مولانا روم

 

 

 

               ڈاکٹر منظر اعجاز

 

 

 

 

 

 

اقبال کی فلسفیانہ ،حکیمانہ اور شاعرانہ شخصیت کا اہم وصف یہ ہے  کہ انہوں  نے  جس طرح اپنے  اقوال و اشعار اور افکار سے  اپنے  ہمعصروں  اور آئندہ نسلوں  کو متاثر کیا ۔ اسی طرح انہوں  نے  اپنے  متقدمین اور معاصرین کے  صالح اثرات قبول کئے۔ اسی کشادہ قلبی اور وسیع النظری کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ اپنی زندگی ہی میں  بین الاقوامی سطح پر  مشہور و معروف اور مقبولِ خاص و عام ہوئے ۔ اور نہ صرف یہ کہ عالمی سیا ست و تدبر کے  معاملے  میں  ان کے  نام کا شہرہ سات سمندر پار تک ہوا بلکہ انہوں  نے  عالمی ادب میں  بھی اپنا ایک خاص اور اہم مقام بنا لیا ۔ کہا تو جاتا ہے  کہ اقبال جدید ذہن رکھتے  تھے۔ اور جدید مغربی علوم و افکار سے  متاثر تھے  اور ان کا نظام فکر مغربی فکری دھاروں  ہی سے  سیراب ہوا تھا لیکن یہ درست نہیں  ہے۔ اقبال کی ذہنی تعمیر کو سمجھنے  کے  لئے  تین باتوں  کو سمجھنا چاہیے۔ اور وہ تین باتیں  یہ ہیں۔

۱؂ ۔  آریائی نسلی لا شعوری میراث

۲؂۔  خاندانی اسلامی لاشعوری میراث (تصوف کے  ساتھ )

۳؂۔  شعوری مشرقی مغربی اکتسابات ۔

یہ تینوں  دھارے  ہم آہنگ ہو کر اقبال کی ذہنی تشکیل بن جاتے  ہیں۔ چنانچہ حقیقت یہ ہے  کہ انہوں  نے  مغربی افکار و علوم سے  تحریک حاصل کی تھی اور افکار و علوم کی جانچ پڑتال مشرقی علماء ، حکما ء اور صوفیہ اور فقراء کے  افکار و تصورات کی بنیاد پر کی تھی ۔ انہوں  نے  اس سلسلے  میں  نہ صرف قرآن کریم کی تعلیمات اور سرور کائنات رسول ا کرم ﷺ  کے  ارشادات اور سیرت پاک سے  خاص طور پر استفادہ کیا (جو ان کے  خاندانی اسلامی لاشعور کی دین تھی ) بلکہ آریائی نسلی لاشعوری میراث سے  فائدہ اٹھاتے  ہوئے  روم و تبریز کے  رموز اخذ کئے  اور مشرقی و مغربی فلسفوں  کے  غائر مطالعے  پر اپنے  افکار کی بنیاد رکھی ۔ یہی وجہ ہے  کہ جب ان کے  کلام کو شاعری کا درجہ دیا جانے  لگا اور انہیں  شاعر کہا جانے  لگا تو انہوں  نے  بہت سارے  تردیدی اشعار کہے۔ یہاں  تک کہ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں  انہوں  نے  شکایت کی :

من اے  میرِ اممؐ داداز تو خواھم

مرایاراں  غزلخوانے  شمر دند

(میں  اے  میر  اممﷺ آپ سے  داد کا خو است گار ہوں۔ مجھے  میرے  یاروں  نے  محض غزل خواں  سمجھا ہوا ہے۔ )

یا وہ قوم کی شکایت کرتے  ہوئے  کہتے  ہیں  :

اُو حدیث دلبری خواھد زمن

رنگ وآبِ شاعری خواھدزمن

کم نظر بے  تابیِ جانم نہ دید

آشکارم دید وپنہانم نہ دید

(وہ مجھ سے  حدیث دلبری اور رنگ و آبِ شاعری کے  طلب گار ہیں۔ انہوں نے  میری جان کی بے  تابی پر نظر نہ کی ۔ میرے  آشکار ہی کو دیکھا ۔ میرا اندرون نہیں  دیکھا ۔ )

اور اس سلسلے  میں  اقبال نے  اپنی صفائی اس طرح پیش کی :

گر دلم آئینۂ بے  جو ہر است

ور بحر فم غیر قرآں  مضمر است

روز محشر خوار و رسواکن مرا

بے  نصیب از بو سۂ پاکن مرا

(اگر میرے  دل کا آئینہ بے  جوہر ہے  اور اگر میری شاعری میں  قرآن سے  ہٹ کر کوئی بات ہے  تو مجھے  حشر کے  روز خوار اور رسوا کر دیجئے  بلکہ اپنے  پا نو کا بوسہ لینے  سے  بھی مجھے  محروم کر دیجئے۔ )

محولۂ بالا اشعار سے  دو باتیں  واضح ہو تی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اقبال بنیادی طور پر خود کو شاعر نہیں  مانتے ۔ اور شاعر کہے  جانے  پر ہتک محسوس کرتے  ہیں۔ اور دوسری اہم بات یہ ہے  کہ ان کے  اشعار و افکار کا ماخذ قرآن ہے  جسے  تمام تر فصاحت و بلا غت اور معنی آفرینی کے  باوجود بھی کوئی شعری مجموعہ نہیں  کہہ سکتا ۔

اب جن لوگوں  نے  مولانا جلال الدین رومی کے  احوال پر ایک سرسری نظر بھی ڈالی ہو گی انہیں  یہ سمجھنے  میں  دیر نہیں  لگ سکتی کہ اقبال مولانا روم سے  کس حد تک متاثر تھے۔ یہاں  وضاحت کی گنجائش نہیں۔ اگر قول واقعی سچ ہے   کہ ’ عقل مند وں  کے  لئے  اشارہ کافی ہے۔ تو دیکھئے  کہ مولانا روم کیا فرماتے  ہیں  :

از ہم آن کہ ملول نہ شوند ۔ شعری گویم

واللہ کہ من از شعر بیزارم

(اس خطرے  سے  کہ تم لوگ ملول نہ ہو جاؤ میں  شعر کہہ رہا ہوں  ورنہ قسم خدا کی میں  شعر و شاعری سے  بیزار ہوں۔)

مولانا نے  بزبان شعر بھی اس مفہوم کو ادا کیا  ہے  اور اپنی شاعری کے  بنیادی مقصد کو اس طرح بیان کیا ہے  :

من ز قراں  مغز برداشتم

استخواں  پیشِ سگاں  انداختم

(میں  نے  قرآن سے  مغز  اٹھا لیا ہے  اور ہڈیاں  کتوں  کے  سامنے  ڈال دی ہیں۔ )

بقول مولانا اصلاح الدین احمد:

’ مولانا جلال الدین رومی بنیادی طور پر شاعر نہیں  تھے۔ بلکہ ایک مرد مومن تھے۔ جنہیں  علم و فکر ، ذوق و شوق ، سوز و خلوص اور کلام و بیان کے  خزائن عامرہ میں  سے  ایک بہر ئہ عظیم عطا کیا گیا تھا ہی۔ خود اپنی زندگی کو ان مقاصد عالیہ اور ان اقدارِ جلیلہ سے  ہم آہنگ کرنے  کی توفیق بھی ارزانی ہوئی تھی جن کا فروغ ان کا منتہائے  نظر تھا۔ (تصورات اقبال صفحہ ۲۳۷)

اور ولیم سی شٹک (WILLIAM C.CHITTIC) کے  مطابق:

"Jalal al-Din one of the greatest spiritual masters of Islam, is well known in the west and next to al-Ghazzali perhaps the Sufi most studied by western orientalists”

(The Sufi Doctrine of Rumi- An Introduction. P.7)

’ رومی اسلام کے  وحید العصر روحانی پیشوا مغرب میں  الغزالی کے  بعد اہم ترین مفکر مانے  جاتے  ہیں  اور ان کا گہرا مطالعہ مستشرقین کا خصوصی موضوع ہے۔ ‘

آر ۔ کے۔ نکلسن (R.K.NICHOLSON)کے  مطابق :

"To those interested in the history of religion, morals, and culture, in fables and folklore in divinity, philosophy, medicine, astrology and the other branches of mediaeval learning, in eastern poetry and life and manners and human nature, the Mathnawi should not be a sealed book even if it cannot always be an open one”.

(The Mathnaawi of Jalaluddin Rumi. Translation P.17 Gibb  Memorial series, New series IV, 1960. London)

(’وہ لوگ جو مذہبی تاریخ ، اخلاقی اقدار، تہذیب ، حکایات پارینہ اور معاشرتی نغمات ، روحانیت ، فلسفہ ،طب ،علم ہیئت اور عہد وسطیٰ کے  دیگر علوم کے  علاوہ مشرقی شاعری ،معاشرتی معاملات اور فطرتِ انسانی کا مطالعہ کرنا چاہتے  ہیں۔ ان کے  لئے  مثنوی کو بند کتاب نہیں  ہونا چاہیے۔ یہ اور بات ہے  کہ وہ اکثر و بیشتر ان پر منکشف نہ ہو ۔ ‘)

مولانا صلاح الدین ، رومی کے  تصور عشق پر تبصرہ کرتے  ہوئے  لکھتے  ہیں  :

’مولانا روم کی نگاہ میں  عاشقِ صادق وہ ہے  جس کا دل گرم ، نگاہ پاک اور روح عملِ خیر کے  لئے  سراپا اضطراب ہو ۔ وہ نہ صرف اللہ پر بلکہ خو د اپنے  آپ پر ایمان رکھے  کہ وہی اس جہانِ گذراں  میں  اس کا نائب اور اس کی مشیّتوں  کا نگراں  ہے۔ تسلیم و رضا اس کا شیوہ ، جانبازی و سرفروشی اس کا شعار اور خدمت خلق اس کی عبادت ہو ۔ ‘(تصورات اقبال صفحہ ۳۳۰)

بقول اقبال :

چہ باید مرد  را طبعِ بلند ے ، مشرب نابے

دلِ گرمے ، نگاہِ پاک بینے  ،جان بیتابے

(مردِ حق کو کیا چاہیے۔ طبع بلند اور مشرب ناب (خالص مشرب) دل گرم ، نگاہ پاک بین اور جان بے  تاب۔ )

مولانا روم کے  اثرات علامہ اقبال پر نو عمری کے  زمانے  سے  ہی مرتب ہونے  لگے  تھے ۔ واقعہ یہ ہے  کہ اقبال صوفی گھرانے  میں  پیدا ہوئے  تھے ۔ اور وہ صوفی گھرانہ بھی نو مسلم تھا۔ جس میں  مذہبی شدت پسندی کے  عناصر شامل تھے۔ اقبال کے  والد محترم شیخ نور محمد صوفی منش اور فقیر مشرب بزرگ تھے ۔ اقبال  کے  بعض محققین اور خود اقبال نے  بھی بعض کرامات ان کی ذاتِ با برکات سے  منسوب کی ہیں۔ اور بقول اقبال بنام جاوید (جاوید اقبال ) :

جس گھر کا  مگر چراغ ہے  تو             ہے  اس کا مذاق عارفانہ  !

اقبال کے  سوانح نگاروں  نے  یہ بھی لکھا ہے  کہ بچپن سے  ہی ہر روز صبح میں  تلاوتِ قرآن اقبال کے  معمول میں  تھی ۔ ایک روز جب اقبال قدرے  ہو ش گوش والے  ہو چکے  تو والد نے  کہا کہ قرآن پڑھو تو یہ سمجھ کر پڑھو کہ تم ہی پر نازل ہو رہا ہے۔ یعنی اللہ تعالی خو د تم سے  ہمکلام ہے۔ اقبال ان ہی دنوں  اپنے  فاضل وقت میں  والد کی سلائی کی دوکان میں  بیٹھتے  اور وہاں  مثنوی مولانائے  روم کا مطالعہ بھی کرتے  تھے ۔ اپنے  والد کی ان ہی خصوصیات کی بنا پر انہوں  نے  کہا :

 

اس کی نفرت بھی عمیق اس کی محبت بھی عمیق

قہر بھی اس کا ہے  اللہ کے  بندوں  پہ شفیق

پرورش پاتا ہے  تقلید کی تاریکی میں

ہے  مگر اس کی طبیعت کا تقاضہ تحقیق

انجمن میں  بھی میسر رہی خلوت اس کو

شمع محفل کی طرح سب سے  جدا سب کا رفیق

مثلِ خو رشید سحر فکر کی تابانی میں

بات میں  سادہ و آزادہ معانی میں  دقیق

اس کا انداز نظر اپنے  زمانے  سے  جدا

اس کے  احوال سے  واقف نہیں  پیران طریق

 

چنانچہ میں  یقین کے  ساتھ کہہ سکتا ہوں  کہ ان ہی دنوں  اقبال نے  قرآن اور مثنوی مولانا روم  کا تقابلی مطالعہ کرنا شروع کر دیا تھا ۔ کیونکہ اس کا جواز پہلے  سے  موجود تھا یعنی:

مثنویِ  مولویِ معنوی

ہست قرآں  در زبان پہلوی

کیونکہ مولانا نے  قرآن کے  معانی و مفاہیم مثنوی میں  سمیٹ لئے  تھے۔ اس طرح انہوں نے  قرآن کی جدید تفسیر منظوم صورت میں  پیش کی اور زمانہ اسی کا متقاضی بھی تھا ۔ علماء اور فقہا کی حالت بقولِ روم کتوں  جیسی تھی ۔ ایسی صورت میں  عوام و خواص نے  مثنویِ  معنوی کو الہامی صحیفے  کا درجہ دیا ۔ یہاں  تک کہ مثنوی نے  عالم اسلام کی سرحدوں  سے  آگے  نکل کر غیر اسلامی دنیا میں  بھی اپنے  اثرات مرتب کئے۔ یہ دور خصوصاً عالم اسلام کے  لئے  ایسا دور تھا جس میں  ملت اسلامیہ عیسائیوں  کی ریشہ دوانیوں  اور چنگیزی قیامت کا شکار ہو کر اپنے  اوپر نشۂ بیخودی طاری کر رہی تھی۔ یہ حالات کی نامساعدت کے  مقابلے  میں  نفیِ حیات کا اظہار تھا ۔ روحانی ، الہیاتی ، تفکر کی فکری مایہ داری کو پھر ایک نئے  چنگیزی چیلنج کا سامنا تھا ۔ جبکہ کچھ ہی زمانہ قبل یونانی مفکر عالم اسلام کے  لئے  چیلنج بنا ہو ا تھا ۔ تو امام غزالی نے  یونانی تفکر کی بنیاد پر یونانی فکری حملے  کا مقابلہ کیا تھا جس کی مثال ان کی گراں  مایہ تصنیفات ’احیا ء العلوم‘ اور ’المنقذمن الضلال‘ ہیں۔ جن کی ادبی گرفت ذہنوں  پر شعری پیرائے  کی گرفت کے  مقابلے  میں  بہر حال کم ہے  اور ایسا ہونا فطری بھی ہے۔ ملت اسلامیہ کی ذہنی حالت ساڑھے  چھ سو سال پہلے  مولانا روم کے  زمانے  میں  ایسی ہی تھی اور پھر مولانا روم کے  ساڑھے  چھ سو سال بعد اقبال کے  عہد کا حال بھی ویسا ہی تھا ۔ اقبال نے  ’ مثنویِ  گلشنِ رازِ جدید‘ کی تمہید میں  یہ بات واضح کر دی ہے  کہ مولانا روم کو چنگیزی قیامت سے  واسطہ پڑا تھا اور میری نگاہ نے  دوسرا انقلاب دیکھا ہے  :

 

نگاہم انقلابے  دیگرے  دید

طلوعِ آفتا بے  دیگرے  دید

(میری نگاہ نے  دوسرا انقلاب دیکھا        ایک اور ہی طلو ع آفتا ب دیکھا)

 

ان کے  عہد کی کشمکش کا تناظر رومی اور بو علی سینا کے  اس موازنے  سے  واضح ہوتا ہے  :

 

بو علی اندر غبارِناقہ گم

دست رومی پردۂ محمل گرفت

( بو علی غبارِ ناقہ میں  گم ہو گئے         اور رومی نے  پردۂ محمل تھام لیا )

 

یہی وجہ تھی کہ اقبال نے  مولانا روم کو اپنا روحانی پیشوا تسلیم کر لیا ۔ مولانا روم زاویۂ وجدان کے  رہبر تسلیم کئے  جاتے  ہیں۔ اور اقبال بھی چونکہ وجدانی اہمیت کے  قائل ہیں  اس لئے  مولانا روم کو وہ وجدانی تصور کے  تحت اپنا مرشد تسلیم کرتے  ہیں۔ غزالی اور مولانا روم کے  عہد کے  جس تناؤ نے  المنقذ اور مثنوی کی تحریک کی تھی اقبال کا عہد بھی اسی تناؤ سے  دو چار تھا ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے  کہ مولانا روم حلقۂ تصوف میں  وحدت الوجود کے  قائل ہیں  اور حافظ بھی۔ لیکن اقبال کا خیال جداگانہ تھا۔

’جبکہ مولانا روم کو اپنا پیر طریقت تسلیم کرتے  ہیں  لیکن فرق یہ ہے  کہ حافظ کی حال مستی عمل میں  مانع ہوتی ہے  اور مولانا روم کی جستجو محرکِ عمل بن جاتی ہے۔ مولانا کا عشق عمل کا محرک جذبہ ہے۔ بقول مولانا اصلاح الدین احمد :

’’مولانا کی اپنی زندگی اسی عشق صادق کی تفسیر تھی ۔ رحم و کرم ، جود و سخا اور مہر و محبت ان کی شخصیت کے  عناصر تھے۔ اور اس کے  ساتھ انہیں  حق پر ستی اور راست بازی کی نعمتِ عظمیٰ اس کثرت سے  عطا ہوئی تھی کہ حق کی پاسداری میں  دنیا کے  بڑے  بڑے  خطرے  کو خاطر میں  نہیں  لاتے  تھے۔ طبیعت کے  انتہائی گداز ہونے  کے  باوجود شجاعت اور اعتمادِ محبت کا یہ عالم تھا کہ جب ہلاکو خاں  کے  سپاہ سالار بیخو خاں  نے  قونیہ پر حملہ کیا تو اسے  محصور کر لیا۔ محاصرے  سے  تنگ آ کر اہل شہر مولانا کی خدمت میں  حاضر ہوئے۔ آ پ نے  ایک بلند ٹیلے  پر جو بیخو خاں  کے  خیمے  کے  عین سامنے  تھا جا کر مصلّے ٰ بچھا دیا اور نماز پڑھنی شروع کر دی ۔ اہل فوج نے  معاً تیروں  کی بارش کی لیکن مولانا استقلال اور دلجمعی کے  ساتھ مصروف عبادت رہے۔ بیخو خاں نے  خیمے  سے  کئی تیر چلائے  لیکن اسے  ایمان کا اعجاز کہئے  یا عشق کی کرامت کہ مولانا  کو کوئی گزند نہیں  پہنچا اور وہ پورے  خشوع و خضوع کے  ساتھ برابر نماز پڑھتے  رہے۔ بیخو خاں  کے  دل پر اس کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ وہ محاصرہ اٹھا کر چلا گیا۔ (تصوراتِ اقبال صفحہ ۳۳۵)

اقبال مولانا کے  تصور عشق اور ان کی عملی شخصیت سے  بہت ہی متاثر تھے  کیونکہ مولانا کے  عشق میں  بے  عملی کی بجائے  عمل کی حرکت و حرارت ہے۔ اقبال نے  مولانا کے  عشق کو اپنا مطمحِ نظر بنا لیا کیونکہ وہ ایسے  عشق کو کرامت تصور کرتے  ہیں۔ وہ کہتے  ہیں :

عشق کی مستی سے  ہے  پیکر گُل تابناک

عشق ہے  صہبائے  خام عشق ہے  کاس الکرام

حالات کی نا مساعدات میں  مولانا روم نے  حیات کے  جس رد عمل کا مظاہر ہ کیا اس کی مثال عجم کے  روایتی صوفیہ میں  ملنی مشکل ہے۔ اس طرح صوفیا نہ میلان کو دو ذہنی رویوں  میں  تقسیم کیا جا سکتا ہے  اور ان  ہی دو ذہنی حالتوں  کا بیان ہم اقبال کی فارسی نظم ’اگر خواہی حیات اندر خطر زی‘ میں  پاتے  ہیں۔ یہ ایک علامتی تمثیلی نظم ہے۔ جو عالم اسلام کے  ذہنی فکری ماحول کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ بظاہر صحرا میں  د و غزالوں  کے  درمیان کا مکالمہ ہے۔   ؂

غزالی باغزالی دردِ دل گفت

(ایک غزال نے  دوسرے  غزال سے  اپنا دردِ دل بیا ن کیا ۔ )

لیکن حقیقت میں  یہ دو ذہنی صورتِ حال کا بیان ہے۔ الٰہیاتی تفکرات و تصورات  کا جو حال انیسویں  صدی کے  اواخر اور بیسویں  صدی کے  اوائل میں  ہو گیا تھا وہ ایسا ہی تھا جس میں   الٰہیاتی تصورات کی بقا کا امکان مفقود ہوتا جا رہا تھا اور مادی و مثالی فلسفیانہ نظریات   روحانی اور الٰہیاتی تفکر کی فکری مایہ داری کو چیلنج کر رہے  تھے۔ روایات اور فقہہ کے  بندھے  ٹکے  اصولوں  میں  یہ صلاحیت نہیں  تھی کہ وہ موجودہ علوم کا مقابلہ اپنی بنیادوں  پرکر سکیں۔ یہ صورتِ حال ویسی ہی تھی جس میں  غزالی نے  یونانی تفکر کا مقابلہ یونانی فکری بنیاد پر کر کے  ’احیاء العلوم‘ مرتب کی تھی ۔ اقبال نے  بھی ایسی صورتِ حال کا مقابلہ کیا اور انہوں  نے  غزالی کے  ہی اصول کو اپنایا ۔ ان کے  خیال کے  مطابق نا مساعد حالات سے   بھاگ جانا نفیِ حیات ہے۔ کیونکہ حالات کی نامساعدت  رد عمل کی قوت کو بڑھا دیتی ہے۔ اس تناظر میں  نظم کا آغاز ہمارے  ذہن کو فوراً ’ احیا ء العلوم‘ اور’ تشکیل جدید‘ کے  دو غزالوں  سے  ملا دیتا ہے۔ لیکن یہاں  یہ بات توجہ طلب ہے  اور قبل عرض کی جا چکی ہے  کہ امام غزالی کی احیاء العلوم میں  فلسفیانہ اور منطقی خشکی ہے  چنانچہ اس کے  اثرات دیر پا ثابت نہ ہو سکے۔ امام غزالی نے  اس کی خشکی کو اپنی دوسری تصنیف ’المنقذ ‘ سے  دور کرنے  کی کوشش کی تو یہ عہد خود ان کی گوشہ گیری کا تھا ۔ چنانچہ اس میں  عجمی تصوف کا وہی منفی میلان ہے  جس کی مخالفت اپنے  عہد میں  مولانا روم نے  فکری اور عملی دونوں  سطح پر کی ۔ پھر جب اقبال نے  اپنے  عہد کا جائزہ لیا اور مولانا روم ہی کی طرح اس میلان کی مخالفت کی ۔ اس ذہنی اور فکری ماحول کو اقبال نے  اس طرح بیان کیا ہے  :

 

غزالی با غزالی دردِ دل گفت

ازیں  پس در حرم گیرم کنامی

بصحراصید بنداں  درکمیں  اند

بکامِ آہواں  صبحی نہ شامی

اماں  از فتنۂ صیاد خواہم

دلم اندیشہ ہا آزاد خواہم

 

(ایک ہرن نے  دوسرے  ہرن سے  کہا بس اب حرم میں  گوشہ گیر ہو جائیں  کیونکہ صحرا میں  شکاری دام الجھائے  بیٹھے  ہیں  اور ہرنوں  کے  لئے  اب نہ صبح ہے  نہ شام ہے۔ فتنۂ صیاد سے  امان ہم ڈھونڈتے  ہیں  اور دل کو تمام اندیشوں سے  آزاد رکھنا چاہئیے ۔ )

اس بند میں  تصوف کا وہی منفی میلان ہے  جس سے  اقبال نے  اختلاف کیا ہے۔ اقبال کا مشورہ ملاحظہ فرمائیں  :

 

رفیقش گفت اے  یار خردمند

اگر خواہی حیات اندر خطر زی

دمادم خویشتن رابر فساں  زن

زتیغِ پاک گو ہر تیز ترزی

خطر تاب وتواں  را امتحان است

عیار جسم وجاں  را امتحان است

 

(اس کے  ساتھی نے  کہا کہ اے  عقل مند اگر تو جینا ہی چاہتا ہے  تو خطرات میں  بھی ہر لمحہ خود کو کسوٹی پر رکھتا چلا جا اور تیغ پاک گوہر سے  بڑھ کر جی ۔ خطرہ طاقت کے  لئے  امتحان ہے۔ )

اقبال جس خطر پسندی کی تلقین کرتے  ہیں  عملی طور پر یہ خطر پسندی غزالی یا دوسرے  صوفیا میں  نہ تھی جبکہ مولانا روم نے  تیروں  کی باڑھ پر اپنی زندگی کے  عیار کو تول کر بتا دیا تھا ۔ حیات کی تکمیل عشق کے  بغیر نہیں  ہو سکتی اور عشق جذبۂ ایثار و قربانی کے  بغیر اپنی تکمیل نہیں  کر  سکتا ۔ ارادے  کی پختگی ، عمل کی شدت اور مقصد کی پاکیزگی و طہارت اس میں  شامل ہے  اور ان ہی مجموعی کیفیات کے  اظہار کے  لئے  اقبال نے  علامت کے  طور پر لفظ خودی استعمال کیا ہے۔ آدم کی تخلیقی سرشت میں  یہ عنا صر موجود ہیں  چنانچہ اقبال کہتے  ہیں  :

 

نعرہ زد عشق کہ خونیں  جگر ے  پیدا شد

حسن لر زید کہ صاحب نظرے  پیدا شد

فطرت آشفت کہ از خاکِ جہانِ مجبور

خودگرے  ، خو د شکنے  ، خود نگرے  پیداشد

 

(عشق نے  نعرہ لگایا کہ خونیں  جگر پیدا ہو ا حسن لرز اٹھا کہ صاحب نظر پیدا ہو ا۔ فطرت پریشان ہو گئی کہ جہاں  مجبور کی خاک سے  ایک خود گر، خود شکن اور خود نگر پیدا ہو گیا۔ )

مولانا روم شمس تبریز کے  رمز آشنا تھے  چنانچہ بقول صلاح الدین احمد :

’’مولانا کا کلام اسی گرمیِ دل ، اسی حرارتِ عشق ، اسی اعتمادِ ذات اور اسی جذبۂ رضا کا آئینہ دار ہے۔ وہ اس حیات مستعار کو اپنے  طلب کی وسعتوں  میں  سمیٹ لیتے  ہیں  اور اس طرح سے  بسر کر تے  ہیں  اور بسر کرنا سکھا تے  ہیں  کہ خود زندگی زندہ رہنے  والے  کی اسیر ہو کر رہ جاتی ہے۔ وہ یہ نہیں  دیکھتے  کہ ہم زندگی سے  کیا کیا لیں  بلکہ وہ یہ دیکھتے  ہیں  کہ ہم زندگی کو کیا کچھ دیں ‘‘ :

(تصوراتِ اقبال صفحہ ۳۳۱)

مولانا روم انسانیت کے  جملہ امراض کا علاجِ واحد عشق کو سمجھتے  ہیں۔ وہ کہتے  ہیں  :

 

شاد باش اے  عشق خو ش سو دائے  ما

اے  طبیبِِ جملہ علت ہائے  ما

(خوش ہو اے  عشقِ خوش سودا مرے            اے  مری تمام بیماریوں  کے  طبیب)

 

جسمِ خاک از عشق بر افلاک شد

کوہ در رقص آمد و چالاک

(خاکی جسم عشق کے  فیض سے  افلاک پر پہونچ گیا ۔ پہاڑ رقص کرتا ہوا چست  و چالاک ہو گیا)

 

عشق جانِ طور آمد عاشقا

طورمست و خرّ  موسیٰ صائقا

(عشق جانِ طور بن گیا اے  عاشق!طور مست ہو گیا اور موسیٰ بے  ہو ش ہو کر گر پڑے  )

 

بالبِ دم ساز خودگر جفتمی

ہمچو نے  من گفتنی ہا گفتنی

(اگر لب دم ساز کو میں  بانسری سے  ملاؤں  تو تمام گفتنی باتیں  کہہ ڈالوں ۔ )

 

بشنواز نے  چوں  حکایت می کند

وز جدائی ہا شکایت می کند

(سنو تو بانسری کیا حکایت سنا رہی ہے۔ وہ تو جدائی کی شکایت کر رہی ہے۔ )

 

سینہ خواہم شرح شرح از فراق

تابگویم شرحِ دردِ اشتیاق

(میرا سینہ فراق میں  چھلنی چھلنی ہو گیا ہے  تاکہ اپنا دردِ اشتیاق بیان کر سکوں ۔ )

 

یہ مولانا روم کے  اشعار ہیں  جن سے  ان کے  تصور عشق پر روشنی پڑتی ہے۔ روایتی صوفیا عشق میں  وصال کے  قائل ہیں  لیکن مولانا روم فراق پر زور دیتے  ہیں  کیونکہ حالات کی نامساعدت میں  عالمِ فراق بھی غنیمت ہے۔ مولانا روم کے  اس وجدانی تصور کو مرتب کرنے  میں  شمس تبریز کی صحبتوں  کا اہم رول تھا ۔ اقبال اپنے  آپ کو شمس تبریز اور مولانا روم دونوں  کا رمز آشنا بتا تے  ہیں ۔ اقبال کہتے  ہیں  :

مرا بنگر کہ در ہندوستاں  دیگر نمی بینی       برہمن زادۂ رمز آشنائے  روم وتبریز است

(مجھے  دیکھ کہ ہندوستان میں  مجھ جیسا کو ئی اور برہمن زادہ رمز آشنائے  روم و تبریز نہیں  ملے  گا۔ )

اس لئے  اقبال بھی مولانا روم کی طرح عشق کی کیفیت میں  فراق ہی کو ترجیح دیتے  ہیں  :

 

عالم سوز و ساز میں  وصل سے  بڑھ کے  ہے  فراق

وصل میں  مرگِ آرزو ہجر میں  لذت طلب

عینِ وصال میں  مجھے  حوصلۂ نظر نہ تھا

گرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہِ بے  ادب

گرمیٔ آرزو فراق شورش ہائے  و ہو فراق

موج کی جستجو فراق ،قطرہ کی آبرو فراق

 

پہلا تاثر ،آخری تاثر والی بات اقبال پر بھی صادق آتی ہے۔ کم عمری کے  زمانے  سے  ہی مولانا روم ، اقبال کے  دل و دماغ پر چھانے  لگے  تھے۔ چنانچہ ’بانگ درا‘ اور ’پیام مشرق‘ میں  بھی مولانا موجود ہیں  اور ’زبور عجم‘ میں  پوری قوت و توانائی کے  ساتھ ان کا ظہور ہوتا ہے  :

 

راز معنی مر شد رومی کشود

فکر من بر آستانش در سجود

(معنی کا راز مرشدِ رومی نے  مجھ پر کھولا ۔ میری فکر ان کے  آستاں  پر سر بہ سجود ہے۔ )

 

اقبال میں  شخصیت کے  تحفظ  اور ارتقاء کی امنگ جگانے  والے  رومی ہی تھے۔ دوسری گول میز کانفرنس (لندن ) سے  جب اقبال بد دل ہوئے  تو اس وقت بھی مولانا روم کے  کلام نے  انہیں  سنبھالا اور

مولانا روم کی عظمت کا سکہ ان کے  دل پر بٹھا دیا:

ہم خو گرِ محسوس ہیں  ساحل کے  خریدار

اک بحر پُر آشوب و پُر اسرار ہے  رومی

اقبال کا عصر جن انقلابات کے  اثرات کا آئنہ دار تھا ان میں  ایک اہم بات یہ بھی تھی کہ برطانوی نو آبادیاتی نظام میں  خلل آ رہا تھا ۔ شخصی حکومت کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی تھی ۔ صنعتی ، سیاسی اور مذہبی انقلابات رونما ہونے  لگے  تھے  اور مختلف حالات میں  کامیابیاں  حاصل کر رہے  تھے ۔ سرمایہ داری اور اشتراکیت کے  درمیان کی کشاکش ایک نئے  مخلوط معاشی نظام کے  تصور کو جنم دے  رہی تھی اور صورت حال بقول اقبال یہ تھی :

 

گیا دورِ سرمایہ داری گیا

تماشہ دکھا کر مداری گیا

گراں خواب چینی سنبھلنے  لگے

ہمالہ کے  چشمے  ابلنے  لگے

دلِ طور سینا و فاراں  دونیم

تجلی کا پھر منتظر ہے  کلیم

 

یہ صورتِ حال ایسی تھی جو اس بات کی نشاندہی کر رہی تھی کہ انسانیت پھر ایک بار ا تھاہ سناٹے  سے  دوچار ہونے  والی ہے  جہاں  آگے  کی راہ کا کوئی تعین ممکن نہ ہو گا اور پھر وجدان،روحانی اور اخلاقی اقدار ہی انسانیت کے  ارتقائی سفر کو آگے  بڑھا نے  کا کارنامہ انجام دیں  گے۔ انہوں  نے  اس ماحول کو دیکھتے  ہوئے  کہا تھا :

تمہاری تہذیب اپنے  خنجر سے  آپ ہی خود کشی کرے  گی

جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے  گا ، نا پائیدار ہو گا

اقبال صرف اتنا ہی کہہ کر ر ک نہیں  گئے  تھے۔ انہوں  نے  اس دیرینہ بیماری اور اس دل کی نا محکمی کا علاج بھی اسی آبِ نشاط انگیز کو بتایا جس سے  شمس تبریز اور مولانا جلال الدین رومی سرشار تھے  :

وہی دیرینہ بیماری وہی نامحکمی دل کی

علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے  ساقی

جدید سائنسی طلسم اور اس کے  اثرات و نتائج  پر جن لوگوں  کی نگاہ ہے  وہ اس غزل کو عصرِ حاضر کی روشنی میں  محسوس کر سکتے  ہیں  :

 

دگرگوں  ہے  جہاں تاروں  کی گردش تیز ہے  ساقی

دل ہر ذرہ میں  غوغائے  رستا خیز ہے  ساقی

متاعِ دین ودانش لٹ گئی اللہ والوں  کی

یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں  ریز ہے  ساقی

وہی دیرینہ بیماری وہی نامحکمی دل کی

علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے  ساقی

حرم کے  دل میں  سوز آرزو پیدا نہیں  ہوتا

کہ پیدا ئی تری اب تک حجاب آمیز ہے  ساقی

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے  لالہ زاروں  سے

وہی آب و گلِ ایراں  ، وہی تبریز ہے  ساقی

نہیں  ہے  نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں  سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے  ساقی

 

اقبال نے  جس قدر مولانا  روم کا اثر قبول کیا اس قدر مشرق و مغرب کے  کسی بھی مفکر یا شاعر کا اثر قبول نہیں  کیا اور مولانا روم کی یہ اثر پذیری اقبال کے  نزدیک صرف اس وجہ سے  نہیں  ہے  کہ وہ ایک عظیم مفکر یا شاعر ہیں۔ بلکہ مولانا روم کے  یہاں  فکر و عمل میں  کلی ربط ہے۔ وہ اپنے  افکار کی تشریح و تفسیر اپنے  اعمال سے  کرتے  ہیں۔ اور اقبال کو مولانا کا یہی پہلو سب سے  زیادہ متاثر کرتا ہے  اور وہ مولانا روم کو اپنا روحانی پیشوا تسلیم کر لیتے  ہیں۔ انہیں  مولانا سے  غیر معمولی عقیدت اور داخلی ربط ہے ۔ اقبال نے  نہ صرف یہ کہ بالِ جبریل  کی نظم مریدِ ہندی اور مرشد رومی میں  خود کو مرید اور مولانا کو مرشد قرار دیا ہے۔ بلکہ مولانا کی مثنوی کی تقلید اس طرح کی ہے  کہ اسی زمین اور  اسی بحر میں  ’ اسرار و رموز ‘ اور ’ جاوید نامہ ‘ کی تخلیق کی۔ اسرار خودی کے  آغاز میں  انتساب  کے  طور پر مولانا کی ایک غزل کے  تین اشعار شامل کئے  اور اپنے  اشعار و اقوال کے  ذریعہ بہت سارے  مواقع و مراحل پر اس امر کا کھلے  دل سے  اعتراف و اظہار کیا کہ رومی ؔ ان کے  مرشدِ معنوی ہیں  اور بصارت و بصیرت کی ساری منزلیں  انہوں  نے  مولانا روم کی ہی روحانی رہنمائی میں  طے  کی ہیں۔

ماخوذ از : ۔  اقبال۔ عصری تناظر۔ مئی ۱۹۹۶ء

٭٭٭

مشمولہ: سہ ماہی اقبال ریویو، حیدر آباد، رومی نمبر

تشکر: امتیاز الدین اور شارپ کمپیوٹرس، حیدر آباد، جن سے فائل کا حصول ہوا

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید