ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

کتاب کا اقتباس پڑھیں…..

 

ایکو فیمنزم اور عصری نثائی اردو افسانہ

 

 

 

نسترن احسن فتیحی

 

 

انتساب

 

خواتین ادیبوں

کے نام

حرف مدعا

 

ورجینیا وولف نے ادب میں مردانہ اور نسوانی فکر کی تفریق کو بے معنی قرار دیا ہے ان کا خیال ہے کہ ذہن یا احساس کی سطح پر مرد اور عورت کے مابین کسی بھی تفریق کا تعلق شعور، لاشعور اور تخیل سے ہے نہ کہ جینیاتی تفریق سے۔ پھر بھی مروجہ تصور کے مطابق نسائی احساس مردانہ احساس سے مختلف ہوتا ہے۔ اگر ایک عورت کا ذہن شعوری طور پر زیادہ متحرک ہے اور فطرت کے حقائق سے روبرو ہونے کی قوت رکھتا ہے تو اُس کا مطلب ہے کہ اس کے ذہن میں مادریت کا پہلو زیادہ کارگر ہے اس کے ذہن کا Femaleness زیادہ فعال ہے۔ اور دیکھا جائے تو اس تفریق کو بعض اربابِ دانش نے بھی قبول کیا ہے۔

اس مروجہ تصور کے مطابق نسائی احساس کی کئی سطحیں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جہاں عورت کالی کے روپ میں نظر آتی ہے تو دوسری جانب مادریت سے بھرپور اناپورنا کا روپ ہے۔ یہ سوچ کی وہی سطح ہے جو ’’ایکو فیمینزم‘‘ کی صورت میں نقطۂ تکمیل پاتی ہے اور عورت اور فطرت کو درج کمال تک پہنچنے پر یقین رکھتی ہے۔ یہ وہ سطح ہے جو بعض فیمنزم کی علمبردار خواتین افسانہ نگاروں کی تخلیقات میں نظر آتی ہے جو مرد کو عورت کی ضد کے طور پر دیکھتی ہے۔ ان تخلیقات کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں اس قدر فطرت ہے اور فطرت سے اتنی وابستگی کہ ان تخلیقات پر ورڈس ورتھ کی شاعری کا گماں گزرتا ہے۔ فطرت کی طرف مراجعت اور ذہنی و فکری اعتکاف کا منظر ان افسانوں میں نمایاں ہے۔ ان افسانوں میں دریا کی لہریں ہیں، رنگ بدلتا آسمان، زمین پر سبزے کا جادو۔۔۔ اور تصور میں ایک ایسے انسان کا پیکر جس میں فطرت سے کسی قسم کی کوئی وابستگی نہیں۔ ان افسانوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ فطرت میں کتنے اسرار پوشیدہ ہیں، کیسی گہرائیاں ہیں پانی کی لہروں کے نیچے۔ زمین پر بسنے والے انسانوں میں جن کے مختلف رنگ روپ ہیں۔ لہریں ابھرتی ہیں، ڈوبتی ہیں … اور سمندر کا حصہ بن جاتی ہیں، انسان جنم لیتے ہیں مرتے ہیں لیکن زندگی چلتی رہتی ہے … رواں رہتی ہے۔ ان عصری تانیثی افسانوں سے فطرت کے مکمل حسن کا ادراک ہوتا ہے۔ فطرت کے علاوہ ذات کے گمشدہ حصوں کی دریافت اور اپنے جڑوں کی تلاش کا عمل بھی ان افسانوں میں نمایاں ہے۔ ان خواتین افسانہ نگاروں نے زوال پذیر انسانی معاشرے کی کہانی اور اخلاقی انحطاط کا فسانہ اس خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے کہ پدر سری معاشرے کی جڑوں کی کثافت صاف نظر آتی ہے اور بعض کہانیوں میں وہ اسی کثافت کے خلاف آمادہ جنگ نظر آتی ہیں۔ اس جنگ سے جنم لیتی ان تخلیقات میں دکھ بھی ہیں، درد بھی اور تنہائی کا گہرا احساس بھی۔ مگر یہ کہانیاں نسائی فکری تموجات کا ایک منظرنامہ بھی ترتیب دیتی نظر آتی ہیں۔

زیر نظر کتاب عصری تانیثی افسانوں کے نسائی باغیانہ تیور کی وکالت ہے مگر یہ بے جا وکالت نہیں۔ صحیح زاویے سے دیکھیں تو یہ حرفِ صداقت ہے، ایک سچا تانیثی بیانیہ ہے جسے پدر سری سماج نے برسوں اپنے جبڑوں تلے دبائے رکھا۔ اس پدر سری سماج نے جس نے اپنی زمین اور جڑ کو فراموش کر دیا۔ وہ زمین جو عورت کی ایک علامت ہے۔

نسترن احسن فتیحی، علی گڑھ

٭٭

پیش لفظ

 

بیسویں صدی کے پہلے پچاس سال گزرے تو یورپ میں انسانی مسائل کو نئے رخ سے دیکھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ وجودیت اور جدے دیت پہ مکالمہ جاری تھا کہ ساختیاتی بحث نے فکری دھارے کو پھر اسی طرف موڑ دیا جہاں سیاق و تناظر اور جدلیات کی بحث کا سلسلہ منقطع ہوا تھا۔ یعنی متنی تشکیلات میں ثقافتی (تاریخی) مادیت کی اہمیت و کردار۔ نئے علمی و ادبی تناظر میں متن کی حیثیت واضح ہونے سے نفسیاتی محرکات کو بھی تسلیم کیا گیا اور یوں متن سیاق اور تناظر کی تثلیث مباحث کا حصہ بن گئی۔ اردو شعری تنقید نے روایت اور جدت میں توازن رکھنے کی (ہر ممکن) کوشش کی ہے لیکن فکشنل متون پہ مغربی تنقیدی فکریات کا اثر کافی گہرا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو روایتی ترکیب نحوی سے رگڑ کھاتے وہ سوالات ہیں جو آئیڈیالوجی پہ’ ارتکاز ‘کرتے نیا محاورہ تشکیل دینے پہ مصر ہیں۔ لیکن ستم ظریفی یہ کہ ہنوز آئیڈیالوجی کی تعریف وضاحت طلب ہے۔ علامتی اور استعاراتی زبان میں موجود (تشکیکی) کلامیہ ثقافتی ہچکچاہٹ کا شکار نظر آتا ہے۔ اس تنقیدی التباس میں جملے کی جمالیاتی ترجیحات تصور انسان اور تصورِ متن کو دھندلانے میں پیش پیش رہیں۔ دوسری وجہ (تنقیدی تحدید کے سبب) ’بنی نو انسانیات‘ میں عورت کی آواز کی شمولیت سے عبارت ہے۔ مروج تنقید میں، عورت کے بدن کی نسبت سے ہر قسم کی رومانوی، جمالیاتی اور مزاحیاتی کیمیا گری قابل قبول ہے لیکن جہاں تک عورت کی سماجی حیثیت اور اس کی ’’ادرنگ‘‘ کا تعلق ہے تو عام طور پہ رد عمل بہت ٹھوس اور روایتی ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں کوئی بھی علمی اور تحقیقی مکالمہ تنقیدی خندہ پیشانی پہ شکن کا سبب (اب بھی) بنتا ہے۔ ایک طرف تو تحریمات کا جبر اور دوسری طرف پاپلور کلچر۔ اس قسم کے علمی ماحول میں محدود آزادئی اظہار ہی ممکن ہے۔ شعری اور فکشنل مکانات میں ممکنہ بیباکی کی سہولت موجود ہے لیکن براہ راست یعنی تنقید کے میدان میں ابھی بہت سے نظریاتی مسائل حائل ہیں۔ محدود رد تشکیلیت یا ساخت شکنی کے باوجود عورت نے اپنی زندگی، ماحول اور متن کو نسائی اور (کہیں) تانیثی نظر سے دیکھا ہے۔ اس ضمن میں اردو میں بہت اچھے مضامین لکھے گئے جن میں ثقافتی سرگرمیوں اور افسانوی متون میں عورت کے استحصال اور اس کے پس پردہ محرکات کی تصویر کشی کی گئی۔ اردو تحقیقی اور تنقیدی روایت میں ڈاکٹر نسترن فتیحی کی کتاب ’’ ایکو فیمینزم اور عصری تانیثی افسانہ‘‘ نہایت اہم ہے۔ تخلیق، تحقیق اور تنقید میں ڈاکٹر صاحبہ کا نام دنیائے ادب کے کسی خاص نظریاتی دھارے سے تعلق نہیں رکھتا۔ ان کا تصور ادب وہی ہے جو ان کا تصور انسان ہے۔ نرگسیتی رہتل میں بسنے والے تقرر پسند انسان ان کے رد تشکیلی مطالعہ کا موضوع رہے ہیں۔ لیکن ان کی تصانیف میں مخاطبہ نہیں مکالمہ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ان کی اس فکری کاوش سے تنقیدی لٹمس ٹیسٹ کی آزادی کی نوید ملتی ہے۔ یہ کتاب اس لئے بھی اہم ہے کہ اس میں ایکو فیمینزم کی رو سے اس روایت سے انحراف کیا ہے جس نے آئیڈیالوجی، طاقت، اجارہ داری اور نر پرستی کی فوقیت سے انسانیاتی تقسیم کو تقویت دی ہے۔ لیکن ڈاکٹر نسترن نے اپنے تھیسز میں مرد کو قوسین نہیں کیا نہ ہی عورت کو روایتی کچن قلمرو کی باسی سمجھا۔ یہاں عورت کی وہی لوکیل ہے جو مرد اپنی ریاست سمجھتا ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ عورت اور ماحولیاتی مادریت میں تعلق پہ اردو تنقید سے جو متن سامنے آ رہا ہے اس میں صورتِ حال، تجزیہ، منہاج اور نتائج بھی مختلف ہیں۔ ’تاریخی اختتام‘ جیسے مہانیوں نے سرمایہ دارانہ نظام کے آفاقی غلبہ پہ مہر تو ثبت کر دی لیکن سماجی تجربات کے تنوع میں اینٹی تھیسز کی اہمیت اس گرہن کی زد میں نہیں آئی۔ بلکہ، اس کے برعکس، بیسویں صدی کے آخری حصے میں، نظریہ، ذہن، نصاب، تاریخ اور انسان سازی میں ثقافتی اور لسانی طرفداریوں اور جانبداریوں کے جدلیاتی، ثقافتی، صنفی اور نفسیاتی مطالعہ کی، مختلف سطحوں پرِ، ضرورت محسوس کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ متن کی سوالیات پہ غور کیا جانے لگا۔ اردو تنقیدی روایت میں خوشگوار حیرتوں کے باب کھلتے جا رہے ہیں۔ انسانی ثقافتی ہے یا فطری (جبلتی)، انسان (مرد و زن) کی موضوعیت کیسے تشکیل پاتی ہے، عورت کا بدن ایک مفعول متن کیونکر ساخت ہوتا ہے وغیرہ ایسے سوالات ہیں جو آج کے قاری کو مضطرب کرتے ہیں۔ جواب کے لئے ہمیں تاریخ اور طاقت کے مراکز میں تشکیل پانے والی درسی نظامت کو سمجھنا ہو گا جس کے سبب سرمائے کے عالم گیر پراجیکٹ کی تکمیل ہوتی رہی اور لوک ورثہ متاثر ہوتا رہا۔ ایسا نہیں کہ فوک کلچر میں عورت کی حیثیت ثانوی نہیں تھی، ایسا ہے کہ کھیتوں میں کام کرنے والے فطرت کے وسائل سے یکساں مستفید ہوتے تھے۔ اگر کیکر مذکر تھا تو ٹاہلی مونث دونوں کی اہمیت ایک جیسی تھی۔ لیکن صنعتی معاشرت اور صارفی ثقافت نے مارکیٹ سے فوک اقدار اور’ حیاتیاتی اخلاقیات‘ کو شکست دے دی۔ ہندوستان کے صوبہ اترا کھنڈ میں چپکو تحریک چلی جس سے نو آبادیاتی سرمایہ دارانہ ذہنیت اور مقامی عورت کی مزاحمت ماحولیاتی مادریت کے ڈسکورس میں بائنری کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔

ایکو فیمینزم کے سوالات لبرل فمینزم سے مختلف ہیں کیوں کہ بنیادی طور پہ یہاں عورت کی بغاوت نہیں بلکہ کھیت اور’ کھیتیوں ‘ کی اہمیت و افادیت کو عورت کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔، ایکو فیمینزم انسانی زندگی کی زرخیزی اور سبزہ زاری کو نامیاتی وحدت سے متشکل کرنے کی کوشش ہے۔ اس شعور کی رو کے مطابق لالچ افروز متون ثقافتی نصابوں کا حصہ بنتے رہے اور زمین اور عورت سکڑتی چلی گئیں۔ سر سبز و شاداب فطری حسن کی اینکروچمنٹ اور عورت کے استحصال کے درمیان تعلق بھی تاریخی ذہن سازی کا خاصا ہے۔ یوں کہ کمزور، عورت اور نیچر کی تثلیث میں لازمیت اور ابدیت سٹیریو ٹائپ کی گئی۔ ایسی مباحث سے بلاشبہ نظر اور نظریات کی تفہیم و تعبیر کے حوالے سے نئے سوالات کو جگہ ملتی ہے۔ جنگ و جدل، وسائل پہ قبضہ کی خواہش اور چادر اور چار دیواری کے (پسِ) ساختیاتی مطالعہ سے نسلی، لسانی اور صنفی امتیازات تک کی پرکھ بھی آج کے تنقیدی شعور کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ زمین زاد اور زمین زادی دونوں فطرت کا حصہ (رہے) ہیں لیکن یک طرفہ تاریخی دھارے نے مصنوعی مصنوعاتی ثقافت کے فروغ کے سبب ارتھلنگز میں تخفیفی رویے کاشت کئے ہیں۔ اس امتیازی ڈسکورس کی غیر اتفاقاتی ثقافت پہ سوالیہ نشان نئی صدی کا اہم باب ہے۔ ایکو فیمیزم اور نسائی بیانوی متون کا یہ مطالعہ ڈاکٹر نسترن کی تنقیدی بصیرت کا عکاس ہے۔ اس کتاب میں عورت، تخلیق، ماحولیات اور سماج کے تعلق سے جن نکات پہ روشنی ڈالی گئی ہے وہ آج کی پوسٹ کولونیل دنیا سے بھی متعلق ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ اس تنقیدی کام کی اہمیت و افادیت سے مستقبل قریب میں نئے تحقیقی زاویے سامنے آئیں گے۔

فرخ ندیم

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی

اسلام آباد۔ پاکستان

٭٭

 

 

باب: ۱۔ ایکو فیمینزم

 

ہمارے ادراک و احساس اور جمالیاتی ساخت کا تخلیقی توانائی سے حرارت لے کر حسنِ اظہار کے مختلف اسالیب میں ڈھل جانے کا نام ادب ہے۔ انسانی زندگی "مشاہدے” سے ’’ تجربے‘‘ کے درمیان جھولتی، گرتی، سنبھلتی اور ہچکولے کھاتی رہتی ہے۔ اس کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور دکھانے کی فنی مہارت، کبھی قریب اور کبھی فاصلے سے برتنے کا ہنر، اس کی آگہی اور بصیرت کاالیاتی بیان اور حسن کا ری کے ساتھ ترسیل و ابلاغ، ادب کا وسیلہ ہے۔ اس طرح فرد اور سماج کے تعلقات، حیات و کائنات کے تصورات، عقل و عشق کی کشمکش، خواب اور حقیقت کے ٹکراؤ کے ساتھ لفظ و معنی کے رشتوں سے بننے والے بے شمار معنوی انسلاکات اور شیوہ ہائے رنگا رنگی کی امانت کا بوجھ اُٹھانا اور ناز برداری کرنا ادب کا تقاضہ ہے۔ اسی لیے ہر زمانے کا ادب مختلف زاویہ ہائے نگاہ رکھتا ہے اور اپنے وقت کی تحریکات اور اس سے پنپنے والے رجحانات کے زیرِ اثر ترجیحات کو قبول کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے، اور کشتِ حیات کو سیراب کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ جب ہم ادب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اس میں نئی سوچ، تھیوری اور موضوعات جنم لیتے رہتے ہیں اور ان سے تخلیقی رویے کی تازہ کونپلیں پھوٹتی رہتی ہیں، جن سے ادب کی جمالیات اور شعریات میں ایک شادابی رہتی ہے۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں ثقافتی اور لسانی یک رنگی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ نتیجتاً زبانیں اور ادبی روایات اپنی علاقائی سرحدوں سے باہر کے اثرات قبول کر رہی ہیں۔ اس پیچیدہ باہمی ربط کے نتیجے کے طور پر حالیہ برسوں میں نئی ادبی اصطلاحیں اور نئے تنقیدی محاورے وضع کئے جا رہے ہیں تاکہ مختلف قومی روایات، زبانوں اور ثقافتی رسومات کے درمیان ایک باہمی ربط کا بخوبی مطالعہ پیش کیا جا سکے۔ گویا ادبی تنقید میں نئے نئے ادبی مکالمات، ڈسکورس اور تحقیقی سطح پر نئے نئے منکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر ہم گذشتہ ستّر پچھتّر برس کی ادبی تحریکات کا جائزہ تعقلاتی فریم ورک (Conceptual Frame Work) اور تخلیقی نظامِ اقدار کے حوالے سے لیتے ہیں تو مختلف تخلیقی رویے اور مختلف تنقیدی رجحانات نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔

ادبی اصطلاحیں جس سانچے میں ڈھلتی ہیں اور تخلیقی رویہ جس نظامِ اقدار کے حوالے سے اپنی شناخت قائم کرتا ہے وہ اتنا سبک، نازک اور لطیف ہوتا ہے کہ وہ ہمارے جمالیاتی شعور کی کسی نہ کسی سطح پر انبساط کا سامان کرتا ہے۔ ایک ادیب یا فن کار کسی نظریے یا فلسفے کو اپنی جمالیاتی سرگرمیوں کا مرکز بنا سکتا ہے، لیکن اس کی بنیاد پر جمالیاتی اصول اور معیارات سے پہلو تہی نہیں کر سکتا۔ اسی طرح دوسرا فن کار کسی نظریے یا فلسفے سے بے نیاز ہو کر یا اُن کا پابند ہوئے بغیر فن کے عظیم نمونے ایجاد کر سکتا ہے۔ نظریہ فکرو فن کی شرائط میں سے نہیں ہیں، البتہ محاسن ہو سکتے ہیں۔ شعور کا جمالیاتی تناظر ایک مربوط معنویت پر استوار ہو تو اس کی بدولت جمالیاتی رسائی میں اضافہ یقیناً ہوتا ہے۔ ادب تصور جمال کا موجد نہیں ہوتا بلکہ ایک موجود تصور جمال کی خلاقانہ اتباع اور صورت گری کرتا ہے۔ ہر تہذیب دیگر مجموعی تصورات کی طرح جمال کا بھی ایک تصور رکھتی ہے۔ اس کی ماہیت ذہنی یا انفرادی یا وقتی نہیں ہوتی بلکہ اس میں بھی حق اور خیر کے تصورات کی طرح وہ اقداری استقلال پوری طرح موجود ہوتا ہے جس میں تبدیلی و تغیر کا امکان محض خال خال کار فرما رہتا ہے، اصول ان کی پہنچ سے ماورا رہتے ہیں۔ ہماری روایت اپنی اصل اور مقصود، یعنی حقیقت کے تناظر میں جن بنیادی تصورات پر مبنی ہے، اُن کی باہمی نسبتوں کا شعور ہماری اصطلاح میں حکمت کہلاتا ہے۔ یعنی حقیقت کا اظہار اور تصور جمال چونکہ حقیقت کے سلسلہ ظہور اور اس میں پائے جانے والے تنوع کو محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا اس کی کارفرمائی میں حسی اور تجرباتی رنگ حاوی رہتا ہے اور ذہنی کیفیت کم ہوتی ہے۔ اس لیے حکیمانہ شعور جمال کو نظریہ سازی اور فلسفہ طرازی کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ کیونکہ اس حکیمانہ شعور جمال کا حقیقت سے براہ راست وابستہ ہوتا ہے، ذہن جن اسالیب حصول کا پابند ہے وہ اس فضا کو اول تو گرفت میں نہیں لے سکتا اور اگر یہ کوشش کرتا ہے تو انتشار کا موجب بن سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسا اظہار ذہن اور عقل کے لیے fulfilling ہوتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ تخلیقی آسودگی کے معیار اور اس کی سطح کے حوالے یقیناً مختلف ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ مختلف نظریہ اقدار (Value system) اور نظریہ حیات (World view) کی روشنی میں ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ نئی ادبی اصطلاحیں تنقیدی مباحث اور تقابلی جائزہ کو با معنی اور تعمیری بناتی ہیں اور اس طرح ادبی تنقید میں ایک کھلا ڈسکورس اور مکالمہ جاری رہتا ہے۔ ایکو فیمینزم بھی تنقیدی مکالمے کا ایک نیا محاورہ ہے۔

Ecofeminism (ایکو فیمینزم) ایک ایسا ادبی نظریہ ہے جو حقوق نسواں کے مختلف شعبوں مثلاً تحریک امنPeace movements)) خواتین کی صحت، ((Women’s health care ماحولیاتی تحریکات (Environmental movement) اور جانوروں کی آزادی (Animal liberation) جیسی تحریکوں سے سے نمو پذیر ہوا ہے۔ ماحولیات، تحریک نسواں، اور سوشلزم کی بصیرت سے ماخوذ ایکو فیمینزم کے فلسفیانہ اساس کا ماننا ہے کہ وہ قوتیں جو نسل، طبقاتی فرق، صنفی یا جنسی فرق، اور جسمانی صلاحیتوں کی بنیاد پر استحصال کرتی ہیں وہ فطرت کے استحصال سے بھی گریز نہیں کرتیں۔ ایکو فیمینزم نسلی، طبقاتی، صنفی، جنسی، اور جسمانی استحصال کی شدت سے مخالفت کرتا ہے اور تمام ظلم اور جبر کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جو ظلم، استحصال، لاقانونیت قائم ہے، کمزوروں کو بطور پائدان استعمال کر کے شہرت عام و بقائے دوام حاصل کرنے والے روشن چہرے مگر اندرون چنگیز سے تاریک تر جو کردار ہیں اور خاص طور پر عورت کے ساتھ معاشرہ میں جو ظلم روا رکھا جا رہا ہے یا اُن کو جس انداز میں اپنی آتش ہوس بجھانے کے لیے بطور کھلونا استعمال کیا جاتا ہے۔، ایکو فیمینزم کا فکری اساس اس کی مخالفت کرتا ہے۔ حقوق نسواں کے خواب کی تعبیر اس وقت تک نہیں ملے گی جب تک فطرت کو استحصالی جابر قوتوں سے آزاد نہ کرا لیا جائے۔ ایکو فیمینزم کا نظریاتی فلسفہ اس وجود کی اہمیت کو قبول کرتا ہے جس کے گرد زندگی گردش کرتی ہے۔ اس طرح یہ نظریہ مراعات یافتہ ظالم طبقہ اور مظلوم طبقے کے فرق کو واضح کرتا ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، اور صنعتی انقلابات کا پروردہ مراعات یافتہ اعلی یا متوسط طبقہ استحصالی قوت (Oppressor) کی شکل میں ابھرتا ہے، جبکہ جسمانی اور معاشی اعتبار سے کمزور، غیر ترقی یافتہ، مظلوم طبقہ مثلاً عورتیں، مزدور، مفلس افراد کے علاوہ ماحول اور جانور بھی اس استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔ ایکو فیمینزم نے اس استحصالی ذہنی رویے کو Patriarchal یعنی پدر سری مانا ہے۔ روایتی پدر سری سوچ عورت کو گھر کی چار دیواری میں مقید دیکھنا چاہتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ ہم ایک روایتی پدر سری سوچ والے معاشرے میں رہ رہے ہیں جس کی بنیاد ہی خواتین کے استحصال پر رکھی جاتی ہے۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ سوچ کے لیے سماج کی جنسی تقسیم تمام تر جبر کی بنیاد ہے لیکن جبر کی شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ جنسی تفریق اور جبر کے ساتھ ساتھ ایک قوم کا دوسری قوم پر جبر، نسلی جبر اور طبقاتی جبر بھی اس سماج میں جاری ہے۔ لہذا پروگریسو دانشور ہر جبر اور امتیازی سلوک کی ہر شکل کے خلاف لڑائی لڑتے ہیں۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ صرف سماج کے اندر بنیادی تبدیلی اور طبقاتی غلامی کے خاتمے سے ہی وہ حالات پیدا ہوں گے جن میں جنسی تفریق کی ہر شکل کا خاتمہ کر کے برابری، انصاف اور آزادی پر مبنی انسانی سماج قائم کیا جا سکتا ہے۔ عورت پر جبر روز اوّل سے موجود نہیں تھا۔ در اصل جس پدر سری سماج کو آج ہم جانتے ہیں اس کا بھی شاید ہمیشہ سے وجود نہیں تھا۔ یہ ایک عارضی شکل ہے۔ تاریخ اس کی وضاحت کرتا ہے کہ جنسی تفریق کی یہ سوچ، ذاتی ملکیت اور ریاست کے ساتھ وجود میں آئی۔ یعنی عورت پر جبر سماج کی طبقاتی تقسیم جتنا پرانا ہے، لہٰذا اس کا خاتمہ طبقات کے خاتمے یعنی ایک نئے انقلابی سوچ پر منحصر ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جیسے ہی کوئی انقلابی سوچ اقتدار پر قابض ہو گا تو عورت پر جبر خود بخود ختم ہو جائے گا۔ در حقیقت جب مرد اور عورت کے درمیان حقیقی انسانی رشتے کے قیام کے لیے سماجی حالات پیدا ہوں گے تب ہی طبقاتی اور جنسی بربریت کی نفسیاتی باقیات پر قابو پایا جا سکے گا۔ جب تک انقلابی نئی سوچ پدر سری سوچ کو اُکھاڑ کر ایک صحت مند غیر طبقاتی سماج کے حصول کے لیے حالات پیدا نہیں کرتی تب تک عورت کی حقیقی آزادی ممکن نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ خواتین اپنے مسائل کے حل کے لیے اس طرح کے انقلاب کا صرف انتظار کرتی رہیں اور اس دوران امتیازی سلوک، ذلت اور مردانہ جبر کو برداشت کرتی رہیں۔ اس کے برعکس انھیں موجودہ سماج میں آگے بڑھنے کے لیے روزمرہ جد و جہد کی ضرورت ہے اور اس جد و جہد کے بغیر سماجی انقلاب کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ فکری اصلاحات کے لیے جد و جہد لازمی شرط ہے۔ جد و جہد کے ذریعے ہی سماج بحیثیت مجموعی سیکھتا، اپنے شعور کو آگے بڑھا تا، اپنی طاقت کا احساس کراتا اور عظیم تاریخی فرائض سے آشنا ہوتا ہے۔ خواتین کے حقوق کی بازیابی کے لیے جد و جہد کرنے سے ہی بہت ساری خواتین سماجی تبدیلی کی ضرورت سے آشنا ہوتی ہیں۔ اُنھیں پدر سری سماج میں عورت کے ساتھ بربریت پر مبنی نا انصافی کا شدید احساس متحرک کرتا ہے۔ اس طرح ایک ایسے پدر سری سماج کی اصلیت واضح ہوتی ہے جو منافقانہ طور پر جمہوریت اور انصاف کے راگ تو الاپتا ہے لیکن عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتتا ہے۔ اور آدھی سے زیادہ انسانیت کو ذلت آمیز، غیر مساوی، امتیازی سلوک اور ہر طرح کے جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عورتوں کے ایسے بہت سے مطالبات ہیں جن کے لیے انھیں ابھی جد و جہد کرنی ہے۔ مثلاً کام کی جگہ اور سماج میں ہر طرح کے امتیازی سلوک کو غیر قانونی قرار دینا، ایک جیسے کام کے لیے تنخواہ میں تفریق، اسقاط حمل اور طلاق کا حق، الگ والدی (Single Parents) سے امتیازی سلوک کا خاتمہ، مردانہ تشدد سے عورت کا تحفظ، جنسی آزار، زیادتی اور گھریلو تشدد کے خلاف اقدامات، ہر کسی کے لیے گھر اور ملازمت کا حق، اطفال کی نگہداشت کے لئے اعلی معیار کی سہولتوں کی مفت فراہمی وغیرہ۔ یہ سب بہت ضروری عوامل ہیں۔ تاہم عورت کی آزادی کی جد و جہد ایک ایسے سماج میں کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گی جہاں آبادی کی اکثریت پر پدر سری سوچ مسلط ہو۔ عورت پر جبر کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ پدر سری سوچ اور جنسی تفریق کا خاتمہ کیا جائے۔ عورت کی آزادی کی جد و جہد نامیاتی طور پر انقلابی سوچ کی جد و جہد سے جڑی ہوئی ہے۔ اور انقلابی سوچ کے لیے ضروری ہے کہ سماج اور اس کی تنظیموں کو بلا تفریق زبان، قومیت، نسل، مذہب اور جنس کے متحد کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف سماج کو جبر اور استحصال کی ہر شکل کے خلاف جد و جہد میں شامل ہو کر سماج کی تمام مظلوم طبقوں کی رہنمائی کرنی چاہئے اور دوسری طرف طبقاتی تقسیم کی ہر کوشش کو مسترد کر دینا چاہئے۔ چاہے یہ کوشش مظلوم طبقات کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو۔

یہ ہمارا فریضہ ہے کہ ہم تمام تر جبر کے خلاف لڑیں۔ تحریک نسواں کا مقصد نئی سرحدیں بنا نا نہیں بلکہ تمام سرحدوں کو ایک عالمی پروگریسو سوچ میں ضم کرنا ہے۔ بورژوائی پدر سری سوچ طبقے کو جنسی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا مہلک کر دار ادا کرتی ہے۔ اور سالہا سال کے امتیازی سلوک اور جبر سے جنم لینے والے نفرت کے جذبات کو استعمال کرتی ہے۔ انقلابی مفکرین نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ جاگیر داری اور سرمایہ داری کے خلاف جد و جہد میں تمام انقلابی سوچ کو متحد کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں پروگریسو سوچ بھی ان مسائل کو خاص طور پر طبقاتی نظر سے دیکھتا ہے۔ عورت پر جبر کی طرف بھی پروگریسو سوچ کا یہی رویہ ہے۔ ہر طرح کے امتیازی سلوک اور جبر کے خلاف لڑائی کے دوران مسئلے کو مرد اور عورت کی جنگ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش شاید فیصلہ کن ثابت نہیں ہوتی۔ سماج میں ہر طرح کی تقسیم (مثلاً مرد اور عورت کے درمیان، کالے اور گورے کے درمیان، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ، شیعہ یا سنی کے درمیان) صرف مجبور اور مظلوم کے مفادات کو نقصان پہنچا کر ان کی غلامی کو مزید طول دیتی ہے۔ در حقیقت انقلابی تحریک کی تمام تر تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ طبقاتی سوال بنیادی ہے اور انقلابی تبدیلی کے لیے جد و جہد کرنے والے مظلوم طبقات کی خواتین اور ان خواتین پر ہونے والے جبر کے مسئلے کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ عورتوں نے ہمیشہ ظلم اور جبر کے خلاف آواز بلند کی ہے اور شد و مد کے ساتھ ہر طرح کے ظلم و جبر کی مخالفت کرتی آئی ہیں۔ کچھ مثالیں اس نقطے کی وضاحت کے لیے کافی ہیں۔

٭ انقلاب انگلستان اور خواتین:

انگلستان کے انقلاب میں خواتین نے بھر پور شرکت کرتے ہوئے شہنشاہیت کے خلاف جد و جہد کی اور جمہوریت اور مساوی حقوق کیلئے آواز اٹھائی۔ ۱۹۴۹ء میں لندن شہر کے خواتین کی پیٹیشن میں یہ کہا گیا کہ ’’جیسا کہ ہمیں یقین ہے کہ خدا نے ہمیں اپنی ہی مشابہت میں پیدا کیا ہے اور اس بات پر کہ مردوں کے مساوی ہی حضرت عیسیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس دولت مشترکہ میں حاصل آزادی پر برابر کا حق رکھتے ہیں۔ ہمیں حیرت اور دکھ ہوتا ہے کہ آپ ہمیں نیچ سمجھتے ہیں اور اس قابل نہیں سمجھتے کہ اس ایوان کے سامنے اپنی گزارشات یا مسائل پیش کر سکیں۔ کیا اس ملک کے قوانین میں موجود آزادی اور تحفظ پر اس قوم کے مردوں کی طرح ہمارا حق نہیں ہے۔‘‘

خواتین انقلابی تحریک کی بائیں جانب ریڈیکل گروہوں اور مذہبی فرقوں میں سرگرم تھیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ خواتین مبلغ اور وزیر بن سکتی ہیں۔ مثلاً میری کیری ’پانچویں شہنشاہیت‘ کی ریڈیکل تحریک کے ساتھ منسلک تھی۔ ’’نئے یروشلم کی عظمت‘‘ میں وہ لکھتی ہے کہ ’’وہ وقت آ رہا ہے جب مذہبی بزرگان روحانیت کا ماخذ ہوں گے۔ ان میں صرف بوڑھے ہی نہیں جوان بھی شامل ہوں گے، صرف برتر ہی نہیں کم تر بھی شامل ہوں گے، صرف یونیورسٹیوں کے پڑھے ہوئے ہی نہیں بلکہ ان پڑھ بھی، حتیٰ کہ نوکر اور گھروں میں کام کرنے والی ملازمائیں بھی۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  1. O’Faolain and L Martines, Not in God’ s Image, pp. 266-7

 

٭ انقلاب فرانس اور خواتین:

انقلاب فرانس کے وقت تک حالات بہت تبدیل ہو چکے تھے۔ انقلابی سوچ کے ساتھ سماجی شعور بلند ہو چکا تھا۔ ہر انقلاب کا عمومی قانون یہ ہے کہ جب تک انقلابی تحریک تھک کر پیچھے کی جانب چلنا شروع نہیں کر تیز یادہ بنیاد پرست رجحانات، اعتدال پسند رجحانات کی جگہ لیتے ہیں۔ یہ ہر بورژوا انقلاب کا ناگزیر مقدر ہے۔ عوامی جوش و ولولہ اُس وقت ختم ہو جاتا ہے جب اُن کی غلط فہمیوں اور تحریک کی حقیقی طبقاتی نوعیت کے درمیان تضاد واضح ہو جاتا ہے۔ فرانس کی انقلابی تحریک میں طبقاتی تفریق شروع دن سے ہی واضح تھی۔ گرونڈنز Girondins بورژوا رجحان کی نمائندگی کرتے تھے جو ادھورا انقلاب کر کے، بادشاہ کے ساتھ معاہدہ کر کے آئینی بادشاہت قائم کرنا چاہتے تھے۔ یہ انقلاب کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ عوام نے میدان میں آ کر انقلابی طریقہ کار کے ذریعے رجعت کے ساتھ حساب بے باق کر کے ہی بر تری حاصل کی تھی۔ یہ عوامی بیداری ہی تھی، جس نے پرانے نظام کو ختم کر کے انقلاب کی فتح کو ممکن بنایا۔ عمومی طور پر یہ بات محسوس نہیں کی جاتی کہ انقلاب فرانس اور انقلاب روس دونوں میں خواتین نے قائدانہ کر دار ادا کئے۔ عورتوں نے اپنے طبقے پر ہونے والے جبر کے خلاف بغاوت کی تھی۔ پیرس کی عام اور نیم پرولتاری خواتین جنہوں نے 1789 انقلاب کا آغاز کیا تھا، اگرچہ روٹی کے مسئلے پر اُٹھی تھیں نہ کہ عورت پر ہونے والی جبر کے مسئلے پر۔ لیکن بعد میں انقلاب کے دوران فطری طور پر یہ مسئلہ بھی اُٹھا یا گیا۔ اگرچہ عام سوسائٹیز اور ووٹنگ میں خواتین کو شامل نہیں کیا گیا تھا لیکن اُنہوں نے بغاوتوں میں بہت اہم کر دار ادا کئے۔ خاص طور پر اکتوبر 1789ء، 10 اگست 1792ء اور سب سے بڑھ کر 1795ء کی بغاوت میں۔ حتیٰ کہ بنیاد پرست خواتین نے بھی ووٹ کے حق کا مطالبہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ اٹھارویں صدی میں رائج جنسی امتیاز کے وہ حالات تھے جو مردوں کو گھر سے باہر اور عورتوں کو نجی معاملات تک محدود کرتے تھے۔ اُنہوں نے خواتین کی مقبول عام انجمنیں بنائیں جن میں سب سے مشہور ’انقلابی جمہوری شہریوں کی انجمن‘ تھی۔ لیکن یہ صرف مئی سے اکتوبر 1793ء تک چل سکی۔ اس کے باوجود جیسا کہ ڈومینک گوڈینو اور ڈارلین لیوی جیسے تاریخ دان کہتے ہیں کہ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ خواتین مردوں کے سیاسی اور معاشی مطالبات سے متفق نہیں تھیں۔ خواتین نے نہ صرف مردوں کی حمایت کی بلکہ اُن کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ وہ مقبول عام انجمنوں کے دالان میں بیٹھتی تھیں۔ وہ روٹی کی دکانوں، مارکیٹوں اور گلیوں میں اپنی سیاسی سرگرمیاں کرتی تھیں۔

انقلاب سماج کی گہرائیوں تک سرایت کر جاتا ہے۔ انقلابات عوام اور ہر مظلوم طبقے کے سوئے ہوئے احساسات اور ارمانوں کو جگا دیتے ہیں۔ اس لیے عورت کی آزادی کے مطالبے نے شدید اہمیت اختیار کر لی۔ لیکن اس مطالبے کو مختلف رجحانات نے مختلف انداز میں سمجھا جس کی بنیادی وجہ مختلف طبقات کے اپنے اپنے مفادات تھے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا کہ پیرس کی غریب پرولتاری اور نیم پرولتاری خواتین نے تحریک کی قیادت کی۔ وہ سماج کی سب سے مظلوم ترین عورتیں تھیں جن کو طرح طرح کی اذیتیں بھی برداشت کرنا پڑتی تھیں۔ ان کو سیاسی جد و جہد اور تنظیم کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ اس کے بر عکس مرد زیادہ احتیاط پسندی، ہچکچاہٹ اور قانونی پابندیوں کا شکار تھے۔ یہ تفاوت اُس وقت سے اب تک کئی بار دیکھنے کو ملتا رہا ہے۔ بہت سی ہڑتالوں، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، وہ مردوں سے زیادہ پُر اعتماد اور با ہمت تھیں۔ واضح طور پر یہ جنسی تفریق کا سوال تھا جس کی وجہ سے خواتین حرکت میں آئیں۔ یہی بات سو سال بعد پیٹروگراڈ میں بھی سچ ثابت ہوئی۔ انقلاب فرانس کے ہر اہم موڑ پر نچلے طبقات کی خواتین نے قائدانہ کر دار ادا کیا۔ اکتوبر 1789ء میں جب آئین ساز اسمبلی والے ممبران اصلاحات اور آئین کی نہ ختم ہونے والی رٹ لگا رہے تھے، اُسی دوران پیرس کی غریب خواتین، مچھلی منڈی کی محنت کش عورتیں، دھوبن، کپڑوں کی سلائی کرنے والی، دکانوں میں کام کرنے والی خواتین، ملازمائیں اور مزدوروں کی بیویاں خود اُٹھیں۔ بائیں بازو کی ان بنیاد پرست خواتین نے سستی روٹی کے مطالبے کے لیے ایک مظاہرے کا اہتمام کر کے پیرس کے ٹاؤن ہال تک مارچ کیا۔ اُنہوں نے ورسائی محل پر ہلہ بول کر مردوں کو بھی شرما دیا۔ خواتین نے بادشاہ اور ملکہ میں جنسی بنیادوں پر کوئی فرق نہیں کیا اور دونوں کو زبردستی پیرس لا کر نظر بند کر دیا۔ جارج روڈ نے اس منظر کو اچھی طرح سے بیان کیا ہے:

’’اب خواتین کا اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا۔ روٹی کا بحران خاص طور پر      اُن پر اثر انداز ہو رہا تھا۔ مردوں کی بجائے خواتین ہی تحریک کی قیادت کر رہی تھیں۔ ہارڈی نے لکھا ہے کہ 16ستمبر کو چیلوٹ کے مقام پر خواتین نے غلے سے لدے پانچ چھکڑوں کو روکا اور انہیں پیرس کے ٹاؤن ہال میں لے آئیں۔ سترہ تاریخ کی دوپہر کو مشتعل خواتین نے ٹاؤن ہال کا گھیراؤ کیا۔ وہ نان بائیوں سے نا لا تھیں۔ میونسپل کونسل اور باٹلی نے اُن کا استقبال کیا۔ ہار ڈی کے مطابق ان خواتین نے علی الاعلان کہا کہ مردوں کو کچھ سمجھ نہیں آتی اور یہ کہ وہ تمام کام اب خود کریں گی۔ اگلے دن پھر ٹاؤن ہال کا محاصرہ کیا گیا۔ اسی شام خواتین نے غلے سے بھرا ایک چھکڑا روک کر اُسے مقامی ضلعی ہیڈ کوارٹر پہنچا دیا۔ یہ تحریک 5 اکتوبر کے سیاسی        مظاہرے کے بعد بھی جاری رہی۔‘‘

اور پھر ’’اس آغاز کے بعد خواتین ٹاؤن ہال میں جمع ہوئیں۔ اُن کا پہلا مقصد روٹی اور دوسرا غالباً اپنے مردوں کے لیے اسلحہ اور بارود حاصل کرنا تھا۔ ایک کپڑے کا تاجر، جو پرانی مارکیٹ کے قریب سے ساڑھے آٹھ بجے گزر رہا تھا، نے دیکھا کہ خواتین کے گروہ گلیوں میں اجنبیوں کو روک کر انہیں اپنے ساتھ ٹاؤن ہال تک جانے کے لیے مجبور کر رہے تھے۔ پہرے داروں کو غیر مسلح کیا گیا اور اسلحے کو خواتین کے پیچھے آنے والے مردوں کو دے دیا گیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ایک اور چشم دید گواہ جو وہاں کا خزانچی تھا، کہتا ہے کہ کس طرح ساڑھے نو بجے خواتین کی بڑی تعداد جن کے ساتھ مرد بھی تھے، عمارت پر چڑھ کر دفتروں میں گھس گئیں۔ ایک چشم دید گواہ نے کہا کہ اُن کے پاس ڈنڈے اور نیزے تھے جبکہ دوسرے کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس کلہاڑیاں اور بندوقیں تھیں۔ ایک خزانچی، جس نے حملہ آوروں سے احتجاج کرنے کی ہمت کی تو اُسے بتا یا گیا کہ ’’ ہم اس ٹاؤن ہال کے مالک ہیں۔ ’اسلحے اور بارود کی تلاش انھیں نہیں تھی۔ 3.5 ملین Livre سے زائد کی رقم کو ہاتھ بھی نہیں لگا یا گیا اور غائب شدہ بینک نوٹوں کو چند ہفتے بعد اُسی حالت میں واپس کیا گیا۔ دستاویزات اور روزنامچے پھاڑ دیئے جب برج سے خطرے کی گھنٹی بجی تو مظاہرین گیارہ بجے Place Gred کے باہر جمع ہو گئے۔ اسی دوران میلارڈ اور اُس کے رضاکار موقع پر پہنچ گئے۔ اُس کے مطابق خواتین باٹلی اور لیفایٹ کو مار ڈالنے کی دھمکی دے رہی تھیں۔ اس طرح کے حادثے سے بچنے کے لیے ’وطن پرستوں ‘ کے سیاسی عزائم کی خاطر میلارڈ نے ورسائی کی طرف بارہ میل کے مارچ کی قیادت کی تاکہ بادشاہ اور اسمبلی سے پیرس کے لیے روٹی کا مطالبہ کر سکے۔ جب سہ پہر کو وہ روانہ ہوئے تو اُنہوں نے شیٹلے سے توپوں کو ہٹا دیا۔ ہارڈی لکھتا ہے کہ اُنہوں نے ہر طرح کی خواتین کو اپنے ساتھ شامل ہونے کی ترغیب دی۔‘‘

یہاں ہمیں بالکل واضح نظر آتا ہے کہ پیرس کی محنت کش خواتین نے جد و جہد کو کس انداز میں دیکھا تھا۔ اپنے مردوں کی بے عملی سے تنگ آ کر وہ خود پر جوش انداز میں جد و جہد میں کود پڑیں اور سب کچھ بہا لے گئیں۔ لیکن کسی بھی لمحے اس انقلاب میں شامل عورتوں نے جد و جہد کو ’عورت بمقابلہ مرد ‘ کی نگاہ سے نہیں دیکھا بلکہ غریب اور مظلوم طبقات کی ’’ امیر استحصال کنندگان‘‘ کے خلاف جد و جہد کی نظر سے دیکھا۔ روٹی کے معاشی مطالبے کے ساتھ وہ ٹاؤن ہال کی طرف بڑھیں اور اسی دوران خود بخود ایک نیا مطالبہ سامنے آیا: اسلحے کا مطالبہ۔ مقصد یہ تھا کہ مردوں کو عمل پر آمادہ کیا جائے۔ اس مقصد میں پیرس کی خواتین شاندار طریقے سے کامیاب ہوئیں اور انقلاب کو بچا لیا گیا۔ سیاست کے میدان میں عوام کی مداخلت کسی بھی انقلاب کی پہلی اور بنیادی خاصیت ہے۔ خاص طور پر خواتین کے معاملے میں یہ بات درست ہے۔ انقلاب فرانس میں خواتین نے سیاست کو مردوں کے لیے نہیں چھوڑا۔ پیرس میں جیکوبین کلب کی حمایتی انقلابی جمہوری خواتین بنیں جو سرخ اور سفید پٹیوں والے پتلون کی وردی اور آزادی کی سرخ ٹوپی پہنتی تھیں اور مظاہرے کے دوران اسلحہ بھی ساتھ رکھتی تھیں۔ اُنہوں نے خواتین کے لیے ووٹ اور جمہوریہ میں سب سے بڑے فوجی اور شہری عہدوں پر تعینات ہونے کے حق کا مطالبہ کیا۔ یعنی مردوں کے ساتھ مکمل سیاسی برابری کا حق اور انقلاب کے لیے لڑنے اور مرنے کا حق۔ بلاشبہ پیرس کے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین انقلابی جذبے، طبقاتی شعور اور امیروں سے لافانی نفرت سے سرشار تھیں۔ گیرونڈن خواتین، جن کا تعلق مراعات یافتہ درمیانی طبقے اور بورژوا خاندانوں سے ہوتا تھا، کے مفادات پیرس کے غریب علاقوں کی خواتین کے مفادات سے میل نہیں کھاتے تھے۔ گیرونڈنوں نے طلاق کا قانون منظور کیا جو بلاشبہ خواتین کے لئے پیش رفت تھی۔ لیکن گیرونڈن خواتین نے خواتین کے جائیداد کے حقوق پر زیادہ زور دیا۔ انقلاب فرانس کے دوران اس طرح کا مطالبہ کسی بھی طرح خواتین کی اکثریت کے لئے معنی نہیں رکھتا تھا کیونکہ نہ تو اُن کے پاس اور نہ ہی اُن کے شوہروں کے پاس کوئی جائیداد تھی۔ بائیں بازو کی غریب خواتین جنہوں نے انقلاب میں شاندار کردار ادا کیا، ’’جائیداد کے مقدس حق‘‘ کے خلاف تھیں کیونکہ وہ انقلاب کو اپنے طبقاتی نقطہ نظر سے دیکھتی تھیں۔ وہ اُن انقلابی سرخ ٹوپی پہننے والے امیر بورژوا کے سخت خلاف تھیں۔ اُنہوں نے جبلی طور پر ایک ایسی جمہوریت کے لیے جد و جہد کی جس میں مرد اور عورت صرف قانونی طور پر نہیں بلکہ حقیقی طور پر برابر ہوں، یعنی اُنہوں نے امیر اور غریب سے پاک غیر طبقاتی سماج کے لیے جد و جہد کی۔ ہم اب جانتے ہیں کہ یہ اُس وقت نا ممکن تھی۔ پیداواری قوتیں، جو سوشلزم کی مادی بنیاد ہیں، اُس وقت ترقی کی اُس سطح پر نہیں تھی کہ یہ ممکن ہو۔ انقلاب فرانس کی طبقاتی فطرت لازماً بورژوا تھی لیکن یہ بات عوام کو ہر گز پتہ نہیں تھی جنہوں نے پر جوش انداز میں انقلاب میں شرکت کی اور اپنے خون سے اس کی فتح پر مہر ثبت کی۔ وہ بورژوا خواتین کو اقتدار دینے کے لیے نہیں بلکہ اپنے طبقے کے لیے لڑ رہے تھے۔ سماجی طبقات سے بالاتر ہو کر تمام خواتین کو متحد کرنے کا نعرہ محنت کش خواتین میں کوئی حمایت حاصل نہیں کر سکا جو اپنے مردوں کے ساتھ ایک عادلانہ معاشرے کے لیے لڑ رہی تھیں۔

٭ برطانیہ میں مزدور تحریک اور خواتین:

حق رائے دہی کے لیے لڑنے والی خواتین کے درمیان طبقاتی فرق برطانیہ میں مزدور تحریک کے فروغ کے ابتدائی سال مزدوروں اور خواتین کے شدید احتجاج سے عبارت تھے۔ نیا ٹریڈ یونین ازم انیسویں صدی کے آخر میں جنگجویانہ ہڑتالوں کے نتیجے میں پیدا ہوا جس میں غیر منظم مزدور بھی متحرک ہوئے جو پہلے کبھی جد و جہد میں شامل نہیں تھے۔ ان میں سے بعض تحریکوں میں محنت کش خواتین بھی شامل تھیں جیسے کہ مشہور ماچس فیکٹری کی ہڑتال۔ مارکس کی بیٹی نے ان ہڑتالوں میں سرگرم کردار ادا کیا۔

درمیانے طبقے کی خواتین حق رائے دہی کے لیے روز افزوں احتجاج کر رہی تھیں۔ تا ہم انہیں صرف رسمی برابری حاصل کرنے میں دلچسپی تھی اور وہ اپنے طبقے سے تعلق رکھنے والی جائیداد کی مالک خواتین کے لیے ووٹ کا حق حاصل کرنے میں ہی خوش تھیں۔ ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ اُس وقت بہت سارے مردوں کو بھی ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا۔ تاہم واقعات نے بہت جلد بورژوا نسوانیت پرستی کے رجعتی کردار کو بے نقاب کر دیا۔ بورژوا خواتین نے محنت کشوں (مرد اور خواتین) کی طرف اپنی جارحانہ روش واضح کر دی۔ جیسا کہ جین پیکارڈ نے اپنے مضمون میں واضح کیا ہے کہ:

’’پینکرسٹ خاندان کا نام، خواتین کے لیے ووٹ کا حق حاصل کرنے کی جد و جہد سے عبارت تھا لیکن جس چیز نے سلویا پینکرسٹ کی سوچ کو اُس کی والدہ ایملین اور بہن کرسٹابیل کی سوچ سے ممیّز کیا وہ طبقاتی مسائل تھے۔ تقریباً بیس سال کی جد و جہد کے بعد 1920ء میں یہ بات واضح ہو گئی جب ایملین ٹوری پارٹی کی پارلیمانی اُمید وار اور سلویا برطانوی کمیونسٹ پارٹی کی بانی کارکن بنی۔‘‘

’خواتین کی سماجی اور سیاسی یونین‘ (WSPU)، آزاد لیبر پارٹی کی خواتین کے ووٹ کے معاملے میں ہچکچاہٹ کی وجہ 1903ء میں وجود میں آئی جو بہت تیزی سے بڑھی اور 1907ء تک اس کی تین ہزار برانچیں تھیں جس میں اُستانیاں، کام کرنے والی لڑکیاں، کلرکس، درزی اور ٹیکسٹائل مزدور شامل تھیں۔ اُن کے اخبار ’’خواتین کے لئے ووٹ کا حق‘‘ کی ہفتے میں چالیس ہزار کاپیاں فروخت ہوتی تھیں۔ اُنہوں نے البرٹ ہال کو پُر کر دیا اور ہائڈ پارک میں ڈھائی لاکھ لوگوں کا جلسہ کیا۔

1911ء میں جب اسکویتھ کی لبرل حکومت آئرلینڈ کے لیے خود اختیاری کا وعدہ کر رہی تھی تو اُسی لمحے خواتین کے لیے ووٹ کے حق کی اُمید بھی دلا ئی گئی۔ لیکن بعد میں حکومت دونوں وعدوں سے مکر گئی۔ جب ووٹ کے لیے لڑنے والی خواتین نے اپنے مقصد کی خاطر راست اقدام کا راستہ اپنایا تو اُن پر بد ترین تشدد کیا گیا۔ مار پیٹ، گرفتاریاں اور وحشیانہ تشدد کے ذریعے زبردستی کھانا کھلانا۔ اس مہم کو زیادہ تر درمیانے طبقے کی خواتین نے منظم کیا تھا لیکن بورژوا خواتین کی طرف سے کھڑکیاں توڑ کر احتجاج کرنے کے طریقہ کار سے کچھ بھی نہیں ہوا۔ حکمران طبقہ سختی سے خواتین کے ووٹ کے حق کے خلاف رہا۔ خواتین کے حقوق کی تحریک کے لیے حقیقی راستہ یہ تھا کہ وہ مزدور تحریک کے ساتھ جڑ جائے جو اُس وقت سرمایہ داروں کے ساتھ سخت جنگ کی کیفیت میں تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب برطانیہ میں طبقاتی کشمکش اُبھر رہی تھی، ٹرانسپورٹ اور گودی کے مزدوروں کی وسیع ہڑتالیں چل رہی تھیں۔ ’لبرل‘ اسکویتھ نے جنوبی ویلز میں کانکنوں کی ہڑتال ختم کرنے کے لیے فوج بھیج دی۔ خواتین کی تحریک کے ایک حصے نے کچھ کامیابی کے ساتھ اسے جاری رکھنے کی کوشش کی۔ سلویا پینکرسٹ نے مشرقی لندن کی محنت کش خواتین میں احتجاج اور پروپیگنڈے کا راستہ اپنایا۔ جنوبی لندن برمونڈسے میں، ساؤتھ واک پارک میں، ایک بڑی میٹنگ میں مقامی فیکٹریوں اور ورکشاپوں سے پندرہ ہزار مزدور غذائی فیکٹری کی ہڑتال کرنے والی خواتین کے ساتھ مل گئے۔ اُنہوں نے تنخواہ میں اضافے اور ووٹ کا مطالبہ کیا۔ یہی صحیح راستہ تھا یعنی طبقاتی جد و جہد کے ہتھیار کے ذریعے معاشی مطالبات کو سیاسی مطالبات (خصوصاً خواتین کے لیے ووٹ کا حق) کے ساتھ جوڑا جائے۔ مختلف طبقاتی نقطہ نظر کی وجہ سے خواتین کی حق رائے کی تحریک کے ساتھ ساتھ پینکرسٹ خاندان میں بھی پھوٹ پڑ گئی۔ جنوری 1916ء میں جنگ سے چند مہینے پہلے، سلویا کو اپنی ماں ایملین اور بہن کرسٹا بیل سے ملنے کے لیے پیرس میں بلا یا گیا۔ کرسٹا بیل پیرس میں آرام دہ جلاوطنی کی زندگی میں اچھی صحت کی تصویر تھی جبکہ سلویا قید اور بھوک ہڑتال سے خستہ حال تھی۔ سلویا کی طبقاتی مؤقف کے بر عکس، اُس کی بہن کرسٹا بیل نے WSPU کی مردوں کی تمام پارٹیوں سے خودمختاری پر زور دیا۔ کرسٹا بیل نے مطالبہ کیا کہ مشرقی لندن کی فیڈریشن کو WSPU سے نکال دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ خواتین کی حق رائے دہی کی تحریک سے محنت کش خواتین کو نکال دیا جائے۔ اس گھمنڈی درمیانے طبقے نے دلیل پیش کی کہ مشرقی لندن کی فیڈریشن کے پاس جمہوری آئین ہے اور محنت کش خواتین پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اُن کی والدہ نے مصالحت کی کوشش کی لیکن کرسٹابیل واضح علیحدگی پر مُصر تھی۔ اس طرح جنوری 1914ء میں مشرقی لندن کی فیڈریشن کو WSPU سے الگ ہونے پر مجبور کیا گیا اور ایک الگ تنظیم (مشرقی لندن کی فیڈریشن برائے حق رائے دہی خواتین) بنائی۔ محنت کش طبقے کی طرف درمیانے طبقے کی نسوانیت پرستی کا رویہ اس سے بالکل واضح ہو جاتا ہے۔ جان پکارڈ کہتا ہے کہ ’’ WSPU میں یہ پھوٹ برطانوی سماج میں عمومی تضادات کی عکاسی کر رہی تھی۔

1911ء سے 1914ء کے درمیان ہر شعبے کے محنت کش (گودی کے مزدور، ٹرانسپورٹ، ریلوے، انجینئر) ہڑتال پر تھے۔ حتیٰ کہ WSPU کے وہ کارکنان جن کو قید اور زبردستی خوراک دی گئی، وہ سب محنت کش طبقے کی خواتین تھیں جن کو بد ترین حالات اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔‘‘ یہاں بھی طبقاتی سوال بنیادی تھا۔ خواتین کی حق رائے دہی کی تحریک میں پھوٹ بورژوا نسوانیت پرستوں کی محنت کش خواتین، سوشلزم اور مزدور تحریک کی طرف حقیقی رویے کی غمازی کرتی ہے۔ یہاں ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ ’مرد بمقابلہ زن‘ کا نعرہ ہمیں کہاں لے جا سکتا ہے۔ پھوٹ کے صرف چند ماہ بعد 1914ء میں پہلی جنگ عظیم نے برطانیہ میں طبقاتی جد و جہد کو تقسیم کر دیا۔ خواتین کے ووٹ کی تحریک کی ’باغی‘ ایملین اور کرسٹابیل جلد ہی سوشل شاؤنسٹ بن گئیں۔ WSPU کے پرچے کا نام ’’خواتین کے لیے ووٹ کا حق‘‘ بدل کر ’’برطانیہ‘‘ رکھ دیا گیا۔ اس کا نعرہ تھا ’’بادشاہ، ملک اور آزادی!‘‘ یہ خواتین کی تحریک سے ذلت آمیز غداری تھی۔ یہ بورژوا نسوانیت پرستی کی حقیقی فطرت کو واضح کرتی ہے اور اُس خلیج کو بھی واضح کرتی ہے جو اسے محنت کش طبقے اور سوشلزم سے الگ کرتی ہے۔ تمام تر زبانی جمع خرچ اور نعرہ بازی کے باوجود وہ پرولتاری مردوں اور خواتین کے خلاف اپنے طبقے کے مردوں (حکمران طبقہ) کے ساتھ متحد تھیں۔ تمام تر جنگ، اموات اور ذلتیں پرولتاریہ کو برداشت کرنی پڑیں جبکہ بورژوا اور درمیانے طبقے کے خواتین و حضرات اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھ کر صرف جھنڈے لہراتے تھے۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ سلویا پینکرسٹ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے جنگ کی مخالفت کی اور فیکٹریوں میں اُن خواتین کے لیے مساوی اُجرت کے لیے مہم شروع کی جن کو محاذ پر بھیجے گئے مردوں کی جگہ بھرتی کیا گیا تھا۔ اس نے ایک پرچہ نکالا جس کا نام تھا "The Workers’ Dreadnought” بعد میں وہ کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوئی اور الٹرا لیفٹ مؤقف اختیار کیا۔ اُس کی مارکسزم کی سمجھ بوجھ بہت محدود تھی لیکن کم از کم اس نے ایک طبقاتی مؤقف اختیار کرنے کی کوشش تو کی۔ 1918ء میں تیس سال سے زائد عمر کی برطانوی خواتین نے ووٹ کا حق حاصل کر لیا۔ یہ خواتین کی حق رائے دہی کی تحریک کے طریقہ کار کے نتیجے میں نہیں ہوا بلکہ انقلاب روس اور پہلی جنگ عظیم کے بعد اُبھر نے والی انقلابی تحریک کے نتیجے میں ممکن ہوا جس نے برطانوی حکمرانوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور وہ مراعات دینے پر مجبور ہوئے۔ یہاں بھی یہ بات واضح ہوئی کہ اصلاحات انقلاب کی ضمنی پیداوار ہوتی ہیں۔

٭ انقلاب روس اور خواتین:

فروری ۱۹۱۷ عیسوی روس میں محنت کش طبقے کی خواتین نے اپنی قوت کا بھرپور انداز میں مظاہرہ کیا اور عین خواتین کے عالمی دن کے موقع پرپیٹروگراڈ کی خواتین مزدوروں نے ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اور اس طرح روسی جابر تانا شاہ زار کی حکومت کو اس انقلاب نے اکھاڑ پھینکا گو کہ مقامی بالشویکوں نے قتل عام کے ڈر سے اُنہیں اس کام سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے اپنی پرولتاری جبلت کے بل بوتے پر تمام اعتراضات کو ایک طرف رکھتے ہوئے انقلاب کا آغاز کیا۔ الیگزنڈرا کولانتائی جیسی خواتین نے بالشویک انقلاب میں اہم قائدانہ کردار ادا کیا۔ اکتوبر میں برپا ہونے والے انقلاب نے خواتین کو دنیا کے کسی بھی ملک سے بڑھ کر حقوق دیئے جو اُنہیں پہلے کبھی حاصل نہیں تھے۔ بالشویکوں نے عورت کی آزادی اور خاندان کو تبدیل کرنے کی بات کی۔ دیہی علاقوں میں قدیم دور سے مردانہ حاکمیت قائم تھی۔ جس کے سبب غلامی اور جبر پر مبنی زندگی کے علاوہ کسان خواتین کچھ نہیں جانتی تھیں۔ انقلاب کے آنے سے پہلے شوہر کا بیوی پر تشدد قانونی طور پر جائز تھا۔ بالشویکوں نے شادی، خاندان اور سرپرستی کے قوانین کے ذریعے خواتین کو مردوں کے برابر قانونی حیثیت دی۔ شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کو وہی حقوق حاصل تھے جو شادی شدہ جوڑوں کے بچوں کو حاصل تھے۔ طلاق درخواست پر مل جاتی تھی اور اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دی گئی۔ ’’ایک جیسے کام کے لیے مساوی اجرت‘‘ کو قانونی حیثیت دی گئی۔ بالشویک خواتین کے دستوں نے خواتین تک انقلاب کا پیغام پہنچایا۔ محنت کش طبقے کی کسان خواتین کے لیے سیاسی تعلیم اور خواندگی کی کلاسیں شروع کیں اور جسم فروشی کے خلاف قانونی جنگ لڑی گئی۔ انقلاب کے بعد ہونے والی خونی خانہ جنگی کے دوران خواتین کی بڑی تعداد نے سرخ فوج کے لیے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کی، حالانکہ اُنہیں ایسا کرنے کے لئے کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا تھا۔ 1920ء تک پچاس سے ستر ہزار خواتین نے سرخ فوج میں شمولیت اختیار کی۔ یہ از خود اس بات کی ضمانت ہے کہ بالشویکوں نے خواتین میں کتنی حمایت حاصل کر لی تھی۔

خلائی سفر پر جانے والی پہلی خاتون ویلنٹینا ترشکووا کا تعلق سوویت یونین سے تھا؛ لینن، جس نے عورت کی آزادی کو بہت اہمیت دی، اس نے اس بات پر بہت زور دیا کہ خواتین کو گھریلو کام کاج سے آزاد کیا جائے تاکہ وہ سماج کو چلانے کے کام میں حصہ لے سکیں۔ تاہم انقلاب آنے کے فوراً بعد روس میں مادی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت ذرائع پیداوار کی شدید پسماندگی کی وجہ سے محدود تھی۔ جیسا کہ مارکس نے پیشن گوئی کی تھی کہ ’’ کسی بھی سماج میں اگر ضرورت عام ہو تو تمام تر پرانی بیہودگی زندہ ہو جاتی ہے۔ ’’عورت کی حقیقی آزادی صرف تب ممکن ہے جب عالمی محنت کش طبقہ مجموعی طور پر آزادی حاصل کر لے۔ سوشلزم انسانی شخصیت کی آزاد نشو و نما، تمام تر وحشیانہ بیرونی دباؤ (سماجی، معاشی یا مذہبی) سے آزاد مردوں اور عورتوں کے درمیان حقیقی انسانی رشتے کو ممکن بنائے گا۔ تاہم اس طرح کے سماج کے لیے زیادہ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ملکوں کی معاشی اور ثقافتی ترقی سے بھی زیادہ اعلیٰ سطح کی ترقی کی ضرورت پڑتی ہے۔ اکتوبر ۱۹۱۷ء کے روس میں وسیع پسماندگی کی وجہ سے اس طرح کی بنیاد موجود نہیں تھی۔ لہٰذا انقلاب کے نتیجے میں ہونے والی تمام تر ترقی کے باوجود روس میں پہلے تو سٹالنزم اور اس سے بھی بڑھ کر سرمایہ داری کی دوبارہ استواری نے خواتین کے مقام کو مزید پیچھے دھکیل دیا۔ اب مشرقی یورپ اور روس میں عورت کی حالت پہلے سے بھی بد تر ہے۔ اس پر کسی کو حیرت یا استعجاب نہیں ہو نا چاہئے۔ سرمایہ داری کے زیر اثر روس یا کسی اور ملک میں بھی کو ئی راستہ ممکن نہیں۔ 1917ء کے روس کی طرح بعد میں ہمیں اور بھی بہت سی مثالیں نظر آتی ہیں۔ خواتین سرمایہ داری کو اکھاڑنے اور سوشلزم کی تعمیر میں اپنا بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ لیکن یہاں بھی، یہ سب سے بڑھ کر محنت کش خواتین کا سوال تھا جو اپنی اور پورے طبقے کی آزادی کے لیے لڑ رہی تھیں۔ محنت کش خواتین اور حضرات طبقاتی جد و جہد میں حصہ لے کر طبقاتی شعور اور اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ سماج کے اندر ایک عظیم تبدیلی لانے کی جد و جہد کرنے والے مرد و خواتین اپنے اندر بھی تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔ ہم ہر ہڑتال میں دیکھتے ہیں کہ کس طرح محنت کش پرانی غلامانہ ذہنیت کو توڑ کر نئی بلندیوں پر پہنچ کر تخلیقی صلاحیتوں اور جارحیت کا ایسا مظاہرہ کرتے ہیں جس کا اُنہیں پہلے پتہ بھی نہیں ہوتا۔ ایک انقلاب کی صورت میں یہ بات اور زیادہ سچ ہوتی ہے۔ نہ صرف خواتین بلکہ تمام خواتین و حضرات کے لیے حقیقی آزادی حاصل کرنے کا صرف یہی ایک راستہ ہوتا ہے۔ ایک کے بغیر دوسرے کا وجود نا ممکن ہے۔ اس طرح کی جد و جہد ہوتی آئی ہے اور کرنی چاہیے جو خواتین کی حالت بہتر کرے اور تعصب اور امتیازی سلوک پر ضرب لگائے۔ مزدور تحریک کو اس جد و جہد میں پیش پیش دیکھا گیا ہے۔ عورت کی آزادی اور سوشلزم کے علم برداروں نے اور اسی طرح ماضی میں بورژوا انقلابات نے ’انسان کے حقوق ‘ کی بات کی لیکن عملاً ان انقلابات میں عورت کو برابری حاصل نہ ہو سکی۔ در اصل سرمایہ داری میں عورت کی پیش رفت کچھ طبقاتی جد و جہد کی وجہ سے اور کچھ پیداوار میں عورت کے تبدیل شدہ کردار کی وجہ سے ہوئی۔ چندے معدودے ترقی یافتہ ممالک میں کچھ سیاسی حقوق تو حاصل کئے گئے ہیں لیکن حقیقی آزادی آج بھی میسّر نہیں ہوئی اور نہ ہی سرمایہ داری کے اندر یہ ممکن ہوا۔ 1848ء میں مارکس اور اینگلز نے بورژوا خاندان کے خاتمے کا مطالبہ پیش کیا تاہم اُن کو معلوم تھا کہ خاندان کو یک لخت ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مادی بنیادوں کی موجودگی کے بغیر یہ مطالبہ پورا نہیں ہو سکتا۔ یہ تب ممکن ہے جب سرمایہ داری کو اُکھاڑ کر ایک نیا سماج قائم کیا جائے جس کی بنیاد پیداوار کی ہم آہنگ اور جمہوری منصوبہ بندی پر مستحکم ہو اور انتظامی معاملات میں پورا معاشرہ حصہ لے۔ 1931 کے سوویت یونین کے پوسٹر پر یہ الفاظ درج تھے:

’’باورچی خانے کی غلامی کو چھوڑو، آؤ ایک نئی قسم کی گھریلو زندگی قائم کریں‘‘

ان تفصیلات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پیداواری قوتیں ذاتی ملکیت اور قومی ریاست کی جکڑ سے آزاد کر کے ہی معاشی خوشحالی کی ایک ناقابل یقین سطح پر فوراً پہنچا نا ممکن ہو سکتا تھا۔ خوف، لالچ، ہوس اور حسد کی پرانی ذہنیت کو ختم کر کے اُن مادی بنیادوں کو ختم کرنے کی ضرورت تھی جس نے اُنہیں جنم دیا تھا۔ زندگی کے حالات، مرد اور عورت کے درمیان رشتوں اور اُن کی سوچ اور فعل کی تبدیلی کے لیے راستہ صاف کرنے کی ضرورت کو ہمیشہ محسوس کیا گیا۔ اس لئے اس طرح کی بڑی چھلانگ کے بغیر لوگوں کے کردار اور نفسیات کو تبدیل کرنے کی تمام باتیں فریب اور بکواس سمجھی جا سکتی ہیں۔ سماجی وجود شعور کا تعین کرتا ہے۔ پدر سری یا مردانہ حاکمیت والے معاشرے کی بربریت جو خود غرضی، انا پرستی اور لوگوں کی بد حالی سے لا پرواہی پر زور دیتی ہے، در اصل غلامی کی باقیات ہیں۔ پدر سری یا مردانہ حاکمیت والا معاشرہ نام نہاد اخلاقیات، منافقت اور عمومی پراگندگی سے مبرا نہیں ہے۔ اس معاشرے میں خواتین کی جانب پسماندہ رویے اب بھی موجود ہیں جن کے ساتھ سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ تانیثیت یا فیمینزم کی تحریک مرد اور عورت کی مکمل برابری پر مبنی نئے سماج کی بات کرتی ہے۔ گو کہ یہ حقیقت ہے کہ ایسا معاشرہ سرمایہ دارانہ سوچ کی موجودگی میں قائم کرنا نا ممکن ہے۔ لہذا تانیثیت کی تحریک یہ مانتی ہے کہ ہمیں کم از کم ایک حقیقی مساوی اخلاقیات کے لیے جد و جہد کرنی چاہیے اور تحریک سے اُن پسماندہ رجحانات کو نکال باہر کرنا چاہیے جو مرد اور عورت کے اتحاد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ایک طرف اس بات کو یہاں یہ سمجھنا لازم ہے کہ سرمایہ داری کے تحت ہر بہتری کا کردار عارضی، مسخ شدہ اور غیر مستحکم رہا اور مستقل طور پر نظام کے بحران، حالات کی عمومی ابتری اور سماجی، اخلاقی اور ثقافتی زوال کی وجہ سے خطرے میں رہا۔ دوسری طرف یہ لازمی ہے کہ خواتین پر جبر کے خلاف تحریک کو محنت کش طبقے کی سرمایہ داری کے خلاف جد و جہد سے جوڑا جائے۔ یہی فتح کا واحد راستہ لگا اور مختلف تحریکیں وجود میں آئیں۔ مگر پرانے سماج کی نفسیاتی باقیات، خود غرضانہ رویے، لالچ اور انا پرستی سرمایہ داری کو اُکھاڑ پھینکنے کے بعد بھی راتوں رات ختم نہیں ہوں گی۔ اس ذہنی رویے کو ختم کرنے میں وقت درکار ہو گا۔ لیکن ابتدا سے ہی مردوں اور عورتوں کے درمیان رشتے بہتر کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا گیا۔ اچھے روزگار، رہائش اور سب کے لیے تعلیم کی فراہمی سے خوفناک معاشی دباؤ کو ختم کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا گیا، جو زندگیوں کو بر باد اور انسانی رشتوں کو مسخ کر رہا ہے۔ ان تحریکوں کو چلانے والوں کا خیال تھا کہ۔۔۔ پیداوار کی جمہوری سوشلسٹ منصوبہ بندی سے ہر ایک کے لیے وہ مواقع پیدا ہوں گے کہ وہ سماج کو چلانے میں حصہ لے سکے۔ یہ عمل پرانے مرکز مائل خاندان کو ختم کر کے نئے اور آزاد انسانی رشتوں کی بنیاد پر ایک بالکل مختلف نفسیات کے لیے حالات تیار کرے گا۔ طبقاتی سماج اور اس سماج سے پیدا ہونے والی غلامانہ ذہنیت کے بالآخر خاتمے سے ایک نئے مرد اور عورت کا جنم ہو گاجو پرانی تنگ نظر غلامانہ نفسیات سے حقیقی معنوں میں آزاد ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنے کے قابل ہوں گے۔ مرد اور عورت مادی اشیا کے ذلت آمیز جستجو، جو انسانی زندگی کو ذلیل اور مسخ کرتی ہے، اس سے آزاد ہونے پر ہی یہ ممکن ہو گا کہ وہ بحیثیت انسان ایک دوسرے سے جڑ سکیں گے۔ بیرونی دباؤ، انا پرستانہ حساب کتاب یا ذلت آمیز انحصار سے آزاد ہو کر مرد اور عورت کے درمیان تعلقات حقیقی برابری کی بنیاد پر قائم ہوں گے۔ مگر صد افسوس کہ ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی آج عورت اور فطرت کا استحصال جاری ہے اور یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ آج بھی عورتوں کے لئے ماحول اور حالات سازگار نہیں ہیں۔

٭ تیسری دنیا کا پدر سری معاشرہ

تیسری دنیا کی صورت حال کچھ زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ اس کا معاشرہ بالخصوص پدر سری یا مردانہ حاکمیت والا معاشرہ ہے۔ اس لیے غریب اور محنت کش عورتیں دُہرے استحصال کی شکار ہوتی ہیں۔ عورتوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بات کرتے ہوئے ہمیں پدر سری اور روایتی سوچ کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی نظام کی جابرانہ شکلوں کو بھی تبدیل کرنا چاہیے۔ عورتوں اور غریبوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے ایک فلاحی ریاست کے قیام کا مطالبہ بھی ضروری ہے۔ آج کل ہم سرمایہ داری کی ایک نئی شکل یعنی نیو لبرل عہد میں جی رہے ہیں جہاں گینگ ریپ کے واقعات عام ہیں۔ جب کہ غریب ممالک میں محنت کش خواتین پر تشدد کے واقعات عام ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ عورتوں کے خلاف ایک عالمی جنگ چھڑ چکی ہے۔ محترمہ وندنا شیوا کا دنیا بھر میں ماحولیات کے حوالے سے جانا پہچانا نام ہے، ان کا کہنا ہے کہ عورتوں پر تشدد اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ پدر سری نظام۔ اس نظام کی بنیاد عورت کی محکومیت اور اسے مساوی انسانی درجہ حاصل کرنے کے حق سے انکار پر رکھی جاتی ہے۔ عورتوں پر تشدد کے خاتمے کی تحریک اس وقت تک جاری رہنی چاہیے جب تک ہر عورت کو انصاف نہ مل جائے۔ عورتوں پر تشدد دنیا بھر میں ایک اہم پالیسی ایشو رہا ہے اور اس حوالے سے شلٹر ہومز اور دیگر محفوظ پناہ گاہیں قائم کرنے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اپنی حکومتوں سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ سروس ڈلیوری کے لیے بجٹ فراہم کیا جائے، عورتوں کے تحفظ کے لیے بہتر اور موثر قوانین بنائے جائیں اور تشدد کے بنیادی اسباب پر زیادہ توجہ دی جائے جن میں عورتوں کی ساختیاتی سماجی عدم مساوات بھی شامل ہے۔ ان مطالبات کو پورا کرنے کے لیے حکومتوں کی دلچسپی اور شمولیت اور بجٹ میں اضافہ ضروری ہے۔ سرمایہ داری کے موجودہ دور یعنی نیو لبرل ازم میں جس کا آغاز 1970ء کے عشرے میں برطانوی وزیر اعظم تھیچر اور امریکی صدر ریگن کی حکومتوں سے ہوا، نجی کاری اور ڈی ریگولیشن کو فروغ دیا گیا تاکہ مسابقت اور خرچ اور استعمال کرنے کی انفرادی آزادیوں کا تحفظ کیا جا سکے۔ مارکسسٹ عالم ڈیوڈ ہاروے کے بقول 70ء کے بروعشرے کی کساد بازاری کے نتیجے میں دنیا گرتی پڑتی نیو لبرل ازم کی طرف بڑھی جب ایک مداخلت کار ریاست کا بنایا ہوا سرمایہ اور محنت کا مضطرب جوڑ ختم ہو گیا۔ مثال کے طور پر برطانوی حکومت کو آئی ایم ایف کے کہنے پر فلاحی اخراجات ختم کرنے پڑے تھے۔ مشہور صحافی راحیلہ گپتا کے بقول 1970ء کے عشرے سے حقوق نسواں کی دوسری لہر اور نیولبرل ازم کے پھلنے پھولنے کی بدولت تحریک نسواں کی کچھ رہنماؤں خاص طور پر نینسی فریزر کا کہنا ہے کہ تحریک نسواں نے سرمایہ دارانہ معاشرے کی ساختیاتی قلب ماہیت کو جائز ثابت کرنے میں مدد دی ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ سرمایہ دار اپنی بقا کے لیے اپنے مخالفین کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا گُر جانتے ہیں۔ نیولبرل ازم کا ایک مقصد ریاست کے اختیارات کو کم کرنا بھی ہے۔ دوسری طرف تحریک نسواں کے قائدین بھی ریاست کو پدر سری ہونے پر تنقید کا نشانہ بنا رہی تھیں۔ یہ تنقید نیولبرل سرمایہ داروں کو اپنے حق میں لگتی تھی۔ مگر اب نیولبرل ازم کی چمک دمک ختم ہو رہی ہے جب کہ تحریک نسواں پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ تحریک نسواں نے شاید نیولبرل ازم کے لیے اتنا جواز فراہم نہیں کیا مگر نیولبرل ازم نے ایک چمکتی دمکتی اور بالآخر ایک جعلی تحریک نسواں کے لیے جگہ ضرور فرا ہم کی۔ جس کا اظہار سپائیس گرل کے اس گیت میں ہوا

I really, really want Girl Power

روایتی پدر سری سوچ عورت کو گھر کی چار دیواری میں مقید دیکھنا چاہتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ ہم ایک طبقاتی معاشرے میں رہ رہے ہیں اور طبقاتی نظام کی بنیاد ہی محنت کشوں اور غریبوں کے استحصال پر رکھی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تیسری دنیا کا یہ معاشرہ پدر سری یا مردانہ حاکمیت والا معاشرہ بھی ہے۔ اس لیے غریب اور محنت کش عورتیں دُہرے استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔ عورتوں کے لیے روزگار کے موقعے پیدا کرنے کی بات کرتے ہوئے ہمیں پدر سری اور روایتی سوچ کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی نظام کی جابرانہ شکلوں کو بھی تبدیل کرنا چاہیے۔ عورتوں اور غریبوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے ایک فلاحی ریاست کے قیام کا مطالبہ بھی ضروری ہے۔ تحریک نسواں کی دوسری لہر اور حالیہ لہر کا درمیانی عبوری عرصہ وہ تھا جس میں سرمایہ داروں نے تحریک نسواں کے سیاسی سیاق و سباق پر قینچی چلا دی۔‘‘

نیولبرل پالیسیوں کے نتیجے میں جہاں عورتوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھے ہیں وہیں منڈی اور گھر دونوں جگہ عورتوں کے کام کے بوجھ میں اضافہ ہوا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی غیر ہنر مند عورتوں کی غربت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان کے پاس نہ پیداواری وسائل ہیں اور نہ ہی سرکار انھیں کوئی سہولت مہیا کرتی ہے۔ اس غربت اور پسماندگی کی وجہ سے ان کے تشدد کا شکار ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

مرد جب سرمایہ داری کے استحصال کا شکار ہوتا ہے اور بے روزگار ہوتا ہے تو وہ اپنا غصہ عورت پر ہی نکالتا ہے۔ دوسری طرف نیولبرل پالیسیوں کے نتیجے میں حکومت کی عوام کے لیے فلاحی اقدامات کرنے کی استعداد کم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ہر بجٹ میں تعلیم، صحت اور دیگر سماجی خدمات کے لیے مختص رقم کم سے کم ہوتی جاتی ہے۔ عوام کے مسائل حل کرنے اور عورتوں پر تشدد کے خاتمے کے لیے ہمیں ایک فلاحی مملکت کے قیام کا مطالبہ کرنا چاہیے۔

Nancy Chodorow’s and Gilligan Carol نے اپنے تحقیقی مقالے میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ مرد بنیادی طور پر خود پسند ہوتے ہیں جبکہ عورتیں اجتماعیت پر یقین رکھتی ہیں اور جمہوریت پسند ہوتی ہیں۔ فکری سطح پر عورتوں اور مردوں کے درمیان یہ فرق دو مختلف اخلاقی نظام (ethical systems) کی بنیاد ڈالتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں اور کیرنگ ہوتی ہیں، جبکہ مرد خود پسند ہوتے ہیں۔ Gilligan کا خیال ہے کہ فکری سطح پر عورتوں اور مردوں کے درمیان اس فرق کے باوجود دونوں میں اخلاقی استدلال کی دونوں اقسام تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، لیکن "ترجیحات (focus) کا فرق ہوتا ہے۔ عورتوں کی ترجیحات مردوں کی ترجیحات سے مختلف ہوتی ہیں۔ مردوں کے خود پسند تصورات اور اس سے منسلک اخلاقی نظام ہوتے ہیں جس میں جبر اور استحصال کا پہلو ابھر آتا ہے۔

اس کے برعکس، Gilligan ایک مختلف طریقہ کار کی بھی نشاندہی کرتا ہے جو عموماً عورتوں سے منسوب ہے اس طریقہ کار میں اخلاقی مسائل متصادم ذمہ داریوں سے ابھرتے ہیں دنیا کے بہت سے معاشروں میں عورتیں ایک نوعیت کی محرومیت کا شکار رہی ہیں اور ان کے انسانی حقوق کو بھی پامال کیا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عورتوں کو ہمیشہ انتہا پسندانہ نظریہ سے دیکھا گیا ہے۔ بعض انتہا پسندانہ نظریات میں عورت کو دوسرے درجے کی مخلوق، پست اور انسانی عزت و عظمت سے عاری قرار دیا گیا ہے۔ عورت کے بارے میں اس ظالمانہ نظریہ کے رد عمل میں بعض نئی تحریکوں نے جنم لیا جن کا ہدف عورت، ماحول جانور اور کمزور طبقے پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔

٭ایکو فیمینزم یا ماحولیاتی مادریت:

"ایکو فیمینزم” یا ماحولیاتی مادریت کی نظریاتی اور سماجی تحریک نے عورت اور مرد کو یکسانیت کے خانے میں رکھ کر ان دو مختلف جنسوں کے قدرتی اور ذاتی فرق کو واضح کیا ہے۔ ایکو فیمینزم کے اس نظریہ میں عورت اور مرد انسانی لحاظ سے برابر ہیں لیکن جسمانی اور جذباتی لحاظ سے مختلف۔ بعض معاملات میں مختلف حقوق اور مزاج کے حامل ہیں "ایکو فیمینزم” یا ماحولیاتی مادریت کی یہ اصطلاح بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، "ایکو فیمینزم” کی یہ اصطلاح در اصل ’’ماحولیاتی تنقید‘‘ یعنی ’’ایکو کرٹسزم‘‘ (Eco-criticism) کی ایک ذیلی شاخ ہے۔

٭ ماحولیاتی تنقید (Eco Criticism)

اب ادبی متون کی قرات کسی ایک رجحان، نظریہ، آئیڈیالوجی یا سیاق کی روسے کرنا محال ہو گیا ہے کیونکہ آج کا قاری متن سے مکالمہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تنقید کی دنیا میں مختلف النوع اقسام کی ترجیحات ایک اٹل قانون بن چکی ہیں۔ بعض ترجیحات یا نظریات اپنی شدت پسندی کی وجہ سے رد کر دی جاتی ہیں تو بعض ترجیحات کی بنیادیں معروضیت یا کلی قرات پر استوار ہوتی ہیں۔ اسی باعث تنقیدی متون کے قارئین کے بڑے حلقے میں اسے قبولیت کی سند مل جاتی ہے۔ ما بعد جدید دور میں ماحولیاتی تنقید کہ جس نے حال ہی میں ادب کے مطالعے میں ماحول، فضا، منظر، فطرت، ثقافت، رہن سہن کے طور طریقوں، مقامیت، دیہی جمالیات کو ماحولیات سے موسوم کیا گیا ہے اس نے اپنی ترجیحات مقرر کر لینے کی وجہ سے ایک الگ تنقیدی مکتبۂ فکر کا روپ دھار لیا ہے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ ماحولیاتی تنقید کا ایک طرف اگر فطرت اور ثقافت سے تعلق ہے تو دوسری طرف یہ سائنسی علوم اور انسانی علوم سے بھی وابستہ ہے۔ گویا کہ اب ادب، سائنس اور انسانی علوم جیسے آج ایک ہی پلیٹ فارم پر آ گئے ہیں اسی لیے آج ادب اور غیر ادب پر بات کرنا مشکل معلوم ہو رہا ہے۔ ماحولیاتی تنقید ادبی طریق کاروں یعنی بیان و بدیع کی امتیازی شکلوں کے ساتھ ساتھ دیہی زندگی کے پیکروں، ماحول، فطرت اور مناظر کی پیش کش کی نوعیت کیا ہے پر زور دیتی نظر آتی ہے۔

"ماحولیاتی تنقید”  (Eco Criticism)میں صرف ادب کا متنی تجزیہ نہیں ہوتا اور نہ ہی تاثراتی رسائی کے تحت ادب کا تجزیہ اور مطالعہ کیا جاتا ہے بلکہ معروض کے مظہرات کو اور اس کے علت و معمول کے رشتوں سے ادب کی معنویت میں معنیات تلاش کی جاتی ہے۔ ” ادبی مطالعے میں ماحولیاتی تنقید کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب انسان سے اپنی ضروریات کے پیش نظر دنیا کی ساری چیزوں کو زیر تصرف کر دیا۔ ان اشیا میں جاندار بھی ہیں اور بے جان بھی۔ ایک جرثومہ (بیکٹریا) سے لے کر سورج جیسے فلکی اجسام سبھی انسان کی خدمت اور نفع رسانی کے لیے تخلیق کیے گئے ہیں۔ شجر، حجر، معدنیات، ہوا، پانی، جنگلات، قدرتی وسائل، حیوانات، چرند و پرند اور خود انسان اس عظیم ماحول کا حصّہ ہیں۔ جب تک ماحول کے یہ اجزا فطری انداز میں ایک دوسرے سے رو بہ عمل رہے، قدرت یا فطرت کا توازن ٹھیک ٹھاک رہا۔ ماحول کا اثر انسان کی جسمانی بناوٹ، رہائش، طرز حیات، غذا اور دیگر سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔ یہ ساری چیزیں جب تک فطری انداز میں رہیں ساری دنیا کا نظام معمول کے مطابق رہا اور انسان اپنے ماحول سے پوری طرح فیضیاب ہوتا رہا۔ مگر بڑھتی ہوئی آبادی سائنسی انکشافات کے غلط استعمال اور انسانی ہوس نے قدرت میں در اندازی شروع کر دی۔ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی لالچ میں یہ استحصال بڑھتا گیا اس نے اپنی سہولت اور فائدے کی خاطر پُل، باندھ، کالونیاں، فلک بوس عمارتیں، کارخانے وغیرہ بنائے نیز قدرتی ماحول میں مداخلت کرتے ہوئے بری طرح جنگلات کی صفائی کی، سمندروں کو پاٹ کر زمین کی بازیابی کی، ساحلی علاقوں کے مینگروز، مونگے کی چٹانوں اور کھاڑیوں کو ختم کر کے انسانی آبادی کو بسایا۔ اس طرح یہ تعمیرات بھی ان ماحول کا حصّہ بن گئیں۔ سائنس کی ترقیات نے جہاں زندگی کو سہولت بخش اور پر تعیش بنایا وہیں انسانی طمع نے اطراف کے ماحول کو متاثر کیا اور رفتہ رفتہ ہوا کی آلودگی کا یہ مسئلہ انسانی گرفت غذا کی آلودگی اور آواز سے پیدا ہونے والی آلودگی نے انسانی صحت و زندگی پر اپنے منفی اثرات مرتب کیے۔ شاعروں ادیبوں کو تب احساس ہوا کہ آلودگی کا یہ مسئلہ انسانی گرفت سے کہیں دور نکل چکا ہے۔ مختلف قسم کی آلودگیوں کی یوں تو مختلف وجوہات ہیں مگر عمومی طور پر انھیں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ آبادی کے اضافے، صنعت کاری اور شہر کاری کے عمل نے آلودگی کو جنم دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے جنگل صاف کیے گئے تاکہ نئی بستیاں اور نئی کالونیاں بسائی جا سکیں۔ گلستان اور چراگاہوں کو ختم کر کے کاشتکاری شروع کی گئی اور نئے کارخانوں کی بنیاد ڈالی گئی تاکہ بڑھتی آبادی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ نئے راستے، شاہراہیں بنانی پڑیں۔ آبادی کے پھیلاؤ کے سبب آمدورفت کے لیے سواریوں کی ضرورت پیش آئی جس سے ایندھن کی کھپت کے اضافے نے ہوا کی آلودگی کو مزید بڑھاوا دیا۔ اسی طرح نئے نئے اسکول، تعلیم گاہیں، اسپتال وغیرہ بھی بنانے پڑے۔ سائنسی انکشافات اور ایجادات کے غلط استعمال کی بدولت ان غیر ضروری چیزوں کو استعمال کرنے کا سماج عادی ہو گیا جن کے بغیر بھی کام چل سکتا تھا۔ روزگار کی عدم دستیابی اور شہری سہولتوں کی غیر مساوی تقسیم نے دیہی آبادی کو للچایا چنانچہ بڑے شہروں میں ہجرت کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس منتقلی نے شہری منصوبہ بندی کو متاثر کیا۔ جھگی جھونپڑیاں تقریباً ہر بڑے شہر کا حصّہ بن گئیں جہاں نہ صرف مختلف بیماریوں، وباؤں کو پھیلنے پھولنے کا موقعہ ملا بلکہ جرائم اور سماجی خرابیوں کو بھی ایک اچھی پناہ گاہ ہاتھ آئی۔ شہری سہولیات کے فقدان نے ان بستیوں (سلم) کے لوگوں کو تو متاثر کیا مگر آس پاس کے لوگ بھی اس کی زد میں آ گئے۔ اس کے نتیجے میں تنقید کا وہ مکتب فکر ابھر کر سامنے آیا جسے ” ماحولیاتی تنقید” (Eco Criticism) کہا جاتا ہے اور جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ اس میں صرف ادب کا متنی تجزیہ نہیں ہوتا اور نہ ہی تاثراتی رسائی کے تحت ادب کا تجزیہ اور مطالعہ کیا جاتا ہے بلکہ معروض کے مظہرات کو اور اس کے علت و معمول کے رشتوں سے ادب کی معنویت میں معنیات تلاش کی جاتی ہے۔

اردو ادب میں ایکو فیمنزم Ecofeminism اب بھی اپنی ابتدائی شکل میں ہے۔ اس ضمن میں اردو میں اب تک حوالے کے لئے بھی کوئی کتاب دستیاب نہ ہو سکی۔ مگر پروفیسر مولا بخش (علیگڑھ مسلم یونیورسٹی)، کے چند مضامین ’’ماحولیاتی تنقید: نیا تنقیدی مخاطبہ‘‘ اور ’’مرثیۂ انیس اور ماحولیاتی تنقید‘‘ کو دیکھ کر یہ کہنا بجا ہو گا کہ پروفیسر مولا بخش کے یہ مضامین ماحولیاتی تنقید (Eco Criticism) کے اردو ادب میں ابتدائی نقوش ہیں۔ ان کے یہ مضامین عصری تناظر میں ماحولیاتی تنقید کی اہمیت و افادیت کا احساس کراتے ہیں اور اسے نظریہ تنقید کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مزید وضاحت کے لیے ان کے اس اقتباس پر نظر ڈالنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

’’در اصل مغرب میں تنقیدی اور تخلیقی ادب دونوں جگہ ماحولیات وقت کی اہم ضرورت کی شکل میں اور ہندوستان میں تخلیقی ادب کی سطح پر (جن کی مثالیں اوپر دی گئی ہیں اور آگے بھی مثالیں پیش کی جائیں گی) اس لیے سامنے آ رہی ہیں کیونکہ حد درجہ مصنوعی اور آسائشوں کی تلاش والی معاصر زندگی اور کرۂ ارض پر پھیلے قدرت کے مناظر مثلاً سمندر، ندی، پودے، پیڑ، کیڑے مکوڑوں اور جانوروں پر خطرات کے بادل اس لیے منڈلا رہے ہیں کہ دھرتی کے ہی ختم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

’’زمین مطلوبہ حرارت سے حد درجہ زیادہ گرم ہو گئی ہے۔ نتیجہ یہ کہ ریگستانوں کی توسیع ہو رہی ہے۔ گرین ہاؤس گیس میں اضافہ تشویش ناک حد تک ہوا ہے جسے ہماری دنیا گرم ہوتی جا رہی ہے گرین ہاؤس کے موضوع پر میری تحقیق کے مطابق MARIO VARGAS LLOSA نے ناول "The Green House” ۱۹۶۵ میں شائع کیا تھا اس سے مصنف کا ماحولیات سے دلچسپی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔‘‘

’’پروفیسر خورشید کے اس مضمون کا موضوع ماحولیاتی تنقید نہیں ہے۔ اس مضمون میں ان کی فکر مندی مابعد جدید غزل کے چند پہلوؤں کی نشان دہی ہی ہے۔ لیکن انہوں نے مابعد جدید غزل کا اہم کوڈ ’شجر‘ کو قرار دیا ہے اور ہمعصر شعرا کی غزلوں میں مستعمل ان تراکیب کی طرف اشارے کئے ہیں جن کا تواتر کے ساتھ ہم عصر شعرا نے اپنی غزلوں میں استعمال کیا ہے۔ مثلاً ’شہر فتنہ گر‘، ’شہر زیاں‘، ’زمین سفاک‘، ’جزیرۂ بے آشنا‘، ’کوفۂ نا مہرباں‘ وغیرہ۔ اتفاق ہے کہ ماحولیاتی نقاد کے نزدیک بھی شہر کی حیثیت دیہات کے مقابلے حد درجہ منفی ہو گئی ہے۔ ماحولیاتی نقاد شہر کے برعکس دیہی جمالیات کی تحسین میں زیادہ دلچسپی لینے کا جواز پیش کرتے ہیں۔ ما بعد جدید نقاد بھی گاؤں کو شہر کے مقابلے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ لہٰذا ماحولیاتی نقاد اور مابعد جدید نقادوں میں ممکنہ حد تک مماثلتیں محسوس کی جا سکتی ہیں۔ پروفیسر خورشید شجر کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ یہ مابعد جدید شعرا کا اہم کوڈ ہے:

’’ماحولیاتی تنقید: نیا تنقیدی مخاطبہ‘‘ (مضمون) مولابخش

ماحولیاتی ادب کی روشنی میں اس کے بعض بنیادی خصوصیات کی نشاندہی کرنا یا اس کا ایک خاکہ تیار کرنا آج دشوار نہیں ہے۔ ادب کے مطالعے سے حاصل ان بنیادی نکات کو ہم بآسانی مندرجہ ذیل درجوں میں تقسیم کر سکتے ہیں

(۱) عورت اور ماحولیات کا تعلق

(۲) ثقافت کی طرف سے فطرت کے تسلط کی مخالفت، اور

(۳) غیر ترتیبی نیٹ ورک میں یقین

حقوق نسواں کے علم برداروں کے لیے مبینہ طور پر خواتین اور ماحول کا آپسی تعلق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ اس تعلق کے پس پردہ عورتوں کو دوسرے درجہ کی اہمیت دینے کی سازش پوشیدہ ہے۔ لہذا خواتین اور ماحول کے اس رشتے پر سوال کھڑا کر کے انھیں پدر سری غلبے سے آزاد کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ پدر سری غلبہ ہے جس کے تحت مشرق اور مغرب، ہر دو اطراف کے مذہبی مفکرین کا خیال ہے کہ مرد ازل سے صاحبِ فہم و فراست ہے اور عورت ناقص العقل۔ حقوقِ نسواں کی عالمی تحاریک کے زیرِ اثر ’’برابری کا درجہ‘‘ مل پائے گا یا نہیں، کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن ہمارا قدیم ماضی اور ماضی قریب کی مثالیں تو کم از کم اِس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ہماری سوچ پدر سری غلبے (male chauvinism) سے آزاد نہیں ہے۔ تانیثی سوچ کو تانیثیت یا تحریک نسواں کا پدر سری لہر (masculinizing wave) کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد عورتوں میں مرد کی طرح بننے کا شعور اور صلاحیت پیدا کرانا ہے اور یہ ان کی نظر میں ذریعہ مساوات ہے۔

ماحولیاتی مادریت یا ایکو فیمینزم اس ‘قرار داد’ کے خلاف دلیل پیش کرتا ہے۔ اور مندرجہ ذیل سوالات اٹھاتا ہے کہ

٭      کیا ماحولیات یا فطرت سے علیحدگی خواتین کو مکمل طور پر انسانی درجہ دے سکتی ہے؟

٭      اور اگر تصور انسانیت کو خواتین کی غیر موجودگی اور فطرت کی مخالفت میں بھی پیش کیا جا سکتا ہے تو پھر ایسی صورت میں ماحول یا فطرت کی کیا حیثیت رہتی ہے۔؟؟

٭      پدر سری مزاج کی پیش کردہ مردانہ غلبے، اور استحصال پر مبنی غیر انسانی ‘قرار داد’ میں جذب کرنا کیا عورتوں کے لیے ایک ترقی پسند ہوشمندانہ قدم کہلائے گا؟

ان سوالوں کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ایکو فیمینزم مردوں کی ثقافتی فکر کو قبول کرنے کی خاطر عورتوں اور ماحولیات کے درمیان اس اٹوٹ رشتے کو رد یا منقطع کرنے کی کسی بھی قرار داد کی مخالفت کرتا ہے۔ اور ماحولیاتی ثقافت اور تانیثی فکر کو ضم کر دینے کی کسی بھی کوشش کی تائید کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ماحولیات اور خواتین کے درمیان کوئی اٹوٹ رشتہ ہے؟

اس سوال کا ایک فکری پہلو لیوی اسٹراس (1969) کے اس خیال میں پایا جاتا ہے کہ ماحولیاتی اور ثقافتی تقسیم ایک عالمگیر فکری ساخت رکھتا ہے جس کی بنیاد عورتوں کی ماتحتی (subordination) ہے اور جو ماحولیات اور فطرت کی ماتحتی کی بنیاد قائم کرتا ہے۔ گویا ماتحتی، اطاعت، انفیاد اور محکومیت ہماری ثقافتی فکر کا ایک اہم عنصر ہے نتیجتاً یہ ایسی ثقافتی فکر پیش کرتی ہے جو فطرت کی مخالفت پر قائم ہے۔ یہ ثقافتی فکر عورتوں کو فطرت سے منسلک کرتی ہے تاکہ عورتوں کو "انسانیت” کی درجہ بندی سے خارج کیا جا سکے۔ دو عنصری (جوڑی دار) درجہ بندی classification) (binary کی صورت میں عورتوں کو فطرت سے منسلک کرنے کی کوشش اسے ‘غیر انسانی’ قرار دینا ہے۔ در حقیقت ثقافتی اور ماحولیاتی فرق اور خواتین سے اس کا تعلق کی سوچ ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنی ہے۔

٭ ’’ایکو فیمینزم بحیثیت ادبی تنقید‘‘

’’ایکو فیمینزم‘‘ ادبی تنقید کی تاریخ فرانسیسی نقادFrarnoise D’Eaubonne کی تحریروں سے شروع ہوتی ہے . ایک عام خیال ہے کہ 1974 میں فرانسیسی نقادFrarnoise D’Eaubonne نے ہی ’’ایکو فیمینزم‘‘ یا ’’ماحولیاتی مادریت‘‘ کی اصطلاح وضع کی۔ اس کی ابتدا فطرت اور عورت پر پدر سری (patriarchal) جبر کے خلاف ایک احتجاجی آواز کی صورت میں ہوئی۔ ماحولیاتی مسائل در حقیقت پدر سری patriarchal جبر کی صورت میں قدرتی وسائل کی تیزی سے استحصال کے نتائج ہیں۔ اور اس ماحولیاتی تباہی کی بنیادی وجہ ماحول سے ہماری غیر وابستگی ہے۔ 17ویں صدی کے سائنسی انقلاب نے بھی ماحولیاتی نظام کو نہ صرف درہم برہم کر دیا بلکہ مادر ارض کو ایک ایسے مشینی "استعارہ” میں تبدیل کر دیا جو مردوں کی غلبہ میں ہے۔ گویا Ecofeminist ادب کا مرکز استحصال اور تسلط کے گرد گھومتا ہے جہاں خواتین اور فطرت دونوں ہی modernity کے جبر کے شکار نظر آتے ہیں۔ Ecofeminism ایک ایسی سماجی تحریک ہے جو androcentrism اور ماحولیاتی تباہی کے درمیان روابط پر روشنی ڈالتی ہے۔ آج ماحولیاتی آلودگی اور دیگر ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے کے لیے ایک ایسے سماجی فکر کی ضرورت ہے جو عموماً صرف خواتین میں نظر آتی ہے۔ اور اس کی وجہ فطرت کے ساتھ ان کی وابستگی ہے۔ ’’ایکو فیمینزم‘‘ کے اس نظریہ میں فلسفیانہ تکثیریت کی وجہ سے مرکزیت کا فقدان نظر آتا ہے۔ جو اس نظریے کی متنوع مزاجی کی دلیل ہے۔ مگر پھر بھی اس کا فکری نظام اس استحصال اور تسلط کے گرد گھومتا ہے جہاں خواتین اور فطرت modernity کے جبر کے شکار ہیں۔ عورت اور فطرت کی اس یکسانیت کو ecofeminist نظریہ کا فلسفیانہ اساس سمجھا جاتا ہے۔ یہ نظریہ بذات خود حیات ہے۔ ایک طرز زندگی ہے، یہ مرد و زن کے درمیان محبت و تعاون کا احیا ہے، یہ ساتھ مل کر کام کرنے کا نام ہے۔ یہ شراکت داری ہے جو اس عہد پر استوار ہے کہ انسانیت اور خاص طور پر نسوانیت کا احترام ہو۔ گویا ecofeminist نظریہ خواتین کی جد و جہد اور تمدنی ارتقاء میں فطرت اور ماحول سے ان کو گہرے اور با معنی رشتے کو تسلیم کیے جانے کا نام ہے۔

ایکو فیمینزم کے فکری اساس کو سمجھنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مغرب میں دو بڑے فکری حوالے ملتے ہیں۔ ایک کا فکری مرکز ماحولیات کے گرد گھومتا ہے تو دوسرے کا فلسفیانہ اساس سائنس و تکنالوجی کے قریب ہے۔ O’Riordan1981، کے پہلے فکری حوالے میں ’’فطرت اور ماحولیات‘‘ کو فوقیت حاصل ہے یہ نہ صرف بنی نوع انسان کے لئے اس کی افادیت کا احترام ہے بلکہ ماحول اور اس سے متعلق مسائل پر ایک ہمہ جہتی نقطۂ نظر رکھتا ہے۔ یہ فکری نظام انسان اور دیگر جان داروں (نباتات و حیوانات)، طبعی ماحول اور سماجی ماحول سے متعلق واضح ہدایات رکھتا ہے۔ انسان اور ماحول کے درمیان تعاملات کے سلسلے میں اس فکر کے تعلیمات جامع اور کافی ہیں۔۔ اس فکر کی حدیں بایواتھکس سے جڑتی ہیں کہ کائنات پر زندگی کا ایک مقصد ہے اور اس کی اس معنویت میں ہی زندگی پوشیدہ ہے۔

اس کے برعکس ’سائنس و تکنالوجی‘ کا فلسفہ حیات اقتصادی نطق اور ماحولیاتی مینجمنٹ پر انحصار کرتا ہے۔ اس کی ابتدا سترھویں صدی میں سائنسی انقلاب سے ہوتی ہے Merchant, 1981: 2 ان کا عقیدہ ہے کہ روز بروز موسم کی پیشین گوئی اور دور رس ماحولیات کی تبدیلی کے متعلق جانکاری دینے کے لئے سائنس و تکنالوجی کا استعمال سب سے کار گر طریقہ کار ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق سائنس و تکنالوجی ماڈل سے وہ پیچیدہ اصول بآسانی حل ہو جاتے ہیں جو موسم یا ماحولیات میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ سائنس و تکنالوجی کو کئی طرح سے آزمایا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ماضی قریب کے موسم اور ماحول کو فضا میں اس وقت اور نوعیت کی مناسبت سے دو بارہ ’پیدا‘ کیا جا سکتا ہے۔ اس ماڈل سے دور قدیم کے موسم اور ماحول کو بھی از سر نو پیدا کیا جا سکتا ہے جو بہت کم مقدار میں دستیاب ہیں۔ سائنس و تکنالوجی میڈل کی وجہ سے کائنات کے متعلق ہمارے علم اور سمجھ بوجھ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ یہ بادلوں کی نقل و حرکت اور ان کی رفتار موسم کا تجزیہ کرنے میں مددگار ہوتا ہے ماحولیات اور موسم کا تجزیہ کرنے میں کئی پیچیدہ طور طریقوں سے گزرنا ہوتا ہے اور ان ماڈلز میں ان تمام چیزوں کو شامل کیا گیا ہے جن کی ضرورت ہے۔

بعض ماہرین ماحولیات کی نظر میں سائنسی انقلاب خواتین کے ساتھ ساتھ فطرت پر قابو پانے کی ایک کوشش ہے۔ مثال کے طور پر، سولہویں صدی تک یورپ میں مشفق ماں کا استعارہ فرد، معاشرہ اور کائنات کو ایک پیکر میں ڈھال دیتا تھا۔ یعنی پوری کائنات ایک مشفق ماں کے طور پر دیکھی جاتی تھی۔ لیکن عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں میں انسانی ہاتھ کی موجودگی اور نظریہ ارتقاء کے منکرین اس فکر کو سائنسی توجیہ کی روشنی میں ایک استعارہ قرار دے کر رد کر دیتے ہیں .موجودہ سائنسی تحقیق کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں میں انسانی آلودگی کے اثرات اور نظریہ ارتقاء دونوں نظریات کے لئے واضح سائنسی شواہد موجود ہیں۔ اس انکار کی ایک وجہ یہ ہے کہ لفظ ’’ماں‘‘ کی سائنسی اصطلاح اور اس کی عام فہم معنویت میں شدید اختلاف ہے . ایک سائنسی نظریہ کسی مشاہدے کی ایک ایسی سائنسی توجیہ ہوتا ہے جس کو بارہا کیے جانے والے تجربات سے جانچا اور پرکھا جا سکتا ہے نیز اس کے درست ہونے کے واضح شواہد موجود ہوتے ہیں لیکن استعاراتی مفہوم ثقافتی اور تہذیبی وراثت سے متشکل ہوتا ہے، لیکن سائنسی فکر اسے کسی کی ذاتی رائے پر محمول کرے گی، ان کی نظر میں استعاراتی مفہوم کی اکثر و بیشتر کوئی تجرباتی اور مشاہداتی مثال موجود نہیں ہوتی، اور اسی بنا پر اسے خارج کیا جانا ہی بہتر ہے۔ نتیجتاً زمین بطور مشفق ماں ” کا استعارہ سائنسی انقلاب کی منطقی سائنسی فکر اور مُدلّل نظریات کی روشنی میں آہستہ آہستہ آب و تاب کھوتا گیا۔ اور اس کی جگہ طوفان، سیلاب اور دیگر قدرتی آفات جیسی فطرت کی پر تشدد اور مضطرب شکل کو ڈائن کے طور پر پیش کیا گیا۔ بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پدر سری سوچ کی دین ہے جہاں ہر بری چیز ’’ڈائن‘‘ ہے۔ وچ ہنٹگ Witch hunting آج اس سنسنی خیز موڑ پر آ پہنچی ہے کہ خواتین کو ڈائن ہونے کے الزام میں قتل کر دیا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کیلئے ڈائن یا ’وچ‘ نیا لفظ ہو جبکہ انگریزی کی ہر ڈکشنری میں اس کا مطلب جادوگرنی، جادو ٹونا کرنے والی، بدعقیدہ عورت، چڑیل یا ڈائن ہوتا ہے۔ ایسی عورتوں کی تلاش کو ’وچ ہنٹ‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ہر بری چیز ’’ڈائن‘‘ ہے۔

دُنیا کو تُو کیا جانے یہ بس کی گانٹھ ہے حرّافہ

صورت دیکھو ظالم کی تو کیسی بھولی بھالی ہے

شہد دِکھائے، زہر پِلائے، قاتل، ڈائن، شوہر کش

اِس مُردار، پہ کیا لَلچانا دُنیا دیکھی بھالی ہے

(امام احمد رضا خان)

یوں تو جادو ٹونے یا بد عقیدگی میں ملوث عورتوں کو اذیتیں یا سزائے موت دینے کا رجحان تین ہزار برس قبل حمورابی کے مجموعہ قوانین میں بھی ملتا ہے جبکہ فلسطین کے یہودی رباعی بھی بدعقیدہ اور جادو ٹونا کرنے والی عورتوں کو سزائے موت دیتے تھے۔ لیکن ’وچ ہنٹنگ‘ کی وبائی صورت 1480سے 1700عیسوی کے عرصہ کے درمیان یوروپ میں ملتی ہے جب وہاں جاگیردارانہ اور مذہبی جنگیں زوروں پر تھیں۔ جنگجو سردار اور پروٹسٹنٹ اور کیتھولک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ اس دوسو سالہ دور میں یوروپ بھر میں پادریوں نے 40 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان عورتوں کو بد عقیدگی اور جادو ٹونے کے الزام میں زندہ جلا کر یا اعضا کاٹ کر یا ڈبو کر ہلاک کرنے کے احکامات جاری کئے۔ بھرے گاؤں کے سامنے پادری عدالت لگاتا تھا، سزا سناتا تھا اور پھر ملزمہ پر پورا گاؤں تھوکتا ہوا، ناچتا کودتا، نعرے لگاتا مرکزی چوک میں لے جا کر صلیب سے باندھ کر جلا دیتا یا سنگسار کر دیتا یا ڈبو دیتا۔ وچ ہنٹنگ نے اس وقت سیاسی صورت اختیار کی جب 50کی دہائی میں امریکہ کے اندر سینیٹر جوزف مکھارتھی کی قیادت میں بائیں بازو کے خیالات کی بیخ کنی شروع ہوئی۔ اور سیاست سے لے کر فلم انڈسٹری تک ہر شعبہ میں امریکہ دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد کی تلاش کا کام شروع ہوا۔ پھر 18ویں صدی میں یوروپی حکومتوں نے روشن خیالی کی لہر کے زیر اثر ’وچ ہنٹنگ‘ کو قانوناً جرم قرار دینا شروع کیا جبکہ 19ویں صدی کے وسط کے بعد سے یوروپ میں کسی عورت کو جادو ٹونے یا بد عقیدگی کے الزام میں ہلاک نہیں کیا گیا۔

پدر سری سوچ کی ہوس گیری کا یہ عالم ہے کہ حکیم فصیح الدین رنج نے جب ایک سو چوہتر اردو شاعرات کا اوّلین تذکرہ ’’بہارستانِ ناز‘‘ (۱۸۶۴ء) میں قلم بند کیا تو اپنے زمانے کی معروف شاعرہ مُنی بائی حجاب کا ذکر یوں کرتے ہیں:

’’عمر میں ابھی انیسویں سال کی گرہ پڑی ہے۔ شاعری کے رستے میں قدم تو رکھا ہے مگر سنبھل کر چلیں، یہ منزل کڑی ہے۔ پہلے ہم گداختہ دلوں سے اپنا دل لگائیں۔ معشوقی کو بالائے طاق رکھیں، عاشق بن      جائیں۔ آج کل کی شاعرات سے اب بھی بہتر ہیں۔ مشتری اور زہرہ کی ہم سر ہیں۔ دُور دُور کی سیر بھی کر چکی ہیں، پیمانہ زندگی خوب بھر چکی ہیں، بس ایک ہم سے ہی ملاقات ہونا باقی ہے یقین ہے کہ یہ آرزو بر آئے گی، اگر سچی مشتاقی ہے۔‘‘

ادب میں خواتین کے ادب کی علاحدہ شناخت کا مطلب تھا ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف کرنا جس کا فقدان اس مندرجہ بالا اقتباس میں نظر آتا ہے۔ تانیثیت کے مخالفین کا کہنا تھا کہ ادب کو آخر مرد اور عورت کے خانے میں کیوں بانٹا جائے۔ لیکن عورتوں کی ایک بڑی تعداد علاحدہ شناخت کے حق میں تھی اور ہے۔

غرض یہ کہ پدر سری معاشرہ تھا اور ماضی قریب کا ہندوستانی سماج، رسوم و رواج کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور توہّمات گلے کا ہار تھا۔ ایسے میں عورت حد درجہ مظلوم تھی اور مظلوم بھی اس قدر کہ روحانی اور جسمانی قیود کا شکار ہو کر ایک طرح کی مفلوج زندگی گزار رہی تھی۔ نتیجہ کے طور پر اُس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مرد کے مقابلے میں حد درجہ کم سمجھی جاتی تھی۔ ایسے پدر سری ماحول میں تخلیقی اظہار کیوں کر ممکن ہوتا۔

ان حقائق کی روشنی میں بعض ماہرین اسے سترھویں صدی کے سائنسی انقلاب سے پہلے کی ثقافتی فکر کا نتیجہ بتاتے ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ یہ سوچ animism کے خاتمے اور عیسائیت کے پھیلاؤ کا نتیجہ ہے کیونکہ عیسائیت دنیا کا سب سے زیادہ الوہی Anthropocentric مذہب ہے۔ اس کی وضاحت لن وائیٹ کے ایک مضمون میں ملتی ہے۔

1967میں، لن وائٹ "("(Lynn White نے "ہمارے ماحولیاتی بحران کے تاریخی ماخذ” کے عنوان سے ایک سائنسی جریدے میں ایک مضمون شائع کیا. مضمون فطرت کے ساتھ بنی نوع انسان کے تعلقات پر عیسائیت کے اثر و رسوخ کا تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے . وائٹ کا خیال ہے کہ ماحولیاتی بحران کی بنیادی وجہ مذہبی ہے بلکہ عیسائیت ہے۔ . وائٹ صنعتی انقلاب کو ماحولیاتی تاریخ میں ایک اہم موڑ مانتا ہے، وائٹ کا خیال ہے کہ صنعتی انقلاب نے ماحولیات کو تباہ کرنے کی ہماری صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کر دیا۔ تاہم، وائٹ کا ماننا ہے کہ ماحولیات کو تباہ کرنے اور زمین کو ’’محکوم‘‘ بنانے کی ہماری صلاحیت کی شروعات صنعتی انقلاب سے بہت پہلے Pagan animism پر قدیم عیسائیت کی فتح کے ساتھ ہو گئی تھی۔ اس کے اشارے بائبل کے اس حکم میں ملتے ہیں کہ زمین انسانی استعمال کے لئے ایک وسیلہ ہے اور انسان کو اسے محکوم بنانے کا اختیار ہے۔ کیونکہ قدیم عیسائیت کے مطابق انسان خدا کی صورت پر ڈھالا گیا ہے۔ اور اس لیے دوسرے تمام مخلوقات سے افضل ہے۔

وائٹ کے مضمون کے شائع ہونے کے پانچ سال بعد، 1972 میں آرنلڈ Toynbee کا مضمون ’’موجودہ ماحولیاتی بحران کے مذہبی پس منظر‘‘ شائع ہوا۔ وائٹ کی طرح، Toynbee نے بھی توحید Monotheism کے فلسفہ حیات کو ماحولیاتی تباہی کا سبب مانا جو فطرت کی جانب قدیم Pagan رویہ کے بالکل برعکس تھا۔ ان مضامین نے فطرت کے استحصال کے عیسائیت کے مذہبی عقیدے پر ایک طویل مکالمے کی ابتدا کی اور بہت سے لکھنے والوں نے اس جانب توجہ صرف کی اور عیسائیت اور دوسرے ابراہیمی مذاہب کو Anthropocentric مانا جبکہ ایشیائی مذہبی عقیدے eco-centric سمجھے گئی۔ بالفاظ دیگر ایشیائی مذاہب اور مشرکوں پر فطرت کی جانب قدیمpaganرویہ کا گہرا اثر و رسوخ دیکھا گیا۔ ایکو فیمینزم کی اصطلاح کی لسانی ساخت پر اگر غور کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ’’ماحولیاتی مادریت‘‘ یا ایکو فیمینزم کی اس اصطلاح میں ’’ماحولیات‘‘ اور ’’مادریت‘‘ یا تانیثیت‘‘ ‘دو کلیدی لفظ ہیں۔ ایکو فیمینزم پر کسی تفصیلی گفتگو کے لیے ضروری ہے کہ ماحولیات اور مادریت اور فیمینزم کے ان تصورات کو بخوبی سمجھا جائے۔

فیمینزم (Feminism)

1970 کی دہائی کے بعد، دنیا کی ادبی اور ثقافتی سیاست میں عورت نے علمی (academic) توجہ حاصل کی. اس کے باوجود کہ کسی نے اسے جنسی انارکی کا پیش رو خیال کیا، اور کسی نے مارکیٹ اور جدید ثقافت کے ایجنٹ کے طور پر دیکھا۔ بہتوں کی نظر میں عورت بیسویں صدی کے   ’’سیاسی آزادی کی تحریکوں کے استحکام کی‘‘ علامت کے طور پر ابھر کر آئی۔ اور بعض کی نظر میں وہ موڈرنٹی کی علامت بن کر ابھری۔ مگر یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ان کے جذبات میں ہمیشہ خلوص، ایثار، مروت، محبت اور شگفتگی کا عنصر غالب رہتا ہے۔ ’’ایکو فیمینزم‘‘ نے انسانی وجود کی ایسی عرق ریزی اور عنبر فشانی کا سراغ لگایا جو کہ عطیۂ خداوندی ہے۔ اس وسیع و عریض کائنات میں تمام مظاہر فطرت کے عمیق مشاہدے سے یہ امر منکشف ہوتا ہے کہ جس طرح فطرت ہر لمحہ لالے کی حنا بندی میں مصروف عمل ہے اسی طرح خواتین بھی اپنے روز و شب کا دانہ دانہ شمار کرتے وقت بے لوث محبت کو شعار بناتی ہیں۔ خواتین تخلیق کاروں نے تخلیق ادب کے ساتھ جو بے تکلفی برتی ہے اس کی بدولت ادب میں زندگی کی حیات آفریں اقدار کو نمو ملی ہے۔ مغرب میں تانیثی جد و جہد کا آغاز اس وقت ہوا جب حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لیے بعض عورتوں نے انفرادی طور پر آواز بلند کی۔ اس ضمن میں برطانیہ کی میری وول اسٹون کریفٹ (Mary Woll stone craft) کا نام خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہے جس نے اٹھارویں صدی کے نصفِ دوم میں سماجی سطح پر عورتوں اور مردوں کے درمیان نا برابری (جینڈر تفریق) کے خلاف نہایت پر زور انداز میں آواز اٹھائی اور حقوقِ نسواں کی جد و جہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس کا موقف تھا کہ عورتیں طبعاً مردوں سے ’’کم تر‘‘ (Inferior) نہیں ہوتیں، لیکن وہ کم تر اس لیے سمجھی جاتی ہیں کہ ان میں تعلیم کی کمی پائی جاتی ہے۔ میری وول اسٹون کریفٹ کا کہنا تھا کہ عورتوں اور مردوں دونوں کو beings Rational کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ نا برابری کے خاتمے کے لیے وہ ایک ایسے سماجی نظم و ضبط ((Social order کی ضرورت کو محسوس کرتی تھی جو Reason پر مبنی ہو۔ حقوقِ نسواں سے متعلق اس کی مشہور کتاب A Vindication of the Rights of Woman تانیثیت پسندوں کو آج بھی دعوتِ فکر دیتی ہے۔ میری وول اسٹون کریفٹ کے بعد حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لیے منظم طور پر جد و جہد کا آغاز ہوا جس نے مغرب میں ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ اس تحریک میں اولاً عورتیں ہی پیش پیش رہیں، لیکن بعد میں مرد بھی اس میں شامل ہو گئے۔

تانیثی تحریک کا بنیادی مقصد عورتوں کو مردوں کے مساوی سیاسی، سماجی، معاشی اور قانونی حقوق دلانا تھا اور ترقی کے میدان میں انھیں برابر کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ تانیثیت، اپنے عام مفہوم میں، صرف عورتوں ہی کے مسائل کی ذمہ دار ہے اور جنس یا جینڈر کے تعلق سے نا برابری کو ختم کر دینا چاہتی ہے۔ جیسے جیسے تانیثی تحریک فروغ پاتی گئی، اس کے نظریاتی اور فلسفیانہ ڈسکورس میں بھی تبدیلی آتی گئی۔ موضوعات، مواد، اسلوب، لہجہ اور پیرائے اظہار کی ندرت اور انفرادیت نے زندگی کی حیات آفریں اقدار کے ابلاغ کو یقینی بنا نے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ تانیثیت کا اس امر پر اصرار رہا ہے کہ جذبات، احساسات اور خیالات کا اظہار اس خلوص اور دردمندی سے کیا جائے کہ ان کے دل پر گزرنے والی ہر بات بر محل، فی الفور اور بلا واسطہ انداز میں پیش کر دی جائے۔ اس نوعیت کی لفظی مرقع نگاری کے نمونے سامنے آتے ہیں کہ قاری چشم تصور سے تمام حالات کا مشاہدہ کر لیتا ہے۔

Feminism فرانسیسی لفظ ہے جو لیٹین کے لفظ Femind سے لیا گیا ہے اور ذرا سی تبدیلی سے دوسری زبانوں جیسے انگلش اور جرمن میں بھی ایک ہی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ Feminine عورت یا جنس مونث کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ بطور اصطلاح Feminism اس طرز فکر یا اس تحریک کو کہا جاتا ہے جو سیاست و معیشت و معاشرتی جملہ تمام شعبوں میں عورتوں کی مردوں سے برابری کی دعویدار ہیں۔ خواتین کے حقوق کے دفاع اور مردوں کے ہمراہ ان کی برابری کے معنی میں کئی سو سال پرانی فکر ہے، لیکن انیسویں صدی کے وسط سے اس معنی میں باقاعدہ استعمال ہونے لگا، اور اس طرز فکر کو نافذ کرنے کے لئے دھیرے دھیرے بہت سی تحریکوں نے سر اٹھایا اور اپنے مطالبات کی بازیابی کے لئے بہت سے طریقے اپنائے۔ تاریخی پس منظر میں فیمینزم کے تکاملی مرحلہ کو دو حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے:

پہلا مرحلہ : انیسویں صدی کی ابتدا سے پہلی جنگ عظیم کے بعد تک

دوسرا مرحلہ: ساٹھ کی دہائی کے بعد کا مرحلہ۔

بعض دوسرے مفکرین کا خیال ہے کہ مغرب میں تانیثیت کی تحریک نے اپنی ابتدا (انیسویں صدی) سے زمان حال تک تین ارتقائی مراحل طے کیے جنھیں ’’لہروں‘‘ (Waves) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اجتماعی طور پر تانیثیت کی لہر اٹھنے سے پہلے حقوقِ نسواں کی تمام تر جد و جہد انفرادی کوششوں کا نتیجہ تھی۔ اس وقت تک ’تانیثیت‘ (Feminism) کی اصطلاح بھی رائج نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ان عورتوں نے، جنھوں نے حقوقِ نسواں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی تھی، خود کو ’تانیثیت پسند‘ (Feminist) کہا تھا۔ یہ دونوں اصطلاحیں تانیثی ادب میں کافی بعد میں مستعمل ہوئیں۔

پہلی تانیثی لہر

پہلی تانیثی لہر برطانیہ میں انیسویں صدی کے وسط میں ابھری جب لندن کی متوسط طبقے کی خواتین نے باربرا باڈیکون (Barbara Bodichon) اور بیسی رینر پارکس (Bessie Rayner Parkes) کی سربراہی میں سماجی اور قانونی نا برابری، اور بے انصافی کے خلاف منظم طور پر آواز اٹھائی اور متحد ہو کر حقوقِ نسواں کا پرچم بلند کیا۔ اسی وقت سے تانیثی جد و جہد نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ یہ اس تحریک کی ’’پہلی لہر‘‘ تھی۔ اس لہر کے دوران تانیثیت پسندوں نے جن اِشوز پر اپنی توجہ مرکوز کی ان میں عورتوں کی تعلیم، ان کے لیے روز گار کے مواقع اور شادی سے متعلق قوانین تھے۔ ان تینوں میدانوں میں انھیں زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ عورتوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھل گئے، طب (Medicine) اور دوسرے پیشوں میں انھیں روزگار کے مواقع حاصل ہونے لگے، اور ۱۸۷۰ء کے جائداد قانون Married Women’s Property Act 1870)) کی رو سے شادی شدہ عورتوں کو حقِ ملکیت بھی حاصل ہو گیا۔ تانیثیت کی یہ پہلی لہر پہلی عالمی جنگ تک جاری رہی۔

دوسری تانیثی لہر

تانیثی تحریک کی ’’دوسری لہر‘‘ نہ صرف برطانیہ، بلکہ دوسرے یورپی ممالک اور امریکہ تک پھیل گئی۔ بیسویں صدی کے دوران ان تمام ممالک میں عورتوں کے حقوق کی پاس داری کے لیے آواز اٹھائی گئی اور زبردست جد و جہد کا سلسلہ جاری رہا۔ نسلی بنیادوں پر تفریق کے خلاف بھی جد و جہد جاری رہی۔ لسبین (Lesbian) اِشوز اور اسقاطِ حمل کے حق کو بھی حقوقِ نسواں کی تحریک میں شامل کر لیا گیا۔ بعض جنسی و نسائی مسائل پر عدم اتفاقِ رائے کی وجہ سے دوسری تانیثی لہر تنازعات کا شکار ہو کر 1990ء کے آس پاس ختم ہو گئی۔

تانیثی تحریک کی ’’تیسری لہر

تانیثی تحریک کی ’’تیسری لہر‘‘ بیسویں صدی کے آخری دہے سے ذرا قبل نمودار ہوئی۔ اسے ’جدید تانیثیت‘ (Modern Feminism) بھی کہتے ہیں۔ یہ لہر دوسری تانیثی لہر کی ناکامی سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے تناظر میں معرضِ وجود میں آئی۔ اس تحریک سے نوجوان خواتین وابستہ ہوئیں جن کی عمریں ۳۰، ۳۵، یا ۴۰سال سے زیادہ نہ تھیں۔ اس تحریک سے عورت کی ایک نئی شبیہ ابھر کر سامنے آئی۔ اب عورت ادعائیت کی حامل (Assertive) ہے، طاقت ور ہے اور اپنی جنسیت (Sexuality) پر اسے خود اختیار ہے۔ تیسری تانیثی لہر کے دوران اس بات کا بھی احساس پیدا ہوا کہ عورت کا تعلق مختلف رنگ، نسل، طبقے، قومیت، مذہب، اور تہذیبی و ثقافتی بیک گراؤنڈ سے ہو سکتا ہے۔ یہ تحریک یا لہر عورت کی معاشی، سیاسی اور سماجی مختاریت (Empowerment) کے ساتھ ساتھ اس کی انفرادی مختاریت پر بھی اپنی توجہ مرکوز کرتی ہے۔ اس تحریک کے دوران عورت کا تشخص (Identity) واضح طور پر سامنے آ گیا ہے۔ اکثر عورتیں متضاد تشخصات کی حامل ہوتی ہیں۔ بعض خواتین کیریر وومَن، بیوی، اور نیک لڑکی کا کردار نبھاتی ہیں تو بعض ٹام بوائے، لسبین اور سیکس سمبل کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں۔ یہ تحریک عورت کو اپنا تشخص یا پہچان خود قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

ان تفصیلات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تانیثی تھیوری در حقیقت ان فلسفوں سے نمو پذیر ہوتی ہے جو تانیثیت کے مختلف نظری ڈسکورس کے پسِ پردہ ہیں، جیسے کہ سوشلسٹ فلسفہ حیات جو ’سوشلسٹ تانیثیت‘ (جسے ’مارکسی تانیثیت‘ بھی کہتے ہیں) کی روح ہے۔ اس فلسفے کی رو سے عورتوں کو برابری کا درجہ صرف اسی وقت مل سکتا ہے جب سماج میں بہت بڑے پیمانے پر کوئی تبدیلی واقع ہو۔ سوشلسٹ تانیثیت پسندوں کا کہنا ہے کہ نا برابری سرمایہ دارانہ سماج (Capitalist Society) میں بری طرح جڑ پکڑ چکی ہے جہاں قوت (Power) اور سرمایے (Capital) کی تقسیم غیر مساویانہ ہے۔ صرف یہی کافی نہیں کہ عورتیں انفرادی طور پر جد و جہد کر کے سماج میں اعلیٰ مقام حاصل کریں، بلکہ سماج میں اجتماعی تبدیلی (Collective Change) کی اشد ضرورت ہے تاکہ عورت اور مرد دونوں کو برابری کا درجہ حاصل ہو سکے۔ سوشلسٹ تانیثیت اسی لیے پدری سماجی نظام (Patriarchy) کی بھی مخالف ہے کہ یہ مردانہ اقتدار و قوت کی علامت ہے۔ ’ریڈیکل تانیثیت‘ سوشلسٹ تانیثی تھیوری سے کافی حد تک متاثر ہے۔ تانیثی مفکر ین جو ریڈیکل نظریات کے حامل ہیں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کسی بڑی ڈرامائی سماجی تبدیلی کے بغیر عورتوں کو برابری کا درجہ نہیں مل سکتا، نیز عورتوں کی پستی (Oppression) کی بنیادی وجہ پدری نظام ہے جس میں اقتدار مرد کے ہاتھوں میں ہوتا ہے اور عورت مجبورِ محض تصور کی جاتی ہے۔ مرد کا عورت پر تفوق قوت (Power) کے بل بوتے پر ہے۔ اسی لیے وہ آئے دن مردوں کے ظلم و ستم کا شکار ہوتی رہتی ہے۔ ریڈیکل تانیثیت پسندوں کا سارا ارتکاز اس ظلم و ستم پر ہے جو پدری نظام میں مرد عورت پر ڈھاتا ہے اور اپنے جابرانہ رویے سے اسے سماجی سطح پر زیر کر لیتا ہے اور پست (Oppressed) بنا دیتا ہے خواہ وہ امیر ہو یا غریب، گوری ہو یا کالی، تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ۔ اسی لیے ریڈیکل تانیثیت پدری نظام اور مردانہ اقتدار کے سخت خلاف ہے۔ سوشلسٹ تانیثی فکر کے ’لبرل تانیثیت‘ نا برابری کے خاتمے کے لیے اجتماعی سماجی تبدیلی کے بجائے انفرادی کوشش و عمل (Individualistic actions) کو ضروری قرار دیتی ہے۔ اس فلسفے کی رو سے عورتیں انفرادی طور پر کام اور جد و جہد کر کے سماج میں اعلیٰ مقام حاصل کر سکتی ہیں۔ اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بہت سے مغربی ملکوں میں عورتیں آج ان عہدوں پر فائز ہیں جو پہلے مردوں کی دسترس میں تھے۔ ہر چند کہ لبرل تانیثیت سیاسی و قانونی اصلاحات کے ذریعے مرد و زن میں برابری کی خواہاں ہے، تاہم اس کا ارتکاز عورتوں کی اپنی صلاحیتوں اور کوششوں پر ہے جنھیں بروئے عمل لا کر وہ سماج میں برابری کا درجہ حاصل کر سکتی ہیں۔

بعض یورپی ممالک (بالخصوص برطانیہ اور فرانس) نے جب تیسری دنیا کے ملکوں پر اپنا تسلط قائم کیا تو یہ ممالک ان کی کالونیاں (نو آباد بستیاں) بن کر رہ گئے جس کی وجہ سے وہاں کی سیاسی اور معاشی صورتِ حال بالکل بدل گئی اور تانیثیت کی ایک نئی شکل ابھر کر سامنے آئی جسے ’مابعد نو آبادیاتی تانیثیت‘ کا نام دیا گیا۔ اسے تیسری دنیا کی تانیثیت یا تھرڈ ورلڈ تانیثیت بھی کہا گیا جس کے مفکرین کا خیال ہے کہ مغربی نوآباد کاروں نے تھرڈ ورلڈ ممالک کو سماجی و معاشی پستی کے غار میں دھکیل دیا ہے جس کی وجہ سے مابعد نوآبادیاتی معاشرے (Post۔colonial society) میں عورت کی حیثیت کم تر اور پست ہو کر رہ گئی ہے۔ مابعد نوآبادیاتی تانیثیت پسندوں نے مغربی نو آباد کاروں کی اندھی تقلید اور ان کی تہذیب اور طرزِ بود و باش کی بے جا نقالی اور تھرڈ ورلڈ ممالک کی عورتوں میں بڑھتی ہوئی مغربیت اور ماڈرنایزیشن کے مغربی معیارات پر بھی انگلی اٹھائی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ عورتوں کا معیارِ زندگی محض مغربی تہذیب کی نقالی کر کے بلند نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اسے اپنے اپنے ممالک کی سماجی، ثقافتی اور تہذیبی قدروں سے ہم آہنگ کر کے بھی اونچا اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فیمینزم خواتین کی حق طلب تحریک کا نام ہے جو امریکا سے شروع ہوئی یعنی خواتین نے جنسیت کی بنا پر اس زمانہ میں رائج امتیازی برتاؤ کے خلاف اپنا حق کو حاصل کرنے کے لئے ایک تحریک کا آغاز کیا جو ایک خاص معاشرتی نظریات مطابق تھا۔

Feminism خواتین کی مردوں پر برتری کا قائل نہیں، اسی طرح جیسے نسلی و مذہبی برابری سے مراد صرف برابری ہے، برتری نہیں۔ اس سے بھی زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے، کہ جو لوگ لفظ feminism کی مخالفت کرتے ہیں، ان سے اگر بات کی جائے تو وہ feminism کے تمام مقاصد کی حمایت کرتے نظر آئیں گے۔ تو پھر آخر اس لفظ سے کیا دشمنی ہے۔ اگر حق کی آواز ایک لڑکی اٹھائے، تو اسے باغی، ضدی، سرکش وغیرہ کہا جاتا ہے۔ کیوں خواتین کو غلط کردار کی حامل، اور معاشرے کے تاریک حصوں سے تعلق رکھنے والا کہا جاتا ہے؟

جنسی نا انصافی صرف تیسرے ممالک کا مسئلہ نہیں ہے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی خواتین مردوں جتنی تنخواہیں حاصل کرنے کے لیے جد و جہد کرتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جنسی نا انصافی اب بھی ترقی پذیر ممالک میں عام ہے۔ اس کے باوجود ترقی پذیر ممالک نے تو اپنی پہلی خاتون وزیر اعظم دیکھ لی ہے، لیکن امریکہ جیسے ملک کو ابھی بھی اپنی پہلی خاتون صدر کا استقبال کرنا باقی ہے۔ خواتین پر جنسی تشدد اور ریپ امریکہ کے تعلیمی اداروں میں عام ہے۔ امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک خاتون جنسی تشدد کا شکار ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ شیرل سینڈبرگ اپنی کتاب ’’ ویمین ورک اینڈ دی ول ٹو لیڈ‘‘: "Women, Work, and the Will to Lead” میں امریکہ میں رہنے والی ایک خاتون کی حیثیت سے اپنے مرد کولیگز کے برابر آنے کی اپنی روزانہ کی جد و جہد کی کہانی سناتی ہیں۔ جنسی نا انصافی کے یہی واقعات ہیں، جنہوں نے دنیا بھر میں feminists کو جد و جہد کرنے پر مجبور کیا ہے، تاکہ نئی روایات قائم کی جا سکیں، اور کلچر اور ذہنیتیں تبدیل کی جا سکیں۔ یہ مسئلہ جتنا عالمی اہمیت کا حامل ہے، اتنی ہی فوری توجہ بھی چاہتا ہے۔ جیسا کہ ایما واٹسن کہتی ہیں، ’’اگر میں نہیں تو کون؟ اگر اب نہیں تو کب‘‘۔ ’’عورتوں پر ظلم و ستم اور جبر و استبداد کی روایت بہت پرانی ہے‘‘۔ ’’عورت نے پہلی بار بغاوت کب کی۔ اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ تاہم Ellenkey کہتی ہے کہ نسائی تحریک کی شروعات وہاں سے ہوئی جب پہلے پہل حوّا نے شجر ممنوعہ کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔ غرض عورت کا اپنے مجوزہ حدود سے تجاوز کرنا ہی نسائی تحریک کی ابتدا تھی‘‘ ظلم و ستم کی روایت تو بلاشبہ بہت پرانی ہے، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کی ابتدا کا سرا شجرِ ممنوعہ کی طرف ہاتھ بڑھانے سے جوڑنا شاید مناسب نہیں۔ ایلن کی Ellenkey یہاں چوک گئی ہیں۔ جبر و استبداد کے خلاف بغاوت ہوتی تو سر آنکھوں پر۔ لیکن شجرِ ممنوعہ والی بغاوت سے پہلے تو کسی ظلم و ستم کے شواہد نہیں ملتے۔ نہ کسی مذہبی روایت میں نہ کسی غیر مذہبی روایت میں۔ اس لیے اگر یہ بغاوت تھی تو کسی ظلم و ستم کے بغیر ہی برپا کر دی گئی تھی۔ وگرنہ یہ کوئی بغاوت نہیں تھی بلکہ آدم و حوا کا مشترکہ طور پر شعور و آگہی کا پھل چکھنے کا عمل تھا۔ نسلِ انسانی کے پھلنے پھولنے کی راہ نکالنے کی طرف دونوں کا مشترکہ پہلا قدم تھا۔ Heath Stephen نے لکھا ہے کہ: ’’مرد چاہے کتنی ایمانداری سے اس تحریک میں شامل ہوں، ان کی نیت پر شبہ برقرار رہے گا۔‘‘ ایک طرف تو یہ کہا گیا کہ تانیثیت کے حوالے سے کام کرنے والے مرد بھی تانیثی تحریک کا حصہ ہیں۔ اور دوسری طرف ان کے حوالے سے شک کی اتنی بڑی دیوار کھڑی کر دی گئی۔ اس سے اس تحریک کی کچھ کمزوریوں کا اندازہ ہوتا ہے۔

۱۹۷۰ء سے ۸۰ کی دہائیوں میں فمینیزم میں بہت سے رجحانات پیدا ہوئے، شدّت پسند سے لے کر اعتدال پسند رجحانات بھی سامنے آئے۔ نتیجہ میں فیمینزم کے سلسلہ میں بہت سے نظریات اور رجحانات پیدا ہو گئے۔ لیکن سب کے سب اس بات پر متّفق ہیں کہ عورتوں کے حقوق پامال ہوئے ہیں اور مناسب طریقوں سے اس امتیازی برتاؤ اور حقوق کی پامالی کو روکنا چاہئے۔ البتہ کچھ مسائل ایسے بھی ہیں جن میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ الگ الگ رجحانات میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ ان تھیوریز کے نام یہ ہیں۔

حریت پسند تانیثیت (Liberal Feminism)،

مارکسی تانیثیت (Marxist Feminism)،

انتہا پسند تانیثیت (Radical Feminism)،

تحلیل نفسی تانیثیت (Psychoanalytic Feminism)،

سماجی تانیثیت  (Social Feminism)،

وجودی تانیثیت (Existentialist Feminism)،

مابعد جدید تانیثیت (Post Modern Feminism)، اور

ایکو فیمینزم (Eco Feminism)۔

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مختلف عہد میں تانیثیت سے متعلق مختلف تھیوریاں وضع کی گئی ہیں۔ چند لوگ اس بات پرمتفق ہیں کہ تانیثیت کی کوئی ایک تھیوری نہیں ہو سکتی۔ پدری سماج میں عورتوں پر جبر و استبداد کی مختلف وجہیں تھیں۔ تمام حالات و واقعات کے پیش نظر تانیثیت کو اپنے اپنے طور پر سمجھنے کی کوششیں ہوئیں‘‘حریت پسند تانیثیت والے عورت کے حقوق مرد کے مساوی کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ مارکسی تانیثیت نے سماجی ناہمواری کے تناظر میں اشرافیہ کی عورتوں کے مسائل کے مقابلہ میں عام خواتین کے مسائل کو مختلف قرار دیا اور انہیں کے حق میں آواز بلند کی۔ انتہا پسند تانیثیت والے اپنے نام کی مناسبت سے یہ سمجھتے ہیں کہ ’’عورتوں پر ظلم و ستم کی روایت اتنی پرانی ہے کہ اسے سماج سے طبقاتی فرق مٹا کر بھی ختم نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ یہ سارے حقوق مل جانے کے بعد بھی مزید کا نعرہ ہے۔ گویا ایک استحصالی طبقے کے خاتمے کے بعد دوسرے استحصالی طبقے کو جنم دینا مقصود ہے۔ تحلیل نفسی تانیثیت میں نام کے عین مطابق فرائڈ کے جنسی اور نفسیاتی حوالوں کو بنیاد بنایا گیا۔ سماجی تانیثیت نے پہلی چاروں تھیوریز پر غور و فکر کرتے ہوئے ان کی بعض باتوں سے اختلاف اور بعض سے اتفاق کرتے ہوئے کسی حد تک امتزاجی رویے کو اہمیت دی۔ وجودی تانیثیت میں وجودی فلسفے کی بنیاد پر عورت کی شخصی آزادی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ وجودی تانیثیت کی تھیوری سیمون دی بوار (Beauvoir Simon de) کی عطا کردہ سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے ژاں پال سارتر کے ساتھ دوست بن کر ساری زندگی گزاری تھی۔ مابعد جدے دیت والے تانیثیت کے تعلق سے اتنے ہی الجھے ہوئے ہیں جتنا مابعد جدے دیت کا تصور الجھا ہوا ہے۔ ان کے ہاں تانیثیت کی کوئی بنیادی بات کرنے کے بجائے اپنی مخصوص لسانی فلسفے کی اصطلاحوں کے ساتھ اسے جوڑنے کی کاوش دکھائی دیتی ہے۔ فیمینزم جو کہ ایک معاشرتی تحریک تھی اس نے چند دھائی کی سرگرمیوں میں اپنے نظریات کو اتنا مستحکم کر لیا کہ دیگر یونیورسیٹیوں میں باقاعدہ "”Womens’ studies”  کے نام پر شعبہ جات قائم کئے گئے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں خواتین کے مسائل کے ماہرین سامنے آ گئے ہیں۔ اس اہم نکتہ کی طرف متوجہ کرنا ضروری ہے کہ مغربی فیمینزم ایک خاص ماحول میں خاص اسباب کی بنا پر ایک ثقافتی، سماجی تحریک بن کے ابھرا ہے، لہذا اس کے نظریات اور دلائل پر باقاعدہ غور کرنے کے لئے کافی وقت درکار ہے۔ فیمینیزم اپنی پہلی تقسیم بندی میں نظریاتی اور عملی بنیاد پر قابل تقلید نظر آتی ہے۔، نظریاتی بنیاد پر ایک نظریہ کی صورت میں یا آئیڈلوجی کے قالب میں یا اسی کے مانند دوسری روشوں کے اعتبار سے پیش کی جاتی ہے اور عملی پہلو کی نظر سے ایک اجتماعی حادثہ کی صورت میں بیان کی جاتی ہے اور یہ دونوں پہلو اپنے درمیان تفاوتوں کے باوجود ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، اجتماعی حادثات کے حوالے سے فیمینیزم کا رشتہ تاریخی عوامل اور اقتصادی ڈھانچے منجملہ شناخت و معرفت سے مربوط ہے جس نے معاشرے کی شناخت میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے اور نظریاتی حوالے سے اجتماعی زمینہ سے متاثر ہونے کے علاوہ اپنے سے مربوط فلسفی بنیادوں اور معرفتی ڈھانچوں سے بھی فائدہ اٹھاتی ہے۔ فیمینیزم، تاریخی لحاظ سے کئی ادوار پر مشتمل ہے اور ہر ایک دور میں ایک طرح کی نظریاتی اور عملی خصوصیات سے مختص رہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں سب سے زیادہ موثر عوامل خصوصاً اس کے نظریاتی پہلو سے مربوط، معرفت شناختی اور فلسفی مبانی ہیں، اس وضاخت کے ساتھ بہت سے فلسفی اور معرفت شناختی حادثات نے فیمینیزم میں جدید فکری تحریک کو جنم دیا ہے اور یہ تحریک اپنی نوبت میں فیمینیزم کے معاشرتی نتائج میں اثر انداز ہوئی ہے، اس تاثیر کا واضح نمونہ فیمینیزم کی تیسری موج میں بخوبی دیکھا جا سکتا ہے، فیمینیزم نے تیسری موج کے اعتبار سے ایک ماڈرن نظریہ کے قالب میں ایک فلسفی روپ اختیار کر لیا ہے اور اپنی مدعیات کے دامن کو وسیع کر دیا ہے اور یہ امر سب سے زیادہ معرفت شناختی کے تغیّر وتبدل میں ریشہ دوان ہے، جب تک علم کا پوزیؤسٹی نظریہ ماڈرن معاشر کے اوپر حاکم رہا فیمینیزم نظریہ اپنے دامن کو علم کے قلمرو میں داخل نہ کر سکا، پوزیؤسٹی کی نظر میں علم کی معرفت کا حلقہ ایک ایسا حلقہ ہے کہ جو اپنے اندرونی ڈھانچے میں دوسرے معرفتی مراکز سے مستقل شمار ہوتا ہے، ایک عالم اس حلقہ میں داخل ہوتے وقت اپنے تمام ثقافتی تعلّقات کو ایک طرف رکھ دیتا ہے، اس نظریہ کے مطابق علم حاصل کرنے کا مرکز ایک آزمائش گاہ (لیبارٹری) کی مانند ہے کہ جس میں وہیں سے مخصوص لباس درکار ہوتا ہے، ایک محقّق اس کی حدود میں داخل ہوتے وقت اپنے مخصوص لباس منجملہ جنسیت کے لباس کو اتار دیتا ہے اور آزمائش گاہ کے مخصوص لباس کو جو کہ عالموں سے مخصوص ہے زیب تن کر لیتا ہے۔

بیسویں صدی کی تیسری دہائی سے ادھر جو گفتگو یا مباحث شروع ہوئے اس نے علمی معرفت کے متعلق مذکورہ نظریہ کو عملی بنا دیا ہے، اس نظریہ نے فیمینیزم نظریہ کے حامیوں کو یہ موقع فراہم کر دیا کہ وہ جنسیت کو بنیاد بنا کر علمی معرفت میں ساجھے داری کا اعلان کر سکیں اور اس طرح وہ علمی مراکز کے جانبی مباحث سے آگے بڑھ کر علم کے اندرونی ڈھانچے میں داخل ہو گئے۔ بلاشبہ فیمینیزم ایسا ریڈیکل ماڈرن نظریہ ہے کہ جو معرفت شناختی کے بنا استفادہ کئے بغیر اپنے وجود کو منوا سکتا ہے۔

ماحولیات:

ایکو فیمینزم میں ماحولیات ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ کائنات میں ہمارے سیارے کو ایک منفرد مقام حاصل ہے کہ صرف اسی پر زندگی اپنی گو نا گوں صفات کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ خلا سے کرہ ارض کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ دنیا بڑی حسین نظر آتی ہے کروڑوں سال پہلے جب زندگی نے اس سر زمین پر پہلی انگڑائی لی تھی تو یہ ایسی نہ تھی وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہمہ انواع و اقسام کے جانور اور پودے جنم لیتے گئے اور اس کے حسن میں اضافہ کرتے گئے اس وقت فطرت کی گود میں پلنے والا انسان بڑا معصوم اور قطعی بے ضرر تھا۔ فطرت سے اس کا گہرا اور قریبی رشتہ تھا۔ قدرت کی عطا کردہ نعمتوں کو وہ بیش بہا عطیہ جان کر استعمال ضرور کرتا تھا مگر اس کے استحصال اور اس نظام میں مداخلت کا خیال کبھی نہیں آیا کہ وہ ماحول کا ایک لازمی عنصر بن کر زندگی گذارتا تھا۔ گھنے جنگل، اونچے اونچے پہاڑ، سر سبز مرغزار، اٹھلاتی بل کھاتی ندیاں، گنگناتے ہوئے جھرنے، شور مچاتے ہوئے آبشار قسم ہا قسم کے چرند و درند، خوبصورت رنگوں اور دلنشین آوازوں والے پرند، سرسبز و شاداب درخت، رنگ برنگے پھول اس کے دن بھر کی جسمانی تھکن اور ذہنی کلفتوں کو دور کرنے کا بڑا ذریعہ تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وسیع و عریض دنیا کو قدرت نے ان نعائم کے بخشنے میں ذرا زیادہ ہی فیاضی سے کام لیا ہے۔ ابتدا میں انسان نے قدرت کے خزانے سے خوب مادی اور روحانی فائدہ اٹھایا۔ زمانہ قدیم میں جنگلات سیر و تفریح اور روحانی تر و تازگی اور تسکین کا ذریعہ تھے۔ گہرے گھنے اور خاموش جنگلوں میں انسانوں کو روحانی روشنی اور من کی شانتی ملتی تھی، رشیوں منیوں اور گیانیوں نے آبادی سے دور، خاموش فضاؤں میں پناہ لے کر عرفان الٰہیٰ حاصل کیا اور عبادتد ریاضت میں اپنی عمریں گذار دیں۔ ہمارے قدیم فکر و خیال، فلسفہ اور تہذیب و تمدن کے ارتقا و عروج میں جنگل کی پُر سکون فضا کا بڑا ہاتھ ہے غالباً اسی لیے درختوں کا اگانا، سینچنا اور ان کی پرورش و پرستش کرنا متبرک مانا جانے لگا۔ رفتہ رفتہ جس نے مذہب کی شکل اختیار کر لی اور اس طرح شجرکاری قدیم قبائلی تہذیب کا حصّہ بن گئی۔ زمانۂ قدیم کے لوگوں نے قدرتی ماحول سے خوشگوار رابطہ قائم کر رکھا تھا وہ قدرتی توازن کو بگاڑے بغیر پوری طرح اس سے مستفیض ہوتے تھے مگر وقت کے گذرنے کے ساتھ ساتھ انسان کے نقطء نظر میں تبدیلی پیدا ہونی شروع ہوئی۔ وہ خود کو دھیرے دھیرے ان نعمتوں کے سیاہ و سفید کا مالک سمجھنے لگا اور اس دولت کو بے دریغ خرچ کرنا اور برباد کرنا شروع کیا۔ تہذیب و تمدن کے پروان چڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی رخنہ اندازی میں بھی اضافہ ہوا۔ پھر جدید سائنس و ٹکنالوجی کی ترقی اسے ایک دوسرے تباہ کن موڑ پر لے گئی۔ انگریز جب ہندوستان آئے تو شکار کی بہتات دیکھ کر گویا پاگل سے ہو گئے چنانچہ اپنے اس شوق کو خوب پورا کیا۔ ادھر عالمی جنگوں کے چھڑ جانے سے انسانوں کو جنگلات اور جنگلی جانوروں سے زیادہ سابقہ پڑا اور ان کی ہوس، جھوٹے وقار، شکار کے شوق اور معاشی خوشحالی کی لگن نے ان کا جانی دشمن بنا دیا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کو رہائش گاہیں اور غذا مہیا کرنے اور مختلف اشیائے زندگی کی تیاری کے لیے انسانوں نے جنگلوں کو صاف کرنا شروع کیا۔ یہ جنگل جو بارش برسانے، زمین کی تخریب کاری کو روکنے، آکسیجن کی مقدار کو متعین کرنے، فضا کو صاف رکھنے اور فضائی توازن کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار تھے دھیرے دھیرے غائب ہونا شروع ہوئے۔ جنگلی جانوروں کے مسکن تباہ ہوئے اور یہ جانور فرار ہونے پر مجبور ہوئے اس طرح دھیرے دھیرے ان کی نسلیں معدوم ہونے لگیں۔ ماضی میں جن کے ریوڑ کے ریوڑ فطری ماحول میں قلانچیں بھرتے نظر آتے تھے آج پوری دنیا سے ایسے جانوروں کی نسلیں ناپید ہونے کے قریب ہیں۔ ختم ہو جانے کے خطرے سے دوچار جانوروں میں شیر، شیر ببر، چیتا، گینڈا، بارہ سنگھا، تغدار، پہاڑی کوئل، لالہ تیتر اور جانوروں (بشمول پرندوں کے) اور بے شمار قسموں کے نام لیے جا سکتے ہیں علاوہ ازیں بعض آرائشی اور ادویاتی اہمیت کے حامل پودے بھی اس دنیا سے مٹ جانے کے قریب ہیں اور اگر یہی حال رہا تو ہماری آنے والی نسلوں کو ان کے بارے میں جاننے کے لیے کتابوں کا سہارا لینا پڑے گا جس طرح آج میمتھ، ڈائنا سور وغیرہ کی معلومات کے لیے ہمیں عجائب گھروں اور کتابوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔

جنگلات کے خاتمہ سے ایک طرف قدرتی توازن برقرار نہ رہ سکا جس سے موسم متاثر ہوئے جس کا لامحالہ اثر خود انسان کی زندگی پر پڑا۔ فضا جو کہ بڑی حد تک پاک صاف ہوا کرتی تھی وہ آلودہ ہوئی۔ گنجان بستیوں سے گندے پانی اور انسانی فضلہ کے اخراج، گھڑ گھڑاتی مشینوں، دھواں اگلتی چمنیوں اور حمل و نقل کے ذرائع نے روز افزوں ترقی نے ہوا اور پانی کو آلودہ کیا۔ انسانی اور صنعتی فضلات کو ٹھکانے لگانے کے لئے انسان کو دریا اور سمندر کے علاوہ دوسرا ٹھکانہ نظر نہیں آیا۔ پانی کی آلودگی نے مچھلیوں سمیت بہت سے آبی جانوروں کی نسل کو خطرہ سے قریب کیا ہوا اور پانی کی آلودگی کا اثر پرندوں پر بھی پڑا۔ اور اس طرح قدرت میں موجود قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہوئی۔

برسوں تک جنگلاتی دولت کی لوٹ کھسوٹ کے بعد انسانوں کو اس کا احساس اس وقت ہوا جب کہ خوداس کی زندگی اس کی معیشت متاثر ہوئی۔ موسموں کی باقاعدگی متاثر ہوئی۔ خشک سالی، قحط سالی اور سیلاب عالمی مسئلے بن گئے اور ساری دنیا میں ہاہا کار مچ گیا۔ اقوام عالم، ان کی انجمن، (UNO) اس کے مختلف اداروں، ایجنسیوں اور مختلف ممالک کی تنظیموں نے جنگل، جنگلی جانوروں اور ماحول کی بحالی کی طرف توجہ دی۔ جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں پانچ جون کو ماحولیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عوام میں ماحول کی بہتری اور آلودگی کے خاتمہ سے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے۔ 5جون کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام 1974 سے ہر سال یہ دن ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے کے عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک میں ماحولیات کے عالمی دن کی مناسبت سے، ریلیاں، سیمنارز اور دیگر تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گرین ہاؤسز گیسوں کے اخراج کی وجہ سے درجہ حرارت میں بتدریج اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے زراعت کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، جس سے خوراک کی طلب پوری نہ ہونے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بالخصوص غریب ممالک کے عوام کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پوری دنیا کو اس وقت ماحولیاتی آلودگی کا سامنا ہے اور عالمی حدت میں روز بروز خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس سے لوگوں میں مہلک وبائی امراض پیدا ہو رہے ہیں۔ اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے ماحولیاتی تنظیمیں برسر پیکار ہیں، جبکہ سائنسدان بھی اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔ ماحولیات اور جنگلات کی اہمیت اب ماہرین ماحولیات پر ہی نہیں عام انسانوں پر بھی آشکار ہو چکی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ صرف بنی نوع آدم ہی نہیں خدا کی ساری مخلوقات کا اور سارے جانوروں کی بقا کا انحصار پودوں پر ہے۔ جانوروں میں قوت مطابقت پائی جاتی ہے جس کی بدولت یہ موسم اور ماحول کے خلاف اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں تاکہ اپنی نسل کا تحفظ کر سکیں یہ مطابقت ہزاروں برسوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے مگر ان کے برعکس انسان اپنے نمو یافتہ دماغ اور ذہنی صلاحیتوں کی مدد سے ماحول کے خلاف موثر جنگ لڑ سکتا ہے اور اپنے لیے مصنوعی ماحول ترتیب دے سکتا ہے۔ یہ سہولت جانوروں کو حاصل نہیں لہٰذا انسان پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یوں بھی بہ حیثیت اشرف المخلوقات اور اس کائنات میں اعلی و ارفع مقام پر متمکن ہونے کے باعث اس پر اپنے سے کمزور اور کم درجہ کی مخلوقات کی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ مختلف مذاہب میں بھی پودوں اور جانوروں سے پیار پر زور دیا گیا ہے۔

یہ بات خوب ذہن نشین رہے کہ ہر جانور اور پودا اپنے ماحول کا ایک اہم جز ہے اور اس کے ختم ہونے سے دوسروں کا متاثر ہونا بھی ضروری ہے اس میں چھوٹے اور بڑے کی کوئی تخصیص نہیں اس کی مثال سانپ کی دی جا سکتی ہے۔ سانپوں کو بلا سوچے سمجھے مارے جانے سے چوہوں کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور یہ چوئے غذائی ذخیرہ اور اس طرح انسانی معیشت کو کھوکھلا کر ڈالتے ہیں اس لیے ہر جانور اور پودے کی اس کے اپنے ماحول میں اہمیت ہے اسی لیے اقبال نے کہا تھا۔

نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں

بُرا نہیں کوئی قدرت کے کارخانے میں

دنیا کے تمام مقدس یا آسمانی کتابوں میں بھی اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک خاص نظام کے تحت اس کائنات کی تخلیق کی اور تخلیق کردہ موجودات میں ہم آہنگی پیدا کی۔ مثلاً چاند، سورج اور زمین اپنے اپنے مدار میں ایک دوسرے کی گردش ایک نظام کے تحت کرتے ہیں جس کی وجہ سے صبح ہوتی ہے، دن ہوتا ہے، شام ہوتی ہے پھر رات ہوتی ہے اور یوں ہی وقت گزرتا رہتا ہے۔ اس گردش سے اوقات میں تبدیلی آتی ہے اور تبدیلی اوقات سے موسم بدلتے ہیں اور پھر موسموں کی تبدیلی سے پھل، پھول اور غلّوں کے بے شمار اقسام کی پیداوار ہوتی ہے۔ الغرض آسمان، زمین اور سمندر میں پائے جانے والی ایسی کوئی چیز نہیں ہے جن کا رشتہ دوسری چیزوں سے نہ ہواور ان میں ہونے والے تغیرات کے اثرات ایک دوسرے پر نہ پڑتے ہوں اور ان تمام چیزوں میں ہم آہنگی نہ پائی جاتی ہو۔ لہٰذا کائنات میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس سے انسانی رشتے قائم نہ ہو سکیں۔

اس شعر کی مزید وضاحت کے لیے اس برصغیر میں پائے جانے والے درخت ’’سیمل‘‘ کو لیجیے۔ گرمی میں یہ پتوں سے ڈھکا رہتا ہے اور اپنے پورے قد کاٹھ سے اپنے اطراف ٹھنڈی چھاؤں کئے رکھتا ہے، خزاں کے آتے ہی یہ پتے جھاڑ کر سردی کی ناتواں دھوپ کو راستہ دیتا ہے اور اپنے ہمسایوں کو موسم سے مقابلے کی طاقت۔ بہار کا تو اعلان ہی اس کی چاروں اطراف پھیلی ہوئی شاخوں پر موٹی موٹی انڈے کی شکل کی کلیوں کے نمودار ہونے سے ہوتا ہے جو سیاہی مائل بھورے رنگ کی ہوتی ہیں۔ مضبوط شاخوں پر کلیوں کے گچھے ماہ فروری میں سرخ، نارنجی یا پیلے پھولوں میں بدل جاتے ہیں۔ مختلف اطراف میں رخ کئے یہ پھول بلا مبالغہ سیکڑوں کی تعداد میں ہوتے ہیں۔ پھولوں سے لدا دیدہ زیب درخت مرکز نگاہ اور اطراف کی تمام چیزوں پر حاوی ہوتا ہے۔ دن کی روشنی میں یہ منظر رات کی تاریکی میں ہونے والی آتشبازی سے مشابہ ہوتا ہے۔

نباتات کی کتابوں میں اس کا نام ’’بوم بیکس سیبا‘‘درج ہے اور اس کا شمار پھولدار درختوں والے خاندان ’’مالوییسی‘‘ میں کیا جاتا ہے۔ اردو میں ’’سیمل‘‘ اور انگلش میں ’’سلک کاٹن ٹری‘‘ کہا جاتا ہے، چین میں یہ ’’مومی این‘‘کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس کی کاشت کا علاقہ بہت وسیع و عریض ہے، جنوب میں تامل ناڈو سے لے کر ہمالیہ کے دامن تک اونچے نیچے، خشک وتر سب میں ہی سر اٹھا کر جیتا ہے۔

پانچ سے سات انچ کے پانچ سے نو پتے ایک مرکزی شاخ سے جڑے ہو کر انسانی ہاتھ کی سی شبیہ بناتے ہیں۔ تنے سے پھوٹنے والی شاخیں متوازی اور سیدھی ہوتی ہیں اور تنے کے گردایک چکر کی صورت میں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔ باغبان نیچے سے ان کی چھٹائی کرتے رہتے ہیں اس طرح تنا صاف ہوتا جاتا ہے اور شاخوں کی چھتری اوپر کی جانب بڑھتی جاتی ہے یوں ایک سیدھا اور سایہ دار پیڑ وجود میں آتا ہے۔ چھ سے آٹھ انچ کا پانچ پنکھڑیوں والا خوشنما پھول بہت چمکدار اور ریشمی سا ہوتا ہے۔ دھوپ پڑنے پر اس کی چمک بہت دور تک جاتی ہے اور سب کو متوجہ کر لیتی ہے۔ پھول اپنی وضع قطع میں بیڈ منٹن کی چڑیا سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس میں پانی اور مٹھاس کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جو بہت سے پرندوں کے لئے سال بھر کی توانائی کا سامان لئے ہوتی ہے۔ شہد کی مکھیاں اور بہت سے پرندے پھولوں کے کھلتے ہی اس کا رخ کرتے ہیں اور اس دعوت عام میں اپنا حصہ بقدر جسہ وصول کرتے ہیں۔ ایسے شاید کم ہی درخت ہوں گے جن میں پرندوں کے لئے سیمل جتنی کشش ہو۔ باغوں میں اس کی موجودگی پرندوں کی آمد کا سبب بنتی ہے۔ سیمل کے بلند قد و قامت کے باعث بہار کی آمد کی اطلاع دور دور تک پھیل جاتی ہے۔ شہروں کی سنگین سکائی لائن رنگین اور گداز کرنے کا یہ سہل اور آسان طریقہ ہے۔ درخت کی شاخ پر سیمل کے پھول کی عمر تقریباً انتیس دن ہوتی ہے یہ صرف شاخ پر کھلا، رنگ بکھیرتا ہی بھلا نہیں لگتا اس کا اپنی شاخ سے ٹوٹ کر گرنے کا منظر بھی انوکھا اور دلفریب ہوتا ہے۔ اپنی مخصوص ساخت اور وزن کے باعث بلندی سے نیچے پنکھے کی طرح گھومتے ہوئے آتا ہے۔ سیمل کے پھول مارچ اپریل میں گرنا شروع ہوتے ہیں اور جو رنگ کچھ دن پہلے آسمان پر چھائیہوئے تھے اب زمین کو رنگ دیتے ہیں اور سیمل کے اردگرد کی زمین کا حسن ہی نہیں زرخیزی کا باعث بھی ہوتے ہیں۔ ماہ مئی میں ان رنگوں کی جگہ ریشم کی سی ملائم روئی کی باریک سی تہہ لے لیتی ہے ایسا اس کے سیڈ پوڈ کے درختوں پر ہی کھل جانے سے ہوتا ہے۔ سیمل کا ایک ملی میٹر موٹا اور دو سے تین ملی میٹر قطر کا گول بیج بہت نازک اور مہین ہوتا ہے اور اسے دیکھ کر یہ اندازہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ دیو ہیکل درخت اس مہین بیج سے برآمد ہوا ہے۔ چار سے چھ انچ کے سخت بیضوی سیڈ پوڈ کے اندر ریشمی روئی میں لپٹے بیج بھرے ہوتے ہے۔ یہ شاید بیجوں کی نازکی کا ہی تقاضا تھا کہ قدرت نے اسے نہایت نرمی سے ریشم میں لپیٹ کر ایک مضبوط اور چوبی ڈبے میں رکھا۔ درخت پر ہی کھل جانے پر اس کے بیج ہوا کے دوش پر دور دراز، انجان زمینوں کے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں لیکن جہاں اس کی قیمتی ریشمی روئی کو ضائع کرنا مقصود نہ ہو وہاں انہیں کھلنے سے پہلے ہی اتار لیا جاتا ہے اور پھر گرم پانی میں ڈال کر کھولا جاتا ہے اور اس طرح بیج اور ریشم علیحدہ کر کے کام میں لایا جاتا ہے۔ سیمل کی روئی کو کاتا نہیں جا سکتا اس لئے یہ ریشمی ہونے کے باوجود ریشم کی ہم پلہ نہیں ہے اور صرف گدوں اور تکیوں کی بھرائی ہی کے کام آتی ہے۔ سیمل کا بیج کھانے کے قابل نہیں ہوتا اور زہریلا ہوتا ہے۔

پینتیس سے چالیس میٹر بلند سیمل اپنی مضبوط شاخوں کی بیس سے پچیس میٹر کی چاروں اطراف پھیلی ہوئی چھتری اٹھائے، سایہ پھیلائے بہت با وقار اور با رعب انداز میں سو برس سے بھی زیادہ عرصے تک تیز و تند ہواؤں کا غرور توڑ کر باغوں کی حفاظت کے فرائض سرانجام دیتا ہے۔ ابتدا میں اس کے تنے پر موٹے موٹے کانٹے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں یہ اس کا جانوروں کی چڑھائی سے محفوظ رہنے کا قدرتی نظام ہے۔ سلیٹی رنگ کی چھال کی سطح کھردری اور ہاتھی کی جلد سے مشابہ ہوتی ہے۔ اس کے تنے کی موٹائی تین سے پانچ میٹر تک ہو سکتی ہے۔ یہ ایک تیز رفتار درخت ہے اور اور پانچ سال میں ہی دس سے بارہ میٹر تک جا پہنچتا ہے ویسے اس پر پھولوں کی آمد کا سلسلہ تو تین سے چار میٹر کے پودے سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ قد اور حجم بڑھنے پر اتنے بڑے وجود کو سہارا دینے کے لئے بھی قدرت نے اسے ایک خاص نظام سے نوازا ہے۔ سیمل کے نچلے حصے سے خاص جڑیں جنہیں بٹرس روٹس بھی کہا جاتا ہے نمودار ہوتی ہیں جو اس کے تنے کو کچھ فاصلے سے اس طرح سہارا دیتی ہیں جیسے واقعی کوئی دیوار تعمیر کی گئی ہو، بعض پرانے درختوں میں یہ بٹرس روٹس تنے پر آٹھ سے دس میٹر اونچائی سے زمین پر کوئی تین سے چار میٹر تک جا پہنچتی ہیں۔ سیمل ایگرو فارسٹری کے لئے بہترین سمجھے جانے والے معدودے چند اشجار میں شامل ہے اور ہو بھی کیسے نہ، یہ جتنا اوپر بڑھتا ہے اتنا ہی نیچے بھی۔ ماہرین کے مطابق سیمل کے حجم کا ایک چوتھائی سے بھی زیادہ زیر زمین ہوتا ہے اس طرح بائیوماس کا ایک بڑا ذخیرہ اپنے کاشتکار کی زمین کو مہیا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ اپنے حسن و جمال کے ساتھ ساتھ سیمل فضاء کو ہر قسم کی آلودگی چاہے وہ گرد و غبار کی ہو یا موٹر گاڑیوں کے دھوئیں کی سب ہی کو آڑے ہاتھوں لیتا ہے اور گہری گھنی چھاؤں سے نہ صرف درجہ حرارت میں کمی کا باعث ہوتا ہے بلکہ سڑکوں کے اطراف ہونے کی صورت میں ان کی عمر بھی بڑھاتا ہے۔ اس کی تازہ کٹی ہوئی لکڑی کی رنگت کچھ سفید سی ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ سلیٹی ہو جاتی ہے۔ صرف پانی کے اندر پائیدار پائی گئی ہے اس لئے چھوٹی کشتیوں اور کووں کی دیواروں کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اس کا زیادہ استعمال پلائی وڈ کی صنعت میں ہی ہوتا ہے۔

ماحولیات اور جنگلات صرف اپنے قدرتی وسائل اور حسن کی بنا پر ہی نہیں بلکہ زندگی کی ان مختلف شکلوں اور پہلوؤں کے باعث بھی جو وہ اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں تہذیب اور معیشت کا بیش قیمت سرمایہ ہیں انواع و اقسام کے چرند، پرند و درند اس کی وسیع اور مشفق گود میں آسودگی اور زندگی پاتے ہیں اور ماحول کو حسین و خوشگوار بناتے ہیں جنگلی جانوروں کو ان کے اپنے ماحول میں دیکھنا ایک الگ ہی تجربہ ہے۔ یہاں کا سکون خامشی، پاکیزگی اور تصنع سے پاک ماحول ڈھونڈھنے والے کو روحانیت اور گیان کی دنیا میں لے جاتے ہیں جنگلوں کی معاشی اہمیت سے کسے انکار ہے۔ عمارتی لکڑی، ایندھن، چارہ، جڑی بوٹیاں، شہد، نیل، گوند، ریزن، سمور، لاکھ، ربڑ، کو کو، چمڑا وغیرہ جنگلات ہی کے حاصلات ہیں۔ فرنیچر، کاغذ، وغیرہ کی صنعتیں خام مال کے لیے ان ہی پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر جنگل نہ ہوں تو ملک معاشی اعتبار سے کم زور ہو جائے۔ قسم قسم کے جانوروں کو قدرتی ماحول میں گھومتے پھرتے دیکھنے کا شوق سیاحوں کو افریقہ اور ایشیا کے جنگلات میں کھینچ لاتا ہے اس طرح یہ سیاحت کو فروغ دینے اور بیرونی زر مبادلہ کمانے کا بھی ذریعہ ہے۔

پودوں میں مسلسل چلنے والے عمل شعاعی ترکیب Photosynthesis کی مدد سے یہ کلوروفل کی موجودگی میں زمین سے حاصل شدہ پانی اور نمکیات سے سورج کی روشنی میں غذا تیار کرتے ہیں جس کا بڑا حصّہ جانوروں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔ پودوں کی تیار کردہ غذا کی مقدار سالانہ کروڑوں ٹن تک پہونچ جاتی ہے اگر درختوں کے کٹنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ہمیں ایک خطرناک صورت حال کے لیے تیار رہنا چاہیے قدرت میں پائی جانے والی دولت جیسے درخت، نمکیات، معدنیات، کوئلہ، میٹھے پانی کے ذخائر وغیرہ کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

(۱)     تجدیدی وسائل

(۲)     غیر تجدیدی وسائل

قدرتی دولت کی وہ قسم جس کے تصرف کے بعد دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے اس کا شمار تجدیدی قسم میں ہوتا ہے جیسے درخت، جانور وغیرہ مگر غیر تجدیدی کے ذخائر ختم ہو جائیں تو ان کی تجدید کاری ممکن نہیں لہٰذا ہمیں ہر دو قسم کے وسائل کو بڑی ہوشیاری، کفایت شعاری اور منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کا بے دریغ استعمال آنے والی نسلوں کو کہیں ان سے محروم نہ کر دے۔

آج علم ماحول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اسے نئی تعلیمی پالیسی کا لازمی جز قرار دیا گیا ہے تاکہ نئی نسل کو ابتدا ہی سے اس کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔ عوام کو بھی مختلف ذرائع ابلاغ و ترسیل جیسے کتابوں، اشتہاروں، نمائشوں، فلموں، میلوں وغیرہ کے انعقاد سے ماحول کی اہمیت سے واقف کروایا جا سکتا ہے۔ ماحولیات اور قدرتی وسائل کی مناسبت سے ماحولیات اور قدرتی وسائل کے حکام اور اہلکاروں کے ساتھ ملاقات میں ہوا کی آلودگی، گرد و غبار جنگلات، مرغزاروں اور سبز فضائیں کی تخریب جیسی ماحولیات کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے منصوبہ بندی، تدبیر، پیہم تلاش و کوشش اور متعلقہ اداروں کے ٹھوس اقدامات پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ماحولیات کی حفاظت حکومت کی اہم ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں قومی ماحولیات کی دستاویز کو آمادہ کر کے اسے تمام تعمیری اور صنعتی منصوبوں کے ساتھ منسلک کرنا چاہیے اور ماحولیات کی تخریب کو جرم قرار دیکر اس اہم ذمہ داری پر سنجیدگی کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔ ماحولیاتی آلودگی انسان کی زندگی کے لئے خطرہ ہے۔ انسان آلودہ ماحول میں سانس لے کر اپنے جسم میں بیماریوں کو دعوت دیتا ہے۔ دنیا میں ماحولیاتی آلودگی میں انتہائی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس پر قابو پانا ضروری ہے۔ ہماری صحت، ہمارے ماحول سے بہت حد تک وابستہ ہے۔ ہم جس ماحول میں رہتے ہیں، اِس میں انسان، جانور، موسمی حالات، چرند پرند، پودے اور درخت، ہوا، پانی، سورج، بادل، کھیت اور کھلیان، دریا اور نہریں سب کچھ شامل ہے۔ اگر ہم تھوڑی دیر ماحول کو فراموش کرنے کی کوشش کریں تو یہ بیکار ہو گا کیونکہ ماحول ایک دائمی چیز ہے۔ گھر کا ماحول، باہر کا ماحول، اسکول کا ماحول، آفس کا ماحول غرض کہ ماحول سے ہمیں کوئی جدا نہیں کر سکتا۔ انسان کے اندر کا ماحول اس کو بیرونی ماحول سے نبرد آزما ہونے میں مدد دیتا ہے۔ جس فضا میں ہم سانس لیتے ہیں، ہوا کا ایک ذریعہ ہے۔ ہم آکسیجن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ ہمارے جسم میں ہر لمحہ کاربن ڈائی آکسائیڈ بنتی رہتی ہے۔ ہمارے خون کے سرخ خلئے نہایت سرعت اور جانفشانی کے ساتھ ہمارے پھیپھڑوں کی باریک نالیوں میں آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تبادلہ کرتے ہیں اور آکسیجن کو جسم کے کونے کونے تک پہنچاتے ہیں۔ یہ کارکردگی زندگی کے پہلے دن سے آخر دن تک برقرار رہتی ہے۔ فضا میں دوسری گیسز بھی ہوتی ہیں اور وہ گیسز ہماری سانس کے ساتھ ہمارے جسم میں داخل ہوتی ہیں اور باہر نکل جاتی ہیں۔ گاؤں کی فضا چونکہ آلودگی سے پاک ہوتی ہے اس لیے وہاں رہنے والا شخص نسبتاً زیادہ صحت مند ہوتا ہے مگر شہر کے باسی اتنے خوش نصیب نہیں ہوتے۔

شور کی آلودگی بھی ماحولیاتی آلودگی کی ایک قسم ہے۔ جسے ہمارے ملک میں کسی بھی طور پر اہمیت نہیں دی جا رہی، حالانکہ یہ ان دیکھی آلودگی ہماری زندگیوں، صحت (جسمانی اور ذہنی) اور ترقی پر براہِ راست اور بلاواسطہ بہت زیادہ اثرات مرتب کر رہی ہے۔ مثلاً شور کے حد سے زیادہ بڑھنے سے یہ سننے کی حس کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ اگر اس کا مقابلہ گرمی اور روشنی کی آلودگی سے کیا جائے تو صوتی آلودگی کے عناصر یا (پارٹیکلز) ہمیں کہیں نہیں دکھائی دیں گے مگر آواز کی لہریں قدرتی لہروں کی موجودگی میں خطرات کو بڑھا دیتی ہیں۔

شور کی آلودگی میں بہت سی آوازیں شامل ہیں جن کو ہم اپنی عام زندگی میں نظرانداز کر دیتے ہیں مگر در حقیقت یہ ہماری زندگی میں بہت بڑا خطرے کا باعث ہوتی ہیں۔ شور کی آلودگی میں جنریٹر، ریل گاڑی، کار، موٹر سائیکل، رکشہ، جہاز، مشینیں (سلائی مشین، واشنگ مشین، گراینڈر وغیرہ) گھر کے دروازے کی بیل کے علاوہ، محلوں میں چیختے چلاتے چھابڑی فروش اور ہمسائیوں کی مشکلات سے بے خبر بلند آواز میں گلا پھاڑتے ہوئے مکین شامل ہیں۔ دیہی اور قصباتی علاقوں میں ہر مذہبی اور سماجی تقاریب کے موقع پر لاؤڈ اسپیکر کا بے دریغ استعمال اور الیکشن کے وقت سیاسی پارٹیوں کا شور و غوغا بھی اس آلودگی میں بے پناہ اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

سائنسدانوں کی ریسرچ کے مطابق اگر کوئی شخص مسلسل شور کے ماحول میں زندگی بسر کرتا ہے تو اس کے سننے کی حس بتدریج زائل ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی شور کی آلودگی جس میں ٹریفک کا شور شامل ہے، کی وجہ سے انسان اعصابی تناؤ، بے چینی اور طبعیت میں چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جنریٹر یا مشینوں کی آواز کی وجہ سے یا اچانک تیز دروازے کی گھنٹی کی وجہ سے نیند ٹوٹ جاتی ہے یا اس میں خلل آ جائے تو انسان کی طبعیت میں مزید بے سکونی بڑھ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے دل کی بیماریاں اور ذہنی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ یہ زرق برق روشنی جہاں ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک، دل کو فرحت و نشاط اور ذہن و دماغ پر خوشی و مسرت کے لافانی نقوش چھوڑ جاتی ہے وہیں ہم سے اس کی بھاری قیمت بھی چکا لیتی ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ رات کی روشنی صحت انسانی کے لیے خطرہ ہے نیز سینے کے سرطان، مایوسی اور دیگر امراض کے روز افزوں واقعات کا اہم سبب ہے۔ بہت سے جنگلی جانوروں اور پودوں کے لیے رات میں روشنی زہریلے عناصر کے مانند ضرر رساں ہے۔

ماحولیاتی آلودگی میں ٹریفک کا دھواں بھی کئی بیماریاں پھیلانے کا سبب ہے۔ شہر کی فضا گاڑیوں کے دھوئیں سے آلودہ ہے۔ علاوہ ازیں کچرے کے ڈھیر میں بھی آگ لگا دی جاتی ہے جس کا دھواں بھی مضر صحت ہے۔ ماحولیاتی آلودگی اور گرم ماحول سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور ٹمپریچر کے بڑھنے کی وجہ سے خواتین کی جسمانی کارکردگی تیس فیصد جبکہ دماغی کارکردگی پچاس فیصد تک رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے خواتین ڈپریشن، ٹینشن اور فرسٹریشن کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔ فضائی آلودگی کے سبب لوگوں کو سانس کی مختلف الرجیز کے علاوہ دمہ کی بھی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔

گاڑیوں اور دیگر آوازوں کا شور اور دھواں بھی جانداروں کیلئے انتہائی مضر ہیں جس سے ان کا سانس لینے کا عمل بالخصوص دل اور پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں اورآلودگی کے مختلف اجزاء جسموں کے اندر داخل ہو کر ان کے اندرونی نظام کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کے ان تمام پہلوؤں کے پیش نظر انھیں مندرجہ ذیل خانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

(۱) فضائی آلودگی:

انسانوں نے آبادی میں اضافے کے پیش نظر اپنا پہلا نشانہ جنگلات کو بنایا تاکہ رہائش، فیکٹریوں اور دیگر سہولیات (جیسے سڑکیں، پُل، باندھ، اناج کی پیداوار) کے لیے جگہ حاصل کی جا سکے۔ جنگلات کی اندھا دھند کٹائی نے نہ صرف ماحول کو متاثر کیا بلکہ موسموں کی ترتیب کو بھی اثر انداز کیا۔ چٹانوں اور زمین کا بڑا حصّہ کھل (عریاں) گیا جس سے جھیج میں اضافہ ہوا۔ جنگلی جانوروں کے مسکن تباہ ہوئے نیز دیگر جانوروں اور پرندوں کو بھی نقصان ہوا۔ چراگاہوں کے خاتمے سے نہ صرف جنگلی جانور بلکہ پالتو جانور بھی متاثر ہوئے۔ گویا ماحول کی بنیاد ہل کر رہ گئی۔ موسموں خصوصاً بارش پر اس کا اثر پڑا۔ اس کے نتیجے میں فصلیں بھی متاثر ہوئیں۔ اناج اور دیگر زراعی پیداواروں کی بڑھتی مانگ سے نمٹنے کے لیے کھادوں اور جراثیم کش ادویات کے استعمال کے لیے کسانوں کو اکسایا گیا۔ جس سے زمین کی زرخیزی متاثر ہوئی ہے اور اس کے بدولت کھیت کے اطراف کی زمین اور پانی کے ذخائر بھی متاثر ہوئے۔ اشیائے خوردنی کے ساتھ انسانی جسم میں داخل ہونے والے ان کیمیائی مادوں نے اس کی صحت کو متاثر کیا۔ ان کے سد باب کے لیے نئی نئی دواؤں کی وافر مقدار میں تیاری نیز شفا خانوں کی ضرورت پیش آئی۔ فیکٹریوں، اسپتالوں کے لیے زائد زمین جنگلات کو صاف کر کے حاصل کی گئی۔ انسانی آبادیاں دور دور تک پھیلتی گئیں لہٰذا قدرتی طور پر حمل و نقل اور بار برداری کے لیے مزید گاڑیوں کی ضرورت پیش آئی جس میں جلنے والے ایندھن نے آلودگی کو اور بڑھایا۔ اسی طرح کارخانوں کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں نے کچھ کم قہر نہیں ڈھایا۔ وہ ہوا کی آلودگی سے پودوں، جانوروں اور انسانوں میں مختلف بیماریوں کا انتشار ہوا۔ ہوا کی آلودگی سے حلق، تنفسی اعضا، آنکھ وغیرہ متاثر ہوتے ہیں۔ ان سے دمہ، کینسر جلدی بیماریاں، تپ دق اور دیگر امراض پیدا ہوتے ہیں۔ ان سب کی ضرب معاشی حالت پر بھی پڑتی ہے۔ صنعتی علاقوں میں متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ علاوہ اس فضا میں موجود گیسوں کے بارش کے پانی کے ساتھ مل کر زمین پر آنے سے بھی کئی نقصانات ہیں۔ اس ’’تیزابی بارش‘‘ نے کئی تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ تاج محل کو ’’سنگی کینسر‘‘ اس بارش کا تحفہ ہے۔ اسی طرح ’’کالی بارش سے نوشینی پانی آلودہ ہوتا ہے بلکہ یہ انسانوں کے استعمال کے لائق نہیں رہ جاتا۔ سیمنٹ کارخانوں، پارچہ بافی، چمڑا سازی اور دیگر صنعتوں سے نکلنے والے مہین ذرات اور ریشے ہوا کا حصّہ بن کر اپنی قیمت وصول کرتے ہیں۔ یہ انسانوں میں مختلف عارضے پیدا کر کے ان کی تخلیقی اور فکری قوت کو متاثر کرتے ہیں۔ کام کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے اور ان سب کے نقصان کو روپے میں نہیں آنکا جا سکتا۔ ایٹمی تجربات، دھاتوں اور ایٹمی توانائی کے مختلف استعمال کے نتیجے میں تابکار آلائندے ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں جو کہ سارے آلائندوں کی بہ نسبت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کے زخموں کو دنیا چھ دہائی کے بعد بھی بھول نہیں پائی ہے۔ حالیہ تاریخ میں سابق سوویت یونین کے چرنوبل کا واقعہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ تابکار آلودگی انسانیت کے لیے کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی جوہری دوڑ اور بعض ممالک کی ہٹ دھرمی اور غیر دانش مندی نے انسانیت کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ ایک معمولی سی حماقت اس خوبصورت سیارے کو منٹوں میں تباہ کر سکتی ہے۔ صنعتی آلودگی کا 1984 کا بھوپال کا سانحہ بھی ایک ایسی مثال ہے جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ معمولی سی لاپرواہی کس طرح ہزاروں انسانی جانوں کو بھینٹ چڑھا سکتی ہے۔ آئے دن اخبارات میں گیسوں کے چھوٹے موٹے رساؤ کی خبروں کے ہم عادی ہو چکے ہیں اور ایسی خبروں کو سرسری طور پر پڑھ کر نظر انداز کر جاتے ہیں۔ ان کارخانوں سے مختلف گیسوں، کیمیائی مادوں اور صنعتی فضلات سے ہوا، پانی، مٹی سبھی آلودہ ہوتے رہتے ہیں۔ صنعتی فاضلات پانی کے ساتھ زمین میں سرایت کر کے اور ندی، تالاب میں شامل ہو کر پانی کے ذخائر کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ فضا کی آلودگی نے کئی مسائل کو جنم دیا ہے جیسے اوزون گیس کے غلاف کا پتلا ہو جانا، گرین ہاؤس اثرات، عالمی حدّت اور موسموں میں یکلخت تبدیلیاں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے طوفان، سیلاب وغیرہ۔

ہوائی کرہ میں اوزان کی تباہی ایک سنجیدہ مستقل مسئلہ ہے۔ یہ نازک اور پیچیدہ مسئلہ سبھی ممالک کی تشویش کا سبب بنا ہوا ہے۔ زمین اور اس کے باسیوں کو سورج کی حد درجہ تپش خصوصاً بالائے بنفشی شعاعوں سے تحفظ فراہم کرنے میں اس کے رول کو نظر انداز نہیں جا کیا سکتا۔ کچھ مخصوص صنعتیں اوزون کی کمی کی ذمہ دار ہیں چنانچہ اس کے سد باب کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس میں بطور خاص کلورو فلورو کاربن مرکبات (CFCs) اور ہائیڈرو فلورو کاربن (HFCs) پر مکمل پابندی نیز جیٹ، سپر سونک اور کانکرڈ طیاروں کے ایندھنوں کی اصلاح جن سے اوزان کی تباہی عمل میں آتی ہے، یہ اقسام شامل ہیں۔

شہری اور صنعتی سرگرمیوں کے نتیجے میں دنیا کی آب و ہوا، موسم میں نمایاں تبدیلی ہو رہی ہے۔ پچھلی صدی میں ہمارے کرۂ ارض کی تپش میں 0.6 درجہ سیل سی ایس کارخانے کا اضافہ ہوا نیز TERI (دی انرجی سورسیز انسٹی ٹیوٹ) کے ڈائرکٹر کے مطابق یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اکیسویں صدی میں اس اضافے کے 1.4 تا 5.8 درجہ سیل سی ایس تک پہنچ جانے کی توقع ہے۔ اس عالمی حدّت (گلوبل وارمنگ) کے نتائج ہمیں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ دنیا کے عظیم گلیشیئر کا نیز قطبی برف کا پگھلنا اسی طرح ہمالیہ جیسے پہاڑی سلسلوں سے برف کا تیزی سے پگھلنا، سمندروں کی سطح میں اضافہ کر سکتا ہے جس سے نچلے اور ساحلی علاقوں کے غرقاب ہونے کے خدشات ہیں نیز دیگر بحری آفات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ قطرینہ، ہری کین، ریتا، ولمِو جیسے طوفان اور سونامی جیسی قیامت صغریٰ کی تباہ کاریاں ابھی انسانی ذہنوں میں تازہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان قدرتی مظاہر سے دنیا کے بڑے شہروں جیسے نیویارک، شنگھائی، ممبئی وغیرہ کو بے حد خطرہ لاحق ہے جب کہ بنگلہ دیش انڈونیشیا کے کچھ جزائر کے پوری طرح زیر آب چلے جانے کے خدشات ہیں۔

امریکہ جیسا سائنسی اعتبار سے ترقی یافتہ ملک اور اس کی جدید مشنری ان آفات کے سامنے بے بس پائے گئے۔ پھر بھلا انڈونیشیا، بنگلہ دیش وغیرہ کس شمار میں ہیں۔ ان آفات کے لیے خود انسانوں کے اپنے کرتوت بھی ذمہ دار ہیں۔ موسموں کے تواتر اور ان کی نوعیت میں تو تبدیلی پیدا ہوئی ہے، سونامی جیسی آفت سے تو دنیا کا جغرافیہ اور نقشہ تک بدل گیا ہے۔ اب آگے نئے ریگستانوں کے وجود میں آنے اور قابلِ کاشت زمین کے رقبے کے کم ہونے کے امکانات ہیں نیز بڑے بڑے شہروں کے غرقاب ہونے کے بھی اندازے لگائے گئے ہیں لہٰذا اس آلودگی پر کنٹرول فوری توجہ چاہتا ہے۔

(۲) پانی کی آلودگی:

پانی کے بغیر انسانی زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس گمبھیر مسئلے کے دو پہلو ہیں۔ پانی کے گھٹتے ذخائر نیز پانی کی آلودگی۔ اس آلودگی کے لیے کئی عوامل ذمہ دار ہیں۔ ہماری صنعتیں، بطور خاص رنگ، کیمیات، کھاد، جراثیم کش ادویات ایک طرف تو گہرا گھنا دھواں چھوڑ کر ہوا کو آلودہ کرتے ہیں دوسری جانب ایسے صنعتی فاضل مادے خارج کرتے ہیں جو تالابوں، ندیوں حتیٰ کہ سمندروں کو آلودہ کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک تو معاملہ ٹھیک تھا یہ مادے اگر انسانوں میں مختلف بیماریاں پھیلاتے ہیں تو آبی جانوروں کے لیے مہلک ثابت ہوتے ہیں۔ ان سے بحری و آبی جانور، کائی، بیکٹریا وغیرہ ختم ہو جاتے ہیں جو قدرت میں بطور خاکروب کام کرتے ہیں۔ کھیتوں سے بہنے والے پانی میں کھادوں کی کچھ مقدار بھی رہ جاتی ہے جس سے غیر ضروری پودے/کائی وغیرہ کی نشو و نما تیزی سے ہوتی ہے اسی طرح انسانی فضلے کے لیے سمندر کی کوکھ کو زیادہ مناسب سمجھنا چاہیے، نیز تابکاری فضلے بھی یہاں مدفون کر دئیے جاتے ہیں چنانچہ آج خلا، ہمالیہ جیسے پہاڑ، سمندر، انٹارٹیکا وغیرہ بھی آلودگی سے محفوظ نہیں رہ پائے ہیں۔ بڑے بڑے تیل کے ٹینکروں سے رسنے والا تیل اور حادثات کی صورت میں سطح سمندر پر پھیل جانے والی میلوں لمبی تیل کی تہہ آبی جانوروں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ پاک و صاف پانی کسی نعمت سے کم نہیں۔ مگر دنیا کے بیشتر ممالک کے عوام کو یہ قدرتی تحفہ میسر نہیں۔ پینے کے پانی کے حصول کے لیے تو بعض علاقوں کے لوگوں کو خصوصاً عورتوں کو میلوں دور جانا پڑتا ہے۔ اس کے بعد بھی جو پانی ملتا ہے وہ انسانوں کی صحت کی نقط نظر سے قطعی مناسب نہیں۔ مگر ایسا پانی پینے پر لوگ مجبور ہیں۔ موسموں کی بے یقینی کیفیت اور انسانی سرگرمیوں نے زمین کا سینہ پانی کی دولت سے خالی کر دیا ہے اور اگر یہ دستیاب ہے بھی تو سیکڑوں فٹ گہرائی میں، تجارتی ذہنیت نے اس خزانے کو مشروب اور مینرل واٹر کی شکل میں فروخت کر کے اپنے لیے کھرے منافع میں تبدیل کر لیا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں عالمی پیمانے پر اس جال میں تیسری دنیا کے ممالک کو جکڑنے کے لیے پوری تیار ہیں۔

کیمیائی کھاد کے استعمال نے فصلوں کی پیداوار میں ضرور اضافہ کیا ہے مگر یہ کسی سراب سے کم نہیں۔ زمین کی بڑھتی ہوئی تیز ابیت اور ختم ہوتی ہوئی زرخیزی کسانوں کو نظر نہیں آئی۔ اس کی تلافی کے لیے اور مزید فصل کے حصول کے لیے کھاد کی اور زیادہ مقدار اور مادہ طاقت مزید فصل کے حصول کے لیے کھاد کی اور زیادہ مقدار اور طاقت ور کھاد کے استعمال کرنے کی نوبت آئی جس نے زمین کو اور زیادہ نقصان پہنچایا۔ زمین کی اس بربادی کے مد نظر جاپان جیسے ملک نے کیمیائی کھاد کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہاں صرف اور صرف قدرتی کھادوں کے استعمال نے خوش آیند نتائج سامنے لائے ہیں۔ زمین کو دی جانے والی کھاد کی کچھ مقدار پانی کے ساتھ ندی تالابوں میں بہہ کر چلی جاتی ہے جس سے فاضل گھاس، کائی وغیرہ کو غذائیت ملتی ہے اور ان کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کیمیات اور جراثیم کش ادویات بھی پانی میں گھل کر ندی تالابوں میں پہنچ کر یہاں کے جانوروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ زیادہ تر کارخانے اپنے صنعتی فاضلات قریبی پانی کے ذخائر میں چھوڑ دیتے ہیں جن سے آبی جانوروں اور انسانوں کو ناقابل بیان نقصان پہنچتا ہے۔ مذہبی رسوم اور تہواروں کے نتیجے میں نیز ادھ جلی لاشوں اور راکھ کو بہانے سے گنگا جیسی عظیم اور پوتر ندی اس حد تک آلودہ ہو چکی ہے کہ اس کی صفائی کے پر عزم منصوبے ناکام ہو چکے ہیں۔ ملک کی دیگر ندیاں بھی آلودگی کی کم و بیش یہی تصویر پیش کرتی ہیں۔ پینے کے علاوہ پانی انسان کی کئی دوسری ضروریات کے علاوہ کارخانوں، بجلی گھروں وغیرہ کو بھی چلانے کے لیے درکار ہوتا ہے۔ انسان نے اس بیش قیمت دولت کا بے دریغ استعمال کر لیا ہے اور اب اس کی قدر و قیمت سے واقف ہو رہا ہے۔ مشاہدین کا یہ خدشہ بے بنیاد نہیں کہ تیسری عالمی جنگ اسی پانی کے حصول اور اس کے ذخائر پر قبضے کے لیے لڑی جائے گی۔ یہ پانی عنقا ہو کر قحط اور خشک سالی کی کیفیت پیدا کرتا ہے تو اس کی زیادتی طوفان اور سیلاب کی صورت میں قیامت صغریٰ کا منظر پیش کرتی ہے۔ گویا اس کی مناسب مقدار ہی ہمارے لیے فائدہ مند ہے۔

پانی کو اگر اکسیر یا آب حیات سے تشبیہ دی جاتی ہے تو یہ عین اس کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر بالکل درست ہے مگر یہی پانی اگر آلودہ ہو جائے تو انسانی زندگی کو پریشانیوں اور بیماریوں سے بھر دیتا ہے۔ بعض مادے اور عناصر تو سمِ قاتل ثابت ہوتے ہیں۔ خصوصاً سیسہ، پارہ، آرسنک وغیرہ اگر موت نہیں تو تشویش ناک امراض کے لیے ضرور ذمہ دار ہوتے ہیں۔

(۳) صوتی آلودگی:

صوتی آلودگی یا آواز کی آلودگی نے بھی انسان کے ماحول اور اس کے معاشرہ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انسانی ترقی (سائنسی ترقی) کے اضافہ کے ساتھ آواز کی آلودگی بھی متناسب انداز میں بڑھی ہے۔ دن رات چلتی مشینیں، کارخانے، دوڑتی ہوئی گاڑیاں (اسکوٹر، لاری، آٹو رکشہ، طیارے، ریل گاڑیاں) گھریلو اور صنعتی مشینیں، انسانی آبادی کا شور، لطف اندوزی کے ذرائع جیسے سینما، ٹی وی، لاؤڈاسپیکر وغیرہ مسلسل آواز پیدا کر کے انسان کے سکون، ذہنی آسودگی اور صحت کو متاثر کر رہے ہیں۔ عام حالات میں ہم ان کے خطرات کو نہیں سمجھ پاتے مگر یہ شور انسان کو مختلف طرح سے بیمار کر دیتے ہیں۔ اس کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور بعض محرومیاں یا معذوریاں تو مستقل صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ آواز کی آلودگی اور شور شرابے سے جانور اور پودے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ سائنس و ٹکنالوجی کی بے پناہ اضافے نے خصوصاً ان کے غیر دانشمندانہ طور پر استعمال نے کچھ اور مسائل کو پیدا کیا ہے۔ اس سے قبل تابکار آلودگی کا ذکر گزر چکا ہے کہ اس آلودگی کے ذریعے انسانوں اور جانوروں کی جسمانی ساخت (کروموزوم) پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اطلاعاتی انقلاب نے ایک نئے مسئلے کو جنم دیا ہے۔ دنیا میں ہر سال لاکھوں کمپیوٹر، ٹی۔ وی، موبائل فون اور دیگر الکٹرونک اشیا بنائی جاتی ہیں۔ جدید تحقیق کی روشنی میں ان کے تازہ ترین ماڈل کی مارکیٹ میں مانگ ہوتی ہے چنانچہ اچھے خاصے آلات کو کباڑ خانے کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ناکارہ ہونے والے سیٹ کا بھی یہی مقدر ہوتا ہے۔ یہ سامان خاص قسم کے پلاسٹک، فائبر وغیرہ سے بنائے جاتے ہیں جن کو بآسانی ضائع کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ یہ e۔ کچرا ہر سال ٹنوں اور منوں کی مقدار میں پس ماندہ ممالک کو چوری چھپے روانہ کر دیا جاتا ہے تا کہ اسے ڈسپوز (ٹھکانے) کیا جا سکے۔ ان کے ڈسپوزل کا عمل اتنا آسان اور بے ضرر نہیں ہوتا علاوہ ازیں ان میں پلاسٹک/فائبر کے علاوہ دیگر دھاتیں بھی ہوتی ہیں جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ اسی طرح بڑے بڑے ناکارہ بحری جہازوں کو توڑنا اور اسے بھی ٹھکانے لگانا ایک مسئلہ ہے۔ اس سے بھی ہوا اور پانی کی آلودگی بڑھتی ہے۔ ایسے ہی جہازوں کا دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہندوستان (گجرات) میں ہے۔ یہاں پلاسٹک کی تھیلیوں اور اسی قسم کی چیزوں کا ذکر بھی ناگزیر ہے۔ جن کے بے روک استعمال نے بڑے ماحولیاتی مسائل کھڑے کر دئیے ہیں۔ ممبئی کے سیلاب کے اتنے تباہ کن شکل اختیار کر لینے میں کہیں نہ کہیں ان پلاسٹک کے رول کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی ضمن میں قطبین اور خلا کی بڑھتی آلودگی کو بھی خارج از بحث قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ دونوں علاقے اور ہمالیہ کے ناقابلِ عبور علاقے جو کل تک انسانی دسترس سے محفوظ تھے آج وہ بھی آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں۔

اس طرح مختلف قسم کی آلودگیوں نے اس حسین و جمیل کرّۂ ارض کو کچھ اس طرح اپنے شکنجے میں کس لیا ہے کہ پورا ماحولیاتی نظام لڑکھڑا گیا ہے۔ اس میں بسنے والے چاہے وہ جانور ہوں پودے یا انسان سبھی اس کی گرفت میں ہیں۔ اس کے نتیجے میں آج انسانوں کے سامنے کئی سنگین مسائل آ کھڑے ہوئے ہیں جیسے جنگلات کی بربادی، چراگاہوں کا خاتمہ، قدرتی وسائل کی کمی، توانائی کا بحران، اوزون کی تہہ میں شگاف، عالمی حدّت، جنگلی جانوروں کی نسل کا ناپید ہو جانا، موسموں میں تبدیلی، قدرتی آفات میں اضافہ، تابکار اور زہریلے مادوں کا انتشار وغیرہ۔ دیہی آبادی کی شہروں کو ہجرت نے بھی کئی مسائل کو جنم دیا ہے۔ سائنسی ترقی نے دنیا کے سبھی علاقوں/ممالک کو قریب تر کر دیا ہے۔ اب دور دراز کے علاقے بھی ہمارے لیے اجنبی نہیں رہے۔ تابکار مشین ٹکنالوجی نے مغربی کلچر سے ہندوستان جیسے روایت پسند قدیم ملک میں تہذیبی آلودگی کا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ مجلس، معاشرت، لباس، خوراک آرٹ، فلم، کلچر ادب غرض ہر چیز مغرب سے ہر طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اسی طرز فکر نے ذہنوں اور خیالات کو بھی آلودہ کر دیا ہے۔ یہ بھی ایک قسم کی آلودگی ہے۔ جس کی زد میں ہمارا معاشرہ ہے۔

مختصر یہ کہ آلودگی ایک ایسا سلگتا مسئلہ بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے جس سے نبرو آزما ہونا اسی صورت میں ممکن ہے جب عوام، سیاست داں، ممالک رضا کار انجمنیں اوراقوام متحدہ اس مسئلے کی سنجیدگی کو محسوس کریں اور پوری دیانت کے ساتھ اس کے خلاف محاذ بنا کر باقاعدہ جنگ کا آغاز کریں۔ انسان ترقیوں کے عروج پر کیوں نہ پہنچ جائے وہ اپنی اس زمین، یہاں کے ماحول سے الگ نہیں رہ سکتا۔ ماحول کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ دوسرے جانور/پودے اپنے وجود کے لیے انسانوں کے محتاج نہیں مگر انسان کو قدم قدم پر ان کی ضرورت پڑتی ہے۔ انسان صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات تبھی کہلائے گا جب وہ ان کا یعنی ماحول کا احترام کرنا سیکھ جائے گا۔

دنیا میں حکومتیں ماحولیاتی تحفظ کے لیے ادارے بناتی ہیں تاکہ عوام کو زندگی کی بہترین سہولیات مہیا کر سکیں۔ فضا کے ساتھ ساتھ زمینی یعنی ارضی آلودگی بھی صحت کے لیے اتنی ہی خطرناک ہے جتنی کہ فضائی آلودگی۔ کوڑا کرکٹ، گندگی اور بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔ آلودگی کی تمام اقسام سے بچنے کیلئے حکومت شہر کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے بہتر اقدامات کرے اور عوام بھی صفائی کا خاص خیال رکھیں تاکہ ہمارا شہر ماحولیاتی آلودگی سے پاک ہو جائے۔ دنیا کے تمام مذاہب نے ہمیشہ طبیعت اور قدرتی ماحول کے بارے میں انسان کی ذمہ داری کے احساس اور انسان اور ماحولیات کے درمیان توازن برقرار رکھنے پر تاکید کی ہے کیونکہ اس توازن کاخاتمہ ہی ماحولیات کے سلسلے میں مشکلات پیدا ہونے کا اصلی سبب ہے۔ مختلف ممالک کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سی ماحولیاتی مشکلات کو حل کیا جا سکتا ہے۔ ماحولیات کا مسئلہ اس حکومت یا اس حکومت یا اس شخص یا اس شخص یا اس گروہ یا اس گروہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک قومی اور ملکی مسئلہ ہے اور اس سے متعلق مشکلات کو حل کرنے کے لئے سب کو تعاون کرنا چاہیے۔ صبر و حوصلہ، تدبیر اور پیہم تلاش کے ذریعہ یہ مشکلات قابل حل ہیں۔ پانی اور خاک کو ماحولیات کے تین اصلی عناصر قرار دیتے ہوئے فرمایا: بڑے شہروں میں ہوا کی آلودگی اور گرد و غبار جیسے مسائل کو حل کرنے اور اسی طرح پانی کی کمی اور مٹی کے کٹاؤ کے سلسلے میں تبلیغ و اشاعت سے کہیں زیادہ عملی اور سنجیدہ اقدامات انجام دینے کی ضرورت ہے۔ ماحولیات کے لئے قومی سند کو تیار کرنا، تمام تعمیراتی، صنعتی اور تجارتی منصوبوں کے ساتھ ماحولیات کی سند کو منسلک کرنا، ماحولیات کی تخریب کو جرم قرار دینے کے لئے قانون پر نظر ثانی کرنا، مفاد پرست اور قانون توڑنے والے افراد کا مقابلہ اور ماحولیات کی حفاظت کے لئے نگرانی اور چوکسی کومؤثر بنانا ایسے اقدامات ہیں جن کے ذریعہ ماحولیات کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔

ماحولیات سے خواتین کی وابستگی:

عورت اور فطرت کے درمیان ہمیشہ ایک مضبوط رشتہ رہا ہے جس کے ماخذ اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ دنیا کے تمام ’’لوک ادب‘‘ میں زمین ماں (ماتر بھومی) سمجھی جاتی ہے۔ زمین ایک ایسی مشفق ماں ہے، جو نہ صرف نچھاور کرنا جانتی ہے۔ بلکہ ایک نا مکمل تاریکد نیا میں ارتقائی امکانات کی روشنی لانے کی کوشش کرتی ہے۔ زمانہ قدیم میں دھرتی ماں یا مادر ارض کو مکمل عورت سمجھا جاتا تھا اور اسے بہت بڑی دیوی کی حیثیت حاصل تھی۔ مرکند یہ ایران میں یہ دیوی یوں خطاب کرتی ہے

’’اس کے بعد میں ساری دنیا کو حیات بخش سبزیوں سے نواز دوں گی ان سبزیوں کو تیز بارش میں اپنے جسم سے اگاؤں گی اور ہریالی پیدا کرنے والی کہلاؤں گی‘‘

جنگلات کی کٹائی، ایندھن، چارے، اور پانی کی قلت، کووں کی آلودگی وہ ماحولیاتی مسائل ہیں جن کا براہ راست تعلق عورتوں سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماحول سے وابستگی خواتین کی حیاتیات اور فطرت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

تقریباً پانچ ہزار قبل مسیح کے لوک گیت جو غالباً سینہ بسینہ اور نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں اس مادر کائنات کی تعریف میں ہیں جو درختوں، پودوں حتیٰ کہ دیوی، دیوتاؤں کو پیدا کرتی ہے اور کوئی بڑے سے بڑا دیوتا بھی اس کے امور میں مداخلت کرتا ہے تو اسے سخت سزا دیتی ہے۔ ذہن ذرا آگے بڑھا اور بہار و خزاں کے مناظر کا بغور مشاہدہ ہوا تو دو اور دیویوں نے جنم لیا، بہار کی علامت، محبت اور افزائش کی دیوی عشتار اور موت اور ظلمات کی دیوی ’’اریش گل‘‘ جسے ہندو دیو مالا میں درگا، کالی، یا چنڈی کا نام دیا گیا ہے۔ عشتار کی حیثیت آفاقی ہے اور یہ اس وقت کی آباد دنیا میں مختلف ناموں سے ہر جگہ موجود رہی ہے۔ یہ سومیری دیو مالا میں اننا ہے، عکادی اور اشوری میں عشتار، فونیقی دیو مالا میں اشیردت ہے۔ ایرانی دیو مالا میں شالا اور نانیا ہے، ہندو دیو مالا میں اما، اوشا، سرسوتی اور رتی ہے۔ یونانی دیو مالا میں ایفردتی اور آرتمیس ہے۔ عربی اساطیر میں یہی دیوی زہرہ اور مشتری ہے۔

عورت نے جب فطرت کا بغور مشاہدہ کیا تواس پریہ حقیقت منکشف ہوئی کہ نباتات بیج سے اُگتے ہے۔ اس نے فطرت کے عمیق مطالعہ سے زراعت کا ہنر ایجاد کیا اور تمدن کو ایک بہت بڑے انقلاب سے دو چار کر دیا۔ اس نے زمین کی فیاضی کو دریافت کیا جو انسانی تہذیب کے ارتقاء کا سبب بنا۔ اس نے آگے چل کر آگ اور اس کی افادیت سے بھی آگاہی حاصل کر لی اور تمدن ایک اور عظیم تر انقلاب سے دوچار ہوا۔ آگ کی دریافت سے درندگی گھٹ گئی آگ اور زراعت کی بدولت انسان شکار کے تعاقب سے آزاد ہو گیا۔ پکانے کے عمل سے ہزاروں نا قابل ہضم پودوں کے خام حالت سے چھوٹے خلیے اور نشاستے کھانے کے قابل ہو گئے اور انسان زیادہ سے زیادہ اناج اور سبزیوں کی طرف رغبت کرتا گیا‘‘ یہی وجہ ہے کہ سینا پرونا، سوت کاٹ کر کپڑا تیار کرنا، ٹوکری سازی، برتن سازی، کشیدہ کاری، پھولکاری، اور دستکاری عورتوں سے منسوب ہیں۔ پیدائش‘ پرورش اور افزائش زراعت میں ہو یا نسل انسانی میں عورت کا کارنامہ ہے۔ اس لئے اسے تمام تر قوت و اختیار کا سرچشمہ قرار دیا گیا یوں ’’اموی‘‘ یا ’’مادر سری نظام‘‘ رائج ہوا یہ نظام اس وقت کی آباد دنیا مصر، عراق، یونا ن، ایشیائے کوچک اور وادی سندھ میں صدیوں قائم رہا یہی علاقے تہذیب و تمدن کے ابتدائی گہوارے تھے مصر میں فراعنہ کے عہد تک تخت و تاج کی حقیقی مالک اور معابد کی مہا پرہت ملکہ ہی کو سمجھا جاتا تھا۔ فراعنہ کو ملکہ کے ساتھ شادی کر کے ثانوی اقتدار نصیب ہوتا تھا مادر سری دور میں وراثت ماں کی طرف سے ملتی تھی۔ آج بھی بعض قبائل اسی تمدن کے حامل ہیں۔ اسی دور میں زمین کو اناج اُگانے کے باعث عورت سے مشابہت دے کر ’’مادر ارض‘‘ یا ’’دھرتی ماتا‘‘ کا لقب دیا گیا اس زمانے کے لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ زمین کا تخلیقی عمل اور عورت کا تخلیقی عمل ایک ہی حقیقت کے دو مظاہر ہیں۔ لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ صرف عورتیں ہی بہتر فصل اُگا سکتی ہیں۔ اسی دور میں عورت کی مورتیاں تراشی گئیں جنہیں فصلوں میں برکت ڈالنے کے لئے مختلف موسموں میں پوجا گیا۔ اس حقیقت سے تو ہم واقف ہیں کہ وادی سندھ اور بلوچستان میں جو مورتیاں نکلی ہیں ویسی ہی مورتیاں عراق، شام، فلسطین، قرض، بلقان، ایران اور مصرمیں کائنات یا قدرت کی دیوی کی ہیں، وادی سندھ کی مورتیاں مغربی ایشیاء کی مورتیوں کی طرح سماج کے مادر سری دور میں وجود پذیر ہوئی ہوں گی۔ ہڑپہ کی کھدائی سے برآمد ہونے والی تین ہزار برس پُرانی مہریں بھی اسی کی تصدیق کرتی ہیں ان میں عورتوں کو ہی پودوں کے نامیاتی عمل کی علامت بتا یا گیا ہے۔

انسانی زندگی کی بقاء کا انحصار پانی پر ہے اور صرف انسان ہی نہیں حیوانات‘ جنگلات سبھی کا انحصار پانی پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمین کا دو تہائی حصہ پانی اور ایک تہائی خشکی پر مشتمل ہے۔ انسانی جسم کا زیادہ حصہ بھی پانی پر مشتمل ہے لیکن دنیا کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں پانی نایاب یا کم یاب ہے۔ جہاں عورتیں دور دراز علاقوں سے پانی لاتی ہیں، جہاں عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ کارخانوں کی چمنیوں سے نکلتا ہوا دھواں ان سے خارج شدہ زہر یلا کیمیکل ملے پانی نے دریاؤں ‘ نہروں ‘ سمندروں کو آلودہ کر دیا ہے۔ جہاں دریا، ندیاں، چشمے، تالاب، انتہا درجے کی آلودگی کا شکار ہیں۔ دیہی علاقوں میں خواتین اس سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔

آلودگی اور ماحولیات میں گہرا تعلق ہے۔ اس سے جنگلی حیات اور جنگل بھی متاثر ہو رہے ہیں دنیا بھر میں جنگلات میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ جنوبی امریکا میں ایمزون کا خطہ 70 لاکھ کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے جس میں 390 بلین ارب درخت پائے جاتے ہیں۔ 90ء کی دہائی میں ایمزون کے جنگلات کے ایک بڑے حصے کا خاتمہ ہو گیا جس کا رقبہ تین ملکوں کے برابر تھا یعنی 6 لاکھ مربعہ کلو میٹر۔ ہو سکتا ہے کہ بیشتر لوگوں کو پتہ نہ ہو کہ ایمزون کے جنگلات کی کیا اہمیت ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ یہ جنگلات دنیا کی 60 فیصد آکسیجن مہیا کرتے ہیں۔ اس لیے ان جنگلات کا تحفظ پوری دنیا کی ذمے داری ہے۔ ہم ماحولیات کے حوالے سے جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں ہمیں یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ جنگلات کو خطرے میں ڈالنے کا مطلب انسانوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ بے پناہ صنعتی ترقی کی ’’برکت‘‘ نے فضا کو ایسے زہریلے عناصر سے آلودہ کر دیا ہے جو بارش ہونے کی صورت میں جنگلات پر تیزابی پانی پھینک کر ان کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ چین میں درجہ حرارت باقی دنیا کے مقابلے چار گناہ زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں چین کے موسم میں تباہ کن تبدیلیاں آئی ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے گلیشیئر کے پگھلنے کی رفتار میں انتہائی تیزی آ گئی ہے۔ آخر کار ان کا نتیجہ گلیشیر کے خاتمے کے نتیجے میں نکلے گا اور طویل مدت میں ایشین دریا جس میں دریائے سندھ‘ گنگا شامل ہیں خشک ہو جائیں گے۔ خطرہ ہے کہ ہمالین گلیشیئر 2035ء تک پگھل جائیں گے جو پانی دریاوں کو مہیا کرتے ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو ہمالیہ اور انٹارٹیکا کی برف 2060ء تک پگھل جائے گی نتیجتاً بے تحاشا سیلاب آئیں گے۔ سمندر کی سطح میں اضافے سے ساحلی شہر ڈوب جائیں گے۔ یہاں تک کہ ہمالیہ کے پہاڑ سبزے سے خالی پتھریلے پہاڑ رہ جائیں گے۔ ایمزون اور مشرق بعید کے جنگلات جو بنگلہ دیش، برما، تھائی لینڈ، لاؤس، کمبوڈیا، ویت نام، ملائشیا، انڈونیشیا تک پھیلے ہوئے ہیں کو نہ بچایا گیا تو دنیا کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ ترقی یافتہ ملکوں کے درمیان صنعتی ترقی کی دوڑ نے انسانیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ چین کے شہروں میں آلودگی کا تناسب اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ لوگ منہ پر ماسک لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی 2012ء کی رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے 70 لاکھ لوگ مر چکے ہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی جنگلات کا خاتمہ اور کوئلہ کا غیر ضروری استعمال اوزون کا خاتمہ کر رہا ہے۔ اوزون کی تہہ 50ء کی دہائی سے متاثر ہونا شروع ہوئی۔ اوزون انسانی زندگیوں کی اس طرح حفاظت کرتی ہے کہ سورج کی مضر صحت شعاعوں کو فلٹر کر کے ہمیں محفوظ بناتی ہے۔ اب اوزون کو بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ صنعتی ترقی کی رفتار کو کم کیا جائے ترقی یافتہ ملکوں میں۔ جب کہ سائنس دانوں کی ایک تعداد تو یہ بھی تجویز کرتی ہے کہ ہے کہ ہر طرح کی صنعتی ترقی پر پابندی لگا دی جائے اور جو ترقی ہو چکی ہے اسی پر اکتفا کیا جائے۔ یعنی ایک طرح سے ماضی کی طرف مراجعت!!

ماحولیات کے ضمن میں جنگلی حیات کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے جس کا انسانوں کے ہاتھوں قتل عام ہو رہا ہے۔ 1900ء کے قریب کئی لاکھ گینڈے جنوبی افریقہ میں پائے جاتے تھے۔ جن کی تعداد 90ء کی دہائی کے شروع میں ڈھائی ہزار سے بھی کم رہ گئی۔ اندازہ کریں انسانوں کی وحشت و بربریت کا گینڈوں کی کئی اقسام ہیں۔ ان کی ایک قسم ناپید ہو گئی ہے۔ جب کہ سفید شمالی گینڈے جن کی تعداد صرف پانچ رہ گئی ہے ختم ہونے والے ہیں۔ لاہور چڑیا گھر جو برصغیر کا سب سے پرانا چڑیا گھر ہے وہاں پر بھی ایک گینڈا رہ گیا ہے۔ گینڈوں کے سینگوں کی غیر قانونی تجارت ان کے لیے ایک عظیم خطرہ بن گئی ہے۔ کیونکہ اس کے سینگوں سے قیمتی اشیاء اور دوائیاں بنتی ہیں۔ چین گینڈوں کے سینگوں کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔

چائینیز روایتی جنسی ادویات میں ان کا استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان گینڈوں کے سینگوں کی قیمت پچاس ہزار ڈالر فی کلو گرام تک پہنچ گئی۔ پندرھویں صدی تک موجودہ پاکستان میں بھی گینڈے پائے جاتے تھے۔ لاہور سے بہاولپور تک کے علاقے میں۔ بابر بادشاہ اور اس کے فوجیوں نے اس بڑے پیمانے پر ان کا شکار کیا کہ وہ ناپید ہو گئے۔ انگریزوں کی آمد نے بھارتی علاقے سے بھی گینڈوں کا تقریباً صفایا کر دیا۔

بڑے قوی الجثہ جانوروں میں سے ہاتھی بھی ناپید ہو رہا ہے جن کی تعداد تیس لاکھ سے گر کر ساڑھے چار لاکھ سے بھی کم رہ گئی ہے۔ انسانوں کے ہاتھوں بندوق اور جدید اسلحہ کے استعمال نے بے بس جنگلی حیات کو دنیا سے ناپید ہونے کے قریب پہنچا دیا ہے۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انسان خود اپنا کتنا بڑا دشمن ہے اور کس بے رحمی سے اپنے ہی گھر دنیا کو تباہ کر رہا ہے۔ دنیا کی تباہی اس وقت ہی رک سکتی ہے جب ہر انسان اسے اپنے گھر جیسا سمجھے دشمن کا نہیں۔

عورتوں نے اس خطرے کو سب سے پہلے محسوس کیا اور ماحولیاتی آلو گی کے خلاف عوامی تحریکیں شروع کیں تاکہ صنعتی ترقی سے پیدا شدہ انسانیت کے اس خطرے سے زور آزمائی کی جا سکے۔ اور ماحولیاتی آلودگی کے تناسب کو کم کیا جا سکے۔

ماحولیاتی آلودگی اور عوامی تحریکیں

ماحولیاتی آلودگی کے خلاف خواتین کی عوامی تحریک نے عوام کو سماجی شجر کاری کی طرف مختلف طریقوں سے راغب کرنے کی کوشش کی۔ خواتین کی یہ عوامی تحریکیں لوگوں کو جنگلاتی دولت کو کفایت شعاری سے استعمال کرنے کی تعلیم دیتی ہیں تاکہ وہ کاٹے گئے ہر درخت کے بدلے دو درخت اُگائیں۔ خواتین کی ان عوامی مہم نے مقامی حالات اور تقاضوں کو دیکھتے ہوئے اسے جاری رکھنے کی کوشش کی۔ ان کا ماننا ہے کہ عام لوگ اگر ایک بار جنگلات اور جانوروں کی اہمیت کو سمجھ لیں تو پھر یہ کام کوئی مشکل نہیں رہ جائے گا۔ انسانی عقل و دانش کا تقاضہ ہے کہ انسان خود بھی اس ماحول کا ایک حصّہ بن جائے اور اپنی فہم اور فراست کو استعمال کرتے ہوئے اس دنیا کو جنت کا نمونہ بنائے۔ جنگلی جانوروں اور جنگلوں کی بربادی خود انسان کی بربادی بلکہ اس کی بقاء کے لیے ایک خطرہ بن سکتی ہے اس لیے اس کے حق میں یہی بہتر ہے کہ وہ اب بھی اس سلسلے میں ٹھوس قدم اٹھائے تاکہ صورتِ حال مزید خراب ہونے سے بچ جائے۔ ہماری گنجان شہری آبادیوں میں کنکریٹ، لوئے، پتھر اور شیشے سے بنی بلند و بالا عمارات، موٹر گاڑیوں کے کثیف دھوئیں اور بے پناہ شور ہمارے ماحولیاتی توازن کو درہم برہم کرنے کا سبب ہیں۔ اس طرز زندگی کی جملہ خرابیوں سے آگہی کے باوجود ہم اپنی معاشی اور سماجی مجبوریوں کے باعث اس سے یکسر انکار نہیں کر سکتے۔ لیکن ماحولیاتی آلودگی کے خلاف عوامی تحریکیں امید کی ایک کرن ہے۔

چپکو تحریک:                                                         

۲۶ مارچ ۱۹۷۴، کو بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے ضلع چمولی کے علاقے ہموال گھاٹی کے ایک دور دراز گاؤں "رینی” کی با ہمت اور پر عزم کسان خواتین نے جنگل کے ٹھیکیداروں اور سرکاری افسران کی ہر عیاری اور دھونس دھاندلی کو ناکام بنایا، جنگل کے ٹھیکیداروں نے درختوں کی کٹائی کے لئے ایک ایسے دن کا انتخاب کیا جب گاؤں کے سب مرد گاؤں سے دور کسی سرکاری دفتر سے اپنے واجبات کی وصولی کے لئے گئے ہوئے تھے اور ان کا خیال تھا عورتیں کتنی اور کب تک مزاحمت کر سکیں گی لیکن ان کا یہ خیال ایک خواب ثابت ہوا اور ہر طرح کے خوف اور لالچ سے بے نیازکسان خواتین آخری حربے کے طور پر اپنے درختوں سے لپٹ گئیں اور ان سے پہلے کٹنے کا اعلان کیا۔ سارا دن اور ساری رات ان کا پہرا دیا جب تک ان کے مرد اپنے گاؤں واپس نہ آ گئے۔ یہ تحریک اتنی موًثر تھی کہ ہمالیہ کے پورے دامن میں لوگوں نے اسی کو اپنایا۔ یہ احتجاج برسوں کامیابی سے جاری رہا اور بل آخر ۱۹۸۰ء میں وزیراعظم اندرا گاندھی نے اگلے ۱۵ برسوں کے لئے (جب تک پورا علاقہ پھر سے سر سبز نہ ہو جائے) پورے ہمالین ریجن میں درختوں کی کٹائی پر پابندی لگا دی اور پھر اسی تحریک نے عوام کی امنگوں سے قریب ترین جنگلات کی سرکاری پالیسی کو جنم دیا۔ تاریخ کی کتابوں میں عوام کی اپنے ماحول اور اپنے ہم وطن پودوں، درختوں سے محبت کی یہ داستان ‘ چپکو تحریک’ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

چپکو تحریک نے کچھ بڑے لیڈروں کو بھی جنم دیا جن میں بہت بڑی تعداد خواتین کی ہے۔ انہیں میں سے ایک لیڈر جناب سندر لال بہو گنا بھی ہیں جنہوں نے چپکو تحریک کو پھیلانے کے لئے ۱۹۸۱سے ۱۹۸۳تک ہمالیہ کے پورے دامن میں ۵۰۰۰ کلو میٹر کا پیدل مارچ کیا، ماحول دوستی اور جنگل کی حفاظت کی اہمیت سے سب کو آگاہ کیا۔ چپکو تحریک کی کامیابی کا راز اس میں عورتوں کی بڑی تعداد میں شمولیت کو مانا گیا ہے۔ عورتوں اور درختوں کا دیہاتی معیشت میں بہت اہم اور بنیادی کردار ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر سیمل کی مثال میں دیکھ چکے ہیں درخت کے تقریباً سبھی اجزاء پتے، جڑیں، چھال، تنا اور پھل پھول وغیرہ کسی نہ کسی مالی منافع کا باعث ہوتے ہیں، جانوروں کے چارے سے لے کر مزیدار پھل تک اور بیماری میں شفا اور دوا سے لے کر گھر کا چولہا روشن رکھنے تک سبھی کاموں میں مدد گار ہوتے ہیں۔ دیہاتی زندگی کا کارخانہ، کسی بھی کھاتے میں درج نہ ہونے والی عورتوں کی جان توڑ محنت سے ہی چلتا ہے، منہ اندھیرے گائے بھینس کا دودھ دوہنے سے شروع ہونے والا دن گھر کے کام کاج کے علاوہ سارا دن کھیتوں میں مشقت پر ختم ہوتا ہے۔ عوام کی معمولی سی ہلچل بھی ’’چپکو تحریک‘‘ کی سی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

گرین بیلٹ تحریک

ماحولیاتی آلودگی کے خلاف عوامی تحریک میں عورتوں کی شراکت کی یہ دوسری عمدہ اور خوبصورت ترین مثال ہے۔ اس تحریک کی ابتدا کینیا کی نوبل انعام یافتہ ’’ونگری موتا متھائی‘‘ نے اپنے چند خواتین دوستوں کے ساتھ مل کر 1977 میں اپنے آنگن میں سات درخت لگا کر شروع کی۔ گرین بیلٹ تحریک کے زیر اثر 2005 تک ان درختوں کی کل تعداد 30 میلین تک پہنچ گئی۔ نوبل انعام یافتہ ’’ونگری موتا متھائی‘‘ کے زیر قیادت شروع کی گئی اس تحریک کا مقصد نہ صرف کینیا کی فضائی آلودگی کو دور کرنا تھا بلکہ ’’ویمن ایمپاورمنٹ‘‘ کی بھی کوشش تھی۔ شجر کاری کی اس تحریک میں مقامی درختوں اور پودوں کو فوقیت دی گئی۔

کینگ شی آن گرین پروجیکٹ تحریک

شمالی چین کے کینگ شی آن کی نوے ہزار ہیکٹر زمین شور زدہ، بنجر اور نا قابل استعمال تصور کی جاتی تھی اور اس پر کوئی بھی منافع بخش زرعی فصل کاشت نہ کی جا سکتی تھی۔ ویسے بھی محنت کرنے والے سب مرد روزگار کی تلاش میں شہروں کو جاچکے تھے ایسی ہی مایوس کن صورت حال میں چینی خواتین کی تنظیم نے تحفظ ماحول کی ملک گیر تحریک کا آغاز کیا۔ اسے گرین پروجیکٹ کا نام دیا گیا۔ اس نے واقعی انقلاب برپا کر دیا۔ بنجر اور شور زدہ علاقوں کی لئے مخصوص فصل ‘جوار’ بھی جہاں کاشت نہ کی جا سکتی تھی وہاں آج بیر کے باغات لہلہاتے ہیں اور اپنی کاشتکاروں کی آمدنی میں پانچ سو فیصد اضافہ بھی کر چکے ہیں۔ ۵۴ سے ۶۰سال کی خواتین کی بھرپور شمولیت نے اس مہم کو اور بھی معنی خیز بنا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے تینتس ہزار ہیکٹر زمین پر بیر کے باغات نظر آنے لگے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کینگ شی آن میں کاشت کاری کا ۷۰ فیصد کام خواتین انجام دیتی ہیں۔ خود انحصاری کے اس ولولہ انگیز عمل میں بہت سے حیران کن واقعات دیکھنے کو ملے، ایک بالکل ہی بنجر اور ناہموار قطعہ اراضی پر ایسی خواتین جو پہلے جسمانی محنت کا کوئی تجربہ نہ رکھتی تھیں باون ہزار بیر کے پودے لگانے کا کام سونپا گیا، اندازہ تھا کے یہ کام دو ماہ میں ختم ہو گا مگر اپنے قصبے کی قسمت بدلنے کے جذبے سے سرشار با ہمت خواتین نے صرف بیس دن کی قلیل مدت میں ہی پورا کر لیا۔ آج وہاں بیر کی پیداوار بیس کلو فی درخت سے پچاس کلو پر جا پہنچی ہے اور بیر کی جڑوں کے بے مثال نظام کی بدولت زمین کی زرخیزی میں بے پناہ اضافہ ہوا اور اب گندم اور کپاس جیسی منافع بخش فصلات بھی کاشت ہو رہی ہیں جبکہ جنگل پر مشتمل رقبے میں اسی فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

٭ نو دانیہ تحریک

نو دانیہ تحریک در اصل نو بیجوں والی ایک ایسی تحریک ہے جو آج کے ہائبریڈ طریقہ زراعت کے خلاف ایک نسوانی آواز ہے۔ یہ تحریک روائتی طرز زراعت کو فوقیت دیتی ہے تاکہ ماحولیاتی نظام کو درہم برہم کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ زراعت میں کیمیکلس کے استعمال کے باعث ماحولیاتی بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور اگر روائتی طرز زراعت معدوم ہو گئی تو شدید بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے کیوں کہ ایک ماحولیاتی حیات کے خاتمے کے باعث حیاتیاتی نظام میں بگاڑ پیدا کر سکتا ہے۔ اس تحریک کا ماننا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر ماحولیات اور روائتی طریقہ زراعت کے تحفظ کیلئے جامع منصوبہ بندی کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔


فری گین ازم

صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس کسی صاحبِ حیثیت خاتون یا مرد کو کوڑے دان سے کھانے پینے کی چیزیں تلاش کرتا دیکھ کر آپ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہو جائیں گے۔ کچھ عرصہ پہلے امریکیوں اور یورپی باشندوں کا بھی یہی حال تھا، لیکن ان ممالک میں ’’فری گین ازم‘‘ (Freeganism) کے بڑھتے رجحان کے بعد اب اُنھیں کوئی حیرت نہیں ہوتی۔ امریکا اور یورپ میں ایسے ہزاروں لوگ ہیں، جنہیں ’’فری گن‘‘ (Freegan) کہا جاتا ہے۔ فری گین ازم کی تحریک عالم گیریت اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف امریکا میں نوّے کی دہائی میں شروع ہوئی۔ اس تحریک سے وابستہ افراد ’فری گینز‘ (freegans) کہلاتے ہیں۔ انھیں ’شہری خاکروب‘ (Urban Scavenger) اور ’اربن ڈائی ور‘ بھی کہا جاتا ہے۔ فری گینز نمود و نمایش کی چیزیں خریدنے سے اجتناب کرتے ہیں اور کوڑے دانوں میں پڑی استعمال شدہ اشیاء استعمال کرتے ہیں۔ وہ آپس میں بارٹر سسٹم (کرنسی استعمال کرنے کے بہ جائے چیزوں کا باہمی تبادلہ) کے تحت چیزوں کا لین دین کرتے ہیں۔ فری گینز بڑے فراخ دل اور انسان دوست ہوتے ہیں۔ وہ مادہ پرستی، لالچ، بے حسی اور خود غرضی کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ فری گینز نے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی لوٹ کھسوٹ اور اس کی پروردہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اندھے منافع کے خلاف احتجاجاً اشیائے صَرف خریدنے سے گریز کی راہ اپنا رکھی ہے۔ وہ ایسی کمپنیوں کے صارف بننے کو تیار نہیں جو انسانی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے چیزیں نہیں بناتیں بلکہ ان کا اصل اور واحد مقصد زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کرنا ہوتا ہے۔ فری گینز کے نزدیک دولت کمانے کی دھن میں یہ کمپنیاں ماحولیات کو تباہ و برباد کر رہی ہیں، جانوروں کو بے دردی سے مار رہی ہیں اور مزدوروں کا استحصال کر رہی ہیں۔ ایسی کمپنیاں ہر روز لاکھوں ٹن غذا کوڑے دانوں میں پھینک دیتی ہیں لیکن کسی غریب کی بھوک دُور نہیں کرتیں۔ فری گین ازم دو الفاظ Free (آزاد) اور Vagan (سبزی خور) کا مرکب ہے۔ یہ لفظ بڑی حد تک Veganism (سبزی خوری) سے ملتا جلتا ہے۔ فری گینز کا ماننا ہے کہ گوشت کے بائیکاٹ سے جانوروں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں، جنہیں گوشت فراہم کرنے والی کمپنیاں بڑی بے دردی سے ذبح کر رہی ہے۔ تاہم کوڑے دانوں میں کھانا تلاش کرنے والے سارے فری گینز سبزی خور نہیں ہوتے۔ ان میں بہت سے گوشت خور بھی ہیں، جو اپنے طرز عمل کی یہ دلیل دیتے ہیں کہ کوڑے دانوں سے حاصل کیا گیا گوشت استعمال کرنے سے کمپنی کو کوئی نفع نہیں ہوتا، کیوں کہ اُس نے اسے پہلے سے بے کار سمجھ کر پھینک دیا ہوتا ہے۔ لہٰذا کمپنی کی حوصلہ افزائی گوشت کھانے سے نہیں بل کہ اسے خریدنے سے ہوتی ہے۔ فری گین ازم کی تحریک، صارف مخالف نظریات کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ اس تحریک سے جُڑے افراد صارف بننے سے بچنے کے لیے متبادل ذرائع ڈھونڈتے ہیں۔ ان ذرایع میں کوڑے دانوں سے غذا تلاش کرنا، غیر آباد اور لا وارث مکانات میں مفت رہایش اختیار کرنا، جنگلات میں کھانے کے لائق جنگلی پھل اور جڑی بوٹیاں تلاش کرنا اور اپنے لان میں سبزیاں اور پھل کاشت کرنا وغیرہ شامل ہے ریستوراں میں ڈرم بجانے کا کام کرنے والے ایک امریکی، وارن اوکیس (Warren Oakes) نے 1999 میں ایک پمفلٹ شایع کیا تھا، جس کا نام تھا، ’میں فری گن کیوں ہوں۔‘‘ اس پمفلٹ میں اُس نے فری گین ازم کی تشریح کرتے ہوئے کھانے پینے کی اشیاء نہ خریدنے کی وجوہ بیان کرنے کے ساتھ ان اشیاء کو حاصل کرنے کے متبادل ذرایع کی بھی نشان دہی کی تھی۔ نیو یارک میں رہنے والے ایک اور فری گن ایڈم ویسمین (Adam Weissman) کا شمار بھی فری گین ازم کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اس تحریک کا پرچار کرنے اور دیگر ممالک میں رہنے واے فری گینز کو اپنے ساتھ جوڑنے کے لیے 2003 میں www.freegan.info کے نام سے ایک ویب سائٹ بنائی، جس کا نعرہ تھا، ’’سرمایہ داری سے دُور قابل برداشت زندگی گزارنے کی استطاعت۔‘‘ ویسمین، فری گین ازم تحریک کو خوراک کے ضیاع کے خلاف ایک ردعمل سے تعبیر کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’فری گین ازم مختلف اقسام کے استحصال کا ذمے دار، سرمایہ دارانہ معیشت کو قرار دیتی ہے۔ مثلاً مزدوروں کا استحصال، جانوروں کا استحصال، ماحولیات میں بگاڑ پیدا کرنا، غربت اور بھوک میں اضافہ، قدرتی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، مختلف اقسام کی جنگوں کو انسانوں پر مسلط کرنا اور عورت کو تجارتی مال سمجھنے کا اصل ذمے دار سرمایہ دارنہ نظام ہے۔‘‘ نیویارک سٹی میں فری گینز اکثر ملاقات کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ ویسمین اپنی ویب سائٹ پر ملاقات کا شیڈول طے کرتے ہیں اور اس کے ذریعے نئے فری گینز بنائے جاتے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں فری گین ازم کے مسائل اور فلسفے پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ مزید متبادل ذرائع کی نشان دہی کی جاتی ہے اور اس سلسلے میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر تمام اراکین خوراک کی تلاش میں نئے علاقے ’کھوجنے‘ نکل پڑتے ہیں۔ اس مہم کو Trash Tour کہا جاتا ہے۔ ویسمین کہتے ہیں۔

’’میں کبھی بھوکا نہیں رہا، لوگ جس کھانے کو خراب سمجھ کر کوڑے دان میں پھینک دیتے ہیں، وہ ہمارے نزدیک صرف کھانے سے بھر پیکٹ ہوتے ہیں۔ جسے کھا کر زندہ را جا سکتا ہے۔ لوگ کھانے معاملے میں بہت زیادہ اسراف کرتے ہیں۔ کوڑے دان ہمیں صرف کھانا ہی مہیا نہیں کرتا، بل کہ اس میں سے بعض اوقات کام کی دیگر اشیاء بھی ہاتھ لگ جاتی ہیں۔ میں ان کوڑے دانوں سے کمپیوٹر، ٹیپ ریکارڈر اور کپڑے تک حاصل کر چکا ہوں۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل