہمیت و افادیت میرے  دل کو چھونے  لگی دریں اثنا مولانا مودودی کی ہندی زبان میں اسلام سے  متعلق چند کتابوں کا ترجمہ میرے  ہاتھ لگا جس میں خصوصاً ’’اسلام پرویشکا‘‘ اور  ’’اسلام مارگ درشن ‘‘نے  مجھے  بڑی حد تک متاثر کیا۔

میرے  ایک پڑوسی محمد یونس کے  اخلاق سے  شروع ہی سے  میں ان کا بہت گرویدہ تھا اکثر و بیشتر وہ مجھے  دین کی باتیں بتاتے  رہتے  تھے  اس دوران ہمارے  شہر جالنہ میں اس دور کی ایک مشہور شخصیت سہگل صاحب جنھوں نے  اسلام قبول کیا تھا اور اپنا نیا اسلامی نام یوسف رکھا تھا، وہ پونہ مہاراشٹر کے  معروف تبلیغی جماعت کے  ذمہ دار مرحوم مولانا محمد یونس علیہ الرحمہ کے  ساتھ جالنہ کے  ایک اجتماع میں تشریف لائے  تھے  اور اپنی تقریر میں بار بار ایک جملہ دہراتے  تھے  کہ بھائیو!سفر آخرت بہت لمبا ہے  لہٰذا تو شہ ساتھ لے  لو یہ بات میرے  دل کو لگی میرا ذہن اسلام کے  لئے  روشن ہو چکا تھا صرف اللہ کی طرف سے  ہدایت کا پیغام آنا باقی تھا جالنہ کے  تین دن کے  اجتماع میں مستقل میں ان دینی بھائیوں کی محبت و اخوت اور حسن اخلاق کا مشاہدہ کرتا رہا ۱۴۔۱۵۔۱۶/دسمبر ۱۹۷۸ء کے  یہ  تین دن میری زندگی میں ایک انقلاب و تغیر کی کیفیت پیدا کرتے  رہے  اور بالآخر اجتماع کے  تیسرے  دن ۱۶/دسمبر  ۱۹۷۸ء کو میں نے  اپنے  قبول اسلام کا الحمد للہ اعلان کر دیا۔

موتی مسجد جالنہ میں جماعت کی تشکیل ہو رہی تھی میں نے  بھی اپنا نام وہاں لکھوا دیا، میرا اصل نام سبھاش شنکر لال سامبرے  سے  محمد یونس رکھ دیا گیا، بعد ازیں میں نے  اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا اردو عربی زبانوں کو ابتدائی مرحلوں سے  سیکھا اور اللہ کے  فضل سے  اختتام عا  لمیت کی سندِ فراغت پر ہوا، اور بخاری شریف جیسی حدیث کی اہم ترین کتاب کو بھی پڑھنے  کی اللہ رب العزت نے  سعادت بخشی، سبھاش شنکر لال سامبرے  سے  مولوی محمد یونس تک کا یہ سفر کئی مسائل سے  دو چار رہا کئی مشکلات سامنے  آئیں، قبول اسلام کے  بعد آزمائش کے  دور سے  بھی گزرنا پڑا حتیٰ کہ جیل کی سلاخوں میں بھی زندگی کے  چند یادگار مبارک لمحات گذارنے  کا موقع نصیب ہوا لیکن اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ اور توکل کرنے  سے  میرے  قدم جمے  رہے  بیشک قرآن پاک کی یہ آیت میرے  لئے  مشعل راہ بنی : یٰٓا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْ کُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَکُمْ (سورہ محمد:۷)  ’’اے  ایمان والو !  اگر تم اللہ کی مدد کرو گے  تو وہ تمہاری مدد کر ے  گا اور تمہارے  قدم جما دے  گا۔‘‘

واقعہ یہ کہ اس آیت کریمہ کی بغور تلاوت کرتے  رہنے  سے  میرا حوصلہ بڑھتا رہا۔میرے  حقیقی بڑے  بھائی وسنت اور چھٹے  بھائی دھن راج ہیں، میری والدہ محترمہ ہرکو بائی اور بہن ہیرا بائی آج بھی بقید حیات ہیں اور میں اللہ رب العزت سے  ان حقیقی بھائی بہن و والدہ کے  لئے  ہدایت کی دعا بھی کرتا ہوں، بھائیوں سے  میری آج بھی ملاقات ہوتی ہے  لیکن وہ مجھے  دین اسلام کے  پرچار اور اشاعت کی اجازت نہیں دیتے  اور کہتے  ہیں کہ آپ کو جس دھرم کا پالن کرنا ہے  وہ شوق سے  کریں لیکن ہم پر کوئی زبردستی نہ کریں۔لَا اِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ اور لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کی ان آیت قرآنی دیکھ کر میں صبر و تحمل سے  کام لیتا ہوں اور ان کے  حق میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ انھیں بھی ہدایت کے  چراغ سے  منور فرمائے۔

میری اہلیہ عائشہ بھی نو مسلمہ ہے  اور اللہ کے  فضل سے  دین کے  اصول و ضوابط پر پوری عزیمت کے  ساتھ عمل پیرا ہے، میرے  بیٹے  حنظلہ، حذیفہ اور ابو بکر ہیں اور بیٹی ام ہانی ہے، میرے  دو بیٹے  اس وقت قرآن کریم حفظ کر رہے  ہیں اور انشاء اللہ عنقریب اسے  وہ مکمل کر لیں گے  اور میری مزید خواہش ہے  کہ وہ دین کی اعلیٰ سے  اعلیٰ تعلیم حاصل کریں اور دین اسلام کی خدمت کے  لئے  اپنے  آپ کو وقف کر دیں۔

یہ تھے  مولوی محمد یونس صاحب جو راقم سطور سے  حرم شریف میں موجود کلینک میں ملاقات کی غرض سے  آئے  تھے  نیز ہندوستان کے  مشہور عالم دین اور خانوادہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ سے  تعلق رکھنے  والے  محترم مولانا عبداللہ حسنی سے  ایک تعارفی خط بھی ساتھ لائے  تھے  راقم الحروف کو مولوی محمد یونس صاحب سے  مل کر غیر معمولی مسرت ہوئی حرم شریف میں ایک نومسلم کے  قبول اسلام کا واقعہ اور ایک عالم دین کی حیثیت سے  ان کے  تعارف و دیگر تفصیلات کو سن کر راقم بہت متاثر بلکہ محظوظ ہوا، مولوی محمد یونس کے  اس علمی سفر کے  تعلق سے  استفسار پر معلوم ہوا کہ ۱۶/دسمبر ۱۹۷۸ء انھوں نے  اسلام قبول کیا، پھر چند ماہ حیدرآباد ہند میں مولانا حمید الدین عاقل حسامی کے  مشہور مدرسہ دارالعلوم حیدرآباد میں گزارے، بعد ازیں بلر یا گنج اعظم گڑھ (یو پی) کے  جامعۃ الفلاح کا رخ کیا، یہاں بھی انھیں چند ماہ تعلیم حاصل کرنے  کی سعادت حاصل رہی، اس کے  بعد اسلامک سنٹر ویلور میں مرحوم جمیل صاحب کے  قائم کردہ ایک اسلامی مرکز میں چھ ماہ کا نصاب مکمل کیا، جو خصوصاً نو مسلموں کی تربیت کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا ہے، اور اس کے  بعد عمرآباد (تملناڈو)میں واقع جامعہ دارالاسلام عمرآباد (JDS Arabic Collage) میں پانچ سال کا وقفہ گزارا، یہاں سے  فراغت کے  بعد عالم اسلام کی مشہور درسگاہ ندوۃ العلماء لکھنو میں بھی ایک سال کی مدت صرف کی، یہاں مفکر اسلام حضرت مولاناسید ابو الحسن علی ندویؒ سے  بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوا، اور آخر میں مالیگاؤں کی درس گاہ بیت العلوم سے  سند فراغت حاصل کی اور اپنے  اس طویل علمی سفر میں اللہ تعالیٰ کے  ذکر و فکر سے  بھی وابستہ رہے، سچ ہے    ؎

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے  آہ سحر گاہی

بالآخر سبھاش شنکرلال سامبرے  ایک عالم دین ہو کر اور مولوی محمد یونس کی حیثیت سے  خدمت دین میں مصروف ہو گئے  اور اللہ کے  فضل سے  مزید ۱۵/لوگوں کو اسلام  میں داخل ہونے  کا ذبھی بنے۔

حلقہ اسلام میں داخل ہونے  کے  بعد آپ نے  اپنے  جذبات و احساسات کا اظہار کس طرح کیا، اس سوال پر انھوں نے  دین اسلام کو ایک نعمت سے  تعبیر کرتے  ہوئے  قرآن پاک کی اس آیت کا حوالہ دیا:  اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا(سورہ مائدۃ:۳) آج کے  دن تمہارے  لئے  دین کو میں نے  کامل کر دیا اور میں نے  تم پر اپنا انعام تمام کر دیا اور میں نے  اسلام کو تمہارا دین (بننے  کے  لئے  پسند کیا )مولوی محمد یونس نے  حالات حاضرہ کے  تحت مسلمانوں کے  ارد گرد جو مسائل و دشواریاں ہیں ان کا تذکرہ کرتے  ہوئے  کہا کہ بظاہر حالات سخت سے  سخت آئیں گے  لیکن دل جمعی اور استقامت سے  ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہو گا، آخرت کی کامیابی کو سامنے  رکھتے  ہوئے  دنیا کی عارضی کدورتوں و مشقتوں کو نظر انداز کرتے  ہوئے  صبر و شکیب اور تحمل سے  کام لینا ہو گا، مولوی محمد یونس نے  ہمارے  موجودہ معاشرہ میں مسلمانوں کو توحید پر سختی سے  عمل کرنے  کی دعوت دی، کہ توحید ہمارے  مذہب اسلام کی اصل اساس ہے  اور اس ضمن میں ہماری سوسائیٹی میں بے  پناہ سدھارو اصلاح کی ضرورت ہے  کیونکہ اگر ہمارے  عقائد درست ہوں گے  تو تمام معاملات خوب سے  خوب تر ہوں گے  اور اگر توحید و عقیدہ میں کمزوری رہی تو ہماری زندگی کی ساری محنت اکارت ہو جانے  کا خطرہ ہے  لہٰذا اس پہلو پر بھی ہمیں سختی سے  عمل کرنا ہو گا۔

دور حاضر میں غیر مسلموں میں دعوت و ارشاد کا کام کس طرح کیا جائے  ؟اس موضوع پر دور ان گفتگو انھوں نے  کہا کہ غیر مسلموں سے  اعلیٰ سے  اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے  ہوئے  انفرادی و اجتماعی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے  اسلام کے  خلاف پیش آنے  والے  شکوک و شبہات کو اچھے  انداز میں سمجھایا جائے  اور اسلامی احکام کو موثر طریقے  سے  غیروں کے  سامنے  پیش کیا جائے  ہمارے  نبی کریم  ﷺ کی زندگی اور اسوہ حسنہ سے  سبق لیا جائے  کہ کس طرح انھوں نے  اپنے  جانی دشمنوں کے  ساتھ بھی حسن سلوک کیا حتیٰ کہ دشمنان اسلام جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوتے  گئے  اسی طرح صحابہ کرام کی زندگیوں سے  بھی ہم درس حاصل کریں کہ قبول اسلام کے  بعد صحابہ کرام نے  کن کن مصائب و مشقتوں کا سامنا کیا اور اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ کر کے  اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

آج کے  مسلمانوں کے  نام آپ کا کیا پیغام ہے  ؟اس سوال پر انھوں نے  قرآن کریم کی اس آیت کا حوالہ دیا:      یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا ادْخُلُوْا فِیْ السِّلْمِ کَآفَّۃًص وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ ط اِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌ مُّبِیْنٌ۔

اے  ایمان والو ! اسلام میں پورے  پورے  داخل ہو جاؤ اور شیطان کے  نقش قدم پر نہ چلو بیشک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔

انھوں نے  مزید کہا کہ اس آیت کی رو سے  ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینا اور محاسبہ کرنا ضروری ہے  کہ اسلامی خطوط پر کیا ہم واقعی صحیح معنوں میں عمل پیرا ہیں ؟اور اگر ہم اسلام پر عمل نہیں کر رہے  ہیں تو یہ ہمارے  لئے  انتہائی بے  غیرتی اور زندگی بے  بندگی میں شرمندگی کا معاملہ ہو گا۔

مولوی صاحب نے  ایک اہم نکتہ پر روشنی ڈالی کہ انسان کو جب کسی چیز کی طلب و تڑپ ہوتی ہے  تو اس کی یافت کے  لئے  ہر ممکن کوشش اور مساعی جمیلہ کرتا ہے  اور پھر اللہ کی مدد اور تائید غیبی بھی اس کے  ساتھ ہو جاتی ہے  حبشہ سے  حضرت بلال، ایران سے  حضرت سلمان فارسیؓ حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے  اور نبی کریم  ﷺ کے  مقرب اور جلیل القدر صحابہ کرام میں شمار ہوئے  اور جب اسلام کی تڑپ اور طلب نہیں تھی تو ابو جہل اور ابولہب رشتہ کے  اعتبار سے  نبی کریم  ﷺ سے  قریب تھے  لیکن اسلام سے  محروم رہے  اور اسی طرح حضرت نوح ؑ کے  بیٹے  حضرت لوط ؑ کی بیوی اور حضرت ابراہیمؑ کے  والد آزر کو دیکھئے  جن کے  لئے  اللہ کی جانب سے  راہ ہدایت ہموار نہیں ہو سکتی یہ بڑی عبرت کی بات ہے، لہٰذا تمام گفتگو کا خلاصہ یہی ہے  کہ اسلام کے  لئے  چاہت طلب اور تڑپ کی ضرورت ہے  تا کہ ایمان کی اصلی حرارت اور چاشنی ہمیں نصیب ہو جائے۔ سچ ہے    ؎

زباں سے  کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل

دل وہ نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

مولوی محمد یونس صاحب کی جدہ سے  صنعاء (یمن)اور یمن سے  ممبئی کی فلائٹ تھی، راقم سطورانھیں جدہ ائر پورٹ کے  خارجی ٹرمنل پر  الوداع کہہ رہا تھا اور سورہ بقرہ کی یہ آیت نگاہوں کے  سامنے  تھی کہ احکام الہیٰ کی اطاعت و تعمیل ضروری ہے  ورنہ اللہ کے  غضب سے  ہمیں کوئی بچا نہیں سکتا وَضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّ لَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ وَ بَآ ئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ طذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِایٰٰاتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ ط(سورہ بقرہ :۶۰)  اور جم گئی ان پر ذلت اور پستی اور مستحق ہو گئے  غضب الہیٰ کے  اور یہ اس وجہ سے  ہوا کہ وہ لوگ منکر ہو جاتے  تھے  احکام الہیٰہ کے  اور قتل کر دیا کرتے  تھے  پیغمبروں کو ناحق۔

اللہ کرے  اسلام کی اصلی تڑپ اور طلب ہم میں پید اہو جائے  قبول اسلام کے  اس واقعہ سے  ہمیں یہی نتیجہ اخذ کرنا چاہیئے  کہ ہماری یہ زندگی اللہ کی دی گئی ایک امانت ہے  اور اس کے  ایک ایک لمحہ کا حساب دینا ہے، کیا یہی بہتر ہو گا اگر زندگی کے  یہ لمحات خالق و مالک کائنات کے  پیغام کو مخلوق تک پہنچانے  میں کام آ جائیں، اللہ ہم سب کو اس کی توفیق دے، اور اپنے  احکام کا پابند بنائے۔آمین

تقدیر کے  پابند نباتات و جمادات

مومن فقط احکام الہیٰ کاہے  پابند

مستفاد از ماہنامہ ’ارمغان‘ نومبر۲۰۰۷ء

٭٭٭

 

 

 

جناب محمد طہٰ (جونی) سے  ایک ملاقات

 

مملکت سعودی عربیہ کے  اندر مختلف قوموں و نسلوں سے  تعلق رکھنے  والے  افراد میں دعوتی و دینی بیداری پیدا کرنے  والے  ادارے  میں میری نگاہ سانولے  رنگ کے  ایک ایسے  شخص پر پڑی جو نہایت انہماک سے  کتابوں کے  مطالعہ میں مشغول رہتا تھا، جو بھی کتاب ہاتھ لگ جاتی پوری توجہ سے  اسے  پڑھنے  لگ جاتا اس کے  چہرہ سے  کبھی اکتاہٹ یا تھکان کا احساس نہیں ہوتا تھا، خاص طور سے  قرآن کریم کی تلاوت اور اس کا مطالعہ بڑی دل چسپی سے  کیا کرتا تھا، ایک دن میں اس سے  قریب ہو ا تو غیر عربی انداز میں رک رک کر اس نے  سورہ فاتحہ مجھے  پڑھ کر سنائی، اور بولا کہ کچھ چھوٹی چھوٹی سورتیں زبانی بھی یاد ہیں کیونکہ یہ نماز کے  لئے  ضروری ہیں جب مجھے  اندازہ ہوا کہ یہ نو مسلم ہے، تومیں نے  ان کے  اسلام قبول کرنے  سے  متعلق چند سوالات کئے۔اس نے  بڑی بشاشت اور اطمینان سے  اس کا جواب دیا جو قارئین کے  لئے  پیش ہے۔

 

سوال  : سب سے  پہلے  اگر آپ اپنا تعارف کرا دیں تو میں مشکور ہوں گا؟

جواب  : میرا نام اس وقت طٰہ ہے  اسلام قبول کرنے  سے  پہلے  مجھے  جونی کہا جاتا تھا۔

سوال  : آپ کہاں کے  باشندہ ہیں اور آپ کی عمر اس وقت کیا ہے ؟

جواب  : میں افریقی ملک یوگنڈہ کے  جاثم شہر کا رہنے  والا ہوں، اور اس وقت میری عمر تیس سال ہے۔

سوال  : آپ پہلے  کس مذہب کے  پیروکار تھے  ؟

جواب  : قبول اسلام سے  قبل میں کیتھولک عیسائی مذہب کا پیروکار تھا، اور اس مذہب کا میں صرف پیرو کار ہی نہیں بلکہ داعی و مبلغ اور سرگرم رکن تھا۔اسی لئے  انھوں نے  مجھے  چرچ کی لائبریری کا انچارج مقرر کر دیا تھا۔

سوال  : اپنے  مذہب سے  بے  رغبتی اور اسلام کی طرف رغبت و محبت کس طرح پیدا ہوئی ؟

جواب  : میرے  اندر مذہب پرستی یا عیسائی دینداری دوسرے  عیسائیوں سے  مختلف نہیں تھی، یعنی جس طرح اس مذہب کے  ماننے  والوں میں اندھی تقلید ہوا کرتی ہے  میرے  اندر بھی سنی سنائی باتوں کا ماننا اور اس پر عمل پیرا رہنا تھا، مگر چرچ کی بیشتر باتوں سے  میں مطمئن نہیں تھا، اس عدم اطمینان کے  باوجود میں اسے  جوں کا توں بغیر چوں چرا کے  تسلیم کرتا اور مانتا تھا، کیونکہ سالوں سے  چرچ نے  مجھے  اسی کا عادی بنایا تھا۔

سوال  : تو کیا آپ نے  کبھی اس کے  خلاف لب کشائی کی ؟

جوا ب : میری بے  اطمینانی بڑھتی گئی اور اس کی تحریف شدہ تعلیمات میں نقائص و کوتاہیوں کا احساس میرے  اندر شدید تر ہوتا گیا اور اس مذہب کی تعلیمات میں فکر انسانی نے  جو کھلواڑ کئے  اور تحریفات کی ہیں اس سے  عدم اطمینان اور بے  چینی کی کیفیت پیدا ہونے  لگی جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے  : فَوَیْلُ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتَابَ بِاَیْدِیْھِمْ‘ ان لوگوں کے  لئے  ہلاکت ہے  جو اپنے  ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتاب کو اللہ کی طرف سے  کہتے  ہیں اور اس طرح دنیا کماتے  ہیں ان کے  ہاتھوں کی لکھائی اور کمائی کو ہلاکت و افسوس ہے  (سورہ بقرہ:۷۹)میں نے  اپنے  مذہب اور اس کے  ٹھیکیداروں کے  طرز عمل میں کافی غور و فکر کیا اور ہر پہلو سے  اس کے  اندر گہرائی سے  سوچا تو اندازہ ہوا کہ اس قوم کی جو مقدس ہستیاں و پادری اور دوسرے  مذہبی رہنما ہیں جن کے  ساتھ قریب رہنے  اور ساتھ زندگی گزارنے  کا موقع ملا، ان کے  اور ان کی محبت و اخلاص اور دیگر شعائر کے  درمیان کافی فرق اور تضاد ہے۔یہ لوگ رہبانیت کا لباس زیب تن کئے  ہوئے  ہیں مگر عملی زندگی کا رخ اس کے  مخالف سمت میں رواں دواں ہے۔

سوال  : کیا آپ نے  قرآن میں کچھ پایا؟

جوا ب : ہاں قرآن میں ایک نکتہ پایا، اس کی اہمیت کا اندازہ مجھے  بعد میں ہوا، میں نے  سورہ مریم کا انگریزی ترجمہ پڑھا، تو اندازہ ہوا کہ اسلام اور اس تحریف شدہ دین میں کافی فرق ہے  اس دین میں حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا قرار دیا جاتا ہے  جب کہ یہ ایسا بہتان ہے  کہ اس سے  ساتوں آسمان پھٹ جانے  کا اندیشہ ہے  اللہ تعالی کا ارشاد ہے  :ان کا کہنا ہے  کہ اللہ رحمن نے  بھی اولاد اختیار کی ہے، یقیناً تم بہت بری اور بھاری چیز لائے  ہو قریب ہے  کہ اس قول کی وجہ سے  آسمان پھٹ جائے  اور زمین شق ہو جائے  اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں، کہ وہ رحمن کی اولاد ثابت کرنے  بیٹھے  ہیں شان رحمن کے  لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے، آسمان زمین میں جو بھی ہیں سب کے  سب غلام بن کر ہی آنے  والے  ہیں۔  (سورہ مریم :۸۸۔۹۳)

سوال  : آپ نے  سابقہ مذہب اور اسلام میں اس کے  علاوہ اور کیا فرق پایا؟

جوا ب : ایک بات اور بھی میں نے  اپنی قوم میں پائی ہے، جس کی اہمیت کا اندازہ مجھے  اس وقت ہوا جب میں اللہ کی وحدانیت سے  متعارف ہوا، میں نے  اپنی قوم کو پایا کہ وہ طہارت نام کی کسی چیز کو جانتے  ہی نہیں ہیں، حد تو یہ ہے  کہ ہم بستر ی کے  بعد بھی اسے  ضروری نہیں سمجھتے  ہیں، میں نے  دیکھا کہ مسلمانوں کے  بعض مشائخ ایک دو کان پر کھڑے  ہیں اور لوگ پاکی سے  متعلق ان کا مذاق اڑا رہے  ہیں، ان لوگوں نے  شیخ صاحب سے  کہا کیا اس کتے  پر غسل فرض ہے  اگر اسے  احتلام ہو جائے  ؟تو شیخ نے  فوراً اسے  جواب دیا یہ تمھارے  ہی جیسا ہے  جو پاکی حاصل نہیں کرتا۔

سوال  : اس کے  علاوہ بھی آپ نے  کوئی بات دیکھی ؟

جوا ب : اور بھی اسی طرح کی بہت سی باتیں ہیں جو میں نے  اپنی قوم کے  اندر پائیں، انھوں نے  اپنی تعلیمات کو بگاڑ دیا، اس میں تحریف و رد و بدل کیا اپنے  پیرو کاروں کو دین کے  نام پر دھوکہ دیتے  رہے  ان کا قیمتی سرمایہ مال و متاع حاصل کرتے  رہے، وہ لوگوں سے  مغفرت اور گناہوں کو دھو دینے  کا وعدہ کرتے  رہے، ان کا کہنا ہے  کہ بنی اسرائیل کے  لوگ جو جی میں آئے  کریں کیونکہ لوگوں کے  نجات دلانے  کے  لئے  خدا نے  اپنے  بیٹے  کو ذبح کرا دیا ہے  ان باتوں کا میں اپنی نگاہوں سے  مشاہدہ کرتا رہا روحانی فادر ہم جیسے  عوام کو نصیحت کرتے  رہے  کہ مسلمانوں کے  ساتھ مت رہو، کیونکہ وہ ہمارے  دشمن ہیں۔

سوال  : پھر آپ نے  اپنی زندگی کا رخ تبدیل کرنے  کا فیصلہ کس طرح کیا ؟

جوا ب : ہمارا ایک دوست تھا جس کا نام طٰہ تھا، میرا تعارف اس سے  چار سال قبل ہوا، وہ اسلام کا بڑا متبع اور اسلامی دعوت سے  والہانہ تعلق رکھتا تھا اس نے  مجھے  قرآن کریم کے  ترجمہ کا ایک نسخہ تحفہ دیا اور قرآن کا مطالعہ خاص طور پر سورہ مریم پڑھنے  کی تاکید کی اور متعدد مرتبہ مجھے  اپنے  گھر بھی لے  گیا، مجھے  ایک ویڈیوکیسٹ دی جس میں حرم مکہ کی نماز کا منظر تھا میں نے  اس میں دیکھا کہ نماز میں سارے  مسلمان برابر ہیں ایک دوسرے  کے  بازو میں کھڑے  ہوتے  ہیں ان کے  درمیان نہ کوئی خط امتیاز ہوتا ہے  نہ فوقیت اور برتری کی جھلک یہ بات چرچ کے  اندر روا رکھے  جانے  والے  گروہی امتیاز، نسلی تفریق اور بد ترین اونچ نیچ کے  بالکل بر عکس تھی، پھر تو میرے  اندر جستجو بڑھ گئی اور میں طہ سے  قریب ہوتا چلا گیا۔

سوال  : پھر آپ نے  اسلام کا اظہار کس طرح کیا ؟

جواب  : طٰہٰ سے  قریب ہونے  کے  بعد مجھے  نزدیک سے  اسلام کو پڑھنے  اور سمجھنے  کا موقع ملا، اور میں نے  ان کے  سامنے  اسلام میں اپنی دل چسپی کا اظہار کیا تو وہ مجھے  جوانوں کی تنظیم ’’القمر دعوت اسلامی ‘‘نامی ادارہ لے  گئے، اور اسلام قبول کرنے  میں میری دستگیری کی

سوال  : اسلام قبول کرنے  کے  بعد آپ کی زندگی میں کیا نشیب و فراز آئے ؟

جواب  : اسلام کو گلے  لگانے  کے  بعد میں عقیدہ توحید کے  سایہ میں پر سکون زندگی گزارنے  کی راہ پر چل پڑا، اب میرے  کاندھے  سے  عقیدہ تثلیث کا بار گراں اتر چکا تھا اور میں ایک دوسرا انسان بن چکا تھا ایسا انسان جو اللہ کے  رب ہونے، اسلام کے  دین برحق ہونے  اور محمد ﷺ کے  نبی و رسول ہونے  اور تمام انبیاء و رسولوں کا ایک پیغام کا حامل ہونے  پر ایمان رکھتا تھا۔جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہی:  ’مِلَّۃَاَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِیْ ھٰذَا (سورہ حج:۷۸)  اپنے  باپ ابراہیم کے  دین کو قائم رکھو، اسی اللہ نے  تمھارا نام مسلمان رکھا ہے۔

اس قرآن سے  پہلے  اس قرآن میں بھی اس کے  بعد میری ایک نئی زندگی شروع ہوتی ہے  میری راہ پہلے  سے  مختلف ہوتی ہے  اور یہ راہ انذار و تبشیر اور دانائی کے  ساتھ اللہ کی طرف بلانے  اور اسلام کی دعوت و تبلیغ کی راہ تھی۔

سوال  : آپ نے  اپنی دعوت اور محنت کا آغاز کہاں سے  کیا؟

جواب  : میں نے  اپنی دعوت اور محنت کا آغاز اپنے  والدین سے  کیا میں ان کے  پاس گیا کہ انھیں اپنے  اسلام قبول کرنے  اور نئے  نام کی اطلاع دوں اور اسلامی عقائد سے  روشناس کراؤں اور اسلام کی باتیں انھیں بتاؤں اور سمجھاؤں۔

سوال  :تو والدین کا رد عمل کیا تھا ؟

جواب  :میرے  والد صاحب نے  حیرانی و استعجاب کے  عالم میں مجھ سے  دریافت کیا آخر کیوں ؟کس وجہ سے  تم نے  اپنے  آباء واجد اد اور بزرگوں کے  دین کو چھوڑا ؟تم آج سے  میری اولاد نہیں، تم آج کے  بعد سے  میرے  پاس مت رہو، البتہ میں نے  والدہ کو ہوش مند اور معقولیت پسند پایا انھوں نے  کہا کہ جون میرا بیٹا عقل مند ہے  اگر وہ اسلام قبول کرنا چاہتا ہے  تو اسے  اپنے  ارادہ کا اختیار ہے، اس جواب کو سن کر والد صاحب نے  ہم دونوں کو مخاطب کرتے  ہوئے  کہا اگر تم اس کے  ساتھ رہنا چاہتی ہو تو چلی جاؤ ، میں تجھے  دیکھنا نہیں چاہتا ہوں۔پھر میں اپنی شریک حیات کے  پاس گیا، میرے  اس سے  دو بچے  تھے  میں نے  اس سے  کہا میرے  پاس بہت ہی عمدہ خبر ہے  اس نے  سوالیہ نگاہ ڈالتے  ہوئے  کہا وہ کیا ہے ؟ میں نے  کہا میرا نام اب طٰہٰ ہے  اور میں مسلمان ہو چکا ہوں، اس نے  کہا میں تیرے  ساتھ رہنا نہیں چاہتی، میں نے  ثابت قدمی سے  جواب دیا اگر تم گھر میں مسلمان کو دیکھنا نہیں چاہتی تو جا سکتی ہو، وہ میرے  پاس سے  نکل گئی اور اپنے  میکے  والوں سے  جا ملی، میرے  ساتھ اس طرح کے  متعدد حالات آتے  رہے  اور آزمائش روز افزوں بڑھتی گئی، والد نے  ترک تعلق کر لیا بیوی نے  ساتھ چھوڑ دیا البتہ ماں غیر جانبدار رہی۔

سوال  :چرچ والوں کا سلوک کیسا رہا؟

جواب :جہاں تک چرچ کے  ذمہ داروں کی بات ہے  تو انھوں نے  پہلے  پانچ لوگوں کو مجھے  چرچ لے  کر آنے  کے  لئے  بھیجا اور یہیں سے  میری مصیبتوں کا دور شروع ہوتا ہے  انھوں نے  مجھے  لالچ بھی دیا اور سبز باغ بھی دکھایا اور بہت سی مراعات کی پیش کش بھی کی، انھوں نے  مجھ سے  کہا، جون کیا تم پاگل ہو گئے  ہو تمہیں پاگل خانے  لے  کر جاؤں ؟تو تم نے  اسلام کیوں قبول کیا؟ہم لوگ دولت مند اور وہ لوگ غریب ہیں تمھیں کیا چاہئے  ؟گھر، بنگلہ، گاڑی یا کچھ اور ؟ پھر انھوں نے  کہا جون وہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے  بارے  میں نہایت باطل اور اہانت آمیز عقیدہ رکھتے  ہیں پھر اس ذمہ دار نے  قرآن کا ایک نسخہ نکالا اور سورہ مریم کھول کر کہنے  لگا دیکھو، یہ لوگ عیسیٰ کے  بارے  میں کہتے  ہیں کہ وہ انسان اور پیغمبر تھے  اور ہمارا ایمان ہے  کہ وہ خدا تھے  تمھارا کیا خیال ہے  ان ساری باتوں کے  باوجود کیا تم اسلام پر باقی رہنا چاہتے  ہو؟ جب میں نے  اثبات میں جواب دیا تو ہمیں دھمکی دینی شروع کی انھوں نے  یہ بھی کہا کہ اس صورت حال میں ہم کسی قیمت پر اس شہر میں تمھاری موجودگی برداشت نہیں کر سکتے، میں نے  جواب میں صرف اتنا کہا آپ مجھے  قتل کر دیں مجھے  پرواہ نہیں میں مسلمان ہوں اور مسلمان رہو گا مجھے  کسی چیز کی کوئی پرواہ نہیں اس مرحلہ سے  گزرنے  کے  بعد میں نے  اپنے  گھر کے  ایک حصہ کو مسجد بنا لیا، اور لوگوں میں اس دین حق کی دعوت عام کرنے  میں لگ گیا اور سب سے  پہلے  میری دعوت کو قبول کرنے  والی میری سابقہ شریک حیات تھی، جو ایک غیر مسلم سے  شادی کر لینے  کے  بعد میرے  پاس لوٹ کر آئی، اور بولی کہ میں مسلمان ہو نا چاہتی ہوں، خواہ تم مجھے  اپنے  پاس رکھو یا نہ رکھو میں نے  اسے  بوسہ دیا اور اسے  گلے  سے  لگا لیا، اور نئی بیوی کے  ساتھ اسے  بھی اپنی زوجیت میں باقی رکھا، اب میرے  پاس دو بیویاں تھیں اور میں دعوت کے  کام کے  لئے  زیادہ فارغ ہو گیا تھا۔

سوال  :آپ کی دعوت کا کیا نتیجہ سامنے  آیا؟

جواب  :الحمد للہ اب تک اس شہر کے  تیس نو جوان میری دعوت قبول کر کے  حلقہ بگوش اسلام ہو کر ہدایت پا چکے  ہیں۔

سوال  :چرچ والوں کا رویہ بعد میں کیسا رہا؟

جواب  :نو جوانوں کو اس طرح اسلام میں داخل ہو تے  دیکھ کر اور میری سرگرمیوں سے  خار کھاتے  ہوئے  چرچ کے  اس ذمہ دار نے  میرا گھر منہدم کر دیا، حالانکہ میں نے  اسے  مسجد بنا دیا تھا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اور تمام اسلام قبول کرنے  والوں کو ثابت قدم رکھے  اور تمام آلام و مصائب پر صبر کرنے  کی توفیق دے  اور ہمیں دین کا مخلص داعی بنائے۔آمین

 

مستفاد از ماہ نامہ’ ارمغان‘ جنوری ۲۰۰۷ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

محترمہ کملا ثریا {کملا داس} سے  ایک انٹرویو

 

فریدہ رحمت اللہ

 

فریدہ رحمت اللہ :ثریا صاحبہ !آپ ہندو مذہب میں پیدا ہوئیں، پلی بڑھیں عمر کے  اس دہا نے  پروہ کو نسی بات تھی، جس سے  متاثر ہو کر آپ نے  اسلام قبول کیا۔

ڈاکٹر کملا ثریا :فریدہ !میں ہندو مذہب کے  کسی بھی رسم و رواج سے  کبھی بھی نہ ہی متاثر ہوئی اور نہ ہی پابند رہی۔تیس سال سے  زیادہ مجھے  اسلام کو سیکھنے  دیکھنے  اور پڑھنے  کا موقع حاصل ہوا، مجھے  ہمیشہ اسلام سے  بے  حد دلچسپی رہی۔اسلامی تہذیب نے  مجھے    بے  حد متاثر کیا۔

سوال  :آپ نے  کہا، متاثر کیا، کس طرح سے  ؟

جواب  :آج سے  تیس سال قبل دو لڑکے  میری زندگی میں آئے۔دونوں مسلمان تھے۔ میں نے  ان دونوں لڑکوں کو اپنے  ساتھ رکھا۔بلکہ وہ بھی میرے  بیٹے  جیسے  ہیں۔میں نے  انہیں تعلیم و تربیت سے  آراستہ کیا۔دونوں کچھ نا بینا بھی تھے۔ان کا چال چلن، برتاؤ، طور طریقہ سے  میں بے  حد متاثر ہوئی۔یہ دونوں لڑکے  جنہیں میں بیٹے  مانتی ہوں میری زندگی کی کا یا پلٹنے  میں ذمہ دار ہیں۔یقیناً میں اسلام کی تعلیمات سے  بے  حد متاثر ضرور ہوں۔

سوال  :آپ نے  آپ کے  لے  پالک بیٹوں کا ذکر کیا۔ان کی تعلیمی قابلیت کیا ہے ؟آج کل وہ کہاں ہیں اور کیا کر رہے  ہیں ؟

جواب  :ایک بیٹے  کا نام عنایت ہے۔یہ پڑھ لکھ کر بیرسٹر بن گیا۔اب کلکتہ میں ہے۔ دوسرا لڑکا ارشاد ہے۔پروفیسر آف انگلش ہے۔گورنمنٹ کالج دارجلنگ میں سروس کر تے  ہیں۔

سوال  :ہندو مذہب میں عورت کو (Symbol of goddess) کہا گیا ہے، مخالفِ اسلام کہتے  ہیں ہندو مذہب میں عورت کی بے  حد قدر ہوتی ہے۔ایسے  مقام کو چھوڑ نے  کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟

جواب  :مجھے  خدا نہیں بننا تھا، مجھے  صرف ایک اچھی انسان بننا تھا، میں نہیں چاہتی میں بت بنوں اور میری پوجا ہو۔مجھے  صرف ایک اللہ کی بندی بن کر زندگی گزارنا ہے۔

سوال  :غلط پروپیگنڈہ ہے  کہ اسلام میں عورت کا کوئی مقام نہیں، عورت آزاد نہیں، یہ مرد کا جہاں ہے۔آپ ان غلط خیالات کو کیا کہنا چاہیں گی؟

جواب  :پتہ نہیں !لیکن اسلام میں رہ کر میں آزاد ہوں، میں اپنی مرضی کی مالک ہوں۔ اگر آپ تیرا کی کے  لباس میں (Swim Suit) میں پبلک مقامات پر نہانا گھومنا، پھرنا اور بیوٹی کانٹسٹ کے  نام پر عورت کو برہنہ کرنا، اس کے  جسم کی نمائش کرنا، عورت کے  بدن کی ناپ تول اور جانچنا، اگر یہ آزادی ہے  تو میں ایسی آزادی پر لعنت بھیجتی ہوں۔اسلام میں عورت کا مقام بہت بلند اور محفوظ ہے۔

سوال  :آپ ہمیشہ پردہ میں رہتی ہیں آپ کو اس میں کیا خوبی نظر آئی ؟

جواب  :میں پردہ کو عورت کے  لئے  تحفظ مانتی ہوں۔برقع میں عورت کے  ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاتی۔میں تیس سال قبل ہی برقع استعمال کرتی تھی۔جو عورت حجاب میں رہتی ہے  اسے  سماج معاشرہ عزت اور قدر کی نظر سے  دیکھتا ہے  لیکن برقع کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہئے۔

سوال  :کیا پردہ عورت کا مقام اونچا کرتا ہے  ؟

جواب  :یقیناً۔میں جب بھی سفر کرتی ہوں مکمل طور سے  پردہ کرتی ہوں خود کو پردے  میں مکمل محفوظ سمجھتی ہوں۔پردہ سے  عورت کا وقار اور عظمت بڑھ جاتی ہے۔

سوال  :(Polygamy) خاندانوں اور سماج کے  لیے  رحمت ہے  یا زحمت، اکثر اس کے  غلط تصویر پیش کی جاتی ہے۔ان باتوں میں میڈیا پیش پیش رہتا ہے۔اکثر اس کا غلط فائدہ بھی اٹھایا گیا ہے۔آپ کیا کہیں گی۔

جواب  : شریعت میں ہے  اجازت ہے  تو بالکل صحیح ہے۔کس کی مجال شریعت کی مخالفت کرے  میں کہوں گی ایک مرد اگر ایک سے  زائد عورت کی دیکھ بھال کر سکتا ہے، اس کی حفاظت کر سکتا ہے، اس عورت کے  ساتھ انصاف کر سکتا ہے، اسے  معاشرہ میں عزت کا مقام دلا سکتا ہے  تو اس میں برائی کیا ہے  شادی کا مطلب صرف ایک دوسرے  کو حاصل کرنا نہیں۔ کسی بے  سہارا کو اگر سہارا مل رہا ہے  تو میں اسے  برا یا غلط نہیں مانتی۔کوئی وجہ نہیں Polygamy کو Condemnکیا جائے۔دوسرے  مذاہب میں بیوہ عورت کو منحوس سمجھا جاتا ہے   اسے  غیر ضروری چیز سمجھ کر دھتکار دیا جاتا ہے۔اگر بیوہ عورت کے  ساتھ نکاح کر کے  اسے  اچھی زندگی دی جاتی ہے  تو Condemnکرنے  والی کوئی وجہ نہیں۔

سوال  :پڑوسی ملک کے  بارے  میں کچھ ؟

جواب  :ہمارے  وزیر اعظم بہت ہی اچھے  انسان ہیں۔کچھ باہر کے  لوگ اور میڈیا بھی اکثر غلط پروپگنڈہ کر کے  دونوں ممالک کے  درمیان غلط فہمی پیدا کرتے  ہیں۔کوئی کہتا ہے  پاکستانی ہمارے  دشمن ہیں کسی نہ کسی طریقے  سے  لوگوں کو ایک دوسرے  کے  خلاف جذباتی بنا دیتے  ہیں۔یہ غلط بات ہے  دونوں طرف سے  امن کی پیار و محبت کی تعمیری بات ہونی چاہیے  تاکہ دونوں ملک میں امن ہو دوستی بڑھے  پیار بڑھے  تاکہ ملک ترقی کر سکے۔

سوال  :کیا ہندومسلم ایک دوسرے  کے  مخالف ہیں ؟

جواب  :بالکل بھی نہیں۔ان دونوں سے  اچھا دوست کوئی اور ہو ہی نہیں سکتایہ آگ بہت پہلے  انگریز لگا کے  گئے  ہیں یہ غلط فہمی ہے۔انگریزوں ہی نے  یہ افواہ اڑائی اور شور مچا دیا۔

سوال  :آپ نے  قبول اسلام کی اطلاع دی تو آپ کے  والدین بچوں اور رشتہ داروں کا رویہ کیا رہا؟

جواب  :میرے  والد نہیں رہے۔والدہ عمر کی اس دہلیز پر ہیں، جہاں انہیں کوئی کسی بات کا احساس نہیں ہوتا۔

میرے  بچے  بہت سمجھدار ہیں، ہاں میرے  رشتے  داروں کو ضرور شاک لگا تھا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ میں نے  اسلام قبول کیا بلکہ میں جو پردہ کرتی ہوں۔یہ بات انہیں تھوڑا الگ لگتی ہے۔پردہ والی بات کچھ کھٹکتی ہے  ورنہ میرے  گھر میں کسی کو اعتراض نہیں۔

سوال  :آپ ہمیشہ پردہ میں رہتی ہیں ؟

جواب  :میں سمجھتی ہوں جب اسلام قبول کیا ہے  تو مکمل طور سے  پابند رہوں، فرمانبردار اور اطاعت گزار رہوں I should be totally surrendered Not Halfly    میں مانتی ہوں اللہ ایک ہے، ساری دنیا کا نظام اسی کے  ہاتھ میں ہے، وہی وحدہ لاشریک ہے۔

سوال  :قبول اسلام کے  بعد آپ کیسا محسوس کرتی ہیں ؟

جواب  :خود کو ایک دم ہلکا پھلکا محسوس کرتی ہوں۔پہلے  جیسے  میں ایک ’’نابینا ‘‘تھی۔روشنی سے  محروم تھی۔شاید میری باطن کی آنکھیں بند تھیں۔اب لگتا ہے  ایک اندھے  کو روشنی مل گئی اور میرے  ذہن کے  دریچے  جو بند تھے  کھل گئے  ہیں۔میں اب بالکل مطمئن ہوں اور بے  حد خوش ہوں۔میری خوشیاں اب Positiveہیں میں ایک دم سے  مضبوط ہو گئی ہوں۔

سوال  :اسلام میں طلاق اور خلع کی جو سہولتیں ہیں یا آسانیاں ہیں، اس کے  بارے  میں آپ کیا کہیں گی؟

جواب  :یہ تمام آپس کے  ذاتی مسائل ہیں، جب میاں بیوی میں آپس میں ان بن، تک ondiسٹ کے  نام پر عورت کو بر و رار، لڑائی جھگڑے  مسلسل ہونے  لگتے  ہیں۔میاں بیوی ایک دوسرے  سے  نفرت کرنے  لگتے  ہیں۔دونوں کو ایک ساتھ زندگی گزارنا دشوار لگتا ہے۔ایسے  میں طلاق یا خلع کے  ذریعہ بات کو آسانی سے  ختم کیا جا سکتا ہے۔میں کہنا چاہوں گی کہ اکثر خواتین بھی مرد کو اس کی طاقت سے  زیادہ فرمائشوں کا بوجھ ڈال کر غیر ضروری چیزوں کی چاہ میں نفرت کے  دروازے  کھولنے  لگتی ہیں۔

“Sometime  women  take men for  granted “یہ غلط بات ہے۔بہت سے  حضرات میرے  پاس ایسی شکایت لے  کر آتے  ہیں۔بیوی کو اپنے  شوہر کی آمدنی دیکھ کر فرمائش کرنی چاہئے  اور دونوں کو آپس میں مل جل کر پیار محبت سے  خوش حال زندگی بسر کرنے  کی کوشش کرنی چاہئے۔

سوال  :آپ نے  مغربی ممالک کا سفر بھی کیا ہے  ان ممالک میں اسلام کا موازنہ دوسرے  مذاہب سے  یا انکے  ساتھ آپ کو کیسا لگا؟

جواب  :جرمنی میں مومنٹ بہت مضبوط ہے۔ویسے  بھی ساری دنیا میں اسلام کی تعلیمات اور تبلیغ کا کافی اثر پڑا ہے، لوگ اسلام کو جاننے  کے  خواہشمند اور بے  چین رہتے  ہیں۔ جب میں نے  ابھی مذہب نہیں بدلا تھا، میرے  بہت سے  خدا تھے  (استغفر اللہ)جب میرا بچہ بیمار ہو جاتا تو ڈاکٹر کی دوا کے  بعد دعا کی بھی ضرورت پڑتی ہے، مجھے  نہیں معلوم تھا کس خدا کے  پاس مانگوں۔کیوں کہ ہر ایک کے  لئے  الگ الگ بھگوان ہوتا ہے، میں پریشان ہو جاتی تھی۔اسلام میں ساری دنیا کا مالک اللہ ہے۔جو صرف ایک ہے  جو سب کی سنتا ہے  وحدہ لاشریک ہے۔بس اسی سے  مانگو۔

سوال  :آپ ایک مشہور بین الاقوامی شاعرہ اور مصنفہ بھی ہیں ؟کہا جا سکتا ہے  کہ آپ کو نوبل ایوارڈ ملتے  ملتے  رہ گیا، کیا وجہ تھی؟ ۱۹۸۴ء میں آپ کے  ساتھ ٹارگیٹ بورسی، ’’ذوریسلیزنگ‘‘اور نندین گارڈ سیز بھی تھے ؟

جواب  :میری بد نصیبی۔دوسری بات یہ کہ اس وقت ایک اور اچھا شاعر ابھی آپ نے  نام  لیا شامل تھا۔انہیں کینسر تھا۔یہی وجہ تھی کہ نوبل ایوارڈ اس وقت انہیں دیا گیا، ایوارڈ لینے  کے  چند ماہ بعد وہ چل بسے، اکثر ایک سے  زیادہ بار Nominateہونا ضروری ہوتا ہے۔ سوال  :اسلام ہی واحد مذہب ہے۔اس کا یقین آپ کو کیسے  ہوا؟

جواب :میں برسوں تمام مذاہب کا مطالعہ کرتی رہی۔مجھے  لگا دوسرے  مذاہب میں کئی جگہ کی بنیاد کھوکھلی ہے۔اسلام کی بنیاد بے  حد مضبوط اور مستحکم ہے  اس میں امن ہے، سچائی ہے  سکون ہے۔

فریدہ: آپ نے  بالکل ٹھیک فرمایا۔اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔جامع نظام زندگی ہے  کمزوروں کا محافظ اور مظلوموں کا ہمدرد ہے۔

سوال  :ایک اور آخری سوال آپ کا پیغام ہندو اور مسلم بہنوں کے  لئے ؟

جواب  : بس ایک دوسرے  سے  پیار کرو، پیار محبت میں سکون ہے، ترقی ہے، راحت ہے، امن ہے  میں کہوں گی جہاں پیار نہیں، وہ جگہ دوزخ ہے۔جس جگہ دلوں میں ایک دوسرے  کے  لئے  پیار ہے  وہ جگہ جنت ہے۔جہاں امن ہے  سکون ہے۔

سوال  :آخری بات لوگ کہتے  ہیں کہ آپ کے  قبول اسلام کے  پیچھے  کسی مرد ’’آدمی ‘‘کا ہاتھ ہے، اگر ہے  تو ہم جاننا چاہیں گے  کہ وہ کون ہیں ؟

جواب  :بالکل صحیح سنا ہے  آپ نے۔یقیناً اس کے  پیچھے  آدمی کا ہاتھ ہے  اور وہ ہیں محمد ﷺ یہ اللہ کے  بندے  اور رسول ہیں آپ ہی کی وجہ سے  میں ایمان لے  آئی اور اسلام قبول کیا اس ایک آدمی کی تعلیمات نے  میری زندگی کی کایا پلٹ دی۔

سوال  :آپ نے  کہا آپ تیس سال سے  اسلام سے، اسلامی تہذیب سے  متاثر تھیں، ظاہر کرنے  میں اتنے  برس کیوں لگے، کسی کا ڈر یا کوئی وجہ؟

جواب  :میں سوائے  اللہ کے  کسی سے  نہیں ڈرتی۔اللہ کی بندی ہوں، شاید صحیح وقت کا انتظارتھا

سوال  :آپ صوم وصلوٰۃ کی پابند ہیں ؟

جواب  :بالکل صوم و صلوٰۃ کی پابند ہوں اور رات میں تین بجے  اٹھتی ہوں، تہجد کے  ساتھ پنجگانہ بھی پابندی سے  ادا کرتی ہوں۔ہمارے  گھر میں صبح سویرے  امام صاحب پڑھانے  آتے  ہیں، جن سے  میں اسلام کی تعلیم حاصل کر رہی ہوں (امام صاحب سے  ہماری ملاقات صبح کو ثریا صاحبہ کے  ہی گھر پر ہوتی تھی)قرآن پاک پڑھتی ہوں ابھی خاص آواز سے  پڑھنا سیکھ رہی ہوں۔

سوال  :’’کیرلا‘‘مسلمان ‘‘اور ’’سیاست‘‘کچھ Comments؟

جواب  :کیرلہ کی ترقی میں 85%فی صد یہاں کے  مسلمانوں کا ہاتھ اور ساتھ رہا ہے۔ یہاں کی ترقی کے  لئے  مسلمان پیسہ پانی کی طرح بہاتے  ہیں۔یہاں پر مسلم لیگ ہمیشہ جیت کر آتی ہے  لیکن یہ لوگ کبھی بھی مسلم طبقے  کے  مسائل کو لے  کر سنجیدہ نہیں ہوتے  نہ ہی کچھ کرتے  ہیں۔میں چاہتی ہوں کہ کیرلا میں مسلمان سنجیدگی سے  مسلمان وزیر اعلیٰ کی مانگ کریں۔بلکہ Demandکریں۔اب وقت آ گیا ہے  یہ انصاف کا تقاضہ ہے۔ یہاں کا وزیر اعلیٰ مسلمان ہونا چاہئے۔یہ ان کا حق ہے۔یہاں کی معیشت مسلمانوں کی وجہ سے  سدھری ہے  اور سنوری بھی ہے۔مسلمانوں کو آگے  بڑھ کر اپنے  حقوق کی مانگ کرنا اور منوانا ضروری ہے۔

سوال  :مستقبل کے  بارے  میں کوئی خواہش؟

جواب  :کیرلا کی سیاست میں تبدیلی لائی جائے، میں چاہتی ہوں، بزرگ خواتین کے  لیئے  ایک گھر بناؤں، اس گھر میں عبادت کا انتظام ہو۔ایک مسجد بناؤں اور عربی مدرسہ بھی ان بزرگوں کی خدمت کروں۔انہیں وہ تمام پیار دوں جو ان کے  اپنوں نے  کبھی بھی نہ دیا، جب باہر نکلتی ہوں تو دیکھتی ہوں کتنی بے  سہارا عورتیں سڑکوں کے  کنارے  فٹ پاتھ پر بے  یار و مدد گار رہتی ہیں، ان کے  کام آؤںانہیں تمام اپنے  گھروں میں جگہ دوں، میں سمجھتی ہوں مسلم خواتین سماجی کام بہترین طریقے  سے  کر سکتی ہیں، جو سہولیات بھی دوسری جگہ نہیں ہیں، جو بھی زندگی رہ گئی ہے  اسے  قوم و ملک کی بھلائی میں صرف کروں یہی آرزو ہے۔

 

مستفاد از ماہ نامہ’ ارمغان‘اپریل  ۲۰۰۳ء

٭٭٭

 

 

 

 

مائیکل جیکسن کے  بھائی جرمین جیکسن سے  انٹرویو

 

نامعلوم

 

سوال  : کب اور کس طرح آپ کے  اسلامی سفر کی ابتداء ہوئی؟

جواب :  ۱۹۸۹ء میں میں اور میری بہن جب مشرقی وسطیٰ کے  سفر سے  واپس ہوئے  بحرین میں قیام کے  دوران ہمارا پرجوش استقبال ہوا۔وہاں میں چند بچوں سے  ملا اور گفتگو کی میں نے  ان سے  مختلف سوال کئے  اور وہ معصومانہ معلومات پیش کرنے  لگے۔بات چیت کے  دوران انہوں نے  میرے  مذہب کے  بارے  میں دریافت کیا ’’میں عیسائی ہوں ‘‘ میں نے  جواب دیا، اور ان کے  مذہب کے  بارے  میں معلوم کیا انہوں نے  ایک آواز میں جواب دیا اسلام !ان کے  بر جستہ اور یقین سے  بھرپور جواب نے  مجھے  ہلا دیا انہوں نے  مجھے  اسلام کے  بارے  میں بتانا شروع کیا ان کی آواز کا زیرو بم بیان کر رہا تھا کہ ان کو اسلام پر فخر ہے۔اس طرح میں اسلام کی طرف متوجہ ہوا۔

بچوں کے  ساتھ اس معمولی سی گفتگو نے  مجھے  مسلم علماء کے  ساتھ بحث و مباحثے  کی راہ دکھائی، ان کے  اس والہانہ وعاشقانہ جواب نے  مجھے  ہلا دیا میرے  اندر اتنی ہمت واستطاعت نہ رہی کہ میں اس واقعے  کو چھپالیتا بالآخر میں نے  اپنے  فیملی دوست قمر علی سے  اس واقعہ کو ذکر کیا۔قمر علی مجھے  سعودی عرب کے  دارالسلطنت ریاض لے  گئے  وہاں سے  ایک سعودی خاندان کے  ساتھ میں نے  عمرہ کیا اور پہلی بار اپنے  مسلمان ہونے  کا اعلان کیا

سوال  : مسلمان ہونے  کے  بعد آپ کے  کیا جذبات تھے ؟

جواب  : قبول اسلام کے  بعد میں نے  خود کو نومولود محسوس کیا میں نے  اسلام میں ان سب سوالات کے  جوابات پائے  جو میں نے  عیسائیت میں نہیں پائے  تھے  بطور خاص حضرت عیسیٰ کی ولادت سے  متعلق اسلام نے  مجھے  تشفی بخش جواب دیا۔پہلی بار میں مذہب کے  بارے  میں مطمئن ہوا میں اللہ سے  دعا ء کرتا ہوں کہ میرا خاندان بھی اس حقیقت سے  واقف ہو میری فیملی عیسائیت کے  (Avedance of jehova)مسلک کی پیروکار ہے  اس عقیدے  کے  مطابق صرف ایک لاکھ چوالیس ہزار لوگ ہی جنت میں داخل ہوں گے۔یہ کیسے  ممکن ہے ؟ مجھے  ہر وقت یہ عقیدہ حیران کن معلوم پڑتا تھا یہ جان کر کہ بائبل کو مختلف لوگوں نے  جمع کیا ہے  مجھے  بڑا تعجب ہوا خاص طور پر ایک جلد کے  سلسلے  میں جس کو شاہ جیمس نے  تالیف کیا ہے۔مجھے  حیرت ہے  کہ وہ خود ڈائر کٹری کی تالیف کرتا ہے  اور خدا کو سبب مانتا ہے  اور خود اس پر مکمل طریقے  سے  عمل پیرا نہیں ہوتا۔سعودی عرب میں قیام کے  دوران میں نے  مشہوربرطانوی پوپ سنگر حالیہ مسلم مبلغ یوسف اسلام (Cat stenvens)کا ایک آڈیوکیسٹ خریدا جس سے  مجھے  اسلام کے  بارے  میں مزید معلومات حاصل ہوئیں۔

سوال  : قبول اسلام کے  بعد امریکہ واپسی پر کیا رد عمل ہوا؟

جواب : امریکہ واپسی پر امریکی میڈیا نے  اسلام اور مسلمانوں کے  خلاف وحشیانہ پروپگنڈہ برپا کر دیا افواہوں کی گرم بازاری سے  مجھے  ڈسٹربینس ہوا مسلمانوں کو دہشت گرد کہا جانے  لگا اگر چہ بہت سی باتوں میں اسلام اور عیسائیت ہم آہنگ ہیں۔جیسے  کہ قرآن حضرت عیسیٰ کو ایک مقدس پیغمبر کہتا ہے۔اس کے  باوجود مجھے  تعجب ہوا کہ عیسائی امریکہ مسلمانوں کے  خلاف بے  بنیاد باتیں کرتا ہے۔میں نے  ان مایوسی کے  ایام میں ذہنی طور پر مسلمانوں کی غلط امیج کی درستگی کا عہد کیا جوامریکی میڈیا نے  پیش کی ہے  مجھے  بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ امریکی ذرائع ابلاغ میرے  قبول اسلام کی خبر کو ہضم نہیں کریں گے  بلکہ واویلا مچا دیں گے  آزادی رائے  آزادی ضمیر کا بھی انہوں نے  لحاظ نہ کیا امریکی معاشرہ کا منافقانہ رویہ میرے  سامنے  آ گیا قبول اسلام کے  بعد میری زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی آئی اور حقیقت تو یہ ہے  کہ اس کے  بعد سے  ہی میں نے  انسانیت کو سمجھا میں نے  ممنوعات سے  پرہیز کیا جس  سے  اہل خانہ کی مشکلیں بڑھ گئیں میری مختصر فیملی پریشانی کے  عالم میں مبتلا ہو گئی دھمکی بھرے  خطوط آنے  لگے  جن سے  ہماری فیملی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔

سوال  : کس طرح کی دھمکیاں ؟

جواب  : مثلاًوہ کہنے  لگے  کہ میں نے  امریکی تہذیب و معاشرے  کے  وقار کو مجروح کیا ہے  اسلام کی گود میں بیٹھنے  سے  تم دوسروں کے  ساتھ اپنے  حقوق سے  دست بردار ہو گئے  ہوہم تمہاری زندگی دوبھر کر دیں گے، لیکن مجھے  یقین تھا کہ ہمارا خاندان کشادہ ذہن ہے  ہم نے  ایسے  ماحول میں آنکھیں کھولیں جہاں تمام مذاہب کو یکساں نظر سے  دیکھا جاتا تھا، ہمارے  ماں باپ نے  اسی سانچے  میں ہماری پرورش کی تھی اس لئے  میں کہہ سکتا ہوں کہ جیکسن فیملی کے  تمام مذاہب کے  لوگوں سے  دوستانہ تعلق رہے  ہیں میرے  ساتھ جو سلوک کیا جا رہا تھا یہ اس کا واضح ثبوت ہے۔

سوال  : آپ کے  بھائی مائیکل جیکسن کا کیا رد عمل تھا؟

جواب  : امریکہ واپسی پر میں سعودی عرب سے  بہت ساری کتابیں لے  کر آیا جن میں سے  کچھ کتابیں مطالعہ کے  لئے  مائیکل نے  لیں اس سے  قبل امریکی میڈیا کے  اسلام اور مسلمانوں کے  خلاف پھیلائے  ہوئے  پروپگنڈے  سے  وہ متاثر تھا نہ تو وہ اسلام کے  خلاف تھا اور نہ فیور میں، ان کتابوں کے  مطالعہ کے  بعد اس نے  مسلمانوں کے  خلاف کچھ بھی کہنے  سے  پرہیز کیا۔کتابوں کے  مطالعہ کے  اثر سے  اس نے  مسلم تاجروں کے  ساتھ تجارتی تعلقات بڑھائے  اور اب وہ سعودی کھرب پتی شہزادہ ولید بن تلال کی ملٹی نیشنل کمپنی میں برابر کا حصہ دار ہے۔

سوال  : اس وقت مائیکل کے  بارے  میں یہ افواہ کہ مسلمان ہو گیا ہے۔حقیقت کیا ہے  ؟

جواب  :میرے  علم کے  مطابق مائیکل نے  اپنی حیات میں مسلمانوں کے  خلاف کوئی بات نہیں کہی اس کے  نغمے  دوسروں سے  پیار کرنے  کا پیغام دیتے  ہیں ہم نے  اپنے  والدین سے  دوسروں سے  پیار کرنا سیکھا ہے  جب میرے  مسلمان ہونے  پر میرے  خلاف اتنا واویلا ہو سکتا ہے  تو مائیکل کے  خلاف کیوں نہیں ہو سکتا؟لیکن ابھی تک میڈیا نے  اس کو سب و شتم کا نشانہ نہیں بنایا ہے  اگر چہ اسلام سے  نزدیکیوں کی وجہ سے  اس کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں لیکن وہ جانتا ہے  کہ کل مائیکل جیکسن اسلام قبول کر لے  گا۔

سوال  : آپ کی فیملی کا آپ کے  بارے  میں کیا نظریہ تھا؟

جواب  :امریکہ واپسی پر میری والدہ کو میرے  قبول اسلام کی اطلاع ہو چکی تھی میری والدہ مذہبی و شائستہ خاتون ہیں گھر پہنچنے  پر انہوں نے  مجھ سے  صرف ایک سوال کیا ’’تمہارا یہ فیصلہ وقتی ہے  یا سوچ سمجھ کر تم نے  یہ قدم اٹھایا ہے  ‘‘’’میں نے  غور و فکر کے  بعد یہ فیصلہ کیا ہے  ‘‘ میں نے  جواب دیا۔ہمارا خاندان ایک مذہبی خاندان کے  طور پر جانا جاتا ہے  جو کچھ ہم کرتے  ہیں یہ اللہ کی رحمت ہے  تو ہمیں اس کا شکریہ ادا کیوں نہیں کرنا چاہیے  ؟اس وجہ سے  بھی کہ ہم چیرٹی انسٹی ٹیوٹ میں حصہ لیتے  ہیں اسپیشل ہوائی جہاز کے  ذریعہ غریب افریقی ممالک کو دوائیاں بھیجتے  ہیں بوسنیا جنگ کے  دوران ہمارا ائیر کرافٹ متاثرین کو مدد سپلائی کرنے  میں جٹ گیا تھا۔

سوال  :کیا آپ نے  کبھی اپنی پوپ اسٹار بہن جینٹ جیکسن سے  بھی اسلام کے  بارے  میں گفتگوکی ؟

جواب  :فیملی کے  دوسرے  لوگوں کی طرح اس کے  لئے  بھی میرا قبول اسلام تعجب خیز تھا شروعات میں وہ دکھی ہوئی اس نے  اپنے  دماغ میں یہ بات بٹھالی تھی کہ مسلمان شہوت پسند ہیں مثلاً وہ چار بیویاں رکھتے  ہیں لیکن میرے  وضاحت کرنے  پر اور اسلام کے  قانون کا موازنہ موجودہ امریکی معاشرے  سے  کرنے  پر وہ مطمئن ہو گئی یہ حقیقت ہے  کہ مغربی معاشرے  میں بے  راہ روی اور بے  وفائی عام بات ہے  شادی شدہ ہونے  کے  باوجود مغربی مرد متعدد عورتوں سے  جنسی تعلقات رکھتے  ہیں۔اس معاشرہ میں اخلاقیات کو دھچکا لگتا ہے  اسلام تباہی سے  معاشرے  کو محفوظ رکھتا ہے  اسلامی تعلیم کے  مطابق اگر کوئی شخص جذباتی طور پر کسی عورت کا گرویدہ ہو جائے  تو اس کو چاہئے  کہ باعزت طریقے  سے  اپنے  تعلقات کو قانونی سانچے  میں ڈھالے  ورنہ ایک عورت سے  زیادہ کی جرات نہ کرے  اس کے  علاوہ اسلام نے  دوسری شادی کے  لئے  جو شرائط متعین کئے  ہیں عام مسلمان ان کو اقتصادی طور پر پورا کرنے  سے  قاصر ہے  مشکل سے  مسلم دنیا میں ایک فیصد مسلمان ہوں گے  جنہوں نے  ایک سے  زیادہ شادیاں کی ہیں۔میری رائے  میں اسلام میں عورت کی حیثیت اس پھول کی طرح ہے  جو کانٹوں میں محفوظ رہتا ہے  دیدہ زیب اور خوش آئندلیکن مغربی معاشرہ اس دانش مندی اور فلسفے  سے  محروم ہے۔

سوال  :مسلم معاشرے  کے  بارے  میں آپ کے  ذاتی تاثرات کیا ہیں ؟

جواب  :انسانی ہمدردی روئے  زمین پر سب سے  زیادہ مسلم معاشرے  میں ہے  میرا یقین ہے  کہ وہ وقت آئے  گا جب دنیا اس حقیقت سے  واقف ہو گی۔انشاء اللہ تعالیٰ۔

 

مستفاد از ماہ نامہ’ ارمغان‘جنوری  ۲۰۰۴ء

٭٭٭

 

 

 

 

کرکٹ کی دنیا کے  معروف کھلاڑی محمد یوسف (یوسف یوحنا) کا قبول اسلام

نامعلوم

 

ایں سعادت بزوربازونیست

تانہ  بخشد  خدائے   بخشندہ

یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے  کہ وہ جس کو چاہے  عطا فرمادے، کھیلوں کی دنیا میں باکسنگ کے  عالمی چیمپین امریکہ کے  محمد علی دور حاضر میں شاید پہلے  کھلاڑی تھے، جنھیں اللہ تعالیٰ نے  اسلام کی حقانیت سے  روشناس کرایا، اور اب محمد یوسف (سابق یوسف یوحنا ) کو کرکٹ کی دنیا میں سب سے  پہلے  یہ اعزاز بخشا کہ نہ صرف وہ خود ایمان کی نعمت سے  سرفراز ہوئے  بلکہ اپنی شریک حیات کو بھی اس دولت سے  مالا مال کیا، وہ کافی عرصہ تک اپنے  قبول اسلام کے  اعلان کو محض اس لئے  ٹالتے  رہے  کہ ان کی خواہش تھی کہ ان کے  والدین بھی اس اعزاز میں ان کے  شریک ہوں، مگر جب یہ ممکن نہ ہو سکا تو آخر یوسف یوحنا نے  اپنے  محمد یوسف اور اہلیہ تانیہ کے  فاطمہ بننے  کے  راز کو بے  نقاب کرنے  کا مشکل فیصلہ بھی کر ہی ڈالا۔

یوسف ۲۸/اگست ۱۹۷۴ء کو لاہور میں پیدا ہوئے  اور ریلوے  ہیڈ کوارٹر گڑھی شاہوکے  علاقہ میں اپنے  بچپن کے  دن گذارے، اسے  اوائل عمری ہی سے  تعلیم اور روزگار کے  بجائے  کرکٹ سے  جنون کی حد تک دل چسپی تھی، علاقہ میں اسے  ’کا کا‘ کے  نام سے  جانا جاتا تھا، اس کے  والد اگر چہ نہایت غریب تھے  مگر ان کی خواہش  تھی کہ بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے، مگر بیٹے  کے  تیور کچھ اور ہی تھے، والد نے  مارپیٹ کر دیکھ لیا، مگر کچھ اثر نہ ہوا، آخر تنگ آ کر والد نے  ٹیلر نگ کا کام سکھانے  کے  لئے  ایک درزی کی دوکان پر شاگرد رکھوا دیا مگر   ؎

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

یوسف یہاں سے  بھی اکثر غائب ہو جاتا اور تلاش پر اس کا سراغ کرکٹ گراونڈ میں ملتا، والد نے  تنگ آ کر اسے  اس کے  حال پر چھوڑ دیا اور پھر آخر ایک دن اس کا شوق، محنت اور لگن رنگ لائی، اور ترقی کی منزل لیں طے  کرتا ہو ا ایک دن وہ قومی کرکٹ ٹیم میں اپنا مقام بنانے  میں کامیاب ہو گیا اور 1997-98میں ڈربن میں جنوبی افریقہ کے  خلاف دوسرے  ٹیسٹ میچ میں کھیلتے  ہوئے  ٹیسٹ کیپ حاصل کی، جس کے  بعد سے  وہ اب تک 59ٹیسٹ میچ کھیل کر 4272رن اسکور کر چکاہے، جب کہ 195ایک روزہ میچوں میں 8714رن بنا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواچکاہے۔

گذشتہ دنوں اخبارات میں یوسف کے  قبول اسلام کی خبر شائع ہوئی تو اس نے  کہا کہ وہ اپنے  قبول اسلام کا اعلان کھلے  بندوں کرے  گا چنانچہ ہفتہ کے  دن ۱۷/ستمبر کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں جاری کرکٹ ٹریننگ  کیمپ کے  دوران اس نے  ٹیلیوزن کے  سابق اداکار محمد نعیم بٹ کی امامت میں اپنے  دیگر ساتھیوں کپتان انضمام الحق، شاہد آفریدی اور عبدالرزاق وغیرہ کے  ہمراہ کھلے  عام نماز مغرب با جماعت ادا کر کے  اپنے  قبول اسلام کے  راز سے  پردہ اٹھایا، محمد یوسف نے  باقاعدہ دین حق کو قبول کرنے  کا اعلان کرتے  ہوئے  صحافیوں کو بتایا کہ الحمد للہ میں مسلمان ہوں اور میں نے  مسلمان ہو کر اپنے  ذہن سے  بہت بڑا بوجھ اتار دیا ہے، اگر چہ میں نے  تین سال قبل اسلام قبول کر لیا تھا لیکن چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر اعلان نہیں کر سکا تھا۔میں چاہتا تھا کہ میرے  والدین اور دوسرے  گھر والے  میرے  ساتھ اسلام قبول کرنے  کا اعلان کریں جن کو میں اعتماد میں لینے  کی کوشش کرتا رہا لیکن وہ نہیں مانے، جب کہ میری اہلیہ مان گئی اور ہم نے  بچوں کے  ہمراہ اسلام قبول کر لیا مجھے  اپنے  گھروالوں کی فکر ضرور ہے  لیکن اللہ پر بھی یقین ہے  کہ وہ جو بھی کر ے  گابہتر کرے  گا، اگر مسلمان حضور پاک ﷺ کی سیرت پر عمل کرنا شروع کر دیں تو خدا کی قسم پاکستان سمیت دنیا بھر میں کوئی بھی غیر مسلم نہیں رہے  گا۔انھوں نے  کہا کہ میں کہیں چھپا ہو ا نہیں ہوں، کھلے  عام پھر تا ہوں میرے  اسلام قبول کرنے  میں میرے  دوستوں کرکٹر زکا بہت بڑا ہاتھ ہے  جو مجھے  اسلام کی تعلیمات دیتے  رہے، آج الحمد للہ میں اور میری اہلیہ پانچ وقت کی نماز پڑھتے  ہیں اور خدا سے  دعا کرتے  ہیں کہ وہ پوری دنیا کو ہدایت دے، کر کٹر محمد یوسف نے  کہا کہ مجھ پر کسی قسم کا دباؤنہیں اور نہ کسی کا ڈر وخوف ہے، میں نے  سیدھا راستہ اپنایا ہے، اس پر مجھے  فخر ہے، میں نے  دو ماہ قبل عمر ہ کی سعادت بھی حاصل کی ہے  اور غیر ملکی دوروں کے  دوران نمازیں بھی پڑھتا تھا، انھوں نے  کہا کہ فی الحال میں قرآن پاک کا ترجمہ پڑھ رہا ہوں، جب کہ عربی پڑھنے  کیلئے  وہ حافظ قرآن کی رہنمائی لے  رہے  ہیں، ایک سوال کے  جواب میں محمد یوسف نے  کہا کہ میری خواہش ہے  کہ جب مجھے  موت آئے  تو مجھے  کلمہ طیبہ نصیب ہو، میں نے  اپنی اہلیہ اور بچوں کو بھی دینی تعلیم دلانا شروع کر دی ہے  آخر میں انھوں نے  دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میرے  والد ین کو بھی اسلام قبول کرنے  کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

محمد یوسف کی اہلیہ فاطمہ بھی اپنے  اور اپنے  شوہر کے  فیصلہ پر بہت فرحاں اور شاداں اور مطمئن ہیں، صحافیوں کے  رابطے  پر فاطمہ نے  بتایا کہ ہم نے  کسی دباؤکے  تحت اسلام قبول نہیں کیا بلکہ ہم جب سے  مسلمان ہوئے  ہیں دل کا بوجھ ختم ہو گیا ہے  اور بے  حد سکون محسوس کر رہے  ہیں، ہماری زندگی میں ان تبدیلوں سے  کسی قسم کا خوف نہیں۔

فاطمہ نے  مزید کہا کہ محمد یوسف عیسائی ہوتے  ہوئے  بھی آدھے  مسلمان تھے، ان کے  زیادہ تر تعلقات مسلمانوں کے  ساتھ تھے  ان کے  دوست احباب بھی زیادہ تر مسلمان تھے  اور ان کے  ساتھ بیٹھنا اٹھنا تھا اور وہ اپنے  دوستوں کی بہت قدر کرتے  تھے، اسلامی کتابیں اور قرآن پاک کی تفسیریں بھی وہ بہت شوق سے  پڑھتے  تھے، اب میں نے  بھی اسلام قبول کر لیا ہے، اپنی زندگی کی ان تبدیلوں سے  ہمیں کسی قسم کا خوف نہیں ہے، میں اپنے  شوہر کے  ساتھ ہوں اور کسی بھی مخالفت کا سامنا کر نے  کو تیار ہوں ہماری زندگی میں سادگی اور قناعت آ چکی ہے، میں بھی نماز پڑھتی ہوں اور قرآن پاک ترجمہ کے  ساتھ پڑھنے  اور سمجھنے  کی پوری کوشش کر رہی ہوں۔

محمد یوسف اور ان کی اہلیہ فاطمہ کے  قبول اسلام کے  بعد کے  بیانات کا ایک بار پھر مطالعہ کریں تو احساس ہو گا کہ وہ دونوں کسی خوف اور ہر قسم کی مخالفت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے  کی بات کرتے  ہیں، جس کی بظاہر کوئی وجہ نہیں مگر اس صورت حال پر لاہور کے  آرچ بشپ لارنس جے  سارترکا ردّ عمل پڑھیں تو اس خوف کی وجہ سمجھنے  میں دیر نہیں لگتی وہ کہتے  ہیں کہ یوسف کا اسلام قبول کرنا اس کا ذاتی فیصلہ تھا اور مذہب ہر شخص کا بنیادی حق ہے  لیکن اگر اس پر پریشر ڈالا گیا ہے  تو یہ افسوسناک ہے، ہمیں یوسف پر فخر تھا کہ وہ پاکستانی ٹیم میں اقلیتوں کی نمائندگی کرتا تھا، سب اس کی اچھی پر فارمنگ سے  خوش تھے، لیکن اب اس لئے  مایوسی کی بات ہے  کہ ہمارا نمائندہ نہیں رہا، تا ہم دعا کرتے  ہیں کہ وہ زیادہ کامیاب ہو اور  ہر میدان میں اچھا کر دارادا کرے  محمد یوسف کی جان کو خطرہ کے  حوالہ سے  سوال کے  جواب میں انھوں نے  کہا کہ اس کے  چاہنے  والے  بہت پریشان اور غصہ میں ہیں، اس لئے  کچھ بھی ہو سکتا ہے، وہ نوجوانوں کا آئیڈیل تھا جو یوسف کے  مسلمان ہونے  پر جذباتی ہیں، اس لئے  کچھ بھی ہو سکتا ہے  ہم کچھ نہیں کہہ سکتے، اقلیت میں ہونے  کے  باوجود آرچ بشپ نے  جس طرح یوسف کے  لئے  کھلم کھلا دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا ہے  اور قبول اسلام کے  نتائج کچھ بھی ہو سکنے  کا جو عندیہ انھوں نے  دیا ہے، اسکے  سلسلہ میں کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ اس بیان کا نوٹس لے  اور نومسلم محمد یوسف اور اس کے  اہل خانہ کے  جان و مال کے  تحفظ کے  لئے  موثر و بروقت اقدامات کرے، یوسف کا قبول اسلام اور اس کا اعلان جہاں اپنی جگہ ایک مسرت آ گیں اقدام ہے  وہیں اس کا یہ پہلوبھی خاصہ اطمینان بخش ہے  کہ یوسف کے  اعلانیہ نماز کی باجماعت ادائیگی کے  بعد کرکٹر ساتھیوں، کرکٹ بورڈ کے  ملازمین حتیٰ کہ صحافیوں نے  بھی نماز با جماعت میں شرکت شروع کر دی ہے، جب کہ اس سے  پہلے  ان میں اکثر نماز کے  وقت ادھر ادھر گھومتے  رہتے  تھے، اس کے  ساتھ ہی ایک فکر انگیز پہلوجس کی طرف یوسف نے  صحافیوں کی موجودگی میں اشارہ کنایہ میں بات کی ہے  اور اس کے  قریبی دوستوں کے  مطابق بھی محفلوں میں وہ اکثر اس کا تذکرہ کرتے  ہیں، کہ اگر وہ مسلمانوں کے  کر دار کو دیکھتا تو اس کے  پاس اسلام قبول کرنے  کا کوئی جواز نہیں تھاکیونکہ مسلمان اور غیر مسلموں کے  کر دار میں کوئی نمایاں فرق اس نے  محسوس نہیں کیا، یہ تو اسلام کی تعلیمات ہیں جنھوں نے  اسے  حق تک پہنچنے  اور اسے  قبول کرنے  میں اس کی رہنمائی کی، یوسف اور اس کے  ساتھیوں کی بجا طور پر یہ تمنا ہے  کہ کاش مسلمانوں کا کر دار بھی اس قابل ہو سکے  کہ غیر مسلم اس سے  متاثر ہو کر اسلام کی جانب کشش محسوس کریں، بہر حال اللہ تعالیٰ کا شکر اس امر پر ضرور ادا کرنا چا ہئے  کہ اس نے  بچپن سے  لے  کر ٗکر کٹ کے  میدان تک یوسف کو ایسے  ساتھی میسر کئے  جنھوں نے  اسے  اسلام اور قرآن کی تعلیمات کو سمجھنے  اور انھیں اختیار کرنے  کی جانب متوجہ کئے  رکھا، جس کے  نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے  آخر کار یوسف کو قبول حق کی توفیق بخشی۔

کرکٹ کے  شائقین اور مبصرین اس امر پر بھی اطمینان کا اظہار کرتے  اور اس پر متعلقہ حلقوں کو متوجہ کرنے  پر زور دیتے  ہیں کہ جب سے  پاکستان کی ٹیم کو دین سے  محبت رکھنے  والے  کھلاڑی میسر آئے  ہیں، ٹیم کی میچ فکسنگ اور بیرون ملک بے  راہ روی کے  چلن کے  الزامات سے  جان چھوٹ گئی ہے  اور بہت سی کامیابیوں نے  قومی ٹیم کے  قدم چومے  ہیں، اس لئے  کرکٹ اور دوسرے  قومی کھیلوں کے  ارباب بست وکشاد کو ٹیم کے  سلیکشن کے  وقت کھلاڑیوں کی فنی کارکر دگی کے  ساتھ ذاتی کر دار کی پختگی کو بھی اہمیت دینی چاہئے، تاکہ بعد ازاں پیش آنے  والی بہت پریشانیوں سے  چھٹکارہ مل سکے۔

 

مستفاد از ماہ نامہ’ ارمغان‘اکتوبر  ۲۰۰۵ء

٭٭٭

 

 

 

ایک نو جوان محمد ہاشم (پرساد سنگھ) سے  ملاقات

 

نامعلوم

 

میں نے  جس وقت اسلام کے  بارے  میں مطالعہ شروع کیا تو اس وقت اسلام میرے  سامنے  ایک ’’تھیوری ‘‘کی شکل میں تھا، میرے  سامنے  صحابہ کا کر دار تھا، ان کے  ایمان افروز واقعات تھے، حق کے  لئے  مر مٹنے  کا جذبہ تھا، جب میں مسلمان ہوا اور مسلمانوں کے  درمیان رہنے  لگا تو میں نے  یہ طے  کیا کہ مجھے  اسلام سے  اس کے  اصولوں کی بنا پر محبت ہے، اگر میں مسلم قوم کو دیکھوں گا تو شاید میرا اسلام پر باقی رہنا مشکل ہو، مجھے  شاید مرتد ہونا پڑے۔‘‘

یہ ایک نو جوان کے  الفاظ ہیں جس سے  چند ماہ قبل احقر نے  ملاقات کی اور اس کی قبول اسلام کی تفصیلی داستان سننا چاہی۔محمد ہاشم سابق نام پر شادسنگھ نے  دو سال قبل اسلام قبول کیا۔گفتگو کے  دوران محمد ہاشم کے  لب ولہجہ سے  ایمانی حرارت جھلک رہی تھی۔طویل القامت نہایت ہی وجیہ چہرہ رکھنے  والے  نو جوان کے  دل و دماغ میں اسلام گھر کر چکاہے، اس نو جوان کی داستان بڑی عبرت انگیز ہے  اور اس میں ہم مسلمانوں کے  لئے  کئی ایک عبرت کے  پہلو بھی مضمر ہیں۔محمد ہاشم نے  قبول اسلام کی تفصیلات بتاتے  ہوئے  کہا کہ :

میں ایک جرائم پیشہ زندگی گذار رہا تھا، لوٹ کھسوٹ، ظلم و زیادتی، غنڈہ گردی میری زندگی کا معمول بن چکی تھی، اچانک میرے  دل میں خیال پیدا ہوا کہ میں نے  دنیا میں کچھ نہیں کیا، میرے  دل میں ایک طرح کی بے  چینی شروع ہوئی، کسی لمحہ مجھے  چین نہ آتا تھا، اب مجھے  سکون کی تلاش کی فکر دامن گیر ہوئی ؛چنانچہ یہی وہ لمحہ تھا جس نے  مجھے  مذہب اسلام کی طرف موڑ دیا، میں چودھری طبقہ سے  تعلق رکھتا تھا، لیکن مجھے  کبھی مذہبی معاملات سے  دلچسپی نہ ہوئی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا جب مجھے  اپنا مذہب یاد آیا اور میں نے  آتما کو شانتی پہنچا نے  کے  لئے  مندر کا رخ کیا لیکن وہاں مجھے  کوئی سکون نہ ملا، بلکہ میری پریشانیوں میں اضافہ ہی ہو ا، اس لئے  کہ مورتی تو ایک کاریگر بناتا ہے، وہ میرا کیا بھلا کر سکے  گی، مندروں سے  جب میں مایوس ہو ا تو اب گردواروں کا رخ کیا۔گرودواروں میں حسین اور خوبصورت عورتوں کی بھیڑ نے  میرے  ذہن کو اور بھی پریشان کیا، وہاں بھی میرے  دردکا درماں نہ مل سکا، اخیر میں میں نے  عیسائیوں کے  چرچوں سے  رجوع ہونے  کا فیصلہ کیا، جب میں چرچ جانے  لگا تو عیسائی حضرات سے  حضرت عیسیٰ ؑ کے  بارے  میں معلومات حاصل کرنا چاہی، چرچ کے  پادریوں نے  بتایا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے  بیٹے  ہیں   میرے  دل میں سوال پیدا ہو ا کہ صرف ایک ہی بیٹا کیوں ؟جب ہم انسانوں کو دیکھتے  ہیں وہ کئی اولاد جنم دینے  پر قدرت رکھتے  ہیں، پھر یہ حضرت عیسیٰ ؑ خدا کے  بیٹے  ہیں تو خدا عیسیٰ ؑ کے  مشابہ ہوں گے  اور خدا نے  اپنے  بہت سے  اختیارات اپنے  بیٹے  کو دے  رکھے  ہوں گے   غرض یہ کہ عیسائیت کے  سلسلہ میں طرح طرح کی الجھنوں نے  گھیر لیا، آخر کار مجھے  عیسائیت سے  بھی مایوس ہونا پڑا، اب مسئلہ صرف مسلمانوں کے  مذہب کا تھا، چنانچہ میں اپنے  ایک مسلمان دوست کے  ساتھ درگاہوں پر حاضری دینے  لگا، میں اپنے  مسلمان دوست کی صحبت کی بنا ء پر مسلمانوں کے  سلسلہ میں صرف اتنا جانتا تھا کہ ان کے  پاس درگاہوں میں حاضری اہم ہے، چنانچہ میرے  دوست جن کا نام ظفر تھا، نہایت اہتمام سے  اس پر عمل کرتے  تھے، ہم دونوں حضرت نظام الدین اولیا ءؒ کی درگاہ جا یاکرتے  تھے، ایک دن حضرت نظام الدین سے  واپسی کے  دوران میری نظر قریب ہی کی ایک مسجد پر پڑی، جہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے  اور کوئی صاحب تقریر کر رہے  تھے، میں نے  اپنے  دوست سے  کہا :چلو دیکھیں وہاں کیا ہو رہا ہے ؟دوست نے  کہا یہاں یہ سب پاگل ہیں، ان کے  ساتھ بیٹھو گے  تو تم بھی راستے  سے  ہٹ جاؤ  گے، اس نے  مجھے  روکنے  کی ہزار کوشش کی لیکن میرے  دل نے  کہا کہ اب مجھے  وہاں جانا ہی ہے  چنانچہ میں اس جگہ پہنچ گیا اور بادلِ ناخواستہ میرے  دوست ظفر بھی میرے  ساتھ آہی گئے، وہ کسی طرح مجھے  اس اجتماع سے  روکنا چاہتے  تھے  اور مسلمانوں کے  اس طبقہ کو گمراہ باور کرا رہے  تھے، ہم دونوں اس اجتماع میں شریک ہوئے، تقریر کے  دوران کہا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے  بندوں کو معاف کرتے  ہیں بشرطیکہ بندے  گناہوں سے  باز آ جائیں اور خداکی طرف رجوع ہوں، میں نے  دل ہی دل میں کہا کہ کیا مسلمانوں کا خدا مجھے  بھی معاف کرے  گا؟ میں نے  اپنے  دائیں جانب بیٹھے  ایک مسلمان سے  پوچھا، انہوں نے  میری صورت حال سمجھ لی اور کہا کیوں نہیں اللہ تمہیں بھی معاف کرے  گا، اگر تم شرک سے  توبہ کر کے  اسلام میں داخل ہو جاؤ  گے  تو پھر تمہارے  سارے  گناہ معاف ہو جائیں گے، اس کے  بعد انہوں نے  مجھے  اسلام کے  بارے  میں ہندی کی کچھ بنیادی کتابیں دیں، اب میں نے  طے  کیا کہ مجھے  اسلام قبول کرنا ہے، مجھے  جس سکون کی تلاش ہے  وہ اس میں رکھا ہے، یہ میری زندگی کا نہایت اہم موڑ تھا جہاں مجھے  انقلاب کا سامنا کرنا تھا، باقاعدہ اسلام قبول کرنے  سے  قبل میں نے  اسلام کے  بارے  میں خوب مطالعہ کیا، اسلام کے  سلسلہ میں جیسے  جیسے  میری معلومات میں اضافہ ہونے  لگا میرے  قلب و دماغ ایک عجیب طرح کا سکون محسوس کرنے  لگے، آخر کار دہلی کے  ایک مشہور امام عالم دین کی خدمت میں اسلام قبول کرنے  کے  لئے  حاضر ہو ا تو مجھے  اس وقت دھکا لگا، جب انہوں نے  کہا کہ پہلے  ہم آپ کا نام تصویر کے  ساتھ اخبارات میں شائع کروا دیں گے  پھرضابطہ کی کاروائی کریں گے  اخبارات میں میرے  اسلام کی اطلاع ایک بڑے  فتنہ کو دعوت دینا تھا، میں نے  کہا یہ تو ہوہی نہیں سکتا، قبول اسلام کی فکر مجھے  حیدرآباد کھینچ لائی اور میں نے  یہاں کی ایک معروف تنظیم کے  زیر سرپرستی اسلام قبول کیا اور ضابطہ کی کاروائی کی گئی۔

میں نے  جب اپنے  قبول اسلام کا تذکرہ اپنی اہلیہ سے  کیا تو اس نے  بھی اس پر آمادگی ظاہر کی اور وہ بھی مسلمان ہو گئی، میری اہلیہ نے  کسی طرح کی تعلیم نہ پائی تھی، میرے  ساتھ سب سے  اہم مسئلہ اہلیہ کی دینی تربیت اور دین کی بنیادی معلومات کا تھا، اس غرض سے  میں نے  اپنی اہلیہ کو ایک مسلمان دوست کے  گھر میں ٹہرایا، ہم دونوں باہم کام پر جاتے  تھے  اور میری اہلیہ میرے  دوست کے  گھر رہتی تھی، ایک مرتبہ جب ہم دونوں گھر سے  باہر تھے، عجیب واقعہ پیش آیا، میری اہلیہ گوشت سے  سخت نفرت کرتی تھی، مزاج ہی کچھ ایسا بن گیا تھا، کہ اس کے  سامنے  گوشت کا تذکرہ گراں گذرتا تھا، دوست کے  گھر قیام کرنے  کا اصل مقصد یہ تھا کہ میری اہلیہ کو دینی علم حاصل ہو جائے  میرے  دوست کی اہلیہ میری بیوی سے  کہا کرتی تھی کہ جب تک گوشت نہ کھاوگی تم مسلمان نہیں ہو سکتی، ایک دن جب ہم دونوں گھر سے  باہر تھے، دوست کی بیوی نے  گوشت کی ایک بوٹی زبردستی میری اہلیہ کے  منھ میں ٹھونسی، جس کی وجہ سے  میری اہلیہ نے  ایک طمانچہ رسید کیا، جس سے  وہ بے  ہوش ہو گئیں فون پر اطلاع دی گئی تو ہم دونوں نے  گھر پر عجیب ماجرا دیکھا۔‘‘

یہ ایک نو مسلم نو جوان کی داستان ہے، اس میں ہم مسلمانوں کے  لئے  بحیثیت امت دعوت کئی چیزیں قابل غور ہیں ؛دعوتِ دین کی ذمہ داری سے  لاپرواہی، مسلمان دوست کی اہلیہ سے  یہ حرکت ہوئی گویا وہ اپنے  ناقص فہم سے  یہ باور کرانا چاہتی تھی کہ اسلام گوشت خوری کا نام ہے، یہ ایک جزوی واقعہ نہیں بلکہ عام مسلمانوں کی اجتماعی صورت حال کی عکاسی ہے، دین کے  مزاج سے  ناواقفیت کے  نتیجہ میں مسلمان غیروں کے  سامنے  اسلام کی غلط تصویر پیش کر رہے  ہیں، ورنہ روز مرہ کی زندگی میں اسلام کی دعوت کے  بے  شمار مواقع ہاتھ آتے  ہیں اور ان مواقع سے  استفادہ کیا جائے  تو دعوت دین کا کام بخوبی انجام دیا جا سکتا ہے، حکمت و بصیرت ایک داعی کے  لئے  انتہائی ضروری ہے، جلد بازی یا غیر دانش مندی میں کیا گیا اقدام بسا اوقات دعوت کے  کاز کوز بردست نقصان پہنچا تا ہے۔

دوسری بات یہ ہے  کہ دعوت دین کے  سلسلہ میں ہمیں مسلکی تشدد سے  احتراز کرنا ہو گا، ورنہ یہ چیز غیروں کے  لئے  تشویش کا باعث بنے  گی، اس نو جوان کے  مسلم دوست نے  جس مسلکی تشدد کا مظاہرہ کیا، ظاہر ہے  کہ اس سے  نو جوان پر کچھ اچھا اثر نہیں پڑا، مسلکی تشدد اسلام کے  پھیلاؤمیں رکاوٹ بن سکتا ہے، ایک غیر مسلم جن مذہبی جھمیلوں سے  چھٹکارا پاکراسلام میں پناہ لیتا ہے، مسلمانوں میں بھی اس کو یہی صورت حال نظر آئے  تو اس کو بڑی مایوسی ہوتی ہے، اس نو مسلم نو جوان کے  واقعہ سے  یہ بھی معلوم ہوتا ہے  کہ مسلمانوں کو اسلامی اصولوں پر کاربند رہنا چاہئے، نو جوان کے  یہ الفاظ ’’مجھے  اسلام سے  اس کے  اصولوں کی بنا پر محبت ہے، اگر میں مسلم قوم کو دیکھوں تو شاید میرا اسلام پر باقی رہنا مشکل ہو، مجھے  مرتد ہونا پڑے ‘‘ بڑے  چونکا دینے  والے  ہیں، اس نو جوان کو اس بات کا یقین ہے  کہ مسلمانوں نے  اسلام پر عمل کرنا ترک کر دیا ہے، اگر انہیں معیار بنا یا جائے  تو ہمارا اسلام پر رہنا مشکل ہو۔

 

مستفاد از ماہ نامہ’ ارمغان‘ستمبر  ۲۰۰۴ء

٭٭٭

 

 

 

 

 

ایک امریکی نو مسلم بچی ’’سارہ ‘‘سے  انٹرویو

 

نامعلوم

 

سب سے  پہلے  میں آپ کو قبولیت اسلام پر مبارک باد دیتا ہوں۔

سارہ :و علیکم السلام بہت بہت شکریہ۔ میرا نام سارہ ہے، میری عمر ۱۴/ سال ہے  ہائی اسکول کی طالبہ ہوں اور امریکہ میں رہتی ہوں

سوال  : خوش آمدید سارہ !میں یہ دیکھ کر واقعی حیرت زدہ ہوں کہ اس کم عمری میں بھی کوئی حق کی تلاش کرے، کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ اسلام کے  بارے  میں پہلی مرتبہ کہاں سنا؟

جواب  :جی ہاں !پہلی بار میں نے  اسلام کے  بارے  میں تین سال پہلے  سنا، مجھے  خدا اور مذہب کے  بارے  میں بہت دلچسپی تھی اور میں یہ جاننا چاہتی تھی کہ دوسرے  لوگ کن چیزوں پر اعتقاد رکھتے  ہیں۔میں نے  مختلف مذاہب کا مطالعہ شروع کیا اور اسی طرح میں نے  اسلام کا بھی مطالعہ کیا۔

سوال  : کیا یہ عجیب بات نہیں کہ مذاہب کے  بارے  میں آپ اسٹڈی کریں جب کہ آپ کی عمر صرف ۱۱/سال کی تھی؟کیا کوئی غیر معمولی چیز ایسی ہے  جو آپ کو آپ کے  اطراف و اکناف کے  بچوں کو ممتاز کرتی ہے ؟

جواب  :  (مسکراتے  ہوئے )میں بھی یہ عجیب سمجھتی ہوں کہ گیارہ سال کی عمر میں کوئی مذہب کے  بارے  میں غور و فکر کرے، میری بہت سی سہیلیاں بھی نہیں جان سکیں کہ خدا کو جاننے  کے  لئے  میرے  اندر اتنی دلچسپی کیسے  پیدا ہوئی ؟بات یہ ہے  کہ میرا تعلق عیسائی گھرانے  سے  ہے، میری پرورش بھی یہیں ہوئی تو صرف مجھے  ہی یہ بات فطری لگتی ہے  کہ میں مذہب کا زیادہ گہرائی کے  ساتھ مطالعہ کروں اور میں یہ فیصلہ کروں کہ حق کیا ہے ؟

سوال  : کیا آپ نے  اس وقت قرآن کا مطالعہ کیا؟

جواب  : نہیں اس وقت نہیں۔

سوال : ’’مسلمان عورت مظلوم و مغلوب ہے  اور اس بات کی ضرورت ہے  کہ مغربی عورتوں کی طرح اس کو بھی آزاد کیا جائے ‘‘کیا اس جملہ پر آپ کو کوئی اعتراض ہے ؟

جواب  : مجھے  یہ بات غمزدہ کرتی ہے  اس دنیا میں بہت سارے  لوگ یہ خیال کرتے  ہیں کہ مسلمان عورت مظلوم و مغلوب ہے، میرا ماننا یہ ہے  کہ ہم اس کرہ ارض پر سب سے  زیادہ آزاد ہیں اللہ تعالیٰ کے  احکامات کی اطاعت کے  لئے، اس نے  ہمیں سب سے  زیادہ آزادی بخشی ہے۔

سوال  : اچھا آپ مغرب میں عورت کو کس نہج سے  دیکھتی ہیں، کیا وہاں عورت آزاد ہے  ؟

جواب : نہیں !مغرب کی بہت ساری عورتیں مظلوم ہیں، ہم کو جنسی کھلونہ کے  طور پر استعمال کیا جاتا ہے  بہت ساری عورتیں ایسے  کپڑے  پہنتی ہیں جو مشکل سے  ان کے  جسم کو ڈھانپ سکتے  ہیں۔وہ اپنے  جسم کو دوسروں کی نگاہ میں پر کشش بنانے  کے  لئے  استعمال کرتی ہیں، ہم کو یہ سمجھایا جاتا ہے  کہ میڈیا کے  معیار کے  مطابق بڑاہی موزوں اور مناسب جسم ہمارے  پاس ہے  اور ہم سے  یہی امید کی جاتی ہے  کہ میڈیا جس چیز کا ہم سے  مطالبہ کرے  ہم اس کو انجام دیں اور یہ چیز ہماری اور اللہ کے  حکم کی تو ہین ہے۔

سوال  : تو کیا آپ حجاب (پردہ )پہنتی ہیں ؟

جواب  :نہیں میں نہیں پہن رہی ہوں۔مجھے  اس کی بہت خواہش ہے۔لیکن میرے  گھر والے  اس بات سے  آگاہ نہیں ہیں کہ میں اسلام لے  آئی ہوں، میں ان کو اس کے  متعلق باخبر کرنے  کے  بعد حجاب پہنوں گی۔

سوال  : کیا آپ اس بارے  میں گھر والوں کے  آگاہ ہو جانے  کے  بعد کوئی اندیشہ محسوس کرتی ہیں ؟

جواب  :میں کچھ نہیں کہہ سکتی اور یہی ڈر مجھے  ان کو بتانے  سے  بازرکھے  ہوئے  ہے۔

سوال  : اللہ تعالیٰ سے  دعاء کیجئے  کہ آپ کو اس کی طاقت اور یہ قدم اٹھانے  کے  لئے  آپ کو استقامت عطا فرمائے۔میں یہ امید کرتا ہوں کہ جو مسلمان بھی اس انٹرویو کو پڑھے  گا آپ کی پریشانی کو آسان کرنے  کے  لئے  اللہ تعالیٰ سے  دعاء کرے  گا۔انشاء اللہ، مسلم امت میں وہ کیا چیز ہے  جسے  آپ سب سے  زیادہ پسند کرتی ہیں ؟

جواب  :مسلمانوں کے  اندر اسلام کے  لئے  سب کچھ وقف کرنے  کا جو جذبہ ہے  وہ واقعی قابل تعریف ہے۔

سوال  : آج کل بہت سارے  مسلمان عملی مسلمان نہیں ہیں پہلے  یہ بتایئے  کہ آپ ان کے  متعلق کیا محسوس کرتی ہیں، اور کیا یہی وجہ ہے  کہ اسلام تیزی سے  نہیں پھیل رہا ہے  اور بے  عمل مسلمانوں کے  لئے  آپ کا کیا پیغام ہے ؟

جواب  :(۱)میں پورے  یقین کے  ساتھ آپ کی اس بات کو غلط قرار دیتی ہوں کہ آج کل بہت سارے  مسلمان عملی مسلمان نہیں ہیں، میں نہیں مانتی کہ کوئی عملی مسلمان بنے  بغیر مسلمان بھی سچا مسلمان بن سکتا ہے، اسلام صرف ایک مذہب کا نام نہیں ہے  بلکہ زندگی گذارنے  کا ایک طریقہ ہے  اور بہت ساری چیزوں میں یہ بھی ایک چیز ہے  جسے  میں پسند کرتی ہوں۔

(۲)اسلام آج اس دنیا میں سب سے  زیادہ تیزی سے  پھیلنے  والا مذہب ہے  اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ اس کی وجہ یہ ہے  کہ لوگ اس میں حق کو پاتے  ہیں اور جب وہ یہ فیصلہ کرتے  ہیں کہ وہ اللہ کی عبادت کریں گے  تو ان کو حیرت انگیز خوشی اور لطف نصیب ہوتا ہے۔

(۳)اللہ پر توکل کیجئے۔پوری طرح اس کی عبادت کیجئے  وہی آپ کو ایک عملی مسلمان بننے  کے  لئے  امن خوشی اور لطف نصیب کرے  گا۔

سوال  : مستقبل میں آپ کے  کیا ارادے  ہیں ؟آپ کیا خواب دیکھتی ہیں ؟

جوا ب :میں ہمیشہ یہ خواب دیکھتی ہوں کہ میں دنیا کی قائد بنوں اور پھر ایک بار مختلف لوگوں کے  درمیان امن، شانتی اور اچھے  تعلقات قائم کرنے  میں معاون بنوں۔

سوال  : عربی سیکھنے  کا کیا آپ کا کوئی منصوبہ ہے ؟

جواب  :جی ہاں زبانوں سے  مجھے  محبت ہے  اور میں اس کا لطف اٹھاتی ہوں میرے  والدین بھی مجھے  عربی سیکھنے  کی حوصلہ افزائی کرتے  ہیں۔میں پوری امید کے  ساتھ اس زبان کے  کورس کا آغاز کروں گی۔میرے  والد بہت سالوں تک ایک عرب ملک میں رہ چکے  ہیں تو وہ بھی میری مدد کریں گے۔

سوال  : ہاں تو یہ بتایئے  کس ملک میں ؟

جواب  :سوڈان میں۔

سوال  : کیا آپ ہمیں پوری تفصیل کے  ساتھ بتا سکتی ہیں کہ آپ نے  اسلام کیسے  قبول کیا؟

جواب  :میں نے  در اصل تین سال قبل اسلام کے  بارے  میں سنا تھا، میرے  والدین کو اس کا علم ہو گیا کہ اس کا مطالعہ کر رہی ہوں تو انہوں نے  مجھے  آئندہ اس سے  منع کیا۔آخر کار جب میں نے  ہائی اسکول کے  لئے  ایک نئے  اسکول میں داخلہ لیا تو وہاں پر بہت سارے  مسلم طلباء تھے، جب میں نے  پہلے  وہاں جانا شروع کیا تو جو میں پڑھ چکی تھی وہ سب کچھ مجھے  یاد تھا اور میں اس تجسس میں تھی کہ یہ لوگ کرتے  کیا ہیں ؟میرے  والدین نے  مجھ سے  کہا تھا کہ مسلمان خوف ناک، جنگ جواور بدکلامی کرنے  والے  لوگ ہوتے  ہیں تو میں یہ سوچتی تھی کہ وہ اسی طرح ہی ہوں گے، لیکن ایسا نہیں تھا، میں نے  وہاں سب سے  پہلے  مسلمان طلباء سے  ہی دوستانہ تعلقات بڑھائے۔وہ لوگ بہت اچھے، ہمدرد اور دوسرے  کے  دکھ درد میں شریک ہونے  والے  تھے، مجھے  یاد ہے  کہ وہ خدا کے  بارے  میں گفتگو کرتے  تھے  اور میں حیرت زدہ تھی کہ اسلام سے  ان کو کتنا پیار ہے  میں بہت جلد ہی انکا احترام اور ان کے  ساتھ عقائد کے  متعلق دل چسپی لینے  لگی ایک دن میرے  ایک دوست نے  ان سے  اسلام کے  متعلق پوچھا تو بہت دیر تک اللہ، اسلام اور روزانہ کی زندگی کے  متعلق گفتگو کرتے  رہے  مجھے  ان پر بہت تعجب ہوا، میں نے  قرآن مجید پڑھنا شروع کیا اور انٹرنیٹ سے  اسلام کے  متعلق بہت ساری معلومات حاصل کیں اور اس کے  بعد جلد ہی میں نے  کلمہ شہادت کا ا قرار کیا اور اس طرح میں نے  اسلام کو قبول کیا۔

اب تک میں حیران ہوں کہ میری زندگی کتنی خوش گوار اور پیاری ہے  اللہ تعالیٰ نے  مجھے  روز مرہ کی زندگی میں اور زیادہ قوت دی ہے۔انشاء اللہ میرے  والدین اس کو دیکھیں گے۔

سوال  : انشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے  اور صراط مستقیم پر آپ کو استقامت عطا فرمائے۔(آمین)

جواب  : و علیکم السلام، آپ کا بہت بہت شکریہ۔

 

مستفاد از ماہ نامہ’ ارمغان جنوری  ۲۰۰۵ء

٭٭٭

 

 

 

ڈیڑھ لاکھ افراد کو مسلمان کرنے  والے  نو مسلم کولن چیک سے  ایک گفتگو

نامعلوم

 

انٹرنیشنل چرچ کے  جنرل سکریٹری کا عالم اسلام کے  خلاف امریکہ و یورپ کی خوف ناک سازشوں کا انکشاف

سوال   :افریقی ممالک میں خصوصاً اور اسلامی ممالک میں عموماً یوروپی این جی اوزکا کیا کر دار ہے ؟

جواب  :وہ سب این جی اوز حقیقت میں چرچ کے  زیر انتظام چلتی ہیں اور چرچ کے  مفاد میں انسانی خدمت کے  موٹو سے  کام کرتی ہیں اور ان کا اصل مقصد مسلمانوں کو عیسائی بنانا یا کم از کم ان کو دین سے  دور کرنا ہوتا ہے  اور ان مذموم مقاصد کے  حصول کے  لئے  ان کے  پاس لا محدود وسائل اور متعدد ذرائع ہوتے  ہیں۔

انٹرنیشنل چرچ کی این جی اوز کا شمار کسی فرد واحد کے  بس کی بات نہیں لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ عالمی سطح پر عیسائیت کے  مفاد کے  لئے  کام کرنے  والی ہزاروں این جی اوز ہیں، صرف سوڈان میں پانچ سو سے  زائد ایسی این جی اوز فعال ہیں جو مسلمانوں کو مرتد بنانے  میں سرگرم رہتی ہیں۔

سوال  :مذکورہ عیسائی این جی اوز اپنے  مقاصد کیسے  حاصل کرتی ہیں ؟

جواب  :چرچ کے  لئے  کام کرنے  والی یا عیسائیت کے  نام پر مسلمانوں کو مرتد بنانے  اور ان کے  ایمان پر ڈاکہ ڈالنے  والی یورپی این جی اوز بلا سوچے  سمجھے  اور بغیر منصوبہ بندی کے  کوئی کام نہیں کر تیں، بلکہ وہ انتہائی باریک بینی سے  پایۂ تکمیل تک پہونچی ہوئی سروے  اور تحقیقی رپورٹوں کی روشنی میں پوری پلاننگ سے  کام کرتی ہیں وہ جس ملک میں کام کرنا چاہتی ہیں اس کے  متعلق ساری معلومات حاصل کرتی ہیں اس ملک کے  اندرونی اور بیرونی نقشہ جات اور سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور دیگر اہم جماعتوں کے  بارے  میں مکمل معلومات اور ان کی کمزوریوں اور دکھتی رگوں پر ماہرنبض شناس کی طرح ان کے  ہاتھ ہوتے  ہیں، وہ جب جہاں اور جیسے  چاہیں، اپنے  مقاصد حاصل کرتے  ہیں انہیں یہ معلومات بھی دی جاتی ہیں کہ ہدف ملک کو، اموال، اغذیہ، تعلیم اور صحت و کھیل وغیرہ میں کن اشیاء اور کتنی مقدار کی ضرورت ہے۔

ہر شخص کو مرتد بنانے  کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے  مثلاً ایک لادینی شخص کو عیسائیت کے  نام پر حلقہ ارتداد میں انتہائی آسانی کے  ساتھ داخل کیا جاتا ہے  اس کی ترغیبات کے  مطابق اسے  شراب، شباب اور اموال مہیا کر دیئے  جاتے  ہیں جس سے  وہ ان کے  شکنجہ میں آتا جاتا ہے، بالآخر وہ اپنا شکنجۂ اسیری خوب کس دیتے  ہیں، البتہ ایک دیندار شخص کے  لئے  عیسائی مبلغین کے  سامنے  دوآپشن ہوتے  ہیں، وہ مرتد ہو جائے  یا اس کا ایمان کمزور ہو جائے  اور وہ زیادہ گناہوں میں مبتلا ہو جائے، نیز مسلمانوں کو گمراہ یا مرتد کرنے  کے  لئے  عیسائی مبلغین بتدریج ترغیب و تحریص سے  کام لیتے  ہیں۔

سوال  :ایک مسلمان شخص کو آپ اس کے  دین سے  کیسے  دور کرتے  تھے ؟

جواب  :اگر ہمارا ٹارگیٹ ایک دیندار شخص ہوتا تو ہم اس کی خواہشات کی طرف دیکھتے، مثلاً شہرت، تعلیمی منصب، صنف نازک وغیرہ تو ہم میں سے  کوئی ایک مبلغ اس سے  اچانک ملاقات کرتا ہے  اور دوران گفتگو اس کے  میلان کی طرف توجہ کرتا ہے، پھر اس کی حسب خواہش مطلوبہ اشیاء و افر مقدار میں فراہم کرتا ہے  بلکہ ہمارا مبلغ اس پر حاوی ہو جاتا ہے  اور وہ اس پر بھروسہ کرنے  لگتا ہے  پھر بتدریج اسے  عیسائیت کی طرف مائل کر لیتا ہے  یا اسلام سے  اسے  دور کر دیتا ہے۔

سوال  :اگر آپ اپنے  مقاصد میں کامیاب نہیں ہوتے  تھے  تو پھر کیا کرتے  تھے  ؟

جواب  :جب ہمیں کسی ملک میں اپنے  مقاصد کے  حصول میں ناکامی ہوتی ہے  تو ہم اپنے  طریقے  تبدیل کر لیتے  ہیں مثلاً ہم وہاں کی حکومتوں پر اپنی حکومتوں کے  ذریعہ دباؤڈلواتے  ہیں کیونکہ ممالک یورپ اور چرچ کی تعلیمات کو رواج نہ دیتے  تھے، یا ہم وہاں کی عوام کے  لئے  پیش کردہ خدمات سے  ہاتھ کھینچ لیتے، چونکہ بیشتر مسلمان حکمراں ہماری امداد اور خدمات کے  بغیر جینا محال سمجھتے  ہیں، اس لئے  یہ آخری طریقہ آزمایا جاتا ہے  کہ مذکورہ ممالک پر سیاسی واقتصادی پابندی عائد کرواتے  ہیں، اور وہاں داخلی طور پر فتنہ و فساد اور تخریبی کا روائیاں شروع کر دیتے  ہیں۔

سوال  :کیا آپ چرچ کے  ذرائع آمدنی کے  متعلق کچھ تفاصیل نذرقارئین کریں گے ؟

جواب  :یورپی ممالک میں ایک عام قانون ہے  کہ ہر ملازم کی تنخواہ سے  5%فیصد چرچ فنڈ کے  نام پر لازمی طور پر کاٹ لیا جائے  گا۔نیز اکثر اسلامی اور افریقی ممالک میں یورپی سرمایہ کاری در اصل چرچ کی طرف سے  ہوتی ہے  اور ان سب کا منافع چرچ کے  مقاصد پر ہی خرچ ہوتا ہے۔اسی کے  بل بوتے  پر چرچ عیسائیت کی تبلیغ سرانجام دیتا ہے، مثلاً مصری چرچ دس ہزار سے  زائد جنوبی سوڈانی طلبہ کو اسکا لرشپ دیتا ہے  اور ان کی تعلیم و تربیت کی بھر پور نگہداشت کی جاتی ہے  تا کہ وہ تعلیم سے  فارغ ہو کر عیسائیت کے  مبلغ اور بائبل کے  علماء و فقہاء بن سکیں۔

سوال  :آپ چرچ کی طرف سے  متعدد اہم عہدوں پر فائز رہے  تو آپ ان عہدوں کے  ساتھ کیا سلوک کرتے  تھے ؟

جواب  :یورپی چرچ کی تنظیمیں ان پر اموال کی بارش کرتیں اور بے  حد و حساب اموال مہیا کرتیں بلکہ ہمارے  عیش و آرام کا یہاں تک خیال رکھا جاتا کہ قیمتی گاڑیاں، خوبصورت عورتیں اور شراب وغیرہ بھی فراہم کی جاتی تا کہ ہم خود بھی مستفید ہوں اور ان لوگوں کو ان کے  ذریعہ ان کے  دین سے  برگشتہ بھی کریں ہمیں عمدہ اور مہنگی رہائشیں ملتیں اور تمام ممالک میں سفر کی سہولت مہیا کی جاتی تا ہم ان سب اشیاء نے  مجھے  کبھی بھی ذہنی سکون نہ پہونچایا، میں محسوس کرتا کہ ہمارے  کرتوت، میری فطرت اور مزاج کے  بالکل خلاف ہیں جس کے  نتیجہ میں میں نہایت رنج والم محسوس کرتا۔

سوال  :آپ نے  عیش و عشرت کے  سائبان کیسے  ترک کرنا گوارا کئے  اور اسلام کیوں کر قبول کیا اور کیا آپ اس سے  مطمئن ہیں ؟

جواب  :الحمد للہ میں چرچ سے  ملنے  والی تمام مراعات چھوڑ چکا ہوں، میں ایسا محسوس کرتا ہوں گویا میں نئے  سرے  سے  پیدا ہوا ہوں نفسیاتی طور پر میں نہایت پر سکون ہوں  ۲۰۰۲ء میں میں نے  اسلام قبول کیا، اگر چہ میں اب تنگ دستی کا شکار ہوں، میں نے  ایم اے  کے  مرحلہ تعلیم میں تقابل ادیان کی تحقیق کر کے  اسلام قبول کیا اور درج ذیل نتائج حاصل کئے :

۱)قرآن کے  شروع میں مولف کا نام نہیں ہے، جیسا کہ انا جیل اربعہ کا حال ہے  دلیل یہ ہے  کہ قرآن انسانی کا وش نہیں بلکہ الہامی کتاب ہے۔

۲) قرآن اللہ کا کلام اس لئے  بھی ہے  کہ آدم علیہ السلام سے  لے  کر محمد  ﷺ تک متعدد انبیائے  کرام کی سیرت و کر دار کو اس میں بیان کر دیا گیا ہے۔

۳)سیرت محمد ﷺ سے  تاکید اً یہ ثابت ہوتا ہے  اسلام ہی دین واحد اور عند اللہ مقبول ہے۔

۴)اسلامی تعلیمات کے  عین مطابق تمام انبیاء کرام کی دعوت فقط اسلام تھی، ہر نبی اور رسول کی نبوت و رسالت محدود مدت اور محدود اقوام کے  لئے  ہوتی تھی جب کہ محمد ﷺ کی دعوت و رسالت قیامت تک آنے  والے  سب انسانوں اور جنوں کے  لئے  ہے۔

۵)سابقہ الہامی کتب میں کلام اللہ اور کلام الناس کے  درمیان کوئی حد فاصل نہیں، مثلاً اناجیل میں ہم سب یہی پڑھ سکتے  ہیں کہ یوحنانے  یوں کہا اور بترس نے  یوں کہا، یا فلاں نے  یوں کہا وغیرہ وغیرہ۔

۶)اسلام میں کلام اللہ نہایت واضح ہے  اور رسول اللہ ﷺ کے  اقوال و افعال سنن بھی واضح ہیں، بلکہ (قرآن میں )سیرت محمد  ﷺ محدود مقدار میں ہے  یہ اس بات کی دلیل ہے  کہ اللہ نے  اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔

۷) اسلام عدل و انصاف اور سب لوگوں کے  لئے  مساوات کا دین ہے  اور اس میں اپنے  پیرو کا روں کے  لئے  تمام عقائد و نظریات نہایت واضح طور پر پیش کئے  گئے  ہیں۔

۸)اسلام کے  بر عکس عیسائیت میں ایسی متعدد اشیاء ہیں میں جن کی وجہ سے  وقتاً فو قتاً خجالت محسوس کرتا تھا کیوں کہ ان میں تعصب اور نسل پرستی نمایاں ہے  چوں کہ میں سیاہ فام ہوں اس لئے  مجھے  اکثر شرمندہ ہونا پڑتا تھا، کالے  عیسائیوں کی علیحدہ عبادت ہوتی ہے  اور گورے  عیسائی الگ عبادت کرتے  ہیں، امریکی چر چوں میں کسی کا لے  عیسائی کو جرات نہیں ہو سکتی کہ وہ گوروں کے  چرچ میں پاؤں بھی دھر سکے  مثلاً امریکی وزیر خارجہ کولن پاول بھی ہر گز ہرگز یہ جرات نہیں کر سکتا کہ وہ گوروں کے  چرچ میں داخل ہو اور ان سے  ہم کلام ہو۔

لیکن اسلام میں اس طرح کا کوئی امتیاز نہیں جب کوئی بھی مسلمان نماز کے  لئے  پہلی صف میں پہونچ جائے  وہ وہیں نماز پڑھ سکتا ہے  اور شاہ وگدا سب کے  سب اللہ کے  روبرو ہوتے  ہیں اسلام میں یہ بھی عین ممکن ہے  کہ سیاہ فام امام ہو اور گورے  اس کے  مقتدی ہوں یا گورا امام ہو اور دیگر سب لوگ اس کے  مقتدی ہوں اس میں قطعا ًکوئی فرق نہیں۔

سوال  :آپ کے  قبول اسلام کی خبر چرچ نے  کیسے  ہضم کی ؟

جواب  :چرچ میں بھونچال آ گیا انہوں نے  مجھے  مرتد کرنے  کے  لئے  تمام ہتھکنڈے  استعمال کئے  میرے  پاس کئی قسم کے  وفود آئے  اور سوڈان کے  اندر اور باہر سے  کبار مسیحی پادری میرے  پاس آتے  رہے  اور ترغیب و تحریص سے  لے  کر مکمل بائیکاٹ کی دھمکیاں بھی مجھے  دی جاتی رہیں اور بیحد و حساب لالچ، مکر و فریب دے  کر آزمایا جاتا رہا، تا ہم اسلام کو میں نے  پوری تحقیق کے  بعد گلے  لگایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے  جس کے  لئے  میرا سینہ منور کیا تھا میں اس اسلام پر مزید طاقت ور اور مضبوط ہوتا گیا اور مسیحی زعماء کی کوشش مجھے  راہ حق سے  ہٹا نے  میں ناکام ہو گئی۔جب چرچ مجھ سے  بالکل مایوس ہو گیا تو مجھے  جسمانی طور پر نقصان پہونچا نے  سے  ڈرایا گیا اور اپنے  بعض ایجنٹوں کے  ذریعہ مجھے  اغواکے  بعد قتل کرنے  کی کوشش کی گئی اگر چہ وہ کامیاب نہیں ہوئی تاہم میں اپنے  ساتھیوں کے  بغیر یورپی ممالک کا سفر نہیں کرتا علاوہ ازیں میرا چوں کہ ایک مقام ہے  اس وجہ سے  بھی میرے  مخالفین اپنے  ناپاک ارادوں میں ناکام رہتے  ہیں ایک بار مجھ پر قاتلانہ حملہ ہو ا لیکن میں اللہ کے  فضل سے  محفوظ رہا تب بھی قبیلہ والوں نے  میرا دفاع کیا۔

جب سے  میں نے  اسلام قبول کیا میرا یقین ہے  کہ میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوں، نیز مجھے  اسلام لانے  کے  بعد یقین ہو گیا کہ موت عین حق ہے  لہٰذا اس سے  ڈرنے  کی قطعاً ضرورت نہیں، نیز مجھے  یہ بھی معلوم ہو گیا کہ جو اسلام کا دفاع کرتے  ہوئے  مرجاتے  ہیں وہ شہید کہلاتے  ہیں اور اللہ کے  یہاں ان کے  لئے  اجر عظیم ہے، اس کے  برعکس یہودی اور عیسائی جینے  کے  شدید آرزومند ہیں۔

سوال  :اسلام لانے  کے  بعد آپ نے  اپنے  مستقبل کے  بارے  میں کیا لائحہ عمل تیار کیا ہے  ؟

جواب  :میں نے  کچھ کتابیں لکھی ہیں، مثلاً میں کیوں مسلمان ہوا؟(۲)اسلام کی وسعت (۳)موجودہ عیسائی خرافات، میں نے  اپنے  آپ کو غیر مسلموں تک اسلام کی دعوت پہونچانے  کے  لئے  وقف کر دیا اور سوڈان میں جس تنظیم کا سربراہ ہوں یعنی سوڈان کی تعمیر و ترقی کے  لئے  اسلامی سرمایہ کاری کی تنظیم، اس میں پوری تند ہی و فعال کا رکن کی حیثیت سے  مگن ہوں۔

سوال  :آپ کی تصنیف ’میں کیوں مسلمان ہو ا ‘کا مرکزی تصور کیا ہے  ؟

جواب  :میں نے  اس میں اسلام اور دیگر مذاہب کا موازنہ پیش کیا ہے  اور اسلام کے  علاوہ دیگر ادیان میں موجود نقائص و عیوب واضح کئے  ہیں اور اسلام کے  مضبوط ثبوت جمع کر دئیے  ہیں در حقیقت اسلام میں تقسیم میراث کے  سسٹم نے  مجھے  مبہوت کر دیا ہے  چونکہ یہودیت میں بھی میراث کا تذکرہ ہے  لیکن لوگ اس پر راضی نہیں کیونکہ یہ طریقہ عادلانہ نہیں بلکہ ظالمانہ ہے  جبکہ عیسائیت میں نظام میراث کا وجود سرے  سے  ہی نہیں۔

اسلام نے  نظام میراث کو باریک بینی اور عدالت پر مبنی بنایا ہے  جس کی کوئی پہلے  نظیر نہیں ملتی، حتی کہ میں نے  اپنے  قبیلہ ’’دنکا‘‘میں اسلام کا نظام میراث نافذ کیا تو بیشتر جھگڑے  خود بخود ختم ہو گئے، حالانکہ بنیادی طور پر یہ قبیلہ مسیحی ہے۔

نیز میں نے  اپنی اس کتاب میں زندگی کے  تمام پہلووں پر اسلام کی مکمل رہنمائی کو بھی شامل کیا ہے۔میں نے  یہ واضح کیا ہے  کہ جو شخص اسلام قبول کر لیتا ہے  اور قولاً و فعلاً وہ اسلام پر کاربند ہو جاتا ہے  تو اسلام اسے  کس قدر نفسیاتی اور روحانی بلندی عطا فرماتا ہے  وہ اپنے  اسلام پر فخر محسوس کرتا ہے۔لیکن دیگر ادیان کی تعلیمات رسوم و رواج میں تضادات بے  شمار ہیں، یہ ادیان اس شخص کی ثقافت کو تبدیل نہیں کرتے  جو انہیں قبول کر لیتا ہے  پھر وہ یہ ادیان قبول کر کے  بھی اپنی ہوس گیری کو اسی طرح پوراکرتا ہے۔جس طرح وہ چاہتا ہے  ان لو گوں کے  کسی شخص کے  کر دار میں ناموں کے  علاوہ ادیان کا کوئی کر دار نہیں۔

سوال  :آپ کے  اسلام لانے  کے  بعد آپ کے  ہاتھ پر کتنے  لوگ مسلمان ہو چکے  ہیں ؟

جواب  :اللہ کے  فضل سے  اب تک میرے  ہاتھ ڈیڑھ لاکھ افراد مسلمان ہو چکے  ہیں اور الحمد للہ جنوبی سوڈان کے  چرچوں کے  ڈھائی ہزار اہم عہدہ دار بھی نو مسلموں میں شامل ہیں یہ لوگ کو ہ نوبہ اور صوبہ انجمنا سے  تعلق رکھتے  ہیں۔

سوال  :اتنی بڑی تعداد کو آ پ نے  اسلام کی طرف کیسے  مائل کیا ؟

جواب  :کسی غیر مسلم کو اسلام کا قائل کرنا نہایت آسان ہے  کیونکہ یہ لوگ خالی الذہن ہوتے  ہیں اسی حقیقت کو سامنے  رکھ کر میں نے  سب کے  لئے  واضح کر دیا کہ اسلام ہی ایک ایسا دین ہے  جس میں کسی قسم کا کوئی شرک نہیں اور اللہ کا پسندیدہ دین یہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے  فرمایا:’’بیشک اللہ کے  یہاں دین صرف اسلام ہے ‘‘(سورہ  آل عمران :۱۹)

اسلام سب انسانیت سے  مخاطب ہوتا ہے  یہی ایک ایسا دین ہے  جو زندگی کے  تمام شعبہ جات کی ہر مشکل دور کرتا ہے  میں نے  ہر بڑے  نو مسلم مسیحی کی طرف خط بھی لکھا ہے  ا س میں خاص طور پر یہ واضح کیا ہے  کہ :  (۱)بے  شک اللہ تعالیٰ ایک ہے  اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تین کا ایک یا ایک میں تین نہیں۔  (۲) عیسیٰ ابن مریم دیگر انسانوں کی طرح انسان ہیں اور اللہ کے  رسول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے  ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا وہ نہ تو الہ ہیں اور نہ ہی اللہ کے  بیٹے  ہیں اور بے  شک عیسیٰ بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے  اور آپ کی رسالت عام نہیں، اور عیسیٰ کو اللہ نے  لوگوں کے  کفارہ کے  لئے  نہیں بھیجا اور پھر عیسیٰ کو اس لئے  اللہ نے  نہیں بلایا کہ وہ اپنے  باپ کے  دائیں طرف بٹھائے۔

سوال  :کیا آپ کو مسلمانوں کی موجودہ حالت زار نے  اسلام لانے  سے  روکا نہیں ؟

جواب  :جب میں نے  اسلام قبول کر لیا تو مسلمانوں کی حالتِ زار دیکھ کر انتہائی رنج و الم میں مبتلا ہو گیا کہ مسلمانوں کے  قبول و فعل میں تضاد ہے  اور مسلمان اسلام کو اپنے  اوپر لاگو نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ نے  قرآن مجید میں ذاتی و اجتماعی زندگی کے  لئے  دو رہنما اصول قرآن کریم اور حدیث نبوی مقرر کر دئے  ہیں لیکن کتنے  افسوس کی بات ہے  کہ مسلمان عملی طور پر دونوں رہنما ذرائع سے  فیصلے  نہیں کرپاتے  جب کہ اسلامی ممالک کے  حکمراں اسلامی نہج کو اہمیت نہیں دیتے، گویا مسلمانوں کی کمزوری کے  دو بنیادی سبب ہیں، ذاتی طور پر اپنے  دین سے  دوری اور حکومتی سطح پر دین کے  ساتھ بے  رغبتی۔اگر اسلامی ممالک کے  عوام اپنے  دین کی تعلیمات پر عمل کریں اور عملی طور پر اسے  اہمیت دیں اور حکمراں اپنی سیاست اور تمام شعبوں میں اسلام کو رہنمابنا لیں تو مسلمانوں کو ماضی کی کھو ئی عظمت اور شان و شوکت واپس مل سکتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

میں نے اسلام کیوں قبول کیا

 

محمد داود (فادر مارکس ڈیوڈ، کٹک اڑیسہ)

 

میری پیدائش اڑیسہ کے  مرکزی شہر کٹک پادری گھرانے  میں ہوئی۔ میری والدہ بھی ایک کیتھولک چرچ کے  پادری کی بیوی تھیں۔انہوں نے  میری پیدائش سے  قبل نذر مانی تھی کہ میری جو بڑی اولاد ہو گی، اس کو یسوع کے  نام نذر کروں گی۔میں پیدا ہوا۔وہ دو ہفتوں کے  بعد مجھے  لے  کر چرچ گئیں اور وہاں چرچ کے  ذمے  داروں کے  سامنے  نذر کی رسم پوری کی۔میری ابتدائی تعلیم مشن اسکول میں ہوئی، بعد میں مجھے  کالج میں داخل کیا گیا۔بی اے  آنرس کے  بعد تھیالوجی سے  میں نے  ایم اے  کیا اور مقصد مشن کی تبلیغ تھی۔ایم اے  کرنے  کے  بعد مجھے  مشن نے  بہار میں گیا زون میں مشن کی تبلیغ کے  لئے  بھیج دیا۔میری بہترین کا کر دگی کے  بعد مجھے  گیا کے  مشہور چرچ کا ذمہ دار پادری بنا دیا گیا، اور لوگ مجھے  فادر مارکس ڈیوڈ کہنے  لگے۔میری تربیت مشن کو ذہن میں رکھ کر کی گئی تھی، اس لئے  میں نے  بھی خدا کو راضی کرنے  کے  لئے  اپنے  بال بال کوعیسائیت کی تبلیغ کے  لئے  وقف کر دیا۔

میں نے  تمام مذہب کے  لوگوں پر کام کیا۔میرا یقین تھا کہ عیسائیت ہی مدارِ نجات ہے۔گیا میں بودھوں پر میں نے  بہت کام کیا۔سیکڑوں بودھوں کو عیسائی بنا دیا۔ مسلمانوں پر بھی میں نے  کام کیا۔۱۷/مسلمانوں کے  نام میرے  رجسٹر میں درج ہیں، جن کو میں نے  عیسائی مذہب اختیار کرایا، اس کے  علاوہ ہندوؤں خصوصاً دلت ہندوؤں کی بڑی تعداد میری دعوت پر عیسائی ہوئی۔اپنے  مشن میں جیسے  جیسے  مجھے  کامیابی ملتی گئی، میرا حوصلہ بڑھتا گیا۔ایک یہودی خاندان پر میں نے  کام شروع کیا۔تقریباً ایک سال کی کوشش کے  بعد میری ہم دردی اور سچی محبت سے  وہ متاثر ہوئے  اور انہوں نے  یہ کہہ کر عیسائیت اختیار کی، کہ اگر چہ ہماری عقل میں ابھی تک عیسائیت نہیں آئی، مگر آپ کی اس قدر دردمندی اور دلی ہم دردی کے  بعد ہمارا ضمیر مجبور کر رہا ہے  کہ ہم عیسائی بن جائیں۔

سچائی اپنے  کو منوا لیتی ہے  اور ہر مخلص کو اللہ راستہ دکھاتے  ہیں۔قدرت کے  یہ دو ضابطے  میرے  لئے  ہدایتِ اسلام کا ذریعہ بنے۔اصل میں عیسائیت کی تبلیغ کو میں اللہ کے  لئے  انسانیت کی سچی خدمت اور ہمدردی سمجھتا تھا، میں دعوت میں تو مخلص تھا، مگرمیں جس دعوت میں اپنے  کو لگائے  ہوئے  تھا، وہ سچائی پر مبنی نہیں تھی۔اس دعوت کو میں انسانی خدمت، مالی معاونت اور مریضوں اور ضرورت مندوں کی خدمت کے  سہارے  اور بیساکھی پر چلا رہا تھا۔مجھے  اس کا اندازہ نہیں تھا کہ میں حق پر نہیں ہوں۔ہاں کبھی کبھی جب عیسائیت کی مختلف کتابوں کی تشریحات پڑھتا تھا، تو میرا ذہن الجھ جاتا تھا اور سوچتا تھا کہ نہ جانے  ہم لوگ کیا کہنا چاہتے  ہیں ؟مشن کی تبلیغ کی کامیابی کی وجہ سے  مجھے  اپنے  مشن پر اعتماد پیدا ہو گیا تھا اگر میں حق پر نہ ہوتا تو خدا کامیابی نہ دیتا۔بس مجھ پر دھن سوار تھی۔میں اس دھن میں کچھ لٹریچر لے  کر ایک روز اسلام کے  ایک چراغ کی روشنی تک جاپہنچا۔اس چراغ کا نام تھا ڈاکٹر صغیر احمد جو گیا کے  ایک اچھے  فزیشین اور دین دار مسلمان ہیں۔وہ ایک زمانے  سے  تبلیغی جماعت سے  وابستہ تھے، انھیں ایک صاحب نے  ایک کتاب’’اگر اب بھی نہ جاگے  تو؟‘‘ پڑھنے  کو دی، جس کو پڑھ کر ان میں ہندوؤں میں دعوت دینے  کا شوق پیدا ہوا۔اس کے  بعد انھوں نے  دہلی میں مولانا محمد کلیم صدیقی صاحب کی کتاب ’’ارمغان دعوت‘‘پڑھی، اس کتاب کو پڑھ کر ان پر دعوت کا جنون سوار ہو گیا۔وہ رمضان میں پھلت گئے  اور تین روز مولانا کلیم صدیقی صاحب کے  ساتھ لگائے  اور ان سے  بیعت ہوئے، ڈاکٹر صاحب بتایا کرتے  ہیں کہ بڑی تعداد میں نو مسلموں خصوصاًارتداد سے  توبہ کرنے  والوں کی تعداد مولانا صاحب کے  ساتھ مسجد میں اعتکاف میں تھی، جن کے  لئے  رمضان میں صبح کا ناشتہ اور دوپہر کا کھانا بھی ابتدا میں بنایا گیا، مگر الحمد للہ بعد میں وہ روزے  رکھنے  لگے۔مولانا صاحب نے  وہاں پر ساتھ میں اعتکاف کرنے  والوں سے  دوستی کی فیس دینے  کو کہا اور اعلان کیا کہ لوگوں کو ہم سے  تعلق رکھنا ہے  اور دوستی، محبت اور بیعت کے  تعلق کو نبھانا ہے، ان کے  لئے  کم سے  کم فیس یہ ہے  کہ ایک ماہ میں ایک آدمی کو کفر و شرک سے  نکال کر مسلمان ہونے  کی خوش خبری دیں اور اچھے  دوست کے  لئے  روزانہ ایک آدمی کی خوش خبری فیس ہے۔

وہاں ان کو معلوم ہو ا کہ روز ایک آدمی کے  نصاب پر بھی مولانا صاحب کے  بعض رفقا ہیں، جو یہ کام کر رہے  ہیں۔جس روز ایک آدمی کو بھی ابو جہل اور ابو لہب کے   کیمپ سے  نکال کر اسلام کے  سایہ رحمت میں نہ لاسکیں گے، اس روز سوئیں گے  نہیں، روئیں گے  اللہ ان لوگوں کی نیتوں کی لاج رکھ رہے  ہیں میں ڈاکٹر صاحب کے  یہاں پہنچا، آداب و سلام کے  بعد میں نے  دو منٹ لے  کر کتابیں پیش کیں اور وقت دینے  کے  لئے  کہا۔ڈاکٹر صاحب نے  میری ہمدردی کا شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ کلینک پر مریضوں کی بھیڑ ہوتی ہے، یہاں بات اطمینان سے  سننا بھی مشکل ہے، اور یہ وقت جب کہ میں کلینک میں ہوتا ہوں، مریضوں کا حق ہے، اس وقت کسی دوسرے  موضوع پر بات کرنا میں مریض کی حق تلفی سمجھتا ہوں، بہتر یہ ہے  کہ آپ رات میں سات بجے  کے  بعد میرے  گھر تشریف لائیں، وہاں اطمینان سے  باتیں ہوں گی۔اس تجویز کو میں نے  خوشی سے  قبول کر لیا۔فون اور پتہ لے  کر میں چلا آیا، اور رات کو سات بجے  ڈاکٹر صغیر صاحب کے  گھر پہنچا۔ڈاکٹر صاحب نے  پُرتکلف چائے  پلائی اور مجھ سے  کہا کہ فادر صاحب !آپ جو مجھے  عیسائیت کی دعوت دینے  آئے  ہیں، کیا واقعی آپ میری ہمدردی میں عیسائیت کی دعوت دے  رہے  ہیں اور آپ خود عیسائیت کو مدارِ نجات سمجھتے  ہیں یا آپ کی کوئی سیاسی غرض ہے، یا اپنے  مشن سے  وفاداری میں آپ اس کو پھیلانا فرض سمجھتے  ہیں ؟میں آپ کو یسوع کی قسم دے  کر پوچھتا ہوں ؟میں نے  یسوع کی قسم کھا کر کہا:میں صرف عیسائیت کو مدارِ نجات سمجھتا ہوں اور صرف آپ کی ہمدردی میں آپ سے  ملنے  آیا ہوں۔یہ سن کر ڈاکٹر صاحب نے  کہا کہ آپ عیسائی ہیں اور عیسائیت کو مدارِ نجات سمجھتے  ہیں اور میں مسلمان ہوں، میں صرف اسلام کو مدارِ نجات مانتا ہوں بلکہ یسوع علیہ السلام کو بھی اللہ کا رسول اور پیغمبر مانتا ہوں، بلکہ میرا اس پر ایمان ہے  کہ عیسیٰ ؑ اللہ کے  سچے  رسول اور اسلام کے  پیغمبر اور سچے  مسلمان تھے۔اب ہم دونوں ایک معاہدہ کرتے  ہیں۔آپ مجھے  عیسائیت کے  بارے  میں بتائیں۔روزانہ ایک گھنٹہ فارغ ہو کر میں آپ کی بات سنوں گا۔آپ ایک سال تک مجھے  بتاتے  رہیں گے  اور یہ سمجھیں گے  کہ بات پوری نہیں ہوئی تو ایک سال تک سنوں گا اور اس کے  بعد میری باری آئے  گی میں روزانہ اسلام کے  بارے  میں بتاؤں گا، مجھے  زیادہ سے  زیادہ تین دن درکار ہوں گے  اور دونوں کی بات مکمل ہو جائے  گی۔اب آپ یسوع کی قسم کھا کر یہ عہد کریں اور میں اللہ کی قسم کھا کر عہد کرتا ہوں کہ اگر میں عیسائیت کو مذہبِ حق اور مدارِ نجات سمجھوں گا تو بغیر جھجک کے  اسی وقت عیسائی ہو جاؤں گا اور اگر آپ نے  اسلام کو مدارِ حق سمجھا تو آپ بھی بغیر جھجک مسلمان ہو جائیں گے۔بات بہت سچی اور انصاف کی تھی، ہم دونوں معاہدے  پر متفق ہو گئے، یہ معاملہ کر کے  میں چلا آیا۔میں نے  رات میں بہت پرارتھنا یعنی دعا کی کہ اے  یسوع ! عیسائیت کی فتح ہو ا ور مجھے  ہار نا نہ پڑے۔پوری تیاری کے  ساتھ میں اگلے  روز ڈاکٹر صاحب کے  یہاں گیا۔ڈاکٹر صاحب نے  بات سننے  سے  پہلے  دو منٹ لئے  اور معلوم کیا کہ آپ نے  رات میں دعا مانگی ہو گی۔میں نے  کہا:ہاں۔تب انھوں نے  کہا :سچ بتائیے  کیا مانگا؟حیرت ہوئی کہ یہ سوال وہ کیوں کر رہے  ہیں ؟ کیا وہ دعا کے  وقت وہاں موجود تھے۔میں نے  کہا:میں نے  دعا مانگی کہ خدایا، عیسائیت کی فتح ہو اور میری اور میرے  مذہب کی ہار نہ ہو۔ڈاکٹر صاحب نے  کہا:یہ دعا آپ کے  عہد میں شک پیدا کرتی ہے، آپ کو اور ہم کو یہ دعا کرنی چاہئے  کہ ہم میں جو حق پر ہے، خدا یا !ہمیں اس پر جما دے، واقعی یہ بات انصاف کی تھی، میں نے  وعدہ کیا کہ اب میں ہمیشہ یہی دعا کیا کروں گا۔میں نے  بات شروع کی۔ایک گھنٹہ تک میں دلائل سے  بات کرتا رہا۔بہت دیر تک سننے  کے  بعد ڈاکٹر صاحب نے  بہت ہمدردی میں جیسے  وہ کوئی نا سمجھ ہے، یہ کہہ کر ’’اگر آپ برا نہ مانیں، اعتراض نہیں کر رہا ہوں ‘‘اپنی معلومات کے  لئے  اور صفائی کے  لئے  دو تین سوالات کئے۔سوالات کچھ ایسے  تھے  کہ میں خود احساسِ کم تری میں مبتلا ہو گیا، پہلے  روز چلا آیا۔دوسرے  روز میں نے  دعا کی کہ خدایا!جو حق ہو، اس کی راہ مجھے  دکھا دے۔دوسرے  روز میں پھر ڈاکٹر صاحب کے  یہاں گیا، تو ڈاکٹر صاحب نے  پھر دعا کے  بارے  میں سوال کیا۔میں نے  کہا:میں نے  دعا کی ہے  :خدایا جو حق ہو، اس کی راہ مجھے  دکھا دے۔ڈاکٹر صاحب نے  کہا :اب بھی دعا عہد کے  خلاف ہے۔آپ کو یہ دعا کرنی چاہئے  کہ خدایا :جو حق ہو، اس پر ہم دونوں کو جما دے، بلکہ سچ یہ ہے  کہ سارے  انسانوں کو جما دے۔یہ بات میرے  دل کو لگ گئی کیوں کہ سچی اور انصاف کی بات یہی ہے۔اس کے  بعد بات شروع ہوئی وہ پہلے  روز کی طرح کچھ سوال کرتے  رہے  اور یسوع کا نام لیتے  تو عیسیٰ ؑ مریم ؑ بہت ادب کے  ساتھ لیتے  تھے۔یہ شریفانہ انداز مجھے  بہت اچھا لگا، غرض ایک کے  بعد ایک دن ایک ہفتے  تک میں ان کو کتابیں بھی لا کر دیتا رہا اور وہ ان کو پڑھتے  بھی رہے۔ایک ہفتے  کے  بعد میرے  یہاں کچھ نہیں رہا۔ڈاکٹر صاحب کی اخلاقی برتری بہت عقل میں آنے  والے  سوالات سے  بجائے  اس کے  کہ میرا اعتماد عیسائیت پر بحال ہوتا، میں خود اپنے  آپ کو متزلزل محسوس کرنے  لگا۔آٹھویں روز میں نے  جا کر ڈاکٹر صاحب سے  کہا : میں اپنی بات مکمل کر چکا آج آپ کی باری ہے  حالاں کہ مجھے  ایک روز پہلے  ان سے  کہہ دینا چاہئے  تھا تاکہ وہ تیاری کرتے، مگر بر وقت کہنے  کے  با وجود ڈاکٹر صاحب نے  کوئی شکایت نہیں کی اور انھوں نے  کہنا شروع کیا، کہ آپ کا اور ہمارا دل سب جانتے  ہیں کہ صرف اسلام ہی برحق ہے  اور آدھا گھنٹہ اسلام اور محمد  ﷺ کا تعارف کرایا، عیسیٰ ؑ اور مریم ؑ کے  بارے  میں قرآن حکیم نے  جو کہا ہے  وہ بتایا۔شاید چالیس منٹ نہیں ہوئے  تھے  کہ حق نے  اپنا اثر دکھا دیا۔اللہ کی رضا کے  لئے  زندگی گزارنے  کی نیت کرنے  والے  مجھ بے  چارے  پر اللہ کے  رحم اور ہدایت کی بارش ہوئی اور میں نے  پہلی نشست میں حسبِ وعدہ بغیر کسی چوں چرا کے  ڈاکٹر صاحب کے  ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔انھوں نے  میرا نام داود رکھ دیا۔ڈاکٹر صاحب اور میں دونوں بہت خوش ہوئے، شاید میں ان سے  زیادہ اور وہ مجھ سے  زیادہ، یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ اس ہدایت سے  کس کو زیادہ خوشی ہوئی۔

ایک رات میں سونے  کے  لئے  لیٹا تو مجھے  خیال ہو کہ میں نے  ایک زمانے  تک عیسائیت کی تبلیغ کی۔بودھوں، ہندوؤں اور یہودیوں کے  عیسائی بن جانے  کا ایسا جرم نہیں،  مگر ۱۷/مسلمانوں کو جہنمی بنا دینے  کا جرم تو بہت بڑا ہے۔ایک آدمی کی ہدایت کا ذریعہ بن جانے  پر نجات کا وعدہ ہے  تو ۱۷/آدمیوں کی گم راہی کا ذریعہ بننے  کا جرم بھی کتنا بڑا ہو گا، میں بہت گھبرایا، بستر سے  اٹھا اور دیر تک اللہ سے  معافی اور استغفار کرتا رہا۔صبح کو مجھے  فکر ہوئی کہ ان لوگوں کو دو بارہ سمجھا کر اسلام میں لانا چاہیے۔میں جا کر ایک ایک سے  ملتا رہا۔لوگوں کو اسلام کی طرف لانے  کے  لئے  بس ایک چیز کافی ہوئی کہ خود میں نے  عیسائیت کو چھوڑ دیا ہے، اور الحمد للہ وہ دوبارہ عیسائیت سے  توبہ کر کے  مسلمان ہو گئے۔تین لوگ ایسے  تھے، جنھیں مشن نے  بڑی مالی امداد کی تھی اور عیسائی لڑکیوں سے  ان کی شادی بھی ہو گئی تھی۔ان لوگوں کو سمجھانا بہت مشکل پڑا۔ میں راتوں کو اپنے  اللہ کے  سامنے  روتا تھا اور دن میں ان کی خوشامد کر تا تھا۔کئی ماہ کی لگاتار کوشش کے  بعد اللہ نے  ان کے  دل پھیرے  اور الحمد للہ وہ اپنی بیویوں کے  ساتھ مسلمان ہو گئے، تین لوگوں کا آج تک پتا نہیں چل سکا ان میں سے  ایک ڈرائیونگ کے  لئے  آئے  تھے۔آسام کے  رہنے  والے  تھے  اور دو مزدوری کے  لئے  یہاں آئے  تھے۔ان تینوں لوگوں کی حق سے  گم راہی کا ذریعہ بن جانے  کا جب بھی مجھے  خیال آتا ہے  میری نیند اڑ جاتی ہے۔اگر خدا نہ خواستہ اس حال میں وہ مر گئے  تو دوزخ کا ایندھن بنیں گے، اور میں اس کے  ساتھ کس طرح اپنے  اللہ کو منہ دکھاؤں گا۔کاش میرے  اللہ مجھے  ان تینوں بھائیوں سے  ملا دے، اگر چہ ڈاکٹر صاحب نے  مجھے  سمجھایا کہ اسلام سے  پہلے  کے  گناہ اسلام قبول کرنے  سے  معاف ہو جاتے  ہیں، گو اللہ کے  نبی  ﷺ کے  فرمان پر ہمارا ایمان ہے، مگر ایک بات نفسیاتی طور پر انسان پر سوار ہو جاتی ہے۔

میں گیا کے  اجتماع سے  چار ماہ کی جماعت میں چلا گیا۔الحمد للہ مجھے  بہت فائدہ ہوا۔چار ماہ میں میں نے  قرآن شریف ناظرہ پڑھ لیا اور انگریزی ترجمہ کئی بار پڑھا۔بہت سی کتابیں پڑھیں۔ہمارا آدھا وقت دہلی میں لگا۔الحمد للہ مجھے  کتابیں ملتی رہیں۔جماعت سے  آ کر میں کٹک گیا، مجھے  اپنی والدہ کی بڑی فکر تھی۔میں جماعت میں بھی ان کی ہدایت کے  لئے  دعا کرتا رہا۔میرے  گھر جانے  سے  دس روز پہلے  ان کا انتقال ہو گیا اور انھیں عیسائیوں کے  قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔میں گھر گیا تو ماں کے  انتقال اور اس سے  زیادہ ایمان سے  محروم موت کا بے  حد مجھے  صدمہ تھا۔کئی روز تک میں گھر سے  نہ نکلا اور دروازہ بند کر کے  مسجد میں روتا رہا۔اپنے  اللہ سے  شکایت کرتا تھا:میرے  اللہ !میں آپ کے  راستے  میں اپنی ماں کے  لئے  آپ سے  دعا کرتا رہا، لیکن میری ماں ایمان کے  بغیر اس دنیا سے  چلی گئی۔میں والدہ کی قبر پر جاتا اور گھنٹوں روتا تھا۔ایک روز مجھے  ماں کی قبر پر روتے  روتے  نیند سی آ گئی۔میں نے  اپنی ماں کو اچھی حالت میں دیکھا۔وہ بولی :بیٹا اپنی انٹی (خالہ)سے  نہیں ملا، ان کے  پاس ضرور جانا  مجھے  اپنی والدہ کی یادستا رہی تھی۔اس خواب کے  بعد مجھے  خیال ہوا کہ بھونیشور جا کر خالہ سے  ملنا چاہیے۔کم از کم وہ تو ایمان سے  محروم نہ رہیں۔ میں نے  بھونیشور کا سفر کیا اور اپنی خالہ سے  ملا اور ان کو دیکھا کہ ان کا حال بدل گیا ہے  انھوں نے  مجھے  بہت گلے  لگایا اور کہا کہ میں تو تجھے  بہت یاد کر رہی تھی۔تیری ماں بیمار تھی۔تو میں دیکھنے  گئی اور بیماری کی وجہ سے  ان کی خدمت کرنے  کی غرض سے  ان کے  پاس رہی، انتقال سے  ایک ہفتہ پہلے  فرائڈے  (جمعہ )کی صبح کو وہ بہت خوش تھی، اور مجھے  بلایا اور کہا:آج میں نے  خواب میں یسوع کو دیکھا ہے۔اس نے  مجھ سے  کہا:تمہارا بیٹا داود اللہ نے  قبول کر لیا ہے۔وہ مذہب اسلام کو قبول کر چکا ہے۔مجھے  سولی نہیں دی گئی، مجھے  آسمان پر اٹھایا گیا ہے  تا کہ آ کر لوگوں کو بتاؤں کہ سچا مذہب اسلام ہے  اور اب میں تمہیں اسلام کا کلمہ پڑھوانے  کے  لئے  آیا ہوں۔انھوں نے  بتایا کہ یسوع نے  مجھے  یہ کلمہ پڑھوایا، تین چار بار پڑھوایا، مجھے  یاد ہو گیا مجھ سے  کہا کہ تم اس کلمے  پر مرنا، تو تمہارے  لئے  نجات ہے  اور مرنے  کے  بعد جنت ملے  گی۔اس خواب کے  آٹھ روز بعد ان کا انتقال ہوا۔انتقال کے  وقت وہ کلمہ پڑھ رہی تھیں۔میں نے  ان کے  مرنے  کے  دو روز بعد ایک مولانا صاحب کو بتایا۔وہ دو ساتھیوں کو لے  کر آئے  اور ان کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔میں اس لئے  تمہیں یاد کر رہی تھی کہ اگر تم آ گئے  اور تم مسلمان ہو چکے  ہو تو پھر مجھے  بھی مسلمان ہونا چاہیے۔میں خوشی سے  ان سے  چمٹ گیا اور اپنے  مسلمان ہونے  کا پورا قصہ سنایا اور جلدی سے  کلمہ پڑھنے  کے  لئے  کہا۔مجھے  اپنی والدہ کے  مسلمان ہونے  کی کتنی خوشی ہے، میں بیان نہیں کر سکتا۔الحمد للہ اس نعمت کے  شکرانے  کے  طور پر ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھتا ہوں اور ۲۰/رکعت نفل نماز اپنی والدہ کے  مسلمان ہونے  کی خوشی میں بلا ناغہ پڑھتا ہوں۔

ڈاکٹر صغیر صاحب نے  مجھے  پھلت بھیجا۔میں نے  مولانا کلیم صاحب سے  ملاقات کی مولانا صاحب کے  یہاں بنگالی موسیٰ بھائی آئے  ہوئے  تھے۔ انھوں نے  پہاڑوں پر انتہائی پس ماندہ آبادی میں اپنے  کام کی کارگزاری سنائی اور بتایا کہ آسام اور منی پور وغیرہ میں پہاڑوں پر ایسی پس ماندہ آبادی بسی ہوئی ہے  جو بالکل ننگی جانوروں کی طرح زندگی گزارتی ہے۔میں نے  مولانا صاحب سے  اس علاقے  میں کام کرنے  کی خواہش ظاہر کی مولانا صاحب نے  خوشی سے  اجازت دے  دی۔میں آج کل وہیں کام کر رہا ہوں الحمد للہ ہزاروں لوگوں نے  کپڑے  پہننا شروع کر دئے  ہیں۔میں نے  کافی حد تک ان کی زبان سیکھ لی ہے  اور وہیں پر ایک بے  سہارا خاتون سے  شادی کر لی ہے  جس کو میری ہی دعوت پر اللہ نے  ہدایت نصیب فرمائی تھی۔وہاں پر کام کا بڑا میدان ہے۔

میرے  ساتھ اب ایک جماعت تیار ہو گئی ہے۔اللہ نے  چاہا تو ہمیں اس علاقے  میں حیرت ناک کامیابی ملے  گی ان شاء اللہ۔

ہمارے  مولانا کلیم صاحب کہتے  ہیں کہ دنیا میں یا تو داعی بن کر جئیں، ورنہ مدعو بن کر رہیں گے۔اگر داعی بن کر زندگی گزاریں گے  تو اگر آپ کے  پاس کوئی داعی بھی دعوت لے  کر آئے  گا تو اسلام کی حقانیت کا شکار ہو کر رہے  گا دعوت سے  بہتر دلوں کو فتح کرنے  کا کوئی ہتھیار نہیں ہے۔یہ ہتھیار کبھی فیل نہیں ہوتا۔ہم دردانہ دعوت کے  ساتھ حق نہ بھی ہو تو بھی کامیابی ملتی ہے، جیسا کہ عیسائیت کی دعوت کے  سلسلے  میں میں نے  کارگزاری سنائی اور اگر دعوت حق کی ہو تو پھر اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی۔دعوت کے  ہتھیار کے  سامنے  بڑی سے  بڑی طاقت کو ہتھیار ڈالنے  پڑتے  ہیں، دعوت کی اس قوت کو پہچانیں اور میرے  لئے  دعا کریں۔اللہ تعالیٰ مجھے  دعوتی مقاصد میں کامیاب کرے۔آمین

مستفاد از ماہنامہ ’ارمغان ‘ اکتوبر  ۲۰۰۵ء

٭٭٭

 

 

تشکر ادارہ ماہنامہ ’ارغوان‘ اسور جناب عمر کیرانوی جن کے توسط سے فائل کا حصول ہوا

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید