ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

کتاب کا اقتباس پڑھیں…..

 

 

‍‍‍رائفل اور شکاری کتے

 

 

 

سر سیموئل بیکر

اردو ترجمہ

محمد منصور قیصرانی

 

 

باب ۱

 

کسی جنگلی علاقے کے بارے میں میں ایسے تفصیلی انداز سے بتانا کہ اجنبی اسے دیکھتے ہی پہچان لے، کافی مشکل کام ہے۔ تاہم غیر ممالک میں کھیلے گئے شکار کے بارے میں میں ایسی تفاصیل بتانا انتہائی اہمیت رکھتا ہے کہ ہر شخص دوسرے ملک جا کر شکار نہیں کھیل سکتا۔ شکار کے دوران پیش آنے والے واقعات اور ماحول کی تفصیل بتانا کافی توجہ طلب کام ہے۔ اگر ایسی تفاصیل نہ ہوں تو قاری بیس پچیس صفحے پڑھ کر اکتا جاتا ہے کہ یہ شکاری نہیں بلکہ قصاب ہے جو جانوروں کو بے رحمی سے مارتا جا رہا ہے۔

کسی جانور کے شکار کے دوران اس کی ہلاکت اس وقت تک شکار نہیں کہلائی جا سکتی جب تک کہ اس کے شکار سے متعلق واقعات و حالات نہ بیان کیے جائیں۔ قصاب کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ انتہائی خوبصورت ہرن کو کھونٹے سے باندھ کر مارے یا پھر جنگل میں جا کر۔ قصاب کی اصل دلچسپی جانور کی ہلاکت ہے۔ شکار والی جگہ جتنی جنگلی ہو، شکاری کی دلچسپی اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ پن چکی کے پاس بنے پانی کے پرسکون تالاب سے چھ پاؤنڈ وزنی ٹراؤٹ پکڑنا کہ سامنے بہترین چراگاہوں میں فربہ مویشی چر رہے ہوں تو یہ تجربہ کسی حد تک شکار کہلا سکتا ہے۔ مگر اسی جسامت کی ٹراؤٹ کسی بپھری ہوئی پہاڑی ندی کے کنارے پکڑی جائے جہاں انسان کا وجود شاید ہی دکھائی دیتا ہو تو آپ کو لگے گا کہ پن چکی والی مچھلی بے شک اسی جسامت کی اور اتنی ہی بہادری سے لڑی ہو، مگر وہ شکار نہیں تھا۔ اگر آپ کو یہ فرق نہ دکھائی دے تو آپ شکاری نہیں اور آپ کو چاہیے کہ مچھلی پکڑنے کی بجائے بازار سے خرید کر کھا لیں۔

غیرآباد علاقے میں جنگلی جانوروں کی موجودگی شکار کی بنیاد ہے اور وہاں رائفل استعمال ہوتی ہے۔ آبادی میں رائفل کو ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے اور بندوق سے شکار ہوتا ہے۔ اب تصور کیجیے کہ شکار کے لیے مقام کی کوئی قید نہ ہو، آپ سکاٹ لینڈ کے پہاڑوں میں کشمیرے کا شکار کھیل رہے ہوں اور افق پر پہاڑوں کے سوا کچھ نہ دکھائی دے اور ہرے بھرے گھاس کے میدان ہوں تو آپ بتائیے کہ اس کا مقابلہ تیتر کے شکار سے کیسے کیا سکتا ہے کہ جھاڑیوں کے پیچھے کھڑے آدمی پنجروں سے تیتر نکال کر اڑا رہے ہوں اور شکاری بندوق چلا کر انہیں مارتے جا رہے ہوں۔ اسی لیے ہرن کا تعاقب کر کے اس کا شکار کرنا اتنی اہمیت رکھتا ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ جانور کی ہلاکت شکار نہیں ورنہ ہندوستان کے جنگل میں ہاتھی شکار کرنے سے زیادہ چڑیا گھر میں ہاتھی کو مار کر لطف ملتا۔

فطری طور پر انسان خون کا پیاسا جانور ہے مگر سچا شکاری کبھی اتنا وحشی نہیں ہو سکتا کہ اسے محض جانور کی ہلاکت سے غرض ہو۔ اسے فطرت سے محبت ہوتی ہے اور قدرتی مناظر پسند کرتا ہے۔ اسے ہر جانور اور پرندے کی فطرت اور عادات سے بخوبی واقفیت ہوتی ہے۔ اس واقفیت کے بغیر وہ محض قصاب ہو گا، شکاری نہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ علاقے کی مناسبت سے شکار کی نوعیت بدلتی ہے۔ اچھا شکاری پہلا سوال یہی کرے گا کہ علاقہ کیسا ہے۔ جب اسے علاقے کے بارے میں میں تفصیل بتائی جائے گی تو وہ آپ کی بتائی ہوئی شکار کی تفصیلات کے ہر لفظ سے لطف اندوز ہو گا۔

شکار سے متعلق کتب کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ایسی کتب صیغہ واحد متکلم میں لکھی جاتی ہیں جس سے انا کی بو آتی ہے۔ شکاری اپنے حقیقی واقعات کو بیان کرتا ہے تو اس بارے میں میں انا کا پہلو نظر انداز بھی کیا جا سکتا ہے۔ اجنبی افراد شاید اسے مبالغہ آرائی سمجھیں۔

انہی وجوہ کی بنا پر بہت سے ماہر شکاری اپنی داستان لکھنا پسند نہیں کرتے کہ قاری ان کو جانے بغیر ان کی باتوں پر اعتبار کرنے کی بجائے ان پر ہنسے گا۔ مجھے اکثر گورڈن کمنگ پر ترس آتا ہے کہ اس کے قارئین کی اکثریت نے کبھی پنجرے سے باہر جنگلی جانور نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی رائفل چلائی ہے۔

جب تک انسان جنگلی جانور کو اس کے فطری ماحول میں نہ دیکھے، اسے شکار کی اہمیت کا اندازہ تک نہیں ہو سکتا۔ کسی بلند مقام پر کھڑا شکاری کہ جسے اپنے مطلوبہ جانور کے بارے میں میں تمام تر معلومات ہوں اور وہ ان پر نظر ڈالے تو برتری کا عجیب سا احساس ہوتا ہے۔ وہ خود کو فطرت میں مداخلت کرنے والا سمجھتا ہے۔ اس منظر کی خاموشی ہی اس کی خوشی ہے۔ جب شام کو سورج غروب ہوتا ہے تو اسے خوشی ہوتی ہے کہ اس نے جنگلی جانوروں کو ان کے فطری ماحول میں سکون سے چھوڑ دیا ہے۔ کسی قسم کی انسانی، مشینی یا پالتو جانوروں کی آواز نہیں سنائی دیتی۔ وہ تہذیب کی ابتدا والی جگہ پر کھڑا ہوتا ہے جہاں کوئی غیر فطری آواز کبھی نہیں سنائی دی اور جہاں اونچے جنگلات میں گزرتی ہوا سنائی دیتی ہے۔ اسے دور پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جو نیلگوں آسمان سے ہم آہنگ ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس کے پیچھے ہزار فٹ اونچے پہاڑ ہوتے ہیں جس کی ڈھلوانوں پر سبزہ اگا ہوتا ہے۔ اس کی آنکھیں گھاس کے میدانوں میں دیکھتی ہیں اور جنگل، چٹانوں اور ندیوں کا جائزہ لیتی ہیں اور اس کے دماغ میں اپنے وطن کی یادیں گھومتی ہیں اور جیسے چند لمحوں کے لیے اسے اپنا حال بھول گیا ہو اور ماضی کے مناظر دکھائی دیتے ہوں۔ اس طرح وہ یادوں میں کھویا ہوتا ہے کہ ہاتھی کی چنگھاڑ اسے واپس لے آتی ہے۔ اس طرح شکاری جب یادوں سے نکلتا ہے تو اسے یاد آتا ہے کہ وہ یہاں جنگل کے بادشاہ کے شکار پر آیا ہے اور اسے نہیں معلوم کہ اگلا دن یا اگلا لمحہ کیسا ہو گا۔ اسے اپنے معبود اور اپنی بھاری رائفل پر پورا بھروسہ رکھنا ہو گا اور پھر وہ جنگل کے بادشاہ کی کھوج میں چل پڑتا ہے۔

عام طور پر جنگل کا بادشاہ ببر شیر کو مانا جاتا ہے مگر جس آدمی نے جنگلی ہاتھی کو اس کے فطری ماحول میں نہ دیکھا ہو، وہ کبھی نہیں جان سکتا کہ جنگل کا حقیقی بادشاہ جنگلی ہاتھی ہے۔ تمام جنگلی جانوروں کی بادشاہت کا حقیقی روپ ہاتھی کی شکل میں اپنے فطری مسکن میں گھومتا ہے۔ اس دوران وہ پیٹ بھرنے کے لیے اونچی شاخیں توڑتا ہے تو کبھی شرارتاً چھوٹے درخت گراتا ہے اور دن نکلنے پر جب وہ گشت پر نکلتا ہے تو اس سے زیادہ طاقتور کوئی اور جانور نہیں۔

جس آدمی نے جنگلی ہاتھی کو اس کے فطری مسکن میں نہیں دیکھا، اسے ہاتھی کے جسمانی اور دماغی پہلوؤں کا علم نہیں ہو سکتا۔ چڑیا گھر یا سرکس کا ہاتھی تماشائیوں سے سکے وصول کر کے ڈبے میں ڈالتا ہے اور اس کی تمام تر توجہ بچوں کے اچھالے ہوئے بن کھانے تک محدود رہتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس کے اجداد اپنے علاقے میں بے رحم اور تباہی کی مشینیں رہے ہوں اور کسی بھی انسان کو دیکھتے ہی اس پر حملہ کر کے اس کو مار ڈالتے ہوں۔ جنگلی گھاس کی بجائے اسے بن کھانے پڑتے ہیں اور وسیع و عریض جھیلوں اور تالابوں میں نہانے کی بجائے یہاں اسے لوگوں کے سامنے تام چینی کے بڑے ٹب میں نہانا پڑتا ہے۔ لوگ کس طرح جان سکتے ہیں کہ جنگلی ہاتھی اور اس ہاتھی میں کتنا فرق ہو گا۔

ہاتھیوں کے شکار کی داستان سن کر اکثر لوگ ہاتھیوں کو ’بیچاری مخلوق‘ کہتے ہیں۔

’بیچاری مخلوق‘ جب جنگل میں اس آدمی کے پیچھے لگی ہو اور یہ آدمی اپنی جان بچانے کے لیے دوڑ رہا ہو اور ہر قدم پر ہاتھی اس کے قریب تر آتا جا رہا ہو اور آنکھوں سے شعلے برسا رہا ہو تو یہی شخص اس ہاتھی کی ہلاکت کا سبب بننے والی گولی کے لیے کتنا مشکور ہو گا؟

ہاتھی سے زیادہ کسی جانور کے بارے میں میں غلط فہمی نہیں پائی جاتی۔ اپنی فطری اور آزاد حالت میں ہاتھی دیگر جانوروں سے کہیں زیادہ جنگلی، محتاط اور منتقم مزاج ہوتے ہیں۔ ان کا وحشیانہ پن ہی ان کو خطرناک دشمن بناتا ہے۔ سدھائے جانے پر بھی بہت سے ہاتھی اجنبی کو قریب نہیں آنے دیتے اور ان کو محض آنکس سے ہی قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

پالتو بننے پر ہاتھی طاقت اور وحشت کا عجیب نمونہ ہوتا ہے۔ مگر یہ کتاب پالتو ہاتھیوں کے بارے میں میں نہیں کہ اس بارے میں میں بہت سی کتب موجود ہیں۔ تاہم ہاتھی کی عادات کے بارے میں میں مختصراً بتایا جا سکتا ہے۔

استوائی خطوں کے جنگلی جانور سورج سے گریز کرتے ہیں۔ ان کے پیٹ بھرنے کا وقت شام اور رات کا ہوتا ہے اور سورج نکلنے کے کچھ ہی دیر بعد وہ گھنے جنگل کو لوٹ جاتے ہیں۔

ہاتھی بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ اگر جنگلات میں بانس، لیمن گراس، دریاؤں، جھیلوں اور دلدلوں کے کنارے اگی نباتات بکثرت ہوں تو وہاں ہاتھی بھی عام ملتے ہیں۔ تاہم جب ایک علاقے میں خشک سالی کی وجہ سے ان کی خوراک کم ہو جائے تو وہ دوسرے علاقے کو چلے جاتے ہیں۔

ہاتھی شام چار بجے پیٹ بھرنے نکلتے ہیں اور صبح سات بجے نزدیک ترین خار دار اور دشوار ترین جنگل میں چلے جاتے ہیں۔ ایسی دشوار گزار جگہیں ان کو محفوظ لگتی ہیں۔

ہتھنی کا زمانہ حمل ۲ سال ہے اور پیدائش کے بعد ہاتھی کو جوان ہونے میں ۱۶ برس لگتے ہیں۔ ہاتھی کا دورانِ حیات سو سال سمجھا جاتا ہے مگر میں پچاس سال کو اوسط سمجھتا ہوں۔

ہاتھی کی اونچائی ایک دوسرے سے کافی فرق ہوتی ہے۔ سیلون میں ہاتھی کی اونچائی کو اس کے شانے کی بلندی سے ماپا جاتا ہے۔ بہت بڑا ہاتھی نو فٹ اونچا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑے ہاتھی بھی ہوتے ہیں اور میں نے خود کئی مرتبہ ایسے ہاتھی مارے ہیں جو اس سے زیادہ اونچے تھے مگر ایسی جسامت کے ہاتھی عام نہیں۔ ہاتھی کی اوسط بلندی سات فٹ (نر کی ساڑھے سات فٹ جبکہ مادہ کی اونچائی سات فٹ) کے قریب ہوتی ہے۔

اوسطاً ہر تین سو میں سے ایک ہاتھی کے بیرونی دانت ہوتے ہیں۔ ہاتھی کے بیرونی دانت ان کے بالائی جبڑے سے تین انچ باہر ہوتے ہیں اور ان کی موٹائی دو انچ ہوتی ہے۔ سیلون میں اسے ’ٹوش‘ کہا جاتا ہے اور ان کو نکالنے کی کوشش بیکار سمجھی جاتی ہے۔ یہ دانت ہاتھی شاخیں توڑنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ہاتھی غول کی شکل میں رہتے ہیں اور اوسط غول میں آٹھ ہاتھی ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ تعداد ۵۰ یا ۸۰ تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ ہر غول میں بہت بڑی تعداد میں ہتھنیاں ہوتی ہیں اور بعض اوقات تو پورے غول میں ایک بھی نر نہیں ہوتا۔ میں نے نر ہاتھیوں کے چھوٹے غول بھی دیکھے ہیں مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ نر کی جسامت مادہ سے کافی بڑی ہوتی ہے اور وہ زیادہ وحشی ہوتا ہے۔ اس کی عادات اسے عموماً غول سے باہر تنہا رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔ جب ہاتھی اکیلا ہو تو اور بھی خطرناک ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے علاقے سے زیادہ دور نہیں جاتا اور بہت سال ایک ہی علاقے میں گزارتا ہے۔ ایسے ہاتھی کو ’بدمعاش‘ ہاتھی کا لقب دیا جاتا ہے کہ اس سے مقامی افراد محفوظ نہیں رہتے۔ بدمعاش ہاتھی اپنے علاقے میں چاول کے کھیتوں کی تباہی کا مشغلہ اپنا لیتا ہے اور آگ ہو یا کچھ اور، کچھ بھی اسے ڈرانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا اور جہاں اسے مقامی آدمی دکھائی دیا، بلاوجہ اس کو مارنے پر تل جاتا ہے۔

ان ہاتھیوں کی دلیری اور کمیں گی ایک جیسی ہوتی ہیں۔ ان کی قوتِ شامہ بہت تیز ہوتی ہے اور دن کے وقت ہمیشہ ہوا کی سمت چلتا ہے تاکہ اس کے پیچھے آنے والا کوئی بھی آدمی اس کی بے خبری میں قریب نہ پہنچ سکے۔ جونہی اسے دشمن کی بو ملتی ہے تو وہیں رک جاتا ہے۔ اسے علم ہو جاتا ہے کہ اس کا دشمن خاموشی سے اس کا تعاقب کر رہا ہے۔ اس کے کان آگے کو جھک جاتے ہیں، دم کھڑی ہو جاتی ہے اور سونڈ کو اٹھا کر وہ دشمن کی بو سونگھتا ہے۔ اس کیفیت میں ہاتھی جیسے سنگِ سیاہ کا مجسمہ ہو اور ذرا سی بھی حرکت نہیں کرتا۔ اس کا دشمن بار بار جھک کر اس کے پیروں کے نشان تلاش کرتا ہے۔ اس طرح خاموشی سے پیش قدمی کرتا شکاری جب قریب پہنچ جائے تو ہاتھی چنگھاڑ کر اس پر حملہ کر دیتا ہے۔

بدمعاش ہاتھی سے اصل خطرہ اس کی غیر متوقع حرکات ہوتی ہیں۔ آپ کو میدان یا جنگل میں بدمعاش ہاتھی دکھائی دے تو عین ممکن ہے کہ یا تو حملہ کر دے یا پھر فرار ہو جائے۔ اگر وہ فرار ہوا تو یقین کیجیے کہ وہ آپ کو کسی خاص جنگل کی طرف لے کر جا رہا ہے جہاں وہ آسانی سے چھپ کر آپ پر حملہ کر سکتا ہو گا۔

بدمعاش ہاتھی کے بعد سب سے خطرناک اور دشمن کی ہلاکت پر کمربستہ ایسی ہتھنی ہے کہ جس کا بچہ مارا گیا ہو۔ ایسی صورت میں ہتھنی یا شکاری میں سے ایک کی ہلاکت یقینی ہے۔ اگر غول میں بچے ہوں تو یقین کیجیے کہ چھیڑے جانے پر ہتھنیاں آپ کے لیے بہت خطرناک ثابت ہوں گی۔

ہاتھی کا شکار خطرناک ترین مشغلہ ہے مگر یاد رہے کہ ہاتھیوں کی ہلاکت اور ہاتھیوں کے شکار میں بہت فرق ہے۔ ہلاکت محض قتل ہے جبکہ شکار تفریح ہے۔

بہت سے لوگ جو ہاتھی کا شکار کر چکے ہوں گے، کو اس بارے میں میں زیادہ علم نہ ہو گا اور انہوں نے سیلون سے جاتے ہوئے کبھی ہاتھی کے شکار کو خطرناک نہ شمار کیا ہو گا۔ ان کے شکار کا طریقہ کچھ ایسے ہے:

دو یا تین شکاری کسی خاص مقام پر پہنچتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر بستی کے نمبردار کو بلوایا جاتا ہے اور اس سے ہاتھیوں کے نزدیکی غول کے بارے میں میں معلومات لی جاتی ہیں اور پھر ہاتھیوں کی تلاش اور نگرانی کے لیے کھوجی وغیرہ بھیجے جاتے ہیں۔

اس دوران خیمے لگانے کے بعد شکاری رائفلیں تیار کرتے ہیں۔ چند گھنٹے بعد کچھ کھوجی لوٹ کر بتاتے ہیں کہ انہوں نے ہاتھیوں کا غول تلاش کر کے نگرانی کے لیے کچھ آدمی مقرر کر دیے ہیں۔

بندوقیں بھر کر شکاری روانہ ہو جاتے ہیں۔ کھوجی انہیں لے کر آگے بڑھتے ہیں اور راستے میں انہیں ایک دو نگران آن ملتے ہیں کہ کھوجیوں کی واپسی کے بعد ہاتھیوں نے جگہ تبدیل کی تھی۔ اب ایک کھوجی آگے بڑھتا ہے اور سب کو احتیاط سے لے کر آگے بڑھتا ہے۔ سو گز دور ہاتھیوں کے کان ہلانے اور شاخوں کے ہلنے کی مدھم آواز آتی ہے۔

جنگل کھلا اور مناسب ہے۔ جگہ جگہ اونچی گھاس اگی ہوئی ہے۔ کھوجی انتہائی احتیاط سے شکاریوں کو اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھتا جاتا ہے اور شکاری بھی پوری مہارت دکھاتے ہیں۔ کھوجی مشہور آدمی ہے اور شکاریوں کو بے خبر ہاتھیوں سے دس گز کے فاصلے پر پہنچا کر ان کے سامنے سے ہٹ جاتا ہے۔ بندوقوں سے نکلنے والی گولیوں کی آواز کے ساتھ بارود کا دھواں دکھائی دیتا ہے۔ ہاتھیوں کی گھبرائی ہوئی چنگھاڑیں سنائی دیتی ہیں اور پتہ چلتا ہے کہ ہاتھی جنگل میں راستہ بناتے ہوئے بعجلت فرار ہو گئے ہیں۔ فرض کیجیے کہ الف نے دو ہاتھی مارے۔ ب نے ایک ہاتھی مارا جبکہج نے بھی ایک ہاتھی گرایا مگرج کا ہاتھی پھر اٹھ کر فرار ہو گیا۔ سو کل تین ہاتھی شکار ہوئے۔ اب شکاری واپس لوٹ کر خیموں میں رات گزارتے ہیں۔ مہینہ بھر اس طرح کا شکار کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے کل بیس ہاتھی مارے ہیں۔ ان کی رائے لی جائے تو ان کے خیال میں ہاتھیوں کا شکار بہت عمدہ مشغلہ سہی مگر اس میں کسی قسم کا خطرہ نہیں کہ ہاتھی ہمیشہ فرار ہو جاتے ہیں۔

اب ذرا ہم خود کو ہاتھیوں کی جگہ رکھ کر دیکھتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ ہم غنودگی کی حالت میں گرمی کا دورانیہ سایہ دار درخت کے نیچے گزارتے ہیں۔ ہمارے قویٰ مضمحل ہیں۔ ہمیں خطرے کا بالکل بھی اندازہ نہیں کہ کتنا قریب ہے۔

اچانک ایک زوردار چنگھاڑ سنائی دیتی ہے۔ ایک بدمعاش ہاتھی آن پہنچا ہے اور یہ اسی کی چنگھاڑ تھی۔ ہم کس طرح سر پر پیر رکھ کر بھاگیں گے۔ جب تک بندوق ہاتھ نہ آئے، ہم رکیں گے بھی نہیں۔ تاہم بندوق ہاتھ آنے کے بعد بھی اگر ہاتھی نے پیچھا جاری رکھا تو تھوڑی ہی دیر میں اس کے بھیجے میں گولی اتر چکی ہو گی۔

عین اسی طرح جب ہم کسی بے خبر جانور پر حملہ آور ہوتے ہیں، چاہے وہ ہاتھی ہو یا کوئی اور جانور تو وہ عارضی ہیجان کی کیفیت میں فرار ہو جاتے ہیں۔ اب سوچیے کہ الف، بے اورج نے تین ہاتھی اتنی آسانی سے مار لیے اور اب وہ باقی غول کا پیچھا کر کے تقریباً سبھی ہاتھی مار لیتے ہیں۔ اس دوران ظاہر ہے کہ وہ پسینے سے تر ہوں گے، بے شمار کانٹے ان کے جسم میں پیوست ہو چکے ہوں گے کہ انہوں نے ہاتھیوں کے تعاقب میں کچھ نہیں دیکھا ہو گا۔ راستے میں ندی نالے ہوں تو بھی وہ بھاگ کر اسے عبور کر جائیں گے۔ اسی دوران ایک ہاتھی غول سے الگ ہو کر ان پر حملہ آور ہو گا اور انہیں اس کا سامنا کرنا ہو گا۔ اس طرح کے شکار میں واقعی سنسنی ہوتی ہے۔

چھوٹے غول میں اچھے دانتوں والے ہاتھی کی ہلاکت میں ایک لمحہ لگتا ہے اور باقی غول بھی زیادہ دیر نہیں بچ پاتا۔ بہت مرتبہ میں نے خود پانچ سے چھ ہاتھیوں کے غول کو پانچ سیکنڈ میں شکار ہوتے دیکھا ہے کہ شکاری انتہائی مہارت سے بہت قریب پہنچ کر بہترین زاویوں سے گولی چلا کر ہاتھیوں کو ڈھیر کر دیتے ہیں۔ اس طرح کے شکار میں سنسنی محض جنگل میں خاموش چلنے کی حد تک ہی ہوتی ہے۔

اصولی طور پر خار دار اور مشکل جنگل میں ہاتھیوں کا پیچھا کرنا مناسب نہیں کہ اکثر انتہائی زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ عام غول کا بڑا حصہ آسانی سے شکار ہو جاتا ہے مگر اتنے گھنے جنگل میں گولی نشانے پر لگنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ ایسے مقامات پر آپ کو ہاتھی صاف دکھائی دے رہا ہوتا ہے مگر گولی کو خطِ مستقیم میں جاتے ہوئے کم از کم پچاس ٹہنیوں کو کاٹنا ہو گا اور اگر کوئی شاخ ذرا ترچھی ہوئی تو وہ گولی کا راستہ بدل دے گی۔ ہر اصول کا استثنا بھی ہوتا ہے اور بعض اوقات گھنے اور خار دار جنگل میں ہاتھیوں کا تعاقب کرنا پڑتا ہے۔

سیلون کے جنگل کی نوعیت ہر قسم کے شکار کے لیے غیر مناسب ہے۔ اس جزیرے کی کل لمبائی ۲۸۰ میل اور چوڑائی ۵۰ میل سے زیادہ نہیں اور اس کا زیادہ تر حصہ ناقابلِ رسائی جنگلات پر مشتمل ہے جو بے شمار جانوروں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔

جزیرے کا وسطی علاقہ پہاڑی ہے جس سے نکلنے والے نالے آگے چل کر دریاؤں کی شکل میں سیلون کو سیراب کرتے ہیں۔ نشیبی علاقے مسطح ہیں۔ پورے جزیرے کی مٹی کمزور اور ریتلی ہے۔

اس قسم کے جغرافیے والے ملک میں وسیع اور ناقابلِ رسائی جنگلات زیادہ تر حصے پر پھیلے ہیں۔ شکار کے شوقین افراد جب یہاں پہنچتے ہیں تو بہت مایوس ہوتے ہیں۔

شکاری سوچتا ہے کہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر جنگلی جانوروں کا پیچھا کرے گا مگر اس کا سامنا سڑک کے دونوں جانب ناقابلِ عبور دیوار نما جنگل سے ہوتا ہے تو بہت مایوسی ہوتا ہے۔ اسے معلومات درکار ہوتی ہیں۔ اس کی پہلی منزل گالے ہے جہاں وہ بحری جہاز سے اترتا ہے۔ یہ بہت گنجان آباد علاقہ ہے۔ یہاں سے وہ کولمبو جانے کے لیے سواری پکڑتا ہے۔ ۷۰ میل کے سفر میں جگہ جگہ گنجان آباد علاقے اور کو کوا کے جھنڈ دکھائی دیتے ہیں اور وہ دار الحکومت پہنچ جاتا ہے۔ اس کی مایوسی کا اندازہ کیجیے کہ اس سارے سفر میں اسے کوئی جنگل نہیں دکھائی دیتا اور کولمبو تہذیب کی علامت ہے۔ یہاں سے شکاری کینڈی جانے کے لیے تیار ہوتا ہے جو سیلون کے عین دل میں واقع ہے۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ کینڈی میں اسے خوب شکار ملے گا۔

کولمبو کے قلعے سے صبح ۵ بجے توپ چلتی ہے اور کوچ روانہ ہو جاتی ہے۔ میلوں پر میل گزرتے جاتے ہیں مگر ہر جگہ گنجان انسانی آبادیاں ہی دکھائی دیتی ہیں اور چاولوں کے کھیت ہر ممکن جگہ دکھائی دیتے ہیں، چاہے وہ میدانی علاقہ ہو یا پہاڑی۔ یہاں شکار ممکن نہیں۔

ساٹھ میل طے کرنے کے بعد شکاری کاڈوگاناوا درے کو پہنچتا ہے جو سطح سمندر سے ۱۸۰۰ فٹ بلند ہے۔ اس درے کی بلندی سے وہ دیکھتا ہے تو تا حدِ نگاہ اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ کہیں بھی کھلا علاقہ نہیں دکھائی دیتا۔ سارا علاقہ ہی ناقابلِ رسائی جنگلات پر مشتمل ہے۔

پھر وہ کینڈی پہنچتا ہے جو چاروں طرف پہاڑی جنگلات سے گھرا ہوا قصبہ ہے۔ کینڈی پہنچ کر اس کا سفر تمام ہوتا ہے۔ یا تو وہ یہیں رکے گا یا پھر انگلستان لوٹ جائے گا۔ ہاں اگر اسے کوئی تجربہ کار شکاری بطور رہنما مل جائے تو اور بات ہے۔ مگر تجربہ کار شکاری شاید ہی اناڑی شکاریوں کے رہنما بنیں۔ بہت سے لوگ اپنی صلاحیتوں پر کچھ زیادہ ہی بھروسہ کرتے ہیں اور ہاتھی کے شکار کو دلچسپ محسوس کرتے ہیں۔ تاہم جب غصے سے پاگل ہاتھی کے سامنے دوڑنا پڑے تو ان کے شکار کا جذبہ کچھ سرد پڑ جاتا ہے۔

اب میں آپ کو سیلون میں شکار کی مختلف اقسام کے بارے میں میں بتاتا ہوں جو کئی سالوں کے تجربے پر مشتمل ہے۔

سیلون میں ہاتھی، جنگلی بھینسے، ایلک یعنی سانبھر، چیتل، سرخ ہرن، پساری، سور، ریچھ، تیندوے، خرگوش، کالے تیتر، سرخ ٹانگوں والے تیتر، مور، بٹیر، سنائپ، بطیں، ویجن، ٹِیل، پلوور، مختلف اقسام کے کبوتر، بے شمار خزندے جیسا کہ سانپ اور مگرمچھ عام ملتے ہیں۔

ہاتھی، جنگلی بھینسے، ہرن اور سانبھر کا شکار آتشیں اسلحے سے جبکہ ہرن اور سانبھر کا پیچھا کر کے نیزے یا چاقو سے شکار کیا جاتا ہے۔ نیزے یا چاقو سے شکار کی خاطر شکاری کا مقامی رہائشی ہونا ضروری ہے کہ اس مقصد کے لیے کتوں کا غول ہونا چاہیے۔ جنگلی سور اکثر شکار ہوتا ہے مگر اسے شکار نہیں مانا جاتا کہ اس کے شکار میں کئی کتے مارے جاتے ہیں یا بری طرح زخمی ہوتے ہیں۔ ریچھ اور تیندوے کا شکار الگ سے نہیں ہوتا بلکہ جب مل جائیں تو ان کو مار لیتے ہیں۔

شکار کی ہر قسم کے بارے میں میں بات کرنے سے قبل میں مطلوبہ جانور کی عادات و خصائل اور جہاں اس کا شکار ہوا ہو، اس علاقے کے بارے میں میں بھی کچھ روشنی ڈالوں گا۔ سیلون کا جغرافیہ کچھ اس نوعیت کا ہے کہ اس میں ہر علاقے کی الگ سے وضاحت ضروری ہے۔

سب سے اہم کام اسلحے کا انتخاب ہے۔ پہلے سال کے شکار کے دوران میں نے چار رائفلیں استعمال کی تھیں جو بطورِ خاص بنوائی تھیں اور ان کو خطرناک جانوروں کے لیے بنایا گیا تھا۔ چاروں رائفلیں دو نالی اور دس بور والی تھیں اور ان کا وزن پندرہ پاؤنڈ فی رائفل تھا۔ میرے لیے یہ بہترین رائفلیں تھیں مگر کئی شکاری ان کے وزن سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ میں دو گروو یا دو قعر والی رائفلوں کے خلاف ہوں کہ ان کو تیزی سے نہیں بھرا جا سکتا۔ دس بور کی بارہ قعر والی رائفل میں اڑھائی اونس کی گولی سہولت سے بھری جا سکتی ہے۔ کئی شکاری رائفل کی جگہ بندوق کو ترجیح دیتے ہیں مگر میرے خیال میں ہاتھی کے شکار کے لیے بندوق کی نسبت رائفل بدرجہا بہتر ہے۔ ایسے جنگلات جہاں بیس یا تیس گز تک بندوق یا رائفل کی گولی کا یکساں اثر ہو، اور بات ہے۔ مگر سیلون میں اول تو یہ علم نہیں ہوتا کہ اب کس جانور سے سامنا ہو گا اور پھر یہ بھی کہ کئی مرتبہ جانور سو گز دور دکھائی دیتا ہے تو بندوق بیکار ہو جاتی ہے۔ رائفل میں یہ خوبی ہے کہ بیس گز ہو یا سو گز، کوئی مسئلہ نہیں۔

میرے ’اسلحہ خانے ‘ میں ۲۱ پاؤنڈ وزنی ایک نالی رائفل جس میں چار اونس والی گولی پڑتی تھی، ایک عدد لمبی دو اونس گولی والی ۱۶ پاؤنڈ وزنی ایک نالی رائفل اور ۱۰ بور کی دو نالی چار رائفلیں جن میں ہر ایک پندرہ پاؤنڈ وزنی تھی شامل تھیں۔ میں نے بندوق اکثر استعمال کی ہے مگر اس کا تذکرہ یہاں مناسب نہیں۔

یہ تو ہتھیاروں کی بات ہو گئی۔ میرے خیال میں سیلون میں شکار کے لیے بڑے بور کی دو نالی چار رائفلیں جیسا کہ دس یا بارہ بور کی رائفلیں بہترین ہیں۔ تاہم سبھی رائفلوں کا بور ایک ہونا چاہیے تاکہ بھرنے میں گڑبڑ نہ ہو۔ ہر آدمی اپنی سہولت کے مطابق رائفل کا وزن طے کرتا ہے مگر یاد رہے کہ ایک نالی رائفل بیکار ہتھیار ہے۔

رائفل کے بعد شکاری کتوں کی باری ہے۔

سانبھر اپنی طاقت اور جسامت کے حوالے سے بہت عمدہ شکار ہے اور اس کے لیے اعلیٰ نسل کے کتے درکار ہوتے ہیں۔

سیلون کا سانبھر ہندوستانی سانبھر ہے جو سب سے بڑا ایشیائی ہرن ہے۔

پوری طرح جوان نر سانبھر کی شانے پر اونچائی ۱۴ ہاتھ بنتی ہے اور زندہ جانور کا وزن ۶۰۰ پاؤنڈ ہوتا ہے۔ اس کا رنگ گہرا بھورا اور چھ انچ لمبی ایال ہوتی ہے۔ باقی سارے جسم پر دو انچ لمبے کھردرے بال ہوتے ہیں۔ میرے پاس سینگوں کا جوڑا ہے جو ۳ فٹ ۴ انچ لمبا ہے مگر یہ انتہائی غیر معمولی لمبے سینگ ہیں۔

سانبھر کے سینگوں پر چھ سے زیادہ شاخیں کم ملتی ہیں۔ زیریں علاقے کا سانبھر پہاڑی سانبھر سے کافی بڑا ہوتا ہے۔ پہاڑی سانبھر بارہ یا تیرہ ہاتھ سے زیادہ بڑا کم ہی ملتا ہے اور اسی مناسب سے جسامت بھی چھوٹی ہوتی ہے۔ جب پہاڑی سانبھر کا پیٹ چاک کر کے آلائشیں وغیرہ نکال دی جائیں تو اس کا وزن ۴۰۰ پاؤنڈ بنتا ہے۔ پہاڑی علاقے میں اس سے بہت بڑے سانبھر بھی میں نے شکار کیے ہیں مگر اوسط وزن یہی رہے گا۔

سانبھر شب بیدار جانور ہے۔ سورج غروب ہونے پر یہ پیٹ بھرنے کو نکلتا ہے اور پو پھٹتے ہی چھپ جاتا ہے۔ ایک ساتھ دو یا تین سے زیادہ سانبھر شاید ہی دکھائی دیں۔ سانبھر عموماً اکیلا رہتا ہے۔ جب اس کے فرار کا راستہ نہ بچے تو یہ انسان اور کتے، دونوں پر ہی حملہ آور ہو جاتا ہے اور اکثر عمدہ شکاری کتے مارے جانے کے بعد ہی سانبھر شکار ہوتا ہے۔

سانبھر کا شکار سیلون کے پہاڑی علاقے میں ہوتا ہے۔ سطح سمندر سے ۶۲۰۰ فٹ کی بلندی پر نیویرا ایلیا کا صحت افزا مقام ہے جہاں میں نے کئی برس تک کتوں کے ساتھ اس کا شکار کھیلا تھا۔ یہاں درجہ حرارت شاید ہی ۶۶ ڈگری فارن ہائیٹ سے اوپر جاتا ہو اور شکار بہت لطف دیتا ہے۔ اس علاقے میں دلدلیں بھی ہیں، میدان، جنگلات، منہ زور نالے، پہاڑ اور ڈھلوانیں بھی۔ سو یہاں اس شکار کے لیے خاص قسم کے شکاری کتے درکار ہوتے ہیں۔

خالص نسل کے فاکس ہاؤنڈ بیکار ہیں۔ یہ کتے میل بھر سے زیادہ فاصلے سے سانبھر کی بو پا کر بھونکتے ہوئے پیچھا کریں گے اور دور موجود سانبھر نیند سے بیدار ہو کر فرار ہو جائے گا۔ اس کے بعد کتے ناقابلِ عبور جنگلات میں اس کا پیچھا کرتے ہوئے کھو کر یا تو تیندوے کی خوراک بنیں گے یا پھر بھوک سے مر جائیں گے۔ میں کئی بار اس طرح کتے گنوا چکا ہوں کہ میں اپنے ہمراہ انگلستان سے خالص نسل کے فاکس ہاؤنڈ لایا تھا اور چند ماہ کے شکار کے بعد صرف ایک کتا زندہ بچا۔

سانبھر کے شکار کی خاطر فاکس ہاؤنڈ اور بلڈ ہاؤنڈ کا ملاپ بہتر رہتا ہے کہ اس طرح بڑی جسامت، دلیر اور اونچی آواز والے کتے پیدا ہوتے ہیں۔ کتے کو بچپن سے ہی شکار کی تربیت دینی چاہیے تاکہ اسے علم ہو جائے کہ تازہ بو یا دو تین سو گز دور موجود شکار کا پیچھا کرے۔ اس طرح جب کتا سانبھر کا پیچھا شروع کرے گا تو سانبھر کے پاس فرار ہونے کو زیادہ وقت نہیں رہے گا۔ ایسے تیس کتے مل کر جب بھونکیں گے تو سانبھر پوری رفتار سے بھاگے گا۔ غول کے سب سے آگے کے دو تین کتوں کی تیزی کی وجہ سے سانبھر کو پوری رفتار سے بھاگنا پڑتا ہے جس سے وہ جلدی تھک جاتا ہے کہ اس کا پیٹ پوری طرح بھرا ہوتا ہے اور فرار ہوتا ہوا سانبھر ہمیشہ پہاڑ کے اوپر کی جانب بھاگتا ہے۔ جب اس کا سانس پھولتا ہے تو وہ نیچے کا رخ کرتا ہے اور انتہائی تیزی سے بھاگتا ہوا سب سے بڑی اور سب سے گہری ندی کا رخ کرتا ہے اور وہاں پہنچ کر رک جاتا ہے۔

کتوں کا سب سے بڑا دشمن تیندوا ہوتا ہے۔ جونہی کتا اکیلا ہو، درخت پر بیٹھا تیندوا اس پر جھپٹ کر ہلاک کر دیتا ہے۔ اگر کتا بہت بڑا اور بہادر نہ ہو تو تیندوے سے بچنا ممکن نہیں۔ اس وجہ سے بھی شکاری کتوں کی بڑی جسامت کو ترجیح دینی چاہیے۔

دوسرا شکار ’ڈیئر کورسنگ‘ ہے۔ یہ سیلون کے بہترین شکاروں میں سے ایک ہے۔ عموماً یہ چیتلوں کے شکار پر مشتمل ہوتا ہے اور شکاری گھوڑوں پر سوار ہو کر کتوں کی مدد سے میدانوں میں چیتل کا پیچھا کرتے ہیں۔

زندہ نر چیتل کا وزن ۲۵۰ پاؤنڈ ہوتا ہے اور بہت تیز رفتار اور بہادر جانور ہے۔ اس کے سینگ بہت لمبے اور نوکیلے ہوتے ہیں۔ سخت زمین پر پہنچ کر چیتل اچانک کتوں پر حملہ کرتا ہے اور سانبھر کی نسبت کتوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ چونکہ اس کا پیچھا عموماً دو ہی کتے کرتے ہیں، سو اس کے بچ نکلنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

بڑی جسامت کے خالص تازی کتے اس شکار کے لیے بہترین ہیں۔

 

باب ۲

 

کہاں سے ابتدا کروں؟ یہ سوال عجیب تو ہے مگر جب مڑ کر گزرے برسوں کو دیکھتا ہوں تو ہزارہا واقعات ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے چکر میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان سب کی تفصیل بتانا ممکن نہیں۔ واقعات کا بیان دلچسپ اور غیر دلچسپ واقعات کا مرکب ہوتا ہے۔ سو میں یہاں ایسا کچھ بیان نہیں کروں گا کہ یہ بہت طویل اور بوریت سے بھرا ہو گا۔ میں موجودہ وقت سے شروع کرتا ہوں اور بتدریج ماضی کے واقعات کو یاد کرتا جاؤں گا۔

اس وقت میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوں اور میرے سامنے آتشدان کے اوپر رائفلیں ترتیب سے ٹنگی ہیں۔ ہرنوں کے سینگ ترتیب سے دیوار پر جڑے ہیں اور بارود کی بوتلیں اور دیگر ہتھیار اپنی اپنی جگہوں پر رکھے ہیں۔ کتا خانے سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔

اس وقت درجہ حرارت ۶۲ فارن ہائیٹ ہے اور دوپہر کا وقت۔ گرم ترین موسم میں بھی ۷۲ ڈگری سے زیادہ گرمی نہیں پڑتی اور بعض اوقات رات کو درجہ حرارت صفر سے بھی نیچے گر جاتا ہے۔ مطلع صاف اور ہوا رکی ہوئی ہے۔ انگلستان کے بے شمار پھولوں کی خوشبو سے فضا معطر ہے۔ گھاس کے ہرے بھرے میدانوں کے گرد باڑ لگی ہوئی ہے اور آرام دہ گھر ہر طرف موجود ہیں۔ بہترین نسلوں کے پلے ہوئے مویشی گھاس چر رہے ہیں۔ ہر طرف عمدہ سڑکیں موجود ہیں۔ چند برس قبل یہ سب علاقہ محض جنگل تھا۔

ابھی ہمیں ایک بھی درخت دکھائی نہیں دے رہا مگر چند برس قبل یہاں جنگل تھا۔ پہاڑوں سے گزرنے والی ہوا یہاں درختوں سے شور مچاتی گزرتی تھی اور نشیبی علاقوں میں دلدلیں ہوتی تھیں مگر تہذیب اور صنعت نے اس علاقے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ گھنے جنگلات اب اس مزروعہ زمین کے اردگرد موجود ہیں اور خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔ بندر اور طوطے بھی یہاں دکھائی دیتے ہیں اور کبھی کبھار ہاتھی کی چنگھاڑ بھی آ جاتی ہے جو رات کو کھیتوں میں چرنے آتے ہیں۔

رات کو ساکن ہوا اور ستاروں کی روشنی میں سانبھر کی آواز گونجتی ہے اور جو کتا بیدار ہوتا ہے، وہ اس کا جواب لمبی بھونک کی شکل میں دیتا ہے۔

یہ مقام نیویرا ایلیا ہے، سیلون کا صحت افزا مقام، جس کی آب و ہوا دنیا میں سب سے بہترین ہے۔ اب یہاں ایک خوبصورت گرجا گھر، ایک لائبریری، ایک بڑا ہوٹل، بیرک اور ۲۰ انفرادی رہائش گاہیں موجود ہیں۔

آس پاس کے علاقے نسبتاً مسطح ہیں اور ۳۰ میل کے قریب پھیلے ہیں۔ یہاں بلندی ۶۲۰۰ سے ۷۰۰۰ فٹ کے قریب ہے اور پاس کے اونچے پہاڑوں کی بنیاد کا کام دیتے ہیں جو ۹۰۰۰ فٹ تک بلند ہیں۔ متواتر ہموار میدان آتے رہتے ہیں جن کے درمیان جنگلاتی پٹیاں، تیز دریا، آبشاریں، ڈھلوانیں اور خوبصورت مناظر ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں شکار کے مواقع بکثرت ہیں اور نیویرا ایلیا میں رہائش نہ صرف صحت بخش ہے، بلکہ آرام دہ اور آزادانہ بھی ہے۔

کولمبو سے آنے والی شاہراہ نیویرا ایلیا سے ہو کر بدولہ کو جاتی ہے جہاں سے سیلون کے بہترین شکاری مقامات شروع ہوتے ہیں اور یہ سڑک پھر آگے بٹیکلوا سے ہو کر ٹرنکومالی جاتی ہے۔ نیویرا ایلیا سے گالے کا فاصلہ ۱۸۵ میل، کولمبو سے ۱۱۵ میل، کینڈی سے ۴۷ میل، بڈلوا سے ۳۶ میل، بٹیکلوا سے ۱۴۸ میل بنتا ہے۔ اگر یہاں کی زمین کمزور نہ ہوتی تو نیویرا ایلیا بہت عرصہ قبل ہی اہمیت اختیار کر چکا ہوتا کہ اس کا موسم ہر قسم کی برطانوی فصل کے لیے بہترین ہے مگر زمین میں چونے کی نایابی کی وجہ سے یہاں چونا لانا پڑتا ہے جو بہت مہنگا پڑتا ہے اور یہاں غلہ نہیں اگایا جا سکتا مگر آلو اور دیگر سبزیاں اگتی ہیں۔ کئی چھوٹی آبادیوں میں مناسب مقدار میں آلو اگائے ہیں مگر حالیہ برسوں میں ان کو بیماری لگ گئی ہے۔

نیویرا ایلیا ہمیشہ سے جنوری کے آغاز سے مئی کے وسط تک شکار کے لیے بہترین مقام رہا ہے۔ مئی کے وسط سے برسات شروع ہو جاتی ہے اور مسافر واپسی کا رخ اختیار کرتے ہیں۔

نئے آنے والے سیاحوں کے لیے یہاں قیام کی زیادہ سہولیات نہیں ہوتیں۔ نیویرا ایلیا میں چہل قدمی کرتے ہوئے سیاحوں کی تعداد دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہاں موجود چند عمارتوں میں کیسے اتنے افراد مقیم ہو سکتے ہیں۔ سیلون کے جنگلات سے بہترین تعمیراتی لکڑی ملتی ہے اور آ رہ مشینیں بھی عام ہیں مگر اس کی زمین کی طرح یہ پورا ملک ہی زرخیز نہیں۔ یہاں کی اہم ’فصل‘ کافی ہے جو اتنی آمدنی نہیں دیتی کہ اس کے باغات کے مالک نیویرا ایلیا میں اپنی ذاتی رہائش گاہ بنوا سکیں۔ انگلستان میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک موسم میں کسی جگہ بہت سے لوگ آتے ہیں تو دوسرے موسم میں وہ جگہ بالکل خالی ہو جاتی ہے۔ سو یہاں سیاحت کا موسم ختم ہونے کے بعد کماندار، فوجیوں کا افسر، حکومتی نمائندہ، ڈاکٹر، پادری اور ہمارا خاندان رہ جاتا تھا۔

بہت سے لوگ سوچیں گے کہ یہ تو بوریت کا سامان ہو گیا مگر جنگل میں ہر قسم کا بڑا شکار بھرا ہوا ہے اور نیویرا ایلیا اس کے وسط میں ہے۔ بہترین شکاری جنگلات یہاں سے ایک سو میل دور ہیں۔ سو جب دل چاہے، اسلحہ، خیمے، سامان لے کر آدمی دو ہفتے یا چار ہفتے کے لیے ہاتھیوں کے شکار پر نکل سکتا ہے۔

مناسب موسم میں سانبھر کا شکار بہت لطف دیتا ہے۔ ہوا صاف اور سرد اور میدان میں ہر طرف سفید کہرا چھایا ہوتا ہے اور صبح چھ بجے کئی خواتین بھی گھوڑوں پر سوار ہو کر مطلوبہ مقام پر آتی ہیں اور شکاری اپنے کتوں کے ہمراہ جمع ہوتے ہیں۔

ان پہاڑوں پر طلوع ہوتے سورج کا عجب مزہ ہوتا ہے اور اونچائی کی وجہ سے یہاں ہوا لطیف ہوتی ہے اور انسان کی روح نہال ہو جاتی ہے۔ گھوڑے اور شکاری کتے بھی اس سے برابر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ میدانی علاقے کا انتہائی شریف گھوڑا بھی یہاں آ کر کچھ شوخ ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسے شکار پر تیس سے زیادہ گھڑ سوار جمع ہو جاتے ہیں مگر ایسے مواقع پر جب نئے تماشائی ہمراہ ہوں تو مسطح علاقہ چنا جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر گھوڑے تیار رہتے ہیں مگر ان کی ضرورت کم ہی پڑتی ہے۔ جب سانبھر کے شکار پر نکلیں تو ہر چوتھائی میل پر دلدل نما جگہیں آتی ہیں جہاں گھوڑے نہیں دوڑ سکتے۔ سو اس طرز کے شکار کو وہی افراد ہی سمجھ سکتے ہیں جنہیں اس کا تجربہ ہو۔ ویسے بھی بلندی کی وجہ سے ہوا لطیف ہوتی ہے اور دوڑتے ہوئے پھیپھڑوں پر بہت زور پڑتا ہے۔ ایسے مقامات پر سانبھر کے پیچھے اور کتوں کے ہمراہ دوڑنے والے شکاری کو سانس پر پورا قابو ہونا چاہیے، ہاتھ پیر مضبوط ہوں اور ذرا سا بھی فربہ نہ ہو کہ شکار کے سلسلے میں اسے جنگلوں، دریاؤں، میدانوں اور گہری وادیوں میں دوڑنا ہو گا اور اکثر یہ دوڑ طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک جاری رہتی ہے اور شکاری نے صبح سویرے کافی کے ساتھ روٹی کا ایک ٹکڑا ہی کھایا ہوتا ہے۔ اس نوعیت کا شکار بہت مشکل ہوتا ہے کہ شکاری چاقو ہی واحد ہتھیار ہوتا ہے اور علم نہیں ہوتا کہ شکار کے دوران سانبھر کا سامنا ہو گا یا جنگلی سور یا تیندوے کا۔ سو شکاری چاقو اور شکاری کتے، سبھی پوری طرح قابل بھروسہ ہوں۔

شکاری کو اپنے کتوں سے پوری طرح واقفیت ہو اور ان کو آواز سے پہچان سکے اور اتنا ماہر ہو کہ جانور کو دیکھنے سے قبل ہی پہچان لے۔ اگر سانبھر مل جائے تو کتے اس کا پیچھا ایک قطار کی شکل میں اور انتہائی تیز رفتاری سے کرتے ہیں کہ سانبھر سیدھا پہاڑ کے اوپر کو بھاگتا ہے اور جب اس کا سانس پھول جائے تو پھر نیچے کا رخ کرتا ہے تاکہ کسی محفوظ دریا میں جا کر پناہ لے۔ سو جنگل سے پوری طرح واقف شکاری جب کتوں کی آواز سنتا ہے تو اسے فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان کی منزل کیا ہو گی اور وہ سیدھا اسی جانب بھاگتا ہے۔

سب سے پہلے شکاری اپنی بیلٹ کو سختی سے باندھتا ہے اور پھر آڑی ترچھی دوڑ لگا دیتا ہے کہ اسے علم ہوتا ہے کہ اسے پورا دن دوڑنا ہو گا۔ پہاڑیوں اور وادیوں سے ہوتے اور جنگل میں زبردستی راستہ بناتے ہوئے چاہے چڑھائی ہو یا اترائی، جنگل ہو یا کیچڑ، وہ جگہ جگہ رک کر کتوں کی آواز سننے کی کوشش کرتا ہے۔ جب اسے کتے کی آواز سنائی دیتی ہے تو پہچان لیتا ہے کہ یہ فلاں کتا ہے جو اب سانبھر کو روک چکا ہے۔ شکاری پھیپھڑوں کی پوری طاقت سے نعرہ لگا کر اسی جانب بھاگ پڑتا ہے۔ اب کئی کتے اس جانور کے گرد جمع ہو کر اس کے فرار کا راستہ روک چکے ہیں اور ان کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ شکاری پر اتنا جوش طاری ہے کہ جنگل اور جھاڑ جھنکار اب اس کا راستہ نہیں روک سکتے اور شکاری کھلے میں پہنچ جاتا ہے۔

پھر اسے چٹان کے گرد چکر کاٹ کر گزرتے ہوئے دریا میں بنا ہوا گہرا تالاب دکھائی دیتا ہے۔ بہترین سانبھر پانی میں ہے اور اس نے اچانک کتوں پر حملہ کیا اور سب سے آگے والے کتے پر اگلے سم سے وار کیا۔ جونہی کتوں کو اپنے مالک کی آواز سنائی دیتی ہے تو وہ مڑ کر مالک کو آتا دیکھتے ہیں۔ اگلے ہی لمحے شکاری تالاب میں کود کر کتوں کے ساتھ تیرتے ہوئے سانبھر کو جاتا ہے۔ سانبھر کتوں پر حملہ کرتا ہے۔ شکاری اور کتے، دونوں کے لیے سانبھر کے سم سے بچنا لازمی ہے۔

اب سانبھر دریا کے بہاؤ کے ساتھ تیرنا شروع کرتا ہے اور جہاں پانی کم گہرا ہو تو جست لگاتا ہے اور کبھی تیرتا ہے۔ کبھی اس کا رخ تیز بہاؤ والے مقام کی طرف ہوتا ہے تو کبھی تالاب کا رخ کرتا ہے۔ شکاری اس دوران کنارے پر پہنچ کر اس کا پیچھا جاری رکھتا ہے۔ آخرکار سانبھر رک جاتا ہے۔ تاہم اس بار سانبھر نے محفوظ مقام چنا ہے جہاں دو فٹ گہرا پانی تیزی سے بہہ رہا ہے۔ اس کی پتلی ٹانگوں سے پانی ٹکرا کر گزرتا ہے اور شکاری کتوں کے پیر اکھڑتے ہیں کہ بہاؤ تیز ہے۔ سانبھر کے نتھنے پھیلے اور ایال کھڑی ہے۔ اس کی آنکھیں چمک رہی ہیں اور اونچی آواز سے بول رہا ہے۔ شکاری کتے اسے نہیں چھو سکتے۔ اب شکاری اپنے سب سے طاقتور کتوں کو بلاتا ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کر کے ان کے ساتھ پانی میں اترتا ہے اور شکاری چاقو اس کے ہاتھ میں ہے۔ بجلی کی سی تیزی سے سانبھر حملہ کرتا ہے مگر اس نے بے احتیاطی کر دی۔ شکاری جست لگا کر اس پہلو میں پہنچتا ہے اور شانے کے پیچھے چاقو گھونپ دیتا ہے۔ اب شدید جد و جہد شروع ہو جاتی ہے کہ کتوں کا پورا غول سانبھر پر جھپٹتا ہے۔ مرنے سے قبل کی جد و جہد میں وہ کتوں سے پیچھا چھڑانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور سارے منظر پر جیسے دھند طاری ہو۔ پھر اچانک ہی سانبھر گرتا کر مر جاتا ہے۔ شکار تمام ہوا۔ کتوں کو واپس کنارے پر لا کر ان کے زخم دیکھے جاتے ہیں۔

شکاری اب اپنے گھر سے کئی میل دور ہے۔ سو وہ لکڑی کا ایک ڈنڈا کاٹتا ہے اور اس کے اوپر گھاس کا گٹھا باندھ کر سانبھر کے ساتھ کنارے پر بطور نشانی گاڑ دیتا ہے۔ پھر کتوں کو جمع کر کے وہ گھر لوٹتا ہے اور اپنے ملازمین کو سانبھر کا گوشت لانے بھیجتا ہے۔ سانبھر کا گوشت بہت عمدہ ہوتا ہے مگر انگلستان کے جنگلی جانوروں کے برعکس اس کا ذائقہ بڑے گوشت جیسا ہوتا ہے۔

یہ سانبھر کے عام شکار کا بیان ہے تاہم اس دوران ہونے والے حادثات و واقعات بہت فرق ہو سکتے ہیں۔

جنگلی سور خطرناک ہوتا ہے اور دوڑ سے ہی اس کے بارے میں میں علم ہو جاتا ہے۔ شکاری کتے اس کی بو پر اتنی دلچسپی سے نہیں دوڑتے جتنی وہ سانبھر کے پیچھے دکھاتے ہیں۔ اس کی دوڑ کافی سست ہوتی ہے کہ جنگلی سور کبھی سیدھی لکیر میں نہیں بھاگتا۔ عموماً دس منٹ کی دوڑ کے بعد جنگلی سور رک جاتا ہے۔ جنگلی سور کے رکنے کا مقام ہمیشہ جنگل کا گھنا ترین حصہ ہوتا ہے اور وہاں رک کر وہ شکاری کتوں پر حملہ کرتا رہتا ہے۔

جنگل میں دوڑتے اور راستہ بناتے ہوئے شکاری جب اس مقام سے بیس گز دور رہ جاتا ہے تو نعرہ لگا کر اپنے کتوں کی ہمت بندھاتا ہے۔ ماہر کتے زخموں کی پروا کیے بغیر سور پر حملہ آور ہوتے ہیں اور جونہی کتے اس پر قابو پاتے ہیں تو اس کی چیخ سے شکاری جان لیتا ہے۔ فوراً چاقو سمیت وہ اس جانب دوڑتا ہے اور گھنے جنگل میں اسے کتوں اور سور کی کشمکش دکھائی دیتی ہے۔

جب شکاری کو صاف دکھائی دیتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے بہترین شکاری کتے خاصے زخمی ہو چکے ہیں اور سور کتوں سے گھرا ہوا فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور جونہی سور شکاری کو دیکھتا ہے تو اس پر حملہ کرتا ہے۔

سور کی نظروں سے بچتے ہوئے شکاری اس کے پیچھے سے آگے بڑھتا ہے اور شانوں کے بیچ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں چاقو اتارنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر اس کا نشانہ کامیاب ہو تو سور وہیں گر کر مر جاتا ہے کہ اس کا حرام مغز کٹ جاتا ہے۔ اگر وار ناکام ہو تو شکاری دوسرے وار کی کوشش کرتا ہے اور اس دوران سور کی کچلیوں سے بچنے کی کوشش بھی جاری رہتی ہے۔

اگر شکاری کتے بہادر نہ ہوں اور شکاری کے کہنے کے باوجود جنگلی سور پر حملہ نہ کریں تو گھنے جنگل میں ایک چاقو کے ساتھ شکاری کبھی سور پر حملہ نہیں کرتا کہ اس طرح اس کی اپنی موت یقینی ہوتی ہے۔ جنگلی سور بہت پھرتیلا اور انتہائی طاقتور ہوتا ہے اور دو سو کلو وزن کا سور اکثر ملتا ہے۔

جنگلی سور کے شکار میں عموماً سبھی بہترین شکاری کتے مارے جاتے ہیں۔ چونکہ بہترین کتا سب سے آگے ہوتا ہے، سو جنگلی سور کا پہلا وار اسی پر ہوتا ہے اور گھنے جنگل میں کتے کے پاس فرار کا کوئی موقع نہیں ہوتا۔

٭٭

باب ۳

 

ذیل میں سیلون کے پہاڑی شکار کی عام انداز میں وضاحت درج ہے۔ تاہم ابھی ایک اور جانور کے بارے میں میں بتانا باقی ہے کہ جب وہ مشتعل ہو جائے تو پھر اس سے زیادہ خطرناک کوئی جانور نہیں۔ یہاں میں جنگلی بھینسے کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔

اس جانور کی جائے رہائش سیلون کے گرم ترین مقامات ہیں جہاں ندیاں، نالے، کیچڑ اور گھاس کے وسیع و عریض میدان قریب ہوں۔ جنگلی بھینسے بڑے جھنڈ کی شکل میں رہتے ہیں اور زیادہ تر وقت کیچڑ میں لیٹے رہتے اور دن کا دو تہائی وقت پانی میں گزارتے ہیں۔ آپ اسے خشکی سے زیادہ آبی جانور سمجھ لیجیے۔

اس کی جسامت بڑے بیل کے برابر ہوتی ہے اور ہڈیاں بہت بڑی اور بہت مضبوط۔ یہ جانور بہت پھرتیلا ہوتا ہے اور کھال پر بال نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ اس کی کھال بدنما اور ربڑ کی مانند لجلجی ہوتی ہے۔ اس کا سر عجیب انداز سے اٹھا ہوتا ہے کہ سینگ پیچھے کو مڑے ہوتے ہیں اور ناک اس کے ماتھے کی بلندی پر ہوتی ہے۔ اس طرح سامنے سے اس کے سر پر مہلک گولی نہیں چلائی جا سکتی۔ چھوٹے ہتھیار کے سامنے جنگلی بھینسا دیوار کی مانند کھڑا ہوتا ہے اور اس کی گردن اور سینے پر چاہے جتنی گولیاں چلائی جائیں، بیکار جاتی ہیں۔ اس کے شانے پر گولی چلانے کو ترجیح دی جاتی ہے مگر ایسا نشانہ لگانے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔ اگر شکاری جنگلی بھینسے کے ہتھے چڑھ جائے تو اس کے غصے کی انتہا نہیں رہتی اور اسے سینگ گھونپ کر ہلاک کر کے اس کی لاش کھروں تلے روندتا ہے۔

جنگل میں اس کا شکار مشکل نہیں کہ اگر بھینسا ہلاک نہ بھی ہو تو شکاری درخت پر چڑھ کر جان بچا سکتا ہے مگر جنگلی بھینسے عموماً ایسے کھلے میدانوں میں ملتے ہیں جہاں ایک بھی درخت نہیں ہوتا۔ سو جب بھینسے کا سامنا ہو تو اس کی فوری ہلاکت لازمی ہوتی ہے ورنہ اس کے قہر سے بچنا بہت مشکل کام ہے۔ اس کے علاوہ جنگلی بھینسے کا رویہ کسی حد تک ناقابلِ اعتبار ہوتا ہے جس سے اس کے شکار میں خطرے کا عنصر بڑھ جاتا ہے۔ عموماً جنگلی بھینسا اس طرح فرار ہوتا ہے کہ جیسے انتہائی بزدل ہو اور شکاری دھوکا کھا کر اس کے پیچھے چلتا ہے اور جلد ہی شکاری خود شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے کردار کے بارے میں آپ کو مندرجہ ذیل واقعے سے بہتر معلومات ملیں گی جو اس سے میرے پہلے مقابلے کے وقت پیش آیا۔

مجھے سیلون آئے زیادہ عرصہ نہ ہوا تھا مگر میری آمد کا مقصد شکار ہی تھا۔ سو فارغ بیٹھنا ممکن نہ تھا اور میں نے جلد ہی کافی جانور شکار کر لیے۔ ہر اناڑی شکاری کی مانند میں نے غلطی کی کہ جنگلی جانوروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگا کہ مجھے شکار سے وابستہ خطرات کا اندازہ نہ تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قسمت نے میرا ساتھ دیا اور زیادہ تر جانور پہلی ہی گولی پر شکار ہوئے۔ اس طرح مجھے کسی خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑا تھا اور مجھے اپنی رائفل کی طاقت پر بہت بھروسہ ہو گیا۔ عام قصاب شکاریوں کی مانند میں نے جنگلی جانوروں کو اندھا دھند شکار کرنا جاری رکھا اور اس دوران میں نے جانوروں اور ان کی عادات و خصائل کے بارے میں کچھ بھی جاننے کی کوشش نہ کی۔ تاہم یہ بہت برس پرانی بات ہے جب میں پہلی مرتبہ سیلون آیا تھا۔ اُن دنوں شکار کے لیے بہت سی مناسب جگہیں تھیں جو اب کثرتِ شکار سے تباہ ہو چکی ہیں اور اب مجھے ان میں کوئی دلچسپی نہیں محسوس ہوتی۔ ان میں سے ایک ایسی جگہ مینیریا جھیل تھی۔

یہاں میں اپنے بھائی کے ہمراہ شکار کے لیے آیا تھا جس کو ہم ’ب‘ کے نام سے پکاریں گے۔ ہم اس روز بیس میل کا سفر طے کر کے آئے تھے اور سارا راستہ چھ سات مقامی افراد ہمارے سامنے جنگل کو کاٹ کر راستہ بناتے رہے تھے اور ہم اپنے خچروں کو چلاتے آئے۔ یہ راستہ کبھی اچھی حالت میں تھا مگر استعمال نہ ہونے کی وجہ سے جھاڑ جھنکار اگ آیا تھا اور یہاں سے گزرنا کافی مشکل ہو چکا تھا۔

چار بجے ہم کینڈی سے چار میل دور تھے کہ جنگل ختم ہوا اور مینیریا جھیل دکھائی دی۔ اسے دیکھتے ہی سارے دن کی تھکن دور ہو گئی۔ سہ پہر کافی خوشگوار تھی۔ جھیل کا پانی بیس مربع میل رقبے پر تھا جو ڈھلتے ہوئے سورج کی روشنی میں چمک رہا تھا۔ جھیل کنارے گھاس کے سبز میدان انگلستان کی یاد دلا رہے تھے اور میدانوں کے کنارے جنگل عجیب منظر پیش کر رہے تھے۔ جگہ جگہ زمین کے قطعے جھیل کے اندر تک چلے گئے تھے جہاں گھنا سبزہ اور آبی پرندے بھی موجود تھے۔ میدانی علاقے میں ہرنوں کے غول گھاس چر رہے تھے اور بعض غول درختوں کی چھاؤں میں سستا رہے تھے۔ خوبصورت منظر کے تمام تر عناصر یہاں موجود تھے۔ بعض جگہوں پر جنگلی درخت جھیل کنارے تک پہنچ گئے تھے جبکہ دیگر مقامات پر جھیل کے کنارے میلوں تک ہر قسم کی نباتات سے پاک تھے۔ بہت دور نیلے پہاڑ بھی دکھائی دے رہے تھے۔

ہم اس خوبصورت منظر سے خاموشی سے لطف اندوز ہوتے رہے جبکہ ہمارے خچر گھاس سے پیٹ بھرتے رہے۔

مینیریا کا گاؤں مزید تین میل آگے جبکہ ہمارے قلی، ملازمین اور سامان ہم سے کہیں پیچھے تھے۔ ہمارے ساتھ دو بندوقیں ہی تھیں کہ باقی سب رائفلیں سامان کے ساتھ آ رہی تھیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس چند گولیاں بھی تھیں۔

ہم نے ملازمین اور سامان کا انتظار کیا مگر آدھا گھنٹہ گزرنے پر بھی وہ نہ پہنچے تو ہم بے صبرے ہونے لگے کہ شام ڈھل رہی تھی۔ ہم نے سوچا کہ جھیل کنارے چہل قدمی کر کے اس مقام کا جائزہ لیتے ہیں۔ سو ہم نے خچر وہیں چھوڑے اور خود پیدل چل پڑے۔

گھاس بہت خوبصورت اور برسیم کی طرح بلند مگر کم گھنی تھی۔ ہر بیس تیس قدموں پر سنائپ اڑتے رہے حالانکہ زمین پوری طرح خشک تھی۔ ایک بڑا میدان طے کر کے ہم خشکی کی پٹی کو بڑھے جو جھیل میں کافی دور تک گئی ہوئی تھی۔ اس دوران مرغابیوں اور ٹیل کے بڑے بڑے جھنڈ اڑتے رہے۔ خشکی کی یہ پٹی دو سو گز سے زیادہ چوڑی نہ تھی۔ جلد ہی ہم دوسری جانب پہنچے تو ہمارے بائیں جانب جھیل کا پانی سنہری چادر کی مانند میلوں تک پھیلا ہوا تھا جبکہ دائیں جانب بہترین جنگل تھا۔ جھیل کے کنارے پر پانی کے اندر کچھ پتھر پڑے تھے جن پر آبی پرندے بیٹھے تھے۔ اس میدان کے اصل باسی جنگلی بھینسے تھے۔

لگ بھگ سو جنگلی بھینسوں کا ایک غول ہم سے چوتھائی میل دور کیچڑ میں موجود تھا۔ تنہا نر بھینسے میدان میں جگہ جگہ دکھائی دے رہے تھے۔ جھیل کے دوسرے کنارے پر مدھم سے دھبے دکھائی دے رہے تھے۔ یہ جنگلی بھینسوں کے مزید غول تھے جو فاصلے کی وجہ سے دھبے دکھائی دیتے تھے۔ اس وسیع میدان سے کسی قسم کی آواز نہ آ رہی تھی اور واحد آواز جو سنائی دے رہی تھی وہ آبی پرندوں کی چہکار تھی جو ہماری آمد سے خبردار ہو گئے تھے۔ ہوا بالکل رکی ہوئی تھی اور سارا ماحول انتہائی پرسکون تھا۔ سورج افق کے قریب تھا اور ہوا نسبتاً ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ بھینسوں کی تعداد سے ہمیں حیرت ہوئی اور ہم دو ہلکی دو نالی بندوقوں کی مدد سے ان کے شکار پر تیار ہو گئے۔

ابھی ہم جنگل سے چند قدم ہی نکلے ہوں گے کہ جنگلی بھینسوں کو ہماری آمد کا علم ہو گیا اور انہوں نے بے چینی دکھانا شروع کر دی اور کیچڑ میں اٹھ کر ہماری جانب حیرت سے دیکھنے لگے۔ ہمارے پیچھے جنگل تھا اور سامنے ہزار ایکڑ سے زیادہ وسیع میدان جبکہ ایک جانب جھیل تھی۔ سو ہم چھپ نہیں سکتے تھے اور ہم نے پیش قدمی جاری رکھی۔

جب ہم اس غول کے قریب پہنچے تو انہوں نے جتھے کی شکل اختیار کر لی اور ان کے سامنے ایک دیوار سی بن گئی۔ پھر اس دیوار سے سات بڑے نر آگے بڑھے اور لڑائی کے لیے تیار ہو گئے۔ اس دوران ہم دوڑتے رہے تھے، سو ہم ان سے تیس گز کے فاصلے پر جا پہنچے۔ اس پر پورے غول نے ایک ساتھ رخ موڑا اور فرار کو ترجیح دی۔ تاہم ایک بڑے بھینسے سیدھا ہماری جانب دوڑ لگائی مگر بیس گز پر اس نے موڑ کاٹا اور عین اسی وقت ہم دونوں نے ایک ایک گولی اس کے شانے میں اتار دی۔ خوش قسمتی سے اس کے شانے کی ہڈی ٹوٹ گئی اور بھینسا وہیں گرا مگر اگلے ہی لمحے اٹھا اور تین ٹانگوں پر جھیل کو بھاگا۔

عین اسی وقت قسمت نے عجیب انداز سے ہمارا ساتھ دیا۔ اس کے ساتھ والا ایک بڑا بھینسا اچانک اسی پر جھپٹا اور اس کے پہلو پر ٹکر ماری۔ زخمی بھینسا جھپاک کے ساتھ کیچڑ میں گرا۔ کیچڑ میں گرنے والے زخمی بھینسے کے لیے اٹھنا ممکن نہ رہا جبکہ دوسرا بھینسا ہلکی رفتار سے دوڑتا ہوا میدان کی دوسری جانب بھاگا۔

زخمی بھینسے کے خاتمے کے لیے ’ب‘ کو چھوڑ کر میں دوسرے بھینسے کے پیچھے لپکا۔ چونکہ اس کی رفتار تیز نہ تھی، سو میں نے سو گز پر اسے جا لیا۔ تب بھینسا مڑا اور سر اوپر کو اٹھا کر پھنکارا اور میری جانب تیزی سے چند قدم بڑھا۔ مگر جوں ہی میں نے قدم بڑھائے تو بھینسا پیچھے کو ہٹا۔

اس طرح بھینسا آگے پیچھے ہوتے ہوتے مجھے جھیل سے ایک میل دور لے گیا مگر نہ اس نے حملہ کیا اور نہ ہی مجھے قریب آنے دیا۔ اس کی بزدلی پر لعنت بھیجتے ہوئے میں نے فاصلے سے اس پر ایک گولی چلائی اور آخری گولی بھر کر اس کے پیچھے روانہ ہوا۔ میری رہنمائی کے لیے میری جہالت اور جوش کافی تھے۔

ایک جگہ جھیل ایک کھائی کی شکل میں زمین کے اندر جا رہی تھی اور بھینسے نے اسی جگہ کا رخ کیا تھا۔ میرا خیال تھا کہ میں نے اسے ایک طرح سے دیوار سے لگا دیا ہے اور میر اجوش مزید بڑھ گیا اور میں نے رفتار بڑھا دی۔ ہمارا درمیانی فاصلہ کم ہوتا گیا اور بھینسا پانی کے کنارے پہنچ کر رک گیا۔ میں اس سے تیس گز دور تھا کہ بھینسے نے پانی میں کود کر تیرنا شروع کر دیا۔ اس کا رخ دوسرے کنارے کو تھا۔ کھاڑی ساٹھ گز چوڑی تھی، سو میں نے سوچا کہ اب گولی چلانی چاہیے۔

کھاڑی کے کنارے کنارے بھاگتے ہوئے اندازے سے میں اس مقام پر پہنچا جہاں میرے خیال کے مطابق بھینسے کو پہنچنا تھا۔ جب وہاں پہنچا تو گہرے پانی سے بھینسا نکل کر اتھلے پانی میں پہنچ گیا تھا۔ یہاں بھینسا مجھ سے پندرہ گز دور کھڑا مجھے آرام سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ احمق بھینسا، اب اس کی ہلاکت یقینی ہے اور اگلے ہی لمحے اسے شکار کر چکا ہوں گا۔

میں نے اس کے سینے کا نشانہ سکون سے لیا جہاں وہ گلے سے ملتا ہے۔ جب دھواں ہٹا تو میں نے دیکھا کہ بھینسا عین اسی جگہ کھڑا ہے اور اس نے ذرا بھی حرکت نہیں کی۔ واحد فرق یہ تھا کہ پہلے اس کی آنکھوں میں بے پرواہی کا تاثر تھا مگر اب وہاں اشتعال دکھائی دے رہا تھا۔ جہاں میں نے نشانہ لیا تھا، اس سے ایک انچ سے بھی کم فاصلے پر خون کی دھار بہہ رہی تھی جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ میری گولی خطا نہیں گئی۔

گولی کا اثر نہ ہونے کی وجہ سے میں نے غصے میں بائیں نال بھی عین اسی جگہ چلا دی جہاں دائیں نال چلائی تھی۔ دھواں ہٹا تو دیکھا کہ اس کے زخم سے خون کا بہاؤ بڑھ اور آنکھوں سے جھلکنے والا اشتعال بھی بڑھ چکا ہے۔

اب میری بندوق خالی تھی اور مزید گولیاں بھی نہیں تھیں۔ اب بھینسے کی باری تھی۔ میں نے بھاگنے سے گریز کیا کہ اس طرح بھینسا بھی دوڑ پڑتا۔ ہم دونوں آمنے سامنے کھڑے ہو کر ایک دوسرے کو گھورتے رہے۔

اچانک چنگھاڑ کر بھینسے نے دوڑ لگائی۔ میں نے حرکت نہ کی تو بھینسا بھی رک گیا۔ تاہم اب ہمارا فاصلہ دس گز رہ گیا تھا۔ اب مجھے احساس ہونے لگا کہ جنگلی بھینسے کا شکار اتنا بھی آسان نہیں۔ اس وقت میں اپنی چار اونس والی رائفل حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار تھا۔ نہتا ہونے اور بھینسے کے حملے کا علم ہو جانے کے بعد میں نے اپنا شکاری چاقو ٹٹولا جو جنگلی بھینسے کے سامنے بیکار تھا۔

مجھے یہ بھی علم تھا کہ میرا بھائی ’ب‘ یہاں سے ایک میل دور ہے اور اسے میرے حال کا علم نہیں ہو گا۔ سو میں نے منہ میں انگلیاں ڈال کر زور سے طویل سیٹی بجائی۔ مجھے علم تھا کہ اگر میرے بھائی نے سیٹی سنی تو فوراً جواب آئے گا۔

خاموش قدموں اور پھنکار کے بعد جنگلی بھینسے نے دو قدم اٹھائے۔ اسے شاید میری بے بسی کا اندازہ ہو گیا تھا اور اس وقت جنگلی بھینسا اشتعال کا مجسم نمونہ بنا ہوا تھا اور اگلے کھروں سے زمین کھرچ رہا تھا۔

میں مایوس ہو گیا مگر ہرممکن طور پر غصیلی شکل بنا کر اسے دیکھتا رہا۔

مجھے اچانک ایک دلچسپ خیال سوجھا۔ آنکھیں جنگلی بھینسے پر جمائے ہوئے میں نے دائیں نالی میں دگنا باردو ڈالا اور اپنی قمیض سے دھجی پھاڑ کر بارود کے اوپر جما دی۔ پھر جیب سے تمام رقم نکالی جو چھ پینی والے سکوں کی شکل میں تین شلنگ بنتی تھی اور اس کے علاوہ دو آنے بھی موجود تھے جو میں نے قلیوں کو دینے کی نیت سے رکھے ہوئے تھے۔ بعجلت ان سب کو میں نے اپنی قمیض سے پھاڑی ہوئی ایک اور دھجی میں لپیٹا اور نال کے اندر ڈال دیا۔ عین اسی لمحے جنگلی بھینسے نے جست لگائی اور مجھے لکڑی کی سلاخ پانی میں پھینکنی پڑی اور میں نے بندوق کا گھوڑا چڑھا دیا۔ تاہم جنگلی بھینسا پھر رکا اور اب ہمارا درمیانی فاصلہ سات قدم رہ گیا تھا۔ پہلے میں خالی بندوق کے ساتھ بے بس تھا اور اب میرے پاس بھری ہوئی بندوق تھی اور اگر میں ایک فٹ کے فاصلے سے اس پر گولی چلاتا تو اسے گرا دینے کو کافی تھی۔ سو میں اسے گھورتا رہا۔

پھر مجھے اپنے پیچھے کیچڑ میں کسی کے بھاگنے کی آواز آئی۔ یہ ’ب‘ تھا جو سارا فاصلہ دوڑ کر یہاں پہنچا اور اب اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔ مجھے علم تھا کہ اس کی ایک نال بھری ہوئی ہے اور مزید کوئی گولی نہیں۔ میں نے جنگلی بھینسے سے نظر نہ ہٹائی اور ’ب‘ سے کہا کہ جب تک جنگلی بھینسا میرے انتہائی قریب نہ پہنچے، گولی نہ چلائے اور جب گولی چلائے تو جنگلی بھینسے کے سر پر چلائے۔

ابھی یہ الفاظ میرے منہ سے نکلے تھے کہ پچھلے بیس منٹ کے غصے کی وجہ سے جنگلی بھینسا سیدھا میرے اوپر آیا۔ جیسے پلک جھپکتے ہی ’ب‘ نے گولی چلائی مگر بے اثر رہی۔ جنگلی بھینسے کے دونوں سینگ جھکے ہوئے تھے اور میری بندوق کی نال بمشکل اس کی پیشانی سے لگی کہ میں نے گولی چلا دی۔ جنگلی بھینسا وہیں گرا۔ ’ب‘ اور میں سر پر پیر رکھ کر دوڑ پڑے کہ ہم جانتے تھے کہ جنگلی بھینسا مرا نہیں، محض بے ہوش ہے۔ جنگلی بھینسے سے نصف میل پر کچھ درخت گرے تھے جن کی شاخیں کافی اونچی تھیں۔ یہاں ہمیں پناہ مل سکتی تھی۔ ہمارا رخ اسی جانب تھا اور ہم جیسے اڑتے ہوئے جا رہے ہوں۔ سو گز کی دوڑ کے بعد ہم نے مڑ کر دیکھا کہ جنگلی بھینسا اپنے پیروں پر کھڑا ہو چکا تھا اور ہلکی رفتار سے ہمارا پیچھا کر رہا تھا۔ ہمیں تجربہ ہو چکا تھا کہ شکاری سے شکار بن کر کیسا محسوس ہوتا ہے۔

جنگلی بھینسے نے ہمارا تعاقب جاری رکھا مگر آخری وار کی بدولت اس کی چال کافی سست تھی۔ کچھ دیر بعد یہ چال بھی رک گئی اور جنگلی بھینسا گر گیا۔ ہم نے موقع غنیمت جانا اور سانس لینے کو رکے۔ جلد ہی جنگلی بھینسا پھر کھڑا ہو کر ہمارے پیچھے لگ گیا۔ کچھ ہی دیر میں ہم پناہ کے لیے درختوں کو پہنچ گئے اور جب اوپر چڑھے تو دو سو گز دور جنگلی بھینسا اب ہمارے لیے خطرہ نہ رہا تھا۔

پھر ہم نے جنگل میں اپنے گھوڑوں کا رخ کیا اور کسی جنگلی جانور کا سامنا کرنے کی نوبت نہ آئی۔ پھر ہم گاؤں کو پہنچ گئے جہاں رک کر ہم نے اگلی صبح اس جنگلی بھینسے سے حساب برابر کرنے کا فیصلہ کیا۔

اگر جنگلی جانور کا سامنا کرنے کے لیے انسان کے پاس ہاتھ، پیر اور دانت ہی ہوں تو انسان کے لیے بلی بھی خطرناک ہے۔ انسانی ٹانگیں نہ تو اسے کسی جنگلی جانور کے تعاقب میں فائدہ دے سکتی ہیں اور نہ ہی اس سے دور بھاگنے میں۔ اس کے ہاتھ کی طاقت میں جب تک مصنوعی ہتھیار نہ ہو، وہ بیکار ہے۔ سو اگر عقل نہ ہوتی تو انسان کبھی بھی جنگل میں بچ نہ سکتا۔ اس کا دماغ ہی اسے اشرف المخلوقات بناتا ہے۔

اس کے باوجود جب انسان کو مشتعل جنگلی بھینسے کے سامنے بھاگنا پڑے تو انسان کا مقابلہ جنگلی بھینسے سے کرنا بیکار ہے۔ ہر قدم پر جنگلی بھینسا اس کے قریب تر آ رہا ہو، سانس پھولا ہوا ہو اور ہمت جواب دینے والی ہو تو اشرف المخلوقات کا لفظ انسان کے لیے عجیب لگتا ہے۔ اُس روز بھی جنگلی بھینسے کے سامنے سے بھاگتے ہوئے ہم عجیب مخلوق دکھائی دے رہے ہوں گے۔

اگلی صبح ہم پو پھٹنے پر اٹھے اور میدانِ جنگ کا رخ کیا جہاں ہم نے جنگلی بھینسے کو پچھلی شام چھوڑا تھا۔ ہمیں پورا یقین تھا کہ جنگلی بھینسا وہیں مردہ پڑا ہو گا۔ جنگلی بھینسا ہمیں دوبارہ دکھائی نہ دیا کہ وہ فرار ہو چکا تھا۔

اب میرے پاس دو اونس والی لمبی نال والی رائفل اور چار اونس والی رائفلیں بھی موجود تھیں، سو میں نے پچھلے روز کی ذلت کا بدلہ لینے کی ٹھانی۔

صبح کا وقت تھا اور مطلع ابرآلود تھا کہ پچھلی رات کافی تیز بارش ہوئی تھی اور ہوا ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ جگہ جگہ بارش کے قطرے چمک رہے تھے اور موروں کے بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں اور جیسے فطرت کا منہ دھلا ہوا ہو۔ ہم نے اس پورے علاقے کو چھانا اور جنگلی بھینسوں کے کئی غول دیکھے اور طے کیا کہ شکار کہاں سے شروع کریں۔

ایک بڑا جنگلی بھینسا ہم سے تین سو گز کے فاصلے پر کیچڑ میں لیٹا ہمیں دکھائی نہ دیا۔ جب وہ اچانک اٹھ کر سست رفتاری سے دوڑا تو میں نے دو اونس والی لمبی نال کی رائفل آزمانے کا سوچا۔ میں نے فاصلے کا خیال نہ رکھا اور گولی جنگلی بھینسے کے اوپر سے گزر گئی۔ دھماکے سے جنگلی بھینسے نے رخ بدلا اور ہمارے اور کنارے کے درمیان سے گزرنے کی نیت سے بھاگا۔ ہم کنارے سے تین سو گز دور تھے، سو جب جنگلی بھینسا درمیان سے گزرا تو اس کا فاصلہ ڈیڑھ سو گز ہو گا۔

میں نے اپنی چار اونس والی رائفل میں ۱۲ ڈرام بارود ڈالا تھا، سو میں نے جنگلی بھینسے کے شانے کا نشانہ لے کر گولی چلائی۔ جنگلی بھینسے پر تو کوئی اثر نہ پڑا مگر گولی پانی کی سطح سے بار بار اچٹتی ہوئی دوسرے کنارے کو جا پہنچی جو یہاں سے ایک میل دور تھا۔ ہمارے ساتھ موجود شکاریوں نے کہا کہ میری گولی جنگلی بھینسے کے پیچھے سے گزری ہے مگر میں نے گولی لگنے کی ’پھٹ‘ کی آواز خود سنی تھی سو مجھے یقین تھا کہ گولی جنگلی بھینسے کو لگی ہے۔

گولی لگتے ہی جنگلی بھینسے نے راہ فرار اختیار کی اور میدان پر دو سو گز تک بلا رکے بھاگتا گیا۔ پھر اس نے اچانک رخ موڑا اور ہماری طرف دوڑا۔ جب وہ سو گز پر پہنچا تو صاف دکھائی دے رہا تھا کہ اب ہر قدم پر اس کی رفتار کم ہوتی جا رہی ہے۔ پھر وہ رک گیا۔ اس کا منہ پوری طرح کھلا ہوا تھا اور اس کے منہ سے جھاگ دار خون نکل رہا تھا۔ میری گولی اس کے پھیپھڑوں سے ہو کر دوسرے شانے سے نکلی اور پوری جھیل سے اچٹتی ہوئی دوسرے کنارے پر جا پہنچی۔ بارہ ڈرام بارود کی طاقت کا اس سے بہتر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔

میں نے گولی دوبارہ بھری اور جنگلی بھینسے کی سمت آگے بڑھا۔ پچاس گز دور پہنچ کر میں رک گیا۔ یہ جنگلی بھینسا گزشتہ رات والے بھینسے سے عین مشابہ اور اسی کی مانند مشتعل تھا۔ جھکے جھکے اس نے چند قدم اور بڑھائے اور اس کی آنکھیں ہم پر اس طرح جمی ہوئی تھیں کہ جیسے اسے ہماری شکست کا پورا یقین ہو۔

تھوڑی سی کھانسی اور اس کے منہ سے خون کا فوارہ نکلا جس سے اس کی پیش قدمی تھم گئی۔

پھر ہم نے قدم بڑھائے اور اس سے بیس گز کے فاصلے پر رک گئے۔ میں نے دیکھ لیا تھا کہ اس پچھلی گولی اس کے لیے کافی ہو چکی ہے، سو میں نے دوسری گولی نہیں چلائی۔ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ پھیپھڑے کی گولی کھانے کے بعد جنگلی بھینسا کتنی دیر زندہ رہ سکتا ہے۔ اس سے جنگلی بھینسے کے شکار میں بہت مدد مل سکتی تھی۔

میں نے کل کا بدلہ اتار دیا تھا اور مجھے چار اونس والی رائفل کی طاقت پر پورا بھروسہ ہو چکا تھا کہ اس سے سیلون میں بڑے شکار میں آسانی رہے گی۔

ہم نے بھینسے کی لاش کو الٹا تو احساس ہوا کہ جب ہم نے اس بھینسے کی طرف پیش قدمی شروع کی تھی تو اس وقت بہت دور جنگلی بھینسوں کا ایک غول موجود تھا جو اب ہم سے محض چند سو گز دور آ چکا تھا اور پورا غول ایک جتھے کی شکل میں کھڑا ہمیں دیکھ رہا تھا۔ ہم نے فوراً ان کی طرف قدم بڑھائے اور جب ہم ایک سو گز کے فاصلے پر رہ گئے تو غول سے دو بڑے نر نکل کر سامنے آئے جو پہلے بھینسے سے بھی زیادہ بھاری تھے۔ ان کے پیچھے سارا غول زمین پر کھر مار کر آوازیں دے رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان بھینسوں نے ہمارے شکار کے خون کی بو سونگھ لی تھی اور اب غصے سے پاگل ہو رہے تھے۔

ہم آگے بڑھتے رہے اور جب نوے قدم پر پہنچے تو دو سو کے قریب بھینسوں کا جتھا سیدھا ہماری جانب دوڑنے لگا۔ ان کی حرکت اتنی اچانک تھی کہ جیسے پیدل فوج کا دستہ حملہ آور ہو رہا ہو۔ زمین ان کے بھاری جثوں کے وزن سے لرز رہی تھی۔ ان کی دمیں، سر اور سینگ اوپر کو اٹھے ہوئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ہمیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی نیت سے آ رہے ہیں۔

اب ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں تھا کہ وہ بہت قریب آ چکے تھے۔ ہمارے شکاری کبھی کے چمپت ہو چکے تھے مگر میں نے دو اونس والی لمبی رائفل بردار شکاری کو پکڑے رکھا اور چار اونس والی رائفل کے ساتھ میں بھینسوں کے استقبال کے لیے تیار تھا۔

دونوں بڑے بھینسے باقی غول سے چند گز آگے تھے اور ان کے پیچھے دیگر بھینسے ایک دیوار کی مانند آ رہے تھے۔ جب یہ غول پچاس گز کے فاصلے پر پہنچا تو مجھے لگا کہ شاید ہمارا آخری وقت آن پہنچا۔ میں نے غول کی بجائے سب سے آگے والے بڑے بھینسے پر نگاہ جمائے رکھی۔ گولی کی طرح اڑتے ہوئے بھینسے تیس گز پر آن پہنچے تو میں نے چار اونس والی رائفل کے ساتھ سب سے آگے والے بھینسے پر گولی چلائی جو سر کے بل وہیں گرا۔ پھر میں نے خوف سے شل ساتھی کے ہاتھ سے دو اونس والی رائفل چھینی اور دوسرے بڑے بھینسے پر گولی چلائی۔ یہ بھینسا بھی گولی کھاتے ہی ہمارے بہت قریب آن گرا۔ اس گولی کی وجہ سے پورے غول کا راستہ بدل گیا۔ ہم سے بیس گز دور پورا غول مڑا۔ ہم فاتح تو تھے مگر انتہائی حیرت سے ان کو دور جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔ ہم نے ہلکی بندوقوں سے غول پر گولیاں چلائیں مگر بیکار گئیں۔ اس دوران ہم نے بھاری رائفلیں بھر کر گرے ہوئے دونوں بھینسوں کا رخ کیا کہ وہ ابھی تک زندہ تھے مگر ان میں حرکت کی گنجائش باقی نہ تھی اور ہم نے دو نالی بندوقوں سے ان کا خاتمہ کر دیا۔ میری دونوں گولیاں بھینسوں کو سینے اور گلے کے ملاپ پر لگی تھیں اور چار اونس والی گولی تو بھینسے کے کولہے سے نکل گئی تھی۔ کل میں نے عین اسی مقام پر گولی چلائی تھی مگر ہلکی بندوق کی گولی سے بھینسے کو کوئی فرق نہ پڑا۔

اب تک میں دو سو سے زائد جنگلی بھینسے شکار کر چکا ہوں مگر جنگلی بھینسوں کے غول کا اس طرح کا حملہ میں نے دوبارہ کبھی نہیں دیکھا۔ یہ حملہ غیر معمولی اور واحد واقعہ تھا جو جنگلی بھینسوں کے شکار کے دوران پیش آیا۔ اگر ہمارے پاس دو بھاری رائفلیں نہ ہوتیں تو ہمارے شکار کی داستان اس روز اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہوتی۔ سیلون کا یہ حصہ تب انسانی دستبرد سے بالکل محفوظ تھا اور جنگلی بھینسے بکثرت اور بالکل جنگلی تھے اور جب بھی ان پر حملہ کیا جاتا تو وہیں رک کر شکاری کا سامنا کرتے تھے۔

ہم نے دونوں بھینسوں کی زبانیں کاٹیں اور ناشتے کو لوٹے۔ جھیل کے کنارے چکر کاٹتے ہوئے اچانک ہمیں سامنے ایک بڑا جنگلی بھینسا کھڑا دکھائی دیا۔ جھیل کے کنارے جگہ جگہ کھاڑیاں سی تھیں اور ہمیں دیکھتے ہی اس بھینسے نے ایک کھاڑی میں جست لگائی اور ہمارے سامنے سے تیرتا ہوا گزرا۔ جب یہ بھینسا ہم سے سو گز دور مخالف کنارے پر چڑھا تو گولی چلانے کا عمدہ موقع ملا۔ چار اونس والی رائفل کی گولی کھاتے ہی جنگلی بھینسا گرا کہ گولی اس کے کولہے کو توڑ کر اس کے جسم میں پھیپھڑوں سے گزر کر گلے کی کھال کے نیچے جا رکی۔ مگر فوراً ہی اٹھ کر بھینسا پانی میں کودا اور کنارے سے تیس گز دور اونچی گھاس سے ڈھکے جزیرے کو تیرنے لگا۔ جزیرے کو پہنچ کر جنگلی بھینسا مڑا اور ہمیں دیکھنے لگا۔ چند لمحے بعد جنگلی بھینسا پھر گرا اور اس مرتبہ اٹھ نہ سکا۔ ہم نے رحم کھاتے ہوئے اس کے ماتھے پر گولی چلا کر اس کی تکلیف ختم کر دی۔

ہم جھیل کے کنارے سے ہٹ کر گاؤں کو روانہ ہونے والے تھے کہ دو جنگلی بھینسیں ہمارے سامنے سے اٹھیں اور جنگل کو بھاگیں۔ سو گز کے فاصلے پر ہمیں گولی چلانے کا عمدہ موقع ملا۔ چار اونس والی رائفل کی گولی لگتے ہی اگلی بھینس گری کہ گولی اس کے دونوں شانوں کو توڑتی گزری تھی۔ یہ بھینس جوان اور عمدہ حالت میں تھی۔ ہم نے اس کے گوشت کے کچھ ٹکڑے کاٹے کہ شاید منیریا میں ہمیں گوشت کی ضرورت ہو۔ پھر ہم جھیل سے ہٹ کر گاؤں کو روانہ ہوئے۔

جب ہم واپس گاؤں پہنچے تو صبح کے آٹھ بج رہے تھے اور میں نے اس دوران چار جنگلی بھینسے اور ایک بھینس شکار کیے تھے۔ اس کے علاوہ چار اونس والی رائفل کی طاقت بھی ہر طرح سے ثابت ہو گئی تھی کہ بارہ ڈرام بارود سے اس کی گولی جنگلی بھینسے کے لیے بہترین ہے۔ میں نے کئی مرتبہ سولہ ڈرام یعنی ایک اونس بارود استعمال کیا تھا مگر اس کا دھکا بہت زور کا ہوتا تھا۔ مگر ایک اونس بارود کے ساتھ فولادی نوک والی چار اونس کی گولی جنگلی بھینسے کو ہلنے نہ دیتی تھی۔

جب ہم گاؤں پہنچے تو عمدہ ناشتہ تیار تھا اور ہم نزدیکی ندی سے نہانے کے بعد جب کھانے کو بیٹھے تو ہمارے بھوک خوب چمک اٹھی تھی۔ بھینسے کا گوشت چمڑے کی مانند سخت تھا۔ جب کچھ اور کھانے کو مل جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ تاہم جنگلی بھینسے کی زبان کا ذائقہ اچھا ہے مگر اس میں نمک زیادہ ڈالنا پڑتا ہے۔

تب منیریا میں باہر سے نہ ہونے کے برابر ہی لوگ آتے تھے اور ہر قسم کی چیز سستی مل جاتی تھی۔ بڑی مرغیاں ایک پینی فی کس جبکہ دودھ کے لیے جو بھی قیمت دے دی جاتی، وہ قبول ہوتی تھی۔ اب یہ صورتحال بدل چکی ہے اور ماسوائے مچھلی کے، ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے۔

آپ کسی دیہاتی کو چھ پینس دیں تو وہ صبح سویرے جا کر جتنی کہیں، مچھلیاں پکڑ لائے گا۔ اس مقصد کے لیے مخروطی شکل کی ٹوکری استعمال ہوتی ہے جو ایک طرف آٹھ انچ جبکہ دوسری جانب دو فٹ چوڑی ہوتی ہے۔ اس کے دونوں سرے کھلے ہوتے ہیں اور دو فٹ لمبی ہوتی ہے۔

’لولا‘ نامی مچھلی سب سے زیادہ مقبول ہے جو ٹراؤٹ اور کارپ کا ملاپ دکھائی دیتی ہے۔ اس کی عادات ٹراؤٹ جیسی جبکہ شکل کارپ جیسی ہوتی ہے۔ اس کا اوسط وزن تین پاؤنڈ ہوتا ہے مگر نو یا دس پاؤنڈ وزنی بھی عام ملتی ہیں۔ اس کو کم گہرے پانی میں رہنا پسند ہے اور تہہ میں نرسل وغیرہ میں چھپنا پسند کرتی ہے۔ جب بھی گڑبڑ ہو تو یہ مچھلی ایسی جگہ چھپنے چلی جاتی ہے۔ اس عادت سے واقف شکاری ہمیشہ دو فٹ گہرے پانی میں چلتے ہیں اور ہر قدم پر اس ٹوکری کو تہہ میں ڈبوتے جاتے ہیں۔ جونہی مچھلی اس ٹوکری میں محسوس ہو تو شکاری ٹوکری کے منہ پر ہاتھ رکھ کر مچھلی کو نکال کر جھولی میں ڈالتے جاتے ہیں۔

لولا مچھلی بہت لذیذ ہے اور بام مچھلی جیسا ذائقہ ہوتا ہے۔ ایک بار میں نے مقامی شکاری کو اسی طریقے سے ایک صبح چالیس مچھلیاں پکڑتے دیکھا تھا۔

سیلون کی دیگر جھیلوں کی مانند منیریا میں بھی بہت بڑے مگرمچھ عام ہیں۔ علی الصبح اور شام کو اکثر مگرمچھ جھیل کنارے ایسے پڑے دکھائی دیتے ہیں جیسے درختوں کے تنے پڑے ہوں۔ میں نے بہت مرتبہ دیکھا ہے کہ جھیل سے چند گز کے فاصلے پر مارا گیا جنگلی بھینسا ہمیشہ رات کے دوران غائب ہو جاتا تھا اور نشانات سے پتہ چلتا تھا کہ مگرمچھ اسے گھسیٹ کر لے گئے تھے۔ مچھلی پکڑتے یا نہاتے ہوئے مقامی لوگ بھی ان کا شکار بن جاتے ہیں تاہم خشکی پر چڑھ کر انہوں نے کبھی کسی انسان پر حملہ نہیں کیا۔

مجھے یاد ہے کہ سات سال قبل سیلون کے مغربی ساحل پر مدمپی نامی مقام پر میری آمد سے ایک روز قبل ایسا واقعہ ہوا تھا۔ بہت ساری خواتین جمع ہو کر چٹائی بنانے کی خاطر نرسل کاٹ رہی تھیں جو تین فٹ گہرے پانی میں اگے ہوئے تھے۔ اچانک انہیں مگرمچھ کی دم دکھائی دی جو ان خواتین کی طرف آ رہی تھی۔ اگلے ہی لمحے مگرمچھ نے ایک عورت کو ران سے پکڑ کر بہاؤ کی مخالف سمت تیرنا شروع کر دیا۔ دیگر عورتوں نے خوف سے چیخیں ماریں اور بھاگ کر کنارے پر چڑھ گئیں۔ کچھ فاصلے پر پانی گہرا تھا اور مگرمچھ اس عورت سمیت اسی جانب جا رہا تھا اور عورت کبھی پانی کی سطح کے نیچے جاتی تو کبھی اوپر دکھائی دیتی۔ جب مگرمچھ گہرے پانی تک پہنچا تو پھر عورت کی چیخیں تھم گئیں اور پھر وہ کبھی نہ دکھائی دی۔

یہاں کے بعض مگرمچھ بیس فٹ لمبے اور آٹھ فٹ موٹائی کے حامل ہو جاتے ہیں مگر اوسط لمبائی ۱۴ فٹ ہے۔ زمین پر ان کی حرکت سست مگر پانی میں ان کی رفتار بہت تیز ہے۔ عموماً گہرے پانی میں کنارے کے قریب مگرمچھ دم سادھے شکار کی تلاش میں لیٹا رہتا ہے اور جب بے خبر ہرن یا جنگلی بھینسا پانی پینے آتا ہے تو پانی پیتی حالت میں مگرمچھ انہیں ناک سے پکڑ کر پانی میں گھسیٹ لیتا ہے اور جب جانور ڈوب کر مر جائے تو پھر سکون سے پیٹ بھرتا ہے۔

مگرمچھ کے نچلے جبڑے کے دو دانت بالائی ہونٹ سے اوپر نکلے ہوتے ہیں جو بھورے جبڑے پر سفید رنگ کی وجہ سے دور سے دکھائی دے جاتے ہیں۔ جب مگرمچھ منہ بند کرتا ہے تو اس کے دانت ایک دوسرے کے ساتھ گڑ جاتے ہیں۔

عام غلط فہمی ہے کہ مگرمچھ کی کھال اتنی سخت ہوتی ہے کہ گولی بھی اس سے لگ کر اچٹ جاتی ہے۔ مگرمچھ کی کھال سخت اور کھردری ہوتی ہے مگر عام رائفل کی گولی بھی اس سے پار ہو جاتی ہے۔ میں نے ایک بار دیکھا کہ عام شکاری چاقو مگرمچھ کی پشت کے سخت حصے میں بھی دستے تک دھنس گیا تھا۔ یہ مگرمچھ ۱۴ فٹ لمبا تھا جو میں نے کولمبو سے ۲۲ میل دور بولگڈے نامی مقام پر مارا تھا۔

ایک شخص مچھلی پکڑنے کے لیے جال بچھا کر تیرتا ہوا کنارے کو جا رہا تھا کہ مگرمچھ نے اسے پکڑ کر ڈبو دیا۔ اگلی صبح دو بھینسیں بھی اس مقام کے پاس ماری گئیں اور اندازہ یہی تھا کہ ان بھینسوں کو بھی اسی مگرمچھ نے مارا ہو گا۔ مجھے اس کی اطلاع کولمبو میں ملی اور میں فوراً گھوڑے پر سوار ہو کر بولگڈے جا پہنچا۔

بولگڈے بہت میلوں پر پھیلی جھیل ہے جس میں مگرمچھ، ویجن، ٹیل اور بطیں عام ہوتی ہیں۔

شام کو پہنچا تو مودلیر یعنی نمبردار نے مجھے وہ مقام دکھایا جہاں آدمی اور بھینسیں ماری گئی تھیں۔ ایک بھینس تو پوری کھا لی گئی تھی جبکہ دوسری کا سر غائب تھا جبکہ باقی دھڑ پانی میں تیر رہا تھا اور متعفن گوشت کی سڑاند پھیلی ہوئی تھی۔ تاریکی چھانے والی تھی، سو میں نے اگلی صبح کے لیے کشتی کا انتظام کر لیا۔

اگلی صبح پو پھٹ رہی تھی کہ میں کشتی میں سوار ہوا۔ تاہم اس میں احتیاط درکار تھی کہ یہ کشتی دو افراد کے لیے بمشکل کافی تھی۔ کشتی کیا تھی، ایک فٹ چوڑے اور چھ فٹ لمبے درخت کے تنے کو کھوکھلا کر کے کشتی سی بنا دی گئی تھی۔ اس کے ایک جانب ایک چھوٹا سا سہارا بنا ہوا تھا تاکہ کشتی الٹنے سے بچی رہے۔ تاہم جب میں بیٹھا تو پانی کشتی کے کنارے سے بمشکل ایک انچ سے بھی کم فاصلے پر تھا۔ پھر مقامی آدمی انتہائی احتیاط سے چپو چلاتا ہوا بھینس کی لاش کو بڑھا۔

جب ہم لاش سے سو گز کے فاصلے پر پہنچے تو لاش کے پاس ہمیں پانچ مگرمچھ دکھائی دیے۔ ہر مگرمچھ پانی سے محض نو انچ باہر دکھائی دے رہا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے درخت کی چھال ہو۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ مگرمچھوں کے ماتھے ہیں اور ایک مگرمچھ لاش کی طرف بڑھا۔ پھر اس کا لمبا سر اور شانے پانی سے نکلے اور اس نے اگلے پنجے کو بھینس کی لاش میں گاڑ دیا۔ تاہم لاش اس کے زور سے گھومی تو اس کا پنجہ پھسل گیا۔ مگرمچھ نے لاش کے گھومنے کے دوران ہی منہ کھول کر لاش سے گوشت کا بڑا سا لوتھڑا نوچ لیا۔ میں اب لاش سے ۳۰ گز کے فاصلے پر پہنچ گیا تھا مگر مجھے دیکھتے ہی مگرمچھوں نے پانی میں غوطہ لگایا۔

لاش کنارے سے چند ہی گز دور تھی جہاں پانی بہت گہرا مگر شفاف تھا۔ کنارے پر بہت سے بڑے درخت اگے ہوئے تھے جن کے پیچھے چھپنا آسان تھا۔ سو میں کنارے پر اترا اور کشتی کو کچھ دور بھیج دیا اور خود چھپ کر پانی کو دیکھنے لگا۔

مجھے اس مقام پر چھپے پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے کہ کنارے کے پاس ہی پانی سے ایک بہت بڑا مگرمچھ پانی سے ابھرنے لگا۔ یہ مگرمچھ اٹھارہ فٹ سے زیادہ لمبا ہو گا اور اس کا ما تھا اور آنکھیں پانی سے باہر نکلیں۔ یہ مگرمچھ بہت خوفناک لگ رہا تھا اور اس کی جسامت سے میں نے اندازہ لگایا کہ اسی مگرمچھ نے ہی حالیہ وارداتیں کی ہوں گی۔ مگرمچھ مجھ سے تین گز دور تھا اور میں کنارے پر ہی کھڑا تھا مگر اس کی آنکھوں میں کسی قسم کا خوف یا ڈر نہ دکھائی دیا اور وہ مجھے گھورتا رہا۔ اگلے لمحے میری دو اونس کی گولی اس کی آنکھوں کے عین درمیان لگی اور مگرمچھ وہیں مر گیا مگر اس نے چند مرتبہ دم پٹخی اور پانی میں جھاگ بننے لگی۔ پھر مگرمچھ الٹ کر پانی میں بتدریج ڈوبنے لگا اور آخرکار بیس فٹ نیچے اس کا سفید پیٹ رک گیا۔

مگرمچھ کو نکالنے کا کوئی ذریعہ میرے پاس نہ تھا، سو میں پھر کشتی میں بیٹھ گیا۔ ہلکی ہوا چلنے لگی جو بھینس کی لاش کو کنارے سے دور لے جانے لگی۔ میں نے اس کا پیچھا کیا اور کچھ دیر بعد لاش نرسلوں کے پاس جا کر کم گہرے پانی میں رک گئی۔ میں نے کشتی کو لاش سے چار گز کے فاصلے پر ایسے مقام پر رکوا دیا جہاں سے ہوا لاش کو جا رہی تھی تاکہ بو نہ آئے۔

یہاں رکے زیادہ دیر نہیں ہوئی کہ لاش اچانک اس طرح گھومی جیسے پانی کے اندر سے کسی نے اسے ہلایا ہو اور اگلے لمحے کشتی کے کنارے اگے سرکنڈے ایک قطار کی شکل میں ہلنے لگے جیسے مگرمچھ نیچے سے گزر رہا ہو۔

میرا مقامی ساتھی دہشت سے زرد پڑ گیا اور فوراً چپو چلا کر دور جانے لگا۔ مگر میں نے پھر اسے واپس اسی جگہ لانے کے بعد اس کے ہاتھ سے چپو لے لیا۔ کشتی کا ناخدا چپو کے بغیر انتہائی دہشت کی حالت میں کشتی پر بیٹھا تھا۔ ہم کنارے کے قریب تھے اور پانی کی گہرائی تین فٹ سے زیادہ نہ ہو گی مگر ناخدا اتنی ہمت نہ کر سکا کہ پانی میں جست لگا کر کنارے پر چڑھ جائے۔ شاید اسے مگرمچھ کی قربت نے ڈرایا ہوا تھا۔ اس نے چند مرتبہ مجھے گہرے پانی میں جانے کا اشارہ کیا اور پھر مایوس ہو کر بیٹھ گیا۔

چند ہی منٹ بعد لاش پھر ہلی اور پانی کی سطح سے مگرمچھ کا سر اور شانے ابھرے اور لاش سے چند پاؤنڈ گوشت مزید کم ہو گیا۔ اس مرتبہ اس کے سر پر گولی چلانے کا موقع نہیں تھا، سو میں نے گولی اس کے شانوں میں اتار دی اور کشتی کو فوراً کنارے کی طرف دھکیلا۔ اگر میں کشتی کو نہ دھکیلتا تو زخمی مگرمچھ کی جد و جہد کی وجہ سے کشتی الٹ جاتی۔ تڑپتا ہوا مگرمچھ نرسلوں میں جا کر نیچے بیٹھ گیا۔ میں اس کی حرکات کو بخوب دیکھ سکتا تھا۔ پھر میں نے مقامی ساتھی کو چپو پکڑایا اور اسے زبردستی مگرمچھ کا پیچھا کرنے کا کہا اور خود رائفل تانے تیار بیٹھا رہا۔

اچانک مگرمچھ کی حرکات تھم گئیں اور کشتی بھی رک گئی۔ میں نے کنارے پر جھک کر نیچے جھانکا تو ہوا کا ایک بڑا بلبلہ اوپر کو ابھر رہا تھا اور اس کے پیچھے گوشت کا ایک بڑا لوتھڑا ابھرا۔ بدبو ناقابلِ برداشت تھی مگر یہ بات واضح تھی کہ مگرمچھ بری طرح زخمی ہوا ہے ورنہ اتنا گوشت اتنی آسانی سے نہ جانے دیتا۔ میں نے چپو اٹھا کر پانی کی تہہ کو ٹٹولا کہ یہاں پانی کم گہرا تھا۔ جونہی چپو مگرمچھ کو لگا، اس نے پھر حرکت شروع کر دی۔ پھر مجھے نیچے سے مگرمچھ کے کھلے جبڑے ابھرتے دکھائی دیے جو کشتی سے دو فٹ دور تھے۔ اگلے لمحے مگرمچھ کا سر پانی سیے باہر نکلا اور عین اسی لمحے دو اونس والی گولی اس کے بھیجے میں ترازو ہو گئی۔ مگرمچھ پانی میں ڈوبا اور سرکنڈے ساکت ہو گئے۔ میں نے کشتی کنارے سے لگوائی اور مڑی ہوئی شاخ کاٹی اور مگرمچھ کی تلاش میں نکلا۔ جب مڑی ہوئی شاخ اس کے اگلے بازو میں پھنسی، میں نے مگرمچھ کو کنارے پر لے آیا۔ پھر اس کے اگلے بازو میں رسی باندھی اور کشتی کی مدد سے اسے گھسیٹ کر گاؤں کو روانہ ہو گئے۔ وزن کی وجہ سے کشتی کی سطح پانی کے تقریباً برابر تھی۔

پانی میں اس کا وزن نہ ہونے کے برابر محسوس ہوتا تھا مگر جب ہم گاؤں پہنچے تو بیس افراد مل کر اسے بمشکل خشکی پر لا سکے۔ یہ مگرمچھ چودہ فٹ لمبا تھا اور جونہی خشکی پر پہنچا تو مقامی افراد کلہاڑیوں اور چاقوؤں سے اس کی تکابوٹی کرنے لگے۔ مگرمچھ کے کئی ٹکڑے ان لوگوں نے پانی میں پھینکے تو دیگر مگرمچھ انہیں کھانے پہنچ گئے۔ مگرمچھ کے حصوں کو دیگر مگرمچھوں کو کھاتے دیکھ کر ان لوگوں کو تسلی مل رہی تھی۔

ایک بڑی کشتی لے کر میں نے بندوق اٹھائی اور بہت ساری بطیں اور ٹیل مارنے کے بعد ناشتے کو لوٹا۔ ذائقے اور چربی کے حوالے سے سیلون کی بطیں برطانوی بطوں سے کسی طور کم نہیں۔

٭٭

باب ۴

 

سیلون میں شکار کے حوالے سے ذاتی آرام سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ معتدل علاقوں کے برعکس منطقہ باردہ کے جنگلات میں جنگلی جانوروں کا تعاقب بہت تھکا دیتا ہے۔ سورج کی تیز دھوپ، دلدلی علاقوں کا حبس، حشرات وغیرہ کا مسلسل تنگ کرنا وغیرہ ایسی باتیں ہیں جن سے بچاؤ کا مناسب انتظام ہو تو انسان شکار سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ میں نے سفر کے لیے ہر قسم کا ذریعہ آزمایا ہوا ہے سو مجھے ہر مقام پر اچھے شکار کے ساتھ ساتھ آرام اور سہولت بھی مہیا رہتی ہے۔

اچھا خیمہ جس میں پانی نہ داخل ہو سکے مگر اتنا ہلکا ہو کہ دو آدمی اٹھا سکیں، لازمی ہے۔ میرا خیمہ چھتری کے اصول پر بنا ہے جو پندرہ فٹ گولائی رکھتا ہے اور اس میں تین آدمی سہولت سے رہ سکتے ہیں۔ گول میز دو حصوں پر مشتمل ہے اور خیمے کے ستون کے گرد لگ جاتی ہے۔ تین تہہ دار کرسیاں بھی ہیں اور خیمے کی دیواروں کے ساتھ تین بستر بھی لگ جاتے ہیں۔ بستروں کے نیچے کپڑوں کے صندوق وغیرہ آ جاتے ہیں اور ڈریسنگ ٹیبل اور بندوقوں کی الماری سے سارا انتظام بہترین دکھائی دیتا ہے۔

خیمے کے بعد دوسری اہم ترین چیز کینٹین ہے۔ میری کینٹین جاپانی جست سے بنی ہے اور اس میں تین افراد کے لیے مکمل ناشتہ اور دوپہر کا کھانا سما جاتا ہے۔ دو آدمی اسے بانس پر لٹکا کر اٹھاتے ہیں۔

کپڑوں کے صندوق جست کے بنے ہوں ورنہ دیمک انہیں کچھ ہی دنوں میں ہڑپ کر جائے گی۔

کھانے پینے کے برتن کافی تعداد میں ہوں، لالٹین، کلہاڑی، داؤ (مڑا ہوا چاقو)، آگ جلانے کا سامان، ماچس، موم بتیاں، تیل، چائے، کافی، چینی، بسکٹ، وائن، برانڈی اور چٹنیاں وغیرہ کافی مقدار میں ہوں۔ کچھ ہیم (سور کی پکی ہوئی ران)، ڈبہ بند گوشت اور شوربے وغیرہ بھی لازمی ساتھ رکھنے چاہئیں۔

ایک بار میں نے انتہائی کم ساز و سامان کے ساتھ سفر کرنے کا سوچا اور اپنے ہمراہ ہتھیار، کپڑے، بسکٹ کا ڈبہ اور برانڈی کی چند بوتلیں رکھیں اور بستر، تکیے، خیمے اور کرسیاں گھر پر ہی چھوڑ دیں۔ میرا ملازم بہت متوحش ہوا مگر تب میں جوان تھا اور شکار کا شوق سبھی مادی ضروریات پر بھاری تھا۔ کھانے کے لیے مجھے ہر چیز شکار کرنی تھی اور پکانے کے لیے ایک جالی اور ایک دیگچی تھی۔ ہم مقامی جھونپڑوں میں ننگی زمین پر سوتے اور کھانا زمین پر آلتی پالتی مار کر کھاتے تھے۔ تھالی کی جگہ کسی درخت کا بڑا پتہ اور پانی کی خاطر ناریل کا سخت چھلکا۔ چھری کاٹنے کا کام میرا شکاری چاقو کرتا تھا اور میں نے ’ب‘ کے ساتھ مل کر ایک بڑے علاقے میں شکار کیا اور اس سے زیادہ لطف مجھے آج تک نہ مل سکا۔

اس موقع پر میں نارلینڈ کے پاس ایک علاقے میں شکار کھیل رہا تھا جو کینڈی سے تیس میل دور ہے۔ سفر کے پہلے روز ہم دو بجے ایک بستی پہنچے تو اپنے ہتھیار چوکی پر رکھ کر قریبی دریا پر نہانے چلے گئے۔

ہم نے نہا کر کپڑے پہنے ہی تھے کہ ایک مقامی آدمی بھاگتا ہوا آیا کہ کچھ ہاتھی اس کی فصل اجاڑ رہے ہیں۔ باجرے کی ایک قسم کی یہ فصل ان لوگوں کی واحد خوراک ہے۔

ہم نے فوراً اپنے ہتھیار منگوائے۔ چوکی کا نگہبان اچھا کھوجی تھا اور خار دار جھاڑیوں والے جنگل میں پگڈنڈی پر چند منٹ کے سفر کے بعد ہم مزروعہ زمین کو پہنچ گئے۔ درختوں پر چوکیداری کے لیے بنائے گئے جھونپڑوں پر بہت سے لوگ موجود تھے جو کافی شور کر رہے تھے۔ ان لوگوں کے شور سے ڈر کر ہاتھی جنگل میں چھپ گئے تھے۔

اس سارے علاقے کے جنگل کو وقفے وقفے سے کاٹ کر اس پر فصل اگائی جاتی تھی۔ زمین اتنی بیکار تھی کہ ایک فصل اگنے کے بعد اسے خالی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ ایسی زمین پر خار دار جھاڑیوں کا جنگل تھا جس سے گزرنا انسانی بس سے باہر تھا۔ اسے مقامی زبان میں ’چینہ جنگل‘ کہتے تھے۔ ہاتھی اور دیگر جنگلی جانور اسے بہت پسند کرتے تھے کہ اس میں انسان ان کا پیچھا نہیں کر سکتا۔

ایسی پناہ گاہوں سے رات کو ہاتھی نکل کر فصلوں پر شب خون مارتے تھے۔ یہ فصل دو فٹ اونچی تھی اور اس کا ذائقہ میٹھا تھا۔ ہاتھی اسے اتنا پسند کرتے ہیں کہ دور افتادہ کھیتوں میں دن کے وقت بھی پہنچ جاتے ہیں۔ مقامی افراد ہوائی گولیاں چلا کر اور شور مچا کر انہیں بھگاتے اور چند ہی منٹ بعد ہاتھی لوٹ آتے تھے۔

ہاتھیوں کے بڑا گروہ تھوڑی ہی دیر میں پورے کھیت کی فصل کا ستیاناس کر سکتا ہے۔

اس مرتبہ تباہی پھیلانے والے تین ہاتھی تھے جن میں سے ایک نر، ایک مادہ اور ایک ان کا بچہ تھا جو ’پونچی‘ کہلاتا ہے۔ جب ہم کھیت میں داخل ہوئے تو جنگل میں کچھ ہی دور ہمیں شاخیں ٹوٹنے کی آوازیں تو آئیں مگر جنگل اتنا گھنا تھا کہ ہم کچھ نہ دیکھ سکے۔ اس جنگل میں ہاتھیوں کے نقش قدم پر بھی چلنا ممکن نہیں ہوتا۔ ہم نے کچھ دیر انتظار کیا کہ ہاتھی لوٹیں مگر انہیں شاید خطرے کا احساس ہو گیا تھا اور وہ ہوا کی سمت چل رہے تھے تاکہ تعاقب کا اندازہ کر سکیں۔

خیر، ہم نے ہمت نہ ہاری اور ہاتھیوں کا پیچھا کرنا شروع کیا۔ خار دار جھاڑیاں اتنی گھنی تھیں کہ جیسے ایک ہی جھاڑی ہو۔ جلد ہی ہمیں گھٹنوں کے بل چلنا پڑا اور رائفلیں بھی اٹھائے رکھنی تھیں کہ آواز نہ پیدا ہو۔ میں سب سے آگے تھا اور مجھے چند فٹ دور ہاتھیوں کے کانوں کی حرکت سے ٹہنیاں ہلنے کی آواز سنائی دے رہی تھی مگر ان کے جسم کا ایک انچ بھی دکھائی نہ دیا۔ پھر ہمیں ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی کہ ہاتھیوں نے ہماری بو سونگھ لی تھی۔ پھر ان کے چلنے کی آواز آئی۔

پہلے پہل تو یہ بتانا ممکن نہیں ہوتا کہ آیا ہاتھی آپ کی طرف آ رہا ہے یا آپ سے دور بھاگ رہا ہے۔ یہ کیفیت بہت ہیجان انگیز ہوتی ہے کہ عموماً چینہ جنگل میں درخت نہیں ہوتے اور جنگل اتنا گھنا ہوتا ہے کہ انسان کے فرار کی راہ بھی نہیں ہوتی۔ اگر ہاتھی شکاری کی طرف بھاگے تو شکاری کی ہلاکت تقریباً یقینی ہوتی ہے۔

چند لمحے بعد ہمیں یقین ہو گیا کہ ہاتھی ہم سے مخالف سمت کو فرار ہوئے ہیں۔ سو ہم بھی ان کے پیچھے پوری رفتار سے بھاگے کہ ہاتھیوں کے فرار کا راستہ سا بنا ہوا تھا۔ مگر یہ کام آسان نہ تھا کہ جنگل کے درخت بے شک گرے تھے مگر ان کے کانٹے اور لٹکی ہوئی بیلیں وغیرہ ہمارا راستہ روکتی رہیں اور چند ہی منٹوں میں ہمارے کپڑے لیر لیر ہو گئے اور ہمارے جسم سے خون کی لکیریں بہنے لگیں۔ اس جنگل میں تھوہر کے پودے بھی کافی تھے جو بیس فٹ تک اونچے تھے اور ہاتھی انہیں گرا کر کچلتے ہوئے گئے۔ کچھ دور جا کر یہ رکاوٹیں ختم ہو گئیں اور ہم نے رفتار بڑھا دی اور ہر کچھ دیر بعد ہاتھیوں کے فرار کی آواز سننے کو رکتے تھے۔

ہمیں پتہ چل گیا کہ یہاں سے ہاتھی الگ ہو گئے تھے۔ نر نے ایک سمت جبکہ مادہ نے اپنے نوعمر بچے کے ساتھ دوسری سمت اختیار کی۔ ہم نے مادہ اور بچے کا پیچھا شروع کیا۔ ہماری رفتار کافی تیز تھی کہ ہاتھی ہم سے کافی آگے اور تیزی سے دوڑ رہے تھے۔ نصف گھنٹے تک ہم نے رفتار برقرار رکھی اور پھر ہمیں دو سو گز دور ہمیں ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی جس سے ہمیں پتہ چل گیا کہ ہاتھی بہت محتاط ہو چکے ہیں اور ہماری پیش قدمی شاید بیکار جائے کہ وہ ہوا کی سمت جا رہے تھے۔

ہماری واحد امید ہماری رفتار تھی، سو ہم نے مزید رفتار بڑھا دی اور تیزی سے راستہ بناتے آگے کو بڑھتے رہے۔ مزید نصف گھنٹے بعد تک ہاتھیوں کی طرف خاموشی رہی۔ ہم سانس لینے کو رکے اور آواز سننے لگے۔ اچانک کافی دور ہمیں ہاتھیوں کے فرار کی آواز سنائی دی کہ وہ ہماری بو سونگھ چکے تھے۔ اب تعاقب بے سود دکھائی دے رہا تھا کہ ہم ایک گھنٹے سے جان توڑ رفتار سے شدید گرمی میں ناقابلِ عبور جنگل میں بھاگ رہے تھے۔ خیر، ہم نے فیصلہ کیا کہ جب تک دن کی روشنی ہو، ہم تعاقب جاری رکھیں گے۔ اس وقت شام کے پانچ بج رہے تھے اور ایک گھنٹہ روشنی باقی تھی۔ ہوا یکسر تھم گئی جس کی وجہ سے حبس اور بھی ناقابلِ برداشت ہو چلا تھا۔ ہم نے اس وقت دیکھا کہ اب ہاتھیوں کے نقشِ قدم آگے کی بجائے پیچھے کو مڑ گئے ہیں۔ ہمیں یقین ہو گیا کہ اب ہاتھی ہماری بو نہیں سونگھ سکتے، سو ہم پھر دوڑے۔

اندھیرے سے نصف گھنٹہ قبل ہمارا صبر اور ہمت، دونوں ہی جواب دینے والے تھے کہ سو گز دور ہمیں ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی۔ اسے آخری موقع سمجھ کر ہم نے رفتار بڑھا دی۔

دو گھنٹے گھنے اور اونچے جنگل میں بھاگنے کے بعد ہم اچانک کھلے میں پہنچ گئے جہاں چینہ کے درختوں کی اونچائی پانچ فٹ سے زیادہ نہ تھی۔ تاہم یہ درخت اتنے گھنے تھے کہ ہمارے لیے واحد امید ہاتھیوں کی گزرگاہ تھی۔

جب ہم یہاں پہنچے تو چالیس گز دور مجھے ہتھنی بھاگتی ہوئی دکھائی دی۔ میرے پاس دو نالی ہلکی رائفل تھی، سو ہتھنی کو روکنے کی خاطر میں نے بعجلت اس کے کان پر گولی چلا دی۔ ہتھنی کا تعاقب اتنی دور سے ہو رہا تھا کہ وہ اب لڑائی پر آمادہ ہو گئی۔ اس کی رفتار کم ہوئی تو میں چند ہی لمحوں میں اس کی دم کے قریب پہنچ گیا۔ ہتھنی اس گھنے جنگل میں آسانی سے راستہ بناتی جا رہی تھی مگر میں اس کے پیچھے ہی رہنے پر مجبور تھا۔ کچھ دیر بعد میں نے مجبوری میں ہتھنی کی دم کے نیچے گولی چلائی جس کا رخ اوپر کی جانب تھا۔ مجھے توقع تھی کہ ہتھنی کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہو گی۔

بارود کا دھواں نال کے سامنے چھا گیا اور میں نے خالی رائفل ایک طرف پھینکی اور دوسری رائفل کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ جونہی دوسری رائفل میرے ہاتھ میں آئی، ہتھنی کا سر دھوئیں سے نکلتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کے کان جسم سے چپکے ہوئے تھے۔ میں نے گھوڑا چڑھایا اور دو اونس والی رائفل سے نشانہ لے کر گولی چلا دی۔ ایک بار پھر دھوئیں کا بادل چھا گیا مگر گولی چلاتے ہی مجھے یقین ہو گیا تھا کہ ہتھنی مر جائے گی۔ جب دھواں چھٹا تو دیکھا کہ مجھ سے چھ فٹ دور ہتھنی مردہ پڑی تھی۔ میری گولی ہتھنی کے ماتھے کے عین وسط میں لگی تھی اور ’ب‘ نے بھی عین اسی لمحے گولی چلائی تھی جس کی آواز میری گولی کے ساتھ مل گئی تھی۔ اس کی گولی میری گولی سے تین انچ کے فاصلے پر ہتھنی کے ماتھے میں لگی تھی۔ اگر ہمارا نشانہ خطا جاتا تو یہ میرا آخری شکار ہوتا۔

ہمارا شکار کامیاب رہا اور کئی میل کے سفر کے بعد قسمت نے ہمارا ساتھ دیا اور ہوا تھم گئی۔ ہوا کے رکتے ہی ہتھنی نے واپس جوار کے اسی کھیت کی جانب رخ کیا جہاں وہ ہمیں پہلے ملی تھی۔ یہ مقام ہماری رہائش سے تین میل دور تھا اور کھوجی اس سے بخوبی واقف تھے اور چند منٹ میں ہم سڑک پر پہنچ گئے۔

پونچی اور نر ہاتھی دونوں الگ ہو گئے تھے سو وہ بچ کر نکل گئے۔

گھنے جنگل میں سب سے بڑا مسئلہ پہلی نال کے دھوئیں کا ہوتا ہے جو گھنے جنگل کی وجہ سے غائب ہونے میں وقت لگاتا ہے اور دوسری نال سے درست نشانہ لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ مرطوب موسم میں یہ مسئلہ اور بھی گھمبیر ہو جاتا ہے۔

مجھے ذاتی طور پر ایسے گھنے جنگل میں شکار کا شوق نہیں اور کم ہی ایسا شکار کرتا ہوں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے رات کے اندھیرے میں جانور کو ٹٹول کر شکار کیا جائے۔ دوسرا خار دار گھنے جنگل سے گزرنا اپنی جگہ ایک عذاب ہے۔

ہم چوکی لوٹ کر کھانا کھانے کے بعد سونے کی تیاری کرنے لگے۔ رات بہت خاموش تھی اور ہوا بھی نہیں چل رہی تھی۔ تھکے ہارے قلی اور ملازمین سو رہے تھے۔ لالٹین جل رہا تھا اور ہم لیٹ رہے تھے کہ اچانک ایک عجیب اور غیر انسانی چیخ سنائی دی۔ اگلے لمحے دروازے سے ایک ہیولہ داخل ہوا۔ یہ ہیولہ سیاہ رنگ کا اور یکسر برہنہ تھا۔ اس کی آدھی کٹی زبان باہر لٹک رہی تھی، لال انگارہ آنکھیں جن میں عجیب سا تاثر تھا، حلقوں سے ابلی ہوئی تھیں۔ اس کے ہاتھ پھیلے ہوئے تھے اور پھر اس نے ایک اور غیر انسانی چیخ ماری اور گر گیا۔

چوکی کا نگران اور دیگر قلی وغیرہ جمع ہو گئے تھے اور سب بیک زبان کہنے لگے کہ اس آدمی پر شیطان سوار ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس بیچارے کو مرگی کا دورہ پڑا تھا اور ہاتھ یا پیر ہلائے بغیر وہ اس طرح تڑپ رہا تھا جیسے پانی سے نکلنے کے بعد مچھلی تڑپتی ہے۔ میرے پاس کوئی دوائی یا ٹوٹکا نہ تھا کہ جس سے مدد کر پاتا، سو میں نے یہ آدمی نگران کے حوالے کر دیا۔ نگران بد روحوں کو بھگانے کا ماہر ہونے کا دعویٰ کرتا تھا مگر اس کے منتر بیکار رہے۔ اچانک یہ آدمی اٹھا اور اسی طرح چیختا ہوا خار دار جنگل کو بھاگا۔ آج تک اس آدمی کی کوئی خبر نہیں مل سکی۔

سنہالی لوگ بد روحوں پر پورا اعتقاد رکھتے ہیں۔ ان کا ایک فرقہ تو ہے ہی شیطان کا پجاری۔ تاہم ان کی اکثریت بدھ مت کو مانتی ہے۔ اس قوم میں مشنریوں کو بہت دقت ہوتی ہے۔ سنہالی قوم کا کوئی کردار نہیں: یہ لوگ بدعقیدہ، مکار، دھوکے باز اور انتہائی بزدل ہیں۔ ہر قسم کی توہم پرستی ان میں عام ہے اور کسی خدا پر ان کا ایمان نہیں۔ اگر بدھ مت کے ماننے والا سنہالی عیسائی بنے تو وہ اسی صورت میں ہمارے خدا سے دعا مانگے گا اگر اسے کسی قسم کا فائدہ ملنے کی توقع ہو۔ ورنہ وہ یہی دعا مہاتما بدھ سے یا شیطان سے بھی مانگنے سے گریز نہیں کرے گا۔

ایک مرتبہ میں نے بدھ مت کے سنہالیوں کے عیسائی بننے کا واقعہ دیکھا تھا جو کسی بھی مشنری کا دل توڑنے کو کافی تھا۔

سیلون کے دور افتادہ علاقے میں ایک بہت محنتی مشنری نے بہت سارے آدمی عیسائی بنا لیے اور پھر اس نے وہاں ایک رومن کیتھولک چرچ بھی بنایا۔ ایک مرتبہ وہ چند ہفتے کے لیے کسی کام سے دوسرے ضلع گیا۔ نئے عیسائیوں نے مسیحی عقیدے کے تحت اپنی عبادت جاری رکھی اور ساتھ ہی اس میں کچھ جدتیں بھی پیدا کیں اور لوٹنے پر ان جدتوں کو دیکھ کر مشنری کے ہوش اڑ گئے۔

چرچ میں عبادت کے مقام پر یسوع مسیح کی تصویر، مقدس کنواری مریم کی تصویر وغیرہ تو عیسائی روایات کا جزو لاینفک ہیں ہی مگر انہوں نے مہاتما بدھ کی بھی تین تصویریں، رنگین پلاسٹر آف پیرس سے بنی ملکہ برطانیہ اور پرنس البرٹ کی تصویریں اور ایک انتہائی قابلِ اعتراض تصویر بھی ساتھ لٹکا رکھی تھی۔ میرے خیال میں بدھ مت کے ماننے والے جب ابھی سکول میں ہی ہوں تو ان کی عیسائی عقائد کے مطابق تربیت ہونی چاہیے۔ بالغان کا مذہب تبدیل کرنے کا خیال بیکار ہے۔

٭٭٭

باب ۵

 

دو اونس والی رائفل کا نپل ٹوٹ گیا تو میں اسے لے کر ٹرنکومالی آیا جو میرے مجوزہ راستے سے ستر میل ہٹ کر ہے۔ شکاری علاقے میں شکاری کی پسندیدہ رائفل کا اس طرح خراب ہو جانا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ خیر میرے پاس نیا نپل تھا، سو میں نے پرانا نکلوا کر نیا لگوا لیا۔ شکار پر جاتے ہوئے ہمیشہ ہر نالی کا اضافی نپل اور مین سپرنگ لے جانا چاہیے۔

ٹرنکومالی سے واپسی پر کنڈیلی سے گزرتے ہوئے میں اسی جھیل پر دوبارہ آیا۔ یہ جگہ منیریا سے کافی مشابہت رکھتی ہے مگر یہاں شکاریوں کی کثرت کی وجہ سے شکار کا مزہ نہیں رہا تھا۔ جنگلی بھینسے بھی کافی بزدل تھے اور تین سو گز سے بھی زیادہ فاصلے سے بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔ میں ناخوش ہو کر جھیل سے روانہ ہونے ہی لگا تھا کہ مجھے نصف میل دور گھٹنے گھٹنے تک جھیل کے پانی میں کھڑے تین بھینسے دکھائی دیے۔ اتنے فاصلے سے ان کی جسامت عام کتے کے برابر لگ رہی تھی۔

پانی کی سطح پر گولی چلانے کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ گولی نشانے پر گئی یا اگر خطا ہوئی تو کتنے فاصلے سے خطا ہوئی۔ میں نے ویسے بھی شام کو صفائی کی خاطر بھری ہوئی رائفلوں کو چلانا تو تھا ہی، سو میں نے ان کی طاقت کا امتحان لینے کا سوچا۔

دو اونس والی لمبی رائفل کی گولی کی سیدھ تو ٹھیک تھی مگر وہ بھینسوں سے پہلے ہی گر گئی۔ پھر میں نے ایک آدمی کے کندھے پر چار اونس والی رائفل رکھ کر سب سے دور والے نشانے کی پتی اٹھائی اور آگے والے بھینسے کے گلے کا نشانہ لیا۔ چونکہ بھینسے چل رہے تھے، سو میں نے اس کا بھی خیال رکھا۔ گولی چلتے ہی اس آدمی کے کان کا پردہ پھٹ گیا کہ رائفل میں سولہ ڈرام بارود تھا۔

ہم نے پانی کی سطح پر گزرتی ہوئی گولی کی تلاش جاری رکھی اور پورے تین ثانیے گزرنے پر اگلا بھینسا اچانک اپنے گھٹنوں کے بل گرا اور اسی حالت میں رہا۔ کئی ثانیوں کے بعد ہمیں گولی لگنے کی مدھم آواز آئی۔ یہ کہنا تو ممکن نہیں کہ یہ فاصلہ چھ سو گز تھا، آٹھ سو گز یا اس سے بھی زیادہ۔ چونکہ یہ سارا راستہ پانی گہرا نہیں تھا، سو ہم گھوڑوں پر سوار ہو کر اس جانب چلے۔ اس کے قریب پہنچ کر میں نے اس کے سر میں گولی اتار کر اس کی تکلیف دور کر دی اور پھر اس کی لاش کا معائنہ کیا۔ رائفل کی گولی دونوں کولہوں کو توڑتی ہوئی پار ہو گئی تھی۔ اسی وجہ سے جب بھینسا گرا تو دوبارہ نہ اٹھ سکا۔

واپسی پر ہمیں کنارے تک کا سفر نصف میل لگا اور میں حیران ہوا کہ اس فاصلے پر بھی گولی جنگلی بھینسے کے دونوں کولہوں کو توڑ کر پار ہوئی تھی۔

تاہم یہ محض اتفاقی نشانہ تھا جو کامیاب رہا۔ میں نے اس سے قبل یا اس کے بعد کبھی اتنے فاصلے سے کامیاب گولی نہیں چلائی۔ اگر کوئی آدمی اس پر یقین نہ کرے تو میں مجبور نہیں کروں گا کہ چھ سو گز سے زیادہ فاصلے پر میں نے پھر کبھی کامیاب گولی نہیں چلائی۔ تاہم یہ گولی مخروطی نہیں بلکہ گول شکل کی تھی۔ تین اونس کی پٹی والی گولی دو قعر والی نال کے لیے بنائی جاتی ہے۔ مخروطی گولی چار اونس سے کچھ زیادہ وزنی ہوتی ہے۔

اس رائفل کی دور مار سے مجھے ایک ہاتھی کا واقعہ یاد آیا جو میں نے ٹوپاری جھیل پر دیکھا تھا۔ یہ ہاتھی بدمعاش مشہور تھا اور یہ جھیل سیلون کی دیگر جھیلوں اور تالابوں کی مانند پختہ بنائی گئی تھی۔ سیلون میں زمانہ قدیم میں انسانوں نے سخت محنت کر کے دریاؤں پر بند باندھے اور ان کا رخ موڑ کر آبی ذخائر بنائے جو چاول کی کاشت کے لیے زمین سیراب کرتے تھے۔ یہ نسل بہت پہلے صفحہ ہستی سے مٹ چکی مگر ان کے بنائے ہوئے پختہ آبی ذخائر ابھی تک موجود ہیں۔ عجیب بات دیکھیے کہ ان لوگوں کے بنائے آبی ذخائر کے علاوہ ان کے شہروں کے کھنڈرات بھی موجود ہیں مگر یہ لوگ خود کہاں گئے، اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔ ایسا ہی ایک شہر پولاناروا کے نام سے مشہور ہے جو ٹوپاری کے دیہات سے نصف میل دور ہے۔ یہاں دریا پر باندھا گیا بند دو میل طویل ہے اور پختہ اینٹوں اور پتھروں سے بنایا گیا ہے۔ جب جھیل میں پانی بھرتا ہے تو اس کا قطر آٹھ میل تک پھیل جاتا ہے۔

جب میں گاؤں پہنچا تو ملازم نے مجھ سے گھوڑا لیا اور اسے پانی پلانے جھیل پر لے گیا۔ تاہم چند لمحے بعد وہ دوڑتا ہوا لوٹا اور بولا کہ جھیل کے دوسرے کنارے پر دو میل دور ایک بدمعاش ہاتھی موجود ہے۔

میں نے فوراً رائفلیں سنبھالیں اور اس کے ساتھ چل پڑا۔ راستہ اس عظیم بند کے اوپری کنارے سے ہو کر جاتا تھا اور کاز وے (اضافی پانی کے بہاؤ کا راستہ) پر جنگل اگا ہوا تھا۔ کاز وے کی چوڑائی ساٹھ گز اور لمبائی دو میل تھی۔ پانی اس سے بیس فٹ نیچے تھا۔ مخالف کنارے پر میدان تھا جس میں کھلا جنگل، کھاڑیاں اور گھاس بھی جگہ جگہ دکھائی دے رہی تھیں۔

میں اس کاز وے پر بڑھتا رہا اور تیزی سے چلتے ہوئے جھیل کے دوسرے سرے پر جا پہنچا۔ یہ عظیم بند ابھی اور کافی آگے تک جا رہا تھا۔ اس لمبائی اور کاز وے کی اونچائی سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ماضی میں یہ جھیل کہیں بڑی رہی ہو گی۔

بند کے کنارے پر لگے پتھروں کی مدد سے میں نیچے اتر کر میدان میں گھسا اور پانی کے قریب رہتے ہوئے ایسے مقام سے گزرا جہاں خشک زمین پانی کے اندر تک گئی ہوئی تھی۔ یہاں درخت بھی تھے۔ مجھے ہاتھی کے مقام کا علم تھا اور یہ بھی کہ اب وہ مجھ سے زیادہ دور نہیں ہو گا۔ میں جنگل سے محتاط ہو کر گزرا کہ شاید ہاتھی ابھی یہاں سے گزرنے والا ہو گا۔ تاہم ہاتھی ابھی تک پانی میں کھڑا تھا اور مجھ سے اس کا فاصلہ تین سو قدم ہو گا۔ کنارے سے بھی اس کا فاصلہ ۱۲۰ گز سے کم نہ تھا۔ اس ہاتھی کی جسامت بہت بڑی تھی اور جھیل کے بدمعاش ہاتھی کا عمدہ نمونہ تھا۔ یہ ہاتھی کبھی اپنی جھیل سے زیادہ دور نہیں جاتے بلکہ کئی کئی برس تک جھیل کے کنارے ایک مخصوص علاقے تک ہی محدود رہتے ہیں۔ دو ملازموں کے علاوہ میرے پاس کوئی اور نہ تھا اور ملازم اس ہاتھی کے شکار کے لیے بیکار تھے۔ سو میں نے منصوبہ بنایا۔

میں جہاں درختوں کی پٹی میں کھڑا تھا، ہاتھی کے قریب ترین چھپنے کی وہی محفوظ جگہ تھی جبکہ اصل جنگل جھیل سے چوتھائی میل دور تھا۔ اگر مجھے ہاتھی سے بچنے کے لیے بھاگنا پڑتا تو یہی فاصلہ اہم تھا۔ پانی کے کنارے سے ڈیڑھ سو قدم پر املی کا ایک بڑا درخت اگا تھا جو میرے اور ہاتھی کے عین درمیان تھا۔ اس کے تنے پر کافی اونچائی تک مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ شاید ہاتھی غسل سے فارغ ہو کر یہاں اپنا جسم رگڑتا تھا۔

یہ سوچ کر میں نے اپنے ملازمین سے بندوقیں لے کر انہیں کسی مضبوط درخت پر چڑھ کر بیٹھنے کو کہا۔ خطرے کی صورت میں انہوں نے ویسے بھی فرار ہو جانا تھا اور بھاگتے ہوئے بندوقیں بھی ساتھ لے جاتے۔ پھر میں نے جنگل کے بالکل کنارے پر ایک بڑے درخت کے ساتھ اپنی دو اونس والی رائفل کو ٹکایا اور باقی دو رائفلوں کے ساتھ چھپتا چھپاتا پانی کو چلا۔ ایک بندوق میں نے مندرجہ بالا املی کے بڑے درخت کے ساتھ رکھ دی۔ اس طرح فرار کے لیے میرے پاس دو مناسب جگہیں تھیں۔

املی کے درخت تک کا سفر کافی مشکل تھا مگر ہوا میرے موافق اور سورج میری پشت پر چمک رہا تھا۔

ہاتھی اب میرے مخالف سمت منہ کیے کھڑا اور سر کو ہلا رہا تھا۔ میں نے چار اونس والی رائفل کے ساتھ املی کے درخت سے پیش قدمی شروع کی اور عین ہاتھی کی طرف بڑھا۔ گھاس چھدری اور نرم تھی اور میں آرام سے بغیر آہٹ پیدا کیے آگے بڑھتا رہا۔ واحد خطرہ یہ تھا کہ ہاتھی سر گھماتے ہوئے کہیں مجھے دیکھ نہ لے۔ اس خطرے سے بچنے کے لیے میں مسلسل آڑا ترچھا چل رہا تھا۔ جلد ہی میں جھیل کے کنارے اور ہاتھی سے ۱۲۰ گز دور پہنچ گیا۔ یہاں پہنچ کر میں نے ہاتھی کو دیکھا تو اس کی جناتی جسامت واضح تھی۔ ایسے ہاتھی بہت بدمعاش ہوتے ہیں۔ جب میں نے یہاں سے مڑ کر املی کے درخت اور جنگل کو دیکھا تو فاصلہ بہت زیادہ محسوس ہوا۔ ویسے بھی واپسی کا سارا راستہ ہلکی چڑھائی تھی۔ پہلے میں نے سوچا تھا کہ میں کنارے پر پہنچ کر چلاؤں گا اور جب ہاتھی مڑے گا تو اس کے ماتھے میں گولی اتار دوں گا۔ اب محسوس ہوا کہ اگر مجھے دوڑنا پڑا تو یہ فاصلہ بہت زیادہ ہو جائے گا۔

ہاتھی کا سر مسلسل ہل رہا تھا اور میں بھی اسی مناسبت سے اپنا مقام بدلتا رہا تھا۔ ایک مرتبہ اس کا سر مڑا تو کان کے پیچھے تھالی کے برابر سفید داغ دکھائی دیا۔ دائیں کان کے پیچھے اس مقام پر گولی چلائی جائے تو مہلک ثابت ہوتی ہے۔ میں نے اسی نشان پر گولی چلانے کا فیصلہ کیا اور اگر ہاتھی نہ بھی مرتا تو بھی میرے پاس اتنا وقت ہوتا کہ میں املی کے درخت تک پہنچ کر دوسری رائفل اٹھا لیتا۔

ہاتھی کی ساری توجہ کنول کے پودوں سے پیٹ بھرنے پر مرکوز تھی۔ اس نے بہت ساری بیلیں اکھاڑیں اور انہیں کھانے لگا۔ ایک بار پھر اس کا سر ہلا اور کان پھڑپھڑائے اور نشانہ لینے سے قبل ہی کان واپس اپنی جگہ لوٹ آیا۔ ایسا کئی مرتبہ ہوا مگر میں نے صبر سے انتظار جاری رکھا۔ میرا ارادہ تھا کہ گولی چلاتے ہی میں دوڑ لگا دوں گا۔

ایک مرتبہ پھر اس کا سر ہلا اور میں نے رائفل اٹھائی کہ شاید موقع مل جائے۔ اس کے کان پھڑپھڑائے اور سر بالکل درست مقام پر پہنچا۔ جب میں نے شست باندھی تو رائفل کی سفید مکھی عین اسی نشان پر چمک رہی تھی۔ گولی چلتے ہی دھپ کی آواز آئی۔

ہاتھی وہیں گھٹنوں کے بل گر گیا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر اعتبار نہ آیا۔ اتنے طویل فاصلے سے اور اتنا بڑا جانور محض ایک گولی لگتے ہی کچی دیوار کی مانند گر جائے؟ مجھے اپنے پیچھے ملازمین کے چلانے کی آواز آئی۔ مڑ کر دیکھا تو میرے بندوق بردار ملازمین خوشی سے میری جانب دوڑتے آ رہے تھے۔ کچھ دیر قبل یہی دو آدمی اس بات پر پریشان تھے کہ اکیلا شکاری ایک نالی رائفل کے ساتھ کھلے میدان میں جھیل کے بدمعاش ہاتھی کے شکار پر آمادہ ہے۔ اب یہی آدمی خوشی خوشی جھیل میں گھس کر ہاتھی کی دم کاٹنے کو چل پڑے۔ میں اس جھیل میں مگرمچھوں کی وجہ سے کسی قیمت پر نہ گھستا۔ واپسی پر انہوں نے بتایا کہ گولی اسی سفید نشان کے عین وسط میں لگی تھی۔ واپسی پر وہ ہاتھی کی دم اپنے ساتھ لائے تھے۔

اس کے بعد بھی میں نے بہت مرتبہ طویل فاصلے سے گولی چلائی ہے مگر ایک بار کامیاب ہوا۔ یہ ہاتھی فوراً نہیں مرا بلکہ اس کی لاش اگلے روز دیہاتیوں نے تلاش کی تھی۔ اس روز میں نے ۵۶ سنائپ اور کافی بطیں بھی شکار کیں۔ اُن دنوں یہ شکار کی جنت تھی کہ یہاں مجھ سے قبل کوئی شکاری نہیں آیا تھا۔ تاہم اب یہ جگہ بھی شکار سے خالی ہو چکی ہے۔

جھیل کے قریب کھلے جنگل میں ہرنوں کی بہتات تھی۔ گھاس کے میدانوں میں جگہ جگہ سایہ دار درخت اگے ہوئے تھے اور ہرنوں کا پسندیدہ مقام تھا۔

انہی قطعوں میں گھومتے ہوئے ایک روز مجھے پولانروا کے کھنڈرات دکھائی دیے۔ محلات کی جگہ اب تراشیدہ پتھروں کے بے ہنگم ڈھیر موجود تھے۔ علیحدہ علیحدہ پتھروں سے کاٹے گئے بارہ بارہ فٹ اونچے ستون کئی میل تک پھیلے ہوئے تھے۔ ان ستونوں کا کام عمارات کو سہارا دینا تھا جو کب کی گر چکی تھیں۔ اب ان ستونوں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے قبروں کے کتبے ہوں۔ بعض عمارات ابھی تک موجود تھیں اور ان میں دو ایسے معبد بھی تھے جو بڑے پتھروں کو کاٹ کر بنائے گئے تھے اور ان پر سفید پلستر چڑھا ہوا تھا اور ان کی عجیب عجیب انداز سے سجاوٹ کی گئی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے انڈے کی شکل کے پتھر کو کاٹ کر ہموار سطح کو زمین پر رکھ دیا گیا ہو۔ ان کے پلستر تو کب کے اتر چکے تھے اور جگہ جگہ گھاس اور جنگل اگ آیا تھا۔ بڑا معبد تو سو فٹ سے بھی زیادہ اونچا تھا۔

ایک دلچسپ استوپ ایسا تھا جو ٹھوس چٹان کو کاٹ کر بنایا گیا اور بہترین حالت میں موجود تھا۔ مقامی لوگ اس میں عبادت کرنے آتے تھے اور ایک پجاری بھی یہاں متعین تھا۔ مہاتما بدھ کے تین مجسمے بھی موجود تھے جو ۵۶ فٹ لمبے اور ایک ہی پتھر سے کاٹے گئے تھے۔

انہی کھنڈرات میں گھومتے ہوئے مجھے ستونوں کے درمیان ایک جگہ مادہ چیتل دکھائی دی۔ میں اس سے بیس گز کے فاصلے پر تھا کہ اسے میری موجودگی کا علم ہوا۔ میں نے دو نالی بندوق سے اسے شکار کر لیا۔ کارتوس چلتے ہی میری نظروں سے اوجھل تیس چیتل جو قریب ہی تھے، بھاگے تو میں نے دوسری نال سے ایک اور مادہ چیتل شکار کر لی۔

یہ سارا علاقہ زمانہ قدیم میں گنجان آباد تھا اور شاید آبادی کی کثرت سے ہی وبا کا شکار ہوا ہو گا۔ یہ کھنڈرات کم از کم بھی ۶۰۰ سال سے غیرآباد ہیں جبکہ ان کا قیام شاید ۳۰۰ قبل مسیح میں ہوا تھا۔ اناراج پور کے کھنڈرات ۱۶ میل چوڑے اور ۱۶ میل لمبے ہیں اور ان کا کل رقبہ ۲۵۶ مربع میل بنتا ہے۔ پولانارو کے کھنڈرات اس سے کہیں چھوٹے ہیں مگر ان کا طول و عرض بھی بہت زیادہ ہے۔

ٹوپاری کے دیہاتی اس علاقے کے قدیم باشندوں کی نسل اور انتہائی غلیظ انسان ہیں۔ ان کے اخلاق اور ان کی عادات اسی طرح انحطاط پذیر ہوئی ہیں جیسے اس علاقے کے کھنڈرات۔ سیلون سے کم گنجان آباد ملک مشکل سے ہی ملتا ہے مگر یہاں جگہ جگہ ماضی کی عظیم الشان تہذیب اور قوم کے نشانات ہیں۔ آج جہاں بھی جھیل یا بڑے آبی ذخائر ملتے ہیں، وہاں کوئی نہ کوئی عظیم الشان شہر موجود تھا۔ کئی کئی ماہ خشک سالی کا سامنا کرنے والے ممالک پانی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں ورنہ زراعت ممکن نہیں۔ ان جھیلوں اور تالابوں کی تعمیر کے پیچھے بھی یہی وجہ کارفرما ہے۔ یہ تالاب اور جھیلیں تمانکاڈوا کے ضلع میں بہت زیادہ ملتے ہیں۔ ان علاقوں میں شکار کی کثرت ہے اور جنگلی بطیں، سنائپ (نومبر سے مئی) بھی عام ملتے ہیں۔ خشک سالی میں سبھی جنگلی جانور پانی کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں۔

ٹوپاری سے اگلی جھیل ڈولانا میں ہے جو آٹھ میل دور ہے۔ اس کا رقبہ بھی ٹوپاری جتنا ہی ہے۔ ضلع میں اس جسامت کی آٹھ مختلف جھیلیں موجود ہیں۔ ان جھیلوں کی وجہ سے بدمعاش ہاتھی بھی عام ہیں کہ سیلون میں جنگلی ہاتھی عام ہیں۔ اسی وجہ سے میں ان ہاتھیوں کے کچھ چنیدہ واقعات پیش کرتا ہوں جن کی مدد سے آپ کو بدمعاش ہاتھیوں کی عادات کے بارے میں بہتر معلوم ہو سکے گا۔

میں ۵ اپریل ۱۸۴۷ کو ڈولانا پہنچا اور میرے ہمراہ دو اچھے کھوجی بھی تھے جو ہاتھی پکڑنے کا کام جانتے تھے۔ ان کی مدد سے میں اور میرا بھائی ’ب‘ شکار کو نکلے۔ ضلع کے اس علاقے میں ایک خاص قوم آباد ہے جو بہت عمدہ نسل ہے اور سنہالیوں سے بدرجہا بہتر۔ میرے کھوجی بھی اسی نسل کے آدمی تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عرب سے آئی نسل ہے اور مسلمان ہیں۔ علاقے کا نمبردار راتمہاتمیا ڈولانا میں رہائش پذیر تھا اور اس نے ہمیں خلوص سے خوش آمدید کہا۔ سو ہم اس کے گھر گئے۔

گاؤں کے سامنے کم بلند گھنے جنگل کی پٹی تھی اور ہم جھیل کے کنارے میدان سے گزرے۔ اس جھیل کی لمبائی تین میل اور چوڑائی ایک میل سے کم تھی۔ مخالف کنارے پر پانی کے کنارے تک آیا عمدہ جنگل تھا۔ ظاہر ہے کہ بارشوں کے موسم میں یہاں سیلاب آ جاتا ہو گا۔ اس وقت مٹی نرم اور کیچڑ نما تھی۔

اُس دور میں یہاں شکاری نہیں آتے تھے، سو ہمیں دلچسپ منظر دکھائی دیا۔ ہمارے سامنے جھیل میں کم از کم تیرہ عدد بدمعاش ہاتھی موجود تھے۔ ایک ہاتھی ہم سے چوتھائی میل دور تھا تو دوسرا اتنا دور کہ بمشکل دکھائی دے رہا تھا۔ ایک ہاتھی مخالف کنارے پر تھا۔ یہ سبھی نر اور اکیلے ہاتھی تھے۔ ایک جگہ دو ہاتھی ایک ساتھ دکھائی دیے جو پہلو بہ پہلو تھے اور ان کی جسامت دیگر بدمعاش ہاتھیوں سے بھی زیادہ بڑی تھی اور رنگ ساگوان کی طرح سیاہ۔ یہ دونوں ہاتھی جھیل کے عین درمیان میں تھے۔ دیہاتیوں نے فوراً بتایا کہ یہ دونوں ہاتھی علاقے ہمیشہ ایک ساتھ ہوتے ہیں اور پورے علاقے کے لیے دہشت بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان ہاتھیوں کے بارے میں کافی دہشتناک کہانیاں بھی سنائیں مگر ہم نے کان نہ دھرے۔

ہم کشتی میں سوار ہو کر دوسرے کنارے پر گئے جہاں کیچڑ میں ہاتھیوں کے پیروں کے اتنے نشانات تھے کہ کھوج کا کام بہت مشکل ہو گیا کہ سبھی تازہ تھے۔ آخرکار ہم نے دو ہاتھیوں کے نشانات پر چلنا شروع کیا۔ کافی دیر بعد ہمیں دور سے ایک ٹہنی ٹوٹنے کی آواز آئی اور جلد ہی ہم ان ہاتھیوں تک پہنچ گئے۔ مگر ہاتھی ہماری بو سونگھ کر چلنے ہی والے تھے۔ میں نے ایک ہاتھی کی کنپٹی پر گولی چلائی اور یہ ہاتھی دوسرے سے الگ ہو گیا۔ ہم پوری رفتار سے اس کے پیچھے دوڑے۔ تاہم یہ دوڑ کچھ دور تک ہی ہو سکی کہ کیچڑ بہت گہرا ہو گیا اور ہر قدم پر ہم کئی انچ کیچڑ میں دھنس جاتے۔

ہاتھی ہم سے دور ہوتے گئے اور ہمارے کھوجی جنہیں ہاتھیوں کے شکار کے بارے میں کچھ علم نہ تھا، وہ ان کے پیچھے دوڑے اور جلد ہی ہاتھی اور کھوجی، دونوں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ ہم نے پیش قدمی جاری رکھی اور پھر اچانک ایک گولی کی آواز سنائی دی۔ پھر کھوجی چلائے اور ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی۔ پھر ایک گولی چلی، پھر دوسری اور پھر کئی گولیاں چلیں اور پھر کھوجی شور مچانے لگے۔ کھوجیوں نے ہماری اضافی بندوقیں چلا دی تھیں۔

چند لمحے بعد ہم ان تک پہنچ گئے۔ خوبصورت کھلے میدان اور عمدہ زمین پر کھوجیوں نے ایک بدمعاش ہاتھی سے مقابلہ شروع کر دیا تھا۔ ہاتھی کسی ایک آدمی کا رخ کرتا تو دوسرے اس کے پیچھے گولیاں چلاتے اور شور مچاتے۔ جب ہاتھی ان کی طرف مڑتا تو باقی آدمی یہی کام کرتے۔ جونہی ہم پہنچے تو ہاتھی نے ب کا رخ کیا اور حملہ آور ہو گیا۔ اس دوران ب کو گولی چلانے کا عمدہ موقع ملا اور اس نے ہاتھی وہیں گرا لیا۔

گولیاں چلنے سے جنگل میں ہاتھیوں کا جھنڈ پریشان ہو گیا اور انہوں نے بڑا دریا تیر کر عبور کیا مگر اس وقت پانی اتنا زیادہ تھا کہ ہم عبور کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔ اس لیے ہم جنگل کے کنارے کو گئے جہاں جھیل کا پانی درختوں کی جڑوں تک پہنچ گیا تھا اور یہاں سے ہم جھیل کا کافی بڑا حصہ دیکھ سکتے تھے۔

کچھ دیر قبل ہم نے جو آوارہ ہاتھی دیکھے، وہ سب جنگل میں گھس گئے تھے۔ صرف وہ دو ہاتھی جو ایک ساتھ تھے، ابھی تک پانی میں کھڑے تھے اور انہیں گولی چلنے کی آواز سے بھی کوئی فرق نہ پڑا تھا کہ وہ بہت نڈر تھے۔ میں نے سوچا کہ ان پر گھات لگانی چاہیے۔ دونوں ہاتھی پیٹ تک گہرے پانی میں کنارے سے چوتھائی میل دور کھڑے تھے۔ سوال یہ تھا کہ اب ان کے قریب کیسے پہنچا جائے۔ دیگر ہاتھیوں کی جنگل واپسی سے میں نے سوچا کہ ان ہاتھیوں کو بھی کسی طرح سے واپس جنگل بھیجا جائے اور وہاں جنگل کنارے ان کا سامنا کیا جائے۔

ہمارے بائیں جانب کچھ دور لمبا مگر کم گہرا پانی کا تالاب تھا جو جھیل کے اندر تک پھیل گیا تھا۔ اس جگہ گھٹنے گھٹنے پانی میں چلتے ہوئے آدمی ہاتھیوں سے دو سو گز کے فاصلے پر ہاتھیوں کے برابر پہنچ سکتا تھا۔ پھر میں نے اپنے ایک ساتھی کو بندوق دے کر ہدایت کی کہ وہ اسی کم گہرے پانی کے انتہائی سرے پر جا کر سرکنڈوں میں چھپنے کے بعد ہاتھیوں پر گولی چلائے۔ اس طرح ہاتھی شاید جنگل کا رخ کرتے جہاں ان سے مڈبھیڑ ہو سکتی تھی۔

مقامی آدمی میری بات پر فوراً عمل کرنے کو تیار ہو گیا اور اسے دو نالی بندوق اور کچھ بارود اور گولیاں دے کر روانہ کرنے کے بعد ہم بے چینی سے اسے جاتا دیکھنے لگے۔ ہاتھی پکڑنے والے آدمی بہت پر جوش ہو گئے۔ پندرہ منٹ بعد کہ ہمیں سرکنڈوں کے اوپر سفید رنگ کے دھوئیں کا مرغولہ دکھائی دیا۔ چند لمحے بعد دھماکہ سنائی دیا اور ہاتھیوں کے قریب گولی گرتی دکھائی دی۔ ہاتھیوں نے فوراً کان اپنے جسم کے ساتھ لگائے اور سونڈ اونچی کر کے دشمن کی بو سونگھنے کی کوشش کرنے لگے۔ چند منٹ بعد وہ پھر کنول کے پودوں کو کھانے لگے۔ ایک مرتبہ پھر گولی چلی اور ہاتھیوں نے پھر دشمن کی بو سونگھنے کی کوشش کی اور اس دوران دو اور گولیاں چلیں اور ہاتھیوں نے کنارے کا رخ کیا۔

ہم اطمینان ہوا مگر ہاتھی پکڑنے والوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ وہ جھیل کے کنارے پانی سے بچتے ہوئے درختوں کی جڑوں پر پھدکتے ہوئے کیچڑ سے بچ کر دوڑے جبکہ میں ہر قدم پر ایک فٹ گہرے کیچڑ میں دھنس جاتا تھا۔ نو سٹون وزنی آدمی کے لیے اس کیچڑ پر بھاگنا آسان تھا مگر میرا وزن بارہ سٹون تھا اور میری دو اونس والی سولہ پاؤنڈ وزنی رائفل اور گولہ بارود ڈیڑھ پاؤنڈ کا اضافی وزن ہو جاتا تھا۔ جلد ہی یہ لوگ ہماری اضافی رائفلوں کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہو گئے اور محض اکیس پاؤنڈ وزنی چار اونس والی رائفل اٹھائے آدمی ہمارے ساتھ رہ گیا۔

ہمیں اس بات پر بھی غصہ تھا کہ یہ آدمی بغیر سوچے ہماری اضافی بندوقیں اپنے ساتھ لے کر دور چلے گئے تھے۔ مجھے یقین تھا کہ یہ آدمی ہاتھیوں کے فرار کے مقام سے آگے نکل چکے ہوں گے کہ ہاتھی اگر ہمارے اندازے کے مطابق لوٹتے تو ہمارے ابتدائی مقام سے تین سو گز کے فاصلے پر سے گزرتے۔

پھسلتے، کیچڑ میں دھنستے، کافی کوشش کے بعد ہم لوگ اچانک رک گئے۔ اس جگہ گہرا کیچڑ اور گھاس تھی جس کے چاروں جانب گھنا جنگل تھا۔ جنگل کیا تھا، کانٹوں بھرے درختوں کا ایک جال سا تھا۔ یہ جنگل کچھ اس نوعیت کا تھا کہ اس میں ہاتھی بھی گھسنا پسند نہ کرتے۔ انسان کے لیے تو کوئی امکان ہی نہ تھا کہ اس میں گھس سکتا۔

ٹخنوں تک کیچڑ میں دھنسے ہوئے ہم ایک کھلی جگہ پہنچے جو تیس فٹ لمبی اور بیس فٹ چوڑی تھی۔ اس کے گرد ناقابلِ عبور جنگل تھا۔ جھیل ہمارے بائیں جانب پچاس گز دور اور جنگل کے پیچھے تھی۔ بندوق بردار ہم سے آگے کہیں پہنچے ہوئے تھے۔ ہم یہاں پہنچ کر رک گئے۔ میں اپنی رائفل کی ٹیک لگا کر جھیل والی سمت کے جنگل کے کنارے سے چار فٹ دور تھا۔ میں نے ب سے کہا، ’کھوجی بالکل غلط اور بہت دور جا چکے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہاتھی اسی جگہ کے آس پاس سے گزرے گا‘۔

میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہاتھی عین اسی وقت ہم سے چند فٹ دور تھے۔ ب میرے پیچھے اور مخالف سمت جنگل سے سات گز دور کھڑا تھا۔

مجھے اچانک چار فٹ دور ایک ٹہنی ٹوٹنے کی آواز سنائی دی اور اسی وقت جنگل کی دیوار جیسے آگے کو جھک کر پھٹی اور مشتعل ہاتھی کا سر دکھائی دیا اور اس کی اٹھی ہوئی سونڈ حملے کی علامت تھی اور وہ سیدھا مجھ پر آ رہا تھا۔

مجھے گھوڑا چڑھا کر رائفل اٹھانے میں جتنا وقت لگا، ہاتھی رائفل کی نال برابر فاصلے پر پہنچ چکا تھا۔ مجھے علم تھا کہ میری گولی بیکار جائے گی کہ ہاتھی کی سونڈ اٹھی ہوئی تھی۔ ب نے بھی عین اسی وقت دائیں نال چلائی مگر ہاتھی پر اثر نہ پڑا۔ گولی چلاتے ہی میں نے ایک طرف چھلانگ لگائی اور گہرے کیچڑ میں بھاگنے کی کوشش کرنے لگا تاہم لمبی گھاس میرے پیروں کو جکڑنے لگی اور اگلے لمحے میں ہاتھی کے راستے سے ایک فٹ کی دوری پر منہ کے بل گرا۔ سنسنی کے اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ کسی وقت بھی ہاتھی کا پیر میری ہڈیوں کو کچلنے کے لیے مجھ پر آئے گا۔ عین اسی لمحے ب کی رائفل کی دوسری نال چلی۔ مجھے اپنی ایڑی پر نرم اسفنج نما کوئی چیز محسوس ہوئی اور میں نے فوراً قلا بازی کھائی اور کھڑے ہو کر دیکھا کہ ہاتھی کی سونڈ میری ایڑی پر لگی تھی۔ ب کی آخری گولی نے میرے سر پر پہنچے ہاتھی کو گرا دیا تھا۔ میں چند قدم اٹھا کر ایک طرف ہوا۔ تاہم ہاتھی ابھی تک زندہ تھا اور میں نے رائفل بردار سے چار اونس والی رائفل چھینی اور اگلی گولی نے ہاتھی کا بھیجا اڑا دیا۔

آخری گولی چلاتے ہوئے میری کمر جنگل کو چھو رہی تھی کہ مجھے اپنے عقب میں دوسرے مشتعل ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی اور ہاتھی کا اگلا پیر جنگل سے نکلتا دکھائی دیا۔ میں نے اپنے عقب میں جنگل پر پورا زور لگایا اور جونہی میں ہٹا تو ہاتھی کا اگلا پیر میرے پیر سے ایک انچ دور زمین سے لگا۔ اس کا سر میرے اوپر سے ہو کرب کی جانب بڑھا جس کی رائفل اب خالی ہو چکی تھی۔ میں نے اپنی چار اونس والی رائفل کی نال اوپر کی جانب کر کے ہاتھی کے گلے پر گولی چلائی۔ مجھے یقین تھا کہ ہاتھی گولی کھا کر میرے اوپر گرے گا اور میں کچلا جاؤں گا۔ مگر ب کی جان بچانے کا یہی واحد راستہ تھا۔

گولی چلتے ہی گہرا دھواں چھا گیا اور ایک لمحے کو ہر چیز دھوئیں میں چھپ گئی۔ گولی چلاتے ہی میں ایک طرف ہو گیا تھا۔ ہاتھی گرا نہیں مگر گولی اس کی شہ رگ کے پار ہو چکی تھی۔ گولی لگتے ہی ہاتھی ایک لمحے کو رکا اور پھر ب کی جانب بڑھا اور اس کی شہ رگ سے خون کا جیسے پرنالہ بہہ رہا ہو۔ اب ہاتھی کی چال میں لڑکھڑاہٹ پیدا ہو چکی تھی۔ ب پھرتی سے ایک طرف ہو گیا اور ہاتھی لڑکھڑاتا ہوا جنگل میں غائب ہو گیا۔ ہم نے رائفلیں بھریں۔ اس دوران پہلا ہاتھی مر چکا تھا۔ ہم دوسرے ہاتھی کے پیچھے لپکے۔ دور سے ہمیں گولیاں چلنے کی آواز آئی۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ بندوق بردار نے جب پاس سے گزرتے ہوئے زخمی ہاتھی کو دیکھا تو اس پر گولیاں چلا دیں۔ ان کا خیال تھا کہ ہاتھی شدید زخمی ہو چکا تھا اور دریا کے دوسرے کنارے پر گرا ہو گا۔ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ دریا اتنا بپھرا ہوا تھا کہ اسے عبور کرنا ہمارے بس کی بات نہیں تھی۔ چند دن بعد جب پانی کچھ اترا تو ہاتھی عین اسی جگہ مرا ہوا ملا جہاں ہمارے بندوق برداروں نے کہا تھا۔

اس طرح ان دو بدمعاش ہاتھیوں کا خاتمہ ہوا اور جیسا کہ ان کے بارے میں بتایا گیا تھا، ویسے ہی بدمعاش ثابت ہوئے اور گھنے جنگل میں لگ بھگ ہماری موت بننے والے تھے۔ اس طرح ہم نے صبح سویرے تین بدمعاش ہاتھی ہلاک کیے اور خوش خوش واپس لوٹے۔

تب سے میں نے بہت سے بدمعاش ہاتھیوں کو شکار کر کے اس علاقے میں ان کی تعداد کم کر دی ہے۔ میں نے ان کے شکار کے لیے بہترین منصوبہ بنا لیا تھا۔ میں ہمیشہ ایک یا دو بندوق برداروں کے ساتھ جاتا اور جنگل کے کنارے ان ہاتھیوں کے پیٹ بھرنے اور واپس لوٹنے کا انتظار کرتا۔ پھر اسی مناسبت سے ان پر گھات لگاتا اور قبل اس کے کہ ہاتھی میری موجودگی بھانپتے، میں ان کو شکار کر لیتا تھا۔ ان بدمعاش ہاتھیوں کے شکار کا یہ طریقہ بہترین تو تھا مگر خطرناک بھی۔ ایک مرتبہ میں ایسی ہی جگہ پر ہاتھی کا شکار ہوتے ہوتے بچا کہ یہ ہاتھی ہمیشہ بہت وحشی ہوتے ہیں۔ تب خشک سالی کی وجہ سے جھیل میں کافی کم پانی تھا اور جنگل سے ایک سو گز دور جا کر پانی شروع ہوتا تھا اور یہ سارا حصہ کیچڑ اور سڑتی ہوئی نباتات سے بھرا ہوا تھا۔ سورج کی گرمی سے اس کیچڑ کی بالائی سطح سخت مگر نیچے نرم کیچڑ ہوتا تھا۔ اس سخت سطح پر بہت احتیاط سے چلنا پڑتا تھا۔ اگر یہ بالائی سخت سطح ٹوٹتی تو انسان سیدھا کمر تک کیچڑ میں دھنس سکتا تھا۔ تاہم ہاتھی اس کیچڑ میں بہت مزے سے گزرتے تھے۔ یہ کیچڑ ان کے جسم پر موٹی تہہ کی شکل میں جم کر انہیں مچھروں وغیرہ سے بچاتا تھا۔ ہاتھیوں کو مچھروں سے بہت چڑ ہوتی ہے مگر ان سے جان چھڑانے کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔

اس روز میں شام کو چار بجے جنگل کے کنارے ہاتھیوں کی آمد کا منتظر تھا کہ ایک بہت بڑا ہاتھی جنگل سے نکل کر کیچڑ میں چلتا جھیل کی سمت جاتا دکھائی دیا۔ ہوا کا رخ موافق تھا، سو میں نے اس کا پیچھا شروع کر دیا۔

درختوں کے پیچھے چھپتے چھپاتے اپنے دو بندوق برداروں کے ساتھ میں جنگل کے کنارے عین اسی جگہ پہنچ گیا جہاں سے ہاتھی نمودار ہوا تھا۔

میں اس مقام پر ہاتھی سے اسی گز دور تھا اور ہاتھی کا رخ جھیل کی طرف اور کولہے میری سمت تھے۔ گہری کیچڑ میں اس کے قدموں کے نشانات پانچ پانچ فٹ دور تھے کہ اس کی جسامت اور قدم کی طوالت بہت بڑی تھی۔ اس مقام پر کیچڑ کم از کم بھی ساڑھے تین فٹ گہرا تھا۔ ہاتھی کے پیٹ اور کیچڑ کے درمیان بھی دو فٹ کا فاصلہ تھا۔ یہ بہت عمدہ ہاتھی تھا اور میں نے انتہائی محتاط انداز سے کیچڑ پر بنی ہوئی پتلی تہہ پر چلتے ہوئے ہاتھی کا رخ کیا۔ راستے میں دو مرتبہ میں یہ سوچنے کو رکا کہ آیا پیش قدمی جاری رکھنا عقلمندی ہو گی کہ جھیل کے قریب کیچڑ پر بنی ہوئی خشک تہہ بتدریج پتلی ہوتی جا رہی تھی۔

میرے سامنے کھڑا ہاتھی کیچڑ میں کھیلتے ہوئے کافی شور کر رہا تھا۔ اس طرح مجھے عمدہ موقع ملا کہ میں اس کے قریب سے قریب تر ہوتا جاؤں۔

جب میں ہاتھی سے آٹھ گز دور پہنچا تو اسی وقت ہاتھی نے اپنی پشت پر کیچڑ پھینکا جو میرے اردگرد گرا۔ میرے ہاتھ میں دو نالی ہلکی بندوق تھی سو میں نے ہاتھ پیچھے کو کیا تاکہ یہ بندوق دے کر چار اونس والی رائفل لوں۔ اس طرح میرا وزن تھوڑا سا بڑھا مگر نتیجتاً کیچڑ کی خشک تہہ ٹوٹ گئی اور میں پلک جھپکتے میں کمر تک کیچڑ میں دھنس گیا۔ میرے گرنے کی آواز سے خبردار ہو کر ہاتھی نے فوراً میری جانب دیکھا اور چنگھاڑتے ہوئے سیدھا میری جانب بڑھا۔ اس کے کان جسم سے چپکے ہوئے، دم اٹھی ہوئی اور وہ سر جھکا میری جانب بڑھا۔ شکر ہے کہ اس نے دیگر ہاتھیوں کی مانند سر اٹھا کر حملہ نہ کیا ورنہ سر پر گولی چلانا ایک طرح سے بیکار ہو جاتا ہے۔ شاید اسے میرا آدھا دھڑ دیکھ کر میری جسامت کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہو گی۔

مجھے لگا کہ میرا وقت آن پہنچا ہے کہ میں کیچڑ میں حرکت کرنے سے قاصر تھا۔ اس کے علاوہ رائفل کی صاف ستھری سرمئی نال کی بجائے میرے ہاتھ میں کیچڑ سے لتھڑی ہوئی رائفل تھی جس سے کیچڑ چادر کی صورت میں لٹک رہا تھا۔ شست باندھنا ممکن نہ تھا کہ دیدبان پر کیچڑ کی موٹی تہہ تھی۔ مجھے پورا یقین تھا کہ گولی نہیں چلے گی۔ میں نے اندازے سے نشانہ لے کر پھسلتی لبلبی دبائی تو ہاتھی پانچ گز دور تھا۔ نہ صرف گولی چلی بلکہ ہاتھی وہیں کیچڑ میں گر گیا۔ اگر گولی نہ چلتی یا خطا جاتی تو کیچڑ میں میرے لیے حرکت نا ممکن تھی اور میں مارا جاتا۔ ہاتھی کی موت کے بعد میں اپنے بندوق برداروں کی مدد سے بمشکل کیچڑ سے نکلا۔

ہاتھی، جنگلی بھینسے اور سور کو کیچڑ میں لوٹنیاں لگانے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ بھینسا رانوں تک گہرے کیچڑ میں بہ آسانی دوڑتا ہے جبکہ سوار کے بغیر گھوڑا بھی ایسی جگہ تیزی سے نہ چل پائے گا۔ ہاتھی بھی گہرے کیچڑ میں انتہائی آسانی سے پیش قدمی کرتے ہیں کہ ان کی ٹانگوں کی ساخت ان کی مدد کرتی ہے۔

بدمعاش ہاتھیوں کے شکار میں اسی وجہ سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ خطرناک جگہوں پر ملتے ہیں۔ مسطح اور ہموار مقام پر انسان کی رفتار کافی ہوتی ہے مگر کٹے پھٹے، دشوار اور گھاس سے بھرے مقام پر چلنا بھی انسان کے لیے دشوار ہو جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جو زمین ہاتھی کے لیے مسطح اور ہموار ہو، وہ انسان کے لیے ایسی ہوتی ہے جیسے ہل چلا ہوا کھیت ہو۔ اس طرح فرار کا امکان تبھی بچتا ہے جب کوئی مناسب درخت قریب ہی موجود ہو کہ جس کے پیچھے چھپ کر بچ سکے۔ ایسی جگہوں پر انسان پوری رفتار سے نہیں بھاگ سکتا کہ پتھروں اور مٹی کے ڈھیلوں کی وجہ سے انسان بار بار گرتا ہے۔ جب ہاتھی پیچھے لگا ہو اور انسان کو جان بچانے کے لیے بار بار مڑ کر دیکھتے ہوئے بھاگنا پڑے تو پتھر، ٹہنیاں، گھاس اور اونچ نیچ انسان کے لیے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔

فرار ہوتے ہوئے جنگلی جانور کے آگے بھاگنے میں بھی پورا ہنر چاہیے۔ آپ کو انتہائی تحمل مزاج اور ذہنی طور پر پختہ ہونا چاہیے کہ اس کے بغیر انسان جس خطرے سے بھاگ رہا ہوتا ہے، عین اسی کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ میجر ہیڈک چند برس قبل سیلون میں اسی وجہ سے موت کا شکار ہوا۔ اس نے ایک بدمعاش ہاتھی پر گھات لگائی تو ہاتھی اس پر حملہ آور ہو گیا۔ اس نے رائفل کی دونوں نالیاں چلائیں مگر ہاتھی گرانے میں ناکام رہا۔ پھر اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور ایک بڑے درخت کے پیچھے پہنچ کر دوسری جانب پہنچا تاکہ ہاتھی اسے دیکھے بغیر گزر جائے۔ بدقسمتی سے درخت کے پیچھے جاتے ہوئے اس نے مڑ کر نہیں دیکھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ جب وہ درخت کی دوسری جانب پہنچا تو ہاتھی عین اسی جانب سے گزر رہا تھا۔ ہاتھی نے اسے وہیں کچل کر ہلاک کر دیا۔

مسٹر والیٹ بھی اسی طرح بدمعاش ہاتھی کے شکار میں ہلاک ہوا۔ اس ہاتھی کو کچھ روز بعد کیپٹن گیلوے اور اینسائن سکروجز نے مل کر شکار کیا اور اس دوران خود بھی ہلاک ہوتے ہوتے بچے۔ چند برس قبل مسٹر کین بھی اسی طرح ایک بدمعاش ہاتھی کا شکار ہوا۔ اس نے ہاتھی پر گولی چلائی مگر اسے گرا نہ سکا اور ہاتھی نے فوراً سر پر پہنچ کر اسے کچل دیا۔ بدمعاش ہاتھی کے بارے میں سب سے عجیب واقعہ مجھے ڈولانا کے رتمہاتما نے سنایا تھا جو اس کے بچپن کا واقعہ ہے۔ میں اسے سو فیصد درست نہیں مانتا مگر ذیل میں اس کے اپنے الفاظ میں اس کہانی کو ’رتمہاتما کی کہانی‘ کے عنوان سے بیان کرتا ہوں تاکہ مجھ پر غلط بیانی کا الزام نہ لگے۔ تاہم یاد رہے کہ اس کہانی کی تصدیق اس گاؤں کے تمام معمر افراد نے مِن و عَن کی تھی۔

رتمہاتما کی کہانی

 

آج سے تیس برس قبل ڈولانا میں ایک مشہور بدمعاش ہاتھی تھا جس کے غیض و غضب کی داستانیں پھیلی ہوئی تھیں اور جھیل کے کنارے جنگل ایک ٹکڑا اس کی ملکیت تھا۔ اس نے ۸ یا ۹ آدمی ہلاک کیے تھے اور ایسا لگتا تھا کہ اس کی زندگی کا واحد مقصد مقامیوں کی تباہی تھا۔ اس کی جسامت بہت بڑی تھی اور ماتھے پر گلابی رنگ کا ایک دھبہ تھا جیسے کچا گوشت ہو۔

ان دنوں وہاں کسی کے پاس آتشیں اسلحہ نہ تھا، سو انسانی جان ہو یا مال اسباب، بچاؤ نا ممکن تھا۔ رات کے وقت یہ ہاتھی چاول کے کھیت پر ہلہ بولتا اور نگرانی کے لیے بنائی گئی مچانوں کو اکھاڑ پھینکتا اور جلتے ہوئے الاؤ بھی اسے نہ روک پاتے۔ مچانوں کو اکھاڑنے کے بعد الاؤ پر مٹی پھینک کر انہیں بھی بجھا دیتا۔ ہاتھی کی دہشت اتنی بڑھ گئی کہ اس کی رہائش کے قرب و جوار کے لوگ اس کی دہشت سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔

آخرکار کئی ماہ تک یہ ہاتھی غائب ہو گیا۔ لوگوں نے سمجھا کہ اس پر چلائے گئے زہریلے تیر شاید کام کر گئے ہوں کہ مچانوں پر بیٹھے آدمی اکثر اس پر زہر میں بجھے تیر چلاتے تھے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ لوگ اس کو بھول گئے۔

ایک روز شام کو مغرب سے ایک گھنٹہ قبل بیس عورتیں گاؤں کے پاس جھیل کے کنارے گھاس اور سرکنڈے کاٹ کر بنڈل بنا رہی تھیں اور آپس میں ہنسی مذاق کرتی جا رہی تھیں۔ اس گھاس سے چٹائیاں بنائی جاتی تھیں۔ اس کام سے فارغ ہو کر وہ گاؤں کا رخ کرنے ہی والی تھیں کہ اچانک ہاتھی کی چنگھاڑ سنائی دی اور اچانک انہیں وہی بدمعاش ہاتھی دکھائی دیا جس کے ماتھے پر گلابی رنگ کا نشان تھا۔ ہاتھی پوری رفتار سے ان کی سمت بھاگتا ہوا آ رہا تھا۔ زمین بالکل مسطح تھی اور کئی سو گز تک درخت نہیں تھے۔ البتہ ہاتھی جس سمت سے آ رہا تھا، اس سمت کچھ درخت تھے۔ عورتیں چیخنے لگیں اور بھگدڑ مچ گئی۔ چند لمحوں میں ہاتھی ان کے درمیان پہنچ گیا اور سونڈ سے ایک کم عمر لڑکی کو پکڑ کر ہوا میں اٹھا لیا۔ پھر اس نے چند لمحے شاید سوچا کہ اس لڑکی کے ساتھ کیا کرے۔ اس دوران لڑکی بیچاری چلاتی رہی مگر کون اس کی مدد کو آتا۔ سبھی خواتین جنگل کا رخ کر چکی تھیں اور محفوظ جگہ پہنچ کر اپنی بدقسمت ہمراہی کا انجام دیکھ رہی تھیں۔

ان کی دہشت کا اندازہ کیجیے کہ ہاتھی نے اچانک لڑکی کو زمین کے قریب لا کر پھر اس طرح اٹھایا کہ لٍڑکی کا سر اس کے منہ کے قریب تھا۔ پھر اس نے لڑکی کے سر کو منہ میں ڈال کر چبایا تو کڑاکے کی آواز آئی۔ ہاتھی لڑکی کی کھوپڑی کو چبا رہا تھا۔ پھر اس نے سر کو دھڑ سے نوچ کر کھایا اور پھر لاش پر پیر رکھ کر اس کے بازو اور ٹانگیں اکھاڑ کر پوری لاش کھا گیا۔

خواتین نے گاؤں کا رخ کیا اور سب کو یہ غیرفطری بات بتائی۔

ڈولانا اور اس کے آس پاس کے دیہات ہاتھیوں کو پکڑنے کے ماہر مانے جاتے تھے اور اس بدقسمت لڑکی کا شوہر بہترین شکاریوں میں سے ایک تھا۔ یہ لوگ ہاتھی پکڑ کر عرب تاجروں کو بیچ دیتے تھے جو انہیں ہندوستانی حکومت کو فروخت کرتے تھے۔

اس خونی واقعے کی اطلاع آس پاس کے سبھی دیہاتوں تک پہنچ گئی اور اس ہاتھی کی ہلاکت کے انتظامات شروع ہو گئے۔

لڑکی کی ہلاکت کے بعد ہاتھی کی قیام گاہ جنگل کا ایک چھوٹا سا قطعہ تھا جس کے چاروں طرف کھلا میدان اور نرم گھاس تھی۔ زمین ریتلی مگر مسطح تھی۔

چند روز بعد ہاتھی کی ہلاکت پر کمربستہ ایک سو ماہر شکاری ڈولانا پہنچ گئے۔ یہ سب شکاری بچپن سے ہی ہاتھیوں کا شکار کرتے آئے تھے اور خطرات سے بخوبی واقف تھے۔ بعض شکاریوں کے پاس انتہائی تیز دھار کلہاڑیاں تھیں، بعض نے لمبے نیزے اٹھائے ہوئے تھے اور بعض کے پاس ہرن کی کچی کھال سے بنائی گئی بل دار رسیاں تھیں۔ ہر ٹولی کی خاص ذمہ داری تھی۔

یہ سب لوگ جمع ہو کر ہاتھی کی قیام گاہ کے قریب پہنچے۔ ہاتھی ان کی آمد سے باخبر ہو کر سو گز کی دوری سے ان پر چڑھ دوڑا۔ جنگ شروع ہو گئی۔ نیزہ بردار آگے تھے اور انہوں نے ہاتھی کی سمت دوڑ لگا دی۔ سو بندوں کا شور و غل بھی ہاتھی کو نہ روک سکا اور ہاتھی بڑھتا چلا آیا۔ بیس گز کی دوری پر نیزہ برداروں نے واپس مڑ کر دوڑ لگا دی جو پہلے سے طے تھا۔ ہاتھی کلہاڑی بردار دائیں اور بائیں جتھے کے درمیان سے گزرا جو فوراً اس کے پیچھے لگ گئے۔ سب سے آگے متوفیہ لڑکی کا شوہر تھا جس نے کلہاڑی کے ایک ہی وار سے ہاتھی کے پچھلے پیر کے ٹخنے کی نس کو کاٹ دیا (اس کتاب کے لکھے جانے کے بعد میں نے ہاتھیوں کے شکار کا یہی طریقہ مصر میں بھی دیکھا تھا جہاں تلوار سے شکاری اس طرح ہاتھی کی نس کاٹ کر اسے بیکار کر دیتے تھے۔ اس بارے میں "Nile Tributaries of Abyssinia” میں تفصیل بیان کر چکا ہوں)۔ نس کٹتے ہی ہاتھی گھٹنے کے بل گرا مگر فوراً سنبھل کر حملہ آوروں کی طرف مڑنے کی کوشش کی۔ عین اسی لمحے درجن بھر کلہاڑیاں اٹھیں اور ہاتھی کی دوسری پچھلی ٹانگ کی نس کٹ گئی۔ ایک لمحے میں ہاتھی کی دونوں پچھلی ٹانگیں بیکار ہو چکی تھیں اور ہاتھی وہیں بیٹھ گیا مگر غصے سے چنگھاڑنے لگا۔ اب رسی برداروں نے رسی کے پھندوں سے ہاتھی کی سونڈ اور سر کو جکڑ لیا۔ پچاس آدمی مل کر بمشکل ہاتھی کی سونڈ کو قابو کر سکے۔ تیز دھار نیزے ہاتھی کی پہلو میں اترنے لگے اور کئی نڈر شکاری اس کی پیٹھ پر سوار ہو گئے۔ متوفیہ کے شوہر نے کلہاڑی کے کئی وار کر کے ہاتھی کی گدی پر اس کی ریڑھ کی ہڈی کاٹ دی۔ جونہی حرام مغز کٹا، ہاتھی وہیں گر کر مر گیا۔ اس جنگ میں ایک بھی انسان ہلاک نہ ہوا۔

مقامی آدمی کہتے ہیں کہ یہ ہاتھی پاگل ہو چکا تھا اور شاید اسی وجہ سے اس لڑکی کو کھایا تھا۔ ہاتھی اور جنگلی بھینسے محض طیش میں آ کر حملہ کر سکتے ہیں مگر ان کا مطمع نظر انسانی گوشت سے پیٹ بھرنا نہیں ہوتا۔ اگرچہ نمبردار اس کہانی کی صداقت کی قسمیں کھاتا ہے مگر مجھے اس بات پر یقین نہیں کہ ہاتھی نے انسانی گوشت کھایا ہو گا۔ یہ ممکن ہے کہ ہاتھی نے اس کا سر نوچ کر الگ کر دیا ہو اور باقی عضو بھی اکھاڑ ڈالے ہوں مگر یہ بات ناقابلِ یقین ہے کہ ہاتھی نے اسے کھایا بھی ہو گا۔

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل