ڈاؤن لوڈ کریں
مکمل کتاب پڑھیں…..
اردو گرامر
احمد رشید (علیگ)
حروف (Letters)
حرف: سادہ آوازوں کے وہ نشان ہیں جن کے ملنے سے لفظ بنتے ہیں۔ اردو زبان کے کل پچاس (۵۰) حروف ہیں، جن میں سے پینتیس (۳۵) حروف مفرد اور پندرہ حروف مرکّب کہلاتے ہیں۔ ان مفرد اور مرکّب حروف کو ’’حروف تہجی‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
حروف مفرد:
ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر ڑ ز ژ س ش
ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل م ن و ہ ی = ۳۵
حروف مرکب:
بھ پھ تھ ٹھ جھ چھ دھ ڈھ ڑھ کھ گھ لھ مھ نھ وھ = ۱۵
نوٹ: ۔ یاد رہے حرفوں کے بیان کا علمِ جو علم ہجا کہلاتا ہے، یعنی علم ہجا وہ علم ہے جس میں حرفوں کا بیان ہو جس کے ذریعہ صحیح تلفظ معلوم ہو جاتا ہے۔ ٭٭
۱۔ حروف مرکب کی تعداد بتائیے؟
۲۔ حروف مفرد کتنے ہیں؟
۳۔ حروف مفرد اور حروف مرکب کو کیا کہتے ہیں؟
۴۔ حرف کی تعریف کیجئے؟
۵۔ ’’علم ہجا‘‘ کسے کہتے ہیں؟
۷۔ مندرجہ ذیل حروف تہجی سے حروف مفرد اور حروف مرکب چھانٹ کر لکھئے؟
ٹ، ج، د، دھ، جھ، چھ، س، کھ، ط، پھ
٭٭٭
کلمہ (Speech)
کلمہ: کلمہ کے معنی بات کے ہیں۔ وہ لفظ جو منھ سے نکلے اور معنی دار ہو یعنی وہ کلمہ جو موزوں ہو۔
جیسے: پانی، کتاب، روٹی، سڑک، پھول، قلم وغیرہ
مہمل: کبھی کبھی منھ سے ایسے الفاظ نکلتے ہیں جن کے کچھ معنی نہیں ہوتے جس کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔
جیسے: پانی وانی، کتاب وِتاب، روٹی ووٹی، سڑک وڑک، پھول سول، قلم سلم
اوپر کی مثالوں میں۔ وانی، وِتاب، ووٹی، وڑک، سول، سلم، سب ہی مہمل الفاظ ہیں۔ اسی لیے اردو قواعد اور اردو لغت میں ان کا کوئی ذکر نہیں ملے گا۔ معلوم ہوا اردو قواعد میں صرف انہیں الفاظ سے گفتگو کی گئی ہے جو با معنی الفاظ ہیں۔ اس لیے مختصراً ہم کہہ سکتے ہیں کہ بامعنی الفاظ کو کلمہ کہتے ہیں۔ اسی لیے بحث کا موضوع بھی وہی الفاظ ہوتے ہیں۔
۱۔ کلمہ مہمل چھانٹ کر لکھو؟
سڑک، پانی، وانی، وِتاب، کتاب، وڑک، روٹی، ووٹی، سول، پھول
۲۔ مندرجہ ذیل جملوں میں مہمل کی نشان دہی کیجئے؟
(الف) مہمانوں کی خاطر واطر کرو۔
(ب) مزدور روٹی ووٹی کھا کر کام کرتا ہے۔
(ج) سلیم کام وام کچھ نہیں کرتا۔
(د) میرے گھر پر مہمان شہمان آ گئے ہیں۔
۳۔ کلمہ کی تعریف کیجئے؟
۴۔ مہمل کیا ہوتا ہے مثالیں دے کر سمجھائیے؟
لفظ (WORD)
لفظ: انسان کے منھ سے جو بات (آواز) نکلتی ہے۔ اس کو لفظ کہتے ہیں اگر اس کلمہ (لفظ) سے کوئی بات سمجھی جائے تو اسے لفظ کہتے ہیں۔ لفظ حروف کی مدد سے بنتے ہیں خواہ وہ مفرد یا مرکب حروف ہوں۔
جیسے: کرسی، میز، قلم وغیرہ
حروف تہجی کا ایسا مجموعہ جو بامعنی ہو۔
جیسے: عقل، پھول، جھولا، کتاب
ساخت کے اعتبار سے تمام الفاظ کی دو قسمیں ہیں۔ مفرد اور مرکب
جیسے: قلم، دولت، موہن وغیرہ اور اگر لفظ کے جزو سے معنی کا جزو سے سمجھا جائے تو اسے مرکب کہتے ہیں۔
جیسے: دولت مند، خلق اللہ وغیرہ۔
۱۔ لفظ کی تعریف کیجئے اور مثالیں دیجئے؟
۲۔ لفظ کس کی مدد سے بنتے ہیں؟
۳۔ ساخت کے اعتبار سے لفظ کی کتنی قسمیں ہوتی ہیں؟
٭٭٭
اسم (NOUN)
اسم: وہ کلمہ ہے جو کسی نام، جگہ، چیز یا کیفیت کو ظاہر کرے۔
جیسے: حامد، دہلی، تاج محل، کرسی، خوشی، درد وغیرہ
اسم معرفہ یا خاص: (Proper Noun)
کسی خاص جگہ، خاص چیز، خاص شخص کے نام کو اسم خاص کہتے ہیں۔ اسم خاص کو ’اسم معرفہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
جیسے: حامد، شاہد، دہلی، تاج محل وغیرہ
اسم نکرہ یا اسم عام: (Common Noun)
کسی عام شخص، عام جگہ، عام چیز کے نام کو اسم عام کہتے ہیں۔ اسم عام کو ’اسم نکرہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
جیسے: لڑکا، کرسی، کتاب، میز وغیرہ
۱۔ مندرجہ ذیل جملوں میں ’اسم معرفہ‘ اور ’اسم نکرہ‘ چھانٹ کر لکھو؟
(الف) حامد اور سونو نے آگرہ میں تاج محل دیکھا۔
(ب) سوہن کرسی پر بیٹھا ہے۔
(ج) دہلی کا لال قلعہ شاہجہاں نے بنوایا۔
(د) میز پر کتاب رکھی ہے۔
۲۔ اسم کی تعریف لکھو اور تین مثالیں بھی دیجئے؟
۳۔ نیچے لکھے ہوے لفظوں کو دئے گئے خانوں کے مطابق لکھئے۔
دہلی، مرد، ٹاؤن ہال، کرسی، عورت، چاندنی چوک، ہندوستان، لیڈر، کالکا، پولیس، ارونا، بنگال، نمک، گاندھی جی، اندار گاندھی، ہریانہ، روپئے، پانی، بھارت رتن، ٹیکس، رضیہ۔
خانے:
| ا سم | شخص کا نام | جگہ کا نام | چیز کا نام |
٭٭٭
صفت (ADJECTIVE)
صفت: وہ لفظ جو کسی اسم کی اچھائی، برائی یا خصوصیت ظاہر کرے اسے صفت کہتے ہیں۔
جیسے: خوبصورت، سفید، چکنی، میٹھا، گندا وغیرہ
۱۔ صفت کی نشاندہی کیجئے۔
گندا پانی، میٹھا آم، خوبصورت پھول، کالا کوّا، جھوٹا آدمی
۲۔ مندرجہ ذیل جملوں میں سے صفت چھانٹ کر لکھو۔
(الف) دوکان میں خوبصورت کھلونے ہیں۔
(ب) پانی گرم ہے۔
(ج) سنترہ کھٹا ہے۔
(د) کوّا کالا ہوتا ہے۔
(س) چکنی مٹی سے خوبصورت گھڑے بنتے ہیں۔
۳۔ صفت کی تعریف کرو اور چار مثالیں دیجئے؟
۴۔ مندرجہ ذیل جملوں سے اسم اور صفت چھانٹ کر لکھو۔
(الف) عذرا خوبصورت لڑکی ہے۔
(ب) کیلا میٹھا ہے۔
(ج) طوطا خوبصورت پرندہ ہوتا ہے۔
(د) تاج محل خوبصورت عمارت ہے۔
(س) لال قلعہ مضبوط عمارت ہے۔
٭٭٭
ضمیر (PRONOUN)
ضمیر: وہ لفظ جو اسم کی جگہ بولا جائے، ضمیر کہلاتا ہے۔ اس کی جمع ضمائر کہلاتی ہے۔
جیسے: وہ، تم، ہم، اس، اسے، اس کو وغیرہ
وضاحت: حامد اسکول سے گھر واپس ہو رہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں بستہ ہے۔ وہ ایک شریف لڑکا ہے۔
پہلے جملے میں ’حامد‘ استعمال ہوا۔
دوسرے جملے میں ’حامد ‘ کی جگہ ’اس کے ‘ استعمال ہوا۔
تیسرے جملے میں ’حامد‘ کی جگہ ’وہ‘ استعمال ہوا۔
اسم کی تکرار کی وجہ سے عبارت بھدّی اور بری ہو جاتی ہے، اس لیے بار بار اسم خاص (نام) نہ استعمال کر کے ضمیر سے کام لیا جاتا ہے تاکہ عبارت میں روانی اور خوبصورتی پیدا ہو جائے۔
۱۔ مندرجہ ذیل جملوں میں ضمائر کی نشاندہی کیجئے۔
(الف) شریف ایک ذہین لڑکا ہے وہ درجہ میں اوّل آتا ہے۔
(ب) عابد ایک بہادر لڑکا ہے اس نے ڈاکو سے اپنے دوست کی جان بچائی۔
(ج) حامد بڑی ہمت والا نوجوان ہے، اس نے ایک آدمی کو ڈوبنے سے بچایا۔
۲۔ مندرجہ ذیل اقتباس کی خالی جگہوں میں ضمائر بھرئیے۔
عابد ایک طاقت ور آدمی ہے۔۔ ۔ بہت ہمت والا ہے۔ ۔۔ ایک نوجوان کی شیر سے جان بچائی حکومت نے۔۔ ۔انعام دیا۔۔ ۔کا نام بہادر لوگوں میں شامل ہو گیا۔
۳۔ ضمیر کی تعریف کیجئے۔
٭٭٭
فعل (VERB)
فعل(Verb): وہ لفظ جس سے کسی کام کا کرنا یا نہ کرنا، ہونا یا نہ ہونا ظاہر ہو، اسے ’فعل‘ کہتے ہیں۔
جیسے: آنا، جانا، ہنسنا، کھیلنا، لکھنا وغیرہ
فاعل(Subject): وہ لفظ جو کسی کام کے کرنے والے کو ظاہر کرے ’فاعل‘ کہلاتا ہے۔
جیسے: حامد آتا ہے۔ احمد ہنستا ہے۔
ان جملوں میں ’حامد‘ اور ’احمد‘ فاعل ہے۔
معلوم ہوا کہ کام کے کرنے والے کو ’فاعل‘ کہتے ہیں۔
مفعول(Obbject): وہ لفظ جس پر کسی فعل کا اثر پڑے ’مفعول‘ کہلاتا ہے۔
جیسے: عابد کتاب پڑھتا ہے۔ حنا خط لکھتی ہے۔
ان جملوں میں ’کتاب‘ اور ’خط‘ مفعول ہیں۔
معلوم ہوا پڑھنے کا اثر کتاب پر پڑ رہا ہے۔ لکھنے کا اثر خط پر پڑ رہ ہے۔
۱۔ مندرجہ ذیل جملوں سے فعل چھانٹ کر لکھو۔
(الف) حنا کھیل رہی ہے۔
(ب) احمد کتاب پڑھتا ہے۔
(ج) عابد ہنستا ہے۔
(د) احمد نے سانپ مارا۔
۲۔ مندرجہ ذیل جملوں سے فاعل چھانٹ کر لکھو۔
(الف) میں خط لکھ رہا ہوں۔
(ب) احمد کتاب پڑھتا ہے۔
(ج) احمد نے سانپ کو مارا۔
۳۔ مندرجہ ذیل جملوں سے مفعول چھانٹ کر لکھو۔
(الف) تم نے آم کھایا۔
(ب) حامد فلم دیکھتا ہے۔
(ج) سلیم کھانا کھا تا ہے۔
۴۔ فعل کی مثالیں دے کر تعریف کیجئے۔
٭٭٭
تمیز (ADVERB)
تمیز: وہ لفظ جو فعل، صفت یا اسم کی حالت بتائے تمیز کہلاتا ہے۔
جیسے: ۱۔ گھوڑا بہت تیز دوڑتا ہے۔
۲۔ یہ نہایت خوبصورت پھول ہے۔
۳۔ تاج محل بہت بلند عمارت ہے۔
ان جملوں میں ’بہت‘، ’نہایت‘ تمیز ہیں یعنی ’بہت تیز‘، نہایت خوبصورت‘، ’بہت بلند‘
وضاحت:
’’دوڑنا‘‘ فعل ہے ’’بہت تیز‘‘ حالت ہے۔
’’خوبصورت‘‘ صفت ہے ’’ نہایت‘‘ حالت ہے۔
’’تاج محل ’’ اسم ہے ’’بہت‘‘ حالت ہے۔
۱۔ مندرجہ ذیل جملوں میں سے ’’تمیز‘‘ کی نشان دہی کیجئے۔
(الف) ہرن بہت تیز دوڑتا ہے۔
(ب) قطب مینار بہت بلند عمارت ہے۔
(د) تاج محل نہایت خوبصورت عمارت ہے۔
۲۔ ’’تمیز‘‘ کی تعریف کیجئے۔
٭٭٭
حرف جار (PREPOSITION)
حرفِ جار: وہ لفظ ہے، جس کے الگ کچھ معنی نہیں ہوتے، بلکہ دوسرے لفظوں کے ساتھ مل کر معنی دار بنتا ہے۔
جیسے: پر، تک، سے، میں وغیرہ
وضاحت: مثالیں پڑھئے۔
گھر تک، سرپر، ہاتھ سے، اسکول میں، بے خوف
دی گئی مثالوں میں ’تک‘، ’پر‘، ’سے ‘، ’میں ‘، ’بے ‘ کے الگ سے کوئی معنی نہیں ہیں۔ یعنی دیگر دوسرے بامعنی لفظوں سے پہلے یا بعد میں مل کر معنی سمجھ میں آتے ہیں۔
۱۔ مندرجہ ذیل جملوں میں حروف جار کے نیچے خط کشیدہ کیجئے۔
(الف) دہ گھر سے نکلا۔
(ب) سر پر ٹوپی پہنو۔
(ج) گیلی دیوار کو ہاتھ نہ لگاؤ۔
(د) کتاب میز پر ہے۔
(س ) شام تک گھر کو آ جانا۔
۲۔ مندرجہ ذیل جملوں کی خالی جگہیں حروف سے بھریئے۔
(الف) احمد۔۔۔بلاؤ۔
(ب) بجے باغ۔۔۔کھیل رہے ہیں۔
(ج) عابد اسکول۔۔۔پہنچ کر رک گیا۔
(د) پردوں۔۔۔رنگ اُڑ چکا ہے۔
(س) ہم۔۔۔کھانا کھا لیا ہے۔
۳۔ حرف کی تعریف کیجئے اور مثالیں دے کر سمجھائیے۔
کتنا سیکھا؟
۱۔ مندرجہ ذیل جملوں سے مہمل چھانٹ کر لکھئے۔
(الف) موہن نے پھول سول تھالی میں رکھے۔
(ب) حنا روٹی ووٹی کھا کر اسکول گئی۔
(ج) سلیم گٹکے سٹکے کھاتا ہے۔
(د) روزہ میں پانی وانی مت پی لینا۔
(ر) آپ کو فکر وکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
۲۔ کلمہ کی تعریف کیجئے اور پانچ مثالیں بھی دیجئے؟
۳۔ مندرجہ ذیل حروف تہجی سے حروف مفرد اور حروف مرکب کی الگ الگ فہرست بنائیے؟
بھ، ٹھ، جھ، چھ، د، ر، ڈھ، ف، کھ، ق، ک
۴۔ لفظ کی تعریف کیجئے؟
۵۔ اسم معرفہ اور اسم نکرہ کا فرق بتائیے؟
۶۔ مندرجہ ذیل جملوں میں سے اسم معرفہ اور اسم نکرہ کی نشاندہی کیجئے۔
(الف) لکھنؤ اتر پردیش کی راجدھانی ہے۔
(ب) جواہر لال نہرو آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔
(ج) گائے دودھ دینے والا جانور ہے۔
(د) گھوڑا تیز دوڑنے والا جانور ہے۔
(۴) شاہجہاں نے تاج محل آگرہ میں بنوایا تھا۔
۷۔ نیچے دیے گئے جملوں میں سے فاعل، فعل اور مفعول چھانٹیے۔
(الف) سوہن نے ایک قلم خریدا۔
(ب) احمد کچھ آم لایا۔
(ج) عابدہ نے ایک خط لکھا۔
(د) کملا نے ایک شیر دیکھا۔
(س) میرے بھائی نے مجھ کو نہیں مارا۔
۸۔ نیچے لکھے جملوں سے اسم ڈھونڈ کر اپنی کاپی میں لکھو۔
(الف) میرا گھر علی گڑھ میں ہے۔
(ب) لڑکے کرکٹ کھیل رہے ہیں۔
(ج) پانی برس رہا ہے۔
(د) میرا گھوڑا کالا ہے۔
(س) یہ کتاب بہت اچھی ہے۔
۹۔ مندرجہ ذیل جملوں سے صفت اور اسم کی فہرست بنائیے۔
(الف) شاکر اچھا لڑکا ہے۔
(ب) اس کا کُتّا بھورا ہے۔
(ج) تمہارا بھائی لمبا ہے۔
(ر) یہ ایک چھوٹا ڈبہّ ہے۔
(س) گلاس میں ٹھنڈا دودھ ہے۔
(ص) رانی لال کرتا پہنے ہے۔
۱۰۔ نیچے لکھے جملوں میں صفت کے نیچے لکیر کھینچئے۔
(الف) میری چائے گرم ہے۔
(ب) وہ لڑکی خوبصورت ہے۔
(ج) اس کا امرود میٹھا ہے۔
(د) یہ گھوڑا کا لا ہے۔
(س) تمہارا گھر بڑا ہے۔
۱۱۔ سوال نمبر دس(۱۰) میں دیے گئے جملوں میں سے ضمیر چھانٹئے۔
۱۲۔ ضمیر کسے کہتے ہیں، مثال دے کر سمجھائیے؟
۱۳۔ مندرجہ ذیل جملوں میں سے اسم اور ضمیر چھانٹ کر فہرست بنائیے؟
(الف) احمد کل میرے گھر آیا اور اس نے چائے پی۔
(ب) حامد نے مجھے ایک کتاب دی اور وہ چلا گیا۔
(ج) عرفان کل وہاں گیا اور وہ کل ہی واپس آ گیا۔
(د) دہلی ایک کاروباری شہر ہے اور وہ تاریخی بھی ہے۔
(س) میری گھڑی اس کی کلائی میں بندھی ہے۔
۱۴۔ حروف کی مدد سے خالی جگہیں بھرئیے؟
(الف) وہ اسکول۔۔۔گھر۔۔۔ واپس ہوا۔
(ب) روپئے جیب۔۔۔ رکھے ہیں۔
(ج) گاؤں میں کیا دیکھنے۔۔۔ملتا ہے۔
۱۵۔ دیے گئے حروف سے جملے پورا کیجئے؟
پر، میں، کا، کی، سے
(الف) کتاب میز۔۔ ۔۔۔ہے۔
(ب) کاپی بستہ۔۔۔ رکھی ہے۔
(ج) گاجر۔۔۔اچار بنتا ہے۔
(د) غبارے۔۔۔ ہوا بھری ہے۔
(ر) مچھلی پانی۔۔۔ رانی ہے۔
(س) کسان ہل۔۔۔کھیت جوتتا ہے۔
۱۶۔ نیچے دیے ہوئے جملے غور سے پڑھئے اور اسم، ضمیر، صفت، فعل، حرف اور تمیز چن چن کر اپنی کاپی پر لکھئے۔
(الف) کتا روٹی لے گیا۔
(ب) کالا کوّا درخت پر بول رہا ہے۔
(ج) میں تم سے بات نہیں کرتا۔
(د) ہمیشہ اچھی کتاب پڑھا کرو۔
(ر) تاج محل بہت خوبصورت عمارت ہے۔
(س) ہم کالج سے آ رہے ہیں۔
(ص) لکھنؤ بہت بڑا شہر ہے۔
۱۷۔ تمیز کی تعریف کیجئے اور اس کی دو مثالیں بھی دیجئے۔
۱۸۔ مندرجہ ذیل الفاظ میں سے کلمہ اور مہمل چھانٹ کر اپنی کاپی میں نوٹ کیجئے۔
الفاظ کلمہ مہمل
قلم ولم
کھانا وانا
لکڑی وکڑی
لوٹا ووٹا
روٹی ووٹی
۱۹۔ مندرجہ ذیل جملوں میں ’’تمیز‘‘ بھر کر پورا کیجئے۔
(الف) حامد۔۔۔۔۔ طاقت ور لڑکا ہے۔
(ب) عابد۔۔۔ہمت والا نوجوان ہے۔
(ج) تاج محل۔۔۔۔ خوبصورت عمارت ہے۔
۲۰۔ نیچے دیے گئے اقتباس میں سے اسم، ضمیر، فعل، صفت، تمیز اور حرف چھانٹئے۔
میں آم ہوں۔ لوگ مجھے پھلوں کا راجہ کہتے ہیں۔ کیونکہ میں کھانے میں سب سے لذیذ اور مزیدار پھل ہوں۔ جب میں کچّا رہتا ہوں تو میرا رنگ ہرا ہوتا ہے اور جب میں پک جاتا ہوں تو میرا رنگ پیلا ہو جاتا ہے۔ میں جب کچا رہتا ہوں تو میرا مزہ بھی کھٹا ہوتا ہے۔ اس وقت لوگ مجھے اچار، کھٹی میٹھی چٹنیاں بنا کر کھاتے ہیں۔ مجھے سکھا کر کھٹائی بناتے ہیں۔
۲۱۔ خالی جگہوں میں صفت لگا کر جملہ مکمل کیجئے؟
(الف) دانت۔۔۔۔۔ ہے۔
(ب) دودھ۔۔۔ہے۔
(ج) پانی۔۔۔ ہے۔
(د) شربت۔۔۔ہے۔
(ر) مسواک۔۔۔ ہے۔
(س) تاج محل۔۔۔۔ ہے۔
۲۲۔ نیچے کے جملوں کو پڑھئے اور فعل، فاعل چھانٹ کر اپنی کاپی پر لکھئے۔
پولی تھین کے استعمال کے بعد اسے جلا کر ختم کر دیجئے۔ ذرا سوچئے ! آپ کی ذرا سی لاپرواہی سے کئی جانور بے موت مارے جائیں گے۔ کیا آپ ان بے زبان جانوروں کی موت کے حصہ دار بنیں گے؟
۲۳۔ نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو خانوں کے مطابق لکھئے۔
بادشاہ۔ بلایا۔ دربار۔ لڑتے۔ انعام۔ دکھانا۔ فیروز۔ جانا۔ ہیرا۔ پڑھنا۔ ملنا۔ گھوڑا۔ کہنا۔ اصطبل۔
اسم
فعل
۲۴۔ نیچے دیے ہوئے لفظوں کو صحیح خانوں کے مطابق لکھئے۔
شاہ جہاں، کھیلنا، وہ، بکری، ڈالنا، اس، جنگل، مارنا، ہرن، گھوڑا، کرنا، دوڑنا، یہ، آندھی، آنا، پانی، جانا، مجھے، لکھنا، میں، اسے، دنیا، جھونپڑی، وہی، چرواہا، تمہیں، شربت
اسم فعل ضمیر
٭٭٭
واحد اور جمع (SINGULAR & PLURAL)
واحد: وہ اسم ہے جس سے ایک شخص، ایک چیز یا ایک جگہ ظاہر ہو
جیسے: لڑکا، کتاب، ٹوپی، میدان
جمع: وہ اسم ہے جو دو یا دو سے زیادہ افراد، چیزیں یا جگہیں ظاہر کرے۔
جیسے: لڑکے، کتابیں، ٹوپیاں، میدانوں
۱۔ مندرجہ ذیل کے واحد کے جمع لکھئے۔
واحد جمع
گیند = ضرورت=
جیب= چیز=
دال= میز=
کتاب= بات=
۲۔ مندرجہ ذیل واحد کے جمع بنائیے۔ مثال: قطرہ = قطرے، قطروں
بوڑھا = ——، ——
جھولا= ——، ——
موقع= ——، ——
اچھا= ——، ——
۳۔ نیچے لکھے ہوئے خانوں میں واحد کی جمع اور جمع کی واحد لکھئے۔
جمع:
تحفہ
سوداگر
طوطا
قوم
دل
واحد:
پرندوں
باتیں
باغوں
دانتوں
پنجرے
۴۔ لفظ ’’خیال‘‘ واحد ہے۔ اس کے آخر میں ’’ا ت‘‘ لگانے سے اس کی جمع ’’خیالات‘‘ بن جاتی ہے۔ اسی طرح دیے ہوئے لفظوں کو بھی واحد سے جمع میں تبدیل کر کے لکھئے؟
تفریح، تعلق، مقام، سوال، حال، جواب، خواہش، طلسم، اتفاق، مفاد
۵۔ ان لفظوں کے نیچے واحد لکھئے۔
اشعار
شعراء
علماء
انعامات
جوابات
اقسام
معدنیات
عناصر
ذریعہ
۶۔ واحد اور جمع الگ الگ لکھئے۔
دریا، وادیاں، جنگل، چشمے، نہریں، باغ، پھول، رحمت، سوال
واحد جمع
۷۔ ان لفظوں کے نیچے ان کے واحد لکھئے؟
اجسام
مشکلات
اطوار
ذرّات
شروعات
حالات
الفاظ
معدنیات
۸۔ ان لفظوں کی جمع بنائیے۔
نبات
حیوان
خیال
احسان
احساس
مکان
مقام
ایجاد
ضرورت
ترقی
۹۔ مندرجہ ذیل واحد اور جمع پڑھئے اور زبانی یاد کیجئے۔
واحد جمع واحد جمع واحد جمع
اشرفی اشرفیاں حکومت حکومتیں زاویہ زاوئیے
انڈہ انڈے حقہ حقے ّ ستارہ ستارے
انجمن انجمنیں حد حدیں سبزی سبزیاں
بات باتیں خربوزہ خربوزے سردی سردیوں
بچہ بچے خبر خبریں شاخ شاخیں
باغیچہ باغیچے خواہش خواہشیں شرارہ شرارے
تیلی تیلیاں دعا دعائیں شرارت شرارتیں
پنکھڑی پنکھڑیاں دوا دوائیں صلاحیت صلاحیتیں
پودہ پودے دل دلوں صدی صدیاں
تکلیف تکلیفیں ڈال ڈالیاں صفت صفتیں
تودہ تودے ڈنڈہ ڈنڈے ضرب ضربیں
ٹکڑا ٹکڑے ڈنک ڈنکوں ضرورت ضرورتیں
ٹہنی ٹہنیاں ذرّہ ذرّے ضعیف ضعیفوں
ٹانگ ٹانگیں ذہن ذہنوں طوطا طوطے
ثمر ثمار ذلّت ذلّتیں طریقہ طریقے
ثابت ثوابت راحت راحتیں طناب طنابیں
نادر نوادر راہ راہیں ظلمت ظلمتیں
جوتا جوتے رحمت رحمتیں ظلم ظلموں
جزیرہ جزیرے رونق رونقیں عینک عینکیں
جنگ جنگیں رات راتیں عورت عورتیں
چاہت چاہتیں ریاست ریاستیں عظمت عظمتیں
چادر چادریں زندگی زندگیاں علامت علامتیں
چہرہ چہرے زمانہ زمانے غذا غذائیں
غبارہ غبارے والی والیاں غیر غیروں
وجہ وجہیں فوارہ فوارے ہڈی ہڈیاں
فائدہ فائدے ہاتھ ہاتھوں فکر فکروں
ہڑتال ہڑتالیں قطرہ قطرے یاد یادیں
قسم قسمیں یار یاروں قوم قومیں
یہودی یہودیوں کیاری کیاریاں کمرہ کمرے
کام کاموں گملا گملے گچھّا گچھّے
گھنڈی گھنڈیاں لڑکا لڑکے لاٹھی لاٹھیاں
لاکھ لاکھوں مشکل مشکلیں ملک ملکوں
ماہر ماہرین ندی ندیاں نالی نالیاں
نغمہ نغمے وقعت وقعتیں نوازش نوازشات
اسم اسماء نقل نقلیں خط خطوط
اثر اثرات ثقہ ثقات خبر اخبار
ادب آداب ثابت ثوابت خدمت خدمات
امیر امراء سفر اسفار خیال خیالات
استاد اساتذہ جد اجداد خلیفہ خلفاء
باب ابواب جاہل جہلا خاتون خواتین
بیگم بیگمات جنس اجناس دلیل دلائل
باغ باغات جسم اجسام دین ادیان
باقی باقیات جرم جرائم درجہ درجات
درجہ درجات بالغ بالغان جذبہ جذبات
دفتر دفاتر پیر پیران جزیرہ جزائر
دیوان دواوین پیغام پیغامات جانب جوانب
تدبیر تدابیر جن جنات دوا ادویاء
تجویز تجاویز چابی چابیاں دَور ادوار
تاجر تجار حقیقت حقائق دانشور دانشوران
تصویر تصاویر حیوان حیوانات دفع دفعات
تحفہ تحائف حرکت حرکات دعا ادعیاء
ترجمہ تراجم حادثہ حادثات، حوادث ذرّہ ذرّات
فکر افکار حاجی حجاج ذخیرہ ذخائر
تفصیل تفاصیل حکم احکام ذریعہ ذرائع
تفکر تفکرات حد حدود ذکر اذکار
تقصیر تقاصیر حرف حروف ذہن اذہان
تاریخ تواریخ حکیم حکماء رسول رُسُل
صنف اصناف عجیب عجائب رفیق رفقاء
صدمہ صدمات عضو اعضاء کیفی کیفیات
رکن ارکان صفت صفات عنصر عناصر
کلمہ کلمات رئیس رؤسا ضد اضداد
عقیدہ عقائد کتاب کتب رسالہ رسائل
ضلع اضلاع غریب غربا کمال کمالات
رسم رسوم ضابطہ ضوابط غیر اغیار
کافر کفّار ضرورت ضروریات غرض اغراض کرامت کرامات رقم رقوم طرف اطراف
غزل غزلیات لیل لیالی رقیب رقیباں
طور اطوار فرد افراد لطف الطاف
رمز رموز طبیعت طبائع فعل افعال
لطیفہ لطائف روح ارواح طالب طلباء
فوج افواج لمحہ لمحات سبب اسباب
طائر طیور فضل افضال لازم لوازم
سلطان سلاطین طفل اطفال فلک افلاک
لقب القاب سفیر سفراء طبقہ طبقات
فن فنون لوازم لوازمات سبق اسباق
طلسم طلسمات فساد فسادات مدرسہ مدارس
شاعر شعراء ظرف ظروف قدر اقدار
مِلّت ملل شکایت شکایات ظلمت ظلمات
قِسم اقسام مصیبت مصائب شعر اشعار
شک شکوک قدیم قدماء مُراسلہ مراسلات
شجر اشجار قبر قبور مقام مقامات
شے اشیاء عیب عیوب قدم اقدام
مستور مستورات صالح صلحاء عزم عزائم
قوم اقوام منشور منشورات صدقہ صدقات
عام عوام قبیلہ قبائل مغلظ مغلظات
صنم اصنام عمل اعمال قانون قوانین
معنی معانی معجزہ معجزات ورق اوراق
ملک ممالک وہم اوہام موت اموات
وقف اوقاف مجلس مجالس وقت اوقات
مذہب مذاہب وصف اوصاف مرض امراض
وکیل وُکلاء مطلب مطالب وارث ورثہ
مہم مہمات وزیر وزراء مرتبہ مراتب
مرحلہ مراحل وظیفہ وظائف منظر مناظر
واقعہ واقعات منزل منازل ہمت ہمم
موقع مواقع یار یاراں مرثیہ مراثی
یتیم یتامیٰ نقص نقائص یوم ایام
نغمہ نغمات نبی انبیاء نواب نوابین
نفل نوافل نکتہ نکات نفس نفوس
نقش نقوش ناصر انصار نتیجہ نتائج
۱۰۔ ’’حیوانات‘‘ اور ’’نباتات‘‘، ’’حیوان ‘‘اور ’’نبات‘‘ کی جمع ہیں اسی طرح مندرجہ ذیل لفظوں کی جمع بنائیے۔
خیال، احسان، احساس، مکان، مقام، تعلق، تفریح، حال، شروع، تجربہ، انعام، قصبہ، عادت، خطاب، انتظام
٭٭٭
تذکیر و تانیث (GENDER)
جنس سے مراد اسم کی تذکیر و تانیث سے ہے۔
مذکر(Masculine): تذکیر کا مطلب وہ اسم ہے جو مذکر یا نَر کے لیے بولا جائے۔
جیسے: لڑکا، حامد، گھوڑا، مرد، شیر وغیرہ
مؤنث(Feminine): تانیث کا مطلب وہ اسم ہے جو مؤنث یا مادہ کے لیے بولا جائے۔
جیسے: لڑکی، عابدہ، گھوڑی، عورت، مرغی
وضاحت: تذکیر و تانیث کی تقسیم جانداروں کے لحاظ سے کی جاتی ہے۔ در اصل ان میں نر و مادہ کا پتہ لگانا آسان ہو جاتا ہے۔ اسے جنس حقیقی کہتے ہیں۔
جنس غیر حقیقی: بے جان چیزوں میں نر اور مادہ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس لیے ان میں تذکیر و تانیث کوئی چیز نہیں ہوتی۔ پھر بھی زبان کی دنیا میں جو اسم بے جان ہوں۔ ان کی تذکیر و تانیث کو غیر حقیقی کہتے ہیں۔
مثلاً: قلم، گھڑی، جوتا، موتی، وغیرہ
ٹوٹ: تذکیر و تانیث کے ساتھ خواہ وہ حقیقی (جاندار) ہو یا غیر حقیقی (غیر جاندار) فعل کا صیغہ بھی اسی اعتبار سے مونث یا مذکر میں بدل جاتا ہے۔ جیسے:
تذکیر و تانیث
مذکر مؤنث
لڑکا کھیلتا ہے لڑکی کھیلتی ہے
دھوبی آئے گا دھوبن آئے گی
راجا اچھا ہے رانی اچھی ہے
ہرن پکڑا گیا ہرنی پکڑی گئی
مثال: مندرجہ ذیل خانوں میں مذکر و مونث لکھے گئے ہیں۔
مذکّر
لڑکا
ابّا
سلطان
اُستاد
شیر
دھوبی
مرغا
چچا
ماموں
مونث
لڑکی
اماں
سلطانہ
اُستانی
شیرنی
دھوبن
مرضی
چچی
ممانی
۱۔ مندرجہ ذیل لفظوں میں مذکر اور مونث خانوں کے مطابق لکھئے:
درخت۔ بیماری۔ کھیل۔ جگہ۔ جانور۔ حفاظت۔ آرام۔ کیڑا۔ صندوق۔ دیمک۔ خارِش۔ پانی۔ پھول۔ گٹھلی۔ چھال۔ ٹہنی
مذکّر
مونّث
۲۔ نیچے لکھے ہوئے الفاظ میں مذکر اور مونث تلاش کر کے الگ الگ لکھئے۔
لڑکی۔ گائے۔ دھوبی۔ کاپی۔ چاند۔ کِسان۔
۳۔ ان لفظوں میں سے مذکر اور مونث الگ الگ خانوں میں لکھئے۔
آرام۔ دل۔ کلام۔ مزاج۔ مصیبت۔ زندگی۔ جان۔ ماجرا۔ گلہ۔
دم۔ آواز۔ چراگہ۔ کرخت۔ صورت۔ منظر۔ فصل۔ جنگل۔ نسل
مذکّر
مونّث
۴۔ نیچے دئیے ہوئے لفظوں کو مذکر اور مونث کے خانوں میں ترتیب دیجئے۔
مذکر
مونث
پہاڑ۔ صبح۔ موسم۔ دعا۔ مہک۔ تہوار۔ ریاست۔ محنت۔ دھواں۔ وقت۔ لفظ۔ قافلہ۔ جماعت۔ حرف۔ چین۔ مبارک باد
۵۔ مندرجہ ذیل الفاظ مذکر ہیں یا مونث؟
ناؤ۔ پوجا۔ عمارت۔ پردہ۔ توبہ۔ جمعہ۔ خط۔ بوتل۔ اردو۔ امتحان۔ درگاہ۔ نمک دان۔
مذکر
مونث
۶۔ مندرجہ ذیل اسماء میں جو مونث ہیں ان کے مذکر اور جو مذکر ہیں ان کے مونث لکھئے۔
بندہ۔ مالن۔ سلطان۔ دلہن۔ جوگن۔ گوالا۔ فقیر۔ شاعر۔ والدہ۔ معلم۔ صاحبہ۔ قاتل۔ مہتر۔ ناگن
۷۔ نیچے دیے الفاظ کا اس طرح استعمال کرو کہ ان کی تذکیر و تانیث واضح ہو جائے۔
صبح۔ درد۔ مرض۔ بارش۔ پانی۔ خبر۔ چاندنی۔ سونا۔ ندی۔ دریا۔ کاغذ۔ کتاب۔ راستہ۔ عزت۔ روشنی۔ مسجد۔ مندر۔ سورج۔ جنوری۔ جون۔ فروری
جیسے۔ صبح ہو گئی ہے۔ (اس جملے میں ’’صبح‘‘ مونث ہے۔ )
میرے پیٹ میں سخت درد ہو رہا ہے۔ (جس جملے میں ’’درد‘‘ مذکر ہے۔ )
مذکر اور مونث کی جملوں کے ذریعے پہچان۔
ذیل کے الفاظ مذکر ہیں یا مونث؟ جملے میں ان کا استعمال جواب
تالاب تالاب بہت بڑا ہے مذکر
شہرت وہاں میری بہت شہرت ہوئی مونث
ہونٹ تمہارا ہونٹ موٹا ہے مذکر
موتی ہار کا موتی ٹوٹ گیا مذکر
جامن جامن کھٹی ہے مونث
امرود سلیم نے امرود خریدا مذکر
دہلی دہلی بہت بڑی ہے مونث
شہر یہ شہر چھوٹا ہے مذکر
دہی دہی کھٹا ہے مذکر
رات رات ہو گئی مونث
برقع برقع پھٹ گیا مذکر
مندرجہ تذکیر و تانیث یاد کیجئے۔
مذکّر مونّث مذکّر مونّث مذکّر مونّث
مرد عورت مصنِّف مُصنِّفہ غلام باندی
وارث وارثہ باپ ماں معظم معظمہ
جن پری اندھا اندھی بندہ بندی
گدھا گدھی نواب بیگم شہزادہ شہزادی
خان خانم مالی مالن پدر مادر
گوالا گوالن قاتل قاتلہ مراسی مراسن
معلِّم معلِّمہ حاجی حجّن مَلِک ملکہ
بھوت بھوتنی ملازم ملازمہ استاد استانی
عقیل عقیلہ سید سیدانی خادم خادمہ
پنڈت پنڈتانی ناصر ناصرہ دیور دیورانی
محترم محترمہ شکیل شکیلہ جمیل جمیلہ
شاہد شاہدہ بالغ بالغہ عالی عالیہ
مکرم مکرمہ ناظم ناظمہ سلّمہ سلّمہا
ساحر ساحرہ لڑکا لڑکی جیٹھ جیٹھانی
٭٭٭
متضاد الفاظ (ANTONYMS)
متضاد: متضاد لفظ ضد سے بنا ہے جس کے معنی برعکس یا الٹے کے ہیں۔ وہ الفاظ جو معنی میں ایک دوسرے کی ضد ہوں، انھیں متضاد الفاظ کہا جاتا ہے۔
مثلاً: شمس و قمر، شب و روز، نشیب و فراز، عرش و فرش وغیرہ
وضاحت: تحریر میں متضاد الفاظ کا ایک ساتھ استعمال کرنا اردو زبان کی لطافت اور زور بیان کو بڑھانے کا باعث ہے۔
نیچے لکھے ہوئے الفاظ کے متضاد الفاظ۔
الفاظ متضاد
شمس قمر
مضبوط کمزور
شب روز
نشیب فراز
نیک نام بد نام
عرش فرش
غریب امیر
بیٹی بیٹا
پر امید مایوس
۱۔ اسی طرح ان لفظوں کے متضاد باکس میں لکھئے۔
سُکھ۔ دن۔ اچھا۔ کالا۔ صبح۔ راجا۔ سونا۔ ڈوبنا۔ اندھیرا۔ پاس۔ جل۔ تیرنا
تھل۔ پرجا۔ سُکھ۔ اچھا۔ صبح۔ دور۔ جاگنا۔ اجالا۔ دِن۔ کالا۔
۲۔ نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھئے۔
صاف۔ آفتاب۔ آسمان۔ بہار۔ پچھم۔ پردیس۔ خشک۔ جواب۔ موت
۳۔ نیچے ہر لفظ کے سامنے تین تین لفظ دیے گئے ہیں۔ صحیح متضاد کو خالی جگہ میں لکھئے۔
اجالا چمک دار اندھیرا روشنی ٭…………………
خوشی مصیبت آرام غم ٭…………………
اونچی اوپری نیچی گہرائی ٭…………………
بجھاتی جلاتی اٹھاتی سجاتی ٭…………………
اوپر برابر درمیان نیچے ٭…………………
۴۔ نیچے لکھے ہوئے جملوں میں خط کشیدہ لفظوں کے متضاد لکھ کر جملے مکمل کیجئے۔
٭ ابھی انھوں نے کھانا۔۔۔۔۔ نہیں کیا تھا کہ باقی لوگ نے ختم کر دیا۔
٭ اس بات پر دونوں میں بہت۔۔۔ ہوا اور بعد میں صلح ہو گئی۔
٭ اگر تم تین روپئے لے لو تو۔۔۔میں رہو گے ورنہ نقصان ہو گا۔
۵۔ مندرجہ ذیل الفاظ کے متضاد لکھئے۔
برباد۔ زندگی۔ حاضر۔ رونا۔ سچا۔ صحیح۔ غلامی۔
نرم۔ جنگ۔ زمین۔ موت۔
۶۔ نیچے دیے گئے نقشہ میں ہر منزل پر ایسے دو الفاظ کے گرد دائرہ بنائیے جو متضاد ہوں۔
منزل
۱۔ عروج زوال سوال
۲۔ امیر ضعیف غریب
۳۔ بلندی ہستی پستی
۴۔ دوزخ جہنم جنّت
۵۔ عاقل غافل بیدار
۶۔ محبت حسرت نفرت
۱۰۔ بہار خزاں سماں
مندرجہ ذیل لکھے متضاد الفاظ زبانی یاد کیجئے۔
الفاظ متضاد الفاظ متضاد
شروع آخر بری اچھی
پھول کانٹے جنگ امن
بعد پہلا اوّل آخر
بدصورتی خوبصورتی آزادی غلامی
نیچا اونچا صبح شام
تکلیف آرام عوام خواص
سچّا جھوٹا خوشنما بدنما
پورب پچھم جواب سوال
اٹھنا بیٹھنا خوشبو بدبو
اتّر دکھن عالم جاہل
جلا بجھا دوستی دشمنی
آباد ویران/ برباد اجالا اندھیرا
ایکتا انیکتا رحم ظلم
گرم سرد ادھار نقد
بچپن جوانی بہار خزاں
بھلائی برائی روشنی اندھیرا
میٹھا کھٹّا زیادہ کم
دوست دشمن رنجیدہ راحت
عام خاص اندھیرا اجالا
بلند پست خشک تر
مشکل آسان پاس دور
دائیں بائیں خشکی تری
گندا صاف حاضر غائب
اوپر نیچے روشن تاریک
بوڑھا جوان رات دن
خوش رنگ بد رنگ روشنی تاریکی
پکّا کچّا انسان حیوان
محبت نفرت اندھیرا اجالا
خوشی غم گرمی سردی
جنوب شمال عالم جاہل
دھوپ چھاؤں دیر جلدی
کھرا کھوٹا عقل مند بیوقوف
ٹھنڈا گرم آسمان زمین
نفع نقصان کم بیش
فائدہ نقصان زندگی موت
مشرق مغرب ناراض راضی
محبت نفرت دنیا آخرت
جیت ہار ابتدا انتہا
بڑا چھوٹا بلندی پستی
دیر جلدی صبح شام
بہادر بزدل سکون بے چین
مخالف موافق شب روز
وفا جفا غریب امیر
لائق نالائق اتار چڑھاؤ
پانی خشکی آج کل
ٹیڑھا سیدھا خیر شر
اندر باہر چھوٹا بڑا
سختی نرمی آفتاب مہتاب
شمس قمر جنگ صلح
ارض سما صحیح غلط
عرش فرش نرم گرم
آغاز انجام سیاہ سپید
فتح شکست شادی ماتم
غافل بیدار دنیا آخرت
نشیب فراز اوّل آخر
بدی نیکی پدر مادر
دیر حرم تعزیت تہنیت
جز کل رہبر رہزن
رفیق رقیب سراب حقیقت
جزا سزا جلوت خلوت
جنت دوزخ شہید غازی
عروج زوال تحریر تقریر
٭٭٭
مترادِف الفاظ (SYNONYMS)
مترادف: وہ الفاظ جو معنی میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں، انھیں مترادف الفاظ کہتے ہیں۔
جیسے: حسن و جمال، اتحاد و اتفاق، رنج و الم، صنعت و حرفت، علم و دانش، وغیرہ
مثال دیے گئے ہم معنی الفاظ حرف عطف ’واؤ‘ سے جوڑا گیا ہے لیکن ’’میل ملاپ‘‘ اور ’’بڑھ چڑھ‘‘ میں کوئی حرف عطف نہیں مگر یہ بھی معنی کے لحاظ سے یکساں ہیں۔
نوٹ: یاد رہے صرف انھیں دو الفاظ کو ایک ساتھ بطور مترادف استعمال کیا جاتا ہے جن کو اہل زبان نے استعمال کیا ہے۔ مترادف لفظوں کے لیے ضروری نہیں ہے کہ دونوں الفاظ ہمیشہ ایک ساتھ استعمال کیے جائیں۔
جیسے: خوف اور ڈر یا شبنم اور اوس ایک دوسرے کے مترادف ہیں لیکن انہیں ایک ساتھ استعمال نہیں کیا جاتا۔
وضاحت: بات میں وزن یا زور پیدا کرنے کے لیے ہم کبھی کبھی جملوں میں ایسے الفاظ لاتے ہیں جو معنی کے استعمال سے ایک دوسرے سے قریب ہوتے ہیں۔ یہی صورت متضاد الفاظ کے سبق میں بیان کی گئی ہے کہ اہل زبان اپنی بات کو پُر اثر اور دلچسپ بنانے کے لیے متضاد الفاظ کا ایک ساتھ استعمال کرتے ہیں۔
مترادف الفاظ کی مثالیں
اتحاد و اتفاق، خواب و خیال، عیش و آرام، حسن و جمال، رنج و الم، صنعت و حرفت، علم و دانش، ذلت و خواری، سرسبز و شاداب، حسین و جمیل، تب و تاب، عشق و محبت، نظم و نسق، ہوش و حواس، قدرو منزلت، مال و متاع، رنج و غم، عجیب و غریب،،عزیزو اقارب، نام و نمود، خط و کتابت، گرد و غبار، سیر و سیاحت، غور و فکر، دوست و احباب، قول و قرار
بغیر حرف عطف کے مترادف الفاظ
صبح سویرے، میل ملاپ، بڑھ چڑھ، شور شرابا، کھیتی باڑی، کیڑے مکوڑے
اگر چہ ایسے تمام الفاظ مترادف کہے جا سکتے ہیں جن کے معنی ایک جیسے ہوں۔
مثلاً (سورج، آفتاب، مہر) (دوست، رفیق، احباب، یار) یا (حسین، خوبصورت، جمیل)وغیرہ مگر ہر مترادف لفظ کا اپنا محل اور مقام ہوتا ہے۔ جن کی مثالیں اوپر دی جا چکی ہیں۔
____________________
مندرجہ ذیل ہم معنی الفاظ لکھے جاتے ہیں۔
الفاظ مترادف الفاظ الفاظ مترادف الفاظ
سورج شمس، آفتاب، مہر نغمہ ترانہ، سرود
دوست رفیق، احباب، یار غریب مفلس، گدا
خوبصورت حسین، جمیل زلف گیسو، کاکل، بال
آبگینہ شیشہ، کانچ وعدہ قول، عہد، قرار
ابن پسر، فرزند رہبر ہادی، رہنما
شیون اشک، گریہ، آنسو وفات موت، رحلت
آفتاب خورشید، شمس مناجات دُعا، فریاد
اتالیق استاد، ماسٹر، معلم تمنا خواہش، آرزو
مہتاب قمر، ہلال، بدر رنج الم، غم
ارض خاک، زمین ظلمت جہالت، تاریکی
شراب مے، خمر شمع موم بتی، مصباح
فلک گردوں، چرخ روشنی نور ، ضیا
اعتماد بھروسہ، یقین، اعتبار جام قدح، پیمانہ، بادہ، پیالہ
حیات زندگی، زیست قفس زنداں، قید، جیل
عالم دنیا، کائنات گور قبر، مرقد، لحد
شمشیر تیغ، سیف، تلوار
٭٭٭
محاورے (IDIOMS)
تعریف: محاورہ کے لغوی معنی باہم بات چیت کرنے کے ہیں۔ محاورہ عام بول چال میں چند ایسے الفاظ کا مجموعہ ہے جس میں الفاظ اپنے اصل معنی کے بجائے مختلف معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ محاورہ فعل پر ختم ہوتا ہے۔
جیسے مندرجہ ذیل جملوں کو پڑھئیے:
٭ بہت دن بعد بہن سے مل کر آنکھیں بھر آئیں۔
٭ حقیقت سامنے آنے پر وہ بغلیں جھانکنے لگا۔
٭ آپ سے مل کر دل باغ باغ ہو گیا۔
ان جملوں کے خط کشیدہ الفاظ، ’’آنکھیں بھر آئیں، بغلیں جھانکنے لگا اور دل باغ باغ ہو گیا‘‘ کے معنی ہیں: ’’رنجیدہ ہونا، شرمندہ ہونا اور بہت خوش ہونا‘‘(بالترتیب)
نوٹ: ’’آئیں، لگا، ہو گیا‘‘ پر محاورہ فعل پر ختم ہو گیا ہے۔
مثالیں: ٹھنڈا ہونا، دل پھٹنا، آپے سے باہر ہونا، پانی میں آگ لگانا، تھک کر چور ہو جانا، اپنا الّو سیدھا کرنا، باغ باغ ہونا، آنسو پونچھنا، آنکھیں چار ہونا، دانتوں سے انگلیاں کاٹنا ، آنکھ چرانا، دل پر چوٹ لگنا، دانت کھٹّے کرنا، ہاتھ بٹانا، چھاتی پر پتھّر رکھنا۔
محاورہ کی جگہ اس کے معنی کو استعمال کرنا غلط ہے:
محاورہ معانی
جملوں میں استعمال
نو دو گیارہ ہونا بھاگ جانا، غائب ہو جانا
میری ذرا سی غفلت سے میرا نوکر سارا سامان لے کر نو دو گیارہ ہو گیا۔
منھ میں پانی بھر آنا لالچ کرنا
حامد کے کیمرے کو دیکھ میرے منھ میں پانی بھر آیا۔
عید کا چاند ہونا کبھی کبھی نظر آنا، بہت دنوں تک غائب رہنا
آج کل تم عید کا چاند ہو گئے ہو آخر رہتے کہاں ہو؟
دل پر چوٹ لگانا دل پر اثر ہونا، دل کو خبر ہونا
میرؔ کی شاعری پڑھ کر دل پر چوٹ لگتی ہے۔
دل کو بھانا اچھا لگنا
ہرا رنگ میرے دل کو بھاتا ہے۔
دل آزار ہونا رنجیدہ ہونا، شکستہ خاطر ہونا
دوست کے مرنے کی خبر سے میرا دل آزار ہوا
تھوڑی دیر کا مہمان ہونا مرنے کے قریب ہونا
عابد کافی عرصے سے بیمار ہے، اس وقت وہ تھوڑی دیر کا مہمان ہے۔
سانس تیز چلنا حالتِ نزع سے گزرنا
سلیم کی سانس تیز چل رہی ہے۔
عذاب گردن پر ہونا اپنے سر تکلیف لینا
دوسروں کے جھگڑے میں پڑنا عذاب گردن پر ہونا ہے۔
پھولوں کی بارش ہونا گرم جوشی سے استقبال ہونا
وزیر اعظم کے آنے پر پھولوں کی بارش ہوئی۔
پھونک پھونک کر قدم رکھنا بڑی احتیاط سے کام کرنا
دنیا بری جگہ ہے، یہاں پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہیے۔
باغ باغ ہونا بہت خوش ہونا
آپ سے مل کر دل باغ باغ ہو گیا
جنگل میں منگل ہونا چہل پہل ہونا، ویران جگہ پر رونق ہونا
اگر تم اسکاؤٹ کیمپ میں چلو تو جنگل میں منگل ہو جائے۔
دال میں کالا ہونا کوئی چھپی ہوئی چال، کچھ عیب ہونا
دال میں کالا ہونے کی وجہ سے عابد میٹنگ میں نہیں آیا۔
ہاتھ بٹانا کسی کام میں مدد کرنا
تم اس کام میں میرا ہاتھ بٹاؤ۔
آنکھوں کا تارہ ہونا بہت عزیز، بہت پیارا
ماں کے لیے بیٹا آنکھ کا تارا ہوتا ہے۔
پیروں میں بیڑی پڑنا بندھنا، مجبور ہونا
جوان بیٹوں نے میرے پیروں میں بیڑی ڈال دی ہے اس لیے گھر سے باہر نکلنا میرے لیے مشکل ہے۔
چراغ تلے اندھیرا ہونا صدر مقام میں بدنظمی
افسر کے آفس میں رشوت خوری چراغ تلے اندھیرے کی طرح ہے۔
ٹھنڈا ہونا مر جانا
طوطا پنجرے میں پھڑ پھڑا کر ٹھنڈا ہو گیا۔
آپے سے باہر ہونا غصے یا خوشی میں بے اختیار ہو جانا
جب میرے بھائی کو غصہ آتا ہے تو وہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔
داؤں پیچ لگانا فریب کرنا
سوہن میرا دوست ہوتے ہوئے بھی میرے ساتھ داؤں پیچ لگاتا ہے۔
لڑائی کا بگل بجا دینا جنگ کا اعلان کرنا
گاندھی جی نے ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑائی کا بگل بجا دیا۔
اندھے کی لاٹھی سہارا، ذریعہ، وسیلہ
حمید آخری اولاد ہے اپنے بوڑھے باپ کے لیے اندھے کی لاٹھی ہے۔
صدمہ اٹھانا غم اٹھانا
حمید نے اپنے بیٹے کے مرنے کا صدمہ اٹھایا
دل پھٹنا بہت افسوس کرنا
سچے دوست کے مرنے پر دل پھٹ جاتا ہے
دانتوں تلے انگلیاں کاٹنا غم زدہ ہونا
سوداگر نے غم زدہ ہو کر دانتوں سے انگلیاں کاٹ لیں۔
پانی میں آگ لگانا نا اتفاقی پیدا کرنا، نا ممکن کام کرنا
حمید دوستوں کے بیچ پانی میں آگ لگانے کا کام کرتا ہے۔
اپنا الّو سیدھا کرنا اپنا مطلب نکالنا
تم آتے ہو کسی نہ کسی طرح اپنا الّو سیدھا کر کے چلے جاتے ہو۔
آنسو پونچھنا تسکین دینا
ماں کے مرنے پر حامد نے میرے آنسو پوچھے
رنج اٹھانا صدمہ برداشت کرنا
میری ماں بچپن میں مری تھی لیکن آج تک رنج اٹھا رہا ہوں۔
آنکھ چرانا بچ کر نکلنا، شرمانا
جب سے چوری پکڑی گئی ہے سوہن مجھ سے آنکھ چراتا ہے۔
تھک کر چور ہو جانا بہت زیادہ تکان ہونا
بیٹی کی رخصتی کے بعد اسلم تھک کر چو ٗر ہو گیا
آنکھیں چار ہونا مقابلہ ہونا، سامنا کرنا
جب آنکھیں چار ہوتی ہیں تو محبت ہو ہی جاتی ہے۔
دانت کھٹّے کرنا ہرا دینا
ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے دانت کھٹے کر دیے۔
چھاتی پر پتھر رکھنا صبر کرنا
راجو کے گھر سے بھاگ جانے کے بعد اس کے والدین نے چھاتی پر پتھر رکھ لیا۔
نیچا دکھانا ذلیل کرنا
شاعر ہمیشہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
زمین آسمان ایک کر دینا بہت کوشش کرنا، بڑھا چڑھا کر بات کہنا
چاپلوس اپنے مالک کو خوش کرنے کے لیے زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں۔
جان چھڑانا پیچھا چھڑانا
بیوی کی بدزبانی سے شوہر اپنی جان چھڑاتا ہے۔
پالا پڑنا واسطہ پڑنا
برے لوگوں سے ابھی تمہارا پالا نہیں پڑا ہے ورنہ سب پتہ لگ جاتا۔
آڑے ہاتھوں لینا برا بھلا کہنا
گلی میں اچانک سلیم سے ملاقات ہونے پر میں نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔
ناک میں دم کرنا پریشان کرنا
اس گلی میں ہر روز کے جھگڑے سے ہم لوگوں کی ناک میں دم ہے۔
ہوا کے گھوڑے پر سوار ہونا جلد بازی کرنا
تم سے دو گھڑی کی بات کرنا مشکل ہو گیا ہے ہمیشہ ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے ہو۔
چار چاند لگانا خوبصورتی میں اضافہ کرنا
چاندنی رات میں تاج محل کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔
تاک میں رہنا تلاش میں رہنا
بلّی ہمیشہ کبوتر کی تاک میں رہتی ہے۔
بازار گرم ہونا مال خوب بکنا، رونق، چہل پہل
چاند رات کو کپڑے اور جوتوں کی دکانوں کا بازار گرم رہتا ہے۔
رات کاٹنا رات گزارنا
حامد نے اپنی والدہ کی بیماری میں رات کاٹ دی۔
آنکھیں پھیرنا بے مروّت ہونا
دولت ملتے ہی سلیم نے اپنے دوستوں سے آنکھیں پھیر لیں۔
ٹکٹکی باندھنا پلکیں جھپکائے بغیر لگاتار دیکھتے رہنا
اس کی یہ بری عادت ہے کہ وہ خوبصورت لڑکیوں کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا ہے۔
پانی پانی ہونا بہت شرمندہ ہونا
حامد جب جماعت میں چوری کرتا ہوا پکڑا گیا تو پانی پانی ہو گیا۔
آسمان سر پر اٹھانا بہت شور کرنا
استاد کی غیر موجودگی میں بچوں نے کلاس میں آسمان سر پر اٹھا لیا۔
اپنا راگ الاپنا اپنی ہی بات کہے جانا
حمید دوسرے کی سنتا ہی نہیں بس اپنا راگ الاپتا رہتا ہے۔
آٹے میں نمک ہونا بہت کم ہونا
پاکستان میں ہندوؤں کی آبادی آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
بیڑا اٹھانا ذمّے داری قبول کرنا
عمران خان نے ہندو پاک میں دوستی کرانے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔
دل لبھانا دل کھینچنا
تاج محل کی خوبصورتی ہر انسان کا دل لبھاتی ہے
سر پر کفن باندھنا جان دینے کے لیے تیار رہنا
ہندوستانی انگریزوں سے مقابلہ کرنے کے لیے سر پر کفن باندھ کر نکل پڑے
اینٹ کا جواب پتھر سے دینا سخت بات کا جواب سختی سے دینا
میں اپنے دشمنوں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیتا ہوں، لیکن دوستوں کے ساتھ نرمی سے پیش آتا ہوں۔
نام روشن کرنا عزّت بڑھانا
سلمان نے دسویں درجہ میں فرسٹ کلاس پاس ہو کر اپنے والد کا نام روشن کر دیا۔
جان نچھاور کرنا جان قربان کرنا
میں اپنے ملک کے لیے جان نچھاور کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہوں۔
سانس رکنا سانس پوری طرح نہ آنا
میرا پڑوسی کافی عرصہ سے بیمار ہے اس کے سانس رکنے کی وجہ سے سب پریشان ہیں۔
دم فنا ہونا جان نکلنا، مر جانا
حامد کی بوڑھی ماں کا کمزوری کے سبب دم فنا ہو گیا۔
خاک جھونکنا مٹّی یا دھول ڈالنا
میں نے اپنے دوست کی تمام غلطیوں پر خاک جھونکی اور دوستی برقرار رکھی۔
پرخچے اڑانا ٹکڑے ٹکڑے کرنا، پرزے کرنا
جہاز میں آگ لگنے سے فضا میں اس کے پرخچے اڑ گئے۔
جلوہ دکھانا بے مروّت ہونا
میرے برے وقت میں سلیم نے اپنا جلوہ دکھا دیا جبکہ مجھے اس سے کافی امید تھی۔
خوف کھانا ڈرنا
پرنسپل صاحب کی سختی سے تمام طلباء خوف کھاتے ہیں۔
غصہ پینا غصہ پر قابو پانا
حامد نے اپنے کلاس ٹیچر کی بدتمیزی کی پھر بھی وہ اپنا غصّہ پی گئے۔
بھیگی بلّی بننا شرمندہ و پشیمان ہونا
جماعت میں چوری پکڑنے جانے پر بچوں کے سامنے حمید بھیگی بلّی بن گیا۔
بُت بننا بالکل خاموش اور بے حرکت ہو جانا
چوری کرنے پر جب عابد سے پوچھ تاچھ کی گئی تو پرنسپل کے سامنے بت بنا کھڑا رہا۔
ٹل جانا رک جانا
فساد سے بچو برا وقت ٹل جائے تو اچھا ہے۔
پاؤں اکھڑ جانا میدان چھوڑ دینا، میدان سے بھاگ جانا
سکندر اعظم کے مقابلے میں پورس کی فوج کے پاؤں اکھڑ گئے۔
جان ہتھیلی پر لیے پھرنا ہمت کا مظاہرہ کرنا
جنگ آزادی کے مجاہدین انگریز حاکموں کے سامنے اپنی جان ہتھیلی پر لیے گھومتے تھے۔
ایک نہ سننا راضی نہ ہونا
میں نے پرنسپل سے بہتیری معافی مانگی لیکن انہوں نے ایک نہ سنی۔
بھاری پڑنا مشکل پیش آنا
جاڑے کی شدت میں مہمانوں کا آنا بھاری پڑ گیا۔
ڈٹ کر مقابلہ کرنا بہادری سے لڑنا
ہندو اور مسلمانوں نے مل کر انگریزوں سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
ایک آنکھ نہ بھانا کسی طرح گوارا نہیں، پسند نہ کرنا
اپنی گندی عادتوں کی وجہ سے سلیم مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا۔
تختہ اُلٹ دینا انقلاب لانا، تبدیلی لانا
انگریز تجارت کی غرض سے آئے لیکن اپنی سازشوں سے مغلیہ سلطنت کا تختہ الٹ دیا۔
ہمت نہ ہارنا جرأت مند ہونا، حوصلہ رکھنا
انگریز ٹیپو سلطان کے سامنے بہت طاقت ور تھے پھر بھی آخر تک اس نے ہمت نہیں ہاری اور شہید ہو گیا۔
حکم سر آنکھوں پر ہونا خوشی خوشی مان لینا
بچوں کو اپنے بزرگوں کا حکم سر آنکھوں پر لینا چاہیے۔
فقرے چست کرنا مذاق اڑانا
مجھے حامد کی دوستوں پر فقرے چست کرنے کی عادت پسند نہیں۔
نظر لگنا بری نظر کا اثر ہونا
بچوں کو اپنوں کی بھی نظر لگ جاتی ہے۔
آنکھ لگنا نیند آ جانا
پڑھتے پڑھتے ہی میری آنکھ لگ گئی۔
ٹکا سا جواب دینا بہت جلد صاف جواب دینا، بالکل انکار کر دینا
میں حمید کے ہر برے وقت میں کام آیا لیکن جب مجھے سو روپئے کی ضرورت ہوئی تو اس معمولی رقم کے لیے اس نے ٹکا سا جواب دے دیا۔
اپنے منھ میاں مٹھو بننا اپنی تعریف کرنا
تعریف جب ہے کہ دوسرے آپ کی تعریف کریں، اپنے منھ میاں مٹھو بنے تو کیا؟
رات ڈھل جائے گی رات کا گزرنا
جوں جوں رات ڈھلتی جائے گی سردی بڑھتی جائے گی۔
گھر کی مرغی دال برابر گھر کی قیمتی چیز کی ناقدری ہونا اپنی چیز کو اہمیت نہ دینا
میرے والد عظیم شاعر ہیں ان کی عزت اور شہرت دنیا میں ہے لیکن گھر میں ان کی قدر گھر کی مرغی دال برابر جیسی ہے۔
طوطا چشم ہونا بے مروّت ہونا
سلیم کی برے وقت میں بہت مدد کی لیکن وہ طوطا چشم نکلا۔
۱۔ صحیح الفاظ چُن کر محاورہ پورا کیجئے:
(الف) آپے سے۔۔ ۔۔۔ہونا۔ (اندر/باہر/اوپر)
(ب) تھک کر۔۔ ۔۔۔ہو جانا۔ (چوٗر/مور/حور)
(ج) باغ باغ۔۔۔۔۔ (ہونا/رونا/گھومنا)
(د) ۔۔ ۔۔ ۔۔۔چرانا۔ (ناک/کان/آنکھ)
(س) آنکھیں۔۔۔ہونا۔ (سات/چار/آٹھ)
(ص) دانت۔۔۔کرنا۔ (نمکین/کھٹے /میٹھے )
(ط) ۔۔۔۔۔ پر پتھر رکھنا۔ (ہاتھ/پیر/چھاتی)
۲۔ دیے گئے اشارے کے مطابق محاوروں کے معنی کی نشاندہی کیجئے؟
(الف) جان چھڑانا (الف) تلاش میں
(ب) پالا پڑنا (ب) بُرا بھلا کہنا
(ج) آڑے ہاتھوں لینا (ج) جلد بازی کرنا
(د) ناک میں دَم کرنا (د) پریشان کرنا
(ر) اپنا اُلّو سیدھا کرنا (ر) واسطہ پڑنا
(س) ہوا کے گھوڑے پر سوار ہونا (س) اپنا مطلب نکالنا
(ص) تاک میں رہنا (ص) پیچھا چھڑانا
۳۔ نیچے لکھے ہوئے محاوروں کا صحیح مطلب پہلی مثال کی طرح چن کر لکھئے اور جملوں میں استعمال کیجئے۔
دل لبھانا
فائدہ مند ہونا/ دل کو کھینچنا/ عاشق ہونا
درست: دل کھینچنا
جملہ: تاج محل کی خوبصورتی انسان کا دل کھینچتی ہے۔
جلوہ دِکھانا
بے مروّت ہونا/ بھاگ جانا/نظر آنا/
خوف کھانا ہوشیار کرنا/ڈرنا
پلکیں جھپکائے بغیر دیکھنا
۴۔ نیچے دیے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے؟
محاورہ جملوں میں استعمال
ٹل جانا : ۔۔۔۔۔۔
پاؤں اکھڑ جانا: ۔۔۔۔۔۔
جان ہتھیلی پر لیے پھرنا: ۔۔۔۔۔۔
ڈٹ کر مقابلہ کرنا: ۔۔۔۔۔۔
ایک نہ سننا: ۔۔۔۔۔۔
بھاری پڑنا: ۔۔۔۔۔۔
ایک آنکھ نہ بھانا: ۔۔۔۔۔۔
تختہ اُلٹ دینا: ۔۔۔۔۔۔
ہمت نہ ہارنا: ۔۔۔۔۔۔
۵۔ دیے گئے اشارے کے مطابق محاوروں کے معنی کی نشاندہی کیجئے؟
محاورے معنی
ٹکٹکی باندھنا (بہت غصہ میں ہونا)
طوطا چشم ہونا (بہت شور کرنا)
پانی پانی ہونا (اپنی ہی بات کہے جانا)
آپے سے باہر ہونا (بہت کم ہونا)
آسمان سر پر اٹھانا (بہت شرمندہ ہونا)
اپنا راگ الاپنا (بے مروّت ہونا)
آٹے میں نمک ہونا (پلک جھپکائے بغیر دیکھنا)
۶۔ نیچے دیے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے؟
محاورہ مطلب جملوں میں استعمال
دم فنا ہونا جان نکلنا، مر جانا ۔۔۔۔
جلوہ دکھانا بے مروّت ہونا ۔۔۔۔
خوف کھانا ڈرنا ۔۔۔۔
۷۔ نیچے دیے ہوئے محاوروں کا صحیح مطلب، سامنے بنے ہوئے خانوں سے چن کر لکھئے:
محاورہ: حکم سر آنکھوں پر ہونا
مطلب: فیصلہ کرنا خوشی خوشی مان لینا حکم دینا
محاورہ: فقرے چست کرنا
مطلب: بے کار کی باتیں کرنا مذاق اڑانا دھوکا دینا
محاورہ: نظر لگنا
مطلب: آنکھ لگنا بری نظر کا اثر ہونا معلوم ہونا
۸۔ نیچے دیے ہوئے محاروں کے مطلب بتائیے اور جملوں میں استعمال کیجئے۔
محاورے مطلب جملوں میں استعمال
غصّہ پی جانا ۔۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
بھیگی بلّی بننا ۔۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
بُت بننا ۔۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
دل پر چوٹ لگنا ۔۔ ۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
_______________________
کتنا سیکھا؟
۱۔ مندرجہ ذیل الفاظ کو صحیح خانوں کے مطابق لکھئے۔
اسم الفاظ صفت ضمیر
گھنے، ہمارے، خراب، پانی، پُر فضا، پتھریلی، ٹھنڈا، سخت، چٹانیں، ہمیں، اپنی، سنامی، زرخیز، ہم، جنگلات، پتھر، وہ، آپ، اس، وادیاں ، مویشی، تم، پرت، بنجر
۲۔ مندرجہ ذیل جملوں میں جہاں جہاں صفت اور اسم کا استعمال ہوا ہے۔ انہیں پہچان کر خالی جگہوں میں لکھئے؟
سب ہی لوگ چمکیلے اور بھڑک دار کپڑے پہنے ہوتے ہیں۔ کیرالا کی حسین وادیاں، بہتے جھرنے، لہلہاتے کھیت اور سمندر کے خوبصورت ساحل مجھے اتنے پسند آئے کہ میں نے اس سیر میں تمہیں بھی شریک کر لیا۔
اسم: …… …… …… …… …… …… …… ……
صفت: …… …… …… …… …… …… …… ……
۳۔ نیچے دیے ہوئے لفظوں کو صحیح خانوں میں لکھئے؟
اسم صفت
لباس، تازہ، مسام، اچھی، جلد، صاف، چکنا، گرم، خون، مکھی، گندہ، سخت، تولیا، صابن، باریک، خوردبین
۴۔ نیچے دیے گئے لفظوں کو ان کے صحیح خانوں میں لکھئے؟
صفت فعل
نکلنا، نالائقی، دوڑنا، خشک، جھوٹ، سنوارنا، صاف، بھرنا، زرخیز، کھانا، گلزار، اکھڑنا، دیکھنا، پُر فضا، پھرنا، لمبا، چھوڑنا، ٹہلنا،
۵۔ فعل تلاش کرو اور خالی جگہ پر لکھو؟
(الف) یہ شخص بہت قسمیں کھاتا ہے۔ ۔۔۔۔
(ب) نہیں تو میں برباد ہو جاؤں گا۔ ۔۔۔۔
(ج) تم نے کس جگہ اس کے روپئے دیے تھے۔ ۔۔۔۔
(د) قاضی کی بات سن کر دوسرا شخص مسکرانے لگا۔ ۔۔۔۔
(ر) قاضی جی یہ سن کر پھر مقدموں میں مصروف ہو گئے۔ ۔۔۔۔
(س) سورج نکل رہا ہے۔ ۔۔۔۔
(ص) کسان ہل چلا رہا ہے۔ ۔۔۔۔
(ط) پرندے اڑ رہے ہیں۔ ۔۔۔۔
(ع) عورت پانی نکال رہی ہے۔ ۔۔۔۔
۶۔ نیچے لکھے جملوں میں، فعل، فاعل اور مفعول الگ کیجئے۔
فعل فاعل مفعول
(الف) بلّی دودھ پی گئی۔
(ب) بچہ بستر پر سو رہا ہے۔
(ج) ابو ّ نے مجھے خط لکھا۔
(د) وہ کتاب پڑھ رہا ہے۔
(ر) حامد نے سانپ کو مارا۔
(س) احمد نے ایک ناول لکھا۔
۷۔ مندرجہ ذیل الفاظ میں اسم معرفہ اور اسم نکرہ کی الگ فہرست بنائیے۔
جامع مسجد، حامد، دہلی، چاندنی چوک، قطب مینار، لڑکا، کتّا، تاج محل، مکان، کتاب، بھارت رتن، شیر خدا، غالب، بچہ، انسان، جانور، بوڑھا، رات، چاندنی رات، اسکول،
۸۔ نیچے دیے ہوئے صفت اور اسم میں تیر بنا کر نشان دہی کیجئے؟
بڑی آدمی
لال بچہّ
گرم مسجد
پیلا چائے
چھوٹا کالی
کالی آم
بوڑھا جھنڈا
ترنگا بلّی
۹۔ لفظ کی تعریف کیجئے اور ساخت کے اعتبار سے اس کی قسمیں بتائیے؟
۱۰۔ تمیز کی وضاحت کے ساتھ تعریف کیجئے؟
۱۱۔ مندرجہ ذیل جملوں میں حرف جار بھرئیے۔
(الف) شام۔۔۔ گھر۔۔۔آ جانا۔
(ب) کتاب میز۔۔ ۔۔۔ہے۔
(ج) گیلی دیوار۔۔۔ ہاتھ نہ لگاؤ۔
(د) سر۔۔۔ٹوپی پہنو۔
(ر) وہ گھر۔۔۔نکلا۔
۱۲۔ مندرجہ ذیل لفظوں کے واحد لکھئے؟
خیالات
تجربات
مشکلات
انعامات
ذرات
قصبات
عادات
خطابات
جذبات
۱۳۔ مندرجہ ذیل لفظوں کے جمع لکھئے؟
فتح
ضرورت
ایجاد
احساس
تفریح
تعلق
مقام
سوال
جواب
حال
۱۴۔ مندرجہ ذیل الفاظ کے واحد کے جمع اور جمع کے واحد بنائیے۔
ذرائع، تحریک، حقوق، فقیر، مذاہب، پیغام، دفاتر، تعلیمات، سفر، طلباء، سبق، لفظ، مضمون، منازل، معلومات، حضرت، انتظامات، احسان، مکانات، مواقع، شاعر، اشعار، شجر، غزلیات، شخص، اجسام، اطوار
۱۵۔ مندرجہ ذیل الفاظ کو مذکر اور مونث کے خانوں میں لکھئے۔
موقع، غذا، خون، صحت، میل، گردش، ہوا، تازگی، مسام، خارش، جلد، گرد و غبار، مالش، لباس، رقم، زندگی، کمائی، گواہی، مہینہ، فیصلہ، ذکر، ضرورت، پریشانی، قصّہ، مہر، جواب، درخت، قاضی، زمانہ، مشکل
مثال : مذکّر: موقع مؤنث: غذا
۱۶۔ جنس کے مطابق خانوں میں بانٹیے ۔
مذکر مؤنث
پتنگ، دن، بھوک، پیر، محنت، وقت، مٹھو، انڈا، بات، چھٹی، برتن، بہن
۱۷۔ مندرجہ ذیل الفاظ کے مترادف الفاظ لکھئے۔
ظلمت، خوبصورت، سورج، دوست، ارض، فلک، گور، مفلس، بال، وفات
۱۸۔ بغیر حرف عطف پانچ مترادف الفاظ لکھئے۔
صبح سویرے۔۔۔۔۔۔۔
۱۹۔ متضاد الفاظ سے باکس بھرئیے۔
لفظ متضاد
تیرنا
تھل
پرجا
آج
اداس
نرمی
نیچا
فائدہ
دور
جاگنا
اجالا
شروع
پریشان
سلطان
جواب
۲۰۔ نیچے دیے ہوئے الفاظ کے متضاد لکھئے۔
بہادر، شام، صاف، آفتاب، آسمان، بہار، پچھم، پردیس، مضبوط، نیک نام، غریب، خوش بخت، زمین، لمبا، گورا، اندر، خوبصورت، محبت، صلح، خوبی
۲۱۔ ہر لفظ کے صحیح متضاد کو خالی جگہ میں لکھئے۔
برباد: ویران، آباد، سنسان ۔۔۔
زندگی: مردہ، زندہ، موت ۔۔۔
حاضر: دور، پیش، غائب ۔۔۔
رونا: ہنسنا، دوڑنا، بھاگنا ۔۔۔
سچا: پورا، جھوٹا، آدھا ۔۔۔
صحیح: سچا، غلط، دکھ ۔۔۔
۲۲۔ ان لفظوں کے متضاد لکھئے۔
خاص، رنجیدہ، جنگ، دوست، آزادی، عوام، انسان، نقصان، وہاں ، بلندی، متضاد،
۲۳۔ مندرجہ ذیل محاورات کے معنی بتائیں اور اپنے جملوں میں استعمال کریں؟
آنکھوں کا پانی مر جانا، عید کا چاند ہونا، نودو گیارہ ہونا، باغ باغ ہونا، اپنے منھ میاں مٹھو بننا، آپے سے باہر ہونا، جنگل میں منگل ہونا، پانی پانی ہونا، آنکھوں کا تارا ہونا
۲۴۔ دیے گئے اشارے کے مطابق محاوروں کے معنی کی نشاندہی کیجئے۔
آنسو پونچھنا، ذلیل کرنا
آنکھیں پھیرنا دل جوئی کرنا، ہمدردی کرنا
چار چاند لگنا صدمہ ہونا، رنجیدہ ہونا
دل پھٹنا خوبصورتی میں اضافہ کرنا
ٹکٹکی باندھنا خوف سے کانپنا
پِنڈ چھڑانا لگاتار دیکھنا
دست گیری کرنا بہت کوشش کرنا
زمین آسمان ایک کر دینا پیچھا چھڑانا
دل دہل جانا مدد کرنا
نیچا دکھانا بے مروّت ہونا
۲۵۔ جملوں میں استعمال کئے گئے خط کشیدہ محاوروں کے معنی بتائیے۔
(الف) مجھے حامد کی دوستوں پر فقرے چست کرنے کی عادت پسند نہیں۔
(ب) بچوں کو اپنے بزرگوں کا حکم سر آنکھوں پر لینا چاہیے۔
(ج) سکندر اعظم کے مقابلے میں پورس کی فوج کے پاؤں اکھڑ گئے۔
(د) انگریزوں نے اپنی سازشوں سے مغلیہ سلطنت کا تختہ پلٹ دیا۔
(ر) اپنی تعریف اپنے آپ کرنا اپنے منھ میاں مٹھو بننا ہے۔
(س) سلیم کی عزت اور شہرت دنیا میں ہے لیکن گھر میں ان کی قدر
گھر کی مرغی دال برابر جیسی ہے۔
(ص) گلی میں اچانک حامد سے ملاقات ہونے پر میں نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔
(ط) چاندنی رات میں تاج محل کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔
(ع) ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے دانت کھٹے کر دیے۔
(ف) تم آتے ہو اور کسی نہ کسی طرح اپنا الّو سیدھا کر کے چلے جاتے ہو۔
٭٭٭
خط نویسی (LETTER WRITING)
خط و کتابت معاملاتِ زندگی کا ایک اہم حصّہ ہے۔ خط لکھنے والے کو ’’کاتب‘‘ جو عبارت اس میں لکھی جاتی ہے اسے ’’مکتوب‘‘ یا خط اور جس کو خط لکھا جا رہا ہے اسے ’’مکتوب الیہ‘‘ کہتے ہیں۔
خط کے چار حصّے ہوتے ہیں۔
۱۔ نجی خط میں حاشیہ چھوڑ کر داہنی جانب ایک گوشہ میں کاتب کا پتہ اور تاریخ درج کی جاتی ہے جس سے مکتوب الیہ کو یہ پتا چل سکے کہ خط کہاں سے کس نے اور کب لکھا۔
۲۔ القاب یعنی جن لفظوں سے اس شخص کو (مکتوب الیہ) کو رشتہ، تعلق کی بنیاد پر حفظ مراتب کا لحاظ کرتے ہوئے مخاطب کیا جاتا ہے اور ایسے الفاظ یا جملے لکھے جاتے یں جن سے تعظیم شفقت یا دعا کا اظہار ہوتا ہے جسے السلام علیکم، آداب، سلام مسنون وغیرہ
۳۔ القاب و آداب کے بعد خط لکھنے کا جو اصل مقصد ہے کا بیان ہوتا ہے اسے نفسِ مضمون بھی کہتے ہیں۔
۴۔ خط کا مضمون مکمل ہو جانے کے بعد خط کے بائیں طرف مکتوب الیہ کے مرتبہ کے لحاظ سے کوئی نہ کوئی اختتامیہ کلمہ یا جملہ ایسا لکھا جاتا ہے جس کا مفہوم سلام و دعا، رخصت یا عاجزی و انکساری ہوتا ہے۔
خط کا آخری حصہ بظاہر خط سے الگ ہے لیکن سب سے اہم اور ضروری ہے کیونکہ مکتوب الیہ تک خط پہنچنے یا نہ پہنچے کا انحصار اس کا نام و پتہ کے درست ہونے پر ہے۔
پتہ اس طرح لکھنا چاہیے۔
(۱) سب سے پہلی لائن مکتوب الیہ کا نام
(۲) دوسری لائن میں مکان نمبر اور گلی یا وارڈ کا نام
(۳) تیسری لائن میں محلّے کا نام
(۴) چوتھی لائن میں شہر کا نام (مع پن کوڈ نمبر) ’ضلع کا نام، صوبے کا نام
خطوط نویسی: چند ضروری باتیں
۱۔ خط گفتگو کے انداز میں لکھنا چاہیے ’’مکتوب الیہ‘‘ کی استعداد کا خیال رکھتے ہوئے زبان استعمال کرنی چاہیے۔ بہتر ہے عام فہم، آسان اور شائستہ زبان میں خط لکھا جائے۔
۲۔ اگر کسی کے خط کا جواب دینا ہو تو خط کو سامنے رکھ کر ٹھیک اسی کے مطابق جواب دیا جائے کہ کوئی بات چھوٹنے نہ پائے۔
۳۔ خط میں صرف کام کی باتیں لکھنی چاہیے۔
۴۔ جان پہچان کے خطوط میں بے تکلّفی اور گھریلو پن دکھائیں مگر غیر متعارف لوگوں کے پاس ضرورت نہیں۔ ان کے پاس صرف کام کی باتیں لکھی جاتی ہیں۔
۵۔ پُر اثر اور دلچسپ عبارت کے ساتھ ’’مکتوب الیہ‘‘ کے مرتبہ کا پورا پورا لحاظ رکھا جائے اور اسی کے اعتبار سے القاب و آداب نیز اختتامیہ جملوں کو لکھا جائے۔
خطوط تین طرح کے ہوتے ہیں:
۱۔ سرکاری خطوط:
وہ خطوط جو دفتری کاموں سے متعلق ہوتے ہیں مثلاً۔ مختلف قسم کی درخواستیں، سرکاری نوٹس، افسران متعلقہ کو اطلاع، رسید، سمن، پروانہ، حکم نامہ اور رپورٹ وغیرہ۔
۲۔ نجی خطوط:
وہ خطوط جو اپنے عزیز و اقارب، رشتہ داروں، دوستوں اور ملنے جلنے والوں کو لکھے جاتے ہیں۔
۳۔ کاروباری خطوط:
کاروباری یا تجارتی خطوط کا مضمون مختصر اور واضح ہونا چاہیے۔ عبارت صاف اور خوش خط ہونا چاہیے تاکہ مکتوب الیہ کو اس کے پڑھنے اور سمجھنے میں دقّت نہ ہو۔
مثالیں:
والد صاحب کے نام خط
گلی رہٹ والا کنواں
سرائے رحمن
علی گڑھ 202001
تاریخ: یکم جنوری 2020
محترم والد صاحب، السلام علیکم
آپ کا خط ملا۔ آپ لوگ خیریت سے ہیں پڑھ کر خوشی ہوئی۔ ہوسٹل میں جگہ نہ ملنے کی وجہ سے مذکورہ پتہ پر رہائش کا مناسب انتظام ہو گیا ہے۔ محلہ سرائے رحمن سے مسلم یونیورسٹی زیادہ دور نہیں ہے۔ سائیکل سے آسانی سے آیا جایا سکتا ہے۔ مکان کا کرایہ بھی کم ہے۔ مکان مالک مناسب قیمت پر کھانا بھی فراہم کر دیتے ہیں۔
داخلہ کی ساری کار روائیاں پوری ہو گئی ہیں اور کلاس بھی شروع ہو چکی ہیں۔ یہاں کے شفیق اساتذہ کرام بڑی محنت سے پڑھاتے ہیں، کچھ ہمدرد اور شریف دوست بھی مل گئے ہیں جس کے سبب اجنبیت اور اکیلا پن محسوس نہیں ہوتا اور دل بھی لگ گیا ہے۔
فیس جمع کر دی گئی ہے، ضروری کتابیں خرید لی ہیں۔ مکان دار کو ایک مہینہ کا ایڈوانس کرایہ دے دیا ہے۔ چونکہ گھر سے یونیورسٹی پانچ کلو میٹر دور ہے اس لیے سائیکل خریدنا ضروری ہے۔ میرے پاس اب پیسے بالکل نہیں ہیں لہٰذا گزارش ہے کہ مبلغ 3000/-(تین ہزار) روپئے بذریعہ منی آرڈر بھیجنے کی زحمت گوارا فرمائیں تاکہ سائیکل خرید سکوں۔ میرے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
خدا کرے آپ کا مزاج بخیر ہو، امّی جان کی خدمت میں سلام عرض ہے اور چھوٹے بھائی بہنوں کو دُعائیں اور پیار، بھائی جان کو سلام۔
آپ کا فرماں بردار بیٹا
سہیل احمد
چھوٹے بھائی کے نام خط
کیلاش کالونی، دھولپور
3؍فروری 2020
برادر عزیز ریحان احمد، خوش رہو
بعد دعا کے معلوم ہو کہ آج والد صاحب کے خط سے خوش خبری ملی کہ تم سینئر سیکنڈری کے امتحان میں فرسٹ ڈویزن میں کامیاب ہو گئے ہو۔ اس خبر سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔ مبارک ہو۔ تمہارے لیے بطور انعام ایک بہترین کیمرہ بھیج رہا ہوں، جو تمہیں یقیناً پسند آئے گا۔ تم نے گذشتہ خط میں اطلاع دی تھی کہ بارہویں جماعت پاس کر لینے کے بعد انجینئرنگ کورس میں داخلہ لینے کے لیے تیاری کروں گا۔ یہ یقیناً خوشی کا باعث ہے۔ اب تم داخلہ لینے کے لیے بھر پور تیاری کرو، انشاء اللہ ضرور کامیاب ہو گے۔ ہر کامیابی کے لیے محنت اور لگن ضروری ہوتی ہے۔
تم ٹی وی پر میچ دیکھنے کے بہت شوقین ہو لیکن ٹی وی پروگراموں کو دیکھنے میں وقت زیادہ صرف ہوتا ہے۔ وقت کی قدر کرنا سیکھو اور زیادہ سے زیادہ وقت اپنی نصابی کتابوں کے پڑھنے میں صرف کرو۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل اور تفریحی مشاغل بھی ضروری ہیں لیکن توازن کے ساتھ۔ اس کے لیے بھی وقت متعین کرو۔
امید ہے کہ تم میری نصیحت پر عمل کرو گے اور اپنے طور طریقوں و اعلا تعلیم سے خاندان کا نام روشن کرو گے۔ والدین کو خوش رکھنا اور ان کی خدمت اور فرماں برداری میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کرنا۔
بڑوں کی خدمت میں سلام عرض کرنا اور چھوٹے بہن بھائیوں کو دعائیں۔ اچھا خدا حافظ
تمہارا بڑا بھائی
سہیل احمد
٭٭٭
درخواست نویسی (APPLICATION WRITING)
درخواست لکھتے وقت ذیل کی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:
۱۔ صفحے کے دائیں طرف جس کے نام درخواست لکھی جا رہی ہے، اس کا عہدہ اور پتا۔
۲۔ محترم/محترمہ/جناب عالی/ مکرمی / محترمی / وغیرہ لفظوں سے تخاطب۔
۳۔ چند سطروں میں درخواست کے مقصد کی تفصیل۔
۴۔ آخر میں بائیں طرف درخواست لکھنے والے کا نام، دستخط، جماعت /سیکشن / رول نمبر لکھیں۔
۵۔ جدید دور میں منصب اور پتہ کے بعد دائیں جانب ’’موضوع‘‘ عنوان کے تحت کم سے کم لفظوں میں مقصد کا وضاحت کی جاتی ہے۔
ذیل میں درخواست کا ایک نمونہ دیا جا رہا ہے۔ اس کے خاکے پر غور کیجئے۔
تاریخ: یکم جنوری 2020
بخدمت پرنسپل صاحب
سٹی ہائی اسکول، اے۔ ایم۔ یو
جی۔ ٹی۔ روڈ، علی گڑھ
موضوع: ۔ دو دِن کی تعطیل کی درخواست
جناب عالی
عرض ہے کہ آگرہ میں اپنے قریبی رشتے دار کی شادی ہے۔ مجھے اپنے والدین کے ساتھ اس تقریب میں شریک ہونا ہے۔
آپ سے درخواست ہے کہ 12اور 13جنوری دو دن کے لیے اسکول سے مجھے رخصت عنایت فرمائیں۔
شکریہ
آپ کا فرماں بردار شاگرد
محمد راشد
درجہ ششم
٭٭٭
مضمون نویسی(ESSAY WRITING)
تعریف: مضمون نویسی کسے کہتے ہیں؟ کسی بھی موضوع پر اپنے خیالات کو ترتیب کے ساتھ لکھنے کو مضمون نویسی کہتے ہیں۔ مضمون کا تسلسل اس طرح قائم کیا جائے کہ پڑھنے والا اس کو بخوبی سمجھ جائے۔
ضروری باتیں:
مضمون نویسی کے لیے ذخیرۂ الفاظ کے ساتھ ساتھ وسیع مطالعہ ہونا چاہیے۔ ضروری ہے خوبصورت اور موزوں الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا جائے۔ موضوع کے تعلق سے تمام اہم پہلوؤں کا ایک خاکہ ذہن میں بنا لیا جائے۔ تحریر میں الجھاؤ الفاظ کی تکرار اور غیر ضروری باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ موضوعِ تحریر میں ربط و تسلسل اور ترتیب مضمون نویسی کی روح ہے۔
مضمون نویسی کے حصے: ہر مضمون کے تین حصے ہوتے ہیں۔
(۱) تمہید (شروع کا حصّہ)
(۲) نفس مضمون (مضمون کا مواد)
(۳) اختتام (آخری حصّہ)
۱۔ تمہید مضمون کا شروع کا حصہ ہے جس میں عنوان کی تعریف پیش کی جاتی ہے۔ نفسِ مضمون لکھنے سے پہلے چند پرُ اثر اور زور دار جملے اس لیے لکھے جاتے ہیں تاکہ پڑھنے والا اصل موضوع کی طرف راغب ہو اور اس کی دلچسپی قائم ہو۔
۲۔ نفس مضمون درمیانی حصّہ ہے جس میں موضوع سے متعلق تفصیل سے ذکر کیا جاتا ہے دھیان رہے۔ اس کو کئی پیراگرافوں میں تقسیم کر کے لکھنا چاہیے۔ ہر نئی بات کے شروع ہونے پر مضمون میں پیراگراف کا استعمال ضرور کریں۔
۳۔ مضمون کے آخری حصّہ میں مضمون نگار کو اپنے خیالات کا نچوڑ پُر اثر انداز میں لکھنا ہوتا ہے۔ مضمون کے اختتام میں خلاصہ یا نتیجہ نکالا جاتا ہے تاکہ پڑھنے والا متاثر ہو اور آسانی کے ساتھ مضمون کے موضوع پر اپنی رائے قائم کر سکے اور کسی خاص نتیجہ پر پہنچنے میں آسانی ہو۔
مضمون کی قسمیں
عام طور سے مضمون کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔
۱۔ بیانیہ مضامین
۲۔ حکائیہ مضامین
۳۔ فکری مضامین
۱۔ بیانیہ مضامین: وہ مضامین جن میں کسی چیز، عمارت یا جاندار (شخص، جانور) کا مفصل ذکر کیا جائے۔ جیسے ’’تاج محل‘‘، ’’جواہر لال نہرو‘‘، ’’ریل‘‘ وغیرہ۔
۲۔ حکائیہ مضامین: وہ مضامین جن میں کسی واقعہ، کہانی، تفریحی یا سفر کے حالات بیان کیے گئے ہوں جیسے ’’ریل کا سفر‘‘، ’’میرا دلچسپ سفر‘‘، ’’یومِ آزادی‘‘، ’’ریل حادثہ‘‘، ’’میری زندگی کا ایک اہم دِن‘‘، ’’میرا پسندیدہ کھیل‘‘ وغیرہ۔
۳۔ فکری مضامین: اس کو مضمون ذہنی بھی کہتے ہیں۔ ان مضامین کو لکھنے والا غور فکر کر کے اپنے خیالات اور افکار کا اظہار کرتا ہے۔ جیسے اگر مضمون نگار ایمان داری پر کچھ لکھنا چاہتا ہے تو شروع سے آخر تک عقل سے مدد لینی ہو گی اور غور و فکر کر کے ایک ایک بات لکھنی ہو گی مثلاً ’’چاندنی رات‘‘، ’’ اگر میں وزیر اعظم ہوتا‘‘، ’’اگر میں معلم ہوتا‘‘، ’’تندرستی ہزار نعت ہے ‘‘، ’’وقت کی قیمت‘‘ وغیرہ۔
٭٭٭
کچھ مضامین کے خاکے
’’گائے ‘‘
تمہید میں سب سے پہلے گائے کے جسم کی بناوٹ، مضمون کے مواد میں گائے کی قسمیں، گائے کہاں کہاں پائی جاتی ہیں، گائے کے فائدے اور مضمون کے آخر حصّہ میں گائے بہت سیدھی ہوتی ہے۔ ہندو اسے گؤ ماتا کہتے ہیں۔ اللہ کا پیدا کیا ہوا ایک بہت ہی مفید جانور ہے۔
’’پھول‘‘
شروعات پھولوں کی بناوٹ مثلاً پھول کی پنکھڑیاں، مختلف رنگوں اور خوشبوؤں والے پھول، مختلف موسموں میں پھولوں کی پیداوار، پھولوں کی اہمیت، گلاب کی خصوصی اہمیت، خلاصہ میں پھولوں کا مصرف اور اس کے فوائد
’’کسی شخص کی زندگی کے حالات‘‘
تمہید میں پیدائش اور خاندان کا تعارف، وقت اور پیدائش کی جگہ، درمیان میں بچپن، تعلیم، معاشرتی زندگی، خدمات کیا ہیں۔ آخری حصیّ میں اپنی محبت کا اظہار اور اپنی باتیں تحریر کرنی ہوتی ہیں۔
مثالیں
گھوڑا (Horse)
گھوڑا تیز دوڑنے والا جانور ہے۔ یہ گائے اور بھینس کی طرح گھاس اور اناج کھاتا ہے۔ گھوڑا بہت ہی خوبصورت اونچے اور لمبے قد کا جانور ہے۔ کسی آواز کے سننے کے لیے دو کھڑے کان ہوتے ہیں۔ گائے بھینس کی طرح اس کا لمبا منھ ہے۔ اس کی آنکھیں سفید اور سیاہ ہوتی ہیں۔ اس کی بال دار گردن بہت خوش نما ہوتی ہے۔ اس کی لمبی سی دُم میں لمبے بالوں کا ایک گچھا ہوتا ہے۔ گھوڑے سرخ سفید، بھورے یا چتکبرے اور دوسرے مختلف رنگوں کے ہوتے ہیں۔ ان سب رنگوں میں مشکی گھوڑا یا سیاہ چمکدار گھوڑا بہت ہی خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔
گھوڑا تمام دنیا میں پایا جاتا ہے۔ وسط ایشیا کی پہاڑیوں میں، امریکہ اور افریقہ کے جنگلوں میں بھی کافی ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ عرب کے گھوڑے پوری دنیا میں مشہور ہیں۔
گھوڑا آسانی سے سدھا لیا جاتا ہے۔ گھوڑے میں سننے اور سونگھنے کی طاقت زیادہ ہوتی ہے۔ کسی آواز کو سنتے ہی یا کوئی انوکھی چیز دیکھتے ہی یہ فوراً ہوشیار ہو جاتا ہے۔ یہ نہایت قوی، عقل مند، جفا کش اور وفادار جانور ہے۔ حافظہ بھی غضب کا ہوتا ہے۔ ایک بار جس راستے سے گزرتا ہے اسے کبھی نہیں بھولتا۔ گھوڑا انسان دوست ہوتا ہے۔ وہ اپنے مالک کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ وہ ہنہنا کر اپنی محبت کا اظہار اپنے آقا سے کرتا ہے۔
گھوڑا انتہائی مفید اور کار آمد جانور ہے۔ جنگ و امن کے زمانہ میں گھوڑا کام آتا ہے۔ رتھ، بگھی اور یکّے کھینچتے ہیں، سواری، تیر اندازی، نیزہ بازی اور ڈاک لے جانے میں بھی گھوڑے کام میں آتے ہیں۔ سر کس و تماشے میں، ریس و پولو میں گھوڑوں کے کارنامے دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ غرض گھوڑا ایک بہتر اور فائدہ مند جانور ہے۔ گھوڑے کی سواری بہترین ورزش ہے اس سے صحت اچھی رہتی ہے۔ مرنے کے بعد بھی گھوڑے کی ہڈّی، چمڑے اور کھُر سے مختلف اشیاء بنائی جاتی ہیں۔
تاج محل (Taj Mahal)
شاید ہی دنیا میں کوئی ایسا شخص ہو گا جو مشہور عالم تاج محل سے واقف نہ ہو۔ یہ دنیا کی خوبصورت ترین عمارت ہے جس کا شمار دنیا کے سات عجو بوں میں ہوتا ہے۔ یہ آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے ایک باغ کے اندر بنا ہوا ہے۔ اسے مغل بادشاہ شاہجہاں نے اپنی محبوبہ بیگم ممتاز محل کی یاد میں بنوایا تھا جس میں اس کی قبر ہے۔ اس لیے اس عمارت کو روضہ بھی کہا جاتا ہے۔
تاج محل کو ممتاز محل کو کئے گئے وعدہ کو پورا کرنے کے لیے بطور یادگار بنوایا تھا۔ اس لیے تاج محل بادشاہ کے ایفائے وعدہ اور اظہار محبت کی یادگار نشانی ہے۔
تاج محل سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ اس عمارت کی ابتداء 1631ء میں ہوئی اور بیس ہزار مزدوروں کی جاں فشاں اور محنت کے بعد سترہ سال میں تیار ہوئی۔
تاج کے مینار بہت دور سے نظر آتے ہیں۔ اس میں ایک چھوٹا سا چمن گھنے درختوں کا نظر آتا ہے۔ چمن کی سجاوٹ نہایت اچھی ہے۔ محل کے سامنے ایک نہایت خوبصورت پختہ نہر بنی ہوئی ہے اس میں فوارے لگے ہوئے ہیں اور اس کے دونوں طرف سرو کی قطاریں ہیں جہاں سرو کی قطاریں ختم ہوتی ہیں 186مربع فٹ کا ایک چبوترہ سرخ پتھر کا بنا ہوا ہے۔ وہی تاج محل کی کرسی ہے۔ اس چبوترے کے چاروں کونوں پر چار میناریں ہیں اور بیچ میں تاج ہے۔ جس کے اندر ممتاز محل کی قبر ہے۔ چاندنی رات میں اس کا منظر بڑا ہی دلفریب ہوتا ہے۔
تاج محل دنیا کی ایک نادر اور خوبصورت عمارت ہے۔ جس کو بار بار دیکھنے کو طبیعت چاہتی ہے۔ تاج محل دنیا کی بے مثال تعمیر ہے جو عہد مغلیہ کے کمالِ فن کا ثبوت ہے۔ اس سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی مغربی دنیا کو وہ ترقی نصیب نہیں کہ تاج محل جیسی دوسری عمارت بنا سکیں۔ یہ عمارت صنعت اور انجینئرنگ کی بے مثل یادگار ہے۔
میرا اسکول (My School)
علم دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔ تمام مذاہب عالم اس بات پر متفق ہیں کہ قوموں کی ترقی کا راز حصولِ علم میں پوشیدہ ہے۔ حدیث ہے کہ علم کا حاصل کرنا مرد اور عورت پر فرض ہے، علم ایک ایسی دولت ہے جسے نہ کوئی لوٹ سکتا ہے نہ ہی چرا سکتا ہے۔ یہ دولت بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ علم سیکھنے اور سکھانے کے مقصد کی تکمیل کے لیے اسکول قائم کیے جاتے ہیں۔ ہمارا اسکول بھی ان ہی اسکولوں میں سے ایک ہے جو درس و تدریس کو فروغ دینے کے لیے معاون اور مددگار ہے۔
میرا اسکول اے یم یو سٹی ہائی اسکول جی ٹی روڈ کے قریب واقع ہے۔ ایج(H)کی شکل میں تقریباً پچیس کلاس روم پر مشتمل ہے۔ مین گیٹ کے علاوہ ایک ایمرجنسی گیٹ پشت پر گولر روڈ کے کنارے کھلتا ہے جو چھٹی کے وقت کھول دیا جاتا ہے تاکہ طلباء کو نکلنے میں کوئی دقّت نہ ہو۔ سامنے کلرک آفس کے برابر میں پرنسپل آفس ہے۔ اس کے بعد ایک کشادہ لائبریری ہے جس میں بیٹھ کر لڑکے کتابیں پڑھتے ہیں اور اخبارات پڑھتے ہیں۔ اسکول کے چاروں اطراف میں پیڑ پودے اُگے ہوئے ہیں۔ جس سے اسکول کا ماحول خوبصورت اور خوشگوار نظر آتا ہے۔ آفس کے سامنے پان کی شکل میں پودے قطار میں اُگے ہوئے ہیں جو نہایت خوشنما لگتے ہیں۔ دو وسیع و عریض میدان ہیں جن میں طلباء فٹ بال اور کرکٹ کھیلتے ہیں۔ ایک کشادہ کمرہ ہے جس میں بچے انڈور گیمس کھیلتے ہیں۔
ہمارے اسکول میں کل چالیس اساتذہ ہیں جو تمام الگ الگ مضامین پڑھاتے ہیں۔ ایک لائبریرین ہے۔ ایک استاد پراکٹر کا کام انجام دیتا ہے تاکہ طلباء میں ڈسپلن قائم ہو سکے۔ اسکول میں تقریباً ڈیڑھ ہزار طلباء پڑھتے ہیں۔ اسکول میں درجہ ششم سے درجہ دہم تک بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
ہمارے اسکول کا نظام بہت عمدہ ہے۔ اس کا ماحول تعلیمی ہے۔ شفیق اساتذہ کی سرپرستی میں ہر طالب علم ہر ممکن طریقہ سے زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرتا ہے اور بڑی محنت اور لگن سے پڑھتا ہے۔ اللہ ہمیں نافع علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔
عیدالفطر(Eid-ul-Fitr)
جس طرح دیگر قوموں میں مختلف تہوار منائے جاتے ہیں اسی طرح مسلمانوں میں دو عیدیں بقرا عید اور عیدالفطر شوق و ذوق سے منانے کا تصوّر رائج ہے۔ عیدالفطر ایک مقدّس تہوار ہے جو تیس دن کے روزے رکھنے کے بعد شوّال کی پہلی تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ یہ اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنے کے لیے دو رکعت نماز ادا کرنے کا ایک متبرک طریقہ ہے کہ اس نے تیس روزے رکھنے کی ہمت اور توفیق عطا کی۔ عید کا چاند دیکھنے کے بعد عید کی تیاری شروع ہو جاتی ہے اور خریداری کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔
٭٭٭
تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں

