ڈاؤن لوڈ کریں

 

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل

 

مکمل کتاب پڑھیں…..

 

ہر جگہ آسمان

 

 

راجیش جوشی

 

 

اردو ترجمہ:  اعجاز عبید، اجمل کمال

 

 

راجیش جوشی – ایک تعارف

 

راجیش جوشی معاصر ہندی ادب میں ایک اہم شاعر، نثرنگار اور مترجم کے طور پر معروف ہیں۔ وہ  ۱۹۴۶ میں نرسنگڑھ، مدھیہ پردیش، میں پیدا ہوے۔ تعلیم بھوپال میں پائی اور وہیں رہتے ہیں۔ "آج کی کتابیں” کے زیرِ اہتمام ۱۹۸۵ میں شائع ہونے والے ایک انتخاب "بارہ ہندوستانی شاعر” میں راجیش جوشی کے پہلے مجموعے "ایک دن بولیں گے پیڑ” سے کچھ منتخب نظمیں شامل کی گئی تھیں۔ زیرِ نظر نظمیں  ’مٹی کا چہرہ‘  اور ’شہد جب پکے گا‘ ان کے دوسرے مجموعے "مٹی کا چہرہ” سے منتخب کی گئی ہیں۔ راجیش جوشی کہانیاں بھی لکھتے ہیں۔ ان کی کہانیوں کا ایک مجموعہ "سوموار اور دوسری کہانیاں” کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ وہ بھوپال سے ایک ادبی رسالہ "اس لیے” بھی شائع کر چکے ہیں۔

اجمل کمال کے قلم سے

٭٭٭

 

 

مٹی کا چہرہ

ایک پاردرشی1 باز جھپٹتا ہے

اور ایک چھوٹے میمنے کی طرح

دَم چھوڑ بھاگتا ہے

چاند

آرٹ گیلری میں لگی

کے جی سُبرامنیم کی نمائش میں

لوگ کھڑے ہیں

چمکدار دیوار پر ٹنگے

ایک مٹی کے چہرے کے سامنے

ایک مٹی کا چہرہ

جگہ جگہ سے تڑخ گئی ہے اس کی مٹی

چہرے پر پڑتی تیز روشنی بھی

کھدیڑ نہیں پاتی

دراروں میں گھُسا اندھیرا

ایک مٹی کا چہرہ

کپال2 پر چڑھی تیوریاں

منھ سے باہر جھانکتے

بڑے بڑے مٹی کے دانت

بڑی بڑی جیبوں والے مٹی کے کوٹ پر

لٹک رہے ہیں مٹی کے تمغے

وہ مٹی کا چہرہ

ہمارے وقت پر

جیسے کوئی رواں تبصرہ

وہ مٹی کا چہرہ

صدیوں پہلے دفنایا جا چکا

کوئی تانا شاہ

اپنی ٹانگیں اور جوتے قبر میں بھول کر

ہڑبڑی میں جیسے آ گیا ہو

آدھا باہر

٭٭٭

1۔  شفاف      2۔  کھوپڑی

شہد جب پکے گا

لمبی انگلیوں والی دھوپ ہے تمھارا پیار

تم چھٹّی لے لو کچھ دن

اور دھوپ سے بولو

عوض میں آفس ہو آئے

ٹائپ رائٹر پر بیٹھ جائے کچھ دن

کمرے میں چہکتی چڑیا ہے تمھارا پیار

تم چھٹّی لے لو کچھ دن

اور چڑیا سے بولو

عوض میں آفس چلی جائے

رجسٹر میں درج کر آئے

چٹّھی پتری

سنگترے کا پیڑ ہے تمھارا پیار

بولو اُس سے کچھ دن

کر آئے میرے عوض میں

میرے آفس کا کام

ابھی تو دُور ہے سنگتروں کا موسم

کئی دن ہیں ابھی پگار ملنے میں

اور ٹھیک ٹھاک کرنا ہے سارا گھر

جُٹانا ہیں کام کی کتنی ساری

چھوٹی موٹی چیزیں

ایک پگار میں تھوڑے ہی جُٹ جائے گا

سارا سامان

شہد کا چھتّا ہے تمھارا پیار

ہلکی ہلکی آنچ کے دھوئیں میں

جسے پکائیں گے ہم

تم چھٹّی لے لو کچھ دن

اور ساتھ ساتھ بازار کر لو

مدھو مکھیوں سے بولو

نپٹا لیں گی گھر کا کام کاج

بزاز تو کیا دے گا اُدھار!

پر ہو سکتا ہے ایک کام

اَپن کپاس کے پیڑ کو ہی پَٹا لیں

اُس کی دھونس ڈپٹ سے چل جائے گا کام

سیدھے مِل سے ہی مل جائے گا کپڑا

اَپن سِلائیں گے ایک ایک نیا جوڑا

اور نئے جوڑے پہن کر اِترائیں گے

کون روز روز آتا ہے

یہ دن!

درزی تو پَٹے گا کیا!

اُدھار کرے جِس تِس سے

تو چل گیا دھندا

چل گیا گھر!

سُوئی سے کریں گے بات چیت

اور تاگے کو بتا دیں گے جیب

سیمل کا ایک پیڑ ہے میرا دوست

ابھی نہیں آیا تو کب آئے گا کام؟

بولیں گے اُس سے

بھر دے ایک تکیہ

ایک گدّا، ایک رضائی

ابھی دور ہے وہ دن

جب ضرورت ہو گی ہمیں

الگ الگ رضائی کی

جب پرتھوی ہو جائے گا تمھارا پیٹ

جب آکاش کے کان میں پھسپھسائے گی پرتھوی

جب ورکش2 سے آنکھ چُرا، چُراؤ گی تم

مٹّی

جب پہاڑوں کی آڑ سے

ایک ٹکڑا آکاش چُرا لاؤ گی

تم

ابھی دن ہیں، ابھی تارے گننا ہیں کئی سارے

اَننت1 تک پھیلی، بادلوں کو چھُوتی

ہری ہری گھاس ہے تمھارا پیار

تم چھٹّی لے لو کچھ دن

اور چلو گھاس میں لُک چھپ جائیں

اَپن

٭٭٭

1 لا متناہی      2۔ درخت

وہ تین

پہلا بجلی کا سامان بنانے کے کارخانے میں

رات کی پالی میں کام کرتا تھا

رات کو اچھی طرح تہہ کر کے لپیٹ کر

بند کر کے چاند تاروں کو پیٹی میں

وہ علی الصباح لوٹتا اور

کمرے میں آ کر سو جاتا

سونے سے پہلے وہ

دوسرے کو جگا دیتا

دوسرا اسٹوو پر چائے کا پانی چڑھا کر

آکاش کے دروازے کھٹکھٹاتا

کہ دھوپ

دھرتی، پیڑوں اور گھروں تک آ جائے

چڑیاں جاگیں اور چیزیں تھوڑی گرما جائیں

پھر اپنی سائیکل اٹھا کر وہ نکل جاتا

کہ صبح سب جگہ پہنچی یا نہیں

اَوسارے سے ہو کر دھوپ

جب لوگوں کی آنکھوں تک پہنچتی

وہ سارے اخبار لگا چکا ہوتا

جب وہ اپنے حصّے کا اخبار لیے لوٹتا

تیسرا جاگ چکا ہوتا

وہ تین تھے

بھائی نہیں دوست

جو شہر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں اَٹ گئے تھے

لیکن وہ تینوں کنوارے تھے

اور ان کے سپنے اس کمرے میں

اَٹ نہیں پاتے تھے

کمرہ چھوٹا تھا

اور شہر بہت بڑا تھا

اس لیے کمرہ جُٹانے کی جگہ

اُن کی جیبوں میں نہیں تھی

تیسرا دن بھر سڑکیں ناپتا

نوکری کی عرضیاں لکھتا

آفسوں کے چکّر لگاتا

دِکھتا ایک دم پھکّڑ

پر اندر ہی اندر

اُداس رہتا

پہلا اکثر لوٹتے ہوے

ایک ستارہ چُرا لاتا

اور بچی ہوئی دو بِیڑیوں کے ساتھ

کھونٹی پر ٹنگی تیسرے کی قمیص کی

جیب میں رکھ دیتا چپ چاپ

دوسرا اخبار سے نوکری کے

اشتہار کاٹ کر کترنیں

اور تھوڑی سی دھوپ

اور چالُو چائے جتنے پیسے

تیسرے کی پینٹ کی جیب میں

کھسکا دیتا

تیسرا جانتا تھا پر چپ رہتا تھا

وہ چاہتا تھا ایک چھوٹی سی نوکری

ایک چھوٹی سی نوکری

جس میں بچا رہے دوسروں کے لیے

اپنا پن

وہ تینوں

رات کا کھانا ایک ساتھ

ایک چھوٹے سے ڈھابے میں کھاتے تھے

٭٭٭

دادا خیریت

دادا خیریت

دادا خیریت

آواز کستا ہے

جب کوئی دادا خیریت

درجن بھر گالیاں بکتے ہیں

دادا خیریت

زیادہ ہی تنگ کرے کوئی

تو جھنجھلا کر پتھر لے کر

دوڑتے ہیں

دادا خیریت

عید کے عید کوئی دے دیتا ہے انھیں

اُترن کی شیروانی دھُلوا کر

کوئی سِلوا دیتا ہے سستے لٹّھے کا

کھُسنا

کوئی دے دیتا ہے پُرانی دھُرانی

علی گڑھی ٹوپی

اُسی کو سال بھر

بِنا بدلے

پہنتے رہتے ہیں

دادا خیریت

پان کی پیکوں سے بھر چکی ہے

پچھلی عید کی پہنی شیروانی

جگہ جگہ سے پھٹ چکا ہے

گندا کھُسنا

چیکٹ ہو چکی ہے ٹوپی

اس کے بعد بھی کوئی کہے

دادا خیریت

تو کیوں نہ گالیاں بکیں

دادا خیریت!

دادا خیریت کا بھی کوئی

اَور نام رہا ہو گا پہلے

پہلے جب کوئی پوچھتا ہو گا

دادا خیریت؟

تو جواب میں وہ بھی کہتے ہوں گے

خیریت میاں خیریت

خدا کی مہربانی ہے

الله کا فضل ہے

خیریت جیسا لفظ سنتے ہی بھڑک جاتے ہیں

اب دادا خیریت

ایک چِڑھاؤنی بن گئی ہے اُن کی

دادا خیریت

جب گزرتے ہیں بوڑھے دادا خیریت

جمعراتی دروازے کے نیچے سے

سر جھکا کر گزرتے ہیں

ڈر لگا رہتا ہے ہمیشہ

کہ ٹکرا نہ جائے دروازہ  اُن کے سر سے

دروازہ جب کہ اونچا

تگنا یا چوگنا اُن کے قد سے

کیسا غرور اپنے قد کا دادا خیریت کو

کہ ختم ہو چکی نوابی ریاست کا

بچا ہوا یہ آخری دروازہ

چھوٹا پڑتا ہے انھیں

تن کر نکلنے کے لیے آج بھی

دیکھو دیکھو نواب بھوپال

قدسیہ بیگم، شاہ جہاں بیگم، بیگم سلطان جہاں،

دیکھو کتنے اوچھے تمھارے وِشال دروازے

کتنے بونے تمھارے بڑے بڑے محل

ایک اَدھ پگلے بوڑھے کے آگے

ختم ہو چکی نوابی، ختم ہو چکی ریاست

ختم ہو چکے نواب کی دیانت داری کے قصّے

پانچ دروازوں میں بند شہر پھیل گیا

اتنا باہر

کہ شہر کے بیچوں بیچ

آ گئے پانچوں دروازے

ایک کے بعد ایک توڑے گئے چار دروازے

بچا رہ گیا صرف ایک دروازہ

جمعراتی دروازہ

جس کے نیچے سے اب گزرتے ہیں

دادا خیریت

تو موکھوں سے سر نکال کر

غٹرغوں کرتے چلّاتے ہیں کبوتر

دادا خیریت

دادا خیریت

آس پاس اکٹّھے ہو جاتے ہیں

محلّے کے لڑکے

جن کے پاس نہ کھیلنے کا وقت

نہ کھیلنے کو ہاکی فٹ بال

دیکھتے ہی دوڑ پڑتے ہیں لڑکے

پیچھے پیچھے چلّاتے ہوے

دادا خیریت

دادا خیریت

اِدھر اُدھر دوڑتے دوڑتے

ہانپ جاتے ہیں دادا خیریت

گالیاں بکتے بکتے

رُندھ جاتا ہے گلا

اُڑنے لگتا ہے تھُوک منھ سے

پھوکٹ کا تماشا

منورنجن سب کا

دروازے کے باہر

چوُنے رام رج گیرُو کی دکان لگانے والیاں

بسوڑھوں مالیوں مونگ پھلی کے ٹھیلے والوں

ہوٹل کے چائے لگانے والے لڑکوں

کے لیے

بِنا دام کا

من بہلاؤ

جب زیادہ تنگ کرتے ہیں لڑکے

جب زیادہ تنگ آ جاتے ہیں

دادا خیریت

تو آگے بڑھ کر کوئی نہ کوئی

بھگا دیتا ہے لڑکوں کو

تھما دیتا ہے کوئی ٹھیلے والا

مٹّھی بھر مونگ پھلیاں

یا ایرانی ہوٹل سے کوئی منگا دیتا ہے

ایک چالُو چائے

دادا خیریت کے لیے

کہاں بچی ہے خیریت

کس کی بچی ہے خیریت

چلن نہ ہو کہنے کا

تو کون کہہ سکتا ہے

اِس زمانے میں

خیریت میاں خیریت

کم سے کم چِڑھانے کے بہانے

کہہ لیتے ہیں لوگ خیریت

چِڑانے سے باز نہیں آتے لوگ

گالی دینے سے باز نہیں آتے

دادا خیریت

٭٭٭

ایک شاعر کہتا ہے

ناممکن ہے یہ بتلانا کہ ایک شاعر

شاعری کے اندر کتنا اور کتنا رہتا ہے

ایک شاعر ہے

جس کا چہرہ – مہرہ، ڈھال – چال اور باتوں کا ڈھب بھی

اس کی شاعری سے اتنا زیادہ ملتا  جلتا سا ہے

کہ لگتا ہے کہ جیسے ابھی  ابھی دروازہ کھول کر

اپنی شاعری سے باہر نکلا ہے

ایک شاعر جو اکثر مجھ سے کہتا ہے

کہ سوتے وقت اس کے پاؤں اکثر چادر

اور جملے سے باہر نکل آتے ہیں

صبح – صبح جب پاؤں پر مچھروں کے کاٹنے کی شکایت کرتا ہے

دقت یہ ہے کہ پاؤں اگر چادر میں سکوڑ کر سوئے

تو اس کی تلوے گرم ہو جاتی ہیں

اسے ہمیشہ ڈر لگا رہتا ہے کہ خواب میں اچانک

اگر اسے کہیں جانا پڑا

تو بدحواسی میں وہ چادر میں الجھ کر گر جائے گا

محاورے اسی طرح کی صلاحیت کا مکمل استعمال کرنے سے

آدمی کو روکتے ہیں

اور مچھروں کی طرف سے شاعروں کے کام میں پیدا کی گئی

اڑچنوں کے بارے میں

ابھی تک تنقید میں غور نہیں کیا گیا

لے دے کر اب شاعروں سے ہی کچھ امید بچی ہے

کہ وہ نظم کی کئی انجانی خوبیوں

اور پریشانیوں کے بارے میں بھی سوچیں

جن پر تنقید کے سانچے کے اندر

سوچنا ممنوع ہے

ایک شاعر جو اکثر ناراض رہتا ہے

بار  بار یہ ہی کہتا ہے

بچو، بچو، بچو

ایسے کلاس روم کے اغل  بغل سے بھی مت گزرو

جہاں ہندی کا استاد شاعری پڑھا رہا ہو

اور شاعری کے بارے میں راجندر یادو کی بات تو

بالکل مت سنو

٭٭٭

ٹیکنالوجی کی مایا

اچانک ہی بجلی گل ہو گئی

اور بند ہو گیا مائک

اوہ اس مقرر کی آواز کا جادو

جو اتنی دیر سے اپنی گرفت میں باندھے ہوئے تھا مجھے

کتنی کمزور اور سست تھی وہ آواز

اچانک اسی وقت میں نے جانا

اس کی آواز کی حکومت ختم ہوئی

تو ادھڑنے لگی اب تک اس کے بولے گئے کی پرتیں

٭٭٭

ہر جگہ آسمان

بولے اور سنے جا رہے کے درمیان

جو دوری ہے

وہ ایک آسمان ہے

میں كھونٹی سے اتار کر ایک قمیض پہنتا ہوں

اور ایک آسمان کے اندر گھس جاتا ہوں

میں جوتے میں اپنا پاؤں ڈال سکتا ہوں

اور ایک آسمان موزے کی طرح چڑھ جاتا ہے

میرے پاؤں پر

نیل كٹر سے اپنے ناخن کاٹتا ہوں

تو آسمان کا ایک ٹکڑا کٹ جاتا ہے

ایک نا قابل تقسیم خلا ہے آسمان

جو نہ کہیں سے شروع ہوتی ہے

نہ کہیں ختم

میں دروازہ کھول کر گھستا ہوں،

اپنے ہی گھر میں

اور ایک آسمان میں داخل ہوتا ہوں

سیڑھیاں چڑھتا ہوں

اور آسمان میں دھنستا چلا جاتا ہوں

٭٭٭

آسمان ہر جگہ ایک گھس پیٹھیا ہے

چاند کی عادتیں

چاند سے میری دوستی ہر گز ہرگز نہ ہوئی ہوتی

اگر رات جاگنے اور سڑکوں پر فالتو بھٹکنے کی

عادت نہ لگ گئی ہوتی مجھے اسکول کے ہی دنوں میں

اس کی کئی عادتیں تو

تقریباً مجھ سے ملتی  جلتی سی ہیں

مثلاً وہ بھی اپنی کلاس کا ایک بیک بینچر طالب علم ہے

استاد کا چہرہ بلیک بورڈ کی طرف گھما نہیں

کہ دبے پاؤں نکل بھاگے باہر …

اور پھر وہی مٹر گشتی ساری رات

سارے آسمان میں۔

٭٭٭

بچے کام پر جا رہے ہیں

کہرے سے ڈھكی سڑک پر بچے کام پر جا رہے ہیں

صبح صبح

بچے کام پر جا رہے ہیں

ہمارے وقت کی سب سے بھیانک لائن ہے یہ

خوفناک ہے اسے تفصیل کے طرح لکھا جانا

لکھا جانا چاہئے اسے سوال کی طرح

کام پر کیوں جا رہے ہیں بچے؟

کیا خلا میں گر گئی ہیں ساری گیندیں

کیا دیمكوں نے کھا لیا ہے

ساری رنگ برنگی کتابوں کو

کیا کالے پہاڑ کے نیچے دب گئے ہیں سارے کھلونے

کیا کسی زلزلے میں ڈھه گئی ہیں

سارے مدارس کی عمارتیں

کیا سارے میدان، سارے باغ اور گھروں کے آنگن

ختم ہو گئے ہیں اچانک

تو پھر بچا ہی کیا ہے اس دنیا میں؟

کتنا خوفناک ہوتا اگر ایسا ہوتا

بھیانک ہے لیکن اس سے بھی مزید یہ

کہ ہیں ساری چیزیں حسب معمول

پر دنیا کی ہزاروں سڑکوں سے گزرتے ہوئے

بچے، بہت چھوٹے چھوٹے بچے

کام پر جا رہے ہیں۔

٭٭٭

زمین کا چکر

یہ زمین صبح کے اجالے پر ٹکی ہے

اور رات کے اندھیرے پر

یہ چڑیوں کے چہچہانے کی نوک پر ٹکی ہے

اور تاروں کی جھلمل لوٹی پر

تتلیاں اسے چھوکر گھماتی رہتی ہیں

ایک چاک کی طرح

بچپن سے سنتا آیا ہوں

ان قصہ بازوں کی کہانیوں کو۔۔  جو کہتے تھے

کہ زمین ایک كچھوے کی پیٹھ پر رکھی ہے

کہ بیلوں کے سینگوں  پر یا شیش ناگ کی تھوتھنی پر،

رکھی ہے یہ زمین

ایسی تمام کہانیاں اور گیت مجھے پسند ہیں

جو زمین کو پیار کرنے سے پیدا ہوئے ہیں!

میں ایک آوارہ کی طرح گھومتا رہا

مسلسل چکر کھاتی اس زمین کے

پہاڑوں، جنگلوں اور میدانوں میں

میرے اندر اور باہر گزرتا رہا

زمین کا گھومنا

میرے چہرے پر تحریر کرتے ہوئے

عمر کی ایک ایک لکیر

٭٭٭

میرے شہر کا نام

(بھوپال المیہ ۱۹۸۴)

میں نہیں چاہتا

کہ جب بھی لوں

میں اپنے شہر کا نام

دوسرا پوچھے

کیا ہوا تھا اس رات؟

کیسے ہوا وہ سب کچھ؟

مجھے آج تک کوئی نہیں ملا

جس نے کہا ہو

میں ہروشما سے آیا ہوں،

میں آیا ہوں، ناگاساکی سے

کیا منہ لے کر جاؤں میں

دوسروں کے سامنے؟

کس منہ سے کہوں

کہ میں آیا ہوں،

کس شہر سے !

٭٭٭

چپل

چل چپل

اپن بھی چلیں باہر

باہر جہاں کہرا توڑ کر نکلی ہیں سڑکیں

اپنی پیلی کچلیاں پھینک کر

میدان میں آ ڈٹا ہے نیم

باہر جہاں ترچھی ننگی تلوار پر چلتی

اوپر جا رہی ہیں اوس کی بوندیں

ننگے پاؤں

چل چپل چلیں باہر

کس نے اتارا جانور کا چمڑا

پکایا کس نے اسے سرکے کی

تیکھی بو کے بیچ کھڑے رہ کر۔

کس نے نکالا لوہا زمین سے

ڈھالا کس نے اسے تار میں

کس نے بنائیں کیلیں

کس نے بنٹا کپاس

تاگا کس نے بنایا

کس نے چڑھایا موم

راجہ نے تو کہا تھا —

ساری زمین پر مڑھ دو چمڑا

کس نے کھایا اس کی بیوقوفی پر ترس

حکم عدولی کس نے کی

کس نے چنا پیروں کو

رانپی کس نے چلائی

پیر کے ماپ سے

کس نے کاٹا تلا

چل آج ادھر چل

ببول کے کانٹوں

کانچ کی کرچوں اور کیچڑ سے

بچانے والی

تپتی سڑک کی گرمی سے

میرے آوارہ گھومنے  میں

میری تھکان کی حصے دار۔

میری روزی روٹی سے

میرے قریبی لوگوں  تک

مجھے روز لے جانے والی

میری دوست

آج چل ادھر

اس بستی کی طرف

جہاں ہاتھ فعال ہیں

پیروں کی حفاظت کے لیے

اور جہاں سے

نئے لفظ داخل ہوتے ہیں دنیا میں۔

چل چپل

آج چلیں ادھر

٭٭٭

پاؤں کی نس

پاؤں کی کوئی نس اچانک چڑھ جاتی ہے

اتنا تیز درد کہ پاؤں کی معمولی سی جنبش بھی

اس نامراد کو برداشت نہیں

سوچتا ہوں اور بھی تو تمام نسیں ہیں شریر میں

سلیقے سے جو رہی آتی ہیں ہمیشہ اپنی اپنی جگہ

ایک یہی کم ظرف کیوں وقت بے وقت اینٹھ کر

میرا سکھ چین چھین لیتی ہے

پیروں کے ساتھ برتی گئی نہ جانے کون سی لاپرواہی کا

بدلا لے رہی تھی وہ نس

مجھے لگا اپنی اکڑتی آواز میں کہہ رہی ہو جیسے

کہ دن بھر بے رحم جلادوں کی طرح تھکایا تم نے پیروں کو

اور بدلے میں کیا دیا؟

دن بھر حمالوں کی طرح بھار ڈھویا پیروں نے تمہارے شریر کا

کتنی سڑکیں ناپیں،

خاک چھانی کتنی آڑی ٹیڑھی گلیوں کی

کتنی بھٹکنوں کی یادیں درج ہیں ان کے کھاتے میں

انہوں نے جہاں چاہا وہاں پہنچایا تم کو

گھنٹوں جوتوں میں قید رکھا تم نے انہیں

تھکان سے چور تم تو سوتے سمے بھی

پیروں کو ٹھنڈے پانی سے دھونا بھول گئے

اور پڑ گئے بستر پر

کھینچ کر اپنا ہاتھ انگلیوں سے ٹوتا ہوں نس کو

دھیرے دھیرے سہلاتا ہوں، دباتا ہوں

ذات پات کے جنم کا کوئی منو وادی نظریہ

کوندھتا ہے دماغ میں

اتنا دردکہ پھوٹ پڑتی ہے ہنسی اور کراہ ایک ساتھ

اوہ! پنڈلی کی ایک نس نے ہلا کر رکھ دیا ہے

میرے پورے وجود کو

کتنا  نا کارہ کر دیا ہے اس نے

پاؤں کو اتار کر زمین پر ٹکانا بھی ناممکن

کمبخت ایک نس نے ذرا سا اینٹھ کر

ہر ممکن کو کر دیا

ناممکن!

٭٭٭

بلڈوزر

تم نے کبھی کوئی بلڈوزر دیکھا ہے

وہ بالکل ایک سنکی حاکم کے دماغ کی طرح ہوتا ہے

آگا پیچھا کچھ نہیں سوچتا،

اسے بس ایک حکم کی ضرورت ہوتی ہے

اور وہ توڑ پھوڑ شروع کر دیتا ہے

سنکی شاسک کلپنا میں کچلتا ہے

جیسے مخالفت میں اٹھ رہی آواز کو

بلڈوزر بھی ثابت نہیں چھوڑتا کسی بھی چیز کو

سنکی حاکم بتانا بھول جاتا ہے

کہ بلڈوزر کو کیا توڑنا ہے

اور کب رک جانا ہے

سنکی حاکم خوابوں کی دنیا سے جب باہر آتا ہے

ملک ملبے کا ڈھیر بن چکا ہوتا ہے

سنکی حاکم ملبے کے ڈھیر پر کھڑے ہونے کی کوشش کرتا ہے

پر اس کی ریڑھ ٹوٹ چکی ہے

وہ زور زور سے ہنسنا چاہتا ہے

پر بلڈوزر نے توڑ ڈالے ہیں اس کے بھی سارے دانت

بلڈوزر کسی کو نہیں پہچانتا ہے

بلڈوزر سب کچھ توڑ کر

بغل میں کھڑا ہے

اگلے حکم کے لیے!

٭٭٭

مارے جائیں گے

جو اس پاگل پن میں شامل نہیں ہوں گے، مارے جائیں گے

کٹھ گھرے میں کھڑے کر دئیے جائیں گے

جو مخالفت میں بولیں گے

جو سچ سچ بولیں گے، مارے جائیں گے

برداشت  نہیں کیا جائے گا کہ کسی کی قمیض ہو

ان کی قمیض سے زیادہ سفید

قمیض پر جن کے داغ نہیں ہوں گے، مارے جائیں گے

دھکیل دئیے جائیں گے کلا کی دنیا سے باہر

جو چارن1 نہیں ہوں گے

جو گن نہیں گائیں گے، مارے جائیں گے

مذہب کا جھنڈا اٹھانے جو نہیں جائیں گے جلوس میں

گولیاں بھون ڈالیں گی انہیں، کافر قرار دئیے جائیں گے

سب سے بڑا اپرادھ ہے اس سمے نہتّے اور نرپرادھی2 ہونا

جو اپرادھی نہیں ہوں گے، مارے جائیں گے

٭٭٭

1درباری شاعروں کی ایک ذات 2 غیر مجرم، اپرادھی  (مجرم) کا متضاد لفظ

بجلی کا میٹر پڑھنے والے سے بات چیت

باہر کا دروازہ کھول کر داخل ہوتا ہے

بجلی کا میٹر پڑھنے والا

ٹارچ کی روشنی ڈال کر پڑھتا ہے میٹر

ایک ہاتھ میں اس کے بل بنانے کی مشین ہے

جس میں داخل کرتا ہے وہ ایک سنکھیا٭

جو بتاتی ہے کہ

کتنی یونٹ بجلی خرچ کی میں نے

اپنے گھر کی روشنی کے لیے

کیا تمہاری ٹکنالوجی میں کوئی ایسی حکمت ہے

اپنی آواز کو تھوڑا  سا مذاقیہ بناتے ہوئے

میں پوچھتا ہوں،

کہ جس سے جانا جا سکے کہ اس دوران

کتنا اندھیرا پیدا کیا گیا ہمارے گھروں میں؟

ہم لوگ ایک ایسے سمے کے شہری ہیں

جس میں ہر دن مہنگی ہوتی جاتی ہے روشنی

اور بڑھتا جاتا ہے اندھیرے کا حجم لگاتار

چہرہ گھما کر گھورتا ہے وہ مجھے

چڑھ کر کہتا ہے

میں ایک سرکاری ملازم ہوں،

اور تم سیاسی بکواس کر رہے ہو مجھ سے!

ارے نہیں نہیں۔۔۔۔ کی کوشش کرتا ہوں، میں اسے

میں تو ایک عام آدمی ہوں، ادنیٰ سا ملازم

اور میں اندھیرا شبد کا استعمال اندھیرے کے لیے ہی کر رہا ہوں،

دوسرے کسی معنوں میں نہیں

ہمارے سمے کی یہ بھی ایک عجیب دقت ہے

ایک سیدھے سادے جملے کو بھی لوگ سیدھے سادے جملے کی طرح نہیں لیتے

ہمیشہ ڈھونڈھنے لگتے ہیں اس میں ایک دوسرے معنی

میں میٹر پڑھنے نکلا ہوں، شریف آدمیوں سے مذاق کرنے نہیں

وہ بھڑک کر کہتا ہے

ایسا کوئی میٹر نہیں جو اندھیرے کا حساب کتاب رکھتا ہو

اور اس بار تو بجلی  کی شرحیں  بھی بڑھا دی ہیں سرکار نے

آپ نے اخبار میں پڑھ ہی لیا ہوگا

اگلا بل بڑھی ہوئی شرحوں سے ہی آئے گا

اوہ ! تو اس طرح لیا جائے گا امتحان ہمارے صبر کا

اس طرح عادی  بنایا جائے گا دھیرے دھیرے

اندھیرے کا

ہماری آنکھوں کو

پر زبان تک آنے سے پہلے ہی

اپنے بھیتر دبا لیا میں نے اس جملے کو

بس ایک بار من ہی من دہرایا صرف!

٭٭٭

رکو بچّو!

رکو بچو! رکو!

سڑک پار کرنے سے پہلے رکو

تیز رفتار سے جاتی ان گاڑیوں کو گزر جانے دو

وہ جو سر سے جاتی سفید کار میں گیا

اس افسر کو کہیں پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں ہے

وہ بارہ یا کبھی کبھی تو اس کے بعد بھی پہنچتا ہے اپنے شعبے  میں

دن، مہینے یا کبھی کبھی تو برسوں لگ جاتے ہیں

اس کی ٹیبل پر رکھی ضروری فائل کو کھسکنے میں

رکو بچو!

اس  جج کی کار کو نکل جانے دو

کون پوچھ سکتا ہے اس سے کہ تم جو چلتے ہو اتنی تیز کار میں

کتنے مقدمے مؤخر  ہیں تمہاری عدالت میں کتنے سال سے

کہنے کو کہا جاتا ہے کہ انصاف میں دیر انصاف  کی توہین ہے

لیکن نعرہ لگانے یا سیمیناروں میں بولنے کے لیے ہوتے ہیں ایسے جملے

کئی بار تو پیشی در پیشی چکر پر چکر کاٹتے

اوپر کی عدالت تک پہنچ جاتا ہے آدمی

اور نہیں ہو پاتا ان کی عدالت کا فیصلہ

رکو بّچو ! سڑک پار کرنے سے پہلے رکو

اس پولس افسر کی بات تو بالکل مت کرو

وہ پیدل چلے یا کار میں

تیز چال سے چلنا اس کی  ٹریننگ کا حصہ ہے

یہ اور بات ہے کہ جہاں حادثہ ہوتا ہے

وہاں پہنچتا ہے وہ سب سے بعد میں

رکو بچو رکو!

سائرن بجاتی اس گاڑی کے پیچھے پیچھے

بہت تیز رفتار سے آ رہی ہوگی کسی منتری کی کار

نہیں، نہیں، اسے کہیں پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں

اسے تو اپنی توند کے ساتھ کرسی سے اٹھنے میں لگ جاتے ہیں کئی منٹ

اس کی گاڑی تو ایک خوف سے بھاگی جاتی ہے اتنی تیز

حفاظت کو ایک اندھی رفتار کی درکار ہے

رکو بچو !

انہیں گزر جانے دو

انہیں جلدی جانا ہے

کیونکہ انہیں کہیں پہنچنا ہے

٭٭٭

اندھیرے کے بارے میں کچھ جملے

اندھیرے میں سب سے بڑی دقت یہ تھی کہ وہ کتاب پڑھنا

ناممکن بنا دیتا تھا۔

پتہ نہیں شرارتاً ایسا کرتا تھا یا کتاب سے ڈرتا تھا

اسکے من میں شاید یہ ڈر ہوگا کہ کتاب کے بھیتر

کوئی روشنی کہیں نہ کہیں چھپی ہو سکتی ہے۔

حالانکہ ساری کتابوں کے بارے میں ایسا سوچنا

ایک قسم کی بیہودہ سادگی تھی۔

ایسی کتابوں کی تعداد بھی دنیا میں کم نہیں،

جو اندھیرا پیدا کرتی تھیں

اور اسے روشنی کہتی تھیں۔

روشنی کے پاس کئی متبادلات تھے

ضرورت پڑنے پر جن کا کوئی بھی استعمال کر سکتا تھا

ضرورت کے حساب سے کبھی بھی اس کو

کم یا زیادہ کیا جا سکتا تھا

ضرورت کے مطابق پردوں کو کھینچ کر

یا ایک چھوٹا سا بٹن دبا کر

اسے اندھیرے میں بھی بدلا جا سکتا تھا

ایک روشنی کبھی کبھی بہت دور سے چلی آتی تھی ہمارے پاس

ایک روشنی کہیں بھیتر سے، کہیں بہت بھیتر سے

آتی تھی اور دماغ کو یکایک روشن کر جاتی تھی۔

ایک شاعر دوست روشنی پر بھی شک کرتا تھا

کہتا تھا، اسے ریشہ ریشہ ادھیڑ کر دیکھو

روشنی کس جگہ سے کالی ہے۔

زیادہ روشنی کا بھی چکا چوند کرتا اندھیرا تھا۔

اندھیرے سے صرف اندھیرا پیدا ہوتا ہے یہ سوچنا غلط تھا

لیکن اندھیرے کے کئی چہرے تھے

پاور ہاؤس کی کسی گرڈ کے اچانک بگڑ جانے پر

کئی دنوں تک تاریکی میں ڈوبا رہا

ملک کا ایک بڑا حصہ۔

لیکن اس سے بھی بڑا اندھیرا تھا

جو سچ کی سیاسی ضد سے پیدا ہوتا تھا

یا کسی عالمہ طاقت کے آگے گھٹنے ٹیک دینے والے

غلام دماغوں سے !

ایک عقلی تاریکی موقع ملتے ہی سارے ملک کو

متشدد  جنون میں جھونک دیتا تھا۔

اندھیرے سے جب بہت سارے لوگ ڈر جاتے تھے

اور اسے اپنا اصول مان لیتے تھے

کچھ ضدی لوگ ہمیشہ بچ رہتے تھے سماج میں

جو کہتے تھے کہ اندھیرے وقت میں اندھیرے کے بارے میں گانا ہی

روشنی کے بارے میں گانا ہے۔

وہ اندھیرے وقت میں اندھیرے کے گیت گاتے تھے۔

اندھیرے کے لیے یہی سب سے بڑا خطرا تھا۔

٭٭٭

پکی دوستیوں کا آئینہ

پکی دوستیوں کا آئینہ اتنا نازک ہوتا جاتا تھا

کہ ذرا سی بات سے اس میں بال آ جاتا اور

کبھی کبھی وہ عمر بھر نہیں جا پاتا تھا۔

ایسی دوستیاں جب ٹوٹتی تھیں تب پتہ لگتا تھا

کہ کتنی کڑواہٹ چھپی بیٹھی تھی ان کے اندرون میں

ایک ایک کر کے نہ جانے کب کب کی کتنی ہی باتیں یاد آتی تھیں

کتنے ٹُچے پن، کتنی دغا بازیاں چھپی رہی اب تک اس کے بھیتر

ہم کہتے تھے، یہ تو ہم تھے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی نبھاتے رہے

ورنہ اسے تو کبھی کا ٹوٹ جانا چاہیئے تھا۔

پکی دوستیوں کا پھل

کتنا بے مزا، کتنا کڑوا ہے اندر ہی اندر

ٹوٹنے سے خالی ہوئی جگہ کو بھرتی تھی ہماری نفرت!

عمر کے ساتھ ساتھ نئے دوست بنتے تھے اور پرانے چھٹتے جاتے تھے

بچپن کے لنگوٹیا یار بچھڑ جاتے تھے۔

کبھی کبھی تو مہینوں اور سالوں سال ان کی یاد بھی نہیں آتی

سال  چھہ مہینے یا برسوں بعد ان میں سے کوئی اچانک مل جاتا تھا

کس کر ایک دوسرے کو کچھ لمحوں کے لئے بھینچ لیتے تھے

پھر کوئی کہتا کہ یوں تو میں نے سگریٹ پینا چھوڑ دیا ہے

پر آج تیرے ملنے کی خوشی میں برسوں بعد ایک سگریٹ پیوں گا

دونوں سگریٹ جلاتے تھے۔

ماضی کے ڈھیر سارے قصوں کو دہراتے تھے، جو دونوں کو ہی یاد تھے

بنا بات بیچ بیچ میں ہنستے تھے، دیر تک بتیاتے تھے

لیکن اچانک محسوس ہوتا تھا

کہ ان کے پاس صرف کچھ یادیں بچی ہیں

جن میں بہت سارے شبد ہیں پر رشتوں کی حدت کہیں ختم ہو گئی ہے۔

پکی دوستیوں کا آئینہ

وقت کے فاصلوں سے مٹ میلا ہوتا جاتا تھا۔

رات دن ساتھ رہ کر بھی جن سے کبھی من نہیں بھرا

باتیں جو کبھی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھیں

برسوں بعد انہیں سے مل کر لگتا تھا

کہ جیسے اب کرنے کو کوئی بات ہی نہیں بچی

اور کیا چل رہا ہے آج کل۔۔۔۔۔ جیسا فضول کا جملہ

بیچ میں بار بار چلا آتا خاموشی کو بھرنے کو

کئی کئی بار دہراتے تھے۔

کوئی بہانا کرتے ہوئے کسمسا کر اٹھ جاتے تھے

اٹھتے ہوئے کہتے تھے۔۔۔ کبھی کبھی ملا کر یار۔

بے مطلب ہے یہ جملہ، ہم جانتے تھے

جانتے تھے کہ ہم شاید پھر کئی سال نہیں ملیں گے۔

مشکل وقت میں ایسے دوست اکثر زیادہ کام آتے تھے

جن سے کبھی کوئی خاص نزدیکی نہیں رہی۔

پکی دوستیوں کے آئینہ میں

ایک دن ہم اپنی ہی شکل نہیں پہچان پاتے تھے۔

٭٭٭

پیڑ کیا کرتا ہے

ماں کہتی ہے

پیڑ رات میں سوتے ہیں

تو پیڑ

کیا کرتا ہے دن بھر؟

حمال

حمالی کرتا ہے

مزدور

مزدوری، افسر

افسری کرتا ہے

بابو ، بابو گری

اور

رات کو تھک کر سوتا ہے

‌اور پیڑ؟

پیڑ کیا کرتا ہے دن بھر؟

٭٭٭

کربلا

پانی پیو تو یاد کرو پیاس امام حسین کی!

پانی پیو تو شکریہ ادا کرو بادلوں کا

ندیوں، تالابوں اور سمندروں کا

شکریہ ادا کرو سمندروں کا

سمندروں کا پانی پینے کے کام نہ آئے تو بھی!

پانی پیو تو شکریہ ادا کرو کمہاروں کا

جنہوں نے بنائے زمین کی طرح گول مٹکے

اور بہت سندر صراحیاں جن کی گردنیں

خوبصورت عورتوں کی طرح پتلی اور لمبی ہیں!

پانی پیو تو سوچو۔

کاٹی تو نہیں تم نے دوسروں کی نہریں

کسی کی پیاس کے راستے میں تم یزید تو نہیں؟

پانی پیو تو یاد کرو اس شخص کو

تپتے راستوں میں جس نے دیا

گڑ اور پانی

جس نے راستوں میں بٹھائیں ٹھنڈے پانی کی سبیلیں

اس کا شکریہ ادا کرو!

اس کا بھی جس نے کم سے کم اس کی تمنا کی

پیاؤ لگانے کی!

پانی پیو تو سوچو

کھارا تو نہیں ہوا ہے تمہاری روح کا پانی

پانی پیو تو سوچو ننھے علی اصغر کے بارے میں

سوچو کہیں اندھے تیر میں تو نہیں بدل گئی ہے

تمہاری نفرت!

٭٭٭

میں جھکتا ہوں

دروازے سے باہر جانے سے پہلے

اپنے جوتوں کے تسمے باندھنے کے لیے میں جھکتا ہوں،

روٹی کا نوالہ توڑنے اور کھانے کے لیے

جھکتا ہوں، اپنی تھالی پر

جیب سے اچانک گر گئی قلم یا سکے کو اٹھانے کو

جھکتا ہوں،

جھکتا ہوں، لیکن اس طرح نہیں

جیسے ایک چاپلوس کی روح جھکتی ہے

کسی طاقت ور کے سامنے

جیسے شرمسار یا توہین پا کر جھکتی ہیں آنکھیں

جھکتا ہوں،

جیسے شبدوں کو پڑھنے کے لیے آنکھیں جھکتی ہیں

طاقت اور غلامی کی زبان سے باہر بھی ہوتے ہیں

لفظوں اور اعمال کے کئی معانی

جھکتا ہوں،

جیسے گھٹنا ہمیشہ پیٹ کی طرف ہی مڑتا ہے

یہ مقولہ صرف بدن کی فطری خصوصیات

یا برائیوں کا ہی اظہار نہیں کرتا

کہاوتیں لفظی معانی سے زیادہ مطلبوں میں رہا  کرتی ہیں۔

٭٭٭

اس پلمبر کا نام کیا ہے

میں دنیا کے کئی تانا شاہوں کی سوانح عمریاں پڑھ چکا ہوں،

کئی خونخوار قاتلوں کے بارے میں بھی جانتا ہوں، بہت کچھ

گھٹالوں اور جوانی کے قصوں میں بدنام ہوئے

کئی اونچے افسروں کے بارے میں تو بتا سکتا ہوں،

ڈھیر ساری اندرونی باتیں

اور نہایت ہی ناکارہ قسم کے سیاست دانوں کے بارے میں

گھنٹے بھر تک بول سکتا ہوں، بغیر رکے

لیکن گھنٹے بھر سے کوشش کر رہا ہوں،

پر یاد نہیں آ رہا ہے اس وقت اس پلمبر کا نام

جو کئی بار آ چکا ہے ہماری پائپ لائن میں

اکثر ہو جانے والی گڑبڑی کو ٹھیک کرنے

وہ کہاں رہتا ہے، کہاں ہے اس کے ملنے کا ٹھکانہ

کچھ بھی یاد نہیں

اس کے خاندان کے بارے میں تو خیر۔۔۔

حیرت ہے! میں برے لوگوں کے بارے میں کتنا کچھ جانتا ہوں،

اور ان سے بھی زیادہ بروں کے بارے میں، تو کچھ اور زیادہ

جبکہ پائپ لائن میں آئی کسی گڑبڑی کو

کسی تانا شاہ نے کبھی ٹھیک کیا ہو

اس کا ذکر اس کی سوانح عمری میں نہیں ملتا

ایسے وقت میں ہمیشہ عورتیں ہی مدد کر سکتی ہیں

یہ تھوڑا عجیب ضرور لگے گا لیکن یہی سچ ہے

کہ عورتیں ہی ان لوگوں کے بارے میں سب سے زیادہ جانتی ہیں

جو آڑے وقت میں کام آتے ہیں

جو زندگی کی چھوٹی چھوٹی گڑبڑیوں کو

درست کرنے کا ہنر جانتے ہیں

بیوی جانتی تھی کہ چار دن پہلے

جمادارن کے یہاں بچہ ہوا ہے

وہ اس کے بچہ کے لیے ہماری بیٹی کے چھٹپن کے کپڑے

نکال رہی تھی اس وقت

جب تھک ہار کر میں نے اسے آواز لگائی

سنو۔۔۔ اس پلمبر کا نام کیا ہے؟

٭٭٭

نفرت کرو

نفرت کرو

اس میں بالکل خطرہ نہیں ہے

ان چیزوں سے لیکن نفرت مت کرو

جن سے کی جانی چاہیئے

ایسا کرنا خطرے سے خالی نہیں

نفرت کرو

مثلاً گربچن سنگھ سے کرو

یا اسمعیل سے

چتری چمار سے کر سکتے ہو

لیکن دھرم سے نفرت مت کرو

ایسا کرنا خطرے سے خالی نہیں

نفرت کرو

کمیونسٹوں سے کرو

اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔

٭٭٭

رات کسی کا گھر نہیں

رات گئے سڑکوں پر اکثر ایک نہ ایک آدمی ایسا ضرور مل جاتا ہے

جو اپنے گھر کا راستا بھول گیا ہوتا ہے

کبھی کبھی کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو گھر کا راستا تو جانتا ہے

پر اپنے گھر جانا نہیں چاہتا

ایک بوڑھا مجھے اکثر راستے میں مل جاتا ہے

کہتا ہے کہ اس کے لڑکوں نے اسے گھر سے نکال دیا ہے۔

کہ اس نے پچھلے تین دن سے کچھ نہیں کھایا ہے۔

لڑکوں کے بارے میں بتاتے ہوئے وہ اکثر روہانسا ہو جاتا ہے

اور اپنی پھٹی ہوئی قمیض کو اٹھا کر

مار کے نشان دکھانے لگتا ہے

کہتا ہے اس نے بچپن میں بھی اپنے بچوں پر

کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا

لیکن اس کے بچہ اسے ہر دن پیٹتے ہیں

کہتا ہے کہ وہ اب کبھی لوٹ کر

اپنے گھر نہیں جائے گا

لیکن تھوڑی دیر بعد ہی اسے لگتا ہے کہ اس نے یوں ہی

غصے میں بول دیا تھا یہ جملہ

توہین  پر حاوی ہونے لگتی ایک غیر یقینیت

ایک خوف  اچانک گھر نے لگتا ہے دل میں

تھوڑی دیر بعد وہ اپنے آپ سے ہی ہار جاتا ہے

دوسرے ہی پل وہ کہتا ہے

کہ اب اس عمر میں وہ کہاں جا سکتا ہے

وہ چاہتا ہے، میں اس کے لڑکوں کو جا کر سمجھاؤں

کہ لڑکے اسے واپس گھر میں آ جانے دیں

کہ وہ چپ چاپ ایک کونے میں پڑا رہے گا

کہ وہ بازار کے چھوٹے موٹے کام بھی کر دیا کرے گا

بچوں کو اسکول سے لانے لے جانے کا کام تو

وہ کرتا ہی رہا ہے کئی سال سے

وہ چپ ہو جاتا ہے تھک کر بیٹھ جاتا ہے

جیسے ہی لگتا ہے کہ اس کی بات پوری ہو چکی ہے

وہ پھر بول پڑتا ہے کہتا ہے:  میں بوڑھا ہو گیا ہوں،

کبھی کبھی چڑچڑا جاتا ہوں،

ساری غلطی لڑکوں کی ہی نہیں ہے

وہ دل کے اتنے برے بھی نہیں ہیں

حالات ہی اتنے برے ہیں، ان کا بھی ہاتھ تنگ رہتا ہے

ان کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور وہ مجھے بہت پیار کرتے ہیں

میرا تو پورا وقت انہیں کے ساتھ بیت جاتا ہے

پھر اچانک وہ کھڑا ہو جاتا ہے کہتا ہے

ہو سکتا ہے وہ مجھے ڈھونڈ رہے ہوں

ان میں سے کوئی نہ کوئی تھوڑی دیر میں ہی مجھے لینے آ جائے گا

آپ اگر میرے لڑکوں میں سے کسی کو جانتے ہوں

تو اس سے کچھ مت کہئے گا

سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔ ۔

سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔ ۔

بدبداتے ہوئے وہ آگے چل دیتا ہے

رات کسی کا گھر نہیں ہوتی

کسی بے گھر کے لیے

کسی گھر سے نکال دیے گئے بوڑھے کے لیے

میرے جیسے آوارہ کے لئے

رات کسی کا گھر نہیں ہوتی

اس کے اندھیرے میں آنسو تو چھپ سکتے ہیں کچھ دیر

لیکن سر چھپانے کی جگہ وہ نہیں دیتی

میں اس بوڑھے سے پوچھنا چاہتا ہوں،

پر پوچھ نہیں پاتا

کہ جس طرف وہ جا رہا ہے

کیا اس طرف اس کا گھر ہے؟

٭٭٭

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

ڈاؤن لوڈ کریں

پی ڈی ایف فائل

ورڈ فائل

ٹیکسٹ فائل

ای پب فائل